نظامِ حیات


اسلامی فکروثقافت کی سب سے نمایاں اور مرکزی پہچان اور خصوصیت اس کا مبنی بر وحی ہونا ہے۔ یہ وہ جوہری پہلو ہے جو اس ثقافت کو انفرادیت بخشتا ہے۔ دنیا کی اکثر ثقافتیں اور افکار اپنے آپ کو کسی فرد، خطے یا دَور سے وابستہ و منسلک کرتے ہیں چنانچہ نوافلاطونیت ہو یا یونانی فکر، بازنطینی فنِ تعمیر ہو یا ویدائوں اور مہابھارت کا دور، ساسانی ثقافت ہو یا نوبیائی قبائل کے رسوم ورواج،    یہ سب اپنی فکر وثقافت کو خطۂ زمین یافرد اور تاریخ کے ایک مخصوص دور سے اپنی وابستگی کی بناپر پہچانی اور پکاری جاتی ہیں۔ انسانی فکر کو مطلق اور حقیقی ماننے والی تمام تہذیبوں میں خطّے اور وقت کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔ چنانچہ تہذیب و ثقافت کی پیدایش کسی صحرا میں ہوئی ہو یا کسی شہری آبادی میں، اس کی جڑیں ہمیشہ مقامی رسوم و رواج، فکر اور بودوباش میں پائی جاتی ہیں چنانچہ کسی بھی قوم یا گروہ کے رسوم و رواج عرصۂ دراز تک عمل کرنے کے نتیجے میں ایک قدر (vaule) اور ایک اصول (norm) کا مرتبہ حاصل کرلیتے ہیں۔ اسی بنا پر ہم جس ثقافت و تہذیب کو مغربی کہتے ہیں وہ یورپی اقوام کے بودوباش، لباس، غذا اور طرزِحیات کے نتیجے میں رواج پاجانے والے طرزِعمل کا نام ہے۔ اسی طرح ہندستانی کلچر اُن رسوم و رواج کے جو مقامی طور پر ہندستان میں بسنے والے دراوڑ، برہمن اور دیگر ذاتوں کے افراد نے اختیار کیے اور ایک عرصے تک ان پر عمل کے نتیجے میں وجود میں آیا اوران رسوم و رواج نے آہستہ آہستہ ایک قدر اور اصول کا مقام حاصل کرلیا۔ مغرب ہو یا مشرق، اقدار و قانون کو ہمیشہ زمان و مکان کی پیداوار اور ’انسانی ارتقا‘ ہی سے وابستہ کیا جاتاہے اور اس بنا پر یہ بات بطور ایک کلیہ کے تسلیم کرلی گئی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ اقدار (value) اور ثقافت بھی تبدیل ہونی چاہیے۔ اس تصور کو اتنے وثوق سے بیان کیا جاتا ہے کہ بعض بظاہر معقول افراد بھی اس پر ایمان بالغیب لے آتے ہیں اور جدیدیت کے نعرے کی لَے میں لَے ملاتے ہوئے اسلامی فکروثقافت کو یا تو قدامت قرار دے کر رد کرنا چاہتے ہیں یا اسلامی فکروثقافت کو بنیادی طور پر عربی ثقافت قرار دینے کے بعد یہ کوشش کرتے ہیں کہ اس کی ’عربیت‘ سے نجات حاصل کرنے کے لیے قرآن و سنت میں موجود قوانین و ضوابط کو عرب قبائلی معاشرہ کا  ثمر قرار دیتے ہوئے اور ان کی ’روح‘ کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی پسند کی ایسی شریعت وضع کرلیں جس میں حدود کے قرآنی قوانین اور وراثت اورمناکحت کے احکام کو ساتویں صدی کے قوانین  قرار دے کر ’دورِ جدید‘ کے مغربی قوانین و ضوابط کی روشنی میں نظرثانی کرنے کے بعد جدید شکل دی جائے اور اس طرح اپنے خیال میں اسلام کے جدید (modern) اور بے ضرر ہونے کو ثابت کیا جاسکے۔

اس جذبے کے قابلِ احترام ہونے اور ایسے افراد کی تمام نیک نیتی کے باوجود فکر کی یہ غلطی مغرب کی ذہنی غلامی اور مغرب کو اپنا قبلہ سمجھنے کا پتا دیتی ہے کیونکہ اصولی طور پر اسلامی فکروثقافت کی جڑیں نہ عرب قبائل کی تہذیب میں پائی جاتی ہیں نہ ایرانی، افریقی یا ترک یا پاکستانی رسوم و رواج میں۔ اسلام کسی وطن یا قوم کو اپنا ماخذ نہیں مانتا۔ اسلامی فکروثقافت زمان و مکان اور وطنیت اور علاقائیت کی قید سے آزاد ہوکر اپنی جڑیں بجاے زمین میں پیوست کرنے کے وحیِ الٰہی کو اپنا ماخذ قرار دیتی ہے۔ چنانچہ اس کی جڑیں فضا کی گہرائیوں میں مستحکم ہیں اور تنا، شاخیں اور پھل زمین پر پھیلے ہوئے ہیں۔

ایک سادہ نقشہ اسلامی فکروثقافت اور دیگر فکروثقافت کے نشوونما کے فرق کو زیادہ آسانی سے واضح کرسکتا ہے۔ غیر اسلامی فکر وہ اخلاق میں ہو، معیشت و معاشرت میں ہو یا سیاست و قانون میں اس کی ارتقائی شکل یوں نظر آتی ہے:

اس نقشے میں غیراسلامی ماڈل میں اخلاقی اقدار ایک معاشرتی ارتقائی عمل کے نتیجے میں وجود میں آتی ہیں اور عقلی طور پر وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ میں جو اخلاقی اقدار اٹھارہویں صدی میں باعث ِ فخر سمجھی جاتی ہے، وہ ۲۰ویں صدی میں متروک اور ناقابلِ عمل سمجھی جانے لگیں۔ اخلاق کو ارتقائی عمل کے تابع کرنے کے نتیجے میں اخلاق ایک اضافی قدر بن گیا اور موقع اور محل کے لحاظ سے اس میں رد و بدل اور تبدیلی کو فطری سمجھ لیا گیا۔ اسلامی ماڈل اس تصور کی ضد ہے اور وہ وحیِ الٰہی کی بنیاد پر نازل کردہ اخلاقی اقدار کو ابدی، فطری اور مطلق قرار دیتا ہے۔

گویا علومِ عمران، نفسیات، معیشت، سیاست و قانون کے مطالعے میں جو معاشرتی و ثقافتی ارتقا مشرق و مغرب کی درس گاہوں میں ذہن نشین کیا جاتا ہے اور جس کی بنا پر لادینی ذہن کے دانش ور ہوں یا دینی ہمدردی رکھنے والے ’عوامی علامہ‘ اس بنیادی فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ دوسروں کو مطمئن اور خوش کرنے کے لیے کسی طرح اسلامی شریعت کے ان احکام کو جو ان کی دانست میں عربوں کے قبائلی رسوم و رواج کا حصہ تھے اور خالقِ کائنات نے شاید ’مروتاً‘ قرآن کی محکم آیات میں شامل کر دیے تھے، ان پر نظرثانی کر کے انھیں کسی نہ کسی طرح اقوامِ متحدہ کی کسی ذیلی کمیٹی کے مجوزہ معیار کے مطابق کردیا جائے۔

اگر قرآن کریم غیرمحرف، مطلق ، کلامِ الٰہی منزل من اللہ اور اللہ تعالیٰ کی اپنی ضمانت پر دنیا میں اور لوحِ محفوظ پر اپنی اصل شکل میں محفوظ ہے اور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ عزیزو علیم ہے تو کیا جس معاشرتی ارتقا، تکنیکی ترقی کی بنا پر یہ حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ حدود، وراثت، تعدّد ازواج وغیرہ کے قرآنی نظام پر نظرثانی ہونی چاہیے، یہ ترقی اور تبدیلیِ زمانہ و حالات اُس علیم ہستی کے احاطۂ علم میں نہ تھا جس نے اس قرآن کریم اور صاحب ِ قرآن کو قیامت تک کے لیے آخری شریعت قرار دیا؟ اس جملۂ معترضہ سے قطع نظر، اصل بات جو یہاں بیان کرنا مطلوب ہے یہ ہے کہ اسلامی فکر و ثقافت وحی کی بنا پر وجود میں آتی ہے نہ کہ معاشرتی ارتقا کے نتیجے میں۔ وحی اس کی بنیاد ہے، وحی اس کا ماخذ ہے اور وحی اس کا مصدر ہے۔

وحی کے مصدر مطلق ہونے کو قرآن کریم نے مختلف مثالوں سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم بعض بدیہات پر سے بھی سرسری طور پر گزر جائیں۔ قرآن کریم میں شہد کی مکھی کے حوالے سے فرمایا گیا ’’اور دیکھو تمھارے رب نے شہد کی مکھی پر یہ بات وحی کردی کہ پہاڑوں میں اوردرختوں میں اور ٹیلوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں اپنے چھتے بنا اور ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہ۔ اس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لیے۔ یقینا اس میں بھی ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں‘‘۔(النحل ۱۶: ۶۸-۶۹)

شہد کی مکھی کو جو کام وحی کے ذریعے کرنے کا حکم دیا گیا وہ اس پر کاربند ہے۔ اسے جو شریعت دی گئی اور ’’جسے رب کی ہموار کی ہوئی راہ‘‘ کہا گیا وہ اس پر استقامت سے کام کر رہی ہے۔ حضرت آدم ؑسے لے کر آج تک دنیا کے ہرخطے میں منوں ٹنوں شہد جس شریعت پر عمل کرنے کے نتیجے میں انسانوں کو شفا دینے اور لذت کام و دہن کے لیے مل رہا ہے۔ جدید ترین ٹکنالوجی کے میسر آجانے کے بعد بھی اُس شریعت میں کوئی تبدیلی نہ واقع ہوئی نہ واقع کی جاسکی۔ حالات بدلتے رہے۔ سنگلاخ پہاڑ ہوں یا لہلہاتے کھیت، میدانی علاقے ہوں یا شہر، شہد کی مکھی ایک ماہر سول انجینیر کی طرح موم کے چھتے یکساں پیمایش اور یکساں زاویوں کی شکل میں ہزارہا سال سے بنارہی ہے۔ کسی مکان کی چھت کا اندرونی حصہ ہو یا کسی درخت کی شاخ یا پہاڑی کا غار، وہ فنی جائزے کے بعد طے کرتی ہے کہ کہاں پر شہد زیادہ محفوظ رہے گا۔ بعض اوقات وہ صرف ایک قسم کے پھولوں سے رس لے کر آتی ہے اور بعض اوقات مختلف رنگوں کے پھولوں سے اور یہ سب کچھ ایک شریعت اور ضابطے کے تحت کر رہی ہے۔ شہد کی اِس ثقافت کی بنیاد صرف وحی پر ہے۔ شہد کی مکھی کی اپنی اپج، ارتقائی فکر یا ماحول سے سیکھنے کے بعد ایک فنی صلاحیت پیدا کرنے پر نہیں ہے۔

اسی طرح دیگر مخلوقات اپنے اپنے دائرۂ کار میں وحیِ الٰہی کی بنیاد پر مقرر کردہ نظام پر عمل پیرا ہیں۔ آسٹریلیا میں پائے جانے والے بعض پرندے انڈے دینے کے بعد آسٹریلیا سے امریکا کا رُخ کرتے ہیں۔ ان کے نومولود بچے جیسے ہی اڑنے کے قابل ہوتے ہیں فطری طور پر اپنے  ماں باپ کی طرح کسی رہنما اور گائیڈ کی مدد کے بغیر وحی کی بنا پر امریکا کا رُخ کرتے ہیں۔ انسانوں کے لیے وحی کلامِ الٰہی کی صورت میںکتاب میں تحریری صورت میں آتی ہے۔

اسلامی فکروثقافت کے وحی پر مبنی ہونے کی وجہ سے اس کی چار بنیادی خصوصیات اُبھر کر سامنے آتی ہیں جو براہِ راست وحی سے وابستہ ہیں۔ پہلی خصوصیت یہ کہ یہ فکروثقافت کسی دیومالائی ماضی (mythological past) کی مرہونِ منت نہیں بلکہ روشن تاریخی سیاق میں وجود میں   آئی ہے کیونکہ خود الکتاب اپنے بارے میں یہ بتاتی ہے کہ اسے ایک مبارک قوت و قدرت رکھنے والی رات (لیلۃ القدر) میں نازل کیا گیا جس کی تقویم یہ بتاتی ہے کہ یہ رمضان کی آخری ۱۰راتوں میں سے ایک طاق رات تھی۔ محدثین کا غالب گمان یہی ہے کہ یہ ستائیسویں شب تھی لیکن بعض حکمتوں کی بنا پر قرآن کریم اور صاحب ِ قرآن نے اس کے نزول کو کسی ایک رات میں محدود کرنے کی جگہ ۲۱،۲۳، ۲۵، ۲۷ یا ۲۹ویں شب میں سے کسی ایک میں قرار دیا تاکہ آخری عشرے میں تمام طاق راتوں میں اہلِ ایمان قرآن کریم سے اپنے رشتے کو تازہ اور مستحکم کرسکیں۔

اسی بات کو عموم کے ساتھ سورۃ الدخان میں ’مبارک رات‘ کے حوالے سے کہا گیا اور اس کو البقرہ میں رمضان کے روزے کی فرضیت کے سیاق میں بیان کیا گیا۔ وحیِ الٰہی اور دیگر معروف صحفِ سماوی کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ وہ ہندوازم کی مقدس کتابیں ہوں یا انجیل و تورات، اوسیتا یابدھ ازم میں بدھا سے منسوب کلمات،ان کی تدوین و تسوید ان مذاہب کے بانیان کے وصال کے بہت عرصہ بعد اکثر ان افراد نے کی جو کم از کم دوسری نسل سے تعلق رکھتے تھے وگرنہ صدیوں بعد ان تعلیمات کو قید تحریر میں لایا گیا۔ بدھا کی تعلیمات ان کی وفات کے ۴۰۰ سال بعد پہلی مرتبہ پالی زبان میں مرتب ہوئیں اور پھر ترجمہ در ترجمہ دیگر زبانوں میں منتقل ہوئیں۔ ہندوازم کی مقدس کتب صدیوں تک گردش کرنے کے بعد تحریر میں محفوظ کی گئیں۔ قطعیت کے ساتھ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ان کا صحیح سنہ نزول کون سا ہے۔ اس کے مقابلے میں وحی جس لمحے سے نازل ہوئی قرآن کریم کی شکل میں نہ صرف تحریر بلکہ حافظوں میں اس کا ایک ایک حرف و صوت صحابہ کرامؓ اور خود شارعِ اعظمؐ کے سینۂ اقدس میں محفوظ ہوگیا اور ہر سال رمضان المبارک میں ہزاروں لاکھوں افراد کے مجمع میں مسلسل پندرہ سو سال سے اس کی اجتماعی تلاوت، اس کی حفاظت اور نشرواشاعت کا ایک فطری عمل بن گئی۔گویا اسلامی فکروثقافت کی یہ بنیاد ایک تاریخی حقیقت ہے۔ یہ فضول دیومالائی کہانیوں کی طرح غیرمعتبر نہیں۔ یہ فکروثقافت اپنی جوہری شکل میں اسی وقت وجود میں آگئی جب وحیِ الٰہی نے پڑھنے اور قرأت کرنے کے حکم کے ساتھ انسانیت کی ہدایت، تعلیم اور تربیت کے لیے ایک جامع اور مکمل ہدایت نامہ انسانوں کے حوالے کیا۔

اسلامی فکروثقافت کی دوسری اہم خصوصیت اس کی عالم گیریت ہے۔ انسانوں کے ساختہ نظام، فلسفے اور قوانین وقت اور مکان کی قید سے آزاد نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ یونانی فلسفہ ہو یا جدیدیت پر مبنی فکر، وقت گزرنے کے ساتھ اس میں تبدیلی، نظرثانی، حذف و اضافے کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ وحی الٰہی وقت و مکان کی قید سے آزاد وہ جامع اصول اور محکم ہدایات دیتی ہے جو وقت کے گزرنے اور معاشرتی تبدیلیوں کے باوجود انسان کے مسائل کا حل پیش کرتی ہیں۔ یہ عالم گیریت جو وحی کی پہچان ہے، یہی عالم گیریت اسلامی فکروثقافت کو قوم و وطن، جغرافیائی خطے اور وقت کی قید سے نکال کر ایک عالمی ثقافت کا مقام دیتی ہے۔ چنانچہ مراکش سے انڈونیشیا اور ویانا سے سڈنی تک جہاں کہیں بھی مسلمان پہنچے ان کے بودوباش، لباس، غذا، معاشرتی تعلقات، تجارتی معاملات، ہر پہلو سے ان کی سرگرمیوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ ایک مسلمان دنیا کے کسی بھی خطے میں چلا جائے اس کا تعارف اسلامی ثقافت ہی ہوتی ہے۔ چنانچہ چاہے وہ تاجک زبان نہ جانتا ہو، اس کا پہلا تعارفی کلمہ ’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘ ایک تاجک کو بتا دیتا ہے کہ یہ اس کا دینی بھائی ہے اور جواباً اہلاً وسہلاً یا خوش آمدید سے اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہے۔ عالم گیر اسلامی فکروثقافت کے اثرات، وقت اور مکان کی قید سے بلند دنیا کے ہرخطے میں یکساں پائے جاتے ہیں۔

اسلامی فکروثقافت کی تیسری اہم خصوصیت اس کی جامعیت ہے۔ یہ کوئی نمایشی ثقافت نہیں ہے جو چہروں پر رنگ برنگے غازے مل کر اور مخصوص لباس پہن کر اپنی انفرادیت کا اعلان کرے جیساکہ بالعموم افریقی قبائل کی ثقافت کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے۔ یہ ثقافت ایک مسلمان کو مہد سے لحد تک زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ مالی معاملات ہوں یا تعمیراتی منصوبے، اس کا لباس ہو یا کاشت کاری اور صنعت و حرفت، شادی بیاہ کی تقریبات ہوں یا مراسمِ عبودیت  حتیٰ کہ شوہر اور بیوی کے انتہائی ذاتی معاملات ہوں یا سیاست اور عالمی تناظر میں کیے گئے معاہدے، ہر سرگرمی کے لیے ایک فکر، ایک طریقہ اور ایک طرزِعمل کی تعلیم دیتی ہے۔ یہ ہمہ گیر ثقافت زندگی کے تمام معاملات کا احاطہ کرتی ہے اور اسی ثقافت کی جھلک اس کے فن تعمیر، ادب و شعر، تعلیمی اور رفاہی سرگرمیوں میں نظر آتی ہے۔

یہ فکروثقافت مختلف ثقافتوں کا ملغوبا نہیں ہے لیکن ہر وہ انسانی عمل جو اس فکروثقافت کے بنیادی مقاصد اور اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے، یہ ثقافت اسے جذب کرنے اور جذب کرنے کے عمل میں اس میں (qualitative) تبدیلی یا ماہیت ِقلبی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسجد کا مینارہ کہیں سنگِ مرمر سے مزین ہوتا ہے، کہیں کاشی ٹائلوں سے، کہیں سرخ پتھر سے، کہیں glazed اینٹوں سے، کہیں اس کی بنیاد چوکور ہوتی ہیں، کہیں ہشت پہلو اور کہیں گول لیکن دنیا کے ہر گوشے میں اس کا مقصد فضائوں میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کا اعلان ہی رہتا ہے۔

اسلامی فکر اور ثقافت کی چوتھی پہچان اس کا زندگی کے معاملات میں آسانی پیدا کرنا (یسر) ہے۔ یہ انسانوں کو غیرضروری رسوم و رواج، عبادات کے پیچیدہ اور پُراسرار طریقوں سے نجات دلاکر سادگی اور آسانی کے ساتھ اپنے رب کی بندگی کی تعلیم دیتی ہے اور زندگی کے معاملات میں زینت اختیار کرنے کے ساتھ اسراف و تبذیر سے بچانے کی کوشش کرتی ہے۔ مسلم معاشرے کی پندرہ سو سال کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب اہلِ ایمان نے وحیِ الٰہی پر مبنی فکروثقافت سے اپنا رشتہ توڑا، وہ نمایشی زندگی، اسراف وتعیش کا شکار ہوئے اور جب ان کا رشتہ وحیِ الٰہی پر مبنی فکروثقافت سے جڑا، ان کی زندگی عملیت، ترقی اور حقیقت پسندی کی مثال بنی۔

وحی پر مبنی اسلامی فکروثقافت درحقیقت مقاصدِ شریعت کے حصول اور مصلحت عامہ کے  پیشِ نظر معاشرتی، معاشی، سیاسی، قانونی اور تعلیمی سرگرمیوں کی تہذیب کرتی ہے۔ اسلامی فکروثقافت کا یہ پہلو نگاہوں سے اوجھل رہے تو اسلامی ثقافت کو محض چند علاماتی افعال سے تعبیر کردیا جاتا ہے  یا یہ تصور کرلیاجاتا ہے کہ چونکہ یہ ایک ’مذہبی‘ ثقافت ہے اس لیے اس کے اصل مخاطب جماعتِ   علما و صوفیہ کے افراد ہیں اور یہ انھی کے لیے مناسب ہے۔ دیگر افراد نہ ان کی طرح ’مذہبیت‘ اور ’روحانیت‘ اختیار کرسکتے ہیں اور نہ اس ثقافت پر عمل کرسکتے ہیں۔ ایک عام مسلمان جو یہ سمجھتا ہے کہ اس کا ’مذہب‘ نماز، روزے، حج اور زکوٰۃ کی حد تک ہے، جب اُس سے کہا جائے کہ اسلامی فکروثقافت میں مخلوط تعلیم، مخلوط کاروباری ادارے جہاں پر بنک میں، انجینیرنگ کمپنی میں اور عدالت میں ایک ہی نشست پر شانہ بہ شانہ مرد اور عورتیں بیٹھی ہوں یہ اسلامی فکروثقافت کے منافی ہے تو اسے حیرت ہوتی ہے کہ دنیا کے معاملات میں مذہب کے دخل کی کیا ضرورت؟ یہی وجہ ہے کہ ایک بظاہر دینی رجحان اور شخصیت رکھنے والے فرد کے گھر میں بھی جب شادی کی تقریب ہوتی ہے تو مردوزن بنائوسنگھار کرنے کے بعد بلاتکلف خلط ملط ہوتے رہتے ہیں اور ایسے افراد کی ’مذہبیت‘ کو اس سے کوئی تکلیف نہیں پہنچتی۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی فکروثقافت کو جب تاریخ کا ایک باب سمجھتے ہوئے ماضی کے واقعات میں دفن کردیا جاتا ہے تونظامِ تعلیم میں بھی اسلامی فکروثقافت کی بنیادوں پر گفتگو بند ہوجاتی ہے۔ اُمت مسلمہ نے اپنے دورِ زوال میں عیسائیوں اور ہندوئوں کی طرح مذہب اور ثقافت میں ایک خیالی خطِ فاصل کھینچ دیا۔ چنانچہ مذہبی مراسم کے پورے اہتمام کے ساتھ شام کے اوقات میں کسی محفل موسیقی یا شامِ غزل میں مخلوط محفلوں میں بیٹھ کر فن کاروں کی زبانی کلاسیکل شعرا کا کلام کلاسیکل گائکوں سے سننا ثقافت ٹھیرا اور اس عمل اور اسلامی عقیدے میں انھیں کوئی تضاد نظر نہیں آیا۔

وحی پر مبنی اسلامی فکروثقافت انسان کو ہرہر دائرے میں تخلیق و ایجاد کی دعوت دیتی ہے  لیکن ہرشعبۂ حیات کو قرآن کریم کے دیے ہوئے مقاصد ِ شریعت کی روشنی میں جو مقاصدِ حیات سے آگاہ کرتے ہیں، سرگرمیوں کی دعوت دیتی ہے۔ یہ ثقافت اپنے ماننے والوں کو ندرت،  حصولِ کمال اور انفرادیت کے ساتھ زندگی کے تعمیری سفر میں آگے بڑھنے کی طرف اُبھارتی ہے۔ ایک عملی ثقافت ہونے کے سبب یہ اُمت کے ہر دور کے مسائل کو مقاصدِ شریعت کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔(جاری)

 

اسلامی فکروثقافت کی سب سے نمایاں پہچان اور خصوصیت اس کی روایت ِ علم ہے جس کا اوّلین اعلان پہلی وحی میں یوںکیا گیا: ’’پڑھو (اے نبیؐ) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیداکیا، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی، پڑھو اور تمھارا رب بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا‘‘ (العلق ۹۶: ۱-۵)۔ ان پانچ انقلابی آیات میں قرآنِ کریم کے بھیجنے والے خالقِ کائنات نے اسلام اور دیگر مذاہب کے بنیادی فرق کو سمجھاتے ہوئے یہ اعلان فرما دیا کہ انسان کے بنیادی وظائف اور فرائض میں علم، پڑھنا اور تلاوت کرنا اولین حیثیت     رکھتا ہے، جب کہ مذہب کو بالعموم مشرق و مغرب میں اندھی تقلید، مافوق الفطرت کرشماتی امور اور رسوم و رواج اور مخصوص مراسمِ عبودیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ آج بھی علمی ذہن کو مذہبی ذہن کی  ضد سمجھا جاتا ہے اور اگر کسی کے بارے میں کہا جائے کہ وہ مذہبی انسان ہے تو لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ اندھی پیروی کرنے والا اور سائنسی اور علمی معاملات سے غیرآگاہ شخص ہے۔

اس ثقافت ِ علم میں وحی الٰہی کو بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کی اشاعت اور توسیع کے لیے قلم کو ذریعہ قرار دیا گیا تاکہ قبلِ اسلام عرب میں جس قولی روایت (oral tradition) کا چرچا تھا،   اس سے آگے نکل کر اب کتاب اور قلم کے ذریعے علم کی ترویج و اشاعت کی روایت کو متعارف  کرایا جائے۔ یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ قرآنِ کریم نے عربوں کے اُس غرور و ناز کو بھی  دعوتِ مبارزت دی جو انھیں اپنی لسانی مہارت پر تھا اور انھی کی زبان میں ایک ایسی تقریر و تحریر پیش کر دی جس کے مقابل تمام شعرا اور ادیب مل کر بھی دس آیات بلکہ ایک آیت حتیٰ کہ ایک آیت جیسی ایک بات بنانے سے بھی قاصر رہے اور اس علمی اعجاز کو تاریخ کی قید سے آزاد کر کے قرآنِ کریم نے نہ صرف نازاں عربوں کو بلکہ بعد کے آنے والے تمام لسانی ماہرین کو یہ دعوتِ عام دے دی کہ وہ اس جیسا کلام اور پیغام اگر بنا سکتے ہوں تو بناکر دکھائیں۔ یہ علمی چیلنج ہر دور میں بہ شمول دورِحاضر قرآنِ کریم کے وحی من اللہ ہونے کی ایک بولتی ہوئی دلیل کے ساتھ ساتھ قرآنِ کریم پر غور کرنے اور تدبروتفکر کے ذریعے اس کے پیغام کو سمجھنے کی ایک عالمی دعوت بھی ہے۔

اس روایت ِ علم کی طرف البقرہ میں بھی اشارہ کیا گیا تھا جب فرشتوں سے تبادلۂ خیالات کے دوران ان سے کہا گیا کہ ذرا ان چیزوں کے نام تو بتائو، جو انسان کو پہلے سے تعلیم کردیے گئے تھے، فرشتوں کا جواب یہی تھا کہ وہ اپنے محدود علم سے زیادہ کچھ نہیں جانتے۔ چنانچہ ان سے کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کے احترام میں صاحب ِ علم انسان کو سجدہ کریں (البقرہ ۲:۳۴)۔ یہ علم نہ تو تجربی تھا نہ قلبی واردات کا نتیجہ، اور نہ ظن و گمان پر مبنی بلکہ وہ معروضی علم تھا جسے وحی کا نام دیا گیا اور جو اوامر و نواہی کو جاننے کا مطلق ذریعہ قرار پایا۔

قرآنِ کریم میں سوا آٹھ سو سے زائد مقامات پر علم کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ ان مختلف مقامات کا جائزہ لے کر دیکھا جائے تو پہلی بات یہ نظر آتی ہے کہ حقیقی اور مطلق علم کا مصدر و منبع وحی ہے۔ چنانچہ سورۃ الرحمن میں فرمایا گیا: ’’انتہائی مہربان اسی نے قرآن کی تعلیم دی ہے‘‘ (۵۵:۱-۲) اس علم وتعلّم کو جگہ جگہ حکمت کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے۔ گویا تعلیم و حکمت انسانیت کی دو اہم بنیادی ضرورتیں ہیں۔ انبیاے کرام ؑ کی بعثت کا مقصد بھی علم و حکمت کی روایت کو فروغ دینا بیان کیا گیا: ’’درحقیقت اہلِ ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انھی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انھیں سناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے، اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے‘‘۔(اٰل عمرٰن ۳:۱۶۴)

ذریعۂ علم کو وحی سے وابستہ کردینے کے نتیجے میں قرآنِ کریم نے علم کے ان دیگر ذرائع کی محدودیت کو بربناے دلیل کھول کر رکھ دیا جن کی بنیاد پر قبلِ اسلام اور بعد کی غیرالہامی ثقافتیں وجود میں آئیں۔ یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ دورِ جدید کی تہذیب اپنا ماخذ مادیت، ٹکنالوجی اور تجربی علم کو بتاتی ہے چنانچہ ہر وہ شے جو تجربے اور مادی پیمانے پر پوری نہ اُترتی ہو سیکولر تہذیب کی  نگاہ میں شک و شبہے کی تہذیب بن جاتی ہے۔

قرآنِ کریم نے وحی کو اس کی معروضیت (objectivity) اور خود خالقِ کائنات کا کلام ہونے کی بنا پر علم کے اعلیٰ ترین مقام پر رکھا ہے اور علم کی تمام دیگر اقسام کو وحی کا تابع قرار دیا ہے۔ یہاں یہ گمان نہ کیا جائے کہ اس بنا پر آیات کون اور آیاتِ قرآنی میں کوئی تضاد ہوسکتا ہے کیونکہ کائنات کی ہرشے بجاے خود برضا و رغبت یا بغیر رضامندی اللہ وحدہٗ لاشریک کو اپنا رب      مانتے ہوئے اپنے مسلم ہونے کا اعلان کرتی ہے: ’’اب کیا یہ لوگ اللہ کا دین چھوڑ کر کوئی اور  طریقِاطاعت چاہتے ہیں حالانکہ آسمان اور زمین کی ساری چیزیں چار و ناچار اللہ ہی کی تابع فرمان (مسلم) ہیں‘‘۔ (اٰل عمرٰن ۳:۸۳)

قرآن وضاحت کے ساتھ یہ بات بیان کرتا ہے کہ رب کریم نے ہردور کے لحاظ سے اپنے منتخب کردہ انبیاء و رسل کو علم و حکمت سے نوازا، کسی کو پرندوں اور حشرات الارض کی زبانیں سمجھنے کا علم دیا اور کسی کو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اللہ کے حکم سے صحت یاب کرنے کی صلاحیت دی (المائدہ ۵:۱۱۰) خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں خصوصاً خطۂ عرب میں ادبی روایت اپنے عروج پر تھی اور ادیب، قصہ گو اور شعرا معاشرے میں اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔ اس دور کا ایک عالمی چیلنج ادبی کمال تھا لیکن قرآنِ کریم نے اس ادبی چیلنج سے آگے جاکر نہ صرف حکایت ِبلیغ بلکہ ایسی ہدایت انسانوں کے سامنے کھول کر رکھ دی جو اپنی عالم گیریت، ہمہ گیریت اور جامعیت کے لحاظ سے تاحیات اپنی نظیر آپ رہے۔

اس روایت ِعلم کے اثرات براہِ راست انسانی شخصیت اور طرزِعمل میں ظاہر ہوئے۔ چنانچہ قرآن اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے خشیت کرتے ہیں‘‘ (فاطر۳۵:۲۸)۔ علم کی درجہ بندی اور مراحل کا تعین آسان کام نہیں ہے لیکن قرآن روایت ِعلم کو مستحکم کرنے کی تلقین کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی سمجھاتا ہے کہ انسان جتنا چاہے علم میں اضافہ کرتا چلا جائے لیکن علم کے تمام مدارج و منازل سے گزرنے کے باوجود انسان خالقِ علم سے زیادہ علیم نہیں ہوسکتا۔ سورئہ یوسف (۱۲:۷۶) میں کہا گیا: ’’ہم جس کے درجے چاہتے ہیں، بلند کردیتے ہیں۔ اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحبِ علم سے بالاتر ہے‘‘۔

گویا علم کی ہر نوع اور قسم میں درجہ کمال تک پہنچ جانے کے بعد بھی انسان اُس صاحب ِ علم ہستی کے قریب نہیں پہنچ سکتا، جسے پہاڑ کی تہوں میں پوشیدہ کیڑے کی ضروریات اور انسان کی خوابیدہ خواہشوں تک کا مکمل علم ہے۔

یہ روایت ِعلم کسی ایک نقطۂ عروج پر پہنچ کر سانس نہیں لیتی بلکہ مسلسل ترقی کی طرف مائل رہتی ہے۔ اہلِ ایمان اپنے رب سے ہرلمحہ یہ درخواست کرتے ہیں کہ ’’اور دعا کرو کہ اے رب مجھے مزید علم عطا کر‘‘(طٰہٰ ۲۰:۱۱۴)۔ قرآنِ کریم جس علمی روایت کو قائم کرنا چاہتا ہے اس کی بنیاد الہامی ہدایت ہے۔ یہ ہدایت ایک جانب انسان کے لیے ایک منطقی اور علمی ضرورت ہے تو دوسری جانب یہ عقل کی پہنچ اور حدود کا بھی تعین کرتی ہے۔ چنانچہ انسانی عقل وحی کی ضرورت، اہمیت اور کردار کو تسلیم کرتی ہے اور اپنی داخلی کیفیت کی بنا پر وحی کو وصول تو کرسکتی ہے، تخلیق نہیں کرسکتی۔ نتیجتاً رسوخ علمِ وحی کی صداقت کا شعور پیدا کرتا ہے مگر ’’ان میں جو راسخون فی العلم (پختہ علم رکھنے والے) ہیں اور ایمان دار ہیں وہ سب اُس تعلیم پر ایمان لاتے ہیں جو اے نبیؐ! تمھاری طرف نازل کی گئی ہے اور جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھی‘‘ (النساء ۴:۱۶۲)۔ فکر، ذکر، علم اور شعور کے بار بار بیان کرنے کا مقصد یہی نظر آتا ہے کہ قرآن انسان کو توہمات، ظن وگمان اور آبائی رسوم و رواج سے آزاد کر کے عقل و عدل کی بنیاد پر اپنے معاملات پر غور کرنے اور نتائج اخذ کرنے پر اُبھارنا چاہتا ہے، چنانچہ قرآنِ کریم آیاتِ کائنات کا تذکرہ ہو یا انسان کے لیے مقرر کردہ حدود وقوانین کا بیان گفتگو کا خاتمہ بالعموم اس نکتے پر کرتا ہے کہ یہ جو باتیں تمھیں سمجھائی جارہی ہیں، یہ اس لیے ہیں کہ تم عقلی رویہ اختیار کرسکو۔ بیوہ اور مطلقہ کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ اس کی وضاحت کرنے کے بعد فرمایا گیا: ’’اس طرح اللہ اپنے احکام تمھیں صاف صاف بتاتا ہے، امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام  کرو گے (لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ) (البقرہ ۲:۲۴۲) ’’گویا سمجھ بوجھ کا رویہ، تعقل کا طریقہ اختیار کرنا  مطلوب و مرغوب ہے اور ایسا نہ کرنا، غیرعقلی رویہ اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کوناپسند ہے۔ یہی وجہ ہے جب تک اُمت مسلمہ کا قلبی اور فکری تعلق قرآنِ کریم کے ساتھ قریبی رہا، وہ نہ صرف قرآنِ کریم کے مفہوم و مدعا کو سمجھنے میں کامیاب ہوئی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ کائنات اور ماحول میں پائی جانے والی اللہ تعالیٰ کی آیات اور نشانیوں کا اِدراک کرنے اور اعلیٰ سائنسی ایجادات کرنے میں دوسروں سے آگے نکل سکی۔ ’’جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں ان کے لیے آسمانوں اور زمین، زمین کی ساخت میں، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں، اُن کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریائوں اور سمندروں میں رواں رہتی ہیں، بارش کے اُس پانی میں جسے اللہ اُوپر سے برساتا ہے، پھر اس کے ذریعے مُردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے اور زمین میں ہرقسم کی جان دار مخلوق کو پھیلاتا ہے، ہوائوں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بناکر رکھے گئے ہیں، بے شمار نشانیاں ہیں‘‘۔ (البقرہ ۲:۱۶۴)

اسی بات کو ذرا مختلف پیرایے میں یوں کہا گیا: ’’وہی زندگی بخشتا ہے، وہی موت دیتا ہے، گردشِ لیل ونہار اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ کیا تمھاری سمجھ میں بات نہیں آتی (اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ) (المومنون ۲۳:۸۰)۔ اسی بات کو سورئہ نور (۲۴:۶۱)، سورئہ مائدہ (۵:۵۸) اور سورئہ نحل (۱۶:۶۷) میں سیاق و سباق کے کچھ فرق کے ساتھ بیان کیا گیا۔ مجموعی طور پر ان آیات پر غور کیا جائے تو واضح طور پر قرآن کا مدّعا یہی نظر آتا ہے کہ وہ انسان کو سوچ سمجھ اور عقل کے مناسب استعمال کی طرف پکار پکار کر بلا رہا ہے۔ سورئہ نحل میں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابِ ہدایت کو   بطور ایک نشانی کے بیان کرتے ہوئے آسمان اور زمین میں موجود نشانیوں، حیوانات کے ذریعے انسان کو ملنے والے فوائد کے تذکرے میں لقومٍ یومنون ، لقومٍ یسمعون، لقومٍ یعقلون اور لقومٍ یتفکرون کے الفاظ کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہر قابلِ مشاہدہ نعمت پر انفرادی اور اجتماعی طور پر عقل، سماعت اور فکر کا استعمال کرتے ہوئے دعوتِ فکر دی جارہی ہے۔ فکر، قلب اور عقل کا یوں بار بار دہرایا جانا ایک جانب ان کے درمیان بنائی ہوئی نظری دیواروں کو شعور سے خارج کرتا ہے اور دوسری جانب ان تمام وسائل و ذرائع کا استعمال انسان کو متحرک، productive اور pro-active بننے کی دعوت دیتا ہے۔ عقل وفکر کا یہ استعمال حیاتِ انسانی میں تقلید اور میکانکی طرزِعمل کے دخل کو کم سے کم تر کرتے ہوئے شعوری، عقلی اور علمی رویّے کو رواج دیتا ہے۔ یہ طرزِعمل مذہب کے روایتی تصور یعنی بربناے عقیدہ کسی چیز کو مان لینے کی ضد ہے۔ دینِ اسلام کا ایک امتیاز اس کی علمی روایت میں عقل، شعور، تجربے کا سرگرمی کے ساتھ استعمال کرنا اور علمی کاوشوں کے نتائج کے ذریعے انسانیت کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ اس سلسلے میں صحت، تعلیم، ثقافت، دفاع، معیشت، سیاست غرض ہرہرشعبۂ حیات میں علمِ وحی اور عقل و شعور کے ساتھ اجتہاد کے ذریعے نئے اورقابلِ عمل حل تلاش کرنا، اسلامی علمی روایت کا ایک اہم کارنامہ ہے۔

اسلامی ثقافت و تہذیب کے نشوونما میں ذکروفکر کے بعد علم اور عقل کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان تمام عناصر میں ایک قریبی اندرونی ربط وتسلسل پایا جاتا ہے۔ یہ ایک دوسرے کی توثیق و تصدیق اور تکمیل کرتے ہیں اور ایک کلیت پسند (holistic) ثقافت کو وجود میں لاتے ہیں۔ قرآنِ کریم ان تمام عناصر کو تفقّہ کی اصطلاح میں یک جا کردیتا ہے۔ چنانچہ تفقّہ یا گہرے فکری تجزیاتی تحقیقی عمل میں علم و فکر، ذکر و شعور اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور نتیجتاً نئی فکر اور علم وجود میں آتے ہیں۔

تفقّہ میں عموماً سمجھنے اور رمزآشنائی کا مفہوم پایا جاتاہے۔ چنانچہ سورئہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور پاکی کے تذکرے جو سات آسمانوں میں پائے جاتے ہیں۔ بیان کرنے کے بعد، فرمایا گیا: ’’کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو‘‘ (بنی اسرائیل ۱۷:۴۴)۔ فاسقین اور منافقین کے غیرعقلی طرزِعمل پر تنقید کرتے ہوئے قرآنِ کریم فرماتا ہے: ’’اگر انھیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں: اے نبیؐ! یہ آپؐ کی طرف سے ہے۔ کہو، سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی‘‘ (النساء ۴: ۷۸)۔ سیاق و سباق کے اختلاف کے ساتھ یہی مفہوم سورئہ انعام کی آیت ۶۵ میں نظر آتاہے۔ چنانچہ یعلمون اور یفقھون کا مفہوم کسی شے کی حقیقت تک پہنچنے اور کسی معاملے کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کرنے کا نظر آتا ہے۔

قرآن میں دین میں گہری تحقیق، سوچ اور فکر کے عمل کو کسی خاص طبقے یا جماعت سے مخصوص نہیں کیا گیا ہے، جب کہ اسلام سے قبل ہندوازم میں اسے نسلی اور طبقاتی طور پر برہمن کے لیے مخصوص کردیا گیا تھا۔ یہودیت نے گو اسے نسلی استحقاق قرار نہیں دیا، لیکن ربی کو معاشرے میں عملاً وہ مقامِ تقدس حاصل ہوگیا جس میں وہ صرف تورات سمجھنے اور سمجھانے والا قرار پائے۔ اسلامی ثقافت و تہذیب میں تفقّہ یعنی انسان کے معاشی، سیاسی،معاشرتی مسائل بشمول عبادات و فرائض پر غور کرنے کے بعد ان کے مقصد، حکمت اور زمانے کے لحاظ سے مناسب انداز میں سرانجام دینے کے عمل کو تفقّہ قرار دیا گیا۔ قرآنِ کریم لقومٍ یفقھون کی اصطلاح استعمال کرتا ہے تو اس سے کوئی نسلی، طبقاتی گروہ مراد نہیں لیتا بلکہ اُمت ِمسلمہ کے ہرفرد کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ دین کی گہری فکر اور سمجھ پیداکرنے کے لیے قرآن و حدیث اور دیگر علوم و مسائل پر غور کر کے نتائجِ فکر اخذ کرسکے۔ چنانچہ سورئہ انعام میں اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ نعمتوں، ستاروں کے ذریعے سمندر اور صحرائوں کی تاریکی میں راستے معلوم کرنے، انسان کو ایک جان سے پیدا کرنے اور اعلیٰ ترین ساخت کے ساتھ بنانے کا تذکرہ کرنے کے بعد اسے لقومٍ یفقھون ’’سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں‘‘ کے لیے نشانیاں قرار دیتا ہے (الانعام ۶:۹۸)۔ قرآنِ کریم میں تفقّہ اور غوروفکر کی یہ دعوت فکری جمود اور تقلید کا رد اور تنقیدی ذہن پیدا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

جو لوگ ماخذ دین پر غوروفکر نہیں کرتے اور اندھی پیروی میں لگے رہتے ہیں ان پر سخت تنقید کرتے ہوئے قرآنِ کریم خبردار کرتا ہے کہ: ’’انسانوں اور  ِجنوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے سینوں میں دل ہیں، مگر وہ ان سے سوچتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں، ان کے اس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں، وہ جانور ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کھوئے ہوئے ہیں‘‘۔ (الاعراف ۷:۱۷۹)

یہاں قرآنِ کریم نے انسان کے ذرائع علم و فکر میں بصارت، سماعت اور فواد کے تذکرہ کے ذریعے تفقّہ کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے غوروفکر کے مراحل کو بتانے کے بعد یہ بات سمجھائی کہ اگر بصارت، سماعت اور قلب یا دماغ کا صحیح استعمال نہ کیا جائے تو انسان اور حیوان میں کوئی وصفی فرق باقی نہیں رہتا بلکہ انسان حیوان کی سطح سے بھی گر جاتا ہے کیونکہ بہت سے حیوان ایسے ہیں جو محض بصارت کی بنیاد پر خطرات سے بچ جاتے ہیں اور بعض سماعت کی بنیاد پر خطرات کا شکار نہیں ہوتے جب کہ عقل و شعور اور فکر سے عاری انسان اللہ کی طرف سے دی گئی سماعت و بصارت اور تجزیاتی و عقلی صلاحیت کو استعمال نہ کرنے کے نتیجے میں خود کو حیوانات کی سطح سے بھی نیچے لے جاکر آنکھ دیکھی مکھی کھانے سے بھی نہیں شرماتا اور فواحش و منکرات کی من مانی تاویلات کر کے وہ طریقے اختیار کرتا ہے جن سے حیوانات بھی احتراز کرتے ہیں۔ عام مشاہدے کی بات ہے کہ جو تعذیب کے طریقے انسان انسانوں کے لیے اختیار کرتا ہے، جنسی لذت کے وہ انداز جو نہ صرف غیرفطری ہوں بلکہ ہرتہذیب میں ناپسند کیے جاتے ہوں دھڑلے سے استعمال کرتا ہے، مسکرات اور مخدرات کا استعمال کبھی شیشے کے نام سے کبھی کسی اور نام سے ایجاد کر کے کھلے عام فخر کے ساتھ کرتا ہے، یہ وہ سب انداز ہیں جنھیں قرآن کی ثقافت و تہذیب، اخلاقی بنیاد پر رّد کرتی ہے اور انسان کو تفقّہ، غوروفکر، تنقیدی ذہن کے ساتھ مطالعہ و مشاہدہ کی دعوت دیتی ہے۔

قرآنی ثقافت و تہذیب تفقّہ، منظم غوروفکر کرنے کے عمل کو نہ ایک ذہنی تفریح یا ذہنی شطرنج سمجھتی ہے اور نہ اسے کسی خاص طبقے تک محدود کرتی ہے۔ گویا اس ثقافت کا مزاج ہی تحقیق و جستجو کے ذریعے تلاشِ حق ہے۔ یہ ذہنوں کو روایت پرستی سے آزاد کرتی اور منظم طور پر ذکروفکر کے ذریعے ایسی تربیت فراہم کرتی ہے جس کے بعد مسائل کا منہ دیکھتے رہنے کے بجاے مسائل کے مناسب اخلاقی اور عملی حل خود چلتے ہوئے سامنے آجائیں۔

سورئہ توبہ میں اہلِ ایمان کو دعوتِ جہاد دینے کے بعد یہ بات سمجھائی جارہی ہے کہ گو جہاد افضل ترین عبادت ہے، لیکن جس مقصد کے لیے جہاد کیا جا رہا ہے یعنی قیامِ عدل، طاغوت اور ظلم و شرک کو مٹاکر خالقِ کائنات کی دنیا میں اس کے قانون کا نفاذ، اُس کو سمجھنے اور اس کے نفاذ کے لیے کارکن تیار کرنے کی غرض سے اہلِ ایمان کی ایک جماعت شہر میں دین کا شعور، مسائل سے آگاہی اور مشکلات کو دُور کرنے کے لیے الہامی ہدایت کو سمجھنے کی غرض سے تفقّہ، تحقیق،تذکیر و تفکیر میں مصروفِ عمل ہو اور جب مجاہدین جہاد سے واپس لوٹیں تو ان کی تعلیم و تربیت کے ذریعے انھیں نظامِ اسلامی کے نفاذ کے لیے تیار کریں۔ گویا یہاں معاملہ اہلِ سیف اور اہلِ قلم میں انتخاب کا نہیں ہے  بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری کے طور پر ان اہلِ سیف کو رموزِ قلم سے آگاہ کرنا ہے جو علمِ حقیقی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی قیادت کی ذمہ داری کے حقوق ادا کرسکیں اور اللہ کی زمین پر اُس کی مرضی کے مطابق نظام رائج کرسکیں۔ قرآنی تہذیب و ثقافت کا یہ پہلو منفرد ہے کہ وہ زندگی کے ہرہرعمل میں غوروفکر کے بعد لائحہ عمل اختیار کرنے پر زور دیتی ہے اور اس غرض کے لیے ادارتی مدد اور ایسی تنصیبات (institutions) قائم کرنا چاہتی ہے جو اس عمل کو تواتر کے ساتھ جاری رکھ سکیں، چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے: ’’اور کچھ ضروری نہ تھا کہ اہلِ ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہرحصے میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ (تفقّہ فی الدین) پیدا کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ (غیرمسلمانہ روش سے) پرہیز کرتے۔ (التوبہ ۹:۱۲۲)

قرآنِ کریم مسلسل یہ اصرار کرتا ہے کہ اہلِ ایمان فکر کریں، علم حاصل بھی کریں اور اس پر عمل بھی کریں۔ تحقیق و تنقید اور تجسسِعلمی کو اختیار کریں۔ شاید ہی کوئی صفحہ ایسا ہو جس پر یہ نہ کہا گیا ہو کہ تم ایسی قوم کیوں بن رہے ہو جو عقل کا استعمال نہیں کرتی، علم کی طرف راغب نہیں ہوتی، شعوروآگہی سے کام نہیں لیتی اور اس پر متواتر زور نہ دیا گیا ہو۔ اس حقیقت ِ واقعہ سے یہ بات بلاخوف تردید ثابت ہوتی ہے کہ اگر قرآن و حدیث کے احکامات، تعلیمات اور ترغیبات کواختیار کیا جائے یعنی ان کی لفظی اور معنوی اطاعت کی جائے تو مسلم ذہن میں نہ تو غلو پیدا ہوگا نہ اندھی تقلید، نہ تحقیق و جستجو سے بھاگ کر ماضی میں پناہ لینے کی خواہش۔ بلکہ ہر وہ فرد جو مسلم ہو یا غیرمسلم قرآنی تعلیم پر عمل کرنے کے نتیجے میں ایک علم کا شیدائی، تحقیق کا مردِ میدان اور غوروفکر کرنے والا حسّاس، باشعور، اللہ کا بندہ بنے گا۔

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُمت ِمسلمہ کی قرآن و سنت سے دُوری اور قرآن وسنت کے اس pro-active پہلو کو نگاہ سے اوجھل کردینے کی بنا پر وہ فکری زوال رونما ہوا جس سے مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کی رفتار سُست ہوکر ترقی ٔ معکوس میں تبدیل ہوگئی۔ قرآنی ثقافت و تہذیب اپنے اس حرکی اور جوہری پہلو کی بنا پر دنیا کی وہ واحد تہذیب ہے جو روایت علم و تحقیق کو بربناے وحی  اپنے ہر ماننے والے کے لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر ایک فریضہ قرار دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تفقّہ فی الدین فرضِ کفایہ کی حیثیت سے ایک متفق علیہ کے طور پر ۱۵ سو سال سے اُمت مسلمہ کے شعور کا حصہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنے شعور کا استعمال نہ کرے اور جان بوجھ کر روایت پرستی کا لبادہ اوڑھ کر اپنی مسلکی شخصیت پر فخر کرتے ہوئے اپنے مسلک کے خول میں بند رہنے اور صرف اپنے مسلک کو ’الحق‘ سمجھنے کے خواب میں مگن رہے۔ اسلامی ثقافت و تہذیب کی بنیاد جن الہامی اصولوں پر ہے، اگر انھیں نظرانداز کیا جائے گا تو اُمت ِمسلمہ لازمی طور پر اندھی تقلید کا شکار ہوگی۔

قرآنی ثقافت و تہذیب کے فکری اور علمی پہلوئوں پر غور کیا جائے تواس ثقافت کی معروضی بنیاد زیادہ روشن ہوتی جاتی ہے۔ بالعموم دنیا کی تہذیبوں اور ثقافتوں کو ان کے مخصوص خطوں، تاریخی ادوار یا اقوام سے وابستہ کیا جاتا ہے۔ ہم کہتے ہیں یہ رومیوں کی تہذیب ہے، یہ ماوراء النہر کی تہذیب ہے، یہ چین کی ثقافت ہے، یہ ہندو دیومالائیں ہیں، یہ Judia میں پروان چڑھنے والی ثقافت ہے، یہ بازنطینی تہذیب ہے وغیرہ۔ لیکن قرآنی ثقافت وہ واحد تہذیب ہے جس کی جڑیں زمین میں نہیں، کہیں اور ہیں اور اتنی پایدار اور مضبوط ہیں کہ ہردم شجرطیبہ کے بڑھنے، تناور ہونے اور رحمت بننے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ وحی الٰہی کایہ کردار قرآنی تہذیب، ثقافت کو ایک منفرد مقام سے نوازتا ہے جس پر مزید غوروفکر کی ضرورت ہے۔ (جاری)

 

قرآن کریم انسان کو دعوتِ فکر دیتے وقت یہ بات واضح کردیتا ہے کہ انسان کو مکمل  آزادیِ فکر کے ساتھ ایک سے زائد راستے اور طرق اپنانے کا اختیار عطا کیا گیا ہے (وَھَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ o البلد ۹۰:۱۰ ’’دونوں نمایاں راستے اسے دکھا دیے‘‘) لیکن یہ فیصلہ وہ کس طرح کرے؟ کیا محض اپنے آباواجداد کی اندھی پیروی کو رہنما اصول بنائے یا محض منطق اور مشاہدے کو، یا مشاہدے کے ساتھ اس بات پر بھی غور کرے کہ عقل کی وسعت و محدودیت کتنی ہے؟ مشاہدے کی حدود کہاں تک ہیں؟ رہوارِ فکر کہاں تک جاسکتا ہے؟ اور اس پورے فکری عمل میں کسی معروضی  معیارِ حق و باطل کا کیا مقام ہے؟ اسلامی فکروثقافت کا یہی پہلو، جسے ہم کلیت پسند تصور کہہ سکتے ہیں، اسے دیگر فکری اور ثقافتی روایتوں سے ممتاز کرتا ہے۔

چنانچہ دعوتِ فکر کو تذکرہ و تذکیر کے ساتھ یک جا کرتے ہوئے قرآن کریم انسان کو ایک تیسری بنیاد کی طرف متوجہ کرتا ہے اور خود ہی اس کی تعریف بھی فراہم کردیتا ہے۔ فکروذکر کا عمل انسان کی عقل اور قلب کو ایک ایسے طرزِ عمل اور رویے (attitude) کی طرف لے جاتا ہے جس میں عقل و قلب ایک دوسرے کی ضد بن کر نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر جائزہ، تنقید، تفکر اور تصفیہ کا عمل اختیار کرتے ہیں، چنانچہ تزکیہ نہ محض قلب کی صفائی تک محدود رہتا ہے اور نہ تدبر محض ہی منطقی اور کلامی بحثوں میں مقیّد ہوتا ہے بلکہ دونوں مل کر ثقافت کی بنیاد بن جاتے ہیں اور ذکروفکر فطری طور پر ایک شخص کو اپنے مشاہدات، احساسات، آرزوئوں، خواہشات، وقت، مال، صحت، صلاحیت غرض ہرہرانسانی عمل کے تزکیے اور مطلوبہ اعمال کے مقاصد و اہداف پر غوروتدبر کرنے کی طرف آمادہ کردیتے ہیں۔ یہ ثقافت چند ظاہری، بصری اور صوتی اعمال کا نام نہیں ہے بلکہ ہر وہ شے جس کا تعلق بصری، صوتی، احساساتی معاملات سے ہو، ثقافت اسے ایک معنی دینے کے بعد فکروذکر کی بنیاد توحید سے وابستہ وپیوستہ کردیتی ہے اور ایک شاعر ہو یا ادیب، مصور ہو یا صاحبِ فن نقاش، حرفت کار ہو یا معمار، اس کے تیشے کی ہر ضرب اور قلم کی ہر جنبش توحید کی بنیاد پر فکروذکر اور تزکیے کے عمل سے گزرنے کے بعد عالمِ شہود میں آتی ہے۔

قرآن کریم نے تزکیے کو ایک شعوری اور ارادی عمل کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ سورئہ شمس اور الاعلیٰ میں واضح الفاظ میں غیرمبہم طور پر یہ بات فرمائی گئی ہے کہ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَاo  (الشمس ۹۱:۹) ’’یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا‘‘۔ اسی بات کو سورۃ الاعلیٰ میں تزکیے کے ظاہری اور عملی پہلو کے ساتھ وابستہ کرتے ہوئے یوں فرمایا گیا: ’’فلاح پاگیا وہ جس نے تزکیہ کیا اور اپنے رب کا نام یاد کیا۔ پھر صلوٰۃ ادا کی‘‘ (الاعلٰی ۸۷: ۱۴-۱۵)۔ قرآن کریم نے یہاں تزکیے کے عمل کو آزاد نہیں چھوڑ دیا بلکہ اسے اللہ کے نام کی یاد اور اس ذکر کی بہترین شکل قیام، رکوع و سجود کا بیان کرنے کے ذریعے قرآن کے طالب علم کے ان سوالات کا جواب بھی فراہم کردیا جو تزکیے کی اصطلاح پڑھنے اور سننے کے بعد ذہن میں اُبھر سکتے ہیں، یعنی کیا یہ آنکھیں بند کر کے کسی گوشے میں ہفتوں اور برسوں بیٹھنے کا نام ہے یا کسی جنگل بیابان میں معاشرتی زندگی سے دُور جاکر اپنے قلب و نظر کو مجلا و مصفّا کرنے کا نام ہے۔ یا زندگی کے ہنگاموں، بازار کی معاشی سرگرمیوں اور سیاست کی شطرنج میں الجھنے کے باوجود سیاسی، معاشی،معاشرتی معاملات میں رب کریم کی   رضا و خوشنودی کے کام اختیار کرنے اور اپنے سر اور جسم کو نہیں بلکہ عقلی وجود کو، قلبی خواہشات کو، نظر کی حسرتوں اور تڑپتی خواہشوں کو ربِ کریم کی رضا کا پابند کردینے، اس کے حضور اپنے پورے وجود کو عاجزی اور طلب کے ساتھ ساتھ اُس ایک سجدے میں گرا دینے کا نام ہے جواسے تمام غلامیوں سے آزاد کر کے نفس کو اُس کے اعلیٰ مقام سے آگاہ کردے۔

تزکیے کا یہ وہ عملی اور محسوس پہلو ہے جو اس کے معیار کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ وہ تزکیہ اور خشیت اور تقویٰ جو فرائض واجبات، سنن اور نوافل کی شکل میں اپنے آپ کو نہ ڈھال سکے ایک فکرِآوارہ تو ہوسکتا ہے، قرآن کا مطلوب تزکیہ نہیں ہوسکتا۔ قرآن جس تزکیے کے ذریعے ایک ثقافت و تہذیب پیدا کرنا چاہتاہے، اس میں اللہ کی خشیت، اس کی توحید، بہترین ناموں کے ساتھ اس کا ذکر، جو تسبیح کے دانوں کی محدودیت سے نکل کر اس کی بارگاہ میں  قیام و قعود اور رکوع و سجود میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ رکوع و سجود چند خاص اوقات میں نہیں بلکہ زندگی کے ہرفیصلہ کن معاملے میں ہوتے ہیں۔ جب ایک فرد یا ایک سربراہ یا ایک قوم اپنے مالی معاملات میں سودی نظام کے آگے سجدہ کرتی ہے اور اس سے نرم یا گرم سودی کاروبار کے لیے قدم آگے بڑھاتی ہے توتسبیح کے دانوں پر اسماے حسنیٰ کی گردش اپنا مفہوم کھو دیتی ہے۔ جب ایک سربراہِ مملکت مسلمانوں کی نرم شبیہہ کی تمنّا میں مسلمانوں کو نرم نوالہ بناکر پیش کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے تو یہ عمل اس کے قولی دعووں کی تردید کردیتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ وہ اللہ کی خشیت سے نہیں، کسی نام نہاد یک قطبی قوت کی ہیبت و رعونت سے لرزہ براندام ہے۔

تزکیہ کوئی غیرمحسوس و غیرمرئی عمل نہیں ہے بلکہ قرآن اسے ان تمام اعمال سے وابستہ کرتا ہے جو انسان کی انتہائی ذاتی کیفیات سے وابستہ ہوں مثلاً قیام اللیل، یا اس کے معاشرتی وظائف سے تعلق رکھتے ہوں مثلاً والدین کے حقوق، بیوی بچوں کے حقوق، اولاد کی صحیح اسلامی تربیت یا  بین الاقوامی معاملات میں معاہدوں اور پالیسیوں کا تعین۔

یہی وجہ ہے کہ تزکیے کی اصطلاح کوقرآن کریم نے تزکیۂ مال کے ساتھ بیان کرنے کے بعد ان تمام شکوک و شبہات کا ازالہ کردیا جو دین و دنیا، عالمِ قلب اور مادی عالم کے درمیان مصنوعی طور پر ذہنوں اور قوموں کے خون میں سرایت کر گئے ہیں۔ ارشاد خداوندی ہے: خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَ تُزَکِّیْھِمْ بِھَا وَصَلِّ عَلَیْھِمْ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(التوبۃ ۹:۱۰۳)’’اے نبیؐ! تم ان کے اموال میں سے صدقہ [زکوٰۃ] لے کر انھیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انھیں بڑھائو اور ان کے حق میں دعاے رحمت کرو کیوں کہ تمھاری دعا  ان کے لیے وجۂ تسکین ہوگی، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے‘‘۔

قرآن کریم یہاں جس ثقافت و تہذیب کی بات کر رہا ہے اس میں تین پہلو انتہائی   قابلِ غور ہیں۔ پہلی بات یہ کہ نبی اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے فرماں روا ہونے کی حیثیت سے لوگوں کے اموال میں سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے ذمہ دار ہے۔ یہ کوئی رضاکارانہ کام نہیں ہے کہ جب چاہا کرلیا بلکہ یہ اس کے فرائض میں شامل ہے اور اس بنا پر مسلم ثقافت میں جو افراد بھی صاحب ِ اختیار ہوں گے یہ ان کی ذمہ داری ہوگی۔

دوسری بات یہ واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ حلال کمائی بھی اس وقت تک پاک نہ ہوگی اور نہ بڑھے گی جب تک اس کا تزکیہ نہ کیا جائے۔ گویا قرآنی ثقافت و تہذیب میں غیراخلاقی ذریعے سے حاصل کردہ مال و دولت کے دروازے پر ایک بھاری اور مضبوط قفل لگا دیا جاتا ہے اور ہرشہری کو صرف اخلاقی ذریعے سے مال حاصل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی طرح نہ تو سود پر مبنی ہے، نہ اس میں محض منافع کی بنیاد پر عوام کا خون چوسنے یا انھیں ایسے حرام کاموں میں خرچ کرنے کا امکان ہی ہے جو اسلام کے آفاقی اصولِ اخلاق سے متصادم ہوں، مثلاً جواخانے، ناچ گھر، شراب خانے، ٹی وی کے پردے پر فحاشی کے ذریعے اور فحش اشتہارات کے ذریعے روپے کمانے یا بنکوں میں سودی کاروبار کے ذریعے مال و دولت میں اضافہ۔ جس مال میں سے زکوٰۃ دے کر اس کا تزکیہ کیا جائے گا اس کے خود پاک اور اخلاقی ذریعے سے حاصل کیے جانے کو ایک طرح سے انفرادی، اجتماعی اور سرکاری طور پر ایک شرط قرار دے کر تزکیۂ مال کوقابلِ پیمایش تقویٰ کی شکل دے دی گئی ہے۔

تیسری بات جو وضاحت سے کہی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ رسولؐ اور اس کے بعد ریاست اپنے اس فرض کو ادا کرے گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کے لیے جو مال کا تزکیہ کرنے اور کروانے پر شعوری طور پر آمادہ ہوں، اللہ کے رسولؐ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ان کے لیے دعاے رحمت و مغفرت بھی کریں کیونکہ محض اپنے فریضے (زکوٰۃ) کا ادا کردینا شرطِ مغفرت نہیں ہوسکتا۔  اس کے ساتھ اور بہت سے پہلو ایسے ہوسکتے ہیں جو ناقص ہوں لیکن زکوٰۃ کی ادایگی کے ساتھ دعاے مغفرت کے بعد اس کا امکان زیادہ ہوگا کہ رب کریم جو اپنے بندوں سے بے حساب محبت کرتا ہے وہ ان کے تزکیے کے عمل کو قبول کرلے۔ یہ وہ ثقافت ہے جس میں مال کی حرص اور ہوس کی جگہ مال کے جائز طور پر بڑھانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کے ذریعے اضافے کی خواہش پروان چڑھتی ہے جس کی نظیر نہ مادہ پرست تہذیب میں ملتی ہے نہ روحانیت پرست تہذیب میں۔ اسلامی تہذیب و ثقافت وہ واحد ثقافت ہے جو تزکیے کے اس پہلو کو نہاں خانۂ دل سے نکال کر نرم و گرم بازارِ معیشت و سیاست و معاشرت میں لاکر ایک قابلِ عمل اور قابلِ پیمایش (quantifiable) شعوری اور ارادی طرزِعمل بنا دیتی ہے۔

تزکیے کے اس عمل میں تین ایسے عناصر شامل ہیں جن کی طرف قرآن کریم بار بار متوجہ کرتا ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ: ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰـتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍo (الجمعۃ ۶۲:۲) ’’وہی ہے جس نے اُمیّوں کے اندر ایک رسولؐ خود انھی میں سے اٹھایا ،جو انھیں اُس کی آیات سناتا ہے، ان کی زندگی سنوارتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے‘‘۔

اس آیت مبارکہ میں بھی تزکیے کے عمل کو تلاوتِ آیات، تعلیمِ کتاب اور تعلیم معرفت وحکمت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے قرآن کریم نے اپنی ثقافت کو وحی اور علم و حکمت کے ساتھ یکجا کرکے اُسے ایک خصوصی اور ممتاز روایت بنا دیا ہے۔ گویا یہ وہ ثقافت ہے جس میں انسان خود اپنا رہنما اور ہادی نہیں ہے بلکہ وحی (الکتاب) اُسے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ یہ رہنمائی تفکر و تذکیر اور تزکیے  کے عمل کے ذریعے تعلیمی طریق کار پر دی جاتی ہے۔ رسولؐ خود معلم ہونے کی حیثیت سے ایک ثقافتِ علم کی بنیاد رکھتا ہے جس پر ثقافت و تہذیب کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ رسولؐ اپنے اسوہ اور قابلِ اتباع مثال کے ذریعے ثقافتی اور تہذیبی سرگرمی کے لیے اصول و ضوابط اور خود ایک ایسی زندہ مثال چھوڑ جاتا ہے جو قیامت تک انسانی تہذیب کے لیے قابلِ عمل نمونہ ہو اور جو رفتارِ زمانہ اور روز افزوں معاشرتی ترقی کے باوجود ایک دمکتی ہوئی مثال ہو جس میں اتنی وسعت اور یُسر ہو کہ ہردور کی مشکلات اور عُسر کو دُور کرسکے۔

تزکیۂ نفس، تزکیۂ وقت، تزکیۂ صلاحیت، تزکیۂ مال، تزکیۂ فکرونظر کا یہ سفرِ علم و حکمت جس قوتِ محرکہ کی بنا پر ہوتا ہے وہ محض اس دنیا میں ثقافتی اور تہذیبی کمال کا حصول نہیں ہے بلکہ اس کی اصل منزل تہذیبی و ثقافتی ترقی کے ذریعے آخرت کی کامیابی کا حصول ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وَمَنْ یَّاْتِـہٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِکَ لَھُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی o جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَکّٰی o (طٰہٰ ۲۰: ۷۵-۷۶) ’’اور جو اُس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہوگا، جس نے نیک عمل کیے ہوں گے، ایسے سب لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں، سدابہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ جزا ہے اُس شخص کی جو پاکیزگی (تزکیہ) اختیار کرے‘‘۔

تزکیہ اور اخلاقی عمل گو بذاتِ خود مطلوب عمل ہے لیکن قرآن کریم انسان کے ہرہرعمل کو آخرت میں اچھے یا بُرے نتائج کے ساتھ وابستہ کردیتا ہے تاکہ اس دنیا میں بعض اوقات مطلوبہ نتائج کے حاصل نہ ہونے کے باوجود معاشرہ اور تہذیب متحرک رہے اور کبھی جمود اور پژمُردگی کا شکار نہ ہو اور دنیا میں تہذیبی و ثقافتی جدوجہد ہی انسان کا حقیقی مقصود نہ ہو بلکہ انسان کی ہر ہر کاوش کا آخری نقطہ آخرت میں کامیابی ہی رہے۔

جس طرح قرآن تزکیے کے عمل کو عبادات و معاملات کے ساتھ وابستہ کردیتا ہے، ایسے ہی فکروذکر اور تزکیہ میں الکتاب اور کتابِ فطرت و کائنات سے تعلق کو اسلامی تہذیب و ثقافت کی پہچان قرار دیتا ہے: کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ (صٓ ۳۸:۲۹) ’’یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے نبیؐ) ہم نے تمھاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل وفکر رکھنے والے اس سے سبق لیں‘‘۔ آیاتِ کتاب پر تدبر کیا جانا اس لیے ضروری ہے تاکہ انسان ان سے اپنے معاملات میں رہنمائی لے سکے۔ انھیںمحض ثواب کے لیے تلاوت کرلینا اور مفہوم سے بے خبر رہنا ان کے نزول کا مقصد پورا نہیں کرتا، بلکہ رب العالمین چاہتا ہے کہ اس کتاب کے ایک ایک حرف پر تدبر کیا جائے اور تدبر کے نتیجے میں ایک ایسی تہذیب و ثقافت وجود میں آئے جس کا ہر ہرمظہر اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اطاعت کا زبانِ حال سے اظہار کرے۔

تہذیب و ثقافت میں تضادات سے محفوظ رہنے اور صحیح سمت میں آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ الکتاب کی بنیاد پر علوم و فنون کی ترقی کے نئے راستے تلاش کیے جائیں۔ چنانچہ سورہ نساء میں ارشاد ہوتا ہے: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًاo (النساء ۴:۸۲) ’’کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی‘‘۔ صرف قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ ۲۳سال کے عرصے میں جو کچھ نازل ہوا اس کی ہرآیت دوسری آیت کے ساتھ معنوی حیثیت سے مربوط ہے اورکسی مقام پر تضاد نہیں پایاجاتا۔

جب اس الکتاب کو معاملات کی بنیاد بنایا جائے گا تووہ معاشی معاملات ہوں یا سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی، ان میں آپس میں ٹکرائو اور تضاد کبھی نہ ہوگا بلکہ منزل و مقصد اور طریق کار کی یک جہتی کے نتیجے میںترقی کا عمل صحیح سمت اختیار کرے گا۔ مسلم دنیا کا ایک المیہ یہ ہے کہ دیگر مذاہب کی کتب اور مذہبی تعلیمات کے زمان و مکان میں محدود ہونے کے سبب قدامت پرستی اور سائنسی تحقیقات کے ساتھ ٹکرائو کی بنا پر مشرق و مغرب میں مذہب اور جدیدیت میں جو کش مکش پائی جاتی ہے، اسے اسلام میں تلاش کرتے ہوئے یہ قیاس کرلیا جاتا ہے کہ اسلام بھی مشرقی اور مغربی مذاہب کی طرح ایک ’مذہب‘ ہے اور چونکہ ’مذہب ‘ مغرب میں ترقی کی راہ میں رکاوٹ رہا ہے اور مشرقی اقوام بھی، چاہے وہ ہندو ہوں یا بدھ پرست ہوں، مذہبی قیود سے نکلے بغیر ترقی نہیں کرسکتیں۔ اس لیے مسلمانوں کو بھی اسلام کو نظرانداز کرتے ہوئے جدیدیت کو اختیار کرنا ہوگا۔ یہ ایک بنیادی فکری غلطی ہے جس کی تردید قرآن کریم کے ہرصفحے پر بار بار تفکر، تعقل، تدبر، تزکیہ اور تفقہ کی متحرک اصطلاحات کے ذریعے کی گئی ہے۔

چنانچہ قرآنی تہذیب و ثقافت میں ماضی کی مفید روایات کی جگہ تبدیلیِ زمانہ کے لحاظ سے اجتہاد کی بنیاد پر مسائل کا حل تلاش کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ چونکہ قرآن کریم کے ساتھ مسلمانوں کا تعلق روایتی نوعیت کا بن گیا ہے اس لیے قرآن کریم سے براہِ راست رہنمائی حاصل کیے بغیر  سنی سنائی باتوں اور ٹی وی چینلوں کے دریافت کردہ تجدد پسند ’عالم‘، ’علامہ‘ اور ’دانش ور‘ ایک ایسے اسلام کی تدوین کرنے میں لگ جاتے ہیں جو مغربی ذہن اور مغرب زدہ افراد کے لیے بے ضرر ہو۔

قرآن کریم جس ثقافت و تہذیب کی بنیادیں فکر، ذکر، تزکیے اور تدبر پررکھتا ہے وہ اپنی جگہ خود ایک مستقل ثقافت اور تہذیب ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے۔ قرآنی ثقافت جہاں کہیں بھی زمین میں اپنی جڑیں پیوستہ کرے گی، وہاں اس زمین میں نمو تو حاصل کرے گی لیکن اس کے بنیادی خدوخال اور شجرطیبہ کی طرح جہاںبھی وہ قائم ہوگی اس کے ثمرات (products)ایک ہی ہوں گے۔ یہ ثمرات روحانی بھی ہیں اور مادی بھی، معاشی بھی ہیں اور ثقافتی بھی۔ قرآن کریم کے زیرسایہ پرورش پانے والی تہذیب و ثقافت بنیادی طور پر توحیدی ثقافت ہے جو زمان و مکاں کی قیود سے ماورا لیکن زمان و مکاں کی ضروریات ومطالبات سے مکمل طور پر آگاہ ثقافت ہے۔ وہ نیل کے ساحل سے جبل الطارق تک اور مراکش سے انڈونیشیا تک تنوع کے باوجود عنصری طور پر ایک وحدانی ثقافت ہے۔

لیکن اگر انسان انجان بن کر یا جان بوجھ کر اپنے قلب پر قفل چڑھا لے تو پھر پہاڑوں کو لرزا دینے والا یہ کلامِ برحق کہ جسے سُن کر بعض پتھر لڑھک کر سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور بعض کا   سینہ شق ہوکر ان سے پانی اُبل پڑتا ہے، ایسا کلام بھی ایسے انسانوں کو ہدایت یاب نہیں کرسکتا۔  انھی کو مخاطب کرکے قرآن کہتا ہے: اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَاo (محمد ۴۷:۲۴) ’’کیا ان لوگوں نے قرآن پر تدبر نہیں کیا یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں‘‘۔ دلوں کے غلاف ہوں یا کانوں اور آنکھوں پر پڑے ہوئے پردے، جس لمحے بھی انسان تلاشِ حق اور راہِ ہدایت کی طرف ایک قدم بڑھاتا ہے، خالقِ کائنات اس کی طرف دس قدم بڑھتا ہے اور وہی دل جو کل تک شقاوتِ قلبی کی مثال تھے خشیت و رقّت سے پُر ہوکر نورِ ہدایت سے معمور ہوجاتے ہیں اور ان کی ہر دھڑکن قرآنی ثقافت و تہذیب کے قیام کے لیے تازہ اور پاک خون فراہم کرنا شروع کردیتی ہے۔ بَلِ اللّٰہُ یُزَکِّیْ مَنْ یَّشَآئُ (النساء ۴:۴۹) ’’مگر اللہ جسے چاہتا ہے پاک کردیتا ہے‘‘۔

قرآنی ثقافت و تہذیب کی فکری بنیادیں آفاقی ہونے کے ساتھ ساتھ یہ صلاحیت بھی رکھتی ہیں کہ وہ ہر دور میں انقلاباتِ زمانہ کے مطالبات کا عملاً جواب فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک تعلیمی عمل کے ذریعے انسانوں کو اس ثقافت کے فروغ کے لیے صحیح شعور، قوتِ عمل، قوتِ محرکہ (incentive) اور اعتماد فراہم کرسکیں۔ اس تدریجی عمل میں تعلیم و تعلّم، عقل و تعقل اور گہری طبیعی فکر (تفقّہ) وہ عناصر ہیں جن کے ایک مناسب امتزاج سے یہ ثقافت و تہذیب اپنا صحیح مقام حاصل کرتی ہے۔ (جاری)

قرآن کی نگاہ میں فکری عمل کے مسلمان ہونے کی بنیادی شرط فکر کا وحی کو حتمی، حقیقی اور قطعی ذریعۂ علم مانتے ہوئے عقل و مشاہدے اور تجربے کے سہارے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ غیرالہامی تہذیب و ثقافت میں مسائل کے تجزیے اور حل کے لیے مجرد عقلی، تجربی، وجدانی یا شخصی روحانی ذرائع کو اختیار کیا جاتا ہے۔ اس بنا پر مسائل کا تجزیہ، تحلیل اور حل یا تو انسان کی محدود عقلی پہنچ کی بنا پر خوش نما عقلی تعبیرات کی شکل میں سامنے آتا ہے یا عملی تجربات کی روشنی میں ایک زمینی حقائق پر مبنی pragmatic حل کی شکل میں یا پھر وجدانی (intuitive) اور روحانی (spiritual) تجربے کے انتہائی ذاتی (personal) اور انفرادی زاویے سے تجویز کردہ راے کی شکل میں حاصل ہوتا ہے۔ ان چاروں زاویوں سے کی جانے والی فکر، انسانی فکر اور تجربے کی محدودیت کی بناپر کلیت سے عاری اور ایک خطہ، دور یا ایک نسل کے ساتھ اختیاری یا غیر اختیاری طور پر مخصوص رہتی ہے اور باوجود ایک ظاہر عقلی اور منطقی ربط کے حیاتِ انسانی اور تہذیب ِانسانی کی ہمہ گیریت سے پیدا ہونے والے مسائل کا جامع حل تلاش کرنے سے قاصر رہتی ہے۔

چنانچہ مغربی مادیت ہو یا مارکسی معیشت، یا عالمی استعماریت اگر ان کا تجزیہ کیا جائے تو ہرایک کی فکری بنیاد محدود اور کسی خطے، تاریخ کے دور یا مخصوص معاشرتی و معاشی مسائل کی پیداوار نظر آتی ہے۔ ایک انسانی تہذیب و ثقافت کی تعبیر اگر ایک محدود علاقائی یا لسانی یا قومی روایات پر رکھی جائے تو وہ باوجود انتہائی مخلصانہ خواہش کے علاقائی اور محدود و مخصوص ہی رہے گی۔ اسلام عالمی انسانی برادری کے لیے ہدایت ہونے کی بناپر اسلامی فکروثقافت کو انسانی فکر کی محدودیت اور عجز سے نکال کر ایک آفاقی مقام دیتا ہے، شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَ الْفُرْقَانِ(البقرہ ۲:۱۸۵)’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں‘‘، اور اس بنا پر فکروثقافت کے لیے وحی کو جو اپنی وسعت، زمان و مکان سے ماورا اور انسانی فکر کی محدودیت اور قید سے آزاد قطعی ذریعۂ علم ہونے کی بنا پر اساس قرار دیتے ہوئے فکری زاویوں میں حرکیت، جدیدیت اور حالات کی مناسبت سے تبدیلیِ زمانہ کے باوجود انسانی مسائل کا غیرمتعصبانہ حل تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اسلام کا فکروثقافت کو علاقائیت اور زمان و مکاں کی قید سے آزاد کرانے کا عمل اسے ایک ’مذہب‘ کی جگہ دین بنادیتا ہے جو انسان کی زندگی کے ہرممکنہ پہلو پر آفاقی اخلاقی اصولوں کی روشنی میں تفکر کرنے اور مسائل کے حل تلاش کرنے کے سبب ایک متحرک اور مسلسل ترقی پذیر روایتِ علم کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

فکر کو جس مفہوم میں قرآن کریم نے استعمال کیا ہے وہ انسانی تہذیب و ثقافت کی ترقی کے عمل میں پہلی بنیاد ہے۔ یہ تلاش حق کی طرف لے جانے کا وہ متحرک عمل ہے جس میں انسان اپنی عقل کی وسعتوں کی محدودیت کا اندازہ کرتے ہوئے وحی الٰہی کی قطعیت، صداقت و حقیقت کا ادراک کرتا ہے۔ اسی عمل کو قرآنِ کریم ذکر کی اصطلاح کے ذریعے مزید آگے بڑھاتا ہے۔

ذکر کا عمومی مفہوم لسان یا قلب کا یاد میں مشغول ہونا ہے۔ ایسے ہی ذہن میں کسی بات کے محفوظ کرلینے کو الذِّکرُ سے بیان کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے فکر کے ساتھ ذکر کو بھی اسلامی فکروثقافت کی پہچان اور بنیاد قرار دیا ہے، یعنی وہ ثقافت اور فکر جو اللہ تعالیٰ کی تذکیر سے معمور ہو۔

یہ تذکیر تاریخی عمل سے آگے بڑھتے ہوئے ایک شعوری اور تجزیاتی تجربے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اللہ کے جو بندے اس شعوری عمل سے گزرتے ہیں قرآن کریم انھیں اُولی الالباب، دانش مند یا ہوش مند کہہ کر پکارتا ہے: اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰیٰتِ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ o الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِھِمْ وَ یَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا ج (اٰل عمرٰن ۳:۱۹۰-۱۹۱) ’’زمین اور آسمان کی پیدایش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں اُن ہوش مندوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو اُٹھتے، بیٹھتے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ اور زمین و آسمان کی ساخت پر غوروفکر کرتے ہیں (وہ بے اختیار بول اُٹھتے ہیں) پروردگار، یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے۔ تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے‘‘۔ گویا ذکرِالٰہی نوعیت کے لحاظ سے فکر سے بنیادی طور پر کوئی زیادہ مختلف چیز نہیں ہے۔ یہ انسان کو کائنات اور اُس کے اپنے وجود میں ظاہر اور مخفی اللہ کی آیات پر غور کرنے اور کاروبارِ حیات کے ہرمرحلے میں شعوری عمل پر اُبھارتا ہے۔ ذکر محض زبان سے بڑائی بیان کرنے یا دل میں خفیہ طور پر یاد کرلینے تک محدود نہیں ہے (وَ اذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً وَّ دُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَo (الاعراف ۷:۲۰۵)’’اے نبیؐ! اپنے رب کو صبح و شام یاد کیا کرو دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ۔ تم ان لوگوں میں سے نہ ہوجائو جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں‘‘۔ گویا ذکر کا عمل بیٹھنے، لیٹنے یا کھڑے ہونے کا پابند نہیں بلکہ ہرآنے والے سانس اور قلب کی ہردھڑکن کے ساتھ احساسِ شکر کو عملِ عبدیت میں تبدیل کردینے کا نام ہے۔

منافق کی ایک پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اللہ کے ذکر کی ایک افضل شکل یعنی صلوٰۃ کی ادایگی میں کسمساتا ہے اور اللہ کا ذکر عموماً دکھاوے کے لیے کرتا ہے، جب کہ اس کے دل و دماغ کی دنیا ذکروفکر کے شعوری عمل سے اکثر خالی رہتی ہے۔ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ ھُوَ خَادِعُھُمْ وَ اِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی یُرَآئُ وْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ اِلَّا قَلِیْلًاo (النساء ۴:۱۴۲)’’یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکا بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انھیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ جب یہ نماز کے لیے اُٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اُٹھتے ہیں اور اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں‘‘۔

تہذیبی اور ثقافتی ترقی اپنی اقدار کی انفرادیت کے باوجود ایک تاریخی روایت سے پیوستہ ہوتی ہے اور عموماً اپنے تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے اور ماضی کے آثار سے سبق لیتے ہوئے اپنی راہ اور طریق کار کا تعین کرتی ہے۔ اسلامی فکر سے وابستہ ذکر کی اصطلاح میں زمان و مکاں اور رفتارِ زمانہ کے حوالے سے یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ ثقافتی اور تہذیبی سفر میں آگے کی طرف بڑھتے ہوئے ایک نظر ماضی پر ڈال کر یہ دیکھا جائے کہ جن اقوام نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور فضل و کرم پر اپنے رویوں اور طرزِعمل میں شکر کا رویّہ اختیار نہ کیا ان کا انجام کیا ہوا۔ یٰبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ o (البقرہ ۲:۱۲۲)’’اے بنی اسرائیل یاد کرو (اذکرُوْا) میری وہ نعمت جس سے میں نے تمھیں نوازا تھا اور یہ کہ میں نے تمھیں دنیا کی تمام قوموں پر فضیلت دی تھی‘‘۔ یہاں یہ پہلو اُجاگر ہوکر آتا ہے کہ یاد کرنے کا عمل تزکیہ اور احتساب کا شعوری عمل ہے جس میں ایک قوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیے گئے انعامات اور فضل و کرم، یعنی قیادتِ اُمم کے حوالے سے جائزہ لے کہ کیا اُس نے ایک خطے میں ایک منصب اور فکری برتری ملنے کے باوجود اپنے طرزِعمل سے شکر کا رویّہ اختیار کیا یا کفر، ظلم، طغیان اور تکبر کا؟

تاریخ نام ہی عبرت کا ہے کہ تنقیدی نگاہ سے جائزہ لیا جائے کہ کون سے عوامل ایسے ہیں جو ایک قوم کو شاکر ہونے کی بنا پر عروج و کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں اور کون سے عوامل ہیں جو کفرانِ نعمت کے نتیجے میں اس کی مادی چمک دمک کے باوجود اس کی بنیادوں کو کھوکھلا، اس کی ساکھ کو تباہ اور اس کے اقتدار کو محرومی، غلامی اور ادبار میں بدل دیتے ہیں۔ ذکر کا یہ تنقیدی اور احتسابی پہلو اسے دیگر تہذبوں سے ممتاز کرتا ہے اور قرآن کریم کو دستورِ حیات ماننے والوں کو دعوتِ فکر دیتے ہوئے شاکر بننے کی ترغیب دیتا ہے۔

ذکروفکر کے اسی پہلو سے خصوصاً مسلمانوں کو متوجہ کرتے ہوئے یاد دہانی کے طور پر کہا جاتا ہے۔ وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا (اٰل عمرٰن ۳:۱۰۳) ’’سب مل کر اللہ کی رسی (القرآن) کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اُس نے تمھارے دل جوڑ دیے اور اُس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے‘‘۔ یہاں اخوت و مودّت کی آفاقی قدر کے ذریعے قلوب کو جوڑ دینے کی نعمت کا تذکرہ کرتے ہوئے متوجہ کیا گیا ہے کہ عصبی جاہلیت کی جگہ اُلفت و اخوت دو ایسی نعمتیں ہیں جن پر صرف اُمتِ مسلمہ ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت اپنے خالق و مالک کا جتنا بھی شکر ادا کرے وہ کم ہوگا۔ جامع اور کامل ہدایت ربانی کا نزول اور انسانوں کو رنگ و خون، زبان اور نسل کے بتوں کی غلامی سے نکال کر رشتۂ اخوت و مودّت و اُلفت میں جوڑ دینا اسلام کے انسانیت پر دو ایسے احسانات ہیں جن کا بڑے سے بڑا بدل اور معاوضہ بھی صحیح معنی میں حق ادا کرنے سے قاصر رہے گا۔ یہ دعوت ذکر سے طرزِعمل اور رویّے میں تبدیلی کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ کسی گوشے میں بیٹھ کر صبح سے رات تک اور رات سے صبح تک محض چند مخصوص اذکار و ادعیہ کی تکرار سے نہیں ہوسکتی۔ بلاشبہہ ذکرِخفی ایک نیکی کا عمل ہے لیکن امربالمعروف اور جہاد کے ذریعے کلمۂ حق بلند کرنے، منکر، طاغوت، ظلم اور فتنہ و فساد کو دُور کرنے کے مقابلے میں ایک کم تر عمل ہے جسے خود قرآن کریم نے سورئہ نسا میں قیامت تک کے لیے اپنے قولِ فیصل سے طے کردیا ہے: لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰھِدِیْنَ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃً وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی وَفَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰھِدِیْنَ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاo (النساء ۴:۹۵) ’’مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھربیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرتے ہیں، دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے۔ اگرچہ ہر ایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے‘‘۔

ذکر الٰہی کا افضل ترین طریقہ جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے طاغوت، کفر، ظلم اور باطل کو مٹا کر حق، عدل اور دین کو غالب کرنا ہے۔ قرآن اہلِ ذکر اور اہلِ سیف کو الگ الگ نہیں بلکہ یک جا اور یک جان دیکھنا چاہتا ہے۔ کتابِ ہدایت میں اہلِ دل اور مجاہدین فی سبیل اللہ ایک ہی سکّے کے دو رُخ نظر آتے ہیں۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَ اذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo (الانفال ۸: ۴۵) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب کسی گروہ سے تمھارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، توقع ہے کہ تمھیں کامیابی نصیب ہوگی‘‘۔

ذکر کو قلبی کیفیات سے آگے بڑھاتے ہوئے قرآن کریم اسے رویّے، طرزِعمل اور ان مظاہر سے وابستہ کردیتا ہے جو ذکر کے تکملہ کی حیثیت رکھتے ہیں: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَo الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَo اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا لَھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَ مَغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌo (الانفال ۸: ۲-۴) ’’سچے اہلِ ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ  ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں ان کے لیے   ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں، قصوروں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے‘‘۔

یہاں قرآن کریم نے ذکریٰ اور ذکر کے قلب پر اثرات کو چار اہم اعمال سے وابستہ کردیا ہے، یعنی اللہ کے کلامِ عزیز کی آیات سن کر دل کا خشیت سے لرز جانا، ایمان کا بڑھ جانا اور نماز اور انفاق کے ذریعے اللہ کے ذکر کا کیا جانا۔ قلبی کیفیت سے عموماً ایک ذاتی روحانی تجربہ مراد لیا جاتا ہے لیکن یہاں قرآن اس تجربے کو ان اعمال سے وابستہ کرتا ہے جن کا ادا کیا جانا قلب کے خشوع اور ایمان کے اضافے کا پتا دیتا ہے۔ یہاں ذکر ایک measureable طرزِعمل اور رویّہ بن کر اُبھرتا ہے اور نماز، خشیت اور مالی ایثار اس کے پیمانے ہیں۔ یہ ایک موہوم اور غلافوں میں چھپے ہوئے احساس یا واردات کا نام نہیں ہے بلکہ طرزِعمل اور رویّے کی اُس تبدیلی کا نام ہے جسے قرآن میں دیگر مقامات پر تقویٰ کا نام دیا گیا ہے۔

الانفال کی مذکورہ بالا آیات سے چار پہلو نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں:

اوّلاً: اہلِ ایمان کا ہر حال میں، چاہے وہ اپنے ملک میں ہوں یا غریب الدیار ہوں، زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا، اسے اس کے بہترین ناموں سے یاد کرنا اور ذکریٰ کی تلاوت کے ذریعے ذکرِ باللسان کرنا۔ انسان اپنی زبان میں جو الفاظ چاہے استعمال کرلے لیکن جو عظمت کلامِ الٰہی، یا ذکریٰ کے اپنے الفاظ کے ادا کرنے میں ہے، ہر زبان اس کے آگے عاجز ہے۔

دوسرا پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ ذکر لسان سے آگے جاکر حلق میں اٹک کر نہ رہ جائے بلکہ قلب کی ہر دھڑکن میں سما جائے اور دل اللہ کی یاد سے اور اس کے ذکر سے معمور رہے۔

تیسرا اہم پہلو ذکر کا عبادات کی شکل میں ظاہر ہونا ہے یعنی ایمان کی تصدیق عمل کے ذریعے یا ذکر بالعمل۔ چنانچہ صلوٰۃ، زکوٰۃ، قیام اور حج کے علاوہ نوافل و انفاق اوردیگر اعمال کے ذریعے اللہ کا ذکر کرنا۔

اس حوالے سے چوتھا پہلو یہ ہے کہ اللہ کا ذکر جس عمل کے ذریعے سے سب سے زیادہ بلندمرتبہ قرار پایا ہے وہ ذکر بالجہاد ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ جب تم کسی گروہ سے مقابلہ کرو تو دورانِ جہاد اللہ کے ذکر کی کثرت کرو۔ یہ کثرت نہ صرف تکبیرات کے ذریعے بلکہ تلوار کے ہروار اور بندوق کی ہر گولی کے ذریعے اللہ کے نام کو بلند کرنے، عدل کے قیام اور ظلم و کفر کو مٹانے    کے لیے ہاتھ کی ہرجنبش سے کی جائے گی۔

سورۂ حج میں ارشاد ہوتا ہے: اِنَّ اللّٰہَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوْرٍ o اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا  وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرُنِ o الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰہِ  النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْھَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ o اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ o (الحج ۲۲:۳۸-۴۱) ’’یقینا اللہ مدافعت کرتا ہے اُن لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں، یقینا اللہ کسی خائن کافرِ نعمت کو پسند نہیں کرتا۔ اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں، اور اللہ یقینا ان کی مدد پر قادر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جواپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے ’’ہمارا رب اللہ ہے‘‘۔ اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، سب مسمار کر ڈالی جائیں۔ اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔ اللہ بڑا طاقت ور اور زبردست ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور بُرائی سے منع کریں گے اور تمام معاملات کاانجامِ کار اللہ کے ہاتھ میں ہے‘‘۔

یہاں اہلِ ایمان کی ایک پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ ظلم، کفر اور طاغوت سے خائف ہوکر اپنے آپ کو معاشرے سے کاٹ کر اور خود اپنے خول میں بند ہوکر نہیں بیٹھ جاتے بلکہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ وہ اپنے دین و ثقافت کی بقا واشاعت کے لیے صف آرا ہوتے ہیں بلکہ دیگر اقوام کے مراکز عبادات کو بھی تحفظ فراہم کرتے ہیں، اور جب اللہ انھیں زمین میں اقتدارواختیار دیتا ہے تو پھر نظامِ عبادت (صلوٰۃ) اور نظامِ معیشت (زکوٰۃ) کو نافذ کرتے ہیں اور معاشرے سے برائی کو مٹانے اور بھلائی کو پھیلانے میں اپنی قوت و اختیار کا استعمال کرتے ہیں، اور ساتھ ہی اللہ کے راستے کی تلاش کرتے ہوئے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں قرآن کہتا ہے: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُھُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُo (الرعد۱۳:۲۸)’’ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنھوں نے (اس نبی ؐکی دعوت کو) مان لیا ہے اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ خبردار رہو اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے‘‘۔ قلب کے اطمینان کے لیے قرآن جو نسخہ تجویز کرتا ہے وہ آسان، عملی اور مؤثر ہے یعنی صبر اور صلاۃ سے استعانت کے ذریعے قلب کا سکون حاصل کرنا۔ قرآن کامیابی اور فلاح کو اُس ذکر سے وابستہ کرتا ہے جو صلاۃ کی شکل میں فحشاء و منکر کے خلاف جہاد اور معروف و عدل کے قیام کے لیے اجتماعیت کے ساتھ صف بندی کرکے اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کے اعلان اور دیگر تمام نام نہاد خدائوں کی خدائی کا انکار کرتے ہوئے اختیار کی جائے۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی o وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰیo (الاعلٰی ۸۷: ۱۴-۱۵)’’فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز ادا کی‘‘۔

جس طرح اللہ کے ذکر کا صلاۃ کے ساتھ وابستہ اور متعلق ہونا دونوں مصادر شریعہ سے ثابت ہے اسی طرح یہ بات بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ قرآن مجید کی تلاوت اور ٹھیرٹھیر کر غوروفکر کے ساتھ اس کا پڑھا جانا ہی نماز کی روح ہے۔ اسی طرح اسلامی فکر، اللہ کے ذکر، ذکر کی عظمت اور ذکریٰ یا وحیِ الٰہی کی ہدایات کو زندگی میں سمونے اور اس کی روشنی میں تہذیبی عمل کو   آگے بڑھانے کا نام ہے۔ چنانچہ جو اہلِ دانش اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ِاعلیٰ، وحی کے مطابق اور وحی کے علم کے اعلیٰ ترین مصدر ہونے پر غوروفکر کے بعد یکسو ہوجاتے ہیں، ایسے ہی اربابِ بصیرت اور انھی اہلِ دانش کو قرآن کریم اھل الذکر سے تعبیر کرتا ہے۔ وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْھِمْ فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَo (النحل ۱۶:۴۳)’’اے نبیؐ!  ہم نے تم سے پہلے بھی جب کبھی رسول بھیجے ہیں آدمی ہی بھیجے ہیں جن کی طرف ہم اپنے پیغامات وحی کیا کرتے تھے۔ اہلِ ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے‘‘۔

سورئہ انبیا (۲۱:۷) میں اسی مضمون کو بیان کرنے کے بعد مزید وضاحت کردی گئی ہے کہ جو انبیا خاتم النبیینؐ سے قبل بھیجے گئے وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور حیات و ممات کے لحاظ سے دوسرے انسانوں سے مختلف نہیں تھے۔ لیکن جو چیز انھیں ممتاز کرنے والی تھی وہ اللہ کی طرف سے براہِ راست وحی یا ہدایت کا وصول کرنا تھا، یعنی وہ اپنے ذہن، تجربے یا وارداتِ قلبی کی بنا پر کوئی ہدایت نہیں دیتے تھے بلکہ جو وحی ان پر کی جاتی اسے جو.ُں کا تو.ُں بغیر کسی اضافے یا حذف کے اللہ کے بندوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی عملی زندگی میں نافذ کر کے انسانوں کے لیے قابلِ تقلید اسوہ فراہم کرتے تھے۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم ایسی بدیہی بات کو بھی نہیں جانتے تو جو اس کا علم رکھتے ہیں (اہلِ الذکر) ان سے پوچھ لو وہ اس کی تصدیق کر دیں گے۔

مذاہب ِ عالم میں ’ذکر‘ کی مختلف شکلیں رائج ہیں۔ کہیں یہ اشلوک کی شکل اختیار کرتا ہے اور کہیں صنم کدہ میں مذہبی رقص بن جاتا ہے۔ یہودیت نے سبت کا دن اپنے خدا کی عبادت اور   ذکر کے لیے مخصوص کردیا ہے جس میں تورات کا پڑھا جانا خدا کے ذکر کا ذریعہ ہے۔ عیسائیت نے اس ذکر کے لیے اتوار کے دن سازوں کے ساتھ مل کر نغمے گانے کو ذکر کی ایک اعلیٰ شکل تصور کیا ہے، جب کہ ہندوازم میں دنیا کو چھوڑ کر جنگل بیابان میں نفس کُشی اور خدائوں کو مختلف ناموں سے پکارنے، مثلاً اُوم (om) کو ایک خاص انداز سے ادا کرنے کو ذکر تصورکیا ہے۔ ان میں سے اکثر طریقے کسی خاص وقت، کسی خاص مقام اور کسی خاص تہوار یا رسم سے وابستہ ہیں اور اکثر دعائیہ کلمات پر مشتمل ہیں۔ اگر ان تمام مذاہب کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں ذکر ایک جامع اور ہمہ گیر عمل ہے۔ یہ کسی خاص وقت، جگہ یا تہوار سے وابستہ نہیں ہے۔ یہ گفتگو نامکمل رہے گی، اگر اس میں قرآن کریم میں بیان ہونے والے بعض اہم مضامین کا تذکرہ اختصار سے نہ کردیا جائے۔ ان مضامین میں تدبر، تعقُّل، شعور، تزکیہ، تعلیم اور تفقہ زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ (جاری)

اقوامِ عالم اور عالمی تہذیبوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کرنے والے عناصر میں فکروثقافت کو بنیادی مقام دیا جاتا ہے۔ چنانچہ کسی قوم یا نسل کے عادات و اطوار ہوں، اس کی عبادات ہوں، لباس ہو یا معیشت و سیاست ہو، اگر غور کیا جائے تو ہرہرشعبے میں اس کی بنیادی فکر وثقافت کی ایک جھلک پائی جاتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ مراکش سے انڈونیشیا اور وسط ایشیا سے شمالی امریکا اور جنوبی افریقہ تک اُمت ِمسلمہ کی پہچان اس کی ثقافت و فکر ہی کو قرار دیا جاسکتا ہے۔

دورِحاضر میں جسے عالم گیریت کا دور کہا جانے لگا ہے، ایک سوال علمی اور تحقیقی سطح پر یہ اٹھایا جاتا ہے کہ عالم گیریت کے دور میں جب کوئی علاقائی ثقافت ہزارہا میل سے نشر ہونے والے نغموں، ڈراموں، سنجیدہ اور غیرسنجیدہ گفتگوؤں کی زد میں آچکی ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی خطے کی ثقافت دوسرے خطے کی ثقافت کے منفی یا مثبت اثرات سے محفوظ رہ سکے؟ مزید یہ کہ کیا یہ ضروری ہے کہ ہرخطہ اپنی ثقافت و روایت سے وابستہ ہی رہے۔ آخر اس میں کیا حرج ہے کہ ایک ایسی چڑھتی ہوئی ثقافت و فکر کو جس کے نتیجے میں یورپ و امریکا نے معاشی، عسکری اور سیاسی فوقیت حاصل کرلی ہے، ہم بھی اختیار کرکے انھی کی طرح ’ترقی یافتہ‘ بن جائیں اور ہمارے ہاں بھی جلیبی کی طرح بل کھاتی شاہراہیں اور ایک چھت کے نیچے سو دکانوں والے بازار وجود میں آجائیں۔ کیا روایت پرستی یا ’قدامت‘ ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے؟ اس سے آگے بڑھ کر ایک سوال یہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ کیا کوئی ثقافت اسلامی بھی کہلا سکتی ہے یا درحقیقت مسلمانوں نے جب اور جہاں  طبع زاد طور پر کوئی ایجادات، مصنوعات اور اختراعات کرلیں، انھی کو اسلامی ثقافت سے تعبیر کردیا گیا؟ گویا اسلامی ثقافت ایک خیالی نقشے سے زیادہ کوئی چیزنہیں ہے، جب کہ عملاً مختلف خطوں میں پائے جانے والے مسلمانوں نے اپنے الگ الگ خطوں کی ضروریات و حالات کی مناسبت سے جو طورطریقے اختیار کیے انھیں اسلامی ثقافت سے تعبیر کردیا گیا۔ ایک پہلو یہ بھی قابلِ غور ہے کہ کیا اسلامی ثقافت، اگر کوئی چیز اس نام کی ہے، عربی ثقافت سے مختلف کوئی چیز ہے یا وقت گزرنے کے ساتھ عربوں کے رسوم و رواج اور بود وباش کو ہی اسلامی ثقافت و تہذیب اور فکر قرار دے دیا گیا۔  یہ اور اس نوعیت کے بہت سے سوالات تقاضا کرتے ہیں کہ اسلامی فکر وثقافت کی بنیادوں اور مظاہر پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالی جائے اور اسلامی تشخص و شخصیت کو قرآنِ کریم کی روشنی میں دیکھا جائے۔

اس تحریر کا بنیادی مقصد ان سوالات کو اٹھانا ہے جو آج نوجوانوں کے ذہنوں میں پائے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد حتمی جوابات فراہم کر کے بحث کا دروازہ بند کرنا نہیں ہے، بلکہ قرآن و سنّت کی روشنی میں کھلے ذہن کے ساتھ ذہنی دریچوں کو کھولنا ہے تاکہ تازہ ہوا کی مدد سے مسئلے کا ادراک اور اس پر مسلسل غور کا سلسلہ چل سکے۔ مسلسل غوروفکر قرآنِ کریم کی بنیادی دعوت ہے۔ اسی بنا پر  وہ بار بار اپنے پڑھنے والوں کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ کسی لمحے بھی اس عمل کو ترک نہ کریں۔ جب تک ایک بندہ اپنے رب سے اس درخواست کے ساتھ کہ وہ اسے علم و ہدایت دے (رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًاo طٰہٰ ۲۰:۱۱۴)، صراطِ مستقیم پر رکھے (اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ o الفاتحہ۱:۵)، نفس کے فتنوں اور شیطان کی چالوں سے محفوظ رکھے، یہ کام کرتا رہے گا۔ قرآنِ کریم کے معانی و مفہوم کے نئے نئے اسرار اس پر کھلتے رہیں گے اور جب وہ یہ سوچ کر بیٹھ جائے گا کہ جو کچھ ہدایت ملنی تھی مل چکی اس کا ذہنی اور فکری سفر جمود کا شکار ہوجائے گا۔

قرآن میں دعوتِ فکر

مذاہبِ عالم پر ایک عمومی اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ عقلیت، تجزیہ اور تفکر کی راہیں مسدود کر کے اندھی تقلید، جذباتیت، بنیاد پرستی، شدت پسندی اور غلو کو رواج دیتے ہیں اور اپنے آپ کو حتمی سمجھنے کی بنا پر علمی تحقیق، تجزیہ اور تنقید کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ اسلام بظاہر وہ واحد دین ہے جو عقل، مشاہدہ، تدبر،تجزیہ، تزکیہ اور مسلسل فکر کی دعوت دیتا ہے۔ قرآنِ کریم وہ واحد الہامی کتاب ہے جو انسان کو سوال اٹھانے اور سوالات کے حل تلاش کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

قرآنِ کریم میں غوروفکر کرنے کی دعوت تقریباً ہر صفحے پر دی گئی ہے۔ فکر کے حوالے سے اس کے مختلف پہلوئوں پر ۱۹ سے زائد مقامات پر مختلف زاویوں سے انسان کو متوجہ کیا گیا ہے۔اس کے مفہوم میں سوچنے (اِِنَّہٗ فَکَّرَ وَقَدَّرَo ’’اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی‘‘۔ المدثر ۷۴: ۱۸)، تنہا یا اجتماعی طور پر مل کر دماغ لڑانے اور فکر کرنے (قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَo’’اے نبیؐ! ان سے کہو’’میرا رب جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تُلا عطا کرتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی حقیقت نہیں جانتے‘‘۔ السبا ۳۴:۳۶)، اور دنیا و آخرت کے حوالے سے فکر کرنے، منطقی انداز میں واقعات و حقائق کو مرتب کرکے غوروفکر کرنے کے لوازم پائے جاتے ہیں (یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ قُلْ فِیْھِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ اِثْمُھُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا وَ یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَo ’’پوچھتے ہیں: شراب اور جوے کا کیا حکم ہے؟ کہو اِن دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں، مگر ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے۔ پوچھتے ہیں: ہم راہِ خدا میں کیا خرچ کریں؟ کہو: جو کچھ تمھاری ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح اللہ تمھارے لیے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے، شاید کہ تم دنیا اور آخرت میں دونوں کی فکر کرو‘‘۔البقرہ ۲:۲۱۹)۔ خود قرآنِ کریم اپنے لیے ذکریٰ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے (الانعام ۶:۶۸) اور اپنے آپ کو تمام انسانوں کے لیے یاددہانی، غوروفکر پر اُبھارنے والی ہدایت و نور قرار دیتا ہے۔ مختلف اقوامِ عالم کے عروج و زوال کے واقعات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد بار بار یہ بات دہراتا ہے کہ اس کا مقصد محض تاریخی واقعات کا بیان نہیں ہے بلکہ غوروفکر کی دعوت دینا ہے۔کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ o ’’اس طرح اللہ اپنی باتیں تمھارے سامنے بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غوروفکر کرو‘‘۔ (البقرہ۲:۲۶۶)

سورۂ آل عمران میں فکر کے عمل کو ذکر کے ساتھ وابستہ کرتے ہوئے اسے اہلِ دانش کی اہم پہچان بتایا گیا ہے (اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّھَارِ لَاٰیٰتِ لِّاُولِی الْاَلْبَابِo’’زمین اور آسمانوں کی پیدایش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں اُن ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں‘‘۔ ۳:۱۹۰)گویا اہلِ دانش نہ تو اپنی آنکھیں اور کان بند رکھتے ہیں اور نہ دل کی آنکھ کو موندنے دیتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے   آسمان اور زمین میں اور خود ان کی اپنی ذات میں اللہ تعالیٰ نے بے شمار نشانیاں رکھ دی ہیں۔ اگر  وہ صرف ان پر غور کرلیں اور فکر کا دامن تھامے رہیں تو بہت کم ایسے ہوںگے جو گمراہ ہوں۔

انسان کی یہی وہ صلاحیت ہے جس کی بنا پر اسے حیوانات سے ممتاز کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور ہدایت ِربانی کے تذکرے کے بعد کہ شاید اس طرح لوگ فکر پرآمادہ ہوں، قرآنِ کریم ان افراد کا ذکر کرتا ہے جو جانتے بوجھتے تفکر اور غوروفکر کرنے سے بھاگتے ہیں۔ غفلت میں پڑے ہوئے اِن افراد کے بارے میں قرآن یوں مخاطب ہوتا ہے کہ: لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا وَ لَھُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا وَ لَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَo (الاعراف ۷:۱۷۹) ’’ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں، ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں‘‘۔

انسان تفکر کے لیے جن ذرائع کو استعمال کرتا ہے ان میں عقل، قلب، سماعت و بصارت ہی علم کے حصول کے ذرائع ہیں لیکن اگر ایک شخص اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتِ بصارت و سماعت کو استعمال نہ کرے اور جو کچھ آنکھ دیکھتی ہو یا دیکھ سکتی ہو، اسے نظرانداز کرتا رہے اور جو کچھ کانوں   کے ذریعے قلب و دماغ تک پہنچ سکتا ہو، اس سے اپنے آپ کو بچاکر رکھے تو پھر وہ اپنے من کی بھول بھلیوں ہی میں گرفتار رہے گا۔ خودساختہ تصورات میں گم اور غوروفکر سے عاری رہنے کے سبب علم و ہدایت کے نور سے محروم ہوجائے گا۔ ایسے ہی افراد کو قرآنِ کریم جانوروں سے تشبیہہ دیتا ہے بلکہ ان سے بھی گیا گزرا سمجھتا ہے۔

مغربی دانش کا ایک مفروضہ یہ ہے کہ الہامی کتاب کی پیروی سے انسان گویا عقل سے عاری، قدامت پرست اور بنیاد پرست بن جائے گا، جب کہ قرآنِ کریم وہ واحد الہامی کتاب ہے جو ہرلمحے اپنے پڑھنے والوں کو غوروفکر کی دعوت دیتی ہے۔ اس دعوتِ فکر میں اولاً اس نکتے پر زور دیا جاتا ہے کہ تعصبات اور خودساختہ ذہنی تحفظات کے خول سے نکل کر ایک شخص اردگرد کی کائنات پر غور کرتے ہوئے اپنے آپ سے یہ سوال کرے کہ کیا جو کچھ وہ دیکھ رہا ہے یہ خود اس کے اپنے ذہن کی تخلیق ہے؟ یا کسی اور اُس جیسے فرد یابہت سے افراد میں اجتماعی طور پر یہ قوت ہے کہ وہ اس طرح کی کائنات، چمکتا آسمان، گرجتے بادل، کڑکتی بجلی، بلندوبالا پہاڑ، وادیاں، سبزہ زار اور بدلتے موسم، غرض ایک عالمِ رنگ و بو کو پیدا کرسکیں یا اس نظامِ ہستی کو اپنی مرضی کے مطابق چلنے پر مجبور کرسکیں یا عقل و تجربہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس پوری کائنات کا ایک ہی خالق اور مالک جو مدّبر و قوی ہو، حی و قیوم ہو، ہونا چاہیے۔ گویا انسان کو اپنا سراغ لگانے کے لیے جس کسی نکتے سے فکر کا آغاز کرنے کی دعوت دی جاتی ہے وہ فکر آخرکار اسے حق و صداقت تک پہنچنے کے لیے ایک عقلی سفر پر لگا دیتی ہے۔

یہی وہ فکر ہے جسے ہم قرآنی اور مسلم فکر سے تعبیر کرسکتے ہیں اور جو موجود ذرائع علم کا جہاں تک ممکن ہو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا سفر اختیار کرسکتی ہے جس کا مقصد محض فکری اٹھکیلیاں نہ ہوں، بلکہ اصلاحِ حال اور تعمیر ِمستقبل کے لیے نظامِ حیات کی تلاش ہو۔ اس پُرمعنی عمل کو قرآنِ کریم فکر اور ذکر سے تعبیر کرتا ہے، یعنی وہ فکر جو مشاہدے، یاد دہانی، تجزیے اور تجربے کے ذریعے انسان کو اپنی منزل کے تعین میں راہ نمائی اور امداد فراہم کرسکے۔ اسی لیے علمِ نافع کی اصطلاح کا استعمال اس فکر کے لیے کیا جاتا ہے جو تعمیری و متحرک ہو اور مستقبل کا شعور رکھتی ہو۔

قرآنِ کریم نے دنیا اور آخرت کی فکر پر بار بار اسی لیے متوجہ کیا ہے کہ فکر محض دنیاوی معاملات تک محدود نہ ہو بلکہ انسان کو اس کی حقیقی منزل اور مقام تک کامیابی کے ساتھ لے جانے میں مددگار ہو۔ وہ اندھیروں میں ٹھوکریں کھاتا نہ پھرے۔ وہ ہر پگڈنڈی پر نہ چل پڑے بلکہ   صراطِ مستقیم پر استقامت اور صبر کے ساتھ گامزن رہے، حتیٰ کہ اپنے مقصود و مطلوب اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے ایسا راستہ اختیار کرلے جو اس کے رب کا پسندیدہ اور مقرر کردہ راستہ ہو۔ انسانوں کا جو گروہ اس تعمیری فکری عمل میں مصروف ہوتا ہے اسے قرآنِ کریم قَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ قرار دیتا ہے (مزید ملاحظہ ہو: النحل ۱۶:۱-۱۱)۔ اس تعمیری فکری عمل کو وحیِ الٰہی کے ساتھ وابستہ کرتے ہوئے قرآنِ کریم ان لوگوں کو جو فکر کرنے والے ہوں، یوں مخاطب کرتا ہے: وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْھِمْ فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ o بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِ وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَo (النحل ۱۶: ۴۳-۴۴)’’اے نبیؐ! ہم نے تم سے پہلے بھی جب کبھی رسول بھیجے ہیں آدمی ہی بھیجے ہیں جن کی طرف ہم اپنے پیغامات وحی کیا کرتے تھے۔ اہلِ ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے۔ پچھلے رسولوں کو بھی ہم نے روشن نشانیاں اور کتابیں دے کر بھیجا تھا اور اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اُس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جائو جو ان کے لیے اُتاری گئی ہے۔ اور تاکہ لوگ (خود بھی) غوروفکر کریں (وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ)‘‘۔

انسان کو یہ دعوتِ فکر محض کائنات یا خود اپنے نفس کی جانب نہیں بلکہ وحیِ الٰہی کے سمجھنے کی طرف دی جارہی ہے تاکہ وحیِ الٰہی کے تمام پہلوئوں کو سمجھنے کے بعد وہ عقلی رویہ اختیار کرسکے جو اس ہدایت کا مقصود و مطلوب ہے۔ آخرکار یہی فکری عمل وحیِ الٰہی میں موجود ہدایات و اصول پر غوروفکر کرنے کے نتیجے میں جدید مسائل کے حل کی طرف رہنمائی کرے گا، اور اس طرح وحی کے غیرمتغیر اور مستقل وجود کے تعامل سے، تغیر حالات و زمانہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے گا۔ اگر وحیِ الٰہی کے سمجھنے کے فکری عمل میں جمود آ جائے تو مسائل کے حل کا عمل جو دراصل ترقی کا عمل ہے اپنی رفتار کھو بیٹھتا ہے اور اُمت جمود اور تقلید کا شکار ہوجاتی ہے۔ اجتہاد گویا وحیِ الٰہی اور اس کے مقصد کو سمجھنے کے بعد وحی کے ذریعے ملنے والی ہدایت کو جدید حالات پر منطبق کرنے کا نام ہے۔ یہ خود رائی اور اپنی ذہنی اپج کو اسلامی حل قرار دینے کا نام نہیں ہے۔ قرآنِ کریم فکروذکر کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اپنے ہر پڑھنے والے کو ایسی فکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ اس طرح وہ اپنے روزمرہ کے معاشرتی، معاشی، سیاسی اور، ثقافتی مسائل کا حل تلاش کرسکے اور وہ اپنی سرگرمیوں کو فکرِاسلامی کا تابع بناسکے۔ اسلامی فکر محض عقیدے کے باریک مسائل اور غیرمرئی روحانی مسائل کو سمجھنے کا نام نہیں ہے جسے بالعموم الٰہیات یا مابعد الطبیعیات کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ زندگی کے ہرشعبے میں وحیِ الٰہی اور موجود ذرائع علم کے استعمال کے ذریعے مسائل کے حل کرنے کے عمل کا نام ہے۔

قرآنِ کریم کی دعوتِ فکر کسی خاص موضوع تک محدود نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرتی ہے۔ اگرچہ بعض ایسے پہلو بھی ہیں جو روزانہ مشاہدے میں تو آتے ہیں لیکن بہت کم لوگ ان پر غور کرتے ہیں، قرآن ان کی طرف متوجہ کرتا ہے اور انھیں فکری عمل کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بناتا ہے: اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضٰی عَلَیْہَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْاُخْرٰٓی اِِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُوْنَo (الزمر ۳۹:۴۲)’’وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اس کی روح نیند میں قبض کرلیتا ہے۔ پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقتِ مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے۔ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرنے والے ہیں‘‘۔ ہر انسان رات اور دن کے اوقات میں تھکن کے بعد قوت حاصل کرنے اور آرام کرنے کے لیے سوتا ہے اور یہ بات اس کے ذہن میں بالعموم نہیں آتی کہ آیا سونے کے بعد جاگے گا یا نہیں۔اس روزمرہ کے عمل کو بھی    قرآنِ کریم فکر اور غور کرنے کے عمل سے تعبیر کرتا ہے تاکہ سونے سے قبل بھی ایک شخص اپنا عقلی طور پر احتساب کرکے دیکھ لے کہ اگر نیند ہی میں اسے موت آگئی تو کیا اس کا نامۂ اعمال ایسا ہے کہ بغیر کسی ندامت کے رب کے حضور حاضر ہوسکے۔

ایک عام انسان ہی کو نہیں بلکہ ماہرینِطب کو بھی اس مثال کے ذریعے دعوتِ فکر دی جارہی ہے کہ وہ نیند کے دوران انسانی جسم، دماغ اور دل کے عمل کرنے پر غور کریں اور تحقیق کر کے دیکھیں کہ وہ کون سی تبدیلیاں ہیں جو اس دوران انسان کا خالق اس کے جسم میں پیدا کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حاکمیت کو تحقیق اور فکر کی بنیاد پر سمجھا جاسکے۔

حیاتِ انسانی کے بعض ایسے پہلو جن پر اپنی مصروفیات کے سبب انسان توجہ نہیں دے پاتا قرآنِ کریم ان کی طرف بھی غوروفکر کی دعوت دیتا ہے اور یکے بعد دیگرے ان نشانیوں کا ذکر کرتا ہے جو ہمارے روزمرہ کے مشاہدے میں عالمی حیثیت رکھتی ہیں اور انھیں کسی خاصے خطے، زبان یا ثقافت تک محدود نہیں سمجھا جاسکتا۔ ان میں ایک نشانی انسان کی اوّلین پیدایش اور پھر ایک فطری جینیاتی عمل کے ذریعے ایک قطرہ سے گوشت پوست کا انسان بنایا جانا، پھر خود اسی کی نوع سے زوج کی تخلیق ، پھر ان ازواج کے درمیان محبت و رحمت و مودت کا پیدا کرنا بطور ایک نشانی کے بیان   کیا گیا ہے۔ کل تک دوافراد جو بالکل اجنبی تھے دُور دراز علاقوں میں رہتے تھے، جب ایک    مرتبہ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوجاتے ہیں تو اللہ اپنی رحمت سے انھیں ایک دوسرے سے ایک ناقابلِ بیان تعلق میں جوڑ دیتا ہے جو جسمانی تعلق سے بہت برتر اور اعلیٰ ہوتا ہے۔ وَ مِنْ اٰیٰتِہٖٓ  اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً   اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَo (الروم ۳۰:۲۱) ’’اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اُس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی‘‘۔ اسے بیان کرنے کے بعد کہا جاتا ہے:  اِنَّ فِی ذٰلِکَ لِاٰیٰتٍ لِقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ پھر دیگر مثالیں دینے کے بعد اسی بات کو ایک دوسرے پیرایے میں بیان کیا جاتا ہے: اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ اور لِقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ اور لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (الروم ۳۰:۲۱-۲۴)

قرآنِ کریم فکر میں حرکت پیدا کرنے کے لیے ہرہرصفحہ پر سماعت، عقل، بصارت، شعور اور تفکر کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اہلِ ایمان اور قرآنِ کریم، مطالعہ کرنے والے ہر انسان کو فکری حکمت عملی (methodology) کو اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور اس طرح دین میں غلو، جمود، اندھی تقلید کا دروازہ بند کرنے اور تفکر کے ذریعے اجتہاد یا مسائلِ حیات کے حل کی تعلیم و ترغیب دیتے ہوئے دینِ اسلام کو دیگر مذاہب سے ممتاز و ممیز کرتا ہے۔ مذاہبِ عالم اور خصوصاً عیسائیت میں عقیدہ کی بنیاد ہی ایک ایسے تصور پر ہے جس کی عقلی توجیہہ، تعبیر و تفسیر کا امکان عیسائی ائمہ کے بقول نہیں پایا جاتا چنانچہ حضرت عیسٰی ؑکس طرح بیک وقت انسان بھی ہیں اور الوہیت کا مظہر بھی، اس کی کوئی توجیہہ نہیں کی جاسکتی، جب کہ قرآنِ کریم انسان کی اوّلین تخلیق کی بھی اور جینیاتی عمل کے ذریعے نسلِ انسانی کے فروغ کی بھی توجیہہ کرتا ہے اور غوروفکر کی دعوت دیتا ہے: ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّکُمْ ثُمَّ لِتَکُوْنُوْا شُیُوخًا وَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی مِنْ قَبْلُ وَلِتَبْلُغُوْٓا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّلَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَo (المؤمن ۴۰:۶۷) ’’وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر وہ تمھیں بچے کی شکل میں نکالتا ہے، پھر تمھیں بڑھاتا ہے تاکہ تم اپنی پوری طاقت کو پہنچ جائو، پھر اور بڑھاتا ہے تاکہ تم بڑھاپے کو پہنچو۔ اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ تم اپنے مقررہ وقت تک پہنچ جائو، اور اس لیے کہ تم حقیقت کو سمجھو‘‘۔

اس طرح انسان کے اپنے جسم میں موجود آیات ہوں یا کائنات میں پھیلے ہوئے شواہد یا پھر حضرت آدم اور حضرت عیسٰی علیہم السلام کی پیدایش، ہر معاملے میں قرآنِ کریم تفکر و تدبر کی دعوت دیتے ہوئے عقلی دلائل کے ذریعے انسان کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کا جواب فراہم کرتا ہے۔ گویا ایک انسان جس قدر قرآنِ کریم سے قریب آئے گا اور اس کی تعلیمات پر غوروفکر کرنے کے ساتھ شدت سے عمل پیرا ہوگا، اسی قدر اس میں فکر کا مادہ ترقی کرے گا اور وہ اپنی ذات، کائنات اور خالقِ کائنات کے درمیان تعلق کو عقلی بنیادوں پر سمجھنے اور نتیجتاً اپنے معاشی، سیاسی، معاشرتی، ثقافتی معاملات میں اپنے لیے صحیح راستہ اور طریق ِعمل تلاش کرنے میں کامیاب ہوسکے گا۔

فکرِ اسلامی ان ابتدائی معروضات کی روشنی میں ایک ایسا شعوری عمل ہے جو وحیِ الٰہی کی  راہ نمائی میں اور اس کی پیروی کرتے ہوئے زندگی کے معاملات پر تحقیقی نگاہ کے ساتھ بصیرت، عبرت اور تعمیر ِحیات کے لیے اختیار کیا جائے۔ یہ محض حواسِ خمسہ پر مبنی تجربی فکر کا نام نہیں ہے بلکہ اُس فکر کا نام ہے جو الہامی ہدایت اور انسانی عقل، وجدان اور تجربے کے عمل اور تعامل (inter-active) سے وجود میں آتی ہے جس میں صحت فکر کی کسوٹی قرآن و سنت ہیں لیکن اس کے ساتھ قرآن وسنت کے احکام، مقاصدِشریعت اور اصولی اور منصوص ہدایات کی روشنی میں حالات، احوال اور انسانی زندگی کے تمام احوال و ظروف کی صورت گری کی کوششوں سے عبارت ہے۔ اس فکر میں تعمیری اور اصلاحی پہلو یک جان اور غالب نظر آتے ہیں۔ یہ نفسِ انسانی ہو، معاشرہ ہو یا معیشت، ہرہرشعبے میں کتاب کائنات اور الکتاب اور صاحب ِکتاب سے بیک وقت اکتساب کرتے ہوئے حیاتِ انسانی کو اس دنیا اور آخرت میں صحیح راستے پر چلانے اور اصل منزلِ مراد تک کامیابی کے ساتھ لے جانے کے عمل کا نام ہے۔ (جاری)

اُمت میں اختلاف راے صحت مندی اور تندرستی کی علامت ہے نہ کہ اختلاف اور انتشار کی۔ہر شخص کی اپنی راے ہوتی ہے جس کے اظہار کی اسے آزادی حاصل ہے مگر اختلاف راے رکھنے والے اکثر لوگوں کو نہیں معلوم کہ اسلام نے اس کے لیے کچھ ضابطے مقرر کیے ہیں۔ ان ضابطوں کی پاس داری نہ کرنے کی وجہ سے بعض افراد تعصب اور منافرت میںمبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ دائرہ اس قدر پھیل گیا کہ امت کے افراد اور جماعتیں اختلاف راے کی وجہ سے گروہوں میں بٹ گئیں۔اب یہ بیماری گھن کی طرح جسدِ ملّی کو اندر سے کھوکھلا کررہی ہے۔

کائنات کی تخلیق میں اختلاف اور تنوع اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔تنوع اور اختلاف کے ساتھ کمال ضابطے کا توازن اللہ تعالیٰ کی حکمت ودانائی کی شہادت دے رہا ہے۔یہ رات اور دن کا باقاعدگی سے آنااس بات پر گواہ ہے کہ زمین کو آباد کرنے کے لیے یہ نظم کمال درجۂ دانائی کے ساتھ قائم کیا گیا ہے۔اس زمین پر وہ خطے بھی موجود ہیں جہاں ۲۴گھنٹے کے اندر دن اور رات کا الٹ پھیر ہوتا ہے اور وہ خطے بھی ہیں جہاں بہت طویل دن اور بہت طویل راتیں ہوتی ہیں ۔کائنات کی ہر چیز میں تنوع اور اختلاف ہے۔ موسموں کا تغیر و تبدل،پہاڑ، چاند، تارے اور سیارے ، اور زمین سے اُگنے والی چیزوں میں کس قدر اختلاف ہے۔اس تنوع کے بارے میں سورۂ انعام میں ارشاد ہوا’’وہ اللہ ہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ اور تاکستان اور نخلستان پیدا کیے، کھیتیاں اُگائیں جن سے قسم قسم کے ماکولات حاصل ہوتے ہیں، زیتون اور انار کے درخت پیدا کیے جن کے پھل صورت میں مشابہ اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں‘‘ (الانعام ۶:۱۴۱)۔حد تو یہ ہے کہ ایک ہی زمین سے اُگنے اور ایک ہی پانی سے سیراب ہونے والے پھلوں کے مزے جدا جدا ہیں۔ارشاد ربانی ہے:’’اور دیکھو، زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے متصل واقع ہیں۔انگور کے باغ ہیں،کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دہرے ۔سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنادیتے ہیں اور کسی کو کم تر۔ان سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں‘‘(الرعد۱۳:۴)۔ ساری زمین کو اس نے یکساں بناکر نہیں رکھ دیا، بلکہ اس میں بے شمار خطے پیدا کیے جو متصل ہونے کے باوجود شکل میں ، رنگ میں ، خاصیتوں میں ، قوتوں اور صلاحیتوں میں ، پیداوار اور کیمیاوی یا معدنی خزانوں میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ان مختلف خطوں کی پیدایش اور ان کے اندر طرح طرح کے اختلافات کی موجودگی اپنے اندر حکمتیں اور مصلحتیں رکھتی ہے جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔

اختلاف کی حکمت

اس تنوع اور اختلاف پر غور کرنے والا کبھی یہ دیکھ کر پریشان نہ ہوگا کہ انسانی طبائع، میلانات اور مزاجوں میں اتنا اختلاف کیوںپایا جاتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب انسانوں کو یکساں بناسکتا تھا مگر جس حکمت پر اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے، وہ یکسانیت کی نہیں بلکہ تنوع اور رنگارنگی کی متقاضی ہے ۔سب کو یکساں بنادینے کے بعد تو یہ سارا ہنگامۂ وجود ہی بے معنی ہوکر رہ جاتا۔ کائنات کی تخلیق میں جب اختلاف اور تنوع ہے توپھر اس کائنات کی اہم ترین مخلوق کو اس اختلاف سے مبرا سمجھنا دانش مندی نہیں۔جہاں دو انسان رہتے ہیں وہاں ان کے درمیان اختلاف کا پایا جانا فطری امر ہے۔ارشاد ربانی ہے’’بے شک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بناسکتا تھا، مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے اور بے راہ رویوں سے صرف وہ لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔اسی (آزادیِ انتخاب واختیار اور امتحان) کے لیے ہی تو اس نے انھیں پیدا کیا تھا‘‘(ھود ۱۱:۱۱۸)۔ معلوم ہوا کہ آزادیِ انتخاب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور ہر آدمی کو مختلف راے رکھنے کا حق ہے مگر یہ اختلاف اگر ضابطوں سے عاری ہوجائے تو اس سے تلخیاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اختلاف کی مذمت بھی کی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ابتداء ً سارے انسان ایک ہی امت تھے،بعد میں انھوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنالیے اور اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ کرلی گئی ہوتی تو جس چیز میں وہ باہم اختلاف کر رہے ہیں اس کا فیصلہ کردیا جاتا‘‘(یونس۱۰:۱۹)۔ ایک اور جگہ پر اختلاف کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا گیا:’’اور ان کے ساتھ کتاب برحق نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوگئے تھے، ان کا فیصلہ کرے___(اور ان اختلافات کے رونما ہونے کی وجہ یہ نہ تھی کہ ابتدامیں لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا،نہیں)اختلاف ان لوگوں نے کیا، جنھیں حق کا علم دیا چکا تھا۔انھوں نے روشن ہدایات پالینے کے بعد محض اس لیے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے‘‘(البقرہ۲:۲۱۳)۔ یہاں اختلاف کی وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ زیادتی کرنا چاہتے تھے جو کہ مذموم فعل ہے۔ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کی وجہ سے اختلاف کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ عذاب عظیم سے خبردار کرتا ہے:’’کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلاہوئے۔ جنھوں نے یہ روش اختیار کی وہ اس روز سخت سزاپائیں گے، جب کہ کچھ لوگ سرخ رُو ہوں گے اور کچھ لوگوں کا منہ کالا ہوگا۔ جن کا منہ کالا ہوگا (ان سے کہا جائے گا کہ) نعمتِایمان پانے کے بعد بھی تم نے کافرانہ رویہ اختیار کیا؟‘‘(اٰل عمرٰن۳:۱۰۵-۱۰۶)۔ ان آیات پرغور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس اختلاف کی مذمت کی ہے جو حق کو باطل کا لبادہ پہنائے یا آدمی پر حق واضح ہوجائے پھر بھی وہ باطل ہی پر اڑا رہے۔

اختلاف راے رحمت ھے!

اختلاف راے رکھنے کی تربیت خود رسول اکرمؐ نے صحابہ کرام ؓ کو دی تھی۔اگرچہ آپؐ کا ہرعمل اللہ تعالیٰ کی براہ راست رہنمائی میں ہوتا تھا مگر اس کے باوجود رسول اکرمؐ صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کرتے تھے۔کئی معاملات میں اپنی راے کو چھوڑ کو صحابہ کرام ؓ کی راے پر عمل فرمایا۔صحابہؓ کی تربیت اس نہج پر ہوئی تھی کہ ان میں سے ہر ایک اپنے انداز سے چیزوں کو دیکھے اور نتائج اخذ کرے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور تفرقے میں نہ پڑیں۔ارشاد ربانی ہے: ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔تم ایک دوسرے کے  دشمن تھے، اس نے تمھارے دل جوڑدیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے‘‘    (اٰل عمرٰن۳:۱۰۳)۔ اختلاف راے رکھنا فطری اور طبعی امر ہے مگر اختلاف راے رکھنے کی وجہ  سے تفرقے میں پڑنا مذموم قرار دیا گیا ہے۔آیت مبارکہ میں اسی طرف نشان دہی کی گئی ہے۔ اختلاف راے رکھنا اور تفرقے میں پڑجانا، دو الگ چیزیں ہیں۔

اس آیت کی روشنی میں اگر ہم مسلم امت کا ماضی قریب اور حال دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ امت کے افراد مختلف مکاتب فکر رکھنے کے وجہ سے تفرقے میں پڑگئے ہیں، حالانکہ مختلف مکاتب فکرکاوجود فی نفسہٖ معیوب نہیں بلکہ یہ اسلام میں تنوع ہے۔اسلام قیامت تک کے لیے باقی رہنے والا دین ہے جس میں فروعی معاملات میں اختلاف راے رکھنا معیوب نہیں، بلکہ یہ اسلام ہی کا خاصہ ہے کہ اس میں اتنی لچک ہے کہ یہ ہر زمانے اور ہر قسم کی سوچ وفکر رکھنے والے لوگوں کے لیے یکساں طور پر قابل عمل ہے۔اسلام کے مختلف مکاتب فکر اس بات کی نشانی ہیں کہ ہمارا دین لچک دار ہے کہ اس کے ماننے والے فروعی مسائل میں اختلاف راے رکھ سکتے ہیں۔حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا معروف قول ہے:’’فروعی معاملات میں اصحابِ رسولؐ کا اختلاف ہمارے لیے باعث رحمت ہے کیونکہ اگر وہ ان فروعی معاملات میں اختلاف نہ کرتے تو مسلمانوں کے لیے آسانیاں پیدا نہ ہوتیں‘‘(فیض القدیر)۔ ایک اور مقام میں ان کا یہ قول بھی معروف ہے کہ’’یہ امت   کے لیے رحمت ہے کہ اصحابِ رسولؐ نے فروعی معاملات میں اختلاف کیا کیونکہ اگر وہ ان معاملات میں اختلاف نہ کرتے اور بعد میں آنے والے لوگ اختلاف کرتے تو اختلاف رکھنے والا گمراہ سمجھا جاتا۔ مگر یہ اللہ کی رحمت ہے کہ انھوں نے اختلاف راے رکھا کہ بعد میں آنے والے لوگ صحابہ کرامؓ میں کے مختلف اقوال پر عمل کرسکیں۔ اس میں ان کے لیے آسانی پیدا ہوئی‘‘۔(الاختلاف الفقہی مفخرۃ لاعیب، ڈاکٹر کمال المصری)

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام تورات لینے گئے تو پیچھے بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی ۔جب وہ واپس آئے تو ہارون علیہ السلام سے پوچھا:’’تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں تو کس چیز نے تمھارا ہاتھ پکڑا تھا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو؟کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی؟‘‘ ہارون ؑ نے جواب دیا:’’اے میری ماں کے بیٹے! میری داڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سر کے بال کھینچ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ تو آکر کہے گا: تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا‘‘(طٰہٰ ۲۰:۹۲-۹۴)۔ حضرت ہارون علیہ السلام کے جواب پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے قوم کو بچھڑے کی پوجا سے منع ضرور کیا ہوگا مگر ان کی اس گمراہی پر وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے کہ کہیں قوم میں پھوٹ نہ پڑجائے۔ حضرت ہارون ؑ کے اس موقف کو حضرت موسی علیہ السلام نے بھی تسلیم کیا۔معلوم ہوا کہ مختلف مکاتب فکر کے لوگ اپنی راے پر اس قدر اصرار نہ کریں جس کے باعث قوم میں پھوٹ پڑجائے۔

علما و صلحا کی روش

اختلاف راے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امت کے علما اور صلحا خواہ ان کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو، ان سب کادین کے بنیادی اور اساسی امور میں اتفاق ہے ۔وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول اکرمؐ کی رسالت پر اختلاف نہیں رکھتے۔نماز ، روزہ، حج ، زکوٰۃ اور دیگر فرائض میں ان کا اختلاف نہیں۔جو چیزیں قرآن مجید اور سنت طیبہ میں حرام ہیں، جیسے سور کا گوشت، شراب ،مردار کا کھانا ودیگر منہیات، ان سب پر علماے امت کا اتفاق ہے خواہ وہ سنّی مکاتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں یا اہل تشیع ہوں، البتہ سنی اور شیعہ، نیز سنیوں کے مختلف مکاتب فکر کا اختلاف ان امور میں ہے جو دین کی اساسی بنیادیں نہیں بلکہ فروعی معاملات ہیں۔ ان فروعی معاملات میں اختلاف کرنے کے باوجود علماے امت کا کیا رویہ تھا؟کیا وہ اپنے موقف پر اس قدر اصرار کرتے تھے کہ اُمت میں پھوٹ پڑجائے اور لوگ فرقوں میں بٹ جائیں؟ علماے امت کی روشن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اصحابِ مکاتب ِفقہ کے علاوہ علماے اُمت میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا۔ان کی وسعت ظرفی کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں :

  • امام شافعی ؒ کا معروف قول ہے:’’میری راے صحیح ہے جس میں غلطی کا امکان بہرحال موجود ہے، جب کہ دوسرے کی راے غلط ہے مگر اس میں صحت کا امکان موجود ہے‘‘ (ادب الاختلاف، ڈاکٹر جمال نصار)۔ ایک جگہ پر وہ فرماتے ہیں: ’’جب کسی مسئلے پر میری کسی سے بحث ہوتی ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس کی زبان سے حق ظاہر کردے تاکہ میں بھی اس حق کی اتباع کروں‘‘۔(ایضاً)
  • مدینہ منورہ کے سات اہم ترین فقہا میں سے ایک کا نام القاسم بن محمدؒ تھا۔ان کی    وسیع الظرفی اور دُوراندیشی دیکھیے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ امام کے پیچھے مقتدی کو فاتحہ پڑھنی چاہیے یا نہیں؟ انھوں نے جواب دیا:’’امام کے پیچھے اگر مقتدی فاتحہ پڑھ لے تو رسول اکرمؐ کے صحابہ کرامؓ کی  اتباع کرے گا اور اگر نہیں پڑھے گا تب بھی رسول اکرمؐ کے صحابہؓ کی اتباع کرے گا‘‘۔ (جامع بیان العلم)
  • امام مالک ؒ نے مشہور زمانہ کتاب الموطا جب تحریر کی تو وقت کے حاکم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس کتاب کو کعبۃ اللہ میں رکھا جائے اور تمام مسلمانوں کے لیے اس کو مرجع قرار دیا جائے۔ امام مالک نے ایسا کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا: ’’امیرالمومنین ایسا نہ کیجیے، ایک ہی راے پر عمل کرنا مسلمانوں کے لیے شاق ہوگا‘‘۔(ادب الاختلاف، ڈاکٹر جمال نصار)
  • اَئمہ کرام ؒ نے کبھی بھی اپنی راے کو حرفِ آخر قرار نہیں دیا ۔امام ابوحنیفہؒ کا قول ہے:   ’’یہ میری راے ہے اور میں نے بہتر راے دینے کی کوشش کی ہے ۔اگر کسی کے پاس اس سے بہتر راے ہے تو اسے قبول کرنے میں ہمیں کوئی عار نہیں‘‘۔(قوعد حاکمہ فی الاختلاف الرشید، فتحی عبدالستار)۔ امام مالک ؒ کہا کرتے تھے:’’میں انسان ہوں، میری راے غلط بھی ہوسکتی ہے، لہٰذا میری راے کو کتاب وسنت کی کسوٹی میں کسا کرو‘‘۔امام شافعیؒ سے بھی اسی طرح کا قول منقول ہے:’’میری راے کے خلاف اگر صحیح حدیث ہو تو میری راے کو دیوار پر دے مارو ۔اگر صحیح قول جس کی بنیاد صحیح حدیث پر ہو،تمھیں راہ چلتے کسی شخص سے مل جائے تو اس پر عمل کرو اور سمجھو یہ میری راے ہے‘‘۔ (ایضاً)
  • اَئمہ اربعہ سے یہ بھی منقول ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی تقلید کرنے سے منع کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ’’کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ ہمارے قول پر عمل کرے تاوقتیکہ اسے معلوم ہو کہ ہماری راے کی بنیاد کیا ہے‘‘(ایضاً)۔ اَئمہ اربعہ سے یہ بات بھی معروف ہے کہ جب وہ کسی دوسرے امام کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اپنی راے کے بجاے ان امام کی راے پر عمل کرتے تھے۔ دوسرے امام کے احترام میںوہ ایسا کرتے تھے۔امام شافعی ؒ فجر کی نماز میں قنوت کو واجب قرار دیتے تھے مگر جب وہ عراق گئے تو امام ابو حنیفہ ؒ کی راے کا احترام کرتے ہوئے فجر کی نماز میں قنوت نہیں پڑھتے تھے، حالانکہ امام ابوحنیفہؒ اس وقت انتقال کرچکے تھے(ایضاً)۔ اختلاف راے اپنی جگہ، مگر احترام اور عزت وتوقیر اپنی جگہ ۔یہ تھے ہمارے اَئمہ کرامؒ جنھوں ہمارے لیے روشن مثالیں چھوڑی ہیں۔

یہ بات ہمیں معلوم ہوئی کہ اختلاف راے انسانی فطرت ہے ۔ایک ہی قالب میں تمام انسان ڈھل نہیں سکتے، البتہ وہ اختلاف جو تفرقے کا باعث بنے، وہ مذموم اور ممنوع ہے۔ اختلافات کی وجہ سے تاریخ کے صفحات میں خون آلود کہانیاں بکھری ہوئی ہیں۔یہ تاریخ اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے ۔ ماضی میں جھانکنے کا اب کوئی فائدہ نہیں رہا۔ہمارا حال اس قدر پریشان کن ہے کہ امت کو مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے۔ان چیلنجوں سے اگر نمٹنا ہے تو ماضی کی خونیں تاریخ کو بھلاکر نیا آغاز کرنا ضروری ہے۔ماضی میں پیش آنے والے واقعات اور اسباب اب ماضی کا حصہ ہیںجسے اب یاد کر نے اوردہرانے کی ضرورت نہیں۔ان میں کون حق پر تھا کون غلط، اس کا فیصلہ   ہم نے اپنے ذمے کیوں لے لیا ہے ۔ان کے حساب کتاب کے ذمہ دار ہم نہیں ۔اس کا فیصلہ   اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں جو ہر صاحب حق کو اس کا اجر دے گا ۔وہی نیتوں کے حال سے واقف ہے۔’’وہ کچھ لوگ تھے جو گزر گئے۔جو کچھ انھوں نے کمایا، وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے، وہ تمھارے لیے ہے۔تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے‘‘ (البقرہ۲: ۱۳۴)۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ سے جب قرونِ اولیٰ کے دور فتن کے بارے میں پوچھا گیاتو انھوں نے جواب دیا: ’’ان لوگوں کے خون سے ہمارے ہاتھ پاک ہیں، ہم اپنی زبان کو کیوں آلودہ کریں‘‘۔ (مبادی التقریب بین المذاہب الاربعہ، ڈاکٹر یوسف القرضاوی)

اُمت مسلمہ میں تفرقہ

ہر شخص کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جس مکتب فکر سے چاہے رجوع کرے،جس کی چاہے تقلید کرے مگر یہ ضروری نہیں کہ وہی حق پر ہو اور باقی سب کو گمراہ قرار دے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:’’پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو، وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے‘‘ (النجم ۵۳: ۳۲)۔ خود کو برحق اور دوسرے کو گمراہ قرار دینے والا اُمت میں تفرقہ پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔اس عمل کی مذمت کی گئی ہے۔ تفرقہ بندی اور لسانی اور گروہی تعصب جاہلیت کے نعرے ہیں۔قرآن مجید میں اس کی صریح ممانعت ہے۔

ہجرت نبویؐ سے پہلے مدینہ منورہ میں اوس اور خزرج کے درمیان طویل جنگیں ہوئی تھیں۔ اسلام کی برکت سے وہ ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن گئے۔اخوت اور مودت کا یہ ماحول یہودیوں کو کھٹکتا رہا، لہٰذا وہ ان کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرنے لگے۔مدینہ منورہ میں انصار کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے والا پہلا شخص یہودی تھا جس کا نام شاس بن قیس تھا جسے انصار کی اخوت اور محبت کھٹکتی رہی۔ اوس کے پاس جاکر انھیں خزرج کے بارے میں اکساتا اور شعر پڑھ کر انھیں ان کی خونی تاریخ یاد دلاتا۔اسی طرح خزرج کے پاس جاکر انھیں اوس کے بارے میں اکساتا یہاں تک دونوں گروہ اس کے بہکاوے میں آگئے اور پھر وہ موقع آیا جس میں اوس اور خزرج آمنے سامنے آگئے۔اوس کے لوگوں نے نعرہ بلند کیا: ’’اوس کے لوگو! اپنے قبیلے والے کی حمایت کرو‘‘ اور خزرج نے نعرہ لگایا:’’اے خزرجیو! اپنے قبیلے کے لوگوں کی مدد کرو‘‘۔ قریب تھا کہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے ساتھ بھڑجاتے مگرعین وقت پررسول اکرمؐ تشریف لائے اور   دونوں گروہوں کی سخت سرزنش کرتے ہوئے فرمایا: ’’جاہلیت کے نعرے بلند کرتے ہو حالانکہ میں تمھارے درمیان موجود ہوں‘‘۔ آپؐ نے انھیں قرآن مجید کی آیات سنائیں یہاں تک دونوں  گروہ روپڑے اور ایک دوسرے سے معانقہ کیا ۔اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورۂ آل عمران کی     یہ آیات نازل فرمائیں:’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو،اگر تم نے ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمھیں ایمان سے پھر کفر کی طرف پھیرلے جائیں گے۔ تمھارے لیے کفر کی طرف جانے کا اب کیا موقع باقی ہے، جب کہ تم کو اللہ کی آیات سنائی جارہی ہیں اور تمھارے درمیان  اس کا رسولؐ موجود ہے؟جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہ راست پالے گا‘‘۔ (اٰل عمرٰن ۳:۱۰۰-۱۰۱)

غور کیا جائے تو شاس بن قیس کسی نہ کسی صورت میں آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے جو امت کے افراد کے درمیان تفرقہ ڈالنے پر تلا ہوا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ امت تفرقہ میں پڑجائے تاکہ اندر سے کھوکھلی ہو اور اس پر حملہ کرنا آسان ہو، جب کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت کرتا ہے کہ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑونہیں، ورنہ تمھارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمھاری ہوا اُکھڑجائے گی‘‘(الانفال۸:۴۶)۔ اسی طرح کی ہدایت رسول اکرمؐ سے ملتی ہے: آپس میں اختلاف نہ کرو کیونکہ تم سے پہلے امتوں کے اختلاف ہی نے انھیں ہلاک کیا (بخاری)۔ شاس بن قیس جیسے لوگ امت کو گروہوں میں بانٹنے پر تلے ہوئے ہیں۔کبھی ان کا نعرہ سنی شیعہ کا ہوتا ہے تو کبھی حنفی، مالکی کہتے ہیں۔کبھی مقلد اور غیر مقلد کا نعرہ بلند کرتے ہیں تو کبھی دیوبندی اور بریلوی کی صدا لگاتے ہیں۔امت کے تمام مکاتب فکر کو چاہیے کہ وہ اس طرح کی گروہی عصبیتوں کو فروغ دینے والوں سے ہوشیار رہیں۔خاص طور پر موجودہ دور میں جس میں امت کے خلاف تمام دشمن طاقتیں متحد اور یکجا نظر آتی ہیں۔

یورپی ممالک ہمارے لیے مثال ہیں۔ آج یورپی ممالک آپس میں متحد ہیں، جب کہ ان کی خونی تاریخ کا فی طویل ہے۔یورپی ممالک نے ماضی کو بھلاکر متحد ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔کیا ایک امت سے تعلق رکھنے والے لوگ یکجا نہیں ہوسکتے۔ ایک ایسی امت جس کا رب ایک، رسول ایک، قرآن ایک اورکعبہ ایک ہے۔یہ امت کیوں ٹکڑیوں میں بٹی ہوئی ہے۔یورپی ممالک میں کوئی قدر مشترک نہیں اس کے باوجود وہ متحد ہیں، جب کہ اُمت مسلمہ خواہ ان کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو، وہ کیوں متحد نہیں ہوسکتے حالانکہ ان کے درمیان کئی مشترکہ اقدارہیں۔یہ وہ وقت ہے جس میں امت کے افراد جو لاالہ الا اللہ کا اقرار کرتے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اختلافات کے باوجود    متحد ہوں کیونکہ وہ تاک میں بیٹھے دشمن سے علیحدہ علیحدہ مقابلہ نہیں کرسکتے۔

اعتدال کی راہ

امت کے افراد کلمہ طیبہ کی بنیاد پر جمع ہوں ۔آج اُمت میں ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کی جو روش چل پڑی ہے، وہ اتنہائی خطرناک ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’جس نے کسی شخص کو کافر کہا تو کفر ان میں سے کسی ایک شخص کو لاحق ہوگا‘‘ (متفق علیہ)۔ گویا اگر کسی نے کسی کو کافر کہا اور وہ کافر نہ ہو تو کفر اسی کو لاحق ہوگا جس نے یہ کلمہ دوسرے کے لیے استعمال کیا ہو۔امام ابن تیمیہؒ کا ایک زریں قول ملاحظہ کریں:’’مسلمانوں کا ایک بات پر اتفاق ہے کہ وہ ایک دوسرے کی امامت میں نماز پڑھیں گے جس طرح صحابہ کرامؓ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے اور ان کے بعد اَئمہ اربعہ کا بھی اسی پر اتفاق رہا۔جو شخص اس اجماع امت کا انکار کرے تو وہ مبتدع، گمراہ اور کتاب وسنت کے علاوہ اجماع المسلمین کا مخالف ہے‘‘۔(الاختلاف بالتی ھی احسن، رجب ابوملیح)

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے ابن ماجہ میں منقول ہے۔آپ نے صلہ بن زفر سے کہا: ’’اسلام کی تعلیم عام ہوتی رہے گی یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جس میں لوگوں کو معلوم نہیں ہوگا کہ نماز، روزہ، صدقہ اور دیگر عبادات کیا ہیں،حتیٰ کہ قرآن مجید کی آیات تک لوگوں کو یاد نہیں رہیں گی۔پھر جو بچے ، بوڑھے اور خواتین ہوں گی، وہ کہیں گے: ہمارے باپ دادا’لاالہ الا اللہ‘ کہا کرتے تھے، لہٰذا ہم بھی اسی کلمے کا اقرار کرتے ہیں‘‘۔ اس پر صلہ بن زفر نے کہا: ’’محض لا الٰہ الااللہ کہنا ان کے کس کام کا، جب کہ انھیں نماز روزہ اور دیگر عبادات کا علم ہی نہیں‘‘یہ سن کر حضرت حذیفہ ؓنے ان سے منہ پھیر لیا۔بار بار دہرانے کے بعد حضرت حذیفہ ؓ نے جواب دیا’’یہ کلمہ انھیں آگ سے بچانے کے لیے کافی ہوگا‘‘(حاکم)۔ گویا اس کلمے کا اقرار انھیں جہنم کی آگ سے بچاسکتا ہے۔ اس سے ملتی جلتی صورت حال کا مشاہدہ سقوطِ اندلس کے بعد اور سوویت یونین کے دور میں دیکھا جاچکا ہے جب حکومت نے اسلام اور اس کے تمام شعائر پر پابندی لگادی تھی۔ وہاں کے لوگوں کو اتنا علم تھا کہ ہم مسلمان ہیں اور لاالہ الااللہ کا اقرار کرتے ہیں۔محض اس کلمے کی وجہ سے  ان شاء اللہ وہ جہنم سے بچا لیے جائیں گے۔

ان باتوںسے معلو م ہوا کہ اسلام ایک وسیع الظرف دین ہے اور یہ وسعت ظرفی ہمیں اپنے اندر بھی پیدا کرنی چاہیے۔ اختلافات رکھنے کے باوجود ہمارے اندر بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو ہمیں متحد کرسکتی ہیں۔اس اتحاد کے بغیر ہم اپنے دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

علماے امت نے اختلاف رکھنے کے باوجود تعاون کرنے کا ایک زریں اصول وضع کیا جس کے الفاظ ہیں:’’اتفاق راے پر ایک دوسرے سے تعاون کریں اور اختلاف راے پر ایک دوسرے کی راے کا جواز تسلیم کریں‘‘۔ اس قاعدے و کلیے کو یوں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے کہ  ’’متفقہ مسائل میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور مختلف فیہ مسائل میں ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ کریں‘‘۔ ان قواعد کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے سے پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ اختلاف آخر کیوں پیدا ہوتا ہے۔

اختلاف راے کی وجوھات

اختلاف راے کی کئی وجوہ ہیں۔

امام ابن تیمیہ ؒ کا کہنا ہے’’کوئی بھی امام اجتہادی مسائل میںرسول اکرمؐ کی کسی صریح حدیث سے عمداً اختلاف نہیںکرتا۔اختلاف میں وہ معذور ہوتا ہے جس کے بنیادی طور پر تین اسباب ہیں: ایک یہ کہ اس کا گمان ہوتا ہے کہ یہ حدیث رسول اکرمؐ نے نہیں فرمائی۔ دوم یہ کہ اس حدیث کا اس معاملے پر انطباق نہیں ہوتا، اور سوم یہ کہ اس کا خیال ہوتا ہے کہ حدیث میں بیان کیا جانے والا حکم منسوخ ہے‘‘(فتاویٰ ابن تیمیہ، ج ۲۰، ص ۲۳۲)۔ امام ابن تیمیہ ؒ کا ایک اور جگہ پر یہ قول بھی منقول ہے: ’’اسلام کا کوئی بھی مسئلہ جس میں علما کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا ہو مگر اس اختلاف کی وجہ سے تفرقہ،دشمنی اور منافرت پیدا نہ ہوئی ہو تو یہ مسئلہ اسلام کے عین مصلحت کے مطابق ہے، جب کہ جس مختلف فیہ مسئلے میں تفرقہ پیدا ہو،لوگوں کے درمیان دشمنی اور عداوت پیدا ہونے لگے تو جان لو کہ اس مختلف فیہ مسئلے کا دین سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔ (الاختلاف بالتی ھی احسن، رجب ابوملیح)

ڈاکٹر یوسف القرضاوی اختلاف کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ممکن ہے کہ کسی مسئلے پر آپ کے پاس صریح حدیث موجود ہو مگر وہ حدیث میرے پاس نہ ہو۔ممکن ہے یہ حدیث آپ کے نزدیک صحیح ہو مگر میں اسے ضعیف سمجھتا ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک ہی حدیث دونوں کے پاس ہو اور دونوں اس کی صحت پر متفق ہوں مگر اس حدیث کو آپ اپنے طور پر سمجھ رہے ہیں اور میں اپنے طور پر۔اس مسئلے میں اختلاف نصِ حدیث سے نہیں، بلکہ آپ کی راے سے ہوگا‘‘(مبادی التقریب بین المذاہب الاربعہ، ڈاکٹر یوسف القرضاوی)۔ اَئمہ کے درمیان اختلاف فطری اور طبعی ہے۔تمام لوگوں کو ایک قالب میں ڈھالنا ممکن نہیں۔امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد کہا کرتے تھے:’’علما کے درمیان آرا میں اختلاف وقت اور مصلحت کے مطابق ہے۔ان کا اختلاف دلیل اور برہان پر نہیں‘‘۔ اجتہادی مسائل میں اختلاف تفرقے کا باعث نہیں ہونا چاہیے۔

اختلاف راے کے دیگر اسباب میں ایک سبب عامۃ الناس میں پایا جاتا ہے جس سے علماے حق مبرا ہیں، اور وہ یہ ہے کہ لوگ اپنے امام کی راے کو بالا اور دوسرے کو نیچا دکھانے پر تل جاتے ہیں۔اپنی راے کو حق ماننے پر عناد اور اصرارکرنے لگ جاتے ہیں۔ان کا مقصد حق کو ظاہر کرنا اور اس کی اتباع کرنا نہیں بلکہ اپنی راے کو دوسرے پر مسلط کرنا ہوتا ہے۔طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اختلافی مسائل کو علماے حق کی کتابوں سے تلاش کرکے اس کے جواز اور عدم جواز پر فیصلہ کرے ۔ایسا نہ ہو کہ عوام الناس کی راے سن کر وہ اپنافیصلہ قائم کرے۔

اتفاق راے کی بنیاد

جس قاعدے و کلیے کا ذکر اوپر ہوچکا ہے کہ’’اتفاق راے پر ایک دوسرے سے تعاون کریں اور اختلاف راے پر ایک دوسرے کی راے کا جواز تسلیم کریں‘‘یا پھر ’’متفقہ مسائل میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور مختلف فیہ مسائل میں ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ کریں‘‘، اس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ امت کے مختلف مکاتب فکر کے درمیان بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن میں علما کے درمیان اتفاق ہے اور جن میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرسکتے ہیں۔

تمام مکاتب فکر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ وحدہٗ لاشریک ہے ۔اس کے  اسماے حسنیٰ اور صفات علیا کو سب مانتے ہیں۔رسول اکرمؐ کی نبوت کا اقرار کرتے ہیں۔سب کا ایمان ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو کسی بھی تحریف اور تبدیلی سے پاک ہے۔تمام ارکان اسلام: نماز ،روزہ، حج اور زکوٰۃ پر سب کا اتفاق ہے خواہ وہ سنی مکاتب فکر ہوں یا شیعہ۔اس بات پر بھی امت کا اتفاق ہے کہ کتاب وسنت شریعت کا اصل الاصول ہے۔اسی سے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ اجتہاد کا دروازہ بند نہیں۔کوئی بھی عالم اجتہاد کرسکتا ہے۔ اس میں اس سے غلطی بھی ہوسکتی ہے۔تمام امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس کی یکجہتی میں اس کی قوت اور تفرقے میں اس کی کمزور ی ہے۔اگر یہ بات ہے تو پھر جن باتوں میں اختلاف ہے ان پر مکالمہ کیا جاسکتا ہے اور جس بات میں اختلاف ختم نہ ہوسکے اس میں ایک دوسرے کی راے کے جواز کو تسلیم کریں۔ہم اختلاف راے کی وجہ سے ایک دوسرے پر الزام تراشی نہ کریں، ایک دوسرے کو گمراہ قرار نہ دیں،ایک دوسرے کو فاسق نہ کہیں۔ایک دوسرے کی راے کا احترام کریں اور متنازع مسائل کو نہ چھیڑیں۔ایک دوسرے کواس کا اپنا مسلک اختیار کرنے کی آزادی دیں۔ ایک دوسرے کے بارے میں حسن ظن رکھیں اور سوئِ ظن کی بنیاد پر پہلے ہی سے کسی کے بارے میں فیصلہ نہ کریں۔ اخوت اسلامی کے اسباب کو پروان چڑھائیں اور وسعت ظرفی کا مظاہرہ کریں۔ باہم تحمل اور برداشت کو فروغ دیں اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پر جمع ہوں۔اب وقت آگیا ہے کہ ہم باہم متحد ہو کر اپنے دشمن کا مقابلہ کریں ۔اگر ہم ایسا نہ کریں گے تو سر پر منڈلا نے والا دشمن کسی بھی وقت ہم پر حملہ آور ہوکر ہماری ہوا اُکھاڑ سکتا ہے۔

(دوسری اور آخری قسط)

مغربی جمھوریت اور اسلامی شوریٰ : ایک موازنہ

مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں بہتر ہوگا کہ دونوںنظاموں کے درمیان بعض بنیادی اختلافات کا تعین کر لیا جائے اور ایسے مشترکہ امور کی بھی نشان دہی کر لی جائے جن میں ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

اسلام کی حکمت عملی بے مثال ہے۔ اسلام انسان کو، اس کے روحانی اور اخلاقی وجود اورشخصیت کو مرکز بناتا ہے۔ ہر فرد کی، روحانی بالیدگی، اخلاقی ترقی اور سعادت کی زندگی ہی   اسلامی نظام کا اصل مقصد ہے۔ تبدیلی کا عمل کسی فرد کے اپنے آپ کو تبدیل کرنے کی داخلی سطح پر شروع ہوتا ہے۔ اس کا آغاز ایک فرد میں اخلاقی حس بیدار ہونے سے ہوتا ہے جو ایک باکردار اور منصفانہ معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ مسلم اُمّہ ایک عالم گیر برادری ہے۔ اسی وسیع تر اُمّہ میں چھوٹے گروپ، بستیاں اور ریاستیں بھی ہو سکتی ہیں۔ اس کے باوجود وہ سب ایک ہی تسبیح کے دانے ہیں۔ اسلام ایک ایسے مہذب معاشرے کی تعمیر کرتا ہے، جو صحت مند اور فعّال اداروں سے عبارت ہوتا ہے۔ ریاست انھی اداروں میں سے ایک ہے۔ یہ نہایت اہم اور کئی اعتبار سے دوسرے سب اداروں سے بلند تر ہے لیکن یہ واضح رہے کہ اسلام میں سب سے بالا ادارہ اُمت مسلمہ کا ہے، اورباقی سب ادارے ہر ہر مسلمان (فرد) کی تقویت کے ساتھ اُمت مسلمہ کے استحکام کے ستون ہیں۔

اسلامی معاشرے کے سماجی، سیاسی اور اقتصادی اصولوں میں مکمل ہم آہنگی ہوتی ہے اور یہ سب مل کر ایک ایسے معاشرے کی تخلیق کرتے ہیں جو نظریاتی سطح پر توحید و ایمان، اتباعِ سنت، فکری یگانگت اور عدل و احسان کے حسین امتزاج کا مظہر ہوتا ہے۔ یہ معاشرہ انسانی مساوات، اخوت، باہمی تعاون، سماجی ذمہ داری، انصاف اور سب کے لیے مساوی مواقع کی روایات کے خمیر سے تعمیر کیا جاتا ہے۔ یہ قانون کا پابند معاشرہ ہوتا ہے جس میں ہررکن کے حقوق اور فرائض کا احترام کیا جاتا ہے جن میں اقلیتوں کے حقوق بھی شامل ہوتے ہیں۔ ریاست کا مقصد معاشرے کے ہر رکن کی خدمت اور انسانوں کے درمیان عدل کا قیام ہے۔ اسلامی معاشرے میں آمریت اور استبدادی مطلق العنان حکومت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

اسلامی ریاست سیکولر جمہوریت سے بالکل مختلف ہوتی ہے، کیونکہ اسلامی ریاست عوام کے اقتدارِ اعلیٰ کا نظریہ تسلیم نہیں کرتی۔ مسلم ریاست میں اللہ تعالیٰ ہی قانون ساز ہے اور شریعت ہی ریاست کا قانون ہے۔ جو بھی نئے نئے مسائل درپیش ہوں، ان سے نمٹنے کے لیے شریعت کے دائرۂ کار کے اندر رہتے ہوئے حل دریافت کیے جاتے ہیں۔ یہ بات سیکولر جمہوریت اور مسلم ریاست کے درمیان سب سے بڑا اختلاف ہے۔

جہاں تک قانون کی حکمرانی کے اصول، بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، عدلیہ کی آزادی، اقلیتوں کے حقوق، ریاست کی پالیسیوں اور حکمرانوں کے عوام کی خواہش کے مطابق انتخاب کا تعلق ہے، اسلام اپنے دائرۂ کار کے اندر رہتے ہوئے ان سب امور کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ ان میں سے بعض امور کے متعلق اسلام اور مغربی جمہوریت کے درمیان بعض مشترک بنیادیں موجود ہیں اور ان تمام میدانوں میں مسلمان اپنے معاصر مغربی ممالک کے تجربات سے استفادہ کر سکتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی مسلمانوں کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن دونوںنظاموں کے قوانین کے منابع اور فطرت میں چونکہ بنیادی اختلاف ہے، لہٰذا ان اساسی امور میں دونوں نظام ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں اور اپنا جداگانہ تشخص اور مزاج رکھتے ہیں۔

اسلامی ریاست میں شریعت کو بالادستی حاصل ہے۔ اس کے باوجود یہ کوئی مذہبی حکومت نہیں ہوتی، جیسی کہ تاریخ میں مذکور فرعونوں، بابلیوں، یہودیوں، مسیحیوں، ہندوئوں یا بودھوں کی حکومتیں گزرچکی ہیں۔

ان مذہبی حکومتوں اور اسلامی حکومت میں بنیادی فرق ہے۔ یہ مذہبی حکومتیں اگرچہ  ’خدائی حکومت‘ کی دعوے دار تھیں، لیکن وہ ’خدائی حکومت‘ ایک مخصوص مذہبی طبقے کی حکومت ہوتی تھی،جس کے حکمران کا ہر لفظ قانون تھا، جسے نہ تو کوئی چیلنج کر سکتا تھا اور نہ اس کے خلاف آواز بلند کر سکتا تھا۔ مگر اسلام میں ایسا کوئی حاکم مذہبی طبقہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی اقتدار اعلیٰ کا مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اور جواس کی مرضی ہے، وہ قرآن و سنت کی صورت میں موجود ہے۔ شریعت کا سبھی کو علم ہے۔ یہ کوئی ایسا خدائی راز نہیں ہے جس کاعلم صرف پادریوں کی طرح صرف مفتی یا  مذہبی رہنما کو ہو۔ اسلام میں ایساہرگز کوئی امکان نہیں کہ لوگوں کا کوئی گروہ دوسروں پر اپنی ذاتی مرضی ٹھونس سکے یا اللہ کے نام پر دوسروں پر اپنی ترجیحات کو نافذ کر سکے۔ اسلامی نظام میں قوانین کھلے بحث و مباحثے کے بعد ہی تشکیل دیے جاتے اور نافذ کیے جاتے ہیں۔ سب لوگ اس عمل میں شریک ہوتے ہیں۔

  • بنیادی فرق: ان دونوں نظاموں کے درمیان اختلافات مختصراً یہ ہیں:

ا - شریعت جو اللہ تعالیٰ کی مرضی اوررضا کی حامل اور اس کا مظہر ہے، بالکل اصل صورت میں محفوظ اور موجود ہے۔ اس میں کسی نوع کی کوئی آمیزش نہیں ہوئی اور نہ بدلے ہوئے حالات میں کسی تبدیلی یا کسی کی مداخلت سے اس میں کوئی تبدیلی ممکن ہے۔

ب- اسلام میں مذہبی متوسلین کا کوئی طبقہ نہیں اور محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ترجمان ہے۔ اللہ کی رہنمائی مکمل ہو چکی، اب یہ اُمّہ کا کام ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کو سمجھے، اس کا ادراک کرے اور انسانی معاشرے کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اس پر عمل پیرا ہو۔

ج- فرد معاشرے کا بنیادی عنصر ہے۔ اسلام، فرد کی آزادی، قانون کی حکمرانی ،  مخالفانہ آرا اور مخالفوں کی توقیر کی ضمانت خود دیتا ہے۔ اہل دانش اور عوام آزادی کے ساتھ اپنے مسائل پر بحث مباحثہ کر سکتے ہیں اور باہم مشاورت کے ذریعے ان کا حل نکال سکتے ہیں۔ پوری اسلامی فقہ ایک ایسے عمل کے ذریعے فروغ پذیر ہوئی ہے، جس کے دوران اُمّہ اور اس کے نمایندوں نے عام بحث مباحثے میں حصہ لیا۔ اسلامی ریاست اور معاشرے کا انسانوں کی طبیعی اور دنیاوی مشکلات و مسائل سے گہرا تعلق ہوتا ہے اور وہ انصاف اور سماجی بہبود کے اصولوں کے مطابق ان مشکلات و مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔

بلاشبہہ جسے زندگی کا سیکولر (دنیاوی) حصہ کہا جاتا ہے اس سے اسلام اور مسلمانوں کا تعلق ہے لیکن اسلامی اور سیکولر رویوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ دنیا کی ساری زمین میرے لیے مسجد کی مانند ہے، چنانچہ دنیا کے تمام حصوں اور علاقوں سے اسلام کا گہرا تعلق ہے۔ اسلام نہ شرقی ہے اور نہ غربی، بلکہ صحیح معنوں میں ایک عالم گیر اور آفاقی نظام ہے۔ اسلامی نظام، انسانی زندگی کے تمام روحانی اور دنیاوی معاملات پر محیط ہے۔ اس حد تک اسلام کاسیکولرزم سے کوئی تنازع نہیں ہے۔ مغرب میں سیکولرزم کے غلبے کی وجہ مذہب کا سیکولر معاملات سے لاتعلق ہوجانا اور دنیاوی زندگی کو شیطانی قوتوں کے حوالے کر دینا تھا۔ یہ پوری تحریک دراصل ان مذہبی روایات کا رَدّعمل تھی جن کی رو سے سیکولر دنیا کو نظرانداز کیا گیا اور اپنے دائرۂ عمل کو صرف روحانی دنیا تک ہی محدود رکھا گیا تھا۔

اسی طرح سیکولرزم کی تحریک کو تقویت دینے والا ایک دوسرا سبب مذہبی عدم رواداری تھی جس میں جبر کے ذریعے ایک مذہب بلکہ ایک فرقے کے نظریات کو دوسرے تمام فرقوں پر مسلط کیا جاتا تھا اور ایک سے زیادہ نقطہ ہاے نظر کو کفر اور بغاوت قرار دیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس اسلام تکثیر (pluralism) اور رواداری کے اصول کو تسلیم کرتا ہے۔ تمام انسانوں کو پیشے اور مذہب کے معاملے میں انتخاب کا حق دیتا ہے اور ثقافتی کثرت اورکسی بھی سماج کے اندازِ حیات کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ سب کچھ اسلام کی منشا کے مطابق ہے۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے: ’’دین میں کوئی جبر نہیں‘‘۔

سیکولرزم سے اسلام کا بنیادی اور جوہری اختلاف اس کے اس دعوے کے باعث ہے کہ سیکولرزم، مذہب سے کسی نوع کے تعلق، اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی اور مطلق اخلاقی اقدار کے بغیر تمام انسانی مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ یہ بات زندگی کے بارے میں اسلامی رویے کے بالکل برعکس ہے۔ انھی وجوہ کی بنا پر اسلام اور سیکولرزم، دو بالکل مختلف دنیائوں کی نمایندگی کرتے ہیں۔

اگرچہ اب کمیونزم اور فاشزم کوئی غالب سیاسی نظریات نہیں رہے، لیکن ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں جو ان دونوں نظریات کے مختلف پہلوئوں سے اتفاق رکھتے ہیں۔ یہ دونوں نظریات مغربی تہذیب و تمدن کے تناظر میں بعض تاریخی اور سماجی و سیاسی حالات کی پیداوار ہیں۔ ان کی تہ میں ریاست کی مطلق العنانیت کا تصور کارفرما رہا ہے۔ مگر یہ دونوں نظریات بھی مختلف النوع آمریت ہی کے نمایندے تھے اور ان کے تحت بھی مطلق العنان حکومت ہی قائم ہوتی رہی۔ اگرچہ ان دونوں نظاموں میں انتخابات اور پارلیمنٹ کے قیام کاڈھونگ بھی رچایا جاتا رہا۔

اسلام میں یک طرفہ یا مطلق العنان اقتدار کا کوئی تصور نہیں۔ اسلام میں ریاست تو اُمت ہی کا ایک ادارہ اور شعبہ ہوتا ہے۔ وہ فرد کی مرکزیت، اس کے حقوق اور سیاسی فیصلوں میں فرد کے کردار کی توثیق کرتا ہے۔ اسلامی ریاست، قانون کی تخلیق ہوتی ہے۔حکمران، ریاست کے دوسرے شہریوں کی طرح ہی قانون کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ریاست اپنے عمّال اور کارپردازوں کو وہ خصوصی مراعات اور تحفظات بھی فراہم نہیں کرتی جو کئی مغربی ملکوں کے عمّال کو عام طور پر حاصل ہوتی ہیں۔

اسلام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کردہ مقدس امانت ہیں۔ فرد کو معاشرے کی بنیادی اکائی اور ایک پاک باز مخلوق تصور کیا جاتا ہے، جو اپنے اعمال کے لیے آخرکار اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔ ہر انسان ایک قابل احترام وجود ہے اور اخلاقی طور پر اپنے تمام اعمال اور پسند و ناپسند کے لیے دنیا اور آخرت میں بھی   جواب دہ ہے۔ فرد کو معاشرے میں عقل و دانش اور سماجی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ اپنا رویہ متعین کرنا ہوتا ہے، لیکن وہ ریاست کی مشین کا کوئی بے جان پرزہ نہیں ہوتا۔ اس اعتبار سے اسلام کے سیاسی نظم اور ہمارے دور کے مطلق العنان اور آمرانہ نظاموں کے درمیان بے حد فرق ہے۔

اسی تقابلی تجزیے سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اسلام کا سیاسی نظام ، دوسرے سیاسی نظریات کی بعض باتوں میں مماثلت اور مشابہت کے باوجود، بے مثال ہے۔ اسلام، اساسی اعتبار سے ایک مکمل نظام ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسے معاشرے کا قیام ہے جس میں رہتے ہوئے ایک اچھے اور نیک انسان کو یہ محسوس نہ ہو کہ وہ تو کسی اجڈ معاشرے میں پھنس گیا ہے یا جانوروں کے کسی باڑے میں دھکیل کر بند کر دیا گیا ہے۔ اسلام تمام انسانوں کی ذہنی اور مادی نشوونما، ساتھ ساتھ، چاہتا ہے تاکہ انسان امن اور انصاف کے ساتھ زندگی گزارسکیں۔ زندگی کی اعلیٰ اقدار و نظریات کی پرورش کر سکیں، جن کے نتیجے میں وہ اس دنیا اور پھر آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور الوہی سعادت کے حق دار ٹھیرسکیں۔ اسلامی ریاست ایک نظریاتی، تعلیمی اور مشاورتی بنیادوں پر مبنی ریاست ہوتی ہے جو ایک ایسا سماجی و سیاسی ڈھانچا فراہم کرتی ہے جس میں حقیقی جمہوریت پھل پھول سکتی ہے۔ اس میں ایک طرف مستقل اقدار کا دائمی فریم ورک ہے جس میں پوری سیاسی اور اجتماعی زندگی مرتب ہوئی ہے تو دوسری طرف اجتہاد کے ذریعے وقت کی بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کابھرپور سامان ہے۔

مجھے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کہ مسلمان اپنی تاریخ میں اس نظریے پر مکمل طور پر عمل کرسکے ہیں۔ بلاشبہہ خلافت راشدہ اس کا عملی نمونہ اور ایک مکمل مثالیے (paradigm )کا مظہر تھا مگر بعد کے ادوار میں اصل ماڈل سے انحراف اور انحراف کے بعد اصل کی طرف مراجعت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہا ہے۔ البتہ اصل ماڈل ہی تمنائوں کا محورو مرکز رہا ہے اور آج بھی اسی آورش کی روشنی میں تعمیرنو کی جدوجہد مطلوب ہے۔

احیاے اسلام اور جمھوریت

تاریخ میں پہلی بار معاصر مسلم دنیا کو ایک منفرد چیلنج کا سامنا ہے۔ مسلمانوں کو اقتدار اور بالادستی حاصل نہیں رہی اور پوری مسلم دنیا نوآبادیاتی حکمرانوں کے پائوں تلے دبی ہوئی ہے۔ نوآبادیاتی اور سامراجی غلبے کی اس طویل، اندھیری رات کے دوران، جو تقریباًدو صدیوں پر محیط ہے، مسلمانوں کو ذہنی، اخلاقی، معاشی اور ثقافتی طور پر بھی سخت نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ اس طویل ابتلا کا بدترین نقصان یہ ہوا کہ وہ اسلامی ادارے بتدریج ٹوٹ پھوٹ اور انحطاط کا شکار ہوگئے، جن کے باعث مسلم دنیا تقریباً ۱۲ صدیوں تک اپنے پائوں پر کھڑی رہی اور اندرونی و بیرونی چیلنجوں کاکامیابی سے مقابلہ کرتی رہی۔ سامراجی حکومتوں کے ادوار ہی میں مغرب سے درآمدشدہ کئی ادارے اسلامی مملکتوں میں رائج کیے گئے۔ اسے دوسروں کو نام نہاد تہذیب سکھانے کے مشن کاحصہ  (white man's burden) قرار دیا گیا لیکن درحقیقت یہ سامراج کا بدترین استحصالی عمل تھا۔ چنانچہ اس استحصال کی وجہ سے قانون، عدلیہ، معیشت، تعلیم، انتظامیہ، زبان و ادب، فنون لطیفہ، فن تعمیر، غرض معاشرے کے تمام عناصر کو زبردستی مغربیت کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی گئی۔

نوآبادیاتی ، سامراجی نظام کے دوران مسلم معاشرے کے اندر سے ایک نئی قیادت پیدا کی گئی، جسے مورخ آرنلڈ ٹائن بی نے ’بابو کلاس‘کا نام دیا ہے۔ یہ لوگوں کا ایک ایسا طبقہ تھا جس کی جڑیں اپنے مذہب، ثقافت اور تاریخ میں نہیں تھیں اور جس نے نوآبادیاتی حکمرانوں کے سایے میں اپنا نیا تشخص بنانے کی کوشش کی۔ اس طبقے نے نہ صرف حکمرانوں کی اقدار اور اخلاقی طرزِ عمل اپنانے کی سعی کی، بلکہ مقامی اور بیرونی مفاد پرستوں سے مل کر حکمرانوں کے مفادات کا تحفظ بھی کیا۔ غیر ملکی غلامی سے نجات کے لیے عوامی تحریک بنیادی طور پر، آزادی کے تصور اور ایمان کی قوت سے عبارت تھی۔ مسلم دنیا میں نیشنلزم کی قوتوں نے بھی اسلامی تشخص قائم کر لیا تھا لیکن    اس ’بابو طبقے‘ اور اس کے زیراثر حلقوں نے مغربی اقدار ہی کو حرزِ جاں بنائے رکھا اور شعوری یا   غیرشعوری طور پر سامراجی قوتوں کے ایجنٹوں کا کردار ادا کیا۔(۲۱) آزادی کے بعد، ان ملکوں میں اقتدار بڑی حد تک اسی مغرب زدہ قیادت کے ہاتھ میں آیا یا لایا گیا جن کی سیاسی تربیت بھی سامراجی دور میں ہوئی تھی۔ اس قیادت کا تعلق مغرب کی ثقافت اور ان کے سیاسی عزائم ہی سے برقرار رہا۔ یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ عالم اسلام میں صرف سرحدوں کا تعین ہی غیر ملکی سامراجی آقائوں نے نہیں کیا تھا،بلکہ نئے ادارے اور نئی قیادت بھی سامراجی دور ہی کی پیداوار تھی۔ عالم اسلام میں اس وقت جو بحران اور بے اطمینانی محسوس کی جا رہی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی صورت احوال ہے۔

احیاے اسلام اور سیاسی عمل میں عوامی شرکت اور ان کے ذریعے تبدیلی کا عمل جو جمہوریت کی روح ہے ایک ہی صورت حال کے دو پہلو ہیں۔ اقتدار میں موثر عوامی شرکت اور اسلامی تصورات کے مطابق معاشرہ، نیز مسلم سیاست کی تشکیلِ نو بھی اسی عمل کا حصہ ہیں۔ یہ کام صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان باہمی اعتماد، ہم آہنگی اور تعاون موجود ہو۔ لیکن   جن حکمرانوں نے سامراجی آقائوں ہی سے اقتدار کی وراثت پائی ہے ان کی نظریاتی،اخلاقی اور سیاسی سوچ عوام سے مختلف ہے۔ حکمران معاشرے اور اس کے اداروں کو مغربی اقدار و نظریات اور مغرب کے نظریاتی نمونوں، سیکولرزم ، قوم پرستی، سرمایہ داری اور نوآبادیاتی نظم کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے ’زیرتسلط‘ ملکوں میں ایسے قوانین، ادارے اور پالیسیاں روبہ عمل لانا چاہتے ہیں جو مغربی نمونوں سے اخذ کی گئی ہیں مگر عوام یہ سب کچھ اپنے ایمان (عقائد)، اقدار اور امنگوں کے منافی سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر حصولِ آزادی کے باوجود حکومتی نظام بعض استثنائوں کے ساتھ جابرانہ اور مطلق العنانیت پر مبنی رہا۔

تاریخ کا سبق تو بڑا ہی واضح ہے اور وہ یہ کہ: مسلمان ممالک کو سیکولر مملکت بنانا اور مغربی رنگ میں رنگنا، یک طرفہ اور جابرانہ قوت کے بغیر ممکن نہیں۔ اقتدار میں عوام کی شرکت حقیقی جمہوری نظام اور اسلام میں کوئی عدم مطابقت نہیں بلکہ عوام کی آزادی، بنیادی حقوق، اقتدار میں عوام کی شرکت پر مبنی جمہوریت اور اسلامی نظام فطری حلیف ہیں۔ اصل تصادم تو عوام کی اسلامی امنگوں اور حکمران طبقے کے سیکولر مغربی نظریات اور پالیسیوں کے درمیان ہے۔ چنانچہ مسلمانوں پر جابرانہ اور استبدادی قوت کے بغیر غیر اسلامی نظریات و تصورات اور قوانین مسلط نہیں کیے جا سکتے۔ اصل تضاد ان دونوں (اسلامی اور مغربی) تصورات میں ہے اور حقیقی جمہوریت مغربی سیکولر بلڈوزر کا پہلا شکار ہے۔ امریکا کے ایک ماہر عمرانیات فلمر ایس سی نارتھ روپ (F.C. Northrop) نے گہرے شعور کے ساتھ کہا ہے: ’’مجھے یقین ہے کہ یہی وجہ ہے جو اس قسم کے (مثلاً سیکولر) قوانین عام طور پر پہلے آمر حکمران ہی نافذ کرتا ہے۔ ایسے قوانین کسی عوامی تحریک کا نتیجہ تو ہو نہیں سکتے کیونکہ عوام تو پرانی روایات کے حامل ہوتے ہیں‘‘۔(۲۲)

پروفیسر ویلفرڈ کینٹ ول اسمتھ نے پاکستان کی صورت حال کے حوالے سے نہایت دل چسپ بات کہی ہے: ’’کوئی مملکت جب صحیح معنوں میں جمہوری مملکت بن جاتی ہے تو وہ اپنی فطرت کا اظہار کرتی ہے، چنانچہ ایک مشرقی ملک کی حیثیت میں وہ جتنی جمہوری ہو گی، اتنی ہی مغربی رنگ سے دُور ہوتی چلی جائے گی… یہاں تک کہ اگر پاکستان ایک حقیقی جمہوری ملک بن جائے توجس حد تک وہ جمہوری ہو گا اسی حد تک اسلامی بھی ہوگا‘‘۔(۲۳)

کینٹ ول اسمتھ نے تو بڑے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ اسلام کے بغیر جمہوریت محض ایک بے معنی نعرہ ہے جو کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ یوں جمہوریت اپنے اسلامی ہونے کے حوالے سے ان (مسلم اُمّہ) کی اسلامی ریاست کی تعریف کا حصہ بن جاتی ہے۔(۲۴)

ایسپوزیٹو اوروال بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ موجودہ دور کی مسلم ریاستوں میں دونوں رجحانات، یعنی احیاے اسلام اور جمہوریت ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور یہ ان ریاستوں کے کردار کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ وہ معاصر مسلمانوں کے ذہن کا مطالعہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

بہت سے مسلم (اسکالر) اسلامی جمہوریت کی وضاحت میں سرگرمی سے مصروف ہیں۔ ان کو یقین ہے کہ عالمی سطح پر مسلم ریاستوں میں مذہبی احیا اور جمہوری عمل ایک دوسرے کی تکمیل کر رہے ہیں۔(۲۵)

حال ہی میں دواسکالروں ڈیل ایکل مین اور جیمز پسکا ٹوری نے ’مسلم سیاست‘ کے حوالے سے ایک مطالعاتی رپورٹ میں تجویز کیا ہے کہ مسلمانوں میں اس وقت جمہوریت کے بارے میں جو خیالات پائے جاتے ہیںاور جو ان کی اپنی اقدار اور امنگوں کے مطابق ہیں، ان پر نئے زاویوں سے غور کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں میں، اسلامی ریاستوں پر مغربی طرز کی جمہوریت کا پیوند لگانے کے خلاف جو نفرت پائی جاتی ہے ، اسے بھی پیش نظر رکھا جانا ضروری ہے۔ ان دونوں اسکالروں نے اپنی بات اس طرح ختم کی ہے:

مسلم سیاست کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے ان چیلنجوں کو پیشِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے، جو مستقبل قریب میں پالیسی سازوں کو درپیش ہو سکتی ہیں۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ صرف مغرب زدہ اشرافیہ کی بات نہ سنی جائے بلکہ بہت سی دیگر مسلم آوازوں پر بھی توجہ دی جائے۔ اس جانب پہلا قدم، یہ معلوم کرنا ہے کہ مسلمانوں میں سندجواز اور عدل کے تہذیبی تصورات کیا ہیں؟ یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ مذہبی یا غیر مذہبی منصفانہ حکومت کا تصوربھی متعین نہیں  ہے۔ مسلمانوں کے ان تصورات کی تفہیم بعض لوگوں کے اس ناروا تاَثر کو دُور کرنے میں ممد ثابت ہو گی کہ دوسری اقوام کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات اکثر معاندانہ ہوتے ہیں اور مسلمانوں کا طرزِ حکومت لازماً جابرانہ اور آمرانہ ہوتا ہے۔(۲۶)

اسلام اور مسلم اُمہ نے آمرانہ اور جابرانہ حکومت کو کبھی بھی پسند نہیں کیا۔ مسلمانوں میں جہاں کہیں بھی آمرانہ حکومتیں ہیں، وہ نوآبادیاتی سامراج اور مغرب زدگی کا نتیجہ ہیں۔ ان کا مسلمانوں کے تصورات، تاریخ یا اُن کی امنگوں اور آرزوئوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مسلمان، مغرب کی سیکولر جمہوریت کو اپنے اصولوں، اقدار اور روایات سے بیگانہ تصور کرتے ہیں۔ لیکن جمہوریت کی ان شان دار روایات سے ہم آہنگی محسوس کرتے ہیں جس کا تعلق اقتدار میں عوام کی شرکت جس کے نتیجے میں انصاف کی حکمرانی، ہر سطح پر مشاورت کا عمل، فرد کے حقوق اور حق اختلاف کی ضمانت سے ہے ۔ وہ اس کو اشد ضروری سمجھتے ہیں کہ عدلیہ کی آزادی اور سیاسی ثقافت میں تکثیر کا تسلسل یقینی ہو، ان کے بارے میں ان کے اپنے تصورات اور تاریخی روایت ہے۔ چنانچہ اسلام اور جمہوریت کی اس حقیقی روح میں کوئی تصادم یا تضاد نہیں۔ بعض مسلم ممالک میں جو آمرانہ اور جابرانہ حکومتیں نظر آ رہی ہیں،وہ ان غیر ملکی اور اوپر سے بذریعہ طاقت ٹھونسی گئی روایات کا حصہ ہیں، جن کے خلاف جدوجہد میں احیاے اسلام کی قوتیں مصروف ہیں۔ اسلام اور حقیقی جمہوریت ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں۔ چنانچہ استبدادانہ اور جابرانہ حکومتیں خواہ شہری ہوں یا فوجی آمریت، نام نہاد جمہوری ہو یا موروثی، یہی جمہوریت کی نفی اور بنیادی انسانی حقوق غصب کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ ایسی حکومتیں مغربیت اور لادینیت کا ثمرہ ہیں، اسلام کا نہیں۔ اسی طرح عوامی جمہوریت سے انکار اور اسے دبا کر رکھنے کا عمل اسلام کا نہیں، لادینیت اور مغرب زدگی کا ایجنڈا ہے۔ اسلامی احکام اور مسلم عوام کی مرضی، خواہشات اور امنگیں تو ایک ہی ہیں۔ جمہوری عمل یقینا نفاذ اسلام میںناگزیر پیش رفت ہے۔ اسلامی امنگوں کی تکمیل جمہوری عمل کے آگے بڑھنے ہی سے ممکن ہے۔ نوآبادیاتی دور کے بعد کے عالم اسلام کی حالیہ تاریخ میں آمرانہ نظام، سیکولرزم یاسوشلزم ایک ساتھ آگے بڑھے ہیں، جب کہ احیاے اسلام، آزادیِ جمہور اور اقتدار میں عوام کی شرکت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

نوآبادیاتی طاقتوں کے تسلط سے آزادی کے لیے مسلم اُمہ آج بھی اپنے جمہوری حقوق، اپنے اندازِ سیاست، ، اپنے تصورات، امنگوں اور نظریات کی روشنی میں اپنے عوام کی اقتصادی حالت بہتر بنانے اور اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ مسلم اُمہ ایسے احکام، نظریاتی جبر اور ایسے جمہوری نمونوں کے تحت زندگی گزارنے سے انکاری ہے جو اس کے دین سے متصادم ہوں، اس کی اقدار کے منافی ہوں۔ اس کی تاریخ سے لگّا نہ کھاتے ہوں، اور اس کی روایات کے علی الرغم ہوں۔ اگر جمہوریت کا مطلب کسی قوم کا حق خود ارادیت اور اپنے بَل پر تکمیلِ خودی ہے، تو یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے اسلام اور مسلمان روزِ اوّل سے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ وہ نہ تو اس سے زیادہ کچھ چاہتے ہیں اور نہ اس سے کم پر راضی ہوںگے۔


حواشی

۲۱- ایچ اے آر گب، Modern Trends in Islam میں لکھتے ہیں کہ ’’نیشنلزم … اپنی مغربی توضیح میں صرف ان دانش وروں تک محدود ہے جن کا مغربی افکار سے براہِ راست یا گہرا ربط ہے۔ مگر قوم پرستی کے اس نظریے کی جب عام ذہن تک رسائی ہوئی تو اس کی ہیئت میں تبدیلی واقع ہوئی اور اس تبدیلی سے قدیم جبلی محرکات اور مسلم عوام کی قوت محرکہ کے دبائو کی وجہ سے بچنا ممکن بھی نہ تھا‘‘ ( Modern Trends in Islam شکاگو، شکاگو یونی ورسٹی پریس، ۱۹۴۷ئ، ص ۱۱۹)۔ ولفرڈ سی اسمتھ Islam in Modern History میں لکھتے ہیں: ’’مسلمانوں میں کبھی قومیت کی سوچ نے ارتقا نہیں پایا جس کا مفہوم وفاداری یا کسی ایسی قوم کے لیے تشویش کا پایا جانا ہو، جو اسلام کی حدود کو پامال کر رہی ہو… ماضی میں صرف اسلام ہی نے لوگوں کے اندر اس قسم کا نظم و ضبط، تحریک اور قوت پیدا کی ہے‘‘۔ (Princeton N.J ۱۹۵۷ئ، ص ۷۷)۔

۲۲-  فلمر ایس- سی نورتھروپ، Colloquium on Islamic Culture (پرنسٹن، ۱۹۵۳ئ) ، یونی ورسٹی پریس، ص ۱۰۹۔

۲۳- ولفرڈ- سی اسمتھ، Pakistan as an Islamic State (لاہور، ۱۹۵۴ئ) ، ص ۵۰۔

۲۴- ایضاً، ص ۴۵۔

۲۵- جان ایسپوزیٹو ، جان وول، op.cit ص ۲۱۔

۲۱ویں ویں صدی کا آغاز ہو چکا اور عالم انسانیت تیسرے ہزاریے میں داخل ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہماری دنیا چونکا دینے والے نئے نئے دعووں، اضطراب انگیز وسوسوں اور خدشات کے طوفان کی زد میں آچکی ہے۔

ایک طرف تو کمیونزم کے انہدام اور سرد جنگ کے خاتمے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، اور اس کے ساتھ مغرب کی آزاد روی (liberalism) ، معیشت اور سیاست کی آخری فتح کے نقارے بجا کر ’تاریخ کے خاتمے، کا اعلان کیا جا رہا ہے۔۱  لیکن دوسری جانب عالمی سطح پر مذہبی احیا اور ’بنیاد پرستی، کا شور برپا ہے ، جس میں ایک نئے دور کی آمد آمد کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے جو مختلف تہذیبوں کے درمیان تصادم سے عبارت ہوگا۔۲

چنانچہ وقت آگیا ہے کہ متوازن سوچ کے حامل دانش ور، خصوصاً وہ جو مسلم اُمّہ کی نمایندگی کرتے ہیں، ان افکار و مسائل کی طرف متوجہ ہوں جو: علم و دانش کی دنیا اور قوت و اقتدار کی غلام گردشوں میں زیربحث ہیں۔ ان چیلنجوں کے مقابلے کے لیے اسلام اور مسلم اُمّہ کی حکمت عملی پر ازسرنو غور کریں۔ آج کے چند بڑے مسائل، جن پر انسانیت کو تشویش لاحق ہے اور جو خصوصاً مسلم اُمّہ سے براہِ راست متعلق ہیں، ان میں: عالم گیریت(globalisation) ،زندگی کے ہر شعبے (مذہب سمیت) میں آزاد خیالی(liberlisation)جمہوریت، نج کاری (privatisation) اور لادینیت (secularisation) شامل ہیں۔ ان میں مذہبی احیا  اور بین الاقوامی دہشت گردی کے آسیب بھی شامل ہیں۔

میں اس مقالے میں، جمہوریت کے حوالے سے جاری مباحث کا جائزہ لوں گا۔

اس مقالے کا استدلال یہ ہے کہ وہ جمہوریت ، جو مغربی تہذیب اور سیاست کی رُو سے فروغ پا چکی ہے، نہ تو مکمل طور پر کوئی یکساں نوعیت کا نظریہ ہے اور نہ ایسا نظریہ ہی ہے کہ جسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ، یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ جمہوریت تو ایک ایسا کثیر جہتی مظہر ہے جس کے نظریاتی اور عملی اعتبار سے کئی پہلو ہیں۔ چنانچہ یہ فرض کر لینا کہ: ’’جمہوریت کا کوئی مخصوص مغربی نمو نہ پوری انسانیت اور خاص طور پر مسلم اُمّہ کے لیے مثالی نظام سیاست کے طور پر تسلیم کر لیا جانا چاہیے‘‘۔علمی طور پر ناقابل قبول اور ثقافتی اعتبار سے ناقابل مدافعت ہے۔ مسلم اُمّہ کی تو اپنی الگ اخلاقی اور نظریاتی پہچان ہے، اور مسلمان تاریخی و ثقافتی اعتبار سے اپنا الگ تشخص رکھتے ہیں۔ ہاں، عالم گیریت اپنی موجودہ شکل میں تاریخ کے رواں دور کا ایک رجحان ضرور ہے، لیکن اسے نئی استعماریت کا پیش خیمہ بننے کی  ہرگزاجازت نہیں دی جا سکتی جس کا بڑا خدشہ ہے۔

میرے نزدیک مغرب کی جمہوری فکراور تجربہ، اپنی افادیت اور تنوع کے باوجود، گہری سوچ بچار اور منطقی تجزیے کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتے بلکہ ان میں کئی نقائص ہیں اور وہ عملی تضادات، تصوراتی خامیوں اور ناکامیوں سے عبارت ہیں۔ ڈبلیو جی گیلی نے بجا طور پر مغربی جمہوریت کو ’’بنیادی طور پر قابل حجت تصور‘‘ قرار دیا ہے۔۳ عالم اسلام اور تیسری دنیا کے ممالک کو ، مغربی جمہوریت کی ’برآمد، (export) کوئی حقیقت پسندانہ طرزِ عمل نہیں۔چنانچہ امریکا اور دوسری مغربی طاقتوں کی خارجہ پالیسی کے واضح ہدف کے طور پر دبائو، دھاندلی، سازشوں یا براہِ راست قوت کے ذریعے کسی ملک میں مغربی سیکولر جمہوریت کو بلاامتیاز ٹھونسنے کی کوشش انتہائی نامناسب ہوگی۔

بہتر ہوگا کہ جمہوریت کی دو اہم جہتوں کے درمیان خط امتیاز کھینچ لیا جائے۔ پہلی جہت یہ کہ جمہوریت کی فلسفیانہ بنیاد: عوامی خود مختاری کا تصور اور اس کے نتیجے میں عوامی حمایت پر مبنی حکومت کے جواز کا اصول ۔ دوسری یہ کہ اس نظام کو چلانے کے طریقے، تاکہ کاروبار مملکت میں عوام کی شرکت یقینی بنائی جائے ، اور حکمرانوں کے انتخاب میں اور حکومتی پالیسیوں کی تشکیل اور منصوبوں میں عوام کی شمولیت ممکن ہو سکے ۔ میرا یہ موقف بھی ہے کہ اسلامی عقاید، ثقافت، تاریخ اور فی زمانہ تجربات کے حوالے سے ایسے رہنما خطوط موجود ہیں جو ایک واضح اور منفرد سیاسی ڈھانچے کی شکل متعین کرتے ہیں۔ جسے صحیح معنوں میں روح (spirit) اور عمل، دونوں لحاظ سے حقیقی عوامی شرکت کا حاصل قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے مطابق ایک ایسا سیاسی نظام قائم کیا جاسکتا ہے، جو عدل و انصاف اور شوریٰ و مشاورت دونوں مقاصد کو پورا کرے۔ جو کسی بھی برسرِکار جمہوریت کی حقیقی روح ہوتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نقطۂ نظر مغربی سیکولر جمہوریت کے کئی دیگر تضادات، نزاعات اور ناکامیوں کے لیے بھی تریاق ثابت ہو سکتا ہے۔ خود یہ بات بڑی اہم ہے کہ مسلم اُمّہ پر سیکولر جمہوریت زبردستی ٹھونسنے کی کوشش صرف جابر حکومت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ حقیقی جمہوری عمل، جس میں عوام کو یہ آزادی حاصل ہو کہ وہ اپنے تصورات اور خواہشات کے مطابق اپنے معاملات چلا سکیں۔ بس دین و دنیا کی تفریق اور سیکولر جمہوریت کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہوسکتی۔ مسلم دنیا میں حقیقی جمہوری عمل جہاں اور جب بھی کارفرما ہوگا آخرکار یہ عمل اسلامی نظام ہی کی طرف رہنمائی کرے گا، کیونکہ اُمت مسلمہ کے کینوس پر اسلام اور جمہوریت ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں۔

اسلامی سیاسی نظام کی بنیاد نظریۂ توحید پر ہے اور یہ نظام عوامی خلافت کی صورت میں  برگ و بار لاتا ہے ۔جس کے تحت منتخب حکمران (خلیفہ)، شوریٰ کے ذریعے امور حکمرانی بجا لاتا ہے، جو انسانوں میں مساوات کے اصول پر قائم ہوتی ہے۔ اسی نظام میں قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، حکمرانوں کا احتساب، سیاسی عمل کا صاف شفاف ہونا اور نظام کے قانونی، سیاسی، سماجی، اقتصادی اور بین الاقوامی پہلوئوں میں عدل اور صرف عدل کی بالادستی ہی اوّلیں ترجیح ہوتی ہے۔ اسلامی شریعت ایک ایسا وسیع نظم ِریاست پیش کرتی ہے جس کے اندر رہتے ہوئے عوام، وحی الٰہی کی رہنمائی میں:ایک مہذب معاشرے اور اس کے معاشرتی ادارے، جن میں ریاست کے تمام شعبے (organs) بھی شامل ہوتے ہیں، تشکیل دیتے ہیں۔ اسلامی طرز حکومت کثیر جہتی اجتماعی اور سیاسی نظام قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چنانچہ ایسے معاشرے میں مختلف مذاہب اور نسلی اور لسانی گروپوں کے درمیان صحت مندانہ بقاے باہمی کا جذبہ پروان چڑھتا ہے اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان باہمی تعامل کی فضا کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ اسلامی نظام کے تحت معاشرے میں ہر طرح کی ہم آہنگی اور اتحاد و اتفاق پیدا ہوتا ہے۔ جس کے باعث، موجودہ دور میں ، جب کہ پوری دنیا ایک عالمی شہر کی شکل اختیار کر چکی ہے، امن کے قیام اور تمام انسانوں کے لیے ایک منصفانہ سماجی و سیاسی نظام کے قیام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

جمھوریت --- مغربی تناظر میں

جمہوریت (democracy)کا لفظ انگریزی زبان میں ۱۶ویں صدی میں فرانسیسی زبان کے لفظ democratie سے اخذ کیا گیا۔یہ لفظ اپنے اصل کے اعتبار سے یونانی ہے، جو یونانی زبان کے لفظ demokratie سے مشتق ہے۔اس لفظ کی اصل دو الفاظ demos یعنی ’عوام‘ اور krato ’حکمرانی‘ ہیں۔ گویا یہ لفظ دویونانی الفاظ کا مجموعہ ہے۔

جہاں تک مسلم لٹریچر کا تعلق ہے، ’جمہوریت‘ کی اصطلاح پہلی بار ۱۸ ویں صدی میں ترکی زبان میں استعمال کی گئی۔ یہ لفظ عربی کے لفظ ’جمہور‘ سے نسبت رکھتا ہے ،جس کے معانی عوام یا اسمبلی یا عوامی اجتماع ہیں۔یہ اصطلاح ’فرانسیسی جمہوریہ‘ کے حوالے سے استعمال کی گئی تھی۔۴

جمہوریت ایک ایسا طرز حکومت ہے، جس میں طبقۂ امرا، یا خواص کی حکومت، بادشاہت، آمریت یا استبدادی حکومت کے برعکس عوام ہی کو اقتدار کا حقیقی سرچشمہ تصور کیا جاتا ہے۔ حکومتی اصولوں اور طرزِ حکمرانی کا محور عوام تصورکیے جاتے ہیں، بلکہ تمام اقدار، تصورات اور پالیسیوں کا اصل منبع سمجھے جاتے ہیں۔ عوام ہی کو اقتدار اعلیٰ کا حامل تصور کیا جاتا ہے ۔جنھیں یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ ملک پر حکومت کریں اور ان کے حکمران بھی ان کے سامنے ہی جواب دہ تصور کیے جاتے ہیں۔

جمہوریت کی اصطلاح سے ان تصورات اور اصولوں کے علاوہ ایک سیاسی نظام بھی مراد ہے جس کے تحت حکمرانی کا نظم قائم ہوتا ہے اور ایک سیاسی و قانونی نظام معرض وجود میں آتا ہے۔ جمہوریت کا اصل امتحان تو ’جواز‘ (legitimacy)کا اصول ہے ،جس کے تحت یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اقتدار صرف اور صرف اس وقت جائز ہوتا ہے جب یہ عوامی قوت سے حاصل کیا گیا ہو اور اس کی بنیاد عوام کی مرضی پر رکھی گئی ہو۔

یورپ کی تاریخ میں ’نشاتِ ثانیہ‘ (renaissance)کے بعد کے دور میں بادشاہوں کے حق حکمرانی کے ’مقدس دعووں، کو چیلنج کیا گیا۔ یورپ کی بادشاہتوں کے خلاف عوامی بغاوت برپا ہوئی۔ عوام، خواص کی حکمرانی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کلیسا کی اتھارٹی کو بھی   چیلنج کیا اور پادریوں کی حکمرانی (divine right to rule)کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ چنانچہ اسی تناظر میں عوام کی حکمرانی کا اصول وضع کیا گیا ہے، جس کے تحت مذہب اور بادشاہوں کی تقدس مآبی سے سیاست کا رشتہ منقطع کر دیا گیا، عوام کو سیاسی قوت کا اصل منبع اور اپنی قسمت کا حقیقی معمار تسلیم کیا گیا۔ تمام اقدار کی تشکیل اور اختیارات کے استعمال کا تاج ان کے سر پر سجا دیا گیا اور ہرنوع کی سیاسی جدوجہد کا اصل مقصد عوام کا اقتدار اور ان کی فلاح وبہبود قرار پایا۔

سیکولر جمہوریت کی فلسفیانہ جڑیں عوام کے اقتدارِ اعلیٰ کے نظریے میں پوشیدہ ہیں۔ جمہوریت ایک طرف تو دائمی مذہبی رہنمائی سے انکار، یا کم از کم ایسی رہنمائی سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے اور سیاسی حکمرانی میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کو بھی تسلیم نہیں کرتی، جب کہ دوسری طرف اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ عوام اور عوام کی مرضی اور راے ہی کو ہر نوع کے اختیارات اور اقتدار کا حقیقی منبع تسلیم کیا جائے۔ مختصر یہ کہ جمہوریت کے تحت قانونی اور سیاسی اقتدار اعلیٰ، عوام کے پاس ہے، جس کے تحت جمہوری سیاست کی متعدد شکلیں سامنے آچکی ہیں۔ جن میں: براہِ راست، بذریعہ نمایندگی، پارلیمانی، متناسب نمایندگی،ری پبلکن، وفاقی اور پرولتاری جمہوریت وغیرہ شامل ہیں۔

رچرڈ جے کا دعویٰ ہے : ’’۱۹ویں صدی کے دوران جمہوری مطالبات کوآگے بڑھانے والا مرکزی اصول عوام کا اقتدار اعلیٰ ہی رہا‘‘۔۵ بہرحال ’حاکمیتِ عوام، کا نظریہ، عملی اور نظریاتی طور پر جتنا بھی مبہم اور غیر واضح ہو لیکن مغرب کی لادینی جمہوریت کی اساس یہی نظریہ ہے۔ اسلام کا تصورِ سیاست بنیادی طور پر اس سے مختلف ہے۔ حاکمیت زمین و آسمان کے مالک اور خالق کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ الہامی ہدایت اور قانونِ الٰہی کو بالادستی حاصل ہے، البتہ اس قانون کے عملی نفاذ کے لیے ذمہ دار انسان پر ہے جو ’عمومی خلافت‘ کے تصور سے عبارت ہے۔ فلسفیانہ اور فکری بنیادوں کے اعتبار سے مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت میں یہی جوہری فرق ہے۔

جمہوریت کے دوسرے رُخ کا تعلق عوامی حکومت کی مختلف اشکال اور سیاسی فیصلوں میں عوام کی شرکت، مثلاً ریاست کے معاملات کو چلانے کے لیے عوام کی مرضی معلوم کرنے کا سیاسی طریق کار طے کرنے اور اسے ترقی دینے سے ہے۔ جمہوریت کے عملی نمونوں کی بنیاد انسانی مساوات اور آزادی کے اصولوں، آئین و دستور کی پابندی، قانون کی حکمرانی، حکومت کے مختلف شعبوں، یعنی انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان تقسیم اختیارات، بنیادی انسانی حقوق جن میں اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی، اظہارِ راے کی آزادی، انجمن سازی کی آزادی، پریس اور ابلاغ کی آزادی پر ہے۔ جمہوریت کی حقیقی روح کا اظہار اس حکومت کے وِژن میں ہوتا ہے جسے لوگ منتخب کرتے ہیں، جو عوام کی خواہشات اور ترجیحات کے مطابق ان کی خدمت کرتی ہے اور ان کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے۔

مغربی جمہوریت کا نظام مذہب اورسیاست کے درمیان مکمل علیحدگی کے تصور پر مبنی ہے۔ چنانچہ اس کا تعلق لوگوں کی دنیاوی فلاح و بہبود تک محدود ہے۔ اس جمہوریت کے تحت قانون اور انسانی حقوق کے پورے نظام میں یہی جذبہ کارفرما ہے۔ اس امر سے انکار نہیں کہ مغربی ممالک نے حکومت میں عوام کی شرکت کا نظام وضع کرنے میں نہایت قیمتی تجربات کیے ہیں۔ کئی جماعتوں پر مشتمل نظام، ایک مخصوص مدت کے لیے سیاسی قیادت کا انتخاب، مختلف النوع انتخابی طریقے، انتظامیہ سے عدلیہ کی مکمل علیحدگی، قانون سازی کے لیے اداروں کا نظام جو یک ایوانی یا دو ایوانی ہوسکتا ہے، اس سیاسی نظام کے بڑے نمایاں پہلو ہیں۔

مغرب کے جمہوری تجربات کی برکتیں بغیر ملاوٹ کے نہیں تھیں۔ بعض تاریخی کامیابیاں ضرور حاصل کی گئیں لیکن مضبوط اخلاقی بنیادیں نہ ہونے کی وجہ سے ناکامیاں اور خرابیاں بھی ان جمہوریتوں کے حصے میں آئی ہیں۔ چونکہ اس نظام میں مطلق اقدار کا کوئی مقام نہیں ہے، لہٰذاکسی بات کے صحیح یا غلط ہونے کا معیار عوام کی ترنگ پر چھوڑ دیا گیا ہے، جنھوں نے اخلاقی اقدار میں بھی اسی طرح تبدیلی شروع کر دی جس طرح وہ اپنا لباس یا فیشن تبدیل کرتے ہیں۔ چنانچہ اسی طرزِعمل کے نتیجے میں بڑی بڑی غیر اخلاقی سرگرمیوں اور اخلاقی برائیوں کو گناہ یا جرم قرارنہ دینے کا چلن شروع ہو گیا، جس کے نتیجے میں انسانی معاشرہ اخلاقی پستی میں گرتا چلا گیا۔ اکثریت کی حکومت کے نظریے سے پیدا ہونے والے ذہنی اور اخلاقی رویے، نسلی، لسانی اور طبقاتی کشیدگی،اقتصادی چشمک، استحصال اور سب سے بڑھ کر ان بنیادی خوبیوں کا زوال ہے، جنھوں نے انسانی معاشرے کو باہم منضبط کر رکھاتھا۔ یہ اخلاقی بحران اور خانگی انتشار مغربی سیکولر جمہوریت کا ثمرہے۔

مغربی جمہوریت نے خوبی و معیار کی جگہ محض تعداد اور افراد کے بدلتے ہوئے رجحانات کو دے دی۔ خیر، سچ اور عدل کے مستقل معیار کے بجاے ہاتھوں کی گنتی کو شعار بنا لیا۔ تنگ دلی پر مبنی جماعتی نظام کی سیاست، جمہوری نظام کے انحطاط کا باعث بنی۔ بعض ممالک میں یک جماعتی نظام متعارف کرا دیا گیا جس کے نتیجے میں جمہوریت کے نام پرایک پارٹی کی آمریت وجود میں آگئی۔ جمہوریت کے بعض بنیادی اصولوں میں اس قدر ملاوٹ کر دی گئی کہ جمہوریت کا تصور ہی دھندلا گیا۔ جمہوری عمل اپنے بنیادی نظریات کی پٹڑی سے اُتر گیا اور ایک مذاق بن کر رہ گیا۔

گیووانی سارتوری کا کہنا ہے:

کم از کم معیار کے مطابق بھی دیکھا جائے توتقریباً آدھی دنیا جمہوریت کے دائرہ عمل  (realm) میں ہے۔ اوسط معیار کی رُو سے دنیا میں جمہوری ممالک کی تعداد میں کمی ہوئی ہے اور اعلیٰ معیار کے مطابق تو ایک درجن یا اس کے لگ بھگ ممالک ہی اطمینان بخش جمہوری معیار کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اس بات کا تصور کرنے کے لیے کچھ زیادہ تردد کی ضرورت نہیں کہ کسی بھی ملک پر سے جمہوریت کا لیبل کس قدر آسانی کے ساتھ ’غیر جمہوری‘ میںتبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے صرف ایک معیار سے دوسرے معیار میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ مغربی ممالک تو جمہوری طرزِ حکومت میں اتنا وقت گزار چکے ہیں کہ اب وہ جمہوری التباس سے گلو خلاصی کے مرحلے سے   گزر رہے ہیں…ہم یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ جمہوریت کیا ہے، ایک جمہوری اور غیرجمہوری نظام کی حدفاصل آج بھی بالکل واضح ہے ۔لیکن جونہی ہم لفظ جمہوریت کا اطلاق تیسری دنیا، خاص طورپر نام نہاد ترقی پذیر اقوام پر کرتے ہیں،تو جمہوری معیار اتنا گرا ہوا محسوس ہوتا ہے کہ انسان حیرت سے سوچنے لگتا ہے کہ کیا لفظ ’جمہوریت‘ آج بھی اپنے اصل معانی کے ساتھ موجود ہے۔۶

معروف جریدہ  فارن افیئرز کے ایک حالیہ شمارے میں تھامس کیروتھرز نے اس بات پر اظہارِ افسوس کیا ہے کہ ’’دنیا بھر میں برپا ہونے والا جمہوری انقلاب، اب ٹھنڈا پڑرہا ہے‘‘۔ تھامس نے لکھا ہے:

چند سال قبل جو بات بعض جوشیلے افراد کو متحد کر دینے والی ایک عظیم تحریک محسوس ہوتی تھی، وہ آیندہ چند عشروں میں مغربی دنیا (جس میں لاطینی امریکا، شمالی یورپ اور سابق سوویت یونین کے بعض علاقے شامل ہیں) اور غیر مغربی دنیا کے درمیان سیاسی تقسیم کو بڑھا سکتی ہے۔یہ تہذیبوں کے درمیان تصادم کی کوئی پیش گوئی نہیں بلکہ سہل پسندانہ آفاقیت (یونی ورسل ازم) کے خلاف ایک انتباہ ہے۔۷

سی بی میک فرسن نے’اژدہام کی قابل نفرت حکومت‘ سے اس وقت ’عالمی محبوب‘ کا درجہ حاصل کرنے تک کے جمہوریت کے سفر کا حال اس طرح بیان کیا ہے:

جمہوریت ایک بُرا لفظ سمجھا جاتا تھا۔ ہر کوئی، وہ کوئی بھی ہو، یہ جانتا تھا کہ: جمہوریت اپنے حقیقی معنوں میں، عوام کی اکثریت کی مرضی کے مطابق حکومت، ایک بُری بات ہوگی جو فرد کی انفرادی آزادی اور مہذب زندگانی کی تمام خوبیوں کے لیے زہرقاتل ہے۔ جمہوریت کے بارے میں یہ راے، ابتدائی تاریخی دَور سے کوئی ایک سو سال تک، ہر دانش مند فرد کی راے رہی ۔لیکن اس کے بعد صرف نصف صدی کے عرصے میں جمہوریت بہت اچھی چیز بن گئی۔۸

اگرچہ اب، خصوصاً اشتراکی روس کے انہدام کے بعد، جمہوریت بہت اچھی چیز قرار پا چکی ہے لیکن زیرک مبصر، جمہوری قراردیے جانے والے نظام حکومت کی خامیوں، تضادات، اصولوں سے انحراف اور دوسری خرابیوں سے صرفِ نظر نہیں کر سکتے ،جو اب اس نظام کا خاصا بن چکی ہیں۔

تاریخ نگار ای ایچ کیر نے جمہوریت کے بارے میں ۵۰ کے عشرے میں جو کچھ کہا تھا، ۲۰ویں صدی کے آخری عشرے کے دوران بھی اس کی بازگشت سنائی دیتی رہی ۹ اور آج ۲۱ویں صدی میں قدم رکھتے وقت اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ ایک اور مبصر انتھونی اور بلاسٹر تو اس تکلیف دہ نتیجے پر پہنچا ہے کہ: ہر نوع کے بلند بانگ دعووں اور بعض کامیابیوں کے باوجودجمہوریت جدید سیاست کے ایجنڈے کی ایک نامکمل کارروائی ہے۔۱۰ ووٹ کا حق مل جانے کے باوجود خواتین اور مردوں کو اقتدار میں اپناصحیح حصہ نہیں مل سکا۔ ’بورژوا جمہوریت‘ بڑی حد تک ایک مصنوعی چہرہ ہے جس کے پیچھے رہ کر سرمایہ دار طبقہ معاشرے پر حکومت کر رہا ہے۱۱ اور اسی نے اپنی بالادستی قائم کر رکھی ہے۔ ۱۹۶۰ء کے عشرے میں خواتین کے حقوق کی تحریک کے احیا سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خواتین، مردوں کے مقابلے میں مساوی مقام اور اصناف کے درمیان مساوات کے حصول میں ناکام رہی ہیں بلکہ وہ ’جمہوری، معاشروں میں خواتین کے خلاف بدترین امتیازات کو ختم بھی نہیں کرسکیں۔۱۲یہی مصنف اس بات پر بھی افسوس کرتا ہے کہ ’’سیاسی اقتدار میں مساوات کا اصول جو ہرشہری کے ووٹ میں شامل ہے، سیاسی اقتدار کی تقسیم میں ناانصافی اور بدترین عدم مساوات کا شکار بن چکا ہے‘‘۔۱۳ چنانچہ اربلاسٹر بھی جمہوریت کے بارے میں اس نتیجے پر پہنچا ہے جو ای ایچ کیر نے اخذ کیا تھا۔ وہ کہتا ہے: ’’اس لیے ہمیں کم از کم یہ نتیجہ ضرور نکالنا چاہیے کہ عام شہری جس مقصد کے لیے سیاسی جمہوریت کے طالب تھے، یا ووٹ کا حق حاصل کرنا چاہتے تھے، وہ مقصد کسی بھی ذریعے سے پورا نہیں ہو رہا۔۱۴ اس نے بالکل صحیح طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’’یہ تصور کرنا نری حماقت ہوگی کہ مغربی جمہوریت کو ہی تمام متعلقہ بامقصد تجربات پر اجارہ داری حاصل رہے‘‘۔۱۵

میری راے میں مغربی سیکولر جمہوریت کااپنا مخصوص مزاج ہے۔ چنانچہ اس جمہوریت کی دنیا کے دوسرے خطوں کو بلاامتیاز ’برآمد‘ سے منصفانہ جمہوری اور مستحکم سیاسی نظام معرض وجود میں نہیں آسکتا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں جو مختلف جمہوری تجربات کیے گئے ہیں، بلاشبہہ ان سے متعدد سبق سیکھے جا سکتے ہیں، لیکن مغرب کے سوا دنیا کے دیگر خطوں کے عوام، خصوصاً مسلم اُمّہ کو جمہوریت کے کسی بھی مغربی ماڈل کی اندھا دھند تقلید نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے بجاے انھیں خود اپنے نظریاتی اور تاریخی مآخذ کو کھنگالنا چاہیے اور ایسے ادارے قائم کرنے چاہییں جو ان کی دینی اقدار اور نظریات کے حامل ہوں۔ بنی نوع انسان نے جو تجربات حاصل کیے ہیں، ان سے سبق سیکھنے میں کوئی حرج نہیں اور مغربی دنیا سے بھی ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، لیکن صرف وہ نظام ، جس کی جڑیں ہماری تاریخ میں ہوں، جو ہمارے تجربات کا ماحصل ہوں، ہماری اقدار کے ڈھانچے کے اندر اور ہمارے قومی ثقافتی مزاج سے ہم آہنگ ہوں، ہمارے ممالک میں حقیقی معنوں میں کامیاب اور ثمرآور ہو سکتے ہیں۔

اسلام کا سیاسی نظام

اسلام مغربی فلسفہ اور مذہبی لٹریچر میں استعمال ہونے والی مخصوص اصطلاح : مذہب کے محدود معانی کے مطابق مذہب نہیں ہے۔ ’اسلام، کے لفظی معانی ہی تسلیم و رضا ہیں۔ اسلامی عقیدے کے تحت بندہ خود کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیتا ہے اور اس عہد کے نتیجے میں اللہ کی مرضی کے تابع ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور ہدایت پر عمل کرنے کا پختہ ارادہ کرتا ہے۔ چنانچہ اوّلین اور بہترین بات یہ ہے:

اسلام، انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک رشتے کا مظہر ہے۔

یہ ایک عہد ہے کہ بندہ اس ہدایت پر عمل کرنے کا پابند ہے جو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نازل کی ہے اور جس کا بہترین نمونہ اللہ کے آخری رسول حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حیات طیبہ کی صورت میں موجود ہے۔

مسلمان اللہ تعالیٰ کو ماننے والوں کی جماعت، یعنی اُمہ کا رکن ہے۔ وہ جماعت جو بنی نوع انسان کو سچائی کے راستے کی طرف بلانے کے لیے قائم ہوئی ہے، حق کا کلمہ بلند کرتی ہے اور غلط باتوں سے روکتی ہے۔

اسلام ایک مکمل ضابطۂ اخلاق ہے، یہ ایک جامع اور ہمہ گیر طرزِحیات ہے۔ یہ ایک ’دین، ہے جو انسانی وجود کے تمام انفرادی اور عوامی، اخلاقی اور دنیاوی، مادی اور روحانی، قانونی اور سماجی، معاشی اور تعلیمی، قومی اور بین الاقوامی پہلوئوں پر محیط ہے۔ دین ہی اس وفاداری اور تشخص کی بنیاد ہے اور شریعت وہ مقررہ راستہ ہے جو عبادت ، سماجی اور اقتصادی پالیسیوں تک زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلامی نظام سیاست کوئی آزاد رو نظم نہیں ہے، بلکہ یہ اسلامی طرز حیات کا ایک حصہ ہے اور اسے دین کے دوسرے پہلوئوں سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

دین اسلام کے تحت زندگی ایک مکمل اکائی ہے، جب کہ ایمان ایک بیج اور نقطۂ آغاز ہے۔ اس بیج سے جو درخت پیدا ہوتا ہے اس کا سایہ انسانی وجود کے تمام پہلوئوں پر محیط ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحی جو قرآن و سنت کی شکل میں موجود ہے ، ازلی و ابدی، قطعی اور آفاقی ہے۔ یہ ایک ایسا نظم اور ڈھانچا فراہم کرتی ہے جس کے اندر زبردست قوت موجود ہے۔ یہ نظم اتنا وسیع و ہمہ گیر ہے کہ ہر زمانے کے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ دین اسلام، انسانی نقطۂ نظر کو انتہائی وسعت بخشتا  اور ایک تصور عطا کرتا ہے۔ ہمہ جہتی اقدار فراہم کرتا اور مختلف مقامات پر اور مختلف اوقات میں تفصیلات طے کرنے کے مواقع تفویض کرتا ہے۔ اسلام کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول اور آنے والی ابدی زندگی میں کامیابی کی تمنا ہے۔

دین اور معاشرہ (سوسائٹی) اور دین اور ریاست اسی طرح باہم جزولاینفک ہیں، جس طرح دین میں تقویٰ اور عبادت۔ توحید، دین کا عظیم ترین اصول ہے جس پر اسلامی زندگی کا دارومدار ہے۔ اس طرح زندگی کے ہر شعبے میں خواہ اس کا تعلق خاندان سے ہو، معاشرے سے ہو، معیشت سے ہو، سیاست سے ہو، یا بین الاقوامی تعلقات سے ہو، دین کی اصولی رہنمائی ہر شعبۂ زندگی کی رہنما اور صورت گر ہے۔ دین کی اصطلاح کا یہی جامع مفہوم ہے، جو مذہب کے محدود تصور سے یکسر مختلف ہے۔

اس بنیادی اصول کی روشنی میں اسلام کے سیاسی نظم کے کلیدی عناصر یہ ہیں:

۱- اقتدار اعلیٰ کا مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ خالق، مالک، پالنے والا (رب)، قانون دینے والا اور رہنما ہے۔ انسان اس کی مخلوق، اس کا عبد اور خلیفہ ہے۔ زمین پر انسان کا مشن اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنا ہے، شریعت پرمبنی نظام قائم کرنا ہے جو انسان کی رہنمائی کے لیے بذریعہ وحی نازل کی گئی ہے، تاکہ انسان، اس کائنات میں اور اپنے خالق و مالک کی رہنمائی میں حسن و خوبی کے مطابق زندگی بسر کرے۔ ایساکرنے سے اس کو دنیا میں امن، انصاف، روحانی مسرت اور ترقی حاصل ہو گی اور آنے والی دنیا (آخرت) میں صحیح معنوں میں نجات ملے گی۔

۲- اللہ کے ہاںتمام انسان برابر ہیں اور اسی قانون کے تابع ہیں جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اسلامی نظام سیاست کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ اور شریعت کی بالادستی پر ہے۔ اس نظام کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی بندگی، اس سے وفاداری اور اس عزم و عہد سے عبارت ہے کہ شریعت کی پیروی کی جائے گی اور اس کو نافذ کیا جائے گا۔ قرآن حکیم کا اس بارے میں فرمان نہایت واضح اورغیر مبہم ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

خبردار رہو! اُسی کی خلق ہے اور اُسی کا امر ہے (الاعراف ۷: ۵۴)

فرماںروائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے ۔ اُس کا حکم ہے کہ خود اُس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے۔ (یوسف ۱۲:  ۴۰)

اے نبیؐ، ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمھاری طرف نازل کی ہے تاکہ جو راہِ راست اللہ نے تمھیں دکھائی ہے، اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو۔(النسائ۴: ۱۰۵)

جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں… اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں اور وہی فاسق ہیں۔(المائدہ  ۵:۴۴-۴۵)

۳- انسان کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ کا ہے۔ یہ منصب ان سب لوگوں کو بخشا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ہی اپنا رب اور حاکم اعلیٰ تسلیم کرتے ہیں۔ ’خلافت‘ کا تصور عام نیابت کا تصور ہے اور اس میں سبھی مسلمان شامل ہیں، یعنی ہر مسلمان خدا کا نائب ہے۔ نیابت کا یہ بھی مطلب اور مقصد ہے کہ عوام کو محدود اتھارٹی تفویض کی گئی ہے تاکہ کاروبارِ حیات کو چلا سکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ نیابت کسی مخصوص فرد کو تفویض نہیں کی جاتی اور نہ کسی خاندان، قبیلے یا گروہ کو اس کا سزاوار قرار دیا جاتا ہے، بلکہ یہ نیابت ہر مسلمان مرد و زن کو تفویض کی گئی ہے۔ چنانچہ انھی لوگوں (مسلمانوں )کویہ اختیار شوریٰ کے اسلامی اصول کے مطابق استعمال کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی آخری الہامی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے:

اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے۔(النور۲۴:۵۵)

قرآن حکیم کے اسی حکم اور دوسرے احکامات کے مدّنظر ریاست کا جو نظریہ اُبھر کر سامنے آتا ہے، اس کے مطابق قرآن حکیم نے دو بنیادی اصول پیش کیے ہیں۔ پہلا اصول اللہ تعالیٰ کا اقتدار مطلق اور دوسرا مسلمانوں کی عوامی ’نیابت‘ (خلافت) ہے۔ چنانچہ اسلامی سیاسی نظام کی بنیاد اولاً: اللہ تعالیٰ کو قادر مطلق تسلیم کرنے اور اس کے قانون، شریعت کو بالاترین قانون تسلیم کرنے، اور ثانیاً: معاشرے پر حکومت عوام کی مرضی کے مطابق کرنے پر استوار ہے۔ جو لوگ برسرِاقتدار ہوں انھیں اُمّہ کی اور مسلمانوں کی حمایت اور تائید حاصل ہونی چاہیے کہ جو خلافت کے اصل امین ہیں۔ درج بالا قرآنی آیت سے ظاہر ہے کہ زمین پر حکومت کا وعدہ مسلمانوں کی پوری جماعت (اُمّہ) سے کیا گیا ہے،کسی خاص فرد، طبقے ، خاندان یا گروہ سے نہیں۔مسلمانوں کو جو خلافت بخشی گئی ہے، وہ عمومی نیابت کی طرح ہی ہے اور اسی کے تحت ہر مسلمان کو اور سب کو یہ فرض سونپا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُمّہ کے لیے فیصلے کرنے کے طریق کو ’شوریٰ‘ قرار دیا گیا ہے، یعنی مسلمانوں کے معاملات باہمی مشاورت سے چلائے جائیں گے۔ (امرھم شوریٰ بینھم) معاشرے کے ارکان کے طور پر تمام مسلمان برابر ہیں۔ ان کے معزز ہونے اور قیادت پر سرفراز ہونے کی کسوٹی ان کی اعتماد، تقویٰ اور اہلیت کی خوبیاں، یعنی اللہ پر مکمل ایمان، فرض شناسی اور احتساب کا شعور ہیں۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے:

درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ (الحجرات ۴۹: ۱۳)

اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: تم میں سے ہر ایک گلہ بان کی طرح ہے اور ہر شخص سے اس کی زیرنگرانی لوگوں کے بارے میں احتساب ہوگا۔

ذات پات ، رنگ و نسل اور قبائلی امتیازات ختم کر دیے گئے ہیں اور انسانوں کے درمیان حقیقی مساوات قائم کر دی گئی ہے (ہم نے اولاد آدم کو عزت بخشی ہے)۔

قرآنحکیم کے مطابق فضیلت کا انحصار تو پاک بازی اور نیکی پر ہے، جس میں علم، جسم (عمدہ صحت بدنی قوت) اور تقویٰ (خوفِ خدا اور پاک بازی)شامل ہیں۔

۴- اسلامی سیاسی نظام میں حقوق اور فرائض کے حوالے سے اطاعت کے دو نمایاں پہلو ہیں۔ اول: اللہ اور اس کے رسولؐ کی فرماں برداری اور دوم: عوام کا آزادیِ تقریر، بحث و مباحثہ، اختلافِ راے اور شرکت کا حق جس میں کسی امر میں اختلاف راے اور صاحبانِ اقتدار پر نقد و جرح کا حق شامل ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب ِ امر ہوں، پھر اگر تمھارے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسولؐ کی طرف پھیر دو ، اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ (النساء ۴: ۵۹)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: بہترین جہا د جابر حکمران کے سامنے  کلمۂ حق کہنا ہے۔ نبی کریمؐ نے مزید فرمایا: اگر تم میں سے کوئی کسی برائی کو دیکھتا ہے تو ہاتھ سے اسے درست کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہ کر سکتا ہو تو اسے زبان سے بُرا کہے اور اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے تو  وہ دل میں اس کی مذمت کرے۔ مگر آخری عمل ایمان کی کمزور ترین صورت ہے۔ (مسلم)

ان رہنما خطوط سے اسلامی نظام سیاست کی جو تصویر ابھرتی ہے وہ بالکل واضح ہے۔ مسلمانوں کے معاشرے کی بنیاد اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان سے عبارت ہے۔ اس کا سب سے بڑا ستون اللہ اور اس کے رسول پاکؐ سے وفاداری ہے۔ مسلم معاشرے میں فیصلے ان اقدار، اصولوں اور احکامِ الٰہی کے تحت ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رہنمائی اورشریعت کی صورت میں موجود ہیں۔ اس نظام میں کسی مراعات یافتہ طبقے یا پاپائیت کے لیے کوئی گنجایش نہیں۔ دنیاوی طاقت و اقتدار میں معاشرے کے تمام افراد شریک ہوتے ہیں، جو قانون کی نظر میں بالکل برابر ہوتے ہیں۔ ان سب کے حقوق اور ذمہ داریاں بھی مساوی ہیں۔ ہر فرد کے ذاتی، شہری، سیاسی، سماجی، ثقافتی  اور اقتصادی حقوق کی الوہی قوانین کے تحت ضمانت دی جاتی ہے۔ حکمرانوں کو کوئی یک طرفہ استحقاق و اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ قانون کے سامنے سب یکساں ذمہ دار اور جواب دہ ہیں۔ درحقیقت حکمرانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ان تمام حقوق کی فراہمی کی ضمانت دیں، خصوصاً معاشرے کے کمزور افراد کے حقوق کا خاص خیال رکھیں۔ شریعت میں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے اور کسی کو ان حقوق سے صرفِ نظر کرنے یا انھیں نظرانداز کرنے کاہرگز کوئی اختیار نہیں ہے۔ آزادی اور مساوات اسلامی معاشرے کی روح رواں ہیں۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر اس کا زندگی بھر کا مشن ہیں۔ شوریٰ (مشاورت اور فیصلوں میں شرکت) اس معاشرے کا طرزِ عمل ہے، فیصلے کرنے کا عمل ہر سطح پر اور ہر معاملے میں جاری و ساری رہتا ہے، خواہ یہ فیصلے سماجی ہوں یا اقتصادی، سیاسی ہوں یاکسی بھی دوسرے امور کے بارے میں ہوں۔ حکمرانوں کو عوام کا اعتماد حاصل ہونا ضروری ہے اور وہ عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ سیاسی اقتدار و اختیار کی بنیاد شریعت کی بالادستی، عوام کی مرضی اور عوامی اعتماد پر ہے۔ حاکم صرف خدا کے سامنے ہی جواب دہ نہیں، بلکہ وہ قانون اور عوام کے سامنے بھی جواب دہ اور قابل احتساب ہے۔ کسی بھی نوع کے سیاسی انتظامات ممکن ہیں لیکن یہ شریعت کی قائم کردہ اقدار اور اصولوں کے اندر ہی ہوں گے۔ چونکہ اسلام کی رہنمائی مکمل، قطعی، آفاقی، عالم گیر اور الوہی ہے، چنانچہ اُمّہ کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے معاشروں کی معاشرتی و تاریخی ضروریات کے مطابق مختلف ادارے اور نظام (مشینری) قائم کریں اور انھیں ترقی دیں۔ اسلام نے سیاسی نظام کا جو ڈھانچا فراہم کیا ہے، اس کے اندر رہتے ہوئے مختلف النوع انتظامات بالکل ممکن ہیں۔ بعض ایسے انتظامات کا ماضی میں تجربہ کیا جا چکا ہے۔ آج یا کل، نئے انتظامات اور نئے تجربات روبہ عمل لانا ممکن ہے کہ یہی اسلام کی خوبی اور آزادیِ عمل کی امتیازی شان ہے۔ مسلمانوں کے تاریخی تجربات کے یہی وہ روشن پہلو ہیں، جو ۱۴ صدیوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔

مسلمانوں کے تجربات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اپنی ذاتی زندگی میں بندے اور خداکے درمیان مضبوط روحانی رشتے کا قابلِ تقلید نمونہ پیش کیا ،بلکہ انھوں نے ایک ایسامعاشرہ، اور ایک ایسی ریاست بھی قائم کی، جو مسلمانوں کے سیاسی و تاریخی تجربات کے لیے ایک مثال اور نمونہ بنی رہی۔ بیعت عقبہ ثانی اور میثاق مدینہ نے وہ مضبوط بنیادیں فراہم کیں جن پر مدینہ کا معاشرہ اور ریاست کی تعمیر ہوئی۔ اُمّہ کی نظر میں، اسلامی سیاسی ماڈل حضور نبی کریمؐ اور ان کے بعدچاروں خلفاے راشدین  کے ادوار میں بھی پیش کیا گیا۔ اس سیاسی نمونے کے بعض نمایاں پہلو یہ ہیں:

۱- قانون کی حکمرانی اور قانون کے سامنے مساوات ، جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔

۲- قرآن و سنت کی بالادستی اور جو معاملات ان دونوں مآخذ کی ذیل میں نہ آتے ہوں، ان کے بارے میںاجتہاد کرنا (نئے قانونی نکات اور مسائل کے حل کے لیے شریعت کے عمومی اصولوں کی روشنی میں فیصلہ کرنے کا نام اجتہادہے)۔

مسلم قوانین کا مجموعہ’فقہ‘ ایک عوامی، جمہوری اور شعوری عمل کے تحت تشکیل پایا ہوا ہے، جس کے دوران علما اور متعلقہ اصحاب نے علمی بحث و مباحثہ، عملی مسائل و مشکلات کے ادراک اور تجزیہ اور باہم افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا۔ انفرادی فتووں اور قاضیوں کے فیصلوں کے ساتھ اجتماعی بحث ونظر کے ذریعے فقہ کا یہ سنہری اثاثہ وجود میں آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی تہذیب و تمدن کی تاریخ میں اسلامی قانون، مسلمانوں کا شاید سب سے بڑا تحفہ ہے۔   اُمت مسلمہ نے اس طرح جو قانون سازی کی، اسے رضاکارانہ طور پر تسلیم کرنے اور اس کا احترام کرنے ہی سے قانون کے مختلف مکاتبِ فکر وجود میں آئے۔ یہ تاریخ کا ایک عظیم اور منفرد پہلو ہے کہ مسلم معاشرے میں رواج اور نفاذ پانے والا قانون کبھی بھی حکمران کی مرضی سے نہیں بنایا گیا، جیسا کہ دوسرے معاصر غیر مسلم معاشروں اور ثقافتوں کا دستور رہا ہے۔ اسلام کا پورا نظام قانون، سیاسی قوت و اقتدار کی غلام گردشوں سے باہر ہی ارتقا پذیر ہوا۔ اہلِ علم و تقویٰ کے بنائے ہوئے اس قانون کے نفاذ کے بعد حکمران بھی ایک عام آدمی کی طرح اس قانون کے پابند بن گئے۔ حکمرانوں کے جابرانہ اختیارات پر اسلامی قانون ایک زبردست تحدید ثابت ہوا، اور اسی کی بنا پر مسلمان معاشروں میں ایسی سیاست روبہ عمل آئی، جس میں سب لوگ واقعی شریک تھے۔

جان ایل ایسپوزیٹو اور جان وول نے اپنی (مشترکہ) تصنیف اسلام اور جمہوریت میں لکھا ہے: ’’مشرق میں مطلق العنانی کا جو تصور عرصہ دراز سے موجود ہے، اس میں طاقت اور اقتدار کی تقسیم یا حکمران کے اختیارات پر قدغن کا کوئی تصور نہیں۔ لیکن قدیم مسلم معاشروں میں اس نوع کے غیر محدود اختیارات کا کوئی وجود نہیں ملتا۔ یہ صورت احوال سیاسی ڈھانچے کے بارے میں اسلامی قانون اور حقیقی تاریخی تجربات دونوں میں پوری طرح موجود ہے۔ اسلامی معاشرے میں کسی خلیفہ یا حکمران کے احکام یا قواعد سے نہیں، بلکہ مسلم علما کے درمیان اتفاقِ راے سے قوانین مرتب کیے جاتے تھے۔ کوئی حکمران، قانون سے بالاتر تصور نہیں کیا جاتا تھا اور تمام حکمرانوں کا احتساب بھی قانون کے مطابق کیا جاتا تھا‘‘۔ ۱۶

۳- ہرسطح پر سیاسی قیادت کے اسلامی قانون کے ارتقا اور نفاذ کے اس منفرد پہلو کا ذکر اور مختلف فیصلوں کے لیے شورائی نظام سے استفادہ کیا جاتا تھا۔ پہلے چاروں خلفاے راشدین کا انتخاب (مسلمانوں کی) جمعیت ہی نے کیا تھا، اگرچہ انتخاب کا طریق کار اور پھر اس کی توثیق کا طریقہ مختلف تھا۔ اس انتخاب میں مشترکہ اصول عوام کی منظوری اور ان کا اظہارِ اعتماد ہی تھا اور   خلفا عوام کے سامنے جواب دہ تھے۔ جب عوام کے مشورے اور معاونت سے انتخاب کا طریقہ ترک کردیا گیا اور خاندانی حکومت کا طریقہ در آیا تو بھی بیعت (عوام کی طرف سے حکمران کی قبولیت)کا تصور موجود رہا۔ نصیحت، شوریٰ ، اختلافِ راے، امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور احتساب کے ادارے ہر دور میں، مختلف النوع طریقوں سے اہم کردار ادا کرتے رہے۔

۴- انسانی حقوق اور عوام سے کیے گئے وعدوں، خصوصاً اقلیتوں، ہمسایہ ممالک اور دوست جماعتوں، قبائل وغیرہ کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر پوری طرح عمل کیا گیا۔ یہ عمل مسلم سیاست کا مستقل عنوان رہا۔

۵- مسلمانوں کے حکومتی تجربے میں انتظامیہ سے عدلیہ کی علیحدگی، اور ہر سطح پر عدلیہ کی مکمل آزادی ایک نمایاں پہلو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانون کی حکمرانی اور ایوانِ عدل تک ہر شخص کی آسانی کے ساتھ رسائی مسلم معاشروں کا جزو لاینفک رہی ہے۔ اسی وجہ سے ، بڑی حد تک، مسلم مملکتوں میں من مانی حکمرانی کے مظالم سے لوگ محفوظ رہے۔ اقتدار اور اختیارات کی علیحدگی کا اصول جو خلفاے راشدینؓ کے ادوار میں شروع ہوگیا تھا۔ بعد کے ادوار میں بھی قائم رہا اور اس نظام میں بعض خرابیاں دَر آنے کے باوجود قائم رہا۔ آئین، یعنی اسلامی شریعت کی بالادستی مسلمانوں کی حکمرانی کا ناگزیر حصہ رہی۔

پروفیسر ایسپوزیٹو اور پروفیسر وول نے اس کے ایک اہم پہلو کا سلطنت عثمانیہ کے  حوالے سے ذکر کیا ہے۔ شاہی نظام سے منسلک علما کا یہ حق تسلیم شدہ تھا کہ وہ سلطان کے کسی بھی ایسے حکم کو کالعدم قرار دے سکتے تھے جسے وہ اسلامی قانون کے مطابق درست تصور نہیں کرتے تھے۔ اگرچہ اس اختیار کا استعمال، سیاسی وجوہ کی بنا پر ، عام نہیں تھا۔ سلطنت میں علما کے نظام کا سربراہ،  شیخ الاسلام، اسلا م کے بنیادی قوانین کی خلاف ورزی کے جرم میںسلطان کی معزولی کا حکم جاری کرسکتا تھا۔ اگرچہ یہ اختیار کم کم ہی استعمال کیا گیا، تاہم سلطان ابراہیم (۱۶۴۸ئ) سلطان محمود چہارم (۱۶۸۷ئ) سلطان احمد ثالث (۱۷۳۰ئ) اور سلطان سلیم ثالث (۱۸۰۷ئ) کو ان کے ادوار کے شیخ الاسلام نے معزول کیا تھا۔ ان رسمی کارروائیوں سے حکمران کے اختیارات کی تحدید اور یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ علما ہی اسلامی آئین کے نمایندہ تھے ۔ اس سے اسلامی ورثے میں اختیارات کی مکمل اور موثر علیحدگی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔۱۷

۶- مسلم تجربے کا ایک اہم پہلو سماجی تحفظ سے تعلق رکھتا ہے ۔جس کی بنیاد زکوٰۃ ، صدقات، وقف، انفاق، وصیت، وراثت کے تحت ترکہ چھوڑنا اور ہبہ ہے۔ اس سے مسلم معاشرے میں انسانی مساوات پر مبنی سماجی و اقتصادی نظام روبہ عمل آیا ۔جس کے باعث معاشرے کے تمام افراد کے لیے باعزت زندگی گزارنے کی سبیل پیدا ہو گئی۔ معاشرے کا اقتصادی نظام ایسا تھا کہ مستضعفین اپنے پائوں پر کھڑے ہو گئے اور سیاسی و اقتصادی عمل میں حصہ لینے لگے۔

۷- مسلم تجربے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں انفرادی اور اجتماعی طور پر اختلاف اور مخالفت کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس عمل کو کوئی اجنبی چیز تصور نہیں کیا گیا۔ ہاں، اختلاف اور فتنے میں فرق ضرور روا رکھا گیا۔ یہ بات بے حد اہم ہے کہ اسلامی قانون کے بعض اہم مکاتب فکر میں، بعض مخصوص صورتوں یا مواقع پر، پہلے سے معروف شرائط کے تحت، اختلاف بلکہ مسلح بغاوت (خروج) تک کو بھی جواز بخشا گیا ہے۔ پروفیسر ایسپوزیٹو اور پروفیسر وول تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن و سنت کی حتمی اور مطلق اتھارٹی کے باعث پوری اسلامی تاریخ میں موجود حالات پر نقد و جرح کی بنیاد فراہم ہوئی۔ اسلامی بنیاد پر مخالفت کی تحریکوں، اصلاحات اور تجدید کے عمل کو اسی بنیاد پر جواز اور وجوب ملا۔ دورِحاضر میں یہی خوبیاں آئین و دستوریت کی بنیاد بن سکتی ہیں جوریاست کی تعریف اور حزب اختلاف کو تسلیم کیے جانے کا جواز پیش کرتی ہیں۔۱۸

یہ سات اصول اسلامی حکمرانی کی بے مثال روایات کا مظہر ہیں اور اس بات کی طرف بلیغ اشارہ کرتے ہیں کہ اسلام کے تحت جمہوری حکمرانی کا ایک جداگانہ اور عمدہ نمونہ وجود میں لایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ یہ رہنما اصول عصرِحاضر کی دنیا میں اسلامی جمہوری ماڈل وجود میں لانے کے لیے تحرک اور رہنمائی کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔(جاری)


حواشی

۱-  فرانسس یوکوہاما ، The End of History and the Last Man ،(نیویارک، ۱۹۹۳ئ)

۲- سیموئل پی ہن ٹنگٹن The Clash of Civilizations? ،جریدہ فارن افیرز، ج ۷۲، شمارہ ۳ (موسم گرما ، ۱۹۹۳ئ،ص ۲۲-۴۹)۔ اسی طرح ’تہذیبوں کے تصادم‘ پر مباحثے کے لیے دیکھیے: جریدہ فارن افیرز، ج ۷۲، شمارہ ۴ اور ۵۔ ہن ٹنگٹن  کی کتاب The Clash of Civilization and the Remaking of World Order   (نیویارک، ۱۹۹۶ئ)

۳- ڈبلیو بی گیلی Philosophy and the Historical Understanding (لندن، ۱۹۶۴ئ)، ص ۱۵۸۔

۴- انسائی کلوپیڈیا آف اسلام

۵- رچرڈ جے کامقالہ ’ڈیموکریسی‘ Political Ideologies: An Introduction مرتبہ: رابرٹ اکلیشل، (لندن ، ۱۹۹۴ئ)، ص ۱۲۴۔

۶- انسائی کلوپیڈیا آف سوشل سائنسز، ج ۳، (میک ملن) ، ص ۱۱۳-۱۱۸

۷- تھامس کیروتھرز ،  Democracy without illusion مجلہ، فارن افیرز، (جنوری ۱۹۹۷ئ)، ص ۹۰۔

۸- سی بی میک فرسن ،  The Real World of Democracy (اوکسفرڈ ، ۱۹۹۶ئ)

۹- ’’آج اگر جمہوریت کے تحفظ کی بات کی جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم ایک ایسی بات کا دفاع کر رہے ہیں جسے ہم جانتے ہیں اور جو اگرچہ عشروں اور صدیوں پر محیط ایک حقیقت ہے مگر ایک خود فریبی اور دھوکا ہے۔ اصول یا ضابطے کا تعین کیا جاناچاہیے۔محض روایتی اداروں کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ اس بات کے پیش نظر کہ قوت کا منبع کہاں ہے اور کس طرح سے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں جمہوریت ایک متنازع مسئلہ (matter of degree ) ہے۔اگر جمہوریت کے کسی اعلیٰ پیمانے پر پرکھا جائے تو آج کچھ ممالک دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ جمہوری ہیں لیکن کوئی بھی مثالی جمہوری نہیں ہے‘‘۔ (ای ایچ کار،The New Society  لندن، میک ملن، ۱۹۵۱ئ،ص ۷۶)۔

۱۰- انتھونی اربلاسٹر Democracy (اوپن یونی ورسٹی، ۱۹۹۴ئ) ، ص ۹۶۔

۱۱- ایضاً، ص  ۹۶۔

۱۲- ایضاً، ص ۹۷۔

۱۳- ایضاً، ص ۹۸۔

۱۴- ایضاً، ص ۹۸۔

۱۵- ایضاً، ص ۱۰۰

۱۶- جان ایسپوزیٹو، جان وول، Islam and Democracy (نیویارک،  ۱۹۹۶ئ) اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ص ۴۱۔

۱۷- ایضاً ، ص ۴۸-۴۹۔

۱۸- ایضاً،  ص  ۴۱۔

مغربی جمھوریت اور اسلامی شوریٰ : ایک موازنہ

مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں بہتر ہوگا کہ دونوںنظاموں کے درمیان بعض بنیادی اختلاف اور فاصلوں کا تعین کر لیا جائے اور ایسے شعبوں اور مشترکہ امور کی بھی نشان دہی کر لی جائے جن میں ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

اسلام کی حکمت عملی بے مثال ہے۔ اسلام انسان کو، اس کے روحانی اور اخلاقی وجود اورشخصیت کو مرکز بناتا ہے۔ یہ ہر فرد کی ، مرد ہو یا عورت، روحانی بالیدگی، اخلاقی ترقی اور سعادت کی زندگی ہی اسلامی نظام کا اصل مقصد رہے۔ تبدیلی کا عمل فرد کے اپنے کو تبدیل کرنے سے داخلی سطح پر شروع ہوتا ہے۔ اس کا آغاز ایک فرد میں اخلاقی حس بیدار ہونے سے ہوتا ہے جو ایک باکردار اور منصفانہ معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کرتا یا کرتی ہے۔ مسلم اُمّہ ایک عالم گیر برادری ہے۔ اسی وسیع تر اُمّہ میں چھوٹے گروپ، بستیاں اور ریاستیں بھی ہو سکتی ہیں، اس کے باوجود وہ سب ایک ہی تسبیح کے دانے ہیں۔ اسلام ایک ایسے مہذب معاشرے کی تعمیر کرتا ہے، جو صحت مند اور فعال اداروں سے عبارت ہوتا ہے۔ ریاست انھی اداروں میں سے ایک ہے۔ یہ نہایت اہم اور کئی اعتبار سے دوسرے سب اداروں سے بلند تر ہے لیکن یہ واضح رہے کہ اسلام میں سب سے بالا ادارہ اُمت مسلمہ کا ہے اورباقی سب ادارے ہر ہر مسلمان (فرد) کی تقویت کے ساتھ اُمت مسلمہ کے استحکام کے ستون ہیں۔

اسلامی معاشرے کے سماجی، سیاسی اور اقتصادی اصولوں میں مکمل ہم آہنگی ہوتی ہے اور یہ سب مل کر ایک ایسے معاشرے کی تخلیق کرتے ہیں جو نظریاتی سطح پر توحید و ایمان، اتباعِ سنت، فکری یگانگت اور عدل اور احسان کے حسین امتزاج کا مظہر ہوتا ہے۔ یہ معاشرہ انسانی مساوات، اخوت، باہمی تعاون، سماجی ذمہ داری، انصاف اور سب کے لیے مساوی مواقع کی روایات کے خیر سے تعمیر کیا جاتا ہے۔ یہ قانون کا پابند معاشرہ ہوتا ہے جس میں ہررکن کے حقوق اور فرائض، جن میں اقلیتوں کے حقوق بھی شامل ہوتے ہیں، کا احترام کیا جاتا ہے۔ ریاست کا مقصد معاشرے کے ہر رکن کی خدمت اور انسانوں کے درمیان عدل کا قیام ہے۔ اسلامی معاشرے میں آمریت، جوروجبر اور استبدادی مطلق العنان حکومت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔

اسلامی ریاست سیکولر جمہوریت سے بالکل مختلف ہوتی ہے، کیونکہ اسلامی ریاست عوام کے اقتدار اعلیٰ کے نظریہ تسلیم نہیں کرتی۔ مسلم ریاست میں اللہ تعالیٰ ہی قانون ساز ہے اور شریعت ہی ریاست کا قانون ہے۔ جو بھی نئے نئے مسائل درپیش ہوں، ان سے نمٹنے کے لیے شریعت کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے حل دریافت کیے جاتے ہیں۔ یہ بات سیکولر جمہوریت اور مسلم ریاست کے درمیان سب سے بڑا اختلاف ہے۔

جہاں تک قانون کی حکمرانی کے اصول، بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، عدلیہ کی آزادی، اقلیتوں کے حقوق، ریاست کی پالیسیوں اور حکمرانوں کے عوام کی خواہش کے مطابق انتخاب کا تعلق ہے، اسلام اپنے دائرۂ کار کے اندر رہتے ہوئے ان سب امور کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ ان میں سے بعض امور کے متعلق اسلام اور مغربی جمہوریت کے درمیان بعض مشترکہ بنیادیں موجود ہیں اور ان تمام میدانوں میں مسلمان اپنے معاصر مغربی ممالک کے تجربات سے استفادہ کر سکتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی مسلمانوں کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن دونوںنظاموں کے قوانین کے منابع اور فطرت میں چونکہ بنیادی اختلاف ہے لہٰذا ان اساسی امور میں دونوں نظام ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں اور اپنا اپنا جداگانہ تشخص اور مزاج رکھتے ہیں۔

اسلامی ریاست میں شریعت کو بالادستی حاصل ہے۔ اس کے باوجود یہ کوئی مذہبی حکومت (تھیاکریسی) نہیں ہوتی، جیسی کہ تاریخ میں مذکور فرعونوں، بابلیوں، یہودیوں، مسیحیوں، ہندوئوں یا بودھوں کی حکومتیں گزرچکی ہیں۔

ان مذہبی حکومتوں اور اسلامی حکومت میں بنیادی فرق ہے۔ یہ مذہبی حکومتیں اگرچہ’خدائی حکومت‘ کی دعوے دار تھیں، لیکن وہ ’خدائی حکومت‘ ایک مخصوص مذہبی طبقے کی حکومت ہوتی تھی،جس کے حکمران کا ہر لفظ قانون تھا، جسے نہ تو کوئی چیلنج کر سکتا تھا اور نہ اس کے خلاف آواز بلند کر سکتا تھا۔ مگر اسلام میں ایسا کوئی حاکم مذہبی طبقہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی اقتدار اعلیٰ کا مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اور جواس کی مرضی ہے، وہ قرآن و سنت کی صورت میں موجود ہے۔ شریعت کا سبھی کو علم ہے۔ یہ کوئی ایسا خدائی راز نہیں ہے جس کاعلم صرف پادریوں کی طرح صرف مفتی یا مذہبی رہنما کو ہو۔ اسلام میں ایساہرگز کوئی امکان نہیں کہ لوگوں کا کوئی گروہ دوسروں پر اپنی ذاتی مرضی ٹھونس سکے یا اللہ کے نام پر دوسروں پر اپنی ترجیحات کو نافذ کر سکے۔ اسلامی نظام میں قوانین کھلے بحث و مباحث کے بعد ہی تشکیل دیے جاتے اور نافذ کیے جاتے ہیں۔ سب لوگ اس عمل میں شریک ہوتے ہیں۔

ان دونوں نظاموں کے درمیان اختلافات مختصراً یہ ہیں:

ا -  شریعت جو اللہ تعالیٰ کی مرضی اوررضا کی حامل اور اس کا مظہر ہے، بالکل اصل صورت میں محفوظ اور موجود ہے۔ اس میں کسی نوع کی کوئی آمیزش نہیں ہوئی اور نہ بدلے ہوئے حالات میں کسی تبدیلی یا کسی کی مداخلت سے اس میں کوئی تبدیلی ممکن ہے۔

ب- اسلام میں مذہبی متوسلین کا کوئی طبقہ نہیں اور محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ترجمان ہے۔ اللہ کی رہنمائی مکمل ہو چکی، اب یہ اُمّہ کا کام ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کو سمجھیں، اس کا ادراک کریںاور انسانی معاشرے کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اس پر عمل پیرا ہوں۔

ج- فرد معاشرے کا بنیادی عنصر ہے۔ اسلام، فرد کی آزادی، قانون کی حکمرانی ، مخالفانہ آرا اور مخالفوں کی توقیر کی ضمانت خود دیتا ہے۔ اہل دانش اور عوام آزادی کے ساتھ اپنے مسائل پر بحث مباحثہ کر سکتے ہیں اور باہم مشاورت کے ذریعے ان کا حل نکال سکتے ہیں۔ پوری اسلامی فقہ ایک ایسے عمل کے ذریعے فروغ پذیر ہوئی ہے، جس کے دوران اُمّہ اور اس کے نمایندوں نے عام بحث مباحثہ میں حصہ لیا۔ اسلامی ریاست اور معاشرے کا انسانوں کی طبیعی اور دنیاوی مشکلات و مسائل سے گہرا تعلق ہوتا ہے اور وہ انصاف اور سماجی بہبود کے اصولوں کے مطابق ان مشکلات و مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔

بلاشبہہ جسے زندگی کا سیکولر (دنیاوی) حصہ کہا جاتا ہے اس سے اسلام اور مسلمانوں کا تعلق ہے لیکن اسلامی اور سیکولر رویوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ دنیا کی ساری زمین میرے لیے مسجد کی مانند ہے۔ چنانچہ اسلام کا دنیا کے تمام حصوں، علاقوں سے گہرا تعلق ہے۔ اسلام نہ شرقی ہے اور نہ غربی، بلکہ صحیح معنوں میں ایک عالم گیر اور آفاقی نظام ہے۔ اسلامی نظام انسانی زندگی کے تمام روحانی اور دنیاوی معاملات پر محیط ہے۔ اس حد تک اسلام کاسیکولرزم سے کوئی تنازع نہیں ہے۔ مغرب میں سیکولرزم کے غلبے کی وجہ مذہب کا سیکولر معاملات سے لاتعلق ہوجانا اور دنیاوی زندگی کو شیطانی قوتوں کے حوالے کر دینا تھا۔ یہ پوری تحریک دراصل ان مذہبی روایات کا رَدّعمل تھی جن کی رو سے سیکولر دنیا کو نظرانداز کیا گیا اور اپنا دائرہ عمل کو صرف روحانی دنیا تک ہی محدود رکھا گیا تھا۔

اسی طرح سیکولرزم کی تحریک کو تقویت دینے والا ایک دوسرا سبب مذہبی عدم رواداری تھی جس میں جبر کے ذریعے ایک مذہب بلکہ ایک فرقے کے نظریات کو دوسرے تمام فرقوں پر مسلط کیا جاتا تھا اور ایک سے زیادہ نقطہ ہاے نظر کو کفر اور بغاوت قرار دیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس اسلام تکثیر (pluralism) اور رواداری کے اصول کو تسلیم کرتا ہے (قرآن حکیم کا ارشاد ہے: ’’دین میں کوئی جبر نہیں)۔ تمام انسانوں کو پیشہ اور مذہب کے معاملے میں انتخاب کا حق دیتا ہے۔ اسلام ثقافتی کثرت اورکسی بھی سماج کے اندازِ حیات کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ سب کچھ اسلام کے منشا کے مطابق ہے۔

سیکولرزم سے اسلام کا بنیادی اور جوہری اختلاف اس کے اس دعوے کے باعث ہے کہ سیکولرزم، مذہب سے کسی نوع کے تعلق، اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی اور مطلق اخلاقی اقدار کے بغیر تمام انسانی مسائل کا حل پیش کرتا ہے، یہ بات زندگی کے بارے میں اسلامی رویے کے بالکل برعکس ہے۔ انھی وجوہ کی بنا پر اسلام اور سیکولرازم، دو بالکل مختلف دنیائوں کی نمایندگی کرتے ہیں۔

اگرچہ اب کمیونزم اور فاشزم کوئی غالب سیاسی نظریات نہیں رہے، لیکن ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں جو ان دونوں نظریات کے مختلف پہلوئوں سے اتفاق رکھتے ہیں۔ یہ دونوں نظریات مغربی تہذیب و تمدن کے تناظر میں بعض تاریخی اور سماجی و سیاسی حالات کی پیداوار ہیں۔ ان کی تہ میں ریاست کی مطلق العنانیت کا تصور کارفرما رہا ہے۔ مگر یہ دونوں نظریات بھی مختلف النوع آمریت کے ہی نمایندہ تھے اور ان کے تحت بھی مطلق العنان حکومت ہی قائم ہوتی رہی۔ اگرچہ ان دونوں نظاموں میں انتخابات اور پارلیمنٹ کے قیام کاڈھونگ بھی رچایا جاتا رہا۔

اسلام میں یک طرفہ یا مطلق العنان اقتدار کا کوئی تصور نہیں۔ اسلام میں ریاست تو اُمت کا ہی ایک ادارہ اور شعبہ ہوتا ہے۔ وہ فرد کی مرکزیت، اس کے حقوق اور سیاسی فیصلوں میں فرد کے کردار کی توثیق کرتا ہے۔ اسلامی ریاست، قانون کی تخلیق ہوتی ہے۔حکمران، ریاست کے دوسرے شہریوں کی طرح ہی قانون کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ریاست اپنے عمال اور کارپردازوں کو وہ خصوصی مراعات اور تحفظات بھی فراہم نہیں کرتی جو کئی مغربی ملکوں کے عمال کو عام طور پر حاصل ہوتی ہیں۔

اسلام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کردہ مقدس امانت ہیں۔ فرد کو معاشرے کی بنیادی اکائی اور ایک پاک باز مخلوق تصور کیا جاتا ہے، جو اپنے اعمال کے لیے آخرکار اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔ ہر انسان ایک قابل احترام وجود ہے اور اخلاقی طور پر اپنے تمام اعمال اور پسند و ناپسند کے لیے دنیا اور آخرت میں بھی جواب دہ ہے۔ فرد کو معاشرے میں عقل و دانش اور سماجی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ اپنا رویہ متعین کرنا ہوتا ہے، لیکن وہ ریاست کی مشین کا کوئی بے جان پرزہ نہیں ہوتا۔ اس اعتبار سے اسلام کے سیاسی نظم اور ہمارے دور کے مطلق العنان اور آمرانہ نظاموں کے درمیان بے حد فرق ہے۔

اسی تقابلی تجزیے سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اسلام کا سیاسی نظام ، دوسرے سیاسی نظریات کی بعض باتوں میں مماثلت اور مشابہت کے باوجود، بے مثال ہے۔ اسلام، اساسی اعتبار سے ایک مکمل نظام ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسے معاشرے کا قیام ہے جس میں رہتے ہوئے ایک اچھے اور نیک انسان کو یہ محسوس نہ ہو کہ وہ تو کسی اجڈ معاشرے میں پھنس گیا ہے یا انسانوں کو یہ احساس نہ ستائے کہ وہ تو جانوروں کے کسی باڑے میں دھکیل کر بند کر دیے گئے ہیں۔ اسلام تمام انسانوں کی ذہنی اور مادی نشوونما، ساتھ ساتھ، چاہتا ہے تاکہ انسان امن اور انصاف کے ساتھ زندگی گزارسکیں۔ زندگی کی اعلیٰ اقدار و نظریات کی پرورش کر سکیں، جن کے نتیجے میں وہ اس دنیا اور پھر آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور الوہی سعادت کے حق دار ٹھہرسکیں۔ اسلامی ریاست ایک نظریاتی، تعلیمی اور مشاورتی بنیادوں پر مبنی ریاست ہوتی ہے جو ایک ایسا سماجی و سیاسی ڈھانچہ فراہم کرتی ہے جس میں حقیقی جمہوریت پھل پھول سکتی ہے۔ اس میں ایک طرف مستقل اقدار کا دائمی فریم ورک ہے جس میں پوری سیاسی اور اجتماعی زندگی مرتب ہوئی ہے تو دوسری طرف اجتہاد کے ذریعے وقت کی بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کابھرپور سامان ہے۔

مجھے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کہ مسلمان اپنی تاریخ میں اس نظریے پر مکمل طور پر عمل کرسکے ہیں۔ بلاشبہہ خلافت راشدہ اس کا عملی نمونہ اور ایک مکمل paradigm کا مظہر تھا مگر بعد کے ادوار میں اصل ماڈل سے انحراف اور انحراف کے بعد اصل کی طرف مراجعت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہا ہے۔ البتہ اصل ماڈل ہی تمنائوں کا محورو مرکز رہا ہے اور آج بھی اسی آورش کی روشنی میں تعمیرنو کی جدوجہد مطلوب ہے۔

احیاے اسلام اور جمھوریت

معاصر مسلم دنیا کو، تاریخ میں پہلی بار، ایک منفرد چیلنج کا سامنا ہے۔ مسلمانوں کو اقتدار اور بالادستی حاصل نہیں رہی اور پوری مسلم دنیا نوآبادیاتی حکمرانوں کے پائوں تلے دبے ہوئی ہے۔ نوآبادیاتی اور سامراجی غلبے کی اس طویل، اندھیری رات کے دوران، جو تقریباًدو صدیوں پر محیط ہے، مسلمانوں کو ذہنی، اخلاقی، معاشی اور ثقافتی طور پر بھی سخت نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ اس طویل ابتلا کا بدترین نقصان یہ ہوا کہ وہ اسلامی ادارے بتدریج ٹوٹ پھوٹ اور انحطاط کا شکار ہو گئے، جن کے باعث مسلم دنیا تقریباً ۱۲ صدیوں تک اپنے پائوں پر کھڑی رہی اور اندرونی و بیرونی چیلنجوں کاکامیابی سے مقابلہ کرتی رہی۔ سامراجی حکومتوں کے ادوار میں ہی مغرب سے درآمدشدہ کئی ادارے اسلامی مملکتوں میں رائج کیے گئے۔ اسے دوسروں کو نام نہاد تہذیب سکھانے کے مشن کاحصہ  (white man's burden) قرار دیا گیا لیکن درحقیقت یہ سامراج کا بدترین استحصالی عمل تھا۔ چنانچہ اس استحصال کی وجہ سے قانون، عدلیہ، معیشت، تعلیم، انتظامیہ، زبان و ادب، فنون لطیفہ، فن تعمیر غرض معاشرے کے تمام عناصر کو زبردستی مغربیت کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی گئی۔

نوآبادیاتی ، سامراجی نظام کے دوران مسلم معاشرے کے اندر سے ایک نئی قیادت پیدا کی گئی، جسے مورخ آرنلڈ ٹائن بی نے ’بابو کلاس‘کا نام دیا ہے۔ یہ لوگوں کا ایک ایسا طبقہ تھا جس کی جڑیں اپنے مذہب، ثقافت اور تاریخ میں نہیں تھیں اور جس نے نوآبادیاتی حکمرانوں کے سائے میں اپنا نیا تشخص بنانے کی کوشش کی۔ اس طبقے نے نہ صرف حکمرانوں کی اقدار اور اخلاقی طرزِ عمل اپنانے کی سعی کی، بلکہ مقامی اور بیرونی مفاد پرستوں سے مل کر حکمرانوں کے مفادات کا تحفظ بھی کیا۔ غیر ملکی غلامی سے نجات کے لیے عوامی تحریک بنیادی طور پر، آزادی کے تصور اور ایمان کی قوت سے عبارت تھی۔ مسلم دنیا میں نیشنلزم کی قوتوں نے بھی اسلامی تشخص قائم کر لیا تھا لیکن اس  ’بابو طبقہ‘ اور اس کے زیراثر حلقوں نے مغربی اقدار کو ہی حرزِ جاں بنائے رکھا اور شعوری یا غیر شعوری طور پر سامراجی قوتوں کے ایجنٹوں کا کردار ادا کیا(۲۱)۔ آزادی کے بعد، ان ملکوں میں قیادت بڑی حد تک اسی مغرب زدہ قیادت کے ہاتھ میں آئی یا لائی گئی جن کی سیاسی تربیت بھی سامراجی دور میں ہوئی تھی۔ اس قیادت کا تعلق مغرب کی ثقافت اور ان کے سیاسی عزائم سے ہی برقرار رہا۔ یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ عالم اسلام میں صرف سرحدوں کا تعین ہی غیر ملکی سامراجی آقائوں نے نہیں کیا تھابلکہ نئے ادارے اور نئی قیادت بھی سامراجی دور کی ہی پیداوار تھی۔عالم اسلام میں اس وقت جو بحران اور بے اطمینانی محسوس کی جا رہی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی صورت احوال ہے۔

احیاے اسلام اور سیاسی عمل میں عوامی شرکت اور ان کے ذریعے تبدیلی کا عمل جو جمہوریت کی روح ہے ایک ہی صورت حال کے دو پہلو ہیں۔ اقتدار میں موثر عوامی شرکت اور اسلامی تصورات کے مطابق معاشرہ، نیز مسلم سیاست کی تشکیل نو بھی اسی عمل کا حصہ ہیں۔ یہ کام صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان باہمی اعتماد، ہم آہنگی اور تعاون موجود ہو۔ لیکن جن حکمرانوں نے سامراجی آقائوں سے ہی اقتدار کی وراثت پائی ہے ان کی اور عوام کی نظریاتی،اخلاقی اور سیاسی سوچ ایک جیسی نہیں ہے۔ حکمران معاشرے اور اس کے اداروں کو مغربی اقدار و نظریات اور مغرب کے نظریاتی نمونوں، سیکولرزم ، قوم پرستی، سرمایہ داری اور نوآبادیاتی نظم کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے ’زیرتسلط‘ ملکوں میں ایسے قوانین، ادارے اور پالیسیاں روبہ عمل لانا چاہتے ہیں جو مغربی نمونوں سے اخذ کی گئی ہیں مگر عوام یہ سب کچھ اپنے ایمان (معتقدات) اقدار اور امنگوں کے منافی سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر حصولِ آزادی کے باوجود حکومتی نظام بعض استثنائوں کے ساتھ جابرانہ اور مطلق العنانیت پر مبنی رہا۔

تاریخ کا سبق تو بڑا ہی واضح ہے اور وہ یہ کہ: مسلمان ممالک کو سیکولر مملکت بنانا اور مغربی رنگ میں رنگنا، یک طرفہ اور جابرانہ قوت کے بغیر ممکن نہیں۔ اقتدار میں عوام کی شرکت اور حصے پر مبنی حقیقی جمہوری نظام اور اسلام میں کوئی عدم مطابقت نہیں۔ اس کے برعکس عوام کی آزادی، بنیادی حقوق، اقتدار میں عوام کی شرکت پر مبنی جمہوریت اور اسلامی نظام فطری حلیف ہیں۔ اصل تصادم تو عوام کی اسلامی امنگوں اور حکمران طبقے کے سیکولر مغربی نظریات اور پالیسیوں کے درمیان ہے۔ چنانچہ مسلمانوں پر جابرانہ اور استبدادی قوت کے بغیر غیر اسلامی نظریات و تصورات اور قوانین مسلط نہیں کیے جا سکتے۔ اصل تضاد ان دونوں (اسلامی اور مغربی) تصورات میں ہے اور حقیقی جمہوریت مغربی سیکولر بلڈوزر کا پہلا شکار ہے۔ امریکا کے ایک ماہر عمرانیات فلمر ایس سی نارتھ روپ (F.C. Northrop) نے گہرے شعور کے ساتھ کہا ہے: ’’مجھے یقین ہے کہ یہی وجہ ہے جو اس قسم کے (مثلاً سیکولر) قوانین عام طور پر پہلے آمر حکمران ہی نافذ کرتا ہے۔ ایسے قوانین کسی عوامی تحریک کا نتیجہ تو ہو نہیں سکتے کیونکہ عوام تو پرانی روایات کے حامل ہوتے ہیں‘‘(۲۲)۔

پروفیسر ویلفرڈ کینٹ ول اسمتھ نے پاکستان کی صورت حال کے حوالے سے نہایت دل چسپ بات کہی ہے: ’’ایک مشرقی ملک کی حیثیت میں کوئی مملکت جب صحیح معنوں میں جمہوری مملکت بن جاتی ہے تو وہ اپنی فطرت کا اظہار کرتی ہے، چنانچہ وہ جتنی جمہوری ہو گی، اتنی ہی مغربی رنگ سے دُور ہوتی چلی جائے گی… یہاں تک کہ اگر پاکستان ایک حقیقی جمہوری ملک ہو، محض دکھاوے کا نہیں، جس حد تک وہ جمہوری ہو گا اسی حد تک اسلامی بھی ہوگا، مغربی نہیں‘‘(۲۳)۔

کینٹ ول اسمتھ نے تو بڑے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ اسلام کے بغیر جمہوریت محض ایک بے معنی نعرہ ہے جو کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ یوں جمہوریت اپنے اسلامی ہونے کے حوالے سے ان (یعنی مسلم اُمہ) کی اسلامی ریاست کی تعریف کا حصہ بن جاتی ہے(۲۴)۔

ایسپوزیٹو اوروال بھی معاصر مسلم ریاستوں کے حوالے سے اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ موجودہ دور کی مسلم ریاستوں میں دونوں رجحانات، یعنی احیاے اسلام اور جمہوریت ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور یہ ان ریاستوں کے کردار کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ وہ معاصر مسلمانوں کے ذہن کا مطالعہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

بہت سے مسلم (اسکالر) اسلامی جمہوریت کو کھول کر بیان کرنے میں سرگرمی سے مصروف ہیں۔ ان کو یقین ہے کہ عالمی سطح پر مذہبی احیا اور جمہوری عمل، مسلم ریاستوں کے تناظر میں، ایک دوسرے کی تکمیل کر رہے ہیں۔(۲۵)

حال ہی میں دواسکالروں ڈیل ایکل مین اور جیمز پسکا ٹوری نے ’مسلم سیاست‘ کے حوالے سے ایک مطالعاتی رپورٹ میں تجویز کیا ہے کہ مسلمانوں میں اس وقت جمہوریت کے بارے میں جو خیالات پائے جاتے ہیںاور جو ان کی اپنی اقدار اور امنگوں کے مطابق ہیں، ان پر نئے زاویوں سے غور کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں میں، اسلامی ریاستوں پر مغربی طرز کی جمہوریت کا پیوند لگانے کے خلاف جو نفرت پائی جاتی ہے ، اسے بھی پیش نظر رکھا جانا ضروری ہے۔ ان دونوں اسکالروں نے اپنی بات اس طرح ختم کی ہے:

مسلم سیاست کے خصوصی تناظر میں طے شدہ مثالوں پر زور نہ دینے اور ان چیلنجوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے، جو مستقبل قریب میں پالیسی سازوں کو درپیش ہو سکتی ہیں۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ صرف مغرب زدہ اشرافیہ کی بات نہ سنی جائے بلکہ بہت سی دیگر مسلم آوازوں پر بھی توجہ دی جائے۔ اس جانب پہلا قدم، یہ معلوم کرنا ہے کہ مسلمانوں میں سندجواز اور عدل کے تہذیبی تصورات کیا ہیں؟ یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ مذہبی یا غیر مذہبی منصفانہ حکومت کا تصوربھی متعین نہیں  ہے۔ مسلمانوں کے ان تصورات کی تفہیم بعض لوگوں کے اس ناروا تاثر کو دُور کرنے میں ممد ثابت ہو گی کہ دوسری اقوام کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات اکثر معاندانہ ہی ہوتے ہیں اور مسلمانوں کا طرزِ حکومت لازماً جابرانہ اور آمرانہ ہوتا ہے(۲۶)۔

اسلام اور مسلم اُمہ نے آمرانہ اور جابرانہ حکومت کو کبھی پسند کی نظر سے نہیں دیکھا۔ جہاں کہیں مسلمانوں میں آمرانہ یا استبدادانہ حکومتیں ہیں، وہ نوآبادیاتی سامراج اور مغرب زدگی کا نتیجہ ہیں۔ ان کا مسلمانوں کے تصورات، تاریخ یا مسلمانوں کی آج کی امنگوں اور آرزوئوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مسلمان، مغرب کی سیکولر جمہوریت کو اپنے اصولوں، اقدار اور روایات سے بیگانہ تصور کرتے ہیں۔ لیکن جمہوریت کی ان شان دار روایات سے ہم آہنگی محسوس کرتے ہیں جس کا تعلق اقتدار میں عوام کی شرکت جس کے نتیجے میں انصاف کی حکمرانی، ہر سطح پر مشاورت کا عمل، فرد کے حقوق اور اختلاف کے حق کی ضمانت سے ہے ۔ وہ اس کو اشد ضروری سمجھتے ہیں کہ عدلیہ کی آزادی اور سیاسی ثقافت میں تکثیر کا تسلسل یقینی ہو، ان کے بارے میں ان کے اپنے تصورات اور تاریخی روایت ہے۔ چنانچہ اسلام اور جمہوریت کی اس حقیقی روح میں کوئی تصادم یا تضاد نہیں۔ بعض مسلم ممالک میں جو آمرانہ اور جابرانہ حکومتیں نظر آ رہی ہیں،وہ ان غیر ملکی اور اوپر سے بذریعہ طاقت ٹھونسی گئی روایات کا حصہ ہیں، جن کے خلاف جدوجہد میں احیاے اسلام کی قوتیں مصروف ہیں۔ اسلام اور حقیقی جمہوریت ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں۔ چنانچہ استبدادانہ اور جابرانہ حکومتوں کا قیام اور فروغ، ایسی حکومتیں خواہ شہری ہوں یا فوجی آمریت، منتخب شدہ ہوں یا وراثتی، یہی جمہوریت کی نفی اور بنیادی انسانی حقوق غصب کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ ایسی حکومتیں مغربیت اور لادینیت کا ثمرہ ہیں، اسلام کا نہیں۔ اسی طرح عوامی جمہوریت سے انکار اور اسے دبا کر رکھنے کا عمل اسلام کا نہیں، لادینیت اور مغرب زدگی کا ایجنڈا ہے۔ اسلامی احکام اور عوام کی مرضی، خواہشات اور امنگیں تو ایک ہی ہیں۔ جمہوری عمل یقینا نفاذ اسلام میںناگزیر پیش رفت ہے۔ اسلامی امنگوں کی تکمیل جمہوری عمل کو آگے بڑھنے سے ہی ممکن ہے۔ نوآبادیاتی دور کے بعد کے عالم اسلام کی حالیہ تاریخ میں آمرانہ نظام، سیکولرزم یاسوشلزم ایک ساتھ آگے بڑھے ہیں، جب کہ احیاے اسلام، آزادی جمہور اور اقتدار میں عوام کی شرکت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

نوآبادیاتی طاقتوں کے تسلط سے آزادی کے باوصف مسلم اُمہ آج بھی اپنے جمہوری حقوق، اپنی سیاست کو اپنے انداز میں آزادانہ طور پر ترقی دینے، اپنے تصورات، امنگوں اور نظریات کی روشنی میں اپنے عوام کی اقتصادی حالت بہتر بنانے اور اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے مصروف ِ جہد ہے۔ مسلم اُمہ ایسے احکام، نظریاتی جبر اور ایسے جمہوری نمونوں کے تحت زندگی گزارنے سے انکاری ہے جو اس کے دین سے متصادم ہوں، اس کی اقدار کے منافی ہوں۔ اس کی تاریخ سے لگا نہ کھاتے ہوں، اور اس کی روایات کے علی الرغم ہوں۔ اگر جمہوریت کا مطلب کسی قوم کا حق خود ارادیت اور اپنے بل پر تکمیل خودی ہے، تو یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے اسلام اور مسلمان روزِ اوّل سے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ وہ نہ تو اس سے زیادہ کچھ چاہتے ہیں اور نہ اس سے کم پر راضی ہوںگے۔


۲۱- ایچ اے آر گب، Modern Trends in Islam میں لکھتے ہیں کہ ’’نیشنلزم … اپنی مغربی توضیح میں صرف ان دانش وروں تک محدود ہے جن کا مغربی افکار سے براہِ راست یا گہرا ربط ہے۔ مگر قوم پرستی کے اس نظریے کی جب عام ذہن تک رسائی ہوئی تو اس کی ہیئت میں تبدیلی واقع ہوئی اور اس تبدیلی سے قدیم جبلی محرکات اور مسلم عوام کے قوت محرکہ کے دبائو کی وجہ سے بچنا ممکن بھی نہ تھا‘‘ ( Modern Trends in Islam شکاگو، شکاگو یونی ورسٹی پریس، ۱۹۴۷ئ، ص ۱۱۹)۔ ولفرڈ سی اسمتھ Islam in Modern History میں لکھتے ہیں: ’’مسلمانوں میں کبھی قومیت کی سوچ نے ارتقاء نہیں پایا جس کا مفہوم وفاداری یا کسی ایسی قوم کے لیے تشویش کا پایا جانا ہو، جو اسلام کی حدود کو پامال کر رہی ہو… ماضی میں صرف اسلام نے ہی لوگوں کے اندر اس قسم کے نظم و ضبط، تحریک اور قوت پیدا کی ہے‘‘۔ (Princeton N.J ۱۹۵۷ئ، ص ۷۷)۔

۲۲-  فلمر ایس- سی نورتھروپ، Colloquium on Islamic Culture (پرنسٹن، ۱۹۵۳ئ) ، یونی ورسٹی پریس، ص ۱۰۹۔

۲۳- ولفرڈ- سی اسمتھ، Pakistan as an Islamic State (لاہور، ۱۹۵۴ئ) ، ص ۵۰۔

۲۴- ایضاً، ص ۴۵۔

۲۵- جان ایسپوزیٹو ، جان وول، op.cit  ص ۲۱۔

یہ مضمون ہارٹ فورڈ سمینری امریکا کے مجلے The Muslim World  (جنوری تا مارچ ۲۰۰۰ئ) میں شائع ہوا جس کا ترجمہ جناب نذیر حق نے بڑی محنت اور خوب صورتی سے کیا ہے جس کے لیے مقالہ نگار ممنون ہے۔ صاحبِ مضمون نے ترجمہ پر نظرثانی کرتے ہوئے چند اضافے کیے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے کتب آسمانی اور ان میں موجود اپنے احکامات نوع انسانی کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے نازل کیے ہیں۔ ان کا مقصدِ نزول ان پر عمل کرنا ہے۔ ان پر عمل سے نہ صرف آخرت بلکہ دنیا بھی سنور سکتی ہے۔ اس طرح امن و امان اور ہر طرف خوش حالی کا دور دورہ ہوتا ہے۔ آسمان سے رحمتوں کی بارش ہوتی ہے اور زمین سونا اُگلتی ہے۔ انھی انعامات اور رحمتوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن حکیم کہتا ہے: ’’کاش! (اہلِ کتاب) نے تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں۔ ایسا کرتے تو ان کے لیے اُوپر سے رزق برستا اور نیچے سے اُبلتا۔ اگرچہ ان میں سے کچھ لوگ راست رو بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت سخت بدعمل ہے‘‘ (المائدہ ۵:۶۶)۔ پھر قدرت کا یہ اصول بھی یاد رکھا جائے کہ جو قومیں احکامِ الٰہی سے گریز کرتی ہیں‘ اِن کو پس پشت ڈالتی ہیں‘ یا حیلوں بہانوں سے ان سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں اور ان پر عمل کرنے سے گھبراتی ہیں‘ یا پھر کمزوری اور مرعوبیت کا شکار ہوتی ہیں‘ تووہ دراصل عذابِ الٰہی اور آفاتِ آسمانی کو دعوت دیتی ہیں اور بحروبر کو شروفساد سے بھر دیتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہر دور اور ہر زمانے میں اس کی ضرورتوں اور تقاضوں کے مطابق احکام اور آسمانی کتابیں نازل کیں۔ تورات‘ زبور اور انجیل میں اپنے اپنے زمانے کے لوگوں کی ضرورت کے مطابق احکام دیے گئے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم نازل کیا۔ یہ دائمی اور ابدی کتاب ہے اور اپنے احکامات کا نفاذ چاہتی ہے۔

سابقہ الھامی کتب کی روشنی میں

سابقہ کتب آسمانی میں تورات ایک بنیادی اور پرانی کتاب ہے اسی لیے بنی اسرائیل کے انبیا اور ان پر ایمان لانے والوں کو اس پر سختی سے عمل کرنے کو کہا گیا۔ اس کتاب کی حفاظت ان کے ذمے سونپی گئی۔ انھیں حکم دیا گیا کہ اس کے نفاذ میں کسی قسم کی کوتاہی کے مرتکب نہ ہونا اور اس بارے میں ہرگز احساس کمتری کا شکار نہ ہونا۔ارشاد ربانی ہے:

ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ سارے نبی جو مسلم تھے۔ اسی کے مطابق ان یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے‘ اور اسی طرح ربانی اور احبار بھی (اسی پر فیصلے کا مدار رکھتے تھے)‘ کیونکہ انھیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایاگیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے۔ پس (اے گروہِ یہود) تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو۔ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔ (المائدہ ۵:۴۴)

ہم نے موسٰی ؑکو ہر شعبۂ زندگی کے متعلق نصیحت اور واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی۔ اور اس سے کہا ان ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں۔ (الاعراف ۷:۱۴۵)

یاد کرو وہ وقت‘ جب ہم نے طور کو تم پر اٹھا کر تم سے پختہ عہد لیا تھا اور کہا تھا کہ جو کتاب ہم تمھیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامنا اور جو احکام و ہدایات اس میں درج ہیں انھیں یاد رکھنا۔ اسی ذریعے سے توقع کی جاسکتی ہے کہ تم تقویٰ کی روش پر  چل سکو گے۔ (البقرہ ۲:۶۳-۶۴)

تورات صرف اخلاقی اور معاشرتی احکام کا ضابطہ ہی نہیں تھی بلکہ اس میں فوج داری جرائم کی سزائیں بھی بیان کی گئیں‘ اور جو لوگ معاشرے کا امن و امان برباد کریں‘ ان کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی تھیں۔ ارشاد ہوا:

تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان‘ آنکھ کے بدلے آنکھ‘ ناک کے بدلے ناک‘ کان کے بدلے کان‘ دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ۔ پھر جو قصاص کا صدقہ کردے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔ (المائدہ ۵:۴۵)

موجودہ محرف تورات میں بھی یہ حکم ان الفاظ میں پایا جاتا ہے:

اگر وہ اس صدمے سے ہلاک ہوجائے تو تو.ُ جان کے بدلے میں جان لے اور آنکھ کے بدلے میں آنکھ‘ دانت کے بدلے دانت اور ہاتھ کے بدلے ہاتھ‘ پائوں کے بدلے پائوں‘ جلانے کے بدلے جلانا‘ زخم کے بدلے زخم اور چوٹ کے بدلے چوٹ۔ (خروج ۲۱:۲۳-۲۵)

آسمانی کتاب زبور حضرت دائود علیہ السلام پر اُتری۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے دائود کو زبور دی (النساء ۴:۱۶۲)۔ زبور خدا کی حمدوثنا‘ انسان کی عبدیت‘ پندونصائح اور بصائر و حکم کے مضامین کا مجموعہ تھی۔ مولانا مودودی فرماتے ہیں کہ ’’موجودہ بائبل میں زبور کے نام سے جو کتاب پائی جاتی ہے وہ ساری کی ساری زبورِ داؤد نہیں۔ اس میں بکثرت مزامیر دوسرے لوگوں کے بھی بھر دیے گئے ہیں اور وہ اپنے اپنے مصنفین کی طرف منسوب ہیں۔ البتہ جن مزامیر پر تصریح ہے کہ وہ حضرت دائود ؑکے ہیں ان کے اندر فی الواقع کلامِ حق کی روشنی محسوس ہوتی ہے‘‘ (تفہیم القرآن‘ ج ۱‘ص ۴۲۴)۔ اس طرح یہ کتاب بھی حکمت کے موتیوں سے بھری ہوئی تھی اور اپنے وقت کے لوگوں کے لیے روشنی کا مینار تھی۔

تورات اور زبور کے بعد بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل نازل ہوئی۔ اس کی رو سے تورات کے تمام احکام سچے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انجیل میں رہنمائی‘ ہدایت‘ نصیحت اور روشنی کے احکام دیے۔ اللہ کے نیک بندوں کے لیے یہ نیا اور تازہ نور کا سرچشمہ تھا جس سے یہ لوگ سیراب اور فیض یاب ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انجیل کے نازل کرنے کا مقصد بھی اس کے احکامات کا نفاذ اور تعمیل ہی بتایا۔ اہلِ انجیل کو حکم دیا گیا کہ جو قوانین اس میں موجود ہیں‘ ان کے مطابق فیصلہ کرو۔ اگر ایسا نہ کروگے توفاسق اورنافرماں بن جائو گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

پھر ہم نے ان پیغمبروں کے بعد مریمؑ کے بیٹے عیسٰی ؑکو بھیجا۔ تورات میں جو کچھ ان کے سامنے موجود تھا وہ اس کی تصدیق کرنے والا تھا۔ اور ہم نے اس کو انجیل عطا کی جس میں رہنمائی اور روشنی تھی اور وہ بھی تورات میں سے جو کچھ اس وقت موجود تھا اس کی تصدیق کرنے والی تھی اور خدا ترس لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی۔ ہمارا حکم تھا کہ اہلِ انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔ (المائدہ ۵: ۴۶-۴۷)

آخر وہ زمانہ آیا جس کے لیے قرآن حکیم کی ضرورت تھی۔ یہ اللہ کی وہ آخری کتاب ہے جو تمام سابقہ کتب آسمانی کی تصدیق کرنے والی اور ان کی محافظ و نگہبان ہے۔ اس میں نہ صرف سابقہ آسمانی کتب کے حقائق اور اصل عبادات کو جمع کردیا گیا ہے بلکہ قیامت تک کے لیے انسانی ضرورت اور فطرت کے وہ تمام اصول و احکام یک جا کردیے گئے ہیں جواصلاح انسانی اور تہذیب و تمدن کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی برحق تعلیمات کو قرآن حکیم میں جمع اور محفوظ کردیا‘ اور یوں نوعِ انسانی کی بھلائی کے لیے الہامی تعلیمات ضائع ہونے سے بچ گئیں۔ اب ربِ کائنات اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کے ان محفوظ‘ روشن‘ نادر اور فلاح انسانی کے لیے بہتر اور کارآمد اصولوں اور احکامات پر عمل کیا جائے۔ اس بھولے ہوئے سبق کو آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے یوں یاد دلایا گیا:

پھر اے نبی، ہم نے تمھاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اوراس کی محافظ و نگہبان ہے۔ لہٰذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کافیصلہ کرو اور جو حق تمھارے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ ہم نے تم (انسانوں) میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل مقرر کی۔ اگرچہ تمھارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک اُمت بھی بنا سکتا تھا‘ لیکن اس نے یہ اس لیے کیا کہ جو کچھ اس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمھاری آزمایش کرے۔ لہٰذا بھلائیوں میں ایک دوسرے

سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخرکار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے‘ پھر وہ تمھیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو___ پس اے نبی‘ تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ ہوشیار رہو یہ لوگ تم کو فتنے میں ڈال کر  اس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمھاری طرف نازل کی ہے۔ پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے ان کو مبتلاے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کرلیا ہے ‘اور یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں میںسے اکثر فاسق ہیں۔ (اگر یہ خدا کے قانون سے منہ موڑتے ہیں) تو کیا پھر جاہلیت کافیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بنائو‘ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انھی میں ہے‘ یقینا اللہ ظالموں کو اپنی صفائی سے محروم کردیتا ہے۔ (المائدہ ۵:۴۸-۵۱)

نفاذ کی اھمیت

مولانا مودودی خدا کے قوانین کو چھوڑ کر انسانوں کے بنائے قوانین کو اختیار کرنے کو ایک بہت بڑا مجرمانہ فعل گردانتے ہیں۔ سورئہ مائدہ کی مذکورہ بالا آیات میں اس کی شدید مذمت کی گئی ہے اور ان سے انحراف اور اعراض اللہ سے بغاوت‘ معاشرے پر ظلم اور انسانوں کے لیے سراسر خسارے کاسودا ہے۔

مولانا لکھتے ہیں: ’’یہاں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے حق میں جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں‘ تین حکم ثابت کیے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کافر ہیں‘ دوسرے یہ کہ وہ ظالم ہیں‘ تیسرے یہ کہ وہ فاسق ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو انسان خدا کے حکم اور اس کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر اپنے یا دوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر فیصلہ کرتا ہے‘ وہ دراصل تین بڑے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اوّلاً: اس کا یہ فعل حکم خداوندی کے انکار کے ہم معنی ہے اور   یہ کفر ہے۔ ثانیاً: اس کا یہ فعل عدل و انصاف کے خلاف ہے‘ کیونکہ ٹھیک ٹھیک عدل کے مطابق جو حکم ہوسکتا تھا وہ تو خدا نے دے دیا تھا‘ اس لیے جب خدا کے حکم سے ہٹ کر اس نے فیصلہ کیا تو ظلم کیا۔ ثالثاً: یہ کہ بندہ ہونے کے باوجود جب اس نے اپنے مالک کے قانون سے منحرف ہوکر اپنا یا کسی دوسرے کاقانون نافذ کیا تو درحقیقت بندگی و طاعت کے دائرے سے باہر قدم نکالا اور یہی فسق ہے۔ یہ کفر اور ظلم اور فسق اپنی نوعیت کے اعتبار سے لازماً انحراف از حکمِ خداوندی کی عین حقیقت میںداخل ہیں۔ ممکن نہیں ہے کہ جہاں وہ انحراف موجود ہو وہاں یہ تینوں چیزیں موجود نہ ہوں۔ البتہ جس طرح انحراف کے درجات و مراتب میں فرق ہے اسی طرح ان تینوں چیزوں کے مراتب میں بھی فرق ہے۔ جو شخص حکمِ الٰہی کے خلاف اس بنا پر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کو غلط اور اپنے یا کسی دوسرے انسان کے حکم کو صحیح سمجھتا ہے وہ مکمل کافر اور ظالم اور فاسق ہے‘ اور جو اعتقاداً حکم الٰہی کو برحق سمجھتا ہے مگر عملاً اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ اگرچہ خارج از ملت تو نہیں ہے مگر اپنے ایمان کو کفر‘ ظلم اور فسق سے مخلوط کر رہا ہے۔ اسی طرح جس نے تمام معاملات میں حکمِ الٰہی سے انحراف اختیار کرلیا ہے وہ تمام معاملات میں کافر‘ ظالم اور فاسق ہے‘ اور جو بعض معاملات میں مطیع اور بعض میں منحرف ہے اس کی زندگی میں ایمان و اسلام اور کفر و ظلم کی آمیزش ٹھیک ٹھیک اسی تناسب کے ساتھ ہے‘ جس تناسب کے ساتھ اس نے اطاعت و انحراف کو ملا رکھا ہے۔

 بعض اہلِ تفسیر نے ان آیات کو اہلِ کتاب کے ساتھ مخصوص قرار دینے کی کوشش کی ہے مگر کلامِ الٰہی کے الفاظ میں اس تاویل کے لیے کوئی گنجایش موجود نہیں۔ اس تاویل کا بہترین جواب وہ ہے جو حضرت حذیفہؓ نے دیا ہے۔ ان سے کسی نے کہا کہ یہ تینوں آیتیں تو بنی اسرائیل کے حق میں ہیں۔ کہنے والے کا مطلب یہ تھا کہ یہودیوں میں سے جس نے خدا کے نازل کردہ حکم کے خلاف فیصلہ کیا وہی کافر‘ وہی ظالم اور وہی فاسق ہے۔ اس پر حضرت حذیفہؓ نے فرمایا: کتنے اچھے بھائی ہیں تمھارے لیے یہ بنی اسرائیل کہ کڑوا کڑوا سب ان کے لیے اور میٹھا میٹھا سب تمھارے لیے۔ ہرگز نہیں‘ خدا کی قسم تم انھی کے طریقے پر قدم بقدم چلو گے‘‘۔ (تفہیم القرآن‘ ج ۱‘ ص۴۷۵- ۴۷۶)

قرآنی احکام کے نفاذ کی اہمیت بتاتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحی تدبر قرآن میں لکھتے ہیں: ’’ان آیات میں اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرنے کا یہ مضمون تین مرتبہ بیان ہوا۔ یہ اگرچہ ہے تو یہود و نصاریٰ سے متعلق لیکن اگر یہ جرم مسلمانوں کے کسی گروہ سے صادر ہو کہ وہ  اختیار و آزادی رکھتے ہوئے کتابِ الٰہی کے مطابق معاملات کا فیصلہ نہ کریں بلکہ علی الاعلان اس سے انحراف اختیار کریں‘ جس کی شہادت ہر مسلمان ملک میں موجود ہے تو ان کا حکم بھی یہی ہوگا کیونکہ  خدا کا قانون سب کے لیے ایک ہی ہے۔ کتابِ الٰہی کا مقصد یہی ہے کہ وہ زندگی کے معاملات و نزاعات میں امروحکم اور فیصلہ و قضا کا ذریعہ بنے اور تمام اجتماعی و سیاسی اور قانونی معاملات اس کی روشنی میں انجام پائیں۔ اگر کتابِ الٰہی کی یہ حیثیت تسلیم نہ کی جائے تو یہ اس کے ساتھ مذاق ہے‘‘۔

مفتی محمد شفیع اس حوالے سے لکھتے ہیں: ’’ان آیات میں یہود کو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے خلاف اپنا قانون جاری کرنے پر سخت تنبیہہ فرمائی اور ایسا کرنے والوں کو کافر اور ظالم قرار دیا۔ اس کے بعد تیسری آیت میں اہلِ انجیل و نصاریٰ کو اسی مضمون کا خطاب فرما کر اللہ کے نازل کیے ہوئے قانون کے خلاف کوئی قانون جاری کرنے پر سخت تنبیہہ فرمائی‘ اور ایسا کرنے والوں کو سرکش و نافرمان قرار دیا۔ اس کے بعد جن آیات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب بنا کر مسلمانوں کو اس مضمون کے متعلق ہدایات دی گئیں کہ وہ اہلِ کتاب کی اس بیماری میں مبتلا نہ ہوجائیں کہ جاہ و مال کے لالچ میں اللہ تعالیٰ کے احکام بدلنے لگیں یا اس کے قانون کے خلاف کوئی قانون اپنی طرف سے جاری کرنے لگیں‘‘۔ (معارف القرآن‘ ج ۳‘ ص ۱۵۴)

حکمت و برکات

سورئہ مائدہ کی ان آیات میں اسلامی قوانین کی فوقیت‘ محاسن‘ اہمیت‘ اکملیت‘ ہمہ گیریت‘ یکسانیت اور اس کے مفید نتائج اور اثرات کو سید قطب شہید نے نہایت ہی علمی اور مدلل انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کے ساتھ دنیاوی اور مغربی قوانین کے نقصانات‘ معائب‘ خامیوں اور خرابیوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی تفسیر فی ظلال القرآن اور دیگر کتب الاسلام و مشکلات الحضارۃ، خصائص التصویر الاسلامی، ھذا الدین اور المستقبل ھذا الدین قابلِ ذکر ہیں۔سیدصاحب کے درج ذیل دلائل قابلِ غور ہیں:

۱- قرآن حکیم یہ واضح کرتا ہے کہ تمام انبیا کے ضابطۂ حیات‘ مذاہب اور ادیان اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جو قوانین نازل کیے تھے ان کے مطابق فیصلہ کرنا اور پوری زندگی پر اس شریعت کی پابندی‘ ان کا نفاذ اور قیام لازمی اور ضروری تھا۔ قرآن حکیم نے اس حکم کو ایمان و کفر‘ اسلام و جاہلیت‘ شریعت اور ہواے نفس کے مابین فیصلہ کن قرار دیاہے۔

۲- اسلامی قانون سازی کی بنیادی اور کلیدی اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ نوع انسانی پر اللہ تعالیٰ کی الوہیت‘ ربوبیت‘ مالکیت اور حاکمیت کے اقرار یا انکار کا معاملہ ہے۔

۳- اللہ تعالیٰ اس کائنات کا خالق اور مالک ہے‘ اسی لیے اس نے فرمایا: آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کی فرماں روائی اللہ ہی کے لیے ہے (المائدہ ۵:۱۷)۔ پس دراصل اللہ کی اکیلی اور واحد ذات ہی صاحبِ اقتدار‘ فرماں روا اور ذی اقتدار ہے۔ اللہ سبحانہ کے اقرار اور اعتراف کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کی شریعت کے آگے سرتسلیم خم کیا جائے‘ نیز شریعت الٰہی سے انکار یا زندگی کے کسی ایک حصے میں بھی کوئی اور شریعت اور قانون کا نفاذ دراصل اللہ کی الوہیت‘ ربوبیت‘ مالکیت اور اس کے اقتدارِ اعلیٰ کا انکار ہے۔ یہ انکار یا اقرار چاہے زبان سے ہو یا صرف عمل سے‘ دونوں طریقے سے برابر ہے۔ اسی لیے سورئہ مائدہ میں یہ سخت الفاظ استعمال کیے گئے ہیں: ’’جو لوگ اُس (قانون) کے مطابق جو اللہ نے نازل فرمایا ہے‘ فیصلہ نہ کریں۔ وہ نرے کافر ہیں… سرتاسرظالم… اور پکے فاسق (باغی و نافرمان) ہیں‘‘۔

۴- اللہ تعالیٰ کی شریعت انسانی قوانین سے برتر اور افضل ہے۔ قرآن حکیم فرماتا ہے:

وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکْماً لِّقَومٍ یُّوْقِنُوْنَ (المائدہ ۵:۵۰) اور اللہ سے بہتر حکم دینے والا اور کون ہوسکتا ہے ان لوگوں کے لیے جو (اس پر) یقین رکھتے ہیں۔

ہر زمانے اور حالات میں اللہ کا قانون اور شریعت ہی بہتر‘ برتر اور اعلیٰ ہے۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے۔ جو شخص اس بات کا انکار کرتا ہے وہ گویا اس بات کا دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ اللہ سے زیادہ لوگوں کی ضروریات کا علم رکھتاہے‘ یا وہ دراصل اس بات کا مدعی ہے کہ انسانی تمدن میں ایسے حالات و واقعات رونما ہوگئے ہیں کہ نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ ان سے واقف نہ تھا‘ یا اسے ان حالات کا علم تو تھا مگر ان کے لیے اس نے قوانین وضع نہیں کیے۔ یہ سب باتیں ایمان و اسلام کے منافی ہیں۔

۵- اللہ تعالیٰ کا قانون‘ ضابطہ اور نظام ہر لحاظ سے مکمل‘ کامل اور مطلق عدل پر مبنی ہے۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس امر کا پوراپورا علم ہے کہ کامل عدل کس حکم میں ہے۔ وہ سب کا رب ہے اور سب کے ساتھ یکساں عدل کرتا ہے۔ قرآن حکیم کی اس آیت پر غور کیجیے۔ اس میں  عدل کا ایسا بے لاگ اور صحیح حکم پایا جاتا ہے‘ جو صرف اور صرف اللہ کی کتاب ہی میں پایا جاتا ہے‘ اور یہ الہامی ہی ہوسکتا ہے: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف کے علَم بردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمھارے انصاف اور تمھاری گواہی کی زد خود تمھاری اپنی ذات پر یا تمھارے والدین اور   رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔(النساء ۴: ۱۳۵)

۶- کامل اور پورا عدل انسان کے وضع کردہ کسی نظام میں نہیں پایا جاتا اور نہ پایا ہی جاسکتا ہے‘ کیونکہ اس میں انسانی خواہشات‘ میلانات‘ رجحانات‘ حرص و ہوس‘ افراط و تفریط‘ ذاتی مفادات‘ جہالت‘ کم علمی اور تنگ نظری جیسی انسانی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔

۷- یہ خدائی اور الہامی قانون ایسا عظیم اور کامل ضابطہ ہے جو پوری کائنات کے قوانین کے ساتھ ہم آہنگ ہے‘ کیونکہ اس نظام کا واضع وہی ہے جو اس کائنات کا صانع و مالک ہے۔ پھر انسان کا صانع بھی وہی ہے۔ جب وہ انسان کے لیے قانون وضع کرے گا تو اس کی حیثیت کائناتی جوہر و عنصر کی ہوگی۔ اسی طرح انسان کے اعمال و حرکات اور کائنات کی حرکات و سکنات میں     ہم آہنگی ہوجائے گی۔ یوں شریعت الٰہی کائناتی رنگ اختیار کرے گی۔ درحقیقت انسان کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ ایک صحیح محکم نظام کے تحت اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کرے۔

۸- یہ صرف تنہا اور اکیلا اللہ تعالیٰ ہی کا نظامِ شریعت ہے جو انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دلاتا ہے۔ اسلامی نظام کے علاوہ ہر نظام میں انسان انسان کی بندگی کرتا ہے اور انسان انسان کابندہ اور غلام بنتا ہے۔ صرف الٰہی نظام میں بنی نوع انسان بندوں کی غلامی سے آزاد ہوکر خداے وحدہٗ لاشریک کی بندگی اختیار کرتا ہے۔

الوہیت کی سب سے اہم خصوصیت حاکمیت (sovereignty) ہے‘ جو شخص کسی انسانی گروہ کے لیے قانون سازی کرتا ہے وہ ان کے درمیان خدائی کے مقام پر فائز ہوجاتا ہے اور خدائی خصوصیات سے متصف ہونے کا دعویٰ کرتاہے۔ وہ گروہِ خدا کا نہیں بلکہ اس کا بندہ ہوتا ہے اور خدا کے دین کانہیں اُس انسان کے دین کا پیرو ہوتا ہے۔

۹- جاہلیت کسی دور‘ تاریخ یا زمانے کا نام نہیں‘ بلکہ یہ اس حالت نظام اور قانون کا نام ہے جس میں جاہلیت کی خصوصیات پائی جائیں‘ چاہے یہ ماضی میں ہو یا حال میں یا مستقبل میں۔ جاہلیت کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ احکام اور قانون سازی میں خدائی نظام اور زندگی کے لیے خدائی شریعت کی طرف رجوع کرنے کے بجاے انسانی خواہشات و میلانات کی طرف رجوع کیا جائے۔ یہ خواہشات کسی فرد کی ہوں‘ کسی طبقے کی ہوں‘ کسی قوم کی ہوں یا ایک دور کے سب انسانوں کی‘ سب کی حیثیت یکساں ہے۔ جب تک کہ خدائی احکام اور شریعت کی طرف رجوع نہ کیا جائے تو اس کے سوا باقی سب ہوا و ہوس‘ خواہشات و میلانات اور جاہلیت و بے علمی ہے۔

۱۰- افراد‘ گروہوں‘ جماعتوں‘ قوموں اور سب ادوار کے انسانوں کا خالق سب کے لیے قانون وضع کرتا ہے۔ یہ اللہ کی شریعت ہے۔ اس میں کسی شخص کو نقصان پہنچا کر کسی فرد‘ جماعت‘ حکومت یا کسی دور کے انسانوں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ اللہ سب انسانوں کا رب ہے۔ اس کی نظر میں سب برابر ہیں۔ اُسے سب کی حقیقت اور سب کے مفادات و مصالح کا پورا علم ہے۔ اس لیے وہ سب کے مفادات کا صحیح صحیح خیال رکھے گا۔

اللہ انسانوں کے لیے قانون وضع کرتا ہے تو اس طرح سب انسان حریت و آزادی اور مساوی حیثیت کے مالک ہوجاتے ہیں۔ وہ اللہ کے سوا کسی کے آگے سر نہیں جھکاتے اور اللہ کے سوا کسی کی بندگی و عبادت نہیں کرتے۔

پس سورئہ مائدہ کی ان آیات میں اس اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ عقیدے کا سب سے اہم نازک‘ عظیم اور بنیادی مسئلہ ہے۔ یہ انسانی حریت و مساوات کا مسئلہ ہے۔ یہ انسان کی آزادی اور اس کے پیدایشی حق کا مسئلہ ہے اور بالآخر کفر و ایمان اور اسلام اور جاہلیت کا مسئلہ ہے۔ قرآن حکیم نے ایک اور مقام پر اس مسئلے کی عظمت و اہمیت ان الفاظ میں اجاگر کی ہے:

اور حق اگر ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ (المومنون ۲۳:۷۱)

اللہ کے نازل کردہ احکام کو چھوڑ کر دوسرے قوانین سے فیصلہ کرنے کا نتیجہ شروفساد‘ جہالت و گمراہی اور بالآخر ایمان کے دائرے سے خارج ہونا ہے۔ یہی قرآنی آیات کا صریح مفہوم ہے۔

 

تمام دنیاوی امور میں اﷲ تعالیٰ ہی حَاکِم (ruler) اور شَارِع (law giver)ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی حاکمِ اعلیٰ (sovereign) ہے۔ اللہ کے بارے میں یہ عقیدہ کافی نہیں ہے کہ وہ خَالِق (creator)ہے اور ربّ (sustainer) ہے۔ اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ اُسے خالق بھی تسلیم کیا جائے اور ربّ  بھی، مالک بھی تسلیم کیا جائے اور بادشاہ بھی، صاحبِ تصرّف بھی تسلیم کیا جائے اور حاکم اور شارع بھی۔ آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے دی جانے والی شریعت کے ہر فیصلے کو تسلیم کرنا بھی لازمی اور ضروری ہے ، کیونکہ ’تکوینی اقتدار‘ کے ساتھ ساتھ ’تشریعی اقتدار ‘بھی اﷲ تعالیٰ ہی کا حق ہے۔ اسی کو توحید تشریع یا توحید حاکمیت کہا جاسکتا ہے۔ جو ہستی آسمانوں پر حکمرانی کر رہی ہے ، صرف اُسی کو ہی اِس کرۂ ارض پر حکمرانی کا حق حاصل ہے۔

ہمارے دور میں‘ جب کہ جمہوریت اور سیکولرزم کی صدائیں ہر طرف بلند ہو رہی ہیں اور اسلامی عقائد اور اسلامی ثقافت و تہذیب پر تابڑ توڑ حملے مسلسل کیے جارہے ہیں ، ہر پڑھے لکھے مسلمان کے لیے لازمی اور ضروری ہوگیا ہے کہ وہ حاکمیتِ الٰہی (توحیدِ تشریع) کے عقیدے کو  ٹھیک ٹھیک سمجھے۔ اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ اللہ کو صرف خالق ہی نہیں‘ بلکہ رب بھی تسلیم کیا جائے۔ خالق و رب ہی نہیں‘ بلکہ اُسے حاکم اور شارع بھی تسلیم کیا جائے۔ بحیثیت حاکم اور بحیثیت شارع نہ صرف اُس کی تکوینی حاکمیت تسلیم کی جائے بلکہ تشریعی حاکمیت کو بھی مانا جائے۔

مغرب یہ چاہتا ہے کہ وہ اِسلام کو عیسائیت کی طرح چرچ اور مسجد میں محدود کر دے۔ وہ یہ نہیں چاہتا کہ قرآن و سنت کے مطابق دنیا میں کہیں کوئی حکومتِ الٰہیہ قائم ہو۔ وہ نہیں چاہتا کہ قرآن و سنت کے قوانین کے مطابق دنیا کے کسی بھی ملک میں عدالتی نظام قائم ہو۔ وہ تو چاہتا ہے کہ سُود پر مشتمل معاشی نظام کو مسلمان ردّ نہ کر دیں اور غیر سودی نظامِ معیشت کو اپنے اپنے ملکوں میں رائج اور نافذ کریں۔

مغربی جمہوریت ، ایک مادر پدر آزاد جمہوریت ہے، جو کسی روحانی اور اَخلاقی حدود و قیود کی پابند نہیں۔ اس میں عوام کو اور عوام کے منتخب نمایندوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہر قسم کے فیصلے کرسکیں۔ اسلام ایسی آزاد جمہوریت کا قائل نہیں۔ جمہوریت میں عوام الناس کی رائے کو ریفرنڈم کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے ، یا عوام کے منتخب نمایندوں کی رائے کو پارلیمنٹ میں دیکھا جاتا ہے۔

دستورِ پاکستان میں قراردادِ مقاصد کے ذریعے حاکمیتِ الٰہیہ کو تسلیم کیا گیا ہے‘ اور آٹھویں ترمیم کے ذریعے اِسے دستور کا ایک مستقل حصہ قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ہر اُس قانون کا جائزہ لے ، جو قرآن و سنت سے متصادم ہو۔ یہ چیز مغرب کی نگاہ میں بری طرح کھٹکتی ہے اور مختلف طریقوں سے اس کی یہ کوشش ہے کہ اِس دستور کو ترکی کی طرح سیکولر بنا دیا جائے۔

حاکمیت الٰھی اور سیکولرزم

سیکولرزم کا مطلب لامذہبیت یا لادینیت نہیں ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اور ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ سیکولرزم مذہب کو گھر ، مسجد اور عبادت خانوں  تک محدود کر دیتا ہے۔ سیکولرزم کا توحیدِ ربوبیت اور توحیدِ اُلوہیت سے کوئی جھگڑا نہیں ہے ، لیکن وہ توحیدِ تشریع‘ یعنی حاکمیت الٰہی کی مخالفت کرتا ہے۔ اسلام اور سیکولرزم ایک دوسرے کی ضد ہیں۔

سیکولرزم یہ گوارا نہیں کرتا کہ ایک سیکولر اسٹیٹ میں اسلامی سزائیں (حدود) نافذ ہوں۔ سود پر پابندی ہو ، موسیقی اور رقص پر پابندی ہو ، عریانی اور فحاشی پر پابندی ہو ، البتہ سیکولرزم عبادات کی اجازت دیتا ہے ، چنانچہ وہ تصوف کو پروان چڑھاتا ہے جس کا اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ مغرب کی سیکولر دنیا کے نزدیک تصوف ایک ایسا فلسفہ ہے ، جس سے اُن کے سیاسی اور مالی مفادات پر زد نہیں پڑتی اور وہ تصوف کے ساتھ پُرامن بقاے باہمی کے اُصولوں پر کار بند رہ سکتی ہے۔ اس کے برخلاف سیکولرزم کی اسلامی شریعت (Islamic Law) سے ازلی دشمنی ہے۔ سیکولرزم کے نقطۂ نظر سے فوج داری قوانین ، معاشی قوانین ، عائلی قوانین وغیرہ میں ، خدا اور مذہب کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ ان تمام امور میں عوام کی رائے ، اُن کی خواہشاتِ نفس اور اُن کے نمایندوں کی رائے ہی حاکمِ اعلیٰ ہے۔

ہر مسلمان پر یہ بات واضح ہوجانی چاہیے کہ جس اللہ نے ہمیں نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے، اُسی نے چورکا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے۔ جس اللہ نے ہمیں روزوں اور حج کا حکم دیا ہے ، اُسی نے امیروں سے زکوٰۃ وصول کرنے‘ غیر شادی شدہ زانی مرد و خواتین کو کوڑے لگانے اور شادی شدہ زانی مرد وخواتین کو رجم کرنے کا حکم دیا ہے۔ جس اللہ نے ہمیں سچ بولنے کا اور امانتوں کا پاس و لحاظ کرنے کا حکم دیا ہے ، اُسی نے ہمیں وصیت اور وراثت کے احکام دیے ہیں۔ اُسی نے سود ، فحاشی ، عریانی اور زنا کو حرام ٹھیرایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات میں سے بعض کو قبول کر کے ، بعض کو مسترد نہیں کیا جاسکتا اور نہ اسلام کو صرف ذاتی اعمال تک محدود کیا جاسکتا ہے۔ اسلام ایک نظامِ حیات ہے۔ اللہ تعالیٰ شارع ہے ، وہ عبادات کا بھی حکم دیتا ہے اور معاشرتی قوانین کا بھی، وہ معاشی قوانین کا بھی حکم دیتا ہے اور اَخلاقیات کی تعلیم بھی۔ وہ ایک مضبوط اجتماعیت پر مبنی ریاست (state) کا حکم بھی دیتا ہے ، جہاں اسلام کا نظامِ عدل رائج ہو۔

توحیدِ حاکمیت

حکمرانی ، اقتدار اور بادشاہت ، اللہ ہی کی ہے ، جس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اِس حقیقت کا نام ’توحیدِ ملوکیت ‘ ہے۔ اِسی کا دوسرا نام ’توحیدِ حاکمیت‘ ہے۔درج ذیل آیات پر غور کیجیے:

لَـہُ الْمُلْکُ  لَآ  اِلٰـہَ اِلَّا  ھُوَ ج (الزمر ۳۹: ۶) بادشاہی اسی کی ہے ، کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے۔

لَـہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ والْاَرْضِ (الزمر ۳۹:۴۴) آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔

وَلَـمْ  یَـکُنْ  لَّـہٗ  شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ (الفرقان ۲۵:۲) بادشاہی میں اُس کا کوئی شریک نہیں (وہ تنہا حکومت کر رہا ہے)۔

بِیَدِہٖ  مَـلَـکُوْتُ  کُلِّ  شَیْئٍ (یٰٓس ۳۶:۸۳) ہر چیزکی بادشاہی ، اسی کے ہاتھ میں ہے۔

مَلِکِ  النَّاسِ o (الناس ۱۱۴:۲) انسانوں کا بادشاہ ہے۔

لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِo (الشورٰی ۴۲:۴۹) زمین اور آسمانوں کی بادشاہی صرف اللہ ہی کے لیے ہے۔

خیال رہے کہ زمین کی بادشاہت بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ فرعونوں ، نمرودوں اور بالادست ریاستوں کے حکمرانوں کو سوپر پاور سمجھنا شرک فی الملوکیت ہے۔ کمزور مسلمان ، کافروں کی قوت سے مرعوب ہو جاتے ہیں ، لیکن اللہ نے ہمیں قرآن میں حکم دیا ہے کہ:

لَا یَـغُـرَّنَّـکَ تَـقَـلُّبُ الَّذِینَ کَـفَرُوْا فِـی الْبِلاَدِ o (اٰل عمرٰن ۳:۱۹۶) دنیا کے ملکوں میں ، خدا کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت ، تمھیں کسی دھوکے میں مبتلا نہ کر دے۔

ہمارے زمانے میں بھی ، جب کمزور مسلمان امریکہ کی عراق پر ، اور روس کی شیشان کے شہر گروزنی پر بمباری ، تسلّط اور مسلمانوں کی مسکینی ، بدحالی ، شکست خوردگی، بے بسی اور لاچاری کے مناظر کو اخبارات میں پڑھتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر دیکھتے ہیں تو ان بڑی طاقتوں کے جاہ و جلال سے مرعوب ہو کر اُمّتِ مسلمہ کے مستقبل سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ لیکن اﷲ کے وہ شیر ، جن کی نگاہوں میں اﷲ کی قوت ، طاقت ، اقتدار ، بادشاہی اور ملوکیت سمائی رہتی ہے ، دنیا کی طاقتوں کو تنکے سے بھی حقیر سمجھتے ہیں۔ خود کو اﷲ کی فوج کا سپاہی سمجھ کر باطل کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں۔ اﷲ کے کلمے کو بلند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اﷲ ہی کو تنہا صاحبِ اقتدار سمجھتے ہیں۔ اُسی سے ڈرتے ہیں۔ یہی توحیدِ حاکمیت یا توحیدِ ملوکیت ہے۔

توحیدِ تشریع ، توحیدِ حاکمیت کے حوالے سے ، درج ذیل نکات پر مشتمل قرآنی آیات پر غور کیجیے:

خالق ھی کو حکم و امر کا حق حاصل ھے

اَلَالَـہُ  الْخَلْقُ  وَالْاَمْرُ ط تَبٰـرَکَ  اللّٰہُ رَبُّ الْعٰـلَمِیْنَ o (الاعراف ۷:۵۴) سن لو ! اُسی کی ’ خلق‘ ہے اور اسی کا ’اَمر‘ ہے ، بڑا بابرکت ہے اللہ ، سارے جہانوں کا مالک و پروردگار۔

اِس آیت سے معلوم ہوا کہ خالق ہی کو‘ حاکم و آمر ہونے کا حق حاصل ہے۔

بَلْ لِّـلّٰہِ الْاَمْرُ جَمِیْـعًا ط(الرعد ۱۳:۳۱) بلکہ سارا اَمرو اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔

یُـدَبِّـرُ الْاَمْرَ ط (یونس ۱۰:۳) (اللہ ہی) کائنات کا انتظام چلا رہا ہے (اَوامر اور اَحکامات کی تدبیر کر رہا ہے)۔

یَـتَـنَـزَّلُ الْاَمْرُ بَـیْـنَـھُنَّ لِتَـعْـلَمُوْٓا  اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ لا (الطلاق ۶۵:۱۲) ان (زمین اور آسمانوں ) کے درمیان ’حکم‘ نازل ہوتا رہتا ہے (یہ بات تمھیں اس لیے بتائی جارہی ہے ) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

مندرجہ بالا آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ ہی خالق بھی ہے اور حاکم بھی۔ اللہ ایسا حاکم ہے ، جس کے ہاتھ میں سارے اختیارات ہیں۔اللہ ہی مدبّر ہستی ہے۔ وہ ایسا مدبّر ہے ، جو اپنی حکمت اور دانائی کو اپنی قدرت اور طاقت سے دنیا میں نافذ کر کے رہتا ہے۔

اِسی لیے اُسے بہترین حاکم خَیْرُ الْحٰکِمِیْنَ اور اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ کہا گیا۔

وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ o (المآئدۃ۵:۴۴) اور جو لو گ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں ، وہی کافر ہیں۔

(قرآن میں دوسری جگہ ایسے لوگوں کو فاسق اور ظالم بھی کہا گیا ہے۔)

اِنِ  الْحُکْمُ  اِلَّا  لِلّٰہِ ط (الانعام ۶:۵۷) فیصلے (حکم) کا سارا اختیار ، اللہ ہی کو ہے۔

اَلَالَہُ الْحُکْمُ قف وَ ھُوَ اَسْرَعُ الحٰسِبِیْنَ (الانعام ۶:۶۲) خبردار ہو جائو ! فیصلے کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں۔ اور وہ حساب لینے میںبہت تیز ہے۔

مندرجہ بالا آیات میں مشرکینِ مکہ کے خود ساختہ قوانینِ حلال و حرام کا اِبطال بھی کیا گیا ہے۔   سورئہ شوریٰ میں ، اللہ تعالیٰ نے اِن سے سوال کیا ہے:

اَمْ لَـھُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَـہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَـا لَـمْ یَـاْذَنْ بِـہِ اللّٰہُ ط (الشوریٰ ۴۲:۲۱) کیا ان کے کچھ شریک خدا ہیں ، جنھوں نے ان کے لیے وہ دین ٹھیرایا ہے ، جس کا اذن اللہ نے نہیں دیا۔

سورئہ شوریٰ کی اس آیت سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

۱- مشرکین مکہ کا عقیدہ تھا کہ شرکاء  (یعنی الِھۃ ، غیرُ اللّٰہ اور مِن دُونِ اللّٰہ) نے دین کی شریعت سازی کی ہے۔

۲-مشرکینِ مکہ کے اس عقیدے اور اس شریعت کی اللہ تعالیٰ نے ہرگز اجازت نہیں دی۔

۳- الدین سے مُراد ، محکومیت ، اِطاعت ، سپردگی اور بندگی ہے ، جس میں اِسلام کے سارے احکام بھی شامل ہوتے ہیں ، اور اِس جنس کی ساری دیگر چیزیں بھی۔

۴- شَرَعُوْا لَھُمْ ’’ اُن کے لیے قانون سازی کی ‘‘ سے مُراد ، حلال و حرام کے احکام اور وہ دیگر تمام احکام ہیں ، جو احکامِ الٰہی سے متصادم ہوتے ہیں۔

وَھُوَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ط لَہُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰی وَالْاٰخِرَۃِ ز وَلَـہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ o (القصص ۲۸:۷۰) اور وہ اللہ ہی ہے، جس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ، دنیا اور آخرت میں اسی کے لیے تعریف ہے۔ حکم دینا ، اللہ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے۔

بھترین حاکم

اللہ تعالیٰ نہ صرف حاکم ہے ، بلکہ خَیْرُ الْحَاکِمِیْن ہے ، اَحکمُ الْحَاکِمِیْن ہے۔ وہ  خَیْرُ الْفَاصِلِین ہے۔ فرمایا گیا :

وَھُوَ خَیْرُ الْحٰکِمِیْنَ o (الاعراف ۷:۸۷) اور وہی (اللہ) سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

اَلَـیْسَ  اللّٰہُ  بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ o (التین ۹۵:۸) کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟

حتمی فیصلہ

دنیا میں دیکھا گیا ہے کہ بعض عدالتیں ماتحت ہوتی ہیں اور اُن کے اوپر بڑی عدالتیں ہوتی ہیں جنھیں ہم سیشن کورٹ ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کہتے ہیں۔ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو بڑی عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ایسا آخری حاکم ہے ، جس کے فیصلوں کے بعد کوئی اُن میں ترمیم نہیں کر سکتا‘ اِضافہ نہیں کر سکتا اور نظرثانی نہیں کر سکتا۔ وہ آخری اتھارٹی ہے۔ دنیا کی عدالتوں میں مقدمات کئی کئی سالوں تک لٹکتے رہتے ہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ کی عدالت میں فی الفور فیصلے کیے جاتے ہیں۔ فرمایا گیا:

وَاللّٰہُ یَحْکُمُ لَا مُعَـقِّبَ لِحُکْمِہٖ ط وَھُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِo (الرعد ۱۳:۴۱) اللہ حکومت کر رہا ہے ، کوئی اس کے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے والا نہیں ہے اور اُسے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔

بھترین فیصلہ کرنے والا

وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکْمًا لِّـقَوْمٍ یُّـوْقِـنُـوْنَo (المآئدۃ ۵:۵۰) اللہ پر یقین رکھنے والوں کے نزدیک ، اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے؟

مشورے سے بے نیاز

دنیا کی عدالتوں میں دیکھا گیا ہے کہ ایک سے زیادہ جج ہوتے ہیں اور جیوری کے کئی ممبر ہوتے ہیں ، جج آپس میں اختلاف بھی کرتے ہیں۔ بعض اوقات فیصلے متفقہ ہوتے ہیں اور بعض اوقات کثرتِ رائے کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ لیکن اللہ کی عدالت اِن سب سے مختلف ہے۔ اُس کے فیصلے تمام تر عدل پر مبنی ہوتے ہیں ، جس میں غلطی کا کوئی اِمکان نہیں ہوتا۔ اُس کی شہادت مکمل ہوتی ہے۔ اُس کا علم ہر چیز پر محیط ہوتا ہے۔ وہ نیتوں سے بھی واقف ہوتا ہے۔ اُسے اپنی حکومت میں اور اپنے احکامِ حکومت میں نہ کسی سے مشورہ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ وہ کسی کو اپنے فیصلوں میں شریک کرتا ہے۔ یہی بات سورۃ الکھف میں بیان کی گئی ہے:

وَلَا  یُشْرِکُ  فِیْ  حُکْمِـہٖٓ  اَحَدًا o (الکھف ۱۸:۲۶) اور وہ اپنی حکومت اور اپنے احکامِ حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔

معلوم ہوا کہ وہ اپنے حکم و اختیار میں کسی کو ساجھی نہیں بناتا ، کیونکہ وہ خود علیم و حکیم ہے ، اُسے کسی اور سے مشورے کی حاجت نہیں۔

حاکمِ مطلق

اللہ تعالیٰ ہی حاکمِ مطلق ہے۔ وہ کسی کے دبائو میں نہیں ہے‘ نہ وہ کسی کے ڈر سے عدل و انصاف کا خون کرتا ہے‘ اور نہ کسی کی محبت اور مروّت میں ظلم پر مبنی فیصلہ کرتا ہے۔ دنیا کی عدالتوں پر اور عدالتوں کے فیصلوں پر ظالم حکمرانوں اور دیگر لوگوں کا دبائو ہوتا ہے‘ جس کی وجہ سے وہ عدل سے اِنحراف کرتی ہیں۔ لیکن یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہیں۔ فرمایا گیا:

اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْـدُ o (المآئدۃ ۵:۱) یقینا اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، حکم دیتا ہے۔

اصل شارع اور قانون ساز

صحیح بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اصل شارع ہے۔ صرف اُسی کے فیصلے حق پر مبنی ہوتے ہیں۔ اور وہی ایک ہستی ایسی ہے ، جو ۱۰۰ فی صد صحیح فیصلے کر سکتی ہے۔قرآن کہتا ہے:

اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ ط یَـقُصُّ الْحَقَّ وَھُوَ خَـیْـرُ الْفٰصِلِیْـنَ o (الانعام ۶:۵۷) نہیں ہے کسی اور کا فیصلہ اور قانون ، مگر اللہ کا (یعنی فیصلے کا سارا اختیار اللہ کو ہے) ، وہی امرِ حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِط اَمَرَ اَلاَّ تَـعْـبُدُوْٓا اِلَّا ٓ اِیَّاہُط (یوسف ۱۲:۴۰) فرماںروائی اور اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے ، اُس کا حکم ہے کہ خود اُس کے سوا ، تم کسی کی بندگی اور اطاعت نہ کرو!

تکوینی اور تشریعی حاکمیت

زمین و آسمان میں اُسی کی حکومت ہے‘ یعنی تکوینی حکومت بھی اُسی کی ہے اور تشریعی حکومت بھی اُسی کی ہونی چاہیے۔ جبری دنیا میں بھی اُسی کی حکومت ہے اور اِختیاری دنیا میں بھی اُسی کی حکومت ہونی چاہیے۔ تکوینی حکومت بھی ہر قسم کے عیب سے پاک ہے اور اُس کی شریعت بھی عیب سے پاک ہے۔ چونکہ وہ حکیم اور علیم ہے ، اسی لیے ہر دو دائروں میں اس کے احکام کامل علم اور کامل حکمت پر مشتمل ہیں۔ چنانچہ اس نکتے کو سورۃ الزخرف میں کھولا گیا ہے:

وَھُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآئِ اِلٰـہٌ وَّ فِـیْ الْاَرْضِ اِلٰـہٌ ط وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ o (الزخرف ۴۳:۸۴) وہی ایک ، آسمان میں بھی اِلٰہ ہے اور زمین میں بھی اِلٰہ ، اور وہی حکیم و علیم ہے۔

  •  تکوینی حاکمیت کی مثالیں: کون و مکان میں اُسی کی حکومت ہے۔ سورج اور چاند اُسی کے حکم سے گردش کرتے ہیں۔ کائنات کے اندر توازن اُسی کا قائم کردہ ہے۔ ہمارے اپنے جسم میں ہمارا اپنا دل ، اُسی کے حکم سے دھڑکتا ہے۔ دل کی دھڑکن پر خود ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ ہمارے بال اور ناخن ہم سے پوچھ کر نہیں بڑھتے۔ یہ اُس کی تکوینی اور جبری حکومت کی مثالیں ہیں۔ قرآنِ مجید میں ہمیں اِس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں:

وَالسَّمَآئَ رَفَعَھَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ o (الرحمٰن ۵۵:۷) آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی۔

  •  تشریعی حاکمیت کی مثالیں: اللہ نے اِنسان کو آزادیِ اختیار عطا کی ہے اور پھر اُسے اپنے تشریعی احکام بھی عطا کیے ہیں اور اِنسان کو حکم دیا ہے کہ اِس اختیاری دائرے میں بھی ہم اُس کی شریعت پر عمل کریں۔ چنانچہ کہا گیا :

وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَo (الرحمٰن۵۵:۹) انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تو لو ! اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو !

اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ ص (النور ۲۴:۲) زانیہ عورت اور زانی مرد ، دونوں میں سے ہر ایک کو ۱۰۰ کوڑے مارو!

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ  فَاقْطَعُوْآ  اَیْدِیَھُمَا (المآئدۃ۵:۳۸) اور چور خواہ عورت ہو یا مرد ، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو !

کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْـقِصَاصُ فِی الـْقَتْلٰی ط اَلـْحُرُّ بِالْـحُرِّ وَالْـعَبْدُ بِالْـعَبْدِ  وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی ط (البقرۃ ۲:۱۷۸) تمھارے لیے قتل کے مقدموں میں ، قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے۔آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اس آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے ، غلام قاتل ہو تو وہ غلام ہی قتل کیا جائے ، اور عورت اس جرم کی مرتکب ہو تو اس عورت ہی سے قصاص لیا جائے۔

وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ط (البقرۃ ۲:۲۷۵) حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔

معلوم ہوا کہ سود کی حرمت ، جان کے بدلے جان کے قصاص کا حکم ، چوروں اور زنا کرنے والوں کی سزائیں وغیرہ وغیرہ‘ یہ سب اُسی کا تشریعی قانون ہے۔

رسولؐ بہی شریعت کے تابع

شارعِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنی عطا کردہ شریعت و قانون کے مطابق‘ عدل و انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔چنانچہ فرمایا گیا:

وَ اِنْ حَکَمْتَ فَـاحْکُمْ  بَـیْـنَھُمْ  بِالْقِسْطِ ط (المآئدۃ ۵: ۴۲) اور (اے نبیؐ !)  فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو!

وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَـیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْـعَـدْلِط (النسآء ۴: ۵۸) اور (اے مسلمانو! ) جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو!

نزولِ قرآن کا مقصد

قرآنِ مجید میں نازل کردہ وحیِ جلی اور اَحادیث میں بیان کردہ وحیِ خفی ، دونوں کے نزول کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ علیم و حکیم عادل اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق دنیاوی فیصلے کیے جائیں۔ کہا گیا :

اِنَّـآ اَنْـزَلْـنَــآ اِلَـیْکَ  الْـکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِـتَحْکُمَ بَـیْنَ  النَّاسِ بِمَآ اَرٰکَ اللّٰہُ ط (النسآء ۴: ۱۰۵) اے نبیؐ ، ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمھاری طرف نازل کی ہے، تاکہ جو راہِ راست اللہ نے تمھیں دکھائی ہے ، اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو!

احکامِ شریعت سے پھلوتھی

سچے اور مخلص مسلمان اللہ تعالیٰ کو شارع مان کر ، اُس کی شریعت کے قوانین کے مطابق ہی سارے فیصلے کرتے ہیں۔ اپنے تمام اِختلافی معاملات کو قرآن و سنت کی طرف پھیرتے ہیں۔ اِس کے برخلاف ، منافقین اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے فیصلوں سے پہلوتہی کرتے ہیں اور    جی چراتے ہیں۔ سورۂ آل عمران میں منافقین کی اِس روش پر روشنی ڈالی گئی ہے:

یُدْعَوْنَ  اِلٰی  کِتٰبِ اللّٰہِ لِـیَحْکُمَ بَـیْـنَھُمْ ثُـمَّ  یَـتَـوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّـنْـھُمْ (اٰلِ عمرٰن ۳: ۲۳) اُنھیں جب کتابِ الٰہی کی طرف بلایا جاتا ہے ، تاکہ وہ اُن کے درمیان فیصلہ کرے ، تو ان میں سے ایک فریق اِس سے پہلو تہی کرتا ہے۔

احکامِ الٰھی کے نفاذ میں رکاوٹ

سچے اور مخلص مسلمانوں ، ججوں اور حکمرانوں پر ، ہمیشہ اہلِ باطل کا دبائو ہوتا ہے کہ وہ    اہلِ باطل کی خواہشات کے مطابق فیصلے کریں اور اللہ کے قانون کو پسِ پشت ڈال دیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی واضح طور پر حکم دیا کہ وہ مَا اَنْـزَلَ اللّٰہُ کے مطابق فیصلے کریں‘ اور لوگوں کی خواہشات (اَھْوَآئَ ھُمْ)کی پیروی نہ کریں۔ معلوم ہوا کہ تحکیمِ اِلٰہی کے راستے میں ، اہلِ باطل کی خواہشاتِ نفسانی رکاوٹ بن جاتی ہیں۔

وَاَنِ احْکُمْ بَـیْـنَھُمْ  بِمَآ  اَنْـزَلَ اللّٰہُ وَلَا تَـتَّبِعْ  اَھْوَآئَ ھُمْ (المآئدۃ ۵:۴۹) اے نبی ؐ ! تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ، اِن لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو! اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔

فَاحْکُمْ بَـیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَـتَّبِعِ الْھَوٰی (صٓ ۳۸:۲۶) لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر ! اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کر!

مسلمانوں کا شعار سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا

منافقین کے طرزِ عمل کے بالکل برعکس ، سچے اور مخلص مسلمان ، اللہ تعالیٰ کی شریعت کے فیصلوں کو سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا  کہہ کر قبول کرتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا گیا:

اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِـہٖ لِـیَحْکُمَ بَـیْـنَھُمْ اَنْ یَّـقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ط (النور ۲۴:۵۱) ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسولؐ کی طرف بلائے جائیں ، تاکہ رسول ؐ ان کے مقدمے کا فیصلہ کریں تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔

کیا قانونِ جاھلیت کے طالب ھو!

ہمارے حکیم خالق نے ، ہماری بھلائی کے لیے ، قرآن و سنت میں ، حکمت پر مبنی احکام  عطا فرمائے ہیں۔ اِن حکیمانہ احکام و قوانین سے ہٹ کر جو لوگ فیصلہ چاہتے ہیں وہ گویا جاہلیت کے قوانین اور ایامِ جاہلیت کے رسم و رواج کے مطابق فیصلے چاہتے ہیں۔ یہی وہ سوال ہے ، جو  سورئہ مائدہ میں اُٹھایا گیاہے۔ حُکْمُ اللّٰہ کے مقابلے میں حُکْمُ الْجَاھِلِیَّۃ ہوتا ہے ، جو باپ دادا کی رسومات اور بدعات پر مشتمل ہوتا ہے۔

اَفَحُکْمَ  الْجَاہِلِـیَّـۃِ  یَـبْـغُوْنَط (المآئدۃ ۵:۵۰) تو کیا پھر یہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟

منافقین کی روش

اپنے وقت کی ظالم و جابر ، سرکش و متکبر ، بے لگام قوتیں ، جن کے ہاتھ میں اقتدار اور فیصلوں کا اختیار ہوتا ہے ، مخلص مسلمانوں پر اپنے ظالم قوانین مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہیں ، لیکن سچے مسلمان ، طاغوت کی عدالت کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور وہ اپنے تمام اِختلافی معاملات کے لیے  مَا اَنْزَلَ اللّٰہ سے رجوع کرتے ہیں۔ اِس کے برخلاف منافقین ، اپنے دنیاوی فائدوں کے لیے اپنے معاملات کے فیصلوں کے لیے طاغوتی عدالتوں سے فریاد کرتے ہیں۔ فرمایا گیا :

یُرِیْـدُوْنَ  اَنْ  یَّـتَحَاکَمُوْٓا  اِلَی الطَّاغُوْتِ  وَقَـدْ  اُمِرُوْٓا  اَنْ  یَّـکْـفُرُوْا  بِـہٖط (النسآء۴:۶۰) مگر (یہ منافقین ) چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے ’طاغوت کی طرف‘ رجوع کریں ، حالانکہ انھیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

یہاں غیر اسلامی قوانین اور غیر اسلامی عدالتوں کو طاغوت کہا گیا ہے ، جو اللہ کے نازل کردہ احکام سے متصادم ہوتی ہیں۔

غَیْرُ اللّٰہ کی اطاعت کی ممانعت

ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو حَکَم، یعنی جج تسلیم کرے ، جب کہ ہمارے پاس اللہ کی طرف سے نازل کردہ تفصیلی کتاب موجود ہے۔ چنانچہ خود محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے یہ سوال کرایا گیا :

اَفَغَیْرَ  اللّٰہِ  اَبْـتَـغِیْ  حَکَمًا  وَّھُوَ  الَّذِیْٓ اَنْـزَلَ اِلَـیْـکُمُ الْـکِتٰبَ  مُفَصَّلًا ط (الانعام ۶: ۱۱۴) تو کیا میں اللہ کے سوا ، کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں ؟ حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمھاری طرف کتاب نازل کر دی ہے؟

قانون سازی کی بنیاد

سورۂ ممتحنہ میں دارالاسلام کی شہریت کے قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ دارُ الکفر اور دارُالاسلام میں مقیم افراد کے حق مہرکے تبادلے کے احکام کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ ہجرت کرنے والی خواتین کو جانچنا اور پرکھنا ضروری ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اِن نئی مہاجرات میں کوئی جاسوس ہو۔ ان تمام احکام کو اللہ کا حکم (حُکْمُ اللّٰہ)کہا گیا۔ یہ سارے قوانین اللہ کے علم اور اللہ کی حکمت و دانائی پر مبنی ہیں۔ اِن قوانین کا مقصد بھی اِسلامی ریاست کو مضبوط کرنا اور مسلمانوں کے اِجتماعی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

ذٰلِکُمْ حُکْمُ اللّٰہِط یَحْکُمُ بَـیْـنَکُمْط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌo (الممتحنۃ ۶۰:۱۰) یہ اللہ کا حکم ہے ، وہ تمھارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ریاست اور شہریت کے قوانین بھی توحیدِ حاکمیت‘ یعنی تشریع کا حصہ ہیں۔

اللّٰہ کے قوانین کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے

سورئہ مائدہ میں مَا اَنْـزَلَ اللّٰہکے مطابق فیصلہ نہ کرنے والوں کو الْکَافِرُوْن اور الظَّالِمُوْن اور الْفَاسِقُوْن کہا گیا ہے۔ فرمایا گیا :

وَمَـنْ لَّـمْ یَحْکُمْ  بِمَآ اَنْـزَلَ  اللّٰہُ  فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکَافِرُوْنَ o (المآئدۃ ۵:۴۴) جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں ، وہی کافر ہیں۔

وَمَـنْ لَّـمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْـزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ o (۵:۴۵)

جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں ، وہی ظالم ہیں۔

وَمَـنْ لَّـمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْـزَلَ  اللّٰہُ  فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ o (۵:۴۷)

جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں ، وہی فاسق و گناہ گار ہیں۔

حلال و حرام کا تعیّن

چیزوں کو حلال یا حرام کرنا بھی ، اللہ تعالیٰ کا تشریعی اختیار ہے ، چنانچہ فرمایا گیا:

وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّ ھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ ط (النحل ۱۶:۱۱۶) اور یہ جو تمھاری زبانیں ، جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور وہ حرام ، تو اس طرح کے حکم لگا کر ، اللہ پر جھوٹ نہ باندھو!

اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ o (النحل ۱۶:۱۱۶) جو لوگ اللہ پر جھوٹے افترا باندھتے ہیں ، وہ ہرگز فلاح نہیں پایا کرتے۔

قُلْ اَرَئَ یْتُمْ مَّـآ اَنْزَلَ اللّٰہُ لَکُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّـنْـہُ حَرَاماً وَّ حَلٰلاً ط قُلْ آٰللّٰہُ اَذِنَ لَکُمْ اَمْ عَلَی اللّٰہِ تَفْتَرُوْنَo (یونس ۱۰: ۵۹) اے نبی ؐ ! ان سے کہیے ! تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمھارے لیے اتارا تھا ، اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھیرالیا۔ ان سے پوچھیے ! اللہ نے کیا تم کو اس کی اجازت دی تھی ؟

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ج(التحریم ۶۶:۱) اے نبی ؐ ! آپؐ اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہیں ، جو اللہ نے آپؐ کے لیے حلال کی ہے؟

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ط (المآئدۃ ۵:۸۷) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جو پاک چیزیں اللہ نے تمھارے لیے حلال کی ہیں ، انھیں حرام نہ کر لو‘ اور حد سے تجاوز نہ کرو۔

مشرکینِ مکہ کا شِرک فی التشریع

مشرکینِ مکہ توحیدِ خالقیت اور توحیدِ ربوبیت کے قائل تھے ، لیکن توحیدِ اُلُوہیت اور  توحیدِ حاکمیت یعنی توحیدِ تشریع کے منکر تھے۔ سورئہ انعام میں ان کے شِرک فی التشریع کی تفصیل بیان کی گئی ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے عقیدے کے عین برعکس توحید فی التشریع کی وضاحت کی ہے۔

مشرکینِ مکہ کے شرک فی التشریع کے سلسلے میں مندرجہ ذیل مثالیں دی گئی ہیں:

۱-مشرکینِ مکہ اپنی کھیتیوں اور اپنے چوپایوں میں اللہ کا حصہ بھی مقرر کرتے تھے اور اپنے دیگرشرکا کا حصہ بھی مقرر کرتے تھے۔(الانعام ۶:۱۳۶)

۲- بعض مویشیوں اور بعض کھیتیوں کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ یہ ممنوع ہیں۔ (۶:۱۳۸)

۳-بعض چوپایوں کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ ان پر سواری حرام ہے اور بعض پر یہ اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ (۶: ۱۳۸)

۴- بعض جانوروں کے پیٹ میں پائے جانے والے (زندہ) بچوں کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ یہ صرف اُن کے مردوں کے لیے حلال ہیں اور عورتوں کے لیے حرام ہیں ، البتہ اگر یہ بچہ مُردہ پیدا ہوتا تو مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے حلال ہو جاتا۔

توحید فی التشریع کے سلسلے میں مندرجہ ذیل مثالیں دی گئی ہیں:

۱- اُن جانوروں کا گوشت جائز ہے ، جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہے۔ (۶:۱۱۸)

۲-اُن جانوروں کا گوشت ناجائز بھی ہے اور فسق بھی ، جن پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا۔ (۶:۱۲۱)

۳- مُردار ، بہتا خون ، سور کا گوشت اور وہ جانور ، جو غَیرُ اللّٰہ کے لیے نامزد کیا گیا ہو‘ کے سوا وحی میں کوئی چیز حرام نہیں ہے۔ (۶:۱۴۵)

۴- شرک ، والدین کی نافرمانی ، اولاد کا قتل ، ظاہری اور باطنی فحاشی ، اور قتلِ نفس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھیرایا ہے۔ (۶:۱۵۱)

شریعت ساز اور قانون ساز

مندرجہ ذیل آیت پر غور کیجیے اور اَرباب، یَعْـبُدُوا اور اِلٰہ کے الفاظ پر خصوصی توجہ فرمائیے:

اِتَّخَذُوْٓا اَ حْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ ج وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰھًا وَّاحِدًا ج لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَطسُبْحٰنَہُ (التوبۃ ۹:۳۱)

انھوں نے (یعنی یہودیوں نے) ا پنے علما اور درویشوں کو ، اللہ کے سوا ، اپنا رَب بنا لیا ہے ا ور اسی طرح (عیسائیوں نے ) مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو ایک ’معبود‘ کے سوا کسی کی ’عبادت‘ (بندگی) کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا ، وہ جس کے سوا ، کوئی مستحقِ عبادت نہیں ہے‘ بے عیب پاک ہستی ہے۔

اس آیت میں‘ علما اور درویشوں کی عبادت سے مراد، ان کی اطاعت ہے۔ قرآن و سنت کے مقابلے میں ، علما ، صوفیا، تارکُ الدّنیا فقرا (رُھبان) اور گوشہ نشینوں کے ارشادات کو ماننا اور اُن پر عمل کرنا، شِرک فی الحکم ہے۔ قرآن و سنت کے حلال وحرام کے اُصولوں کو ترک کر کے ، اَحبار (علما) اور رُھبان (راہب صوفیا) کے تصنیف کردہ حلال و حرام کوماننا بھی شرک ہے اور اُن کو  اَرباب بنانے کے مترادف ہے ، جیسا کہ مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں نبی کریم ؐ نے حضرت عدی ؓ بن حاتم سے وضاحت فرمائی۔

اجتھاد کے ذریعے قانون سازی

فقہاے امت ، علماے کرام اور ماہرینِ قانونِ شریعتِ اِسلامی ، ذیلی اور فروعی امور میں ، قرآن و سنت کے سائے تلے ، نئے مسائل کے حل کے لیے اجتہاد کر سکتے ہیں۔ لیکن اجتہاد کے صحیح ہونے کے لیے تین شرائط ضروری ہیں:

۱- اجتہاد کسی نصِ قرآنی کے خلاف نہ ہو۔

۲- اجتہاد کسی حدیثِ متواتر اور حدیثِ صحیح کے خلاف نہ ہو۔

۳- اجتہاد اجماعِ امت کے خلاف نہ ہو۔

مغربی جمھوریت اور تشریعی توحید

عوام کے بااعتماد نمایندوں کے ذریعے نظامِ سلطنت کو چلانا جمہوریت ہے۔ اسلام اس کا مخالف نہیں۔ ظاہر ہے خلفاے راشدین ؓ بھی صحابہ کرام ؓ کے بااعتماد نمایندے تھے اور انھوں نے بلاجبرو اِکراہ ‘ ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، لیکن ’ مغربی جمہوریت ‘ ایک بالکل مختلف چیز ہے۔

مغربی جمہوریت کی رو سے ، عوام کے با اعتماد نمایندوں کی اکثریت کو پارلیمنٹ یا اسمبلی میں خدائی قانون اور تشریعی قوانین میں تغیر و تبدل کے اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں۔ یہ   شرک فی التشریع ہے۔ اسلام پارلیمنٹ کی ایسی بالا دستی کو تسلیم نہیں کرتا۔ البتہ اگر پارلیمنٹ ، خدائی قانون اور تشریعی قوانین کے ماتحت رہ کر ، فروعی معاملات میں مندرجہ بالا تین شرائط کے مطابق قانون سازی کرے تو اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔

 

آج دنیا میں مختلف نظریات اور اِزموں کی بھرمار نے فضا کو دھندلا دیا ہے۔ بے یقینی اور عدمِ اطمینان کی کیفیت نے انسان کا انسانیت پر اعتماد متزلزل کردیا ہے۔ لوگ اور معاشرے  غموں سے دل گرفتہ اور دکھوں سے آزردہ ہیں‘ جب کہ انسان ہر مادی آسایش کے باوجود ناآسودہ ہے۔ گوہرمقصود مفقود‘ سچی خوشی کا حصول محال اور ایک لمحے کی طمانیت عنقا۔ ہر طرف دہشت و وحشت اور بے یقینی و بے اطمینانی ہے۔ قومیں قوموں سے‘ فرقے فرقوں سے‘ طبقے طبقوں سے دست و گریباں ہیں اور یہ کش مکش ختم ہوتی نظرنہیں آتی۔ ہرشخص خودغرضی میں مبتلا ہے۔   نیکی‘ شرافت اور اخلاق نام کی کوئی چیز نہیں۔ آج انسان کی علمی سطح بہت بلند ہوچکی ہے۔ وہ  بڑے بڑے خوش نما فلسفے گھڑتا ہے لیکن اس کی تمام تدبیریں ناکام ہوچکی ہیں۔ انسان کو خدا کی ہدایت اور اس کے رسولوں کی رہنمائی کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ موجودہ دور کے انسان کی سب سے بڑی مشکل ’متفقہ اقدار‘ کا نہ ہونا ہے‘ جنھیں سب مل کر تسلیم کرسکیں اور جو انسانیت کے شیرازے کو مجتمع رکھ سکیں‘ اور جو اخوتِ انسانی کا باعث ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں تصادم اور کش مکش کا ایک طوفان برپا ہے اور اسے روکنے والا کوئی نہیں۔ یہ سب سے بڑی گتھی ہے جس کے حل ہونے پر دوسری گتھیوں کے سلجھنے کا دارومدار ہے۔

عصر حاضرکا اھم مسئلہ

آج دنیا میں ’اخوت انسانی‘ کا فقدان ہے‘ اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انسانی اخوت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تمام انسانوں کے مابین کوئی قدرِمشترک نہ دریافت کرلی جائے۔ انسانی معاشروں کے مابین کسی ’قدرِمشترک‘ کے حصول کے لیے سب سے بڑی بنیاد توحید ہے۔ اشتراکِ عقیدہ کے لیے توحید پر اتفاق نہایت ضروری ہے، یعنی انسان خدا کی چوکھٹ کے سوا کسی انسانی بارگاہ پر‘ خواہ وہ دنیاوی اعتبار سے کتنی ہی معتبر اورمقتدر کیوں نہ ہو‘ اپنی جبین نیاز نہ جھکائے۔ یہی وہ پیغام ہے جو سورۂ آلِ عمران میں دیا گیا ہے:

قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍم  بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِط   (اٰل عمرٰن ۳:۶۴) اے نبیؐ، کہو‘اے اہلِ کتاب، آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں‘ اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سواکسی کو اپنا رب نہ بنالے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آواز اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ساتھ بلند ہوئی۔  رحمت الٰہی کا فیضان عام ہوا‘ وحدانیت کی برکات ارزاں ہوئیں۔ بے چین اور آوارہ و سرگرداں دنیا کو پیامِ امن و راحت اور انسانی قافلوں کو پرچم رسالت کے سائے میں جگہ میسر آئی۔ یہ دعوت کسی خاص قوم و گروہ‘ خطے یا علاقے تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کی برکتیں اور رحمتیں تمام بنی نوع انسان کے لیے تھیں۔ جیساکہ ارشاد ربانی ہے:

قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَانِ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج  لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُص فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَo (الاعراف ۷:۱۵۸) اے محمدؐ،کہوکہ اے انسانو‘ میں تم سب کی طرف اُس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے‘ اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے‘ وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے‘پس ایمان لائو اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی اُمیؐ پر جو اللہ اور اس کے ارشادات کو مانتا ہے‘ اور پیروی اختیار کرو اُس کی‘ امید ہے کہ تم راہِ راست پالو گے۔

گویا اس آیت میں حسب ذیل نکات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی دعوت پوری حقیقت کے ساتھ واضح کردی گئی ہے:

۱- یہ دعوت عالم گیر اور یکساں طور پر تمام نوع انسانی کے لیے ہے۔

۲- یہ ایک خدا کے آگے سب کے سروں کو جھکا ہوا دیکھنا چاہتی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

۳- ایمان باللّٰہ وکلماتہٖ اس کا شعار ہے‘ یعنی خدا پر اور اس کے کلمات وحی پر ایمان لازمی ہے۔

اس طرزِ استدلال سے فائدہ یہ ہوا کہ داعی کے متعلق یہ بدگمانی پیدا نہیں ہوتی کہ یہ کوئی ایسی شخصیت ہے جو انفرادیت کے زعم میں تمام ماضی پر خط ِ تنسیخ پھیرنا چاہتی ہے‘ بلکہ یہ خیال ہوتا ہے کہ اسے انسانیت کو اُس کا قدیم ترین ورثہ منتقل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ آپؐ نے اپنے مخاطبین سے نزاع یا افتراق پیدا کرنے کے بجاے اس بات کی کوشش فرمائی کہ جن اصولوں پراشتراک و اتحاد ہے اس کے مشترکہ پہلوؤں کو استدلال کے ذریعے واضح کردیا جائے‘ تاکہ مخاطب داعیِ حق کی بات سننے کی طرف راغب ہو۔ اس میں ضد اور ہٹ دھرمی کا مادہ کم سے کم پیدا ہو اور پھر اس کے سامنے ان نتائج کو رکھا جائے جوا س کے اپنے اقرار کردہ اصولوں سے لازمی طور پر نکلتے ہیں تاکہ وہ ان کو اپنی بات سمجھ کر قبول کرنے کی طرف مائل ہو۔ چنانچہ سورئہ عنکبوت میں یہ ہدایت: وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَھْلَ الْکِتٰبِ، ’’ اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو‘   اسی امر کی غماز ہے‘ جب کہ اس کا خوب صورت ترین پیرایہ یہ ہے: ’’اے اہلِ کتاب! اس بات کی طرف آئو جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے‘‘۔

بہرصورت رسولؐ نے اپنے اور عہدِقدیم کی دیگر اقوام کے درمیان ’قدرِ مشترک‘ کو   تلاش فرمایا اور اس کو بناے بحث و استدلال بنایا۔ نوعِ انسانی اپنے ظاہری اختلافات کے لحاظ سے کتنی ہی متفرق اور پراگندا کیوں نہ نظر آئے لیکن اس کے اس تفرق اور دُوری کی تہہ میں بے شمار اصول و قواعد ایسے بھی ہیں جن پر سب متحد ہوسکتے ہیں۔ آفاق کے قوانین و ضوابط‘ فطرت کے مظاہر‘ تاریخ کے مسلّمات اور بنیادی اخلاقیات میں سے بہت سی چیزیں ایسی ہیں‘ جن میں شرق و غرب اور عرب و عجم سب ایک ہی نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ رسولؐ کے اس طرزِاستدلال اور طریق دعوت کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ جو لوگ ایمان قبول کرتے گئے‘ ان کو ذہنی و فکری طور پر مزید اطمینان حاصل ہوا اور وہ اس پر پوری طرح جم گئے‘ اور معاشرے کا وہ طبقہ جو شک و تذبذب اور شبہات و احتمالات کا شکار تھا اور قبولِ حق میں چند رکاوٹوں کے سبب ہچکچا رہا تھا‘ اس طرزِ استدلال سے مطمئن ہوگیا۔

اسلام کا نقطۂ نظر

ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گتھی کو انتہائی خوش اسلوبی سے سلجھایا ہے۔ آپؐ نے رہتی دنیا تک کے انسانوں کے سامنے یگانگت‘ ہم آہنگی اور اتحادِعالم کے تصورات ان دلائل کی روشنی میں رکھے کہ دنیا کے انسان جو کبھی پیدا ہوئے تھے‘ جو آج موجود ہیں‘اور جو آیندہ رہتی دنیا تک پیدا ہوں گے‘ ان کا پیدا کرنے والا‘ پالنے والا‘ ان کی زندگی و موت کامالک‘ ان کے لیے زندگی کا تمام سامان بہم پہنچانے والا‘ انھیں جسمانی‘ ذہنی‘ روحانی‘ ہر قسم کی قوت بخشنے والا‘ صرف اللہ ہے۔ اسی نے اس ساری کائنات کو پیدا کیا ہے اور وہی اس نظامِ عالم کا نگران اور مدبر و منتظم ہے۔ وہی تمام انسانوں کا مالک اور آقا ہے اور وہی ان کا حقیقی فرماںروا ہے۔ نبیؐ خدا کی جو کتاب انسانوں کی ہدایت کے لیے لائے‘ اس کی ابتدا اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (شکروستایش اللہ کے لیے ہے جو ساری کائنات کا مالک اور پروردگار ہے۔ الفاتحہ ۱:۱) سے ہوتی ہے‘ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِo مَلِکِ النَّاسِ o اِلٰہِ النَّاسِ(کہہ دیجیے میں پناہ چاہتا ہوں تمام انسانوں کے پروردگار کی‘ تمام انسانوں کے بادشاہ کی اور تمام انسانوں کے معبود کی۔الناس ۱۱۴:۱-۳) پر اس کلام کی  انتہا ہوتی ہے۔ اس کی تعلیمات کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ تمام انسان اللہ کو اپنا مالک و آقا مانیں اور اُسی کو ’مقتدرِاعلیٰ‘ تسلیم کریں۔

آج اگرچہ پوری دنیا ایک عالمی گائوں بن چکی ہے۔ انسانی آبادیاں بظاہر ایک بستی کی صورت اختیار کرچکی ہیں مگر ان کے درمیان کسی مشترکہ رشتے کا تصور پروان نہیں چڑھ سکا‘ جو ان انسانی آبادیوں کو ایک دوسرے کے دکھ درد کا احساس دلا سکے۔ سفیدفام‘ سیاہ فام کے دشمن ہیں۔ ایشیا اور یورپ میں برتری اور کہتری کی مستقل دوڑ موجود ہے۔ آرین نسل‘ سامی نسل سے بیر رکھے ہوئے ہے۔ گویا ہر قوم دوسری قوم کی بدخواہ اور ہر ملک دوسرے ملک کا دشمن ہے۔

عالمی اتحاد و یک جہتی کے سب سے بڑے اور عظیم علَم بردار‘ ہادی برحق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ’وحدتِ انسانی‘ کے عظیم تصور کو دنیا کے ذہنوں میں راسخ فرمایا کہ سب انسان ایک خالق کی مخلوق ہیں‘ ایک مالک کے بندے اور ایک حاکم کی رعیت ہیں‘ اور ان کا حاکم و مالک اپنی رعیت کو متحد و متفق دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ جھگڑے‘ تفرقے‘ نفاق‘ دشمنی اور ایک دوسرے کی بدخواہی کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جغرافیائی‘ سیاسی اور معاشی حدود میں منقسم لوگوں پر یہ حقیقت واضح فرما دی کہ ان تفرقوں اور اس تقسیم کی کوئی اصل نہیں ہے۔ پوری زمین اللہ کی ہے اور اس پر موجود سارے ذرائع اور وسائل اللہ کے پیدا کردہ ہیں اور وہ سب انسانوں کے لیے ہیں۔ ساری زمین انسان کا وطن ہے۔ وطن پرستی کے تمام تعصبات نہ صرف بے اصل ہیں بلکہ انتہائی غلط اور مالک ارض و سما کی ناخوشی کا باعث ہیں۔ اس کے ساتھ نبی اکرمؐ نے لوگوں کے دلوں میں یہ بات راسخ فرمائی کہ تمام انسان ایک ہی ماں، باپ (آدم و حوا) کی اولاد ہیں۔ اس خونی اشتراک کے سبب یہ سب بھائی بھائی ہیں۔ رنگ و نسل کی ساری تفریقیں غلط اور بے بنیاد ہیں۔ تقسیم صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے اچھوں اور بُروں کی تقسیم‘ خدا کو ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کی تقسیم۔

عالمی یگانگت اور اتحاد و یک جہتی کے لیے ضروری ہے کہ انسانیت کے پاس متفقہ اور مشترکہ نصب العین اور لائحہ عمل ہو۔ مختلف طبقات اگر مختلف مقاصد اور نظریۂ حیات کے حامل ہوں گے تو باہمی آویزش موجود رہے گی۔ نصب العین کا ٹکرائو دنیا کے لیے خطرے کی علامت بن جاتا ہے‘ جس کے سبب انسانی بستیاں ہمہ وقت ذہنی‘ فکری‘ سیاسی اور معاشی پریشانیوں میں مبتلا رہتی ہیں۔ اس مشکل کو نبی اکرمؐ نے بڑی عمدگی کے ساتھ حل فرمایا اور اعلان  فرما دیا کہ پوری انسانیت کے نصب العین کا تعین صرف خالقِ کائنات کا حق ہے۔ اسی کا وضع کیا ہوا ’نصب العین‘ انسانی قافلوں کے لیے رشد و ہدایت کا باعث ہوگا۔ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کا تابع فرمان ہے۔  انسان بھی کائنات کا ایک جزو ہے۔ انسان کی زندگی کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے مالک و آقا کی اطاعت و بندگی اختیار کرے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عالمی اتحاد‘ یگانگت اور ہم آہنگی کے لیے آثارِ کائنات اور قوانین فطرت کی روشنی میں دنیا کو اس حقیقت سے روشناس کرایا کہ صرف دنیا کی زندگی ہی زندگی نہیں ہے‘ بلکہ مرنے کے بعد ایک دوسری زندگی انسان کو ملے گی جو دائمی و ابدی ہوگی اور جس کی نعمتیں اور تکلیفیں بے پایاں و غیرفانی ہوں گی۔ اس عالم کی دائمی اور لامحدود نعمتوں کے مقابلے میں اس دنیا کے چندروزہ اور محدود فائدوں کی وہی حیثیت ہے جو سمندر کے مقابلے میں ایک قطرے کی ہوتی ہے۔ دنیاکی یہ حقیر سی نعمتیں پوری جدوجہد اور دوڑدھوپ کے باوجود اکثر انسانوں کو حاصل نہیں ہوپاتیں‘ اور وہ اس کی تمنا کرتے کرتے ہی دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس     عالم لازوال کی عظیم نعمتیں ہراس انسان کو جو اُن کے لیے مناسب کوشش کرے گا‘ یقینا ملیں گی۔  اس لیے ضروری ہے کہ انسان تقویٰ کی رَوش اختیار کرے اور آخرت کے تصور جزا و سزا کو اپنے قلب و جگر میں موجزن کرے۔ کیونکہ یہی تصور انسان کی فلاح کا ضامن ہوسکتاہے۔

بین المذاہب اور بین الاقوامی اتحاد و یگانگت کے لیے درج ذیل پہلو بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں:

انسانی حقوق کی ھمہ گیری اور احترامِ انسانیت

جس طرح اسلام نے ایک ہمہ گیر عالمی اخلاقی نظام دیا ہے‘ اسی طرح اس نے ہر صنف‘ ہرطبقے اور ہرمذہب کے افراد کے حقوق مقرر کردیے ہیں تاکہ انسانی بھائی چارے‘ احترامِ آدمیت اور معاشرتی و سماجی مساوات میں کہیں خلل واقع نہ ہو۔ انسانی حقوق کی ادایگی میں اسلام نے قومی‘وطنی‘ مذہبی اور طبقاتی عصبیت کا نام و نشان جس انداز میں مٹایا ہے اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ انسانی حقوق کی ادایگی کے حوالے سے وہ مسلمانوں کے لیے جو معیار مقرر کرتا ہے وہ یہ ہے: ’’کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنی ذات کے لیے پسند کرتا ہے‘‘۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک بنی نوع انسان کی بھلائی کا جذبہ کسی انسان کے دل میں پیدا نہ ہو تو وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔ رنگ و نسل اور اس کے امتیازات کو ختم کرتے ہوئے عالم گیر معاشرت کے تصور کو‘ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپؐ نے یوں واضح فرمایا: ’’اے لوگو! تمھارا رب ایک ہے اور تمھارے باپ آدم ؑ بھی ایک ہیں۔کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، مگر پاک بازی اور تقویٰ کی وجہ سے۔ سارے انسان آدم ؑ کی اولاد ہیں اور آدم ؑ مٹی سے بنائے گئے تھے‘‘۔

خدا نے پہلے انسان کی تخلیق خلافت و نبوت کی ذمہ داری کے ساتھ کی تھی‘ اس لیے بنی نوع انسان کے ہرہرفرد کو چاہیے کہ وہ اس دنیا میں خلافتِ الٰہی کا فریضہ ایک فرض شناس کی طرح انجام دے۔ وہ اس کائنات میں معین خدا بن کر نہیں بلکہ نائب خدا بن کر تصرف کرے۔ وہ صفاتِ الٰہی کا مظہر بن کر کائنات ارضی کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لے۔ اس کو تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاق اللّٰہ کا حکم دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس کائنات کے خالق کی نظر جہان ہست و بود کی پہنائیوں سے بھی زیادہ وسیع ہے‘ اسی طرح انسان کے قلب و نظر میں وسعت و ہمہ گیری ہونی چاہیے۔ جس طرح اس کے رحم و کرم کا فیضان ساری مخلوقات کے لیے عام ہے‘ اسی طرح اس کے دل میں بھی یہی ہمہ گیر جذبہ رحم و کرم موجزن ہونا چاہیے۔ اس کا خوانِ ربوبیت جس طرح اپنے نافرمانوں پر بھی بند نہیں ہوتا‘ انسان کو بھی اپنے اندر ربوبیت عامہ کا یہی جذبہ اُبھارنا چاہیے۔ وہ سب کو دیتا ہے مگر خود کسی سے کچھ نہیں لیتا۔ یہی بے نیاز اور بے غرض جذبہ انسان کو اپنے دل کی گہرائیوں میں پیدا کرنا چاہیے۔ ساری مخلوق خدا کی عیال ہے‘ اس کے ایک ایک فرد سے اس کو محبت ہے‘ اس لیے ایک انسان کو ایک انسان کے ساتھ وہی برتائو کرنا چاہیے جو وہ اپنے بال بچوں کے لیے پسند کرتا ہے۔

عقیدے کی آزادی اور بین المذاھب تعلقات

ہرانسان کو چونکہ خدا نے عقل و تمیز دی ہے‘ پھر اس نے وحی کے ذریعے اس کو صحیح زاویۂ نظر اختیار کرنے کی طرف رہنمائی بھی کردی ہے‘ اِس لیے ہرشخص کو اس بات کی آزادی ہے کہ وہ   صراطِ مستقیم پر چلتا رہے یا غلط عقیدہ قائم کرکے چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیوں میں بھٹکتا پھرے۔ بہرحال اس دنیا میں اسے کوئی نظریہ یا عقیدہ قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْتَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ (البقرہ ۲:۲۵۶) دین کے بارے میں کوئی زبردستی اور جبر نہیں‘ ہدایت گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے۔ (جس کا جی چاہے قبول کرے‘ جس کا جی چاہے نہ کرے)

قرآن پاک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے ہرمسلمان کو تنبیہہ کرتا ہے کہ:

وَ لَوْشَآئَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّھُمْ جَمِیْعًاط اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَo (یونس ۱۰:۹۹) اگر اللہ چاہے تو زمین کے تمام رہنے والے مومن ہوجائیں تو کیا تم لوگوں کو مومن بنانے میں جبرواکراہ کرنا چاہتے ہو۔

اس نے محض حریت عقیدہ کا نظریہ ہی نہیں پیش کیا بلکہ عملی و قانونی طور پر اس کی حفاظت بھی کی ہے۔ اس سلسلے میں کسی پر کوئی جبر نہ کیا جائے‘ جیساکہ مذکورہ آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر کسی کو اپنے کسی عقیدے کی طرف دعوت دینا ہے یا کسی کے عقیدے پر تنقید کرنی ہے توعمدہ پیراے اور نرمی کے ساتھ کرنی چاہیے۔

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ(النحل ۱۶:۱۲۵) اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ‘ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو۔

پوری اسلامی تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ دعوت اسلام کے معاملے میں کبھی جبر کو اختیار نہیں کیا گیا اور غیرمسلموں کی مذہبی آزادی کو ہمیشہ مقدم رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مدینہ پہنچ کر  آپؐ  نے یہود سے جو معاہدہ کیا تھا‘ اس میں اُن کی دینی آزادی کو واضح انداز میں متعین فرما دیا تھا۔

مدینہ منورہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انقلابی اقدامات نے وہاں کی قومی زندگی کو ایک ہمہ گیر معاشرت سے بھی متعارف کرایا۔ ہجرت کے سال میں آپؐ  نے مندرجہ ذیل پانچ امور پر اپنی توجہ مبذول فرمائی:

                ۱-  میثاقِ مدینہ کے ذریعے سے آپؐ  نے اہلیانِ مدینہ کو بین المذاہب یگانگت اور اتحاد کا درس دیا۔ میثاقِ مدینہ آپؐ  کا ایسا اقدام تھا جس کے نتیجے میں ریاست مدینہ میں آپؐ   کی حاکمیت مسلم ہوگئی۔

                ۲-  مواخات کے ذریعے آپؐ نے معاشی استحکام کا پروگرام دیا۔ اس طرح مکے سے آنے والے مہاجرین کی آبادکاری و معاشی بحالی ممکن ہوئی۔

                ۳-  مسجدنبویؐ تعمیر کی گئی اور افرادِ معاشرہ کی تربیت کا کام بھی شروع کردیا گیا۔

                ۴-  ریاست مدینہ کا نظم و نسق چلانے کے لیے آپؐ  نے نظامِ سلطنت (administrative system) دیا۔

                ۵-  ریاست مدینہ کے دفاع کے لیے آپؐ  نے اقدامات فرمائے۔

آپؐ  نے یہود و نصاریٰ سمیت کفارِ مکہ اور دیگر عرب قبائل کے ساتھ معاہدات فرمائے۔ ان معاہدات میں قابلِ ذکر بات یہ تھی کہ یہ سب کی سب اسلام دشمن سیکولر اکائیاں تھیں جن کے ساتھ آپؐ  نے مختلف اوقات میں مختلف نوعیت کے اتحاد کیے۔ لیکن آپؐ کے دو اتحاد بطور خاص مشہور ہوئے اور نتائج کے اعتبار سے تاریخی اور فیصلہ کن اہمیت کے حامل ٹھیرے۔ ان میں ایک میثاقِ مدینہ اور دوسرا معاہدۂ حدیبیہ۔ میثاقِ مدینہ ایک ہجری میں یثرب کے قبائل اور بالخصوص یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ ہونے والا سیاسی اور دفاعی معاہدہ تھا‘ جب کہ معاہدۂ حدیبیہ ۶ہجری میں عرب کی سب سے بڑی اسلام دشمن قوت کفار و مشرکین مکہ کے ساتھ طے پایا۔

بے لاگ انصاف

بین المذاہب اور بین الاقوامی اتحاد و یگانگت کی بنیاد کو مؤثر اورمستحکم کرنے کے لیے اسلام نے سب سے زیادہ زور بے لاگ اور مساویانہ انصاف پر دیا۔ اسلام کے نزدیک عدل و انصاف محض ایک قانونی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ وہ ضابطہ قانونی کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے‘ جو انصاف کو صرف عدالت تک محدود نہیں رکھتا بلکہ وہ انفرادی‘ اجتماعی اور معاشرتی زندگی کے ہرگوشے میں منصف اور عادل بناتا ہے۔ وہ جس طرح ایک فرد کے ساتھ انصاف کا حکم دیتا ہے‘  اسی طرح قومی‘ ملکی اور بین الاقوامی معاملات میں بھی ہر ہرقدم پر اس کی نگرانی کرتاہے۔ قرآن میں جگہ جگہ اس موضوع کو بیان کیا گیا ہے:

اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا لا وَ اِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِط (النساء ۴:۵۸) مسلمانو‘ اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو‘ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔

جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح مکہ سے ہم کنار کیا تو اس موقع پر اس آیت کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں میں انتقام کے جذبے کی ہمیشہ کے لیے بیخ کنی کردی گئی:

وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْاط  اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَ اتَّقُوْا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ o(المائدہ ۵:۸) کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جائو۔ عدل کرو‘ یہ خداترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو‘ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

معاھدات کی پابندی

وہ چیز جس سے بین المذاہب اور بین الاقوامی تصورات اور جذبات کو نظری اور عملی طور پر مضبوطی میسر آتی اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ ملتا ہے‘ وہ معاہدات کی پابندی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدات کی پابندی کو اخلاقی اور قانونی دونوں حیثیتوں سے ضروری قرار دیا ہے۔ معاہدہ خواہ شخصی ہو یا اجتماعی‘ معاشی ہو یا تجارتی‘صلح کا ہو یا امن و امان کے قیام و بقا کا___ اس کی پابندی ہرصورت لازمی ہے۔ اسلام کا دامن توثیق معاہدات کے سلسلے میں بڑا وسیع ہے۔ اس کے نزدیک اگر برسرِجنگ قوم بھی صلح اور مصالحت کے لیے ہاتھ بڑھائے تو جب تک مسلمانوں کو کوئی شدید نقصان نہ ہوا ہو یا اس میں کوئی کھلا ہوا فریب نہ نظر آتا ہو‘ اس وقت تک اس کا خیرمقدم کرنا ضروری ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی بار بار اور سخت تاکید آئی ہے اور عملی طور پر اسلامی حکومتیں اس کی پابندی کرتی رہی ہیں:

وَ اَوْفُوْا بِالْعَھْدِ اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْئُوْلًا(بنی اسرائیل ۱۷:۳۴) عہد کو پورا کرو بے شک عہد کے بارے میں خداے تعالیٰ کے حضور بازپرس ہوگی۔

اسلام نے معاہدے کو اسلامی اور اخلاقی دونوں حیثیتوں سے بڑی اہمیت دی ہے۔     نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ حق کے فروغ اور اسلام کے استحکام کے لیے کثیرالجہات  حکمت عملی اختیار فرمائی جس میں آپؐ  نے مخالف قوتوں کے ساتھ اتحاد و معاہدات کیے۔ یہود سے معاہدہ توحید کے ’مساوی کلمہ‘ کی بنیاد پر طے پایا۔ دیگر کئی قبائل سے معاہدات طے کرتے وقت آپؐ  نے حالات کے مطابق حکمت عملی اختیار فرمائی۔ طائف کے قبیلہ بنوثقیف نے معاہدے کے لیے  یہ مطالبات پیش کیے: ۱-نماز سے استثنا ۲- حرمتِ زنا سے استثنا ۳-طائف کو حرم قرار دینا ۴-فرضیت زکوٰۃ سے استثنا ۵-فرضیت جہاد سے استثنا۔ آپؐ  نے انھیں پہلی دو شرطوں پر منوا لیا اور بعد کی تین شرطیں مان لیں۔ صحابہ کرامؓ سے آپؐ نے فرمایا کہ جب اسلام ان کے دل میں جم جائے گا تو وہ خودبخود مکمل اسلام کو مان لیں گے۔ آپؐ  نے صرف یہود مدینہ سے ہی نہیں بلکہ دیگر کئی قبائل‘ مثلاً بنی ضمرہ‘ بنی غفار‘ نعیم بن مسعود اشجعی اور نجران کے عیسائیوں سے بھی معاہدات کیے۔ آپؐ  نے پیغامِ حق کے فروغ کے لیے مختلف النوع اتحاد کیے جو سماجی‘ سیاسی‘عسکری و دفاعی‘ اقتصادی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ آپؐ نے مدینہ تشریف لانے کے بعد سب سے پہلے مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے کی فضا پیدا کی۔ آپؐ  نے وہاں کے عام شہریوں اور یہودیوں سے جو معاہدہ کیا اس میں ۴۸ دفعات ہیں۔ ان میں سے ہر دفعہ معاہداتی دنیا میں اپنی انفرادیت رکھتی ہے اور یہ بھی وضاحت ہوتی ہے کہ اسلامی مملکت میں دوسرے مذاہب کی کیا حیثیت ہے‘ نیز یہ کہ اسلام اپنے ہمسایوں کے ساتھ پُرامن بقاے باہمی کا کس قدر خواہاں ہے۔

سفارتی آداب

بین الاقوامی تعلقات کے استوار کرنے اور بین المذاہب اتحاد اور رواداری کو فروغ دینے میں دوست اور دشمن ملکوں کے سفرا اور نمایندوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ بسااوقات یہ سفیر اور نمایندے بڑے بڑے بگڑے اور الجھے ہوئے معاملات کو سلجھا دیتے ہیں‘اور کبھی ان کی ذرا سی غلطی سے بہت سے معاملات خراب بھی ہوجاتے ہیں۔ سفرا اور نمایندے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ نمایندے یا وفود جو کسی عارضی مہم پر یاکسی وقتی اقتصادی یا سیاسی معاملہ طے کرنے کے لیے کسی ملک میں آجاتے ہیں‘ اور دوسرے وہ سفیرجو مستقل طور پر اپنے ملک کی نمایندگی کرتے ہیں۔

دیگر امور

اس وقت بین الاقوامی تعلقات کی استواری کے لیے ناگہانی اور معاشی ضرورتوں پر امداد کا طریقہ بھی رائج ہے۔ اس سلسلے میں اسلام کا تصور دوسرے تمام نظاموں سے زیادہ آفاقی اور پاکیزہ ہے۔ قریش اور ان کے ہم نوا قبیلوں کو مسلمانوں سے جو پُرخاش تھی اور جس طرح وہ ان کے خون کے پیاسے تھے اس سے ہر ایک واقف ہے‘ مگر اسی دوران ایک زبردست قحط پڑتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوتی ہے۔ آپؐ مدینہ سے اسلام کے سب سے بڑے دشمن ابوسفیان کے پاس کھجوریں اور پانچ سو دینار نقد اس لیے روانہ فرماتے ہیں کہ وہ قحط زدہ اشخاص کی اس سے مدد کریں۔ یہ بات ذہن میںرکھنی چاہیے کہ یہ امداد مدینہ جیسی غریب اور چھوٹی سی آبادی کی طرف سے اُس قوم کو دی گئی جو دنیا میں اسلام کی سب سے بڑی دشمن تھی۔

خلاصہ: ان تمام تفصیلات کا خلاصہ یہ ہوا کہ:

                ۱-  اسلام توحید و رسالت‘ کتاب اور کائنات کا آفاقی تصور دے کر انسان میں ہمہ گیر    بین الاقوامی ذہنیت پیدا کرتا ہے۔

                ۲-  وہ خلافتِ آدم کا تصور دے کر صرف انسان کو انسان سے نہیں بلکہ پوری کائنات سے ہم آہنگ بناتا ہے اور اس میں اس کی ذمہ داری کو محسوس کراتا ہے۔

                ۳-  وہ انسانی بھائی چارے کی بنیاد عقل و ضمیر کے اشتراک پر نہیں بلکہ خون کے رشتے پر رکھتا ہے۔

                ۴-  وہ اس میں مساوات کا جذبہ اُبھارتا ہے اور اس کے ذریعے ہر طرح کی نسلی‘ قومی اور    وطنی تنگ نظری کی جڑ کاٹتا ہے۔

                ۵-  قومی‘ وطنی تقسیم کو محض ایک عارضی اور تعارف کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے۔

                ۶-  وہ اخلاق و حقوق میں ہرانسان کو برابر سمجھتا ہے۔

                ۷-  ہر شخص کی عزت‘ جان‘ مال‘ عقل‘ نسل اور ملکیت کی حفاظت کرتا ہے۔

                ۸-  ہر شخص کو عقیدہ‘ راے‘ فکر اور قول کی آزادی دیتا ہے۔

                ۹-  وہ حقوق شہریت میں کم سے کم پابندی عائد کرتا ہے۔ وہ ’ہرملک ملک ما ست کہ ملک خداے ماست‘ کا تصور پیش کرتاہے۔

                ۱۰-  وہ آزاد تجارت کا حامی ہے جس میں کم سے کم ٹیکس لیا جائے۔

                ۱۱-  مادی معاملات‘ بین الاقوامی تعلقات اور معاہدات میں خواہ وہ سیاسی ہوں یا معاشی‘ اس صورت کو پسند کرتا ہے جس کی بنیاد اخلاق اور عام خلقِ خدا کی منفعت پر ہو۔

                ۱۲-  وہ ضرورت کے وقت دنیا کے ہر انسان کی بے غرض مدد کرنے کی ترغیب دیتا ہے خواہ یہ مدد ایک فرد کو دی جائے یاکسی حکومت کو‘ کسی مسلمان کو دی جائے یا غیرمسلم کو‘ کالے کو دی جائے یا گورے کو۔ وہ اس سے مادی منفعت اٹھانے سے نہ صرف منع کرتا ہے‘ بلکہ اس کے اظہار کو بھی ناپسند کرتا ہے۔ قرآن پاک میں بار بار اس کی صراحت آتی ہے کہ امداد دے کر کسی فرد یا جماعت کو اپنا ممنونِ احسان بنانے کی کوشش نہ کرو۔

                ۱۳-  اسلام انسانوں کے درمیان جس تفریق کا قائل ہے وہ خالص الہامی اصولوں کی بنیاد پر ہے۔ اس میں وہ نہ تو کسی طرح کی قومی‘ وطنی عصبیت کو راہ دیتا ہے اور نہ نسلی برتری‘  جانب داری یا کسی انسان کی حق تلفی کو گوارا کرتا ہے۔ اسلام کی یہ تقسیم حق و ناحق کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اہلِ حق وہ ہیں جو خدا کی اس ہدایت کو مانتے اور اس پر عمل کرتے ہوں جو اس نے اپنے نبیوں کے ذریعے بھیجی ہے۔ جس کی آخری کڑی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور وہ اہلِ باطل غلط کار ہیں جو اس ہدایت پر یقین نہیں رکھتے اور اس پر  عمل نہیں کرتے۔ یہ تقسیم اس لیے کرنی پڑتی ہے کہ زندگی کے ہر ہرمعاملے کی طرح‘   بین الاقوامی معاملات میں بھی جیساکہ اُوپر کی تفصیل سے معلوم ہوچکا ہے‘ اسلام اپنا ایک خالص اخلاقی اور ماورائی تصور رکھتا ہے۔ اس کو ممتاز کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ اس کے ماننے والوں کو ایک ایسا امتیازی نام دیا جائے جس سے کسی طرح کی قومی‘ وطنی اور طبقاتی عصبیت بھی نہ پیدا ہو اور اصولی اعتبار سے آفاقیت کے ساتھ  ان کی یہ امتیازی حیثیت بھی باقی رہے۔

 

ترجمہ: پروفیسر عبدالقدیرسلیمo

اگر سادہ زبان میں بیان کیا جائے تو التوحید کا مطلب ہے اس بات پر ایمان اور اس کی شہادت کہ ’’اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے‘‘۔ بظاہر یہ منفی بیان‘ جو حددرجے مختصر اور سادہ ہے‘ سارے اسلام میں انتہائی درجے کے عظیم ترین اور مضمرات سے بھرپور مفاہیم کا حامل ہے۔ بسااوقات یوں ہوتا ہے کہ ایک پوری ثقافت‘ ایک پوری تہذیب یا ایک پوری تاریخ ایک ہی جملے میں سموئی ہوئی ہوتی ہے۔ کلمہ‘ جسے ہم اسلام کا کلمۂ شہادت کہتے ہیں‘ اس کی صورت یہی ہے۔ اسلامی تہذیب و تاریخ کا تمام تر تنوع‘ سرمایہ‘ ثقافت‘ علم وحکمت اور دانائی‘ اس مختصر ترین بیانیہ جملے میں سماگئی ہے: لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہ___ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔

التوحید‘ دراصل حقیقت کا‘ صداقت کا‘ دنیا کا‘ زمان و مکاں کا‘ انسانی تاریخ اور تقدیرکا ایک عمومی جائزہ ہے‘ یہ ایک نظریہ ہے۔ اس کے مرکزے میں حسبِ ذیل اصول مندرج ہیں:

ثنویت (Duality)

حقیقت‘ دو عمومی اقسام پر مشتمل ہوتی ہے: اللہ اور غیراللہ‘ خالق اور مخلوق۔ نوعِ اوّل کا رُکن صرف ایک ہے‘ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ۔ وہی تنہا معبود ہے‘ ہمیشہ سے ہے‘ اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ خالق ہے اور منزہ ہے۔ ’’اس جیسی کوئی شے نہیں‘‘۔۱؎ وہ ہمیشہ ہی منفرد رہے گا۔ اس کا کوئی شریک اور سہیم نہیں۔ ۲؎نوعِ ثانی میں زمان و مکان‘ عالَم مشاہدات اور تمام خلق شامل ہیں۔ اس کے دائرے میں تمام مخلوقات‘ عالمِ اشیا‘ درخت‘ پودے‘ حیوانات‘ انسان‘ جن اور فرشتے‘ زمین اور آسمان‘ جنت اور جہنم اور جب سے یہ وجود میں آئے ہیں‘ ان کی تمام صورتیں شامل ہیں۔ خالق اور مخلوق کی یہ   دو انواع‘ اپنی ہستی‘ وجودیات‘ اپنے تجربے اور حیات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ یہ ہمیشہ کے لیے قطعی طور پر ناممکن ہے کہ ان میں سے کوئی دوسرے کے ساتھ متحد ہوجائے‘ سرایت کرجائے‘ کسی کے ساتھ متمثّل ہو یا ایک دوسرے میں جاری و ساری ہو۔ نہ تو خالق‘ وجودیاتی طور پر ایک مخلوق میں تبدیل ہوسکتا ہے‘ اور نہ مخلوق کے لیے یہ کسی طرح ممکن ہے کہ وہ کسی طور یا کسی صورت میں خود کوخالق کے قالب میں ڈھال لے‘ یا تنزیہاً اس کے مقام پر پہنچ جائے۔۳؎

تمثّلیت یا تصور سازی (Ideationality)

حقیقت کی اِن دو انواع کے درمیان رشتے اور تعلق کی ماہیت تصوری یا تمثّلی ہے۔ انسان میں اس کا مرکز ِحوالہ اس کی فہم کی صلاحیت ہے۔ علم و فہم کے آلۂ کار اور مخزن کی حیثیت میں     فہم‘ متعدد صلاحیتوں کی حامل ہے‘ جیسے یادداشت‘ متخیلہ‘ تعقّل اور تفکّر‘ مشاہدہ‘ وجدان اور اندیشہ۔ علم و فہم تو سبھی انسانوں کو عطا ہوا ہے۔ یہ فہم اس لائق ہے کہ اس کے ذریعے مشیّت الٰہی کا اِن میں سے کسی ایک‘ یا دونوں صورتوں میں ادراک کیا جاسکتا ہے: مشیّت الٰہی کے ادراک کی ایک صورت تو یہ ہے کہ اللہ نے اپنے کلام کے ذریعے انسان کو مخاطب کیا ہے‘ اور یہ کلام بصورتِ الفاظ موجود ہے‘ اس سے آگاہی۔ دوسری صورت ان قوانین کا علم‘ جو اللہ کی مخلوق میں جاری و ساری ہیں‘ اور جن کے ذریعے مشیّت ِالٰہی کا فہم حاصل ہوسکتا ہے۔

غایتیّت (Teleology)

کائنات کی فطرت میں غایتیّت کارفرما ہے‘ یعنی یہ نظامِ کائنات مقصدی ہے۔ کائنات اپنے خالق کے مقصد کو پورا کرتی دکھائی دیتی ہے‘ اور اس کے نقشۂ کار کی تکمیل میں کوشاں نظرآتی ہے۔۴؎ یہ عالم‘ عبث اور بے مقصد نہیں تخلیق کیا گیا اور نہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل ہے۔۵؎ پھر یہ کسی اتفاق یا حادثے کا نتیجہ بھی نہیں۔ اِسے ایک کامل صورت میں تخلیق کیا گیا ہے۔ ہر وہ شے جو موجود ہے‘ ٹھیک ٹھیک اُن خصوصیات اور حُدود کے مطابق ہے‘ جو اس کے لائق ہیں‘ اور ایک عالم گیر مقصد کی تکمیل کرتی نظرآتی ہے۔۶؎ دنیا حقیقتاً ایک ’کائنات‘ ہے۔ ایک ایسی تخلیق‘ جس میں نظم و ضبط نظرآتا ہے‘ نہ کہ انتشار۔ یہاں خالق کی مشیّت ہرجگہ کارفرما نظر آتی ہے۔ اُس کے بنائے ہوئے ضابطے‘ قانونِ فطرت کے وجوب کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں‘ کیوں کہ اُن کے خالق نے جس طرح سے اُنھیں ترکیب کیا ہے‘ وہ اُسی صورت میں کارفرما رہتے ہیں۔۷؎ مگر یہ بات تمام مخلوق کے لیے تو درست ہے‘ تاہم انسان ایک استثنا ہے۔ فعلِ انسانی ہی وہ صورت ہے‘ جہاں مشیّت الٰہی ایک لزوم کے ساتھ ظاہر نہیں ہوتی‘ بلکہ بالارادہ‘ انسان کے اختیار اور اس کی آزادیِ عمل کے نتیجے ہی میں ظاہر ہوتی ہے۔ جہاں تک انسان کے جسمانی اور نفسی وظائف کا تعلق ہے‘وہ فطرت کے ساتھ وابستہ اور پیوستہ ہیں‘ اور وہ اُسی طرح قوانینِ فطرت کے پابند ہیں‘ جس طرح دوسری مخلوقات کے افعال قوانینِ فطرت کے ساتھ ایک جبر اور لزوم کا رشتہ رکھتے ہیں۔ لیکن روحانی وظائف___ یعنی فہم اور فعلِ اخلاقی‘ جبر فطرت کے دائرے سے باہر ہیں۔ ان کا انحصار خود فاعل کی ذات پر ہے‘ اور اُن کے تعینات کا ذمہ دار وہ خود ہے۔

مشیّت الٰہی کی تکمیل‘ جس طرح دوسری مخلوقات میں ہوتی ہے‘ اس طرح انسان میں نہیں ہوتی‘ اور یوں اس کے افعال میں کیفیت کے اعتبار سے ایک مختلف قدر کا ظہور ہوتا ہے۔ مشیّت وجوبی یا جبری کا تعلق صرف جسمانی مادّی یا افادیتی اقدار سے ہوتا ہے‘ جب کہ اس کی اختیاری تکمیل کا تعلق اخلاقی اقدار سے ہے۔ تاہم یہ بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقاصد اخلاقی‘ انسان کے لیے اس کے احکام‘ اس مادی عالم میں بھی اساس رکھتے ہیں‘ اور اسی لیے اُن کا ایک افادیتی پہلو بھی ہے۔ مگر یہ اُن کا یہ پہلو کہ اُن کے ساتھ اختیار وابستہ ہے۔ [نہ کہ جبر]‘ یعنی یہ کہ وہ انھیں اختیار بھی کرسکتا ہے‘ اور رد بھی‘ اُن پر عامل بھی ہوسکتا ہے‘ اور اُن سے منحرف بھی‘ اور یہ اختیار ہمیشہ انسان کا اپنا ہوتا ہے___ یہی خصوصیت اُن افعال کو ایک خاص درجہ عطا کرتی ہے___ اسی وجہ سے یہ افعال ، ’فعلِ اخلاقی‘ شمار ہوتے ہیں۔۸؎

استعداد انسانی اور فطرت کی تشکیل پذیری (Capicity of Man and Malleability of Nature)

اللہ تعالیٰ نے ہر شے ایک مقصد کے تحت تخلیق فرمائی ہے۔ وجودِ کُل کا بھی ایک مقصد ہے‘ اور زمان و مکاں میں اس مقصد کی تکمیل کا امکان لازمی قرار پاتا ہے۔ ۹؎ اگر یوں نہ سمجھیں تو کلبیّت سے چھٹکارا بھی نہیں مل سکتا۔ اس صورت میں زمان و مکاں‘ بلکہ ساری تخلیق ہی بے معنی ہوکر رہ جائے گی۔ اس امکان کے بغیر تکلیف (تفویض‘ اخلاقی فریضہ‘ ذمہ داری) کا تصور ہی منہدم ہوجاتا ہے‘ اور اس کے انہدام کے ساتھ یا تو یہ تصور باقی نہیں رہتا کہ کائنات کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کا کوئی مقصد یا حکمت تھی‘ یا اس کی قدرت پر سے ایمان اُٹھ جاتا ہے۔ اس کی مشیّت مطلق کے ذریعے تخلیق کے مقصدِ وجود کی تکمیل کو تاریخ میں لازمی طور پر ظہور کرنا ہوگا اور تاریخ نام ہے اس عمل کا جو تخلیق کے لمحۂ اوّل سے قیامت کے دن تک محیط ہے۔ عملِ اخلاق کے فاعل کی حیثیت میں انسان کے لیے لازمی ہے کہ اس میں خود کو‘ اپنے ابناے جنس کو یا معاشرے کو‘ فطرت یا اپنے ماحول کو تبدیل کرنے کی صلاحیت موجود ہو‘ تاکہ وہ اُلوہی نقشۂ کار یا حکمِ الٰہی کو اپنی ذات میں اور اُن میں پورا کرسکے۔۱۰؎ فعلِ اخلاقی کے عامل کی حیثیت سے انسان اور اس کے ابناے جنس‘ نیز ماحول میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ انسانِ فاعل کے عملِ موثر کو قبول اور انگیز کرسکیں۔

یہ صلاحیت‘ انسانِ فاعل کی صلاحیت کے تناظر میں ایک بالکل معکوس شے ہے۔ اس کے بغیر فعلِ اخلاقی کے لیے انسان کی صلاحیت یا کارکردگی ناممکن ہوگی‘ اور کائنات کی مقصدی ماہیت منہدم ہوجائے گی۔ پھر ایسی صورت میں کلبیّت کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔ اگر تخلیق کا کوئی مقصد ہے تو کائنات کو تشکیل پذیر‘ تغیر کے قابل ضرور ہونا چاہیے۔ اُسے ایسا ہونا چاہیے کہ اس کا مادّہ‘ ہیئت‘ کیفیت اور علائق‘ تبدیلی اور تغیرپذیری کے اہل ہوں‘ تاکہ وہ انسانی نمونوں یا مقصد کی تجسیم کرسکے‘ اور اس کی مطلوبہ صورت میں ڈھل سکے۔ اگر خدا واقعی خدا ہے‘ اور اس کا فعل کارِعبث نہیں ہے‘ تو یہ مفروضہ ایک لازمی شرط کے طور پر قبول کیا جانا چاہیے۔ یہ بات ہر طرح کی تخلیق کے لیے صادق آتی ہے۔ اس میں انسان کی جسمانی‘ نفسی اور روحانی فطرتیں شامل ہیں۔ تمام مخلوق اسی زمان اور اسی مکان میں ’بایستن‘ (ہونا چاہیے) یا مشیّت یا اللہ کی بنائی ہوئی ساخت یا مطلق کی تکمیل یا اُسے حقیقت کا رُوپ دینے والی ہے۔۱۱؎

ذمہ داری اور فیصلہ (Responsibility and Judgement)

ہم دیکھ چکے ہیں کہ انسان پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ذات میں‘ معاشرے میں‘ اور ماحول میں اس طرح کی تبدیلیاں لائے کہ وہ اللہ کے نمونے اور نقشۂ کار سے ہم آہنگ ہوجائیں۔ ہم یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ انسان میں ایسا کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے‘ کیوں کہ مخلوق‘ تشکیل پذیر ہے [جامد نہیں]‘ اور یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ انسان کے عمل سے اثر قبول کرے‘ اوراس کے مقصد کے مطابق ڈھل سکے۔ ان حقائق سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان‘ مسئول اور  جواب دہ ہستی ہے۔۱۲؎ ذمہ داری اور محاسبے کے تصور کے بغیر اخلاقی فریضے کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔ اگر یہ نہ تصور کیا جائے کہ انسان ایک ذمہ دار اور مُکلف ہستی ہے‘ اور کسی نہ کسی طرح‘اور کہیں نہ کہیں اُسے اپنے افعال کے محاسبے سے دوچار ضرور ہونا ہوگا‘ تو کلبیّت ایک دفعہ پھر لازم آئے گی۔ فیصلہ‘ حکم لگانا‘ یا ذمہ داری کو پورا کرنا‘ فریضۂ اخلاقی یا اخلاقی تحکیم کی لازمی شرط ہے۔ اس کا صدور ’معیار سے مطابقت‘ یا معیاربندی کی اپنی ماہیئت سے ہوتا ہے۔۱۳؎ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ یہ محاسبہ موجودہ زمان و مکاں کی حدود میںہوتا ہے‘ یا اس کے اختتام پر‘ یا دونوں صورتوں میں‘ لیکن اُسے واقع ضرور ہونا ہے۔ اللہ کی اطاعت‘ یعنی اُس کے احکام کی بجاآوری‘ اور اس کے دیے ہوئے نمونوں کو وجود میں لاکر‘ اُن کی صورت گری کر کے ہی حقیقی فلاح کا حصول ممکن ہے۔ ایسا نہ کرنا‘ یعنی اُس کی نافرمانی‘ سزا کی مستوجب ہوگی‘ جو دکھ‘ اَلم اور ناکامی کے عذاب پر مستوئی ہوگی۔۱۴؎

متذکرہ بالا پانچ اصول بدیہی صداقتوں پر مشتمل ہیں۔ یہ التوحید کے مغز اور اسلام کے لُب لباب کی تشکیل کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ حنیفیت کا بھی مغز ہیں۔یہ تمام الہاماتِ سماوی کا خلاصہ ہیں۔ تمام انبیا نے اِن اصولوں کی تعلیم دی ہے اور انھی پر اپنی تحریکات کو استوار کیا ہے۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بنیادی اصول‘ فطرتِ انسانی کے تانے بانے میں [اس کی سرشت میں] پیوست کردیے ہیں۔۱۵؎ یہ اُس بے خطا دین فطرت یا فطری ضمیر کوتشکیل دیتے ہیں‘ جن پر انسان کے سارے اکتسابی علم کی بنیاد ہے۔ یہ بات بالکل فطری ہے کہ ساری اسلامی ثقافت کا ڈھانچا انھی پر استوار ہے‘ اور یہ سب مل کر توحید کے اصل مغز کی تشکیل کرتے ہیں۔ ہماری پوری تاریخ میں علم‘ ذاتی اور سماجی اخلاقیات‘ جمالیات‘ اسلامی زندگی اور عمل انھی پر اساس رکھتے ہیں۔

نتیجہ

اس گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ حیات کا منصہ شہود پر آنا‘ ایک فعلِ عبث نہیں ہے۔ اُسے ایک مقصد کو پورا کرنا چاہیے اور یہ مقصد‘ محض ایک خواہش اور اس کی تکمیل‘ پھر ایک نئی خواہش اور اس کی تکمیل کا ایک غیرمختتم سلسلہ نہیں ہوسکتا۔ ایک مسلمان کے لیے غایت دو بالکل مختلف نظاموں پر مشتمل ہوتی ہے: نظامِ فطری اور نظامِ اعلیٰ‘ اوروہ اسی مؤخرالذکر میں اُن اقدار اوراُن اصولوں کو تلاش کرتا ہے‘ جن کے ذریعے اوّل الذکر کا انتظام کرسکے۔ اب چوں کہ اس نے دائرۂ اعلیٰ کو اللہ کے طور پر شناخت کرلیا ہے‘ اس لیے وہ ہر اُس نظامِ رہنمائی کو رد کر دے گا‘ جس کا مصدر ذاتِ الٰہی نہیں ہے۔ اس کی مضبوط اور مستحکم توحید دراصل ایک انکار ہے‘ اس بات کا انکار کہ انسانی زندگی کو اخلاق کے علاوہ کسی بھی دوسرے نظامِ رہنمائی کے تابع کیا جائے۔ مسرتیت‘ لذتیت اور وہ دوسرے تمام نظریات‘ جو اخلاقی قدروں کو فطری زندگی میں تلاش کرتے ہیں‘ اس کے نزدیک قابلِ رد ہوں گے۔ اس کے نزدیک ان میں سے کسی کو بھی قبول کرلینا ایسا ہی ہوگا‘ گویا اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کو بطور رہنما اور انسانی زندگی کے لیے معیارساز تسلیم کرلیا گیا ہو۔ شرک (اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو بھی شریک کرلینا‘ توحید کی خلاف ورزی) دراصل اخلاقی اقدار کو مادّی اور افادیتی قدروں کے ساتھ گڈمڈ کردینے کا نام ہے۔ یہ اقدار‘ آلاتیت کا رنگ لی ہوئی ہوتی ہیں‘ انھیں غائی نہیں کہاجاسکتا۔ 

مسلم ہونے کا مطلب یہی تو ہے کہ فقط اللہ کو (یعنی خالق کو‘ نہ کہ مخلوق یا فطرت کو) معیارِمطلق کے طور پر قبول کیا جائے‘ اس کی مشیّت کو حکم تسلیم کیا جائے‘ صرف اُسی کے منہاج کو مخلوق کے لیے اخلاقِ مطلوب تصور کیا جائے۔ ایک مُسلم کی بصارت کے مشمولات میں صداقت‘ حُسن اور خیرشامل ہوتے ہیں۔ مگر یہ اس کے لیے دائرۂ عقل سے خارج کوئی چیز نہیں ہیں۔ اس طرح وہ علومِ مذہبی کی تفسیر و تشریح میں قدریاتی اصولوں کا حامل ہوتا ہے؟ لیکن اس کی غایت بس یہی ہوتی ہے کہ بحیثیت ایک فقیہہ کے وہ ایک دُرست اور صحت مند مجموعۂ فرائض تک رسائی حاصل کرسکے۔ اس کے نزدیک عقیدے کے ذریعے حاصل ہونے والا جواز کوئی معنی نہیں رکھتا؟تاآنکہ اُسے عمل کی رزم گاہ میں داخل نہ کرلیا جائے۔ اسی مقام پر اس کے بہترین اور بدترین اوصاف کا ظہور ہوتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ ایک انسان کی حیثیت میں وہ آسمان اور زمین کے درمیان تنہا کھڑا ہے‘ اُسے راہ دکھانے کے لیے اس کے پاس اپنی معیارِ قدر کی بصارت کے سوا کوئی رہنما نہیں‘ اس کارِعظیم پر اپنی قوتوں کو مرتکز کرنے کے لیے اس کے اپنے ارادے کے علاوہ کوئی مہمیز نہیں‘ اور لغزشوں اور ٹھوکروں سے بچانے کے لیے اس کے اپنے ضمیر کے سوا کوئی اور قوت اس کے پاس نہیں ہے۔

یہ اس کا استحقاقِ خصوصی ہے کہ وہ کائناتی جوکھم کی زندگی گزارے‘ کیوں کہ یہاں کوئی دیوتا نہیں ہے‘ جو اس کے لیے اِن خطرات سے نبردآزما ہونے کا بیڑہ اُٹھا لے۔ بات صرف یہی نہیں کہ یہ مہم اُسی وقت سَرہوگی‘ جب وہ خود اس کی تکمیل کرلے گا۔ بات یہ ہے کہ یہاں اس کے لیے پس و پیش کی کوئی گنجایش ہی نہیں۔ اگر اس کی فطرت اُسے کسی ناخوش گوار اُلجھن سے دوچار کرتی ہے تو وہ بس یہ ہے کہ اُسے اُس اُلوہی بارِ امانت کو اٹھانا ہے‘ اس مقدس فریضے کو بحیثیت ایک مسلم پورا کرنا ہے‘ یا اس عمل میں خود کو مٹا دینا ہے۔۱۶؎ اس میں شک نہیں کہ اس راہ میں ایک امکانی المیہ اپنا منہ کھولے گھات میں بیٹھا ہے مگر یہی ایک مسلم کے لیے وجہِ افتخار بھی ہے۔ جیساکہ افلاطون کہہ گیا ہے: ’’خیر سے محبت کرنا اس کا مقسوم ہوچکا ہے‘‘۔


حواشی

۱-            وہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے… اُس جیسی کوئی شے نہیں؟ اور وہ بہت سننے اور دیکھنے والا ہے (الشورٰی ۴۲:۱۱)۔ اُس کے بارے میں یہ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہیں‘ وہ اس سے بہت برتروبلند ہے (الانعام۶:۱۰۰)۔ آنکھ اس کا ادراک نہیں کرسکتی‘ اور وہ سب کی نگاہوں کا ادراک کرلیتا ہے۔ (۶:۱۰۳)

۲-            کہہ دو کہ اللہ ایک ہے‘ اللہ بے نیاز ہے‘ نہ اس کا کوئی بیٹا ہے ‘ اور نہ وہ کسی کا بیٹا ہے۔ کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں (الاخلاص ۱۱۲:۱-۴)۔ اُن لوگوں [کافروں] نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھیرایا ہے‘ حالاںکہ اُسی نے اُنھیں پیدا کیا ہے‘ اور اُنھوں نے اُس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑلیے ہیں‘ جب کہ اُنھیں اس کے بارے میں کوئی علم ہی نہیں۔ (الانعام۶:۱۰۰)

۳-            کیا انھوں نے زمین میں سے جو معبود بنا رکھے ہیں‘ وہ مُردوں کو زندہ کردیتے ہیں؟ اگر اِن دونوں [زمین و آسمان] میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہوجاتے۔ پس اللہ تعالیٰ عرش کا مالک ہر اُس وصف سے پاک ہے‘ جو یہ بیان کرتے ہیں۔ اپنے کاموں کے لیے وہ کسی کے آگے جواب دہ نہیں‘ اور سب اس کے آگے جواب دہ ہیں۔ کیا اُن لوگوں نے اللہ کی سوا اور معبود بنا رکھے ہیں؟ کہہ دیجیے [کہ اگر یوں ہے تو] اس کی دلیل پیش کرو (الانبیاء ۲۱:۲۱-۲۴)

۴-            جہاں تک اللہ کی تخلیق کے نمونے کا تعلق ہے؟ تم اللہ کے دستور میں کبھی ردّ و بدل نہ دیکھو گے‘ اور تم ہرگز اللہ کے طریقے میں انحراف نہ پائو گے (۲۵:۴۳)

۵-            [اہل ایمان] آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں‘ [اور پکار اُٹھتے ہیں] ’’اے ہمارے پروردگار‘ تو نے یہ سب کچھ ناحق اور غلط نہیں پیدا کیا‘ تو پاک ہے (اٰل عمرٰن۳:۱۹۱)۔ ہم نے آسمان اور زمین‘ اور جو کچھ بھی ان کے درمیان ہے‘ ایک کھیل کے طور پر نہیں پیدا کیے۔ (الانبیائ۲۱:۱۹)

۶-            [اللہ] وہی ہے ‘ جس نے ہرچیز کی بناوٹ بہترین طریقے پر کی ہے (السجدہ۳۲:۷)۔ وہ جس نے تخلیق کی اور اُسے ٹھیک ٹھیک بنایا (الاعلٰی۸۷:۲)…اللہ وہ ہے‘ جس نے زمین کو تمھارے لیے ٹھیرنے کی جگہ بنایا‘ اور آسمان کو [حفاظتی] چھت کے طور پر بنایا‘ اور تمھاری صورت گری کی[تو دیکھو کہ] کیسی اچھی صورت گری کی…(۴۰:۶۴)۔ ہم نے ہرچیز کو ایک متعین ضابطے کے مطابق باندھ رکھا ہے۔ (۳۶:۱۲)

۷-            [اللہ ہی ہے] جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے… اُسی نے ہرچیز کو پیدا کیا ہے‘ اور ہرچیز کو ایک اندازے کے مطابق اس کی تقدیر (بناوٹ‘ انجام) عطا کی ہے (الفرقان۲۵:۲)۔ کہہ دیجیے‘ ہمیں وہی کچھ پہنچ کر رہے گا‘ جو اللہ نے ہمارے لیے مقرر کر رکھا ہے…(التوبہ۹:۵۱)

۸-            قرآن مجید‘ حوالۂ سابق‘ الاحزاب۳۳:۷۲۔ یہ ’امانت‘ کا وہ ڈرامائی بیان ہے‘ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فطرت کے حوالے سے دیا ہے۔ وہ امانت‘ جسے فطرت (کائنات) اُٹھا نہ سکی‘ مگر انسان اُس بارِامانت کو اٹھانے پر راضی ہوگیا [آسمان بارِ امانت نتوانست کشید قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند]۔ اپنی اصل کے اعتبار سے یہ ’تکلیف‘ [مُکلف ہونے] کا اخلاقی اصول ہے‘ اور تکلیف یا ذمہ داری کے لیے ’قدرت‘ [قوت‘ صلاحیت] شرط ہے‘ ساتھ ہی اختیار [ارادے کی آزادی] بھی اس کے لیے لازمی ہے۔

۹-            میں [اللہ] نے جِنوں اور انسانوں کو اسی لیے تو پیدا کیا ہے کہ وہ میرا حکم بجالائیں (الذّٰریٰت۵۱:۵۶)۔   وہی [اللہ] ہے‘ جس نے موت اور حیات کو تخلیق کیا‘ تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے بہترعمل کرنے والا کون ہے (الملک۶۷:۲)

۱۰-         ایضاً

۱۱-         ساتوں آسمان اور زمین‘ اور جو کچھ اُن میں ہے‘سب اُسی کی تسبیح کرتے [اس کا حکم مانتے] ہیں۔ [دراصل] کوئی بھی شے ایسی نہیں‘ جو اس کی تسبیح [فرماں برداری] نہ کر رہی ہو۔ (بنی اسرائیل۱۷:۴۴)

۱۲۔          اور اُن [یعنی سب انسانوں] سے جواب طلبی ہوگی (الانبیائ۲۱:۲۳)۔ (قرآن مجید میں ایسی بہت سی آیتیں ہیں‘ جن سے واضح ہوتا ہے کہ انسان ایک ذمہ دار اور آزاد ہستی ہے اور اُس سے بازپرس اور جواب طلبی ضرور ہوگی)

۱۳-         ہروہ چیز جسے اسلام میں ’حساب‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے ’یوم الحساب‘ فیصلے کا دن ہے۔ یہ بات کہ اللہ تعالیٰ انسانوں سے ان کے اعمال کی جواب دہی کرے گا‘ اور اُن سے حساب لے گا‘ قرآن مجید میں مرکزی خیال کے طور پر ہرجگہ نظرآتی ہے۔ حقیقتاً یہ تصور اسلام کے اخلاقی /مذہبی نظام کی اساس کی حیثیت رکھتا ہے۔

۱۴-         مکہ میں نازل شدہ سورتوں کا سرسری مطالعہ بھی یہ بتا دے گا کہ اللہ تعالیٰ کا انسان سے تعلق ایک عہد پر استوار ہے۔ یہی نہیں‘ بلکہ تمام سابق انبیا اور اُن کے ماننے والوں کا بھی یہی تصور تھا۔ تمام قُدما کی مذہبی اور اخلاقی اساس کی رُوح بھی یہی سوچ تھی۔ یہ بات میسوپوٹیمیا [قدیم عراق] کی ’اینموما ایلش‘ اور لپت اشتر اور حورابی کے ضابطہ ٔ قانون میں بھی عیاں ہے۔ دیکھیے جیمز بی پریچارڈ کی Ancient Near Eastern Texts ، ناشر: پرنسٹن یونی ورسٹی پریس‘ پرنسٹن‘ ۱۹۵۵ئ۔

۱۵-         پس آپؐ یک سُو ہوکر اپنا رخ دین خالص کی طرف کرلیں۔ [یہ دین] اللہ کی وہ فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق [پیدا کرنے کے طریق] میں کوئی تبدیلی نہیں‘ یہی سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ اس کا شعور نہیں رکھتے۔ (الروم ۳۰:۳۰)

۱۶-         اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ جواب پیش نظر رہے‘ جو آپؐ نے اپنے چچا ابوطالب کو دیا تھا‘ جب انھوں نے کہا تھا کہ آپؐ دعوتِ اسلام سے کنارہ کشی کرلیں‘ اور اس طرح بنوہاشم پر اہلِ مکّہ کے ظلم وستم کا خاتمہ ہوجائے گا۔ آپؐ نے فرمایا تھا:چچاجان‘ اگر وہ لوگ سورج کو میرے داہنے ہاتھ پر اور چاند کو بائیں ہاتھ پر بھی رکھ دیں‘ تب بھی میں اس دعوت سے باز نہیں آئوں گا‘ چاہے اس عمل میں میری جان ہی چلی جائے۔ محمدحسین ہیکل: The Life of Muhammad ترجمہ: اسماعیل راجی الفاروقی (ناشر:امریکن ٹرسٹ   پبلی کیشنز‘ انڈیانا پریس‘ ۱۹۷۶ئ)‘ص ۸۹۔