نظامِ حیات


قرآن نے فتح و نصرت کے مفہوم کو اُس تصور سے مختلف انداز میں پیش کیا ہے جو بیش تر لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے۔ فتح و نصرت کے قرآنی مفاہیم کو سمجھنا دلوں کو مایوسی اور نااُمیدی سے بچانے کا مضبوط حصار ہے ۔ یہی تصور مسلمانوں کو ان کی مختلف صلاحیتوں اور مختلف مقامات کے مطابق متحرک کرسکتا ہے۔ قرآن حکیم کے اسی تصور نے ایک فعال، متحرک اور آزاد امت تشکیل دی۔ 

نصرت دشمن کو پسپا کر کے یا ہلاک کر کے اس کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ اس کی کئی صورتوں میں سے صرف ایک صورت ہے، بلکہ یہ نصرت کی کئی صورتیں حاصل ہوجانے کا نتیجہ ہوتی ہے۔لہٰذا، یہ سوال اٹھانے کی گنجائش نہیں رہتی کہ کیا فلاں جنگ میں مسلمان غالب آئے یا شکست کھا گئے؟ کیونکہ نصرت کا معیار تو واضح طور پر مقصد ہے کہ وہ کہاں تک ، اور کس کس شکل میں پورا ہوا ہے ۔  

چند بنیادی حقائق 

بنیادی طور پر فتح یہ ہے کہ آپ تمام رکاوٹوں پر قابو پالیں تاکہ آپ اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کے مطابق اللہ کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔  

  • اخلاص اور جدوجہد:فتح کا اصل مقصد دو چیزوں میں کامیابی حاصل کرنا ہے: اپنا ارادہ خالص کرنا اور اپنی پوری کوشش کرنا۔ اگر آپ اس انتہائی ذاتی امتحان میں کامیاب ہو گئے، تو آپ نے فتح کے اعلیٰ ترین درجات پا لیے، چاہے ظاہری دنیا میں کوئی فوری تبدیلی نہ آئے۔ اگر آپ ارادے کو خالص کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تو فوجی فتوحات، شہرت، اور عوام کی حمایت آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی، چاہے سرکش ہلاک ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ 

اگر آپ ان مختلف شعبوں میں اپنی ممکن کوششیں صرف نہیں کرتے جن میں اللہ نے آپ کو بااختیار بنایا ہے، تو مادی یا معنوی فتح حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، چاہے اس کی وسعت اور شکل کچھ بھی ہو، کیونکہ آپ کو ذاتی فتح حاصل نہیں ہوسکی، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے احتساب کا ایک معیار مقرر کیا ہے جو قرآن کے بیان کردہ قوانین میں سے ایک قانون میں ظاہر ہوتا ہے: وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى۝۳۹  (النجم ۵۳:۳۹) ’’اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے‘‘۔ لہٰذا جو کچھ آپ نے خرچ نہیں کیا وہ آپ کو واپس نہیں ملے گا، اور جو کچھ آپ نے نہیں کیا اس کے نتیجے سے آپ ربّ کے ہاں فائدہ نہیں اُٹھا سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: كُلُّ نَفْسٍؚ   بِمَا كَسَبَتْ رَہِيْنَۃٌ۝۳۸  (المدثر ۷۴:۳۸) ’’ہرشخص اپنے کسب کے بدلے رہن ہے‘‘۔ 

قرآن حکیم کے مطابق فتح دراصل ایک الٰہی قانون ہے جو کبھی نہیں بدلتا، لیکن جب امت اس کے تقاضوں سے منہ موڑ لیتی ہے تو اس کا وعدہ بھی مؤخر ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  اِنَّ اللہَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ۝۰ۭ(الرعد۱۳:۱۱) ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی‘‘۔ 

اسی طرح شکست بس ہتھیاروں سے مغلوب ہوجانا نہیں ہوتی ، بلکہ شعور، ارادے اور ایمان کی شکست اصل شکست ہوتی ہے۔سیّد قطب رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ہم اپنی تلواروں کے ٹوٹ جانے سے شکست نہیں کھاتے، بلکہ اس وقت شکست کھاتے ہیں جب ہمارے دل صبر و ثبات اور اللہ کے وعدے پر یقین کی دولت سے محروم ہوکر ٹوٹ جائیں‘‘۔ 

  • دعوت اور فکر: دوسری بات یہ کہ فتح در اصل دعوت، فکر اور پیغام کا باقی رہنا ہے، جیساکہ اصحاب الاخدود کے واقعے میں ہوا ، اور جیسا کہ سیّد قطب تو مرتبۂ شہادت پاگئے، مگر ان کی فکر شہادت کے بعد بھی باقی ہے اور پھیل رہی ہے ،جب کہ ان کو قید کرنے والوں اور شہید کرنے والوں کا نام و نشان مٹ گیا۔ اسی طرح لیبیا پر قبضہ کرنے والوں کے نام اور افکار غائب ہو گئے، اور عمرمختار قافلۂ حق کے لیے ایک مینار کے طور پر باقی ہیں۔ جب قابض اسرائیلی فلسطینی مزاحمت کا نام مٹانا اور اس کے وجود کو ختم کرنا چاہتے تھے، اور اُن صہیونیوں کے ساتھ پوری دنیا تھی، تو اللہ تعالیٰ نے اس مزاحمت کو دنیا کی تمام خبروں میں پہلی خبر بنا دیا، اور ان کے مقصد، ان کے طریقوں، ان کے اخلاق اور ان کی عزیمت کو زمین پر سب سے نمایاں کر دیا۔ زندگی کی قسم! اگر ان کے مقصد اور ان کے منہج اور ان کے جھنڈے کا زمین میں یہ استحکام فتح نہیں تو فتح اور کیا ہوگی؟ 

حقیقی فتح اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ لوگوں کےدلوں کو کھول دیتا ہے، تاکہ وہ حق کے پیغام کو جذب کریں، ہدایت کو اپنائیں اور حق کا علم اٹھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی تعریف فرمائی تو ان کی کامیابی کی نمایاں علامت کا ذکر کیا: 

وَجَعَلَہَا كَلِمَۃًۢ بَاقِيَۃً فِيْ عَقِبِہٖ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝۲۸(الزخرف ۴۳:۲۸) اور ابراہیمؑ یہی کلمہ اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔ 

  • صبر و استقامت:تیسری بات یہ کہ فتح، اس دن حاصل ہوتی ہے جب اہلِ حق ایمان کے محاذ پر ثابت قدم رہیں، ان کا عقیدہ متزلزل نہ ہو، وہ اپنے اصولوں سے دستبردار نہ ہوں، ان کے افکار میں کجی نہ آئے، اور ان کی اقدار دشمن کی یلغار میں بہہ نہ جائیں۔ وہ حق پر جئیں چاہے کتنے ہی طوفان اٹھیں، یا پھر اس راہ میں شہادت سے سرفراز ہوجائیں جس کا اللہ تعالیٰ نے انھیں مکلف بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور آپ کے بعد آنے والے حق کے تمام راہیوں سے فرماتا ہے: 

وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُہُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ۝۴۰ (الرعد۱۳:۴۰) اور اے نبیؐ، جس بُرے انجام کی دھمکی ہم اُن لوگوں کو دے رہے ہیں اُس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمھارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمھیں اُٹھا لیں، بہرحال تمھارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ 

چنانچہ شہیدوں نے اپنے ربّ کا پیغام پہنچا دیا، مخلص علما نے اسلام کا کلمہ پہنچا دیا، اور انبیائے کرام جنھیں بنی اسرائیل نے قتل کیا، انھوں نے اللہ کا کلمہ پہنچا دیا۔ لہٰذا ان کی موت، شہادت، ان کا قتل،انتخاب (چُن لیا جانا)، اور ان کا انجام، سب کچھ فتح و نصرت قرار پایا۔ 

اللہ کی راہ میں شہادت’فتح‘ کی سب سے زیادہ شاندار صورت ہے، جہاں انسان اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے، اپنا جھنڈا اٹھائے ہوئے، اپنے محاذ پر صبر سے کام لیتے ہوئے جان دیتا ہے۔ شہادت کوئی ایسی مصیبت نہیں کہ اس پر آہ و بکا کی جائے، اور نہ کوئی آفت ہے کہ اس پر افسوس کیا جائے، بلکہ یہ خالص الٰہی انتخاب اور چناؤ (اجتباء و اصطفاء) ہے۔ یہ دنیاوی تصادم کے میدان سے ربّ العالمین کے ہاں اعزاز کے میدانوں کی طرف نہایت باعزّت منتقلی ہے۔ 

  • افکار کی بالادستی: چوتھی بات یہ کہ فتح، عقلوں سے پردہ ہٹانے کا کام کرتی ہے، کیونکہ افکار کی درستی اور مجرموں کے دعووں کا لوگوں کے دل و دماغ سے مٹ جانا اُس فتح سے کہیں زیادہ اہم اور دیرپا ہے جو فتح صرف تلوار کے زخم تک محدود ہو۔ اللہ کی تائید اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کفر کی برائی بے نقاب ہوجائے، اس کی فکری عمارت منہدم ہو جائے، اور اس کے باطل دعوے آنکھوں اور نگاہوں کے سامنے غلط ثابت ہو جائیں۔ یہی وہ فتح ہے جو افکار کا زور اور اثرات کے تسلسل کے ٹوٹنے کی ضمانت ہوتی ہے۔ یہ ایسی فتح ہے جو اُن دعووں اور بیانیوں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی ضمانت دیتی ہے، اور دشمن کی عسکری پسپائی سے بہت اونچے درجے کی کامیابی ہے۔ 

 آپ حقوقِ انسانی کی تنظیموں کو دیکھ لیجیے کہ سر زمین مزاحمت سے متعلق ان کے جھوٹے دعوے کہاں دفن ہوگئے؟ حقوقِ نسواں کی تنظیموں کے نعرے اور جھوٹ کس وادی میں گم ہو گئے؟  بچوں کے حقوق کے اداروں کو دیکھیے کہ اللہ نے ان کے چہروں کی بدصورتی کیسے عیاں کی؟ جمہوریت کے علَم برداروں کا مت پوچھیں کہ اس بت کا کیا حشر ہوا جسے وہ ایک عرصے سے تراش رہے تھے اور لوگوں کو اس کے عظیم فائدے کی خوشخبری دے رہے تھے،کہ بہادر مزاحمت نے انھیں اچانک آ لیا اور ان کے اس بت کو پاش پاش کر دیا۔اس مزاحمت نے تمام جھوٹ، فریب اور کھوکھلے نعروں کو بے نقاب کر دیا، اور معبد کے پجاریوں، مفاد پرستوں، دھوکے بازوں اور مجرم سرکشوں کو رُسوا کر کے رکھ دیا۔ 

  • فتح و کامیابی:پانچویں بات یہ کہ فتح، ظالم سرکشوں کو ہلاک کرنے اور ان کی سلطنت کو زوال آشنا کرنے کی صورت میں امت پر اللہ کا ایک انعام ہے۔ اور سرکشی کا انجام بہت بُرا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِہٖ۝۰ۚ (العنکبوت ۲۹:۴۰) ’’آخرکار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑ لیا‘‘۔تاریخ کا تذکرہ جبروت کے مذموم انجام کی گواہی دیتا ہے، یعنی عاد سے لے کر ہر سرکش اور متکبر بادشاہ تک، جسے قدرت کے ہاتھ نے سمندر میں غرق کیا، یا تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا، تاکہ ان کا زوال مومنوں کے لیے ایک نشانی اور مجاہدین کے لیے باعث نصرت ہو ۔ 
  • حقیقی کامیابی:چھٹی بات یہ کہ فتح یہ ہے کہ اس راہ کا مسافر روزِ حساب مالکِ روز جزا کے سامنے پیشی کے وقت اس کی خوشنودی پانے میں کامیاب ہو جائے، کیونکہ دُنیاوی فتح و نصرت ایک عارضی منظر ہے، جس میں اَدل بدل کا قانون جاری رہتا ہے : وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ۝۰ۚ (اٰل عمرٰن۳:۱۴۰) ’’یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں‘‘، لہٰذا نہ خوشی مستقل رہتی ہے، نہ طاقت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ یہ قانون کسی ظالم کو نہیں چھوڑتا مگر اسے توڑ کر رکھ دیتا ہے، اور کسی خوش حال کو نہیں چھوڑتا مگر اس کو مفلوک الحال بنا دیتا ہے۔ 

سب سے بڑی اور مطلق فتح و نصرت ، تو وہ ہے جس کے نتائج اللہ سے ملاقات کے دن ظاہر ہوں گے۔ اس دن سب کچھ جاننے والے بادشاہ نے حق کا ترازو نصب کر رکھا ہوگا : 

فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ۝۰ۭ (اٰل عمرٰن ۳:۱۸۵) کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنّت میں داخل کر دیا جائے۔ 

اسی طرح حقیقی خسارہ وہ نہیں جو دنیا کی دولت سے ہو، بلکہ وہ ہے جو اس عظیم دن انسان اپنی جان اور اپنے اہل و عیال کے نتیجۂ اعمال میں دیکھے گا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  

وَقَالَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِيْہِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝۰ۭ اَلَآ اِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ فِيْ عَذَابٍ مُّقِيْمٍ۝۴۵ (الشوریٰ۴۲:۴۵) اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنھوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا۔ خبردار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے۔ 

 سبقت لے جانے کی آخری انتہا، اور کامیابی کی بلند ترین چوٹی رضائے الٰہی کا حصول ہے، اور اسی سے نصرت الٰہی کا عمل مکمل ہوتا ہے، جو دنیا میں مدد سے لے کر ہمیشہ کی جنتوں میں داخلے کی صورت میں تکمیل کو پہنچتا ہے : 

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْہَادُ۝۵۱ (المؤمن ۴۰:۵۱) یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اِس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں، اور اُس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ 

سر چشمۂ  نصرت کی حقیقت 

صرف آلات ، ذرائع ، اسباب اور اتحادوں کے دائروں میں فتح و نصرت کی تلاش انسان کو اس وقت مایوس کر دیتی ہے جب اسباب کم ہوں یا صلاحیتیں ناکافی ہوں۔ بلکہ بعض اوقات انسان اس کے حصول کی کوشش ہی ترک کر کے مایوسی کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ 

لیکن جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ نصرت کا سرچشمہ ایک ہی ہے، اور اس کے حاصل ہونے کا کوئی راستہ نہیں سوائے اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی راہ کے، تو وہ یقین کے میدانوں میں کھڑے ہو کر پڑھتا ہے: وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ۝۰ۭ (الانفال۸:۱۰) ’’نصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے‘‘۔ 

اس وقت وہ اسباب پر انحصار کرنے سے زیادہ اللہ کے دروازے پر مناجات کرنے والا اور عاجزی دکھانے والا بن کر کھڑا ہوتا ہے، یہ سمجھتے ہوئے کہ اسباب استعمال کے لیے ہیں نہ کہ ’دینے‘ اور’روکنے‘ کے لیے۔ تب اس کا رب اسے نصرت حاصل کرنے کے دروازے الہام کرتا ہے، اور اس کے لیے ربانی ہدایت کے چراغ روشن کر دیتا ہے۔ سوچ، منصوبہ بندی، اللہ پر بھروسا، اس کے حکم کے سامنے سرجھکا دینا، اور جو تکلیف اسے پہنچتی ہے یا وہ جو کوشش بھی کرتا ہے اس پر اللہ سے اجر کی اُمید رکھتا ہے، چنانچہ نصرت کی یہ طلب عبادت اور قربانی میں بدل جاتی ہے۔ 

نصرتِ الٰہی کا قانون__  ـــ ایک بنیادی عقیدہ 

نصرت الٰہی کا قانون، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے شروع ہوتا ہے: وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ۝۰ۭ (الانفال۸:۱۰) ’’مدد تو جب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے‘‘۔ یہ محض ایک وقتی مقولہ نہیں ہے جسے صرف سختیوں میں دُہرایا جائے، بلکہ یہ ایک مضبوط بنیادی عقیدہ ہے، جو صاحب ِایمان کو سبب پیدا کرنے والے اللہ کے ہاتھ میں ایک سبب بنا دیتا ہے۔ 

فتح و نصرت کوئی غنیمت نہیں جس کو محض انسانی چالاکی سے حاصل کیا جا سکتا ہو ، بلکہ یہ ایک آسمانی تحفہ ہے جو اللہ تعالیٰ زمین میں اپنے دین اور اپنے عظیم مقاصد کو قائم کرنے کے لیے عطا کرتا ہے، اس لیے نہیں کہ خواہشات کو اعزاز بخشا جائے یا ذاتی و شخصی تنگ نظری کے حسابات برابر کرنے میں صرف کیا جائے ۔ میدانِ جنگ میں اللہ تعالیٰ اہل حق کو جو ثبات و استقامت عطا کرتا اور دشمنوں کی چالوں کو بے نقاب کرتا ہے، وہ اللہ کی مدد اور تائید ہے: 

فَلَمْ تَقْتُلُوْہُمْ وَلٰكِنَّ اللہَ قَتَلَہُمْ۝۰۠ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللہَ رَمٰى۝۰ۚ  (الانفال۸: ۱۷) پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور تو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔  

اس پختہ عقیدے کا مطلب بندے کی جدوجہد اور کوشش کو کالعدم کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ تمام اسباب، چاہے وہ کتنے ہی عظیم کیوں نہ ہوں، اسباب سے زیادہ اللہ کی ذات پر بھروسا کیا جائے۔ 

یقین اور اسباب کے درمیان توازن 

جب بندے کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ فتح ایک الٰہی تحفہ ہے نہ کہ انسانی تدابیر کا نتیجہ، تو دل مخلوقات کی غلامی اور خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔ ایمان کا حق یہ ہے کہ شرعی اور عقلی تقاضوں کے مطابق مکمل تیاری کی جائے، اور نتائج کو اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ اسباب کو ترک کرنا توکّل نہیں، لیکن انھی پر مکمل بھروسا کرلینا شرکِ خفی کی پھسلن ہے۔ 

بـے عملی اور جلدبازی سے گریز 

یہ بھی حکمت عملی کی کامیابی نہیں ہے کہ کچھ لوگ یہ گمان کرلیں کہ ان کی فتح کا انحصار ظالموں سے طاقت حاصل کرنے، یا قابضین کے ساتھ معمول کے تعلقات بناکر اختیار حاصل کرنے، یا مشرق یا مغرب سے مدد مانگنے پر ہے۔ اسی طرح کامیابی حاصل کرنے میں جلد بازی یا اس کی تاخیر سے مایوس ہونا ایک نفسیاتی کمزوری ہے۔ بعض اوقات تاخیر اور امتحان نفوس کے لیے پاکیزگی کا ذریعہ ہوتے ہیں، تاکہ وہ ایمان اور استقامت کے بلندمقام پر ہوتے ہوئے اقتدار کو حاصل کریں۔ 

سیرتِ نبویؐ میں فتح و نصرت کے شواہد 

یقیناً سیرتِ نبویؐ اس بات پر شاہد ہے کہ فتح و نصرت کی عملی راہیں اس وقت کھلتی ہیں جب ظاہری اسباب ختم ہو جائیں اور دل صرف آسمان کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ 

حضرت نوح علیہ السلام پر زمین کی تمام تدبیریں بند کر دی گئیں، تو ان کے پاس عاجزانہ مناجات کے سوا کچھ نہ تھا۔اور جب موجیں خوف سے ٹکرائیں، تو موسیٰ علیہ السلام نے ہر دُنیاوی منطق کو ترک کر دیا اور یقینِ مطلق کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا۔ 

سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں، ’بدر‘ اور’حدیبیہ‘ کے واقعات اس بات کو عیاں کرتے ہیں کہ فتح و نصرت کے طریقے کئی ہوتے ہیں: کبھی وہ آسمانی مدد ہوتی ہے جو لشکروں کو مٹا دیتی ہے، اور کبھی وہ ایسی صلح کے پردے میں فتح ہوتی ہے جو بظاہر شکست نظر آتی ہے۔ 

مسافرانِ حق کو معلوم ہونا چاہیے کہ نصرت کا وعدہ جامع حکمت کے ساتھ مربوط ہے، صرف موجودہ لمحے کو دیکھنے کی تنگ نظری تک محدود نہیں ہے۔ 

میثاقِ یقین 

اس میثاق الٰہی میں پہلا قدم دل کی اصلاح ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس فتح یاب جھنڈے کی کیا قیمت جسے ایک کمزور دل نے اُٹھا رکھا ہو؟ اللہ کی نصرت کو وہ سب سے بڑا معیار بنائیے جس سے ہرسیاست شروع ہو اور جس پر منصوبوں کی عمارتیں کھڑی کی جائیں۔ پھر تیاری کے امانت دارانہ قانون کے مطابق مادی طاقت کی بِنا اٹھایئے، اور ناقابلِ بحث حکمت کے تابع معنوی طاقت پیدا کیجیے ،تاکہ اداروں اور ریاستوں کو معلوم ہو کہ زمینی حکمت عملیاں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتیں جب تک کہ ان میں ربانی مقاصد کا اُفق شامل نہ ہو۔ 

وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ۝۰ۭ (الانفال۸:۱۰) ’’نصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے‘‘ کا اعلان محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک دائمی مدار(orbit)ہے جو دل کو توحید کے محور سے باندھ کر رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسی عادلانہ میزان ہے جو اسباب کے بوجھ اور نتائج کی سبکی کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔ ایک مستقل اور دائم مدرسہ ہے جو اُمت کو یاد دلاتا ہے کہ اس کی حقیقی عزّت ربّ کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں پوشیدہ ہے، نہ کہ زمینی طاقتوں کے سحر میں مبتلا ہونے میں! لہٰذا جس نے عہد کو سچ کردکھایا اور میثاق پورا کیا اس کے لیے ابدی وعدے کا جھنڈا گاڑ دیا گیا: 

كَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ۝۰ۭ (المجادلہ ۵۸:۲۱) اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسولؑ غالب ہو کر رہیں گے !

قسط اوّل کا خلاصہ: گذشتہ قسط میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ اسلامی معاشیات سرمایہ دارانہ نظام کی محض اصلاح شدہ صورت نہیں، بلکہ ایک اصولی اور تہذیبی متبادل ہے۔ مغربی معاشی فکر کو اس کے تاریخی پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ وہ مخصوص یورپی حوادث کی پیداوار ہے، نہ کہ کوئی ماورائے تاریخ آفاقی سائنس۔ نیز یہ کہ اسلامی معاشیات کا ظہور نوآبادیاتی دور کے بعد ایک زندہ اجتہادی ضرورت کے طور پرہوا، اور اس کی فکری تشکیل مختلف مراحل یا نسلوں سے گزرتی رہی ہے۔(مقدمہ:گذشتہ سے پیوستہ)  

۱- مغربی فکر کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟ 

سردست یہ بات غیرضروری ___ بلکہ بعض کے نزدیک گمراہانہ ہوسکتی ہے کہ مسلمان مغربی سماجی نظریات کا مطالعہ کریں۔ اگر اسلامی تعلیمات زندگی کے تمام پہلوئوں پر جامع رہنمائی فراہم کرتی ہیں، اور اگر مغربی فلسفے اُن لادینی اُصولوں پر مبنی ہیں جو عموماً اسلامی اقدار سے متصادم ہیں، تو پھر ایسی فکری روایت کا مطالعہ کرنے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے جس کی خامیاں پہلے سے واضح ہیں؟ 

یہ اعتراض اپنی جگہ قابلِ فہم ہے، لیکن ایک نہایت اہم حقیقت کو نظر انداز بھی کر دیتا ہے۔ مغربی فکر صرف ایک عقلی نظریاتی نظام نہیں، بلکہ جدید دنیا کا معمار ہے۔ وہ ادارے، قوانین، معاشی ڈھانچے اور تعلیمی نظام جن کے ہاتھوں میں آج مسلم دنیا کی لگام ہے، ان سب کی بنیاد ان افکار پر ہے جو یورپ کے تاریخی تجربات کی کوکھ سے پیدا ہوئے تھے۔ لہٰذا، کسی حقیقی اصلاح کا پہلا قدم یہی ہے کہ ان نظریات کو سمجھا جائے۔اس ضرورت کی کم از کم چار بنیادی وجوہ ہیں: 

الف: عالمِ اسلام میں نوآبادیاتی اداروں کی گہری بنیادیں  

یورپی نوآبادیات نے صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کیا، بلکہ مسلم معاشروں کے ادارہ جاتی ڈھانچوں کو اَزسرِ نو تشکیل دیا۔قانونی اصول و ضوابط بدلے گئے، تعلیمی نظام نئے سانچوں میں ڈھالے گئے، بیوروکریسی کے نئے طریقے متعین کیے گئے، اور معاشی پالیسیوں کو ازسرِ نو مرتب کیا گیا۔ اور یہ سب مغربی معیارات کے مطابق تشکیل دیا گیا۔آزادی کے بعد بھی یہ ادارے جوں کے توں برقرار رہے۔ ان کی نظریاتی بنیادوں کو سمجھنے کی طرف ذرّہ برابر توجہ نہیں کی گئی۔  

اصل بات یہ ہے کہ ادارے کسی معاشرے کے اجتماعی مقاصد کو عملی صورت دیتے ہیں، اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ اختیار کس کے پاس ہو، وسائل کس سمت کا رخ کریں، اور نظم کس کے مفاد میں قائم رہے؟ نوآبادیاتی دور میں جو ادارے یہاں قائم کیے گئے، ان کا بنیادی مقصد ’وسائل اور محاصل کا اخراج‘ تھا یعنی ایسا انتظام جس کے ذریعے پیداوار، زمین اور محنت کے ثمرات نوآبادیاتی حکمرانوں تک منتقل ہوں۔ آزادی کے بعد ان اداروں کا رخ کم و بیش وہی رہا۔ اب محاصل اور وسائل کا بہاؤ بیرونی حکمرانوں کے بجائے اندرونی اشرافیہ (خصوصاً وہ طبقہ جو انھی اداروں کے اندر تربیت پاتا اور انھی کے ذریعے اقتدار پاتا ہے) کی طرف ہوگیا۔ ان اداروں کے مقاصد سے آگاہ ہوئے بغیر جب تک انھی کے سانچوں میں رہتے ہوئے ’اصلاح‘ کی کوششیں کی جاتی رہیں گی، اسلامی اہداف کا حصول محدود یا بے معنی رہے گا۔ حقیقی اصلاح کا آغاز تو درست تشخیص سے ہوتا ہے۔ 

ب: سماجی نظریات اور اداروں کی سمت متعین کرنے کی صلاحیت 

سماجی نظریات کا کام فقط تفہیمِ عصر حاضر میں معاونت کرنا نہیں ہے۔ وہ یہ بھی طے کرتے ہیں کہ ترقی کا معیار کیا ہے، کون سے نتائج مطلوب ہیں، اور کن ذرائع کو جائز سمجھا جائے گا؟ مثال کے طور پر مغربی معاشیات میں اکثر اوقات بنیادی مقصد ’تکثیرِ افادہ‘ یا ’شرحِ نمو‘ میں اضافہ ہوتا ہے۔یہ تصور ایسے ادارے پیدا کرتا ہے، جو انھی اہداف کی خدمت کرتے ہیں، جیسے بینک اور اسٹاک مارکیٹیں وغیرہ۔ جب یہ ادارے عوام کی رگ و پے میں سرایت کر جاتے ہیں، تو رفتہ رفتہ رویّے، توقعات اور اقدار بھی انھی کے مطابق ڈھلنے لگتی ہیں۔ 

اسلامی اقدار کا رخ بالکل مختلف ہے۔ اسلام میں دولت امانت ہے، ملکیت نہیں۔ معاشی سرگرمی کا مقصد عدل، باہمی منفعت اور سماجی فلاح ہونا چاہیے۔ اسلامی تہذیب کے ادارے زکوٰۃ، وقف، اخلاقی تجارت انھی اصولوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ لیکن یہ اہداف ان اداروں کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتے، جو سیکولر اور انفرادی مفادات کے حصول کے لیے بنے ہوں۔ 

آج کل کی غالب معاشی پالیسیوں میں کامیابی کا معیار عموماً مجموعی پیداوار اور دولت کے حجم میں اضافے کو سمجھا جاتا ہے ،جب کہ دولت کی منصفانہ تقسیم، بنیادی ضروریات کی فراہمی، اور کمزور و محروم طبقات کے حالات پس منظر میں رہتے ہیں۔اس کے برعکس اسلام میں معاشرہ اپنے ہر فرد کی کفالت کا اجتماعی طور پر ذمہ دار ہے، اور کسی نظام کی جانچ اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ کتنے لوگ بھوک، محرومی اور عدمِ تحفظ کا شکار رہے، اور یہ کہ وسائل عدل کے ساتھ پھیلے یا چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئے۔ 

اس رُخ کو بدلنے کے لیے سب سے پہلے یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ موجودہ معاشی نظام کن نظریات، معیارات اور ادارہ جاتی طریقوں کے ذریعے ہمارے اجتماعی شعور اور عملی فیصلوں کو ایک خاص سمت میں دھکیل رہا ہے۔ مغربی معاشیات اور اس سے وابستہ اداروں کا مطالعہ اسی تشخیص کے لیے ضروری ہے تاکہ اصلاح کی کوششیں محض نیک نیتی کا اظہار نہ رہیں، بلکہ درست ہدف کا رُخ کریں۔  

ج:منزل کے شعور سے حکمتِ عملی تـک: پہلا عملی قدم  

عصرِ حاضر کی اسلامی تحریکوں میں عموماً منزلِ مقصود کی تعیین و تو ضیح کی جاتی ہے۔ یعنی اس بات کے اظہار پر زور دیا جاتا ہےکہ ایک مثالی اسلامی معاشرہ کیسا ہونا چاہیے؟ اس کے اصول، خدوخال اور ثمرات کیا ہوں گے؟ یہ زور بجا ہے، کیونکہ کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے مقصد کا واضح ہونا ناگزیر ہے۔ مگر اس کے ساتھ ایک اور سوال بھی برابر اہم ہے: ہم موجودہ حالات سے اُس منزل کی طرف پہلا قابلِ عمل قدم کیسے اٹھائیں؟ محض نقشۂ منزل کافی نہیں، راستے کی عملی ترتیب اور ابتدا کی سمت بھی متعین ہونی چاہیے۔  

اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے خلافت کی بحالی کی دعوت ایک عمدہ مثال ہے۔ اس کے حامیان اس کی شرعی بنیادوں اور تاریخی افادیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ پہلو اپنی جگہ اہم ہے، مگر آج کی دُنیا میں اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں اس سمت بڑھنے کے ابتدائی عملی اقدامات کیا ہوسکتے ہیں؟ آج امت سیاسی سرحدوں، ریاستی مفادات، اور قومیت کے سانچوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس منتشر صورتِ حال کو نظرانداز کر کے وحدت کی کوئی بھی عملی صورت پیدا نہیں ہو سکتی۔ وحدت کا راستہ تبھی نکل سکتا ہے جب ہم رکاوٹوں کو دُور کرنے کے لیے تدریجی اور قابلِ عمل حکمت عملی اختیار کریں۔ 

اس تناظر میں سب سے بڑی رکاوٹ جدید قومی ریاست کا وہ تصور ہے، جو موجودہ عالمی نظام کی بنیاد بن چکا ہے اور جس نے مسلمانوں کے اجتماعی شعور اور سیاسی امکانات کو سرحدوں کے اندر محصور کر دیا ہے۔ اس لیے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ہم ایسی فکری اور ادارہ جاتی صورتیں تلاش کریں، جو ان حد بندیوں سے بلند ہو کر امت کے باہمی ربط اور تعاون کو مضبوط کریں، مثلاً علمی مکالمہ، مشترکہ عوامی شعور کی تشکیل، باہمی تعاون کے سلسلے، اور مشترکہ مقاصد پر عملی اشتراک۔ عويمر انجم کی اُمّاتکس جیسی کاوشیں اسی سمت اشارہ کرتی ہیں کہ آج وحدت کا سوال نئے فکری سانچوں اور نئے عملی راستوں کا متقاضی ہے۔ 

یہاں اصلاح کے باب میں ایک بنیادی امتیاز کو سمجھنا ضروری ہے، اور وہ ہے منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا فرق۔ منصوبہ بندی میں منزل متعین کر کے وہاں تک پہنچنے کے مراحل ترتیب دیے جاتے ہیں، مگر حکمت عملی اس وقت ناگزیر ہو جاتی ہے جب راستے میں فعال مزاحمت موجود ہو، یعنی ایسے مفادات، ادارے اور طاقت کے مراکز جو تبدیلی کو اپنے لیے خطرہ سمجھ کر اس کے خلاف ردِ عمل دکھائیں۔ یہ شطرنج کی بساط کی مانند ہے، اپنی چال سوچنا کافی نہیں، بلکہ مخالف کی ممکنہ چالوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔اسی لیے حقیقی اصلاح کا آغاز صرف اس سوال سے نہیں ہوتا کہ ہم کیا چاہتے ہیں، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں، طاقت کے مراکز کہاں ہیں، اور موجودہ نظام کن فکری مفروضات اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کے ذریعے خود کو قائم رکھے ہوئے ہے؟ جب تک جدید بندوبست بالخصوص ریاست، معیشت اور علم کے مغربی سانچوں کی قوت و کمزوری کی درست تشخیص نہ کی جائے، نہ کوئی مؤثر منصوبہ بنایا جا سکتا ہے اور نہ قابلِ عمل حکمت عملی۔ اسی لیے مغربی فکر اور موجودہ نظام کا مطالعہ محض نظری مشغلہ نہیں، بلکہ اصلاح کی ایک عملی اور ناگزیر ضرورت ہے۔ 

د: تعلیم کے تقاضے اور حکمتِ عملی 

جدید تعلیمی نظام عموماً اس نہج پر استوار ہے کہ وہ مغربی سماجی علوم کو ’معروضی‘، ’قدر سے ماورا‘ اور ’آفاقی حقیقت‘ کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ اس عمل میں طلبہ صرف چند نظریات یا اصطلاحات نہیں سیکھتے، بلکہ رفتہ رفتہ ایک خاص تصورِ علم بھی اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ ایسا تصور جس کے تحت اجتماعی زندگی کی تشکیل مذہبی و اخلاقی رہنمائی کے بجائے ایک نام نہاد غیرمذہبی ’عقل‘، تکنیکی مہارت اور پالیسی ساز اداروں کے سپرد کر دی جاتی ہے۔ اسی ذہنی سانچے میں اسلامی متبادل اکثر یا تو محض ایک جذباتی نعرہ بن کر رہ جاتا ہے، یا مغربی اداروں پر ایک سطحی سا ’اسلامی ملمّع‘ چڑھا دینے کی کوشش۔ 

اس فکری گرفت سے نکلنے یعنی حقیقی فکری آزادی اور تخلیقی متبادل کی صلاحیت پیدا کرنے کا ایک مؤثر راستہ یہ ہے کہ مغربی نظریات کو ان کے تاریخی پس منظر میں سمجھا جائے۔ جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ یورپ میں یہ تصورات کن حالات میں ابھرے (مذہبی تنازعات، کلیسائی اقتدار، ریاستی تشکیل، سرمایہ داری کا فروغ، اور ایک ’سیکولر‘ اجتماعی نظم کی جستجو) تو ’آفاقیت‘ کا طلسم خود بخود ٹوٹنے لگتا ہے۔ نظریات ’ہمیشہ کے لیے سچ‘ نظر آنے کے بجائے اپنے عہد کے مخصوص سوالات کے جوابات بن کر سامنے آتے ہیں۔ اسی تاریخی شعور سے یہ حقیقت بھی منکشف ہوتی ہے کہ بہت سے مغربی حل ہماری اجتماعی صورتِ حال پر جوں کے توں لاگو نہیں ہو سکتے، کیونکہ ہمارے ہاں علم اور وحی کے درمیان وہ تصادم کبھی اسی صورت میں موجود نہیں رہا جس کی وجہ سے یورپ میں ’لادینی نظمِ اجتماع‘ ناگزیر شکل اختیار کر گیا۔  

اسی لیے تعلیم کا بنیادی فریضہ یہ ہونا چاہیے کہ طلبہ کو تربیت دی جائے کہ وہ نظریات کو تاریخی تناظر میں پرکھ سکیں، ان کے اخلاقی اور سیاسی مفروضات کو پہچانیں، اور یہ سمجھ سکیں کہ وہ کن اداروں اور کن عملی نتائج کو جنم دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی نصاب سازی اور نئے علمی بیانیوں کی ضرورت بھی ناگزیر ہے۔ ایسے بیانیے جو اسلامی نقطۂ نظر کو محض ردِّ عمل یا تقلید کے طور پر نہیں، بلکہ ایک خود مختار، اصولی اور ہمہ گیر فکری نظام کے طور پر پیش کریں، اور اسی بنیاد پر ادارہ سازی کی راہیں ہموار کریں۔ 

سیاسی اور سماجی حکمتِ عملی بھی اسی فکری پختگی پر قائم ہوتی ہے۔ پائیدار اصلاح نہ محض خواہش سے جنم لیتی ہے اور نہ محض مذمت سے۔ اس کے لیے درست تشخیص، تدریجی پیش رفت، اور صبر آزما ادارہ جاتی عمل درکار ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ایسے ادارے کیسے تشکیل دیں جو اسلامی مقاصد یعنی عدل، کفالت، امانت اور فلاحِ عامہ وغیرہ کو جدید دنیا کی پیچیدگیوں میں بھی مؤثر صورت دے سکیں؟ 

اسی زاویۂ نظر سے کتاب کے آئندہ ابواب میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ مسلمان مفکرین نے مختلف ادوار میں کس طرح ایک ایسی اسلامی معیشت کی تشکیل کی کوشش کی، جو شریعت کے اصولوں سے ہم آہنگ بھی ہو اور عصرِ حاضر کے عملی تقاضوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو۔ یہ فکری سفر تین بڑے مراحل یا نسلوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر ایک نے اپنے تاریخی سیاق میں اسلامی معاشیات کی تعمیر میں حصہ ڈالا اور مستقبل کے لیے اہم اسباق چھوڑے۔ 

۷- مخاطَب کی تبدیلی اور فکری تناظر کی توضیح (اسلام اور مغربی روایت) 

جیساکہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ اس تحریر کے اوّلین مخاطب سیکولر افراد اور انگریزی خواں طبقے تھے، بالخصوص وہ لوگ جو اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہیں۔ اس کا مقصد اسلام کا وہ مثبت اور متوازن تصور پیش کرنا تھا، جو اسلامی فکر، انسانی سماج کی تنظیم کے معروف مغربی طریقوں کے مقابل ایک مربوط اور اصولی متبادل فراہم کرتا ہے۔ اسی غرض سے یہ بھی واضح کیا کہ اسلامی معیشت اخلاقی بنیادوں پر قائم اُن مغربی روایتوں سے بھی ہم آہنگ ہےجو، روشن خیالی کی لادینی فکری لہر سے قبل، انسانی زندگی کے روحانی و اخلاقی پہلوؤں کو اجتماعی فلاح کا حصہ سمجھتی تھیں۔ یوں اس کتاب نے مغربی قارئین کو یہ دعوت دی کہ اسلام کو اجنبی نہ سمجھیں، بلکہ انسانیت کی اُس مشترکہ جستجو کے شریک کے طور پر دیکھیں جو عدل، امن اور صداقت کی تلاش میں مصروف ہے۔ 

البتہ اس اردو ترجمے کا مخاطب ایک مختلف طبقہ ہے، یعنی وہ مسلمان جو اسلام کی صداقت پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ عصرِ حاضر کے سنگین معاشرتی اور معاشی مسائل میں اسلامی اصول کس طرح راہنمائی کر سکتے ہیں؟ 

اس حلقۂ قارئین کے لیے اسلام کی معنویت پر از سرِ نو دلیل قائم کرنے کی چنداں حاجت نہیں۔ تاہم، ان کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ موجودہ حالات کی تنگنائیوں میں رہتے ہوئے ایک عادلانہ اور اخلاقی معاشی نظام کی تشکیل میں اسلامی اصول و قوانین کیسے ہمارے ہادی بن سکتے ہیں؟ اس طرح یہ کتاب مسلمان مخاطبین کی معاونت کرے گی اور انھیں بتلائے گی کہ خود ان کے لیے بھی یہ ناگزیر ہے کہ وہ مغربی فکر کو سمجھیں اور یہ جان سکیں کہ وہ انسانی فطرت سے کب اور کیوں جدا ہوئی؟ 

اس مطالعے کے ذریعے یورپ کے مذہب سے بیزاری کے سفر اور اس کے نتیجے میں سیکولر نظریات کے ظہور سے واقف ہونے پر، مسلمانوں کے سامنے یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ مغربی معیشت کوئی آفاقی سائنس نہیں، بلکہ یورپ کے مخصوص بحرانوں کا ایک مقامی ردِعمل ہے۔ یہ ادراک مسلمانوں کے اندر اپنے فکری ورثے پر اعتماد کی نئی راہیں کھولے گا، اور انھیں یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ اسلامی معیشت دراصل ایک خودمختار اور جداگانہ روایت ہے، نہ کہ مغربی نظام کی کوئی شاخ یا ذیلی شکل۔ 

دونوں نظاموں کے مابین تفاوت اصولی درجے کا ہے۔ اس اختلاف کی گہرائی کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے: جب یورپ نے مذہب اور خدا کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کر دیاتو وہاں کے اہلِ نظر کے حلقوں میں یہ رجحان مضبوط ہوگیا کہ ’’انسانی کامیابی کا معیار دنیاوی منفعت، لذت اور خواہشات کی تکمیل ہے‘‘۔ یہی مفروضہ مغربی معیشت کے قلب میں پیوست ہے، اور اسی نے انسانی رویّے اور معاشرتی ترقی سے متعلق تمام مغربی نظریات کو تشکیل دیا ہے۔ 

اس کے برعکس قرآن لذت کی طلب کو ’نفس پرستی‘ کہہ کر رَد کرتا ہے، اور انسان کو بلند تر مقاصد یعنی ’’عدل، جذبۂ رحم، روحانی بلندی اور بندگیِ خدا کی طرف بلاتا ہے‘‘۔ یہی بنیادی اختلاف اس امر کو واضح کرتا ہے کہ ’اسلامی معیشت‘ اور ’سرمایہ دارانہ معیشت‘ محض ایک ہی نظام کے دو رُخ نہیں، بلکہ ایک دوسرے سے براہِ راست متضاد تصورات ہیں۔ 

اس پورے مباحثے میں یہ کلیدی نکتہ ذہن سے محو نہیں ہونا چاہیے کہ افکار کو تاریخی تناظر میں سمجھنا ناگزیر ہے۔ جس طرح مغربی نظریات یورپ کے اپنے داخلی بحرانوں کا جواب تھے، اسی طرح اسلامی اقتصادیات جدید دور میں مسلمانوں کے مسائل کے حل کے طور پر ابھر کر سامنے آرہی ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو ایک خالص اسلامی متبادل کی گنجائش نہ صرف واضح بلکہ ممکن اور ناگزیر دکھائی دینے لگتی ہے۔ 

۸-اسلامی اقتصادیات: تعریف، ماخذ اور تاریخی ظہور 

’اسلامی معاشیات‘ سے مراد یہ ہے کہ قرآن و سنت کی دائمی ہدایات (عدل، امانت، تعاون، اور ظلم کی ممانعت) کو عصرِ حاضر کے نئے معاشی حالات میں کس طرح نافذ کیا جائے کہ دولت کی پیداوار اور تقسیم انسانیت کے لیے خیر کا ذریعہ بنے۔ یہی وجہ ہے کہ ’اسلامی معاشیات‘ محض ’جدید مغربی معیشت‘ کی کوئی ’اسلامی شکل‘ نہیں، اس کے اصول قدیم اور ابدی ہیں، مگر ان اصولوں کو جدید مالیاتی اداروں، کرنسی، بنکاری اور عالمی منڈی کے ماحول میں برتنے کے لیے اجتہادی بصیرت درکار ہے۔ اس پس منظر میں یہ اصطلاح جدید ضرور ہے، لیکن اس کی روح اسلام کے آغاز ہی سے موجود ہے۔ 

’اسلامی معاشیات‘ کا ظہور اچانک یا حادثاتی طور پر بھی نہیں ہوا ہے، بلکہ ماضیِ قریب میں کچھ ایسے حالات پیش آئے جن سے نپٹنے کے لیے دھیرے دھیرے اس کی صورت گری ہوتی رہی۔ ماضی قریب میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ امت کی عظیم اکثریت نوآبادیاتی تسلط کے زیرِ نگیں آگئی، اور وہ معاشی و سماجی ادارے شکست و ریخت کا شکار ہوگئے، جو صدیوں سے اسلامی معاشرے کے مقاصد اور اقدار کو مجسم کیے ہوئے تھے۔ نوآبادیاتی استعمار سے آزادی کے حصول کے بعد اس امر پر غور و فکر کرنے کا داعیہ پیدا ہواکہ معیشت کا نظم کس بنیاد پر استوار کیا جائے؟یہی وہ لمحہ تھا جب ’اسلامی معاشیات‘ ایک بامعنی اور منظم سوال کی صورت میں ابھری: جدید ریاست، کرنسی، بنکاری، عالمی منڈی اور نوآبادیاتی ورثے کے درمیان ہوتے ہوئے اسلامی اصولوں کے مطابق معاشی نظام کیسے تشکیل دیا جائے؟ 

یہی وہ کام تھا جس کا بیڑا ’اسلامی معاشیات‘ کی پہلی نسل نے اٹھایا یعنی اسلامی معاشرے کے معاشی خدوخال اور اس کی سمت کا تعین کرنا۔ مگر اس راستے میں جو رکاوٹیں اور پیچیدگیاں سامنے آئیں وہ اتنی نئی اور گنجلک تھیں کہ ماضی کا ذخیرۂ علم جوں کا توں کافی نہ رہا، اور نئے اجتہادی سوالات ناگزیر ہو گئے۔ 

یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اسلامی معاشیات محض ایک نظری خاکہ نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی رہنمائی سے جنم لینے والی ایک زندہ و آزمودہ تہذیبی روایت ہے،جس نے صدیوں تک مسلم معاشروں کی اجتماعی تنظیم کی۔ زکوٰۃ، صدقات، حقوقِ قرابت، بیت المال، بازار کی نگرانی، اور بالخصوص اوقاف جیسے ادارے اسی رہنمائی کی عملی صورتیں تھے۔ انھی کے ذریعے کمزور طبقات (غریبوں، یتیموں، بیواؤں، مسافروں) کی کفالت معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔ تعلیم، علاج، پانی، اور دیگربنیادی سماجی خدمات بڑے پیمانے پر خیراتی اور وقف نظام کے تحت فراہم کی جاتیں۔ عثمانی دور میں سرکاری کھاتوں میں درج اراضی کا ایک تہائی حصہ وقف تھا، اور انھی اوقاف کے سہارے مدارس، شفاخانوں، لنگر خانوں، مسافر خانوں اور رفاہی اداروں کا ایک وسیع جال قائم رہا۔ اس تاریخی تجربے کی روشنی میں اسلامی معاشیات کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ دولت محض ذاتی ملکیت نہیں، بلکہ ایک امانت ہے، جس کے ذریعے معاشرے میں عدل اور کفالت کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔ 

اس کے برعکس جدید مغربی معاشیات کی فکری بنیاد اس تاریخی مرحلے میں پڑی جب یورپ نے اجتماعی زندگی کی تنظیم کے لیے مذہبی ہدایت کو خیرباد کہہ کر نام نہاد ’قدر سے ماورا عقل‘ کو رہنما بنالیا۔ جب خدا، آخرت اور یومِ حساب کو اجتماعی نظمِ حیات سے خارج کر دیا گیا، تو دنیاوی کامیابی (منفعت، لذت اور اقتدار) رفتہ رفتہ مقصدِ حیات بنتی چلی گئی، اور یہی ترجیحات جدید معاشی نظریے کے بنیادی مفروضات میں سرایت کر گئیں۔ اس تبدیلی کے ساتھ ’معاشرے‘ کا تصور بھی بدل گیا۔اسلامی روایت میں اہلِ ایمان کو ایک جسم کی مانند سمجھا جاتا ہے، جہاں ایک عضو کی تکلیف پورے بدن کی تکلیف شمار ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جدید مغربی تصور میں سماج ایسے افراد کا مجموعہ ہے جو کسی مشترک اخلاقی مقصد پر متفق نہیں ہوتا، وہ محض ایک معاہدے کے تحت یہ طے کرتا ہے کہ باہم رہتے ہوئے کن قانونی قواعد کی پابندی کی جائے۔ 

اس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ اسلامی معاشیات اور سرمایہ دارانہ معاشیات کا اختلاف محض چند مالی احکام یا تکنیکی تفصیلات تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے کی ساخت، اجتماعی ذمہ داری اور مقصدِ زندگی کے بارے میں دو بنیادی اور متضاد تصورات پر قائم ہے۔ ایک تصور وہ ہے جو تعاون، کفالتِ عامہ اور اجتماعی خیر کے لیے ذاتی مفاد کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور دوسرا تصور وہ ہے جو مسابقت، انفرادیت، اور دنیاوی منفعت و لذت کو پورے نظام کی محرک قوت بنا دیتا ہے۔ 

۹- اسلامی معاشیات کی علَم بردار تین نسلیں 

سیاسی آزادی کے بعد مسلم دنیا کو ایک نیا مسئلہ درپیش ہوا۔ اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ اجتماعی زندگی کے بڑے ادارے (ریاست، قانون، عدلیہ) معیشت اور تعلیم کئی نسلوں تک غیر اسلامی سانچوں میں ڈھل چکے تھے، اور یہی سانچے اب’معمول‘ بن کر ذہنوں میں بھی بیٹھ گئے تھے۔ آزادی کے بعد مسلمان مفکرین کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا: اسلامی معاشرہ دوبارہ کیسے قائم کیا جائے؟ 

اسی سوال کے جواب میں پچھلے چند عشروں میں اسلامی معاشیات کی فکری و عملی کاوشیں مختلف صورتوں میں سامنے آئیں۔حالات بدلتے رہے، تجربات کے نتائج ظاہر ہوتے گئے، اور اسی کے ساتھ مختلف مناہج بھی ارتقا پذیر رہے۔ سہولت کے لیے ان کاوشوں کو ہم تین نمایاں فکری مراحل یا ’تین نسلوں‘ میں تقسیم کر سکتے ہیں: پہلی نسل نے ایک اصولی اور انقلابی متبادل پیش کیا، دوسری نے موجودہ نظام کے اندر رہ کر تدریجی اصلاح کا راستہ اپنایا، اور تیسری نے دوبارہ بنیادوں کی طرف رجوع کرتے ہوئے نیچے سے ادارہ سازی کے ذریعے متبادل تعمیر پر زور دیا۔ 

پہلی نسل  (۱۹۵۰ء- ۱۹۷۵ء ) 

دو عظیم عالمی جنگوں نے یورپ کے لاکھوں نوجوانوں کو نگل لیا، اور نوآبادیاتی طاقتوں کو عسکری و معاشی لحاظ سے مضمحل کر کے رکھ دیا۔ یہ وہ موقع تھا جب ایشیا اور افریقہ میں آزادی کی تحریکوں کو کامیابی کا راستہ ملا، اور بعد کے عشروں میں متعدد مسلم معاشرے اپنی خودمختاری واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 

اس مرحلے پر اسلامی معیشت کے علَم بردار اہلِ دانش کی پہلی نسل سامنے آئی، اور انھوں نے سرمایہ داری، اشتراکیت اور کمیونزم کے مقابل اسلامی معیشت کو ایک انقلابی متبادل کے طور پر پیش کیا۔ انھوں نے مغربی معاشرتی و معاشی نظاموں پر بصیرت افروز تنقید کی، اور قرآن، سنت اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں عہدِ حاضر کے لیے ایک عادلانہ اور منصفانہ خاکہ پیش کیا، جس کے ذریعے نوآبادیاتی مظالم اور معاشی استحصال سے نجات کی راہ ہموار ہو سکتی تھی۔ 

لیکن جلد ہی یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ سیاسی آزادی تو حاصل ہو گئی ، مگر اسلامی نظام کے نفاذ کا خواب پھر بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ نوآبادیاتی راج اپنے پیچھے ایک ایسا مضبوط طبقہ چھوڑ گیا جو مقامی ضرور تھا، مگر ذہناً اور عملاً استعماری مفادات کا خادم تھا۔ یہ وہ سامراج نواز طبقہ تھا، جو اقتدار، دولت اور مفادات کی لالچ میں استعمار کی فکری و اخلاقی وفاداری کا دم بھرتا تھا۔ آزادی کے بعد بھی یہی طبقہ سیاست، بیوروکریسی، فوج اور معیشت کے کلیدی مناصب پر قابض رہا۔ ان کی وفاداری اپنی قوم سے نہیں بلکہ مغرب کی اقدار و معیارات سے تھی۔ اسی لیے اسلامی متبادل کے قیام کی ہرکوشش کے آگے بند باندھے گئے۔ اس حقیقت نے یہ واضح کر دیا کہ محض فکری برتری یا اخلاقی اپیل سے نظام تبدیل نہیں ہوتا، اس کے لیے سیاسی اور ادارہ جاتی قوت بھی درکار ہوتی ہے۔ یوں جدوجہد کا رخ اقتدار کے حصول کی طرف مڑا، مگر طاقت کے ناہموار توازن اور اندرونی و بیرونی مفادات کی مزاحمت نے ان کوششوں کو بڑی حد تک ناکام یا محدود کر دیا۔ 

چنانچہ پہلی نسل کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے اسلامی معیشت کے اصولی خدوخال واضح کیے اور ایک واضح متبادل کا فکری نقشہ پیش کیا۔ مگر یہی مرحلہ اس ادراک پر بھی منتج ہوا کہ طاقت کے موجودہ توازن میں فوری اور ہمہ گیر تبدیلی ممکن نہیں اور یہیں سے دوسری نسل کی تمہید بندھی۔ 

دوسری نسل (۱۹۷۵ء- ۲۰۰۸ء) 

جب عمل کے میدان میں فوری اور ہمہ گیر تبدیلی کی راہ مسدود نظر آئی تو بہت سے اہلِ علم اس نتیجے پر پہنچے کہ موجودہ عالمی نظام کے اندر رہتے ہوئے بتدریج اصلاح کی جائے۔اس منہج کا بنیادی خیال یہ تھا کہ ’اسلامی معاشیات‘ کو ’سرمایہ دارانہ معاشیات‘ کی ایک ’اصلاحی صورت‘ میں ڈھالا جاسکتا ہے: lجو اجزا اسلام سے ہم آہنگ ہوں انھیں قبول کر لیا جائےl جو جزوی تعارض رکھتے ہوں ان میں مناسب ترمیم کی جائے، اور l جو صریحاً خلافِ شریعت ہوں انھیں ترک کر دیا جائے۔ یہ راستہ بظاہر اس لیے بھی قابلِ عمل دکھائی دیتا تھا کہ جدید معاشیات نے صدیوں کی ریاضت سے بہت سا علمی و فنی مواد، تجزیاتی آلات، ادارہ جاتی تجربات اور فنی مہارتوں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کر لیا تھا۔ چنانچہ ’اَزسرِ نو تعمیر‘ کے بجائے ’اصلاح و تطبیق‘ کو زیادہ حقیقت پسندانہ حکمت عملی سمجھا گیا۔ اسی دور میں اسلامی بنکاری اور مالیاتی اداروں کی متعدد صورتیں سامنے آئیں۔ 

تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ اس منہج کی حدود بھی نمایاں ہونے لگیں۔ جدید معاشیات کے بعض بنیادی مگر دقیق مفروضات مثلاً منفعت کو مرکزی محرک ماننا، فرد کو بنیادی اکائی سمجھنا، اور اداروں کو منافع کے تابع رکھنا اکثر صورتوں میں جوں کے توں برقرار رہے۔ نتیجتاً کئی اصلاحات ظاہری صورت سے آگے نہ بڑھ سکیں اور اصل روح پوری طرح منتقل نہ ہو سکی۔دوسری طرف خود سرمایہ دارانہ نظام کے اندرونی بحران بالخصوص ۰۸-۲۰۰۷ء کے عالمی مالیاتی بحران نے یہ حقیقت پوری شدت سے آشکار کر دی کہ ’’مسئلہ محض جزوی اصلاحات کا نہیں، بلکہ نظام کی ساخت اور بنیادوں سے جڑا ہوا ہے‘‘۔ 

تیسری نسل (۲۰۰۸ء - تاحال)  

ان تجربات کے بعد مفکرین کی ایک نئی لہر سامنے آئی، جس نے سوال کو ایک بار پھر بنیاد سے اٹھایا: اگر بنیاد ہی درست نہ ہو تو عمارت میں جزوی ترمیم کیسے کافی ہو سکتی ہے؟ چنانچہ تیسری نسل اس بات پر زور دیتی ہے کہ ’’اسلامی معاشیات کو سرمایہ دارانہ نظام کی کسی شاخ یا ترمیم کے طور پر نہیں، بلکہ قرآن و سنت کے اخلاقی اور سماجی اصولوں کی بنیاد پر ازسرِ نو تعمیر کرنا ہوگا‘‘۔ 

البتہ اس بار منہج قدرے مختلف ہے۔ ریاستی طاقت کے زور پر اوپر سے تبدیلی نافذ کرنے کے بجائے، توجہ نیچے سے (برادریوں، مقامی اداروں، اور عملی نمونوں کی) تعمیر پر ہو، تاکہ ایک متبادل نظم بتدریج پروان چڑھے اور وقت کے ساتھ وسیع تر سطح پر اثر انداز ہو۔ اس نسل کے نزدیک ’’اسلامی معاشیات، سرمایہ داری کی پیوندکاری یا محض ایک نظری منصوبہ نہیں، بلکہ اصولی طور پر سرمایہ داری سے مختلف ایک جامع نظمِ حیات، کامل نظامِ فکر اور ادارہ سازی کا ایک زندہ عملی نمونہ ہے، جس کی بنیاد عدل، تعاون، کفالتِ عامہ اور اللہ کے حضور جواب دہی جیسے تصورات پر ہے‘‘۔  

اس طرح یہ کتاب فکری اعتبار سے دوسری اور تیسری نسل کے درمیان ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اُس دور میں لکھی گئی جب اصلاحی منہج غالب تھا، مگر اس نے اسی تناظر میں ’جزوی اصلاح‘ کی حدود واضح کر کے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ اسلام اور سرمایہ داری کا اختلاف محض چند احکام کا نہیں بلکہ بنیادوں کا ہے۔ یہی ادراک بعد ازاں تیسری نسل کی فکری سمت کو واضح کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔ 

اختتامی کلمات اور دعوتِ مطالعہ 

اس تمہیدی مقالے میں چند بنیادی نکات واضح کیے گئے ہیں:  

  • اوّل یہ کہ جدید مغربی معاشیات اگرچہ اپنے آپ کو ایک ’آفاقی علم‘ کے طور پر پیش کرتی ہے، مگر اس کی فکری جڑیں یورپ کے مخصوص تاریخی تجربات اور مخصوص مقاصدِ حیات میں پیوست ہیں۔  
  • دوم یہ کہ اسلامی معاشیات محض چند مالی احکام یا تکنیکی ضوابط کا نام نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر تہذیبی روایت ہے، جس نے صدیوں تک مسلم معاشروں میں اجتماعی ذمہ داری، کفالتِ عامہ اور عدل کے اداروں کو عملی صورت دی۔ اور،  
  • سوم یہ کہ نوآبادیاتی تسلط اور ادارہ جاتی انہدام کے بعد، جدید دور میں اسلامی بنیادوں پر معاشرتی و معاشی تعمیرِ نو ایک ناگزیر سوال بن کر سامنے آیا اور اسلامی معاشیات کی فکر اسی سوال کے جواب میں مختلف مرحلوں سے گزرتی ہوئی تشکیل پاتی رہی۔ 

اس مفصل مقدمے کے بعد اب اصل متن کا آغاز ہوگا۔ آئندہ اقساط میں یہ کتاب بتدریج اس بنیادی سوال کے گرد گردش کرے گی کہ بدلتے ہوئے معاشی حالات میں قرآن و سنت کی ہدایات کو عملاً کیسے برتا جائے، یعنی ایسے ادارے اور ایسے پیمانے کیسے قائم ہوں جو دولت کو مقصد نہیں بلکہ امانت سمجھیں، جو معیشت کو محض پیداوار کا نظام نہیں بلکہ اخلاقی نظمِ حیات کا حصہ مانیں، اور جن کی کامیابی کا معیار یہ ہو کہ معاشرے میں کتنے لوگ محرومی سے بچے، کمزور کس حد تک محفوظ ہوئے، اور عدل کہاں تک قائم ہو سکا۔ 

ہر قسط کے ساتھ تشریحی حواشی بھی شامل کیے جائیں گے، تاکہ قاری اس بحث کے تاریخی پس منظر، فکری حوالوں اور عصرِ حاضر سے اس کے ربط کو واضح طور پر دیکھ سکے۔ یوں یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ اسلامی معاشیات محض ایک نظری مشق نہیں، بلکہ اصلاح کی ایک عملی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ بندوبست کی درست تشخیص کے بغیر نہ درست راستہ متعین ہوتا ہے، نہ مؤثر حکمت عملی وجود میں آتی ہے۔ 

ہم قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ اس سلسلے کو توجہ اور غور کے ساتھ پڑھیں، سوالات اٹھائیں، اور اپنے علمی و فکری حلقوں میں اس پر گفتگو کریں، تاکہ اسلامی معاشیات محض ایک اصطلاح نہ رہے، بلکہ ہمارے اجتماعی شعور اور ادارہ سازی کے عمل میں زندہ اور رہنما قوت بن سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ بصیرت عطا فرمائے جس کی روشنی میں ہمیں حق ہمیشہ حق اور باطل ہمیشہ باطل نظر آئے اور ہمیں حق کی پیروی اور باطل سے بچنے کی توفیق دے۔ آمین ! 

ترجمانُ القرآن کے قارئین کے لیے ہم اسلامی اقتصادیات کے جدید مباحث پر مبنی ایک اہم علمی سلسلہ پیش کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں ممتاز ماہر معاشیات اور معروف مصنف ڈاکٹر اسعد زمان کی کاوش پیش کی جارہی ہے۔ انھوں نے امریکا کی ممتاز جامعات میں تعلیم حاصل کی، ۲۲ برس کی عمر میں پی ایچ ڈی مکمل کی، اور پندرہ برس تک وہاں اعلیٰ سطح پر تدریس و تحقیق سے وابستہ رہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنا علمی رُخ اسلامی دنیا کی طرف موڑا۔ ابتدا میں ترکیہ میں خدمات انجام دیں۔ ۲۰۰۲ء میں بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد سے وابستگی کے بعد ان کی علمی کاوشیں بالخصوص اسلامی معاشیات کے میدان میں نمایاں طور پر سامنے آئیں۔ ان کی تصانیف و مقالات وسیع پیمانے پر شائع ہو چکے ہیں، اور دنیا کے مختلف تعلیمی اداروں میں اسلامی معاشیات کے نصابی مطالعہ اور علمی مباحث میں ان کے کام سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ مؤلف کی کتاب: Islamic Economics: The Polar Opposite of Capitalist Economics اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے اسلامی معاشیات کی سمت طے کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ 

اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اسلامی معاشیات کو محض چند مالی احکام یا بنکاری کے چند ظاہری تبدیلیوں تک محدود نہیں کرتی، بلکہ اسے انسان، معاشرہ، مقصدِ زندگی، اجتماعی ذمہ داری اور ادارہ سازی کے بڑے سوالات کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہی زاویہ آج اُردو دان قارئین کے لیے بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں معیشت کے غالب ادارے، تعلیمی سانچے، اور پالیسی کے پیمانے زیادہ تر غیر اسلامی فکری بنیادوں پر استوار ہیں۔ ایسے میں اصلاح کی کوئی سنجیدہ کوشش اسی وقت نتیجہ خیز ہو سکتی ہے جب وہ موجودہ بندوبست کو سمجھتے ہوئے متبادل راستہ دکھائے۔ 

زیر نظر کتاب ترکی، بنگالی اور انڈونیشی زبان میں ترجمہ ہو چکی ہے اور مختلف ملکوں میں وسیع حلقوں تک پہنچ چکی ہے۔ اردو ترجمہ اسی عالمی تسلسل کی اگلی کڑی ہے تاکہ وہ قارئین بھی براہِ راست اس بحث میں شریک ہو سکیں، جن کی علمی و فکری زبان اردو ہے اور جن کے سامنے جدید معاشی چیلنج روز بروز زیادہ شدت سے آ رہے ہیں۔ 

ہمیں امید ہے کہ یہ سلسلہ نہ صرف قاری کو اسلامی معاشیات کے بنیادی مباحث سے روشناس کرائے گا، بلکہ سنجیدہ فکری مکالمے کے نئے دروازے بھی کھولے گا۔ خصوصاً اس پہلو سے کہ جدید مغربی معاشی فکر کن تاریخی ضروریات کے تحت بنی، اور اسلامی روایت اس کے مقابل کس نوع کی متبادل راہیں پیش کرتی ہے؟ [مدیر] 


مقدمہ 

۱- اسلامی اقتصادیات : دو مخمصے  

’اسلامی اقتصادیات‘ سے کیا مراد ہے؟ اس سادہ سے سوال نے پریشان کن حد تک مختلف اور متنوع جوابات کو جنم دیا ہے۔ ایک حالیہ جائزے کے مطابق مختلف اہلِ علم نے اس کی ۳۰سے زائد تعریفات پیش کی ہیں۔ جب ہم اس میدان کے عملی مظاہر، یعنی نصابی کتابوں، یونی ورسٹیوں کے نصابات، علمی کانفرنسوں اور ادارہ جاتی پالیسیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو تشویش اور ابہام مزید بڑھ جاتا ہے۔ ان تمام تعریفات میں اگر کوئی قدرِ مشترک ہے تو وہ یہ مفروضہ ہے کہ اسلامی معاشیات کی ابتدا مغربی معاشی نظام کے قائم کردہ مناہج و معیارات سے ہونی چاہیے، اور اس کے بعد کچھ اسلامی اصولوں، اصطلاحات یا مقاصد کے انضمام اور کچھ مغربی اصطلاحات کی قطع و برید کے بعد اسی نظام کو ’مشرف بہ اسلام‘ کر دیا جائے۔ 

یہ کتاب اسی عمومی مفروضے کو کلیتاً رَد کرتی ہے۔ کتاب کا عنوان: اقتصادیاتِ اسلام: سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کی نقیض اس مقدمے کا خلاصہ ہے کہ اسلام اور سرمایہ داری انسانی مقصدِ حیات، عدلِ اجتماعی اور معاشی زندگی کے اخلاقی اصولوں کے بارے میں ایک دوسرے سے بالکل متناقض تصورات رکھتے ہیں۔ چنانچہ جب تک سرمایہ دارانہ نظام کے دائرے میں رہتے ہوئے اسلامی معاشیات کی توضیح کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں گی، تب تک اس کا نتیجہ تضادات، سمجھوتوں اور فکری انتشار کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ اس بات سے یہ بھی سمجھ آ جانا چاہیے کہ : 

اتنی متضاد تعریفات کیوں پائی جاتی ہیں اور کیوں ابھی تک کسی حتمی تعریف تک نہیں پہنچا جاسکا؟ 

دوسرا حل طلب معما یہ ہے کہ ’اسلامی‘ معاشیات کا آغاز آخر ہوا کیسے؟ ایک ایسا علم جو بیسویں صدی میں پہلی مرتبہ سامنے آیا، اور جس کی اسلامی روایت میں کوئی مثال نہیں ملتی اسے ’اسلامی‘ کیسے کہا جا سکتا ہے؟ فقہ، تفسیر اور کلام جیسے روایتی علوم طویل اور مسلسل ارتقائی تاریخ رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس دورِ جدید میں اسلامی معاشیات کا ظہور، نوآبادیاتی پس منظر اور مغرب کی معاشی بالادستی کے ردعمل میں ہوا۔ کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اصل میں صرف ایک جدید علمی ایجاد یا تخلیق ہے، جسے مذہبی لبادہ پہنا دیا گیا ہے؟ یا کوئی ایسی گہری علت موجود ہے جس کی بنا پر اسے ’اسلامی‘ کہنا درست قرار دیا جا سکتا ہے؟ 

یہ انھی دونوں گتھیوں کو سلجھانے کے لیے لکھی گئی ہے۔ مرکزی استدلال یہ ہے کہ اسلامی معاشیات، سرمایہ دارانہ نظام کی کوئی ترمیم شدہ صورت نہیں، بلکہ بالکل جداگانہ معاشی تصور کی تشکیل کا نام ہے، ایک ایسا تصور جو شریعت کے ابدی اصولوں پر بھی قائم ہواور عصرِ حاضر کی ضروریات کے مطابق اجتہادی بصیرت سے بھی مزین ہو۔نیز کتاب یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اسلامی معاشیات کا بیسویں صدی ہی میں منظرِ عام پر آنا کوئی نقص نہیں بلکہ اسلام کی ابدی صلاحیتِ اجتہاد کا بیّن ثبوت ہے۔ وہ صلاحیت جس کے ذریعے وحی کی رہنمائی ہرزمانے کے بدلتے حالات میں قابلِ اطلاق رہتی ہے۔ زیرِ نظر تمہید کے بقیہ حصے میں اسی مدعا کو معقول دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ 

۲- غیر متبدل اصول اور زمانی و مکانی حقائق، اسلامی تناظر میں  

اپنے ابتدائی دنوں ہی میں اسلام نے یہ عظیم اصول بتلا دیا تھا کہ ’الٰہی ہدایت ابدی ہے، مگر اس کا اطلاق ہمیشہ بدلتے ہوئے زمان و مکان کے مطابق ہوگا‘۔ قرآن و سنت عدل، امانت، رحمت اور مساوات جیسے غیر متبدل اصول فراہم کرتے ہیں، مگر ان اصولوں پر عمل درآمد کی صورتیں ہمیشہ معاشرتی حالات، تکنیکی کیفیات اور تاریخی سیاق و سباق کے مطابق بدلتی رہی ہیں۔ 

مثال کے طور پر مسلم معاشرے کے دفاع کے مسئلہ کو دیکھیے ۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس کا مطلب گھڑ سواری، تیراکی اور تیراندازی جیسے فنون میں مہارت تھا۔ بعد کے ادوار میں اسی ذمہ داری کا تقاضا آتشیں اسلحے اور بحری طاقت میں مہارت ہوگیا۔ آج کے دور میں اس کے ذیل میں سائبر سکیورٹی، خلائی انجینئرنگ، معاشی استحکام اور بین الاقوامی قانون جیسے شعبے داخل ہو چکے ہیں۔ اصول (دفاع کی ذمہ داری) ایک ہی رہا، مگر صورتیں بدلتی رہیں۔ غیر متبدل اقدار اور متبدل حالات کے اسی تعلق نے اجتہاد کو اسلامی روایت کا نہ صرف جائز بلکہ لازمی جزو بنادیا۔ 

یہ اصول معاشی زندگی پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے۔ شریعت نے معاشی عدل کے بہت واضح معیارات قائم کیے ہیں: سود کی حرمت، زکوٰۃ کی فرضیت، عقود کی پاسداری، دولت کی مسؤلیت اور محنت و مزدوری کا احترام۔ لیکن ان اصولوں کے عملی اطلاقات (ادارے، قوانین، پالیسیاں) ہمیشہ ہر دور کے معاشرتی، سیاسی اور تکنیکی حالات کے مطابق تشکیل پاتے ہیں۔ 

اسلامی تاریخ ایسے اجتہادی ارتقا سے بھری پڑی ہے۔دورِ خلافت کی متنوع مالیاتی پالیسیاں، اوقاف کی ترقی یافتہ صورتیں، منڈیاں اور حکومتی محاصل کے ضابطے، یہ سب اس امر کی زندہ مثالیں ہیں کہ مسلمانوں نے ہمیشہ ابدی اصولوں کو اپنے زمانے کے نئے تقاضوں اور حالات کے مطابق برتا۔فقہاء اس اصول کی تعبیر یوں کرتے ہیں : تتغیر الفتویٰ بتغیر الزمان والمکان،یعنی زمان و مکان کے بدلنے سے فتویٰ بدل جاتا ہے ۔ چنانچہ عدل کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کو روحِ عصر کے ساتھ سمجھا اور برتا جائے۔ 

یہی علمی و عملی شعور ہمارے مرکزی استدلال کی اساس ہے۔ عہدِ حاضر میں مسلمان ایسے معاشی مسائل کا شکار ہیں جن کی نوعیت نہایت گنجلک، ہمہ گیر اور ماضی سے یکسر مختلف ہے: ریاستیں اور خاندان قرض کے جال میں جکڑے ہوئے ہیں، مہنگائی میں اضافے اور کرنسی کی قدر میں مسلسل گراوٹ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے ، بنکاری نظام قرض کی بنیاد پر پیسے کی تخلیق کے ذریعے معیشت کو غیر فطری سمت میں دھکیل رہا ہے، اور عالمی مالیاتی اداروں کی عائد کردہ شرائط کے تحت قومی پالیسیاں تشکیل پا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ اجارہ داریوں کا پھیلاؤ، میڈیا اور اشتہارات کے ذریعے خواہشات کی صنعت کا فروغ، اور محنت کش انسان کی قدر و منزلت کی پامالی نئی اور زیادہ پیچیدہ صورتوں میں سامنے آ رہی ہے۔ ان مسائل کا جواب مروجہ جدید نظاموں کی اندھی تقلید میں ہے، نہ ماضی کے کسی جامد تصور کی ہوبہو نقالی میں۔ صائب راستہ یہی ہے کہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں معاشی معیارات پر از سرِ نو غور و فکر کیا جائے اور پھر ان کی بنیاد پر ادارے اور پالیسیاں وضع کی جائیں۔اسلامی معاشیات کی ذمہ داری اسی کارِ خیر کو انجام دینا ہے ۔ 

۳-  تاریخی تجربات اور معاشرتی نظریات کی تشکیل 

خیالات کبھی خلا میں جنم نہیں لیتے۔ معاشرتی نظریات خواہ ان کا تعلق معاشیات سے ہو، سیاست سے یا قانون سے زمان و مکان سے بے نیاز مجرد صداقتیں نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی تاریخی مسئلے کے جواب کے طور پر سامنے آتے ہیں، جنھیں مفکرین اپنے عہد کے فکری، سماجی اور اخلاقی بحرانوں سے نبرد آزما ہو کر وضع کرتے ہیں۔ کسی نظریے کو اس کے شانِ نزول سے کاٹ کر سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے سوال سنے بغیر ہی جواب سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ 

جس طرح اسلامی روایت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم ابدی اصولوں کو اجتہاد کے ذریعے بدلتے حالات پر منطبق کریں، بالکل اسی طرح دیگر فکری روایات کو بھی ان کے تاریخی پس منظر کے ساتھ سمجھنا ناگزیر ہے۔ جب کسی نظریے کے نتائج کو ماورائے تاریخ ’آفاقی صداقت‘ سمجھ لیا جائے، گویا وہ کسی تاریخی تجربے کے بجائے عقلِ محض سے مستنبط ہوں، تو نہ صرف اس نظریے کی تفہیم مسخ ہوجاتی ہے بلکہ خود وہ مسئلہ اور وہ زمانہ بھی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے، جس کے جواب میں وہ نظریہ وجود میں آیا تھا۔  

اسی اصول کا اطلاق جدید مغربی معاشی فکر پر بھی ہوتا ہے۔یہ فکر کسی ماورائے زمان و مکان ’عقلِ محض‘ کی ریاضت کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ یورپ کی مخصوص مذہبی کشاکش اور اس کے بعد ’تحریکِ تنویر‘ (Enlightenment Movement)کے فکری ماحول میں بتدریج تشکیل پائی۔ اس دور میں یہ رجحان مضبوط ہوتا چلا گیا کہ ’مذہب کو محض ایک نجی معاملہ قرار دے کر‘ اجتماعی اور معاشی نظمِ حیات سے الگ کر دیا جائے۔ اسی تاریخی تناظر میں، جیسا کہ آر ایچ ٹاؤنی جیسے مؤرخ نے اپنی کتاب  Religion and the Rise of Capitalismمیں واضح کیا ہے ’’معاشی سرگرمیوں کے اخلاقی پیمانے بدلنے لگے: نفع، سود اور دولت کی اندھی دوڑ کو رفتہ رفتہ ’جواز‘ فراہم کیا گیا، اور اُخروی جواب دہی کے تصورات عملی زندگی سے دور ہوتے چلے گئے‘‘۔ 

کارل پولانی کی کتاب The Great Transformation:Economic and Political Origins of Our Times کے مطابق، جب معیشت کو معاشرت سے کاٹ کر ایک خودمختار منڈی کے سانچے میں ڈھالا گیا، تو انسان اور سماج کے مقاصد بھی عملاً محض دنیاوی کامیابی تک محدود ہوگئے، یعنی طاقت، دولت اور خواہشات کی تسکین۔ اگر اس پورے تاریخی پس منظر کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہی عارضی اور مخصوص مفروضے ’آفاقی سچائیوں‘ کے رُوپ میں نظر آنے لگتے ہیں۔ یہی رویہ مغربی معاشی فکر کی درست تفہیم میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے،اور اس کے متبادل نظریات کی تشکیل کے راستے میں بھی ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ 

بدقسمتی سے یہ تاریخی بے بصیرتی آج مغرب اور مسلم دنیا دونوں میں عام ہو چکی ہے ۔ البتہ اس کے اسباب دونوں جگہ مختلف ہیں۔ مغرب میں ’تحریکِ تنویر‘ کے فکری رہنمائوں نے علم کو شعوری طور پر الٰہیات سے کاٹنے کی کوشش کی۔عقل کو خودمختار، غیر جانب دار اور تمام تاریخی و مذہبی قیود سے بالاتر قرار دیا گیا۔ اسی دعوے نے ’سماجی علوم کی معروضیت‘ کے نئے تصور کو جنم دیا۔ ’آفاقیت پرستی‘ کے نظریے کی ترویج سے جدید مغربی تعقل کو ایسی بالادستی حاصل ہوگئی کہ مغربی نظریات اب محض نظریات نہ رہے، بلکہ ایسی آفاقی صداقتوں کے قالب میں پیش کیے جانے لگے جو ہر عہد کے ہرشخص پر یکساں لاگو ہوں۔ 

اسلامی تعلیمات کی آفاقیت اپنی جگہ مسلّم ہے، مگر اس آفاقیت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم ہردور میں ان تعلیمات کے عملی نفاذ کے وسائل سے بخوبی آگاہ ہوں۔ مثال کے طور پر قرآن و سنت بار بار بھوکوں کو کھانا کھلانے اور محتاجوں کی کفالت کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ حکم ابدی ہے، لیکن آج اس کو مؤثر طور پر پورا کرنے کے لیے زراعت، آبپاشی، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، طلب اور رسد، اور جدید پیداواری تکنیکوں کا فہم ضروری ہے، ورنہ نیک نیتی کے باوجود غربت و افلاس کا مسئلہ برقرار ر ہے گا۔ اسی طرح سود، زکوٰۃ، اور مالی معاملات سے متعلق شرعی اصول بھی ابدی ہیں،مگر ان کے اطلاق کے لیے جدید کرنسی، بنکاری اور مالیاتی نظام کی ساخت کو سمجھے بغیر کوئی بامعنی پیش رفت ممکن نہیں۔شرعی اصولوں کی آفاقیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ماضی کی جزئیات کو من و عن حال پر چسپاں کیا جانے لگے ، وگرنہ تصورِ اجتہاد ایک بے معنی شے بن کر رہ جائے گا۔  

خلاصہ یہ کہ آفاقیت کا غلط تصور جہاں جدید علوم کے فہم میں خرابی کا باعث بنتا ہے ، وہیں اسلامی علوم کے ناقص یا غیر صائب اطلاق کا سبب بھی بن سکتاہے ۔ اسی لیےعلوم کے تاریخی ارتقا سے واقفیت اَزبس ضروری ہے ۔  

دینی اور دُنیاوی تعلیم کی تقسیم: ایک رکاوٹ 

یہ وہ مرحلہ ہے جہاں آ کر ہمارا موجودہ تعلیمی نظام بھی ایک گہرا اور عملی خلا پیدا کرتا ہے۔ مسلم دنیا میں تعلیم کی تقسیم نے دینی مدارس اور یونی ورسٹیوں کو دو متوازی بلکہ بالکل منقطع راستوں پر ڈال دیا ہے، جس کا سب سے گہرا اثر اسلامی معاشیات جیسے بین العلومی (interdisciplinary) میدان پر پڑتا ہے۔مدارس کے طلبہ کو شرعی اصولوں، فقہی قواعد اور اخلاقی تصورات سے واقفیت کے بھرپور مواقع میسر آتے ہیں، مگر جدید معاشی نظام، اس کی ادارہ جاتی ساخت اور بنیادی مفروضات ان کے سامنے اکثر مبہم رہتے ہیں۔جدید نظامِ زر و بنکاری کی حقیقت سے بھی وہ زیادہ آگاہ نہیں ہوتے۔ نتیجتاً ان میں وہ صلاحیت ہی پیدا نہیں ہوتی کہ وہ علم معاشیات کی آفاقیت کے دعوے کو علمی طور پر پرکھ سکیں اور اس کے تاریخی و اخلاقی پس منظر کوجانچ سکیں ۔  

دوسری طرف جدید یونی ورسٹیوں کے طلبہ جدید معاشیات کی تکنیکی تربیت تو حاصل کر لیتے ہیں، مگرشرعی علوم سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں۔مزید برآں یونی ورسٹیوں میں مغربی سماجی علوم ، بالخصوص معاشیات ، جس اسلوب میں پڑھائے جاتے ہیں،وہ مسئلے کو اور پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ سماجی علوم بشمول علم معاشیات چونکہ طبیعی سائنس کی ہیبت و ہیئت میں پروان چڑھے ہیں، اس لیے ان کے دعوؤں کو بھی اکثر طبیعیات کی طرح چند غیر متبدل قوانین کے قالب میں پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ طلب و رسد جیسے اصول بھی اس انداز میں پڑھائے جاتے ہیں گویا وہ کششِ ثقل کے قانون کی طرح ہرحال میں یکساں ہوں، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قواعد، مخصوص سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت سے وابستہ ہیں۔ جہاں منڈی کی جگہ منصوبہ بندی، یا سرکاری نرخ آ جائیں، وہاں یہ ’قوانین‘ اپنی وہ شکل برقرار نہیں رکھ پاتے، جو کتابوں میں بطور آفاقی حقیقت پیش کیے جاتے ہیں۔ اس طرزِ تعلیم کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طلبہ اس علم کے مفروضات کو غیر متبدل اور اٹل حقائق سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ سو ان پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔  

یوں دونوں تعلیمی دھاروں میں الگ الگ مگر عمیق فکری خسارے جنم لیتے ہیں۔ مدارس میں جدید معاشی علم کی تاریخی اور ادارہ جاتی تفہیم کمزور رہتی ہے، اور یونی ورسٹیوں میں اخلاقی و شرعی بنیادوں سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں وہ دوہری بصیرت جو جدید اسلامی معاشیات کی تفہیم اور تشکیل کے لیے ناگزیر ہے، شاذ ہی پیدا ہوتی ہے۔ 

 اسلامی معاشیات کی ضرورت اسی مقام پر پوری شدت سے سامنے آتی ہے۔ یہ جدید معاشی علم کو سمجھ کر اس کے آفاقیت کے دعووں کی حدیں متعین کرتی ہے، ان کے تاریخی اور اخلاقی پس منظر کو بے نقاب کرتی ہے، اور پھر قرآن و سنت کی روشنی میں وہ اصولی اور عملی سوالات اٹھاتی ہے، جن کے بغیر ’جدید اسلامی معیشت‘ کی صورت گری ممکن نہیں۔ یوں اسلامی معاشیات محض ایک اضافی مضمون نہیں، بلکہ ایک ناگزیر فکری پل ہے، جو ابدی اسلامی اصولوں اور بدلتے ہوئے معاشی حقائق کے درمیان ربط قائم کرتا ہے۔ 

۴-مغرب کا تصورِ آفاقیت اور اس کی تاریخی بنیادیں 

یہ سوال اہم ہے کہ مغربی فکر نے اپنے سماجی نظریات کو آفاقی صداقتوں کے طور پر کیوں اور کیسے پیش کرنا شروع کردیا؟ ان نظریات کے اندر ایسی کیا خصوصیت تھی کہ انھیں سب انسانوں کے لیے ہر زمانے میں قابلِ اطلاق سمجھ لیا گیا؟ اس کا جواب نظریات کے مواد میں نہیں بلکہ ان تاریخی حوادث میں پوشیدہ ہے، جن کے جواب میں یہ فکر پیدا ہوئی۔ 

یورپ میں صدیوں پر محیط مذہبی تنازعات کے بعد، اہلِ تنویر نے یہ جستجو شروع کردی کہ علم، اخلاق اور سیاسی اقتدار کی بنیاد وحیِ الٰہی کے سوا کسی اور چیز پر استوار کی جائے۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کی بے مہار جنگیں، کلیسائی ادارۂ تفتیش و تعزیر (Inquisition) کا ظلم و عدوان، اور فرقہ وارانہ سیاست کا انتشار اُس مہیب اور تاریک تجربے کا حصہ تھے، جس نے یورپی اذہان پر گہرے اثرات چھوڑے۔ ان حالات میں یورپ کے دانشوروں نے یہ حل تجویز کیا کہ معرفت، اخلاق اور اقتدار کی بنیاد وحی کے بجائے عقل پر رکھی جائے، ایسی عقل جو ’عالم گیر‘ ہو، ’معروضی‘ ہو، اور مذہب سے مکمل طور پر آزاد ہو۔یہ کوئی غیر جانب دار دریافت نہیں تھی، بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی کہ مذہب، جو اجتماعی زندگی کے لیے مشعلِ راہ ہوا کرتا تھا، اسے بے دخل کر کے ایک ایسے علم کو منصبِ امامت پر فائز کر دیا جائے جو بظاہر غیر جانب دار اور عالم گیر ہو۔ 

ڈیکارٹ کو جدید مغربی فلسفے کا بانی کہا جاتا ہے۔ اس کے افکار ایک مخصوص تاریخی بحران کا جواب تھے۔ اُس دور میں یورپ میں اسلامی تہذیب سے آنے والی علمی و سائنسی میراث نے طبیعی سائنس کو نئی سمتیں عطا کیں، مگر کلیسا کی کڑی نگرانی اور بے جا احتساب کی وجہ سے اہلِ علم کی فکری آزادی تب بھی خطرے میں تھی۔ اس خطرے سے مستقل طور پر خلاصی کے لیے ڈیکارٹ نے یہ راستہ نکالا کہ ’یقینی علم‘ کی بنیاد وحی یا روایت پر نہیں بلکہ ’عقلِ عام‘ (Common Sense) پر رکھی جائے تاکہ فرد تنِ تنہا اپنی دلیل سے آفاقی سچائی تک پہنچ سکے، اور علم کو کلیسا کی گرفت سے ایک محفوظ دائرہ مل جائے۔ وقت کے ساتھ اسی تصور نے اس تقسیم کو مضبوط کر دیا کہ ایک طرف ’دینی علم‘ ہے جس کا تعلق بس ایمان اور عبادات کے ساتھ ہے، اور دوسری طرف ’دُنیوی علم‘ ہے، جس کا دائرہ سیاست، معیشت اور سائنس پر محیط ہے۔دنیوی علم عقلِ انسانی کا خود مختار میدان قرار پایا۔ یہی دوئی(dichotomy) آگے چل کر سیکولر فکر کی بنیاد بنی، جہاں اجتماعی زندگی کے بڑے فیصلے مذہبی رہنمائی کے بجائے ’غیرمذہبی‘ عقل اور تجربے کے حوالے کر دیے گئے۔ 

اس طرح وہ نظریہ جو محض یورپ کے اپنے داخلی انتشار کے حل کے طور پر سامنے آیا تھا، تدریجاً اسے ’آفاقیت‘ کی سند مل گئی، یعنی جو مسئلہ یورپی تھا، وہ ’انسانی‘ بن گیا۔مغربی تعلیم اور پالیسی ساز اداروں کی ساکھ ہی اس تصور پر استوار ہوگئی کہ علم، خاص کر سماجی علوم، ’قدر سے عاری‘ اور ’معروضی‘ ہونے چاہییں۔ نوآبادیاتی استعمار نے پھر اس نظریے کی ترویج کی، اور مغربی تعلیمی نظام کے ذریعے دنیا کے چپے چپے پر اس فکر نے اپنے پنجے گاڑ دیے۔ خصوصاً معاشیات کو ایک تکنیکی سائنس کے طور پر پڑھایا گیا، یعنی ایسی سائنس جو ماورائے زمان، تہذیب و ثقافت کی قیود سے آزاد اور آفاقیت کی حامل ہے۔ 

لیکن یہ محض ایک دعویٰ اور بے بنیاد مفروضہ ہے، علمی حقیقت نہیں۔ مغربی معاشی و سماجی نظریات کے رَگ و پَے میں جو بنیادی مفروضات سرایت کیے ہوئے ہیں، جیسے انسانی خودغرضی، لذت پسندی، عقل پرستی، بے محابا مقابلہ، اور ریاست کا مخصوص کردار، یہ سب یورپ کے مخصوص اخلاقی و سیاسی تجربات کی پیداوار ہیں، نہ کہ انسانیت کی آفاقی فطرت کے یقینی حقائق۔ انھیں ’آفاقی‘ بنا کر پیش کرنے کے پیچھے خود ایک تاریخی ضرورت کارفرما رہی۔ ابتدا میں یہ دعویٰ اس لیے مفید تھا کہ نئی سائنسی و فکری کاوشوں کے لیے کلیسا کی نگرانی سے پرے ایک محفوظ میدان میسر ہو۔ بعد کے دور میں یہی دعویٰ نوآبادیاتی نظام کے لیے بھی نہایت کارآمد ثابت ہوا۔ یورپی فکر کو ’عقلِ عام‘ کا معیار قرار دے کر یہ تاثر پھیلایا گیا کہ ’غیر یورپی اقوام عقل و تدبیر میں کم تر ہیں، اس لیے ان پر حکومت کرنا اور انھیں ’مہذب‘ بنانا نہ صرف جائز بلکہ قابلِ توصیف ذمہ داری ہے‘۔ 

مگر یہ ملحوظ رہے کہ ہماری تنقید کا مقصود فی نفسہٖ عقل یا جدید علم کی نفی نہیں، بلکہ مغربی افکار کو’حتمی جواب‘ سمجھنے کے بجائے ان کو تاریخی و تہذیبی سیاق میں رکھ کر پرکھنا ہے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو جائے تو اگلا نتیجہ خود بخود سامنے آتا ہے۔ سماج کی سمت متعین کرنے والے مقاصد اگر مختلف ہوں تو ان مقاصد کو پورا کرنے والے ادارے بھی لازماً مختلف ہوں گے۔ ادارے دراصل وہ عملی سانچے ہیں جن کے ذریعے کوئی معاشرہ اپنی اجتماعی ترجیحات ( عدل، فلاح، مساوات، یا محض نفع و نمو) کو حقیقت بناتا ہے۔ اسی لیے جب اسلامی اصولِ تنظیمِ معاشرہ سرمایہ دارانہ مقاصد سے مختلف ہیں تو اسلامی معیشت کے ادارے بھی مختلف ہوں گے۔  

مثال کے طور پر ’بینک‘ کا مرکزی محرک سرمائے کی بڑھوتری اور منافع کی توسیع ہے، جب کہ ’وقف‘ کا بنیادی مقصد فیاضی، خدمت اور دیرپا اجتماعی کفالت ہے۔ اسی وجہ سے اسلامی تاریخ میں طویل عرصے تک ’اوقاف‘ معاشرتی زندگی کا مرکزی ستون رہے۔ ’اوقاف‘ نے تعلیم، صحت، غریبوں کی کفالت، مسافروں کی خدمت، اور شہری سہولیات تک کے لیے وہ بنیادی ڈھانچا فراہم کیا جس نے معاشرے کی تشکیل کی۔ اِس کے برعکس جدید یورپی تاریخ میں ’بینک‘ سے وابستہ ادارے ریاست، صنعت اور تجارت کے لیے سرمایہ کی فراہمی اور ارتکاز کا مرکزی وسیلہ بنتے گئے، اور رفتہ رفتہ مالی نظام کی ریڑھ کی ہڈی قرار پائے۔ 

۵-  جدید تناظر میں اسلامی اصولوں کی تطبیق اور اجتہاد 

اگر مغربی فکر کی خرابی یہ ہے کہ وہ اپنے مخصوص تاریخی تجربے کو آفاقی صداقت بنا کر پیش کرتی ہے، تو ہمارے ہاں ایک اور نوعیت کی مشکل درپیش ہے۔ وہ یہ ہے کہ شریعت کے آفاقی اصولوں کو عصرِ حاضر کے پیچیدہ معاشی اور مالیاتی مسائل پر منطبق کرنے کے لیے جدید نظامِ معیشت کی جس سطح کی سنجیدہ اور گہری تفہیم کی ضرورت ہے ، وہ ہمارے مذہبی حلقے میں کمیاب ہے۔ ’اجتہاد‘ کے لیے دینی علوم میں رسوخ ایک عمر کا تقاضا کرتا ہے، اور جدید معیشت کی تہہ در تہہ حقیقتوں کو سمجھنا بھی محض سطحی مطالعے سے ممکن نہیں۔ اسی لیے یہ میدان انفرادی کوشش سے بڑھ کر اجتماعی، فکری اور ادارہ جاتی کاوش کا طالب ہے۔  

اسلامی شریعت کی رہنمائی اپنی اصل میں آفاقی ہے۔ عدل، امانت، حقوق و فرائض، فلاحِ عامہ اور ظلم کی حرمت جیسے اصول ہر زمانے میں معتبر چلے آرہے ہیں، مگر ان اصولوں کا درست نفاذ حالات، وسائل اور سماجی ساخت کی حقیقی تفہیم کے بغیر ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے سلف نے ہردور میں اپنے زمانے کے نئے مسائل کو سامنے رکھ کر ’اجتہاد‘ کیا، یعنی پہلے درست صورتِ مسئلہ کی تشخیص کی ، پھر شریعت کے اصولوں کی روشنی میں اس کا حل تجویز کیا۔ آج بھی اصل ضرورت یہی ہے کہ جدید نظامِ معیشت کی حقیقت اور ساخت کو سمجھا جائے، تاکہ شرعی اصولوں کی تطبیق محض ظاہری مشابہت کے بجائے مضبوط اور بامعنی بنیاد پر ہو سکے۔ 

اس فرق کو ’حج‘ کی مثال سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ شریعت ’حج‘ کے مناسک متعین کرتی ہے، یعنی احرام، طواف، سعی، وقوفِ عرفہ وغیرہ___ مگر ان مناسک تک پہنچنے اور انھیں ادا کرنے کے انتظامات ہر دور میں بدلتے رہے ہیں۔ آج کا پاکستانی حاجی آن لائن رجسٹریشن، بینک ادائیگی، سفری و سرکاری دستاویزات، ویزہ و کوٹہ سسٹم، اور بین الاقوامی سفر کے پیچیدہ نظام سے گزر کر ہی حرمین تک پہنچتا ہے۔ یہ امور مناسک کا حصہ نہیں، لیکن موجودہ دور میں انھی کے ذریعے حج عملاً ممکن ہوتا ہے۔ فقہ نے ہمیشہ مقاصد اور ذرائع میں امتیاز قائم رکھا ہے، جو اس امر کا غماز ہے کہ شریعت کے آفاقی احکام کے درست اطلاق کے لیے عصرِ حاضر کے نظاموں اور وسائل کو سمجھنا ناگزیر ہے۔  

یہاں ایک اور بنیادی فرق کا ادراک بھی ضروری ہے۔ طبیعیات اور دیگر طبیعی علوم (Natural Sciences) میں درسی کتابیں عموماً ایسے علم تک لے جاتی ہیں، جس کے نتائج دنیا بھر میں یکساں طور پر نمایاں ہوتے ہیں۔ ان علوم کی بنیاد اُن خارجی مظاہر پر ہے، جن کے باہمی تعلقات بڑی حد تک مستقل رہتے ہیں، اور انھی کی بدولت ایسی ٹکنالوجی وجود میں آتی ہے، جو ہماری روزمرہ زندگی پہ براہِ راست اثرانداز ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جدید سماجی علوم بالخصوص معاشیات کو بھی اسی سائنسی ہیئت کے ساتھ ’قدرسے ماورا‘ اور ’آفاقی‘ بنا کر پیش کیا گیا، حالاں کہ ان کے عملی نتائج اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ دنیا آج بھی نہ ختم ہونے والی جنگوں، بڑھتی ہوئی سماجی ناہمواریوں، معاشی بحرانوں، اور انسان، معاشرہ اور ماحول پر بڑھتے دباؤ کا شکار ہے۔ 

 یہی وجہ ہے کہ مسلمان اہلِ علم کے لیے جدید معاشیات کو سمجھنے کا مطلب صرف درسی ماڈلز اور اصطلاحات یاد کرنا نہیں، بلکہ ان نظریات کے تاریخی پس منظر اور کارفرما مفروضات کو پہچاننا بھی ہے، تاکہ اپنی معیشت اور اپنے مسائل کو دوسروں کے مخصوص تاریخی تجربات سے اخذ کردہ نام نہاد ’آفاقی قواعد‘ کے بجائے اپنے سماجی حقائق اور شریعت کے مقاصد کی روشنی میں سمجھا اور سنوارا جاسکے۔(جاری) 

’’ان شاہی خاندانوں کو دیکھیے جو زبردستی اپنی طاقت کے بل بوتے پر امتیازی حیثیت حاصل کیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنے لیے وہ عزّت، وہ ٹھاٹھ، وہ آمدنی، وہ حقوق اور وہ اختیارات مخصوص کر رکھے ہیں جو دوسروں کے لیے نہیں ہیں۔یہ قانون سے بالاتر ہیں، ان کے خلاف کوئی دعویٰ نہیں کیا جاسکتا، یہ چاہے کچھ کریں، ان کے مقابلے میں کوئی چارہ جوئی نہیں کی جاسکتی، کوئی عدالت ان کے نام سمن نہیں بھیج سکتی‘‘۔(سلامتی کا راستہ،ص ۱۹) 

بادشاہوں کو حاصل استثنا کے بارے میں مولانا مودودیؒ کے کہے گئے اِن الفاظ پر ۸۵سال کا عرصہ بیت چکا۔ بادشاہوں پر نفرین بھیجنے والے ثناخوانِ تقدیس مغرب نے جمہوریت، آزادی اور مساوات کے تصورات کو روندا۔ انسانیت کو ملکوں میں خود تقسیم کرنے والوں نے جمہوریت کاشت کرنے کے نام پر انھی ملکوں کی سرحدوں کو بار بار پامال کیا۔ پھر اقوام متحدہ کے فیصلہ ساز ادارے سلامتی کونسل کےپانچ مستقل ممبر ممالک کو تاحیات یہ اختیار دے دیا کہ اگر اقوام متحدہ کے تقریباً سو ممالک کے ممبران ایک متفقہ قراراداد پاس کردیں،پھر سلامتی کونسل کے اجلاس میں مستقل اور غیر مستقل پندرہ ممبران میں سے چودہ اس کی حمایت کردیں تو بھی صرف ایک مستقل ممبر کا ویٹو انتہائی ڈھٹائی سے ساری محنت پر پانی پھیر سکتا ہے۔ 

الہامی تقدیس کو چیلنج کرنے والے آزاد خیالوں نے یہودیوں کے ہولوکاسٹ کے نظریئے کو یہ تقدیس بخشی کہ کوئی محقق یا صحافی ہٹلر کے ہاتھوں ۶۰ لاکھ یہودیوں کے قتل کی مبالغہ آرائی پر تنقیدی سوال اُٹھائے تو اس کی جگہ مغربی ممالک کی آزاد فضا نہیں، جیل ہے۔ قانونی مساوات اور قانون کی حکمرانی کے علَم برداروں اور ان کے مقامی خوشہ چینوں نے صدورِ مملکت کو یہ اختیار دیا کہ جب طویل عدالتی عمل کے بعد کوئی قتل کی سزا کا حق دار قرارپا جائے تو صدر مملکت اس قاتل پر ترس کھاتے ہوئے اس کی سزا معاف کرسکیں، یعنی مقتول کے وارثوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکنے کا اختیار۔ حد یہ کہ ’ووٹ کو عزّت دو‘ اورجمہوریت، جمہوریت کا راگ الاپنے والی پارٹیاں اور شخصیات صدر اور طاقت ور اداروں کو قانون سے بالاتر رہنے کا تاحیات استثنا دے دیں تو یہ بات جمہوریت اور انسانیت نوازی کے علَم برداروں اور اسلام کی سربلندی کی خواہش رکھنے والے دونوں طبقات کی فکرمندی کا موضوع بننا چاہیے۔ 

تاحیات استثنا حاصل کرنے والی یہ شخصیات ہوں یا ممالک،کیا ان کے اس مرتبے پر پہنچ جانے کے بعد وہ تزکیۂ نفس اور سلوک کی اتنی منزلیں طے کرجاتے ہیں کہ ان کے دل سے تعصبات، محبت و نفرت کے جذبات، حُب ِ مال و اولاد اور انتقامی جذبات کا گزر ہی نہیں ہوتا ہے۔ سیکولرز کو تو اس کوچے کی خبر ہی نہیں اور نہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں ، جب کہ اہل ایمان کے ہاں بھی یہ مقام صرف ایک ہی ہستی کو حاصل ہے لیکن اس ہستی نے تو استثنیٰ کو اُمتوں کی ہلاکت کا سبب قرار دیا۔ 

چوری کے ایک مقدمہ کے فیصلہ پر جب رسولؐ اللہ کو سفارش کی گئی توآپؐ نے فرمایا:  

تم سے پہلی اُمتیں اس وجہ سے ہلاک ہوئی تھیں کہ جب ان کا کوئی بااثر آدمی جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کمزور آدمی جرم کرتا تو اس پر حد نافذ کر دیتے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔یہ تو فاطمہ مخزومی ہے، اگر فاطمہؓ بنت محمدؐ بھی چوری کرتی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جاتا۔ (بخاری  و مسلم) 

بادشاہوں نے تو اپنی تقدیس کے نام پر قانونی چور دروازے رکھے تھے لیکن جمہوریت اپنے دعوے کے مطابق کسی تقدیس کو نہیں مانتی، تو پھر آج قانونی استثنا کا کیا جواز ہے؟ طاقت ور اور کمزور اور حاکم اور محکوم کے درمیان برابری کا قیام ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے۔ جب یہ برابری گم ہوجاتی ہے تو گویا حق، طاقت کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا ہے۔ یوں عوام کی نظروں میں قانون کی تقدیس اور حکمرانوں کا احترام بھی مجروح ہوجاتا ہے۔ نتیجتاً عدل و انصاف لوگوں کے درمیان نایاب ہوجاتا ہے حالانکہ لوگوں کو عدل پر قائم رکھنا تمام الہامی کتابوں اور انبیاؑکی بعثت کا مقصود ہے: 

وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۝۰ۚ (الحدید۵۷:۲۵) اور ہم نے نبیوں کے ساتھ کتاب اور میزان اُتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ 

قرآن کے مطابق تو عدل کی زد میں اگر تم خود بھی آتے ہو تو بھی اس سے پہلوتہی نہ کرو۔ استثنا حاصل کرنے والا تو دوسروں کی گواہی کا راستہ بند کرنے ولا ہوتا ہے: 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علَم بردار اور انصاف کے گواہ بن کر کھڑے رہو چاہے تمھارے انصاف اور گواہی کی زد خود تمھاری ذات، تمھارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریق معاملہ مال دار ہو یا غریب اللہ تم سے زیادہ ان کا خیرخواہ ہے لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل کا دامن نہ چھوڑو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلوتہی کی تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔(النساء۴: ۱۳۵)  

قرآن کے مطابق غیر مشروط اطاعت کا حق صرف اللہ اور اُس کے رسولؐ کے لیے ہے، کسی حکمران کے لیے نہیں کیونکہ غلطی،کمزوری اور کجی سے پاک حکم صرف اللہ اور اس کے رسولؐ ہی کا ہوسکتا ہے: 

اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور اُن لوگوں کی جو تمھارے امیر ہوں۔ پھر اگر تمھارے درمیان تنازعہ ہوجائے تو اسے اللہ اور رسولؐ کی طرف لوٹائو۔ (النساء۴:۵۹)  

گویا اُولی الامر کے بنائے گئے قانون اور نافذکیے گئے فیصلے کو اللہ اور رسولؐ کے حکم کی روشنی میں پرکھا جائے گا۔ ’اللہ اور رسولؐ کی طرف لوٹانے‘سے مراد یہ ہے کہ آئینی طور پر قانون کے سامنے حاکم اور محکوم برابر ہیں۔ 

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حاکم و محکوم میں برابری کی مثالیں قائم کی ہیں۔ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن صحابہؓ کی صفیں جنگ کے لیے سیدھی کر رہے تھے۔ آپؐ کے ہاتھ میں تیر تھا جس سے آپؐ لوگوںکی صفوں کو برابر کر رہے تھے۔ آپؐ جب سوادؓ بن غزیہ کے پاس سے گزرے اور انھیں صف سے آگے پایا تو آپؐ نے ان کے پیٹ پر تیر کو چبھوتے ہوئے کہا:’’سواد سیدھے ہوجائو‘‘۔ انھوں نے کہا:’’یارسولؐ اللہ! آپؐ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ اللہ نے تو آپؐ کو حق اور عدل کے ساتھ بھیجا ہے، آپؐ مجھے بدلہ دیں‘‘۔ 

یہ سن کر آپؐ نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا اور کہا: ’’لو بدلہ لے لو‘‘۔ 

یہ دیکھ کر سواد بن غزیہ نے آپؐ کے شکم مبارک کے بوسے لینے شروع کر دیئے اور بتایا کہ میرا مقصد آپؐ کے جسم سے مَس کرنا ہی تھا۔ (سیرت ابن ہشام، ۱/۶۲۶، البانی: سلسلہ احادیث صحیحہ، ۶/۳۳۴) 


حاکم اور محکوم کے درمیان مساوات کے قیام کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے امیر کی زیادتی پر اس سے عوام کو بدلہ لینے کا حق دیا۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ کو زکوٰۃ جمع کرنے بھیجا۔ اس مسئلہ پر ایک آدمی سے ان کی تکرار ہوگئی۔ ابوجہمؓ نے اس کی پٹائی کی جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔ اس کے اہل قبیلہ رسولؐ اللہ کے پاس آئے اور کہا: یارسولؐ اللہ! ہمیں بدلہ چاہیے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ بدلے میں اتنا مال لے لو مگر وہ راضی نہ ہوئے۔ آپؐ نے مال بڑھا کر کہا کہ اتنا لے لو لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے۔  پھر فرمایا کہ اتنا مزید لے لو تو وہ راضی ہوگئے۔ اب رسولؐ اللہ نے خطبہ دیا کہ قبیلہ لیث کے یہ لوگ میرے پاس بدلہ لینے کے لیے آئے تو میں نے انھیں اتنی پیش کش کی تو وہ راضی ہوگئے۔ اب آپؐ نے ان سے پوچھا: ’کیا تم راضی ہوگئے؟‘ انھوں نے کہا:’نہیں‘۔ یہ سن کر مہاجرین انھیں مارنے کے لیے لپکے تو رسولؐ اللہ نے انھیں روک دیا اور بنولیث کو تاوان میں مزید اضافے کی پیش کش کی اور پوچھا کہ ’اب تو راضی ہو نا؟‘ تو انھوں نے کہا: ’جی ہاں‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’میں لوگوں کو خطاب کر کے تمھاری رضامندی کی خبر دے دوں؟‘ انھوں نے کہا: ’جی ہاں‘۔ اب حضورؐ نے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا: ’کیا تم راضی ہو؟‘ ان لوگوں نے کہا: ’ہاں‘۔ (سنن ابوداؤد، ۶/۵۹۲) 


دُنیاوی زندگی کے آخری ماہ صفر کے آخری عشرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلالؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو جمع ہونے کا اعلان کریں۔ لوگوں کے جمع ہونے پر آپؐ نے فرمایا:’یامعشرالمسلمین! میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں اور تم پر میرا جو حق ہے، اس کا واسطہ دیتا ہوں کہ میری جانب سے کسی آدمی کی حق تلفی ہوئی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ کھڑا ہوجائے اور مجھ سے اس تکلیف کا قصاص لے لے۔مجمع دم بخود بیٹھا رہا۔ آپؐ نے دوبارہ پکار کر کہا:لیکن مکمل خاموشی۔ تیسری مرتبہ پھر فرمایا: ’’میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ میری طرف سے جس شخص کی حق تلفی ہوئی ہو، اسے چاہیے کہ وہ مجھ سے دُنیا میں ہی قصاص لے لے ، قیامت کے دن قصاص لینے سے پہلے پہلے‘‘۔ 

اب مجلس کے ایک سرے سے عمررسیدہ عکاشہؓ اُٹھے اور منبر رسولؐ کے سامنے پہنچ کر بولے: ’’میرے ماں باپ آپؐ پر فدا، اگر آپؐ نے بار بار ہمیں قسم نہ دی ہوتی تو میں کبھی یہ اقدام نہ کرتا۔ بات یہ ہے کہ ایک غزوہ میں فتح سے ہمکنار ہوکر آپؐ واپس آرہے تھے تو راستے میں ایک جگہ میری اُونٹنی آپؐ کی اُونٹنی کے آگے آگئی تو مَیں اُونٹنی سے نیچے اُتر پڑا اور آپؐ کے قدم چُومنے کے لیے آپؐ کے قریب ہوا تو آپؐ نے اپنی قضیب (لاٹھی) میرے پہلو پر ماری تھی۔ نہیں معلوم آپؐ نے جان بوجھ کر مجھے ماری تھی یا آپؐ اُونٹنی کو مارنا چاہتے تھے جو کہ مجھے لگ گئی‘‘۔ 

عکاشہؓ کی یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں تمھیں اللہ کے جلال سے پناہ دیتا ہوں ، اللہ کے رسولؐ نے جانتے بوجھتے تمھیں مارا تھا‘‘۔ اب آپؐ نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ وہ حضرت فاطمہؓ کے گھر سے آپؐ کی قضیب لے آئے۔ 

بلالؓ نے قضیب لا کر رسولؐ اللہ کو تھما دی اور آپؐ نے وہ قضیب عکاشہؓ کے ہاتھ میں دے دی۔ حضرت عکاشہؓ نے عرض کیا: ’’یارسولؐ اللہ! جب آپؐ نے مجھے مارا تھا تو میرے پیٹ پر کپڑا نہیں تھا‘‘۔ عکاشہؓ کی بات سن کر اللہ کے رسولؐ نے اپنے بطن اَقدس سے قمیض اُتار دی۔ سورج کی روشنی میں جسم مبارک یوں چمک رہا تھا جیسے صاف شفاف سفید قباطی کپڑے کی چمک ہو۔ 

عکاشہؓ بے تابانہ شکم مبارک کی طرف جھکے اور فرطِ عقیدت سے اس کے بوسے لینے لگے اور کہنے لگے: ’’آپؐ پر میرے ماں باپ قربان،کون یہ طاقت رکھتا ہے کہ آپؐ سے قصاص لے‘‘۔ 

 حضوؐر پھر بھی فرما رہے تھے:’’عکاشہؓ! تمھیں اختیار ہے، قصاص لو یا مجھے معاف کر دو‘‘۔ 

حضرت عکاشہؓ نے کہا: ’’میں نے معاف کر دیا اس اُمید پر کہ مجھے اللہ قیامت کے دن معاف فرمائے گا‘‘۔ 

اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’یامعشر المسلمین! تم میں سے جو یہ چاہتا ہے کہ وہ جنّت میں میرے ہم نشین کو دیکھے، اسے چاہیے کہ وہ اس مردِ بزرگ کو دیکھ لے‘‘۔(المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث: ۲۶۸۶) 

تریسٹھ سالہ زندگی کے آخری دنوں میں بھی اللہ کے رسولؐ اپنی ذات کے لیے کسی استثنا کے طلب گار نہ تھے۔مصنف عبدالرزاق ابتدائی کتب حدیث میں سے ہے، اس میں ایک باب ہے: قود النبی من نفسہ (نبیؐ کا اپنی ذات سے بدلہ دینے کا باب) اور دوسرا باب ہے: باب القود السلطان (سلطان سے بدلہ لینے کا باب) ہے۔(المصنف، ۹/۴۶۲-۴۶۵) 


 

اپنے دستوری مفہوم میں ا س سے مراد ہے شریعت اسلامی کے سامنے حاکم و محکوم کی برابری۔ گویا کسی کو کسی پر کوئی استحقاق حاصل نہیں ہے۔ مؤخرالذکر باب میں حضرت عمرؓ کا ایک اثر بیان ہوا ہے۔ 

حبیب بن صہبان راوی ہیں کہ میں نے حضرت عمرؓ کو یہ کہتے سنا: ’’مسلمانوں میں سے کسی کے لیے اللہ کی حد میں گھسنا جائز نہیں ہے، اِلا یہ کہ کوئی شرعی سزا اس کی اجازت دے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے ان کی بغل کی سفیدی کو دیکھا جب وہ کھڑے اپنے آپ سے بدلہ دلوا رہے تھے۔(المصنف عبدالرزاق، ۹/۴۶۴) 

حضرت عمرؓ نے سنت نبویؐ کی پیروی کرتے ہوئے اپنے گورنروں سے بھی بدلہ دلوایا۔ 

عطا سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے گورنروں کو حج کے موقع پر جمع ہونے کا فرمان جاری کیا۔ جب عوام الناس جمع ہوگئے تو انھیں خطاب کیا: ’’لوگو! میں نے اپنے ان گورنروں کو تم پر حق کے ساتھ والی بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے انھیں اس لیے نہیں مقرر کیا کہ وہ تمھاری کھال ادھیڑیں یا تمھارے خون سے ہاتھ رنگین یا تمھارے مال پر دست درازی کریں۔ اگر تم میں سے کسی کا ان میں سے کسی کے خلاف ظلم کا کوئی دعویٰ ہو تو وہ کھڑا ہوجائے۔ اس دن کوئی نہیں کھڑا ہوا سوائے ایک شخص کے۔ اس نے کہا: امیرالمومنین ! آپ کے گورنر نے مجھے ظلماً سو کوڑے مارے ہیں۔حضرت عمرؓ نے تحقیق کے بعد اسے کہا: اُٹھو اور تم بھی بدلے میں اسے سو کوڑے مارو۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرو بن عاصؓ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور کہا: امیرالمومنین!اگر آپ ؓ گورنروں کے خلاف یہ دروازہ کھول دیں گے تو یہ بات ان پر گراں گزرے گی اور یہ ایک دستور بن جائے گا جسے آپؓ کے بعد والے بھی اختیار کریں گے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: کیا میں اس سے بدلہ نہ دلائوں ، جب کہ میں نے اللہ کے رسولؐ کو اپنی ذات سے بدلہ دلاتے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر مدعی کو کہا: اُٹھو اور بدلہ لو۔  اب عمرو بن عاصؓ نے کہا: تو پھر ہمیں اس آدمی کو راضی کرنے کا موقع دیں۔ عطا کہتے ہیں: اُن لوگوں کو ہر کوڑ ےکے بدلے میں دو دینار کے حساب سے دو سو دینار لینے پر راضی کرلیا گیا۔(ابویوسف، کتاب الخراج، ۳/۸۰۶، طبقات ابن سعد، ۳/۲۱۱) 


حضرت انسؓ راوی ہیں کہ مصر کے ایک شخص نے حضرت عمرؓ سے شکایت کی کہ گورنر مصر حضرت عمروؓ بن عاص کے بیٹے سے دوڑ میں وہ آگے نکل گیا تو گورنر کے بیٹے نے کوڑوں سے بے تحاشا اس کی پٹائی کر دی۔ حضرت عمرؓ نے عمروؓ بن عاص کوبیٹے سمیت مدینہ حاضرہونے کو لکھا۔ ان کے آنے پر آپؓ نے مصری کو حکم دیا کہ وہ عمرو کے بیٹے کو کوڑے مارے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ اس مصری نے حضرت عمرو کے بیٹے کو خوب پیٹا اور ہم بھی چاہتے تھے کہ وہ اسے خوب پیٹے۔ (کنز العمال، ۶/۳۵۵) 


عبداللہ بن عمرو بن عاص راوی ہیں کہ جمعہ کے دن خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر نے کہا کہ جب صبح ہو تو تم صدقہ کے اُونٹ ہمارے پاس لے آئو، ہم انھیں تقسیم کریں گے اور اجازت کے بغیر کوئی آدمی ہمارے پاس نہ آئے۔ ایک آدمی کو اس کی بیوی نے خالی نکیل تھماتے ہوئے کہا کہ یہ نکیل لے جائو، شاید اللہ ہمیں بھی کوئی اُونٹ دے دے۔ صبح جب ابوبکرؓو عمرؓاُونٹوں میں داخل ہورہے تھے تو یہ آدمی بھی ان دونوں کے ساتھ داخل ہوگیا۔حضرت ابوبکرؓ نے اسے دیکھ کر کہا کہ تم ہمارے پاس کیوں آگئے؟ اس کے ساتھ اس کے ہاتھ سے نکیل چھین کر اسے ماری۔ جب اُونٹوں کی تقسیم سے فارغ ہوئے تو اس آدمی کو بلایا اور اس کی نکیل اسے تھماتے ہوئے کہا: تم اپنا بدلہ لے لو۔ حضرت عمرؓ نے یہ دیکھ کر کہا: آپ اسے دستور نہ بنائیں۔حضرت ابوبکرؓ نے کہا :مجھے قیامت کے دن اللہ سے کون بچائے گا؟حضرت عمرؓ نے کہا: آپؓ اسے کچھ دے کر راضی کرلیں۔  

حضرت ابوبکرؓ نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ وہ ان کے پاس ایک اُونٹ، کجاوہ، ایک کمبل اور پانچ دینار لائے۔ چنانچہ یہ سب کچھ دے کر اس آدمی کو راضی کیا۔ (بیہقی، کنز العمال،۳/۱۲۷) 


حضرت امام شعبی راوی ہیں کہ حضرت عمرؓ اور حضرت ابی ؓبن کعب کے درمیان کھجور کے ایک درخت کے بارے میں جھگڑا ہوگیا۔ دونوں نے باہمی رضامندی سے حضرت زیدؓ بن ثابت کو اپنا ثالث تسلیم کرلیا۔ حضرت زیدؓ کے پاس پہنچ کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: ہم نے اپنے ایک جھگڑے میں آپ کو ثالث تسلیم کیا ہے اور میں امیرالمومنین ہوکر خود آپؓ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ دستور ہے کہ فیصلہ کرانے والے خود ثالث کے گھر چل کر آیا کرتے ہیں۔ 

جب دونوں حضرت زیدؓ کے ہاں اندر داخل ہوئے تو حضرت زیدؓ نے اپنے بستر کے سرہانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت عمرؓ کو کہا کہ یہاں تشریف رکھیں۔ 

اس پر حضرت عمرؓ نے زیدؓ سے کہا کہ یہ تمھاری پہلی ناانصافی ہے۔ میں اپنے فریق مخالف کے ساتھ بیٹھوں گا۔ مراد یہ کہ عدالت میں بحیثیت خلیفہ میں کسی پروٹوکول کا حق دار نہیں ہوں۔ 

اب حضرت اُبی بن کعبؓ نے اپنا دعویٰ پیش کیا جس کا حضرت عمرؓ نے انکار کیا۔ اب شرعی لحاظ سے انکار کرنے والے (حضرت عمرؓ) کے ذمے قسم آتی تھی۔ اس کے پیش نظر حضرت زیدؓ نے حضرت اُبیؓ سے کہا: آپ امیرالمومنین کو قسم کھانے کی زحمت نہ دیں لیکن حضرت عمرؓ نے اس رعایت کو قبول نہ کیا اور قسم کھائی اور کہا: زیدؓ! صحیح قاضی تب بن سکتے ہیں جب ان کے نزدیک عمرؓ (خلیفہ) اور ایک عام مسلمان برابر ہوں‘‘۔ (بیہقی، ابن عساکر، کنزالعمال، ۳/۱۷۴) 


اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی یہ مثالیں اور ایسے بیسیوں واقعات جو طوالت کے باعث رقم نہیں کیے جاسکتے، اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام میں کسی حکمران یا کسی ریاستی ادارے کو کوئی قانونی استثنا حاصل نہیں ہے اور نہ یہ شریعت اسلامی کے مزاج سے ہم آہنگ ہے۔ اسلام کی تبلیغ و اشاعت ہو یا اس کی برکات کا اظہار، وہ مساوات انسانی، حُریت فکروعمل کے فروغ اور عدل و انصاف کے قیام کے بغیر ممکن نہیں۔ 

عام طور پر ہم اس حقیقت سے بڑی حد تک بے خبر ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں صدی کی ریاست ِ مدینہ میں معاشی نظام کے نفاذ کے لیے ایک نئی مارکیٹ بنائی تھی۔ اس وقت مدینہ میں یہودیوں کے چار بازار تھے جن میں تجارت، دھوکا دہی اور لوٹ کھسوٹ عام تھی۔ ہجرت کے وقت مدینہ کےانصار اور مکّہ سے آنے والے مہاجر مسلمان اس حالت میں نہیں تھے کہ یہودیوں کے چار مستحکم بازاروںکے مقابلے میں نئی مارکیٹ قائم کرسکیں مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نئی مارکیٹ ایک بڑے خیمہ کے نیچے لگائی اور فلاح پر مبنی تجارت کا آغاز کیا۔ بڑی حیرت کی بات ہے کہ خیمہ والی مارکیٹ نے تھوڑے ہی عرصہ میں کامیابی حاصل کرلی اور تاجر اور خریدار پہلے سے قائم شدہ بازاروں سے نقل مکانی کرکے خیمہ والی مارکیٹ میں آگئے۔ 

حضرت عمرؓ کے دور میں ایرانی اور رومی حکومت کی شکست کے بعد اسلامی ریاست مستحکم ہوئی تو اٹلی، اسپین اور فرانس سے تاجر مکہ اور مدینہ آئے۔ یورپ کے تاجر اسلامی طرزِ تجارت سے بہت مرعوب ہوئے، خاص طور پر صرف عرب میں رائج مضاربہ کے تحت تجارت شروع کر دی جو کچھ عرصہ کے بعد سارے یورپ میں پھیل گئی۔ تاریخی شواہد تو یہاںتک بتاتے ہیں کہ بارھویں، تیرھویں صدی میں یورپ کی ترقی میں مضاربہ کا بڑا ہاتھ تھا۔  

درج ذیل مضمون میں ہم مضاربہ کی حقیقت قارئین کی نذر کریں گے اور پاکستانی تجارت میں مضاربہ کی ممکنہ بحالی کا جائزہ لیں گے۔ 

اسلام سے پہلے عربوں کی معاشی زندگی 

عرب میں تجارت اپنی تمام تر اشکال میں موجود تھی۔ سود پر رقم اُدھار دینے کے ساتھ ساتھ نفع و نقصان کی بنیاد پر شراکت (Partnership) کے بھی کئی طریقے موجود تھے۔ مضاربہ ایک ایسی ہی شراکت پر مبنی کاروبار تھا جو دُنیائے عرب کے علاوہ کہیں بھی موجود نہ تھا۔ یہ تجارت ایسے دوافراد کے درمیان ہوتی جن میں ایک کے پاس سرمایہ ہوتا اور دوسرے کے پاس محنت اور ہنر۔ سادہ الفاظ میں یہ سرمائے اور محنت کا خوب صورت امتزاج تھا جو معاشی جدوجہد کو جنم دیتا۔ تجارت کا نفع پہلے سے طے شدہ فارمولا کے مطابق تقسیم کرلیا جاتا، جب کہ نقصان سرمایہ فراہم کرنے والا شخص (جسے ربّ المال کہتے تھے) برداشت کرتا کیونکہ محنت کرنے والا ساتھی (مضارب) تو پہلے ہی سرمایہ کے بغیر تھا۔ تجارت میں سچائی کے فروغ کے لیے مضاربہ بہت ہی کارآمد تجارتی طریقہ تھا۔ غیرذمہ داری اور بددیانتی سے کام کرنے والا مضارب سرمایہ فراہم کرنے والے (Capital Provider) لوگوں کا اعتماد کھو کر مزید کاروباری مواقعوں سے محروم ہوجاتا۔ اس کے برعکس بار بار منافع کمانے والا سچّا مضارب ایسے اشخاص کی توجہ کا مرکز بن جاتا جن کے پاس سرمایہ تو ہوتا مگر وہ کسی وجہ کی بناپر خودتجارت کرنے سے قاصر ہوتے۔  

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی کاروباری زندگی کا آغاز کیا تو حضرت خدیجہؓ نے اپنا مالِ تجارت مضاربہ کے تحت فروخت کرنے کے لیے آپؐ کو دیا کیونکہ اس وقت مکہ میں آپؐ صادق اور امین کے لقب سے جانے جاتے تھے۔اس طریقۂ کاروبار کے باعث مکہ کے تقریباً تمام باشندے بین الاقوامی تجارتی قافلوں میں حصہ لیتے اور نفع کماتے۔ جنگ ِ بدر کے لیے قریش کی بلاپس و پیش آمادگی کی ایک بڑی وجہ ایسے ہی تجارتی قافلے کو مسلمانوں کے روکنے کی خبر تھی جس میں اہل مکہ کا مال لگا ہوا تھا۔ 

مضاربہ کے علاوہ ایسے سودوں کی بھی مثالیں ملتی ہیں جنھیں ہم آج کی زبان میں Forward Sale/Purchase کہتے ہیں۔ اُونٹنی کے پیٹ میں موجود unborn child کو بنیاد بناکر عرب ایسا سودا کرلیتے جس کی ادائیگی مستقبل میں کی جاتی، مثلاً یہ طے کر لیا جاتا کہ اس سودے (deal) کی ادائیگی اُونٹنی کے بچّے کی پیدائش کے بعد اسے بیچ کر کی جائے گی۔ 

عربی زبان میں ایسے لین دین کو ’حبل الحبلہ‘ کہتے ہیں۔ دورِحاضر میں یہ تجارت Asset Backed Securities  (ABS) کی مانند ہے جس میں ایک غیرسیال (Non-Liquid Assest) اثاثے کو بنیاد بنا کر ایک کاروبار کیا جاتا ہے۔ اسلام کے ظہور کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی تجارت سے منع کر دیا کیونکہ اس میں بہت زیادہ رسک (Risk) اور غیر یقینی صورت ہوسکتی ہے۔ 

بڑی حیرانی کی بات ہے کہ ۱۴۰۰ برس قبل مکّہ ایک بہت بڑا تجارتی مرکز تھا۔ خانہ کعبہ کی زیارت اور حج کے لیے آنے والے زائرین اور حاجی مذہبی رسومات کے علاوہ چھوٹی موٹی تجارت بھی کرلیتے۔ عکاظ ایک ایسی ہی بڑی مارکیٹ تھی جس میں ہروقت تاجروں کا ہجوم رہتا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس مارکیٹ میں دو مقاصد کے لیے گئے: نبوت سے پہلے تجارت کی خاطر اور نبوت کے بعد تبلیغ کے لیے۔ کیونکہ عرب کے دُور دراز علاقوں کے لوگ یہاں موجود رہتے۔ یہ مکّہ کی گھریلو تجارت تھی۔ بین الاقوامی تجارت کے لیے بڑے بڑے قافلے تیار کیے جاتے جن میں اُونٹوں کی تعداد ۲۵۰۰ تک بیان کی جاتی ہے جو مختلف اشیاء سے لدے ہوتے۔ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ایسے کاروان میں شرکت کرتے اور مختلف قسم کے فرائض سرانجام دیتے، مثلاً حساب کتاب، جانوروں اور انسانوں کی خوراک کا انتظام اور دوسرے انتظامی اُمور۔ سفر کے دوران قیام کے مقام طے تھے۔ پڑائو کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب کیا جاتا جو آبادی کے نزدیک ہوں اور پانی و خوراک کی دستیابی آسان ہو۔ قافلے کے قیام سے وہ جگہ عارضی منڈی یا میلے کی سی شکل اختیار کرلیتی۔ 

اسلامی معاشی نظام کا عروج 

اسلام کے ظہور سے دُنیا کا پہلا معاشی نظام، مدینہ اکنامکس وجود میں آیا جس کے احکامات قرآن میں نازل ہوئے اور اسے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے خود ساتویں صدی کی ریاست مدینہ میں نافذ کیا۔ حضرت عمرؓ کے دور میں اسلامی معاشیات مزید مستحکم ہوئی۔ مورس لمبارڈ (Mauric Lombord) کے مطابق یہ معاشی نظام چار سو سال تک پوری دُنیا میں چھایا رہا جس کی دو بڑی خصوصیات تھیں۔ اوّل اسلامی دینار عالم گیر کرنسی کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور عربی زبان عالم گیر تجارتی زبان، سود کی ممانعت کے باعث ساری تجارت نفع و نقصان کی بنیاد پر تھی، جس میں مشارکہ اور مضاربہ نمایاں تھے۔ یورپ میں لوگ مشارکہ (Partnership)سے تو واقف تھے مگر مضاربہ ان کے لیے بالکل نیا طرزِتجارت تھا کیونکہ یہ ایسے نوجوانوں جو سرمایہ کے بغیر تھے انھیں بھی تجارت میں لے آتا۔  نویں اور دسویں صدی اسلامی تجارت کے عروج کا دور ہے، جس میں تمام بڑی تجارتی گزرگاہیں (Trade Routes) کی تجارت اسلامی حکومت کے زیراثر تھی۔ یورپی تاجروں نے مضاربہ طرز تجارت ایک نئے نام Commendaسے اپنا لیا۔ مورات سی ذاکا (Murat Cizacka) اور رابرٹ لی (Robert Lee) کے مطابق یورپ کی ترقی میں مضاربہ کا نمایاں کردار تھا۔  

اسلامی تہذیب کا زوال 

بارھویں صدی سے اسلامی حکومت کا زوال شروع ہوا جو بتدریج بڑھتا چلا گیا۔ اس تنزلی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مسلمان یکسر اپنے معاشی ورثہ سے بے خبر ہوگئے۔ ۱۲۵۸ء میں ہلاکوخان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی نے اسلامی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ آنے والے وقتوں میں تین بڑی اسلامی حکومتیں ترکیہ، ایران اور ہندوستان میں قائم ہوئیں مگر اسلامی معاشی نظام کی دریافت نہ ہوسکی۔ اسی اثناء میں یورپ میں سود کا کاروبار بڑی تیزی سے ترقی کرتا رہا۔ ترکیہ نے سود کے کاروبار کو روکنے کے لیے اسلامی طرزِ تجارت مرابحہ کا استعمال کیا۔ مرابحہ میں خریدار کو اشیاء کی لاگت اور اس پر لیا جانے والا منافع بتاناضروری ہوتا ہے۔ مورات سی ذاکا کے مطابق ترکیہ حکومت لاگت پر لیے جانے والے منافع کا اعلان کرتی اور تاجر اسی کے مطابق اشیاء مرابحہ پر فروخت کرتے تھے۔ ہندوستان اور ایران میں اسلامی طرزِ تجارت (مضاربہ اور مرابحہ) فروغ نہ پاسکا اورساری تجارت مقامی طور طریقوں کے مطابق تھی جس میں سود کا کاروبار بھی شامل تھا۔ 

یکم جولائی ۱۹۴۸ء میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب کے موقع پر بانی ٔپاکستان محمد علی جناح ؒنے مغربی معاشی نظام کو رَد کرتے ہوئے مساوات اور عدل پر مبنی اسلامی معاشی نظام کی بات کی تھی مگر اس پر کام نہ ہوسکا۔ یہی سمجھا گیا کہ یہ صرف اسٹیٹ بنک کی ہی ذمہ داری ہے۔ کالج اور یونی ورسٹی میں معاشیات کی تعلیم سرمایہ داری نظام پر مشتمل رہی اور مذہبی جماعتوں کے تبلیغی پروگرام اور دوسرے اجتماعات بھی اسلامی طرزِ تجارت سے دُور رہے۔ ۱۹۸۵ء سے پاکستان میں اسلامی بنکاری کا آغاز ہوا تو لوگ مشارکہ ، مضاربہ اور مرابحہ کے ناموں سے واقف ہوئے مگر حقیقی تجارتی شعبہ میں تاجروں اور کاروباری لوگوں نے اسلامی طرزِ تجارت کو نہیں اپنایا۔ کیونکہ ہمارا سارا جوش و جذبہ اسلامی بنکاری کے بارے میں تھا۔ 

اسلامی بنکاری اور مضاربہ 

اسلامی بنکوں نے عوام سے رقوم حاصل (Deposits)کرنے کے لیے مضاربہ کا استعمال تو کیا مگر یہ روایتی مضاربہ کے برعکس تھا۔ مضاربہ کا بنیادی مقصد تو سرمایہ کےبغیر نوجوانوں کو تجارت میں شامل کرنا تھا جس سے کاروبار میں اضافہ ہو۔ اسلامی بنکوں کا مضاربہ تو صرف اُن لوگوں کے لیے تھا جن کے پاس سرمایہ موجود ہو جو وہ پہلے سے کاروبار کرنے والے (بنک) کو کاروبار کے لیے دے دیں۔ بنکاری کی زبان میں اسے Liability Sideمضاربہ کہتے ہیں، یعنی پہلے سے کاروبار کرنے والے لوگ دوسرے لوگوں کے سرمایہ سے اپنے کاروبار کو ترقی دے سکیں۔  

یہ نہیں سوچا گیا کہ جو نوجوان سرمائے کے بغیر ہیں، وہ کہاں جائیں؟ تاجر اور کاروباری لوگ ایسے نوجوانوں کو چھوٹی موٹی ملازمت تو دے دیتے ہیں مگر انھیں مضاربہ کاروبار میں شامل نہیں کرتے۔ اسلامی بنکوں نے Asset Side مضاربہ کی کوئی گنجائش نہیں رکھی۔ اسلامی بنکوں کو کام کرتے ہوئے تقریباً ۴۰ برس ہوگئے ہیں مگر سرمایہ کے بغیر نوجوانوں کو سرمایہ دے کر کاروبار کروانے کی کوئی اسکیم کسی اسلامی یا سودی بنک کے پاس نہیں ہے۔ سودی بنکوں نے بھی لوگوں کے سرمایہ سے مضاربہ کمپنیاں بنالیں جو اکثر نقصان سے دوچار ہوئیں۔  

۲۰۲۶ء کے پاکستان میں سرمایہ کے بغیر نوجوانوں کے لیے تجارت میں شمولیت کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ ۲۰۲۵ء میں پرائم منسٹر یوتھ لون اسکیم متعارف ہوئی مگر وہ کم شرح سود پر تھی۔ اس صورتِ حال کے باعث پڑھے لکھے مگر سرمایہ کے بغیر نوجوان چھوٹی چھوٹی نوکریاں حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ کم پڑھے لکھے نوجوانوں کا مسئلہ اور بھی گمبھیر ہے، جو اکثردیہاتی علاقوں میں ہیں اور بے روزگار ہیں۔ بڑے دُکھ کی بات ہے کہ یورپی اقوام نے مضاربہ طرزِ تجارت کو اپنے کاروبار کا حصہ بنالیا تھا مگر ہم اس کے وارث اور امین ہونے کے باوجود مضاربہ کو اپنی اصل حالت میں اپنانے سے گریزاں ہیں۔  

مضاربہ سود سے پاک مکمل طرزِ تجارت 

۲۰۲۱ء میں شائع ہونے والی کتاب Muhammad, The World Changer کے مصنف محمد جی بارا لکھتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہؓ سے شادی کے بعد مکہ کے کم سرمایہ والے افراد کے لیے روزگار کا بندوبست کیا تھا۔ حضرت صہیبؓ رومی غلام تھے مگر زیورات بنانے کا ہنر جانتے تھے۔ حضرت زیدؓ کو آپؐ نے خود آزاد کر دیا تھا۔ اسی طرح کے اور لوگوں کا سرمایہ اکٹھا کر کے ایک مشترکہ کمپنی (Joint Company) کے طرز پر کاروبار شروع کروایا تھا جو مضاربہ اور مشارکہ پر مشتمل تھا۔ سب لوگوں نے اپنا اپنا سرمایہ اکٹھا کر کے زیورات بنانے کا کاکام شروع کیا۔ اس کاروبارکے انچارنج حضرت صہیبؓ رومی تھے اور حساب کتاب کا کام حضرت زیدؓ کے پاس تھا۔ کاروبار کا منافع طے شدہ طریقے سے پورے گروپ میں تقسیم کرلیا جاتا۔ 

مضاربہ کی اقسام اور کاروبار کے طے شدہ اصولوں کے باعث اسے بہت سی شکلوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ کاروبار عام یا مخصوص طرح کا بھی ہوسکتا ہے۔ اگر سرمایہ فراہم کرنے والا کوئی خاص کاروبار کا تعین کردے گا تو مضارب صرف وہی تجارت کرے گا۔ اگر مضارب کو اپنی مرضی سے کاروبار کرنے کی اجازت ہوگی تو یہ عام مضاربہ کہلائے گا۔  

اسی طرح مضاربہ مشروط اور غیرمشروط نوعیت کا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ شرائط کام کی نوعیت، کاروبار کی جگہ یا کاروبار کی نوعیت وغیرہ کے بارے میں ہوسکتی ہیں۔ مضارب کے لیے لازم ہے کہ ربّ المال کی تمام شرائط اور ہدایات پر عمل کرے۔ کسی شرط یا ہدایت کی عدم تعمیل کی صورت میں مضارب سرمایہ میں نقصان کا ذمہ دار ہوگا۔ مضاربہ معاہدہ میں مضارب دیئے گئے سرمایہ پر امین اور ضامن ہوتاہے۔ عام کاروباری صورت میں مضارب نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوتا لیکن غفلت اور بدعہدی کی صورت میں ہونے والے نقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس سے ضمانت بھی لی جاسکتی ہے۔ دراصل مضاربہ تجارت میں فروغ اور ایمانداری لے کر آتا ہے۔ایک بے احتیاط اور بے عہد مضارب جلد ہی کاروبار سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، جب کہ ایماندار اور محتاط مضارب کو کئی اور رب المال تجارت میں شامل کرلیتے ہیں۔ 

دورِحاضر میں مضاربہ کی بحالی 

بڑی عجیب بات ہے کہ مالیاتی شعبہ میں اسلامی بنک تجارت کے طریقے، مثلاً مشارکہ، مضاربہ اور مرابحہ استعمال کرتے ہیں مگر حقیقی شعبہ کی تجارت ان سے کوسوں دُور ہے۔ ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے مگر ہرحکومت بلاسود قرضہ جات سے آگے نہیں جاتی، اور ایسے قرضہ جات حکومت سے وابستہ لوگ ہی لے جاتے ہیں۔ ساتویںصدی کی ریاست مدینہ میں اسلامی تجارت کے مذکورہ طریقے حقیقی شعبہ کے تاجر استعمال کرتے تھے کیونکہ مالیاتی شعبہ اس دور میں موجود ہی نہیں تھا۔ نظامِ سرمایہ داری میں نئے کاروبار (New Startup)  کے لیے Venture Capital کی سہولت موجودہے مگر یہ سود پر مبنی ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ مضاربہ پر عمل کرنا سنت ِ رسولؐ بھی ہے۔اگر آج کوئی نوجوان کسی بنک، تاجر یا حکومت سے مضاربہ کے لیے سرمائے کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ سود کے خاتمہ کا وعدہ پہلے تو اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے کیا تھا مگر اب مرکزی حکومت نے بھی یکم جنور ی۲۰۲۸ء سے پہلے سود ختم کرنے کا خواب پوری قوم کو دکھایا ہے۔ ان حالات میں مضاربہ کی بحالی بہت بڑا رول ادا کرسکتی ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل تجاویز پر عمل کرکے تجارت کو ایمان داری اور فروغ مل سکتا ہے۔ 

اسٹیٹ بنک آف پاکستان 

ماضی میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے اہم مگر بنکاری سہولتوں سے محروم سیکٹرز کی ترقی کے لیے بہت کام کیا ہے۔ ۱۹۷۱ء کے آغاز میں تجارتی بنک زرعی پیداواری قرضے جاری نہیں کرتے تھے۔ ان بنکوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک طرف تو زرعی قرضوں کی اسکیم شروع ہوئی جس میں نادہندگی کی صورت میں اسٹیٹ بنک ایسے نقصان کا نصف خود برداشت کرتا۔ دوسری طرف اسٹیٹ بنک نے کثیر رقم سے زرعی ترقیاتی فنڈ قائم کیا جو آج بھی موجود ہے۔ پچھلے سال اسٹیٹ بنک نے ۳۴ سو ارب روپے کا منافع کمایا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ ضروری ہے کہ اس خطیر منافع سے ۱۰۰؍ارب روپے کا مضاربہ فنڈ قائم کیا جائے جو اسلامی بنکوں کے جاری کردہ مضاربہ سرمایہ کے ممکن نقصان میں ۵۰ فی صد شریک ہو۔ اس طرح اسلامی بنک نوجوانوں کو مضاربہ کے تحت سرمایہ فراہم کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔ 

اسلامی تجارتی بنک 

ساتویں صدی کے عرب معاشرے میں مضاربہ تجارت میں بخوبی شامل تھا۔ دورِ فاروقی میں حضرت عمرؓ کے دو صاحبزادے کوفہ گئے اور وہاں کے گورنر حضرت ابوموسیٰؓ نے کچھ سرمایہ   ان کے حوالے کر دیا جو بیت المال (Treasury) کے لیے تھا۔ دونوں بھائیوں نے اس سرمایہ سے مال خرید کر بعد میں بیچ دیا اور اصل زر رقم بیت المال میں جمع کروا دی۔ مگر حضرت عمرؓ نے اسے مضاربہ کا معاہدہ قرار دیا اور منافع کی آدھی رقم بھی بیت المال میں جمع کروانے کا حکم دیا کیونکہ اس تجارت میں حکومت رب المال تھی اور حضرت عمرؓ کے بیٹے مضارب۔  

اسلامی بنک کام تو کر رہے ہیں مگر اسلامی تجارت فروغ نہیں پارہی۔اسٹیٹ بنک کی طرح دوسرے بنکوں بشمول اسلامی بنک کا منافع بھی بہت زیادہ ہوا ہے، اسی لیے ضروری ہے کہ اسلامی بنک بھی مضاربہ فنڈ قائم کریں۔ محنتی، ایماندار اور ذمہ دار نوجوانوں کو مضاربہ سرمایہ فراہم کریں۔ چونکہ مضاربہ کثیر المقاصد کاروبار ہے، اسے موجودہ حالات کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے۔ ان سے ضمانت بھی لی جاسکتی ہے اور انھیں محدود یا مشروط کاروبار بھی کروایا جاسکتا ہے۔ جب نقصان کی صورت میں ۵۰ فی صد اسٹیٹ بنک سے آئے گا تو سارا بوجھ اسلامی بنکوں پر نہیں آئے گا۔ ہوسکتا ہے کہ اسلامی بنکوں سے تحریک لے کر سودی بنک بھی اسے اپنالیں۔ اسلامی بنکوں میں کام کرنے والے شریعہ اسکالر کے تعاون سے اس کام کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ 

تعلیمی شعبہ 

پاکستان میں اسلامی معاشی نظام کا نفاذ اگرچہ طے شدہ پالیسی ہے مگر کالج اور یونی ورسٹی میں معاشیات کی تعلیم، سرمایہ داری نظام کی روشنی میں دی جارہی ہے جو ساری کی ساری سود پر مبنی ہے۔ کچھ اداروں میں اسلامی معاشیات کو پڑھایا تو جاتا ہے مگر اس پر کوئی تحقیق نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی معاشیات اور بنکوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ مضاربہ کے بارے میں بنیادی آگاہی اسے تعلیم میں شامل کرنے سے آئے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ مضاربہ کو بطور ٹریڈ پراڈکٹ ایم اے اکنامکس، ایم بی اے اور کامرس کے نصاب میں شامل کیا جائے اور اس پر انٹرشپ رپورٹ تیار کرکے انھیں شائع کیا جائے۔ اکانومی میں مضاربہ کو متعارف کروانے میں یہ انتہائی قدم ہوگا۔ 

مدرسہ کی تعلیم 

مضاربہ مدرسہ کی تعلیم میں صرف نظریاتی طور پر موجود ہے۔ یہ پڑھایا تو جاتا ہے مگر اس پر عملی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر اساتذہ اپنے شاگردوں کو مضاربہ کی تجارت میں لگادیں، یعنی  حقیقی مضاربہ کاروبار ان کی تعلیم کا لازمی جز و بنادیا جائے تو تجارت کے حجم میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ مختلف مدارس کو عطیات،زکوٰۃ اور صدقات کی مد میں خاصی رقوم ملتی ہیں۔ ان میں سے کچھ حصہ مضاربہ کاروبار کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔  

کارپوریٹ سیکٹر 

پاکستان میں سماجی کاروباری ذمہ داری کے تحت تعلیمی اور فلاحی اداروں کو خطیر رقوم مہیا کی جاتی ہیں۔ تاجر لوگ اپنی ذاتی حیثیت میں بھی خرچ کرتے ہیں۔ مختلف چیمبر آف کامرس اور انڈسٹری کے ہاں کم آمدنی والے لوگوں کے لیے کفالتی پروگرام ہیں مگر سب مضاربہ کے بغیر ہیں۔ ان رقوم سے یونی ورسٹی میں Modarbah Chains قائم کی جاسکتی ہیں جس میں دیئے گئے عطیات سے یونی ورسٹی میں مضاربہ تجارت کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔  

پچھلے ۷۸برس سے پاکستان میں اسلامی معاشی نظام کے سلسلے میں ہم نے بڑی ڈھٹائی سے روحانی بددیانتی (Spiritual Dishonesty) کا مظاہرہ کیا ہے۔ وطن عزیز میں ہم سب نے اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں تو بہت کی ہیں مگر عملی طور پر بہت کم کام کیا ہے۔ درج بالا تفصیلات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ مضاربہ آج بھی قابلِ عمل طرزِ تجارت ہے مگر اس کے نفاذ کے لیےانتہائی خلوص، اَن تھک محنت اور مضبوط ارادے کی ضرورت ہے۔ بقول علّامہ اقبال: 

آج بھی جو ہو براہیمؑ کا ایماں پیدا 

آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا 

 _______________ 

وضاحت:ترجمان القرآن کے گذشتہ شمارے(دسمبر۲۰۲۵ء) میں سینیٹر برنی سینڈرز کی جس وائرل تقریر کا ترجمہ شائع ہوا، وہ دراصل برنی اور کنگ چارلیس کے مختلف بیانات کا مجموعہ تھی، جسے کسی نے یوٹیوب پر یکجا کردیا تھا۔ شمارے کی اشاعت کے بعد،متعلقہ پلیٹ فارم سے ویڈیو ہٹنے پر معاملے کی یہ نوعیت سامنے آئی جس پہ ہم معذرت خواہ ہیں۔(ادارہ) 

شرعی طور پر یہ ایک اہم بات ہے کہ ’معیار‘ کو ہر صورت اور ہر سطح پر’مقدار‘ پہ فوقیت دی جائے۔ 

  • قرآن کریم نے اُس اکثریت کی مذمت کی ہے، جس کے افراد نہ عقل رکھتے ہوںاور نہ علم، یا یہ کہ وہ ایمان نہ لاتے ہوں اور شکر نہ کرتے ہوں: 
    • بَلْ اَكْثَرُہُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ۝۶۳ۧ (العنکبوت۲۹:۶۳)بلکہ ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے۔ 
    • وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۝۱۸۷ (الاعراف۷:۱۸۷)لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ 
    • وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ۝۱۷ (ھود۱۱:۱۷) لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ 
    • وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ۝۲۴۳ (البقرۃ۲:۲۴۳) لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ 
    • وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ۝۰ۭ (الانعام۶:۱۱۶) اگر تم نے زمین کے اکثر لوگوں کی پیروی کی تو وہ تمھیں سیدھے راستے سے گم راہ کردیں گے۔ 
  • اسی طرح قرآن اس قلیل گروہ کی تعریف کرتاہے جو مومن، باعمل اور شاکر ہو: 
    • اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَلِيْلٌ مَّا ہُمْ۝۰ۭ (صٓ۳۵:۲۴) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے، اور وہ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ 
    • وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ۝۱۳(السبا۳۴:۱۳) اور ہمارے بندوں میں تھوڑے ہی ہوتے ہیں جو شکر گزاری کرتے ہیں۔ 
    • وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ (الانفال۸:۲۶) یاد کرو جب تم تھوڑے تھے اور زمین میں تم کو بے زور سمجھا جاتا تھا۔ 
    • فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِيَّۃٍ يَّنْہَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْاَرْضِ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّنْ اَنْجَيْنَا مِنْہُمْ۝۰ۚ (ھود۱۱:۱۱۶) پھر کیوں نہ ان قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیںایسے اہلِ خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم، جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچالیا۔ 
    • اس بنا پر ضروری یہ نہیں ہے کہ محض تعداد زیادہ ہو بلکہ اہم یہ ہے کہ لوگوں میں جو مومنین اور صالحین ہوں ان کی تعداد زیادہ ہو۔ 
  • بہت سے لوگ یہ حدیث تو بیان کرتے ہیں: 
    • تَنَاکَحُوْا تَنَاسَلُوْا تَکَثَّرُوْا فَإِنِّيْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْأُمَمَ،نکاح کرو اور نسل کو آگے بڑھاؤ اوراپنی تعداد میں اضافہ کرو۔ میں تمھارے ذریعے سے کثیرالامم بننا چاہتا ہوں۔ ؎۱ 
    • لیکن یہ نہیں سوچتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاہل، فاسق اور ظالم لوگوں پر تو فخر نہیں کر سکتے بلکہ آپؐ نیک، پاک باز، باعمل اور نفع بخش لوگوں پر فخر کریںگے: 
    • اَلنَّاسُ کَإِبِلٍ مِّئَۃٍ لَاتَجِدُ فِیْہَا رَاحِلَۃً، بعض انسانوں کی مثال ان سو اونٹوں کی طرح ہوتی ہے، جن میں ایک بھی سواری کے لائق نہ ہو۔ ؎ ۲ 
    • یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ لوگوں میں بہترین قسم کے لوگ نادر ہی ہوتے ہیں۔ 
    • اور انسان کے اندر یہ تفاوت اور فرق جانوروں کی نسبت کہیں زیادہ ہوتاہے: 
    • لَیْسَ شَيْئٌ خَیْرًا مِّنْ أَلْفٍ مِّثْلَہٗ إِلَّا الْإِنْسَانُ ،دُنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اپنے جیسے ہزار سے بہتر ہو، سوائے انسان کے۔ ؎ ۳ 
    • ہم چاہتے ہیں شمار میںہزاروں اور لاکھوں سے آگے نکل جائیں۔ مگر اکثر ہمیں اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ اس کثرت کے پیچھے اصل حقیقت یعنی معیار کی کیا اہمیت ہے؟ 

عمل پر علم کی اہمیت 

شرعی طور پر اہم ترین ترجیح میں سے ایک یہ ہے کہ علم عمل پر مقدم ہے، کیوں کہ علم پہلے ہوتا ہے اورعمل بعد میں۔ علم عمل کا رہنمااورمرشد ہوتاہے۔ معاذؓ بن جبل سے روایت ہے: 

اَلْعِلْمُ   إِمَامٌ   وَّالْعَمَلُ تَابِعُہٗ، علم امام ہے اور عمل اس کا مقتدی۔ ؎ ۴ 

یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب العلم میں ایک باب کا عنوان اَلْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ[علم قول او رعمل پرمقدم ہے]رکھاہے: بخاری کے شارحین کہتے ہیں کہ اس سے امام بخاری کا مطلب یہ ہے کہ قول اور عمل کی صحت کے لیے علم شرط ہے۔ یہ دونوں اس کے بغیر معتبر نہیں ہیں۔ اس لیے یہ ان پر مقدم ہے۔ یہاں تک کہ یہ اس نیت کی بھی تصحیح کرتاہے جوعمل کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ بخاری کے شارحین کہتے ہیں کہ امام بخاری نے اسی کی طرف لوگوں کو متوجہ کیاہے، تاکہ جب یہ کہاجاتاہے کہ عمل کے بغیر علم کا کوئی فائدہ نہیں تو اس سے کسی کے ذہن میں یہ شبہ پیدا نہ ہو کہ علم کی کوئی اہمیت ہے ہی نہیں اور اس کی طلب کی کوئی ضرورت نہیں۔ 

امام بخاریؒ نے اپنی بات کی دلیل کے طور پر متعدد آیات اور احادیث ذکر کی ہیں، جو ان کے مُدعا کی بخوبی وضاحت کرتی ہیں: فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ۝۰ۭ (محمد۴۷:۱۹) ’’جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اپنے گناہوں کی بخشش مانگو اور مومنین اور مومنات کے گناہوں کی بھی‘‘۔  

اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمؐ کو سب سے پہلے حصولِ علم کا حکم دیاہے اور اس کے بعد استغفار کی تاکید کی ہے، جو کہ ایک عمل ہے۔ اور یہاں خطاب اگرچہ رسولؐ اللہ سے ہے، مگرساری اُمت اس خطاب میں شامل ہے۔ دوسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: اِنَّمَا يَخْشَى اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰۗؤُا۝۰ۭ  (فاطر۳۵:۲۸)’’یقیناً اللہ کے بندوں میں اس کی خشیت رکھنے والے وہی ہیں جو علم رکھتے ہوں‘‘۔  

وہ علم ہی ہے جو ایک انسان میں اللہ کے حضور جواب دہی کے احساس کی صفت کو پروان چڑھاتا ہے اور اس کی وجہ سے آدمی عمل پر آمادہ ہوجاتاہے۔ احادیث میں سے ایک یہ ہے: 

مَنْ یُّرِدِ اللہُ بِہٖ خَیْرًا یُّفَقِّہْہُ فِي الدِّیْنِ ،اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتاہے، اسے دین کی گہری سمجھ عطا فرماتاہے۔ ؎ ۵ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ دین کو درست طور پر سمجھے گا تو عمل بھی کرے گا اور صحیح عمل کرے گا۔ قرآن کی سب سے پہلی وحی جو نازل ہوئی وہ اقرأ تھی [یعنی پڑھ]، اور قراءت علم کی کنجی ہے۔ عمل کے احکام اس کے بعد نازل ہوئے، جیسے: 

يٰٓاَيُّہَا الْمُدَّثِّرُ۝۱ۙ قُـمْ فَاَنْذِرْ۝۲۠ۙ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ۝۳۠ۙ وَثِيَابَكَ فَطَہِرْ۝۴۠ۙ(المدثر۷۴ : ۱-۴) اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے! اٹھو اور خبردار کرو، اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو، اوراپنادامن صاف رکھو۔ 

  • علم ایک ترازو ہے:پھر علم اس وجہ سے بھی عمل پر مقدم ہے کہ یہ اعتقادات میں حق اور باطل کے درمیان، اقوال اور اعمال و معیارات میں صحیح اور غلط کے درمیان، سنت اوربدعت کے درمیان، صحیح اور فاسد کے درمیان، حلال اور حرام کے درمیان، اچھے اور بُرے کے درمیان، مقبول اور نامقبول کے درمیان اور اہم اور کم اہم کے درمیان تمیز کرتاہے۔ 
  • علم کے بغیر عمل کے نقصانات: جس مسئلہ کے بارے میں ہم گفتگو کررہے ہیں، اس کی اصل بنیاد بھی علم ہی پر ہے۔ اسی کے ذریعے ہمیں معلوم ہوتاہے کہ کس کا حق مقدم ہے اورکس کو مؤخر کیاجاسکتاہے۔ اگر ہمیں اس چیز کا علم نہ ہو تو پھر ہم اندھیرے میں تیر چلائیں گے۔ 

خلیفۂ راشدعمر بن عبدالعزیزؒ نے کیا خوب صورت بات فرمائی ہے: 

مَنْ عَمِلَ فِيْ غَیْرِ عِلْمٍ کَانَ مَایُفْسِدُ أَکْثَرُ مِمَّا یُّصْلِحُ،جو شخص علم کے بغیر عمل کرتاہے وہ اصلاح سے زیادہ فساد کرے گا۔ ؎ ۶ 

یہ بات ان بعض مسلمانوں کے طرزِعمل سے واضح ہے جن میں تقویٰ، اخلاص اور شجاعت کی کمی نہیں تھی، مگر ان میںشریعت کے مقاصد اور دین کے حقائق کے بارے میں علم وفہم کی کمی تھی۔ یہی صفات خوارج کے اندر پائی جاتی تھیں، جنھوں نے چوتھے خلیفۂ راشد علیؓ بن ابی طالب کے خلاف جنگ کی۔ حضرت علیؓ کی فضیلت ، غلبۂ دین میں ان کی خدمات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسب، رشتہ داری اور محبت میں ان کے قرب کے باوجود انھوں نے حضرت علیؓ اور ان کے علاوہ دوسرے بہت سے مسلمانوں کابھی خون بہانا درست سمجھ لیا۔ 

وہ ایسے ہی لوگوں کا تسلسل تھا،جن میں سے ایک نے کسی موقعے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مالِ غنیمت کی تقسیم پر اعتراض کیاتھا۔ اس نے جہالت اور بے وقوفی کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاتھا: اِعْدِلْ [عدل سے کام لو]۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا: 

وَیْلَکَ! وَمَنْ یَّعْدِلْ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ؟ قَدْخِبْتَ إِذَنْ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَکُنْ أَعْدِلْ، ارے کم بخت! اگر میں عدل نہ کروں تو اور کون کرے گا؟ اگر میں نے عدل نہ کیا تو تُو یقیناً خائب وخاسر ہوجائے گا۔ 

اور ایک روایت میں ہے کہ اس تندخو اور اُجڈ آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاتھا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِتَّقِ اللّٰہَ،اے اللہ کے رسولؐ! اللہ کی نافرمانی سے بچو۔ 

آپؐ نے فرمایا:أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَہْلِ الْأَرْضِ أَنْ یَّتَّقِيَ اللّٰہَ؟’’کیا اہل زمین میں سب سے زیادہ میرا ہی حق نہیں کہ میں اللہ کی نافرمانی سے بچوں؟‘‘ اسی موقعے پر رسولؐ اللہ نے یہ پیش گوئی فرمائی: 

اسی طرح کاایک گروہ ظہور پذیر ہوگا جن کی صفات یہ ہوںگی:تم ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازیں، ان کے روزوں کے مقابلے میں اپنے روزے اور ان کے عمل کے مقابلے میں اپنے عمل کو حقیر جانوگے۔ وہ قرآن کو پڑھتے ہوںگے مگرقرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکلیں گے جیسا کہ تیر کمان سے نکلتاہے۔ ’قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا‘ کامطلب یہ ہے کہ وہ ان کے دلوں میں جگہ نہیں بنائے گا، نہ ان کی عقل اس کے نور سے منور ہوگی۔ وہ اس کی تلاوت سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کریںگے، اگر چہ یہ بہت نماز روزے ادا کرتے ہوںگے۔ ان کی ایک پہچان یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ اہل اسلام کے خلاف جنگ کریںگے اور ان کو ’مشرک‘ کہیں گے۔ ؎ ۷ 

اسی وجہ سے حسن بصریؒ نے اس وقت تک عبادت اور عمل میں غلو سے بچنے کی تاکید کی ہے، جب تک کہ آدمی علم وفقہ کے قلعے میں بند نہ ہو: 

علم کے بغیر عمل کرنے والا ایسا ہے جیسے غلط راستے پر چلنے والا۔ جو شخص علم کے بغیر عمل کرتاہے وہ اصلاح سے زیادہ فساد کرتا ہے۔ لہٰذا علم کی طلب اتنی رکھو کہ اس کی بنا پر عبادت کو نقصان نہ ہو اور اس حد تک عبادت کرو جو علم کے لیے مضر نہ ہو۔ ایک قوم نے عبادت کو اپنایا اور علم کو ترک کیا تو وہ تلوار لے کر اُمت محمدیؐ کے خلاف بغاوت کرگئی۔ اگرانھوںنے علم حاصل کیا ہوتا تو وہ انھیں اس کام کا حکم نہ دیتا جو انھوں نے کیا۔ ؎ ۸   

  • قیادت اور علم: قرآن کریم کے مطابق ہر قسم کی قیادت کے لیے علم شرط ہے، خواہ وہ سیاسی اورانتظامی قیادت ہو، جیسے یوسف علیہ السلام کی قیادت پرشاہِ مصر نے کہا: 

اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ۝۵۴ (یوسف۱۲:۵۴) اب آپ ہمارے ہاں قدر ومنزلت رکھتے ہیں اور ہمیں آپ کی امانت پر پورا بھروسا ہے۔ 

اس پر یوسف علیہ السلام نے کہا: 

اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ۝۰ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ۝۵۵ (یوسف۱۲:۵۵) ملک کے خزانے میرے سپرد کردیجیے، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور [ان معاملات کا] علم بھی رکھتاہوں۔ 

یہاں یوسف علیہ السلام نے اپنی خاص اہلیتوںکے بارے میں بتایا جو آپؑ کو اس عظیم کام کااہل ثابت کررہی تھیں، جس میں اس دور کے مطابق مالی اور اقتصادی امور، زراعت، منصوبہ بندی اور رسد کے انتظامات شامل تھے۔ ان قابلیتوںمیں بنیادی حیثیت دو اُمور کی تھی: ایک حفاظت یعنی امانت، اور دوسرا علم۔ یہاں علم سے مراد تجربہ اور کافی معلومات ہیں۔ 

یہ دونوں صفات سورۂ قصص میں شعیب علیہ السلام کی بیٹی کی زبان سے نکلی ہوئی صفات کے مطابق ہیں، جو اس نے موسیٰ علیہ السلام کو بطور ملازم رکھنے کے لیے اپنے والدمحترم کو بتائی تھیں: 

اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ۝۲۶ (القصص۲۸:۲۶)بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھ لیں وہی ہو سکتاہے، جو مضبوط اور امانت دار ہو۔ 

پھر یہی معاملہ سیاسی و فوجی قیادت کے بارے میں بھی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے طالوت کو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بادشاہ مقرر کیا تو اس کی وجہ یہ بتائی: 

اِنَّ اللہَ اصْطَفٰىہُ عَلَيْكُمْ وَزَادَہٗ بَسْطَۃً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ۝۰ۭ (البقرۃ ۲:۲۴۷) اللہ نے تمھارے مقابلے میں اسی کو منتخب کیاہے اور اس کو علمی اور جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں۔ 

  • عدل کے لیے علم کی شرط : عدالتی امور میں بھی علم ہی اہلیت کا معیار ہے۔ شریعت نے ’قاضی‘ کے لیے بھی وہی شرط لگائی ہے جوکہ ’خلیفہ‘ کے لیے مقرر ہے، یعنی وہ ’مجتہد‘ ہو۔ یہاں اس بات پر اکتفا نہیں کیاگیا کہ وہ محض اتنا علم رکھتا ہو جو اسے دوسروں کی تقلید سے بے نیاز نہ کرسکے۔ علم کی اصل حقیقت یہ ہے کہ آدمی حق کودلیل کے ساتھ پہچانے، نہ کہ انسانوں میں سے کسی فرد کے ساتھ موافقت کو اپنے اوپر لازم سمجھ لے۔ جس نے کسی دلیل کے بغیریا کسی بے سروپا دلیل کے ساتھ اپنے جیسے ایک انسان کی پیروی کی تو یہ علم ناقص ہے جو قضاء اور خلافت کے لیے ناکافی ہے۔ 
  • علم کے بغیر فتویٰ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے اس شخص کی تردید اور نفی فرمائی ہے جس نے آپؐ کے دور میں فتویٰ دینے میں جلدبازی سے کام لیا تھا۔ اور ایک شخص جس کو زخمی حالت میں جنابت لاحق ہوگئی تھی،کہا کہ اس پر غسل کرنا لازم ہے۔ اس نے اس بات کا کوئی خیال نہ رکھا کہ وہ زخمی ہے۔ اور غسل سے وہ آدمی فوت ہوگیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

قَتَلُوْہُ قَتَلَہُمُ اللّٰہُ! أَ لَّا سَأَلُوْا إِذْ لَمْ یَعْلَمُوْا، فَإِنَّمَا شِفَائُ الْعِيِّ السُّؤَالُ، إِنَّمَا یَکْفِیْہِ أَنْ یَّتَیَمَّمَ… ؎ ۹ اسے اس کے ساتھیوں نے ہلاک کیا ہے، اللہ انھیں ہلاک کرے۔ جب انھیں علم نہیں تھا تو کسی سے پوچھا کیوں نہیں؟ مرضِ جہل کا علاج یہ ہے کہ پوچھا جائے۔ اس کے لیے تو تیمم ہی کافی تھا۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فتویٰ کو اس شخص کے قتل کے مترادف ٹھیرایا اور انھیں ان الفاظ میں بددُعا دی: قَتَلَہُمُ اللہ [اللہ انھیں ہلاک کرے]۔ معلوم ہوا کہ جہالت کا فتویٰ کبھی ہلاک کرے گا اور کبھی تخریب کا ذریعہ بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ابن قیمؒ وغیرہ نے یہ اجماع نقل کیا ہے کہ ’’کوئی شخص علم کے بغیر دین میں فتویٰ دینے کا مجاز نہیں‘‘۔ارشادِ ربانی ہے: 

وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝۳۳ (الاعراف۷:۳۳) اور یہ بھی ممنوع ہے کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمھیں علم نہ ہو۔ 

علامہ ابن سیرینؒ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی جاہل مرے وہ اس سے بہتر ہے کہ وہ بے علمی کی حالت میں کوئی فتویٰ دے۔ ابوحصین اشعریؒ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص کسی ایسے مسئلے میں بھی بے دھڑک فتویٰ دے دیتا ہے کہ اس جیسا مسئلہ اگر حضرت عمرؓ کو پیش آتا تو وہ اس کے حل کے لیے بدری صحابہؓ کو جمع فرماتے۔ 

  • فتویٰ دینے میں صحابہؓ کا طرزِ عمل: ابن مسعودؓ اور ابن عباسؓ فرماتے ہیں: جس نے ہراس مسئلے میں فتوی دیا جو لوگوں نے اس سے پوچھا تو وہ دیوانہ ہے۔ 

حضرت ابوبکر صدیقؓ فرماتے ہیں: اگر میں وہ بات کہوں جو مجھے معلوم نہ ہو تو کون سا آسمان ہوگا جو مجھ پر سایہ کرے گا اور کون سی زمین ہوگی جو مجھے پناہ دے گی۔  

اور حضرت علیؓ بن ابی طالب نے فرمایا کہ اس بات سے میرا سینہ ٹھنڈا ہوتاہے ___یہ بات انھوں نے تین بار دُہرائی ___کہ آدمی سے ایک مسئلہ پوچھاجائے اور وہ اسے معلوم بھی ہو مگر وہ کہے: اَللّٰہُ أَعْلَمُ،  اللہ بہتر جانتاہے۔ 

سیّد التابعین حضرت سعید بن مسیبؒ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ جب کوئی فتویٰ دیتے تو یہ ضرور کہتے: اَللّٰہُمَّ سَلِّمْنِيْ، وَسَلِّمْ مِنِّيْ،’’اے اللہ! مجھے محفوظ فرما اور مجھ سے لوگوں کو محفوظ فرما‘‘۔ ؎۱۰ 

  • داعی اور معلم کے لیے علم کی ضرورت: جب قضا اور فتویٰ کے لیے علم ضروری ہے تو دعوت وتربیت کے لیے بھی اس کی ضرورت مسلّم ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں: 

قُلْ ہٰذِہٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللہِ۝۰ۣؔ عَلٰي بَصِيْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ۝۰ۭ (یوسف۱۲:۱۰۸) تم ان سے صاف کہہ دو کہ میرا راستہ تو یہ ہے کہ میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھتے ہوئے اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور میرے ساتھی بھی۔ 

لہٰذا، ہرداعی الی اللہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیروکار ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی دعوت علی الوجہ البصیرت ہو، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی دعوت سے پوری طرح آگاہ ہو۔ جس چیز کی طرف وہ دعوت دے رہاہو، اسے اس نے خوب سمجھا ہو۔ اسے معلوم ہو کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دے رہاہے، کس کو دے رہاہے، کیوں دے رہاہے اور کیسے دے رہاہے؟ 

اسی بناپر کہاجاتاہے کہ ربّانی اس کو کہتے ہیں، ’’جو خود جانتا ہو، اس پر عمل کرتا ہو اور دوسروں کو اس کی تعلیم دیتا ہو‘‘۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے: 

وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ۝۷۹ۙ(اٰل عمرٰن۳:۷۹) لیکن تم سچے ربانی بنو جیسا کہ اس کتاب کی تعلیم کا تقاضاہے جسے تم پڑھتے اور پڑھاتے ہو۔ 

عبداللہ ابن عباسؓ نے ربّانی کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ ’’وہ علم اور سمجھ رکھنے والے ہوں‘‘۔ ؎۱۱ 

دعوت اور تعلیم کے میدان میں علم کے ذریعے جو چیزیں پیدا ہوتی ہیں، ان میں سے ایک اہم بات یہ ہے کہ معلم لوگوں کے لیے آسانی پیداکرے ، انھیں مشکل میں نہ ڈالے، انھیں خوش خبری سنائے، اور انھیں متنفر نہ کرے۔ جیسا کہ ایک متفق علیہ حدیث میں آیاہے: یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا، وَبَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا،’’آسانی پیدا کرو، مشکل میں نہ ڈالو، خوشخبری سناؤ متنفر نہ کرو‘‘۔ ؎۱۲ 

اس حدیث کی تشریح میں حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں: اس سے مرادنومسلموں کی تالیفِ قلب اور تعلیم میں تدریج ہے۔ اسی طرح اس سے مراد گناہوں سے روکنا بھی ہے۔ ضرورت ہے کہ یہ کام تدریج کے ساتھ ہو، کیوں کہ ایک کام کی ابتدا اگر آسان ہو تو پہلی دفعہ کرنے والے کے لیے اس میں دل چسپی پیدا ہوجاتی ہے، اور وہ اسے خوشی سے قبول کرتا چلاجاتا ہے۔ پھر اس کا نتیجہ اکثر اوقات یہ نکلتاہے کہ اس کی دل چسپی مزید بڑھتی رہتی ہے۔ لیکن اگر اس کے برعکس معاملہ کیاجائے تو اس کا نتیجہ بھی برعکس نکلتاہے۔(دیکھیے: فتح الباری،۱/۱۶۳) 

یہ ’تیسیر‘ [آسانی کا معاملہ کرنا]صرف نومسلموں تک محدود نہیں ہے، جیسا کہ حافظ ابن حجرؒ کی بات سے معلوم ہوتاہے بلکہ یہ ایک عمومی اور دائمی امر ہے۔ یہ ہراس شخص کے لیے لازم ہے جو نومسلم ہو، یا جس نے ابھی ابھی گناہوں سے توبہ کی ہو، یا ہر وہ شخص جو تخفیف کا محتاج ہو جیسے مریض، یا عمررسیدہ یا کسی اور حاجت میں مبتلا شخص۔ 

علم کی بنیاد پر دعوت کے تقاضوں میں سے ایک تقاضا یہ ہے کہ داعی، دینی معلومات دل سوزی سے مخاطب تک پہنچائے، تاکہ وہ انھیں بآسانی سمجھ سکے، اور وہ باتیں نہ کہی جائیں جو اس کی عقل و فہم سے بالاتر ہوں۔ ورنہ یہ دعوت لوگوں کے لیے فتنہ بن جائے گی۔ اسی کے بارے میں حضرت علیؓ فرماتے ہیں: 

حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا یَعْرِفُوْنَ، وَدَعُوْامَا یُنْکِرُوْنَ،أَتُرِیْدُوْنَ أَنْ یُّکَذَّبَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ، لوگوں سے ایسی باتیں کرو جو ان کے لیے مانوس ہوں، جو باتیںنا مانوس ہوں انھیں چھوڑدو۔ کیاتم یہ چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلا دیاجائے؟  ؎۱۳ 

حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں: مَا أَنْتَ بِمُحَدِّثٍ قَوْمًا حَدِیْثًا لَّا تَبْلُغُہٗ عُقُولُہُمْ إِلَّا کَانَ لِبَعْضِہِمْ فِتْنَۃً،’’تم جب لوگوں سے کوئی ایسی بات کہتے ہو جس تک ان کا ذہن نہیں پہنچتا تو وہ ضرور ان میں سے بعض لوگوں کے لیے فتنے کا موجب ہوگی‘‘۔ ؎۱۴ 

ظاہری الفاظ پر مقاصد کی اہمیت 

فہم وفقہ میں اصل اہمیت اس امر کی ہے کہ مقاصدِ شریعت کو گہرائی سے سمجھا جائے اور ان کی حکمتوں کی معرفت حاصل کی جائے، ان کا آپس میں تعلق معلوم کیاجائے اور شریعت کے اصول کو فروع کے ساتھ ملایاجائے، اس کے جزئیات کو کلیات کی طرف لوٹایا جائے اور صرف ظاہر پر اکتفانہ کیاجائے اورالفاظِ نصوص پر جمود اختیار نہ کیاجائے۔ 

ارکانِ اسلام اور باقی معاملاتِ زندگی مثلاً خاندانی، سماجی، معاشرتی، معاشی، سیاسی اور بین الاقوامی مسائل کے جزئی احکام کی تحقیق و تجزیہ سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ شارع نے جب کسی کام کو قانون کا درجہ دیا ہے تو اس کے پیش نظر کچھ اہداف تھے۔ اس نے کسی بھی امر کو تحکماً یا بغیر کسی وجہ کے مشروع نہیں کیا۔ بلکہ ہرکام کو کسی حکمت کے تحت مشروع کیا جو اس کے کمال، اس کے علم، اس کی رحمت اور اپنی مخلوق پر اس کے احسان کے ساتھ نسبت رکھتا ہے۔ اس کے اسماء حسنیٰ میں سے العلیم اور الحکیم بھی ہیں۔ چنانچہ وہ شریعت سازی میں بھی حکیم ہے، جس طرح وہ تخلیق اور تقدیر میں حکیم ہے۔ اس کی حکمت عالم امر میں اسی طرح نمایاں ہے، جس طرح عالمِ خلق میں نمایاں ہے: 

اَ لَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ۝۰ۭ (الاعراف۷:۵۴) اسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے۔ 

رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا۝۰ۚ سُبْحٰنَكَ (اٰل عمرٰن۳:۱۹۱) پروردگار، یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد تو نہیں بنایا، تو ہر عیب سے پاک ہے۔ 

اسی طرح ہم اس کی شریعت کے بارے میں کہتے ہیں: رَبَّنَا مَا شَرَعْتَ ہٰذَا إِلَّا لِحِکْمَۃٍ، ’’اے پرودگار! تو نے یہ قانون بغیر کسی حکمت کے نہیں بنایا‘‘۔ 

دین اسلام کاعلم سیکھنے والے اکثر و بیشتر بحرِعلم کی سطح پر تیرتے رہتے ہیں اور اس کی گہرائیوں میں نہیں اترتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اس میں تیراکی کرنے، اس کی تہہ میں غوطہ زن ہونے اور اس کے ہیرے برآمد کرنے کی اہلیت اپنے اندر پیدا ہی نہیں کی ہوتی۔ اس وجہ سے وہ ظاہر میں مشغول ہوتے ہیں اور اسرار ومقاصد کی طرف انھیں توجہ نہیں ہوتی۔ وہ فروع کے چکر میں پڑے رہتے ہیں اور اصول جاننے کے لیے ان کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ 

وہ اللہ کے بندوں کے سامنے اللہ کا دین اور شریعت کے احکام ایسے منتشر فروعات کی صورت میں پیش کرتے ہیں، جن کی کوئی اجتماعی صورت نہیں بن سکتی اور ان بیان کردہ فروعات کا اپنے اسباب و علل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان کی گفتگوئوں اور تحریروں سے شریعت ایسی صورت میں سامنے آتی ہے کہ گویا وہ مخلوق کے مصالح ا ورمفادات کو حاصل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ مگریہ قصور شریعت کا نہیں بلکہ ان لوگوں کے فہم کا ہے، جنھوں نے احکام کے درمیان باہمی ربط وتعلق کو اپنی کم علمی اور ناسمجھی سے کاٹ دیاہے۔اس ظاہر پرستی اورلکیر کا فقیر بننے کے نتیجے میں اکثر اوقات یہ ہوتاہے کہ اللہ نے دین میں جو وسعت رکھی ہے اس میں تنگی آجاتی ہے، اور جس چیز کو شریعت نے آسان بنایا ہے اس میں تنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اس چیز میں بھی جمود پیدا ہوجاتاہے جس میں ترقی کاا مکان موجود ہو،اور بعض ایسی چیزوں کو کسی حد میں مقید کردیا جاتا ہے جس میں وسعت اور آزادی پائی جاتی ہے۔ 

اُمت کو درپیش اصل معرکہ 

ہمیں چاہیے کہ اپنی توجہ اجماعی قطعیات پر مرکوز کریں اور اختلافی گمان اور اندازوں سے بچیں۔ اُمت کو جس چیز نے مشکلات سے دوچار کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے قطعیات [یقینی امور] کو چھوڑ دیا ہے۔ اس وقت دُنیا کے کونے کونے میں داعیانِ اسلام اور علَم بردارانِ سیکولرزم کے درمیان جو معرکہ برپا ہے وہ انھی قطعیات کے بارے میں ہے: عقیدے کے قطعیات، قانون کے قطعیات، فکر کے قطعیات اور کردار کے قطعیات۔ یہی قطعیات تفہیم وتلقین، تعلیم وتربیت اور پوری اسلامی زندگی کے وجود کی بنیاد بننی چاہییں۔ اسلامی دعوت اوردینی کام کے لیے یہ بات سب سے زیادہ خطرناک ہے کہ لوگوں کوان امور کی طرف دعوت دی جائے جو مختلف فیہ ہیں۔ 

اختلافی مسائل میں درست طرزِ عمل 

اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم کسی اختلافی مسئلے میں زبان تک نہ کھولیں۔ یاہم عقیدے، فقہ، یاکردار کے حوالے سے کسی رائے کو کسی پر ترجیح بھی نہ دیں، یہ تو ناممکن ہے۔ اگر یہ بات ہو کہ علما کسی رائے کو صحیح اور کسی کو کمزور نہ کہیں اور کسی کوراجح اور کسی کو مرجوح نہ کریں تو پھر ان کا کام اور کیا ہوگا؟ قابلِ گرفت بات یہ ہے کہ لوگ اس چیز کو اپنے لیے ایک دائمی مشغلہ بنا لیں اور متفق علیہ مسائل سے زیادہ توجہ کو ہٹا کر اختلافی مسائل کی طرف ہی رُخ کر لیں، ظنیات کی فکر میں پڑے رہیں، درآنحالیکہ لوگوںنے قطعیات سے بھی منہ موڑ رکھاہے۔ 

یہ بات بھی اضطراب اور خطرے کی ہے کہ ہم لوگوں کے سامنے ایسے مسائل جو مختلف فیہ ہیں ان کو ایسے انداز میں پیش کریں جیسے ان میں کوئی اختلاف موجود ہی نہیں ہے۔ پھر ایسا کرنا بھی درست نہیں ہوگا کہ اس میں ہم دوسروں کی آراء سے جہالت برتیں جن کا اپنا نقطۂ نظر اور اپنے دلائل ہوتے ہیں، خواہ ہم انھیں معتبر سمجھتے ہوں یانہیں۔ بسا اوقات ایسا ہوتاہے کہ دوسری رائے جمہور علمائے اُمت کی بڑی تعداد کی رائے ہوتی ہے اور ___ وہ بھی غلطی سے مبرا نہیں ہوتی، کیوںکہ اس پر یقینی اجماع نہیں ہوتا۔ بعض معتبر ترین علما کی آراء بھی بعض اوقات کسی خاص ماحول اور خاص دَور میں پہنچ کر شاذہو جاتی ہیں۔ 

 _______________ 

حواشی 

۱-ابوداؤد اور نسائی، دیکھیے: صحیح الجامع الصغیر ۲۹۴۰ 

۲- متفق علیہ بروایت حضرت ابن عمرؓ، دیکھیے: اللؤلؤوالمرجان، ح۱۶۵۱ 

۳- طبرانی نے المعجم الکبیر اور صحیح الجامع الصغیر، ۵۳۹۴ 

۴- اس حدیث کو ابن عبدالبر نے روایت کیاہے۔ 

۵- صحیح بخاری مع فتح الباری، ۱/۱۵۹-۱۶۲۔ طبع :دارالفکر 

۶- جامع بیان العلم وفضلہ، ابن عبد البر،۱/۲۷، دارالکتب العلمیۃ، بیروت 

۷- ان کی تفصیلی صفات کے لیے دیکھیے: اللؤلؤ والمرجان، ح۶۳۸-۶۴۴ 

۸- یہ قول ابن قیمؒ نے مفتاح دار السعادۃ ، ص۸۲ سے لیا ہے۔ 

۹- ابوداؤد نے حضرت جابرؓسے اور احمد، ابوداؤداور حاکم نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کیاہے: دیکھیے: صحیح الجامع الصغیر،ح ۴۳۶۲،۴۳۶۳ 

۱۰- ابن قیم إعلام الموقعین، [۲/۱۶۵-۱۶۸]، طبع: السعادۃ، تحقیق: محی الدین عبدالحمید 

۱۱- امام بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب العلم میں درج کیاہے۔ 

۱۲- شیخین نے حضرت انسؓ سے روایت کیاہے۔ جیسا کہ اللؤلؤ والمرجان ، ح ۱۱۳۱ میں ہے۔ 

۱۳-امام بخاری نے کتاب العلم میں حضرت علیؓ سے نقل کیاہے۔ دیکھیے: فتح الباری ۱/۲۲۵ 

۱۴-اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحیح کے مقدمے میں نقل کیاہے۔ 

اسلام اپنی صداقت پر ایمان لانے کے لیے کسی کو مجبور نہیں کرتا، بلکہ دلائل و براہین کی روشنی میں ہدایت کی راہ کو ضلالت کی راہ سے ممتاز کر کے دکھا دینے کے بعد، ہرشخص کو اختیار دیتا ہے کہ چاہے غلط راستے پر چل کر نامرادی کے گڑھے میں جاگرے، اور چاہے سیدھے راستے پر لگ کر حقیقی اور دائمی فلاح و کامرانی سے بہرہ اندوز ہو۔ لیکن… ہم یہ بتادینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت کو تلوار سے ایک گونہ تعلق ضرور ہے۔ اِس میں شک نہیں کہ جہاں تک تبلیغِ دینِ الٰہی کی حد ہے ، اس میں تلوار کا کوئی کام نہیں ہے۔ لیکن اس تبلیغ کے ساتھ کچھ چیزیں اور بھی ہیں جن کے تعاون سے دنیا میں اسلام کی اشاعت ہوئی ہے۔ 

عموماً ہم دیکھتے ہیں کہ جب انسان بے قیدی کی زندگی بسر کرتا ہے اور اپنی خواہشات کی پیروی میں کسی اخلاقی ضابطے کا پابند نہیں ہوتا، تو اسے اپنی اِس پُرالم، مگر بظاہر پُرلطف زندگی میں ایک مزا آنے لگتا ہے، اور اس مزے کو چھوڑنے کے لیے وہ برضاورغبت آمادہ نہیں کیا جاسکتا۔ وعظ و نصیحت اور دلیل و بُرہان کی قوت سے اس کو اخلاقی حدود کی پابندی، حلال و حرام کی تمیز، اور نیک و بد کے امتیاز کی خواہ کتنی ہی تلقین کی جائے، وہ بہرحال سیدھا ہونے پر راضی نہیں ہوتا۔  

اوّل تو اس کی عقل و وجدان پر مسلسل بدکاریاں کرتے رہنے کے باعث ایسا پردہ پڑجاتاہے کہ اس قسم کی اخلاقی تعلیم کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا، اور اگر اس کے ضمیر میں کچھ زندگی باقی ہوتی بھی ہے تو وہ اس کے نفس پر اتنی حاوی نہیں ہوتی کہ اس کے اثر سے وہ حق کو محض اس بنا پر کہ وہ حق ہے، بطَوع و رغبت قبول کرلے، اور ان لذتوں سے دست بردار ہوجائے جو بے قیدی کی زندگی میں اسے حاصل ہوتی ہیں۔ 

 بخلاف اس کے جب کسی اخلاقی تعلیم کی پشت پر وعظ و تذکیر کے ساتھ سیاست و تعزیر بھی ہوتی ہے اور بد کو بدکرکے دکھا دینے کے ساتھ بدی کو روک دینے والی قوت سے بھی کام لیا جاتا ہے، تو رفتہ رفتہ طبیعت میں نیک بننے کی صلاحیت پیدا ہونے لگتی ہے۔ حدودکی پابندی اور بُرے بھلے کی تمیز آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہے ، اور آخرکار وہی انسان اس نیکی کی تعلیم کو دل میں جگہ دینے لگتا ہے جو بے قیدی کی زندگی میں اس کو سننے کا بھی روادار نہ تھا۔ 

تھوڑی دیر کے لیے کسی ایسی سوسائٹی کا تصور کیجیے، جس میں کوئی قانون نافذالعمل نہیں ہے، اس کا ہرفرد اخلاقی حدود کی پابندی سے مبرا ہے، جس پر بس چلتا ہے اسے لوٹ لیتا ہے، جس سے عداوت ہوتی ہے اسے مار ڈالتا ہے، جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے اسے چُرا کر یا چھین کر حاصل کرلیتا ہے، جو خواہش دل میں پیدا ہوتی ہے اسے جس طریقے سے چاہتا ہے پورا کرلیتا ہے، حلت و حُرمت کی اسے تمیز نہیں ہوتی، جائز و ناجائز کے فرق سے وہ ناواقف ہوتا ہے، حقوق و فرائض کے تخیل سے اس کا دماغ خالی ہوتا ہے، اس کے سامنے بس اپنی خواہشات ہوتی ہیں اور انھیں پورا کرنے کے امکانی وسائل ہوتے ہیں۔  

ایسی حالت میں اگر کوئی اخلاقی مصلح کھڑا ہو اور لوگوں کو حلال و حرام کی تمیز سکھائے، جائز و ناجائز کی حدبندی کرے، مقاصد میں حُسن و قبح اور طریقوں میں نیک و بدکا فرق قائم کرے، چوری سے، حرام خوری سے، خونِ ناحق سے، زنا اور فواحش سے روکے، افراد کے لیے حقوق اور فرائض متعین کرے، اور ایک مکمل ضابطۂ قوانینِ اخلاق مرتب کر کے رکھ دے، مگر اس قانون کی تنفیذ کے لیے اس کے پاس وعظ و پند اور دلیل و حجت کے سوا کوئی قوت نہ ہو، تو: 

  • کیا یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ جماعت اپنی آزادی پر ان قیود کو بخوشی قبول کرلے گی؟  
  • کیا وہ اس کے مُسکِت دلائل سے مغلوب ہوکر برضا و رغبت قانون کی پابند بن جائے گی؟  
  • کیا وہ اس کی پُردرد نصیحتوں سے اتنی متاثر ہوگی کہ خود بخود اُن لذتوں سے کنارہ کش ہوجائے، جو اس کو بے قیدی کی زندگی میں حاصل ہیں؟  

ہرشخص جو انسانی فطرت کا رازداں ہے، اس سوال کا جواب صرف نفی میں دے گا۔ کیوںکہ دنیا میں ایسے پاک نفسوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے جو نیکی کو محض نیکی سمجھ کر اختیار کرتے ہیں، اور بدی کو صرف اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ اس کا بد ہونا انھیں معلوم ہوچکا ہے۔ 

لیکن اگر یہی سوال اس صورت میں کیا جائے، جب کہ وہ معلّم محض اخلاقی واعظ ہی نہیں بلکہ حاکم اور صاحب ِ امر بھی ہو اور ملک میں ایک باضابطہ حکومت قائم کردے، جس کی قوت سے وہ تمام بُرائیاں یک لخت دُور ہوجائیں جو حیوانی آزادی سے پیدا ہوتی ہیں، تو یقینا یہ نفی، اثبات سے بدل جائے گی اور ہرشخص اس اصلاحی تعلیم کی کامیابی کا فتویٰ لگا دے گا۔ 

اسلام کی اشاعت کا بھی تقریباً یہی حال ہے۔  

اگر اسلام صرف چند عقائد کا مجموعہ ہوتا اور اللہ کو ایک کہنے، رسالت کو برحق ماننے، یومِ آخر اور ملائکہ پر ایمان کے سوا انسان سے وہ کوئی اور مطالبہ نہ کرتا، تو شاید شیطانی طاقتوں سے اس کو کچھ زیادہ جھگڑنے کی نوبت نہ آتی۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ صرف ایک عقیدہ ہی نہیں بلکہ ایک قانون بھی ہے۔ ایسا قانون جو انسان کی عملی زندگی کو اوامرونواہی کی بندشوں میں کسنا چاہتا ہے، اس لیے اس کا کام صرف پندوموعظت ہی سے نہیں چل سکتا بلکہ اسے نوکِ زبان کے ساتھ نوکِ سنان [نیزہ]سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔ 

اس کے عقائد سے، سرکش انسان کو اتنا بُعد نہیں ہے جتنا اس کے قوانین کی پابندی سے انکار ہے۔ وہ چوری کرنا چاہتا ہے اور اسلام اسے ہاتھ کاٹنے کی دھمکی دیتا ہے۔ وہ زنا کرنا چاہتا ہے اور اسلام اسے کوڑوں کی مار کا حکم سناتا ہے۔ وہ سود کھانا چاہتا ہے اور اسلام اس کو فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ (البقرہ ۲:۲۷۹،’’آگاہ ہوجائو کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے تمھارے خلاف اعلانِ جنگ ہے‘‘) کا چیلنج دیتا ہے۔ وہ حرام و حلال کی قیود سے نکل کر نفس کے مطالبات پورے کرنا چاہتا ہے اور اسلام ان قیود سے باہر نفس کے کسی حکم کی پیروی نہیں کرنے دیتا۔ اس لیے نفس پرست انسان کی طبیعت اس سے متنفر ہوتی ہے اور اس کے آئینۂ قلب پر گناہ گاری کا ایسا زنگ چڑھ جاتا ہے کہ اس میں صداقت ِاسلام کے نُور کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔  

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۳برس تک عرب کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ وعظ و تلقین کا جو مؤثر سے مؤثر انداز ہوسکتا تھا اسے اختیار کیا۔ مضبوط دلائل دیے، واضح حجتیں پیش کیں، فصاحت و بلاغت اور زورِ خطابت سے دلوں کو گرمایا۔ اللہ کی جانب سے محیرالعقول معجزے دکھائے۔ اپنے اخلاق اور اپنی پاک زندگی سے نیکی کا بہترین نمونہ پیش کیا، اور کوئی ذریعہ ایسا نہ چھوڑا جو حق کے اظہارواثبات کے لیے مفید ہوسکتا تھا۔ 

 لیکن آپؐ کی قوم نے آفتاب کی طرح آپؐ کی صداقت کے روشن ہوجانے کے باوجود آپؐ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ حق ان کے سامنے خوب ظاہر ہوچکا تھا۔ انھوں نے برأي العین دیکھ لیا تھا کہ جس راہ کی طرف ان کا ہادی انھیں بلا رہا ہے، وہ سیدھی راہ ہے۔ اس کے باوجود صرف یہ چیز انھیں اس راہ کو اختیار کرنے سے روک رہی تھی کہ اُن لذتوں کو چھوڑنا انھیں ناگوار تھا جو کافرانہ بے قیدی کی زندگی میں انھیں حاصل تھیں۔ 

جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد داعیِ اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی اور اَلَا  کُلَّ  مَأْثُرَۃٍ  أَوْ  دَمٍ  أَوْ مَالٍ یُدْعٰی فَھُوَ تَحْتَ قَدَمَیَّ ھَاتَیْنِ{ FR 644 } [السیرۃ النبویۃ،  ابن ہشام، ۳/۴۱۳] کا اعلان کرکے تمام موروثی امتیازات کا خاتمہ کر دیا، عزت و اقتدار کے تمام رسمی بتوں کو توڑ دیا، ملک میں ایک منظم اور منضبط حکومت قائم کردی، اخلاقی قوانین کو بزور نافذ کرکے اُس بدکاری و گناہ گاری کی آزادی کو سلب کرلیا جس کی لذتیں ان کو مدہوش کیے ہوئے تھیں، اور وہ پُرامن فضا پیدا کردی جو اخلاقی فضائل اور انسانی محاسن کے نشوونما کے لیے ہمیشہ ضروری ہوا کرتی ہے، تو دلوں سے رفتہ رفتہ بدی و شرارت کا زنگ چھوٹنے لگا، طبیعتوں سے فاسد مادے خودبخود نکل گئے، روحوں کی کثافتیں دُور ہوگئیں اور یہی نہیں کہ آنکھوں سے پردہ ہٹ کر حق کا نور صاف عیاں ہوگیا، بلکہ گردنوں میں وہ سختی اور سروں میں وہ نخوت باقی نہیں رہی، جو ظہورِ حق کے بعد انسان کو اس کے آگے جھکنے سے باز رکھتی ہے۔ 

عرب کی طرح دوسرے ممالک نے بھی جو اسلام کو اس سُرعت سے قبول کیا کہ ایک صدی کے اندر چوتھائی دنیا مسلمان ہوگئی، تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ اسلام کی تلوار نے ان پردوں کو چاک کر دیا جو دلوں پر پڑے ہوئے تھے، اُس فضا کو صاف کر دیا جس کے اندر کوئی اخلاقی تعلیم پنپ نہیں سکتی، اِن حکومتوں کے تخت اُلٹ دیے جو حق کی دشمن اور باطل کی پشت پناہ تھیں، ان بدکاریوں کا استیصال کردیا جو دلوں کو نیکی و پرہیزگاری سے دُور رکھتی ہیں، ان عادلانہ اخلاقی قوانین کو نافذ کیا جو آدمی کو حیوانیت کے درجے سے نکال کر انسان بنا دیتے ہیں، اور پھر اسلام کو عملی پیکر میں پیش کرکے دنیا پر ثابت کردیا کہ انسان کی اخلاقی و مادی اور روحانی ترقی کے لیے اس سے بہتر کوئی اور دستورِ عمل نہیں ہوسکتا۔ 

[لہٰذا] جس طرح یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے لوگوں کو مسلمان بناتا ہے، اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اسلا م کی اشاعت میں تلوار کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے، اور وہ یہ ہے کہ اسلام کی اشاعت میں تبلیغ اور تلوار دونوں کا حصہ ہے، جس طرح ہرتہذیب کے قیام میں ہوتا ہے۔ تبلیغ کا کام تخم ریزی ہےاور تلوار کا کام قلبہ رانی [ہل چلانے کا کام]۔ پہلے تلوار زمین کو نرم کرتی ہے تاکہ اس میں بیج کو پرورش کرنے کی قابلیت پیدا ہوجائے، پھر تبلیغ بیج ڈال کر آبپاشی کرتی ہے تاکہ وہ پھل حاصل ہو جو اس باغبانی کا مقصودِ حقیقی ہے۔  

ہم کو دنیا کی پوری تاریخ میں کسی ایسی تہذیب کا نشان نہیں ملتا، جس کے قیام میں ان دونوں عناصر کا حصہ نہ ہو۔ تہذیب کی کسی خاص شکل کا کیا ذکر ہے، خود تہذیب کا قیام ہی اس وقت تک ناممکن ہے جب تک قلبہ رانی اور تخم پاشی کے یہ دونوں عمل اپنا اپنا حصہ ادا نہ کریں۔ کوئی شخص جو انسانی فطرت کا رمزشناس ہے، اس حقیقت سے ناآشنا نہیں ہے کہ جماعتوں کی ذہنی و اخلاقی اصلاح کے سلسلے میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے، جب کہ قلب و روح کو خطاب کرنے سے پہلے جسم و جان کو خطاب کرنا پڑتا ہے۔(الجہاد فی الاسلام، ص ۱۷۰-۱۷۵) 

دین اسلام کا تیسرا بنیادی ستون زکوٰۃ ہے۔ قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر ایمان کے بعد صرف دو اعمالِ صالحہ کا تذکرہ آیاہے: ایک نماز کا،دوسرا زکوٰۃ کا۔ یعنی جب ایک معیاری مومن کا تصور سامنے لانا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّـہِمْ۝۰ۚ (البقرہ ۲:۲۷۷)بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے صالح اعمال کیے، نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی، ان کے لیے ان کے ربّ کے پاس اجر ہوگا۔

حالانکہ نماز اور زکوٰۃ کے ساتھ ایسے بہت سے اچھے اعمال و اخلاق ہیں جن کا اہتمام معیاری مومن و مسلم بننے کے لیے ضروری ہے۔ پھر قرآن حکیم ایسا اندازِ بیان کیوں اختیار فرماتا ہے؟ اور معیاری مومن و مسلم کا تصور دلانے کے لیے اکثر ایمان کے بعد صرف نماز اور زکوٰۃ ہی کا نام لے کر خاموش کیوں ہوجاتا ہے؟ دوسری نیکیوں کا ذکر کیوں نہیں کرتا؟

ظاہرہے کہ گفتگو کا یہ انداز اس نے بلاوجہ تو اختیار نہیں کیا ہے۔ غور کیجیے تو اس کی وجہ اس کے سوا اور کوئی نہ مل سکے گی کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں نماز اور زکوٰۃ یہی دو چیزیں دین کی اصل عملی بنیادیں ہیں۔ جس نے ان دونوں فرائض کو اچھی طرح ادا کرلیا، اس نے گویا پورے دین پر عمل کرنے کی پکی ضمانت اور عملی شہادت فراہم کردی اور اب اس سے اس بات کا کوئی واقعی اندیشہ باقی نہیں رہا کہ دوسرے احکامِ شریعت سے بے نیازی کا برتائو کرے گا۔ ایسا کیوں ہے؟ اس بات کا جواب آپ کو ایک طرف دین کی اور دوسری طرف نماز وزکوٰۃ کی حقیقتوں اور غایتوں پر نظر ڈالتے ہی مل جائے گا۔ احکامِ دین کی اصولی تقسیم کیجیے تو ان کی دو ہی قسمیں ہوسکیں گی۔ ایک قسم ان احکام کی ہوگی جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حقوق سے ہے۔ دوسری قسم ان احکام کی ہوگی جن کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہے۔ اس طرح دین کی پیروی دراصل اس بات کا نام ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق دونوں سے عہدہ برآ ہوجائے۔

نماز انسان کو اللہ اور آخرت کی طرف لے جاتی ہے تو زکوٰۃ اسے دُنیا کی طرف لڑھک جانے سے محفوظ رکھتی ہے۔ یعنی اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کا راستہ اگر کڑی چڑھائی کا راستہ ہے تو یہ دونوں چیزیں اس راستے پر سفر کرنے والے انسانی عمل کی گاڑی کے دو انجن ہیں۔ نماز کا انجن اسے آگے سے کھینچتا ہے اور زکوٰۃ کا انجن اسے پیچھے سے دھکیلتا ہے اور اس طرح یہ گاڑی اپنی منزل کی طرف برابر بڑھتی رہتی ہے۔ جب صورتِ واقعہ یہ ہے تو ان دونوں چیزوں (نماز اور زکوٰۃ) کو یہ حق لازماً پہنچنا چاہیے کہ انھیں دین کی اصل عملی بنیادیں قرار دیا جائے۔

زکوٰۃ کی اہمیت

آج ہمارے معاشرے میں الحمدللہ کلمۂ شہادت کے تقاضوں پر عمل کرنے کے لیے محنت ہورہی ہے ۔ نماز کی اقامت اور اس کی ادائیگی کا اہتمام ہورہا ہے۔ نہ صرف فرائض بلکہ نوافل میں تہجد، چاشت اور صلوٰۃ التسبیح وغیرہ پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ لیکن ایتائے زکوٰۃ جو دراصل ملّت کے فقراء و مساکین کا حق ہے ، اس کی طرف توجہ کم ہے۔ حالانکہ قرآنِ حکیم اور سنت ِ رسولؐ کی تعلیمات کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیں نماز کے ساتھ ہمیشہ زکوٰۃ کا مکلف بھی بنایا گیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کے درمیان گہرا ربط ہے اور ایک مسلمان کے اسلام کی تکمیل ہی ان دونوں سے ہوتی ہے۔ نماز اسلام کا ستون ہے۔ جس نے اسے قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے اسے ڈھا دیا اس نے دین کی ساری عمارت کو منہدم کردیا۔ اور زکوٰۃ اسلام کا پُل ہے جو اس پر سے گزر گیا، وہ نجات پاگیا اور جو اس سے اِدھر اُدھر ہوگیا وہ ہلاکت میں جاپڑا۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: مَنْ لَمْ یُؤَدِّ الزَّکٰوۃَ  فَلَا صَلَاۃَ لَہٗ (مصنف ابن ابی شیبۃ) ’’جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس کی نماز ہی نہیں ہوتی‘‘۔

چنانچہ قرآن کا صریح حکم ہے کہ کسی فرد کے اسلام لانے کو اسی وقت معتبر مانا جائے گا، جب وہ نماز قائم کرنے لگے اور زکوٰۃ دینے لگے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے:

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَہُمْ۝۰ۭ (التوبہ ۹:۵) اگر یہ لوگ کفر سے توبہ کرلیں، نماز قائم کرنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔

آگے چل کر پھر فرمایا:

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۝۰ۭ (التوبہ ۹:۱۱)  سو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں، نماز قائم کرنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو اب وہ تمھارے دینی بھائی ہوں گے۔

کلام اللہ کی یہ صراحتیں بتاتی ہیں کہ کسی غیرمسلم کا مسلمان قرار پانا کلمۂ شہادت ادا کرنے کے بعد بھی دو باتوں پر موقوف ہے: ایک یہ کہ وہ نماز قائم کرے، دوسرے یہ کہ وہ زکوٰۃ ادا کرے۔ جب تک وہ ایسا نہیں کرتا اس کا مسلمان ہونا قابلِ تسلیم نہیں ہوسکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفر سے تائب ہوکر دائرۂ اسلام میں آنے کے لیے زکوٰۃ کی ادائیگی بھی ایک ضروری علامت اور لازمی شرط ہے۔ اسی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

اُمِرْتُ اَنْ اُقاتَلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوا اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ  وَیُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوْا الزَّکٰوۃَ فَاِذَا  فَعَلُوْہُ  عَصَمُوا مِنِّی دِمَائَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ  وَحِسَابھُمْ عَلَی اللہ ِ (مسلم، کتاب الایمان) مجھے حکم دیا گیا کہ ان لوگوں (اہل عرب) سے جنگ کرتا رہوں، یہاں تک کہ وہ اللہ ہی کے معبود ہونے اور محمدؐ کے رسول اللہ ہونے کی گواہی دے دیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تبھی مجھ سے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ پاسکیں گے اور اس کے بعد ان کا حساب لینا اللہ کا کام ہے۔

نہ صرف یہ کہ اسلام کے کسی منکر کا مسلمان ہونا ادائے زکوٰۃ کے بغیر معتبر نہ سمجھا جائے گا بلکہ جو لوگ اپنے کو مسلمان کہتے ہیں،وہ بھی اگر زکوٰۃ دینے سے انکار کردیں تو اسلامی حکومت ان کے خلاف بھی تلوار اُٹھائے گی۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانۂ خلافت میں جب کچھ لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، تو آپؓ نے ان کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا اور جب حضرت عمرؓ نے ان کے اس اقدام کے درست ہونے میں تردّد کا اظہار کیا تو آپؓ نے فرمایا:

واللہ لاُقاتِلَنَ  من فرق  بین الصلٰوۃ والزکٰوۃ (مسلم، کتاب الایمان) بخدا میں  ان لوگوں سے ضرور لڑوں گا ، جو نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرتے ہیں۔

دورِ نبویؐ میں زکوٰۃ کا نظام

دورِ نبویؐ میں زکوٰۃ کا نظام کیا تھا؟ اس پر غور کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے باقاعدہ ایک نظم قائم کیا جس کے چند اہم شعبے یہ تھے:

            ۱-         عمال الصدقات یا عاملین صدقات: زکوٰۃ وصول کرنے والے افسران

            ۲-         کاتبین صدقات: حساب کتاب کے انچارج

            ۳-         خارصین: باغات میں پھلوں کی پیداوار کا تخمینہ لگانے والے

            ۴-         عمال علی الحمٰی: مویشیوں کی چراگاہ سے محصول وصول کرنے والے

۱- عاملین صدقات: عاملین صدقات کے لیے آپؐ نے بڑے بڑے صحابہ کا انتخاب فرمایا جن میں امانت و دیانت، احساسِ ذمہ داری اور اعلیٰ درجے کی صلاحیتیں ہوتی تھیں اور آپؐ نے انھیں مختلف قبیلوں کی طرف بھیجا، مثلاً حضرت عمرؓ کو مدینہ کے اطراف، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو بنوکلب، حضرت عمرو بن عاصؓ کو قبیلہ فزارہ، حضرت عدی بن حاتمؓ کو قبیلہ طے اور حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کو مزینہ اور کنانہ قبیلے کی طرف۔ یہ عاملین ان قبیلوں کے مزاج اور نفسیات سے بھی واقفیت رکھتے تھے اور ان کی مدد کے لیے مقامی عاملین بھی متعین تھے۔ ان عاملین صدقات کو ایک پروانۂ تقرر بھی ملتا تھا اور وصولی کرنے کے لیے ہدایات (Code of conduct) بھی۔ مثلاً زکوٰۃ میں عمدہ مال وصول نہ کریں، زکوٰۃ دینے والوں کے مقام پر جاکر وصول کریں اور وصول یابی کے بعد ان کے لیے دُعائے خیر کریں۔ مذکورہ قبیلے کو بھی ہدایت کی جاتی تھی کہ وصول کنندہ جب ان کے پاس آئے تو حُسنِ سلوک کریں تاکہ وہ خوشی سے واپس جائے۔ آپؐ نے یہ ارشاد فرمایا:

اَلْعَامِلُ عَلَی الصَّدَقَۃِ بِالْحَقِّ کَالْغَازِیْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلٰی بَیْتِہٖ (ابوداؤد، کتاب الخراج) حق و انصاف کے ساتھ زکوٰۃ کا وصول کرنے والا اللہ کے راستے میں جنگ کرنے والے کے مانند ہے یہاں تک کہ وہ عامل اپنے گھر کو لوٹ جائے۔

اس کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کا محاسبہ کرتے اور ان کی تنخواہ یا مشاہرہ مقرر فرماتے۔ امام بخاریؒ نے کتاب الزکوٰۃ میں ایک باب والعاملین علیھا میں محاسبۃ المصدقین مع الامام کا ذکر کیا ہے۔

۲- کاتبین صدقات: مالی نظام کے حساب کا باقاعدہ شعبہ دورِ نبویؐ میں موجود تھا۔ حضرت زبیر بن عوامؓ اسلامی ریاست کے صدقات کے کاتب تھے اور وہی سارا حساب کتاب رکھا کرتے تھے۔ ان کی عدم موجودگی میں حضرت جہیم بن صلتؓ اور حضرت حذیفہ بن الیمانؓ صدقات کی آمدنی کے ذمہ دار تھے۔

۳- خارصین (پیداوار کا تخمینہ لگانے والے عاملین):عہدنبویؐ میں ایک عہدہ ’خارصین‘ یعنی افسران برائے تخمینۂ پیداوار کا تھا، جو اپنی خداداد صلاحیتوں کی بناپر کھجور وغیرہ کے باغوں کی پیداوار کا اندازہ لگاتے کہ باغ کی کُل پیداوار کتنے وسق ہوگی اور اس میں زکوٰۃ کی واجب مقدار کتنی ہوگی؟ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک ماہر خراص تھے۔ غزوئہ تبوک کے سفر میں آپؐ نے ایک مسلمان خاتون کے باغ کی پیداوار کا تخمینہ لگایا تھا کہ اس کی پیداوار دس وسق ہوگی اور آپؐ کا تخمینہ بالکل درست ثابت ہوا (بخاری)۔صحابہ کرامؓ میں حضرت عبداللہ بن رواحہؓ ماہر خراص شمار کیے جاتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انھیں ہرسال خیبر کی پیداوار کا تخمینہ لگانے کے لیے بھیجا کرتے تھے۔

۴- عاملین علی الحِمٰی: دورِ نبویؐ میں مختلف قبیلوں سے مویشیوں کی زکوٰۃ کی وصول یابی کے لیے عاملین مقرر تھے، مثلاً حضرت ذرین بن ابی ذرؓ قبیلہ غفار کے لیے، حضرت ابورافعؓ ذوالجدر کے لیے، حضرت سعد بن ابووقاصؓ قریش اور زہرہ کے لیے، حضرت بلال بن حارثؓ مزینہ قبیلے کے لیے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں چند قبیلوں نے زکوٰۃ مدینہ کے مرکزی بیت المال میں بھیجنے سے انکار کیا تو آپؓ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مالِ زکوٰۃ میں سے ایک اُونٹ باندھنے کی رسّی یا بکری کا بچہ بھی روک لیں گے تو مَیں ان سے جنگ کروں گا۔ خدا کی قسم! میں ہر اُس شخص سے جہاد کروں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا‘‘۔ (الشوکانی، نیل الاوطار)

علامہ یوسف القرضاوی لکھتے ہیں: ’’حضرت ابوبکرؓ کا مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کرنا غالباً اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے کہ انسانی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی حکومت و ریاست معاشرے کے کمزور افراد اور فقراء و مساکین کے حقوق انھیں دلانے کے لیے آمادئہ جنگ ہوئی، جب کہ تاریخ میں ہمیشہ یہی ہوتا رہا کہ سماج کے طاقت ور طبقے کمزور طبقوں کو کھاتے رہے اور حکام و امراء نے کبھی غلاموں اور بے کسوں کی پشت پناہی نہیں کی بلکہ اکثر و بیش تر حکومت ِ وقت نے دولت مند طبقے کی حمایت کی‘‘۔ (فقہ الزکوٰۃ، ص ۱۱۵)

حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں زکوٰۃ کی صورتِ حال کیا تھی؟ اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ حضرت معاذ بن جبلؓ نے یمن سے جب زکوٰۃ کا ایک تہائی حصہ بھیجا تو حضرت عمرؓ نے لینے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا: میں نے تم کو ٹیکس یا جزیہ وصول کرنے کے لیے نہیں بھیجا تھا بلکہ اس لیے بھیجا تھا کہ وہاں کے تمام اغنیاء سے زکوٰۃ وصول کرکے ان ہی کے فقراء میں تقسیم کردو۔ حضرت معاذؓ نے کہا: یہاں زکوٰۃ لینے والے کسی شخص کو محروم کرکے میں نے آپ کے پاس یہ مال نہیں بھیجا ہے۔ پھر دوسرے سال حضرت معاذؓ نے نصف زکوٰۃ بھیج دی۔ اس موقع پر بھی دونوں طرف سے اسی طرح کی گفتگو ہوئی۔ پھر تیسرے سال حضرت معاذؓ نے کُل زکوٰۃ بھیجی۔حضرت عمرؓ نے اس موقع پر بھی یہی بات کہی جو اس سے پہلے کہہ چکے تھے۔ اس کے جواب میں حضرت معاذؓ نے کہا: ’’یہاں کوئی زکوٰۃ لینے والا ہی نہیں‘‘۔ (ابوعبید ،کتاب الاموال)

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں مصر کے گورنر نے انھیں لکھا کہ صدقہ وزکوٰۃ کی رقم لینے والا وہاں کوئی نہیں ہے۔ وہ مالِ زکوٰۃ کا اب کیا کریں؟ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے جواب دیا: غلاموں کو خرید کر آزاد کرو، شاہراہوں پر مسافروں کے لیے آرام گاہیں تعمیر کرو اور ان نوجوان مردوں اور عورتوں کی مالی امداد کرو جن کا نکاح نہیں ہوا ہے۔

علامہ ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ خلیفہ نے ایک شخص کا خصوصی طور پر تقرر کیا تھا، جو شہر کی گلیوں میں ہر روز یہ اعلان کرتا تھا: کہاں ہیں وہ لوگ جو مقروض ہیں اور قرض ادا نہیں کرسکتے؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو نکاح کرنا چاہتے ہیں؟ کہاں ہیں محتاج و حاجت مند اور کہاں ہیں یتیم اور بے سہارا؟ یہ معاملہ چلتا رہا کہ سوسائٹی میں تمام لوگ مال دار ہوگئے اور غربت و افلاس کا کوئی نام و نشان نہیں رہا۔ (ابوعبید، کتاب الاموال)

خلفائے راشدین کے بعد اُموی دور میں نظامِ خلافت بدل گیا اور حکام ظلم و تشدد پر اُتر آئے تو بعض لوگوں کا خیال ہوا کہ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں زکوٰۃ کیسے دی جائے اور انھیں زکوٰۃ کا امین کیسے بنایا جائے؟ لیکن صحابہ کرامؓ نے یہی فیصلہ کیا کہ زکوٰۃ انھی کو دینی چاہیے۔ یہ کسی نے نہیں کہا کہ خود اپنے طور پر خرچ کر ڈالو۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے ایک شخص نے پوچھا: اب زکوٰۃ کسے دیں؟ کہا: وقت کے حاکموں کو۔ اس نے کہا: وہ زکوٰۃ کا روپیہ اپنے کپڑوں اور عطروں پر صرف کرڈالتے ہیں۔ فرمایا: اگرچہ ایسا کرتے ہوں، مگر دو انھی کو،کیونکہ زکوٰۃ کا معاملہ بغیر نظام کے قائم نہیں رہ سکتا۔

واقعہ یہ ہے کہ صدرِ اوّل سے لے کر عہد ِ عباسیہ تک یہ نظام بلااستثناء قائم رہا، لیکن ساتویں صدی ہجری میں تاتاریوں کا سیلاب تمام اسلامی ممالک میں اُمنڈ آیا اور نظامِ خلافت معدوم ہوگیا، تو سوال پیدا ہوا کہ اب کیا کرنا چاہیے؟ فقہائے حنفیہ کے فتوے اسی دور میں یا اس کے بعد لکھے گئے۔ اس وقت پہلے پہل اس بات کی تخم ریزی ہوئی کہ زکوٰۃ کی رقم بطور خود خرچ کرڈالی جائے کیونکہ غیرمسلم حاکموں کو نہیں دی جاسکتی، مگر ساتھ ہی فقہاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جن ملکوں میں اسلامی حکومت قائم نہیں ہے اور حالت کا اعادہ فوراً ممکن نہیں، وہاں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ کسی اہل مسلمان کو اپنا امیر مقرر کرلیں تاکہ اسلامی زندگی کا نظام قائم رہے، معدوم نہ ہوجائے۔ جیسے جیسے زمانہ گزرتا چلا گیا مسلمانوں میں یہ غلط فہمی یقین کی صورت اختیار کرتی گئی کہ جن ملکوں میں اسلامی حکومت نہیں ہے، وہاں زکوٰۃ کا اجتماعی نظم اور بیت المال کا قیام ناممکن ہے۔

عام طور پر عوام اور خواص کا ایک بڑا طبقہ بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ فقراء کو یا اپنے مستحق رشتہ دار کو چند سو روپے، چند کلو اناج یا چند گز کپڑے دے دیئے جائیں۔ اس سے وہ چند دن یا زیادہ سے زیادہ چند مہینے اپنی ضروریات پوری کرلیتا ہے اور اس کے بعد وہ فاقہ کش اور تہی دست رہتا ہے اور ہمیشہ مدد کے لیے ہاتھ پھیلاتا رہتا ہے ۔ کیا اس سے زکوٰۃ دینے کا مقصد پورا ہوجاتا ہے؟

ادائیگی زکوٰۃ کے لیے عوامی بیداری

ملت کے اندر بڑے پیمانے پر یہ بیداری اور شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ نماز کی طرح زکوٰۃ بھی دینِ اسلام کی اہم ترین بنیادوں میں سے ایک ہے اور دورِ نبویؐ اور دورِ خلفائے راشدین میں کس طرح اجتماعی نظمِ زکوٰۃ جاری و ساری تھا۔ اس کے علاوہ خاص طور پر قرآن حکیم سورئہ توبہ کی آیات (آیت۶۰ اور ۱۰۳) کو اُجاگر کرنا چاہیے جن میں بتایا گیا ہے کہ زکوٰۃ کے مستحقین کون کون ہیں اور زکوٰۃ کو وصول کرنے اور اس کی تقسیم کی ذمہ داری کس پر اللہ تعالیٰ نے عائد کی ہے؟

قرآن حکیم نےآٹھ قسم کے لوگوں کو زکوٰۃ کا مستحق قرار دیا ہے:

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۭ فَرِيْضَۃً مِّنَ اللہِ ۝۰ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۝۶۰(التوبۃ ۹:۶۰) صدقات (یعنی زکوٰۃ) اللہ کی طرف سے مقرر کردہ فرض ہے فقراء کے لیے ، مساکین کے لیے اور ان لوگوں کے لیے جو زکوٰۃ وصول و تقسیم پر مقرر ہیں اور ان کے لیے جن کی تالیف ِ قلب مقصود ہو اورگردن چھڑانے کے لیے اور قرض داروں کے لیے اور راہِ خدا اور مسافروں کے لیے۔ اللہ بہتر جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

زکوٰۃ کے جن آٹھ مصارف کا تذکرہ کیا گیا ہے، وہ یہ ہیں:

۱-فقراء غریب

۲- مساکین:نادار

۳-عاملین:زکوٰۃ کو اکٹھا اور تقسیم کرنے والے

۴-تالیفِ قلب :جن کے دلوں کو اسلام کی طرف راغب کرنا ہے

۵-رقاب:غلاموں کو چھڑانے کے لیے

۶-غارمین:قرض دار

۷-فی سبیل اللہ:اللہ کی راہ میں

۸-ابن السبیل:مسافروں کے لیے

نظامِ زکوٰۃ کی ذمہ داری

قرآنِ حکیم کا فرمان ہے:

خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ بِہَا (التوبۃ ۹:۱۰۳) اے نبیؐ ! تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انھیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انھیں بڑھائو۔

دراصل زکوٰۃصرف انفرادی طور پر صدقات اور خیرات کو تقسیم کرنے کا نام نہیں ہے اور نہ اس کی تقسیم کو امیروں کی صوابدید پر چھوڑدیا گیا ہے، بلکہ یہ ایک سماجی اور فلاحی ادارہ ہے جس کی نگرانی حکومت ِ وقت کرے گی اور اس کے انتظام و انصرام کے لیے ایک عوامی ادارہ حکومت کے تحت وجود میں آئے گا۔ قرآن حکیم میں جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ زکوٰۃ کی رقم کن لوگوں پر اور کن مَدات پر خرچ کی جائے ، وہاں محکمۂ زکوٰۃ کے سرکاری کارندوں (وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا) کا ذکر بھی ایک مستقل حیثیت سے کیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’ان کے مالوں میں سے صدقہ حاصل کرو اور انھیں پاک کرو اور ان کے تقویٰ اور پرہیزگاری کو بڑھائو‘‘۔ اس میں خُذْ (حاصل کرو) کا خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ حیثیت سربراہِ مملکت کے ہے اور اس پر عمل خلیفۂ راشد حضرت ابوبکرؓ نے بہ حیثیت خلیفۂ رسولؐ کیا، اور اس پورے عمل کو جاری وساری رکھا۔ زکوٰۃ کی وصولی، عمال کا تقرر  اور اس کی تقسیم کا پورا ڈھانچہ باقی اور برقرار رکھا۔ علما وفقہا نے تصریح کی ہے کہ خُذْ   کا اطلاق اوّلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا اور آپؐ کے بعد ہراُس شخص پر ہے جو ملّت کا ذمہ دار ہے۔

چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو زکوٰۃ کی وصولی کے لیے یمن روانہ فرمایا تو کہا: تُوخَذُ   مِن اَغْنِیَائِھِمْ وَتُرَدُّ   اِلٰی فُقَرَائِھِمْ (بخاری)’’زکوٰۃ ان کے دولت مندوں سے وصول کی جائے اور پھر ان کے فقرا اور محتاجوں میں لوٹائی جائے‘‘۔ اس طرح زکوٰۃ کے آٹھ حق داروں میں اوّلین مستحقین فقراء اور غرباء ہیں۔

مستحقینِ زکوٰۃ

آیئے زکوٰۃ کے مستحقین کی مختصر تفصیل ملاحظہ فرمائیں:

  • فقراء کون؟ وہ غریب اور حاجت مند جس کے پاس زندگی گزارنے کے لیے کچھ نہ ہو۔ وہ شخص جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ ہو اور جو بے کار ہو۔ وہ ضعیف العمر جو کوئی کام کرنے کے قابل نہ ہو اور گزر بسر کے لیے کما نہیں سکتا ہو۔ اپاہج، دائم المرض، بے گھر، بیوہ اور یتامٰی وغیرہ۔
  • مساکین کون؟ وہ افراد جو اپنی گزربسر کے لیے دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں لیکن دوسروں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ اپنے پاس کچھ نہ کچھ رکھتے ہیں لیکن وہ بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ناکافی ہوتا ہے۔

مشہور محقق ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے مطابق: فقر اء سے مراد غریب اور نادار مسلمان ہیں اور مسکین سے مراد غریب اور نادار غیرمسلم ہیں اور اس کے لیے انھوں نے امام ابویوسفؒ کی تالیف کتاب الخراج کا حوالہ دے کر بتایا ہے کہ حضرت عمرؓ اپنی خلافت کے زمانے میں زکوٰۃ کی آمدنی سے یہودیوں کی بھی مدد کرتے تھے۔ مدینہ کی گلیوں میں ایک یہودی کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ’’یہ اہل کتاب کے مساکین میں سے ہے، اس لیے زکوٰۃ سے اس کو رقم دی جائے‘‘۔

دیگر اصحابِ رسولؐ مثلاً زید بن ثابت، ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ کی رائے کا ذکر امام طبریؒ نے کیا ہے کہ زکوٰۃ غیرمسلموں کو دی جاسکتی ہے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ فقراء سے مراد مسلمانوں کے فقراء اور مساکین سے مراد غیرمسلم رعیت کے فقیر ہوں گے۔

عاملین علیہا (عاملینِ زکوٰۃ)

فقراء اور مساکین کے بعد ایک اہم مَد، عاملین زکوٰۃ کا ذکر آتا ہے۔ یہ اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ زکوٰۃ انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی شکل میں اداکرنی چاہیے۔ نظامِ حکومت یا مسلم سوسائٹی کا عمل دخل اس میں ہونا چاہیے۔ اس کام کے لیے ایک الگ اور متحرک شعبہ یا ایک ادارہ عوامی سطح پر مختص ہونا ضروری ہے۔ عاملین زکوٰۃ میں نہ صرف زکوٰۃ وصول کرنے والے آتے ہیں بلکہ ایک پورا انتظامی شعبہ اور اس کے کارندے مراد ہیں جو زکوٰۃ وصول کرنے، اس کا حساب کتاب کرنے، مستحقین کے اعداد و شمار جمع کرنے، اس کو تقسیم کرنے اور اس پورے کام کے انتظام و انصرام کے عمل میں مصروف ہوتے ہیں۔ اس کام میں خواتین سے بعض مخصوص کاموں میں مدد لی جاسکتی ہے، مثلاً بیوائوں اور معذوروں کی دیکھ بھال اور ان کی نگرانی وغیرہ۔

مؤلّفۃ القلوب

ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اسلام کی حمایت کے لیے یا اسلام کی مخالفت سے روکنے کے لیے رقم دینے کی ضرورت پیش آئے۔ نیز ان میں وہ نومسلم بھی داخل ہیں جنھیں مطمئن کرنے کی ضرورت ہو۔ اگر کوئی شخص اپنی قوم کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملنے کی وجہ سے بے روزگار یا تباہ حال ہوگیا ہو تو اس وقت اس کی مدد کرنا مسلمان پر فرض ہے۔ لیکن اگر وہ مال دار ہو تب بھی اسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے تاکہ اس کا دل اسلام پر جم جائے۔ بعض علما نے مؤلّفۃ القلوب پر تفصیل سے لکھا ہے، مثلاً ابویعلٰی الفرا حنبلی نے اپنی کتاب الاحکام السلطانیہ میں جو امام ماوردی کے معاصر ہیں، اس کی چار قسمیں بیان کی ہیں:

پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جن کو رقم اس لیے دی جائے کہ وہ مسلمانوں کی مدد کریں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے، جن کو رقم اس لیے دی جائے کہ وہ مسلمانوں کو مضرت پہنچانے سے باز رہیں۔ عام حالات میں وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، لیکن اگر ان کو رقم دے دی جائے، تو مثلاً جنگ کے زمانے میں وہ غیر جانب دار رہیں گے، مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ تیسری قسم، ان لوگوں کی ہے جن کو رقم اس لیے دی جاتی ہے کہ اس کی وجہ سے ان کے قریبی رشتہ دار، ان کے قبیلے کے لوگ، ان کے خاندان کے لوگ اسلام قبول کریں۔ اس فہرست کے بعد وہ ایک جملے کا اضافہ کرتے ہیں کہ یہ رقم مسلمان اور غیرمسلم کسی کو بھی دی جاسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی کی تالیف ِ قلب کرنی ہو یا کسی کو، مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچانے کے لیے رقم دی جانی ہو، تو وہ غیرمسلم ہی ہوگا۔ لیکن وہ صراحت سے کہتے ہیں کہ چاہے وہ غیرمسلم ہو یا مسلم، اس کو مؤلّفۃ القلوب کے تحت زکوٰۃ کی آمدنی سے رقم دی جاسکتی ہے۔ (ڈاکٹر حمیداللہ کی بہترین تحریریں، ص ۲۰۲، مرتب: سیّد قاسم محمود)

عام طور پر ملک کے علما کا یہ خیال ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانے کے بعد اسلام کو غلبہ واستحکام حاصل ہوچکا ہے اس لیے مال کے ذریعے تالیف ِ قلب کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے۔ لیکن وہ علما جو اس دعوتی کام میں سرگرم ہیں ان کا خیال ہے کہ اسلام آج حضرت عمرؓ کے دور کی طرح مضبوط نہیں ہے۔ اس لیے اس مَد  میں خرچ کے ذریعے نہ صرف نومسلموں کی اعانت اور مدد کرنی چاہیے بلکہ ان طبقات کو جو اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت و مزاحمت میں پیش پیش ہیں، اس کے منفی رویہ و عمل میں کمی یا اس کے خاتمے کے لیے اور بعض افراد اور جماعتوں کو دینِ رحمت کی طرف راغب کرنے کے کاموں میں اس مَد کے ذریعے خرچ کرنے کی گنجائش باقی ہے اور یہ وقت کا اہم تقاضا بھی ہے۔

الرقاب (گردنیں چھڑانا)

مصارفِ زکوٰۃ کا ایک حصہ گردنوں کو آزادکرنے میں صرف ہوگا یعنی اس حصہ سے غلاموں اور باندیوں کو آزاد کرایا جائے گا لیکن آج اس قسم کے غلام اور باندی نہیں پائے جاتے ہیں۔ اس کے بارے میں فقہاء کا کہنا ہے کہ اگر اس کو عام مفہوم میں لیا جائے تو اس سے ان قیدیوں کو جو جیلوں میں جرمانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے قید ہیں، ان کو رہا کرانے یا ان کے مقدموں کی پیروی کرکے انھیں آزاد کرانے کے کاموں میں خرچ کیا جاسکتا ہے۔

طبقات ابن سعد میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا ایک خط جو انھوں نے یمن کے گورنر کے نام لکھا ہے، اس میں لکھتے ہیں کہ جتنی رعایا دشمن کے ہاتھ قید ہو اس کو چھڑانے کے لیے سرکاری خزانے سے رقم خرچ کی جائے اس صراحت کے ساتھ کہ چاہے وہ مسلمان ہو یا ذمی ہو۔ گویا رقاب کے سلسلے میں اسلامی رعیت کو دشمن کی قید سے رہائی دلانے کے لیے جو فدیہ دیا جاتا ہے اس میں بھی مسلم اور غیرمسلم کا امتیاز نہیں ہے۔ جس طرح فقراء اور مساکین کے سلسلے میں حضرت عمرؓ کی رائے میں زکوٰۃ کی رقم سے غیرمسلم کی مدد کی جاسکتی ہے۔

الغارمین (قرض دار)

قرض دار جس پر اتنا قرض ہو کہ اسے ادا کرنے کے بعد اس کے پاس مقدارِ نصاب سے کم مال بچتا ہو، اسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ البتہ فقہاء کرام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص اپنی فضول خرچیوں اور بدکاریوں کی وجہ سے قرض دار ہو، اس کو زکوٰۃ دینا مکروہ ہے۔ لیکن قرض دار کو زکوٰۃ سے حصہ دیا جائے تو ایک طرف تو قرض سے نجات کا ذریعہ بنے گا، دوسری طرف ان کو صاف ستھری باعزّت زندگی بسر کرنے کا موقع ملے گا۔حضرت عمرؓ کے زمانے میں غارمین سے ایک نئی چیز کا استنباط ہمیں ملتا ہے اور وہ سرکاری خزانے سے لوگوں کو امداد نہیں بلکہ قرض دینا ہے۔ اس طرح عہدفاروقی میں زکوٰۃ کی رقم سے بلاسودی قرض دینے کا ثبوت ملتا ہے۔

فی سبیل اللہ (اللہ کی راہ میں خرچ کرنا)

یہ ایک عام لفظ ہے جو تمام نیک کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن خاص طور پر اس سے مراد دینِ حق کا جھنڈا بلند کرنے کی جدوجہد میں مدد کرنا ہے۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ فی سبیل اللہ کا لفظ مجاہدین کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر وہ کام جس سے خدا کی رضا مقصود ہو وہ فی سبیل اللہ میں داخل ہے۔ ڈاکٹریوسف قرضاوی نے لکھا ہے کہ فی سبیل اللہ کے حصۂ زکوٰۃ کو دینی، تربیتی اور اشاعتی جہاد پر صرف کرنا زیادہ بہتر ہے بشرطیکہ یہ جدوجہد خالصتاً اسلام کے لیے ہو، مثلاً: دعوتی مراکز قائم کرنا، صلاحیت کے حامل مخلص افراد کی صلاحیتوں کومزید ترقی دینا (Human Resources Development) وغیرہ۔

ابن السبیل (مسافر)

اگرچہ مسافر کے پاس اس کے وطن میں کتنا ہی مال ہو، لیکن حالت ِ سفر میں اگر وہ محتاج ہے تو وہ زکوٰۃ کا مستحق ہے۔ بعض علما کا خیال ہے کہ ابن السبیل کی تعریف کے تحت آج کل کے مہاجرین بھی آجاتے ہیں جو جنگ، غارت گری اور ظلم و جَور کے باعث بے گھر ہوجاتے ہیں۔ جو کچھ مال و دولت ان کے پاس تھا وہ وہیںرہ جاتا ہے اور اب ان کے لیے اس سے استفادہ ممکن نہیں رہ جاتا۔

خلاصۂ    کلام

مصارفِ زکوٰۃ کی آٹھ مدات کی تفصیلات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام نظامِ زکوٰۃ کےذریعے ایک Sharing & Caring  (باہمی ہمدردی اور ایک دوسرے سے تعاون) سوسائٹی کا قیام چاہتا ہے جہاں پر ہرشخص کی بنیادی ضرورتیں:غذا، لباس، رہائش، حفظانِ صحت، اس کے لیے گھریلو سازوسامان اور سواری کی سہولتیں کم از کم مہیا ہوں اور ایک معتدل اور متوازن زندگی گزار سکے جو اِکرامِ انسانیت کا تقاضا ہے۔ اسی طرح معاشرہ کے تمام افراد میں دولت گردش کرتی رہے اور صرف امیروں کے درمیان گھومتی نہ رہے۔ عام طور پر مسلم سماج میں غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ زکوٰۃ اسلام کا ایک اہم ستون ہے جس کے ذریعے سے نادار اور غریب زکوٰۃ کی رقم حاصل کرتے ہیں لیکن زکوٰۃ کی اہمیت دین میں اس لیے بھی ہے کہ وہ اپنی زکوٰۃ کے ذریعے سماج کے ضرورت مند طبقے کو خوش حال طبقہ بناتا ہے اور انھیں لینے کی پوزیشن سے نکال کر دینے کی پوزیشن میں لاتا ہے، اور زکوٰۃ دینے والوں کا طبقہ اسی وقت پیدا ہوگا جب سوسائٹی کا ہرفرد مضبوط اور مالی طور پر مستحکم ہوگا اورمعاشرے کے کمزور اور کچلے ہوئے طبقے دینے والے بنیں گے۔

زکوٰۃ کے ذریعے تجارت اور چھوٹے کاروباروں کو فروغ دینا

اجتماعی نظام زکوٰۃ کے ذریعے ایک ایسے سماج اور سوسائٹی کے قیام کی کوشش ہوتی ہے، جس کے تمام افراد بالخصوص ایک بڑا طبقہ معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا ہو اور کمزور اور بے سہارا افراد کو ان کی بنیادی ضرورتیں فراہم کرے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے دور میں جب یہ نظامِ رحمت قائم تھا تو زکوٰۃ دینے والے تو موجود تھے لیکن سوسائٹی میں زکوٰۃ لینے والے موجود نہیں تھے۔

زکوٰۃ کی رقم زیادہ تر غریب عوام کی فوری ضرورتوں کی تکمیل میں استعمال ہوتی ہے لیکن اگرچھوٹے صنعت کاروں اور تاجروں کو چھوٹے پیمانے پر بنیادی سرمایہ (Seed money) فراہم کرکے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دیاجائے تو اس سے غربت بتدریج ختم ہوسکتی ہے اور مستحقینِ زکوٰۃ چند برسوں میں زکوٰۃ دینے والے بن سکتے ہیں۔ دُنیا کے مختلف ملکوں میں مائیکروفنانس کے ذریعے ایسے کامیاب تجربے کیے جارہے ہیں۔ ملک عزیز میں بھی اس قسم کے اداروں کے ذریعے چھوٹے تاجروں اور ہنرمندوں کی امداد کی جاسکتی ہے۔

چند قابلِ غور اُمور

بہت سے علما کا موقف یہ ہے کہ اموالِ زکوٰۃ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے:

الف: اموالِ ظاہرہ: غلّہ، مویشی وغیرہ ، جنھیں آسانی کے ساتھ معلوم اور متعین کیا جاسکتا ہے۔

ب: اموالِ باطنہ: سونا، چاندی اور تجارتی سامان وغیرہ

اموالِ ظاہرہ کو حکومت یا سماجی ادارہ حاصل کرکے اجتماعی طور پر تقسیم کرسکتا ہے لیکن اموالِ باطنہ کو اس کے مالک کی صوابدید پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ خود اس کی تقسیم زکوٰۃ کی مدات میں کرے، اس لیے کہ خلیفہ راشد حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے دورِ خلافت میں ایسا ہی کیا تھا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ خلافت راشدہ ؓ کے زمانے میں چند قبیلوں کو جو رخصت دی گئی تھی کہ وہ خود غریبوں میں اپنی زکوٰۃ تقسیم کریں ، وہ اَزخود نہیں تھی، بلکہ حکومت نے اس کی اجازت دی تھی۔ یہ صورت بھی دراصل حکومت ہی کے ذریعے زکوٰۃ کی جمع و تقسیم کا ایک خاص انتظام تھا، جو مصلحتوں اور سہولتوں کی خاطر اختیار کرلیا گیا تھا۔

ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے اس پر روشنی ڈالی ہے کہ حضرت عثمانؓ کے دور میں حضور اکرمؐ کی وفات کے صرف پندرہ سال بعد اُمت تین براعظموں: یورپ، افریقہ اور ایشیا میں پھیل گئی تھی اور کہیں کہیں ایک سو مربع میل میں ایک سے زائد مسلمان نہیں تھا۔اس وجہ سے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے ہرمسلمان کے مکان پر کارندوں کو بھیجنا اور حساب مانگنا مشکل تھا، اور اس کے لیے ایک کثیر عملے کی ضرورت پیش آتی تھی جس میں مصارف زیادہ اور آمدنی کم ہوسکتی تھی۔ اس لیے اس طرح کی آبادی کے صاحب ِ نصاب مسلمانوں سے کہہ دیا گیا کہ وہ ہرسال زکوٰۃ کی رقم خود ہی احکامِ قرآنی کے مطابق نکال کر تقسیم کردیا کریں۔

بہرحال علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے حالات کے تناظر میں فیصلہ کریں کہ زکوٰۃ کا اجتماعی نظام کیا ہو اور اموالِ باطنہ کو انفرادی طور پر اور ظاہرہ کو اجتماعی طور پر جمع کرکے تقسیم کرنے کا نظم کریں۔

ڈاکٹر یوسف القرضاوی فرماتے ہیں: ’’زکوٰۃ حکام کو دیتے وقت ایک تہائی یا ایک چوتھائی اپنے پاس روک لے، تاکہ اس کو اپنی جان پہچان، اڑوس پڑوس اور غریب رشتہ داروں میں تقسیم کرسکے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک چوتھائی یا ایک تہائی زکوٰۃ دینے والوں کے ہاتھ میں رہنے دیں تاکہ وہ خود تقسیم کرسکیں‘‘۔ (فقہ الزکوٰۃ، ج۲)

زکوٰۃ کے نظام کی تشکیل

دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح زکوٰۃ کے اجتماعی نظم کے قیام کی ضرورت ہے۔ معاشرے کے مخلص اور باصلاحیت افراد جن میں سماجی خدمت کا جذبہ ہو اور جن کی قابلیت پر اعتماد کیا جاسکتا ہو، وہ ہرچھوٹے بڑے شہر میں ایک اجتماعی شکل اختیار کریں اور زکوٰۃ کا ایک اجتماعی نظم قائم کرنے کی سعی و جہد کریں اور اس کے لیے ایک مہم چلائیں۔ آج سے چند سال پہلے مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ نے میوات سے کلمہ اور نماز کے لیے ایک مخلصانہ مہم چلائی تھی جس کی وجہ سے نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دُنیا میں کلمہ پر محنت اور نماز کے قیام اور مسجدوں کے آباد کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔ اسی طرح معاشرے کے ہرطبقہ میں اجتماعی نظمِ زکوٰۃ کی ہمہ گیر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ ان شاء اللہ چندبرسوں میں اس کے مفید اور مؤثر نتائج سامنے آئیں گے اور اس طرح اقامت ِالصلوٰۃ اور ایتاء الزکوٰۃ سے ایک متوازن اور متمول اسلامی معاشرہ ملک میں وجود میں آئے گا جو اپنی مثال آپ ہوگا اور خیراُمت کی حیثیت سے یہ دوسرے معاشروں کے لیے بھی دعوتِ دین کا باعث ہوگا۔

’اشتراکیت‘ تہذیب ِمغرب کا خانہ زاد نظریہ ہے، اور بقول کارل مارکس یورپ کو اس ’آسیب‘ (Specter) کے لپٹنے کا مدتوں دھڑکا لگا رہا۔ سرمایہ داری سے یورپ ایک ایسا ’عفریت‘ (Monster) بن چکا تھا کہ ’آسیب‘ بھی اس سے پناہ مانگتے تھے۔ اس ’عفریت‘ سے پیدا ہونے والا یہ ’آسیب‘ جہاں جہاں اترا ہے، اسے دیکھ کر انسان سوچتا ہے کہ کہیں اشتراکیت، سرمایہ داری نظام کا ہراول ہی تو نہیں؟

اس میں کچھ شک نہیں کہ مارکسی فکر ہم عصر دنیا کے نفسی، سماجی اور سیاسی علوم میں بہت گہرائی تک سرایت کر چکی ہے۔ سرمایہ داری نظام پر گہرا اور ثقہ علمی نقد اور فکری ردعمل اشتراکیت ہی کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ گذشتہ ڈیڑھ صدی کی طرح، موجودہ تاریخی صورت حال میں بھی سرمایہ دارانہ نظام کی درست علمی تفہیم، اور اس کے خلاف فکری اور عملی مزاحمت اشتراکی فکر کے بغیر سامنے نہیں لائی جا سکتی۔

یہ بھی درست ہے کہ دنیا کے بڑے مذاہب کی علمی روایت کے بیش تر علَم برداروں کے  قلم سے موجودہ عہد میں کوئی ایسی توجہ کھینچ لینے والی چیز سامنے نہیں آسکی، جو سرمایہ دارانہ نظام کی تفہیم اور اس کے زبردست محاکمے پر مشتمل ہو۔ اگر کسی مذہبی آدمی کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے اور اپنے مذہب کی قرارِ واقعی وضاحت کرتے ہوئے سرمایہ داری کو چیلنج کرسکتا ہے، تو اسے تھوڑی دیر کے لیے اس دنیا کو اپنی حسرت کے بجائے شعور کی آنکھ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بہرحال، سرمایہ داری نظام کے عالم گیر جبر و استحصال کے خلاف انسانی ضمیر کی اب بھی نمایندگی باقی ماندہ اشتراکی فکر ہی کر رہی ہے۔

ہمیں یاد ہے کہ اقبال نے اشتراکیت کی بجائے اسلام کو سرمایہ داری کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ اقبال کا یہ ایقانی مشاہدہ ایک تہذیبی امکان کی بنیاد پر تھا، جسے ’عصر حاضر کے خلاف اعلان جنگ‘ کو ایک تہذیبی مزاحمت کے طور پر ہی بروئے کار لایا جا سکتا تھا۔ مسلم ذہن ابھی الوہی ہدایت کی مکتبی تفہیم میں غلطاں ہے، اور اسلام کے تہذیبی امکانات اس کے ذہن میں غالب نہیں آرہے۔ ہم ایسی کوئی فکر سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہو سکے جو کسی مزاحمانہ تہذیبی عمل کی بنیاد بن سکے، اور جو ہماری دینی اقدار سے ہم آہنگ بھی ہو۔

گزری ہوئی جہانبانی کے ناسٹیلجیا (پرانی یادوں کے سرور) اور موجود دنیا کے جبر نے ہمارے اعصاب کو اس قدر مضمحل کر دیا ہے کہ دُنیا کے معاملات، تضادات اور تقاضوں کو دیکھنے کی استعداد بہم نہ ہو سکی۔ اس وقت علم اور عمل میں مسلمانوں کے جو تہذیبی مظاہر دنیا کے سامنے ہیں،  ان پر صرف افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اقدارِ ہدایت کے علمی اور عملی مظاہر دنیا کے سامنے پیش کریں، جو الحق اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رحمت العالمینی کا مظہر ہوں۔ جدیدیت کے اثرات اس قدر گہرے ہیں کہ مسلمان اہل دانش نے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے اپنی دینی اقدار کو سرمایہ دارانہ نظام کو مسلسل جواز دینے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ چونکہ اشتراکیت نے بڑے پُرزور انداز سے سرمایہ داریت کو چیلنج کیا تھا، اس لیے اس اشتراکیت کے زوال وانہدام کے بعد اس کو اَزسرنو دیکھنے کی کوشش ضروری ہے۔

سرمایہ داری اور اشتراکیت کی وجودی حقیقت

سرمایہ داری نظام اور اشتراکیت دونوں مغرب کی تاریخی اور علمی روایت کا ثمر ہیں۔ ان کی فکری رگوں میں تنویری منصوبے (The Enlightenment Project) کے ’کارخانے‘ میں   سفید و سفاک لہو یکساں گردش کر رہا ہے۔ سرمایہ داری نظام اور اشتراکیت کی وجودیات (Ontology) ایک ہے۔ ان کی وجودی سطح وجود ایک اور مادی ہے۔ دونوں ایک ایسے تہذیبی شعور کا حاصل ہیں جس میں ماورا کے سارے روشندان بند کر دیے گئے ہیں۔ یہ ایک ایسی تاریخ کا ثمر ہیں جس کے ماورائی دروازے میخیں ٹھونک کر بند کر دیے گئے ہیں۔ دونوں کا تصورِ کائنات ایک ہے، ان کا تصورِ انسان ایک ہے، ان کا تصورِ اخلاق ایک ہے۔ ان دونوں کا انسان کے بنیادی سوالات کی بابت جواب ایک ہے۔ انسانی زندگی کی بنیادوں پر اگر سرمایہ داری نظام اور اشتراکیت کا جواب ایک ہے تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں، کیونکہ ان دونوں نے یہ جوابات اپنے مشترک تصورِ حیات (World View) ’جدیدیت‘ (Modernity)سے ورثے میں پائے ہیں۔

ان کا اختلاف معاشرے کی معاشی تشکیل اور ریاست کے فرائض اور سرمائے کے انتظام پر ہے۔ جدیدیت، شعور و عمل کی ایک مربوط روایت ہے۔ یہ فکر میں انکار اور عمل میں بغاوت ہے۔ سرمایہ داری نظام میں انکار پہلے ہے، اور بغاوت اس کے جلو میں ہے۔ اشتراکیت اپنی رومانوی نہاد کے باعث انکار اور بغاوت کو بیک وقت سامنے لاتی ہے۔

سرمایہ داری نظام اور اشتراکیت کے تاریخی مظاہر میں ایک مماثلت ایسی ہے، جس پر بہت کم گفتگو ہوئی ہے، اور وہ ہے دونوں کا استعماری (Imperialistic) ذوق، مزاج اور عمل کا حامل ہونا۔ سوویت اشتراکیت نے زارِ روس کے نظامِ قوت اور معیشت کو بالکل منہدم کر دیا، لیکن اس کے زیرقبضہ مسلم علاقوں کو نہ صرف جبری قبضے تلے جوں کا توں رکھا بلکہ ان کے روایتی مذہبی اور سماجی ڈھانچے کو بھی فنا کر دیا۔ باقی دنیا میں استعماری مقبوضات تو جنگ عظیم دوم کے بعد آزاد ہونا شروع ہوئے، لیکن وسطی ایشیا کے مسلم محکوم خطوں پر اشتراکی جبر اور ظلم کی طویل رات نوّے کے عشرے کے اوائل تک باقی رہی، اور اشتراکی روس کے انہدام کے ساتھ وہ علاقہ جات بھی نام کی آزادی حاصل کر پائے۔ یہی حال اشتراکی روس کے ہاتھوں مشرقی یورپ کا رہا۔ اشتراکیت کے فکری نسب اور تاریخی مظاہر کی بنیاد پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ دنیا کی مقہور و محکوم اقوام کے لیے اشتراکیت سیاسی اور تہذیبی امید کا کوئی پہلو رکھتی تھی۔

اصلاحات، انقلاب اور ریاست، سرمایہ داری نظام کے پیدا کردہ تاریخی مظاہر ہیں۔ برطانوی تاریخ میں سیاسی عمل اصلاحات کی شکل میں آگے بڑھا، جب کہ فرانس کے قومی سیاسی عمل میں انقلاب کو مرکزیت حاصل ہو گئی۔ دونوں کا مقصد ریاستی مداخلت سے سرمایہ دارانہ مقاصد کو آگے بڑھانا تھا۔ اشتراکیت، ان اصلاحات پر یقین نہیں رکھتی، اور اس نے انقلاب اور ریاست کو اپنے سیاسی اور معاشی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا۔ جدید ریاست چونکہ سرمایہ داری کے سانچے پر وجود میں آئی تھی، اس لیے مارکس اس کے ازخود تحلیل ہو جانے کی رومانوی اور افسانوی آرزومندی پر یقین رکھتا تھا۔

اشتراکیت سرمایہ داری کا ہراول کیوں ہـے؟

جدیدیت کے اصل ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں اشتراکیت نے سرمایہ داری نظام سے کہیں زیادہ جوش اور ولولہ دکھایا۔ جو کام جدیدیت نے سرمایہ دارانہ معاشروں میں صدیاں لگا کے کیا تھا، وہ اشتراکیت نے یورپ اور یورپ سے باہر کے معاشروں میں چند عشروں کے دوران میں حاصل کر دکھایا۔ اور یہ مقصد روایت اور مذاہب کی بنیاد پر بنے ہوئے معاشروں کے اسٹرکچر کو  توڑ کر فرد کو سرمائے کے قانونی اور معاشی اسٹرکچر میں لانا تھا۔ ابھی ہم اس بحث میں نہیں آتے کہ مذہب ضروری ہے یا نہیں، بلکہ ہمارا مسئلہ اس سے زیادہ گہرا ہے۔

سرمایہ داری نظام کو جو معاشی انسان درکار تھا اور ہے، اس کی کچھ اساسی خصوصیات ہیں، مثلاً یہ کہ وہ بیگانگی اور اپنی ذات کے لطف و سکون سے عبارت ہو، تاکہ انسانی معاشرت کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔ جو اپنی ذات کے صرف جسمانی تقاضوں یعنی روٹی اور جنس کی تسکین ہی کو زندگی کا منتہائے مقصود سمجھتا ہو۔ یہی ’مسخ شدہ انسان‘ صنعتی معاشرے کا آئیڈیل ہے، کیونکہ سرمایہ داری اور اشتراکی معاشرے کی سطحِ وجود ایک ہے اور دونوں میں انسان کا آدرش انفرادی غرض مندی ہے۔ ایسا فرد جو اپنی ذات اور انسانی معاشرت سے منقطع ہو چکا ہو اور مکمل طور پر ریاستی نظام قانون اور معاش کا متوسل ہو، سرمائے کی ارتکازی حرکیات میں ایک زبردست  کل پُرزہ بن جاتا ہے۔

روایتی معاشرت کے مکمل خاتمے اور معاشی انسان کی تیاری اور پیداوار میں اشتراکیت نے زیادہ مستعدی اورسُرعت کا مظاہرہ کیا ہے۔ سرمایہ داری نظام نے یہ مقاصد زیادہ تر قانون سازی، تعلیم اور کلچر کے ذریعے ایک طویل تاریخی سفر میں حاصل کیے تھے اور براہ راست ریاستی جبر کو بوقت ضرورت استعمال کیا تھا۔ اس کے برعکس اشتراکیت نے یہی مقاصد براہ راست ریاستی جبر سے حاصل کیے۔

’اشتراکیت‘ کو ’سرمایہ داری نظام کا ہراول‘ کہتے ہوئے چند بنیادی مقدمات کا ذکر ضروری ہے:

۱-  سرمایہ داری کے اساسی ایجنڈے میں مذہبی تصورِ زندگی کا جبری انخلا، مذہبی معاشرت کی فنا، خاندان کی تشکیلِ نو، انسانی زندگی کی نئی تقویم، ایک خالص معاشی انسان کی ایجاد اور اس کی واقعاتی تیاری، تاریخ سے اقدار کی جلاوطنی، سرمایہ داری نظام سے مزاحم ہر تصور، سماجی ہیئت اور نفسی بناوٹ کی ٹوٹ پھوٹ سرفہرست ہیں۔ یہ سرمایہ داری نظام کے وہ تاریخی مقاصد ہیں، جن کے حصول میں سرمایہ داری نظام کو اپنے تمام تر علمی، ثقافتی اور اقتداری وسائل کے باوجود سخت دشواریاں پیش آتی رہی ہیں۔

اشتراکیت نے اپنی سیاسی جدوجہد اور سیاسی عروج میں سرمایہ داری نظام کے ان دُور رس اور طویل المیعاد تاریخی مقاصد کو حاصل کرنے میں ہمہ گیر، زبردست اور فوری کامیابی حاصل کرکے اس کو معاونت فراہم کی ہے۔ جن انسانی معاشروں سے اشتراکیت کا بلڈوزر گزر جائے، وہ سرمایہ داری نظام کے لیے مقناطیسی کشش پیدا کر لیتے ہیں، اور آخرکار اس کی گود میں آ گرتے ہیں۔ روس اور چین اس کی بڑی روشن مثالیں ہیں۔

۲- سرمایہ داری نظام کا ورلڈ ویو یا تصورِ حیات، ’جدیدیت‘ ہے۔ ’تنویری منصوبہ‘ اور ’خردمندی کی پرستش‘ اس کی رسمی اور سیاسی تشکیل تھی، اور رومانویت اس کے خلاف ایک ردعمل۔ ’تنویری منصوبے‘ کی اساس عقل انسانی پر رکھی گئی تھی، جب کہ رومانویت انسانی مزاج کے انفجار (explosion) کا مظہر تھی۔ تنویری منصوبے اور رومانویت نے مغرب کے سیاسی عمل کو بالکل نئے سرے سے مرتب کیا ہے۔ اوّل الذکر کے سیاسی ایجنڈے میں ’اصلاحات‘ (reforms) کو بنیادی حیثیت حاصل تھی،جب کہ سیاسی رومانویت کا بنیادی ایجنڈا ’انقلاب‘ (revolution) رہا ہے۔

’رومانوی آدرش پرستی‘ (Romantic Idealism) اصلاً تحریکِ تنویر اور ثقافتی رومانویت کے امتزاج سے سامنے آئی، اور مغرب کی سیاسی تاریخ میں اس کا رول غیرمعمولی رہا ہے۔ رومانوی آدرش پرستی ایک سیاسی تصور ہے، جو مذہبی معاشروں میں معاش اور سماج کے روایتی اسٹرکچر کو ایک لمحے کے لیے برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتا، اور اصلاحات کو لغو خیال کرتا ہے۔ مذہبی معاشروں کی روایتی ساختوں کو توڑنے کے لیے رومانویت آدرش پرستی ’انقلاب‘ کو بروئے کار لاتی ہے۔ اس کے برعکس سرمایہ داری نظام روایتی معاشروں کو ’اصلاحات‘ کے طویل عمل سے گزار کر جدید بنانا چاہتا تھا، تاکہ جدیدیت کے ورلڈ ویو کو تاریخی حقیقت بنایا جا سکے، جب کہ ’رومانویت آدرش پرستی‘ عین یہی مقاصد ایک ہی ہلے میں حاصل کرنا چاہتی ہے۔

 ’اصلاحات‘ اور ’انقلاب‘ جدیدیت کے دو بڑے اور بنیادی سیاسی ہتھیار ہیں جو سرمایہ پرور سیاست اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اشتراکیت چونکہ جدید سیاست کی ’رومانوی آدرش پرستی‘ کا زیادہ شفاف (crystallized) سیاسی اظہار ہے، اس لیے انقلاب اس کے لیے کہیں زیادہ لبھاؤ رکھتا ہے۔ اگر اشتراکیت نے انقلاب کو اپنی سیاسی اور معاشی پیش قدمی کے لیے استعمال کیا ہے تو اس کا فائدہ آخر کار اور حتمی طور پر سرمایہ داری نظام ہی کو پہنچا ہے۔ سرمایہ داری نظام، منہدم اشتراکی انقلابوں کا ملبہ سمیٹنے میں بہت طاق اور ہوشیار واقع ہوا ہے۔

۳- اشتراکیت اپنے ’سائنسی‘ تجزیے اور ’تاریخی‘ دعوے کے قطعی برعکس جن جن معاشروں میں اقتدار پر متمکن ہوئی، وہ بنیادی طور پر زرعی، روایتی اور مذہبی معاشرے تھے۔ یہ ’آسیب‘ ڈراوے تو صنعتی یورپ کو دیتا رہا، لیکن چمٹا بے خبر بے چارے ہل چلانے والوں کو جا کے۔ انسانی معاشروں کی تبدیلی اور ان کی تشکیلِ نو میں اشتراکیت کا ایجنڈا زیادہ انقلابی تھا۔ اشتراکیت نے جدیدیت کے اساسی ایجنڈے کے مطابق، جس میں یہ سرمایہ داری نظام کے عین مشابہ ہے، ان معاشروں کو ایک ثقافتی اور سماجی، بلکہ درست تر معنوں میں ایک تہذیبی ریگزار بنا کر اور ایک سسکتے، کراہتے صنعتی نظام میں جکڑ باندھ کر، سرمایہ دارانہ نظام کے لیے تیار کیا اور پھر اس کے سپرد کر دیا۔ اشتراکیت نے سرمایہ داری نظام کے ہراول دستے کا کام کرتے ہوئے زرعی یا نیم زرعی معاشروں کی روایتی ساخت کو مکمل طور پر توڑ دیا، اور شناختوں پر کالک پھیر دی۔ روایتی کلچر کو مکمل طور پر فنا کر دیا اور سرمایہ دارانہ نظام کے لیے زیادہ کھلا اور زیادہ صاف راستہ ہموار کیا۔

سرمایہ دارانہ نظام کے بے پایاں جبر اور استحصال کے سامنے روایتی معاشروں کی ساخت جو مزاحمت کھڑی کرتی ہے، اشتراکیت نے اسے یک قلم صاف کر دیا اور سرمایہ داری نظام کی آمد کا اسٹیج تیار کیا۔ چین، روس اور کسی حد تک بھارت میں سرمایہ داری نظام کی فتح اگر غور کیا جائے تو اپنے گہرے پن اور وسعت میں انقلابِ فرانس کو پیچھے چھوڑ چکی ہے، کیونکہ اب تک تو انقلابِ فرانس ہی سرمایہ داری نظام اور ’رومانویت آدرش پرستی‘ کی سب سے بڑی فتح خیال کیا جاتا رہا ہے۔

سرمایہ داری نظام اور مزاحمت

سرمایہ داری نظام کو اپنی تاریخ میں دو بڑی اور طویل مزاحمتوں کا سامنا ہوا: ایک وجودی اور سماجی تھی اور دوسری فکری اور سیاسی۔ پہلے زمرے میں دنیا کے تمام مذاہب آتے ہیں، اور دوسرے زمرے میں اشتراکیت ہے۔ ایک طرح سے مذہب کی مزاحمت ’خارجی‘ اور اشتراکی مزاحمت ’داخلی‘ تھی۔ بدقسمتی سے دونوں کو سرمایہ داری کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب چونکہ دونوں کا دنیا کا دیکھنے کا انداز غالب طور پر نظریاتی ہے، یعنی وہ حالات کو تبدیل کرنے کے لیے دیکھتے ہیں، سبق حاصل کرنے کے لیے نہیں، اس لیے دونوں ایک ’رومانوی انکار‘ (self‪-denial ) کی سی حالت میں ہیں، اور اپنے اوپر آنے والے تاریخی فیصلے کو تسلیم کرنے اور اس کے مضمرات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اب عالمی منظرنامے کو دیکھیں تو مذہب تقریباً صرف انفرادی اور سماجی سطح پر زندہ ہیں، اور اشتراکیت صرف سماجی اور سیاسی فکر کی سطح پر۔ اجتماعی سطح پر اقتدار، سرمایے اور میڈیا پر مذہب اور اشتراکیت کا اظہار تو کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے مگر اختیار ختم ہو چکا ہے۔

تاہم، سرمایہ داری نظام کے سامنے اشتراکیت اور مذہب دونوں کی شکست میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اشتراکیت ایک سیاسی نظریے اور آدرش کے ساتھ ساتھ جدید دُنیا کی حرکیات کو مکمل طور پر بیان کرنے والا علم بھی رکھتی ہے۔ مذاہب صرف سیاسی آدرش رکھتے ہیں، اور جدید دنیا کو سمجھنے والے مقدمات کا جواب دینے میں حیرانگی کا شکار ہیں۔ یعنی مذہبی علوم موجودہ تاریخی صورت حال سے کوئی متوازیت نہیں رکھتے۔ اسی فرق کا نتیجہ ہے اشتراکیت اپنی سیاسی شکست میں سرمایہ داری نظام کا آلۂ کار نہیں بنی، جب کہ مذاہب کے بیش تر رہنما جدیدیت اور سرمایہ داری کے سامنے اپنی تہذیبی شکست کے بعد دامے، درمے، سخنے سرمایہ داری نظام کے بڑے آلۂ کار بننے سے نہ بچ سکے۔

 عیسائیت اور یہودیت کی تقدیر تو ہمارے سامنے ہے، اب یہی امر اسلام کے ساتھ بھی دہرایا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ مذاہب اپنی روحانی صداقتوں، اخلاقی مسلّمات اور تہذیبی اقدار کو ایسے علم کی صورت دینے میں ناکام رہے ہیں، جس کے پیچھے چلتے چلتے جدید آدمی ان بیان کردہ حقائق تک رسائی پا سکے، اگر وہ ان کی تفہیم کی کوئی طلب اپنے اندر پاتا ہو۔ مذہبی حقائق کو صرف لامتناہی طورپر دُہراتے چلے جانے سے اب کام بننے کا نہیں۔ روایتی معاشروں میں انسان ان حقائق کے براہ راست روحانی اور اخلاقی انجذاب کی صلاحیت رکھتا تھا، لیکن سرمایہ داری نظام کی میکانکی معاشرت اور مالی سیاست میں رہتے رہتے جدید انسان میں ایسی ذہنی اور نفسی تبدیلیاں دَر آئی ہیں کہ وہ الوہی حقائق کی فطری قبولیت کی صلاحیت باقی نہیں رکھ سکا۔

اشتراکیت، تاریخی اور فکری تناظر میں

اہل نظر واقف ہیں کہ کارل مارکس نے جس Primitive Accumulation کا ذکر کیا ہے، وہ سرمایہ داری کے ایام طفولیت تھے، اور اس عہد میں جدید ریاست نے سرمایہ داری کی دستگیری کے لیے زبردست کمک اور رسد کا بندوبست کیا تھا۔ تفصیلی بحث کو مؤخر کرتے ہوئے جدید ریاست کے بارے میں ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ سرمایہ داری نظام کے سانچے پر بنائی گئی ہے۔ جدید ریاست نے سرمایے کے ارتکاز کے قانونی راستے بنائے اور علم سے ان کی یاوری کی، اور معاشی ارتکاز کے بے پایاں جبر کو مستقل سیاسی جواز فراہم کیا۔ یہ جدید ریاست کا فوری مقصد تھا۔

ابتدائی دور میں جدید ریاست کی فراواں قانون سازی کا دوسرا اور دور رس مقصد یورپی معاشروں میں مذہبی معاشرت کو تحلیل کر کے فرد اور کنبے کی پرولتار سازی تھی۔ اس کا مقصد انسانی اجتماع کو، معاشرتی اساس کے بجائے سیاسی اساس بنانا تھا، یعنی انسانی رشتے کی سماجی جہتوں کو ختم کر کے انھیں مکمل طور پر قانونی اور معاشی بنانا تھا۔ معاشرت میں گُندھا ہوا انسان سرمایہ داری نظام میں کام کے قابل نہیں ہوتا، اور روایتی مذہبی معاشرت کی دُنیا اور پرولتار سازی سے افراد کو ’لیبرمارکیٹ‘ میں لانا ممکن ہو جاتا ہے۔ جدید ریاست کے پاس سرمائے کے ارتکاز کو قانونی کمک فراہم کرنے کا واحد راستہ جبر تھا۔ اس ابھرتے ہوئے نظام کے سامنے سیاسی مزاحمت بھی ہوئی جسے ریاست نے آن کی آن میں بے دردی سے کچل کر رکھ دیا۔ لیکن سب سے بڑی مزاحمت وہ طرزِ حیات تھا، وہ معاشرت تھی، زندگی کا وہ انداز تھا جو مذہب نے تشکیل دیا تھا اور فرد اس معاشرت میں ’ گندھا‘ ہوا تھا۔ یہیں پر جدید ریاست کا نظامِ کار سب سے زیادہ معاون ثابت ہوا۔

سرمایہ داری نظام نے علم کی قلمرو سے باہر مذہب پر براہِ راست سیاسی حملے اور اسے بالجبر ختم کرنے سے گریز کیا ہے۔ مذہبی معاشرت کو تحلیل کرنے، انسانوں کی نفسی اور بدنی زندگی پر اپنی حکومت قائم کرنے اور سرمایہ داری نظام کو ’لنڈورا‘ فرد (پرولتار) مہیا کرنے کے لیے جدید ریاست نے قانون سازی کو استعمال کیا۔ اس قانون سازی کا مقصد اس طرزِ معاشرت کو فنا کرنا تھا، جو پرولتار سازی میں مزاحم تھا، اور جو معاشرت ابھرتے ہوئے سرمایہ داری نظام کے تحت پروان چڑھ رہی تھی۔ جدیدیت نے مذہب کی اساس کو نئے علم سے، اور مذہب کے تابع معاشرت کو جدید ریاست نے پارلیمانی اور عدالتی اور بین الاقوامی قانون سازی سے نابود کیا۔ نئے نظام کو جو نیا انسان چاہیے تھا، وہ فراہم کرنا چونکہ ریاست کی ذمہ داری تھی، لہٰذا اس نے تعلیم اور قانون سازی کے ذریعے یہ کام سرانجام دیا۔ جدید ریاست نے اس پیش رفت میں غیرمعمولی احتیاط اور فراست و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ معاشرے میں مذہب اور مذہب سے پیدا ہونے والی معاشرت کو جبری طور پر تبدیل کرنےکے لیے براہ راست ریاستی طاقت کو استعمال کرنے سے بڑی حد تک گریز کیا۔ سوائے ان مواقع کے، جب مجبور و مقہور عوام نے ننگے اور وحشی استحصال کے خلاف راست اقدام کی کوشش کی۔

یہاں اس امر کو سامنے رکھنا اشد ضروری ہے کہ جدید ریاست میں طاقت کا ارتکاز اور مسلسل نمو، اور سرمایہ داری نظام میں سرمائے کا ارتکاز اور مسلسل نمو تاریخ میں بالکل متوازی ہیں۔ اس پالیسی میں جدیدیت کی غیرمعمولی فراست کو دخل ہے کہ اس نے ان دونوں اداروں، یعنی ریاست اور سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کو ایک تہذیبی شبہے یا دھوکے کی خاطر الگ الگ رکھا۔ دوسری طرف اشتراکیت نے اپنے انقلابی جوش میں طاقت اور سرمائے کو ایک ہی ادارے میں جمع کرنے کی کوشش کی اور تاریخ کی عدالت میں اس کی پیشی ہوئی۔ علمی طور پر انکار اور عملی طور پر التباس جدیدیت کی دو دھاری تلوار ہے، جس کا استعمال سیکھنے سے پہلے اشتراکیت نے اسے ہتھیانے کی نامراد کوشش کی۔ اگر مذہبی پیرائے میں بات کی جائے تو اشتراکی، مذہب ِجدیدیت کے خوارج ہیں۔

 یہاں اس امر کا اعادہ بھی ضروری ہے کہ سرمایہ داری نظام اور اس کا اساسی تصورِ حیات، یعنی مذہب جدیدیت، روایتی مذہب کی مطلق ضد ہے۔ جدیدیت اور مذہب کی پیکار اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک مذہب اپنے اساسی بیانات پر مداہنت اور معاشرت پر اثراندازی سے دست بردار نہ ہوجائے۔ ان آثار کے پیدا ہوتے ہی جدیدیت، مذہب سے جنگ بندی کا اعلان ہی نہیں کرتی، بلکہ سراپا شیر و شکر ہو جاتی ہے اور اسے فوراً اپنی نوکری میں بھرتی کر لیتی ہے۔

کیا یہ بات ہماری نظروں سے اوجھل ہے کہ جدیدیت کی پہلی جنگ عیسائیت سے ہوئی؟ اور یہ کہ جب اس جنگ میں عیسائیت نے جدیدیت کی تمام شرائط تسلیم کرلیں، تو یہی مذہب مشنری تحریک بن کر استعمار میں بھرتی ہو گیا؟ اور یہ کہ استعمار کے لیے سب سے زیادہ جواز سازی بھی اسی تحریک نے مہیا کی ہے؟ افسوس کہ چنگیز کو یہ سہولت میسر نہ آئی۔ بھرتی سرمایہ داری نظام کا آفاقی طریقہ ہے۔ یہاں ہر نوع کے، ہر رنگ کے، ہر نسل کے، ہر علم کے، ہر ہنر کے، ہر مذہب کے، ہرنظریے کے، ہر زبان کے، ہر کلچر کے آدمی کو نوکری مل جاتی ہے، اگر وہ چند بنیادی شرائط پوری کردے۔ اور وہ شرائط عالم میں مشتہر ہیں، یہاں تک کہ اب مسلمانوں کو بھی اس کا پتہ چل گیا ہے اور وہ دین کی نئی نئی تعبیرات کے تمغے سینے پر سجاکر جناب سرسیّد کے پیچھے صف بندی کرتے نظر آرہے ہیں، جیسے ابھی نوکریوں کی دستار بندی ہونے والی ہے۔

اشتراکیت اور کیمیائے انقلاب

جدید تاریخ میں انقلاب کی ’کیمیا گری‘ کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ سرمایہ داری نظام خود میں ایک تاریخی اور سماجی صورت حال ہے، اور اس کی فکری اساس جدیدیت ہے۔ سرمایہ داری نظام ایک صورت حال کے طور پر تیز تر سماجی تبدیلی کا تاریخی اسٹیج سجاتا ہے، جو اپنی جگہ ایک مشینی سسٹم ہے۔ انسانی معاشرہ اس سسٹم میں لپٹا ہوا ہے۔ انسانی معاشرے کو اس سسٹم میں جو چیز ٹھونسے اور جکڑے رکھتی ہے، اس کا نام ریاست ہے۔ معاشرے کو اس نظام کے مطابق بنائے رکھنے کا کام ریاست کی ذمہ داری ہے، اور وہ یہ کام قانون سازی، تعلیم اور ثقافتِ زر سے کرتی ہے، اور یہ سارے کام ’اصلاحات‘ کے نام سے سامنے لاتی ہے۔

سرمایہ داری نظام میں تبدیلی کی رفتار چونکہ فطری سے زیادہ میکانکی ہوتی ہے، اس لیے فرد اپنی نفسی حالت میں اور انسانی معاشرہ اپنی اجتماعی حالت میں اس کا ہم قدم نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہی ہم قدمی پیداواری سرمایے کی اولین ضرورت ہے، اور اس کے بغیر سرمایہ داری نظام زندہ نہیں رہ سکتا۔ انسانی معاشرت بھلے وہ مذہبی بنیادوں پر استوار کی گئی ہو، یا الحاد کی بنیادوں پر قائم کی گئی ہو، تیزتر تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ لہٰذا، اس کے بتدریج خاتمے کے لیے ریاست ’اصلاحات‘ کے نام پر تعلیمی تبدیلیاں اور قانونی طومار سازی کا کام نہایت تیزی سے کرتی ہے۔ جس طرح قیدیوں کے قافلے کے سُست گام افراد کو چلانے کے لیے کوڑے برسائےجاتے ہیں اور اس ’محنت‘ میں اُن بے چاروں کی کھال تک ادھڑ جاتی ہے، اسی طرح ’اصلاحات‘ کے سرمایہ دارانہ کوڑے ریاستی قانون بنا کر عام، بے بس اور نادار لوگوں کی پشت پر اس کثرت اور تسلسل سے برسائے جاتے ہیں کہ معاشرت کی چادر تار تار ہو جاتی ہے۔

’اصلاحات‘ کے باوجود اگر معاشرے میں تبدیلی کی رفتار سرمایہ دارانہ نظام کے تقاضوں اور ضرورت کے مطابق نہ ہو، تو تبدیلی کے لیے تاریخی دباؤ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس تاریخی دباؤ کا معاشرے کی سیاسی اور معاشی کایاکلپ میں ظاہر ہو جانا انقلاب ہے۔ ایسا انقلاب، انسانی معاشرے کو سرمائے کی ترجیحات کے مطابق رکھنے کے لیے ایک راست اقدام ہے، جس کی بڑی مثال فرانسیسی انقلاب ہے۔ اس تناظر میں ہمارے خیال میں انقلابِ فرانس، سرمایہ داری نظام کی آج تک کی سب سے بڑی فتح ہے، اور یہ ایسے تاریخی حالات میں برپا ہوا، جب فرانسیسی معاشرے کے سیاسی حالات اور معاشی حقائق میں ایک زبردست عدم توازن پیدا ہو چکا تھا اور روایتی سیاسی اور سماجی اسٹرکچر نئی معاشی قوتوں کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ معاشی اور سیاسی حالات میں تضاد اور عدم توازن انقلاب جیسی بڑی تبدیلی کو ناگزیر بنا دیتے ہیں۔ اشتراکیت نے انقلاب کو اپنی سیاسی پالیسی کے طور پر اپنایا، اور متحدہ پرولتار کے جنگ جویانہ (violent) سیاسی عمل سے سرمائے اور سیاسی طاقت کے وسائل پر قبضے کے راستے تلاش کیے۔

کارل مارکس نے تاریخ کی حرکت کو ’مادی جدلیات‘ کے قانون میں دریافت کیا۔ معاشرے کی معاشی طبقہ بندی اور معاشی وسائل کے لیے کشاکش تاریخ کا اصولِ حرکت ہے۔ کسی بھی معاشرے میں دو طبقات معاشی وسائل کے حصول اور ان پر قبضے کے لیے باہم پیکار میں ہیں، اور تاریخ مسلسل حالتِ جنگ کا نام ہے۔ تاریخ کی اصل حقیقت یہی جدلیات ہے، اور رسمیات، تصورات، نظریات، اخلاقیات، اقدار بھی اسی جنگ کا ایندھن ہیں۔ ہر مرحلۂ جنگ اپنے اختتام پر نئے تصورات، نئی رسمیات، نئی اخلاقیات، نئے نظریات ازخود پیدا کرتا ہے، جو دراصل ایک نئے مرحلۂ جنگ کا ایندھن بن جاتے ہیں، اور ترقی بھی اسی سفر کا نام ہے۔

کارل مارکس، سرمایہ داریت پر مبنی معاشرے کے ایک خاص لمحے میں تاریخ کی واقعیت اور حرکت کے تجزیاتی عمل کو ایک مخصوص زاویے سے دیکھتا ہے۔ وہ اس میں کسی آرزو، کسی آدرش، کسی تمنا، کسی قدر، کسی وہم، کسی مروت، کسی رعایت، کسی اعزاز، کسی رسم، کسی روایت، کسی تعلق، کسی خوف، کسی مفاد، کسی نظریے، کسی مابعدالطبیعیات، کسی عینیت، کسی وجدانیت، کسی موضوعیت، کسی رومانویت، کسی مذہبیت، کسی علاقائیت، کسی نسلیت، کسی لسانیت، کسی نسبیت کو ذرا بھر گنجائش دینے کے لیے بھی قطعی تیار نہیں۔ اس لیے کہ وہ تاریخی صو رتِ حال (situation) کو ممکنہ انسانی حد تک، اسی کے فراہم کردہ حقائق ( facts)کے مطابق سمجھنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے وہ اپنے ہم عصر معاشرے کے تمام علمی، فکری اور تجزیاتی لٹریچر تک رسائی کو لازم قرار دیتا ہے۔

کارل مارکس، انسانی شعور میں کسی ترجیح اور انسانی معاشرے میں کسی ماضی کی روایت کو سرے سے تسلیم نہیں کرتا۔ اُس کا خیال ہے کہ اسی معروضی اور ’سائنسی‘ تجزیے سے نئی سیاسی اقدار اور نیا نظریہ پیدا ہوگا، جو ایک نئے اور مکمل سیاسی عمل کی درست بنیاد فراہم کرے گا۔ وہ اپنے غیرمعمولی عقلی اور بے رحمانہ (ruthless ) فکری تجزیے کے حاصلات کو درست تو خیال کرتا ہی ہے، لیکن اس میں انسانی آرزؤں کا کوئی سامان نہیں پاتا۔ اپنے تجزیے کو لبھاؤ دینے کے لیے ایک نہایت غیر عقلی، تصوراتی اور رومانوی بات کرتا ہے۔

کارل مارکس کے بقول ’مادی جدلیات‘ کا عمل ایک دن ازخود ختم ہو جائے گا، اور تاریخ کا عمل، امتزاج (synthesis ) کی صورت میں اپنی منزلِ مراد پر پہنچ جائے گا۔ گویا کہ انسانی عقل جب تجزیے کی منزل پر پہنچ جاتی ہے تو انسانی آرزؤں کے آگے سپر انداز ہو جاتی ہے۔ ’مادی جدلیات‘ کے قرار پکڑنے، اور ریاست کے ازخود ختم ہو جانے کی آرزو وہ حتمی امتزاج ہے، جو ارضی جنت کی صورت میں ظاہر ہو گی اور اشتراکیت انقلاب کے ذریعے اسی کی طرف لپکتی ہے۔

سرمایہ دارانہ فکر نے بھی ’تاریخ کی انتہا‘ ( End of History )سے اسی ’جنت ارضی‘ کے قیام کی خبر دی ہے، اور اس کا اختتامِ تاریخ بھی یہی ’امتزاج‘ ہے۔ ایسی جنت ارضی، یورپ کے بگڑے اور باغی انسان کی وجودی منزل ہے، خیر سے وہ اشتراکی ہو یا بھلے سرمایہ دار۔

اشتراکیت کے ’آسیب‘ اور سرمایہ داری کے ’عفریت‘ کی تشکیل کردہ جدید دنیا میں ہمیں اپنے ورلڈ ویو کی تہذیبی معنویت کو ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اوّل سوال یہ ہے کہ ’’کیا ہمیں اس ذمہ داری کا ادراک ہے؟‘‘ دوسرا سوال یہ ہے کہ ’’کیا ہم اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؟‘‘

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے خاص مقصد کے تحت نبیوںؑ کو مبعوث فرماتا ہے۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے اپنے نبیوںؑ کو بشیر و نذیر بنایا ہے۔ انھیں معلّم و مزکی کی حیثیت دی ہے۔ عدل و قسط قائم کرنا بھی ان کے مقصد ِ بعثت میں شامل ہے۔ ہدایت ِ الٰہی کے تحت پاک چیزوں کو حلال کرنا اور ناپاک چیزوں کو حرام کرنا بھی ان کا منصب ہے۔ غرض کہ نبی اپنی پوری زندگی انھی مرضیاتِ الٰہی کا پابند ہوتا ہے جن کی تفصیل قرآن میں بیان کردی گئی ہے۔

  • بعثتِ انبیاؑ کی غرض و غایت:انبیاؑ کی بعثت کا یہ مقصد قرآن میں کہیں متفرق طور سے بیان ہوا ہے اور کہیں جامع طور سے۔ یہاں سورئہ شوریٰ کی آیت پیش کی جارہی ہے جو دین کے جملہ گوشوں کو شامل ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ دین اور اس کی وسعت کیا ہے؟ نیز یہ کہ تمام انبیاؑ اس پورے دین کو قائم کرنے پر مامور تھے۔ اس تشریح سے ان شاء اللہ اس مغالطہ کا ازالہ ہوجائے گا جو دین کی تعریف اور اس کی تشریح کے بارے میں بعض ذہنوں میں پایا جاتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ جب مسلمانوں کے تعلق سے لفظ ’دین‘ کا اصطلاحی لفظ استعمال فرماتا ہے تو اس سے مراد کیا ہوتی ہے؟ارشادباری تعالیٰ ہے:

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْہِ۝۰ۭ (شوریٰ۴۲: ۱۳) اس نے تمھارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوحؑ کو دیا تھا، اور جسے (اے محمدؐ) اب تمھاری طرف ہم نے وحی کے ذریعے سے بھیجا ہے، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم ؑ اور موسٰی اور عیسٰیؑ کو دے چکے ہیں، اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجائو۔

اس آیت میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ دین کو قائم کرنا تمام انبیاؑ اور رسولوںؑ کی ذمہ داری رہی ہے۔ دوسری یہ کہ دین ہرزمانے میں ایک رہا ہے، اور تیسری بات یہ کہ اگر دین نہ قائم کیا گیا تو لوگ متفرق اور منتشر ہوجائیں گے۔

اس آیت میں ان جلیل القدر انبیاؑ کا نام لیا گیا ہے جن کو رسالت اور شریعت تفویض کی گئی تھی۔ابوالبشر حضرت آدمؑ کے بعد حضرت نوحؑ پہلے صاحب ِ شریعت نبی ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ ابوالانبیاؑ اور صاحب ِ کتاب نبی ہیں۔ بنواسماعیل اور بنواسرائیل دونوں کا سلسلۂ نسب آپ ہی تک پہنچتا ہے۔ آپ کی نسل سے بے شمار پیغمبر ہوئے جن کی ذات کو اللہ نے نُورِ ہدایت بنایا۔ حضرت موسٰی و عیسٰی ؑ بنی اسرائیل کے جلیل القدر انبیاؑ اور صاحبانِ کتاب و شریعت ہیں۔ حضرت عیسٰی ؑ نے واضح طور پر  یہ بات فرمائی ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب کو منسوخ کرنے آیا ہوں، منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔ کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین نہ ٹل جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہوجائے۔ پس جو کوئی ان چھوٹے چھوٹے حکموں میں سے کسی کو توڑے گا اور یہی آدمیوں کو سکھائے گا، وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا۔ لیکن جو ان پر عمل کرے گا اور ان کی تعلیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا‘‘ (متی۵: ۱۷ تا ۱۹)۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحب ِ کتاب و شریعت ہونا تو ہمارے ایمان کی اساس ہے۔

اللہ نے انسان کو خلیفہ بنایا ہے اور خلیفہ کی ذمہ داری یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے۔یہ تحکیم بالحق بھی دراصل اقامت ِ دین کا جزو ہے۔ اس طرح ثابت ہوا کہ حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے بھی انبیاؑ آئے وہ تمام کے تمام اللہ کی طرف سے اقامت ِ دین کے منصب پر مامور رہے ہیں۔

چونکہ دین اللہ کے نزدیک ایک ہی رہا ہے، اس لیے تمام انبیاؑ کے پیش نظر ایک ہی دین کا قیام مقصود تھا۔ لیکن جیساکہ ہم ابھی دیکھیں گے کہ دین میں شریعت بھی شامل ہے اور شریعتیں ہررسولؑ کی لازماً ایک نہیں تھیں۔ اس لیے عقائدو ایمانیات اور عبادات کے بعد جہاں شریعت کے نفاذ کا سوال پیدا ہوتا ہے، ہر نبیؑ اپنے زمانے کی شریعت پر عمل اور اس کو نافذ کرنے کا مکلف رہا ہے۔

مذکورہ آیت (شوریٰ۴۲:۱۳) کا تیسرا نکتہ یہ تنبیہ ہے کہ آپس میں متفرق نہ ہوجائو۔   اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اگر دین قائم نہ کیا گیا تو لازماً لوگوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا۔فرمایا:

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَـقِّ۝۰ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِي الْكِتٰبِ لَفِيْ شِقَاقٍؚ بَعِيْدٍ۝۱۷۶ۧ (البقرہ ۲:۱۷۶) یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ نے تو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی، مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلافات نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دُور نکل گئے۔

وَاَطِيْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْہَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۝۴۶ۚ (الانفال ۸:۴۶) اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمھارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی، اور تمھاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو، یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

  • اسلام ہی دین ہـے:اللہ تعالیٰ نے اسلام کو دین قرار دیا ہے: اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ۝۰ۣ (اٰل عمرٰن ۳:۱۹)، اور یہی دین اللہ کے یہاں مقبول ہے کسی اور دین کی اللہ کے یہاں پذیرائی نہیں: وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْہُ۝۰ۚ وَھُوَفِي الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۝۸۵ (اٰل عمرٰن ۳:۸۵)، اور اسی اسلام میں پورے کا پورا داخل ہونے کا اہل ایمان سے مطالبہ کیا گیا ہے: يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّۃً ۝۰۠ (البقرہ ۲:۲۰۸)۔ اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ دین کیا چیزہے؟
  • دین کا قرآنی مفہوم:دوسری بہت سی اصطلاحات کی طرح دین بھی ایک مخصوص قرآنی اصطلاح ہے۔ دراصل عربی زبان میں یہ لفظ بحیثیت مصدر کے استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ہیں: حساب، ملکیت، قدرتِ حکم، مذہب، ملّت، حالت، عادت، سیرت، تدبیر، نافرمانی، گناہ، مجبوری، پرہیزگاری، فرماںبرداری، بدلہ، قہروغلبہ اور ذلّت وغیرہ۔ قرآن میں یہ لفظ مذکورہ معانی میں سے چند ایک معنوں میں ہی استعمال ہوا ہے لیکن جہاں دین بحیثیت ایک عملی مطالبہ کے  قرآن میں مذکور ہے وہاں اس کا مفہوم ان تمام مفہومات کا جامع ہوا کرتا ہے جو خوشنودی اور رضائے الٰہی کا سبب ہوا کرتے ہیں اور مراد اس سے اسلام ہے۔ ورنہ تقصیرِ دین لازم آئے گی اور ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّۃً ۝۰۠  کا حق ادا نہ ہوگا۔

لفظ ’دین‘ کا استعمال قرآن کریم میںاس کی مختلف حالتوں میں تقریباً اسّی بار ہوا ہے۔ ان تمام استعمالات میں انسان کے تمام انفرادی اور اجتماعی گوشوں کا احاطہ کرلیا گیا ہے۔ دین کا مفہوم متعین کرنے کے لیے ہم یہاں قرآن میں اس لفظ ’دین‘ کے استعمالات کو ایک ترتیب کے ساتھ بیان کررہے ہیں:

عقائد دین ہیں:قرآن میں دین کو عقیدہ کے معنی میں بھی استعمال کیا گیا ہے اور عقائد کے اجزاء کے طور پر بھی۔ ارشاد ہے:

لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ۝۰ۣۙ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ۝۰ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰى۝۰ۤ لَاانْفِصَامَ لَہَا۝۰ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝۲۵۶  (البقرہ ۲:۲۵۶) دین کے معاملہ میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ اب جو کوئی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ (جس کا سہارا اس نے لیا ہے)سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔

اس آیت میں اللہ پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ طاغوت سے کفر کا بھی مطالبہ ہے اور ساتھ ہی اس مضبوط سہارا کا واسطہ ہے جو اللہ پر عقیدہ رکھنے کی وجہ سے بندئہ مومن کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ اس سے پہلے والی آیت، آیت الکرسی ہے جس میں اللہ کی صفات بیان کی گئی ہیں جس سے یہ مفہوم برآمد ہوا کہ اللہ کو ان تمام صفات سے متصف ماننا ضروری ہے جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اللہ کی صفات کا قرآن میں جہاں جہاں تذکرہ آیا ہے، ان سب پر ایمان لانا دین کے مفہوم میں شامل سمجھا جائے گا۔ چونکہ ایسی آیات قرآن میں متفرق طور سے بہت جگہ پائی جاتی ہیں اس لیے ان کا احاطہ کرنا نہ یہاں ممکن ہے نہ مقصود۔ اس کی ابتدا سورئہ فاتحہ کی ابتدائی آیتوں سے ہوتی ہے اور انتہا سورئہ اخلاص پر ہوتی ہے:

قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَۃَ عَنْ يَّدٍ وَّہُمْ صٰغِرُوْنَ۝۲۹ۧ (التوبہ ۹:۲۹) جنگ کرو اہل کتاب میں سے اُن لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روزِ آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اُس کے رسولؐ نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ (اُن سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیںاور چھوٹے بن کر رہیں۔

اس آیت میں لفظ ’دین‘کی تشریح موجود ہے، یعنی ایمان باللہ، ایمان بالآخرت اور اللہ اور رسولؐ کا اختیار تشریع حِلّت و حُرمت کے تعلق سے۔ اسی وجہ سے یہاں لفظ دین ایک وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے جس میں عقائد اور اعمال دونوں کے اجزا شامل ہیں۔

مٰلِکِ یَوْمِ الدِّيْنِ۝۳ۭ   روزِ جزا کا مالک۔

روزِ جزا یعنی آخرت کے لیے لفظ دین کا استعمال قرآن میں بہت سی جگہ پر ہوا ہے، مثلاً :

وَالَّذِيْٓ اَطْمَــعُ اَنْ يَّغْفِرَ لِيْ خَطِيْۗــــــَٔــتِيْ يَوْمَ الدِّيْنِ۝۸۲ۭ (الشعراء ۲۶:۸۲) اور جس سے میں اُمید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا۔

وَّ اِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَۃَ اِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ۝۳۵ (الحجر۱۵:۳۵) اور اب روزِ جزاتک تجھ پر لعنت ہے۔

وَقَالُوْا يٰوَيْلَنَا ھٰذَا يَوْمُ الدِّيْنِ۝۲۰ (الصّٰفّٰت۳۷:۲۰) اس وقت یہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یومُ الجزا ہے۔

وَّاِنَّ  عَلَيْكَ   لَعْنَتِيْٓ    اِلٰى  يَوْمِ الدِّيْنِ۝۷۸ (ص۳۸:۷۸) اور تیرے اُوپر یوم الجزا تک میری لعنت ہے۔

قیامت یا آخرت عقائد اسلامی کے ارکانِ ثلاثہ میں سے ایک ہے:

مِنَ الَّذِيْنَ ھَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ وَيَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَّرَاعِنَا لَيًّۢا بِاَلْسِنَتِہِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّيْنِ۝۰ۭ وَلَوْ اَنَّھُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ وَاَقْوَمَ۝۰ۙ وَلٰكِنْ لَّعَنَھُمُ اللہُ بِكُفْرِہِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا۝۴۶ (النساء۴:۴۶) جن لوگوں نے یہودیت کا طریقہ اختیار کیا ہے ان میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو ان کے محل سے پھیر دیتے ہیں، اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لیے اپنی زبانوں کو توڑ مروڑ کر کہتے ہیں: سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا اور اِسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ اور رَاعِنَا۔  حالانکہ اگر وہ کہتے: سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ،اوراِسْمَعْ اور اُنْظُرْنَا تو یہ انھی کے لیے بہتر تھا اور زیادہ راست بازی کا طریقہ تھا۔ مگر اُن پر تو اُن کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے، اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔

اس آیت میں دین کا لفظ واضح طور پر ایمان بالرسالت کے لیے استعمال ہوا ہے کیونکہ یہود اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کا ایمان نہیں تھا اور اسی وجہ سے وہ آپؐ کی شان میں گستاخی کیا کرتے تھے۔ اسی کفر (انکار) کی بنا پر اللہ نے ان کے اُوپر لعنت فرمائی ہے۔

جب بنیادی طور سے عقائد کا دین ہونا ثابت ہوگیا تو اس کی جملہ تفصیلات پر جو قرآن میں دوسری جگہوں پر وارد ہوئی ہیں یا احادیث میں آئی ہیں، ایمان لانا دین کا لازمی تقاضا ہوگا، مثلاً:

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ۝۰ۭ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللہِ وَمَلٰۗىِٕكَـتِہٖ وَكُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ   ۝۰     ۣ   لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ     ۝۰ۣ (البقرہ ۲:۲۸۵) رسولؐ اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے ربّ کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے۔ اور جو لوگ اِس رسولؐ کے ماننے والے ہیں، انھوں نے بھی اِس ہدایت کو دل سے تسلیم کرلیا ہے۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوںؑ کو مانتے ہیں، (اور کہتے ہیں کہ) ہم اللہ کے رسولوںؑ کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے۔

اس آیت میں اللہ و رسولؐ اور آخرت کے علاوہ فرشتوں اور تمام کتب سماوی پر ایمان لانا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے، اس لیے یہ تمام ایمانیات داخلِ دین ہیں۔

ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۝۲ۙ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِـمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ۝۳ۙ (البقرہ ۲:۳) یہ کتابِ ہدایت ہے ان پرہیزگاروں کے لیے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نمازقائم کرتے ہیں، اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

مندرجہ بالا آیت میں ایمان بالغیب کا ذکر ہے حالانکہ قیامت، آخرت، جنّت، دوزخ وغیرہ سب غیب ہی پر ایمان کے اجزا ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے غیب پر ایمان لانے کا ذکر الگ سے اس لیے فرمایا ہے کہ انسان کے لیے زندگی کے اور بہت سے حقائق غیب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقدیر پر ایمان لانا ضروری قرار دیا ہے:

لَا یُؤْمِنُ  عُبْدٌ  حَتّٰی  یُؤْمِنَ بالقدر خیرہٖ وشرہٖ  (الترمذی، باب ماجاءفی الایمان  بالقدر خیرھوشرہ، حدیث: ۲۲۹۴) (کوئی بندہ مومن نہیں ہوسکتا جب تک خیروشر کی تقدیر پر ایمان نہ لائے)___ اس لیے تقدیر پر ایمان لانا بھی دین کا جز ہے بغیر اس کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔

  • عبادات، دین ہیں:عبادت کی جو تشریح گزر چکی ہے اس کی رُو سے اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت دونوں ہی عبادت میں شامل ہیں۔ یہاں عبادت سے مراد حقوق اللہ یا تعبدی احکام ہیں جن میں اللہ اپنے ساتھ کسی کی بھی شرکت گوارا نہیں کرتا۔ ارشاد ہوتا ہے:

قُلْ اِنَّنِيْ ہَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۝۰ۥۚ  دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰہِيْمَ حَنِيْفًا۝۰ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْـرِكِيْنَ۝۱۶۱ قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۶۲ۙ لَا شَرِيْكَ لَہٗ ۝۰ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِـمِيْنَ۝۱۶۳ (انعام ۶: ۱۶۱-۱۶۳)    اے نبیؐ، کہو، میرے ربّ نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیمؑ کا طریقہ جسے یکسو ہوکر اس نے اختیارکیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ کہو، میری نماز، میری قربانی (تمام مراسمِ عبودیت) میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سراطاعت جھکانے والا مَیں ہوں۔

ان دو آیات میں اللہ ربّ العالمین نے دین کی جو منظرکشی کی ہے اس میں حضرت ابراہیمؑ کا پورا اسوہ باحسن طریق آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ جتنی بھی عبادتیں ہیں خواہ بدنی ہوں یا مالی سب دین کے اس دائرے میں شامل ہیں۔ بدنی عبادات میں نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج سبھی شامل ہیں۔ مزیدبرآں حنیفیت سے مراد اخلاص فی العبادت ہے اور یہ کہ انسان کو اللہ کے واسطے سب کچھ چھوڑ دینا ہے اور یہی اللہ کا سیدھا راستہ ہے:

وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِــيَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ۝۰ۥۙ حُنَفَاۗءَ وَيُقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوا الزَّكٰوۃَ وَذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَۃِ۝۵ۭ (البینہ۹۸:۵) اور اُن کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں، اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کرکے، بالکل یکسو ہوکر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ یہی نہایت صحیح و درست دین ہے۔

اس آیت میں لفظ دین کا استعمال دو بار ہوا ہے۔ ایک بار اخلاصِ عمل کے واسطے اور دوسری بار عبادت کے واسطے۔

معلوم ہوا کہ اللہ کی جملہ عبادات دین میں شامل ہیں لیکن ان عبادات میں شرک کا شائبہ بھی نہ ہونا چاہیے بلکہ پورے اخلاصِ عمل کے ساتھ ان کی ادائیگی ہونی چاہیے اور یہ اخلاصِ عمل اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتا جب تک اللہ کا اس کی جملہ صفات کے ساتھ استحضار نہ ہو اور اس کے رسولؐ پر تمام مناصب کے ساتھ ایمان نہ ہو کیونکہ یہ تمام کام جب تک رسولؐ کا نمونہ موجود نہ ہو انجام ہی نہیں دیئے جاسکتے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نمونہ بنایا گیا:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللہَ كَثِيْرًا۝۲۱ۭ (احزاب ۳۳:۲۱) درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخر کا اُمیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔

تمام انسان اپنے ایمان اور عمل میں یکساں نہیں ہوتے اور ذکر ِ الٰہی اور تلاوتِ کلام پاک پر عبادات کے اہتمام سے اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے جیساکہ ارشاد ہے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْہِمْ اٰيٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّہِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۝۲ۚۖ الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَ۝۳ۭ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا۝۰ۭ لَہُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَمَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۝۴ۚ (انفال ۸:۲-۴) سچّے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر  لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان  بڑھ جاتا ہے، اور وہ اپنے ربّ پر اعتماد رکھتے ہیں۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ اُن کے لیے ان کے ربّ کے پاس بڑے درجے ہیں، قصوروں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی چیز کو حدیثِ جبریل میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے جو بخاری، مسلم ، ترمذی،  نسائی، ابن ماجہ اورمسنداحمد بن حنبل  میں موجود ہے۔ ہم اس حدیث کو صحیح مسلم (کتاب الایمان، باب معرفۃ الایمان، حدیث:۳۴) کے حوالے سے جو صاحب ِ مشکوٰۃ نے نقل کی، درج کر رہے ہیں:

حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے: ہم ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے درمیان ایک شخص آیا، جس کے کپڑے بے انتہا سفید اور بال انتہائی سیاہ تھے۔ اس کے اُوپر سفر کا کوئی اثر نہیں تھا اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا نہیں تھا یہاں تک کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا۔ اپنے دونوں گھٹنے آپ کے گھٹنوں سے ملا لیے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے زانو پر رکھ لیں اور کہا: اے محمدؐ! مجھے اسلام کے بارے میں بتلایئے۔

آپؐ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھے اور اگر استطاعت نصیب ہو تو بیت اللہ کا حج کرے۔

اس نے کہا کہ آپؐ نے سچ فرمایا۔ ہمیں یہ بات عجیب لگی کہ خود ہی سوال کرتا ہے اور خود ہی تصدیق کرتا ہے۔

 پھر اس نے پوچھا: مجھے ایمان کے بارے میں بتلایئے۔

آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی (نازل کردہ تمام) کتابوں پر اور اس کے (بھیجے ہوئے تمام) رسولوںؑ پر اور آخرت کے دن پر اور یہ کہ تو ایمان لائے خیر اور شر کی تقدیر پر۔

اس نے (پھر) کہا آپؐ نے سچ فرمایا۔پھر پوچھا: مجھے احسان کے بارے میں بتلایئے۔

آپؐ نے فرمایا کہ یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت (اس حضورِ قلب کے ساتھ) کرے کہ (گویا) تُو اسے دیکھ رہا ہے۔ اگر ایسا نہ کرسکے تو (اس طرح گویا) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔

اس نے پوچھا: مجھے قیامت کے بارے میں خبر دیجیے۔

آپؐ نے فرمایا: جس سے سوال کیا گیا ہے وہ اس بارے میں سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔

اس نے کہا: مجھے اس کی نشانیوں کی خبر دیجیے۔

آپ ؐنے فرمایا: (تو دیکھے گا کہ) لونڈی اپنے مالک کو جنے گی اور تو دیکھے گا کہ عریاں بدن ننگے پیروں والے بکریوں کے مفلس چرواہے اپنی عمارتوں کی بلندی پر فخر کریں گے۔

حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد وہ شخص چلا گیا۔ پھر ہم تھوڑی دیر ٹھیرے رہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: اے عمرؓ! کیا تم جانتے ہو کہ سائل کون تھا؟

میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسولؐ زیادہ واقف ہیں۔

آپؐ نے فرمایا کہ یہ جبرئیلؑ تھے، تمھارے پاس تمھارے دین کی تعلیم دینے آئے تھے۔

اس طویل حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت واضح طور پر ایمانیات اور عبادات کو دین قرار دیا ہے۔ نیز یہ بھی کہ یہ تعلیم خود اللہ کی طرف سے ہے اور اس میں جبرئیلؑ واسطہ ہیں۔

عقائد اور عبادات  دین کی بنیاد ہیں

اسی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عقائد اور عبادات کو دین کی بنیاد قرار دیا ہے۔ بخاری، مسلم، ترمذی،نسائی اور امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں یہ روایت درج کی ہے۔ ہم یہ حدیث بھی صاحب ِ مشکوٰۃ کے حوالے سے نقل کر رہے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ۔ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمدؐ اس کے بندے اور رسولؐ ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔(بخاری، کتاب بدء الوحی،باب قول النبیؐ بنی الاسلام، حدیث:۹؛ مسلم، کتاب الایمان، باب قول النبیؐ بنی الاسلام علٰی خمس، حدیث: ۳۴)

  • حقوق العباد بھی دین ہـے:ہم دیکھ چکے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عقائد اور عبادات کو جو اللہ کا حق ہے دین قرار دیا ہے لیکن اللہ نے قرآن کریم میں اپنے حق سے متصلاً بعض حقوق العباد کا ذکر بھی کیا ہے۔ ان میں سرفہرست والدین کا حق ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عبادات کے علاوہ حقوق بھی دین میں شامل ہیں کیونکہ عبادت تو اللہ کے علاوہ کسی کی جائز ہی نہیں ہے کیونکہ حقوق کے معاملے میں اللہ تعالیٰ بندوں کے حقوق کو نظرانداز نہیں کرتا۔ ذیل میں ہم صرف ایک آیت نقل کرتے ہیں جس سے بندوں کے حقوق پر روشنی پڑتی ہے:

وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْـرِكُوْا بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَۨا۝۳۶ۙ (النساء۴:۳۶) اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو، ماں باپ کے ساتھ نیک برتائو کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آئو، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمھارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے۔

اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللہِ يَبْغُوْنَ وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْھًا وَّاِلَيْہِ يُرْجَعُوْنَ۝۸۳ (اٰل عمرٰن ۳:۸۳) اب کیا یہ لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ (دین اللہ) چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چاروناچار اللہ ہی کی تابع فرمان (مسلم) ہیں اور اُسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے؟

غور کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے جتنی چیزیں پیدا فرمائی ہیں، ان کی زندگی کا ایک قانون مقرر کردیا ہے۔ یہ قانون تکوینی بھی اور تشریعی بھی۔ قانون تکوینی کی مثال ہماری نگاہوں کے سامنے پھیلی ہوئی پوری کائنات ہے۔ اللہ نے اشیائے کائنات کا جو نظام مقرر کردیا ہے، اسی نظام پر وہ عمل پیرا ہیں۔ نہ تو سورج، چاند کو پکڑنے کی قدرت رکھتا ہے اور نہ رات ہی کو دن پر سبقت حاصل ہوسکتی ہے۔ ہر ایک کی گردش اپنے ہی مدار میں ہے (یٰس۳۶:۴۰)۔ انسان کے تمام اعضاء و جوارح بھی اسی بنیاد پر عمل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسی قانون تکوینی سے قانونِ تشریعی پر استدلال فرماتا ہے کہ جب آسمان و زمین (اور اس کی تمام مخلوقات) اللہ کے ایک لگے بندھے طریق زندگی میں جکڑی ہوئی ہیں تو تشریعی زندگی کے بارے میں کیسے تم سمجھ لیتے ہو کہ تم آزاد ہو؟ جس طرح تمام موجوداتِ عالم کی تکوینی زندگی ایک دین میں جکڑی ہوئی ہے، تمھاری تشریعی زندگی کو بھی اللہ نے ایک (الہامی) قانون کے تابع کردیا ہے۔

  • حِلّت و حُرمت کا قانون دین ہـے:عقائد اور عبادات کے بعد اللہ تعالیٰ نے جس چیز پر سب سے زیادہ زوردیا ہے وہ اشیا کی حِلّت و حُرمت ہے۔ مشرکین مکہ کے حلّت و حُرمت کے اپنے خودساختہ قوانین تھے۔ ایسے ہی یہودیوں نے اللہ کی نازل کی ہوئی شریعت میں اپنی مرضی اور خواہش سے بہت کچھ کتربیونت کرلی تھی۔ مسیحیت میں دین نے خود کو قانون حِلّت و حُرمت ہی سے آزاد کرلیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو نہ صرف دین میں شامل فرمایا بلکہ کسی بھی چیز کو حرام و حلال کرنے کا حق بھی اپنے لیے مخصوص فرمایا۔ اس بارے میں رسولؐ کو جو آزادی عطا فرمائی گئی وہ دراصل تشریح و تبیین کی تھی۔ بندوں میں سے کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اللہ کی (یا اس کی متابعت میں رسولؐ کی) حلال کی ہوئی کسی چیز کو حرام یا حرام کی ہوئی کسی چیز کو حلال قرار دے۔

سورئہ مائدہ کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے گھاس چرنے والے چوپایوں (بَھیْمَۃُ الْاَنْعَامِ) کو انسانی غذا کے لیے حلال قرار دیا ہے لیکن ان میں سے چند چیزوں کو مستثنیٰ کرتے ہوئے بقیہ کو حرام قرار دے دیا ہے۔ ارشاد ہے:

تم پر حرام کیا گیا مُردار، خون، سور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، وہ جو گلاگھٹ کر، یا چوٹ کھاکر ،یا بلندی سے گر کر، یا ٹکرکھا کر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو___ سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کرلیا___ اور وہ جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو۔ نیز یہ بھی تمھارے لیے ناجائز ہے کہ پانسوں کے ذریعے سے اپنی قسمت معلوم کرو ۔ یہ سب افعال فسق ہیں۔ آج کافروں کو تمھارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہوچکی ہے، لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔(المائدہ۵:۳)

ان لوگوں نے اللہ کے لیے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے لیے ہے، بزعمِ خود، اور یہ ہمارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے۔ پھر جو حصہ ان کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے۔ کیسے بُرے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ! اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوش نما بنادیا ہے، تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنادیں۔ اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے، لہٰذا انھیں چھوڑ دو کہ اپنی افتراپردازیوں میں لگے رہیں۔ کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں، انھیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنھیں ہم کھلانا چاہیں حالانکہ یہ پابندی ان کی خودساختہ ہے۔ پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور باربرداری حرام کردی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے، اور یہ سب کچھ انھوں نے اللہ پر افترا کیا ہے، عنقریب اللہ انھیں  ان افترا پردازیوں کا بدلہ دے گا۔ اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے، یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام، لیکن اگر وہ مُردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہوسکتے ہیں۔ یہ باتیں جو انھوں نے گھڑ لی ہیں ان کا بدلہ اللہ انھیں دے کر رہے گا۔ یقینا وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے۔(الانعام ۶:۱۳۶-۱۳۹)

اسلام نے کافروں کی خودساختہ شریعت کی حلّت و حُرمت کو تسلیم نہیں کیا۔ اسی طرح یہودیوں نے اپنی شریعت میں جو تنگی پیدا کرلی تھی، اسے بھی اس نے سند ِ جواز نہیں عطا کی بلکہ اللہ نے اس بارے میں اپنا قانون واضح طور سے نازل فرمایا اور اسے دین قرار دیا۔ پھر یہ فرمایاکہ آج کافر تمھارے دین سے مایوس ہوگئے ہیں (المائدہ ۵:۳)۔نیز یہ کہ شیطان نے مشرکین کے لیے ان کے دین (قانونِ حلال و حرام) کو مشتبہ کردیا ہے۔ (الانعام ۶:۱۳۷)

اسلام سے قبل دنیا کی مختلف تہذیبوں اور معاشروں کا جائزہ لیں اور عورت کی حیثیت کو پہچاننے کی کوشش کریں تو ہم اس نتیجے پرپہنچتے ہیں کہ عورت بہت مظلوم اور معاشرتی و سماجی عزّت و احترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اور قابلِ نفرت تصور کیا جاتا تھا۔ یونانی، رومی، ایرانی اور زمانۂ جاہلیت کی تہذیبوں اور ثقافتوں میں عورت کو ثانوی حیثیت سے بھی کمتر درجہ دیا جاتا تھا۔  درحقیقت عورت کی عظمت، احترام اور اس کی صحیح حیثیت کا واضح تصور اسلام کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتا۔ اسلام نے عورت کو مختلف نظریات و تصورات کے محدود دائرے سے نکال کر بحیثیت انسان عورت کو مرد کے یکساں درجہ دیا۔

  • دورِ جاہلیت میں عربوں کا نظامِ وراثت :اہل عرب مختلف قبیلوں اور طبقوں میں بٹے ہوئے تھے۔ وراثت میں ان کے ہاں چھوٹے بچوں اور عورتوں کا کوئی حصہ نہ تھا۔ان کے ہاں میراث پانے کے درج ذیل تین اسباب تھے:

۱- قرابت اور نسبی تعلق: لیکن اس کے لیے شرط یہ تھی کہ وارث بالغ اور جنگی صلاحیت کا حامل ہو، اور ترکہ کا سب سے پہلا حقدار بڑا بیٹا تھا، اس کے ہوتے ہوئے کوئی اور وارث نہیں ہوسکتا تھا۔ اس کے بعد پوتا، پھر باپ، دادا اور ان کے بعد بھائی اور چچا وغیرہ کا حق تھا۔

۲- وَلاء : اسی جنگ و جدال کی وجہ سے ایک قبیلہ دوسرے قبیلے سے اور ایک شخص دوسرے شخص سے باہم مدد اور نصرت کا معاہدہ کرتا تھا جسے ’وَلاء‘ کہا جاتا ہے اور قریبی وارث کی موجودگی میں بھی یہ شخص وارث ہوتا تھا۔

۳- تَبَــنِّیْ: سابقہ اقوام اور مذاہب میں لے پالک بیٹے کا رواج تھا اور اب بھی بہت سے فرقوں میں باقی ہے، کہ لوگ دوسروں کے بچے کو گود لیتے ہیں اور وہ حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا ہے اور اس کی جائیداد کا وارث ہوتا ہے۔ عربوں میں بھی یہ طریقہ رائج تھا۔ اسلام نے آکر اسے ختم کیا۔

  • بعثتِ نبویؐ کے نتائج: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے جہاں شرک وکفرکا خاتمہ ہوا اور دیگر تمام باطل رسموں کی اصلاح ہوئی، اسی طرح یتیموں کے مال اور عورتوں کے حقوق ومیراث کے سلسلے میں بھی تفصیلی احکامات نازل ہوئے۔ دُنیائے انسانیت جاہلی تہذیب سے نکل کر اسلام کی پاکیزہ معاشرت میں زندگی گزارنے لگی۔
  • اسبابِ میراث :زمانۂ جا ہلیت میں جن اسباب کی وجہ سے آدمی کو میراث ملتی تھی،ان میں ایک سبب ’نسب‘ تھا تو دوسرا ’معاہدہ‘ (یعنی ایک دوسرے سے خوشی وغم میں تعاون کریں گے، ایک مرے گا تو دوسرا اس کا وارث بنے گا،اس بات کا معاہدہ کیا جاتاتھا)۔تیسرا سبب ’متبنٰی‘ (یعنی منہ بولا بیٹا ) وارث بنتاتھا۔اس کے علاوہ ابتدائے اسلام میں ان اسباب کے ساتھ مواخات وہجرت کی وجہ سے بھی میراث میں حصہ تھا ، جو حقیقت میں معاہدہ ہی کی ایک صورت تھی۔

لیکن اسلام نے تدریجاً ان اسباب کو ختم کردیا اور نسب، نکاح اور ولاء کو وراثت کا سبب قرار دیا۔ یعنی اب ترکہ میں سے صرف اس کو حصہ ملے گا جس کا میت کے ساتھ نکاح ہوگا یا کوئی نسبی تعلق ہوگا۔ چونکہ زمانے کا رواج میراث میں عورتوں کو نظرانداز کرنے اور محروم کرنے کا تھا اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں عورتوں کا ذکر خصوصیت سے کیا۔

عورتوں کا حصہ بیان کرنے میں قرآن کااسلوب

آپ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں غور فرمائیں: لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ۝۰ۚ (النساء۴:۱۱)  ﴾یعنی لڑکے کو دو لڑکیوں جتناحصہ ملے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے: لِلْاُنْثَیَیْنِ مِثْلُ حِــظِّ الذَّکَرِ نہیں فرمایا کہ دولڑکیوں کو ایک لڑکے جتنا حصہ ملے گا۔ علامہ آلوسی ؒنے روح المعانی میں لکھاہے کہ اللہ تعالیٰ نے لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ۝۰ۚ فرمایا ،اس کی وجہ یہ ہے اہل عرب صرف لڑکوں کو حصہ دیا کرتے تھے ،لڑکیوں کو نہیں دیتے تھے۔ان کی اس عادت سیئہ پر رد اور لڑکیوں کے معاملے میں اہتمام کے لیے فرمایا کہ لڑکے کو دو لڑکیوں جتناحصہ ملے گا۔گویا یہ فرمایا کہ تم صرف لڑکوں کو حصہ دیتے ہو ،ہم نے ان کاحصہ دگنا کر دیا ہے، لڑکیوں کے مقابلے میں،لیکن لڑکیوں کو بھی حصہ دینا ہوگا،ان کو بالکلیہ میراث سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

امام قرطبیؒ احکام ا لقرآن میں اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں : ہٰذِہِ الْآیَةُ رُکْنٌ مِنْ اَرْکَانِ الدِّیْنِ ، وَعُمْدَةٌ مِنْ عُمَدِ الْاَحْکَامِ ، وَاُمٌّ مِنْ اُمَّہَاتِ الْآیَاتِ، فَاِنَّ الْفَرَائِضَ عَظِیْمَةُ الْقَدْرِ، حَتّٰی اِنَّھَا ثُلُث الْعِلْمِ  (تفسیرقرطبی، القرطبی، جلد۶، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، طبع ۲۰۰۶ء، ص ۹۳)، یہ آیت (یوصیکم اللہ فی اولادکم) ارکان دین میں سے ہے اور دین کے اہم ستونوں میں سے ہے اور امہات آیات میں سے ہے، اس لیے کہ فرائض (میراث)کا بہت عظیم مرتبہ ہے ،یہاں تک کہ یہ علم کا ایک تہائی ہے۔

اس آیت کریمہ میں میراث کے احکام بیان فرمانے کے بعد اس کے اخیر میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا: تِلْكَ حُدُوْدُ اللہِ  ط  (النساء ۴:۱۳)یعنی یہ میراث کے احکام اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ حدود ہیں۔ ان حدود پر عمل کرنے والوں کے لیے بطور انعام وجزا کے فرمایا : وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ يُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَا۝۰ۭ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۝۱۳ (النساء۴:۱۳)’’جو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرے گا اسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے‘‘۔

اسی طرح دوسری جگہ پر جاہلیت کی رسوم کے خلاف اسلام کے امتیازی قانون کو قرآن مجید نے اس طرح بیان کیا ہے: لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّـمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ۝۰۠ وَلِلنِّسَاۗءِ نَصِيْبٌ مِّـمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِـمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْ كَثُرَ۝۰ۭ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا۝۷ (النساء۴: ۷) ’’مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ  تھوڑا ہو یا بہت، اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے ) مقرر ہے‘‘۔

اس آیت میں پانچ قانونی حکم دیے گئے ہیں: ایک یہ کہ میراث صرف مردوں ہی کا حصہ نہیں ہے، عورتیں بھی اس کی حقدار ہیں۔ دوسرے یہ کہ میراث بہر حال تقسیم ہونی چاہیے خواہ وہ کتنی ہی کم ہو، حتیٰ کہ اگر مرنے والے نے ایک گز کپڑا چھوڑا ہے، اس کے دس وارث ہیں تو اسے بھی دس حصوں میں تقسیم ہونا چاہیے، یہ اور بات ہے کہ ایک وارث دوسرے وارثوں سے ان کا حصہ خرید لے۔ تیسرے یہ کہ وراثت کا قانون ہر قسم کے اموال واملاک پر جاری ہوگا خواہ وہ منقولہ ہوں یا غیر منقولہ، زرعی ہوں یا صنعتی یا کسی اور صنف مال میں شمار ہوتے ہوں۔ چوتھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میراث کا حق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مورث کوئی مال چھوڑ مرا ہو۔ پانچویں اس سے یہ قاعدہ بھی نکلتا ہے کہ قریب تر رشتہ دار کی موجودگی میں بعید تر رشتہ دار میراث نہ پائے گا۔

احکام میراث سے متعلق احادیث

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: عَنِ النَّبِي صلى الله عليه و سلم قَالَ: أَلْـحِقُوْا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلٰى رَجُلٍ ذَكَرٍ (صحیح بخاری، کتاب الفرائض، باب میراث الولد من ابیہ وامّہ، حدیث: ۶۳۶۳) جن ورثا کے حصے مقرر ہیں انھیں ان کے حصے دے دو، جو بچ جائے وہ زیادہ قریبی مرد رشتہ دار کاہے۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ احد کے بعد حضرت سعد بن ربیع ؓکی بیوی اپنی دوبچیوں کو لیے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یارسول ؐاللہ!یہ سعد کی بچیاں ہیں، جو آپؐ کے ساتھ اُحد میں شہید ہوئے ہیں۔ ان کے چچانے پوری جائیداد اپنے قبضہ میں لے لی ہے اور ان کے لیے ایک حبّہ تک نہیں چھوڑا ہے، اب بھلا ان بچیوں سے کون نکاح کرے گا؟ اس پر میراث کی درج بالا آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چچا کو بلاکر فرمایا :’’ بچیوں کو کل ترکہ کا دوتہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دے دو، جو بچ جائے وہ تمھارا ہے‘‘۔ (ترمذی، ابواب الفرائض، عن رسول اللہ ، باب ماجاء فی میراث البنات، حدیث: ۲۰۶۹)

 حضرت زید بن ثابتؓ سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ ایک عورت کا ترکہ اس کے شوہر اور سگی بہن میں کس طرح تقسیم ہوگا؟ تو انھوں نے دونوں کو ترکہ میں نصف نصف کا حقدار ٹھیرایا اور کہا کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کا فیصلہ فرماتے دیکھا ہے۔ (مسنداحمد، مسندالانصار، حدیث زید بن ثابت، حدیث: ۲۱۱۱۲)

ھُزیل بن شرحبیل کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے میراث کے ایک مسئلہ کے بارے میں پوچھا گیا جس میں میت ایک بیٹی، پوتی اور بہن چھوڑ مرا تھا تو انھوں نے کہا کہ کل ترکہ کا نصف بیٹی کو اور بقیہ نصف بہن کو ملے گا۔ پھر کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے بھی پوچھ لو وہ میری تائید ہی کریں گے۔ سائل نے حضرت ابن مسعودؓ کے ہاں حضرت ابوموسیٰؓ کا فتویٰ ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ اگر میں بھی وہی فتویٰ دوں جو ابو موسیٰؓ نے دیا ہے تو یقینا میں راہ راست سے بھٹک جاؤں گا۔ میں اس کے بارے میں وہی فتویٰ دوں گا جو آنحضورؐ نے دیا تھا: بیٹی کو کل ترکہ کا نصف، پوتی کو چھٹا حصہ (بیٹوں کے دوتہائی حصہ کی تکمیل کے طور پر) اور باقی بہن کا ہوگا۔ بخاری اور مسند احمد کی روایت میں ہے کہ ہم نے حضرت ابو موسیٰؓ کو ابن مسعودؓ کے فتویٰ کے متعلق بتایا تو انھوں نے کہا کہ جب تک ایسا بڑا عالم تمھارے درمیان موجود ہو، مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو۔

اسود کہتے ہیں: ’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے، تو اس وقت انھوں نے میت کے ورثا صرف بہن اور بیٹی ہونے کی صورت میں ہر ایک کو ترکہ میں سے نصف دیا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حیات تھے‘‘۔

قبیصہ بن ذؤیب کہتے ہیں کہ ایک دادی /نانی حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئی اور ان سے (اپنے پوتے /نواسے کے) ترکہ میں سے حصہ دینے کا مطالبہ کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اسے کہا کہ اللہ کی کتاب میں تمھارے حصے کا ذکر نہیں، نیز مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرہ میں بھی تمھارے لیے کوئی حصہ ہونے کا علم نہیں۔ فی الحال تم چلی جاؤ میں لوگوں سے پوچھ کر تمھیں بتاؤں گا۔ چنانچہ حضرت مغیرہ بن شُعبہؓ نے کہا کہ میں نے رسولؐ اللہ کو اسے (دادی /نانی کو)چھٹا حصہ عطا فرماتے دیکھاہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان سے پوچھا کیا تمھارے ساتھ کوئی اور بھی ایسی گواہی دے سکتا ہے؟ اس پر محمد بن مسلمہ انصاریؓ اٹھے اور حضرت مُغیرہ کی بات کی تائید کی۔ چنانچہ حضرت ابو بکرؓ نے اسے ترکہ میں سے چھٹا حصہ دینے کا فیصلہ فرمادیا۔ پھر حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں ایک اور دادی/نانی آپؓ کے پاس آئی جو حصہ طلب کر رہی تھی۔ حضرت عمرؓ نے اسے کہا کہ اللہ کی کتاب میں تمھارے لیے کوئی حصہ مقرر نہیں، البتہ چھٹا حصہ ہے۔ اگر تم دونوں کسی مسئلہ میں جمع ہوجاؤ تو یہ تم دونوں میں تقسیم ہوگا، اور اگر تم دونوں میں سے کوئی ایک ہی ہوگی تو یہ اس کا حصہ ہوگا۔

حضرت بریدہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کی عدم موجودگی میں دادی /نانی کو کل ترکہ کا چھٹا حصہ عطا فرمایا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الفرائض، حدیث: ۲۸۹۵)

حضرت مقدام بن معدیکربؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جوشخص مال چھوڑ کر فوت ہوا ہو وہ اس کے ورثاء کا ہوگا، اور میں (اسلامی حکومت کے سربراہ کے طور پر) اس شخص کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہ ہو۔ اس کی مالی ذمہ داریاں اداکروں گا اور اس کے ترکہ کا وارث بنوں گا، اور جس شخص کا کوئی اور قریبی وارث موجود نہ ہو تو اس کا ماموں اس کا وارث قرار دیا جائے گا‘‘۔(سنن ابی داؤد، کتاب الفرائض، باب میراث ذوی الارحام، حدیث: ۲۸۹۹)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جب کسی بچے نے پیدایش کے بعد چیخنے کی آواز نکالی اور پھر فوت ہوگیا تو وہ وارث قرار دیا جائے گا‘‘۔ (ابوداؤد، کتاب الفرائض، باب فی المولود یستھلّ ثم یموت حدیث: ۲۷۳۸)

حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان کسی کافر کا اور نہ کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث بن سکتا ہے‘‘۔(صحیح مسلم، کتاب الفرائض، حدیث:۳۱۱۲)

حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قاتل کو مقتول کے ترکہ میں سے حصہ نہیں ملے گا۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الدّیات، حدیث: ۲۶۴۱)

اسلام کے قانونِ وراثت کی چند اہم خصوصیات

  • اسلام نے ورثاء کی ایک بڑی تعداد کو ترکہ میں حصہ دار بنا کر ایک جگہ جمع ہوجانے والی دولت کو پھیلایا اور اسے گردش میں لایا ہے۔ اس سے ایک طرف تو بڑے بڑے سرمائے ایک جگہ جمع ہو رہنے کے بجائے مختلف چھوٹی چھوٹی ملکیتوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں، تو دوسری طرف خاندان کی اکائی مضبوط ہوتی ہے اور اس میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔ ملکیت کے حوالے سے حسد و کینہ اور کدورت کے عوامل ختم ہوجانے کی وجہ سے خاندان متحد ومنظم رہتاہے۔
  • اسلام کے نقطۂ نظر سے ترکہ کی تقسیم ناگزیر ہے۔ کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنے ترکہ میں سے حصہ پانے والے کسی وارث کو اس سے محروم نہیں کرسکتا۔ وارث کو ہر صورت میں میت کے ترکہ میں سے حصہ مل کر رہے گا، بشرطیکہ اس میں حصہ پانے کی شرائط پائی جائیں۔ البتہ وارث کسی ایک یا تمام ورثاء کے حق میں اپنی آزاد مرضی سے اپنے حصہ سے دست بردار ہوسکتا ہے۔
  • اسلام نے حصوں کی کمی بیشی میں قرابت داری کو بنیاد بنایا ہے۔ چنانچہ جو زیادہ قریبی رشتہ دار ہے وہ نسبتاً دور والے رشتہ دار کو حصہ پانے سے محروم کردے گا یا اس کے مقابلے میں زیادہ حصہ پائے گا۔ لہٰذا باپ کو دادا پر، ماں کو دادی اور نانی پر اور بیٹے کو پوتے پر، اور بیٹے،پوتے اور باپ کو بھائی پر فوقیت دی گئی ہے۔
  • اسلامی قانون وراثت میں میت کے ترکہ میں سے حصہ پانے والوں کا تعین خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور ترکہ کی تقسیم کا اختیار مورّث (میت) کو نہیں دیا۔ اس لیے کہ انسان پر خواہشاتِ نفس کا غلبہ ہوسکتا ہے جن کی بنا پر وہ کسی وقتی جذبے کے تحت ترکہ کے بعض حق داروں کو یا تو بالکل محروم کرسکتا ہے یا پھر بلا جواز ان کے حصوں میں کمی کر سکتا ہے۔ اس لیے شریعت اسلامیہ نے ورثا اور ان کے حصوں کا تعین فرماکر اس بات کا سد باب کردیا ہے۔
  • اسلام نے قانون میراث کے ذریعے کمزور افراد، عورتوں اور بچوں کو ان کے حقوق دیے اور ان کا خاطر خواہ تحفظ کیا، جب کہ دیگر مذاہب اور تہذیبوں میں عورت اپنے جائز حقِ وراثت سے محروم رہی ہے اور عموماً اسے نظرانداز کیا گیا ہے۔
  • اسلام نے بعض صورتوں میں ضرورت واحتیاج کو حصوں میں کمی و بیشی کی بنیاد بنایا ہے۔ اسی لیے بیٹی کا حصہ اس کے بھائی کے مقابلے میں آدھا رکھا گیا ہے۔ اس لیے کہ اسے مالِ ملکیت کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس کی مالی ذمہ داریاں بیٹی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ اس نے اپنی بیوی کو مہر دینا ہوتا ہے، اپنے بیوی بچوں، والدین، بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کی اگر وہ تنگدست ہوں، کفالت کرنا ہوتی ہے، جب کہ عورت پر اس طرح کی کوئی ذمہ داری اسلام نے نہیں ڈالی، بلکہ ولادت سے وفات تک اس کی کفالت کی تمام تر ذمہ داری مرد پر رکھی گئی ہے۔ چنانچہ عدل وانصاف کا تقاضا یہی تھا کہ اس کا حصہ بھی اس کے بھائی کے مقابلے میں کم رکھا جائے۔
  • ضرورت و احتیاج کے اسی اصول کے پیش نظر اسلام نے فوت شدہ کے بیٹے کا حصہ اس کے باپ کے حصہ سے زیادہ رکھا ہے۔ اس لیے کہ بیٹا نوعمر ہے، اسے ابھی زندگی کے مسائل و مشکلات کا سامنا کرناہے، جب کہ باپ بوڑھا وکمزور ہے، اسے اتنا ہی مال درکار ہے جس سے وہ اپنے بڑھاپے کی حفاظت کرسکے اور ضروریات زندگی کے لیے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے۔

مرد کا حصہ دوگنا کیوں؟

اسلام میں عورت کے حصہ کا مرد سے آدھا ہونے پر مغرب زدہ حضرات کی طرف سے اعتراضات کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ مثلاً یہ کہ عورت کے ساتھ صنفی تخصیص روا رکھی گئی ہے، یا یہ کہ عورت کو آدھے مرد کے برابر قرار دیا گیا ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مرد کو دوحصے دیئے جائیں اور عورت کو ایک، جب کہ عورت زیادہ قابل رحم اور مالی اعانت کی زیادہ مستحق ہے۔ وہ مردوں کی طرح تجارت وزراعت نہیں کرسکتی۔ شوہر کی دست بستہ غلام ہے۔ بچوں کی پرورش کرنے والی ہے۔ علاوہ ازیں وضع حمل کی تکلیف اور رضاعت کی محنت ومشقت اسے بالکل ناتواں کردیتی ہے۔ اس لیے اس کا حصہ ہونا تو زیادہ چاہیے تھا، اور اگر زیادہ نہیں کم از کم برابر تو ضرور ہونا چاہیے تھا۔

ان اعتراضات کی وجہ کم علمی اور ہمارے ہاں عورت کی ابتر معاشی حالت ہے،اور اس کا سبب اسلامی نظام میراث نہیں، بلکہ ہمارا معاشرہ ہے۔ جس معاشرے میں آج تک عملی زندگی میں عورت کے حق وراثت کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے، اور عموماً عورتوں کو ان کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے، خصوصاً بیٹیاں پرایا دھن سمجھی جاتی ہیں، لہٰذا انھیں بوقت شادی جہیز کی صورت میں کچھ دے دلا کر رخصت کردیا جاتا ہے اور انھیں خاندانی جائیداد اور وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ حالانکہ ایسا کرنے والا صریحاً اللہ اوراس کے رسولؐ کے احکام کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے اس نظام کی مصالح اور حکمتوں کو کماحقہٗ سمجھنا، ہماری ناتواں عقل سے باہر ہے۔ بایں ہمہ ہمارے خیال میں اس حکم کی مصلحتیں حسب ذیل ہوسکتی ہیں:

۱- اسلام میں عورت کا حصۂ میراث نصف مقرر کرنے میں اللہ تعالیٰ کی عظیم حکمت کارفرما ہے۔ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو دوگنا حصہ اس کی ذمہ داریوں کی وجہ سے دیا ہے۔ کیونکہ زندگی میں زیادہ تر معاشی، تعلیمی اور تربیتی ذمہ داریاں بنیادی طور پر مردوں پر ہیں، جن سے عورت بالکل مستثنیٰ ہے، بلکہ خود عورت کی اپنی کفالت کا بار بھی شادی سے پہلے اس کے سرپرست پر رکھا گیا ہے اور شادی کے بعد خاوند یا اس کی اولاد پر۔ ایسی صورت میں دونوں کو مساوی حقوق دینا کسی طرح قرین انصاف نہ تھا۔ نامور مفکر محمد قطبؒ لکھتے ہیں: اسلام کا قانون یہی ہے کہ میراث میں مرد کا حصہ عورت سے دوگنا ہے۔ یہ بالکل فطری اور منصفانہ تقسیم ہے کیونکہ عورت پر مالی ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں ہوتا۔ دوسرے انداز سے دیکھیے: کل ورثے کا ایک تہائی عورت(بیٹی) کو صرف اپنی ذات کے لیے ملتا ہے، جب کہ باقی دوتہائی مرد (بیٹے) کو دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے بیوی بچوں اور خاندان کی ضروریات پوری کرے۔ اس سے ظاہر ہے کہ وراثت کا بیشتر حصہ کس کو ملتا ہے عورت کو یا مرد کو۔

مرد خاندان کی معاشی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے۔ اگر وہ بیوی کو نان و نفقہ دینے سے انکار کردے یا آمدنی کے لحاظ سے اس کو کم خرچہ دے، تو بیوی ذاتی طور پر مال دار اور صاحب ِحیثیت ہونے کے باوجود بھی اس کے خلاف مقدمہ دائر کر کے نان ونفقہ کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ اس لیے کہ مرد کو گھرانے کا سربراہ ہونے کی وجہ سے جو ذمہ داریاں پوری کرنا پڑتی ہیں، ان کا تقاضا ہے کہ اسے وراثت میں زیادہ حصہ دیا جائے۔

۲- میراث میں آدھے حصے کی تلافی بھی اسلام کرتا ہے۔ وہ اس طرح کہ ایک تو بیوی کو شوہر سے مہر دلواتا ہے جو کہ بلا شرکت غیرے صرف اسی کا ذاتی حق ہے۔ دوسرے یہ کہ شادی میں جو مال وزر اور تحفے تحائف دیے جاتے ہیں، اس کی مالک بھی وہ خود ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر اس کے پاس کوئی جائیداد وغیرہ ہے، تو وہ صرف اسی خاتون کاحق ہے، کوئی اسے اس کے خاوند یا بچوں پر خرچ کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا، جب کہ مرد قانونًا اپنے حصے کے مال و دولت کو دوسروں پر خرچ کرنے کا پابند ہے۔ماں باپ کی طرف سے ملنے والا حصہ بھی ذاتی طور پر اسے مل جاتا ہے اور اسے اپنے بچوں یا شوہر کی کفالت بھی نہیں کرنی پڑتی۔

۳- قانون وراثت میں اصل اہمیت چونکہ نسب کو دی جاتی ہے، اس لیے اس ضابطے کے تحت ضروری نہیں کہ مرد کو زیادہ حصہ ہی ملے۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک عورت مورث (میت) سے قریبی تعلق رکھتی ہو اور اس مرد سے زیادہ حصہ پائے جو مورث کا دور کا رشتہ دار ہے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ عورت اپنے خاندان(والدہ، والد، بھائی، بہن وغیرہ) سے بھی وراثت میں حصہ پاتی ہے اور اپنے خاوند کے خاندان (خاوند اور اپنے بیٹے، بیٹیوں وغیرہ) سے بھی۔

۴- اصولی طور پر اسلام نے عورتوں کو سماج میں مردوں کے مساوی حیثیت دی، اور وراثت کا مستحق ٹھیرایا۔ اسلام کی جانب سے عورتوں کی مزید عزت افزائی کا مظہر یہ ہے کہ اس نے تقسیمِ میراث میں حصۂ نسواں کو اصل پیمانہ قرار دیا ہے اور اس کی نسبت سے مردوں کا حصہ بیان کیا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:يُوصِيكُمُ اللهُ فِيْٓ  أَوْلَادِكُمْ ق لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ج (النساء ۴: ۱۱) ’’تمھاری اولاد کے بارے میں اللہ تمھیں ہدایت کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دوعورتوں کے برابر ہے‘‘۔

قرآن کی یہ تعبیر قابلِ غور ہے۔ یوں بھی کہا جاسکتا تھا کہ عورت کے لیے مرد کے حصہ کا نصف ہے یا دو عورتوں کو ایک مرد کے برابر حصہ ملے گا۔لیکن اس کے بجائے یہ کہا گیا کہ مرد کے لیے دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ قرآن کی نظر میں میراث میں لڑکی کا حصہ اصل ہے، اسی لیے اسے تقسیم میراث کے معاملے میں پیمانہ اور بنیاد بنایا گیا ہے۔

پھر یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ مستحقینِ میراث میں کچھ لوگ وہ ہیں جو دوسرے وارثین کی موجودگی میں میراث سے بالکلیہ محروم ہوجاتے ہیں، مثلاً: بھائی جو باپ کی موجودگی میں محروم رہتا ہے۔ اور بعض لوگ وہ ہیں جو محروم تو نہیں ہوتے البتہ ان کا حصہ کم ہوجاتا ہے۔ چھ وارثین ایسے ہیں جو کسی بھی حال میں بالکلیہ میراث سے محروم نہیں ہوتے: شوہر، بیٹا، باپ، بیوی، بیٹی اور ماں۔ اس فہرست میں اگر تین مرد ہیں تو تین عورتیں بھی ہیں۔

اس کے علاوہ میراث میں اصحاب الفروض کے جو حصے متعین کیے گئے ہیں، ان کے مستحقین میں عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں تین گنا ہے۔

نیز تقسیمِ میراث کے متعدد حالات ایسے ہیں جن میں عورت کا حصہ مرد کے برابر ہوتا ہے اور ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہوتی۔ جیسے: نرینہ اولاد کی موجودگی میں ماں باپ میں سے ہرایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ میت کے اصول(باپ دادا ) اور فروع (بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی…) میں سے کوئی نہ ہو اور اس کے اخیافی (ماں شریک) بہن بھائی ہوں تو سب ایک تہائی میں برابر کے حصہ دار ہوں گے۔نیز بعض حالات میں حقیقی بہن اتنا ہی حصہ پاتی ہے جتنا حقیقی بھائی مستحق بنتا ہے۔

ان صورتوں کے علاوہ جن میں عورت کا حصہ مرد سے زیادہ یا اس کے برابر ہوتا ہے، صرف درج ذیل حالتوں میں ہی عورت کا حصہ مرد کا نصف ہوتا ہے۔جیسے: اولاد اور شوہر یا بیوی کی عدم موجودگی میں ماں کا حصہ ایک تہائی ہوتا ہے اور بقیہ کا مستحق باپ قرار پاتاہے۔

•          میاں بیوی میں سے کوئی ایک وفات پاجائے اور دوسرے کو چھوڑ جائے تو عورت یعنی بیوی کا حصہ مرد یعنی شوہر کے مقابلے میں نصف ہوتا ہے۔

•          اگر میت کی اولاد بیٹے بیٹیاں یا پوتے پوتیاں(تا آخر) ہوں تو ان کے درمیان میراث اس طرح تقسیم ہوگی کہ ہر ایک لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ ملے گا۔

•          اسی طرح اگر میت کے حقیقی یا باپ شریک بھائی بہن ہوں تو ان کے درمیان بھی میراث اس طرح تقسیم ہوگی کہ ہر مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا۔

بایں ہمہ شریعت اسلامیہ کے پورے قانون میں معاشی، معاشرتی اور قانونی ذمہ داریوں کا بار چونکہ زیادہ تر مرد پر ہی عائد کیا گیا ہے، اس لیے عورت کو مرد کے مقابلے میں اکثر اوقات نصف حصہ یا نصف رقبہ دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر وراثت، دیت اور قانون شہادت وغیرہ میں عورت کا حصہ کئی جگہ مرد کے مقابلے میں نصف رکھا گیا ہے، مگر اس کا مطلب عورت کے درجے اور رُتبے میں کمی ہرگز نہیں، بے شمار دوسرے مواقع پر عورت کا درجہ زیادہ یا مساوی رکھا گیا ہے۔ مثلاً علم و عمل اور اُخروی اجروثواب کے حصول میں دونوں میں کوئی فرق نہیں، جب کہ خدمت واطاعت میں اولاد کے لیے والدہ کا درجہ زیادہ ہے۔ اولاد میں سے دُختری اولاد کی پرورش، تربیت اور نگہداشت پر لڑکوں کی نسبت زیادہ اجر وثواب ہے۔ علاوہ ازیں بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے عورت کا درجہ مرد سے بڑھادیا ہے۔ اس طرح شریعت نے دونوں کے مابین توازن اور اعتدال قائم رکھا ہے جو کہ صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے۔

پاکستانی سماج میں خواتین کی میراث کی عملی صورت حال

اسلام کی مندرجہ بالا تعلیمات کی روشنی میں اگر ہم اپنے معاشرے کا عمومی جائزہ لیں تو ہمارے ہاں عملی صورت حال بہت مختلف اور ظالمانہ ہے۔ بیٹی اور بہن کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے نہایت افسوس ناک حیلے اور ہتھکنڈے اختیار کیے جاتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں عام طور پر شادی کے موقع پر بیٹی کو جہیز کے نام پر ترکہ سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ معاشرتی جبر اس حد کو پہنچا ہے کہ بے چاری اسی کو اپنا نصیب مان کر خاموش رہتی ہے اور کبھی مطالبہ کرنے کا سوچتی بھی نہیں۔ اگر کہیں اس بات کا امکان ہو کہ سسرال کی طرف سے دباؤ ڈالے جانے پر بے چاری کہیں مطالبہ ہی نہ کر دے تو اس کا انتظام اس طرح کیا جاتا ہے کہ شادی سے پہلے یا بعد میں اس سے لکھوا لیا جاتا ہے کہ اس نے اپنا حصہ بھائیوں یا بیٹوں کو بخش دیا ہے اور کبھی حق کا دعویٰ نہیں کرے گی۔

پاکستان کی مختلف برادریوں میں عورت کو جائیداد سے محروم رکھنے کے لیے جو ظالمانہ حیلے اختیار کیے جاتے ہیں، ان کی ایک جھلک یوں ملاحظہ کی جاسکتی ہے:جاگیر دار خاندانون میں لڑکیوں کی شادیاں چچا یا تایا زاد بھائیوں سے کی جاتی ہیں تاکہ وراثت کے ذریعے ان کی زمینیں خاندانوں سے باہر نہ جاسکیں۔ کبھی لڑکی کو ایسے ہم نثراد سے بیاہ دیا جاتا ہے جو عمر میں اس سے چھوٹا ہوتا ہے یا بالکل بھی صحیح جوڑ نہیں ہوتا۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں تو لڑکوں کی موجودگی میں عورتیں زمین کی وارث نہیں بن سکتیں، اور باپ کی طرف سے بیٹیوں کے لیے غیر منقولہ جائیداد حاصل کرنے کا کوئی رواج نہیں۔ اسی طرح بیواؤں کے لیے الگ سے وراثت کا کوئی تصور نہیں؛ عموماً انھیں جائیداد میں وارث کی حیثیت سے قبول نہیں کیا جاتا۔ صوبہ بلوچستان میں ہزارہ جاتوں اور نوآباد لوگوں میں لڑکیوں کو جائیداد میں حصہ دیا جاتا ہے لیکن اس کا تمام کنٹرول چچاؤں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ پھر ان علاقوں میں عورتیں باپ کی جائیداد میں حصہ لے سکتی ہیں لیکن عملاً سماج اسے قبول نہیں کرتا تو انھیں اپنے حصے سے دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ بیواؤں کی جائیداد ہتھیانے کے لیے انھیں سسرال میں دوبارہ شادی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قانونی طور پر (۱۹۶۲ء سے ) اسلامی قانون کی روشنی میں عورت کا حقِ میراث تسلیم کیے جانے کے باوجود خواتین کے لیے میراث کے حوالے سے کوئی سہولیات پیدا نہیں کی گئیں۔ دوسری طرف دینی اداروں کی طرف سے اس حوالے سے شعور وآگہی فراہم کرنے کی سنجیدہ اور قابل ذکر کوشش نہیں کی گئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نبی کریمؐ کی تعلیمات پر عمل کیا جائے اور ان کو قابل عمل بنا کر پیش کیا جائے۔ من جملہ ان تعلیمات کے خواتین کا حق میراث بھی ہے؛ جسے عام کرنا اور عملی زندگی میں رُوبہ عمل لانا بھی حقوقِ مصطفےٰ ؐ میں داخل ہے۔

دُنیا پرستوں کی طرف سے یوں تو ہر زمانے میں مذہب کے خلاف ایک جذبۂ نفرت موجود رہا ہے، مگر دورِ جدید میں لبرلزم، کیپٹل ازم، سیکولرزم اور سوشلزم کے فروغ کے ساتھ اس جذبے میں غیرمعمولی شدت پیدا ہوئی ہے۔ بعض لوگ جذبۂ نفرت کے مختلف پہلوئوں اور اس کے منطقی نتائج پر غور کیے بغیر یہ کہنے لگے ہیں کہ ’’آخر انسان مذہب کے اثرات سے آزاد ہوکر کیوں بہتر اور شاد کام زندگی بسر نہیں کرسکتا؟‘‘

جن لوگوں نے کبھی کسی مسئلے پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا، وہ تو خیر اسی راہ پر گامزن رہیں گے، اور اُس وقت تک اپنے دل میں مذہب کے خلاف نفرت کے جذبات پالتے رہیں گے، جب تک کہ لادینیت اور مادہ پرستی اپنی ساری ہولناکیوں کے ساتھ دُنیا پر مسلط ہوکر انسانی زندگی کو پوری طرح جہنّم نہ بنادے۔ لیکن وہ حضرات جو وقتی نعروں سےفوراً اثر قبول کرنے کے عادی نہیں ہیں، اور آنے والے حالات و واقعا ت پرغوروفکر کرنے کے خوگر ہیں، اُنھیں یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ کیا مذہب کے بغیر انسانیت زندہ رہ بھی سکتی ہے؟ اور اگر مذہب دُنیا سے رخصت ہوجائے تو پھر انسانیت ناگزیر طور پر کس خوف ناک انجام سے دوچار ہوگی؟

اس مسئلے پر بحث سے پیش تر چند باتوں کی وضاحت ضروری ہے:

       ۱-    ہمیں مذہب کی بگڑی ہوئی صورتوں سے کوئی سروکار نہیں۔ اگر بعض چالاک اور عیّار لوگوں نے دُنیوی مفادات کی خاطر مذاہب کا حلیہ بگاڑا ہے، تو یہ اُن کی عیاریاں ہیں۔ مذہب کو اس سلسلے میں کسی طر ح بھی موردِ الزام نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔

       ۲-    دُنیا کے مذاہب نے اپنی اپنی جگہ فکروعمل کا جو نظام دیا ہے، یہاں ہم اس کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتے۔ ہمیں نفسِ مذہب کی ناگزیرضرورت اور اس کی غیرمعمولی افادیت سے بحث کرنا ہے کہ اگر دُنیا سے مذہبی افکار و احساسات بالکل ختم ہوجائیں، تو پھرانسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا کیا نقشہ اور انداز ہوگا، اور کیا اُس نقشے اور انداز کو متمدن اور تہذیب یافتہ زندگی کہا جاسکے گا؟

مادیت اور دھن دولت کے پرستاروں نے مذہب کو بے وزن اور بے کار ثابت کرنے کے لیے جس انداز سے اس کے ارتقا کی داستان مرتب کی ہے، وہ بڑی غلط ہے۔ اُن کا چونکہ سارا زور اس بات پر ہے: ’’اصل چیز مادہ ہے اور خدا بھی چونکہ مادے کی اس خارجی دُنیا کا انسان کے ذہن میں عکس ہے، اس لیے خدا کے بارے میں انسانی تصورات خارجی حالات کی تبدیلی سے بدلتے رہتے ہیں۔ آغاز میں جب انسان کے علم اور مشاہدے کا دائرۂ محدود تھا تو وہ لاتعداد مظاہر قدرت کو خدا مان کر اُن کی پرستش کیا کرتا تھا۔ اس کے بعدجب اُس کے علم کا دائرہ وسیع ہوا اور اُس کے اندر مظاہر کائنات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوئی تو خدائوں کی تعداد گھٹتی چلی گئی اور پھر ایک خدا کا تصور باقی رہا اور اب اس خیالی پیکر سے بھی انسان کو نجات ملنی چاہیے، کیونکہ یہ بھی محض واہمہ ہی ہے‘‘۔

خدا کے بارے میں اس من گھڑت فلسفے کا حقیقت سے کوئی دُور کا بھی تعلق نہیں۔ خدا کا وجود خارجی حالات کا عکس نہیں بلکہ وہ ایک ایسی زندہ اور ناقابلِ انکار حقیقت ہے، جسے تسلیم کیے بغیر اس کائنات میں انسانی زندگی بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔ انسان کی فطرت اور اس کے قلب و دماغ میں خدا کے وجود کا احساس اسی وقت ودیعت کردیا گیا تھا، جس وقت ابوالبشرکی تخلیق کی گئی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ذات کے شعور و احساس کی بنا پر ہی اس کے اندر اخلاقی احساس پیدا ہوتا ہے، جو اُسے دوسرے جان داروں سے ممیز اور ممتاز کرتا ہے۔ ’توحید‘ کا تصور ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے انسان کے قلب و دماغ میں پیدا نہیں ہوا بلکہ وہ اوّل روز ہی سے موجود ہے۔ یہی تصور صحیح اور برحق ہے، اور اسی تصور سے انسان کے اندر صحیح اخلاقی شعور جنم لیتا ہے۔ لہٰذا، یہ بات کہ ’’انسان نے مدت دراز کے بعد توحید کے تصور کو اپنایا‘‘، بالکل غلط مفروضہ ہے۔

  • قدیم قبائل میں تصورِ توحید:عہد ِ حاضر میں علمِ بشریات کے ماہرین نے بعض قدیم قبائل کے افکار و اعمال کا جائزہ لیا ہے اور اس جائزے کے لیے ایسے قبائل کو منتخب کیا گیا ہے، جو آج کی متمدن دُنیا سے بالکل الگ تھلگ ہیں، جن کا اندازِ زیست پتھر اور لوہے کے اَدوار سے ملتا جلتا ہے، لیکن وہ ہرمظاہر قدرت کی پرستش کے بجائے خالص توحید کے قائل اور ایک خدا کے پرستار ہیں۔ اس سلسلے میں یوں تو بہت سے محققین نے اپنی تحقیقات پیش کی ہیں، مگر ۱۹۳۱ء میں ویلہلم شمیٹ (Schmidt) اور ایچ جے روز (Rose) دو جرمن اہلِ قلم کی تصریحات قابلِ غور ہیں۔ اُنھوں نے افریقہ اور آسٹریلیا کے متعدد قدیم قبائل کے حالات کا بڑی گہری نظر سے جائزہ لیا، اور پھر اپنی تحقیقات کو ایک کتاب The Origin and Growth of Religion: Facts & Theories [مذہب کا آغاز اور اُس کا نشوونما] کی صورت میں مدوّن کیا ہے۔ اُنھوں نے صاف طور پر یہ کہا ہے:

قدیم تمدن میں سب سے اعلیٰ اور ارفع ذات خدائے واحد کی ہے، اور جو مذہب ایک خدا کو تسلیم کرتا ہے، وہ ’توحیدی مذہب‘ کہلاتا ہے۔ اس موقف پر بہت سے مصنّفین نے اعتراضات کیے ہیں۔ ان کے جواب میں مَیں یہ کہتا ہوں کہ بہت سے قبائل ایسے ہیں، جن کے ہاں ایک ارفع و اعلیٰ ذات پر ایمان اُن کے توحیدی مزاج کی واضح علامت ہے۔ یہ حقیقت بہت سے پگمی قبائل (Pygmy)، قدیم بُش من (Bushmen)، کرنائے (Kurnai)، کیولن (Kulin) اور جنوب مشرق کے یون قبیلے کے متعلق وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے۔(ص ۲۶۲)

ان نیم متمدن قبائل کے ہاں، جنھیں علم کی ہوا تک بھی نہیں لگی، توحید کا تصور اُس حقیقت پر شاہد ہے، جسے قرآن مجید نے پیش کیا ہے، کہ انسان کی فطرت کو صحیح مذہب پربنایا گیااور پھر اوّل روز ہی سے اُس کے لیے ہدایتِ الٰہی کا سامان کیا گیا۔ لہٰذا، وہ ابتدائے آفرینش ہی سے خدا، وحی، حشرونشر، اور رسالت کے بارے میں صحیح قسم کے احساسات رکھتا ہے۔ اگر وہ اس فطری حالت سے الگ ہوکر کوئی دوسری روش اختیار کرتا ہے تو یہ گمراہی کی راہ ہے، جسے اُس نے خود اختیار کیا ہے۔

مذہب کے مطالعے سے اصل صورتِ حال یہ سامنے آتی ہے کہ قادرِ مطلق نے جب انسان کو مادّی اور روحانی احتیاجات کے ساتھ اس کرئہ ارضی پر اُتارا، تو ان دونوں قسم کی احتیاجات کی تسکین کا سامان بھی فراہم کیا۔ جس طرح اُس نے انسان کی بھوک، پیاس اور صنفی خواہش کو پورا کرنے کے لیے خوراک، پانی اور اُس کے لیے جوڑے کا انتظام کیا۔ بالکل اسی طرح انسان کی روحانی اور اخلاقی تمنائوں اور آرزوئوں کی تکمیل کے لیے اُسے ایک واضح نظامِ ہدایت بھی عطا فرمایا، تاکہ اس کی روح تشنہ نہ رہے۔

مثال کے طور پر ہرانسان میں جبلّی طور پر یہ آرزو ہوتی ہے کہ وہ یہ جانے کہ ’’اس عالمِ محسوسات سے ماورا کیا ہے؟‘‘ اس کا جواب اسے یہ دیا گیا کہ ’’اس عالمِ محسوسات سے ماورا ایک ارفع و اعلیٰ روحانی نظام موجود ہے، جو برابر انسان پر اثرانداز ہوکر اُس کے اندر اخلاقی احساسات پیدا کرتا ہے‘‘۔ پھر انسان اپنے متعلق یہ جاننے کے لیے بھی آرزو مند رہتا ہے کہ ’’وہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جائے گا؟‘‘ اس کا جواب بھی اُسے یہ دیا گیا کہ ’’اُس کا آغاز بھی اُس قادرِ مطلق ذات نے کیا ہے اور انجامِ کار بھی وہ اُس کے حضور میں حاضر ہوگا‘‘۔ پھردُنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے اندر  ؎

دیکھے بھالے، بن سوجھے
جانے پہچانے ، بن بوجھے

وجود کا احساس موجود نہ ہو۔ ہرفرد، کائنات کی اس بنیادی حقیقت کے بارے میں سوچتا ہے اور اس کی فطرت یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ کرلے۔ دُنیا میں کوئی فرد ایسا نہیں، جو اس احساس سے خالی ہو۔ یہ احساس انسان کے اندر اسی طرح ایک گہری خلش پیدا کرتا ہے، جس طرح کہ بھوک اور پیاس یا دوسری جبلّی خواہشات خلش پیدا کرتی ہیں۔ یہ احساس وقتی طور پر دب تو سکتا ہے مگر مٹ نہیں سکتا اور ہلکی سی لَے کی طرح ہروقت موجود رہتا ہے۔

انسان اس حقیقت سے تو بہرحال واقف ہے کہ اس کی شعوری اور جذباتی کیفیت کے لیے ایک معروض (objective) کا ہونا ضروری ہے۔ اگر غصہ آجائے تو کسی بات یا شخص پر ہوگا۔ خوشی پید ا ہوگی مگر کسی چیز یا خیال سے پیدا ہوگی۔ اب اگر دوسری نفسی کیفیات کے لیے معروض کا وجود ضروری ہے،تو انسان کی اس سب سے بڑی اہم کیفیت کے لیے معروض کیوں نہ ہو؟ اس کا جواب بھی مذہب نے یہ دیا ہے کہ ’’یہ کیفیت انسان کی روحانی اور اخلاقی اساس ہے اور اس کا معروض دُنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے، جو خارجی دُنیا میں سورج سے زیادہ روشن اور داخلی طور پر اس کی اپنی زندگی، یعنی شاہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

 قَالَتْ رُسُلُہُمْ اَفِي اللہِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ (ابراہیم۱۴:۱۰) رسولوںؑ نے کہا: ’’کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟‘‘

یہ سارے احساسات جن کا اُوپر ذکر کیا گیا ہے، انسانی نفس کے بنیادی احساسات ہیں، جن سے کسی صورت میں مفر نہیں۔ پھر ان کی نوعیت ایسی ہے کہ کوئی انسان محض مادّی زندگی کے شواہد اور حقائق سے ان کی تسکین نہیں کرسکتا۔ آخر سوچیے کہ اس عالمِ محسوسات سے ماورا حقیقت ِ کبریٰ (Ultimate Reality) کو جاننے اور اس کے ساتھ اپنی زندگی کو ہم آہنگ کرنے کی آرزو کو یہ کہہ کر کس طرح پوراکیا جاسکتا ہے کہ ’’یہ محض وہم ہے؟‘‘

یہ سارے احساسات تو کسی گہری روحانی اور وجدانی کیفیت کے ترجمان ہیں، جن کی تسکین روحانی وسیلے ہی سے ممکن ہے۔ اگر ہم ان کی نفی کردیں تو یہ احساسات مٹ تو نہیں سکتے، یہ اپنی تسکین کے لیے کوئی اور راستہ اختیار کرلیں گے۔ ہم یہاں اس راستے کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس پر گامزن قافلۂ انسانیت کے مصائب اور دشواریوں کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ مذہب کے دشمن جھٹ سے یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ ’’مذہب انسانوں کے لیے افیون اور سامراج کے ہاتھ میں ظلم کا ہتھیار ہے، مگر اُنھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ مذہب کے بغیر انسانیت کی کس طرح مٹی پلید ہوتی ہے؟

بعض سادہ لوگ اس فریب میں بھی مبتلا ہوتے ہیں کہ ’’دُنیا کی بعض قوموں نے مذہب کو تیاگ کر بھی ایک اجتماعی زندگی کی بنیاد رکھی ہے، اور یہ اس بات کی شہادت ہے کہ مذہب کے بغیر بھی زندگی بسر کی جاسکتی ہے‘‘۔

یہ صورتِ حال کا بالکل سطحی مطالعہ ہے۔ مذہب سے انسان چونکہ ہزاروں سال سے مانوس چلا آرہا ہے، اس لیے اس کے لاشعور میں بھی ابھی تک اخلاقی احساسات موجود ہیں، اور اِن کی وجہ سے وہ ابھی تک بعض ایسی بنیادی انسانی صفات سے یکسر محروم نہیں ہوا، جن کے ناپید ہونے سے اُس کی زندگی پوری طرح درندگی کا نمونہ بن جائے۔ انسان کا حشر اُس وقت دیکھنے کے قابل ہوگا، جب وہ ان اخلاقی احساسات سے یکسر تہی دامن ہوجائے گا۔

دوسرے یہ کہ ابھی تک یہ قومیں دورِ تعمیر سے گزر رہی ہیں، اس لیے ان کے سامنے لادینیت کے منطقی نتائج اُبھر کر سامنے نہیں آئے۔ پھر دوسری قوموں کے خلاف ان کے دل میں جو بے پناہ جذبۂ نفرت و حقارت پیدا کر دیا گیا ہے، اس سے بھی ان کے اندر ایک مصنوعی قوتِ عمل پیدا ہوئی ہے، جس نے ان کے اخلاقی شعور کو وقتی طور پر اس حد تک مفلوج کردیا ہے کہ ان کے اندر احساسِ زیاں باقی نہیں رہا، مگر انسانوں کے اخلاقی شعور یا دوسرے لفظوں میں ان کی انسانیت کو دیر تک اس حالت میں نہیں رکھا جاسکتا۔ وہ ترقی کے اس طلسم کے ٹوٹتے ہی بیدارہوگی اور اس وقت اسے یہ احساس ہوگا کہ اُسے ان احساسات سے محروم کرکے اس کے ساتھ شرمناک کھیل کھیلا گیا ہے۔ اس بناپر مذہب دشمن قوتوں کی موجودہ صورتِ حال کو لادینیت کے حق میں وجۂ جواز نہیں ٹھیرایاجاسکتا، کیونکہ اس صورتِ حال کے نتائج ابھی کھل کر سامنے نہیں آئے۔ مذہب کے بغیر انسانیت کا حلیہ کس طرح بگڑے گا؟ موجودہ حالات کے پیش نظر اس کا ایک ہلکا سا ادراک کیا جاسکتا ہے۔

  • انکارِ خدا کی حقیقت:اس سلسلے میں ہم سب سے پہلے انکارِ خدا ہی کو لیتے ہیں:

خدا کی ہستی کا شعور و ادراک ، جیساکہ ہم پہلے گزارش کرچکے ہیں، انسانی فطرت کا بنیادی تقاضا ہے۔ انسان اس احساس سے ایک لمحے کے لیے بھی دست کش نہیں ہوسکتا۔ اگر وہ اس احساس کی تسکین کے لیے صحیح راہ نہیں پاتا، تو وہ نہ صرف انسانیت کے سب سے شیریں عنصر سے محروم رہتا ہے بلکہ بڑی غلط راہوں پر چل نکلتا ہے۔

چنانچہ، دیکھیے کہ جن قوموں نے خدا کا انکار کیا اُنھوں نے قومیّت، نسل پرستی، یا ریاست جیسے جھوٹے خدائوں کی پرستش اختیار کی اور اپنے جذبۂ روحانی کی تسکین کے لیے ان کے ساتھ اس طرح کا والہانہ جذبۂ عقیدت استوار کیا، جس طرح کہ ایک خدا پرست انسان، اپنے سچے خالق اور مالک کے ساتھ کرتا ہے۔ایک فلسفی نے کس قدر صحیح کہا ہے کہ ’’خدا کے ساتھ روحانی تعلق انسان کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔وہ اگر اس تعلق کے لیے خدا کو نہیں پہچانتا تو پھر شیطان کے ساتھ رشتۂ عبودیت استوار کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے‘‘۔

قوم، وطن یا مملکت کی پرستش کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس ایک معبود کے سامنے دوسرے معبودوں کا انکار کیا جائے۔ اس احساس کے تحت جارحانہ قوم پرستی کا نظریہ پیدا ہوا، جس کی رُو سے دُنیا کی ہرقوم، دوسری قوموں کو صفحۂ ہستی سے مٹانے پر تُل گئی۔ پھر اپنے گھر کے اندر قوم کے سارے افراد نے اُسے خدا سمجھ کر اس کے ہر جائز و ناجائز مطالبے کو پورا کرنے کی کوشش کی اور اسی کو زندگی کا کمال خیال کیا۔

ظاہر بات ہے کہ قومی مطالبے قوم اور وطن کے سربراہوں کی زبان ہی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس لیے ان سربراہوں کو معاشرے میں اسی بلند مقام پر فائز کردیا گیا، جس مقام پر کہ مذہب میں خدا کے پیغمبر ؑ فائز کیے جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ انسان اپنے روحانی احساسات کی تسکین کے لیے جو مادی مذہب اختیار کرنے پر مجبور ہوا ہے، اور اس میں خدا کی جگہ قوم کی پرستش اور رسول کی غیرمشروط اور خوش دلانہ اطاعت کی جگہ اربابِ اختیار کی بے چون و چرا اطاعت موجود ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس اندازِ فکر اور طرزِعمل سے انسان کی روح کوتسکین حاصل ہوسکتی ہے؟‘‘

قوم اور وطن دونوں ’اُلوہیت‘ کے اس لطیف اور شیریں عنصر سے عاری ہیں، جو انسان حق تعالیٰ کی بلندو بالا اور ارفع ذات میں پاتا ہے۔انسان فطری طور پر عالمِ محسوسات سے ماورا کسی اعلیٰ و ارفع ذات سے رشتۂ عبودیت استوار کرنے کا آرزو مند ہوتا ہے، اور اسے جب کسی پیکر ِ محسوس کی پرستش پر آمادہ کیا جائے تو وہ لازمی طور پر اپنی زندگی میں ایک خوف ناک خلا محسوس کرتا ہے۔ پھر اس کے قلب و دماغ کو یہ دیکھ کر بھی شدید اذیت ہوتی ہے کہ جن لوگوں کو وہ اس جھوٹے خدا کے ترجمان اور اس کے احکام کے شارح قرار دے کر اُن کی غیرمشروط اطاعت کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہا ہے، وہ بھی اپنے اندر کوئی ایسی روحانی اور اخلاقی کشش نہیں رکھتے جس سے انسان کی روح تسکین حاصل کرے، اور اسے یہ محسوس ہو کہ ان مقدس ہستیوں کی پیروی سے وہ اپنے آپ کو ایک روحانی نظامِ اخلاق سے ہم آہنگ کر رہا ہے۔

جارحانہ قوم پرستی کے ان رہنمائوں کی اطاعت سے انسانوں کی رُوحیں مجروح ہوتی ہیں، کیونکہ اُنھیں ہرقدم پر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ جبرواستبداد ، مکروفریب، خودغرضی اور دُنیا پرستی کی راہ پر گامزن ہیں، اور ان کی زندگی لطیف احساسات سے یکسر تہی دامن ہوتی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ قوم یا مملکت کی خدائی کا نقش دلوں پر مستقل طورپر قائم رکھنے کے لیے اور عوام کو اربابِ اختیار کا پرستار بنانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی حمدوثنا میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جائیں۔ اُنھیں ایسی غیرمعمولی اور مافوق البشر صفات کا مظہر قرار دیا جائے، جن کی بنا پر ان کے اندر اُلوہیّت کی شان پیدا ہو۔ اس احمقانہ اور خطرناک رجحان نے پوری دُنیا کی اخلاقی حالت کو جس طرح متاثر کیا ہے، وہ سب کے سامنے ہے اور اس سے جو مزید فتنے پیدا ہونے کا امکان ہے، ان کا تصور بھی کچھ مشکل نہیں۔

  • مذہب سے محرومی کے نتائج:مذہبی احساسات سے محروم ہوکر انسان اپنی انسانیت کو بھی برقرار نہ رکھ سکےگا۔ آپ غور کریں کہ انسان اگر حیوان سے ممیز و ممتاز ہے، تو اس کی وجہ یہی تو ہے کہ وہ اخلاقی احساسات رکھنے کی بناپر اپنی حسّی اور مادی خواہشات کو اخلاقی حدود کے اندر رہ کر پورا کرتا ہے، اور ان احساسات کی وجہ ہی سے وہ مادی سود و زیاں سے بلند تر ہوکر اچھے اور پاکیزہ مقاصد کے حصول کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اگر انسان کا اخلاقی شعور، جو مذہبی احساس کی وجہ سے قائم ہے، ختم ہوجائے تو پھر انسان کے اندر حسّی لذات اور مادّی مفادات سے بلندتر ہوکر سوچنے اور اعلیٰ اخلاقی مقاصد کے حصول کی خاطر زندہ رہنے کی کوئی تمنّا باقی نہیں رہتی ، اور انسان زندگی کا وہی نہج اختیار کرلیتا ہے جو حیوانوں کا ہے۔

اخلاقی احساس کی عدم موجودگی میں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ’انسانی عمل کا محرک کیا ہے؟‘

اس کا ایک ہی جواب ممکن ہے کہ ’’جب روحانی اور اخلاقی احساس موجود نہ رہے تو پھر حسّی لذت کی تسکین، مادّی منفعت کی چاٹ اور نفع کی اُمید ہی کو عمل کا سب سے بڑا محرک قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر انسان کے اندر کسی بلند روحانی نصب العین کے حصول کی خواہش نہ ہوتو لامحالہ وہ حسّی خواہشات کی تکمیل ہی کے لیے سرگرمِ عمل ہوگا۔ انسان کے لاشعور میں مذہب کے بچے کھچے اثرات موجود ہونے کی وجہ سے وہ ابھی تک درندگی کی اُس سطح پر نہیں اُترا، اندریں حالات جس پر اُسے فی الواقع اُتر جانا چاہیے تھا۔ لیکن اگر مذہب کے خلاف نفرت کا یہی جذبہ پرورش پاتا رہا، تو پھر دُنیا کی کوئی قوت اسے اس پست سطح پر اُترنے سے نہیں بچاسکتی۔

وہ لوگ انسانی فطرت کے بارے میں شدید غلط فہمی میں مبتلا ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ ’’وہ انسان کو مذہب کے بغیر بھی انسانیت کے وسیع تر مفادات کے لیے ایثار و قربانی پر اُبھار سکتے ہیں‘‘۔

یہ لوگ غلطی سے سمجھ بیٹھے ہیں کہ وہ ایک مخصوص قسم کے نظامِ تعلیم و تربیت کے ذریعے عوام کے اندر اجتماعی مفادات کی محبت پیدا کرکے اُنھیں غیرمعمولی ایثار پر آمادہ کرسکیں گے، مگر یہ لوگ شاید ایثار کی نفسانی کیفیت سے یکسر ناواقف ہیں۔ اگر کوئی انسان اپنے ذاتی مفادات کو وسیع تر مفادات کی خاطر قربان کرتا ہے، تو وہ یہ عظیم قربانی بھی روحانی احساس کے تحت کرتا ہے۔ ورنہ حسّی لذات اور مادّی خواہشات تو انسان کے اندر خود غرضی اور نفس پرستی کے جذبات پیدا کرتی ہیں۔

انسان کے اندر اجتماعی زندگی کی تشکیل کے لیے ایثار، بنی نوع انسان سے بے لوث محبت، دوسروں کے دُکھ درد میں ان سے تعاون، مصیبت کے وقت ان کی معاونت اور دستگیری، کمزوروں  اور بے بسوں پر رحم، یہ سب روحانی احساسات کے مختلف مظاہرہیں۔ اگر یہ احساسات مٹ جائیں تو پھر انسان خود غرضی اور شقاوتِ قلبی کا پیکر بن جاتا ہے، اور اپنے طرزِ عمل میں درندوں سے بھی زیادہ خونخوار ہوجاتا ہے۔ اس صورت میں کیا کسی تہذیب کا نام و نشان باقی رہ سکتا ہے؟

اگر اخلاقی حس ناپید ہے توپھر انسان کو اس بات کی آخر کیا ضرورت ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو قربان کر کے دوسروں کو آرام اور سکون فراہم کرنے کا التزام کرے، اور کمز وروں اور بے بسوں کو دُنیا سے مٹا کر اپنے وسائل میں وسعت پیدا کرنے کے بجائے اُن سے تعاون کرے، اور اُنھیں زندہ رکھ کر ان وسائل میںا ُنھیں شریک ٹھیرائے؟

سوچیے کہ آخروہ کون سا جذبہ ہے، جس کے تحت نوجوان اپنے بوڑھے والدین کا ہنسی خوشی بوجھ اُٹھاتے ہیں، حالانکہ ان سے نفع کی کوئی اُمید باقی نہیں ہوتی۔ مادّی نقطۂ نظر سے تو یہ لوگ خاندان اور معاشرے پر بار ہوتے ہیں اور ان کا سب سے اچھا مصرف یہی ہے کہ ان کے نحیف اور بیکار وجود سے دُنیا کو پاک کیا جائے۔

ایک نہیں، بہت سے ایسے قواعد و ضوابط جن کی پابندی لادینی عناصر اور معاشرے بھی کرتے ہیں، ان کی تہ میں دراصل مذہب کے پیدا کردہ اخلاقی احساسات ہی کارفرما ہوتے ہیں۔ ماں، بہن اور بیٹی سے نکاح کو جو سخت ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو اس کی وجہ بھی مذہبی احساس ہی ہے، ورنہ خالص مادّی نقطۂ نظر سے تو اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔ ان رشتوں میں ایک خاص نوعیّت کی جو تقدیس پائی جاتی ہے، وہ صرف مذہب کی رہینِ منت ہے۔ انسان خواہ زبان سے مذہب کا مخالف اور دشمن ہو، مگر اس کے لاشعور میں بہن اور بیوی کے درمیان یا بیوی اور ماں کے درمیان جو ایک واضح امتیاز ہوتا ہے، وہ مذہب کا پیدا کردہ ہے۔ خالص حیوانی نقطۂ نظر سے اس تفریق اور امتیاز کا کوئی جواز نہیں۔

  • مذہب کی افادیت انسانی زندگی میں:آپ غورکریں کہ اگر انسان اپنے حسّی محرکات کے تحت ہی زندگی بسر کرسکتا تھا تو انسان کی ہدایت کے لیے آخر اتنے لاتعداد انبیاؑ کیوں بھیجے گئے؟

کائنات کی ان مقدّس ہستیوں کی جدوجہد کا اگر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اُن کا کام اگرچہ دُنیا کا سب سے سخت ترین اور صبر آزما کام ہے، مگر انسانوں کے کرنے کا یہی کام ہے، کیونکہ انسانیت کا حقیقی جوہر اسی کام کے ذریعے کھلتا ہے، اور اُس جوہر کی بدولت انسان نہ صرف حیوانوں کی سطح سے بلند ہوتاہے بلکہ اخلاقی اور روحانی رفعتوں میں فرشتوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ فرشتوں میں تو حیوانیت کا کوئی عنصر سرے سے ہوتا ہی نہیں، اس لیے وہ حسّی خواہشات کی لذت سے یکسر محروم ہوتے ہیں ، اور اس بناپر یہ خواہشات ان کے عمل کا کسی صورت بھی محرک نہیں بن سکتیں۔

انسان کی اصل انسانیت بلکہ اس کی حقیقی عظمت کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ وہ حسّی خواہشات اور مادّی تمنائوں کی قوت کو اپنے اندر محسوس کرنے کے باوجود اُنھیں اپنے آپ پر غالب نہ ہونے دے بلکہ اُنھیں اخلاقی احساسات کا پابند بنا کر تعمیروترقی کی راہ پر لگائے۔ انسانیت درحقیقت انسان کی اپنی حیوانیت پر اس کی اخلاقی حس اور اس کی رُوح کی فتح کا دوسرا نام ہے اور یہ فتح و کامرانی مذہبی تعلیمات ہی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

مذہب نے اخلاقی احساس کو نہ صرف پیدا کیا ہے بلکہ اس کی پرورش کا بھی انتظام کیا ہے۔ اس احساس کے تحت انسان خاکی ہونے کے باوجود وطن کا پرستار نہیں بنتا بلکہ انسانیت کی وسیع تر برادری سے رشتۂ اخوت استوار کرتا ہے۔ اسی احساس کی بدولت وہ مادی سود و زیاں سے بے پروا ہوکر زندگی کے بیش تر معاملات اخلاقی بنیادوں پر طے کرتا ہے۔ وہ اسی احساس کے تحت والدین کی عزّت و تکریم کرتا ہے۔ کمزوروں اور ناداروں پر دست ِ شفقت رکھتا ہے۔ بے سہارا لوگوں کو سہارا دیتا ہے، حالانکہ مادّی نقطۂ نظر سے یہ سراسر گھاٹے کے سودے ہیں۔

اسی احساس سے اس کے اندر استغناء، تحمل، بُردباری، ایثار جیسی بلندواعلیٰ صفات پرورش پاتی ہیں۔ پھر یہی احساس اس کے اندر اخلاص اور بے لوثی کی ایسی متاعِ عظیم پیدا کرتا ہے، جس کی رُو سے وہ اپنی ساری خدمات اور قربانیوں کے بدلے میں کسی دُنیوی فائدے یا شہرت یا عزّت کا طلب گار نہیں ہوتا بلکہ وہ یہ سارے کام خدا کی رضاجوئی کے مقدس جذبے سے کرتا ہے۔ خدا کی رضا کے لیے جینے اور مرنے کا عزم انسان کی پوری زندگی کو خداترسی کا نمونہ بناتا ہے اور انسان زندگی کے ہر چھوٹے بڑے کام کو بڑے اخلاص کے ساتھ سرانجام دیتا ہے۔ اس مقدس جذبے کی موجودگی انسان کے اندر دو رنگی اور منافقت ختم کردیتی ہے، اور انسان سراپا اخلاص بن جاتا ہے۔

مذہب،مذہبی احساسات و معتقدات انسان کی سب سے زیادہ قیمتی متاع ہیں۔ مگر افسوس کہ انسان ان کی اصل قدروقیمت سے ناآشنا ہوتا جارہا ہے۔ چونکہ مادّی ذرائع ووسائل کی فراوانی نے اس کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا ہے، اس لیے وہ اُس متاعِ عزیز سے غافل ہوگیا ہے، جس سے اس کی انسانیت وابستہ ہے۔

ہوا اور روشنی ہماری مادّی زندگی کے لیے جس قدر ضروری ہیں، اس سے سب واقف ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم ان کی پوری طرح قدر نہیں کرتے کیونکہ یہ ہمیں بغیر کسی تکلیف اور محنت کے میسر آجاتی ہیں۔ اسی طرح مذہب جو انسانیت کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے، اور جس پر اس کی اخلاقی اور روحانی زندگی کا سارا انحصار ہے، ہم اس کی غیرمعمولی اہمیت پہچاننے سے قاصر ہیں۔ جس طرح ہوا اور روشنی کی اصل قدر اس وقت معلوم ہوتی ہے، جب انسان اس سے محروم ہوجائے۔ اسی طرح مذہب کی حقیقی قدروقیمت کا انسانیت کو اس وقت اندازہ ہوگا، جب انسان اس گنجِ گراں مایہ سے بالکل تہی دست ہوجائے گا۔ اس وقت اُسے معلوم ہوگا کہ اس محرومی سے وہ درندگی کے کس پست مقام پر پہنچ چکا ہے۔

حیوانوں میں تو بعض ایسی جبلّتیں موجود ہیں، جن کی وجہ سے وہ مل کر زندگی بسر کرلیتے ہیں، مگر انسان میں یہ جبلّتیں بڑی کمزور ہیں اور ان کے مقابلے میں خود غرضی کے جذبات زیادہ طاقتور ہیں۔ اس لیے اس کے اندر اگر اخلاقی اور مذہبی احساسات باقی نہ رہے، تو وہ درندوں سے بھی زیادہ خونخوار ہوگا۔ خدا وہ دن نہ دکھائے کہ انسان مذہب کے شیریں اور حیات آفریں عنصر سے محروم ہوکر درندہ بن جائے، کیونکہ اگر اس مقام پر پہنچ گیا تو پھر دُنیا میں خیروبھلائی کا نام و نشان نہ رہے گا۔