یورپ کی نشاتِ ثانیہ کے دوران، سائنس کا مذہب سے تصادم ہوا ۔ دوسری جانب یہ بات ہر شک و شبہہ سے بالاتر ہے کہ علوم کے بارے میں قرآن کا بیان ناقابلِ انکار اور آخری حقیقت ہے: اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ۶۰ (اٰل عمرٰن۳: ۶۰) ’’یہ اصل حقیقت ہے جو تمھارے ربّ کی طرف سے بتائی جارہی ہے، اور تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو، جو اس میں شک کرتے ہیں‘‘۔آج دنیا میں کو ئی ایسا تجربہ اور مشاہدہ ،کوئی سائنسی تحقیق اور انکشاف ایسا سامنے نہیںآیا جو قرآن کے کسی پیش کردہ حقائق کی نفی کرسکے ۔جدید تحقیقات اور انکشافات نے قرآن کی حقانیت اور صداقت کو روزِ روشن کی طرح عیاں ہی کیا ہے۔قرآن میں جو باتیں چودہ سو سال پہلے کہی گئی تھیں،جدید تحقیقات اس کی حقانیت پر استدلال کر رہی ہیں۔ جیسے جیسے انسانی علوم میں اضافہ ہوتا رہے گا، یہ انکشافات قرآن کی صداقت پر شہادت دیتے رہیںگے۔قرآن نے آفاق و انفس کی نشانیاںبار بار پیش کی ہیںاور پھر تدبرو تفکر کی دعوت بھی دی ہے۔جب انسان اس کی کھوج لگانے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی قوانین فطرت کو دریافت کرتا ہے اور کبھی حیرت انگیز معلومات اس کے سامنے آتی ہیں۔
تفہیم القرآن کے تفسیری حواشی میں دیگر علوم کی طرح سائنس کی جدید تحقیقات سے بھی اس کا دامن بھرا پڑا ہے۔ مولانا مودودی نے بالواسطہ طور پر بہت سے اہم نفسیاتی حقائق اور رُموز کی نشان دہی کی ہے۔نفسیاتی اعتبار سے تفہیم القر آن کا سب سے اہم وصف یہ ہے کہ مولانا مودودی نے آثار النفس سے توحید و رسالت اور معاد (آخرت) جیسے اہم حقائق کی حقیقت کو منوایا ہے ۔ آثار النفس سے انھوں نے بار بار یہ ثابت کیا ہے کہ انسانی جسم کی ہیئت ترکیبی ،اور اس کی ساخت اس امر کی متقاضی ہے کہ انسانی ہدایت کا سامان بھی مہیا کیا جاتارہے۔ اس مقصد کے لیے انسانی جسم کو انھوں نے محکم دلیل کے طور پر بار بار پیش کیا ہے ۔
موجودہ ماہرین نفسیات میں سے اکثر کی نگاہ صرف انسانی جسم کے حیاتیاتی تقاضوںتک محدود رہی ،اور اسی وجہ سے وہ بہت سی کوتاہ اندیشیوںکا شکار ہوئے۔ پھر ڈارونیت سے متاثر مکاتب ِفکر کی سب سے بڑی کوتاہی یہ رہی ہے کہ انھوں نے انسان کے محض حیاتیاتی تقاضوں پر زور دیا ہے ،لیکن ان تقاضوں کے علاوہ انسان کی روحانی زندگی کے جو تقاضے ہیں،انھیں نظر انداز کیا ہے ۔مولانا مودودی نے ان روحانی تقاضوںکی طرف بڑے فکرانگیز انداز میں توجہ مبذول کروائی ہے، مثلاًسورۃ الرحمٰن (۵۵) میں انسانی جسم کی ساخت پر بحث کرتے ہوئے مولانا مودودی نے لکھا ہے:
انسان کے اپنے جسم کا ایک ایک رونگٹا اور ایک ایک خلیہ (cell)وہ کام سیکھ کر پیدا ہوا ہے جو اسے انسانی جسم میں انجام دیناہے۔پھر آخر انسان بجاے خود اپنے خالق کی تعلیم و رہنمائی سے بے نیاز یا محروم کیسے ہو سکتا ہے؟ (تفہیم القرآن ،۵، حاشیہ۲، ص ۲۴۹)
اس ذکر کے لیے مولانا مودودی نے قرآن کی چند آیات اس کی وضاحت کے لیے پیش کی ہیں کہ جن میں ان باتوں کو بخوبی بیان کیا گیا ہے :
علمِ نفسیات میں گویائی اور اکتسابی علم (Learning)پر خاصی طویل بحثیں موجود ہیں،لیکن مادہ پرست ذہنوں نے ان دو جوہری ماخذ کے مختلف پہلوئوں کا کما حقہ تجزیہ نہیں کیا۔قوت گویائی کے پیچھے عقل و شعور کی لامتناہی کڑیوں کی طرف بھی بہت کم ماہرین نفسیات نے توجہ دی ہے ۔ سورۂ رحمٰن میں عَلَّمَہُ الْبَیَانَ (اور اسے بولنا سکھایا)کے الفاظ پر بحث کرتے ہوئے مولانا مودودی نے اس انسانی جوہر کے بہت سے مضمرات کو بھی اجاگر کیا ہے ۔مثال کے طور پر:
یہ محض قوت گویائی ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے عقل و شعور ،فہم و ادراک ،تمیزو ارادہ، اور دوسری ذہنی قوتیں کارفرماہوتی ہیں، جن کے بغیرانسان کی قوتِ ناطقہ کام نہیں کرسکتی۔ اس لیے بولنا دراصل انسان کے ذی شعوراور ذی اختیار مخلوق ہونے کی صریح علامت ہے۔ اور یہ امتیازی وصف جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمایا تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے تعلیم کی نوعیت بھی وہ نہیں ہو سکتی، جو بے شعور اور بے اختیار مخلوق کی رہنمائی کے لیے موزوں ہے ۔(تفہیم ،۵، حاشیہ۳، ص ۲۴۹)
انسان کے ذی شعور اور ذی اختیار ہونے کی توضیح و توجیہہ مولانا مودودی نے تخلیق آدم کی طرف توجہ دلانے والی آیات سے بھی کی ہے۔ مثال کے طور پر سورۃ السجدہ کی آیات کی تشریح کرتے ہوئے وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ (اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی۔ السجدہ ۳۲:۹) کے الفاظ کی مولانا نے بڑی معنی خیز وضاحت کی ہے :
’روح‘ سے مراد محض وہ زندگی نہیں ہے، جس کی بدولت ایک ذی حیات جسم کی مشین متحرک ہوتی ہے ،بلکہ اس سے مراد وہ خاص جوہر ہے جو فکر وشعور اور عقل و تمیز اور فیصلہ و اختیار کا حامل ہوتا ہے ۔جس کی بدولت انسان تمام دوسری مخلوقات ارضی سے ممتاز ایک صاحب ِشخصیت ہستی ،صاحب ِاَنا ہستی ،اور حاملِ خلافت ہستی بنتا ہے ۔اس روح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی روح یا تو اس معنی میں فرمایا ہے کہ وہ اسی کی مِلک ہے اور اس کی ذات پاک کی طرف اس کا انتساب اسی طرح کا ہے، جس طرح ایک چیز اپنے مالک کی طرف منسوب ہوکر اس کی چیز کہلاتی ہے ،یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر علم،فکر، شعور ،ارادہ ،فیصلہ ،اختیار اور ایسے ہی دوسرے جو اوصاف پیدا ہوئے ہیں، وہ سب اللہ تعالیٰ کی صفات کے پر تَو ہیں۔ان کا سر چشمہ مادّے کی کوئی ترکیب نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔اللہ کے علم سے اس کو علم ملا ہے ،اللہ کی حکمت سے اس کو دانائی ملی ہے ،اللہ کے اختیار سے اس کو اختیار ملا ہے۔یہ اوصاف کسی بے علم، بے دانش، اور بے اختیار ماخذ سے انسان کے اندر نہیں آئے ہیں۔(تفہیم ،۴، حاشیہ۱۶، ص ۴۱)
انسانی جسم کی ساخت اور تخلیقِ آدم کا یہ تصور علم النفس میں ایک ہمہ گیر انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔جدید علم نفسیات کی کوتاہیوں اور گمراہیوں کا سر چشمہ وہ مادی اور میکانکی تصورِ حیات ہے،جس کی فکری بنیادیں ڈارون [م: ۱۸۸۲ء]اور ہربرٹ سپنسر [م: ۱۹۰۳ء]کے نظریات پر استوار ہیں۔ان نظریات سے انسانی زندگی کا یہ تصور ابھرتا ہے کہ انسانی شعور کے نام کی کوئی چیز انسان کو حاصل نہیں اور اگر حاصل ہے بھی تو اس کا وجود اور عدم وجود دونوں بے معنی اور بے سود ہیں،کیوںکہ اس کا انسانی زندگی میں کوئی دخل نہیں۔انسان کے بارے میں سگمنڈ فرائڈ [م:۱۹۳۹ء] نے اپنے تصور وافکار کی عمارت اٹھائی اور انسان کو میکانکی قوانین اور شعوری محرکات کے جبر کی محسوس اور غیر محسوس زنجیروں میںجکڑا ہوا دکھایا۔ مولانا مودودی نے اس میکانکی تصورِ حیات اور تصورِ شعور کی قرآن حکیم کی روشنی میں تردید کی ہے اور اس کے مہلک اثرات کا جائزہ لیا ہے ۔اس تصور حیات سے انسانی زندگی جس سانچے میں ڈھلتی ہے، اس کی اجمالی تصویر سورۃ الاعراف کی اس آیت کی تشریح میں پیش کی ہے ،جہاں پر وحی کی روشنی سے بے نیاز ہوکر جینے والوں کی زندگی کو کتّے کی زندگی سے تشبیہہ دی گئی ہے۔
دوسری جگہ مولانا مودودی نے انسانی زندگی میں وحی اور ہدایت کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے انسانی فطرت کے اس جوہر کو اُجاگر کیا ہے جسے قرآن حکیم نے ’نفسِ لوامہ‘ کہاہے ۔ ’نفسِ لوامہ‘ پر سبھی مفسرین نے بحث کی ہے اور تصوف میں نفس کی تین اقسام کا ذکر بڑی تفصیل سے موجود ہے۔ مولانا مودودی کا علمی کمال یہ ہے کہ انھوں نے ’نفسِ لوامہ‘ سے معاد پر بھی استنباط کیا ہے۔ مولانا مودودی نے اس لطیف نکتے کی وضاحت یوں فرمائی ہے:
اب اگر انسان کے وجود میں اس طرح کے ایک ’نفسِ لوامہ‘ کی موجودگی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے، تو پھر یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ یہی ’نفسِ لوامہ‘ زندگی بعد موت کی ایک ایسی شہادت ہے، جو خود انسان کی فطرت میں موجود ہے۔کیوںکہ فطرت کا یہ تقاضا کہ اپنے جن اچھے اور برے اعمال کا انسان ذمہ دار ہے، ان کی سزا یا جزا اسے ضرور ملنی چاہیے،زندگی بعد موت کے سوا کسی دوسری صورت میں پورا نہیں ہوسکتا۔ (تفہیم ،۶، حاشیہ۲، ص ۱۶۳)
’نفسِ لوامہ‘ سے آخرت پر استدلال کے علاوہ مولانا نے ’نفسِ لوامہ‘ کی وضاحت بھی بڑے فکر انگیز انداز میں کی ہے ۔ سورۂ قیامہ:۷۵،سورئہ دہر:۷۶ اور سورۂ شمس:۹۱ میں ’نفسِ لوامہ‘ سے انسانی فطرت کے پہلوئو ں کو واضح کیا گیا ہے ۔اسی طرح مولانا مودودی نے ’سواء السبیل‘کی اصطلاح پر جو اظہار خیال کیا ہے وہ بھی نفسیاتی مباحث میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ’نفسِ لوامہ‘ اور ’سواء السبیل‘دراصل دونوں لازم و ملزوم ہیں۔(دیکھیے: تفہیم القرآن،اوّل، سورئہ مائدہ ۵، حاشیہ ۳۵، ص ۴۵۲-۴۵۴)
انسانی فطرت میں ’نفس لوامہ‘ اور’سواء السبیل‘کی وجہ سے راہ راست کے داعیہ کی نشان دہی کے علاوہ مولانامودودی نےقَالُوا بَلٰیکے مفاہیم کی وسعتوں کو واضح کرکے انسانی فطرت کے بہت اہم گوشوں کو اجاگر کیا ہے۔ ان گوشوں کی روشنی میں کارل ژنگ [م:۱۹۶۱ء] کے نقوشِ اولین (Archetypes) کے تصور کا اگر تنقیدی جائزہ لیا جائے،تو قرآن میں انسانی نفسیات کے بہت سے ایسے پہلو سامنے آتے ہیں،جن پر اب تک بہت کم توجہ دی گئی ہے ۔ابن عربی کے اعیان ثابتہ کے تصور کو ان مباحث کی مدد سے زیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مولانا مودودی نے میثاق کے نقش کی اہمیت کے بارے میں لکھا ہے :
اس نقش کو شعور وحافظہ میں تازہ تو نہیں رکھا گیا ،لیکن وہ تحت الشعور (subconscious mind) اوروجدان(Intuition)میں یقینا محفوظ ہے۔اس کا حال وہی ہے جو ہمارے تمام دوسرے تحت الشعوری اور وجدانی علوم کا حال ہے۔تہذیب و تمدن اور اخلاق و معاملات کے تمام شعبوںمیں انسان سے آج تک جو کچھ بھی ظہور میں آیا ہے، وہ سب درحقیقت انسان کے اندر بالقوۃ (potentially) موجودتھا ۔خارجی محرکات اور داخلی تحریکات نے مل جل کر اگر کچھ کیا ہے تو صرف اتنا کہ جو کچھ بالقوۃ موجود تھا اسے بالفعل کردیا ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی تعلیم ،کوئی تربیت،کوئی ماحولی تاثیر اور کوئی داخلی تحریک انسان کے اندر کوئی چیز بھی، جو اس کے اندر بالقوۃموجود نہ ہو، ہرگز پیدا نہیں کرسکتی۔اور اسی طرح یہ سب مؤثرات اگر اپناتمام زور بھی صرف کردیں تو ان میں یہ طاقت نہیںہے کہ ان چیزوںمیں سے، جو انسان کے اندر بالقوۃ موجود ہیں،کسی چیز کو قطعی محو کردیں۔زیادہ سے زیادہ جو کچھ وہ کرسکتے ہیں،وہ صرف یہ ہے کہ اسے اصل فطرت سے منحرف (pervert)کردیں۔ لیکن وہ چیز تمام تحریفات کے باوجود اندر موجود رہے گی، ظہور میں آنے کے لیے زور لگاتی رہے گی، اور خارجی اپیل کا جواب دینے کے لیے مستعد رہے گی ۔(تفہیم ،۲، حاشیہ ۱۳۵، ص ۹۸)
مولانا مودودی نے انسانی فطرت کی اصل افتاد اور اس کے داعیات کی وضاحت کے ساتھ ساتھ انسانی شخصیت کے تصادموں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ سورۂ اعراف میں حبوط آدم سے متعلقہ آیات کی توضیح کرتے ہوئے نفس انسانی کی ترغیبات کا ذکر مولانانے تفصیل سے پیش کیا ہے ۔اس تفصیل کی مددسے انسانی شخصیت کے تصادمات کو گرفت میں لیا جا سکتا ہے۔ اجتماعی نفسیات سے متعلق امور کا ذکر بھی مولانا مودودی نے تفہیم القرآن میں جابجا کیا ہے۔
مثال کے طور پر سودکے ہمہ گیر اثرات کو مولانا مودودی نے بڑے عمدہ انداز میںپیش کیا ہے ۔اس بحث میں سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی کوتاہی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ سود کے علاوہ اباحیت مطلقہ اور زنا کے اثرات پر مولانا مودودی نے سورئہ نور پر بحث کی ہے ۔وہ ان تمام خرابیوں کو سامنے لاتے ہیں، جو اُس معاشرے میں فروغ پاتی ہیں،جہاں جنسی خرابیوں کے بارے میں مداہنت (compromise) کی روش موجود ہو۔ سود ،زنا کے علاوہ سورۂ بنی اسرائیل میں انسانی اجتماعی نفسیات کو سمو دیا ہے۔ اسی طرح انھوں نے تین بنیادی خرابیوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ فحش ،منکر اور بغی ،جن سے ہلاکت پیدا ہوتی ہے اور پھر وہ اجتماعی خوبیاںجن سے معاشرہ فردوس بہ داماں بنتا ہے،گویا اجتماعی انسانی نفسیات کا ایک عمدہ خاکہ تفہیم القرآن کی مدد سے تیار کیا جا سکتا ہے ۔
اسماعیل راجی الفاروقی [یکم جنوری ۱۹۲۱ء، جافا، فلسطین ۔ شہادت:۲۷مئی ۱۹۸۶ء، ونکوٹ، امریکا] عالم اسلام کی ان عظیم ہستیوں میں سے ہیں، جنھوں نے غلبۂ اسلام کے لیے منتشر شیرازے کو منظم کرنے کی کوشش کی، حالات کا تجزیہ کیا اور امت مسلمہ کو ان کی اصل پر لانے کے لیے خاکہ سازی کی کہ تاریخ کااصول ہے:’’خدا اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک کہ وہ خود اپنی حالت نہ بدلے‘‘۔
قرآن کے اس اعلان کی روشنی میں الفاروقی نے محسوس کیا کہ اُمت مسلمہ موجودہ دور میں بے بسی اوربے چارگی کے دور سے گزر رہی ہے اور مصائب نے لوگوں کے حوصلے پست کردیے ہیں۔دیگر نظا م کی بالا دستی نے بے اعتمادی کی فضا پیدا کردی ہے، اجنبی تہذیبوں کی دوڑ ہر میدان میں دکھائی دے رہی ہے، انگریزی اورفرانسیسی زبانوں کی مقبولیت تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے، مختلف پروگراموں اورمعاشی وسیاسی سرگرمیوں میںا س کا اثر دیکھنے کو مل رہاہے۔ اگر ان حالات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہماری نگاہ تعلیمی نظام پر جاکر ٹھیر جاتی ہے جو دومتضاد رویوں کا شکار ہے۔ جس کے نتیجے میںدیگر تہذیبوں کے اثرات نے مسلم معاشرے کارخ اپنی جانب بہت تیزی سے موڑا اور پوری طرح اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کی اورمسلم معاشرہ اسلام سے دُور ہوتا چلاگیا۔ اسلامی فکروعمل پر غیر اسلامی افکار وخیالات کاغلبہ نظرآنے لگا اوریوں اُمت مسلمہ اندرونی کرب وبے چینی کا شکار ہوگئی۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس تہذیبی تباہی کو لانے اور حالات کا رُخ مغربی اقوام کی طرف موڑنے میں جوچیز سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی، وہ تعلیمی نظام تھا، جو دوحصوں پر منقسم تھا: ایک حصہ اسلامی علوم پر مشتمل تھا اور دوسراجدید علوم پر مشتمل۔ ابتدائی مدارس کے ماحول کی وجہ سے دل تو اسلام کی جانب مائل رہتا،مگر دماغ اورشعور بہ تدریج اعلیٰ جدید تعلیم کے ذریعے متاثر ہوجاتا، جس کا مقصد مغربی افکار ونظریات کو پروان چڑھانا اورمحض مادی خواہشات کی تکمیل تھا۔
راجی الفاروقی نے تعلیم کی اسی تقسیم کو مسلمانوں کے زوال کا سب سے بڑا سبب قراردیا کیوں کہ علوم کا دوخانوں میں بٹوارہ کسی بھی صور ت میں امت کی تشکیلِ نو کے لیے کارگر ثابت نہیں ہوسکتا اوراس نظام کے تحت امت اپنے فرض کو پوراکرنے پرقادر نہیں ہوسکتی۔
مسلم امت کے زوال کے اسباب کو جاننے اورسمجھنے کی سعی دیگر مسلم مفکرین سرسیداحمد خاں اور محمد عبدہٗ وغیرہ نے بھی کی اورانھوںنے یہ حل نکالا کہ: ’’تعلیمی نظا م میں تجدید کی آمیزش سے نظامِ تعلیم کی اصلاح ہوسکتی ہے اورمسلم قو م ترقی کی منازل طے کرسکتی ہے‘‘۔ راجی الفاروقی نے مذکورہ حضرات کی تجدیدی فکر اوران کی کاوشوں پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے :
’’ ماضی میں کچھ مسلمان دانش وروں نے اسلامی نظام تعلیم کی اصلاح کی یہ صورت نکالی کہ اس کے نصاب میں اجنبی افکار سے مستعار لی ہوئی چیزوں کی پیوندکاری کردی جائے۔ سرسید احمد خاں اور محمد عبدہٗ اسی طرزِ فکر کی حامل شخصیتیں ہیں۔ اسی انداز فکر پر عمل کرتے ہوئے جمال عبدالناصر نے مضبوط اسلامی قلعہ جامعۃ الازہر کو ۱۹۶۱ء میں ایک جدید یونی ورسٹی میں تبدیل کردیا۔ اس تجدیدی فکر کی پوری عمار ت اس مفروضے پر قائم کی گئی تھی کہ نام نہاد جدید علوم بے ضرر ہیں۔ اس نکتے پر کم ہی توجہ دی گئی کہ اجنبی ادبیات، معاشرتی علوم اورسائنسی علوم وغیرہ زندگی، کائنات اور تاریخ کے ایک منضبط نظریے کے مختلف پہلوہیں، جو اسلام کے لیے قطعاً بیگانہ ہیں۔ یہ لوگ اس لطیف مگر لازمی تعلق کو شاید ہی سمجھ سکے ہوں جو ان علوم کے طریقہ ہاے تنظیم اور نظریہ ہاے صداقت اورعلم کو اجنبی دنیا کے نظامِ اقدار کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ اسی سبب سے ان کے اقدامات کچھ مثبت نتائج پید انہ کرسکے ‘‘۔
آگے چل کر راجی الفاروقی نے اس نظامِ تعلیم کے نقصانات کوا ن الفاظ میں بیان کیا ہے :
’’ایک جانب اسلامی علوم کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا اور دوسری جانب جدید علوم کا اضافہ بھی وہ عظمت نہ بخش سکا جواس نے اپنے موجدوں کواپنے اصل وطن میں بخشی تھی، بلکہ توقع کے بالکل برخلاف اس طرز فکر وعمل نے مسلمانوں کو اجنبی تحقیق اور قیادت کا محتاج ضرور بنادیا۔ معروضی طرزِ فکر کے بلند بانگ دعووں کے بل بوتے پر جدید فکر نے مسلمانوں سے ان اسلامی عقائد کے منافی افکار کو تسلیم کراکے چھوڑ ا جوترقی کے علَم برداروں کے نزدیک رجعت پسندی اورقدامت پرستی کا دوسرا نام تھا‘‘۔
راجی الفاروقی نے تعلیمی اصلاح کے لیے جو تصور پیش کیا، اس کا دائرۂ کار انتہائی وسیع ہے۔ آپ کے خیال میں علوم اسلامی میں علوم جدیدہ کی آمیزش سے بہتر ہے کہ علوم جدیدہ کی اسلامی تشکیلِ نو کی جائے ۔آپ کاخیال ہے کہ:
ادبی، معاشرتی اورطبعی علوم کی تفہیم وتشکیلِ نو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اب علوم کو لازمی طورپر اسلامی بنیادفراہم کی جانی چاہیے اوراسلامی طرزِ فکر سے ہم آہنگ مقاصد کاان کو پابند کیا جانا چاہیے۔ ہرشعبۂ علم یا مضمون کی تدوینِ نو کی جانی چاہیے، تاکہ اس کی منہاجیات،حکمت ِعملی ،بنیادی مفروضات ، مقاصد اورمسائل کو حل کرنے کے طریقوں میں اسلامی اصولوں کو سمویا جاسکے۔ ہر مضمون کی نئی صورت گری اس طور ہونی چاہیے کہ اس کا تعلق اسلام کے نظام اقدا رسے استوار ہوجائے ۔
اگر ہم مسلمانوں کے علمی ارتقا کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتاہے کہ زوال کے اس عہد سے پہلے علوم میں ترقی اوروسعت کا سہرامسلمانوں کے سرہے۔ انھوں نے تمام علوم کو اسلامی نظریے اور اقدار سے مربوط کرکے اسلامی مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کیا، لیکن افسوس ہماری غفلت کے سبب غیر مسلموں نے مسلمانوں کے علمی ورثے میں اپنے نظریات شامل کرکے اپنے مفاد اورمقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا اورآہستہ آہستہ پوری طرح قابض ہوگئے۔موجودہ وقت میں عالم اسلام کے تمام تعلیمی اداروں میںیہی غیر اسلامی کتب ونظریات مسلم طلبہ و طالبات کوپڑھائے جارہے ہیں۔ اس وقت عالم اسلام میں تعلیم کی حالت بہت تشویش ناک ہے، اس لیے مسلم مفکرین اور دانش ورحضرات کو نوجوان نسل کی اسلامی ذہن سازی کے لیے سخت جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ علمی زوال کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں روشنی کی ایک کرن راجی الفاروقی کی شکل میںنمودا رہوئی، جنھوںنے حالات کا رخ بدلنے اوراسلامی آفاقی نظریہ قائم کرنے کے لیے چند مقاصد بیان کیے ہیں:
ان مقاصد کے حصول کے لیے آپ نے درجِ ذیل اقدامات کی جانب رہنمائی کی ہے :
ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ (۱۹۰۸ء-۲۰۰۲ء) اسلام کے بطلِ جلیل، جنھوں نے اپنی ساری زندگی، توانائی اور صلاحیتیں دین و علم کی اشاعت اور خدمت کے لیے وقف کردی۔ تحصیل علم کے بعد قلم و قرطاس سے جو رشتہ و تعلق قائم ہوا وہ تادمِ آخر برقرار رہا۔ انھوں نے بلامبالغہ اس قدر لکھا اور پڑھا کہ اس کا احاطہ آسانی سے ممکن نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے زندگی کے آخری برسوں میں دیارِ مغرب خصوصاً فرانس کے غیر مسلموں کے تاریک سینوں کو دینِ اسلام کے نور سے منور کرنے اور انھیں مشرف بہ اسلام کرنے کو اپنی زندگی کا مشن بنالیا تھا۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب کی دینی، علمی اور تحقیقی سرگرمیوں اور دل چسپیوں کا میدان وسیع اور متنوع تھا۔ انھوں نے قرآن، علم القرآن، حدیث، فقہ، سیرت رسولؐ اور اسلامی تاریخ و قانون پر گراںقدر علمی سرمایہ چھوڑا ہے۔ اہل علم و دانش میں سے کسی کے نزدیک وہ ایک بلند پایہ سیرت نگار تھے تو کسی کے نزدیک ماہر قانونِ اسلام وفقہ، اور کوئی ڈاکٹر صاحب کے کثرتِ مطالعہ اور قوتِ مشاہدہ کا معترف ہے تو کوئی ان کی تحقیقی و تخلیقی صلاحیت کا قدر دان۔ڈاکٹر صاحب کی ۹۵ سالہ طویل زندگی اور کثیرالجہت سیرت و شخصیت اور کمالات و افادات کا جائزہ و احاطہ ایک نشست میں ممکن نہیں، تاہم ان کے انتقال کے بعد اُردو میں ان کی جو تالیفات و تصنیفات سامنے آئی ہیں، اس مضمون میں اس کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوام عالم میں قانونِ بین الممالک کی اہمیت کا شدت سے احساس پیدا ہوا۔ چنانچہ اقوام متحدہ کے قیام کے ساتھ ہی ایک منشور ترتیب دیا گیا، جس میں باہمی تعلقات کی استواری اور دوسرے مسائل اور نزاعات کے حل کے لیے قوانین وضع کیے گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے اقوام متحدہ کے اس منشور کو بھی اردو میں منتقل کیا۔ (ڈاکٹر حمید اللہ، خطبات بہاو ل پور، ص ۱۱۵)
علامہ ابنِ القیم کی کتاب احکام اہل الذمہ ڈاکٹر صجی الصالح کی تحقیق سے شائع ہوئی۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے اس پر جو پُرمغز مقدمہ لکھا، وہ بھی اُن کے قانون بین الاقوامی کے شعور کا غماز ہے۔ اس میں انھوں نے اسلام کے ملکی اور بین الاقوامی قوانین، غیر مسلم حکومتوں سے تعلقات اور ’اہل ذمہ‘ کے حقوق و معاملات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس موضوع پر قدما میں امام سرخسی کی شرح الکبیر معرکہ آرا کتاب ہے۔ دراصل اس میں صلح و جنگ کے طریقے، غیر مسلم اقوام سے تعلقات اور تجارت وغیرہ پر بحث کی گئی ہے۔ اسلام کے بین الاقوامی قانون کو جاننے کے لیے یہ کتاب بہت اہم ہے۔ امام سرخسی کے زمانے میں، جب کہ صلیبی جنگیں لڑی جارہی تھیں، بین الاقوامی تعلقات اور بین الاقوامی قوانین یقینا زیر بحث رہے ہوں گے۔ اس وقت کے اہم تقاضے کو امام سرخسی نے اس طرح پورا کیا کہ امام محمد کی کتاب کتاب السیر کی شرح لکھوائی۔یہ شرح جو کئی جلدوں پر مشتمل ہے حیدر آباد دکن اور مصر سے کئی بار شائع ہوچکی ہے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر یونیسکو (UNESCO) نے اسے فرانسیسی زبان میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ چنانچہ یہ کام بھی ڈاکٹر صاحب کے قلم سے پایۂ تکمیل کو پہنچا۔{ FR 644 } تاہم یہ کتاب بہ زبان فرانسیسی ابھی تک شائع نہیں ہوسکی۔
اسی حوالے سے ڈاکٹر حمید اللہ کی دو حصوں پر مشتمل ایک اور اہم تصنیف الوثائق السیاسیۃ فی العھد النبوی و الخلافۃ الراشدہ ہے۔ اس کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکتوبات اور ان کے دریافت جوابات، فرامین، معاہدے، دعوت اسلامی، عمّال کا تقرر، اراضی کے عطیات، آمان نامے، وصیت نامے وغیرہ شامل ہیں۔ دوسرے حصے میں عہدِخلافتِ راشدہ کی دستاویزات کو یک جا کیا گیا ہے۔ (خطبات بہاولپور، ص ۱۱۸)
اس موضوع پر ڈاکٹر حمید اللہ کی ایک اور اہم کتاب The Muslim Conduct of State ہے۔ اس میں قانون بین الممالک کی غرض، اساس اور اس کے ماخذ سے بحث کی گئی ہے اور ماقبل اسلام قانون بین الممالک کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ موضوع کے دوسرے گوشوں، مثلاً آزادی، اختیارات، سفارت، جنگ، بغاوت، ڈاکا زنی، جنگی قیدیوں اور دشمنوں کے ساتھ سلوک، فوج میں مسلم خواتین وغیرہ جیسے موضوعات پر ڈاکٹر صاحب نے نہایت عمدہ بحث و تحقیق پیش کی ہے۔ اس کے بارے میں مولانا ابو الجلال ندوی رقم طراز ہیں:’’مسلمانوں کے بین الاقوامی آئین پر یہ پہلی کتاب ہے جو اس زمانے کی ضرورتوں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے لکھی گئی ہے۔ تنگ اور محدود نسلی اور جغرافیائی قومیت کی پیدا کر دہ عالم گیر کش مکش کی وجہ سے اب دنیا کا رجحان بین الاقوامیت کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ وسعت صرف اسلام ہی میں مل سکتی ہے، اس لیے اسلام کے بین الاقوامی قوانین کو پیش کرنا ایک بڑی خدمت ہے‘‘۔
اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کتاب کے اب تک بارہ ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ ترکی زبان میں اس کا ترجمہ بھی ہوا۔ یہ کتاب، پاکستان، بھارت اور ترکی کے علاوہ جرمنی سے بھی شائع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس کے ہر ایڈیشن میں اضافے اور نظرثانی کرکے اُسے پہلے سے بہتر بناتے رہے۔
ڈاکٹر صاحب کی ایک اور کتاب First Written Constitution in the World ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ’میثاق مدینہ‘ پر سیرحاصل بحث کرتے ہوئے اُسے ’پہلا عالمی دستور‘ قرار دیا گیا ہے اور مدلل انداز میں ثابت کیا ہے کہ یہ پہلا کثیر قومی و نسلی اور مذہبی وفاق تھا۔ اس سلسلے کی ایک اور انگریزی کتاب The Prophet Establishing (پاکستان ہجرہ کونسل، اسلام آباد، ۱۹۸۸ء)بھی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی بعض کتابیں بظاہر سیرت پر ہیں، مثلاً رسولِ اکرمؐ کی سیاسی زندگی، عہدنبویؐ کے میدان جنگ، اور عہدنبویؐ میں نظامِ حکمرانی وغیرہ، مگر ان میں بھی قانون بین الممالک کے مختلف پہلوئوں پر بحث کی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کا انداز محققانہ اور مدلل ہے۔ ان کی تمام تحریریں اس کا ثبوت ہیں۔ خاص طور پر قانون بین الممالک کے میدان میں ان کا کام اپنے ہم عصر مفکرین میں نہایت منفرد ہے۔ انھوں نے قدیم نظریۂ سیر میں اضافے کیے ہیں اور اسلامی قانون بین الممالک کے ارتقا اور اس کی تشکیل نو میں ان کا کردار بڑا کلیدی ہے۔ اس کی تصدیق ان کی تحریروں اور خطبات سے ہوتی ہے، جنھیں درج ذیل نکات کی صورت میں سمیٹا جاسکتاہے:
امام ابو حنیفہ کے تین اور شاگردوں نے علم السیر کے موضوع پر کتابیں لکھیں۔ ان میں امام محمد الشیبانیؒ، امام زفرؒ اور فزاریؒ کے نام شامل ہیں۔ اول الذکرنے اس موضوع پر دو کتابیں لکھیں:۱- کتاب السیر الکبیر، ۲-کتاب السیر الصفیر۔
اول الذکر کی شرح پانچویں صدی ہجری کے مشہور حنفی فقیہ امام سرخسیؒ نے کی۔ آج دنیا میں اس موضوع پر محفوظ رہ جانے والی اور شائع ہونے والی قدیم ترین کتاب یہی شرح السیر الکبیر ہے۔ بعض اور ممتاز فقہا اور علما نے اس موضوع پر کام کیا، چنانچہ امام مالکؒ (م:۱۷۹ھ؍۷۹۵ء) نے بھی کتاب السیر کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ یہ کتاب اب ناپید ہے۔ اسی طرح ان کے ایک اور معاصر مؤرخ واقدی نے بھی کتاب السیر کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ وہ بھی اب نایاب ہے۔ تاہم، امام شافعیؒ کی کتاب الام میں ’سیر الواقدی‘ کے عنوان سے ایک طویل اقتباس شامل ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ علم السیر پر لکھی جانے والی ان کتابوں اور رسائل کو ابتدائی اور آخری قرار دیتے ہیں۔ یعنی ایک خاص زمانے میں کسی خاص ضرورت سے مستقل کتابیں لکھی جانے لگیں۔ پھر اس کے بعد شاید ضرورت نہ رہی اور یہ سلسلہ بند ہوگیا۔ لیکن اس علم سے مسلمانوں کی دل چسپی برابر قائم رہی۔ وہ اس طرح کہ فقہ کی جتنی کتابیں ابتدا سے لے کر آج تک لکھی گئی ہیں، ان سب میں کتاب السیر کا باب ضرور ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ سترھویں صدی عیسوی میں مرتب کی جانے والی فتاویٰ عالم گیری میں بھی اس پر ایک باب ہے۔
ڈاکٹر حمید اللہ عصرحاضر میں مسلمانوں میں قانون بین الممالک کے پہلے ایسے ماہر ہیں، جنھوں نے مختلف زبانوں سے واقفیت کے سبب، مختلف قدیم، جدید قوموں اور ملکوں کے بین الممالک اصول و تصورات اور قوانین کا مطالعہ کیا اور کتابیں و مقالات قلم بند کیے۔ وہ مغرب کے قدیم و جدید قوانین بین الممالک سے اسلام کے قوانین بین الممالک کا بعض مقامات پر موازنہ و مقابلہ کرکے واضح کیا کہ اسلامی قوانین ہر لحاظ سے بہتر ہیں۔ وہ قانون بین الممالک کی تشریح میں مغرب اور امریکا کے ساتھ تاریخ اسلام اور فقہ اسلامی سے بھی استدلال کرتے ہیں، کیوں کہ وہ خوب واقف ہیں کہ مغربی اہل قلم عموماً اسلامی تاریخ کے محاسن کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ڈاکٹر حمید اللہ چوںکہ مستشرقین کے طریق عمل و تحقیق سے خوب واقف تھے، اس لیے وہ دلائل و براہین کے ساتھ ابتدائی مآخذ کے حوالے دے کر یورپ کے پیمانۂ تحقیق ہی کے مطابق ان کو جوابات دیتے ہیں۔
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے بقول:’’ڈاکٹر محمد حمید اللہ کو بلاخوف و خطر دور جدید میں اسلام کے بین الاقوامی قانون کا مجدّد اور مؤسسِ نوقرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر امام محمد بن حسن شیبانی قدیم علم السیر کے مؤسسِ اوّل اور مدون ہیں تو ڈاکٹر حمید اللہ یقینا جدید بین الاقوامی اسلامی قانون کے مؤسس و مدوّن ہیں اور ۲۰ویں صدی کے شیبانی کہلائے جانے کے بجا طور پر مستحق ہیں‘‘۔
’راہِ اعتدال‘ اسلام کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ اس کو ’توازن‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ یعنی دو متقابل (متوازی) یا متضاد (مخالف) چیزوں کے درمیان ’اعتدال‘ کا اس طرح پایا جاناکہ ان میں سے ایک زیادہ توجہ پالینے کی بنا پر منفرد اور نمایاں نظر نہ آئے اور اس کی مقابل چیز نظرانداز ہو کر نہ رہ جائے۔متقابل اور متضاد چیزوں کو مثال کے طور پر یوں سمجھا جا سکتا ہے: ربوبیت اور انسانیت، روحانیت اور مادّیت، اُخرویت اور دُنیویت، وحی اور عقل، ماضی اور مستقبل، انفرادیت اور اجتماعیت، ثبات اور تغیر وغیرہ ۔ان کے درمیان توازن سے مراد یہ ہے کہ ہرایک کے دائرے اور حدود کو تنگ اور محدود نہ کیا جائے بلکہ کشادہ اور وسیع رکھا جائے اور ’عدل‘ کے ساتھ اُس کا حق دیا جائے۔ کسی کے حق میں کوئی کمی ہو، نہ حد سے تجاوز، نہ مبالغہ ہو، نہ تقصیر اور نہ ظلم و زیادتی ۔
اللہ کی پیدا کردہ اس کائنات میں ہم اپنے گردوپیش پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں رات اور دن، تاریکی اور روشنی، گرمی اور سردی، خشکی اور سمندر اور دیگر بے شمار مخلوقات دکھائی دیتی ہیں، اور یہ سب ایک حساب، میزان اور حدود کی پابند نظر آتی ہیں۔ کوئی چیز مقابل اور متوازی چیز پر زیادتی کرسکتی ہے اور نہ اپنی مقررہ حدود سے تجاوز کر سکتی ہے۔ آسمان پر سورج، چاند اور تارے وسیع و عریض فضا کے اندر اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں۔ کوئی دوسرے سے تصادم نہیں کرتا اور اپنے دائرے اور حدود سے نہیں نکلتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے۔(القمر۵۴:۴۹)
تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پائو گے۔(الملک۶۷:۳)
نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے۔ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔ (یٰس۳۶:۴۰)
آسمان کو اُس نے بلند کیااور میزان قائم کر دی۔ (الرحمٰن۵۵:۷)
توازن اور عدل درحقیقت انسان کے بس سے باہر ہے۔ اس لیے کہ اُس کی عقل اور علم محدود ہے۔ ذاتی و خاندانی، نسلی اور قومی میلانات اور جذبات و احساسات سے وہ متاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کا وضع کردہ کوئی نظام و قانون خواہ وہ ایک فرد نے تشکیل دیا ہو، یا انسانوں کے کسی گروہ نے، افراط و تفریط سے کبھی خالی نہیں ہو سکتا۔ ماضی اور حال کا مطالعہ اس بات کی تائید کرتا ہے۔
یہ توازن اور میزان قائم کرنے اور جاری رکھنے کا حق صرف اُسی ذات کو حاصل ہے جو کائنات کے اندر مادی و معنوی ہر شے عطا کرنے والی ہے۔ وہ اللہ وحدہ لاشریک ہے جس نے ہرچیز کو درست تقدیر کے ساتھ پیدا کیا۔ پھروہ ذات ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، باخبر ہے اور اس نے اپنی رحمت اور علم کا سایہ ہر شے کے اوپر پھیلا رکھا ہے۔ یہ بات نہایت نامناسب اور نامعقول ہو گی کہ کائنات کی تخلیق اور اس نظام کے جاری و ساری رہنے میں تو اللہ کا قائم کردہ توازن موجود ہو، مگر انسانوں کو عطا کیے گئے دین و ہدایتِ حق میں یہ توازن موجود نہ ہو۔
اعتدال و توازن کے اس مفہوم و معنی کی روشنی میں عملی اور نظریاتی، تربیتی اور قانونی، غرض اسلام کی ہر تعلیم اور ہر حکم میں اعتدال موجود ہے۔ اسلام عقیدہ و نظریہ، عبادات و شعائر، اخلاق و آداب اور قانون و نظام میں معتدل ہے۔
عقیدے و نظریے کے اعتبار سے انسانوں کے متعدد گروہ ہیں۔ ہر گروہ کسی نہ کسی لحاظ سے اعتدال اور توسط سے دور ہے۔ یہ شرف اور خصویت صرف اسلام کو حاصل ہے کہ وہ ان تمام گروہوں کے درمیان اعتدال کی علامت کے طور پر کھڑا ہے:
۱-انسانوں کا ایک گروہ عقیدے و نظریے میں اسراف و زیادتی کا ارتکاب کرتا ہے۔ دوسرا گروہ مادیت پرستوں کا ہے جو ماوراے حِس ہر چیز کا انکار کرتا ہے۔ فطرت کی آواز پر کوئی توجہ دیتا ہے نہ عقل کی بات مانتا ہے، حتیٰ کہ کسی معجزے کو بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
اسلام اعتقاد و ایمان کی دعوت دیتا ہے، لیکن ایسا ایمان جس کے اوپر قطعی دلیل قائم ہوتی ہو، یقینی برہان سے وہ ثابت ہو۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے اسلام اُس کا انکار کرتاہے اور اُسے اوہام و خرافات قرار دیتا ہے۔ اسلام کا تو یہ دائمی شعار ہے: قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ o (البقرہ ۲:۱۱۱)’’ان سے کہو، اپنی دلیل پیش کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو‘‘۔
۲- عقیدے و نظریے کے حوالے سے ایک گروہ ملحدین کا ہے جو کسی الٰہ اور معبود ہی کا قائل نہیں۔ وہ اپنے سینے میں موجود فطرت کی آواز کو بھی دبا دیتے ہیں اور اپنے دماغ میں موجود عقل کی اپیل کو بھی رد کر دیتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک گروہ اُن لوگوں کا ہے جو متعدد معبودوں کا قائل ہے، یہاں تک کہ وہ شجر و حجر اور جانوروں کی بھی پوجا کرتے اور اصنام و اوثان کو معبود مانتے ہیں۔
اسلام صرف ایک معبودِ لاشریک پر ایمان لانے کی دعوت دیتاہے، یعنی وہ اِلٰہ اور معبود جو لَمْ یَلِدْ لا وَلَمْ یُوْلَدْ o وَلَمْ یَکُنْ لَّـہٗ کُفُوًا اَحَدٌ o (اخلاص ۱۱۲:۳-۴) ہے۔ اُس کے علاوہ جو کچھ ہے سب مخلوق ہے اور مخلوق میں سے کوئی چیز بذاتِ خود کسی کو کوئی نفع و نقصان پہنچانے، موت و حیات سے ہم کنار کرنے، ازسرِنو زندہ اُٹھانے کی قدرت و صلاحیت ہرگز نہیں رکھتی کہ اُسے الٰہ اور معبود مان کر شرک، ظلم اور کھلی گمراہی کا ارتکاب کیا جائے۔ فرمایا:’’آخر اُس شخص سے زیادہ بہکا ہوا اِنسان اور کون ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارے جو قیامت تک اُسے جواب نہیں دے سکتے، بلکہ اِس سے بھی بے خبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں‘‘۔(احقاف۴۶:۵)
۳-کچھ لوگ صرف کائنات ہی کو وجودِ حقیقی مانتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کے علاوہ جو کچھ ہے (جس کو آنکھ دیکھ نہیں سکتی اور ہاتھ چھو نہیں سکتا)، وہ وہم ہے۔ یہ نظریہ رکھنے والے لوگ مادہ پرست ہیں جو ہر ماوراے حِس چیز کا انکارکرتے ہیں۔ اور کچھ لوگ کائنات کو وہم اور غیرحقیقی خیال کرتے ہیں۔ اُن کے نزدیک یہ سراب ہے جس کو پیاسا پانی سمجھ بیٹھا ہے۔ یہاں صرف ایک ہی وجود ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ اُس کے علاوہ کچھ موجود نہیں ہے۔ یہ گروہ وحدۃ الوجود کا قائل ہے۔
اسلام کائنات کے وجود کو ایک حقیقت قرار دیتا ہے جس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ، مگر وہ اس حقیقت سے ایک دوسری بڑی حقیقت تک انسان کو لے جاتا ہے۔ وہ حقیقت اُس ذات کا وجود ہے جس نے اس کائنات کو تشکیل دیا، اس کا نظام قائم کیااور اس نظام کو چلایا اور مسلسل چلا رہا ہے۔
۴-عقیدے کے لحاظ سے کچھ لوگ انسان کو معبود سمجھ بیٹھے ہیں۔ وہ انسان کے اندر ربوبیت کی خصوصیات کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انسان خود اپنا اِلٰہ ہے۔ وہ جو چاہے کرے اور حکم دے۔ انھی لوگوں کے مقابل کچھ لوگ انسان کو معاشی یا سماجی یا دینی جبریت کا پابند خیال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان تو ایک تنکا ہے جس کو ہوا جدھر چاہے اُڑا لے جائے، یا یہ ایک پتلی ہے جس کو سماج ہلاتا اور حرکت دیتا ہے، یا پھر معیشت اور تقدیر اُس سے کچھ کرواتی ہے۔
اسلام کی نظر میں انسان ایک ذمہ دار اور جواب دہ مخلوق ہے اور اشرف المخلوقات ہے۔ وہ اللہ کا بندہ ہے۔ وہ اپنے ماحول کو خود جس قدر چاہے تبدیل کر سکتاہے:’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی‘‘۔(الرعد۱۳:۱۱)
۵- انسانوں میں سے کچھ انسان انبیا ؑ کو اس قدر مقدس ٹھیراتے ہیں کہ انھیں مرتبہ الوہیت تک پہنچا دیتے ہیں، یا انھیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں۔ ان کے مقابل وہ بدبخت بھی ہیں جنھوں نے انبیا ؑ کو جھٹلایا، اُن پر تہمتیں لگائیں، اذیتیں دیں، حتیٰ کہ اُن کا ناحق خون کر دیا۔
اِسلام کہتاہے کہ انبیا ؑ انسان تھے۔ وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور گلیوں بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے۔ اُن کی بیویاں بھی تھیں اور اولاد بھی۔ ان کے اور دیگر انسانوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے شرفِ وحی سے سرفراز کیا اور معجزات سے ان کی تائید و نصرت فرمائی، اور انسانیت کی ہدایت کے لیے ان کو نبی اور رسول مقرر فرمایا۔ اور خود انھی کی زبانی کہلوایا:’’اُن کے رسولوں نے ان سے کہا واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان۔ لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے، اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمھیں کوئی سند لادیں۔ سند تو اللہ ہی کے اِذن سے آ سکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسا کرنا چاہیے‘‘۔ (ابراھیم ۱۴:۱۱)
۶-کچھ لوگ حقائق کو جاننے کا واحد ذریعہ عقل کو مانتے ہیں۔ اور کچھ لوگ عقل کا منفی و مثبت کوئی کردار ہی تسلیم نہیں کرتے اور محض وحی و الہام پر ایمان رکھتے ہیں۔
اِسلام عقل پر یقین رکھتا اور غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ جمود و تقلید کو پسند نہیں کرتا۔ وہ احکام و منہیات کے سلسلے میں عقل سے مخاطب ہوتا ہے۔ وہ کائنات کی دو عظیم حقیقتوں کے اثبات میں اُسی کے اُوپر اعتماد کرتا ہے، یعنی وجودِباری تعالیٰ اور انبیا ؑکے دعواے نبوت کی تصدیق عقل ہی سے کی جاتی ہے۔ لیکن عقل کی تکمیل اور تائید کے لیے وہ وحی پر ایمان لانا ضروری ٹھیراتا ہے، کیوںکہ عقل بھٹک سکتی ہے اور اس پر خواہشات کا غلبہ بھی ہو سکتا ہے۔ وحی اُن امور میں عقل کی ہادی و رہنما ہے جو عقل کی رسائی اور حدود سے باہر ہیں، مثلاً امورِ غیب اور تعلیماتِ نبوت اور عبادت!
کچھ قوموں اور ادیان نے اپنے فلسفہ و نظریہ اور واجبات و فرائض کے روحانی پہلو، یعنی عبادت و بندگی کو ہی کالعدم کر رکھا ہے۔ جیسا کہ بودھ مت صرف انسانی اخلاق کے حوالے سے پابندیاں اور امور واجب کرتا ہے۔اسی طرح کچھ دین ایسے ہیں جو اپنے پیروکاروں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ دنیا کو تج کر عبادت کے لیے وقف ہو جائو، جیسا کہ مسیحی رہبانیت کا یہ تصور ہے۔
اِسلام ایک مسلمان سے متعین شعائراور عبادات کی ادایگی کا مطالبہ کرتا ہے، مثلاً دن بھر میں پانچ نمازوں کی ادایگی، سال میں ایک بار صیامِ رمضان، اور زندگی میں ایک دفعہ حج۔ مقصد یہ ہے کہ انسان دائمی طور پر اللہ تعالیٰ سے مربوط رہے۔ وہ اُس کی رضا و خوش نودی سے کٹ نہ جائے۔ ان شعائر کی ادایگی کے بعد وہ آزاد ہوتا ہے کہ دنیاوی کام کاج کرے۔ گوشہ ہاے ارض پر دوڑدھوپ کرے، اور رزق کمائے۔ اس کی واضح ترین مثال آیت جمعہ ہے۔ (الجمعہ ۶۲:۹-۱۰)
یہ ہے دین اور زندگی کے ساتھ مومن کا تعلق، اور وہ بھی جمعہ کے روز کہ وہ نماز سے قبل بھی دنیاوی کام کاج کرے، اور پھر نماز اور ذکر الٰہی کے لیے آ جائے۔ کاروبار و تجارت اور دیگر مشاغلِ حیات کو چھوڑ دے۔ نماز کی ادایگی کے بعد دوبارہ زمین میں پھیل کر اپنا رزق تلاش کیا جائے اور کسی حال میں بھی ذکر الٰہی سے غافل نہ ہو۔ کیوںکہ کامیابی اور فلاح کی اساس یہی ذکر ہے۔
۱- مثالیت پسندوں (Idealistics)کا خیال ہے کہ انسان ایک فرشتہ یا فرشتے کے مشابہ مخلوق ہے۔ ان لوگوں نے انسان کے لیے ایسے آداب و اقدار وضع کیے ہیں جن کے اوپر پورا اُترنا انسان کے بس میں نہیں۔ اسی طرح وہ واقعیت پسند (Realistics) ہیں جنھوں نے انسان کو حیوان یا حیوان سے مشابہ سمجھا ہے۔ پہلے گروہ نے انسانی فطرت کے بارے میں اس قدر حُسن ظن کیا کہ انسان کو مکمل خیر قرار دے دیا، جب کہ دوسرے گروہ نے انسان کو گرا کر خالص شر ٹھیرا دیا۔
اِسلام کا نظریۂ انسان ان دونوں انتہائوں کے درمیان عدل و توازن پر مبنی ہے۔ اسلام کی نظر میں انسان مخلوقِ مرکب ہے۔ اس کے اندر عقل، شہوت اور روحانی ملکہ ہے۔ اس کو دونوں راستوں کاشعور الہام کیاگیا ہے۔ وہ ان دونوں راستوں پر چلنے کے لیے فطری طور پر تیار کر دیا گیا ہے۔ وہ چاہے تو شکرگزار بن جائے، اور چاہے تو منکر ہو جائے۔ اس کے اندر فجور پر چلنے کی استعداد بھی ہے اور تقویٰ کو اختیار کرنے کی طاقت بھی۔ اس کی مہم نفس سے جہاد اور اس کی تربیت ہے تاکہ اُس کا تزکیہ ہو جائے۔ اسی لیے فرمایا گیا: ’’اور نفس انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا۔ پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیزگاری اُس پر الہام کر دی، یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا‘‘۔ (الشمس ۹۱:۷-۱۰)
۲- انسانی تصورات اور نظریات میں افراط و تفریط موجود ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ انسان آسمانی روح ہے جس کو ارضی جسد کے اندر قید رکھا گیا ہے۔ یہ لوگ اس روح کی بالیدگی اور صفائی ستھرائی انسانی جسم کو تعذیب اور محرومی سے دوچار کرکے ممکن سمجھتے ہیں، جیسا کہ برہمنیت وغیرہ کا تصور ہے۔ اسی طرح کچھ مادہ پرست نظریات انسان کو صرف جسم تصور کرتے ہیں۔ اسے ایک مادی وجود سمجھتے ہیں جس میں کوئی آسمانی روح موجود نہیں ہے اور نہ وہ کسی آسمانی عطیے کے لیے خاص ہے۔
اسلام کے عطا کردہ تصور میں انسان ایک روحانی اور مادی وجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانِ اوّل کی تخلیق مٹی سے فرمائی اور یہ چیز اس کے وجود کی مادیت پر دلیل ہے، اور پھر اس انسانی بدن کے اندر اپنی روح پھونکی اور یہی روح انسان کا طرۂ امتیاز اور سرچشمۂ عزت و توقیر ہے۔ اسی بنیاد پر تو فرشتوں کو اِس کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم ملا۔چونکہ انسان روح و بدن کا مرکب ہے، اس لیے اسلام نے اس کی روح کا حق بھی اس کے اوپر واجب کیا ہے اور اس کے بدن کا حق بھی۔
۳- ایک طبقہ آخرت کا منکر ہے۔ ان کے نزدیک اوّل و آخر یہی دنیاوی زندگی سب کچھ ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں:’’آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے‘‘(الانعام۶:۲۹)۔ اسی تصور کی بنا پر وہ شہوات اور خواہشاتِ نفس میںغرق رہے۔ اپنے نفس کے غلام ہو کر رہ گئے۔ دنیاوی مفادات کے علاوہ انھیں کوئی مقصد اور ہدف ہی دکھائی نہ دیا جس کے اوپر وہ اپنی توجہ مرکوز کرتے۔
ہر زمانے کے مادہ پرستوں کا یہی وتیرا رہا ہے۔ ان کے مقابلے میںکچھ ایسے بھی ہیں جنھوں نے اس دنیا کو کوئی اہمیت دینے سے ہی انکار کر دیا۔ انھوں نے اپنی زندگی میں اس کو ایک کالعدم عنصر کی حیثیت سے دیکھا، اور اسے سراسر شر خیال کیا جس کی مزاحمت ضروری ہے۔ دنیاوی ضروریات و آسایشات سے ہی خود کو محروم رکھنا لازمی سمجھا، اور دنیا والوں سے خود کو دُور رکھنا اپنے اوپر واجب ٹھیرا لیا۔ دنیا کی تعمیر و ترقی اور اس کے لیے کچھ کرنا یا اسے کچھ دینا گناہ سمجھا۔
اسلام ان دونوں نظریاتِ زندگی کی اصلاح کرتا اور خود ایک معتدل نظریہ عطا کرتا ہے۔ اِسلام کے نزدیک دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ دنیا کی تعمیر کا عمل اللہ کی عبادت قرار دیا گیا ہے۔ اسلام اُن انتہا پسند دین داروں کی تردید کرتا ہے جو زینت اور پاکیزگی کو بھی حرام سمجھتے ہیں، اور ان کو بھی درست نہیں سمجھتا جو خوش حالی و شہوت پرستی میں غرق ہو کر رہ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں، جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں، اور اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے۔(محمد ۴۷:۱۲)
اے بنی آدمؑ، ہر عبادت کے موقعے پر اپنی زینت سے آراستہ رہو اور کھائو پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اے نبیؐ، اِن سے کہو، کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟(اعراف۷:۳۱-۳۲)
آخر کار اللہ نے اُن کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اس سے بہتر ثوابِ آخرت بھی عطا کیا۔ اللہ کو ایسے ہی نیک عمل لوگ پسند ہیں۔(اٰلِ عمرٰن۳:۱۴۸)
قرآن اس کے لیے ایک جامع دعا بھی سکھاتا ہے: ’’اے ہمارے رب، ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی، اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا‘‘۔(البقرہ ۲:۲۰۱)
قوانین میں اعتدال
اِسلام اپنے قانونی و سماجی نظام میں اعتدال و توازن کی خصوصیت کا حامل ہے۔ حلّت و حرمت کے قانون کو یہودیت نے اپنے ہاتھ میں لیا تو محرمات میں انتہا کو پہنچ گئے۔ اللہ نے جو کچھ اُن کے اوپر حرام نہیں کیا تھا اُس کو بھی حرام ٹھیرا دیا۔ یہ اُن کی بغاوت اور سرکشی کی روش تھی۔ اسی طرح مسیحیت نے بھی حلّت و حرمت کا اختیار اپنے ہاتھ میں لیا تو اُن چیزوں کو بھی حرام قرار دے لیا جو اللہ تعالیٰ نے اُن کے اوپر حرام نہیں کی تھیں۔ اِنھوں نے اُن اشیا کو حلال کر لیا جن کی حرمت کی نصوص تورات میں موجود تھیں اور مسیحؑ تو تورات کی تکمیل کے لیے آئے تھے۔ اس کے باوجود مسیحیت کے بڑوں نے کہا کہ طاہرین کے لیے ہر چیز طاہر ہے۔
اسلام کا نظام حلّت و حرمت ان دونوں انتہائوں کے درمیان ہے۔ اسلام نے حلال و حرام کا اختیار کسی انسان کو نہیں دیا، بلکہ یہ اللہ وحدہ کا حق ہے۔ اللہ نے صرف ناپاک و نقصان دہ چیزوں کو حرام اور نفع بخش و پاک چیزوں کو حلال قرار دیا ہے۔ خود اہل کتاب کا مصدرِ دین رسولِ اکرمؐ کے اوصاف اس طرح بیان کرتا ہے:’’وہ انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، اُن کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور اُن پر سے وہ بوجھ اُتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے‘‘۔(اعراف۷:۱۵۷)
عائلی اور خاندانی امور و مسائل میں بھی اسلام کے قوانین اعتدال پر مبنی ہیں۔ عائلی معاملات میں غیراسلامی نظریات کی دو انتہائیں یہ ہیں کہ بعض لوگ ازدواج (شادی)کی تعداد میں حد اور قیدو پابندی ہی کے قائل نہیں، اور بعض لوگ ایک سے زائد شادی کے سرے سے قائل ہی نہیں خواہ ضرورت و حاجت اور حالات و واقعات کا تقاضا کتنا ہی ناگزیر ہو۔ اسلام نے ایک سے زائد شادیوں کی اجازت انسان کی مالی استطاعت اور ازواج کے درمیان عدل کے برتائو کو یقینی بنانے سے مشروط کرکے دی ہے۔ اگر انسان کو اندیشہ ہو کہ وہ ایک سے زائد بیویوں سے عدل نہیں کرپائے گا تو اُس پر لازم ہے کہ وہ ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے: ’’لیکن اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو‘‘۔(النساء۴:۳)
طلاق کا معاملہ دیکھ لیجیے کہ یہاں بھی اسلام دو انتہائوں کے درمیان کھڑا نظر آتا ہے۔ ایک انتہا پر وہ لوگ کھڑے ہیں جو طلاق کو سرے سے حرام سمجھتے ہیں، خواہ میاں بیوی کی ازدواجی زندگی ناقابل برداشت ہولناکی سے دوچار ہو، جیسا کہ کیتھولک چرچ کا تصور ہے۔ انھی سے قریب قریب آرتھوڈوکس چرچ کا نظریہ ہے جنھوں نے طلاق کو زنا اور ازدواجی خیانت کے علاوہ حرام ہی سمجھا ہے۔ ان کے مقابل وہ لوگ ہیں جنھوں نے طلاق کو اس قدر کھلا چھوڑ رکھا ہے کہ وہ کسی قید و حد کی پابند ہی نہیں، اور نہ کسی شرط سے مشروط ہے۔ مرد و عورت میں سے جو بھی طلاق کا مطالبہ کرے اُسے اختیار حاصل ہے۔ اس طرح تو ازدواجی زندگی کو معمولی اسباب و وجوہ کی بنا پر ختم کر دینا بہت آسان ہے۔ یوں شادی کا مضبوط بندھن بیتِ عنکبوت سے بھی کمزور ہو کر رہ جاتاہے۔
اسلام طلاق کو جائز اور مباح ٹھیراتا ہے مگر اُس وقت جب دیگر تدابیر سے مرض ٹھیک نہ ہورہا ہو۔ کوئی ثالثی اور صلح و صفائی کی کوشش کامیاب نہ ہو رہی ہو۔ اس کے باوجود اللہ کے نزدیک یہ طلاق ابغض الحلال (ناپسندیدہ ترین حلال ہے)۔ طلاق دینے والے مرد کو اختیار حاصل ہے کہ وہ یکے بعد دیگرے اپنی مطلقہ سے رجوع کر سکتا اور اُس کو اپنے دائرۂ زوجیت میں لوٹا سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:’’طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اُس کو رخصت کر دیا جائے‘‘۔(البقرہ۲:۲۲۹)
اسلام اپنے سماجی اور اجتماعی نظام و قانون میں بھی معتدل ہے۔ وہ لبرلزم یا سرمایہ داری کی طرح فرد کو سماج پر حاوی نہیں کرتا کہ فرد معاشرے سے مطالبات و تقاضے تو بہت کرے مگر اپنے اوپر کوئی واجبات اور تقاضے عائد نہ کرے جن کی جواب دہی اُس کے اوپر فرض ہو۔ وہ ہمیشہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا رہے، اور فرائض کو اہمیت نہ دے۔ اسی طرح اشتراکیت اور سوشلزم کا معاملہ ہے جو اس کے برعکس ہے۔ ان کے نزدیک معاشرے، سوسائٹی اور سماج کا کردار برتر اور اہم ہے۔ وہ فرد کے اوپر معاشرے اور سوسائٹی کا بار تو ڈالتے ہیں مگر فرد کو اُس کے حقوق بہت کم دیتے ہیں۔ اُس کی حریت کو سلب کر لیتے ہیں، اس کے ذاتی میلانات و رجحانات کو ابھرنے نہیں دیتے۔
اسلام فرد اور سوسائٹی کو ایک بہترین متوازن صورت میں رکھتا ہے۔ اس صورت کے اندر حریت ِ فرد اور مصلحت ِ معاشرہ دونوں ایک توازن کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ دونوں پر حقوق اور فرائض عائد ہوتے ہیں۔ دونوں کے درمیان مفادات و منافع عدل سے تقسیم کیے جاتے ہیں۔
قدیم فلسفے اور نظریات فرد و معاشرے اور ان کے درمیان باہمی تعلقات کے قضیے میں اُلجھ کر رہ گئے۔ اُن کا خیال تھا کہ فرد اصل ہے اور معاشرہ و سماج ایک عارضی شے، جو فرد کے اوپر عائد کر دی گئی ہے، کیونکہ معاشرہ تو افراد سے ہی تشکیل پاتا ہے۔ یا پھر معاشرہ و سماج اساس اور بنیاد ہے اور فرد کی حیثیت ایک زائد چیز کی ہے، کیوںکہ معاشرے کے بغیر فرد ایک (خام)مادہ ہے۔ یہ معاشرہ ہی ہے جو فرد کی تشکیل و تعمیر کرتا، اس کی شخصیت کو نشوونما دیتا، اور اُسے ایک نمایاں صورت عطا کرتا ہے۔ یوں معاشرے ہی سے فرد اپنی ثقافت و آداب اور عادات و اطوار وراثت میں لیتا ہے۔ اس معاملے اور قضیے میں کچھ لوگ پہلے نظریے کے قائل ہوئے اور کچھ دوسرے نظریے کے۔ یوں فلسفہ و قانون، معاشیات و عمرانیات اور سیاسیات کے ماہرین کی مختلف آرا سامنے آئیں اور وہ کسی ایک نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ ارسطو، افلاطون، مانی، مزدک اور قدیم یہود و نصاریٰ کے تصورات اس قضیے کو حل نہ کر سکے۔
اِسلام ہی وہ واحد دین ہے جو اس قضیے میں انتہا و تقصیر سے پاک معتدل نظریہ پیش کر سکتا ہے۔ اسلام کا شارع انسان کا خالق ہے۔ لہٰذا یہ محال اور ناممکن ہے کہ خالق ایسا نظام وضع کرے جو انسان کی فطرت کو کچل دے اور اُس سے متصادم ہو۔ اللہ سبحانہ نے انسان کو ایک مرکب طبع و مزاج پر پیدا کیا ہے۔ انفرادیت اور سماجیت بیک وقت اُس کے اندر موجود ہیں۔ انفرادیت اُس کے نظامِ وجود کی اصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی ذات سے محبت کرتا،اور اپنے ذاتی امور و معاملات میں آزادی چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فرد کے اندر اپنے ہم جنس انسانوں کے ساتھ میل جول اور قربت و اجتماع کی رغبت بھی موجود ہے۔ ایک صالح نظام وہی ہوسکتا ہے جو اِن دونوں عناصر: انفرادیت اور اجتماعیت کاپورا پورا لحاظ رکھتا ہو۔ کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہ دیتا ہو۔ اس میں کوئی حیرت و تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ وہ معتدل نظام اسلام نے پیش کیاہے۔ وہ اسلام جو دین فطرت ہے۔ وہ معاشرے کو فائدہ پہنچا کر فرد کے اوپر ظلم نہیں کرتا ،اور نہ فرد کی خاطر معاشرے پر کوئی ناروا بوجھ ڈالتا ہے۔ معاشرے کو بے پناہ حقوق دے کر وہ فرد کی تذلیل نہیں کرتا اور بے پناہ واجبات عائد کرکے وہ اُس پر ظلم نہیں کرتا، بلکہ اسلام فرد کے اُوپر اُس کی وسعت و طاقت کے مطابق حقوق و فرائض عائد کرتا ہے۔ اسلام فرد کی حاجت پوری کرنے کے لیے لبیک کہتا ہے، اس کی توقیر و احترام کی حفاظت کرتا ہے، نیز اس کی عزتِ نفس کو مجروح نہیں ہونے دیتا۔
معاش یا معیشت تلاش رزق کی آزادانہ جدوجہد کا نام ہے۔ عربی زبان میں ’عیش‘ زندگی گزارنے کو کہتے ہیں اور ’معاش زندگی‘ گزارنے کے وسائل کو حاصل کرنے کو کہتے ہیں۔ تاریخ اور عمرانیات کے نام وَر عالم ابن خلدون کہتے ہیں :
اِنَّ الْمَعَاشَ ھُوَ ابْتِغَاءُ الرِّزْقِ وَالسَّعْیُ فِیْ تَحْصِیْلِہٖ،معاش رزق تلاش کرنے اور اس کے حصول میں دوڑ دھوپ کرنے کا نام ہے۔ (مقدمہ ، ص ۴۶۳، قاہرہ ۲۰۰۴ء)
وَ لَقَدْ مَکَّنّٰکُمْ فِی الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْھَا مَعَایِشَط قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَO (اعراف۷:۱۰) اور بے شک ہم نے تم کو زمین میں ٹھکانہ دیا اور اس میں تمھاری زندگی کا سامان رکھا، مگر تم لوگ کم ہی شکر کرتے ہو۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں آباد کیا ہے، اسے خلیفہ بنایا ہے اور اسے عقل وشعور کے ساتھ قوت واختیار اور مالکانہ حقوق سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حیوانات کو بھی پیدا کیا ہے مگر نہ تو ان کو عقل وشعور عطا کیا ہے اور نہ حق ملکیت عطا کیا ہے۔ حیوانات کسی چیز کے مالک نہیں ہوتے، جب کہ انسان کو ہر شے کی ملکیت عطا کی گئی ہے، یہاں تک کہ حیوانات کی بھی۔ انسان کی عظمت وفضیلت اس کی قوت وقدرت اور آزادی واختیار سے ظاہر ہوتی ہے۔ جس انسان کو حق ملکیت حاصل نہیں ہے اسے آزادی بھی حاصل نہیں ہے۔ اس کے ارادہ ، اختیار اور قدرت میں کمی ہے۔ گویا حق ملکیت انسان کی آزادی کی علامت ہے اور حق ملکیت سے محرومی غلامی کی علامت ہے۔ اسی نکتے کو قرآنِ پاک میں اس طرح مثال دے کر سمجھایا گیا ہے:
ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْکًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْ ئٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰہُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَھُوَ یُنْفِقُ مِنْہُ سِرًّا وَّ جَھْرًا ط ھَلْ یَسْتَوٗنَ ط اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ط بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَO (النحل۱۶ :۷۵) اللہ نے غلام بندے کی مثال دی ہے جو کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتا اور اس بندے کی مثال دی ہے جس کو ہم نے اچھا رزق عطا کیا ہے ، تو وہ اس میں سے کھلے اور چھپے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ الحمدللہ مگر ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔
غلام کو مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوتے ۔ اس لیے وہ اپنی مرضی سے مال خرچ نہیں کر سکتا ۔ وہ اپنے مالک کی مرضی کا محتاج رہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں آزاد انسان اپنے ارادے اور اختیار سے جس طرح چاہے مال خرچ کر سکتا ہے۔ کوئی اسے روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ ان دونوں انسانوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ایک مختار ہے دوسرا محتاج، ایک مالک ہے دوسرا مجبور۔
اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات انسان کے لیے بنائی ہے اور انسان کے لیے اس میں منافع اور برکتیں رکھی ہیں۔ انسانوں کو اپنی عقل وبصیرت اور فہم وفراست سے کام لے کر آزاد انہ تصرف کرنے کی سہولت فراہم کی ہے۔ رزق کے وسائل اور معیشت کے ذرائع اس زمین میں کثرت سے پیدا کیے ہیں اور انسانوں کو اپنی لیاقت اور محنت سے ان کو کام میں لانے کی دعوت دی ہے اور اپنی زندگی کو خوش حال بنانے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے :
ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاکِبِھَا وَکُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ ط وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ O (الملک ۶۷:۱۵) اور اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے زمین کو پست بنا دیا ، چلو اس کے کندھوں پر اور کھائو اس کا رزق اور اسی کی طرف مرنے کے بعد اُٹھ کر جانا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے رزق کے وسائل پر کسی خاص خاندان ، گروہ اور قوم کا حق نہیں رکھا ہے، بلکہ ان کو تمام انسانوں کے استفادے کے لیے بنایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ :
ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا(البقرہ ۲:۲۹) اور اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں۔
کوئی بھی شخص اپنی صلاحیت اور محنت سے ان کو بروے کار لا سکتا ہے اور ان سے استفادہ بھی کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو انفرادی ملکیت کا حق بھی دیا ہے اور اس میں تصرف کی آزادی بھی بخشی ہے۔ اسی کے ساتھ بعض بنیادی چیزوں کو تمام انسانوں کی مشترکہ ملکیت بھی قرار دیا ہے، جن میں ہوا ، پانی، روشنی ، آگ اور گھاس وغیرہ شامل ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اَلْمُسْلِمُوْنَ شُرَکَاءُ فِیْ ثَلَاثٍ فِی الْکَلَاءِ وَالْمَاءِ وَالنَّارِ(سنن ابو داؤد ، کتاب البیوع )’’تین چیزوں میں تمام مسلمان شریک ہیں: گھاس، پانی، اور آگ میں‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے وسائل رزق کی فراوانی کے ساتھ انسانوں کو محنت وعمل کی آزادی بھی بخشی ہے۔ کوئی بھی شخص اپنی مرضی اور ارادے سے حلال رزق کا کوئی بھی ذریعہ اختیار کر سکتا ہے ۔ کوئی بھی پیشہ پسند کر سکتا ہے اور کوئی بھی میدانِ عمل منتخب کر سکتا ہے ۔ اس پر کوئی پابندی نہیںہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے مومن بندوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لانے کے ساتھ حلال رزق کی جدوجہد میں اپنا وقت لگائیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَO(الجمعہ۶۲ :۱۰) پس جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل، یعنی رزق تلاش کرو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرو، شاید تم کامیاب ہو جائو۔
خَیْرُ الْکَسْبِ کَسْبُ یَدِ الْعَامِلِ اِذَا نَصَحَ (مسند احمد ۲/۳۳۴) بہترین کمائی وہ ہے جو محنت کش اپنے ہاتھ سے کماتا ہے بشرطیکہ وہ خیر خواہ ہو۔
ایک شخص نے امام احمد بن حنبلؒ سے پوچھا کہ اس شخص کے بارے میں آپ کی کیا راے ہے جو یہ سوچ کر گھر یا مسجد میں بیٹھ جائے کہ میری روزی خود بخود میرے پاس پہنچ جائے گی۔ اس کے لیے مجھے محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبل ؒنے جواب دیا کہ ایسا شخص جاہل ہے۔ اسے معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :
اِنَّ اللہَ جَعَلَ رِزْقِیْ تَحْتَ رُمْحِیْ (فتح الباری ج۱۱، ص۶۰۳) اللہ تعالیٰ نے میرا رزق میرے نیزے کے نیچے رکھا ہے۔
ابن خلدون نے لکھا ہے کہ : ’’روزی کمانے کے لیے کوشش کرنا اور محنت کرنا ضروری ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللہِ الرِّزْقَ (مقدمہ ،ص ۴۶۲) ’’اللہ کے پاس رزق تلا ش کرو‘‘۔
معاشی آزادی کے لیے آزاد تجارت اور فری مارکیٹ بھی ضروری ہے۔ حکومت کنٹرول ریٹ پر غلہ اور اشیاے خوردو نوش تو فراہم کر سکتی ہے مگر آزادانہ تجارت پر پابندی عائد نہیں کر سکتی ۔ لوگ جس طرح چاہیں کاروبار کریں ، جیسے چاہیں لین دین کریں، اس میں مداخلت کرنے کا جواز نہیں۔
حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چیزوں کی قیمتیں مہنگی ہو گئیں۔ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بازار کی اشیا کا بھائو مقرر کرنے کی درخواست کی تو آں جناب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اِنَّ اللہَ ھُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ وَ اِنِّیْ لَاَرْجُوْ اَن اَلْقَی اللہَ وَلَیْسَ اَحَدٌ مِنْکُمْ یُطَالِبُنِیْ بِمَظْلَمَۃٍ فِیْ دَمٍ وَلَا مَالٍ (سنن ابی داؤد ، کتاب البیوع) بے شک نرخ مقرر کرنے والا اللہ ہے، وہی روزی تنگ کرتا ہے، وہی روزی کشادہ کرتا ہے، اور وہی روزی مہیا کرتا ہے۔ میری آرزو ہے کہ میں اللہ سے اس حال میں ملاقات کروں کہ تم میں سے کوئی مجھ سے کسی جانی یا مالی زیادتی کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر چاہتے تو بازاری اشیا کی قیمت متعین کر سکتے تھے اور لوگ آپؐ کی مقرر کردہ قیمتوں کو بخوشی قبول بھی کر لیتے ۔ پھر بھی آپؐ نے آزادیِ تجارت کو برقرار رکھنے کے لیے مداخلت نہیں فرمائی، بلکہ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا کہ وہی حالات ساز گار کرنے والا ہے۔ وہی حالات تنگ کرنے والا ہے۔ اسی کے قبضۂ قدرت میں انسانی قلوب اور ذہن ہیں۔
اسلام نے معاشی آزادی کے لیے کاروبار کی آزادی کو یقینی بنایا ہے۔ آزادانہ تجارت اور لین دین کی رکاوٹوں کو دُور کرنے پر زور دیا ہے، اور ایسے طور طریقوں کو اختیار کرنے سے منع کیا ہے جو آزادانہ تجارت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ چنا نچہ حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لَا یَبِیْعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَدَعُوْا النَّاسَ یَرْزُقُ اللہُ بَعْضَھُمْ مِنْ بَعْضٍ (سنن ابن ماجہ ) کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال لے کر نہ بیچے (دلالی نہ کرے )۔ لوگوں کو چھوڑ دو کہ وہ خود سے کاروبار کریں۔ اللہ بعض کو بعض کے ذریعے رزق دیتا ہے۔
غرض یہ کہ اسلام نے آزادانہ تجارت کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ کیوں کہ اس سے تمدن کی ترقی اور سماج کی خوش حالی جڑی ہوئی ہے۔ جب کبھی آزادانہ معیشت پر قدغن لگایا جائے گا اور عوام کو معاشی جبر میں مبتلا کیا جائے گا تو ملک میں بدامنی پھیلے گی اور حکمران کے خلاف بغاوت کے شعلے بھڑکیں گے۔ معاشی جبر انسان کے ایمان واخلاق کو بھی برباد کرتا ہے اور ملک میں برائی اور فساد کا بھی ذریعہ ہے۔ ماضی قریب میں بعض مسلم ممالک میں جو بغاوت کی لہر اٹھی وہ بہت حد تک اسی معاشی جبر کا نتیجہ تھی۔ حکمراں طبقہ معاشی وسائل پر سانپ بن کر بیٹھ گیا تھا اور عوام پر رزق کے راستے تنگ کر دیے تھے۔ اس کا نتیجہ بغاوت اور انقلاب کی شکل میں رُونما ہوا۔ ۱۹۷۹ء میں ایران کے شہنشاہ آریہ مہر رضا شاہ پہلوی کے خلاف جو بغاوت رونما ہوئی اس کا بنیادی سبب حکمران کی معاشی اصلاحات سے عوام کی بے اطمینانی اور بے چینی تھی۔ ۲۰۱۱ء میں تیونس میں عوامی انقلاب ، ۲۰۱۲ء میں لیبیا اور مصر میں عوامی انقلاب حکمرانوں کے معاشی جبر کا ردعمل تھا۔ حکمران خاندان نے معاشی وسائل اور ذرائع تجارت پر قبضہ کر لیا تھا اور عوام کو ملکی وسائل کی آمدنی سے محروم کر دیا تھا۔ حکمران عیش وعشرت کی زندگی گزار رہے تھے اور عوام تنگ دستی میں مبتلا تھے، بلکہ فاقہ کشی پر مجبور تھے۔ اس جبرو استبداد کو ختم ہونا تھا بالآخر عوامی رد عمل نے ان حکمرانوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔
معاشی جبر جس طرح انسان کو فساد میں مبتلا کر دیتا ہے، اسی طرح معاشی وسائل کی کثرت اور دولت کی فراوانی انسان کو برباد کر دیتی ہے۔ حکمران طبقے کے ساتھ بالعموم یہی ہوتا ہے۔ ان کی تعیش پسند زندگی ان کو انجام سے بے خبر کر دیتی ہے اور ان کی نگاہوں پر پردے ڈال دیتی ہے۔ معاشیات کے اسی نکتے کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح سمجھایا ہے :
وَلَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَلٰـکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآئُ ط اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرٌم بَصِیْرٌO(الشوریٰ ۴۲:۲۷) اگر اللہ تعالیٰ بندوں کے لیے وسائل رزق کی فراوانی کردے تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگیں، لیکن اللہ جتنا چاہتا ہے اندازے سے نازل کرتا ہے۔ وہ اپنے بندے کے احوال پر نظر رکھتا ہے اور خبر رکھتا ہے۔
لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ (النساء۴ : ۲۹) اور نہ کھائو ایک دوسرے کا مال غلط طریقے سے اِلا یہ کہ باہمی رضا مندی سے تجارت ہو۔
اسی لیے اسلا م نے چوری، ڈاکا زنی، جوا، لاٹری وغیرہ کے ذریعے حاصل کیے ہوئے مال کو انسان کی ملکیت تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ کیوں کہ یہ باطل طریقے سے مال کمانا ہے۔
نَھٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ (سنن الترمذی ، ابواب البیوع )نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کی تجارت سے منع فرمایا ہے ۔
غرر ایک جامع لفظ ہے۔ اس میں ہر طرح کی دھوکے بازیاں، مال مجہول اور تجارتی جعل سازیاں شامل ہیں۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنَّا (سنن ترمذی) جو دھوکا دے گا وہ ہماری امت میں سے نہیں ہے۔ تجارت اور کاروبار کی آزادی اس بات سے جڑی ہوئی ہے کہ کسی فریق کا نقصان نہ ہو اور اس کی حکمت یہ ہے: لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ فِی الْاِسْلَامِ، ’’نہ تو نقصان اٹھائو اور نہ نقصان پہنچائو‘‘۔ یہی اسلامی معیشت کی روح اور جان ہے اور یہی نظام عدل واحسان ہے۔ اگر کسی فریق کے تجارتی فائدے میں دوسرے فریق کا نقصان ہو تو اس کاروبار کو عادلانہ نہیں کہا جا سکتا اور ایسی آزادی کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔
وَ کُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ص وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اَنْتُمْ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَO (المائدہ ۵:۸۸) جو پاکیزہ حلال رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اس میں سے کھائو اور اس اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔
ایک مسلمان کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ سور، شراب، مردار اور خون کی تجارت کرے، یا بدکاری اور فحش چیزوں کا دھندا کرے، یا سودی لین دین کرے۔ شریعت نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے وہ اللہ کی نظر میں ناپاک ہیں اور پاکیزہ عقیدے کے حاملین کو ناپاک اشیا کی تجارت زیب نہیں دیتی۔ اس کے مقابلے میں پاک چیزوں کی تجارت کا وسیع میدان موجود ہے۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃً ص وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَO(اٰل عمرٰن ۳:۱۳۰ ) اے مومنو ! مت کھائو سود بڑھا چڑھا کر۔ اللہ سے ڈرو شاید کہ تم کامیاب ہو جائو۔
اسلام نے اس طرح کی متعدد شرطوں اور حدوں کا تعین کیا ہے ، جن پر عمل کر کے انسانی معاشرے کو فساد سے اور بدامنی سے بچایا جا سکتا ہے اور معاشی آزادی کو بامعنی بنایا جا سکتا ہے۔
اقامت دین کے تصورات پر بعض مسلم دانش وروں کی جانب سے کی جانے والی تنقید دوطرح کی ہے: ایک تو وہ لوگ ہیں جو سرے سے اس بات کے قائل ہی نہیں ہیں کہ مملکت کے سیاسی اُمور او ر اجتماعی معاملات میں اسلام بھی کوئی رہنمائی کرتا ہے یا اگر کرتا بھی ہے تو آج کے زمانے میں اس کی پیروی لاز م نہیں ہے۔ عصر حاضر کے سیکولر افکار سے متاثر یہ طبقہ سمجھتا ہے کہ: ’’اسلام سمیت تمام مذاہب کا دائرہ، افراد کی ذاتی زندگیوں تک محدود ہے۔ اجتماعی معاملات میں مذہب کی دخل اندازی فتنہ و فساد کا سبب بنتی ہے اور یہ مذہب کا دائرہ کا ر بھی نہیں ہے۔ اسلام کے وہ احکام جن کا تعلق ریاست کے انتظام اور پالیسی سے یا قانون سازی سے ہے، وہ ایک مخصوص دور کی ضرورتوں کے لیے تھے۔ آج اُن تعلیمات سے روشنی تو حاصل کی جاسکتی ہے لیکن اُن کی ہوبہو پیروی نہ تو ممکن ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے‘‘۔اس تحریر میں ہم اس اعتراض کو زیر بحث نہیں لائیں گے کہ یہ اعتراض علیحدہ سے تفصیلی تجزیہ چاہتا ہے۔ اس مکتب فکر کا ذکر ابتدا ہی میں اس لیے کردیا کہ آگے کے مباحث میں اس کا حوالہ آئے گا۔
ہمارے پیش نظر مسلمان اہل علم کا وہ طبقہ ہے، جو اسلام کی جامعیت اور اجتماعی زندگی سے متعلق اس کی تعلیمات کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ لوگ مانتے ہیں کہ اسلام نے ریاست کا تصور بھی دیا ہے، ریاست کے لیے قوانین بھی تجویز کیے ہیں، اور یہ احکام، اسلام اور اسلامی شریعت کا جز ہیں۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ: ’’ان احکام کا تعلق عام مسلمانوں سے نہیں ہے۔ اس کے مخاطب حکمران ہیں۔ اگرکسی کو حکومت او ر اختیار مل جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ قانون سازی اور ریاست کے انتظام و انصرام میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرے، لیکن عام مسلمان، جنھیں حکومت یا اقتدار حاصل نہیں ہے، وہ نہ ان احکام کے مخاطب ہیں اور نہ وہ اس کے مکلف ہیں کہ اسلامی شریعت کے ان احکام کی تعلیم، ترویج اور تنفیذ کے لیے کوئی اجتماعی جدوجہد کریں۔ ان کافریضہ بس ذاتی زندگیوں میں اور معاشرے (society) کے جن امور پر انھیں اختیار حاصل ہے، انھی میں اللہ کے احکام کی تعمیل تک محدود ہے‘‘۔ یہاں پر اقامت ِ دین کے حوالے سے مولانا وحید الدین خان صاحب اور جناب جاوید احمد غامدی کے نقطۂ نظر کا خلاصہ پیش کرکے مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم اس نقطۂ نظر کا جائزہ لیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اختصار کے ساتھ اقامت دین کے بارے میں تحریک اسلامی اور مولانا مودودی کے خیالات کا خلاصہ پیش کردیا جائے۔
جماعت اسلامی ہند کے دستور کی دفعہ ۴میںجماعت کا نصب العین اس طرح بیان کیا گیا ہے:’’جماعت اسلامی ہند کا نصب العین اقامت دین ہے، جس کا حقیقی محرک صرف رضاے الٰہی اور فلاح آخرت کا حصول ہے‘‘۔
اس نصب العین کی تشریح اس دفعہ میں اس طرح کی گئی ہے: ’’اقامتِ دین میں لفظ ’دین‘ سے مراد وہ دینِ حق ہے، جسے اللہ ربُّ العالمین اپنے تمام انبیا علیہم السلام کے ذریعے مختلف زمانوں اور مختلف ملکوں میں بھیجتا رہا ہے اور جسے آخری اور مکمل صورت میں تمام انسانوں کے لیے اپنے آخری نبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نازل فرمایا، اور جو اَب دنیا میں ایک ہی مستند، محفوظ اور عنداللہ مقبول دین ہے اور جس کا نام ’اسلام‘ ہے۔ یہ دین انسان کے ظاہر و باطن اور اُس کی زندگی کے تمام انفرادی و اجتماعی گوشوں کو محیط ہے۔ عقائد، عبادات اور اخلاق سے لے کر معیشت، معاشرت اور سیاست تک انسانی زندگی کا کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں ہے، جو اس دائرے سے خارج ہو۔یہ دین جس طرح رضاے الٰہی اور فلاحِ آخرت کا ضامن ہے اسی طرح دنیوی مسائل کے موزوں حل کے لیے بہترین نظامِ زندگی بھی ہے، اور انفرادی و اجتماعی زندگی کی صالح اور ترقی پذیر تعمیر صرف اسی کے قیام سے ممکن ہے۔ اس دین کی اقامت کا مطلب یہ ہے کہ کسی تفریق و تقسیم کے بغیر اس پورے دین کی مخلصانہ پیروی کی جائے اور ہر طرف سے یکسو ہوکر کی جائے۔ اور انسانی زندگی کے انفرادی و اجتماعی تمام گوشوں میں اسے اس طرح جاری و نافذ کیا جائے کہ فرد کا اِرتقا، معاشرے کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل سب کچھ اسی دین کے مطابق ہو‘‘۔۱
دستورِجماعت کی دفعہ ۵ اس نصب العین کے حصول کے لیے اختیار کیے جانے والے طریق کار سے بحث کرتی ہے۔اس کے درج ذیل جملے قابل توجہ ہیں:
جماعت اپنے تمام کاموں میں اخلاقی حدود کی پابند ہوگی اور کبھی ایسے ذرائع یا طریقے استعمال نہ کرے گی، جو صداقت و دیانت کے خلاف ہوں یا جن سے فرقہ وارانہ منافرت، طبقاتی کش مکش اور فساد فی الارض رُونما ہو۔جماعت اپنے نصب العین کے حصول کے لیے تعمیری اور پُرامن طریقے اختیار کرے گی ۔یعنی وہ تبلیغ و تلقین اور اشاعتِ افکار کے ذریعے ذہنوں اور سیرتوں کی اصلاح کرے گی اور اس طرح ملک کی اجتماعی زندگی میں مطلوبہ صالح انقلاب لانے کے لیے راے عامہ کی تربیت کرے گی۔۲
ان دفعات میں خاص طور پر درج ذیل باتیں قابل توجہ ہیں:
۱- ’اقامت دین‘ کا مطلب صرف ریاست کی سطح پر اسلامی احکام کانفاذ نہیں ہے بلکہ پوری زندگی میں اسلام کی پیروی ہے۔ اس میں ریاست بھی شامل ہے اور اس کے ساتھ افراد کا اللہ سے تعلق،ان کے جذبات و داعیات، ان کی عبادات،ان کے اخلاق اور معاشرے سے متعلق تمام اُمور و معاملات بھی شامل ہیں۔
۲- دین کا قیام یا زندگی کے تمام گوشوں میں اسے جاری و نافذ کرنے کا کام زور زبردستی کے ذریعے انجام نہیں پائے گا، بلکہ لوگوں کی ذہن سازی یا راے عامہ کی تربیت کے ذریعے انجام پائے گا۔
یہ باتیں اجتماعی کمٹ منٹ اور گہرے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ جماعت کے دستور سے بھی واضح ہیں اور ساتھ ہی مولانا مودودی ؒکے افکار میں بھی بڑی وضاحت کے ساتھ ان باتوں کا اعادہ ملتا ہے۔مولانا مودودی ؒ کی تحریروں میںدرج ذیل قسم کی باتیں ہم کو کثرت سے ملتی ہیں:
اسلامی تحریک کے کارکنوں کو میری نصیحت یہ ہے کہ انھیں خفیہ تحریکیں چلانے اور اسلحے کے ذریعے سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔ یہ بھی دراصل بے صبری اور جلد بازی ہی کی ایک صورت ہے۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک ہی کے ذریعے سے برپا ہوتا ہے۔ کھلے بندوں عام دعوت پھیلائیے۔ بڑے پیمانے پر اذہان اور افکار کی اصلاح کیجیے۔ لوگوں کے خیالات بدلیے۔ اخلاق سے دلوں کو مسخر کیجیے اور اس کوشش میں جو خطرات اور مصائب بھی پیش آئیں اُن کا مردانہ وار مقابلہ کیجیے۔ اس طرح بتدریج جو انقلاب برپا ہوگا وہ ایسا پایدار اور مستحکم ہوگا، جسے مخالف طاقتوں کے ہوائی طوفان محو نہ کرسکیں گے۔ جلد بازی سے کام لے کر مصنوعی طریقوں سے اگر کوئی انقلاب رُونما بھی ہوجائے تو جس راستے سے وہ آئے گا، اُسی راستے سے وہ مٹایا بھی جاسکے گا۔۶
یہ اقتباسات ہم نے اس لیے نقل کیے ہیں، تاکہ بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ واضح رہے کہ تحریک اسلامی اور مولانا مودودی کے نزدیک’ اقامت دین‘ کا مطلب اور اس منزل تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے؟ اقامت دین صرف حکومت کی تشکیل یا تبدیلی کا نام نہیں ہے۔ یہ افراد اور معاشرے کی ہمہ گیر اصلاح کا نام ہے۔ریاست کی تشکیل کا ہدف بھی یقیناً اس میں شامل ہے، لیکن اقامت دین کا تصور صرف ریاست کی اصلاح تک محدود نہیں ہے اور نہ یہ اقامت دین کا اصل ہدف ہے۔ اقامت دین کا جو تصور ان عبارتوں سے واضح ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اسلام کی دعوت لوگوں کے سامنے پیش کی جائے گی۔ لوگ اس کے قائل ہوں گے، اور ان کے ذہن، اخلاق اور رویے اس دین سے ہم آہنگ ہوں گے، تو اس کے نتیجے میں مثالی اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے راہ ہموار ہوگی اور راے عامہ کی تربیت کے نتیجے میں ریاست بھی اسلامی رنگ اختیار کرے گی۔اقامت دین کا ہدف جب بھی حاصل ہوگا ،دعوت دین اور پُر امن طریقے سے راے عامہ کی تربیت کا نتیجہ ہوگا۔
مولانا وحید الدین خان صاحب نے اس تصور اقامت دین پر جو اعتراضات کیے ہیں، ان کا خلاصہ درج ہے:۷
۱- سورۂ شوریٰ کی آیت میں دین کا مطلب، دین کا وہ حصہ ہے جو تمام انبیاؑ کی دعوت میں مشترک ہے۔ اور یہ حصہ صرف توحید، رسالت اور آخرت، یعنی اسلام کے بنیادی عقائد تک محدود ہے۔ اسی کے قیام کا، یعنی اس کی پیروی اور اس کی دعوت کا یہاں حکم دیا گیا ہے۔۸
۲- سورۂ صف کی آیت میں(اسی مضمون کی آیت سورۂ توبہ میں اور اس سے مماثل آیت سورۂ فتح میں بھی آئی ہے) کوئی حکم یا ہدایت نہیں ہے بلکہ صرف خبر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے دین کو اپنے نبی کے ذریعے غالب کرے گا، یہ اللہ کے ارادے کا اظہار ہے۔ اس میں مومنین کے لیے کوئی حکم نہیں ہے۔۹
۳- دین کا مقصد، بندے اور اللہ کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ یہی ایک مسلمان کا نصب العین ہے۔ ایک مسلمان کو دین پر عمل کرنا چاہیے اور دین کی دعوت پیش کرنی چاہیے۔ حکومت کی تبدیلی کے لیے جدوجہد اس کا کام نہیں ہے۔
مولانا وحید الدین خان صاحب یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ دین کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے لیکن ان کا اصرار یہ ہے کہ سورۂ شوریٰ کی اس آیت میں ، جس میں دین کو قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، دین کا مطلب صرف ایمانیات ہے اور یہی معنی مفسرین نے لیے ہیں۔ہمارے خیال میں یہ بات صحیح نہیں ہے۔ جن مفسرین نے ایمانیات اور بنیادی باتوں کا ذکر کیا ہے، انھوں نے اس کے ساتھ طاعۃ اللہ فی اوامرہ و نواہیہ کو بھی دین کے مطلب میں شامل کیا ہے۔ اس میں دین کے تمام احکام آجاتے ہیں۔مفسرین کے تفصیلی حوالوں کا یہ مضمون متحمل نہیں ہے ۔مولانا رضی الاسلام ندوی نے اقامت دین اور نفاذِشریعت میں قتادہ، علامہ ابن العربی، زمخشری، قرطبی، خازن البغدادی، العمادی، آلوسی، بیضاوی، ابن کثیر ، رازی وغیرہم کے اقتباسات نقل کیے ہیں۱۰، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ مفسرین یہاں دین کے معنی کو صرف عقائد و ایمانیات تک محدود رکھتے ہیں ۔ اس آیت میں الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (الرعد۱۳:۳۰) کا فقرہ بھی شامل ہے جس میں خود بخود وہ سارے احکام آجاتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے۔ واقعہ یہ ہے کہ انبیاے کرام ؑ کی تعلیمات صرف عقائد اور ایمانیات ہی کے معاملے میں مشترک نہیں ہیں بلکہ ان کی دعوت کی روح بھی ایک ہی ہے۔ ان کی شریعتوں کی بنیادی باتیں بھی ایک ہی ہیں۔ اگر شرائع میں کچھ اختلاف ہے تو وہ جزوی اور فروعی باتوں میں ہے۔اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے اس کی وضاحت مولانا صدر الدین اصلاحی [۱۳نومبر ۱۹۱۶ء-۱۹۹۸ء]نے اس طرح کی ہے:
ان حضرات (یعنی مفسرین کرام ) کے نزدیک دین کی اصولی تعلیمات اور تمام انبیا ؑکے لائے ہوئے دینوں کی مشترک و متفق علیہ ہدایات الٰہی میں ایک اصولی تعلیم اور متفق علیہ ہدایت یہ بھی تھی کہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے سارے اوامر کی بجا آوری کرنی ہوگی اور اس کے تمام نواہی سے رکنا پڑے گا۔ اس جامع اصولی ہدایت کا عملی مفہوم کیا ہوگا اور اس کی عملی تعمیل کس شکل میں ہوسکے گی؟ یہ کوئی ایسا سوال نہیں جس کے جواب میں دو باتیں کہی جاسکیں۔ یہ جواب لازماً ایک ہی ہوگا اور وہ یہ کہ امت ان سارے احکام دین و شریعت کی مکمل پیروی کرے گی، جو اسے اس کے پیغمبر کے ذریعے دیے گئے ہوں۔ یعنی مسلمانوں کے لیے اس پوری شریعت کی پیروی اور اقامت اس آیت کی رُو سے واجب ہوگی، جو حضرت محمد ؐ کے ذریعے انھیں عطا ہوئی ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس آیت میں دوسرے انبیا ؑ کے دینوں کا ذکر اسم موصول عام کے ذریعے کیا گیا ہے لیکن آںحضرت کے دین کا ذکر اسم موصول خاص (الذی) کے ذریعے کیا گیا ہے۔ ۱۱
یہی بات اس آیت سے سمجھ میں آتی ہے اور یہی عام طور پر اس کی تفسیر بھی کی گئی ہے۔ یہاں دین کو اورقیام دین کے حکم کو صرف عقائد و ایمانیات تک محدود کردینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
یہ کہنا کہ: ’’مومن کانصب العین رضاے الٰہی ہے اور قیام دین کی جدوجہد ، دین کا تقاضا تو ہوسکتا ہے نصب العین نہیں ہوسکتا‘‘، محض الفاظ اور طرز بیان کا فرق ہے۔ جماعت کے نصب العین کی جو عبارت ہم نے نقل کی ہے ، اس میں رضاے الٰہی اور فلاح آخرت کے حصول کو ’حقیقی محرک‘ کہا گیا ہے اور اس غرض کے لیے اجتماعی طور پر جس ہدف کی خاطر جدوجہدمطلوب ہے ، اُسے نصب العین کہا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اصل محرک اورحتمی ہدف تو رضاے الٰہی ہی ہے ۔ لیکن اللہ کی رضا کا حصول ایک خاص قسم کی جدوجہد پر منحصر ہے۔ اس جدوجہد کا نشانہ اور ہدف اقامت دین ہی ہونا چاہیے۔ یہ بات بھی صرف دستور جماعت تک محدود نہیں ہے۔ مولانا مودودی اورجماعت کے پورے لٹریچر میں اس کا بار بار اعادہ کیا گیا ہے۔ اب اگر آپ رضاے الٰہی کے حصول کو نصب العین قراردیں اور اقامت دین کو اس کی ضرورت یا تقاضا کہیں تو الفاظ کی اس تبدیلی سے کوئی عملی فرق واقع نہیں ہوتا۔ اقامت دین اس صورت میں بھی ایک فریضے کے طور پر باقی رہتا ہے۔
جناب جاوید احمدغامدی مدیر اشراق (لاہور) نے اس تصور پر تفصیلی تنقید اپنے مضمون ’تاویل کی غلطی‘ میں کی ہے، جو ان کی کتاب بُرہان میں شامل ہے۔ ۱۲ اس کے علاوہ انھوں نے اپنی کئی ویڈیوز پر مبنی تقاریر میں بھی اس مسئلے پر اظہارِ خیال کیا ہے،اور اپنے دیگر مضامین اور تفسیر میں بھی اس سے متعلق اشارے فرمائے ہیں۔ ان کی باتوں کا خلاصہ یہ ہے:
۱- اقامت کا مطلب قائم کرنا یا نافذ کرنا نہیں ہے، بلکہ پیروی کرنا اور قائم رکھنا ہے۔ اس لیے سورۂ شوریٰ کی آیت میں صرف دین کی پیروی کا حکم ہے۔
۲- غلبۂ دین کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔ اللہ کی سنت ہے کہ جب رسول مبعوث ہوتا ہے تو دین غالب ہوکر رہتا ہے۔یہ سنت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے پوری ہوگئی ۔ ا ب عام مسلمان ان آیات کے مخاطب نہیں ہیں۔
۳- دین کے سیاسی اور اجتماعی احکام کے مخاطب حکمران ہیں اور وہی اس کے مکلف ہیں۔ عام مسلمانوں کا کام صرف اپنے دائرے میں دین پر عمل اور اس کی دعوت ہے۔
جاوید صاحب نے کلاسیکی عربی شاعری وغیرہ کے حوالوں سے تفصیلی بحث یہ ثابت کرنے کے لیے کی ہے کہ:’’اقیموا کے معنی قائم کرنا نہیں ہے بلکہ قائم رکھنا ہے‘‘۔ہمارا خیال یہ ہے کہ اقامت کا ترجمہ’ قائم کرنا‘ کیا جائے یا’ قائم رہنا‘ یا ’قائم رکھنا‘، اس سے اصل موضوع بحث پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ مولانا مودودی نے ترجمہ ’قائم کرنا‘ کیاہے لیکن تفہیم القرآن میں ’قائم رکھنا‘ اِس ترجمے کی گنجایش کو بھی تسلیم کیا ہے۔ دین قائم کرنا یا دین پر قائم رہنا، دونوں کا مطلب یہی ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں دین کی پیروی کی جائے۔ اس بات کو جاوید صاحب بھی تسلیم کرتے ہیں اور انھوں نے دین پر قائم رہنے کے معنوں میں قانون و شریعت اور جہاد و قتال وغیرہ سارے احکام شمار کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ان کا کہنا یہ ہے کہ: ’’اقیموا کا مطلب صرف دین کے اُس حصے پر عمل تک محدود ہے، جس کا تعلق ہماری ذات سے ہے، اور جن امور کا تعلق ہم سے نہیں ہے ان پر عمل کرانا یا انھیں نافذ کرنے کی جدوجہد کرنا اقیمواکے معنی میں شامل نہیں ہے‘‘۔یہ نقطۂ نظر مفسرین کے بیان کیے ہوئے مطالب سے مختلف ہے ۔
مولاناگوہر رحمٰن۱۳ اور مولانا رضی الاسلام ندوی۱۴ نے اپنی تحریروں میں اُن مفسرین کرام کے تفصیلی حوالوں سے بحث کی ہے، جن کے نزدیک اقیموا کے معنوں میں دوسروں پر دین کا نفاذ بھی شامل ہے۔ یہاں اگر جاوید صاحب کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ: اقیموا کے لغوی معنی صرف خود دین پر عمل کرنا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خود دین کا کیا مطلب ہے؟ کیا دین کے دائرے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر، دعوت، جہاد ، اللہ کے دین کی نصرت، شہادت علی الناس وغیر ہ جیسے اُمور نہیں آتے، جن کی قرآن میں تسلسل سے تاکید کی گئی ہے؟ جب یہ سب احکامِ دین ہیں اور دین کا جز ہیں (اور جاوید صاحب بھی اسے تسلیم کرتے ہیں) تو اقیموا کے دونوں معنوں میں جو معنی بھی لیے جائیں ’اقامت دین ‘ کے اندر، یہ سب کام خود بخود شامل ہوجاتے ہیں۔ یعنی اگر اقیموا کا مطلب صرف یہ ہے کہ دین کے جو مطالبات میری ذات سے متعلق ہیں، ان کی تکمیل کی جائے تب بھی دعوت، جہاد، نصرت دین و غیرہ کے احکام میری ذات سے متعلق ہی ہیں۔ ان کی تعمیل تو اقامت دین کا تقاضا ہی ہوگا۔
واقعہ یہ ہے کہ اقامت دین کا حکم کسی ایک آیت تک محدود نہیں ہے۔ قرآن کی پوری اسکیم میں اسے مرکزی ذمہ داری کی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن نے اس کام کو کئی اصطلاحوں میں بیان کیا ہے۔ ’اظہارِ دین‘، ’قیامِ قسط‘، ’قیامِ عدل‘، ’شہادت علی الناس‘، ’امر بالمعروف ونہی عن المنکر‘، ’دعوتِ دین‘___ ان سب میں اقامت ِدین کا مفہوم پوشیدہ ہے۔ ان سب احکام کا تقاضا یہی ہے کہ دین پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ باقی انسانیت کو دین کی طرف بلانے، دین پر انھیں مطمئن کرنے اور معاشرے میں اللہ کے احکام کی ترویج و تنفیذ کی ممکنہ کوشش کی جائے۔ مولانا مودودی اور اسلامی تحریکیں انھی باتوں کو ’اقامت دین‘ قرار دیتی ہیں۔
جاوید صاحب قرآن کے بہت سے احکام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص کردیتے ہیں۔ حالاںکہ عام قاعدہ یہ ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے جو احکامات دیے ہیں ،وہ تمام مسلمانوں کے لیے ہیں اِلّا یہ کہ نبی کریم ؐکے لیے ان کی تخصیص کی کوئی واضح دلیل ہو۔ اظہارِ دین والی آیات کے سلسلے میں بھی موصوف کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں اللہ کے وعدے اور سنت کا ذکر ہے ۔ وہ یہاں المشرکون کا ترجمہ ’عرب کے مشرک‘ اور دین کلہ کا ترجمہ ’عرب کے ادیان‘ کرتے ہیں۔ اس تخصیص کی بھی کوئی دلیل اس کے سوا نہیں دیتے کہ غلبۂ دین، رسولؐ کے سلسلے میں انبیا ؑکی سنت ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دین کا غلبہ مکمل فرمایا۔سورۂ صف کی اس آیت میں لِیُظہرہ کے الفاظ دلالت کررہے ہیں کہ یہاں اظہار دین کو نبی کے مشن اور مقصد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔یہاں صرف اللہ کے ارادے کا ہی اظہار نہیں ہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن اور مقصد بعثت کا بھی اظہار ہے۔ صرف غلبۂ دین کے الٰہی ارادے کا اظہار مقصود ہوتا تو نبی کی بعثت کے ذکر اور اس کے بعد، اظہارِ دین کے ذکر کے ساتھ لامِ تعلیل (لِیُظہرہ) کی ضرورت نہیں تھی۔بے شک غلبۂ دین اللہ ہی کا منصوبہ ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے اس منصوبے کو نبی کے ذریعے مکمل کرنا چاہتا تھا ، اسی لیے اس نے نبی کو مبعوث کیا۔ اسی وجہ سے اسے نبی کا مشن کہا جاتا ہے۔اگر یہ نبی کا مشن اور اُن کا کام تھا تو نبی کے بعد آپؐ کی اُمّت کا کام کیوں نہیں ہوگا؟
جاوید صاحب، غلبۂ دین کی سنت الٰہی کا تذکرہ اس طرح کرتے ہیں کہ کہیں کہیں یوں محسوس ہوتا ہے گویا اللہ تعالیٰ اس سنت کی تکمیل اپنے تکوینی امر کے ذریعے کرتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں فرقہ جبریہ نے خدا کے تکوینی اور تشریعی احکام میں بڑا مغالطہ کیا تھا۔زیر بحث فکر میں یہی مغالطہ غلبۂ دین کی سنت کے معاملے میں محسوس ہوتا ہے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ ان آیات میں اِرسال رسول کا ذکر واضح طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ اظہار دین کی سنت الٰہی ،نبی کی جدوجہد کے ذریعے پوری ہوگی۔ نبی اللہ کی رہنمائی میں لیکن اپنے آزاد ارادے کے ساتھ اظہارِ دین کی جدوجہد کرتا ہے، فیصلے کرتا ہے، حکمت ِعملی بناتا ہے، جہا د کرتا ہے، معاہدے کرتا ہے، جہاں ضرورت ہو لڑتا ہے اور جہاں ضرورت ہو صلح کرتا ہے۔ دعوت، ہجرت اور جہاد کے مراحل سے گزرتا ہے۔ سیاسی حکمت عملی بناتا ہے اور اپنی تدبیروں سے ، خدا کی مشیت کے تحت اس کی سنت کی تکمیل کرتا ہے۔
اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو تمام مسلمانوں کے لیے نمونہ قرار دیا ہے۔ آپؐ کا کام اب اس امت کو جاری رکھنا ہے۔ غلبۂ دین کے مشن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص کردینے اور امت کو اس سے مستثنیٰ کردینے کے لیے کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے خصوصاً اس لیے کہ دیگر اور نصوص ایسے موجود ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا غلبہ بعد کے زمانوں میں بھی اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ قرآن مجید میں کہا گیا ہے:
وَلَاتَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (اٰل عمرٰن ۳:۱۳۹)، دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو۔
وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ص وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا ، (النور ۲۴:۵۵) تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور اْنھوں نے اچھے عمل کیے ہیں، اْن سے اللہ کا وعدہ ہے کہ اْن کو وہ اِس سرزمین میں ضروراُسی طرح اقتدار عطا فرمائے گا، جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو اُس نے عطا فرمایا تھا اور اُن کے لیے اُن کے دین کو پوری طرح قائم کردے گا ۔
حدیث میں ہے: اَلْاِسْلَامُ یَعْلُوْ وَلَا یُعْلٰی عَلَیْہِ۱۵ ،یعنی اسلام دنیا میں غالب ہونے کے لیے آیا ہے، سرنگوں ہونے کے لیے نہیں۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں کتاب الامارۃ کے تحت ایک پورا باب باندھا ہے، جس کا عنوان ہے: لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِیْ ظَاہِرِیْنَ عَلَی الْحَقِّ لَا یَضُرُّھُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ ۱۶ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور اپنے مخالفوں پر غالب آئے گا۔اسی طرح کا ایک باب امام بخاری نے بخاری میں کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ میں باندھاہے ۔ان ابواب میں کئی حدیثیں بیان کی گئی ہیں، جن میں یہ کہا گیا ہے کہ اہل حق کا ایک گروہ اسلام کے لیے جدوجہد کرتا رہے گا اور اسے غلبہ ملے گا۔ مثلاًمسلم میں حضرت معاویہؓ سے مروی ایک حدیث بیان کی گئی ہے:
مَنْ یُرِدِ اللہُ بِہٖ خَیْراً یُفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ وَلَا تَـزَالُ عِصَابَۃٌ مِنْ الْمُسْلِمِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِیْنَ عَلٰی مَنْ نَـاوَأَہُمْ اِلٰی یَـوْمِ الْقِیَامَۃِ ، ۱۷ جس شخص کی اللہ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ دیتا ہے اور ہمیشہ ایک جماعت مسلمانوں کی حق پر لڑتی رہے گی اور غالب آئے گی ان پر جو ان سے لڑیں قیامت تک۔
اس مختصر مقالے میں تفصیلی شرعی دلائل کی گنجایش نہیں ہے۔ ضروری باتیں عرض کردی گئی ہیں۔ جو لوگ اور تفصیل سے مطالعہ کرنا چاہیں وہ اس موضوع پر لکھی گئی بعض اہم کتابوں کو دیکھ سکتے ہیں۔اب تک جن کتابوں کے حوالے آچکے ہیں ان کے علاوہ،خصوصاً مولانا احمد عروج قادری کی کتاب اقامت دین فرض ہے اور اُمت مسلمہ کا نصب العین نیزمولانا صدر الدین اصلاحی کی کتاب فریضہ اقامتِ دین اور مولانا سیّد جلال الدین عمری کی کتاب معروف و منکر وغیرہ کا مطالعہ مفید ہوگا۔
اس موقعے پر اس موضوع کو عقل عام (Common Sense) کے پہلو سے بھی زیر بحث لاتے ہیں:
۱- دونوں معترض حضرات یہ بات مانتے ہیں کہ اسلام نے اجتماعی امور سے متعلق تفصیلی ہدایات دی ہیں۔ اور ان ہدایات کی تعمیل آج کے دور میں بھی ضروری ہے اور یہی انسان کی فلاح اور کامیابی کا خدائی نسخہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ نے اپنے بندوں کے لیے ایک اجتماعی نظام کو پسند کیا ہے، تو پھر آج بندوں کے درمیان اس کو متعارف کرانے، اور اسے جاری کرنے کا کیا انتظام ہے؟ ایک زمانے میں نفاذ کا یہ کام اللہ نے اپنے رسولؐ سے لیا تھا۔ اب اگر آج عام مسلمان اس کے نفاذ کی جدوجہد کے مکلف نہیں ہیں تو پھر یہ کام کس کے ذمہ ہے؟
یہ بات تو عقل عام کے خلاف ہے کہ اللہ نے انسانوں کے لیے ایک مکمل نظام زندگی نازل کیا، بڑی وضاحت کے ساتھ اس کی تفصیلات بتائیں، انھیں محفوظ رکھنے کا بھی انتظام کیا۔ ایک زمانے میں اپنے رسولؐ کے ذریعے اس کی تبلیغ و اشاعت اور اس کی تنفیذ کا بھی انتظام کیا ، لیکن بعد کے اَدوار میں انھیںانسانوں کے درمیان مقبول کرنے اور ا ن کے معاشروںمیں جاری و ساری کرنے کا کوئی انتظام ہی نہیں کیا۔یہ بات توکم از کم آج کے دور میں کوئی معقول آدمی نہیں کہہ سکتاکہ کوئی اجتماعی نظام زندگی صرف اس کے تعارف اور پیش کش کے ذریعے خود بخود نافذ ہوسکتا ہے۔اگر کوئی اس انتہائی سادہ لوح مفروضے پر یقین رکھتا ہے، تو آج کا سارا علمِ سیاسیات اور علمِ سماجیات اس کی تردید و تغلیط کے لیے موجود ہے۔ ہر نظریہ اور نظام اپنے نفاذ کے لیے انسانی جدوجہد چاہتا ہے، اور ایسی جدوجہد چاہتا ہے جو اجتماعی ہو اور مطلوب نظام زندگی کو ہدف بناکر کی جائے۔ اگر صرف نظریہ اور اصولوں کی موجودگی کافی ہوتی تو قرآن کا نزول کافی تھا، رسولؐ کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
انفرادی زندگی سے متعلق اسلامی احکام بھی انسانوں کی فلاح کے لیے ہیں اور یہی معاملہ اجتماعی زندگی سے متعلق احکام کابھی ہے۔جس طرح شرک اور جھوٹ ایک فرد کے لیے نقصان دہ ہے، اسی طرح سود اور قوم پرستی اور انسانوں کی غیر مشروط خود مختاری، یہ انسانی معاشروں کے لیے نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اگر اپنے بندوں کی فوز و فلاح مقصود ہے ، اور صرف افراد کی نہیں بلکہ معاشروں کی اجتماعی فلاح بھی مقصود ہے، تو یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے نازل کردہ ان اصولوں کی تنفیذ کا کوئی انتظام ہی نہ کرے، جو انسانوں کے لیے نہایت ضروری ہیں( ہم یہاں اس بحث کو نہیں چھیڑ رہے ہیں کہ افراد کی اصلاح کا بھی ایک بڑا پہلو سماجی اور معاشرتی اصلاح سے ہے)۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی ترویج و تنفیذ کا کام انسانوں ہی سے لیتا ہے۔ اسی لیے قرآنِ مجید میں اللہ نے اپنے بندوں سے دین کی نصرت اوراللہ کا مددگار بننے کا حکم دیا ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ (محمد ۴۷:۷) اے ایمان والو، اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے قدم جمادے گا۔
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰہِ ( الصف ۶۱: ۱۴)، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو۔
اس کا مطلب اس کے سوااور کیا ہوسکتا ہے کہ دین کے معاملے میں منشاے الٰہی کی تکمیل کے لیے جدوجہد کی جائے۔اگر منشاے الٰہی یہ ہے کہ یہ دین زندگی کے تمام انفرادی و اجتماعی معاملے میں انسانوں کا رہنما بنے، تو اس منشا کی تکمیل کے لیے جدوجہد ہی دین کی نصرت قرار پائے گی۔ اسی جدوجہد کو اسلامی تحریکیں ’اقامت ِدین‘ کی جدوجہد کہتی ہیں۔
انسانی معاشروں میں ہمیشہ ایسی قوتیں کارفرما رہی ہیں، جو انسانی زندگی کی تنظیم گمراہ کُن شیطانی اصولوں اور نظریات کی بنیاد پر کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ کیا یہ بات اللہ کی مشیت اور اس کی اسکیم کا حصہ ہوسکتی ہے کہ معاشرے میں قوم پرستانہ فسطائیت اور کمیونزم کی منظم تحریک جاری و ساری ہو، انتہاپسندانہ سرمایہ داری کے قیام و نفاذ کی منظم جدوجہد ہوتی رہے، نسائیت پرست اور ہم جنس پرست منظم ہوکر اپنے اپنے سیاسی و معاشی تصورات کے نفاذ کے لیے سرگرم رہیں، لیکن اللہ کا مکمل دین اور انسانی فوز و فلاح کا حقیقی ضامن نظریۂ حیات صرف کتابوں میں بند رہے، یا ایسے حکمران کے انتظار میں راہ تکتا رہے، جو ا ن احکام کی تنفیذ کو اپنی ذمہ داری سمجھے؟ یہ بات بالکل عقلِ عام کے خلاف ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انسانوں کے لیے کسی مخصوص نظریۂ حیات کو پسند کرتا ہے تو اس کا تقاضا ہے کہ وہ اس کی تنفیذ کے لیے جدوجہد کی ذمہ داری کسی نہ کسی کے سپرد کرے۔ یہ فطری بات ہے کہ یہ ذمہ داری انھی کے سپر د کی جائے گی، جو اس نظریے کے ماننے والے اور اس کے امین ہیں۔
۲- اگر اجتماعی امور میں احکامِ دین کے نفاذ کی ذمہ داری صرف حکمرانوں کی ہے، تب بھی کیا عام مسلمان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے پابند نہیں ہیں؟ اگر حکمران اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کررہے ہیں اور اللہ کے احکام سے علانیہ انحراف کررہے ہیں، تو کیا یہ مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اس کی طرف اپنے حکمرانوں کو متوجہ کریں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ لِلہِ وَ لِکِتَابِہٖ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِاَئِـمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَ عَامَّتِھِمْ ۱۸ ’’دین خیرخواہی کا نام ہے۔ خیر خواہی اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے اماموں کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے‘‘۔
ابو سعید خدری ؓکہتے ہیں کہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا اور نماز عید سے پہلے خطبہ شروع کر دیا ، تو ایک شخص نے کہا : مروان ! آپ نے سنت کے خلاف کیا۔ ایک تو آپ نے اس دن منبر نکالا حالاںکہ اس دن منبر نہیں نکالا جاتا۔ پھر آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا ، حالاںکہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا۔ ابو سعید خدری ؓ نے کہا : اس شخص نے تو اپنا وہ حق جو اس پر تھا ادا کردیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ’’تم میں سے جو شخص کوئی بات خلافِ شرع دیکھے، تو اگر اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اس کو دل سے بُرا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔۱۹
ایک حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا : سَتَکُوْنُ اُمَرَاءُ فَتَعْرِفُوْنَ وَ تُنْکِرُوْنَ فَمَنْ عَرَفَ بَرِیَٔ وَمَنْ اَنْکَرَ سَلِمَ وَلٰکِنْ مَنْ رَضِیَ وَ تَـابَعَ قَالُوْا اَفَلَا نُقَاتِلُہُمْ قَالَ لَا ، مَا صَلُّوْا ۲۰ ’’یعنی عنقریب ایسے حکمران ہوں گے جنھیں تم پہچانتے ہو گے اور ان کا انکار کرو گے، پس جس کسی نے ان (کی حقیقت) پہچان لی وہ بری ہوگا، جس کسی نے برملا ان کا انکار کیا وہ تو سلامتی کے راستے پر ہوگا سواے اس کے جو ان پر راضی ہوگیا اور ان کی اطاعت کرنے لگا (یعنی نہ وہ بری ہے اور نہ سلامتی کے راستے پر)‘‘۔ صحابہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! کیاایسے امرا کے خلاف ہمیں قتال نہیں کرلینا چاہیے؟ آپؐ نے فرمایا: جب تک وہ نماز ادا کرتے رہیں ایسا مت کرنا۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں جہاں اس حدیث کا باب باندھا ہے، اس باب کا موضوع ہی رکھا ہے: باب وجوب الانکار علی الامراء فیما یخالف الشرع وترک قتالھم ما صلو ونحو ذٰلک (یعنی اس بات کا باب کہ اگر امرا شریعت کی خلاف ورزی کریں تو ان کی نکیر واجب ہے…)۔ گویاجو حکمران اللہ کے احکام کی کھلی نافرمانی کریں ، ان کے خلاف خروج اور قتال کے لیے تو کچھ اور شرائط ہیں، لیکن ان کی نکیر اور ان کو معروف کی تلقین اور اسلام کے نفاذ کے لیے ان کو آمادہ کرنا، یہ کام تو ہر حال میں اہل ایمان کو انجام دینا ہے۔
۳- آج کے زمانے میں ملکوں کے نظام اور قوانین کے لیے صرف حکمران ذمہ دار نہیں ہوتے، عوام بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ دنیا کے بیش تر ملکوں میں تو جمہوری نظام ہیں۔جمہوری نظام کی تو تعریف ہی یہی ہے کہ وہاں قانونی طور پر عوام ہی اصل حکمران ہوتے ہیں۔ حکومت کے کام انھی کے منتخب نمایندے انجام دیتے ہیں۔ ملک کی قانون سازی اور پالیسی سازی عوامی رجحانات کے مطابق ہی ہوتی ہے۔ اس لیے اب تو یہ بحث بالکل غیر متعلق ہے کہ حکمرانی سے متعلق احکامِ دین کے مخاطب صرف حکمران ہیں، عوام نہیں ہیں۔ اب یہ بات ساری دنیا میں مسلمہ ہے کہ جمہوری حکومتوں میں جو پالیسیاں بھی بنتی ہیں، ان کے لیے عوام پوری طرح ذمہ دار ہیں۔عوام کے سامنے جواب دہ اور عوام کے ووٹ سے منتخب حکومت، اگر اللہ کے احکام کی کھلی خلاف ورزی کرتی ہے اور وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِـمَا اَنْزَلَ اللہُ کی تصویر بنی رہتی ہے، تو اس معاشرے میں رہنے والے مسلمان کیسے اس کی ذمہ داری سے بری ہوسکتے ہیں؟براء ت کی ایک ہی شکل ممکن ہے اور وہ یہ کہ وہ معاشرے کو اسلام کے نفاذ کے لیے تیار کرنے کی بساط بھر کوشش کرتے رہیں۔بلاشبہہ وہ کسی ایسے کام کے مکلف نہیں ہیں جو اُن کی طاقت اور استعدادسے باہر ہو لیکن جو کچھ ان کے بس میں ہے ، اُ س جدوجہد کی ذمہ داری سے وہ کیسے بری ہوسکتے ہیں؟ اسلام میں اجتماعی ذمہ داری کا تصور بھی پایا جاتاہے۔ ہم کو ایسے واضح نصوص بھی ملتے ہیں جن میں معاشرے کی اجتماعی خرابیوں کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے:
وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً ج وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِO (الانفال ۸: ۲۵)،اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر انھی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنھوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو۔ اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
جاوید صاحب خود اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں:
دنیا میں خدا کا قانون یہی ہے کہ بعض اوقات ایک گروہ کے جرائم کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑتی ہے۔ یہ اْس سے متنبہ فرمایا ہے کہ اپنے رویے کی اصلاح کر لو، ورنہ اندیشہ ہے کہ اُس طرح کے کسی فتنے میں مبتلا ہو جاؤ گے جو پوری جماعت، بلکہ آیندہ نسلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا کرتا ہے۔ اللہ کے دین میں اِسی بنا پر لوگوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی بھلائی کی تلقین کریں اور برائی سے روکیں۔۲۱
حدیث میں آیا ہے:
مَا مِنْ قَوْمٍ یعْمَلُ فِیھمْ بِالْمَعَاصِي فَلَمْ یُغَیِّرُوا إِلا أَوْشَکَ أَن یَعُمَّھُمُ اللَّہُ بِعِقَابٍ ۲۲ اگر کسی قوم میں گناہ کے کام کیے جاتے ہوں اور ان کاموں کو روکنے کی کوئی کوشش نہ کی جائے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو عذاب میں گرفتار کرلے۔
۴- کسی نظریے پر پختہ ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اس کے نفاذ کے لیے جدوجہد کی جائے کہ یہی انسانی فطرت ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کے اجتماعی احکام پر عمل ضروری نہیں ہے( اس مکتب فکر کا ہم نے ابتدا میں ذکر کیا تھا) تو اس کا معاملہ مختلف ہے۔ لیکن اگر کسی کا یہ ایمان ہے کہ اسلام سیاست سمیت زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتا ہے، اور یہ رہنمائی ہی انسانوں کی فوزو فلاح کی واحد ضامن ہے، تو اس کے بعد، اس نظریے کے نفاذ کا خواب دیکھنا اور اس کے لیے ممکنہ جدوجہد کرنا خود بخود اس کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
زندگی کے مشن اور نصب العین کا گہرا تعلق اعتقاد (Belief )سے ہوتا ہے۔ ہر مشن اور نصب العین کسی اعتقاد کی پیداوار ہوتا ہے اور ہر پختہ عقیدہ کسی نہ کسی نصب العین کو لازماً جنم دیتا ہے۔اعتقاد اور زندگی کے مشن (Life Mission) کے درمیان یہ گہرا تعلق آج علم انتظامیات، سماجی نفسیات ، سماجیات وغیرہ علوم کا مسلمہ اصول ہے۔ان سب علوم میں یہ بحثیں موجود ہیں کہ آدمی اپنے بارے میں اور دیگر انسانوں اور کائنات کے بارے میں جو نقطۂ نظر یا اعتقاد رکھتا ہے اور جن قدروں (Values) اور اصولو ں کو اپنے لیے اور دیگر انسانوں کے لیے درست اور صحیح سمجھتا ہے، اسی نظامِ اقدار سے اس کی زندگی کا مشن تشکیل پاتا ہے۔ کسی بھی میدان میں تبدیلی کی ضرورت پر پختہ یقین آدمی کو اس تبدیلی کی تحریک چلانے پر مجبور کرتا ہے۔اس لیے، اقامت دین کا نصب العین اس عقیدے کا لازمی نتیجہ ہے کہ اسلام اللہ کا دین ہے اور اسی میں انسانوں کی نجات ہے۔ عقلی اعتبار سے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آدمی کا عقیدہ تو اسلام میں ہو، لیکن اسلام کا قیام اس کا نصب العین نہ بنے۔
اگر آج میں کینسر کی ایک نئی دوا ایجاد کرلو ں او ر میرے اندر یہ مستحکم یقین پیدا ہوجائے کہ اس دوا سے کینسر کا ہر مریض لازماً شفا پالے گا اور یہ کہ اس انمول دوا کی ترویج اس وقت عالم انسانیت کی ایک بڑی ضرورت ہے، تو اس عقیدے کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس دوا کی ترویج، اور ملک کے نظامِ صحت میں اس کی قبولیت میرا نصب العین بن جائے گا۔اگر اس دوا کے کارگر ہونے پر کامل یقین کے باوجود میں اسے لے کر گھر میں بیٹھا رہوں، تو میری یہ خاموشی انسانیت کے خلاف ہی تصور کی جائے گی اور میرے ضمیر بلکہ میری انسانی فطرت کے خلاف ہوگی۔ مختلف ازم کے علَم بردار اپنے اپنے نظریات کے قیام و نفاذ کے لیے اس بات کے محتاج نہیں ہیں کہ ان کی کتابوں کی عبارتوں کی لغات کے ذریعے تشریح کرکے بتایا جائے کہ اس کا قیام و نفاذ تمھاری ذمہ داری ہے۔ ان اصولوں کی صحت پر یقین اور اُن کے انسانوں کے لیے مفید اور موزوں ہونے پر یقین بذاتِ خود اس بات کے لیے کافی تصور کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے نفاذ کو اپنی زندگی کا نصب العین قرار دے دیں۔
یقیناً اسلام نے یہ اصول دیا ہے کہ نفاذکا یہ کام زور زبردستی کے ساتھ نہیں ہوگا۔ میں کینسر کی دوا بھی کسی مریض کو بندوق کی نوک پر نہیں پلائوں گا۔ ڈاکٹروں کو بھی اس کی اجازت نہیں ہوتی۔میں دوسروں کا یہ حق بھی تسلیم کروں گا کہ اگر کوئی اس دوا کو مؤثر نہیں سمجھتا ہے یا نقصان دہ سمجھتا ہے تو وہ بھی اپنی بات لوگوں کے سامنے پیش کرے، لیکن میں آخری کوشش اس مقصد کے لیے ضرور کروں گا کہ لوگ اس کی افادیت کے قائل ہوجائیں، اس کے حق میں راے عامہ بن جائے اور اس کی تنفیذ ممکن ہوجائے۔ بالکل یہی کام مجھے اسلام کے سلسلے میں بھی کرنا ہے۔
۱- دستور جماعت اسلامی ہند، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، دہلی، مئی ۲۰۱۶، ص۷
۲- ایضاً، ص۸
۳- سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، تحریک آزادی ہند اور مسلمان، دوم، لاہور، ص۱۷۵-۱۷۶
۴- سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، تصریحات(مرتبہ: سلیم منصور خالد)، لاہور ص ۲۵۷- ۲۵۸
۵- ایضاً ،ص ۳۲۰ تا ۳۲۲
۶- سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، ،تفہیمات، سوم ، اسلامک پبلی کیشنز، لاہور، ستمبر ۱۹۶۴ء، ص۱۶۲-۱۶۳
۷- تعبیر کی غلطی،مولانا وحید الدین خان ، مکتبہ الرسالہ ، نئی دہلی، تیسراایڈیشن، اکتوبر ۱۹۸۶
۸- سورۂ شوریٰ کی آیت ۴۲:۱۳ کی طرف اشارہ ہے: شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰھِیْمَ وَ مُوْسٰی وَعِیْسٰیٓ اَنْ اَقِیْمُواالدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط (اُس نے تمھارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اْس نے نوحؑ کو دیا تھا، اور جسے (اے محمدؐ!) اب تمھاری طرف ہم نے وحی کے ذریعے سے بھیجا ہے، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیمؑ، موسٰی اور عیسیٰؑ کو دے چکے ہیں، اِس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اِس دین کو اور اْس میں متفرق نہ ہو جاؤ۔[ترجمہ مولانا مودودیؒ])
۹- سورۂ صف کی آیت۶۱:۹ کی طرف اشارہ ہے: ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْن (وہی تو ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو [ترجمہ مولانا مودودیؒ])۔ یہی بات سورۂ توبہ کی آیت ۳۳ میں بھی کہی گئی ہے اور اس سے مشابہ مضمون سورۂ فتح کی آیت ۲۸ میں بھی آیا ہے: ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ط وَکَفٰی بِاللہِ شَھِیْدًا ( وہی تو ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے)۔
۱۰- ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی، اقامت دین اور نفاذ شریعت، نئی دہلی، مئی ۲۰۱۲ء، ص۱۰ تا ۱۸
۱۱- مولانا صدر الدین اصلاحی، ’ خط مولانا صدر الدین ، ماہنامہ تجلّی، دیوبند ، فروری و مارچ ۱۹۶۵ء، ص۵۱
۱۲- جاوید احمد غامدی، تاویل کی غلطی ، مجموعہ مقالات بُرہان، المورد ، لاہور، ۲۰۱۰ء، ص ۱۶۹ تا ۱۸۰
۱۳- مولانا گوہر رحمٰن ، تفہیم المسائل، جلد پنجم، مکتبہ مدرسہ تفہیم القرآن، مردان، ۲۰۰۰ء،ص ۳۶۷ تا ۴۰۹
۱۴- ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی، اقامت دین اور نفاذ شریعت، ص۲۷تا ۳۱
۱۵- بیہقی ، دارقطنی، البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
۱۶- مسلم، کتاب الامارۃ، حدیث: ۳۶۳۶
۱۷- مسلم، کتاب الامارۃ، حدیث: ۳۶۴۱
۱۸- صحیح مسلم ، کتاب الایمان، باب الدین النصیحہ، رواہ تمیم الداری، حدیث: ۱۰۷
۱۹- سنن ابن ماجہ، باب امر بالمعروف و نہی عن المنکر، رواہ ابو سعید الخدریؓ۔
۲۰- صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ، روایت اُمِ سلمہؓ
۲۱- جاوید احمد غامدی، البیان ، تفسیر سورۂ انفال آیت ۲۵
۲۲- ابن ماجہ ۱۳/۱۲، نمبر ۳۹۹۹، مسند احمد ۱۹۵/۳۹، البانی نے اسے حسن قراردیا ہے۔
۲۳- سورۂ نور ، آیت ۵۵، ترجمہ جاوید احمد غامدی
ریاست کا اسلامی تصور اُس اصطلاح کے اندر چھپا ہوا ہے، جو اسلام نے ریاست کی تعبیر کے لیے اختیار کی ہے۔ اسلامی لٹریچر پر نگاہ رکھنے والا ہرشخص جانتا ہے کہ اسلام نے اپنے اصولوں پر قائم شدہ سیاسی تنظیم کے لیے ’ریاست‘ یا’سلطنت‘ یا ’حکومت‘ کی اصطلاحیں نہیں اختیار کی ہیں بلکہ ’خلافت‘ یا ’امامت‘ یا ’امارت‘ کی اصطلاحیں اختیار کی ہیں۔ اس وجہ سے ریاست کا اسلامی تصوّر واضح کرنے کے لیے سب سے پہلے اِن اصطلاحات پر غور کرنا اور اِن کے مضمرات کو سمجھنا ضروری ہے۔
’خلافت‘ اور ’امامت و امارت‘ کی اصطلاحیں ہماری فقہ کی کتابوں میں عموماً بالکل مترادف المعنی اصطلاحات کی حیثیت سے استعمال ہوگئی ہیں، جس کے سبب سے بعض اوقات کچھ خلطِ مبحث سا ہوجاتا ہے، لیکن اگر قرآن و حدیث کی روشنی میں ان کے مفہوم متعین کرنے کی کوشش کی جائے، تو یہ حقیقت بالکل واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ ان اصطلاحات کے مفہوم الگ الگ ہیں۔ ’خلافت‘ کی اصطلاح اسلامی اصولوں پر ایک قائم شدہ ریاست کے لیے استعمال ہوئی ہے، اور ’امامت‘ یا ’امارت‘ سے مراد وہ گورنمنٹ ہوتی ہے، جو خلافت کے ارادوں کی تنفیذ کرتی اور اس کے منصوبوں کو عملی جامہ پہناتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کو یوں سمجھیے کہ جو فرق State اور Government کے درمیان ہے، اسی قسم کا فرق ’خلافت‘ اور ’امامت و امارت‘ کے درمیان ہے۔
اس تمہید سے یہ بات واضح ہوئی کہ: ’’ریاست کا اسلامی تصوّر سمجھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے یہ حقیقت ملحوظ رکھنی ہے کہ اسلام میں ریاست محض ایک ریاست نہیں ہے بلکہ وہ خلافت ہے‘‘۔ پھر ساتھ ہی یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی ہوگی کہ کسی چیز کا صحیح تصوّر اس کی معیاری شکل ہی سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔ اس وجہ سے یہاں ’خلافت‘ کی بھی صرف وہی شکل زیربحث ہے جو معیاری ہے۔ اس کی بگڑی ہوئی شکلیں، جن کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں، اس بحث میں ہمارے لیے کارآمد نہیں ہوسکتیں۔
قرآن میں اس خلافت کی ابتدا اس طرح بیان کی گئی ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کرنا چاہا تو سب سے پہلے فرشتوں کے سامنے اپنے اس ارادے کا اظہار فرمایا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں کے علم میں چوں کہ اللہ تعالیٰ کی پوری اسکیم نہیں تھی، اس وجہ سے ان کے حلقے میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر اس نئی مخلو ق کے پیدا کرنے سے مقصود اللہ تعالیٰ کا محض یہ ہوتا کہ یہ اس کی تسبیح و تقدیس کرے تو اس کو پیدا کرنے کی ضرورت نہیں تھی ،کیوں کہ اس کام کے لیے تو ہم پہلے سے موجود ہی ہیں۔ لازماً یہ مخلوق خدا کے نائب کی حیثیت سے اس زمین کا انتظام و انصرام سنبھالے گی، اور اس کے خلیفہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس کو اللہ کی طرف سے کچھ اختیارات بھی تفویض ہوں گے۔ پھر یہاں سے ان کو یہ اندیشہ بھی ہوا کہ اگر اس مخلوق کو اختیار بھی ملا تو یہ زمین میں عدل و انصاف کے بجاے خون ریزی اور فساد برپا کرنے والی مخلوق بن جائے گی۔ اپنا یہ اندیشہ فرشتوں نے ایک سوال کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو جواب دیا کہ: یہ شبہہ تمھیں صرف اس وجہ سے لاحق ہوا ہے کہ تمھاری نظر میری پوری اسکیم پر نہیں ہے۔ چنانچہ ان کو آدم کی ذُریت کا مشاہدہ کرایا گیا اور پھر ان سے سوال کیا گیا کہ اگر آدم ؑ اور ان کی اولاد کے بارے میں تمھارا یہ گمان صحیح ہے تو بتائو، یہ کون لوگ ہیں؟ یہ سب کے سب زمین میں فساد ہی برپا کرنے والے ہیں یا ان میں نیکی اور انصاف پھیلانے والے بھی ہیں؟ فرشتوں نے نہایت ادب کے ساتھ یہ اقرار کیا کہ انھیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو (جو پہلے سے اپنی ذُریت کے ناموں سے واقف ہوچکے تھے) حکم دیا کہ وہ اپنی ذُریت کے نام ان فرشتوں کو بتائیں۔ حضرت آدم ؑ نے فرشتوں کو اپنی ذُریت کے ناموں سے آگاہ کیا اور ان کی نسل میں جو انبیاو رُسل اور جو مجددین و مصلحین پیدا ہونے والے تھے، ان کا تعارف کرایا۔ اس سے فرشتوں پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ آدم ؑ اور اولادِ آدم ؑ کو جو خلافت عطا ہورہی ہے، اگرچہ وہ اختیار و ارادے کی آزادی کے ساتھ عطا ہورہی ہے، جس سے خرابی کے بھی اندیشے ہیں لیکن ساتھ ہی اس اختیار و ارادے کی حدبندی اور انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے اللہ تعالیٰ اپنی کتاب و شریعت بھی نازل فرمائے گا اور اپنے نبی اور رسول بھی بھیجے گا۔ اس انکشاف سے فرشتوں پر اللہ تعالیٰ کی اسکیم واضح ہوگئی اور وہ مطمئن ہوگئے۔
اور ہم نے تم سے پہلے قوموں کو ہلاک کیا، جب کہ انھوں نے ظلم کیا اور ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، لیکن وہ ایمان لانے والے نہ بنے۔ ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں ہم مجرموں کو۔ پھر ہم نے ان کے بعد زمین میں تم کو خلیفہ بنایا، تاکہ دیکھیں کہ تم کیسا عمل کرتے ہو۔(یونس ۱۰: ۱۳-۱۴)
یہ ’خلافت بالقوہ‘ اگرچہ سارے ہی انسانوں کو حاصل ہے، لیکن بالاستحقاق یہ صرف ان کو حاصل ہے جو اس کا حق ادا کریں۔ چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں اپنا خلیفہ قرار دیا ہے، اس لیے کہ ان کی حکومت اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق تھی:
اے دائود ؑ! ہم نے تم کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا تو تم لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔(صٓ ۳۸: ۲۶)
اس خلافت کے حقیقی اہل درحقیقت انبیا علیہم السلام ہیں یا پھر وہ لوگ ہیں جو انبیا علیہم السلام کے طریقے پر اس کی ذمہ داریاں ادا کریں۔ جو لوگ اللہ کی بندگی اور اطاعت کے لیے منظم ہوجاتے ہیں ،اللہ تعالیٰ ان کو اس خلافت کا خلعت عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں فرمایا ہے:
تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے بھلے کام کیے، اللہ کا ان سے وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں اسی طرح خلافت دے گا، جس طرح اس نے ان کے اگلوں کو دی اور ان کے لیے ان کے اس دین کا بول بالا کرے گا، جس کو ان کے لیے پسند فرمایا۔ اور ان کی خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری ہی بندگی کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہیں ٹھیرائیں گے۔(النور۲۴: ۵۵)
یہی خلافت کی معیاری شکل ہے۔ جب تک یہ اپنی ان خصوصیات پر باقی رہے، یہ زمین کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ یہ خصوصیات اگر کم ہونی شروع ہوجائیں تو یہ اس کے بگاڑ کی صورتیں ہوں گی اور اس بگاڑ کے مختلف درجے ہیں۔ ایک خاص درجے تک یہ بگاڑ اس کو خلافت کے دائرے سے خارج نہیں کرتا لیکن اگر یہ بگاڑ اس کی بنیادی خصوصیات کو ختم کر دے، تو پھر یہ خلافت نہیں باقی رہ جاتی بلکہ بغاوت اور فساد فی الارض بن جاتی ہے۔
اس تفصیل کے بعد یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں رہا کہ ایک ’عام ریاست‘ اور ایک ’اسلامی ریاست‘ (بالفاظِ دیگر ’خلافت‘) میں کس اعتبار سے اشتراک اور کن پہلوئوں سے اختلاف ہے۔ ارسطو نے انسان کی یہ جو تعریف کی ہے کہ وہ حیوانِ ناطق ہے۔ یہ تعریف جس طرح ایک کافر پر صادق آتی ہے، اسی طرح ایک مومن پر بھی صادق آتی ہے۔ کیوں کہ اپنے مادی اور جبلی دائروں میں دونوں ایک ہی طرح کی ضروریات اور ایک ہی قسم کے داعیات رکھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ہرشخص جانتا ہے کہ دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ ایک کافر کے اصولِ زندگی اور ہیں اور ایک مسلم کے اصولِ زندگی اور ہیں۔ اسی طرح ایک ’عام ریاست‘ اور ایک ’اسلامی ریاست‘ میں بھی جہاں تک ان کے ظاہری ڈھانچے اور ان کے مادی اجزاے ترکیبی کا تعلق ہے کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ ایک ’عام ریاست‘ جس طرح اپنے وجود پذیر ہونے کے لیے اس امر کی محتاج ہے کہ اس کو ایک انسانی معاشرہ حاصل ہو، اس کے قبضے میں ایک مخصوص علاقہ ہو، وہ داخلی طور پر بااقتدار اور بیرونی حیثیت سے خودمختار ہو۔ اس کے پاس ایک سیاسی ادارہ (گورنمنٹ)ہو، جو اس کے ارادوں کی تنفیذ اور اس کے مقاصد کی تکمیل کرسکے۔ اسی طرح ’اسلامی ریاست‘ یا ’خلافت‘ بھی اپنے وجود پذیر ہونے کے لیے ان ساری چیزوں کی محتاج ہے۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہوا، لیکن جہاں تک دونوں کے اصول اور مقاصد کا تعلق ہے ، ان دونوں میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔
امانت کی پہلی قسم ’امانت ِ شرعیہ‘ ہے جو اللہ نے بنی نوعِ انسانیت کو دی جس کی تفصیل بیان کی جاچکی ہے۔ امانت کی دوسری قسم ’منصبی امانت‘ ہے۔
خواص کے لیے امانت کا مفہوم: عہدے اور مناصب امانت ہیں، جیسا کہ نبی کریمؐ کا فرما ن ہے، جسے سیّدنا ابو ذر غفاریؓ نے روایت کیا ہے:
میں نے عرض کیا: اللّٰہ کے رسولؐ! کیا آپؐ مجھے عامل نہیں بنائیں گے؟ آپؐ نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا: ابوذرؓ! تم کمزور ہو، اور یہ (امارت) امانت ہے اور قیامت کے دن یہ شرمندگی اور رسوائی کا باعث ہو گی، مگر وہ شخص جس نے اسے حق کے مطابق قبول کیا اور اس میں جو ذمہ داری اس پر عائد ہوئی تھی اسے (اچھی طرح) ادا کیا۔وہ شرمندگی اور رسوائی سے مستثنیٰ ہو گا۔(مسلم: رقم ۴۷۱۹)
ہرانسان کو دی جانے والی زندگی اللّٰہ کی امانت ہے، جو اللّٰہ تعالیٰ نے اسے اخذِ میثاق [عہدِ الست] کے بعد(کہ وہی ہمارا ربّ ہے/ توحیدِ ربوبیت) اس عہد کی تکمیل کے لیے دی ہے۔ ہرانسان اسلام میں مسئول و ذمہ دار ہے، اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ فرمانِ نبویؐ ہے جسے سیّدنا عبد اللّٰہ بن عمرؓ نے روایت کیا ہے:
كُلُّكُمْ رَاعٍ فَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ، وَالعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، أَلاَ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ (بخاری: رقم ۲۵۵۴) تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ پس لوگوں کا حقیقی امیر ایک حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ (دوسرا) ہر آدمی اپنے گھر والوں پر حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ (تیسرا) عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر حاکم ہے، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ (چوتھا ) غلام اپنے آقا ( سیّد ) کے مال کا حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ پس جان لو کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں (قیامت کے دن ) پوچھ ہوگی۔
چنانچہ یہ امانت او رذمہ داری ہرمسلمان کی اپنی ذات اور اپنے گھر پر ہے، بیوی کی اپنے شوہر کے گھر اور اولاد پر ہے، اور حاکم کی اپنی رعایاپر ہے، خادم کی اپنے مالک کے مال پر ہے۔ اور قیامت کے دن ہر امین ومسئول سے اس کی امانت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
یاد رہے کہ عہدے ومناصب دینے والی ذات اللّٰہ عزوجل کی ہے، جیسا کہ واقعہ طالوت والی پہلی آیت میں آیا کہ ’’اللّٰہ جس کو چاہتا ہے ، اپنی بادشاہت سے عطا کرتا ہے‘‘۔ مزید فرمایا:
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ (اٰل عمرٰن۳:۲۶)آپ کہیے :’’اے اللّٰہ ! بادشاہت کے مالک! جسے تو چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے‘‘۔
اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ قف يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ ط(الاعراف۷:۱۲۸)یہ زمین اللّٰہ کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنا دے ۔
یہ زمین اللّٰہ کی ہے اور جس کو وہ چاہتا ہے ، اپنے بندوں پرحکومت عطا کرتا ہے۔ اس بنا پر ہر مسلمان حاکم امین ہے اور اللّٰہ نے مخصوص ذمہ داریوں کے ساتھ اس کو اپنی مسلم رعایا کی ذمہ داری سونپی ہے۔ جس کو جو منصب سونپا جائے ، وہ اس کو بخوبی پورا کرے تو یہ منصبی امانت دارہے ، جیساکہ سیّدنا جبریلؑ کو وحی کی ذمہ داری سونپی گئی تو وہ رسولِؐ امین ہوئے۔ نبی کریمؐ کو رسالت کا فرض سونپا گیا تو آپ نے شکوہ کیا کہ ’’آسمان والا تو مجھے امین مانتا ہے، اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے‘‘ ۔ یعنی میں عظیم منصب امانت پر قائم ہوں، تو کہاں یہ چھوٹی سی مالی امانت میں کوتاہی ممکن ہے۔ اس بناپر امانت میں منصب کے تقاضے پورے کرنا بھی شامل ہے۔ حدیث میں ہے:
ایک دن سیّدنا ابو مسلم خولانی، سیّدنا معاویہ بن ابو سفیان کے پاس آئے اور کہنے لگے: السَّلَامُ عَلَیْكَ أَيُّهَا الْأَجِیْرُ! (اُجرت پر کام کرنے والے! آپ پر سلامتی ہو)۔ لوگوں نے کہا: أَیُّہَا الْاَمِیْرُکہیے، تو انھوں نے پھر السَّلَامُ عَلَیْكَ أَيُّهَا الْأَجِیْرُ! کہا۔ لوگوں نے پھر کہا : أَیُّہَا الْاَمِیْرُکہیکہیے، تو تیسری بار انھوں نے وہی جملہ دہرایا: السَّلَامُ عَلَیْكَ أَيُّهَا الْأَجِیْرُ! آخر سیّدنا معاویہ نے کہا: ابو مسلم کو اپنی بات کہنے دو، وہ اسے ہم سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد ابو مسلم بولے: اے معاویہ!تم اجیر (اُجرت پر کام کرنے والے ملازم) ہو۔ان بکریوں کے ریوڑ کے لیے تم کو ان بکریوں کے رب نے اُجرت پر رکھا ہے۔ اگر تم خارش زدہ بکریوں کی خبر گیری کرو گے اور مریض بکریوں کی دوا کروگے اور ان بکریوں کی اچھی طرح حفاظت کرو گے، تو بکریوں کا مالک تمھیں پوری اُجرت دے گا۔ اور اگر تم نے خارش زدہ بکریوں کی خبر گیری نہ کی، مریض بکریوں کی دوا نہ کی، ان کی اچھی حفاظت نہ کی تو بکریوں کا مالک تم کو سزا دے گا۔ (حلیۃ الاولیاء:۲/۱۲۵، سیر اعلام النبلاء: ۴/۱۳، مختصرا، تاریخ دمشق ابن عساکر: ۲۷/۲۲۳، بحوالہ السیاسۃ الشرعیۃ: ۳۶)
جب یہ مناصب سراسر امانت ہیں تو اس میں خیانت کرنے والے کی سزا روزِ قیامت جنت سے محرومی ہے:
وَقَالَ: لَا يَسْتَرْعِي اللهُ عَبْدًا رَعِيَّةً، يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا، إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ(مسلم: رقم ۳۶۴) اللّٰہ تعالیٰ کسی بندے کو کسی رعیت کا نگران بناتا ہے اور موت کے دن وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ رعیت کے حقوق میں دھوکا بازی کرنے والا ہے تو اللّٰہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
فَإن الخلق عباد الله، والولاة نُوَّابُ اللهِ عَلٰى عِبَادِهِ، وَهُمْ وُكَلَاءُ الْعِبَادِ عَلٰى نفوسهم؛ بِمَنْزِلَةِ أَحَدِ الشَّرِيكَيْنِ مَعَ الْآخَرِ؛ فَفِيهِمْ مَعْنَى الْوِلَايَةِ وَالْوَكَالَةِ(السياسة الشرعية لابن تيمية مع شرح ابن عثيمين، ص ۳۷) اللّٰہ کی مخلوق اللّٰہ کے بندے ہیں، اور مسلم حکام اللّٰہ کے بندوں پر اللّٰہ کے نائب ہیں اور وہ بندوں پر ان کی جانوں کے ذمہ دار ہیں۔جیسا کہ دو شریک ایک دوسرے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ سو، ان میں ولایت، یعنی حکومت اور وکالت، یعنی تفویض بیک وقت پائی جاتی ہے(یہاں نیابتِ الٰہیہ کے لیے زیادہ موزوں تعبیر ’اللّٰہ کے نمایندے‘ کی ہے)۔
اس عبارت کی شرح میں شیخ ابن عثیمین منصبِ حکومت کی امانت کی وضاحت کرتے ہیں: ’’ابن تیمیہؒ نے واضح کیا ہے کہ امرا وحکام، اللّٰہ کے بندوں پر اس کے نائب ہیں، یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو بندوں پر اس لیے نائب بنایا ہے کہ وہ اللّٰہ کی شریعت کو ان میں قائم کردیں۔ اور خلیفہ وحاکم لوگوں کی جانوں پر ان کے وکیل بھی ہیں، کہ (مسلمانوں نے حکام کو یہ ذمہ دار سونپی ہے کہ ) ان کے اخلاق درست کریں اور ان کو اللّٰہ کی شریعت پر چلائیں۔اس دوسرے پہلو سے وہ بندوں کی جانوں پر بندوں کے وکیل ہوئے کہ عوام نے ان حکام کو اپنی جانوں کی یہ ذمہ داری سونپی ہے۔ گویا یہ کہا ہے کہ تم ہمارے حاکم بنو، تاکہ ہمیں سیدھا رکھو اور اللّٰہ کی شریعت کے مطابق ہم میں عدل قائم کرو۔
’’مذکورہ بالا وجوہ کی بنا پر امانت ہی مناصب کی ذمہ داری میں سب سے بنیادی وصف ہے، اور اس وصف کا اعتبار دُنیوی امانت سے بڑھ کر ، اللّٰہ کی امانت کی تکمیل، اللّٰہ کے احکام پر خود چلنا اور حاکم کا اپنے ماتحتوں کو اس پر چلانا ہے۔ جو مسلمان شخص اللّٰہ کے احکام کا امین نہیں، امانت ِ کبریٰ میں کوتاہی کرنے والا ہے، وہ لوگوں کے حقوق میں بھی کوتاہی کرنے والا ہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی سیاست کی رو سے وہی شخص لوگوں کا نمایندہ بن سکتا ہے، جو سب سے پہلے خود اللّٰہ کی امانت کو پورا کرنے والا ہے۔ اور اللّٰہ کی امانت کا سب سے بڑا اظہار نماز کی پابندی خود کرنا اور لوگوں سے کروانا ہے۔ اور جب کوئی حاکم اس امانت کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ لوگوں سے اپنی اطاعت کا حق کھوبیٹھتا ہے‘‘۔(السياسة الشرعية لابن تيمية ، ۶۳:۱/۳۷، فتاویٰ ابن تیمیۃ: ۲۸/۲۶۱)
اسلام میں سیاست، یعنی عہدے اور اقتدار بھی خدمت اور فروغِ دین کے لیے ہیں، اسی لیے سیاسی حکمران اور نماز کے قائد دونوں کو ’امام‘ ہی کہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمال وحکام کے لیے نماز کی امامت لازمی کررکھی تھی اور یہی کام خلفاے راشدین کرتے تھے، جیسا کہ:
۱-سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کو جب نماز کا امام مقرر کیا گیا تو صحابہ کرامؓ نے ان کو مسلمانوں کی سیاست کا امام (خلیفہ) بنالیا۔
۲-نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمال وحکام کو نماز سے آغاز کرنے کی تلقین فرمایا کرتے: بَعَثَ النَّبِيُّ مُعَاذًا إلَى الْيَمَنِ قَالَ: يَا مُعَاذُ! اِنَّ أَهَمَّ أَمْرِكَ عِنْدِي الصَّلَاةُ (ایضاً)’’جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا معاذ کو (یمن میں عامل بنا کر )بھیجا تو فرمایا کہ اے معاذ! میرے نزدیک تمھاری سب سے اہم شے نماز ہے‘‘۔
سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: لَا، مَا صَلَّوْا( مسلم:۴۸۰۰) جلد ہی ایسے حکمران ہوں گے کہ تم انھیں (کچھ کاموں میں ) صحیح اور (کچھ میں) غلط پاؤ گے۔ جس نے (ان کی رہنمائی میں) نیکی کے کام کیے وہ بَری ٹھیرا اور جس نے (ان کے غلط کاموں سے) انکار کر دیا وہ بچ گیا لیکن جو ہر کام پر راضی ہوا اور پیروی کی (وہ بَری ہوا، نہ بچ سکا)۔ صحابہؓ نے عرض کیا: کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: ’’نہیں، جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں (جنگ نہ کرو)‘‘۔
۳- سیّدنا عمر فاروقؓ نے اپنے عمال کو حکم نامہ بھیجا: اِنَّ أَهَمَّ أَمْرِكُمْ عِنْدِي الصَّلَاةُ ، فَمَنْ حَفِظَهَا وَحَافَظَ عَلَيْهَا، حَفِظَ دِينَهُ ، وَمَنْ ضَيَّعَهَا فَهُوَ لِمَا سِوَاهَا أَضْيَعُ (موطا امام مالک، کتاب وقوت الصلاۃ ، حدیث۵ ) ’’میرے نزدیک تمھارا سب سے اہم کام نماز پڑھنا ہے۔ جو اس کی خود حفاظت کرے اور دوسروں سے حفاظت کرائے تو اس نے اپنے دین کی حفاظت کرلی۔ اور جس نے اسے ضائع کردیا تو اس کے ماسوا اُمور کو وہ زیادہ ضائع کرنے والا ہے‘‘۔
۴-امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی صحابی کو مدینہ پر نائب بناتے، جیساکہ عتاب بن اسیدؓ کو مکہ پر، عثمان بن ابو العاصؓ کو طائف پر، علیؓ، معاذؓ، ابوموسیٰؓ کو یمن اور عمر وبن حزمؓ کو نجران پر عامل بناکر بھیجا، تو آپ کا نائب / عامل ہی ان کی امامت کراتا اور ان میں حدود اور وہ ذمہ داریاں پوری کرتا جو عسکری قیادت سرانجام دیتی ہے۔یہی آپؐ کے بعد آپ ؐکے خلفا، اُموی بادشاہوں کا اور بعض عباسی حکام کا طریقہ تھا‘‘۔ (السياسة الشرعية لابن تيمية مع شرح ابن عثيمين، ص ۶۳)
عالمِ ربانی اور عظیم مجاہد شاہ اسماعیل شہیدؒ (م:۱۸۳۱ء) ’امام ‘کی وضاحت میں لکھتے ہیں: ’’ لفظ امام سے مراد مطلق امام نہیں، بلکہ وہ امام جس کا تعلق سیاست سے ہو… امام سے مراد صاحبِ دعوت ہے جس نے جہاد کا جھنڈا اعداے دین پربلند کیا اور تمام مسلمانوں کو اس معرکے میں بلایا، اور شرعِ مبین کی اعانت پر کمر باندھی، سیاست ِ دین کی مسند پر بیٹھاسواے ملت کے مذہب کے، دوسرے مذہب کو نہ پکڑا، اور طریقۂ سنت کے سوا دوسرا طریقہ اختیار نہ کیا۔ عدالت وسیاست میں آئین نبوی کے سوا کوئی دوسرا طریقہ نہ بنایا۔قوانین مصطفویؐ کے سوا کوئی دوسرا قانون نہ چھانٹا‘‘۔ (منصبِ امامت،از شاہ اسمٰعیل شہید، ناشر: حنیف اینڈ سنز، ۲۰۰۸ء ،ص۱۷۸)
شاہ صاحب اپنی معرکہ آرا کتاب منصب امامت میں حاکم اور امام کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’جوکوئی مذکورہ کمالات میں کسی کمال میں انبیاء اللّٰہ سے مشابہت رکھتا ہو، وہی امام ہے… بعض کاملین کو انبیا کے ساتھ ایک کمال میں مشابہت ہوتی ہے اور بعض کو دو کمال میں اور بعض کو تین میں۔ اسی طرح بعض کو تمام کمالات میں مشابہت ہوتی ہے۔ پس امامت بھی مختلف مراتب پُر ہوگی، کیوںکہ بعض کے مراتب، امامت میں دوسروں سے اکمل ہوں گے‘‘۔(ایضاً، ص ۸۶)
پھر ان احادیث سے شاہ صاحب نے استدلال کیا جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد بالفرض نبی ہونے میں سیّدنا عمرؓ کا تذکرہ کیا، اور سیّدنا علیؓ کو سیّدنا ہارونؑ کے مشابہ (ماسواختم نبوت)قرار دیا۔
حاکم کا یہ بھی منصبی فرض ہے کہ اپنے نائب ان کو مقرر کرے، جو معاشرے اورحکومت کو شرعی مقاصد کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اگر وہ اپنی پسند ناپسند یا اپنی تائید ، یا خاندانی قوت کے فروغ، یا مال کو جمع کرنےکی غرض سے کسی کو حاکم مقرر کرے گا تو یہ بھی امانت کی خلاف ورزی ہے اور خیانت کے مترادف ہے ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
جب دنیا کے اکثر حکام پر دین کو نظر انداز کرتے ہوئے دنیوی مقاصد غالب آگئے، تو اُنھوں نے اپنی حکومتوں میں ایسے لوگوں کو عہدے دیے جو ان کے دنیوی مقاصد میں ان کی تائید کرسکتے۔ اور ہر وہ شخص جو اپنی حاکمیت چاہتا ہے، اسی کو آگے کرتا ہے جو اس کی حکومت وریاست کو تحفظ دے۔(السياسة الشرعية لابن تيمية مع شرح ابن عثيمين، ص۶۳)
منصبی امانت کو پورا کرنے والا شخص کون سا ہے؟… امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
جب کوئی حاکم اللّٰہ کے حکم کے مطابق منصب دے گا، جب کہ صورت حال بالکل واضح ہو یا اپنے عمل سے اس کو عہدہ دے گا، جب مخفی ہونے کی صورت میں قرعہ کے ذریعے ترجیح دے ، تو یہی وہ حاکم ہے جس نے امانت کو مناصب دینے میں اس کے حقیقی اہل کے سپرد کردیا۔ (السياسة الشرعية لابن تيمية، ص۵۸)
او رجس حاکم نے یہ مناصب اہل افرا دکے سپرد نہ کیے تو :
جب حاکم اور وکیل، دونوں اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے ایسے شخص کو اپنا نائب بنالیں، اور تجارت وسامان کے لیے اصلح کو نظرانداز کردیں، سودے کو ایسی قیمت پر فروخت کریں، جب کہ اس قیمت سے اچھی قیمت مل سکتی تھی، تو تب اس والی اور وکیل نے اپنے ساتھی سے خیانت کی۔ بلاشبہہ اگر دونوں کے مابین محبت ومودّت یا قرابت داری تھی ، تب بھی اس کا ساتھی اس سے ناراض ہو کر اس کو برا ہی کہے گا اور یہ سمجھے گا کہ اس نے خیانت کی، اور اپنے قریبی یا دوست سے دھوکا کیا ہے۔(ایضاً)
چوںکہ حکومت او رمنصب سمیت دنیا کی ہر نعمت اللّٰہ ہی عطا کرتا ہے، اوربندہ مؤمن ایمان لانے اور کلمہ طیبہ پڑھ لینے کے بعد اس کا اقرار کرتا ہے، اس لیے وہ اپنی ہر صلاحیت واختیار کو اللّٰہ کے بتائے ہوئےطریقے کے مطابق ہی استعمال کرتا ہے۔ چنانچہ اللّٰہ نے حاکم کی یہ ذمہ داری قرار دی کہ :
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ط وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ(الحج۲۲:۴۱)اُنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے۔
اس بنا پر حاکم کا یہ فرض ہے کہ لوگوں کو بھی امانت ِ شرعیہ کی طرف متوجہ کرے، ان کو نماز روزہ کی تلقین کرے اور ان میں امربالمعروف ونہی عن المنکر کو جاری وسار ی کرے۔ اور یہ فرض صرف حاکمِ وقت کا ہی نہیں، بلکہ ہرفرد، ہر گھر اور ہر ادارے کے سربراہ، ہر ماں کا فرض اور ہرخادم کی ذمہ داری ہے۔ حاکم کا جب فرض متعین ہوگیا تو جو حاکم اللّٰہ تعالیٰ کے احکام کے نفاذ کے بجاے لوگو ں کے مفاد اور خواہشات کو پورا کرنے لگ جائے تو گویا کہ وہ اللّٰہ کے مقرر کردہ حاکم کے بجاے ، شیطانی خواہشات کا مؤید بن گیا۔ جس فرض کے لیے اللّٰہ تعالیٰ نے اس کو اقتدار دیا تھا، اس نے اس کے بجاے اس کو دوسرے مقصد پر صرف کردیا اور یہ بدترین خیانت ہے۔ چنانچہ ایسا حاکم اللّٰہ کے بجاے شیطان کا ساتھی ہے اوراس کا انجام بھی شیطان کے ساتھ ہی ہے۔
امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
جو اولی الامر (حاکم) منکرات وجرائم کو نہیں روکے گا اور حدود کا اجرا نہیں کرے گا اور مال لے کر چھوڑ دے گا، وہ چوروں کے سردار اور فحاشی کرنے والوں کے دلال جیسا ہے جو دو زانیوں کو باہم ملا دیتا ہے اور دونوں کا ناجائز حصہ دار بن کر مال لیتا ہے۔ اس کا حال وہی ہوگا جو لوطؑ کی بے حیا بیوی کا ہوا، جو فاسق وفاجر لوگوں کو لوط کے مہمانوں کی خبر دیتی تھی۔ سو، اس کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’پس ہم نے لوط کو اور ان کے گھر والوں کو عذاب سے نجات دی، مگر اس کی بیوی کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھی‘‘۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا: ’’تو تم اپنے اہل وعیال کو لے کر راتوں رات نکل چلو اور تم میں سے کوئی مڑ کر بھی نہ دیکھےسواے تمھاری بیوی کے جو عذاب اوروں پر نازل ہوگا، وہ اس کو بھی پہنچے گا‘‘۔ دیکھیے اللّٰہ تعالیٰ نے اس بدترین بڑھیا کو جو دلالی کرتی تھی، اسی عذاب میں مبتلا کیا جو اس بدترین قوم اور خبیث وجرائم پیشہ لوگوں کو دیا۔ اور یہ اس لیے کہ تمام کا تمام مال لینا دراصل اثم وعدوان کی اعانت و امداد ہے۔ اور حاکم اس لیے بنایا جاتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض انجام دے۔ یہی حکومت اور مناصب کا اصل اسلامی مقصد ہے۔اگر حاکم مال لے کر اور رشوت وصول کرکے کسی منکر کو پھلنے پھولنے دے گا، تو گویا وہ اصل مقصد ِحکومت کے خلاف اور اس کی ضد پر قائم ہوگیا۔ اور یہ ایسا ہی ہے کہ تم نے کسی کو دشمن کے خلاف لڑنے کو بھیجا اور وہ تمھارے ہی خلاف تمھارے دشمن کی اعانت وامداد شروع کردے۔ اور یہ بمنزلہ اس مال کے ہے کہ تم نے کسی کو جہاد میں خرچ کرنے کے لیے مال دیا اور وہ اسے مسلمانوں کے قتل کرنے میں ہی خرچ کررہا ہے۔ (السياسة الشرعية لابن تيمية، ص۵۸)
شیخ ابن تیمیہؒ نے اس اقتباس میں ایسے مسلم حکام کی تردید کی اور اُنھیں ان کے انجام سے خبردار کیا ہے، جو اپنے مفادات کے لیے لوگوں پر اللّٰہ کے قانون کو نافذ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔اور حاکم کے مفادات میں مال کے ساتھ، اس کی حمایت ونصر ت (آج کی زبان میں ووٹ) اور اس کی تائید شامل ہے کہ جب کوئی حاکم ان سستے دنیوی مفادات کے لیے اپنے اصل فریضہ ’اللّٰہ کے قانون کے نفاذ‘ سے دست بردار ہوجائے تو وہ گویا شیطان کا معاون اور مسلمان رعایا پر ظالم بن گیا۔ جب اللّٰہ تعالیٰ نے ان حکام کو حکومت اسی لیے دی ہے کہ وہ اللّٰہ کے قانون کو اللّٰہ کے بندوں پر نافذ کریں تو پھر اپنے اس فرض سے انحراف کرنا گویا لوگوں کے حق اطاعت کا استحصال ہے کہ مسلمان اپنے حاکم کی اطاعت اسی لیے ہی کرتے ہیں کہ وہ انھیں اللّٰہ کے راستے پر چلنے میں مدد دے گا، اور ان پر اللّٰہ کے دین کو قائم کرے گا۔جب حاکم یہ فریضہ ترک کرکے ، الٹا شیطان کا معاون بن گیا تو دنیا میں بھی خائب وخاسر اور آخرت میں بھی شرمسار اور جواب دہ ہوگا۔
’امانتِ مالیہ‘ سے مراد مالی امانت اور اس میں خیانت ہے۔امانت کو عام طور پر اسی معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس خیانت کی مذمت اور اس کی وجہ اللّٰہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمائی:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ O وَ اعْلَمُوْا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ لا وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌO (الانفال۸:۲۷-۲۸)اے ایمان والو! دیدہ دانستہ اللّٰہ اور رسولؐ سے خیانت نہ کرو اور نہ تم آپس کی امانتوں میں خیانت کرو۔ اور جان لو کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد تمھارے لیے آزمایش ہیں اور اللّٰہ کے ہاں اجر دینے کو بہت کچھ ہے ۔
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا مودودی لکھتے ہیں: ’آپس کی امانتوں‘سے مراد وہ تمام ذمہ داریاں ہیں، جو کسی پر اعتبار (trust) کرکے اس کے سپرد کی جائیں، خواہ وہ عہد ِ وفا کی ذمہ داریاں ہوں یا اجتماعی معاہدات کی، یا جماعت کے رازوں کی، یا شخصی و جماعتی اموال کی، یا کسی ایسے عہدہ و منصب کی جو کسی شخص پر بھروسا کرتے ہوئے جماعت [اجتماعیت] اس کے حوالے کرے‘‘۔ (تفہیم القرآن، دوم،ص ۱۳۹)
حصولِ اقتدار عموماً اختیار واقتدار اور حاکمیت کے لیے کیا جاتا ہے، اور اس کا دوسرا مقصد اموال کا جمع کرنا اورعزیز واقارب کے لیے منافع کا حصول ہے۔علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
فَالْوَاجِبُ اتِّخَاذُ الْإِمَارَةِ دِينًا وَقُرْبَةً يُتَقَرَّبُ بِهَا إلَى اللهِ؛ فَإِنَّ التَّقَرُّبَ إلَيْهِ فِيهَا بِطَاعَتِهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ مِنْ أَفْضَلِ الْقُرُبَاتِ. وَإِنَّمَا يَفْسُدُ فِيهَا حَالُ أَكْثَرِ النَّاسِ لِابْتِغَاءِ الرِّيَاسَةِ أَوْ الْمَالِ بِهَا (السياسة الشرعية لابن تيمية، ص ۱۳۰) ضروری ہے کہ دین داری اور اللّٰہ کے تقرب ورضا کے لیے ہی اقتدار کو قبول کیا جائے۔ اور اقتدار میں اللّٰہ کا تقرب اللّٰہ کی اطاعت اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کے ذریعے کرنا، تقرب کی بہترین شکل ہے لیکن اکثر لوگوں کا حال خراب ہے کہ اقتدار کو حاکمیت یا حصول مال کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
مزید فرماتے ہیں کہ اقتدار اصلاً بری چیز نہیں اور نہ حکام کے پاس بیٹھنا ہی لیکن:
وَلَمَّا غَلَبَ عَلَى كَثِيرٍ مِنْ وُلَاةِ الْأُمُورِ إرادة المال والشرف وصاروا بمعزل عن حقيقة الإيمان في ولايتهم رأى كثير من الناس أن الإمارة تنافي الْإِيمَانِ وَكَمَالِ الدِّينِ (ایضاً،ص ۱۳۲)جب اکثر حکام پر مال اور ناموری کی خواہش غالب آگئی اور اپنی حکومت میں انھوں نے حقیقت ایمان کو نظرانداز کردیا تو لوگوں نے بھی یہ سمجھنا شروع کردیا کہ اقتدار ایمان اور کمال دین کے منافی ہے۔
درحقیقت ان مقاصد کے لیے عہدے او رحصولِ اقتدار سراسر ناجائز ہے۔کیوںکہ اقتدار کے یہ دو ناجائز مقاصد فرعون وقارون کے تھےاور ان کا دنیا وآخرت میں بدانجام سب کے سامنے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو مقاصد اقتدار کو بدترین ہلاکتیں قرار دیا ہے:
مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ، (جامع الترمذی، رقم: ۲۳۷۶)دو بھوکے بھیڑیے اگر بھیڑوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں تو وہ اس کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ دو چیزیں نقصان پہنچاتی ہیں: کثرتِ مال اور نام ونمود کی خواہش۔
اقتدار واختیار اور مال ودولت روزِقیامت کسی کام نہیں آئیں گے، جیساکہ قرآن نے جہنمیوں کا نقشہ کھینچا ہے:
مَآ اَغْنٰى عَنِّيْ مَالِيَه O هَلَكَ عَنِّيْ سُلْطٰنِيَهْ (الحاقۃ ۶۹: ۲۸-۲۹)،میرے مال نے مجھے کچھ نفع نہ دیا اور میری حکومت بھی مجھ سے جاتی رہی ۔
اور ان دو ناجائز مقاصد کے لیے سیاست کرنے والا کس کا جانشین ہے؟ ابن تیمیہ لکھتے ہیں: وَغَايَةُ مُرِيدِ الرِّيَاسَةِ أَنْ يَكُونَ كَفِرْعَوْنَ ، وَجَامِعِ الْمَالِ أَنْ يَكُونَ كَقَارُونَ، وَقَدْ بَيَّنَ اللهُ تَعَالٰى فِي كِتَابِهِ حَالَ فِرْعَوْنَ وَقَارُونَ (السياسة الشرعية لابن تيمية،ص ۱۳۲) ’’حاکمیت کا متلاشی فرعون جیسا اور مال کا حریص قارون جیسا ہے اور دونوں کا انجام اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں خوب کھول کر بیان کردیا ہے‘‘۔
شاہ اسماعیل شہید نے حکومت کی دوسری قسم ’سلطنتِ جابرہ‘ قرار دی اور اس کا نقشہ یوں کھینچا: ’’سلطانِ جابر سے وہ شخص مراد ہے جس پر نفس امارہ اس قد رحکمران ہو کہ نہ تو اسے خوفِ خدا مانع ہوسکتا ہے اور نہ مخلوق کی شرم۔ نفس امارہ جو بھی اس سے کہے، بلاتکلف بجا لاتا ہے بلکہ سلطنت کا ثمرہ لذاتِ نفسانیہ کو پورا کرنا ہی سمجھتا ہے… کسی کو تکبر وجبر مرغوب ہے، کسی کو ناز وتبختر، کسی کو تعدی وجور، کسی کو فسق وفجور، کسی کو منشیات ومُسکِرات، کسی کو لذیذ کھانے، کسی کو نفیس لباس، کسی کو لہوولعب اور کسی کو نَشاط وطرب…نفس امارہ کی ہوا وہوس کے ہزاروں مقدمات ہیں۔ سو، اس کے چند اُصول اور بے شمارفروع ہیں:
۱-ایک حبِ مال ہـے: مال جمع کرنا ان کا بہترین مشغلہ اور بہترین لذت ہوتی ہے، خزائن ودفائن کی زیادتی کے ہر رستے کو تلاش کرتے ہیں۔ خود بھی اور ان کے ہم نشین جمع مال میں ساری صلاحیتیں صرف کرتے ہیں، وہی مشیر باتدبیر اور امیر کبیر ہے جس نے جمع مال کی کوئی اچھی اور نئی تدبیر نکالی۔
۲- ان کا دوسرا اُصول غلبہ وتکبّر ہے: بعض لوگ فطرتاً اِدعا پسند، خود پسند، خود ستائی، سرکش ہوتے ہیں۔ اپنے کو بلند ، دوسروں کو حقیر جانتے ہیں۔ اپنے ادنیٰ ہنر کو دوسروں کے کمال کے مقابلے میں بلند رُتبہ سمجھتے ہیں۔ دوسرں کی ذلت کو اپنی عزت اور مسلمانوں کی عار کو اپنی عظمت خیال کرتے ہیں۔ ان کی حکومت کی انتہا یہ ہوتی ہے کہ کوئی ان سے مشارکت نہ کرسکے، مشابہت کی راہ نہ پاسکے۔ ایسا شخص منصبِ سلطنت پر پہنچ کر تکبر سے رفتار وگفتار، نشست وبرخاست، القاب وآداب اور تمام عادات ومعاملات میں اپنے آپ کو ممتاز سمجھتا ہے۔مساوات کی راہ مسدوداور ہراہم چیز کو اپنے لیے خاص کردیتا ہے۔ایسا حاکم چاہتا ہے کہ اس کے آئین وقوانین ،اصولِ دین اور احکام شرع متین کے مقابلے میں عوام میں زیادہ مقبول ہوں۔
۳- ان کا تیسرا اُصول عیاشی ہے: سلطانِ جابر کی ساری توجہ قوتِ شہوانی سے مغلوب اور ساری ہمتیں لذاتِ نفسانیہ کی تکمیل اور جسمانی راحت کے حصول میں مشغول رہتی ہیں۔رات دن طعام مرغوب، لباس خوش اسلوب وشربِ خمور میں مست رہتے ہیں۔ محافل رقص وسرود کے برپا کرنے، عمارتیں اور باغات بنانے میں لگے رہنے والے، فسق وفجور کی داد دینے والے۔ ان کے وزیر باتدبیر لہوولعب اور نشاط وطرب کے نت نئے طریقے ڈھونڈتے اور اس کو کمال فن تک پہنچاتے ہیں۔ جہاں حکام یہ کام کریں تو رعایا میں ظلم وجور پھیل جاتا اور سلاطین کی یہ خرابیاں فسق وفجور، ظلم وتعدی اور فسادِ ملک کا سبب بن جاتی ہیں‘‘۔(منصبِ امامت از شاہ اسماعیل شہید، ص۱۵۱-۱۶۴)
ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنی زندگی کی ترجیحات اور اپنی اپنی امانت کی تکمیل میں اپنے تعلقات: رشتے ناطے، دوستی ودشمنی، محبت وغیریت (الحبّ في الله) اورعزت و نسبت میں اسی بات کو پیش نظر رکھے کہ حاکمیت اور جمع مال کی بجاے رضاے الٰہی، اور اعلاے کلمۃ اللہ کی بنا پر اپنے فیصلے کرے جیساکہ اس پر بہت سی احادیث ِ نبویہ موجود ہیں۔ اس کے اور اس کے بچوں کی تعلیم اور پیشے، عادات و علامات بھی دُنیوی غلبہ اور حصولِ مال کے بجاے رضاے الٰہی اور اعلاے دین کے لیے ہوں۔ مسلمانوں کی اجتماعی ترقی کا رخ بھی علووفساد میں کثرت کی بجاے دینی ترقی کا مظہر ہو کیوںکہ حکام کی طرح ہرانسان بھی اپنے گھربار اور اپنے آپ کا مسئول وامین ہے۔جب عام مسلمان اپنی اس ذمہ داری کوسمجھیں گے اور اسی کے مطابق عمل کریں گے، تو ان کے حکام بھی اسی طرزِ فکر وعمل کے حامل ہوں گے۔یہی مسلم معاشرے کی اصلاح کا شرعی منہاج ہے۔
مالی امانت ادا کرنے کی جزا:نبی مکرّم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ گرامی سیّدنا ابو موسیٰ اشعریؓ نے روایت کیا ہے: الْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُؤَدِّي مَا أُمِرَ بِهِ طَيِّبَةً نَفْسُهُ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ، امانت دار خزانچی جو اس کو حکم دیا جائے، ا س کے مطابق دل کی فراخی کے ساتھ ( صدقہ ادا کردے ) وہ بھی ایک صدقہ کرنے والوں ہی میں سے ہے۔(بخاری، کتاب الاجازہ، باب استجار الرجل الصالح، حدیث: ۲۱۶۲)
خیانت کی سزا : جو شخص بھی قومی مال میں سے ایک پائی بھی اپنے اوپر صرف کرتا ہے، اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وعید کافی ہے جو سیّدنا عمر ؓسے مروی ہے:
لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ، أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ ، فَقَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، فُلَانٌ شَهِيدٌ، حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ، فَقَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ : كَلَّا، إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا - أَوْ عَبَاءَةٍ -» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ، أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ فَنَادَيْتُ: أَلَا إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ (بخاری، رقم: ۲۲۶۰)خیبر (کی جنگ ) کا دن تھا ، نبیؐ کے کچھ صحابہؓ آئے اور کہنے لگے : فلاں شہید ہے ، فلاں شہید ہے ، یہاں تک کہ ایک آدمی کا تذکرہ ہوا تو کہنے لگے: وہ شہید ہے ۔ رسولؐ اللّٰہ نے فرمایا: ’’ہرگز نہیں، میں نے اسے ایک دھاری دار چادر یا عبا (چوری کرنے ) کی بنا پر آگ میں دیکھا ہے۔ پھر رسولؐ اللّٰہ نے فرمایا :’’ اے خطاب کے بیٹے ! جاکر لوگوں میں اعلان کر دو کہ جنت میں مومنوں کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا‘‘ ۔ انھوں نے کہا : میں باہر نکلا اور اعلان کیا : متنبہ رہو! جنت میں مومنوں کے سوا اور کوئی داخل نہ ہو گا۔
اس حدیث میں مالِ غنیمت میں سے مال چوری کرنے والے کو جہنمی بتانےکے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کی بات کی ہے۔ گویا ایسے شخص کا ایمان ہی خطرے میں ہے جو قومی مال میں خیانت کا مرتکب ہے۔
امانت میں خیانت ایسا بڑا جرم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ القِيَامَةِ، قَالَ أَحَدُهُمَا: يُنْصَبُ ، وَقَالَ الآخَرُ: يُرَى يَوْمَ القِيَامَةِ، يُعْرَفُ بِهِ (مسلم، رقم:۳۰۹) قیامت کے دن ہر خائن (عہد شکن)کے لیے ایک جھنڈا ہوگا۔ ان میں سے ایک صاحب نے بیان کیا کہ وہ جھنڈا (اس کے پیچھے مقعد میں ) گاڑ دیا جائے گا اور دوسرے صاحب نے بیان کیا کہ اسے قیامت کے دن سب دیکھیں گے ، اس کے ذریعے اسے پہچانا جائے گا ۔
امانت یا امین سے مراد صرف لغوی امین نہیں ،بلکہ امانت ایک شرعی اصطلاح ہے جس کو قرآن وسنت نے متعدد مفاہیم کے لیے استعمال کیا ہے۔ان میں دین، اموال، علوم ومعارف، مناصب وذمہ داری، گواہیاں اور فیصلے لکھنا اور روایت کرنا، رازوں اور پیغامات کی حفاظت کرنا، سمع وبصر اور تمام حواس کی امانت داری کا خیال رکھنا وغیرہ شامل ہیں۔
l حاصل بحث : مذکورہ بالا سطور میں امانت کے ساتھ ساتھ مناصب کے لیے مطلوبہ دیگر اہم شرعی صفات کا قرآن واحادیث سے تذکرہ کرنےکے بعد یہ ثابت کیا گیا ہے کہ:
۱- امین وامانت شریعتِ اسلامیہ کا اہم حکم ہے جس میں ’اللہ کے تمام فرائض کو اس کے احکامات کے مطابق ’انجام‘ دینےکا مطالبہ پایا جاتا ہے۔ یہی وہ امانت ہے جو انسان کے اشرف المخلوقات ہونے اور دنیا میں آنے بلکہ عطاے عقل کی بنیاد بنی، اور اسی کی بنا پر روزِ محشر انسان کی جزاوسزا ہوگی۔ امانت کے شرعی تقاضے میں فرد او رمعاشرے کی ہر سطح مخاطب ہے کیوںکہ اللہ نے سب کو ہی ذمہ دار بنایا ہے۔
۲- فرمانِ نبویؐ ہے کہ ’’مناصب امانت اور ندامت ہیں‘‘۔ اور کسی منصب کے لیے حاکم پر اللہ کی کامل اطاعت از بس ضروری ہے اور عہدے دار کا کام ہے کہ قرابت داری اور اُمیدواری کی بجاے سراسر شرعی اہلیت کی بنا پر ہی ذمہ داریاں دے۔ ا س کے پیش نظر دنیوی جاہ وجلال، ذاتی تقویت اور جمع مال ہرگز نہ ہو۔ وہ اپنے ماتحتوں میں اللہ کے دین کو قائم کرنے والا ہو، وگرنہ وہ بقول امام ابن تیمیہؒ: ’’خائن اور چوروں کا سردار ہے اور اس کا ربّ اس سے ناراض ہے۔ فرمانِ نبویؐ کے مصداق ’’ایسا حاکم جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا‘‘۔
۳-امانت کی تیسری صورت مالی ہے۔حب ِجاہ ومال فرعون وقارون کی صفات ہیں، ان کا بدتر انجام سب پر واضح ہے۔ حاکم کی مالی خیانت یہ بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کا مال ذاتی جاگیر سمجھ کر لوگوں میں بانٹے، اعلاے کلمۃ اللہ کے بجاے اپنے اقتدار اور خواہشات کے لیے اس مال کو بے جا استعمال کرتا پھرے۔ لوگوں کے اموال کی بہانے بہانے سے لوٹ کھسوٹ اس کا مشغلہ ہو، تو اس کے اعوان وانصار کو ناجائز مال دینا گناہ میں اس کی مدد کرنا ہے اورایسے مال کو اصل مالکوں تک لوٹانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ فرمانِ رسولؐ کے مطابق: ’’خائن حاکم روزِ قیامت اپنی مقعد پر رُسوائی کا جھنڈا ‘لے کر بدنامی کا شعار اور جہنم کا ایندھن بن جائے گا‘‘۔
آئین کی ۶۲، ۶۳ دفعات کے خاتمے کارجحان نہایت خطرناک ہے، اس کامطلب تو یہ ہوگاکہ اسلام کے جس حکم پربھی ہم عمل کرنا نہ چاہیں یاہمیں اس پرعمل کرنامشکل نظرآئے، توہم یہ مطالبہ کریں کہ اس کو سرے سے ختم ہی کردیاجائے۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری!!
پاکستان میں زیربحث دفعات، اسلامی احکام پرمبنی ہیں اوراسلام کاکوئی حکم ایسا نہیں ہے کہ انسانوں کے لیے اس پر عمل کر ناممکن نہ ہو۔جس وقت ۶۲، ۶۳ دفعات کو دستور کا حصہ بنایا گیا، صورتِ حال یکسر تبدیل ہو چکی تھی۔ سیاست دان یا غیر سیاسی لوگ سب دولت کی ہوس کا شکار تھے اور کرپشن کی داستانیں عام تھیں۔ اس کے سدباب کے لیے مذکورہ دفعات نافذ کی گئیں جو فی الواقع اخلاص پر مبنی تھیں، نہ کہ بدنیتی پر۔ اب کرپشن کی صورت حال پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہے ۔ اس لیے یہ دفعات نہایت ضروری ہیں، تاکہ کرپٹ لوگ سیاست میں نہ آ سکیں اور اگر آ جائیں تو ان کا محاسبہ کیا جا سکے۔ اس لیے ان دفعات کی اہمیت، افادیت و ضرورت، بلکہ ناگزیریت مسلّم ہے۔ (مکمل)
گذشتہ تین صدیوں میں انسانیت، مغرب کی زیر قیادت چار بڑے معاشی نظاموں کے تجربے سے گزری ہے: سرمایہ داری، سوشلزم [اشتراکیت]، قوم پرستانہ فاشزم اور فلاحی ریاست___ مغربی فکر سے جنم لینے والے ان تمام نظاموں کی اساس اس تصور پر استوار تھی کہ انسان کے معاشی اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے، مذہب اور اخلاقیات کی چنداں ضرورت نہیں ہے، اور معاشی معاملات کا بہترین حل صرف معاشی رویوں اور سیاسی ضابطوں کے تحت تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ:
بلاشبہہ کچھ مخصوص میدانوں میں ان سب نے بعض نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، مگر اس کے باوجود یہ چاروں نظریات، حقائق کی دنیا میں انسانیت کے معاشی اور سماجی مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ حالیہ تاریخ میں قوم پرستانہ فاشزم سب سے پہلے ردی کی ٹوکری کی نذر ہوا۔ پھر اس کارگہِ حیات میں گرنے اور بکھرنے والا بت، سوشلزم ہے۔ بلاشبہہ دوسرے دونوں نظریات بظاہر ابھی تک صحت مند دکھائی دے رہے ہیں، لیکن غور سے دیکھا جائے تو اپنے باطن میں وہ بھی موت آفریں کش مکش میں مبتلا ہیں۔ غربت، بے روزگاری، افراطِ زر اور قرض کے ناقابلِ برداشت بوجھ نے ان کی چولیں ہلا رکھی ہیں اور کوئی تدبیر تاریخ کا رُخ بدلتی نظر نہیں آرہی۔ اہلِ نظر، اقبال کے ہم نوا ’منتظر روزِ مکافات‘ ہیں:
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دُنیا ہے تیری منتظر روزِ مکافات
ہمارے خیال میں یہ ایک غیر دانش مندانہ مفروضہ ہے کہ ’’سوشلزم کے انہدام سے سرمایہ داری اور فلاحی ریاستی تصور نے نہ صرف اپنا انتقام لے لیا ہے، بلکہ اب یہی ایک فاتح اور زندہ رہنے والے نظام کی حیثیت سے بقاے باہمی کی اس دوڑ میں باقی رہ گیا ہے‘‘۔ اور سرمایہ دارانہ جمہوری استعمار کی شیخی پر مبنی یہ غلط فہمی کہ سوویت یونین [یعنی سوشلسٹ روسی سلطنت اور نظریے]کے زوال نے گویا ’نظریاتی پیکار کی تاریخ کے خاتمے‘ کا اعلان کر دیا ہے، مغربی اہل دانش کے جذباتی طرزِ فکر کی غمازی کرتی ہے۔
یہ اَمرواقعہ ہے کہ سوویت یونین کے انہدام اور سوشلزم کے زوال نے بہت سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایسے سوالات کہ جن کا تعلق انسانیت کے نظریاتی و سماجی مستقبل سے ہے، مثلاً یہ کہ:
۱- کیا سوشلزم کا خاتمہ درحقیقت مغربی سرمایہ دارانہ معاشی نظام اور سیاسی لبرل ازم کی قطعی فتح مندی کا مظہر ہے؟ (جس کا دعویٰ مغربی سرمایہ داری کے علَم بردار کرتے ہیں)
۲- کیا سوشلزم کی اس ’موت‘ نے واقعی ’نظریاتی پیکار کے تاریخی عمل‘ کے خاتمے کا اعلان کردیا ہے؟ یا پھر ایک نئے مرحلے کو جنم دیا ہے کہ جو تاریخ کے ایک نہ ختم ہونے والے بہائو اور نشیب و فراز کی کشاکش کی طرف رواں ہے؟
۳- اگر سوشلزم اپنے فکری و عملی تضادات کے بوجھ تلے دم توڑ دیا گیا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ خود سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے داخلی و خارجی تضادات، غیرمنصفانہ رویوں اور دیگر بہت سی سماجی ناکامیوں پر قابو پالیا ہے؟
۴- اگر سوشلزم کا عروج جزوی طور پر اس چیز کا مظہر تھا کہ اسے سرمایہ دارانہ نظام کا بے رحمانہ استحصالی پہلو دکھائی دے رہا تھا، جس کے پکے ہوئے ناسور پر اس نے نشتر لگایا، تو پھر کیا سوشلزم کے انہدام کا مطلب یہ ہے کہ اس نے سرمایہ داری کا جو استحصالی پہلو دیکھا تھا وہ کوئی گمراہ کن فریب نظر تھا؟
۵- کیا آج کی ترقی یافتہ اقوام سے تعلق رکھنے والا انسان، اعلیٰ مادی معیارات پر مشتمل سہولت بخش زندگی پالینے کے نتیجے میں واقعی سکون و طمانیت کے دامن میں اپنے آپ کو موجود پاتا ہے؟ یا پھر یہ مراعات یافتہ انسان بھی فکروعمل کی دنیا میں، اپنی داخلی، سماجی اور معاشی زندگی کو جوں کا توں گہرے بحران میں مبتلا ہی پاتا ہے؟
۶- کیا اس سارے عمل نے انسانیت کو ایک متبادل، سماجی اور معاشی نظام کی تلاش کے رستے پر ڈال دیا ہے؟ اور انسانی معاشرہ آج بھی انصاف اور سکون اور چین کے حصول سے اسی طرح محروم ہے، جس طرح کل سوشلسٹ انقلاب سے پہلے تھا؟
مندرجہ بالا سوالات ذہنوں اور ضمیروں میں نہ صرف اضطراب پیدا کر رہے ہیں، بلکہ شافی جواب کے بھی طلب گار ہیں۔
سوشلزم یا مارکس ازم انیسویں صدی کے بہت سارے نظریات اور مفروضوں کا ملغوبہ ہے، جس میں فریڈرک ہیگل [م: ۱۸۳۱ء]کی جدلیات، لوردویگ فویرباخ [م: ۱۸۷۲ء]کی مادیت، جولیس مچل [م: ۱۸۷۴ء] کی طبقاتی کش مکش، ایڈم اسمتھ [م: ۱۷۹۰ء] اور ڈیوڈ رکارڈو [م:۱۸۲۷ء] کی معاشی فکر ، انقلابِ فرانس کے جارحانہ نعروں۱ اور چارلس ڈارون [م: ۱۸۸۲ء] کے ’حیوانی نظریۂ ارتقا‘ نے اس سیکولر روشن خیالی کو سینچا۔ خود کارل مارکس [م: ۱۸۸۳ء] انھی سیکولر اور مذہب مخالف افکار میں پروان چڑھا۔۲
سوشلزم کی تجربہ گاہ سوویت یونین اور سفاکانہ سرمایہ داری کے مراکز امریکا و یورپ کے مابین اسٹرے ٹیجک عسکری ’سرد جنگ‘ اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے۔ اس کی جگہ اسٹرے ٹیجک معاشی جنگ نے لے لی ہے اور نئے جنگی کھیل کے نئے کھلاڑی سامنے آگئے۔۳ اور یوں ترقی، دولت اور ٹکنالوجی کی مالک ریاستوں کا غیراعلان شدہ مقصد تو دنیا بھر کے وسائل پر قبضہ جمانا اور ان تہذیبوں کو مغربی تہذیب کا خوشہ چیں بنانا ہی ٹھیرا ہے، جب کہ اعلان شدہ مقصد اپنے اور محض اپنے شہریوں کے معیارِ زندگی کو بلند کرنا ہے۔۴ اور وہ بھی تین چوتھائی سے زیادہ انسانوں کو حسرتوں، محکومیوں، ذلتوں اور غلامی کے گرداب میں پھنسا کر!
سوشلزم یا مارکس ازم کا انہدام خود مغربی دانش وروں کے لیے ایک ہوش ربا معما ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’’چنگیز خان [م: ۱۲۲۷ء] یورپ فتح کرنے کی خواہش لیے آگے بڑھ رہا تھا، کہ اچانک اس کے بڑھتے ہوئے قدم رُک گئے۔ وہ فوری طور پر پلٹا اور وسطی ایشیا میں جاکر دم لیا۔ اس اعتبار سے کمیونزم کی اچانک موت بھی چنگیز خان کی اسی پُراسرار پسپائی سے مشابہت رکھتی ہے‘‘۔۵ لیکن یہ تحیر آمیز مسئلہ صرف ان دانش وروں کا ہے، جنھوںنے انسانی زندگی کے اجتماعی رویوں اور مسئلوں کو محض مادی طاقت اور حیوانی جذبوں کی میزان پر رکھ کر پرکھا ہے، وگرنہ اہلِ نظر تو اس عبرت ناک انجام کی خبر بہت پہلے سے دے رہے تھے۔۶
برصغیر پاک و ہند میں احیاے اسلام کی تحریک نے دیگر نظاموں اور استعماری فتنوں کے ساتھ اشتراکیت کو بھی اپنے سنجیدہ مطالعے کا موضوع بنایا۔۷ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ سوویت یونین مسلمانوں کے ایک بڑے حصے کو اپنی ظالمانہ نوآبادی بنانے، مسلمان ملکوں میں اندھی بہری آمریتوں کو سہارا دینے اور اباحیت و دہریت کو پروان چڑھانے کے ساتھ غیرفطری معاشی نظام کا بھی علَم بردار تھا۔ اگرچہ اس سے قبل مغربی نوآبادیاتی تسلط اور الحادی تحریک کے بالمقابل اسلامی فکر کے علَم بردار پوری قوت سے نبردآزما تھے (جس کا بہت بڑا ثبوت آزادی کی تمام تحریکوں میں اسلامی فکروعمل کے حامل افراد کا شان دار کردار ہے)، لیکن سمرقند و بخارا کے المیے نے مسلمانوں کو اس فتنے کا اور زیادہ وسعت کے ساتھ ادراک کرنے پر اُبھارا۔ یہ الگ بات ہے کہ اشتراکی فکر کو نہ صرف جدید تعلیم یافتہ،بلکہ مسلم مذہبی فکر کے دعوے داروں میں سے بھی ایک گروہ تائید و حمایت دینے کے لیے ملتا رہا۔
سوشلسٹ تہذیب، سوشلسٹ معیشت اور سوشلسٹ عسکریت کے انسانیت پر دُور رس مثبت اور منفی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ کام گہرے اور ٹھوس فکرومطالعے کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی طرح روسی فیڈریشن میں محکوم مسلم ریاستوں کی حالت ِ زار پر تحقیق، تجزیے اور جدوجہد کی تائید کے لیے مثبت اقدامات کی ضرورت ہے۔۸
اس تحقیق و تجزیے کا مقصد محض تاریخ کا ریکارڈ دیکھنا پرکھنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ زندگی کے فکری معاملات اور عملی مسائل کا ادراک اور ان کا حل پیش کرنا بھی ہونا چاہیے۔ تاریخ کا وہی مطالعہ حیات بخش ہے، جو عصری اور مستقبل کی زندگی کو روشنی عطا کرے۔
۱- ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا، Islam and The Economic Challenge ، دی اسلامک فائونڈیشن، لسٹر، برطانیہ، ۱۹۹۲ء، ص ۷۲
۲- ’سوشلزم‘ بنیادی طور پر ’سیکولرزم‘ ہی کا ایک نتیجہ ہے، کیوں کہ سوشلسٹ تحریک نے انقلابِ فرانس کا ’تصور انسان دوستی‘ (Humanism) وراثت میں پایا اور حقیقت یہ ہے کہ سوشلزم: فرانس،بلجیم، آئرلینڈ، اٹلی، اسپین اور لاطینی امریکا کی ہسپانوی تہذیبوں میں نمو پانے والے جارحانہ الحاد کا کڑوا پھل تھا۔
Geroge Lichtheim ، A Short History of Socialism ، ۱۹۷۸ء، ص ۳۰۸-۳۰۹
۳- فوجی سپر طاقتوں کے ’سرد معرکے‘ میں ایک طاقت (سوویت یونین )فنا کے گھاٹ اُتر گئی اور دوسری قیادت (امریکا) عسکری طاقت کے حوالے سے ڈیڑھ عشرے تک فتح یاب قرار پائی۔ دوسری طرف معاشی وسائل پر قبضہ جمانے کے لیے یورپی یونین اور جاپان اور امریکا اور چین گویا کہ تین فریق برسرِپیکار ہیں۔ اور تیسری دنیا جو تین چوتھائی سے زیادہ آبادی کی مالک ہے، وہ اسی طرح خوار و زبوں حالی کا شکار رہے گی کہ جس کے تعلیمی، سیاسی اور معاشی مستقبل کے فیصلے معاشی دنیا کے یہ محکوم لوگ نہیں کریں گے، بلکہ مادی ترقی سے سرشار اور ٹکنالوجی سے ہم کنار تین چار ممالک ہی یہ کردار ادا کریں گے۔
۴- پروفیسر لسٹر تھرو کے بقول: ’’ان سوپر طاقتوں کے درمیان اس عالمی معاشی جنگ کا ایک ہدف یہ ہے کہ وہ اکیسویں صدی کے پہلے نصف میں اپنے شہریوں کو ان سات شعبوں میں وافر سہولتیں بہم پہنچا دیں، مثلاً: مائیکرو الیکٹرانک، بائیوٹکنالوجی، نیومیٹریل سائنس انڈسٹری، ٹیلی کمیونی کیشن، شہری ہوابازی، مشینی سازوں سے لیس روبوٹ اور کمپیوٹر مع سافٹ ویئر ۔ لسٹر تھرو، Head to Head: The Coming Battle Among Japan, Europe and America ، وارنر بکس، امریکا (۱۹۹۳ء)
۵- لسٹر تھرو، ایضاً، ص ۱۲-۱۳
۶- مولانا مودودیؒ نے ۳۰دسمبر ۱۹۴۶ء کو سیالکوٹ کے مضافات میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’ایک وقت آئے گا جب کمیونزم خودماسکو میں اپنے بچائو کے لیے پریشان ہوگا۔ سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لیے لرزہ براندام ہوگی۔ مادہ پرستانہ نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقد نہ پاسکے گی‘‘۔ (شہادتِ حق،ص ۲۲)
۷- اس ضمن میں اُردو میں مولاناسیّدابوالاعلیٰ مودودی، مولانا مسعودعالم ندوی، مظہرالدین صدیقی، اعظم ہاشمی، چودھری علی احمد خان، پروفیسر عبدالحمید صدیقی، نذر محمد خالد، عبدالکریم عابد، چودھری غلام جیلانی، مولانا خلیل احمد حامدی، آبادشاہ پوری، حسین خان، سیّد اسعد گیلانی، مختارحسن، محمود احمد مدنی، مسلم سجاد، عطاء الرحمان، انیس احمد، رفیع الدین ہاشمی اور دیگر رفقا کی تحریریں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں، جب کہ نعیم صدیقی صاحب کی زیرنگرانی ادارہ دارالفکر، لاہور اور راقم کی ذمہ داری میں اسلامک ریسرچ اکیڈمی، کراچی کے پیش کردہ مطالعے اور خصوصاً ماہنامہ چراغِ راہ، کراچی کے ’سوشلزم نمبر‘ (۱۹۶۸ء) کا اپنا مقام ہے۔
۸- آباد شاہ پوری، ترکستان میں مسلم مزاحمت (۱۹۸۳ء)، آبادشاہ پوری، مسلم اُمہ سوویت یونین میں (۱۹۸۸ء)، ڈاکٹر سفیر اختر (مدیر) دو ماہی، وسطی ایشیا کے مسلمان ، ڈاکٹر طاہر امین، Afghanistan Crisis: Implications and Option for Muslim World, Iran and Pakistan (۱۹۸۲ء)،انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد۔
قومی بیانیہ (National Narrative )دراصل قوم کی نظریاتی شناخت اور فکر وعمل کا ترجمان ہوتا ہے، جس پر قوم متفق ہو یا جمہوری اصول کے مطابق قوم کی اکثریت کا اتفاق راے پایا جاتا ہو۔ قومی بیانیہ نظریاتی بھی ہو سکتا ہے اور سیکولر بھی۔ مصورِپاکستان علامہ اقبال ؒ نے اسلامی نظریے کا مغرب کے سیکولر نظریے سے تقابل کر کے یہ فرمایا تھا ؎
اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِؐ ہاشمی
قوم رسولِؐ ہاشمی کا بیانیہ ، میثاق ریاستِ مدینہ میںجاری کیا گیا تھا۔ عصر حاضر میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بانیوں نے جنوبی ایشیا کی اس نئی ریاست کی تشکیل کے وقت عہد کیا تھا کہ سیرتِ رسول ؐ کی روشنی میں زمانۂ حال میں مملکت خدادادِ پاکستان کے قو می بیانیہ کی تشکیل کی ضرورت کو ہم اُجاگر کریں گے اور فکر وعمل کے نئے اہداف کی طرف رہنمائی کی کوشش کریں گے، تاکہ ریاستی سطح پر عہداول اور عہد ثانی میں وحدتِ فکروعمل پیدا ہو۔
دین اور اسلامی نظریے کو اگر اصل یا بنیاد قراد دیا جائے توعصر حاضر کے تغیرات پر دو قسم کے جواب ہو سکتے ہیں۔ ایک ’تجدید‘ کا اور دوسرا ’تجدّد‘ کا۔ زمانے کے تغیرات کو مدّ نظر رکھ کر دین کو بلاکم وکاست بیان کرنے کا نام ’تجدید‘ ہے جو کہ مستحسن ہے، اور زمانے کے تقاضوں کے نام پر دین کو بدل ڈالنے کا نام ’تجدّد‘ ہے، جس کی ایک نظریاتی ریاست میں گنجایش نہیں ۔ کیوں کہ بندگان خدا کے لیے اصل وفاداری کا مرکز خداے وحدہ لاشریک کی ذات وصفات ہے، جس کی تعبیر ’توحیدی بیانیہ‘ سے کی جاسکتی ہے۔ اس وحدتِ فکروعمل کو دوئی کے سانچے میں ڈال کر جو بھی قومی بیانیہ ترتیب دیا جائے، وہ اللہ اور اس کے رسول ؐ کے نزدیک مردُود ہے، کیوں کہ وحی (Revelation) کے ذریعے قرآن کریم ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اللہ شرک اور مشرکانہ فکروعمل کو ہرگز معاف نہیں کرتا اور اپنے بندوں کے باقی گناہوں کو بخش دیتا ہے ؎
باطل دُوئی پسند ہے ، حق لاشریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
آسمانی بیانیہ میں تحریف اور توحیدی بیانیہ
انجیل مقدس اور دوسری آسمانی کتابوں میں تحریف کا بنیادی پہلو بھی یہی تھا کہ ان کے ’توحیدی بیانیہ‘ کو مشتبہ بنا دیا گیا۔ اس میں ترمیم واضافہ کر کے بندوں کے نام ربّ کے پیغام کو بنی اسرائیل نے اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھا دیا۔ انجیل میں سب سے خطرناک تحریف یہ کی گئی: ’’جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو اور جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو ‘‘۔ یہ وہ مشرکانہ بیانیہ ہے، جس کے ذریعے عیسائیوں کے عقیدئہ توحید پر ضرب لگائی گئی۔
’آسمانی بیانیہ‘ تبدیل کرنے کی اس جسارت نے ان قوموں کو مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ اور ضَّآلِّیْنَ بنادیا اور امت مسلمہ کو اس جسارت عظیم سے بچنے کی تاکید نماز کی ہر رکعت میں کی گئی ۔ رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا کہ مغضوب قوم یہودی ہیں اور گمراہ اور ضال نصاریٰ ہیں، جب کہ انعام یافتہ ہونے کی علامت ’توحیدی بیانیہ ‘ کو قرار دیا گیا، جو رسول ہاشمی ؐ کی حقیقی قیادت میں ریاست کا بیانیہ تھا۔ اس بیانیے کو اللہ کے رسولؐ نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ کے سانچے میں ڈھال کر ایمان کی بنیاد قرار دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بگڑی ہوئی تاریخ کو دوبارہ توحیدی بیانیے پر استوار کرنے کے لیے کفروشرک کے خلاف ریاست مدینہ کے اندر آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو سخت جدوجہد اور بذریعہ قرآن جہاد عظیم کرنا پڑا۔ قرآن کے الفاظ میں:
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ (الفتح ۴۸:۲۹)اللہ کے پیغمبر محمد ؐ اور ان کی معیت میں اہل ایمان کفار پر بڑے سخت ہیں اور آپس میں رحم دل ہیں۔
فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْم بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ق (البقرہ ۲:۲۵۶)جو بھی طاغوت کا انکار کر دے اور اللہ پر ایمان لے آئے گویا اس نے نہ ٹوٹنے والی رسی کو تھام لیا۔
درحقیقت ریاست اور ملت اسلامیہ کا ’قومی بیانیہ‘ ہی ان کا عروۃ الوثقٰی اور حبل اللہ ہے، جو آپس میں’مفاہمت‘ اور دشمن کے ساتھ ’مزاحمت‘ کی دوطرفہ حکمت عملی کی بنیاد فراہم کرتا ہے ۔ یہ کسی بھی نظریاتی ریاست کی پالیسی سازی کا محور ہونا چاہیے، جو رب کائنات کو اپنا ملجا وماویٰ بنائے اور مشرکانہ بیانیے کو اپنے لیے ضرب کاری کا ہدف سمجھے، اور حق وباطل کے اشتراک کو ہرگز قبول نہ کرے۔ یہی وجہ تھی جب کفارِ قریش مکّہ نے آپ ؐ کے چچا ابو طالب کو آپؐ کے پاس بھیجا تو رسولِؐ خدا کا جواب بلاخوف وخطران کے ہر لالچ کا توڑ تھا:
خدا کی قسم! اگر یہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ کر کہیں کہ آفتاب ومہتاب کے عوض میں اس بیانیے کو ترک کر دوں تومیں ہرگز اسے ترک نہ کروں گا۔ یہاں تک کہ یا تو اللہ اس دین کو غالب کر دے یا میں اس راہ میں جان دے دوں۔ (سیرت ابن ہشام، جلداوّل ، ص ۲۶۶)
یہ تھی سنت نبوی ؐ، یعنی ایک نظریاتی مملکت کے سربراہ اوّل کا لائحہ عمل اور ایکشن پلان۔{ FR 584 } عصر حاضر کا بیانیہ اگر رسولؐ اللہ کے بیانیے سے متصادم ہے تو نبی کریمؐ کی سنت کو چھوڑنے والا ہرحکمران اپنے دعویٰ ایمان میں جھوٹا ہے اور ان کا دین دینِ سماوی نہیں بلکہ اکبر کے ’دین الٰہی‘ کا بیانیہ ہی ثابت ہوگا جسے مجدّد الف ثانی نے اپنی ضرب کاری سے نیست و نابود کر کے رکھ دیا۔
بے شک امن وترقی تجدید کے باوصف ہماری ضرورت ہے مگر اپنی تہذیب ونظریے کی قیمت پر ہرگز نہیں ۔ لہٰذا، عصر حاضر میں ’قومی بیانیہ ‘ کے حوالے سے ہماری نظریاتی مملکت پاکستان کو جو چیلنج درپیش ہیں، کیا ترقی کی خاطر یا پھر باطل کے ڈر کے پیش نظر ان چیلنجوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا جائے اور ایک نظریاتی ریاست کے بجاے ایک مجبور محض (functional ) اور سیکورٹی اسٹیٹ کی حیثیت کو قبول کرلیاجائے، یا پھر ہم بیرونی آقائوں کی خوشنودی کے لیے پاکستان کی مشکیں ترغیب و ترہیب (Carrot and Stick) کی پالیسی کے شکنجے میں کَس دینا چاہتے ہیں۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو یہ مداہنت کی پالیسی ہوگی جسے سورئہ مائدہ میں یہ کہہ کر منع کیا گیا ہے (جو صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی تھی) ۔
اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَ اخْشَوْنِ (المائدہ ۵:۳) آج کفار تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے ہیں، لہٰذا اب تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔
درحقیقت غزوئہ احزاب نے کفار کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ وہ عملی اور اعصابی جنگ ہار گئے تھے۔ اسلامی ریاست اتنی مضبوط ہو گئی تھی اور اسلام کی طاقت اتنی زبردست ہو گئی کہ کفار جارح کو معلوم ہو گیا کہ اب ان کے پاس وہ طاقت ہے کہ اگر ہم لڑیں گے تو یہ ہمیں شکست دے ڈالیں گے۔ ریاست مدینہ میں جنگ احزاب کے پس منظر میں مشرکینِ قریش اور یہود نے بیسیوں قبائل کو ساتھ لے کر ’اتحادی فوجیں‘ (Coalition Forces )ترتیب دے کر ریاست مدینہ کے خاتمے کا سوچا تھا۔ ان کی شکست کے بعد رسولؐ اللہ نے فرمایا تھا: اَلْآنَ نَغْزُوْہُمْ وَلَا یَغْزُوْنَنَا (بخاری، کتاب المغازی)۔ گویا اب وقت گیا کہ یہ تم پر چڑھ چڑھ کر آرہے تھے اور اپنے شر کے بیانیے کو تم پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔ وقت آگیا ہے کہ اب ہم ان پر چڑھائی کریں گے اور وہ دفاع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
’جہادی بیانیہ‘ صرف دفاعی جنگ کا نام نہیں ہے بلکہ باطل کے خلاف اقدامی جنگ (Aggresive War )بھی ہے۔ بیسیوں غزوات اور سرّیوں سے آںحضوؐر اور آپ کے صحابہ ؓ نے توحیدی بیانیے کو اعلاے کلمۃ اللہ کی رفعتوں سے ہم کنار کیا ۔ ہمیشہ مشرکوں، کافروں اور منافقوں کی یہ دلّی تمنا ہوتی ہے کہ نظام حیات ان کی منشا کے مطابق بدلا جائے، جب کہ رب کائنات اپنا فرمان اتار کر اپنی منشا کے مطابق نبویؐ لائحہ عمل کو نافذ دیکھنا چاہتا ہے اور حکم دیتا ہے : اَلَالَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ط (اعراف ۷:۵۴) ’’خبردار رہو! اُسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے‘‘، اور وَجَاہِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًا کَبِیْرًا o (الفرقان ۲۵:۵۲) ’’تم اس قرآن کو لے کر ان سے جہاد کبیر کرو ‘‘۔
عالمِ اسلام میں اب یہ جاہلی حکمت عملی اپنے عروج پر ہے۔ماضی میں اس جاہلی فتنے کو میکیاولی اور قدیم چانکیائی فلسفہ نے خوب تقویت دی۔ جب نوآبادیاتی دور کا آغاز ہوا تو ولندیزی، پرتگیزی اور انگریزی استعمار نے جھوٹ اور مکاری پر مبنی بیانیے کو فروغ دے کر مسلم سلطنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ۔ خلافت عثمانیہ کے حصے کر دیے ۔ دین اور دنیاکی دوئی کا فلسفہ گھڑ کر مسلم سیاسی قوتوں کو مذہب کے مقابلے میں لا کھڑا کیا اور ہر قومی ادارے سے مذہب و دین کا خاتمہ کرکے فرقہ واریت کو پروان چڑھایا۔ اس طرح اسپین اور افریقہ سے لے کر برعظیم پاک وہند تک سارے مسلمان سیاسی اور مذہبی لحاظ سے لامتناہی ٹکڑوں میں بٹ کر آپس میں دست وگریبان ہوگئے کیوں کہ وہ خلافت کے سائبان سے محروم ہو کر بالادست سیکولر قوتوں کے دست نگر بن گئے تھے۔ مزاحمت اگر تھی تو وہ صرف علماے حق کی طرف سے تھی۔ اس لیے کہ سیاسی قوت ہاتھ سے چلے جانے کے بعد جہادی بیانیہ، ریاست کا بیانیہ نہ رہا بلکہ علماے حق عوام الناس تک اللہ کا پیغام پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے رہے۔
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کاپورا نزلہ علما پر گرا دیا گیا۔ معاشرے میں ان کو بے حیثیت بنا دیا گیا اور ہزاروں علما کو شہید کیا گیا۔ برطانوی فوج میں چار لاکھ سے زائد مقامی افراد بھرتی کیے گئے جن میں سے دو لاکھ فوجی پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ تاجِ برطانیہ کے لیے تقویت اور مزاحم قوتوں اور علما کے لیے تعذیب کا سبب بنے۔ دراصل اس لیے کہ شرک کا بیانیہ ظلم وستم پر مبنی ہوتا ہے، جس کے ذریعے کمزور اہل ایمان کو تختۂ مشق بنایا جاتا ہے:
وَمَا نَقَمُوْا مِنْھُمْ اِلَّآ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ (البروج ۸۵:۸) ان سے ان کے انتقام لینے کی اور کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ اللہ غالب اور محمود پر ایمان رکھتے تھے۔
قیام پاکستان کے وقت دو قومی نظریے کی بنیاد پر لازوال جدوجہد تاریخ کا حصہ ہے کیوں کہ پوری قوم ایک بیانیے پر متحد ہو گئی تھی ۔ تا ہم ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کے سانحے کے رُونما ہونے کے بعد اسلامی بیانیے کے خلاف زور دار ابلاغی مہم چلائی گئی۔ اس کو سیکولرزم کی فتح سمجھ کر بائیں بازو کے دانش وَروں نے سیکولر بیانیہ اپنانے کا مشورہ دیا۔ اس کے مقابلے میں دوسرا مضبوط موقف دائیں بازو کے دانش وَروں کا تھا کہ سقوطِ مشرقی پاکستان دراصل نظریۂ پاکستان کے ترجمان اسلامی بیانیے سے انحراف کا نتیجہ تھا۔
اس موقعے پر جب سبط حسن نے بائیں بازو کے سیکولر موقف پر زور دیا توا لطاف گوہر نے صاف لکھا کہ پاکستان کی تخلیق کا مقصد اسلامی ریاست کی تخلیق تھا۔ صدر ایوب خان کی کابینہ میں الطاف گوہر ماڈرنزم کے پرچار ک تھے مگر وہ جدیدیت کو مذہبیت کی نفی نہیں سمجھتے تھے۔ اسی طرح ۱۹۸۵ء میں سبط حسن کے جواب میں معروف وکیل اور اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن خالد ایم اسحاق نے کئی مضامین لکھے جو ڈان میں شائع ہوئے۔ وہ اسلامی نظریے پر مبنی بیانیے کے حق میں تھے۔ خالد اسحاق ایڈووکیٹ نے مدلل انداز میں اسلامی ریاست کے حوالے سے الطاف گوہر کے موقف کی بھر پور تائید کی اور ریاست اور مذہب کو الگ الگ خانے میں رکھنے کی اہل نصاریٰ کے موقف (Narrative) پر زور دار تنقید کی۔ اقبالؒ نے بھی اسلامی نقطۂ نظر سے پاپائیت کی سخت مخالفت تو کی تھی، مگر دین کے مقصد کے حصول کے لیے ریاست کے وسیلے کے استعمال کے وہ بھرپور حامی تھے ؎
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
قائداعظم محمد علی جناح یورپ میں علمی نشوونما پا کر ابتدا میں مذہب اور ریاست کے جدائی کے قائل تھے، مگر ۱۹۳۸ء سے ان کا نقطۂ نظر اس وقت بدل گیا جب مولانا اشرف علی تھانویؒ کی طرف سے بھیجے گئے علما کے چھے رکنی وفد نے پٹنہ میں بیرسٹر عبدالعزیز کے گھر میں قائداعظم سے ملاقات کی۔ ڈھائی گھنٹے کی گفتگو کے بعد جناح نے مولانا ظفر احمد عثمانی اور مولانا شبیر احمد عثمانی اور وفد کے دیگر ارکان کے سامنے علانیہ کہا:’’کسی اور مذہب میں دین اور ریاست ایک دوسرے سے جدا ہوں یا نہ ہوں، مجھے خوب سمجھ آ گیا ہے کہ اسلام میں دین اور سیاست ایک دوسرے سے جدا نہیں‘‘۔
دیوبند کے ان علما کاقائد اعظم کے ساتھ علمی اور سیاسی تعاون ہمیشہ جاری رہا۔ ۱۹۴۶ء میں پاکستان کے حق میں صوبہ سرحد کا ریفرنڈم جیتنے کے بعد قائد نے ان دونوں علما کو مبار ک باد دی اور ایک نشت میں مولانا شبیر احمد عثمانی ؒکے سوال کے جواب میں کہا کہ سیاست سے دست بردار ہوکر لندن منتقل ہونے کے بعد میری واپسی آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے پر ہوئی تھی۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں ۱۹۴۷ء میں پاکستان کا جھنڈا لہرانے کا سہرا بھی قائد کے حکم پر انھی دو علما کے سر رہا اور وصیت کے مطابق قائد کی نماز جنازہ بھی مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے پڑھائی ع
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
ہمارے ہاں یہ بحث ۷۰ سال سے جاری ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد مبارک باد کا مستحق ہے کہ ۱۹۹۸ء سے ۲۰۱۲ء کے دوران Pakistan Between Secularism and Islam: Ideology, issues and Conflict کے موضوع پر مقالہ جات اور سیمی نار ز کی کارروائی شائع کر کے قوم کو یک سُو کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے، جس کا سہرا پروفیسر خورشید احمد اور محقق ڈاکٹر طارق جان کے سر ہے۔ توحیدی بیانیہ کو پروان چڑھانے کے لیے ہر قسم کی ابلاغی اور اداراتی کوششیں لائقِ تحسین ہیں۔
عصر حاضر میں جدید مغرب کے فلاسفروں نے Humanism یا تحریک انسانیت کے نام سے جو بیانیہ دیا ہے، اس میں انسان کو خاکم بدہن اللہ تعالیٰ اور وحی (Revelation) کے مقابلے میں عقلیت (Rationalism) کو تقدس کا درجہ دیا ہے اور حلال وحرام کے شرعی احکام کی جگہ ’Utilitarianism ‘ یعنی افادیت پسندی کو اپنے تجدد سے ’شریعت‘ قرار دیا ہے۔ حالاںکہ تمام مذاہب سماوی کی رُو سے حاکمیت اعلیٰ کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے، اور اسلامی شریعت میں سنتِ رسول ؐ کی آئینی حیثیت بھی مسلّم ہے، کیوں کہ اسوئہ رسول ؐ کی پیروی کے بغیر کوئی بھی بیانیہ ہدایت سے محروم رہے گا۔ حاکمیت اعلیٰ اور سیرت مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ریاست مدینہ میں کوئی تجاوز نہیں کر سکتا تھا تو آئیڈیل کی حیثیت سے دستورِ پاکستان میں ان حدود کا خیال رکھا گیا اور قانون سازی اور دستوری سازی میں قرار داد مقاصد اور توہین رسالتؐ اور خاتم الانبیا کی عظمت اور تقدس کے اصولوں سے انحراف کی کوئی گنجایش نہیں چھوڑی گئی ۔ دستور کے مطابق قرآن وسنت ہمارے قومی فکروعمل کے بنیادی مآخذ اور ہمارے عقیدے کی بنیاد شریعت ہی ہمارا نظام حیات ہے۔ شریعت دراصل اُخروی کامیابی کی خاطر زمینی وسائل اور انسانی صلاحیتوں کے استعمال کے نبویؐ منہج اور ضابطے (Code of Conduct) کا نام ہے، تا کہ بحیثیت خلیفہ، انسان کے ہاتھوں زمینی اقتدار ،آسمانی اقدار کی روشنی میں قائم رہے۔ اسی کو امانت اور اسی کو اللہ سے عہد کہا گیا ہے اور یہی وہ توحیدی بیانیہ ہے، جسے میر حجاز ؐ نے انسانیت کے سامنے پیش کیا اور طاغوت سے انسان کو خلاصی بخشی ۔اس توحیدی بیانیے کا اصل مقصد ومدعا بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر رب کی بندگی میں دینا تھا تا کہ دنیا اصلاح اور امن وسلامتی کا مسکن بن جائے۔
اقبال کے نزدیک یہ سب کچھ دین اسلام اور میر حجاز ؐ کی برکت سے ہے: ع از کلیدِ دیں درِدنیا کُشاد۔ گویا پیغمبر وہ ہستی ہیں، جنھوں نے دین کی کلید سے دنیا کے دروازے واکر دیے اور وسیلۂ دنیا کو مقصد دین کا ذریعہ بنایا اور ترکِ دنیا کو ناجائز قرار دیا۔
زمینی حقائق کے مطابق بیانیہ (Narrative) دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک ظالم متکبرین کا بیانیہ اور دوسر امستضعفین کا بیانیہ ۔ ظالم اور مظلوم ، طاقت وَر (Oppresor) اور کمزور (Oppressed) کے رویے مختلف ہوتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کمزوروں اور پسے ہوئے مستضعفین کو غلبہ دے کر ان پر احسان کرنا چاہتا ہے تا کہ مستکبرین اپنا بیانیہ کمزور قوموں پر بزور نافذ نہ کرسکیں:
وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَھُمْ اَئِمَّۃً وَّنَجْعَلَھُمُ الْوٰرِثِیْنَo (القصص ۲۸:۵) اور ہم جہاں بھر کے کمزوروں پر یہ احسان کرنا چاہتے ہیں اور ان کو قیادت اور زمین کی وراثت عطا کرنا چاہتے ہیں۔
چونکہ صدق وعدل پر مبنی قرآن کا بیانیہ بھی طاقت کا متقاضی ہے جو ریاستی سطح پر اداروں کی تمکین اور سیاسی قوت کے حصول کے بغیر ممکن نہیں۔ گذشتہ صدی میں برعظیم کے اندر کمزور مسلمانوں پر اللہ کا یہ احسان اس طرح ہوا کہ رب غفور نے ہمیں بلدۃ طیبہ، یعنی پاکستان دیا۔ ساتھ ہی ہندو اکثریت کے غرور کو بھی خاک میں ملا دیا کیوں کہ وہ رائج الوقت جمہوری اصول کے مطابق برعظیم کی ۲۵ فی صد مسلمان اقلیت پر حکمرانی کرنا چاہتے تھے۔
برعظیم کی ایسی اعصاب شکن بحرانی کیفیت میں اللہ تعالیٰ نے احسان کے طور پر مسلمانوں کو فکری اور عملی طور پر ایک بصیرت افروز اور صاحب کردار قیادت عطا کی۔ بلاشبہہ، ڈاکٹر محمد اقبال اور محمد علی جناح اس کے سرخیل تھے۔ وہ اپنی عظمت رفتہ کے حصول کے لیے ریاست مدینہ کو آئیڈیل سمجھتے تھے اور اسلام کے بیانیے پر غیر متزلزل یقین رکھتے تھے۔ دونوں قائدین اعلیٰ پاے کے مفکر اور مدّبر اور قانون دان تھے۔ انھوں نے علاحدہ اور خود مختار اسلامی ریاست کے حصول کے لیے قانونی اور سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اور برعظیم کے کمزور مسلمانوں کی قیادت کا حق ادا کیا۔ اسلامی نظریے پر قائداعظم کا یقین اتنا پختہ تھا کہ پاکستان بننے سے پہلے ایک سو مرتبہ اور پاکستان بننے کے بعد ۱۴ مرتبہ انھوں نے اپنی تقریروں میں اسلام کے نظریاتی بیانیے پر زور دیا۔
پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے آئین کی تشکیل سے قبل قرار دادِ مقاصد، یعنی Objective Resolution منظور کی، جو حقیقی قومی بیانیے کی عکاس تھی اور میثاقِ مدینہ کا پر تو، اور ایک نظریاتی مملکت کی سنگ میل بھی۔
قرار دادِ مقاصد کو آئین کا حصہ بنانے میں اوّل روز سے بڑی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ اسی توحیدی بیانیے کی پاداش میں اس کے روح رواں نواب زادہ لیاقت علی خان کو شہید کیا گیا، جو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ انھوں نے امت مسلمہ کو یک جا کرنے کے لیے ڈاکٹر محمد اسد کو عالمی مشن پر بھیجا تھا۔ جب وہ تین اسلامی ملکوں کا دور کر کے ترکی پہنچے تو باطل غالب قوتوں کو خلافت اسلامی کے دوبارہ احیا کا خطرہ کھٹکنے لگا ۔پھر قائداعظم کے ایما پر قائم کردہ ’ادارہ اسلامی تعمیرنو‘ کہ جس کی سربراہی محمد اسد کو سونپی گئی تھی، اس ادارے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور تمام ریکارڈ غائب کردیا گیا۔ پورے ۶۸ سال بعد ۴۰صفحات پر مبنی اس قومی ادارے کا بیانیہ اب دوبارہ منظر عام پر آ گیا ہے۔ یہ عملی توحیدی بیانیہ بوجوہ عصر حاضر کے ’قیصر‘ کے لیے خدائی کا حصہ مانگنے والے مشرکوں کو اور مشرکانہ بیانیے کے پیروکار منافقوں کو ایک نظر نہیںبھاتا تھا۔ کیوں کہ اس کے پس منظر میں مصورِ پاکستان اور قائداعظم کا وژن جھلکتا تھا، جنھوں نے چٹان کی طرح استقامت دکھا کر عالمی باطل قوتوں کو جمہوری طریقے سے شکست سے دوچار کیا تھا، اور اسلامی بیانیے کے قانونی نفاذ کے لیے ایک جدید فلاحی اسلامی ریاست کی داغ بیل ڈالی تھی۔
قانونی اور دستوری جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہونے والی اسلامی جمہوری مملکت میں وقفے وقفے سے مارشل لا کا نفاذ اور جسٹس محمدمنیر کے ہاتھوں اسلامی بیانیے کو مشتبہ بنانے کے لیے قائداعظم محمدعلی جناح کی کردار کشی اسی گہری سازش کا شاخسانہ ہیں، جسے سلینہ کریم نے اپنی کتاب Secular Jinnah میں بڑی محنت سے علمی طور پر طشت ازبام کیا ہے،اور سیکولر بیانیے کی مکارانہ بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔
اہل دانش کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ قرارداد مقاصد کے دستوری بیانیے کے خلاف ترتیب دیے جانے والے بیانیے کو مسترد کریں اور عوام الناس کو شعوری طور پر بیدار کریں کیوں کہ ہم اپنی قومی ریاست کو خدائی کے مقام پر براجمان نہیں دیکھنا چاہتے ۔ ورنہ یہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کی احسان فراموشی ہو گی اور اپنے محسن قائدین سے غداری بھی، جنھوں نے رزم حق و باطل کے لیے اصل معیار کو حلقۂ یاراں کے لیے روز روشن کی طرح واضح کر دیا تھا اور آپس میں نظریاتی یک جہتی کے فوائد کو عملاً چراغ مصطفویؐ کی روشنی میں ثابت کر دکھایا تھا۔ اقبال کے بقول یہ جہادی بیانیہ شراربولہبی کے لیے ستیزہ کاری کا پیغام ہے :
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفویؐ سے شرار بُولہبی
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں روانہ کر دیا جاتا ہے تاکہ پہلے عشرے تک موصول ہوسکے۔ لہٰذا ۱۰ تاریخ تک پرچہ نہ ملنے کی صورت میں اپنے مقامی ڈاک خانہ میں تحقیق و کارروائی کریں اور دو تین روز مزید انتظار کے بعد بھی دستیاب نہ ہو تو دفتر ترجمان کے فون نمبروں پر اپنا خریداری نمبریا نام و پتا بتا کر رابطہ کریں۔ ان شاء اللہ آپ کی شکایت دُور ہوجائے گی اور دوبارہ پرچہ ارسال کردیا جائے گا۔ آپ اپنا زرسالانہ منی آرڈر بنام ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن یا آن لائن بھی کرسکتے ہیں۔
جن احباب کو ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن نہ ملنے کی شکایت ہے وہ زرسالانہ (400 روپے)کے علاوہ 250/- روپے اضافی (یعنی کُل: 650 روپے) ادا کر کے رجسٹرڈ ڈاک کی سہولت سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
میڈیا کا مطلب ، زندگی کے مختلف شعبوںکے متعلق خبروں، واقعات اور حادثات کا جائزہ لے کر ایک خاص تر تیب سے معلو مات جمع کر ناپھر اس کو عام فہم انداز میں پیش کر نا ہوتا ہے۔ میڈیا انگر یزی میں میڈیم(Medium) کی جمع ہے، جس کے معنی وسائل و ذرائع ابلاغ اور نشرواشاعت کے ہیں۔ بالفاظِ دیگر: میڈیا کے معنی یہ ہیں کہ اخبار،اورٹیلی وژن یا ریڈیو کے ذریعے عوام تک پروگرام یا معلومات پہنچائی جائیں۔
ہر دور میں خیالات ،پیغامات ،اور معلومات کی ترسیل کا کو ئی نہ کو ئی ذریعہ رہا ہے۔ عصرِحاضر میں پہلے ٹیلی گراف ، پھر ریڈیو اور اس کے ساتھ اخبار ،رسائل وجرائد اور ٹیلی وژن کا دور آیا۔ اب انٹر نیٹ کا زمانہ ہے جو معلو مات فراہم کر نے کا تیز ترین ذریعہ ہے۔ میڈیا (ذرائع ابلاغ) کی بنیادی طور پر تین قسمیں ہیں:o پرنٹ میڈیا oالیکٹرانک میڈیا oسائیبر میڈیا ۔
۱- پر نٹ میڈیاسے مراد اخبارات اوررسائل و جرائد ہیںجو معلومات حاصل کر نے کا اور لو گوں کو حالات حاضرہ سے باخبر رکھنے کا سب سے آسان، سستا اور مستقل ذریعہ ہے۔ یہ ابلاغ کا پرانا ذریعہ ہے لیکن اس کی اہمیت و افادیت آج بھی بر قرار ہے۔
۲- الیکٹرانک میڈیا جس میں ریڈیو،ٹی وی اور کیبل وغیرہ شامل ہیں یہ ابلاغ کے جدید ذرائع ہیں ۔اس میں فلمیں،سیریلز اور اشتہارات کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے کیو نکہ یہ بھی پیغام پہنچانے کے مؤثر ذرائع ثابت ہورہے ہیں ۔الیکٹرانک میڈیا کے اُبھار کا زمانہ ۱۹۹۱ء میں شروع ہوا۔
۳- سائیبر میڈیا: یہ میڈیا کی جدید ترین شکل ہے۔ آج دنیا میں اسے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بھی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اس کی اہمیت، افادیت اور وسعت روزبروز بڑھتی جارہی ہے۔سائیبر میڈیا میں انٹرنیٹ، ویب سائٹس ، بلاگز وغیرہ شامل ہیں۔
میڈیا کی اہمیت و افادیت
ہر قو م،ملک اور تحریک اپنی بات لو گوں تک پہنچا نے کے لیے میڈ یا کا ہی سہارا لیتی ہے۔ میڈ یا یا ذرائع ابلاغ ایک ایسا ہتھیار ہے جو بہت ہی کم وقت میں کسی بھی مسئلے یا ایشوکے متعلق لوگوں کے ذہنوں کو ہموار کر تا اور ان کی راے بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ میڈیا ہی ہے جو کسی کام پر اُکساتا ہے اور کسی اہم کام سے توجہ ہٹاتا ہے۔ اس لیے آج فرد سے لے کر حکومت تک کی نکیل میڈیا ہی کے ہاتھ میں ہے۔
بہت عرصے سے مقننہ،انتظامیہ اور عدلیہ کو کسی بھی ریاست کے تین اہم ستون تصور کیا جاتا ہے اور ان تینوں اہم اداروں کے ذریعے کو ئی بھی تبدیلی لائی جاسکتی ہے، لیکن اب کسی بھی ریاست یا جمہوری ملک کا چوتھا ستون میڈ یا کو گردانا جاتا ہے۔
میڈ یا نہ صرف سماج کا ایک اہم حصہ ہے بلکہ ایک جمہو ری ملک کا بھی اہم ستون ہے۔ یہ مجموعی طور پر ہر ملک و قوم میں لو گوں کی آواز اور ہتھیار ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ عصرِحاضر میں میڈیا کی اہمیت اور ضرورت ہر لحاظ سے پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے کیوںکہ یہ راے عامہ کو ہموار کر نے میں اہم کردار ادا کر تاہے۔
طاقت ور میڈ یا ہی ملک و قوم کو صحیح خطوط پر استوار رکھنے کے لیے اہم رول ادا کر سکتا ہے اور جب میڈ یا ہی اصول پسندی اور اقدار پر مبنی طرز عمل کو نظر انداز کر تا ہے تو یہ عام لوگوں کی تباہی کا ذر یعہ بنتا ہے۔ میڈیا کی آواز بعض اوقات پار لیمنٹ اورعدلیہ سے بھی طاقت ور ہو تی ہے کیونکہ یہ ظالم کے کر تو ت اور مظلوم پر روا رکھی گئی نا انصافی اور پھر اس کی بے بسی کو نمایا ں کر نے میں ایک کارگر ہتھیا ر کے طور پر ثابت ہو تا ہے ۔میڈیا تعمیر و تر قی کا بھی ایک ذریعہ ہے اور تخریب کاری کا بھی ۔ہم آج ایسے دور میں جی رہے ہیں، جس میں میڈیا کے سہارے بڑے پیمانے پر جنگ لڑی جارہی ہے۔
مغربی میڈیا اس وقت دنیا کے ۷۰ فی صد ابلاغی ذرائع پر قابض ہے۔ اس نے تمام اخلاقی اصولوں کو بالاے طاق رکھا ہے۔ سیاہ کو سفید ،ظالم کو مظلوم اور امن پسند کو دہشت گرد ثابت کرنا مغر بی میڈ یا کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔مغر ب نے میڈ یا کے ذریعے سے انتہائی منظم منصوبہ بند ی کے ساتھ اپنی فکر و تہذیب کی خوب تشہیر کی ہے۔ موجودہ دور میں مغرب نے ذرائع ابلاغ کی وساطت سے علم و فکر سے لے کر سوچنے سمجھنے کے زاویے تک اور کھانے پینے، رہنے سہنے اور طرزِگفتگو سے لے کر گھر یلو معاملات کے طور طریقے تک بد ل کر رکھ دیے ہیں۔
عالمی میڈیا نے بالعموم اور مغر بی میڈ یا نے بالخصوص، اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک بڑا محاذکھول رکھا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کی شبیہہ بگاڑنے کے در پے ہیں۔ مغربی میڈیا جب چاہتا ہے کو ئی نہ کوئی نئی اصطلاح وضع کر دیتا ہے اور کو ئی نیا شو شہ چھوڑ دیتا ہے۔ دنیا کے بہترین رسائل جن میں ادبی، تحقیقی اور سیاسی پرچے شامل ہیں،مغر بی دنیا سے شائع ہو کر ساری دنیا میں پھیل جاتے ہیں۔ان رسائل میں خاص نقطۂ نظر پیش کیا جاتا ہے، جو مغر بی دنیا کے عین مطابق ہوتاہے۔
گذشتہ صدی کے اختتامی برسوں سے بالعموم اور نائن الیون سے بالخصوص، مغرب نے اپنے ناپاک سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ذرائع ابلاغ کو شاہ کلید کے طور پر استعمال کیاہے جس کے ذریعے وہ اسلام اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کو بنیاد پرست،انتہا پسند، دہشت گرد اور جنونی قرار دے کر، دنیا کے کونے کو نے میں اسلام اور اس کے علَم بردار وں کا خوب مذاق اڑا رہا ہے۔ اس کے ہاں اب دہشت گرد اور مسلمان میں زیادہ فرق نہیں رہا۔ مغر بی مفکر ین میں سے برنارڈ لوئیس اور پروفیسر ہن ٹنگٹن نے یہ بات منظم انداز سے پیش کی ہے کہ مغر ب کا اصل مسئلہ بنیاد پرستی نہیں بلکہ خود اسلام ہے ۔ ہن ٹنگٹن کا کہنا ہے کہ اسلام ایک مخصوص تہذیب کا نام ہے، جس کے ماننے والے اپنی فکر وتہذیب کے اعلیٰ ہو نے کے دعوے دارہیں اور اپنی تہذیبی بر تر ی کو کھو دینے پر کف افسوس مل رہے ہیں۔۱
دنیا میں تمام اسلام دشمن قوتوں میں سے اسلام کی شبیہہ بگاڑنے میں سب سے زیادہ سرگرم عمل نسل پرست یہودی ہیں، جنھوں نے عالمی ذرائع ابلاغ کو اپنی مٹھی میں لے رکھا ہے۔ یہودیوں کے پاس دنیا کی بڑی بڑی خبررساں ایجنسیاں ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنارہے ہیں۔ان میں سے چند ایک کا تعارف اس طر ح سے ہے:
۱- رائٹر : عالمی خبر رساں ایجنسیوں میں رائٹر کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہے۔دنیا میں ہرجگہ تمام اخبارات و ٹی چینلز اسی ایجنسی پر انحصار کر تے ہیں،حتیٰ کہ بی بی سی ،وائس آف امریکا کے اخبارات، اس سے ۹۰ فی صد خبریں حاصل کر تے ہیں۔ ۱۵۰ملکوں کے اخبارات، ریڈیو ، ٹی وی ایجنسیوں کو روزانہ لاکھوں الفاظ پر مشتمل خبریں اور مضامین بھیجے جاتے ہیں۔
۲- یونائیٹڈ پریس: دنیا کی چند بڑی خبر رساں ایجنسیوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔
۳- فرانسیسی نیوز ایجنسی( اے ایف پی) : فرانسیسی نیوز ایجنسی کی بنیاد فرانس میں ڈالی گئی۔ فرانس میں صرف ۷ لاکھ یہودی ہیں، لیکن وہاں شائع ہو نے والے ۵۰ فی صد اخبارات و رسائل پر ان کی حکمرانی چلتی ہے۔
۴- ایسوسی ایٹڈ پریس : یہ بھی ایک بڑی نیو ز ایجنسی ہے۔ اس ایجنسی سے ۱۶۰۰ روز نامہ اور ۴۱۸۸ ریڈیو ،ٹی وی اسٹیشن وابستہ ہیں۔
۵- والٹ ڈزنی: والٹ ڈزنی دنیا کی سب سے بڑی میڈیا کمپنی ہے۔ اس کے پاس تین بڑے ٹیلی وژن چینلز ہیں ۔ اے بی سی نام کا دنیا میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا کیبل نیٹ ورک ہے۔ دنیا کے ۲۲۵ ٹیلی وژن چینلز والٹ ڈزنی سے وابستہ ہیں۔
۶- ٹائم وار نر: یہ دوسری بڑی میڈیا فر م ہے ۔ پہلے یہ AOL کے نا م سے کام کرتی تھی۔ اس کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ دکھائے جانے والے چینل ایچ بی او ، ٹرنر براڈکاسٹنگ، سی ڈبلیو ٹی وی، وارنرز، سی این این، ڈی سی کو مکس، ہولو، ٹی این ٹی، ٹی بی ایس، کارٹون نیٹ ورک، ٹرنر کلاسک موویز، ٹرو ٹی وی، ٹرنر سپورٹس وغیرہ شامل ہیں۔
۷- وائی کام : یہ دنیا کی تیسری بڑ ی فر م ہے۔ اس کے پاس ٹی وی اور ریڈیو کے ۱۲ یا ۱۴چینلز ہیں ۔یہ کتابیں شائع کر نے والے تین بڑے اداروں اور ایک فلم ساز ادارے کی بھی مالک ہے۔پیرا ماؤنٹ پکچرز اور ایم ٹی وی اسی کمپنی کی ملکیت ہے ۔یہ پوری دنیا کے میڈیا پر حاوی ہے۔
۸- نیوز ہائوس: یہ یہودیوں کی ایک اشاعتی کمپنی ہے۔یہ کمپنی ۲۶ روزنامے اور۲۴میگزین شائع کر تی ہیں۔
ان کے علاوہ دی نیویارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل اور واشنگٹن پوسٹ دنیا کے تین بڑے اخبارات ہیں۔ نیو یارک ٹائمز روزانہ ۹۰ لاکھ کی تعداد میں شائع ہو تا ہے۔ یہ جن ایشوز کو چھیڑتے ہیں، وہ آگے چل کر دنیا بھر کے اخبارات کے لیے خبر بنتے ہیں۔میڈیا کے ذریعے سے یہ انسانی ذہنوں کو خاموشی سے مسخر کر رہے ہیں ۔
اس کے علاوہ انٹر نیٹ پر بھی انھی لو گوں کاجال بچھا ہواہے۔ انٹر نیٹ پر انھوں نے ۱۰۳جعلی اسلامی ویب سائٹس بنا رکھی ہیں، جن کے ذریعے یہ نو مسلم اور ضعیف الایمان مسلمانوںاور نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔
مغر ب کے لیے اسلام کی عالم گیر بر تری اور اس کا تیزی سے پھیلنا سر دردبنا ہوا ہے۔ ان کو اس بات کا خوف ستاتا رہتا ہے کہ مستقبل میں مسلمان ہی دنیا کی قیادت و سیادت کریں گے۔۲
اس لیے وہ اسلام اورعالم اسلام کو متنوع حربوں اور طر یقوں سے بد نام کر نے کی مسلسل کوشش کررہا ہے۔وہ میڈیا کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں پر مند ر جہ ذیل الزامات لگا کر لو گوں کو گمراہ کر رہا ہے:
۱- اسلام تشدد پر مبنی مذہب ہے اور اس کے ماننے والوں میں زیادہ تر دہشت گر د اور انتہاپسند ہیں۔
۲- اسلامی شریعت کی وجہ سے مسلمان پس ماندہ ہے۔
میڈیا کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کو بڑھا وا دینا مغر بی اور یورپی میڈیا کا سب سے اہم مشغلہ بن گیا ہے۔ ۱۹۹۶ء سے لے کر ۲۰۰۰ء تک یعنی چار سال میں صرفThe Sydeney Morning ، The West Australian Herald کے۱۰۳۸ مضامین شائع ہو ئے، جن میں ۸۰ فی صد مضامین میں مسلمانوں کو دہشت گرد،بنیاد پرست اور انتہاپسند کی حیثیت سے دکھا یا گیا ۔۷۳ فی صد مضامین میں مسلمانوں کو انسانیت کے قاتل ٹھیرا یا گیا اور صرف ۴ فی صد مضامین میں مسلمانوں کو انسانیت نواز بتا یا گیا ۔ ۳
غر ض یہ کہ عالمی میڈ یا اسلام اور عالم اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے مصروف عمل ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹے پر وپیگنڈے میں کو شاں ہے ۔ اسلام کے ماننے والوں نے ہر دور میں اپنی بات دوسروں تک منظم انداز میں حُسن وخو بی کے ساتھ پہنچائی اور اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی اور لاپروائی نہیں برتی۔قرآن مجید نے اس کے لیے دعوت کا لفظ استعمال کیا۔ ایک دور وہ بھی تھا جب انبیا، سلف صالحین اور اسلام کے علَم بردار گھر گھر تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے زبانی گفتگو اور تقریروں کا سہارا لیا کر تے تھے۔ اس حوالے سے حضرت نوحؑ کا کردار قرآن نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا :
اس نے عرض کیا: ’’ اے میر ے رب میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب و روز پکارا مگر میر ی پکار نے ان کے فرار میں اضافہ کیا۔ جب بھی میں نے ان کو بلایا تاکہ تو انھیں معاف کردے، انھوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے اور اپنی روش پر اَڑ گئے اور بڑا تکبر کیا۔ پھر میں نے ان کو ہانکے پکارے دعوت دی ۔ پھر میں نے علانیہ بھی تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھا یا۔( نوح ۷۱: ۶-۸)
اِذْھَبَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی o فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی o (طٰہٰ ۲۰:۴۳-۴۵ ) جائو تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا شاید کہ وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈر جائے۔
اس تسلسل کو جاری رکھتے ہو ئے اللہ کے رسول ؐ نے سرزمین عرب میں لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دی۔اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ؐ کو اس بات کا حکم دیا کہ:
یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ ط وَ اللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِط اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَo (المائدہ ۵ :۶۷) اے پیغمبرؐ! جو کچھ تمھارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچادو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے۔ یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمھارے مقابلہ میں) کامیابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا۔
مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ط (المائدہ۵:۹۹) رسولؐ پر تو صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وقت میں ذرائع ابلاغ کی قوت سے بے خبر نہیں تھے اور نہ اس اہم چیلنج کو آپؐ نے نظر انداز کیا، بلکہ محدود افراد ی قوت اور وسائل کو بروے کار لا کر لو گوں تک رب کا پیغام پہنچایا ۔مثلاً چھٹی صدی عیسوی میں مکّہ میں اگر کسی کو ضروری اعلان یا کسی اہم بات کو دوسروں تک پہنچا نا ہوتا تو وہ اپنے جسم سے کپڑے اتار کر سر پر رکھ لیتا اور کوہِ صفا پر چڑھ کرزور زورسے چلّانا شروع کر دیتا : ’ہاے صبح کی تباہی‘۔ لوگ اس طرح کے اعلان کوتوجہ سے سنتے تھے۔ اللہ کے رسول ؐ نے بھی ابلاغ کے اس ذریعے کو استعمال کیا لیکن کپڑے اُتارنے اور چلّانے کے بجاے اس کو اسلامی رنگ عطا کیا۔
لوگوں تک الٰہی پیغام پہنچانے کے لیے انفرادی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا تھا۔ کارِدعوت کے سلسلے میں مختلف ممالک کے حکمرانوںتک دعوتی خطوط اور وفود بھیجے۔نیز ہر علاقے میں مبلغین روانہ کرتے رہے تاکہ ان تک پیغام الٰہی پہنچ سکے۔
عرب میں شعر و شاعری اور خطابات کا بھی بڑا دبدبہ تھا۔ مشرکین مکہ کو زبان دانی اور شاعری پر فخر اور ناز تھا اور وہ شعرو شاعری کے ذریعے سے بھی اللہ کے رسولؐ پر تکبر انہ لہجے میں حملے کرتے تھے۔اس چیلنج کو قبول کر تے ہوئے اللہ کے رسول ؐ نے صحابہؓ کو ترغیب دی کہ وہ اس فن کے ذریعے سے کفر کا مقابلہ کریں اور مشر کین مکہ کے حملوں کا جواب دیں۔ چنانچہ بہت سے صحابہؓ نے اس فن میں خوب جو ہر دکھا ئے۔ان میں حضرت حسانؓ بن ثابت ،حضرت کعبؓ بن مالک اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔انھوں نے شعر و شاعری کو اظہار ابلاغ کا ایک مؤثر ذریعہ بناکر کفار کا زبردست مقابلہ کیا اور اسلام اور پیغمبرؐ اسلام کے دفاع میں جنگ لڑی۔حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کافروں کی ہجو میں شعر کہتے تھے۔ حضرت کعب بن مالک اسلام کے دشمنوں پر نفسیاتی رعب ڈالتے تھے اور حضرت حسانؓ بن ثابت مشرکین مکہ کی طر ف سے اللہ کے رسول کے خلاف کہے گئے اشعار کا نہ صرف جواب دیتے تھے بلکہ اللہ کے رسول ؐ کی مدح بھی کہتے۔ حضرت حسانؓ بن ثابت نے اپنی شاعری سے دین دشمنوں کو زبردست ضر بیں لگا ئیں اور ان کی زبانوں کو بند کیا ۔۴
اس دور میں خطابت کو بھی بڑی اہمیت حاصل تھی۔ خطبا کارول اپنے اپنے قبیلوں میں انتہائی اہم ہوا کر تا تھا۔ اس فن کو بھی دورِ نبوت میں متعدد صحابہ نے اختیار کیااور اس کو اظہار و ابلاغ کا ذریعہ بنا کر اسلام کے بول بالا کے لیے استعمال کیا۔ ان میں سے ایک خاص نام حضرت ثابت بن قیسؓ کا ہے جنھیں خطیب اسلام کے لقب سے بھی نوزا گیا۔ان کے علاوہ حضرت ابو بکر صدیقؓ،حضرت عمر بن الخطابؓ ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ نے خطابت کے میدان میں زبردست جوہر دکھائے۔
اُمت مسلمہ ایک ذمہ دار امت ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے ایک عظیم منصب پر فائز کیا اور اس کو خیراُمت کے خطاب سے نوازا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِط ( ٰال عمرن۳:۱۱۰) اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو، جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
اس خیرِاُمت کی ذمہ داری ہے کہ لو گوں تک سچائی پہنچائی جائے کیو ںکہ اگر خیرِاُمت یہ کام نہیں کر ے گی تو دنیا شرو فسادسے بھر جائے گی۔ اس کے لیے موجودہ ذرائع ابلاغ کو استعمال کرکے انسانیت کو ہدایت کی روشنی میں لانے کے لیے مدد لی جانی چاہیے۔
میڈیا کے فرائض
عصرِ حاضر میں اسلام اور مسلمانوں پر مغربی ذرائع ابلاغ کی جو یلغار ہے، وہ ہمہ جہت اور ہمہ گیر ہے۔ اس نے ہر انسان کے فکر و خیال کومتزلزل کر کے نت نئی اُلجھنوں اور مسائل کا شکار بنایا ہے۔ عریانیت اورفحاشی کو اتنا عام کیا کہ اب یہ معاشرتی زندگی کا ایک اہم اور لازمی حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ میڈیا ہی کے سہارے سے مغرب نے اپنی فکرو تہذیب پوری دنیا میں پھیلا دی ہے۔ مادہ پرستانہ ذہنیت، عیش پرستانہ مزاج،فیشن پر ستی،گلیمر،کلچر اور جاہ وحشمت کے حصول کے لیے تمام اخلاقی اصولوں کو پس پشت ڈالنا، جذبۂ مسابقت، فتنہ پروری اور اشتعال انگیزی کو میڈیا ہی کے ذریعے خوب فروغ دیا جارہا ہے۔
مغربی اور یورپی ذرائع ابلاغ مسلمانوں کو ہر جگہ ذہنی غلام بنانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ چوںکہ یہ دور جسمانی غلامی کا نہیں بلکہ ذہنی غلامی کا ہے۔ ذہنی غلامی جسمانی غلامی سے کہیں زیادہ طاقت ور ہوتی ہے اور بدتر بھی۔یہ استعماریت کی ایک نئی شکل ہے، جسے مغر ب پوری کامیابی سے استعمال کر رہا ہے۔ لہٰذا نہ صرف اس کے تدارک کرنے کی ضرورت ہے بلکہ ایک اچھا متبادل پیش کرنا بھی ضروری ہے، جو نہ صرف انتہائی صحیح فکر و خیال کی آبیاری کر ے بلکہ اس کی تہذیب وثقافت کو بھی پلید اور گندا ہو نے سے محفوظ رکھے۔اصولی طور پر میڈ یا چند بنیادی مقاصد کے تحت کام کر تا ہے جو میڈ یا کے فرائض بھی ہیں:
۱- میڈیا کا پہلا فر یضہ یہ ہے کہ وہ عوام تک صحیح معلومات فراہم کر ے۔
۲- میڈیا کا دوسرا فر یضہ ذہن سازی ہے کہ وہ صحیح خطوط پر عوام کی ذہن سازی کا کام کرے۔
۳- میڈیا کا ایک اور مقصد لو گوں کو تفریح فراہم کرنا بھی ہے۔لیکن اگر یہ تفر یح انسان کو انسان کے مر تبے سے گرادے تو پھر یہ تفریح نہیں بلکہ اذیت ہے۔
اسلامی میڈیا کا کام ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہے۔ اس کا کام نہ صرف مخالفین اسلام کے اعتراضات کا جواب دینا،غلط فہمیوں کا ازالہ کر نا ہے بلکہ آگے بڑھ کر اسلام کو متبادل کے طور پر پیش کر نا بھی ہے۔اسلامی میڈیا کی وسعت میں بہت گہرائی اور گیرائی ہے۔اس لیے کہ: اسلامی میڈیاصرف مذہبی پروگرام کو نشر کرنے کا نام نہیں بلکہ اس میں آرٹ ،تہذیب، علم و تحقیق اور دوسرے عالم گیر نو عیت کے پروگرام بھی شا مل ہیں، جنھیں اسلامی تعلیمات کے مطابق پیش کیا جانا چاہیے۔
اسلامی اصولو ں پر مبنی میڈیاسماج کو صحیح ڈگر پر رکھنے کے لیے جو رہنما اصول فراہم کر تا ہے ان میں فرد اور معاشرے کے لیے الٰہی ہدایات پر مبنی اقدار ہیں اور اس کے مقاصد میں بہت وسعت ہے۔اسلامی ذرائع ابلاغ کے تین مقاصد ہیں:
۱- اسلام ایک دعوتی مذہب ہے، اس لیے اپنے ماننے والوں پر یہ ذمہ داری عائد کر تا ہے کہ اس کو ہر فرد تک پہنچا یا جائے۔
۲- اسلام حق و صداقت، علم اور وحی الٰہی پر مبنی ہے۔ اس لیے اس کو مختلف ذرائع استعمال کر تے ہوئے انسانیت کو اسے اختیار کرنے پر مائل کیا جائے۔
۳- اسلام صحیح فکر اور زندگی کے حقیقی مقصد سے آگاہ کرتا ہے، اس لیے اس کی روشنی اور نور سے دوسروں کی زندگی کو بھی منور کیا جائے۔
اسلامی اسکالر اور مفکرین الیکٹرانک، پرنٹ اور سائیبر میڈیا کواسلام کی اشاعت اور پھیلائو کے لیے اور عالمِ اسلام کی مضبوطی اور ترقی کے لیے، ایک اہم عنصر تصور کرتے ہیں اور اس کو نظرانداز کرنے یا اس کو کم اہمیت اور ترجیح دینے کو بڑی لاپروائی اور غیر سنجیدگی سمجھتے ہیں ۔اگر مسلمان علم و استدلال کے ذریعے ذرائع ابلاغ کی دنیا میں بہتر کار کر دگی کا مظاہرہ نہیں کر یںگے تو اسلام کو دائمی اور عالمی مذہب کے طور پر ہر گزپیش نہیں کر سکیں گے۔ صرف تیر و تفنگ اور بندوق کے میدان میں دشمن کا مقابلہ کر نا مطلوب نہیں بلکہ قرطاس و قلم اور نشرواشاعت کی دنیا میں بھی اس کا مقابلہ ضروری ہے اور اس طرح سے ہر چیلنج کا جواب دینا ضروری ہے جو اسلام کو درپیش ہے۔
اس وقت مسلمانوں کے پاس عالمی معیار کا کو ئی میڈیا موجود نہیں ہے، جو یہود و نصاریٰ اور معترضین کے برپا کیے ہو ئے فتنوں، ساز شوں،پروپیگنڈوں اوراعتراضات کا انتہائی معقول اور منظم طر یقے سے سد باب کر سکے۔ اس سلسلے میں اسلامی تحریکوں ،اداروں ،علما اور دانش وَروں کو سنجید گی سے غور کرنا چاہیے تاکہ ان صلاحیتوں کو بروے کار لانے کے ساتھ ساتھ مالی قربانیوں سے بھی عصرِحاضر کے اس درپیش چیلنج کا مقابلہ بہ حُسن و خوبی کر سکیں۔لہٰذا، میڈیا پر صرف اپنی گرفت مضبوط ہی نہیں کر نی بلکہ اس کی سمت کو بھی صحیح اور پایداررُخ دینا ہوگا۔
اس بات کی بار بار ضرورت محسوس ہو تی ہے کہ مسلم ممالک کے پاس نہ صرف خبررساں ایجنسیاں اور نیوز چینلز ہوں بلکہ الیکٹرانک،پرنٹ اور سائیبر میڈیا کے تمام ادارے بھی ہوں، جو عالمی اور مغربی ذرائع ابلاغ کی ہرزہ سرائیوں ، کارستانیوں اور ان کے پروپیگنڈے کامنہ توڑ جواب دے سکیں۔
۱-مسلم ممالک اعلیٰ معیار کی میڈیا تعلیم و تربیت کے اداروں کا قیام عمل میں لائیں، جہاں سے جدید تعلیم یافتہ نوجوان اور ماہر ین تیار ہوں جو رپورٹنگ اور تجزیہ نگاری میں جاںفشانی سے کام کریں اور دنیا کو واقعات کی حقیقی شکل سے بھی روشنا س کرا ئیں۔
۲- سرکاری اور نجی سطح پر بھی ایسے ٹی وی چینلز قائم کیے جائیں جودعوتی جذبے کے ساتھ اور حق و صداقت کے بل پر آگے بڑھیں اور پروپیگنڈے کا پردہ چاک کریں۔
۳- ذہین اور باصلاحیت طلبہ کو میڈیا کورس میں داخلہ لینے کے لیے ترغیب دی جا ئے اور ان کے لیے مالی معاونت کا انتظام بھی کیا جائے۔
۴-ایسی ورکشاپس اور کانفرنسوں کا تسلسل سے اہتمام کیا جائے جو نہ صرف ابلاغیاتِ عامہ کی تعلیم حاصل کر نے والوں کے لیے ہوں، بلکہ ان تمام افراد کے لیے بھی ہوں جو صحافت سے وابستہ ہیں۔ ان کی صحیح تربیت کر نے کے لیے مختلف مراحل میں پرو گرام منعقد کیے جائیں تاکہ ان میں مہارت پیدا کرنے کے ساتھ اسلامی روح بھی بیدار ہو۔
۵- مغر بی فکرو تہذ یب اور فلسفہ نے پورے انسانی معاشرے کو جن اُلجھنوں ،مسائل اور مشکلات سے دو چار کر دیا ہے،تجز یہ و تحقیق اور دلائل سے ان خرابیوں کو اُجاگر کیا جائے تاکہ پو ری نوعِ انسانی ان مسائل اور خرابیوں سے آگاہ رہے۔
۶-عالمی اور مغر بی ذرائع ابلاغ، لابیاں اور تحقیقی ادارے اسلام کے مختلف احکام اور تعلیمات کے بارے میں بڑے پیمانے پر دنیا میں جو شکوک و شبہات پھیلا رہے ہیں ان کا جواب احتجاجی مظاہروںکے بر عکس علمی اور فکر ی سطح پر دینے کی ضرورت ہے۔چو نکہ علمی و فکر ی شبہات اور اعتراضات کا جواب علمی اور فکر ی زبان میں ہی دیا جا سکتا ہے، اس لیے یہ اسلامی دانش وروں، علما، مصنفین، تحر یکوں،تنظیموں اور اداروں کی ذمہ دار ی ہے۔
۱- سموئیل ہن ٹنگٹن،تہذیبوں کا تصادم، (اردو ترجمہ ،سہیل انجم )کر اچی اوکسفرڈ پریس ،ص ۱۲۹۔
۲- ایڈورڈ سعید، Orientalism ۱۹۷۷ء، ص ۴۶۔
۳- حسن الامین، فرح افضل، Hamdard Islamicus، جولائی،ستمبر ۲۰۱۵ء، ص ۵۶۔
۴- احمد حسن زیات،تاریخ الادب العربی (اردو تر جمہ عبد الرحمٰن طاہر سورتی) ۱۹۸۵ء ،البران، الٰہ آباد، ص: ۱۳۵
انسانی حُریت اور آزادی وہ حقیقت ہے جو بعض اوقات انسان کی گمراہی کا باعث بھی بن جاتی ہے۔ حُریت فکر اور آزادی کی آڑ میں ہی ملحدین مختلف اعتراضات مدلل انداز میں اُٹھاتے ہیں تاکہ دین کے خلاف دلیل اور حجت قائم کر سکیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ:
جب اللہ نے میرے افعال کو میرا اُوپر مقدر طے کر دیا ہے تو پھر وہ حساب کیوںکر لے سکتا ہے؟
جب دنیا میں ہر چیز اللہ کی مشیت سے چل رہی ہے تو پھر میرا قصور کیا ہے؟
عملاً تو یہ سوال ایک گتھی کو سامنے لا رکھتا ہے۔ اسی لیے تو نبی کریمؐ نے اپنے صحابہؓ کو تلقین فرمائی تھی کہ اس بحث میں نہ پڑیں۔ فرمایا:’’جب تقدیر کا ذکر آ جائے تو اُس پر بات کرنے سے رک جائو‘‘۔چونکہ یہ ایسا فلسفیانہ عقدہ تھا جس کی بنا پر انسان بے یقینی اور بے ایمانی کے گڑھے میں لڑھک سکتا تھا، لہٰذا آپؐ نے عمیق عقلی دلائل پر قلبی ایمان کو فوقیت اور ترجیح دی۔
کائنات کے اندر ارض و سماوات اور ستاروں پر نظر ڈالیں تو دکھائی دیتا ہے کہ یہ سب ایک مضبوط و محکم سلسلے میں بندھے ہوئے ہیں۔ کائنات کی ہر شے ایک محکم نظام کے تحت چل رہی ہے۔ سورج کا طلوع و غروب ہی بطورِ مثال ملاحظہ کر لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ ایک قانون کے مطابق حرکت کرتا ہے۔ اسی طرح دیگر اشیاے کائنات بھی ایک قانون اور ضابطے کے مطابق چلتی ہیں۔ صرف واحد انسان ہے جو اپنی طبیعت اور حالات و ظروف کے مطابق آزادی، جذبات اور خواہشات کا مالک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کائنات سے متصادم رہتا ہے۔ لیکن یہ ناممکن ہے کہ کسی لمحے کوئی انسان اس بات سے آگاہ ہو سکے کہ اُس کا انجام کب اور کیا ہے؟
اپنے ماحول کی رکاوٹیں اور مزاحمتوں کے باوجود انسان کی حریت ایک حقیقت ہے، کوئی وہم نہیں۔ انسان اپنے دائرۂ ضمیر میں مطلقاً آزاد ہے۔ البتہ اس کے نفاذ و اطلاق میں، یعنی دائرۂ فعل و عمل میں اس کی آزادی مطلق نہیں بلکہ منسوب ہے۔ یہ اس کے ماحول کے حدود و مزاحمتوں کے مطابق ہوتی ہے۔
اب رہی بات اللہ اور انسان کے مابین تعلق کے حوالے سے اس ازلی راز کی، یعنی مطلق ارادۂ الٰہیہ کے ساتھ انسان کی آزادی کے معاملے کی بات۔
قرآن کہتا ہے کہ انسان کی آزادی اللہ کی مشیت، رغبت اور مراد کے ساتھ وابستہ ہے۔ انسانی آزادی نہ خالق کی طرف سے جبری ہے اور نہ مخلوق کی طرف سے۔ قرآنِ کریم بڑی وضاحت سے کہتا ہے:
وَ لَوْشَآئَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّھُمْ جَمِیْعًا ط اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ o (یونس۱۰:۹۹) اگر تیرے رب کی مشیت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرماں بردار ہی ہوں) تو سارے اہل زمین ایمان لے آئے ہوتے۔ پھر کیا تُو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں؟۔
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرنے سے انکار کیا ہے، حالانکہ یہ اُس کے بس میں تھا، مگر اُس نے انسان کو خودمختار رکھنے کا فیصلہ کیا :
وَ قُلِ الْـحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ قف فَمَنْ شَآئَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآئَ فَلْیَکْفُرْ لا (الکھف ۱۸:۲۹) صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمھارے رب کی طرف سے، اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے۔
لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ لا قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ج (البقرہ۲:۲۵۶) دین کے معاملے میں کوئی زورزبردستی نہیں ہے۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔
وَ لَوْشِئْنَا لَاٰتَیْنَا کُلَّ نَفْسٍ ھُدٰھَا (السجدۃ۳۲:۱۳) اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہرنفس کو اس کی ہدایت دے دیتے۔
وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَہَدَیْنٰہُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰی عَلَی الْہُدٰی (حٰمٓ السجدہ۴۱:۱۷) رہے ثمود، تو اُن کے سامنے ہم نے راہِ راست پیش کی مگر انھوں نے راستہ دیکھنے کے بجاے اندھا بنارہنا ہی پسند کیا۔
اگر ہم ہدایت کے مقابلے میں اندھا پن (گمراہی) اختیار کرنا چاہیں تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی آزادی دے رکھی ہے۔ اس کی مشیت اسی طریقے سے تو پوری ہوتی ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اللہ نے اس سے بھی زیادہ آزادی اور اختیار دے رکھا ہے۔ یعنی ان دونوں راستوں میں سے کسی ایک راستے کے انتخاب کا اختیار دے رکھا ہے۔ اللہ نے یہ امانت جو کہ حریت بھی ہے اور مسئولیت بھی، ہمارے اوپر پیش کی تاکہ ہم اس امانت کو قبول کریں یا اُس کو اٹھانے سے انکار کردیں۔ یہ ہمارا اختیار اور مرضی تھی اور اسی امانت کو اٹھانے سے آسمان و زمین اور پہاڑوں نے انکار کر دیا تھا مگر انسان نے اُس امانت کو اٹھا لیا۔ اس لیے کہ انسان جاہل بھی ہے اور اپنے اُوپر ظلم کرنے والا بھی۔ اس بارِامانت کا تذکرہ یوں ہوا ہے:
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُ ط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا o (احزاب ۳۳:۷۲) ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اُس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اُسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے۔
انسان اس امانت (ذمہ داری) کے بوجھ اور اس کی ہولناکیوں سے ناآشنا تھا۔ اُسے اس ذمہ داری کو اٹھانے کے بعد جن آزمایشوں کا سامنا کرنا تھا وہ اُن سے آگاہ نہیں تھا۔ اُسے معلوم نہیں تھا کہ یہ ذمہ داری اٹھا کر وہ اپنے اور دوسروں کے ساتھ کیا کیا ظلم و ستم کرے گا، مگر اللہ کو اس بہت بڑی آزمایش کی ہر چیز معلوم تھی ___اُسے معلوم تھا کہ یہی آزمایش، امتحان اور تجربہ انسان کا تزکیہ و تربیت اور تطہیر کرے گا۔ اسی لیے تو فرشتوں سے فرمایا تھا کہ میں جو جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔
اس آزادی کی بنا پر جس کو انسان نے اپنے اختیار و ارادے سے قبول کیا تھا، انسان کے اوپر جواب دہی اور محاسبہ بھی عائد ہو گیا۔ اسی لیے قرآنِ مجید نے حتمی و قطعی انداز میں اشارہ کیا ہے:
کُلُّ امْرِی ءٍ م بِمَا کَسَبَ رَہِیْنٌo (الطور ۵۲:۲۱)ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے۔
وَ کُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰہُ طٰٓئِرَہٗ فِیْ عُنُقِہٖ ط (بنی اسرائیل ۱۷:۱۳)ہر انسان کا شگون ہم نے اس کے اپنے گلے میں لٹکا رکھا ہے۔
قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَo (السبا۳۴:۲۵) اِن سے کہو، ’’جو قصور ہم نے کیا ہو اس کی کوئی بازپرس تم سے نہ ہو گی اور جو کچھ تم کررہے ہو اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں کی جائے گی‘‘۔
وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ط (بنی اسرائیل ۱۷:۱۵) کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔
گویا کوئی شخص کسی دوسرے کا خمیازہ نہیں بھگت سکتا، یا اُس کا گناہ اپنے سر نہیں لے سکتا۔ ہر شخص کا عمل اُس کے اپنے لیے ہے اور اُس کا بار بھی اُسی کے اُوپر ہے۔
اس حریت کے تقاضے کے طور پر اللہ تعالیٰ نے انسان کے ضمیر، اس کی نیت، اور اُس کے دل کی پوشیدہ بات کو ایک قابل احترام اور مقدس دائرہ قرار دے دیا کہ اُس کے اندر جبر اور قہر (مجبوری اور زبردستی) داخل نہیں ہو سکتی۔ اللہ نے تو اپنے آپ سے یہ عہد کر رکھا ہے کہ انسانی ضمیر کا یہ دائرہ قابلِ حُرمت رہے گا، اُس میں اللہ کا لشکر داخل نہیں ہو گا۔
گویا نیت اپنے آغاز اور ابتدا ہی سے مکمل آزاد ہے۔ ہم میں سے ہر شخص جو چاہے اپنے من میں نیت کر سکتا ہے، مضمر رکھ سکتا ہے، مخفی رکھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دخل تو اُس لمحے شروع ہوتا ہے جب نیت و ارادہ فعل کے دائرے میں آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اُس کی نیت کی رُو سے، اُس کے ضمیر کی رُو سے اور اُس کے دل اور من کی چاہت اور مرضی کی رُو سے اُس کے لیے آسانیاں اور سہولتیں دیتا ہے۔ اور یہ عین عدل ہے۔ اسی طرح تو کسی فاعل کا فعل اُس کا اپنا قرار پاسکتا ہے:
فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی o وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی o فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی o وَاَمَّا مَنْم بَخِلَ وَاسْتَغْنٰیo وَکَذَّبَ بِالْحُسْنٰی o فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی o (اللیل ۹۲:۵-۱۰) تو جس نے (راہِ خدا میں) مال دیا اور (خدا کی نافرمانی سے) پرہیز کیا، اور بھلائی کو سچ مانا، اس کو ہم آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے۔ اور جس نے بخل کیا اور (اپنے خدا سے) بے نیازی برتی اور بھلائی کو جھٹلایا، اس کو ہم سخت راستے کے لیے سہولت دیں گے ۔
یہاں اللہ تعالیٰ کا ایک وعدہ یہ بھی ہے کہ وہ دلوں کے ارادوں کے مطابق افعال کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا، لہٰذا بَد اور بُرا شخص اپنی برائی کے لیے آسانیاں پائے گا اور نیک و صالح اپنی خیر اور بھلائی کے لیے آسانیاں پائے گا۔_اللہ تعالیٰ جس انسان کے اندر ہدایت کی طلب دیکھتا ہے اُسے ہدایت عطا فرما دیتا ہے، اور جس کے اندر اُسے ضلالت کا علم ہوتا ہے اُس کو شیطانوں کے لیے چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اُس کو گمراہ کرتے رہیں:
فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاo (الفتح ۴۸:۱۸) ان کے دلوںکا حال اُس کو معلوم تھا، اس لیے اُس نے ان پر سکینت نازل فرمائی، ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی۔
وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰہُ فِیْھِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَھُمْ ط (انفال۸:۲۳) اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ اِن میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور اِنھیں سننے کی توفیق دیتا۔
فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ ط (الصف۶۱:۵) پھر جب انھوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے بھی اُن کے دل ٹیڑھے کر دیے۔
چونکہ اللہ تعالیٰ ہر شے کا علم پہلے ہی سے رکھتا ہے، اور اُس نے ہر شے کو اپنے علم میں گھیر رکھا ہے، اسی لیے ہم دیکھتے ہیںکہ جن کا انجام بُرا ہوا اُن کے بارے میں اللہ فرماتا ہے:
حَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ (حٰم سجدہ۴۱:۲۵)آخر اُن پر بھی فیصلہ عذاب چسپاں ہو کر رہا۔
وَ مِنْھُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْہِ الضَّلٰلَۃُ ط (النحل۱۶:۳۶) اور ان میں سے کسی پر ضلالت مسلط ہو گئی۔
حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَــنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَo (السجدہ ۳۲:۱۳) مگر میری وہ بات پوری ہو گئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے بھر دوںگا۔
اللہ کو انسان کے بارے میں علم تھا کہ یہ زمین میں فساد برپا کرے گا، اپنے اُوپر بھی ظلم ڈھائے گا اور دوسروں پر بھی ستم توڑے گا، اسی بناپر مختلف درجات کی سزا کا مستحق ٹھیرے گا۔
یہ سب کچھ اللہ کے علمِ سابق میں تھا اور ہے۔ لہٰذا جو کچھ انسان کے ساتھ ہو گا وہ کوئی جبر اور زبردستی نہیں۔ اس بات کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک باپ اپنے کسی بیٹے کے اندر علم اور تحصیل علم سے محبت کی علامات دیکھتا ہے تو وہ اُس کو سہولیات اور وسائل فراہم کرتا ہے۔ اگر اُسے اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک بھی جانا پڑے تو اُس کے لیے وسائل کا بندوبست کرتا ہے۔ اس کے برعکس ایک بیٹے کو دنگافساد، بدچلنی اور بری مجلسوں کا رِسیا دیکھتا ہے تو اُس کے لیے اندرونِ ملک بھی محدودتعلیم پر اکتفا کرتا ہے۔ اب اگر باپ ان دونوں کے ساتھ الٹ کرے تو وہ یقیناً ظالم ہو گا اور یوں وہ ان کی رغبت اور مزاج کے خلاف اُن کو مجبور کرے گا۔
اسی طرح ان ظاہری علامات میں جبرواِکراہ کا کوئی دخل نہیں۔ یہ تو پہلے سے حاصل شدہ علم ہے۔ جیسے باپ اپنے فسادی طبع بیٹے کے بارے میں پہلے سے جانتا تھا کہ وہ کھیل کود اور تضیع اوقات کی طرف مائل ہو جائے گا۔ اب بیٹے کا کھیل کود کی طرف مائل ہو جانا اور کتب کو نظرانداز کر دینا باپ کی طرف سے مسلط کردہ زبردستی نہیں ہے، بلکہ یہ تو بیٹے کی طبع اور مزاج تھا جس کا پہلے سے باپ کو علم تھا۔ اور جب تجربہ کیا جاتا ہے تو دل کا حال کھل کرسامنے آ جاتا ہے۔
اسی بنا پر قیامت کے روز عدل و صدق کے ساتھ سزا عائد ہوگی۔ پھر انسان کو اپنے دل کی وہ باتیں معلوم ہو جائیں گی جن کو وہ نہیں جانتا تھا:
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْo (الانفطار۸۲:۵)اُس وقت ہر شخص کو اس کا اگلا پچھلا سب کیا دھرا معلوم ہو جائے گا۔
خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ط (الملک۶۷:۲) اُس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔
یعنی کوئی شخص اپنے اعمال و افعال کا کوئی عذر پیش کرنے کے قابل نہ رہے کہ وہ حساب کے وقت کہتا پھرے کہ میں نے تو تربیت، سوسائٹی، ماحول اور رسوم و رواج وغیرہ کی تاثیر کے تحت ایساکیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس موضوع پر قرآنِ مجید میں دوٹوک فرمایا ہے:
لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللہُ بِاللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ ط (البقرہ۲:۲۲۵) جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھا لیا کرتے ہو، اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا، مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو، اُن کی بازپرس وہ ضرور کرے گا۔
وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیْمَآ اَخْطَاْتُمْ بِہٖ لا وَلٰکِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُکُمْ ط (الاحزاب۳۳:۵)نادانستہ جو بات تم کہو اُس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے، لیکن اس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا تم دل سے ارادہ کرو۔
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں کلام کیا ہے جو ایمان لانے کے بعد دوبارہ کفر کی طرف پلٹ گئے، انھیں شدید ترین عذاب کی دھمکی سنائی ہے اور ساتھ ہی اُن لوگوں کو اِن میں سے مستثنا کر لیا ہے جو:
اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّم بِالْاِیْمَانِ (النحل۱۶:۱۰۶) مگر وہ شخص (عذاب سے بچ گیا)جس کو کفر پر مجبور تو کیا گیا مگر اُس کا دل مطمئن رہا۔
یعنی وہ شخص جس نے تعذیب و تشدد کے تحت زبان سے کفر کا اظہار کر دیا مگر اُس کا دل بدستور مومن رہا۔ مطلب یہ ہوا کہ دل میں قرار پکڑنے والی کیفیت محاسبے کا درجۂ اوّل میں موضوع ہے۔ وہ چیز قابلِ محاسبہ نہیں جو فعل کے سٹیج پر آ گئی ہے، بلکہ دل میں مخفی اور پوشیدہ کیفیت محلِ ابتلا اور محلِ محاسبہ ہے:
یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآئِرُo (الطارق۸۶:۹) جس روز پوشیدہ اَسرار کی جانچ پڑتال ہو گی۔
سریرہ حالات و ظروف اور معاشرہ و ماحول اور تربیت سے آگے کا سربستہ راز ہے۔ یہی ابتداے مطلق ہے۔ وہ ابتدا، جسے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی حدود و قیود سے آزادی دے رکھی ہے۔
یہی انسان کی رو ح ہے، اور یہ انسان کی حقیقت کو بعینہٖ اسی طرح منکشف کرتی ہے جس طرح انسان کی انگلیوں کے نشانات اُس کی انفرادیت کو واضح کرتے ہیں۔ انسان کی روح میں اللہ کی طرف سے حریت رکھی گئی ہے کیونکہ یہ اللہ کا نفخہ (پھونک) ہے:
فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَ نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَo (الحجر ۱۵:۲۹) جب میں اُسے پورابناچکوں اور اس میں اپنی رُوح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔
چونکہ یہ انسان کے اندر اللہ کے نور کا ایک قبس (چنگاری) ہے اور اللہ نے انسان کو ارادے کی آزادی سے بھی عزت بخش رکھی ہے، لہٰذا وہ اس آزادی پر قابلِ محاسبہ ہے۔ اور یہ عطاے الٰہی کی بھی انتہا ہے اور عدل کی بھی۔
یہاں گہرے مفہوم والی آیات کی روشنی میں اللہ اور روح کے درمیان امتزاج سامنے آتا ہے:
فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ ص وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ج (الانفال۸:۱۷) پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور اے نبیؐ، تو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا ۔
یعنی جب آپؐ کے ہاتھ سے آپؐ کو نصرت مل رہی تھی عین اُسی وقت اللہ کے ہاتھ سے نصرت عطا ہو رہی تھی۔ لہٰذا لمحۂ نصرت میں آپؐ کا دست مبارک اللہ ہی کا دست قدرت تھا، آپؐ کا پھینکنا اللہ ہی کا پھینکنا تھا، آپؐ کی مشیت اللہ ہی کی مشیت تھی۔
یہاں یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ پھر نیت ایک دوسری مقدرت (قدرت)کیوں نہیں ہے؟
اس کا جواب بھی قرآن کے اندر ہی سے ملتا ہے:
فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ لا فَزَادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا ج (البقرہ۲:۱۰) ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا۔
کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُ o (المؤمن۴۰:۳۴) اسی طرح اللہ اُن سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں۔
وَالَّذِیْنَ اہْتَدَوْا زَادَہُمْ ہُدًی (محمد۴۷:۱۷)وہ لوگ جنھوں نے ہدایت پائی ہے، اللہ اُن کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے۔
فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ ط(الصف ۶۱:۵)پھر جب انھوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کر دیے۔
سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰــتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّط (اعراف ۷:۱۴۶) میں اپنی نشانیوں سے اُن لوگوں کی نگاہیں پھیر دوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ نیت اور ارادے کی ابتدا اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے انسان کے لیے چھوڑ رکھی ہے۔ اللہ کی قضا اور قدر اس کے بعدآتی ہے اور پھر انسان کے دل میں مرض ہو تو اُسے بڑھا دیتی ہے اور اگر اُس کے دل کی گہرائیوں میں ہدایت کے لیے میلان و رجحان ہو تو ہدایت سے انسان بہرہ مند ہو جاتا ہے۔ اگر تکبر وغرور اُس کے اندر پیدا ہو جائے تو ہدایت سے پلٹ کر ضلالت کی طرف چلا جاتا ہے۔
ضمیر کا علاقہ و دائرہ ہمیشہ انسان کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ جو چاہے جی میں لے آئے اور قضاے الٰہی اس کے بعد نازل ہوتی اور اپنافیصلہ نافذ کرتی ہے۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان پر برائی اور ظلم کا ارادہ و نیت ٹھونس دے:
وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْہَآ اٰبَآئَ نَا وَاللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا ط قُلْ اِنَّ اللّٰہَ لَایَاْمُرُ بِالْفَحْشَآئِ ط اَتَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَo (اعراف۷:۲۸) یہ لوگ جب کوئی شرم ناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اِسی طریقے پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ان سے کہو، اللہ بے حیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا۔ کیا تم اللہ کا نام لے کر وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمھیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں؟ ۔
یہ بات اس چیز کی دلیل ہے کہ خلقِ اول کا قانون یہ ہے کہ روح ہمیشہ ایک مقدس و محترم حرم رہے گا جس میں زبردستی کا دخل نہیں ہو گا، نہ اللہ تعالیٰ ہی اور نہ اُس کے لشکر اور انبیا و رسل ہی اس حرم پر کوئی زبردستی کریں گے۔