نظامِ حیات


آج دنیاے اسلام کوجو مشکلات اور چیلنج درپیش ہیں، ان میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ دور جدید کی زبان، دور جدید کے محاورے اور دور جدید کے اسلوب میں قرآن مجید اور حدیث کو بیان کیا جائے۔ آج زبان اور اصطلاحات بدل چکی ہیں، محاروہ اور اسلوب بدل چکا ہے۔ اس لیے آج کل کی زبان میں انسانوں تک اور آج کل کے لوگوں تک قرآن وسنت کی تعلیم کوپہنچانا ان تمام حضرات کے ذمے فرض عین کی حیثیت رکھتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے شریعت کے علم سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ اس نے جس نبی یا پیغمبر کو بھیجا، اس علاقے اور اس قوم کی زبان اور محاورے کے ساتھ بھیجا کہ جو وہ قوم استعمال کرتی تھی: وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ(ابراھیم ۱۴:۴) ’’ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے، اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے‘‘۔ لسان میں محض لغت شامل نہیں ہے۔ لسان میں لغت بھی شامل ہے، محاورہ، اسلوب، طرزِ استدلال اور وہ ثقافتی مظاہر بھی شامل ہیں جن کا تعلق زبان اور اظہار بیان سے ہوتا ہے۔ آج جس میدان میں شریعت کی تعلیم کو اس نئے انداز سے بیان کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ اسلام کا قانونِ معاملات ہے۔

معاملات اور تجارت کے احکام کو شریعت نے اتنی اہمیت دی ہے کہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ دنیا کے کسی مذہب، تاریخ کے کسی نظریے اور کسی فلسفے نے معیشت وتجارت کو وہ مقام اور اہمیت نہیں دی جو اسلام نے دی ہے۔ دنیا کے کسی نظام نے معیشت اور تجارت کو اخلاق اور روحانیات سے اس طرح وابستہ نہیں کیا، جس طرح اسلام نے ان دونوں کو وابستہ کر دیا ہے۔ دنیا کے کسی نظام میں معیشت وتجارت کی عمارت اخلاقی بنیادوں پر اس طرح قائم نہیں ہوتی جس طرح اسلام نے قائم کی ہے۔ ایک مشہور مغربی ماہر قانون نے لکھا ہے کہ اسلامی شریعت نے اخلاقی قواعد اور اصولوں کو اپنے قانون کے اندر اس طرح سمو دیا ہے کہ قانون پر عمل کرنے والا خود بخود اخلاق پر عمل درآمد کرتا ہے، اور اسلام کے اخلاقی اصول کی پاسداری کرنے والا خود بخود اسلام کے قانون پر عمل درآمد کرتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے مکمل طور پر ہم آہنگ اور ایک دوسرے سے مکمل طور پر وابستہ ہو گئے ہیں۔

مغربی دنیا نے اپنی تاریخ کے ایک دور میں بعض گمراہیوں کی وجہ سے قانون اور اخلاق، قانون اور روحانیات کے رشتے کو توڑ دیا۔ مغربی دنیا نے یہ طے کیا کہ قانون وہ ہوگا جس کا اخلاق اور روحانیات سے تعلق نہ ہو۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج قانون کی اصل بنیاد ختم ہو چکی ہے۔ آج غیراخلاقی تصورات کو قانون کے دائرے میں داخل کیا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قانون اپنی اہمیت، اپنی افادیت اور اپنی تاثیر کھوتا چلا جا رہا ہے۔ دنیا میں روز بروز جو لاقانونیت بڑھ رہی ہے، دنیا کی حکومتیں اور بڑے بڑے قائدین جس طرح قوانین کو توڑ رہے ہیں، دنیا کے طے شدہ اصولوں کی جس طرح مٹی پلید کی جارہی ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مغربی دنیا نے قانون اور اخلاق کے رشتے کو توڑ دیا ہے۔ اس کے برعکس اسلامی شریعت نے پہلے دن سے قانون اور اخلاق، ان دونوں کے رشتے کو اس مضبوطی سے قائم کیا تھا کہ وہ رشتہ آج تک اسی مضبوطی کے ساتھ قائم ہے۔

قانون اور اخلاق کی ضرورت مدرسوں، مسجدوں اور خانقاہوں میں بہت محدود ہوتی ہے، جب کہ اخلاق اور روحانی اقدار کی ضرورت بازار، تجارت اور معیشت میں زیادہ ہوتی ہے۔ جس زمانے میں امام محمد بن الحسن الشیبانی اپنی کتابیں تالیف کر رہے تھے، اس زمانے کے بہت سے محدثین نے زہد پر کتابیں لکھیں۔ امام عبداللہ بن المبارک کی کتاب الزھد اور امام احمد بن حنبل کی کتاب الزھد مشہور ہے۔ متعدد محدثین نے، جن کی تعداد ایک درجن کے قریب ہے، زہد کے موضوع پر کتابیں لکھیں۔ کسی نے امام محمد سے پوچھا کہ: آپ نے زہد پر کتاب نہیں لکھی؟امام محمد نے جواب دیا: میں نے کتاب الکسب اور کتاب البیوع لکھ دی ہے۔ خرید وفروخت کے احکام پر، فقہ المعاملات پر میں کتاب لکھ چکا ہوں جو کتاب الزھد کے تمام تقاضوں کو پورا کرے گی۔     یہ بات امام محمد نے کسی کمزور بنیاد پر نہیں فرمائی۔

امام محمد کے اس قول کی تشریح میں امام غزالی نے لکھا ہے کہ مدرسے اور خانقاہ میں بیٹھ کر یا اپنے گھر کی تاریکی میں بیٹھ کر استغنا وزہد کی بات کرنا آسان ہے، لیکن بازار میں جہاں خرید وفروخت کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں، جہاں دھوکا دہی اور کم تولنے کے روزانہ سو مواقع پیدا ہوتے ہیں، گھٹیا سودا دینے اور بڑھیا سودے کی قیمت لینے کے مواقع روزانہ پیدا ہوتے ہیں اور بازار میں بیسیوں آدمی ہر روز یہ کام کر رہے ہوتے ہیں___ اس وقت جب ایک شخص اس ناجائز روزی سے بچتا ہے اور جائز اخلاقی، قانونی، دینی تقاضوں کے مطابق تجارت کرتا ہے، تو وہ ہر لمحے شیطان کے گلے پر چھری چلاتا ہے۔ نفس کے شیطان کے گلے پر چھری چلانا آسان نہیں ہے۔ یہ چھری مسجد میں بیٹھ کر چلائی جاسکتی ہے، خانقاہوں میں چلائی جا سکتی ہے، لیکن جس بازار میں آپ لاکھوں روپے کا کاروبار کر رہے ہوں اور وہاں ایک معمولی غلط بیانی سے لاکھوں روپے کا فائدہ ہونے کا امکان ہو، وہاں اللہ کو حاضر و ناظر جان کر اس فائدے سے اپنے کو محروم کرنا ہی دراصل وہ تربیت ہے جو  اس روحانی اور اخلاقی اصول سے قائم ہوتی ہے جس پر شریعت نے اپنے احکام کی بنیاد رکھی ہے۔

اللہ کی حکمت بالغہ کو یہ بات پہلے سے معلوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے لامتناہی علم میں یہ بات پہلے سے موجود تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دور ایک بین الاقوامیت کا دور ہوگا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے تمام پیغمبر ، تمام آسمانی مذاہب اور تمام آسمانی کتابیں علاقائی پیغام لے کر آئے۔ کسی نے کہا کہ میں بنی اسرائیل کی بھیڑوں کوراہ راست پر لانے کے لیے آیا ہوں۔ کسی نے کہا کہ میں تو  بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دلانے آیا ہوں۔ کسی نے کہا کہ میں تو اپنے گاؤں میں آیا ہوں اور اپنے گاؤں کے فلاں حصے کے لیے آیا ہوں۔ قرآن پاک میں یہ شہادت موجود ہے کہ ایک ایک گاؤں میں تین تین نبی اللہ نے بھیجے۔ ایک گاؤں میں تین نبی ہوں گے تو چند گھروں کے ایک نبی ہوں گے اور دوسرے چند گھروں کے دوسرے ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دور میں بھیجا گیا جو بین الاقوامی اور عالم گیر دور تھا اور عالم گیریت کا آغاز ہو رہا تھا۔ آپ دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں، بین الاقوامیت کا دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ سے تقریباً نصف صدی پہلے شروع ہوا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جدِامجد جناب ہاشم بن عبد مناف نے بین الاقوامی تجارتی سفروں کا سلسلہ شروع فرمایا۔ رِحْلَۃَ الشِّتَآئِ وَالصَّیْفِ کا قرآن میں بھی ذکر ہے۔    یہ سفر جناب ہاشم بن عبد مناف کی کوششوں سے شروع ہوا۔ ہاشم نے قیصرِ روم سے اور شہنشاہ ایران سے اجازت لے کر ان سفروں کے لیے راہداری کے پرمٹ جاری کرائے تھے۔ جناب عبدالمطلب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا جناب عباسؓ بن عبد المطلب کا بڑا کاروبار تھا۔

یہ بات محض اتفاق نہیں ہے کہ رسولؐ اللہ نبوت سے ۱۵،۲۰ سال پہلے سے تجارت سے وابستہ تھے اور بطور صادق اور امین کے پورے جزیرئہ عرب میں معروف تھے۔ اسلام کی صف اول کی تمام شخصیات کا تعلق تجارت سے تھا۔ خلفاے اربعہ اور خاص طور سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور  سیدنا عثمان غنیؓ، اسی طرح عشرہ مبشرہ میں سے بڑی تعداد اور اکثریت کا تعلق تجارت سے تھا۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ، سیدنا زبیر بن عبد المطلبؓ، سیدنا زبیر بن العوامؓ، سب تجارت کرتے تھے۔   یہ محض اتفاق نہیں ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ یہ ایک ایسی شریعت کے اولین علم بردار تھے جو بین الاقوامی شریعت تھی۔ بین الاقوامی معاملات اور تعلقات میں سب سے اہم چیز ہمیشہ سے تجارت اور معاشی معاملات رہے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی روابط کی سب سے بڑی اساس تجارت اور لین دین ہے۔ یہ حضرات پہلے سے بین الاقوامی تجارتی لین دین کر رہے تھے۔ گویا کہ اسلامی شریعت اور تجارت کا پہلے دن سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اسلامی شریعت اور بین الاقوامی معیشت دونوں پہلے دن سے ایک دوسرے سے وابستہ اور لازم وملزوم ہیں۔ یہ پیغام لے کر وہ شخصیات اٹھیں جو پہلے سے اس میدان میں تھیں۔ اس لیے کہ اگر کسی ایسی قوم کویہ پیغام دیا گیا ہوتا جو تجارت اور بین الاقوامی معیشت سے ناواقف ہوتی تو اسلام کے ان احکام پر عمل درآمد شاید اتنی آسانی سے نہ ہو سکتا اور اسلام کے وہ احکام جو پہلی صدی ہجری ہی میں مرتب ہونا شروع ہوگئے،  وہ شاید نہ ہو سکتے۔

آج بعثتِ نبویؐ سے پہلے دور کے متعدد قدیم قوانین موجود ہیں اور کتابوں میں لکھے ہوئے دستیاب ہیں۔ یہودیت کا قانون موجود ہے، ہندو اور رومن قانون موجود ہے،لیکن یہ بات میں بلاتامل آپ سے عرض کر رہا ہوں کہ اسلام سے پہلے دنیا کے کسی بھی نظام اور قانون میں تجارت اور معیشت پر وہ زور نہیں دیا گیا جو اسلامی شریعت نے دیا ہے۔ اسلامی شریعت کے نزول کی تکمیل کے ڈیڑھ سو سال کے اندر اندر ائمہ اسلام نے ان قوانین پر درجنوں کتابیںمرتب فرما دیں۔ امام شافعی کی کتاب الام پورا انسائی کلو پیڈیا ہے جو ۱۵ جلدوں میں ہے۔ اسے تن تنہا    ایک فقیہ نے بیٹھ کر مرتب کیا۔ اس میں تجارت کے احکام اور قوانین کی جتنی شکلیں ہو سکتی ہیں۔   امام محمد نے ان مسائل پر بحث کی ہے۔ امام محمد سے پہلے ان کے اور امام شافعی کے استاذ امام مالک نے اپنی المدونہ میں، جو چھے جلدوں میں ایک ضخیم کتاب ہے اور بارہا چھپی ہے، تجارت اور معیشت کے تمام جزوی مسائل بیان کیے ہیں۔

تجارت اور معیشت کے احکام بیان کرنا آسان کام نہیں ہے۔ قرآن پاک کی اُن تمام آیات کو جب سامنے رکھا گیا، جن میں تجارت اور معیشت کے بارے میں ہدایات دی گئی ہیں، تو ایک ایک آیت اور ایک ایک لفظ سے ایک ایک فقیہ نے ہزاروں احکام کا استنباط کیا۔ ایک مرتبہ  امام شافعی کسی مسجد میں نماز ادا فرما رہے تھے۔ جن صاحب نے عشاء کی نماز کی امامت کی، انھوں نے سورئہ بقرہ کی آخری آیات کی تلاوت کی۔ امام شافعی رات کو آکر سو گئے۔ صبح اٹھے تو انھوں نے پوچھا: ’’حضرت، رات کو نیند آگئی، اچھی طرح سے سوئے؟‘‘ امام شافعی نے کہا: ’’میں تو ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سویا‘‘۔ پوچھا: ’’جی کیوں؟‘‘ امام شافعی نے فرمایا: ’’جب تم نے یہ آیت تلاوت کی: وَ اِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ (البقرہ ۲:۲۸۰)، جس میں قرض دار کا ذکر ہے، قرض کے احکام بیان ہوئے ہیں کہ اگر تمھارا مقروض تنگ دست ہو تو اسے اس وقت تک مہلت اور چھوٹ دی جائے جب تک اس کے پاس خوش حالی نہ آجائے، جب تک اس کا ہاتھ نہ کھل جائے۔ امام شافعی نے فرمایا کہ میں نے اس آیت پر غور شروع کیا تو مجھے یہ پتا چلا کہ اس میں تو اسلام کا قانون ’افلاس‘ بیان کیا گیا ہے۔ افلاس (Insolvency) کیا ہے؟ وَ اِنْ کَانَ ذُوْعُسْرَۃٍ، یعنی آدمی اپنی مالی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔ جس آدمی کی مالی ذمہ داریاں اور قرضے اس کے وسائل سے بڑھ جائیں، اس کو قانون میں ’مفلس‘ کہتے ہیں۔ وہی صورت حال یہاں بیان ہوئی ہے۔ پھر امام شافعی نے فرمایا کہ فوراً ذہن میں یہ آیا کہ اس آیت کا منشا یہ ہے کہ شریعت نے جو اخلاق، معاملات اور تجارت کے بارے میں سکھائے ہیں، وہ     قانونِ افلاس کی بنیاد ہونے چاہییں۔ پھر میرے ذہن میں یہ آیا کہ یہ ہونا چاہیے۔ اس کے بعد ذہن میں یہ آیا، پھر یہ آیا۔ امام شافعی بیان فرما رہے ہیں اور شاگرد سن رہے ہیں۔ پھر امام شافعی نے فرمایا کہ میں نے اس آیت سے ۱۰۸ مسئلے اخذ کیے ہیں۔ گویا اس تین لفظی آیت سے امام شافعی نے قانونِ افلاس کے ۱۰۸ مسئلے مرتب فرمائے۔

اس ایک مثال سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تجارت اور معیشت کے احکام کی اسلام کے نظام میں کتنی اہمیت ہے۔ فقہاے اسلام نے قانونِ تجارت اور قانونِ معیشت، یعنی فقہ المعاملات کے جو مسائل منقح کیے، ان میں سے کئی مسائل ایسے ہیں کہ آج بھی مغربی دنیا ان تک نہیں پہنچی۔ انسان کا مزاج یہ ہے کہ گھر کی مرغی دال برابر ہے۔ یہ جو علمی ذخائر کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں، اگر تقابل نہ کیا جائے تو ان کی اہمیت کا احساس نہیں ہوتا۔ وبضدہا تتبین الاشیاء۔ جب تک یہ نہ دیکھا جائے کہ دوسرے کیا کہتے ہیں، دوسروں کا نظام اور قانون کیا بتاتا ہے، اس وقت تک اپنی اس دولت کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ صحابہ کرامؓ کے دور سے، فقہاے اسلام اور مجتہدین کے دور سے یہ طریقہ رہا ہے کہ: جب شریعت کے احکام پر غور کیا جائے، شریعت کے احکام کو نافذ کیا جائے تو یہ بھی دیکھا جائے کہ شریعت سے انحراف کے کون کون سے راستے بازار میں موجود ہیں۔ اس طرح، ایک تو ان راستوں کو بند کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ دوسرے شریعت کے احکام کے راستے میں رکاوٹوں کا ادراک ہوتا ہے۔ پھر اس ادراک کی وجہ سے ان رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا واقعہ مشہور ہے۔ کئی مؤرخین نے اور سیرت نگاروں نے نقل کیا ہے کہ وہ کسی منصب کے لیے کسی ذمہ دار آدمی کی تلاش میں تھے۔ سیدنا عمر فاروقؓ کا طریقہ تھا کہ کثرت سے صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا کرتے تھے اور پھر غور کے بعد کسی منصب کے لیے افراد کا تقرر کرتے تھے۔ اس دوران میں کسی صحابی نے یا کسی دوست نے کسی صاحب کا نام لیا اور مشورہ دیا کہ آپ ان کو مقرر کر دیں، وہ بہت نیک اور متقی آدمی ہیں۔ ان کی تعریف بہت کی اور تعریف میں کہا کہ کانہ لا یعرف الشر، گویا کہ وہ اتنے اچھے آدمی ہیں کہ سراپا صلاح وتقویٰ ہیں اور شر کو جانتے ہی نہیں۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا کہ ایسا آدمی نہیں چاہیے، اس لیے کہ اذا یوشک ان یقع فیہ، جو شر کو نہیں جانتا، وہ تو شر میں مبتلا ہو جائے گا۔ اسے پتا ہی نہیں چلے گاکہ شر کیا ہے اور خیر کیا ہے۔ ایسا آدمی چاہیے جو خیر کو بھی جانتا ہو اور شر کو بھی۔

اس لیے صحابہ کرامؓ کے زمانے سے یہ سنت چلی آ رہی ہے کہ ائمہ اسلام نے اپنے دور کے تمام رائج الوقت طریقوں اور نظاموں کو جانا پہچانا، ان کا ادراک کیا۔ اس ادراک کے بعد جو مسائل سامنے آئے، ان کو سامنے رکھ کر شریعت کے احکام کومرتب کیا۔ جب سادہ زمانہ تھا، یہودیوں، عیسائیوں اور کفار مکہ کی گمراہیاں تھیں۔ تجارت کے معمولی طریقے تھے تو ائمہ مجتہدین نے ان طریقوں سے واقفیت حاصل کی۔ امام محمد بن الحسن الشیبانی کا یہ واقعہ بہت مشہور ہے کہ جس زمانے میں وہ بیوع اور تجارت کے احکام مرتب فرما رہے تھے، اس زمانے میں بازار میں جا کر بیٹھا کرتے تھے۔ اپنے وقت کا ایک حصہ انھوں نے اس کام کے لیے رکھا تھا کہ بازار میں جا کر بیٹھیں اور دیکھیں کہ تجارت کیسے ہوتی ہے، کاروبار کیسے ہوتا ہے، اور کاروبار کے طریقے کون کون سے ہیں اور کیا ہیں، تاکہ اس کی روشنی میں وہ شریعت کے احکام کو مرتب کر سکیں۔ پھر جب یونانی علوم وفنون کا دور شروع ہوا تو ائمہ اسلام کی بڑی تعداد نے یونانی علوم وفنون کو حاصل کیا۔ فلسفہ، منطق، ریاضی، اس راستے سے آنے والی گمراہیوں کا سد باب کیا۔ امام غزالی، امام رازی، ابن تیمیہ، یہ وہ شخصیتیں ہیں جنھوں نے یونانی گمراہیوں کی اس طرح موثر تردید کی کہ کوئی بڑے سے بڑا یونانی فلسفی اور منطقی، اسلام کے کسی بھی حکم پر اعتراض نہیں کر سکا۔ حتیٰ کہ خالص اسلامی علوم کو اس طرح منطقی دلائل سے مرتب اور منظم کر دیا کہ اس زمانے کا کوئی بڑے سے بڑا منطقی اصولِ فقہ پر یہ اعتراض نہیں کر سکتا تھا کہ اس کا فلاں مسئلہ یا فلاں اصول غیر منطقی ہے۔ علم کلام کو اس طرح مرتب کیا کہ مسلمانوں کے کسی عقیدے کو کوئی بڑے سے بڑا یونانی غیر عقلی قرار دے نہیں سکا۔

ان مثالوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ فقہاے اسلام رائج الوقت تجارت اور معیشت،   رائج الوقت تصورات، رائج الوقت الحادی نظریات اور رجحانات سے پوری واقفیت حاصل کر کے شریعت کے احکام کو مرتب کر تے تھے۔ فقہاے اسلام نے فقہ المعاملات کے احکام کو مرتب کیا۔ فقہ المعاملات کے احکام کی ترتیب صحابہ کے زمانے سے شروع ہو گئی تھی۔ تابعین میں بعض حضرات نے فقہ المعاملات میں تخصص کیا۔ امام احمد بن حنبل نے ایک جگہ لکھا ہے کہ بیوع کے احکام سب سے زیادہ مرتب انداز میں سعید بن المسیب کے ہاں ملتے ہیں۔ سعید بن المسیب مشہور تابعی ہیں، سیدالتابعین کہلاتے ہیں اور طویل عرصے تک سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد رہے ہیں۔ انھوں نے خاص طور پر ان احادیث اور سنت کے ان احکام پر غور وخوض کیا، جن کا تعلق بیوع اور تجارت سے تھا۔ ایسا ولی کامل، ایسا محدث جلیل جس کو بہت سے حضرات نے سید التابعین قرار دیا ہے، جس نے سالہاسال صحابہ کرامؓ سے کسب فیض میں گزارے، اس نے تجارت اور معیشت میں آج کل کی اصطلاح کے لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ تخصص پیدا کیا۔ اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تجارت اور بیوع اور کاروبار کی اہمیت کو صحابہ اور تابعین نے پورے طور پر پہچانا۔ بہت سے حضرات نے اس میں تخصص پیدا کیا اور اس تخصص کی بنیاد پر ائمہ مجتہدین نے احکام مرتب کیے۔

ان حضرات نے صرف احکام مرتب کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ انھوں نے ان احکام کی بنیادیں دریافت کیں۔ شریعت نے کسی چیز کو حرام قرار دیا ہے تو کیوں حرام قرار دیا ہے؟ اس کی علت کیا ہے؟ وہ علت کہاں کہاں پائی جاتی ہے؟ اس علت کو مختلف صورتوں پر منطبق کرنے کے قواعد کیا ہیں؟ خود مال (capital) جس کو کہتے ہیں، وہ کیا ہے؟ بیع کیا ہے؟ تجارت کیا ہے؟ اس کی کتنی قسمیں ہیں؟ ان میں سے بہت سے مسائل وہ ہیں کہ مغربی دنیا آج بھی وہاں تک نہیں پہنچی۔ ہمارے یہاں مدرسے میں طلبہ جو فقہ کی کتابیں پڑھتے ہیں، وہ جب کتاب البیوع شروع کرتے ہیں تو پہلے دو تین صفحات میں مال متقوم اور مال غیر متقوم کی بحث آتی ہے۔ یہ تصور آج مغربی قانون میں اس وقت بھی موجود نہیں ہے کہ مال کی پہلے دن سے دو قسمیں کی جائیں۔ ایک وہ مال ہے جس کی مالیت کو، جس کی ملکیت کو جس کے تصرف اور جس سے استفادے کو قانون جائز تصور کرتا ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جس کو جائز تصور نہیں کرتا۔ آج مغربی دنیا اس چیز کی ضرورت محسوس کرتی ہے، لیکن اس کے پاس یہ تصور نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں متقوم اور غیر متقوم کا تصور اسلام میں موجود ہے۔

مثال کے طو رپر پاکستان کے قانون کی رو سے کسی کو ہیروئن رکھنے کا اختیار نہیں ہے۔ ہیروئن کی خرید و فروخت بھی ناجائز ہے۔ وہ شریعت کی رو سے بھی مال غیرمتقوم ہے، اس لیے کہ مسکر ہے، اور موجودہ قانون میں بھی وہ مال غیر متقوم کہی جا سکتی ہے۔ کوئی شخص اپنی ملکیت میں توپ نہیں رکھ سکتا، ٹینک نہیں رکھ سکتا۔ اگر میں ٹینک خریدوں تو وہ خرید بھی ناجائز اور جو بیچے اور فروخت کرے وہ بھی ناجائز۔ یہ بات آج مغربی دنیا کو پریشان کر رہی ہے کہ اگر کسی چیز کی خرید وفروخت پر پابندی لگائی جائے تو کس بنیاد پر لگائی جائے؟ کبھی کہتے ہیں کہ عامۃ الناس کی فلاح میں نہیں ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ اس سے نقصان ہوگا۔ مختلف اسباب بیان کرتے ہیں، لیکن کوئی سبب یا کوئی ایسی ٹھوس اور جامع بنیاد نہیں ہے جو ان تمام جزئیات کو محیط ہو کہ جن جزئیات پر پابندی لگانا مقصود ہے۔ فقہاے اسلام نے، اللہ تعالیٰ ان کو جزاے خیر دے، متقوم اور غیر متقوم، دو اصطلاحات سے اس مسئلے کو حل کر دیا۔

سود کا مسئلہ آپ کو اور تاجروں کو اکثر پیش آتا ہے۔ سود میں غلط فہمیوں کی ایک وجہ اصطلاحات کا نہ ہونا بھی ہے۔ فقہاے اسلام نے مال کی دو قسمیں قرار دی ہیں۔ یہ سب فقہ المعاملات کے مباحث ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک مال وہ ہوتا ہے جس کو استعمال کیا جائے اور ایک مال وہ ہوتا ہے جس کو خرچ کیا جائے۔ یہ پگڑیاں رکھی ہوئی ہیں، میں آپ سے لے کر سر پر باندھ لوں اور تقریر کے بعد واپس کردوں تو یہ استعمال ہے۔ آپ کی اس پگڑی کا کچھ نہیں بگڑا۔ جیسی میں نے لی تھی، ویسی ہی واپس کر دی۔ اس کو شریعت کی اصطلاح میں ’عاریت‘ کہتے ہیں۔ ایک مال وہ ہے کہ جب تک میں اس کو خرچ کر کے فنا نہ کر دوں، میں اس سے استفادہ نہیں کر سکتا۔ میں آپ سے ایک گلاس پانی مانگوں تو پانی کا کوئی فائدہ نہیں جب تک میں اس کو پی نہ لوں یا اس سے ہاتھ دھو کر اس کو بہا نہ دوں، یہ ’استہلاک‘ ہے۔ ان دونوں کے احکام میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ شریعت میں ایک کو ’عاریت‘ کہتے ہیں، ایک کو ’قرض‘ کہتے ہیں۔ انگریزی میں دونوں کے لیے borrow     (یعنی اُدھار) کی اصطلاح ہے۔ آپ لائبریری سے بھی کتاب اُدھار لیتے ہیں اور بنک سے رقم بھی اُدھار لیتے ہیں۔ اب جو اس فرق سے واقف نہیں ہے، وہ کہتا ہے کہ میں کتاب اُدھار لے کر اس کا کرایہ دے دوں تو آپ اس کو جائز کہتے ہیں، اور بنک سے پیسے اُدھارلے کر اس کا کرایہ دوں تو آپ ناجائز کہتے ہیں! اس میں فرق کیا ہے؟ وہ اس لیے معاملے کو نہیں سمجھتا کہ اس کے ہاں    یہ تصور موجود نہیں ہے، اصطلاحات موجود نہیں ہیں۔

اس طرح کے بے شمار احکام ہیں جو فقہ المعاملات میں فقہا نے مرتب کیے۔ فقہ المعاملات میں یہ بتایا گیا کہ مال کی تعریف کیا ہے؟ مال کس کو کہتے ہیں؟ جس چیز کو مال کہتے ہیں، اس کی  خرید وفروخت کے احکام کیا ہیں؟ پھر مال اور ثمن میں کیا فرق ہے؟ یعنی جس کو آج کل زر (money) کہتے ہیں، وہ کیا ہے؟ یہ بات آپ کے لیے حیرت انگیز ہوگی کہ آج کل جو زر کی تعریف کی جاتی ہے، بعینہٖ یہ تعریف فقہاے اسلام کے ہاں موجود ہے۔ امام مالک نے کہا ہے کہ زر کے لیے ضروری ہے کہ وہ ما یقتات بہ، ما یدخر بہ ہو، یعنی جس کو ذخیرہ کیا جاسکے، جس کو محفوظ کیا جاسکے۔ ادخار، یعنی Store of value یہ آج کل کی اصطلاح ہے ۔ اس کے لیے   امام مالک نے ادخار کی اصطلاح استعمال فرمائی۔ امام مالک سے پہلے روے زمین پر کسی قانون دان کے ذہن میں یہ تصور نہیں آیا تھا۔ یہ نہ رومن قانون میں، نہ ہندو قانون میں اور نہ یہودی قانون ہی میں ہے، مگر شریعت میں موجود ہے۔ یہ تصور امام مالک نے دیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے ہاں تصور   یہ ہے کہ ’زر‘ وہ چیز ہے جو گنی جا سکے، تولی جا سکے ، ناپی جا سکے۔ یہ تصور بھی آج کل ’زر‘ کی تعریف میں موجود ہے۔ اس لیے اپنے اس علمی ذخیرے کی قدر کرنا ہمیں سیکھنا چاہیے۔ اس ذخیرے سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے، لیکن ہمارے تاجر حضرات ان اصطلاحات سے اکثر واقف نہیں ہوتے جو فقہا نے استعمال کی ہیں۔ ہمارے علما اور مفتی حضرات ان اصطلاحات سے واقف نہیں ہوتے جو مارکیٹ میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک درمیانی واسطہ ہو۔ وہ درمیانی واسطہ نوجوان علما ہیں جنھوں نے آج کل کا بزنس ایڈمنسٹریشن بھی سیکھ لیا ہے اور شریعت کے وہ پہلے سے متخصص بھی ہیں۔ یہ حضرات اس نئے دور کے نقیب ہیں، ایک نئے دور کے مناد ہیں جس کی اُمت مسلمہ منتظر ہے۔ امت مسلمہ ۱۰۰ سال سے اس کی منتظر تھی!

حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے انتقال سے چند مہینے پہلے جامعہ ملّیہ کا افتتاح فرمایا تھا۔ جامعہ ملّیہ آج ہندستان کی ایک عام سیکولر یونی ورسٹی بن گئی یا بنا دی گئی ہے۔ جامعہ ملّیہ کا مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا تعلیمی ادارہ بنایا جائے جو علی گڑھ اور دارالعلوم دیوبند کا سنگم ہو، جس میں علی گڑھ کی اور دارالعلوم دیوبند کی تمام خصوصیات موجود ہوں۔ شیخ الہند اس کا افتتاح کرنے کے لیے دیوبند سے علی گڑھ تشریف لے گئے تھے۔ علی گڑھ میں جامعہ ملّیہ کا افتتاح ہوا تھا۔ مولانا محمد علی جوہر اس کے پہلے امیر، یعنی چانسلر مقرر ہوئے تھے اور انھوں نے علامہ اقبال سے گزارش کی تھی کہ آپ اس کے پہلے وائس چانسلر ہو جائیں۔ اس سے آپ اندازہ کریں کہ ۱۹۱۹ء، ۱۹۲۰ء میں یہ احساس حضرت شیخ الہند میں موجود تھا جو دار العلوم دیوبند کے پہلے طالب علم تھے۔ انھوں نے ۱۹۱۹ء میں اس کا احساس کیا تھا۔ آج ۲۰۱۰ء میں ہم اس احساس کا عملی مظہر دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے ۹۰ سال کی تاخیر کر دی ہے۔ اگر یہ تاخیر نہ ہوتی تو شاید آج ہمارے دوستوں کو      یہ شکایت کرنے کا موقع نہ ملتا کہ ہم دنیا سے پیچھے ہیں، ہم دنیا کے مقلد ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کارساز ہے۔ وہ اس تاخیر سے درگزر فرمائے اور اس تاخیر کے نقصانات سے ہمیں محفوظ رکھے۔

اسلام میں تجارت کے احکام فقہ اسلامی کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔ فقہ اسلامی کے اگر بڑے بڑے اجزا بیان کیے جائیں تو ایک جز عبادات کا ہے۔ نماز روزہ تعلق مع اللہ کے لیے ہے۔ اسلام کا بنیادی مقصد ہی اللہ کی عبادت ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ o (الذاریات ۵۱:۵۶)۔ اس لیے عبادت الٰہی کے لیے جو احکام ہیں، وہ بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جتنی تجارت کے احکام رکھتے ہیں، بلکہ ترتیب میں وہ سب سے پہلے ہیں۔ اس کے بعد ایک مسلمان کی تربیت اور تعلیم کا، مسلمان کی تیاری کا، نئی امت مسلمہ کی نشوونما کا جو سب سے بڑا مرکز اور درس گاہ ہے، وہ ماں کی گود ہے، گھر ہے اور ماں باپ کی سرپرستی ہے۔ نانی اور دادی کی لوریاں ہیں۔ جب تک یہ درس گاہ مسلمانوں میں محفوظ تھی، مسلمان گھر خطرے سے محفوظ تھے۔ آج یہ  درس گاہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے۔ اس لیے شریعت نے اس درس گاہ کے احکام دیے ہیں۔ قرآن پاک کی آیاتِ احکام میں ایک تہائی کا تعلق عبادات سے ہے اور ایک تہائی کا تعلق عائلی احکام وقوانین سے ہے۔

فقہ المعاملات میں فقہاے اسلام نے جتنی تفصیل سے معاملات کو مرتب کیا ہے، اس تفصیل، وسعت اور اس گہرائی میں فقہ اسلامی کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ عبادات میں تو کسی تفصیل کی زیادہ گنجایش نہیں ہے۔ عبادات میں نہ کوئی نئی عبادت وضع کی جا سکتی ہے نہ کوئی نئی صورت وضع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے عبادات میں تو جوحدود اللہ نے مقرر کر دیے ہیں، اسی کے اندر رہنا پڑے گا اور اس کے احکام بھی محدود ہوں گے۔ اس کے باوجود فقہاے اسلام نے ہزاروں صفحات پر مشتمل سیکڑوں جلدیں تیار کر دیں ۔ لیکن معاملات کا جہاں تک تعلق ہے تو اس میں اصل یہ ہے کہ وہ مباح ہیں: الاصل فی المعاملات الاباحۃ۔ آپ جو بھی نیا کاروبار یا تجارت کرنا چاہیں، اگر اس میں کوئی چیز شریعت سے متعارض نہیں ہے تو وہ جائز ہے۔ اس میں ربا نہیں ہے، اس میں قمار نہیں ہے، اس میں غرر نہیں ہے، فلاں فلاں برائیاں نہیں ہیں تو وہ جائز ہے، خواہ اس کا نام جو بھی ہو۔ چونکہ اس میں راستہ کھلا ہوا ہے، میدان کھلا ہوا ہے، اس لیے فقہاے اسلام نے ہر دور میں نئی شکلیں مرتب کیں۔ جب کوئی نئی شکل تجارت کی آئی، فقہا نے اس کے احکام مرتب کیے۔

امام محمد اور امام مالک اور امام شافعی کے ہاں بیع الوفاء کا ذکر نہیں ہے۔ بیع الوفاء کے نام سے ایک بیع کا آغاز پانچویں چھٹی صدی ہجری میں ہمارے وسطی ایشیا، یعنی، سمرقند، بخارا، ماواء النہر میں ہوا تو فقہا نے اس کے احکام مرتب کر دیے۔ سوکرہ، یعنی سکیورٹی یا انشورنس کا مسئلہ اٹھارھویں انیسویں صدی میں سامنے آیا تو علامہ ابن عابدین نے سوکرہ کے احکام مرتب کر دیے۔ ردالمختار میں سوکرہ کا باب موجود ہے، اس کے احکام موجود ہیں۔ اس لیے تجارت اور معیشت کے ابواب فقہ اسلامی میں مسلسل وسعت پذیر ہوتے رہے ہیں اور ہر دور میں اس میں نئے اضافے ہوتے رہے ہیں۔ جو بنیادی تصورات تھے، ان کی روشنی میں فقہاے اسلام نے احکام مرتب فرمائے ہیں۔ ایک زمانہ تھاکہ ان قواعد کی تعداد ۲۵، ۳۰ سے زیادہ نہیں تھی، لیکن اب صورت یہ ہے کہ اسلامی کانفرنس تنظیم (OIC) کی اسلامک فقہ اکیڈمی نے ایک پروگرام بنایا کہ ان قواعد کو مرتب کروایا جائے جن کا تعلق معاملات سے ہے۔ ان سے پہلے ایک اور سعودی ادارے نے کچھ علما کو مقرر کیا کہ معاملات سے متعلق قواعد فقہیہ (Legal Maxims) مدون کریں۔ احکام، یعنی Rules of Law نہیں، وہ تو بے شمار ہیں۔ چنانچہ وہ ۱۲ جلدوں میں مدون ہوئے ہیں۔ انگریزی کی کوئی کتاب جس میں سارے لیگل میکسم جمع ہوں، دو سے زائد جلدوں میں نہیں ہے۔ یہاں صرف معاملات کے لیگل میکسم ۱۲ جلدوں میں مرتب ہیں، چھپ چکے ہیں۔ او آئی سی کی فقہ اکیڈمی کے صدر نے خود مجھے بتایا کہ ہم نے یہ کام شروع کروایا ہے۔ اب تک جو مواد ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۱۰۰جلدوں میں یہ کام مرتب ہوگا۔ اس سے آپ فقہ المعاملات کی وسعت کا، گہرائی اور تعمق کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ مجھے یہ خیال آرہا تھا کہ فقہ المعاملات میں دو سال، تین سال یا چار سال میں تخصص کیسے ہوگا۔ میرے خیال میں تو اس میں چار پانچ نسلیں لگانی چاہییں۔ تین نسلیں ہوں جو طے کریں۔ پہلے دادا پڑھے، پھر بیٹا پڑھے، پھر پوتا پڑھے تو جا کے شاید تخصص ہوسکے گا۔ جس قانون کے قواعد فقہیہ، ۱۰۰ جلدوں میں آرہے ہیں، اندازہ کریں کہ اس میں مہارت کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا۔ (جامعۃ الرشید کراچی میں تقریبِ تقسیم اسناد کے موقع پر خطاب، بہ شکریہ ماہنامہ الشریعۃ، گوجرانوالہ، جنوری-فروری ۲۰۱۱ء)

 

اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں بھیجنے کے بعد نعمتوں سے نوازا اور ساتھ ہی چند حدود کو بھی مقرر کر دیا تاکہ انسان ان حدود کو توڑ کر دوسروں کا استحصال نہ کرے۔ ان حدود ’حلال و حرام‘ کے ساتھ عمدہ اخلاق کے بھی احکام دیے۔ اخلاق لفظ ’خلق‘ کی جمع ہے۔ ’خلق‘ کا لفظ عام طور پر عادت، خصلت اور خُو کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ راغب اصفہانی کے نزدیک: ’’خلق کا لفظ عادت اور خصلت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جن کا تعلق بصیرت سے ہوتا ہے‘‘ (المفردات فی غریب القرآن، ص ۱۵۸)۔ جیساکہ قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد ہے: وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍo (القلم ۶۸:۴) ’’اور بے شک آپؐ اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر ہیں‘‘۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد ہی اخلاق کی تکمیل بیان کیا گیا ہے: ’’مجھے حُسنِ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے‘‘(موطا)۔ اسوئہ حسنہ سے تزکیہ اخلاق کی واضح ترغیب ملتی ہے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے‘‘(مسلم)۔ نبی کریمؐ نے کامل مومن اس شخص کو قرار دیا جس کا اخلاق بہترین ہو: ’’مومنوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان اس کا ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہیں‘‘۔ (سنن ابوداؤد)

اسلام کا نظامِ اخلاق ہماری زندگی کے ہرشعبے پر محیط ہے۔ رائج الوقت معاشی نظاموں میں بداخلاقیاں اس طرح سرایت کرچکی ہیں کہ ان میں حلال و حرام کی تمیز ہی مٹ کر رہ گئی ہے۔ انسانوں کو اپنے معاشرے میں ساتھ رہتے ہوئے بھی لوگوں کے معاشی حقوق کا احساس نہیں۔ اسلام اخلاقیات کو ایمانیات کے ساتھ مربوط کرتا ہے تاکہ انسان اخلاقی ترغیبات سے دوسروں کے حقوق ادا کرے اور کسی کے حق پر دست درازی نہ کرے۔ انسان کی زندگی میں لاتعداد خواہشات ہوتی ہیں، لیکن ان کو پورا کرنے کے وسائل محدود ہیں۔ نتیجتاً انسان اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کے حقوق پر دست درازی شروع کردیتا ہے۔ اگر انسان اخلاقی اصولوں کو اپنائے تو مختلف خواہشات کو ایک اصولِ واحد کے تحت منظم کر کے پُرسکون زندگی بسر کرسکتا ہے۔

اسلام کی اخلاقی تعلیمات معیشت، سیاست اور نظامِ عبادت میں اسی طرح جاری و ساری ہیں جس طرح جسم میں گردش کرتا ہوا خون۔ عصری نظامِ تجارت میں معاشی بداخلاقیاں رائج ہیں۔ احتکار (ذخیرہ اندوزی) ہی کو لے لیں کہ اشیا فروخت کرنے کے لیے بازار میں نہیں لائی جارہی ہیں۔ غذائی اجناس کو ضائع کیا جا رہا ہے، ناپ تول میں کمی، بدعہدی، سود، رشوت اور ملاوٹ وغیرہ___ ان کی وجہ سے صارفین کا استحصال ہوتا ہے۔ ارتکاز دولت کو تقویت ملتی ہے اور طبقاتی کش مکش پروان چڑھتی ہے۔ اسلام معاشی استحصال کے خاتمے کے لیے معاشی اخلاقیات کی تعلیم دیتا ہے۔ ذیل میں چند اہم نکات پیش ہیں:

  •  ناجائز ذرائع آمدن کی ممانعت: اسلام میں ناجائز ذرائع دولت کی ممانعت ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ(النساء ۴:۲۹) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھائو، ماسواے تجارت جو کہ تمھاری باہمی رضامندی سے ہو۔

حافظ ابن کثیر (م: ۷۷۴ھ) اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے باطل طریقوں سے مال کھانے کی ممانعت فرمائی ہے، جیسے سودخوری، قمار بازی، اور ایسے ہی ہر طرح کے ناجائز ذرائع جن سے شریعت نے منع فرمایا ہے‘‘(تفسیر ابن کثیر)۔ حرام مال سے مراد صرف کھانا نہیں بلکہ مال کا ناجائز استعمال اور اپنے تصرف میں لے آنا ہے۔ باطل سے مراد ہے ہر ناجائز طریقہ جو عدل و انصاف، قانون اور سچائی کے خلاف ہو۔ اس کے تحت جھوٹ، خیانت، غضب، رشوت، سود، سٹہ، جوا، چوری اور معاملات کی وہ ساری قسمیں آتی ہیں جن کو اسلام نے ناجائز قرار دیا ہے۔

امام شافعیؒ (م: ۳۰۴ھ) لکھتے ہیں: تم تجارت میں باہمی رضامندی کی خریدوفروخت یا کرایہ داری کے ساتھ مال کھائو، لیکن ہر رضامندی تجارت میں معتبر نہیں ہوتی۔ رضامندی     شرعی حدود کے اندر ہونی چاہیے۔ تجارت میں سود کا مال اور قرض حلال نہیں ہے اور نہ ایسا مال لینے اور دینے والے کے درمیان سٹہ بازی اور گروی جائز قرار پاتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر دونوں طرف سے رضامندی بھی ہو، کیونکہ ان کی رضامندی شریعت الٰہی کے برعکس ہے‘‘۔(الام،ج ۳،ص ۳)

نبی اکرمؐ نے افضل عمل حلال کمائی کے لیے جدوجہد کو قرار دیا ہے: ’’اعمال میں افضل حلال ذرائع سے کمانا ہے‘‘(کنزالعمال، ج ۷، ص ۷)۔ اسی طرح آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’افضل ترین کمائی وہ تجارت ہے جو خیانت اور جھوٹ سے پاک ہو، اور انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا ہے‘‘۔(ایضاً)

عصری نظامِ تجارت کو اسلامی اصولوں سے ہم کنار کرنا ضروری ہے جس میں حلال و حرام کو واضح کیا جائے اور اخلاقی اقدار کو روشناس کروایا جائے تاکہ معیشت خوش حالی سے ہم کنار ہوسکے۔ احتکار اور اتلافِ مال کے بجاے اشیا کو مناسب قیمتوں پر فروخت کیا جائے۔ ایفاے عہد، سچائی، شرکت، مضاربت، اخوت اور عدل و احسان کو متعارف کروایا جائے، جیساکہ ناپ تول کے بارے میں آتا ہے: ’’اے تولنے والے تولو اور جھکتا ہوا تولو‘‘ (ابن ماجہ)۔ ان اخلاقی اقدار ہی کے ذریعے نظامِ تجارت ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔

  •  اسراف اور تبذیر: اسراف سے مراد لغو امور پر خرچ کرنا، احتیاجات (ضروریات) سے زیادہ خرچ کرنا، انسان کو جو چیز پسند آئے اس کو خرید لینا، جو جی چاہے کھا لینا ہے، اور مال کو حق کے علاوہ خرچ کرنا، گناہ کے کاموں پر خرچ کرنا چاہے وہ ایک درہم ہی کیوں نہ ہو۔ اگر جائز اور بھلائی کے کاموں پر خرچ کیا جائے تو وہ تبذیر کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ گویا اسراف سے مراد جائز اشیا پر خرچ کرنے میں حد سے تجاوز کرنا ہے، جب کہ تبذیر سے مراد ناجائز امور پر خرچ کرنا ہے۔ شادی بیاہ کی رسموں اور غمی کے موقع پر کئی غیرضروری رسم و رواج پر خرچ بھی اسراف میں آتا ہے، جب کہ دوسری طرف غریب طبقے میں احساسِ کمتری اور مصائب میں اضافہ ہوتا ہے۔ بخیل شخص اپنی بنیادی ضروریات، اہل و عیال ، رشتہ داروں، ضرورت مندوں اور سائلین پر خرچ کرنے سے اجتناب کرتا ہے۔ عادتِ بخل کے سبب دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوکر رہ جاتی ہے۔ معیشت میں اشیا کے لیے صارفین کی طلب میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور حسد و نفرت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ اسی لیے اسلام میں اسراف و تبذیر سے منع کیا گیا ہے:

وَّ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَo (اعراف ۷:۳۱) کھائو پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ ط وَ کَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوْرًا o  (بنی اسرائیل ۱۷:۲۷) فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔

شاہ ولی ؒ اللہ فرماتے ہیں: ’’عیاشی اور عیش پسندی میں امکان و توفیق جس شکل میں بھی ہو شرع کی نظر میں سخت ناپسندیدہ ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے انسان اسفل السافلین میں جاگرتا ہے اور انسان کے قواے فکریہ پر تاریکی کے بادل چھا جاتے ہیں‘‘۔ (حجۃ اللّٰہ البالغۃ)

  •  خرچ میں اعتدال: اسلام صَرف میں ’اصولِ اعتدال‘ کو متعارف کرواتا ہے:

وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًاo (الفرقان ۲۵: ۶۷) جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ اُن کا خرچ دونوں انتہائوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔

ایک دوسرے موقع پر فرمایا:

وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَ لَا تَبْسُطْھَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًاo (بنی اسرائیل ۱۷:۲۹) نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جائو۔

ایک شخص کی دانائی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ اپنی معیشت میں اعتدال کی راہ اختیار کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’کھائو پیو اور پہنو اور صدقہ کرو، اسراف و تکبر کے بغیر‘‘ (بخاری)۔ حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے منع فرمایا ہے، نیز ریشم اور دیباج کے کپڑے پہننے اور بچھانے سے بھی۔ (بخاری)

اسلام یہ بھی ہدایت کرتا ہے کہ صارف خرچ کرنے میں ’عدل‘ سے کام لے، یعنی جہاں روکنا ضروری ہو وہاں روکا جائے اور جب خرچ کرنا ضروری ہو وہاں خرچ کیا جائے۔ پس خرچ کی ضرورت کی جگہ پر روک رکھنا بخل ہے اور روک رکھنے کی ضرورت کی جگہ خرچ کرنا اسراف ہے اور ان دونوں کے بین بین خرچ کرنا اچھا ہے۔

اسلام ہمیں خرچ کرنے میں قناعت کا حکم دیتا ہے۔ قناعت سے مراد یہ ہے کہ حلال ذرائع سے انسان کو جو کچھ ملے،اس پر وہ راضی اور مطمئن ہوجائے۔ زیادہ حرص و لالچ نہ کرے کیونکہ   حرص و طمع انسان کو حرام ذرائع کو اپنانے پر مجبور کردیتی ہے۔ وہ انسان جس کو ایمان کی دولت نصیب ہو، گزربسر کا سامان میسر ہو، اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اسے قناعت جیسی نعمت عطا فرما دے، تو اس سے بڑھ کر خوش نصیب انسان دنیا میں اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ نبی کریمؐ کا ارشاد ہے: ’’امیر ہونا سامان بہت ہونے سے نہیں بلکہ دل سے ہے‘‘ (مسلم،ترمذی)۔ آپؐ نے مزید ارشاد فرمایا: ’’اس شخص نے فلاح پائی جو اسلام لایا اور اسے ضرورت کے مطابق رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی روزی پر قناعت دی‘‘ (مسلم،ترمذی)۔ فلاح سے مراد قلبی سکون اور آخرت کے عذاب سے چھٹکارا ہے۔

  •  سود کی ممانعت: ملکی سطح پر اگر نظامِ مالیات کا جائزہ لیا جائے تو یہ سود پر مبنی ہے۔ سودی نظام نہ صرف قوموں کی معاشی بدحالی کا سبب ہے بلکہ معاشرے سے محبت و اخلاص کے جذبات کو بھی ناپید کر رہا ہے۔ سودخور انسانی ہمدردی سے عاری اور دوسروں کی مجبوریوں سے فائدہ اُٹھانے کے درپے ہوتا ہے۔ سودی نظام میں ایثار و احسان جیسی اخلاقی قدروںکا تصور بھی محال ہے۔ عالمی اقتصادی نظام سودی سامراجیت کو پروان چڑھاتا ہے۔ قوموں میں بُغض و عداوت کا بیج بوتا ہے جو بالآخر جنگ کا پیش خیمہ بھی بن جاتا ہے۔ اسلام میں سود کی قطعی حُرمت کا حکم ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ o فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖج (البقرہ ۲:۲۷۸-۲۷۹) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمھارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا، تو آگاہ ہوجائو کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے تمھارے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔

سود کی ممانعت حدیث نبویؐ سے بھی ثابت ہے: ’’سود ۷۰ گناہوں کے برابر ہے، جیسا کوئی اپنی ماں سے نکاح کرے‘‘(ابن ماجہ)۔ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’معراج کی رات مجھے کچھ لوگوں پر گزارا گیا جن کے پیٹ مکانوں کے مانند تھے۔ ان میں سانپ باہر سے نظر آتے تھے۔ میں نے جبرئیل ؑ سے کہا: یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ سودخور ہیں‘‘۔(ابن ماجہ)

نظامِ مالیات کی دوسری بڑی بداخلاقی غیرضروری ٹیکسوں کا نظام ہے۔ ان ٹیکسوں کی بھرمار نے صارفین کو مشکلات کا شکار کر دیا ہے۔ اسلام زکوٰۃ اور صدقات کے نظام کو رائج کرتا ہے۔ زکوٰۃ کو فرض قرار دینے کے ساتھ غریبوں کا حق قرار دیا۔ وَفِیْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ (الذاریات ۵۱:۱۹)’’اور ان کے مالوں میں سوال کرنے والے اور محروم لوگوں کا حق ہے!‘‘، تاکہ غریبوں کی عزتِ نفس برقرار رہے، اور آج زکوٰۃ لینے والا کل دینے والا بن جائے۔ دنیا آج اس نہج پر سوچتی ہے کہ سودی قرضوں کے بغیر ترقی ممکن ہی نہیں۔ اگر وہ صرف ایک نظر تاریخ پر ڈالیں تو ان کو راہِ عمل مل سکتی ہے۔ حضرت عمرفاروقؓ کے عہد میں زکوٰۃ دینے والے تو ملتے تھے   مگر لینے والا نہیں ملتا تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن و سنت کی اعلیٰ اخلاقی اقدار جو کہ حرام ذرائع دولت کا خاتمہ اور گردش دولت کے عمدہ اصولوں سے متعارف کرواتی ہیں، کو اپنایا جائے،    نیز مادہ پرستانہ رویوں کو چھوڑ کر احسان و ایثار جیسے اوصاف کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنایا جائے۔  اسلام خیرخواہی، ایثار، تعاون اور احسان کا دین ہے۔

آج بھی اگر اسلامی نظامِ اخلاق کو معیشت کے اندر نافذ کیا جائے تو غربت کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ عوام الناس کی مادی و روحانی خوش حالی ممکن ہے۔ معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نظامِ معیشت میں اخلاق کی بنیاد نفع اندوزی اور ملّی فوائد پر رکھی جاتی ہے۔ انھیں ہر وقت شکست و ریخت اور تبدیلی کا خطرہ رہتا ہے، اور ایسا نظامِ پایدار نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کی معاشی پس ماندگی کا ایک سبب اخلاقی گراوٹ، مذموم صفات اور ناپسندیدہ خصائص میں آلودہ ہونا ہے۔ لہٰذا ہر ذی ہوش مسلمان کا فرض ہے کہ اصلاح اخلاق کی جانب توجہ دے، اور جیسے بھی ممکن ہو اخلاق کو انفرادی و اجتماعی سطح پر سنوارا جائے تاکہ مستقبل میں ہم دنیا کی قوموں میں ایک معزز قوم بن کر اُبھر سکیں۔ (لیکچرار لاہور کالج براے خواتین یونی ورسٹی، لاہور)

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کا نظامِ معیشت ایک مستحکم اور پُر رحمت معاشی نظام ہے، جس کی بنیاد انسان دوستی پر ہے۔ ’’جو کچھ ہے، انسان کے لیے ہے اور جو کچھ بھی کیا جائے گا، انسانوں ہی کے لیے کیا جائے گا‘‘، یعنی اصل اہمیت انسان کی اور اُسے آسانی اور سہولت مہیا کرنے کی ہے، جب کہ دیگر معاشی نظاموں میں ذاتی مفادات، خواہشاتِ نفس اور پرستش دولت و وقار کو تمام تر اہمیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہت بڑا جوہری فرق ہے جو اسلامی اور غیر اسلامی معاشی نظاموں کو ایک دوسرے سے جدا کرتاہے۔ لہٰذا بنیادی مقاصد کے شدید اختلاف کے باعث ہی ہردو کے معاشی اقدامات بھی بالکل جدا جدا ہوتے ہیں۔ ایک کے اقدامات انسانوں کے باہمی احترام اور ان کی لازوال فلاح و بہبود کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، جب کہ دوسرے نظام کے اقدامات سے سنگ دلی، انسانوں کی بے احترامی اور آمدوخرچ میں استحصال کا راستہ کھلتا ہے۔

مغربی نظام معیشت کا رائج الوقت مادی اصول یہ ہے کہ قیمتوں کا تعین طلب و رسد کی فضا سے ہوتا ہے۔ بظاہر دل کو لگنے والا یہ اصول اندر سے دراصل ایک جارح اصول ہے۔ مغربی ماہرین معیشت فرماتے ہیں کہ مارکیٹ میں جب طلب اشیا میں اضافہ ہوگا تو لازم ہے کہ وہاں قیمتوں میں بھی اسی حساب سے اضافہ ہو، اور جب رسد اشیا (supply) میں اضافہ ہوگا تو قدرتی طور پر اشیا کی قیمتوں میں بھی اسی حساب سے کمی ہوگی۔ حالانکہ دیکھا گیا ہے کہ جب اشیا کی رَسد میں اضافہ ہوا ہے تو عموماً ان اشیاء کی قیمتیں نہیں گر سکی ہیں، یا اگر گرائی گئی ہیں تو متناسب لحاظ سے نہیں گرائی گئی ہیں۔ خصوصاً ترقی پذیر اور پس ماندہ ممالک میں تواس کلیے پر بہت ہی کم عمل ہوتا ہے۔ تاہم اپنی جگہ پر یہ بات بھی بہت اہمیت کی حامل ہے کہ اگر طلب بڑھ بھی جائے تب بھی اشیا کی قیمتیں بڑھا دینا محض منافع خوری اور بے رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ ان ’سنہری‘ موقعوں پر تاجران و صنعت کاران کی دیرینہ تمنا ہوتی ہے کہ مذکورہ اصول کو آڑ بنا کر ڈھیروں منافع ایک ساتھ کما لیا جائے۔ حالانکہ انسان دوستی کے لحاظ سے اگر اس طرزِعمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جب ضرورت کے مارے ہوئے لوگوں کو کم از کم پرانی قیمت پر تو اشیا کی فراہمی جاری رکھی ہی جانی چاہیے۔ انسانوں کو مصیبت میں مبتلا دیکھ کر بے رحمی سے اپنی جیبیں بھرنا مغربی طرزِ معیشت تو ہوسکتا ہے،اسلامی نہیں۔ اگر مارکیٹ میں اشیا کی قلّت پائی جاتی ہے اور ان کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے تو وہاں موجود  ذخیرۂ اشیا کو تو بہرحال ایک مقام پر آکے ختم ہو ہی جانا ہے، خواہ پرانی قیمت پر فروخت کرکے یا خواہ من مانی زائد قیمت پر نکاسی کرکے۔ اس لیے ایسے موقعوں پر بے رحمی اختیار کرنا اور ناجائز منافع خوری کا فیصلہ کرنا کہاں کی انسان دوستی اور کہاں کا ’سنہرا‘ اصول ہے؟

اس کے برعکس اسلامی نظامِ معیشت ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ضرورت کے موقعوں پر ہم اپنے بھائیوں کے لیے دستِ تعاون مزید دراز کریں اور منافع جاتی لحاظ سے اگر قیمتیں کم نہ کرسکیں تو انھیں کم از کم اتنی بلندی پر تو نہ لے جائیں کہ ضرورت مند فرد سسکنے اور مرنے پر تیار ہوجائے۔  خلیفۂ ثانی حضرت عثمان غنیؓ بذاتِ خود ایک بڑے تاجر و کامیاب درآمد و برآمد کنندہ تھے۔ لیکن مکّے کے ایک سنگین قحط کے دوران آپؓ نے اشیاے خوردونوش سے بھرے ہوئے کئی اُونٹوں کو مکّے کے شہریوں میں فی سبیل اللہ محض مفت تقسیم کروا دیا حالانکہ مکّے کے تمام بڑے تاجر آپ کو مذکورہ مال کی ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر پیش کش کررہے تھے۔ کیا حضرت عثمانؓ کے لیے یہ ایک بہترین موقع نہیں تھا کہ وہ بھی ایک عام تاجر کی مانند مذکورہ اصول پر عمل کر کے زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹ لیتے؟ لیکن اس موقع پر انھوں نے محض خوفِ خدا اور انسان دوستی کا ثبوت دیا۔ اسلام دراصل کاروباری شخصیات کو آنے والی دوسری دنیا کے منافع کی طرف بھی متوجہ رہنے کی ہدایت کرتا ہے۔

معیشت کے سلسلے میں ایک معروف حدیث یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ مزدور کو مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اداکردو۔ اگرچہ یہ ایک مختصر سی ہدایت ہے لیکن اپنی روح کے اعتبار سے یہ ایک ایسا زریں اصول ہے جس کی بنیاد پر ملازمین کو دکھ اور غم سہنے کا کوئی موقع ہی نہ ملے۔ پسینہ خشک ہونے سے قبل ہی ادایگی کر دینے کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ اوّل تو ملازم کو اس کی گھریلو معیشت چلانے میں کبھی کوئی دقت پیش نہ آئے، اور دوسرے آجر کے خلاف اس کے دل میں کبھی کوئی کینہ نہ پیدا ہو۔ ملازموں سے کام تو پورا لینا لیکن معاوضوں کے لیے انھیں تڑپانا، استحصال نہیں تو اور کیا ہے! ہمارے تمام آجران اگر اس سنہرے اصول پر عمل کرنا شروع کر دیں تو ملازموں کی جانب سے انھیں کبھی ہڑتال یا فیکٹری کا پہیہ آہستہ کر دو اور مظاہروں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ خود صنعتی امن قائم رکھنے کے لیے بھی یہ ایک سنہرا اصول ہے۔

ایک دوسری ہدایت میں آپؐ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر تمھارا غلام (ملازم) دھوئیں، گرمی اور دھوپ سے گزر کر تمھارے کھانے کے لیے کچھ لائے تو تم پر لازم ہے کہ اس کھانے میں سے کچھ حصہ اسے بھی دیا کرو۔ یہ ہدایت آپؐ نے اس لیے جاری فرمائی کہ خوراک کی تیاری کی مشقت کے بعد اس خوراک میں ملازم کا حصہ ازخود بن جاتا ہے۔ یہ اصول گویا ملازموں کے اضافی فوائد، مثلاً بونس، گریجوئیٹی اور دیگر فوائد کی طرف رہنمائی کرتا ہے کیونکہ کھانا پکانے کی تنخواہ تو ملازم کی پہلے سے طے ہوتی ہے، البتہ کھانا کھلانا اس کا ایک اضافی حق بن جاتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک مختصر ہدایت ہے لیکن اس سے آپؐ نے ملازمین کے حقوق کا مزید تعین کیا ہے۔ یوں ایک طرف آجر و اجیر کے درمیان بہترین رشتہ استوار ہوتا ہے، اور دوسری جانب ملازم کو بھی ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے۔

ایک اور اہم ہدایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے کہ معیشت کے معاملے میں   تم اپنے سے نیچے والوں کو دیکھو جب کہ نیکیوں کے معاملے میں تم اپنے سے اُوپر والوں کو دیکھو۔ آپؐ کی یہ مختصر سی ہدایت کیا ہے، گویا ہماری زندگی کے بہت سے معاملات کو ازخود درست کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ کھاتے پیتے اور صاحب ِ ثروت لوگوں سے مقابلہ کر کے گویا ہم اپنی ذاتی معیشت کو خود ہی غیرمتوازن کرنے کا سامان کرتے ہیں، اور حسد، طبقاتی کش مکش، حرام آمدنی اور قرض کے دروازے کھولنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اپنے سے کم حیثیت افراد کی زندگیوں کو سامنے رکھ کر ہماری اپنی زندگی میں اطمینان و قناعت کا رنگ اُبھرتا ہے بلکہ اس کے برعکس یہ جذبہ بھی زور کرتا ہے کہ کیوں نہ ہم بھی ان کم استطاعت والے اپنے بھائیوں کی مدد کو آگے بڑھیں۔ یہ ہدایت بھی گویا فضول معاشی کش مکش اور بے جا اصراف کی جڑ کاٹتی ہے۔

معاشی حالات مزید درست کرنے کی خاطر آپؐ نے ایک ہی نوعیت کی مزید کئی اور ہدایات بھی دی ہیں۔ ایک حدیث میں آپؐ نے فرمایا: ’’محنت اور جدوجہد کرکے رزق حاصل کرنے والا شخص اللہ کا بہت محبوب ہوتا ہے‘‘۔ ایک موقع پر آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ بے عمل بن کر  تم مسلمانوں (معاشرے) پر بوجھ نہ بنو۔ اسی کے ساتھ آپؐ نے یہ بھی ہدایت فرمائی ہے کہ اُوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ بظاہر ایک ایک سطر کے یہ تین مختصر سے ارشادات ہیں لیکن دیکھا جائے تو ان میں انسانی زندگی کی کم از کم آدھی معیشت پنہاں ہے۔ معیشت کا تمام تر دارومدار دراصل معاشی نقل و حرکت اور پیداواری عمل میں شرکت پر ہوتا ہے۔ معاشی سرگرمی جتنی تیز اور پیداواری نقل و حرکت جتنی زیادہ ہوگی، معاشرے میں معاشی بہتری بھی اتنی ہی زیادہ آئے گی۔ اسی لیے ہدایت کی گئی ہے کہ انسان محنت مزدوری (پیداواری عمل) میں ضرور حصہ لے اور نکمّا بن کر گھر میں نہ بیٹھ جائے۔ اسے بھیک اور مفت خوری سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے بلکہ معاشرے کا فعال حصہ بننا چاہیے، اور معاشرے پر کبھی بوجھ نہ بننا چاہیے۔ یہ تمام اقدامات نجی و ملکی معیشت درست کرنے کا آسان نسخہ ہیں۔ ہدایت کی گئی ہے کہ نیچے والا ہاتھ بننے کے بجاے اُوپر والا ہاتھ بننے کی جدوجہد کرو کیونکہ نیچے والا ہاتھ عموماً غیرپیداواری (non-productive) ہوتا ہے۔

اس ضمن میں حضرت عمر فاروقؓ کا ایک واقعہ ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ایک بار جب آپؓ نے چند نوجوانوں کو مسجد میں بیٹھے ذکر اذکار کرتے دیکھا تو انھیں تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اُٹھو اور محنت مزدوری کر کے اپنا رزق حاصل کرو۔ یاد رکھو کہ آسمان سے کبھی سونے اور چاندی کے سکّے نہیں گرتے۔ جو شخص محنت و مزدوری کا عادی ہوگا،اسے جب شام میں مزدوری ملے گی تبھی اسے صحیح معنوں میں حقیقی مسرت حاصل ہوسکے گی۔ (لاتحزن از حیدرقرنی، سعودیہ)

ایک موقع پر نبی کریمؐ نے محض چند الفاظ میں ایک اہم معاشی نکتہ بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’جس چیز کے پیسے میرے پاس نہیں ہوتے، میں وہ چیز نہیں خریدتا‘‘۔ اپنی ذاتی و قومی معیشت درست کرنے کا یہ کتنا سادہ سا نسخہ ہے۔ اسراف، فضول خرچی اور ہوسِ زر کی اس نسخے سے جڑ کٹ جاتی ہے۔ محض شان و شوکت، آرایش و سجاوٹ، نقالی اور نام و نمود کی خاطر انسان آخر خود کو کیوں ہلاکت میں ڈالے اور کیوں قرضوں اور دُہری تہری ملازمتوں کی دلدل میں پھنسے؟ قرضوں اور حرام آمدنیوں نے کسی انسان/معاشرے کی معیشت آخر کب سدھاری ہے، بلکہ یہ تو ذہنی و روحانی دونوں لحاظ سے نقصان کے سودے ہیں۔ کتنی بڑی بات ہے کہ انسان اپنی کوئی جائز خواہش محض اسی وقت پوری کرسکے، جب کہ اس کے پاس اس کے حصول کے جائز ذرائع موجود ہوں۔ وسائل نہ ہوں تو وہ بس قناعت ہی کا رویّہ کیوں نہ اپنائے؟ یہ وہ معاشی سبق ہے جو ایک عام فرد پر منطبق ہونے کے ساتھ ساتھ اداروں اور حکومتوں پر بھی یکساں لاگو ہوتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس مختصر سی سنہری ہدایت پر عمل کر کے ہمارا وطن بھی ان بھاری قرضوں کی دلدل سے نکل سکے جن کے باعث ہمارے حکمرانوں نے اسے غیرملکی قوتوں کے ہاتھوں میں دھکیل دیا ہے۔

دولت اگر تالوں اور خزانوں میں بند کر کے رکھ دی جائے اور اسے گردش میں نہ رکھا جائے تو معیشت پر اس کے ہمیشہ منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ معاشیات کا واضح کلیہ یہی ہے کہ دولت کو مسلسل گردش میں رکھا جائے۔ اسلام بھی اس اہم کلیے سے پوری طرح باخبر ہے۔ اسی لیے اس نے معاشرے میں سود کو جبراً روکنے اور زکوٰۃ کو قانوناً نافذ کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ سودی نظام کے تحت سرمایہ کروڑوں لوگوں کے ہاتھوں سے نکل کر محض چند افراد کے ہاتھوں میں جمع ہوتا ہے، جب کہ نظامِ زکوٰۃ میں دولت چند صاحب ِ ثروت لوگوں کے ہاتھوں سے نکل کر لاکھوں کمزور لوگوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوتی ہے۔ دولت کو جمود سے روکنے اور زر کو گردش میں لانے کے لیے یہ ایک بہت بڑی ہدایت ہے۔ اسی لیے اسلام نے اس کے نفاذ کے لیے قوت کے استعمال کا بھی حکم دیا ہے، جیساکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے منکرین زکوٰۃ سے جہاد کرتے وقت دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ اگر انھوں نے زکوٰۃ کی مد میں اُونٹ کی ایک رسّی بھی روکی تو میں ان سے ضرور جہاد کروں گا۔ زکوٰۃ کی مانند نبی کریمؐ نے انسانی ذاتی اقتصادیات درست رکھنے کی خاطر عید میں فطرے، معذوری کی صورت میں روزوں کے فدیے اور عیدالاضحی میں قربانی کے گوشت کی تقسیم کی بھی ہدایات فرمائی ہیں تاکہ سرمایہ (روپیہ اور اشیا دونوں) گردش میں رہیں۔ زکوٰۃ کے علاوہ دیگر نفلی صدقات کے لیے بھی مسلمانوں کو مسلسل اُبھارا گیا ہے۔ اسی طرح وراثت کے اسلامی اصولوں پر بھی سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ جایداد کی تقسیم آگے منتقل ہوتی رہے اور معاشرے میں آسودہ حال لوگوں کا تناسب بڑھتا رہے۔

ایک بار آپؐ نے فرمایا تھا: قیامت کے دن مَیں تین آدمیوں کا مخالف ہوں گا، جن میں سے ایک وہ ہوگا جو مالک ہے اور مزدور سے کام تو پورا لیتا ہے، لیکن اس کی مزدوری اس کی      محنت و صلاحیت کے مطابق ادا نہیں کرتا۔ معاشرے کو استحصال اور نفرتوں سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ بھی ایک عمدہ معاشی ہدایت ہے جو اگرچہ مختصر ہے لیکن اپنے ہمہ گیر اثرات رکھتی ہے۔

پیداواری عمل میں مسلسل شرکت، راہِ قناعت کی جانب رغبت، آجروں کے استحصالی رویے کی مذمت، اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کی مسلسل ہدایات کے باوجود معاشرے کا کوئی فرد یا گھرانہ اگر بے یارومددگار، غربت کا شکار، اور لاوارث و لاچار رہتا ہے تو پھر حکومت (ریاست) خود اس شخص کی مدد کو آتی ہے اور اس کی تمام ضروریات کو اپنے سر لے لیتی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مقروض و صاحب ِ اولاد فرد کی وفات کے بعد مَیں اس کا کفیل ہوں گا۔ اس کے وارثین اپنے مسائل کے حل کے لیے میرے (یعنی حکومت کے)  پاس آئیں۔ نیز فرمایا: جس مرد و عورت نے اپنے پیچھے کوئی ذمے داری چھوڑی تو اس کی ادایگی کرنا ہماری (سربراہِ مملکت کی) ذمے داری ہے، جب کہ اس کی چھوڑی ہوئی وراثت سے ہمارا (ریاست کا) کوئی تعلق نہیں ہوگا، یعنی واجبات حکومت کے ہوں گے اور اثاثہ جات وارثین کے ہوں گے۔ انسان کی معاشی زندگی سدھارنے کی یہ کتنی بڑی ہدایت ہے جس کا اعلان اسلام ازخود کرتا ہے۔

اسلامی نظامِ معیشت کے یہ چند نمایاں پہلو ہیں: lقیمتوں کے تعین کے لیے طلب و رسد کے اصول کو استعمال نہ کیا جائے l مزدور کو مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دی جائے l ملازم کو اس کی محنت کے عوض حقِ اُجرت کے علاوہ کچھ اور فوائد بھی پہنچائے جائیں lمعیشت کے معاملے میں اپنے سے نیچے والوں کو دیکھا جائے lمحنت اور جدوجہد کرکے رزق حاصل کیا جائے l بے عمل بن کر معاشرے پر بوجھ نہ بنا جائے l لینے والا ہاتھ بننے کے بجاے دینے والا ہاتھ بنا جائے l خواہ مخواہ قرض لے کر خریداری نہ کی جائے l زکوٰۃ ادا کی جائے lسود کو ممنوع قرار دیا جائے l مزدور کو اس کی صلاحیت کے مطابق پورا معاوضہ دیا جائے lاسلامی حکومت ’جو کچھ نہیں رکھتے‘ کی کفالت کرے۔ ان قیمتی نکات پر اگر غور کیا جائے تو ہر صاحب ِ دانش پکار اُٹھے گا کہ اقتصادیات کو کسی بھی سطح پر درست کرنے کے لیے ان سے بہتر کوئی اور اصول نہیں ہوسکتے۔

اسلام نے فرد کو فکرونظر کی پوری آزادی عطا کی۔ اس نے انسان کو جبری غلامی،     معاشی استحصال، سیاسی جبر اور مذہبی اکراہ کی بندشوں سے پوری طرح آزاد کیا۔ آج جدید دور میں فکری آزادی کا سہرا فرانسیسی مفکر و فلسفی جان جاک روسو (۱۷۷۸ئ-۱۷۱۲ئ) کے سر باندھا جاتا ہے، جس نے کہا تھا: انسان آزاد پیدا ہوا تھا مگر آج وہ ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ درحقیقت یہ اُس فرمان کی صداے بازگشت ہے، جو امیرالمومنین حضرت عمر بن خطابؓ نے اپنے گورنر مصر حضرت عمرو بن العاصؓ کو تنبیہہ کرتے ہوئے جاری کیا تھا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایاتھا: ’’تم نے   کب سے لوگوں کو غلام بنانا شروع کر دیا حالانکہ اُن کی مائوں نے انھیں آزاد جنا تھا؟‘‘

اسلام نے آزادیِ ضمیر کی خاطر انسان کے شعور احساس کو بیدار کیا اور قانون سازی کے ذریعے خارجی حالات کو بھی سازگار بنایا۔ اللہ پر ایمان، اُمت مسلمہ کی وحدت، افراد کے اندر   ذمہ داریوں کے اشتراک کا تصور، ساری انسانیت کی وحدت اوراس میں باہمی کفالت کا اصول،  یہ وہ بنیادی قدریں ہیں جن پر زور دے کر اسلام کامل آزادیِ ضمیر کا نعرہ بلند کرتا ہے۔

عقیدۂ توحید کے ذریعے قرآن انسانی ضمیر کو غیراللہ کی عبادت و اطاعت سے آزاد کرتا ہے۔ وہ اس فکر کو ذہن نشین کراتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو انسان پر اقتدار حاصل نہیں ہے۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جو اسے مارتا جِلاتا ہو۔ کوئی دوسرا نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اس کائنات میں بس وہی ایک ہستی ہے جو رزق عطا کرتی ہے اس کے سوا سب اس کے بندے ہیں مجبور اور بے بس۔

اسلام نے نبیوں کو بھی یہ حق نہیں دیا کہ ان کی پرستش کی جائے یا اُن کے تئیں مراسمِ عبودیت بجا لائے جائیں۔ اللہ رب العزت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن   خلقِ خدا کے سامنے واضح کردیں اور اپنا درست موقف علانیہ پیش کر دیں:

اے نبیؐ! کہو کہ میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ کہو میں تم لوگوں کے لیے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا۔ کہو مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جاے پناہ پاسکتا ہوں۔ (الجن ۷۲:۲۰-۲۲)

قرآن ہر طرح کے تقدس اور اُلوہیت پر ضربِ کاری لگاتا ہے تاکہ انسان شرک سے پوری طرح محفوظ رہے۔ شرک کا عقیدہ انسان کے ضمیر کو کچل دیتا اور اس کے وجدان کو دبا دیتا ہے اور آخرکار اسے اللہ کے بندوں ہی میں سے کسی کا بندہ بناکر رکھ دیتا ہے۔ اسلام کا پورا زور اس بات پر ہے کہ بندے اور اللہ کے درمیان براہِ راست تعلق مستحکم ہو۔

انسانی ضمیر بندوں کی غلامی سے آزاد ہوکر اور خدا سے براہِ راست رابطہ قائم کر کے، ہرقسم کے اندیشوں، خطرات، وسوسوں سے بلند ہوجاتا ہے۔ جان و مال اور شرف و کرامت کو لاحق خطرے انسان کی خودداری اوراس کی عزتِ نفس کو مجروح کر دیتے ہیں، اِسے ذلت کو انگیز کرنے اور اپنے جائز حقوق سے دست بردار ہوجانے پر مجبور کردیتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس کی انسانیت کو بھی چھین لیتے ہیں۔ اسلام ہرقیمت پر عزتِ نفس اور خودداری کی حفاظت کرنے کی تلقین کرتا ہے اور انسانوں کے عزوشرف کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ وہ یہ عقیدہ انسان کے ذہن نشین کرتا ہے کہ زندگی خدا کے ہاتھ میں ہے۔

تاریخ کی شھادت

اسلام کی اِن تعلیمات اور اقدار کے نتیجے میں ایک ایسا معاشرہ نمودار ہوا جس کا ہر فرد آزادیِ ضمیر کا نمونہ تھا۔ کیا حکمراں، کیا رعایا، سب خوددار، عزتِ نفس سے مالا مال، اظہارِ حق     میں جری و بے باک تھے۔ انھیں کوئی لالچ یا خوف بزدل نہیں بناسکتا تھا۔ امام ابویوسف نے   کتاب الخراج میں حضرت عمر فاروقؓ کا یہ واقعہ نقل کیا ہے:

  • حضرت عمرؓ نے اپنے گورنروں کو فرمان بھیجا کہ وہ حج کے موقع پر مکّہ میں اُن سے آکر ملیں۔ جب سب جمع ہوگئے تو حضرت عمرؓ نے تقریر کی: ’’لوگو! میں ان عُمَّال کو اس لیے مقرر کرتا ہوں کہ راست رَوی کے ساتھ تمھاری سرپرستی اور حفاظت کریں۔ میں نے انھیں اس لیے ہرگز مقرر نہیں کیا ہے کہ تمھاری جان و مال اور عزت و آبرو پر دست درازی کریں۔ لہٰذا اگر تم میں سے کسی کو کسی عامل کے خلاف ظلم و زیادتی کی شکایت ہو تو کھڑا ہو جائے‘‘۔

لوگوں کے درمیان سے ایک شخص آگے نکل کر آیا اور اس نے کہا: امیرالمومنین! آپ کے گورنر نے مجھے ناحق ۱۰۰ کوڑے مارے ہیں۔

حضرت عمرؓ نے فرمایا: کیا تم اسے ۱۰۰ کوڑے مارنا چاہتے ہو؟ آئو اور اس سے انتقام لو۔

اس پر حضرت عمرو بن العاصؓ کھڑے ہوگئے۔ انھوں نے احتجاج کیا: امیرالمومنین! اگر آپ نے اپنے گورنروں کے ساتھ یہ عمل شروع کر دیا تو انھیں سخت گراں گزرے گا۔ یہ ایک مستقل طریقہ بن جائے گا جس پر آپ کے بعد بھی لوگ عمل کریں گے۔

حضرت عمرؓ نے فرمایا: پھر کیا میں اِس آدمی کو بدلہ نہ دلوائوں، جب کہ میں نے اللہ کے رسولؐ کو خود اپنی ذات سے بدلہ دلواتے دیکھا ہے۔ پھر اُس آدمی کو خطاب کر کے حکم دیا: آئو اور اس گورنر سے بدلہ لو۔ عمرو بن العاصؓ نے درخواست کی کہ ہمیں اجازت دیجیے کہ اس آدمی کو راضی کرلیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: تمھیں اجازت ہے۔ ان لوگوں نے مظلوم کو ۲۰۰ دینار کے بدلے میں راضی کرلیا۔

  • حضرت عمرؓ ہی کا دوسرا واقعہ ہے۔ آپ مسجد میں خطاب فرما رہے تھے۔ دورانِ تقریر آپ نے فرمایا کہ لوگو، اگر میرے اندر کوئی کجی دیکھو تو مجھے سیدھا کردینا۔ نمازیوں کے درمیان سے ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے کہا: عمر! اگر ہم نے تیرے اندر کوئی کجی دیکھی تو اپنی تلوار کی دھار سے تجھے سیدھا کردیںگے۔ حضرت عمرؓ نے صرف اتنا فرمایا: اللہ کا شکر ہے جس نے عمر کی رعایا میں ایسے افراد بھی پیدا کیے ہیں جو اُسے اپنی تلوار کی دھار سے سیدھا کرسکتے ہیں۔
  • عباسی خلیفہ ابوجعفر منصور (م ۱۵۸ھ/۱۷۷۵ئ) کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ مشہور محدث سفیان ثوریؒ اس کے دربار میں جاکر اسے نصیحت کرتے ہیں: امیرالمومنین! آپ نے اللہ اور اُمت محمدیہ کا مال اُن کی مرضی و اجازت کے بغیر خرچ کیا ہے۔ آپ اس کی کیا توجیہہ کرسکتے ہیں؟ حضرت عمرؓ نے ایک بار حج کیا جس میں اُن پر اور ان کے ساتھیوں پر ۱۶ دینار خرچ ہوئے۔ انھوں نے محاسبہ کیا اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ ہم نے بیت المال پر زیادہ بار ڈال دیا ہے۔ امیرالمومنین! آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ منصور ابن عمار نے ہم کو کیا حدیث سنائی ہے کیونکہ آپ اس مجلس میں موجود تھے اور سب سے پہلے آپ ہی نے اسے قلم بند کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ اور اس کے رسول کے مال میں اپنی خواہش کے مطابق تصرفات کرنے والے کچھ لوگ ہیں جن کے لیے کل کو نارِ جہنم مقدر ہے‘‘۔

یہ سن کر ابوعبید نامی ایک کاتب جو خلیفہ کا مقرب خاص تھا، بول اُٹھا: امیرالمومنین سے اس انداز میں گفتگو؟ سفیان ثوری نے ڈانٹ کر کہا: ’’خاموش، فرعون نے ہامان کو ہلاک کیا اور ہامان نے فرعون کو‘‘۔ اور پھر سفیان ثوری غصے میں اُٹھ کر باہر چلے آئے۔

جابر بادشاہ کتنا ہی خودمختار ہو، کسی ایسے شخص پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا جو دنیا اور متاعِ دنیا کو اپنی ٹھوکروں میں رکھتا ہو اور ضروریات سے بلند ہوکر اللہ کے لیے فارغ ہو۔

مذھبی جبر کی مخالفت

بلاشبہہ اسلام اللہ کا بھیجا ہوا آخری دین ہے جو انسانوں کے تمام مسائل کا حل پیش کرتاہے۔ یہ وہی دین ہے جسے تاریخِ انسانی کے ہر دور میں مختلف انبیا مختلف قوموں اور تہذیبوں میں انسانوں کی اصلاح و ہدایت کے لیے پیش کرتے رہے۔ ان شریعتوں کو ماننے والوں کے درمیان قوانین میں اختلاف ہوا کہ ہردور کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، مگر دین اپنی روح کے اعتبار سے اور اپنی مجموعی حیثیت میں ایک ہی رہا۔ اُسی دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے حضرت آدم ؑ تشریف لائے۔ حضرت نوحؑ مبعوث ہوئے۔ حضرت ابراہیم ؑ، حضرت موسٰی ؑ، حضرت عیسٰی ؑغرض یہ کہ سارے نبی ایک ایک کرکے اپنی قوم میں آتے رہے اور وحدانیت کا پیغام دیتے رہے۔

سورئہ مائدہ میں قرآن کی دو صفات بیان ہوئی ہیں: یہ کتاب تصدیق کرنے والی ہے اُن تعلیمات کی جو اس سے پہلے الکتاب میں سے موجود ہیں، اور اس کی محافظ اور نگہبان ہے۔ (۵:۴۸)

قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کی تصدیق بھی کرتا ہے اور جو تحریفات اور تبدیلیاں اُن کے پیروکاروں نے ان کے اندر کر دی تھیں اُن کی نشان دہی کرتا اور اُن سے نوعِ انسانی کو بچاتا ہے۔ مگر قرآن کا امتیاز یہ ہے کہ وہ کسی شخص پر اپنے عقیدے کو مسلط نہیں کرتا۔ وہ افہام و تفہیم اور تعلیم و تلقین کا قائل ہے اور جبر و اِکراہ، تشدد اور دھونس دھاندلی کو بالکل مسترد کردیتا ہے۔ اپنی صداقت اور حقانیت پر پوری طرح مطمئن ہونے کے باوجود وہ اعلان کرتا ہے کہ: ’’دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے‘‘۔ (البقرہ ۲:۲۵۶)

اسلام نے دنیا میں پہلی بار ہرشخص کو یہ آزادی عطا کی کہ کفروایمان میں سے جو راہ وہ چاہے اختیار کرے۔ مکہ کے ۱۳ سالہ دور میں مسلمانوں نے ہر ظلم و جبر کو برداشت کیا، اِسی مذہبی آزادی کے حق کو حاصل کرنے کے لیے اور بالآخر یہ حق حاصل ہوکر رہا۔ مسلمانوں نے یہ حق جس طرح اپنے لیے حاصل کیا، اسی طرح دوسروں کے لیے بھی اس کا پورا پورا اعتراف کیا۔

وسق رومی کا واقعہ

یہاں خلیفۂ ثانی حضرت عمرؓ کے دور کا ایک واقعہ نقل کرنا مفید ہوگا۔ یہ واقعہ اُس شخص کا ہے جو دنیا کی ایک بہت بڑی مملکت کا سربراہ تھا۔ جس کے جلال و جبروت کا یہ عالم تھا کہ روم و فارس کی دوعظیم طاقتیں اس کے ذکر سے لرزتی تھیں۔ ملوک و سلاطین اس کے سامنے ہانپتے کانپتے حاضر ہوتے تھے، مگر وہ مقتدر اور باجبروت شخص اپنے غلام کا مذہب اپنی مرضی کے مطابق تبدیل نہ کرسکا۔ علامہ ابوبکر جصاص احکام القرآن میں اس واقعے کو بیان کرتے ہیں: ہلال الکائی روایت کرتے ہیں وسق الرومی سے، وہ بیان کرتے ہیں کہ: میں عمرؓ کا غلام تھا۔ انھوں نے مجھ سے فہمایش کی کہ اسلام قبول کرلے۔ اگر تو مسلمان ہوجائے تو مسلمانوں کی امانت کے سلسلے میں تو میرا مددگار ہوجائے گا، کیونکہ جو شخص مسلمان نہ ہو اُس سے یہ کام لینا مناسب نہیں ہے۔ مگر میں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ نے فرمایا: لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (دین میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے)۔ جب آپ کا وقتِ مرگ قریب آیا تو آپ نے مجھے آزاد کر دیا اور فرمایا: ’’تیرا جہاں جی چاہے چلا جا‘‘۔

اسلام کے نظریۂ رواداری کی بہترین ترجمانی قرآن پاک کی یہ آیت کرتی ہے:

لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْتَّبَیَّنَ الرُّشْدُمِنَ الْغَیِّ (البقرہ ۲:۲۵۶) دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔

یہاں دین سے مراد وہ عقیدہ ہے جس کی بنیاد خالصتاً توحید پر رکھی گئی ہے اور وہ نظامِ زندگی ہے جو اس عقیدے پر بنتا ہے۔ اللہ کا واضح فرمان ہے کہ اسلام کا یہ عقیدہ اور اس کا اعتقادی، اخلاقی اور عملی نظام کسی پر زبردستی نہیں ٹھونسا جاسکتا۔ یہ ایسی چیز ہی نہیں ہے جو کسی کے سر جبراً منڈھی جاسکے۔

قرآن کی وسیع المشربی

عقیدہ و مذہب کی آزادی، دوسرے مذاب، تہذیبوں اور روایات کے تئیں وسیع المشربی و رواداری اسلام کی ایک اہم ترین قدر ہے جس پر قرآن کریم نے مختلف انداز میں اور متنوع پیرایے میں زور دیا ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے:

ہم نے تم انسانوں میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل مقرر کی ہے۔ اگر تمھارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک اُمت بھی بنا سکتا تھا، لیکن اُس نے یہ اس لیے کیا کہ جو کچھ اُس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمھاری آزمایش کرے۔(المائدہ ۵:۴۸)

ہر اُمت کے لیے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے، پس اے نبیؐ، وہ اِس معاملے میں تم سے جھگڑا نہ کریں تم اپنے رب کی طرف دعوت دو۔(الحج ۲۲:۶۷)

قرآن کریم نے یہ صراحت بھی کر دی کہ اگر اللہ کی خواہش یہ ہوتی کہ اس کی زمین میں کفرونافرمانی کا سرے سے وجود ہی نہ ہو تو اس کے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ تکوینی جبر سے کام لے کر سب کو صاحب ِ ایمان بنا دے۔ مگر وہ ایمان لانے یا نہ لانے کے معاملے میں سارے انسانوں کو آزاد رکھنا چاہتا ہے اور اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے اللہ نے وضاحت فرما دی کہ نبی کی ذمہ داری کسی کو زبردستی مسلمان بنانے کی نہیں ہے اور نہ اللہ کو جبری ایمان مطلوب ہے۔ فرمایا:

اگر تیرے رب کی مشیت یہ ہوتی تو سارے اہلِ زمین ایمان لے آئے ہوتے۔ پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہوجائیں؟(یونس ۱۰:۹۹)

اسلام نے صرف نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے ہی کو واجب قرار نہیں دیا، بلکہ ایک مسلمان کے لیے لازم قرار دیا کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے تمام نبیوں اور پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان کی صداقت و حقانیت کو تسلیم کرے اور اُن کے درمیان اس لحاظ سے کوئی تفریق نہ کرے کہ فلاں نبی حق پر تھا اور فلاں حق پر نہ تھا، یا یہ کہ وہ فلاں کو مانتا ہے اور فلاں کو نہیں مانتا۔ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر بھی آئے، سب کے سب ایک ہی صداقت اور ایک ہی راہِ راست کی طرف بلانے آئے۔ اب جو شخص حق پرست ہے اُس کے لیے تمام پیغمبروں کو برحق تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔ جو لوگ کسی پیغمبر کو مانتے اور کسی کا انکار کرتے ہیں وہ حقیقت میں کسی پیغمبر کو نہیں مانتے۔ انھوں نے اُس عالم گیر صراطِ مستقیم کو نہیں پایا جسے حضرت موسٰی ؑیا حضرت عیسٰی ؑ یا کسی دوسرے پیغمبرؐ نے پیش کیا تھا، بلکہ وہ محض باپ دادا کی تقلید میں ایک پیغمبر کو مان رہے ہیں۔ اُن کا اصل مذہب نسل پرستی کا تعصب اور آبا و اجداد کی اندھی تقلید ہے، نہ کہ کسی پیغمبر کی پیروی۔ قرآن کہتا ہے:

مسلمانو! کہو کہ ’’ہم ایمان لائے اللہ پر اور اُس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم ؑ، اسماعیل ؑ، اسحق ؑ، یعقوب ؑ اور اولادِ یعقوب ؑ کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسٰی ؑاور عیسٰی ؑ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو اُن کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم اُن کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں‘‘۔ (البقرہ ۲:۱۳۶)

قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے مسلمانوں کے ذہن میں اس تعلیم کو راسخ کرنا چاہتا ہے کہ وہ اس دنیا میں داعی اور مبلّغ بنا کر بھیجے گئے ہیں اور کوتوال اور داروغہ بناکر نہیں بھیجے گئے۔ اُن کا کام لوگوں کو روشنی دکھانا ہے زبردستی ہاتھ پکڑ کر خواہی نخواہی کسی کو راہِ راست پر لانا اُن کا مشن نہیں ہے:

اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ تم کو ہم نے ان پر پاسبان نہیں مقرر کیا ہے اور نہ تم ان پر حوالہ دار ہو۔ اور (اے مسلمانو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انھیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کوگالیاں دینے لگیں۔ ہم نے تو اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوش نما بنا دیا ہے۔ پھر انھیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت وہ انھیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔(الانعام ۶:۱۰۷-۱۰۸)

رواداری کی نبویؐ مثال

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ، خلفاے راشدین کا عہدمسعود اور تاریخِ اسلام ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں، حتیٰ کہ دشمنوں سے بھی رواداری کا سلوک کیا گیا اور یہی اسلامی رواداری، تبلیغ و دعوتِ دین کا اہم عنصر بن گئی۔

مسلم کی حدیث ہے اور امام بخاری نے بھی انھی الفاظ اور اسی مفہوم کے ساتھ ذرا مختصراً اسے بیان کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا۔ اہلِ لشکر بنوحنیفہ کے ایک شخص کو جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا اور جو اہلِ یمامہ کا سردار تھا، پکڑ کر لائے۔ لشکروالوں نے اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُدھر سے گزر ہوا تو اس سے پوچھا: تیرے پاس کیا ہے؟ ثمامہ نے جواب دیا: اے محمدؐ، میرے پاس بھلائی ہے۔ اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جو قتل کیے جانے کا مستحق ہے، اور اگر انعام کریں گے تو ایک ایسے شخص پر انعام کریں گے جو شکرگزاری جانتا ہے، اور اگر آپ مال کے طلب گار ہیں تو حکم دیجیے جو کچھ مانگیں آپ کو ملے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی حالت میں چھوڑ دیا اور آگے بڑھ گئے۔

دوسرا دن آیا تو آپؐ نے پھر وہی سوال کیا: اے ثمامہ! تیرے پاس کیا ہے؟

ثمامہ نے کہا: وہی جو میں کہہ چکا ہوں۔ اگر آپ انعام کریں گے تو ایک شکرگزار شخص پر انعام کریں گے، اور اگر قتل کا حکم دیںگے تو میں مستحقِ قتل ہوں، اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو جو حکم ہوگا ادا کیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کوئی کارروائی نہ کی اور آگے بڑھ گئے۔ تیسرا دن آیا تو پھر یہی مکالمہ دہرایا گیا۔ آخرکار رسولؐ اللہ نے اہلِ لشکر سے کہا: ثمامہ کو چھوڑ دو۔

رہائی کے بعد ثمامہ مسجد کے قریب ایک کھجور کے درخت کے پاس گیا۔ وہاں اس نے غسل کیا۔ پھر مسجد میں داخل ہوا اور اعلان کیا: اَشْھَدُ اَن لَّا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں‘‘۔

پھر ثمامہ نے رسولؐ اللہ کو مخاطب کر کے کہا: اے محمدؐ! خدا کی قسم! اس زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرے سے زیادہ قابلِ نفرت نہ تھا اور اب آپ کا چہرہ دنیا کے تمام چہروں سے زیادہ مجھے محبوب ہے۔ خدا کی قسم! آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین بھی میرے لیے قابلِ نفرت نہ تھا اور اب آپ کا دین دنیا کے تمام ادیان سے زیادہ میرے لیے محبوب ہے۔ خدا کی قسم! آپ کے شہر سے زیادہ کوئی شہر بھی میرے لیے نفرت انگیز نہیں تھا، اور اب آپ کا شہر دنیا کے تمام شہروں سے زیادہ مجھے محبوب ہے۔ آپ کے لشکر نے مجھے اس حالت میں آلیا کہ میں عمرہ کا ارادہ کر رہا تھا۔ اب آپؐ  کا کیا حکم ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اسے خوش خبری دی اور اجازت دی کہ وہ عمرہ کرلے۔ جب وہ مکہ واپس آیا تو اس کے مشرک ساتھیوں نے کہا: کیا تو صابی (بے دین) ہوگیا ہے؟ اس نے جواب دیا: نہیں، بلکہ میں رسولؐ اللہ پر ایمان لے آیا اور مسلمان ہوگیا ہوں۔

امن و سلامتی کا قیام

اسلام کے تصورِ امن پر گفتگو کے لیے ناگزیر ہے کہ قرآن کریم کی اُن آیات پر پہلے بحث کی جائے جو جنگ و جدال کو موضوع بناتی ہیں اور جنھیں مغربی مصنفین نے آیاتِ سیف (sword verses) کا نام دیا ہے۔ اِن آیات میں سے بہترین انتخاب سورئہ انفال کی ۵۵ تا ۶۱ آیتیں ہیں کیونکہ یہ موضوع کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرتی ہیں:

یقینا اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنھوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا، پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تو نے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے۔ پس یہ لوگ اگر تمھیں لڑائی میں مل جائیں تو ان کی ایسی خبر لو کہ ان کے بعد دوسرے جو لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں اُن کے حواس باختہ ہوجائیں۔ توقع ہے کہ بدعہدوں کے اس انجام سے وہ سبق لیں گے۔ اور اگر کبھی تمھیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو، یقینا اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔ منکرین حق اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ بازی لے گئے۔ یقینا وہ ہم کو ہرا نہیں سکتے اور تم لوگ، جہاں تک تمھارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور اُن دوسرے دشمنوں کو خوف زدہ کردو جنھیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمھاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمھارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا۔ اور اے نبیؐ! اگر دشمن صلح وسلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہوجائو اور اللہ پر بھروسا کرو۔ یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ (انفال ۸:۵۵-۶۱)

علما نے صراحت کی ہے کہ قرآن میں جہاں قتال و جہاد کا حکم دیا گیا ہے اور مخالفوں کو سختی سے کچلنے کی تاکید کی گئی ہے: اس سے مراد وہ کفار و مشرکین ہیں جنھوں نے آغازِ اسلام سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ  پر ایمان لانے والے صحابہ کرامؓ کی بھرپور مخالفت کی۔ انھیں مکہ میں تمام بنیادی حقوق سے محروم رکھا اور اپنی ریشہ دوانیوں سے اسلام کو کچلنے کی سازش کی۔ اپنے مسلسل ظالمانہ اقدامات سے مسلمانوں کو مجبور کر دیا کہ وہ ۶۱۵ئ-۶۱۶ء میں حبشہ کی طرف ہجرت کریں اور ۶۲۲ء میں اپنا وطن ترک کر کے مستقل طور سے مدینہ منورہ کو اپنا مستقر بنائیں۔ انھوں نے مسلمانوں کو ایک اندازے کے مطابق ۹۰ جنگی مہموں میں پھنسایا جن میں سے ۲۷ جنگوں کی قیادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود کرنا پڑی۔ اگرچہ ان جنگی مہموں میں دشمنوں کے کُل ۲۱۶ افراد مارے گئے اور ۱۳۸مسلمان شہید ہوئے۔ اعلانِ جنگ کی یہ مسلسل کیفیت کفار و مشرکین کی جانب سے تھوپی ہوئی تھی اور مسلمانوں کو اپنے دفاع پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود مکّہ کے ۱۳ سالہ دور میں انھیں سخت تاکید تھی کہ ظلم کے جواب میں ہتھیار نہ اُٹھائیں:

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَھُمْ کُفُّوْٓا اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُواالصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ (النساء ۴:۷۷) تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔

اور دعوت و تبلیغ، وعظ و نصیحت اور تفہیم و تلقین کے راستوں سے اس قرآن کے ذریعے جہاد کریں:

فَلاَ تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًا کَبِیْرًاo (الفرقان ۲۵:۵۲)     اے نبیؐ! کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ زبردست جہاد کرو۔

ہجرتِ مدینہ کے بعد جب اسلامی ریاست قائم ہوگئی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میثاقِ مدینہ کے مطابق اُس ریاست کا بلانزاع حاکمِ مطلق اور مقتدرِ اعلیٰ تسلیم کر لیا گیا تب ذی الحجہ یکم ہجری میں انھیں ظلم کے جواب میں مدافعانہ جہاد کی اجازت مل سکی:

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا  وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْر (الحج ۲۲:۳۹) اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں، اور اللہ یقینا اُن کی مدد پر قادر ہے۔

سورئہ انفال کی آیات ۵۵-۶۱ میں جن منکرین حق کے خلاف اعلانِ جنگ کیا گیا ہے اور انھیں سبق سکھانے کا حکم دیا گیا ہے اُن سے مراد مفسرین کرام کی تصریحات کے مطابق یہودِ مدینہ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف آوری کے بعد سب سے پہلے اُنھی کے ساتھ باہمی تعاون کا معاہدہ کیا تھا اور یہ کوشش کی تھی کہ ان سے تعلقات خوش گوار رہیں۔ دینی و مذہبی حیثیت سے ویسے بھی یہودی اور عیسائی مشرکین کے مقابلے میں قابلِ ترجیح قرار دیے گئے تھے مگر مدینہ کے یہودیوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک اور مشن کو کبھی کھلے دل سے قبول نہ کیا اور انھوں نے اسلام کے بڑھتے ہوئے اثرات و نتائج کو روکنے کے لیے ہمیشہ خفیہ وعلانیہ سازشیں کیں۔ منافقوں کے ساتھ مل کر اہلِ ایمان کے خلاف سازباز کی۔ اوس و خزرج کے انصاری قبیلوں کے درمیان پرانی عداوتوں کو ہوا دی۔ جنگ ِ بدر کے بعد جب مسلمانوں کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگئی تو اُن کے سینوں میں حسد کی جو آگ پہلے سے موجود تھی وہ بھڑک اُٹھی۔ یہودیوں کا لیڈر کعب بن اشرف خود مکّہ گیا اور اس نے اشتعال انگیز مرثیے کہہ کر قریش کے جذبۂ انتقام کو ہوا دی اور آخر میں   قبیلۂ بنوقینقاع نے مسلمان خواتین سے اپنی بستیوں اور بازاروں میں چھیڑچھاڑ کرنا شروع کر دیا اور جب انھیں لعنت ملامت کی گئی تو انھوں نے جنگ کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ ایسے بدعہد اور سازشی دشمنوں کے خلاف اسلامی حکومت کو کارروائی کرنے اور میدانِ جنگ میں انھیں سزا دینے کا فیصلہ ہوا۔

غیرمسلموں کے ساتھ حُسنِ سلوک

مجرد کفر اور شرک کسی کے خلاف اعلانِ جنگ کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ کسی شخص کے خلاف پُرتشدد کارروائی اور طاقت کا استعمال اِس بنا پر نہیں کیا جاسکتا کہ وہ مسلمان نہیں ہے اور کفروشرک پر اُس کا اعتقاد ہے۔ پوری اسلامی تاریخ میں اس پر علماے کرام، محدثین اور فقہا کا اتفاق رہا ہے۔ اسی طرح کسی شخص کو بزور یا طاقت کے استعمال سے دین اسلام میں داخل نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ قرآن تو یہاں تک کہتا ہے کہ جو غیرمسلم اہلِ ایمان کے ساتھ عداوت نہیں رکھتا اور اُن پر ظلم کرنے والوں میں وہ شامل نہیں ہے اُس کے ساتھ اچھا برتائو کیا جائے، اور عام انسانی حقوق کی ادایگی کے معاملے میں مسلمان اور غیرمسلم میں فرق نہ کیا جائے۔ ایسے لوگ مسلمانوں کے حسنِ سلوک کے مستحق ہیں:

اللہ تمھیں اِس بات سے نہیں روکتا کہ تم اُن لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتائو کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔(الممتحنہ ۶۰:۸)

محبّتوں کی بستی

اسلام افراد کے ضمیر میں، خاندانی نظام میں، ملکی قانون میں، بین الاقوامی تعلقات و روابط میں، ہر جگہ زندگی کے ہر شعبے میں امن و سلامتی اور محبت و اخوت کے پھول کھلانا چاہتا ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے باہمی معاملات کی استواری اور ان کے درمیان اُلفت اور بھائی چارے کے فروغ کی مثال دیتے ہوئے فرمایا: ’’تم دیکھو گے کہ مسلمانوں کے درمیان محبت، ایک دوسرے پر رحم اور شفقت کی مثال ایک جسم کی مانند ہے۔ جب اس کے کسی حصے کو تکلیف ہو تو سارا جسم بخار اور بے خوابی میں مبتلا ہوجاتا ہے‘‘۔ (بخاری، کتاب الادب، حدیث ۲۷)

رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’اے مسلمانو! ایک دوسرے سے بُغض نہ رکھو، آپس میں حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو۔ اے اللہ کے بندو، بھائی بھائی بن کررہو‘‘۔ (بخاری)

اللہ اپنی صفت رحمن، رحیم، سلام، مومن اور مہیمن بتاتا ہے اور بار بار قرآن کریم میں تکرار کے ساتھ ان اسماے حسنیٰ کا تذکرہ کرتا ہے تاکہ اس کے بندوں میں اس کا عکس دکھائی دے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ اپنے اس احسانِ خصوصی کا ذکر کرتا ہے کہ وہ رحیم، نرم خو، شفیق اور مہربان ہیں:

فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَ لَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ( اٰل عمرٰن ۳:۱۵۹) اے پیغمبرؐ! یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تُندخو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گردوپیش سے چھٹ جاتے۔

لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ o (التوبہ ۹:۱۲۸) دیکھو، تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمھارا نقصان میں پڑنا اُس پر شاق ہے، تمھاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔

یہ رحمت و مہربانی اور شفقت صرف اہلِ اسلام کے لیے مطلوب نہیں ہے،اس کے مخاطب سارے انسان ہیں خواہ وہ کسی مذہب کے ماننے والے ہوں اور کسی بھی ملک کے باشندے ہوں۔ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا: ’’زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا‘‘۔ (ترمذی)

دیگر مذاھب کا احترام

کسی انسان کے اندر رحمت و شفقت اور مہربانی کے جذبات کو اُبھارنے کی اِس سے آخری حد کیا ہوسکتی ہے؟ یہ کارنامہ اُسی عقیدہ کا ہوسکتا ہے جو خالق کی وحدانیت اور مخلوق کی وحدت پر ایمان رکھتا ہو۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے اعلان فرمایا ہے: ’’ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کا خاندان ہے۔ تمام لوگوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جو اُس کے خاندان کے ساتھ حُسنِ سلوک کرے‘‘۔ (رواہ ابویعلٰی، والبزاز باسناد ضعیف)

حضرت جابر عبداللہؓ کہتے ہیں کہ ہمارے قریب سے ایک جنازہ گزرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور ہم بھی کھڑے ہوگئے۔ پھر ہم نے گزارش کی: یارسولؐ اللہ! یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ حضوؐر نے ارشاد فرمایا: کیا یہ ایک انسانی جان نہ تھی؟ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجائو۔ (بخاری)

حقوقِ نسواں کا تحفظ

قرآن کریم نے چھٹی صدی عیسوی میں مرد اور عورت کے درمیان فرق و امتیاز کو ختم کر کے انھیں یکساں عزت و احترام اور وقار و تمکنت سے ہم کنار کرنے کا جو قدم اٹھایا وہ اتنا انقلاب آفریں تھا کہ اس کے نتیجے میں فکرونظر کی دنیا ہی بدل گئی۔ عورت کی حیثیت اور مقام و مرتبہ کے تعین میں اسلام نے تمام مذاہب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اسلام کے سایے میں عورت کے بارے میں مردوں کا پورا نقطۂ نظر اور عملی رویہ بدل گیا، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد خواتین نے ایک نئی تاریخ رقم کی جس کی مثال پہلے بھی موجود نہ تھی اور آج کے نام نہاد ترقی یافتہ دور میں بھی ناپید ہے۔ قرآن نے پورے زورو شور سے اعلان کیا:

لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور اُن دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے۔ اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔(النساء ۴:۱)

قرآن نے صراحت کر دی کہ مرد اور عورت دونوں ایک جان سے پیدا کیے گئے ہیں اس لیے اُن میں سے کوئی برتر یا کم تر نہیں ہے۔ نہ مرد افضل ہے اور نہ عورت حقیر اور ذلیل ہے۔ دونوں کی اہمیت اور مقام و مرتبہ ایک ہے۔ قرآن دوسرے مذاہب کے اِس خیال کی تائید نہیں کرتا کہ مرد کی  بہ نسبت عورت کو ایک حقیر مادے سے پیدا کیا گیا ہے اور عورت کو کم تر مقام اور طفیلی کا درجہ دیا گیا ہے۔

عورت کے خلاف ایک اور زہر بھرا تصور ماضی میں موجود رہا ہے اور اس کی نشانیاں آج بھی کلاسیکی ادب میں موجود ہیں، وہ یہ کہ عورت گناہ کی جڑ ہے۔ اس تصور کے مطابق مردہر گناہ سے محفوظ اور پاک ہے۔ یہ عورت ہے جو اس کو گناہ کے راستے پر ڈال دیتی ہے۔ ان حضرات کے مطابق شیطان براہِ راست مرد کو گمراہ نہیں کرسکتا۔ وہ عورت کو واسطہ بناکر مرد کو ورغلاتا ہے۔ شیطان پہلے عورت کو پھسلاتا ہے اور پھر عورت مرد کو دعوتِ گناہ دیتی ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ آدم کو شیطان نے ورغلایا تھا اور نتیجے کے طور پر انھیں جنت سے نکلنا پڑا تھا۔ اس میں بھی حوا ہی واسطہ بنی تھیں۔

قرآن نے ان تمام نظریات کی تردید کی اور اعلان کیا کہ سارے انسان ایک جان سے پیدا ہوئے ہیں۔ ان سب کی اصل ایک ہے۔ پیدایشی طور پر نہ کوئی شریف ہے نہ رذیل، نہ اُونچی ذات کا ہے نہ نیچی ذات کا، نہ برتر ہے نہ کم تر۔ سارے انسان برابر ہیں۔ خاندان، قبیلہ، رنگ و نسل، ملک و قوم، زبان، پیشہ اور صنف کی بنیاد پر اُن کے درمیان کوئی تفریق کرنا غلط ہے۔

قرآن جب حضرت آدم ؑ کے قصے کا تذکرہ کرتا ہے تو یہ تسلیم نہیں کرتا کہ شیطان نے یا سانپ نے حواؑ کو گمراہ کیا اور حواؑ آدم ؑ کی گمراہی کا سبب بنیں۔ وہ ایک الگ ہی منظر کا نقشہ پیش کرتا ہے جس میں آدم ؑ و حواؑ دونوں برابر کی ذمہ دار شخصیت ہیں۔ شیطان نے دونوں کو دھوکا دیا اور دونوں اس سے دھوکا کھا گئے اور انھوں نے ممنوعہ درخت کا پھل چکھ لیا۔ اللہ کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے دونوں سے خدا کی حفاظت اُٹھا لی گئی، اُن کا پردہ کھول دیا گیا اور اُنھیں خود اپنے نفس کے حوالے کردیا گیا کہ اپنی پردہ پوشی کا انتظام خود کریں۔ جب اُن دونوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انھوں نے فوراً کسی تاخیر کے بغیر توبہ و ندامت کی راہ اپنا لی۔ اللہ کے حضور دونوں معافی کے خواست گار ہوئے۔ اللہ نے دونوں کی توبہ قبول کی اور انھیں معاف کر دیا۔ پھر خلافتِ ارضی کے خدائی منصوبے میں رنگ بھرنے کے لیے دونوں کو جنت سے اُتار کر اس زمین پر بھیجا گیا اور دونوں نے مل کر اس کائنات کی بزم سجائی۔

صنفی تفریق کا خاتمہ

قرآن نے اس جاہلانہ تصور کی بھی بیخ کنی کی کہ عورت خدا کا قرب حاصل نہیں کرسکتی، اور یہ کہ عورت ہونے کا مطلب نصف شیطان ہونا ہے، اور یہ کہ وہ برائی کی جڑ ہے۔ قرآن نے پوری قوت کے ساتھ باورکرایا کہ خدا کا قرب اور جنت میں داخلہ کسی مخصوص جنس کے لیے نہیں ہے۔ اس کی بنیاد تو عملِ صالح ہے خواہ مرد نے کیا ہو یا عورت نے۔ قرآن کہتاہے:

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً وَلَنَجْزِیَنَّھُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَo (النحل ۱۶:۹۷) جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیںگے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو اُن کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔

یہاں قرآن کریم نے اس غلط فہمی کو رفع کیا ہے کہ دیانت اور پرہیزگاری کی زندگی گزارنے والوں کی دنیا ضرور بگڑتی ہے، بھلے ہی اُن کی آخرت سنور جاتی ہو مگر دنیا میں وہ ناکام و نامراد  رہتے ہیں۔ حیاتِ طیبہ کی یہ قابلِ فخر زندگی اور آخرت میں ملنے والے بہتر سے بہتر اجر اور اُونچے سے اُونچا مرتبہ ہر شخص کو ملے گا جو اِس دنیا میں حسنِ ایمان اور حسنِ عمل سے آراستہ ہوگا۔ اس میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی تفریق نہیں رکھی گئی ہے۔

قرآن عورت کو بیٹی، بہن، بیوی اور ماں بناکر اس کا مرتبہ اس طرح بلند کرتا ہے کہ ان حیثیتوں میں اس کو تمام سماجی، معاشی، مذہبی اور تعلیمی حقوق حاصل ہوجاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رویے اور عمل سے تمام شعبوں میں عورت کو تمام حقوق اس طرح عطا کیے جس طرح مرد کو عطا کیے گئے تھے تاکہ وہ بھی مرد کی طرح اپنے فرائض کی ادایگی میں ہمہ وقت کوشاں رہے۔

فرائض کی فطری تقسیم

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مرد اور عورت کے فرائص یکساں ہیں۔ زندگی کے دو بازو اور شریکِ کار ہونے کے سبب دونوں کے بطور انسان یکساں حقوق و اختیارات ہیں، لیکن عملی میدان میں دونوں کے کام کی نوعیت اور ہیئت میں واضح فرق ہے، اور اس فرق کا سبب دونوں جنسوں کے جسمانی، نفسیاتی، طبی اور فطری عوامل میں پوشیدہ ہے۔ یہاں یہ نکتہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ ان دونوں کے اختلافِ کار کا مقصد کسی ایک جنس کا برتر اور دوسری جنس کا کم تر ہونا نہیں ہے۔ یہ تو دونوں کی الگ الگ قدرتی صلاحیتوں، رجحانات،میلانات، جذبات و محرکات، استعداد اور فضیلتوں کی بدولت تقسیم کار ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں قرآن نے خاندان کی معاشی کفالت کی ذمہ داری کا بوجھ مرد کے مضبوط کندھوں پر رکھا ہے اور اسے نگراں اور قوّام بنایا ہے:

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّ بِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ ط (النساء ۴:۳۴) مرد عورتوں پر قوّام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال  خرچ کرتے ہیں۔

ورنہ قرآن مردوں اور عورتوں کو یکساں سمجھتا ہے۔ وہ دونوں کو بنی نوع انسان تسلیم کرتا ہے اور دونوں کو یکساں حقوق و مراعات عطا کرتا ہے۔ بطور مثال چند آیات یہاں نقل کی جارہی ہیں، جن میں مردوں اور عورتوں کی ذمہ داری واضح کی گئی ہے:

مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور بُرائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہوکر رہے گی۔ یقینا اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔ (التوبہ ۹:۷۱)

بالیقیں جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں، مومن ہیں، مطیع فرمان ہیں، راست باز ہیں، صابر ہیں، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں، روزے رکھنے والے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور اللہ کو کثرت سے  یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے۔(احزاب۳۳:۳۵)

سماجی زندگی میں شرکت

اسلام نے عورتوں کی سرگرمیوں کو گھر میں امن و سکون کی افزایش اور بچوں کی دینی تعلیم و تربیت نیز علمی و فکری خدمات تک محدود نہیں رکھا بلکہ انھیں ایک وسیع میدان فراہم کیا تاکہ وہ عملی جدوجہد میں برابر کی شرکت کرسکیں۔ خواتین جس طرح شعروادب اور علم و فن کے ذریعے ترقی کرسکتی ہیں اسی طرح وہ زراعت، تجارت اور دوسرے میدانوں میں بھی معاشرے کی ضرورت اور وقت کی پکار کے مطابق اپنا حصہ ادا کرسکتی ہیں۔

اسلام میں انسانی حقوق کے اس تصور سے یہ حقیقت اُجاگر ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ آج کے جدید دور میں بھی انسانی حقوق کا اگر کوئی ضامن ہے تو وہ اسلام ہی ہے، نہ کہ جدید مغرب کہ جہاں حجاب پر پابندی عائد کی جارہی ہے، اور مساجد کو دہشت گردی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اسلام ہی ہے جو ہرشخص کو آزادی عطا کرتا ہے کہ وہ کفرواسلام میں سے جس راہ کو چاہے منتخب کرسکتا ہے اور اس کے لیے اس پر کوئی جبر نہیں۔ کیا مغرب اپنے تمام تر جدید افکار کے ساتھ اس رواداری کا مظاہرہ کرسکتا ہے؟

بچے کسی بھی معاشرے کی امیدوں، آرزوئو ں اور تمنائوں کا مرکز ہوتے ہیں، اس لیے کہ مستقبل کی تعمیر کا انحصار ان ہی پر ہوتا ہے۔ اس لیے بچے دوسرے تمام طبقات کی بہ نسبت زیادہ توجہ، زیادہ شفقت اور زیادہ محبت چاہتے ہیں۔ معاشرتی حوالے سے بھی بچوں کی اہمیت مسلّم ہے۔ اسی بناپر اسلامی تعلیمات میںجہاں والدین کی اطاعت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت بیان کی گئی ہے وہاں بچوں کے حقوق بھی واضح کیے گئے ہیں۔ اسلام کی معاشرتی زندگی یک رخی نہیں،   ہمہ گیر ہے۔ اس لیے والدین اگر اسلامی معاشرے میں بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں تو بچے اس اکائی کا نتیجہ اور ثمرہ ہیں۔ یہ دونوں مل کر معاشرے کی صورت گری کرتے ہیں۔ بچے تو اور بھی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، کیوں کہ وہ نہ صرف والدین کی شخصی توسیع ہیں بلکہ معاشرے کے ارتقا اور اس کی متحرک زندگی کا عکس ہیں۔ آج کی اولاد کل کے والدین ہیں، اور آج کے بچے کل کے جو ان اور بزرگ ہوتے ہیں۔ اس بنا پر اسلام نے بچوں کے بارے میں خصوصی ہدایات دی ہیں۔

کوئی معاشرہ بچوں کے بارے میں جو رویہ اختیار کرتا ہے وہی اس کا معاشرتی معیار قرار پاتا ہے۔ اگر ان کے ساتھ حسن سلوک کے بجاے بے اعتدالی روا رکھی گئی تو اس سے نہ صرف یہ کہ معاشرے کا ارتقائی مزاج مجروح ہوگا بلکہ مستقبل کے والدین بھی خطرناک حد تک اولاد کش ثابت ہوں گے۔ (ڈاکٹر خالد علوی، اسلام کا معاشرتی نظام،ص ۲۲۴)

بچے اور اسلام

اسلام کی نظر میں بچوں کی اہمیت کئی وجوہ سے ہے۔ وہ مستقبل کے معمار ہیں، خاندان کی بقا کا ذریعہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہیں، جماعت کی کثرت اور پہچان کا سبب ہیں، نیز اللہ تعالیٰ کی مدد کی ایک صورت ہیں۔ اسلام اپنے زیر اثر معاشرے میں اولاد کو اپنی معاشرتی اور سماجی اقدار کے تعارف، بقا اور تحفظ کا ذریعہ تصور کرتا ہے۔ اسلام اولاد کو نعمتِ عظمیٰ قرار دے کر اس کی نگہداشت کا حکم دیتا ہے۔ اسلام نے خاندان کا جو تصور دیا ہے اس کی ایک اہم اکائی اولاد کی صورت میں بچے ہیں۔ اسلام اسے ذاتی تسکین کا سامان بھی قرار دیتا ہے۔ نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ و سلم نے بچوں کو جو حقوق عطا کیے ہیں اور بچوں پر آپؐ کی شفقت و رحمت کے جو مظاہر کتب حدیث و سیرت میں موجود و محفوظ ہیں، ان کا تذکرہ کرنے سے قبل ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن حکیم کی روشنی میں اسلام کے ہاں بچوں کی کیا حیثیت سامنے آتی ہے؟

جیسا کہ عرض کیا گیا اسلام بچوں کو نعمت ِعظمیٰ قرار دیتا ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ انسان کو اپنے احسانات یاد دلاتے ہوئے کہتا ہے: ’’اور اللہ نے تم ہی میں سے تمھارے لیے جوڑے بنائے اور تمھاری بیویوں سے تمھارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تمھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا‘‘(النحل ۱۶:۷۲)۔ ’’دنیا کی رونق بچوں کے دم سے ہے، یہ سامان زینت ہیں۔ فرمایا: ’’مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں‘‘۔(الکھف ۱۸:۴۶)

نظامِ فطرت میں بچے اور اولاد امداد و تعاون کی ایک صورت ہے، جن سے انسان تقویت حاصل کرتا ہے، اور جن کے بل بوتے پر وہ عددی اکثریت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے: ’’اور تمھیں مال اور اولاد سے قوت دی اور تمھیں بڑی جماعت والا بنا دیا‘‘(بنی اسرائیل ۱۷:۶)۔ اسی طرح حضرت ہود ؑاپنی قوم کو اپنے رب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اور اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمھاری مدد کی جن کو تم جانتے ہو۔ اس نے چوپایوں اور اولاد سے تمھاری مدد کی ‘‘ (الشعرا ۲۶: ۱۳۲-۱۳۳)۔ حضرت نوح علیہ السلام بھی اپنی قوم کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کے انعامات اور انعامات کے وعدے بیان کرتے ہیں تو اولاد کا ذکر خاص طور پر کرتے ہیں: ’’اور تمھیں مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمھیں باغ عطا کرے گا اور تمھارے لیے نہریں جاری کرے گا‘‘۔(نوح ۷۱:۱۲)

غرض اسلام کا نقطۂ نظریہ ہے کہ چونکہ دیگر نعمتوں کی طرح بچے بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہیں، اس لیے اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔ ان کی پرورش اور تربیت پوری اہتمام سے کرنی چاہیے پھر ان کا درجہ امانت کا بھی ہے، اس لیے ان کی تربیت پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ ان سے بدسلوکی اور ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں کوتاہی پورے معاشرے کے لیے مضر ہے۔ جب ایک تربیت یافتہ بچہ انسانی معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوگا تو ایک غیر تربیت یافتہ بچہ اسی معاشرے کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

بچوں کو نبی کریمؐ کی خاص توجہ حاصل رہی ہے۔ آپؐ نے ان کے جو حقوق بیان فرمائے ہیں اور اسلام نے انھیں جو خاص اہمیت دی ہے اسے چند عنوان کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے:

حقِ حیات

اسلام نے بچوں پر اہم ترین احسان یہ کیا ہے کہ انھیں زندگی کا حق عطا کیا ہے۔ اسلام کی نظر میں مرد و عورت کا جائز باہمی تعلق محض ایک تفریح نہیں ہے، بلکہ یہ نسلِ انسانی کے تحفظ اور اس کے پھلنے پھولنے کا ذریعہ ہے۔ اس بنا پر اس تعلق کے ثمرے کے طور پر وجود پانے والے بچے کو اسلام یہ حق دیتا ہے کہ وہ زندہ رہے، اور والدین کی یہ ذمہ داری قرار دی گئی ہے کہ وہ اس کی زندگی کو خوشی سے قبول بھی کریں اور اس کی بقا کے لیے ناگزیر و ضروری اقدامات بھی کریں۔

اسلام سے قبل بچوں سے بہت سی صورتوں میں یہ حق حیات چھین لیا جاتا تھا۔ کبھی    نرینہ اولاد کی خواہش ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن جاتی۔ کبھی ان کے جیتے جاگتے وجود کو خیالی یا ساکت و جامد معبودوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا، اور کبھی معاشی کفالت کا خوف ان کی جان لے لیتا۔ یہ تیسری صورت فیملی پلاننگ کے نام پر آج بھی پوری دنیا پر مسلط ہے، اور اس کے تقاضوں پر سختی سے عمل پیرا ہونے والے ملک چین میں بچوں کا قتل آج عروج پر ہے۔ کثرت آبادی کے خوف سے وہاں کی حکومت عرصے سے ’ایک خاندان ایک بچہ‘ کے اصول پر عمل پیرا ہے، جس کے نتیجے میں اب وہاں ہر خاندان کی خواہش ہے کہ ان کے ہاں لڑکا پیدا ہو۔ چونکہ ان کے پاس صرف ایک موقع ہوتا ہے، اس لیے وہ اولاد نرینہ نہ ہونے کی صورت میں ایسا انتظام کرتے ہیں کہ بچہ دنیا میں آنے ہی نہیں پاتا۔ یہ صورت حال اسلامی معاشرے میں پیدا نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ اسلام ایسے غیر انسانی اقدامات کی مذمت کرتا ہے، اورایسی ہدایات دیتاہے کہ اس قسم کے اقدامات کی بیخ کنی ہو۔

اسلام معاشی بنیادوں پر اولاد کے قتل کو سخت ترین جرم قرار دیتا ہے، کیوں کہ اس کا فلسفہ  یہ ہے کہ اس کائنات کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اس نے اس کائنات کا نظم و نسق انسان کے حوالے کیا ہے، اسے وسائل دیے ہیں، محنت کا جذبہ اور معنی و کوشش کے دروازے اس پر وا کیے ہیں۔ اسے ذرائع دیے ہیں جن کے ذریعے وہ محنت اور جدوجہد کرکے اپنی دنیاوی زندگی کو مزین اور اُخروی حیات ابدی کو روشن اور ثمر بار کرسکتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض انسانوں کے ظالمانہ اقدامات اور غیرمنصفانہ رویوں کے باعث وسائل حیات پر چند افراد کا قبضہ ہوجاتا ہے، اور عام افراد کی دست رس سے وسائل نکلنے لگتے ہیں۔ ایسے میں معاشی تنگی پیدا ہوتی ہے، اور انسان اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے بعض اوقات ناجائز اقدامات پر بھی اتر آتا ہے، مگر یہ نظام کو صحیح طور پر نافذ نہ کرنے کا نقصان ہے۔ اس کا ذمہ دار خود نظام نہیں ہے، وہ چند غلط کار لوگ اور چند ہاتھ اس کے ذمہ دار ہیں، جو اس نظام کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ اسلام اس لیے ایک تو دولت کی منصفانہ تقسیم پر زور دیتا ہے، دوسری جانب معاشی وجوہ سے قتل اولاد کو سنگین ترین جرم قرار دیتا ہے۔ ایک مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور مفلسی کے ڈر سے تم اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ ہم ان کوبھی رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی۔ بے شک ان کا قتل کرنا بڑی خطا ہے‘‘۔(بنی اسرائیل ۱۷:۳۱)

بچوں کے قتل کا ایک اور سبب اولاد نرینہ کی خواہش ہے۔ اس خواہش کی وجہ سے لڑکیوں کا قتل انسان کی بہت پرانی روایت ہے، اور ہر طرح کی ترقی کا دعویٰ رکھنے اور انسانی حقوق کے   بلند آہنگ دعوئوں کے باوجود ترقی یافتہ قومیں بچوں کے اس قتل عام کو آج تک نہیں روک سکیں۔ بچوں کا یہ قتل آج بھی دنیا بھر میں رائج ہے، اوریہ قبائلی سوچ آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے کہ لڑکیوں کو بوجھ سمجھاجاتا ہے۔ آج کے نام نہاد ترقی یافتہ دور میں بھی لڑکیاں جہیز کم لانے کی وجہ سے قتل ہورہی ہیں اور بعض عورتیں، یہ جان کر کہ اس کے ہاں لڑکی پیدا ہو رہی ہے، اسقاط کرا دیتی ہیں۔ لڑکی معاشی بوجھ اور معاشرتی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، اس لیے اس سے نجات کے راستے تلاش کیے جاتے ہیں۔ انھیں وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے، جس کے لیے نہایت گھٹیا طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ ان کی قرآن سے شادی کردی جاتی ہے۔ کس قدر ظلم ہے کہ اس قرآن حکیم کو لڑکیوں کے حقوق بالجبر مارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس نے سب سے پہلے اس کی آواز بلند کی، اور مظلوم بچوں کو ان کا حق دلایا۔ اسلام ان تمام فرسودہ اور گھٹیا رسوم و رواج اور طور طریقوں کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ قرآن حکیم ان کے اس رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے:

اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خبر ملتی ہے تو اس کا چہرہ غم کے سبب کالا پڑجاتا ہے اور اس کے دل کو دیکھو تو وہ اندوہ ناک ہو جاتا ہے، اور اس خبر بد کی وجہ سے وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اور سوچتا ہے کہ آیا ذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑدے۔ دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری بات ہے۔ (النحل ۱۶:۵۸-۵۹)

قرآن مزید کہتا ہے:

اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے خیال میں ان کے معبودوں نے ان کی اولاد کا قتل کرنا مستحسن بنا رکھا ہے تاکہ وہ ان کو ہلاک کردیں اور تاکہ ان کے دین کو ان کے حق میں خلط ملط کردیں۔ (الانعام ۶:۱۳۷)

ابن کثیر رحمہ اللہ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں:

ایسا ہی شیاطین نے ان مشرکوں کی نگاہ میں فقر و فاقے کے اندیشے سے اولاد کا قتل اور ننگ و عار کے (خود ساختہ ) خطرے سے بچیوں کا زندہ درگور کرنا محبوب مشغلہ بنا رکھا تھا۔ (التفسیر، عیسیٰ البابی الحلبی، ج۲،ص ۱۸۹)

اسلام بچوں کو ایک عظیم نعمت قرار دیتا ہے، اور ہمیں اس عظیم نعمت کی قدر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اسلام نے سب سے پہلے بچوں کے اس طرح قتل کو قانوناً جرم قرار دیا اور انسانیت کو بتایا کہ نوعِ انسانی کی بقا کے لیے بچوں کی قدر کرنا اور ان کی پرورش کرنا، انھیں صحیح تربیت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔

شناخت

اسلام کا بچوں پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے بچوں کو ایک شناخت اور پہچان  عطا کی ہے۔ اس غرض سے اسلام نے خاندان کی صورت میں جو نظام وضع کیا ہے، وہ بچے کو جہاں ایک مضبوط سائبان عطا کرتا ہے، وہیں اسے ایک شناخت بھی دیتا ہے، اور تیسری جانب خاندان کو اس کی تربیت اور تعلیم کا ذمہ دار بھی ٹھیراتا ہے۔ اگر کوئی معاشرہ یاخاندان یہ ذمہ داری ادا نہیں کرتا تو وہ گناہ گار ہے، جب کہ اس فریضے کی ادایگی کی صورت میں پورا خاندان اپنے اپنے حصے کے مطابق اجر و ثواب کا مستحق ٹھیرتا ہے۔

خاندان کا نظام پہلے سے چلا آرہا ہے، اس کی شکل قدرے تبدیل ہوتی رہی، یوں کہہ سکتے ہیں کہ تدریجاً ارتقا پاتی رہی، مگر اسلام کا احسان یہ ہے کہ اس نے اس نظام کو قانونی شکل عطا کی اور اس کی تمام اکائیوں کے حقوق و فرائض واضح کیے، پھر ان سب کا دائرۂ کار متعین کیا۔ اس نظام سے خاندان کی تمام اکائیاں متمتع ہوتی ہیںلیکن درحقیقت اس سے سب سے زیادہ فائدہ بچوں کا ہے۔ اس لیے جہاں یہ نظام ختم ہوا یاشکست و ریخت سے دو چار ہوا وہاں سب سے زیادہ نقصان بھی بچوں ہی کو اٹھانا پڑا۔ مغرب کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

اسی بنا پر اسلام نے اسے ایک اخلاقی معاملہ نہیں رکھا بلکہ اسے ایک قانون اور ضابطے کی شکل دی جس میں خاص طور پر عورتوں کو اس کا پابند بنایا کہ وہ بچوں کی تربیت کے سلسلے میں کسی قسم کی دوسری مصروفیات کو آڑے نہ آنے دیں۔

اسلام کا یہ نظام اس قدر فطری بنیادوں پر قائم ہے کہ اس سے انحراف کی صورت میں جہاں ایک طرف سخت ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہیں اس کے مقابل دوسرا کوئی نظام قائم کرنے میں بھی انسان کو کام یابی نہیں ہوسکی۔ اس کا واضح مفہوم یہی ہے کہ انسانیت کی بقا کے لیے کسی کے پاس اسلام کے تجویز کردہ نظام کے علاوہ کوئی راہ موجود نہیں ہے۔ اسلام کی تعلیمات کے برخلاف ایک غیر فطری تجربے کی داستان ملاحظہ کیجیے۔

مغرب میں آزادیِ نسواں کی تحریک شروع ہوئی تو اسے فلسفیانہ بنیاد عطا کرنے اور  باقاعدہ و باضابطہ بنانے کے لیے جو مشکلات درپیش تھیں، ان میں سرفہرست یہی مسئلہ تھا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے کیا خطوط متعین کیے جائیں؟ اس غرض سے ایک فریق نے بچوں کی اجتماعی پرورش کا متبادل اصول متعارف کرایا۔ ہنگری کے مارکسی مصنف وجدہ اور ہیلر یہ تجویز کرتے ہیں کہ ایک اجتماعی خاندان یا کمیون (collective family) یہ فرائض ادا کریں گے اور تمام بالغ افراد بچوں کی پرورش کا فریضہ انجام دیں گے۔ بالغوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت یک زوجگی سے لے کر جنسی آوارگی تک موجود ہوگی کیوں کہ کمیون میں جنسی تعلقات اخلاقی قدروں کے ماتحت نہیں ہیں۔ اجتماعی خاندان کمیون سے مختلف ہے، کیوں کہ وہ صرف گھریلو معاملات اور بچوں کی نگہداشت سے متعلق ہے اور یہ پیداواری اکائی نہیں ہوتی۔

اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے ایلون ٹوفلر نے ایک انوکھا متبادل نظام تجویز کیا ہے۔ اس نے پیشہ ور والدین (professional parents) کا تصور پیش کیا ہے۔ یہ ’معاون والدین‘ خاندان کی حیثیت اختیار کریں گے اور ماں، باپ ، چچا، چچی اور دادا، دادی اور نانا، نانی کا کردار ادا کریں گے۔ یہ لوگ بچے کی پرورش کو تنخواہ دار ملازمت کی حیثیت سے اختیار کریں گے۔ اس طرح رضا کارانہ طور پر بچوں کی پرورش کا خاتمہ ہوگا اور بہت سے حیاتیاتی والدین کو خاندانی کردار سے چھٹکارا ملے گا۔ انھیں صرف یہ کرنا ہوگا کہ اپنے بچوں کو پیشہ ور لوگوں کے سپرد کردیں۔

اسی طرح بہت سے مصنفین نے خاندان کے متبادل اداروں کا تصور بھی پیش کیا ہے۔ اشتراکی نسائیت پسند مصنفہ جو لیٹ مشیل نے مختلف تجربات کا تدکرہ کیا ہے جن کا تعلق اجتماعی زندگی (commnunal living) سے ہے جو افراد اور حالات کی مناسبت سے متعین ہوسکے ہیں۔ وہ ایسے ادارے تجویز کرتی ہے جو رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دیں اور ان میں مختلف مرد اور عورتیں مصروف خدمت رہیں۔ (Future Shock ، پینگوین، لندن، ۱۹۷۱ئ)

ملاحظہ کیجیے اس طبقۂ فکر کی ذہنی اُپج کہ اصلی والدین کو فیکٹریوں میں جھونک کر کرایے کے والدین حاصل کیے جارہے ہیں۔ یہ بات کم از کم اس امر کی تو واضح دلیل ہے کہ بچوں کی تربیت میں والدین خصوصاً ماں کا کردار ایسا ہے جس کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔ جب یہ بات ثابت ہوچکی تو پھر جس کا جو وظیفۂ حیات قدرت نے متعین کردیا، عقل کا تقاضا تو یہ ہے کہ اسے وہ ادا کرنے دیا جائے نہ یہ کہ اپنی اختراعات سے کام لے کر اس کا متبادل سامنے لایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ معاملہ اتنا ہی سادہ ہوتا تو قدرت نے یہ کیوں نہ کردیا کہ بچے بھی پھلوں اور سبزیوں کی طرح درختوں پر اُگتے اور کھیتوں میں ابھرتے، پھر پال لگانے کے لیے اسے متعلقہ اداروں کے سپرد کردیا جاتا اور آخر میں یہ تیار پروڈکٹ والدین کو بھیج دی جاتی۔ ماںبھی سال بھر کی مشقت سے محفوظ رہتی، اور باپ بھی کسی آزمایش سے دوچار نہ ہوتا۔ قدرت کے اس پورے نظام کا مطالعہ کرنے سے جہاں ایک طرف خاندان کی اہمیت واضح ہوتی ہے وہیں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ واحد نظام ہے جو بچوں کو احساس تحفظ اور شناخت عطا کرتا ہے، اس بنا پر یہ نظام بچوں کی تربیت کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ اسلام کا بچوں پر اس قدر بڑا احسان ہے جس کی اہمیت سے صحیح معنی میں ہم واقف ہی نہیں ہیں۔

پرورش کی ذمہ داری

بچے کا یہ بھی حق ہے کہ اس کی پرورش درست نہج پر کی جائے۔ آپؐ نے والدین کو بچوں کی پرورش کا براہِ راست ذمہ دار ٹھیرایا ہے، جس میں کوتاہی کی صورت میں وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ ہوں گے۔ اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا:

آگاہ ہو جائو! تم میں سے ہر ایک رکھوالا ہے اورہرایک سے اس کی رعایا کے بارے میں (روزِ قیامت) پوچھا جائے گا۔ سو، یادرکھو لوگوں کا امیر بھی رکھوالا ہے، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا، اور ہر فرد اپنے اہل خانہ کا نگہبان ہے، اور ہر عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی ذمہ دار ہے، اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، اور غلام اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے، اس سے اس بارے میں سوال ہوگا۔ آگاہ رہو، تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ (مسلم، حدیث ۱۸۲۹، بخاری، حدیث ۵۲۰۰)

بچوں کی پرورش، خوراک، لباس، تعلیم و تربیت، علاج معالجہ، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنا والدین کی ذمہ داری ہے، عموماً ــوالدین یہ فرائض انجام دیتے ہیں، لیکن اسلام انھیں والدین کا مستقل فریضہ قرار دیتا ہے، جس کی ادایگی پر وہ علیحدہ سے اجر و ثواب کے مستحق ہوں گے، اور عدم ادایگی کی صورت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کا سامنا کرنا ہوگا۔

قرآن کریم کی رُو سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کسی ماں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بچے کو اپنے دودھ سے محروم رکھے، اسلام نے بچے کے لیے دودھ پلانے کی مدت دو سال مقرر کی ہے (البقرہ ۲:۲۳۳)۔ اس سے کم مدت میں اگر دودھ چھڑایا جائے تو یہ پیش نظر رہنا چاہیے کہ بچے  کی صحت اور پرورش پر اس کا کوئی برا اثر تو مرتب نہیں ہوگا۔ اسی آیت نے یہ بھی واضح کیا کہ   دودھ پلانے والی ماں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جائے۔ باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ دودھ پلانے والی ماں کے طعام و لباس کا پورا انتظام کرے، جب کہ باپ کی غیر موجودگی میں یہ خاندان کی   ذمہ داری ہے کہ وہ بچے اور اس کی ماں کی نگہداشت کا پورا انتظام کرے۔ والدین کی علیحدگی کی صورت میں بچے کی رضاعت (دودھ پلوانے) کا انتظام کرنا ضروری ہے۔ ماں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ بلاوجہ بچے کو دودھ کی نعمت سے محروم کردے، کیونکہ یہ اس کی پرورش میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس عمل پر اس سے باز پرس ہوگی۔

ان ہدایات کی وجہ سے مسلمانوں کے ہاں دودھ پلانے کا یہ عمل مسلسل جاری رہا۔ یہ دورِحاضر کی بدعت ہے کہ مائوں نے اپنا دودھ پلانے سے گریز کیا ہے، جس کا نتیجہ مائوں کے حق میں بھی بہتر نہیں نکلا، جب کہ بچوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ دور حاضر کی طبی تحقیقات نے ماں کے دودھ کی اہمیت و ضرورت کا ادراک کیا ہے اور مائوں کو یہ مشورہ دینا شروع کیا ہے کہ وہ بچوں کو دودھ پلائیں۔ چونکہ ماں کا دودھ بچے کی صحت، عادات و اطوار اور مستقبل کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے اس لیے ماں کی صحت، اس کی دینی اور اخلاقی حیثیت کی بڑی اہمیت ہے۔

بچوں کی پرورش بہت نازک معاملہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے جو احکامات اس بارے میں ہمیں تعلیم فرمائے ہیں ان میں ان نزاکتوں کا بھرپور خیال رکھا ہے۔ انسان جو لقمہ اپنے پیٹ میں منتقل کرتا ہے وہ بھی اپنی ایک تاثیر رکھتا ہے، اور اسلام یہ کہتا ہے کہ رزق حرام کسی اچھے مستقبل کی تعمیر نہیں کرسکتا۔ اس لیے والدین کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی پرورش حلال رزق سے کریں، تاکہ وہ آگے چل کر اچھے مستقل سے لطف اندوز ہو سکیں، ورنہ انجام درست نہیں ہوسکتا۔ قرآن کہتا ہے : کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَارَزَقْنٰکُمْ  (طٰہٰ ۲۰:۸۱)’’تم ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزوں میں سے کھائو‘‘۔ دوسرے مقام پر حرام خوری کو شیطان کا راستہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ’’اے لوگو! زمین کی چیزوں میں سے حلال و پاکیزہ چیزوں کو کھائو اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو، بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘۔ (البقرہ ۲: ۱۶۸)

مساوی سلوک

ابتدا سے یہ رجحان بھی چلا آرہا ہے کہ بعض اوقات تمام بچوں میں مساوات نہیں برتی جاتی۔ کبھی لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دی جاتی ہے تو کبھی لڑکوں کے مابین بھی کسی وجہ سے یا بلا وجہ   فرق روا رکھا جاتا ہے۔ یہ تفریق اسلام میں قطعاً پسندیدہ نہیں۔ نبیِ رحمت علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے، اور سب کے مابین مساوی سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے، اور ایسے والدین کو اجر و ثواب میں بشارت دی ہے، جو بچوں کی صحیح پرورش کریں اور سب کے درمیان مساوی سلوک کریں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ’’ ایک عورت میرے پاس آئی اور اس کے   ہم راہ اس کی دو بیٹیاں تھیں۔ اس نے میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہ پایا تو میں نے اسے وہی دے دی۔ پھر اس نے اسے اپنی بیٹیوں میں بانٹ دیا اور اس میں سے خود نہ کھایا، پھر اٹھ کر باہر  چلی گئی۔ اس کے بعد نبی ؐگھر آئے اور میں نے آپؐ کو بتایا تو آپؐ نے فرمایا: ’’جو کوئی ان بیٹیوں کی آزمایش میں ڈالا گیا اور اس نے ان سے اچھا سلوک کیا تو وہ اس کے لیے آگ سے مقابلے میں رکاوٹ ثابت ہوں گی‘‘۔ (بخاری، حدیث ۵۹۹۵)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی وہ اور میں جنت میں اس طرح داخل ہوں گے، پھر آپؐ نے اپنی انگلیوں کو باہم ملایا‘‘۔ (ترمذی، حدیث ۱۹۲۱)

جنت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب، نعمتوں سے بڑھ کر نعمت ہوگی، یہ نعمت خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کے مطابق بیٹیوں کی پرورش سے حاصل ہوسکتی ہے۔

آپؐ نے باہم بیٹوں میں بھی کسی قسم کا امتیاز قائم نہیں فرمایا۔ اگر کسی نے اپنے ایک لڑکے کو عطیہ دیا اور دوسرے لڑکے یا لڑکوں کو نہ دیا تو آپؐ نے اسے ظلم قرار دیا۔ چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے اپنے لڑکوں میں سے کسی ایک کو ایک غلام ہبہ کیا اور چاہا کہ اس پر آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنائے۔ چنانچہ انھوں نے آپؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ آپؐ نے دریافت فرمایاکہ کیا تم نے اپنے سب بچوں کو ایک ایک غلام دیا ہے؟   انھوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ میں سواے حق کے کسی پر گواہ نہیں بنتا (ابوداؤد،   حدیث ۳۵۴۲)۔ اس طرح آپؐ نے نہ صرف ایک ناانصافی پر مشتمل فیصلے میں گواہ بننے سے انکار کیا، بلکہ اپنے عمل سے ایک ایسے معاملے کی شناعت کی جانب ہماری توجہ بھی مبذول کروائی جس میں ایک بہت بڑا طبقہ شامل ہے۔

اسی قسم کے ایک اور واقعے میں ذکر آ تا ہے کہ ایک صحابی کے والد نے انھیں کچھ عطیہ دے دیا تو ان کی والدہ نے کہا کہ میں اس وقت تک راضی نہ ہو ں گی جب تک تم اس پر حضوؐر کی گواہی نہیں لاؤ گے۔ ان کے والد رسولؐ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پورا واقعہ بیان فرما کر    آں حضرتؐ سے اس پر گواہی چاہی، آپؐ نے فرمایا:

کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح کا عطیہ دیا ہے ، میں نے کہا کہ نہیں ۔ اس پر رسولؐ اللہ نے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل سے کام لو، پس وہ صحابی واپس پلٹے اور بیٹے سے عطیہ واپس لے لیا۔(بخاری، کتاب الھبۃ، باب ۱۳)

اچہا نام رکہنا

ناموں کا اثر بچے کی شخصیت پر بھی پڑتا ہے۔ اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کا یہ حق بھی قرار دیا ہے کہ اس کا نام موزوں اور اچھا تجویز کیا جائے، اور والدین پر اولاد کا یہ ایک اہم حق ہے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آںحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’باپ پر بچے کا یہ بھی حق ہے کہ اس کا نام اچھا رکھے اور اس کو  حُسنِ ادب سے آراستہ کرے‘‘۔ (مجمع الزوائد، ج۸، ص ۹۳)

اگر کسی کا نام کسی سبب سے مناسب نہ ہو تو اسے بدل دینا چاہیے، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیح ناموں کو بدل دیا کرتے تھے‘‘ (ترمذی)۔ اسی طرح ایک اور روایت میں آتا ہے ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون کا نام عاصیہ سے تبدیل کرکے جمیلہ تجویز فرمایا‘‘۔ (ترمذی، ایضاً)

سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے کا نام ایسا رکھا جائے جو اچھے عقائد اور عمدہ اخلاق کا آئینہ دار ہو۔ حدیث میں آیا ہے کہ تم اپنے بچوں کے نام خوب صورت رکھو۔ آں حضرتؐ کا ارشاد ہے: ’’اللہ کے نزدیک سب سے پیارے نام عبد اللہ اور عبد الرحمن ہیں‘‘۔ (ابن ماجہ، ابوداؤد)

شاہ ولی اللہ اس حکم کی حکمت پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’شریعت کے اہم اور عظیم ترین مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ تمام ضروریاتِ زندگی اور تدابیر معاشیات میں بھی ذکر الٰہی شامل کردیا جائے اور اسے دو چند کردیا جائے تاکہ یہ امور بھی دعوت اسلام کی زبان بن کر حق کی دعوت دیں اور نومولود بچے کو عبد اللہ اور عبد الرحمن سے موسوم کرنا درحقیقت اسے توحید سے آگاہ و باخبر کرنا اور توحید آشنا بنانا ہے۔ نیز اہل عرب اور دیگر ممالک کے باشندے اپنی اولاد کا نام ان لوگوں کے نام پر رکھتے تھے جن کی وہ لوگ عبادت و پرستش کیا کرتے تھے۔ چونکہ آں حضرتؐ کی بعثت کا مقصد ہی مراسم توحید قائم کرنا تھا اس لیے لازم و ضروری ہوا کہ نام رکھنے میں سنت، توحید اور طریق توحید ہی کا اعتبارو لحاظ رکھا جائے‘‘۔ (شاہ ولی اللہ، حجۃ اللّٰہ البالغہ، ج۲،ص ۳۹۱، مصر)

اسی طرح برے ناموں کی ممانعت کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا: ’’ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ کے نزدیک کم بخت نام اس شخص کا ہوگا جو ملک الاملاک کہلائے گا‘‘(ابوداؤد، بخاری)۔ ابو الدردا رضی اللہ عنہ کی روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’قیامت کے دن تمھیں اپنے ناموں اور اپنے والد کے    ناموں سے پکارا جائے گا، اس لیے بہترین نام رکھا کرو‘‘۔ (ابوداؤد، حدیث ۴۹۴۸، دارمی، حدیث ۲۶۹۴)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی یہ تاثیر ہے کہ امت مسلمہ میں ہمیشہ اچھے نام مقبول رہے ہیں۔ انبیا و صلحا کی نسبت سے بھی نام رکھے گئے۔ بعض ایسے نام پائے جاتے ہیں جو متنازع رہے ہیں، تاہم امت مسلمہ اچھے ناموں کی وجہ سے پوری دنیا میں منفرد ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے کا نام ابراہیم رکھا۔ آپؐ  کا یہ ارشاد بھی کتب حدیث میں منقول ہے: ’’پیغمبروں کے نام پر نام رکھو‘‘ (ابوداؤد)۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بات کی اپنے قول مبارک سے تلقین فرمائی، اپنے عمل سے اس کی تائید بھی امت کے سامنے پیش فرما دی۔

عقیقہ

عقیقے کی روایت عربوں میں پہلے سے موجود تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اصلاح فرمائی اور اسے بچے کا حق قرار دیا۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ بچے کی پیدایش پر جانور ذبح کیا جاتا اور پھر اس کے خون سے بچے کو رنگ دیا جاتا۔ اسلام نے اس کی ممانعت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیقے کی یہ صورت بیان فرمائی:’’جس کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو، اور وہ قربانی کرنا پسند کرے تو اسے چاہیے کہ لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کے لیے ایک بکرا قربان کرے‘‘۔(ابوداؤد، حدیث ۲۸۴۲)

آپؐ کے نواسے حضرت حسن ؓ کی پیدایش کے وقت آپؐ نے خود ان کا عقیقہ کیا، اس کی تفصیل راویت میں یوں مذکور ہے:

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن کے عقیقے میں ایک بکرا ذبح کیا اور کہا کہ اے فاطمہ! حسن کا سرمونڈا دو اور اس کے بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کردو۔ ان کا وزن ایک درہم نکلا۔ (ترمذی، حدیث ۱۵۲۴، حاکم، حدیث ۷۵۸۹)

تعلیم

تعلیم بنیادی ضرورت ہے۔ اسلام پہلا مذہب اور پہلی تہذیب ہے، جس نے تعلیم کو ہرانسان کی بنیادی ضرورت قرار دیا ہے، جب کہ اس سے قبل یہ تصور موجود نہ تھا، بلکہ ہرمعاشرہ اور قبیلہ صرف اپنے اعلیٰ طبقے کی تعلیم پر قانع تھا، اور وہ قبیلے کے سردار اور امرا وغیرہ اور مذہبی پیشوائوں کی تعلیم و تربیت کو ضروری قرار دیتا اوراس کا اہتمام کرتا تھا۔ عام افراد اس تعلیمی نظام سے خارج سمجھے جاتے تھے۔ انھیں طبقۂ اشرافیہ کی طرح تعلیم حاصل کرنے کا حق نہ تھا (انسائی کلوپیڈیا برٹانیکا، ۱۹۸۴ئ، ۶/۳۱۷-۳۱۸)۔ یہاں تک کہ یونان اور چین کے ہاں بھی، جنھوں نے   علم و تمدن کے میدان میں نمایاں بلکہ غیر معمولی ترقی کی،تمام انسانوں کی تعلیم کا کوئی تصور نہ تھا، بلکہ وہ اہل علم کے ایک خاص طبقے کی تعلیم کے محرک اور داعی تھے۔ افلاطون بھی فلاسفہ اور اہل نظر کے ایک مخصوص طبقے ہی کو اس امتیاز سے نوازتا ہے۔(پروفیسر خورشیداحمد، اسلامی نظریۂ حیات، ص۴۲۰)

اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے، جس نے سب سے پہلے بلا تفریق طبقات و قبائل و بلاتخصیص مرد و زن سب کے لیے بلاامتیاز و بلا اختصاص عام تعلیم کا آوازہ بلند کیا، اور نبی اُمی   صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’علم کا حصول ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘(ابن ماجہ، حدیث ۲۲۴)۔  گویا تعلیم ہر چھوٹے بڑے، امیر و غریب، مرد و عورت اور کالے و گورے ،ہر ایک پر فرض ہے۔  اس باب میں نہ تو طبقۂ فکر کی تخصیص ہے نہ کسی اور بنیاد پر اسلام نے کسی بھی نوعیت کے امتیاز کودرست سمجھا ہے ۔ اس بنا پر اولاد کی تعلیم کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’کوئی والد اپنی اولاد کو اچھے آداب سے بہتر ہدیہ نہیں دے سکتا‘‘۔ (ترمذی، حدیث ۱۹۵۹)

تربیت

تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی ضروری ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو عصر حاضر کے دیدہ وروں کی نگاہوں سے اوجھل ہے۔ علم کے نام پر جو لاعلمی پھیلائی جارہی ہے، اس کے مفاسد اپنی جگہ پر مگر تربیت کی طرف کوئی ذہن بھی توجہ نہیں کررہا۔ حالانکہ تربیت کے بغیر علم کی حیثیت خام مال سے زیادہ کچھ نہیں۔ جب تک اسے تربیت کی بھٹی سے نہ گزار لیا جائے اس وقت تک اس سے فائدہ نہیں اٹھا جاسکتا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں پر جو شفقت فرمائی ہے، اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ان نونہالوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ آپؐ نے ان کی تہذیب اور تربیت کی بھی خاص تلقین فرمائی ہے۔ تربیت میں سب سے پہلے روحانی تربیت کا مرحلہ آتا ہے۔ قرآن میں ہے:

اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچائو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں، جو اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم دیا جاتا ہے وہ اُس کو بجا لاتے ہیں۔(التحریم ۶۶:۶)

اولاد اور اہل و عیال کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ دعائیں بھی تعلیم فرمائی ہیں۔ کیونکہ یہ بھی تربیت کا حصہ ہے کہ انسان جہاں ان کے اخلاق و کردار پر نظر رکھے، انھیں اچھی باتوں کی تعلیم دے، وہیں  اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے دعا بھی کرے۔ قرآن حکیم دعاگو رہنے والے والدین کا ذکر یوں کرتا ہے: ’’اور وہ جو دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا‘‘(الفرقان ۲۵:۷۴)۔ایک دوسری دعا ہے: ’’اور میرے لیے میری اولاد میں بھی خیر رکھ۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں‘‘۔ (احقاف ۴۶:۱۵)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی تربیت کو کس قدر اہمیت دی ہے، اور ان کے اندر خیرخواہی کا مادہ پیدا کرنے پر جس قدر زور دیا ہے، اس کا کچھ اندازہ ان ارشادات سے کیا جاسکتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انسان کا  اپنی اولاد کو ادب سکھانا ایک صاع (ساڑھے تین سیر، تقریباً) صدقہ کرنے سے بہتر ہے‘‘ (ترمذی، حدیث ۱۹۵۸)۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اپنی اولاد کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرو اور ان کے آ داب کو بہتر بناؤ‘‘۔ (ابن ماجہ، حدیث ۳۶۷۱)

نبی کریمؐ نے بچوں کی تربیت کے حوالے سے چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی انتہائی اہمیت دی جو بہ ظاہر تو چھوٹی نظر آ تی ہیں مگرمستقبل میں انسانی شخصیت و کردارپر ان کے بہت گہرے اور پایدار اثرات دیکھنے میں آ تے ہیں۔چناں چہ نبی کریمؐ بچوں کو سلام کی تلقین فرماتے تھے ۔ روایت میں آ تا ہے کہ نبی کریمؐ نے حضرت انسؓ سے فرمایا: ’’اے بیٹے ! جب اپنے گھر میں داخل ہو تو اہل خانہ کو سلام کرو ، یہ تمھارے اور اہل خانہ دونوں کے لیے باعث برکت ہو گا۔(ترمذی، حدیث ۲۷۰۷)

بچوں کی فطرت میں تھوڑی ضد اور ہٹ دھرمی ہوتی ہے اور وہ اس کا مظاہرہ اپنے بچپن میں زیادہ کرتے ہیں۔اس لیے اگر چہ اسلام میں بچوں پر شفقت و رحمت کے حوالے سے زیادہ زور دیا گیا ہے لیکن اس قسم کے بچوں کے لیے اور بنیادی اسلامی فرائض کی انجام دہی میں سستی کرنے والے بچوں کے لیے تربیت کا یہ اصول بتا یا گیا ہے:’’اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو ، اور دس سال کی عمر میں نماز نہ پڑھنے پر مارو اور ان کے بستر علیحدہ کر دو‘‘۔(ابوداؤد، حدیث ۴۹۵)

تعلیم و تربیت کی کثیر الجہت اہمیت اور مفہوم کی بنا پر اسلام کی تعلیمات اس باب میں بہت زیادہ اور مختلف پہلوؤں کی حامل ہیں۔بچوں کو اچھائی اور ادب کی تعلیم دینے کے سلسلے میں ارشاد نبویؐ ہے: ’’خود کو اور اپنے اہل خانہ کو اچھائی کی تعلیم دو اور انہیں ادب سکھاؤ‘‘۔(روح المعانی، ج۲۸،ص ۱۵۶)

بچوں کو قرآ ن کریم کی تعلیم دینے پر زور دیا گیا ہے اور دینی فرائض سیکھنے کا بھی حکم دیا گیا ہے: ’’فرائض اور قرآن کی تعلیم خود بھی حاصل کرو اور دوسرے لوگوں کو بھی سکھاؤ، کیوں کہ میں     (عن قریب)دنیا سے چلا جاؤں گا‘‘( ترمذی، حدیث ۲۰۹۸)۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: ’’قرآن کا علم حاصل کرو ، اس کو پڑھو اور اس کے ساتھ سوؤ (یعنی سونے سے پہلے تمھارا آخری کلام قرآن مجید ہونا چاہیے)‘‘۔ (الجامع الصغیر للسیوطی، حدیث ۳۳۲۷)

اسلامی تعلیمات کے برعکس مغرب کا المیہ یہ ہے کہ وہ آزادی اور خود مختاری کے ایک ایسے نظریے کے شکنجے میں آچکا ہے، جو اسے بے لگام آزادی کی طرف دھکیل رہا ہے، حالانکہ آزادی کا یہ مفہوم شاید اس فکر کو پروان چڑھانے والوں کے ذہنوں میں بھی موجود نہیں ہوگا۔ بچوں کے سلسلے میں اس نظریے کے ثمرات ایک ایسے بے ترتیب، غیر منظم، بے ادب اور بدلحاظ گر وہ کی شکل میں سامنے آئے ہیں جسے اپنی ذات کے علاوہ کسی چیز سے کوئی دل چسپی نہیں ہے۔ یہ گروہ انسانی معاشرے کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ یہ تربیت کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ اس بنا پر اسلام بچوں کی درست تعلیم وتربیت کی جانب متوجہ کرتا ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’چونکہ بچوں کی زندگی میں استقلال نہیں ہوتا، اس لیے وہ اپنے والدین کی نگرانی میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ماں باپ کے دلوں میں بے پناہ شفقت اور ہمدردی کا جذبہ پیدا کیا تاکہ وہ تربیت اولاد کا کام خوشی سے انجام دیں اور ہر طرح ان کے نگران حال رہیں۔ وہ ان کی تربیت ایسے طریقے پر کریں جس سے ان کی آیندہ زندگی سنور جائے اور وہ ضروریات زندگی پورا کرنے کے لیے جائز اور باعزت طریقے پر کمانا جان سکیں‘‘۔(حجۃ اللّٰہ البالغہ، ج۲، ص ۳۹۱)

بچے کی تعلیم و تربیت اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ معاشرے کی اساس ہے۔ فرد سے خاندان اور خاندان سے معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ اچھے افراد جو تربیت یافتہ اور زیور علم سے آراستہ ہوں گے وہ معاشرے کو جنت کا نمونہ بنائیں گے۔ وہ ایسا ماحول تشکیل دیں گے جس میں تمام افراد خوش حال زندگی بسر کرسکیں۔ غیر تربیت یافتہ افراد کے نتیجے میں غیر مہذب معاشرہ وجود میں آتا ہے جو مزید انتشار اور فساد کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے اسلام نے بچے کی تعلیم و تربیت دونوں پر زور دیا ہے اور اسے آزاد اور بے مہار نہیں چھوڑا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت کے حوالے سے یہ بنیادی اصول بیان فرمایا کہ بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس کے والدین اس کی تشکیل و تعمیر کرتے ہیں اور اسے جس رنگ میں چاہیں ڈھال دیتے ہیں(اسلام کا معاشرتی نظام، ص ۲۳۷)۔ حدیث کے الفاظ ہیں، آپؐ نے فرمایا: ’’ہر بچہ فطرتِ سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے، اس کے والدین اسے یہودی، مجوسی یا نصرانی بناتے ہیں‘‘۔ (بخاری، حدیث ۱۳۸۵، ابوداؤد، حدیث ۴۷۱۴)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو جو حقوق عطا کیے ہیں، اور اپنی رحمت و شفقت پر مبنی جو احکامات ان کے لیے دیے ہیں یہ اس کا ایک خلاصہ ہے۔ جس کی روشنی میں ہمیں یہ باور کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیںآتی کہ انسانی معاشرے میں بچوں کو آج سے ڈیڑھ صدی قبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حقوق عطا فرمائے تھے آج بھرپورترقی کے دعوئوں کے باوجود جدید معاشرہ اس سے کہیں دور کھڑا ہے، اور جن پہلوئوں سے اس نے اصلاحات قبول بھی کی ہیں تو وہ بھی اسلام کے صدقے میں، اور یہ اسلام کی اصلاحات کا تسلسل ہے۔

اگر ان تعلیمات کو عمل کے لیے اپنالیا جائے تو اس سلسلے میں پائے جانے والی کوتاہیاں دُور ہوسکتی ہیں، اور ان کوتاہیوں کے نتیجے میں ہمارے معاشرے کو جو مسائل درپیش ہیں ان کو ہم حل  کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق ارزانی فرمائے۔ آمین! [نائب مدیر ششماہی السیرۃ عالمی، کراچی، ای میل:info@rahet.org ]

ماحولیات سے متعلق مسائل گو کہ جدید دور کی پیداوار ہے(بالخصوص ۲۰ویں صدی) ۔اس وقت انسان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے نتیجے میں ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے، لہٰذا اب ماحولی مسائل اور ان کاحل عالم انسانی کا سب سے اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ فطری ماحول کی خرابی نے اب انسانی وجود کی بقا پر ہی سوالیہ نشان لگادیا ہے۔

خالق کائنات جو کہ عالم الغیب بھی ہے، بھلا اس سے کیسے بے خبر رہتا؟ اسی لیے اس نے اپنے دین ’اسلام‘ کی تکمیل کے ساتھ نبی آخر الزماں کے توسط سے انسانوں کو ’ماحولیات‘ سے      متعلق جامع رہنمائی دی۔ اگر ان ہدایات پر عمل ہوتا تو ہم ماحولیاتی مسائل سے ناآشنا رہتے۔          بعد از خرابیِ بسیار، اب بھی وقت ہے کہ ہم اس دینِ فطرت کی رہنمائی سے فائدہ اٹھائیں اور    عالم انسانی کو اس خدائی ہدایت سے روشناس کرائیں۔ ذیل کے مقالے میں ماحولیات سے متعلق اسلامی تعلیمات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

اسلام ماحول اور اس سے متعلق مسائل پر ایک ہمہ جہتی نقطۂ نظر رکھتا ہے۔ اسلام انسان کے دیگر جان داروں (نباتات و حیوانات) ، طبعی ماحول اور سماجی ماحول سے متعلق واضح ہدایات رکھتا ہے۔ انسان اور ماحول کے درمیان تعاملات کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات جامع اور کافی ہیں۔

فطری ماحول کی اہمیت و افادیت قرآن اور احادیث میں جابجا آئی ہے۔ قرآن میں احکامات والی آیات کی نسبت ان آیات کی تعداد زیادہ ہے جن میں فطرت اور فطری مظاہر کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس لیے فطرت کا مطالعہ اہلِ ایمان پر ضروری قرار پاتا ہے(محمد کلیم الرحمن، اسلام اینڈ انوائرونمنٹ، دہلی ۱۹۹۷ئ، ص ۱۴۶)۔ اس طرح کی کچھ آیات اپنے مقام پر زیر بحث آئیں گی۔ اسی طرح اسلام کا دوسرا ماخذ سیرتِ رسولؐ سے بھی ہمیں ماحولیات کے گوناگوں پہلوئوں پر رہنمائی ملتی ہے۔ بالخصوص قدرتی وسائل کا استعمال اور ان کا تحفظ، وسائل کا مناسب استعمال، ان میں اسراف سے پرہیز وغیرہ۔ انھی تعلیمات کے بدولت اسلامی تمدّن میں آلودگی سے پاک ماحول کو پروان چڑھایا گیا ہے۔

ایک حدیث میں آپؐ سے روایت کیا گیا کہ کوئی مومن ایسا نہیں ہے جو کوئی درخت لگائے یا کھیتی کرے، اور اس سے انسان اور پرندے فائدہ اٹھائیں اور اس کا اسے ثواب نہ ملے۔ جو کوئی مردہ زمین کو پیداوار کے قابل بنائے، اس کے لیے اس میں ثواب ہے۔(عبداللہ المامون، Saying of Muhammad، لاہور، ۱۹۰۵ئ، ص ۷۴-۷۶)

اللہ کے رسول حضرت محمدؐ کی تعلیمات میں درختوں کو کاٹنے کی واضح ممانعت آئی ہے۔  حتیٰ کہ حالت جنگ میں بھی درخت کاٹنے سے منع کیا گیا ہے تاآنکہ وہ دشمن کے لیے فائدہ مند نہ ہو جائیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان فوجوں کو اس بات کی ہدایت تھی کہ وہ شہروں اور فصلوں کو برباد نہ کریں۔(سید ابوالاعلیٰ مودودی ، الجہاد فی الاسلام، دہلی ۱۹۷۴ئ، ص ۲۲۷- ۲۳۱)

اسلام کا نقطۂ نظر

’زندگی‘ قدرتی ماحول کا ایک اہم ترین جز ہے۔ اللہ کی نظر میں زندگی خواہ انسانی ہو یا حیوانی دونوں کی قدرو منزلت ہے۔ایک اور حدیث کے ذریعے یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ ہمیں چوپایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، ثواب کا مستحق بناتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہر تر جگر، رکھنے والے جان دار کی فلاح پر ثواب کی بشارت دی گئی ہے(حوالہ سابق عبداللہ المامون، ص ۷۵)۔ حیوانی زندگی کی بقا کا اندازہ اسلام کی اس تعلیم سے لگایا جاسکتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ   ’’شکاری صرف کھیل کے لیے کسی جانور کا شکار نہ کرے‘‘۔ امام ابویوسف کے نزدیک: ’’وہ شخص جو قدرتی ماحول کو ٹھیک طرح سے نہیں سمجھتا، اسلامی شریعت کے نفاذ کے مناسب طریقۂ کار کو بھی نہیں سمجھ سکتا۔ (احسان اللہ خان ،سائنس، اسلام اینڈ ماڈرن ایج، دہلی ۱۹۸۰ئ،ص ۵۴)

اسلام اپنے ماننے والوں سے صرف فطرت کی تعریف کے گن گانے کی توقع نہیں رکھتا، بلکہ اس کا مطالبہ تو یہ ہے کہ وہ خدا کی دیگر مخلوقات کے ساتھ اللہ واحد کی تسبیح بجا لائے۔ اسلام کے نزدیک ہر نوع کے جان دار ایک طرح کا گروہ ہیں، اور وہ سب آپس میں خیر خواہانہ تعلقات کے مستحق ہیں۔مسلمانوں کو اس بات کی تاکید کی گئی کہ وہ درختوں کے پھل ضرور کھائیں مگر اس کی شاخوں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچائیں۔ انھیں جمے ہوئے پانی میں گندگی کے ذریعے کسی بھی قسم کی آلودگی پیدا کرنے سے منع کیا گیا۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو تعلیم دیتا ہے کہ اگر وہ قیامت کو واقع ہوتا دیکھیں اور ان کے ہاتھ میں پودا ہو تو وہ اسے ضرور زمین میں لگادیں۔ قرآن آبی چکّر، فضا، نباتات، سمندر، پہاڑ وغیرہ کو انسان کے خدمت گار کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ اس طرح اہلِ ایمان کے دل میں فطرت سے یک گونہ محبت پیدا ہوتی ہے، اور وہ فطرت کے ساتھ اچھا برتائو اختیار کرتے ہیں۔ (اے-آر-اگوان، اسلام اینڈ انوائرون منٹ، دہلی، ۱۹۹۷ئ، ص ۹-۱۰)

ماحول اور فطری قوانین سے متعلق نقطۂ نظر اپنی جڑیں قرآن میں رکھتے ہیں۔ قرآن صرف انسانوں ہی کو مخاطب نہیں کرتا بلکہ پوری کائنات اس کے خطاب میں سموئی ہوئی ہے۔ وحی الٰہی فطرت کے مظاہر کو جا بجا پیش کرتی نظر آتی ہے۔ قرآنی آیات جہاں نفس انسانی کی پُرپیچ تہوں کو آشکارا کرتی ہیں، وہیں وہ فطرت کے رازوں پر سے بھی پردہ ہٹاتی ہیں۔ بعض اوقات قرآن غیرانسانی تخلیقات، مثلاً سورج، تارے، چاند، جانور اور نباتات وغیرہ کو بطور دلیل پیش کرتا ہے۔ قرآن نے کبھی بھی انسان اور اس کے ماحول کے درمیان کوئی جدائی نہیں ڈالی۔ قرآن ہمیں یہ تصور دیتا ہے کہ قدرتی ماحول (کائنات) انسان کا دشمن نہیں ہے کہ جس پر اسے بزور فتح پانا ہے، بلکہ یہ کائنات اس کی خدمت کے لیے بنائی گئی ہے ۔ یہ نباتات و جمادات نہ صرف انسان کے اس دنیا کے ساتھی ہیں بلکہ وہ آخرت میں بھی انعام کی حیثیت میں ان کا ذکر کرتاہے۔(سید حسین نصر، اسلام اینڈ انوائرونمنٹ، دہلی، ۱۹۹۷ئ،ص۱۷)

اہلِ ایمان اس بات سے بھی اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں کہ قرآن مظاہر فطرت کو اللہ کی نشانی قرار دیتا ہے، جس طرح اس کا اپنا نفس بھی اللہ کی نشانی ہے۔ وہ کتابِ کائنات کا قاری بن جاتا ہے، اور اس کے اسباق (مظاہر فطرت) میں اللہ کی نشانیوں(آیات) کا مشاہدہ کرتا ہے۔ اس طرح وہ اس کتابِ کائنات کے مصنف (خالق کائنات) کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن اس کائنات کو خالق کی پہچان کا ذریعہ بناتا ہے۔جس کے ذریعے ہمیں اس کی بے شمار صفات کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اس کی حکمت اور اس کائنات کی مقصدیت کے ساتھ ساتھ انسان اپنی زندگی اور مقصد وجود کو پاسکتاہے۔ سید حسین نصر نے بجا طور پر کہا ہے کہ ’’یہ فطرت کے مظاہر، لاتعداد مساجد ہیں، جن میں اللہ تعالی کی بے شمار صفات پنہاں ہیں۔ یہ صفات ان لوگوں پر ظاہر ہوتی ہیں جن کی باطن کی آنکھ خود غرضانہ نفسیاتی خواہشات سے اندھی نہ ہوگئی ہوں‘‘(ایضاً، ص۱۷)۔ قرآن و سنّت کی اس طرح کی ان گنت تعلیمات کا نتیجہ ہے کہ اہلِ ایمان فطرت کے تئیں اپنے دل میں محبت و الفت کے جذبات موج زن پاتے ہیں۔

ماحولیات: بنیادی تصورات

ماحولیات سے متعلق اسلامی تعلیمات ، اس وقت تک نہیں سمجھی جاسکتیں جب تک کہ ہم اسلامی نقطۂ نظر سے فطرت انسانی کا تعین نہ کریں۔

اسلام کے مطابق ہر انسان فطرت کا امین ہے۔ اس لیے اسے دیگر مخلوقات کے ساتھ ہم آہنگی بنائے رکھنی چاہیے۔ انسان زمین پر اللہ کا خلیفہ (نائب) ہے، لہٰذا اسے خدائی احکامات کی پابندی کرنی چاہیے۔ اللہ اس کائنات کا رب ہے، بطور نائب انسان کی یہ ذمّہ داری ہے کہ وہ    حتی المقدور قدرتی ماحول کی بقا اور نمو کے لیے کوشاں رہے۔اگر انسان فطری ماحول کے تحفظ و بقا کی جانب سے بے پروا ہوجاتا ہے تو وہ، اپنی اس امانت میں خیانت کا مرتکب ہوگا، جو اسے اللہ کی جانب سے حاصل ہوتی ہے(ایضاً، ص ۲۱-۲۲)۔ قرآن کہتا ہے :’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اس نے وہ سب کچھ، تمھارے لیے مسخّر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے، اور اسی نے کشتی کو قاعدے کا پابند بنایا ہے کہ وہ اسی کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے‘‘ (الطلاق ۶۵:۲۲)۔ یہاں لفظ ’مسخّر‘ سے مراد صرف فطرت پر فتح پانا نہیں ہے، جیسا کہ کچھ مسلم افراد نے دعویٰ کیا ہے، بلکہ اس کے معانی فطرت پر تسلّط کے ہیں، اور تسلّط بھی بے قید نہیں بلکہ خدائی ہدایات کے تابع ہونا چاہیے۔ کیونکہ انسان اس زمین پر خدا کا خلیفہ ہے اور اسے حاصل اختیار، دراصل خدائی عطیہ ہے۔

ماحول کی تباہی اور بربادی کے لیے اس سے زیادہ اور کوئی بات خطرناک نہیں ہوسکتی کہ انسان ، فطرت پر اپنے تصرّف کو خدائی ہدایات سے بے نیاز ہوکر استعمال کرے۔ انسان کو بذات خود کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ اسے جو کچھ اختیارات ملے ہیں، وہ سب اللہ کے عطا کردہ ہیں۔ خواہ یہ اختیار اسے اپنے نفس پر ہو یا اس کائنات پر ، کیونکہ وہ ان میں سے کسی کا خالق نہیں ہے۔ اس لیے اس کو خلیفۃ اللہ کی حیثیت سے ہی ان اختیارات کاذمّہ دارانہ استعمال کرنا چاہیے۔ (حوالۂ سابق سید حسین نصر، اسلام اینڈ انوائرونمنٹ، ص۲۲-۲۳)

سید حسین نصر نے بجا طور پر کہا ہے کہ اسلامی تمدّن نے آج تک علم کو فطرت سے محبت ، اور ماحول کی حقیقت ، کو اللہ کی نشانیوں کے ساتھ مربوط کیا ہے۔ اسلام اپنے اخلاقی نظام میں ( جس کی جڑیں وحیِ الٰہی میں پیوست ہیں اور جو خدائی احکامات کے تحت ہے) انسان کے غیرانسانی مخلوقات کے ساتھ رویّے کو طے کرتا ہے، اور ان کے تئیں انسان کو اس کے فرائض اور ذمّہ داریاں یاد دلاتا ہے (ایضاً، ص ۳۴)۔ماحول سے متعلق انسانی رویّے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کے چند بنیادی تصورات کا فہم حاصل کریں۔

انسان بحیثیت امین

قرآن کا تصورِ امانت ماحول کے متعلق انسانی رویّوں کو طے کرنے میں بہت مدد گار ہوتا ہے۔قرآن کہتا ہے: ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے، اور اس سے ڈر گئے مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے‘‘ (الجن ۷۲:۳۳)۔ یہاں امانت سے مراد وہ اختیار ہے جو کسی شے پر کسی شخص کو دیا جائے۔ یہاں پر اس شخص سے اس بات کی توقع ہوتی ہے کہ وہ اسے اختیار دینے والے کی مرضی کے مطابق استعمال کرے، حالانکہ اسے اس کے خلاف بھی عمل کرنے کی آزادی حاصل رہتی ہے۔

انسان اس زمین پر خدا کا نائب ہے، اور اس نے اپنی آزاد مرضی سے اللہ کی امانت کو قبول کیا ہے، ساتھ ہی اس نے ارادہ و عمل کی آزادی کو بھی خالق کائنات سے اپنے حق میں منظور کیا ہے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے ہر عمل کے لیے خالق کے سامنے جواب دہ قرار پائے اور خالق کائنات اس سے اپنی عطا کردہ آزادی و اختیار اور عمل کے بارے میں باز پُرس کرے۔ قرآن اس بات پر گواہ ہے کہ وہ قومیں جو امانت میں خیانت کی مرتکب ہوئیں اور اپنی آزادی کا بے قید استعمال کیا، آخر کار وہ تباہ و برباد ہوگئیں۔ (ھود ۱۱: ۸۴-۸۵)

کائنات کا توازن اور ھم آھنگی

انسان اس دنیا کا مالک نہیں ہے۔ زمین اور آسمان اور ان کے درمیان تمام چیزوں کا مالک حقیقی اللہ رب العالمین ہے (الانعام ۶:۲۰)۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات ،بشمول انسان کو اپنی بندگی اور تسبیح کے لیے پیدا کیا ہے (بنی اسرائیل ۱۷:۴۴، الحج ۲۲:۱۸، النحل ۱۶: ۴۹-۵۰)۔ اس طرح کی آیات انسان سے مطالبہ کرتی ہیں کہ اسے قوانین فطرت کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا چاہیے جیسا کہ خالقِ کائنات کی مرضی ہے۔ مزید برآں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ خدا نے ہر شے ایک مقصد کے تحت پیدا کی، اور وہ اشیا اپنی مقصد براری میں لگی ہوئی ہیں۔ اس لیے انسان کے لیے لازم ہوجاتا ہے کہ وہ ان کی دیکھ بھال اور ان کا تحفظ کرے، تاکہ فطرت میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ اللہ نے کائنات اور اس دنیا کی بہترین انداز پر تخلیق کی، زندگی کی بقا کے لیے متوازن نظام بنائے، اور ہر شے کو توازن و اعتدال کے ساتھ پیدا کیا اور ان کے درمیان میزان قائم کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے ہرچیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی‘‘ (الدخان ۴۴: ۵۴)، یعنی دنیا کی کوئی شے مستقل نہیں ہے۔ ایک منصوبہ بند طریقے پر اس کی پیدایش ، نشوونما اور خاتمہ ہوتا ہے۔

قرآن نے جس توازن اور میزان کا ذکر اپنی آیات میں کیا، اس سے تمام اشیا کے درمیان ایک دوسرے پر انحصار اور تعلق پر روشنی پڑتی ہے۔ اس کی ساتھ ہی ہمیں کل کے ساتھ جز کے تعلق کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح گویا تمام مخلوقات آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط بندھنوں میں وابستہ ہونے کے ساتھ ایک عالمی نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے اس میں انسان بھی شامل ہے۔ اسی لیے انسان سے اس بات کا مطالبہ کیا گیا کہ وہ کائنات کے اس توازن و میزان کو برقرار رکھے کیونکہ یہ اسی کے حق میں ہے۔ عزالدین عبدالسلام نے صحیح ترجمانی کی کہ جب انھوں نے کہا کہ: معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ نے اپنی مخلوقات کو ایک دوسرے پر انحصار کرنے والا بنا دیا، تاکہ ہر گروہ دوسرے گروہ کی فلاح و بہبود میں تعاون کرے۔ (عبدالحمید، اسلام اینڈ انوائرونمنٹ، دہلی، ص۴۶)

کائنات انسان کی خادم ھے

اشیا کی تخلیق کا دوسرا  پہلو یہ ہے کہ انھیں انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمان کی ساری چیزیں تمھارے لیے مسخرکر رکھی ہیں‘‘۔ (طٰہٰ ۲۰:۳۱)

یہ اللہ کی انسان کے حق میں ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ کائنات کی اشیا اس کے لیے مسخر کردی گئی ہیں، جنھیں وہ اپنے تصرّف میں لاسکتا ہے۔اسی لیے اسے خالق کائنات کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ اپنی دیگر آیات میں خدا نباتات اور حیوانات کا ذکر کرتا ہے جو انسان کے لیے فائدہ مند ہیں۔ انسان کو اس بات پر قدرت حاصل ہے کہ وہ ان اشیا سے اپنی فوری ضروریات کے علی الرغم ان سے سماجی اور اجتماعی فوائد حاصل کرے(عبدالحمید، اسلام اینڈ انوائرونمنٹ، دہلی، ص۴۶)۔ قرآن انسان کو مختلف جانوروں سے حاصل ہونے والے فائدے گنواتا ہے (یٰسٓ ۳۶:۷۱، المومن ۴۰:۷۹)۔ ساتھ ہی ان جانوروں کے کچھ حقوق عائد کرتا ہے۔ واضح رہے کہ اسلامی تعلیمات جانوروں سے متعلق قوانین میں اپنی مثال آپ ہے۔(عبدالحمید، اسلام اینڈ انوائرونمنٹ، دہلی ص۶۵)

اس کائنات کے تمام اجزا، روشنی، ہوا، پانی، مٹی، چٹانیں، عناصر، نباتات و حیوانات وغیرہ بحیثیت مجموعی تمام مخلوقات اپنے اندر کچھ مقصد اور اقدار رکھتی ہیں جو ذیل میں دی جا رہی ہیں:   اشیا کی اپنی ذاتی قدر، چونکہ وہ خالق کی تخلیق ہیں، اور اس کی اطاعت و فرماںبرداری اور تسبیح و تحمید کرتی ہیں، اور بحیثیت مجموعی ماحولی نظام میں ان کی قدروقیمت، نیز انسان کے لیے روحانی بقا اور مادی وسائل کے لحاظ سے ان کی افادی حیثیت۔(ایضاً ، ص ۴۹)

قدرتی وسائل کی عادلانہ تقسیم

دراصل ماحولیاتی مسائل کی جڑ، ماحولی تباہی اور روحانی قدروں کی پامالی کی قیمت پر قدرتی وسائل کا استعمال ہے۔ کسی ملک یا قوم کے ذریعے قدرتی وسائل کے مصرفانہ استعمال کی کوئی گنجایش اسلام میں نہیں ہے، جیسا کہ آج کل ہورہا ہے۔ چند ممالک یا اقوام قدرتی وسائل کا تنہا مسرفانہ استعمال کرکے دیگر اقوام کو ان سے استفادے سے محروم کررہی ہیں۔ اسلام قدرتی وسائل پر نہ صرف انسانوں کا بلکہ دنیا کی تمام مخلوقات کا مساوی حق تسلیم کرتا ہے۔ اسی طرح مستقبل کی نسلوں کا بھی ان خدائی نعمتوں میں حق محفوظ رہنا چاہیے۔(ایضاً ، ص ۴۹)

ان تعلیمات کی روشنی میں ہم قدرتی وسائل کے استعمال کے سلسلے میں مبنی بر حق نقطۂ نظر  اپنا سکتے ہیں lقدرتی وسائل کا استعمال انسان کی مادّی اور روحانی ضرورتوں کے تحت ہو lقدرتی وسائل کے استعمال کے سلسلے میں دیگر انسانوں (موجود) اور آنے والی نسلوں کے حق میں دست درازی نہ ہونے پائے lقدرتی وسائل کا استعمال کسی بھی طرح سے (مثبت یا منفی) دیگر مخلوقات کے لیے نقصان دہ نہ ہو lانسان چونکہ خلیفۃ اللّٰہ فی الارض ہے اس لیے یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اِس مسئلے کا مبنی بر عدل، حل تلاش کرے، تاکہ دنیا کی مجموعی ضروریات اور موجود قدرتی وسائل کے استعمال کے درمیان توازن و اعتدال باقی رہ سکے l قدرتی وسائل کا کسی ملک قوم کے ذریعے مصرفانہ استعمال یا ایسا استعمال جو دیگر انسانوں اور مخلوقات کے حق کے لیے نقصان دہ ہو، برداشت نہ کیا جائے l قدرتی ماحول کے تحفظ اور بقا کے لیے اسلامی اصولوں پر عمل کیا جائے۔ (ایضاً ، ص ۶۶)

قدرتی وسائل کا خود غرضانہ استعمال

قرآن، فساد فی الارض کی مرتکب دنیا کی قوموں کے انجام بد سے آگاہی دیتا ہے۔ یہ اپنے وقت کی متمدن، دولت مند اور طاقت وراقوام تھیں، لیکن ان کے اپنے بگاڑ کے نتیجے میں تباہ و برباد ہوگئیں۔ قوم عاد، قومِ ثمود،آلِ فرعون وغیرہ ان قوموں کی تباہی کی وجہ ان کا ’مفسدین فی الارض‘ بتایا گیا۔ یہاں لفظ ’فساد‘ سے برائی، رشوت خوری، بے ایمانی، نیکیوں سے عاری حالت، سماجی   عدم اطمینان اور معاشرتی بگاڑ ، ظلم وجور ، تباہی و بربادی مراد ہے۔ اس لفظ کی مزید وضاحت    وقار احمد حسینی اس طرح کرتے ہیں: ’’یہ قرآن کی ایک جامع اصطلاح ہے، جو ہر غیر اسلامی کام سے روکتی ہے۔ قرآن میں تقریباً ۵۰ مقامات پر اس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اسے ہم تمام بڑی اخلاقی برائیوں و جرائم کے ساتھ بُرے اور نقصان دہ خیالات، سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔ اس میں انسانوں کے لیے نقصان دہ سائنسی، تکنیکی، سماجی، معاشی اور سیاسی پالیسیاں بھی شامل ہیں۔ اس لفظ کے ذریعے قرآن انسان کو اس کے برے اعمال کے بھیانک انجام سے آگاہ کرتا ہے‘‘۔ اس طرح مسلمانوں میں سائنس اور ٹکنالوجی کے غلط اور بے قید منصوبوں کے خلاف ایک مضبوط بیداری پیدا ہوتی ہے۔(ایس، وقار احمد حسینی، اسلامک تھاٹ، گڈورڈ بکس، نئی دہلی، ۲۰۰۲ئ، ص ۲۰۵)

اس ضمن میں ذیل کی آیت ملاحظہ ہو: خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے لوگوں کو     اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تاکہ مزا چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال کا شاید کہ وہ باز آئیں۔  (حم السجدہ ۴۱:۳۰)

خدا کی تخلیق، خالص اور بہترین ساخت پر ہے۔ جہالت اور خود غرضی کی وجہ سے اس میں بگاڑ کو راہ ملتی ہے۔ ظاہر ہے برے اعمال کا انجام بھی برا ہوگا۔ یہ اس سے بھی واضح ہورہا ہے کہ خدا نے فرمایا: ’’لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے‘‘۔ اس سے ہمیں مستقبل کے لیے ایک طرح کی تنبیہہ (وارننگ) حاصل ہوتی ہے۔ اور ساتھ ہی یہ توبہ اور انابت کی دعوت بھی ہے(عبداللہ یوسف علی، انگریزی ترجمہ و مختصرتفسیر قرآن، مدینہ ۱۴۱۰ھ، ص ۱۱۹۰)۔ اس سے متصل آیت میں قرآن کا کہنا ہے: ان سے کہو کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوچکا ہے، ان میں اکثر مشرک ہی تھے۔(الشورٰی ۴۲:۳۰)

تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ اس حقیقت کو واشگاف کرتا ہے کہ سابقہ قومیں اپنی برائی اور بددیانتی کے علاوہ ان کے مشرکانہ عقائد، زندگی کے غلط معیارات، اور نفسانی خواہشات نے انھیں تباہی اور بربادی سے دوچار کیا(حوالہ بالا، عبداللہ یوسف علی،ترجمہ مختصر تفسیر قرآن،ص ۱۱۰۱)۔   لفظ ’فساد‘ کی تشریح خود قرآن اس طرح کرتا ہے: ’’جب اسے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتو ں کو غارت کرے، اور نسل انسانی کو تباہ کرے۔ حالانکہ اللہ فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا‘‘(البقرہ ۲:۲۰۵)۔ یہاں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ فساد کامطلب حرث و نسل کی تباہی ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ  انسان خود ہی قدرتی وسائل کی تباہی اور بربادی کا  ذمّہ دار ہے اور فطری ماحول کا یہ نقصان انسان سے اپنا خراج وصول کرتا ہے۔

قدرتی ماحول میں بگاڑ کی اہم وجہ انسان کی حریص طبیعت اور ضائع کرنے والی فطرت ہے۔ قرآن اسے ’اسراف‘ سے تعبیر کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل قرآن انسان کو اعتدال، توازن اور تحفظ کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی آخر الزماںؐ کی تعلیمات بھی ہمیں اعتدال پسندی کی تلقین کرتی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اعتدال اختیار کرو، اگر تم مکمل طور پر اسے اختیار نہ کرسکو، تو جہاں تک ممکن ہو اعتدال پر قائم رہو۔ گویا انسانوں سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے تمام اعمال مثلاً کھانے، پینے ، کمانے ، خرچ کرنے، صنعتی پیداوار اور اس کے استعمال، وغیرہ سب میں جس کا تعلق قدرتی وسائل سے آتا ہو اور آخر کار جو ماحول پر اثر انداز ہوتے ہوں، ان سب میں حد درجہ اعتدال سے کام لیں، کسی قسم کے اسراف کو راہ نہ دیں۔(عبدالحمید، اسلام اینڈ انوائرونمنٹ، دہلی ص۵۷-۵۸)

قدرتی وسائل کا استعمال: اسلامی نقطۂ نظر

اسلامی تعلیمات انسان کو آسانی سے حاصل ہونے والے بیشتر قدرتی وسائل مثلاً ہوا، پانی، زمین اور جنگلات وغیرہ میں بھی مسرفانہ خرچ کو پسند نہیں کرتی ہیں۔ اس لیے آپ اندازہ لگاسکتے کہ اسلام کا مزاج نایاب اور کم یاب قدرتی وسائل (دھاتیںاور جان دار وغیرہ) کے استعمال کے بارے میں کیا ہوگا۔ ان کمیاب قدرتی وسائل کے استحصال کی کسی بھی قیمت پر اجازت نہیں ہوگی (ایضاً، ۵۸)۔ انسان کو قدرتی وسائل کے استعمال کی مشروط اجازت ہے۔ شرائط یہ ہیں: معتدل استعمال، توازن قائم رکھنا اور ان قدرتی وسائل کے تحفظ اور بقا کا سامان کرنا۔ موجودہ نسلوں کے علاوہ، قدرتی وسائل میں آنے والی نسلوں کا بھی ’حق‘ ہے۔ اسے کسی طرح سے متاثر نہ کیا جائے۔ قدرتی وسائل کا بھی یہ حق ہے کہ انسان ان کے بے جا استعمال کے خلاف حفاظت کرے ، انھیں برباد ہونے سے بچائے اور ان کے ساتھ کسی قسم کا مسرفانہ رویہ اختیار نہ کرے۔(بدر الاسلام، ایجوکیشنل فاؤنڈیشن آف اسلام، آدم پبلشرز، دہلی ۲۰۰۷ئ، ص۲۱۳)

قدرتی وسائل کا تحفظ

اللہ نے اپنی اسکیم کے تحت تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور انھیں ایک دوسرے کے تعاون پر منحصر رکھا۔ ا س طرح اس دنیا میں ایک توازن قائم کیا۔ اس کائنات کی ہر شے اپنے مقصدوجود کو پورا کرنے میں مصروف ہے۔ اس طرح یہ تمام مخلوقات (جان دار اور بے جان) ایک قیمتی اثاثہ قرار پاتی ہیں۔ ان کے وجود سے اس دنیا میں ایک حرکی اعتدال و توازن پیدا ہوتا ہے جو تمام مخلوقات کے لیے مفید اور ضروری ہوتاہے۔ اگر انسان اس میزان اور توازن میں خلل ڈالے، ان قدرتی وسائل کا استحصال کرے، غلط استعمال کرے، یا انھیں برباد کرے، انھیں آلودہ کرے ، تو وہ خدائی ارادے کے خلاف کام کرے گا۔ انسان کی سطحی نظر ، لالچی فطرت اور خود غرضانہ مفادات نے ہمیشہ اس کائناتی توازن و عدل کو بار بار متاثر کیا ہے۔ اس کے بدلے میں فطرت نے انسانوں سے مختلف طریقوں سے انتقام لیا۔ اس لیے انسان پر فرض ہوجاتا ہے کہ وہ ان قدرتی وسائل کے تحفظ و بقا کے لیے کوشش کرے(ابوبکر احمد،ص ۷۵)، ورنہ انتہائی بھیانک حالات اس کا انتظار کر رہے ہیں۔ فطرت سے جنگ میں شکست لازماً انسان ہی کی ہوگی۔

  • پانی: اللہ نے حیات کی بنیاد پانی کو بتایا ہے۔ تمام جان دار اپنے وجود کے لیے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ قرآن کی متعدد آیات اس نعمت اور اس کی اہمیت سے بحث کرتی ہیں(الحجر ۱۵:۱۹، النور ۲۴:۴۱، طٰہٰ ۲۰:۵۳)۔ پانی کے بے شمار حیاتی پہلوئوں کے علاوہ اس کی سماجی اور مذہبی حیثیت بھی مسلّم ہے۔ یہ طہارت کے لیے ایک ناگزیر شے ہے۔ اور کسی بھی عبادت کا جسمانی اور کپڑوں کی پاکی کے بغیر تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اس نعمت عظمیٰ کا تحفظ تمام جان داروں کی زندگیوں کے تسلسل کے لیے ناگزیر ہے۔ (خواہ وہ نباتات ہوں یا حیوانات)۔

ابوبکر احمد نے اس سلسلے میں بڑے پتے کی بات کہی ہے کہ’ ’زندگی کے وظائف کی ادایگی میں جو شے ناگزیر ہوگی، وہ مطلوب ہوگی۔ ہر وہ عمل جو اس شے کے حیاتی اور سماجی کاموں میں رکاوٹ ڈالے، یا اسے ناقابلِ استعمال بنائے، مثلاً اس کو برباد کرے یا آلودہ کرے، اس طرح اس شے کو اپنے فرائض ادا کرنے میں مزاحم ہو، ایسے تمام اعمال حیات (زندگی) کو تباہ کرنے والے تصور کیے جائیں گے۔ فقہ کا یہ مشہور قاعدہ ہے کہ ’حرام کی طرف لے جانے والے ذرائع بھی حرام ہوتے ہیں‘‘۔(ابوبکر احمد ،ص ۷۸)

مسلمان فقہا نے قرآن اور سنّت رسولؐ سے استدلال کرتے ہوئے مختلف حالات میں پانی کے استعمال کے تفصیلی قواعد وضوابط ترتیب دیے ہیں۔ ان کا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ کس طرح سے ایک قیمتی قدرتی وسیلے کا دیرپا استعمال کیا جاسکتاہے۔

  • ھـوا: تمام جان دار اپنی زندگی کی بقا کے لیے ہوا پر انحصار کرتے ہیں۔ جس کے بغیر وہ چند منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس کے علاوہ ہوا دیگر بہت سارے ضروری کام انجام دیتی ہے، مثلاً نباتات میں بارآوری کا عمل، بارش، بادلوں کی مختلف حصوں میں منتقلی وغیرہ۔ قرآن اس طرح کے کئی اعمال کو خدائی عطیہ قرار دیتا ہے۔ (الحجر۱۵:۱۹-۲۳، البقرہ ۲:۱۶۴، الاعراف ۷:۵۷)

ہوا چونکہ حیات کی بقا کا انتہائی اہم فریضہ انجام دیتی ہے، لہٰذا اس کی حفاظت آپ سے آپ لازم ہوجاتی ہے۔ یہ اسلامی قوانین کی اہم غرض ہے۔ اس طرح سے وہ تمام افعال جو ہوا کو آلودہ کریں اور آخر کار جان داروں پر اثر انداز ہوں، ممنوع قرار پاتے ہیں۔

  • مٹّی: زمین بھی جان داروں کی بقا میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قرآن میں کہا گیا کہ زمین جان داروں کے قیام کا ذریعہ ہے(یونس ۱۰:۵۵)۔انسان کی تخلیق بھی اولاً مٹّی سے ہوئی (طٰہٰ ۲۰:۳۰)۔ زمین میں پائی جانے والی معدنیات، انسانوں، نباتات اور دیگر جان داروں کی زندگی کی بقا کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ اکثر جان دار بشمول انسان اپنی غذا زمین سے حاصل کرتے ہیں (الحجر ۱۵: ۱۹-۲۰)۔ علاوہ ازیں زمین پہاڑوں، دریائوںاور سمندر کا مسکن ہے، جو تمام کے تمام جان داروں کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں(المرسلٰت ۷۷:۲۵-۲۷)۔ قرآن ہمیں بار بار زمین کی پیداوار اور اس سے حاصل ہونے والے پھلوں کے انسانوں کے لیے استفادے کی یاد، دلاتا ہے۔(فاطر ۳۶: ۳۳-۳۵)

ابوبکر احمد کے مطابق اگر ہم واقعتا اللہ کے شکر گزار بننا چاہتے ہیں تو ہم پر لازم ہوگا کہ ہم زمین کی زرخیزی کو برقرار رکھیں اور اس کو ہر طرح کے نقصان سے بچائیں۔ ہمیں اپنی ضروریات، مثلاً مکان، زراعت، جنگلات اور کان کنی کے ایسے طریقے اپنانے چاہییں جونہ صرف حال بلکہ مستقبل میں بھی کسی نقصان کا باعث نہ بنیں۔ اس طرح کے مفید ترین وسیلے کو تباہ کرنا یا اسے خراب کرنا یقینا حرام ہوگا۔(ابوبکر احمد، ص۸۰)

  • نباتات و حیوانات: انسانی زندگی کی بقا اور ترقی کے ضمن میں نباتات اور حیوانات کے کردار سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ ان کے بغیر انسانی زندگی کا تصور بھی محال ہے۔ نباتات ایک منفرد عمل ’عمل شعاعی ترکیب‘ کے ذریعے غذا تیار کرتے ہیں۔ نباتات سے ہی ہمیں غذا کے لیے غلّہ، پھل اور سبزیاں حاصل ہوتی ہیں۔ قرآن ہمیں اس طرح دعوت غور و فکر دیتا ہے: ’’پھر ذرا انسان اپنے آپ کو دیکھے۔ ہم نے خوب پانی لنڈھایا، پھر زمین کو عجیب طرح سے پھاڑا، پھر اس کے اندر اُگائے غلّے اور انگور اور ترکاریاں اور زیتون اور کھجور اور گھنے باغ اور طرح طرح کے پھل اور چارے تمھارے مویشیوں کے لیے سامان زیست کے طور پر‘‘۔(عبس ۸۰: ۲۴-۳۲)
  • نباتـات: اس اہم فریضے کے علاوہ ہوا کی صفائی کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ وہ زمین کے کٹائو کو روکتے ہیں۔ علاوہ ازیں پانی کی حفاظت کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ بہت سارے نباتات کی طبّی اہمیت بھی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انسان انھیں اپنے معاش و دیگر ضروریات کی تکمیل میں استعمال کرتا ہے۔ اسلامی قوانین کے مزاج کے مطابق نباتات کی پیداوار، تحفّظ اور بقا ایک ’امرِ ضروری‘ قرار پاتا ہے۔

حیوانات نہ صرف انسانوں بلکہ نباتات کے لیے بھی کئی طریقوں سے کار آمد ثابت ہوتے ہیں۔ ان سے زمین کی زرخیزی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ انسان حیوانات سے غذا، اون، چمڑا اور دودھ حاصل کرتا ہے۔ یہ دوائوں کے کام بھی آتے ہیں۔ علاوہ ازیں جان داروں سے انسان باربرداری کا کام بھی لیتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی فوائد کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے (الحج ۲۲:۱۸، بنی اسرائیل ۱۷:۴۴)۔اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے اسلام قانون سازی کرتا ہے۔ ہر دور کے بارے میں عمومی اصول یہ ہے کہ ’’تم اہل زمین پر رحم کرو  تم پر رحم کیا جائے گا‘‘۔ (ابوبکر احمد ص ۱۰۶)

تعلیمات نبوی ؐ میں بھی ہمیں اپنے زیر استعمال جانوروں کی خوراک، آرام اور تحفّظ کے بارے میں واضح ہدایات ملتی ہیں، بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ اگر کوئی شخص کسی جانور کو بھوکا، پیاسا مرنے کے لیے چھوڑ دے تو اسے آخرت میں جہنم کا عذاب بھگتنا ہوگا۔ مزید فرمایا کہ ہر زندہ جان دار کی فلاح و بہبود میں اجر ہے(ایضاً)۔ اس طرح کی اَن گنت تعلیمات احادیث کی کتابوں میں محفوظ ہیں۔ اسلام کا ایک بڑا امتیاز یہ بھی ہے کہ وہ جانوروں کے حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کرتاہے۔ اس پر باقاعدہ کتابیں موجود ہیں۔ مثلاً عزالدین عبدالسلام کی کتاب قواعد الاحکام فی مصالح الانعام۔ قدرتی وسائل کے تحفظ و بقا کے لیے اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یوں ہوگا: اسلامی قوانین تمام مخلوقات کی فلاح و بہبود اور ان کے درمیان مشترکہ مفادات کا خیال رکھتے ہیں تاکہ خدائی منصوبے کے مطابق ان سے استفادہ کیا جاسکے۔

قدرتی وسائل کا تحفظ اخلاقی اور قانونی فریضہ ہے۔ انسان کی خلیفۃ اللّٰہ فی الارض کی حیثیت بھی قدرتی وسائل کے تحفظ کو لازمی بناتی ہے۔ اسلام کی اخلاقی تعلیمات اپنی پشت پر مضبوط قانون اور قوت نافذہ رکھتی ہیں، اس لیے ان سے صرف نظر ممکن نہیں ہے۔انسانی ترقیات کو ماحول دوست ہونا چاہیے۔

انسان کو سماج کے مشترک وسائل کے استعمال کے سلسلے میں جوابدہ بنایا جائے۔ سائنسی اور تکنیکی طریقے میں ایسے ذرائع اپنانے چاہیے جو قدرتی وسائل کے تحفظ کے ضامن ہوں۔ ہر ترقیاتی منصوبے کو روبہ عمل لانے سے پہلے اس کے ماحولی اثرات کا ہمہ جہت اور جامع جائزہ لیا جائے۔

فوجی کاروائیوں یا دشمن پر حملے کی صورت میں ہر قیمت پر قدرتی وسائل اور ماحولیاتی توازن کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔(حوالہ بالا،ص ۱۰۲-۱۰۳)

  • آواز کی آلودگی: فی زمانہ، ہم آواز کی آلودگی سے بھی بہت زیادہ پریشان ہیں۔ اسلام بلند آواز کو سختی سے ناپسند کرتا ہے۔ قرآن اس کو گدھے کی آواز سے تشبیہہ دیتا ہے(لقمان ۳۱:۱۹)۔ اسلام آواز کے معاملے میںبھی اعتدال کا داعی ہے۔ آواز نہ بہت زیادہ بلند ہو اور نہ ہی اتنی دھیمی کہ سنائی نہ دے۔ قرآن اپنی ایک اور آیت میں اہلِ ایمان کو اپنی آواز نبیؐ کے مقابلے میں پست رکھنے کی تاکید کرتا ہے۔(البقرہ ۲:۴۹)

اسلامی عبادات میں بھی اس کا خیال رکھا گیا ہے کہ آواز بہت زیادہ بلند نہ ہونے پائے، مثلاً نمازیں، دن کی نمازیں سّری ہوتی ہیں جب کہ بالعموم دیگر ذرائع سے شور پیدا ہوتا ہے۔ فجر اور عشاء جب کہ شور کم ہوتا ہے اس وقت جہری نماز ہوتی ہے۔ اس کی آواز بھی معتدل رکھی جاتی ہے۔ اسی طرح سے دعا اور ذکر کا بھی معاملہ ہے۔

ماحولیات اور اس کے تحفظ سے متعلق اسلام کی تعلیمات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام ایک جامع نظامِ حیات ہونے کے ناتے ماحول کے تحفظ کے لیے بھی رہنمائی دیتا ہے۔ اگر اسلام کی ان تعلیمات کو سامنے رکھا جائے تو دنیا کو ماحولیاتی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے اور نظامِ کائنات کا توازن بگڑنے نہ پائے۔ آج جس طرح سے کائنات کا ماحولیاتی توازن بگڑ رہا ہے فضائی اور زمینی آلودگی بڑھ رہی ہے، زمین کا درجۂ حرات بڑھ رہا ہے جس سے گلیشیر پگھل رہے ہیں اور  زمین کی زیرین منجمد سطح متاثر ہو رہی ہے، کیمیائی کھادوں کے مسائل روزافزوں ہیں، اس نے گلوبل وارمنگ کی تشویش ناک صورت حال پیدا کردی ہے۔ جنگلات کی کمی واقع ہونے، پٹرول، بجلی اور ایٹمی توانائی کے بے جا استعمال سے کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن اور آکسیجن کا توازن بگڑ کر رہ گیا ہے۔ گرین ہائوس ایفکٹ سے قطبین پر جمی برف پگھلنے لگی ہے جس سے سطح سمندر بلند ہورہی ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی ساحلی شہر، ملک اور آبادیوں کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ بلاشبہہ یہ انسانوں کی اپنے ہاتھوں کی کمائی اور وبال ہے جو خدا اور اس کے بندوں سے بے نیاز ہوکر محض اپنے مفادات اور خواہشات کی تسکین کا نتیجہ ہے جس سے دنیا کو فساد کا سامنا ہے۔

اس تشویش ناک صورت حال کے پیش نظر ماحولیاتی تحفظ کے لیے کئی عالمی معاہدے کیے جارہے ہیں لیکن مغربی ممالک، امریکا، آسٹریلیا وغیرہ جو کہ ۸۰ فی صد کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج اور ماحول کے بگاڑ کے بڑے ذمہ دار ہیں، ان معاہدوں پر عمل درآمد سے اجتناب کر رہے ہیں۔ ان حالات میں مسلمان جو دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے نائب ہونے کی حیثیت سے ان کا فرض ہے کہ ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے نہ صرف یہ کہ اپنا کردار ادا کریں بلکہ ماحولیات سے متعلق اسلام کی تعلیمات کو بڑے پیمانے پر عام کریں۔ اس سے ایک طرف جہاں یہ تاثر دُور ہوگا کہ اسلام جدید مسائل کے لیے رہنمائی نہیں دیتا اور پرانے وقتوں کا نظام ہے، وہاں مادیت، خودغرضی اور نیشنلزم سے بالاتر ہوکر انسانیت کی فلاح کے پیش نظر درپیش جدید مسائل کے حل کے لیے بھی اسلام کے نظامِ فطرت کی طرف ہی رجوع کرنا ہوگا جو بلاامتیاز خطہ و نسل بنی نوع انسان کی فلاح چاہتا ہے۔

(مقالہ نگار اورنگ آباد، مہاراشٹر، بھارت کے مقامی اسکول میں صدر مدرس ہیں اور تحقیق و تصنیف سے وابستہ ہیں۔ کئی کتب کے مصنف ہیں)

ترجیحاتِ دین کا سوال بہت اہم ہے۔ دین کی بعض اساسات ہیں اور بعض کی حیثیت فروع کی ہے۔ جو اہمیت اصول کی ہے وہ فروع کی نہیں ہے، اس لیے کہ فروع اصول کی تابع ہیں اور ان ہی سے نکلتی ہیں۔ ان اساسات ہی کے ذریعے دین کی ترجیحات متعین ہوتی ہیں۔        یہ ترجیحات بدل جائیں تو اس کا امکان ہے کہ اصولِ دین کی طرف تو توجہ کم ہو یا بالکل نہ ہو اور فروعِ دین کی جو حیثیت ہے، اس سے زیادہ ان کو اہمیت دی جانے لگے۔ اس سے دین کا پورا نظام اور اس کا مزاج لازماً متاثر ہو کر رہے گا۔

دعوت و تبلیغ اور اصلاح و تربیت کے سلسلے میں بھی اصول وفروع کی رعایت نہایت ضروری ہے۔ ورنہ ہوسکتا ہے کہ جو قدم پہلے اٹھنا چاہیے، وہ بعد میں اُٹھے اور جو قدم بعد میں اٹھنا چاہیے،  وہ پہلا قدم ہوجائے۔ بالعموم ہوتا یہ ہے کہ ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ دین میں جس بات کو اصل اور اساس کی حیثیت حاصل ہے اس کو مضبوط کرنے سے پہلے فروعِ دین پر سارا زورصرف ہونے لگتا ہے اور ساری بحثیں ان ہی کے گرد گردش کرنے لگتی ہیں۔ یہ ایک غیرفطری طریقہ ہے۔ اس سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے۔

یہاں قرآنِ مجید کی روشنی میں ترجیحاتِ دین کو واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی:

  •  عقائدِ اسلام: مکہ میں قرآن مجید کا تقریباً دو تہائی حصہ نازل ہوا۔ اس میں اصل زور اسلام کے عقائد پر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت، رسالت اور اس کی ضرورت، آخرت اور اس کی تفصیلات زیربحث آئی ہیں۔ ان کے حق میں دلائل دیے گئے ہیں، ان پر جو اعتراضات ہورہے تھے، ان کی تردید کی گئی ہے، اور جو شکوک و شبہات پھیلائے جارہے تھے انھیں رفع کیا گیا ہے۔ یہی عقائد اسلام کی اساس ہیں۔ جب یہ مستحکم ہوگئی تو شریعت کی تفصیلات فراہم کی گئیں جو دراصل ان ہی عقائد کے لازمی تقاضوں کے طور پر سامنے آرہی تھیں۔
  • بندگیِ رب: قرآن مجید نے بتایا کہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے۔ اس پر اسی کا حکم چل رہا ہے۔ وہ ہر آن اس کی تسبیح و تحمید میں لگی ہوئی ہے اور اس کے احکام بجالارہی ہے۔ اس کے اقتدار میں کسی دوسرے کاکوئی دخل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کا خالق و مالک ہے۔ وہ اس کا بندہ اور مخلوق ہے۔ اس کے لیے زندگی کا صحیح ترین راستہ یہ ہے کہ وہ خداے واحد کی عبادت اختیار کرے اور اس کے احکام بجا لائے۔ وہ اگر اس سے انکار کرتا ہے یاعبادت میں کسی دوسرے کو شریک کرتا ہے تو انتہائی غلط راہ پر چلتا ہے اور تباہی کو دعوت دیتا ہے۔ اس سے وہ بچ  نہیں سکتا۔ حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں:

یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍo (اعراف ۷:۵۹) اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے علاوہ تمھارا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ (اس سے انحراف کے نتیجے میں) کہیں تم بڑے دن کے عذاب میں نہ پکڑے جائو۔

یہی ہر پیغمبر کی تعلیم کا بنیادی نکتہ رہا ہے۔ (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو، الاعراف ۷:۶۵، ۷۴، ۸۵)

عبادت دراصل اس بات کا اظہار و اعتراف ہے کہ اللہ تعالیٰ کو انسان اپنا معبود برحق تسلیم کرتا ہے اور اس کے سامنے پوری طرح سر نگوں ہو رہا ہے۔ اس کے ہر حکم کو تسلیم کرنا اور اس کی نافرمانی کو اپنے لیے جائز نہیں تصور کرتا ہے۔ یہ اللہ کے نازل کردہ پورے نظامِ شریعت کو قبول کرنے کا اعلان ہے۔ اگر صحیح معنی میں جذبۂ عبادت پیدا ہوجائے تو احکامِ شریعت کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی۔ اسلام نے دورِ اوّل میں جذبۂ عبادت کو اس قدر اُبھارا اور مضبوط کیا کہ نظامِ شریعت پر عمل مشکل نہیں رہا۔ دل و جان سے اس کی پابندی ہوتی رہی۔

  • اصلاحِ معاشرہ: قرآن مجید میں اللہ کے رسولوں کا اور ان کی دینی جدوجہد کا ذکر کہیں اختصار سے اور کہیں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اس سے وضاحت کے ساتھ یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر پیغمبر نے اپنے زمانے میں ان ہی اساسات پر اصلاً زور دیا اوران ہی کی روشنی میں فکری و عملی اصلاح کی کوشش کی۔ اللہ کے پیغمبر جن قوموں میں آئے ان میں بہت سی سماجی اور اخلاقی خرابیاں موجود تھیں۔ ظلم اور ناانصافی تھی، جان و مال محفوظ نہ تھے اور حقوق پامال ہو رہے تھے۔ اللہ کے پیغمبروں نے بتایا کہ یہ ساری خرابیاں اس لیے ہیں کہ ان فکری اساسات کو تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے جنھیں وہ پیش کر رہے ہیں۔ اگر فرد اور معاشرہ خدا کو اس طرح مانے جس طرح ماننا چاہیے، اس کی ہدایت کو قبول کرے اور آخرت کی بازپُرس کا یقین اُبھر آئے تو پوری زندگی کا رُخ صحیح ہوسکتا ہے اور انسان پر دنیا اور آخرت کی کامیابی کی راہیں کھل سکتی ہیں۔ یہی طریقہ ہے جس سے کسی بھی فساد زدہ معاشرے کی اصلاح کا امکان ہے۔ جب تک اسلام کی اساسات پر ایمان نہ ہو اور وہ دل و دماغ میں پیوست نہ ہوجائیں، سماج میں کسی صالح انقلاب کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
  • حقوق العباد کی اھمیت: قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کے ساتھ انسانوں کے حقوق کو خاص اہمیت دی ہے۔ ان میں سے بعض حقوق کو قانونی درجہ حاصل ہے۔ یہ حقوق اگر ادا نہ ہوں تو انسان کی گرفت ہوگی۔ لیکن بعض حقوق کی حیثیت اخلاقی ہے۔   ان سے ہمدردی اور محبت کے جذبات کا اظہار ہوتا ہے اور تعلقات خوش گوار ہوتے ہیں۔ اس سے قطع نظر قرآن کے نزدیک، خدا، رسولؐ اور آخرت پر ایمان کا لازمی تقاضا ہے کہ انسان دُور و نزدیک کے حق داروں کے حقوق ادا کرے اور اس کے اندر نوعِ انسانی کی خدمت کا جذبہ پایا جائے۔    وہ غریبوں اور محتاجوں کے کام آئے اور ان کی ہر ممکن مدد کرے۔ یہ بات ایمان کے منافی ہے کہ ایک شخص کو تمام حقوق حاصل ہوں، وہ عیش کی زندگی گزارے اور اس کے آس پاس کے لوگ اپنی بنیادی ضروریات تک پوری نہ کرپا رہے ہوں۔ وہ مدد کے محتاج ہوں اور ان کی مدد نہ کی جائے۔ جس انسان کے اندر ہمدردی و غم خواری کے جذبات نہ ہوں اور جو ناداروں اور محتاجوں کے کام    نہ آئے اور ان کے حقوق نہ پہچانے اسے خدا پرست مشکل ہی سے کہا جاسکتا ہے۔

قرآن مجید کی مکی سورتوں میں ایک مختصر سورت ’البلد‘ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی بعض نعمتوں کا ذکر ہے کہ اس نے اسے آنکھیں عطا کیں، زبان دی، ہونٹ دیے، بھلائی اور برائی کے راستے بتا دیے۔ اس کے بعد ارشاد ہے:

فَلاَ اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ o وَمَآ اَدْرٰکَ مَا الْعَقَبَۃُ o فَکُّ رَقَبَۃٍ o اَوْ اِِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ o یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ o اَوْمِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ o ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ o اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ o وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا ھُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ oعَلَیْھِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ o (البلد ۹۰: ۱۱- ۲۰) پس وہ گھاٹی میں داخل نہیں ہوا۔ تمھیں کیا معلوم کہ وہ گھاٹی کیا ہے؟ وہ ہے گردن کو چھڑانا (غلام کو آزاد کرنا) یا بھوک کے دنوں میں کھانا کھلانا قرابت دار یتیم کو یا مسکین کو جو (فاقے کی وجہ سے) خاکِ زمین پر پڑا ہوا ہے۔ پھر ضروری ہے کہ وہ ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنھوں نے صبر اور رحم کی ایک دوسرے کوتاکید کی۔ یہی لوگ دائیں جانب والے ہیں (جن کے دائیں ہاتھ میں ان کا نامۂ اعمال ہوگا) اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ بائیں جانب والے ہیں (جن کا نامۂ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں ہوگا)۔ ان پر آگ ہر طرف سے ہوگی۔

اس مضمون کی آیات قرآنِ مجید میں بہ کثرت موجود ہیں جن سے انسانی حقوق کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے حقوق العباد کو جو مقام دیا ہے، ہماری ترجیحات میں اسے وہ مقام حاصل ہونا چاہیے ورنہ دین کا ناقص تصور اُبھرے گا اور سماج کے لیے اس کی ضرورت اور اہمیت واضح نہ ہوسکے گی۔

  • اعلٰی اخلاق کی ترغیب: قرآن مجید کی بنیادی تعلیمات میں اخلاق کی تعلیم بہت نمایاں ہے۔ اس نے آغاز ہی سے اعلیٰ اخلاق کی ترغیب دی۔ رذیل اخلاقیات کی شدید مذمت کی اور ان سے اجتناب کی تاکید کی ہے۔ اخلاق کا جذبہ اور پاکیزہ اخلاق کا رجحان انسان کی    فطرت میں ہے، لیکن اس پر بعض اوقات پردے پڑ جاتے ہیں۔ جب تک یہ پردے نہ ہٹائے جائیں بے غرض اخلاق کا ظہور نہیں ہوتا۔ قرآن کے نزدیک خدا اور آخرت پر یقین ہی سے صداقت و راست بازی، دیانت و امانت، احترامِ آدمیت، عفت و عصمت، محبت و رافت، تواضع اور خاکساری اور عفو و درگزر جیسی اعلیٰ اخلاقیات اُبھرتی ہیں۔ اگر آدمی کو خداکی ذات پر یقین نہ ہو، اس کی ہدایت سے وہ محروم ہو، اور آخرت کی بازپرس کا اسے اندیشہ نہ ہو تو کسی نہ کسی رُخ سے اور کسی نہ کسی عنوان سے وہ اخلاقی پستی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اگر اس کے اندر کچھ اخلاقی خوبیاں پائی بھی جائیں تو ان سے زیادہ اخلاقی خرابیاں اسے دامن گیر رہتی ہیں، جن سے وہ محفوظ نہیں رہتا۔ افسوس کہ اخلاق کی عظمت اور اہمیت اُمت کی نگاہوں سے اوجھل ہوکر رہ گئی ہے۔ اس کا کوئی اخلاقی امتیاز نہیں رہ گیا ہے، بلکہ دوسری قومیں اپنے اخلاق و کردار میں بعض پہلوئوں سے ممتاز ہیں۔ اُمت کو اخلاقی لحاظ سے اُوپر اٹھانے کی سنجیدہ کوشش بھی نہیں ہو رہی ہے۔ اسلام فرد کی جس طرح تربیت کرتا اور جو پاکیزہ معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے، اس کی اساس میں اخلاق شامل ہے۔ اس کے بغیر اسلامی سیرت اور اسلامی معاشرے کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اخلاق کو اسی حیثیت سے اختیار کرنے اور دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
  • دعوت الی اللّٰہ کا فریضہ: اللہ کے رسولوں کی اوّلین ذمہ داری دعوت و تبلیغ اور اہلِ ایمان کی اصلاح و تربیت رہی ہے۔ دعوت کے ذریعے وہ دین کا ہمہ گیر اور انقلابی تصورِ حیات پیش کرتے ہیں اور جو لوگ اسے قبول کرتے ہیں، ان کے فکروعمل کی اس تصورِ حیات کے تحت تربیت کرتے ہیں۔

اُمت مسلمہ کو بھی یہ دونوں ہی کام انجام دینے ہیں۔ جہاں تک اہلِ ایمان یا اُمت ِمسلمہ کی اصلاح کا تعلق ہے، اس کی طرف علما، صلحا اور مصلحینِ اُمت کی توجہ رہی ہے۔ انھوں نے  تذکیر و تفہیم، وعظ و نصیحت اور تصنیف و تالیف کے ذریعے اسے بگاڑ سے بچانے اور راہِ راست پر قائم رکھنے کی قابلِ قدر کوشش کی ہے اور کر رہے ہیں۔ مدارس و مکاتب اور جامعات کے قیام کے ذریعے بھی یہ مقصد حاصل ہوتا رہا ہے۔ اسی کے ساتھ اُمت کی علمی، معاشی اور سیاسی فلاح کے لیے بھی مسلسل کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ اس سلسلے کے بعض اقدامات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ کوششیں بہرحال اُمت کی مادی اور دنیوی ترقی ہی کے لیے رہی ہیں۔

دعوت و تبلیغ کا میدان بھی بالکل خالی نہیں رہا۔ اس میں کوششیں ہوتی رہی ہیں اور بعض بہت قابلِ قدر بھی ہیں ، لیکن یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کارِ دعوت ہماری ترجیحات میں شامل نہیں رہاہے۔ اس کے بعض پہلوئوں کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے۔ اس سے اس کی اہمیت اور نزاکت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ قرآن مجید نے اُمت کے مقصدِ وجود کو ایک جگہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ (اٰل عمرٰن ۳:۱۱۰) تم خیرِ اُمت ہو جسے لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے نکالا گیا ہے۔ تم معروف کا حکم دیتے اور منکر سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

آیت میں اُخْرِجَتْ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ اَلنَّاسِ کے اندر ہر دور اور ہر خطۂ ارض کے تمام انسان آتے ہیں۔ اس پر ’ل‘ حرفِ جار آیا ہے۔ اس میں جیساکہ اہلِ علم نے بیان کیا ہے، نفع پہنچانے کا تصور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس اُمت کا وجود اس لیے ہے کہ دنیا بھر کے انسانوں کو اس سے فائدہ پہنچے۔ اس فائدے کی شکل بھی آیت میں بتا دی گئی ہے کہ وہ تمام عالم میں ’امر بالمعروف ونہی عن المنکر‘ کا فرض انجام دے۔ معروف و منکر کے الفاظ وسیع معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ علما نے لکھا ہے کہ سب سے بڑا منکر شرک ہے۔ اسلام نے جن نیکیوں کی تعلیم دی ہے، وہ سب معروفات ہیں اور جن برائیوں سے منع کیا ہے، وہ سب منکرات میں آتے ہیں۔ اس طرح دین کے پورے نظام فکروعمل کی دعوت دینا امربالمعروف ہے، اور مخالف دین افکار و نظریات    اور ان پر مبنی طرز ہاے حیات کی کمزوریاں اور خامیاں واضح کرنا اور ان سے بچانے کی کوشش کرنا نہی عن المنکر ہے۔

قرآن مجید میں اُمت کو ’اُمتِ وسط‘ بھی کہا گیا ہے:

وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا (البقرہ ۲:۱۴۳) اسی طرح ہم نے تم کو ’اُمت وسط‘ بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو، اور رسولؐ تم پر گواہ ہو۔

’اُمتِ وسط‘ کے معنی ہیں اعلیٰ و ارفع اُمت یا وہ اُمت جو راہِ اعتدال پر قائم ہے۔ اس کی ذمہ داری یہ بتائی گئی ہے کہ وہ ’شہادت علی الناس‘ کا فرض انجام دے، یعنی انسانوں کے سامنے اسلام کے دینِ حق ہونے کی شہادت دے اور دلائل سے ثابت کرے کہ دنیا و آخرت میں    نجات و فلاح کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ یہ فرض اللہ کے پیغمبر ہر دور میں کماحقہٗ ادا کرتے رہے ہیں۔ آخری رسول حضرت محمدؐ نے بھی اس فرض کو بدرجۂ کمال ادا فرمایا، جس کے نتیجے میں یہ  اُمتِ وسط وجود میں آئی۔ اب یہی فرض اس اُمتِ وسط کو تاقیامت انجام دیتے رہنا ہے۔

قرآن مجید کا حکم ہے کہ جو لوگ اللہ سے اور اس کے دین سے غافل ہیں، انھیں جگایا جائے اور ان تک اللہ کا دین پہنچایا جائے۔ اسی لیے اس کا نزول ہوا ہے:

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّـآ اُنْذِرَ اٰبَآؤُھُمْ فَھُمْ غٰفِلُوْنo (یٰسٓ ۳۶:۶) تاکہ تم اس قوم کو (انجامِ بد) سے ڈرائو جس کے باپ دادا کو ڈرایا نہیں گیا۔ اس لیے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

اس آیت میں خطاب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور اہلِ عرب کے درمیان ’انذار‘ کا حکم ہے، جو زندگی کی غلط راہ پر دوڑے چلے جا رہے تھے اور جس کے بھیانک نتائج سے باخبر کرنے کے لیے کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ یہ صورتِ حال آج بہت سی قوموں کی ہے، جن کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ صدیوں سے ان تک اللہ کا دین نہیں پہنچا ہے اور ان کے درمیان  انذار کا فرض نہیں انجام پایا ہے۔ اب، جب کہ سلسلۂ رسالتؐ منقطع ہوچکا ہے اس اُمت ہی کی   یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا کو اس کی غلط روی کے انجام سے آگاہ کرے اور بتائے کہ اللہ کی کتاب اسی مقصد کے لیے نازل ہوئی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ارشاد فرمایا:

وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَـآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَo (السبا ۳۴:۲۸) ہم نے تو آپ کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ اسے نہیں جانتے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشیر اس معنی میں ہیں کہ اللہ کے نازل کردہ دین کو قبول کرنے پر آپ نے دنیا میں بہتر زندگی اور آخرت میں فلاح و کامرانی کی خوش خبری دی۔ آپ کو نذیر اس پہلو سے کہا گیا ہے کہ غلط فکروعمل اختیار کرنے اور اللہ کے دین کو رد کرنے پر دونوں جہاں کے خسارے سے آپ نے آگاہ کیا اور اس کے بھیانک انجام سے ڈرایا۔

اسی طرح آپؐ کو ساری دنیا کے لیے رحمت قرار دیا گیا ہے:

وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ o (انبیاء ۲۱:۱۰۷) ہم نے تو آپ کو سارے جہاں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ آپؐ  کا وجود، آپؐ  کی رسالت، آپؐ  کا تصورِ حیات، آپؐ  کا نظامِ فکروعمل اور آپؐ  کی سعی و جہد دنیا کے لیے سراسر رحمت ہے۔ اسے رد کرنا اللہ کی رحمت سے خود کو محروم کرنا ہے۔ آج دنیا اس سے ناواقف ہے کہ آپؐ  ساری دنیا کے لیے بشیرونذیر اور رحمۃ للعالمینؐ ہیں۔ اسے دلائل سے ثابت کرنا، اُمت کے فرائض میں سے ہے۔ اس فرض سے غفلت پر اس سے بازپرس ہوگی۔

  • جدید دور کے تقاضے: موجودہ دور میں تبلیغ دین کا فرض مطلوبہ معیار سے انجام دینے کے لیے اس کے ذہنی و فکری رجحان کو سامنے رکھنا ہوگا۔ اس وقت پوری دنیا پر ایک طویل عرصے سے الحاد اور دہریت کی حکومت ہے۔ مغربی قوموں نے، جن کے ہاتھوں میں دنیا کی قیادت ہے، الحاد اور دہریت کو ایک فلسفۂ حیات کے طور پر اس طرح پیش کیا ہے کہ دین اور اس کی اساسی تعلیمات بے معنی ہوکر رہ گئی ہیں۔ انسان کو زندگی کے کسی بھی مرحلے میں، کسی بھی میدان میں اور کسی بھی قدم پر ان کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ نرسری میں جو بچہ داخلہ لیتا ہے، وہ بڑا ہوکر گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن تک تعلیم حاصل کرتا ہے۔ اس سے آگے ریسرچ اور تحقیق کے مرحلے میں بھی پہنچ جاتا ہے، لیکن اس کے سامنے کبھی وحی و رسالت یا آسمانی ہدایت کا سوال نہیں اُبھرتا۔ آج تعلیم، تہذیب، تمدن، معیشت، قانون اور سیاست ہر شعبۂ حیات کا رُخ الحاد نے متعین کیا ہے، جس میں خدا، وحی و رسالت اور آخرت جیسے مابعد الطبیعیاتی نظریات کہیں زیربحث نہیں آتے اور کسی مسئلے کے حل کے لیے ان کی ضرورت نہیں پیش آتی۔ جب تک اس کی ضرورت ثابت نہ کی جائے، موجودہ دور کا رُخ نہیں بدل سکتا۔
  • مکمل نظامِ حیات: دورِ جدید میں مذہب ایک انفرادی معاملہ ہوکر رہ گیاہے۔ اجتماعی امور و معاملات سے اسے بے دخل کر دیا گیا ہے۔ اسلام کو اگر کوئی شخص اپنے عقیدے کے طور پر اختیار کرے اور اپنی نجی زندگی میں اس پر عمل کرے تو شاید کسی کو اعتراض نہ ہو۔ لیکن یہ اجازت کسی کو نہیں ہے کہ اجتماعی امور میں اسلام کی تعلیمات کو اپنائے اور ان کے مطابق اپنے معاملات طے کرے۔ اب یہ ثابت کرنا اُمت کی ذمہ داری ہے کہ اسلام صحیح عقیدہ ہی فراہم نہیں کرتا، بلکہ اس کی بنیاد پرہر شعبۂ حیات کے لیے نہایت فطری اور معقول ہدایات بھی پیش کرتا ہے۔ اس سے زندگی اس بے راہ روی اور بے اعتدالی سے محفوظ رہ سکتی ہے جس میں وہ آج گرفتار ہے اور جس سے نکلنے کی کوئی سبیل اسے نہیں نظرآرہی ہے۔ یہ ایک طویل اور ہمہ جہت عمل ہے۔ اسلام کی سربلندی کے لیے بہرحال اسے انجام دینا ہوگا۔
  • اسلام پر اعتراضات اور اُن کی حقیقت: اسلام پر اعتراضات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ آج تک بعض قدیم اعتراضات دہرائے جاتے ہیں۔ ان میں نئے اعتراضات کا اضافہ بھی ہوتا رہتاہے۔ ان میں بالعموم جارحیت اور اسلام دشمنی صاف نمایاں ہوتی ہے۔ کبھی غیر جانب داری کے انداز میں کہا جاتا ہے کہ اسلام نے اپنے وقت میں مفید خدمات ضرور انجام دی ہیں، لیکن اس کی بہت سی باتیں اصلاح طلب ہیں، وہ آج قابلِ قبول نہیں ہیں۔ اس نے مساوات کی بات تو کی ہے لیکن بعض انسانوں کو جو حقوق دیے ہیں، ان سے بعض دوسرے انسانوں کو محروم رکھا ہے۔ کسی وقت کہا جاتا تھا کہ اسلام اپنی فطری خوبیوں کی وجہ سے نہیں پھیلا، بلکہ تلوار کے زور سے اس کی اشاعت ہوتی رہی ہے۔ اب اسلام کے ساتھ تشدد اور تخریب کو بھی جوڑ دیا گیا ہے کہ اسلام غارت گر امن و امان ہے۔ وہ اپنی صداقت دلائل سے نہیں ثابت کرتا بلکہ طاقت کے ذریعے اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔

اس طرح کے اور بھی اعتراضات ہیں، جن کے ذریعے اسلام کی تصویر مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اس طرف دنیا کی توجہ ہی نہ ہو، لیکن اس میں خیر کا پہلو یہ ہے کہ اس نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ جو اعتراضات کیے جارہے ہیں، ان کا جواب دیا جائے اور جن پہلوئوں سے اسلام سے بدظن کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ،ان پہلوئوں سے مطمئن کیا جائے اور اسلام کی حقانیت ثابت کی جائے۔ اس میں شک نہیں کہ بعض اہلِ علم اس طرف متوجہ ہیں اور مفید خدمت انجام دے رہے ہیں، لیکن کام اتنا بڑا ہے کہ اس کا حق صحیح معنی میں اسی وقت ادا ہوسکتا ہے، جب کہ اس کے لیے پوری ایک جماعت کھڑی ہو، جس میں مختلف صلاحیت کے افراد ہوں، جو منصوبہ بند اور منظم طریقے سے اسلام کا دفاع ہی نہ کرے بلکہ دنیا کے تمام نظریات کے مقابلے میں اس کی برتری ثابت کرے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ترجیحاتِ دین کو سمجھنے اور اس کے مطابق راہِ عمل اختیار کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ (مصنف کی نئی کتاب: دعوت و تربیت، اسلامی نقطۂ نظر سے ایک باب)

مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ قرآنِ مجید ایک عہدآفرین کتاب ہے۔ اس کتاب کے نزول اور پھر اس کی اشاعت کے بعد دنیا وہ نہ رہی، جو اس سے قبل تھی اور نہ پھر کبھی وہ بن سکے گی۔ لیکن یہ دعویٰ تو اُس قوم کا ہے، جو اس کے الہامی اور مِن جانب اللہ ہونے کو بحیثیت نقطۂ آغاز تسلیم کرتی ہے۔ جو لوگ اس بنیادی مقدمے ہی کو تسلیم نہیں کرتے کہ یہ کُل انسانیت کے نام اللہ کا آخری پیغام اور اس کی ہدایت کا غیرمُبدّل ذریعہ ہے، اُن کے لیے اس دعوے کو جانچنے کا کیا ذریعہ ہوسکتا ہے؟

میرے خیال میں اس کے متعدد ذرائع ہوسکتے ہیں، اور مختلف زاویوں سے ہم اس مسئلے کی طرف توجہ کرسکتے ہیں، مثلاً قرآنِ مجید کی اِن پیش گوئیوں ہی کو لیجیے:

لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ (المجادلہ ۵۸:۲۱) میں اور میرا رسولؐ غالب آکر ہی رہیں گے۔

اِنَّـآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ o فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ o اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ o (الکوثر۱۰۸:۱-۳) اس میں کوئی شبہہ نہیں ہے کہ ہم نے تمھیں خیرکثیر عطا کردیا ہے پس تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو، بلاشبہہ تمھارا دشمن ہی بے نشان ہوگا۔

قرآنِ مجید میں یہ دعوے اللہ تعالیٰ سے منسوب ہیں۔ اب سے ۱۴ سو سال پہلے صحراے عرب میں ایک شخص کھڑے ہوکر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ کا پیامبر ہے، اور پوری انسانیت کے لیے ہادی اور راہنما ہے۔ وہ کوئی جمہوری دَور نہیں تھا، جب اختلافِ راے و عقیدہ آسانی سے برداشت کرلیے جاتے ہوں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ چاروں طرف مخالفت کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔ جو کل دوست تھے، آج دشمن ہیں۔ قبائلی نظام میں کسی فرد کی سب سے بڑی قوت اس کے قبیلے کی پشت پناہی ہی ہوتی ہے۔ مگر یہاں تو یہ حال ہے کہ اس دعوت کی سب سے زیادہ مخالفت اور مزاحمت اس کے اپنے قبیلے اور خصوصاً اس کے بااثر سرداروں ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس عہد کے کسی دانا انسان کے ذہن میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ تاریخ اب کسی نئے موڑ پر مڑنے والی ہے۔ اور تو اور آج کا کوئی بڑے سے بڑا مؤرخ یا فلسفیِ تاریخ بھی ابتدا سے تاریخِ اقوام کا گہری نظر سے مطالعہ کرتا ہوا آئے تو چھٹی صدی یا ساتویں صدی عیسوی کی ابتدا میں، اقوامِ عالم میں اُسے کوئی ایسی غیرمعمولی حرکت نہیں دکھائی دے گی، جس کی بنا پر وہ ایک عالم گیر سیاسی انقلاب کی پیش گوئی کرسکے، جس سے صدیوںپرانی سلطنتیں منہدم ہوجائیں، یا کسی ایسے معاشرتی، اخلاقی اور مذہبی انقلاب کا پتا چل سکے، جس نے نہ صرف ہزارہا سال کے انسانی تصورات اور مزعومات کو ہلاکر رکھ دیا، بلکہ انسان کی فکری تاریخ پر ایسے گہرے نقوش چھوڑے کہ اُن کے اثرات اور اثرات کے اثرات نے عالمِ فکر میں ایک زنجیری ردِّعمل برپا کردیا ہے۔ ایسا عمل، جو آج بھی جاری ہے۔

آج سے کوئی پندرہ سو سال قبل جب کسی کتاب نے ایسا دعویٰ کیا، تو سواے اُس شخص کے جو یہ کتاب لے کر آیا، اور اُن چند مٹھی بھر انسانوں کے جو اُس کی صداقت کے قائل ہوگئے تھے، کسی کو اس کا یقین نہ تھا۔ اور یہ عدمِ یقین، تاریخِ اسلام کے ایک مشہور واقعے سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغِ دین کے ابتدائی ایام میں اہلِ قبیلہ کی دعوت کا اہتمام کیا، اور اس کے بعد دعوتِ اسلام پیش کی۔ سب خاموش رہے۔ حضرت علیؓ، جو اس وقت بچے تھے کھڑے ہوئے اور بولے: ’’اگرچہ میری ٹانگیں پتلی ہیں (یعنی میں کمزور ہوں) اور آنکھوں میں آشوب ہے، تاہم میں آپؐ کا ساتھ دوں گا‘‘۔ آپؐ کا چچا ابولہب بولا: ’’یہ چہل سالہ بوڑھا اور یہ لڑکا دنیا کو بدلنے چلے ہیں!!‘‘۱؎

قرآنِ مجید کے انقلابی اثرات کا جائزہ ایک دوسرے انداز میں بھی لیا جاسکتا ہے۔ ایک جگہ کہا گیا ہے:

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ ط قَالُوْا خَیْرًا لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ ط وَ لَدَارُ الْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ ط وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَ o (النحل ۱۶:۳۰) اور جب اُن لوگوں سے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے، کہا جاتا ہے کہ تمھارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں: ’’ہمارے رب نے خیرنازل فرمایا ہے‘‘۔ وہ لوگ جنھوں نے اعمالِ حسنہ کیے ہیں، اُن کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے، اور آخرت کا گھر تو بہتر ہے ہی، اور اہلِ تقویٰ کا ٹھکانا ضرور ہی اچھا ہوگا۔

یہاں قرآنِ مجید میں خود مسلمانوں کے منہ سے اِس کی کُل تعلیمات کے لیے ایک نہایت جامع لفظ ’خیر‘ استعمال کرایا گیا ہے۔ گویا قرآنِ مجید میں جو کچھ تلقین و تعلیم ہے، سراسر خیر ہی خیر ہے۔ اس میں تمام انسانیت کی بھلائی مضمر ہے۔

آیئے ایک نظر حیاتِ انسانی کے اہم انفرادی و اجتماعی اداروں اور نظاموں پر ڈال کردیکھیں کہ قرآنِ مجید کی تعلیمات سے وہ کس طرح اور کس حد تک متاثر ہوئے ہیں۔ اس گفتگو کے لیے ہم نے فی الحال صرف دو اداروں، سیاست و معیشت کو منتخب کیا ہے، ورنہ قرآنِ مجید کے اثرات تو انسانی زندگی پر ہمہ گیر ہیں۔ تصورِ مذہب، اخلاق، علم و تعلیم اور معاشرت پر اس کے اثرات کا کُلی طور پر احاطہ کرلینا تقریباً ناممکن ہے۔

قرآنِ مجید کی تعلیمات کے سیاسی اثرات کو ملاحظہ کرنے کے لیے اس عہد کے فلسفۂ سیاست پر ایک نظر ڈالنا ہوگی:

  •  انسانی تاریخ کے اسٹیج سے پہلے پہل جب پردہ اُٹھتا ہے تو شرقِ اوسط اور مصر کی اقوام منصہ شہود پر نظر آتی ہیں۔ ان تہذیبوں میں جمہوریت یا عوامی حکومت کا کوئی تصور نظر نہیں آتا۔ حکومتیں خاندانی یا موروثی ہوتی تھیں۔ قدیم بابل اور آشوریا میں حکمران کا اقتدار مطلق ہوتا تھا۔ مطلق العنان حکمرانوں کو اپنے عوام کی زندگی اور موت پر کُلی اختیار تھا۔ حکومت کی پالیسی، قانون سازی، اس کے نفاذ کے ادارے، سب انھی کے کنٹرول میں ہوتے تھے۔ اگر کوئی تحدید تھی، تو بعض رسوم ورواج کی، یا طاقت ور قبائلی سرداروں یا اشرافیہ کی بغاوت کے خطرے سے تھی۔ عوام کے کوئی حقوق کہیں نظر نہیں آتے۔ اُن کی قسمت کا دارومدار کلیتاً اس بات پر تھا کہ جو شخص تخت پر قبضہ کرلیتا ہے، وہ ظالم، جابر اور لاپروا ہے، یا اس کے دل میں رحم دلی کی کوئی رمق باقی ہے۔
  •  دنیا میں جمہوریت کا عکس سب سے پہلے ہمیں یونان میں نظر آتا ہے۔ ۷۰۰ قبل مسیح میں ایتھنز میں موروثی بادشاہت کے بجاے بعض اشراف کی حکومت کا بیج پڑا۔ اشرافیہ کے تحت لوگوں نے حقوق طلب کرنے شروع کیے اور آخرکار ۵۰۰ ق م کے لگ بھگ لوگوں نے حکمرانوں کے انتخاب، قانون سازی اور منصفوں کے تقرر کے پورے اختیارات حاصل کرلیے۔ لیکن پھر تیسری صدی قبل مسیح میں مقدونیہ کی طاقت ور بادشاہت کے آگے یونانی جمہوریتیں تاش کے پتّوں کی طرح بکھر گئیں۔
  •  روم میں بھی ابتدائً شہر کے ’اشراف‘ خاندانوں ہی کے ہاتھ میں اقتدارِ کُلی ہوتا تھا، مگر   جوں جوں باہر سے زیادہ لوگ شہر میں آکر آباد ہوتے گئے، حقوق کے لیے چیخ و پکار بڑھتی گئی۔ آخرکار ۵۱۰ قبل مسیح میں عام لوگوں نے تختِ شاہی کو اُلٹ دیا۔ جنگ کے قابل تمام لوگ ہر سال جمع ہوکر دو کونسل (consul) منتخب کرنے لگے۔ مگر یہ تو جمہوریت نہ تھی کہ ’قابلِ جنگ لوگ‘ (comitia curiata)، صرف اُمرا ہی ہوتے تھے۔ یہ گروہ سینیٹ کے ساتھ اقتدارِ اعلیٰ کا شریک ہوتا تھا اور سینیٹ، اشرافیہ کا ایک مختصر تر گروہ تھا جس کے افراد عمربھر کے لیے اس کے رکن ہوا کرتے تھے۔ گو، روم کے عوام نے کئی دفعہ مقبول حکمرانی ’جمہوریت‘ کے قیام کے لیے جدوجہد کی لیکن کسی قابلِ ذکر اور دیرپا کامیابی سے دوچار نہیںہوئے۔ سینیٹر ہی فوج، اُمورِخارجہ اور مالیات کو کنٹرول کرتے تھے۔ دراصل حکمران وہی ہوتے تھے۔

رومی سلطنت کے عروج اور فتوحات کی وسعت کے ساتھ بڑے سپہ سالاروں کا بھی عروج ہوا، جنھوں نے اپنی عسکری قوت کے بل بوتے پر مطلق اقتدار حاصل کرلیا۔ سینیٹ، فطری طور پر اُن سے حسد رکھتی تھی۔ ایسے سب سے بڑے سپہ سالار جولِیس سیزر (۱۴۴-۱۰۰ء) نے سینیٹ کے اقتدار و اختیار کو تقریباً ختم ہی کردیا، اور آخرکار سینیٹ کے ’جمہوریت پسندوں‘ ہی کی سازش سے، جن کا قائد بروٹس تھا، وہ بالآخر قتل کر دیا گیا اور اس طرح سلطنتِ روما سے جمہوریت کا شائبہ تک  ختم ہوگیا، کیوں کہ اس کے بعد مارک انطونی نے اسی طرح اقتدار سنبھال لیا۔

یہ سچ ہے کہ ہماری معلومہ تاریخ میں جمہوریت کا اصول سب سے پہلے یونانیوں نے دنیا کو دیا تھا لیکن یونانی جمہوریت کیا تھی؟ ایتھنز جیسی شہری ریاستوں میں جہاں آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ غلاموں پر مشتمل تھا، صرف آزاد انسانوں ہی کو حق راے دہی اور حقِ عہدہ حاصل تھا، کیوں کہ قانوناً یہی لوگ ’اصل شہری‘ تھے۔ خود ارسطو، جو ’اہلِ دانش کا شہزادہ‘ کہلاتا ہے، اس بات کا قائل تھا کہ بربروں کو غلام بنانا بالکل درست ہے، کیوں کہ وہ ایک کم تر نسل ہیں۔ پھر اس یونانی جمہوریت کے کئی نقائص اور بھی تھے۔ ’براہِ راست جمہوریت‘ ہونے کی بنا پر یہ زیادہ سے زیادہ ایک شہر ہی کے لیے قابلِ عمل ہوسکتی تھی۔ کسی بڑے ملک یا سلطنت میں اس کے نفاذ کا کوئی طریق نہ تھا۔ دوسرے یہ کہ ریاست کے انتظام میں تکنیکی امور، یہاں تک کہ مقدمات کے فیصلے اور انصاف تک، عوامی صوابدید پر چھوڑ دیے گئے تھے۔ چوتھی صدی قبل مسیح جو علم و دانش میں یونان کا عہدِ زریں   شمار ہوتی ہے۔ اس عوامی جمہوریت تلے دَم توڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اسی بنا پر ایتھنز کو فوجی مہمات میں شکست پر شکست ہوتی ہے، اور ’عوامی عدالت‘ کا سامنا کرکے سقراط کو جو پیغمبروں جیسی حکمت و دانش کا امین تھا، زہر کا پیالہ پینا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دَور کے عظیم ترین مفکر، سقراط، افلاطون اور ارسطو اس نظامِ سیاسی سے سخت نالاں اور اس کے زبردست ناقد نظر آتے ہیں۔

بہرحال، یونانی طرز کی جمہوریت، جیسی بھی وہ تھی، نہایت عارضی ثابت ہوئی اور یورپ میں سیاسی اور فکری اقتدار رومیوں کے ہاتھ آیا، تو انھوں نے ایک طرح کی اشرافیہ اور بدترین ملوکیت کا نظامِ حکمرانی اختیار کیا، حتیٰ کہ حکمران سیزر کا نام ہی ’قیصر‘ کی صورت میں بادشاہی کا مترادف بن گیا۔

  •  ایشیا کی حالت اس سے کسی طرح بھی بہتر نہ تھی۔ یہاں کی دو اہم قومیں فارس اور ہند کی تھیں۔ اہلِ فارس کے ہاں کسی جمہوری روایت کی خبر نہیں ملتی۔ وہاں جابر بادشاہوں کے بڑھے ہوئے ظلم وستم پر کبھی کبھی بغاتوں کے شعلے ضرور بھڑکتے ہوئے نظر آتے ہیں، جیسے پانچویں صدی عیسوی (عہدِ ساسانی) میں مزدکیت کا فلسفہ پھیلتا دکھائی دیتا ہے، جس کے بانی مزدک کا خیال تھا کہ معاشرے میں دولت اور ازواج کی اشتمالیت ہونی چاہیے کہ یہ کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہ رہیں، بلکہ ہر ایک کو ان سے استفادے کا حق ہو۔ ظاہر ہے کہ اس تعلیم کا اثر سیاسی، معاشی اور اخلاقی انتشار اور نراج ہی کی شکل میں نکل سکتا تھا۔ خسرو نوشیرواں نے تلوار اور جبر کے زور سے اس عقیدے کو کچلا، تاہم اس وقت تک ہزاروں بچے ایسے پیدا ہوگئے تھے، جن کا نسب متعین کرنا ناممکن ہوگیا تھا، وراثت اور تملیک کیوں کر طے پاتی۔ اب ملوکیت اپنے تمام لوازمات کے ساتھ پھر ایران کا نظامِ سیاسی و معاشی قرار پائی۔
  •  جہاں تک ہندستان کا تعلق ہے، نظامِ حکومت کا جمہوری اصولوں یا سیاسی حقوق سے کوئی دُور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ آریوں نے وسط ایشیا سے تقریباً ۲ ہزار قبل مسیح میں ہندستان میں قدم رکھا تھا۔ قدیم باشندوں کو دُور دراز کے علاقوں اور پہاڑوں، جنگلوں میں دھکیل دیا گیا یا غلام بنالیا گیا۔ اس وقت سے مسلمانوںکی آمد تک ہندستان کئی فکری اور ذہنی انقلابوں سے دوچار ہوا۔ ویدوں کا عہد سیدھا سادا تھا جس میں طاقت ور راجا اور سردار بے داد و ستد (ظلم کے ساتھ) حکومت کرتے تھے۔ معاشرہ چار طبقوں میں منقسم تھا، حکمران کھشتری ہوتے تھے، مذہبی مقتدر طبقہ برہمن، تجارت اور معاش میں سرگرم ویش اور محنت کش، کمترین طبقہ شودر، جن کے چھونے سے بھی اعلیٰ طبقے گریزاں تھے۔ بدھ مت اور جین مت نے بھی جو اس ظالمانہ نظام کے خلاف ایک تحریک کا حصہ کہے جاسکتے تھے، کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہ کی، اور ایک طرح سے ہندومت میں ضم ہوگئے۔ اس طرح ہندستان کے عوام بھی موروثی سیاسی حکمرانی، مذہبی حکمرانی اور معاشی اقتدار کے بدترین نظام کے اسیر رہے۔

غرض دنیا میں کوئی ایسا فلسفہ نہ تھا، جو فردِ واحد یا چند افراد کے ٹولے کے مطلق العنان اقتدار کو چیلنج کرتا، اور اس کے لیے کوئی مؤثر لائحہ عمل مہیا کرتا۔

قرآن کا فلسفۂ سیاست

اس عہد میں قرآنِ مجید نے اعلان کیا اور یہ کتابِ مقدس کا پہلا فقرہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o (الفاتحہ ۱:۱) ’’تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو تمام کائنات کا رب ہے‘‘۔ گویا اقتدارِ اعلیٰ کسی فرد، خاندان یا گروہ کا نہیں، بلکہ اللہ ہی کا حق ہے:

ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہٗ الْمُلْکُ لَآ اِِلٰـہَ اِِلَّا ھُوَ ج (الزمر ۳۹:۶) یہ اللہ ہے، تمھارا رب، اُسی کی حکومت ہے،اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (الزمر ۳۹:۴۴) آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔

پھر قرآن اعلان کرتا ہے کہ اللہ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ، یعنی جانشین بنا دیا ہے:

ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ (الانعام ۶:۱۶۵) وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں اپنا نائب بنایا۔

یہ خیال رہے کہ یہاں پوری نسلِ انسانی سے خطاب ہے، کسی خاص قوم، نسل، یا طبقے سے نہیں۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ کسی اور مروج مذہب یا فلسفۂ سیاسی میں پہلی بار تمام انسانوں کو یہ حق دیا جا رہا ہے کہ وہ زمین پر حقیقی مقتدرِ اعلیٰ کی نیابت کریں۔ اگرچہ یہ اقتدار اعلیٰ، موجودہ لادینی جمہوریت کی طرح مطلق العنان نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے تجویزکردہ اجتماعی نظام کا پابند ہے:

اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ (اعراف ۷:۵۴) آگاہ ہوجائو، تخلیق اور حکم دینا اُسی کے لیے مخصوص ہے (یعنی اُسی ذاتِ پاک کا حق ہے)۔

قرآنِ مجید نے اپنے ماننے والوں کو حکم دیا کہ اپنے اُمور کا تصفیہ باہم مشورے سے کریں، اور اس طرح مطلق العنانی کا خاتمہ کیا۔ حضور اکرمؐ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور اور ہدایت یافتہ تھے، تاہم آپؐ کو بھی ہدایت کی گئی کہ معاملات میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ ضرور کریں:

وَ شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ ( اٰل عمرٰن ۳:۱۵۹) اور دنیا کو بتایا گیا کہ حقیقتاً تو مسلمانوں کے معاملات باہمی مشورے ہی سے طے پاتے ہیں۔

وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ ( الشوریٰ ۴۲:۳۸) اُن کے (یعنی مسلمانوں کے) اُمور باہمی مشورے ہی سے انجام پاتے ہیں۔

اس طرح تاریخ میں پہلی دفعہ مطلق العنانی یا اشرافیہ کی من مانی کا ابطال کیا گیا اور شورائیت کا حکم دیا گیا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ شورائیت کی یہ تلقین ایک مذہب کر رہا ہے، اور مذہب روایتی طور پر ایک ’حاکمانہ مزاج‘ رکھتا ہے، نہ کہ جمہوری۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف اللہ کے رسول بلکہ مدینہ کی پہلی اسلامی ریاست کے سربراہ بھی تھے۔ آپؐ سیاست، جنگ و صلح اور تمام ملکی انتظامات کے سلسلے میں اپنے اصحاب سے مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ غزوئہ اُحد کے موقع پر جب یہ خبر ملی کہ کافروں کا بہت بڑا لشکر پوری جنگی تیاریوں کے ساتھ حملہ آور ہونے آرہا ہے، تو آپؐ کی راے یہ تھی کہ مدینہ ہی میں رہتے ہوئے مقابلہ کیا جائے، مگر آپؐ نے صحابہ کی راے کو ترجیح دی، اگرچہ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کا بہت نقصان ہوا اور بہت سی قیمتی جانیں گئیں۔

آپؐ کے بعد مسلمانوں نے سربراہِ حکومت کا انتخاب بھی شورائی طریق پر کیا، اور ’خلیفہ‘ (جو قرآنِ مجید کی اصطلاح کے مطابق اللہ کی زمین پر اللہ کے خلفا(جانشینوں) کا نمایندہ ہوتا ہے) کے انتخاب کے لیے بیعت کا طریق رائج ہوا۔ بیعت دراصل راے دہی ہی کی ایک صورت ہے، اور کوئی شخص قانونی طور پر مسلمانوں کا امیر نہیں بن سکتا، جب تک مسلمانوں کی اکثریت اس کے انتخاب کے حق میں نہ ہو۔ راے دہی کے جدید طریقے، ووٹ ڈالنا اور خفیہ راے شماری___ دراصل اسی اصولِ شورائیت و بیعت کے نفاذ کی جدید صورتیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسلام کے    قرنِ اوّل میں اِن طریقوں کا استعمال ممکن نہ تھا۔

جدید مغربی جمھوریت

مغرب میں سیاسی حقوق کا شہرہ ۱۳ویں صدی عیسوی سے ہوتا ہے، یعنی قرآنِ مجید کی آمد کے ۷سو سال بعد۔ جدید مغربی جمہوریت اگرچہ زیادہ ’جمہوری‘ نظر آتی ہے، کہ وہ اقتدارِ اعلیٰ کلیتاً عوام کو عطا کرتی ہے، مگر بڑی حد تک یہ محض کاغذ پر ایک رسمی دعویٰ ہے۔ ۱۲۱۵ء میں انگلستان کے بادشاہ جان کو کچھ نوابوں نے مجبور کیاکہ وہ حقوق کی ’عظیم دستاویز‘___ ’میگناکارٹا‘پر دستخط کردے۔ لیکن سچ پوچھیے تو اب تک دنیا میں کسی ملک میں عوام کو حقیقی معنوں میں اقتدار نصیب نہیں ہوا ہے۔ یورپ میں نظریۂ جمہوریت کے متوازی عہدِ نوآبادیات شروع ہوا۔ فرانس اور برطانیہ جیسی اقوام نے جو خود کو دورِ جدید میں جمہوریت و حریت کی علَم بردار کہتی ہیں، براعظم ایشیا، افریقہ اور آسٹریلیا میں اپنی نوآبادیات قائم کیں۔ وہاں کے اصل باشندوں کے حقوقِ ملکیت، زمین و وسائل، راے دہی اور حق آزادی کو پامال کیا، بلکہ تسلیم ہی نہ کیا۔ حد تو یہ ہے کہ بعض علاقوں سے اصل باشندوں کا تقریباً صفایا ہی کر دیا گیا، جیسے شمالی امریکا سے سرخ ہندی (ریڈ انڈین)اور آسٹریلیا سے وہاں کے قدیم باشندے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کس سیاسی نظریے کی بنیاد پر ہوا؟ ۲۰ویں صدی کے نصف آخر میں جن نوآبادیاتی قوتوں نے اپنے مقبوضات کو چھوڑا ہے،تو پھر برہنہ سیاسی اقتدار کے بجاے ایک نئی قسم کا سیاسی و اقتصادی غلبہ ان نوآزاد مملکتوں پر مسلط کر دیا۔ یہ جدید نوآبادیاتی نظام (neo-colonialism) استحصال اور لُوٹ مار کی ایک جدید ’خوب صورت‘ شکل ہے۔ نام نہاد آزادی حاصل کرنے والے یہ ممالک اپنے آقا ملکوں کے قرض، تکنیکی مہارت اور توازنِ ادایگی کے  نہ ختم ہونے والے چکر میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔

پھر جن ملکوں میں یہ جمہوریت پروان چڑھی ہے، وہاں بھی حریت و اقتدار، حقیقی سے زیادہ سطحی ہے۔ جدید ریاستوں میں بھی سربراہِ مملکت، عسکری قیادت اور مقتدرہ کو عدالت میں جواب دہی کے لیے نہیں گھسیٹا جاسکتا، جب کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقتدار کے عروج میں اپنی پشتِ مبارک ایک دعوے دار کے لیے کھول دی تھی کہ وہ ایک قمچی کا بدلہ لے لے، اور کسی کو کوئی دعویٰ ہو تو آپؐ مداوا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حضرت عمرؓ (سربراہِ مملکتِ اسلامیہ) برسرِمنبر اس اعتراض کا جواب دیتے ہیں کہ جو کپڑے تقسیم کیے گئے تھے، وہ اتنے چھوٹے تھے کہ آپ کی قمیص نہ بن سکتی تھی، آپ نے کیسے بنالی؟ فرمایا: میرے بیٹے نے اپنا کپڑا مجھے دے دیا تھا۔

مغرب میں ’جمہوریت‘ کے عروج کے ساتھ صنعتی ترقی شروع ہوئی۔ اس کے نتیجے میں بڑی بڑی صنعتیں سلطنتیں (industrial empires) اور کارپوریشنیں وجود میں آئیں۔ قومی رقابتوں اور اُن کے باہمی تصادم کے خطرے اور نتیجے کے طور پر ہول ناک عسکری قوتیں قائم   کرنا ناگزیر ہوگیا۔ اور ان عسکری قوتوں کے لیے سامانِ حرب بھی لازم تھا۔ غرض صنعت کاروں، سرمایہ داروں، مقتدرہ اور سپہ سالاروں کی ٹولیوں نے جمہوریت کے پردے میں ناموسِ انسانیت کی بے حُرمتی کا ایک نیا اسلوب اور کھیل شروع کیا، جو اَب بھی جاری ہے۔ عراق اور افغانستان پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کی یلغار اس کی تازہ مثال ہے    ؎

دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پاے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری

(بانگِ درا)

معاشی نظریات کا تاریخی پس منظر

دولت کی منصفانہ تقسیم کا مسئلہ، انسان کو درپیش اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ نزولِ قرآن کا پس منظر ملاحظہ کیجیے، تو معلوم ہوگا کہ اس طرف توجہ شاذو نادر ہی کی گئی تھی۔ جہاں تک افلاطون کا تعلق ہے، اپنی ’جمہوریہ‘ میں وہ صرف ’حکمران فلاسفہ‘ ہی کے درمیان اشتمالیت اور    نفیِ ملکیت کی تلقین کرتا ہے۔ بجا طور پر اس کا خیال ہے کہ مال و اسباب کی ہوس ہی سیاسی فساد اور مظالم کا باعث بنتی ہے، مگر یہ تو پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر دولت مند اور باوسائل طبقے ہی ہوسِ اقتدار میں مبتلا ہوجائیں، تو انھیں حکومت پر قبضہ کرلینے سے روکنے والی چیز کیا ہوگی؟جہاں تک قدیم ایران کے مُزدک کا تعلق ہے، اس کی تعلیمات کے منتشر اجزا ہی ہم تک پہنچے ہیں اور اُن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی تعلیمات پر عمل سے مزاج اور انتشار ہی کا راستہ کھل سکتا ہے۔

انسانی فکر ی تاریخ میں قرآن سے پہلے اِن دو افکار سے پہلے کہیں یہ نظر نہیں آتا کہ دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے کوئی نظام دیا گیا ہو، جس سے معاشرے میں مفاسد کا قلع قمع ہو۔ ظلم،   بے انصافی اور استحصال کا خاتمہ ہو، اور تمام انسانوں کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کا انتظام، معاشرہ یا حکومت خود اپنے ذمّے لے لے۔ قرآنِ مجید نے جو اسلامی نظامِ معاش تجویز کیا ہے۔ اس سے قبل دنیا کے تمام معاشروں میں اقتصادی نظام سخت غیرمتوازن نظر آتے ہیں۔ ایک طرف تو پیدایشِ دولت اور دولت جمع کرنے پر کوئی پابندی نہیں تھی، دولت کمانے کے سلسلے میں جائز و ناجائز کی کوئی تفریق نہ تھی۔ اِسی طرح اُسے خرچ کرنے پر بھی کوئی پابندیاں نہ تھیں، دوسری طرف ملوکِ جابر اور سردار، جہاں اور جس طرح چاہتے اپنی رعایا کی دولت پر قبضہ کرلیتے۔ پیداوارِ دولت کا بنیادی ذریعہ، یعنی ’زمین‘ انھی کی ذاتی ملکیت ہوتا تھا۔ بعض معاشروں میں تو ستم بالاے ستم یہ تھا کہ معاشرے کو ایسے موروثی طبقات میں تقسیم کر دیا گیا تھا کہ بعض افراد اور اُن کی اولاد کا مستقبل کبھی معاشی طور پر خوش آیند ہو ہی نہیں سکتا تھا، جیسے قدیم ہندو معاشرے کے شودر۔ اس کے برخلاف دوسرے طبقات کو غیرمعمولی معاشی فوائد سے متمتع ہونے کا حق دار بنا دیا گیا تھا۔

قرآن کا معاشی فلسفہ

قرآنِ مجید نے ان تمام مفاسد کے انسداد کی تدبیر کے لیے دنیا کو ایک نیا معاشی نظام دیا۔ اگر آپ دولت کی پیدایش کے عوامل پر نظر ڈالیں تو ان میں دو عوامل نمایاں نظر آئیں گے: ۱-وسائلِ پیداوار ۲- محنت۔ آج معاشیات میں دو مزید عوامل، سرمایہ اور انتظام گنائے جاتے ہیں، مگر یہ بھی درحقیقت اوّل الذکر دو عوامل ہی کے تحت آسکتے ہیں۔

جہاں تک وسائلِ پیداوار کا تعلق ہے (جن کو کلاسیکی معاشیات میں ’زمین‘ کے عنوان کے تحت گفتگو کی جاتی ہے، اور اس میں زمین کے علاوہ سمندر اور آبی وسائل، جنگلات، معدنیات اور ہر طرح کے عطیاتِ قدرت شامل ہیں) قرآنِ مجید کے بارے میں واضح اعلان کرتا ہے:

وَ لِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ( اٰل عمرٰن ۳:۱۸۰، الحدید ۵۷:۱۰) آسمان اور زمین اللہ ہی کی ملکیت ہیں۔

اَلَآ اِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ(یونس ۱۰:۵۵) یاد رکھو، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے،وہ اللہ ہی کی ملکیت ہے۔

چوں کہ وسائلِ پیداوار اپنی آخری تحلیل میں زمین ہی سے حاصل ہوتے ہیں، اس لیے قرآن مجید اُن کے لیے ’ارض‘ استعمال کرتا ہے، کیوں کہ انسان اپنی محنت سے جو بھی دولت حاصل کرتا ہے، وہ ’زمین‘ ہی سے آتی ہے، اور اگر کائنات کے دوسرے گوشوں(آفتاب) سے بھی آئے تو ’سموات‘ کی اصطلاح اسے بھی احاطہ کرلیتی ہے۔

جب دولت کا مصدر (source) فی الواقع اللہ ہی کی ملکیت ہے، تو اس پر انسان کو مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوسکتے۔ دراصل جب انسان کو زمین پر اللہ کا خلیفہ یانائب کہا گیا ہے تو اس کا مطلب ہی یہ ہے کہ زمین پر اس کا اختیار مالکانہ نہیں، بلکہ ایک امانت دار ہی کا ہوسکتا ہے۔ زمین پر اللہ کی نیابت کوئی انفرادی معاملہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی تصور ہے، یعنی بحیثیت کُل۔ پوری انسانیت خلیفۃ اللّٰہ فی الارض ہے۔ جدید لادینی تصورِ سیاست میں چونکہ اللہ کے تصور کو خارج از بحث رکھا جاتا ہے اس لیے اس میں اللہ کی جگہ ’ریاست‘ لے لیتی ہے۔ یوں زمین اور سارے وسائلِ پیداوار دراصل ریاست ہی کی ملکیت قرار پاتے ہیں، یہ اور بات ہے کہ ریاست جن افراد یا اداروں کی ملکیت میں انھیں دے دیتی ہے، وہ اس پر مالکانہ تصرف کے مختار قرار پاتے ہیں۔

اگر صورتِ حال ایسی ہو تو ظاہر ہے کہ ’زمین‘ سے حاصل ہونے والی پیداوار پر انسان کا حق نہایت محدود معنوں ہی میں ملکیت قرار دیا جاسکتا ہے۔ اسلام کے نزدیک وہ دراصل ایک امانت ہے، اور امانت پر امین کا کُلی اختیار نہیں ہوتا۔ اُس کے لیے لازم ہوتا ہے کہ اصل مالکِ امانت کے منشا کے مطابق ہی اُسے استعمال کرے۔

اس نکتے کو قرآنِ مجید نے متعدد مقامات پر نہایت وضاحت سے بیان کیا ہے:

اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ o ئَ اَنْتُمْ تَـزْرَعُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ o لَوْ نَشَآئُ لَجَعَلْنٰہُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَکَّھُوْنَ o اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ o بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ o اَفَرَاَیْتُمُ الْمَآئَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ o ئَ اَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ o لَوْ نَشَآئُ جَعَلْنٰہُ اُجَاجًا فَلَوْلاَ تَشْکُرُوْنَ o اَفَرَاَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ o ئَ اَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَھَا اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ o (الواقعۃ ۵۶:۶۳-۷۲) ذرا اُس کھیتی کو تو دیکھو جس کی تم کاشت کرتے ہو، کیا تم نے اُس (کے بیج) کو اُگایا، یا اُگانے والے ہم ہیں۔ اگر ہم چاہتے تو اُسے بھوسے جیسا بنا دیتے، اور تم ہاتھ ملتے رہ جاتے (اور کہتے) دراصل ہمیں دھوکا ہوا (کہ ہم اُسے اپنی محنت کا ثمرہ سمجھ رہے تھے)۔ فی الواقع ہم نامراد ہیں۔ پھر ذرا اُس پانی کو تو دیکھو جسے تم پیتے ہو۔ کیا تم اُسے بادل سے اُتارتے ہو، یا برسانے والے ہم ہیں۔ اگر ہم چاہتے تو اُسے کھاری ہی بنا لیتے۔ تو تم اس کا شکریہ ادا کیوں نہیں کرے؟ ذرا اُس آگ کو تو دیکھو جسے تم روشن کرتے ہو۔ کیا تم نے اُس کا شجر اُگایا ہے، یا اُگانے والے ہم ہیں۔

اقبال نے قرآنِ مجید کے اس فلسفۂ ملکیت کو اپنی نظم الارض لِلّٰہ میں یوں بیان کیا ہے:

پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون؟
کون دریائوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب؟

کون لایا کھینچ کر پچھّم سے بادِ سازگار؟
خاک یہ کس کی ہے؟ کس کا ہے یہ نورِ آفتاب؟

کس نے بھر دی موتیوں سے خوشۂ گندم کی جیب؟
موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خوے انقلاب؟

دِہ خدایا! یہ زمیں تیری نہیں، تیری نہیں
تیرے آبا کی نہیں ، تیری نہیں ، میری نہیں

(بالِ جبریل)

اب، چوںکہ جدید سیکولر ریاستوں میں اصل مالکِ زمین عوام ہیں، اس لیے اللہ کی جگہ عوام یعنی ریاست نے لے لی ہے، اور سارے وسائل اپنے آخری تجزیے میں ریاست کی ملکیت متصور ہوتے ہیں، اور اس لیے انھیں اُن کے مفاد ہی کے لیے استعمال کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

پیدایشِ دولت کا دوسرا اہم عامل ’محنت‘ کا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمام انسان اپنی صلاحیتوں اور کارکردگی میں یکساں نہیں ہوتے، لیکن اگر کوئی بہتر صلاحیت رکھتا ہے، تو یہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ودیعت ہے، اور محض اس بنا پر وہ کسی قدر زائد کا حق دار نہیں۔ ہاں، محنت کی کمی بیشی کی بنا پر معیشت میں فرق ہوسکتا ہے، مگر ظاہر ہے کہ یہ فرق ایک اور ایک ہزار یا لاکھوں کروڑوں کا نہیں ہوسکتا، جیساکہ آج کے سرمایہ دارانہ نظام اور ’ بے روک معیشت‘ میں ہم دیکھتے ہیں۔ اسلام نے قرآنی تعلیمات کی بنا پر اس فضیلت ِ ذہنی وجسمانی کی بناپر ایک گروہ کو دوسرے گروہ کا استحصال کرنے اور اُسے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے آلۂ کار بنانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر اپنے بعض بندوں کو زائد رزق کے حصول کے مواقع دیتا ہے تو امین کی حیثیت سے ان کا فرض ہے کہ اُسے اپنے نسبتاً کم خوش قسمت بنی نوع پر خرچ کریں؟

وَ اللّٰہُ فَضَّلَ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِھِمْ عَلٰی مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَھُمْ فِیْہِ سَوَآئٌ اَفَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَo (النحل ۱۶:۷۱) اللہ تعالیٰ نے روزی میں تم میں سے بعض کو بعض پر برتری دی ہے، تو جنھیں زیادہ دیا گیا ہے، وہ اپنا رزق اُن لوگوں کو نہیں لوٹا دیتے جو اُن کے زیردست ہیں، تاکہ وہ باہم مساوی ہوجائیں تو کیا وہ اللہ کی اس (نعمت) کا انکار کر رہے ہیں؟

یہاں ایک نکتہ قابلِ غور یہ ہے کہ بِرَآدِّیْ رِزْقِھِمْ یعنی ’’اپنے رزق کو لوٹانے والے‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، اور لوٹائی وہ چیز جاتی ہے جس کے ہم حقیقی مالک نہ ہوں۔ اسی طرح ایک حدیث میں زکوٰۃ کی بابت ارشاد ہوتا ہے کہ یہ امیروں سے لے کر غریبوں کو لوٹائی جاتی ہے۔ گویا معاشرے کے پس ماندہ طبقوں کی امداد کے لیے اہلِ ثروت جو دیںگے وہ بھیک یا خیرات نہیں ہوگی، بلکہ محتاجوں کا حق ہوگا۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کے نزدیک ضرورت سے زائد تمام دولت معاشرے کے پس ماندہ طبقے کا حق ہے:

یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ (البقرہ ۲: ۲۱۹) لوگ آپؐ سے پوچھتے ہیں کہ ہم (اللہ کی راہ میں) کیا خرچ کریں؟ کہہ دیجیے، وہ جو ضرورت سے زائد ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ یہ سورئہ بقرہ کی ایک آیت ہے، اور زمانۂ نزول کے اعتبار سے آپؐ کی دی ہوئی ہدایات میں سے آخری ہدایتوں میں سے ہے۔

قرآنِ مجید کا تصورِ معیشت و ریاست خالصتاً فلاحی یعنی welfare کا ہے۔ وہ نہ صرف سرمایہ دارانہ استحصال کو روکتا ہے، بلکہ زر کے جمع کیے جانے والے اور اُسے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے پر وعید بھی سناتا ہے:

وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَ الْفِضَّۃَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ o یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُھُمْ وَ جُنُوْبُھُمْ وَ ظُھُوْرُھُمْ ط ھٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنo (التوبۃ ۹:۳۴۔۳۵) وہ لوگ جو سونا چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں، اور انھیں اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، اُنھیں ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔ وہ ایسا دن ہوگا، جب انھیں جہنم کی آگ میں پگھلایا جائے گا، پھر اُن سے ان کے پہلو اور کھالیں داغی جائیں گی۔ یہ ہے جو تم اپنے لیے جمع کرکے رکھتے تھے، تو اپنے اس جمع کرنے کا مزا چکھو۔

اس طرح قرآنِ مجید معاشرے کے پس ماندہ طبقوں پر خرچ کرنے کو محض ایک نفل عبادت اور ’ثواب کا کام‘ نہیں بنا دیتا، بلکہ اِسے ایک فرض قرار دیتا ہے، جس کے سلسلے میں دنیا میں احکام ہیں اور آخرت میں محاسبہ۔

دورِ جدید

نظامِ سرمایہ داری کے مظالم اور تکالیف کا مداوا کرنے کے لیے مغرب میں جتنی بھی تحریکیں شروع ہوئیں، اُن کی ابتدا فرانس اور جرمنی میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہ امر قابلِ غور ہے کہ یورپ میں فرانس اور جرمنی ہی اوّلاً عربوں اور اسلام سے متاثر ہوئے تھے۔ جرمن فلسفی ایمانوئل کانٹ کو اخلاقی تعلیمات میں اسلام کی چھاپ نہایت واضح نظر آتی ہے۔ قدامت پسند چرچ کے ناقدین اور حریت اور شرفِ انسانی کے علَم بردار اگرچہ کسی مذہب کا نام لینے سے گریزاں رہے، لیکن ان کی بوجھ ہٹانے والی اور زنجیروں کو کاٹنے والی تحریروں میں قرآن کا رنگ جھلکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس ضمن میں جو نظام تجویز کیے گئے ان کا نقطۂ منتہا کارل مارکس اور اینجلز کی Manifesto اور اوّل الذکر کی عہدآفریں کتاب سرمایہ (Capital) ہے جو ۱۸۶۷ء میں لکھی گئی تھی۔ ان کی تحریر و تحریک کے نتیجے میں ۱۹۱۷ء کا اشتراکی انقلاب روس آیا، جو بعد میں مشرقی یورپ کے کئی ملکوں اور مشرقِ بعید چین تک پھیل گیا، اور دنیا کی ایک موثر سیاسی و معاشی قوت بن گیا۔ مارکس اور اینجلز نے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں وجود میں آنے والے ظالمانہ نظام کی چکی میں پِسنے والے طبقوں کو للکارا: ’’دنیا کے محنت کشو! متحد ہوجائو، تمھارے پاس گِنوانے کے لیے سواے زنجیروں کے اور کچھ نہیں ہے‘‘۔ لیکن ۱۰۰ سال سے بھی کم عرصے میں اس انقلابی تجربے کی عملی تعبیر نے روس میں بدترین آمریت اور تاریخ کے دہشت ناک ترین ادوار میں سے ایک کو جنم دیا۔ اس نظام نے اپنے زیراثر افراد کی آزادیاں اخلاق اور بلند اقدار چھین لیے۔ اکثریت کو پست حیوانی سطح پر پہنچا دیا۔ جسمانی احتیاجات کی تو ضمانت دے دی گئی، لیکن وہ مقام چھین لیا گیا، جو انسان کو حقیقی شرف عطا کرتا ہے۔

تاہم، اس تحریک اور نظام کے ردِّعمل اورتعامل کے نتیجے میں مغرب کے بے قید سرمایہ دارانہ نظام میں تھوڑی سنجیدگی اور ذمہ داری کا احساس بھی پیدا ہوا۔ مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کے لیے قانونی تحفظات مہیا کیے گئے، ان کی بہتر زندگی، صحت اور آسایش کی طرف توجہ ہوئی اوربہت سے ملکوں میں بے لگام معیشت پر کچھ پابندیاں عائد ہوئیں۔

مشرق کی طرف نظر ڈالیں تو بلاشبہہ ابتدائی اسلامی دورِ حکومت کے بعد بادشاہوں اور  نام نہاد ’خلفا‘ کا دَور کسی طرح بھی ظلم و استحصال سے پاک مثالی عہد قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن اُس وقت بھی، جب خلافتِ اسلامی زوال پذیر ہوکر ملوکیت کی شکل اختیار کرچکی تھی مسلمانوں کے   ضمیر سے حقوقِ انسانی، عدلِ عمرانی اور معاشی انصاف کے قرآنی تصورات کو ہٹایا نہیں جاسکا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عباسی حکمران مامون کے عہد میں بھی امام ابوحنیفہ کے تلمیذ امام ابویوسف جو ’کتاب الخراج‘ تصنیف کرتے ہیں، اس میں عوام کے سیاسی اور معاشی حقوق کی نہایت شعوری تلقین ہے، حالانکہ یہ ایک نسلی ملوکیت کا دَور تھا، اور خلیفہ، خلیفہ نہیں بلکہ موروثی بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ اس عہد میں قرطبہ، طلیطلہ، سیوائل اور غرناطہ کے مسلم مدرسوں میں عیسائی طلبہ اور علما کا استفادے کے لیے آنا اور علومِ اسلامی کی خوشہ چینی ایک تاریخی حقیقت ہے، جس میں کسی شبہے کی گنجایش نہیں ہے۔ تعلیماتِ قرآنی کے دُھندلے ہوجانے، اور عہدِاوّل سے بُعد کے باوجود ۱۱ویں اور ۱۲ویں صدی عیسوی میں مسلم فکر وعلوم کے اِن اداروں سے اہلِ مغرب کا متاثر ہونا بالکل فطری تھا۔ ’ہسپانوی اسلام‘ کے ایک مؤرخ نے اُس عہد کے ایک عیسائی مفکر کو یوں نوحہ زن پایا ہے:

میرے عیسائی دوست، عربوں کی شاعری اور داستانوں ہی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ وہ دین محمدیؐ کے اہلِ دینیات اور فلاسفہ کی کتابوں کو زیرمطالعہ رکھتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ ان کا اِبطال کریں، بلکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اعلیٰ درجے کا عربی اسلوب اختیار کرلیں۔ افسوس! نوجوان عیسائی، جو اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے ممتاز ہیں، سواے عربی کے کسی اور زبان اور ادب سے نا آشنا ہیں۔ وہ عربی کتابیں نہایت ذوق و انہماک سے پڑھتے اور ان کا مطالعہ کرتے ہیں۔ زرِ کثیر صَرف کر کے ان کے پورے کے پورے کتب خانے بنا لیتے ہیں۔ ہر جگہ وہ عرب داستانوں کے گیت گاتے نظر آتے ہیں۔۳؎

ہمارے لیے یہ تو ممکن نہیں کہ اُن معاشی محرکات اور اصلاحات کا، جو آج کی دنیا میں مثالیہ بن چکی ہیں براہِ راست قرآن کی اسلامی تعلیمات سے سراغ لگاسکیں، تاہم یہ تو ثابت شدہ امر ہے کہ یورپ میں نشاَتِ ثانیہ اور تحریکِ اصلاح، مسلم فکر کے زیراثر ہوئی تھی اور احیا العلوم کی یہی حرکت آخرکار دورِ جدید کی پیدایش کا باعث ہوئی اور فلاحی ریاست (Welfare State) کا تصور تو خالصتاً اسلامی تصور ہے، کیوں کہ ایسے کسی تصور کا سراغ یورپ اور ایشیا کے کسی اور فلسفے میں نہیں تھا، جس نے دورِ جدید کی تشکیل میں حصہ لیا ہو۔ یہ توجدید دنیا کی بدقسمتی ہے کہ اُصولاً تو وہ اس تصورِ ریاست و معیشت کو اپنانے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن عملاً اس سے گریزاں ہے۔

حواشی

۱-  شبلی نعمانی: سیرت النبیؐ، جلد ۱، ص ۲۱۱۔ بعض نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، تاہم صورتِ حال یوں ہی تھی کہ کمزور اور ’بے حقیقت‘ لوگوں ہی نے دعوت کو قبول کیا تھا، اور اہلِ اقتدار اور بااثر لوگوں نے نہ صرف اِسے رد کیا تھا، بلکہ سخت مخالفت اور مزاحمت کی تھی۔

۲-  جدید معاشیات اور انتظامِ کاروبار کی ایک معروف (دل چسپ/ مضحکہ خیز؟) اصطلاح Human Resource ، یعنی انسانی وسیلہ ہے۔ گویا قدرتی وسائل (Natural Resoruces) معدنیات، تیل، جنگل اور زمین اور پانی کی طرح ’انسان‘ بھی ایک وسیلۂ پیدایشِ دولت ہے۔ جرمن مفکر کانٹ نے کہا تھا کہ انسان (انسانیت) کو ایک غایت سمجھا جائے، نہ کہ ایک ذریعہ۔ اور قرآن کہتا ہے: ’’ہم نے بنی آدم کو ’کرامت‘ (عزت، بزرگی، عظمت) عطا کی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی جان کو قیمتی ترین قرار دیا۔

۳-  بحوالہ R. Dozy: Spanish Islam, 1953, New York, p 268, Will Durant: The Age of Faith, 1950, N.Y. p 300

 

اس وقت ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں اس نے سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں غیرمعمولی ترقی کی ہے۔ اتنی ترقی کہ ایک صدی قبل شاید اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل تھا۔ اس کے نتیجے میں بہت سی مادی دشواریوں پر قابو پالیا گیا ہے۔ مختلف قسم کی آسانیاں اور سہولتیں وجود میں آئی ہیں اور دنیا زیادہ پرکشش ہوگئی ہے۔ آمد و رفت کے تیز رفتار ذرائع کی وجہ سے مسافتیں کم ہوگئی ہیں، خیالات کی ترسیل اور ابلاغ آسان ہوگیا ہے، جو معلومات چھوٹے سے دائرے میں محصور ہوتی تھیں وہ عام ہو رہی ہیں۔ نشر و اشاعت ایک وسیع انڈسٹری کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ جو چیز چھپتی ہے وہ گوشے گوشے میں پھیل جاتی ہے۔ میڈیا اتنا طاقت ور ہے کہ ہر چھوٹے بڑے واقعے کو دنیا کے سامنے لے آتا ہے اور اس پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔ معیشت بہتر ہوئی ہے، پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، خوش حالی آئی ہے، معیار زندگی بلند ہوا ہے، صحت اور تندرستی کی طرف توجہ ہے۔ امراض کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ طبی سہولتیں فراہم ہیں، اوسط عمر میں اضافہ ہوا ہے۔ ان سب باتوں کے مظاہر ہر طرف دیکھے جا رہے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اس ترقی کا پورا فائدہ اصلاً ایک چھوٹے سے طبقے ہی کو حاصل ہے، لیکن عام آدمی بھی کسی نہ کسی درجے میں اس سے فیض یاب ہو رہا ہے۔

یہ آج کی سائنسی ترقی اور اس کے فوائد اور ثمرات کا حال ہے۔ دوسری طرف سماجی، معاشرتی اور سیاسی سطح پر پوری دنیا زوال اور پستی کی شکار ہے۔ اس سے نکلنے کی کوئی راہ اسے دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ موجودہ دور انسان کے بعض بنیادی حقوق کو تسلیم کرتا ہے، ان میں زندہ رہنے، عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے، وسائل حیات سے بلاامتیاز فائدہ اٹھانے، عقیدہ اور مذہب پر عمل کرنے، اظہارِ خیال اور عمل کی آزادی جیسے حقوق شامل ہیں۔ یہ حقوق قانوناً تو حاصل ہیں لیکن عملاً پامال ہو رہے ہیں۔ عام آدمی ان کی حفاظت نہیں کر پا رہا ہے۔ عدل و انصاف اور قانون کی حکم رانی کا ہر طرف چرچا ہے، لیکن ظلم و زیادتی کی حکومت ہے اور عدل و انصاف کا حصول آسان نہیں رہ گیا ہے، انسان فطری طور پر چاہتا ہے کہ پُرسکون اور امن و امان کی زندگی گزارے، لیکن فتنہ و فساد اور اضطراب کی فضا میں سانس لینے پر مجبور ہے، مساوات اور برابری کے دعوے ہیں لیکن کم زور افراد اور قومیں طاقت ور افراد اور قوموں کا ہدفِ ستم بنی ہوئی ہیں اور ان کا ہر سطح پر استحصال ہورہا ہے۔ انسان کے سامنے مال و دولت اور عیش و عشرت کے سوا اور کوئی مقصد نہیں    رہ گیا ہے، اس لیے کسی غلط سے غلط اقدام میں بھی اسے تامل نہیں ہوتا۔ اخلاق اور قانون پر خواہشاتِ نفس غالب آگئی ہیں اور ترقی کے نام پر بے حیائی اور جنسی آوارگی کو فروغ مل رہا ہے۔ انسان جنسی جذبے کی تسکین کے لیے سماج اور قانون کی بندشوں کو توڑ پھینکنا چاہتا ہے۔ خاندان سے انسان کا جو فطری اور جذباتی تعلق تھا وہ ٹوٹ رہا ہے، الفت و محبت، خدمت اور ایثار و قربانی کی جگہ خود غرضی کی فضا پرورش پا رہی ہے۔ اپنی تمام تر مادی ترقی کے باوجود معاشرے کے رگ و ریشے میں فساد پوری طرح پھیل چکا ہے اور بسااوقات نہ چاہتے ہوئے بھی آدمی کو اس کے کڑوے کسیلے پھل کھانے پڑ رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ دورِ حاضر کے اس بگاڑ کی وجہ کیا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ صحیح نظریۂ حیات سے محروم ہے۔ اس نے انسان کو مادی لحاظ سے تو بہت کچھ دیا، لیکن اس کائنات اور خود انسان کے بارے میں صحیح نقطۂ نظر نہیں فراہم کر سکا۔ اس کی فکری اساس غلط ہے اس لیے وہ ایک طرف پیش قدمی کر رہا ہے تو دوسری طرف پستی کا شکار ہے۔ متوازن اور ہمہ جہت ترقی اسی وقت ممکن ہے جب کہ اس کی بنیاد صحیح فکر پر ہو۔

بعض لوگ سوچتے ہیں کہ اگر موجودہ دور کی فکری اساس غلط ہے تو اس نے اتنی ترقی کیسے کی ہے؟ کیا غلط فکر کے ساتھ اس طرح کی ترقی ممکن ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ مادی ترقی کے لیے نظریۂ حیات کا صحیح ہونا ضروری نہیں ہے۔   اس کے بغیر بھی اس ترقی کا امکان ہے۔ قرآنِ مجید نے اس معاملے میں ہماری راہ نمائی کی ہے۔ اس نے عبرت و نصیحت کے لیے بعض قدیم قوموں کے واقعات بیان کیے ہیں۔ اس نے بتایا کہ ان کا فلسفۂ حیات غلط تھا، لیکن مادی ترقی کی راہیں ان پر بند نہیں تھیں۔ ان کے سامنے صرف دنیا تھی اور وہ اس سے فائدہ اٹھانا چاہتی تھیں۔ چناں چہ انھوں نے اپنی محنت اور صلاحیت کے مطابق اس سے فائدہ اٹھایا اور خوب ترقی کی۔ قومِ عاد جسمانی طور پر بڑی توانا اور تن درست قوم تھی۔ قوت و طاقت میں اس وقت اس جیسی کوئی دوسری قوم نہ تھی (الفجر: ۶،۷)۔ اس قوم نے تفریح اور عیش کی خاطر اور شان و شوکت کے مظاہرے کے لیے بڑی بڑی عمارتیں اور قلعے اس طرح تعمیر کیے جیسے اسے اسی دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے۔ اس کے علاقے میں عمدہ زراعت تھی، سرسبز و شاداب باغات تھے اور چشمے رواں تھے۔ اسے افرادی قوت بھی حاصل تھی۔ طاقت کا یہ عالم تھا کہ کسی پر یہ قوم ہاتھ ڈالتی تو اس کے شکنجے سے نکلنا آسان نہ تھا۔ (الشعراء: ۱۲۳-۱۳۴)

قومِ ثمود کا بھی یہی حال تھا، اس کے علاقے میں زراعت کو بڑا عروج حاصل تھا، پھلوں کی خوب پیداوار تھی، اس کے کارناموں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ پہاڑوں کو تراش کر بڑی مہارت کے ساتھ مکانات تعمیر کیا کرتی تھی۔  (الفجر، الشعراء: ۱۴۷-۱۴۹)

مصر میں فرعون کا بڑا دبدبہ تھا، وہ بڑی فوجی طاقت کا مالک تھا، اس کے لیے جگہ جگہ خیمے لگتے تھے، ملک میں خوش حالی تھی، باغات تھے، چشمے تھے، دولت کے خزانے تھے اور شان دار مکانات تھے۔  (الفجر:۱۰، الشعراء: ۵۷،۵۸)

قرآن مجید بتاتا ہے کہ یہ اور ان جیسی دوسری قوموں کی نادانی یہ تھی کہ وہ مادی ترقی ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھی تھیں۔ اس سے آگے سوچنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ انھیں اپنے علم و فن پر بڑا ناز تھا اور کسی راہ نمائی کو قبول کرنے کے لیے وہ تیار نہ تھیں۔ اللہ کے رسولوں نے انھیں راہِ ہدایت دکھائی لیکن انھوں نے اسے حقارت سے ٹھکرا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دن پورے ہونے لگے، ان کی مادّی ترقی انھیں ہلاکت سے نہ بچا سکی اور وہ تباہ و برباد ہوگئیں۔

قریشِ مکہ نے اللہ کے رسول محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی تو قرآن نے کہا کہ تم سے زیادہ ترقی یافتہ اور طاقت ور قوموں نے اللہ کے رسولوں کی مخالفت کی اور ان کی ہدایت قبول کرنے سے انکار کیا تو صفحۂ زمین سے مٹا دی گئیں۔ ان کے مقابلے میں تمھاری کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اگر تم اللہ کے رسولؐ کی مخالفت کر رہے ہو تو اپنے انجام پر غور کرلو۔

وَکَـذَّبَ الَّـذِیْنَ مِنْ قَبْـلِھِمْ وَمَا بَلَغُـوْا مِعْشَارَ مَآ اٰتَیْنٰـھُمْ فَکَذَّبُوْا رُسُلِیْقف فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ o (السبا ۳۴:۴۵) ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی تکذیب کی، حالانکہ جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا اس کے عشر عشیر کو بھی یہ نہیں پہنچے۔ انھوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو (دیکھو کہ) میرے انکار کا کیا انجام ہوا۔

قرآن مجید نے بعض قوموں کا نام لے کر بھی قریشِ مکہ کو تنبیہ کی ہے۔ ایک جگہ فرمایا:

کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّعَادٌ وَّ فِرْعَوْنَ ذُو الْاَوْتَادِ o اوَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْکَــۃِ ط اُولٰٓئِکَ الْاَحْزَابُ o اِنْ کُلٌّ اِلاَّ کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ (صٓ ۳۸: ۱۲-۱۴) اُن سے پہلے جھٹلا چکی ہے قوم نوح (قوم) عاد اور فرعون جو میخوں والا تھا۔ (قوم) ثمود، قوم لوط اور ایکہ والے (حضرت شعیبؑ کی قوم) یہ سب بڑی طاقتیں۔ ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرا عذاب ان پر آکر رہا۔

اس طرح قرآن نے یہ حقیقت واضح کی کہ کائنات میں موجود طبعی قوانین کو دریافت کرنے اور ان کو کام میں لانے سے مادّی ترقی ممکن ہے۔ جو قوم اس پر عمل کرے گی، اس پر مادّی ترقی کی راہیں کھلتی چلی جائیں گی۔ لیکن اس ترقی کو کنٹرول کرنے اور پوری زندگی کو صحیح سمت دینے کے لیے صحیح نظریۂ حیات کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے بغیر انفرادی اور اجتماعی زندگی فساد سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔

اسلام اس معاملے میں ہماری راہ نمائی کرتا ہے۔ وہ صحیح نظریۂ حیات پیش کرتا ہے۔ وہ ان تمام سوالات کا اطمینان بخش جواب دیتا ہے جو انسان کے ذہن میں اس وسیع کائنات اور خود اس کی اپنی ذات کے بارے میں ابھرتے ہیں۔ وہ بتاتا ہے کہ یہ دنیا کیا ہے؟ کیسے وجود میں آئی، کیا یہ ہمیشہ رہے گی یا اس کی رونق کبھی ختم ہوجائے گی؟ انسان کو کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اسے جو مختلف صلاحیتیں دی گئی ہیں ان کا مقصد کیا ہے؟ اللہ نے اس کی ہدایت اور راہ نمائی کا کیا انتظام کیا ہے؟ اس کی آخری منزل کیا ہے؟ اس کا انجام کیا ہونے والا ہے؟

اسلام ان بنیادی سوالات کا صرف جواب ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ ان کی اساس پر زندگی کا ایک پورا نظام پیش کرتا ہے۔ اس سے ہر گوشۂ حیات میں متوازن ترقی کی راہیں کھلتی ہیں اور آدمی کو قلبی سکون اور راحت بھی حاصل ہوتی ہے۔

ایک خیال یہ پایا جاتا ہے کہ مذہب کی تعلیمات سے آدمی کو چاہے روحانی سکون حاصل ہوجائے لیکن مادّی ترقی ممکن نہیں ہے۔ قرآن مجید نے جگہ جگہ اس خیال کی تردید کی ہے، اس لیے کہ یہ مادہ پرست ذہن کی پیداوار ہے۔ اس کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں ہے۔

یہود اپنی دنیا داری میں مشہور ہیں۔ اس کے لیے انھیں کوئی بھی غلط اور ناجائز طریقہ اختیار کرنے میں کبھی تامل نہیں رہا۔ یہ ایمان کی کم زوری اور اس احساس کا نتیجہ تھا کہ دین کی راہ سے دنیا حاصل نہیں کی جاسکتی۔ قرآن نے کہا اگر وہ دین پر ٹھیک ٹھیک عمل کریں تو دنیا ان کے قدم چومنے لگے گی، زمین اپنے خزانوں کے منہ کھول دے گی اور آسمان سے نعمتوں کی بارش شروع ہوجائے گی:

وَلَوْ اَنَّھُمْ اَقـَامُوا التَّـوْرٰۃَ وَ اْلِانْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِھِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ ط مِنْھُمْ اّمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ ط وَ کَثِیْرٌ مِّنْھُمْ سَآئَ مَا یَعْمَلُوْنَ o (المآئدہ ۵:۶۶) اگر یہ توریت اور انجیل کو اور ان دوسری کتابوں کو قائم کرتے جو ان کے رب کی جانب سے ان کے لیے نازل کی گئی تھیں، تو رزق ان کے اوپر سے بھی اترتا اور ان کے قدموں کے نیچے سے بھی اُبلتا۔ لیکن ان میں سے ایک چھوٹی سی جماعت سیدھی راہ پر ہے اور ان میں کے زیادہ تر برے کام کر رہے ہیں۔

یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام دین و دنیا کی فلاح کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کا مطالعہ اسی رخ سے ہونا چاہیے، لیکن مختلف اسباب کی بنا پر مغرب کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اسلام اس حیثیت سے دنیا کے سامنے نہ آنے پائے۔ اس نے اسلام کو سمجھنے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس نے اسے دیکھا تو صرف اس نقطۂ نظر سے دیکھا کہ اسے کس طرح ناقابلِ قبول اور ناقابلِ عمل قرار دیا جائے۔ اس کے لیے اس نے اسلام کے عقاید اور اس کی تعلیمات پر اعتراضات کا جو سلسلہ اپنی تہذیب کے غلبہ کے بعد شروع کیا وہ اب تک جاری ہے بلکہ دراز سے دراز تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس میں بعض پہلوؤں سے شدت بھی آگئی ہے۔ اس کے خلاف علمی، سیاسی، تہذیبی ہر طرح کے محاذ کھول دیے گئے ہیں۔ اس کی تصویر اس طرح مسخ کی جا رہی ہے کہ اس کی طرف کسی کی توجہ نہ ہو اور اسلام کا نام آتے ہی لوگ اس سے نفرت کرنے لگیں۔

مغرب کے خدشات اور عزائم

اسلام کے بارے میں مغرب کے اس رویے کی اصل وجہ یہ ہے کہ اسلام موجودہ فکر اور تہذیب کے لیے زبردست چیلنج ہے۔ اس کی نظریاتی اور عملی قوت کو مخالف طاقتیں پوری طرح محسوس کررہی ہیں اور اس سے خوف زدہ ہیں۔ یہاں بعض پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔

۱- جو بھی شخص اسلام پر سنجیدگی سے غور کرتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ اس کے اندر موجودہ تہذیب کا متبادل بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ دنیا کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے، جس کا اس نے جواب نہ دیا اور اس کا حل نہ پیش کیا ہو۔ چاہے اس کا تعلق عقیدہ اور فکر سے ہو، عبادات و اخلاق سے ہو،  تہذیب و معاشرت سے ہو، معیشت و سیاست سے ہو یا مادیت و روحانیت سے۔ کسی معاملے میں اس کے نقطۂ نظر سے اختلاف تو کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اسلام نے اسے نظر انداز کیا ہے یا اس سلسلے میں راہ نمائی نہیں کی ہے۔

۲- آج قیادت کا منصب مغرب کو حاصل ہے۔ پوری دنیا پر عملاً اسی کی حکومت ہے اور ہر جگہ اسلام کے ماننے والوں کو بُری طرح دبایا اور کچلا بھی جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تقریباً ہر جگہ اسلام کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ خود مغرب میں اس رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ یقین بھی اسلام کے ماننے والوں میں عام ہے کہ اس کے پاس ایک بہتر اور برتر نظامِ فکر و عمل ہے، صحیح عقیدہ اور فکر ہے، بہتر اخلاقیات ہیں، اعلیٰ تہذیب و تمدن ہے اور سیاست کے ایسے اصول ہیں جو دنیا کو بے لاگ عدل و انصاف فراہم کرسکتے ہیں اور جن کے ذریعے ہر طرح کے ظلم کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کی برتری کا یہ یقین صرف ان لوگوں میں ہی نہیں ہے، جو دورِ جدید سے بے خبر اور ’قدامت پسند‘ سمجھے جاتے ہیں، بلکہ ان افراد میں بھی پرورش پا رہا ہے، جو مغرب میں پیدا ہوئے، اس کی گود میں پلے بڑھے اور جن کی تعلیم و تربیت ان کے اداروں میں ہوئی اور جن کی ذہن سازی میں وہ مستقل لگے ہوئے ہیں۔ مغرب کے لیے تشویش کا پہلو    یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں وہ مسلمانوں کے ذہن کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہے۔ وہ مغرب کے فکر کو برداشت تو کر رہے ہیں، قبول نہیں کر رہے ہیں۔

۳- اس وقت عالم اسلام میں، بلکہ پوری دنیا میں ایسی تحریکیں موجود ہیں جو اسلام کو ایک غالب قوت کی حیثیت سے دیکھنا چاہتی ہیں۔ وہ اس صورتِ حال پر قانع اور مطمئن نہیں ہیں کہ دنیا پر فرماں روائی غیر اسلامی افکار کی ہو اور اسلام محکوم بن کر رہے۔ ان تحریکات کے طریقۂ کار میں حالات کے لحاظ سے فرق ضرور ہے لیکن یہ سب اسلام کو سربلند اور غالب دیکھنا چاہتی ہیں اور اس کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ مغرب کو یہ فکر دامن گیر ہے کہ ان تحریکات کے اثرات پھیل رہے ہیں۔ یہ آج کم زور ہیں لیکن کل طاقت ور ہوسکتی ہیں۔ اس احساس کے تحت مسلم راہ نماؤں اور ان کی نمایاں شخصیتوں کی تصویر بگاڑی جا رہی ہے، مسلم تنظیموں اور جماعتوں کو بدنام کیا جا رہا ہے، اس بات کی کوشش ہو رہی ہے کہ اسلامی تحریکیں دستوری اور قانونی طریقے سے بھی کامیاب نہ ہونے پائیں اور کامیاب ہوں تو انھیں اقتدار میں آنے سے کسی نہ کسی طرح روک دیا جائے۔

۴- مغرب کو یہ فکر بھی پریشان کر رہی ہے کہ مسلم ممالک مادی لحاظ سے بھی اس حیثیت میں ہیں کہ وہ اس کے حریف بن سکتے ہیں۔ کسی فکر کو آگے بڑھانے اور اسے غالب کرنے کے لیے جن وسائل کی ضرورت ہے وہ اسے حاصل ہیں۔ ان وسائل پر گو اس وقت عملاً قبضہ مغربی طاقتوں ہی کا ہے۔ وہ ہر قیمت پر اپنا یہ قبضہ باقی رکھنا چاہتی ہیں، اس لیے کہ یہ ان کی مادی ترقی، خوش حالی اور اقتدار کے لیے ضروری ہے۔ اس کے لیے انھوں نے بیش تر ممالک کے سربراہوں کو قابو میں کر رکھا ہے۔ وہ ان کے اشاروں پر چل رہے ہیں اور ان کے مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں۔ جو مسلم ملک ان کے خلاف جانے کا ارادہ کرتا ہے، اسے ختم کرنے کی ہزار تدبیریں ان کے پاس موجود ہیں۔ لیکن یہ صورتِ حال دائمی نہیں ہے، اسے آزادانہ فیصلوں اور اقدامات کے ذریعے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت غالب امکان اس کا ہے کہ ان کے وسائل اور ذرائع اسلام کی سربلندی کے لیے استعمال ہوں۔ یہ چیز مغرب کے لیے باعث تشویش ہے۔

مسلمانوں کی بعض کمزوریاں

اسلام، مسلم ممالک اور اسلامی تحریکوں کے بارے میں مغرب کے عزائم مخفی نہیں ہیں۔ ہرصاحبِ دانش انھیں سمجھ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کی فکری اور تہذیبی کم زوریاں بھی سامنے آرہی ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسلام کو سمجھنے کا رجحان بھی ابھر رہا ہے اور وہ مغرب کے عین مراکز میں خاموشی سے پھیل رہا ہے۔ اس کی فطری خوبیاں لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔ یہ    صورت حال بہ ظاہر اسلام کے حق میں ہے لیکن خود اسلام کے ماننے والوں کو مختلف قسم کی کم زوریوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ جب تک وہ ان پر قابو نہ پالیں اور اسلام کا نمونہ نہ پیش کریں اسلام کی سربلندی کی تمنا پوری نہیں ہوسکتی۔ یہاں بعض کم زوریوں کا ذکر کیا جا رہا ہے:

۱- اللہ تعالیٰ کے دین کی اساس پر امتِ مسلمہ وجود میں آئی ہے۔ وہ اس پر اپنے ایمان و یقین کا آج بھی اظہار کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ دنیا اور آخرت کی فوز و فلاح اسی سے وابستہ ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اس کی پوری زندگی دین کے تابع ہو اور اس کا ہر قدم دین کی راہ نمائی میں اٹھے، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس پر دین کی گرفت کم زور پڑ چکی ہے، جو شخص دین دار تصور کیا جاتا ہے، اس کی پہچان یہ تو ہے کہ وہ نماز روزے اور بعض اخلاقیات کا پابند ہے، باقی یہ کہ اس کی شخصیت اس حیثیت سے نمایاں نہیں ہے کہ وہ دوسرے کے لیے بھی درد مند دل رکھتا ہے اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس طرح پوری ملت کی کوئی مضبوط دینی پہچان نہیں ہے۔ اگر ہے بھی تو ایک محدود دائرے میں۔ سماجی یا معاشرتی سطح پر اس کا دینی کردار دنیا کے سامنے نہیں ہے۔

۲- آدمی کے اخلاق سے ہر شخص متاثر ہوتا ہے اور اس کی عزت اور احترام پر وہ خود کو مجبور پاتا ہے۔ اس سے آگے اگر کوئی قوم اخلاق و کردار کا ثبوت فراہم کرنے لگے تو اس کا اعتبار قائم ہو جاتا ہے۔ دنیا اس پر بھروسا کرنے لگتی ہے اور اس کی ترقی کی راہیں کھلتی ہیں، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ سیرت و کردار کے لحاظ سے یہ امت کہیں بھی نمایاں نہیں ہے۔ اس کے متعلق یہ تصور نہیں ہے کہ وہ اخلاق کی پابند ہے۔ اس سے تعلق رکھنے والے راست باز اور قول و قرار کے پابند ہوتے ہیں۔ وہ جھوٹ نہیں بول سکتے، رشوت نہیں لے سکتے اور کسی غیر اخلاقی حرکت کا ارتکاب نہیں کرسکتے۔ اس میں شک نہیں کہ امت کبھی ایسے افراد سے خالی نہیں رہی اور آج بھی ایسے افراد دیکھے جاسکتے ہیں، جن کے اخلاق قابلِ رشک ہیں اور وہ عزت و احترام کی نظر سے دیکھے بھی  جاتے ہیں، لیکن بہ حیثیت مجموعی امت کا کوئی اخلاقی امتیاز نہیں ہے، بلکہ اس کی اخلاقی کم زوریاں اس کی خوبیوں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہیں۔ اس میں جب تک تبدیلی نہ ہو امت کا اعتبار قائم نہیں ہوسکتا۔

۳- مغرب کے سیاسی اقتدار اور اس کی تعلیم و تہذیب کی بنیاد دین و دنیا کی تفریق پر قائم ہے۔ اس کے فروغ سے امت کو ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس کے اندر بھی دین و دنیا کی تقسیم   عمل میں آگئی۔ دینی اور دنیوی یا سیکولر تعلیم کے الگ الگ ادارے وجود میں آگئے اور دونوں کے  میدانِ کار بھی الگ ہوگئے۔ امت نے عملاً یہ تسلیم کرلیا کہ علماے دین انفرادی اور شخصی امور و معاملات میں دینی راہ نمائی فراہم کریں گے اور سیکولر تعلیم پائے ہوئے افراد کی قیادت اجتماعی اور سیاسی امور میں ہوگی۔ ان دونوں طبقات کے درمیان ربط و تعلق اور ایک دوسرے کے علم اور تجربے سے فائدہ اٹھانے کی کوئی صورت نہیں رہی۔ اس وجہ سے امت ایک مدت سے سخت کش مکش میں مبتلا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قیادت تقسیم نہیں ہوسکتی۔ اگر تقسیم ہوگی تو اس کا ایک متعین رخ نہ ہوگا، بیشتر معاملات میں وہ تضاد کا شکار ہوگی اور کبھی ذہنی اور عملی یک سوئی اسے حاصل نہ ہوگی۔ اس امت کو زندگی کے ہر میدان میں اور ہر معاملے میں دینی قیادت کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت آج کے حالات میں اسی وقت پوری ہوسکتی ہے، جب کہ علماے دین اور سیکولر تعلیم یافتہ حضرات کے درمیان بہت ہی مضبوط ربط و تعلق ہو، دونوں ایک دوسرے کے علم و تجربے سے فائدہ اٹھائیں، جس طبقے میں جس پہلو سے کمی ہے اسے دور کرنے میں اسے تامل نہ ہو اور دونوں طبقات مل کر اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد کریں۔ کوئی دوسرا مقصد ان کے سامنے نہ ہو۔

۴-  مسلمان ایک امت ہیں۔ ان کے درمیان اصول اور اساساتِ دین پر اتفاق ہے۔ البتہ تفصیلی احکام و مسائل میں اختلافات ہیں۔ یہ اختلافات دورِ اول سے چلے آرہے ہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ ان اختلافات نے بہت ہی ناپسندیدہ شکل اختیار کرلی ہے۔ اس کا اثر شخصی، سماجی اور معاشرتی تعلقات پر بھی پڑ رہا ہے۔ آپس میں دوری پائی جاتی ہے اور ہر فریق دوسرے کو حریف کی حیثیت سے دیکھنے لگا ہے۔ دین و شریعت اور موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ہمارے رویوں میں تبدیلی آئے، اس کے لیے بعض باتوں کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔

یہ اختلافات اصول میں نہیں فروع میں ہیں، جو اہمیت اصول کی ہے وہ فروع کی نہیں ہے۔ ان اختلافات کی نوعیت زیادہ تر علمی ہے۔ اسے علمی موضوع ہی ہونا چاہیے۔ اسلامی اخوت کا تقاضا ہے کہ ان کا اثر آپس کے تعلقات پر نہ پڑنے پائے۔ بسا اوقات ہمارے نزدیک اپنے یا اپنے گروہ کے مفاد کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ ہم اسی کے لیے سوچتے اور تدبیر کرتے ہیں۔ ملت کا مفاد پیچھے چلا جاتا ہے۔ ملت کا وسیع تر مفاد پیش نظر ہو تو ہم اپنے اختلافات پر قابو پاسکتے ہیں اور اتحاد و اتفاق کی راہیں کھل سکتی ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ امت کے درمیان جو اختلافات پائے جاتے ہیں وہ اپنے حدود میں رہیں اور اُمت کے اندر انھیں برداشت کرنے کا مزاج پیدا ہوجائے تو وہ دنیا کی ایک بڑی طاقت ہوگی۔ اسی لیے اب مغرب کی بھی کوشش ہے کہ ان اختلافات کو ہوا دی جاتی رہے تاکہ یہ امت آپس ہی میں دست و گریباں رہے اور اصل حریف کی طرف سے اس کی توجہ ہٹ جائے۔ (بہ شکریہ سہ ماہی تحقیقاتِ اسلامی، علی گڑھ، اپریل- جون ۲۰۰۸ء)

 

اس دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی رفیقۂ حیات نے اپنی زندگی کا آغاز دعا سے ہی کیا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا:

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَـآ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo (اعراف ۷:۲۳) دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگارہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے۔

تمام انبیاے کرام نے دعا کے سلسلے کو جاری رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کا آغاز بھی دعا سے کیا۔ دعا کا مقصد روحانی اور قلبی مسرتوں کا حصول اور اس تڑپ کی تسکین ہے جو انسانی ضمیر میں بدرجۂ غایت پوشیدہ ہے کہ اس وسیع و عریض کائنات میں کوئی ہماری پکار کو سنے، کوئی ہماری دعائوں کو قبول کرے۔ اللہ وہ ہستی ہے جو بندوں کے مانگنے پر خوش ہوتی ہے۔ دعا کو سننے کا اختیار صرف اور صرف رب کریم کے پاس ہے۔ وہ پکار کو سنتا اور قبول کرتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ o (قٓ ۵۰:۱۶) ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں۔

ایک اور مقام پر فرمایا:

وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دٰخِرِیْنَ o (المؤمن ۴۰:۶۰) تمھارا رب کہتا ہے: ’’مجھے پکارو، میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا، جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے  منہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے‘‘۔

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آپؐنے فرمایا: ــ’’دعاعبادت کا مغز ہے‘‘ (ترمذی)۔ بندہ جب اپنے رب کو پکارتا ہے تو اس کی پکار ضرور سنی جاتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ دعا کب قبول ہوتی ہے۔ بعض اوقات انسان جو چیز طلب کر رہا ہوتا ہے اس کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی اور انسان سمجھتا ہے کہ اس کی دعا قبول نہیں ہوئی۔ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ بعض دعائوں کو اللہ تعالیٰ اپنے پاس محفوظ کر لیتا ہے، اور انسان کے نامۂ اعمال میں ان کے بدلے اجر بڑھا دیا جاتا ہے۔

دعا سے مراد اپنے ظاہر و باطن کو رضاے الٰہی کے تابع کرنا اور رضاے الٰہی سے متصادم نفسانی خواہشات کو ترک کرنا ہے کیونکہ نفسِ انسانی ساری کائنات پاکر بھی ھل من مزید کا نعرہ لگاتا ہے۔ زندگی کا بہترین مقصد طمانیت ِقلب ہے۔ بارگاہ رب العزت میں جھکنے سے انسانی سیرت منقلب ہوتی ہے۔ دولت و ثروت کی ہوس باقی نہیں رہتی۔ انسان کثافت سے نظافت،  پستی سے بلندی ، ظلمت سے نور کی طرف آتا ہے۔ زندگی میں فراغت و آسودگی حاصل ہوتی ہے۔ جب ہم کسی مصیبت میں ہوتے ہیں تو ہمارے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ رب العزت ضرور عنایت کرے گااور یہ خیال بہت طمانیت آفرین ہے۔ قرآن پاک میں ہے:

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُھُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ o (الرعد ۱۳:۲۸) ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنھوں نے (اس نبیؐ کی دعوت کو) مان لیا ہے اور اُن کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیا خوب دعا سکھائی ہے:

رَبَّنَـآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ o (البقرہ ۲:۲۰۱) پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو۔

اس آیت میں قرآن پاک تین طرح کے لوگوں سے مخاطب ہے۔ بعض لوگ صرف اپنی دنیاوی حاجات کی دعا مانگتے ہیں، انھیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو صرف آخرت کی دعا مانگتے ہیں انھیں دنیاوی زندگی کی کوئی پروا نہیں ہوتی، اور تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے مطلوب تیسری قسم کے لوگ ہیں جو آخرت کے ساتھ دنیا کی بھی فکر کرتے ہیں کیونکہ دنیا میں رہ کر ہی آخرت کی تیاری کرنی ہے۔ صرف دنیاوی زندگی یا رہبانیت سے منع فرمایا گیا ہے۔

دعا کی فلسفیانہ اھمیت

  • مسلم مفکرین میں سرسید احمد خاں نے اپنے تصور مذہب میں دعا کے موضوع پر سیرحاصل بحث کی ہے۔ وہ دعا کو عبادت ہی سمجھتے تھے۔ اپنے اس موقف کی حمایت میں انھوں نے یہ حدیث نقل کی ہے :’’دعا عبادت ہے‘‘ (ترمذی)۔ ان کے خیال میں دعا اور عبادت کی قبولیت کے ایک ہی معنی ہیں۔ جس طرح عبادت سے انسان کو روحانی اور اخلاقی فائدے پہنچتے ہیں، اسی طرح دعا سے نفس انسانی پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دکھ اور مصیبت میں دعا انسان کو تسکین دیتی ہے اور خدا سے تعلق پیدا کرنے اور اسی کی طرف رجوع کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ تمام انبیاے کرام نے اللہ کے حضور دعائیں مانگیں۔

قرآن پاک میں دعا کا جو تصور ملتا ہے، سر سید احمد خاں نے اس تصور کو نفسیاتی نوعیت کا حامل قرار دیا اور ان کے خیال میں دعا اور ندا دو مترادف الفاظ ہیں جن کے لغوی معنی پکارنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو پکارنے سے انسان اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، اور اس طرح انسان اللہ رب العزت کو حاضر و ناظر جاننے اور اس کے برحق ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ جو بھی انسان اللہ رب العزت کو پکارتا ہے اللہ رب العزت اس کی پکار کو قبول فرماتا ہے۔

  •  فرائیڈ کے نزدیک بھی دعائیں نفسیاتی اہمیت کی حامل ہیں۔ اس کا خیال تھا کہ جب انسان کو کسی ایسی صورت حال کا سامنا ہوتا ہے جس سے وہ تمام طریقوں سے نبٹنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو دعا کا تصور اس کے ذہن میں ابھرتا ہے۔ اس نے اس تصور کو بچوں کے تجربات اور کردار سے تشبیہہ دی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ جب بچہ اپنے آپ کو غیرمحفوظ سمجھتا ہے تو اپنے والدین سے تحفظ کی توقع کرتا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ تصور ہوتا ہے کہ اس کے والدین اس سے زیادہ عقل اور قوت رکھتے ہیں۔ چیخ و پکار کے ذریعے یا والدین کی بات مان کر یا ان کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی ہمدردی اور محبت حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح ایک با شعور انسان بھی اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہوئے اس عمل کو دہراتا ہے۔ فرائیڈ کے نزدیک انسانی قلب کی تسکین کے لیے اس سے بہتر کوئی عقیدہ نہیں۔ فرائیڈ کے ہم عصر ہنری لیوبا نے کہا کہ مذہب اپنے تصور کی معروضی صداقت سے وجود پذیر نہیں بلکہ اس کی حیاتیاتی اہمیت ہے۔ (A Psychological Study of Religion، ہنری لیوبا، ص ۵۳)

فرائیڈ اور اس کے مکتب فکر کے دوسرے مفکرین ۱۹ویں صدی کے ’’افادیت کے سائنسی نظریے‘‘ سے متاثر تھے۔ فرائیڈ نے دعا کے تصور کو نفسیاتی جبریت کی شکل میں پیش کیا، جب کہ سرسید احمد نے اسے مذہبی فطرت پسندی کی شکل میں پیش کیا۔ دونوں میں یہ بات مشترک تھی کہ انھوں نے اپنے اپنے عہد کے مطابق دعا کے تصور کی وضاحت کی۔

  •  علامہ اقبال دعا کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

دعا کی بدولت ہماری شخصیت کا چھوٹا سا جزیرہ اپنے آپ کو بحر بیکراں میں پاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں حقیقتِ مطلقہ سے ہم کنار ہو کر ہماری شخصیت میں طاقت اور وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔ دعا مانگنا فطری تقاضا ہے۔ فطرت کا عمیق مطالعہ بھی دعا ہے۔ (ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ، تشکیلِ جدید الہیاتِ اسلامیہ ، مترجم: نذیر نیازی،  بزم اقبال، لاہور، ص ۱۳۷)

علامہ کے خیال میں اجتماعیت مذہب ِاسلام کی روح ہے، لہٰذا اجتماعی دعا انفرادی دعا سے زیادہ تاثیر رکھتی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے انسان کی عام قوتِ احساس، جذبات اور ارادے میں بے پناہ حرکت پیدا ہوتی ہے۔ نفسیات ابھی تک دعا کی افادیت اور اہمیت کا راز معلوم نہیں کرسکی (ایضاً)۔ اپنے خطبات تشکیلِ جدید الہیاتِ اسلامیہ میں ولیم جیمز کی ایک عبارت کو خصوصیت کے ساتھ توجہ کا مرکز بناتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ دعا ایک جبلی امر ہے۔ دعا کے ذریعے ذہن حقیقتِ مطلقہ کا مشاہدہ کرتا ہے اور یہ ایک روحانی تجلی ہے۔

  •  مولانا روم کے نزدیک جب کوئی شخص صدق دل اور عجزونیاز سے دعا کرتا ہے تو یہ توفیقِ دعا اور رقتِ قلب خود خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ ایسی دعا کے متعلق علت و معلول کا یہ قانون نہیں کہ دعا ہوگی تو پھر خدا سنے گا بلکہ یوں سمجھنا چاہیے کہ خدا نے اس کا میلانِ قلب دیکھا تو اس کو دعا کی توفیق ہوئی۔ یہاں سبب اور اثر کا قانون معکوس ہے، یعنی اثر پہلے ہے اور دعا بعد میں ، یا یوں کہیے کہ بیک وقت سبب اور اثر ہم کنار ہیں اور ان میں کوئی زمانی تقدم و تاخر نہیں۔

اس حقیقت کو مولانا نے ایک قصے میں بیان کیا ہے کہ ایک شخص صبح شام اللہ اللہ کرتا رہتا تھا اور اس کا منتظر رہتا تھا کہ اللہ کی طرف سے لبیک کی آواز آئے گی کہ میں موجود ہوں اور سن رہا ہوں۔ لیکن کوئی ایسی آواز سنائی نہ دی تو شیطان نے اس کے دل میں ڈالا کہ تو کیا صبح شام اللہ اللہ کرتا ہے، اگر وہ سنتا اور قبول کرتا توتجھے جواب دیتا۔ اس بے فائدہ ذکر میں وقت کیوں ضائع کرتا ہے ؟ اس پر حضرت خضر نے اس کے خواب میں آکر پوچھا تم دل شکستہ کیوں ہوگئے ؟اس نے کہا کہ خدا کچھ جواب نہیں دیتا، اس لیے میری دعا کس کام کی ؟ حضرت خضر نے کہا مجھے اللہ نے کہا ہے کہ اس بندے سے کہہ دو کہ تیرا ہمیں یاد کرنا ہی لبیک ہے ، تیری دعا میں یہ نیاز و سوز ہمارا ہی فرستادہ ہے۔

صورت اور معنویت

عبادت میں اگرچہ اصل مقصودمعنی ہے مگر کسی حد تک صورت بھی مقصودہے۔ بخلاف دعا کے اس میں صرف معنی ہی معنی مقصود ہے۔ اللہ سے اپنی ضروریات کا اظہار، عاجزی اور نیازمندی کو ظاہر کرتے ہوئے گڑگڑا کر مانگنے کا نام دعا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر وہ کیسی دعا ہے۔ نماز کا مقصود تو اللہ کی طرف متوجہ ہونا ہے لیکن اس کی مطلوبہ ہیئت مثلاً وضو اور قبلہ کی طرف منہ وغیرہ بھی ضروری ہے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہونے کو نماز نہیں کہتے۔ لیکن دعا میں نہ کسی وقت کی شرط ،  نہ عربی زبان کی شرط ، نہ خاص جہت کی شرط ، نہ کوئی مقدار معین، نہ وضو وغیرہ کی کوئی قید ہے۔ اس میں صرف عاجزی، نیازمندی اور رب العزت کے سامنے اپنی احتیاج کا اظہار کرنا ہے۔ دعا میں صورت نہیں بلکہ معنی مقصود ہیں۔ دعا کے لیے حضورِ قلب، تواضع، عاجزی اور خود سپردگی ضروری ہے کیونکہ اللہ رب العزت تو قلب کی حالت کو دیکھتا ہے۔

حدیث شریف میں ہے:’’اللہ تعالیٰ تمھاری صورتوں کو نہیں دیکھتے بلکہ تمھارے قلوب کو دیکھتے ہیں‘‘۔ یہاں قلب سے مراد یہ گوشت کا ٹکڑا نہیں جو پسلیوں کے اندر پایا جاتا ہے بلکہ اس سے مراد ایک لطیفۂ غیبی ہے۔ جیساکہ بعض اوقات ہم کہتے ہیں کہ اس وقت میرا دل بازار میں ہے حالانکہ اس وقت ہم بازار میں نہیں ہوتے۔یہاں علمی حقائق پر دلیل دینا مقصود نہیں بلکہ ذہن کو اس حقیقت سے قریب کرنا مطلوب ہے۔ دعا میں خشوع خضوع کا ہونا ضروری ہے۔

عبادات کی نسبت دعا میں ایک اضافی خصوصیت پائی جاتی ہے، وہ یہ کہ اگر عبادات دنیا کے لیے ہوں تو وہ عبادات نہیں رہتیں مگر دعا ایک ایسی چیز ہے اگر یہ دنیا کے لیے بھی ہو تو عبادت ہے اور ثواب ملتا ہے، جب کہ عبادات میں اگر دنیاوی حاجت مطلوب ہو تو ثواب نہیں ملتا۔

امام غزالی ؒلکھتے ہیں کہ اگر طبیب نے مریض کو بتایا کہ آج دن کا کھانا نہ کھائو، اگر کھایا تو نقصان ہوگا۔ اور وہ اس غرض سے روزہ رکھ لے یا کوئی شخص دورانِ سفر اس غرض سے مسجد کے اندر اعتکاف کر لے کہ ہوٹل وغیرہ کا کرایہ بچ جائے گا تو ایسی صورت میں اس کو ثواب نہیں ملے گا مگر دعا کے ضمن میں ایسی بات نہیں ہے۔ کتنی ہی دنیاوی حاجتیں مانگی جائیں ثواب پھر بھی ملے گا کیونکہ دعا سراسر عاجزی، انکساری اور نیازمندی ہے۔ نیازمندی بذات خود ایک محبوب عمل ہے کیونکہ جہاں نیازمندی ہوگی وہاں تکبر نہیں رہے گا۔ تکبر اور بڑائی کا اظہار اللہ کے غضب کا باعث بنتے ہیں۔ یہ دونوں اللہ رب العزت کی خاص صفات ہیں۔ کوئی دوسرا ان کا دعوے دار نہیں ہوسکتا۔

حضرت بایزید بسطامی ؒسے منقول ہے کہ ایک دفعہ انھوںنے اللہ رب العزت سے عرض کیا کہ مجھے اپنی طرف آنے کا آسان تر طریق بتلا دیجیے۔ جواب میں ارشاد ہوا:’’اپنی خودی کو چھوڑ اور آجا ‘‘۔حافظ شیرازی ؒ نے اس مضمون کو کیا خوب بیان کیاہے، فرماتے ہیں :

میان عاشق و معشوق ہیچ حائل نیست
توخود حجاب خودی حافظ ازمیان برخیز

(اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے۔ اے حافظ! تو اپنے حجاب خودی کو درمیان سے ہٹا دے۔)

تو دروگم شود وصال ایں است و بس
گم شدن گم کن کمال ایں است و بس

(اس میں تو فنا ہو جا، یہی وصال کافی ہے۔ تو اپنا گم ہونا بھول جا، یہی انتہائی کمال ہے۔)

حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے رب پر بھروسا تھا کہ باوجود دروازہ بند ہونے کے دوڑے اور کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے دروازے بھی کھول دیے۔گویا اگر صدق دل سے طلب اور کوشش ہو تو مقصود ملنے کی یقینی امید ہے۔

بنیادی فلسفہ

دعا دراصل انسان کے پاس اپنے سے بالا و برتر ہستی کو مخاطب کرنے کا ذریعہ ہے جس میں اس ہستی یا ذات کی تعریف کی جاتی ہے اور اس کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔ دعا دنیا کی ہر تہذیب کا حصہ ہے۔ اس کا تعلق کسی مخصوص مذہبی روایت سے نہیں ہے۔ اگرچہ خدا اور بندے کے درمیان دنیا میں تعلق کے فہم کے حوالے سے دعا کی بنیادیں مختلف ہیں۔

دعا کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ یہ اللہ رب العزت اور بندے کے درمیان قربت کا ذریعہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر یقین انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ دعا انفرادی بھی ہوسکتی اور اجتماعی بھی۔ اپنی مختلف صورتوں میں دعا عبادت کا مغزہے ، مثلاًیہودی مذہب میں دعا کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ قدیم زمانے میں گرجے دعا کے مرکز تھے۔

اپنے محدود معنوں میں مانگنے کا عمل گویا اپنی قسمت کے بارے میں روحانی قرب کا فہم حاصل کرنا ہے،جب کہ وسیع معنوں میں دعا حقیقت مطلقہ سے قرب کے یقین کا نام ہے۔ اپنے آپ کو پورے اخلاص اور سپردگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرنا بھی دعا ہے۔ دعا عقیدے کی روح ہے کیونکہ دعا کے بغیر عقیدہ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ دعا ہی ہے جو انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان تعلق پیدا کرتی ہے۔ ہماری دعا کے نتیجے میں اللہ رب العزت بھی ہم سے مخاطب ہوتا ہے، یعنی دعا کا جواب دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے دعا سننے کا مفہوم بھی قرب الٰہی کا حصول ہی ہے۔ جس طرح بچہ اپنے والدین سے کسی شے کی فرمایش کرتا ہے اور والدین اس کی فرمایش کو پورا کردیتے ہیں، دراصل اس فرمایش کی تکمیل کی پشت پر والدین کا وہ پیار ہوتا ہے جو کہ ان کو اپنی اولاد کے ساتھ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے  دعا سننے کا بھی یہی مفہوم ہے کہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے اور ان کی دعائوں کو قبول کرتا ہے۔

انسانی جسم کا نظام بھی بڑا عجیب ہے یہ مادی کے ساتھ ساتھ روحانی بھی ہے۔ انسان د ل و دماغ کے علاوہ شعور بھی رکھتا ہے۔ شعور کی بھی تین اقسام ہیں جن میں شعور، تحت الشعور اور لاشعور شامل ہیں۔ ماہرین نفسیات کے نزدیک ایک نقطۂ نظریہ ہے کہ ہم جتنے بھی اعمال کرتے ہیں     وہ شعور سے لا شعور میں چلے جاتے ہیں۔ قرآن پاک میں ارشاد خداوند ی ہے:

وَ کُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰہُ طٰٓئِرَہٗ فِیْ عُنُقِہٖ وَ نُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتٰبًا یَّلْقٰہُ مَنْشُوْرًا o اِقْرَاْ کِتٰبَکَ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا o (بنی اسرائیل ۱۷:۱۳-۱۴) ہر انسان کا شگون ہم نے اس کے اپنے گلے میںلٹکا رکھا ہے اور قیامت کے روز ہم ایک نوشتہ اس کے لیے نکالیںگے جسے وہ کھلی کتاب کی طرح پائے گا___ پڑھ نامۂ اعمال، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔

اللہ پاک نے انسان کے اعمال کو ریکارڈ کرنے کا نہایت معتبر انتظام فرما رکھا ہے جیساکہ قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے :

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ o (قٓ ۵۰:۱۸)کوئی بات اس کی زبان سے نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص نامۂ اعمال پر اعتراض کردے کہ فلاں فلاں الزامات غلط ہیں۔ فوراً اس کی بے شمار تصاویر اس گناہ میں مصروف اس طرح دکھا دی جائیں گی جس طرح سینما کے پردے پر فلم چلتی ہے۔ ہمارا ہر عمل ، ہر لفظ اور ہر ارادہ محفوظ ہے تو پھر کوئی مجرم کیسے انکار کر سکتا ہے۔ موجودہ سائنسی ترقی نے بڑی بڑی کتب حتی کہ لائبریری کو ایک چھوٹی سی ڈی (CD)میں محفوظ کر لیا ہے۔ اسی طرح ہمارے اعمال اور الفاظ کی فلم خدائی انتظام کے تحت بن رہی ہے جو قیامت کے دن ہمارے ہاتھوں میں دے دی جائے گی جس کا نام ہے نامۂ اعما ل۔

الغرض دعا کا اصل مفہوم بندے اور اللہ رب العزت کے درمیان تعلق ہے اور یہ تعلق طبیعیاتی سے زیادہ مابعد الطبیعیاتی ہے۔ دعا سے انسان کی روحانی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں وہ ایک نئی دنیا کا مشاہدہ کرتا ہے۔ آخر میں اتنا عرض کر دوں کہ ہم دُعا پڑھتے ہیں، دُعا مانگتے نہیں۔ اگر ہم صدقِ دل سے دُعا مانگیں تو ہمیں اپنی دعائوں کی قبولیت کا یقین حاصل ہوسکتا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد خداوند ی ہے :

وَیَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَیَزِیْدُھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ وَالْکٰفِرُوْنَ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ o (الشورٰی ۴۲:۲۶) اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کیے اللہ ان کی دعا قبول فرماتا اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔

ایک ماہر نفسیات آر ڈبلیو ٹرائن نے بڑی خوب صورت بات لکھی ہے: ’’اللہ بے کراں سکوں کا منبع ہے ، جب ہم اس سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں ، تو ہم پر سکون برسنے لگتا ہے ، کیونکہ سکون و ہم آہنگی ایک ہی چیز ہیں۔ کروڑوں انسان گرفتارِ مصائب ہیں۔ ان کے دل و دماغ اور جسم بے چین ہیں۔ وہ لمبے لمبے سفر کرتے ، کاریں خریدتے ، محل بناتے اور دولت کے انبار لگاتے ہیں ، لیکن بے چین رہتے ہیں۔ کاش! انھیں معلوم ہوتا کہ سکون باہر سے نہیں آتا بلکہ دل ہی میں جنم لیتا ہے۔ اگر ہم روح کی پکار کو سن کر اپنی زندگی اس کے مطابق ڈھال لیں تو ہمارا دل فردوسی مسرت سے معمور ہو جائے۔ اگر ہم عدل و صداقت کو ، جن کے بل پر یہ کائنات قائم ہے، اپنا لیں تو ہم ایک ایسا عمیق اطمینان حاصل کر لیں گے، جسے کوئی فکر، کوئی پریشانی برہم نہیں کرسکے گی۔ اللہ کائنات کا پاور ہائوس (منبع توانائی) ہے ، جو شخص اپنا تعلق اس سے جوڑ لیتا ہے وہ ہر ماخذ سے توانائی حاصل کرتا اور پھر اسے دوسرے تک منتقل کرنے کا واسطہ بنتا ہے‘‘۔ لہٰذا ہمیں ہمہ وقت اپنے رب العزت سے دعا کرتے رہنا چاہیے تاکہ یہ تعلق قائم رہے۔

دعا جو بذات خود عبادت ہے اس سے جو لہریں دعا کرنے والے انسان کے جسم سے خارج ہوتی ہیںیہ انسان کے گرد ایک حصار بنا لیتی ہیں جو اس کو شیطانی وسوسوںسے محفوظ رکھتا ہے۔ اس سے فوراً انسان کو اطمینانِ قلب حاصل ہوتا ہے، یہ ایک مابعد الطبیعیاتی عمل ہے۔اس کا ادراک ہرانسان کو نہیں ہوتا لیکن ہر انسان جو دعا مانگتا ہے اس کے ساتھ یہ عمل ضرور ہوتا ہے۔اس طرح انسان ہر طرح کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔جب انسان شر سے محفوظ ہو تو یہی قرب الٰہی ہے۔گویا دعا ایک طرف تو انسان کی حفاظت جب کہ دوسری طرف قرب الٰہی کا بڑا ذریعہ ہے۔یہ تقویٰ، اخلاص اور توکل کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔

دعا یا عبادت مذہب کی عملی صورت ہے۔ جب ایک انسان اپنے خالق و مالک کے حضور، پوری عاجزی و درماندگی کے احساس کے ساتھ نجات طلب کرتا ہے تو اس کی یہ صدادعا کہلاتی ہے۔یہ چند الفاظ کا اعادہ نہیں بلکہ رب کائنات کی طرف روح کا مسلسل سفر ہے۔انسان میں تین طرح کے نفس ہیں: ایک نفس امارہ ہے جو ہمہ تن شر کی طرف راغب رہتا ہے۔ دوسرا نفس لوامہ جو گناہ پر ملامت کرتا ہے۔دعا نفس امارہ کو دبا دیتی ہے، اس طرح نفس لوامہ میں ایک نئی تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ نفس مطمئنہ کہلانے لگتا ہے اور اس کا سفر سیدھا جنت کی طرف ہو جاتا ہے۔

ارشاد ربانی ہے:

یٰٓاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ o ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً o فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ o وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ o (الفجر ۸۹: ۲۷-۳۰) اے مطمئن نفس! تو اپنے رب کے پاس اس حال میں واپس جا کہ وہ تم سے خوش ہو اور تم اس سے خوش۔ پھر میرے بندوں میں شامل ہوکر میری بہشت میں داخل ہو جا۔

مصیبتیں ہر انسان پر آتی ہیں۔ اللہ رب العزت کو ماننے والے اللہ کے حضور جھک کر   اس سوز و گداز سے دعائیں کرتے ہیں جس سے رحمتیں بے تاب ہوکر اُس کی طرف لپکتی ہیں۔ دعا میں عاجزی و درماندگی ہوتی ہے جس پر رحمت ِ حق جوش میں آتی ہے اور گنہگاروں پر مائل بہ کرم ہوجاتی ہے! آخر میں رب العزت سے یہی دعا ہے کہ: ’’ اے میرے رب تو ہی میری ڈھال، تو ہی میری چٹان اور میرا حصار، تو ہی میری زندگی، میرا حال اور مستقبل ہے۔ آگے بڑھ کر مجھے اپنی پناہ میں لے لے جیسے بہار ایک خزاں رسیدہ چمن کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے‘‘۔ آمین!

 

اسلامی فکروثقافت کو اُس شعوری طرزِعمل اور رویّے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جو توحید کے نتیجے میں وحدتِ انسانیت، وحدتِ کائنات اور کائنات پر اللہ رب العزت کی مکمل حاکمیت وربوبیت کے اقرار کے ساتھ فرد اور معاشرے کے درمیان تعلق کی اصل بنیاد بِّر، تقویٰ، امربالمعروف اور  نہی عن المنکر کو قرار دیتا ہو۔ اس شعوری طرزِعمل کا اظہار، اس پر یقین رکھنے والے کی فکری تخلیق، ادب، شعر، فلسفہ اور اس کے ہنرمندی کے ہر عمل میں ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ سمرقند کا ماہر معمار ہو یا  ٹھٹھہ میں کاشی کار ٹائل اور ہندسی نقوش بنانے والا یا ریگستانِ تھر یا چولستان کا اُونٹ کی کھال سے لیمپ بنانے والا دست کار ہو، ان میں سے ہر ہرفرد کی مصنوعات میں اسلامی فکروثقافت کی روح کسی نہ کسی شکل میں جلوہ گر ہوتی ہے۔

اسلامی فکروثقافت جس روایت ِذکر، تفقہ، شعور و فکر اور الہامی ہدایت کی نمایندہ ہے اگر   بہ نظرِعمیق دیکھا جائے تو اس کی ہرسرگرمی مقاصد ِشریعت کی تکمیل کے پیشِ نظر سرانجام پاتی ہے۔   یہ مقاصد کیا ہیں اور کس طرح اسلامی فکروثقافت ان کے حصول میں مددگار ہوتی ہے، یہی اس مختصر تحریر کا موضوع ہے۔

فلسفۂ شریعت میں مقاصد ایک اہم اور مرکزی مضمون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ امام غزالیؒ (۱۰۵۹ء-۱۱۱۱ء ) ہوں یا امام شاطبی (۷۹۰ھ/۱۲۸۸ء) یا محمد الطاہر ابن عاشور (۱۸۷۹ء-۱۹۷۳ء)، مقاصدالشریعہ کی اہمیت کے پیش نظر ان میں سے ہر فقیہہ نے اس موضوع کا حق ادا کیا ہے۔

حقیقت ِ واقعہ یہ ہے کہ مقاصد ِ شریعت کا تعلق نہ صرف فلسفۂ شریعت ِاسلامی بلکہ ہرہرعلمی کاوش کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ چونکہ روایتی طور پر جن دینی درس گاہوں اور جامعات میں اسلامیات کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں اس علم پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے، اس لیے وہ حضرات بھی جو فقہ کا مطالعہ کرتے ہیں، ان مقاصد سے سرسری طور پر گزر جاتے ہیں۔ معروف یہ ہے کہ یہ مقاصد پانچ ہیں لیکن ہم اس تحریر میں ان مقاصد پر غور کا آغاز اُس بنیاد سے کرنا چاہتے ہیں جو ہرانسانی فکر وعمل کے لیے اساس فراہم کرتی ہے، یعنی توحید۔

توحید وہ پہلا اصول، اساس اور مقصد ِشریعت ہے جو انسانی زندگی کے لیے ایک واضح   لائحہ عمل اور انسانی کاوش و عمل کے لیے ہدف اور منزل کا تعین کرتا ہے۔ روایتی طور پر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ توحید اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کو وحدہ لاشریک ماننے کے عقیدے کا نام ہے، جب کہ وہ عقیدہ سے بہت آگے جاکر اس بات کی تصدیق کا نام ہے کہ کائنات میں اگر کوئی ابدی حقیقت ہے تو وہ صرف اور صرف اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی ذات اور اس کی حاکمیت ہے۔ اس حاکمیت کو شعوری طور پر تسلیم کرنے کے بعد ایک شاعر ہو یا ادیب، ایک صنعت کار ہو یا کاشت کار، ایک معلّم ہو یا ایک انجینیر اور طبیب، اس کی ہر ہر کاوش کا ہدف اور مقصد اس اصول کی پیروی سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ وہ بہترین شعر کہنے کے بعد بھی یہی کہتا ہے کہ یہ میرا نہیں، میرے مالک کا کمال اور کرم ہے کہ اُس نے مجھ سے یہ بات کہلوا دی، حتیٰ کہ شعر کے سامعین بھی سبحان اللہ یا ماشا اللہ کہہ کر اصولِ توحید کی پیروی کرتے ہوئے برملا یہ اعلان کرتے ہیں کہ گو شعر عمدہ ہے لیکن تعریف کے قابل شاعر نہیں بلکہ اس کا خالقِ حقیقی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہے۔ ایسے ہی ایک شخص ماہر معمار ہونے کے باوجود اپنے فنِ تعمیر میں کسی لمحے بھی توحید کے منافی کوئی پہلو نہیں آنے دیتا۔ چنانچہ مسجد کی تعمیر ہو یا کسی قلعہ، محل یا گھر کی تعمیر، جو اصول اس کی تعمیر کو دیگر عقائد کے معماروں سے ممتاز کرتا ہے وہ توحید کی تطبیق ہے۔ چنانچہ نقش و نگار اور بیل بوٹے زبانِ حال سے یہ گواہی دیتے ہیں کہ ان کی تزئین کرنے والا توحید پر یقین کے سبب نہ حیوانات کی، نہ انسانوں کی شبیہہ بناتا ہے، نہ ایسے مناظر اپنے فن میں لاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والے ہوں۔ چنانچہ اسپین میں مسلمانوں کا فنِ تعمیر ہو یا شام، عراق، ترکی، وسط ایشیا اور جنوب ایشیا کے اعلیٰ تعمیراتی فن کے مظاہر، ہر عمارت انجینیر اور معمار کے ذہن، فکر اور عقیدے کا پتا دیتی ہے۔

شریعت یا الہامی قانون کا مقصد اولاً تمام قوانین پر اللہ کی بھیجی ہوئی شریعت کو حاوی کرنے کے ساتھ ساتھ تمام انسانیت کو وحدت کے رشتے میں پرو دینا بھی ہے۔ چنانچہ جہاں ایک مسلمان کے لیے توحید کا مفہوم اللہ وحدہٗ لاشریک کی حاکمیت و ربوبیت کا اقرار اور اپنے عمل سے اس کی تصدیق ہے، اس طرح ایک مشرک اور غیرمسلم کے لیے توحید کے مفہوم کا تقاضا اور مطالبہ اپنی زندگی سے تضادات کو دُور کرکے زندگی میں وحدانیت کا پیدا کرنا ہے۔ ایک غیرمسلم کے لیے بھی توحید میں یہ پیغام ہے کہ وہ دوہرے اخلاقی معیار کی جگہ زندگی میں وحدت قائم کرتے ہوئے سچائی، عدل، وفاداری اور پاکیزگی کو اپنا شعار بنائے اور جس طرح پوری کائنات نے تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے اخلاقی اصولوں کی پیروی اختیار کرلی ہے اور ہوائیں ہوں یا تیزرفتار دریا، سمندر ہوں یا پہاڑ اور درخت یا چرندپرند سب اللہ کے بنائے ہوئے ضابطے کی پیروی کر رہے ہیں اور اس طرح تضاد اور ٹکرائو سے بچے ہوئے ہیں، بالکل اسی طرح کائنات میں وحدانیت کے پیش نظر وہ اپنی گھریلو زندگی اور سیاسی، معاشی، قانونی اور ثقافتی سرگرمیوں میں تضاد کو چھوڑ کر یک جہتی کے اصول کی پیروی اختیار کرلے۔ شریعت کی اصطلاح میں اسی کو توحید کہا جاتا ہے۔

اگر ایک تہذیب و ثقافت اس اصول کو مان لے تو وہ شعوری طور پر اپنے اندر کے تضادات کو دُور کرنے پر آمادہ ہوجاتی ہے اور بیک وقت بہت سے خدائوں کی بندگی سے نکل کر صرف ایک اصل کو اپنی بنیاد مان لیتی ہے۔ ان بہت سے خدائوں میں عصبیت کا خدا، ذات اور برادری کا خدا، عریانیت اور تکبر کا خدا ہی نہیں بلکہ وہ سب خدا بھی شامل ہیں جنھیں ہم روزگار، اقتدار اور دیگر مفادات کے خدا کہہ سکتے ہیں۔ زندگی میں وحدانیت کے قیام سے ان سب محدود، نمایشی اور زمینی خدائوں کے بجاے ایک فرد کی معاشی، سیاسی، معاشرتی، قانونی سرگرمیوں کا مقصد صرف ایک مالک اور آقا کے دیے ہوئے احکامات و تعلیمات کو زندگی اور معاشرے میں نافذ کرنا قرار پاتا ہے۔

اگر غور کیا جائے تو جن اصولوں اور اقدار کو ہم مقصد ِ شریعت قرار دیتے ہیں وہ مقصد ِ انسانیت بھی ہیں۔ انسانیت رنگ، نسل، عمر، جغرافیائی حدود سے ماورا وہ بنیاد ہے جو تمام انسانوں کو ایک  ماں باپ کی اولاد سمجھتے ہوئے یکساں بنیادی انسانی حقوق سے نوازتی ہے۔ اسی انسانیت کو اگر جغرافیائی سرحدوں، رنگ، نسل، ذات اور زبان کی تقسیم میں بانٹ دیا جائے تو ہرلمحے تضادات، ٹکرائو اور توڑ پھوڑ کا شکار ہونا اس کی قسمت بن جاتا ہے۔ گویا پہلا اصول (توحید) نہ صرف    اہلِ ایمان بلکہ بشمول غیرمسلمین، تمام انسانوں کے لیے، وجۂ اتحاد فراہم کرتے ہوئے، وحدتِ انسانیت کے قیام کا سبب بنتا ہے اور اس طرح بیک وقت مقصد ِ شریعت، مقصد ِ انسانیت کے لیے پہلی بنیاد اور اساس کی حیثیت رکھتا ہے۔

دوسرا بنیادی اصول جو شریعت کا مقصد بھی ہے اور جو انسانیت کے لیے بھی ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن کریم کی وہ قدر ہے جسے ہم ’عدل‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ محدود انسانی عقل و نظر کی بنا پر ہم نے بالعموم اس سے وہ انصاف مراد لیا ہے جو عدالتوں، پنچایتوں یا جرگوں کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے جب کہ عدل ایک انتہائی وسیع، جامع اور عملی اصطلاح ہے جو معاشرتی، معاشی، سیاسی،مذہبی، اخلاقی اور ثقافتی و تہذیبی سرگرمیوں کو معنویت عطا کرتی ہے۔

اگر گہری نگاہ سے دیکھا جائے تو انفرادی سطح پر اگر ایک شخص اپنے نفس کا حق ادا نہیں کرتا، اپنی غذا، روحانی ضروریات، آرام اور کارکردگی میں عدم توازن کا شکار رہتا ہے تو اسلام اسے نفس پر ظلم قرار دیتا ہے۔ اگر وہ اپنے اہلِ خانہ کا حق ادا نہیں کرتا یا اپنے اعزہ و اقارب کو ان کا حصہ نہیں دیتا تو ان پر اور اپنے اُوپر ظلم کا مرتکب ہوتا ہے۔ ایسے ہی اگر وہ اپنے اہلِ محلہ کا حق ادا نہیں کرتا تو ان پر ظلم کا مجرم ٹھیرتا ہے۔ گویا عدل انفرادی اور معاشرتی سطح پر ایک مسلمان اور غیرمسلم دونوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے مذہب، نسل، لون و لسان کی قید سے ماورا ہوکر شریعت تمام انسانوں کے لیے عدل کا قیام چاہتی ہے۔ چنانچہ اگر یہ کہا جائے کہ بقیہ تمام مقاصد ِشریعت اور مقاصد ِ انسانیت ان اولین دو ناقابلِ تغیر اصولوں کی پیروی اور اتباع کرتے ہیں تو مبالغہ نہ ہوگا۔

اگر غور کیا جائے تو تیسرا اہم مقصد ِشریعت جو مقصد ِ انسانیت بھی ہے یعنی انسانی جان کا تحفظ و بقا، دونوں اوّلین اصولوں سے وابستہ ہے اور اسلامی ثقافت و فکر میں بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن کریم نے مختلف مقامات پر اس اصول کو واضح الفاظ میں بیان کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے: ’’قتلِ نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ‘‘ (بنی اسرائیل ۱۷:۳۳)۔مزید ’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اوروجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی‘‘۔ (المائدہ ۵:۳۲)

گویا قتلِ ناحق اولین تینوں مقاصد سے متصادم عمل ہے۔ یہ ایک جانب اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی حرام کی ہوئی جان کا ضائع کرنا اور اس کی صریح حکم عدولی کی بنا پر توحید کی نفی کرتا ہے۔ دوسری جانب حق کے منافی ہونے کی بناپر عدل کے اصول سے ٹکراتا ہے۔ تیسری جانب انسانیت کی بقا وتحفظ کی جگہ انسانیت کی تباہی و بربادی کا باعث بنتا ہے۔ نتیجتاً جو تہذیب و ثقافت توحید، عدل اور حرمت ِ نفس کے مثبت اصولوں پر قائم ہوگی اس میں نہ صرف حاکمیت الٰہی اور ربوبیت ِ خداوندی کی بنا پر انسانوں کے طرزِعمل میں بغاوت و تکبر کی جگہ اطاعت و بندگیِ رب ہوگی بلکہ انسان اپنے ساتھ، اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ، اپنے اہلِ وطن کے ساتھ، اپنے سیاسی، معاشی اور ثقافتی معاملات میں عدل سے کام لیں گے اور انسانی جان کی حرمت کے سبب زمین میں فساد، دہشت گردی اور  بے گناہوں کا خون بہانے سے احتراز کریں گے۔ ایسی تہذیب و ثقافت میں تشدد، درندگی، حقوق کی پامالی اور ناانصافی کے بجاے امن، سکون، تحفظ اور انسانیت پائی جائے گی۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ دوسرے بنیادی اصول یامقصد (عدل) کے وسیع تر مفہوم پر غور کیا جائے تو سیاسی میدان میں افراد کا حق خود ارادیت، حقِ اجتماع، اظہار راے کی آزادی، تمام مناصب تک یکساں پہنچ، ملکی معاملات میں مشاورت میں شمولیت، سیاسی مسائل میں حق تنقید اور سیاسی رہنمائوں کا احتساب وہ بنیادی پہلو ہیں جن کے بغیر سیاسی عدل کا قیام نہیں ہوسکتا۔ ایسے ہی معاشی معاملات میں ایک فرد کا دولت پیدا کرنے کا حق، وراثت اور ہبہ کے ذریعے حصولِ مال، بازار میں مال کی افادیت کے پیش نظر معاشی دوڑ میں حصے کا حق، محنت کا جائز معاوضہ، ذخیرہ اندوزی کی ممانعت، دولت کی مصنفانہ تقسیم وہ بنیادی پہلو ہیں جو معاشی عدل کے قیام کے لیے شرط کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسے ہی قانونی نقطۂ نظر سے ایک شہری کا دوسرے کے مقابلے میں بغیر تفریق مذہب و ملّت انصاف کا حصول، قوانین کا شفاف ہونا، نفاذ قانون میں اصول پرستی، حکام اور قاضیوں کا اہل، غیر جانب دار اور عدلیہ کا مکمل طور پر آزاد ہونا عدل کے قیام کے لیے ضروری ہیں۔ عدل کے ثقافتی پہلو بھی کچھ کم اہم نہیں۔ اگر کسی قوم پر بیرونی ثقافت مسلط کردی جائے، اس پر غیرملکی زبان، روایات، رہن سہن لباس، حتیٰ کہ شعروادب بلکہ لطائف بھی کسی دوسری ثقافت و تہذیب سے مستعار لے کر ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس کے دل و دماغ میں اُتارنے کی کوشش کی جائے تو یہ عدل کے منافی ہے۔ اس وسیع تر تناظر میں توحید اور عدل دو ایسی بنیادیں اور اصول معلوم ہوتے ہیں جو بقیہ مقاصد کے ساتھ جوہری تعلق اور وابستگی رکھتے ہیں۔

توحید، عدل اور حرمت نفس کے اہم اور بنیادی مقاصد کے بعد اسلامی تہذیب و ثقافت کی چوتھی بنیاد اور مقصد ِ شریعت عقل و تمیز کی حریت ہے، یعنی شریعت ایسی تہذیب و ثقافت کا وجود چاہتی ہے جس میں انسان آزادیِ راے کا استعمال، دانش اور ہوش کی بنیاد پر کریں، جذبات میں اندھے ہوکر یا نشے میں مدہوش ہوکر نہ کریں۔ یہی وجہ ہے خمر (جو عقل کو ڈھانپ لے) یا سکر کو حرام قرار دیا گیا کہ شراب یا دیگر منشیات کا استعمال انسان کی عقل کو مائوف کردیتا ہے اور وہ سلامتیِ فکر اور آزادیِ راے کے ساتھ کوئی فیصلہ نہیں کرپاتا۔ ایک ایسی تہذیب و ثقافت کو جس کی بنیاد ہی شراب پر ہو اور جو شام ڈھلنے کا مقصد ہی یہ قرار دے کہ لوگ شراب خانوں، ناچ گھروں اور بُرائی کے اڈوں میں جاکر مدہوش ہوکر شام منائیں، ایک عقل دشمن اور فسق و فجور کی شائق تہذیب ہی کہا جاسکتا ہے۔

ایسی تہذیب و ثقافت عقل و دانش کے احیا و ترقی کی جگہ جذباتیت اور نفسانیت ہی کو فروغ دے سکتی ہے۔ اسلامی تہذیب و ثقافت میں اس قسم کے طرزِعمل اور رویے کی کوئی گنجایش نہیں۔ اسلامی ثقافت و تہذیب ایک پاکیزہ، ہوش مند اور عقل ودانش پر مبنی ثقافت ہے جہاں علم، معرفت، ذکروفکر، بھلائی اور معروف کی اشاعت کی بنیاد پر اخلاقی رویوں کا تعین ہوتا ہے۔

پانچواں اہم مقصد شریعت اہلِ ایمان کے دین کا تحفظ و ترقی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم دین کی اصطلاح کو عبادات، مثلاً صلوٰۃ و زکوٰۃ، صیام اور عمرہ اور حج کے حوالے سے استعمال کرتا ہے اور ان کے متعین وقت پر توجہ اور شعور کے ساتھ ادا کرنے کو، نہ کہ میکانکی طور پر ان کی ادایگی کو، اسلامی تہذیب و ثقافت کی پہچان قرار دیتا ہے۔ قرآن کریم میں دین کی اصطلاح کو نہ صرف عبادت بلکہ اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ چنانچہ سورئہ نور میں فرمایا گیا کہ بداخلاقی کے مرتکب مرد اور عورت پر حد کا اجرا کیا جائے اور اس طرح دین کے قیام میں تکلف، تردّد یا معذرت نہ کی جائے۔ چنانچہ حدود کے اجرا کو دین قرار دے کر قرآن کریم نے اصطلاح کے اس پہلو کو اجاگر کردیا (النور ۲۴:۲)۔ دین کے قیام اور تحفظ کے حوالے سے یہ بات بھی قرآن کریم نے سمجھائی ہے کہ انسانوں پر انسانوں کی حاکمیت کی جگہ اللہ رب العزت کی حاکمیت کو قائم کرنا اور اس کے نام کو بلند کرتے ہوئے تمام سیاسی اختیارات میں اسے حرفِ آخر قرار دینا ہی درحقیقت دین ہے۔ چنانچہ سورئہ یوسف میں فرمایا گیا: ’’اے زنداں کے ساتھیو! تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے، اس کو چھوڑ کر تم جس کی بندگی کر رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیںہیں کہ بس چند نام ہیںجو تم نے اور تمھارے آباو اجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے اُن کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ حاکمیت و اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو، یہی صحیح اور مستحکم دین ہے‘‘۔ (یوسف ۱۲:۴۰)

گویا دین سیاسی اقتدار کو اللہ کی مرضی کے تابع کرنے کا نام ہے جو شریعت کا ایک بنیادی مقصد ہے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ جہاں دین کا تحفظ و بقا دین اسلام کی برتری اور الحق ہونے سے تعبیر ہے وہیں اسلام یہ بھی چاہتا ہے کہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو ان کے مراسمِ عبودیت کی مکمل آزادی اور تحفظ حاصل ہو۔ چنانچہ ان کے عبادت خانوں کا تحفظ اور ان کی مذہبی آزادی کا حق بھی شریعت کے مقاصد میں شامل ہے۔ یہ بات محتاجِ دلیل نہیں کہ غیرمسلم شہریوں کے حقوق بطور ایک شہری کے وہی ہیں جو مسلمانوں کے ہیں۔

کسی بھی مسلم ریاست کے غیرمسلم شہری ان تمام ریاستی حقوق کے مستحق ہیں جو عام حالات میں مسلمانوں کو ملتے ہیں۔ قرآن کریم یہ وضاحت کرنے کے بعد کہ دین، اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے، اہلِ کتاب حتیٰ کہ مشرکوں کو بھی اسلامی ریاست میں ان کے مراسمِ عبودیت سے محروم نہیں کرتا اور انھیں مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس حیثیت سے اسلام وہ واحد دین ہے جو اپنی حقانیت، کاملیت اور جامعیت کے باوجود دیگر مذاہب کے ساتھ ایک مسلسل مکالمے کی شکل اختیار کرتا ہے اور ان پر اسلام کو زبردستی نافذ نہیں کرنا چاہتا۔ صحیح معنوں میں اس طرزِعمل کو مذہبی کثرتیت (religious pluralism) بھی کہا جاسکتا ہے اور یہ پہلو بھی اسلامی تہذیب و ثقافت کی ایک  منفرد مثبت خصوصیت یعنی رواداری کی نشان دہی کرتا ہے۔

چھٹا مقصد شریعت انسانی نسل کی بقا اور انسانی عزت و وقار کا تحفظ ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسانی برادری میں تعلقات کی بنیاد اخلاقی اور قانونی رشتوں پر استوار ہو۔ چنانچہ شریعت کا ایک مقصد ان رشتوں کے احترام یا حُرمت کو برقرار رکھنا ہے۔ اس غرض کے لیے نکاح کا ادارہ قائم کرنا اور زنا کو حرام قرار دیا جانا آنے والی نسلوں کے تشخص و انفرادیت کو تحفظ دیتا ہے اور خاندان کے ادارے کو تہذیب و ثقافت کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ اگر انسانی جین (Gene) کا احترام نہ کیا جائے اور آزاد جنسی تعلقات کو ’انسانی حق‘ تسلیم کرلیا جائے تو معاشرے میں ایسے افراد کی کثرت ہوسکتی ہے جو بظاہر تو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہوں لیکن خود اپنے نقطۂ آغاز اور اپنی آفرینش کے مقصد تک سے واقف نہ ہوں اور نتیجتاً معاشرتی اور خاندانی رشتوں کے قائم نہ ہونے کے نتیجے میں معاشرے کی بنیادی اکائی یعنی خاندان کا وجود معدوم ہوجائے اور بنیاد کے تباہ ہونے کے سبب خود تہذیب و ثقافت فطری موت سے ہمکنار ہوجائے۔ تہذیب و ثقافت معاشرے کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے اور اگر انسانی معاشرہ ہی باقی نہ رہے تو ثقافت بھی برقرار نہیں رہ سکتی۔

ساتواں مقصد شریعت احترامِ مال ہے یعنی شریعت یہ چاہتی ہے کہ انسانی معاشرے میں معاشی عدل ہو، معاشی اخلاقیات پر عمل کے نتیجے میں ہر فرد کی ملکیت ظلم و استحصال سے محفوظ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ منصفانہ تقسیم دولت، وسائلِ فطرت سے استفادے کی آزادی اور معاشی لوٹ کھسوٹ سے تحفظ کا نظام پایا جائے۔ اس سے یہ مراد نہیں لی جاسکتی کہ اسلام اگر انفرادی حق ملکیت کو تسلیم کرتا ہے تو شریعت کا جھکائو سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کی طرف ہے۔ اسلام جہاں انفرادی ملکیت کے حق کو بعض شرائط کے ساتھ تسلیم کرتا ہے وہاں ہر صاحب ِحیثیت فرد پر معاشرتی ذمہ داریاں  بھی عائد کرتا ہے تاکہ دولت کی گردش، تقسیمِ دولت اور ضرورت مندوں کی ضروریات کی تسکین میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔

ان سات مقاصد کے علاوہ بھی دیگر مقاصد پر علماے فقہ نے بحث کی ہے اور تفصیلات سے آگاہ کیا ہے لیکن ہم یہاں صرف ان معروف مقاصد کے حوالے سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یہ مقاصد نہ صرف شریعت کے مقاصد ہیں جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں دین اسلام جیسی نعمت سے نوازا اور ہم سے قبل بنی اسرائیل کو ان ہی مقاصد کے حصول کے لیے تورات کی شکل میں شریعت دی، بلکہ اگر دیکھا جائے تو یہی مقاصد، مقاصدِ انسانیت بھی ہیں یعنی انسانیت کے اہداف اور اس کی منزلِ مقصود اور اس کے مطلوبہ انسان، معاشرہ، سیاسی نظام، معاشی نظام اور قانونی نظام کی بنیاد ہیں۔ یہی وہ اصول اور اہداف ہیں جن کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو اسلامی تہذیب و ثقافت وجود میں آتی ہے اور اس کی فکری، عملی سرگرمیاں ان مقاصد کے حصول کے لیے اپنی تمام قوتوں کے ساتھ سرگرمِ عمل رہتی ہیں۔ جہاں یہ مقاصد اہلِ ایمان کو ایمان کے تقاضوں سے آگاہ کرتے ہیں وہیں یہی مقاصد غیرمسلموں کو انسانیت کے مقصد کے حوالے سے زندگی گزارنے کے لیے ایک عالم گیر اخلاقی ضابطے سے روشناس کراتے ہیں تاکہ غیرمسلم رہتے ہوئے بھی وہ اپنی زندگی میں وحدانیت پیدا کرسکیں۔ جادئہ عدل سے نہ ہٹیں اور اپنے معاملات میں انسانی زندگی بلکہ حیوانی اور ماحولیاتی زندگی کا بھی احترام کرنا سیکھیں۔

یہ مقاصد ِ شریعت ایک مسلمان کی زندگی کی تمام سرگرمیوں کے مقصد و منزل کا تعین کرتے ہیں۔ اپنی عالم گیریت اور مقاصد ِ انسانیت ہونے کے سبب یہ مقاصد غیرمسلموں کو بھی زندگی کے اہم معاملات میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے جو تہذیب جہاں کہیں بھی قائم ہوگی وہ اسلامی تہذیب و ثقافت کہلائے گی اور اس کے پھل نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیرمسلموں کے لیے بھی مفید ثابت ہوں گے۔

مقاصد کی اس مختصر گفتگو سے یہ بات واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ اسلامی فکروثقافت دراصل الہامی ہدایت، شریعت اور اس کے مقاصد کی تکمیل کے لیے ہی وجود میں آتی ہے۔ دین کی سرفرازی ہی ایک مومن کا مقصد ِ حیات ہے اور شریعت کا جامع اور مکمل طور پر نفاذ انسانیت کی فلاح اور ترقی کے لیے ایک لازمے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جبر اور زبردستی کے ساتھ محض چند سزائوں کے نفاذ سے نفاذِ شریعت کا کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ عمل ایک ثمربار تہذیب و ثقافت کی بنیاد اور نشوو ارتقا کے لیے قوتِ محرکہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب!


(ڈاکٹر انیس احمد کے سلسلہ وار مقالے ’اسلامی فکروثقافت کی قرآنی بنیادیں‘ کی یہ چھٹی اور آخری قسط ہے۔)

اسلام کے بنیادی عقائد میں اہم ترین اور اصل عقیدہ ’توحید‘ ہی ہے۔ یہ ایمان کا جوہر اور دین کی محکم اساس ہے۔ باقی تمام عقائد اسی ایک عقیدے کے تکمیلی پہلو ہیں۔ ایمان باللہ پر ہی سارے اسلامی عقائد و اعمال کی عمارت قائم ہے۔ جملہ احکام و قوانین کے صدور اور قوت کا مرکز اللہ کی ذات ہے۔ ہم فرشتوں پر ایمان اس لیے رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کی مخلوق ہیں اور اسی کے حکم سے کائنات میں اپنے فرائض بجا لاتے ہیں۔ ہم رسولوں پر ایمان اس لیے لاتے ہیں کہ وہ اُسی کی طرف سے اس کا پیغام انسانوں تک پہنچاتے ہیں۔ کتابوں پر ایمان اس لیے ہے کہ اُسی اللہ کے احکامات پر مشتمل ہوتی ہیں، اگرچہ اب صرف قرآن ہی اصل شکل میں محفوظ ہے اور ہم اُسی کے مطابق زندگی گزارنے کے پابند ہیں۔ اسی طرح آخرت پر ایمان اس لیے ہے کہ وہی ذات انصاف کے دن کی مالک ہے اور وہی انسانی اعمال کے مطابق انصاف کرے گی۔ اسی پر باقی سارے اعمال کو بھی قیاس کرلیا جائے کہ وہ کیوں بجا لائے جاتے ہیں تاکہ ہمارا مالک و آقا راضی ہوجائے۔

حضرت آدم ؑ سے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے انبیا و رسل آئے، اُن سب کی دعوت کا مرکزی نکتہ ’توحید‘ ہی تھا۔ انسانیت کی ابتدا مکمل توحید کی روشنی میں ہوئی۔ پھر جوں جوں انسانی آبادی بڑھتی گئی، انسان توحید کے سبق کو بھولنے لگا اور اللہ احد وصمد کو چھوڑ کر در در اپنی اُمیدوں اور تمنائوں کے لیے ٹھوکریں کھانے لگا اور اپنا شرفِ انسانیت کھو کر اپنی ہی تذلیل اور رسوائی کا سامان کرنے لگا۔

انسان کی اس نادانی کے باوجود اللہ کی رحمت بار بار جوش میں آکر انسانیت کو بھولا ہوا توحید کا سبق یاد دلانے کے لیے ہدایت و رہنمائی کا انتظام کرتی رہی۔ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ (الرعد ۱۳:۷) ’’اور ہر قوم کے لیے ایک رہنما ہے‘‘۔ وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا (النحل ۱۶:۳۶) ’’اور ہم نے ہر اُمت میں ایک رسول بھیجا‘‘۔

توحید کے عملی پہلو اس طرح بیان ہوسکتے ہیں:

توحید فی الذات

اللہ رب العالمین کی ذات تنہا اور یکتا ہے۔ کائنات کی کوئی شے کسی بھی حیثیت میں اُس کی ذات کا حصہ نہیں ہے۔ وہ اول و آخر ہے۔ خدائوں کی کوئی جنس یا سلسلۂ نسب نہیں ہے جس کا وہ ایک فرد یا حصہ ہو۔ نہ وہ کسی کابیٹا ہے، نہ کوئی اُس کابیٹا ہے۔ وہ اجزا سے مرکب وجود نہیں جو قابلِ تجزیہ و تقسیم ہو۔ وہی تنہا ذات ہے جو ہرلحاظ سے تنہا، اکیلی اور احد ہے۔ توحید فی الذات کا ذکر قرآن میں جابجا کیا گیا ہے لیکن جس قدر جامع اور خوب صورت تذکرہ سورئہ اخلاص میں ملتا ہے اس کو پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ارشاد ربانی ہے:

قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ o اَللّٰہُ الصَّمَدُ o لَمْ یَـلِدْ  وَلَمْ یُوْلَدْ o وَلَمْ یَکُنْ لَّـہٗ کُفُوًا اَحَدٌ o (الاخلاص ۱۱۲: ۱-۴) کہو وہ اللہ ہے، یکتا۔ اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اُس کے محتاج ہیں۔ نہ اُس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور کوئی اُس کا ہمسر نہیں ہے۔

اولاد چونکہ ذات کا حصہ ہوتی ہے اس لیے مذکورہ سورت میں اس کا تذکرہ بھی کر دیا گیا اور عملی طور پر دنیا والوں نے اللہ کی اولادیں بنائی بھی ہیں، مثلاً یہودی حضرت عزیر ؑ کو اللہ کا بیٹا، عیسائی حضرت عیسٰی ؑکو اللہ کا بیٹا (التوبہ ۹:۳۰) اور مشرکینِ مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں (بنی اسرائیل ۱۷:۴۰) کہتے رہے، اور اسی سے اُن قوموں کا عقیدۂ آخرت بھی بگڑ گیا کہ ہم اللہ کے چہیتے ہیں، وہ ہمیں سزا نہیں دے گا۔

توحید فی الصفات

اللہ تعالیٰ اپنی صفات اور خوبیوں میں بھی یکتا ہے، یہ صفات بھی اس کی ذاتی ہیں اور اس کی ذات کی طرح قدیم اور دائمی ہیں۔ سورئہ طٰہٰ میں ہے: اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَلَـہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی (طٰہٰ ۲۰:۸) ’’وہ اللہ ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ اس کے لیے بہترین نام ہیں‘‘۔ حدیث میں اللہ کے نام تفصیل سے ملتے ہیں۔ ارشاد نبویؐ ہے: اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں (ترمذی و سنن ابن ماجہ) جس نے ان کو حفظ کرلیا وہ جنت میں داخل ہوگا (مسلم، کتاب الذکر)۔  وہ اس کائنات کا خالق، مالک، رازق اور آقا ہے۔ اُسی نے ساری مخلوقات کو پیدا کیا ہے اوروہی سب کا مارنے والا ہے۔ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر قائم ہے، اُسے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں، وہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہے (البقرہ ۲:۱۰۹) ’’کوئی چیز اس کے علم اور قدرت سے باہر نہیں‘‘۔(الشوریٰ ۴۲:۱۲)۔ وہ ایسا ہے کہ اُس جیسی کوئی دوسری شے اس کائنات میں نہیں ہے۔ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَھُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ o (الشوریٰ ۴۲:۱۱) ’’کائنات میں کوئی چیز اس کے مشابہہ نہیں، وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے‘‘۔ وہ حی و قیوم ہے، لائقِ حمدوثنا ہے  اور وہی معبودِ حقیقی، مسجودِ حقیقی اور منعمِ حقیقی ہے۔ اللہ کی صفات کا تذکرہ قرآن میں جگہ جگہ موجود ہے۔ آیت الکرسی (البقرہ ۲:۲۵۵) میں جامعیت کے ساتھ صفاتِ خداوندی کا بیان ہوا ہے۔ اسی طرح سورئہ حشر میں اللہ کے ناموں کا حسین گلدستہ موجود ہے۔ (الحشر۵۹: ۲۲ تا ۲۴)

توحید فی الامر

اللہ رب العالمین ہی عملاً پوری کائنات پر حکمرانی کر رہا ہے، حکم دینا اُس کا اختیارِ مطلق ہے اور پوری کائنات اس کا حکم ماننے کی پابند ہے۔ اَلَالَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ (الاعراف ۷:۵۴) ’’خبرداررہو، اُسی کی خلق ہے اور اُسی کا اَمر ہے‘‘۔ عقلِ عام (common sense) کی بات ہے کہ کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو حکم بھی اُسی کا چلے گا اور اس بات پر محکم ایمان و یقین رکھنا ضروری ہے کہ انسان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں صرف اور صرف اُسی کے حکم پر عمل کرنے سے ہی توحید پرقائم رہ سکتا ہے۔ کیونکہ قرآن کریم میں بے شمار مقامات پر ذکر ہوا ہے کہ حکم صرف اللہ کا ہی حق ہے: اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ (یوسف ۱۲: ۴۰، ۱۲:۶۷) ’’فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیںہے‘‘۔ بَلْ لِّلّٰہِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا (الرعد ۱۳:۳۱) ’’بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے‘‘۔ فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ (المومنون ۲۳:۱۱۶)

سورئہ مائدہ میں تھوڑے تھوڑے وقفے کے ساتھ تین آیات آئی ہیں جن میں انسانوں کو اپنے تمام انفرادی و اجتماعی معاملات میں اللہ کے حکم سے روگردانی کی صورت میں سخت وعید سنائی گئی ہے:

اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں… وہی ظالم ہیں اور وہی فاسق ہیں۔ (المائدہ ۵: ۴۴، ۴۵، ۴۷)

توحید فی الامر میں یہ نکتہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ اللہ کے حکم کے ہوتے ہوئے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین و دساتیر کی قطعاً کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اگر حکم دینے کا اختیار عقلِ انسانی کو حاصل ہوتا تو شریعت نازل کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ جو لوگ انسان کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں تو گویا وہ اللہ کا اختیار مخلوق کو دیتے ہیں اوریہی شرک فی الامر ہے جس میں آج کل کے مسلمان معاشرے اور حکومتیں گرفتار ہیں۔ لہٰذا انفرادی معاملات کے ساتھ ساتھ جب تک حکومت اور اقتدار بھی اللہ کے حکم کے تابع نہ ہوجائے، توحید فی الامر کی تکمیل نہ ہوگی اور جب تک توحید مکمل اور خالص نہ ہو تو اللہ کے ہاں نجات ممکن نہیں۔ اس لیے ہرشخص پر فرض ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق جدوجہد کرے تاکہ اللہ کا قانون نافذ ہوسکے۔

توحید فی الافعال

اس کائنات میں جس قدر تصرف اور اختیار ہوتاہے وہ اللہ واحد کی ذات سے ہوتا ہے۔ وہ علیم و خبیر ہے، کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اُس کے علم سے باہر نہیں۔ اگر کسی درخت کا پتہ گرتا ہے تو اس کی اجازت اور علم سے۔ (بنی اسرائیل ۱۶: ۱۱۰، اٰل عمرٰن ۳:۵)

تمام اختیارات اُسی ذاتِ واحد کے پاس ہیں۔کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ (الرحمٰن ۵۵:۲۹) ’’ ہر آن وہ نئی شان میں ہے‘‘، یعنی ہر وقت دنیاے عالم میں اس کی کارفرمائی اور حکومت کا سلسلہ جاری ہے، ہرلمحے کسی کو فنا کر رہا ہے، کسی کو زندگی بخش رہا ہے، کسی کو عروج عطا کر رہا ہے، کسی کو زوال دے رہا ہے۔ یہ معاملہ صرف افراد تک محدود نہیںہے بلکہ قوموں کے عروج و زوال کا فیصلہ بھی اللہ ہی کرتا ہے (اٰل عمرٰن۳:۲۶)۔ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اُسے کرلیتا ہے (البروج ۸۵:۱۶) کوئی طاقت اس کو روکنے والی نہیں ہے۔ توحید فی الافعال کی جہتیں مقرر کی جائیں تو   بے شمار پہلو نکلتے ہیں یہاں بطور مثال صرف دو تین پہلو بیان کیے جاتے ہیں:

  •  معبودِ حقیقی: اس کائنات میں عبادت صرف اللہ کے لیے ہے۔ قرآن میں جابجا ارشاد ہے: تمھارا معبود صرف اللہ ہے (التغابن ۶۴:۱۳، البقرہ ۲:۱۶۳، النحل ۱۶:۲۲، الانبیا ۲۱:۱۰۸)۔ سجدہ، رکوع، دعا اور قربانی یعنی تمام مراسم عبادت صرف اللہ کے لیے ہیں۔ نیزیہ کہ اُس نے جِنّ اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا (الذاریات ۵۱:۵۸)۔ غرض اللہ کے سوا، نہ تو آسمان میں نہ ہی زمین میں، نہ آسمان کے اُوپر نہ زمین کے نیچے کوئی ایسی چیز ہے جو عبادت کی مستحق ہو۔ ارشاد نبویؐ ہے: ’’اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ اُن کو عذاب نہ دے۔ (بخاری ،کتاب الرقاق)
  •  حاکمِ اعلٰی : اس کائنات میں حاکمیت، ملکیت اور اختیار صرف اللہ رب العالمین کا ہے۔ بِیَدِہٖ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْئٍ (یٰسٓ ۳۶:۸۳) ’’ہر چیز کی ملکیت اُسی کے ہاتھ میں ہے‘‘۔ وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ (الفرقان ۲۵:۲) ’’جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے‘‘۔ یہ کائنات اضداد کا مجموعہ ہے۔ یہاں خیروشر کی کش مکش بھی ہے اور عروج و زوال کے طوفان بھی لیکن اس کے باوجود نظمِ کائنات بلکہ وجودِ کائنات کی بقا صرف اس لیے ہے کہ یہاں حکمران صرف اور صرف تنہا ربُ العالمین ہے۔ لَوْ کَانَ فِیْھِمَآ اٰلِھَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَo (الانبیا ۲۱:۲۲)’’اگر زمین و آسمان میں ایک اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو زمین و آسمان دونوں کا نظام بگڑجاتا پس پاک ہے اللہ ربُ العرش، اُن باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں‘‘ اور وہ ہے اللہ وحدہٗ لاشریک۔ سورئہ زمر میں ہے: لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَo (الزمر ۳۹:۴۴) ’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو‘‘۔ لَہٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (الشوریٰ ۴۲:۱۲) ’’وہ آسمان اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں‘‘۔ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ (السجدہ ۳۲:۵) ’’وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے‘‘۔ تخلیق میں، حاکمیت میں اور ملکیت میں کوئی اس کا شریک نہیں   ؎

سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اِک وہی باقی بتانِ آذری

  •  رزاقِ حقیقی: تمام کائنات کا رب، روزی رساں، پالنہار اور بہترین رزق دینے والا اللہ ہی ہے۔ وہ صرف انسانوں کو ہی نہیں بلکہ چرند پرند، بَرّی و بحری حیوانات تک کو رزق دیتا ہے اور رزق کی اتنی اقسام اُس نے پیدا کردی ہیں کہ جن کا شمار بھی مشکل ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُo (الذاریات ۵:۵۸) ’’اللہ تو خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست‘‘۔ وَاللّٰہُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَo (الجمعۃ ۶۲:۱۱) ’’اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے‘‘۔
  •  مالک یوم الدین: وہ حساب کے دن کا مالک ہے اور تمام انسان اور جِنّ مرنے کے بعد اِس دنیا کی کارکردگی کی بنا پر اُس کے سامنے حساب کتاب کے لیے پیش ہوں گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کی بنیاد پر جزا و سزا ہوگی اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوگی (البقرہ ۲:۱۲۳)۔ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَo (الجاثیہ ۴۵:۲۸، المومن ۴۰:۱۷) ’’آج تم لوگوں کو ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے‘‘۔

انسان کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو وہ ایک لمحہ بھی اللہ کے بغیر نہیں گزار سکتا۔ 

  • پیدا اُسی نے کیا۔
  • رزق وہی دیتا ہے جس کے بغیر زندہ نہیں رہا جاسکتا۔
  • دنیا میں قدم قدم پر اس کا محتاج ہے۔
  • لوٹ کر جانابھی اُسی کے پاس ہے، بھاگ نہیں سکتا۔ انھی چار چیزوں میں زندگی گزر جاتی ہے۔ اسی لیے انسان کے پاس اس کا دامن تھامنے کے علاوہ کوئی چارہ ہے ہی نہیں۔

غرض اللہ کی جتنی بھی صفات ہیں ان سب کے تقاضے اگر صرف اور صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہی پورے کیے جائیں گے تب ہی توحید مکمل ہوگی۔

توحید: وقت کی اھم ترین ضرورت

عالمی تناظر میں اقوامِ عالم کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو اُمت ِ مسلمہ سب سے زیادہ مجبور و مقہور اور پس ماندہ ہے اور مغربی اقوام کی ذہنی اور سیاسی غلام بن چکی ہے۔ حالانکہ مسلمان ہی تہذیب و تمدن کے بانی تھے اور باقی اقوام کو علم کی روشنی مسلمانوں سے ہی ملی تھی۔ پھر یہ پس ماندگی و تباہی کیوں؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے ’توحید‘ کا سبق بھلا دیا ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہوئے خلفاے راشدینؓ کی قیادت میں مسلم معاشرے سے اُس وقت کی سوپرطاقتیں روم و فارس لرزہ براندام تھیں۔ اس لیے کہ اُن کے دلوں میں اٹل اور غیرمتزلزل ’توحید‘ کے تصور پر ایمان موجود تھا جس کی وجہ سے وہ اللہ کے علاوہ دنیا کی کسی طاقت سے نہیں ڈرتے تھے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ایمان کی حلاوت، چاشنی اور استحکام توحید کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ اللہ کی توحید پر صحابہ کرامؓ جیسا ایمان رکھنے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے یہ اعلان آج بھی موجود ہے: اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَo(الانبیاء ۲۱:۱۰۵) ’’کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے‘‘۔ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَo (اٰل عمرٰن ۳:۱۳۹، ھود ۱۱:۵۲) ’’اورتم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو‘‘۔

مسلمان نام کی ایک قوم تو اب بھی موجود ہے لیکن اُس کی حالت یہ ہے: یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّٰہِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَۃً (النساء ۴:۷۷) ’’وہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے یاکچھ اس سے (بھی) بڑھ کر‘‘۔ اسی لیے ان کی کیفیت یہ ہے کہ گویا وہ کَاَنَّھُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ (المنافقون ۶۳:۴) ’’یہ گویا لکڑی کے کندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چُن کر رکھ دیے گئے ہوں‘‘۔ حالانکہ جن قوتوں سے وہ ڈرتے ہیں اُن کی اصل حقیقت یہ ہے کہ: اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِاجْتَمَعُوْا لَہٗ وَ اِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ o مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ o (الحج ۲۲:۷۳، ۷۴) ’’جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اُسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ کمزور۔ ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیساکہ اس کے پہچاننے کا حق ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزت والا تو اللہ ہی ہے‘‘۔

اُمت ِمسلمہ کو اپنا کھویا ہوا مقامِ عظمت اور منصبِ امامت اُسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب وہ توحید پر دل و جان سے ڈٹ جائے اور اُن کی زندگیوں میںتوحید کے اثرات واضح طور پر نظر بھی آئیں۔ صرف زبانی کلامی دعووں سے مسلمانوں کی موجودہ پستی کا علاج ممکن نہیں   ؎

خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ توکیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

توحید پر ایسا ایمان درکار ہے جس میں مصالحت، تذبذب اور شک و شبہہ نہ ہو بلکہ  اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ(البروج ۸۵:۴) اَصْحٰبَ الْکَھْفِ (الکہف ۱۸: ۹) اور صحابہ کرامؓ جیسا ایمان ہو (المجادلہ ۵۸:۲۲)۔ ساری محبت و اطاعت اللہ ہی کے لیے ہو بلکہ اِس ساری گفتگو کو اگر    ایک فقرے میں سمیٹا جائے تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ ساری اُمت مسلمہ اللہ ہی کی ہوکر رہے۔ (البقرہ ۲:۱۳۸)

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ o نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ وَلَکُمْ فِیْھَا مَا تَشْتَھِیْٓ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْھَا مَا تَدَّعُوْنَ o نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍo (حم السجدہ ۴۱:۳۰ تا۳۲) جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے یقینا اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں نہ ڈرو، نہ غم کرو اور خوش ہوجائو اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمھارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمھیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمھاری ہوگی۔ یہ ہے سامانِ ضیافت اُس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے۔

تاریخِ انسانی کے اسٹیج پر بڑے بڑے فرعون آئے، اپنی اپنی ڈفلی بجا کر نابود ہوگئے۔ اصل قوت و طاقت کا مالک تو اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ (الزمر ۳۹:۴)ہے۔ اُسی سے تعلق مضبوط کیا جائے، اُسی سے محبت کی جائے، اُسی سے ہرحال میں رجوع کیا جائے، اُسی کی اطاعت و بندگی کی جائے تو سارے دلدّر دُور ہوجائیں گے کیونکہ وہ اپنے بندے کے لیے کافی ہے۔ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ (الزمر ۳۹:۳۶) ’’کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟‘‘ وہ ذات شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ (قٓ ۵۰:۱۶) پکار سنتا ہے اور قبول کرتا ہے (البقرہ ۲:۸۶، المومن ۴۰: ۶۵) تو پھر اصل سہارے کو چھوڑ کر نقلی سہارے تلاش کرنا یقینا عقل کا فتور نہیں تو اور کیا ہے   ؎

شعلہ بن کر پھونک دے خاشاکِ غیراللہ کو
خوفِ باطل کیا کہ ہے غارت گرِ باطل بھی تو