نظامِ حیات


مغربی میڈیا کے سوالوں کے جواب

[مختلف اوقات میں مختلف مغربی ذرائع ابلاغ کے نمایندوں نے مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے انٹرویو لیے۔ یہاں ہم انھی سوال و جواب کا ایک انتخاب مرتب کرکے پیش کر رہے ہیں۔ س م خ]

۲۵ نومبر ۱۹۷۵ء اور ۱۵جنوری ۱۹۷۶ء: بی بی سی ، لندن کے نمایندے ولیم کرالے نے یہ انٹرویو لیا، جسے حفیظ الرحمٰن احسنؒ [م:۲۲ فروری۲۰۲۰ء] نے ٹیپ کرلیا۔ یہ مکالمہ زیادہ تر اردو میں ہوا تھا۔[ہفت روزہ آئین،لاہور]

  •  بی بی سی :کیا آپ پاکستان کے دستور۱۹۷۳ء میں شامل اِسلامی دفعات پر مطمئن ہیں؟
    • سیّد مودودی: جی ہاں، ہم ان دفعات پر مطمئن ہیں اور درحقیقت [پاکستان کے] دستور میں ان دفعات کو شامل کرنے کے لیے ہم نے مسلسل جدوجہد کی ہے۔
  • بی بی سی :مثلاً اِسلامی نظریاتی کونسل وغیرہ؟
    • سیّد مودودی: اِسلام سے متعلق ہر وہ چیز جو دستور میںشامل ہے، دراصل ہماری [اجتماعی] کوششوں کے نتیجے میں شامل کی گئی ہے۔ جہاں تک اِن دفعات کے شامِل آئین ہونے کا تعلق ہے اس پرتو ہم مطمئن ہیں، لیکن اس بات پر مطمئن نہیں ہیں کہ ان پر عمل درآمد کِس طریقے سے ہورہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دفعات کو سردخانے میں ڈال دیا گیا ہے اور نہ صرف یہ کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے، بلکہ جتنے کام بھی کیے جار ہے ہیں وہ ان کے برعکس کیے جا رہے ہیں۔
  • بی بی سی :پاکستان کا موجودہ قانونی ڈھانچا ’اینگلو سیکسن قانون‘ کی بنیاد پر قائم ہے۔ کیا آپ اِسلام کے شرعی قوانین کو نافذ کرنے کے لیے پاکستان کے موجودہ قانونی نظام میں بنیادی تغیرات لائیں گے؟
    • سیّد مودودی: ہم صِرف اتنا ہی نہیں چاہتے کہ محض قانونی نظام [legal system] کو تبدیل کیا جائے، بلکہ ہمارے پیشِ نظر پورے معاشرے کو اسلامی بنیادوں پر استوار کرنا اور پورے نظامِ حکومت کو تبدیل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے صِرف قانونی نظام کو تبدیل کرنا کافی نہیں ہو سکتا۔

قانونی نظام کے ساتھ ایک بڑا تعلق ملک کے تعلیمی نظام کا ہے۔ اگر نظامِ تعلیم افرادِ قوم کو مسلمان بنانے والا نہ ہو تو محض قانونی نظام کے نفاذ سے اِسلامی معاشرے کی تشکیل کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہی معاملہ ملک کے معاشی نظام کا ہے۔ اگر اسے صحیح اِسلامی خطوط پر استوار نہ کیا جائے تواس صورت میں محض قانونی نظام کی اصلاح مفید اور مؤثر ثابت نہیں ہوسکتی۔ اس بنا پر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری پوری معاشرتی زندگی ، اِسلام کے مطابق ہو۔ ہماری حکومت کی نمایاں پالیسیاں اسلام کے مطابق ہوں اور حکومت کے سارے معاملات صحیح اِسلامی خطوط پر انجام پائیں۔

اس مقصد کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ سروسز کی ٹریننگ کے تمام اداروں کا تعلیمی اور تربیتی ڈھانچا تبدیل کیا جائے۔ سِول سروس کے تمام شعبوں اور فوج کی تربیت کے اداروں میں بھی اسلام کی اخلاقی تعلیم دینے کا انتظام کیا جائے اور زیرِ تربیت افسروں کے دِلوں میں اِسلام کا صحیح شعور [creed] بٹھایا جائے۔ اِن کو سچا مسلمان بنانے کی کوشش کی جائے، لیکن یہ کام نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس صورتِ حال یہ ہے کہ انگریزی حکومت کے زمانے میں سروسز کو جس طرز پر ٹریننگ دی جاتی تھی، اسی طرز پر اب بھی دی جا رہی ہے۔ اِسلامی تربیت کی کوئی فکر اب تک نہیں کی گئی۔ اس لیے ہمارے نقطۂ نظر سے محض لیگل سسٹم [قانونی نظام] میں تبدیلی کافی نہیں ہے۔ ہم مکمل تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔

  • بی بی سی:آپ نے ہر شعبۂ زندگی سے متعلق اداروں میں اسلامی تعلیم و تربیت کو لازمی قرار دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ایک جدید ریاست کی معیشت کو خالص اِسلامی اصولوں کے مطابق کیوں کر چلایاجاسکتا ہے؟
    • سیّد مودودی: ہم نے یہ بات ثابت کرنے میں کئی سال صرف کیے ہیں کہ ایک جدید ریاست کو مکمل طور پر اِسلام کے عطا کردہ اصُولوں پر چلایا جاسکتا ہے اور صرف چلایا ہی نہیں جاسکتا، بلکہ ثابت کیا جاسکتاہے کہ اسلامی بنیادوں پر قائم ہونے والی جدید ریاست دوسری تمام جدید ریاستوں سے زیادہ کامیاب اور بہتر ہے۔ چنانچہ ہماری کوشش صِرف یہی نہیں ہے کہ ہم پاکستان میں اِسلام کو نافذ کر کے یہ بتائیں کہ اِسلام کی بنیادوں پر ایک جدید ریاست چل سکتی ہے، بلکہ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس جدید ریاست کو دیکھ کر دُنیا کی دوسری جدید ریاستیں اس بات کی قائل ہوجائیں کہ یہ ریاست ہم سے کہیں بہتر اور فائق ہے۔ اسلامی ریاست کے اصول باقی تمام سیاسی نظاموں پر فوقیت رکھتے ہیں… دُنیا کے مسلمان ممالک میں بھی ایک  [طاقت ور] عنصر موجود ہے جو اِسلام کے حقیقی اصولوں پر عمل درآمد کرنا چاہتا ہے۔
  • بی بی سی: آپ پرانے طریقے کی طرف کیوں go back[واپس پلٹنا] چاہتے ہیں؟
    • سیّد مودودی: آپ نے یہ جو کہا ہے کہ ہم ایک پرانے طریقے کی طرف واپس کیوں جانا چاہتے ہیں تو [اس میں] یہ go back کا لفظ غلط ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ انسان کے لیے خدا کی طرف سے جو ہدایت آئی ہے وہ سب سے قدیم بھی ہے اور سب سے جدید بھی۔ خُدائی ہدایت کسی وقت اور مقام کی پابند نہیں ہے، [بلکہ] یہ ایک ازلی اور ابدی چیز ہے۔ اس وجہ سے go back کا لفظ استعمال کرنا بے معنی ہے۔

Truth is always truth, it can not be old or new, at any time and at every place it is truth

[صداقت ہرحال میں صداقت ہے، اس کے قدیم یا جدید ہونے کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا۔ صداقت ہر عہد میں اور ہر مقام پر صداقت ہے۔]

جرائم کے خاتمہ میں اسلامی قانون کا کردار

  • بی بی سی:اِسلامی قانون کے بعض پہلوؤں، مثلاً قانونِ تعزیرات [criminal laws]کے بارے میں جدید ذہن کے اندر بعض اعتراضات اور شبہات پائے جاتے ہیں۔ موجودہ دور کی جدید مسلم ریاستیں بھی ان قوانین کو ترک کر چکی ہیں۔ شاید آپ اتفاق کریں کہ یہ تعزیری قوانین دراصل قرونِ وسطیٰ کی سوسائٹی کے لیے وضع کیے گئے تھے اور یہ قوانین [موجودہ] معاشرے کے لیے زیادہ موزوں نہیں ہوسکتے۔ اب جرم اور سزا کے بارے میں تصورات بھی تبدیل ہو چکے ہیں، اس لیے یہ معاملہ مذہبی نقطۂ نظر سے زیادہ معاشرتی ہے۔ کیا آپ اس بدلے ہوئے زمانے میں، اس دور کے تبدیل شدہ رویوں کے برعکس ان قوانین کو ان کی اسی پرانی شکل میں نافذ کرنا چاہیں گے؟
    • سیّد مودودی:آپ جس [عصر حاضر] کا ذکر کر رہے ہیں، اس میں امریکا اور یورپ کے اندر اور خود مسلمان ممالک کے اندر جِن میں اِسلامی قوانین پر عمل کرنا چھوڑ دیا گیا ہے، کیا [وہاں] ارتکابِ جرم کی رفتار [crime rate] بڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے؟ کیا خیال ہے آپ کا؟
  • بی بی سی: in many countries it is increasing [بہت سے ممالک میں یہ رفتار بڑھ رہی ہے]۔
    • سیّد مودودی:ہمارے ہاں پنجاب کے بارے میں جو پولیس رپورٹ حال [۱۹۷۵ء] میں شائع ہوئی ہے، اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ صرف ایک مہینے میں دو سو قتل ہوئے ہیں اور یہ رفتارِ جرم پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکا اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں رفتارِ جرائم کے بارے میں آپ [خوب] جانتے ہیں کہ اس وقت کیاہے اور وہ کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے؟ اب سوال یہ ہے کہ کِسی معاشرے میں جرائم کا موجود رہنا کچھ اچھا ہے؟
  • بی بی سی:اچھا نہیں ہے!
    • سیّد مودودی:اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ کے موجودہ criminal laws [تعزیری قوانین] جرائم کے خاتمے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ ان میں اضافے کے موجب بن رہے ہیں۔

اس کے برعکس ایک مسلمان ملک میں، جہاں اِسلام کا قانون صرف ایک حد تک ہی نافذ کیا گیاہے، یعنی چوری پر اِسلامی تعزیرات نافذ کی گئی ہیں، وہاں اس نے چوری کا خاتمہ کر دیا ہے۔ وہاں کیفیت یہ ہے کہ اگر آپ اپنا سامان سڑک پر چھوڑ کر چلے جائیں اور تین دن کے بعد واپس آئیں تو وہ آپ کو وہیں پڑا ملے گا، کوئی اس کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ اگر آپ اپنا گھر کھلا چھوڑ کر چلے جائیں اور کئی ہفتے کے بعد واپس آئیں تو آپ کو سارے گھر کا سامان جوں کا توں ملے گا۔ کوئی شحص گھر میں داخل تک نہیں ہو گا۔ یہ صرف اس چیز کا نتیجہ ہے کہ سعودی عرب میں ان سزائوں کے نفاذ پر شروع میں جو چند ہاتھ کاٹے گئے، ان کی وجہ سے چوری کا وہاں خاتمہ ہو گیا، تو کیا چند مجرموں کے ہاتھ کاٹ کر چوری ختم کر دینا بہتر ہے، یا یہ بہتر ہے کہ مجرموں کو جیل بھیج بھیج کر ان کو عادی مجرم بنایا جائے؟ وہ جیل سے نکلیں تو پھر چوری کریں اور پھر جیل جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے موجودہ تعزیری قوانین جرائم کی پرورش کر رہے ہیں، لیکن ہم اِسلامی قوانین کے نفاذ کے ساتھ جرائم کو ختم کر سکتے ہیں۔ اب کیا یہ بہتر ہے کہ ہم جرائم کو ختم کر دیں یا یہ بہتر ہے کہ جرائم ہوتے رہیں اور ان کے مؤثر انسداد کی کوئی تدبیر نہ کی جائے؟

  • بی بی سی:جدید معاشرے کے حالات و اطوار بہت بدل چکے ہیں۔ جرم اور سزا کا تصور بدل چکا ہے۔ ماضی کی اِسلامی ریاست میں اور موجودہ دور کی جدید ریاست میں بڑا فرق رونما ہو چکا ہے… شکاگو اور نیویارک جیسے بڑے بڑے شہروں کی معاشرتی کیفیت اور ساخت بالکل مختلف ہے۔ اس لیے ایک محدود شہری نظام کے لیے اگر اِسلامی سزائیں مفید بھی تھیں تو موجودہ بڑے بڑے شہروں کے لیے یہ کس طرح کارآمد ہو سکتی ہیں، جب کہ ان میں جرائم کا ہونا ایک حد تک فِطری بات ہے اور ان میں سزائوں کا عملی نفاذ کوئی آسان کام بھی نہیں؟
    • سیّد مودودی:آپ کا خیال یہ ہے کہ شکاگو اور نیویارک جیسے بڑے بڑے شہروں کی social life [معاشرتی زندگی] ہی ایسی ہے کہ ان کے اندر جرائم کا ہونا ایک فطری چیز ہے۔ اس لیے اس حالت کے خاتمے کے لیے ہاتھ کاٹنے جیسی سزائوں کا نفاذ ایک غیر ترقی پسندانہ بات ہے اور آپ کے خیال میں یہ عملاً ممکن بھی نہیں، لیکن میرا خیال یہ ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے اور اگر صرف چوری پر ہاتھ کاٹنے کا قانون جاری کر دیا جائے تو نیویارک اور شکاگو جیسے شہروں بلکہ پورے امریکا میں چوری کا ارتکاب کم ہو سکتا ہے۔ اس کا مکمل خاتمہ تو صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب کہ پورا سیاسی اور معاشرتی نظام اسلامی خطوط پر قائم کیا جائے، لیکن اسلامی سزائوں کے نتیجے میں بھی اس میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

ہمیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ اسلام کی تجویز کردہ سزائیں معاشرے سے جرائم کا مکمل انسداد کر سکتی ہیں اور ہم یہ چاہتے کہ پاکستان کے اندر اسلام کا مکمل ضابطۂ حیات جاری ہو اور اسلامی تعزیرات نافذ ہوں، پھر ہم دُنیا کو بتائیں گے کہ ہمارے ہاں جرائم کس طرح ختم ہو گئے ہیں۔ اگر ہمیں اس بات کا موقع ملا کہ ہم پاکستان میں صحیح اسلامی نظام قائم کر سکیں، ہم عملاً دُنیا پر یہ بات ثابت کر دیں گے کہ اِسلام کی بنیادوں پر ایک جدید ریاست چل سکتی ہے اور زیادہ بہتر طریقے سے چل سکتی ہے اور اِسلام کی بنیاد پر ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتاہے، جو جرائم سے پاک اور امن و امان کا گہوارہ ہوتا ہے۔

مجرم سے ہمدردی کا مغربی رجحان

  • بی بی سی:روایتی اِسلامی قانون کا یہ پہلو ایسا ہے کہ [آج کا] انسان اس کو قبول کرنے میں دقّت محسوس کرتا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید ذہن کے لیے کسی جرم پر ایک شخص کا ہاتھ کاٹ کر اسے ایک عضو سے محروم کر دینا ایک وحشیانہ فعل معلوم ہوتا ہے… اسی لیے قرونِ وسطیٰ کے ایک نظام کو خواہ وہ اپنی جگہ پر مفید ہی تھا، جدید دَور میں رائج کرنا کُچھ عجیب سی بات معلوم ہوتاہے۔
    • سیّد مودودی: آپ کی موجودہ تہذیب، جسے آپ ’جدید تہذیب‘ کہتے ہیں، اسے جتنی ہمدردی مجرم کے ساتھ ہے، اتنی ہمدردی ان لوگوں کے ساتھ نہیں، جن پر جرم کا ارتکاب کیا جاتاہے۔

مثلاً ایک شخص کا بچہ کوئی اغوا کر کے لے جاتا ہے اور پھر اس کو اطلاع دیتا ہے کہ ’’اتنے ملین ڈالر مجھے دے دو تو بچّہ تمھیں مل جائے گا، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا‘‘ اور بعض اوقات وہ ایسا کر بھی گزرتا ہے، تو آپ کا کیا خیال ہے کہ اِس طرح کے آدمی کو پکڑ کر اگر کوئی سخت سزا دی جائے، مثلاً اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا جائے یا اس کی گردن اڑا دی جائے تو کیایہ وحشیانہ فعل ہو گا؟ یعنی آپ کے نزدیک والدین کو ان کے بچوں سے محروم کر دینا کوئی وحشیانہ حرکت نہیں، البتہ اس حرکت کے مرتکب کو اس کے جرم کی سزا دینا وحشیانہ فعل اور ظالمانہ فعل ہے، جس کی کم از کم ریاست کو ذمہ داری نہیں لینی چاہیے۔ آپ کی ساری ہمدردی اس شخص کے ساتھ ہے، جس نے ایک مجرمانہ اور غیر انسانی فعل کے ذریعے سے اپنے آپ کو مستوجبِ سزا ٹھیرایا ہے اور اس شخص کے بارے میں آپ بے حس ہیں، جسے ظلم اور سنگ دلی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ہم یہ کہتے ہیں کہ جو شخص معاشرے کے اندر جرم کا ارتکاب کر کے معاشرے کے امن و سکون کو غارت کرتاہے، وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کو اتنی سخت سزا دی جائے کہ دوسروں کو اس سے عبرت ہو اور وہ اس قسم کے جرم کے ارتکاب کی جرأت نہ کر سکیں، یعنی ہمارے نزدیک سزا صرف سزا ہی نہیں ہے، بلکہ وہ ارتکاب جرم کو روکنے کا ذریعہ بھی ہے۔ وہ جرم کی حوصلہ شکنی بھی کرتی ہے، چنانچہ ہماری ہمدردی مجرم کے ساتھ نہیں ہے، بلکہ اس شخص کے ساتھ ہے جس پر ارتکابِ جرم کیا جاتا ہے اور اُس معاشرے کے ساتھ ہے جس کے اندر ارتکابِ جرم سے ناہمواری اور عدم ِتحفظ کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے۔

You think it is more social and more cultured to be a criminal. It is human to kill a man and it is inhuman to kill a murderer.

لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ اگر ہمیں موقع ملے تو ہم اِسلامی قوانین کو رائج کر کے دُنیا کو دکھا دیں کہ اِس طرح ایک پرامن معاشرہ [peaceful society] وجود میں آتا ہے۔ وہ معاشرہ مہذب اور ماڈرن بھی ہو گا اور امن و سلامتی کا گہوارہ بھی۔ اس کے قیام کے بعد آپ کے یہ سارے نام نہاد جدید تصورات و نظریات محض ایک داستانِ پارینہ بن جائیں گے۔ چنانچہ، اگر ہم اسلامی نظام زندگی کے قائل اور اسے دُنیا میں قائم کرنے کے آرزومند ہیں تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ ہمارا قدیم مذہبی یا قومی نظام ہے، اور اس بنا پر اس کے ساتھ ہمیں محبت ہے، بلکہ اس کو ہم اس وجہ سے مانتے ہیں کہ وہ سرا سر ایک معقول اور عادلانہ نظام ہے، اور یہ ایک بالکل مطابق انصاف اور معقول بات ہے کہ سوسائٹی کو جرائم سے پاک کیا جائے۔ ہمارے نزدیک وہ معاشرہ نہایت بُرا ہے جس کے اندر جرائم پرورش پاتے ہوں، اور لوگوں کی ہمدردی کا اصل مرکز مجرم ہوں، نہ کہ وہ جن پر جرم کا ارتکاب کیا گیا ہو۔

مسلم اقلیتوں کا مطلوبہ کردار

  • بی بی سی: جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں اور وہاں اِسلامی قوانین نافذ نہیں بلکہ سیکولر نظام پایا جاتا ہے، ان ممالک میں مسلمانوں کا طرزِ عمل کیا ہو گا، جب کہ وہ کسی غیر اِسلامی قانون پر یقین نہیں رکھتے؟ کیا وہ اس قسم کی گورنمنٹ کے خلاف کوئی اقدام کریں گے؟
    • سیّد مودودی: نہیں، اگر ہم کسی غیر مسلم ریاست میں ہوں گے تو ہم اس ریاست میں یہ کوشش کریں گے کہ پرامن جمہوری ذرائع سے لوگوں کے خیالات کو تبدیل کریں اور دلائل کے ساتھ ان کو اِسلامی نظامِ زندگی کی معقولیت اور بَرتری کا قائل کریں۔ اس طریقے سے جب ہم اکثریت کے خیالات کو تبدیل کر لیں گے اور لوگوں کو اِسلامی نظامِ زندگی کا قائل کر لیں گے تو اس اکثریت کی بنا پر وہاں کا نظام تبدیل کریں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ چیز جمہوری نقطۂ نظر سے بالکل درست ہو گی۔ ہم اس ریاست کے اندر غیر جمہوری ذرائع سے کوئی انقلاب نہیں لائیں گے۔

جمہوریت اور اسلام

  • بی بی سی: کیا آپ کے خیال میں جمہوریت کی اِسلامک سوشل فلاسفی کے اندر گنجایش پائی جاتی ہے؟
    • سیّد مودودی: Yes, but not in the western meaning. In western political philosophy sovereignty rests with people but in Islam it rests with God.

[جی ہاں، لیکن اہلِ مغرب کے نظریے کے مطابق نہیں۔ مغربی فلسفۂ سیاست میں تو  اقتدارِ اعلیٰ کے مالک عوام ہوتے ہیں، لیکن اِسلام میں اقتدارِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔]

اس بنیادی فرق کے باوجود ہمارا نظامِ حکومت ایسا ہو گا کہ اس میںریاست کے سربراہ کا انتخاب لوگوں کی کثرتِ رائے کے ذریعے سے ہو گا۔ لوگوں کے نمائندے ان کی رائے سے منتخب ہوں گے، اور پارلیمنٹ ان منتخب نمائندوں پر مشتمل ہو گی۔ کوئی حکومت،عوام الناس کا اِعتماد کھودینے کے بعد قائم نہیں رہ سکے گی۔ اس حد تک جمہوریت ہمارے ہاں موجود ہے۔ گویا، اللہ تعالیٰ کے اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت کی مشینری جمہوری طریقے پر اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین نافذ کرے گی، عوام خود مقتدرِ اعلیٰ نہیں ہوں گے۔

  • بی بی سی:کیا اِس وقت ان معنوں میں کوئی صحیح اِسلامی جمہوری ریاست پائی جاتی ہے؟ یا ماضی قریب میں ایسی کوئی ریاست موجود تھی؟
    • سیّد مودودی: اگر فرض کیجیے کہ کِسی مسلمان ملک میں اس قسم کا اِسلامی جمہوری نظام موجود نہیں ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیںہے کہ اِسلام کا دیا ہوا جمہوری تصورِ ریاست اور قانونِ حکمرانی ناقص ہے، بلکہ یہ صورتِ حال ان لوگوں کی غلطی کا نتیجہ ہے جو مسلمان بھی کہلاتے ہیں، لیکن اِسلام کے جمہوری نظام کو رائج نہیں کرتے۔ چنانچہ ہماری کوشش یہ ہے کہ مسلمان، جہاں کہیں بھی ہیں، وہ محض Professing Muslims [نام کے مسلمان] نہ رہیں، بلکہ Practicing Muslim [عملی مسلمان] بنیں۔
  • بی بی سی: آپ موجودہ دور میں حکومت کا نظام کن خطوط پر استوار کریں گے؟
    • سیّد مودودی: اگر آپ جماعت اِسلامی کے Manifesto [منشور] کا مطالعہ کریں تو آپ کو پوری طرح معلوم ہو جائے گا کہ ہم اِسلامی اصول ِحکمرانی پر مبنی ایک جمہوری حکومت کس طرح قائم کریں گے اور اس کے نمایاں خدوخال کیا ہوں گے۔

معاشرے میں عورت کا مقام اور کردار

  • بی بی سی: ایک اور اہم مسئلہ ہے سوسائٹی میں عورت کے مقام اور حیثیت کا۔ اس معاملے میں اسلامی اقدار، مغرب کی صنعتی طور پر ترقی یافتہ سوسائٹی کی اقدار سے قطعی طور پر مختلف اور متضاد ہیں۔ آپ کی رائے کیا ہے اس معاملے میں، کہ کیا جدید زمانے کے بدلے ہوئے حالات اور جدید تہذیبی قدروں کی روشنی میں معاشرے کے اندر عورت کے بارے میں اِسلام کے نقطۂ نظر میں کوئی ترقی پسندانہ تبدیلی ممکن ہے؟
    • سیّد مودودی: دیکھیے ، آپ کے خیال میں آپ کی جو جدید تہذیب اور ماڈرن کلچر ہے، آپ سمجھتے ہیں کہ تہذیب اور ثقافت کا یہی ایک standard [معیار] ہے۔اس معیار پر آپ دوسری ہرتہذیب و ثقافت کو پَرکھتے ہیں، لیکن ہم اس کو نہیں مانتے۔ آپ اپنی جِس تہذیب اور کلچر کو ’ماڈرن‘ کہہ کر اس کی بڑی تعریف کرتے ہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک backward [پس ماندہ] اور فرسودہ چیز ہے اور یہ تباہ کر رہی ہے آپ کی پوری سوسائٹی کو اور آپ کے پورے نظامِ تمد ّن کو۔ ہم نہیں چاہتے کہ اِس ’ماڈرن کلچر‘ کو اپنی سوسائٹی میں لائیں اور اسے بھی تباہ کر لیں۔

آپ کی جدید تہذیب یہی ہے نا کہ آپ نے اپنے ہاں خاندانی نظام کا خاتمہ کر دیاہے۔ آپ نے عورت کا جو مقام و مرتبہ سوسائٹی کے اندر متعین کیا، اِس کا نتیجہ یہی نکلا ہے کہ آپ نے عورتوں کے اخلاق بھی برباد کیے اور مردوں کے بھی۔ آپ نے لوگوں کو اخلاقی پستی کی انتہا تک گرا دیا۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم بھی وہاں تک گر جائیں؟ ہم اس کے لیے تیار نہیں۔ ہم اپنی سوسائٹی کو ان تمام برائیوں سے پاک رکھنا چاہتے ہیں، جو آپ کی ماڈرن سوسائٹی میں پائی جاتی ہیں۔ ہمارے نزدیک ترقی اور چیز ہے اور نام نہاد ماڈرن سوسائٹی کی بُری عادات و اطوار او رچیز۔ ہم ترقی کے قائل ہیں اور وہ ہم ضرور کریں گے، لیکن اس شکل میں نہیں کہ جِس طرح آپ کر رہے ہیں، ہم اس کو غلط سمجھتے ہیں۔ اس کے بجائے ہم اپنے اصولوں پر تعمیر و ترقی کریں گے اور وہی صحیح معنوں میں تعمیر و ترقی شمار ہو گی۔

  • بی بی سی:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عورت کا مقام گھر کے اندر ہے اور اس کی معاشرتی زندگی کے جملہ معاملات اس کے شوہر سے ہی وابستہ ہونے چاہییں، اور وہ دوسرے مردوں سے رابطہ نہیں رکھ سکتی۔ اس صورت میں کیا آپ یہ بھی پسند نہ کریں گے کہ عورتیں ڈاکٹر یا معلمات بنیں؟
    • سیّد مودودی: جی ہاں، اسلامی اُصولِ معاشرت کی رُو سے عورت کا مقام اس کا گھر ہے اور اس میں مرد کی حیثیت نگران اور قو ّام کی ہے۔ البتہ جہاں تک عورتوں کے تعلیم پانے اور ڈاکٹر یا معلمہ وغیرہ بننے کا سوال ہے تو ہم نہ صرف یہ کہ اس کو درست سمجھتے ہیں بلکہ ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم اپنی خواتین کو اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں، لیکن اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ایک مسلمان عورت یہ سمجھتی ہے کہ اس کا اصل دائرہ کار اس کا گھر ہے۔ ہماری خواتین ڈاکٹر بھی بنیں گی لیکن وہ عورتوں کا علاج کریں گی، مردوں کا نہیں۔ ہم عورتوں کا ڈاکٹر بننا اِس لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں کا علاج کریں اور عورتوں کو مردوں سے علاج نہ کرانا پڑے۔

ہم یہ چاہتے ہیں کہ عورتیں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے معلمات اور لیڈی لیکچرار اور پروفیسر بنیں، تاکہ وہ ہماری بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دے سکیں۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہماری عورتوں کو مرد پڑھائیں۔ چنانچہ ہمارے ملک میں ایسے بے شمار کالج موجود ہیں، جن میں صِرف خواتین پڑھاتی ہیں اور تمام علوم و فنون کی تعلیم دیتی ہیں۔ وہ سائنس بھی پڑھاتی ہیں اور دوسرے جدید علوم بھی۔    اِسی طرح دوسرے شعبوں میں بھی جہاں ضروری ہو ،ہم اپنی خواتین کو اعلیٰ تعلیم و تربیت سے آراستہ کرتے ہیں۔ لیکن ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ ہم اس اصول کو ہر گز تبدیل نہیں کریں گے کہ مسلمان عورتوں کا اصل مقام ان کا گھر ہے۔ مسلمان عورت سے ہم جو بھی کام لیں گے، وہ اس کے گھر کے اندر اور عورتوں کی سوسائٹی کے اندر لیں گے۔

عائلی قوانین اور عورت کا تحفظ

  • بی بی سی:جیسا کہ آپ نے فرمایا یہ درست ہے کہ مغربی سوسائٹی میں خاندانی نظام انتشار کا شکار ہے، لیکن اسلامی قانون کا یہ پہلو بھی غورطلب ہے کہ اس میں طلاق کے ذریعے شادی کے بندھن کو ختم کر دینا بہت آسان ہے۔ خاص طور پر موجودہ فیملی لاز [عائلی قوانین] سے پہلے تو ایسا ہی تھا۔ کیا یہ چیز عورتوں کے لیے عدم تحفظ کا موجب نہیں ہے؟
    • سیّد مودودی: طلاق میں اس آسانی کے باوجود آپ دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں طلاقوں کی شرح بہت کم ہے، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے، جب کہ مغربی ممالک میں یہ بہت زیادہ ہے۔ وہاں خاندانی نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ میں نے مغربی معاشرے اور مغربی تہذیب کی اس صورتِ حال کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے۔

ہمار ے یہاں تو کبھی اتفاق سے یہ سننے میں آتا ہے کہ کِسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور اس پر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ اس طرح طلاق ہمارے ہاں آسان ہونے کے باوجوود عملاً ایک rare [کم یاب ] چیز ہے۔٭  لیکن آپ کے ہاں جو حالات ہیں وہ آپ خود جانتے ہیں کہ وہاں طلاقوں کی کِس قدر بھَر مار ہو رہی ہے۔

[٭یہ اب سے تقریباً نصف صدی پہلے کی بات ہے، لیکن اتنے عرصے میں مغربی تہذیب کی محبت اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے مغربی تمدن کی غلامی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب یہاں پر بھی طلاق و خلع کی رفتار کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔]

  • بی بی سی: مغربی سوسائٹی میں طلاقوں کی یہ کثرت عورتوں کے لیے کچھ زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ کیونکہ وہ معاشی طور پر آزاد ہیں اور مَرد کی محتاج نہیں ہیں، جب کہ اسلامی معاشرہ میں عورت کی یہ پوزیشن نہیں ہے؟
    • سیّد مودودی: آپ کو معلوم نہیں ہے کہ مسلمان عورت اپنے باپ سے ورثہ پاتی ہے، اپنے شوہر سے اور اپنے بیٹے سے بھی اس کو حصّہ پہنچتا ہے ۔اس طرح جِس شکل میں بھی اس کو کوئی ورثہ ملتاہے، وہ اس کی خود مالک ہوتی ہے اور اس کا شوہر، باپ، بیٹا یا کوئی اور شخص اس کو اس سے محروم نہیں کر سکتا۔ اِسی طرح ایک مسلمان عورت کاروبار کر سکتی ہے اور ان اداروں میں ملازمت کرسکتی ہے جن کا دائرۂ کار خواتین تک محدُود ہے۔ اس طرح اس کو معقول طریقے سے جو معاشی آزادی حاصل ہو سکتی ہے، ہم اِس کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ہم ایسی معاشی آزادی کو درست نہیں سمجھتے جس کے نتیجے میں وہ بالکل آزاد ہو جائے اور جِس کے نتیجے میں معاشرے کے اندر طلاقوں کی اس طرح بھرمار ہو جائے جیسی کہ مغربی معاشرے میں پائی جاتی ہے۔ جس سوسائٹی میںdivorce rate  [طلاق کی شرح] اس قدر بڑ ھ جائے، وہاں ان بچوں کا کیا حشر ہو گا، جِن کی مائوں نے طلاق لے لی ہو۔ طلاق لے کر پہلے وہ ایک شخص سے شادی کریں پھر کسی اور شخص سے اور پھر کسی اور شخص سے اور ادھر بچوں کا حال یہ ہو کہ کوئی ان کا والی وارث نہ ہو۔ آپ کے ہاں نئی نسل جرائم کی کیوں عادی ہوتی جارہی ہے اور Teen-agers [نو عمر طبقے ] میں جرائم کیوں ایک بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں؟

آپ یہ تسلیم کریں گے کہ ایسی بات خُدا کے فضل سے ہمارے ہاں تقریباً ناپید ہے، اور ایسا شاذو نادر ہی کبھی ہوتا ہو گا کہ کِسی خاندان میں طلاق کے نتیجے میں بچے بگڑ کر مجرم بن جائیں۔ تو اس لحاظ سے ہم اپنے آپ کو مغربی معاشرے سے کہیں زیادہ بہتر اور قابلِ رشک پوزیشن میں پاتے ہیں اور یہ چیز اِسلام کے ان معاشرتی اصولوں کی بدولت ہے، جو ہمارے معاشرے میں اب تک برقرار ہیں اور ان کی پابندی کی جاتی ہے۔

بھارت کی مسلم کش پالیسی

  • بی بی سی: کیا آپ بھارت کے موجودہ حالات میں بھارتی مسلمانوں کی اخلاقی مدد اور حمایت کرنا چاہتے ہیں؟
    • سیدمودودی: بالکل، ہم بھارتی مسلمانوں کو moral support [اخلاقی مدد] دینا ضروری سمجھتے ہیں اور ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ دُنیا کی رائے عامہ کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ بھارت میں مسلم کشی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے اور بھارتی حکومت پر یہ دبائو ڈالے کہ وہ وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ عدل و انصاف کے ساتھ کام لے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر مسلسل ظلم و زیادتی کی جا رہی ہے، ظلم و زیادتی ہی نہیں، بلکہ ان کی نسل کشی کی جارہی ہے، جو کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق بھی جرم ہے۔ لیکن چونکہ بھارت ایک بڑا ملک ہے، اس لیے اس سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ وہ اپنے شہریوں کے ساتھ یہ سلوک کیوں کر رہاہے؟ ہم یہ چاہتے ہیں کہ دُنیا کی رائے عامہ اس معاملے میں بھارت پراپنااخلاقی دبائو ڈال کر اسے اس نسل کشی سے باز رکھنے کی کوشش کرے۔٭

[٭ نصف صدی گزرنے کے بعد آج، بھارت میں مسلمانوں کے وجود کو لاحق خطرات کی شدت میں وسعت آئی ہے۔ راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ (RSS) کی فسطائی حکمرانی کو جمہوری ووٹ کی مدد میسر ہے اور دنیا بھر کے کاروباری مفادات کے بھوکے ملکوں اور کثیر ملکی کمپنیوں کی معاشی ہوس بھی ساتھ ساتھ ہے۔ لیکن اقوام متحدہ اور مسلم دنیا کے سیاہ و سفید پر قابض حکمران طبقے بے حس خاموش تماشائی ہیں۔مرتب]

  • بی بی سی: آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ آیا تصنیفی کام میں تاریخی تحقیق کے جدید اصول اختیار کیے جا سکتے ہیں؟
    • سیّد مودودی: آپ تاریخی تحقیق و مطالعے کے جس ماڈرن سِسٹم کا حوالہ دے رہے ہیں، میرا خیال یہ ہے کہ اس مقابلے میں ہمارے ہاں جو طریقِ تحقیق ہے، اس کا ماڈرن ریسرچ اسکالرز کو کبھی خیال بھی نہیں آیا ہو گا۔ ہمارے ہاں جس طریقے سے روایات کو تحقیق و جستجو اور    چھان پھٹک کے بعد قبول کیا جاتا ہے، اس کا اہتمام کسی دور میں بڑے سے بڑے علمائے تاریخ نے کبھی نہیں کیا۔ ہمار ے ہاں روایات کی صحت کو عقلی معیار پر جانچنے کے ساتھ ساتھ ان کی اسناد کی تحقیق کی جاتی ہے۔ جب یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ان کی سند پُوری طرح متصل ہے اور اس میں سے کوئی کڑی غائب یا کمزور نہیں ہے، تب ان روایات کو قبول کیا جاتا ہے۔ احادیث اور کتب سیرت میں رسول اللہﷺ سے منسوب تمام روایات کو اس طریقِ تحقیق پر جانچنے کے بعد ان کو قبول یا رَد کیا جاتا ہے۔ آپ کے موجودہ ریسرچ سکالرز اِس طرزِ تحقیق سے بالکل ناآشنا ہیں۔
  • بی بی سی: میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے یہ گراں قدر لمحات مجھے عطا فرمائے۔ یہ میرے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔ اب میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔بہت بہت شکریہ، خدا حافظ۔

     

[۲]

  • سوئس ٹیلی ویژن: آپ کے خیال میں پاکستان کا مقصدِ تخلیق پُورا ہو گیا ہے؟٭
    • سیّد مودودی: میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ابھی پُوری طرح وہ مقصد پُورا نہیں ہوا، تاہم اس نہج پر کچھ کام ہو رہا ہے اور مزید کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کچھ عرصہ کام ہوتا رہا تو وہ دن دُور نہیں جب پاکستان اپنے حقیقی مقصدِ وجود کو پالے گا، اور اس راہ میں موجود پیش آمدہ رکاوٹیں جن کے بہت سے تاریخی اسباب ہیں، ان شاء اللہ دُور ہو جائیں گی۔

[٭جرمن نژاد ڈاکٹر پیٹرشمڈ نے ۲۴ جون ۱۹۶۸ء کو Swiss TV کے لیے یہ انٹرویو فلم بند کیا، جس کا انگریزی سے اُردو ترجمہ پیش ہے۔ (ہفت روزہ ایشیا، لاہور، ۲۱ جولائی ۱۹۶۸ء)]

  • سوئس ٹیلی ویژن: جن لوگوں کے سامنے یہ انٹرویو ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا، وہ اصل مسئلے یعنی ’’پاکستان کس لیے حاصل کیا گیا؟‘‘ سے واقف نہیں ہیں، اس لیے آپ اپنے جواب کی تشریح کر دیں، تاکہ اصل مسئلہ نکھر کر سامنے آجائے۔
    • سیّد مودودی : اصل معاملہ یہ ہے کہ ہمارے اس ملک پر تقریباً ۱۹۰ سال تک انگریزی حکومت رہی ہے۔ اس بیرونی حکومت کے زمانے میں ہمارا نظامِ تعلیم بدل کر رکھ دیا گیا اور ایسا نظامِ تعلیم رائج کیا گیا، جو اُس دَور [غلامی] کے لیے کَل پُرزے فراہم کرنے کے لیے مناسب اور موزوں تھا۔ اسی طرح ہمارے قوانین تبدیل کر دیے گئے۔ ہمارے ملک کے تجارت کے طورطریقے، ہمارا معاشی نظام، اسلامی تہذیب و ثقافت، غرض ہر چیز کو تبدیل کر دیا گیا۔

اعلانِ آزادی کے بعد قدرتی طور پر اس ملک کے مسلمانوں کی خواہش یہ تھی اور اس خواہش کے لیے برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں نے قربانیاں دے کر پاکستان حاصل کیا تھا، کہ اس خطۂ زمین میں اُنھیں اپنے طرزِ تمد ّن اور اپنے قوانین، اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے مطابق زندگی بسر کرنے کا موقع ملے، لیکن ۱۹۰سالہ انگریزی دَورِ غلامی اور مروّجہ نظامِ تعلیم کی وجہ سے ملک میں وہ لوگ موجود نہیں تھے اور نہ تیار کیے گئے تھے جو اسلامی قوانین کو اچھی طرح سمجھتے ہوں اور ان پر نظامِ مملکت کو چلا سکیں۔ معدودے چند لوگ جو یہ صلاحیت رکھتے تھے ، اُنھیں اس نظام کو عملاً چلانے کا نہ موقع ملا اور نہ کوئی اختیار ان کے پاس تھا، اور جن لوگوں کے پاس اختیارات تھے، وہ زیادہ تر ایسے تھے کہ اسلام کو ایک نظامِ زندگی کی حیثیت سے سمجھتے ہی نہ تھے کہ اس کے مطابق معاملات چلاسکیں، اور ان میں سے کچھ اسلام کے مطابق اپنے معاملات چلانے کا ارادہ ہی نہ رکھتے تھے۔

ہم اس اصل سبب کو سمجھتے ہیں اور اس وجہ سے بڑے صبر کے ساتھ مدّت سے اُن اسباب کو دُور کرنے کی فکر کر رہے ہیں، جو اس راہ میں اصل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر اسی طرح صبر اور حکمت کے ساتھ مسلسل کام کیا جائے تو ان شاء اللہ ایک وقت آئے گا جب پاکستان صحیح معنوں میں ایک اسلامی اسٹیٹ بن جائے گا اور ایک صحیح اسلامی معاشرہ وجود میں آجائے گا۔

مغربی تہذیب کے بڑھتے ہوئے اثرات

  • سوئس ٹیلی ویژن: میں محسوس کرتا ہوں کہ اس ملک [یعنی پاکستان] میں مغربی تہذیب کے اثرات زیادہ تیزی کے ساتھ پھیل رہے ہیں اور نوجوان زیادہ تر ان اثرات کو قبول کر رہے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے اور کیا اس کا علاج ہو سکے گا؟
    • سیّد مودودی: مغربی تہذیب اور دوسرے بیرونی نظریات ہماری اصل قومی روایات کے متضاد ہیں۔ ہماری قومی روایات کو پنپنے کا موقع دیا جائے تو مجھے قوی اُمید ہے کہ بالآخر ہماری قومی روایات مغربی تہذیب کے اثرات اور دوسرے بیرونی نظریات پر غالب آجائیں گی۔

ہماری قومی روایات ملک کی صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتیںاور نہ ہمارا دین مغربی ٹکنالوجی یا سائنسی ترقی کی راہ میں حائل ہے،بلکہ ہمارا دین صرف اسلامی اخلاقی اورسماجی اُصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لیے اگر صحیح نہج پر کام کیا جائے تو ہماری اپنی مثبت روایات، مغربی تہذیب کے تباہ کن اثرات پر چھا جائیں گی۔ بیرونی نظریات کو پھر اس ملک میں پنپنے کا موقع نہیں مل سکے گا۔

عورت کی آزادی اور مخلوط معاشرت

  • سوئس ٹیلی ویژن: Emancipation of Women [عورتوں کی خود اختیاریت] کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
    • سیّد مودودی: ہمارے نزدیک اس نعرے نے یورپی ممالک کے خانگی اور معاشرتی ڈھانچے کو تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا ہے، اور ہم اُن کو تباہی کے گڑھے میں گرتے ہوئے دیکھ کر، اُن کی اندھی تقلید کرتے ہوئے اسی گڑھے میں گرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
  • سوئس ٹیلی ویژن: مطلب یہ کہ آپ مرد و زن کی mixing [آزادانہ اختلاط] کے مخالف ہیں؟
    • سیّد مودودی: مَیں نے تو اس موضوع پر ایک مستقل کتاب [پردہ] لکھی ہے ،جس میں اس مسئلے کے تمام پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے اور مغربی تہذیب و تمدّن کے اس پہلو کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے۔

       

[۳]

مغربی تہذیب اور اسلامی روایات

  • ڈیلی سن: جو لوگ ترک وطن کر کے یہاں برطانیہ آئے ہیں، کیا وہ یہاں کے طرزِزندگی، روایات اور اقدار کو اپنا لیں گے؟[روزنامہ Sun، لندن، ۱۲دسمبر ۱۹۶۸ء، [انگریزی سے ترجمہ]]
    • سیّد مودودی: مسلمانوں کو مغربی تہذیب کے مقابلے میں اِسلامی روایات اور  تہذیب و ثقافت سے کسی قیمت پر بھی دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔ یہ آپ کا کام ہے کہ آپ اپنے لوگوں کو اِس رواداری اور وسیع الظرفی کی تعلیم دیں کہ وہ نہ صرف یہ کہ بہت سی نسلوں پر مشتمل سوسائٹی کو قبول کریں ،بلکہ Multicultural Society [کثیر قومی معاشرے] کی تشکیل کو بھی تسلیم کریں۔
  • ڈیلی سن: کیا یہ ممکن ہے؟مختلف ثقافتوں کی علم بردار قوموں پر مشتمل سوسائٹی تو ایک ناممکن سی بات معلوم ہوتی ہے۔
    • سیّد مودودی: بلاشُبہہ تعصّب ،ماحول پر بُری طرح چھایا ہوا ہے لیکن لوگوں کے لباس وغیرہ تو سطحی چیزیں ہیں، اصل تعصّب جس کا تَدارُک کرنے کی ضرورت ہے، وہ اس سطح کے نیچے، خیالات و افکار میں پایا جاتا ہے۔ برطانوی باشندے بھی تو آخر ہمارے ملک میں آکر رہے تھے، لیکن ہم نے تو انھیں کبھی مقامی معاشرے میں جَذب ہو جانے کے لیے نہیں کہا تھا اور نہ ہم نے ان سے کبھی اپنا مقامی لباس پہننے کا مطالبہ کیا تھا۔ موجودہ دَور میں یہ بات کچھ ضروری نہیں رہی ہے کہ لوگ اپنے ملکوں کے اندر ہی محدُود رہیں اور اُن سے باہر نہ نکلیں۔

تاہم، جو بات مَیں یہاں کے مسلمانوں سے کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ اس ملک میں اِخلاص اور فرض شناسی کے جذبے کے ساتھ کام کریں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام کے مخلص اور سچّے پَیرو بنیں۔ یہاں کے لوگوں کے سامنے ایک اچھا نمونہ پیش کریں۔ اور یہ بات خاص طور سے سامنے رکھیں کہ وہ یہاں کسی قیمت پر بھی اپنی تہذیبی روایات سے اِنحراف نہیں کریں گے۔


[۴]

برصغیر میں اسلام کی آمداور اثرات

  • اٹلی ٹیلی ویژن: برِّصغیر میں اسلام کی آمد پر یہاں کے باشندوں کو بھلا کس چیز نے اپیل کیا تھا؟
    • سیّد مودودی: برِّصغیر میں اسلام پہلی صدی ہی میں آگیا تھا اور پہلی صدی سے میری مراد پہلی صدی ہجری ہے۔ اس زمانے میں اسلام کو دو مذہبوں سے سابقہ پیش آیا۔ ایک بودھ مت، دوسرے ہندو مذہب۔ بودھ ازم ایک ایسا مذہب ہے جو انسان کو ’رہبانیت‘ سکھاتا ہے اور ہندوازم ایک ایسا مذہب ہے، جو انسان کو ایسے مستقل طبقات میں تقسیم کرتا ہے، جو کبھی تبدیل نہیں ہو سکتے۔ اس کے علاوہ ہندو مت شرک و بُت پرستی پر مبنی ہے۔ اسلام جب آیا تو اُس نے یہاں ایک طرف توحید کا عقیدہ پیش کیا۔ دوسری طرف اس نے ہندومت کی ننگ ِ انسانیت طبقاتی تقسیم کو فکری اور عملی سطح پر باطل ثابت کیا اور تمام انسانیت کی وحدت پر زور دیا۔ تیسری طرف اس نے انسان کو یہ بتایا کہ اس کی ترقی کا فطری راستہ ترکِ دُنیا اور ’رہبانیت‘ نہیں ہے، بلکہ اجتماعی زندگی میں رہتے ہوئے خدا اور اس کے بندوں اور خود اپنے نفس کے حقوق ادا کرنا ہے۔ جو اثرات اسلام نے برِّصغیر کے باشندوں پر ڈالے، ان کا اندازہ کرنے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ جہاں اسلام کی آمد سے پہلے ایک مسلمان بھی موجود نہ تھا ، وہاں آج کروڑوں مسلمان پائے جاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے ذہن کو اسلام کی تعلیم توحید نے، وحدت ِانسانی کے تخیّل نے اور اجتماعی زندگی کی اصلاح کے پروگرام نے اپیل کیا۔ [اٹلی ٹیلی ویژن ، روم نے یہ مکالمہ فروری ۱۹۶۹ء میں ریکارڈ کیا۔ انگریزی سے اُردو ترجمہ دیاجارہا ہے۔ (ہفت روزہ ایشیا، ۱۷؍اپریل ۱۹۶۹ء)]

اسلام کا اجتماعی فلسفۂ زندگی

  • اٹلی ٹیلی ویژن : جدید دَور کے لیے اسلام کا اجتماعی فلسفۂ حیات کیا ہے؟
    • سیّد مودودی : اسلام کا اجتماعی فلسفۂ حیات ہر زمانے کے لیے ہے۔ وہ موجودہ دَور کے لیے بھی اسی طرح صحیح اور دُرست ہے، جس طرح قدیم دَور کے لیے تھا، اور آیندہ آنے والے ہزاروں سال کے لیے بھی اسی طرح قابلِ عمل اور درست رہے گا۔ دراصل اسلام کا فلسفۂ حیات اس تصور پر مبنی ہے کہ انسان کے لیے صحیح رویّۂ زندگی ،اللہ وحدہٗ لاشریک کی بندگی و اطاعت اور اس قانون کی بندگی و اطاعت اور اس قانون کی پَیروی ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے۔چوں کہ یہ ساری کائنات، اللہ کی سلطنت ہے اور انسان فطری طور پر اس کا بندہ ہے۔ اس لیے ہرزمانے میں انسان کے لیے صحیح رویّہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا کہ وہ خُدا کی بندگی اور اطاعت کرے اور اس قانون کی پَیروی کرے، جو اس کائنات کے بنانے والے نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے۔ یہی طریقِ زندگی ہر زمانے کے لیے ٹھیک اور دُرست ہے۔ جب کبھی انسان نے اس سے انحراف کیا، اس کو ایسے پیچیدہ مسائل سے سابقہ پیش آیا، جن کو وہ اپنی عقل سے کبھی صحیح طور پر حل نہ کر سکا۔ موجودہ دَور میں جو تمد ّن اور تہذیب کا نظام پایا جاتا ہے، وہ چوں کہ خُدا کی اطاعت سے منحرف اور اس کے قانون سے بے نیاز ہے ،اس لیے اس نے بھی بے شمار ایسے مسائل پیدا کر دیے ہیں،جن کے حل کرنے پر انسان قادر نہیں ہو رہا ہے:

- مثلاً، آج خاندانی زندگی کا نظام موجودہ تہذیب ہی کی وجہ سے درہم برہم ہو رہا ہے۔

- مثلاً، اسی تہذیب و تمدّن کی بدولت رنگ اور نسل کے امتیازات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ دُنیا میں کبھی انسانیت پراتنا ظلم و ستم نہیںہوا جتنا اس رنگ و نسل کے امتیاز کی بدولت آج ہورہا ہے۔

- مثلاً، اس تہذیب نے نیشنل ازم کا طوفان بَرپا کر دیا جس کی بدولت دُنیا میں دو عظیم جنگیں ہو چکی ہیں اور مزید ہوتی نظر آرہی ہیں۔

یہ سب کچھ اسی وجہ سے تو ہے کہ انسان نے علوم ِطبیعی کی طرح اپنی اجتماعی زندگی کے لیے بھی اپنی عقل ہی کو کافی سمجھ لیا ہے اور اپنی زندگی کا نظام اپنی عقل سے تصنیف کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر اس فطری نظام کو اختیار کیاجائے جو انسان کے لیے خُدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے تو یہ مسائل کبھی پیدا نہ ہو ں، اور اگر کبھی پیدا ہو بھی جائیں تو ان کو آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے۔

رنگ و نسل کا مسئلہ اور حل

  • اٹلی ٹیلی ویژن : نسل اور رنگ کا مسئلہ اسلام کس طرح حل کرتا ہے؟
    • سیّد مودودی : نسل اور رنگ کے مسئلے کے پیدا ہونے کا اصل سبب یہ ہے کہ آدمی محض اپنی جہالت اور تنگ نظری کی بنا پر یہ سمجھتا ہے کہ :جو شخص کسی خاص نسل یا ملک یا قوم میں پیدا ہو گیا ہے وہ کسی ایسے شخص کے مقابلے میں زیادہ فضیلت رکھتا ہے جو کسی دوسری نسل یا قوم یا کسی دوسرے ملک میں پیدا ہواہے۔ حالاں کہ انسانوں کی پیدایش ایک قدرتی امر ہے، ان کے اپنے انتخاب کا نتیجہ نہیں ہے۔

اسلام ایسے تمام تعصبات کو ’جاہلیّت‘ قرار دیتاہے۔ وہ کہتا ہے کہ تمام انسان ایک ماں اور ایک باپ سے پیدا ہوئے ہیں اور انسان اور انسان کے درمیان فرق کی بنیاد اس کی پیدایش نہیں بلکہ اس کے اخلاق ہیں۔ اگر ایک انسان اعلیٰ درجے کے اخلاق رکھتا ہے تو خواہ وہ کالا ہو یا گورا، خواہ وہ افریقا میں پیدا ہوا ہو یا امریکا میں یا ایشیا میں بہرحال وہ قابلِ قدر انسان ہے۔ اور اگر ایک انسان اخلاق کے اعتبار سے بُرا آدمی ہے تو خواہ کسی جگہ پیدا ہوا ہو اور اس کا رنگ خواہ کچھ ہی ہو اور اس کا تعلق خواہ کسی نسل سے ہو، وہ ایک بُرا انسان ہے۔ اسی بات کو محمد رسول اللہﷺ نے اپنے آخری خطبے میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ :’’کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر کوئی فضیلت اگر ہے تو وہ تقویٰ کی بنا پر ہے‘‘۔

جو شخص خدا کی صحیح صحیح بندگی کرتا ہے اور خدا کے قانون کی صحیح صحیح پیروی کرتا ہے، خواہ وہ گورا ہو یا کالا ،بہرحال وہ اس شخص سے افضل ہے جو خُدا ترسی اور نیکی سے خالی ہو۔

اسلام نے اسی بنیاد پر تمام نسلی اور قومی امتیازات کو مٹایا ہے۔ وہ پوری نوع ِانسانی کو ایک قرار دیتا ہے اور انسان ہونے کی حیثیت سے سب کو برابر کے حقوق دیتا ہے۔ قرآن وہ پہلی کتاب ہے جس نے انسان کے بنیادی حقوق کو واضح طور پر بیان کیا ہے ۔اسلام وہ پہلا دین ہے، جس نے تمام انسانوں کو جو کسی مملکت میں شامل ہوں، ایک جیسے بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ فرق اگر ہے تو یہ ہے کہ اسلامی ریاست چوں کہ ایک نظریے اور اصُول [Ideology] پر قائم ہوتی ہے، اس لیے اس نظریے کو جو لوگ مانتے ہوں ،اسلامی ریاست کو چلانے کا کام انھی کے سپرد کیا جاتا ہے۔ کیوںکہ جو لوگ اسے مانتے اور سمجھتے ہیں وہی اس پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں، لیکن انسان ہونے کی حیثیت سے اسلام تمام ان لوگوں کو یکساں تمد ّنی حقوق عطاکرتا ہے جو کسی اسلامی ریاست میں رہتے ہوں۔

اسی بنیاد پر اسلام نے ایک عالم گیر اُمت [World Community] بنائی ہے ، جس میں ساری دُنیا کے انسان برابر کے حقوق کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔ حج کے موقعے پر ہر شخص جا کر دیکھ سکتا ہے کہ ایشیا، افریقہ، امریکا، یورپ اور مختلف ملکوں کے لاکھوں مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور ان کے درمیان کسی قسم کا امتیاز نہیں پایا جاتا۔ ان کو دیکھنے والا ایک ہی نظر میں یہ محسوس کر لیتا ہے کہ یہ سب ایک اُمت ہیں اور ان کے درمیان کوئی معاشرتی امتیاز نہیںہے۔ اگر اِس اصُول کو تسلیم کر لیا جائے تو دُنیا میں رنگ و نسل کی تفریق کی بنا پر آج جو ظلم و ستم ہو رہا ہے، اس کا یک لخت خاتمہ ہو سکتا ہے۔

شراب اور سود کی ممانعت کی حکمت

  • اٹلی ٹیلی ویژن: اسلام میں شراب اور سُود کی حُرمت کے کیا وجوہ ہیں؟
    • سیّد مودودی : سب سے پہلے آپ شراب کے مسئلے پر غور کریں: عملی بنیاد پر یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ شراب، انسان کے جسم کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور عقل کے لیے بھی۔ اس وقت دُنیا میں الکوہلزم [شراب نوشی] ایک خطرناک مسئلے کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔ بکثرت انسان ایسے ہیں، جو اسی الکوہلزم کی بدولت عملاً اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں کھو چکے ہیں اور معاشرے کے لیے ایک مسئلہ بن چکے ہیں۔ اس بات کو بھی مانا جاتاہے کہ دُنیا میں بکثرت accidents [حادثات] اِس وجہ سے ہوتے ہیں کہ آد می کے خون میں اگر ایک خاص مقدار میں الکوہل موجود ہو اور اس حالت میں وہ گاڑی چلائے تو اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے اور دوسرے انسانوں کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ لیکن اس پر کوئی اتفاق نہیں ہو سکا ہے کہ وہ خاص مقدار کتنی ہے جس کا پایا جانا ذہنی توازن کو بگاڑ دیتا ہے، یا فلاں خاص مقدار تک الکوہل کا استعمال تمام انسانوں کے لیے یکساں مضر ہو گا اور اس سے زائد مقدار سب کے لیے مضر نہیںہو گی۔ بہرحال یہ امر طے شدہ ہے کہ شراب ایک ایسی چیز ہے، جو انسان کی ذہنی صلاحیتوں کو متوازن نہیں رہنے دیتی۔ یہ نسبت مختلف انسانوں کے معاملے میں مختلف ہوتی ہے اور کوئی ایسا قاعدہ کلیہ نہیں بنایا جاسکتا ۔

اسی لیے اسلام نے شراب نوشی کو قطعی طور پرممنوع قرار دیا ہے اور یہ اصول قرار دیا ہے کہ جو چیز حرام ہے، اس کی کم سے کم مقدار بھی حرام ہے کیونکہ اس کی کم مقدار کو حلال قرار دینے کے بعد کوئی خط ایسا نہیں کھینچا جاسکتا، جہاں جواز کی حد ختم ہو سکے اور عدمِ جواز کی حد شروع ہو جائے۔ لہٰذا، قابلِ عمل صورت یہی ہے کہ اس کو قطعی طور پر ممنوع قرار دے دیا جائے۔ اسلام کے سوا کوئی دوسرا مذہب یا نظامِ تہذیب ایسا نہیں ہے جس نے انسان کو الکوہلزم سے بچانے میں وہ کامیابی حاصل کی ہو جو اسلام نے حاصل کی ہے۔ امریکا نے اسی صدی میں اس بات کی کوشش کی تھی کہ امریکی قوم کو شراب کے نقصانات سے بچایا جائے۔ چنانچہ، امریکی دستور میں ایک ترمیم کے ذریعے سے شراب کو ممنوع قرار دیا گیا، لیکن یہ تجربہ ناکام ہوگیا۔[امریکی کانگریس نے۱۸دسمبر ۱۹۱۷ء کو شراب پر پابندی کی ترمیم پیش کی، جو ۱۸ویں ترمیم کے طور پر، ۱۶جنوری ۱۹۱۹ء کو منظور ہوئی۔ ۱۷جنوری ۱۹۲۰ء سے اس پر عمل شروع ہوا۔مگر شدید عوامی ردعمل کے نتیجے میں دسمبر ۱۹۳۳ء کو ۲۱ویں ترمیم کی صورت میں یہ پابندی واپس لے لی گئی۔ یہاں مولانا محترم نے اس جانب اشارہ کیا ہے۔]

 اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ شراب کا ساینٹی فک معیار پر ’مضر ہونا پہلے ثابت ہو گیا تھا اور بعد میں اس کا غیر مضر ہونا ثابت ہو گیا، بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ امریکا کی حکومت اور اس کا پورا قانونی نظام اپنا سارا زور لگا کر بھی لوگوں کو شراب نوشی چھوڑنے پر آمادہ نہ کر سکا۔ یہ دراصل امریکی تہذیب کے نظام کی کمزوری تھی۔ اس کے برعکس اسلام کا تہذیبی نظام اتنا طاقت ور تھا کہ ایک حکم مسلمانوں کو شراب سے روک دینے کے لیے کافی ہو گیا اور اس حکم میں آج تک اتنی طاقت ہے کہ دُنیا کی کوئی قوم اب بھی شراب سے اجتناب کے معاملے میں مسلمانوں کی برابری نہیں کر سکتی۔

جہاں تک سُود کا تعلق ہے، تمام آسمانی شریعتوں میں وہ ہمیشہ سے حرام رہا ہے۔ آج بھی بائبل میں اس کی حُرمت کا حکم موجود ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ’’میں آج سے سُود کو حلال قرار دیتا ہوں‘‘۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ عیسائیت نے بھی اس حکم کو برقرار رکھا، جو پہلے سے بائبل میں سُود کی حرمت کے لیے موجود تھا۔ اگر سود کسی وقت بھی حلال کیا گیاہوتا تو اس کا ثبوت موجود ہوتا کہ فلاں پیغمبر نے یا خدا کی فلاں کتاب نے اس کو حلال قرار دیا ہے لیکن میرے علم میں نہیں ہے کہ کبھی خدا کی کسی کتاب میں اس کے حلال ہونے کا حکم آیا ہو۔

اب رہا یہ سوال کہ سُود کیوں حرام ہے؟ اس کے بارے میں یہ اُصولی بات سمجھ لینی چاہیے کہ انسان ان چیزوں کی برائی کو تو جان سکتا ہے جو جسمانی حیثیت سے اس کے لیے نقصان دہ ہوں، لیکن وہ آج تک کبھی یہ جاننے پر قادرنہیں ہوا ہے کہ کون سی غذائیں اس کے اخلاق پر بُرا اثر ڈالتی ہیں اور روحانی حیثیت سے اس کے لیے نقصان دہ ہیں۔ غذائوں کے اخلاقی اثرات جاننے اور ٹھیک ٹھیک ان کو متعین کرنے کے ذرائع انسان کو حاصل نہیں ہیں۔ اسی لیے یہ کام خُدا نے اپنے ذمے لیا ہے کہ جو چیزیں انسان کے اخلاق اور اس کی رُوح کے لیے نقصان دہ ہیں، ان کی نشان دہی وہ خود کر دے اور انھیں حرام قرار دے۔ اب اگر کوئی شخص خدا پر اعتماد کرتا ہو تو اسے وہ چیزیں چھوڑ دینی چاہییں، جن سے اس نے منع کیا ہے اور جو خُدا پر اعتماد نہ رکھتا ہو وہ جو کچھ چاہے کھاتا رہے۔

[پمفلٹ، منشورات سے دستیاب ہے،]

موجودہ زمانے میں عورت کے حقوق اور مر دوں کے ساتھ اس کی ’کامل مساوات‘ کے متعلق جوبحث چل رہی ہے،اس بحث میں حقوق نسواں کے سر گرم حا میوں میں سے وہ مرد اور عورتیں خاص طور سے قابل ذکر ہیں جو اسلام کے نام پر بعض انتہائی احمقانہ با تیں کہہ اور لکھ رہے ہیں ۔ان میں سے بعض تو محض بطورِ شرارت یہ کہتے ہیں کہ ’’اسلام نے ہر لحاظ سے مر دوں اور عورتوں میں کا مل مساوات ملحوظ رکھی ہے‘‘ ، اور بعض اپنی جہالت یا کم فہمی کے باعث یہ دعویٰ کر تے ہیںکہ ’’اسلام عورت کا دشمن ہے ، کیونکہ اسلامی قانون میں حالات کے تقاضوں کے مطابق ڈھل جانے کی گنجایش ہونے کے باوجود عورت کی اس بے مہار آزادی کا اسلام میں کوئی تصور نہیں جس کا اظہار آج مغرب کے معاشروں میں ہورہا ہے‘‘۔

درحقیقت اسلام، عورت کو ایک اوسط درجے کے طرزِ عمل کے ساتھ زندگی گزارنے کی تلقین کر تا ہے اور اس سے نہ فرشتہ بن جانے کا تقاضا کر تا ہے اور نہ شیطان کی راہ اختیار کرنے کوقبول کرتا ہے ۔چنا نچہ دوسری تہذیبوں یا نظاموں میں عورت کے مقام اور حیثیت کا موازنہ کرتے وقت تمام حقائق کو، جو اس موضوع سے متعلق ہیں انھیں پیش نظر رکھنا چاہیے۔ لہٰذا، اسلام اخلاقیات کے بعض پہلوئوں کے حوالوں سے دیگر دوسرے نظاموں کے مقا بلے میں بے لچک ہے۔

اسلام کی بنیادی خصو صیت یہ ہے کہ وہ عورت کو بھی انسا نیت کا ویسا ہی اہم جزو قرار دیتا ہے، جیسا کہ ایک مرد کو،اور اس میں بالکل ویسی ہی روح کا وجود مانتا ہے، جیسی کہ مرد میں پائی جاتی ہے :

 يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً۝۰ۚ (النساء۴: ۱) اے لوگو! اپنے اس ربّ سے ڈرو، جس نے تم کو ایک ہی جان سے پیدا کیا، اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔

چنا نچہ یہ آیت اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو اپنے نقطۂ آغازسے ایک دوسرے کے ہم پلّہ بنایا ہے ،اور وہ یکساں اور مساوی حقوق کے حق دار ہیں ۔اسلام نے عورت کو مردوں کی طرح جان ،آبرو اور مال وجائیداد کے حقوق دیئے ہیں۔ اس نے اس کی ذات کو محترم قرار دیا ہے اور کسی کے لیے یہ بات جائز نہیں رکھی کہ وہ اس میں عیب نکالے یا اس کے پیٹھ پیچھے اس کی برائی بیان کرے ،اور نہ کسی کو یہ حق ہی دیا کہ وہ اس کی ٹوہ میں رہے اور اس کو اپنے نسوانی فرائض کی بجاآوری کی وجہ سے حقیر جانے ۔لہٰذا،یہ سب حقوق عورت کو اسی طرح حاصل ہیں، جس طرح مرد کو حاصل ہیں ۔ان میں مرد و عورت کے درمیان کوئی تفریق نہیں ،بلکہ اس سلسلے میں موجود قوانین کا اطلاق دونوں پر مساوی ہوتا ہے ۔جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَاۗءٌ مِّنْ نِّسَاۗءٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْہُنَّ۝۰ۚ وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ۝۰ۭ  …… وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا۝۰ۭ (الحجرات ۴۹: ۱۱، ۱۲)  اے ایمان والونہ مرد وں کو مردوں پر ہنسنا چاہیے کیا عجب ہے کہ (جن پر ہنستے ہیں) وہ ان سے (خدا کے نزدیک)بہتر ہوں۔اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چا ہیے کیا عجب ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور ایک دوسرے کو طعنہ نہ دو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے لقب سےپکارو … اور تجسس نہ کیا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔

اسی طرح آخرت میں بھی اجر کے لحاظ سے اسلام نے مرد و عورت دونوں کو مساوی قرار دیا ہے۔

فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ اَنِّىْ لَآ اُضِيْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى۝۰ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ۝۰ۚ (ا ٰلِ عمرٰن ۳:۱۹۵) جواب میں اُن کے ربّ نے فرمایا: ’’میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنےوالا نہیں ہوں، خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو‘‘۔

بہرحال، جہاں تک مال وجائیداد کے حق کا تعلق ہے ،اس معاملے میں بھی اسلام نے عورتوں اور مردوں میں مساوات کو ملحوظ رکھا ہے ۔چاہے وہ مرد ہو یا عورت اپنی جائیداد کی خرید و فروخت اور اس کا انتظام کرنے میں بالکل آزاد ہوتی ہے ۔وہ چاہے اسے رہن رکھے ،یا کسی کو ورثے میں دے،پٹہ پر دے ،یا فروخت کرے یا اس کو مزید زمین خریدنے کا ذریعہ بنائے یا اس کو اپنی ضرورتیں پوری کرنے میں استعمال کرے،غرض یہ کہ ان تمام معاملات میں عورت کو مرد کے برابر حقوق حاصل ہیں۔جس کے با رے میں قرآن میں فرمایا گیا ہے:

لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّـمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ۝۰۠ وَلِلنِّسَاۗءِ نَصِیْبٌ مِّـمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ (النساء۴: ۷) مردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو۔

چنا نچہ جہاں تک عورت کے مال میں حق اور اس کوآزادانہ استعمال کا تعلق ہے، اس کے لیے دو باتیں ہمارے پیش نظر رہنی چا ہییں:ایک تو یہ ہے کہ یورپ کے قا نونی نظام میں زمانہ حال تک عورت کو ان میں سے کوئی ایک حق بھی حاصل نہیں تھا ۔قانونی طورپر وہ اپنے ان حقوق کو براہِ راست استعمال کرنے کی بھی مجاز نہیں تھی ،بلکہ ان کا استعمال بالواسطہ طور پر کسی نہ کسی مرد، اپنے خاوند، باپ،یا سر پرست کی وساطت سے کرتی تھی ۔

دوسرے الفاظ میں حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی طرف سے عورت کو یہ حقوق مل چکنے کے بعدبھی گیارہ صدیوں سے زائد عرصے تک یورپ کی عورت اپنے ان حقوق سے محروم رہی ،جن کے حصول کی خاطر اس کوشدید کش مکش سے دوچار ہونا پڑاتھا۔اس پورے عرصے کے دوران میں نہ اس کی نسائیت اور عفت محفوظ رہی اور نہ اس کی شخصی عزّت ووقار سلامت رہا۔اس کو نہ صرف ان سب چیزوں کی قربانی دینا پڑی بلکہ شدائد و مصائب،قتل، محرومیوں اور بدبختی کے ایک اندوہناک عمل میں سے بھی گزرنا پڑا۔ اس کے باوجود اس کو ان حقوق کا ایک حقیر سا حصہ ہی ملا ،جو اس سے بہت پہلے اسلام عورتوں کو دے چکا تھا۔مگر اسلام کا یہ دینا معاشی حالات کے دبائو یا کسی مظاہرے اور مہم کا نتیجہ نہ تھا اور نہ اس کی پشت پر کوئی طبقاتی کش مکش کارفرماتھی ،بلکہ اس کی اصل وجہ اسلام کی یہ خواہش تھی کہ دنیا میں انسانی زندگی کی دو بنیادی حقیقتیں، صدق اور عدل،عملی صورت میں جلوہ گر ہوں اور یہ محض خوابوں کی دنیا تک محدود نہ رہیں ۔ (اسلام اور جدید ذہن کے شبہات، پروفیسر محمدقطب ، ترجمہ محمد سلیم کیانی ، ص۱۷۸-۱۷۹)

  مغرب کا خاص طور پر یہ نقطۂ نظر ہے کہ انسانی زندگی دراصل انسان کی معاشی حالت ہی کا دوسرا نام ہے۔ اس لیے ان کے نظریے کی رو سے جب تک عورت کو مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوئے تھے اور وہ اپنی جائیداد اور ملکیت میں آزادانہ تصرف کی مجاز نہیں تھی ،تو وہ قطعاً آزاد حیثیت کی مالک نہیں تھی ۔اس کوآزاد انسانی حیثیت اس وقت حاصل ہوئی جب وہ معاشی لحاظ سے آزاد ہوئی اور اس قابل ہوئی کہ اپنی ملکیت میں کسی مرد کی مداخلت کے بغیر براہِ راست پوری آزادی سے تصرف کرسکے۔

 اسلام سے قبل عرب معاشرے میں عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں بہت کم تر حیثیت حاصل تھی، یہاں تک کہ اگر مرد قصور وار ہوتا اور عورت اس کے ظلم کا نشانہ بنتی، تو قصاص واجب نہیں ہو تا تھا، مگر اسلام نے یہ امتیاز ختم کر دیا،اور جان و مال اور عزت کے حوالے سے جرائم پر کا رروائی مرد اور عورت کے لیے یکساں کر دی بلکہ بعض معاملات میں عورتوں کے حقوق مردوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔

  چنانچہ مال اور جائیداد کے معاملات میں عورت کی مکمل خود مختار حیثیت اور انفرادی تشخص بالکل واضح ہے۔اسلامی قانون کی رو سے عورت کواپنے مال و جائیداد پر مکمل تصرف حاصل ہے۔ اگر وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ چکی ہے تو اسے اپنی جائیداد اپنی مر ضی سے خرید و فروخت کا مکمل اختیار دیا گیا ہے، جس میں کسی مرد کی مداخلت ضروری نہیں ہے،چاہے وہ اس کا باپ ہو ،شوہر ،بیٹا ،بھائی یا کوئی اور ہو۔

اس معاملے کے پیش نظر اسلام کی نظر میں عورت اور مرد کی کوئی تخصیص نہیں ہے ۔کسی عورت کے شوہر یا باپ کے قر ضے کے عوض اس کی جائیداد کو چھوا بھی نہیں جا سکتا ۔اسی طرح مقروض عورت کے قرضوں کی ادائیگی اس کے مذکورہ رشتہ داروں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ مرد کی طرح عورت کو بھی جائیداد رکھنے کی مکمل آزادی ہے، چاہے اسے ورثے میں ملے یا کہیں سے تحفہ ملے اور چاہے اس نے اپنی محنت سے مال کمایا ہو۔ وہ مکمل طور پر اس کی اپنی ملکیت ہے۔ وہ اس کو بیچنے یا کسی کو تحفہ میں دے دینے یا قانونی طور پر اسے خرچ کرنے میں خود مختار ہوتی ہے۔ یہ تمام حقوق عورت کو ہمیشہ کے لیے دے دئیے گئے ہیں۔

بعثت ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل عرب میں عورتوں کو وراثت کا حق حاصل نہیں تھا ، نہ باپ کے ورثے سے کچھ اسے ملتا تھا اور نہ شوہر ہی سے۔ روایات کے مطابق ہجرت کے تین سال بعد مدینہ کے ایک رئیس ’اوس بن ثابت‘ انتقال کر گئے اور پسماندگان میں ایک بیوہ اور چار نوعمر صاحبزادیوں کو چھوڑا۔مدنی رواج کے مطابق ورثاء میں سے صرف بالغ مرد جو جنگ میں حصہ لینے کے قابل تھے، وراثت کے حق دار تھے۔یہاں تک کہ کمسن بیٹے کو متوفی باپ کی وراثت سے کچھ نہیں ملتا تھا۔چنا نچہ اوس کے چچا زاد بھائیوں نے پوری جائیداد قبضے میں لے لی، جب کہ اوس کی بیوی اور بیٹیاں راتوں رات امیر سے فقیر ہو گئیں۔اس مو قعے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآنی آیات نازل ہو ئیں اور وراثت کے اسلامی احکام آگئے اور یہی اسلامی قانون وراثت ہے جس پر آج تک عمل کیا جاتا ہے۔ (اسلام کیا ہے؟ ڈاکٹر محمد حمیداللہ ؍ مترجم ،سید خالد جاوید مشہدی ، ص۲۲۳)

اسلا می قانون کے مطا بق مردوں کی وراثت سے بیوی ،بیٹی ،ماں ،بہن اور دوسری رشتہ دار عورتوں کو حق دیا گیا ۔اسلام نے وراثت میں منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد میں بھی کوئی امتیاز نہیں رکھا، بلکہ حکم دیا ہے کہ وراثتی جائیداد کی ہر چیز قانونی وارثوں میں تقسیم کردی جائے۔ایسی وصیت کو بھی اسلام نے ناجا ئز قرار دیا ہے، جس میں مالک نے اپنی جائیداد اجنبیوں کو دے کر جائز وارثوں کو محروم کر دیا ہو ۔بلکہ قانونی ورثا کے لیے وصیت کی ضرورت ہی نہیں ،انھیں خود بخود وراثت کا حق حاصل ہوجاتا ہے۔ اس لیے کسی بھی وصیت کے ذریعے ورثا کے مقرر حصے میں ردوبدل نہیں کیا جاسکتا ۔

وصیت صرف ان رشتہ داروں کے حق میں کی جا سکتی ہے، جنھیں قانونی طریقے سے وراثت سے حصہ نہ مل سکتا ہو، اور پھر اس کی بھی اسلام نے حد مقرر کردی ہے کہ اس سے زیادہ کی وصیت نہیں کی جا سکتی اور یہ حد سا ری جائیداد کا ایک تہا ئی ہے ،باقی دو تہائی جائیداد بہر صورت وراثت ہے جو اس کے جا ئز حق دار وں میں تقسیم ہوگی۔ایک تہائی سے زیادہ جائیداد کی وصیت صرف اس صورت میں قابلِ عمل ہے، جب ورثہ متفقہ طور پر بلاجبرو اِکراہ اس پررضا مندی ظاہر کردیں ۔

چنانچہ وراثت کے معاملے میں حالات کے مطابق مختلف ورثا کے حصوں میں کمی زیادتی ہوجا تی ہے ۔مثلاً: اکلوتی بیٹی یا ایک بیٹے کی موجودگی میں، صرف والدہ یا والد کی موجودگی میں، بچوں کے ساتھ یا بچوں کے بغیر ،اکلوتی بہن یا بھائی کی موجودگی میں، متوفی کا والد یا بچے ،ان تمام صورتوں میں ورثا کے حصے کی نوعیت الگ ہو جا تی ہے۔ لہٰذا، یہاں پر اس مضمون میں اس کی تفصیلات کی گنجایش نہیں،لیکن خواتین کے حصے کا تذکرہ بیان کر نا ضروری ہے جو کہ مو ضوعِ بحث ہے۔

متوفی کا اگر بچہ بھی ہوتو بیوی کو شوہر کی جائیداد سے آٹھواں حصہ ملتا ہے ،بچہ نہ ہونے کی صورت میں وہ چو تھے حصے کی حق دار ہوتی ہے ۔اکلوتی بیٹی کو متوفی باپ کی نصف جائیداد ملتی ہے اور اگر بیٹیاں زیادہ ہوں تو دو تہائی جائیداد ان میں برابر کے حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے ،یعنی اگر ان کا بھائی نہ ہوتو۔ لیکن اگر متوفی کا بیٹا بھی موجود ہو تو پھر بیٹی کو بیٹے کی نسبت نصف وراثت ملتی ہے۔ اگر متوفی کی والدہ زندہ ہو تو اسے بیٹے کے ورثے کا ایک تہائی ملتا ہے، جب کہ باپ ،بچے یا بھائی اور بیٹوں کی موجودگی کی صورت میں ماں چھٹے حصے کی حق دار ہوتی ہے۔متوفی کا وارث بیٹا موجود ہو تو بہن کو حصہ نہیں ملتا ،البتہ بیٹا نہ ہو تو بہن نصف ترکے کی وارث ہو تی ہے، اور دو یا زیادہ بہنوں کی صورت میں دوتہائی تر کہ ان میں برابر تقسیم ہوتا ہے ۔اکلوتی بیٹی کے ساتھ بہن کو چھٹا حصہ اور اگر ایک بھائی بھی ہو تو اسے بھائی سے نصف تر کہ ملے گا ۔اسی طرح حقیقی بہنوں ،ایک باپ اور والدہ مختلف ہونے کی صورت میں بہنوں کے حصے مختلف ہوں گے۔(النساء ۴: ۱۷۶)

جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ عورت اپنی جائیداد اور ملکیت کی خود مختا ر ہوتی ہے۔اس میں باپ، شوہر یا کسی اور رشتہ دار کا کوئی حق نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ عورت نان و نفقہ کی الگ سے حق دار ہوتی ہے، یعنی شادی سے پہلے عورت کا خرچ اس کے باپ اور شادی کے بعد شوہر کی ذمہ داری ہوتی ہے، اور عدالت باپ ،شوہر یا بیٹے کوعورت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکم دیتی ہے۔ اس کے بعد عورت شادی کے موقعے پر شوہر سے مہر کی صورت میں بھی رقم کی حق دار ہوتی ہے، جوکہ اسلام سے پہلے عورت کے والد کو ملتا تھا ،مگر اسلام نے اسے عورت کے لیے لازمی قرار دیا۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ’مہر‘ اور ’جہیز‘ میں فرق ہے۔’مہر‘ شادی کے لیے ضروری ہے، لیکن ’جہیز‘ ضروری نہیں۔

 عورت کی مالی ذمہ داریاں مرد کی نسبت کم ہیں کیونکہ اس کے اخراجات مرد کے ذمے ہیں۔ اس لحاظ سے مرد کی مالی ذمہ داریاں عورت کی نسبت زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ ترکے میں سے زیادہ حصے کا حق دار ہوتا ہے ،جب کہ عورت کی تمام ضروریات کی ذمہ داری اس کے کفیل کے اوپر ہے، اس کے با وجود بھی اسلام نے اسے مزید نوازنے کے لیے وراثت میں بھی حصہ دار بنایا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اپنے رسولوںؑ کے ذریعے جو تعلیمات اور ہدایات بھیجی ہیں، ایک مسلمان سے مطلوب یہ ہے کہ بے کم و کاست انھیں اختیارکرے، ان پر خود عمل کرے اور اللہ کے دوسرے بندوں تک انھیں پہنچائے۔ یہ عمل انفرادی طور سے بھی انجام دیا جاسکتا ہے اور اجتماعی طور سے بھی۔ہرمسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اپنی زندگی میں اس کا جن انسانوں سے بھی سابقہ پیش آئے اور وہ اس ہدایت ِ ربانی سے محروم ہوں، انھیں اس سے باخبر کرے اور اپنے قول اور عمل سے ’حق‘ کی شہادت دے۔ مسلمانوں سے اجتماعی طور پر بھی مطلوب ہے کہ ان میں سے ایک یا ایک سے زائد گروہ ایسے ضرور رہنے چاہییں جو اس کام کو اپنا مشن بنالیں اور منصوبہ بندی کے ساتھ اسے انجام دیں۔ قرآن و سنت کے بکثرت نصوص اس پر دلالت کرتے ہیں۔

جماعت اسلامی اور اقامتِ دین

اس دینی فریضے کی انجام دہی کے لیے بیسویں صدی عیسوی میں برصغیر کی مشہور دینی تحریک ’جماعت اسلامی‘ کا قیام عمل میں آیا۔ تحریک کے اکابر نے اس کام کی اہمیت، ضرورت اور وجوب پر قابلِ قدر لٹریچر تیار کیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ اس کام کے واجب اور مطلوب ہونے پر قرآن و سنت کی متعدد تعبیرات دلالت کرتی ہیں، مثلاً دعوت، تبلیغ، وصیت، شہادتِ حق، امربالمعروف ونہی عن المنکر، انذار و تبشیر اور اقامت ِ دین وغیرہ۔

جماعت اسلامی نے مذکورہ بالا تعبیرات میں سے ’اقامت ِ دین‘ کو اپنے دستور میں شامل کیا ہے اور اسے اپنا نصب العین قرار دیا ہے۔ اس کے نزدیک:

’اقامت ِ دین‘ سے مقصود دین کے کسی خاص حصے کی اقامت نہیں ہے بلکہ پور ے دین کی اقامت ہے خواہ اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے۔ نماز، روزہ اور حج و زکوٰۃ سے ہویا معیشت و معاشرت اورتمدن وسیاست سے۔ اسلام کا کوئی حصہ بھی غیرضروری نہیں ہے۔ پورے کا پورا اسلام ضروری ہے۔ ایک مومن کا کام یہ ہے کہ اس پورے اسلام کوکسی تجزیہ و تقسیم کے بغیر قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ اس کے جس حصے کا تعلق افراد کی اپنی ذات سے ہے، ہرمومن کو اسے بطور خود اپنی زندگی میں قائم کرنا چاہیے، اور جس حصے کا قیام اجتماعی جدوجہد کے بغیر نہیں ہوسکتا، اہلِ ایمان کو مل کر اس کے لیے جماعتی نظم اورسعی کا اہتمام کرنا چاہیے۔

اگرچہ مومن کا اصل مقصد رضائے الٰہی کا حصول اور آخرت کی فلاح ہے،مگر اس مقصد کا حصول اس کے بغیرممکن نہیں ہے کہ دُنیا میں خدا کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے مومن کا عملی نصب العین اقامت دین اورحقیقی نصب العین وہ رضائے الٰہی ہے جو اقامت ِ دین کی سعی کے نتیجے میں حاصل ہوگی۔(دستور جماعت اسلامی، دفعہ ۴  (نصب العین)، ص ۱۴-۱۵)

جماعت اسلامی نے ’اقامت ِ دین‘ کی یہ تعبیر سورئہ شوریٰ کی درج ذیل آیت سے اخذ کی ہے:

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْہِ۝۰ۭ (الشوریٰ ۴۲:۱۳) اس نے تمھارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے، جس کا حکم اس نے نوحؑ کو دیا تھا اور جسے (اے محمدؐ) اب تمھاری طرف ہم نے وحی کے ذریعے سے بھیجا ہے، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم ؑ اور موسٰی اور عیسٰی ؑ کو دے چکے ہیں، اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجائو۔

پانچ اعتراضات

بعض حضرات جماعت اسلامی کے اس تصور پر مختلف اعتراضات کرتے ہیں اور چوں کہ جماعت کی اختیار کردہ تعبیر ’اقامت دین‘ سورئہ شوریٰ کی مذکورہ بالا آیت سے مستنبط ہے ، اس لیے ان کے بعض اعتراضات اس آیت کے سیاق میں بھی ہیں:

ان کا پہلااعتراض یہ ہے کہ ’’اس آیت میں دین قائم کرنے کا حکم پیغمبروں ؑ میں سے حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیم ؑ، حضرت موسٰی اور حضرت عیسٰی ؑ کے ناموں کی صراحت سے دیا گیا ہے۔ اس لیے دین سے مراد صرف وہ چیزیں ہوسکتی ہیں، جو ان انبیاؑ کے درمیان مشترک ہیں، اس لیے وہ یہاں مراد نہیں ہوسکتیں‘‘۔

دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ’’ جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ  (م:۱۹۷۹ء) نے اس آیت کی جو تفسیر کی ہے، وہ جمہور مفسرین سے مختلف ہے۔ تمام مفسرین نے اس آیت میں ’دین‘ کو صرف ایمانیات تک محدود رکھا ہے، جب کہ مولانا مودودیؒ اس میں دین کے تمام احکام و جزئیات کو شامل کرتے ہیں‘‘۔

تیسرا اعتراض یہ ہے کہ ’’یہ آیت مکّی دور میں نازل ہوئی تھی، اس لیے اس کا اطلاق زیادہ سے زیادہ صرف ان احکامِ دین پر کیا جاسکتا ہے، جو اس وقت تک نازل ہوچکے تھے۔ دیگر احکام کو اس میں شامل نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

چوتھا اعتراض یہ ہے کہ ’’اقامت ِ دین کا حکم انفرادی طور پر ہے کہ ہرفرد اپنے طور سے دین پر عمل کرے۔ اس میں دوسروں کو دعوت دینے اور تبلیغ دین کے لیے اجتماعی جدوجہد کرنے کا مفہوم نہیں پایا جاتا‘‘۔

بعض حضرات نے پانچواں نکتہ یہ اُبھارنے کی کوشش کی ہے کہ ’’قرآن سے احکامِ دین کے استنباط اور ان کے نفاذ کے لیے قرآن کی نزولی ترتیب کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے‘‘۔

آیندہ سطور میں ان اعتراضات کا جائزہ لیا جائے گا۔

’دین‘ کا مفہوم

سورئہ شوریٰ کی مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے آپؐ کے واسطے سے آپؐ کے پیروکاروں سے فرمایا ہے کہ میں نے تمھارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم نوحؑ، ابراہیم ؑ، موسٰی اورعیسیٰ ؑ کو بھی دیا گیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ طریقہ ان انبیاؑ کے درمیان مشترک ہے۔ اسی مضمون کی ایک آیت سورئہ انعام میں ہے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاؑ کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا ہے:

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ ہَدَى اللہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہْ ۝۰ۭ (انعام ۶:۹۰) یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انھی کے راستے پر تم چلو۔

یہی مضمون بعض احادیث میں اس انداز سے مذکور ہے:

اَلْاَنْبِیَاءُ  اِخْوَ ۃُ  لِعَلَّاتٍ ، وَدِیْنُھُمْ وَاحِدٌ   انبیاؑ سب علّاتی بھائی ہیں ،ان کا دین ایک ہے۔(صحیح بخاری، کتاب الانبیاء، بَابُ قَوْلِ اللہِ وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ: ۱۶۱۷؛ صحیح مسلم، کتاب الفضائل: ۱۴۵۔ علّاتی بھائی سے مراد ایک باپ کی کئی صلبی اولادیں ہیں، جو الگ الگ مائوں سے ہوں۔ ’علّاتی‘ کے بالمقابل لفظ ’اخیافی‘ آتا ہے جس سے مراد ایک ماں کی مختلف اولادیں ہیں، جو کئی باپوں سے ہوں)

لیکن قرآن کی بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاؑ کو الگ الگ طریقے دیے گئے تھے، مثلاً سورئہ مائدہ میں تورات، انجیل اور قرآن کا تذکرہ کرنے کے بعد ان پر ایمان لانے والوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا۝۰ۭ(المائدہ ۵:۴۸) ہم نے تم میں سے ہرایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل مقرر کی۔

مذکورہ دونوں طرح کی آیات میں یہ تطبیق دی گئی ہے کہ انبیاعلیہم السلام کا جو طریقہ مشترک ہے، اس کا تعلق ’اصولِ دین‘ سے ہے اور جس طریقے سے اشتراک نہیں ہے اس کا تعلق ’فروعِ دین‘ سے ہے۔ امام رازیؒ نے لکھا ہے:

بعض آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انبیا و رُسل کے طریقے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اور کچھ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے طریقے میں فرق ہے۔ (پھر اوّل الذکر کی مثال میں سورئہ شوریٰ کی آیت۱۳ اور سورئہ انعام کی آیت ۹۰ اور ثانی الذکر کی مثال میں سورئہ مائدہ کی آیت ۴۸ ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے) دونوں طرح کی آیات میں جمع و تطبیق دیتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ نوع اوّل کی آیات سے ان چیزوں کی طرف اشارہ ہے جو اصولِ دین سے تعلق رکھتی ہیں اورنوعِ ثانی کا اشارہ ان چیزوں کی طرف ہے، جن کا تعلق فروعِ دین سے ہے۔(النَّوْعُ الْاَوَّلُ مِنَ الْآیَاتِ  مَصْرُوْفٌ اِلٰی مَا یَتَعَلَّقُ بِاُصُوْلِ الدِّیْنِ ، وَالنَّوْعُ الثَّانِیْ ، مَصْرُوْفٌ اِلٰی مَا یَتَعَلَّقُ بِفُرْوْعِ الدِّیْنِ ، التفسیر الکبیر، رازی، المکتبہ التوفیقیۃ ، قاہرہ، مجلد۶، جز۱۲، ص ۱۱)

کیا ’دین‘ سے مراد صرف ’ایمانیات‘ ہیں؟

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اصولِ دین ، جو انبیاؑ کے درمیان مشترک ہیں، ان کے دائرہ میں صرف ایمانیات و عقائد آتے ہیں، یا احکام و طاعات میں سے بھی بعض چیزیں ان میں شامل ہیں؟ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمانیات کے علاوہ بعض دیگرچیزیں بھی ان میں شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ہرنبی ؑ نے اپنی اُمت کو صرف اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے ’عبادتِ الٰہی‘، اصولِ دین میں سے ہے۔ البتہ اس کے طریقے مختلف اُمتوں میں جدا جدا ہیں، اس لیے ان کا شمار فروعِ دین میں ہوگا اور ہر اُمت اپنے اپنے طریقے کے مطابق عبادتِ الٰہی کی پابند ہوگی۔

آیت زیربحث کی تفسیر میں تمام مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت میں ’دین‘ سے مراد وہ اُمور ہیں جوانبیاؑ کے درمیان مشترک ہیں۔ بعض مفسرین نے ان امور کی تفصیل بیان کی ہے اور ان میں ایمانیات کے علاوہ دیگرچیزوں کو بھی شامل کیا ہے۔ ذیل میں دو علما کے بیانات درج کیے جاتے ہیں:

علامہ ابن العربیؒ کی تفسیر

علامہ قاضی ابوبکر ابن العربی الاندلسی (م: ۵۴۲ھ) فقہ مالکی کے مشہور عالم ہیں۔ ان کی کتاب احکام القرآن فقہی تفاسیر میں اہم مقام کی حامل ہے۔ اسے تمام فقہی مسالک کے علما کے درمیان مقبولیت حاصل ہے۔ اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں انھوں نے لکھا ہے:

اس سے مراد وہ اصول ہیں، جن میں کسی شریعت کا اختلاف نہیں ہے۔ یعنی توحید، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، نیک اعمال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب، قلب اور اعضاء و جوارح کے ذریعے اس کی جانب میلان، سچائی، عہد کی پاس داری، امانت کی ادایگی، صلہ رحمی، کفر، قتل اور زنا کی حُرمت ، مخلوق کو اذیت نہ پہنچائی جائے، خواہ وہ کیسے ہی کام کریں، جانور پر ظلم نہ کیا جائے، خواہ وہ کوئی بھی ہو،وقار کے خلاف گھٹیا کام کرنے کی حُرمت۔ یہ تمام چیزیں سب سے زیادہ مطلوب ہیں۔ ان کی حیثیت ’ایک دین‘ کی ہے اور ہرملّت کا اس میں اشتراک ہے۔ جتنے بھی انبیاء آئے ہیں ان کے درمیان ان امور میں کوئی اختلاف نہیں رہا ہے۔ ان کے علاوہ دیگر اُمور میں شریعتوں میں اختلاف رہا ہے۔ مختلف زمانوں میں جس جس چیز کی مصلحت اور حکمت متقاضی ہوئی، اللہ تعالیٰ نے مختلف اُمتوں کے لیے وہ چیز مشروع کی۔(احکام القرآن، ابن العربی، مطبعہ السعادۃ، مصر، ۲/۲۰۵۔ ٹھیک یہی تشریح علامہ قرطبیؒ (م: ۶۷۱ھ) نے بھی کی ہے۔ ملاحظہ کیجیے: الجامع لاحکام القرآن، قرطبی، الھیئۃ المصریۃ العامۃ، مصر، ۱۹۸۷ء، ۱۶/۱۱)

شاہ ولی اللہ کا موقف

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (م: ۱۱۷۶ھ) برصغیر ہند میں بارھویں صدی کے مشہور عالم ہیں۔ ان کا شمار مجدددین اُمت میں ہوتا ہے۔ ان کی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ  کو آفاقی شہرت حاصل ہے۔ اس میں انھوں نے زیربحث موضوع پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا ہے۔ انھوں نے ایک باب قائم کیا ہے: باب بیان اصل الدین واحد والشرائع والمناھج مختلفۃ (اس چیز کا بیان کہ دین کی اصل ایک ہے اور شرائع و مناہج مختلف ہیں)۔ اس باب کی ابتدا میں انھوں نے دونوں طرح کی آیات درج کی ہیں۔ انبیا ؑ کے درمیان اشتراک ظاہر کرنے والی آیات میں سورئہ شوریٰ کی آیت۱۳ کے علاوہ یہ آیت بھی درج کی ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ پیغمبروںؑ سے خطاب کرکے فرماتا ہے:

وَاِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّــقُوْنِ۝۵۲  (المؤمنون۲۳:۵۲) اور یہ تمھاری اُمت ایک ہی اُمت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، پس مجھی سے تم ڈرو۔

اور انبیاؑ کے درمیان اختلاف ظاہر کرنے والی آیات میں سورئہ مائدہ کی آیت۴۸ کے علاوہ یہ آیت بھی درج کی ہے:

لِكُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا ہُمْ نَاسِكُوْہُ  (الحج ۲۲:۶۷) ہراُمت کے لیے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔

پھر لکھا ہے:

جان لو کہ دین کی اصل ایک ہے جس پر انبیاعلیہم السلام متفق ہیں۔ اختلاف صرف شرائع و مناہج میں ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ تمام انبیا ؑ کا اس بات پر اجماع ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے، صرف اسی سے مدد چاہی جائے۔ اسے ان تمام چیزوں سے پاک قرار دیا جائے جو اس کی شان کے منافی ہیں، اس کے ناموں میں راہِ حق سے انحراف نہ کیا جائے اور یہ کہ اللہ کا اپنےبندوں پر یہ حق ہے کہ اس کی خوب تعظیم کریں اور اس معاملے میں ذرا بھی کوتاہی نہ کریں۔ اس کے سامنے سرتسلیم خم کریں، اپنے دلوں کو اس کی جانب مائل کریں۔ اس کے شعائر کے ذریعے اس کا تقرب حاصل کریں، اور یہ کہ اس نے تمام واقعات کو ان کے وقوع سے پہلے مقدر کردیا ہے، اور یہ کہ اللہ کے ایسے فرشتے ہیں جو اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جس چیز کا بھی انھیں حکم دیا جاتا ہے، اسے کرگزرتے ہیں۔ اور یہ کہ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنی کتاب نازل کرتا ہے اور انسانوں پر اپنی اطاعت فرض قرار دیتا ہے۔ اور یہ کہ قیامت برحق ہے، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا برحق ہے، جنّت برحق ہے، جہنّم برحق ہے۔ اسی طرح انبیاؑ کا نیکی کے مختلف کاموں (انواع البر) پر بھی اجماع ہے، مثلاً طہارت، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج اور طاعات کے قبیل کے نفلی کام، مثلاً دُعا، ذکر، تلاوتِ کتابِ الٰہی کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرنا۔ اسی طرح نکاح، حُرمت ِ زنا، لوگوں کے درمیان قیامِ عدل،ایک دوسرے پر ظلم کی حُرمت، اہلِ معاصی پر حدود کے نفاذ، اللہ کے دشمنوں کے ساتھ جہاد، اللہ کا کلمہ بلند کرنے اور اس کےدین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے جدوجہد پر بھی تمام انبیاؑ کا اجماع ہے۔ یہ ہے دین کی اصل۔(حجۃ    اللہ البالغہ، شاہ ولی اللہ، کتب خانہ رشیدیہ، دہلی، ۱/۸۶-۸۷)

شاہ ولی اللہ مزید لکھتے ہیں:

اسی لیے قرآنِ عظیم نے ان چیزوں کی حقیقت سے کوئی بحث نہیں کی، الاماشاء اللہ۔ اس لیے کہ جن لوگوں کے درمیان ان کی زبان میں قرآن نازل ہورہا تھا، ان کے درمیان وہ چیزیں مسلّم تھیں۔ اختلاف صرف ان چیزوں کی صورتوں اور مظاہر میں ہے، مثلاً حضرت موسٰی کی شریعت میں نمازکے لیے بیت المقدس کی طرف رُخ کرنے کا حکم تھا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں کعبہ کی طرف رُخ کرنے کا حکم ہوا۔ حضرت موسٰی کی شریعت میں زانی کے لیے رجم کا حکم تھا اور ہماری شریعت میں شادی شدہ زانی کے لیے رجم اور غیرشادی شدہ زانی کے لیے کوڑوں کی سزا مقرر ہوئی۔ حضرت موسٰی کی شریعت میں صرف قصاص کا حکم تھا اور ہماری شریعت میں قصاص اوردیت دونوں کا حکم دیا گیا۔ اسی طرح کا اختلاف دونوں شریعتوں میں عبادات کے اوقات، آداب اور ارکان کے معاملے میں ہے۔(ایضاً، ۱/۸۷)

لفظ ’الدین‘ اور جمہور مفسرین

ایک دعویٰ یہ کیا گیا ہے کہ ’’قدیم و جدید تمام مفسرین نے زیربحث آیت میں لفظ ’الدین‘ کااطلاق صرف ایمانیات پر کیا ہے، جن میں تمام شریعتوں کا اتحاد ہے، دیگر چیزوں کوشامل نہیں کیا گیا ہے‘‘۔یہ دعویٰ محتاجِ ثبوت ہے۔ اس کے جائزے کے لیے ذیل میں قدیم مشہور مفسرین کی کتابوں سے اس آیت کی تشریحات نقل کی جاتی ہیں:

حضراتِ تابعین میں مجاہدؒ (م:۱۰۰ھ) ، قتادہؒ (م: ۱۱۸ھ) اورمقاتل ؒ (م:۱۵۰ھ) کو علمِ تفسیرکے میدان میں شہرت حاصل ہے۔ ان کے تفسیری اقوال مختلف کتب ِ تفسیر میں منقول ہیں۔ مقاتلؒ فرماتے ہیں کہ ’دین‘ سے مراد توحید ہے۔(زاد المسیر فی علم التفسیر، ابن الجوزی، المکتب الاسلامی، بیروت،۱۹۸۷ء، ۷/۲۷۷)

 قتادہ کا ایک قول یہ ہے کہ ’دین‘ یہاں توحید اور اخلاص اللہ کے معنٰی میں ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ دین سے مراد یہ ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے اسے حلال سمجھا جائے اور جس چیز کو حرام قرار دیا ہے، اسے حرام سمجھا جائے۔(جامع البیان فی تفسیر ای القرآن ، ابوجعفر محمد بن جریر طبری،المطبعۃ الکبریٰ، مصر ، ۱۳۴۸ھ، ۲۵/۱۰)

مجاہد ؒ آیت ِ زیربحث کی تفسیرمیں فرماتے ہیں:

لَمْ یَبْعَثِ  اللہُ نَبِیًّا  قَــطُّ  اِلَّا  وَصَّاہُ   بِـاِقَامَۃِ الصَّلاَۃِ   وَ اِیْتَاءِ الزَّکٰوۃِ   وَالْاِقْرَارِ لِلہِ بِالطَّاعَۃِ ، فَذٰلِکَ دِیْنُہُ الَّذِیْ  شَـَرعَ   لَھُمْ   اللہ نے جس نبی کو بھی بھیجا ہے اسے حکم دیا ہے کہ نماز قائم کی جائے، زکوٰۃ ادا کی جائے اور اللہ کی اطاعت کا اقرارکیا جائے۔ یہ ہے اللہ کا دین جو اس نے ان کے لیے مقرر کیا ہے۔(معالم التنزیل، بغوی، بر تفسیر خازن، مطبعۃ التقدم العلمیۃ، مصر، ۱۳۴۹ھ، ۶/۹۹)

اب مختلف زمانوں سے تعلق رکھنے والے چند مفسرین کا ذکر کرتےہیں:

  • زمخشری، ابوالقاسم جار اللہ محمود بن عمر (م: ۵۳۸ھ)
  • قرطبی، ابوعبداللہ محمد بن احمد الانصاری (م: ۶۷۱ھ)
  • نسفی، ابوالبرکات عبداللہ بن احمد (م: ۷۱۰ھ)
  • خازن، علاء الدین علی بن محمد بن ابراہیم البغدادی (م: ۷۴۱ھ)
  • ابوالسعود، محمد بن محمد بن مصطفیٰ العمادی (م: ۹۸۲ھ)
  • آلوسی، شہاب الدین السیّد محمود البغدادی (م: ۱۲۷۰ھ)

ان حضرات نے ’دین‘ کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے:

ھُوَ تَوْحِیْدُ  اللہِ  وَطَاعَتُہٗ  وَالْاِیْمَانُ بِرُسُلِہٖ وَکُتُبِہٖ وَ بِیَوْمِ  الْجَزَاءِ  وَسَائِرِ مَا یَکُوْنُ الرَّجُلُ بِـاِقَامَتِہٖ  مُسْلِمًا / مُؤْمِنًا    اس سے مراد ہے اللہ کی وحدانیت کااقرار، اس کی اطاعت، اس کے رسولوں،کتابوں اور یومِ جزا پر ایمان اور ان تمام کاموں کی انجام دہی جن پر اس کا مسلم /مومن ہونا موقوف ہے۔(الکشاف عن حقائق التنزیل، زمخشری ، مطبع مصطفیٰ البابی، الحلبی، مصر، ۱۹۸۳ء، ۳/۴۶۳۔ الجامع لاحکام القرآن، قرطبی، ۱۹۸۷، ۱۶/۱۰۔ مدارک التنزیل، نسفی، مع الشرح الاکلیل، مطبع اکلیل، بھرائج، ۶/۱۴۹؛ لباب التاویل فی معانی التنزیل، خازن ۶/۹۹؛ ارشاد العقل السلیم الٰی مزایا الکتاب الکریم برحاشیہ تفسیر کبیر، المطبعۃ العامۃ، مصر ، ۷/۶۶۰؛ روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم السبع المثانی، آلوسی، ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ، مصر، ۲۵/۲۱۔ اس عبارت کا آخری لفظ زمخشری، قرطبی، خازن اورنسفی نے ’مسلم‘ اور ابوالسعود اور آلوسی نے ’مومن‘ استعمال کیا ہے۔)

ان مفسرین نے ’دین‘ کے مفہوم میں توحید اور ایمانیات کے ساتھ ’اطاعت ِ الٰہی‘ کو بھی شامل کیا ہے اور اس کا اطلاق ان تمام اعمال پر بھی کیا ہے جن کی انجام دہی مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے۔ چند اور مفسرین کے اقوال ملاحظہ ہوں:

قاضی بیضاوی (م: ۶۸۵ھ) لکھتے ہیں:

ھُوَ الْاِیْمَانُ   بِـمَا  یَجِبُ  تَصْدِیْقُہٗ  وَالطَّاعَۃُ  فِیْ  أَحْکَامِ اللہِ  اس سے مراد یہ ہے کہ جن چیزوں کی تصدیق ضروری ہے ان پر ایمان لایا جائے اور احکامِ الٰہی کی اطاعت کی جائے۔ (انوارالتنزیل واسرار التاویل، بیضاوی، داراحیاء التراث، العربی، بیروت، ۵/۶۸)

علامہ ابن کثیرؒ (م: ۷۷۴ھ) نے لکھا ہے:

وہ دین، جسے لے کر تمام انبیاؑ آئے ہیں،یہ ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے اور کسی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرایا جائے، جیساکہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ’’ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا اسے وحی کی کہ کوئی معبودنہیں سواے میرے، اس لیے صرف میری عبادت کرو‘‘۔ اور حدیث میں ہے: ’’ہم انبیاؑ کے درمیان قدر مشترک یہ ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے، اگرچہ ان کے شرائع اور مناہج میں اختلاف ہے۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ہم نے تم میں سے ہرایک کے لیے شریعت اور منہاج مقرر کر دیا ہے‘‘۔(تفسیر القرآن العظیم ، ابن کثیر، المکتبۃ التجاریۃ الکبریٰ، مصر، ۱۹۳۷، ۴۰/۱۰۹)

علامہ شوکانی ؒ(م: ۱۲۵۰ھ) فرماتے ہیں:

اَنْ اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ اَیْ تَوْحِیْدَ اللہِ   وَالْاِیْمَانَ  بِہٖ وَطَاعَۃَ  رُسُلِہٖ  وَقَبُوْلَ  شَـرَائِعِہٖ ، دین کا مطلب یہ ہے: اللہ کی وحدانیت کا اقرار، اس پر ایمان، اس کے رسولوں کی اطاعت اور اس کے احکام پر عمل۔(فتح القدیر، الجامع  بین فنّی الروایۃ والدرایۃ من علم التفسیر ، شوکانی، دارالمعرفۃ، بیروت، ۴/۵۳۰)

علامہ آلوسی (م: ۱۲۷۰ھ) کا قول اُوپر گزر چکا ہے۔ زیربحث آیت کے ذیل میں ہی انھوں نے دوسری جگہ لکھا ہے:

مَا  مِنْ نَبِیٍّ  اِلَّا وَھُوَ  مَأْمُوْرٌ  بِـمَا  أمِرُوْا  بِہٖ   مِنْ اِقَامَۃِ  دِیْنِ  الْاِسْلَامِ وَھُوَ التَّوْحِیْدُ  وَمَا لَا  یَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الْاُمُمِ وَتَبَدّلِ الْأَعْصَارِ مِنْ اُصُوْلِ الشَّـرَائِعِ  وَالْاَحْکَامِ  ہرنبی ؑ کو وہی حکم دیا گیا جو تمام انبیاؑ کو دیا گیا تھا، یعنی دین اسلام کی اقامت۔ دین سے مراد ہے توحید اور وہ چیزیں جو اُمتوں اور زمانوں کے بدلنے سے نہیں بدلتیں، یعنی اصول شرائع و احکام۔(روح المعانی، ۲۵/۲۰)

علامہ رشید رضا مصری (م: ۱۳۵۴ھ) فرماتے ہیں:

وَجُمْلَۃُ الْقَوْلِ اِنَّ دِیْنَ   اللہِ  عَلٰی ألْسِنَۃِ أَنْبِیَائِہٖ   وَاحِدٌ  فِیْ  أُصُوْلِہٖ  وَمَقَاصِدِہٖ ،  وَھِیَ تَوْحِیْدُ اللہِ  وَتَنْزِیْہُہٗ  وَ اِثْبَاتُ صِفَاتِ الْکَمَالِ لَہٗ   وَالْاِخْلَاصُ لَہٗ  فِی الْأُعمَالِ، وَالْاِیْمَانُ  بِالْیَوْمِ  الْآخِرِ ، وَالْاِسْتِعْدَادُ   لَہٗ  بِالْعَمَلِ الصَّالِـحِ  خلاصہ یہ کہ اللہ کا دین اس کے انبیاؑ کی زبان میں اپنے اصول و مقاصد کے اعتبار سے ایک رہا ہے۔ وہ اصول یہ ہیں: اللہ کی وحدانیت کا اقرار، اس کی پاکی بیان کرنا، اس کے لیے صفاتِ کمال کا اثبات، اعمال میں اس کے لیے اخلاص، یومِ آخرت پر ایمان اور عملِ صالح کے ذریعے اس کے لیے تیاری۔(تفسیر المنار، ۶/۴۱۶-۴۱۷)

مفسرین کی اس فہرست میں قاضی ابن العربی مالکی اور شاہ ولی اللہ کو بھی شامل کرلینا چاہیے، جن کے اقتباسات اُوپر گزر چکے ہیں۔ آخر میں امام فخر الدین رازیؒ (م: ۶۰۴ھ) کی راے بھی نقل کردینی ضروری معلوم ہوتی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:

ضروری ہے کہ یہاں دین سے ، ان اعمال (جن کا انسانوں کو مکلف کیا گیا ہے) اور احکام کے علاوہ کوئی دوسری چیز مراد ہو، اس لیے کہ ان میں باہم اختلاف اور تفاوت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے شریعت اور منہاج مقرر کر دیا ہے‘‘۔ اس لیے ضروری ہے کہ دین سے مراد وہ اُمور ہوں جو شریعتوں کے بدلنے سے نہیں بدلتے۔ اور وہ ہیں: اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوںـؑ اور یومِ آخر پر ایمان۔(التفسیر الکبیر، مجلد ۱۴، جز ۲۷، ص ۱۳۸)

اس اقتباس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام رازیؒ کے نزدیک دین سے مراد صرف ایمانیات ہیں۔ لیکن آگے چل کر انھوں نے لکھا ہے:

اَلْمُرَادُ  ھُوَ  الْأَخْذُ   بِالشَّرِیْعَۃِ  الْمُتَّفَقِ  عَلَیْھَا  بَیْنَ الْکُلِّ  اس سے مراد اس شریعت پر عمل کرنا ہے، جس پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام رازیؒ کے نزدیک اصولِ دین میں ایمانیات کے علاوہ اصولِ شرائع بھی شامل ہیں۔

مذکورہ بالا اقوالِ مفسرین پر دوبارہ نظر ڈالی جائے۔ ان سے صاف طور پر یہ دعویٰ غلط قرار پاتاہے کہ جمہور مفسرین نے آیت ِ زیربحث میں ’دین‘ سے صرف ایمانیات مراد لی ہیں۔ جمہور مفسرین نے یہ بات کہی ہے کہ اس آیت میں دین سے مراد اصولِ دین ہیں۔ فروعِ دین، جو مختلف اُمتوں میں الگ الگ ہیں اور وہ ان کی مکلف ہیں، وہ یہاں مراد نہیں ہیں۔ البتہ واضح رہے کہ ان مفسرین کے نزدیک یہ اصولِ دین زندگی کے تمام پہلوئوں کو محیط ہیں۔ اس کا اظہار ان کی تشریحات میں استعمال ہونے والے ان الفاظ سے ہوتا ہے: اللہ کی عبادت، اللہ کی اطاعت، اللہ کے رسولوں کی اطاعت ، اللہ کے احکام کی اطاعت،اللہ کے احکام پر عمل، اصولِ شرائع و احکام وغیرہ۔

دین اور شریعت کا باہمی تعلق

اُوپر کی بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ سورئہ شوریٰ کی آیت میں ’دین‘ سے مراد اصولِ دین ہیں اور فروعِ دین کا تذکرہ سورئہ مائدہ کی آیت ۴۸ میں ہے، جہاں انھیں شرعۃ و منہاج کہا گیا ہے۔ انھیں ’شریعت‘ بھی کہا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا دین اور شریعت کے درمیان کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ کیا دین پر عمل ایک چیز ہے اور شریعت پر عمل دوسری چیز؟ کیا دین پر عمل کا حکم دیا جائے تو کچھ چیزیں مراد ہوں گی اور شریعت پر عمل کا حکم دیا جائے تو کچھ دیگرچیزیں مراد ہوں گی؟بہ الفاظ دیگر کیا شریعت پر عمل کرنے سے دین پر عمل کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے؟

ان سوالات کا جواب یہ ہے کہ ہراُمت ان ’فروعِ دین‘ پر عمل کی پابند ہے جن کا اسے مکلّف کیا گیا ہے اور جن فروعِ دین کا دیگر اُمتوں کو مکلّف کیا گیا ہے ان پر عمل اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ گویا ہراُمت اپنی شریعت پر عمل کی مکلّف ہے۔ وہ اپنی شریعت پر عمل کرے گی تو حقیقت میں اپنے دین پر عمل کرنے والی ہوگی۔

علامہ آلوسیؒ آیت ِ مائدہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

کوئی اُمت اپنی شریعت سے تجاوز نہیں کرسکتی۔ حضرت موسٰی کی بعثت سے حضرت عیسٰیؑ کی بعثت تک جو اُمت تھی، اس کی شریعت، احکامِ تورات تھے۔ حضرت عیسٰی ؑ اور حضرت احمدعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثتوں کے درمیان کی اُمت کی شریعت، انجیل میں مذکور تھی، اور اب تمھاری شریعت (اے اہلِ ایمان) صرف قرآن کی شکل میں موجود ہے، اس لیے اس پر ایمان لائو اور اس کے احکام پر عمل کرو۔(روح المعانی، ۶/۱۵۳)

اس بات کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ تمام انبیاؑ نے (بہ شمول ان انبیاءؑ کے جن کی صراحت سورئہ شوریٰ کی آیت میں موجود ہے) اپنی اُمتوں کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا ہے۔ اس اعتبار سے عبادتِ الٰہی ’اصولِ دین‘ میں سے ہوئی۔ عبادت کے طریقے ہر اُمت کو جدا جدا بتائے گئے ہیں۔یہ طریقے ’فروعِ دین‘ میں سے ہوئے۔ ایک اُمت ان طریقوں کے مطابق، جن کی اسے تعلیم دی گئی ہے، اللہ کی عبادت کرے تو وہ اس ’فرعِ دین‘ پربھی عمل کرنے والی ہوئی اور اس ’اصلِ دین‘ پر بھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت دین میں شامل ہے۔ شریعت پر عمل گویا دین پر عمل کرنا ہے۔ قدیم مفسرین میں علامہ قرطبیؒ نے شریعت کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:

الشَّـرِیْعَۃُ   مَا  شَـرَعَ  اللہُ  لِعِبَادِہٖ    مِنَ  الدِّیْنِ (تفسیر قرطبی، ۶/۲۱۱) شریعت سے مراد دین کی وہ چیزیں ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مشروع کیا ہے۔

دین اور شریعت کے درمیان اسی تعلق کی وضاحت کے لیے بسااوقات دونوں ہم معنٰی استعمال ہوتے ہیں۔ امام راغب اصفہانیؒ (م:۵۰۲ھ) فرماتے ہیں:

وَاسْتُعیْرَ  لِلشَّـرِیْعَۃِ   لفظ دین کا استعمال شریعت کے لیے بھی ہوتا ہے۔(راغب اصفہانی، المفردات فی غریب القرآن، مصر ،۱۳۲۴ھ، ص ۱۷۵)

یہی بات علامہ رشید رضا مصری نے یوں کہی ہے:

اِنَّ الشَّـرِیْعَۃِ  اِسْمٌ  لِلْاَحْکَامِ الْعَمَلِیَّۃِ  وَ اَنَّھَا  أَخَصُّ  مِنْ کَلِمَۃِ  الدِّیْنِ  وَاِنَّـمَا  تَدْخُلُ  فِیْ مُسْمَّی  الدِّیْنِ مِنْ حَیْثُ  اِنَّ  الْعَامِلَ بِھَا یَدِیْنُ اللہَ تَعَالٰی  بِعَمَلِہٖ وَیَخْضَعُ لَہٗ وَیَتَوَجَّہُ  اِلَیْہِ مُبْتَغِیًا  مَرْضَاتہٗ  وَثَوَابَہٗ  بِـاِذْنِہٖ (تفسیر المنار، ۶/۴۱۴) شریعت عملی احکام کا نام ہے۔ یہ لفظ ’دین‘ سے زیادہ خاص ہے، بلکہ وہ دین کے مفہوم میں داخل ہے، بایں طور کہ اس پرعمل کرنے والا اپنے عمل کے ذریعے اللہ کی اطاعت کرتا ہے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور اس کی خوش نودی اور ثواب حاصل کرنے کے لیے اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔

یہی نہیں، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ کسی اُمت کے لیے اپنی ’شریعت‘ پر عمل کے بغیر’دین‘ پر عمل ممکن ہی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ’صلوٰۃ‘ (نماز) جو عبادتِ الٰہی کا ایک مظہر ہے، اصولِ دین میں سے ہے۔ اس کی تعلیم ہر پیغمبرؑ نے اپنی اُمت کو دی ہے۔ اسی طرح ہراُمت کی شریعت میں اس کی ادایگی کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے۔ اب کسی اُمت کے لیے اپنی شریعت میں بتائے گئے ادایگی نماز کے طریقے کی پابندی کیے بغیر نماز کی اقامت ممکن ہی نہیں۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اس موضوع پر حجۃ اللہ البالغۃ  میں تفصیل سے بحث کی ہے۔ انھوں نے بیان کیا ہے کہ ’’دین کی اصل ایک ہے جس پر تمام اُمتوں کا اتفاق ہے، البتہ ان کے شرائع و مناہج مختلف ہیں (ان کے کچھ اقتباسات گذشتہ صفحات میں گزر چکے ہیں)۔ ان میں اختلاف کی حکمتوں پر بھی انھوں نے مفصل بحث کی ہے۔ اس بحث میں انھوں نے زور دے کر یہ بات کہی ہے کہ اُمتیں اپنے اپنے شرائع و مناہج پر عمل کی پابند ہیں۔ کسی اُمت کے لیے اپنی شریعت پر عمل کے بغیر دین پر عمل ممکن ہی نہیں ہے:

وَالْحَقُّ  یَعْلَمُ  اَنَّ الْقَوْمَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ  الْعَمَلَ بِالدِّیْنَ  اِلَّا بِتِلْکَ  الشَّـرَائِعِ وَالْمَنَاھِجِ (حجۃ اللہ البالغۃ، ۱/۹۲) یہ حقیقت جان لینی چاہیے کہ لوگوں کے لیے شرائع و مناہج پر عمل کے بغیر دین پر عمل کرنا ممکن ہی نہیں۔

جب دین پر عمل شریعت پرعمل کے بغیر ممکن ہی نہیں تو اس سے خو د بہ خود یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ دین پر عمل کا حکم دیا جائے تو اس سے شریعت پر عمل بھی لازم ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض مفسرین نے صراحت کی ہے کہ سورئہ شوریٰ کی آیت میں اقامت ِ دین کے حکم کا مطلب دین کے اصول اور فروع سب پر عمل کا حکم ہے۔علامہ عبدالرحمٰن بن ناصرالسعدی (م:۱۳۷۶ھ) موجودہ دور میں عالمِ عرب کے ایک مشہور مفسر ہیں۔ اصولِ تفسیر، فقہ و اصولِ فقہ،عقائد اور دیگر موضوعات پر ان کی قابلِ قدر تصانیف ہیں۔ ان کی تفسیر تیسیر الکریم الرحمٰن فی تفسیر کلام المنان، سات جلدوں میں ۱۴۰۴ھ میں الرئاسۃ العامہ لادارات البحوث العلمیۃ والافتاء والدعوۃ والارشاد ریاض، سعودی عرب سے شائع ہوئی ہے۔انھوں نے آیت ِ شوریٰ کی تفسیر میں لکھا ہے:

(اَنْ اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ)  أَیْ  أَمْرَکُمْ  أَنْ  تُقِیْمُوْا  جَـمِیْعَ  شَـرَائِعِ الدِّیْنِ أُصُوْلِہٖ   وَفُرُوْعِہٖ (تیسیرالکریم الرحمٰن، ۶/۵۹۹) کہ دین قائم کرو، یعنی اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے کہ تمام شرائع دین، یعنی دین کے اصول اور فروع سب قائم کرو۔

اختلافِ شرائع کا سبب

شریعتوں کے مختلف ہونے کے کیا اسباب ہیں؟ اس سلسلے میں مفسرین نے دو باتیں لکھی ہیں: ایک تو یہ کہ اس اختلاف کے ذریعے اللہ تعالیٰ بندوں کی آزمایش کرتا ہے کہ وہ اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں یا نہیں؟ دوسرے یہ کہ شریعتوں کا مختلف ہونا حالات کی بنا پر ہوتا ہے۔بعض حالات میں اللہ تعالیٰ ایک حکم نازل کرتا ہے لیکن جب ان میں تبدیلی آجاتی ہے تو اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ اس حکم میں بھی تبدیلی کردیتا ہے۔ علامہ زمخشریؒ نے آیت ِ مائدہ کی جو تشریح کی ہے، اس میں یہ دونوں باتیں آگئی ہیں:

لِیَبْلُوَکُمْ فِیـْمَا  آتَاکُمْ مِنَ الشَّـرَائِعِ  الْمُخْتَلِفَۃِ  ، ھَلْ تَعْمَلُوْنَ  بِھَا  مُذْعِنِیْنَ مُعْتَقِدِیْنَ  أَنَّھَا  مَصَالِـحُ  قَدِ  اخْتُلِفَ  عَلٰی حَسَبِ الْأَحْوَالِ  وَالْأَوْقَاتِ، مُعْتَرِفِیْنَ بِأَنَّ  اللہَ لَمْ یَقْصِدُ  بِاخْتِلَافِھَا  اِلَّا  مَا  اقْتَضَتْہُ  الْحِکْمَۃُ  ، أَمْ  تَتَّبِعُوْنَ  الشُّبَہَ  وَتُفَرِّطُوْنَ فِی الْعَمَلِ (کشاف، ۱/۶۱۸) تاکہ تم کو آزمائے، کہ اس نے جو مختلف شریعتیں تم کو دی ہیں ، کیا ان پر عمل کرتے ہو، اس اعتقاد کے ساتھ کہ یہ مختلف شریعت درحقیقت مصالح ہیں جن میں حالات اور زمانوں کے لحاظ سے فرق ہے ، اور اس اعتراف کے ساتھ کہ ان کے اختلاف اللہ تعالیٰ کا مقصد تقاضاے حکمت کی تکمیل ہے، یا شبہات میں پڑے رہتے ہو اور عمل میں کوتاہی کرتے ہو۔

اختلافِ شرائع کے سلسلے میں ایک بات یہ بھی کہی جاسکتی کہ اس کا ایک مقصد شریعت کا تشخص قائم رکھنا ہے۔ اس توجیہہ کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے ان احکام کے اسرار معلوم کیے جاسکتے ہیں، جو آپؐ نے محض یہود کے ’تشبہ‘ سے بچنے کے لیے دیے تھے۔

دین کے ’مکمل‘ اور ’ناقص‘ ہونے کی بحث

بعض حضرات کی جانب سے ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ سورئہ شوریٰ کی آیت میں الدین  کو صرف ’اساسیاتِ دین‘ کے معنی میں لینا ضروری ہے، اسے ’مکمل دین‘کے معنٰی میں نہیں لیا جاسکتا، کیوں کہ تمام انبیاؑ کو الدین   قائم کرنے کا حکم ملا تھا ، مگر حضرت موسٰی کے سوا دوسرےپیغمبروں کو سرے سے سیاسی اور قانونی احکام دیے ہی نہیں گئے تھے۔یہ دلیل بے بنیاد ہے۔ دین کے بارے میں ’مکمل‘ اور ’ناقص‘ کی بحث مہمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاؑ کےواسطے سے اپنے بندوں کو جو احکام دیے ہیں ، ان کے لیے ان سب پر عمل ضروری ہے۔اس نے اپنے جس نبی کو جتنے احکام دیے، ان کی اُمت کے لیے وہی مکمل دین تھا۔ امام رازیؒ نے اس نکتے کی وضاحت بہت اچھے انداز میں کی ہے۔ امام قفالؒ کے حوالے سے فرماتے ہیں:

دین کبھی ناقص نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ کامل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں جو شریعتیں نازل کی تھیں، وہ اپنے وقت میں کامل تھیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ یہ بھی جانتا تھا کہ جو چیز آج کامل ہے، وہ آیندہ کامل نہیںرہے گی۔ اس لیے وہ ان میں سے بعض چیزوں کو منسوخ کرتا اور بعض چیزوں کا اضافہ کرتا رہتا تھا۔ آخری زمانے میں اس نے مکمل شریعت نازل فرمائی اور اس کو قیامت تک باقی رکھنے کا فیصلہ فرمایا۔ حاصل یہ کہ شریعت ہمیشہ کامل تھی۔ پہلے کی شریعتیں ایک مخصوص زمانے تک کے لیے کامل تھیں اور شریعت ِ محمدیؐ  قیامت تک کے لیے کامل ہے۔(تفسیر کبیر، ۳/۳۶۸)

تکمیلِ دین کا مفہوم

سورئہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۝۰ۭ (المائدہ ۵:۳) آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا۔

اس آیت میں تکمیلِ دین سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ ابن الجوزیؒ نے پانچ اور ابن العربیؒ نے سات اقوال کا ذکر کیا ہے۔(زاد المیسر، ۲/۲۸۸، احکام القرآن، ۱/۲۲۸)

بہت سے مفسرین مثلاً زمخشریؒ، بیضاویؒ،قرطبیؒ اور آلوسیؒ وغیرہ نے دو اقوال نقل کیے ہیں۔ ان کے مطابق اس کا معنٰی استحکامِ دین بھی ہوسکتا ہے اور تمام احکامِ دین کا نزول بھی۔(کشاف، ۱/۵۹۳، بیضاوی، انوارالتنزیل (تفسیر بیضاوی) مطبع احمدی، دہلی، ۱/۲۱۵، تفسیرقرطبی، ۶/ ۶۱-۶۲) تکمیل دین کو اگر مؤخر الذکر مفہوم میں لیں تو بھی اس سے یہ مفہوم مخالف نہیں نکالاجاسکتا کہ پہلے دین ناقص تھا۔ اس نکتے کی وضاحت گذشتہ سطور میں امام رازیؒ کے حوالے سے کی جاچکی ہے۔

بعض مفسرین مثلاً ابن الجوزیؒ اور ابن العربیؒ وغیرہ نے اس کی ایک توجیہہ یہ کی ہے، جو بہت مناسب ہے کہ اس میں دین، شریعت کے معنی میں ہے اور اس کی تکمیل سے مراد یہ ہے کہ یہ شریعت اب قیامت تک کے لیے ہے، دیگر شریعتوں کی طرح اب وہ منسوخ نہیں ہوگی۔(زاد المیسر، ۲/۲۸۸، احکام القرآن، ۱/۲۲۸)

سورہ ٔ شوریٰ کے مکّی ہونے کا معاملہ

ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ سورئہ شوریٰ مکّی ہے۔ یہ عہد مکّی کے درمیانی دور میں نازل ہوئی تھی۔ اس کے نزول کے وقت مکمل دین نازل نہیں ہوا تھا۔ اس وقت تک جتنا قرآن نازل ہوا تھا، اس میں توحید، رسالت اور آخرت کا بیان تھا۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور جہاد وغیرہ کے احکام بعد میں نازل ہوئے۔ لہٰذا ، اس سورہ میں جب دین قائم کرنے کا حکم دیا گیا تو اس سے دین کی وہی بنیادی تعلیمات (توحید، رسالت، آخرت) مراد ہوگی، جن کا بیان ہوچکا تھا۔ جو احکام ابھی نازل  ہی نہیں ہوئے تھے انھیں کیوں کر اس کے مدلول میں شامل کیا جاسکتا ہے؟‘‘

یہ اعتراض کرتے وقت بعض باتوں کو خلط ملط کردیا گیا ہے اور ان کے ذریعے غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جس زمانے میں جو حکم دیا ہے اس پرعمل کے وہ پابند ہیں۔ بعد میں اس نے اس سے متعلق کچھ اور جزئی احکام دیے تو ان اضافہ شدہ احکام پر بھی عمل ان کے لیے لازم ٹھیرا اور وہ بھی سابقہ حکم کے مدلول میں شامل ہوگئے۔

مثال کے طورپر مکی سورتوں میں سے سورئہ روم (آیت۳۱) ، سورئہ انعام (آیت ۷۲) اور سورئہ اعراف(آیت ۲۹) میں نماز قائم کرنے کا حکم موجود ہے۔ سورئہ روم ہجرتِ حبشہ کے موقعے پر، یعنی نبوت کے پانچویں سال اور سورئہ انعام اور سورئہ اعراف مکّی دور کے آخر میں نازل ہوئی تھیں۔ اس وقت تک نماز کے سلسلے میںجتنے احکام نازل ہوچکے تھے، حضراتِ صحابہؓ انھی احکام پرعمل کے پابند تھے۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد نماز کے تفصیلی احکام بیان کیے گئے، طہارت اوروضو کے آداب اور طریقے بتائے گئے۔ اب اَقِیْمُوْالصَّلٰوۃَ  کے حکم میں یہ تمام تفصیلات بھی شامل ہوگئیں۔ اس وقت تمام صحابہ، خواہ وہ قدیم الاسلام ہوں یا ہجرتِ مدینہ کے بعد انھیں قبولِ اسلام کی سعادت حاصل ہوئی، اقامت ِ صلوٰۃ کے حکم میں نماز کے بارے میں اس وقت تک نازل ہونے والے تمام جزئی احکام کو شامل سمجھتے تھے اور ان پر عمل کرتے تھے۔ وہ یہ تفریق نہیں کرتے تھے کہ مکّی سورتوں میں اَقِیْمُوْالصَّلٰوۃَ   کا مطلب کچھ اور ہے اور مدنی سورتوں میں کچھ اور۔

یہی معاملہ زکوٰۃ کا ہے۔ اس کی ادایگی کا حکم (آتُوْا الزَّکٰوۃَ ) ہجرتِ مدینہ کے بعد ابتدائی زمانے میں نازل ہونے والی سورتوں میں موجود ہے، مثلاً البقرۃ (آیات: ۴۳، ۸۳، ۱۱۰)، النساء (آیت ۷۸)، المزمل (آیت ۲۰)۔ اسی طرح اس کا حکم سورئہ نور (آیت ۵۶) اور سورئہ مجادلہ (آیت۱۳) میں بھی ہے، جو ۵ ہجری میں نازل ہوئی تھیں۔ اس وقت تک زکوٰۃ کے بارے میں جتنا حکم دیا گیا تھا اس پر عمل مطلوب تھا۔ زکوٰۃ کے مصارف کا بیان سورئہ توبہ (آیت ۶۰) میں ہوا ہے، جو غزوئہ تبوک (۹ہجری) کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اس کے نصاب کا تعیین بھی فتح مکہ (۸ہجری) کے بعد ہوا ہے۔ ان احکام کے نازل ہونے کے بعد آتُوْا الزَّکٰوۃَ   کے مدلول میں یہ جزئی احکام بھی شامل ہوگئے۔ بعد کے مسلمان مدنی دور کی ابتدا میں نازل ہونے والی سورتوں میں آتُوْا الزَّکٰوۃَ  پڑھیں گے تو اس پر ان کا عمل اسی وقت صحیح ہوگا جب وہ زکوٰۃ کی ادایگی اس کے تفصیلی اور جزئی احکام کے مطابق کریں گے۔ اُمت کی پوری تاریخ میں کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ عہدنبوی کے بعد کے مسلمان ادایگی زکوٰۃ کے حکم کے معاملے میں ابتدائی مدنی دور میں نازل ہونے والی اور آخری مدنی دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں فرق کریں گے۔ اوّل الذکر سورتوں میں آتُوْا الزَّکٰوۃَ  سے مراد کچھ اور لیں گے اور آخرالذکر سورتوں میں کچھ اور۔

انھی دونوں مثالوں پر اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ  کے حکم کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔ سورئہ شوریٰ مکّی عہد کے درمیانی عرصے میں نازل ہوئی تھی۔ اس وقت تک دین کے جتنے احکام نازل ہوچکے تھے وہ ’اقامت ِ دین‘ کے حکم میں شامل تھے۔ بعد میں جوں جوں مزید احکامِ دین نازل ہوتے گئے، وہ بھی اس میں شامل ہوتے گئے، یہاں تک کہ جب تکمیل دین کا اعلان کردیا گیا تو اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ کے حکم کے تحت پورے دین پر عمل لازم ٹھیرا۔ اب بعد کے مسلمانوں کے لیے یہ کہنا روا نہیں ہے کہ اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ    کا اطلاق دین کی صرف ان تعلیمات پر ہوگا جو اس آیت کے وقت ِ نزول تک آچکی تھیں۔

نفاذِ احکام میں قرآن کی ترتیبِ نزولی کا اعتبار

ایک عجیب و غریب اعتراض یہ وضع کیا گیا ہے کہ مولانا مودودیؒ اور ان کے ہم نوا احکامِ دین کے بیان اور نفاذ میں قرآنِ کریم کی ترتیب نزولی کا اعتبار نہیں کرتے۔ وہ قرآن کو ایک ’ریفرنس بک‘ کے طور پر لے کر اس سے احکامِ دین کی فہرست مرتب کرنے لگتے ہیں، جب کہ ہردور میں علما نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ قرآنی تعلیمات پر عمل آوری، نزولی ترتیب ہی کے مطابق ہوگی‘‘۔

یہ بات کہ احکامِ قرآنی کے بیان اور نفاذ میں اس کی نزولی ترتیب کا اعتبار کیا جائے گا، انتہائی غلط ہے اور یہ دعویٰ کہ ہر دور میں علما نے یہی کہا ہے، بلادلیل ہے۔ دعویٰ کرنے والوں نے کسی ایک عالم کا بھی نام ذکر نہیں کیا ہے۔ اُمت کی پوری تاریخ میں کسی عالم نے یہ بات نہیں کہی ہے۔ کوئی عالم ایسی مہمل بات کہہ بھی کیسے سکتا ہے۔

یہ صحیح ہے کہ قرآن کریم ایک کتاب کی صورت میں دفعتاً نازل نہیں ہوا ہے، بلکہ ۲۳سال کے عرصے میں حالات اور ضروریات کے مطابق تھوڑا تھوڑا نازل کیا گیا ہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ نزولِ قرآن کے زمانے میں وجوبِ احکام میں تدریج پیش نظر رہی ہے۔ لیکن تدریجی مراحل سے گزرنے کے بعدکوئی حکم جب اپنی آخری شکل میں آگیا تو آیندہ اس کے بیان اور نفاذ میں اس آخری شکل کوسامنےرکھا گیا۔ اس کے تدریجی مراحل کی رعایت نہیں کی گئی۔ مثال کے طورپر مکّی دور میں احکام کا نزول ہوا، لیکن بعد میں اسلام قبول کرنے والوں کے معاملے میں کبھی اس کی رعایت نہیں کی گئی کہ ایک طویل عرصے تک انھیں صرف توحید، رسالت اور آخرت کی باتیں گوش گزار کی گئی ہوں، پھر بتدریج تھوڑے تھوڑے احکام سے انھیں روشناس کرایا گیا ہو۔

مختلف احکام کا نزول بھی عہد ِ نبوی میں بتدریج ہوا، مثلاً مکی سورتوں، سورئہ بنی اسرائیل (آیت۳۲) ، سورئہ فرقان (آیات ۶۸-۶۹) اور سورئہ مومنون (آیات ۵ -۷) میں زنا کی مذمت اور اس سے بچنے کی تلقین کی گئی۔ پھر مدینہ کے ابتدائی دورمیں نازل ہونے والی بعض سورتوں (مثلاً: سورۃ النساء، آیت ۱۵) میں اس سے متعلق کچھ احکام دیے گئے۔ آخر میں ۶ہجری میں نازل ہونے والی سورئہ نور(آیت ۲) میں زنا کی سزا کا بیان ہوا ۔ اسی طرح شراب کی حُرمت بھی بتدریج ہوئی۔ پہلے سورئہ بقرہ (آیت ۲۱۹) میں بتایا گیا کہ شراب میں گناہ ہے۔ پھر سورئہ نساء (آیت۴۳) میں یہ حکم دیا گیا کہ نماز کے موقعے پر شراب نوشی سے اجتناب کیا جائے۔ آخر میں سورئہ مائدہ (آیات ۹۰-۹۳) کے ذریعے اس کی قطعی حُرمت کا اعلان کر دیا گیا۔ لیکن بعد میں اسلام قبول کرنے والوں پران احکام کانفاذ بتدریج نہیں کیا گیا کہ پہلے انھیں کچھ عرصے تک ارتکابِ زنا اور شراب نوشی کی چھوٹ دی گئی ہو اور پھر ان سے روکا گیا ہو اور ان کی حُرمت بیان کی گئی ہو۔

کتب ِ سیرت میں وفد ِ ثقیف کے بارے میں جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں، ان سے اس سلسلے میں بڑی رہنمائی ملتی ہے۔ غزوئہ تبوک (۹ہجری) کے بعد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بہت سے وفود مختلف علاقوں سے آئے اور قبولِ اسلام کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے۔ ان میں طائف کے قبیلہ ثقیف کا وفد بھی تھا۔ ان لوگوں نے اسلام قبول کرلیا مگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خواہش کی کہ انھیں نماز سے معاف رکھا جائے۔ آپؐنے ان کی یہ بات منظور نہیں کی۔(سیرۃ النبیؐ، ابن ہشام، مصر ۱۹۳۷ء، ۴/۱۹۷؛ السیرۃ النبویۃ، ابن کثیر، دارالمعرفۃ، بیروت، ۱۹۸۳ء، ۴/۵۶)

اسی طرح ان لوگوں نے سود خوری، زناکاری اور شراب نوشی کی آپ سے اجازت چاہی اور کہا کہ ہمارے لیے ان کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ مگر آپؐ نے ان چیزوں کی حُرمت بتاتے ہوئے ان کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔(السیرۃ النبویۃ، ابن کثیر، ۴/۶۲)

اسی طرح آج کے دور میں جب اسلام کا تعارف کرایا جائے، یا اس کی تعلیمات اور احکام لوگوں کے سامنے پیش کیے جائیں توضروری ہے کہ مکمل اسلام سے انھیں آگاہ کیا جائے اور اس کے تمام عقائد و ایمانیات اور شرائع و احکام بیان کیے جائیں۔ تکمیل دین کے بعد احکام و شرائع کو بیان کرنے میں تدریج ملحوظ رکھنا کسی طور پر صحیح نہیں ہے۔

ہرشخص بقدرِ استطاعت مکلّف ہـے

اعتراض کرنے والے دراصل ایک خلط ِ مبحث کا شکار ہوئے ہیں۔ انھوں نے جس معاملے کو ’احکامِ اسلام کے بتدریج نفاذ‘ سے جوڑنے کی کوشش کی ہے، اس کا تعلق ایک دوسرے اصول سے ہے اور وہ یہ ہے کہ ہرشخص بقدرِ استطاعت مکلّف ہے۔ اس اصول پر قرآن و سنت کی متعدد نصوص دلالت کرتی ہیں۔ قرآن کریم میں ہے:

لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا۝۰ۭ (البقرہ ۲:۲۸۶) اللہ کسی متنفس پر اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔

یہ مضمون قرآنِ کریم کی متعدد آیات میں بیان ہوا ہے (ملاحظہ کیجیے البقرہ۲۳۳، الانعام: ۱۵۲، الاعراف: ۴۲، المؤمنون:۶۲، الطلاق: ۷ وغیرہ)۔

اسلام کے احکام وشرائع اپنی جزئیات و تفصیلات کے ساتھ بیان کیے جائیں اور ہرشخص ان میں سے اتنے حصے کا مکلّف ہوگا، جتنے کی وہ استطاعت رکھتا ہو۔ مثال کے طور پر احکام طہارت بیان کرنا ہو تو پانی کے ذریعے وضو کا طریقہ اور پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمّم کا طریقہ دونوں کو بیان کیا جائے گا۔ جو شخص پانی سے محروم ہو یا پانی ہوتے ہوئے بھی وضو نہ کرسکتا ہو ، وہ وضو کا مکلّف نہ ہوگا، اس کے لیے تیمّم کفایت کرےگا۔ احکامِ نماز کے ضمن میں قیام، رکوع، سجدہ اور دیگر تفصیلات بیان کی جائیں گی۔اب جو شخص بیماری یا کسی اور عُذر سے کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ سکتا ہو وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کا مکلّف نہ ہوگا۔ وہ بیٹھ کر نماز پڑھے گا۔ بیٹھ کر بھی نہ پڑھ سکتا ہو تو لیٹ کر پڑھے گا۔ ہلنے جلنے پر قادر نہ ہو تو اشارے سے پڑھے گا۔

زکوٰۃ ، روزہ اور حج کے احکام بیان کیے جائیں گے۔ جوان کی استطاعت رکھتے ہوں گے وہ ان کے مکلّف ہوں گے اور جو استطاعت نہیں رکھتے ہوں گےوہ مکلّف نہیں ہوں گے۔ اس اصول کو علماے اسلام نے بھی اپنی تصانیف میں بیان کیا ہے۔ علّامہ ابواسحاق شاطبیؒ (م:۷۹۰ھ) کی کتاب الموافقات فی اصول الشریعۃ،علمِ شریعت کے موضوع پر بڑی اہم تصنیف ہے۔ اس میں مذکور ہے:

ثَبَتَ فِی الْاُصُوْلِ  أَنَّ  شَـرْطَ التَّکْلِیْفِ  أَوْ سَبَبَہٗ  الْقُدْرَۃُ  عَلَی الْمُکَلَّفِ  بِہٖ، فَـمَا لَا قُدْرَۃَ  لِلْمُکَلَّفِ  عَلَیْہِ  لَا  یَصِحُّ  التَّکْلِیْفُ   بِہٖ   شَـرْعًا   اصولِ شریعت میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ کسی شخص کے کسی چیز کے مکلّف ہونے کی شرط یا سبب یہ ہے کہ وہ اس پر قادر ہو۔ جس کام کے کرنے کی وہ قدرت نہ رکھتا ہو، اس کا اسے مکلّف قرار دینا شرعی طور پر صحیح نہیں ہے۔(الموافقات فی اصول الشریعۃ، شاطبی ، مصر ،۱۰۷۰ھ)

اسی طرح جب اسلام کا تعارف کرایا جائے گا تو اس کے عقائد و ایمانیات کو بھی بیان کیا جائے گا، عبادات کی تفصیلات بھی پیش کی جائیں گی، معاملات سے متعلق اس کے احکام کا بھی تذکرہ کیا جائے گا، دیوانی اور فوج داری قوانین بھی زیربحث آئیں گے۔ سماجی، معاشی اور سیاسی میدانوں میں اس کی تعلیمات سے بھی آگاہ کیا جائے گا، غرض مکمل اسلام پیش کیا جائے گا، لیکن افراد اپنے اپنے حالات اور استطاعتوں کے مطابق مکلّف ہوں گے۔ جو لوگ کسی وجہ سے بعض احکام پر عمل سے معذور ہوں گے وہ ان کے مکلّف ہی نہیں ہوں گے۔

اقامتِ دین کاتقاضا  اجتماعی جدوجہد

ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ سورئہ شوریٰ میں اقامت ِ دین کا جو حکم دیا گیا ہے، اس کے مخاطب افرادِ اُمت انفرادی طور پر ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کو اپنی ذات پرقائم کرو اور اس کے احکام پر خود عمل کرو۔ اس میں دوسروں کودعوت دینے اور ان کے درمیان دین کی تبلیغ کے لیے اجتماعی طور سے جدوجہد کرنے کا مفہوم نہیں پایا جاتا۔ یہ بات بھی صحیح نہیں ہے۔ متعدد مفسرین نے صراحت کی ہے کہ اس میں دوسروں کو دعوت دینے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔

علامہ ماوردیؒ (م:۴۵۰ھ) فرماتے ہیں:

أَنْ اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ:  فِیْہِ وَجْھَانِ ، أَحَدُھُمَا  ، اِعْمَلُوْا بِہٖ ، الثَّانِیْ: اُدْعُوْا  اِلَیْہِ ، وَیَحْتَمِلُ  وَجْھًا  ثَالِثًا: جَاہِدُوْا  عَلَیْہِ  مَنْ عَانَدَہٗ دین کو قائم کرنے کی دو توجیہات ہوسکتی ہیں: ایک یہ کہ اس پر عمل کرو، دوسری یہ کہ اس کی طرف دعوت دو۔ اس میں ایک تیسری توجیہہ کا بھی احتمال ہے، وہ یہ کہ جو اس سے دشمنی رکھے اس سے جنگ کرو۔(ماوردی، النکت والعیون (تفسیرالماوردی)، الکویت، ۱۹۸۲ء، ۳/۵۱۴)

علامہ قرطبیؒ (م: ۶۷۱ھ) اور علامہ ابوحیان اندلسیؒ (م:۷۴۵ھ) دونوں نے لکھا ہے:

(أَنْ اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ) اَیْ اِجْعَلُوْہُ  قَائِمًا ، یُرِیْدُ   دَائِمًا مُسْتَمِرًّا مَحْفُوْظًا  مُسْتَقِرًّا مِنْ غَیْرِ خِلَافٍ فِیْہِ وَلَا اضْطِرَابٍ  دین کو قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ ایسا معاملہ کرو کہ وہ ہمیشہ قائم، جاری و ساری، محفوظ اور مستحکم رہے۔ نہ کوئی اس کی مخالفت کرے اور نہ اس کی تعلیمات میں کوئی اضطراب پیدا ہو۔(تفسیرالقرطبی، ۱۶/۱۱، البحرالمحیط، ابوحیان الاندلسی، دارالفکر، بیروت، ۱۴۲۰ھ، ۹/۳۲۹)

علّامہ ابوالسعود العمادیؒ (م: ۹۸۲ھ) فرماتے ہیں:

اَلْمُرَادُ  بِـاِقَامَتِہٖ  تَعْدِیْلُ أَرْکَانِہٖ ، وَحِفْظُہٗ  مِنْ  أَنْ  یَقَعَ  فِیْہِ  زِیْفٌ ، أَوْ الْمُوَاظَبَۃُ وَالتَّشَمُرُّ لَہٗ   دین کی اقامت سے مراد یہ ہے کہ اس کے ارکان کو ٹھیک طریقے سے ادا کیا جائے، اس میں زیغ و انحراف آنے سے اس کی حفاظت کی جائے، پابندی کی جائے اور اس کے لیے سرگرم رہا جائے۔(ارشاد العقل السلیم: ۷/۶۶۰، یہی تشریح علامہ آلوسیؒ (م: ۱۲۷۰ھ) نے بھی کی ہے۔ روح المعانی، ۲۵/۲۱)

شاہ ولی اللہ نے الدین کے مفہوم میں ان چیزوں کو بھی شامل کیا ہے:

اِقَامَۃُ  الْعَدْلِ  بَیْنَ النَّاسِ  ، وَ تَحْرِیْمُ  الْمَظَالِمِ ، وَ اِقَامَۃُ  الْحُدُوْدِ عَلٰی أَھْلِ  الْمَعْاصِی  ، وَالْجِہَادُ  مَعَ  أَعْدَاءِ  اللہِ  ، وَالْاِجْتِھَادُ    فِیْ  اِشَاعَۃِ  أَمْرِ اللہِ  وَدِیْـنِہٖ (حجۃ اللہ البالغہ، ۱/۸۷)اور لوگوں کے درمیان عدل قائم کرنا، ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا، اہل معاصی پر حدود قائم کرنا، اللہ کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنا، اللہ کے حکم اور دین کی اشاعت کے لیے جدوجہد کرنا۔

شیخ عبدالرحمٰن السعدیؒ(م: ۱۳۷۶ھ) فرماتے ہیں:

(أَنْ اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ) تُقَیْمُوْنَہٗ بِاَنْفُسِکُمْ وَتَجْتَھِدُوْنَ  فِیْ  اِقَامَتِہٖ عَلٰی غَیْرِکُمْ وَتُعَاوِنُوْنَ عَلَی الْبِرِّ  وَالتَّقوْیٰ  وَلَا تُعَاوِنُوْنَ  عَلَی الْاِثْمِ  وَالْعُدْوَانِ (تیسیر الکریم الرحمٰن، ۶/۵۹۹) دین کو قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ تم اسے اپنی ذات پر قائم کرو اور دوسروں پر بھی اسے قائم کرنے کی کوشش کرو اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کرو اور بُرائی اور جارحیت کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔

ان تشریحات سے واضح ہے کہ اقامت ِ دین کا مطلب صرف انفرادی طور پر دین کی پیروی نہیں ہے، بلکہ اس میں دین کی دعوت و اشاعت، اس کی حمایت و حفاظت اور اس کے نفاذ کی کوششیں بھی شامل ہیں۔

جماعت اسلامی اور اس کے بانی مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے مکمل اسلام پرعمل کرنے اور اس کی طرف دعوت دینے کا جو تصور پیش کیا ہے، وہ صرف کسی ایک آیت پر منحصر نہیں ہے۔ قرآن کریم میں بہ کثرت آیات ہیں، جن میں سے بعض میں صراحت سے اور بعض میں اشاروں میں اس کا حکم دیا گیا ہے اور اسے اُمت مسلمہ کا فرضِ منصبی قرار دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں زیربحث موضوع پر متعدد کتابیں موجود ہیں، مثلاً: فریضہ اقامت دین (مولانا صدرالدین اصلاحیؒ)، اساس دین کی تعمیر(صدرالدین اصلاحیؒ)، اقامتِ دین: اسلام کا تقاضا (مولانا سیّد حامد علیؒ)، اقامتِ دین فرض ہے (مولانا سیّداحمد عروج قادریؒ)، اُمت مسلمہ کا نصب العین (مولانا سیّد احمد عروج قادریؒ)،اقامتِ دین کا سفر (ڈاکٹر فضل الرحمٰن فریدیؒ)۔ جو حضرات اس موضوع پر سنجیدگی سے مطالعہ کرنا چاہتے ہیں انھیں ان کتابوں سے رجوع کرنا چاہیے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی یا ان کے نظامِ سیاست پر گفتگو کی جاتی ہے تولوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم توایک روحانی پیشوا اور رسولِؐ خداتھے۔ عبادت اور تعلق باللہ کے داعی تھے۔ ان سے پہلے جو رسول دنیا میں تشریف لائے، وہ بھی روحانی پیشوا تھے۔ سیاست سے ان کاکیا تعلق ہے اور ان کی سیاسی زندگی کا مطلب کیاہے؟یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ آج کے زمانے میں سیاست کی جو شکل وصورت ہمارے سامنے موجود ہے، وہ ظلم وزیادتی، جھوٹ، فریب، دھوکا اور وعدہ شکنی پر قائم ہے۔ اس میں بدعنوانی اور انسانوں کا استحصال بھی شامل ہے۔ اس سیاست میں جولوگ شامل ہیں خواہ انتخابی سیاست ہو یا آمرانہ سیاست، ان کے بارے میں لوگوں کی رائے اچھی نہیں ہے۔ لہٰذا، ایسی سیاست سے نبی اور رسول کا تعلق کیسے ہوسکتاہے!
’سیاست‘ عربی زبان کی ایک اصطلاح ہے، جس کے معنی اصلاحِ ذات، اصلاحِ معاشرہ اور اصلاحِ حکومت کے ہیں: اَلْقِیَامُ عَلَی الشَّیْ ءِ بِـمَا یَصْلُحُہٗ (الزبیدی، تاج العروس، ج۱۶،ص ۱۵۷)
سیاست کا مطلب ایسی تدبیر کرنا ہے جس سے کسی چیز کو استحکام مل جائے، اس کی اصلاح ہوجائے اور وہ اپنی اصلی حالت پر قائم ہوجائے ۔ معروف معنی میں سیاست کا مفہوم ملک اور عوام کی اصلاح ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْسُھُمْ الْاَنْبِیَاءُ کُلَّمَا ھَلَکَ  نَبِیٌّ خَلَفَہٗ  نَبِیٌّ وَ اِنَّہٗ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَاءُ (صحیح البخاری، کتاب الانبیاء: ۳۲۸۶) نبی اسرائیل کی سیاست، یعنی قیادت انبیاء کرام فرماتے تھے۔ جب کوئی نبی انتقال کرجاتے تو ان کی جگہ دوسرے نبی آتے، اورمیرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا البتہ خلفاء ہوں گے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دنیا میںدو طرح کے مذاہب اور نظریے تھے۔ ایک تو یہ تھا کہ اگر آپ روحانیت چاہتے ہیں تو ’رہبانیت‘ اختیارکریں، یعنی دنیاسے کنارہ کشی کریں۔ اور اگر آپ سیاست کو دیکھناچاہتے ہیں تو ملوکیت کی طرف دیکھیں۔ چنانچہ حضرت عیسیٰؑ کی طرف یہ جملہ منسوب ہے کہ جو ’’خدا کاہے وہ خدا کو دو اور جو قیصر کا ہے وہ قیصر کودو‘‘۔ یعنی خدا کے حقوق الگ تھے اور قیصر کے حقوق الگ تھے۔ یہ تقسیم خدا اور قیصر کے حقوق کے درمیان تھی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دنیا میں تشریف لائے، تو آپ ؐ نے اس تفریق کو مٹایا اور دنیا کو یہ نظریۂ حکومت دیا کہ انسان زمین کا’مالک‘ نہیں بلکہ ’امین‘ ہے۔کوئی چیز انسان کی اپنی ملکیت نہیں ہے بلکہ ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے۔ انسان اس کا امانت دار ہے۔ اقتداراعلیٰ اور حاکمیت مطلقہ صرف اللہ کے لیے ہے، باقی سارے انسان اس کے بندے اورغلام ہیں۔ آپ ؐ نے اللہ کا یہ پیغام انسانوں تک پہنچایا:
وَہُوَ الَّذِيْ  فِي السَّمَاۗءِ اِلٰہٌ  وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰہٌ ۝۰ۭ وَہُوَالْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ۝۸۴ (الزخرف ۴۳ : ۸۴) وہی خدا جوآسمان میں معبود ہے وہی زمین میں بھی معبود ہے او روہ حکمت اور علم والا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کو حکومت سازی کایہ نظریہ دیا:
اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ۝۰ۭ تَبٰرَكَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۝۵۴ (الاعراف ۷: ۵۴)جس نے پیدا کیا ہے، اس کی مخلوق پر حکم اسی کا چلے گا۔بابرکت ہے اللہ تمام جہانوں کا ربّ۔
چوںکہ انسانوں کو پیدا اللہ تبارک وتعالیٰ نے کیاہے، اس لیے اس کی مخلوق پر کسی اورکا حکم نہیں چلے گا بلکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ہی حکم چلے گا۔
lمستشرقین کی غلط فہمی: بیسویں صدی میں مشہور برطانوی مستشرق منٹگمری واٹ نے دو کتابیں لکھیں: Mohammad at Mecca  اور Mohammad at Madeena  پھر ان دونوں کتب کو ایک مجموعے Mohammad Prophet and Statesman کے نام سے شائع کیا۔ موصوف نے یہ فتنہ پھیلایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نعوذباللہ مکہ مکرمہ میں تو ایک داعی ، ایک روحانی پیشوا اور ایک پیغامبر تھے، لیکن جب وہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہاں نعوذباللہ وہ ایک حکمران تھے، ایک آمر تھے(محمد پرافٹ اینڈ سٹیٹسمین، ۲۰۱۰ء)۔یہ فتنہ انھوں نے اس لیے پھیلایا کہ ان کی تعلیم و تربیت میں مذہب اورسیاست کی دوئی شامل ہے۔ ان کے سامنے عیسائیت کی تاریخ ہے۔ وہاں خدا کا اقتدار اور اختیار الگ ہے اور قیصر کااقتدار واختیار الگ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت نہیںکرسکتے۔ اسی تناظر میں واٹ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کودیکھا۔
اسی طرح ٹائن بی (۱۸۸۹ء- ۱۹۷۵ء) بھی معروف عیسائی تاریخ نویس نے ریاست مدینہ کے قیام کی تعبیر کرتے ہوئے لکھا:’’اس میں شک نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینہ میں حکومت قائم کرنے کی دعوت قبول کی تو انھوں نے اپنے ضمیر کو یہ کہہ کر مطمئن کرلیا کہ وہ اللہ کی راہ میں پوری دلجمعی کے ساتھ گامزن ہیں.... [حالانکہ] وہ اپنے آپ کو دھوکا دے رہے تھے‘‘ (A Study of History ،ج۳، ص ۴۷۱،  ۱۹۶۱ء)۔اس طرح ٹائن بی کم فہمی اور بدترین تعصب کا شکار ہوکر، رسولِ کریمؐ کی حیاتِ طیبہ اور قرآنِ عظیم کے پیغام کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے میں ٹھوکر کھاتا ہے۔
اس ڈگر میں استثناء مائیکل، ایچ ہارٹ کاہے کہ جب اس نے انسانی ’تاریخ کے سو عظیم رہنماؤں‘ کے حالات لکھے، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سرفہرست رکھا اور وجہ یہ بیان کی کہ ’’وہ واحد انسان ہیں جو مذہب اور سیاست دونوں سطح پر یکساں طور پر کامیاب قائد ہیں‘‘۔(The 100، ص۳۳)
lدین و دُنیا کی یکجائی: رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ مکرمہ میں اسلام کی دعوت دی تو پہلے دن سے یہ بات ظاہر کردی تھی: سجدہ بھی خداہی کو کیاجائے گا اور حکم بھی خدا ہی کامانا جائے گا، اور اقتدار بھی اللہ تبارک وتعالیٰ ہی کاتسلیم کیاجائے گا۔ جواب میں کفار نے آپ کی شدید مخالفت کی۔ پتھر برسائے، گالیاں دیں، جان لیوا حملے کیے، لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت جاری رکھی۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت ان کفار نے حضرت ابوطالب سے کی جو آپ کے چچاجان تھے۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوبلایا اور کہا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ اپنی دعوت سے باز آجائیں ورنہ یہ آپ کو نقصان پہنچائیں گے۔ آپ ؐ نے ان لوگوں کو ایک جواب دیا اور فرمایا:
کَلِمَۃٌ وَاحِدَۃٌ تُعْـــطُوْنِیْہَا تَمْـــلِکُوْنَ بِہَا الْــعَرَبَ وَتُدِیْنُ  لَکُمْ بِہَا الْعَـجَمُ   (سیرۃ النبی، ابن ہشام، ج۳، ص۲۷، دارالفکر)  میں تم سے ایک کلمہ کہلوانا چاہتا ہوں۔ اگر اس کو کہہ دوگے تو تم عرب کے اقتدار کے مالک ہوجاؤگے اور تمھاری باج گزاری عجم کے لوگ بھی کریں گے۔
یعنی جو کلمہ میں تم سے کہلوانا چاہتا ہوں اس کلمے میں یہ قوت ہے کہ اس کے ذریعے اقتدار عرب کا ہو یا عجم کا ہو وہ تمھارے قبضے میں آجائے گا۔ کفار کی نمائندگی ابوجہل کررہاتھا۔ ابوجہل نے کہا کہ اے بھتیجے! ایسا وہ کون سا کلمہ ہے جو تم ہم سے کہلوانا چاہتے ہو؟ ایسا ایک نہیں ہم دس کلمہ کہنے کے لیے تیار ہیں۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو لاالٰہ الااللّٰہ اوراس کے علاوہ تمام بتوں کی پرستش چھوڑ دو۔ کفار یہ سنتے ہی مشتعل ہوگئے۔ ابوجہل نے کہا :
 اَتُرِیْدُ یَا مُحَمَّدُ اَنْ تَجْعَلِ اْلآلِہَۃَ اِلٰــــہًا وَاحِدًا اِنَّ اَمْرَکَ لَعَـجَبٌ (ایضاً) اے محمدؐ! کیسی بات کرتے ہو، ہم لوگ متفرق بتوں کوپوجنے والے ہیں، کیا تم چاہتے ہو کہ ہم سارے دیوتاؤں کوچھوڑ کر ایک خدا کومان لیں؟ یہ بڑی عجیب بات ہے۔
کفار مکہ کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دین کی دعوت دی وہ یہ تھی کہ اگر تم ایک خدا کومان لوگے، تو صرف آخرت میں جنت ہی نہیں ملے گی بلکہ دنیا کا اقتدار بھی تمھارے ہاتھ میں ہوگا۔ دنیا کااقتدار ان لوگوں کے ہاتھ میں تھاجو ظالم تھے، اور کمزوروں کا استحصال کرتے تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جس دین کے ساتھ بھیجا اس میں نہ صرف آخرت کی کامیابی اور سعادت شامل تھی بلکہ انسانوں کی دنیاوی راحت اور سعادت بھی شامل تھی۔ مگر کفار نے اپنا عناد جاری رکھا۔ کفار کی مخالفت کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعوت پر قائم رہے یہاں تک کہ آپؐ کو مکہ چھوڑنا پڑا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہجرت فرمائی توکفار مکہ نے اعلان کیا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کر کے لائے گا، اس کے لیے سو اونٹوں کا انعام مقرر ہے۔ بہت سے لوگ آپؐ کے تعاقب میں دوڑے۔ دوڑنے والوں میں ایک شخص تھا جس کا نام سراقہ بن مالک تھا اور وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا۔ اس وقت آپ غارثور میں تھے۔ پتھریلی زمین میں اس کا گھوڑا دھنس گیا۔ اس نے محمدؐ سے دعا کی درخواست کی، آپؐ کی دعا سے اسے مصیبت سے نجات ملی۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کَیْفَ بِکَ یَاسُرَاقَۃُ اِذَا  تَسَوَّرْتَ  بِسِوَارَیْ کِسْرٰی، سراقہ وہ دن کیسا ہوگا جب کسریٰ کے کنگن تمھارے ہاتھوں میں ہوں گے؟ اس کویقین نہیں آیا۔ انھوں نے کہاکہ کیا کسریٰ بن ہرمز کا کنگن میرے ہاتھوں میںہوگا؟ آپ ؐ نے فرمایا کہ ہاں کسریٰ کے کنگن تمھارے ہاتھوں میں ہوں گے(السیرۃ الحلبیہ، از علی بن الحلبی،ج۲، ص۴۵، بیروت)۔
حضرت عمر فاروقؓ کے زمانۂ خلافت میں ایران فتح ہوا۔ مالِ غنیمت خلیفہ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ مالِ غنیمت میں کسریٰ کا کنگن بھی تھا۔ حضرت عمرؓ نے سراقہ بن مالک کو بلایا اور کسریٰ کا کنگن ان کے ہاتھ میں پہنایا اور ان سے فرمایا: کہو:
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ سَلَبَہُمَا مِنْ کِسْرٰی بْنِ  ھُرْمُزَ الَّذِیْ کَانَ یَقُوْلُ اَنَـا رَبُّ النَّاسِ (السیرۃ الحلبیہ) تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے یہ کنگن کسریٰ سے چھین لیے جو یہ کہتاتھا کہ میں لوگوں کا پروردگار ہوں۔
عَصَیْبَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ   یَفَتَتِحُوْنَ اَلْبَیْتَ الْاَبْیَضَ  بَیْتَ کِسْریٰ (مسلم، کتاب الامارۃ: ۳۴۸۶) مسلمانوں کی ایک جماعت کسریٰ کے دارالحکومت کو فتح کرلے گی۔
 کسریٰ کی حکومت مسلمانوں کی حکومت ہوگی اور رستم کی جگہ ایک مسلم حکمراں وہاں حکومت کرے گا۔ جس طرح لوگوں کو سورج کے نکلنے کا یقین ہوتا ہے، اسی طرح صحابہ کرامؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی پر یقین تھا۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی کہ وہ کلمہ طیبہ جس کے لیے ہمیں مکہ مکرمہ سے نکالا جارہا ہے، ہمارے اصحاب کو گھروں سے نکالا جارہا ہے اور ہمیں ہماری سرزمین سے بے دخل کیاجارہا ہے،ایک وقت آئے گا کہ صرف مکہ ہی فتح نہیں ہوگا بلکہ دنیا کی سب سے بڑی شہنشاہیت ایران یا عجم یاکسریٰ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوگی۔ ہجرت پر روانگی کے وقت آپ ؐ نے دعا فرمائی :
رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا۝۸۰  (بنی اسرائیل ۱۷:۸۰) اے رب! اگر تو داخل کرے تو سچائی کے ساتھ اور اگر مکہ سے نکال رہا ہے تو سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے اقتدار کو میرا مددگار بنادے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت اور ہجرت سے واضح کردیا کہ اقتدار اللہ کا ہے اوراس کے صالح بندے اس اقتدار کے حق دار ہیں۔ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُہَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ۝۱۰۵ (الانبیاء۲۱:۱۰۵) ’’زمین کے اقتدار کے وارث نیک بندے ہوں گے‘‘۔ مکہ میں مومنوں کو ایک طرف بہت مارا گیا اور دوسری طرف مداہنت کی کوششیں بھی کی گئیں۔ کفار چاہتے تھے کہ کچھ آپؐ جھک جائیں اورکچھ ہم جھک جائیں، لیکن آپ ؐ نے شرک کی آمیزش کوقبول نہیں کیا۔
اس نظام کوقائم کرنے کے لیے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچ کر جس ریاست کی بناڈالی اس کی بنیادی خصوصیات کے بارے میں پروفیسر یاسین مظہر صدیقی لکھتے ہیں: ’’۱۲؍ربیع الاول پہلی ہجری،۱۴ستمبر ۶۳۳ء کو جس اسلامی ریاست کی داغ بیل پڑی تھی، وہ دوسری دنیاوی سلطنتوں اور حکومتوں اور ریاستوں کی مانند ایک اور دنیاوی ریاست یا حکومت نہ تھی، بلکہ وہ ایک ایسی مثالی ریاست اور قابل تقلید حکومت تھی، جس کی بنیادیں خدائے قادر مطلق کی حاکمیت اعلیٰ، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت خداوندی، امت مسلمہ کی اخوت و مساوات اور احترام ومحبت،بنی آدم کے عظیم اصولوں اور عملی نمونوں پر قائم کی گئی تھیں۔ یہی وہ بنیادی خصوصیات ہیں جو اسلامی ریاست وحکومت کو اپنی تمام تر پیش رو اور جانشین حکومتوں اور ریاستوں میں ممتاز کرتی ہیں‘‘(عہد نبوی میں تنظیم ریاست و حکومت، محمد یاسین مظہر صدیقی، ص ۲۱)۔
l سیاسی حکمت عملی:رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی کے چار پہلو تھے:
l پہلا یہ کہ مشرکوں کی مخالفت کے اس طوفان میں عفو ودرگزر کیجیے، وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْـرِکِیْنَ۔ جتنی پریشانیاں آتی ہیں، جتنے طنز کے تیر چلتے ہیں ان کو نظر انداز کیجیے، ان کی دشنام طرازیوں کو نظرانداز کیجیے۔ کفار جو اذیتیں آپ کودیتے ہیں ان کو نظر انداز نہ کرسکیں تو پھر اس دعوت کے میدان میں قدم رکھنا اور اپنے آپ کو مومن کہناسود مند نہیں ہوگا۔
l رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی حکمت عملی کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ مشرکوںکے ظلم پر صبر کیجیے۔ پتھر کے جواب میں پتھر نہیں برسانابلکہ اولوالعزم رسولوںؑ کی طرح صبر کرناہے:
فَاصْبِرْ كَـمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ۝۰ۭ (الاحقاف۴۶: ۳۵) آپ صبر کیجیے جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کیجیے۔
چنانچہ آپ ؐ نے خود بھی صبر کیا اور صحابہ کرام ؓ کو بھی صبر کی تلقین فرمائی۔ حضرت عمار بن یاسرؓ اوران کی والدہ سمیہؓ کو ایذا دی جارہی تھی۔ آپؐ وہاں سے گزرے آپؐ کی آنکھوں میں آنسو تھے، آپ ؐ نے ان مظلوموں کو دیکھااور فرمایا: آلِ یاسر صبر کرو، جنت کاوعدہ ہے (سیرۃ النبی، ابن ہشام، ج۱،ص ۳۴۲)۔کفار مکہ کے ہاتھ میں تلوار تھی، اور خون مسلمانوں کابہہ رہا تھا۔ آپ ؐ نے تلوار کامقابلہ صبرسے کیا۔
l آپؐ کی سیاسی حکمت کا تیسرا پہلو یہ تھا کہ مکہ سے ہجرت کرو، اگر مکہ کی زمین تنگ ہوگئی ہے تو اللہ کی دوسری زمین کشادہ موجود ہے:
 وَمَنْ يُّھَاجِرْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ يَجِدْ فِي الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِيْرًا وَّسَعَۃً۝۰ۭ (النساء۴: ۱۰۰) جو شخص اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ منفعت اور وسعت پائے گا۔
l  چنانچہ صحابہ کرامؓ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور نجاشی کے ملک میں جاکر پناہ لی۔ پھر دوسری مرتبہ مسلمانوں نے مدینہ منورہ ہجرت کی اور وہاں جاکر زندگی بسر کی۔ اس کے بعد بھی جب کفار نے مسلمانوں کو نہیں بخشااور مدینہ میں چھاپہ مار کارروائیاں کیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوحکم ہوا کہ اب مسلمانوں کو ہاتھ اُٹھانے کا حق مل گیا ہے اور ان کو اپنا دفاع کرنے کا حکم دیا۔ یہ حکمت عملی کا چوتھا پہلو تھا:
اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا۝۰ۭ وَاِنَّ اللہَ عَلٰي نَصْرِہِمْ لَقَدِيْرُۨ۝۳۹ (الحج ۲۲:۳۹)جن لوگوں پر ظلم کیا گیا، جن لوگوں کو ان کے گھروںسے نکالا گیا ہے، جن کو ماراپیٹا گیا ہے صرف اس لیے کہ وہ خدائے وحدہٗ لاشریک پر یقین رکھتے ہیں، ان کو  آج اجازت دی جارہی ہے کہ وہ بھی ہتھیار اُٹھالیں اور یقینا اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔
 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انقلاب کے یہ چار پہلو تھے، جن کے ذریعے آپ ؐ نے دنیا کے اندر ایک ایسا نظام قائم کیا، جس میں اللہ کی حکومت، اللہ کی عبادت اور اس کی حاکمیت کو نافذ کیا گیا۔


قانون سازی کی بنیاد:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نظریۂ حکومت دیا، اس میں قانون سازی کاحق صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کا ہے۔ انسان اس کا اتباع کرنے کامجاز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْہَا وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۝۱۸ (الجاثیہ۴۵: ۱۸) ہم نے ایک ایسا نظامِ قانون، ایک ایسی شریعت اور ایک ایسا دستور آپ کو دیا ہے جس کا اتباع کرنا ہے اور نادانوں کے اتباع سے پرہیز کرنا ہے۔
قرآن کی شکل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے سامنے دستور حیات لے کرآئے اور اس کا اتباع کرنے کی دعوت دی۔ اس کے علاوہ دنیا میں جتنے قوانین ہیں وہ خواہشات ، تجربات اور امیدوں پر مبنی ہیں۔ یہ غلطیوں کامجموعہ بھی ہوسکتے ہیں اور اچھائیاں بھی جزوی طور پر شامل ہوسکتی ہیں۔ لیکن قرآن کریم ایسا نظام قانون ہے جواللہ کی طرف سے منزل ہے اور جس کا کوئی جز غلط نہیں ہوسکتا اور انسانوں کے لیے مضر نہیں ہوسکتا۔ قانون سازی کاحق اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کونہیں دیا بلکہ اپنے ہاتھ میں رکھا۔ یہ اس سیاست نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بنیاد تھی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کایہ پیغام بھی آپ ؐ نے لوگوں کو پہنچایا :
وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللہِ۝۰ۭ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ۝۰ۭ (الطلاق۶۵:۱)  اللہ تعالیٰ نے کچھ حدود مقرر کیے ہیں ان کی پابندی کرو۔ اگر پابندی نہیں کروگے تو تم اپنے آپ پر ظلم کروگے۔
اللہ کی شریعت اور اللہ کے قانون کو نظر انداز کرکے آج کا انسان ایک ظالمانہ نظام قانون کے اندر جکڑ گیاہے۔ جوقانون اللہ کے قانون سے ٹکراتا ہے وہ انسان کے لیے مفید نہیں ہوسکتا۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 السَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِیْمَـا اَحَبَّ وَکَرِہَ   مَالَمْ یُؤْمَرْ بِمَعْصِیَۃٍ فَاِذَا اُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ  فَلَا سَمْعَ وَلَاطَاعَۃَ (صحیح البخاری، کتاب الاحکام) ہر مسلمان پر اپنے حاکم کی بات سننا اور ماننالازم ہے بشرطیکہ وہ گناہ کا حکم نہ دے۔ اگر وہ گناہ کاحکم دیتا ہے تو سننا اور ماننا واجب نہیں۔
یعنی اللہ کی نافرمانی میںکسی انسان کی فرماں برداری نہیںکی جاسکتی۔ قانون سازی کا اختیار صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے مخصوص ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے بعد اس کے رسول محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیاردیا گیا ۔ یہی اصل قانون ساز اور شارع ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں فرمایا گیا:
وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ ۝۰ۤ وَمَا نَہٰىكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا۝۰ۚ وَاتَّقُوا اللہَ ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۝۷ (الحشر۵۹: ۷) اللہ کے رسول جو کچھ دیں اس کو لے لو اور جس چیز سے منع کردیں اس سے تم رُک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا انسان کو حکومت کرنے کا کوئی اختیار نہیں؟اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ انسان نائب ہے۔ حضرت آدم کے متعلق فرشتوں سے کہا: اِنِّیْ جِاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً (البقرہ ۲:۳۰) ’’میں زمین میں خلیفہ بنانے والے ہوں‘‘۔خلیفہ وہ ہوتا ہے جو مالک کے قانون کو رد کرکے اپناقانون نہ چلائے بلکہ اپنے مالک کے قانون کودنیا کے اندر نافذ کرے۔ لہٰذا انسان کی ذمہ داری یہ ہے کہ جس اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے، اس مالک کاحکم مانے اور اس کے حکم کو زمین میں نافذ کرے۔ اسی لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَــــوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۝۰ۭ وَلِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ۝۴۱ (الحج ۲۲: ۴۱) یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور بُرائی سے منع کریں گے۔ اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
 یہ حکمران اور خلیفہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپناحکم چلانے کے بجائے اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم کو دنیا کے اندر نافذ کرے۔ اسی لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ۝۴۴ (المائدہ ۵: ۴۴)جو لوگ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ کافر ہیں۔
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ۝۴۵ (المائدہ ۵: ۴۵) جولوگ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ فاسق ہیں۔
 گویا، اللہ کے قانون کے برخلاف اپنا قانون چلانا۔ اللہ کے نظام کوچھوڑ کر اپنا نظام چلانا، ظلم وزیادتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نظام دیا اس کے اندر شخصی خواہشات اور شخصی حکم کی جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم کواور اللہ تبارک وتعالیٰ کی مرضی کونافذ کرنے کابنیادی طور پر فلسفہ موجود ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ (النساء۴: ۵۹)اللہ کی اطاعت کرو، اللہ کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکمراں کی اطاعت کرو۔
 حکمراں کی اطاعت اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کے بعد ہے۔ یہی وجہ ہے جس جگہ اللہ اور اس کے رسول کا کوئی حکم موجود نہ ہو، وہاں حکمراں کوقانون سازی کا اختیار دیاگیاہے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ بن جبلؓ کویمن کاگورنر بنایا تو ان کورخصت کرنے سے پہلے پوچھا کہ تم لوگوں کے معاملات میں فیصلہ کس طرح کروگے؟ انھوں نے جواب دیا کہ اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ آپ ؐ نے پوچھا کہ اگر وہاں نہ پاؤتوکیاکروگے؟ حضرت معاذؓ نے جواب دیا کہ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ آپ ؐنے پوچھا کہ اگر وہاں بھی تم نہ پاؤتوکیا کرو گے؟ حضرت معاذؓ نے جواب دیا کہ تب رائے سے اجتہاد کروںگا اور اس میں کوتاہی نہیں کروںگا۔(سنن ابی داؤد، کتاب الاقضیہ)
l مشاورت و شورائیت:اس نظام میں ’شورائیت‘ کو حکومت کرنے کا اصول قرار دیاگیاہے۔ آمریت کی جگہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شورائیت کوپسندفرمایا۔ مسلمانوں کا نظام حکومت آمریت پر مبنی نہیں ہوگا، شورائیت پر مبنی ہوگا۔ قرآن میں ہے، وَاَمْرُھُمْ شُورٰی بَیْنَہُمْ  (الشوریٰ۴۲:۳۸) ’’مسلمانوں کے معاملات شوریٰ سے طے ہوں گے، مشورے سے چلیں گے‘‘۔ یعنی حکومت سازی کے اندر اورکاروبار حکومت کوچلانے کے لیے تمام اہل الرائے کی شرکت ہوگی۔ ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص اپنی مرضی کے مطابق حکم چلائے، باقی سب لوگ سرجھکاکر اس کی اطاعت کرنے لگیں۔ دوسرا اصول آزادی پر مبنی ہے۔ اس نظام میں ایسا نہیں ہوگا کہ کچھ لوگ غلام ہوں گے اور کچھ لوگ آزاد ہوںگے بلکہ تمام انسان مساوی ہیں، کسی کوکسی کے اوپر فضیلت نہیں ہے سوائے تقویٰ کے۔ اللہ نے تمام انسانوں سے فرمایا:
يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا۝۰ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىكُمْ۝۰ۭ (الحجرات ۴۹: ۱۳) لوگو تم کوہم نے ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، پھر تمھارے قبیلے بنائے، تمھاری برادریاں بنائیں تاکہ تم باہم متعارف ہوسکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں بہتر وہ ہیں جو خدا ترس ہیں۔
 اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ کچھ لوگ پیدائشی طور پر افضل ہیں اورکچھ لوگ پیدائشی طور پر ارذل۔ حقیقی عزت والے اللہ کی نظر میں وہ لوگ ہیں، جن کے اندر خداترسی اورخشیت اور انابت ہے، جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ گویا فضیلت کا معیار تقویٰ ہے، ذات اور برادری نہیں۔ انسانوں کے مابین مساوات کاآخری مرتبہ اعلان آپ ؐ نے حجۃ الوداع کے موقعے پر فرمایا:
لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ  عَلٰی عَـجَمِیٍّ  وَلَا لِاَسْوَدَ  عَلٰی اَحْمَرَ (فتح المنعم بشرح صحیح المسلم) تم میں سے کسی عربی کو کسی عجمی کے اوپر فضیلت ہے اور نہ کسی کالے کوکسی گورے پر، نہ کسی گورے کوکسی کالے پر سوائے تقویٰ کے۔
 جن لوگوں میںخداترسی زیادہ ہے، وہ اللہ کی نظر میں سب سے زیادہ بلند ہیںاور جن میں خداترسی نہیں ہے، جو خدا سے نہیں ڈرے ان سے انسانوں کوڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اگر سارے انسان برابر ہیں تو سب کو آزادی ملنی چاہیے۔ اظہار رائے کی آزادی، عمل کی آزادی،فکر کی آزادی ملنی چاہیے۔ ایک موقع تھا کہ مصر کے گورنر کی شکایت ایک بدو نے حضرت عمرؓ کے سامنے کی کہ انھوں نے ناحق ان کومارا ہے۔ آپ نے انھیںبلایا اور بہت تاریخی جملہ فرمایا، آپ نے فرمایا:
مُذکَمْ  تعَبَّدْتُمْ  النَّاسَ  وَقَدْ  وَلَدَتْہُمْ  أُمَّھَاتُھُمْ اَحْرَارًا؟ (کنزالعمال، ج۱۲،ص ۶۶۱) کب سے تم نے لوگوں کو غلام بنانا شروع کیا ہے۔ ان کی ماؤں نے انھیں آزاد پیدا کیا تھا۔
یہ آزادی انسان کابنیادی حق ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کو مجمع عام میں ایک شخص ٹوکتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ یہ بتادیں کہ سب کو مال غنیمت میںایک ایک چادر ملی تھی۔ آپ کودوچادریں کیوں ملیں؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے بیٹے عبداللہ کی چادر حاصل کی ہے۔ اورحضرت عبداللہ بن عمرؓ نے گواہی دی (الریاض النضرۃ فی مناقب العشرہ، ج۲،ص ۵۶، مصر)۔یہ نظام قانون،    یہ مساوات، یہ آزادی اورحریت دنیا کونبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کی۔
l عدل و انصاف:رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست کا تیسرا اصول یہ تھا کہ کسی انسان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ کی جائے، خواہ وہ دوست ہو یا دشمن۔ انصاف وہ قدر ہے کہ جس کے اوپر آسمان وزمین قائم ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظام سیاست کا یہ آفاقی اصول دیا:
وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۝۰ۭ اِعْدِلُوْا ۝۰ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۝۰ۡ (المائدہ۵: ۸)کسی قوم کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم انصاف سے پھر جاؤ۔ انصاف کرو یہ تقویٰ سے قریب ہے۔
اسلام انسانوں کے درمیان منصفانہ نظام قائم کرنے کے لیے اور ان کے ساتھ انصاف کا سلوک کرنے کے لیے آیا ہے۔ جو نظام حکومت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو دیا، اس کی اساس مساوات ، آزادی اور انصاف پر قائم ہے۔ جہاں بھی اسلامی حکومت ہوگی اس کابنیادی فرض ہوگا کہ وہ انسانوں کوانصاف عطاکرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اورخلفائے راشدین کے زمانے میں انصاف کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔
l انسانی حقوق کا تحفظ:اللہ کے رسول نے جو نظام سیاست دنیا کو دیا اس کا چوتھا اصول یہ تھا کہ انسانی حقوق کی پاسبانی کی جائے۔ انسانی حقوق کوضائع نہ ہونے دیاجائے۔ جس کاجو حق ہے وہ حق اس کو عطا کیا جائے۔ خطبہ حجۃ الوداع میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اِنَّ دِمَائَکُمْ وَاَمْوَالَکُمْ وَاَعْرَاضَکُمْ بَیْنَکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَہْرِکُمْ ھٰذَا، فِیْ  بَلَدِکُمْ ھٰذَا، لِیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ (صحیح البخاری، کتاب العلم:۶۷) تمھارا خون، تمھارا مال اور تمھاری عزت ایک دوسرے کے اوپر حرام ہے اور ان کی حرمت کیسی ہے؟ جیسے آج کادن،آج کا شہر اورآج کا مہینہ۔ جولوگ یہاں موجود ہیں وہ یہ حکم دوسروں تک پہنچادیں۔
 مکہ مکرمہ ، ذی الحجہ کا مہینہ اور یوم النہر کا جو تقدس ہے، اسی طرح انسانی جانوں اور مالوں کاتقدس ہے اور انسانی عزتوں کو تحفظ حاصل ہے۔ دنیا میں ناحق نہ کسی کا خون بہایا جاسکتا ہے اور نہ ناحق کسی کامال کھایا جاسکتا ہے اور نہ ناحق کسی کی عزت لی جاسکتی ہے۔ یہ آفاقی پیغام ہے۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نظام حکومت دنیا کودیا وہ ایک رفاہی نظام تھا۔ آمریت کانظام نہیں تھا اور ظلم واستحصال سے پاک تھا۔ اس میں ہر شخص خواہ وہ عورت ہو ، مرد ہو، غلام ہو، غریب ہو، نادار ہو، ان کے حقوق کی رعایت کی جاتی تھی۔ آپ ؐ نے فرمایا:
 السَّاعِیْ عَلَی الْاَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ (صحیح البخاری، کتاب النفقات: ۵۰۴۴) بیواؤں اور ناداروں کی خدمت کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔
 یہ تو زندہ انسانوں کی خدمت وراحت کے بارے میں فرمایا۔ مُردہ انسان کے بارے میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
 فَمَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ  دِیْنٌ  وَلَمْ یَتْرُکْ وَفَائً  فَعَلَیْنَا  قَضَاؤُہٗ  وَمَنْ تَرَکَ  مَالًا  مَلِوَرَثَتِہٖ (صحیح البخاری، کتاب الفرائض: ۶۳۶۲) جوشخص مرگیا اوروہ قرض دار تھا تو اس کا قرض میں ادا کروںگا، اورجوشخص مال چھوڑ کر مرا تواس کا مال اس کے وارثوں کو ملے گا۔
 کیا دنیا میں کوئی مثال اس حکومت کی ملے گی کہ مرنے والا اگر قرض دار ہو تو اس کے قرض کی ادایگی حکومت کرے گی؟
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں رفاہی حکومت قائم کرنے کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے بادشاہوں سے سفارتی تعلقات قائم کیے۔ ان کواسلام لانے کی دعوت دی اور اسلامی حکومت کو تسلیم کرنے اور اس کی تابع داری کرنے کی نصیحت کی۔ کیوںکہ یہ ایک مثالی حکومت تھی اور دنیا کی تمام حکومتوں کے لیے قابل تقلید نمونہ تھی۔ چنانچہ حسب ذیل بادشاہوں کے پاس اپنے سفیروں کوبھیجا۔ قیصرروم ہرقل کے پاس حضرت دحیہ کلبیؓ کو بھیجا۔ ایرانی شہنشاہ کسریٰ کے پاس عبداللہ ابن حذافہ السہمیؓ کوبھیجا۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس عمر و بن امیۃ الضمریؓ کوبھیجا۔ غسان کے بادشاہ حارث بن شمر کے پاس شجاع بن وھب الاسلمیؓ کوبھیجا۔ یمامہ کے بادشاہ ہوذہ بن علی الحنفی کے پاس سلیط بن عمرو العامریؓ کوبھیجا۔ بحرین کے بادشاہ منذر بن ساوی کے پاس العلاء بن حضرمی ؓ کوبھیجا۔ عمان کے بادشاہ جیفر اور عبد (دونوں بھائی) کے پاس عمرو بن العاصؓ کو بھیجا۔(سیرۃ النبی ؐ، ابن ہشام، ج۴، ص ۲۷۸)
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سفیروں نے نہایت جرأت، حکمت اور بصیرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ان بادشاہوں کے سامنے رکھا، اور ان کو دین اسلامی اور اسلامی حکومت کی اطاعت کرنے کی دعوت دی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیروںکا یہ پیغام بین الاقوامی سفارت کاری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ ڈاکٹر محمد حمیداللہ ، رسولِ اکرمؐ   کی سیاسی زندگی میں رقم طراز ہیں:
جس ملک میں کبھی کوئی حکومت ہی قائم نہیں ہوئی تھی اس میں پیدا ہونے اور پرورش پانے کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دستور مملکت مرتب کیا اور جونظامِ حکمرانی قائم فرمایا، اس پر عمل دنیا کی عظیم الشان مملکت کے لیے نہ صرف ہرطرح کارآمد و کافی ثابت ہوا بلکہ جب تک اس پر عمل رہا وہ دنیا کی مہذب ترین حکومت بنی رہی (ص۱۵)۔
l جواب دہی کا احساس:اس نظام حکومت کوقائم کرنے کے لیے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ذمہ داری اور جواب دہی کا تصور پیدا کیا۔ آپ نے فرمایا:
اَلَا کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَّعِیَّتِہٖ(صحیح البخاری،کتاب الاحکام) یاد رکھنا تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور ہر شخص کو اپنی زیر نگرانی رعیت کے بارے میں اللہ کے یہاں جواب دینا ہے۔
 امت مسلمہ کواللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ اعزاز دیا:
 وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ (البقرہ۲:۱۴۳) اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔
 جولوگ صاحب ِاختیار اورصاحب ِاقتدار ہیں، وہ خود کو اس دنیا کا مالک نہ جانیں، بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ امانت دارہیں اور اللہ کے حضور جواب دہ ہیں۔ اگر حکمرانوں میں جواب دہی کا احساس پیدا ہوجائے تو دنیا کے اندر امن قائم ہوجائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کا جلوہ دنیا کو نظر آجائے۔
آج لوگ اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن اپنی ذمہ داری کی بات نہیں کرتے۔ ہرشخص کواس کا حق چاہیے لیکن اس پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کو ادا کرنے سے آدمی کتراتا ہے۔ اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں پر انسان نظر رکھے۔ یعنی حکمراں ہے تو وہ اپنی ذمہ داریوں پر نظر رکھے، اگر وہ رعایا ہے تو اپنی ذمہ داریوں پر نظر رکھے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جنگیں بھی ہیں، معاہدے بھی ہیں، امن بھی ہے، بین الاقوامی تعلقات بھی ہیں، ان کو پڑھیے اور دیکھیے کہ آپ ؐ نے غیرمسلم دنیا کے ساتھ کیا معاملہ کیا تھا، کن اصولوں پر معاملہ کیاتھا؟ آج دنیا میں بے اصولی پائی جاتی ہے۔ نہ جنگ میں اصول ہے، نہ صلح میں اصول ہے، نہ امن میں اصول ہے اور نہ معاہدوں میں اصول ہے۔ کسی چیز میں اصول کی پابندی نہیںکی جاتی ہے،پابندی جس چیز کی کی جاتی ہے وہ اپنا مفاد ہے۔ اگر مفاد ہو تو امن کی بات آدمی کرتا ہے اور اگر مفاد نہ ہو تو جنگ کے لیے آمادہ ہوجاتا ہے۔ مفاد کی خاطر معاہدے توڑ دئیے جاتے ہیں، غداری کی جاتی ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو ایسا نظام دیاجس میں ذاتی مفاد کی جگہ عام انسانوں کا مفاد اور اس سے بڑھ کر اللہ کی مرضی کو سربلند کرنے کی کوشش کی گئی۔
مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں: ’’سیاست کومفاد اور اغراض کے بجائے اخلاق کے تابع کرنا اوراسے خداترسی وپرہیزگاری کے ساتھ چلانا اس ریاست کی اصل روح ہے۔ اس میں فضیلت کی بنیاد صرف اخلاقی فضیلت ہے۔ اس کے کارفرماؤں اور اہلِ حل و عقد کے انتخاب میں بھی ذہنی وجسمانی صلاحیت کے ساتھ اخلاقی پاکیزگی سب سے زیادہ قابل لحاظ ہے۔ اس کے داخلی نظام کا بھی، ہر شعبہ دیانت وامانت اور بے لاگ عدل و انصاف پر چلنا چاہیے اور اس کی خارجی سیاست کوبھی پوری راست بازی، قول وقرار کی پابندی، امن پسندی اوربین الاقوامی عدل اورحسن سلوک پر قائم ہونا چاہیے‘‘۔(خلافت و ملوکیت، ص۵۴)
اگر مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنالیں، ان کے حکمران رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کواپنائیں اور ان کے علما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنائیں، ان کے تجار رسولؐ کی سیرت کو اپنائیں اور ان کے طلبہ ، اورعوام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنائیں اور ان کے پیغام کو دنیا تک پھیلانے کی کوشش کریں، تو یقین سے کہاجاسکتا ہے کہ دنیا سے بدامنی کم ہوگی، جہالت کی تاریکی دور ہوگی اور ظلم کے اندھیرے چھٹ جائیںگے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو حکمران مطلق نہیں بنایا بلکہ اس کو امین بنایا، اس کوقانون کا پابند بنایا۔ اللہ کی خشیت اور ذمہ داری اور جواب دہی سے جوڑا۔ اگر انسان جواب دہی اور اس ذمہ داری کو محسوس کرلے اور اللہ کے قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کرے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی رحمت شامل ہوجاتی ہے اور جو شخص خواہش کی بنیاد پر حکومت طلب کرے تو وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوجاتا ہے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن سمرۃؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ’’کبھی حکومت کی تمنا نہ کرنا ،اگر تمنا کرنے سے یا خواہش کرنے سے تم کو اقتدار ملے گا تو تم اس کے حوالے کردیے جاؤگے، اور اگر تمھاری خواہش کے علی الرغم تم کو دی جائے تو اللہ کی مدد تمھارے اوپر آتی ہے(صحیح البخاری)۔چنانچہ جولوگ اللہ کے حکم کے مطابق حکومت کرتے ہیں اللہ کے بندوں کواللہ سے جوڑنے کے لیے، اللہ کے حقوق پہنچانے کے لیے، انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے حکمرانی کرتے ہیں وہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وشریعت کی پابندی کرتے ہیں، اور جو لوگ اپنا حکم چلاتے ہیں، اپنی خواہشات کا اتباع کرواتے ہیں، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے کوسوں دُور ہیں۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں روحانیت بھی ہے اور اخلاق بھی، عبادت بھی ہے اور سیاست بھی،معاشرت بھی ہے اور معیشت بھی اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم کو دنیامیں نافذ کرنے کی جدوجہد بھی ہے۔ یعنی اللہ کے حکم کے مطابق انفرادی اور اجتماعی نظام زندگی گزارنے کا اسوہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دعا سکھائی ہے :
قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِـمَّنْ تَشَاۗءُ۝۰ۡ       وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ۝۰ۭ بِيَدِكَ الْخَيْرُ۝۰ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝۲۶  (اٰل عمرٰن۳: ۲۶) اے اللہ حکومت کامالک! تو جسے چاہے حکومت عطا کرے اور جس سے چاہے حکومت چھین لے، جسے چاہے عزت بخشے اورجسے چاہے ذلت دے، بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

رنگ برنگی جھلّیاں، شیشے کے ٹکڑوں یا مختلف رنگوں کے چشموں سے بچپن میں ہم سبھی نے کھیلا ہوگا۔ ہرے رنگ کی جھلّی اُوڑھ لی جائے تو ہرا ہی سجھائی دیتا ہے۔ لال رنگ کا چشمہ پہننے والے کے لیے آسمان سے لے کر زمین تک سب کچھ لالہ زار ہوجاتا ہے۔ بس اسی طرح نظریات کو مختلف رنگوں کے چشموں پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ چشمے آنکھوں پرپہنے جاتے ہیں اور نظریات کی عینک دل اور دماغ پرلگی ہوتی ہے۔ چشمے آسانی سے اُتارے اور دوبارہ پہنے جاسکتے ہیں، مگر نظریات کی عینک کو اُتار دینا ناممکن یا بہت مشکل ہوتا ہے۔ چشمہ پہننے والا، اگر چچا چھکن نہیں ہے، تو جانتا ہے کہ اس نےچشمہ پہنا ہوا ہے مگر نظریات کی عینک کو ہرانسان جان بوجھ کر نہیں پہنتا، بسااوقات اسے پتا بھی نہیں چلتا کہ اس نے کوئی عینک بھی لگا رکھی ہے۔ اس سے بھی زیادہ عجیب وغریب صورتِ حال تب پیش آتی ہے، جب کوئی بھولابھالا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس نے کسی ایک نظریے (مثلاً اسلام) کی عینک لگارکھی ہے مگر درحقیقت اس کے دماغ پر کسی دوسرے نظریے کا چشمہ (مثلاً لبرلزم، سیکولرزم، کمیونزم،فرایڈازم، انارکسزم یا ان سب کا ملغوبہ) چڑھا ہوتا ہے۔ اگر آج کی مثال دیکھیں تو ایک کمپیوٹر میں سافٹ ویئر کی جو حیثیت ہوتی ہے، ٹھیک وہی حیثیت انسانوں میں نظریے کی ہوتی ہے۔

انگریزی لفظ ’آئیڈیالوجی‘ کا استعمال سب سے پہلے فرانسیسی مفکر ڈیسٹیوٹ ڈی ٹریسی نے اٹھارھویں صدی کے آخری عشرے میں بطور ’سائنس آف آئیڈیاز‘ کے کیا۔ آئیڈیالوجی اس کے لیے اسی طرح ایک علم کا نام تھا، جس طرح بائیولوجی، زولوجی یا سوشیالوجی ہوا کرتے ہیں۔ لیکن دھیرے دھیرے آئیڈیالوجی کو آئیڈیاز کے علم کے بجائے مخصوص قسم کے آئیڈیاز کے مجموعے کے طور پر پہچانا جانے لگا اور یوں آئیڈیالوجی، نظریے کے ہم معنی ہوگئی۔ اس حساب سے نظریہ یا آئیڈیالوجی دراصل سماجی زندگی میں معنی اور اقدار کی دریافت کا نام ہے۔ ہرسماجی گروہ کی کوئی بنیاد ہوتی ہے (مثلاً رنگ، نسل، زبان، جنس، قومیت یا مذہب وغیرہ) اوراسی بنیاد پر اس سماجی گروہ کے اساسی نظریے کی تعمیر ہوتی ہے۔

انسانی زندگی میں نظریات کی کلیدی اہمیت کے باوجود سماجی علوم میں مختلف نظریات پر بحثیں تو ہوتی ہیں، لیکن فی نفسہٖ ’نظریے‘ کو موضوعِ بحث کم ہی بنایا جاتا ہے۔ نظریات کے معنی و مفہوم کے تعلق سے بھی جو بحثیں کی جاتی ہیں، وہ اکثر یک رُخی اور نامکمل رہ جاتی ہیں۔ نظریات پر جو تنقید کی گئی ہے، وہ بھی غلط فہمیوں کادفتر ہے۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ ’’نظریہ فرد کو متعصب بنادیتا ہے، لہٰذا ہمیں نظریات سے اُوپراُٹھ کر سوچنا، غوروفکر کرنا، تجزیہ کرنا اور نتائج اخذ کرنا چاہیے‘‘۔ اس میں پہلی بات بڑی حد تک صحیح ہے اور دوسری غلط یا کم از کم ناممکن۔یہ درست ہے کہ نظریہ ایک حد تک فرد کو متعصب بناسکتا ہے لیکن اس کے حل کے طور پر نظریات سے ’اُوپر‘ اُٹھ جانا ممکن نہیں۔ ہرفرد کا ایک نظریہ ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہرفرد کے اپنے تعصبات ہوتے ہیں۔

اس دنیا میں کوئی بھی غیرجانب دار نہیں ہے۔ غیرجانب داری کا ہر دعویٰ جھوٹا ہے۔ پھر تعصب سے بچنے کا طریقہ کیا ہو؟ تعصب کے مضراثرات سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اپنے اپنے تعصبات کو علی الاعلان تسلیم کرلیا جائے۔ وگرنہ ایک فرد خود کو غیرجانب دار کہے گا، مگر اس کے خیالات مارکسزم کا چربہ ہوں گے، دوسرا خود کو نظریات سے اُوپر کی چیزقرار دے گا مگر اس کی پوری فکر لبرل ہوگی۔ بہت سے ایسے افراد ہوتے ہیں جو کسی ایک نظریے کو فی نفسہٖ قبول نہیں کرتے، مگر مختلف نظریات سے مختلف تصورات اُدھار لے لیتے ہیں۔ ایسے افراد کا نظریہ خود ساختہ ہوتا ہے۔ یہ کہنا تو صحیح ہے لیکن ایسے افراد کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا، مگر یہ حقیقت کی بالکل غلط ترجمانی ہے۔

نظریے کی تعریف میں بھی لوگوں نے نظریہ کے مثبت یا منفی اثرات پر تو بحث کی ہے، مگر اس بات پر نہیں کہ ’’نظریہ کہتے کسے ہیں؟‘‘ خال خال ہی مارٹن سیلیگر جیسے مفکر نظر آتے ہیں، جو نظریہ کی تعریف بیان کرنے میں کامیاب ہیں۔ اپنی کتاب آئیڈیالوجی اینڈ پالیٹکس میں سیلیگر لکھتے ہیں: ’’نظریات کچھ ایسے عقائد واقدار کا نام ہے جو افراد کو عمل پر آمادہ کردیں‘‘۔ مارٹن سیلیگر نے نظریے کی اس مختصر مگرجامع تعریف میں تمام جہتوں کا لحاظ کیا ہے۔ایک ایسی فکر جس کے ساتھ عمل یاعمل کے لیے کوئی تحریک نہ ہوفلسفہ تو ہوسکتاہے نظریہ نہیں۔ ایک ایسا عمل جس کے پیچھے کوئی فکر نہ ہو، ’تحرک‘ تو ہوسکتا ہے مگر ’نظریہ‘ نہیں۔نظریہ وہی شے ہے جو بیک وقت فرد اور معاشرے کو فکر بھی دے اور عمل کا پیغام بھی۔ ان مبسوط معنوں میں نظریے کو’ایمان‘ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔

نظریہ کا کام کیا ہے؟

نظریے کی حیثیت ایک فرد کی زندگی میں وہی ہے،جو ایک اَنجان شہر میں اپنی منزل کی تلاش میں سرگرداں کسی اجنبی مسافر کی جیب میں موجود نقشے کی ہوتی ہے ۔ ایک عام قسم کا نقشہ، جیساکہ ہم جانتے ہیں، کسی علاقے کا علامتی خاکہ ہوتا ہے، جس میں اس علاقے کے ہسپتال، پولیس تھانہ، ہوٹل، عبادت گاہیں، تاریخی مقامات اور سڑکوں وغیرہ کا اندراج ہوتا ہے، تاکہ ڈھونڈنے والا اپنے اور اپنی منزل کے محلِ وقوع کا اندازہ لگا سکے۔ نقشہ زمین پر موجود ہرہرعمارت اور ہرہرگلی کو نہیں دکھاتا اور نہ اس میں اس کی گنجایش ہوتی ہے۔ نقشے کا کام ایک ایک سینٹی میٹر میں کلومیٹروں کے فاصلےکو قید کرنے کا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سے مسافر ’زمینی‘حقائق کو نقشے(یا نظریے) سے ’مختلف‘ پاتے ہیں اور جل بھن کر تھیوری اورپریکٹس کی اس دوئی پرسمع خراشی کرتے ہیں۔ صحیح نقشہ ہو یا صحیح نظریہ، زمینی حقائق اس سے ’زائد‘ تو ہوسکتے ہیں اورہوتے ہی ہیں۔ انسانی دُنیا میں البتہ ایسے بے وقوف ڈھونڈیئے تو مل ہی جائیں گے جو واشنگٹن یا ماسکو کے نقشے سےاپنے شہر میں منزل کا پتا کھوجتے ہیں جو رہنمائی کا کام انجام نہیں دے سکتا۔

ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ مختلف نظریات، مختلف مفکرین کے ذہنوں کی اُپج ہوتے ہیں۔ ایک مفکر چاہے وہ کتنا ہی علامۃ الدہر کیوں نہ ہو، وہ جن مسائل سے تعرض کرتا ہے اور ان کے جو حل سجھاتا ہے، ان کی افادیت کا ایک محدود سیاق اور دائرہ ہوتا ہے جس کے باہر اس کے نظریے کی کوئی افادیت نہیں ہوتی۔ اکثر نظریات اور فلسفے تو عملی میدان میں قدم ہی نہیں رکھتے بلکہ نرے ’نظریات‘ اور ’فلسفے‘ ہی رہ جاتے ہیں ۔ کچھ جوعملی دُنیا میں رہنمائی کا بیڑا اُٹھاتے ہیں وہ یا تو پہلے ہلے میں ہی منہ کی کھاجاتے ہیں یا پھر کمیونزم کی طرح ہر ٹھوکر کے بعد کسی نہ کسی قسم کی پیوندکاری کے ذریعے ماسکو کے نقشے سے کبھی ہوانا، کبھی کلکتہ، کبھی کراچی، تو کبھی بیجنگ کا راستہ کھوجتے رہتے ہیں۔

مختصرالفاظ میں نظریات کے بنیادی کام دو ہیں: ان کا پہلا کام یہ ہے کہ حق، خیر اور   حُسن کے تعلق سے کچھ مخصوص تصورات کو فروغ دے کر انھیں بنیادی اور عالم گیر باور کرایا جائے اور ان تصورات کو کچھ اس طرح بے تعلق (neutralise) کیا جائے کہ وہ معاشرے کی عقل عام کا عنوان بن جائیں۔ نظریات کا دوسرا کام مخالف نظریات اور ناپسندیدہ تصورات کو غلط ثابت کرکے ان کی بیخ کنی کرنا یا کم از کم ان کا مذاق اُڑا کر نظرانداز کرنا ہے۔ یعنی نظریہ فرد اور معاشرے کے لیے حق کا ایک معیار مقرر کرتا ہے۔ پھردوسرے نظریات پر تنقید کرکے اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نظریے کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ بڑھنا، پھلنا اور پھولنا چاہتا ہے۔ چنانچہ   وہ عامۃ الناس کو اپنی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس دعوت پرلبیک کہنے والوں کی شیرازہ بندی کرکے ایک طے شدہ مقصدکے لیے جدوجہد کی راہ دکھاتا ہے۔ ایک جملے میں کہیں تو اس جدوجہد کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مذکورہ نظریے کی بالادستی قائم ہوجائے۔ غلبے کی اس خواہش سے کوئی نظریہ مستثنیٰ نہیں ہے۔

انسانی زندگی پرنظریہ کے اثرات

نظریات کے اثرات ایک فرد کے ذہن اور معاشرے کے مزاج پر کیسے مرتب ہوتے ہیں؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے شاید ایک مثال ممدومعاون ثابت ہو۔ سرکس میں کرتب دکھانے والے ہاتھیوں کو سدھانا بڑا مشکل کام ہے۔ وہ پالتو ہاتھی جو چڑیا گھر میں انسانوں کی صحبت میں پیدا ہوں اور پرورش پائیں، وہ تو غلام ابن غلام ہوتے ہیں اور انھیں سدھانا مشکل نہیں ۔ مگر جب جنگل کے آزاد منش ہاتھی کو پکڑنا ہوتا ہے تو کوشش کی جاتی ہے کہ ہاتھی کا نوعمر بچہ ہاتھ لگے۔ کیوں؟ بات واضح ہے کہ آزادی کا تصور بڑے ہاتھی میں اس حد تک راسخ ہوتا ہے کہ اسے غلامی کا پاٹھ، منتر پڑھانا اوراس سے بڑھ کر یہ کہ اسے کرتب سکھانا اور پھر کرتب دکھانے پر آمادہ کرلینا جان جوکھوں کا کام ہے۔ البتہ جونیئر ہاتھی کو ’تعلیم و تربیت‘ سے آراستہ کرنا نسبتاً آسان ہے۔

’آسان‘ اپنے آپ میں ایک اضافی قدر ہے۔ اس پر یہاں ’نسبتاً‘ کا اضافہ دانستہ کیا گیا ہے کیونکہ جس چیز کو آسان کہا گیاہے اس کی آسانی کا حال یہ ہے کہ اس بے چارے ہاتھی کے بچے کو دومضبوط کھمبوں یا درخت کے تنوں کے بیچ موٹی موٹی زنجیروں سے کچھ اس طرح باندھ دیتے ہیں کہ وہ حرکت بھی نہ کرسکے۔ وہ تڑپتا ہے، چیختا چلّاتا ہے۔ آزادی کے لیے بھرپور جدوجہد کرتا ہے۔ اپنی پوری قوت مجتمع کرکے زور لگاتا ہے کہ کسی طرح ان زنجیروں سے چھٹکارا ملے مگر اس کی ایک نہیں چلتی۔ ہفتے عشرے میں اس کی ناکام کوششیں اسے مایوس کردیتی ہیں، اسے سمجھ میں آجاتا ہے کہ اب غلامی ہی اس کا مقدر ہے۔ بھوک پیاس کی شدت سے نڈھال ہاتھی کا یہ بچہ جیسے ہی مایوسی کے عالم میں زور لگانا بند کردیتا ہے تو غلامی پر رضامندی کے ’انعام‘ کے طور پر اسے کھانے کے لیے مرغوبات دیے جاتے ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ موٹی زنجیروں کی جگہ موٹی رسیاں لے لیتی ہیں۔ اس ہاتھی کے بچے کو غلام ہاتھیوں کی صحبت میں رکھا جاتا ہے تاکہ غلامی کے آداب و تہذیب سے کماحقہٗ واقفیت حاصل کرلے۔ کچھ تو آزادی سے مایوسی، کچھ غلاموں کی صحبت اور کچھ غلامی کی تن آسانی___  اس طرح ہاتھی کے بچے کو غلامی راس آجاتی ہے اور اس کی باقاعدہ تربیت کا آغاز ہوتا ہے۔ ہاتھی کا بچہ بڑا ہوکر ایک ’مستند تابع فرمان اچھا‘ ہاتھی بنتا ہے۔ وہ لحیم شحیم ہاتھی جسے بچپن میں قابو کرنے کے لیے موٹی موٹی زنجیریں درکار تھیں، اب وہ چوں تک نہیں کرتا۔

مسلم اُمت کو آج اسی غلام ہاتھی پر قیاس کرلیجیے۔

پچھلی دو تین صدیاں ایسی گزری ہیں، جب مسلمانوں اور یورپی طاقتوں میں بالادستی کی جنگ چل رہی تھی۔ یہ جنگ میدانِ کارزار کے ساتھ ساتھ میدانِ افکارو اکتشاف میں بھی جاری و ساری تھی۔ یہ جنگ تاریخ کے ایک موڑ پر ہورہی تھی، جب مسلم اُمت اپنے نقطۂ عروج پر پہنچنے کے بعد رُوبہ زوال تھی۔ اس کے مقابلے میں یورپ میں نشاتِ ثانیہ کا دور تھا۔ یورپی تازہ دم اور نئے جوش و خروش سے سرشار تھے۔ ان کی تہذیبی گیند گو مسلم اُمت کی رُوبہ زوال گیند سے نیچے ہی تھی مگر لگاتار اُوپر کا سفر طے کر رہی تھی۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس کش مکش کا نتیجہ یورپ کی علمی و سیاسی بالادستی کی صورت میں مسلم اُمت کے سامنے آیا۔ ہرمحاذ پر خوں ریز مقابلہ آرائی ہوئی لیکن کب تک؟آخرکار مسلم اُمت اور اس کے قائدین کے سامنے دو ہی متبادل رہ گئے: غلامی کی خلعت ِ فاخرہ یا آزادی کا کفن۔ کسی نے پہلے کو اور کسی نے دوسرے کو ترجیح دی۔ اپنا اپنا ذوق ہوتا ہے مگر دُنیاوی نتیجہ ہردو کا ایک ہی تھا___ محکومی اور غلامی۔

مگر آج حالات بدل چکے ہیں ۔دُنیابھر میں تحریکاتِ اسلامی کی بیش بہا کاوشوں کے نتیجے میں آج کا مسلمان بیدار ہو رہا ہے۔ اسلاموفوبیا کے ہتھیار خود دشمنانِ اسلام کے لیے ناقص اور نقصان دہ ثابت ہورہے ہیں۔ مغربی تہذیب خود برطانیہ اور امریکا میں اسلام کے فروغ، خصوصاً خواتین میں اسلام کی بڑھتی مقبولیت سے خائف ہے۔ ہرسو مغربی تہذیب کے زوال کا چرچا ہے۔ فرید زکریا جیسے امریکا پرست بھی ’پوسٹ امریکن ورلڈ آرڈر‘ کی بات کر رہے ہیں۔ یہ دراصل دبی زبان میں پوسٹ ویسٹرن ورلڈ آرڈر کا اقرار ہے۔ لیکن اس پوری گہماگہمی میں، جس میں مسلم ممالک میں آئی اسلامی بیداری اور عرب بہار بھی شامل ہے، ہمارے قائدین اور حکمرانوں کا حال کیا ہے؟

ان مسلم حاکم طبقوں کا حال اس ہاتھی کا سا ہے، جو بچپن میں فوجی قوت کے بل پر سیاسی غلامی کی زنجیروں میں کچھ ایسا کَس کر جکڑدیا گیا تھا کہ سیاسی غلامی کی وہ زنجیریں کٹ جانے کے باوجود معیشت، تہذیب اور ذہنی غلامی کی پتلی سی رسّی سے بندھا ہوا ہے، اسے اپنی طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔ صدافسوس کہ نہ اسے اپنی آزادی کا یقین ہے اور نہ اس کی کسک۔ یہ اسی ذہنی غلامی کا شاخسانہ ہے کہ آج ہمارے دانش وَر حضرات خود بدلنے کے بجاے قرآن کو بدل دیتے ہیں۔  چونکہ خودان شکست خوردہ طبقوں کو یہ معلوم ہے کہ اسلام آج بھی قابلِ عمل ہے، اس لیے وہ فوراً اسلام کو عین سوشلزم، لبرلزم یا سیکولرزم باور کرانا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ’’وہ اسلام کی کوئی عظیم خدمت انجام دے رہے ہیں‘‘۔ یہ بھاشن دینا کہ اسلام میں ’بھی‘ آزادی ہے۔ اسلام میں ’بھی‘ مساوات ہے، اسلام میں ’بھی‘ رواداری ہے اور اسلام دہشت گردی کا علَم بردار نہیں۔ یہ کہتے کہتے ان کی زبان نہیں سوکھتی۔ اور وہ یہ سب کچھ اسلام کی خدمت کے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کی پڑھائی پٹی کو دُہرانےکے لیے کرتے ہیں۔

اطالوی مفکر گرامسی کے مطابق ’’نظریہ، فردکے سوچنے اورسمجھنے کی صلاحیتوں کو کچھ اس طرح سلب کرلیتا ہے کہ انھیں اپنے حقیقی مفادات تک نظر نہیں آتے‘‘۔ گرامسی کی یہ تھیوری ’ثقافتی تسلط‘  (Cultural Hegemony)کہلاتی ہے۔ دراصل گرامسی اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہے تھے کہ ’’برطانیہ،فرانس اور جرمنی جیسے صنعتی ممالک میں جہاں مارکس کے مطابق اشتراکی انقلاب کا ظہور سب سے پہلے ہونا چاہیے تھا وہ کیوں نہ ہوسکا؟‘‘ گرامسی کے مطابق ’’ایسا اس لیے ہوا کہ وہاں کی انقلابی طاقت، یعنی مزدور، خود بورژوا نظریۂ حیات اور تہذیبی غلامی کا شکار ہوگئی اور اس نے ایک نئے نظریے کی بنیاد پر ایک نئی دنیا کی تعمیر کا خواب بھلا دیا‘‘۔ نظریے کے تعلق سے کچھ اسی قسم کی بات فرانسیسی فلسفی مشل فوکو بھی کہتے ہیں۔ فوکو کے مطابق ’’نظریات کی بنیادی خامی یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی تصورِ حقیقت پر منحصر ہوتے ہیں‘‘۔ مختصر الفاظ میں ایک مخصوص تصورِحیات کو عوام کی عقل عام کے سامنے قابلِ قبول بناکر پیش کرنا، یہی نظریات کا اصل کام ہے۔

کیا نظریات کا دور ختم ہوچکا ہے؟

سوویت یونین کے زوال (۱۹۹۱ء) کے بعد مغربی دانش گاہوں نے زور و شورسے اس خیال کا پروپیگنڈا شروع کیا کہ نظریات کا دور اب ختم ہوچکا ہے۔ فرانسس فوکویاما نے تو اپنی کتاب The End of History and the Last Man میں اس خیال کا اظہار کیا کہ ’’نظریات کے اس دورکا خاتمہ لبرل ڈیموکریسی اور سرمایہ داریت کی دیگر نظریات پرفتح کی وجہ سے ہوا ہے‘‘۔پھر The Clash of Civilisations and the Remaking of World Order کے مصنّف سیموئیل ہن ٹنگٹن اس فکر کے سب سے معروف ترجمان بن کر اُبھرے۔ انھوں نے تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ پیش کیا اور کہا کہ کمیونزم کے علَم بردار سوویت یونین کےزوال کے ساتھ ہی نظریات کے تصادم کا دُورختم ہوچکا ہے۔ یعنی بین الاقوامی معاملات کے اس دانش وَر کے نزدیک نظریات کا دور ختم ہوچکا ہے۔ یا اب اسے ایک مرکزی محرک کی حیثیت حاصل نہیں رہی ہے اور آج دُنیا کی توجہ کا مرکز نظریات نہیں بلکہ غربت، ماحولیات، تعلیم اور ترقی وغیرہ ہیں یا ہونے چاہییں۔

 حامددباشی ’عرب بہار‘ کے تناظر میں اسی کی تائید کرتے ہوئےاپنی کتاب The Arab Spring: The End of Post-Colonialism میں کہتے ہیں کہ عرب بہار کا نہ تو کوئی مرکزی لیڈر تھا اور نہ کوئی نظریہ‘‘۔ حامد دباشی کا اصرار ہے کہ ’’عرب بہار کسی نظریاتی تحریک کا نتیجہ نہیں بلکہ خود نظریات کےخلاف ایک تحریک تھی‘‘۔ ان کا یہ بھی اصرار ہے کہ ’’عرب بہار کسی ایک نظریے کی حقانیت نہیں بلکہ ہرنظریے سے آزادی کا پیغام ہے‘‘۔ اور یہ کہ ’’عرب بہار کے ذریعے دُنیا ایک مابعد نظریاتی دور (Post-Ideological Phase) میں داخل ہوچکی ہے۔ اس کے نتیجے میں تمام نظریات پھر چاہے وہ تیسری دُنیا کا سوشلزم ہو یا استعمار مخالف نیشنلزم یا انتہاپسند اسلام ازم، سب غیرمتعلق ہوچکے ہیں‘‘۔

اسی دور میں نظریے کی ضرورت کے انکار اور اس پر تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ نظریے پر تنقید کے لیے عموماً دو طرح کی دلیلوں کا سہارا لیا گیا:

اوّل: یہ کہا گیا کہ نظریات عملی نہیں ہوتے صرف خیالی اورفلسفیانہ ہوتے ہیں اور ان کا بڑبولاپن عملی میدان میں آتے ہی بھک سے اُڑ جاتا ہے، مثلاً:

ا   : گاندھی کےہاں تو مشینوں اورٹکنالوجی یہاں تک کہ ریل گاڑی پر نظریاتی تنقید یا عدم تشدد کا نظریہ جس کے مطابق ملک میں فوج کی ضرورت سے بھی انکار ۔

ب: مارکس کا ایک ایسے مثالی معاشرے کا تصور، جہاں نہ ریاست ہو، نہ حکومت ہو ، نہ امیر، نہ غریب اور نہ طبقاتی کش مکش۔

ج: انارکزم کا ایک ایسا معاشرتی تصور، جہاں نہ کوئی حکومت ہو، نہ کوئی پولیس اور ہرفرد اپنا آپ نگراں ہو، وغیرہ۔

کُل ملا کر یہ کہ نظریات بہت ہی حسین خواب دکھاتے ہیں مگر ان کا رنگ سبز ہوتا ہے۔ حقیقت سےفرار اور یوٹوپیا (خیالی دنیا) سے عشق ان نظریات کی سرشت میں شامل ہے۔ نظریات کا یہ بڑبولاپن اس بات کا غماز ہے کہ نظریات ذہنی عیاشی کی حد تک توٹھیک ہیں لیکن عملی دنیا میں اگر انھیں نافذ کر دیا جائے یا نافذ کرنے کی کوشش کی جائے تو دنیا کا کاروبار چندلمحے بھی نہ چل سکے۔ مختلف نظریات پر غیرعملی ہونے کی جو پھبتی کسی جاتی ہے اس میں بہت حد تک صداقت ہے، لیکن اس اعتراف کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ نظریے پر غیرعملی ہونے کی تنقید دراصل کچھ نظریات پر تنقید ہے، جو ہرنظریے پر صادق نہیں آتی۔ یہ ثابت کردینے سے کہ شیر کا گوشت حرام ہے، ہاتھی کا گوشت حرام ہے، سورکا گوشت حرام ہے، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سرے سے’گوشت‘ ہی حرام ہے۔

دوم: یہ کہا گیا کہ ’’نظریات کی سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ وہ ’غلط‘ ہوتے ہیں اور اپنے ماننے والوں کو گمراہ کرتے ہیں‘‘۔ اس تنقیدی نہج کی شروعات کرنے والے فریڈرک اینجلز کے مطابق نظریات ’غلط شعور‘(False Consciousness) ہوتے ہیں۔ یعنی کسی نظریے پر ’ایمان‘ لانے میں اس پریقین کرنےوالے کی نیت درست ہوتی ہے، البتہ اسے پتا ہی نہیں چلتا کہ جس نظریے پر وہ ایمان لایا ہے وہ بجائے خود غلط ہے۔ یہاں دھیان دینے کی بات یہ ہے کہ یہ تنقید کرتے وقت شاید اینجلز کو اندازہ نہیں تھا کہ مارکسزم کو بھی کسی زمانے میں نظریے کی حیثیت حاصل ہوگی اور اینجلز کی تعریف کے مطابق اسے بھی ’غلط شعور‘ قرار دینا پڑے گا۔ دراصل ایک کا نظریہ دوسرے کے لیے’غلط شعور‘ ہوا کرتا ہے۔اینجلز کے لیے اگر دوسرے نظریات ’غلط شعور‘ ہیں تو دوسرے نظریات کےماننے والوں کے لیے مارکس اور اینجلز خود ’غلط شعور‘ کا شکار تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جرگن ہیبرماس کا کہنا ہے کہ ’’مختلف نظریات اور تصورِ نظریہ پر تنقید، یہ دونوں ہم عمرہیں‘‘۔ سادہ الفاظ میں: نظریہ پر کی جانے والی تنقید بھی درحقیقت نظریاتی ہوتی ہے۔ اس کی سب سے تازہ مثال ’پوسٹ ماڈرنزم‘ (مابعد جدیدیت) ہے، جو ماڈرن زمانے میں موجود تمام نظریات کے ابطال بلکہ ہرکائناتی اور عالم گیر حقیقت اور تصورِ حقیقت کو جھٹلانے کے لیے میدان میں اُترا تھا۔ تمام نظریات تو کیا خاک ختم ہوتے البتہ دانش ورانہ حلقوں میں ’پوسٹ ماڈرنزم‘ کو خود ایک نظریے کے طور پر قبول کرلیا گیا۔ یوں بُت شکنی کا دعویٰ کرنے والا خود بُت بن بیٹھا۔

اسلام بحیثیت نظریہ

اسلام، جیساکہ ہم جانتے ہیں، ایک مذہب ہی نہیں بلکہ ایک دین ہے، ایک مکمل نظریۂ حیات ہے۔ بطور نظریہ اگر اسلام کا جائزہ لیا جائے تو ہم اس میں مندرجہ ذیل اہم خصوصیات پاتے ہیں:

۱-  انسانی عقل باوجود اپنی وسعت کے، عملاً محدود ہے۔عمانویل کانٹ کے بعد مغربی فلسفہ بھی اس محدودیت کا قائل ہے۔ یہ منطقی بات ہے کہ جب انسانی عقل اپنے سیاق، ماحول اور تاریخ سے محدود ہوتی ہے، تو اسی انسانی عقل کے ذریعے کسی ایسے نظریے کی ایجاد کی توقع رکھنا جو رنگ، نسل، جنس، وطن، زبان اور زمان و مکان کے تمام تر اختلافات کے باوجود یکساں قابلِ عمل ہو، ایک غیرعقلی اور غیرفطری توقع ہے۔ لہٰذا اسلام، دوسرے نظریات کے برعکس، اس دعوے کے ساتھ اپنا نظریہ پیش کرتا ہے کہ وہ کسی انسان کا نہیں بلکہ خالق کائنات کی طرف سے بھیجا ہوا نظام ہے۔ مختصر یہ کہ اسلام انسانی عقل کو ایک صحیح نظریۂ حیات کو گھڑنے کی نہیں بلکہ اس کو پہچاننے کی ذمہ داری دیتا ہے۔

۲- ایک ناقابلِ عمل یوٹوپیا ہونے کی تہمت اسلام پر نہیں لگائی جاسکتی کیونکہ اسلام دنیا کا واحد نظریہ ہے، جو اپنی تاریخ میں چالیس سال کا ایسا مثالی دوررکھتا ہے، جس کے بھلے اور کمزور پہلوؤں کی پوری ذمہ داری لینے کے لیے وہ تیار ہے۔ دیگر نظریات کے پاس صرف مفروضات اور یوٹوپیا ہیں۔ زمین پر وہ اپنا کوئی ایسا مثالی ماڈل پیش نہیں کرسکے، جس کی ذمہ داری وہ بلاجھجک قبول کرسکیں۔ پچھلی صدی میں کہا گیا کہ سوویت یونین، کمیونزم کا اور اسرائیل، یہودیوں کی آئیڈیل اسٹیٹ ہے۔ آج تقریباً سارے کمیونسٹ اور یہودیوں کی اکثریت اس دعوے کو شدومد سے رد کرتی ہے۔

۳- نظریہ اپنے ماننےوالوں میں ایک آنےوالی کل کی اُمید جگاتا ہے اور قربانیاں دینے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس لڑائی میں کامیابی کا یقین دلاتا ہے کہ کامیابی کا یقین نہ ہوتو لڑائی جیتنا تو دُور، لڑنا بھی محال ہوجاتا ہے۔ اسلام میں کامیابی کا یہ تصور بھی جو اپنے ماننے والوں میں عمل کے لیے مہمیز کرتا ہے دیگر نظریات سے زیادہ وسیع اور ہمہ گیر ہے۔ اسلام کامیابی کا دو سطحی تصور پیش کرتا ہے: پہلی سطح کی کامیابی، باطل پر حق کی فتح اور غلبے کے نتیجے میں اجتماعی طور پر اس دنیا میں حاصل ہوتی ہے۔ دوسری سطح پر کامیابی، فرد کو اپنے اعمال کے نتیجے میں اللہ کی رضا کی صورت میں آخرت میں حاصل ہوتی ہے۔ پہلی سطح کی جدوجہد میں اسلام اپنے ماننے والوں کو نتیجے کا نہیں بلکہ نیت اورکوششوں کا مکلف کرتا ہے، جس سے ایک مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نتائج اس کے ہاتھ میں ہیں ہی نہیں۔ صحیح سمت میں جی توڑ کوشش پہلی سطح پر اسے کامیابی دلائے نہ دلائے، دوسری سطح کی کامیابی جو کہ اصل کامیابی ہے، وہ اسے حاصل ہوکررہتی ہے۔

۴- اسلام دین فطرت ہے، اس لیے وہ انسانی عقل اور جذبات دونوں کو اپیل کرتا ہے۔ بحیثیت نظریہ، اسلام کی سب سے بڑی خوبی اس کا اعتدال ہے۔ مثال کے طور پر سرمایہ دارانہ نظام فرد کی بے قید آزادی کا قائل، انفرادیت پسندی کا علَم بردار اوربازار میں حکومت کی کسی قسم کی مداخلت کے خلاف ہے۔ نتیجہ؛ سود کا پھیلا ہوا جال، دولت کا ارتکاز، فاقہ کشی، خودکشی، جنسی انارکی، بکھرتے خاندان وغیرہ وغیرہ۔ وہیں کمیونزم انسانوں میں جبری مساوات اور فرد پر جماعت کی ترجیح اور کلیت پسندی کا علَم بردار ہے۔ نتیجہ؛ بدترین آمریت، صلاحیتوں کی ناقدری، کاہلی اور نااہلی کا دور دورہ ، سزاے موت، ملک بدری، جنسی انارکی، بکھرتے خاندان وغیرہ وغیرہ۔

ان دونوں نظریات کی انتہاؤں کے بالمقابل، اسلام انسانوں میں بنیادی مساوات کا قائل ہے، یعنی ہرانسان، انسان ہونے کی حیثیت سے ایک دوسرے کے برابر ہے۔ اس برابری میں یہ بات شامل ہے کہ ہرانسان کی بنیادی ضرورتیں پوری ہونی چاہییں۔ اگر کوئی انسان کسی وجہ سے اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل سے قاصرہے تو یہ اجتماعیت کی ذمہ داری ہےکہ وہ اسے پوراکرے۔ اس بنیادی مساوات کے بعد اسلام فرد کی خلاقانہ صلاحیتوں پرقدغن نہیں لگاتا بلکہ اپنے جوہر دکھلانےکے لیے اسے ایک وسیع میدان فراہم کرتا ہے۔ اگر صرف کمانے کی مثال لی جائے تو اسلام فرد کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے مزاج اور صلاحیتوں کے مطابق کمائے اور جتنا چاہے کمائے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ وہ جو کچھ کمائے حلال راستے سے کمائے اور حلال راستے سے خرچ کرے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی طرح اسے سود، شراب، جوا، قحبہ خانے، ملاوٹ، دھوکے اورفحش فلموں وغیرہ کا کاروبارکرکے پیسہ بٹورنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسے اپنے مال کی زکوٰۃ دینی ہوگی۔ ان پابندیوں کے ساتھ وہ جو کچھ کمائے، اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ پھر دولت گردش میں رہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فرد کے مرنے کے بعد اس کا مال اس کے ورثا میں تقسیم کردیا جائے گا۔

 اسی طرح قوم پرستی (Nationalism) اور نسل پرستی (Racism) کی مثال لی جاسکتی ہے۔ اوّل الذکر چندپہاڑوں اور ندیوں یا نقشے پرخود انسان کی کھینچی ہوئی فرضی لکیروں کی بنیاد پر انسانیت کی تقسیم کا قائل ہے۔ آخرالذکر نسل کی بنیاد پر گروہ بندی کا قائل ہے۔ دونوں صورتوں میں فضیلت کا معیارانسان کی کسی مخصوص ملک یا نسل میں پیدایش ہے، جو یقینا حادثاتی ہوتی ہے اختیاری نہیں۔ اس کے بالمقابل اسلام جغرافیائی نہیں بلکہ نظریاتی قومیت کا علَم بردار ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ فرد کی اپنے وطن، اپنی نسل، اپنی قوم، اپنی زبان سے محبت فطری امر ہے لیکن یہ محبت عصبیت بن کر حق و باطل کا معیار نہ بن جائے۔ اسلام فضیلت کے صرف ایک معیار کو تسلیم کرتا ہے اور وہ ہے تقویٰ۔ کسی مخصوص قوم یا نسل یا ملک میں حادثاتی طور پر پیدایش اسلام کے نزدیک کوئی معیارِ فضیلت نہیں ہے۔

الغرض، بحیثیت نظریہ، اسلام کی حیثیت سب سے انوکھی اور نرالی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ نظریات کو نقشوں سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے۔ اس حساب سے بھی اسلام دیگر نظریات (نقشوں) سے ممتاز ہے، جنھیں زمان و مکان کی قید میں محصور چند انسانوں نے اپنے محدود علم اور ناقص تجربات کی بنیاد پر بنا لیا تھا اور اپنی ناواقفیت یا کم علمی کی بنا پر انھوں نے یا ان کے متبعین نے یہ سوچ لیا کہ ان کا بنایا ہوا ایک مخصوص علاقے کانقشہ دُنیابھر میں منزل تک رہنمائی کے فرائض انجام دےسکتا ہے۔ اسلام تو خالق کائنات کا بنایا ہوا’نقشہ‘ ہے، جسے دنیا کے کسی نقشے سے اگرکسی حد تک تشبیہ دی جاسکتی ہے تو وہ Google Earth ہے جس کے ذریعے آپ دُنیابھر میں اپنی منزل تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ اپنی ابتدائی مثال کی طرف لوٹیں تو ہرانسان کی نگاہوں پر باضابطہ یا بےضابطہ طورپرکسی نہ کسی نظریے کاچشمہ چڑھا ہوا ہے۔مگراسلام ایک ایسا چشمہ ہے جس کا انتخاب فرد پورے ہوش و ہواس میں خود کرتا ہے اور یہ جان کر (بسااوقات آزما کر) کرتا ہے کہ یہ وہ واحد چشمہ ہےجس کا شیشہ صاف وشفاف ہے، جو ہمیں دھوپ اور دھول سے ضرور بچاتاہےلیکن لال کولال، کالے کو کالا، حق کو حق اور باطل کو باطل ہی دکھاتا ہے، جیساکہ مومنین کو دُعا سکھلائی گئی ہے کہ اللّٰھُمَّ اَرِنِی حَقِیْقَۃٌ  الْاَشْیَاءَ کَمَا ھِیَ   (اےاللہ! مجھے چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیساکہ وہ فی الواقع ہیں)۔ یا،اَللّٰھُمَّ أَرِنَا  الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَہُ   وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَہُ  (اے اللہ! ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی اتباع کی توفیق دے اور باطل کو باطل دکھا اوراس سے اجتناب کی توفیق بخشی!)۔

کرنے کے کام

سماجی علوم ہمیں معاشرے کو پڑھنا اورسمجھنا سکھاتے ہیں۔ ان میں پڑھائے جانے والے اصولوں کی حیثیت معاشرے کے لیے کلیدی ہوتی ہے۔ یہ مقاصد کاتعین کرتے ہیں اوران مقاصد کے حصول کے لیے طریقۂ کار کی نشان دہی بھی۔ لیکن کیا یہ سماجی علوم تعصب سے پاک ہیں؟ عمانویل والرسٹین نے اپنے مقالے Eurocentrism and its Avatarsمیں اس سوال کا جواب نفی میں دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’سماجی علوم کا وجود یورپی مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہوا، تاریخ کے ایک ایسے موڑ پرجب یورپ پوری دنیا کے نظام پرحاوی تھا۔ اس لیے طبعی طور پر سماجی علوم کے مباحث کا انتخاب، انھیں برتنے کے آداب، تحقیق کےطریقۂ کار اورسماجی علوم کے نظریۂ علم (Epistemology) سبھی پر اس ماحول کی گہری چھاپ ہے جس ماحول میں اس کی پیدایش ہوئی ہے‘‘۔

والرسٹین نے صاف کہا ہے کہ ’’یہاں یورپ سے میری مراد نقشے پر موجود کسی جگہ سے زیادہ ایک تہذیب اور ایک فکر ہے۔ مختصر الفاظ میں سماجی علوم عالم گیر اصولوں پر مبنی نہیں ہیں جیساکہ دعویٰ کیا جاتا ہے بلکہ ان تصورات اور توجیہات پرمنحصر ہیں، جن کے ڈانڈے مغرب کے نظریۂ حیات سے جاملتے ہیں‘‘۔ والرسٹین کے مطابق ’’سماجی علوم کو اس یورپی قید سے چھڑانا ایک عظیم علمی خدمت ہے۔ لیکن کیایہ اتنا آسان کام ہے؟ نہیں، اس راستے میں چیلنجز بے شمار ہیں‘‘۔

ایک ایسے زمانے میں مغرب پر کی جانے والی تنقید بھی، خود مغرب کے نظریات کی خوشہ چیں ہے۔ جب نظریات کی اہمیت کو کم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اورایسا لگتا ہے کہ علمی دنیا کا اس بات پر اجماع ہوگیا ہے کہ دُنیا میں اب نظریاتی سطح پر لبرل ڈیموکریٹک کیپٹلزم کا کوئی مخالف نہیں رہ گیا ہے۔ اس ماحول میں اسلامی نظریے کو ماننےوالوں کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ سماجی علوم میں اجتہادی مہارت کا حصول اور مروجہ سماجی علوم کا تحقیقی و تنقیدی تجزیہ کرکے ایک نئی نظریاتی بحث کو شروع کرنا ایک ایسا کام ہے جس سے بڑا فکری احسان آج کی دنیا پر نہیں کیا جاسکتا۔ اس نظریاتی بحث کو مندرجہ ذیل خطوط پر آگے بڑھایا جاسکتا ہے:

    ۱-  ہر انسان کا ایک نظریہ ہوتا ہے بالفاظِ دیگر ہرانسان کی نگاہوں پر کسی نہ کسی نظریے کا چشمہ چڑھا ہوا ہوتا ہے۔

    ۲-  بیرونی حقائق ہمیں اپنے نظریات کے مطابق نظر آتے ہیں۔ بالفاظ دیگر سامنےموجود شے کا رنگ اوراس کی جسامت ہمیں اپنے چشمے کے رنگ اور نمبر کی مناسبت سے نظر آئے گی۔

    ۳-  عام طور پر لوگ فاتح یا غالب قوم کےنظریات سے متاثر ہوتے ہیں اور جانے انجانے میں ان کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بالفاظ دیگر ہمارا چشمہ ہماری آنکھوں کے مطابق نہیں ہے بلکہ یورپی آنکھوں سے مستعار لیا ہوا ہے۔

    ۴-  فاتح یا غالب قوم کے نظریات دوسرے سیاق میں قابلِ عمل نہیں ہوتے اور ان کے ماننے والے عموماً احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں اور حقائق کا غلط اور گمراہ کن اِدراک کرتے ہیں۔ بالفاظ دیگرچشمہ اگر اپنی آنکھوں کے مطابق نہ ہو توحقائق مسخ شدہ نظر آتے ہیں۔

    ۵-  ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے نظریے کو قبول کیا جائے جو ہرحالت میں اور مقام پر ہماری اسلامی اور ایمانی وابستگی کے مطابق ہماری رہنمائی کے فرائض انجام دے سکے۔ بالفاظِ دیگر اس چشمے کو جو ہماری نگاہوں پر چڑھ گیا ہےبدل کر ہمیں شعوری طورپر ایک ایسا چشمہ پہننا چاہیے، جو ہمیں حقائق کو ویسا ہی دکھائے جیساکہ وہ ہیں۔ اور اسلام ٹھیک ٹھیک صورتِ حال دکھاتا اورقولِ سدید سکھاتا ہے۔

قرآن کریم میں سود کے لیے ’ربوٰ‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس لفظ کے مفہوم کی وضاحت کردی جائے، تاکہ اس کی حُرمت کے اسباب کا ادراک ہوسکے۔ یہ بات قابلِ فہم بن جائے کہ اس کے حرام نہ سمجھنے کی وجہ سے اور انسانی معاملات میں اس کے جاری ہونے کے سبب انسانی معاشرے کو کیسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ربوٰ کے لفظی معنی اضافہ کے ہیں۔ کسی بھی واجب الادا شے یا مال میں ایسا مشروط اضافہ جس کا کوئی عوض نہ ہو، اسے ربوٰ کہتے ہیں۔ واجب الادا رقم یا شے کو ادا کرتے وقت اگر کوئی شخص ازخود زیادہ واپس کردے تو اسے ربوٰ نہیں کہیں گے، لیکن اضافہ شرط کا حصہ ہے تو وہ ربوٰ ہوگا۔ اسلامی شریعت اس بات کی وضاحت کردیتی ہے کہ واجب الادا رقم یا شے میں اضافے کا درست عوض کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جن وجوہ سے اضافہ ممکن ہے ان کی وضاحت کردی گئی ہے اور اب اگر اس اضافے کے درست ہونے کے لیے کوئی اور دلیل لائی جائے تو وہ ناقابلِ قبول ہوگی۔
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ نے اپنی ایک تقریر میں اضافے کی درست وجوہ کو یوں بتایا ہے: ’’ربوٰ کا مطلب کسی بھی بیع میں راس المال میں وہ اضافہ ہے، جس کا سبب اس کے بالمقابل محنت، مہارت، خطر یا شے نہ ہو‘‘۔ اس طرح واجب الادا رقم یا شے میں ان چار اسباب کے علاوہ اضافہ ناحق ہے اور وہ حرام ہے۔
سود کے حق میں ایک دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ جیسے کسی شے یا جایداد کے حقِ استعمال کے طور پر متعین کرایہ دینا درست ہے، اسی طرح کسی کے مال کو استعمال کرنے کے عوض طے شدہ شرح پر سود دینا جائز ہونا چاہیے۔ دراصل یہ دلیل اسلامی شریعت کے ایک بنیادی اصول سے ناواقفیت کی بنا پر دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ نے اس کی وضاحت یوں کی ہے: اسلامی احکام میں کسی چیز کے ’استعمال‘ (use) کرنے اور ’صرف‘ (consume) کرنے میں تمیز کی گئی ہے۔ جو چیز استعمال کی جاتی ہے وہ دراصل اپنی اصل حالت میں موجود ہوتی ہے۔ اس کے استعمال کے عوض ’اجر‘ (کرایہ) دینا جائز ہے۔ مثلاً ’الف‘ نے ’ب‘ سے ایک مکان ایک ماہ کے لیے کرایے پر لیا۔ ماہ کے اخیر میں مکان ’الف‘ کو واپس ہوجائے گا اور اس مدت کے حقِ استعمال کے طور پر پہلے سے طے شدہ کرایہ’ب‘ کے ذمہ واجب الادا ہوگا۔ دوسری طرف جو چیز ’صرف‘ ہوجاتی ہے، وہ اپنی اصلی حالت میں باقی نہیں رہتی ہے۔ اس لیے اس کے حقِ استعمال کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ہے۔ جتنی چیز ’صرف‘ کے لیے لی تھی، اتنی ہی واجب الادا ہوگی۔ مثلاً کسی نے اپنے پڑوسی سے دوکلو گرام چینی لی اور ’صرف‘ کر دی تو اب اسے صرف دو کلو چینی یا اس کی قیمت واپس کرنی ہوگی۔ اصل چینی تو وہ چٹ کرچکا ہے۔ اب اس کا حقِ استعمال بے معنی ہے۔
درج بالا اصول کا اطلاق رقم اور مال کے سلسلے میں کرنے سے اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ حقِ استعمال کے طور پر متعین شرح سود کیوں جائز نہیں ہے۔ جو مال قرض کے طور پر حاصل کیا جاتا ہے، وہ اپنی اصل صورت میں باقی نہیں رہتا، بلکہ مختلف ضرورتوں کے لیے ’صرف‘ کردیا جاتا ہے۔ مشین و سامان کی خریداری، مزدوری کی ادایگی اور تجارت کی دیگر ضروریات میں ’صرف‘ ہوکر اس مال کی شکل بدل جاتی ہے۔ اس کے بعد جو چیز تیار کی جاتی ہے، اس کے فروخت سے جو یافت ہوتی ہے، اس سے قرض کی ادایگی کی جاسکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں مال اور رقم استعمال نہیں ہوتے بلکہ ’صرف‘ ہوجاتے ہیں۔ اس تصرف کے بعد زیادہ ادا کرنے کا جواز باقی نہیں رہتا ہے۔
ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی نے سود سے متعلق قرآنی آیات کا جائزہ لینے کے بعد انسانی نفسیات اور انسانی سماج پر اس کی وجہ سے مرتب ہونے والی درج ذیل پانچ خرابیوں کا ذکر کیا ہے:
۱- فساد فی الارض: زمین، عدل و قسط کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔ اس نظام میں جب بھی ظلم کو روا رکھا جائے گا، اس کا توازن بگڑے گا اور زمین فساد میں مبتلا ہوجائے گی۔ سود ظلم پر مبنی ایک ایسا نظام ہے جو انسانی معاشرے کے تانے بانے کو بکھیر دیتا ہے۔
۲- اکل بالباطل: سود کے نتیجے میں اس نفسیات کو فروغ ملتا ہے کہ دوسروں کے پاس موجود دولت کس طرح خود کسی خطرے میں مبتلا ہوئے بغیر حاصل کرلی جائے۔ باطل طریقے سے بغیر محنت اور سعی کے دولت سمیٹنا انسانی معاشرے کا عمومی طریقہ بن جاتا ہے۔
۳- منفی شرحِ نمو: انسانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریاتِ زندگی کا ہمہ دم پھیلتا دائرہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ معیشت ترقی پذیر ہو اور اس کی شرحِ نمو (growth) ہمیشہ مثبت ہو،لیکن سود کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ انسان اپنی ضروریات کے لیے پیداوار اور خدمت کی جو صورتیں  اختیار کرتا ہے، ان سب میں شرحِ نمو ایک جیسی نہیں ہوتی ہے اور ان سب کے مجموعی تعامل سے ترقی کی اوسط رفتار حاصل ہوتی ہے۔ شرحِ سود سے اس نظام میں خلل پڑتا ہے۔ پیداوار اور خدمات کی تمام صورتوں پر یہ لازم ہوجاتا ہے کہ شرح سود سے زیادہ نمو حاصل کریں، لیکن    ایسا نہیں ہوتا ہے۔ معاشی عمل کے نتیجے میں جو ترقی ہوتی ہے ، اس کا متعین حصہ سود کی ادایگی کی نذر ہوجاتا ہے اور جو چیز بچتی ہے، وہ اکثر منفی شرحِ نمو ہوتی ہے۔
۴- انسانی اقدار کی پامالی: انسانی شخصیت سود کے نتیجے میں پستی کا شکار ہوجاتی ہے۔عدل اور احسان اور تمام اعلیٰ انسانی اقدار کا فقدان ہوجاتا اور انسانوں کی دنیا جنگل کی دنیا بن جاتی ہے کہ جہاں ہر جان دار کے سامنے ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ خود اچھی طرح جی لے اور اس کے نتیجے میں اگر دوسرے کسی جاندار کا بُرا ہوتا ہو تو ہوتا رہے۔ قرآن نے سود خور کی مثال اس شخص سے دی ہے جسے شیطان نے چھو کر باؤلا کردیا ہو۔ اس کے نتیجے میں انسانی اقدار پامال ہوتی ہیں اور شیطان کی پسندیدہ اقدار فروغ پانے لگتی ہیں۔
۵- سود ناحق  اور باطل ہے:پوری انسانی تاریخ میں سود کی خباثت پر اتفاق رہا ہے۔ البتہ پچھلی چند صدیوں میں سرمایہ دارانہ نظام میں اس ’ناخوب‘ کو اتنا ’خوب‘ بنا کرپیش کیا گیا ہے، گویا یہ ایک پسندیدہ عمل ہے، جس کے بغیر تمدن اور معیشت کی گاڑی آگے نہیں چل سکتی۔ معلوم انسانی تاریخ میں سود کا رواج شروع سے پایا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے ہمیشہ غلط سمجھا گیا ہے۔ تمام مذاہب کی تعلیمات میں سود اور سودخوری کے خلاف احکامات موجود ہیں۔
قرآنِ کریم نے سورئہ بقرہ، آیت ۳۵ میں سود کے مقابل زکوٰۃ اور سورئہ بقرہ، آیت ۲۷۶ میں صدقات کو پیش کیا ہے اور یہ بات بتائی ہے کہ اللہ سود کا مَٹھ مار دیتا ہے، جب کہ زکوٰۃ و صدقات انسانوں کے لیے مفید اور انسانی معاشرے کی ترقی کے ضامن ہیں۔ سورئہ بقرہ آیت ۲۷۵ میں معترضین کا یہ اعتراض دُہرایا گیا ہے کہ ’تجارت، سود کے مانند ہے‘۔ قرآنِ کریم نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ ’تجارت حلال ہے اور سود حرام ہے‘۔ ان آیات کی روشنی میں ایک طرف سود اور زکوٰۃ و خیرات کے فرق کے مطالعے اور دوسری طرف سود اور تجارت کے موازنے اور ان سب کے اثرات جو معاشرے پر پڑتے ہیں، ان پر غور کرنے سے سود کے بُرے اثرات کو سمجھا جاسکتا ہے۔
بیع کے لیے اُردو میں ’خرید و فروخت‘ یا ’لین دین‘ کے ہم معنی الفاظ بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ دراصل یہ انسان کے معاشی عمل کا مقصد ہے۔ ایک فریق اپنی پیداوار یا خدمات  دوسرے فریق کو فروخت کرتا ہے اور اس کی قیمت وصول کرتا ہے۔ اس عمل کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق اپنی اپنی آزاد مرضی سے، بغیر کسی جبر و اِکراہ کے اپنے اپنے معلوم فائدے کے لیے شریک ہوں۔ قیمت اگر نقد ادا کردی جائے تو بیع مکمل ہوجاتی ہے۔ ادایگی اگر نقد نہ ہو تو چند مسائل پیدا ہوتے ہیں، جن کے ازالے کے لیے قرآن کریم نے تفصیلی احکام دیے ہیں۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ مذکورہ آیت (البقرہ۲:۲۸۲) قرآنِ کریم کی سب سے بڑی آیت ہے۔ وہ آیت، آیت الدین کہلاتی ہے۔ سود کا معاملہ اسی وقت پیش آتا ہے، جب ادایگی باقی  رہ جاتی ہے۔ قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ جو رقم واجب الادا ہے، اس میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف سود پر مبنی نظامِ معیشت اس بات پر مصرہے کہ اس ادھار ادایگی میں سود کا عنصر شامل ہونا چاہیے۔
قرآنِ کریم کی متذکرہ آیت میں دونوں فریق کے حقوق کی حفاظت کی گئی ہے اور کسی کے حق میں کوئی ظلم روا نہیں رکھا گیا ہے۔ سودی نظامِ معیشت بائع کے حق میں فیصلہ کرتا ہے اور مشتری کے نقد ادایگی نہ کرسکنے کی بنا پر اس پر ظلم کرتا ہے، اور جو لین دین ایک دوسرے کی آزاد مرضی سے اور فائدے کے لیے ہوا تھا، اس میں سود کی گنجایش نکال کراس ’خیر‘ کو ’شر‘ میں تبدیل کردیتا ہے، اور فساد فی الارض کا باب وا کردیتا ہے۔

تمام معاشی برائیوں میں ’ربا‘ یا ’سود‘ کے نتائجِ بد، معیشت کے لیے تباہ کن ہوتے ہیں۔ سود کا عمل صرف ایک دینی حکم کی خلاف ورزی اور اخلاقی برائی نہیں ہے، بلکہ اس کی کوکھ سے بہت سی سماجی و معاشی برائیاں جنم لیتی ہیں، مثلاً ظلم، استحصال، بے رحمی، بے مروتی، افراطِ زر، تقسیمِ دولت میں ناہمواری اور اقتصادی بحران وغیرہ۔ بڑے اور ترقی یافتہ ملکوں کے زیراہتمام کام کرنے والے بین الاقوامی مالی ادارے آسان شرطوں پر ’امداد‘ (Aid)کے نام پر سودی قرضے فراہم کرکے، ترقی پذیر اور کمزور ملکوں کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی اور ان کے عالمی تعلقات کو اپنے مفاد میں کنٹرول کرتے ہیں۔
اس وقت دنیا کی بیش تر آبادی قرضوں کے بوجھ تلے سسک سسک کر زندگی گزار رہی ہے۔ لاطینی امریکا میں پیدا ہونے والا ہر متنفس ۱۶۰۰ ؍ ڈالر کے قرضے کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ افریقہ جنوبی صحارا (Sahara) کے ممالک میں، پیدا ہونے والے ہربچے پر ۳۳۶ ڈالر کا قرضہ پہلے سے موجود ہوتا ہے، حالاں کہ سود کی شکل میں ان کے آبا و اجداد ان قرضوں کو بہت پہلے ادا کرچکے ہیں۔ اسی طرح ۱۹۸۰ء تک جنوبی افریقہ کے ممالک کے ذمے ۵کھرب اور ۶۷؍ارب ڈالر کا قرضہ تھا، جب کہ اس وقت تک وہ سود کی مد میں ۳۴کھرب اور ۵۰؍ارب ڈالر ادا کرچکے تھے۔ ۲۰۰۰ء تک وہ اصل رقم کا چھے گنا دے چکے تھے، مگر پھر بھی ان کے ذمے ۲۰کھرب اور ۷۰؍ارب  ڈالر کا قرض باقی تھا۔(www.henciclopedia.org.uy/autores/lagadelmundo/usury.htm [پاکستان میں صورتِ حال یہ ہے: ۲۰۰۸ء میں ہرپاکستانی شہری ۵۹۳ ڈالر کا مقروض تھا، جب کہ ۲۰۱۷ء میں وہ ۱۱۲۲ ؍ڈالر فی کس مقروض ہوگیا اور ۲۰۱۹ء میں یہ رقم اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ادارہ])
  یہ تو بڑے قرض داروں کا حال ہے۔ چھوٹے ساہوکاروں کے ظلم اور ان کے قرض داروں کی حالت ِ زار سے افسانے بھرے پڑے ہیں۔
قرآنِ کریم میں سود کے مرتکبین کے خلاف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اعلانِ جنگ کیا گیا ہے۔ 
ارشاد ِ الٰہی ہے:
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ ۝۰ۚ وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ ۝۰ۚ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ۝۲۷۹ (البقرہ ۲:۲۷۹) پس اگر تم (سود سے) باز نہ آئو تو اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے جنگ کے لیے تیار رہو۔ اور اگر تم اس سے توبہ کرلو تو تمھارے لیے تمھارا اصل سرمایہ ہے۔ نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔
ظاہر ہے کتابِ الٰہی میں جس برائی کے مرتکبین کے خلاف اعلانِ جنگ کیا گیا ہو، اس کی ممانعت کا سبھی آسمانی کتابوں میں پایا جانا عین قرین قیاس ہے۔ پیش نظر مضمون میں ربا سے متعلق قرآنی احکام کی وضاحت کے بعد، اس برائی سے متعلق بعض دیگر مذہبی کتابوں میں موجود احکام کا جائزہ لیا اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ تعلیمات اس بُرائی کے خلاف متحد پلیٹ فارم بنانے میں بنیاد ثابت ہوسکتی ہیں۔ بعض حکما و فلاسفہ کی آرا، نیز ماہرین معاشیات کے مثبت نتائجِ فکر ذکر کرنے سے یہ مقصود ہے کہ اس جدوجہد میںان کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے ۔ یوں مذہبی سوچ رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ سیکولر ذہنوں کو مطمئن کرنے میں مدد لی جاسکتی ہے۔

قرآنِ مجید میں سود کی ممانعت 

سود کی مذمت اور ممانعت جس شدت کے ساتھ قرآن میں آئی ہے ، شایدہی کسی اور مذہبی کتاب میں پائی جاتی ہو۔ سود سے متعلق قرآنی آیات بہت واضح، صریح اور قطعی ہیں۔ سود ہرزمانے اور ہرقوم میں موجود رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک مختلف فیہ قول کا سہارا لے کر بعض حیلہ جُو مصنّفین نے یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ’’ اسلام میں سود کی کوئی تعریف ہی نہیں ہے‘‘۔(دیکھیے راقم کا مضمون: ’’کیا آیت رِبا قرآن کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت ہے؟‘‘ مجلہ علوم القرآن، علی گڑھ، جنوری- جون ۲۰۱۴ء، ص ۴۶-۲۷)
مصحفی ترتیب کے مطابق قرآنِ مجید میں سب سے پہلے سورۃ البقرہ میں سود کی ممانعت کا حکم مذکور ہے۔ اس میں فرمایا: ’’جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ بالکل ایسے شخص کی طرح اُٹھیں گے، جسے شیطان نے چھوکر باؤلا کردیا ہو‘‘۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے پاگل پن کا اظہار کرتے ہوئے خریدوفروخت کو جس میں فریقین کا فائدہ ہوتا ہے ’ربا‘ کے مانند قرار دے دیا، جو کہ ایک فریق کے استحصال پر منتج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال اور ربا کو حرام قرار دیا ہے۔(ابن القیم، اعلام الموقعین، مکتبہ السعادۃ، قاہرہ، ج۲، ص ۱۳۵)  
اسی طرح سورۂ آل عمران میں سودخوری سے منع فرمایا کہ اس کا مزاج ہی یہ ہے کہ وہ دگنا چوگنا ہوتا رہتا ہے۔(علامہ ابن القیم کے مطابق ہر سود کی طبیعت میں یہ داخل ہے کہ وہ بڑھتا چڑھتا اضعافًا مضاعفۃ  رہے۔)
اللہ کے خوف سے سود سے پرہیز کرنے والوں کے لیے کامیابی اور فلاح کا وعدہ فرمایا گیا ہے اور سود خوری کے انجام، آتشِ جہنم سے خبردار کیا گیا ہے جو اس طرح کے ناشکروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔(اٰل عمرٰن ۳:۳۰-۳۱)
سود جس کا قرآنِ کریم میں اس بُرائی کے ساتھ ذکر ہے، اس کا حرام ہونا صرف اُمت محمدیہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ خود قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود پر سود حرام تھا جس کی حکم عدولی انھوں نے کی اور جس کے نتیجے میں انھیں ذلّت و رُسوائی سے دوچار ہونا پڑا (المائدہ ۵:۱۶)۔ اور جو سود اہلِ کتاب کے یہاں حرام تھا، وہی اسلام میں بھی حرام ہے۔ ہم ذیل میں اہلِ کتاب کے صحیفوں میں سود سے متعلق احکام کا جائزہ لیں گے:
حقیقت یہ ہے کہ ربا مکی دور سے حرام رہا ہے، جیساکہ احادیث ِمعراج سے معلوم ہوتا ہے۔(احمد بن علی بن حجر العسقلانی، فتح الباری، شرح بخاری، بیروت، ۱۳۷۹ھ، ج۴،ص۳۱۳-۳۱۵)
  سورئہ روم، مکّہ میں نازل ہوئی جس میں وارد ہے:
وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللہِ ۝۰ۚ(الروم ۳۰:۳۹) جو ربا بھی تم دیتے ہو کہ اس سے لوگوں کے مال میں اضافہ ہو تو اللہ کے نزدیک اس سے کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔
سورۃ المدثر، مکی دور کی ابتدائی سورتوں میں ہے۔ اس کی آیت وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۝۶۠ۙ     (المدثر ۷۴:۶) یعنی’’کسی پر احسان نہ کرو اس سے زیادہ کی طلب میں‘‘سے بعض مفسرین نے تحریم سود مراد لیا ہے۔(ابن تیمیہ، مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ،الریاض، ۱۹۸۳ء، ج۴،ص۲۲)
سود سے متعلق قرآنِ کریم کے مذکورہ بالا احکام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلام میں حتمی اور قطعی طور پر حرام ہے۔ سودی معاملہ ایک ظلم ہے جس سے قرآن نے منع کیا ہے۔ قرآن تجارت اور سود کی مشابہت کو رد کرتا ہے۔ علامہ ابن تیمیہؒ نے سود کی ممانعت کے معاملے میں اہلِ اسلام کے درمیان اجماع کی صراحت کی ہے، جس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ باطل طریقے سے ایک دوسرے کے مال کھانے کا طریقہ ہے، جو تمام سودی معاملات میں پایا جاتا ہے۔  (مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ، ج ۲۹، ص ۴۱۹-۴۵۵)
پیداواری و غیرپیداواری قرضوں کا سود اور اسلام؟
عصرِحاضر کے کچھ نام نہاد دانش وروں نے بعض قوموں کی موشگافیوں سے متاثر ہوکر ’پیداواری‘ اور ’غیرپیداواری قرضوں‘ کے سود کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالاں کہ اگر اس طرح کا کوئی فرق ہوتا تو کتاب اللہ اور سنت ِ رسولؐ اللہ میں ضرور اس کی صراحت ہوتی۔ کیوں کہ قرآن ایسی قوم کے درمیان نازل ہوا، جو عام طور پر تجارت پیشہ تھی اور جس کے قرضے تجارتی اغراض کے لیے بھی ہوتے تھے۔ فضل الرحمٰن گنوری نے اس موضوع پر سیرحاصل بحث کی ہے اور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ ’’عرب جاہلیت اور ابتداے اسلام میں مکہ اور طائف کے لوگوں کے درمیان پیداواری و تجارتی مقاصد کے لیے قرضوں کا رواج تھا۔ اس لیے ان لوگوں کا خیال  غلط ہے جو یہ کہتے ہیں کہ دورِ اوّل میں قرضے حاجت براری کے لیے حاصل کیے جاتے تھے، یا یہ کہ پیداواری قرضے دورِحاضر کے مظاہر میں سے ہیں، اس لیے ان کا حکم جدا ہونا چاہیے‘‘۔(فضل الرحمٰن، تجارتی سود، تاریخی و فقہی نقطۂ نظر، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، ۱۹۶۷ء، ص۸-۳۰)
تمام ہی علماے سلف اس بات کے قائل ہیں کہ اسلام میں پیداواری و غیرپیداواری یا تجارتی و غیرتجارتی قرضوں کے سود کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ ہر دو طرح کے قرضوں پر طلب کی جانے والی اضافی رقم ’ربا‘ یا ’سود‘ ہے۔
علّامہ حمیدالدین فراہیؒ نے خود قرآنی آیات کے الفاظ سے یہ استدلال کیا ہے کہ دورِاوّل میں زیادہ تر قرض خواہ تونگر و اہلِ ثروت ہوا کرتے تھے۔ آیت: وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰى مَيْسَرَۃٍ ۝۰ۭ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۲۸۰ (البقرہ ۲:۲۸۰) ’’تمھارا قرض دار تنگ دست ہو، تو ہاتھ کھلنے تک اُسے مہلت دو، اور جو صدقہ کردو، تو یہ تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو‘‘ کی تفسیر میں آپ فرماتے ہیں:
یَلُوْحُ مِنْ ھٰذِہِ الْکَلِمَاتِ اَنَّھُمْ  کَانُوْا یَأْخُذُوْنَ الرِّبَا مِنْ ذِیْ مَیْسَرَۃٍ  وَالْقُرَیْشُ کَانَتْ تُجَّارًا وَاَصْحَابَ الرِّبَا فَلَا اَرَی فَرْقًا بَیْنَ حَالِھِمْ وَحَالِ اَبْنَاءِ زَمَانِنَا فِیْ الرِّبَا - وَاللہُ اَعْلَمُ!  ان الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تونگروں سے سود لیا کرتے تھے۔ قریش تجارت پیشہ قوم تھی اور سودی معاملات کرتے تھے۔ اس لیے مَیں نہیں سمجھتا کہ ’ربا‘ کے معاملے میں اُس وقت کے حالات اور ہمارے زمانے کے لوگوں کے حالات میں کوئی فرق ہے۔(عبدالحمید فراہی، تعلیقات فی تفسیر القرآن الکریم، سراے میر، ۲۰۱۰ء، ج۱،ص ۸۵)
پھر اس معنی کی وضاحت مولانا امین احسن اصلاحی نے تفصیل سے کی ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ: عربی زبان میں اِنْ  کا استعمال عام اور عادی حالات کے لیے نہیں ہوتا بلکہ بالعموم نادر اور شاذ حالات کے بیان کے لیے ہوتا ہے۔ عام حالات کے بیان کے لیے عربی میں اِذَا ہے۔ اس روشنی میں غور کیجیے تو آیت کے الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اس زمانے میں عام طور پر  قرض دار ذومیسرہ (خوش حال) ہوتے تھے۔ لیکن گاہ گاہ ایسی صورت بھی پیدا ہوجاتی تھی کہ قرض دار غریب ہو یا قرض لینے کے بعد غریب ہوگیا، تو اس کے ساتھ رعایت کی ہدایت فرمائی۔(امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن، لاہور، ۱۹۸۵ء، ج ۱، ص ۶۳۸-۶۳۹)
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ زمانۂ قدیم سے مسلمان علما نہ صرف یہ کہ ہردو طرح کے قرضوں سے واقف، اور ان کے تکلیف دہ نتائج سے بھی آگاہ تھے۔ امام فخرالدین رازی نے تجارتی سود کو درست قرار دینے کی سوچ پر سخت تنقیدکی ہے۔ ایسے قرضوں کا تجزیہ کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں:
رہی یہ بات کہ اس کا امکان ہے کہ قرض دہندہ نے اپنی رقم کی سرمایہ کاری کی ہوتی اور اس سے نفع کمایا ہوتا تو یہ ایک امرموہوم ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ نفع ہو یا نہ ہو (بلکہ خسارہ ہوجائے)۔ اب صرف اس امکان کی بنیاد پر قرض دی گئی رقم پر ایک متعین اور طے شدہ اضافی رقم کا مطالبہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟ یہ تو ظلم و ناانصافی ہے کہ ایک وہمی و امکانی بنیاد پر ایک یقینی و لازمی چیز کا مطالبہ ہو۔(فخر الدین رازی، التفسیر الکبیر، قاہرہ، ۱۹۳۸ء، ج۵، ص ۹۱)
امام رازی کے مطابق اس اجازت کا ایک غلط معاشی اثر یہ ہوگا کہ ’’یہ چیز اہلِ سرمایہ کو صنعت ،تجارت و زراعت کے خطرات کے جوکھم میں پڑنے سے روکے گی اور وہ قرض دے کر یقینی و طے شدہ نفع کمانے کو ترجیح دیں گے، حالانکہ معاشی ترقی و فلاح اس کے بغیر ممکن نہیں ہے‘‘۔(التفسیر الکبیر، ج۵،ص۹۲)

سود کے احکام عہد نامہ قدیم میں

سود سے متعلق قرآنی احکام و تعلیمات کا جائزہ لینے کے بعد دنیا کی بعض دیگر مذہبی کتابوں کے حوالے سے سود کے احکام کا مطالعہ پیش ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے توریت کو دیکھتے ہیں۔  عہدنامہ قدیم کے باب لاویین یا احبار ۲۵، ۲۶: ۳۷ میں مذکور ہے:
اور اگر تیرا بھائی مفلس ہوجائے اور وہ تیرے سامنے تنگ دست ہو، تو اسے سنبھالنا۔  وہ پردیسی اور مسافر کی طرح تیرے ساتھ رہے تو اس سے سود یا نفع مت لینا۔ اپنے خداوند کا خوف رکھنا تاکہ تیرابھائی تیرے ساتھ زندگی بسر کرسکے تو اپنا روپیہ اسے سود پر مت دینا اور اپنا کھانا بھی اسے نفع کے خیال سے نہ دینا۔(کتاب مقدس، یعنی پرانا اور نیا عہدنامہ، بائبل سوسائٹی ہند، بنگلور، ۱۹۲۵ء، ص ۱۱۹)
اسی طرح باب خروج ۲۲-۲۵ میں ہے:
اگر تو میرے لوگوں میں سے کسی محتاج کو جو تیرے پاس رہتا ہو، کچھ قرض دے تو اس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنا اور نہ اس سے سود لینا۔
عہدنامہ قدیم کے باب استثناء ۲۰-۱۹:۲۲ میں بھی اسی طرح کی تعلیم ہے:
تُو اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا، خواہ وہ روپے کا سود ہو یا اناج کا سود، یا کسی ایسی چیز کا سود ہو، جو سود پر دی جاتی ہے۔ تُو پردیسی کو سود پر قرض دے تو دے، اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا تاکہ خداوند تیرا اس ملک میں جس پر تو قبضہ کرنے جارہا ہے، تیرے سب کاموں میں جن کو تُو ہاتھ لگائے برکت دے۔
زبور ۵:۱۵ میں ہے: ’’اے خداوند! تیرےخیمے میں کون رہے گا؟ تیرے کوہِ مقدس پر کون سکون اختیار کرے گا؟ وہ جو اپنا روپیہ سود پر نہیں دیتا اور بے گناہ کے خلاف رشوت نہیں لیتا۔ ایسے کام کرنے والا کبھی جنبش نہ کھائے گا‘‘۔
حزقی ایل میں آیا ہے: ’’غریب سے دست بردار ہو اور سود پر لین دین نہ کرے۔ لیکن میرے احکام پر عمل کرے اور میرے آئین پر چلے‘‘۔ 
توریت کے مذکورہ بالا احکام پر عربی دائرۃ المعارف کے مؤلف لکھتے ہیں:
شریعت موسوی میں یہودیوں کو غریبوں سے سود لینے سے منع کیا گیا تھا، خواہ وہ کوئی اجنبی ہی کیوں نہ ہو، پھر اس ضمانت کو یہودیوں سے سود لینے تک محدود کر دیا گیا، خواہ وہ مال دار کیوں نہ ہو۔ انھیں حکم ہوا تھا کہ وہ غریبوں کو قرض دیں تاکہ انھیں قید اور فقروفاقہ سے نجات حاصل ہوسکے۔ اور انھیں سخت انتباہ دیا گیا تھا کہ کسی حیلے و حوالے سے سود نہ لیں…لیکن جب بازار میں وسعت ہوئی اور کاروبار میں ترقی آئی تو سود لینا اور رہن پر قرض دینا ان کے اندر بالکل عام ہوگیا۔ البتہ خود اپنے یہودی بھائیوں سے بھی سود لینے کا جواز ان کے یہاں بہت بعد میں ہوا‘‘۔(سلیم البستانی، دائرۃ المعارف، بیروت، ۱۸۸۴ء،ج ۸،ص۵۱۳) 
مذکورہ بالا سطور سے واضح ہے کہ قرآن کے علاوہ خود یہودی مآخذ سے معلوم ہوتا ہے کہ  بنی اسرائیل کے یہاں سود کی سخت ممانعت تھی مگر جیسا کہ قرآن کے بیان سے معلوم ہے، اس میں انھوں نے کافی ردوبدل کیا اور اس کی خلاف ورزی کی۔ ان سب کے باوجود اب بھی اگر ان تعلیمات پر غور کیا جائے، تو واضح ہوگا کہ توریت کی بنیادی تعلیم میں ہر طرح کے سود سے ممانعت ہے۔

انجیل میں سود کا تذکرہ

انجیل  یا عہد نامۂ جدید میں سود سے متعلق کوئی حکم ملنا مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ حضرت مسیح ؑکوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئے تھے، بلکہ توریت کی اصل تعلیمات ہی کو جاری و ساری کرنے آئے تھے۔ عہدنامۂ جدید میں مسیحؑ کا قول ہے کہ: ’’بغیر کسی بدلے کی اُمید رکھے ہوئے قرض دو‘‘۔ لوقا (۶:۳۵) میں ہے: ’’اور اگر تم ان کو قرض دو، جن سے وصول ہونے کی اُمید رکھتے ہو، تو تمھارا کیا احسان ہے؟ گنہ گار بھی گنہ گار کو قرض دیتے ہیں تاکہ پھر وصول کرلیں‘‘۔(عہدنامہ جدید،ص ۵۸)
اس سے یہ واضح ہے کہ بنیادی طور پر سود خوری مسیحیت کی روح کے منافی ہے۔
شروع کے مسیحی کلیسا نے سود کے خلاف نہایت سخت رویہ اپنایا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود حضرت عیسٰی علیہ السلام نے اُدھار پر روپے دینے کا کاروبار کرنے والوں کو معبد سے نکلوا دیا تھا۔ عیسائی پادریوں نے سود سے متعلق عہدنامہ قدیم میں پائی جانے والی تعلیمات کو ازسرنو زندہ کیا۔ ان نصوص کی بنیاد پر چوتھی صدی کے کیتھولک چرچ پادریوں کے گروہ نے کلیسا سے وابستہ افراد (Clergy ) کو سودی کاروبار کرنے سے منع کر دیا۔ پھر اسی حکم کو ایک صدی بعد عام آدمی (Laity) پر بھی لاگو کردیا گیا۔ آٹھویں صدی عیسوی میں شارلیمان (Charlemagne) کے حکم کے تحت ’ربا‘ کو ایک قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا۔ سود کے خلاف جنگ ۱۳۱۱ء میں اپنی انتہا کو پہنچ گئی، جب کہ پوپ کلیمنٹ پنجم نے ہرطرح کے سودی کاروبار پر مکمل پابندی عائد کر دی اور سود کے حق میں دی جانے والی ہرطرح کی دلیلوں کو خارج کر دیا۔(اے بیرنی، The History and Ethics of Interest, ، لندن، ۱۹۵۲ء)
یہ بات کہ سود ایک ظلم ہے، مسیحی اہلِ مدرسہ نے بہت تاخیر سے بارھویں صدی عیسوی میں بیان کیا، جس کو عیسائی معاشیات کے ایک مصنف اوبرائن (O'brien) نے بہت بڑا انکشاف قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق:الیگزنڈر سوم (م:۱۸۱۱ء) سود کے گہرے مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ سود ایک ظلم کا ارتکاب ہے۔ سود میں اصلاً ظلم اورناانصافی پائے جانے کا اعتراف اس موضوع پر مطالعے کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، اور الیگزنڈر سوم اس کا مستحق ہے کہ سود کے علمی مطالعے میں اس کو سفرمینا سمجھا جائے۔(جارج اوبرائن، An Essay on Medieval Economic Teachings لندن، ۱۹۲۰ء، ص ۱۷۵)
اس بات سے ہم سب واقف ہیں کہ قرآن نے شروع ہی میں سودی لین دین کو ایک ظلم قرار دے دیا تھا: لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ۝۲۷۹  (البقرہ ۲:۲۷۹) ’’نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے‘‘۔ بعد کے عہد میں خود کلیسا کے صاحب ِسرمایہ بننے اور تجارت کے فروغ سے یوژری (usury) اور انٹرسٹ (interest) میں فرق کی بحث شروع ہوئی، جس میں بالآخر ’انٹرسٹ‘ کو ’یوژری‘ سے الگ ایک جائز طریقے کے طور پر اکثر مسیحی علما نے تسلیم کرلیا۔ اس کے باوجود چرچ آف اسکاٹ لینڈ نے ۱۹۸۸ء میں سرمایہ کاری اور بینکنگ پر اپنی رپورٹ میں اس بحث کو پھر پوری قوت سے اُٹھایا، جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم اس کے قائل ہیں کہ کاروبار یا ذاتی قرضوں پر انٹرسٹ وصول کرنا بجاے خود چرچ کی اخلاقیات سے ہم آہنگ نہیں ہے، کیوں کہ یہ طے کرنا بہت مشکل ہے کہ جو ’انٹرسٹ‘ طلب کیا جارہا ہے، وہ مناسب ہے یا بہت زیادہ؟‘‘ (Church of Scotland Report of Special Commission on the Ethics of Investment and Banking ، ۱۹۸۸ء، بحوالہ: www.lariba.com/knowledge-center) 

سود کی مخالفت ، ہند کی مذہبی کتابوں میں

ایل سی جین نے اپنی کتاب Indigenous Banking in India میں سودی معاملات کی تاریخ تقریباً چار ہزار سال پرانی بتائی ہے اور ان کے مطابق اس کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی سود کی مخالفت و مذمت کی۔ وہ اقرار کرتے ہیں کہ ’’سارے ہی بڑے مذاہب، ہندوازم، بدھ ازم، یہودیت، عیسائیت اور اسلام سود کے مخالف رہے ہیں‘‘۔(ایل سی جین ،Indigenous Banking in India ، لندن، ۱۹۲۹ء، ص ۳-۱۰)
قدیم ہند میں سود سے متعلق قدیم ترین حوالہ وید  کے اندر پایا جاتا ہے، جس کا زمانہ دوہزار سے چودہ سو سال قبل مسیح سمجھا جاتا ہے۔ بعد کے اَدوار میں سوترا (۷۰۰-۱۰۰ ق م) کے اندر اور بدھ مت کے جاتکا  (۶۰۰-۴۰۰ ق م) میں سودکا بکثرت ذکر آیا ہے۔ جس میں  سود سے متعلق نفرت آمیز بیان پایا جاتا ہے۔ جاتکا  میں ہے کہ ’’صرف منافق بھکشو ہی سودی کاروبار کرسکتا ہے‘‘۔ وسشتھا (Vasishtha) جیسے  قدیم ہندو مقنن نے خاص طور پر یہ قانون بنایا تھاکہ اعلیٰ ذات کے برہمن اور کھشتری سود کا کاروبار نہیں کرسکتے۔ البتہ دوسری صدی عیسوی سے ممنوع سود کی اصطلاح ایک ایسے مشروط معاملے کے لیے استعمال ہونے لگی، جو قانونی شرح سے زیادہ ہو۔(ایل سی جین ،Indigenous Banking in India ، لندن، ۱۹۲۹ء، ص ۳-۱۰)
ہمیں کوشش کے باوجود کوئی ایسی تحقیق نہیں مل سکی، جو ہندستانی مذہبی کتابوں کے اصلی حوالوں سے سود کی بابت، ان کتابوں میں موجود احکام پر روشنی ڈال سکے۔ اس لیے زیربحث اس خاص پہلو کے لیے ثانوی ذرائع پر اعتماد کرنا پڑا، جن میں بہت تسلی بخش تفصیلات نہیں مل سکیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سود سے متعلق ہندستانی مذاہب کے موقف اور دھارمک گرنتھوں میں موجود ہدایات کو تحقیق کا عنوان بنایا جائے۔ 

حکما و فلاسفہ کی تائید

یہاں یہ بات مختصراً عرض کر دینا مناسب ہے کہ مذہبی کتابوں میں سود کی ممانعت اور مذمت (جس کو مذہب کے مخالف افراد گھڑہی ہوئی باتیں قرار دیتے ہیں) کی تائید اہلِ فکر و فلسفہ کے بیانات سے بھی ہوتی ہے۔ رومی مفکرین سیسرو (۱۰۶- ۴۳ ق م) اور سینکا (۶۵-۴ ق م) نے سودخوری کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت سے عاری عمل قرار دیا ہے۔ ان سے پہلے یونانی فلسفیوں افلاطون اور ارسطو نے بھی بڑی شدت کے ساتھ سود لینے کی مخالفت کی ہے۔ ان کے نزدیک یہ عمل عدل اور فطرت کے خلاف ہے کہ غیربارآور سکّے سے بڑھ کر رقم حاصل کی جائے۔(اے بیرنی، The History and Ethics of Interest, ، لندن، ۱۹۵۲ء،ص ۱۹۵)
ان فلاسفہ نے بھی پیداواری یا غیرپیداواری قرض میں کوئی فرق نہیں کیا ہے کہ اوّل الذکر پر سود کو جائز اور مؤخر الذکر پر سود کو ناجائز قرار دیں۔(جوزف الویس سچم پیٹر، History of Economic Analysis، لندن ۱۹۹۷ء، ص ۶۵)
عصرحاضر میں پیداواری اور غیرپیداواری قرضوں پر سود میں فرق کی بحث ایک فیشن بن گئی ہے۔ حالانکہ انجام کے اعتبار سے دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ نتائج کے لحاظ سے دونوں یکساں ہیں، کیوں کہ پیداواری قرضے کا بار بھی آخرکار عام صارفین ہی پر پڑتا ہے، جن کی اکثریت غریب ہوتی ہے۔ نیز کیا یہ مناسب ہے کہ صاحب ِ اصل زر [سرمایہ دار، ساہوکار]کو اس کے سرمایے پر طے شدہ فائدہ ملے، جب کہ اس سرمایے سے کام کرنے والے کو اس سے فائدے کی کوئی ضمانت نہ ہو؟کوئی بھی سلیم الفکر انسان اس طرح کی ناانصافی کو جائز قرار نہیں دے گا۔

سود کے منفی اثرات ، ماہرین معاشیات کی شہادت

سود کی بہت اُونچی شرح جو قانونی اور عام طور پر رائج شرح سے بہت بڑھ کر ہو، جس کو معاشیات کی اصطلاح میں یوژری (usury)کہتے ہیں۔ اس کی مخالفت، مذمت اور اس کے استحصالی ہونے میں علماے اخلاقیات کے علاوہ ماہرین معاشیات کے درمیان بھی شاید ہی کوئی اختلاف ہو۔ لیکن سود کی قانونی، اور معمولی شرح جس کو انٹرسٹ (interest) کا نام دیا جاتا ہے، اس کی تباہ کاریاں بھی کچھ کم نہیں۔ اسی لیے بہت سے حقیقت شناس اور سلیم الفکرماہرین معاشیات نے بھی سود کو معیوب سمجھا ہے اور اس کے نتائج بد سے پردہ اُٹھایا ہے۔ جس سے مذہبی کتابوں میں سود کی ممانعت کی تائید و تصدیق ہوتی ہے۔(افسوس کا مقام ہے کہ بعض مسلم شخصیات نے چلتے دھارے کی پیروی میں ’یوژری‘ اور ’انٹرسٹ‘ میں  فرق کرنے کی کوشش کی ہے۔ اوّل الذکر کو ’ربا‘ قرار دیا ہے اور مؤخر الذکر کے لیے ’فائدہ‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ حالاں کہ اسلام میں اس طرح کی کوئی تفریق ہوتی تو قرآن و حدیث میں اس کو ضرور واضح کر دیا گیا ہوتا۔ اب، جب کہ ’انٹرسٹ‘ کی خرابیاں واضح ہوتی جارہی ہیں، یہود و نصاریٰ کی پیروی میں ’یوژری‘ اور’انٹرسٹ‘ میں فرق کرتے ہوئے پہلے کو ناجائز اور دوسرے کو جائز قرار دینا حذو النعل بالنعل (قدم بہ قدم پیروی کرو گے) والی پیش گوئی کی تصدیق معلوم ہوتی ہے۔)مثلاً پروفیسر مارگریٹ کینڈی ( ہنوور یونی ورسٹی) اپنی کتاب Interest and Inflation Free Money, Okemos, 1995 میں تحریر کرتی ہیں کہ: سود ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں مثلِ سرطان ہے۔ انھوں نے سود اور افراطِ زر سے پاک نظامِ زر کی پُرزور وکالت کی ہے

اور یہ ثابت بھی کیا ہے کہ ۱۹۶۸ء سے ۱۹۸۹ء کے درمیان مجموعی قومی پیداوار (GNP) اور اُجرتوں میں ۴۰۰ فی صد اضافہ ہوا ہے، جب کہ اسی عرصے میں حکومت کی سود کی ادایگی ۱۳۶۰ فی صد بڑھی، جس کی وجہ سے افراطِ زرمیں زبردست اضافہ ہوا۔(ایم کینیڈی، Interest and Inflation Free Money، اوکیموس، ۱۹۹۵ء)
جدید سرمایہ دارانہ معیشت کے علَم بردار ایڈم اسمتھ، جسے اہلِ مغرب ’باباے معاشیات‘ کا لقب دیتے ہیں، اس نے ’یوژری‘ کی مخالفت کے ساتھ ’سود‘ کی اعلیٰ حد مقرر کرنے کی وکالت کی ہے۔(ایڈم اسمتھ ،An Inquiry into the Nature and Causes of the Wealth of Nations،نیویارک، ۱۹۳۷ء، ص ۳۳۹)

مشہور ماہر معاشیات جان مینارڈ کینز کی راے بھی کچھ اس طرح کی ہے۔(جے ایم کینز، A General Theory of Employment, Interest and Money ، لندن ۱۹۳۶ء، ص ۳۵۱-۳۵۳)
جیسل (Gesell) کا سود پر خاص اعتراض یہ ہے کہ: یہ معیشت کے عدم استقرار کا سبب بنتا ہے، جس کے نتیجے میں معیشت میں کبھی کساد، کبھی بے پناہ نشاط، کبھی گراوٹ، کبھی اُٹھان کے حالات ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔(گیسیل،Die Naturliche Wirtschaftsordnung، نورمبرگ، ۱۹۰۴ء) چنانچہ تجارتی چکر (Business Cycle) کا ایک مشہور نظریہ سود کے وجود پر منحصر ہے۔ شیخ محمد احمد کے مطابق سرمایہ دارانہ معیشت میں ایک بڑا مسئلہ بحرانوں کا پیدا ہونا ہے، جس کے پیچھے سود کا عمل کارفرما ہوتا ہے۔(ایس اے احمد، Economics of Islam (A

بھارت میں سودی قرضوں کا ایک قہر مقروض کسانوں کی خودکشی کی شکل میں برابر دیکھنے کو ملتا ہے، مثلاً ۲۳جولائی ۲۰۱۵ء کے روزنامہ انقلاب (نئی دہلی)کی شہ سرخی تھی: ’’۲۴گھنٹوں کے دوران کسانوں کی خودکشی کے سات واقعات پیش آئے‘‘۔ یہ واقعات وہ ہیں جو رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ نہ ہونے والے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ خبر ہے کہ ’’۲۰۱۴ء میں ملک بھر میں ۱۲ ہزار سے زائد کسانوں نے خودکشی کی تھی‘‘۔یہ وہ کسان ہیں، جنھوں نے کاشت کے لیے سودی قرضے لیے تھے اور فصلیں خاطرخواہ نہ ہونے کے سبب قرض اور سود کی رقم کی ادایگی سے اپنے کو عاجز پاکر یہ انتہائی قدم اُٹھانے پر مجبور ہوگئے۔ اگر سودی قرض کے بجاے پیداوار کے نفع و نقصان میں شرکت کی بنیاد پر سرمایہ فراہم کیا جائے تو یہ صورتِ حال نہ پیدا ہو۔

خلاصۂ  کلام

ان مباحث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید میں کس شدت کے ساتھ سود کی ممانعت آئی ہے۔ دوسری مذہبی کتابیں بھی سود کی ممانعت و مذمت سے خالی نہیں ہیں۔ سود کا حرام ہونا کوئی  عقل و فہم سے بالاتر شے نہیں ہے۔ حکما، فلاسفہ اور اہلِ دانش سبھی اس کے خلاف ہیں۔ سنجیدہ ماہرین معاشیات کے نزدیک بھی سود، معیشت کے لیے کوئی مفید چیز نہیں ہے۔ اس کے غیرموافق معاشی اثرات اور و اقعات و شواہد اس کے متقاضی ہیں کہ سود کا خاتمہ ہو۔ یہ ساری چیزیں اس بات کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں، کہ سود کے خلاف ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہو اور اس بُرائی کے خاتمے کے لیے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ربط و تعاون ہو۔ اس طرح کی کوششوں کے اچھے اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں۔

سود کا نعم البدل یہ ہے کہ کاروبار شراکت کی بنیاد پر ہو، جس میں دونوں فریق نفع و نقصان میں شریک ہوں۔ شراکت کی بنیاد پر مالیات کی فراہمی سے حقیقی معیشت کا نشوونما ہوتا ہے، جب کہ سودی مالیات سے زر کی بنیاد پر زر کا پھیلائو ہوتا ہے، جو افراطِ زر، معاشی بحران اور عدم استحکام کا سبب بنتا ہے۔ شراکت اور حصہ داری پر مبنی معاشی سرگرمیوں سے پیداوار میں اضافہ، معیشت میں استحکام، کارکردگی میں تیزی، معاشی ترقی اور عدل و انصاف کے فروغ میں مدد ملتی ہے۔لہٰذا، اس کو رواج دینے کی ضرورت ہے۔(محمد نجات اللہ صدیقی، Current Financial Crisis and Islamic Economics in: Issues in the International Financial Crisis from an Islamic Perspective، جدہ، ۲۰۰۹ء،ص ۶-۷۔ l محمد فہیم خان ، World Financial Crisis: Lesson form Islamic Economics   ایضاً، ۲۰۰۹ء، ص۲۱)

کئی سال سے مسلسل یہ دیکھا جارہا ہے کہ ہربقرعید کے موقعے پر اخبارات اور رسالوں کے ذریعے سے بھی اور اشتہاروں اور پمفلٹوں کی صورت میں بھی، قربانی کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک طوفان اُٹھایا جاتا ہے، اور ہزاروں بندگانِ خدا کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا جاتا ہے کہ: ’’یہ کوئی دینی حکم نہیں ہے بلکہ ایک غلط اور نقصان دہ رسم ہے، جو ملاؤں نے ایجاد کرلی ہے‘‘۔
اس وسوسہ اندازی کے خلاف قریب قریب ہرسال ہی علما کی طرف سے مسئلے کی پوری وضاحت کر دی جاتی ہے۔ قربانی کے ایک حکمِ شرعی ہونے اور مسنون اور واجب ہونے کے دلائل دیے جاتے ہیں، اور مخالفین کے استدلال کی کمزوریاں کھول کر رکھ دی جاتی ہیں۔ لیکن ہرمرتبہ    یہ سب کچھ ہوچکنے کے بعد، دوسرے سال پھر دیکھا جاتا ہے کہ وہی لگی بندھی باتیں، اسی طرح دُہرائی جارہی ہیں۔ گویا نہ کسی نے قربانی کے مشروع [یعنی شریعت کے مطابق]ہونے کا کوئی ثبوت دیا اور نہ اس کے خلاف دلیلوں کی کوئی کمزوری واضح کی، بلکہ [بعض افراد نے] تو ایک قدم اور آگے بڑھا کر حکومت کو بے تکلف یہ مشورہ دے دیا ہے کہ: ’وہ قربانی کو ازروے قانون محدود کرنے کی کوشش کرے‘۔


  • آج سے ۶۰ برس پہلے، جب کھلے اور چھپے میں، کچھ مغرب زدہ یا تحریف دین کی خواہش رکھنے والے عناصر نے ’بقرعید‘ کے موقعے پر قربانی کے ’غیرضروری‘ ہونے کی باتیں شروع کیں، تو مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی مرحوم و مغفور نے اس پروپیگنڈے کی حقیقت بیان کرتے ہوئے یہ تحریر بطور ’اشارات‘ لکھی ایک مدت تک مخالف محاذ پر خاموشی چھائی رہی۔ افسوس کہ آج ۶۰برس گزرنے کے بعد میڈیا، سوشل میڈیا پہ وہی عناصر قربانی کے حوالے سے اسی نوعیت کی گفتگوئیں پیش کر رہے ہیں، اس کی مناسبت سے یہ تحریر مطالعے کے لیے پیش ہے۔ ادارہ

ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں، جو [اگست ۱۹۴۷ء] تک متحدہ ہندستان کا ایک حصہ تھا۔ ہماری سرحد کے اُس پار ہمارے کروڑوں دینی بھائی اب بھی سابق متحدہ ہندستان کے اُس حصے میں موجود ہیں، جس سے ہم الگ ہوئے تھے۔ ان کو آج بھی اُسی قوم سے سابقہ درپیش ہے جس سے کبھی ہم کو درپیش تھا، بلکہ وہ آج تقسیم سے قبل کی بہ نسبت بدرجہا زیادہ کمزوری اورمغلوبی کی حالت میں مبتلا ہیں۔ اُن پر جس قوم کو غلبہ حاصل ہے، وہ سالہا سال سے گائے کی قربانی پر ہمارے ساتھ سر پھٹول کرتی رہی تھی، اور تقسیم کے بعد جب اسے مسلمانوں پر پورا قابو حاصل ہوا تو اس نے سب سے پہلے ان کو اسی حق سے محروم کیا۔
اب یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ پاکستان جو ہندو تہذیب و تمدن کے تسلط سے مسلمانوں کی تہذیب و تمدن کو بچانے کے لیے بنا تھا، وہی آگے بڑھ کر ہندستان کے ہندوئوں کو یہ رہنمائی دے کہ: ’’مہاراج! گائے کی قربانی کیسی؟ آپ تو ہرقسم کی قربانی ازروے قانون بند کرسکتے ہیں۔ یہ چیز سرے سے شعائر اسلام میں داخل ہی نہیں ہے کہ اسے روک دینے پر آپ کو کسی مذہبی تعصب کا الزام دیا جاسکے۔ حق بجانب وہ مسلمان نہیں ہے جو اسے اپنا مذہبی حق کہہ کر اس پر اصرار کرتا ہے، بلکہ وہ ہندو ہے جو اِس غیر مذہبی رسم سے اس کو باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمیں تو پاکستان میں اس جاہل مسلم اکثریت سے سابقہ ہے، اس لیے یہاں ہم بربناے احتیاط بتدریج اسے محدود کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ آپ کو تو کسی کا ڈر نہیں ہے۔ آپ یک قلم اسے مسدود فرما دیں۔ اس معاملے میں شریعت ِاسلام، مسلمانوں کے ساتھ نہیں بلکہ آپ کے ساتھ ہوگی!‘‘
کس قدر جلدی بُھولے ہیں ہم اُس حالت کو، جس سے خدا نے ہمیں نکالا اور جس میں ہمارے کروڑوں بھائی اب بھی مبتلا ہیں۔ شاید برطانوی ہند میں ہندوئوں سے ہماری کش مکش صرف اس لیے تھی کہ اپنی تہذیب کا جھٹکا دوسروں سے کرانے کے بجاے ہم خود اسے حلال کرنا چاہتے تھے۔

تفرقے کو ہوا دینے کی کوشش

مسلمانوں میں اختلافات کی پہلے ہی کوئی کمی نہ تھی۔ یہ تفرقوں کی ماری ہوئی قوم فی الواقع رحم کی مستحق تھی۔ کسی کے دل میں اس کے لیے خیرخواہی کا جذبہ موجود ہوتا تو وہ یہ سوچتا کہ اس کے اختلافات میں اتفاق کی کوئی راہ دریافت کرے۔ لیکن یہاں حال یہ ہے کہ جو لوگ خیرخواہی کے ارادے یا دعوے سے اُٹھتے ہیں، وہ ان چیزوں میں بھی اختلاف کی راہیں نکال رہے ہیں، جن میں خوش قسمتی سے مسلمانوں کے درمیان ابتدا سے آج تک اتفاق موجود ہے۔ گویا ان حضرات کے نزدیک دین کی اصل خدمت اور ملّت کی صحیح خیرخواہی یہ ہے کہ متفق علیہ مسائل کو بھی کسی نہ کسی طرح اختلافی بنادیا جائے، اور کوئی چیز ایسی نہ چھوڑی جائے جس کے متعلق یہ کہا جاسکے کہ سب مسلمان اس میں متفق ہیں۔
قربانی کا مسئلہ ایسے ہی متفق علیہ مسائل میں سے ہے۔ پہلی صدی ہجری کے آغاز سے آج تک مسلمان اس پر متفق رہے ہیں۔ اسلامی تاریخ کی پوری چودہ صدیوں میں آج تک اس کے مشروع اور مسنون ہونے کے بارے میں اختلاف نہیں پایا گیا ہے۔ اس میں ائمہ اربعہ اور    اہلِ حدیث متفق ہیں۔ اس میں شیعہ اور سُنّی متفق ہیں۔ اس میں قدیم زمانے کے مجتہدین بھی متفق تھے اور آج کے سب فرقے بھی متفق ہیں۔ اب یہ تفرقہ و اختلاف کا شیطانی ذوق نہیں تو اور کیاہے کہ کوئی شخص ایک نرالی بات لے کر اُٹھے اور اس متفق علیہ اسلامی طریقے کے متعلق بے چارے عام مسلمانوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرے کہ یہ ’تو سرے سے کوئی اسلامی طریقہ ہی نہیں ہے‘۔
پھر یہ اختلاف بھی کسی معمولی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک بہت بڑی فتنہ انگیز بنیاد پر اُٹھایا گیاہے۔  یعنی سوال یہ چھیڑا گیا ہے کہ: ’یہ بقرعید کی قربانی آخر تم کس سند (authority ) پر کرتے ہو،  قرآن میں تو اس کا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے؟‘ دوسرے الفاظ میں مطلب یہ ہوا کہ: ’اسلام میں سند   صرف ایک قرآن ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کوئی سند نہیں ہے‘۔ حالانکہ جس خدا نے قرآن نازل کیا ہے، اسی نے اپنا رسولؐ بھی مبعوث کیا تھا۔ اس کا رسولؐ اسی طرح ایک اتھارٹی ہے، جس طرح اس کی کتاب۔
اس کے رسولؐ کی اتھارٹی کسی طرح بھی اس کی کتاب کی اتھارٹی سے کم نہیں ہے۔ نہ وہ کتاب کے ساتھ کوئی ضمنی حیثیت رکھتی ہے، نہ اس کے ذریعے سے دیے ہوئے کسی حکم کے لیے قرآن کی توثیق کسی درجے میں بھی ضروری ہے، بلکہ حق تو یہ ہے کہ قرآن جس کی سند پر کلام اللہ مانا گیا ہے وہ بھی رسولؐ ہی کی سند ہے۔ اگر رسولؐ نے یہ نہ بتایا ہوتا کہ: ’یہ قرآن، خدا نے اس پر نازل کیا ہے، تو ہمارے پاس نہ یہ جاننے کا کوئی ذریعہ تھا اور نہ یہ ماننے کی کوئی وجہ تھی کہ یہ کتاب خدا کی کتاب ہے۔ اب یہ کس طرح صحیح ہوسکتا ہے کہ جو حکم رسولؐ نے دیا ہو اور جس طریقے پر رسولؐ نے خود عمل کیا اور اہلِ ایمان کو اس پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہو، اس کے متعلق یہ کہا جائے کہ: ’اس کا حکم قرآن میں ہو تو ہم مانیں گے، ورنہ پیروی سے انکار کردیں گے؟‘___ اس کے معنی اس کے سوا اور کیا ہیں کہ: ’خدا کی کتاب تو واجب الاتباع ہے مگر خدا کا رسولؐ واجب الاتباع نہیں ہے‘۔

رسالت کا غلط تصور

یہ بات حقیقت کے خلاف بھی ہے اور سخت فتنہ انگیز بھی۔
حقیقت کے خلاف یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ اللہ محض ایک ڈاکیہ بنا کر نہیں بھیجا تھا کہ: ’آپ کا کام اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دینے کے بعد ختم ہوجائے اور اس کے بعد بندے، اللہ کے نامۂ گرامی کو لے کر جس طرح ان کی سمجھ میں آئے، اس کی تعمیل کرتے رہیں‘۔
خود قرآن کی رُو سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب کی نوعیت کفّار کے لیے الگ اور اہلِ ایمان کے لیے الگ ہے۔ کفّا رکے لیے آپؐ بے شک صرف مبلّغ اور داعی الی اللہ ہیں، مگر جو لوگ ایمان لے آئیں، ان کے لیے تو آپؐ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے مکمل نمایندے ہیں۔ آپؐ کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے، مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ ج [النساء۴:۸۰]۔ آپؐ کے اتباع کے سوا اللہ کی خوشنودی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں، قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ   [اٰلِ عمرٰن۳:۳۱]۔اللہ نے آپؐ کو اپنی طرف سے معلّم، مربی، رہنما، قاضی، امروناہی اور حاکمِ مطاع، سب کچھ بنا کر مامور فرمایا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام یہ تھا کہ مسلمانوں کے لیے عقیدہ و فکر، مذہب و اخلاق، تمدن و تہذیب، معیشت و سیاست، غرض زندگی کے ہرگوشے کے لیے وہ اصول، طریقے اور ضابطے مقرر کریں، جو اللہ کی پسند کے مطابق ہوں۔ اور مسلمانوں کا فرض یہ ہے کہ جو کچھ آپؐ نے سکھایا اور مقرر کیا ہے، اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے کوئی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ رسولؐ اللہ جو حکم دیں اس پر ان سے سند طلب کرے۔ رسول ؐ اللہ کی ذات خود  سند ہے۔ اس کا حکم بجاے خود قانون ہے۔ اس کے مقابلے میں کوئی مسلمان یہ سوال کرنے کا مجاز نہیں ہے کہ جو حکم رسولؐ نے دیا ہے اس کا حوالہ قرآن میں ہے یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ کوئی ہدایت خواہ اپنی کتاب کے ذریعے سے دے یا اپنے رسولؐ کے ذریعے سے، سند اور وزن کے اعتبار سے دونوں بالکل یکساں ہیں اور قانونِ الٰہی ہونے میں ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

منصبِ رسالتؐ پر حملہ

بالکل غلط کہتا ہے جو کہتا ہے کہ: ’محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اور فیصلوں اور ہدایات کی قانونی حیثیت صرف اپنے عہد کے رئیس مملکت (Head of the State) ہونے کی بناپر تھی، یعنی جب آپ رئیسِ مملکت تھے اس وقت آپؐ کی اطاعت واجب تھی اور اب جو [فرد] رئیسِ مملکت یا ’مرکز ملّت‘ ہوگا، اس کی اطاعت اب واجب ہوگی۔ یہ [منصب ِ] رسالت کا بدترین تصور ہے جو کسی شخص کے ذہن میں آسکتا ہے۔ اسلامی تصورِ رسالت سے اس کو دُور کا واسطہ بھی نہیں:

  •  رئیسِ مملکت کے منصب کو آخر رسولؐ کے منصب سے کیا نسبت ہے؟ اس [یعنی رئیس مملکت]کو عام مسلمان منتخب کرتے اور وہی معزول کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ حالانکہ رسولؐ کو خدا مقرر کرتا ہے اور خدا کے سوا کسی کو اسے معزول کرنے کا اختیار نہیں۔
  • رئیسِ مملکت جس علاقے کا رئیس ہو، اور جب تک اس منصب پر رہے، صرف اسی علاقے میں، اسی وقت تک اس کو رئیس ماننا واجب ہے اور پھر بھی اس پر ایمان لانے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی اُسے نہ مانے تو ملّت ِ اسلام سے خارج ہوجائے۔ حالانکہ رسولؐ جس آن مبعوث ہوا، اس وقت سے قیامت تک دنیا میں کوئی شخص اس پر ایمان لائے بغیر ملّت اسلامیہ کا فرد نہیں بن سکتا۔
  • رئیسِ مملکت کو آپ دل میں بُرا جان سکتے ہیں، اس کو برملا بُرا کہہ سکتے ہیں، اس کے   قول و فعل کو علانیہ غلط کہہ سکتے ہیں، اور اس کے فیصلوں سے اختلاف کرسکتے ہیں۔ لیکن رسولؐ کے ساتھ یہ رویہ اختیار کرنا تو درکنار، اس کا خیال بھی اگر دل میں آجائے تو ایمان سلب ہوجائے۔
  •    رئیسِ مملکت کے حکم کو ماننے سے آپ صاف انکار کرسکتے ہیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ بس ایک جرم ہوگا، مگر رسولؐ کے حکم کو اگر یہ جاننے کے بعد کہ وہ رسولؐ کا حکم ہے، آپ ماننے سے انکار کردیں تو قطعی خارج از اسلام ہوجائیں۔ اس کے حکم پر تو آپ چون و چرا تک نہیں کرسکتے، بلکہ اس کے خلاف دل میں کوئی تنگی تک محسوس کرنا ایمان کے منافی ہے۔
  •    رئیسِ مملکت عوام کا نمایندہ ہے اور رسولؐ اللہ کا نمایندہ۔
  •   رئیسِ مملکت کی زبان قانون نہیں ہے، بلکہ اُلٹا قانون اس کی زبان پر حاکم ہے، مگر رسولؐ اللہ کی زبان قانون ہے، کیونکہ خدا اسی زبان سے اپنا قانون بیان کرتا ہے۔ 

اب یہ کیسا سخت طغیانِ جاہلیت ہے کہ رسولؐ کو محض ایک علاقے اور زمانے کے رئیسِ مملکت کی حیثیت دے کر کہا جائے کہ: ’اس کے دیے ہوئے احکام اور ہدایات بس اسی زمانے اور علاقے کے لوگوں کے لیے واجب الاتباع تھے، آج ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں‘۔

ملّت اسلامیہ کی اساس پر زد

یہ تو ہے حقیقت کے خلاف اس تصور کی بغاوت۔ اب ذرا اس کی فتنہ انگیزی کا اندازہ کیجیے۔ آج جس چیز کو آپ اسلامی نظامِ حیات اور اسلامی تہذیب و تمدن کہتے ہیں، جس کے اصولوں اور عملی مظاہر کی یکسانی نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک ملّت بنا رکھا ہے، جس کی یک رنگی نے مسلم کو مسلم سے جوڑا اور کافر سے توڑا ہے، جس کی امتیازی خصوصیات نے مسلمانوں کو ساری دنیا میں غیرمسلموں سے ممیز کیا اور سب سے الگ ایک مستقل اُمت بنایا ہے، اس کا تجزیہ کرکے   آپ دیکھیں، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کا کم از کم ۱۰/۹ حصہ وہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقتدارِ رسالت سے مسلمانوں میں رائج کیا ہے، اور بمشکل ۱۰/۱  حصہ ایسا ہے جس کی   سند قرآن میں ملتی ہے۔ پھر اس ۱۰/۱  کا حال بھی یہ ہے کہ اگر اس پر عمل درآمد کی وہ صورت    شریعت ِ واجب الاتباع نہ ہو، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کی ہے تو دنیا میں مختلف مسلمان___  افراد بھی اور گروہ بھی اور ریاستیں بھی___ اس پر عمل درآمد کی اتنی مختلف شکلیں تجویز کرلیں کہ ان کے درمیان کوئی وحدت و یک رنگی باقی نہ رہے۔
اب خود اندازہ کرلیجیے کہ اگر وہ سب کچھ ساقط کردیا جائے ، جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے رواج دینے سے مسلمانوں میں رائج ہے، تو اسلام میں باقی کیا رہ جائے گا، جسے ہم اسلامی تہذیب و تمدن کہہ سکیں اور جس پر دنیا بھر کے مسلمان مجتمع رہ سکیں؟
مثال کے طور پر دیکھیے۔ یہ اذان جو دنیا بھر میں مسلمانوں کا سب سے زیادہ نمایاں ملّی شعار ہے، جسے روے زمین کے ہرگوشے میں ہر روز پانچ وقت مسلم اور کافر سب سنتے ہیں، اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے مقرر اور رائج کیا ہے۔ قرآن میں اس کا کوئی حکم نہیں۔ نہ وہ اس کے الفاظ بتاتا ہے، نہ یہ حکم دیتا ہے کہ روزانہ پانچ وقت نمازوں سے پہلے یہ پکار بلند کی جائے:

  •   اس میں ایک جگہ صرف یہ کہا گیا ہے کہ: اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللہِ [الجمعۃ ۶۲:۹]’’جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے روز تو دوڑو اللہ کی یاد کی طرف‘‘۔ ظاہر ہے کہ یہ پکار سن کر دوڑنے کا حکم ہے، خود اس پکار کا حکم نہیں ہے۔
  •    دوسری جگہ اہلِ کتاب کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ: وَاِذَا نَادَيْتُمْ اِلَى الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْہَا ہُزُوًا وَّلَعِبًا ط[المائدہ ۵:۵۸]’’جب تم نماز کے لیے پکارتے ہو تو وہ اسے مذاق اور کھیل بنالیتے ہیں‘‘۔ یہ سرے سے کوئی حکم ہی نہیں ہے بلکہ صرف ایک رائج شدہ چیز کا مذاق اُڑانےپر ’اہلِ کتاب‘ کی مذمت کی جارہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر وہ اختیار و اقتدار جس نے اس اذان کے الفاظ مقرر کیے اور اسے مسلمانوں میں رواج دیا، دائمی اور عالم گیر شریعت مقرر کرنے کا مجاز نہ ہوتا، تو کیا صرف ان دو آیتوں کی بنیاد پر آج دنیا میں آپ اذان کی آواز کہیں سن سکتے تھے؟
خود یہ نماز باجماعت جس کے لیے اذان دی جاتی ہے، اور یہ نمازِ جمعہ جس کی پکار سن کر دوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، اور یہ عیدین جو ہزارہا مسلمانوں کو اکٹھا کرتی ہیں، اور یہ مسجدیں جو دنیابھر میں مسلم معاشرے کی اجتماعی زندگی کے لیے مرکز کی حیثیت رکھتی ہیں، ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جس کا حکم قرآن میں دیا گیا ہو۔ قرآن صرف نماز کا حکم دیتا ہے ، باقاعدہ نماز باجماعت ادا کرنے کا کوئی صاف حکم نہیں دیتا۔ جمعہ کی نماز کے لیے وہ صرف یہ کہتا ہے کہ جب اس کے لیے پکارا جائے تو دوڑ پڑو۔ اسے خود نمازِ جمعہ قائم کرنے کا حکم مشکل ہی سے کہا جاسکتا ہے۔ عیدین کی نمازوں کا تو سرے سے اس میں کوئی ذکر ہی نہیں۔ رہیں مسجدیں تو ان کے احترام کا حکم ضرور قرآن میں دیا گیا ہے، مگر یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ: ’اے مسلمانو! تم اپنی ہربستی میں مسجد تعمیر کرو اور اس میں ہمیشہ نمازِ باجماعت قائم کرنے کا اہتمام کرو‘۔ یہ ساری چیزیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس اختیار واقتدار کی بنا پر ، جس کے ساتھ اللہ نے آپؐ کو شارع مقرر کیا تھا، مسلمانوں میں رائج کی ہیں۔ اگر یہ اختیارواقتدار مسلّم نہ ہوتا، تو اسلام کے یہ نمایاں ترین شعائر جن کا مسلمانوں کو مجتمع کرنے اور ایک یک رنگ اُمت بنانے اور اسلامی تہذیب کی صورت گری کرنے میں سب سے زیادہ حصہ ہے، کبھی قائم نہ ہوتے اور مسلمان آج مسیحیوں سے بھی زیادہ منتشر و پراگندہ ہوتے۔
یہ صرف سامنے کی چند مثالیں ہیں۔ ورنہ تفصیل کے ساتھ دیکھا جائے تو معلوم ہو کہ اگر ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف ایک کتاب ہی ملی ہوتی اور اس کے ساتھ اللہ کے رسولؐ نے آکر انفرادی زندگی سے لے کر خاندان، معاشرے اور ریاست تک کے معاملات میں ہمارے لیے تہذیب کی ایک متعین صورت نہ بنا دی ہوتی، تو آج ہم ایک ممتاز عالم گیر ملّت واحدہ کی حیثیت سے موجود نہ ہوتے۔ اب جو شخص اس رسالتؐ کی شرعی حیثیت اور اس کی قانونی سند کو چیلنج کرتا ہے، اس کے اس چیلنج کی زد ایک ’قربانی‘ کے مسئلے یا دوچار منفرد مسئلوں پر نہیں پڑتی، بلکہ اسلامی تہذیب کے پورے نظام اور ملّت اسلامیہ کی اساس و بنیاد پر پڑتی ہے۔ جب تک ہم بالکل خودکشی پر آمادہ نہ ہوجائیں، ہمارے لیے کسی کی یہ بات ماننا محال ہے کہ: ’جس چیز کی سند قرآن میں ملے بس وہی باقی رہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سند پر جتنی چیزوں کا مدار ہے وہ سب ساقط کردی جائیں‘۔

سنت، قرآن کی عملی تشریح ہے!

اعتراض کی اس غلط بنیاد اور اس کے خطرناک نتائج کو سمجھ لینے کے بعد اب بجاے خود اس مسئلے کو دیکھیے، جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے۔ ’قربانی‘ کے متعلق یہ کہنا کہ: ’قرآن میں سرے سے اس کا کوئی حکم ہی نہیں ہے، خلافِ واقعہ ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ قرآن وہ اصولی حقائق بیان کرتا ہے، جس کی بناپر انسان کو اللہ تعالیٰ کے لیے جانوروں کی قربانی کرنی چاہیے، اور پھر اس کا ایک عام حکم دے کر چھوڑ دیتا ہے۔ اس حکم پر عمل درآمد کیسے کیا جائے؟ اس کی کوئی تصریح وہ نہیں کرتا۔ یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا کہ آپؐ اُسی خدا کی ہدایت کے تحت، جس نے قرآن آپؐ پر نازل کیا تھا، اس کی عملی صورت، اس کا وقت، اس کی جگہ اور اس کے ادا کرنے کا صحیح طریقہ مسلمانوں کو بتائیں اور خود اس پر عمل کرکے دکھائیں۔
یہ کام تنہا ایک قربانی کے متعلق ہی نہیں، قرآن کے دوسرے احکام کے متعلق بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، نکاح، طلاق، وراثت، غرض مسلم معاشرے کے مذہب اور تمدن و معاشرت اور معیشت و سیاست اور قانون و عدالت اور صلح و جنگ کے تمام معاملات میں یہی کچھ ہوا ہے کہ قرآن نے کسی کے بارے میں مختصر اور کسی کے بارے میں کچھ تفصیل کے ساتھ احکام دیے، یا صرف اشارتاً اللہ تعالیٰ کی مرضی بیان کردی، اور پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عملی جامہ پہنانے کی صورتیں واضح حدود کے ساتھ متعین فرمائیں، ان پر خود کام کر کے دکھایا، اور اپنی رہنمائی میں ان کو رائج کیا___ کوئی صاحب ِ عقل آدمی اس میں شک نہیں کرسکتا کہ کتابی رہنمائی کے ساتھ یہ عملی رہنمائی بھی انسانوں کو درکار تھی، اور اس رہنمائی کے لیے اللہ کے رسولؐ کے سوا کوئی دوسرا نہ موزوں ہوسکتا تھا نہ مجاز۔
قربانی کا قرآن میں حکم اور حکمت
قرآن میں [قربانی کے] مسئلے کے متعلق جو اصولی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں،وہ یہ ہیں:

  • ’عبادت کی تمام وہ صورتیں جو انسان نے غیراللہ کے لیے اختیار کی ہیں، دین حق میں وہ سب غیراللہ کے لیے حرام اور خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لیے واجب کردی گئیں‘ مثلاً: 

__ انسان غیراللہ کے آگے جھکتا اور سجدے کرتا تھا۔ دین حق نے اسے اللہ کے لیے مخصوص کر دیا اور اس کے لیے نماز کی صورت مقرر کر دی۔ 
__ انسان غیراللہ کے سامنے مالی نذرانے پیش کرتا تھا۔ دین حق نے اسے اللہ کے لیے خاص کر دیا اور اس کی عملی صورت ’زکوٰۃ‘ مقرر کر دی۔ 
__ انسان غیراللہ کے نام پر روزے رکھتا تھا۔ دین حق نے اسے بھی اللہ کے لیے مختص کر دیا اور اس غرض کے لیے رمضان کے روزے فرض کر دیے۔ 
__ انسان غیراللہ کے لیے تیرتھ یاترا کرتا اور استھانوں کے طواف کرتا تھا۔ دین حق نے اس کے لیے ایک بیت اللہ بنایا اور اس کا حج اور طواف فرض کر دیا۔ 
__ اسی طرح انسان قدیم ترین زمانے سے آج تک غیراللہ کے لیے قربانی کرتا رہا ہے۔ دین حق نے اسے بھی غیراللہ کے لیے حرام کر دیا اور حکم دیا کہ یہ چیز بھی صرف اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔ 

چنانچہ دیکھیے: ایک طرف قرآنِ مجید مَآ اُہِلَّ بِہٖ لِغَيْرِ اللہِ ۝۰ۚ[البقرہ ۲:۱۷۳] ’’جسے غیراللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو‘‘ اور مَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ [المائدہ ۵:۳] ’’جسے استھانوں پر ذبح کیا گیا ہو‘‘ کو قطعی حرام قرار دیتا ہے، اور دوسری طرف حکم دیتا ہے: فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ O [الکوثر۱۰۸:۲] ’’اپنے ربّ ہی کے لیے نماز پڑھ اور اسی کے لیے قربانی کر‘‘۔

  • انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں بھی عطا فرمائی ہیں، ان سب کا شکریہ اس پر واجب ہے اور یہ شکریہ ہرنعمت کے لیے قربانی اور نذرانہ کی شکل میں ہونا چاہیے۔ ذہن اور نفس کے عطیے کا شکریہ اسی شکل میں ادا ہوسکتا ہے کہ آدمی ایمان و طاعت کی راہ اختیار کرے۔ جسم اور اس کی طاقتوں کا عطیہ یہی شکریہ چاہتا ہے کہ آدمی نماز اور روزے کی شکل میں اسے ادا کرے۔ مال کے عطیے کا شکریہ زکوٰۃ ہی کی صورت میں ادا کیا جاسکتا ہے، اور زکوٰۃ بھی اس طرح کہ سیم و زر کی زکوٰۃ اسی سیم و زر سے، زرعی پیداوار کی زکوٰۃ اسی پیداوار میں سے، اور مواشی کی زکوٰۃ انھی مواشی میں سے نکال لی جائے۔ اسی طرح اپنے پیدا کیے ہوئے جانوروں پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو قدرت بخشی ہے اور ان سے طرح طرح کے بے شمار فائدے اُٹھانے کا جو موقع اس نے دیا ہے، اس کے شکریے کی بھی یہی صورت ہے کہ انسان ان جانوروں ہی میں سے اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کرے۔ چنانچہ سورئہ حج میں قربانی کی ہدایت فرمانے کے بعد اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ: كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰہَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ [الحج ۲۲:۳۶] ’’اسی طرح ہم نے ان کو تمھارے لیے مسخر کیا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو‘‘۔
  •  انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں پر جو اقتدار اور تصرف کا اختیار بخشا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی بالادستی اور اس کی حاکمیت و مالکیت کا اعتراف کرتا رہے، تاکہ اسے کبھی یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ سب کچھ میرا ہے اور مَیں ہی اس کا خودمختار مالک ہوں۔ اس بالاتری کے اعتراف کی مختلف شکلیں اللہ کے مختلف عطیوں کے معاملے میں رکھی گئی ہیں۔ جانوروں کے معاملے میں اس کی شکل یہ ہے کہ انھیں اللہ کے نام پر قربان کیا جائے۔ چنانچہ اسی سورئہ حج میں اسی سلسلۂ کلام میں آگے چل کر فرمایا گیا: كَذٰلِكَ سَخَّرَہَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللہَ عَلٰي مَا ہَدٰىكُمْ[الحج ۲۲:۳۷]اسی طرح   اللہ نے ان کو تمھارے لیے مسخر کیا ہے، تاکہ تم اس کی بڑائی کا اظہار کرو اس ہدایت پر، جو اس نے تمھیں بخشی۔

یہی تین وجوہ ہیں ، جن کی بنا پر قرآنِ مجید ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیشہ سے تمام شرائع الٰہیہ میں تمام اُمتوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے قربانی کا طریقہ مقرر کیا ہے:
وَلِكُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللہِ عَلٰي مَا رَزَقَہُمْ مِّنْۢ بَہِيْمَۃِ الْاَنْعَامِ۝۰ۭ [الحج ۲۲:۳۴]اور ہر اُمت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک طریقہ مقرر کیا، تاکہ وہ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں بخشے ہیں۔
اور یہ طریقہ جس طرح دوسری اُمتوں کے لیے تھا، اسی طرح شریعت محمدی میں اُمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی مقرر کیا گیا:
قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۶۲ۙ  لَا شَرِيْكَ لَہٗ۝۰ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِـمِيْنَ۝۱۶۳ (الانعام۶:۱۶۲-۱۶۳) اے محمدؐ، کہو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور اسی چیز کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے مَیں سرِاطاعت جھکانے والا ہوں۔ 
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ[کوثر۱۰۸:۲]پس، اپنے ربّ کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔
یہ حکمِ عام تھا جو قربانی کے لیے قرآن میں دیا گیا۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ قربانی کب کی جائے، کہاں کی جائے، کس پر یہ واجب ہے، اور اس حکم پر عمل درآمد کرنے کی دوسری تفصیلات کیا ہیں؟ ان چیزوں کو بیان کرنے اور ان پر عمل کرکے بتانے کا کام اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چھوڑ دیا کیونکہ رسولؐ اس نے بلاضرورت نہیں بھیجا تھا۔ کتاب کے ساتھ رسولؐ بھیجنے کی غرض یہی تھی کہ وہ لوگوں کو کتاب کے مقصد و منشا کے مطابق کام کرنا سکھائے۔
[جولائی ۱۹۵۹ء]
 

انسانی تاریخ کے ہر دور میں علوم و فنون کا، مذہب اور اخلاقیات کے ساتھ گہرا تعلق رہا ہے۔عصرِحاضر کے مسائل کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ اس دور میں یہ رشتہ بے وقعت ہوکر رہ گیا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ جدید مغربی زندگی کی پوری عمارت سیکولر طرزِ فکر کی بنیادوں پر کھڑی کی گئی ہے۔ جدیدیت کے نظریہ سازوں کے نزدیک: ’’مذہبی اور اخلاقی تصورات کا نہ صرف سائنس اور علوم و فنون سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ یہ تصورات علمی ترقی اور سماجی زندگی کی راہ میں رکاوٹ تھے‘‘۔ چنانچہ اس بات کی سنجیدہ کوشش کی گئی کہ خاص طور پر سائنسی اور ٹکنالوجیکل تحقیقات ہرطرح کے اخلاقی اثر سے آزاد ہوکر کی جائیں۔ جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ جدید ٹکنالوجی نے جب اپنے سفر کا آغاز کیا تو اس وقت اس کے سامنے کوئی اخلاقی نصب العین نہیں تھا۔ پھر جدید مغربی تہذیب کے سامنے ایک اہم ہدف ’فطرت سے جنگ‘، یا ’فطرت پر فتح‘ کا حصول تھا۔ وہ انسان کی کامیابی کا کمال یہ سمجھتے رہے کہ فطرت کی تمام طاقتوں پر انسان کو مکمل کنٹرول حاصل ہوجائے۔ اس کا فطری نتیجہ یہ نکلا کہ ٹکنالوجی فطرت سے ہم آہنگ نہیں رہ سکی۔ پھر دوسرا بڑا سانحہ یہ ہوا کہ اخلاقی تصورات سے آزاد ہوجانے کے بعد سائنس و ٹکنالوجی عملاً ’غیرجانب دار‘ (neutral) نہیں رہ سکی بلکہ تجارتی، سیاسی اور فوجی مفادات کے تابع ہوگئی۔ 

جدید ٹکنالوجی کے پیدا کردہ مسائل

اس صورتِ حال نے درج ذیل شدید نقصانات سے عالمِ انسانیت کو دوچار کر دیا:

  1. فطرت پر ’فتح‘ کے جذبے کے سبب فطرت کو بُری طرح پامال کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں خوف ناک ماحولیاتی بحران پیدا ہوا، اور آج صورتِ حال یہ ہے کہ ہوا، پانی سب کچھ زہرآلود ہوچکا ہے اور بنی نوع انسان کے وجود پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
  2. مادہ پرست تہذیب نے عیاشی اور اسراف کا جو مزاج پیدا کیا، اس کی وجہ سے قدرتی وسائل کی بے پناہ لوٹ مچی۔ دولت مند افراد اور دولت مند ممالک نے باقی دنیا کی پروا کیے بغیر، ٹکنالوجی کے ذریعے اپنے آرام اور تعیش کا سامان پیدا کیا اور انجام یہ ہے کہ  آج ہوا، پانی، توانائی جیسی بنیادی ضروریات کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے۔
  3. جدید ٹکنالوجی کا، جب جدید قوم پرستانہ نظریات اور توسیع پسندانہ سامراجی عزائم کے ساتھ ملاپ ہوا تو انسانی تاریخ کے بھیانک ترین ہتھیار وجود میں آئے۔ آج پوری دنیا ان ہتھیاروں کی وجہ سے چند بڑی طاقتوں کی یرغمال بنی ہوئی ہے۔ اور ایسی صورتِ حال پیدا ہوچکی ہے کہ کسی بھی وقت چند وحشی قوم پرست درندے، اپنے بھیانک ہتھیاروں کے ذریعے، پلک جھپکنے میں پوری دنیا کو تباہی سے دوچار کرسکتے ہیں۔
  4. جن اخلاقی تصورات کے زیرسایہ، یہ جدید ٹکنالوجی پروان چڑھی،اس کا نتیجہ ہے کہ  آج فحاشی و بے راہ روی کو فروغ دینے والی انٹرٹینمنٹ ٹکنالوجی جدید دنیا کی ایک اہم ترین ٹکنالوجی ہے۔ تولیدی ٹکنالوجیز، کلوننگ، جینیاتی ٹکنالوجی کی کئی قسموں نے جنسی اخلاقیات کی بنیادوں ہی کو منہدم کردیا ہے اور خاندانی نظام دنیابھر میں شدید بحران کا شکار ہوگیا ہے۔
  5. سب سے اہم بحران وہ ہے، جسے آپ ’ترجیحات کا بحران‘ کہہ سکتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ مغربی تہذیب کی غلامی میں، اس ٹکنالوجی کی ترجیح صرف بڑی بڑی تجارتوں اور سرمایہ داروں کا مفاد ہے۔ اس ضمن میں دفاعی ٹکنالوجیز میں اندھا دھند ترقی کے لیے دنیا کے بہترین دماغ لگے ہوئے ہیں کہ یہ سب سے زیادہ نفع بخش صنعت ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں دنیا کی بہترین صلاحیتیں انفارمیشن ٹکنالوجی میں صرف ہوئیں۔ اس لیے کہ اس سے بڑے تجارتی مفادات وابستہ ہیں، حتیٰ کہ میڈیکل اور صحت عامہ سے متعلق تحقیقات میں بھی اُن امراض کے علاج پر پوری توجہ ہے، جنھیں امیرانسانوں اور امیر ملکوں کے امراض سمجھاجاتا ہے۔ تیسری دنیا کے غریب عوام کے مسائلِ صحت پر بہت کم توجہ ہے۔

اس پس منظر نے ساری دنیا میں ’ٹکنالوجی کی اخلاقیات‘ (Techno-ethics) کا سوال پوری شدت کے ساتھ کھڑا کیا ہے۔ دو تین صدیوں کے تجربات کے بعد دنیا یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ: ’’ٹکنالوجی اور سائنس و اطلاقی سائنس پر بھی کچھ اخلاقی بندشیں عائد ہونی چاہییں‘‘۔ یہ سوال کہ ’’کس ٹکنالوجی کی ایجاد ہونی چاہیے یا نہیں؟‘‘ یہ بھی اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر ہی طے ہونا چاہیے، اور: ’’جب کوئی ٹکنالوجی ایجاد ہوجائے، تو اس کا استعمال کن مقاصد کے لیے ہونا چاہیے اور کن مقاصد کے لیے نہیں؟‘‘، اس کا مناسب جواب بھی اخلاقی ضابطوں میں موجود رہنا چاہیے۔
دیر سے سہی، لیکن اب ’ٹکنالوجی کی اخلاقیات‘ ساری دنیا میں ایک اہم ڈسپلن کے طور پر اُبھر رہا ہے۔ ٹکنالوجی سے متعلق کانفرنسوں اور علمی مباحث میں یہ مسئلہ اب اہم موضوع بنتا جارہا ہے۔ حکومتیں اس کی بنیاد پر ضابطہ بندیاں کر رہی ہیں اور تعلیم گاہوں میں ٹکنالوجی کے ہرکورس کا یہ لازمی حصہ بن رہا ہے۔

اسلام کے رہنما اصول

ٹکنالوجی کی اخلاقیات کا تعین کرتے ہوئے ، اسلام کے درج ذیل اہم تصورات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ یہی تصورات ، ٹکنالوجی کے بارے میں اسلامی اخلاقیات کی تشکیل کے لیے بنیاد کا کام کرتے ہیں اور دنیا بھر کو رہنمائی دیتے ہیں:

  1. نظریۂ توحید: خداے واحد پر یقین کامل، اس کی صفات کو تسلیم کرنا، اُسے کائنات کا حقیقی مالک اور حاکم ماننا، خود کو اس کا بندہ اور غلام سمجھنا، اپنے آپ کو اس کے سامنے جواب دہ سمجھنا، اسے علم و حکمت کا سرچشمہ ماننا، اور اس کے لیے حمدوثنا، شکرواحسان مندی اور محبت و اطاعت کے جذبات سے اپنے دل کو ہردم آباد رکھنا___ یہ اسلامی عقیدۂ توحید کے بنیادی اجزا اور تقاضے ہیں اور یہی اسلامی اخلاقیات بلکہ زیادہ بہتر لفظوں میں انسانی اخلاقیات کی اصل بنیاد ہیں۔
  2. نظریۂ خلافت : اس دنیا میں انسان، اللہ کا خلیفہ (vicegerent)ہے: وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَۃً ط (البقرہ۲:۲۹)(پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو، جب تمھارے ربّ نے فرشتوں سے کہا تھا کہ ’’مَیں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں‘‘)۔   خلیفہ ہونے کی حیثیت سے اس کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ اللہ کے دین کو اس زمین میں غالب کرے اور اللہ کی مرضی کے مطابق، جاہلیت سے پاک ایک نئی تہذیب اور ایک نئے تمدن کی تعمیر کا فریضہ انجام دے۔ زندگی کے ہرشعبے کو اللہ کی بغاوت اور نافرمانی کی آلودگیوں سے پاک کرے۔ یہی وہ مقصد ہے جس کے حصول کی خاطر انسان اس دنیا میں پیدا کیا گیا ہے۔
  3. نظریۂ تسخیر اور نظریۂ امانت : اس دنیا کی ساری چیزیں انسان کے لیے مسخر کی گئی ہیں: وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْہُ ۝۰ۭ (الجاثیہ ۴۵:۱۳) (اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمھارے لیے مسخر کر دیا، سب کچھ اپنے پاس سے)۔ یہ سب اللہ کی امانت ہیں اور ان امانتوں کے سلسلے میں انسان جواب دہ ہے: ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ۝۸ۧ (التکاثر۱۰۲:۸)(پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی)۔ ان میں اللہ کی مرضی کے مطابق اور اس کے دیے ہوئے حدود کے اندر ہی تصرف جائز ہے۔
  4. توازن اور میزان : اللہ کی تخلیق کردہ کائنات میں حیرت انگیز توازن پایا جاتا ہے۔ خدا کے خلیفہ کی حیثیت سے اس توازن کو قائم رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس میں خلل اور فساد،  خدا کے غضب کا موجب ہوسکتا ہے: وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ۝۷ۙ اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ۝۸ (رحمن۵۵: ۷-۸)(آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی۔اس کا تقاضا  یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو)۔
  5. انسانی تکریم : ہرانسان محترم و مکرم ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ  (بنی اسرائیل ۱۷:۷۰) (ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی)۔ اس کی جان، اس کی آبرو، اس کا جسم سب کچھ محترم ہے۔ مرنے کے بعد بھی اس کا یہ حق ہے کہ اسے احترام کے ساتھ آخرت کے سفر پر رخصت کیا جائے۔
  6. فلاحِ انسانیت : ہماری ذمہ داری ساری انسانیت کی فلاح و بہبود ہے۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو انسان کی فلاح اور دیگر انسانوں کے ساتھ احسان کے لیے استعمال کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ سورئہ قصص میں اللہ تعالیٰ نے قارون کے ذکر میں فرمایا ہے: وَابْتَغِ فِــيْمَآ اٰتٰىكَ اللہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَاَحْسِنْ كَـمَآ اَحْسَنَ اللہُ اِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ        فِي الْاَرْضِ ۝۰ۭ (القصص۲۸:۷۷)(جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر، احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے، اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا)۔ اس آیت کا حکم ہے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو آخرت کا گھر بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ان نعمتوں کے ذریعے انسانوں کے ساتھ احسان کیا جائے اور فساد بپا نہ کیا جائے۔
  7. انسانی آزادی اور حقوق :  ہرانسان کو اللہ نے آزاد پیدا کیا ہے، اور ہرانسان کو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں اس بات کا تذکرہ فرمایا ہے کہ: وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ ط   (اعراف ۷:۱۵۷)  (اور ان پر سے وہ بوجھ اُتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے)۔ دین کے معاملے تک میں جبرکے ذریعے لوگوں کی آزادی سلب کرنا اسلام کے نزدیک جائز نہیں۔ چنانچہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ انسان کی آزادی سلب کرے۔ اس کی نجی زندگی (privacy)میں مخل ہو اور اس کی سوچ پر پہرے لگائے یا اس کا استحصال کرے۔
  8. مخلوقات کا حق : انسان کے ساتھ ساتھ چرند پرند، نباتات کے بھی حقوق ہیں۔ اور انسان ان حقوق کے سلسلے میں بھی اللہ کے سامنے جواب دہ ہے: وَمَا مِنْ دَاۗبَّۃٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْہِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ۝۰ۭ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّہِمْ يُحْشَرُوْنَ۝۳۸ (الانعام۶:۳۸) (زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پَروں سے اُڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو، یہ سب تمھاری ہی طرح کی اَنواع ہیں، ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، پھر یہ سب اپنے ربّ کی طرف سمیٹے جاتے ہیں)۔
  9. میانہ روی : اللہ نے جو وسائل مہیا کیے ہیں، ان کے استعمال میں میانہ روی ہونی چاہیے،نہ کنجوسی جائز ہے اور نہ فضول خرچی: وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا۝۲۶ اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ۝۰ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّہٖ كَفُوْرًا۝۲۷ …… وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْہَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا۝۲۹ (بنی اسرائیل ۱۷: ۲۶-۲۷ ، ۲۹) (فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے… نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جائو)۔
  10. مقاصدِ شریعت : دین، جان، مال، عقل اور نسب و آبرو کی حفاظت ہونی چاہیے۔ 
  11. ترجیحات کا شعور : انسانی ضرورتوں میں وہ ضرورتیں مقدم ہیں، جن کا تعلق جان کی حفاظت سے ہے، یعنی ضروریات۔ اس کے بعد حاجات کا نمبر آتا ہے، یعنی وہ تقاضے   جن کے بغیر زندگی پُرمشقت بن جاتی ہے، اور پھر تحسینیات کا نمبر آتا ہے، یعنی وہ جن سے زندگی میں حُسن اور سلیقہ پیدا ہوتا ہے۔ تقاضوں کو اسی ترتیب کے ساتھ ملحوظ رکھا جائے گا۔

ٹکنالوجی کی اخلاقیات

ان اصولوں کے اطلاق سے ٹکنالوجی کے لیے جو رہنما اصول وضع ہوتے ہیں، انھیں درج ذیل نکات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے:

  1. عام تباہی کے ایسے ہتھیار، جو ساری زمین کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، وہ مذکورہ بالا تمام اصولوں سے متصادم ہیں۔ اسلامی اخلاقیات ایسی ٹکنالوجی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ اہلِ اسلام کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ایسے ہتھیاروں کے خلاف عالمی راے عامہ ہموار ہو اور ان کے اتلاف پر اور اس سے متعلق ریسرچ کی ممانعت پر ساری دنیا متفق ہوجائے۔ ہمارے اہلِ علم میں اس امر پر تو اختلاف راے ہے کہ کیا عام تباہی کے ہتھیار مکمل طور پر ممنوع قرار دیے جائیں یا اس وقت تک جائز ہوں جب تک ظالم طاقتوں کے پاس یہ ہتھیار موجود ہیں؟ لیکن اس بات پر بڑی حد تک اتفاق ہے کہ یہ کوشش کی جائے کہ پوری دنیا سے یہ جوہری، جراثیمی اور کیمیاوی ہتھیار ختم ہوجائیں۔
  2. صنعت و حرفت کی ایسی ترقی اور ایسی ٹکنالوجیز جو ماحولیاتی توازن کو درہم برہم کرنے کا سبب بنتی ہوں، حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچاتی ہوں، فطری ماحول کو آلودہ کرتی ہوں یا انسانوں اور اللہ کی دیگر مخلوق کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتی ہوں، وہ بھی ممنوع قرار پائیں گی۔ تجارتی اور مالیاتی مفادات کی تابع داری کرنے والی مادہ پرست ٹکنالوجی نے آج چند لوگوں کے تعیش اور آرام کے لیے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسی ٹکنالوجی پالیسی کی اسلامی اخلاقیات متحمل نہیں ہوسکتی۔ اسلامی اخلاقیات نہایت سختی کے ساتھ گرین اور ماحول دوست ٹکنالوجی کو فروغ دے گی۔
  3. انسانوں میں ایسی ’جراثیمی و جینیاتی دخل کاری‘ (Germ Line Genetic Manipulation) اور تبدیلی جو آیندہ انسان کے فطری وجود کو مسخ کرنے کا باعث بن سکے، اسلامی لحاظ سے سخت ناپسندیدہ ہوگی۔ اب ایسے نیم انسانوں کی افزایش کے منصوبے بن رہے ہیں جو انسانی جذبات سے محروم ہوں گے اور کارخانوں میں بے تکان کام کرسکیں گے۔ انسانی اعضا کی تشکیل و فروخت کے لیے بے جان انسانی جسم پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ سب کوششیں، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں تبدیلی، فطرت سے کھلواڑ اور انسانی تکریم کے اصول سے متصادم ہیں: وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللہِ ۝۰ۭ وَمَنْ يَّتَّخِذِ الشَّيْطٰنَ وَلِيًّا مِّنْ دُوْنِ اللہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِيْنًا۝۱۱۹ۭ (النساء۴:۱۱۹)(مَیں [شیطان] انھیں ضرور حکم دیتا رہوں گا اور وہ یقینا اللہ کی بنائی ہوئی خلقت کو بدلا کریں گے، اور جو کوئی اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنا لے تو وہ واقعی صریح نقصان میں رہا)۔
  4. علماے اسلام نے انسانی کلوننگ کو بجاطور پر ممنوع قرار دیا ہے۔ مصنوعی تولید کے وہ  تمام طریقے جن میں عورت کے رحم میں اس کے شوہر کے سوا کسی اور نطفے کو استعمال کرتے ہوئے حمل ٹھیرایا جائے، یہ بھی شرعاً ناجائز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت میں نسب کا تحفظ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس لیے یہ سب ٹکنالوجی اسلامی اخلاقیات کے لحاظ سے نامناسب قرار پائے گی۔
  5. اسلامی اخلاقیات، ٹرانس ہیومنزم کی اس موومنٹ کی بھی روادار نہیں ہوسکتی، جس کے ذریعے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ انسانی جسم اور ذہن کی صلاحیتوں:نینوٹکنالوجی، بایوٹکنالوجی، انفارمیشن ٹکنالوجی اور کوگنیٹو(Cognitive) سائنس یعنی NBIC کے امتزاج سے انسان کے اندر جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے لاکر اس کی صلاحیتوں میں غیرفطری طور پر بے پناہ اضافے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اسے HET یا انسانی صلاحیت میں اضافے کی ٹکنالوجی (Human Enhancement Tecnology )کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات انسانی جسم، دماغ یا اعصابی نظام کے اندر مصنوعی آلات اور اضافی مشینیں لگاکر بھی انسان کی بعض صلاحیتوں میں اضافے کی کوشش کی جارہی ہے، مثلاً یہ کہ انسان کی آنکھ اندھیرے میں بھی دیکھنے کے لائق ہوجائے، اس کا دماغ انٹرنیٹ سے جڑکر دنیا کی معلومات کا سمندر بن جائے، یا اس کے عضلات کبھی تھکنے نہ پائیں وغیرہ۔ کارکردگی میں اضافہ، یا شوق کی خاطر جسم کی فطری ساخت میں ایسی تبدیلیاں، اللہ کی ساخت میں تبدیلی اور فطرت سے کھلواڑ کی کوشش ہے۔
  6. علما نے بجاطور پر غیرضروری جسمانی تبدیلیوں ( Body Modification) کو بھی ناجائز قرار دیا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے تک سے منع کیا ہے: لَعَنَ اللہُ الْوَاصِلَۃَ وَالْمُسْتَوْصِلَۃَ [بخاری، حدیث:۵۵۹۶]’’اللہ نے بالوں میں مصنوعی بال لگانے والیوں پر اور لگوانے والیوں پر لعنت بھیجی ہے‘‘۔ تو اس شکل میں اسلام کیسے اجازت دے سکتا ہے کہ جوان نظر آنے کے لیے پلاسٹک سرجری کی جائے اور شکل و شباہت بدلی جائے۔ جنس کی تبدیلی وغیرہ کے آپریشن تو فطرت سے کھلی بغاوت ہیں۔
  7. انسانی جان بچانے کے لیے اعضا کی منتقلی ( organ transplant) کی اسلام اجازت دیتا ہے، اس لیے کہ انسانی جان کا تحفظ شریعت کا اہم مقصد ہے۔ لیکن اعضا کی خریدو فروخت اسی بنیاد پر ممنوع قرار دی گئی ہے کہ اس سے انسانی تکریم کا اسلامی اصول مجروح ہوتا ہے۔
  8. جدید انفارمیشن ٹکنالوجی کا ایک تاریک پہلو یہ ہے کہ اس نے عام انسانوں کی نگرانی یا نظارت (surveillance) کے نتیجے میں حکمرانوں کے ظلم و استحصال کی صلاحیت بڑھا دی ہے۔ ڈاٹا مائننگ، جی پی ایس ، وغیرہ ٹکنالوجیز کے بہت سے فائدے بھی ہیں لیکن  ان ٹکنالوجیز کا آج ساری دنیا میں انسانوں کے استحصال کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔ اسلامی اخلاقیات، انسانوں کی آزادی میں ایسی مداخلت کی اجازت نہیں دے سکتی۔ ان ٹکنالوجیز کے لیے ایسے رہنما اصول ضروری ہیں، جن کے نتیجے میں ان کے غلط استعمال پر سخت بندشیں عائد ہوسکیں۔
  9. جنسی کھلونوں اور جنسی ڈمیوں جیسی ٹکنالوجیز، اسلام کے حیا و عفت کے تصورات سے براہِ راست متصادم ہیں۔ اسلام کے نزدیک جنسی خواہش کی تکمیل کی پشت پر بھی پاکیزہ تمدنی مقاصد پوشیدہ ہیں اور اس خواہش کی ایسی تکمیل ہی جائز ہے جو ان مقاصد کے حصول کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ کھلے عام نکاح کے علاوہ جنسی تلذذ کے تمام طریقوں کا اسلام نے دُور تک جاکر سدباب کیا ہے: وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ ج(الانعام۶:۱۵۱)(بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جائو، خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی)۔ اسلامی اخلاقیات مذکورہ ٹکنالوجیز کے بھی تمام دروازے سختی سے بند کرے گی۔
  10. تفریح یا انٹرٹینمنٹ کے نام سے جو بے شمار ٹکنالوجیاں وجود میں آئی ہیں، وہ اسلام کے اخلاقی نقطۂ نظر سے بہت سی پابندیوں (regulation)کا تقاضا کرتی ہیں۔ فلم، ٹی وی اور انٹرنیٹ جیسی ٹکنالوجیز جہاں بہت سے فائدے رکھتی ہیں، وہیں یہ عصرِحاضر میں فحاشی، بے حیائی اور بے مقصدیت جیسی بُرائیوں کے فروغ کا بہت بڑا سبب اور ذریعہ ہیں۔ اسلامی اخلاقیات ان ٹکنالوجیز پر مکمل پابندی کا تقاضا تو نہیں کرے گی، لیکن ان کو ایسے اصولوں اور ضابطوں کا پابند ضرور بنانا چاہے گی، جن سے ان کے غلط استعمال کی روک تھام ہوسکے۔ اس کے لیے قانونی راستوں کے علاوہ خود ٹکنالوجی کا راستہ بھی اختیار کرنا ہوگا۔ جدید دور میں کمپیوٹر گیمز کی ٹکنالوجی بھی اسی صف میں داخل ہے۔ اس کے فائدے بہت کم ہیں اور نقصانات بہت زیادہ اور ہمہ جہت ہیں۔
  11. ایسی ٹکنالوجیز جو انسانی آبادی کے لیے طرح طرح کے خطرات پیدا کریں، مثلاً خودکاری (Automation)کی وہ سطح کہ جس کے نتیجے میں بڑی انسانی آبادی، بے روزگار ہوجائے یا مصنوعی ذہانت (Artifical Intelligence) یا روبوٹکس (Robotics) کی ایسی انتہائی شکل، کہ جس کے نتیجے میں خود انسان، مشینوں کے آگے بے بس ہوجائے، یہ بھی بلاشبہہ بنی نوع انسان کے اجتماعی مفاد سے متصادم ہے۔ ٹکنالوجی کی اسلامی اخلاقیات، اس کی بھی اجازت نہیں دیتی۔
  12. دفع مضرت کے فقہی اصول کے دائرے میں وہ ٹکنالوجیز بھی آتی ہیں، جو انسانی صحت کے لیے طرح طرح کے مسائل پیدا کر رہی ہیں اور بھیانک بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں۔ زرعی ٹکنالوجی کی عالمی کمپنیاں، اپنے تجارتی مفادات کے لیے، جینیاتی تبدیلی کے ذریعے ایسے پھل، اناج اور دیگر غذائی اشیا پیدا کر رہی ہیں، جن کا انسانوں کے لیے نقصان دہ ہونا اب بہت واضح ہوچکا ہے۔ فارم ہائوسوں میں مرغیوں کی تیزرفتار افزایش کے مصنوعی طریقے، مصنوعی یا کیمیائی دودھ، تباہ کن کھاد اور جراثیم کش ادویات کا بے تحاشا استعمال وغیرہ ان سب جدید طریقوں نے لاکھوں انسانوں کی جانیں لی ہیں اور آبادی کے بڑے حصےکی صحت پر بُرا اثر ڈالا ہے۔ بعض ٹکنالوجیز انسانوں کی بڑھتی ضرورتوں کے پیش نظر غذائی اجناس کی پیداوار بڑھانے کے اچھے مقصد سے شروع ہوئیں، لیکن اب ان کے پیش نظر زیادہ تر منافع خوری کا مقصد ہی ہے۔ اسلامی اخلاقیات، ایسی بے رحم مادہ پرستی کی قطعی روادار نہیں ہوسکتی۔

درپیش چیلنج اور تقاضے

یہاں گنتی کی چند مثالیں دی گئی ہیں۔ ان مثالوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کئی معاملات میں اسلامی اخلاقیات، ٹکنالوجی کی اخلاقیات سے متعلق ان تصورات سے ہم آہنگ ہے، جو اس وقت دنیا میں رائج ہیں یا جن پر بڑی حد تک اتفاق راے پایا جاتا ہے۔ لیکن ان کے علاوہ اسلام کے اپنے اخلاقی تصورات بھی ہیں۔ بہت سی ٹکنالوجیز ایسی ہیں جن میں موجودہ غالب قوتیں کوئی اخلاقی خرابی محسوس نہیں کرتیں لیکن اسلام کے نزدیک وہ سخت معیوب ہیں۔
اہلِ اسلام کی یہ ذمے داری ہے کہ اس وقت، جب کہ ساری دنیا میں ٹکنالوجی کی اخلاقیات (ٹیکنوایتھکس) کا موضوع زیربحث ہے، وہ اس بحث میں آگے بڑھ کر حصہ لیں۔ اسلامی فکرونظر کے حامل ماہرین ٹکنالوجی کی جہاں یہ ذمے داری ہے کہ وہ اخلاقی لحاظ سے نامناسب یا نقصان دہ ٹکنالوجیز کی روک تھام کریں، وہیں اسلام کے ان اخلاقی اصولوں کا تقاضا یہ بھی ہے کہ بہتر اور مفید تر ٹکنالوجیز فروغ دی جائیں۔
یہ اہلِ اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی ٹکنالوجیز کو فروغ دیں، جو اسلام کے مقاصد کے مطابق، مثلاً ظلم و استحصال کو کم کرنے والی اور مساوات کو فروغ دینے والی ہوں۔ غریبوں کے صحت کے مسائل کو آج بھی وہ اہمیت نہیں مل سکی ہے کہ جس کے وہ مستحق ہیں۔ ایسی ٹکنالوجیز جن کے ذریعے حکومتوں کا کام زیادہ شفاف ہوجائے یا ظالم کے لیے ظلم کرنا مشکل ہوجائے، ابھی صرف ناولوں ہی میں پائی جاتی ہیں۔ وہ ٹکنالوجیز جو کم قیمت پر غریبوں کی دیہی زندگی کو آسان بنائیں اور دیہی معیشت کے لیے سہولتیں پیدا کریں یا کم قیمت پر صاف پانی، اور آسان اور ارزاں توانائی فراہم کریں، یا جو اُن حادثوں اور آفات سے حفاظت کی ضمانت دے سکیں، جو عام غریب انسانوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت کا سبب بنتے ہیں، یہ سب خواب ہنوز تکمیل طلب ہیں اور اہلِ اسلام کی فکرمندی اور اقدام کے منتظر ہیں۔ 
گذشتہ صدی کے آخری حصے میں جرمن فلسفی ارنسٹ فریڈرک شومیکر [۱۹۱۱ء-۱۹۷۷ء]نے ’موزوں طرزیات‘ (Appropriate Technologies) کی تحریک شروع کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ: ’’اگر ٹکنالوجی کے ماہرین صرف بڑے سرمایہ دار آقائوں کی خدمت کرنے کے بجاے عام آدمی کی ضرورتوں کے بارے میں سوچیں، تو دنیا کے اربوں غریب عوام کی زندگیوں کو نہایت آسان اور سہولت بخش بنایا جاسکتا ہے، اور اُن سب مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے، جن کی وجہ سے تیسری دنیا کے غریب لوگ سخت مصیبتیں جھیل رہے ہیں‘‘۔ یہ تصورات بلاشبہہ اسلام کی پیش کردہ اخلاقیات سے ہم آہنگ ہیں۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کا جو کردار پیش کیا ہے، اس کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ انھوں نے ایک پریشان حال قوم کا ایک پیچیدہ مسئلہ حل کیا تھا اور ایسی دیوار تعمیر کر دی تھی جس سے قوم، یاجوج ماجوج کے شر سے محفوظ ہوگئی۔ اس واقعے کا اہم پہلو یہ ہے کہ ذوالقرنین نے افرادی قوت اسی قوم کی استعمال کی تھی: فَاَعِیْنُونِی بِقُوَّۃِ اجْعَلْ بَیْنَکُمْ  وَبَیْنَھُمْ رَدْمًا [الکہف ۱۸:۹۵] ’’تم بس محنت سے میری مدد کرو، میں تمھارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں‘‘۔ اس قوم نے وسائل بھی بہم پہنچانے کی پیش کش کی تھی، لیکن ذوالقرنین نے اسے قبول نہیں کیا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کے پاس وسائل اور افرادی قوت موجود تھی لیکن وہ اِس فن سے واقف نہ تھی اور ذوالقرنین کے پاس آئیڈیا اور ٹکنالوجی تھی جس کا استعمال کرتے ہوئے انھوں نے اس قوم کا مسئلہ حل کر دیا۔ ٹکنالوجی کی اسلامی اخلاقیات پر بحث، صرف ممنوعات کی فہرست تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ مطلوب اور مفید ٹکنالوجیز کے فروغ اور ان کے ذریعے انسانی مسائل کے حل کا یہ ذوالقرنینی کردار، اس بحث کا اہم حصہ بننا چاہیے۔
ہرتہذیب اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اختراع و ایجاد کی ضرورت مند ہوتی ہے۔ کسی بھی تہذیب کا محل صرف مانگے کے چراغوں سے روشن نہیں ہوسکتا۔ اسلامی حدود میں فلم سازی، ٹی وی اور انٹرنیٹ کا استعمال، آج ہم کرنا چاہیں تو ضرور کریں، لیکن یہ نہ بھولیں کہ یہ سب اُس مخصوص تہذیب کی پیداوار ہیں، جو بے مقصد تفریح پر حد سے زیادہ اصرار کرتی ہے۔ جدید مغربی تہذیب کو ناچ گانے اور بے مقصد تفریحات سے جو دل چسپی ہے، اسی کے نتیجے میں آج دسیوں ٹکنالوجیز وجود میں آئی ہیں۔ شاید یہ ٹکنالوجی اسلامی تہذیب کے زیرسایہ وجود میں نہیں آتیں۔ 
لیکن دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایسی بہت سی ٹکنالوجیز ہوسکتی ہیں، جو اسلامی تہذیب کی ضرورت ہوتیں اور چوںکہ مسلمان کئی صدیوں سے ٹکنالوجی میں پیچھے ہیں، اس لیے وہ وجود میں ہی نہیں آئیں۔ اسلام کے تہذیبی مقاصد اس کے اپنے تہذیبی ذرائع چاہتے ہیں، اور ان ذرائع کی کھوج، ذہانت اور اُپج اور اختراعی صلاحیتوں کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ کام وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اسلام کے بھی مزاج شناس ہوں اور ٹکنالوجی بھی جانتے ہوں۔ ایسے لوگ تقلید جامد کی فضا سے نکل کر اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروے کار لائیں تو ایسی سیکڑوں نئی چیزیں، نئے فنون اور نئی ٹکنالوجیز ایجاد ہوسکتی ہیں، جو اسلام کے تہذیبی مقاصد کی تکمیل بھی کریں اور اس کے مزاج سے ہم آہنگ بھی ہوں۔ بلاشبہہ یہ ٹکنالوجی کی اسلامی اخلاقیات کا اہم تقاضا ہے۔

شرک کے شائبوں سے پاک عقیدۂ توحید جب کسی فرد کی زندگی میں آ جائے ، یا کسی قوم کی اجتماعی زندگی اس عقیدے پر اُستوار ہو جائے، تو زندگی میں اس کے بہترین ثمرات اور نہایت مفید اثرات سامنے آتے ہیں۔ ان ثمرات واثرات میں سے چند درج کیے جاتے ہیں: 

انسانی آزادی 

شرک اپنی تمام صورتوں اور مظاہر میں انسان کی ذلت ورسوائی کے سوا کچھ نہیں۔ اس لیے کہ شرک انسان کو مخلوقات کے سامنے جھکاتا اور ان اشیا اور انسانوں کی بندگی اس سے کراتا ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں ۔ وہ خود اپنے کسی نفع ونقصان کے بھی مالک نہیں ، اور نہ زندگی اور موت ان کے ہاتھ میں ہے، جب کہ توحید دراصل اللہ کی بندگی کے سوا ہرطرح کی بندگی سے انسان کی نجات اور آزادی کا نام ہے۔ توہمات وخرافات سے انسانی دل ودماغ کی آزادی ہے اور انسانی ضمیر کے کسی بھی چیز کے سامنے حقیر وذلیل ہونے سے آزادی ہے۔ وقت کے فرعونوں ،خدائوں اور جھوٹے معبودوں کے تسلط سے انسانی زندگی کی آزادی ہے۔ 
یہی وجہ ہے کہ شرک کے علَم بردار وں اور جاہلیت کے باغیوں نے ہر دور میں انبیاؑ کی دعوت کو روکنے کی پوری کوشش کی خاص طور پر رسول کریم ؐ کی دعوت کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ دراصل ان باغیوں اور سرکشوں کو معلوم تھا کہ لا الٰہ الا اللہ کا مطلب انسان کی آزادی کا اعلان ہے۔ ہر قسم کے جابروں کو ان کی جھوٹی خدائی کے تخت سے گرانے کا اعلان ہے۔ اہل ایمان کے لیے سر اُٹھا کر جینے کا اعلان ہے۔ یہ اعلان کہ ان کی پیشانی اللہ رب العالمین کے سوا کسی شے کے سامنے خم نہیں ہو سکتی۔ 

متوازن شخصیت کی تشکیل

عقیدۂ توحید ایک ایسی متوازن شخصیت تشکیل کرتا ہے جس کا قبلۂ زندگی ممتاز ہوتا ہے۔ اس کا مقصد زندگی ایک ہوتا ہے اور اس کا طرزِ زندگی متعین ہوتا ہے۔ اس کا معبود ایک ہی ہوتا ہے جس کی طرف وہ خلوت وجلوت میں رجوع کرتا ہے۔ وہ تنگی اور تکلیف میں اسی کو پکارتا ہے۔ وہ چھوٹا بڑا عمل وہی انجام دیتا ہے جو اس معبود واحد کی رضا مندی کا باعث ہو۔ 
اس کے مقابلے میں مشرک کا قبلۂ زندگی طرح طرح کے معبودوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ اس کی زندگی قسم قسم کے معبودوں میں بٹی ہوتی ہے۔ کبھی وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو کبھی بتوں کی طرف لپکتا ہے۔ وہ کبھی اس بت کی بندگی بجا لاتا ہے تو کبھی دوسرے بت کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ 
ایسی ہی کیفیت پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ کے پیغمبر سیدنا یوسف ؑ نے فرمایا تھا: ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۝۳۹ۭ (یوسف ۱۲:۳۹) ’’تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے بھی ایسی کیفیت کو مثال دے کر سمجھایا ہے : ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيْہِ شُرَكَاۗءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ۝۰ۭ ہَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا  ۝۰ۭ (الزمر۳۹:۲۹) ’’اللہ ایک مثال دیتا ہے۔ ایک شخص تو وہ ہے جس کے مالک ہونے میں بہت سے کج خلق آقا شریک ہیں جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں، اور دوسرا شخص پورا کا پوراایک ہی آقا کا غلام ہے۔ کیا اُن دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے؟‘‘
مومن کی مثال اس غلام جیسی ہے جس کا مالک ایک فرد ہو۔ ایسے غلام کو اپنے مالک کی پسند وناپسند اور خوشی و نا خوشی کا علم ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ غلام وہی کام کرتا ہے جو اس کے مالک کو خوش کرے اور اس سے اس کو راحت ملے،جب کہ مشرک کی مثال اس غلام جیسی ہے جس کا مالک ایک فرد نہیں بلکہ کئی افراد اس کے مالک ہوں۔ ایک فرد اس کو مشرق کی طرف روانہ کرتا ہے، جب کہ دوسرا مغرب کی طرف بھیج دیتا ہے۔ ایک اس کو دائیں طرف سے کھنچ رہا ہوتا ہے اور دوسرا اسے بائیں طرف سے کھینچتا ہے۔ یہ مختلف اور متضاد رجحانات اور مقاصد رکھنے والے مالک ہیں اور بے چارہ غلام ان کے درمیان منقسم اور بٹا ہوا ہے۔ وہ ایک جگہ نہ ٹھیرسکتا ہے نہ رُک سکتا ہے۔ 

اطمینان دل کا سرچشمہ 

عقیدۂ توحید اپنے ماننے والے کو دل کا اطمینان اور سکون عطا کرتا ہے۔ عقیدۂ توحید کے حامل فرد کے اوپر وہ خوف اور خدشات حاوی نہیں ہو سکتے جو ایک مشرک کے اوپر قبضہ جمائے رہتے ہیں۔ عقیدۂ توحید ایسے خوف وخدشات کے تمام راستوں کو بند کر دیتا ہے، مثلاً رزق کا خوف، موت کا خوف، بیوی بچوں کا خوف، انسانوں اور جنوں سے نقصان پہنچنے کا خوف ، موت اور مابعد الموت کا خوف۔ یہ تمام خوف عقیدۂ توحید سے خالی دل کی آما جگاہ ہوتے ہیں بلکہ اس طرح کے دل میں یہ تمام خوف بہترین طریقے سے نشوونما پاتے ہیں، جب کہ عقیدۂ توحید سے لبریز دل میں ان خطرات کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ وہاں صرف ایک رب کی ناراضی کا خوف ہے اور کسی کا نہیں۔ 
توحید پرست مومن اللہ کے علاوہ کسی شے سے ڈرتا ہے نہ کسی انسان سے۔ یہی وجہ ہے کہ جب لوگ گھبرا جاتے ہیں تو یہ مطمئن نظر آتا ہے۔ لوگ مضطرب اور بے چین ہوں تو یہ پُرسکون دکھائی دیتا ہے۔ دراصل یہ عقیدۂ توحید کا اثر ہے جس نے اس کے دل سے تمام خطرات وخدشات کا خوف نکال دیا ہے۔ جلیل القدر پیغمبر اور جدالانبیاؑ سیدنا ابراہیم ؑ کے اپنی قوم کے ساتھ مکالمے میں اسی اطمینان قلبی کو قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے، جب ان کی قوم نے ان کو اپنے بتوں سے خوف زدہ کرنے کی کوشش کی۔ سید نا ابراہیم ؑ نے نہایت تعجب خیز انداز میں ان سے پوچھا: وَكَيْفَ اَخَافُ مَآ اَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللہِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِہٖ عَلَيْكُمْ سُلْطٰنًا ۝۰ۭ فَاَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ ۝۰ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۸۱ۘ (الانعام ۶:۸۱) ’’اورآخر مَیں تمھارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں، جب کہ تم اللہ کے ساتھ اُن چیزوں کو اُلوہیت میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لیے اُس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی و اطمینان کا مستحق ہے؟ بتائو اگر تم کچھ علم رکھتے ہو‘‘۔
پھر اللہ تعالیٰ نے خود بھی واضح کیا کہ ان دونوں فریقوں میں سے امن کا حق دار کون سا فریق ہے، لہٰذا فرمایا : اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ۝۸۲ۧ (الانعام ۶:۸۲)’’ حقیقت میں تو امن اُن ہی کے لیے ہے اور راہِ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا‘‘۔
دل کا یہ سکون دل کے اندر ہی سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ کسی شیطانی محافظ کی کسی کوشش سے۔ اور یہ تو دنیاوی امن کی بات ہے ۔ رہا آخرت کے امن کا معاملہ تو یہ دنیاوی امن سے زیادہ بڑا معاملہ ہے ۔ اور یہ اہل ایمان ہی کو حاصل ہو گا کیوںکہ انھوں نے اللہ کی بندگی کو شرک سے آلودہ نہ ہونے دیا بلکہ اس کو خالص رکھا۔ 
امام بخاری نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب آیت اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ (الانعام ۶:۸۲) نازل ہوئی تو ہم نے پوچھا : یارسولؐ اللہ ! ہم میں سے کون ہے جو اپنے اوپر ظلم نہیں کرتا ؟ آپ ؐ نے فرمایا: بات اس طرح نہیں ہے جیسے تم کہہ رہے ہو ۔ کیا تم نے لقمان ؑ کی اپنے بیٹے کو نصیحت نہیں سنی کہ لَا تُشْرِكْ بِاللہِ۝۰ۭؔ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ۝۱۳  (لقمان۳۱:۱۳) ’’اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے‘‘۔
لہٰذا واضح ہوا کہ وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر لیا اور اپنے عقیدۂ توحید کو شرک کے شائبوں سے آلودہ نہیں کیا۔ 

قوتِ نفس کا سرچشمہ 

عقیدۂ توحید اپنے ماننے والے کو بہت بڑی نفسیاتی قوت عطا کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کا دل اللہ سے اُمید ، اس پر یقین اور توکل ، اس کے فیصلوں پر رضامندی ، اس کی آزمایشوں پر صبر اور اس کی مخلوقات سے استغنا کی قوت وطاقت سے لبریز رہتا ہے۔ ایسا شخص پہاڑ کی مانند ثابت قدم ہوتا ہے جس کو حادثاتِ زمانہ ہلا سکتے ہیںنہ حالات زمانہ ڈگمگا سکتے ہیں ۔جب بھی کوئی مصیبت یا سختی اس پر آتی ہے تو وہ مخلوق کی طرف نہیں بھاگتا بلکہ وہ اپنے دل کو اپنے خالق کی طرف یکسو کر لیتا ہے ۔ وہ اسی سے مانگتا ہے اور اسی سے مدد لیتا ہے ، اسی کے اُوپر اعتماد و انحصار کرتا ہے۔ وہ مصیبت سے نجات اور خیر کے حصول کے لیے اللہ کے علاوہ کسی سے اُمید نہیں رکھتا۔ وہ اللہ کو چھوڑ کر کسی کے آگے دست ِ دُعا نہیں پھیلاتا۔ وہ اُس کے سامنے روتا اور گڑگڑاتا ہے او ر اسی کی طرف رجوع کرتا اور اسی سے اپنی لو لگاتا ہے۔ اس کا امتیازی نشان بزبان رسالت یہ ہوتا ہے : ’’تو جب بھی مانگے ، اللہ سے مانگ ، اور مدد چاہے تو اللہ سے لے‘‘۔
ایسے شخص کی اعتقادی کیفیت کو قرآن مجید نے یوں متعین کر کے بیا ن کیا ہے: وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَہٗٓ اِلَّا ھُوَ ۝۰ۚ وَاِنْ يُّرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَاۗدَّ لِفَضْلِہٖ۝۰ۭ  يُصِيْبُ بِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ ۝۰ۭ وَھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۝۱۰۷ (یونس ۱۰:۱۰۷) ’اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اُس کے سوا کوئی نہیں جو اُس مصیبت کو ٹال دے، اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اُس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔
ایسا ہی موقع تھا جس کو قرآن مجید نے اہل ایمان کی اعتقادی کیفیت کو تقویت دینے کے لیے بیان کیا ہے جب پیغمبر خدا حضرت ہود ؑ کی قوم نے بتوں کی کارروائی سے ان کو ڈرایا تو ہود ؑ نے فرمایاـ: اُشْہِدُ اللہَ وَاشْہَدُوْٓا اَنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ۝۵۴ۙ مِنْ دُوْنِہٖ فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ۝۵۵ اِنِّىْ تَوَكَّلْتُ عَلَي اللہِ رَبِّيْ وَرَبِّكُمْ۝۰ۭ مَا مِنْ دَاۗبَّۃٍ اِلَّا ہُوَاٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِہَا۝۰ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۝۵۶ ( ھود ۱۱:۵۴-۵۶) ’’میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوںاور تم گواہ رہو کہ جو اللہ کے سوا دوسروں کو تم نے اُلوہیت میں شریک ٹھیرا رکھا ہے اِس سے مَیں بے زار ہوں۔ تم سب کے سب مل کر میرے خلاف اپنی کرنی میں کسر نہ اُٹھا رکھو اور مجھے ذرا مہلت نہ دو۔ میرا بھروسا اللہ پر ہے جو میرا ربّ بھی ہے اور تمھارا ربّ بھی۔ کوئی جان دار ایسا نہیں جس کی چوٹی اُس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ بے شک میرا ربّ سیدھی راہ پر ہے‘‘۔
یہ ایسی طاقت ور عقلی دلیل ہے جو ایک مضبوط عقیدۂ توحید کے حامل دل اور مضبوط ترین قوتِ استقامت کے حامل نفس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ ایسا ایمان ہے جو کمزور پڑ سکتا ہے نہ دب سکتا ہے اور ایسی روحانی قوت ہے جو کسی کمزوری اور خوف سے نا آشنا ہو۔ اس لیے کہ ایسا دل اور نفس توکّل علی اللہ سے مدد لیتا ہے اور جو اللہ پر توکّل کر ے جان لینا چاہیے کہ اللہ تمام تر طاقت اور حکمت کا مالک ہے: وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ فَاِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۝۴۹ ( الانفال ۸:۴۹) ’’اگر کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو یقینا اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے‘‘۔

 اُخوت ومساوات کی بنیاد 

جب عقیدۂ توحید انسان اور اس کے احساس عزت وتکریم کی آزادی کی اساس شمار ہوتا ہے تو یہ عقیدہ انسانی اخوت اور بشری مساوات کی بنیاد بھی بنے گا۔ کیوںکہ انسانوں کے اپنے ہی جیسے انسانوں کو اپنا ربّ بنا لینے کی صورت میں انسانی اخوت ومساوات قطعاً پیدا نہیں ہوسکتی ۔ انسانوں کے درمیان اخوت ومساوات کی اصل بنیاد یہی عقیدہ ہے کہ وہ سب کے سب ایک اللہ کے بندے ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مکاتیب دنیا کے مختلف باد شاہوں اور سربراہوں کو لکھے غالباً اسی بنا پر ان کا اختتام اس آیت پر ہوتا ہے: تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَۃٍ سَوَاۗءٍؚبَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ وَلَا نُشْرِكَ بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ ۝۰ۭ(اٰل عمرٰن ۳:۶۴) ’’ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سو ا کسی کو اپنا ربّ نہ بنا لے‘‘۔
رسول کریم ؐ کی بعد از نماز دعائوں میں یہ عظیم اور شان دار دعا بھی مروی ہے: 
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْ ءٍ وَمَلِیْکَہُ ، اَنَا شَہِیْدٌ اَنَّکَ اللہُ وَحْدَکَ ، لَا شَرِیْکَ لَکَ
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْ ءٍ وَمَلِیْکَہُ ، اَنَا شَہِیْدٌ   اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْ ءٍ وَمَلِیْکَہُ ، اَنَا شَہِیْدٌ   اَنَّ الْعِبَادَ کُلُّھُمْ اِخْوَۃٌ

اے اللہ ہمارے رب اور ہر چیز کے رب اور مالک ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تو اللہ واحد ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ۔ اے اللہ! ہمارے رب اور ہر چیز کے رب اور مالک ! میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ؐ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ۔ اے اللہ! ہمارے رب اور ہر چیز کے رب اور مالک ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تمام کے تمام بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ 
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکور یہ تینوںشہادتیں ایک دوسری سے مربوط ہیں۔ تیسری شہادت ’عام انسانی اخوت ‘ کا اعلان کہ تمام کے تمام بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں ، پہلی دوشہادتوں پر مبنی ہے: یعنی اللہ تعالیٰ کا اُلوہیت میں یکتا ہونا کہ اس کا کوئی شریک نہیں ، اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا ربّ نہیں، اور عبادت وتسلیم کا حق اس کے سوا کسی کو حاصل نہیں ۔ اور محمد ؐ کے عبد اور رسول ہونے کا اقرار آپ ؐ کے لیے الوہیت کے ہر شائبے اور ہر شبہے کی نفی کرتا ہے کہ آپ ؐ الٰہ (معبود ) نہیں ہیں، نہ ابن الہ ہیں اور نہ اُلوہیت کا تیسراا قنوم ہیں جیسا کہ عیسائیوں کاسیّد نا مسیح ؑ کے بارے میں عقیدہ ہے۔ [کتاب حقیقۃ التوحید سے ترجمہ ]

اسلامی نظام میں سود کی بنیاد پر بنکنگ نہیں کی جاسکتی اور نہ فریکشنل ریزرو بنکنگ ہی کی کوئی گنجایش ہے۔ یہاں صرف امانتاً رقوم رکھوائی جاسکتی ہیں۔ اگر لوگ اپنی بچتوں پر منافع حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں تو انھیں سرمایہ کاری کھاتوں (Investment Accounts) کی سہولت ہوگی، جس کی بنیاد نفع و نقصان پر ہوگی۔ ایسے نظام میں عدم استحکام کا سوال پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ اثاثوں اور ذمہ داریوں کے درمیان شفاف طور پر برابری ہوتی اور اضطراب کے محرکات کا سدّباب ہوجاتا ہے۔ 

نیا عالمی معاشی بحران

اس پس منظر میں اب ہم قارئین کو اس اُبھرتے بحران سے آگاہ کریں گے، جس کی   پیش گوئی ماہرین کی ایک بڑی تعداد کررہی ہے۔ اس کا نقطۂ آغاز قرضوں کی مقدار میں بے تحاشا اضافہ ہے، جو اس سطح سے بہت زیادہ ہے جو ۲۰۰۸ء کے بحران سے پہلے تھی۔ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق: عالمی قرضہ کی سطح ۲۴۱ کھرب ڈالر پر پہنچ گئی ہے، جو دنیا کی مجموعی آمدنی (۷۷ کھرب ڈالر) کی نسبت سے ۳۱۵ فی صد سے زیادہ ہے۔ اس میں سے کارپوریٹ سیکٹر (یا غیر مالیاتی سیکٹر) کا حصہ ۱۸۶ کھرب ڈالر ہے۔ یہ سطح اس سے تقریباً دو گنی ہے جو پچھلے بحران کے موقعے پر تھی۔ اس قرضے کی تشکیل بھی ماضی کی طرز پر ہوئی ہے۔ جیساکہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ بحران سے نمٹنے کے لیے امریکی وزات خزانہ نے ریاست کے سارے خزانے اس نظام کو بچانے کے لیے وقف کردیے تھے۔ اس میں سب سے بڑی مدد مرکزی بنک نے کی تھی، جس نے قریباً صفر شرح سود پر معمولی نوعیت کی سکیورٹیرز کے عوض بڑی مقدار میں قرض جاری کیے جس سے ’مالیاتی خشک سالی‘ (Lack of Liquidity ) کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ یہ کم شرح سود ماضی قریب تک جاری رہی۔ 
’عالمی مالیاتی فنڈ‘ (آئی ایم ایف) کے سینیر ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکڑ ڈیوڈ لپٹن نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ’’قرضوں کی زیادتی اور کم شرح سود، مارکیٹ کے لیے بڑے خطرات کا باعث ہیں‘‘۔ دوسری طرف خود امریکا کا اپنا قرضہ ۲۱ کھرب  ڈالر کو پہنچ گیا ہے، جو اس کی مجموعی آمدنی کا ۱۰۸ فی صد ہے۔ امریکی نیشنل سکیورٹی ڈائریکٹرڈین کوٹس کا کہنا ہے کہ’’امریکی قرضے کی بڑھتی ہوئی سطح سے ہماری معاشی اور قومی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ لاحق ہے‘‘۔ 
ان خطرات میں اس وقت اضافہ کرنے کے لیے مزید عناصر میدان میں آگئے ہیں:
اوّل: مرکزی بنک نے شرح سود بڑھانا شروع کردی، جس سے مارکیٹ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اس پالیسی کی شدید مذمت کی ہے اور اس کو معیشت کے لیے مہلک قرار دیا ہے۔ لیکن مرکزی بنک کا بورڈ اس قسم کے بیانات کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ تو افراط زر یا قیمتوں میں اضافے کو روکنا چاہتا ہے، جو صرف اس صورت میں ممکن ہوگا جب اشیا کی مجموعی مانگ میں کمی واقع ہو جس کے لیے شرح سود میں اضافہ ناگزیر ہے۔ بہرحال اس سے اُٹھنے والے خطرات کی نوعیت وہی ہے جو ۲۰۰۸ء کے بحران کا باعث بنے تھے۔ لیکن آج رہن بردار قرضوں کا سلسلہ تباہی کا باعث نہیں بنے گا۔ اس کا ذریعۂ انتقال کا معاملہ، شرح تبادلہ پر اس کے منفی اثرات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ شرح سود بڑھنے سے ڈالر کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر مہنگا ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے امریکی برآمدات کو شدید دھچکا   لگا ہے اور اس کا تجارتی توازن مزید خراب ہوگیا ہے۔
دوم: یہ سب اس موقعے پر ہورہا ہے، جب امریکا نے چین کے ساتھ ایک نامعقول تجارتی جنگ چھیڑ دی ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی توازن میں چین کی طرف جھکاؤ کا بہانہ بناکر امریکا نے چین سے آنے والی درآمدات پر ٹیرف نافذ کردیے ہیں، جو ’بین الاقوامی تجارتی تنظیم‘ (WTO) کے ضابطوں سے متصادم ہے۔ 
شرح سود میں اضافہ اور چین امریکا تجارتی جنگ ایسے حالات پیدا کررہے ہیں، جہاں عالمی معیشت کو انجانے خوف و خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور دنیا ایک نئے معاشی بحران کی طرف بڑھتی نظر آتی ہے۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ بحران شرح تبادلہ میں ہیجانی ردوبدل کی شکل میں سامنے آرہا ہے۔ اور اس کے ابتدائی اثرات ابھرتی معیشتوں کی کرنسیوں میں ڈالر کے مقابلے میں شرح تبادلہ میں زبردست کمی کی صورت میں مرتب ہورہے ہیں۔ ۲۰۱۸ء میں ارجنٹائن، ترکی، برازیل، جنوبی افریقہ، بھارت اور روس کی کرنسیوں میں ڈالر کے مقابلے میں علی الترتیب ۱۰۷فی صد، ۶۱فی صد، ۲۲فی صد، ۱۵فی صد، ۱۴ فی صد اور ۱۴ فی صد گراوٹ آچکی تھی۔ ایران پر پابندیوں کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں حیران کن کمی کی وجہ سے ان ممالک کی شرح تبادلہ حالیہ دنوں میں کچھ بہتر ہوئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان ممالک میں ترقی کی رفتار میں کمی بلکہ تنزلی کے آثار نمایاں ہورہے ہیں۔
 شرح تبادلہ میں اس بڑی کمی کی وجہ سے در حقیقت ان ملکوں میں ایک بحرانی کیفیت کا آغاز ہوگیا ہے۔ یہ سارے ممالک مغربی بنکوں کے مقروض ہیں اور ان کے قرضوں کی مالیت کا تعین ڈالر ($) یا یورو ( €€) میں ہوتا ہے۔ شرح تبادلہ میں اس قدر کمی کے باعث مقامی کرنسی میں ان کا بوجھ اسی تناسب سے بڑھ گیا ہے۔ لہٰذا، قرضوں کی ایک خاطر خواہ مقدار اس قابل نہیں رہی کہ ان کے مقروض قرض کی ادایگیوں کو پورا کرسکیں، جس کا نتیجہ دیوالیہ پن کی طرف تیزی سے بڑھنا ہے۔
اگر یہ قرضے ناکارہ ہوجاتے ہیں تو مغربی بنکوں کو اس کے عوض اپنے سرمایے کو بڑھانا پڑے گا، جو ایک معاشی بدحالی کے دور میں بآسانی دوسرے سرمایہ کاروں سے حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ امریکی مرکزی بنک نے بھی آسان قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ، جو ۲۰۰۸ء کے بحران سے نمٹنے کے لیے شروع کیا تھا، منقطع کردیا ہے، کیوںکہ وہ تو افراط زر سے نمٹنے کے لیے شرح سود کو متواتر بڑھا رہاہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ مجموعی طلب کو کم کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا، بنکوں کے لیے ایک ہی راستہ کھلا ہے کہ وہ موجودہ اثاثوں میں سے مطلوبہ مالیت کا ایک حصہ فروخت کرکے اس سرمایے کو حاصل کریں۔ لیکن یہ فروخت ایک اضطراری اقدام ہوگا، کیونکہ یہ سرمایے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے شروع کیا جارہاہے نہ کہ کسی طے شدہ حکمت عملی کے تحت کاروباری تقاضوں کے مطابق۔ ان حالات میں اثاثوں کی وہ مالیت نہیں ملے گی، جو کتابوں میں درج کی گئی ہوگی۔ یوں یہ عمل بذاتِ خود ایک مزید نقصان اور اس نقصان کو پورا کرنے کے لیے دوبارہ اس کےعوض سرمایے کو بڑھانے کا عمل شروع کرے گا۔ یہ سلسلہ بالآخر بنکوں کے دیوالیہ ہونے پر منتج ہوگا۔
 دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کار بنکوں کو جو ابتدائی طور پر نقصانات ہوئے ہیں، انھوں نے نقصانات کا اعلان کرنا شروع کردیا ہے لیکن یہ سلسلہ ابھی محدود ہے اور فی الحال اس سے کوئی اضطراب نہیں پھیلا ہے، جب کہ حکومتیں بھی اس عمل کو محدود رکھنے میں مدد کررہی ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں یہ نظام ’اُلٹے اہرام‘ پر مبنی ہے جہاں زر کا پھیلاؤ اس کی حقیقی مالیت سے کہیں زیادہ ہوتا ہے، لہٰذا اس کا انہدام اسی انداز میں ہوتا ہے جیسے ’اُلٹے اہرام‘ کا ہوگا۔

عالمی تجارتی جنگ

ایک اور ذریعہ جہاں سے بحران اُٹھ سکتا ہے، وہ عالمی تجارت کی مقدار میں کمی ہے۔ چین اور امریکا میں چھڑنے والی حالیہ ٹیرف جنگ، جو کسی حد تک صدر ٹرمپ نے یورپ میں بھی پھیلادی ہے اور جو برطانیہ کی یورپی یونین سے نکلنے کے بعد مزید خراب ہوگی، وہ عالمی تجارت کی مقدار میں نہ صرف کمی کا باعث ہوگی، بلکہ اس نے دیوار برلن کے انہدام سے شروع ہونے والی عالم گیریت (Globalization) کی تیز رفتار پیش قدمی کو روک دیا ہے۔ دنیا اب پھر ’قومیت‘ اور ’قومی ریاستوں‘ کے بت کی پوجا کرنے نکلی ہے، اور یورپ میں ایک بار پھر اس عفریت کے سیاہ بادل منڈلانے لگے ہیں۔
لیکن تجارت میں کمی سے مرتب ہونے والے اثرات کا سلسلہ بھی بالآخر مالی ترسیلات سے جڑا ہوا ہے۔ ۲۰۰۹ء کے بعد سے اُبھرتی معیشتوں میں ترقی یافتہ ممالک سے اوسطاً ایک کھرب ڈالر کی سالانہ سرمایہ کاری آئی ہے، جو ان ممالک کی آمدنی کا اندازاً ۵۰ فی صد ہے اور جس کی بنیادی وجہ مرکزی بنکوں کی ضرورت کے مطابق آسان مالیاتی پالیسی رہی ہے۔ امریکا، برطانیہ، یورپ، جاپان اور چین کے بنک اس کام میں سرگرم ہیں۔ لہٰذا ،تجارت کی کمی سے بھی اس بحران کے امکانات میں ابھرتی معیشتوں پر پڑنے والے منفی اثرات سے مزید اضافہ ہوگا۔   
بڑھتی شرح سود، مضبوط ڈالر اور ابھرتی معیشتوں میں گرتی شرح تبادلہ وہ ایندھن ہیں، جو حد سے بڑھے ہوئے عالمی قرضے کے ڈھیر کو آگ لگا سکتے ہیں۔ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ اس وقت عالمی قرضہ عالمی آمدنی کا ۳۰۷ فی صد ہوگیا ہے، اور یہ سطح ۲۰۰۸ءکے بحران سے دو گنا زیادہ ہے۔ لیکن ماہرین کو اب یہ خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ اگر نیا بحران آتا ہے، تو اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے کون سا ہتھیار استعمال کیا جائے گا؟ کیوںکہ ماضی میں تو مرکزی بنک اور وزرات خزانہ نے تقریباً صفر شرح سود پر قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ( Quantative Easing )شروع کیا تھا، جو اَب منقطع ہوچکا ہے اور اس کی وجہ افراط زر کو قابو میں رکھنا ہے۔ لہٰذا، اس کو دوبارہ شروع کریں گے تو انجامِ کار ایک نئی مصیبت درآئے گی۔ 
دوسری جانب اُبھرتی معیشتوں میں مختلف وجوہ کی بنا پر، جس میں شرح تبادلہ کی گراوٹ بھی شامل ہے، بنکوں کے پاس موجود ’بیماری زدہ قرضوں‘ کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ان قرضوں کی تنظیم نو (restructuring ) ناگزیر ہوگئی ہے، لیکن اس کے لیے دست یاب وسائل ناکافی ہیں، کیوںکہ ان معیشتوں میں مالیاتی اور بیرونی ادایگیوں کے توازن پہلے ہی بگڑے ہوئے ہیں۔ اس تنظیم نو کے لیے وسائل مہیا کرنے سے یہ توازن مزید بگڑ جائیں گے۔ لہٰذا، عافیت اسی میں ہے کہ فی الحال اسے التوا میں رکھا جائے۔ ان معیشتوں کو تیل کی قیمتوں سے بھی شدید خدشات لاحق ہیں، جو حالیہ دنوں میں کچھ کم ہوگئے ہیں۔ 

پاکستانی معیشت پر اثرات

اس بحران کے پاکستان جیسی معیشت پر کیا اثرات ہوں گے؟ مختصراً ہم یہ عرض کریں گے کہ پاکستان نسبتاً اس بحران کے بھنور میں نہیں ہوگا (ہم بدقسمتی سے پہلے ہی دہشت گردی کے طوفان میں دو عشروں سے پِس رہے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں پر بیرونی سرمایہ کاری کا فقدان رہا ہے)۔ اس مالیاتی بحران کے پاکستان پر محدود اثرات ہوں گے، کیوںکہ ہم دنیا کے مالیاتی نظام میں کسی قابل ذکر مقام کے حامل نہیں ہیں۔ یہاں بیرونی سرمایہ بہت محدود مقدار میں آیا ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں تو جو آیا تھا اس کا بڑا حصہ گذشتہ دو برسوں کے دوران واپس جا چکا ہے۔ ہم نے کچھ بانڈز اور سکوک فروخت کیے ہیں، جن کی مالیت میں بڑی گراوٹ آچکی ہے کیونکہ ہماری اقتصادی پالیسیاں اس دوران زبردست بگاڑ کا شکار رہی ہیں، جس کی وجہ سے عالمی سرمایہ کاروں نے ان میں دل چسپی لینا چھوڑ دی ہے۔ 
ہمیں سب سے بڑا خطرہ تیل کی قیمت سے ہے، جس کے بُرے اثرات پہلے ہی مرتب ہورہے ہیں۔ خوش قسمتی سے تیل کی مارکیٹ میں قیمتوں میں حالیہ گراوٹ کچھ ڈھارس بندھا رہی ہے، لیکن اس کی پاےداری مشتبہ ہے۔ لہٰذا، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیندہ یہ قیمت کس سمت میں سفر کرے گی۔ ایک دوسرا خطرہ جو ہمارے سر پر کھڑا ہے وہ ایک ارب ڈالر کے پانچ سالہ بانڈز اور سکوک ہیں، جن کا اجرا اپریل ۲۰۱۴ء میں ہوا تھا اور جو اس سال اپریل میں ادا کرنا ہوںگے۔ عموماً ان بانڈز کو ادا کرنے کے لیے نئے بانڈز جاری کردیے جاتے ہیں، جب کہ سرمایہ دار بھی اس طرف مائل ہوتے ہیں۔ لیکن آج ہماری معیشت جس مخدوش حالت سے دوچار ہے اور آئی ایم ایف کا پروگرام اور اس کی طرف سے جاری شدہ ’صحت مندی کا سرٹیفکیٹ‘ بھی ہمارے پاس نہیں ہے، تو ہمیں اس عمل میں دشواری کا سامنا ضرور ہوگا، خصوصاً ایسے موقعے پر جب عالمی بحران کے آثار نمایاں ہورہے ہوں۔

امریکی معیشت پر اثرات

اسی طرح بحران کا ایک دوسرا امکان دیکھیے: ہم نے عرض کیا تھا کہ بڑھتی شرح سود، مضبوط ڈالر اور ابھرتی معیشتوں میں گرتی شرح تبادلہ وہ ایندھن ہیں جو حد سے بڑھے ہوئے عالمی قرضے کے ڈھیر کو آگ لگا سکتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان عوامل کا امتزاج ابھرتی معیشتوں سے ہٹ کر خود امریکا کے اپنے اندر سے پیدا ہوگا۔ ریمنڈ ڈالیو، جو ایک ارب ڈالر ہیج فنڈ کے مالک ہیں، ان کی شہرت کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ ایک ممتاز فنڈ مینیجر ہیں جو دنیا کے ۱۰۰ امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ۲۰۰۸ء کے بحران کی قبل از وقت  پیش گوئی کردی تھی۔  
ڈالیو نے حال میں یہ پیش گوئی کی ہے کہ:’’ امریکا ایک بڑے مالی بحران سے دو سال کے فاصلے پر ہے، جس کے دوران امریکی ڈالر زبردست گراوٹ کا سامنا کرے گا کیوںکہ امریکا اپنے بڑھتے ہوئے بجٹ کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے ڈالر کو بڑی تعداد میں چھاپے گا،  جب کہ اس کی عالمی مانگ میں زبردست کمی ہونے والی ہے‘‘۔ جب ڈالر کی مانگ کم اور اس کی فراہمی زیادہ ہو تو اس کی قدر، دیگر عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں گرنی شروع ہوجائے گی۔ یہ اس وجہ سے بھی ہوگا کہ امریکا میں دوسرے ملکوں کے مقابلے میں افراط زر بڑھ جائے گا اور کرنسیوں کی مالیت کے درمیان طویل المدت مساوات (Purchasing Power Parity) کا قانون ڈالر کی مالیت کو کم کردے گا۔
یہ سب کچھ کیوںکر ہوگا؟ گذشتہ سال صدر ٹرمپ نے ٹیکسوں میں امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ٹیکس چھوٹ (tax cut) کا اعلان کیا تھا۔ اس چھوٹ سے ٹیکس دہندگان کو آیندہ دس سال میں ۵ء۵ کھرب ڈالر یا، کچھ اور اندازوں کے مطابق، اس سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ لیکن یہ چھوٹ بجٹ خسارے کا باعث بنے گی۔ ان مراعات کے عوض صدر ٹرمپ نے ایسی کوئی تجاویز نہیں دیں جو بجٹ کے اس خسارے کو پورا کردیں۔ ان کی پارٹی کا موقف یہ رہاہے کہ ٹیکسوں کی کٹوتی سے معاشی سرگرمیوں کو تقویت ملے گی، جس سے ترقی ہوگی، جو بالآخر ٹیکسوں کی آمدنی میں اضافے کا باعث ہوگی۔ لیکن اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کی چھوٹ سے ہونے والی بچت اس قدر معاشی ترقی کو فروغ نہیں دے گی کہ اس سے ہونے والی ٹیکسوں کی آمدنی میں اتنا اضافہ ہو، جو نقصان کو پورا کردے۔ ایک ایسے ٹیکس نظام میں جس کی بنیاد اس اصول پر رکھی گئی ہو کہ ایک متمول ٹیکس گزار اپنی بڑھتی آمدنی کا ایک بڑھتا حصہ بصورت ٹیکس ادا کرے گا،جب کہ ٹیکسوں کی آمدنی عوامی فلاح و بہبود پر لگائی جائے گی، وہاں اتنی بڑی چھوٹ متمول ٹیکس گزاروں کو زیادہ فائدہ پہنچائے گی اور ملک میں تقسیم دولت کو ان کے حق میں کردے گی۔ 
ڈالیو کو یہ بھی کہنا ہے کہ: صدر ٹرمپ کی دی ہوئی ٹیکس چھوٹ کے اثرات ۱۸ مہینوں میں زائل ہوجائیں گے، جب کہ سوشل سیکیورٹی اور پنشن کی بڑھتی ذمہ داریوں کے سامنے ٹیکسوں کی آمدنی میں کمی ہو رہی ہوگی۔ دوسری جانب شرح سود میں اضافہ ہونے سے مجموعی قرضے اور اس پر سود کی ادایگی میں اضافہ ہوگا اور یوں بجٹ کا خسارہ خطرناک حد تک بڑھ جائے گا (واضح رہے کہ امریکا کا مجموعی قرضہ پہلے ہی اس کی آمدنی کا ۱۰۸ فی صد ہوچکا ہے)۔ ایسی صورت میں ترقی کے عمل میں زبردست کمی واقع ہوگی۔ ڈالیو مزید کہتے ہیں کہ: ’’حکومت کو بڑی مقدار میں بانڈز فروخت کرنا پڑیں گے اور امریکی عوام اتنی بڑی مقدار میں بانڈز نہیں خرید سکتے۔ لہٰذا مرکزی بنک کو (بانڈز خریدنے کے لیے) نوٹ چھاپنا پڑیں گے تاکہ خسارے کو پورا کیا جاسکے۔ لیکن یہ ڈالر کی قدر میں گراوٹ کا باعث ہوگا‘‘۔ 

ایک خوف ناک معاشی منظرنامہ

در حقیقت یہ ایک بڑا خوف ناک منظرنامہ ہے۔ جس بات کا ذکر یہاں ڈالیو نے نہیں کیا وہ یہ ہے کہ نہ صرف امریکی عوام بانڈز نہیں خرید سکیں گے بلکہ دنیا میں امریکا کے بانڈز کے خریدار بھی نہیں ہوں گے۔ جس کی وجہ سے مرکزی بنک کو نوٹ چھاپ کر حکومت کو قرضے دینے پڑیں گے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی ڈالر نے دنیا پر تنہا حکمرانی کی ہے۔ شروع میں جب ڈالر دنیا کی ریزرو (reserve) کرنسی بنا تو اس نے تمام ممالک سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ڈالر کی قدر کو مستحکم رکھنے کے لیے ہمیشہ اس کے بدلے ایک خاص مقدار میں سونا فروخت کرے گا۔ لیکن جب ۱۹۷۱ء میں فرانس نے اپنے ڈالر کے ذخائر کے عوض سونا مانگا تو اس نے انکار کردیا اور ’ڈالر سونا تبادلے‘ کا وعدہ ختم کردیا۔ لیکن اس کے بعد امریکی معیشت کی ترقی اور اس کی سیاسی طاقت نے ڈالر کی مانگ کو نہ صرف مستحکم رکھا، بلکہ اس میں اضافہ ہوتا رہا، کیوںکہ دنیا کے ترقی پذیر ممالک نے ہمیشہ اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو امریکی بنکوں میں رکھنا محفوظ تصور کیا ہے۔ اشتراکی روس کے خاتمے کے بعد ڈالر کو کوئی مزید خطرہ باقی نہ رہا۔ دیوار برلن کے انہدام اورعالم گیریت کے آغاز نے ڈالر کی شہنشاہی کو چار چاند لگا دیے۔
لیکن گذشتہ دو عشروں سے جاری متعدد جنگوں نے امریکی معیشت کو تہ و بالا کردیا ہے، جب کہ چین کی شکل میں ایک نئی معاشی طاقت امریکا کے مقابل یوں آ کھڑی ہوئی ہے کہ وہ بس  آگے نکلا ہی چاہتی ہے۔ پھر یورپ نے بھی خود کو امریکا سے دُور کرنے کے عمل کا آغاز کردیا ہے۔   ان حالات میں ڈالر کی وہ حیثیت نہیں رہی ہے جو اس نئی صدی کے آغاز پر تھی بلکہ اب اس کی مانگ گررہی ہے اور کچھ بعید نہیں کہ اس کی بادشاہی مکمل ختم ہوجائے۔
اس پس منظر میں ڈالیوکا کہنا ہے کہ: ’’انھیں دو باتوں کا خوف ہے: ایک یہ کہ دولت کی تقسیم میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی موجودگی سے معاشرے میں تناؤ بڑھ گیا ہے، لہٰذا اگلا بحران ۲۰۰۸ءکے مقابلے میں ایک بڑے سماجی تصادم کا باعث بنے گا۔ دوسرے یہ کہ پالیسی سازوں کے پاس بحران سے نمٹنے کے لیے کم طریقے اور محدود اختیارات ہوں گے کیوںکہ شرح سود ابھی بھی کم ہے، لہٰذا ماضی کی طرح کوئی حل بھی میسر نہیں ہوگا‘‘۔ ڈالیو مزید کہتے ہیں کہ: ’’وہ پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ ’کاروباری چکر‘ (Business Cycle) ایک ناگزیر   حقیقت ہے۔ قرضوں کا سلسلہ آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچ جاتا ہے۔ ’کاروباری چکّر ‘میں جب سمٹنے یا مندی کا مرحلہ آتا ہے تو دیوالیہ پن ہر طرف پھیلنے لگتا ہے اور مالیاتی ادارے ڈوبنے لگتے ہیں‘‘۔ ایسے موقعوں پر مجموعی مانگ کو مصنوعی طور پر بڑھانے کی کوششیں جیساکہ ٹرمپ انتظامیہ نے ٹیکس کی چھوٹ دے کر کیا ہے وہ ناگزیر نتائج کو مؤخر ضرور کرتے ہیں، لیکن آخرکار ابتری کا باعث ہوتے ہیں۔
ڈالیو کا یہ بھی کہنا ہے کہ: ’’قرضوں کا بحران کیا اثرات مرتب کرے گا؟ اس کا تعین اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے کیا طریق کار اپنایا جارہا ہے؟‘‘ انھوں نے تجویز دی ہے کہ: ’’اگلے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک نئی قانون سازی کی ضرورت ہے، جس میں ایک صدارتی کونسل قائم کی جائے، جو صدر، اسپیکر، سینیٹ کے قائد اکثریت اور مرکزی بنک کے چیئرمین پر مشتمل ہو اور جس کے پاس اس بحران سے نمٹنے کے لیے مکمل اختیارات ہوں۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ قانونی ڈھانچا آمدہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مطلوبہ گنجایش فراہم نہیں کرتا‘‘۔
اس بحث کے اختتام پر ہم چند گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جیساکہ کہہ چکے ہیں کہ قرض کا معاہدہ اپنی تعمیر میں ایک خرابی کا باعث ہے اور اس سے بہر صورت تباہ کن نتائج مرتب ہوتے رہیں گے۔ علاوہ ازیں سرمایہ داری کا نظام بھی اپنے اندر خرابیِ صورت کا حامل ہے۔ جب تک معاشرے میں باہمی اعتماد، محبت، ہمدردی اور بھائی چارگی کے احساسات پیدا نہیں ہوں گے، انسانی معاشرہ جنگل کے مناظر پیش کرتا رہے گا۔ ترقی کی ہوس، ذاتی منفعت کی فوقیت، غیر ضروری مقابلے کا رجحان، اجارہ داری کے حصول کی کوششیں، اور کمزوروں کو دبانے کی تیزخواہش وہ شیطانی جذبے اور محرکات ہیں جو دنیا کو امن کا گہوارہ نہیں بنائیں گے اور بد امنی، جنگیں اور معاشی بحران وقتاً فوقتاً دنیا کو بے چین رکھیں گے۔ 

گذشتہ تین عشروں کے دوران میں عالمی معاشی نظام وقفہ وقفہ سے بحران کا شکار ہوتا رہا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا بحران ۲۰ویں صدی کے شروع میں آیا تھا، جس نے دنیا کی تقریباً تمام معیشتوں کو بے پناہ مصیبتوں سے دوچار کردیا تھا۔ دو عالمی جنگوں نے بھی اس بحرانی کیفیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن ان جنگوں کے بعد دنیا میں معاشی استحکام اور ترقی کا ایک طویل دور بھی آیا، جہاں کوئی بڑا بحران پیدا نہیں ہوا، اور دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ترقی کے ثمرات سے فیض یاب ہوا۔ 
اس مضمون میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ معاشی بحران کیوںکر پیدا ہوتے ہیں اور، چند بڑے بحرانوں کا تذکرہ کرکے اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ ماہرین کی راے میں اگلا بحران کب متوقع ہے؟ علاوہ ازیں پاکستان جیسے ملک پراس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟

معاشی بحران کے محرکات

ان بحرانوں کی اصل وجہ مالی نظام اور اس سے وابستہ محرکات ہیں، جو احساسات اور نفسیات سے ترکیب پاتے ہیں۔ اس مالی نظام کی تنظیم ایسے عناصر پر مبنی ہے جو ’میری تعمیر میں مضمر ہے اِک صورت خرابی کی‘ کے مصداق مکروہ ترغیبات دے کر، اس میں ناگزیرعدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔ جدید معاشی نظام ایک ایسے نظامِ زر پر مبنی ہے، جہاں زر کی رسد اور پھیلاؤ پر کسی مقتدر ریاستی ادارے کو مکمل اختیار حاصل نہیں ہے۔ بظاہر زر [یعنی نوٹوں]کی اشاعت مرکزی بنک ایک قانون کے تحت کرتا ہے۔ لیکن ایک مخصوص شائع شدہ مقدار جاری ہونے کے بعد جب وہ رسد کسی کے ہاتھ آتی ہے تو وہ اس کو بنک میں رکھواتا ہے۔ 
اب بنکنگ نظام کی تنظیم ایسی ہے کہ وہ بھی اس زر کے پھیلاؤ کو بڑھانے میں کردار ادا کرتا ہے ۔ بنک اس بات کے پابند نہیں ہوتے کہ وہ جمع شدہ رقم (deposits) کے سامنے اسی مقدار میں ریزروز (تحفیظ) رکھیں، بلکہ صرف ایک حصہ، مثلاً ۲۰فی صد ریزرو نقد کی صورت یا مرکزی بنک میں ڈپازٹ کی شکل میں رکھنا ہوتا ہے۔ باقی رقم کے معاملے میں بنک آزاد ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے گاہک کو قرض کی صورت میں یا کچھ صورتوں میں شراکتی سطح پر کسی کاروبار میں لگانے کے لیے دے دے اور اس سے منافع کمائے۔ یہ عمل تواتر سے ظہور پذیر ہوتا ہے کیونکہ اس قرضہ کی رقم کو بھی بالآخر کسی دوسرے بنک ہی میں جمع کرایا جاتا ہے اور پھر ایک نیا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس نظام کو فریکشنل ریزرو بنکنگ (Fractional Reserves Banking) کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے مرکزی بنک کی طرف سے ایک مقدار میں شائع کی ہوئی رسدِ زر بالآخر کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ 
بظاہر یہ ایک سود مند عمل نظر آتا ہے کیونکہ زر کے اس اضافی پھیلاؤ سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے کھاتہ دار، بنک اور سرمایہ دار سب مستفید ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ نتیجہ اس وقت تک درست ہے، جب تک معیشت میں غیر استعمال شدہ پیداواری صلاحیت موجود ہے اور یہ اضافی رسدِ زر ثمرآور معاشی عمل میں لگائی جارہی ہو۔ لیکن اس کے بیچ میں وہ مکروہ ترغیبات دَر آتی ہیں، جن کا ذکر ہم نے اوپر کیا تھا۔ بنک کی آمدنی قرضوں کے اجرا سے منسلک ہے، لہٰذا بنک ان کی مقدار بڑھانے کے لیےبے چین رہتا ہے۔ اس عمل میں بسا اوقات وہ دانش مندی کا دامن چھوڑ کر حرص کا شکار ہوجاتا ہے، اور پھر مطلوبہ معیار پر پورا نہ اُترنے والے گاہکوں کو بھی قرض دینا شروع کردیتا ہے جو اہل نہیں ہوتے، یا جہاں خطرات کی نوعیت کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جاتا یا اس سے جان بوجھ کر صرفِ نظر کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کوتاہی کے تباہ کن اثرات اس وقت عیاں ہوتے ہیں، جب کاروباری چکر (business cycle) میں مندی کا مرحلہ پیش آتا ہے۔
اس موقعے پر کاروبار کمزور پڑتا ہے، مقروض قرض کی ادایگی نہیں کر پاتا اور بنک قرض کی عدم وصولی کی وجہ سے یا تو اپنے سرمایے کو استعمال کرتا ہے، جو کہ بنک کے اثاثوں کا بمشکل ۱۰سے ۱۵ فی صد ہوتا ہے، یا پھر وہ خود دیوالیہ ہوجاتا ہے۔ اس بکھرنے کے عمل میں اس وقت شدت پیدا ہوجاتی ہے، جب کھاتے دار اپنی جمع شدہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ بنک کے پاس ریزرو صرف اتنے ہوتے ہیں کہ وہ روزہ مرہ کی ضرورتوں کو پورا کرسکے۔ لہٰذا، کھاتے داروں کی ادایگیوں کے لیے وہ اپنے مقروضوں (debtors)سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ رقم واپس کردیں۔ لیکن مقروضوں کے پاس بھی رقم موجود نہیں ہوتی کیونکہ وہ تو صرف اپنے ایسے اثاثے پیش کرسکتے ہیں جو قرٖض کی رقم سے بنائے گئے تھے اور قرضوں کے عوض رہن  (mortgage) کے طور پر رکھوائے گئے تھے، لیکن اگر ان اثاثوں کو اضطراری حالت میں فروخت کیا جائے گا تو ان کی مالیت وہ نہیں ہوگی، جو حقیقی مالیت یا کتابوں میں درج مالیت کے برابر ہوتی ہے، لہٰذا یہ مالیت قرض کی ادایگی کو پورا نہیں کرسکے گی اور یوں ایک دیوالیہ پن کی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔ فریکشنل بنکنگ کا نظام زر کے پھیلاؤ کا ایک   ’الٹا اہرام‘ (inverted pyramid) کھڑا کرتا ہے۔ جب یہ تار و پود بکھرتا ہے تو اس کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے۔ اُلٹے اہرام کی نوک ہی اصل سرمایہ ہوتی ہے اور اس پر کھڑی عمارت بے بنیاد ہوتی ہے۔
 بد قسمتی سے بنکوں کو اس بات کی بھی اجازت ہوتی ہے کہ وہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کریں۔ یہاں سٹہ بازی کی زبردست ترغیبیں ہوتی ہیں۔ سٹہ بازی، بنک کے اثاثوں کو پُرخطر بنادیتی ہے۔ جب اسٹاک مارکیٹ میں مندی آتی ہے تو ان اثاثوں کی مالیت میں زبردست کمی واقع ہوجاتی ہے، جس سے وہی عمل شروع ہوجاتا ہے جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے۔
علاوہ ازیں شرح سود جو ہمیشہ متعین اور غیر متغیر ہوا کرتی تھی، اس میں ردوبدل اب معمول بن گیا ہے۔ تمام مرکزی بنک جب زر کی رسد میں کمی بیشی کرنا چاہتے ہیں تو وہ شرح سود کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب ٹرژری بلز (Treasury Bills) اور بانڈز (Bonds) کی ہر دوہفتے اور ایک ماہ کے بعد نیلامی ہوتی ہے، جو زر کی رسد میں کمی بیشی کا طریقہ ہے، تو اس میں متعین ہونے والی شرح سود مارکیٹ پر لاگو ہوجاتی ہے۔ قرضوں پر سود کی ادایگی اب متعین نہیں ہوتی بلکہ اس کو اسی نیلامی میں متعین ہونے والی شرح سے منسلک کردیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی بھی زر کی مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا کرنے کا سبب بنی ہے۔ 
ایک اور اہم عنصر جس نے اس نظام کو غیر مستحکم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے، وہ سرمایے کی دنیا بھر میں آزادانہ اور برق رفتاری سے آمد و رفت ہے۔ اس برق رفتار اور تازہ دم سرمایے کا اصل ہدف وہ ممالک رہے ہیں، جن کی معیشتوں کو ابھرتی ہوئی مارکیٹیں (emerging markets) کہا جاتا ہے۔ یہ سرمایہ جب صنعت و حرفت میں لگتا ہے تو اس کی آزادی محدود ہوجاتی ہے لیکن اگر یہ اسٹاک مارکیٹ میں لگا ہے یا قرضوں کی شکل میں آیا ہے، جیسا کہ یورو بانڈز وغیرہ تو اسے نکالنے میں کچھ دیر نہیں لگتی۔ عموماً سرمایہ ترقی یافتہ ممالک سے ابھرتی معیشتوں میں آرہا تھا، جو زیادہ تر ڈالر اور کچھ یورو میں ہوتا ہے۔ یہاں ڈالر اور مقامی کرنسی میں شرح تبادلہ اس سارے عمل پر  اثرانداز ہوتی ہے۔ مقامی کرنسی کی شرح تبادلہ میں گراوٹ، جو اکثر ڈالر اور یورو کی مضبوطی کی وجہ سے ہوتی ہے، وہ سرمایے کو واپسی کی طرف مائل کرتی ہے یا اگر قرضوں کی شکل میں ہے تو پھر مقامی کرنسی میں اس کی واپسی مشکل ہوجاتی ہے اور مقامی کاروبار بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ 

عالمی معاشی بحران کا آغاز

۲۰۰۸ء کے شروع میں جرمنی میں ایک چھوٹے سے قصبے کے بلدیاتی ادارے کے ناظم کو اس کے اکاؤٹنٹ نے ایک دن خبر دی کہ ادارے نے جو ایک بانڈ میں سرمایہ کاری کی ہے اور جس سے مستقل آمدنی موصول ہوتی رہتی تھی وہ بنک میں نہیں آئی اور کافی عرصے سے وہ کوشش کررہا ہے کہ بنک یہ بات بتائے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے، لیکن اسے کوئی تشفی بخش جواب نہیں ملا ہے ۔ 
یہ کہانی ۲۰۰۸ء کے عالمی بحران کا نقطۂ آغاز تھا۔ بحران اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بڑے پیمانے پر قرض خواہان (creditors)،مقروضوں (debtors) سے اپنا اصل اور سود وصول  نہ کرسکیں، یعنی مقروضوں کا دیوالیہ نکل گیا ہو۔ علاوہ ازیں اسٹاک مارکیٹ میں جو سٹہ کھیلا جاتا ہے اس میں بھی ایک عنصر دیوالیہ ہونے کا بھی ہوتا ہے۔ عموماً لوگ مستقبل کے سودے کرتے ہیں جیسا یہ کہنا کہ:’’میں ایک ماہ کے بعد تمھیں فلاں کمپنی کے اتنے حصص (shares)، فلاں قیمت پر فروخت کروں گا‘‘۔ ایسا سودا کرنے کے لیے قانوناً یہ ضروری نہیں ہے (جیسا کہ اسلامی شریعت میں ضروری ہے) کہ سودا کرتے وقت حصص آپ کی ملکیت میں موجود ہوں۔ اب ایک ماہ بعد ہوسکتا ہے کہ قیمت اس سے مختلف ہو، جس پر سودا کیا گیا ہے۔ اگر کم ہوئی تو فروخت کرنے والے کو نفع ہوجائے گا اور اگر بڑھ گئی تو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اور کبھی یہ نقصان اتنی بڑی مقدار میں ہوگا کہ فروخت کرنے والا اپنے دیوالیہ پن کا اعلان کردے گا۔ 
لیہمین برادرز دنیا کا ایک نام ور ترین سرمایہ کاری بنک تھا، جو ۱۵۰ سال کامیابی سے منافع بخش کام کرتا رہا اور اس کی قابلیت اور صلاحیتوں کی ایک دنیا معترف تھی۔ ا۲ ویں صدی کے آغاز میں اس بنک نے ایک ایسا کام شروع کردیا جو ماضی میں اس کی پہچان نہیں تھی: گھروں کے لیے رہن پر قرضے دینا۔ در حقیقت لیہمین وال اسٹریٹ کی اشرافیہ کا کلیدی رکن تھا اور یہ ادارے پرچون کا کاروبار نہیں کرتے بلکہ یہ تو پرچون والوں کا سامان زیب و زینت سے آراستہ کرکے بڑے سرمایہ کاروں کو بیچتے ہیں۔ لیکن یہ ایسا وقت تھا جب امریکا میں شرح سود کم ترین تھی اور زر کی رسد بے پناہ تھی، کیونکہ چین اور دیگر ایشیائی ممالک اپنے زرمبادلہ کے بڑھتے ہوئے ذخائر کم ترین شرح پر امریکی حکومت کے بانڈز خرید کر قرض کی شکل میں فراہم کر رہے تھے، جس سے دو جنگوں پر بڑھتے دفاعی اخراجات اٹھانے کے باوجود امریکا میں افراط زر قابو میں تھا۔ رہن بردار قرضہ نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے کیونکہ رہن کی مالیت عام طور پر قرض سے زیادہ ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ بڑھتی رہتی ہے، لہٰذا ڈیفالٹ کی صورت میں رہن بیچ کر قرض وصول کرلیا جاتا ہے، بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جتنی مالیت رہن کی قرض ادایگی سے چھوٹتی رہتی ہے، اس کی جگہ بھی ایک اضافی قرضہ حاصل کرلیا جاتا ہے۔
اس پُرکشش پرچون کاروبار کو شروع کرنے کے لیے لیہمین نے دو ایسے مالیاتی اداروں کو خرید لیا، جو رہن بردار قرضے جاری کرتے تھے ۔ لیہمین نے کم شرح پر ملنے والے قرضوں کی ایک بڑی مقدار کو حاصل کرکے ان سے اپنے ذیلی اداروں کے توسط سے رہن بردار قرضے جاری کرنے کا عمل تیز تر کردیا۔ یہ کیوںکہ سرمایہ کار بنک تھا، اس لیے ان اداروں کے جاری کردہ رہن بردار قرضوں کو ان سے خرید کر اور ان کو بنیاد بنا کر نئے بانڈز تشکیل دینے اور انھیں فروخت کرنے لگا، جن کی آمدنی ان خریداروں کو دیے گئے قرضوں پر ملنے والی سود کی ادایگی سے ہوتی تھی۔ یہ بانڈز ساری دنیا میں فروخت ہوتے تھے اور ان کی زبردست طلب ہوتی تھی۔ ایسا ہی بانڈ جرمنی کے اس چھوٹے بلدیاتی ادارے نے بھی خرید رکھا تھا اور اس پر ابتدا میں مسلسل آمدنی ہورہی تھی جو بعد ازاں منقطع ہوگئی۔ 
یہاں ذرا ٹھیر کر ہم اس عمل کو مزید سمجھ لیں۔ عموماً ہم ایک بنک سے قرضہ لیتے ہیں تو اس کی ایک طے شدہ برانچ ہوتی ہے جس سے ہمارا لین دین ہوتا ہے۔ امریکا میں بھی یہی نظام ہوتا تھا۔ لیکن قرض کے کاروبار میں پھیلاؤ کی خاطر نت نئی راہیں تلاش کرنے کی جستجو نے یہ ستم ڈھایا کہ عام صارفین کے قرضے بھی فروخت ہونے لگے۔ قرض کی قسطوں کی ادایگیوں کے لیے یہ ضروری نہیں رہا کہ وہ اسی برانچ میں داخل کی جائیں بلکہ اس کے لیے ایک ٹرسٹی کی تعیناتی ہوجاتی ہے، جو وصولیاں کرکے قرض خواہ کے رجسٹر میں درج تازہ ترین مالک کو یہ وصولیاں پہنچا دیتا ہے۔ جب لیہمین برادرز نے یہ قرضے خریدے تو ساتھ ہی یہ اہتمام بھی کرلیا کہ اب ٹرسٹی وصولیاں اس کو پہنچائے گا۔ پھر اس نے جس کو نو تشکیل شدہ بانڈز فروخت کیے ان کو بھی یہ سہولت مہیا کردی  باوجودیہ کہ نیا بانڈ کئی قرضوں کے امتزاج سے نکلا ہوتا تھا۔ اس سارے عمل میں ایک عام صارف جس نے پہلے قرضہ لیا تھا اور ایک بانڈ ہولڈر جس نے لیہمین برادرز کا نو تشکیل شدہ بانڈ خریدا ہے، کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ فلوریڈا کا رہایشی جس نے مقامی بنک سے رہن بردار قرض لیا تھا بالآخر اس کا قرض خواہ جرمنی کے ایک چھوٹے سے قصبے کا بلدیاتی ادارہ بن گیا مگر ہر دو افراد ایک دوسرے سے مکمل لا تعلق ہیں۔  
لیہمین کی تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ ۲۰۰۰ء میں شروع کیے گئے اس کاروبار میں ۲۰۰۳ء تک اس کے اثاثوں کی مالیت ۱۸ ؍ارب ڈالر ہوگئی تھی اور وہ امریکا میں رہن بردار قرضوں کو جاری کرنے والوں میں تیسرے نمبر پر آگیا۔ ۲۰۰۷ء کی آمد تک یہ کاروبار اس قدر پھیلا کے وہ ۵۰؍ ارب ڈالر کے قرضے ماہانہ جاری کررہا تھا۔ ۲۰۰۸ء میں اس کے اثاثوں کی مالیت ۶۸۰؍ارب ڈالر ہوگئی تھی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اس کے اپنے سرمایے کی مالیت فقط ۲۳؍ ارب ڈالر تھی،جب کہ بقیہ اثاثے قرضے حاصل کرکے بنائے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اثاثوں اور سرمایہ کا تناسب ۳۰:۱ کا تھا۔ اگر اس کے اثاثوں کی مالیت میں کسی حادثے کی صورت میں ۴فی صد کی کمی واقع ہوجائے تو سارا سرمایہ ختم ہوجائے گا اور ان بقیہ اثاثوں کے سامنے صرف وہ قرضے رہ جائیں گے، جن کے ذریعے یہ اثاثے بنائے گئے تھے۔ لیکن اضطراری فروخت میں ان کی مالیت اتنی نہیں ملے گی جس سے قرضوں کی مکمل ادایگی ممکن ہوسکے۔ اور یوں قرض سے بنائے گئے اثاثوں کی عمارت زمیں بوس ہوجائے گی۔ 
ہم نے ابتدا میں ان مکروہ ترغیبات کا ذکر کیا تھا جو جدید اور مروجہ مالیاتی نظام اِس کے منتظمین کو فراہم کرتا ہے۔ لیہمین برادرز کا خاتمہ اسی راستے پر چلنے سے ہوا۔ جب رہن بردار قرضوں کا سلسلہ تیز کرنے کا مرحلہ آیا تو لیہمین نے بھی نسبتاً کم کوالٹی کے قرضہ داروں کو قرضہ دینے کا کام شروع کردیا، جس کو سب پرائم (Sub-Prime) کہتے ہیں۔ عموماً بنک صرف پرائم کسٹمرز کو قرضے دیتے ہیں، جن کے ڈیفالٹ کرنے کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ لیکن کیونکہ گھر کی بنیاد پر قرض دینے میں رہن موجود ہوتا ہے تو یہ فکر پیدا کی گئی کہ صارف کی نسبتاً کم کوالٹی کو رہن کی موجودگی پورا کرسکتی ہے۔ مغربی مالیاتی نظام کے تحت یہ مفروضہ بُرا نہیں سمجھا جاتا، لیکن اگر اس کو بے حد و حساب بڑھا دیا جائے تو شاہد یہ مفروضہ بھی غلط ثابت ہوسکتا ہے۔ اور کچھ ایسے ہی حالات نے بالآخر جنم لیا،  جس نے سارے مالیاتی نظام کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا۔
۲۰۰۰ء سے ۲۰۰۸ء تک رہن بردار قرض اس بڑے پیمانے پر جاری کیے گئے، جن کا ماضی میں تصور ممکن نہیں تھا۔ خود لیہمین بردارز نے جس رفتار سے قرضوں کو جاری کیا اس کا ذکر ہم اُوپر کرچکے ہیں۔ بنکاروں نے ان قرضوں کو جاری کرنے کے لیے نہایت جارحانہ مہمات کا اہتمام کیا۔ اتوار بازار لگائے جاتے تھے جہاں سارا دن مفت سیر اور تفریح اور کھانا پینا ہوتا تھا اور    سادہ لوح لوگوں کو گھر خریدنے کی ترغیب دی جاتی تھی اور وسائل کے حوالے سے کہا جاتا تھا کہ: ’’فکر نہ کریں، اس کے لیے ہم آپ کو قرض دیں گے‘‘۔ گھر کے مالک کا اپنا سرمایہ کم سے کم کردیا کیونکہ مفروضہ یہ تھا کہ مستقبل میں گھر کی مالیت میں اضافہ ہی ہوگا کمی نہیں۔ دوسری طرف بڑے پیمانے پر گھروں کے کمپلیکس تیار تھے، جہاں صرف مکینوں نے داخل ہونا تھا۔ درخواست میں مقروض کی معاشی حالت کے پس منظر اور آمدنی سے متعلق کوائف دینے کی ضرورت تھی، وہ اس طرح درج کردیے جاتے تھے جو قرض کی منظوری کا باعث ہوں، قطع نظر اس سے کہ وہ حقیقتاً درست ہوں یا نہ ہوں۔ لوگ اپنی حیثیت سے کہیں بڑے گھروں میں داخل ہونے لگے، اگر حیثیت تھی بھی تو آمدنی میں وہ تسلسل نہیں تھا، جو عموماً رہن بردار قرض کا جواز پیدا کرتا، یا کم از کم اتنا بوجھ ڈالتا جو کسی حد تک پورا کیا جاسکتا۔  
۲۰۰۸ء میں وہ واقعہ رُونما ہوگیا، جس کے بارے میں گمان تھا کہ وہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ نہیں ہوتا: گھروں کی مالیت گرنے لگی۔ گھروں کی رسد میں بے محابہ اضافہ، کم شرح سود پر ملنے والے قرضے تھے۔ جب شرح سود میں اضافہ ہوا تو گھر کی مالیت گرنے لگی، کیوںکہ رہن بردار قرضوں کی شرح سود میں بھی اضافہ ہوگیا اور قرضوں کی ادایگی میں دقت پیش آنے لگی لہٰذا ڈیفالٹ کا آغاز ہوگیا، کیونکہ گھر کی مالیت قرض کی ادایگی کے لیے نا کافی تھی۔ لوگ گھروں سے بے دخل ہونے لگے، خالی کیے گئے گھروں کا کوئی خریدار نہ تھا، ان کی تعمیر میں لگے سرمایے کا نقصان کسی بنک نے تو اٹھانا تھا، جیسے لیہمین برادرز، لیکن اتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کسی کے پاس موجود نہیں تھا، لہٰذا بنک ڈوبنے لگے۔ 
ستمبر ۲۰۰۸ میں جب یہ خبر عام ہوئی کہ لیہمین برادرز دیوالیہ ہو گیا ہے تو یہ ایک سونامی کا آغاز تھا۔ وال اسٹریٹ میں ایک بھونچال آگیا تھا، جونائن الیون کے بعد پہلا بڑا حادثہ تھا۔ قریب تھا کہ سارا مالیاتی نظام درہم برہم ہوجائے کیوںکہ بنکوں نے قرضے جاری کرنے بند کردیے تھے اور کچھ ایسے کاروبار جو سرمایہ کاری کی انشورنس فراہم کرتے تھے وہ بھی ڈوبنے والے تھے۔  امریکی حکومت کو بالآخر یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ اگر اس ڈوبنے کے سلسلے کو نہ روکا گیا تو ساری معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہٰذا، انھوں نے ان بنکوں اور مالیاتی اداروں کو قومی خزانے سے نہایت کم شرح پر سرمایہ فراہم کردیا، اور یوں یہ ادارے بچ گئے اور تباہی محدود ہوگئی۔ لیکن جو کچھ ختم ہوگیا وہ بھی ہولناک تھا: امریکا میں ۹۰ لاکھ لوگ بے روزگار ہوگئے؛ گھریلو دولت میں ۱۳ہزار ارب ڈالر کا نقصان ہوا؛ ایک مختصر سی مدت میں گھروں کی مالیت میں ۳۰ فی صد کمی واقع ہوئی اور اسٹاک مارکیٹ کی مالیت ۵۰ فی صد گر گئی؛ ایک اندازے کے مطابق امریکا کی سالانہ آمدنی کا ۴۰ فی صد اس بحران میں برباد ہوگیا۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے اور کھلے آسمان کے نیچے کیمپوں میں رہنے لگے۔ یورپ، جاپان اور ایشیا کی دوسری معیشتیں بھی اس سے متاثر ہوئیں اور ’مالیاتی سونامی‘ ساری دنیا پر اپنے بُرے اثرات چھوڑ گیا۔
۲۰۰۸ء کے ’مالیاتی سونامی‘ نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے مکروہ ترغیبات کے حامل بنکاری اور مالیاتی نظام کا پردہ چاک کردیا۔ چوں کہ اس نظام کے پشتیبان اثر و رسوخ کے حامل  اور طاقت کے مراکز پر قابض ہیں، اور بزعم خویش اتنے بڑے ہیں کہ انھیں گرنے نہیں دیا جا سکتا (too big to fail) لہٰذا، ان کو کھڑا رکھنے کے لیے ریاست نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے۔ دوسری جانب اس میں گرنے والے وہ کمزور اور بے اثر افراد جن کی زندگی بھر کی کمائی خاک میں  مل گئی، جو اپنے گھروں سے بے دخل ہوکر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے، سرمایہ دارانہ معیشت کی سرخیل ریاست ِ امریکا ان کی کفالت کو نہیں آئی۔ گھروں سے بے دخل ہونے والوں کو اگر کسی بھی درجے میں دیوالیہ ہونے سے بچایا جاتا، اس خیال سے کہ ان کے گھروں کی مالیت اس سونامی کے بعد اپنی حقیقی مالیت کی طرف واپس آجاتی، تو یہ تباہی سے بچ سکتے تھے جیسا کہ بڑوں کو بچانے کے لیے کیا گیا۔ لیکن امریکی صدر اوباما نے اس طرح کی کسی تجویز کو درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ 

’مالیاتی سونامی‘ کا بنیادی سبب

جب یہ سونامی گزر گیا تو اس کے بعد کوئی احتسابی عمل شروع نہیں ہوا۔ کچھ افراد کو فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ بہت معمولی سزاؤں کے بعد چھوٹ گئے۔ زیادہ وقت اس بات پر صرف ہوا کہ آیندہ اس کے تدارک کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جائیں۔ ان اقدامات کو سمجھنے کے لیے ایک اور نام نہاد کاروبار سمجھنا ضروری ہے، جو سودی کاروبار سے آگے بڑھ کر صاف اور صریحاً قمار یا جوا ہے اور جو حقیقتاً اس سونامی کا اصل باعث بنا تھا۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا معاہدہ ہے، جو Derivative (ڈیریویٹو، جس کا ترجمہ ہم’متبدّل‘ کررہے ہیں) کہلاتا ہے، جس کے مطابق مستقبل میں پیش آنے والے ایسے واقعے سے بچائو کے لیے ایک قیمت ادا کرکے خریدار اپنا تحفظ کرسکتا ہے۔ مثلاً رہن بردار قرض خواہ، جس کو مقروض کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہو وہ ایک متبدّل خریدے گا کہ اگر مقروض نے قرض ادا نہیں کیا تو متبدّل فراہم کرنے والا ادا کردے گا۔ یقیناً یہ معاہدہ ایک طرح کا بیمہ یا انشورنس ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر یہ کاروبار ان تمام قوانین اور نگرانیوں سے آزاد تھا جو انشورنس کے کاروبار پر لاگو ہوتے ہیں۔ اس کو فروخت کرنے والا انشورنس کے معروف کاروبار کے لیے لائسنس کا نہ حامل تھا اور نہ اس نے اس کے لیے ضروری سرمایہ فراہمی کی پابندی تھی۔ متبدّل ضروری نہیں کہ صرف مالی اُمور تک محدود رہے۔ یہ اشیا کی قیمتوں میں   اُتار چڑھاؤ، شرح سود میں تبدیلی، متعین شرح کو غیر متعین سے تبادلہ کرنے وغیرہ سب میں استعمال ہوسکتے ہیں۔ بس ایک قیمت کی ادایگی سے، ایک خاص مدت کے لیے، ایک ناپسندیدہ نتیجے سے بچنے کے لیے متبدّل خرید کر تحفظ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 
گذشتہ سال ۵۰۰ ٹریلین ڈالر سے زائد ’متصّور مالیت‘ (Notional Value) کے  ۲۵؍ارب متبدّل فروخت ہوئے ہیں۔ یہ مالیت ان معاہدوں کی ہے جن کے لیے متبدّلات خریدے گئے ہیں، مثلاً شرح تبادلہ یا کریڈٹ ڈیفالٹ وغیرہ۔ یہ واضح رہے کہ یہاں ایک معاہدہ کئی مرتبہ گنا جاتا ہے کیونکہ متبدّل فروخت کرنے والا خود اپنے تحفظ کے لیے بھی کسی دوسرے سے متبدّل خریدتا ہے، لہٰذا یہ ایک لامتناہی سلسلہ بن جاتا ہے۔ متبدّلات کی خرید و فروخت دو طرح سے ہوتی ہے: باہمی طور پر دو افراد یا کمپنیوں کے درمیان یا پھر کسی ایکسچینج میں۔ یہ ۹۵ فی صد تو  باہمی طور پر ہوتی ہے۔ دو قسم کے متبدّل سب سے زیادہ فروخت ہوئے: ایک کریڈٹ ڈیفالٹ سواپ (تبادلہ) اور دوسرا رہن بردار قرض ادایگیاں (CDO - Collarrized Debt Obligations)۔ آخرالذکر اصل میں مالیاتی سونامی کا باعث بنا۔
رہن بردار قرضوں کا زور یوں اور بڑھ گیا کہ مارکیٹ میں اس کا متبدّل بکنے لگا، اور امریکا کا ایک معتبر نام امریکا انٹرنیشنل گروپ (AIG) اس کام میں لیڈر تھا۔ لیکن جب شرح سود میں اضافے کی وجہ سے ڈیفالٹ کا آغاز ہوا تو CDO نے ابتدا میں ادایگیاں کرنا شروع کردیں، لیکن جلد اسے یہ احساس ہوگیا کہ وہ اتنے بڑے پیمانے پر ادایگیاں کرنے کے قابل نہیں ہے۔ قریب تھا کہ سارا نظام دھڑام سے گر جاتا کہ اس وقت کے امریکی وزیر خزانہ ہیری پالسن، گولڈ مین ساچس (Goldman Sachs)، جو سب سے بڑا بنک تھا اور اس کاروبار میں بھی چار بڑے اداروں میں شامل تھا، کے سابق سربراہ تھے۔ ان کی سربراہی میں ان اداروں کو بچانے کے لیے ایک اجلاس اکتوبر ۲۰۰۸ء میں منعقد ہوا، جس میں مرکزی بنک اور مرکزی انشورنس کے سربراہان بھی شامل تھے۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ حکومت ان اداروں کو سیکڑوں ارب ڈالر کے قرضے براہ راست اور مرکزی بنک کے ذریعے فراہم کرے گی تاکہ یہ اس ڈیفالٹ سے بچ جائیں۔ مرکزی بنک نے تقریباً صفر شرح سود پر اتنی بڑی مقدار میں قرضے جاری کیے، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔  اس کی بیلنس شیٹ دوگنی سے بھی زیادہ بڑھ گئی۔ 
متبدّل کا کاروبار بلا روک ٹوک اور بغیر کسی قانونی عمل کے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت شروع کیا گیا تھا۔ ۲۰۰۰ء امریکی صدر بل کلنٹن کی حکومت کا آخری سال تھا اور اس سال دسمبر تک کا ان کا بجٹ کانگریس سے پاس نہیں ہورہا تھا۔ اس کے حصول میں جو چیز مانع تھی، وہ    ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر ز کا یہ اصرار تھا کہ بجٹ قانون کے اندر ایک اور قانون کی منظوری دی جائے جس کی صدر کلنٹن مخالفت کررہے تھے۔ یہ قانون متبدّل کے کاروبار کو ایک مستقبل (فیوچرز) کے سودوں کی مارکیٹ، جو ایک منظم مارکیٹ ہے اور تبادلۂ اشیا ایکٹ ۱۹۳۶ء کے تحت کام کرتی ہے، اس سےجدا ایک کاروبار تسلیم کروانا تھا ۔ یہ کاروبار باہمی سودوں کی بنیاد پر ماہر سرمایہ کاروں کے درمیان ہو اور اس پر کسی قسم کی کوئی نگرانی کا عمل نہ ہو خصوصاً ۱۹۳۶ء کا ایکٹ اس پر لاگو نہ ہو۔ بالآخر مجبوری میں بل کلنٹن نے بجٹ منظوری کی خاطر اس قانون کو منظور کرلیا۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ نگران ادارے جو بنکوں، غیربنک مالی اداروں، انشورنس وغیرہ کی نگرانی کرتے ہیں، اس کاروبار کے معاملات کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ مزید برآں ’وال اسٹریٹ‘ اور کوئی دوسرا اسٹاک ایکسچینج بھی یہ کام دیکھنے کا مجاز نہیں تھا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ متبدّل فروخت کرنے والوں کو کسی قسم کے ذاتی سرمایے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نئے کاروبار کی تشکیل نے ایک اور مکروہ ترغیب فراہم کردی، جو اس کی تباہی کا باعث بنی۔ متبدّل اتنی بڑی تعداد میں فروخت کیے گئے جتنی بڑی تعداد میں رہن بردار قرضے جاری کیے جارہے تھے۔ جب بڑے پیمانے پر رہن بردار قرضوں کا ڈیفالٹ شروع ہوا تو متبدّل بیچنے والوں کے پاس اتنا سرمایہ نہیں تھا کہ وہ اپنے سارے وعدے پورے کرسکتے۔ یہ نوبت جب AIG اور گولڈمین ساچس تک پہنچی تو’آپ کی زلف میں پہنچی تو حُسن کہلائی‘ کے مصداق بڑی سرکار حرکت میں آگئی۔
ایک اور دل چسپ بات ہم یہاں بتاتے چلیں۔ جب لیہمین برادرز اپنے ذیلی اداروں کے جاری کردہ رہن بردار قرضوں پر مبنی بانڈز بنا کر وال اسٹریٹ میں فروخت کرتا تھا، تو اس کے لیے کسی نامور ریٹینگ ایجنسی سے ریٹنگ کروانی لازم ہوتی تھی۔ یہ تمام ریٹنگ عموماً AAA ہوتی تھیں، جس کا مطلب تھا کہ اس میں ڈیفالٹ کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ موڈیز، اسٹینڈرڈ اینڈ پور اور فیٹچ یہ تینوں ایجنسیز اس کام میں ملوث پائی گئی ہیں۔ موڈیز نے تو کمال کردیا۔ ۲۰۰۶ء میں اس نے تقریباً ۸۶۹؍ ارب ڈالر کے رہن بردار بانڈز کو AAA ریٹینگ جاری کی تھی۔ پھر  ’مالیاتی سونامی‘ کی آمد سے ذرا پہلے اس میں سے ۸۳ فی صد بانڈز کی ریٹنگ گھٹا دی، مگر اس وقت تک بہت تاخیر ہوگئی تھی۔ سونامی کے ذمہ داروں میں ان ایجنسیوں کا نام بھی سامنے آیا اور ان پر مقدمات قائم ہوئے۔ لیکن پھر جرمانے ادا کرکے فارغ ہوگئے اور آج بھی یہ اسی آن بان سے کام کررہے ہیں، اگرچہ موڈیز کو جسٹس ڈیپارٹمنٹ کی ایک تحقیقات کا سامنا ہے۔
ہم یہاں سود کی تباہ کاریوں کا ذکر بھی کرنا چاہتے ہیں۔ سود کے کاروبار میں ایک عدم استحکام قدرتی طور پر پنہاں ہے۔ سود کا سودا طے شدہ مدت کے بعد مقروض سے سود کی ادایگی کا مطالبہ کرتا ہے، اگر یہ ادایگی نہیں ہوگی تو وہ رہن کو بیچ کر اپنا سود اور اصل سرمایہ پورا کرسکتا ہے۔ اگر یہ ناکافی ہے اور مزید کوئی اثاثہ بطور ضمانت موجود نہیں ہے تو قرض خواہ کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس کے برخلاف اگر یہ کاروبار شراکت کی بنیاد پر کیا جائے تو یہ عدم استحکام دور ہو جاتا ہے۔ کیوںکہ شراکت کی وجہ سے سرمایہ فراہم کرنے والے کے لیے یہ ترغیب نہیں رہتی کہ مندی کے حالات میں اگر اس نے رہن جلد فروخت نہ کیا تو اسے مزید نقصان اٹھانا پڑے گا، بلکہ شریک کی حیثیت سے اس کا حصہ ہمیشہ اپنی جگہ قائم رہے گا اور مندی کے حالات میں بیچنا مالیت کو خراب کرے گا۔ یوں سارے نظام سے وہ مکروہ ترغیب جو لوگوں میں اضطراب اور بے چینی (panic) کا باعث ہوتی ہے وہ ختم ہو جاتی ہے۔
 متبدّل کا کاروبار جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں صاف جوا ہے جس کا اسلامی شریعت میں حرام ہونا واضح ہے۔ علاوہ ازیں شریعت یہ بھی پابندی لگاتی ہے کہ آپ وہ اشیا نہیں بیچ سکتے جو آپ کی ملکیت میں نہ ہوں یا جن کی بوقت ضرورت موجودگی میں کسی قسم کا شبہہ ہو۔ لہٰذا یہ واضح ہے کہ اسلامی نظام مالیات ان مکروہ ترغیبات کو مٹا کر ایک ایسا نظام فراہم کرتا ہے، جو اس عدم استحکام سے پاک ہے، جو سود اور متبدّل پر مبنی نظام میں بنیادی طور پر پایا جاتا ہے۔ 
[اگلی قسط میں ہم بتائیں گے کہ کس طرح یہ عدم استحکام ایک بار پھر دنیا کے مالیاتی نظام کو تہہ و بالا کرنے والا ہے۔]