دنیا کو آج بے شمار خطرات اور مشکلات کا سامنا ہے۔ دنیا اتنی تیزرفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے کہ کسی قدم پر بھی ٹھوکر کھا کر آن کی آن میں تباہی کے گہرے غاروں میں گرسکتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جدید سائنسی ترقی نے دنیا کو بے پناہ آسایشوں سے مالا مال کر دیا ہے لیکن اس ترقی نے اسے ایسی مہلک ایجادات بھی فراہم کر دی ہیں جن سے وہ چند لمحوں میں اپنی موت کے ساماں خود پیدا کرسکتی ہے۔ لہٰذا اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ دنیا میں بسنے والوں کو خوف و ہراس سے نکال کر ایسی زندگی فراہم کی جائے جس میں ہر طرف سکون‘ محبت اور اخلاق کا دور دورہ ہو اور اُسے وہ معاشرہ دیا جائے جو انسان کے شایانِ شان ہو۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
آج وقت تقاضا کرتا ہے کہ’دہشت گردی‘ کو ختم کرنے کے لیے پہلے اس کے اسباب کو ختم کیا جائے۔ غاصب اقوام کے منہ زور گھوڑوں کو لگام دی جائے۔ دنیا اچھی طرح جان لے کہ انتقام کی آگ وقتی طور پر تو ٹھنڈی ہوسکتی ہے ہمیشہ کے لیے بجھ نہیں سکتی۔
___ اسلام ہی ساری دنیا کو بھلائی دینے والا دین ہے۔
___ یہ اُمت عالم گیر امن کی دعوے دار اُمت ہے۔
___ان کی کتاب دنیا کو روشنی فراہم کرنے والی کتاب ہے۔
___ ان کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر آنے والا رسول ہے۔
___مغرب کو بتایا جائے کہ خود ان کے بڑے بڑے دانش ور تسلیم کرتے ہیں کہ:
He was the only man in history who was supremely successful on both the religions and secular levels".(Dr. Michal Hart, The 100)
___ یہ بھی واضح کیا جائے کہ جن کا مزاج ہی لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (البقرہ۲:۲۵۶) ہو‘ وہ تشدد اور دہشت گردی جیسے برے راستے پر کبھی نہیں نکل سکتے۔
ان حالات میں اُمتِ مسلمہ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ سرکارِ دوجہاں‘رحمت کون و مکان صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے پیروکاروں کی سیرت کا ورق ورق دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دے اور دنیا خود دیکھ لے کہ اسلام اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کیا ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کو ان امور میں شامل کیا ہے جن پر رشک کیا جا سکتا ہے۔ آپؐ ہمیشہ دعا فرماتے:میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔ (طٰہٰ ۲۰:۱۱۴)
اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا معاشرہ تشکیل دیا جو دلوں سے جہالت کے اندھیرے نکال کر ان کی جگہ علم کی شمعیں جلا دیتا ہے۔
عورتوں کے بھی حقوق ہیں جیساکہ مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ (البقرہ ۲:۲۲۸)
اور ان کے ساتھ اچھی طرح رہو‘ سہو۔(النساء ۴:۱۹)
مردوں کا وہ حصہ ہے جو وہ کمائیں اور عورتوں کا وہ حصہ ہے جو وہ کمائیں۔ (النساء ۴:۳۲)
ان کا نبیؐ ان سے کہتا ہے:عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ (مسلم‘ ج ۱‘ ص ۳۹)
اسلام نے تعلیم کو کبھی ایک طبقے تک محدود نہیں رکھا۔ خواتین نے جب آپؐ سے تعلیم کے لیے ملنے کی درخواست کی تو آپؐ نے ان کے لیے علیحدہ وقت مقرر کر دیا اور الگ جگہ کا تعین فرما دیا۔(مسند احمد‘ ج ۱۳‘ ص ۸۵)
اسلام خواتین کے بارے کہیں رکاوٹ نہیں ڈالتا۔ انھیں برابری کا حق دے کر ان کی پوری حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ہاں‘ اپنی تعلیمات کی روشنی میں اتنا ضرور تجویز کرتا ہے: ۱-اسلامی نظام تعلیم میں لڑکیوں کے لیے تعلیم کا انتظام الگ ہونا چاہیے۔ ۲- ان کے لیے نصابِ تعلیم الگ ہونا چاہیے کیوں کہ ان کی عملی زندگی مردوں سے مختلف ہوتی ہے۔ (انسانِ کامل‘ ص ۲۴۵)
اب اگر ان اصولوں کو سامنے رکھ کر اسلامی معاشرہ خواتین کو حصولِ علم کا ہر موقع فراہم کرتا ہے اور انھیں پورا تحفظ فراہم کرتا ہے تو اس کی ’روشن خیالی‘ میں کہاں کمی رہ جاتی ہے۔ البتہ یورپ اگر اہلِ ایمان کی قندیلِ ایمانی کو بے حیائی اور فحاشی کی تعلیم سے مدھم کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے ؎
دِیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّت
ہے ایسی تجارت میںمسلماں کا خسارا
اس قوم کی نفرت جس نے تم کو کعبے سے روکا تھا تم کو ادھر کھینچ کر نہ لے جائے کہ تم بھی ان پر زیادتی کرو۔(المائدہ ۵:۷)
اے لوگو‘ جو ایمان لائے ہو‘ اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھرجائو۔ عدل کرو۔ یہ خداترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔(المائدہ ۵:۸)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس کی فتح کے بعد جو معاہدہ لکھوایا اس کے الفاظ تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا: یہ وہ امان ہے جو خدا کے غلام امیرالمومنین عمرؓ نے ایلسا کے لوگوں کو دی‘ یہ امان ان کی جان‘ مال‘ گرجا‘ صلیب‘ تندرست‘ بیمار اور ان کے تمام مذہب والوں کے لیے ہے۔ اس طرح کہ نہ ان کے گرجوں میں سکونت کی جائے گی‘ نہ وہ ڈھائے جائیں گے‘ نہ اُن کے احاطوں کو نقصان پہنچایا جائے گا‘ نہ ان کے مالوں میں کمی کی جائے گی اور مذہب کے بارے میں ان پر کوئی جبر نہیں کیا جائے گا۔
حکمرانِ امویہ‘ عباسیہ‘ اندلسیہ و فاطمیہ کے عہد حکومت میں اقوامِ غیر کا صدیوں تک آباد رہنا مسلمانوں کی بے تعصبی کی روشن دلیل ہے۔ اورنگ زیب عالم گیر کو متعصب قرار دیا جاتا ہے لیکن اس کے دربار میں ہندو امرا کی فہرست اکبر کے دربار سے زیادہ لمبی ہے۔ سیاستِ حاضرہ کے ماہر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ بے تعصبی اور رواداری ہی ان کے زوال کا سبب بنی۔ ایک سیرچشم مسلمان یہ اعتراض تو تسلیم کرسکتا ہے لیکن یہ کبھی تسلیم نہیں کرسکتا کہ اسلا م میں تعصب ہے۔ (رحمۃ للعالمینؐ، ص ۳۷۴-۳۷۵)
اسلام انسان کی خودی کی تعمیر کرکے اسے ایسا روشن خیال بنا دیتا ہے جس کی دنیا اور دین کے درمیان فاصلے ختم ہوجاتے ہیں۔ وہ اسے معاشرے کا ایسا فرد بنا دیتا ہے جس کی زندگی کا کوئی پہلو کمزور نہیں رہتا۔ وہ اسے اپنے خالق کا سچا بندہ‘ والدین کا سعادت مند بیٹا‘ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے والا‘ تمدن کا پورا محافظ‘ فرماں بردار‘ راست گو‘ امانت دار‘ صلح پسند‘ فساد کا دشمن اور نسلِ انسانی کا دوست بنا دیتا ہے___ اور پھر ایسے افراد مل کر جو معاشرہ تشکیل دیتے ہیں تو اس میں اعلیٰ ترین مدنیت ازخود ہر طرف سے جھلکتی نظر آتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ تعلیمات تھیں جن پر چل کر مسلمانوں نے عملاً ایک عالم گیر اور روشن خیال معاشرہ قائم کرکے دکھا دیا اور دنیا کو ماننا پڑا کہ اسلام ہی وہ دین ہے جو ہر نسل کے لوگ اکٹھے کر کے محض ایک عقیدے کی بنا پر انھیں ایک اُمت بنا سکتا ہے۔
آج زمانہ گواہی دے رہا ہے کہ انسان کے اپنے تخلیق کردہ نظریات دنیا کو فساد کے سوا کچھ نہیں دے سکے۔ گذشتہ چند صدیوں میں دنیا نے بے شمار نظاموں اور اِزموں کو آزما کر دیکھ لیا ہے۔ انسان پریشان سے پریشان تر ہوتا جا رہا ہے۔ آج پھر مجبوراً اسے اسلام ہی وہ واحد سہارا دکھائی دیتا ہے جو اس کی مشکلات اور اس کے مصائب میں اس کی دستگیری کرسکتا ہے اور اسے سُکھ اور چین فراہم کرسکتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسلام ہی وہ واحد چراغ ہے جو دنیا کے اندھیروں کو روشنیوں میں بدل سکتا ہے تواس چراغ کی لَو بڑھانے کا فریضہ کون انجام دے؟
اس سوال کا سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ اس چراغ کو جلائے رکھنے کا کام وہی لوگ انجام دے سکتے ہیں جو اس چراغ کے علم بردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں‘ جو اپنے آپ کو انبیا کا وارث تصور کرتے ہیں‘ جن سے ان کے نبی برحقؐ نے اپنے تکمیلِ مشن پر پوچھا تھا:کیا میںنے بات پہنچادی؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں‘ یارسولؐ اللہ! تو پھر ان کے ہادیؐ نے انھیں حکم دیا تھا: جو موجود ہے وہ ان لوگوں تک میری یہ بات پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں۔
اب اگر اُمتِ مسلمہ حقیقت اور انصاف کی نظر سے دیکھے تو عصرِحاضر کاسب سے بڑا چیلنج اُسے اور صرف اُسے درپیش ہے۔ اسے اپنے رب اور اپنے نبیؐ سے کیے گئے وعدوں پر پورا اترنے کا ایک سنہری موقع نصیب ہو رہا ہے۔ اب تساہل سے کام لینے کی کوئی گنجایش نہیں۔ اسے اپنا کڑا احتساب کرنا ہوگا۔
___ لائوڈ اسپیکر کے بے جا استعمال کو سختی سے روکے۔
___ مناظرہ بازی کے رواج کا سختی سے سدباب کرے (مناظرہ بازی کے چسکے نے ہمیں رسوائیوں کے سوا کچھ نہیں دیا)۔
___ منافرت اور انتشار پھیلانے والے لٹریچر پر کڑی پابندیاں عائد کرے۔
___ مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے مسلم عوام کے اندر تہذیبی شعور (civic sense) بیدار کرنے کا خصوصی اہتمام کرے تاکہ ہر گھر کے اندر اور باہر طہارت‘ جو ایمان کی ایک بنیادی شرط ہے‘ پوری ہوتی نظر آئے۔
دل کی اصلاح ہی بدن کی اصلاح کی ضامن ہوسکتی ہے۔ آج انسان کے دل اور بدن میں کوئی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ اس ہم آہنگی کا واحد ذریعہ اللہ کا ذکر اور صحیح معنوں میں عبادات کی بجاآوری ہے۔ اس سلسلے میں قرآن اور سیرت کا مطالعہ حد درجہ معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن کاش اُمتِ مسلمہ اس کا احساس کرے۔ آج ہم قرآن اور سیرت کے مطالعے کی دعوت دیتے ہوئے کیوں شرما جاتے ہیں؟ ہمیں قرآن اور سنت کے مطالعے کی اہمیت کا کیوں احساس نہیں ہوتا؟
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
انسانوںکے انفرادی اور اجتماعی معاملات میں کمی اور کوتاہی فطری ہے کیونکہ انسان نہ عقل میں کامل ہے اور نہ ہی پوری بصیرت کا حامل ہے۔ اس لیے اسلام نے انسان کی ان بنیادی کمزوریوں کو دُور کرنے‘ انفرادی اور اجتماعی زندگی کو بہترانداز سے گزارنے‘ صحیح سمت پر قائم رہنے اور بڑے نقصانات سے بچنے کے لیے جو ہدایات اور احکام دیے ہیں ان میں ایک اہم ہدایت اپنے معاملات میں باہم مشورہ کرنا ہے۔
امام راغب اصفہانیؒ نے مفردات القرآن میں لکھا ہے کہ: ایک دوسرے سے رجوع کرکے کسی رائے پر پہنچنے کا نام مشورہ ہے‘ اور شوریٰ اس معاملے کو کہتے ہیں جس کے بارے میں مشورہ کیا جائے۔ شوریٰ کا لفظ اسمبلی اور مجلس شوریٰ کے لیے بھی مستعمل ہے۔ لفظ شوریٰ قرآن مجید میں تین مقامات پر وارد ہوا ہے اور ان تینوں مقامات پر انسانی زندگی کے نہایت اہم مسائل سے بحث کی گئی ہے۔ جس سے نہ صرف اس لفظ کے معنی اور مفہوم کا تعین ہوجاتا ہے‘ بلکہ اسلام میں مشورے کی اہمیت پر بھی روشنی پڑتی ہے۔
مشاورت کا مقصد باہمی گفت و شنید کے بعد کسی منصوبے کو تیار کرنا اور اس کے اطلاق کو قابلِ عمل بنانا ہے۔ ایک محقق جونز کے نزدیک مشاورت ایک ذاتی حرکت کا عمل ہے جو دو افراد کے درمیان واقع ہوتا ہے جس میں ایک فرد عمررسیدہ اور زیادہ تجربہ کار ہوتا ہے یا دوسرے سے زیادہ ذہین ہوتا ہے۔ یہ عمررسیدہ فرد باہمی گفت و شنید کی بدولت اپنے سے کم عمر یا کم تجربہ کار فرد کے مسائل کی تشریح کرتا ہے اور مسائل کے حل میں مدد دیتا ہے۔ مشاورت کا مطلب درحقیقت خود آگاہی ہے‘ اس کی بدولت فرد کو اس بات سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو کس طرح استعمال کر سکتا ہے اور اپنی مشکلات پر کس طرح قابو پاسکتا ہے۔ اس طرح مشاورت میں ایک فرد مشورہ دینے والاہوتا ہے جسے مشیر کہتے ہیں اور دوسرا فرد وہ ہے جسے مشورہ دیا جاتا ہے۔ مشورے سے کسی مسئلے کے جملہ پہلو سامنے آتے ہیں جس سے مسئلے کی نوعیت سمجھنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ مشورہ اور مشاورت کے معنی ہیں رائے معلوم کرنا‘ باہمی سوچ بچار کرنا۔
۱- سورئہ شوریٰ میں ہے: وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ (الشورٰی۴۲:۳۸) ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ گویا‘ اہلِ اسلام کا ہر معاملہ باہمی مشورے سے طے ہوتا ہے۔
یہ مکی سورہ ہے اور مکہ میں اسلامی ریاست ابھی تک وجود میں نہ آئی تھی اس لیے اہلِ اسلام کو ہر معاملے اور ہر بات میں باہمی مشورہ کرنے کی ترغیب دی گئی تاکہ وہ ایک منفرد معاشرہ قائم کرنے اور اسے چلانے کی صلاحیت اور استعداد پیدا کرلیں۔ یہ بات اسلام میں شوریٰ اور افہام و تفہیم کی اہمیت کی دلیل ہے۔
۲- سورہ بقرہ میں ہے: فَاِنْ اَرَادَ فِصَالاً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْھُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْھِمَا (۲:۲۳۳) ’’پھراگر وہ دونوں (میاں بیوی) آپس کی رضامندی اور مشورے سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں توا ن پر کوئی گناہ نہیں ہے‘‘۔
۳- سورئہ اٰل عمران میں ہے: وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (۳:۱۵۹) ’’اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو‘پھر جب تمھارا عزم کسی راے پر مستحکم ہوجائے تو اللہ پر بھروسا کرو‘‘۔
سورئہ آل عمران کی مذکورہ آیت کریمہ مفسرین اور اہلِ علم کی خصوصی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی امورِ دنیا اور معاملاتِ حکومت میں اہلِ اسلام سے مشورہ لینے اور کثرتِ رائے کا احترام کرنے کا حکم دے رہے ہیں۔ حالاں کہ اللہ کے رسولؐ پر وحی نازل ہوتی تھی اور آپؐ کسی سے مشورے کے محتاج نہ تھے۔ لیکن اُمت کے لیے ایک اسوہ اور سنت قائم کرنا مقصود تھا۔ ان آیات کے علاوہ بھی بے شمار آیات سے مشورے کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے بھی یہ ثابت ہے کہ شوریٰ قانون بھی ہے اور حکمت عملی بھی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو جہاں اجتہاد کا حکم دیا وہاں مشورے کا بھی حکم دیا۔ آپؐ کا ذاتی معمول بھی یہی تھا کہ تمام معاملات میں صحابہ کرامؓ سے اجتماعی اور انفرادی مشورہ لیتے تھے۔
معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص موقع پر یہ حضوؐر کی ذاتی رائے تھی مگر آپؐ نے اس پرعمل نہیں کیا۔ آپؐ خود نامزد فرما سکتے تھے مگر آپؐ نے شوریٰ کے حق کو باقی رکھا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کے حکمران‘ ان لوگوں سے مشورہ لیا کرتے تھے جو اپنی دیانت اور امانت کے اعتبار سے قابلِ اعتماد ہوتے اور جو دین کا علم رکھتے تھے۔ (بخاری‘ ج ۲‘ ص ۱۰۹۰)
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا طرز عمل یہ تھا کہ جب آپ کو کسی فیصلہ طلب معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہ ملتی تو معاشرے کے سرکردہ افراد سے مشورہ لیتے تھے۔ جب کسی بات پر اتفاق رائے ہوجاتا تو اسی کے مطابق فیصلہ فرما دیتے۔ حضرت عمرؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ (الدارمی‘ ج ۱‘ص ۵۸)
حضرت عمرؓ کی مجلسِ شوریٰ کے ارکان علومِ قرآنیہ کے ماہرین ہوا کرتے تھے۔
حضرت عثمانؓ نے منصبِ خلافت سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ کتاب و سنت کے بعد‘ میں اس فیصلے کا پابند ہوں گا جس پر تمھارا اتفاق رائے ہوچکا ہو۔ (تاریخ طبرانی‘ ج ۲‘ ص ۱۵۹)
حضرت علیؓ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اگر ہم کوئی چیز قرآن وسنت میں نہ پائیں تو کیا کریں؟۔ حضورؐ نے فرمایا: قانون جاننے والے عبادت گزار مسلمانوں سے مشورہ کرو۔ مزید فرمایا: ایسے موقع پر کسی کی انفرادی رائے جاری نہ کرو۔ (اعلام الموقعین‘ج ۱‘ ص ۵۴)
معاملات دو طرح کے ہوتے ہیں: ۱- انفرادی معاملات ۲- اجتماعی معاملات۔
اس میں سب سے اہم اور نازک حیثیت شوریٰ اہلِ حل و عقد کی ہے‘ یعنی حکومتی سطح کے فیصلے‘ جن میں وزرا اور مشیران اور عوامی نمایندے ریاست کو چلانے کے لیے سربراہِ حکومت کو مشورے اور رائے دیتے ہیں جس کے نتیجے میں کوئی اجتماعی فیصلہ ہوتا ہے۔ جیسے حضرت معاذؓ بن جبل کو یمن کا گورنر بناتے وقت شوریٰ بلائی گئی تھی۔ ارکان شوریٰ نے اپنی اپنی رائے پیش کی اور کافی غوروخوض کے بعد معاذؓ بن جبل کو (گورنر بناکر) یمن بھیجا گیا۔ (مجمع الزوائد‘ ص ۴۶‘ ج ۹ بحوالہ اسلامی سیاست)
آخر الذکر صورت دراصل اسلامی نظامِ حکومت کی بنیاد ہے جس پر اہلِ قلم نے سیاست کے عنوان سے قلم اٹھایا ہے۔ دراصل اسلامی حکومت شورائی حکومت ہے اور صاحبِ اقتدار اُس کا رہنما ہے۔ امام‘ شوریٰ کے اختیارات کا نمایندہ ہے اور حکمت عملی کے دائرے میں مجلسِ شوریٰ کے فیصلوں کا ترجمان ہے۔ اس حیثیت سے اسلامی حکومت کا راہنما عام انسانوں میں سے ایک انسان ہے۔ شوریٰ کا فیصلہ ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے کوئی شخص صدارت کے منصبِ عظمیٰ پر فائز ہوتا ہے اور اُمت کی راے عامہ ہی سربراہِ حکومت کو اس کے عہدے سے معزول کرسکتی ہے۔ شوریٰ وہ اصول ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے نظام میں پارلیمنٹ کا فیصلہ صدر کے فیصلے پر قانونی فوقیت رکھتا ہے۔ سربراہِ حکومت کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس کی طاقت شوریٰ کی طاقت سے پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے اس سے بے نیاز ہوکر کام کرنا اس کے دائرہ اختیار سے تجاوز ہے۔
علامہ ابن عطیہؒ نے اس معاملے میں واضح لکھا ہے کہ اگر سربراہِ حکومت ماہرین علم و فن اور اُمت کے دین دار افراد کی شوریٰ طلب کیے بغیر اپنی رائے سے کام کرتاہے تو اس کو عہدے سے معزول کر دینا چاہیے۔ اس پر تمام علماے قانون متفق ہیں۔ (فتح القدیرشوکانی‘ ص ۳۶۰)
حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر جماعت کا کوئی فرد اپنے کسی بھائی سے مشورہ طلب کرے‘ تو مشورہ دینا اس کے لیے لازمی ہو جاتا ہے۔(ابن ماجہ)
صلح حدیبیہ کے موقع پر معاہدے سے فارغ ہو کر حضوؐر نے صحابہؓ سے فرمایا کہ اب اسی حدیبیہ کے مقام پر قربانی کر کے سر منڈوائو اور احرام کھول دو۔ یہ بات تین مرتبہ فرمائی مگر کوئی بھی اپنی جگہ سے نہ ہلا‘ کیونکہ صحابہؓ پر اس وقت رنج و غم کا شدید غلبہ تھا۔ حضوؐر کے دورِ رسالت میں اس ایک موقعے کے سوا کبھی ایسی صورت حال پیش نہیں آئی تھی کہ آپؐ صحابہؓ کو حکم دیں اور وہ اس کی تعمیل کے لیے دوڑ نہ پڑیں۔ حضوؐر کو اس موقعے پر سخت صدمہ ہوا۔ اس کٹھن مرحلے میں آپؐ نے اُم المومنین حضرت سلمہؓ سے مشورہ کیا اور اپنی کبیدہ خاطری کا اظہار فرمایا اور اُم المومنینؓ کے مشورے پر خود قربانی کی اور سر منڈایا اور پھر آپؐ کو دیکھ کر دوسرے لوگوں نے بھی قربانیاں کرلیں اور احرام کھول دیے۔
یہ ہیں وہ روایات جن سے مشورے کی اہمیت و ضرورت پر روشنی پڑتی ہے اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ مشورہ ایک قانون بھی ہے اور حکمت عملی بھی ہے۔
قرآن مجید میں مشورے کا جو حکم دیا گیا ہے یہ حکم ان امور کے بارے میں ہے جو قرآن کے قانونِ اساسی میں طے شدہ نہیں ہیں اور مشورے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے تاکہ دنیاوی امور کودین کے ماتحت چلایا جائے۔ (اسلام کا نظامِ حکومت بحوالہ شوکانی‘ ج ۱‘ ص ۳۶۰)
اس قاعدے کلیے کے لحاظ سے مسلمان شرعی معاملات میں اس امر پر تو مشورہ کرسکتے ہیں کہ کسی نص کا صحیح مفہوم کیا ہے اور اس پر عمل درآمد کس طریقے سے کیا جائے تاکہ اس کا منشا ٹھیک طور سے پورا ہو لیکن اس غرض سے کوئی مشورہ نہیں کرسکتے کہ جس معاملے کافیصلہ اللہ اور اس کے رسولؐ نے کر دیا ہو اس میں وہ خود کوئی آزادانہ فیصلہ کریں۔ (تفہیم القرآن‘ ج ۴‘ ص ۵۱۰)
اسی طرح معصیت اور نافرمانی کے کسی معاملے میں مشورہ لینا یا دینا بھی معصیت ہے اور مومن کی شان کے خلاف ہے۔
امام راغب اصفہانیؒ نے تصریح کی ہے کہ مشورے کا مفہوم آرا کا حاصل کرنا ہے اور اس کے دو پہلو ہوسکتے ہیں۔ ایک طرف رائے لینے والے ہوتے ہیں جو اپنی ذمہ داریوں کی ادایگی میں مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ دوسری طرف رائے دینے والے ہوتے ہیں۔ ایک سمت کے اصحاب دوسری سمت کے لوگوں سے رائے طلب کرتے ہیں اور کامیابی کے لیے ایک فیصلے پر پہنچ جاتے ہیں بس اسی کا نام مشورہ ہے۔ (مفردات القرآن‘ ج ۲‘ ص ۳۴۵)
۱- مشاورت کے عمل میں شریک دونوں حضرات کے مابین خوش گوار تعلقات۔ ۲- دونوں افراد کے مابین مطلوبہ مسئلے پر کھل کر گفتگو۔ ۳- مشیر میں اہلیت‘ تجربے اور خوداعتمادی اور قوتِ فیصلہ۔ ۴- مشاورت کے عمل میں مشیر کا مطلوبہ مسئلے کو آہستہ آہستہ آگے بڑھانا۔ ۵- مشاورت سے قبل مکمل تیاری کرنا۔
۱- یک جھتی پیدا کرنا: اس کا مطلب یہ ہے کہ فرد کو اُس کے ماحول کے مطابق اپنے آپ کو تیار کرنے کے لیے آمادہ کیا جائے۔
۲- ماحول کی تبدیلی: فرد کے ماحول کو تبدیل کر دیا جاتا ہے کیونکہ ایک بدلے ہوئے ماحول میں انسان اپنے لیے آسانی محسوس کرتا ہے۔
۳- مناسب مھارتوں کا حصول: مشورہ لینے والے کی کمزوریوں کی نشان دہی کرکے انھیں دُور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
۴- رویے میں تبدیلی: مشورہ طلب کرنے والے فرد کے رویے کا جائزہ لیا جا سکتا ہے اور پھر اسے اپنے رویے میں مناسب تبدیلی لانے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔
۵- انٹرویو: یہ مشورے کی ایک اہم تکنیک ہے۔ اس کی بدولت فرد سے روبرو گفتگو کی جاتی ہے اور ایسا اہتمام کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی اندرونی کیفیت کا خود بخود اظہار کرتا چلا جائے۔ انٹرویو کے دوران دوستانہ فضا قائم ہو اور ہر قسم کی معلومات کو محفوظ رکھا جائے اور آخر میں نتیجہ اخذ کرکے درپیش معاملے کا حل تجویز کیا جاتا ہے۔
___ مشورہ کرنے سے من جانب اللہ حق اور صحیح بات کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔
___ مشورے سے معاملے میں خیر و برکت ہوتی ہے اور وزن اور قوت آتی ہے۔
___ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی پیروی ہوتی ہے۔
___ کسی معاملے میں مشورہ کرنے اور اس پر کھل کر گفتگو کرنے سے اس کے مثبت و منفی پہلو سامنے آتے ہیں جس سے مثبت پہلو کو اپنا کر اس کے منفی پہلو سے بچ جانے سے نقصان کا اندیشہ نہیں رہتا۔
___ مشورے سے کام کی نئی نئی راہیں نکلتی ہیںاور کام میں آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔
___ اجتماعی معاملات میں مشورہ کرنے سے راے عامہ کا اعتماد اور تعاون حاصل ہوتا ہے۔
___ مشورہ کرنے سے اعلیٰ رہنمائی اور رشد و ہدایت حاصل ہوتی ہے۔
___ مشورہ کرنے سے صحیح غورورفکر اور درست نتائج تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے۔
___ مشورے سے یکسوئی اور اطمینان حاصل ہوتا ہے اور صبروتحمل کی صفت پیدا ہوتی ہے۔
___ مشورے کے بعد کام میں اگر کوئی کمی رہ جائے تو بھی انسان نفس اور لوگوں کی ملامت سے بچ جاتا ہے۔
___ مشورہ کرنے سے لوگوں میں خوش گوار برادرانہ تعلق مستحکم ہوتا ہے۔
___ مشورے سے رویوں کا جائزہ لے کر انسان کو مناسب تبدیلی پر آمادہ کیا جاتا ہے۔
___ مشورے سے خوداعتمادی اور مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت پیداہوتی ہے۔
مشیر کا کردار ایک کنجی کی مانند ہے جس سے وہ صندوق کا تالا کھول کر حقیقت کا اندازہ کرتا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ معتمد ہوتا ہے‘‘ (ابوداؤد‘ ج ۵‘ ص ۳۴۵)۔ گویا مشیر وہ ہونا چاہیے جس کی امانت و دیانت پر بھروسا کیا جا سکتا ہو۔
مشیر کی صفات دو طرح کی ہوتی ہیں: ایک مثبت‘ یعنی وہ صفات جن کا پایا جانا بہتر اور ضروری ہے۔ دوسری منفی صفات جن کا نہ ہونا بہتر اور ضروری ہے۔
مشورہ اور اس کی اہمیت کے پیش نظر اس تفصیلی جائزے سے یہ بات بخوبی اجاگر ہوجاتی ہے کہ اسلامی معاشرت میں اس کی مضبوط روایت رہی ہے۔ یہ مسلمانوں کی ایک اہم معاشرتی قدر ہے۔ ایک جمہوری معاشرے کی روح بھی مشاورت میں ہے نہ کہ آمریت۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مضبوط روایت اور قدر کو آگے بڑھایا جائے۔ مشورہ محض رسم بن کر نہ رہ جائے بلکہ ایک فرد کی ذاتی زندگی‘ خاندان‘ اداروں‘ تنظیموں اور جماعتوں سے لے کر‘ اقتداراعلیٰ تک تمام امور میں اس روایت اور قدر کو ملحوظ رکھا جائے تاکہ یہ ایک معاشرتی چلن بن جائے۔ آمریت کے بجاے مشاورت فروغ پائے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ بحیثیت مجموعی اگر مشورے کے ان مختلف پہلوئوں کو سامنے رکھا جائے ‘تو بہت سی ذہنی الجھنوں سے نجات مل سکتی ہے اور زندگی آسان اور پُرمسرت ہوسکتی ہے۔
ترجمہ: نعیم صدیقی ؒ
شاہ اسماعیل شہیدؒ کی کتاب منصبِ امامت میں خلافت راشدہ (یا امامت تامہ)‘ سلطنت عادلہ‘ سلطنت کاملہ‘ سلطنت جابرہ‘ سلطنتِ ضالہ اور سلطنتِ کفر کے عنوانات کے تحت مختلف طرز کی حکومتوں کے نظام کی وضاحت کی گئی ہے۔ ہم موجودہ آمریت کے دور میں‘ سلطنتِ جابرہ کا بیان پیش کر رہے ہیں۔ ترجمہ محترم نعیم صدیقی کا کیاہوا ہے اور یہ ۶۰ سال قبل جولائی‘ اگست ۱۹۴۵ء اور ستمبر‘ اکتوبر ۱۹۴۵ء کے ترجمان القرآن میں شائع ہوا۔ (ادارہ)
سلطان جابر‘ اس آمر کو کہیں گے جس پر نفس امارہ کا اتنا زیادہ غلبہ ہوچکا ہو کہ نہ خوفِ خدا اسے مانع ہو‘ نہ شرمِ مخلوق! نہ شرع کی پروا ہو‘ نہ عرف کا لحاظ! بس نفس کی طرف سے کوئی فرمان صادر ہوا تو جھٹ سے اس کی تعمیل ہوگئی‘ چاہے شریعت موافق ہو‘ چاہے مخالف۔ اس کے نزدیک تو اپنی خواہشات کا پورا کر لینا ہی سلطنت کا منتہاے مقصود ہے۔ ایسے لوگوں کا ’’نظامِ حکومت‘‘ سلطنتِ جابرہ کہلاتا ہے۔
یہ ملحوظ رہے کہ سلاطین جابرہ‘ شرع کی مخالفت میں‘ مزاج کی افتاد کے مطابق مختلف مدارج پر فائز ہوتے ہیں۔ کوئی سرشار کبرونخوت ہوتا ہے تو کسی دوسرے کو ناز و تبخترکے مظاہرے کا خاص ذوق ہوتا ہے‘ کسی کو جور و تعدّی سے اور کسی کو فسق وفجور سے خاص مناسب ہوتی ہے‘ کوئی صنفی لذات میں سرمست ہے تو کوئی شراب گلگوں کا رسیا ہے۔ ایک چٹ پٹے کھانوں کا شیدا ہے اور دوسرا نفیس پوشاکوں پر فریفتہ۔ کہیں کھیل تماشے سے زیادہ دل چسپی ہے اور کہیں نغمہ و سرود سے خاص وابستگی ہے۔ بہرحال ہوا و ہوس کے راستے بے شمار ہیںاور نفس پرستی کی شکلیں لاتعداد‘ اور اگر ان کی تفصیل شروع کر دی جائے تو اسے پورا کرنے کے لیے کئی صفحے چاہییں۔ یہاں اس شجرِخبیث کی چند بڑی بڑی شاخوں کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے‘ جن سے آگے بے شمار فروع نکلتی ہیں۔
۱- سفاھت: مخالفتِ شرع کی ایک وجہ سلطان جابر کی سفاہت ہے۔ ظاہر ہے کہ نعمتِ عقل وخرد سے جو شخص محروم اور دُوراندیشی کے فن سے کورا ہو‘ وہ کسی اصول و مسلک کی پیروی میں استقامت کیا دکھائے گا اور اس سے متانت کی توقع کیوں کر کی جا سکتی ہے؟ اس کے نزدیک وفا و استقلال کی صفت کو کوئی قیمت حاصل نہ ہوگی‘ نہ ننگ و عار کا اسے ذرہ بھر پاس ہوگا۔ اپنی سفاہت کی وجہ سے وہ ہر خواہش کو‘ جس کا گزر آدمی کے دل میں ہوسکتا ہے‘ فوراً پوری کرنے کی فکر کرے گا۔ یہ ہرگز نہ دیکھے گا کہ اس سے کیا نفع و نقصان ہوسکتا ہے اور اس کا آخری نتیجہ کیا ہونے والا ہے۔ وہ جو کچھ کرے گا‘ بالکل بچوں کی طرح دیوانہ وار کرے گا اور جہاں جہاں منہ مارے گا ٹھیک شتربے مہار کی طرح مارے گا۔
اس طرز کا آدمی جب منصبِ سلطنت پر براجمان ہوتا ہے تو سیاست کا سارا کاروبار چوپٹ ہوجاتا ہے‘ کیوں کر اس کے کرتوت نہ قوانینِ شریعت کے پابند ہوتے ہیں‘ نہ آئین عرفی کے مطابق۔ ایسے شخص کی سلطنت میں کون ہے جو نالاں نہ ہوگا؟ چھوٹے بڑے اور خواص و عوام سبھی دکھ پا پا کر فریاد کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی بلاے عظیم ہے جس کی گرفت سے نادان و دانا اور غافل و ہوشیار سبھی چھوٹ بھاگنا چاہتے ہیں۔ ذیل کی حدیث میں اسی بلاے عظیم کی طرف اشارہ ہے:
اُعِیْذُکَ بِاللّٰہِ مِنْ اِمَارَۃِ السُّفَھَائِ وَقَالَ تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ رَأسِ السَّبْعِیْنَ وَاِمَارَۃِ الصِّبْیَانِ -
میں تمھارے لیے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں بے وقوفوں کی امارت سے۔ مزید فرمایا کہ اللہ کی پناہ مانگو ۷۰(برس کی عمر) سے اور لونڈوں کی حکومت سے۔
ھَلَکَ اُمَّتِیْ عَلٰی اَیْدِی غِلْمَۃٍ مِنْ قُرْیْشٍ -
میری یہ اُمت قریش کے چند چھوکروں کے ہاتھوں تباہ ہوگی۔
۲- عیش پرستی: آپ جانتے ہیں کہ بعض لوگ کسی جبلی سبب کے تحت‘ اپنی قوتِ شہوانیہ سے مغلوب ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی ساری قوتیں لذتوں اور راحتوں کے جنوں میں صرف ہوتی ہیں اور ان کی عقل‘ عیاشی کی بھول بھلیوں میں گم رہتی ہے۔ دن رات چٹ پٹی غذائوں اور دلفریب لباسوں اور سرور بخش شرابوں کے موضوع پر کاوشیں ہوں گی‘ شطرنج بازی اور نے نوازی کا مشغلہ ہوگا۔ رقص و سرود کے چرچے ہوں گے‘ عورتوں اور لونڈوں میں انہماک ہوگا‘ محلات تعمیر کرنے اور دل کش باغات لگانے میں خاص توجہ رہے گی وغیرہ۔ فکروتدبیر کے گھوڑے ان میدانوں میںخوب دوڑائے جائیں گے اور دل کھول کر دادِ فسق دی جائے گی۔
اس قماش کے لوگ جب منصبِ سلطنت پر قابض ہوجاتے ہیں تو بذلہ سنج لوگ ان کے درباروں میں جمع ہونے لگتے ہیں اور خوب اچھی طرح بھانپ لیتے ہیں کہ یہاں رغبت صرف لذتوں اور راحتوں کی طرف ہے۔ پس وہ سب کھیل تماشے اور راگ رنگ کے نئے نئے ڈھنگ ایجاد کرنے میں لگ جاتے ہیں اور ایک ایک مشغلے کو بڑا لمبا چوڑا فن لطیف بناکر چھوڑتے ہیں۔ پھر مدتوں محنت کر کر کے اسے کمال کو پہنچاتے ہیں۔ عیش پسند سلاطین بھی ایسے ہی فنون کے ماہرین کو اپنا مقرب اور خیرخواہ شمار کرتے ہیں۔ چنانچہ جو کوئی مانا ہوا عیاش ہو‘ یا بے حیا بھانڈ ہو‘ یا چال باز دیّوث ہو‘ یا طبلہ سارنگی کا استاد ہو‘ وہی دربارِ سلطانی میں مسندآرا ہوگا۔
لیکن فسق و فجور کی یہ گرم بازاری دولت کو پھونکے بغیر کمال کو نہیں پہنچ سکتی۔ اسے جاری رکھنے کے لیے خزانے بھرپور ہونے چاہییں۔ چنانچہ سلاطین جبابرہ مجبور ہوتے ہیں کہ مال جمع کرنے کے لیے رعایا پر قسم قسم کے جوروستم روا رکھیں اور بے دھڑک دست درازی کا مظاہرہ کریں۔ اس سے لازماً ملک میں تباہی پھیلتی ہے۔ مفلس اور کمزور لوگ بے خانماں ہوجاتے ہیں اور تاجر و زمین دار بدحال۔ اتنا ہی نہیں‘ یہ طوفان فسق وفجور بعض صورتوں میں آبرومندوں کی بے آب روائی اور پردہ داروں کی پردہ دری پر منتہی ہوتا ہے‘ اور یہ حالت بھی سلطنت کی تباہی کا سامان بنتی ہے۔ پھر یہ کہ سلطان جب کھیل تماشوں اور نغموں‘ شرابوں میں مستغرق ہوگیا‘ تو نظام حفاظت و عدالت کا بگڑجانا لازمی ہے جس کا نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ رعایا میں باہم جور وستم کا بازار گرم رہے۔ الغرض سلاطین کا فسق و فجور‘ رعایا کی بدحالی اور ملک کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے:
اِنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ بَدَئَ نَبُوَّۃً وَرَحْـمَۃً ثُمَّ یَکُوْنُ خِـلَافَۃً وَرَحْـمَۃً ثُـــمَّ مُلْکًا عَضُوْضًا ثُمَّ مُلْکًا جَبْرِیَّۃً وَعُتُوًّا وَفَسَادًا فِی الْاَرْضِ یَسْتَحِلُّوْنَ الْحَرِیْرَ وَالْفُرُوْجَ وَالْخُمُوْرَ ‘ یَـرْزُقُوْنَ عَلٰی ذٰلِکَ وَیَنْصُرُوْنَ حَتّٰی یُلٰـقُوا اللّٰہَ -
یہ نظام ‘نبوت و رحمت سے شروع ہوا‘ پھر خلافت و رحمت بنے گا‘ پھر سلطنت مستبد کی شکل اختیار کرے گا‘ پھر جبر‘سرکشی اور فساد فی الارض کی مملکت بن جائے گا (اس وقت کے امرا وسلاطین) ریشم‘ عورت اور شراب کو بالکل حلال کرلیں گے اور اسی قسم کی کارروائیوں پر لوگوں کو عطیے دیں گے اور ان کی مدد کریں گے‘ یہاں تک کہ اللہ کو جاملیں گے۔
اس حدیث میں سلطنت جبر کی مکمل تعریف آگئی ہے جس سے اس کی ماہیت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
فسق و ظلم کی یہ بادشاہت پوری اُمت کے لیے ایک خوفناک مصیبت ہوتی ہے‘ خصوصاً اس وجہ سے کہ اہلِ دین و دانش سلاطین وقت سے دُور بھاگتے ہیں اور ان کی مجالس سے کنارہ کشی کرتے ہیں اور ان کا تقرب نہیں چاہتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی معاش میں خلل آجاتاہے اور اطمینانِ قلب سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اس حال میں وہ اصلاح معاد کی طرف پوری طرح متوجہ نہیں ہوسکتے‘ اور نہ ان کی پوری مساعی جستجوے راہِ حق پر صرف ہوسکتی ہیں۔
لیکن اگر وہ سلاطینِ وقت کے تقرب کو پسند کریں اور وہی ڈھنگ سیکھ لیں جو اُن کے تقرب کا لازمہ ہیں تو اس صورت میں انھیں سب سے پہلے دین و ایمان سے دست بردار ہونا پڑے گا‘ پھر عزت و آبرو کو چھوڑنا ہوگا‘ پھر فحش گوئی کو اپنا خاص کمال اور نغمہ سرائی کو اپنا خاص ہنر قرار دینا ہوگا۔ پس ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ سلاطین (جبابرہ) کی ملازمت اختیار کرکے‘ اپنے دین و ایمان کی جڑ پر کلہاڑا نہ چلائیں۔ انھیں یہ خیال ہرگز دل میں نہ لانا چاہیے کہ اپنا دین بھی بچالیں گے اور زندگی کے معاشی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے درباروں سے کچھ کما بھی لائیں گے۔ ایسا خیال کرنا خوش فکری اور غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں ؎
ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں
ایں خیال است و محال است و جنوں
۳- حُبِّ مال: عموماً ایسے اشخاص دنیا میں پائے جاتے ہیں جنھیں پیدایشی طور پر مال کی غیرمعمولی حرص ہوتی ہے۔ مگر حرص بھی اس عجیب قسم کی کہ فقط گوناگوں اموال کے جمع ہوجانے ہی پر اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور حصولِ لذت کے لیے کچھ خرچ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہاں تو نفسِ اجتماع دولت ہی سب سے بڑی لذت اور اس کی کثرت ہی سب سے بڑی راحت ہے۔ ایسے لوگ جب اپنے خزانوں اور دفینوں کی ایک جھلک دیکھتے ہیں تو باغ باغ ہوجاتے ہیں اور انھیں ترقی کی خواہش دلوں میں اور بھڑک اُٹھتی ہے‘ چنانچہ خزانے سمیٹنے کے لیے سو طرح کے دکھ سہتے ہیں اور ہزار طرح کی مشقتیں برداشت کرتے ہیں۔ حد یہ کہ بھوکے ننگے رہ کے عمرگزار دیںگے مگر کیا مجال کہ اپنے خزانے میں سے ایک دمڑی بھی صرف کرسکیں۔
اب خود ہی غور کیجیے کہ ایسے لوگ اگر نظامِ سلطنت پر قابض ہوجائیں تو ان سے بجز اس کے اور کیا توقع ہو سکتی ہے کہ اپنی حرص کی آگ خوب بھڑکائیں۔ چنانچہ اہلِ زراعت و تجارت سے لے کر اغنیا و فقرا تک سے حق حکمرانی (ٹیکس وصول کرتے ہیں وہ بھی اس اہتمام کے ساتھ کہ مچھر کی ٹانگ سے لے کر چیونٹی کے انڈے تک کوئی چیز حساب سے باہر نہ رہے اور ایک رائی کادانہ بھی کسی کو معاف نہ کیا جائے۔ بلکہ ان ظالموں کی تو دلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ رعایا کے کسی فرد سے کوئی جرم سرزد ہو‘ یا کوئی قصور کسی پر ثابت ہوجائے تو اس کی پکڑدھکڑ اور سزا و تعزیر کے دوران میں‘ اس کے مال و اسباب کو بہ لطائف الحیل اڑا لیاجائے۔ ایسے لوگ خود بھی رات دن یہی سوچتے رہتے ہیں کہ رعایا سے کس طرح مال ہتھیایا جائے اور ان کے درباری بھی اسی موضوع پر عقل لڑاتے رہتے ہیں۔ اب جس نے پرایا مال مارنے کے لیے کوئی کارگر تدبیر گھڑلی اور جس نے رعایا کو جُل دینے کا کوئی کامیاب گُرڈھونڈ نکالا وہی ان کا خاص امیرہے۔ وہی خیرخواہ وزیر ہے اور وہی مخلص مشیر! اس طرح سلطان جابر اور اس کے درباریوں کی مسلسل کاوشوں سے حیلہ سازی‘ اور فریب بازی کے فنونِ لطیفہ اپنے کمال کو پہنچتے ہیں اور ان کے اصول و فروع مدوّن ہوجاتے ہیں۔
رہا بخل‘ سو اس کے تقاضے کے ماتحت ظالم سلاطین اپنے ملازمین سے یہ تو چاہتے ہیں کہ وہ وفاداری سے خدمت کریں اور اس خدمت کو اپنا فخر سمجھیں‘ مگر یہ گوارا نہیں کرسکتے کہ خزانے سے کوئی ایک تنکا بھی نکالا جائے یا دفینے میںسے ایک کوڑی بھی کم ہوجائے۔ چنانچہ ان سے خدمت لینے کے لیے کتنی ہی چال بازیوں سے کام لیتے ہیں اور ریاست و سیاست کی کامیابی کے لیے خلق اللہ کو بالکل مصنوعی خُلق سے رام کرتے ہیں‘ نیز جب مناسب سمجھتے ہیں اپنے خدام کو محض تعظیم و تکریم کے نشے میں مست رکھتے ہیں۔ ان باتوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ خدمت تو لیتے ہیں مگر معاوضہ کچھ نہ دینا پڑے‘ یا اگر دینا ہی پڑے تو ایسے ڈھنگ سے دیا جائے کہ ملازمین کو پورا پورا حق نہ ملنے پائے‘ بلکہ ان کے حق میں سے جتنا ممکن ہو خزانے میں روک لیا جائے۔ مثلاً سونے چاندی میں سے کھرا مال بچا کے رکھیں گے اور کھوٹی دھات سے معاوضے ادا کریں گے یا یہ کہ زمانۂ خدمت کا کچھ حصہ حساب سے خارج کر دیں گے‘ یا پھر یوں ہوگا کہ ایک عرصے تک مفت خدمت لینے کے لیے‘ ان کا نام دفتر کے رجسٹروں میں درج کریں گے‘ وغیرہ!
اس قسم کی بخیل و حریص بادشاہت آخر مملکت کو تہ و بالا کر کے چھوڑے گی اور حکومت کی جڑوں کو کھوکھلا کردے گی۔ لیکن پھر بھی رعیت کے لیے یہی مناسب ہوگا کہ سلطانِ بخیل کے افکار و کردار پر صبر کرے اور اس سے متصادم نہ ہو۔ ورنہ اس کا اندیشہ ہے۱؎ کہ وہ اب تک جو کچھ چرب زبانی اور فریب کاری کے پس پردہ کر رہا ہے اسے دھڑلے سے سرانجام دینے لگے گا اور خوب کھل کر ستم ڈھانا شروع کر دے گا۔ وجہ یہ کہ طمع اس کے خمیر میں شامل ہے اور اگر کسی وقت اس پر مال حاصل کرنے کے دروازے بند ہوجائیں گے تو وہ اپنی جبلت کے تقاضے سے مجبور ہوکر آمادہ ظلم ہوجائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذرؓ سے فرمایا کہ:
کَیْفَ اَنْتُمْ وَاَئِمَّۃٌ مِنْم بَعْدِیْ سَیَأْثِرُوْنَ لِھٰذَا الْفَیْیِٔ؟ قَالَ اَبُوْذَرٍّ اَمَّا وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ اَضَعُ سَیْفِیْ عَلٰی عَاتِقِیْ ثُمَّ اَضْرِبُ بِہٖ حَتّٰی اَلْقٰکَ قَالَ اَوَلَا اَدُلُّکَ عَلٰی خَیْرٍ مِّنْ ذٰلِکَ تَصْبِرْ حَتَّی تَلْقَانِیْ -
میرے بعد کے ان امرا [حُکَّام] کے زمانے میں تمھارا رویہ کیا ہوگا‘ جو اس اموالِ فے کو خرچ کرنے میں اپنے آپ کو دوسروں پر ترجیح دیں گے؟ حضرت ابوذر نے جواب دیا کہ اس ذات کی قسم‘ جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا‘ اس وقت میں اپنی تلوار اپنی گردن پر رکھ دوں گا اور اس کو تن سے جدا کرلوں گا تاکہ آپ سے جا ملوں۔ آنحضرتؐ نے فرمایا: کیا میں تم کو اس سے بہتر راہ نہ بتادوں؟ اس وقت تم صبر سے کام لینا یہاں تک کہ مجھ سے آملنا۔
اِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ ۲؎ بَعْدِیْ اَثْرَۃً وَاُمُوْرًا تُنْکِرُوْنَھَا وَرُوِیَ اَنَّ الصَّحَابَۃَ قَالُوْا یَانَبِیَّ اللّٰہِ اَرَأَیْتَ اِنْ قَامَتْ عَلَیْنَا اُمَرَائٌ یَسْئَلُوْنَنَا حَقَّھُمْ وَیَمْنَعُوْنَنَا حَقَّنَا فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ اِسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا ، فَاِنَّ عَلَیْھِمْ مَا حُمِّلُوْا وَعَلَیْکُمْ مَا حُمِّلْتُمْ -
تم میرے بعد (غیروں پر اپنے حقوق کو) ترجیح (دینے والے امرا) پائو گے اور ایسی صورتِ حال سے دوچار ہو گے جس کو تم ناپسند کرو گے۔ اور روایت ہے کہ صحابہؓ نے پوچھا: یارسولؐ اللہ اگر ہم پر ایسے امرا مسلط ہوگئے جو ہم سے تو اپنا حق لے لیں___ لیکن ہمارے حقوق ادا نہ کریں تو اس وقت ہمارے لیے آپ کا کیا حکم ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ان کی سننا اور ان کی اطاعت کرنا‘ کیوں کہ ان کی کمائی کا بار ان کے اُوپر ہے اور تمھاری کمائی کا بار تمھارے اُوپر۔
بعض اشخاص اپنی فطرت کے اعتبار سے مغلوب الغضب اور شترکینہ ہوتے ہیں۔ ایسوں کا جب غصہ اُبلتا ہے تو ترش روئی اور بدگوئی کی حد کر دیتے ہیں اور موذی پن کے مظاہرے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ یہ تو ان کے لیے ممکن ہی نہیں کہ مجرم کے قصور کی نوعیت کا خیال کریں‘ بلکہ قانوناً اگر مجرم کی خطا معمولی درجے کی ہو تو انھیں اور زیادہ غصہ آتا ہے کہ وہ کوئی جرمِ عظیم کیوں نہ کر کے آیا۔ ایسے اربابِ ظلم‘ جرم کو عقل کے کانٹے پہ کیوں تولنے لگے‘ بس اندھا دھند ادنیٰ سے ادنیٰ غلطی پر بھی قتل اور قرقی اور تذلیل و تحقیر سے کم درجے کی سزا تجویز نہ کریں گے‘ کیونکہ اس کے بغیر ان کو اطمینان قلب اور سکونِ خاطر حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔ پھر کسی گروہ کا محض ایک فرد اگر ان کی مخالفت کر بیٹھا تو سمجھ لیجیے کہ اس پورے گروہ کی شامت آئی! اچھا برا کوئی نہ بچنے پائے گا۔
اب اگر دنیا کی بدقسمتی سے ایسے ہی لوگ مسندِسلطنت پر متمکن ہوجائیں تو وہ داد ظلم و جور نہ دیں گے تو کریں گے کیا؟ یہ ظالم‘ خدا کے بندوں کو طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کرتے ہیں اور عزت داروں کو ذلیل و خوار کرکے چھوڑتے ہیں۔ غلط نہ ہوگا کہ اگر انھیں بنی آدم کے لیے بھیڑیے یا کٹ کھنے کتے سمجھا جائے۔ ان کے زہریلے ڈنک سے نہ مساکین بچتے ہیں‘ نہ عزت و اعتبار والے‘ نہ غریبوں کو ان سے پناہ ملتی ہے نہ امیر ان کے گزند سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ ان کی ایذا رسانی ہوتی اس درجے کی ہے کہ غریب اور بے بس مسلمان ان کی ’’اسلامی حکومت‘‘ سے کفار کی کافرانہ حکومت کو ہزار درجے بہتر سمجھنے لگتے ہیں اور وہی ان کے نزدیک خدا کے بندوں کے لیے جاے امن قرار پاتی ہے۔ ایسی حالت میں ادھر رعایا سلطان ظالم سے رنجیدہ ہوتی ہے اور ادھر سلطان ظالم بھی اپنی رعایا سے بیزار ہوتا ہے۔ بس یہ اس کی تباہی میں خوش ‘ وہ اس کے زوال میں راضی۔ اس حالت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
خِیَارُ اَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تُحِبُّوْنَھُمْ وَیُحِبُّوْنَکُمْ وَتُصَلُّوْنَ عَلَیْھِمْ وَیُصَلُّوْنَ عَلَیْکُمْ وَشِرَارُ اَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تَبْغُضُوْنَھُمْ وَیَبْغُضُوْنَکُمْ وَتَلْعَنُوْنَھُمْ وَیَلْعَنُوْنَکُمْ -
تمھارے امرا [حُکّام] میں سے بھلے وہ ہیں کہ تم ان سے محبت کرو‘ وہ تم سے محبت کریں اور تم ان کے لیے دعاے رحمت کرو اور وہ تمھارے لیے دعاے رحمت کریں اور تمھارے امرامیں سے برے وہ ہیں کہ تم ان سے نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں اور تم ان پر لعنت کرو‘ وہ تم پر لعنت کریں۔
سلطانی مظالم جس طرح رفتہ رفتہ رعایا کی معاش کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتے ہیں‘اسی طرح ان کے شجرِایمان کی جڑیں بھی کھودتے جاتے ہیں۔ آخر لوگ اقامتِ دین و ایمان کی فکر کیا کریں‘ جب کہ انھیں سلطان ظالم کے خوف سے ایک ساعت بھی مخلصی نہیں ہوتی۔ چنانچہ سلطنتِ ظالم کا قیام کسی مذہب باطل کے پھیل نکلنے کے مشابہ ہے جو ملت کے نظام اور سنت کے آئین و حدود کو توڑتا چلا جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اِنَّمَا اَخَافُ عَلٰی اُمَّتِیْ اَلْاِسْتِسْقَائَ بِالْاَنْوَائِ وَحِیْفِ السُّلْطَانِ وَالتَّکْذِیْبِ بِالْقَدْرِ -
مجھے اپنی اُمت کے بارے میں صرف یہ خوف ہے کہ ۱- وہ نچھتروں [بادلوں] سے بارش طلب کرے گی۔ ۲-بادشاہ اس پر ظلم ڈھائیں گے ۳- اس میں قضا و قدر کا انکار پیداہوگا۔
سلطانِ ظالم بعض وجوہ کے ماتحت ‘اگر کسی گروہ سے رنجیدہ ہوتا ہے اور اس سے انتقام لینے پر تل جاتا ہے تو اس کے انتقام کی تلوار مطیع اور غیرمطیع اور گنہ گار و بے گنہ میں ہرگز امتیاز نہیں کرتی‘ بلکہ بے دریغ سروں کو کاٹتی چلی جاتی ہے اور ملکوں اور شہروں کو بے چراغ کرکے چھوڑتی ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ:
مَنْ خَرَجَ عَلٰی اُمَّتِیْ بِسَیْفِہٖ یَضْرِبُ بِرَّھَا وَفَاجِرَھَا وَلاَ یَتَحَاشٰی مِنْ مُؤْمِنِھَا وَلَا یَـفِیُٔ لِذِیْ عَھْدٍ فَلَیْسَ مِنِّیْ وَلَسْتُ مِنْہُ -
جس شخص نے اپنی تلوار لے کر میری اُمت پر حملہ کیا اور قتل و غارت میں نیک و بد کی تمیز نہ کی اور اُمت کے سچے مومنوں کو قتل کرنے سے پرہیز کیا اور نہ کسی سے اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھا اس کا نہ مجھ سے کوئی تعلق ہے اور نہ میرا اس سے۔
پھر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی گروہ کے متعلق سلطان ظالم کے دل میں آتش غضب بھڑکتی ہے لیکن حالات ایسے نہیں ہوتے کہ عملاً انتقام لیا جا سکے۔ اب لازماً اس کے سینے میں کینہ پرورش پاتا رہے گا اور وہ اس تاک میں رہے گا کہ اس کینے کی بھڑاس نکالنے کا کب مناسب موقع پیدا ہوتا ہے۔
مَامِنْ وَالٍ یَلِیْ رَعِیَّتَہٗ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَیَمُوْتُ وَھُوَ غَاشٍ لَھُمْ اِلاَّ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ -
جو حکمران بھی اپنی مسلم رعایا پر غدر اور خیانت کے ساتھ حکومت کرتا ہوا مرگیا اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کر دی ہے۔
بعض لوگ ایسے پائے جاتے ہیں کہ عین ان کی سرشت میں سرکشی اور خودپسندی کا خمیر شامل ہوتا ہے۔ ان کو اپنے منہ میاں مٹھو بننے اور ڈینگیں مارنے اور شیخی بگھارنے میں مزہ آتا ہے۔ اپنی ہستی کو ہمیشہ کچھ غلافوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں‘ کیونکہ اولادِ آدم انھیں میل جول کے قابل نظر نہیں آتی۔ دوسروں کے بڑے سے بڑے کمال کو اپنی کسی ادنیٰ سی خوبی کے مقابلے میں ہیچ ثابت کردیں گے‘ چاہے اپنی خوبی محض ایک سرابِ تخیّل ہو‘ جیسے حسب و نسب کا غرہ! دوسروں کے ساتھ کسی معاملے میں برابر ہونا تو ان کے لیے بڑی شرم کی بات ہوتی ہے‘ اس وجہ سے اپنے ساتھیوں کی تحقیر کو اپنی آبرو شمار کرتے ہیں اور اپنے بھائیوںکے زوال کو اپنی عظمت کا ثبوت قرار دیتے ہیں‘ نیز دوسروں کے کمالات کو پایۂ اعتبار سے گرا گرا کر اپنی خصوصیات پر اِتراتے ہیں۔ بس ان کا منتہاے مقصود فقط یہ ہوتا ہے کہ انھیں افرادِ انسانی کے درمیان اتنا امتیاز حاصل ہوجائے کہ کوئی ان کی برابری کی جرأت نہ کرسکے۔
اس قسم کا آدمی جب تختِ حکومت پر قابض ہوگا تو کبرونخوت کی داد دینے کے لیے‘ آداب و القاب‘ چال ڈھال‘ میل جول اور دوسرے تمام معاملات میں اپنی ایک امتیازی شان پیدا کرے گا۔ پھر وہ اپنی ذات کے لیے مختلف چیزیں مخصوص کرلے گا۔ ان میں کسی دوسرے کی شرکت و مساوات سے بہت رنجیدہ ہوگا بلکہ اس کی قطعی ممانعت کر دے گا۔ وہ جس تخت کو استعمال کرے گا اس پر بیٹھنا دوسروں کے لیے حرام کر دے گا‘ جس مجلس میں رونق افروز ہوگا اس میں دوسروں کا داخلہ روک دے گا‘ پھر جو خاص الفاظ اپنے لیے تجویز کر دے گا‘ مثلاً ’سلطان‘، ’شاہ‘ ، ’بادشاہ‘، ’ملک‘ اور ’حضوراقدس‘ وغیرہ۔ ان الفاظ کو اگر خود سلطان کے بیٹے پر بھی کسی نے استعمال کردیا تو وہ مجرم قرار پائے گا اور شدید تعزیر اس پر عائد ہوگی۔ الغرض ایسے لوگوں کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ کسی طرح خدا کے بندوں اور نبی کے امتیوں سے بالکل جدا اور ممتاز سمجھے جائیں کیوں کہ انھیں وہ اپنا ہم جنس تسلیم نہیں کرتے اور ہر معاملے میں ڈیڑھ اینٹ کی مسجد دوسروں سے الگ ہی بناتے ہیں۔
پھر ان ظالموں کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے قوانین‘ جمہور میں اصولِ دین اور ضوابطِ شریعت کا درجہ حاصل کرلیں اور ہر خاص و عام ان کی پوری اطاعت کرے‘ نیز اُن کے سامنے قیل و قال اور بحث و تمحیص کی کسی کو جرأت نہ ہو۔ گویا خود یہ لوگ احکامِ الٰہی کے مخاطب ہیں ہی نہیں‘ اور نہ ان احکام کی مخالفت پر انھیں کوئی پوچھنے والا ہے۔ یہ بڑا بننے اور حکم چلانے کی خواہش جلد جلد ترقی کر کے تعلّٰی کی صورت اختیار کرتی ہے اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ نبوت یا الوہیّت کا صاف صاف دعویٰ کر دیا جاتا ہے۔ اب سلطانِ متکبر فراعنہ اور نماردہ کا بھائی بن جاتا ہے۔ خداے بزرگ و برتر کی کوئی صفت ایسی نہیں رہ جاتی‘ جسے یہ ظالم اپنے پروانوں اور حکم ناموں میں اپنی ذات سے منسوب نہ کرے‘ اور خالق اکبر کے ناموں میں سے کوئی نام ایسا نہیں چھوٹ جاتا جسے یہ جاہل اپنے لقب کے طور پر استعمال نہ کرتا ہو۔ پھر انبیا و مرسلین کے مدارج میں سے کوئی درجہ ایسا نہیں بچ رہتا کہ یہ دشمنِ دین اس کا مدعی نہ بنے۔ پھر خلفاے راشدین کے مراتب میں سے کوئی رتبہ ایسا نہیں باقی رہتا جس میں یہ شرارت کا استاد ان کی برابری کا دم نہ بھرتا ہو۔
غرور و کبر کی یہ سلطنت جس طرح پوری اُمت کے لیے اور پورے دین کے لیے حددرجہ مضر ہے‘ اسی طرح‘ بلکہ اس سے ہزار گنا زیادہ‘ خود اس جاہل شیخی باز کے لیے سمِ قاتل ہے۔ کوئی سلطان اپنی سلطنت سے وہ نقصان نہیں اٹھاتا جو سلطانِ متکبر اپنی سلطنت سے اٹھاتا ہے۔ یہ ظالم اپنی ہستی کو رعایا کا گویا خالق سمجھتا ہے‘ خصوصاً جب زمانہ اس کا ساتھ دے رہا ہو اور قسمت یاوری کررہی ہو‘ یعنی دنیا اس کے پنجے میں بے بس ہو اور کسی کو سرکشی کی جرأت نہ ہو تو اس کا انداز استکبار خوب نمایاں ہوجاتاہے اور اس کا طرئہ نخوت عرش کو جاچھوتا ہے‘ فرمایا صاحبِ نبوت نے۔
اِذَا مَشَتْ اُمَّتِیِ الْمَطِیْطَائَ وَخَدَّمْتَھَا اَبْنَائُ الْمَلُوْکِ اَبْنَائُ فَارِسَ وَالرُّوْمِ سَلَّطَ اللّٰہُ شِرَارَھَا عَلٰی خِیَارِھَا -
جب میری اُمت اکڑ کر چلنے لگے گی اور فارس و روم کے شاہزادے اس کی خدمت بجا لانے لگیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ اُمت کے شریر لوگوں کو اس کے نیکوکار بندوں پر مسلط کر دے گا۔
اَلْکِبْرِیَائُ رِدَائِیْ وَالْعَظْمَۃُ اِزَارِیْ فَمَنْ نَازَ عَنِیْ وَاحِدًا مِّنْھُمَا اَدْخَلْتُہُ النَّارَ-
کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میری ازار‘ سو جس کسی نے ان دونوں میں سے کسی چیز کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کی اس کو میں جہنم میں جھونک دوںگا۔
اَغْیَظُ رَجُلٍ عَلَی اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَاَخْبَثُ رَجُلٍ کَانَ یُسَمّٰی مَلِکُ الْاَمْلَاکِ لَامَلِکَ اِلاَّ اللّٰہُ -
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب کو سب سے زیادہ بھڑکانے والا اور بدترین انسان وہ ہوگا جو دنیا میں بادشاہوں کا بادشاہ (شہنشاہ) کہا جاتا تھا۔ [لیکن یاد رکھو کہ] اللہ کے سوا کوئی بادشاہ نہیں۔
لَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ عَبْدِیْ وَاَمَتِیْ کُلُّکُمْ عَبِیْدُ اللّٰہِ وَکُلُّ نِسَائِ کُمْ اَمَائُ اللّٰہِ وَلٰکِنْ لِیَقُلْ غُلَامِیْ وَجَارِیَتِیْ وَفَتَایَ وَفَتَاتِیْ وَلاَ یَقُلِ الْعَبْدُ رَبِّیْ وَلٰکِنْ لِیَقُلْ سَیِّدِیْ وَفِیْ رِوَایَۃٍ وَلَا یَقُلِ الْعَبْدُ السَّیِّدِیْ مَوْلَائِیْ فَاِنْ مَوْلَاکُمْ اللّٰہُ -
تم میں سے کوئی کسی کو ’’میرا بندہ‘‘ یا ’’میری بندی‘‘ نہ کہے۔ تم سب لوگ اللہ کے ’’بندے‘‘ ہو اور تمھاری ساری عورتیں اسی کی ’’بندیاں‘‘ ہیں بلکہ یوں کہے کہ میرا ’’غلام‘‘ اور ’’میری لونڈی‘‘ یا ’’میرا خادم‘‘ اور ’’میری خادمہ‘‘۔ اسی طرح کوئی غلام اپنے آقا کو ’’رب‘‘ نہ کہے بلکہ ’’سید‘‘ [جناب والا] کہہ کر پکارے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ کوئی غلام اپنے آقا کو مولا نہ کہے کیوں کہ تمھارا مولا صرف اللہ ہے۔
سلطنتِ جابرہ جس کا مفصل بیان اُوپر ہوچکا ہے‘ دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک صورت اس کی یہ ہے کہ سلطانِ جابر اپنی شوخ چشمی اور گستاخی کے باوجود ایمان کی بھی کوئی رمق دل میں رکھتا ہے اور اس سے بعض اعمالِ صالحہ۳؎ بھی ظاہرہوتے رہتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اس کے اعمال صالحہ طریق مشروع پر منطبق نہیں ہوتے‘ ورنہ اہلِ دیانت کے نزدیک ان کو کوئی وزن حاصل ہو سکتا ہے‘ کیوں کہ وہ ان کی انجام دہی کے لیے اپنا ہی ایک ڈھنگ نکالتا ہے اور اپنی ہی پسند کے مطابق اقدام کرتا ہے۔ لیکن دل میں وہ ان اعمال کو تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتاہے اور پورے خلوصِ نیت سے انھیں بجا لاتا ہے‘ مثلاً ہوا و ہوس کی راہ میں جس دریادلی سے اپنے خزانے لٹاتا ہے اسی کشادہ دلی سے ایک مسجد کی تعمیر پر بھی خرچ کرتا ہے اور اسے سونے چاندی کے نقش و نگار سے خوب مزین کراتا ہے اور اس کو مالی عبادت سمجھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی مسجد بنانا خود اسراف میں داخل ہے اور اسراف شریعت میں حددرجہ مذموم فعل ہے اور اس وجہ سے خدا کے ہاں اس کی مقبولیت کی کوئی توقع نہیں ہوسکتی‘ مگر چونکہ سلطان مُسرف ہے اور اس کی رائے میں یہی اسراف انفاق فی سبیل اللہ ہے اور اسے سرانجام دیتے ہوئے وہ یہی یقین کرتا ہے کہ ایسے دینی کاموں میں جتنا زیادہ بڑھ چڑھ کے خرچ کروں گا اتنا ہی خدا کے ہاں مقبول ٹھہروں گا۔ ان خیالات کے ماتحت وہ تقرب الی اللہ کے لیے بیش بہا دولت لٹا دیتا ہے۔
دوسری صورت میں سلطان جابر کا دل خوفِ خدا سے بالکل ہی بے نصیب ہوتا ہے اور وہ اعمال شرعی کو اخلاص سے انجام نہیں دیتا‘ بلکہ کچھ بطورِ عادت اور کچھ دنیاوی شہرت یا اہلِ خانہ پر تفوّق کے لیے بعض احکامِ شریعت کی اطاعت کرلیتا ہے اور اس پابندیِ شرع کو جاہ و جلال کا لازمہ سمجھتا ہے۔ پس صورتِ اوّل میں تو سلطان کے اعمال کی ظاہری شکل مردود تھی اور اس کی نیت محمود۔ مگر اس دوسری صورت میںباہر بھی کھوٹ ہے اور اندر بھی کثافت!
۱- کوئی وجہ نہیں کہ جو سلطان اسلامی مالیات کا نظم تہ و بالا کر رہا ہو اور بالواسطہ ریاست کے اندر معاشی و اقتصادی فساد پھیلا رہا ہو‘ اس کی کارگزاریوں پر اربابِ دین و دانش چپ بیٹھے رہیں۔ حدیث ابوذر کی رُو سے اتنے صبر کا مطالبہ تو کیا جا سکتا ہے کہ تلوار نہ اٹھائی جائے لیکن یہ صبر بے جا صبر ہوگا کہ زبان اور قلم کو بھی حرکت سے روک رکھا جائے۔ یہ اندیشہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا کہ اگر سلطانِ بخیل کی روک ٹوک ہوتی تو مزید زیادتیوں کا امکان زیادہ ہے اور اگر تنقید و تذکیر اسے بھڑکائے بھی‘ تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا نا کہ سلطان ان حدود سے آگے نکل جائے جن کے اندر اس کے خلاف خروج کی اجازت نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو کچھ برا نہیں۔ انقلاب کا ایک ریلا ازسرِنو خالص خلافتِ راشدہ کو اُبھار دے گا (ن-ص)
۲- اس روایت سے کوئی غلط فہمی نہ ہو۔ اس کا مدعا یہ نہیں ہے کہ اگر تم سے معصیتِ خالق کا مطالبہ کیا جائے تو بھی اپنے امرا کے غلام رہو۔ ہرگز نہیں اس میں صرف یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر امرا تمھارے حقوق تمھیں نہ دیں تو صبر کرو اور نظامِ سمع و طاعت کو برقرار رکھو ‘ یعنی خروج و بغاوت سے اجتناب کرو۔ امرا کا بوجھ امرا کے سر اور تمھارا تمھارے سر۔ لیکن اگر حقوق اللہ ہی کو یہ لوگ پی جائیں تو پھر مسلمان کے لیے اطاعت کوبرقرار رکھنا ممکن نہیں ہے (ن -ص)
۳- نیکی اور تقویٰ اور صالحیت حدودِ شرعی کے باہر کہیں نہیں پائی جاتی۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کی شریعت سے آزاد ہو کر آپ اپنے نیک ارادوں کو جس طرح چاہیں پورا کریں‘ نہیں! بلکہ اسلام کی شریعت سے بے نیاز ہو کر اگر آپ لاکھ تسبیحیں روز پڑھیں اور کروڑ سجدے دن رات میں کرلیں تو بھی آپ متقی اور صالح نہیں ہیں۔ تصوف نے غلطی اگر کی تو یہی کہ تقویٰ کی راہ کو شریعتِ اسلام کی حدود اربعہ سے آزاد کردیا۔ شاہ صاحب نے موقع پر بات واضح کر دی کہ ایسے ’’اعمالِ صالحہ‘‘ کو جو طریقۂ مشروع پر منطبق نہ ہوں مومن کی نگاہ میں کوئی وقعت نہیں ملتی۔ (ن - ص)
دنیا کا ہر متمدن انسان‘ فطرتاً امن پسند اور بہرحال پُرسکون اور خوش گوار زندگی کا خواہاں ہے۔ دہشت و بربریت اور بدامنی و بے چینی سے اس کی طبیعت ابا کرتی ہے۔ مذہب اسلام‘ انسان کی اس فطری ضرورت کا بہرصورت پاس و لحاظ رکھتا ہے اور اسے ایک ایسا نظامِ حیات عطا کرتاہے جس کے اصول و مبادی‘ اوامر و نواہی اور احکام و مسائل امن و سلامتی کی حسین لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ یہ جس ذاتِ عالی کا نازل کردہ دستورِ حیات ہے اس کی ایک صفت ’السلام‘ یعنی مرجع امن و سلام بھی بیان ہوئی ہے (الحشر ۵۹:۲۳)‘ جو اپنے بندوں کو امن و سلامتی کے گھر کی طرف بلاتی ہے‘ وَاللّٰہُ یَدْعُوْٓا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ ط(یونس۱۰:۲۵) ‘اور جس کی نگاہ میں معیاری مومن وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمانوں کا امن و سکون خطرے میں نہ پڑے۔ (بخاری‘ مسلم )
مقامِ افسوس ہے کہ آج دنیا‘ اسلام کے پُرامن پیغام کو فراموش کر کے ببانگِ دہل یہ اعلان کر رہی ہے اور میڈیا بھی اس میں اپناسارا زور صرف کر رہا ہے کہ اسلام (نعوذ باللہ) دہشت و سفاکیت پھیلانے والا مذہب اور عہدِ تاریکی کی یادگار ہے۔ اس کے ماننے والے بنیاد پرست‘ دہشت گرد‘ مذہبی دیوانوں کا ٹولہ اور قومی و عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ اسی طرح سارے مسلم ممالک دہشت گردی کی آماجگاہ اور اس کی سرپرستی کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ The Clash of Civilizations (تہذیبوں کا تصادم) جیسی کتابیں لکھ کر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اسلام کا درون و بیرون خون آلود ہے‘ Islam's borders, are bloody so are innards۔(سموئیل پی ہن ٹنگٹن‘ ۱۹۹۶ئ‘ ص ۲۸)
مغربی مفکر فریڈ ہالی ڈے کے بقول یہ سب مفروضے اس گروہ کے تصنیف کردہ ہیں جو مغرب میں رہتا ہے اور چاہتا ہے کہ مسلم دنیا کو کمیونزم کے زوال کے بعد ایک دشمن میں تبدیل کردے (فریڈ ہالی ڈے‘ Islam and the Myth of Confrontation ‘IB Tawaris Publishers نیویارک‘ ۱۹۹۵ئ‘ ص ۶)
یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کی چھوٹی موٹی واردات سے لے کر‘ ۱۱ ستمبر جیسے واقعات کا سرا مسلمانوں سے جوڑ دیا جاتا ہے اور مغربی مفکرین اور میڈیا ان کی یہ مسخ شدہ تصویر اس خوب صورتی سے پیش کرتا ہے کہ دیکھنے والا دیکھتے ہی بلاتامل پکار اُٹھے ع
بوے خون آتی ہے اس قوم کے افسانے سے
حالانکہ زمینی حقائق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ روے زمین پر اسلام ہی ایک ایسا نظریہ اور نظامِ حیات ہے جس کی رگ و پے میں امن و سلامتی کی روح کارفرما ہے اور جس کا خمیر صلح و سلامتی سے تیار ہوا ہے۔ یہ محض عقیدت مندانہ جذبہ آفرینی نہیں بلکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ آج سے ۱۴ سو سال قبل جب انسانیت زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھی‘ ایک صحراے عرب کیا‘ بلکہ ساری دنیا میں بدامنی و ابتری پھیلی ہوئی تھی۔ خوف و دہشت کا دور دورہ تھا‘ امن و قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی تھی‘ اعلیٰ انسانی قدروں کا جنازہ اٹھ چکا تھا‘ بچیاں زندہ درگور کر دی جاتی تھیں‘ غلاموں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا تھا‘ عورتیں ہر طرح کے حقوق سے محروم تھیں اور طاقت ور کمزور کو نگلے جا رہا تھا___!
ایسے پُرآشوب دور میں اسلام مسیحاے انسانیت بن کر مرغزار عرب سے ہویدا ہوا اور نہایت حکیمانہ انداز میں یہ اعلان کیا کہ وَاِذَا الْمَوْئٗ دَۃُ سُــئِلَتْ o (التکویر۸۱:۸)۔ اب عورتوں کو حق زیست سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّط (الانعام۶:۱۵۱)‘ اب کسی کو ناحق قتل نہیں کیا جائے گا‘ لیکن ظالم بھی بخشا نہیں جائے گا۔ من قتل عبدہ قتلناہ ومن جدع عبدہ جدعناہ(ابوداؤد‘ کتاب الدیات‘ باب من قتل عبدہ أو مثل بہ أیقاد منہ؟)۔ اب غلاموں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک روا نہیں رکھا جائے گا۔ وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلاَّ مَا سَعٰیo (النجم۵۳:۳۹) ۔ دنیا میں خونی اشتراکیت کا وجود نہ ہوگا۔ توخذ من أغنیائِھِم وترد علی فقرائھم (بخاری‘ کتاب الزکوٰۃ‘ باب وجوب الزکوٰۃ)۔ اب سرمایہ داروں کی بالادستی قائم نہیں رہے گی۔ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ(المائدہ ۵:۹۰)۔ اب شراب و قمار کے نشے میں انسانیت سوز جرائم وجود میں نہیں آئیں گے۔ وَلَاتَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَ ھُمْ (الاعراف۷: ۸۵) ۔ لوگوں کی حق تلفیاں اب نہیں ہوں گی۔ الناس بنو اٰدم وآدم من تراب(احمد: مسند ۶/۵۷۰‘ دار احیاء التراث العربی‘ بیروت‘ لبنان‘ ۱۹۹۴ئ)۔ اب رنگ و نسل اور قومیت کے آرے سے انسانیت کو چیرا نہیں جائے گا۔ وَلَاتُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا (الاعراف۷:۵۶) ’’زمین فتنہ وفساد کی آماجگاہ نہیں بنے گی اور اگر کوئی شخص یا گروہ راہِ امن و سلامتی کا روڑہ بنے گا تو پھر اس سے جنگ کی جائے گی‘‘۔ اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْتُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِط ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ o (المائدہ ۵:۳۳) ’’اس کا اثر یہ کہ ۲۵ سال کی مختصر مدت میں سارا جزیرۂ عرب امن و سکون کا گہوارا بن گیا اور ایسا گہوارا امن کہ رسولؐ کی پیشن گوئی کے مطابق ایک عورت سونا چاندی اُچھالتے ہوئے‘ قادسیہ سے صنعا تک تنہا سفر کرتی تھی اور کوئی اسے ٹوکنے والا نہیں تھا (بخاری: کتاب الاکراہ‘ باب من اختار الضرب والقتل والھوان علی الکفر۔ ابوداؤد: کتاب الجہاد‘ باب فی الأسیر یکرہ علی الکفرہ)۔ لیکن آج اس کے برعکس امن کی ہزارہا کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔ قومی و عالمی سطح پر امن مذاکرات ہورہے ہیں اور حقوقِ انسانی کی کمیشن بحال ہے۔ لیکن نتیجہ صفر سے آگے نہیں بڑھتا۔ آخر کیوں؟ وجہ ظاہر ہے کہ ع
جو شاخِ نازک پر آشیانہ بنے گا ناپایدار ہوگا
معاصر تصورات امن اور ان کے مضمرات
اسلام کے تصور امن کی مزید وضاحت سے قبل‘ معاصر تصوراتِ امن اور ان کی مضرات سے واقفیت ضروری ہے‘ تاکہ دور جدید میں اسلامی تصورِ امن کی معنویت کا اندازہ ہوسکے‘ کیوں کہ اشیا اپنے اضداد سے پہچانی جاتی ہیں‘ تعرف الاشیاء بأضدادھا۔
عام طور پر امن کا اطلاق معاہدئہ عدمِ جنگ اور قومی و بین الاقوامی تعلقات کی خوش گواری پر ہوتا ہے۔ کشاف اصطلاحات سیاست میں امن کی تعریف یوں کی گئی ہے: ’’ایسی صورت حال جب اندرونی طور پر ریاست کے حالات‘ پُرسکون اور دیگر ریاستوں کے ساتھ اس کے تعلقات حسبِ قاعدہ ہوں‘‘۔(محمد صدیق قریشی‘ کشافِ اصطلاحات سیاسیات‘ ص ۴۴۹‘ مقتدرہ قومی زبان‘ اسلام آباد‘ ۱۹۸۶ئ)
اور رچرڈ اسموک کے بقول: عام طور پر جب لوگ لفظ امن بولتے یا لکھتے ہیں تو اس کا سیدھا سادا مفہوم عدمِ جنگ لیتے ہیں۔ یہ امن کی منفی تعریف ہوتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے معنی جنگ کے علاوہ کچھ اور ہیں جو اس کے مثبت کردار کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو جنگ کی طرح وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ اور یہ امن ایسے حالات کا نام ہے جس میں جماعت یا ملکوں کے درمیان احترامِ باہم اور صحیح معنوں میں باہم سرگرم تعاون کی فضا پائی جاتی ہو۔ اور پھر یہ بڑھ کر بالآخر پوری دنیا کو اپنے دامن میں سمیٹ لے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو‘ اسموک رچرڈ‘ Smoke Richard with Willism Harman, Paths to Peace ‘ویسٹ ویو پریس‘ لندن‘ ۱۹۸۷ئ‘ ص ۲)
اس تعریف سے دو تصورات امن سامنے آتے ہیں: مثبت تصورِ امن اور منفی تصورِ امن۔
منفی تصور امن یہ ہے کہ ملک و سماج میں ذاتی تشدد نہ ہو‘ اس میں ملیٹری سائنس پر زوردیا جاتا ہے اور تخفیفِ اسلحہ اور اس کے کنٹرول کی بات کی جاتی ہے۔
مثبت امن یہ ہے کہ ساختی تشدد نہ ہو اور مساوی طور پر سب کے ساتھ سماجی انصاف کا اہتمام کیا جائے۔ اس میں سماجی ڈھانچے کے علم پر زور دیا جاتا ہے اور عمودی ترقی میں دل چسپی لی جاتی ہے۔( تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو‘ Johson L.G. Conflicting Concept of Peace in Contemporary Peace ‘سیج پریس‘ لندن‘ ۱۹۸۷ئ‘ ص ۱۲)
ارسطو اور دانتے نے حصولِ امن بذریعہ عالمی حکومت کے نظریے کی وکالت کی تھی۔ عصرِحاضر میں برٹرنڈرسل اس کا سرگرم حامی رہا ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو‘ World Encyclopedia of Peace ‘پرگیمن پریس‘ والیم ۲‘ ص ۳۸۴-۳۸۵)۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فی زمانہ قتل و غارت گری کے بغیر مجوزہ عالمی حکومت کا قیام ممکن ہے اور اگر ممکن بھی ہے تو اس کے زیرسایہ‘ پرامن بقاے باہم کی ضمانت کیسے دی جاسکتی ہے؟ اور کیا یہ ضروری ہے کہ قوتِ مقتدرہ غیر جانب دار ہو اور وہ قوت کا غلط استعمال نہ کرکے صرف قیامِ امن کے لیے کوشش کرے۔ مسلم دنیا کے خلاف امریکا کی موجودہ روش سے‘ اس نظریے کی حقیقت کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔
اس نظریے کے حاملین کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر کوئی ایسا ادارہ وجود میں نہیں آتا‘ جو ریاستوں کے مابین تمام حل طلب مسائل کا عدل و انصاف پر مبنی تصفیہ کرسکے۔ اس وقت امن کا تصور محال ہے۔ اس تصور کا بانی پینتھم کو قرار دیا جاتا ہے (ایضاً‘ والیم ۲‘ ص ۷۷-۷۸)۔ لیکن اس نظریے کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہاں کسی قوتِ نافذہ کی بات نہیں کی گئی ہے جو اس عدالت کے فیصلہ کو نافذ کراسکے۔
بہت سے مفکرین کا خیال ہے کہ کسی بھی شے سے مزاحمت نہ کی جائے۔ اس طرح وہ خود اپنی موت آپ مرجائے گا اور امن کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ ٹالسٹائی کو اس نظریے کا زبردست حامی بتایا جاتا ہے (ایضاً‘ والیم ۱‘ ص ۴۶۵)۔ گاندھی جی کا اہنسا پرمودھرما بھی اسی نظریے سے متاثر نظر آتا ہے۔ لیکن اگر بغور دیکھا جائے تو عدمِ مزاحمت کا اصول بھی بے حد غیرمنصفانہ اور ظالمانہ ہے اور اس کی تباہ کاریاں روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ مغرب میں بے لگام آزادی اور فحاشی و عریانی اور اباحیت پسندی کے غیرفطری تجربے کے نتیجے میں‘ خاندانی و معاشرتی نظام کا بگاڑ اس کی واضح مثال ہے۔
امن بذریعہ تحفظ اجتماعی کا نظریہ‘ پہلی جنگ عظیم میں ہونے والی ہوش ربا ہلاکتوں کے پسِ منظر میں وجود میں آیا جس کی بنیاد پر ۱۹۲۰ء میں جنیوا میں ’انجمن اقوام‘ کی تشکیل عمل میں آئی ‘ جس کا مقصد حقوقِ انسانی کی حفاظت‘ بین الاقوامی امن وسلامتی کو برقرار رکھنا‘ اور دنیا کو جنگ کی لپیٹ میں آنے سے روکنا قرار دیا گیا۔ لیکن واقعات نے ثابت کر دیا کہ انسانی حقوق کے اس منشور کی حیثیت ایک خوش نما دستاویز سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اس کی ناکامی کے اسباب میں سے چند کا ذکر یہاں مناسب ہے۔
۱- اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرارداد اور فیصلوں کا نفاذ رضاکارانہ ہے۔ اس کے پیچھے کوئی قوتِ نافذہ نہیں ہے۔
۲- بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے فیصلے بڑی حد تک سفارشی نوعیت کے ہوتے ہیں۔
۳- سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کو حق استرداد (right of veto) حاصل ہے۔ جب کوئی فیصلہ ان میں سے کسی کے مفاد کے خلاف جاتا ہے تو وہ آسانی سے اسے ویٹو کر دیتا ہے۔
۴- سلامتی کونسل میں ریاستوں کے قومی مفاد کو تسلیم کیا گیا ہے (تفصیل کے لیے دیکھیے: مشتاق احمد‘ قانون بین الاقوام‘ عزیز پبلشرز‘ لاہور‘ بحوالہ ڈاکٹر ابوسفیان اصلاحی ‘عصری اور اسلامی تصور امن ایک تقابلی مطالعہ‘ قرآن و سنت اکیڈمی‘ نئی دہلی‘ ۲۰۰۲ئ‘ ص ۷۰ تا ۸۲)۔چنانچہ ریاستیں درونِ ملک کتنی ہی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور اپنے شہریوں پر ظلم و زیادتی کا ارتکاب کریں اگر حقوقِ انسانی کمیشن اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اسے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ بھارت میں گجرات کے حالیہ واقعات کے تئیں‘ مرکزی حکومت کے مؤقف سے اس حقیقت کی وضاحت ہوجاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج انجمن اقوام متحدہ ہو یا سلامتی کونسل‘ ان کی حیثیت ایک خاموش تماشائی سے کم نہیں رہ گئی ہے۔ خلیجی جنگ کے بعد پابندیوں کے باعث عراق میں پانچ لاکھ بچوں کی ہلاکت‘ ۱۹۸۶ء میں لبنان میں اسرائیل کے ذریعے ۱۷ ہزار ۵ سو شہریوں کی تباہی‘ ۱۹۹۶ء میں قانا نامی ایمبولینس پر میزائل سے امریکی حملہ‘ امریکا کے اتحادی اسرائیل کی پروردہ لبنانی ملیشیا کا مہاجر بستیوں میں قتل و غارت‘ لوٹ مار اور عصمت دری کا بازار گرم کرنا‘ موجودہ اسرائیلی وزیراعظم ایریل شارون کے اشارے پر‘ صابرہ اور شتیلہ کے مہاجر کیمپوں میں ہزاروں بے گناہوں کا قتلِ عام۔ چیچنیا‘ کوسووا اور الجزائر میں لاکھوں مسلمانوں کی تہ تیغی‘ اور برما کے روہنگیا مسلمانوں کا بہیمانہ قتل‘ اور اقوام متحدہ میں ظالموں کے خلاف کسی طرح کی قرارداد پاس نہ ہونا‘ اس ادارے کی فعّالیت کو مشکوک کرتی ہے۔
معاصر تصوراتِ امن کی یہی وہ خامیاں ہیں جن کی وجہ سے دنیا میں قیامِ امن کا مسئلہ بڑا مشکل اور پیچیدہ ہوگیا ہے۔ دولت کی غیرعادلانہ تقسیم نے دنیا کو عیش و تنّعم اور فقروافلاس کی دوانتہائوں پر کھڑا کر دیا ہے۔ گلوبلائزیشن کی لعنت نے عالمی بنک کی سالانہ رپورٹ کے مطابق‘ دولت مند طبقے کو زیادہ امیر بنا دیا ہے‘ جب کہ غریبوں کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے۔ اس رپورٹ میں آیندہ غربت و افلاس کی شرح میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے(فضل الرحمن فریدی‘ ماہنامہ زندگی نو‘ جنوری ۲۰۰۱ء کالم اشارات)۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ جس امریکا میں ایک ائرہوسٹس اپنے کپڑوں کی ڈرائی کلیننگ پر چھے ہزار ڈالر خرچ کرتی ہے‘ وہیں ایسے کالے لوگوں کی بھی اکثریت پائی جاتی ہے جو گاربیچ ٹن (کوڑے دان) میں سے غذائوں کے ٹکڑے چنتے ہیں۔
آج دنیا میں آرٹ اور ثقافت کی آزادی کے نام پر فحش لٹریچر‘ سینما ‘ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعے فحاشی و بدکاری کی اشاعت کے سبب جنسی جرائم آسمان کو چھونے لگے ہیں۔ ۲۰۰۲ء کی رپورٹ ہے کہ صرف ہندستان میں ایک سال کے اندر ۱۶ ہزار ۴ سو ۹۶ زنا بالجبر‘۳۲ ہزار ۹ سو ۴۰ چھیڑچھاڑ اور ۱۱ ہزار ۲۴ عورتوں کے ساتھ نازیبا حرکتوں کے واقعات پیش آئے۔ کیا یہی حقوقِ نسواں کی حفاظت ہے؟ اس سے بڑھ کر عدل و انصاف کا دوہرا معیار اور کیا ہو سکتا ہے کہ برطانیہ‘ سلمان رشدی کو جس کی ہرزہ سرائی سے کروڑوں مسلمانوں کو تکلیف پہنچی‘ مکمل سکیورٹی فراہم کرتا ہے اور جب مسلمان اس کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ یہ تو بنیاد پرستی ہے۔ لیکن مشتبہ ملزم اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کی وجہ سے‘ نہتے افغانستان کے خلاف آپریشن بلیواسٹار کا مظاہرہ ہوتا ہے اوروہ کارپٹ بم کے ذریعے تہ تیغ کر دیے جاتے ہیں۔ اسرائیل کو یہ آزادی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف ہر طرح کی جارحیت کو روا رکھے اور نوع بہ نوع آلاتِ حرب تیار کرے۔ اس سے دنیا کو اجتماعی تباہی کا خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ لیکن محض شبہے کی بنیاد پر عراق کو تباہ کر دیا جاتا ہے کہ اس کے پاس weapons of mass distruction ہیں۔ پھر بعد میں اس مزعومہ استبقائی جنگ کو جنگ براے مکمل آزادی کا نام دے کر اس کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی دنیا میں جاہلانہ طبقاتی نظام قائم ہے۔ The End of History کا امریکی نعرہ اسی ظالمانہ نظام کے زیراثر ہے اور جس کے استحکام کے لیے ظلم و جارحیت کے سارے ریکارڈ توڑے جا رہے ہیں۔ تو پھر ایسی تکلیف دہ اور غیر یقینی صورت حال میں کیا قیامِ امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا؟ اور دنیا حقیقی امن و سلامتی سے آشنا ہوسکے گی؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب مغربی دنیا کو دینا ہے۔
مغربی و عصری تصوراتِ امن کے برخلاف‘ اسلام ایک فطری‘ دیرپا‘ جامع‘ منظم اور انسانی طبیعت سے ہم آہنگ تصورِ امن پیش کرتا ہے۔ اس کے دو پہلو ہیں: ایک سلام اور دوسرا صلح۔ سلام اس امن کو کہتے ہیں جس میں نزاع شروع ہونے سے پہلے‘ کسی بھی طرز کے اقدامات کے ذریعے‘ امن و امان قائم اور بحال رکھا جائے‘ اور صلح اس امن سے عبارت ہے جو نزاع شروع ہونے کے بعد کسی بھی نوع کی کوشش سے قائم ہو(عبدالرحمن کیلانی: مترادفات القرآن اللغویۃ‘ ص ۶۱۹۔۶۲۰‘ مکتبہ دارالاسلام‘ لاہور)۔ گویا یہ عارضی شے ہے۔ چونکہ اسلام مستقل امن و سلامتی کا خواہاں ہے اس لیے وہ تصور ’سلام‘ پر سب سے زیادہ زوردیتا ہے اور اس کے لیے وہ سب سے پہلے فرد کے اندر امن کا احساس پیدا کرتا ہے اور اس کے ضمیر ووجدان میں عقیدئہ و اخلاق کی ایسی جوت جگاتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ مجسم امن و سلامتی بن جاتا ہے۔ کیونکہ انسان جب متعدد معبودوں کی پرستش کے باوجود بھی‘ روحانی امن و سکون سے محروم رہتا ہے تو اسلام کا نظریۂ توحید اسے تسلی دیتا ہے کہ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَھُمْ مُّھْتَدُوْنَ (الانعام ۶:۸۲)‘ یعنی امن و سکون تو اہلِ توحید کے لیے مقدر ہے۔جب اسے دوسروں کے عیش و تنّعم کے مقابلے میں اپنی بدحالی دیکھ کر پریشانی لاحق ہوتی ہے تو عقیدۂ قضا و قدر اس کے لیے سامانِ تسکین ثابت ہوتا ہے۔ جب وہ بے راہ رو ہونے لگتا ہے تو عقیدئہ آخرت اور اُس کی ہولناکی اُسے راہِ راست پر لے آتی ہے‘ اور جب وہ کسی کا حق مارنے اور قتل و خون کا ارادہ کرتا ہے تو اسلام کا نظریۂ قصاص و جنایات اس کے پائوں کی زنجیر بن جاتا ہے۔ اس طرح فرد کی زندگی امنِ حقیقی سے آشنا ہوجاتی ہے۔
بعینہٖ اسلامی عبادات بھی امن پروگرام کی تنفیذ میں غیرمعمولی کردار ادا کرتی ہیں۔ مثلاً نماز برائیوں سے روکتی ہے‘ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِط (العنکبوت ۲۹:۴۵)‘ خلق خدا کے حقوق کی یاد دہانی کراتی‘ نفس کو سرکشی اور اِستکبار سے روکتی ہے اور اس کے اندر جذبۂ شکر پیدا کرتی ہے۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًا o اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا o وَّاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا o اِلاَّ الْمُصَلِّیْنَ o الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَاتِھِمْ دَآئِمُوْنَ o وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ o لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ- (المعارج۷۰: ۱۹-۲۵)
زکوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ سے غریبوں‘ معذوروں‘ یتیموں اور بے کسوں کی داد رسی کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ o وَمَآ اَدْرٰکَ مَا الْعَقَبَۃُ o فَکُّ رَقَبَۃٍ o اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ o یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ o اَوْ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ o (البلد۹۰:۱۱-۱۶)۔ صدقے سے سکون حاصل ہوتا ہے۔ خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَتُـزَکِّیْھِمْ بِھَا وَصَلِّ عَلَیْھِمْط اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْط (التوبۃ ۹:۱۰۳)۔
روزے سے تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ غریبوں کا دکھ درد سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور اس سے بدکاری و فحاشی پر ضرب پڑتی ہے۔ یامعشر الشباب من استطاع منکم الباء ۃ فلیتزوج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء (بخاری: کتاب النکاح‘ باب قول النبیؐ من استطاع منکم الباء فلیتزوج۔مسلم: کتاب النکاح‘ حدیث عبداللّٰہ بن مسعود)
حج جذبۂ وحدت پیدا کرتا ہے‘ تفریق رنگ و نسل مٹاتا‘ ہر طرح کی برائیوں اور جنگ وجدال سے روکتا ہے اور تمام انسانیت کے فلاح و بہبود کانظم کرتا ہے۔ اَلْحَجُّ اَشْھُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ ج فَمَنْ فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَلا وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّط (البقرہ۲:۱۹۷)
فرد کے بعد اسلام خاندان کی طرف متوجہ ہوتاہے اور اس کی سلامتی کے لیے سب سے پہلے ازدواجی زندگی کا پُرسکون تصور پیش کرتا ہے‘ بقاے امن کی خاطر اختلاط مرد و زن کو حرام اور عورتوں کے لیے پردہ لازم ٹھہراتا ہے۔ بدامنی پھیلانے والے عناصر کو قرار واقعی سزا کا مستحق قرار دیتا ہے کہ اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍص(النور ۲۴:۲)۔ اسی طرح اگر زوجین کے مابین نباہ کی کوئی صورت باقی نہیں رہ پاتی ہے توخاندانی امن کو برقرار رکھنے کے لیے طلاق کی بھی اجازت دیتا ہے۔ آج آزادیِ نسواں کی دعوے دار مغربی دنیا کا جائزہ لیں تو پتا چلے گا کہ مغربی معاشرے میں خواتین کے چہرے کی شادابی غائب ہوچکی ہے‘ ان کا قلبی سکون لٹ چکا ہے کیونکہ ان کا فیملی سسٹم بگڑا ہوا ہے۔ نتیجتاً‘ وہ اسلام کو اپنے لیے جاے امان تصور کرنے لگی ہیں۔
فرد و خاندان کے بعد اسلام معاشرے میں قیامِ امن کی سعی کرتا ہے اور سدِّذرائع کے اصول پر عمل کرتے ہوئے‘ بدامنی پھیلانے والے عناصر کو بیخ و بن ہی سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کرتا ہے‘ مثلاً معاشرے میں بدامنی: اختلاف و انشقاق سے پھیلتی ہے‘ اسلام کہتا ہے: وَلَاتَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْھَبَ رِیْحُکُم (الانفال ۸:۴۶)
اسلام کی نگاہ میں ذوقِ جمال اور فارغ البالی ممنوع نہیں‘ بلکہ وہ اسے بنظرِاستحسان دیکھتا ہے۔ قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِط (الاعراف ۷:۳۲)۔ لیکن آرٹ‘کلچر اور فنونِ لطیفہ کے نام پر اشاعتِ فحش کی مذمت بھی کرتا ہے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌلا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِط (النور۲۴:۱۹)
اس طرح جب فرد اور معاشرے میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کی روک تھام ہوجاتی ہے اور وہ امن و سکون کا نگہبان اور گہوارہ بن جاتا ہے تو اسلام قومی و بین الاقوامی سطح پر قیامِ امن کی کوشش کرتے ہوئے‘ ساری انسانیت کو ایک اکائی قرار دیتا ہے‘ اخوت کی جہانگیری قائم کرتا ہے۔ رنگ و نسل کی تفریق مٹاتا اور معیارِ فضیلت تقویٰ قرار دیتا ہے۔ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْاط اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْـقٰکُمْط (الحجرات۴۹:۱۳)
اسلامی تصورِ امن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر انسان کی جان اور خون کو محترم قرار دیتا ہے۔ اس کی نگاہ میں قتلِ ناحق سب سے بڑا گناہ ہے (بخاری: کتاب الشہادات‘ باب ماقیل فی شھادۃ الزور۔ مسلم: کتاب الایمان‘ باب بیان الکبائر واکبرھا)۔ حتیٰ کہ وہ کسی ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل تصور کرتا ہے (المائدہ ۵:۳۲)۔ کوئی شخص محض عقیدہ‘ زبان اور قومیت کی بنیاد پر حقِ زیست سے محروم نہیں ہو سکتا۔ اسلام مخلوط سوسائٹی میں پرامن بقاے باہم کا نظریہ ہی نہیں پیش کرتا‘ بلکہ وہ عملاً اس کے استحکام کے لیے بھی کوشش کرتا ہے۔ وہ جہاں یہ حکم دیتا ہے کہ اپنے غیرمسلم بھائیوں سے خندہ پیشانی سے ملو اور ان کے سلام کا گرم جوشی سے جواب دو‘ وَاِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَاط (النسائ۴:۸۶)۔ وہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے‘ ہر مذہب کے مذہبی رہنمائوں کی تکریم بھی سکھاتا ہے۔
وَلَاتَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًام بِغَیْرِ عِلْمٍط (الانعام ۶:۱۰۸)۔ لیکن اسلام کی ان تمام واضح تعلیمات کے باوجود‘ عام طور پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ مسلمان علیحدگی پسند‘ جنگجو اور ملکی و عالمی سلامتی کی راہ کے روڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کی بعض کارروائیوں میں کسی نام نہاد اسلام پسند افراد یا گروہ کے ملوث ہونے کے سبب‘ سارے اسلام اور مسلمانوں کو ہی بدنام کرنا عام سی بات ہوگئی ہے۔ اور اس کارروائی کو اسلامی دہشت گردی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لیکن جیکو (Jaco) الفا‘ ایل ٹی ٹی ای‘ پی ایل اے‘ وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی دہشت گردانہ کارروائیوں کو ہندو‘ یہودی یا مسیحی دہشت گردی نہیں قرار دیا جاتا۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ آج اسلام کے نظریۂ جہاد کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ گویا مذہبی دیوانوں کا ایک گروہ ننگی تلوار لیے ہوئے خونیں آنکھوں کے ساتھ اللہ اکبر کے نعرے لگاتا ہوا چلا آ رہا ہو جہاں کسی کافر کو دیکھتا ہو‘ پکڑ لیتا ہو اور تلوار اس کی گردن پر رکھ کر کہتا ہو کہ بول لا الٰہ الا اللہ ورنہ سرقلم کر دوں گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام میں جہاد کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور اس عمل کو ذروۃ سنام الاسلام کہا گیا ہے۔ لیکن کب؟ جب کہ حقوق انسانی پامال کر دیے جائیں‘عبادت گاہوں کے وجود کو خطرہ لاحق ہو‘ اہلِ اسلام کی جان و مال‘ عزت و آبرو اور گھربار خطرے میں پڑجائیں۔ ظلم ہی ظلم ہو اور اصلاح کی کوئی صورت باقی نہ رہ جائے۔ ایسی صورت میں وہ فتنے کے ازالے اور اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے جنگ کا حکم دیتا ہے۔ وہ کسی بھی حال میں امریکا کی طرح آپریشن بلیواسٹار‘ اور آپریشن ان ڈیورنگ فریڈم کا بگل نہیں بجا دیتا‘ بلکہ اس کی تعلیم یہ ہے کہ دورانِ جنگ محاربین کے بوڑھوں‘ بچوں‘ اپاہجوں‘ مذہبی رہنمائوں اور عورتوں سے تعرض نہ کیا جائے۔ مقتولین کا مثلہ نہ کیا جائے اور آتش زنی‘ لوٹ مار‘ قتل عام‘ بم ھماکے‘ مفتوحین کے ساتھ وحشیانہ سلوک اور نسلی تطہیر سے پرہیز کیا جائے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، الجہاد فی الاسلام)۔ کیا اس طرح کے بلند جنگی اخلاقیات کسی اور تہذیب میں پائے جاتے ہیں۔
عصرِحاضر کا سب سے بڑا کرب یہ ہے کہ جب جنگ کے حوالے سے بات ہوتی ہے تو قصداً معاصر تہذیبوں کی جنگی بربریت اور خوں آشامی کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے اور جہادِ اسلامی کی وحشت ناکی نمک مسالے کے ساتھ بیان کی جاتی ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ فرانس میں جمہوری انقلاب کے دوران بیک وار بیسیوں سروں کی ناریلوں کی طرح اڑانے والی گلوٹین کے ذریعے ۶۶لاکھ انسانوں کا صفایا کردیا گیا۔ روس میں اشتراکی انقلاب کے دوران کروڑوں جانیں تلف ہوئیں۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بالترتیب ۷۳ لاکھ ۳۸ ہزار اور ایک کروڑ ۶ لاکھ ۸۵ ہزار آدم زادوں کا آفتابِ حیات گل ہوا۔ اہنسا پرمودھرما کے پجاریوں کی مہابھارت بھی‘ ایک روایت کے مطابق ایک کروڑ انسانوں کے خون سے رنگین ہے (سید اسعد گیلانی، رسول اکرمؐ کی حکمتِ انقلاب‘ ص ۶۵۸-۶۵۸‘ کریسنٹ پبلشنگ کمپنی‘ دہلی‘ ۱۹۹۳ئ)۔ اسی طرح حالیہ دنوں افغانستان اور عراق کے خلاف امریکا کی غیرمتوازن اور بلاجواز جنگ میں کتنی معصوم جانیں ہلاک ہوئیں اور کس قدر املاک برباد ہوئیں وہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ پھر بھی یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ جنگیں عادلانہ تھیں اور عادلانہ ہیں۔ لیکن رسولؐ اللہ کی قیادت میں کل ۸۲ غزوات و سرایا میں‘ صرف ۹۱۸ افراد کی شہادت و ہلاکت کو دہشت و بربریت و سنگ دلی تصور کیا جاتا ہے۔ (ایضاً‘ ص ۶۵۷)
مختصر یہ کہ اسلام نے امن کا جو تصور دیا ہے وہ جامع‘ دیرپا اور ساری انسانیت کے لیے یکساں مفید ہے۔ اس کے برعکس معاصر تصوراتِ امن وقت کی پیداوار‘ انسانی تجربات کی اختراع اور الٰہی نظام کے تابع نہ ہونے کے سبب ناقابلِ عمل ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے تصورِ امن سے دنیا کو واقف کرایا جائے۔ یقینا وہ دن دُور نہیں جب دنیا یہ اعتراف کرلے گی کہ امن عالم فقط دامنِ اسلام میں ہی ملے گا۔
اگر امریکا کی قیادت میں انسداد دہشت گردی کی مہم‘ پُرامن اختلافِ راے اور مذہبی اظہار خیال پر حملے سے آہنگ ہوجاتی ہے تو یہ اس چیز کی بنیاد کھوکھلی کر کے رکھ دے گا جس کو حاصل کرنے کے لیے امریکا کوشش کر رہا ہے۔ (دی ہندو‘دہلی‘ ۲۸ ستمبر ۲۰۰۱ئ)
احتساب (accountability)کا تصور نہ صرف مذہبی لحاظ سے بلکہ دنیاوی امور میں بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ قرآن کریم میں بارہا احتساب کے تصور کو دہرایا گیا ہے‘ اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا ہے‘ یعنی نیکی کی تلقین کی جائے اور برائی سے منع کیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نہ صرف احتساب کا جامع تصور پیش کیا بلکہ اپنی ۲۳سالہ مسلسل جدوجہد میں احتساب‘ محاسبہ اور اصلاح و تطہیرکا عمل جاری رکھا جس کے نتیجے میں ایک مختصر سی مدت میں وہ مثالی معاشرہ وجود میں آگیا جس کی نظیر دنیا آج تک نہ پیش کر سکی۔
احتساب کا یہ تصور زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔ انفرادی‘ اجتماعی‘ معاشرتی‘ سیاسی‘ اخلاقی‘ غرض کوئی شعبہ حیات ایسا نہیں جو احتساب کے دائرہ کار سے باہر ہو۔ اسی لیے نظمِ مملکت اور تاسیسِ حکومت ِ الٰہی کے حوالے سے اسلامی ریاست کے انتظامی اداروں مثلاً امورِداخلہ‘ تعلقاتِ خارجہ‘ مالیات‘ عسکری امور‘ عدلیہ اور تعلیم و تربیت کے ساتھ ایک اہم ادارہ ’احتساب‘ ہے جو معاشرتی اصلاح کے حوالے سے بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ اس ادارے کے تحت لوگوں کے عام اخلاق کی نگرانی و اصلاح‘ عمّال ]ملازمین[ کی تربیت اور ان کا محاسبہ‘ نیز تجارتی بدعنوانیوں کا انسداد اور حرام اور ناجائز ذرائع آمدن کی بیخ کنی شامل ہے۔
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَـوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِط (الحج ۲۲:۴۱)
یہ وہ لوگ ہیں جنھیںاگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے‘ زکوٰۃ دیں گے‘ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے۔
چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر لوگوں کے اخلاق اور مذہبی فرائض کے متعلق وقتاً فوقتاً داروگیر فرماتے رہتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ اُنھیں اس بات پر توجہ دلاتے تھے کہ وہ احکام خداوندی کی پوری طرح پابندی کریں۔ چنانچہ اسلام کی بنیادی اور اصولی چیزوں کی تعلیم و تربیت کے لیے حضوؐر نے تمام قبائل سے کہا کہ ہر ایک قبیلہ اپنے کچھ لوگوں کو منتخب کر کے مدینہ بھیجے۔ آپ ؐ کا یہ طرزعمل بھی اس آیت کی تفسیر تھا:
فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَـآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ o (التوبہ ۹:۱۲۲)
اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے‘ مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ اُن کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ (غیرمسلمانہ روش سے) پرہیز کرتے۔
اصلاح معاشرہ کی تڑپ اور لگن‘ دنیا کے ہر طبقے اور ہر سوسائٹی میں اپنے اپنے افکار ونظریات کے مطابق موجود رہی ہے۔ بدھ مت کے پیروکار تمام مصائب کا سبب‘ نفسانی خواہشات کو قرار دیتے رہے لہٰذا وہ ان خواہشات پر قابو پانے ہی کو اصل سمجھنے لگے۔ زرتشت کے نزدیک‘ بدی کا سدباب صرف برے لوگوں سے نبردآزما ہونے ہی سے ممکن ہے‘ جب کہ کنفیوشس کا طریقہ کار اور اندازِ فکر اس سے بالکل مختلف رہا۔
اسی طرح عصرِجدید میں سرمایہ دارانہ نظام کے نزدیک برائیوں اور جرائم کے سدِّباب کے لیے ذاتی ملکیت کا حق بلاکسی قیدوشرط لازم ہے خواہ وہ جائز ہو یا ناجائز‘ جب کہ اشتراکیت کے نزدیک معاشرتی اصلاح اور برائیوں کے خاتمے کے لیے لازم ہے کہ تمام چیزوں پر ملکیت کااختیار لوگوں کے قبضے سے نکال حکومت کے سپرد کر دیا جائے۔ اس کے برعکس معاشرے کی اصلاح کے لیے اسلام کا طریقہ کار بڑا منفرد اور جامع ہے۔ وہ صالح معاشرے کے قیام کے لیے فرد کی ہمہ جہت اصلاح اور تربیت کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ اس کے دل کی دنیا بدلتا ہے‘ شعور کو بیدار کرتا ہے اور روحانی بالیدگی کو فوقیت دیتا ہے۔ اس لیے کہ اگر انسان کی اندرونی حالت اور باطنی کیفیت بہتر ہوجائے اور مکمل روحانی طہارت میسرآجائے تو بیرونی دنیا خود بخود سنور اور نکھر جاتی ہے۔ جیسا کہ نبی اکرمؐ کا فرمان ہے:
الا وان فی الانسان مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وھی القلب (مسندامام احمد حنبل‘ ج ۴‘ ص ۲۷۰)
سنو! جسم میں (گوشت کا) ایک لوتھڑا ہے۔ اگر وہ ٹھیک ہے تو سارا جسم ٹھیک۔ اور اگر وہ خراب ہو تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ خبردار وہ لوتھڑا دل ہے۔
انفرادی اصلاح اور فکرِ اسلامی کو راسخ کرنے کے بعد ایک دوسرے کی اصلاح کے فریضے کو لازم قرار دیا گیا ہے تاکہ پورا معاشرہ من حیث المجموع جنت نظیر بن جائے۔ حکمِ خداوندی ہے:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَـاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (اٰل عمرٰن ۳:۱۱۰)
اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو‘ بدی سے روکتے ہو۔
اصلاحِ معاشرہ سے مراد تمام شعبہ ہاے زندگی کی درستی اور ہر قسم کی حق تلفی‘ بددیانتی‘ ظلم و تشدد اور بدعنوانی سے پاک‘ پاکیزہ ماحول اور صالح نظام کا قیام ہے۔ معاشرے کے کسی خاص شعبے پر خصوصی توجہ سے درستی اور باقی کو نظرانداز کرنے سے لوگوں کو امن وسلامتی اور اطمینان نصیب نہ ہو سکے گا اور نہ وہ مثالی معاشرہ ہی قائم ہو سکے گا جو مطلوب و مقصود ہے۔ دینی امور اور شرعی دستور میں معاشرت و معاملات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بقول مولانا منظورنعمانی: معاشرت و معاملات اس لحاظ سے شریعت کے نہایت اہم ابواب ہیں کہ ان میںہدایتِ ربانی‘ خواہشاتِ نفسانی‘ احکامِ شریعت اور دنیوی مصلحت و منفعت کی کش مکش ‘عبادات وغیرہ دوسرے تمام ابواب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ اس لیے اللہ کی بندگی و فرمانبرداری‘ اس کی اور اس کے رسولؐ کی شریعت کی تابع داری کا جیسا امتحان ان میدانوں میں ہوتا ہے دوسرے کسی میدان میں نہیں ہوتا۔ (معارف الحدیث‘ مولانا منظورنعمانی‘ ج ۶‘ ص ۱۸)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مبارک معاشرت اور معاملات کی اصلاح کی اہمیت کو مزید اجاگر کر رہا ہے۔
حضرت ابوالدردائؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھیں وہ عمل نہ بتائوں جس کے ثواب کا درجہ نماز‘ روزے اور صدقے کے ثواب سے زیادہ ہے۔ ہم نے عرض کیا: ہاں‘ یارسولؐ اللہ (ضرور بتایے)۔ آپؐ نے فرمایا: (وہ عمل) آپس کے معاملات اور معاشرتی تعلقات کی اصلاح ہے۔ اور جو شخص باہمی معاملات اور معاشرتی تعلقات میں فتنہ و فساد پیدا کرے وہ مونڈنے (یعنی دین میں خلل ڈالنے) والا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح‘ حدیث ۵۰۳۸‘ ج ۲‘ص ۶۲۲)
معاشرتی اصلاح کے لیے یہ بات واضح ہوگئی کہ اسلامی معاشرے میں ’’امربالمعروف ونہی عن المنکر‘‘انفرادی اور اجتماعی فرائض میں شامل ہے۔ اسلامی اخلاقیات کی ترویج اور مذہبی اقدار کا فروغ دینی فرائض کا حصہ ہے۔ ظاہر ہے انفرادی سطح پر تو انسان اپنی بساط کے مطابق اس سے عہدہ برا ہو سکتا ہے مگر اجتماعی اور معاشرتی سطح پر کسی مستقل ادارے کے بغیر ان تقاضوں سے عہدہ برا ہونا بڑا مشکل ہے۔ ’احتساب‘ یا ’حسبہ‘ نے اسی ضرورت کے پیشِ نظر مکمل ادارے کی صورت اختیار کی۔
احتساب سے مراد اچھائی کا حکم دینا جب کھلم کھلا اس کو ]ترک[ چھوڑ دیا جائے اور برائی سے روکنا جب اس کو کھلم کھلا کیا جانے لگے۔ (احکام السلطانیہ‘ علی بن محمدالحسن الماوردی‘ مترجم: سیدمحمد ابراہیم‘ص ۲۴۰۔ احکام السلطانیہ‘ ابویعلٰی‘ مترجم: مصطفی البابی الحلبی‘ ص ۲۸۴)
یہ ایک دینی منصب ہے جس کا تعلق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے ہے۔ (مقدمہ ابن خلدون‘ ابن خلدون‘ مترجم: مولانا سعدحسن یوسفی‘ ص ۲۲۰)
احتساب کے لازم ہونے سے‘ افرادِ اُمت اس امر کے پابند ہوتے ہیں کہ وہ نظمِ ملت کو برقرار رکھیں‘ امن و سلامتی کا تحفظ کریں۔ جرائم کو پنپنے نہ دیں اور جرائم و معاصی کے وجود کے خلاف برسرِپیکار اور اخلاق کے فروغ پانے میں معاون بنے رہیں اور اس طرح معاشرے کو جرائم سے تحفظ کی معقول ضمانت اور سماجی بے راہ روی سے بچائو کی کافی ضمانت میسرآجاتی ہے۔ معاشرے کی وحدت کو پراگندگی کا کوئی خطرہ نہیں رہتا اور اجتماعی نظام‘ نت نئے افکار اور مہلک تحریکات سے محفوظ رہتا ہے بلکہ مفاسد اور برائیاں بڑھنے اور پھیلنے سے پہلے ہی ختم کر دی جاتی ہیں۔
مندرجہ بالا احکام سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جہاں اور جس وقت کسی دوسرے شخص کو برائی یا خلافِ شریعت کوئی کام کرتے ہوئے دیکھا جائے تو حسبِ استطاعت فوراً ہی اُسے روکیں اور جہاں بھی فساد اور شرکے آثار نظر آئیں تو ان کا قلع قمع کریں‘ نیکی اور بھلائی کا حکم دیں۔ چونکہ معاشرہ مختلف شعبہ ہاے حیات سے مل کر معرضِ وجود میں آتا ہے‘ لہٰذا کسی بھی فرض کی انجام دہی اور دیگر امور میں مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے ایک ہی طریقہ اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ انھی امکانات کے پیشِ نظر اسلام میں احتساب کا ایک ایسا جامع نظام وضع کیا گیا ہے جو نتیجہ خیزی کے اعتبار سے انتہائی ارفع ہے۔ جس میں ہرشخص اپنے مقام پر رہ کر اس اہم ذمہ داری کو احسن انداز میں پورا کر سکتا ہے۔ احتساب کے بارے میں اسلام کے متعین کردہ اصولوں کو پانچ دائروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱- احتسابِ نفس:حضرت عمربن خطاب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (روزِ قیامت) حساب کتاب سے پہلے خود اپنے نفس کا محاسبہ کرو اور (روزِ قیامت) بڑی پیشی کے لیے (اعمالِ صالحہ سے) اپنے آپ کو مزین کرو۔ روزِ قیامت حساب صرف اس شخص کے لیے سہل ہوگا جس نے دنیا میں اپنے نفس کا محاسبہ کیا ہوگا۔ (سنن ترمذی‘ کتاب صفۃ القیامۃ‘ باب ۲۵‘ ج ۴‘ ص ۶۳۸)
بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ o وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِ یْـرَہٗ o (القیامۃ ۷۵: ۱۴-۱۵)
بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے۔
معاشرہ فرد سے بنتا ہے اور فرد کی اصلاح میں خود احتسابی یا احتسابِ نفس بڑی بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن نفس کی شاطرانہ چالوں سے بھی کوئی مردِ خود آگاہ اور خودبیں ہی بچ سکتا ہے۔ مولانا صدرالدین اصلاحی کے بقول: ’’یہ نہ بھولنا چاہیے کہ نفس اپنا احتساب کرنے میں سخت حیلہ گر اور فریب کار ثابت ہوا ہے… اور جو ہمیشہ سے دعوتِ حق کی راہ کا سب سے بڑا پتھر ثابت ہوتا رہا ہے۔ اس لیے اگر راہِ حق کی سچی طلب ہو تو ضروری ہے کہ نفس کی اس مہلک کمزوری اور شعبدہ بازی سے انسان پوری طرح چوکنا رہے اور اپنے فکروعمل کا احتساب کرتا رہے۔ (فریضہ اقامت دین‘ ص ۱۶۴)
نفس کی اصلاح اور خوداحتسابی اس قدر موثر اور نتیجہ خیز چیز ہے کہ اس سے انسان کا ضمیر بیدار اور دل پاکیزہ ہوجاتا ہے‘ اور اگر اس سے کوئی غلط کام ہو بھی جائے تو ضمیر کی ملامت اس کو فوراً اصلاح کی طرف راغب کر دیتی ہے اور ندامت سے اُس کا سر جھک جاتا ہے‘ اور اپنی جبینِ نیاز کو اپنے رب کی بارگاہ میں جھکا دیتا ہے۔ اسی احساس‘ خشیتِ الٰہی اور خوفِ خداوندی کا نام تقویٰ ہے اور شاید اسی کے انعام کا تذکرہ یوں کیا گیا ہے:
وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی o فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰی o (النٰزعٰت ۷۹:۴۰-۴۱)
اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بُری خواہشات سے باز رکھا تھا‘ جنت اُس کا ٹھکانا ہوگی۔
رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُط ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ o (البینۃ ۹۸:۸)
اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہ کچھ ہے اُس شخص کے لیے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو۔
یہ احتسابِ نفس ہی تھا کہ کبارِ صحابہ اور اولیاء اُمت کھانے پینے کی معمولی چیزوں کی بھی پوری چھان بین کرتے تھے تاکہ کوئی لقمۂ حرام یا مشکوک کھانا پیٹ میں نہ چلا جائے۔
حضرت ابوبکرصدیقؓ کا معروف واقعہ ہے کہ بھوک کی شدت سے خادم کا لایا ہوا کھانا بغیرتحقیق کے کھا لیا اور معلوم ہونے پر کہ کھانا مشکوک ہے تو آپ نے اس لقمے کو قے کر کے نکال دیا۔ آپ سے پوچھا گیا: ’’خدا آپ پر رحمت کرے‘ اتنا کچھ آپ نے صرف ایک لقمے کی وجہ سے کیا۔ آپ نے فرمایا: اگر یہ میرے دمِ واپسیں کے ساتھ نکلتاجب بھی میں اس کو نکال کررہتا‘‘۔(صدیق کامل‘ عباس محمودالعقاد‘ مترجم: منہاج الدین اصلاحی‘ ص ۷۶)
خوداحتسابی کے معاملے میں حضرت عمرؓ کا مزاج سب سے نرالا تھا۔ آپؓ کے احتسابِ نفس کا یہ عالم تھا کہ ایک بار مشک کاندھے پر اٹھا کر چل دیے۔ لوگوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ فرمایا: میرے نفس میں عجب (تکبر) پیدا ہوگیا تھا۔ میں نے اس کو ذلیل کر دیا۔ اسی طرح ایک بار خطبے کے لیے منبر پر چڑھے اور لوگوں کو مخاطب کر کے کہا۔ میں ایک زمانے میں اس قدرنادار تھا کہ لوگوں کو پانی بھر کر لاکر دیا کرتا تھا۔ وہ اس کے بدلے مجھے چھوہارے دیا کرتے تھے۔ میں وہی کھاکر زندگی بسر کرتا تھا۔ یہ کہہ کر منبر سے اتر آئے۔ لوگوں نے تعجب سے پوچھا: بھلا یہ منبرپر کہنے کی بات تھی؟ فرمایا: میری طبیعت میں ذرا غرور آگیا تھا۔ یہ اس کی دوا تھی۔ (الفاروق‘ شبلی نعمانی‘ ص۳۹۱)
خلافت کے متعلق حضرت عمرؓ کے ذاتی احتساب کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو برحق رسول بنا کر بھیجا‘ اگر کوئی اونٹ فرات کے کنارے مر کر ضائع ہو جائے تو مجھے اندیشہ ہے کہ اس کے متعلق اللہ مجھ سے بازپرس کرے گا۔ (تاریخ طبری‘ مترجم: سیدمحمد ابراہیم‘ ج۲‘ ص ۲۵۳)
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَیْھَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لاَّ یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ o (التحریم۶۶:۶)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے‘ جس پر نہایت تُندخُو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انھیں دیا جاتا ہے اُسے بجا لاتے ہیں۔ (اُس وقت کہا جائے گا کہ) اے کافرو‘ آج معذرتیں پیش نہ کرو‘ تمھیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے۔
سورہ لقمان میں حضرت لقمان ؑ کی زبان سے توحید‘ مکارم اخلاق اور حسن معاشرت کا جو درس قریب قریب پورے ایک رکوع میں دیا گیا ہے‘ اس میں خصوصی خطاب اپنے بیٹے کی طرف ہے اور نماز پڑھنے کے ساتھ ساتھ امربالمعروف ونہی عن المنکر کے فرض کو انجام دینے اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو بھی برداشت کرنے کے متعلق نصیحت فرمائی گئی ہے:
یٰـبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ (لقمٰن ۳۱:۱۷)
بیٹا‘ نماز قائم کر‘ نیکی کا حکم دے‘ بدی سے منع کر۔
وَاْمُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَاط (طٰہٰ ۲۰:۱۳۲)
اپنے اہل وعیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو۔
اور پھر اہلِ خانہ کے علاوہ خاص طور پر یہ حکم ہوا کہ اپنے نزدیکی کنبے والوں کو ڈرائو۔
وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ o (الشعراء ۲۶:۲۱۴)
اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈرائو۔
۳- احتساب افرادِ عامہ: احتساب کی یہ وہ سطح ہے جس کا تعلق معاشرے کے عام مسلمانوں کی خیرخواہی سے ہے‘ اس کے ذریعے کتابِ ہدایت پر تمام ایمان لانے والوں کے نفس کو ایمانی ہمدردی اور دوستی کے لوازم میں داخل کر دیا گیا ہے کہ بلاتخصیص مرد و عورت سارے افرادِ اُمت آپس میں ایک دوسرے کو معروف کی تاکید کریں اور منکر سے منع کریں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (التوبہ ۹:۷۱)
مومن مرد اور مومن عورتیں‘ یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص لوگوں کا حاکم ہے وہ ان کا نگران اور ان کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ تم سے ان کے امورومعاملات کے بارے میں (قیامت کے دن) پوچھا جائے گا۔ اسی طرح ایک عام شخص بھی اپنے گھروالوں کا محافظ و نگران ہے اور اسے بھی ان کے بارے میں بازپرس ہوگی۔ اور عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کی اولاد کی نگران اور ان کی بہتری کی محافظ و ذمہ دار ہے۔ اور اس سے اس سلسلے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ غلام اپنے آقا کے مال کا محافظ اور نگران ہے اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا۔ لہٰذا یاد رکھو تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہرشخص اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہوگا‘‘۔ (بخاری‘ ج ۹‘ ص ۷۷)
اسی سلسلے میں ایک اور حدیث ملاحظہ ہو: حضرت معقلؓ بن یسار روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس بندے کو اللہ نے رعیت کا حاکم و محافظ بنایا اور اس نے بھلائی اور خیرخواہی کے تقاضوں کے مطابق رعیت کی حفاظت کی ذمہ داری پوری نہیں کی تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا‘‘۔(بخاری‘ ج ۹‘ ص ۸۰)
قرآن و سنت کی رُو سییہ امر واضح ہوا کہ اسلام کا تصورِ احتساب زندگی کے ہر شعبے کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ چاہے کوئی کسی ادارے کا سربراہ ہے یا چند افراد پر مشتمل گھر کا سربراہ۔ حکمران رعایا کے بارے میں‘ والد اولاد کے بارے میں‘ شوہربیوی کے بارے میں‘ بیوی گھر اور اولاد کی حفاظت و تربیت کے بارے میں۔ گویا کہ ہرصاحب منصب ذمہ دار اور جواب دہ بنا دیا گیا۔ احتسابِ عامہ کا یہ فرض صرف وعظ و تقریر یا خطاب عام تک ہی محدود نہیں بلکہ یہاں مراد خصوصیت سے انفرادی امرونہی ہے اور یہ کہ دوسرے کی بھلائی‘ برائی‘ نیکی و بدی کی ہرچھوٹی بڑی بات کو حسب موقع صرف بتلا ہی نہ دیا جائے بلکہ اس کو نیکی کی راہ پر لگانے اور برائی کی راہ سے ہٹانے کی پوری کوشش کی جائے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں استطاعت کے تین درجے وضع کیے گئے ہیں: ’’جب کوئی کسی برائی کو دیکھے تو پہلے تو ہاتھ سے روکے۔ عدمِ استطاعت کی صورت میں زبان سے اور یہ بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے برا جانے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے‘‘۔ آنحضورؐ نے خود اپنی سنت سے تینوں طریقوں سے تغیّرِمنکر کی بہترین مثال قائم فرمائی۔ اپنی سنت سے تینوں صورتوں ہاتھ‘ زبان اور دل سے منکر کو مٹانے کی صاف اور واضح رہنمائی و نشاندہی فرمائی۔
۴- اجتماعی احتساب: اجتماعی احتساب سے مراد وہ احتساب ہے جس کے بارے میں خود قرآن پاک نے فرمایا کہ تم میں سے ایک ایسی جماعت ضرور ہونی چاہیے جو خیر کی طرف بلائے اور بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔(اٰل عمرٰن ۳:۱۰۴)
ڈاکٹر محمد ضیاء الدین الرئیس اپنی تصنیف میں لکھتے ہیں: ’’اس آیت سے جو بات نکلتی ہے وہ یہ کہ اُمت پر یہ فرض ہے کہ وہ یہ فریضہ انجام دے اور ایک ایسی جماعت مقرر کرے جس کے ذمے حاکموں کے اعمال کی نگرانی کرنا ہو اور وہ یہ دیکھے کہ قوانین کی پیروی ہو رہی ہے یا نہیں۔ منکر اور مظالم سے روکے اور خیروبھلائی اور اصلاح کی طرف رہنمائی کرے‘‘۔ (النظریات السیاسیۃ الاسلامیہ‘ ص ۳۱۵)
اسلامی معاشرے میں ہمیشہ ایک ایسی مستقل جماعت یا اُمت در اُمت کا رہنا ایک لازمی اور اہم ترین عنصرہے۔ جس کی زندگی کا خاص مقصد اور مشن ہی یہ ہو کہ وہ سب کام چھوڑ کر لوگوں کو خیر کی طرف بلائے۔ یہی جماعت صحیح معنوں میں علما کی جماعت ہے۔ جو دنیوی علم کے ساتھ ساتھ اپنی عمر کا اصلی و منصبی فریضہ یعنی احکامِ الٰہی کی تعلیم و تبلیغ اشاعت و دعوت اور امرونہی وغیرہ میں لگے رہتے ہیں کیونکہ ان پر یہ فرض کر دیا گیا ہے۔
۵- احتسابِ حکومت: احتساب کی پانچویں قسم حکومت کی طرف سے اس فرض کا انجام پانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہی اسلامی ریاست کی اصل بنیاد اور مقصداعلیٰ ہے جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ: اگر ہم اُنھیں زمین میں اقتدار بخشیں گے تو وہ نماز قائم کریں گے‘ زکوٰۃ دیں گے‘ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے(الحج ۲۲:۴۱)۔ ابن عربی مالکی اس کی توضیح یوں فرماتے ہیں: ’’امربالمعروف ونہی عن المنکر دین کی بنیاد اور مسلمانوں کی خلافت کی اساس ہے‘‘۔ (احکام القرآن‘ ج ۱‘ ص ۳۹۳)
ابن تیمیہ کے بقول: ’’سارے اسلامی مناصبِ حکومت کا مقصد امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے‘‘۔ (الحسبہ فی الاسلام‘ ص ۳۷)
حکومتی سطح پر احتساب ‘مذکورہ چاروں اجزا کا لازمہ اور خاصّہ اور نظامِ صلاح و فلاح کا اہم ترین جزو ہے۔ اس کی اہمیت پہلی تمام اقسام سے اس لیے بھی زیادہ ہے کہ معاشرے میں وہ لوگ جو سرکشی اور ارتکابِ معصیت میں اس حد تک بڑھ چکے ہوتے ہیں اور شروفساد کا ان پر اس حد تک غلبہ ہوچکا ہوتا ہے کہ پھر ان کو بداخلاقی اور معصیت سے روکنے کے لیے انفرادی سطح پر لوگ بے بس ہو جائیں۔ اس وقت برائیوں کو روکنے کے لیے مکمل طاقت اور حکومتی قوت درکار ہوگی۔ اس صورت میں ادارۂ احتساب کا باقاعدہ اور مستقل قیام ہی ان جرائم کی روک تھام اور امن و امان قائم کرنے کے لیے بہترین کردار ادا کر سکتا ہے تاکہ اللہ کی زمین کو ہر قسم کے شرپسندوں سے پاک کر دیا جائے اور دین کا بول بالا ہو۔
احتسابِ حکومت سے یہاں مراد یہ بھی ہے کہ حکومتی ادارے ازخود بھی کسی طرح کے احتساب سے ماورا نہیں ہیں۔ اسلامی معاشرے میں احتساب کو یک رخا نہیں بنایا گیا بلکہ معاشرے میں ایک دوسرے کے معاملات کو متوازن اور معتدل بنانے کے لیے بیدارمغز رویے موجود رہنے چاہییں۔ جیسے حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں منبر سے جب یہ صدا بلند کی: ’’اے لوگو! سنو اور مانو‘‘۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور بآواز بلند کہنے لگا کہ ہم تمھاری بات نہ سنیں گے اور نہ مانیں گے۔ جب تک تم یہ نہ بتائو کہ دوسرے لوگوں کو ایک ایک چادر ملی مگر تمھارے جسم پر یہ دو چادریں کہاں سے آئیں‘‘۔(عمر فاروق اعظم‘ محمدحسین ہیکل‘ ص ۵۹۰)
اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَالا وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِط (النساء ۴:۵۸)
مسلمانو! اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو‘ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔
جہاں تک عمال کے محاسبے اور ان کی تربیت کا تعلق ہے تو اس کے دو پہلو ہوسکتے ہیں۔
ایک تو یہ کہ دورِ نبوت میں جن لوگوں کو کوئی اہم ذمہ داری سونپی جاتی مثلاً صدقہ یا زکوٰۃ وغیرہ کی وصول یابی کے لیے بھیجا جاتا‘ ان سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی پوچھ گچھ کرتے تھے کہ کہیں وصولی میں انھوں نے بے جا ظلم یا زیادتی یا ناجائز طریقہ تو اختیار نہیں کیا۔ چنانچہ مشہور واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپؐ نے بنواسد کے ایک شخص ابن اللتبیہ کو صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا۔ جب وہ وصول کرکے واپس آئے تو انھوں نے دو قسم کا مال رسولؐ اللہ کے سامنے یہ کہہ کر رکھ دیا کہ یہ مال مسلمانوں کا ہے اور یہ مال مجھ کو تحفتاً ملا ہے۔ آپؐ نے یہ ملاحظہ فرمایا تو کہا کہ ’’گھر بیٹھے بیٹھے تم کو یہ ہدیہ کیوں نہ ملا؟‘‘ اس کے بعد خطبہ میں اس قسم کے لین دین کی سختی سے ممانعت فرما دی اور فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمدؐ کی جان ہے! ان محاصل میں جو شخص خیانت کرے گا قیامت کے دن وہ چوری کیا ہوا مال اپنی گردن پر لادے چلاآرہا ہوگا‘‘(بخاری)۔ حضرت ابوحمیدساعدی کی روایت کے ساتھ یہ حدیث صحیحین ]بخاری و مسلم[ میں بیان ہوئی ہے۔
دوسرا پہلو یہ کہ: رسولؐ اللہ ایک عظیم مصلح اور بیدارمغز حکمران تھے۔ آپؐ کو جہاں یہ خیال تھا کہ عہدیدار اپنے فرائض و واجبات کی بجاآوری صحیح طور پر کریں وہاں اس بات کا بھی خاص اہتمام تھا کہ عمّال و حکام اسلامی نظریۂ حیات پر کامل یقین‘ دینی تعلیمات سے گہری واقفیت اور زیورِاخلاق سے پوری طرح آراستہ ہوں تاکہ جہاں بھی ان کا تقرر کیا جائے وہ کامیاب ثابت ہوں‘ اور کم ازکم وہاں کے باشندے ان کے اخلاق سے شاکی نہ ہوں اور وہ شرع کے مطابق فیصلے کریں۔
حکومت کی ذمہ داریوں میں سے یہ ذمہ داری انتہائی اہم ہے کہ وہ عامۃ الناس کو حرام تجارتی طریقوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کاروباری معاملات کی نگرانی کریں۔ نبی اقدسؐ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں ان امور کی ازخود نگرانی فرمائی۔ بدعنوان تاجروں کو دین و دنیا کی وعید سنانے کے علاوہ آپؐ نے اچھے اور ایماندار تاجروں کو اخروی اجر کی بشارت بھی سنائی۔ نیز چیزوں کی خرید و فروخت کے سلسلے میں آپؐ نے بات بات پر حلف اٹھانے‘ جھوٹی قسمیں کھانے‘ ناپ تول میں کمی کرنے اوراسی قسم کی دوسری نازیبا حرکات کی سخت ممانعت کر دی‘ اور پھر اس ترغیب و ترہیب کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی فرمائے۔ آپؐ بعض اوقات بازاروں اور منڈیوں کا دورہ کرتے اور موقع پر ہی تحقیق و تفتیش فرما کر ضروری تنبیہ یا کارروائی عمل میں لے آتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپؐ بازار تشریف لے گئے اور غلے کے ایک ڈھیر میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو غلّہ اندر سے گیلاتھا۔آپؐ نے دکاندار سے دریافت فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ بارش سے بھیگ گیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ ’’پھر اس کو اوپر کیوں نہیں رکھا تاکہ ہر شخص کو نظرآئے(پھر فرمایا)۔ جو لوگ فریب دیتے ہیں وہ ہم میں سے نہیں ہیں‘‘۔(صحیح مسلم)
وزن اور ناپ تول کو ٹھیک رکھنا قرآن کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے‘ جب کہ رسولؐ اللہ نے بھی اشیا کو محض اندازے کے بجاے تول سے دینے اور وزن کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مزیدبرآں آپؐ نے منڈیوں اور بازاروں کی مجموعی نگہداشت اور تاجروں کے بے جا تصرف سے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بازاروں کے لیے باقاعدہ محتسب (مارکیٹ انسپکٹرز) کا تقرر بھی کیا تھا۔
الغرض معاشرتی اصلاح میں ’احتساب‘ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اصلاح و تبلیغ‘وعظ و نصیحت‘ عمدہ افکار وعقائد کی ترویج‘ اخلاقی اصلاح‘ روحانی بالیدگی اور ذہنی پاکیزگی کے لیے دیگر جملہ ذرائع بھی بروے کار لانے ضروری ہیں تاکہ لوگ محض سزا یا سزا کے خوف سے نہیں بلکہ فِی السِّلْمِ کَافَّۃً کا خوب صورت پیکربن کر ایک ایسے خوب صورت اسلامی اور فلاحی معاشرے کی تفسیر پیش کریں جہاں افراط و تفریط اور ظلم و تعدی کا کوئی نشان نظر نہ آئے ؎
مزدکی ہو کہ فرنگی ہوس خام میں ہے
امنِ عالم تو فقط دامنِ اسلام میں ہے
تصوف کا اقرار و انکار اور اس کے بارے میں بحث و تمحیص اور اعتراض و جوابِ اعتراض کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔ اگر کسی نے اس کا انکار کیا تو اقرار کرنے والے یہ نہیں دیکھتے کہ انکار کس تصوف کا کیا جا رہا ہے‘ اور اگر کسی نے اقرار کیا تو انکار کرنے والے یہ نہیں سمجھتے کہ کس تصوف کا اقرار کیا جا رہا ہے۔ اقرار کرنے والے منکرین تصوف کے درمیان مطعون ہوتے ہیں اور انکار کرنے والے حامیانِ تصوف کے درمیان مذموم قرار پاتے ہیں۔ افراط و تفریط کے درمیان توسط و اعتدال کی راہ گُم ہو جاتی ہے اور اس پر چلنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ بعض لوگ تو ’’تصوف‘‘ کے لفظ اور اس اصطلاح پر جھگڑا شروع کر دیتے ہیں حالانکہ اصطلاح پر جھگڑنا معقول بات نہیں ہے۔ اسی طرح بعض لوگ حقیقت سے زیادہ اس اصطلاح کو ماننے اور منوانے پر اصرار شروع کر دیتے ہیں اور یہ بات بھی قرین عقل نہیں ہے۔
راقم الحروف نے تصوف کی کتابوں کا جو مطالعہ کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تین قسم کے تصوف پائے جاتے ہیں: ۱- مومنانہ تصوف‘ ۲- فلسفیانہ تصوف‘ ۳- ملحدانہ تصوف۔
ملحدانہ تصوف نے اگرچہ مسلم عوام کو بہت نقصان پہنچایا ہے لیکن علماے حق اور صوفیہ صافیہ ہمیشہ اس کی تردید کرتے آئے ہیں اور کسی مومن مخلص کو اس کے قابل ترک ہونے میں شبہہ نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک ملحدانہ تصوف اس تصوف کا نام ہے جو بزعمِ خویش اللہ تک پہنچے ہوئے لوگوں کے لیے اسلامی شریعت کو معطل قرار دیتا ہے۔ ملحداور گمراہ صوفیہ جو مسلمان کے بھیس میں دراصل منافق ہوتے ہیں‘ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جب کوئی مسلمان مقامِ یقین پر فائز ہو کر خدا رسیدہ ہو گیا تو اب وہ نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ‘ حج اور اس طرح کے شرعی احکام کا مکلّف نہیں رہتا۔ اس گروہ کے نزدیک طریقت‘ شریعت سے بالکل علیحدہ چیز ہے‘ اس کے نزدیک شریعت مدرسۂ سلوک کے صرف مبتدی طلبہ کے لیے ہے۔
مومنانہ ‘ یعنی اسلامی تصوف جن حقائق کا نام ہے آج تک کسی مومن مخلص نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ اس لیے کہ وہ کتاب و سنت سے بصراحت ثابت اور ایمان و اسلام کے لازمی تقاضے ہیں۔ علماے حق کے درمیان اختلاف و نزاع صرف اس تصوف میں ہے جسے ہم نے فلسفیانہ تصوف کہا ہے۔ اس تصوف کی بنیاد فلسفۂ یونان اور علم الکلام کی دور ازکار بحثوں پر قائم کی گئی ہے۔ اس میں بہت سی ایسی چیزیں داخل کر لی گئی ہیں جن کی تائید کتاب و سنت سے نہیں ہوتی۔ نیز یہ کہ قرآنی حقیقتوں کی فلسفیانہ تشریح کر کے انھیں کچھ سے کچھ بنا دیا گیا ہے اور ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ بہت سی چیزوں کے لیے انتہائی ضعیف اور موضوع حدیثوں کا سہارا لیا گیا ہے۔ کیونکہ مسلمانوں میں کوئی چیز اس وقت تک قبولِ عام حاصل نہیں کرتی جب تک اس کے لیے کوئی حدیث نہ پیش کی جائے۔
جہاں تک میں نے غور کیا ہے تصوف کے انکار میں شدت اسی فلسفیانہ تصوف پر زور دینے کا نتیجہ ہے۔ صوفیہ میں بے شمار ایسے لوگ موجود ہیں جو زبان سے تویہ کہتے ہیں کہ تصوف کی بنیاد کتاب و سنت پر ہے لیکن ان کی روش یہ ہے کہ جو لوگ فلسفیانہ تصوف کا انکار کرتے ہیں انھیں بھی وہ اس گروہ میں داخل قراردیتے ہیں جو مطلقاً تصوف کا منکر ہے۔ اس کے علاوہ بزرگوں کے بارے میں انھوں نے ایسی غالیانہ عقیدت اختیار کر رکھی ہے جس کا کوئی ثبوت کتاب و سنت میں موجود نہیں ہے اور اسی کو انھوں نے تصوف کے اقرار و انکار کی کسوٹی بنا دیا ہے۔ جو شخص ان کی اس خود ساختہ کسوٹی پر کھرا اُترے‘ یعنی غالیانہ عقیدت میں ان کا ساتھ دے‘ وہ تصوف کا ماننے والا ہے اور جو اس پر کھوٹا ثابت ہو‘ یعنی اس عقیدت میں ان کا ساتھ نہ دے وہ تصوف کا انکار کرنے والا ہے۔ ۹۰ فی صد یہ بات بھی صادق ہے کہ انھوں نے بزرگوں کی غالیانہ عقیدت کو اپنے لیے حصولِ عقیدت کا حربہ اور وسیلہ بنا لیا ہے۔ یہ اپنے ماسبق بزرگوں کے سامنے اس لیے سر جھکاتے ہیں کہ دوسرے لوگ ان کے سامنے سر جھکائیں‘ جو لوگ اس پر تنقید کرتے ہیں انھیں وہ تصوف کا مخالف اور اولیا کا منکر کہہ کر لوگوں میں بدنام کرنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ لوگوں کی عقیدت ان کے ساتھ وابستہ رہے اور اس میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔
تصوف کی مشہور و مستند کتابوں میں اسلامی تصوف اور فلسفیانہ تصوف ایک دوسرے کے ساتھ مخلوط ہیں اور ان دونوں کے درمیان امتیاز صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو خود کتاب و سنت کا علم رکھتے ہوں اور جن کے دل و دماغ بزرگوں کی اندھی عقیدت سے مائوف نہ ہوں--- ہماری اس تحریر کا موضوع چونکہ اسلامی تصوف ہے اس لیے ہم نے فلسفیانہ تصوف سے صرفِ نظر کیا ہے--- ہم حسب ذیل نکات کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں:
۱- اسلامی تصوف کا ماخذ کیا ہے؟
۲- تصوف کیا ہے اور صوفی کون لوگ ہیں؟
۳- کشف و کرامات و الہام کوئی دلیل نہیں بلکہ خود ان کی صحت دلیلِ شرعی کی محتاج ہے۔
تمام صوفیۂ علّیہ بلااستثنا اس بات پر متفق ہیں کہ وہ جس تصوف کے قائل ہیں اس کی بنیاد کتاب و سنت پر قائم ہے اور یہی اس کے اصل ماخذ ہیں۔ صرف چند اقوال یہاں نقل کرتے ہیں۔
ابو عبداللہ سہل بن عبداللہ التستری (م: ۲۷۳ھ) کہتے ہیں: ہمارے طریقے کے اصول سات ہیں: کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامنا‘ سنت کی پیروی‘ حلال کھانا‘ اذیت رسانی سے رُکنا‘ معصیتوں سے اجتناب‘ توبہ اور حقوق کی ادایگی۔ (نتائج الافکار القدسیہ‘ ج ۱‘ ص ۱۱۱)
ابوالحسین احمد بن ابی الحواری (م :۲۴۰ھ) کہتے ہیں: جس کسی نے اتباع سنت کے بغیر کوئی عمل کیا تو اس کا وہ عمل باطل ہوگا۔ (الرسالۃ القشیریہ‘ ج ۱‘ ص ۱۲۶)
ابوحفص عمر بن مسلمۃ الحداد (م: ۲۶۵ھ) کہتے ہیں: جو شخص ہر وقت اپنے افعال و اقوال و احوال کو کتاب و سنت پر نہیں تولتا اور جو اپنے وارداتِ قلبی میں شک کر کے اسے نہیں جانچتا اسے ’’مردانِ حق‘‘ کے گروہ میں شمار نہ کرو۔ مردان حق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے: ’’ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا‘‘۔ یہ جو بات ابوحفص نے فرمائی اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص ایسا نہ ہو وہ اپنے دشمن نفس کے فریب سے بے خوف اور اپنے حال میں مگن ہوتا ہے اور جو شخص ایسے دشمن کی عداوت سے اپنے کو محفوظ و مامون سمجھے جس سے دشمنی کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اپنے بارے میں یہ سمجھ لے کہ کسی کا فریب اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا تو ایسا شخص اللہ کی چال سے اپنے آپ کو بے خوف سمجھ رہا ہے اور قرآن میں ہے کہ: ’’اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو‘‘۔ (الرسالۃ وشرحہا)
سید الطائفہ ابوالقاسم جنید بن محمدؒ (م :۲۹۷ھ) کہتے ہیں: جس شخص نے قرآن و حدیث کے احکام نہیں سمجھے اور ان کا علم حاصل نہیں کیا ‘ تصوف میں اس کی اقتدا نہیں کی جا سکتی‘ کیونکہ ہمارا یہ علم (تصوف) کتاب و سنت سے مقید ہے اور اجماع و قیاس کا مرجع بھی یہی دونوں ہیں۔
ابوعلی روذباری جنیدؒ سے نقل کرتے ہیں کہ ہمارا یہ مذہب (تصوف) اصول‘ یعنی کتاب و سنت کے ساتھ مقید ہے۔ پہلے قول میں ’’علم‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور دوسرے میں ’’مذہب‘‘ کا۔ پہلے لفظ سے اشارہ صحت ِعلم کی طرف ہے اور دوسرے لفظ کا اشارہ صحتِ سلوک کی طرف۔ اس سے معلوم ہوا کہ صوفیہ کسی وقت بھی اپنے علم و عمل میں کتاب و سنت سے مستغنی نہیں ہیں۔ اس قول میں اور اس سے پہلے کے قول میں اس شخص کی تردید ہے جو راہِ سلوک میں اپنے ’’وارداتِ قلبی‘‘ پر اعتمادکرتا ہے اور گمان کرتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور سچے ہیں‘ وہ انھیں کتاب و سنت پر تولنے سے اپنے آپ کو مستغنی سمجھتا ہے اور یہ کھلی ہوئی گمراہی ہے۔ (رسالہ قشیریہ مع شرح‘ ج ۱‘ ص ۱۴۳)
السید مصطفی العروسی اپنے حاشیے میں لکھتے ہیں: حضرت جنیدؒ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ طالب ِ سلوک کے لیے شرط یہ ہے کہ علما سے شریعت مطہرہ کے احکام کا علم حاصل کرکے اس پر عمل کرے۔ اس کے بعد اس راہ میں اس کی رہبری درست ہو سکتی ہے۔ اور جو شخص اس کے بغیر اللہ تک پہنچ جانے کا مدعی ہو وہ بدعتی ہے‘ نہ اس کی طرف رجوع کیا جائے گا اور نہ اس کی کسی بات پر اعتمادصحیح ہوگا۔
’’علم تصوف دائرہ کتاب و سنت کے اندر ہے‘‘، اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ علم تصوف کتاب و سنت سے حاصل کیا جائے گا اور اسی کے مطابق عمل ہوگا اور جو شخص علماً و عملاً اس سے خارج ہو وہ زندیق (بے دین) ہے۔ (نتائج الافکار‘ ج ۱‘ ص ۱۴۳)
ابوحمزہؒ بغدادی (م: ۲۸۹ھ) کہتے ہیں: جو راہِ خدا کا علم رکھتا ہے اس پر اس راہ کی رہروی آسان ہو جاتی ہے اور اللہ تک پہنچانے والے راستے کا رہنما بجز متابعت ِ رسولؐ کوئی اور نہیں ہے‘ متابعت آپؐ کے احوال‘ افعال اور اقوال سب میں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’جس نے رسولؐ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی‘‘۔(الرسالۃ‘ ج ۱‘ ص ۱۷۷)
ابواسحاق ابراہیم بن داؤد رقی (م: ۳۲۶ھ) کہتے ہیں: محبت الٰہی کی علامت‘ اس کی اطاعت کو ترجیح دینا اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا ہے اس لیے کہ متابعت ‘ محبت کا ثمرہ ہے۔ جو شخص کسی سے محبت کادعویٰ کرتا ہے لیکن اس کی پیروی نہیں کرتا وہ اس کی محبت میں جھوٹا ہے۔ رقی ؒنے یہ بھی کہا ہے کہ ہرانسان کی قیمت اس کی ہمت کے مطابق ہوتی ہے‘ پس اگر اس کی ہمت دنیا ہے (یعنی اس کا مطمح نظر دنیا کا حصول ہے) تو اس کی کوئی قیمت نہیں اور اگر اس کی ہمت اللہ کی رضا ہے تو پھر اس کی قیمت کا ادراک کرنا ممکن نہیں ہے‘ کوئی اُسے جان نہیں سکتا۔(نتائج الافکار‘ ج ۱‘ ص ۱۴۳)
ابوبکر الطمستانی (م: ۳۴۰ھ) کہتے ہیں: راستہ واضح ہے اور کتاب و سنت ہمارے درمیان موجود ہیں اور صحابہؓ کا فضل و شرف معلوم ہے اس لیے بھی کہ وہ آپؐ کی صحبت میں رہے اور اس لیے بھی کہ انھوں نے آپؐ کے ساتھ ہجرت کی اور جہاد کیا‘ رہے ہم لوگ تو ہم میں سے جس نے کتاب و سنت کی صحبت اختیار کی‘ یعنی کتاب و سنت میں جو کچھ ہے اس پر عمل کیا اور جس نے اپنے نفس اور مخلوق کی اطاعت سے منہ موڑا اور اپنے دل سے اللہ کی طرف ہجرت کی وہی سچا ہے اور اس نے ابدی سعادت کا راستہ پا لیا ہے۔ (الرسالۃ‘ ج ۱‘ ص ۱۷۷)
ابوالقاسم ابراہیم بن محمد النصرآباذی (م: ۳۶۷ھ) کہتے ہیں: تصوف کی اصل یہ چیزیں ہیں: کتاب و سنت کی پابندی‘ خواہشات و بدعات کا ترک‘ مشائخ کا احترام‘ مخلوق کی معذرتوں کو قبول کرنا‘ اوراد پر مداومت‘ رخصتوں کے ارتکاب سے پرہیز‘ تاویلات کو ترک کرنا۔ اس قول میں مشائخ سے مراد وہ لوگ ہیں جو علم و عمل کے لحاظ سے کامل ہوں اور جنھوں نے ان مباحات سے بھی اعراض کیا ہو جو ذکر و عبادت میں حارج ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ یقینا احترام و اکرام کے مستحق ہیں۔ اوراد‘ وِرد کی جمع ہے‘ ان سے مراد وہ نفل عبادتیں ہیں جو بندہ اپنے رب کی رضا اور تقرب کے لیے روزانہ کرتا ہے۔ یہ عبادتیں اللہ کے لطف و کرم کو جاری رکھتی اور دلوں کو زندہ کرتی ہیں جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے کہ میرا بندہ برابر نوافل کے ذریعے میرا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ ’’رخصتوں‘‘ سے یہاں مراد آرام و راحت‘تنعم اور لذائذ ہیں۔ ’’تاویلات‘‘ سے مراد یہ ہے کہ کسی شے کے بارے میں بندہ اپنے نفس میں یہ خیال کرے کہ نہ اسے کرنے میں گناہ ہے‘ اور نہ ترک میں گناہ ہے‘ وہ یہ نہ سوچے کہ قرب الٰہی کے حصول میں اس کا فعل یا ترک مفید ہے یا نہیں۔ (الرسالۃ مع شرح ‘ ج۲‘ ص ۱۵)
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ(م :۵۹۱ھ) کہتے ہیں: کتاب و سنت کو اپنے سامنے رکھو‘ تامل و تدبر کے ساتھ ان دونوں کا مطالعہ کرو اور انھی دونوں کو اپنا دستورالعمل بنائو اور قال و قیل اور ہوا و ہوس سے دھوکا نہ کھائو۔ (فتوح الغیب ‘ مقالہ ۳۶)
آگے چل کر وہ پھر فرماتے ہیں: سیدنا محمدؐ کے سوا ہمارا کوئی نبی نہیں کہ ہم اس کی پیروی کریں اور قرآن کے سوا کوئی کتاب نہیں کہ ہم اس پر عمل کریں ‘ لہٰذا تم ان دونوں کے دائرے سے باہر نہ نکلو ورنہ ہلاک ہو جائو گے۔ تمھاری خواہش اور شیطان تمھیں گمراہ کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اپنی خواہش نفس کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔ سلامتی کتاب و سنت کے ساتھ ہے اور ہلاکت غیر کتاب و سنت کے ساتھ۔ (ایضاً)
ابوالعباس احمد بن محمد بن سہل بن عطا (م: ۳۰۹ھ) معقول و منقول دلیل کے ساتھ اتباع سنت پر زور دیتے ہیں: جو شخص اپنے آپ کو آدابِ شریعت کا پابند کردیتا ہے‘ اللہ اس کے قلب کو نور معرفت سے روشن کر دیتا ہے اور حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت سے اشرف کوئی مقام نہیں ہے‘ متابعت آپؐ کے اوامر‘ افعال اور اخلاق سب میں۔ کیونکہ حضورؐ ہی جانتے ہیں کہ وہ افضل عمل کون سا ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے اور وہ اس کے تقرب کا بہترین ذریعہ ہے‘ حضورؐ بہ نفس نفیس اپنی تمام حرکات و سکنات میں اللہ کی مدد سے‘ افضل ترین طاعات پر عامل تھے۔ لہٰذا اس میں جو شخص بھی آپؐ کی پیروی کرے گا اس کا مقام سب سے بلند ہوگا اور اسی بلند مقامی کی ایک بات یہ ہے کہ وہ اللہ کا محبوب بن جائے گا۔ اللہ خود فرماتا ہے: ’’اے نبیؐ، کہہ دو‘ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تمھیں محبوب رکھے گا‘‘۔
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ لکھتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روشن سنت کا اتباع‘ عبادات‘ عادات و اخلاق اور اعتقادات‘ سب میں لازم ہے اور یہ اعتقاد رکھنا چاہیے کہ جو کچھ ان کی سنت اور طریقے کے خلاف ہے وہ باطل ہے اور جس شخص نے بھی کوئی نئی بات پیدا کی ہے جس سے سنت رسولؐ کی مخالفت ہوتی یا اس میں تغیر پیدا ہوتا ہے خواہ یہ مخالفت اور تبدیلی قول میں ہو یا عمل میں یا اعتقاد میں‘ وہ گمراہی ہے اور مردود ہے۔ (مکاتیب و رسائل‘ مکتوب ۹)
صوفیہ کے اقوال پیش کرنے سے پہلے یہ یاد دہانی مناسب معلوم ہوتی ہے کہ اگرچہ ’’تصوف‘‘ اور ’’صوفی‘‘ کی اصطلاحیں بہت مشہور ہیں‘ لیکن صوفیۂ کرام اپنی کتابوں میں یہ بھی لکھتے آ رہے ہیں کہ یہ دونوں لفظ قرآن و حدیث میں نہیں آئے ہیں۔ اس لیے نہ ’’تصوف‘‘ کا لفظ مطلوب ہے اور نہ ’’صوفی‘‘ کا لقب مقصود ہے۔ شیخ شہاب الدین سہروردیؒ (م: ۶۲۲ھ) عوارف المعارف میں لکھتے ہیں: پورب سے پچھم تک اسلامی ممالک کے دونوں کناروں میں اہل قرب کے لیے ’’صوفی‘‘ کا نام معروف و مشہور نہیں ہے۔ یہ نام انھی لوگوں کے لیے معروف ہے جو خاص قسم کا لباس استعمال کرتے ہیں۔ بلاد مغرب‘ بلادترکستان اور ماوراء النہر میں بہت سے اللہ کے مقرب بندے ہیں لیکن وہ ’’صوفیہ‘‘ سے موسوم نہیں ہیں کیونکہ وہ صوفیہ کا لباس استعمال نہیں کرتے۔ اور الفاظ و اصطلاحات میں کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صوفیہ سے ہماری مراد ’’مقربین‘‘ ہی ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ چھٹی‘ ساتویں صدی ہجری تک ’’صوفیہ‘‘ کے نام سے وہی لوگ جانے پہچانے جاتے تھے جو خاص قسم کا لباس پہنتے تھے لیکن بعد کو لباس کی قید اُٹھ گئی اور یہ نام اس طبقے کے لیے مشہور ہو گیا جس میں پیری مریدی کا سلسلہ جاری ہو اور وہ بزرگوں کے بارے میں غالیانہ عقیدت رکھتا ہو--- شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء میں لکھا ہے: علوم احسان و یقین کہ آج کل تصوف کے نام سے مشہور ہوگئے ہیں… تصوف کی حقیقت جس کا نام عرف شرع میں ’’احسان‘‘ ہے۔ (ازالۃ الخفائ‘ مقصد دوم‘ ص ۱۴۲)
اس سے بھی معلوم ہوا کہ ’’تصوف‘‘ کوئی شرعی نام نہیں ہے بلکہ اس کا شرعی نام احسان ہے--- بعض علماے صوفیہ نے تصوف کو طریق تقویٰ کہا ہے اور تصوف کے لیے ’’تزکیہ نفس‘‘ کی اصطلاح تو اتنی ہی مشہور ہے جتنی خود تصوف کی اصطلاح۔ بہرحال‘ علوم احسان و یقین کہیے یا طریق تقویٰ یا تزکیۂ نفس‘ یہ سب اس تصوف کی تعبیریں ہیں جس کی بنیاد کتاب و سنت پر قائم ہے اور جسے ہم اسلامی تصوف کہتے ہیں۔
تصوف کو ’’احسان‘‘ کہنے کی وجہ وہ حدیث ہے جس میں حضرت جبریل ؑ نے صحابہ کرامؓ کے مجمع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دین کے بارے میں چند سوالات کیے تھے اور آپؐ نے جوابات دیے تھے۔ احسان کے بارے میں سوال و جواب کے الفاظ یہ ہیں: مجھے احسان کے بارے میں بتایئے۔ حضورؐ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ یقینا تمھیں دیکھ رہا ہے۔ (ریاض الصالحین‘ بحوالہ مسلم)
اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ یہ حدیث تصوف کی بہت بڑی اصل ہے اور تصوف کی تمام مستند کتابوں میں اس سے استدلال کیا گیا ہے۔ تصوف اب ایک مستقل علم کا نام ہے اس لیے اس کی تعریف یہ کی گئی ہے:
تصوف ایک علم ہے جس سے نفوس کی پاکی‘ اخلاق کی صفائی اور ظاہر و باطن کی آبادی و آراستگی کے احوال معلوم ہوتے ہیں اور اس کا مقصد ابدی سعادت کا حصول ہے۔ (شیخ الاسلام زکریا انصاری‘ شرح الرسالۃ القشیریہ‘ ج ۱‘ ص ۶۹‘ ترمذی‘ ابن ماجہ)
اس عبارت میں علم تصوف کی فنی تعریف بھی کی گئی ہے اور اس کی غرض و غایت بھی بتائی گئی ہے۔ ائمۂ صوفیہ اپنی کتابوں میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: العلماء ورثۃ الانبیاء (مشکوٰۃ، کتاب العلم‘ بحوالہ ابودائود)‘علما انبیا کے وارث ہیں۔ اور حضورؐ نے فرمایا ہے: من عمل بما علم ورثۃ اللّٰہ علم مالم یعلم‘آدمی جو کچھ جانتا ہے جب اس پر عمل کرتا ہے تو اللہ اسے ایسی باتوں کا علم عطا کرتا ہے جنھیں وہ نہیں جانتاتھا۔ صوفیہ کہتے ہیں کہ علم الوراثۃ دین میں فہم و بصیرت کا نام ہے اور اسی کو قرآن میں ’’حکمت‘ ‘ سے تعبیر کیا گیا ہے:
یُّؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآئُج وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیرًاط وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ o (البقرہ ۲:۲۶۹)
وہ جس کو چاہتا ہے حکمت بخشتا ہے اور جسے حکمت ملی اسے خیرکثیر کا خزانہ مل گیا مگر یاددہانی وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔
میں نے محمد بن احمد بن یحییٰ صوفی کو کہتے ہوئے سنا‘ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن تمیمی کو کہتے ہوئے سنا کہ ابومحمد جریری سے تصوف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ تصوف ہربلند اخلاق میں داخل ہونے اور ہر پست اخلاق سے خارج ہونے کا نام ہے۔ بلند اخلاق جیسے ورع‘ زہد‘ توکل‘ رضا اور تفویض وغیرہ‘ اور پست اخلاق جیسے ریا‘ عجب‘ کبر‘ حسد اور بدگمانی وغیرہ۔ (الرسالۃ القشیریہ مع شرح‘ ج ۴‘ ص ۴)
امام قشیری نے اپنی کتاب کے ’’باب التصوف‘‘ میں خود اپنی سند سے سب سے پہلے یہی قول نقل کیا ہے۔اس قول کا حاصل یہ ہے کہ ہر بلند اخلاق سے آراستگی اور ہر پست اخلاق سے پاکی و صفائی ہی حقیقی تصوف ہے۔
عمرو بن عثمان مکیؒ سے تصوف کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ’’تصوف یہ ہے کہ بندہ ہر وقت اس کام میں مشغول ہو جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس وقت کے لیے بہترین اور مناسب ترین ہو‘‘۔
شارحین نے اس جملے کی تشریح میں لکھا ہے کہ صوفی کی شان یہ ہے کہ وہ مختلف اوقات میں اعمال‘ اخلاق ‘ احوال اور ہر عمل خیر میں سے اسی کو اختیار کرتا ہے جو اس وقت کے لحاظ سے افضل ترین و اکمل ترین شے ہو اور جس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ اللہ کی رضا حاصل کی جا سکتی ہو۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہوا کہ ہر وقت‘ اس کے عمل کی بنیاد کتاب و سنت کے احکام پر ہوتی ہے۔کیونکہ انھی کے ذریعے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ مختلف اوقات میں کون سی چیز سب سے زیادہ مناسب ہے۔ افسوس کہ اس زمانے کے اکثر صوفیہ نے تصوف کی اس حقیقت کو بالکل پس پشت ڈال دیا ہے۔
حضرت معروف کرخیؒ نے فرمایا ہے کہ: تصوف یہ ہے کہ آدمی حقائق کو اختیار کرے اور مخلوق کے پاس جو کچھ ہے ا س سے مایوس ہوجائے۔
اس کی تشریح میں شیخ الاسلام زکریا انصاری لکھتے ہیں: جسے اللہ کی معرفت حاصل ہو اور وہ یہ جان لے کہ اللہ کے سوا کوئی نافع‘ ضار اور معطی نہیں ہے‘ نفع و ضرر اور عطا و بخشش صرف اس کے دستِ قدرت میں ہے‘ ایسا شخص یقینا انھی اعمال کو اختیارکرے گا جو اللہ سے قریب کرنے والے ہیں۔ اس کی نظر ان چیزوں پر نہ ہوگی جو مخلوق کے قبضہ و تصرف میں ہیں‘ اس کا اعتماد صرف اللہ پر ہوگا اور کسی پر نہیں۔
حکایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک بادشاہ کے وزیر کو اللہ نے توفیق بخشی اور وہ بادشاہ کے دربار سے کنارہ کش ہو گیا۔ بادشاہ نے اُسے پکڑ بلوایا اور دھمکی کے انداز میں کہا‘ کیا تو مجھ سے بھاگتا ہے؟ وزیر نے کہا‘ ہاں‘ اس لیے کہ میں نے تم سے بہتر بادشاہ کو پا لیا ہے۔ بادشاہ کا غصہ اور بڑھا۔ اس نے پوچھا‘ مجھ سے بہتر بادشاہ کون ہے؟ وزیر نے جواب دیا‘ وہ بادشاہ تم سے بہتر ہے جو مجھے کھلاتا ہے مگر اسے خود کھانے کی ضرورت نہیں‘ اور تمھارا حال یہ ہے کہ جب تک تمھیں کھلایا نہ جائے تم مجھے کھلا نہیں سکتے۔ تم سے بہتر وہ بادشاہ ہے جو مجھے سُلاتا ہے لیکن خود اُسے نیند نہیں آتی‘ اور تمھارا حال یہ ہے کہ جب تک تم سو نہ جائو میں سو نہیں سکتا۔ تم سے بہتر وہ بادشاہ ہے کہ میری خطائیں کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں وہ مجھے معاف فرما دیتا ہے‘ لیکن تمھارا حال یہ ہے کہ معمولی قصور پر بھی مواخذہ کرتے ہو۔ تم سے بہتر وہ بادشاہ ہے کہ جب میں اس کی خدمت میں لگا تو سارا عالمِ وجود میری خدمت کرنے لگا‘ اور تمھاری خدمت کا حال یہ تھا کہ میں مجبور تھا کہ تمھارے ہر مقرب کی خدمت کروں تاکہ وہ مجھے اذیت نہ پہنچائے۔ یہ سن کر بادشاہ نے جواب دیا‘ تم نے سچ کہا‘ بے شک وہ مجھ سے بہتر ہے۔ اس کی چوکھٹ سے چمٹ جائو اور اس کی اطاعت کو غنیمت سمجھو۔ (شرح رسالہ‘ باب التصوف)
ایک بار حضرت جنیدؒ بغدادی نے فرمایا: تصوف اجتماع کے ساتھ ذکر‘ استماع کے ساتھ وجد اور اتباع کے ساتھ عمل کا نام ہے۔ شارحین اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ’’اجتماع‘‘ سے مراد اجتماع ہمت ہے‘ ذکر مع اجتماع کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا ذکر پورے حضور قلب اور حسن نیت کے ساتھ کیا جائے کیونکہ غفلت مذموم ہے اور عمل‘ حسن نیت ہی سے صحیح ہوتا ہے۔ ’’وجد‘‘ تصوف کی اصطلاح میں جذبۂ اشتیاق و محبت کی زیادتی کو کہتے ہیں اور استماع سے مراد کسی ایسی چیز کا سننا ہے جو اس جذبے میں تحریک پیدا کرتی ہے۔ وجد مع استماع کا مطلب یہ ہوا کہ مؤثر مواعظ یا ایسی باتیں سُن کر جن کی سند کتاب و سنت میں موجود ہو‘ جذبۂ شوق میں زیادتی اور تحریک پیدا کی جائے۔ ’’عمل مع اتباع‘‘ میں اتباع سے مراد اتباع سنت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر عمل سنت کے مطابق ہو‘ کیونکہ ہر وہ عمل ‘ یا حال یا مقام جو اتباعِ سنت سے خالی ہو‘ بدعت ہے۔
حضرت جنید بغدادیؒ کے صحبت یافتہ ابوبکر کتانی نے کہا ہے: تصوف اخلاق جمیلہ سے آراستگی کا نام ہے۔ جو شخص تم سے اخلاق حسنہ میں بڑھا ہوا ہے وہ تم سے صفاے قلب اور تصوف میں بڑھا ہوا ہے۔ (شرح رسالہ‘ باب التصوف)
ذوالنون مصریؒ سے اہل تصوف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب میں کہا: یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ عزوجل کوہر دوسری شے پر ترجیح دی تو اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ نے انھیں ہر دوسری شے پر ترجیح عطا فرمائی۔
محشیؒ لکھتے ہیں کہ اللہ کو ہر دوسری شے پر ترجیح دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی مرضیات اور پسندیدہ چیزوں کو اس کی نامرضیات اور ناپسندیدہ چیزوں پر ترجیح دی جائے‘ اور انھیں دوسری چیزوں پر ترجیح دینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے عمل کے مطابق ان کا درجہ مقرر فرماتا ہے۔
یہ ہے اسلامی تصوف کی حقیقت جسے فلسفیانہ تصوف نے انتہائی پیچیدہ اور ناقابل قبول بنادیاہے۔
اب تک جو تفصیل پیش کی جا چکی‘ اس سے پوری طرح واضح ہو جاتا ہے کہ سلوکِ باطن کی راہ بھی دین ہی کی روشنی میں طے کی جا سکتی ہے۔ اس روشنی کے بغیر یہ راہ خطرات سے بھری ہوئی ہے۔ اگر اللہ و رسولؐ کے احکام ‘ دینی حقیقتیں اور اس کے مسلّمات نظر سے اوجھل ہوں یا اوجھل کر دیے جائیں تو اسلامی تصوف‘ ملحدانہ تصوف کا رخ اختیار کر لیتا ہے۔ چنانچہ جب جاہل اور مکار صوفیوں نے کشف و کرامت‘ ارادتِ قلبی اور الہامات‘ غیر شرعی حقائق اور خدا رسیدگی کے دعوے کرکے لوگوں کو گمراہ کرنا شروع کیا تو علماے حق اور صوفیۂ صدق کو پوری قوت سے یہ بتانا پڑا کہ اصل شے شریعت‘ احکامِ الٰہی کی تعمیل اور اس پر استقامت ہے۔ یہ نہ ہو تو تمام دعوے غلط اور گمراہ کن ہیں۔ اصل کسوٹی کتاب و سنت ہے۔ اس پر جانچے اور پرکھے بغیر کوئی چیز قابل قبول نہیں ہے۔ اس طرح کی صراحتیں پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ اور ہم یہاں خاص طور سے اس سلسلے کی چند صراحتیں نقل کر رہے ہیں۔
ابویزید طیفور بن عیسیٰ بسطامی (م: ۲۶۱ھ) کہتے ہیں: اگر تم کسی شخص کو دیکھو کہ اسے کرامتیں دی گئی ہیں یہاں تک کہ وہ ہوا میں اُڑنے لگا ہے ‘اس سے دھوکا نہ کھائو جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ امرونہی‘ حدود کے تحفظ اور اداے شریعت کے معاملے میں تم اس کو کیسا پاتے ہو۔ (الرسالۃ القشیریہ)
اس قول کی شرح کرتے ہوئے‘ شیخ الاسلام لکھتے ہیں: بسطامیؒ کے قول کی وجہ یہ ہے کہ کرامت تووہ شے ہے جو صاحب ِ کرامت کے ان کاموں میں مددگار ہوتی ہے جو اللہ سے قریب کرنے والے ہیں۔ وہ اس کے یقین کو قوی کرتی اور اللہ کی محبت و رضا پر اسے ثابت قدم رکھتی ہے‘ لہٰذا جب کوئی خارقِ عادت شے کسی بندے سے ظاہر ہو لیکن شریعت اس کی استقامت پر گواہ نہ ہو تو ایسا شخص مکروفریب اور دھوکے میں مبتلا ہے۔ (احکام الدلالۃ ‘شرح الرسالۃ‘ ج ۱‘ ص ۱۰۹)
ابوسلیمان عبدالرحمن بن عطیۃ الدارانی (م: ۲۱۵ھ) کا ارشاد ہے:میں نے جنید بغدادیؒ کو کہتے ہوئے سنا کہ ابوسلیمان دارانی فرماتے ہیں: بسااوقات صوفیہ کے لطائف و نکات میں سے کوئی نکتہ کئی دنوں تک میرے دل میں آتا رہتا ہے لیکن میں اس وقت تک اس کو قبول نہیں کرتا جب تک دو شاہد وعادل‘ کتاب و سنت‘ اس کی صحت پر گواہی نہ دیں۔ (رسالہ قشیریہ مع شرح‘ ج ۱‘ ص۱۱۴)
ابوالحسن احمد بن محمد النوری (م: ۲۹۵ھ) کہتے ہیں: جس شخص کو تم دیکھو کہ وہ اللہ کے ساتھ اپنی کسی ایسی حالت کا دعویٰ کر رہا ہے جو اسے علمِ شرعی کی حد سے باہر نکالنے والی ہے تو اس کے قریب بھی نہ پھٹکو کیونکہ وہ بدعتی ہے۔ شریعت جس کے افعال واقوال کی صحت پر گواہ نہ ہو وہ مبتدع ہے اگرچہ اس سے خارق عادت باتیں صادر ہو رہی ہوں۔ کیونکہ یہ اس کے ساتھ ایک طرح کا مکر ہے۔ (ایضاً‘ ص ۱۵۰)
ابومحمد رویم بن احمد (م :۳۰۲ھ) کہتے ہیں: ’’صوفیہ کا علم روح کو صرف کیے بغیر حاصل نہیں ہوتا‘‘۔ روح کو صرف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ طاعات کی تعمیل اور شہوات سے اعراض میں اپنی پوری کوشش لگا دی جائے۔ رویم نے کہا: اگر تم اس وصف کے ساتھ اس راہ میں آنا چاہو تو ٹھیک ہے ورنہ اپنے آپ کو صوفیہ کی یاوہ گوئی میں مشغول نہ کرو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عمل کے بغیر محض صوفیہ کے اقوال اور ان کے واقعات یاد کرنے اور ان کے باطل طریقوں اور اعمال سے خالی بکواس میں مشغول ہونے سے حقیقی تصوف حاصل نہیں ہوتا۔ (ایضاً‘ ص ۱۵۳)
حضرت رویم کا یہ قول دیکھیے اور آج کل کے ’’صوفیہ‘‘ کو دیکھیے۔ ۹۰ فی صد ایسے ہی لوگ ہیں جو صوفیہ کے اقوال اور ان کے واقعات یاد کر کے اور ان کی لایعنی باتوں میں مشغول ہو کر ’’صوفی‘‘ اور ’’صحیح العقیدہ‘‘ مسلمان بنے ہوئے ہیں‘اور ان کے مقابلے میں جو لوگ فرائض و واجبات کے پابند اور معاصی سے پرہیز کرنے والے ہیں انھیں تصوف کا منکر اور بدعقیدہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ابوسعید احمد بن عیسیٰ الخراز (م: ۲۷۷ھ) کہتے ہیں: ’’ہرباطن‘ جس کا ظاہر مخالف ہے باطل ہے‘‘۔ باطن سے مراد وہ بات ہے جو دل میں آتی ہے اور ظاہر سے مراد شریعت ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ دل کی جس بات کو شریعت صحیح قرار نہ دے وہ باطل ہے۔ (ایضًا‘ ص ۶۸)
اس کے قریب سیدنا الشیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کا یہ قول بہت مشہور ہے: اور ہر حقیقت‘ جسے شریعت رد کر دے وہ بے دینی ہے۔ (فتوح الغیب مع شرح ‘ ص ۷۶)
اس جامع اور بلیغ جملے کی شرح میں شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے لکھا ہے: اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگر حکم شریعت کے خلاف کسی پر کوئی کشف ہو اور وہ دعویٰ کرے کہ اسے اس کا حکم دیا گیا ہے تو یہ دعویٰ باطل ہے‘ اور اگر وہ اس کے صحیح ہونے کا اعتقاد کرے تو کافر اور بے دین ہو جائے گا۔ نعوذ باللّٰہ من ذٰلک۔ (شرح فتوح الغیب‘ ص ۷۶)
شیخ جیلانی ؒ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: اگر دل میں کوئی خیال آئے یا کسی بات کا الہام ہو تو انھیں کتاب و سنت پر پیش کرو۔ (فتوح الغیب‘ ص ۷۲)
یہ قاعدئہ کلّیہ بیان کر کے شیخ جیلانی قدس سرہ نے اس کی کچھ مثالیں پیش کی ہیں‘ سب کا حاصل یہ ہے کہ غیرنبی کا الہام دلیلِ شرعی نہیں ہے‘ دلیلِ شرعی کتاب و سنت ہی ہیں۔ یہی دونوں فیصلہ کریں گے کہ وہ الہام قابلِ قبول اور قابلِ عمل ہے یا نہیں۔
ان عبارتوں سے واضح ہوا کہ کرامت ہو یا کشف یا الہام یا کوئی بھی خواب و خیال‘ جب تک کتاب و سنت ان کے صحیح ہونے پر گواہی نہ دیں وہ لائق اعتبار بھی نہیں ہیں‘ ان کا قابلِ عمل ہونا تو دُور کی بات ہے۔
موجودہ نظامِ معیشت میں سرمایہ دار اپنے سرمایے اور اس سے حاصل ہونے والے کثیرمنافع کی وجہ سے اپنے کاروبار کو وسعت دیتے جاتے ہیں اور دولت چاروں سمت سے سمٹ سمٹ کر سرمایہ دار طبقے کی تجوریوں میں جمع ہوتی رہتی ہے‘ یوں دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہو رہتا ہے۔ اس کے بالمقابل طبقۂ غربا‘ متوسط طبقہ اور معینہ آمدنی والے لوگ دن بدن مالی پریشانیوں کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ کیفیت نہ صرف پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں موجود ہے بلکہ ہر وہ معاشرہ جو سرمایہ دارانہ نظام یا مخلوط معاشی نظام اپنائے ہوئے ہے اس میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کے بے شمار معاشی‘ سماجی‘ اخلاقی اور تمدنی نقصانات معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس بنا پر اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ انسان جائز ذرائع سے حاصل کردہ مال کو اپنی ذاتی ضروریات خریدنے پر صرف کرے‘ یا کسی جائز کاروبار میں لگائے‘ یا دوسرے ضرورت مند افراد کو بغرض ضرورت قرض یا فی سبیل اللہ صدقہ کر دے۔ اسی لیے قرآن پاک کا حکم ہے: کَیْ لَا یَکُوْنَ دُوْلَۃًم بَیْنَ الْاَغْنِیَآئِ مِنْکُمْط (الحشر ۵۹:۷) ’’یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے) کہ یہ مال تمھارے مال داروں کے درمیان گردش نہ کرتا رہے‘‘۔
وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِلا فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ o یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُھُم وَجُنُوْبُھُمْ وَظُھُوْرُھُمْط ھٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ o (التوبہ ۹:۳۴-۳۵)
اور (اے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم) جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور انھیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو عذابِ دردناک کی خوش خبری سنا دو۔ (وہ عذاب) جس دن (واقع ہوگا)‘ جب کہ اس (سونے چاندی) کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا۔ پھر اس سے ان کی پیشانیاں‘ ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی۔ (اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) یہ ہے جو تم نے (دنیا میں) اپنے لیے جمع کیا تھا‘ تو جو کچھ تم جمع کرتے رہے (آج) اس کا مزہ چکھو۔
اسی لیے اسلام نے اس بات کا انتظام کیا ہے کہ مختلف معاشرتی‘ اداراتی‘ قانونی اور اخلاقی تدابیر سے دولت کی تقسیم زیادہ سے زیادہ منصفانہ ہو اور یہ دولت پورے معاشرے میں گردش کرتی رہے۔ اس ضمن میںسب سے پہلے تو دولت کے حصول کے تمام طریقوں کے لیے ضوابط مقرر کیے ہیں۔ ہر قسم کے غلط طریقوں کی نشان دہی کر کے ان کے ذریعے دولت کے حصول کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ باہمی لین دین میں سود‘ قمار‘ سٹہ بازی‘ حرام اشیا کی خرید و فروخت‘ ملاوٹ‘ کم معیار کی اشیا کی تیاری اور خرید و فروخت‘ احتکار‘ یعنی ذخیرہ اندوزی‘ عیب دار مال کی فروخت‘ اجارہ داریوں کے قیام اور غیرمعمولی منافع کے حصول‘ جھوٹی قسموں‘ دھوکا دہی پر مبنی خرید و فروخت وغیرہ کو ممنوع قرار دے دیا اور خرید و فروخت اور لین دین کے لیے اخلاقی اقدار پر مبنی ایک ضابطۂ اخلاق مہیا فرما دیا۔
اسی طرح معاشی میدان میں کام کرنے والے افراد‘ پیدایش کے شعبے میں کام کرنے والے عاملین پیدایش کے معاوضوں کی بنیاد تقویٰ‘ عدل‘ احسان‘ اخوت‘ مساوات اور تعاون کے سنہری اصولوں پر رکھنے کا حکم دیا تاکہ استحصال کی ساری صورتوں کا استیصال ہو اور کوئی فریق دوسرے فریق پر ظلم نہ کر سکے (اسلامی معاشیات‘ ص ۱۹۹-۲۲۴)۔ گویا مزدور کی مزدوری‘ زمین کا لگان‘ سرمایہ اور کاروباری ناظم کا منافع‘ ان کی بنیاد ان اصولوں پر رکھ دی جس کے نتیجے میں اول تو دولت کی تقسیم منصفانہ بنیادوں پر ہوگی اور اگر پھر بھی ایک انسان تمام دینی تقاضوں کو پیشِ نظر رکھ کر معاشی معاملہ کرتا رہا‘اس کے باوجود اس کے پاس دولت جمع ہوتی رہی تو اس کے لیے اسلام نے ایک تفصیلی ضابطہ مقرر کر دیا اور کچھ ایسے اقدامات تجویز کر دیے کہ جن کے نتیجے میں جمع شدہ دولت کی وسیع پیمانے پر تقسیم کا انتظام ہوگیا۔ ان اقدامات میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن کو فرض اور لازمی قرار دے دیا گیا۔ مثلاً زکوٰۃ فرض قرار دے دی گئی۔ اسی طرح کچھ اقدامات کو نفلی حیثیت دی گئی لیکن ان پر بہت زور دیا گیا۔ حتیٰ کہ ان کو اللہ کے ذمے قرض قرار دیا۔ ان میں نفلی صدقہ‘ ضرورت مندوں کے لیے قرضِ حسنہ کی فراہمی‘ وقف اور اوقاف کا نظام۔ اس کے علاوہ بعض مواقع پر کچھ چیزوں کی لازمی ادایگی‘ مثلاً عیدالاضحی پر قربانی‘ حج کے موقع پر قربانی‘ عیدالفطر پر صدقہ فطرکی ادایگی۔ بعض معاملات میں کفارہ ادا کرنے کا حکم‘ مثلاً روزہ توڑنے‘ قسم توڑنے وغیرہ کی صورت میں کفارہ کی ادایگی۔ انھی اقدامات میں سے ایک لازمی امر تقسیمِ میراث کا ہے۔
اسلامی نظام تمدن و معاشرت میں تقسیمِ میراث کو قانون کا درجہ دیا گیا ہے اور اس قانون کی پابندی کو ہر مسلمان کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون کا منشا یہ ہے کہ جو شخص مال چھوڑ کر مر جائے‘ خواہ وہ زیادہ ہو یا کم‘ اس کو تقسیم کے عمل سے گزار کر دُور و نزدیک کے رشتے داروں میں ایک ضابطے کے تحت درجہ بدرجہ پھیلا دیا جائے ‘اور اگر کسی کا کوئی وارث نہ ہو یا نہ ملے تو بجاے اس کے کہ اسے متبنیٰ بناکر دولت کے ارتکاز کو برقرار رکھنے کا موقع دیا جائے‘ اس کے مال کو بیت المال میں داخل کر کے قومی ملکیت قرار دیا گیا ہے تاکہ اس سے معاشرے کے تمام افراد استفادہ کر سکیں۔ اس تحریر میں کچھ اصطلاحات کی وضاحت اور اسلامی قانونِ وراثت کے نمایاں خدوخال کا احاطہ کیا جاتا ہے۔
وراثت ایک غیر اختیاری انتقالِ ملکیت ہے جس کے ذریعے ایک متوفی کا ترکہ اس کے ورثا کے حق میں بطریق خلافت (جانشینی) منتقل ہو جاتا ہے۔(ایضاً)
(الف) مورث : یعنی وہ شخص جو وفات پا گیا۔
(ب) وارث: وہ افراد جو کہ شرعی طور پر مرنے والے کے ترکے میں حق دار ہیں۔
(ج) ترکہ: کسی شخص کی وفات کے وقت اس کی تمام جایداد‘ منقولہ و غیرمنقولہ‘ نقد و جنس‘ جو شرعاً اس کی ملکیت میں ہو‘ خواہ وہ اس کے قبضے میں ہو‘ یا دوسروں کے ذمے واجب الادا ہو‘ اس میت کا ترکہ کہلائے گی۔
وراثت کے بنیادی اصول دو ہیں جو کہ آیت کے ذیل کے حصے سے اخذ کیے جاسکتے ہیں: … مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ (النساء ۴:۷) ’’ماں باپ اور رشتہ داروں کے ترکے میں خواہ تھوڑا ہو یا بہت‘ لڑکوں کا حصہ ہے اور اسی طرح ماں باپ اور رشتہ داروں کے ترکے میں لڑکیوں کا حصہ ہے اور یہ حصہ ہمارا ٹھیرایا ہوا ہے‘‘۔
دوسرا اصول: عام رشتہ داری بحوالہ ’’والاقربون‘‘۔ اس میں والدین کے علاوہ تمام خاندانی رشتے اور ازدواجی تعلق کی وجہ سے پیدا ہونے والے رشتے شامل ہیں اور اس میں ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ رشتے قربت کے رشتے ہوں‘ مثلاً اولاد‘ ماں باپ‘ بیوی شوہر وغیرہ۔
۱- وراثت کی تقسیم افراد کی ضروریات‘ ذمہ داریوں یا کسی اور بنیاد پر نہیں بلکہ قرابت کی بنیاد پر ہوگی۔ اسی لیے بیٹے کے ہوتے ہوئے پوتے کو میراث نہ ملے گی خواہ اس کا باپ مرگیا ہو یا زندہ ہو (اس ضمن میں اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کا فتویٰ پیش نظر رہے کہ مرنے والے کو ایک تہائی مال کی وصیت کا حق حاصل ہے۔ اس لیے یتیم پوتے/ پوتیوں کے حق میں وصیت کر دی جائے)۔
۲- مالِ میراث تھوڑا ہو یا بہت‘ اس میں ہر وارث کا حق ہے اور ہر ایک چیز تقسیم کے عمل سے گزرے۔ بحوالہ قرآن کے الفاظ: مِمَّا قَلَّ مِنْـہُ اَوْ کَـثُرَ ۔
۳- والدین‘ اولاد‘ بیوی‘ شوہر‘ بہن وغیرہ کے حصے قرآن پاک نے خود مقرر کر دیے ہیں۔ ان حصوں میں تبدیلی کا اختیار کسی حکومت‘ عالم یا مفتی کو حاصل نہیں ہے۔
۴- وراثت کی تقسیم ایک جبری عمل اور حق ہے۔ اس کے لیے مالک کی رضامندی کی شرط شامل نہیں ہے۔ بحوالہ قرآن کے الفاظ: مفروضًا۔
۵- ایسے مسکین یا یتیم رشتے دار جو کہ وراثت کی تقسیم کے موقع پر موجود ہوں اور ان کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں بنتا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی کچھ دینے کا حکم دیا ہے جو کہ صدقہ ہے نہ کہ حصہ میراث۔ بحوالہ وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ اُولُوا الْقُرْبٰی… (النساء ۴:۸)
۶- میراث کے حصے قرآن پاک نے متعین کر دیے ہیں۔ اس لیے کسی وارث کو محروم کر دینے (عاق کر دینے) یا اس کے حق سے زیادہ سے حصہ دینے کا حق بھی کسی فرد کو حاصل نہیں۔
۷- اسی ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ورثا کے حق میں وصیت کرنے سے منع فرمایا ہے: بحوالہ لاوصیۃ للوارث۔
۸- اسی طرح کسی ایسے طریقے کو اختیار کرنے‘ کہ جس کے نتیجے میں ورثا کو ان کے حصے سے کم ملنے کا امکان ہو‘ منع کیا گیا ہے۔ بحوالہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو اپنا پورا یا آدھا مال صدقہ کر دینے سے روک دیا ہو اور صرف ایک تہائی (۳/۱) مال صدقہ کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ (مشکٰوۃ، باب الوصایا‘ ص ۲۶۵)
۹- اسلام سے پہلے ضعیف لوگ خصوصاً یتیم‘ بچے اور عورتیں وغیرہ وراثت میں حق سے محروم تھے۔ لیکن قرآنِ پاک نے نہ صرف ان کے حصے مقرر فرمائے بلکہ یتیم بچوں کو ان کے حق سے محروم کرنے پر سخت وعید سنائی۔ بحوالہ اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا… (النساء ۴:۱۰)
۱۰- یتیموں کے سرپرستوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ یتامیٰ کے مالوں کی حفاظت کریں اور سنِ بلوغت کو پہنچنے پر ان کو پورا پورا مال دینے کا اہتمام کریں (بحوالہ النسائ۴:۶)
۱۱- وراثت کی تقسیم درج ذیل اصول پر ہوگی (بحوالہ النساء ۴:۱۱-۱۲)
(ا) کفن و دفن: ترکہ میں سب سے پہلے میت کی تجہیز و تکفین (کفن دفن) کے اخراجات پورے کیے جائیں لیکن ان اخراجات کو حدِّاعتدال میں رہنا چاہیے۔
(ب) قرض کی ادایگی: بقیہ ترکہ میں قرض کی ادایگی سب سے پہلے کی جائے گی۔ قرض دو اقسام کے ہوں گے۔ ایک وہ جن کا اقرار متوفی نے بحالت ِ صحت کیا ہو‘ وہ پہلے ادا کیے جائیں گے۔ دوسری قسم کا قرض وہ ہے جس کا اقرار مرنے والے نے مرض الموت کی حالت میں کیا ہو۔ وہ بعد میں ادا کیے جائیں گے۔ اگر قرض مالِ وراثت کے برابر ہوں یا زیادہ ہوں تو نہ تو کسی کو وراثت میں حصہ ملے گا اور نہ اگر متوفی نے وصیت کی ہو تو وہ نافذ ہوگی۔
(ج) وصیت کو پورا کرنا: کفن دفن اور قرض کی ادایگی کے بعد جو کچھ ترکہ میں سے بچے‘ اس سے میت کی وصیت پوری کی جائے۔ بشرطیکہ:
۱- وصیت کل مال کے ایک تہائی (۳/۱) سے زیادہ نہ ہو۔
۲- وصیت کسی ایسے وارث کے حق میں نہ ہو جسے ازروے قرآن و حدیث حصہ ملنے والا ہے۔
۳- وصیت کسی حرام کام کے لیے نہ ہو۔
(ا) ذوی الفروض: وہ رشتے دار جن کے حصے شریعت نے مقرر کر دیے ہیں۔ یہ ۱۲قسم کے رشتہ دار ہیں‘ جن میں چار قسم کے مرد اور آٹھ قسم کی عورتیں شامل ہیں۔ مردوں میں میت کا باپ‘ دادا‘ ماں شریک بھائی اور خاوند شامل ہیں‘جب کہ عورتوں میںبیوی‘ ماں‘ بیٹی‘پوتی‘ سگی بہن‘ سوتیلی بہن‘ (باپ شریک)‘ ماں شریک بہن‘ جدہ (دادی‘ نانی) شامل ہیں۔ ذوی الفروض کے بارے میں احکامات واضح طور پر قرآن و حدیث میں دیے گئے ہیں۔
(ب) عصبات: یہ وہ رشتے دار ہیں جن کو وارث تو ٹھیرایا گیا ہے لیکن قرآن و حدیث میں ان کے حصے مقرر نہیں کیے گئے۔ حکم یہ ہے کہ ذوی الفروض کو دینے کے بعد جو بچے عصبات میں تقسیم کر دینا چاہیے (تقسیم میراث‘ سید شوکت علی‘ ص ۱۷)۔ ان کے متعلق احکام سورۂ النساء میں ہیں اور بخاری کی ایک حدیث ہے: ’’یعنی ذوی الفروض سے جو بچ رہے مرد رشتہ داروں کا حق ہے جو قریبی ہوں‘‘۔ (بخاری)
۱- عصبی نسبی: میت کے ددھیالی رشتے دار (والد کی طرف سے)۔ اس میں بیٹی‘ پوتی‘ سگی اور سوتیلی بہن کے علاوہ بیٹا‘ باپ‘ دادا‘ بھائی‘ بھتیجا اور چچا وغیرہ شامل ہیں۔ (ایضاً‘ص ۲۰)
۲- عصبہ سببی: جنگی قیدی جو کہ اسلامی ریاست نے مسلمانوں میںتقسیم کردیے ہوں یعنی غلام عصبہ سببی میں شامل ہیں۔
(ج) ذوی الارحام: ان میں وہ ددھیالی اور ننھیالی رشتے دار شامل ہیں جو ذوی الفروض یا عصبہ نہ ہوں‘ مثلاً نانا‘ نواسا‘ نواسی‘ماموں‘ خالہ‘ پھوپھی۔ ان کے بارے میں ایک آیت سورۂ نساء میں‘ ایک سورۂ انفال میں اور بخاری کی ایک حدیث ہے: ’’جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث ماموں ہے اور بھانجا بھی اس قوم میں شمار ہوتا ہے‘‘۔
۱۳- غیر وارث رشتے یہ ہیں: سوتیلی ماں‘ سوتیلا باپ‘ سوتیلی اولاد‘ سسرالی رشتے دار یعنی ساس‘ سسر‘بیوی کے بھائی بہن‘ داماد‘ بہو‘ بھاوج‘ چچی‘ خالو‘ بہنوئی وغیرہ۔ یہ اس لیے وراثت میں حصہ نہیں پاتے کہ ان کا نسبی تعلق دوسرے خاندان سے ہوتا ہے اور یہ اپنے خاندان میں وارث ہوتے ہیں۔(ایضاً‘ ص ۲۲)
(ا) وراثت کی تقسیم الاقرب فالاقرب (یعنی پہلے قریبی پھر اس کے بعد کے رشتہ دار) کے اصول پر کی جائے گی۔ اسی بنا پر اولاد اور والدین ہرصورت میں وراثت میں حصہ پائیں گے۔ ہر ایک کا حصہ مقرر ہے۔ اولاد میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں۔ اگر اولاد میں بیٹوں کے علاوہ بیٹیاں بھی ہوں تو ہر لڑکے کو لڑکی کے مقابلے میں دوگنا حصہ ملے گا۔ (بحوالہ النساء ۴:۱۱)
(ب) قرآن پاک نے لڑکیوں کو حصہ دلانے کا اس قدر اہتمام کیاہے کہ لڑکیوں کے حصے کو اصل قرار دے کر اس کے اعتبار سے لڑکوں کا حصہ مقرر کیا ہے ۔ اس میں بہنوں اور بیٹیوں کو لازماً حصہ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ حصہ نہ دینا سخت گناہ ہے اور بیٹی یا بہن نابالغ ہوں تو گناہ بھی دوگنا ہو جاتا ہے۔ ایک میراث نہ دینے کا اور دوسرے یتیم کے مال کو کھانے کا۔ (معارف القرآن‘ مفتی محمد شفیع)
(ج) نرینہ اولاد نہ ہونے کی صورت: اگر مرنے والے شخص کا کوئی بیٹا نہ ہو اور ایک سے زائد بیٹیاں ہی ہوں تو ان کو ترکہ میں سے دو تہائی (۳/۲) ملے گا۔ اور تمام بیٹیاں اس میں برابر کی شریک ہوں گی۔ باقی ایک تہائی (۳/۱) دیگر ورثا‘ مثلاً والدین‘ بیوی یا شوہر وغیرہ میں تقسیم کیا جائے گا (دو یا دو سے زائد بیٹیوں کا بھی یہی حکم ہے)۔
(د) اولادِ نرینہ نہ ہو اور وارث صرف ایک لڑکی ہو‘ تو اس صورت میں اس کو والد یا والدہ کے ترکہ میں سے نصف (۲/۱) ملے گا۔ باقی دوسرے ورثا کو ملے گا۔
۱- والدین (دونوں) زندہ ہوں اورمتوفی کی اولاد بھی ہو۔ اس صورت میں باپ اور ماں دونوں کو چھٹا (۶/۱) حصہ ملے گا اور باقی اولاد اور بیوی (یا شوہر) کو ملے گا۔
۲- والدین (دونوں) زندہ ہوں اور متوفی کی اولاد اور بہن بھائی نہ ہوں اور شوہر اور بیوی بھی نہ ہو۔ اس صورت میں والد کو ۳/۲ حصہ اور والدہ کو ۳/۱ حصہ ملے گا‘ لیکن اگر شوہر (یا بیوی) زندہ ہو تو پہلے ان کا حصہ نکال کر بقیہ درج بالا شرح سے تقسیم ہوگا۔
۳- مرنے والے کی اولاد نہ ہو البتہ بہن بھائی موجود ہوں: اگر بہن یا بھائی یا دونوں کی تعداد دو ہو تو اس صورت میں ماں کو ۶/۱ حصہ اور اگر کوئی وارث نہ ہو تو والد کو ۶/۵ حصہ ملے گا اور والدہ کو ۶/۱ حصہ ملے گا۔
(ا) مرنے والی خاتون کے ہاں اگر اولاد نہ تھی تو اس صورت میں مرحومہ کے کل ورثہ میں سے شوہر کو نصف (۲/۱) ملے گا‘ جب کہ باقی ترکہ دیگر رشتے داروں کو حسب ِضابطہ ملے گا۔
(ب) مرحومہ کی اولاد (لڑکا یا لڑکی) ہونے کی صورت میں شوہر کو ایک چوتھائی (۴/۱) ملے گا اور بقیہ تین چوتھائی (۴/۳) دوسرے عزیزوں کو ملے گا۔
(ا) متوفی شوہر بے اولاد ہو تو بیوی کو ایک چوتھائی (۴/۱) حصہ ملے گا اور دیگر رشتے داروں میں بقیہ ترکہ تقسیم ہوگا۔
(ب) متوفی شوہر کی اولاد ہو تو اس صورت میں بیوی کو آٹھواں (۸/۱) حصہ ملے گا۔
(ج) اگر متوفی کی بیویاں ایک سے زائد ہوں تو ۴/۱ یا ۸/۱ میں سب بیویاں برابر کی شریک ہوں گی‘ جب کہ بقیہ ترکہ دیگر رشتے داروں میں تقسیم کیا جائے گا۔
(د) اگر بیوی/ بیویوں کا مہر واجب الادا ہو تو یہ قرض تصور کیا جائے گا اور ترکہ کی تقسیم سے پہلے بطورِ قرض ادا کیا جائے گا۔
(ا) اسلام دولت کی تقسیم اور اسے وسیع دائرے میں پھیلانے کا داعی ہے۔ اس ضمن میں زیادہ بڑے پیمانے پر تقسیم کے لیے متوفی کے ترکہ کو بیت المال میں جمع کروانے کا حکم دیا جا سکتا تھا‘ جس کے نتیجے میں عامۃ الناس کوفائدہ پہنچتا‘ لیکن اس کے بجاے اسلام نے ترکہ قریبی عزیزوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے۔
(ب) عورتوں کو وراثت میں لازماً حصہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(ج) نہ متوفی اور نہ کوئی اور شخص ہی ورثا کو ان کے حق سے محروم کرسکتا ہے اور نہ ان کے حصوں میں تبدیلی کرنے کا حق ہی رکھتا ہے۔
(د) تقسیم میراث میں نہ تو عمروں کا تفاوت پیشِ نظر ہے (جیسا کہ یورپ میں بڑا بیٹا جایداد کا وارث سمجھا جاتا تھا) اور نہ ورثا ہی میں سے کسی فرد کی ضروریات۔ اگر کسی کی ایسی سوچ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خدائی حکمت پر اپنی سوچ کو ترجیح دینا چاہتا ہے۔
(ھ) وصیت کل مال کے ایک تہائی سے زائد میں جائز نہیں اور ورثا کے حق میں بھی نہیں کی جا سکتی۔
(و) متوفی کو متبنٰی بنانے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اگر اس کا کوئی وارث نہیں ہے تو ترکہ بیت المال میں داخل کیا جائے گا‘ تاکہ اُمت مسلمہ کی بھلائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
(ا) مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’اس معاملے (قانونِ وراثت) میں قرآن نے جو اصول اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ جو مال ایک شخص کی زندگی میں یکجا مرتکز ہوگیا ہو‘وہ اس کے مرنے کے بعد مرتکز نہ رہنے دیا جائے‘ بلکہ اس کے قرابت داروں میں پھیلا دیا جائے۔ یہ اصول ’’توریث اکبر‘‘ (یعنی یورپی نظامِ وراثت Primogeniture) اور ’’مشترکہ خاندانی جایداد‘‘ (Joint Family System) اور ایسے ہی دوسرے طریقوں کے برعکس ہے جن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مرتکز شدہ دولت مرنے کے بعد بھی مرتکزہی رہے‘‘۔ (معاشیات اسلام‘ ص ۱۰۸)
(ب) مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ کے الفاظ میں: ’’اسلامی قانونِ وراثت میں تقسیمِ دولت کاجو طریقہ ہے وہ ایسا معتدل اور مدبرانہ ہے کہ اگر صحیح طور پر اس کو اختیار کیا جائے اور سوسائٹی میں اس کا رواج عام ہو جائے‘ تو نہ تو اس سے سرمایہ دارانہ دولت پیدا ہونے کا امکان باقی رہتا ہے‘ کہ جس سے بڑی بڑی زمینداریاں بنتی ہیں اور نہ افراد و اشخاص کے درمیان افلاس و فاقہ مستی کو فروغ ہوسکتا ہے‘ کیونکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جس سے دولت کا سامان ہر وقت گردش میں بتا رہے اور ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پہنچتے رہنے کی وجہ سے کم و بیش ہر فرد کو فائدہ بخشتا رہتا ہے۔
اسلامی قانونِ وراثت پوری معیشت پر بڑے دور رس اثرات کا حامل ہے۔ یہ اثرات انفرادی سطح (micro level) پر بھی مرتب ہوتے ہیں اور اجتماعی سطح (macro level) پر بھی۔ ان اثرات کا مختصر احاطہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔
(ا) ارتکازِ دولت کا خاتمہ:ارتکازِ دولت فی زمانہ عالمی سطح پر بھی اور ملکی سطح پر بھی بڑا گمبھیر مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ سے لے کر حکومتوں کی سطح تک بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں۔ حکومتیں اپنی مالیاتی پالیسیوں (Fiscal Policies) میں اسے بڑی اہمیت دینے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن مسئلہ روز بروز خراب ہوتا جا رہا ہے‘ غربت بڑھ رہی ہے‘ امیر و غریب کے درمیان حائل خلیج میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسلام نے زکوٰۃ و صدقات کے نظام کے نفاذ کے باوجود ایک شخص کے مرنے پر دولت کے ارتکاز کی صورت میں فوری طور پر اس کی گردش کا اہتمام کر دیا ہے۔ ذوی الفروض‘ عصبات اور ذوی الارحام کے دائرے میں اس کی تقسیم کا حکم یوں دیا گیا ہے کہ کوئی بھی قریبی عزیز محروم نہ رہ جائے۔ یوں دولت پشت در پشت تقسیم کے عمل سے گزرتی جاتی ہے اور ارتکاز میں خاتمے کا سبب بنتی ہے۔
(ب) معیشت میں پھیلاؤ: ارتکازِ دولت کے خاتمے کے نتیجے میں جمع شدہ دولت کئی ہاتھوں میں تقسیم کے عمل سے گزرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں معیشت میں مجموعی صرف (aggregate consumption) میں اضافہ ہوجاتا ہے‘ جس کو پورا کرنے کے لیے اشیا و خدمات کی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہوجاتا ہے۔ یوں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور پوری معیشت میں پھیلائو اور اضافہ ہو جاتا ہے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوجاتا ہے۔
(ج) جاگیرداری نظام کا خاتمہ: بڑی بڑی جاگیروں کے قائم ہونے اور پھلنے پھولنے کی بنیادی وجہ مشترکہ خاندانی نظام اور بڑے بیٹے کی وراثت کا حق (Primogeniture) ہے۔ اسلامی قانونِ وراثت میں یہ دونوں طریقے ممنوع ہیں اور مال و جایداد میں وراثت کا حق مختلف افرادِ خاندان کو دے دیا گیا ہے۔ اس طرح جاگیریں بھی تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزرتے ہوئے چھوٹی اکائیوں میں تقسیم ہوتی جاتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں نظامِ جاگیرداری اپنی پوری تباہ کاریوں کے ساتھ اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔
(د) زرعی پیداوار میں اضافہ: نظامِ جاگیرداری کی موجودگی میں زمین کے مختلف اور بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے قطعاتِ اراضی پر انفرادی توجہ ناممکن ہو جاتی ہے اور اس سے بھی بڑی خرابی غیرحاضر زمینداری کی صورت میں ظاہرہوتی ہے اور یوں زمین سے بھرپور پیداوار حاصل کرنا ممکن نہیں رہتا‘ جب کہ زمین کے نسبتاً چھوٹے ٹکڑوں پر نئے مالکان زیادہ محنت اور توجہ سے بہتر پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں اضافہ‘ اس سے مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ اور معاشی ترقی کی رفتار میں اضافہ اور مزید لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
(ھ) منصفانہ تقسیمِ دولت: نظامِ زکوٰۃ کے عملی نفاذ اور قانون تقسیمِ دولت کے اطلاق کے نتیجے میں دولت کی تقسیم منصفانہ بنیادوں پر ہوتی چلی جائے گی اور اس کے نتیجے میں امیروغریب کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو کم کیا جا سکے گا اور معاشرہ بہتر صورتِ حال کی طرف گامزن ہوگا۔
(و) ورثاء کی معاشی حالت کی بہتری: متوفی کی دولت کے جمع رہنے یا بڑے بیٹے کو ملنے سے دیگر ورثا محروم رہ جائیں گے۔ اس صورت میں خصوصاً بچے‘ خواتین اور بوڑھے والدین دوسروں کے رحم و کرم پر ہوں گے اور دوسروںکے محتاجِ محض بن کر رہ جائیں گے‘ جب کہ اسلامی قانونِ وراثت ان کی معاشی حالت کو بہتر بنا کردوسروں کا دست ِ نگر بننے سے بچاتا ہے۔ (اسلامی معاشیات‘ از پروفیسر عبدالحمید ڈار‘ پروفیسرمحمد عطمت‘ پروفیسرمیاں محمد اکرم‘ ص ۲۴۱-۲۴۲)
نبی آخر الزماں حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: ’’اے لوگو! علم الفرائض خود بھی سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھائو کہ وہ نصف علم ہے‘‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’’سب سے پہلے جو علم میری اُمت سے اُٹھا لیا جائے گا وہ علم الفرائض ہے‘‘۔(تقسیمِ میراث‘ سید شوکت علی‘ ص ۳-۴)
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس علم کو پھیلایا جائے اور مومنوں کو بھولا سبق یاد دلایا جائے اور انھیں اس قانون پر عمل کرنے پر اُنھیں ابھارا جائے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی سب سے مقدس ہستی اور سب سے بڑی انقلابی شخصیت ہیں۔ آپؐ نے ملکوں‘ انسانوں اور تاریخ کو شناخت عطا فرمائی اور دنیا کے ہر پہلو کو اپنے روحانی اور علمی انقلاب سے متاثر کیا۔ دل بھی بدلے اور ذہن کی سمت بھی بدلی‘ اخلاق بھی بدلا اور زاویۂ نظر کو بھی تبدیل کیا‘ ظاہری اطوار بھی تبدیل کیے اور باطنی واردات میں بھی انقلاب برپا کر ڈالا۔ یہی آپؐ کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ اس سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ براعظموں‘ رنگوں‘ نسلوں‘ خطوں‘ قوموں‘ پہاڑوں‘صحرائوں‘ دریائوں اور میدانوں کے ہزاروں میل کے فاصلے سمیٹ کر لاکھوں کروڑوں انسانوں کو ایک اُمت میں سمو دیا‘ اور ایسا عالمی نظام عطا فرمایا کہ جس کی نظیر پوری تاریخ انسانی میں کہیں نہیں ملتی۔
کتاب الٰہی میں عالمی نظام کے جو بنیادی اصول بتائے گئے ہیں وہ یہ ہیں: اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَا ٓیِٔ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِج یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ o (النحل ۱۶:۹۰)، یعنی اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے‘ اور بدی اور نامعقول کام اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے زمانے سے خطبۂ جمعہ میں اس آیت کریمہ کی تلاوت کا سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ اس آیت مبارکہ میں اسلام کی ساری تعلیمات اور اصلاح عالم کے لیے قرآن کے پروگرام کا خلاصہ بیان کردیا گیا ہے۔ حضور نبی کریمؐ نے ۰ ۱ ہجری میں آخری حج ادا فرمایا جسے حجۃ الوداع کے نام سے تعبیرکیا جاتا ہے۔ اس موقع پر آپؐ نے خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا جو عالم انسانیت کے لیے پہلا باقاعدہ انسانی حقوق کا چارٹر اور اقوامِ عالم کے لیے نیا عالمی نظام تھا۔اس عالمی اسلامی نظام کا سب سے اہم پہلو عالمی سطح پر قیامِ امن ہے۔ آج دنیا کو امنِ عالم کا ہی مسئلہ درپیش ہے‘ اور مسلمان ہی وہ اُمت ہیں جنھیں یہ مشن فرضِ منصبی کے طور پر سونپا گیا تھا۔
اس وقت پورا عالمِ اسلام نہایت خوفناک سیاسی ‘ اقتصادی اور دفاعی آشوب کا شکار ہے‘ اور اس کا منظرنامہ اتنا بھیانک اور خطرناک ہے کہ ہر انصاف پسند اس سے خوفزدہ ہے۔ اس وقت دنیا میں سب سے ارزاں شے مسلمانوں کا خون ہے۔ آئے دن ہر جگہ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ بوسنیا‘ افغانستان‘ فلسطین‘ کشمیر اور عراق وغیرہ کے مظلوم مسلمانوں کی شہادت اس کا واضح ثبوت ہے۔ غرضیکہ ہر جگہ غیر قومیں مسلمانوں کو علی الاعلان تختۂ مشق بنا رہی ہیں۔ لیکن تعداد میں ایک ارب سے بھی زیادہ اُمت مسلمہ ان مظلوموں کی مدد تو کیا کرے گی‘ ہر مسلمان ملک اپنی اپنی جگہ نیو ورلڈ آرڈر کے خوف سے لرزاں ہے۔
گذشتہ ۵۰ برس کے اندر اندر تمام مسلمان ملک پنجۂ غیرسے گلوخلاصی کرانے میں تو کامیاب ہوگئے مگر آزادی کے دن سے آج تک جو مسائل پیدا ہوئے وہ جوں کے توں ہیں‘ خواہ ان کا تعلق اندرونی سیاست‘ معیشت اور دیگر پالیسیوں سے ہو یا خارجی طور پر درپیش مسائل سے۔ اگر کسی ملک کے باشندوں میں زبان کا مسئلہ ہے تو وہ جوں کا توں ہے۔ کسی ملک سے سرحدی تنازعہ تھا تو وہ اب تک حل ہوئے بغیر ہی چلا آ رہا ہے۔ اگر داخلی خودمختاری کا سوال تھا تو ہنوز لاینحل ہے۔ مسئلہ فلسطین تاحال ناکامی کا شکار ہے۔ برعظیم کا مسئلہ کشمیرہنوز حل طلب ہے۔ بیت المقدس کی آزادی تشنۂ تعبیر خواب کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تو وہ اُبھرے ہوئے اور چیدہ مسائل ہیں جو زیادہ تر اندرونی اور داخلی نوعیت کے ہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر وقار اور عزت کا مسئلہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ۱۹۱ ارکان ممالک میں ۵۰ سے زائد مسلمان ممالک ہیں‘ ان ممالک کے مسلمان باشندوں کی کل آبادی سوا ارب سے متجاوز ہے‘ لیکن بایں ہمہ مسلمان کسی گنتی اور شمار میں نہیں‘ اور یہ نتیجہ ہے اُمت مسلمہ کے فرد فرد اور لخت لخت ہونے کا۔ اس افتراق و انتشار کا نتیجہ ہے کہ ہم افرادی قوت‘ مالی وسائل اور مملکتی طاقت رکھنے کے باوجود کمزور سے کمزور تر ہوتے جا رہے ہیں۔
تیل ہمارا مگر زندگی یورپ و امریکہ کی روشن اور رواں دواں‘ خام مال ہمارا مگر کام امریکہ اور یورپ کی فیکٹریوں کے آ رہا ہے۔ افراد کار ہمارے مگر ان کے دماغ‘ صلاحیتیں اور قوت کارکردگی امریکہ و یورپ کے پاس گروی رکھی ہوئی ہے۔ سرمایہ ہمارا مگر تجوریاں یورپ اور امریکہ کی بھری ہوئی اور بنک ان کے چل رہے ہیں۔ ان سارے کچوکوں‘ دھکوں اور محرومیوں کے باوجود اُمت مسلمہ خوابِ غفلت میں محو ہے۔
قصۂ کوتاہ یہ ہے کہ پورا عالم اسلام سیاسی بحران‘ معاشی بحران‘ قیادت کا فقدان‘ مالی بحران اور امن و امان کی تشویش ناک صورت حال سے دوچار ہے‘ اور مسلمان من حیث القوم ساری دنیا میں اس قدرپسماندہ ہیں کہ دوسری اقوام انھیں درخور اعتنا نہیں سمجھتیں ع
تن ہمہ داغ داغ شُد پنبہ کجا کجا نہم
زبوں حالی کے بنیادی اسباب
۱- قرآن حکیم اور صاحب ِقرآن کی تعلیمات سے روگردانی‘ علم و تحقیق سے بے اعتنائی۔
۲- سیاسی سطح پر عالم اسلام کا غیرمنظم ہونا اور اسلامی ممالک کے سربراہوں کے باہمی اختلافات۔
۳- یہود بالخصوص اور ہنود کا مسلمانوں کو گروہوں اور ٹکڑوں میں تقسیم کرنے میں خصوصی کردار۔
۴- مسلمانوںمیں مغربی تہذیب کی نقالی کا رجحان۔ سیاسی‘ اقتصادی‘ معاشرتی اور عدالتی قوانین کی بھیک مانگ کر اپنے قوانین کو مغربی قانون کے مطابق ڈھالنے کی کوشش۔
۵- سب سے اہم‘ عالم گیر اور بنیادی وجہ وھن ہے۔
حضرت ثوبانؓ کی روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مختلف قومیں مسلمانوں پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے کے حریص دیگوں پر آگرتے ہیں۔ ایک صحابیؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! کیا اس وقت ہم بہت قلیل تعداد میں ہوںگے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں‘ بلکہ تم لوگ تعداد میں کثیر ہوگے‘ لیکن اس جھاگ کی طرح کمزور اور بے بساط جو سیلاب میں اوپر آجاتا ہے‘ اور پھر اسے پانی بہا لے جاتا ہے۔ اور بڑی بات یہ ہے کہ اللہ تمھارے دشمنوں کے دلوں سے تمھاری ہیبت اور رعب نکال دے گا اور خود تمھارے دلوں میں وھن ڈال دے گا۔ پوچھنے والے نے عرض کیا: وھن کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: دنیا سے محبت اور موت کا خوف۔ (کنزالاعمال‘ ج ۵‘ ص ۴۳۰)
قدرت نے عالم اسلام کو جن نوازشات اور امکانات سے مالا مال کر رکھا ہے اگر ان پر نظرڈالی جائے تو اس سے بڑھ کر خلافت و وراثت ارضی کا مستحق کوئی دوسرا نظرنہیں آتا لیکن گردوپیش اور اعداد و شمار اور حقائق کو دیکھا جائے تو بہت تلخ اور عبرت آموز صورت حال ہے۔
دنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ عالم اسلام ہے اور یہ بہت بڑی افرادی قوت ہے۔ اس کے جغرافیائی حدود سوا تین کروڑ مربع میل ہے۔ اسے دریائوں‘ نہروں‘ سمندروں‘ پہاڑوں‘ صحرائوں‘ میدانوں‘ جنگلوں اور زرخیز زمینوں کا سب سے بڑا ذخیرہ میسر ہے۔ معدنیات اور خام قدرتی وسائل کا خزانہ سب سے زیادہ عالم اسلام کے پاس ہے۔ تیل کے مجموعی عالمی ذخائر کا چوتھائی حصہ عالمِ اسلام کی ملکیت ہے۔ زرعی پیداوار کی بے پناہ استعداد کا حامل بھی عالم اسلام ہے۔ اسے ایک گونہ جغرافیائی وحدت اور قرب باہمی بھی حاصل ہے۔
نیو ورلڈ آرڈر میں طاقت اور بے محابا قوت معبود اعلیٰ کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ ہمیں اسلام کو اپنا محورو مرکز ‘ اپنا تشخص و تعارف اور اپنا نام و نسب اور اعزاز بنانے میں کیوں جھجک محسوس ہوتی ہے جو بحمدللہ دنیا کا بہترین فلسفہ اور نظام ہے‘ جس میں رنگ و نسل کی بے رحمانہ تقسیم نہیں‘ علاقے اور زبان کو بت کا درجہ حاصل نہیں‘ اس کا عنوان جلی اور طرئہ امتیاز ’’شوریٰ‘‘ ہے۔ دنیا کی مادیات اور لذات جس کا اول و آخر ہدف نہیں۔ جو ہر نوع کی ذہنی و جسمانی غلامی کا دشمن ہے۔ جس کے ہاں شرف انسانی بیت اللہ سے بڑھ کر مقام رکھتا ہے۔ جو اپنے پیروکاروں کو ’’اُمت وسط‘‘ (البقرہ ۲:۱۳۳)کہتا ہے‘ یعنی دائیں اور بائیں اور افراط و تفریط کے مرض سے پاک اُمت۔ جو اُمت کی تشکیل نسلی و لسانی اور جغرافیائی بنیادوں پر نہیں‘ انسانی اور روحانی بنیادوں پر کرتا ہے‘ اور جو دنیا بھر کو اپنا مدعو قرار دیتا ہے‘ کسی کو حریف نہیں کہتا۔ اس کے ہاں کالے اور گورے‘ یورپی اور ایشیائی اور عربی وعجمی کی تفریق نہیں۔ وہ صرف حق اور باطل‘ اور عدل و ظلم کے درمیان میزانِ امتیاز کھڑی کرتاہے۔
کش مکش ایک حقیقت ہے مگر عالم اسلام چاہے تو یہ سمجھ کر اپنی جدوجہد کو تیزکرسکتا ہے کہ اس نے مورچہ چھوڑا ہے‘ جنگ نہیں ہاری۔ مورچہ چھوڑنا ایک جنگی حکمت عملی یا وقتی پسپائی ہوتی ہے‘ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ جنگ جاری ہے ازل سے تا امروز۔ اس کے لیے تیاری کر کے میدان میں اُترنا چاہیے۔
۱- اسلام اور اہل اسلام کے نزدیک یورپ اور ایشیا‘ عرب اور افریقہ‘ مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید کا کوئی تصور نہیں بلکہ اسلام ابتدا ہی سے ایک عالمی ریاست کا نظریہ رکھتا ہے۔ اسلام نسلوں‘ قوموں اور خطوں کے مقابلے میں عقیدۂ توحید کو عالمی ریاست کا سنگِ بنیاد قرار دیتا ہے‘ اور وہ بنی نوع انسان کو صرف اور صرف تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍم بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ (اٰل عمران۳:۶۴) کی دعوت دیتا ہے‘ یعنی آئو ہم اور آپ اس کلمے پر متحد ہوجائیں جو ہمارے اور آپ کے درمیان قدرِ مشترک کا درجہ رکھتا ہے‘ اور وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلامک ورلڈ آرڈر کسی سے دشمنی اور مخاصمت پراپنی بنیاد نہیں رکھتا بلکہ وہ سب کا حلیف ہے‘ حریف نہیں‘ اور وہ پوری انسانیت کے ساتھ عقیدئہ توحید کی بنا پر دوستی اور بھائی چارے کا حامی ہے۔
۲- اسلام‘ حق اور ناحق کا واضح اور متعین معیار رکھتا ہے۔دوغلاپن‘ دوہرا معیار‘ منافقت‘ سازش اور فریب کا اسلامی اقدار و ضوابط میں کوئی گزر نہیں۔ اسلام میںظالم اور مظلوم کی واضح تقسیم ہے۔ ظلم و زیادتی جہاں ہو‘ اسلام اس کا مخالف ہے‘ اور اس ضمن میں کسی مذہب‘ نسل‘ رنگ اور علاقے کا امتیاز نہیں رکھتا۔ اس کی پالیسیاں انسانی مفاد پر استوار ہیں‘ نہ کی نسلی‘ لسانی اور علاقائی مفاد پر۔ لہٰذا فلسطین‘ افغانستان‘ عراق اور کشمیر میں ایک اصول کو قائم کیا جائے‘ جہاں ظلم ہو رہا ہے‘ اس کے خلاف مزاحمت کی جائے‘خواہ وہ سیاسی ہو یا عسکری۔ ان کے لیے الگ الگ اصول اور معیار نہ بنائے جائیں۔
۳- تمام مسلم ممالک اگر باغیرت قوم کی طرح زندہ رہنا چاہتے ہیں تو اپنے وسائل کو یک جا کر کے تعلیم‘ سائنس و ٹکنالوجی‘ دفاع اور بین الاقوامی تجارت کو مضبوط کرنے پر صرف کریں کیونکہ ان پانچ امور کو مضبوط کیے بغیر اُمت مسلمہ کا مستقبل محفوظ اور باعزت نہیں ہو سکتا۔
۴- مسلم ممالک میں سائنس کی تعلیم اور تحقیق پرسب سے زیادہ توجہ دی جائے اور ایسے مسلمان سائنس دان تیار کیے جائیں جو اپنے کارناموں سے مسلم قوم کو اقتصادی اور سیاسی طور پر ایک قوت بنا دیں۔ اسلامی ممالک میں شرح خواندگی دنیا کے باقی ممالک کی نسبت سب سے کم ہے‘ اور جہالت کا تناسب سب سے زیادہ۔ سامراجی دور میں ہر سامراجی طاقت کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے زیراثر ممالک میں تعلیمی اور تہذیبی انحطاط رہے‘ اس سے سامراجی طاقتوں کے مفادات کو کم خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ امریکہ کے نئے سامراجی نظام میں یہی تصور پیش کیا گیا ہے کہ ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اپنے زیراثر رکھا جائے گا۔ لہٰذا اُمت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ تعلیم وثقافت کے میدان میں اپنے بجٹ کا زیادہ حصہ مختص کریں تاکہ مسلمان قوم اپنے پائوں پر کھڑا ہونے اورسپر ٹکنالوجی استعمال کرنے کے قابل ہو سکے‘ جس کے بغیر اقتصادی اور سیاسی برتری کا حصول ناممکن ہے۔
۵- اسلام کے کلچر اور اسلام کے وجود کو عالمی سطح پر اُبھارنے کے لیے جدوجہد کی جائے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ ہم اس کا آغاز اسلامی تعلیم‘ اسلامی تہذیب و ثقافت اور سائنس و ٹکنالوجی کے فروغ سے کریں۔
۶- اسلامی دنیا جو خام مال کے اعتبار سے کافی دولت مند اور باوسائل ہے‘ اسے اس کا احساس کرنا چاہیے۔ اسے ایسی پالیسیاں وضع کرنی چاہییں کہ مسلم ممالک خام مال اپنی طرف سے طے شدہ قیمت پر غیرمسلم دنیا کو فروخت کریں اور ان سے تیار ہونے والا مال اپنی مرضی کے مطابق لیں‘ نہ یہ کہ یورپ اور امریکہ ہم سے خام مواد بھی اپنی مرضی کی قیمت سے لیںاور تیار مال بھی اپنی مرضی کی قیمت سے بیچیں۔
۷- مختلف مسلم ممالک اپنی جغرافیائی حدبندیوں میں نرمی پیدا کریں۔ مناسب تحفظات اور احتیاط کے ساتھ یہ نرمی برادر مسلم عوام کے درمیان اخوت اور قربت کی راہ کھولے گی۔ امریکہ کی طرف سے نیوورلڈ آرڈر میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ عرب ممالک میں مسلمان لیبر کے بجاے غیرمسلم ممالک سے افرادی قوت کھپائی جائے۔ اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ وہاں فحاشی پھیلے‘ غیرمسلم افراد وہاں کی کمزوریوں سے آگاہ ہو سکیں‘ وقت آنے پر ان کو واپس بلایا جاسکے اور افرادی قوت کی کمی کا بحران پیدا کیا جا سکے‘ یا پھر مسلم اور غیرمسلم افراد کے آزادانہ اختلاط سے مسلم تشخص مدہم ہو۔ لہٰذا اس سلسلے میںضروری ہے کہ مسلم ممالک ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ قربت‘نرمی اور تعاون کا معاملہ کریں اور سرحدوں پر عائد ناروا پابندیاںاور سفارتی رکاوٹیں موزوں حد تک نرم کر دیں تاکہ مسلمان ایک دوسرے کا دست و بازو بن سکیں اور مسلم ممالک کے راز بھی محفوظ رہیں۔
۸- اسلامی ممالک امریکہ کی نئی سامراجیت کی یلغار سے بچنے کے لیے ’’مشترکہ دفاعی قوت‘‘ تشکیل دیں‘ جو ’’مشترکہ علاقائی دفاع‘‘ کی صورت میں ہو۔ جن مسلمان ممالک کی سرحدیں آپس میں ملتی ہوں انھیں اپنے دفاعی معاہدے تشکیل دینے چاہییں۔ اعلیٰ سطح پر معلومات کے تبادلے کا نظام موثر ہونا چاہیے۔ دفاعی اور فوجی سطح پرریسرچ اور انٹیلی جنس کے منصوبوں میں تعاون ہونا چاہیے۔
۹- بین الاقوامی سطح پر عالم اسلام کے مسائل اور اختلافات کو نبٹانے کے لیے ’’ورلڈ اسلامک کورٹ آف جسٹس‘‘قائم کی جائے جس میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے ضابطوں پر عمل درآمد کا انتظار کرنے کے بجاے اسلامی بین الاقوامی قانون کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔ دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں داخلی اور خارجی قوانین پرمشتمل دفعات ترتیب دی جائیں تاکہ عدالتی نظاموں میں یکسانیت پیدا ہو۔
۱۰- مسلم ممالک اپنی کامن ویلتھ قائم کریں اور زیادہ سے زیادہ رقوم و وسائل اس کے حوالے سے زیرگردش رہیں۔ اس سے غریب یا ترقی پذیر مسلم ممالک کو اپنی مشکلات پر قابو پانے اور اپنے ترقیاتی منصوبے کامیاب کرنے میں حددرجہ مدد ملے گی۔
۱۱- مسلم ممالک اپنے سیاسی نظاموں کے اندر عدل و استحکام پیدا کریں۔ آمریت‘ جبر اور بددیانتی کے راستوں کو ترک کر دیں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق عادلانہ جمہوری نظام کو قرآن و سنت کے تحت فروغ دیں۔
۱۲- یہودی محض اسلام کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے دشمن ہیں۔ ان کے لگائے گئے زخموں اور بچھائی ہوئی سازش کی بساط سے ہر ملک کا انسان کراہ رہا ہے۔ مسلم ممالک کو اپنی خارجہ پالیسی بناتے وقت اس تجزیے کو پیشِ نظر رکھ کر یہود اور یہود نواز طاقتوں کے بارے میں لائحہ عمل وضع کرنا چاہیے۔
۱۳- اسلام کے تشخص کو نمایاں کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلم دنیا میں ’’اُمہ‘‘ کا تصور اجاگر کیا جائے اور ان تمام تحریکوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا جائے جو مسلم دنیا کے کسی بھی خطے میں رنگ‘ نسل‘ وطن اور کسی بھی جاہلی عصبیت کی بنیاد پر چل رہی ہیں۔ خطبہ حجۃ الوداع میں ان تمام جاہلی تعصبات کی یکسرنفی کی گئی ہے۔
یہ تھے نئے اسلامی عالمی نظام کے بنیادی خدوخال۔ اب اُمت مسلمہ کے دانش وروں‘ سیاست دانوں اور حکمرانوں کا فرض ہے کہ خلوصِ نیت سے اسلامی عالمی نظام کی مفصل تشکیل اور اس کے نفاذ کے لیے راہ ہموار کریں اور عملی اقدام اٹھائیں‘ تاکہ بنی نوع انسان سکھ کا سانس لے سکے۔ ان شاء اللہ اس متبادل عالمی نظام کے اختیار کرنے سے حسب ذیل مثبت نتائج برآمد ہوں گے:
۱- کوئی کسی کا غلام نہیں ہوگا۔ سبھی اللہ کے بندے ہوں گے‘ جب کہ آج ہر شخص اپنی جگہ فرعون ہے اور دوسروں کو غلام بنانے کی فکر میں ہے۔
۲- کسی انسان کو کسی پر فوقیت نہیں ہوگی‘ سبھی اولادِ آدم ہیں‘ جب کہ آج ہر شخص اپنے مال اور دولت کی فوقیت ثابت کرنے میں تمام حدود کو پامال کر رہا ہے۔
۳- کوئی پیدایشی طور پر سونے یا مٹی کا نہیں ہوگا‘ سب کا باوا آدم ہے‘ جب کہ آج امریکی اور انگریز خود کو کسی طور پر مٹی کا بنا ہوا ماننے پر تیار نہیں۔
۴- مخلوق خدا کا کنبہ ہوگی‘ کوئی کسی کے رزق پر قدغن عائد نہیں کرسکے گا‘ جب کہ آج اقتصادی امداد کی بندش الخلق عیال اللّٰہ کے تصور کی صریحاً نفی ہے۔
۵- الٰہی قانون سب کے لیے یکساں ہوگا‘ جب کہ آج آئین کچھ عہدیداروں کو ہرقانون اور گرفت سے مبرا قرار دیتا ہے۔
۶- ہر نوع کا تعصب اور امتیاز ’’نخوت جاہلیہ‘‘ قرار پائے گا‘ جب کہ رنگ‘ نسل‘ قومیت اور صوبائیت کے تعصبات آج کا فیشن ہیں۔
۷- ہر ایک خود اپنا محتسب ہوگا‘ جب کہ آج کوئی کسی کے سامنے جواب دہ نہیں رہا‘ ہرفردِ بشر خودمختاری کے چکر میں ہے۔
۸- ہر شخص آخرت میں جواب دہی کا مکلف ہوگا‘ جب کہ آج آخرت کا لفظ ’’دقیانوسی‘‘ قرار پا گیا ہے۔
۹- زندگی امانت الٰہی ہے۔ اس میں خیانت سب سے بڑا جرم ہے‘ جب کہ آج زندگی ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘کا منظرپیش کر رہی ہے۔
۱۰- دنیوی عزت کے مقابلے میں اخروی عزت زیادہ وقیع اور قابلِ لحاظ ہوگی‘ جب کہ آج دنیوی عزت ہی حرف آخر ہے۔ آخرت کے وعدے پر کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔
قرآن و حدیث کی پیش گوئی کے مطابق اسلام کو بہرحال دنیا پر حاوی اور غالب ہونا ہے۔ پیرس‘ لندن اور واشنگٹن جیسے جگمگاتے شہروں سے لے کر چراغ کی لو سے ٹمٹماتے خیموں تک اسلام بہرحال پہنچے گا۔ آٹھ آٹھ رویہ شاہراہوں سے لے کر لق و دق صحرائوں تک اسلام سفر کرے گا۔ بلند و بالا پلازوں اور شاہی ایوانوں سے لے کر ساحلوں اور کوہستانوں تک اسلام کی آواز جائے گی۔ یہ بہرحال طے ہے‘ دیکھنا یہ ہے کہ ہم اسلام کے غلبے کے لیے کیا جدوجہد کرتے ہیں۔ ایک ارب مسلمان ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں‘ ان کی سوچ یکساں ہو‘ ان کی آواز ہم آہنگ ہو‘ ان کا لائحہ عمل متفقہ ہو تو پوری دنیا کی طاقت کا توازن بدل کر اپنے حق میں کرسکتے ہیں۔ اور یہی خدائی وعدہ ہے:
وَقُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا o (بنی اسرائیل ۱۷:۸۱) اور اعلان کر دو کہ حق آگیا ہے اور باطل مٹ گیا‘ بے شک باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔
اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
وقت کی اقسام اور ہر قسم کا ایک منفرد انداز اس کائنات کے پیچیدہ نظام کو چلانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ تخلیقات کا تنوع اوقات کے تنوع کا بھی تقاضا کرتا ہے‘ اور ساتھ ہی تمام تر تخلیقات کے ایک خالق اور اوقات کے ایک مالک کی سب سے بڑی شہادت بھی اس نظام پر غور کرنے سے مل جاتی ہے۔ گویا کثرت ہی میں وحدت کی دلیل چھپی ہوئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ذات ہی وہ منفرد اور یکتا ہستی ہے جو اول بھی ہے اور آخر بھی‘ ظاہر بھی ہے اور باطن بھی‘ اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ توحید کا تصور اتنا جان دار اور جامع ہے کہ اس کا مطلب وقت کی مختلف حالتوں کا کوئی مجموعہ نہیں بلکہ وقت کی مختلف حالتوں کا وحدت اور اکائی کی صورت میں سمو لیا جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے: ’’وہی ہے جس نے آسمان اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہو جائے‘ اس دن وہ ہو جائے گا۔ اس کا ارشاد عین حق ہے اور جس روز صور پھونکا جائے گا اس روز بادشاہی اسی کی ہوگی۔ وہ غیب اور شہادت ہر چیز کا عالم ہے اور دانا اور باخبر ہے‘‘(الانعام ۶:۷۳)۔ یہ آیت حضرت ابراہیم ؑ کے توحید کی طرف فکری سفر کی روداد سے قبل آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں چار مختلف قسم کے اوقات
کی تخلیق اور ان کی مدت کے ایک دوسرے کے بعد آنے اور جانے کا امر واقعہ بیان فرما یا ہے۔ زمین اور آسمان کی تخلیق کے ساتھ ہی سورج اورچاند اور زمین کے گردشی نظام کے ذریعے وجود میں آنے والا وقت کا خول بھی ظاہرہے کہ کسی اور طرح کے وقت کے بعد وجود میں آیا ہوگا‘ یعنی ایک وقت تخلیق سے قبل تھا‘ دوسرا تخلیق کے بعد سے شروع ہو کر قیامت تک رہے گا۔ زمین کی تخلیق کا عمل بھی کروڑوں اور اربوں سالوں پر محیط نظر آتا ہے۔ تیسرا نظامِ وقت قیامت کی گھڑی سے قائم ہوجائے گا جب موجودہ وقت کے اجزاے ترکیبی نیست و نابود ہو جائیں گے ۔ اس وقت کے لیے مشرق و مغرب اور چاند‘ سورج اور ذہن کی حرکت کا نظام العمل کیا ہوگا‘اس کی تفصیل اس وقت واضح نہیں ہے۔ چوتھا نظامِ وقت اس وقت قائم ہوگا کہ جب لوگ دوبارہ اُٹھا کر زندہ کیے جائیں گے۔ آیت مذکورہ میں اوقات کی مختلف اقسام کے بتدریج قیام کو اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور قدرتِ کاملہ کی تصدیق کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو وقت کے نظام پر قادر ہو وہی غیب کا جاننے والا ہے اور دانا اور باخبر ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم کی جامعیت‘ کاملیت اور ہر شے پر اس کا محیط ہونا ممکن ہی اس وقت ہو سکتا ہے کہ جب وہ وقت کے ایک خول سے اندر اور باہر سب کچھ اس طرح دیکھ سکتا ہو کہ جیسے انسان آئینہ دیکھتا ہے۔ وہ وقت کہ جو ابھی آیا نہیں ہے اس کے بھی انتہائی سرے پر دیکھ سکتا ہے کہ کیا کچھ آیندہ ہونے والا ہے۔
زمینی وقت کی ایک خصوصیت اس کا مدت اور مہلت کی شکل میں پایا جانا ہے۔ حضرت آدم ؑکے زمین پر اتارے جانے کے بعد بنی نوع انسانیت کی مہلت کا آغاز ہوگیا اور یہ مدت وہ ہے جو اس دنیا میں قیامت تک جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’فرمایا‘ اُتر جائو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو‘ اور تمھارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جاے قرار اور سامانِ زیست ہے‘‘۔ دوسری مدت وہ ہے جو ہر قوم یا قریہ کے لیے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ہرقوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے‘ پھر جب کسی قوم کی مدت پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی‘‘ (الاعراف ۷:۳۴)۔ تیسری مدت وہ ہے جو ہر فرد کو اُس کی عمر کی صورت میں ملی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اس میں سے تم کو آخرکار نکالا جائے گا‘‘ (الاعراف ۷:۲۴)۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ’’تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے زمین اور آسمان بنائے‘ روشنی اور تاریکیاں پیدا کیں۔ پھر بھی وہ لوگ جنھوں نے دعوتِ حق کو ماننے سے انکار کر دیا ہے دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر ٹھہرا رہے ہیں۔ وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا‘ پھر تمھارے لیے زندگی کی ایک مدت مقرر کر دی‘ اور ایک دوسری مدت اور بھی ہے جو اس کے ہاں طے شدہ ہے‘‘۔(الانعام ۶:۱-۲)
دورہ‘ مدت‘ مہلت‘ بار بار پھیر‘ یہ انسانی وقت کی خصوصیات ہیں۔ قرآن میں مہلت کے اٹل ہونے پر بے انتہا زوردیا گیا ہے۔ یہ وقت کبھی ٹل نہیں سکتا۔ کسی کو مفر نہیں۔ کوئی اس نظامِ سلطنت سے باہر نہیں جاسکتا۔ کوئی اس طریقۂ کار کو تبدیل نہیں کر سکتا ہے۔ یعنی مدت و مہلت کی شرائط کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔
مشرق اور مغرب نظامِ وقت کے وہ دو ستون ہیں کہ جن پر وقت کا نظام قائم ہے۔ وقت مشرق سے شروع ہوتا ہے اور مغرب میں ختم ہوتا ہے۔ توحید کا تقاضا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی ہستی کے اقتدار کا حصہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ جس طرف بھی تم رخ کرو گے‘ اس طرف اللہ کا رخ ہے۔ اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے‘‘۔ (البقرہ ۲:۱۱۵)
وقت کے اندر سمت کا تصور بھی موجود ہے۔ وقت بذاتِ خود مخصوص سمت پر سورج اور زمین کی حرکت سے وجود میں آتا ہے اور اس کے وجود میں آنے سے انسان سمیت ہر شے اپنی تخلیق کے تدریجی مراحل سے گزرنا شروع ہوگئی ہے‘ یعنی وقت میں جغرافیائی سمت کے علاوہ معنوی سمت بھی موجود ہے۔ انسان کا مقام اور اس کی عمر‘ ان دونوں کا تعین سمت کے جغرافیائی و معنوی پہلوئوں کو بالترتیب نمایاں کرتا ہے۔ ذہن میں جاے مقام مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کے تعین سے ہوتا ہے‘ جب کہ مشرق و مغرب کا تعین پھر وقت کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ گویا سورج اور زمین کی گردش سے --- انسان کے لیے جائے مقام کے ساتھ ساتھ مدت قیام کی معلومات اس کے تخلیقی سفر کی کیفیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ جو وقت گزر گیا ہے عمر سے معلوم ہوجاتا ہے۔ طے شدہ وقت سے اتنا وقت گویا کم ہوگیا۔
کس جگہ کیا وقت ہو رہا ہے؟ اس کے حساب کے لیے سمت کا حساب ضروری ہے۔ مشرق و مغرب سمت ہی کے دو اشارے ہیں۔ صبح و شام اور ستارے سمت کو واضح کرتے ہیں۔ انسان کے لیے یہ سمت انتہائی اہم ہے اور وہ کبھی بھی اس سے بے پروا نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ سمت سے باہر ہے۔ وہ سمت کا خالق ہے۔ وہ اطراف اور میقات‘ میعاد اورانجام پر غالب ہے۔ ہر رخ اور ہر سمت اس کی ہے وہ سب کو سموئے ہوئے ہے۔
اللہ تعالیٰ وقت پر کس طرح قادر ہے اس کا اعلان ایک آیت کو چھوڑ کر پھر ہوتا ہے:’’وہ زمین اور آسمان کا موجد ہے‘ اور جس بات کا وہ فیصلہ کرتا ہے ‘ اس کے لیے بس یہ حکم دیتا ہے کہ’ہوجا‘ اور وہ ہو جاتی ہے‘‘۔ کن فیکون کے تصور میں تمام فاصلے اور نظام ہاے اوقات سمٹ کر آگئے ہیں۔ کن فیکون اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا حتمی اظہار ہے۔ وقت اُس کا ہے۔ سارے رُخ اُس کے ہیں۔ زمان و مکاں اپنے تمام تر وجود اور خلق کے ساتھ اُس کا ہے۔ توحید کی ایسی تعریف کہ جس میں مادہ‘ قوت‘ قدر‘ وقت اور خلق کی تمام صورتوں پر مکمل اختیار ماقبل اور مابعد کے ساتھ جھلکتا ہو کن فیکون کے دو الفاظ سے زیادہ بہتر صورت میں ادا نہیں ہوسکتی ہے۔
توحید اور تخلیق اور وقت کے مابین تعلق کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی طرح زمین اور آسمان کے وقت کا پابند ہوچکا ہے‘ یا اس گھیر سے اب کوئی مفر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خلق اور امر دونوں اُس کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد واقعات کا تذکرہ کیا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت کے نظام کی کنجیاں کس طرح اس کے پاس ہیںاور وہ نشانی کے طور پر ماضی کو مستقبل سے اورمستقبل کو ماضی سے تبدیل کر سکتا ہے۔ گھڑی کی سوئی کو تیزی سے آگے یا پیچھے گھما سکتا ہے یا وقت گزرنے کے باوجود وقت کی زد میں آئی ہوئی اشیا کو وقت کے اثرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے: ’’تم نے ان لوگوں کے حال پر غور کیا‘ جو موت کے ڈر سے اپنے گھر بار چھوڑ کر نکلے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں تھے؟ اللہ نے اُن سے فرمایا: مرجائو۔ پھر اس نے ان کو دوبارہ زندگی بخشی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسان پر بڑا فضل فرمانے والا ہے‘ مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے‘‘ (البقرہ ۲:۲۴۳)‘ یعنی اس دنیا ہی میں دوبارہ زندگی بخش دی۔ اس طرح بنی اسرائیل نے جب کہا کہ جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھ نہ لیں‘ ایمان نہیں لائیں گے تو ایک زبردست کڑکے نے ان کو آلیا وہ بے جان ہو کر گر گئے اور پھر انھیں دوبارہ زندگی دی گئی۔ (دیکھیے: البقرہ ۲:۵۵-۵۶)
اسی طرح جب حضرت ابراہیم ؑ کا نمرود سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں مکالمہ ہوا تو زندگی اور موت کے بارے میں اس نے کہا کہ یہ تو میرے اختیار میں ہے۔ لیکن پھر جب حضرت ابراہیم ؑ نے کہا کہ اچھا‘ اللہ سورج کو مشرق سے لاتا ہے تو ذرا مغرب سے نکال لا تو یہ سن کر وہ ششدر رہ گیا۔ ظاہرہے کہ وہ سمجھ گیا کہ یہ دونوں اختیارات لازم و ملزوم ہیں اور یہ اللہ ہی کی ذات میں جمع ہیں۔ قادر وہی ہو سکتا ہے کہ جو محیط ہو۔ جو محیط نہ ہو وہ سمت کا تابع ہو کر حدود میں رہتا ہے۔
زندگی بعد موت اور زمینی وقت کے بارے میں کس طرح قرآن احساس و شعور کو جھنجھوڑنا چاہتا ہے‘ اس کے لیے یہ واقعہ نہایت سبق آموز ہے۔ اللہ تعالیٰ بیان کرتا ہے: ’’یا پھر مثال کے طور پر اس شخص کو دیکھو‘ جس کا گزر ایک بستی پر ہوا‘ جو اپنی چھتوںپر اوندھی گری پڑی تھی۔ اس نے کہا: ’’یہ آبادی جو ہلاک ہو چکی ہے‘ اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا؟‘‘ اس پر اللہ نے اس کی روح قبض کر لی اور وہ ۱۰۰ برس تک مردہ پڑا رہا۔ پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا: ’’بتائو کتنی مدت پڑے رہے ہو؟‘‘ اس نے کہا: ’’ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں گا‘‘۔ فرمایا: ’’تم پر ۱۰۰ برس اسی حالت میں گزر چکے ہیں۔ اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو‘ اس میں ذرا تغیر نہیں آیا ہے۔ دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو (کہ اس کا پنجر تک بوسیدہ ہو رہا ہے) اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ ہم تمھیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنادینا چاہتے ہیں۔ پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اس پنجر کو ہم کس طرح اُٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں‘‘۔اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایاں ہو گئی تو اس نے کہا: ’’میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے‘‘۔ (البقرہ ۲:۲۵۹)
اس دنیا میں وقت گزرنے کے بعد محض ایک ذہنی تاثر کی حد تک محدود رہ جاتا ہے۔ ۱۰۰برس کے بعد انسان سوچتا ہے کہ یہ چند گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ ایک دن گزرا ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کس طرح کھانے اور پانی جیسی اشیا جن میں چند دنوں میں تغیرآجاتا ہے وہ وقت گزرنے پر پڑنے والے معمول کے اثرات سے قطعی طور پر ۱۰۰ سال تک مستثنیٰ رہیں ‘جب کہ ساتھ ہی پڑا ہوا گدھا ۱۰۰ سال میں کس طرح بوسیدہ ہوگیا۔ اسی طرح پھر اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ کس طرح وقت کو سکیڑ کر اور سمیٹ کر ہڈیوں میں آناً فاناً گوشت پوست چڑھ جاتا ہے۔ بیک وقت یہ ایک ہی مقام پر پڑی مختلف اشیا پر مختلف طریقے سے اثرانداز ہوا۔ وقت آگے سے پیچھے ہوگیا۔ پھر پیچھے سے آگے آگیا۔ کہیں بالکل ہی رُک گیا۔ حالانکہ زمین کا طبیعی و مشینی وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا۔
دنیاوی وقت ایک سراب کی مانند ہے۔ جب تک انسان دور سے آنے والے وقت کو دیکھ رہا ہوتا ہے‘ اس کو بہت حسین لگ رہا ہوتا ہے۔ حال میں رہ کر مستقبل اچھا لگتا ہے۔ مستقبل میں پہنچ کر وہ تاثر محو ہو جاتا ہے۔ انسانی ذہن کل اور مستقبل کے پیرائے میں سوچ کر حال کو ترتیب دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اچھے مستقبل کی توقع حال میں قوتِ عمل فراہم کرتی ہے۔ فکرآخرت سے بے نیازی‘ آخرت میں اچھے انجام کی ضمانت‘ دنیا اگر اچھی مل جاتی ہے تو آخرت بھی اچھی مل جائے گی‘ اس طرح کے عقائد یہودیت و نصرانیت اور مادہ پرست تہذیب کا خاصہ رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ دنیا میںمزید مست ہو جانے کی شکل میں نکلتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’جس روز اللہ ان سب لوگوں کو گھیر کر جمع کرے گا‘ اس روز وہ جنوں (یعنی شیاطین) سے خطاب کر کے فرمائے گا کہ ’’اے گروہِ جن‘ تم نے تو نوعِ انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا‘‘۔ انسانوں میں سے جو ان کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے ’’پروردگار! ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو خوب استعمال کیا ہے اور اب ہم اس وقت پر آپہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لیے مقرر کر دیا تھا‘‘۔ اللہ فرمائے گا: ’’اچھا‘ اب آگ تمھارا ٹھکانہ ہے اس میں تم ہمیشہ رہو گے۔ اس سے بچیں گے صرف وہی جنھیں اللہ بچانا چاہے گا۔ بے شک تمھارا رب دانا اور حلیم ہے‘‘۔ (البقرہ ۲:۱۳۰)
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’جنھوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت ِ بے آب میں سراب کہ پیاسا اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا‘‘ (النور۲۴:۳۹)۔ وقت کے عارضی ہونے کی اس سے بڑی کیا مثال ہو سکتی ہے۔ وقت جب بے پروا نظر آتا ہے تو اس لیے کہ وقت کے مالک نے ڈھیل دی ہے۔ انسان سمجھ بیٹھتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہی ہوتا رہے گا۔ وقت گزرنے کی کیفیت غیر یقینی‘ مسلسل‘ یکسانیت اور بالخصوص خوش حالی کی صورت میں ختم ہوتی ہوئی لگتی ہے یہاں تک کہ اللہ کی پکڑ آجاتی ہے۔ تاثرات پر مبنی وقت کی حالت پر صرف اور صرف ایمان ہی کے ذریعے یقینی کیفیت غالب ہو سکتی ہے۔ جب انسان آخرت پر نگاہ جما کر دنیا گزارتا ہے تو وہ اس دنیا کے گزرنے والے لمحات کو آخرت کے خالصتاً‘ دائمی اور حقیقی لمحات کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے۔
وقت کا تاثر انسان کی حِّس اور شعور کی پیداواربھی ہوتا ہے۔ ’کیا وقت ہے‘ کا جواب جب گھڑی سے ملتا ہے تو ساتھ ’کیسا وقت ہے‘ کا جواب بھی ذہن جوڑ دیتا ہے۔ انسان اپنی شناخت اپنے وقت کے بارے میں تاثرات سے قائم کرتا ہے۔ کامیابی و ناکامی‘ عزت و ذلت‘ خوشی و غم‘ تکلیف و راحت‘ محبت و عداوت‘ رحم وعفو‘ یہ سارے تاثرات اور رویے وقت کے گزرنے کے ساتھ بنتے ہیں۔ ایک صاحب ِ ایمان کے لیے وقت کی تعریف اس لحاظ سے بغیر ایمان کے کسی فرد سے مختلف ہوگی۔ ایمان کی روشنی میں وقت دیکھنا‘ اس کی منصوبہ بندی کرنا‘ اس کو گزارنا‘ یقینا زیادہ معنی خیز ہوتا ہے۔
نظمِ وقت میں انتہائی درجے کی باقاعدگی کا پایا جانا ایک حیران کُن عمل ہے۔ اس کے لیے پورے نظامِ کائنات میں جس ربط اور گرفت کی ضرورت ہے وہ ایک غالب قوت کے کارفرما ہونے کی واضح دلیل ہے۔ کائنات کا پورا نظام ضابطے کے مطابق معمولات کی شکل میں چلتا نظرآتا ہے۔ اس باقاعدگی میں جو تسلسل اور ہمیشگی نظر آتی ہے وہ انسان کو دھوکے میں بھی مبتلا کر ڈالتی ہے۔ کوئی یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ یہ کائنات ایک دفعہ بنا دی گئی اور پھر اللہ تعالیٰ نے تخلیق سے ہاتھ روک دیا۔ کوئی یہ سمجھ بیٹھا کہ یہ نظام تو گھڑی کی طرح بس چلتا ہی نہیں ہے۔
اس نظام میں جہاں باقاعدگی پائی جاتی ہے وہاں اتفاق وحادثاتی نوعیت کی بھی پوری گنجایش ہے۔ اس نظام کے یقینی ہونے کے اندر ہی اس کے غیریقینی ہونے کی گنجایش بھی موجود ہے۔ بظاہر انتشار نظر آتا ہے لیکن اندرونی طور پر تنظیم کی کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔ بعض اوقات بظاہر ترتیب محسوس ہوتی ہے لیکن اندرونی طور پر خلفشار کا سماں ہوتا ہے۔ یقینی و غیر یقینی‘ نظام و انتشار‘ منصوبہ جاتی و اتفاقی‘ ارادی و حادثاتی‘ کش مکش اور ٹھیرائو‘ تعمیروتخریب‘ ان سب کا امتزاج اس کائنات کو انسان کے لیے بہترین جولان گاہ بنا دیتا ہے۔ اس کی فکر اور شعور کے اندر یہ طاقت رکھی گئی ہے کہ وہ اس کائنات کے رازوں کو تہہ بہ تہہ سمجھ سکے‘ عوامل و عواقب کو معلوم کر سکے‘ مابعد وماقبل کا تعین کر سکے۔ اپنے ارادوں کی تکمیل کے لیے مواقع تلاش کر سکے اور اس کی خوبیوں سے فائدہ اٹھا سکے۔
معمولات میں باقاعدگی ایک ظاہری صفت ہے۔ اگر کہیں باقاعدگی پائی جاتی ہو تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کوئی بڑا اہم اور نازک کام مقصود ہے۔ اس کائنات میں ذرات کے اندر کی دنیا سے لے کر کھربوں کہکشانوں (galaxies) کا نظام دراصل وقت کی ایسی زنجیر سے بندھا ہے کہ جس کی بعض کڑیاں ایک سیکنڈ کے کھربوں حصے پر مشتمل ہے اور بعض کھربوں سالوں پر محیط ہیں۔ نوعِ وقت کی یہ وسیع تقسیم اور اس میں ربط کا مسلسل قائم رہنا ایک انوکھی صفت ہے۔ یہی باقاعدگی اورنظم‘ اسلام اہل ایمان میں بھی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ قرآن میں عبادات‘ معاہدات سے متعلق احکامات جب بھی آئے ہیں تو وقت کا ذکر حکم کی مناسبت سے ضرور کیا گیا ہے۔ شادی‘ طلاق‘ حرام و حلال‘ جہاد‘ انفاق اور نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ ان تمام امور کے متعلق آیات میں وقت کے پہلو پر بھی جابجا روشنی ڈالی گئی ہے۔ سود کی حرمت اس لیے کی گئی ہے کہ اس کو محض وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا اور چڑھتا سمجھ لیا گیا۔ انفاق کے بارے میں بتایا گیا کہ جہاد سے پہلے انفاق کرنے والے فتح کے بعد انفاق کرنے والوں سے بہتر ہوں گے۔ نماز کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ وقت کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔ سحری کے بارے میں بہت ہی باریک بینی سے وقت کا تعین کیا گیا ہے۔ نیک کام اس وقت اور اتنا ہی نیک تصور ہوگا جتنا وہ وقت کے لحاظ سے درست ہوگا‘ برموقع اور برمحل ہوگا۔ فرعون عذاب شروع ہونے کے بعد ایمان لایا‘ لہٰذا بے کار رہا۔ موت کا منہ دیکھ کر توبہ کرنا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔
باقاعدگی بالآخر مستقل مزاجی اور استقامت پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ جو ضعف انسان کے ارادے میں ودیعت کیا گیا اس کو ختم کرتی ہے‘ اور جو نسیان اُسے غفلت میں مبتلا کر دیتا ہے اس کا مقابلہ کرتی ہے۔ اسلامی معاشرت کی آبادیاںدن میں پانچ مرتبہ اللہ اکبر کی صدائوں سے لبریز ہوجاتی ہیں۔ اذان کی حیثیت ایک گھنٹے کی ہے۔ وقت کے پہروں پر اذان سن کر وقت کا مجموعی حساب رکھا جا سکتا ہے۔ یہ ایک لحاظ سے interactive clock ہے۔ اس لیے کہ اذان کے ساتھ جواب بھی دیا جاتا ہے۔ اس طرح وقت کا ہر پہر شہادت اور عبادت کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور ختم ہوتا ہے۔ مقصد گزرتے ہوئے دن کے ہر پہر کے سرے پر اللہ کی یاد کے لیے باقاعدگی سے نماز پڑھنا ہے۔ کائنات میں نظمِ وقت کی موجودگی دراصل اللہ تعالیٰ کی فطرت کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی کا اہتمام اہلِ ایمان سے بھی مطلوب ہے۔ یہ باقاعدگی اُس خود نظمی (self-organization) کو پروان چڑھاتی ہے جو اس کائنات کا خاصہ ہے۔ مغرب نے جو Time Culture دیا ہے اس کا خاصہ مشینی انداز سے وقت گزار کر محض تفریح و مسرت کے لیے وقت صَرف کرنا ہے۔
وقت ایک گواہ ہے۔ والعصر سے یہی بات واضح ہوتی ہے۔ سائنس دانوں کا بھی یہ خیال ہے کہ ہر سیکنڈ اور گھنٹہ یا کوئی بھی اور وقفہ درحقیقت ایک لفافے یا فائل کی صورت میں کھلتا اور اس عرصے میں وقوع پذیر ہر شے اور اُس کی کیفیت کا نقش محفوظ کرتے ہوئے چلا جاتا ہے۔ گویا وقت ایک گواہ ہونے کے ساتھ اپنا دفتر اور اپنا ریکارڈ خود رکھتا ہے۔ ذرات سے لے کر پہاڑوں کی چٹانوں میں‘ گلیشیئرمیں‘ یہ گواہی مرتسم ہے۔ اس کی زبان قدرتی ہے اور انسان اب تحقیق کے نتیجے میں قدیم زمانے میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کو جان لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ حقیقت تقاضا کرتی ہے کہ وقت کا استعمال وقت کے مقاصد کی روشنی ہی میں کیا جائے۔
تنظیمِ وقت کے اصولوں کو فہمِ وقت کے اسلامی تصورات کی روشنی میں آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ درج ذیل احادیث عملی زندگی کے لیے زبردست رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
رسولؐ اللہ فرماتے ہیں: ’’کوئی صبح نہیں ہوتی‘ جب کہ دو فرشتے نہ پکاریں کہ اے آدم کے بیٹے میں ایک نیا دن ہوں اور تمھارے اعمال پر گواہ ہوں۔ پس مجھ سے زیادہ فائدہ اٹھائو کیونکہ اب روزِ قیامت سے قبل نہ پلٹوں گا‘‘۔
گویا وقت ایک عظیم نعمت ہے کہ جو دوبارہ نہیں ملے گی۔ دولت‘ صحت اور دوسری اشیا سے محروم ہونے کے بعد دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن وقت کو نہیں--- یہ حدیث وقت کی منصوبہ بندی کی دعوت دیتی ہے۔ اس منصوبہ بندی کا مقصد وقت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ فائدہ کم وقت میں زیادہ کام کرنے ہی سے نہیں بلکہ صحیح وقت پر صحیح کام اور زیادہ دیرپا فائدے والے کام کرنے سے ممکن ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ ہر دن کو ایک نیا دن سمجھ کر شروع کرنا چاہیے۔ ہر روز ایک نیا یونٹ ہے‘ ایک نئی زندگی ہے۔
وقت انسان کا کتنا بڑا اور قیمتی ہتھیار ہے‘ اس کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسولؐ اللہ نے دو آدمیوں میں بھائی چارہ قائم فرمایا۔ پھر ان میں ایک شہید کر دیا گیا۔ پھر دوسرا ایک ہفتہ یا کم و بیش اسی مدت میں فوت ہوگیا۔ رسولؐ اللہ نے اُس کی نماز جنازہ پڑھی۔ اس کے بعد رسولؐ اللہ نے صحابہؓ سے پوچھا کہ اس کے بارے میں تم نے کیا کہا۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ یارسولؐ اللہ ہم نے دعا کی کہ اللہ اس کی مغفرت فرمائے‘ اس پر رحم کرے‘ اور اُسے اپنے ساتھی کے ساتھ ملا دے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ پھر اُس کی نماز اس کی نماز کے بعد اور اس کا عمل اس کے عمل کے بعد یا فرمایا اس کا روزہ اس کے روزے کے بعد کہاں گئے؟ ان دونوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان بھی نہیں ہے۔ گویا ایک ہفتہ کے نیک اعمال بھی اتنے کافی ہو سکتے ہیں کہ نہ صرف شہید کے درجے سے زیادہ بڑا درجہ مل جائے بلکہ جو فرق ہو وہ زمین اور آسمان سے بھی زیادہ ہو۔ ہر دن‘ ہر لمحہ‘ ہر گھنٹہ انتہائی قیمتی ہے۔ ہر دن کو کیسے گزارا جائے؟ یہ حدیث ملاحظہ کیجیے:
حضرت ابوذرؓ نبی اکرمؐ سے بیان فرماتے ہیں کہ ’’حضرت ابراہیم ؑکے صحیفوں میں یہ بات بھی ہے کہ عقل مند آدمی کے لیے ‘ جب کہ اس کی عقل کام کرے‘ لازم ہے کہ وہ اپنے اوقات اس طرح تقسیم کرے کہ اس میں کچھ گھڑیاں ایسی ہوں کہ ان میں اپنے رب کی مناجات کرے‘ کچھ گھڑیاں ایسی ہوں کہ ان میں اپنے نفس کا محاسبہ کرے‘ ایک گھڑی ایسی بھی ہو کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی شان صناعی میں غوروفکر کرے‘ اور ایک گھڑی ایسی بھی کہ اس میں اپنی ضروریات خوردونوش کے لیے فارغ ہو۔ اور عقل مند آدمی کا کام ہے کہ رخت سفر نہ باندھے مگر تین چیزوں کے لیے: آخرت کے توشے کے لیے‘ معاش کے سلسلے میں کاروبار کے لیے یا ایسی لذت کے حصول کی خاطر جو حرام نہ ہو۔ اور عقل مند آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے کودیکھنے‘ سمجھنے والا ہو‘ اپنی حالت پر توجہ دینے والا ہو اور اپنی زبان کی حفاظت کرنے والا ہو۔ جو آدمی اپنے کلام کو اپنا عمل سمجھتا ہو‘ اس کا کلام تھوڑا ہوگا مگر یہ کہ بامقصد باتیں ہوں‘ وہ ان ہی تک اپنے آپ کو محدود رکھے گا۔ (صحیح ابن حبان)
اوقات کی تقسیم کے چار اہم خانے بتائے گئے ہیں۔ مناجات و عبادات‘ ذاتی محاسبہ‘ کائنات و قدرت پر غوروفکر‘ خوردونوش و ضروریاتِ زندگی۔ سفر کہ جو زندگی کی ایک بڑی سرگرمی ہوتی ہے اس کے تین مقاصد بتائے گئے ہیں اور انسان کا رویہ اپنے زمانے کے ساتھ اپنی حالت کے ساتھ‘ اپنی زبان کے ساتھ کیا ہونا چاہیے۔ تنظیمِ وقت کا نسخہ اس حدیث میں بڑی خوب صورتی کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے--- زمانے سے بے پروا ہو کر زندگی گزارنا دین داری کا کوئی تقاضا نہیں۔ زمانے کو پلٹانے کی کوشش کرنا ہی درست رویہ ہے۔ وقت کے ساتھ صحیح سلوک وقت کے دھاروں سے بے تعلقی نہیں بلکہ مقصد میں نوعیت کا ضبط و عمل ہے۔
وقت ایک موقع لے کر آتا ہے۔ اس موقع کو کسی کام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے متعلق ایک حدیث بخاری میں حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ ’’دو نعمتیں ایسی ہیں کہ بہت سے لوگ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ایک صحت‘ دوسرے فارغ البالی۔ جو کام حالت ِ صحت اور فارغ البالی کی صورت میں ہوسکتے ہیں وہ کسی اور صورت میں ممکن نہیں۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں رسول ؐاللہ فرماتے ہیں کہ ’’دنیا اچھی ہے اس کے لیے جو اس سے اپنی آخرت کے لیے توشہ بنائے حتیٰ کہ اس کا رب اس سے راضی ہو جائے۔ (حاکم فی المستدرک)
وقت کی منصوبہ بندی --- دراصل زندگی کی منصوبہ بندی ہے۔ اور زندگی کی منصوبہ بندی کے لیے زندگی کی ترجیحات کا صحیح تعین ضروری ہے۔ دنیا اور آخرت کے تعلق کی سمجھ بھی ضروری ہے۔ چونکہ دنیا میں یہ موقع اللہ کی طرف سے نعمت ہے اس لیے اس کے خاتمے کی تمنا کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے وہ نیک ہو تو اس لیے کہ شاید نیکی میں اضافہ ہو اور برا ہو تو اس لیے کہ شاید توبہ کرلے۔ (بخاری)
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ موت کی تمنا نہ کرو‘ اس لیے کہ موت کی سختیاں جو آنے والی ہیں وہ بہت سخت ہیں‘ سو سعادت کی بات ہے کہ آدمی کی عمر لمبی ہو اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف رجوع کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
ظاہر ہے کہ جس کو زیادہ موقع ملا اور اس نے اس کا زیادہ فائدہ اٹھایا‘ اس کا اجر زیادہ ہونا چاہیے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عمل کا ہر ذخیرہ ناکافی محسوس ہوگا۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ ’’اگر بندہ پیدایش کے وقت سے لے کر بوڑھا ہونے تک اللہ کی اطاعت میں اپنے چہرے کے بل گرا پڑا ہو‘ تو اسے قیامت کے روز حقیر سمجھے گا اور چاہے گا کہ اسے دنیا میں لوٹا دیا جائے تاکہ اجروثواب میں اضافہ کرے۔ (مسنداحمد‘ رواہ محمد بن عمیرہ)
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: اے اللہ! تو میری اُمت کو اس کے بکور میں برکت دے۔ (الطبرانی فی الاوسط)
بکور سے مراد دن کا پہلا حصہ ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ ’’جس نے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی پھر وہ طلوعِ آفتاب تک بیٹھا رہا۔ اللہ کا ذکر کرتا رہا اور پھر اس نے دو رکعت نماز پڑھی تو اُس کا اجر حج اور عمرے کے برابر ہوا۔ آپؐ نے اسے تین مرتبہ فرمایا: تامۃ‘ تامۃ‘ تامۃ‘ یعنی حج و عمرے کا مکمل اجر۔
اس طرح رات کا مقصد جہاں سکون و آرام بتایا گیا ہے وہیں اس کے ایک حصہ کو عبادت اور مناجات کے لیے وقف کرنے کے بارے کہا گیا ہے۔ اختصار کے سبب یہاں تفصیل سے ان آیات و احادیث کا حوالہ نہیں دیا جا رہا ہے لیکن وقت کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اس ضرورت کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے۔ دن کے کاموں میں اللہ کی برکت‘ مشیت کی شمولیت اور زندگی کے راستے میں کامیابی کے ساتھ سفر کے لیے رات کی عبادت ناگزیر ہے۔
نمازباجماعت کی ادایگی وقت کے معمولات کو خود بخود ترتیب دے دیتی ہے ۔ یہ معمول اوقات کو بڑے حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ دیگر تمام مصروفیات کو نماز باجماعت کے اوقات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے سے بے انتہا سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔
یہ دعا بھی آئی ہے کہ ’’اے اللہ! میرے دن کے پہلے حصے کو درست‘ درمیانے کو کامیاب اور آخری کو آسان بنا دے اور میں تجھ سے دنیا و آخرت کی بھلائی مانگتا ہوں۔ لمبی عمر کا مطلب لمبی مدتِ عمل ہے۔ اگر مدتِ عمل کا استعمال درست ہو تو یہ باعث ِ فخر ہے ورنہ وبال اور تباہی۔ یہ تین حدیثیں خوشخبری بھی دیتی ہیں اور ڈراتی بھی ہیں۔
حضرت ثوبانؓ کہتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: تقدیر کوکوئی چیز بھی پھیر نہیں سکتی سوائے دعا کے‘ اور عمر میں کوئی چیز اضافہ نہیں کر سکتی سوائے حق شناسی اور نیکی کے۔ اوریقینا آدمی گناہ کی شامت سے کبھی رزق سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔
حضرت ابوصفوانؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا: سب سے بہتر آدمی وہ ہے جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو۔
حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہنے دیا جس کی عمر ۶۰ سال کو پہنچ گئی۔
فہمِ وقت کے بارے میں آخری بات یہ ہے کہ اگرچہ گزرا ہوا وقت واپس نہیں آسکتا لیکن گزرے ہوئے وقت میں کیے گئے برے اعمال کو نیک اعمال سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اسلام میں جہاں تزکیے کی تعلیم دی گئی ہے تاکہ حال اور مستقبل کی اصلاح ہو سکے وہیں توبہ اور استغفار کے ذریعے انسان اپنے ماضی کو درست کرسکتا ہے۔ جوبوجھ لدا ہوا ہو اس کو اتار پھینک سکتا ہے۔
اس طرح اسلام نے گزرے ہوئے وقت کو حال میں گرفت میں لے کر تبدیل کرنے کا راستہ بتایا ہے۔ یہ سہولت بار بار استعمال ہوسکتی ہے اور وقت کے معیار پر اور اس کے آئینے میں جب بھی انسان کو احساس ہو کہ یہ کام غلط ہوا تھا وہ واپس پلٹ سکتا ہے‘ اپنی اصلاح کر سکتا ہے۔ توبہ و استغفار کے ذریعے انسان اپنی پوری زندگی کو نئے سرے سے شروع کر سکتا ہے۔ زندگی اُمید کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر توکل اور اس کی رضا پر قناعت کے ذریعے آیندہ آنے والے وقت کو ماضی سے بہتربنایا جا سکتا ہے۔ ماضی ہمیشہ کے لییانمٹ نہیں ہے بلکہ بندے کی توجہ کا متلاشی ہے۔ جب بھی بندہ اپنا محاسبہ کرے اور ماضی کو دھونا چاہے تو وہ اس کے لیے ممکن ہے۔ ایک نیا انسان کسی بھی وقت اُبھرسکتا ہے۔ انسان اپنی زندگی کو ماضی کے برے عمال کے شکنجے سے نکال کر ازسرنو ترتیب دے سکتا ہے--- حقیقت یہ ہے کہ ماضی کو حال میں تبدیل کرنے کی جو قوت توبہ اور استغفار اور تزکیے میں موجود ہے‘ انسان کے لیے وقت کے سلسلے میں سب سے بڑی نعمت ہے۔
وقت کو عقیدئہ توحید کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو مغربی تصورات (اپریل ۲۰۰۳ئ) سے یکسر مختلف تصویر بنتی ہے۔ فہمِ وقت کا یہ انداز خلافت ِ ارضی پر مبنی انسانی زندگی کے تقاضوں اور ضروریات کا مکمل طور پر لحاظ رکھتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی شانِ تخلیق کو آشکار کرتا ہے‘ اس کی شانِ ربوبیت پر دلالت کرتا ہے اور بندے کو اپنے رب سے جوڑ دیتا ہے۔حقیقتاً یہ تصور انتہائی جان دار ہے۔
وقت پر غوروفکر ہرانسان کے بس میں ہے۔ گردش لیل و نہار‘ آئینہ ایام‘ اور تماشاے دنیا میں انسان مشاہدے‘ تجربے کے علاوہ ایک سرگرم کارکن کی حیثیت سے اثر لیتا ہے اور ڈالتا ہے۔ روز مرہ کے واقعات وقت کے مختلف پہلوئوں کو اُجاگرکرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وقت ایک ڈرانے والی اور جھنجھوڑنے والی شے ہے۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جو خوش کن کم اور خوف ناک زیادہ ہے۔ وقت سراب کی طرح نظر آتا ہے۔ انسان لمحات کی تلاش میں‘ گذشتہ اوقات کی یاد میں‘ اور توقعات کے پورا ہونے کے انتظار میں اور تیزی سے گزرتے ہوئے وقت کو کسی کام سے بھرنے کے بارے میں سوچتے سوچتے گزر جاتا ہے۔ یہ ایسا جام ہے جو غافل کو اور دھوکے میں رکھتاہے اور سوتے ہوئے کو اور مدہوش کر دیتا ہے۔ جو اس کے پیچھے ہوتا ہے‘ وقت اس سے آگے بھاگتا ہے۔
وقت مومن کے لیے نعمت ہوتا ہے۔ ایمان گزر جانے والے وقت کو محو نہیں ہونے دیتا بلکہ اس کو ہمیشہ کے لیے امر بنا دیتا ہے۔ ایمان وقت کے انتظار سے بچاتا ہے‘ قوتِ عمل کو بروے کار لانے کا داعیہ فراہم کرتا ہے۔ ہر لمحہ‘ ہر لحظہ‘ ہر آن ہمیشہ کی زندگی کا نیا باب کھول دیتا ہے۔ اللہ کی نصرت سے وقت سکڑتا ہے اور پھیلتا ہے۔ کام آسان ہو جاتے ہیں‘ راہیں کھل جاتی ہیں۔ مزید کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ جو زندگی پلک جھپکتے گزر جاتی ہے وہ ابدی و لازوال نعمتوں کی حقیر سی قیمت ٹھہرتی ہے۔ ایسی زندگی آہ! کاش! اور انتظار کی صعوبت سے ناآشنا رہتی ہے۔ وقت اس کی مٹھی میں بند رہتا ہے۔ جو وقت کے پجاری ہوتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں اور جو وقت کے شکاری ہوتے ہیں وہ اسے سر نگوں کر لیتے ہیں۔
وقت اللہ تعالیٰ کی ایک تخلیق ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ موزوں ہوگا کہ ایک ایسی تخلیق ہے جو دیگر مادّی تخلیقات سے قبل وجود میں آتی ہے۔ تخلیقی عمل کے تسلسل کا اسٹیج وقت کی لہر پر استوار ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تخلیقات کے درمیان رابطہ اور تعلق کا وسیلہ بھی ہے۔ اس لیے وقت پر غوروفکر انسان کو اللہ تعالیٰ سے قریب لے آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ حقیقی ہے۔ اس پر ایمان وقت کے معیار پر انسانی زندگی اور تمام مادّی اشیا کے فانی ہونے اور اللہ تعالیٰ کے ابدی وجود کو واشگاف حقیقت کو دیکھ کر ہو جاتا ہے۔ غیب تک رسائی وقت کے نظام پر غور کرنے سے ہو جاتی ہے۔ آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ نے وقت اور اس کی بعض خصوصیات کے بارے میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اللہ وہ زندۂ جاوید ہستی‘ جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے‘ اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ وہ نہ سوتا ہے اور نہ اُسے اونگھ لگتی ہے۔ زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے‘ اُسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی جناب میں اُس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے‘ اس سے بھی وہ واقف ہے اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز ان کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی اِلا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی ان کو دینا چاہے۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور اُن کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے۔ بس وہی بزرگ و برتر ذات ہے۔ (البقرہ ۲:۲۵۸)
اس آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے وقت کا وہ سانچہ یا معیار جو انسانی زندگی کے ساتھ متعلق ہے‘ استعمال نہیں ہو سکتاہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات نظمِ وقت کی خالق ہے‘ اور وہ خود تمام پہلوئوں سے اُس وقت کے نظام سے ماورا اور بالاتر ہے۔ اللہ زندہ و جاوید ہے‘ حّی و قیوم ہے۔ یہ وقت کا کون سا تصور ہے؟ اس کا ادراک شاید انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ زمین اور آسمان میں جو وقت برپا ہے اس کے محدود علم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اندازہ لگانا بہت بڑی غلطی ہوگی۔ یہ ایسے ہے کہ جیسے ہمیں معلوم ہے کہ اللہ جمیل ہے لیکن اس خوب صورتی کا ادراک انسانی ذہن کی صلاحیت سے باہر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وقت اور کام میں تھکن اور نیند کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں انسانی وقت دورے کی مانند چلتا ہے۔ جو روزانہ ایک بار ایک دورہ مکمل کرتا ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر ماہ و سال کا دورہ ہوتا ہے‘ اور پھر پوری زندگی اپنا دورہ مکمل کر لیتی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ انسان پہلے بچہ ہوتا ہے اور پھر مختلف ادوار سے گزر کر دوبارہ بچے کی طرح محتاج بن جاتا ہے۔ اس طرح زمانے کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بار بار لوٹ کر آتا ہے‘ عروج و زوال کی تصویریں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ سورۃ آل عمران میں آیا ہے کہ یہ تو زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں (آیت ۱۴۰)۔
اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے وقت نہ دورہ ہے اور نہ ہی کوئی لکیر جو کھینچ دی گئی ہو۔ علامہ اقبالؒ کے نزدیک اس کائنات کے وقت کی حیثیت ایک ایسے خط کی ہے کہ جو مسلسل حرکت پذیر ہے۔ اس کے سارے مراحل اور نقش عملاً پہلے سے بتائے نہیں جا سکتے ہیں۔ یہ تیر نہیں کہ جو چھوڑا جا چکا ہو۔
انسانی جسم وقت گزرنے کے ساتھ تھک جاتا ہے۔ وقت کا بوجھ اسے مجبور کر دیتا ہے کہ وہ کام سے دست بردار ہو جائے۔ آرام اور کام کا پھیر وقفوں کی شکل میں بار بار آتا ہے اور یہ طبعاً انسان کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ باور کراتا ہے کہ وہ اس سے بالاترہے۔ آیت الکرسی کی آیت کے درمیانی حصے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دوراتی نوعیت کا یہ وقت دراصل ایک مخصوص سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کا مدار مسلسل اس کو ایک منزل کی جانب لے جا رہا ہے۔ وقت بذاتِ خود حالت ِ سفرمیں ہے اور وقت کا وہ مرحلہ جو انسان دنیا میں گزارتا ہے ایک مہلت اور آزمایش کی شکل میں ہے۔ یہ وقت اپنا بڑا دورہ مکمل کر کے اُس مقام پر پہنچے گا جہاں اللہ تعالیٰ کے حضور واپسی ہوگی۔ دن اور رات کا پھیر‘ زندگی کا پھیر اور پھر زمین اور آسمان کے وقت کا پھیر اور آخر میں انسانیت اسی مرحلے پر واپس پہنچ جائے کہ جہاں سے سفرکا آغاز ہوا تھا۔
آیت الکرسی کے آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور اقتدار کی تصدیق فرماتے ہوئے علم کے احاطے کا ذکر کرتے ہیں۔ جو کچھ انسان کے سامنے ہے اور جو کچھ اوجھل ہے‘ اس میں سب کچھ آگیا ہے۔ عبادت کے لائق کوئی ایسی ہی ذات ہو سکتی ہے کہ جو وقت کی خالق ہو‘ جس کی مشیت وقت پر غالب رہ سکتی ہے اور جو وقت کی منزل یعنی آخرت کا مالک ہو۔جب کہ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ موت کے بعد زندہ ہوا اور زندگی کے بعد پھر موت سے ہم کنار ہوکر دوبارہ زندگی پاتا ہے۔ انسا ن اپنے وقت اور کام کے معاملے میں مجبور ہے۔ نہ وہ اپنے وقت پر قادر‘ نہ اپنے کام کو ازخود کر لینے کے لیے خودمختار۔ وہ محتاج ہے اور اپنے عالمِ قید سے باہر نہیں نکل سکتا ہے۔
آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ نے چار انداز کے اوقات بتائے ہیں۔ ایک وہ وقت جو زمین اور آسمان میں پائے گئے وقت کی پیمایش اور تصور سے مبرا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس کی تعریف صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کو سزاوار ہے۔ وہ خود زندہ ہے اور قائم ہے۔ وہ تمام مشرقین و مغربین اور میقات و قطبین کا خالق اور مالک ہے۔ دوسرا وقت وہ ہے جو زمین اور آسمان میں ہے۔ اس وقت کوسائنسی انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کی خصوصیات‘ تجزیہ اور فکر کے نتیجے میں واضح ہوسکتی ہیں۔ تیسرا وقت ہر انسان کا اپنا وقت ہے۔ یہ وقت زمین اور آسمان میں پائے جانے والے نظم وقت ہی کے تابع ہے۔ لیکن ہر انسان اپنی مخصوص مُہلت اور مدت کے لیے آتا ہے۔ چوتھا وقت آخرت کا وقت ہے۔
مغربی تصورات نے فہمِ وقت کی حدود سے آخرت کو بے دخل کرکے اس کو ایک ایسی ریل گاڑی بنا دیا ہے جس کے نیچے پٹڑی نہیں ہے۔ اور چونکہ پٹڑی نہیں اس لیے اس کا کوئی اسٹیشن بھی نہیں ہے۔ زمینی‘ کائناتی‘ انسانی‘ علمی‘ معاشرتی‘ تاریخی‘ کسی بھی نقطۂ نظر سے وقت کا تصور قائم کرنے کے لیے وقت کا سرا تلاش کرنا ہوگا۔ وقت کی منزل‘ اس کی ابتدا اور انتہا کا اندازہ لگانا ہوگا۔ وقت کی سمت سے لاعلمی یا بے توجہی کے نتیجے میں وقت ایک حسابی مشق بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کا میکانیکی تصور بے جان ہے اور انسانی زندگی کو مسخ کر دیتا ہے۔ وقت ایک ایسا معمہ ہے جس کی تہہ تک پہنچنے کے لیے انسان کو اپنے حس و شعور کی گہرائیوں اور تجرباتی و مشاہداتی صلاحیتوں کو استعمال کرنا ہوتا ہے۔ یہ ایک کیفیت بھی ہے اور حقیقت بھی۔ ایک قدر بھی ہے اور خبربھی۔ ایک قوت بھی ہے اور ہتھیار بھی۔ ایک موقع بھی ہے اور نتیجہ بھی۔
وقت کا آغاز حضرت آدم ؑ کی تخلیق سے قبل ہوا تھا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کی تخلیق سے قبل زماں و مکاں کی صورت گری اور ہیئت سازی کرنے کا اشارہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو‘ حالانکہ تم بے جان تھے‘ اس نے تم کو زندگی عطا کی‘ پھر وہی تمھاری جان سلب کرے گا‘ پھر وہی تمھیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا‘ پھر اسی کی طرف تم کو پلٹ کر جانا ہے۔ وہی تو ہے‘ جس نے تمھارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں‘ پھر اُوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کیے۔ اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے‘‘ (البقرہ ۲:۲۸-۲۹)۔انسان کو خلیفہ کی حیثیت سے بنانے سے قبل زمین کو انسان کے لیے تیار کر دیا گیا تھا اور زمین نے اپنا دورہ شروع کر دیا تھا۔ زمینی وقت میں دن اور رات کی گردش‘ موسمیاتی تغیرات‘ ماہ و سال‘ صدی و ہزاروں کا ایسا نظام بنایا گیا ہے کہ انسانی زندگی کی بقا اور اس کے تمدن کا ارتقا ممکن ہوجائے۔ تمام قدرتی عوامل وقت کے نظم کے پابند ہیں۔ ہر شے اور ہر فعل کے ساتھ وقت کی تقدیر مطلق ہے۔
زمینی وقت کا‘ جس کا اہتمام انسانی زندگی کو ممکن بنانے کے لیے کیا گیا ہے‘ نقطۂ اختتام قیامت ہے۔ یہ وہ دن ہے جب وقت کا دورہ تھم جائے گا۔ اس کا پھیر اس کو ایک ایسے مقام تک پہنچا دے گا جہاں یہ پورا نظمِ وقت تہس نہس ہوجائے گا۔ زمین اور آسمان کے درمیان جو کچھ ہے وہ وقت کے اس دورے اور پھیرے کے اُوپر اپنی زندگی کی بقا کے لیے منحصر ہے۔ کوئی شے‘ کوئی زمینی عمل‘ بس اتنا ہی پایدار ہو سکتا ہے جتنا کہ زمینی وقت۔ زمین اور آسمان کے درمیان ہر شے اس وقت کو قائم رکھنے اور اپنے عرصۂ حیات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وقت کے کندھوں پر یہ سفر اِن کو آغاز سے فنا کی طرف لے جاتا ہے۔
زمینی وقت کی خصوصیات میں اس کے نقطۂ آغاز‘ نقطۂ اختتام‘ دورے اور پھیرے کی شکل میں مسلسل حرکت‘ مدت اور مہلت کے تعین اور آخرت کی سمت کی جانب بہائو کے علاوہ ایک اور بڑی خصوصیت اس کا مختلف مرحلوں اور ادوار میں قابلِ تقسیم ہونا ہے۔ اس طرح واقعات کا ہونا ممکن ہو جاتا ہے اور وقت کا میدان مختلف مدارج سے گزرنے کے قابل بناتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی اُوپر پیش کی گئی آیت میں زمینی وقت کے ساتھ انسانی زندگی کی پانچ حالتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ انسان پہلے بے جان تھا‘ پھر اس نے زندگی پائی اور اپنے عرصۂ حیات کو مکمل کر کے دوبارہ بے جان ہوگیا۔ اس کے بعد پھر اسے زندگی دی جائے گی اور وہ اللہ کی طرف پلٹ کر جائے گا--- ہر انسان کی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقلی وقت کی اپنی منزل کی جانب مسلسل پیش رفت کا ثبوت ہے۔
انسانی شعور کو اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنے جسم و جان کے زمینی وقت کی حدود و قیود میں مجہور اور پابند ہونے کے باوجود آخرت اور اس کے بعد کے وقت کا نہ صرف ادراک کر سکتا ہے بلکہ غیب سے تعلق جوڑتے ہوئے آخرت اور دوزخ و جنت کی کیفیات کو پاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قریب ہو سکتاہے۔ انسان اور کسی بھی دوسری تخلیق میں جو زمینی وقت میں گرفتار ہے یہ ایک بنیادی فرق ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کی یہی صفت بیان کی ہے کہ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں‘‘ (البقرہ ۲:۴) ۔ گویا انسان آخرت کو اس انتہا تک دیکھ سکتا ہے جہاں اُس کو یقین ہو کہ وہ وقت موجود ہے‘ بلکہ اگر حضرت جبرئیل علیہ السلام کے اس سوال کے جواب میں کہ احسان کیا ہے؟ رسولؐ اللہ کے اس ارشاد پر غور کیا جائے کہ ’’تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ تم اللہ کو دیکھ رہے ہو۔ اگر تم اس کی قدرت نہیں رکھتے تو اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ وہ تمھیں دیکھ رہا ہے‘‘، یعنی غیب کو بغیر اپنی آنکھوں سے دیکھے انسان چشمِ بصیرت سے پا سکتا ہے اور اپنے دل میں جذب کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ انسان طبیعی لحاظ سے زمینی وقت کے تابع رہتے ہوئے بھی حقیقی طور پر آخرت کے وقت پر یقین رکھے اور اپنے آپ کو اُس کے لحاظ سے تیار کرے۔ تجرباتی و مشاہداتی سطح پر اس کا اس طرح ادراک کرے جیسے اس کو دونوں آنکھوں سے نظرآجانے والی کسی چیز کا ہو سکتا ہے۔ ایمان بالآخرت نام ہی بیک وقت دو اقسام کے وقت کی مختلف حالتوں اور اُن کے تقاضوں کو سمجھنے اور برتنے کا نام ہے۔ ایمان سے محرومی کے نتیجے میں انسان اپنے آپ کو آخرت کے وقت کے اُن عظیم تصورات اور اس کے لامتناہی اثرات سے الگ کر لیتا ہے۔ وہ ایک ساکت نما وقت کی سلسلہ وار حرکت اور اس کے بتدریج ماہ و سال کی صورت میں آگے بڑھنے کی حد تک محدود ہوجاتا ہے۔ وقت کا ایسا ساکت اور یک رُخا تصور انسانی زندگی کو بے معنی بنا دیتا ہے۔ زندگی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے سارے مراحل اوجھل ہو جاتے ہیں۔ انجامِ کار اور اتمام سعی کی فکر ختم ہوجاتی ہے۔ ذمہ داری اور جواب دہی کے ذریعے نظم پیدا نہیں ہو سکتا ہے۔ ظاہرہے زندگی کی تعریف اور اس کا تقاضا وقت کے آئینے ہی میں ہو سکتا ہے۔
کسی انسانی جان کی پیدایش یا اس کا خاتمہ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون کی نشانی ہوتا ہے‘ یہ آیت انسانی زندگی کے دورہ کو سمیٹ لیتی ہے۔اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے اور اسی طرف واپس لوٹ کر چلی جاتی ہے۔ کیلنڈر اور گھڑی کے بتائے ہوئے وقت سے ایک گاڑی کی طرح وقت کے آگے بڑھنے یا دریا کے بہنے کی طرح وقت کے گزرنے کا تاثر تو ملتا ہے لیکن وقت کا مہلت اور میعاد ہونے کا تاثر نہیں ملتا ہے۔
آخرت کے وقت کی فکر میں جذب ہو کر زمینی وقت کی مجبوریوں کو ختم کیا جا سکتا ہے‘ اس کی پابندیوں سے بالآخر آزاد ہوا جا سکتا ہے۔ زماں کی حدود‘ مکاں کی قیود کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ زماں و مکاں کا نظام انسانی زندگی کی استواری کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس کے خول سے ایمان کے نتیجے میں ہی باہر نکلا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر لیلۃ القدر کا انعام ایک ہزار مہینوں کی عبادت کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ ایک ہزار مہینوں کا مطلب ۳۰ ہزار دن یا ۸۳ برس سے زائد کی عمرہے‘ یعنی ایک رات یا پانچ راتوں کی عبادت ایک زندگی اور ایک عمر کے برابرقراردی گئی ہے۔ ۱۰ سال اگر لیلۃ القدر کا اہتمام کیا جائے تو ۱۰ زندگیاں نذر ہوگئیں۔ ایمان کے علاوہ وہ کون سا دوسرا راستہ ہے جو ایک رات کی یہ قیمت دے سکتا ہو۔ اس طرح ہر نیکی کا کم از کم اجر ۱۰گنا ہے اور زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر منحصر ہے۔ شہادت موت کو شکست دے دیتی ہے۔ موت کو موت کا شکار کر دینا نظمِ وقت کے طبیعی اصولوں کی اور سائنس دانوں کے فہم وفراست کی روشنی میں ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ صرف ایمان بالآخرت کی وجہ سے ممکن ہے۔
تاریخوں کے تعین کے لیے اسلامی کیلنڈر قمری حساب سے استوار ہوتا ہے۔ چاند زمین کے گرد گھومتا ہے اور زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’’اے نبی! لوگ تم سے چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو یہ لوگوں کے لیے تاریخوں کے تعین کی اور حج کی علامتیں ہیں‘‘ (البقرہ ۲:۱۸۹)۔ اس آیت سے قبل جو آیت ہے وہ لوگوں کے مال ناروا طریقے سے نہ کھانے کی ہدایت کرتی ہے۔ شمسی نظام کو اختیار کرنے کی ایک وجہ دراصل سودخوری تھی۔رومی دور میں سود کا حساب رکھنے کے لیے کیلنڈر کی صورت میں ایام اور ماہ و سال کا حساب رکھا جانے لگا۔ اس کے نتیجے میں موسم اور دوسرے قدرتی تغیرات کا حساب تو رکھا ہی جاتا تھا۔ اسلام کیلنڈر کے لحاظ سے قمری اور دن میں عبادات کے اوقات کے تعین کے لیے سورج کو ذریعہ بناتا ہے۔ نمازوں اور رمضان میں سحروافطار کا حساب سورج سے ہوتا ہے‘ جب کہ رمضان اور حج کا حساب چاند سے رکھا جاتا ہے۔ چاند کے ذریعے وقت کا دوراتی حساب رکھا گیا ہے اور سورج کے ذریعے وقت کا سلسلہ جاتی حساب رکھا گیا ہے۔ وقت کا پیغام دورے کے لحاظ سے پلٹنے کا ہے‘ گھیرا مکمل کر جانے کا ہے اور مدت کے لحاظ سے دو واقعات کے درمیان عرصے کی پیمایش کا ہے۔ اسی لیے گھڑی سورج کے حساب سے مدت بتاتی ہے۔
وقت کے ذریعے سے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ انسانی عمل کا وسیلہ وقت کی سواری ہے۔ وقت کے دو مرحلوں میں جو تبدیلی واقع ہوتی ہے وہ ایک واقعے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا یہ اوّلین مظہر توحید کا بھی بہت بڑا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ قرآن میں آتا ہے کہ ’’اللہ ہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور وہی مردہ کو زندہ سے خارج کرنے والا ہے۔ یہ سارے کام کرنے والا تو اللہ ہے‘ پھر تم کدھر بہکے چلے جا رہے ہو؟ پردئہ شب کو چاک کر کے وہی صبح نکالتا ہے۔ اسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے۔ اسی نے چاند اور سورج کے طلوع و غروب کا حساب مقرر کیا ہے۔ یہ سب اسی زبردست قدرت اورعلم رکھنے والے کے ٹھیرائے ہوئے اندازے ہیں‘‘۔ (الانعام ۶:۹۶)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ وقت کو‘ وقت کے ساتھ ارتقا کو‘ تخلیق کے تسلسل کو‘ زندگی اور موت کے مدارج کو‘ توحید کی دلیل کے طور پر پیش کر رہا ہے‘ یعنی وقت‘ توحید‘ اور تخلیق ان تینوں کا تعلق اس آیت میں ظاہر ہے۔ مغرب کے مادی اور مشینی تصور کے مقابلے میں اسلام وقت کو زبردست تخلیقی تحریک اور قوتِ کار کے طور پر پیش کرتا ہے۔
سورج اور زمین اپنے محور اور مدار پر ہیں۔ لیکن اِن کے تعلق میں اس انداز سے تبدیلیاں آتی ہیں کہ اس دنیا میں نباتات‘ جمادات‘ حیوانات اور انسان کی زندگی کی بقا ‘ نسل کے تسلسل اور پھیلائو کا اہتمام ہو جاتا ہے۔ دن اور رات کا اختلاف‘ رات کی تاریکی میں دن کا نکل آنا اور دن کی روشنی کا ڈھل کر دوبارہ رات ہوجانا‘ یہ ایک ایسا عمل ہے جو اپنے اندر معانی کا ذخیرہ رکھتا ہے۔ دن اور رات کا اختلاف درحقیقت دو متضاد اور مختلف حالتوں کی موجودگی کی دلیل ہے۔ اس دنیا میں بھی ایسا ہی ہے۔ دو قوتیں حق اور باطل کی ہیں‘ خیر اور شر کی ہیں‘ ایمان اور کفر کی ہیں۔ دن کی روشنی دعوتِ عمل دیتی ہے‘ رات کی تاریکی طلبِ سکوت لے کر آتی ہے۔ دن کا پوری طرح سے روشن ہو کر پھربتدریج مدہم ہو جانا اور رات کے سماں کا چھا جانا‘ اس دنیا کی عارضی چکاچوند کا ثبوت ہے۔ فنا ہو جانا اور ختم ہو جانا جو اِس کا مقدر ہے‘ اُس کا اظہار ہے۔ جس خدا کے ہاتھ میں دن اور رات کا آنا اور جانا ہے اس کے ہاتھ میں عزت و ذلت بھی ہے۔ زندگی کے بعد موت کی یاد دہانی کے لیے شام کا اور پھررات کا آنا بہترین تذکیر ہے۔
دن اور رات کا مسلسل ایک ڈھب پر اور ایک اصول کے مطابق آنا اور جانا‘ اس کائنات میں تنظیم‘ ترتیب‘ اور پیہم حرکت کی نشانی ہے۔ جمود کے مقابلے میں تبدیلی پر مبنی فطرت کا اظہار ہے۔ تغیر اور تبدل کا پیغام ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ ہونا‘ اس کے تقاضوں کا مؤثر جواب دینا‘ اس کی ضرورت کا شعور اور احساس کرنا‘ کامیاب زندگی کا تقاضا ہے۔ انسان کی زندگی کو جہاں سورج کی حرارت چاہیے تاکہ روشنی اور گرمی پہنچے ‘ وہیں رات کا سکون اور ٹھنڈک بھی چاہیے تاکہ قوتِ عمل کو تازہ کیا جائے اور زندگی کو جو گھر اور باہر تقسیم ہو جاتی ہے‘ مربوط کیا جائے۔ زندگی کے خارجی اور اندرونی پہلوئوںمیں توازن پیدا کیا جائے۔دن کو دنیا نظر آتی ہے اور خوب متاثر کرتی ہے‘ اپنے آپ سے وابستہ کرلیتی ہے۔ رات کو آسمان کے نیچے ستاروں کا خوب صورت ہجوم نظر آتا ہے۔ نگاہ اُوپر اٹھ جائے تو واپس نہیں آتی۔
دن اور رات کا آنا اور جانا موسمیاتی تبدیلیاں لے کر آتا ہے۔ ہوائوں اور بارش کا نظام‘ درجۂ حرارت کی تبدیلیاں اسی عمل سے وابستہ ہیں۔ زمین کے سینے میں چھپا ہوا دانہ اللہ تعالیٰ کی توجہ سے کونپل بن کر نکلتا ہے۔ مختلف موسم مختلف انواع وا قسام کے پھل لاتے ہیں۔ زمین میں زندگی پانا تو ویسے ایک دفعہ ہی ہوتا ہے اور زندگی کا موت کی صورت میں تبدیل ہونا بھی۔ لیکن روزانہ اُٹھنے اور سونے کا جو انسانی عمل ہے اس کو بھی زندگی اور موت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’وہی ہے جو رات کو تمھاری روحیں قبض کر لیتاہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے۔ پھر روز وہ تم کو اس کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو۔ آخرکار اسی کی طرف تمھاری واپسی ہے۔ پھر وہ تمھیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو (الانعام ۶:۶۰)۔ زندگی اور موت جیسی حالت میں‘ روزانہ مبتلا کرنے کا مقصد‘ اس بات کو مسلسل تازہ رکھتا ہے کہ ایک وہ وقت آئے گا جب بند ہونے والی آنکھ دوبارہ حسب معمول نہیں کھلے گی اور جب اس دنیا سے رشتہ کٹ جائے گا۔ اس لحاظ سے طبیعی وقت ایک ڈرانے والا وقت ہے۔ یہ لرزہ طاری کرنے کے لیے کافی ہے۔ جس وقت میں الحاقۃ‘ القارعۃ ‘ الواقعہ جیسے ہولناک موڑ کا آنا یقینی ہو‘ اس کا ہر لمحہ کتنی نازک ذمہ داری لے کر آتا ہے۔
دن اور رات کے عمل کے بغیر زمین اور آسمان کی تخلیق مکمل نہیں ہو سکتی تھی۔ وقت کا جو نظام اس طرح تشکیل پا گیا وہ ایک قرینہ فراہم کرتا ہے‘ ایک فطری اسلوب اور قدرتی ڈھانچا بن جاتا ہے۔ اس کائنات کی ہر شے اپنے نمو اور ارتقا کے نظام کے لیے لیل و نہار کی گردش کی تابع ہے۔ تخلیق کا یہ عمل دن اور رات کے رُک جانے پر ختم ہو جائے گا۔ لیکن یہ بس ایک نظام ہے جس کا ایک مقصد ہے۔ قرآن بار بار اس نظام کی جانب توجہ اس لیے مبذول کراتا ہے کہ وہ مقصد واضح ہو جائے جس کے تحت یہ نظام چل رہا ہے۔
حضرت ابراہیم ؑ نے جب وقت کے خول سے باہر نکل کر اپنے وجدان اور شعور کا استعمال کیا تو وہ نظمِ وقت کے ظاہری عمل یعنی چاند‘ سورج اور ستاروں کی دوڑ سے دھوکا کھانے سے بچ گئے۔ اُن کو دوسری نظر میں معلوم ہوگیا کہ یہ تو خود محکوم ہیں۔ آپ کی یقین افروز بصیرت نے پھر اُس کو پا لیا جو غیب کے پردوں میں بظاہر چھپا ہوا ہے لیکن سب کا خالق ہے اورخوب واضح ہے۔ سورج باوجود بڑے اور بھاری اور خوب روشن ہونے کے محض ایک علامت تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ اس طرح غوروفکر کے عمل سے گزر کر ایمان و یقین کی لازوال نعمت سے مالا مال ہوگئے۔ ان کو اُبھرتے اور ڈوبتے وقت نے یہ بتا دیا کہ یہ سب کچھ ایک مقصد کے تحت خالق کے اشارے پر ہو رہا ہے۔ وقت نے وہ رخ متعین کر دیا جس کی طرف پھر کر حضرت ابراہیم ؑ یکسو ہوگئے۔ ’’میں نے تو یکسو ہو کر اپنارخ اس ہستی کی طرف کر لیا ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے‘‘ (الانعام ۷:۷۸)۔ (جاری)
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے دولت اور آمدنی کو اللہ کا فضل قرار دیا ہے:
فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ o (الجمعہ ۶۲: ۱۰)
پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو تاکہ تمھیں فلاح نصیب ہو جائے۔
سورہ مزمل کی بیسویں آیت میں بھی یہی عبارت اِبْتَغَائَ فَضْلِ اللّٰہِ آئی ہے۔ حدیث میں آیا ہے:
حلال کمائی کی کوشش فرض (نماز) کے بعد ایک فریضہ ہے۔ (مشکوٰۃ ‘ کتاب البیوع ‘ باب الکسب وطلب الحلال بحوالہ بیہقی فی شعب الایمان)
اور امام بخاری نے اپنی کتاب الادب المفردمیں یہ حدیث نقل کی ہے:
نیک آدمی کے لیے پاک مال کیا خوب چیز ہے۔ (بخاری‘ الادب المفرد‘ ص ۴۵-۴۶ ‘ المطبعۃ التازیہ‘ مصر ۱۳۴۹ھ)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ادایہ دعا بھی روایت کی ہے:
اللھم انی اعوذبک من الفقر والقلۃ والذلۃ
الٰہی! میں تیری پناہ چاہتا ہوں غربت‘ تنگ دستی اور ذلت (و خواری) سے۔ (بخاری‘ الادب المفرد‘ ص ۹۹‘ المطبعۃ التازیہ‘ مص ۱۳۴۹ھ)
اس حدیث سے واضح ہے کہ غربت کی زندگی‘ احتیاج کی زندگی‘ وقار کی زندگی نہیں ہوتی بلکہ ذلت کی طرف لے جاتی ہے‘ نیز آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ: ’’کبھی غربت کفر تک پہنچا دیتی ہے‘‘۔
ابن ماجہ نے تجارت کے بارے میں یہ حدیث روایت کی ہے:
سچا‘ امانت دار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔ (بیہقی‘ شعب الایمان)
مزید روایات نقل کیے بغیر‘ عام طور پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حسن نیت کے ساتھ اسلامی آداب و اخلاق کی پابندی کرتے ہوئے ہر طرح کی معاشی تگ و دو کی قدر کی گئی ہے اور اس کی ہمت افزائی فرمائی گئی ہے۔
جہاں تک فقہ اسلامی کا تعلق ہے‘ اس سے تفصیلی استشہاد کے لیے تو یہ مقالہ کافی نہیں ہوگا‘ صرف اس اصول کا ذکر کافی ہوگا کہ
جس کے بغیر کوئی فریضہ مکمل نہ ہو تو وہ چیز بھی واجب ہے۔(ابن ماجہ‘ ابواب التجارات‘ باب الحث علی المکاسب)
اس اصول کی روشنی میں اس آیت کریمہ کے تقاضے پر بھی غور کرنا چاہیے جس میں مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ دشمنان اسلام کے مقابلے کی ہر طرح سے تیاری کریں۔ ظاہر ہے کہ دور جدید میں دفاعی اور جنگی تیاری ایک مضبوط معاشی بنیاد چاہتی ہے۔
وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّا اللّٰہِ وَعَدُوَّکُمْ وَاٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِھِمْ ج لاَ تَعْلَمُوْنَھُمْ ج اللّٰہُ یَعْلَمُھُمْ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْ ئٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْ لاَ تُظْلَمُوْنَ o (الانفال ۸:۶۰)
اور تم لوگ‘ جہاں تک تمھارا بس چلے‘ زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعدا کو خوف زدہ کر دو جنھیں تم نہیںجانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے‘ اس کا پورا پورا بدل تمھاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمھارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا۔
آیات ‘احادیث اور فقہ کی مذکورہ بالا دلیلوں کے پہلو بہ پہلو ہمارے پاس سنت نبویؐ اور عہد خلافت راشدہ کے قولی نظائر موجود ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ معاشی تدابیر کی طرف پوری توجہ دی گئی اور معاشی وسائل فراہم کرنے میں کسی طرح کی جھجک کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔
نبی کریمؐ جب نبوت کے تیرھویں سال مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو بڑی تعداد میں آپؐ کے دوسرے ساتھی بھی مدینہ آگئے۔ رہنے کے لیے گھر تو ان میں سے کسی کے پاس نہ تھا‘ اکثر کے پاس ایک وقت کے کھانے کا بھی کوئی انتظام نہ تھاکیونکہ وہ اپنے مال و اسباب ساتھ نہ لا سکے تھے۔ اس ہنگامی صورت حال سے نبردآزما ہونے کے لیے نبی اکرمؐ نے ہر مہاجر کو مدینہ میں رہنے والے کسی باشندے کا بھائی بنا کر اس کے ساتھ ٹھہرا دیا۔ اس طرح انصار اور مہاجرین کا بھائی چارہ‘ ’’مواخاۃ‘‘ وجود میں آیا۔ مگر مہاجرین نے اپنے انصاری بھائیوں پر بار بننا گوارا نہ کیا اور بعض حضرات نے تو ایک دن کی تاخیر کے بغیر بازار کا راستہ پوچھا اور اپنی روزی خود کمانے کے راستے تلاش کرلیے۔
نبی کریمؐ کی ہجرت سے پہلے آپؐ کے ایما پر بعض مسلمانوں نے حبشہ کو ہجرت کی تھی۔ یہ لوگ جن کی تعداد بالآخر سو سے زیادہ ہو گئی تھی‘ نبی اکرمؐ کے مدینہ پہنچنے کے بعد رفتہ رفتہ حبشہ سے مدینہ آنے لگے مگر ایک معتدبہ تعداد اس کے بعد بھی کئی برس وہاں ٹھہری۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہاں وہ پناہ گزیں بن کر کسی کی امداد کے سہارے نہیں رہ رہے تھے بلکہ تجارت اور کسب معاش کے دوسرے طریقے اختیار کر کے اپنے پیروں پر کھڑے ہوتے گئے۔
۶ہجری میں خیبر کی فتح اور اس کے بعد ہجرت کے آٹھویں سال مکہ کی فتح سے مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر ہو گئی۔ پھر خلافت راشدہ کے ۳۰ برسوں میں تو مدینہ میں بسنے والے مسلمانوں کے ہاتھوں میں کافی دولت آئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انھوں نے اس سے پورا فائدہ اٹھایا‘ اپنی ذاتی زندگی میں بھی اور اجتماعی زندگی میں بھی۔ اجتماعی زندگی میں دولت کے استعمال کی نمایاں شکلوں میں کنویں یا زرعی زمین کو وقف علی اللہ کے طور پر سماج کے حوالے کر دینا‘ جہاد کی ضروریات کے لیے اسلحے‘ سواریاں اور نقد مال پیش کرنا اور آگے چل کر مسجدیں اور راستے میں قیام گاہیں وغیرہ پبلک عمارتوں کا تعمیر کرانا شامل ہے۔
اسلام کی ابتدائی تاریخ سے مزید استشہاد کی بجائے اب ہم اپنے اصل سوال کی طرف لوٹتے ہیں: جب قرآن و سنت میں اصولاً‘ اور عہدنبویؐ اور خلافت راشدہ کے زمانے میں عملاً معاشی عوامل کی اہمیت کماحقہ تسلیم کی جاتی تھی تو پھر بعد کے ادوار میں وہ صورت حال کیسے پیدا ہوئی جس کا اوپر ذکر آیاہے۔ کیا بات ہے کہ گذشتہ دو صدیوں میں بالعموم اور بیسویں صدی میں خاص طور پر جب مسلمان علما اور دانش وروں کو اُمت کی کمزور حالت‘ مسلمان ممالک کی خستہ حالی اور بحیثیت مجموعی اسلامی تہذیب اور مسلمانوں پر زوال کے آثار چھائے ہوئے نظر آئے اور انھوں نے اس زوال کو دوبارہ عروج سے بدلنے کے لیے تحریر‘ تقریر اور عملی جدوجہد کے ذریعے کوششیں شروع کیں تو ان تحریروں‘ تقریروں اور کوششوں میں معاشی عوامل کی کماحقہ اہمیت کا احساس نہیں ملتا۔
گذشتہ ۵۰ برسوں کی تاریخ میں ایک ایسا نمونہ سامنے آیا جس کو دیکھ کر ہر اس فرد‘ جماعت اور قوم کو سبق سیکھنا چاہیے تھا جس کو اپنے ضعف کو قوت سے‘ ذلت کو عزت سے‘ اور زوال کو عروج سے بدلنے کی فکر دامن گیر ہو۔ یہ نمونہ جاپان نے پیش کیا ہے۔ ۱۹۴۵ء میں ایٹم بم گرائے جانے کے بعد لڑائی میں ہار ماننے کے نتیجے میں اس ملک کو بڑی ذلت و خواری کے دَور سے گزرنا پڑا۔ سارے ملک کی معیشت جنگ کے بار سے تباہ تھی امریکی تسلط نے جلد پنپنے کے راستے بھی بند کرنا چاہے‘ مگر ۳۰‘ ۳۵ سال کی مختصر مدت میں جاپانی قوم نے دن رات کی محنت سے جاپان کو دُنیا میں امریکہ کے بعد دوسری زرعی معیشت کے درجے تک پہنچا دیا جس کی مسابقت سے امریکی معیشت کوپسینہ چھوٹنے لگا۔
سب جانتے ہیں کہ اس کا راز معاشی ترقی کے لیے وہ بے مثال جدوجہد ہے جس نے تعلیم گاہوں‘ کارخانوں اور ایوان ہاے تجارت میں عمل پیہم کی روح پھونک دی تھی۔ اگر ہم نے نہ اپنی تاریخ سے سبق سیکھا‘ نہ دوسروں کے تجربے سے سبق حاصل کیا تو کوئی وجہ ضرور تھی۔ اس وجہ یا ان وجوہ کی تحقیق‘ بحث طلب ہے۔ علما اور دانش وروں کو اس کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔ یہاں مقالہ نگار اس سلسلے میں اپنی یہ رائے پیش کرنا چاہتا ہے کہ بعض تاریخی عوامل کے سبب دوسری صدی ہجری میں بعض دین داروں نے دولت کمانے‘ بچانے اور بچت کے نفع آور استعمال کو دینی سند سے محروم کر کے عامۃ المسلمین کے دلوں میں اس کی طرف سے شک پیدا کر دیا‘ چنانچہ دین داروں میں کسب مال اور تکوین ثروت اور اس کے ذریعے معاشی قوت کے حصول کا رجحان کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا گیا۔ یہی صورت حال اب بھی قائم ہے۔
مذکورہ بالا رائے کی تائید‘ طویل تاریخی استدلال کی محتاج ہے جس کا نہ تو یہ مقالہ نگار اپنے کو اہل پاتا ہے‘ نہ ایک مقالہ اس کا متحمل ہی ہو سکتا ہے۔ البتہ سوچنے کی بنیاد کے طور پر یہ ایک قابل توجہ بیان ضرور ہے۔ ذیل میں ہم اس بیان کی مزید تشریح کریں گے۔
ہم جانتے ہیں کہ تمام آسمانی مذاہب‘ بالخصوص اسلام نے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ اصل زندگی‘ موت کے بعد کی دائمی زندگی ہے‘ رہی دُنیا کی زندگی‘ تو وہ ناپایدار ہے‘ جانے کب کس کی موت آجائے۔ ایمان داری کی بات یہ ہے کہ جب فرد انسانی کو عقیدئہ حیات بعد الممات پر مکمل یقین ہو جاتا ہے تو دُنیا اور اس کی زندگی کا اس کی نظر سے گر جانا کوئی غیر متوقع بات نہیں ہے۔
چنانچہ اکثر مذاہب میں جلد یا بدیر ترک دُنیا کا رجحان قوت پکڑ گیا۔ اس کی سب سے بڑی مثال عیسائیت کی تاریخ پیش کرتی ہے۔ مگر اسلام نے یہ جتلا کر انسان کو اس فکری غلطی سے بچایا کہ آخرت کی فلاح کا انحصار اسی دُنیا کی زندگی میں انسان کے عمل و کردار پر ہے۔
اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمًلاً ط (الملک ۶۷: ۲)
جس نے موت اور زندگی بنائی تاکہ تم کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔
دُنیا کو امتحان گاہ قرار دیتے ہی اس کی اہمیت آسمان پر پہنچ گئی۔ یہ درست ہے کہ حیات بعد الموت ابدی ہے‘ اور حیات دُنیا عارضی مگر اسی عارضی زندگی کو اللہ کی مرضی کے مطابق گزار کر آخرت کی فلاح حاصل کی جا سکتی ہے‘ اس مقصد تک پہنچنے کا کوئی دوسرا مختصر راستہ (shortcut)نہیں ہے جو دُنیا کی زندگی سے کترا کر گزر جاتا ہو۔ چونکہ عیسائی علما اور عبادت گزار اس غلط روش میں مبتلا ہو چکے تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں بات کو بالکل واضح کر دیا:
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰھِیْمَ وَجَعَلْنَا فِی ذُرِّیَّتِھِمَا النُّبُوَّۃَ …… وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ o (الحدید ۵۷: ۲۶-۲۷)
ہم نے نوح ؑاور ابراہیم ؑکو بھیجا اور ان دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی۔ پھر ان کی اولاد میں سے کسی نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے فاسق ہو گئے۔ ان کے بعد ہم نے پے درپے اپنے رسول بھیجے اور ان سب کے بعد عیسٰی ابن مریمؑ کو مبعوث کیا اور اس کو انجیل عطا کی‘ اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ان کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا‘ اور رہبانیت انھوں نے خود ایجاد کرلی‘ ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا‘ (ہم نے تو ان پر) صرف اللہ کی مرضی چاہنا فرض کیا تھا۔ چنانچہ وہ رہبانیت کی پابندی کا حق نہیں ادا کرسکے۔ ان میں سے جو لوگ ایمان والے تھے ان کا اجر ہم نے انھیں ادا کر دیا مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔(۱)
کتنی واضح بات ہے! امتحان اس میں ہے کہ تمام کارہاے دُنیا خدا کی مرضی کے مطابق خدا کی مرضی کی طلب گاری میں انجام دیے جائیں۔ اللہ نے انسان پر یہی ذمہ داری ڈالی تھی لیکن بعض لوگوں نے اپنی دانست میں آگے بڑھ کر ترک دُنیا کا نسخہ اختیار کر لیا مگر یہ طریقہ انسانی فطرت سے ہم آہنگ نہ تھا۔چنانچہ عام طور پر لوگ اسے برت نہ کر سکے بلکہ بھٹک کر فسق و فجور میں مبتلا ہو گئے۔ ترک دُنیا یا رہبانیت کواسلام نے ردّ کر دیا ہے‘ مسلمانوں کو اس سے دُور رہنا چاہیے اور عیسائیوں نے اس راہ پر چل کر جو پایا‘ جو کھویا‘ اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
خلافت راشدہ کے بعدحکمرانوں کے طریقے بدل گئے‘ ان کا رہن سہن‘ ان کے ارد گرد پائے جانے والے لوگ‘ ان کے مقرر کردہ افسران … ان سب سے دین دار مسلمانوں میں عام طور پر‘ اور علما و مشائخ میں خاص طور پر یک گونہ بیزاری پیدا ہو گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ روایت پختہ ہوتی گئی۔دین دار لوگ‘ علما اور بزرگان ملت نہ صرف دربار سے کنارہ کش رہے بلکہ جو لوگ کسی بھی درجے میں امور حکمرانی اور انتظام و انصرام مملکت سے وابستہ رہے‘ ان کو بھی ہدف تنقید بناتے رہے اور ان کی سرگرمیوں کو بھی۔ ظن غالب ہے کہ ابتدا میں ان کا منشا یہ رہا ہوگا کہ لوگ کاروبار دُنیا میں اسلامی حدود کے پابند رہیں اور بنوامیہ اور بنوعباس کے ان حکمرانوں کے طریقے پر نہ چلیں جنھوں نے شریعت کی بیشتر حدود پامال کر رکھی تھیں اور جن کی عملی زندگی ‘ اسلامی اخلاق و آداب سے بہت دُور تھی جس کے نتیجے میں ایک ایسی ذہنی فضا بننے لگی جس میں عام طور پر یہ سمجھا جانے لگا کہ امور دُنیا میں زیادہ انہماک اخلاص اور تقویٰ کے اعلیٰ ترین معیاروں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں۔
قیاس یہی ہے کہ ایسی فضا بننے میں عجمی تصوف کے اثرات کو بھی دخل رہا ہوگا جس کے علم بردار صرف عیسائی علما اور راہب نہیں تھے بلکہ جس کے بعض علم بردار ایران اور ہندستان سے بھی بغداد (دارالخلافہ خلافت عباسیہ ۱۳۴ھ-۶۵۸ھ/۷۵۱ء-۱۲۵۸ء) پہنچنے لگے تھے۔ چنانچہ اسلامی تصوف کی سب سے اونچی شخصیت‘ حضرت حسن بصری (م ۱۱۰ھ/۷۲۸ء) کے شاگردوں کے بارے میں ذکر ملتا ہے کہ وہ عیسائیوں کے لٹریچر کا مطالعہ کرتے تھے۔ ان کے دینی مراکز پر جاتے تھے اور ان کے علما و اکابر سے ان کی بات چیت اور ملاقات رہتی تھی۔ ان بزرگوں میں مالک بن دینار (م ۱۳۱ھ/۷۴۷ء) کی شخصیت سب سے نمایاں تھی اور ان ہی کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ تجرد کی زندگی اختیار کرنے کی دعوت دیتے تھے اور ان پر زہد و تقشف کا غلبہ تھا۔(۲)
یہ باب بہت طویل ہو سکتا ہے‘ اسے آیندہ آنے والے محققین کے لیے چھوڑتے ہوئے ہم اب ایک دوسرا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ ہم ذیل میں امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد خاص‘ امام محمد بن الحسن شیبانی کی کتاب الکسب کا قدرے تفصیلی تجزیہ کریں گے۔(۳) امام محمد کا انتقال (۱۸۹ھ/۸۰۵ء) میں ہوا ہے۔ گویا جب یہ کتاب لکھی گئی تو مالک بن دینار اور ان جیسے دوسرے بزرگ بھی اُسی شہر‘ بغداد میں موجود تھے‘ جیساکہ ذیل کے تعارف سے واضح ہوگا۔ اس کتاب کی تالیف کا مقصد ہی یہ تھا کہ مسلمانوں کے درمیان اہل تصوف کے ذریعے جو غیر متوازن رویہ‘ معاشی امور کے بارے میں پھیل رہا تھا‘ اس کی روک تھام کی جائے۔
پہلے تو امام محمد نے آیات و احادیث کی روشنی میں یہ واضح کیا ہے کہ روزی کمانا ہر مسلمان پر فرض ہے(عبدالفتاح ابوغدہ‘ ص ۲۱-۲۲)۔ پھر جب انھوں نے روزی کمانے کے طریقوں پر گفتگو شروع کی توضروری سمجھا کہ یہ بھی لکھیں: ’’روکھی سوکھی زندگی گزارنے والے(عبدالفتاح ابوغدہ‘ کتاب الکسب‘ ص۷۱- ۸۰)۔ بعض جاہلوں اور اہل تصوف میں سے بعض احمقوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ روزی کمانا حرام ہے‘ صرف ضرورت پڑنے پر ایسا کیا جا سکتا ہے اور وہ بھی بقدر ضرورت جیسے کہ کوئی مردار کھائے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ کسب سے اللہ پر توکل کی نفی ہوتی ہے یا اس میں کمی آجاتی ہے‘ جب کہ ہمیں توکل کا حکم دیا گیا ہے‘‘(عربی عبارت اھل التقشف (۳) عبدالفتاح ابوغدہ‘ ص ۸۱)۔اِن سطروں کے بعد کتاب میں تین چار صفحات تک اہل تصوف کی اسی طرح کی دلیلیں نقل کر کے ۱۰ صفحات (۸۵-۹۵) ان کی دلیلوں کے ردّ میں لکھے ہیں اور ان صفحات کے آخر میں یہ ریمارک بھی پاس کیا ہے:
ان صوفیہ کی اس بات پر حیرت ہے کہ جب کوئی دوسرا اپنے ہاتھوں کی کمائی سے یا اپنی تجارت کے نفع میں سے ان کی دعوت کرتا ہے تو یہ اس کے کھانے سے انکار نہیں کرتے۔(عبدالفتاح ابوغدہ‘ ص ۹۵)
پھر فرماتے ہیں کہ ’’ہم یہی نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ ان کی یہ باتیں نادانی اور کاہلی کا نتیجہ ہیں‘‘۔(ایضاً‘ ص ۹۵)
اس کے بعد امام محمد نے چھ صفحات ’’کرامیۃً‘‘ نامی فرقہ کے خیالات کے ردّ میں صرف کیے ہیں جن کے نزدیک روزی کمانے کی اجازت ہے مگر اسے فرض نہیں قرار دیا جا سکتا۔(ایضاً‘ ص ۹۶-۱۰۱)
اس مختصر مقالے میں ہمارے لیے یہ ممکن نہیں کہ کتاب الکسب میں اس کے آگے کے مباحث کا تفصیلی تعارف کرائیں۔ ہم صرف دو تین مباحث کا ذکر کر کے اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آنا چاہیں گے۔ انھوں نے اس سوال کا جواب دیا ہے کہ سارا وقت عبادت میں صرف کرنا افضل ہے یا روزی کمانے میں وقت صرف کرنا(ایضاً‘ ص ۱۰۱)۔ اگر دولت ملی ہو تو اس پر شکر کرنے میں زیادہ ثواب ملے گا یا غربت ہو تو اس پر صبر کرنے میں؟(ایضاً‘ ص ۱۱۶)۔پھر وہ اس موضوع پر مفصل گفتگو کرتے ہیں کہ مال جمع کرنے کے لیے بھی مال کمانا جائز ہے اور اس سلسلے میں بعض احادیث نقل کرتے ہیں جن سے آخر عمر کے لیے مال بچا کر رکھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے (ایضاً‘ ص ۱۳۱ ومابعد)۔ اس کے بعد اسراف و تبذیر کی ممانعت پر گفتگو کے بعد انھوں نے تجارت‘ زراعت اور حرفت وغیرہ مختلف ذرائع کسب پر مفصل گفتگو کی ہے۔ آخر میں امام محمد نے اپنی بات کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کیا ہے:
آدمی کو چاہیے کہ اچھی عادتوں میں سے بعض کو اختیار کرے‘ مثلا:
یہاں کتاب الکسب کا قدرے تفصیلی ذکر اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ ہمیں اس میں پیش کردہ مواد کی ضرورت ہے یا امام صاحب کی رایوں کا تجزیہ کرنا ہے۔ ہماری نظر اس اہم بات پر ہے کہ خلافت راشدہ ختم ہوئے صرف ۱۰۰ سال گزرے تھے کہ اُمت کی رہنمائی کرنے والے علما کو ترک دُنیا‘ روزی کمانے سے گریز‘ تقشف اور تنگی کی زندگی گزارنے… وغیرہ منفی(۴) رجحانات کے قلع قمع کرنے کے لیے کتابیں لکھنی پڑیں۔ ہم آپ کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرنا چاہتے ہیں کہ اگر عجمی تصوف کے غلط اثرات اور عیسائی رہبانیت کی بے اعتدالی کی مقبولیت مسلم معاشرے میں خطرہ بن کر سامنے نہ آچکی ہوتی تو امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد خاص اس موضوع پر قلم نہ اٹھاتے۔
یہاں ہم یہ واضح کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ خود اکابر فقہا ان منفی رجحانات سے بالکل پاک تھے۔ اس کے ثبوت میں خود امام ابوحنیفہؒ کا کردار سامنے لانا کافی ہے۔ وہ عالم جس کے شاگردوں میں ہارون الرشید کے چیف جسٹس قاضی ابویوسف کا نام بھی شامل ہے مگر جس نے خود عباسی خلیفہ منصور کے اصرار کے باوجود قاضی کا عہدہ نہیں قبول کیا‘ جس کی سزا میںان کو قیدوبند کی مصیبت سہنی پڑی… وہی عالم جلیل نفیس کپڑوں کی تجارت کرتا تھا اور کوفہ کے مضافات میں اس کا کارخانہ چلتا تھا۔ (عبدالفتاح ابوغدہ‘ کتاب الکسب‘ ص ۱۵-۱۷)
مگر مسلمان اُمت کی فکری اور عملی اُٹھان صرف فقہا کے ہاتھوں نہیں انجام پائی ہے‘ اس میں صوفیا اور مشائخ کو بھی بڑا دخل رہا ہے۔ صوفیا اور مشائخ کی مثبت خدمات کے تذکروں سے کتب خانے بھرے پڑے ہیں۔ ان سے کسی کو انکار نہیں‘ مگر یہاں صرف ایک خاص رجحان کا ذکر ہے جو ان میں سے بعض نے پیدا کیا اور اُمت کے مزاج پر اس کا اتنا گہرا اثر پڑا کہ وہ بحیثیت مجموعی اس مزاج سے مختلف ہو گیا جو ہمیں شروع کے دور میں ملتا ہے۔
اپنے اس خیال کی تائید میں ہم اس بات کا بھی ذکر کرنا چاہیں گے کہ امام محمد کے بعد بھی ان کی کتاب الکسب کی طرح کی کتابیں لکھی جاتی رہیں۔ غالباً فضا ایسی تھی کہ فقہا کو اپنی بات بار بار کہنی پڑی۔
استاذ عبدالفتاح ابوغدہ نے اس موضوع پر جن کتابوں کا ذکر کیا ہے‘وہ ہیں:(عبدالفتاح ابوغدہ‘ کتاب الکسب‘ ص ۱۷)
آخر میں استاذ ابوغدہ نے امام غزالی (م ۵۰۵ھ/۱۱۱۱ء) کی احیا علوم الدین کا ذکر کیا ہے جس میں کتاب آداب الکسب والمعاش کا عنوان علیحدہ سے باندھا گیا ہے۔ لیکن اگر آپ اس سوال کا جواب چاہتے ہیں کہ دوسری صدی میں جس بحث کا آغاز ہوا اس میں ہمارے دانش ور پانچویں صدی ہجری کے آخر تک کہاں پہنچے تھے۔ تو امام غزالی کی اس عبارت پر غور کیجیے جو مذکورہ بالا عنوان ہی کے تحت لکھی گئی ہے:
لوگ تین قسم کے ہیں: وہ جن کی معاشی تگ و دو نے ان کو اپنی آخرت سے غافل کر دیا‘ تو یہ تو ہلاک (و ناکام) ہوں گے۔ دوسرے وہ جو اپنی آخرت بنانے میں اتنے مشغول ہوئے کہ معاشی تگ ودو سے غافل رہے‘ تو یہ کامیاب ہو کر رہیں گے۔ البتہ اعتدال کا راستہ تیسری قسم کے لوگوں کا طریقہ ہے جس نے معاشی تگ و دو اپنی آخرت بنانے کے لیے انجام دی‘ یہ درمیانہ رو لوگ ہیں۔(ابواسحاق شاطبی: الموافقات فی اصول الشریعۃ‘ ج۲ ‘ ص ۱۸۸۔ المکتبۃ التجاریۃ الکبریٰ‘ مصر۔ سنہ طباعت درج نہیں ہے)
امر واقعہ یہ ہے کہ کتاب و سنت کی روشنی میں جو مثالی کردار بنتا ہے‘ وہ دوسرے قسم کے لوگوں کا نہیں جن کو امام غزالی ؒنے کامیاب قرار دے کر تیسری قسم کے لوگوں پر افضلیت دی ہے۔ امام غزالیؒ کی درجہ بندی میں اس عنصر کا اثر پوری طرح موجود ہے جس کی اصلاح کے لیے امام محمد نے کتاب الکسب لکھی تھی۔
یہ مقالہ نگار‘ تحقیق کرنے والے طلبہ اور اساتذہ کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس مسئلے کو نظر میں رکھتے ہوئے آج تک کی تاریخ کھنگالیں۔ یہ دیکھیں کہ اس موضوع پر فقہا اور صوفیا کے کلام میں کیا فرق رہا اور یہ بھی دیکھیں کہ عام تقریروں‘ جمعہ کے خطبوں‘ کہانیوں اور منظوم دینی ادب میں کس رجحان کا غلبہ رہا۔ مقالہ نگار کا خیال ہے کہ توازن بحال نہ ہو سکا اور معاشی قوت حاصل کرنے اور معاشی عوامل کی اہمیت پہنچانے کے معاملہ میں امت وہاں نہیں واپس جا سکی جہاں وہ عہدنبویؐ اور عہد راشدہ میں تھی اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں آج بھی وہ سوال اٹھانے پڑ رہے ہیں جن سے اس مقالہ کا آغاز کیا گیا تھا۔
اس مرحلے پر کسی کو یہ خیال نہ آئے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی معاملے میں ابتدائی ۱۰۰ سال ہی کے بعد راستہ بدل گیا ہو‘ کیونکہ ہمارے سامنے اسلام کے نظام حکمرانی کی واضح مثال موجود ہے جسے قرآن و سنت کے مطابق شورائی ہونا چاہیے‘ اور جو ابتدائی ۴۰ برسوں میں شورائی رہا مگر اس کے بعد بادشاہت کا جو دور آیا وہ بعض مختصر وقفوں کے بعد آج تک جاری ہے اور گذشتہ ۱۰۰ سال میں بھی اس کو اپنے اصل راستے پر لانے کی متعدد کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ لہٰذا اس دلیل میں کوئی وزن نہیں کہ اُمت جس ڈگر پر ہزار سال سے چل رہی ہے وہ ڈگر ٹھیک ہی ہوگی۔ خوب ناخوب کا معیار قرآن و سنت ہے‘ نہ کہ یہ بات کہ ہمارے آبا و اجداد کس ڈگر پر چلتے رہے۔
اب رہا یہ سوال کہ آج اس مسئلے کو اٹھانے کی کوئی خاص وجہ ہے؟ تو بات یہ ہے کہ توازن کی بحالی تو بہرحال ضروری تھی لیکن جو صورت حال آج کل ہے ‘ اور جس کی شدت میں آیندہ دہائیوں میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا ‘ اس میں اس اصلاح کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ دُنیا ایک ہو گئی ہے‘ ہر میدان میں مسابقت پہلے سے بہت زیادہ ہونے لگی ہے۔ فرد کو اپنی خدمات کے عوض معاوضہ حاصل کرنا ہو یا کسی ملک کو اپنی مصنوعات فروخت کرنی ہوں‘ کسی ملّت کو اپنے کلچر کا فروغ مطلوب ہو یا کسی داعی گروہ کو اپنے افکار و خیالات کی ترویج مقصود ہو‘ ان سب کو اب عالمی سطح پر دوسرے افراد‘ ملکوں‘ ملتوں اور داعی گروہوں سے مسابقت کرنی ہے۔ بالآخر جس چیز کو قبول عام حاصل ہوگا‘ لوگ اسے اپنے لیے نفع بخش پائیں گے۔ اس کو پایداری نصیب ہوگی جو اپنی بہتری اور برتری کا سکہ نہ جما سکے گا وہ پیچھے رہ جائے گا اور بھلا دیا جائے گا۔
امر واقعہ یہ ہے کہ اس مسابقت میں‘ ہر سطح پر‘ معاشی وسائل اور معاشی قوت کو بڑا دخل ہے۔ فرد کو علم و ہنر سے سنوارنا ہو یا ملک کو صنعتی پیداوار کو بہتر اور بیشتر بنانا ہو‘ اخبار و جرائد ہوں‘ ادبی کتابیں ہوںیا ریڈیو کی نشریات‘ ٹی وی پر پیش کیے جانے والے مسلسل ڈرامے (serials)یا فلمیں … اشیاے خوردنی ہوں یا ملبوسات‘ اور دعوت پیش کرنے کے لیے لوگوں کی تیاری ہو یا انٹرنیٹ کا استعمال… ہر کام میں ہر قدم پر وسائل صرف کرنے اور اچھی تنظیم کی ضرورت پڑے گی۔ وہ افراد‘ گروہ اور ملتیں جو معاشی وسائل سے محروم ہوں اور کسی طرح گزربسر کر رہے ہوں‘ وہ بھلا اس دوڑ میں کیسے حصہ لے سکتے ہیں مگر جیسا کہ واضح کیا گیا‘عالمی مسابقت کے دور میں جو دوڑ نہ سکے اسے کھڑے رہنے یا بیٹھ رہنے کا موقع نہیں ملتا‘ وہ مٹا دیا جاتا یا مٹ جاتا ہے‘ لاسامح اللّٰہ۔
آج عالمی اُمت اسلامیہ ضعف میں ہے۔ شرق اوسط اور بعض دوسرے ممالک کو تیل کی دولت نصیب ہوئی ہے اور حال ہی میں جنوب مشرقی ایشیا کے بعض مسلمان ممالک کی ترقی کے باوجود مجموعی طور پر مسلمان ممالک اور مسلمان اقلیتوں کے ہاتھوں میں اتنے وسائل نہیں یا وہ اپنے ہاتھ میں موجود وسائل کا ایسا استعمال نہیں کر رہے ہیں کہ اس کے نتیجے میں ان کی قوت میں اضافہ ہو‘ اقوام عالم میں ان کا وزن بڑھے‘ ان کی بات کا وزن بڑھے اور ان کی طرف دوسرے اس نظر سے دیکھنے لگیں کہ ان سے کچھ سیکھنا چاہیے۔
اُمت کی اس کمزوری کا بیتی ہوئی صدی میں کئی بار مظاہرہ ہوا۔ پہلا حادثہ بیسویں صدی کی پہلی چوتھائی میں خلافت عثمانیہ کا رسمی طور پر ختم ہونا اور قلب عالم اسلامی کا ٹکڑوں میں بانٹ کر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر دیا جانا تھا‘ جو آیندہ بہت سے جھگڑوں کاسبب بنا۔ پھر صدی کے وسط میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا جسے نہ صرف یہ کہ عالم اسلامی روک نہ سکا بلکہ عربوں کی شکست کی وجہ سے اسرائیل کی حدود اس سے زیادہ وسیع ہوتی چلی گئیں جو مجلس اقوام متحدہ نے مقرر کی تھیں۔ اس کے بعد اغیار کی سازشوں اور اپنوں کی بے تدبیریوں سے ایران و عراق کے درمیان جنگ‘ پھر عراق کے کویت پر حملے کے بعد عراق کے خلاف امریکہ اور اس کے معاونین کی فوجی کارروائی کا عمل سامنے آیا جس نے ہماری لاچاری اپنوں اور غیروں سب کے نزدیک ایک مسلمہ امر کے طور پرسامنے رکھ دی۔ اسی اثنا میں بوسنیا میں جو کچھ ہوتا رہا اس پر مسلمان ممالک کا اتحاد‘ تنظیم اسلامی کانفرنس قراردادیں پاس کرتا رہا مگر نتائج پر اثرانداز نہ ہو سکا اور صدی کی آخری دہائی میں ہندستان میں بابری مسجد ڈھائے جانے کا المیہ پیش آیا ] اور اب افغانستان کا المیہ[ ان تمام مظاہر میں قدر مشترک یہ ہے کہ مسلمان اتنی قوت نہیں رکھتے کہ دوسروں کے کیے فیصلوں کی تنفیذ کو روک سکیں یا اپنے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے کر خود اپنا فیصلہ نافذ کر سکیں۔ یہ قوت نہ انھیں انفرادی طور پر‘ کسی ایک ملک یا گروہ کو‘ حاصل ہے نہ اجتماعی طور پر سارے مسلمان ملکوں کے اتحاد کو۔
قوت ہی سب کچھ نہیں ہے‘ حق و انصاف کی روشنی میں ہمارا موقف بھی درست ہونا چاہیے لیکن موقف درست ہونے کی صورت میں بھی اگر ہم قوت سے محروم ہیں تو اپنے حق سے محروم رکھے جانے کے امکانات زیادہ ہیں جیسا کہ اوپر دی گئی مثالوں سے ظاہر ہے۔ اس مقالے میں ان المیوں کا ذکر صرف ایک نکتے کی تائید و تاکید کے لیے کیا گیا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے لیے ایک باوقار مستقبل کی ضمانت اسی صورت میں دی جا سکتی ہے جب وہ اپنی قوت میں اضافہ کریں۔ اور یہ امر تو بدیہی ہے کہ مادی قوت کا جوہر معاشی قوت ہے۔ اگر اس مقالے کے آغاز میں اٹھائے گئے سوالات برمحل ہیں تو یقینا ہماری موجودہ کمزوری اور معاشی طور پر قوی نہ ہونے میں ہمارے معاشی عوامل کے بارے میں غلط نقطۂ نظر کو دخل ہوگا۔
آخر میں ہم اس بات پر غور کریں گے کہ اپنے موقف میں توازن کس طرح بحال کیا جائے اور مسلمانوں کو معاشی تگ و دو کے ذریعے انفرادی اور اجتماعی طور پر قوت حاصل کرنے پر کس طرح کمربستہ کیا جائے۔
ہمارے خیال میں اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ دینی فکر‘ معاشی عوامل کی اہمیت کا اعتراف کرے اور معاشی جدوجہد کی ترغیب دے۔یہ بتائے کہ اسلام میں اگر اعلیٰ مقاصد کے لیے معاشی جدوجہد کی جائے تو وہ نہ صرف یہ کہ مطلوب ہے بلکہ اس کا درجہ بہت بلند ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جو مسلمان معاشی میدان میں آگے ہیں ان کا‘ الا ماشا اللہ‘ دینی رجحان کمزور ہے اور جن کا دینی رجحان قوی ہوتا ہے وہ معاشی میدان میں زیادہ فعال نہیں ہوتے۔ اُمت کو ضرورت اس کی ہے کہ مسلمان قوی دینی رجحان کے ساتھ فعال معاشی سرگرمی اختیار کریں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس کے لیے صحیح فکری بنیادیں فراہم کی جائیں۔ اسی طرح اس بات کی ضمانت دی جا سکے گی کہ جب مسلمان افراد‘ گروہوں اور ملکوں کے ہاتھوں میں معاشی وسائل آئیں تو وہ صحیح مقاصد کے لیے استعمال میں لائیں اور مسلمانوں کی معاشی قوت بڑھے تو وہ دُنیا میں عدل و امن اور سارے انسانوں کی فلاح و بہبود کی خاطر استعمال کی جائے۔
اعلیٰ تہذیبی مقاصد کے لیے مال کمانے اور معاشی قوت حاصل کرنے کا تصور عین اسلام ہے:
اس طرح کی (معاشی) سرگرمی کا اہتمام بہت سے بزرگوں سے مروی ہے بلکہ صحابہ کرامؓ اور تابعین کے سلسلے میں بھی یہی روایت ہے کہ وہ روزی کمانے میں ماہر تھے اور کسب معاش کے مختلف میدانوں میں جم کر کام کرتے تھے مگر اس لیے نہیں کہ اپنی ذات کے لیے خزانہ جمع کریں اور اپنی دولت جمع کیے رکھیں بلکہ اس لیے کہ اسے اچھے کاموں اور اعلیٰ اخلاقی مقاصد کے لیے صرف کریں اور ان مصارف میں اسے استعمال کریں جن کی شریعت نے ترغیب دی ہے اور جنھیں شرعی عرف میں اچھا رتبہ حاصل ہے۔ اپنے ذاتی مال کی نسبت سے بھی ان کا حال وہ تھا جو بیت المال کے نگراں کا ہوتا ہے۔ اس معاملے میں ان کے درجات مختلف تھے۔ جیسا کہ ان کے احوال کی تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے۔(بلاذری‘ فتوح البلدان‘ ص ۴۳۹‘ طبع قاہرہ‘ ۱۹۳۲ء)
اس امر کی بھی قوی سندیں موجود ہیں کہ حال کی آمدنی میں سے بچا کر مستقبل کی خاطر سرمایہ کاری کرنا مطلوب ہے۔ سیدنا عمر فاروق اعظمؓ سے منقول ہے کہ:
کیا ہی اچھا ہوتا اگر لوگ ایسا کرتے کہ جب کسی کو وظیفہ ملے تو اس میں سے کچھ بھیڑ بکریاں خرید کر اپنے زرخیز زرعی علاقے میں چھوڑ دے۔ پھر جب دوسرے سال کا وظیفہ ملے تو ایک دو غلام خرید کر ان کو بھی اسی (علاقہ) میں (کام پر) لگا دے۔ اگر ان کی اولاد میں سے کوئی باقی رہا تو اس طرح ان کے لیے ایک قابل اعتماد سہارا فراہم ہو جائے گا…
اگر اپنے لیے سہارا فراہم کرنے کا اہتمام شرعاً معتبر ہے تو پوری اُمت کے لیے سہارے کا اہتمام اور اس کے زوال کو عروج سے بدلنے کے لیے وسائل کی فراہمی کے جہاد ہونے میں کسے شبہہ ہو سکتا ہے؟
۱- ابن تیمیہ: السیاسۃ الشرعیۃ فی احوال الراعی والرعیۃ‘ ص ۱۳۷‘ طبع دارالکتاب العربی‘ مصر ۱۹۵۵ء‘نیز ملاحظہ ہو: آمدی کی الاحکام فی اصول الاحکام ‘ ج ۱‘ ص ۱۵۸‘ مطبع معارف‘ مصر‘ ۱۹۱۴ء۔ اور قرطبی کی احکام القرآن‘ ج ۶‘ ص ۸۵‘ قاہرہ‘ دارالکتب المصریہ‘ ۱۹۵۲ء۔
۲- جیسا کہ تفسیر ابن کثیر میں بتایا گیا ہے ‘ بعض لوگوں نے آیت کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ عیسائیوں نے ترک دُنیا کا راستہ مرضی خدا کی طلب گاری میں اختیار کیا تھا‘ مگر دوسرا قول آیت کی تفسیر کے بارے میں ہے‘ جس کے مطابق ہم نے ترجمہ کیا ہے‘ یعنی‘ بقول: ابن کثیر ’’ما کتبناھا علیھم‘ انما کتبنا علیھم ابتغا رضوان اللّٰہ‘ ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر‘ ج ۴‘ ص ۳۱۵‘ مطبع دارالعروبہ‘ بیروت ۱۹۸۴ء۔
۳- ملاحظہ ہو: عبدالرحمن بدوی: تاریخ التصوف الاسلامی من البدایہ حتی نھایۃ القرن الثانی ‘ وکالۃ المطبوعات‘ ۴۸ شارع فہد سالم‘ بیروت ۱۹۷۵ء۔ ص ۱۳۴-۲۲۱‘ خاص طور پر ص ۹۸ اور ص ۲۰۷۔
۴- معاش کے لیے امام نے اپنا آبائی پیشہ‘ تجارت اختیار کیا۔ کوفہ میں وہ خز (ایک خاص قسم کے کپڑے) کی تجارت کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ انھوں نے اس پیشہ میں بھی غیرمعمولی ترقی کی۔ ان کا اپنا ایک بڑا کارخانہ تھا جس میں خز تیار کیا جاتا تھا۔ ان کی تجارتی کوٹھی صرف کوفہ میں ہی کپڑا نہیں فروخت کرتی تھی بلکہ اس کا مال دُور دراز علاقوں میں بھی جاتا تھا۔ پھر ان کی دیانت پر عام اعتماد جب بڑھا تو یہ کوٹھی عملاً ایک بنک بھی بن گئی جس میں لوگ کروڑوں روپے امانت رکھواتے تھے۔ ان کی وفات کے وقت پانچ کروڑ درہم کی امانتیں اس کوٹھی میں جمع تھیں‘‘۔ ابوالاعلیٰ مودودی: خلافت و ملوکیت‘ مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی ہند‘ دہلی ۱۹۶۷ء‘ ص ۲۲۶۔
گذشتہ صدیوں پر نظر ڈالیں تو چند سوال پیدا ہوتے ہیں:
ان سوالوں کاباہمی ربط واضح ہے مگر بحث کے آغاز سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ جو رائیں اگلے صفحات میں ظاہر کی جائیں گی‘ ان کی حیثیت ایسے نتائج کی نہیں ہے جن پر کافی بحث و تحقیق اور غوروفکر کے بعد پہنچا گیا ہو‘ بلکہ جب یہ سوالات سامنے آئے تو سوچنا شروع کیا اور اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ غوروفکر میں دوسرے اہل نظر کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے تاکہ ایسے نتائج تک پہنچا جا سکے جن کو کسی ایک فرد کی رائے کے بجائے محققین کی معتدبہ تعداد کی تائید حاصل ہو۔ ظاہر ہے کہ اس عمل میں کافی وقت لگے گا‘ مگر اس کے آغاز کے لیے آیندہ صفحات کا مطالعہ مفید رہے گا۔
پچھلی دو صدیوں میں عالم اسلام میں بہت سی تحریکیں اٹھیں اور انھوں نے نمایاں کارنامے انجام دیے۔ بدعات کے ازالے کی جدوجہد کی اور ساتھ ہی مسلمانوں نے دوسری قوموں کی دیکھا دیکھی جو بہت سی رسمیں‘ توہمات اور خرافات اپنا لیے تھے‘ ان سے مسلم معاشرے کو پاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ عقائد کی تصحیح پر زور دیا گیا تاکہ مشرکانہ تصورات کی آمیزش سے توحید خالص میں فرق نہ آئے۔ پرسنل لا بلکہ عام طور پر انسانی تعلقات میں اسلامی اخلاق و آداب اور اسلامی ضوابط کی پابندی پر زور دیا گیا۔ فقہی امور میں تقلید جامد کے اثر سے خرابیاں پیدا ہوتے دیکھ کر اجتہاد پر زور دیا گیا اور مختلف فقہی مسالک کے درمیان توافق اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ‘اور جب یورپ سے آئے ہوئے لوگوں کا سیاسی غلبہ عام ہوا تو مسلمان علاقوں کو غیروں کے تسلط سے آزاد کرانے کے لیے طاقت ور سیاسی تحریکیں چلیں۔ یہ ایک مسلّمہ بات ہے کہ تمام مسلمان نوآبادیاتی ممالک میں آزادی کی تحریکوں میں مذہبی عناصر کا حصہ فیصلہ کن رہا ہے۔ پھر آزادی کے بعد اور کبھی اس سے پہلے ہی‘ جیسا کہ ہندستان میں ہوا‘ تعلیمی تحریکیں بھی چلیں جنھوں نے مسلمانوں میں تعلیم عام کرنے کی کوشش کی۔ انھی تمام کوششوں کا نتیجہ ہے کہ مسلمان آج اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور مسلمان بن کر رہ رہے ہیں۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ کوئی ایسی تحریک نہیں چلی جس نے عام مسلمانوں کو للکارا کہ محنت کرو‘ دولت پیدا کرو۔ کمائو اور اپنی کمائی کا ایک حصہ بچا کر نفع آور سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی آمدنی اور دولت میں اضافہ کرنے کی کوشش کرو۔ ایسی تحریک نہیں ملتی جس نے افراد کے مجموعوں یا پوری ملّت اسلامیہ کو معاشی قوت کی اہمیت جتلا کر معاشی طور پر طاقت ور بننے کی خاطر بیش از بیش وسائل حاصل کرنے کی دعوت دی ہو۔
بیسویں صدی تو اسلامی تحریکوں کی صدی تھی۔ بڑی طاقت ور اسلامی تحریکیں چلیں جن کو فکری غذا اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے مجددین اُمت اور علما و مفکرین نے فراہم کی تھی۔ حکومتیں ان تحریکوں کے زیراثر آئیں۔ بعض جگہ ان تحریکوں کو حکومت میں شریک ہونے کا موقع ملا اور بعض ممالک میں خود ان کی حکومت قائم ہوئی۔ لیکن کسی جگہ معاشی سرگرمیوں کی عام دعوت ‘ تکوین ثروت کی مہم ‘ افراد اور گروہوں کو اپنی ضرورت سے زیادہ کمانے کی ترغیب‘ تاکہ وہ بچت کر سکیں اور یہ بچت اجتماعی معاشی قوت میں اضافے کی خاطر سرمایہ کاری کے کام آ سکے… یہ تحریک نہیں ملتی۔
بیسویں صدی کے نصف آخر میں مسلم اکثریت والے علاقے آزاد ہوئے اور انھوں نے اپنا نظم و نسق خود سنبھالا تو تقریباً ہر ملک میں یہ تحریک چلی کہ یہ سب کام اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوں۔ عرب ممالک میں اخوان المسلمین‘ برعظیم ہند میں جماعت اسلامی‘انڈونیشیا میں ماشومی (مجلس شورائی مسلمانان انڈونیشیا) اور ان کے ہم خیال لوگوں نے ساری دنیا کے مسلمانوں میں اسلام کے مطابق سماج کی تعمیرنو کا ولولہ پیدا کر دیا۔ قدیم مذہبی حلقے بھی پہلے کی بہ نسبت زیادہ سرگرم ہو گئے۔ آزادی کے بعد خوش حالی میں بھی اضافہ ہوا۔ چند مسلمان ممالک کو پٹرول کی فروخت سے جو غیر معمولی آمدنی ہوئی‘ اس کا فیض دوسرے ترقی پذیر مسلمان ممالک کو بھی اُن مزدوروں اور اہل علم و ہنر کے ذریعے پہنچا جن کی خدمات ان دولت مند مسلمان ممالک کو درکار ہوئیں۔ غرض یہ کہ بیسویں صدی کا آخری چوتھائی حصہ بڑے جوش وخروش اور حرکت و عمل کا حصہ رہا۔ مگر تعجب کی بات ہے کہ ان مواقع سے پورا فائدہ اُٹھا کر اُمت کو معاشی طور پر طاقت ور بنانے کی طرف کوئی اجتماعی و شعوری توجہ نہیں کی گئی۔ عام مذہبی حلقوں کی وعظ و تلقین ہو یا سیاسی رنگ رکھنے والی اسلامی تحریکوں کے منشور اور قراردادیں‘ مسلمان افراد اور گروہوں کو زیادہ کمانے یا کما کر بچانے اور بچت کی سرمایہ کاری کے ذریعے تکوین ثروت کی دعوت سے دونوں خالی رہے۔ جو کچھ معاشی سرگرمی دیکھی گئی‘ اور اس کے نتیجے میں آزاد مسلم ممالک میں‘ نیز دوسرے ممالک میں آباد مسلمان اقلیتوں میں‘ جو خوش حالی آئی‘ وہ انفرادی محرکات اور ملکی سطح پر قوم پسندانہ حوصلوں کا نتیجہ تھی۔ اس میں مذہبی حلقوں کی ترغیب و تائید یا اسلامی تحریکوں کی تدبیر و تاکید کو دخل نہیں تھا۔
یہ کوئی نئی بات نہیںہے۔ عرصہ دراز سے مسلمانوں کے دینی ادب میں معاشی جدوجہد اور معاشی قوت کے حصول کا چرچا کم ہی ملتا ہے۔ شاید اس کا اثر ہے کہ بیسویں صدی میں جب مغرب کے سرمایہ دارانہ معاشی نظام اور روسی بلاک کے اشتراکی نظام کو ردّ کرتے ہوئے ان کے بالمقابل اسلامی دانش وروں اور اسلامی تحریکوں نے اسلام کے عادلانہ معاشی نظام کو پیش کرنا شروع کیا تو اس کی تشریح و تعبیر میں زیادہ زور تقسیم دولت پر رہا۔
یہ بات کہ دولت بنتی کیسے ہے‘ اور یہ شعور کہ جب دولت میں بیش از بیش اضافے کی تدابیر نہیں اختیار کی جائیں گی تو ایک روز افزوں آبادی میں‘ اس کی تقسیم ہمیں مطلوبہ نتائج تک پہنچانے سے قاصر رہے گی… کم ہی ملتا ہے۔ بیسویں صدی کے وسط میں تالیف کردہ سید قطب شہید علیہ الرحمہ کی معرکہ آرا کتاب العدالۃ الاجتماعیۃ فی الاسلام کا یہ جملہ اس بارے میں ہمارے ذہن کی بہت صحیح ترجمانی کرتا ہے: ’’حقیقت یہ ہے کہ فقروحاجت مندی صرف مال کے ارتکاز کا نتیجہ ہوتے ہیں‘‘۔ (اسلام میں عدل اجتماعی‘ ترجمہ: محمد نجات اللہ صدیقی‘ ص ۴۸۹)
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلامی معاشی نظام میں عدل و مساوات پر زور دیا گیا ہے‘ یہ اس کی امتیازی شان ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر صرف زکوٰۃ و صدقات پر زور دیا جائے اور اس بات کا اہتمام کیا جاتا رہے کہ امیروں کی دولت کا ایک حصہ غریبوں تک منتقل ہوتا رہے تاکہ ان کی ضروریات پوری ہوتی رہیں تو‘ آبادی میں ہوتے رہنے والے اضافے کی وجہ سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ایسا معاشرہ اپنی پیدا کی ہوئی دولت کا بیش از بیش حصہ صرف کرتا رہے گا‘ بچت کم ہوتی رہے گی جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری کم ہوگی اور اس کا امکان بڑھتا جائے گا کہ دولت میں اضافے کی رفتار گھٹنے لگے۔ ایک ایسا وقت آئے گا کہ دولت میں اضافے کی رفتار آبادی میں اضافے کی رفتار سے کم ہو جائے گی اور معاشرہ معاشی تنزل کی راہ پر چل پڑے گا۔
ظاہر ہے کہ ایک تنزل پذیر سماج میں‘ جس میں مجموعی دولت کی مقدار کم ہوتی جا رہی ہو‘ صرف امیروں سے غریبوں کی طرف دولت کی منتقلی سے عدل کے تقاضے نہیں پورے ہو سکتے بلکہ وہ کیفیت رونما ہونے لگے گی جسے ’’تقسیم فقر‘‘ (distribution of poverty)کا نام دیا گیا ہے۔ بجائے اس کے کہ امیروں کی دولت کے طفیل غریبوں کی غربت دُور ہو‘ ایسے معاشرے میں جس میں مجموعی دولت زوال پذیر ہو‘ غریبوں کے مصارف‘ امیروں کو غریبوں کی صفوں میں لاکھڑا کر دیں گے۔
اس ناپسندیدہ صورت حال سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ تکوین ثروت کا بھی اہتمام کیا جائے‘ اور جیسا کہ ہم آگے واضح کریں گے‘ اسلام نے اس بارے میں ایک واضح ایجابی موقف اختیار کیا ہے۔ مگر بحث کے اس مرحلے سے پہلے ہمیں سوچنا ہے کہ جو کیفیت اُوپر بیان کی گئی‘ اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
ایک وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ بیسویں صدی میں مادیت کا غلبہ رہا۔ مغربی سرمایہ داری پہلے ہی سے چرچ سے بغاوت‘ مذہب سے بیزاری اور جارحانہ سیکولرزم کے زیرسایہ تھی۔ اشتراکیت نے تاریخ کی مادی تعبیر اختیار کر کے اور مذہب و اخلاق کو ڈھکوسلے قرار دے کر ایک ایسی فضا بنا دی تھی جس میں مادّی وسائل کی اہمیت جتلانے اور معاشی قوت پر توجہ مرکوز کرنے میں یہ شبہہ وارد ہوتا تھا کہ ہم بھی غیروں کے راستے پر چل پڑے اور ان کی فکر سے متاثر ہو گئے۔
اسلامی فکر بجا طور پر تاریخ کی مادّی تعبیرکو ردّ کرتی ہے۔ اس کا یہ موقف بھی درست ہے کہ معاشی زندگی میں صرف ذاتی نفع کا حصول محرک عمل نہیں ہوتا بلکہ روحانی اور اخلاقی قدریں بھی کارفرما ہوتی ہیں اور فرد اپنے معاشی فیصلوں میں اجتماعی مصالح کا بھی لحاظ کر سکتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور سوشلزم پر اسلامی تحریکوں کی یہ تنقید بھی بجا ہے کہ انھوں نے معاش پر زیادہ زوردے کر زندگی کے دوسرے اہم پہلوئوں کی اہمیت کم کر دی ہے جس سے سماج میں حصول دولت کی ایسی دوڑ شروع ہو گئی ہے جس میں محبت اور مروت‘ ہمدردی اور پاس داری جیسے قیمتی انسانی آداب و اقدار کی پامالی عمل میں آ رہی ہے۔ یہ بات بعیداز قیاس نہیں کہ معاشی قوت کے حصول کی طرف سے بے توجہی اور انسانی زندگی میں معاشی عوامل کے واقعی مقام کے اعتراف میں کوتاہی مذکورہ بالا رجحانات کے ردّعمل کے طور پر ہو۔ گویا ایک طرف کے عدم توازن کے ردّعمل میں دوسری طرف بھی غیر متوازن موقف نے جنم لیا ہو۔
اگر پچھلی صدی میں فکر اسلامی کے معاشی عوامل کو صحیح رتبہ نہ دینے کا کوئی عذر رہا بھی ہو تو اب اس کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی کہ یہی صورت حال قائم رہے۔ کیونکہ: اوّلاً‘ پچھلا موقف اصلاً کمزور ہے اور ثانیاً‘ اس موقف پر اصرار سے اُمت کو نقصان پہنچے گا۔
غور فرمایئے کہ اس دنیا میں انسان جس کمزور حالت میں داخل ہوتا ہے‘ اس میں اسے روز اوّل سے ہی سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ طفولیت کا نازک مرحلہ ہو یا ہوش سنبھالنے کے بعد بچپن اور عنفوان شباب کے دن۔ سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ غذا ملے‘ بدن پر موسم کی مناسبت سے لباس ہو‘ سر چھپانے کو مکان ہو۔ شروع میں یہ وسائل خاندان کو فراہم کرنے ہوتے ہیں اور جس بچے کو اس کا خاندان یا سماج یہ وسائل فراہم نہ کر سکے وہ ضائع ہو جاتاہے۔ پھر ہوش سنبھالتے ہی اس بات کا شعور پیدا ہو جاتا ہے کہ آیندہ اپنے پیروں پرکھڑے ہونے اور اپنی ضروریات خود پوری کرنے کے لائق ہونے کے لیے ضروری ہے کہ علم و ہنر سیکھا جائے۔ بے شک حصول علم کے دوسرے اعلیٰ مقاصد بھی ہیں‘ لیکن اُن گنے چنے خوش قسمت افراد کو چھوڑ کر جن کو وراثت میں بڑی دولت ملنے والی ہو‘ باقی تمام انسانوں کو پانچ سال کی عمر سے ۴۰ سال کی عمر تک سب سے زیادہ فکر ایسا علم و ہنر سیکھنے کی ہوتی ہے جو انھیں باقی ایام زندگی کے لیے روزی کمانے کے قابل بنا سکے۔آپ اپنے قریبی ماحول پر نظر ڈالیے۔ جو لڑکے یا لڑکیاں ۲۰ سال کی عمر تک ناخواندہ رہ گئے ‘ کوئی ایسا ہنر نہ سیکھا جس کے ذریعے روزی کما سکیں‘ کوئی ایسا علم نہیں سیکھ سکے جس سے کوئی کیریر بن سکے‘ ان کی باقی زندگی کتنی تنگی اور پریشانی میں گزرتی ہے! واقعہ یہ ہے کہ ادنیٰ ضروریات سے لے کر اعلیٰ ترین مقاصد حیات تک‘ ہر مقصد کا حصول وسائل کی موجودگی پر منحصر ہے۔ اگر کوئی پختہ عمر پر پہنچنے کے بعد دین کی خدمت کرنا چاہتا ہے یا ملک و ملّت کے لیے کچھ کر دکھانے کا عزم رکھتا ہے تو اس کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ جوانی ہی میں اپنے کو اس قابل بنا لے کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد بھی کچھ وقت اور کچھ مال ان کاموں پر لگا سکے۔ کس کو کن کاموں کے لیے کتنا وقت ملتا ہے‘ اس کا انحصار صرف نیک ارادوں پر نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے پہلے سے وسائل جمع کرنے پڑتے ہیں۔ بلاشبہ معاشی وسائل کی حیثیت صرف ذرائع کی ہے۔ ان کو مقاصد کا درجہ نہیں دینا چاہیے مگر زندگی میں کوئی مقصد وسائل کے بغیرحاصل نہیں کیا جا سکتا۔
دعوت و تبلیغ ہو یا تعلیم و تربیت‘ اصلاح معاشرہ ہو یا اقامت دین… ان میں سے ہر ایک کے لیے وسائل بہرحال درکار ہوتے ہیں اور ان کے حصول کے لیے معاشی سرگرمی ناگزیر ہے۔
یہ بات ہمیشہ صحیح تھی کیونکہ اس کا تعلق بدلتے ہوئے حالات سے نہیں‘ اس کائنات میں انسانی زندگی کے احوال سے ہے۔ مگر گذشتہ دنوں کچھ ایسی تبدیلیاں عمل میں آئی ہیں جنھوں نے اس بات کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ ان بدلے ہوئے حالات میں معاشی وسائل کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ مثال کے طور پر اس بات کو لیجیے کہ اب انسانوں میں ربط باہمی پہلے کی نسبت آسان ہو گیا ہے۔ ٹیلی فون عام ہوا‘ اس پر آنے والا خرچہ کم ہوا‘ پھر اس کے بعد ای میل اور انٹرنیٹ کے ذریعے ربط باہم کے ذرائع سامنے آئے‘ جنھوں نے دنیا کو ایک کر دیا۔ جس سے چاہیے‘ بات کیجیے‘ جس سے چاہیے‘ استفادہ کیجیے۔ حصول علم ہو یا علاج معالجہ‘ فنی مشورے ہوں یا تعمیراتی منصوبے‘ خرید و فروخت کی سرگرمی ہو یا بچت کے نفع آور استعمال کا مسئلہ… غرض‘ ہر کام کے لیے کوئی بھی فرد دُنیا میں کسی سے بھی تبادلۂ خیال کر سکتا ہے‘ مدد لے سکتا ہے‘ دوسروں کو اپنی خدمات پیش کر سکتا ہے۔ مگر ان نئے مواقع سے فائدہ اٹھانا اسی کے لیے ممکن ہے جس کے پاس ٹیلی فون کا کنکشن ہو‘ کمپیوٹر ہو‘ گھر میں بجلی ہو… ان وسائل سے محرومی بہت سی مفید چیزوں سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے‘ جن میں دین و اخلاق کے لیے اہمیت رکھنے والی چیزیں بھی شامل ہیں۔
پچھلے ۱۰‘ ۲۰ برسوں میں دنیا میں اور اہم تبدیلیاں بھی آئی ہیں۔ ان میں سے ایک جمہوریت کا فروغ بھی ہے۔ انسانی امور کو متعلقہ افراد اور گروہوں کے باہمی مشوروں سے طے کرنے کا طریقہ زیادہ رواج پکڑ رہا ہے۔ مقامی پنچایت سے لے کر مجلس اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں تک‘ ہر مرحلے پر اب آزادانہ اظہار رائے ‘ تبادلۂ خیالات اور بحث و مباحثے کے بعد کسی نتیجے تک پہنچنے کی اہمیت سمجھ لی گئی ہے۔ ہر سطح پر اس بات کو ایک بنیادی انسانی حق تسلیم کر لیا گیا ہے کہ جس فیصلے کا کسی انسان کے جسم و مال پر اثر پڑنے والا ہو‘ یاکسی بھی حیثیت سے اس کے مفادات و مصالح اس فیصلے سے متاثر ہونے والے ہوں‘ اس فیصلے کے کرنے میں اس کی شرکت ہونی چاہیے۔ کسی پوپ‘ بادشاہ یا ڈکٹیٹر کو متعلقہ انسانوں کی رائے اور مرضی کے علی الرغم فیصلے کرنے اور ان فیصلوں کو ان پر نافذ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ یہ بڑی خوش آیند تبدیلی ہے‘ اگرچہ اسے تمام و کمال تک پہنچنے میں ابھی برسہا برس لگیں گے‘ مگر یہی رجحان انسانی عزوشرف سے مطابقت رکھتا ہے۔ اُمید ہے وہ دن واپس نہیں آئیں گے جب مذہب‘ نسل‘ ذات‘ رنگ یا قومیت کے نام پرکچھ انسانوں کو دوسرے انسانوں پر حکم جتانے اور ان پر ایسے فیصلے تھوپنے کا اختیار حاصل تھا جن میں اُن انسانوں کے مفاد و مصالح کے بجائے حکمرانوں اور فیصلہ کرنے والوں کے مفادات و مصالح کو سامنے رکھا جاتا تھا۔ یہ بڑی اچھی تبدیلی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جمہوری طریقے سے فیصلہ کرنے کی لاگت‘ تحکم والے طریقہ (authoritarianism)سے زیادہ آتی ہے۔ لوگوں کو جمع کرنے ‘ ان کو اظہار رائے کی آزادی دینے میں مادی وسائل درکار ہوتے ہیں‘ وقت لگتا ہے اور وقت‘ دولت ہے۔ یہ بات آسان تھی کہ طاقت ور نے اپنا فیصلہ کمزور پر ڈنڈے کے زور پر نافذ کر دیا۔ اس کی لاگت کم تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو ملک یا قوم‘ کوئی انسانی گروہ یا ادارہ‘ وسائل سے محروم ہو‘ وہ جمہوری طریقہ فیصلہ کو پوری طرح کارفرما نہ دیکھ سکے گا۔ کیوں کہ جمہوری عمل میں اخبارات و جرائد‘ ریڈیو اور ٹی وی‘ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ‘ پنچایت گھر اور پارلیمنٹ ہائوس‘ سیمی نار اور کانفرنسیں‘ سب کا ایک مقام ہے‘ اور ان سب کے لیے مادّی وسائل درکار ہیں!
جمہوری طریقہ حکمرانی کے لیے انتخابات کرانے ہوتے ہیں‘ توازن قائم رکھنے کے لیے عدلیہ کو اعلیٰ ترین معیاروں پر قائم رکھنا ہوتا ہے۔ مگر ان سب پر خرچہ بھی آتا ہے۔
ایک نکتہ اور قابل توجہ ہے‘ اور وہ ہے ہزار‘ پندرہ سو سال پہلے کی غربت اور آج کی غربت میں فرق! بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اسلام کے سنہرے دور میں‘ عہدنبویؐ میں اور خلفاے راشدین کے دور میں معیار زندگی اتنا اونچا نہیں تھا۔ بہت سے صحابہ ؓ اور بڑے بڑے بزرگ غربت کے حال میں زندگی گزار گئے مگر انھی کے ہاتھوں اسلام پھیلا‘بڑے بڑے کارہاے نمایاں انجام پائے۔ ان کو یہ خیال ہوتا ہے کہ غریبی سے اسلام کے مستقبل پر کوئی اثرنہیں پڑنا چاہیے‘ نہ مسلمانوں کی معاشی پس ماندگی کو کسی دینی تحریک کی توجہ کا مستحق قرار پانا چاہیے۔ اگرچہ یہ بات بڑی حد تک اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ کے ناقص مطالعہ پر مبنی ہے مگر سب سے پہلے ایک غلط فہمی دُور کرنا ضروری ہے۔
واقعہ یوں ہے کہ آج کی غریبی اور اس زمانے کی غریبی میں بڑا فرق ہے۔ غریبی ہر زمانے میں رکاوٹ بنتی ہے اور انسانی سماج کو اس مقام تک پہنچنے سے روکے رہتی ہے جس میں وہ عزت و اطمینان سے اپنے مقاصد پورے کر سکے لیکن وسائل سے محرومی آج کے انسان کے لیے زیادہ معذور کن ہے۔ دو مثالوں کے ذریعے اس بات کو سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلی مثال پینے کے پانی کی ہے‘ دوسری ذرائع نقل و حمل کی۔
مدینہ منورہ میں‘ اور دریائوں سے دُور سارے دوسرے علاقوں میں‘ پینے کے پانی کے دو ہی ذرائع تھے۔ کنواں کھود کر زیرزمین پانی حاصل کیا جاتا تھا اور جن علاقوں میں بارش ہوتی تھی‘ وہاں تالاب اور گڑھوں میں جمع پانی بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ پینے کے پانی کی نسبت سے امیروغریب کے درمیان فرق‘ مقدار میں ہو سکتا تھا مگر سب کے لیے ذریعے یہی دو تھے۔ اس صورت حال کا مقابلہ آج ان شہروں کے باشندوں کو پیش آنے والی صورت حال سے کیجیے جو لاکھوں اور بسااوقات کروڑ دو کروڑ کی آبادی والے شہر ہیں۔ تالاب اور گڑھے اب پائے نہیں جاتے‘ دریائوں کا پانی پینے کے لائق نہیں رہ گیا‘ پینے کا پانی یا تو میونسپل کارپوریشن کی سپلائی سے مل سکتا ہے یا پانی کی بوتل خرید کر۔ ہینڈپمپ یا کنویں کے ذریعے زیرزمین پانی کا استعمال تقریباً مفقود ہوتا جا رہا ہے کیوں کہ ان شہروں کا زیرزمین پانی بھی صاف کیے بغیر استعمال کے قابل نہیں رہا۔ اب مشکل یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں طرح کے پانی پر کچھ لاگت آتی ہے‘ یہ لاگت فرد اپنی جیب سے ادا کرے یا میونسپلٹی سے مفت پانی حاصل ہونے کی شکل میں اس کی لاگت دوسرے افراد سے ٹیکس وصول کر کے پوری کی جائے‘ امر واقعہ یہی رہا کہ بڑے شہروں میں بسنے والوں کو پینے کا پانی مفت نہیں ملتا۔ پہلے ایسی صورت حال نہیں تھی۔ سانس لینے کے لیے ہوا کی طرح پینے کا پانی مفت مل جاتا تھا۔
ہزار پندرہ سو سال پہلے نقل و حمل کے لیے جانور استعمال کیے جاتے تھے۔ خچر‘ گھوڑے‘ اونٹ__ ان پر سواری کی جائے‘ یا بار برداری‘ ان کی پیٹھ استعمال کی جائے یا ان سے گاڑی کھینچنے کا کام لیا جائے۔ نقل و حمل کے کوئی اور ذرائع میسر نہیں تھے۔ امیر اور غریب میں صرف اتنا فرق تھا کہ غریب پیدل چلتا تھا‘ اپنا بوجھ اپنے سر پر اٹھاتا تھا مگر امیر کا بوجھ دوسرے انسان اپنے سر پر اٹھاتے تھے یا جانور‘ اور امیر کو سواری کے لیے جانور میسر تھے۔ فاصلے زیادہ نہ تھے۔ انسانوں کی غالب اکثریت چند ہزار انسانوں پر مشتمل چھوٹے گائوں اور قصبوں میں رہتی تھی‘ پیدل چل کر بھی زندگی بآسایش گزاری جا سکتی تھی۔ مگر اب کسی بڑے شہر میں پیدل چل کر اپنی ضروریات پوری کرنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیم ہو یا علاج‘ روزگار کے سلسلے میں دفتر یا کارخانہ پہنچنا ہو یا کسی اور غرض سے شہر کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں جانا ہو‘ کار‘ بس‘ ریل گاڑی… کوئی نہ کوئی مشینی سواری ضروری ہے۔ اس کے لیے خرچہ چاہیے جس کے پاس خرچ کرنے کو پیسہ نہیں‘وہ نقل و حرکت سے محروم رہے گا۔ نقل و حرکت کے بغیر زندگی کا تصور دشوار ہے۔
اس نکتے کی وضاحت کے بعد کہ آج معاشی وسائل سے محرومی‘ افراد کے لیے معذور کن ہے‘ اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ گروہوں اور پوری ملّت‘ کسی ملک کی مسلمان اقلیت‘ کسی مسلمان اکثریت والے ملک اور بحیثیت مجموعی‘ پوری دنیا کے مسلمانوں کا معاشی قوت سے محروم رہنا یا ان کے پاس معاشی وسائل کی کمی ان کے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔ آج دُنیا ایک ہو چکی ہے اور ساری قوموں کے درمیان سخت مسابقت ہو رہی ہے۔ اس مسابقت میں جسمانی صحت‘ علم و ہنر‘ معلومات‘ طریقہ حکمرانی‘ معاشرتی زندگی‘ تجارتی سرگرمیاں‘ پیداواری عمل… ہر بات کو ایک مقام حاصل ہے اور ان میں سے ہر چیز کا اہتمام وسائل کا طلب گار ہے۔ جو ان امور میں پیچھے ہوتا جائے گا اس کی عزت اور وقار خطرے میں ہوگا‘ بساط عالم پر اس کاوزن گھٹتا چلا جائے گا… یہ ایک مشاہدحقیقت اور بدیہی بات ہے۔ لہٰذا اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام میں اس مسئلے کی کیا اہمیت ہے‘ اور اسلامی تاریخ کا زرّیں دور معاشی وسائل کے اکتساب اور معاشی قوت کے حصول کے باب میں کیا نمونہ پیش کرتا ہے۔ (جاری)