بعض معترضین کی طرف سے اسلام کے قانونِ وراثت میں عورت کے حصے کو یوں پیش کیا جا تا ہے گویاکہ: عورت کو ایک کم تر مخلوق سمجھ کر اس کے حصے کوآدھا کر دیا گیا ہے، پھر اسی مفروضے کی بنیاد پر اسلام کو بحیثیت مجموعی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔یہ اعتراض نہ صرف غیر مسلم حلقوں کی طرف سے اُٹھایا جاتا ہے بلکہ یورپی لٹریچر پڑھنے والے مغرب زدہ مسلمان بھی لاعلمی کی وجہ سے اس طرح کے اعتراضات کرتے رہتے ہیں ۔ نیز مخصوص ایجنڈے کی حامل این جی اوز اسی پردے میں اسلام کو نشانہ بنانے سے نہیں چوکتی ہیں۔
بدقسمتی سے قانونِ وراثت کو اسلام کے دوسرے تمام قوانین اور مرد و زن کے حقوق و فرائض سے الگ کر کے دیکھا جاتا ہے۔ کسی بھی مال/جایداد کی تقسیم دو طرح سے ہو سکتی ہے :
۱- جایداد کو مساوی حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور متعلقہ افراد میں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں سے قطع نظر، مساوات کے اصول کو سامنے رکھتے ہوئے سب میں برابر برابرتقسیم کردیاجائے۔
۲- افراد کی ذمہ داریوں کا تعیّن کیا جائے اور پھر ان میں ایک قاعدے کے مطابق مال کی تقسیم کر دی جائے ۔
اب ہم اس اصول کوسامنے رکھ کر سوچیں کہ عورت اور مرد کے درمیان وراثت کی تقسیم کیسے ہونی چاہیے؟
اسلام میں تقسیمِ وراثت کے اصول کی بنیاد اور حکمت کی بظاہر تین وجوہ ہیں :
۱-قرابت اور رشتہ داری
۲- ضرورت اور ذمہ داری (اسلام کی معاشی اور معاشرتی اقدار کے ساتھ مقرر کردہ دائرے میں ذمہ داری)
۳- ارتکاز دولت کی نفی(تقسیمِ دولت)
اس وقت چوںکہ دوسرا نکتہ ہی ہمارے موضوع سے متعلق ہے، اس لیے ہم صرف اسی کی بنیادی حکمت کا ذکر اور چند مثالیں بھی پیش کر یں گے تاکہ اس بات کی کچھ وضاحت ہو جائے کہ اسلام میں وراثت کی تقسیم کس بنیاد پر ہے؟
۱- صاحب ِاولاد بیٹے کی رحلت کی صورت میں ماں (عورت)اور باپ(مرد)کو برابربرابر حصہ (یعنی ۶/۱ حصہ) ملتا ہے اور ماں کو عورت ہونے کی وجہ سے آدھا یا باپ کو مرد ہونے کے ناتے دوگنا حصہ نہیں ملتا۔
سورئہ نساء میں ارشاد ہے: ’’تمھاری اولاد کے بارے میں اللہ تمھیں ہدایت کرتا ہے کہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے ۔ اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انھیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے ۔ اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے ۔ اگر میت صاحب ِ اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے ۔ اور اگر وہ صاحبِ اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے ۔ اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہوگی۔ (یہ سب حصے اُس وقت نکالے جائیں گے)،جب کہ وصیت جو میت نے کی ہو ، پوری کر دی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کر دیا جائے ۔ تم نہیں جانتے کہ تمھارے ماں باپ اور تمھاری اولاد میں سے کون بہ لحاظِ نفع تم سے قریب تر ہے ۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کر دیے ہیں ، اور اللہ یقیناسب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے‘‘۔ (النسائ۴:۱۱)
اس آیت میں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ یہاں بنیادی اکائی (basic unit)عورت کے حصے کو بنایا گیا ہے اور مرد کو اس کا دوگنا دیا گیا ہے۔ گویا اہمیّت اور زور عورت کے حصے پر ہے، جس کو بنیادبنا کر باقی لوگوں کے حصوں کا حساب کیا جائے گا۔یہ بات بذات خود عورت کی حیثیت کو بلند کرنے پر دلالت کرتی ہے۔ یہ قانون اُس معاشرے کے اندر بیان ہوا، جس میں عورت کی حیثیت بہت ہی کم تر تھی۔ جایداد میں حصہ تو دُور کی بات ہے، اسے توصرف مردکے تصّرف کا ایک کھلونا سمجھا جاتاتھا اور وراثت میں حصہ صرف ان مردوں کو ملتا تھا جو صحت مند اور جنگ میں حصہ لینے کے قابل ہوتے تھے۔
۲- مرد کی وفات کی صورت میں بیوی(عورت)کو۸/۱ حصہ ملتا ہے، چاہے اس کی جتنی بھی اولاد ہو، مثلاً اگر ۱۰ بیٹے بھی ہوں تب بھی بیوی کوشوہر کے ترکے سے ۸/۱ حصے کی ادایگی کے بعد باقی وِرثہ اس کے بیٹوں (مردوں)میں برابر تقسیم ہوگا۔ گویا بیوی کا حصہ پہلے سے متعین ہے اور باقی جایداد بیٹوں میں برابر تقسیم ہوگی۔ اس کی بنیاد یہ نہیں رکھی گئی کہ چوںکہ وہ عورت ہے، اس لیے اس کا حصہ بیٹوں کے مقابلے میں آدھا ہوگا، بلکہ تمام دوسرے ورثا سے پہلے اس کا حصہ مقرر کیا گیا ہے جو پوری جایداد سے دیا جاتا ہے۔
۳- اگر میت کی ایک ہی بیٹی ہے اور باقی اولاد نہیں تو اس کو ترکے کا نصف حصہ ملے گا، باقی میت کے بھائیوں، بہنوں اور دوسرے ورثا میں تقسیم ہوگا۔ نزدیک ترین مرد ورثا (اس صورت میں بھائی) کو بھی میت کی بیٹی کے مقابلے میں زیادہ حصہ نہیں ملتا۔
۴-ایسی صورت بھی ہو سکتی ہے، جب عورت کو حصہ ملتا ہے مگر مرد کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ مثلاً : جب وارث دوبیٹے،ایک بیٹی،نانا اورنانی ہوں تو نانی کو ۶/۱ حصہ ملتاہے ،جب کہ ناناکوکچھ نہیں ملتا۔
۵- وراثت کی تقسیم اس وقت ہو تی ہے جب کفن دفن، زکوٰۃ، قضا روزوں کا کفارہ، قرض اور مہر وغیرہ سب مکمل طور پر ادا ہوجائیں۔ وراثت میں وہ چیز شامل نہ ہو گی، جو میت نے کسی کو زندگی ہی میں ہبہ (تحفہ)کی ہو اور وہ اس کی ملکیت میں سے نکل چکی ہو۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ اگر والدین اپنی زندگی میں جایداد کی تقسیم کرنا چاہیں تو (برخلاف وراثت کے اصول کے جو کہ مرنے کے بعد لاگو ہوتا ہے)وہ جایداد بیٹوںاور بیٹیوں میں برابر برابرتقسیم کریں گے، البتہ کسی بھی بیٹے یا بیٹی کو اپنی صواب دید کے مطابق خدمت کے صلے میں یا کسی اور جائز وجہ سے کم یا زیادہ حصہ دے سکتے ہیں۔
یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ عورت کا وراثت میں حصہ اس کی جنس کو کم تر سمجھ کر مقرر نہیں کیا گیا بلکہ اس کی ایک اہم حکمت عورت اور مرد کے فرائض اور ذمہ داریوں کی تقسیم ہے ۔
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ مرد کو صرف وارثت میں حصہ ملتا ہے اور عورت کو نہ صرف وراثت میں حصہ بلکہ حق مہر بھی ملتا ہے اور شوہر کی جایداد اور مال و متاع میں بھی عورت کا حق ہے ۔ عورت ملازمت یا کسی کاروبار کی صورت میں کما رہی ہے تو وہ اگر اپنی مرضی سے شوہر کو اپنی کمائی میں سے کچھ دینا چاہے، اپنے بچّوں پرکچھ خرچ کرنا چاہے، یا گھر میں استعمال کرنا چاہے، تو یہ اس کی اپنی آزادانہ صواب دید پر ہے مگر یہ اس کی قانونی ذمہ داری نہیں ہے۔ عورت اپنے ذریعۂ معاش کی آمدنی کی خود ہی کلیتاً مالک ہوتی ہے ۔ وہ اگر اپنے سرمایے کو کاروبار میں لگائے تو اس کے نفع کی بھی وہی مستحق ہوتی ہے ۔ اس کی اس ذاتی دولت میں شوہر تک کو تصرف کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے۔عورت اپنی کمائی کی مختارِ کُل ہے اور اس پر شوہر، بچوں یا خاندان کے دوسرے افراد کی دیکھ بھال کی کوئی معاشی ذ مہ داری نہیں ہے ۔ یہ سب باپ کے ذمے ہے۔
اسلام عورت کومختلف حیثیتوں سے وراثت میں حصہ دیتا ہے۔ اسلام کے قانون وراثت میں عورت بیوی، ماں، بیٹی اور کئی دوسری حیثیتوں سے وراثت میں حصہ پاتی ہے۔ لیکن دوسری طرف نہ صرف عورت (بیوی)کی کما ئی میں مر د(شوہر) کا کوئی حصہ نہیں ہے، بلکہ مکان خریدنے، گھر کا تمام خرچ ادا کرنے ،بیوی اور بچوںکا نان نفقہ،بیوی اور بچوں کے کپڑوں، ان کی تعلیم، نوکروں کی تنخواہوں اور گھر کے دوسرے تمام اخراجات کا ذمہ دار بھی صرف مر د ہی ہے اور عورت پر ان میں سے کوئی بھی ذمہ داری عائد نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ مطالبہ کرے تو گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے لیے شوہر کو نوکر بھی رکھنا پڑے گا (بشرطیکہ وہ اخراجات اُٹھا سکتا ہو)۔حتیٰ کہ اگرعورت کسی وجہ سے اپنے میکے چلی جائے اور شوہر لینے نہ جائے تو وہاں بھی رہنے اور نان نفقہ کے اخراجات شوہر کو ہی ادا کرنا پڑتے ہیں ۔ طلاق کی صورت میں بھی عدّت کے ایام میں عورت کے اخراجات کی ذمہ داری اسلام شوہرپر ڈالتا ہے اور عدت ختم ہوتے ہی عورت کو دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے ۔بیوی کو باپ کے گھر لے جانا اور اس کے اخراجات برداشت کرنا بھی شوہر کے ذمے ہے۔
ان اخراجات کے علاوہ مختلف قسم کے معاشی اور معاشرتی اُمور کا سامنا کرنا، تقریبات، جنازے، شادیاں ، صلح وغیرہ اور بے شمار دیگر امورسر انجام دینا بھی مرد کی ذمہ داری ہے اور ان سے متعلق تمام اخراجات بھی اسی کے ذمے ہیں۔
شادی سے پہلے یا بعد میں عورت کے مال اور کمائی پر قانونی حق صرف اسی کا ہے،جب کہ مرد کے مال اور کمائی میں خاندان کے کئی افراد کانہ صرف حق ہے بلکہ مرد پر اس کی ادایگی فرض ہے۔ عورت اگر بیٹی ہے تو معاشی ذمہ داری باپ کی، بہن ہے تو بھائی کی، دونوں میں سے کوئی نہیں تو قریب ترین مردو ں (مثلاً چچا وغیرہ )کی ، ماں ہے تو بیٹوں کی اور بیوی ہے تو شوہر کی۔
ذمہ داریوں کی اس تقسیم کو جاننے کے بعدایک معمولی عقل رکھنے والا شخص بھی اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ وراثت میں عورت کے مقابلے میں مرد کا حصہ کیوں زیادہ رکھا گیا ہے؟
اسلام جس طرح عورت پر مالی ذمہ داریاں ڈالے بغیر اس کے لیے آمدنی کے اتنے راستے کھولتا ہے اور اس کے سرمایے کے تحفظ کے لیے اتنے اقدامات تجویز کرتا ہے، کیا دنیا کے کسی نظام میں بھی ایسی کوئی مثال ہے؟
اگر کوئی فرد بغیر کسی تعصب کے، دل کی نگاہ سے اس مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کرے تو وہ بلاتردّد اس بات کو مان لے گا کہ اسلام کے اس قانون پر کسی اعتراض کی کوئی گنجایش نہیں۔ اگر وہ مردوں اور عورتوں کی معاشی، معاشرتی اور دوسری ذمہ داریوں اور پوری صورت حال کو سامنے رکھے تو اسے یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ آجائے گی کہ اسلام میں وراثت کی تقسیم جنس کی بنیاد پر نہیں بلکہ مخصوص ذمہ داریوں کی وجہ سے انتظامی بنیاد پر ہے۔ اور وراثت کی یہ تقسیم عین عدل و انصاف کا تقاضا ہے ۔ دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ اسلام نے عورت پر کتنا احسان کیا ہے اور اس کو کتنی اہمیت دی ہے کہ اس پر کوئی معاشی ذمہ داری نہیں ڈالی مگر پھر بھی اس کے لیے نہ صرف وراثت میں حصہ مقرر کیا، بلکہ اس کے لیے سرمایے کے حصول اور اس کے تحفظ کے کئی ذرائع متعین کیے اور اسے اپنے اس ’محفوظ سرمایے‘ کے استعمال میں کلّی طور پر خود مختار بھی بنا دیا۔ حتیٰ کہ اس کے شوہر پر بھی یہ پابندی لگا دی کہ وہ بیوی کی اجازت کے بغیر اس کا سرمایہ استعمال نہیں کر سکتا،جب کہ بیوی ضرورت کے مطابق شوہر کے مال سے خرچ کر نے کی مجاز ہے۔ اس کے باوجود اگر وراثت میں عورت کے حصے پر اعتراض اُٹھایا جائے اور اسلام کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے___ کیا یہ مبنی بر انصاف ہوگا؟
اَخلاق اِسلام کے شعبوں میں سے ایک شعبہ نہیں، بلکہ اسلام مکمل طور پر ایک اخلاقی پیغام ہے۔ محققین عموماً پیغامِ اسلام کو چار حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: ۱-عقائد ، ۲-عبادات، ۳-معاملات اور ۴-اَخلاق۔ اس تقسیم میں اَخلاق کو آخری نمبر پر رکھنے سے یہ شبہہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام نے بھی اسے آخری چیز کے طور پر ہی بیان کیا ہے اور اس کی حیثیت دیگر شعبوں جیسی نہیں ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں جو بھی اسلام پر غور و فکر کرے، اس کی روح اور نصوص پر نظر رکھتا ہو، اور اس کے الفاظ اور مقاصد کو سمجھتا ہو، اُس پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام اپنے جوہر اور اصلیت میں ایک اخلاقی پیغام ہے۔ اسلام لفظِ اخلاقیت کے تمام معانی اور مفاہیم کا حامل ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ اخلاقیت اسلام کی عمومی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے۔
اِسلام صرف اس لیے اخلاقی پیغام نہیں ہے کہ اس نے فضائل کی ترغیب پر بہت زور دیا ہے اور رذائل سے بچنے کا حکم بھی اسی شدت کے ساتھ دیا ہے۔ اور ان دونوں معاملات میں اسلام نہایت بلند سطح پر دکھائی دیتا ہے۔ اس سلسلے میں اسلام نے دنیا و آخرت میں جزا و سزا کا اہتمام بھی اعلیٰ سطح پر کیا ہے۔
اسلام کو سراسر اخلاقی پیغام ہونے کا یہ امتیاز اس لیے بھی حاصل نہیں ہے کہ اس میں اَخلاق پر بہت زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثناو توصیف کے لیے ان الفاظ سے ارفع اور بلیغ جملہ کوئی نہیں پایا جاتا:وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍo (القلم۶۸:۴) ’’اور بے شک آپؐ اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہیں‘‘۔ خود زبانِ رسالتؐ نے اپنی رسالت کے مقصد کا خلاصہ اسی چیز کو قرار دیا ہے: ’’بلاشبہہ، مجھے اَخلاقِ کریمہ کی تکمیل کے لیے نبی بنایا گیا ہے‘‘۔
صرف دوچار معاملات میں اَخلاقیت اسلام کی خصوصیت نہیں ہے بلکہ اسلام کے پورے ڈھانچے میں اخلاقیت خون کی طرح گردش کرتی ہے۔ یہ تمام اسلامی تعلیمات، حتیٰ کہ عقائد، عبادات، معاملات، سیاست و معیشت اور امن و جنگ کے شعبوں میں بھی موجود ہے۔
اسلامی عقائد کی اساس توحید ہے اور اس کی ضد شرک ہے۔ اسلام توحید کو ایک اَخلاقی رنگ قرار دیتا ہے۔ وہ اُسے عدل و انصاف میں شمار کرتا ہے اور عدل و انصاف ایک اَخلاقی فضیلت اور خوبی ہے۔ اسی طرح اسلام نے شرک کو ظلم شمار کیا ہے اور ظلم ایک بداَخلاقی ہے۔ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌo(لقمان۳۱:۱۳)’’حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑاظلم ہے‘‘۔
شرک کو اس لیے ظلم کہا گیا ہے کہ اس کا مرتکب عبادت کو اُس کی جگہ سے ہٹا کر ایک غیرموزوں جگہ رکھ دیتا ہے اور اُس چیز کو عبادت کا مستحق قرار دیتا ہے جو عبادت کی مستحق نہیں ہوتی۔ قرآنِ مجید نے تو کفر کو اس کی تمام انواع و اقسام سمیت ظلم قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور ظالم اصل میں وہی ہیں جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں‘‘۔(البقرہ۲:۲۵۴)
اسلام کا عقیدہ، یعنی ایمان جب کامل ہو جاتا ہے اور پھل دینے لگتا ہے تو وہ اَخلاقی فضائل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ قرآنی آیات اور احادیثِ رسولؐ اس امر کی بہترین وضاحت کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صاحبِ ایمان لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
یقینا فلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے جو: اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں، لغویات سے دور رہتے ہیں، زکوٰۃ کے طریقے پر عامِل ہوتے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سواے اپنی بیویوں کے اور اُن عورتوں کے جو اُن کی مِلکِ یمین میں ہوں کہ اُن پر محفوظ نہ رکھنے میں وہ قابل ملامت نہیں ہیں، البتہ جو اُس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں، اپنی امانتوں اپنے عہدوپیمان کا پاس رکھتے ہیں۔(المومنون۲۳:۱-۸)
سچے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیںجن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔(الانفال ۸:۲-۴)
حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لائے پھر انھوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ وہی سچے لوگ ہیں۔(الحجرات ۴۹:۱۵)
اسی طرح احادیث رسولؐ بھی اَخلاقی فضائل کو ایمان کے ساتھ مربوط کرتی ہیں۔ ان فضائل کو ایمان کے لوازم اور ثمرات قرار دیتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتا ہو اُسے رشتے داریوں کو قائم رکھنا چاہیے، اور جو شخص اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے ہمسایے کو اذیت نہ دے، اور جو شخص اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کرے یا پھر خاموش رہے‘‘۔ دوسری حدیث ہے:’’ایمان کے ۶۹شعبے ہیں، سب سے اعلیٰ لا الٰہ الا اللہ ہے، اور سب سے کم تر کسی تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹا دینا ہے‘‘۔ ایک اور حدیث ہے: ’’زانی زِنا نہیں کر سکتا کہ وہ زِنا کرتے وقت بھی مومن ہو اور چور چوری نہیں کر سکتا کہ وہ چوری کے وقت بھی مومن ہو، شرابی شراب نہیں پی سکتا کہ وہ شراب پیتے وقت بھی مومن ہو‘‘۔
بڑی بڑی اسلامی عبادات واضح اَخلاقی اہداف اور مقاصد رکھتی ہیں۔ نماز مسلمان کی زندگی میں پہلی یومیہ عبادت ہے۔ یہ فرد کی ذاتی زندگی کی تشکیل اور دینی غیرت و حمیت کی تربیت کا شان دار فریضہ انجام دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’ یقینا نمازفحش اور برے کاموں سے روکتی ہے‘‘۔(العنکبوت۲۹:۴۵)
نماز مسلمان کے لیے اَخلاقی سہارا بھی ہے جس کے ذریعے وہ مشکلات و مصائبِ زندگی کے مقابلے میں مدد حاصل کرتا ہے۔ فرمایا:’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر اور نماز سے مدد لو‘‘۔(البقرہ۲:۱۵۳)
زکوٰۃ وہ عبادت ہے جسے قرآنِ کریم نے نماز کے ساتھ متصل (التوبہ۹:۱۰۳)بیان کیا ہے۔ یہ کوئی مالیاتی ٹیکس نہیں ہے جس کو امیروں سے وصول کرکے فقیروں پر تقسیم کر دیا جاتا ہے، بلکہ یہ جہانِ اَخلاق میں فرد کی تطہیر اور تزکیے کا وسیلہ بھی ہے۔ بالکل اُسی طرح جس طرح یہ مال و دولت کی ترقی اور افزایش کا ذریعہ ہے۔ فرمایا:’’اے نبیؐ!تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انھیں پاک کرو‘‘۔(التوبہ۹:۱۰۳)
اسلام میں روزے کا مقصد نفس کو شہواتِ نفسانی اور مرغوباتِ حیوانی کی تکمیل سے رُکنے کا ضابطہ سکھانا اور اس ضابطے کی عملی مشق کرانا ہے۔ بالفاظِ دیگر یہ نفس کو تقویٰ کی خاصیت کے لیے تیار کرتا ہے۔ وہ تقویٰ جو اسلامی اَخلاق کا سنگم ہے۔ اسلامی عبادات کا نقطۂ اتصال اور احکامِ اسلامی کا مرکزی خیال ہے۔ فرمایا گیا:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا ؑ کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔(البقرہ۲:۱۸۳)
حج کا مقصود اور مطلوب مسلمان کی روحانی و جسمانی تطہیر بھی ہے۔ اللہ کی عبادت کے لیے دنیا سے الگ تھلگ ہونا بھی۔ زندگی کی خوشنمائیوں اور رعنائیوں، کشمکشوں اور تصادمات سے اوپر اٹھ کر اللہ کی طرف متوجہ ہونا بھی۔ یہی وجہ ہے کہ حج کے اعمال شروع کرنے سے پہلے احرام پہننا فرض کیا گیا تاکہ بندہ ایک ایسی کیفیت میں داخل ہو جائے جس کی بنیاد اور اساس سادگی و انکساری، امن و سلامتی اور سنجیدگی و پاکیزگی ہے۔ یہ خوبیاں معمول کی دنیاوی زندگی کی رعنائیوں میں عموماً ابھر کر اس طرح سامنے نہیں آتیں جیسے دورانِ حج ممکن ہو جاتی ہیں۔ فرمایا:
حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے، اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اُس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بدعملی، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو۔(البقرہ۲:۱۹۷)
اسلامی عبادات اگریہ مفاہیم و معانی کھو جائیں اور اپنے مطالب و مقاصد کو پورا نہ کریں تو وہ اپنا جوہر اور اصل کھو بیٹھتی ہیں۔ وہ ایک بے روح جسم کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ احادیث نبویؐ میں اسی چیز کو بلیغ انداز میں تاکید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ نماز سے متعلق فرمایا گیا:’’جس شخص کی نماز اُسے بے حیائی سے نہ روکے، اُس کی نماز بے مقصد ہے‘‘۔
تہجد گزار کے بارے میں آیا ہے:’’کتنے تہجد گزار ایسے ہیں جن کو جاگنے کے سوا قیام سے کچھ ہاتھ نہیں آتا‘‘۔
روزے کے بارے میں فرمایا:’’جو شخص جھوٹ اور جھوٹ پر مبنی فعل نہ چھوڑے، اللہ کو اُس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں‘‘۔
بعض لوگ عبادات کو محض خاص قسم کی تعبدی حرکات کی ادایگی سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ نماز، روزہ، اور حج وغیرہ کے اعمال کی خاص شکلیں ہیں۔ افسوس ہے کہ عبادات سے متعلق عمومی تصور یہی پایا جاتا ہے، اور یہ تصور غلط ہے۔ اسلام میں عبادت پوری زندگی پر محیط ہے۔ پورا دین عبادت ہے۔ عبادات کے خاص طریقوں اور معروف ارکان کی ادایگی کے ساتھ اَخلاقی قواعد اور نصیحتوں کا اہتمام اس سلسلے میں سرفہرست ہے۔ اور یہ سب کچھ تقربِ الٰہی کے حصول کی غرض سے کیا گیا ہے۔
جب ایک مسلمان سچ بولتا ہے، بھلائی کے کام کرتا ہے، وعدہ پورا کرتا ہے، عہد کو نباہتا ہے، امانت ادا کرتا ہے، عدل کے ساتھ فیصلے کرتا ہے، مقدمات کا تصفیہ انصاف سے کرتا ہے، ناپ تول میں پورا پورا دیتا ہے، نگاہیں نیچی رکھتا ہے، شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے، دوسروں کے جان، مال اور عزت و آبرو پر دست درازی سے باز رہتا ہے، والدین سے اچھا برتائو کرتا ہے، رشتے داریاں ٹوٹنے نہیں دیتا، ہمسایے سے حسن سلوک رکھتا ہے، اپنے مہمان کی عزت و توقیر اور خاطر تواضع کرتا ہے، کمزوروں پر ترس کھاتا ہے، مسکینوں کو کھانا کھلاتا ہے، یتیموں کو دھتکارتا نہیں، خیر کی دعوت عام کرتا ہے، معروف کی تلقین اور منکر کی ممانعت کا فریضہ انجام دیتا ہے، جابر حکمران کے سامنے حق کہتا ہے، زندگی کی تلخیوں پر صبر اور آسانیوں پر شکر کرتا ہے___تو وہ یہ سب کچھ انجام دیتے ہوئے دراصل اپنے رب اللہ سبحانہ کی عبادت ہی کرتا ہے۔ وہ کتاب و سنت کے احکام کی تنفیذ اور تعمیل ہی تو کرتا ہے، اور اس تمام تر جدوجہد کے ذریعے وہ رب کی رضا اور خوش نودی چاہتا ہے۔
جو شخص بھی قرآنِ مجید کو غور سے پڑھے گا وہ اَخلاقی حدود کو ایمانی عقائد اور تعبدی شعائر کے پہلو بہ پہلو پائے گا، ان میں کہیں بھی کوئی دُوری اور جدائی نہیں دیکھے گا۔
نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یومِ آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دِل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں اور مسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے۔ اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اُسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راست باز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔(البقرہ۲:۱۷۷)
اس جامع آیت میں اُن یہودیوں کے رویے اور تصور کی تردید کی گئی ہے جو عبادات کی محض شکلوں (طرزِ ادایگی)اور مراسم ہی کو سب کچھ سمجھتے تھے۔ قرآنِ مجید نے ان کے تصورِ عقیدہ و شعائر دونوں کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا کہ نیکی بس یہی نہیں ہے کہ تم مشرق و مغرب کی طرف رخ کر لو، بلکہ (عقیدہ میں) نیکی یہ ہے کہ اللہ پر ایمان لایا جائے، آخرت پر ایمان رکھا جائے، (شعائر میں) نیکی یہ ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوٰۃ ادا کی جائے، (اعمال میں) نیکی یہ ہے کہ اللہ کی محبت میں قریبی اور دور کے رشتے داروں اور ہمسائیوں وغیرہ پر مال خرچ کیا جائے، وعدے پورے کیے جائیں، تنگی تکلیف اور جنگ کے وقت صبر سے کام لیا جائے۔
نصیحت تو دانش مند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں۔ اور اُن کا طرزِ عمل یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پوراکرتے ہیں، اُسے مضبوط باندھنے کے بعدتوڑ نہیں ڈالتے۔ اُن کی رَوِش یہ ہوتی ہے کہ اللہ نے جن جن روابط کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے انھیں برقرار رکھتے ہیں، اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں اُن سے بری طرح حساب نہ لیا جائے۔ اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے رب کی رضا کے لیے صبر سے کام لیتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے عَلانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں، اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں۔ آخرت کا گھر انھی لوگوں کے لیے ہے۔(الرعد۱۳:۱۹-۲۲)
ان آیات میں ایفاے عہد، صلہ رحمی، صبر، انفاق اور حلم کے اَخلاق کو خشیت الٰہی اور انجامِ بد کے خوف اور قیامِ نماز کے ساتھ بغیر کسی تفریق کے مربوط کیا گیا ہے۔ یہاں انسانی اَخلاق کے روحانی پہلو کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ ’ایفا‘ دراصل اللہ کے عہد کا ہے، ’صلہ‘ اس ربط و تعلق کا ہے جس کے وصل کا حکم اللہ نے دیا ہے، اور صبر کا مقصود رضاے الٰہی ہے۔ یہ محض تہذیبی و ثقافتی اور معاشرتی و عمرانی اخلاق نہیں ہیں جو روحانیت سے بالکل خالی ہوں۔
اس سے آگے بڑھیے اور سورۂ فرقان کی آیات ۶۳ تا ۷۶ کا مطالعہ کیجیے۔یہاں دیکھیے کہ روحانی مفاہیم کس طرح انسانی مفاہیم سے بغل گیر ہوتے ہیں۔ یہ ایک شان دار اخلاقی چارٹ ہے جس میں تواضع (انکسار)، حِلم (برداشت و بردباری)کو قیام اللیل اور خوفِ خدا کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ شرک باللہ کو قتل و زِنا کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہ تمام خوبیاں اور صفات دراصل بندگانِ خدا کی خوبیاں ہیں۔ جب وہ ان اچھے اخلاق سے آراستہ ہو جاتے اور بداخلاقیوں سے اجتناب کرتے ہیں تو وہ رب رحمن کی عبودیت کے مفہوم و مقصد کو پا لیتے ہیں۔
اسلامی اَخلاق کے اثرات مالی اور معاشی امور پر بھی ہیں خواہ وہ پیداوار کا میدان ہو یا پیداوار کی تقسیم کا، یا دولت اور اس کے استعمال کا۔ اسلامی معاشیات بے مہار نہیں ہے کہ حدود و قیود کے بغیر اور قواعد و ضوابط سے بالا جیسے چاہے چلتی رہے۔ اعلیٰ مثالوں اور نمونوں کا کوئی لحاظ نہ رکھے۔ جیسا کہ بعض ماہرین معاشیات دعوے دار ہیں کہ اخلاق اور معاشیات کے درمیان کوئی ربط و تعلق قائم نہ کیا جائے۔
کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ جو چاہے تیار کرتا رہے، خواہ وہ مادی اور معنوی اعتبار سے انسانیت کے لیے ضرررساں ہی ہو۔ وہ ایسا نہیں کر سکتا، خواہ اس پیداوار سے بہت بڑی کاروباری کامیابی اور بہت بڑے مالی منافع کیوں نہ حاصل کر سکتا ہو۔ تمباکو (سگریٹ اور افیون کا تمباکو) اور ضرررساں نشہ آور چیزوں کی زراعت میں بہت بڑا مادی فائدہ ہی کیوں نہ ہو، اس کے عوض ملین اور بلین ہی کیوں نہ کمائے جا سکتے ہوں، اِسلام اس بات سے روکتا ہے کہ انسان کی کمائی اور نفع دوسروں کے نقصان اور خسارے کی قیمت پر حاصل ہو۔
شراب کی تیاری کے لیے فراہمی کی غرض سے انگور کی پیداوار بہت بڑا مالی فائدہ دے سکتی ہے مگر اسلام اس منافع کوکالعدم قرار دیتا ہے۔ اس لیے کہ ان کے مقابل نقصانات بہت بڑے ہیں۔ شراب کے استعمال سے عقل و دماغ اور بدن و اخلاق سب تباہ ہو جاتے ہیں۔ ان نقصانات کا عملی مشاہدہ جماعتوں، خاندانوں اور افراد کی تخریب، ٹوٹ پھوٹ اور فساد کی صورت میں کیا جا سکتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
پوچھتے ہیں:شراب اور جوئے کاکیا حکم ہے؟ کہو: اِن دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے۔ اگرچہ اِن میں لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں، مگر ان کا گناہ اُن کے فائدے سے بہت زیادہ ہے۔(البقرہ۲:۲۱۹)
کوئی شخص فحش سیاحت (ٹورازم) سے بڑے بڑے منافع کما سکتا ہے۔لُچر، فحش اور نشہ آور چیزوںکی تجارت کرکے بڑے بڑے بنک بیلنس قائم کر سکتا ہے، مگر اسلام مسلمان کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام نے تو مشرکین کو حج کی نیت سے عازمِ مکہ ہونے سے روک دیا تھا حالانکہ اس میں اہل مکہ کے لیے بڑے فوائد تھے۔ فرمایا:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، مشرکین ناپاک ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔ اور اگر تمھیں تنگ دستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمھیں اپنے فضل سے غنی کر دے، اللہ علیم و حکیم ہے۔(التوبہ۹:۲۸)
مسلمان تجارتی تبادلے کے میدان میں شراب، خنزیر، مُردار اور بُتوں کی تیاری، فراہمی جیسی تجارت نہیں کر سکتا۔ وہ کوئی ایسی شے ایسے کسی شخص کے ہاتھ فروخت نہیں کر سکتا جس کے بارے میں اُسے علم ہو کہ وہ اس چیز کو کسی شر، فساد، اور دوسروں کو نقصان پہنچانے میں استعمال کرے گا، مثلاً کوئی شخص انگور کا جوس، یا انگور ایسے شخص کے ہاتھ فروخت کرے جس کو وہ جانتا ہوکہ یہ اس سے شراب تیار کرے گا۔ اسی طرح کوئی شخص کسی ایسے شخص کو اسلحہ فروخت کرے جس کے بارے میں اُسے علم ہو کہ وہ کسی بے گناہ اور معصوم کو قتل کرے گا یا اسے ظلم و زیادتی کے موقع پر کام میں لائے گا۔
حدیث رسولؐ میں ہے:جب اللہ نے کسی شے کو حرام کر دیا ہے تو اس کی قیمت بھی حرام کردی ہے۔ حدیث ہی میں ہے: انگوروں کی چنائی کے وقت جو شخص اس لیے انگور روک رکھے کہ (وہ بعد میں)کسی یہودی یا نصرانی یا کسی ایسے شخص کے ہاتھ فروخت کرے گا جو اس کو شراب کے لیے استعمال کرتا ہے تو اُس (مالک)کی آنکھوں پر آگ پھینکی جائے گی۔
اناج (کھانے پینے کی اشیا ) اور انسانی ضروریات کی دیگر اشیا محض اس لیے ذخیرہ کیے رکھنا مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ مارکیٹ میں ان کی قلت رونما ہو گی تو کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت کرے گا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ کوئی ذخیرہ نہیںکرتا، مگر صرف گناہ کار۔ قرآنِ مجید میں انھی معنوں میں فرعون، ہامان اور اُن کے لشکروں کو بھی گناہ گار کہا گیا ہے۔
مسلمان تاجر کے لیے یہ بھی جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے سامان کے عیوب و نقائص چھپائے اور خوبیاں اُجاگر کرکے بیان کرے۔ جیسا کہ عصری ذرائع ابلاغ میں اشتہارات کا طریقہ ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ فریب خوردہ خریدار اصل سے زیادہ قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ یہ دھوکا اور فریب ہے جس سے اسلام اور رسولِؐ اِسلام نے اظہارِبراء ت کیا ہے۔ فرمایا: جس نے ہمیں فریب دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
غیرمتوازن تقسیمِ وراثت اور عارضی ملکیت کے میدان میں مسلمان کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ غلط اور ناجائز طریقے سے سامان کا مالک بن جائے۔ اپنی ذاتی ملکیت کو بھی کسی غلط طریقے سے نشوونما دینا حلال نہیں۔ اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے سُود، جوا، باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھانا، اور ظلم اور ضرر کی ہر قسم اور ہر رنگ کو حرام کیا ہے۔
کسی چیز کے صَرف، خرچ اور استعمال میں بھی اسلام نے انسان کو بے مہار نہیں چھوڑ رکھا کہ وہ جیسے چاہے خرچ کرے خواہ اِس سے اُس کی اپنی ذات، اپنے خاندان، یا اپنی قوم ہی کو نقصان پہنچتا ہو، بلکہ اسلام نے اس معاملے میں انسان کو اعتدال و توسّط کا پابند کیا ہے۔ فرمایا:
نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جائو۔(بنی اسرائیل۱۷:۲۹)
اور کھائو پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (اعراف۷:۳۱)
بے قید خرچ و صَرف کو اسلام نے شاہانہ انداز میں شمار کیا ہے اور ایسے لوگوں کو شاہ خرچ کہا گیا ہے۔ اسلام نے شاہانہ طرز کے ہر مظہر کو حرام ٹھیرایا ہے، مثلاً سونے اور چاندی کے برتن مردوں اور عورتوں سب کے لیے حرام ہیں۔ اسی طرح ریشم اور سونے کا استعمال مردوں پر حرام قرار دیا گیا ہے۔
جس طرح اسلامی عقائد، عبادات اور معاملات کے مقاصد کو بطور اَخلاق بیان کیا گیا ہے، اسی طرح اسلامی اَخلاق کے بھی کچھ مقاصد اور اہداف بیان کیے گئے ہیں۔ یہاں اختصار کے ساتھ ان کا ذکر کیا جا رہا ہے:
۱- اسلامی اَخلاق کا ایک مقصد اور ہدف انسان کی ذات کے لیے رفعت اور فضیلت کا حصول ممکن بنانا ہے، یعنی انسان ایک اچھی اور نفیس شخصیت بن جائے۔
۲- دیگر اخلاقیات کے مقابل اسلامی اَخلاق کو جو چیز ممتاز اور منفرد بناتی ہے وہ اللہ وحدہ کی عبودیت کا حصول ہے۔ اس کا مقصد اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا اور اُس کے حقِ ربوبیت سے وفاداری نباہنا ہے۔ اللہ ہی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے ہدایت سے نوازا، انسان کو بہترین ساخت پر نہ صرف پیدا کیا بلکہ اس کو انتہا درجے کی تکریم سے سرفراز کیا۔ اسے سوچنے کی صلاحیت اور بولنے کا ملکہ عطا کیا۔ اسے بہترین صورت عطا کرکے اس میں اپنی روح پھونکی۔ اسے آنکھ، کان اور دل عنایت کیے۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کے لیے مطیع کر دی، اس کے اوپر اپنی ظاہری اور مخفی نعمتوں کا نزول فرمایا۔ ان سب چیزوں کو بعثت ِرسولؐ اور نزولِ قرآن پر مکمل فرمایا۔
اسی رب کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکم بھی دے اور منع بھی کرے۔ وہی حرام و حلال کا اختیار بھی رکھے۔ انسان کا فرض ہے کہ وہ اس کی بات سنے اور اُس کا حکم مانے۔ کیوںکہ اللہ تبارک و تعالیٰ خیر کے سوا کوئی حکم نہیں دیتا، شر کے علاوہ کسی چیز سے نہیں روکتا، طیب کے علاوہ کچھ حلال نہیں ٹھیراتا اور ناپاک کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں کرتا۔(qaradawi.net)
اسلام دین فطرت ہے ۔ فطرت خواہ انسان سے متعلق ہو یا کائنات سے ، اس میں حُسن و توازن اور تناسب و اعتدال کا نقش بہت واضح اور نمایاں ہے۔ عدل صفاتِ الٰہیہ میں ایک ممتاز صفت ہے جس کا اظہار حیات اور آفرینش کے تمام تر مظاہر میں دکھائی دیتا ہے ۔ اس کائنات کی مختلف مخلوقات اور مظاہر فطرت ، عدل کے باعث موجود و برقرار ہیں۔ انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے، لہٰذا اسے عدل کو سمجھنے اور اختیار کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ انبیا علیہم السلام کی دعوت میں بھی عدل کا پہلو نمایاں ہے۔ انسان کو اس جہانِ رنگ و بو میں جو تمیز اور ارادے کی قوتیں اور اختیارات بخشے گئے ہیں، عدل کا تقاضا ہے کہ اس کائنات کی صفوں کو لپیٹ کر ایک ایسا دن برپا کیا جائے جہاں انسانی اعمال کی جز اوسزا کا فیصلہ عدل کے ساتھ کیا جا سکے۔
اسلامی شریعت میں عدل کا تصور دو اجزا سے عبارت ہے۔ ایک یہ کہ بنی نوع انسان کے درمیان مختلف حقوق و رعایات میں توازن و تناسب قائم کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ ہر کسی کو اس کا استحقاق دیا جائے اور اس کے حق کی ادایگی کو یقینی بنایا جائے۔اس تصور عدل کے بغیر فرد ہو یا معاشرہ یا ریاست، ہلاکت خیز اور سنگین نتائج کا سامنا کرتے ہیں۔
عَدَل عربی گرامر کی رو سے مصدر ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں ۲۶ مقامات پر بیان ہوا ہے۔ قرآن مجید میں عدل کو مزید برابری، نیک نیت، قیمت، مردِ صالح اور حق و انصاف کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ اردو زبان میں ’عدل‘ کے لیے عموماً ’انصاف‘ کا لفظ مترادف کے طور پر استعمال ہوتا ہے جو علمی اور لغوی اعتبار سے چنداں درست نہیں ہے۔ انصاف کے معنی ’’تنصیف یا نصف نصف کرنے‘‘ کے ہیں۔ یوں اس سے مراد حقوق کو محض برابر تقسیم کر دینا ہے لیکن عدل کی قرآنی اصطلاح محض مساویانہ تقسیمِ حقوق کا نام نہیں ہے کیونکہ محض مساوات خلافِ فطرت امر ہے۔ حقیقت میں عدل کا تقاضا یہ ہے کہ مساوات کے بجاے توازن و تناسب قائم کیا جائے۔ مساوات اگرچہ عدل کی روح میں شامل ہے جیسا کہ مدنی حقوق اور شہری آزادیوں میں یہ تصور موجود ہے مگر جہاں تک والدین اور اولاد کے درمیان معاشرتی مساوات کا تعلق ہے ، یہ اخلاقاً درست نہیں ہے۔ شریعت کی رو سے عدل کا تقاضا ہے کہ ہر فرد کے قانونی، آئینی ، تمدنی ، سیاسی، معاشی ، معاشرتی اور اخلاقی حقوق کو پوری ذمہ داری اور آخرت کی جواب دہی کے احساس کے ساتھ ادا کیا جائے۔ (دیکھیے: ابن منظور، لسان العرب، ج۱۱، ص ۴۳۰۔ راغب اصفہانی: مفردات القرآن، ص ۲۳۵)
اللہ نے خود اس بات کی شہاد ت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، اور (یہی شہادت) فرشتوں اور سب اہل علم نے بھی دی ہے۔ وہ انصاف پر قائم ہے۔ اُس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی خدا نہیں۔ (اٰلِ عمرٰن ۳:۱۸)
قسط کا لفظ بھی عدل ہی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن مجید میں عدل کی اس مترادف اصطلاح کو ۲۲ مرتبہ استعمال کیا گیا ہے ۔ قرآ ن مجید میں مومنوں کی صفات میں عدل گستری کو ایک اہم مقام دیا ہے۔ فرمایا:’’ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ہدایت اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے‘‘۔(اعراف ۷:۱۸۱)
آخرت میں اعمال کے لیے جو ترازولگائی جائے گی ، اس کو بھی عربی زبان میں قسطاس کہتے ہیں۔ بعثت انبیا ؑکے ساتھ جن فرائض اور ذمہ داریوں کو وابستہ رکھا گیا ہے ، ان میں بھی عدل کا قیام بنیادی امور میں شا مل ہے۔ پیغمبر آخر الزماںؐ کو فرائض نبوت کے سلسلے میں یوں خطاب کیا گیا ہے:
مجھے حکم دیا گیا ہے میں تمھارے درمیان انصاف کروں ۔ اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمھارا رب بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اعمال تمھارے لیے۔ ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ۔ اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔ (الشوریٰ ۴۲:۱۵)
سورۂ شوریٰ کی اس آیت میں نظام عدل کے ساتھ قیام عدل کی بات کی گئی ہے ۔ یہاں حضوؐر کو ایک قاضی اور جج کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے اور آ پ کو ضوابط ِ شریعت کے مطابق عدل قائم کرنے کا فریضہ سونپا جا رہا ہے ۔ وقائع سیرت سے پتا چلتا ہے کہ آپ نے مکی زندگی میں عقائد میں عدل کرنے کی تلقین کی اور پھر مدنی زندگی میں جب ابتداً چھے مربع کلومیٹر کی اسلامی ریاست وجود میں آگئی تو اس میں قیام حق اور نفاذِ عدل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ تا آنکہ اسلامی ریاست کا رقبہ آپؐ کی حیات طیبہ میں ۱۸ لاکھ مربع کلومیٹر تک پھیل گیا۔ اس وسیع سلطنت میں آپؐ نے قیام عدل کی ذمہ داریوں کے لیے بعض دوسرے صحابہ کرام ؓ کو بھی امورِ عدل اور فرائضِ انصاف تفویض کیے اور یوں ان حضرات کے فیصلوں کے بعد آپؐ کی حیثیت ایک اپیلیٹ کورٹ کی اختیار کر گئی ۔(نعیم صدیقی، محسنِ انسانیتؐ، ص ۶۰۳)
حضور سرور کائنات نے عدل کے قیام میں سب لوگوں کے ساتھ یک جہتی کا اسلوب اختیار فرمایا، اپنوں اور بیگانوں کے درمیان تفریق کو ختم کر دیا۔ انصاف میں عربی عجمی ، گورے کالے، امیر اور غریب ، اعلیٰ اور ادنیٰ نسب کے تمام تر تعصبات کو ختم کر دیا۔ یوں عدل کے قیام میں نئے نظائر اور جدید دنیا کے شواہد سامنے آئے جن سے انسانیت اس سے قبل محروم تصور کی جاتی تھی۔
مکی زندگی میں اگرچہ نفاذ عدل کے مواقع موجود نہ تھے مگر دین حق کی پیش کش میں کوئی امتیاز روا نہ رکھا ۔ یہ دعوت سب کے لیے یکساں تھی۔ حلال سب کے لیے حلال تھا اور حرام سب کے لیے حرام تھا۔ شریعت کے ضابطے رنگ و نسل ، علاقے اور زبان کے تصورات سے ماورا تھے اور سب کے لیے یکساں لائق تعمیل تھے ۔ پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری دنیا میں عدل قائم کرنے کی دعوت دی۔ لوگوں کے درمیان انصاف کرنے کی نہ صرف دعوت دی بلکہ قیام امن کی تمام صورتوں کو بروے کار لائے اور مختلف طبقات کے درمیان پائی جانے والی بے اعتدالیوں کا مداوا کیا ۔ بچوں ، عورتوں ، ضعیفوں، غلاموں ، مزدوروں، حتیٰ کہ جانوروں، درختوں اور فصلوں تک کے ساتھ حق و انصاف کی ایک اصولی تعلیم دی گئی ہے۔ دوست تو کجا دشمن کے ساتھ بھی انصاف کا رویہ اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے ۔ اسلامی شریعت میں عدل کی اہمیت قرآنی آیات اور اسوۂ رسولؐ سے واضح ہو جاتی ہے ۔ عدل چونکہ صفات الٰہیہ میں شامل ہے اس لیے قرآن مجید میں حق تعالیٰ نے اسے اپنی کائنات اور اپنی سر زمین پر قائم کرنے کا بھی حکم دیا ہے:
اللہ عدل اور احسان اور صلۂ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔(النحل ۱۶:۹۰)
عدل کی سب سے اہم نوعیت قانونی عدل ہے ۔ شریعت معاشرے میں ہر نوعیت کے ظلم اور حق تلفی کا ازالہ کرتی ہے ۔ اسلام، کسی فرد /ادارے یا ریاست تک کو بھی اس امر کی اجازت نہیں دیتاکہ وہ کسی کی حق تلفی کرے یا نا حق مال ہڑپ کرے یا کسی کی عزتِ نفس کو مجروح کرے۔ شریعت ہر فرد کے جان و مال اور مسلمہ بنیادی حقوق کی حفاظت کرتی ہے۔ لیکن بعض وہ حقوق بھی فرد کو عطا کرتی ہے جن کا تصور آج کے جدید اور مہذب معاشروں میں موجود نہیں۔
اسلام نے عدل و انصاف کے ضوابط متعین کر دیے ہیں۔ حدود کا نظام واضح اور تعزیرات کو جرائم کی نوعیت کے مطابق اختیار کرنے کی حدود بتا دی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس معاشرے میں اسلامی قوانین کا اطلاق اور نفاذ ہوتا ہے وہاں بد امنی ،ظلم اور لوٹ کھسوٹ کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ فرد کے جان و مال اور عزت و ناموس کو تحفظ ملتا ہے۔ ہر فرد کی معاشی کفالت کی ذمہ دارریاست ہے۔
اسلامی قانون میں حلال و حرام واضح اور حدود وتعزیرات متعین ہیں۔ مگر انفرادی ، اجتماعی ، معاشرتی ، سیاسی، معاشی اور قانونی عدل اسی وقت قائم ہو سکتا ہے، جب کہ اسلامی ریاست اپنے تمام اداروں سمیت قائم ہو، احتساب کا عمل پختہ ہو اور مناصب پر خدا ترس، مستحق اور ایمان دار لوگ فائز ہوں ۔ اسی لیے قرآن نے ہمیں حکم دیا ہے :
اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا لا وَ اِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ ط (النساء ۴:۵۸) مسلمانو! اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔
قیام عدل کے بغیر شرف انسانی کا تحفظ ممکن نہیں۔ اس کے لیے انفرادی اور اجتماعی ہر دو سطح پر کوششیں ہونا چاہیے۔ اگر وحی الٰہی کے مطابق عدل گستری نہ کی جائے تو یہ مشرکانہ، فاسقانہ اور کافرانہ طرزِ عمل ہے۔ قیام عدل کے بغیر امن ممکن نہیں جو ایک مہذب ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تاریخ انسانی، خلافت علی منہاج النبوۃ سے بہتر عادلانہ معاشرے کی آج تک کوئی دوسری مثال پیش نہیں کر سکی۔ جس کی پیروی میں تاریخ اسلام نے ہر دور میں عدل کی روشن ، حکمت آموز اور بصیرت افروز مثالیں قائم کی ہیں۔
عدل و انصاف کی ضرورت عدالتی امور میں خاص طور پر ہوتی ہے ۔ اسلام نے عدالتی کاروبار کے ہر پہلو میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھا ہے ۔ اس سلسلے میں چار باتیں اہم ہیں جن پر روشنی ڈالی جائے گی:
اس آیت میں لکھنے والے کو عدل و انصاف سے لکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسی آیت میں لکھوانے والے کو بھی یہی حکم دیا گیا ہے۔
lفیصلہ کرنے میں عدل: وَ اِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَo (المائدہ ۵:۴۲)’’اور اگر فیصلہ کرو تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنا۔ بے شک اللہ عدل کرنے والوں کوپسند کرتا ہے‘‘۔
سورئہ نحل میں فرمایا: اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ (النحل ۱۶:۹۰)’’ بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے‘‘۔
فیصلہ حاکم کے پاس ایک قسم کی امانت ہے۔ اگر اس نے فیصلہ ٹھیک کیا ہے تو اس نے امانت کواس کے حق دار تک پہنچا دیا ورنہ اس نے خیانت کی۔
ارشاد نبویؐہے’’جو شخص مسلمانوں کا حاکم بنا اس نے اس کے ساتھ خیانت کی، یعنی عدل و انصاف سے کام نہ لیا اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا‘‘۔ اور عادل بادشاہ کے لیے یہ مژدہ ہے کہ وہ جنتی ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کو اپنے عرش کے سایے میں جگہ دے گا۔
جب فریق مقدمہ والدین یا رشتہ دارہوں تو یہاں پر حق بات کہناجوے شیر لانا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اگر صحیح بات کی تو والدین اور رشتہ داروں سے تعلقات کشیدہ ہو جائیں گے مگر قرآن پاک یہاں بھی یہی مطالبہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے سچ بات کی گواہی دو۔
اسلام نے عدل و انصاف کا ایساا علیٰ معیار قائم کیا ہے کہ اس میں بادشاہ و فقیر،آقا و غلام ، رنگ و نسل، حسب و نسب، قبیلہ و خاندان اور دین و مذہب کی کوئی قید نہیں۔ قانون کی نگاہ میں سب مساوی اور برابر ہیں۔ کسی کا بڑا ہونا اس کو سزا سے نہیں بچا سکتا۔
سورۂ نساء کی آیت ۱۳۵میں عدل و انصاف کے اعلیٰ معیار کا اندازہ لگائیے۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآئَ لِلّٰہِ وَ لَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ ج اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِھِمَا قف فَلَا تَتَّبِعُوا الْھَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْا ج وَ اِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا o (النساء ۴:۱۳۵) اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہواللہ تعالیٰ کی طرف کی گواہی دو اگرچہ اپنی ذات کے خلا ف ہو یا ماں باپ اور رشتہ داروں کے خلاف ہو۔ اگر کوئی مال دار ہے یا فقیر ہے اللہ تعالیٰ ان کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے۔ تم انصا ف کرنے میں دل کی خواہش کی پیروی نہ کرو۔ اگر تم دبی زبان سے گواہی دو گے یا منہ موڑو گے تو بلاشبہہ اللہ تعالیٰ تمھارے سب اعمال سے باخبر ہے۔
عدل و انصاف ایک ایسی چیز ہے جس نے دنیا کے نظام کو قائم رکھا ہے ۔ اگر دنیا سے عدل و انصاف اٹھ جائے تو یہ کارخانہ عالم درہم برہم ہو جائے۔ یہاں پر افرا تفری عام ہوجائے۔ ہرطرف لاقانونیت اور فتنہ و فساد کا دور دورہ ہو جائے۔ اس بد امنی کو ختم کرنے کا واحد ذریعہ قانونِ عدل کا نفاذ اور اس پر عمل ہے۔ گویا کہ کسی معاشرے کے امن و سکون اور استحکام کا ضامن صرف عدل ہے۔
عدل و انصاف پر قائم رہنے والوں کو خوش خبریاں سنائی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ امام عادل کو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اپنے سایے میں جگہ دے گا، جب کہ اس کے سایے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ ایک جگہ ارشاد ہے کہ قیامت کے دن امام عادل کا درجہ سب سے بلند ہوگا۔
عدل کی مختلف اقسام اور نوعیتوں میں ایک نازک تر پہلو معاشی عدل کا ہے ۔ آج پوری دنیا معاشی لوٹ کھسوٹ ، سود ، ذخیرہ اندوزی، نفع خور ی اور اسراف و تبذیر کے شکنجوں میں جکڑی نظر آتی ہے۔ اسلام معاشی ظلم کی ہر شکل کو مٹانا چاہتا ہے اور معاشی لحاظ سے ایک عادلانہ معاشرے کا تمنائی ہے ۔
قرآن مجید میں سورئہ بقرہ میں مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے :
وَ لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِھَآ اِلَی الْحُکَّامِ لِتَاْکُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنo (۲:۱۸۸) اور آپس میں ایک دوسرے کے اموال باطل طریقوں سے نہ کھائو اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمھیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے۔
شریعت نے معاشی عدل کے لحاظ سے یتیموں کے اموال کے بارے میں احتیاط ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ہے ۔ بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ کم تولنے والوں کے لیے تباہی اور اسراف و تبذیر سے بچنے کی تلقین کی ہے ۔ مال و دولت پر سانپ بن کر بیٹھنے اور ارتکازِ دولت کو ممنوع قرار دیا ہے۔ یوں اسلام معاشی عدل کے ایک ایسے پہلو کو پیش کرتا ہے جس سے اسلامی معاشرہ ہر قسم کی لوٹ کھسوٹ سے اور معاشی ناہمواریوں کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہوتاہے۔
اسلام نے اپنی ذات کے ساتھ بھی عدل کرنے کا حکم دیا ہے۔ انسان اپنی ذات کو بھی ایسی مشقتوں اور ریاضتوں میں نہ ڈالے جن کا حکم شریعت نے نہیں دیا، یا جہاں اس کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہو۔ مشقت میں ڈال کر چلہ کشی کرنا، مسلسل روزے رکھنا اس میں شامل ہیں۔ اپنے حقوق سے خواہ مخواہ دستبردار ہو جانا، اپنے حق کے لیے جدو جہد نہ کرنا اپنی ذات سے عدل کے خلاف ہے ۔
معاشرتی زندگی میں عدل و انصاف کی بڑی اہمیت ہے ۔ عدل دراصل کا میاب معاشرے کی جان ہے ۔ اگر یہ معاشرتی زندگی سے نکل جائے تو پھر انسانی زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ گھر، عزیزو اقارب اور معاشرے میں ہر کسی کو اس کا متعینہ مقام و احترام دیا جائے۔ والدین ، قریبی رشتے دار، محلہ دار، اساتذہ،معاشرے کے کمزور لوگ اور غربا، عمر میں چھوٹے ، غرض سب کے حقوق شریعت اور معاشرتی روایات میں متعین ہیں۔ معاشرتی عدل یہ ہے کہ ہر ایک کو اس کے حقوق دیے جائیں۔
اگر عائلی زندگی میں عدل و انصاف نہ ہوتو میاں بیوی زندگی کے دن آرام و سکون سے نہیں گزار سکتے۔ اس عدل و انصاف کی ضرورت اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے جب کسی کے نکاح میں ایک سے زائد بیویاں ہوں ۔ اسلام نے دوسرے نکاح کو عدل کے ساتھ مشروط کر دیا۔ ارشاد ہے :
فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً (النساء ۴:۳) ’’ اگر تمھیں خوف ہو کہ تم انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی پر اکتفا کرو‘‘۔ سورئہ نساء میں فرمایا: ’’اگر تمھاری ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو ان میں سے کسی ایک ہی کی طرف جھک نہ جائو کہ دوسری بیوی معلق حالت میں رہ جائے‘‘۔
نبی اکرم ؐ نے اپنی بیویوں کے ہاں باری مقرر کر رکھی تھی اور تمام بیویوں کو عدل کے مطابق وقت دیتے تھے۔
اولاد کے درمیان عدل و انصاف بھی ضروری ہے۔ وگرنہ ان کے درمیان بغض اور عناد کے جذبات پیدا ہوں گے۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری اولاد کے ساتھ ایک سا سلوک کرنے کی تعلیم دی ہے۔ خانگی معاملات میں سکون پیدا کرنے کے لیے یہ ایک زریں اصول ہے جسے کسی وقت بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایک صحابی نے اپنے ایک بیٹے کو کچھ مال دیا اور حضوؐر کو اس میں ضامن بنایا۔ آپؐ نے پوچھا کہ کیا تم نے اپنے دوسرے بچوں کو بھی یہ کچھ دیا ہے ؟تو انھوں نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ پھر اس ظلم کے کام میں میں گواہ نہیں بنوں گا۔
ہماری معاشرتی زندگی کے بہت سے مسائل اور گھریلو جھگڑے اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ ہمارے گھروں کے سربراہ اور ذمہ دار اپنے سے چھوٹوں سے عدل نہیں کرتے ۔ بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہ دینا، بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دینا، اولاد میں کسی ایک کو زیادہ اختیارات دے دینا، جایداد برابر تقسیم نہ کرنا، جایداد سے محروم کرنے کے لیے کسی ایک بچے کو عاق کر دینا___ یہ سب عدل کے منافی کام ہیں۔ گھر کی بہوئوں سے مساوی سلوک نہ کرنے سے گھروں کی زندگی اجیرن بن کر رہ جاتی ہے۔ گھروں کے اندر پائی جانے والی یہ کشیدگی عدل کے ذریعے دُور ہو سکتی ہے۔
معاشرے کے کمزور ترین افراد یتیم ہوتے ہیں۔ ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے قرآنِ مجید میں تفصیلی طور پر احکامات دیے گئے ہیں۔ حدیث میں ہے، آپؐ نے فرمایا:میں یتیموں کا کفیل ہوں۔
قرآن مجید اور نبی اکرم ؐ نے ان تمام لوگوں کے لیے عدل کا خصوصی حکم دیا ہے جنھیں لوگ کمزور سمجھ کر ان کے حقوق پامال کرتے ہیں۔ آپؐ نے اپنی وفات سے قبل جن لوگوںکے حقوق کی طرف خصوصاً متوجہ فرمایا ان میں ملازم ، عورتیں اور ماتحت لوگ ہیں۔
قرض اور اُدھار کے معاملات میں نا انصافی کا بڑا امکان ہوتا ہے۔ اس لیے سورئہ بقرہ کی آیت ۲۸۲ میں قرض کے معاملات کو عدل و انصاف کے ساتھ لکھ لینے کا حکم دیا۔ پھر لکھنے والے (کاتب) کو انصاف کے ساتھ لکھنے ، مقروض کو انصاف کے ساتھ لکھوانے اور گواہ کو انصاف کے ساتھ گواہی دینے کی ہدایات دے کر قرض کے معاملات میں نا انصافی کی جڑوں کو کاٹ کر رکھ دیا ہے ۔ پھر اس تحریر کے متعلق ارشاد ہے:ذٰلکم اقسط عند اللّٰہ (یہ لکھنا) اللہ تعالیٰ کے نزدیک انصاف کو زیادہ قائم رکھنے والا ہے ۔
نبی پاکؐ نے فرمایا : صاحب استطاعت کا قرض کی ادائیگی میں تاخیر ظلم ہے ۔
میں نے خوب اچھی طرح چھانٹ پرکھ کر اپنی پوری زندگی جس مذہبِ انسانیت کے حوالے کی ہے اس کا نام ہے: امن و سلامتی کا مذہب۔
کسی بھی مذہب پر غور کرتے ہوئے سب سے پہلے دو ہی بنیادی حقیقتیں دیکھی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس نے خدا کا تصور کیا دیا ہے؟ دوسرے یہ کہ اس نے انسان کو کیا مقام دیا ہے؟ جہاں خدا کا تصور ناقص یا خلافِ حقیقت ہوگا وہاں انسان بھی اپنے اصل مرتبہ و مقام سے ہٹا ہوا ملے گا، اور جہاں انسان کو اس کے شایانِ شان درجہ نہ دیا گیا ہو، وہاں خدا کا تصور کبھی صحیح اور مطابقِ حقیقت نہیں ہوسکتا۔ کسی مذہب کے تصورِ خدا کی کسوٹی اس کا تصورِ انسان ہے۔ چونکہ مذہب کا مقصود انسانی زندگی کو بنانا سنوارنا ہے، اس لیے مذاہب کی جانچ میں یہ سوال بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ وہ انسان اور انسانی زندگی کو کیا درجہ دیتے ہیں۔ آدمی کو جس نظامِ فکروعمل کی طرف پکاریے اس کی خودی یہ دریافت کیے بغیر نہیں رہ سکتی ہے کہ اس نظام میں میرا مقام کیا ہے؟ مادی کائنات کے اسٹیج پر زندگی کی تمثیل پیش کرنے میں میرے لیے کیا پارٹ تجویز کیا گیا ہے؟ آفرینش کی اس بھری مجلس میں میری نشست کہاں ہے؟
انسانی زندگی کی بہترین ساخت ہی کو نمایاں کرنے کے لیے میرے مذہب نے انسانِ اوّل کی سرگزشت بیان کی ہے۔ جنت میں ریہرسل کا دور گزارتے ہوئے اس سے جو لغزش ہوئی تھی، اس کے بارے میں میرے مذہب کا بیان یہ ہے کہ ایک تو وہ دیدہ دانستہ نہ تھی بلکہ غلط فہمی اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے سرزد ہوئی۔ دوسرے اس کے اندر زیادہ اُونچے مراتب اور ابدی زندگی پانے کا اعلیٰ مقصد کارفرما تھا: فَوَسْوَسَ لَھُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَھُمَا مَا وٗرِیَ عَنْھُمَا مِنْ سَوْاٰتِھِمَا وَ قَالَ مَا نَھٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَا مَلَکَیْنِ اَوْ تَکُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ o (اعراف۷:۲۰)۔تیسرے یہ کہ اس لغزش پر باغیانہ اکڑ پیدا ہونے کے بجاے اس کے فوراً ہی بعد احساسِ ندامت ہوا اور آدم ؑ اپنی رفیقہ سمیت خدا کے سامنے معافی کے خواست گار بن کر حاضر ہوگئے: قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَـآ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo (اعراف۷:۲۳)۔ اختیار کے استعمال کے ا س پہلے تلخ تجربے کے بعد اوّلین انسانی جوڑا بدی کی شیطانی طاقتوں کے بارے میں پوری طرح چوکنا ہوگیا اور ایک پاکیزہ زندگی کی تعمیر کا نیا عزم لے کر میدانِ مقابلہ میں اُتر گیا۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ ایک بااختیار مخلوق کے لیے اس سے زیادہ اُونچی فطرت کا تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اپنا فرض ادا کرنے میں اگر کبھی اس سے بھول چوک ہوجائے تو وہ اس کا احساس کرے اور پھر اپنی اصلاح پر آمادہ ہوجائے۔
پھر دیکھیے کہ میرے مذہب کا خطاب کسی ایک گروہ اور نسل اور قوم کے لیے خاص نہیں ہوا بلکہ وہ ساری انسانیت کے لیے عام ہے۔ وہ کہتا ہے کہ بنی نوع انسان ایک گھرانا اور ایک برادری ہیں۔ اس نے کسی خاص عنصر کو اپنا چہیتا اور لاڈلا بنا کر نہیں پکارا بلکہ ’اے انسان‘: ٰٓیاََیُّھَا الْاِِنْسَانُo (الانفطار۸۲:۶، الانشقاق۸۴:۶)اور ’اے لوگو‘ : یٰٓاَیُّھَا النَّاسُo (البقرہ۲:۲۱-۱۶۸، النسائ۴:۱، ۱۷۰، ۱۷۴، یونس۱۰:۵۷،۱۰۴، ۱۰۸، الحج۲۲:۱، ۵، ۴۹، الفاطر۳۵:۳،۵، ۱۵، الحجرات۴۹:۱۳)کہہ کر ساری اولادِ آدم ؑ کو سچائی اور نیکی کا پیغام یکساں سنایا ہے۔ وہ سورج اور ہوا اور بارش کی طرح اپنا فیضانِ عام رکھتا ہے۔ وہ انسانیت کے مقابلے میں اور کسی چیز کو وجہِ احترام نہیں مانتا۔ وہ ان ساری تقسیموں سے انکار کرتا ہے جو انسان اور انسان کو آپس میں کاٹتی اور اُن میں جھوٹی اُونچ نیچ پیدا کرتی ہیں۔ وہ ایک ہی تقسیم کو مانتا ہے اور عزت و ذلت کا ایک ہی معیار تسلیم کرتا ہے، یعنی کون سچائی اور نیکی میں آگے ہے اور کون پیچھے ہے: اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ (الحجرات ۴۹:۱۳۔ لَیْسَ لِاَحَدٍ فَضْلٌ عَلٰی اَحَدٍ اِلَّا بِدِیْنٍ اَوْ عََمَلٍ صَالحٍ (مسند امام احمد)۔ حد یہ کہ وہ مذہبی جتھا بندیوں اور ان کے نمایشی سائن بورڈوں کو بھی کوئی وزن نہیں دیتا: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا وَ النَّصٰرٰی وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ (البقرہ ۲:۲۵۶)، بلکہ جو لوگ خود اُس کا اپنا ٹھپہ ماتھے پر لگاکر آتے ہیں انھیں بھی وہ مجرد ظاہری ٹھپے کی بنا پر قابلِ قدر نہیں مانتا۔ وہ صرف یہ پوچھتا ہے کہ تم چاہے گورے ہو چاہے کالے، تم چاہے سامی ہو یا حامی، تم چاہے مرد ہو یا عورت، بتائو کہ سچا ایمان اور کھرا کردار کس کے پاس ہے۔ وہ یہاں تک کہتا ہے کہ جس نے انسانیت کو کاٹنے والی جاہلی عصبیتوں کا نعرہ بلند کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں: مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَایَۃٍ عَمِیَّۃٍ یَغْضَبُ لِعَصَبِیَّۃٍ اَوْ یَدْعُوا اِلٰی عَصَبِیَّۃٍ اَوْ یَنْصُرُ عَصَبِیَّۃً فَقَتَلَ قِتْلَۃً جَاھِلِیَّۃً (مسلم، نسائی)
حضرات! ان چند مختصر اشارات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ میرے مذہب ، دینِ اسلام نے انسان کو کیا مقام دیا ہے۔ بس خاتمۂ کلام کے طور پر میں ایک جملہ کہنا چاہتا ہوں، اور وہ یہ ہے کہ میرا مذہب اُن محدود معنوں میں مذہب نہیں ہے جن میں یہ لفظ عام طور پر بولا جاتا ہے، بلکہ وہ ایک دین یا ایک نظامِ زندگی ہے۔ اس کی بنیاد پر کوئی جامد فرقہ نہیں پیدا ہوتا بلکہ ایک متحرک پارٹی تشکیل پاتی ہے۔ وہ کوئی مذہبی مشن نہیں کھڑا کرتا بلکہ ایک بین الاقوامی تحریک بپا کرتا ہے۔ وہ مجرد وعظ نہیں سناتا، عملی مسائل کو اپنے ہاتھ سے حل کرنا چاہتا ہے۔ وہ کسی سے تبدیلیِ مذہب نہیں چاہتا بلکہ ذہن و کردار کی مکمل تبدیلی مانگتا ہے۔ اس کا منتہا چند پاک باز افراد پیدا کردینا نہیں، وہ نیکی کا ایک جہانی نظامِ سیاست و تمدن وجود میں لانا چاہتا ہے۔
الحمدللہ! مسلمان بچے (اوّل)، قرآنی تعلیمات (دوم) اور اسلامی آداب و اخلاق کے نفیس ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ دسمبر کے پہلے ہفتے سے احباب میں تحفتاً تقسیم شروع ہوجائے گی، ان شاء اللہ۔ مقامی حضرات دستی وصول کریں، جب کہ دیگر حضرات ۵۰روپے کے ڈاکٹ ٹکٹ ارسال کریں۔
شیخ عمر فاروق، -15 بی، وحدت کالونی، لاہور۔ فون: 042-37810845
اسلامی معاشرے کا کیا مطلب اور مفہوم ہے؟ اس کی کیا خصوصیات ہونی چاہییں اور معاشرتی و اخلاقی اعتبار سے اس کو کیسا ہونا چاہیے؟ جب تک ذہن میں اس معاشرے کا تصور واضح نہیں ہوگا، اس کے قیام کی جدوجہد اور مقصد کی تکمیل بے سمت رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ جائزہ بھی لینا ہوگا کہ جب یہ معاشرہ قائم تھا تو اس میں کب، کہاں اور کس قسم کی خرابیوں نے جنم لیا… اور اس وقت دنیا میں جہاں جہاں اس سے ملتا جلتا معاشرہ قائم ہے، وہاں ایک ’مثالی اسلامی معاشرے‘ کے مقابلے میں کیا تبدیلیاں اور فرق پایا جاتا ہے۔ اس جائزے کے نتیجے میں ان خرابیوں، تبدیلیوں اور فرق کو دُور کرنے کے اقدامات تجویز کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے بعد آخری مرحلے پر اصل مقصد کا حصول اور مسلم دانش وروں کے سامنے طریق کار اور لائحہ عمل پیش کرنے کا کام ہوگا۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دورِ خلافت میں ایک علاقے کے گورنر نے خلیفہ کو خط لکھا: ’’غیرمسلموں کے بڑی تعداد میں مسلمان ہونے سے جزیے کی آمدنی کم ہوتی جارہی ہے‘‘۔ خلیفہ نے جواب دیا: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق و صداقت کا پیامبر بناکر بھیجا گیا تھا تاکہ سچائی فروغ پائے۔ انھیں تحصیل دار بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا کہ لوگوں سے رقم جمع کرتے رہیں‘‘۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا یہ جواب اسلامی معاشرے کے اس بنیادی مقصد کی تائید کرتا ہے کہ اس معاشرے کو انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ سونپا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے زندہ رہتا ہے۔
ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔(الحدید۵۷:۲۵)
قرآن کا یہ فرمان انبیاے کرام ؑ کی بعثت اور آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد یہ بتاتا ہے کہ انسانوں کے لیے ایک ایسا نظامِ حیات تشکیل دیا جائے، جس میں انفرادی اور اجتماعی معاملات اور ایک فرد کی پوری زندگی انصاف کے اصول کے تابع ہو۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں زندگی کے ہرشعبے میں عدل و انصاف کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
اسلام کے ابتدائی دور میں جن لوگوں نے اس مثالی معاشرے کی بنیاد رکھی، انھوں نے عدل و انصاف کے اس بنیادی فلسفے کو نمایاں رکھا۔ خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ نے زمامِ حکومت سنبھالنے کے بعد فرمایا: ’’جو شخص مظلوم ہے وہ سب سے زیادہ طاقت ور ہے اور جو ظالم ہے وہ سب سے کمزور ہے۔ اس وقت تک جب تک ظلم کا خاتمہ نہ کیا جائے اور مظلوم کے حقوق نہ دلوائے جائیں‘‘۔ اب یہ بات واضح طور پر سمجھی جاسکتی ہے کہ عدل و انصاف، معاملات کی شفافیت اور توازن اسلامی معاشرے کی بنیادی خصوصیات ہیں۔
مکی زندگی میں چند صحابہؓ، رسولِ اکرمؐ کے پاس آئے اور کفار کے جبروتشدد اور ظلم وستم کی شکایت کی۔ حضرت خباب بن الارتؓ فرماتے ہیں کہ ’’آپؐ کعبہ کے سایے میں چادر سر کے نیچے رکھ کر لیٹے ہوئے تھے (اُس زمانے میں مکہ والے بے پناہ ظلم و ستم مسلمانوں پر توڑ رہے تھے)۔ ہم نے آپؐ سے عرض کیا کہ: ’’آپؐ ہمارے لیے اللہ کی مدد طلب کیوں نہیں کرتے؟ آپؐ اس ظلم کے خاتمے کی دُعا کیوں نہیں کرتے؟‘‘ (آخر یہ سلسلہ کب تک دراز ہوگا؟ کب یہ مصائب ختم ہوں گے؟)
حضوؐر نے یہ سن کر فرمایا: ’’تم سے پہلے ایسے لوگ گزرے ہیں کہ ان میں سے کسی کے لیے گڑھا کھودا جاتا، پھر اسے اس گڑھے میں کھڑا کیا جاتا۔ پھر آرا لایا جاتا اور اس سے اس کے جسم کو چیرا جاتا، یہاں تک کہ اس کے جسم کے دو ٹکڑے ہوجاتے، پھر بھی وہ دین سے نہ پھرتا، اور اسی طرح اس کے جسم میں لوہے کے کنگھے چبھوئے جاتے جو گوشت سے گزر کر ہڈیوں اور پٹھوں تک پہنچ جاتے، مگر وہ اللہ کا بندہ حق سے نہ پھرتا۔
قسم ہے خدا کی! یہ دین غالب ہوکر رہے گا، یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء (یمن) سے حضرموت تک کا سفر کرے گا اور راستے میں اللہ کے سوا اسے کسی کا خوف نہ ہوگا۔ البتہ چرواہے کو صرف بھیڑیوں کا خوف رہے گا کہ کہیں بکری اُٹھا نہ لے جائیں لیکن افسوس تم لوگ جلدی کرتے ہو‘‘۔(بخاری)
ایک اور موقع پر آپؐ نے حضرت عدی ابن حاتم ؓ سے فرمایا کہ ’’ایک وقت آئے گا جب صنعا (عرب کے ایک سرے پر واقع تھا) سے ایک عورت مکہ تک جائے گی اور بالکل محفوظ ہوگی۔ قیصروکسریٰ کی بڑی بڑی سلطنتوں کے خزانے تم نے دیکھے ہیں، یہ سب میری اُمت کے ہوںگے۔ ایک وقت آئے گا کہ ایک شخص ہاتھ میں سونا لے کر نکلے گا اور کوئی اس کو لینے والا نہیں ہوگا‘‘۔
ان واقعات سے پتا چلتا ہے کہ قانون کی بالادستی، قانون کی نظر میں سب کی برابری، معاشی انصاف اور خوش حالی اس معاشرے کی خصوصیات ہیں، جہاں ایک شخص دوسرے کی خیرات پر زندہ نہیں رہتا اور ہر شخص کو اس کا حق ملتا ہے۔
یہ اسلامی معاشرے کی وہ اہم خصوصیات ہیں جو موجودہ دور میں اس منزل کی نشان دہی کرتی ہیں جس کی سمت ہمیں انسانیت کی رہنمائی کرنا ہے، یعنی انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام۔ قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے: ’’تاکہ دنیا میں انصاف ہوسکے‘‘ (الحدید ۵۷:۲۵)۔ ایک اور جگہ فرمان ہے: ’’ہم نے لوہا اُتارا جو (سیاسی) طاقت کی علامت ہے ‘‘ (الحدید ۵۷:۲۵)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انصاف اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا، جب تک سیاسی قوت ہاتھوں میں نہ ہو۔
اب اس مسئلے کے دوسرے پہلو کا جائزہ لیتے ہیں، یعنی یہ کہ جب اسلامی معاشرہ قائم تھا تو اس میں کب، کہاں اور کس قسم کی خرابیوں نے جنم لیا؟ جب تک ان خرابیوں کی نشان دہی نہیں ہوگی، اس معاشرے کی دوبارہ تعمیر ممکن نہیں۔
نبی کریمؐ کی حیاتِ طیبہ میںمسجد نبویؐ میں ایک شخص فرض نماز ادا کرنے کے بعد کھڑا ہوا اور اسی جگہ نفل پڑھنے لگا۔ حضرت عمر فاروقؓ وہاں موجود تھے۔ آپ نے اس شخص کو ٹوکا اور فرمایا کہ پچھلی قومیں اسی لیے تباہ کردی گئیں۔
دراصل بات یہ ہے کہ اہم باتیں، کم اہم باتوں کے ساتھ شامل کردی گئی ہیں اور جو باتیں غیراہم ہیں انھیں اہمیت دے دی گئی ہے کیوں کہ ان کی ادایگی سہل ہے۔ اسلامی معاشرے کی اہم باتوں میں ایک بات، اللہ کے دین کے لیے مسلسل جدوجہد ہے۔ یہ ایک سخت اور مشکل کام ہے۔ ہم نے اسے کم اہم بنا دیا ہے۔ یوں ترجیحات کا پورا نظام اُلٹ کر رکھ دیا گیا جس سے اسلامی معاشرے کی اساس کو نقصان پہنچا ہے۔
اسلامی معاشرے میں پیدا ہونے والا تیسرا بگاڑ یہ ہے کہ ایک نظریے کے طور پر اسلام کو غالب کرنے اور دین کو پھیلانے کا کام ترک کر دیا گیا۔ ہم یہ احساس ہی برقرار نہ رکھ سکے کہ یہ نظریہ صرف ہمارے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کے لیے ہے اور ایک داعیانہ اور تبلیغی جذبے کے ساتھ اسے دنیا میں پھیلانا ہے۔ اس انقلابی فکر کو بھلانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم مصلحت پسند ہوگئے۔ ہر جگہ اسی رویے سے کام لینے لگے۔
امریکی صدرآئزن ہاور کو واشنگٹن کی ایک مسجد کے افتتاح کے لیے مدعو کیا گیا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ایک غیرمسلم سربراہِ مملکت کو مسجد کے افتتاح کے لیے بلایا جائے گا، لیکن یہ ہوا اور اس وجہ سے ہوا کہ ہم اسلام کا مشنری جذبہ کھو بیٹھے ہیں۔ مسجد اللہ کی بندگی اور عبادت کی جگہ ہے۔ مسلم معاشرے میں اسے ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس کے تقدس اور اہمیت کو اس طرح نظرانداز کرنا اس خرابی کی ایک مثال ہے، جو تبلیغِ دین کے سلسلے میں ہمارے اندر پیدا ہوئی۔
یہ وہ خرابیاں ہیں جو اسلامی معاشرے کے قیام کے کچھ عرصے بعد پیدا ہونی شروع ہوئیں۔
غیرمتوقع طور پر یہ بات تو ان نوآبادیاتی قوتوں کے لیے ممکن نہ ہوسکی کہ وہ مسلمانوں کا مذہب تبدیل کراسکیں۔ وہ انھیں عیسائیت قبول کرنے پر آمادہ نہ کرسکے، لیکن بہرحال وہ ایک ایسی نسل تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے، جو اپنے اعتقادات کے بارے میں واضح تصورات نہیں رکھتی تھی، جو قرآن و سنت کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا تھی اور جسے اپنے مستقبل پر یقین نہیں تھا۔ مغربی حکمرانوں کی کوششوں سے پیدا ہونے والی اس نسل نے تعداد میں بہت قلیل ہونے کے باوجود، ہر اس جگہ مسائل پیدا کیے جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی یا وہ سیاسی طاقت حاصل کر سکتے تھے۔
یہ نسل مسلمان معاشرے میں وجود رکھتے ہوئے دوہری شخصیت کا شکار ہوکر رہ گئی۔ اس نسل کو گھر پر کچھ تعلیم دی جاتی ہے اور اسکولوں، کالجوں میں بالکل متضاد نظریات کا درس دیا جاتا ہے۔ مذہب اسے ایک سمت میں بڑھنے کا اشارہ کرتا ہے لیکن مغربی فلسفہ اور نظریات کی بنیاد پر دی جانے والی تعلیم اسے بالکل مخالف سمت کھینچنا چاہتی ہے۔ اس کش مکش میں مسلم معاشرے کا فرد داخلی انتشار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ داخلی انتشار کی یہ بیماری پورے مسلم معاشرے میں بہت گہری ہوچکی ہے اور ان ممالک میں حکمرانوں اور محکوموں میں جڑ پکڑ چکی ہے۔ ان ممالک میں حکمرانوں اور محکوموں میں اختلاف مستقل حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مملکت کے وہ تمام وسائل جو قومی ترقی کے لیے استعمال ہونے چاہییں تھے، بلاوجہ باہمی کش مکش اور تصادم میں ضائع ہو رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال مغربی تہذیب کے اثرات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
’قومیت‘ بذاتِ خود ایک ’مذہب‘ ہے، جو ’اسلام‘ کے بالکل متضاد ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب ایک شخص مغربی علمِ کلام کی رُو سے ’قومیت‘ کا فلسفہ اختیار کرتا ہے تو وہ سچا مسلمان باقی نہیں رہتا، کیونکہ قومیت کے نظریے میں خدا کی جگہ ’قوم‘ سے پُر کی جاتی ہے۔ اگر مغرب میں قومیت کے ارتقا کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جب اجتماعی زندگی سے ’کلیسا‘ کا اقتدار اور ’خدا‘ کی حاکمیت کو خارج کردیا گیا، تو ان کی جگہ پُر کرنے کے لیے اور بندگی کے فطری ذوق کی تسکین کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت محسوس ہوئی اور یہ ضرورت قومیت کے بت سے پوری کی گئی۔
قرآن میں ربِ کائنات ، مالکِ کائنات اور اللہ کی اصطلاحیں استعمال ہوئی ہیں۔ ایک سیکولر نظام میں اللہ کی جگہ ریاست اور قوم لے لیتی ہے۔ مالک کی جگہ ’عوامی استحکام‘ کے تصور سے پُر کی جاتی ہے، اور ’رب‘ کی جگہ ’سائنس اور ٹکنالوجی‘ کے بت بناکر سجا لیے جاتے ہیں۔ قومیت کے یہ تین اجزا آج جدید تثلیث کی نئی شکل ہیں۔
پہلے مسلمان کا مقصد رضاے الٰہی کا حصول تھا لیکن مغربی تہذیب اپنانے کے بعد اب ہرآزاد مسلم ملک کے حکمران اپنے عوام کے سامنے معاشی ترقی، زیادہ پیداوار، زیادہ صنعتیں وغیرہ کی تعمیر کے مقاصد پیش کرتے ہیں۔ آج تقریباً ہرمسلم ملک انھی مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد میں مصروف ہے۔ اصل مقصد فراموش کردیا گیا ہے۔
اس حکمت عملی سے معاشرہ داخلی تضادات کا شکار ہوا، کیوںکہ مقصد ِ زندگی ارفع و اعلیٰ اقدار کا حصول نہیں، بلکہ مادی خواہشات کا حصول ہوگیا، اور جب بات اقتصادی ترقی کی ہوئی تو پھر ترجیحات ہر طاقت ور فرد کی ذات سے وابستہ ہوگئیں۔ علاقے کی سطح پر ترقی کا سوال آیا تو ’میرا گھر، میرا گائوں، میرا شہر اور میرا صوبہ‘ اور سب سے آخر میں ’ملک‘ کی بات آئی۔ ترقی کی اس دوڑمیں جو پیچھے رہ گیا، وہ دوسروں سے شاکی اور متصادم نظر آنے لگا۔ اقتصادی ترقی ایک مسلم معاشرے میں اعلیٰ اقدار کے حصول کا ذریعہ ہوسکتی ہے ،مقصد ِ زندگی نہیں۔
آخری بات یہ کہ مسلم دنیا کی ترقی کے لیے اسے جو منصوبہ دیا گیا، وہ بذاتِ خود اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہے۔ آج کی مسلم دنیا میں دو طرح کے وسائل موجود ہیں: ایک افرادی قوت اور دوسرے قدرتی وسائل۔ لیکن یہ ممالک اقتصادی بدحالی میں مبتلا ہیں۔ ان وسائل کو بہتر طور پر استعمال کرنے کے لیے نقد رقم کی شدید کمی ہے۔ اس صورت حال میں مسلم ملکوں کی اقتصادی ترقی کے لیے جو منصوبے بنائے گئے اور جنھیں آنکھیں بند کر کے قبول بھی کرلیا گیا، ان کی بنیاد ان قرضوں پر ہے۔ ان قرضوں اور امداد کے نام پر عمل میں آنے والی کارروائیوں کا ان ملکوں کی آزادی، خودمختاری اور ترقی پر کیا اثر پڑے گا، اس سوال کو مکمل طور پر نظرانداز کردیا گیا ہے ۔ پاکستان کے حوالے سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہاں ابتدائی ۲۰سال گزرنے کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ اگر اربوں روپے کے صرافے سے اقتصادی ترقی کے پروگراموں پر عمل درآمد جاری رکھا گیا، تو عام آدمی کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اور وہ پہلے ہی کی طرح مفلوک الحال رہے گا۔ اس وقت پاکستان میں متعدد بڑی صنعتیں ہیں، شپ یارڈ، اسٹیل مل لیکن زراعت سے وابستہ ملک کی ۷۰فی صد آبادی بدستور بدحالی کا شکار ہے۔
یہ وہ پانچ بڑے مسائل ہیں جن کا مسلم دنیا کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مسلم دانش وروں کو انھیں حل کرنے کی تدابیر کرنی چاہییں۔ مسلم معاشرے کی تشکیل نو میں اہلِ علم و دانش کا کردار جس قدر اہمیت رکھتا ہے، اُس کا اندازہ اسلامی تعلیمات کے پہلے لفظ ’اقرائ‘ سے لگایا جاسکتا ہے۔ قرآن فکر کی دعوت دیتا ہے اور ذہانتوں کے استعمال کی ترغیب دلاتا ہے۔
اسلامی معاشرے کی تعمیر نو میں اندرونی اور بیرونی طور پر رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں۔ علاقائی سطحوں سے بین الاقوامی سطح تک، سازشوں کے جال بچھائے جاتے ہیں اور جن ملکوں میں اسلامی معاشرے کے قیام کی کوشش کی جاتی ہے، اس کے حالات کو اس قدر خراب کردیا جاتا ہے کہ اسے اپنی سرحدوں کی حفاطت کی فکر لاحق ہوجاتی ہے۔ ان تمام حربوںکو پیش نظر رکھنے اور ان کے سدّباب کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی عوام میں یہ یقین اور اعتماد پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ اسلام ہی ان کے تمام مسائل کا واحد حل ہے اور یہی دین و دنیا کی بہتری اور بھلائی کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے بغیر اسلامی معاشرے کی تعمیرنو کا کام مؤثر طور پر نہیں ہوسکتا۔
آج مسلم دنیا میں نئے معاشرے کی تشکیل کی خواہش نظر آتی ہے۔ اس تحریک کے ہراول دستے میں ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جو اسلام کے لیے ہرقسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ امریکا اور یورپی ملکوں میں کام کرنے والے مسلم دانش وروں کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں ان تحریکوں کی فکری رہنمائی کریں۔ ان کے لیے وقت صرف کریں، وہاں کے مخصوص حالات میں مسائل کا حل تلاش کریں اور جہاں تک ممکن ہو ان تحریکوں کو کامیاب بنانے کے لیے ہرممکن اقدام کریں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہرمسلم ملک میں اسلامی معاشرے کے قیام کی تحریک شروع ہوئی، لیکن وہیں یہ مشاہدہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چند برسوں بعد ہی ان میں سے بیش تر تحریکیں غیرمقبولیت کا شکار بھی ہوئیں۔ اس کی وجہ آمرانہ نظام، خوش کن نعرے، اقتصادی نظام یا بین الاقوامی حالات ہوسکتے ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ کسی بھی مسلم ملک میں اگر اس قسم کی تحریک برسرِاقتدار آگئی تو اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے اسے ان دانش وروں کی فعال رفاقت اور رہنمائی کی ضرورت ہوگی، جو مغربی ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ یہ لوگ مغربی نظام کی کوتاہیوں، خامیوں اور خوبیوں کا قریب سے مطالعہ کرتے رہے ہیں اور بدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں۔
اسلامی معاشرے کی تشکیلِ نو صرف علما اور دانش وروں کے اقدامات کے نتیجے میں ہی عمل میں نہیں آئے گی، کیوںکہ کوئی بھی نظریہ اور کوئی بھی نظام، دنیا میں صرف کتابوں، نعروں، جلوسوں، کانفرنسوں اور تقریروں کے ذریعے قائم نہیں ہوا۔ جس طرح کسان بیج بونے سے پہلے اور بعد میں مسلسل جدوجہد کرتا ہے، اسی طرح اس مقصد کے لیے بھی مسلسل اور اَن تھک محنت کی ضرورت ہے۔ اس لیے دانش وروں کا صرف فکری محاذ پر کام کرنا کافی نہیں، انھیں عملی جدوجہد میں بھی شریک ہونا چاہیے۔
اسلام ہرمعاملے میں اعتدال اختیار کرنے کی بنا پر تمام ادیان میں ممتاز و نمایاں ہے۔ اسلام نے اپنی امت کی ایک خصوصیت ’اعتدال‘ کو قرار دیا ہے۔ اسلام عمل و عقیدے اور روحانی و مادی ہر میدان میں توازن کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ فرد کی زندگی میں روح اور مادہ، عقل اور قلب، دنیا اور آخرت اور حقوق و فرائض کے درمیان توازن کی بنیاد پر اپنا حکم نافذ کرتا ہے۔ دوسری طرف وہ فرد اور معاشرے کے درمیان میزانِ عدل قائم کرتا ہے۔ وہ فرد کو بے تحاشا آزادی اور حقوق نہیں دے دیتا کہ وہ معاشرے کے لیے دردِسر بن جائے، جیسا کہ سرمایہ دارانہ نظام نے کیا ہے۔ اسلام معاشرے کو ایسے اختیارات بھی نہیں دیتا کہ معاشرہ سرکش و ظالم بن جائے، یا فرد پر ایسی بے جا پابندیاں عائد کر دے کہ اُس کی شخصیت دب کر رہ جائے۔ اُسے پنپنے کا موقع نہ ملے، اس کی صلاحیتیں اور کارآمد قوتیںبروے کار نہ آ سکیں، جیسا کہ کمیونزم اور انتہا پسند اشتراکیت نے کیا۔ اسلام معاشرے میں عدل قائم کرنے کے لیے بے قید شخصی آزادیوں کا سرمایہ دارانہ نظریہ بھی قبول نہیں کرتا۔ خصوصاً اُن طبقات کی وجہ سے جو معاشرے میں کمزور اور پسے ہوئے ہوں۔
اسلام فرد کو فرد کا حق اور معاشرے کو معاشرے کا حق دیتا ہے۔ وہ کسی کے حق میں کوئی کمی کرتا ہے نہ دوسرے کے حق میں کوئی اضافہ۔ یہ تمام چیزیں شریعت کے احکام اور تعلیمات نے مرتب کر دی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ملک کے باشندوں کی آزادی کی حفاظت اُسی طرح کرتا ہے جس طرح وطن کی آزادی کی۔ یہ حریت فکر ہے نہ کہ حُریت کفر، یہ ضمیر کی آزادی ہے لیکن حدود کے ساتھ، یہ حقوق کی آزادی ہے مگر حدود سے تجاوز کی آزادی نہیں۔
ہم یہاں اس عقیدے اور ایمان کا اظہار ضروری سمجھتے ہیں کہ انسانوں کو اُن کی مائوں نے آزاد پیداکیا ہے، لہٰذا کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دوسرے پر مسلط ہو اور نہ کسی کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ لوگوں میں سے کچھ کو اللہ کے علاوہ رب بنا لے۔ دراصل حقیقی آزادی تو حقیقی توحید کا ثمر ہے اور لا الٰہ الا اللہ کے مفہوم کا لازمی نتیجہ ہے۔
اسلام واقعیت پسندی میں انفرادیت رکھتا ہے۔ اسلام انسان کے ضعف کا اعتراف کرتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے انسانوں کو ترغیب بھی دی ہے اور ڈرایا بھی ہے، نیکی کی طرف بلانے اور برائی سے روکنے کا حکم دیا ہے۔ سزا ئیں بھی مقرر کی ہیں اور توبہ کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے۔ اسلام نے ضرورتوں کے لیے احکام وضع کیے ہیں۔ مجبور اور معذور لوگوں کے عذر کا خیال رکھا ہے۔ لہٰذا مختلف حالات میں رخصتیں اور استثنا کی گنجایش رکھی ہے، جیسے خطا، نسیان اور اِکراہ ہے۔ جب اعلیٰ اور ارفع صورت کو اختیار نہ کیا جا سکتا ہو تو ادنیٰ اور نسبتاً ہلکی صورت کو اپنا لینے کی اجازت دی ہے۔
اسلام کی واقعیت پسندی کی ایک مثال یہ ہے کہ وہ انسان کی تکریم کرتا ہے، اس کو اُوپر اٹھاتا ہے۔ وہ اُسے حیوانیت کے پست درجے پر نہیں گراتا اور نہ اُسے خداوندی کے مقام پر فائز کرتا ہے۔ وہ اُس کے ارفع شوق اور سفلی جذبات کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ روحانی اور جسمانی، عقلی اور جذباتی، مردانہ اور نسوانی، انفرادی اور معاشرتی، ہراعتبار سے اس کا اعتراف کرتا ہے، اسے اہمیت دیتا اور اس کا لحاظ رکھتا ہے۔ وہ اس کے لیے جائز تفریح اور خوشی اور راحت کے مواقع فراہم کرتا ہے، تاکہ وہ پُرمسرت اور خوش گوار زندگی گزار سکے۔
اسلام خاندان کو معاشرے کی اساس خیال کرتا ہے۔اس لیے اسلام شادی کی ترغیب دیتا ہے۔ اس کے اسباب اور ذرائع کو آسان اور رکاوٹوں کو دُور کرتا ہے۔ ناروا پابندیوں کو رَد کرتا ہے جو شادی کو مشکل بناتی اور تاخیر کا سبب بنتی ہیں، مثلاً بہت زیادہ حق مہر مقرر کرنا، تحفے تحائف اور شادی ولیمے میں اسراف، زیب و زینت اور لباس میں تفاخر ،جو اللہ اور اس کے رسولؐ کو ناپسند ہے۔
اسلام حلال اور جائز ذرائع مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ حرام اور اُس کی طرف لے جانے والی عریانی، بنائو سنگھار، گفتگو، تصویر، ناول اور ڈراما وغیرہ سب کے دروازے بند کرتا ہے، خصوصاً ذرائع ابلاغ میں جو ہر گھر میں داخل ہو سکتے ہیں اور آنکھ اور کان تک پہنچ کر اُسے متاثر کر سکتے ہیں۔
اسلام میاں بیوی کے درمیان راحت و مودت، ہمدردی وسکون کے تعلقات، حقوق و فرائض کی ادایگی اور معروف کے ساتھ باہمی زندگی گزارنے کی بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ وہ طلاق کو ناگزیر جراحی کی طرح اس وقت جائز قراردیتا ہے جب زوجین کا اکٹھے رہنا ناممکن ہو جائے اور صلح و ثالثی کے تمام طریقے آزمائے جا چکے ہوں۔ اسلام صرف اُس مومن کو دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے جو اسباب و ذرائع بھی رکھتا ہو اور عدل کر سکے۔
اسلام والدین کی طرف سے مادی وجذباتی اور تربیتی پہلوئوں کی پوری پوری رعایت کو ملحوظ رکھتے ہوئے والدین اور اولاد کے درمیان تعلقات کو فرض ٹھیراتا ہے۔ اولاد کی طرف سے والدین کے ساتھ احسان اور اچھے برتائو کو واجب قرار دیتا ہے۔ اسلام معاشرے اور حکومت کی طرف سے ماں کی مامتا اور بچے کے بچپن، خصوصاً یتیم اور لاوارث بچوں کے بچپن کے حقوق اور نگہداشت کی پوری رعایت رکھتا ہے۔ اسلام خاندان کو وسعت دیتا ہے تاکہ نسبی اور قریبی رشتے دار اس دائرے میں آجائیں۔ ان رشتے داریوں کو قائم رکھنا فرض ہے اور انھیں توڑ دینا اللہ کے نزدیک کبیرہ گناہ ہے۔
اسلام قانون اور قانون سازی کی طرح تربیت اور رہنمائی کا بھی اہتمام کرتا ہے بلکہ قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد سے قبل تربیت کا اہتمام کرتا ہے۔ صرف قوانین معاشروں کی تشکیل نہیں کرتے، بلکہ معاشروں کی تشکیل مسلسل تربیت اور رہنمائی سے ہوتی ہے۔ ہر تحریک اور تبدیلی کی بنیاد ایک صاحب ِفکر اور باضمیر انسان کی تشکیل ہوتی ہے۔ ایسا انسان جو صاحب ِاخلاق بھی ہو اور صاحب ِایمان بھی۔ یہی صالح انسان ایک صالح معاشرے کی اساس ہوتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ تربیتی ادارے خواہ وہ ماں کی گود ہو یا یونی ورسٹی، ہر ایک رہنمائی کا فریضہ ادا کرنے پر خصوصی توجہ دے کہ نسلِ نو کو علوم اور مہارت کے ساتھ ساتھ ایمان و اخلاق کی تربیت بھی دی جائے۔
عقیدے کو خرافات سے محفوظ رکھنا، توحید کو شرک سے آلودہ نہ ہونے دینا، آخرت پر یقین، اخلاق میں استحکام، بات میں سچائی کو اپنانا، عمل میں پختگی، عہد و امانت کو پورا کرنا، حق کا واشگاف اظہار، دین میں وفاداری اور خیرخواہی کا مظاہرہ ، اللہ کی راہ میں جان و مال کے ذریعے جہاد، حسب استطاعت دل و زبان سے برائی کو روکنا، ظلم و سرکشی کے خلاف جدوجہد کرنا، ظالموں سے مرعوب ہو کر اُن کی طرف مائل نہ ہونا، خواہ اُن کے پاس فرعون جیسی سلطنت اور قارون جیسی دولت کیوں نہ ہو__ یہ تمام وہ نکات ہیںجو معاصر مسلمان طبقوں کی مطلوب تربیت کے اہم نشانات ہیں۔
پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو درست رخ پر رکھنے کے لیے بھی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ میڈیا لوگوں کی سوچ، میلانات اور دل چسپی کو ایک رُخ دیتا ہے اور پھر راے عام اُسی رُخ پر تشکیل پاتی ہے جسے میڈیا تشکیل دیتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ میڈیا کے ان پہلوئوں کی تطہیر کی جائے جو عقیدے کو خراب، سوچ کو آلودہ اور رویوں میں انحراف پیدا کرتے ہیں۔ میڈیا کی توجہ معیاری پروگراموں کے ذریعے جو سنسنی خیزی اور غلط فہمی پیدا کرنے سے دور ہوں، قوم کے بڑے مقاصد کی خدمت پر مرکوز ہونی چاہیے۔ میڈیا کا محور خبر کے اندر سچائی اور رہنمائی کا عنصر ہونا چاہیے۔ میڈیا کو اسلامی اقدار و روایات اور قومی پالیسی کا عکاس ہونا چاہیے۔
اِسلام اپنے ماننے والوں کے درمیان وحدت و اخوت کے تعلقات پر مبنی معاشرہ قائم کرتا ہے جہاں مختلف نسلوں کے درمیان کوئی تصادم ہوتا ہے اور نہ مختلف ادیان کے مابین کوئی کش مکش۔ نہ مختلف طبقات آپس میں دست و گریباں ہوتے ہیں، نہ مختلف مذاہب (مسالک) ایک دوسرے سے گتھم گتھا۔ یہاں تمام انسان بھائی بھائی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونا اور آدمؑ کی اولاد ہونا ان کے اتحاد کی وجہ ہے۔ ان کے درمیان طرح طرح کے اختلافات اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت کا نتیجہ ہیں۔ اللہ قیامت کے روز ان کے باہمی اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔
اسلام اسلامی معاشرے کے غیرمسلم باشندوں کو بھی احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اسلام انھیں اللہ تعالیٰ، اس کے رسولؐ اور مسلمانوں کی امان میں دیتا ہے۔ گویا مسلمان اُن کے جان و مال کی حفاظت، دفاع اور اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک اور عدل و انصاف کرکے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے۔ اگر یہ تعبیر بھی غیرمسلموں کے لیے تکلیف کا باعث ہو تو انھیں اُن کے فہم و شعور پر چھوڑ دینا چاہیے۔ بہرحال اسلام اُن کے لیے عقیدے اور عبادت کی آزادی فراہم کرتا ہے۔ اُن کے خون، عزت و آبرو اور مال و دولت کا اسی طرح محافظ ہے جس طرح مسلمانوں کا۔ اسلام اِن کو بھی اسی طرح اندرونی ظلم و ستم سے محفوظ رکھتا ہے جس طرح بیرونی دشمن کی جارحیت سے ان کا دفاع کرتا ہے۔ اسلام اُن کے لیے بھی وہ تمام حقوق مقرر کرتا ہے جو مسلمانوں کے لیے ہیں۔ ان کے اوپر بھی وہی فرائض عائد کرتا ہے جو مسلمانوں پر عائد ہیں سواے اُن مستثنیات کے جن کا تعلق دین کے فرق سے ہے۔ اسلام انھیں مادی و معنوی اور قانونی، تمام ضمانتیں اور تحفظ فراہم کرتا ہے جو اُن کے لیے اِن حقوق کے حصول کی ضمانت ہیں۔
اِسلام پیشوائیت کو نہیں مانتا۔ اسلام میں کوئی ایسا تصور نہیں جو پیشوائیت کے منصب پر براجمان کسی طبقے کا قائل ہو۔ ایسا طبقہ جو دین کو دیوار سے لگا کر خود لوگوں پر حکومت کرنے لگے۔ لوگوں پر اللہ کا دروازہ بند کر دے۔ اگر کھولے تو اپنے ذریعے سے۔ کسی کو کچھ عطا کرنے کا فیصلہ بھی اسی طبقے سے صادر ہو اور کسی کو بخش دینے کا مژدہ بھی یہی طبقہ سنائے۔ اسلام کے نزدیک کسی شخص کو اپنے اور اپنے رب کے درمیان کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ اس کا رب تو اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ علماے دین کی حیثیت تو دین کے ماہرین کی ہے۔ ان کی طرف بھی کوئی شخص اسی طرح رجوع کرتا ہے جس طرح وہ کسی دوسرے علم کے ماہر سے استفادہ کرتا ہے۔ یہ حق ہر مسلمان کو حاصل ہے کہ وہ جب چاہے دین کے مطالعے کے ذریعے اس میں تخصص حاصل کرکے عالم بن جائے۔ یہ منصب نہ کسی وراثت کا مرہونِ منت ہے نہ کسی لقب اور مخصوص لباس کا متقاضی۔
اسلام میں دینی اور غیردینی جماعتوں اور تنظیموں کی تقسیم نہیں ہے۔ اس اعتبار سے لوگوں کے درمیان، قوانین کے درمیان، تنظیموں اور جماعتوں کے درمیان کوئی تقسیم نہیں ہے۔ ناگزیر ہے کہ یہ سب کے سب اسلام کی خدمت میں لگے ہوئے ہوں۔
اِسلام امت کے اس حق کو یقینی بناتا ہے کہ وہ امورِ سلطنت کو انجام دینے کے لیے اپنے حکمرانوں کا انتخاب کرے۔ کسی کو حکمران بنا کر اس کے اوپر مسلط نہیں کیا جا سکتا جو اس کی مرضی کے خلاف اس کی قیادت کرے۔ امت مسلمہ تو حکمرانوں کو مزدور اور خادم سمجھتی ہے۔ امت کے پاس اُن کی نگرانی اور محاسبے کا حق ہے۔ وہ اِن حکمرانوں کی مدد اور خیرخواہی کے لیے مصروف ہوتی ہے۔ معروف میں ان کی اطاعت کو فریضہ سمجھتی ہے۔ اسی طرح اُس کی اطاعت کا فریضہ امت پر سے ساقط ہوجاتا ہے جو معصیت کا حکم دے اور انحراف کی روش اپنا لے۔ ایسے حکمران کو نصیحت اور رہنمائی کرنا فرض ہے۔ اگر یہ چیز مفید نہ ہو سکے تو اس کو معزول اور حکومت سے بے دخل کردینا ضروری ہے۔ اگرکوئی حکومت خواہ وہ اسلامی ہی ہو، اس طرح کی روش اختیار کر لے تو وہ اُن معنوں میں دینی حکومت نہیں ہے جس سے عہد وسطیٰ میں مغرب آشنا ہوا۔ یہ تو بیعت اور شورٰی اور عدل پر قائم حکومت تھی۔ یہ اس قانون کی مدد سے حکمران تھی جو نہ اس نے بنایا تھا نہ اُس کو بدلنے کی طاقت اور اختیار رکھتی تھی۔ اس کے اعیانِ سلطنت علماے دین نہیں تھے، بلکہ طاقت و امانت اور علم و حفاظت کی صلاحیت رکھنے والے فرد ہوتے تھے۔ یہ وہ لوگ ہوتے تھے جنھیں اگر اللہ زمین میں حکمرانی عنایت کرے تو وہ نماز کا نظام قائم کریں، زکوٰۃ اداکریں، معروف کا حکم دیں اور منکر سے منع کریں۔
اسلام سرکش اور ظالم حکمرانوں سے تصادم کے دوران ایسی تمام عملی صورتوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو حکمرانوں کے مقابلے میں قوموں اور طاقتوروں کے مقابلے میں کمزوروں کے حقوق کی ضامن ہوں۔ خواہ ان کا تعلق اُن دساتیر سے ہو جو مقتدر قوتوں کے درمیان فرق قائم کرتے ہیں، یا منتخب پارلیمان سے ہو، بااختیار عدلیہ سے ہو، آزاد صحافت سے ہو، آزاد محراب و منبر سے ہو، یا متعارض گروپوں سے۔ ان تمام چیزوں کا اسلام کی روح اور اس کے مقاصد کلّیہ سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے خواہ ان کے بارے میں اسلام کی براہِ راست جزوی نصوص موجود نہ بھی ہوں۔
اسلام دولت کی حفاظت کرتا ہے۔ اسلام کا نظریہ ہے کہ دولت انسانی زندگی کا مدار اور سرچشمۂ اسباب ہے۔ اس کے بغیر دنیا کی زندگی کی تعمیر نہیں ہو سکتی، نہ دین کی نصرت و حمایت اس کے بغیر ممکن ہے۔ یہ اللہ کی ایسی نعمت ہے جس کا شکر ادا کرنا فرض ہے۔ یہ ایسی امانت ہے جس کی حفاظت کرنا واجب ہے۔ اسی طرح یہ آزمایش اور امتحان بھی ہے کہ اللہ یہ عطا کرکے انسانوں کو آزماتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے حلال اور جائز طریقوں سے کمانا ضروری ہے۔ اس میں واجب ہونے والے حقوق کو ادا کرنا اور اسے بے جا اور تعیشات و فضولیات پر خرچ ہونے سے بچانا ضروری ہے۔ خاص طور پر دولت عامہ کی حفاظت نہایت ضروری ہے، یعنی وہ مال ودولت جس کو اسلام میں عظیم حرمت عطا کی گئی ہے، جیسے مالِ یتیم کی حرمت۔
اسی طرح اسلام پوری قوت کے ساتھ قوم کی اقتصادی ترقی کے لیے کام کرتا ہے۔ وہ اس کے مادی ذرائع کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اس کی افرادی قوت کو تربیت فراہم کرتا ہے اور وہ اُمت کے تمام شہریوں کو ایک دوسرے کے لیے سہارا بناتا ہے تاکہ ہر ایک خود کفیل ہو سکے۔ زراعت و صنعت کے میدانوں میں وہ اپنی ضرورت کے مطابق اشیا پیدا کر سکیں۔ وہ دوسروں کے دست نگر نہ رہیں۔ اسلام دنیا کے لیے کیے جانے والے عمل کو دین کا ایک جزو سمجھتا ہے۔ وہ زمین کی آباد کاری کو عبادت قرار دیتا ہے۔ معاشرے کی ترقی کو فرض ٹھیراتا ہے۔امت کی تہذیبی وعسکری اور جہاد فی سبیل اللہ کے حوالوں سے ترقی و تقویت، معاشی طور پر امت کو آزاد اور خودمختار و خودکفیل بنانے کے لیے جدوجہد تقربِ الی اللہ کا افضل ترین عمل ہے۔ یوں اسلام امت کو ایسے معنوی محرکات، ترغیبات، ذرائع اور طریقے مہیا کرتا ہے جو اس کی گاڑی کو پوری قوت کے ساتھ آگے کی طرف دوڑاتے ہیں۔ انسان کی ایسی پوشیدہ قوتیں جو ترقی کا ہدف ہوں ان کو بھی اسلام نے اپنے قالب میں ڈھال کر کارآمد بنایا ہے۔
معاشرے کے کمزور طبقات مزدور، کسان، ہنرمند اور وہ چھوٹے ملازمین جو امن میں ضروریاتِ زندگی فراہم کرتے ہیں اور حالت جنگ میں مددو نصرت کے لیے تیار کھڑے ہوتے ہیں، اسلام ان پر بہت زیادہ توجہ دیتا ہے۔ وہ ان کو تحفظ فراہم کرنے والی ضمانتوں اور اُن کے حقوق کا محافظ ہے۔ ہر آجر سے اس کی حیثیت کے مطابق لیا جائے گا اور ہراجیر کو اس کی محنت اور ضرورت کے مطابق دیا جائے گا۔ دونوں ایک دوسرے کی استطاعت و استعداد کو ملحوظ رکھتے ہوئے معاملات طے کریں گے۔ اسی طرح کام نہ کر سکنے والوں یا اپنی محنت مزدوری سے اپنی ضروریات پوری نہ کرسکنے والے حاجت مندوں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا بھی اسلام خیال رکھتا ہے، اور ان کے لیے سالانہ اور عمومی مدات میں حقوق مقرر کرتا ہے۔ یہ حقوق مال دار افراد کے مال و دولت، قومی بیت المال میں جمع غنائم، فے اور دیگر تمام ذرائع آمدن میں سے دیے جاتے ہیں۔ اسلام اس عمل کے ذریعے کمزور طبقات اور دولت مند افراد کے درمیان ایک مضبوط قربت پیدا کرتا ہے تاکہ کمزور طبقات کو امیروں کے ظلم سے محفوظ رکھا جا سکے اور فقرا کی سطح سے اوپر اٹھایا جا سکے۔ اسلام اس صورتِ حال کو قبول نہیں کرتا کہ معاشرے میں کوئی فرد شکم سیر ہو کر رات گزارے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا رہے۔ اسلام کے نزدیک حکومت ایسے لوگوں کی نگہداشت کی براہِ راست جواب دہ ہے۔ کیونکہ حکمران اور قائد چونکہ نگران ہے، لہٰذا وہ اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے۔
اسلام اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ مسلمان اپنے وطن سے محبت رکھے اور اس پر فخر کرے، یااپنی قوم سے محبت کا دم بھرے اور اس پر فخر کے جذبات رکھے۔ جب تک یہ چیز مسلمان کے اپنے دین اور اس پر فخر سے متصادم نہ ہو، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس صورت میں وطنیت اور قومیت کے حوالے سے اسلام کا دامن تنگ نہیں بشرطیکہ ان میں ایسے نظریات نہ ہوں جو اسلام سے متصادم ہوں یا اسلام دشمن ہوں، جیسے الحاد، سیکولرزم، مادہ پرستی، جاہلی عصبیت وغیرہ۔ اس کے ذریعے اسلام تعمیر کا خواہاں ہے تخریب کا نہیں۔ وہ وحدت و اتحاد قائم کرتا ہے تفریق و انتشار نہیں۔ وہ تقویت فراہم کرتا ہے ضعف پیدا نہیں کرتا۔ وہ وطن کے اتحاد اور اس کی مضبوطی کا داعی ہے۔ لہٰذا امت اسلامیہ کا اتحاد مشترکہ اخلاقی اصولوںکے تحت انسانیت کے اتحاد اور اس کے امن و سلامتی کی کوشش ہے۔
اسلام نظریے کا مقابلہ نظریے سے کرتا ہے اور شبہے کا مقابلہ حجت سے۔ اس لیے کہ دین میں کوئی جبر نہیں اور نہ نظریے میں کوئی جبر ہے۔ وہ تشدد کو طریقہ اور دہشت گردی کو ذریعہ بنا لینے کی تردید کرتا ہے۔ خواہ اس کا مظاہرہ حکمرانوں کی طرف سے ہو، یا عوام کی جانب سے۔ اسلام بامقصد تعمیری مکالمے پر یقین رکھتا ہے۔ ایسا مکالمہ جو ہرفریق کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنا نقطۂ نظر گفتگو کے آداب اور معروضیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پوری وضاحت کے ساتھ پیش کرے۔ قرآنِ مجید نے اس اصول کی طرف یوں اشارہ کیا ہے: وَ جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَن (النحل۱۶:۱۲۵) ’’اور اُن سے احسن طریقے سے مکالمہ کرو۔‘‘
اِسلام یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک دوسرے سے مختلف پیدا کیا ہے۔ وَ لَوْ شَآئَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً (ھود۱۱:۱۱۸) ’’بے شک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام دوسروں کی راے کو وزن اور اہمیت دیتا ہے، خواہ یہ دین کی فقہ و فہم میں ہو یا سیاست کے میدان میں۔ جب متعدد آرا اور اجتہادات سامنے آئیں تب تو یہ اختلاف رحمت اور خیر ہوتا ہے۔ اسلامی نظام میں ایک سے زیادہ گروہوں کا وجود اسلام کے اصولوں اور قطعی احکام کی روشنی میں ایک جائز امر ہے۔ اسی طرح اسلام کے لیے کام کرنے والی جماعتوں اور تحریکوں کا ایک سے زیادہ ہونا مضر نہیں ہے بشرطیکہ یہ زیادتی صرف تنوع اور تخصص کی حد تک ہو نہ کہ مخالفت اور تصادم کے لیے، باہمی تعاون اور ایک دوسرے کے دست وبازو بننے کے لیے ہو نہ کہ نفرت و عداوت کی فضا پیدا کرنے کے لیے۔ اہم مسائل اور امور میں سب کے لیے اپنے جزوی اختلافات کو نظرانداز کرکے صف واحد کے طور پر کھڑا ہونا ضروری ہو۔ سب کا محور قرآن و سنت ہو۔ سب کا ہدف اسلام کا غلبہ ہو۔ ہمہ پہلو غلبہ، یعنی اعتقادی، شرعی اور اخلاقی، ہر اعتبار سے غلبہ ۔ سب کا ایک ہی شعار ہو اور وہ یہ کہ ہم جن باتوں پر متفق ہیں اُن میں ایک دوسرے سے تعاون کریں اور جن امور میں اختلاف ہے وہاں ایک دوسرے کے عذر کو قبول کریں۔
اسلام ماضی کی شان دار تہذیب کے گن گانے پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ وہ موجودہ اسلامی تہذیب کے اندر جدت لانے پر بھی کام کرتا ہے۔ آج کی تہذیب کے پاس سائنس و ٹکنالوجی اور انتظامی و اداراتی عناصر کی جو بہترین خوبیاں ہیں، یہ تہذیب ان کو اختیار کر لیتی ہے اور اپنی اصل اور خصوصیات کو بھی محفوظ رکھتی ہے۔ اسلامی تہذیب میں روحانی قدریں انسانی مفاہیم سے مربوط ہوتی ہیں۔ اس میں اسلام کی اصل اور زمانے کی روح روزِ روشن کی طرح نمایاں ہوتی ہے۔ سائنس اور ایمان اس میں مجتمع ہو جاتے ہیں۔ حق اور قوت کا آپس میں ملاپ ہوتا ہے۔ مادی جدت اور اخلاقی ترقی کا توازن موجود ہوتا ہے۔ اس میں عقل کی روشنی اور وحی کے نور کا تعلق برادرانہ ہوتا ہے۔
یہ ایسی تہذیب ہے جس میں اسلام کی خصوصیات اور مبادیات ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ فرد کی تعمیر، خاندان کی تشکیل، معاشرے کی ترکیب، ریاست کے قیام اور بہترین راستے کی طرف انسانیت کی رہنمائی کرنے میں اسلام کے اہداف و مقاصد اس تہذیب میں مجسم دکھائی دیتے ہیں۔
یہ تہذیب مادی و الحادی مشرقی کیمپ اور سود خور سیکولر مغربی کیمپ سے منفرد و ممتاز ہے۔ یہ نہ دائیں بازو سے وابستہ ہوتی ہے نہ بائیں سے، بلکہ یہ صرف اسلام کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ اسلام ہی سے مدد لیتی، اسی پر انحصار کرتی، اسی کو مقصد ٹھیراتی اور اسی کے ذریعے نمایاں ہوتی ہے۔
یہ تہذیب اپنے امتیاز و انفرادیت کے باوجود مختلف ثقافتوں کے مابین میل ملاپ، مختلف تہذیبوں کے درمیان بات چیت، مختلف قوموں کے درمیان تعارف، اور بنی نوعِ انسان جہاں بھی ہوں ان کے درمیان اخوت پر یقین رکھتی ہے___ لیکن یہ تہذیب کسی دوسری تہذیب میں ضم ہوجانا گوارا نہیں کرتی کہ یوں وہ اپنی اصلیت اور انفرادیت کھو بیٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تہذیب ہرقسم کی ثقافتی یلغار اور اجنبی و بیرونی تسلط کو قطعاً قبول نہیں کرتی۔ یہ اُن گھنائونے حربوں کے سامنے ڈٹ جاتی ہے جن کے ذریعے آج کے حملہ آور انسانیت کی آڑ میں اس میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔
اسلام شریعت کے قانونی پہلو کے ظاہری نفاذ کو ہی اپنی سب سے بڑی پریشانی نہیں بناتا۔ خاص طور پر حدود و قصاص میں سزائوں کے ہی نفاذ پر سارا زور نہیںدیتا، اگرچہ یہ پہلو شریعت کے احکام کا ایک جزو ہے اور اس کو معطل کر دینا جائز نہیں ہے۔
اسلام کا اولین معرکہ، بہت بڑی مہم اور پیہم سعی حقیقی اسلامی زندگی قائم کرنا ہے__ ایسی زندگی جو انسانوں کے دلوں کی ا صلاح کا کام کرے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی حالت بہتر بنا دے۔ اس زندگی کی چھائوں میں ایک مومن انسان، متحد خاندان، مربوط معاشرے اور عادل ریاست کی تشکیل ہوتی ہے۔ قوت اور دیانت داری جس کی خوبی ہو__ یعنی کامل اسلامی زندگی، اسلام کا عقیدہ جس کی رہنمائی کرتا ہے، اسلام کی شریعت جس پر حکمرانی کرتی ہے، اسلام کے معانی جس کی قیادت کرتے ہیں، اسلام کے اخلاق جس کے لیے ضابطہ ہیں اور اسلام کے آداب جس کے لیے باعث جمال ہیں۔
باہمی حقوق کے ضامن متحد معاشرے کی زندگی جس کا ایک حصہ دوسرے کے لیے دیوار کی اینٹوں کی مانند مضبوطی کا سبب بنتا ہے۔ جس میں کوئی فرد یوں بھوکا نہیں رہ سکتا کہ اس کا ہمسایہ تو پیٹ بھر کر کھاتا ہو اور وہ بھوکا رہ جائے۔ جس میں ایک جاہل کے لیے مفید علم حاصل کرنے کے وافر مواقع میسر ہوں۔ ہر بے روزگار کے لیے مناسب روزگار موجود ہو۔ ہر مزدور کے لیے عادلانہ مزدوری ملنے کا ماحول ہو۔ ہر بھوکے کے لیے اس کی ضرورت کے مطابق غذا مہیا ہو۔ ہر مریض کو مؤثر علاج کی سہولت حاصل ہو۔ ہرشہری کے لیے صحت مند رہایش کا بندوبست ہو۔ ہر محتاج کی ضرورت کا پورا سامان میسر ہو۔ ہر مجبور کا مادی اور معاشرتی ہر حوالے سے خیال رکھا جاتا ہو۔ خصوصاً بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور بیوائوں کے حقوق کا خاص خیال ہو۔ اسی طرح اس زندگی میں ہر پہلو سے بھرپور قوت موجود ہو۔ فکر جان دار ہو، روح توانا ہو، بدن مضبوط ہو، اخلاق اعلیٰ ہوں، معاشیات کے اندر طاقت ہو، عسکری تیاری اور اسلحہ کے اعتبار سے استحکام ہو، اس کے ساتھ یک جہتی و اتحاد اور فولادی عزم کی دولت بھی موجود ہو__ اور اس سب کچھ کی اساس ایمان کی قوت ہو!
اسلام کا نظریہ ہے کہ مسلمان جہاں بھی ہوں، سب کے سب جسد ِ واحد کی طرح امت واحدہ ہیں۔ ان کے ایک معمولی فرد کی ضمانت بھی قابل اعتبار ہے۔ وہ اپنے دشمنوں کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ وہ سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ ایک عقیدے، ایک قبلے، ایک کتاب، ایک رسولؐ اور ایک شریعت پر ایمان نے انھیں ایک جمعیت بنا دیا ہے۔ یہ اِن کا فرض ہے کہ اپنی جماعت کے لیے باعث انتشار تمام عوامل اور وجوہات کا خاتمہ کریں، جیسے نسلی و علاقائی عصبیت سے دَب جانا، درآمدشدہ دائیں بازو اور بائیں بازو کی تنظیموں اور طریقوں کے تابع ہوجانا، حکمرانوں کی من مانیوں اور ذاتی انائوں کے پیچھے چلنا، جو حقیر، معمولی اور عارضی مطالبات کی خاطر امت کے بڑے بڑے مفادات کو دائو پر لگا دیتے ہیں۔
مسلمانوں کے کرنے کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ ’اسلامی یک جہتی ‘ کو زبانی سطح سے عملی شکل کی طرف منتقل کریں۔ اُسے مضبوط بنائیں، اس کا دائرہ بڑھائیں۔ یہاں تک کہ وہ موجودہ دنیا کے اتحادوں یا بلاکوں جیسی ایک سیاسی شکل اختیار کر لے۔ ہماری امت اس قابل ہے کہ یہ ایک عظیم بلاک کی شکل اختیار کر لے بشرطیکہ یہ اپنے رب کی اس ندا پر لبیک کہہ دے:
وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا(اٰلِ عمرٰن۳:۱۰۳) سب مل کر اللہ کی رسّی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔
[alqardawi.net]
تاریخ عالم گواہ ہے کہ اس کرۂ ارضی پر لڑی جانے والی اکثر وبیش تر جنگوں میں نہ کسی ضابطے کا خیال رکھا جاتا ہے اورنہ کسی قانون واصول کی پاسداری کا خیال ذہن انسانی میں آتا ہے، بلکہ ان جنگوں کے ذریعے کائنات انسانی کو فتنہ وفساد کی آماج گاہ بنادیاجاتا ہے اور مدمقابل اقوام اور ملکوں کے انسانوں کو بے دریغ تہہ تیغ کردیا جاتا ہے۔ انسانوں کے بنائے ہوئے قانون میں مخصوص رنگ و نسل اور جنس وعلاقہ کے رجحانات کی عکاسی ہوتی ہے۔ ان کے یہاں جنگ کے اغراض ومقاصد کی وجہ جواز کیاہے؟ اس کا مقصد کیاہے؟ کن حالات میں جنگ کی اجازت دی جاسکتی ہے اور کن مواقع پر جنگ کی اجازت نہیں ہے؟ کیا کمزور انسانوں پر اپناتسلط قائم کرنے کے لیے جنگ کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے؟ کیا یہ قرین انصاف ہے کہ جب جی چاہا اپنے جابرانہ نظام کے تسلط کے لیے کسی بھی ملک کی سرحد میں جنگی جہاز اتاردیے؟ ان تمام سوالوں کا تشفی بخش جواب انسانی قوانینِ جنگ میں نہیں مل سکتا۔ اس لیے انسانوں کا خود ساختہ قانون امن و آشتی کا ضامن نہیں بن سکتا ۔
اس کے بالمقابل دین اسلام امن وسلامتی کا دین ہے۔اسلام نے جنگ کے اصول وضابطے مقررکیے ہیں۔ ان کا پاس ولحاظ رکھنا ہراہل ایمان پر فرض ہے۔ ان کے اصول وقواعد کی پاس داری سے کسی کو مفرنہیں ہے، کیونکہ اعلیٰ وارفع مقصد کے حصول کے لیے جب جنگ ناگزیر ضرورت بن جائے تو تلوار اٹھانے والوں کو کھلی چھوٹ نہیں مل جاتی ہے، بلکہ حدودوقیود میں رہ کر فتنہ وفساد، سفاکیت ودرندگی اور ظلم وجور کے سدباب کے لیے اپنی طاقت وقوت کا استعمال بجا قرار دیا جاتا ہے ۔
یہ اعزازتو صرف اسلام کو حاصل ہے کہ اس نے جنگ وجہاد کے واضح مقاصد متعین کیے اور اس کے آداب واصول مرتب کیے اور بلاجواز قتل وخون ریزی کو سنگین جرم قراردیا۔ کسی مسلمان فرد یااسلامی حکومت کو ان بنیادی اصول وضوابط میں ترمیم کا حق حاصل نہیں ہے۔ اسلامی قوانین ہمہ گیر اور دائمی نوعیت کے ہوتے ہیں۔نام ورمصری عالم پروفیسر محمد قطب رقم طراز ہیں :’’اسلام کی یہ جنگیںکسی فوجی قائد کی خود غرضی اور ہوسِ ملک گیری کی پیداوار نہیں تھیں، اور نہ ان کے پیچھے دوسروں کو غلام بنانے کا جذبہ کارفرماتھا، بلکہ یہ جنگیں محض خدا کے لیے لڑی گئیں اور ان کا اصل مقصد رضاے الٰہی کے حصول کا جذبہ تھا، مگر بات صرف جذبے پر ہی ختم نہیں ہوجاتی ، بلکہ اس نے ان جنگوں کے لیے باقاعدہ اصول وقوانین بھی مقررکیے‘‘۔(اسلام اور جدید ذہن کے شبہات ، ص۹۰)
اسلامی قوانین جنگ سے متعلق ذیل میں وہی امور بیان کیے جارہے ہیں جن پر قوانین جنگ کی بنیاد قائم ہے۔ اختصار کے ساتھ ان امور کو زیر بحث لایا جاتا ہے:
اسلامی قانون میں جنگ کے تمام اعمال کی ذمہ داری اور امرونہی کے تمام اختیارات کا حامل امیرکو بنایا گیاہے۔ جنگ کی معمولی کارروائی بھی امیر کی اجازت کے بغیر نہیں کی جاسکتی ہے۔ اسلام نے اطاعتِ امیر کو خود خدااور رسولؐ کی اطاعت کے برابر قراردیا ہے اور اس کی نافرمانی کووہی درجہ دیا جو رسولِؐ خدا کی نافرمانی کا ہے۔ اطاعت امیر کو خیر و فلاح کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا:’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو،اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی، اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب ِ امر ہوں، پھر اگر تمھارے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسولؐ کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے‘‘۔(النسائ۴:۵۹)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: لڑائی دوقسم کی ہے: جس شخص نے خالص اللہ کی رضاکے لیے لڑائی کی اور اس میںامام کی اطاعت کی، اپنا بہترین مال خرچ کیا اورفساد سے اجتناب کیا تو اس کا سونا جاگنا سب اجر کا ذریعہ ہے۔ اور جس نے دنیا کے دکھاوے اور شہرت وناموری کے لیے جنگ کی اور اس میں امام کی نافرمانی کی اورزمین میں فساد پھیلایا تووہ برابر بھی چھوٹے گا (یعنی الٹاعذاب میں مبتلا ہوگا)۔(سنن ابی داؤد ، حدیث ۲۵۱۵)
ایک دوسرے مقام پر حدیث میں آتا ہے: جس نے میری اطاعت کی اس نے خداکی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خداکی نافرمانی کی، اور جس نے امام کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امام کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔(سنن ابن ماجہ ، حدیث ۲۸۵۹)
قرآن وسنت کی درخشاں تعلیمات کی روشنی میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلامی تعلیمات میں اطاعت امیر ایک اہم حکم ہے جو ہرفرد مجاہد پر لازم ہے ،ورنہ اس کے دور رس منفی اثرات ونتائج مترتب ہوںگے۔
ایفاے عہدکے حوالے سے کتاب اللہ میں متعد د فرامین اورہدایات موجود ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی سخت تاکید کی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور تم اللہ کا عہد پوراکردیا کرو، جب تم عہد کرو اور قسموں کو پختہ کرلینے کے بعد انھیں مت توڑا کرو، جب تم اللہ کو اپنے آپ پر ضامن بناچکے ہو۔ بے شک اللہ خوب جانتاہے جو تم کرتے ہو‘‘۔ (النحل ۱۶:۹۱)
وفاشعاری اور تقویٰ کی سند وہ حضرات حاصل کرتے ہیں جولوگوں سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو نہیں توڑتے، بلکہ پایۂ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ اللہ رب العزت کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے ایفاے عہد کرتے ہیں اور جس قول وقرار کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، خشیت الٰہی کے ساتھ اس کی پاس داری ولحاظ بھی کرتے ہیں۔
عہدوپیمان اگر کرلیاہے تو اس کو نبھاناضروری ہے ورنہ نقض عہد کی بناپر مؤاخذہ ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور وعدہ پورا کیاکرو، یقینا وعدہ کے لیے ضروربازپرس ہوگی‘‘۔ (بنی اسرائیل ۱۷:۳۴)
مشرکین مکہ نے ابورافع کو اپنا قاصد بناکر بارگاہ رسالت میں بھیجا۔ بارگاہِ نبوی کا اثرابورافع کی ذات پر اتنا ہوا کہ مشرف بہ اسلام ہوگئے اور حضورؐ سے عرض کیا کہ میں کافروں کے پاس واپس نہیں جائوںگا۔ آپؐ نے فرمایا تم قاصد ہواور قاصد کو روک لینا عہد وپیمان کی خلاف ورزی ہے۔ تم ابھی جائو ، پھر واپس آجانا۔(سنن ابی داؤد ، حدیث :۲۷۵۸)
اسی طرح صلح حدیبیہ کے موقعے پر حضرت ابو جندلؓ پائوں میں زنجیریں پہنے ہوئے آئے اور زخموں سے چور بدن کو حضوؐر کے سامنے پیش کیااورعرض کیا کہ مشرکین مکہ مجھ پر مصائب وآلام کے پہاڑ توڑرہے ہیں۔ اس پر حضوؐر نے فرمایا کہ ہاں، لیکن مشرکین مکہ سے معاہدہ ہوچکاہے کہ کوئی مسلمان اگرمکے سے بھاگ کرآئے گا تو ہم اس کو قریش کے پاس بھیج دیںگے۔ صحابہ کرامؓ کی جماعت حضوؐر سے سفارش کررہی تھی کہ ان کو واپس نہ بھیجا جائے تاکہ ابو جندل ؓ مزیدجورو ستم کا نشانہ نہ بنیں لیکن آپؐ نے فرمایا کہ معاہدہ لکھا جاچکاہے۔ اس کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔ لہٰذا ابوجندلؓ کو آپؐ نے پناہ دینے سے انکار کردیا اور حسب معاہدہ وہ قریش مکہ کے حوالے کردیے گئے۔
ان آیات ،احادیث اور واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپؐ نے جومعاہدہ کیا اس کو ہر حال میں پوراکیا ۔ حالانکہ آپؐ کویہ خوب معلوم تھا کہ مکہ کے مسلمان ناگفتہ بہ مصائب ومشکلات سے دوچار ہیں لیکن آپؐنے ایفاے عہد کاعظیم الشان نمونہ پیش کیا، بلکہ آپؐ نے تو یہاں تک فرمایا کہ کسی معاہدسے عہد وپیمان توڑنے والا جنت کی خوشبو سے محروم ہوگا۔ حدیث میں آتاہے: حضوؐر نے فرمایا کہ ’’جوشخص کسی معاہد کو بغیر کسی وجہ سے قتل کردے تو اللہ اس پر جنت حرام کردیتاہے‘‘۔(سنن ابی داؤد ، حدیث :۲۷۶۰)
ایک اور حدیث میں حضوؐر کا ارشاد ہے : جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو اس گرہ کو مضبوط کرے اوراُسے نہ کھولے یہاں تک کہ جب مدت گذرجائے تو وہ برابری پر عہد کو توڑے۔(سنن ابی داؤد،حدیث:۲۷۵۹)
اسلام نے ہر سطح پر بدعہدی اوروعدہ شکنی کو منع کیا ہے اور اسے اہل ایمان کے لیے قابلِ مذمت فعل قراردیاہے۔ اسلام میں میعاد معاہدہ ختم ہونے تک جنگ کرنے کی ممانعت ہے۔ جن لوگوں کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ ہوگیا ہے اس کو پورا کرنا ہوگا ، الا یہ کہ فریق مخالف کی طرف سے نقض عہد کے تلخ تجربات سامنے آئیں یا ان کی طرف سے دشمنوں کی مدد کی گئی ہو۔ معاہدہ پورا نہ ہونے کی صورت میں فریق مخالف کے خلاف کسی طرح کی جنگی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ اگر معاہدکے خلاف مسلمان مددطلب کرے تب بھی معاہدے کا لحاظ رکھا جائے گااور اس کو توڑا نہیں جائے گا۔عام احوال وکوائف میں معاہدے کے تقدس کا خیال رکھا جائے گا۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:’’اگروہ (اہلِ ایمان) دین کے معاملات میں تم سے مدد چاہیں تو ان کی مدد کرنا واجب ہے مگر اس قوم کے مقابلے میں مدد نہ کرنا کہ تمھارے اور ان کے درمیان صلح وامن کا معاہدہ ہوا ہو‘‘۔(انفال ۸:۷۲)
عام حالات میں معاہدے کا احترام وتقدس ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں ایک اور ربانی ارشاد ملاحظہ ہو:’’ سوائے ان مشرکوں کے جن سے تم نے معاہدہ کیاتھا پھر انھوں نے تمھارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمھارے مقابلے پر کسی کی مدد کی، سوتم ان کے عہد کو ان کی مقررہ مدت تک ان کے ساتھ پوراکرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کو پسند کرتا ہے ‘‘۔(التوبہ ۹:۴)
اہل عرب اسیران جنگ سے نہایت برا سلوک کیاکرتے تھے جیساکہ موجودہ دور میں گوانتاناموبے جیل میں قیدیوں کے ساتھ کیا جانے والے والا امریکی برتاؤ دنیا کے سامنے ہے ۔ اس کے بالمقابل اسلام نے جنگی قیدیوں کے ساتھ مشفقانہ سلوک کی تاکید فرمائی اور یہ قانون وضع کردیا کہ نہ ان کو ایذاپہنچائی جائے گی اور نہ ان کو قتل کیاجائے گا۔ آپؐ کا ارشادہے: زخمی پر حملہ نہ کرو، بھاگنے والے کا پیچھانہ کرو، قیدیوں کو قتل نہ کرو، اور جو اپنا دروازہ بند کرلے اس کو امان دے دو۔(الامام ابوالحسن البلاذری: فتوح البلدان، ص۵۳)
اسیرانِ جنگ سے متعلق اسلام کا قانون یہ ہے کہ جنگ جب اپنے اختتام کو پہنچ جائے توانھیں بغیر فدیے کے آزاد کردیا جائے یا فدیہ لے کر رہا کردیا جائے۔ اگر انھیں قیدی بناکر رکھاجائے تو ان کے ساتھ اچھا سلوک وبرتائو کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: پس (اے ایمان والو) جب تمھارا معاملہ کافروں سے ہوتو ان کی گردنیں اڑادو یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو تو ان کو رسی سے باندھ لو۔ اس کے بعد (تم کو اختیار ہے کہ) یا تو احسان رکھ کر (رہا کردو) یامعاوضہ لے کر چھوڑدو۔(محمد ۴۷:۴)
اسیرانِ جنگ کو صرف قیدی بناکر رکھنے کے لیے ہی نہیں کہاگیا بلکہ ان کے ساتھ نرمی اور حُسنِ سلوک کی بھی تعلیم دی گئی ہے ۔ قرآن مجید میں اسیر اور مسکین ویتیم کو کھانا کھلانے کے عمل کے لیے تحریص وترغیب دی گئی ہے او ر اسے نیکو کاروں کا فعل قراردیا گیاہے: ’’وہ خاص اللہ کی خوشنودی کے لیے مسکین اور یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو محض اللہ کے لیے تمھیں کھلاتے ہیں ۔کسی جزایا شکر یے کے خواستگار نہیں ہیں۔ ہم تو صرف اس تنگی کے دن سے ڈرتے ہیں جس میں شدتِ تکلیف سے چہرے بگڑ جائیںگے‘‘۔(الدھر۷۶: ۸-۱۰)
آپؐ نے جنگی قیدیوں کو اہل ایمان کا بھائی قراردیا ہے اور تاکید کی ہے کہ تم ان کے ساتھ بھی اپنے بھائیوں جیسا معاملہ کرو۔ آپؐ نے فرمایا: یہ تمھارے بھائی تمھارے خادم ہیں جن کو اللہ نے تمھارا دست نگر بنایا ہے۔ لہٰذا جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو، اسے چاہیے کہ اس کو وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے۔ تم ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو اور اگر ایسی کسی بھاری خدمت کو ان کے ذمے کرو تو خود ان کا ہاتھ بٹائو۔(بخاری ،حدیث :۲۵۴۵ )
جنگ بدر میں مشرکین مکہ کے ۷۰ سے زیادہ آدمی مارے گئے اور کم وبیش اتنے ہی قیدی بناکر لائے گئے۔ آپؐ نے قیدیوں کو صحابہ کے درمیان تقسیم کردیا اور نصیحت کی کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔حضرت حسن بصری اس سلسلے میں فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیدی لایا جاتا توآپ اسے کسی مسلمان کے حوالے کردیتے اور فرماتے کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ یہ قیدی ان کے پاس دوتین دن رہتا اوروہ مسلمان اس کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر ترجیح دیتا تھا۔(الکشاف، زمخشری ، ج۴، ص۱۹۶)
دشمن کی لاشوں اور ان کے اعضا کی بے حرمتی کرنے سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے جائز نہیں ہے کہ انسانی لاشوں کے ساتھ درندگی کا سلوک کیا جائے۔ آپؐ نے بہت ہی سختی سے منع کیا ہے۔عبداللہ بن یزید انصاریؓ روایت کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال لوٹنے اور جسم کو مُثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔(سنن ابی داؤد ، حدیث۲۶۶۶)
اسلام نے جو قوانینِ جنگ وضع کیے ہیں ان میں اتنی جامعیت ہے کہ دورِ جدید کا مہذب انسان بھی ان کو قبول کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسلام کے جنگی قوانین کے مطابق دشمن ہوں یا دوست، عقائد ونظریات کے اعتبار سے خواہ وہ کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں ان سے کوئی تعرض نہ کیا جائے گا، بشرطیکہ وہ ظالموں میں سے نہ ہوں اور نہ دین حق کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے ہوں۔ قرآن مجید کی یہ بیّن تعلیم ہے : ’’اللہ تم لوگوں کو ان کے ساتھ نیکی کا برتائو اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کے بارے میں نہ لڑے اور نہ ہی تم کو انھوں نے تمھارے گھروں سے نکالا۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘۔(الممتحنہ ۶۰:۸)
سید ابوالااعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں : ’’اس باب میں اسلامی قانون کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر شخص جو اہل قتال میں سے ہے اس کا قتل جائزہے خواہ وہ بالفعل لڑے یانہ لڑے، اور ہر وہ شخص جو اہلِ قتال میں سے نہیں ہے اس کا قتل ناجائز ہے سواے اس صورت کے کہ وہ حقیقتاً لڑائی میں شامل ہو یا مقاتلین کے سے کام کرنے لگے‘‘۔(الجہاد فی الاسلام ، ص۲۲۴)
اسلام سے قبل محض مالِ غنیمت کے حصول کے لیے بھی جنگوں کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ تجارتی قافلوں اور راہگیروں کو لوٹنا پیشہ بن چکا تھا۔ لیکن اسلام نے اس شنیع عمل کی پُر زور مذمت کی اور اس طرز عمل پر قدغن لگادی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹے ہوئے مال کو حرام قراردے دیا۔ مندرجہ ذیل ہدایت کا انتساب آپؐ کی طرف واضح ہے :
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار اور مُثلہ کرنے سے منع فرمایاہے(بخاری، حدیث ۵۵۱۶)۔ ایک دوسری جگہ آپؐ کا ارشاد ہے :’’ جوشخص لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ‘‘۔(سنن ابن ماجہ ، حدیث ۳۹۳۷ ا)
گویا کہ اللہ کی راہ میںجہاد کرنے والے اگر لوٹ مار اور فتنہ وفساد میں مشغول ہوجائیں اور غیر اخلاقی حرکتوں کے مرتکب ہوںجن کی بنا پر عوام و خواص میں اضطراب وبے قراری عام ہوجائے، تو راہ حق میں اُٹھنے والے یہ قدم ’خیر‘ کا باعث نہ بن کر ’شر‘ کا موجب قرار پاتے ہیں ۔ چنانچہ ان کا جذبۂ عمل اللہ رب العزت کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے محروم رہتا ہے ۔
اسلام نہ تو ناحق خون بہانے کی اجازت دیتاہے اور نہ دشمنوں کی اَملاک وجایداد کو تباہ وبرباد کرنے کو جائز ٹھیراتا ہے، اور نہ یہ اعمال اسلام کے مقاصد جلیلہ کے شایان شان ہی ہیں۔ اسلام فتنہ وفساد کو ناپسندکرتا ہے، اس لیے کہ حقیقی معنوں میں یہ امن وآشتی کا علَم بردار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حالت ِ جنگ میں بھی اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ نہ کھیتیاں تباہ وبرباد کی جائیں ،نہ پھل دار درختوں کو کاٹا جائے اور نہ املاک کو نذرآتش کیا جائے ۔یہاں تک کہ کفروشرک کا علَم بردار محارب فریق میدان جنگ میں بھی، اہل ایمان محارب فریق سے امن وعافیت کا خواہاں ہو تو ہاتھ روکنے کا حکم ہے۔ اسلام کو اگر وہ سمجھنا چاہتا ہے تو اس کو موقع دیا جائے گا اور پھر بھی اگر وہ اسلام سے بے زاری کا اظہار کرے تو حکم یہ ہے کہ اسے اس کے محفوظ مقام تک پہنچا دیا جائے۔
اس کے علی الرغم عصر حاضر کے خود ساختہ قانون امن وجنگ میں سب کچھ جائز ہے۔ اپنے حریف کو مغلوب کرنے کے لیے ہر طرح کا حربہ استعمال کیا جاسکتا ہے، چاہے املاک کی تباہی کی شکل میں ہو یا جانوں کے تلف کی صورت میں ہو ۔ماضی قریب میں بھارت میں گجرات اور آسام کے فسادات اور بین الاقوامی سطح پر افغانستان ، عراق اور میانمارکے دل دوز واقعات انسانوں کے خودساختہ قوانین جنگ وامن اوران کے بھیانک اور انسانیت کش نتائج کی زندہ مثالیں ہیں۔ ایسے ہی شر انگیزوں اور فساد کاروں کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے : ’’اور جب وہ حاکم بنتاہے تو کوشش کرتا ہے کہ زمین میںفساد پھیلائے اور فصلوں اور نسلوں کو برباد کردے۔ مگر اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا‘‘۔(البقرہ ۲:۲۰۵)
دوسری طرف مذہب اسلام کی بیّن اور درخشاں تعلیمات ہیں جو میدان جنگ میں بھی اخلاق، رواداری اور عظمت انسان کی پاسداری کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتیں، بلکہ وہ فتنہ وفساد کاقلع قمع کرنے کے لیے مؤثر اقدام کی ترغیب و تحریص کرتی ہیں ۔اس سلسلے کی آخری کوشش کے مظہر قتال فی سبیل اللہ کے دوران بھی اخلاق وکردار کو بالاے طاق نہیں رکھا جاتا بلکہ شایانِ انسانیت اخلاق برتنے کی تعلیم و تلقین کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ کھیتوں اور فصلوں کی بربادی اور درختوں کے اُکھاڑنے اور جلانے تک سے روکاگیاہے۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ جب کسی لشکر کو روانہ کرتے تو امیرلشکر کو چند ہدایات ضروردیتے تھے۔ چنانچہ جب حضرت اسامہؓ کے لشکر کو آپ نے روانہ کیا تو ان کو ۱۰ ہدایات دیں، ارشاد فرمایا:’’لوگو! ٹھیرو، میں تم کو دس باتوں کی نصیحت کرتاہوں۔ تم ان کو یاد رکھنا ۔ دیکھو ! خیانت نہ کرنا، فریب نہ کرنا، سرکشی نہ کرنا، دشمن کے ہاتھ پائوں نہ کاٹنا، چھوٹے بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا،کھجور کے درخت کو نہ اکھاڑنا اور نہ اس کو جلانا، پھل دار درخت کو نہ کاٹنا۔ بکری ، گائے اونٹ کھانے کے سواذبح نہ کرنا۔(تفسیر الطبری، ج۲،ص۴۶۔ بحوالہ صدیق اکبر،ص۳۲۹)
اسلام کے جنگی قوانین کے مطابق نہ تو بلاوجہ کسی عورت کو قتل کیا جائے گا اور نہ اس کی عفت وعصمت کو مخدوش وداغ دار کیاجائے گا ۔ اسلام اپنے پیروکاروں کی ذہنی پاکیزگی کا پورا اہتمام اور انھیں ہر طرح کی جنسی آلودگی سے پاک رکھتاہے۔اسلام نے عورت کو تحفظ فراہم کیا اور معاشرے میں عزت واحترام کا مقام دیا۔جنگ میں دشمن کی بیٹی پر ہاتھ اٹھانے اور اس کی عصمت دری کرنے کی سختی سے ممانعت کردی گئی۔یہ امتیاز صرف اسلام ہی کو حاصل ہے کہ اس نے مفتوح قوم کی عورتوں کی عصمت کی پاسبانی کا حکم دیا۔
اسلام عفو و درگزر سے کام لیتا ہے۔ اسلامی ریاست ومملکت میںا نتقامی سیاست کا کوئی تصور موجود نہیں ہے اور نہ اس کا کوئی جواز فراہم کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ جنگوں میں بھی انتقامی کارروائی کی ممانعت کردی گئی ہے۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ فاتح اقوام جوش انتقام میں فتح وکامرانی کے بعد قتل وغارت گری کا ایسا بازار گرم کردیتی ہیں کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ نت نئے اسلحہ جات کے ذریعے انسانی لاشوں کے چیتھڑے اڑادیے جاتے ہیں۔گویا کہ مفتوح قوموں کی تباہی وبربادی مقدر بن جاتی ہے ۔قرآن مجید میں اس کی تصویر کشی یوں کی گئی ہے : ’’اس نے کہا (کہ لڑائی بذات خود کوئی اچھی چیز نہیں ہے) جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ کردیتے ہیں اور اس کے معززلوگوں کو ذلیل کرتے ہیں اور یہ لوگ بھی ایسا ہی کریںگے‘‘۔(النمل ۲۷:۳۴)
دیگر اقوام و ملل میں دشمن کے ساتھ نارواسے ناروااور غیر انسانی سلوک کرنے کو معیوب نہیں سمجھا جاتا، لیکن اسلام نے اس کو انتہائی معیوب و مذموم قرار دیا ہے ۔ اپنے جنگی قوانین میں انسانی ہمدردی اور نیک برتائو کو بنیادی حیثیت دی ہے۔آج کی مہذب دنیا میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی معاملات کرنا باعث شرم وعار نہیں سمجھا جاتا بلکہ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیے جانے کو فتح وکامرانی کے نشے میں روا سمجھا جاتا ہے۔ ماضی قریب میں عالم انسانیت نے یہ دل دوز مناظردیکھے ہیں کہ افغانستان وعراق سے جو لوگ پکڑکرامریکا کی جیلوں میں بندکیے گئے، ان کے ساتھ کتنا اذیت ناک سلوک کیا گیا۔ ان اذیت کدوں سے متعلق دل خراش والم ناک داستانیں امن عالم کے ٹھیکے داروں کے دعووں کو کھوکھلا ثابت کردیتی ہیں ۔اسلام ان تمام معاند ِانسانیت رویوں کوبہ نظر استحقار دیکھتا ہے اور دشمن پر قابو پالینے اور قیدیوں کو اذیتیں دے دے کر ہلاک کرنے سے اپنے پیروکاروں کوسختی سے منع کرتاہے۔ ابو یعلی سے روایت ہے: ’’وہ کہتے ہیںکہ ہم عبدالرحمن بن خالد بن ولید کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے اور دشمن کے چار جاسوس پکڑے گئے۔ ان کے قتل کا حکم دیا گیا اوران کو باندھ کر تیر مار کر قتل کیا گیا۔ حضرت ایوبؓ کو یہ بات پہنچی تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے‘‘۔(مسند احمد)
مجاہدین اسلام کو بلااجازت گھروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ حالت جنگ میں بھی اسلام نے پردہ داری پر زور دیا ہے۔ آپؐ کا وہ ارشاد ملاحظہ فرمایاجائے جس میں عورتوں اور بچوں کو نہ مارنے اور دکان سے بلا قیمت کوئی مال کھانے کی سختی سے ممانعت کے ساتھ ساتھ اجانب و اعدا کے گھروں میں بلا اجازت داخلے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اور اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جائز نہیں رکھاہے کہ اہل کتاب کے گھروں میں داخل ہوجائو مگر اجازت سے نیز ان کی عورتوں کو پیٹنا اور پھلوںکو کھانا بھی حلال نہیں‘‘۔(سنن ابی داؤد ، حدیث ۳۰۵۰ )
اسلام صلح وآشتی کا علَم بردار ہے اور انسانی معاشرے میں خیروفلاح کی قدروں کو فروغ دینا اس کا مطمح نظر ہے۔ اسلام جنگ وجدال سے اجتناب کی بھی تلقین کرتاہے ، بلکہ امن کا قیام اس کی غایت ہے ۔ اسلام صلح جوئی اور قیام امن کا کس حدتک علَم بردار ہے، یہ اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر دشمنان اسلام کی طرف سے صلح کی پیش کش ہوتو اس سے انکار کی کوئی صورت نہیں ہے، بلکہ اس کو قبول کرنا ایمان کا جزہے۔ دشمنوں کے اس اقدام کو ٹھکرانے کی اسلام اجازت نہیں دیتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’لہٰذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہوجائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمھاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمھارے لیے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے‘‘۔(النسائ۴:۹۰)
عمومی طورپر اسلام جارحیت وجبر کے خلاف ہے۔ جنگ براے جنگ اس کے اغراض میں سے نہیں ہے۔ جنگ بحالت مجبوری ہوتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں بعض ناگزیر احوال میں اس کی اجازت ہے۔ہاں عام حالات میں نہ اس کی اجازت ہے اور نہ یہ مرغوب و پسندیدہ عمل ہے ۔یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہیے کہ اگر صلح کاتھوڑا بھی رجحان پایاجارہا ہوتو پھر صلح کو جنگ پر ترجیح حاصل ہوگی۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور اگروہ صلح کی طرف جھکیں توآپ بھی اس طرف جھک جائیں اور اللہ پر بھروسا رکھیے، بلا شبہہ وہ خوب سننے والا، خوب جاننے والاہے اور اگر وہ لوگ آپ کو دھوکا دینا چاہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے‘‘۔(انفال۸: ۶۱-۶۲)
اگردشمنانِ اسلام بالکل مخالفت وعداوت پر اتر آئیں توان کی مخالفت اور نقض عہد کو دیکھتے ہوئے معاہدے کوتوڑا جاسکتا ہے، لیکن اس اقدام سے معاند ومخالف فریق کو خبردار کیے جانے کا حکم ہے۔ دھوکا اور فریب بہر حال مذموم ہے۔ اسی ضمن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اگر کبھی تمھیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو، یقینا اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ (انفال ۸:۵۸)
کسی ملک سے اسلامی ریاست کو خطرہ نہ ہویااس کے مصالح وضروریات کا تقاضا ہو کہ اس کے ساتھ امن وامان کا معاملہ بنارہے تو اسلامی ریاست اس ملک وقوم سے بلاوجہ جنگ وجدال کے لیے برسرِ پیکار نہ ہوگی جیساکہ حبشہ اور تُرک کے معاملے میں کیاگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی: حبشہ کو چھوڑ دو جب تک کہ وہ تم سے تعرض نہ کرے اسی طرح ترک کو چھوڑ دو جب تک کہ انھوں نے تمھیں چھوڑرکھا ہے‘‘۔(سنن ابی داؤد، حدیث ۴۳۰۴)
آپؐ نے صاف طور پر فرمادیا کہ اگر اسلامی ممالک میںدوسری ریاستیں کسی بھی طرح ان کے معاملات میں دخل انداز ی نہ کررہی ہوں تو ان سے خواہ مخواہ محاذآرائی نہیں کی جائے گی۔ ہاں، اگر یہ لوگ اسلامی ریاستوں کے خلاف مہم جوئی شروع کریں تو ان پر طاقت وقوت کے ساتھ یلغار کی جائے گی اور ان کے فتنہ وفساد کا سدباب کیاجائے گا۔
زمانۂ جنگ میں امن وامان کے حصول کا عمل مختلف مقاصد کے تحت آج بھی جاری ہے۔ جب بھی کوئی غیر مسلم کسی حالت میں امن وامان یاپناہ کا طالب ہو تو اسے پناہ دی جائے گی۔ اسلام میں سیاسی، سماجی اور معاشرتی امن وپناہ کا تصور کسی محدود دائرے میں محصور ومقید نہیں ہے بلکہ پناہ لینے والوں کے جان ومال کا تحفظ حکومت وقت کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے ۔اس کی پناہ اس وقت تک ختم نہیں ہوتی ہے جب تک کہ اس نے کوئی ایسا جرم نہ کیا ہو جو ناقابل معافی ہو۔مثلاً بغاوت وسرکشی یااسلامی حکومت اور اس کے علَم برداروں کے خلاف جاسوسی کا عمل ناقابل برداشت ہے، اس لیے کہ یہ فتنہ وفساد کے دائرے میں آتاہے۔ اس سے سرزد ہونے والے دوسرے جرائم میںعام قانون کے مطابق اس کے ساتھ سلوک کیا جائے گا۔ میدان جنگ میں بھی، جب کہ دونوں فریقوں کے مابین تصادم وآویزش اور جنگ وقتال جاری ہو، اگر فریق مخالف پناہ کاخواہاں ہو تو اسے پناہ دی جائے گی نہ یہ کہ اَنا اور وقار کا مسئلہ بنا کر یا نفس کے تابع ہوکر اس پر وار کیا جاتا رہے گا۔ اگر اس نازک موقعے پر بھی وہ اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے تو اس کو حفظ وامان میں رکھتے ہوئے دعوت دی جائے گی۔ اس کے بعد بھی اگر وہ اپنی سابقہ روش کو ترک نہیں کرنا چاہتاتو اس بات کی تلقین کی جاتی ہے کہ اس کو ہوس کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا بلکہ اس کو اس کے مقام محفوظ تک پہنچا دیا جائے گا۔ (دیکھیے سورئہ توبہ ۹:۶)
یہ حکم ربانی میدان جنگ میں نبرد آزما مشرکین سے متعلق ہے۔ اس کی وضاحت ابن جریر طبری یوں کرتے ہیں : ’’ جن مشرکین سے جہاد کا حکم دیا گیا ہے ان ہی کے بارے میں یہ بھی حکم ہے کہ ان میں سے کوئی اسلام کو سمجھنے کے لیے پناہ کا طالب ہو تو اسے پناہ دی جائے گی۔ اگروہ اسلام کو قبول نہ کرے تو بہ حفاظت اسے اس کے علاقہ میں پہنچادیا جائے گا۔ اسلامی ریاست کا کوئی فرد اس سے تعرض نہ کرے‘‘۔(تفسیر الطبری، جلد۱۴، ص ۱۳۸)
علَم برداران اسلام نے ہردور میں اس قانون امن وامان کا پاس ولحاظ رکھا اور اس پر عمل بھی کیا ۔اگر کسی نے بڑے سے بڑے مجرم کو لاعلمی میں بھی اپنی پناہ میں لیا تو اس امان کا لحاظ رکھا گیااور اس سے کوئی تعرض نہیں کیاگیا بلکہ اس کے جان ومال کی حفاظت کی ذمہ داری کو بطیب خاطر قبول کیا گیا۔ ہاں، اگر کبھی کسی فریق مخالف یا اس کے کسی فرد کے ساتھ کسی نے کوئی ناروا سلوک کیا جس کا سرا ظلم وتعدی سے مل جاتا ہے تو حقیقت یہ ہے کہ یہ اس کا ذاتی عمل ہے۔ مذہب اسلام اوراس کی درخشاں انسانیت نواز تعلیمات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے کہ اسلام جس طرح اپنے نام سے امن و آشتی کا پیغام دیتا ہے اسی طرح قرآن وسنت میں مذکور واضح اور بیّن تعلیمات ، ظلم وعدوان کی مخالف اور امن وآشتی کی نقیب ہیں۔ یہاں ایک انسان کا قتل ناحق پوری انسانیت کے قتل کے برابر اور ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے۔ جو مذہب انسانی خون کے احترام میں اس انتہا تک پہنچ جاتا ہو اس کی طرف دہشت گردی اور خونریزی کا انتساب سرتاپاظلم ہے۔ یہاں اگر جنگ کی اجازت ہے تو محض فتنہ وفساد کا قلع قمع کرنے کے لیے تاکہ فرد ، معاشرہ، ملک اور قوم کو امن وآشتی کی خوش گوار فضا میسر ہو اور کاروانِ انسانیت منزل مقصود کی یافت میں امن وسکون کے ساتھ رواں دواں رہے۔
مقالہ نگار شعبۂ دینیات ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ سے وابستہ ہیں
گذشتہ چند دہائیوں سے پوری دنیا جنسی مسائل اور گفتگو میں الجھی ہوئی ہے۔ اس بحث و تمحیص نے ایک واضح خط ِ امتیاز کھینچ رکھاہے ۔ ایک جانب مغربی ممالک ہیں جہاں جنسیت کو انسان کا ذاتی معاملہ قرار دے کر مذہبی اور سماجی پابندیوں سے آزاد کر دیا گیاہے،اور دوسری طرف مشرق کی اپنی قدیم روایات اور اخلاقی تعلیمات ہیں جو لوگوں کو کھل کھیلنے کی اجازت نہیں دیتیں۔تاہم اس سے یہ اخذ کرنا کہ مشرقی دنیا اس معاملے سے بے نیاز یا نقطۂ معکوس پر کھڑی ہے،خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔
آزاد روی کے سیلاب ِ بلا خیز کی ابتدا مغرب سے ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یورپ نے تو اس کا آسان حل نکالا کہ تمام معاملات کو شخصی اور ذاتی قرار دے کرمعاشرے کو اپنی ذمہ داریوں سے آزاد کر دیا۔ اس حل کے پیچھے فی الحقیقت صدیوں پرانا وہ رویّہ تھا جس کے تحت ’انفرادیت‘ کو ہمیشہ ’اجتماعیت‘ پر فوقیت دی گئی۔ اس کے برعکس مشرق میں دور ِ قدیم ہی سے اجتماعیت کو اوّلیت دی گئی ہے۔ اسی وجہ سے فرد کو اپنے قول و فعل کے اظہار سے قبل اجتماعی، یعنی معاشرتی سوچ اور رد ِعمل کو مد ِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔
پوری دنیا کے سنجیدہ مزاج اور صورت ِ حال سے متفکر لوگ اس نقطہ ِ فکر پر متفق ہیں کہ ہماری اخلاقی زبوں حالی اور جنسی مسائل کی کھائی میں گرنے، اورتیزی سے اس جانب بڑھنے کی اہم ترین وجہ مذہب سے دوری ہے۔ اس کے برعکس ایک طبقے کی راے میں جنسیت انسانی زندگی کا انتہائی قوی پہلو ہے،اور مذہب اس معاملہ میں یا تو خاموش ہے، یا برق پا تغیر پذیرحالات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہمیں اس سے اتفاق نہیں۔مذاہب بالخصوص یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے مطالعے سے ہمارے اس دعویٰ کی تائید ہو جاتی ہے کہ ان میں سے کسی نے نہ تو سکوت اختیار کیا ہے، اور نہ ماوراے فطرت پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان مذاہب میں جنسی تقاضوں کو فطرت ِ انسانی سمجھتے ہوئے راہ ِ عمل متعین کی گئی ہے۔
یہاں ہم سب سے پہلے یہودیت کا جائزہ لیتے ہیں، لیکن اس میں ’’قوانینِ موسوی‘‘ اور بعد ازاں ربّیوں کی تعلیمات میں فرق ملحوظ ِ خاطر رکھنا ہو گا۔ یہودی قوانین توریت ، تالمود اور دیگر علماے یہود کے مجموعے کا نام ہے جسے حضرت موسٰی ؑ کے احکام سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ ایک بنیادی قانون ہے، اور دوسرا تشریحی۔
توریت کی کتاب ’پیدایش‘ میں آدم کی پسلی سے عورت کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد مرد اور عورت کی قربت اور ازدواجی زندگی کا یوں بیان ہوا ہے کہ ’’ اسی لیے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کا ہو جاتا ہے، اور وہ دونوں ایک ہی جسم بن جاتے ہیں‘‘ ( پیدایش ۲ : ۱۸- ۲۴)۔ اب اس میں اشتباہ کی گنجایش نہیں کہ دونوں کا ایک جسم ہو جانا اپنے اندر کیا مفہوم رکھتا ہے ۔
کتابِ خروج میں ہر مرد و زن کو بدکاری سے اجتناب کرنے، دوسرے لوگوں کی چیزیں اور پڑوسی کی بیوی ، اس کے خادم اور خادمائوں کو لینے کی خواہش سے منع کیا گیاہے ( خروج ۲۰ : ۱۴، ۱۷)۔ گویا اس میں دوسروں کے مال و اسباب کی طمع کرنے اور پڑوسی کی بیوی کے ساتھ جنسی تعلقات کی استواری کی خواہش ممنوع ہے۔ ’پڑوسی کی بیوی‘ محدود مفہوم میں نہیں بلکہ وسیع تر معنوں کی حامل علامت ہے کہ کسی بھی غیر عورت کے بارے میں ایسے خیالات اور خواہش کو دل میں لاناخدا کی نگاہ میں اسفل فعل ہے۔ علاوہ ازیں، دوسری شادی کرنے کے بعدخاوند اپنی پہلی بیوی کے تین حقوق کی ادایگی کا پابند ہے۔ کھانا اور لباس دینے کے بعد اس کا تیسرا فرض یہ ہے کہ وہ بیوی کو ’’مسلسل وہ چیزیں دیتا رہے جنھیں حاصل کرنے کا اختیار شادی سے ملا ہے‘‘ ( خروج ۲۱ : ۱۰)۔ یہ الفاظ بیوی کے جنسی حقوق کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اور اس میں یہ حقیقت مضمر ہے کہ: بیوی کو ان حقوق سے محروم رکھنا اسے اپنے فطری تقاضوں کی تسکین کا رخ موڑنے کا جواز بن سکتا ہے۔ تالمود میں Nashim یعنی ’عورت‘ کے عنوان کے تحت بیوی کی جنسی آسودگی سے متعلق قواعد و ضوابط بیان کیے گئے ہیں۔ اس میں خاوند کے پیشہ کو نگاہ میں رکھتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ وہ ہر شب اپنی بیوی کے ساتھ سوئے، مگر اس استثنیٰ کے ساتھ کہ شتر بان ہر ۳۰ دن میں کم از کم ایک مرتبہ اور جہاز راں چھے ماہ میں ایک بار ضرور اپنی بیوی سے قربت کرے۔ اس حکم یا نصیحت میں دماغ سوزی کی ضرورت نہیں کیونکہ یہاں خاوند کی مصروفیت کو مد ِ نظر رکھا گیا ہے۔
توریت کی کتاب ِ احبار کے اٹھارھویں باب میں جنسی معاملات سے متعلق قوانین اور ضوابط کا تفصیلی ذکرہے جو خداکی طرف سے بنی اسرائیل کو پہنچانے کے لیے حضرت موسٰی ؑ کو دیے گئے تھے۔ یہاں ایک بار پھر پڑوسی کی بیوی کے ساتھ جنسی اختلاط سے منع کیا گیا ہے(کتاب ِ استثناء ۵ :۲۱ میں اس حکم کا پھر اعادہ کیا گیاہے)۔ صرف یہی نہیں، بلکہ دائرۂ حُرمت میں آنے والے تمام رشتوں کا بیان بھی ہے ۔ اسی باب میں ہم جنسیت کو ’ بھیانک گناہ‘ کہنے کے علاوہ کسی جانور کے ساتھ مرد یا عورت کے جنسی تعلق کی بھی مناہی کی گئی ہے۔اوّل الذکر عمل ِ قبیح کا ذکر قوم ِ لوط کے ضمن میں قدرے تفصیل سے آیا ہے۔ اس کو محض سرسری نگاہ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ صدیوں قبل ایک محدود علاقے یا قوم میں اس کا ارتکاب آج کے مہذب ترین معاشرے میں ہم جنس پرستی کی تبلیغ، اجازت اور ’انسانی حقوق‘ کی علَم برداری کے تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ خداے علیم و خبیر نے پہلے ہی نوعِ انساں کو متنبہ کر دیا تھا۔ یقینا اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا تھا کہ مستقبل میں اس کا ارتکاب روز افزوں بھی ہو گا اور باعث ِ ندامت بھی نہیں، بلکہ اس کو قانونی تحفظ بھی مل جائے گا۔
کتاب استثناء کے باب ۲۲ میں شادی سے متعلق قوانین کا بیان ہے۔ یہاں منجملہ دیگر، شب ِ عروسی اگر خاوند اپنی بیوی کو باکرہ نہ پائے اور عورت کے والدین بھی اس کے کنوار پن کاکوئی ثبوت نہ دے سکیں (اسی باب کے مطابق کنوار پن کا ثبوت اس کپڑے پرخون کے دھبے ہیں جو شب ِ زفاف کے بعد عورت اپنے پاس رکھتی ہے)، تو لڑکی کو سنگسار کرنے کا حکم ہے۔ رجم کا یہی حکم زنا بالرضا کے مرتکب مرد اور عورت کے لیے بھی ہے ۔ کنواری اور ایسی لڑکی جس کی کسی کے ساتھ نسبت نہ ٹھیری ہو، کے ساتھ زنا بالجبر کی سزا میں مرد کو جرمانہ اور اس لڑکی کے ساتھ شادی اور تا حیات طلاق نہ دینے کی پابندی ہے۔ شادی شدہ یا کنواری مگر نسبت شدہ لڑکی کے ساتھ زبردستی جنسی اختلاط کرنے والے مرد کی سزا قتل ہے۔ عورت کو اس گمان میں معاف کر دیا گیا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے شاید شور کیا ہو گا مگر کوئی اس کی مدد کو نہ آیا تھا۔
تالمود میں جنسی جرائم کے ارتکاب پر مختلف سزائیں بیان کی گئی ہیں۔ سگی یاسوتیلی ماں اور بہو کے ساتھ جسمانی تعلق، ہم جنسیت اورجانوروں سے اختلاط پر سر قلم کرنے ، مجرم کو لٹا کر اس کے گلے میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلنے یا گلا گھونٹ کر مار ڈالنے کی سزائیں مقرر ہیں۔ ان سب قوانین سے معلوم ہوتا ہے کہ جنسی بے راہ روی کی بیخ کنی کے لیے انتہائی قدم اٹھانا بعض اوقات لازم ہو جاتا ہے۔
مرد عورت کوجانوروں کے ساتھ جنسی اختلاط سے ممانعت کوبھی جدید دور کی آزاد خیالی اور انتہائی بے راہ روی کے پس ِ منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آج کی روشن خیال اور مادر پدر آزاد دنیا میں اس قبیح تعلق کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔
خدا کی محبوب ترین قوم بنی اسرائیل جلد ہی قوانینِ موسوی کو فراموش کرکے توریت کی من چاہی تاویلات میں الجھ گئی۔مصر سے خروج کے وقت وہ جن عقائد کو اپنے ساتھ لائے انھوں نے پھر سے لوگوں کی زندگیوں کو آلودہ کرنا شروع کر دیا۔ عہد نامہ عتیق میں شامل متعدد کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے۔ علاوہ ازیں، مصری فراعین اور رومی شہنشاہیت کا دائرہ وسیع تر ہو چکا تھا جس کی وجہ سے یہودیوں میںایک خداکی عبادت کا عقیدہ متزلزل ہو رہا تھا۔فسق و فجور کے دیگر عوارض ان کے روح و بدن کو متاثر کر رہے تھے۔اس صورت ِ حال میں حضرت عیسیٰ کی آمد سنجیدہ مزاج اور مذہبی رجحان کے حاملین کے لیے تقویت کا باعث ہونی چاہیے تھی مگر ایسا نہ ہو سکا۔
حضرت عیسیٰ کی تعلیمات ان کے حواریوں نے قلم بند کیں۔ سب سے پہلے ضبط ِتحریر میں آنے والی مرقس کی انجیل پہلی صدی عیسوی کے چھٹے یا ساتویں عشرہ میں سامنے آئی۔ باقی اناجیل اس کے بعد لکھی گئیں۔ اپنی مختصر حیات میں حضرت عیسٰی ؑ کو زندگی کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرنے کی مہلت نہ ملی۔بعد ازاں پولس کی تعلیمات کو بھی عیسائیت کے بنیادی قوانین کی حیثیت حاصل ہوگئی۔
مرقس اور لوقا کی اناجیل میں طلاق کے بارے میں حضرت عیسیٰ کے خیالات دو اہم نکات کی جانب اشارہ کرتے ہیں، یعنی میاں بیوی کا دائمی بندھن، اور طلاق کے بعد شادی کی صورت میں انھیں زنا کا مرتکب قراردینا ( مرقس کی انجیل ۱۰ :۱۰-۱۲، اور لوقا کی انجیل، ۱۶ :۱۸)۔ اوّل الذکر کے مطابق خاوند یا بیوی کی وفات تک شادی ایک ناقابل ِ تنسیخ معاہدہ ہے ۔ گویا خاندان کا وجود تسلیم شدہ حقیقت ہے، اور انسانی زندگی میں رہبانیت کو اہمیت نہیں دی گئی۔ دوسرا نکتہ زنا کی مذمت ہے کہ طلاق کے بعددوسری شادی گویامتعلقہ فریق کا ارتکابِ زنا ہے۔ بالفاظِ دیگر ، زنا کو ایک انتہائی ناپسندیدہ فعل کہا گیا ہے۔ ہم پولس کے خیالات اور تعلیمات میں شامل قوانین اور ضوابط کو کسی طور بھی الہامی قرار نہیں دے سکتے۔ چونکہ عیسائی دنیا انھیں عیسائیت کا جزو سمجھتی ہے اس لیے ان کا ذکر ناگزیر ہو جاتا ہے۔
پولس کے مکتوبات میں تجرد کی مدح سرائی اورشادی شدہ زندگی کے بارے میں اس کے نصائح دو متضاد سوچوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ فی اوقت ہمیں اس سے بحث نہیں۔ ہمیں اس کے مکتوبات سے پاک باز زندگی گزارنے ، فواحش اور ارتکاب ِ زنا سے اجتناب کے بارے میں آگاہی ہوتی ہے۔ عبرانیوں کے نام خط( ۱۳: ۴) میں وہ تلقین کرتا ہے کہ ’’شادی کا بستر پاک رکھنا چاہیے۔ خداہی ان لوگوں کا فیصلہ کرے گا جو حرام کاری کے گناہ اور زنا کرتے ہیں‘‘۔ اسی طرح ایک اور خط میں وہ لوگوں کو حرام کاری کرنے والوں کی صحبت سے پرہیز کا مشورہ دیتا ہے کہ ’’ ایسے شخص کے ساتھ کھانا بھی نہیں کھانا چاہیے‘‘ ( ۱- کرنتھیوں کے نام خط، ۵ : ۹-۱۱)۔ اسی مکتوب میں حرام کاری سے اجتناب کرنے کی باربار تلقین کی گئی ہے ( ۶ : ۹، ۱۶، ۱۸، اور ۷ : ۱-۴)۔گلتیوں کو عیسائیت کی تبیلغ کرتے ہوئے وہ جنسی گناہ، برے جذبات اور لالچ کو بت پرستی کے برابر قرار دیتا ہے کہ ’’ایسے گناہ کے اعمال پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے‘‘۔ ( ۳ : ۵ - ۷)
کلیسائی تعلیمات میں جسمانی تعلقات کو بنگاہ ِ حقارت دیکھا گیا ۔ اسی وجہ سے شادی کے بجاے تجرد کی زندگی کو اہمیت دی جانے لگی ۔ اس ضمن میں متعدد مذہبی پیشوائوں، بشمول سینٹ پال، کا حوالہ دیا جا سکتا ہے، جنھوں نے عیسائیوں کو مجرد زندگی گزارنے کا مشور دیاکہ ’’ جو لوگ شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں وہ شیطان کے کام کی تکمیل کرتے ہیں‘‘۔ایک روایت کے مطابق حضرت عیسٰی ؑ سے استفسار کیا گیاکہ موت کب تک فرماں روائی کرے گی؟ آپ کا جواب تھا کہ جب تک عورتیں بچوں کو جنم دیتی رہیں گی۔مزید فرمایا کہ جب تک کہ تم لباس ِ خجالت اپنے پائوں تلے نہیں روندتے، عورت مرد کا امتیاز ختم نہیں ہو جاتا،اور دونوں میں یک جائی نہیں ہو جاتی، موت تمھارے سروں پرمنڈلاتی رہے گی۔ حضرت عیسٰی ؑ سے یہ بات بھی منسوب کی گئی ہے کہ’ میں نسوانی کاموں کو ختم کرنے آیا ہوں، یعنی شہوت اور عمل ِ پیدایش۔۱؎ یہی وجہ ہے کہ عیسائیت میں راہبانہ زندگی کو معراج سمجھا گیا ہے۔
ایسی تعلیمات ہی کے تحت کلیسا نے مذہبی امورکی بجاآوری کے لیے ہر عورت کو اجازت نہیں دی تھی بلکہ وہ بیوائیں جو راہبانہ زندگی گزارنے کی خواہش مند تھیں اور وہ کنواری لڑکیاں جنھوں نے تا عمر شادی نہ کرنے کا عہد کیا ہوا تھا، کلیسائی کاموں کی اہل تھیں۔ان کا قیام چونکہ کلیسا ہی میں تھا اس لیے بتدریج ایک غیر اخلاقی صورت ِ حال نے جنم لیا۔
جی- ایچ- ٹاورڈ (G. H. Tavard) نے لکھا ہے کہ کلیسا کے غیر شادی شدہ منصب داروں اور رہنمائوں نے نہ صرف دوشیزائوں اور بیوائوں کے گھروں میں رہنا شروع کر دیا تھا بلکہ ان کے ساتھ ایک ہی بستر پر بھی سونے لگے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اکٹھے سونے کے باوجودان کے مابین کسی قسم کے جنسی تعلقات نہیں تھے۔انطاکیہ کے بشپ کے گھر میں تو متعدد ایسی عورتیں موجود تھیں اور اسی وجہ سے کلیسا کی انطاکیہ کونسل نے اپنے اجلاس منعقدہ ۲۶۸ء میں اسے عہدے سے معزول کر دیاکیونکہ ضبط ِ نفس اور اجتنابِ اختلاط کے باوصف لغزش کا شائبہ بہر حال پایا جاتا تھا۔ اسے ناپسندیدہ سمجھنے کے باوجود بھی اکٹھے رہنے اور سونے پر کوئی پابندی نہ لگائی گئی۔ حتیٰ کہ ۳۲۵ء میں ہونے والی اہم اور مشہور نائسیا (Nicea ) کونسل میں بھی پابندی کا کوئی فیصلہ نہ ہوا اور یوں اس فعل کے ارتکاب کو جاری رکھنے کا در کھلا رہا۔(بحوالہ وائٹرنگٹن، ص ۲۰۴)
ان تعلیمات کے برعکس عیسائیوں کے کارپوکریٹی (Carpocratians) فرقے کا فلسفہ آزادخیالی پر مبنی تھا۔ا ن لوگوں کا عقیدہ تھا کہ چونکہ انسان صرف اسی دنیا کے لیے ہے اس لیے دنیاوی زندگی میں لذات جسمانی اور شہوت رانی پر کوئی پابندی نہیں۔ اور یہ کہ خدا کے پاس لوٹنے سے قبل روح کو مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، لہٰذا لازم ہے کہ ہر قسم کی آزاد روی ، سرمستی اور اختلاط ِ بدنی سے لطف اٹھا لیا جائے تاکہ انھیں حیات ِ نو کی ضرورت ہی نہ رہے۔
گویا عیسائیت میں توازن کے بجاے دو انتہائوں پر زور دیا گیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی لوگوں کو موقع ملا انھوں نے ہر بند اور شرم و حیا کو توڑ کر مادر پدر برہنگی اور جسمانی لذائذ کی راہ اختیار کی۔ آج صرف امریکا میں ہر شخص اوسطاً آٹھ افراد کے ساتھ زنا کا مرتکب ہورہاہے۔
اب ہم اسلامی تعلیمات کا جائزہ لیتے ہیں جو فی الحقیقت گذشتہ الہامی قوانین کا تسلسل بھی ہیں اور حرف ِ انتہا بھی۔ اوّل الذکر کی وضاحت خود اللہ تعالیٰ نے فرما دی کہ :’’آج ہم نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیںاور تمھارے لیے اسلام کو دین پسند کیا‘‘۔(مائدہ ۵: ۳)
اس میں انتہائی مختصر مگر جامع الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے کہ آج کے بعد قوانین میں کوئی رد و بدل نہیں ہوگا اور یہ کہ انسان زندگی گزارنے کے لیے اپنی مرضی کا نہیں، بلکہ ان اصولوں اور امرو نہی کے تابع ہوگا جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ اس لحاظ سے جنسی معاملات میں بھی ہم انھی حدود و قیود کے پابندہیں جو قرآن میں واضح کر دیے گئے ہیں۔ اپنی رضا و منشا، خوشی، مسرت یا حالاتِ زمانہ کے مطابق ان میں کسی قسم کی کمی بیشی کا تصور ہی نہیں۔
حکمِ الٰہی ہے کہ ’’ زنا کے پاس بھی نہ جانا کہ وہ بڑی بے حیائی اور بہت ہی بری راہ ہے‘‘ (بنی اسرائیل۱۷: ۳۲)۔ قرآن نے وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی کے الفاظ استعمال کرکے تمام راستوں کو بند کر دیا ہے۔ یہ نہیں کہا گیا کہ ’’ زنا مت کرو‘‘ ، بلکہ حکم ہے کہ ’’ اس کے پاس بھی نہ جائو‘‘، یعنی ہر وہ کام ، صحبت اور راہ جو انسان کو بلا ارادہ یا ارادتاً اس جانب لے جانے والی ہو جہاں زنا کے ارتکاب، یا کم از کم سوچ، خواہش یا منظر کا معمولی سا بھی احتمال ہو، اس سے گریز کرو۔ گویا یہ ارتکاب ِ زنا کی بنیاد ہے۔ جب انسان پہلا قدم ہی رکھنے سے مجتنب ہو گا تو یقینا وہ اپنے اگلے ارادوں پر بھی قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اسی فرمان ِ الٰہی میں اسے ’’بڑی بے حیائی اور بہت بُری راہ‘‘ کہہ کر ذہن کو دعوت ِ فکر دی گئی ہے کہ یہ فعل محض تلذذ اور خوش وقتی کے لیے نہیں بلکہ بے حیائی اس کا لازمی عنصر ہے ، اور بری راہ اس لیے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ اس فعلِ بد کا صرف ایک بار ہی ارتکاب کرنے کے بعد تائب ہو جائے گا۔ایک مرتبہ ملوّث ہونے کے بعدوہ گویا ایک راستے پر چل پڑا ہے جہاں اس کے قدم اسے آگے ہی آگے لیے جاتے ہیں۔
سورۂ فرقان میں کہا گیا ہے، ’’ اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہیں پکارتے اور جس جانور کو مارنااللہ نے حرام کیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے، مگر جائز طریقے سے، اور بدکاری نہیں کرتے، اور جو یہ کام کرے گا سخت گناہ میں مبتلا ہو گا‘‘ ( الفرقان ۲۵: ۶۸)۔یہاں بظاہر بدکاری کو انتہائی برا فعل اور سخت گناہ کہا گیا ہے۔ شرک اور جانوروں کو ممنوعہ طریقے سے قتل (ذبح) کرنے کے ساتھ ہی بدکاری کا ذکر کرنا بذات ِ خود اس امر کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں افعالِ بد کا ارتکاب شرک وغیرہ سے کم نہیں۔ یہ ایک ایسی تنبیہ ہے جس پر معمولی سا غور بھی انسان پر لرزہ طاری کردیتا ہے۔اسی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بدکاری کس حد تک قابل ِ اجتناب و نفرین ہے۔
زنا اور شرم گاہوں کو ظاہر کرنا لازم و ملزوم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس نکتے پر خاص طور سے زور دیا ہے۔ ارشاد ِ ربانی ہے: ’’ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں، کچھ شک نہیں کہ ان کے لیے اللہ نے بخشش اور اجرِ عظیم تیار کر رکھا ہیــ‘‘ (احزاب ۳۳:۳۵)۔ اسی طرح سورۂ مومنون میں ایمان لانے والے کو فلاح کی بشارت دی گئی ہے۔ صرف ایمان باللسان نہیں بلکہ ان لوگوں کو جو ’’ اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں، لغویات سے دور رہتے ہیں، زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں اور ان عورتوں کے جو ان کی ملِک ِ یمین میں ہوں کہ ان پر وہ قابل ِ ملامت نہیںہیں، البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں‘‘۔ (المومنون ۲۳: ۱-۷)
قرآن نے انسان کو احسن و بامقصد زندگی گزارنے کے زریں اصولوں سے شناسا کیا ہے۔ ہر حکم اور اصول کو اس کی اہمیت کے اعتبار سے بتکرار بیان کیا گیا ہے۔ مذکورہ بالا نکتہ چونکہ حیات ِ انسانی میں دور رس نتائج کا حامل ہے اس لیے اسے صاف صاف الفاظ میں واضح کیا جا رہا ہے۔ سورۂ نور میں ارشاد ہوتا ہے: ’’ اے نبیؐ ! مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔۔۔۔ اور اے نبیؐ ! مومن عورتوں سے کہہ دوکہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور پنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بنائو سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رکھیں ۔۔۔۔۔ وہ اپنے پائوں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انھوں نے چھپا رکھی ہو، اس کا لوگوں کو علم ہو جائے‘‘۔ (النور ۲۴: ۳۰-۳۱)
ان آیات ِ مبارکہ میں غضِ بصر، شرم گاہوں کی حفاظت، عورتوں کا اپنے سینوں پر آنچل ڈالنا، زینتوں کو نامحرموں سے چھپانا اور پائوں کو اس غرض سے زمین پر مارنا کہ پوشیدہ زینتوں (یعنی پائل، جھانجھر وغیرہ) کی آواز دوسروں کے کان میں جائے، سب ہی ممنوعات میں شامل ہے۔ غور کیا جائے تو اس میں کڑی سے کڑی ملتی جاتی ہے ۔ ہر دانستہ یا غیر دانستہ فعل خیالات ِ بد، ہیجان اور ژولیدہ فکری کی راہ سے ہوتا ہوا نفسانی خواہش، اور مآل کار زنا تک جا پہنچتا ہے۔ ان دو آیات میں زنا سے بچنے کا حکم دیا ہے تو ساتھ ہی اس سے مجتنب رہنے کی راہ بھی دکھا دی ہے۔ امام غزالی خواہشات ِ جماع اور بدکاری کے بیان میں نصیحت کرتے ہیں کہ ’’ نا محرمات عورتوں کو نہ دیکھے ۔ اگر کسی پر اتفاقاً نگاہ پڑ جائے تو دوبارہ احتیاط کرے ورنہ پھر بہت مشکل ہو گا۔نفس ِ شہوت اس معاملے میں قطعی حیوانوں کی طرح ہے کہ پہلے پہلے تو اس کو جس طرح چاہو سدہا سکتے ہو، اور اگر اس میں کوئی ہٹ پیدا ہو جائے تو پھر قابو سے باہر ہو جائے گا۔ لہٰذا اپنی آنکھ کو محفوظ رکھو ‘‘ ۔۲؎ سورۂ معارج میں جنتی لوگوں میںان کا بھی ذکر ہے جو’ ’ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں‘‘۔(المعارج ۷۰:۲۳-۳۱)
اللہ تعالیٰ نے جب ا نسان کی جنسی طلب و خواہش کی تکمیل کے لیے ایک جائز راستہ مقرر کیا ہے تو اس سے متجاوز کرنے پروہ قابلِ تعزیر بھی ہے۔’’ زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو، اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملہ میں تم کو دامن گیر نہ ہواگر تم اللہ اور روز ِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ِ ایمان کی ایک جماعت موجود ہو‘‘ (النور۲۴: ۲)۔ایک اور جگہ فرمایا ہے کہ ’’ تمھاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں ان پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو، اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروںمیں بند رکھویہاں تک کہ انھیں موت آ جائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔ اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں، ان دونوں کو تکلیف دو، پھر اگر وہ توبہ کریں، اور اپنی اصلاح کرلیں تو انھیں چھوڑ دو‘‘۔ (نساء ۴: ۱۵-۱۶)
مفسرین کے مطابق سورۂ نساء میں بیان کی گئی سزا ابتدائی احکام میں سے ہے جب ابھی اسلامی معاشرہ تشکیل پا رہا تھا، جب کہ سورۂ نور میں سزائوں کو زیادہ شدت سے نافذ کرنے کا حکم ہے۔ ان معاملات میں معمولی سی رعایت، نیم دلی یا گنجایش سے حالات کبھی بھی قابو میں نہیں رہتے۔ اس کے ایک نہیں، متعدد نمونے ہمیں تاریخ کے مختلف اَدوا ر میںاور اپنے ارد گرد ملتے ہیں ۔
یہیں پر بر سبیلِ تذکرہ تعدد ِ ازواج کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ معاشرتی، سماجی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے اللہ نے مرد کے لیے چار تک شادیوں کی اجازت دی ہے، مگر اسے عدل سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جنسی تقاضوں کے مد ِ نظر بھی اس کی افادیت تسلیم شدہ ہے کہ مرد عورت کو بدکاری اور حرام کاری سے بچنے کے لیے ایک جائز راستہ دکھایا گیا ہے۔ ، اللہ کی نظر میں پسندیدہ راہ تو پرہیزگاری اور ضبط ِ نفس ہے، اور اگر انسان خود پر قابو نہ رکھ سکے توبجاے اس کے کہ وہ ارتکاب ِ زنا کر بیٹھیں، شادی کرکے حرام کو حلال میں بدل لیں۔
اسلام میں تجرد کی زندگی کو سراہا نہیں گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ نکاح میری سنت ہے۔ اس کا مقصد ہی یہی ہے کہ مجرد زندگی میں انسان کے بھٹک جانے کا بہت حد تک امکان پایا جاتا ہے۔ قرآن اور احادیث میں ضبط ِ نفس کا ذکر تو ضرور ہے مگر ان معنوں میں نہیں کہ انسان جنسی فعل کو ناجائز سمجھے یا اسے برا جان کر تائب ہو جائے۔ اسلام شادی اور جنسی فعل کو جائزقرار دیتا ہے مگر اس وقت تک اپنے آپ کو فواحشات اور اعمال ِ بد سے بچائے رکھنے کا حکم بھی دیتا ہے۔
امام غزالی نے لکھا ہے کہ نکاح کی فضیلت عمل ِ بد سے بچنے اور فساد سے علیحدہ رہنے کے باعث ہے۔ اس لیے کہ آدمی کے دین کو فساد سے دوچار کرنے والی چیزیں اکثر شرم گاہ اور پیٹ ہی ہوتی ہیں، اور شادی کرنے سے وہ ایک آفت سے بچ جاتا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ نکاح سے صرف دوچیزیں روکتی ہیں، یا عاجز ہونا یا بدکار ہونا۔ حضرت ابن عباسؓ کے مطابق عابد کی عبادت پوری نہیں ہوتی جب تک کہ شادی نہ کر لے۔بقول امام غزالی ،نکاح والے کی فضیلت مجرد پر ایسی ہے جیسے جہاد کرنے والے کو نہ جانے والے پر ہے، اور بی بی والے کی ایک رکعت مجرد کی ستر رکعتوں سے بہتر ہے۔ ۳؎
قرآن میں جس شدت کے ساتھ اپنی شرم گاہوں کے چھپانے کا حکم دیا گیا ہے اس میں ایک جہانِ معنی پوشیدہ ہے۔ اسلام نے غضِ بصر کا حکم دیا ہے خرابی کی ابتدا یہیں سے ہوتی ہے۔ جو رفتہ رفتہ دونوں جنسوں کے درمیان دوستی، ملاقاتوں، ہنسی مذاق، سنجیدہ بات چیت سے لایعنی اور بے تکلفانہ فحش گفتگو اور حرکات و سکنات کی جانب لے جانے والی سیڑھیاں ہیں، جس کی آخری منزل دونوں کے مابین جنسی تعلقات کی استواری ہے۔ پندرہ صدیاں قبل کے یہ نصائح اور پابندیاں بظاہر دلوں پر بوجھ محسوس ہوتے ہیں مگر جب ان کو آج کے انتہائی تعلیم یافتہ اور مہذب معاشرہ کے پس منظر میں دیکھتے ہیں تو انسان کی اخلاقیا ت کو راہ ِ راست پر رکھنے کے لیے اس سے بہتر کوئی نسخہ دکھائی نہیں دیتا۔شخصی آزادی کے فلسفے نے مرد و زن کو ایک دوسرے کے سامنے بالکل برہنہ کر دیا ہے۔ جب شرم گاہوں کو پوشیدہ رکھنے کے مذہبی، سماجی اور اخلاقی قوانین شخصی آزادیوں کی لہر میں بہہ گئے تو رشتوں کا احترام، حیا کے تقاضے، عصمت کی حفاظت اور خاندان کا تصور دھواں ہو کر اُڑ گیا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ شادیوں سے فرار، طلاقوں کی شرح میں اضافہ، بن بیاہی مائوں کی تعداد میں شرم ناک کثرت۔
تورات اور قرآن میں زنا کی سزائوں کا ذکر کیا جا چکا ہے۔ مغرب کے آزاد خیال اور مذہب سے تہی معاشرے کے علاوہ خود مسلمانوں کی ایک انتہائی قلیل تعداد روشن خیالی، یا آزادیِ بے مہار کی خواہش لیے ہوئے، ان تعزیرات پر معترض ہے۔ یقینا انھوں نے قبل از اسلام معاشروں کا مطالعہ نہیں کیا کیونکہ ان ادوار میں بھی زنا کو ناقابل ِ معافی جرم سمجھاجاتا تھا۔ مثال کے طور پر حمورابی قوانین، جنھیں قدیم ترین اور اوّلین تحریری اور باضابطہ قوانین کہا جاتا ہے ،میں واضح الفاظ میں لکھا گیا تھا کہ : ۴؎
شادی شدہ عورت کے کسی دوسرے مرد کے ساتھ جسمانی تعلق کی سزا دونوں کی مشکیں باندھ کر دریا برد کرنا تھی (قانون نمبر ۱۲۹)۔ اور اگر خاوند بیوی کو معاف کر دیتا تو اس کے باوجود بھی رسم ِ زمانہ کی رو سے زانیہ کوبالکل برہنہ شہر میں گشت کرایا جاتا تھا۔
منکوحہ مگر باپ کے گھر میں رہنے والی عورت کے ساتھ زنا بالجبر کرنے والے مرد کی سزا قتل تھی۔(قانون نمبر ۱۳۰)
قوانین نمبر ۱۳۳ تا ۱۳۵ قیدی کی بیوی کے لیے وضع کئے گئے تھے۔ ان کی رو سے اگر بیوی کو خاوند کی عدم موجودگی میں نان و نفقہ کی پریشانی نہ ہو، اور اس کے باوجود وہ کسی اورمرد کے ساتھ اس کے گھر رہایش اختیار کر لے تو اس عورت کو دریا میں ڈبو دینے کی سزا ہے ۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہو کہ قیدی کے گھر میں کھانے پینے کی اشیا کا فقدان ہو ،اس کی بیوی کسی اور مرد کے ہاں رہنا شروع کر دے ،تو اس صورت میں عورت قصوروار سمجھی نہیں جاتی تھی۔
یونانی علم و فلسفہ کی روشنی نے پوری دنیا کو منور کیا ہوا تھا۔ سقراط، افلاطون اور ارسطو جیسے قدآور فلسفیوں نے کئی صدیوں تک زمانے کو اپنے آگے سرنگوں رکھا۔ مگر جب ہم افلاطون کے مکالمات میں مجوزہ ریاست کے خد و خال دیکھتے ہیں تو وہ اپنے دور کا ایک عام سا انسان نظر آتا ہے۔ اس کے خیال میں بہترین ریاست کے لیے بہترین افراد کا انتخاب ضروری ہے، اور اس ریاست کا انتظام چیدہ چیدہ افراد کے سپرد ہونا چاہیے۔ یہ چیدہ چیدہ افراد کون ہیں؟ یہاں وہ مشترک خاندان اور اولاد کا تصور پیش کرتا ہے، یعنی منتخب کردہ نوجوان لڑکیاں اور لڑکے ایک دوسرے کے ساتھ رشتۂ زوجیت تو رکھیں مگر بغیر شادی کے۔ ان کی اولاد ریاست کی اولاد سمجھی جائے گی۔ انھیں جنم دینے والے ان کی زندگی سے بے دخل ہو جائیں گے۔ بہترین منتظمین ِ ریاست کے لیے جنسی آزادی کی راہ دکھائی گئی ہے۔ ایتھنز ہی کے بارے میں مشہور عالم ِ بشریات رابرٹ بریفالٹ کا بیان ہے کہ ’’کہا جاتا ہے کہ قدیم ایتھنز میں ایک زمانہ وہ بھی تھا جب عام بے راہ روی کی وجہ سے لوگوں کو اپنے باپ کا علم نہیں تھا‘‘۔۵؎ ایتھنز کی تمام شادی شدہ عورتوں پر یہ الزام انتہائی خوفناک اور قابلِ تحقیق ہے۔ مانا کہ افروڈائٹ وغیرہ کی وجہ سے عام اخلاقی حالت باعث ِ فخر نہیں تھی مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ ہر عورت کو اخلاق باختہ اور جنسی بے راہ روی کی شکار قرار دے دیا جائے۔عقل بھی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ کسی شہر میں کوئی شادی شدہ عورت بھی عفت مآب نہ ہو مگرہم اس کو کثرت ِ زنا ضرور کہہ سکتے ہیں۔ قانون کے تحت زنا کی سزا موت تھی ، لیکن ’’یونانی اتنے مہربان لوگ تھے کہ ہوس ِ نفسانی کے کسی مجرم کو سزا نہیں دیتے تھے‘‘۔۶؎
ایتھنزکی ہمسایہ ریاست اسپارٹا اگرچہ علم و فن سے دور تھی مگر آزاد روی میں کسی سے کم نہیں تھی۔ رقص و سرور کی عوامی محفلیں ہوں یاجلوس وغیرہ، عورتوں کو برہنہ ہو کر ان میں شمولیت اختیار کرنا پڑتی تھی حالانکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی بحیثیت شرکا یا تماشائی وہاں موجود ہوتی تھی۔ عورتوں کی برہنگی کامقصد اپنے بدن کو سڈول، خوب صورت اور پُرکشش بنانے کی ترغیب دینا اور جسمانی نقائص کو دور کرنا تھا ۔پلوٹارک جیسے اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل مؤرخ اور دا نش ورکی نگاہ میںعورتوں کی عالم ِ برہنگی میں شرکت باعث ِ شرم نہیں تھی کیونکہ اس حالت میں بھی وہ ’’عفت و حیاکا دامن تھامے رنگین مزاجی سے دُور تھیں‘‘۔ اس کی نظر میںتو اسپارٹا میں زناکاری اور کثیر الزوجیت معدوم تھی۔ عیسائی عالم وائٹرنگٹن بھی پلوٹارک کے بیان پر تذبذب کا اظہار کرتا ہے ۔ اس کی راے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ اس میں کتنی حقیقت ہے اور کتنی رفعت ِ خیالی ۔(وائٹرنگٹن،ص ۲۲۴)
ایک طرف یہ دعویٰ کہ اہل اسپارٹا میں زناکاری معدوم تھی، اور دوسری جانب یہ معاملہ کہ ایک بھائی کی بیوی بعض اوقات اس کے دوسرے بھائیوں کی بھی تسکین کا ذریعہ تھی۔اس کی تائید یونانی مؤرخ پولی بئس (Polybius, 200-118 BC) نے بھی کی ہے ۔ نہ صرف بھائیوں بلکہ بعض اوقات مہمانوں کو بھی دعوت ِ شرکت ِ زوج دی جاتی تھی۔ ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ خاوند کی عدم موجودگی میں بیوی اپنے لیے ایک عارضی خاوند کا بندوبست کر لیا کرتی تھی۔ اہل ِ اسپارٹا کی روایات میں ایسے فعل کو قابل ِ مذمت و شرم بے شک نہ سمجھا جاتا ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ اسے زنا کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔
اس جنسی آزاد روی کے باوجود قدغن بھی تھی۔لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے بالترتیب ۳۰ اور ۲۰برس کی عمر تک پہنچنے سے قبل شادی کرنا لازم تھا ۔ تجرد کو جرم گردانا جاتا تھا۔ سزا کے طور پر نہ تو وہ اپنا حق ِ راے دہی استعمال کر سکتے تھے نہ کسی ایسے جلوس اور اجتماع میں شرکت کی اجازت تھی جہاں برہنہ لڑکیاں اور لڑکے شامل ہوں۔ پلوٹارک کا کہناہے کہ غیر شادی شدہ نوجوانوں کا ان جلوسوں میں، شدید سردیوں میں بھی، بالکل برہنہ ہو کر شامل ہوناگویا اعتراف تھا کہ ان کی سزا بر حق ہے۔ اس سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ نوجوانوں کو مجرد رہنے کی صورت میںسخت سردی میں بالکل برہنہ ہو کر جلوس میں شرکت کرنے کی سزا دی جاتی ہو گی ۔
اس عہد کی طاقت ور اور وسیع سلطنت روم پر بھی نگاہ ڈالیں تو صورت ِ حال مختلف دکھائی نہیں دیتی۔ رومی شاعر پبلئس اوویدیئس ناسو (Publius Ovidius Naso, 43 BC - AD 17/18) کی نظر میں پاک دامن عورت صرف وہ ہے جسے کوئی پوچھتا تک نہیں۔ایک اور رومی مدبر، فلسفی اور ڈراما نگار سینیکا(Seneca) سمجھتا ہے کہ جس کے دو عشاق ہوں وہ انتہائی وفاداربیوی کہی جاتی ہے۔اسی طرح رومی امیر اور طنز نگار جوینل(Jovenal) بڑے زہر آلود لہجے میں کہتا ہے کہ روم میں شاید ہی کوئی عورت شادی کے قابل رہ گئی ہو۔ ایک محقق ڈی رین کورٹ (De Riencourt) نے بڑا دل چسپ انکشاف کیاہے کہ شدید جنسی بے راہ روی کا نتیجہ شادیوں کو ملتوی کرنے، شادی شدہ عورت کا عملِ پیدایش سے گریز اور ضعف ِ قوت کی صورت میں سامنے آیا جس سے شرحِ پیدایش پریشان کن حد تک گر گئی تھی ۔ اس کو دیکھتے ہوئے مختلف شہنشاہوں نے زوال پذیر تولید ِ نسل کو بڑھانے کے لیے کثیر تعداد میں بربریوں کو روم آنے کی ترغیب دی ۔ لوگوں کی اخلاقی حالت بہتر بنانے کے لیے مذہب کی جانب ازسرِ نو رجوع کرنا ضروری سمجھا گیا۔ اس میں ریاست کی خواہش اور کوشش بھی شامل تھی۔لہٰذ دیوی سائبل (Cybele) یعنی ’ مادر ِ عظمیٰ‘ (Magna Mater)کے مذہب کو دساور سے روم لایا گیا۔191 ق م میں اسے سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی ۔ جولیس سیزر ( ۱۰۰-۴۴ ق م ) کے زمانے میں روم میں ایک اور دیوی ’ما‘ (Ma) کی پرستش شروع ہوئی جسے رومی سپاہی ایشیائے کوچک سے اپنے ہمراہ لائے تھے ۔۷؎یعنی اخلاقی تنزل کو روکنے کے لیے مذہب کا سہارالیا جانے لگا۔
گرتی ہوئی اخلاقی صورت ِ حال کے باعث رومی شہنشائیت کے بانی آگسٹس نے اخلاقیات، شادی بیاہ، ولدیت کی تصدیق ، پاک دامنی اور سادہ بود و باش کے لیے ’ جولیئن قانون‘ (Julian Law) کا نفاذ کیا۔ اس کے تحت عورتوں کو جسمانی ورزشوں کے مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی۔ اہم ترین قانونی ضابطہ زناکاری کے خاتمے اور پاک دامنی کے فروغ سے متعلق تھا۔ رومی تاریخ میں پہلی بار شادی کے تحفظ کو ریاست کے ماتحت کیاگیا۔ اپنی بے راہ رو بیٹی اور اس کے آشنا کو قتل کرنے کا اختیار باپ کو واپس مل گیا۔ اسی طرح خاوند کو اپنی بیوی کے عاشق کو قتل کرنے کا اختیار حاصل ہوا بشرطیکہ وہ اس کے گھر میں موجود پایا گیا ہو۔بیوی کو اپنے گھر میں ارتکاب ِ زنا کی صورت میں ۶۰ روز کے اندر اندر عدالت کے رو برو پیش کیا جانا ضروری تھا ۔ جرم ثابت ہونے پر زانیہ کو تاحیات شہر بدر کرنے، ایک تہائی جایداد اور نصف جہیز کی ضبطی، اور دوبارہ شادی کی پابندی جیسی سزائیں دی جاسکتی تھیں۔
رومی معاشرہ جس خطرناک حد تک جنسی بے قاعدگی کا شکار ہو رہا تھا اس کے مد ِ نظر قیود وحدود کا تعیّن اور نفاذ ِ قوانین وقت کی ضرورت تھی مگر عدمِ توازن یہ کہ جولئین قانون میں صرف عورت ہی کو ہدف بنایا گیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اخلاقی حدود سے باہر نکلنے میں ہمیشہ ایک جنس دوسرے کی اعانت کرتی ہے۔ مردوں کی مدد اور خواہش کے بغیر عورت کا اخلاقی حدود سے تجاوز کرنا ممکن نہیں۔ روم میں بھی ایسا ہی ہوا مگر رومی قانون اس ضمن میں مرد کو فریق نہیں ٹھیراتا۔ اس کا استثنا اس حد تک ہے کہ بیوی اپنے شوہر پر بے لگام جنسیت کا الزام تک نہیں لگا سکتی کیونکہ قانون نے اس کی جسمانی اور شہوانی خواہشات کی تکمیل کے لیے لائسنس یافتہ پیشہ ور طوائفوں کی شکل میں راہ پیدا کر دی تھی۔(ول ڈیورنٹ، ص ۲۲۳)
ان چند مثالوں کے پیش ِ نظر اسلام کے تعزیراتی قوانین کا مقصد معاشرے کو ان برائیوں سے بہت حد تک پاک کرنا ہے جن کا مشاہدہ ہم آج کی دنیا میں بھی کر رہے ہیں۔ سزائوں کے نفاذسے قبل لوگوں کو اخلاقی باختگی، بے راہ روی اورجنسی آزادی سے دوری کی تعلیم دی گئی، اور اس ضمن میں عورت مرد کے مابین کوئی امتیاز روا نہیں رکھا گیا۔ بحیثیت ِ مجموعی تعلیمات و احکامِ الٰہی نے انسانوں کی زندگی کو ایک ضابطے اور دائرے کے اندر رہنے کا درس دیا ہے تو اس میں لوگوں کی ذاتی، عائلی اور مجموعی بھلائی ہے۔
۱- Witherington III, ben (1996), Women in the Earliest Churches, Cambridge University Press, Cambridge, p 190
۲- امام غزالی، کیمیاے سعادت (مترجم: نائب نقوی)، شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور، تاریخ ندارد، ص۴۲۶-۴۲۷
۳- امام غزالی، احیاء العلوم (مترجم: مولانا محمد حسن نانوتوی) مکتبہ رحمانیہ، لاہور، تاریخ ندارد، ج۲، ص۴۳-۴۴)
۴- مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، تفہیم القرآن، مکتبہ تعمیر انسانیت، لاہور، ۱۹۷۴ئ، ج۱،ص ۲۳۲
۵- مالک رام، حموربی اور بابلی تہذیب و تمدن،اپنا ادارہ، لاہور، ۲۰۰۰ئ، ص ۷۰-۷۱
۶- Briffault, Robert (1959), The Mothers (abridged by Gordon Rattray Taylor), George Allen & Unwin, London, p 87.
۷- Durant Will, The Story of Civilization: The life of Greece, Simon & Schuster, N.Y., p 305.
۸- De Riencourt, Amaury (1989), Woman and Power in History, Sterling Publishers (Pvt) Ltd., New Delhi, pp 126-9
بنیاد پرستی، شدت پسندی اور دہشت گردی کے الفاظ کی معنویت کو جس طرح آج مغرب نے دھندلا دیا ہے، ایسے ہی مکالمہ بین المذاہب، انسان دوستی (humanism)، اعتدال پسندی، امن اور رواداری (tolerance) کے خوش کن الفاظ کو وہ اپنے مفہوم کا لبادہ اُوڑھانے پر مُصر ہے۔ اس طرح اُس نے اہلِ دین کو دفاعی پوزیشن پر کھڑا کر دیا ہے۔ مغالطے کی اس دُھول میں شرک کا رد، حاکمیت الٰہی کا مطالبہ، اپنی تہذیب و ثقافت کے احیا پر مسلمانوں کا اصرار اور یہود و نصاریٰ کی دوستی کے بارے میں ان کی احتیاط کی روش، بدامنی اور شدت پسندی میں اضافے کا سبب قرار پاتے ہیں، جب کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے لاکھوں انسانوں کو اپاہج، عراق میں ۵لاکھ بچوں کو ادویات کی عدم دستیابی کا شکار کرنے والا امریکا اور فکری آزادی کے نام پر فرانسیسی شاتمِ رسولؐ جریدے کی پشت پر کھڑا یورپ اور دیگر ممالک کے ۴۰حکمران رواداری کے ’معلّم‘ قرار پاتے ہیں۔
قرآن اور اسوئہ رسولؐ میں اپنے عقائد و افکار پر غیرمتزلزل یقین اور دوسروں کے جذبات کا لحاظ رکھنے کا جو حسین امتزاج ملتا ہے، اس سے رواداری کے حقیقی مفہوم سے آشنائی حاصل ہوتی ہے اور عصرِحاضر میں اس کے فروغ کی راہیں بھی نظر آتی ہیں۔ اسوئہ رسولؐ کی روشنی میں رواداری کے تصور کی وسعت اور گہرائی کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یورپ آج جس رواداری کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے، وہ محض خیالات کی لیپاپوتی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ اسوئہ رسولؐ کی روشنی سے مغرب کی طرف سے رواداری کے فروغ کے نام پر برپا تحریک کے مکروہ عزائم بھی نظر آئیں گے اور یہ بھی کہ مغرب اور ہمارے تصورِ رواداری میں کیا فرق ہے اور اگر اس فرق کو ہم نے نظرانداز کردیا تو پھر ہم خود اپنی روایات و اقدار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
مغرب جو لبرلزم اور رواداری کے نام پر ہم سے ہماری اقدار چھیننا چاہتا ہے، خود کس قدر متشدد ہے اس کا اندازہ یورپ میں مسلمان خاتون کے سر پر اسکارف اور مساجد کے میناروں پر عائد ہونے والی پابندی سے لگایا جاسکتا ہے۔ محض اسکارف کی پابندی کرنے والی خاتون کو مقدمے کی سماعت کے دوران عین کمرۂ عدالت میں پولیس کی موجودگی میں قتل کرنا بقول اقبال مغرب کے ’اندروں چنگیز سے تاریک تر‘ کا منظر دکھاتا ہے۔ اس لیے ہمیں مغرب سے متاثر ہوئے بغیر رواداری کی ان بنیادوں کو تلاش کرنا ہے جو امنِ عالم کے قیام میں انسانیت کے کام آسکیں اور تمام اقوام کو اُن کی تہذیب وثقافت کے تحفظ کا احساس دلا سکیں، نہ کہ رواداری کے نام پر ان کی اقدار پر ڈاکا مارنے اور کمزور اقوام کی خودداری چھیننے کا سنہری جال ہوں۔
کیا رواداری کا فروغ دو مخالف اور متصادم نظریات کی محض لیپاپوتی سے ممکن ہے؟ اس کا جواب اگر نفی میں ہے تو پھر مخالف نظریات کی موجودگی میں دیگر اقوام کا مل جل کر رہنے کا کیا طریقۂ کار ہو؟یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں جواب تلاش کرنا ہے۔ اہلِ مغرب کے ہاں غلط اور صحیح کی بنیادیں اور ہیں اور اہلِ اسلام کے ہاں اور۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو ایک کے ہاں درست ہیں اور دوسرے کے ہاں غلط۔ اگر کچھ باتوں میں اشتراک پایا بھی جاتا ہے، تو بہت سی باتوں میں ٹکرائو بھی ہے۔ ٹکرائوکی صورت میں دونوں سے سازگاری ممکن نہیں۔
رواداری کا مفھوم
رواداری سے مراد کسی انسانی اجتماعیت کا ان باتوں کو جنھیں وہ نظریاتی طور پر اپنے دائرے میں غلط اور ناپسندیدہ سمجھتی ہے، دوسرے انسانوں کو جو انھیں پسند کرتے ہیں، ان کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے انھیں اختیار کرنے کا حق دینا اور ناپسندیدگی کے باوجود برداشت کرنا ہے۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ جب تک انسانوں کو ارادہ و عمل کی آزادی ہے، وہ ایک ہی نظامِ فکر کے پابند نہیں ہوسکتے اور جزوی تفصیلات میں تو ان کے درمیان اختلاف کا ہونا ان کے مزاج اور ذوق کے تنوع کے باعث ناگزیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرضِ منصبی دعوت و تذکیر ہی قرار دیا ہے: فَذَکِّرْ ط اِِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ o (الغاشیہ ۸۸:۲۱)، اور ساتھ ہی آپ کو بتایا کہ آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں: لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍo (الغاشیہ ۸۸:۲۲) ۔ لہٰذا اس فرمان کی روشنی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت و تذکیر اور یاد دہانی میں انتہائی نرمی اختیار کی۔ ایک طرف اہلِ کفر کو لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ(الکافرون۱۰۹:۶)کہہ کر ان کے مشرکانہ عقائد سے براء ت و بے زاری کا اعلان کیا تو دوسری طرف لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (البقرہ۲:۲۵۶) فرما کر انسانیت کے اس حق کو بھی باو رکرایا گیا کہ اللہ تعالیٰ قبولِ ہدایت کے لیے کسی قسم کے جبر کو پسند نہیں کرتا۔
حق و باطل کے معرکے میں نظریاتی جنگ بہرحال انسانی اذہان کے میدان میں لڑی جائے گی۔ اس لیے باطل کو ختم کرنا اور انسان کو آخری حد تک باطل سے نتھی رہنے سے بچانے کی کوشش کرنا مسلمانوں پر لازم ہے۔ جیساکہ فرمایا: اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ط (النحل۱۶:۱۲۵) ’’اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو‘‘۔ یہ اسی لیے فرمایاکہ جذباتِ انسانی کو کم سے کم ٹھیس پہنچا کر ان کے دل جیت لیے جائیں۔ حق اور باطل کا مقابلہ بھی ناگزیر ہے لیکن یہ مقابلہ انسان کی تکریم کے لیے ہے نہ کہ اس کی تذلیل کے لیے۔ انسانوں پر حق کو بہ جبر مسلط کرنے میں انسان کی تکریم ہے اور نہ حق کی، بلکہ ان دونوں کی تکریم اس میں ہے کہ انسان آزادانہ مرضی سے حق کو قبول کرے: فَمَنْ شَآئَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآئَ فَلْیَکْفُرْ لا (الکھف۱۸:۲۹) ’’اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کردے‘‘۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کے ایک ایک مظہر پر ضرب لگائی۔ اہلِ شرک کی کٹ حجتیوں کا مدلل جواب دیا۔ اہلِ کفر کی ایک ایک خامی کو نمایاں کیا لیکن سواے ایک مقام کے اہلِ کفر کو بھی ٰٓیاََیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ کہہ کر مخاطب نہیں کیا گیا۔ بتوں کی کمزوریوں کو نمایاں کیا لیکن آپؐ نے بتوں کی تضحیک و استہزا کو اپنا شعار نہ بنایا، کیونکہ اللہ کا حکم تھا: وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوً م ا بِغَیْرِ عِلْمٍ ط (الانعام۶:۱۰۸)’’اور جن کو یہ کافر اللہ کے مقابلے میں پکارتے ہیں تم انھیں گالیاں مت دو ورنہ وہ بھی اللہ کو بغیر علم کے دشنام دیں گے‘‘۔
تمام انبیا ؑ اپنی قوموں کے شرک اور غلط کاریوں پر جب تنقید کرتے ہیں تو بار بار وہ مخاطبین کو یٰقُوْمِ (اے میری قوم) کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ قرآن نے منافقین کے رذائل کو کھول کھول کر سورئہ بقرہ، سورئہ منافقون، سورئہ احزاب اور دیگر سورتوں میں بیان کیا ہے لیکن ایک مقام پر بھی یاایھاا لمنافقون کے الفاظ سے خطاب نہیں کیا گیا۔ انھیں اہلِ ایمان کے صیغۂ خطاب میں ہی یاایھا الذین امنوا کے الفاظ کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے، بلکہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی وفات پر اس کے کفن کے لیے اپنی قمیص بھی پیش کردی(بخاری، رقم الحدیث ۵۷۹۵)۔ آپؐ نے ایک یہودی کا جنازہ گزرتے ہوئے دیکھا تو آپؐ مجلس میں اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ (بخاری، رقم الحدیث، ۱۳۱۲)
قریش کے ایک سردار عتبہ بن ربیعہ نے آپؐ سے سمجھوتا کرنے کے لیے دولت، عورت اور حکومت کی جو پیش کش کی وہ آپؐ کی بلندیِ کردار اور مقاصد ِ جلیلہ کے مقابلے میں انتہائی گھٹیاتھی، لیکن آپؐ نے اپنے مقام و مرتبہ سے فروتر ان باتوں کو نہ صرف صبروتحمل سے سنا بلکہ اپنی بات شروع کرنے سے قبل آپؐ نے اس سے استفسار کیا کہ اے ابوالولید! کیا تم نے اپنی بات مکمل کرلی؟ گویا اس کی بات کو مکمل سننا ضروری سمجھا گیا۔ مزید یہ کہ عتبہ کو اس کی کنیت ابوالولیدسے پکار کر آپؐ نے گویا اُمت کو یہ سبق دیا کہ کافر خواہ کتنی ہی گھٹیا بات کرے، اس کا ادب و احترام تر ک نہیں کیا جائے گا۔
میثاقِ مدینہ کی شرائط میں یہود و مشرکین کی مذہبی آزادیوں کے تحفظ کا شامل کرنا، حقوقِ انسانی اور بین الاقوامی معاہدات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ واضح طور پر ملتا ہے۔ اس معاہدے کی ایک شق کے الفاظ یہ ہیں: لِلْیَھُودِ دِیْنُھُمْ وَلِلْمُسْلِمِیْنَ دِیْنُھُمْ (یہود کے لیے ان کا دین اور مسلمانوں کے لیے ان کا دین)۔ (ڈاکٹر محمد حمیداللہ، The First Written Constitution in the World، ص ۲۴)
مذہبی اختلاف جسے قریش نے ذاتی عناد میں تبدیل کرلیا تھا، جنگ ِ بدر میں قیدیوں سے حُسنِ سلوک کا مظاہرہ اور مخالفین اسلام سے مسلمان بچوں کی تعلیم کی خدمت لینا، رواداری کی عظیم مثال ہے۔ جس جہاد کو آج رواداری کا دشمن باور کرایا جاتا ہے، اللہ کے نزدیک وہی جہاد درحقیقت دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے تحفظ کا ذریعہ ہے: وَ لَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْھَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا ط (الحج۲۲:۴۰) ’’اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، سب مسمار کرڈالی جائیں‘‘۔
نجرانی عیسائیوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاہدہ کیا تھا اس کی ایک شق یہ تھی: اَنْ لَا تُھَدَمَ لَھُمْ بِیْعَۃٌ ، وَلَا یُخْرَجَ لَھُمْ قِسٌّ ، وَلَا یُفْتَنُوا عَنْ دِیْنِھِمْ ، مَا لَمْ یُحْدِثُوا حَدَثًا اَوْ یَأکُلُوا الرِّبٰوا ،’’ان کے کسی معبد کو منہدم نہیں کیا جائے گا نہ کسی پادری کو نکالا جائے گا۔ تبدیلی مذہب کے لیے انھیں مجبور نہیں کیا جائے گا۔ جب تک وہ کوئی نئی بات نہ نکالیں یا سود نہ کھائیں، معاہدہ برقرار رہے گا‘‘۔(سنن ابوداؤد، رقم الحدیث: ۲۶۴۴)
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد میں اہلِ حیرہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی ایک شق امام ابویوسفؒ نے یہ بیان کی ہے: وَلَا یُمْنَعُوا مِنْ ضَرْبِ النَّوَاقِیْسِ، وَلَا مِنْ اِخْرَاجِ الصُّلْبَانِ فِیْ یَوْمِ عِیْدِھِمْ ، ’’ان کو کلیسا کی گھنٹیاں بجانے یا اپنی عید کے دن صلیب نکالنے سے منع نہیں کیا جائے گا‘‘۔ (ابویوسف، کتاب الخراج، ص ۱۵۴)
عہدفاروقی میں عیسائیوں کو ناقوس بجانے کی کتنی فراخ دلانہ آزادی دی گئی، اس کا کچھ اندازہ ان الفاظ سے ہوتا ہے: اَنْ یَضْرِبُوْا نَوَاقِیْسَھُمْ فِیْ أَیِّ سَاعَۃٍ شَآؤُوْا مِنْ لَیْلٍ وَنَھَارٍ اِلَّا فِیْ اَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ ’’کہ وہ نمازوں کے اوقات کے ماسوا دن اور رات کے جس پہر میں بھی چاہیں، اپنی گھنٹیاں بجا سکیں گے‘‘۔ (ایضاً، ص ۱۵۸)
امنِ عالم کا قیام اور روے زمین پر آباد افراد و اقوام کو اس قابل بنانا کہ وہ آزادانہ تبادلۂ خیال کی فضا میں سانس لے سکیں، جس میں ہرفرد کو اپنی راے رکھنے کا حق حاصل ہو اور باہمی افہام و تفہیم کا موقع ملے، وقت کی ضرورت ہے تاکہ باہمی میل جول (interaction) کے نتیجے میں اسلام کی حقانیت اور حکمت اہلِ کفر پر واضح ہوسکے۔ باہمی میل جول کا فائدہ ہمیشہ اس نظریاتی تحریک کو ہوتا ہے جس کا نظریہ ذہنوں کو مسخر کرنے اور دلوں کو موہ لینے کی صلاحیت (potential) رکھتا ہو۔
نجران کے عیسائیوں کا وفد (۹ہجری) مدینہ حاضر ہوا اور آپؐ نے مسجد نبویؐ میں انھیں اپنی رسوم و عبادات ادا کرنے کی اجازت دی (شبلی نعمانی، سیرۃ النبیؐ، ج۲،ص ۵۱) ،اور ایک ایسا منصفانہ اور ہمدردانہ معاہدہ کیا کہ ولیم میور جیسا متعصب مستشرق بھی اس کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ لکھتا ہے:
محمد[صلی اللہ علیہ وسلم] نے بشپوں، پادریوں اور راہبوں کو یہ تحریر دی کہ ان کے گرجاگھروں اور خانقاہوں کی ہر چیز ویسے ہی برقرار رہے گی۔ کوئی بشپ اپنے عہدہ، کوئی راہب اپنی خانقاہ سے اور کوئی پادری اپنے منصب سے معزول نہیں کیا جائے گا اور ان کے اختیارات، حقوق میں کسی قسم کا تغیر نہ کیا جائے گا اور جبر وتعدی سے کام نہیں لیا جائے گا۔ (ولیم میور، Life of Mohammad ،ص ۱۵۸)
فاضل ہندو محقق شری سندر لال جی اپنے مضمون ’آنحضرت کی زندگی‘ میں لکھتا ہے: ’’حکمران کی حیثیت سے محمدصاحب نے غیرمسلموں کو یہاں تک کہ بت پرستوں کو بھی اپنی ریاست کے اندر رہتے ہوئے، اپنے مذہبی مراسم ادا کرنے کی پوری پوری آزادی بخشی اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا فریضہ قرار دیا۔ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ مدنی آیت ہے اور محمدصاحب کی پوری زندگی اس آیت کی جیتی جاگتی تصویر ہے‘‘۔
محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] نے ایک ایسے مذہب اور روایت کی بنیاد ڈالی جو مغربی تصور کے باوجود تلوار کی ثقافت پر مبنی نہیں تھی،اور جس کا نام اسلام ، امن و سلامتی کی علامت ہے۔(آرم اسٹرانگ ، Muhammad a Western Attempt to Understand Islam،ص ۲۶۶)
برٹرینڈرسل لکھتا ہے: ’’عیسائیت اور ان کے علَم برداروں نے ہمیشہ اسلام اور حضرت محمدؐ کے خلاف باطل پروپیگنڈا جاری رکھا ہے، جب کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ محمدؐ ایک عظیم انسان اور فقیدالمثال مذہبی رہنما تھے۔ وہ ایک ایسے دین کے بانی تھے جو بُردباری، مساوات اور انصاف کی بنیادوں پر کھڑا ہے‘‘۔(برٹرینڈرسل، Why I am not Christian، ص ۵۲)
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ حضوؐر نہ تو مردم بیزار اور گوشہ نشین ہستی تھے اور نہ شدت پسندی آپؐ کے مزاج کا حصہ تھی۔ آپؐ کی گوشہ نشینی کی زیادہ سے زیادہ مدت وہی ہے جو نزولِ وحی سے قبل آپؐ نے غارِحرامیں اختیار کی۔ نزولِ وحی کے بعد آپؐ کبھی غارِحرا میں زاویہ نشین نہ ہوئے۔اس کے بعد آپ انسانوں کے اندر ان کی اصلاح کی کوشش فرماتے رہے۔ قبل از بعثت آپؐ ایک بھرپور کاروباری زندگی گزار رہے تھے جس کا ثبوت یہ ہے کہ مکہ کی مال دار اور کاروباری خاتون حضرت خدیجہؓ آپؐ سے متاثر ہوئیں۔ بعثت سے قبل آپؐ ایک سرگرم سماجی زندگی گزارتے تھے جس کا ثبوت معاہدہ ’حلف الفضول‘ میں آپؐ کی شرکت اور حجراسود کی تنصیب میں آپؐ کی فہم و فراست اور اہلِ مکہ کاآپؐ پر اعتمادہے۔ ایک ایسا شخص جس کی جوانی ایک بھرپور عملی زندگی کا تاثر رکھتی ہے، جب وہ الہامی ہدایت کی روشنی میں لوگوں کو اصلاح و ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے تو یہ بات قابلِ فہم ہے کہ اس کی شخصیت کے سابقہ عمل اور تجربات اس کی دعوتی زندگی میں نظر آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسوئہ رسولؐ میں ہمیں اس بات کا اظہار ملتا ہے کہ آپ جہاں ایک طرف ٹھیٹھ عقیدہ و نظریہ کی بنیاد پر ایک اجتماعیت کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے وہاں آپؐ معاشرے میں انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں ایک عملی انسان تھے۔ ایک عملی انسان میں جہاں اپنے نظریات و عقائد اور زندگی کے تصورات پر کاربند ہونے اور اس کے ابلاغ کی تڑپ ہوتی ہے، وہاں دوسروں کے جذبات کا لحاظ کرنا بھی اس کے مزاج کا حصہ بن جاتا ہے۔
بظاہر تو رواداری کی صدا اس طبقے کی طرف سے بلند ہونی چاہیے جو کمزور اور اقلیت میں ہو لیکن امرواقع یہ ہے کہ اس کا پُرزور مطالبہ بالعموم status quo کی حامی قوتوں کی طرف سے ہوتا ہے، جیساکہ اہلِ مکہ نے حضوؐر کے پیغام کی قوتِ تاثیر سے ڈر کر آپ کو سمجھوتے کی میز پر لانے کی کوشش یہ کہہ کر کی: اِئْتِ بِقُرْآنٍ غَیْرِ ھَذَا اَوْ بَدِّلْـہٗ ، اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے آئو یا اسے تبدیل کردو، تو اللہ نے حضوؐر سے کہلوایا کہ:قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اُبَدِّ لَہٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ ج اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ ج (یونس ۱۰:۱۵)’’کہو کہ میرا یہ کام نہیں کہ میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کرلوں، میں تو اس وحی کا پابند ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے‘‘۔ غیروں کی خوش نودی کے لیے اگر مسلمان اپنے دین کے اصولوں میں کتربیونت کرتے ہیں تو اللہ کے نزدیک اس سے بڑھ کر ظلم کوئی نہیں۔ وہ اللہ کے ہاں مجرم قرار پائیں گے اور انھیں دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل نہ ہوگی: فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ o (یونس ۱۰:۱۷) ’’پھر اُس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھوٹا قرار دے‘‘۔ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کے معاملے میں کسی لاگ لپیٹ اور مفاہمت خواہانہ رویے (compromising attitude) سے اللہ نے اپنے رسولؐ اور ان کے صحابہؓ کو منع فرمایا: وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوْنَ o (القلم۶۸:۹) ’’یہ کافر تو چاہتے ہیں کہ تم کچھ مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں‘‘۔
مداہنت جس کا ذکر یہاں اللہ نے ناپسندیدگی کے ساتھ کیا ہے، کیا ہوتی ہے؟ اس کی وضاحت مفسرین کی آرا کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ امام ابن جریر طبری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: لَوْ تُرَخِّصْ لَہُمْ فَیُرَخِّصُوْنَ اَوْتَلِیْنُ فِیْ دِیْنِکَ فَیَلِیْنُوْنَ فِیْ دِیْنِھِمْ ’’کچھ تم ان کے لیے ڈھیل نکالو تو پھر یہ تمھارے لیے ڈھیل پیدا کریں یا یہ کہ تم اپنے دین میں نرمی لے آئو تو یہ بھی اپنے دین میں نرمی لے آئیں‘‘۔(تفسیر ابن جریر ،ج ۱۹، ص ۲۸)
امام قرطبیؒ کے مطابق: فَاِنَّ الْاِدِّھَانَ: اَللِّیْنُ وَالْمُصَانِعُ، وَقِیْلَ: مُجَامَلَۃُ الْعَدُوِّ مُمَایَلَتُـہٗ ، وَقِیْلَ: مُقَارَبَۃٌ فِی الْکَلَامِ وَالتَّلْیِیْنُ فِیْ الْقَوْلِ ’’ادھان کا مطلب ہے ڈھیل پیدا کرلینا اور سازگاری چاہنا۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد ہے مخالف کے ساتھ لحاظ کا رویہ اختیار کرلینا اور میلان باہمی چاہنا۔ دوسرے قول کے مطابق: اس سے مراد کلام میں ایک دوسرے سے قربت پیدا کرنا اور بات میں ملائمت لے آنا‘‘۔ (تفسیر قرطبی، ج ۹، ص ۲۳۰)
امام ابن کثیرؒ لکھتے ہیں: حضرت عبداللہؓ بن عباس سے مروی ہے کہ ’’اللہ کے اس فرمان سے مراد ہے کہ تم ان کے لیے معاملہ کچھ ڈھیلا کرو تو پھر یہ بھی تمھارے لیے ڈھیل پیدا کرلیں گے‘‘۔(تفسیر ابن کثیر،ج ۴، ص ۴۰۳)
قرآن کے نزدیک کسی بھی عقیدے یا نظریے کو قبول کرنے یا رد کرنے، صحیح کہنے یا غلط کہنے کا اختیار تو انسانوں کو حاصل ہے لیکن یہ اختیار نہ اس عقیدے کے مخالفین کو حاصل ہے اور نہ اس کے ماننے والوں کو کہ وہ اس عقیدہ کی تشریح و تعبیر اس کے اصل مراجع سے ہٹ کر کریں۔ جذبات انسانی کا احترام بجا مگر حق کا احترام اس سے بڑی چیز ہے اور حق کے احترام کی بات کرنا، باطل کے خلاف دعوت و تبلیغ کرنا، رواداری کے خلاف نہیں۔ البتہ یہ رواداری کے خلاف ہے کہ تلوار کے زور پر لوگوں سے کلمہ پڑھوایا جائے۔
اسوئہ رسولؐ کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ حسنِ سلوک، نرمی اور رواداری انسانوں کے ساتھ کرنے کا ہمیں حکم ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرہ۲:۸۳) ’’لوگوں سے بھلی بات کہنا‘‘، چاہے و ہ باطل پر ہی کیوں نہ ہوں لیکن خود باطل نظریات کسی رواداری کا استحقاق نہیں رکھتے کیونکہ ان سے رواداری حق کی بھینٹ دیے بغیر ممکن نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مقابلہ تو حق و باطل پر مبنی نظریات و رجحانات کے درمیان ہوگا لیکن اس کو بہرحال انسانی قلوب و اذہان میں برپا ہونا ہے۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ حق و باطل کی اس مڈبھیڑ میں اس سرزمین کا نقصان کم سے کم ہو، اور انسانی جذبات کم سے کم برانگیختہ ہوں۔ جیسے ایک ڈاکٹر کی اصل جنگ مرض کے خلاف ہوتی ہے۔ یہ جنگ اسے مریض کے جسم کے حساس اعضا کے درمیان لڑنا ہوتی ہے۔ وہ کم سے کم نقصان اور زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ محض کسی اذیت کے خوف سے مریض کا علاج ترک نہیں کردیتا۔ گویا کوئی معاملہ بھی، جس میں اللہ اور رسولؐ نے کسی بات کا فیصلہ کردیا ہو، اس میں کسی گروہ کی پسندوناپسند کا خیال رکھنا اسلام کے نزدیک رواداری نہیں۔ البتہ ایسی بات یا موضوع جسے دین نے مباح رکھا ہو یا جس کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہو، اس میں لوگوں کے رجحانِ طبع، آسانی اور پسند کا لحاظ کرنا اور شدت و غلو اور انتہاپسندی سے بچنا ہی اسوئہ رسولؐ ہے۔
اس موقف کی تائید ایک روایت کرتی ہے جو مداہنت اور رواداری کے درمیان حضوؐر کے متوازن اسوئہ کو نمایاں کرتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اِنِّیْ لَمْ اُبْعَثْ بِالْیَھُوْدِّیَّۃِ وَلَا بِالنَّصْرَانِیَّۃِ وَلٰکِنِّیْ بُعِثْتُ بِالْحَنِیْفِـیَّۃِ الْسُّمْحَۃِ ’’مجھے نہ تو یہود کے اندازِ دین داری کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور نہ نصرانی مذہبیت کے ساتھ، مجھے اس موحدانہ طرزِ بندگی کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے جس میں وسعت و آسایش ہے‘‘۔(مسند احمد، رقم ۲۱۶۲۰)
اَحَبُّ الدِّیْنِ اِلَی اللّٰہِ الْحَنِیْفِیَّۃُ الْسُّمْحَۃُ’’دین داری کا انداز اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، وہ ٹھیٹھ موحدانہ طرز کی بندگی، جس میں خوب نرمی و میانہ روی ہو‘‘ (بخاری، رقم الحدیث ۳۷، طبرانی، رقم ۷۵۶۲)۔ یہ الفاظ اس طویل حدیث کا حصہ ہیں جس میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ کچھ حبشی لوگ عید کے روز آئے اور انھوں نے مسجد میں ایک رقص نما کھیل پیش کیا۔ تب نبیؐ نے مجھے بھی بلا لیا۔ میں آپ کے کندھے پر اپنا سر رکھ کر ان کا کھیل دیکھتی رہی یہاں تک کہ میں نے خود ہی ان کی طرف سے توجہ پھیر لی۔(مسند احمد، مسلم)
حضرت عروہؓ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے کہا: اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: لِتَعْلَمَ الیَھُوْدُ اَنَّ فِیْ دِیْنِنَا فُسْحَۃٌ اِنِّیْ اُرْسِلْتُ بِحَنِیْفِیَّۃٍ سُمْحَۃٍ (مسنداحمد، رقم ۲۳۷۱۰)۔ علامہ البانی نے خُذُوْا یَابَنِی رَفْدَۃ! حَتّٰی تَعْلَمَ الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی اَنَّ فِیْ دِیْنِنَا فُسْحَۃٌ ’’شاباش حبش کے جوانو! تاکہ عیسائی و یہود جان لیں کہ ہمارے دین میں بڑی وسعت ہے‘‘ کے الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔(ناصرالدین البانی: السلسلۃ الصحیحہ)
زمانۂ جاہلیت میں شرک و بت پرستی کو غلط جاننے اور عام بُرائیوں سے دامن کش رہنے والے صاحب ِ عزم انسانوں کو ’حنیف‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے قرآن نے حَنِیْفًا مُّسْلِمًا کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ حنف یحنف کا مطلب مڑا ہونا بھی ہے اور سیدھا ہونا بھی۔ میلان ختم کرلینا بھی ہے اور میلان پیدا کرلینا بھی۔ ایک طرف سے ٹوٹنا دوسرے سے جڑنا۔ گویا حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی طرف سے بالکل ہٹ کر کسی اور طرف کا ہو لے۔ چنانچہ حنیفیت کا معروف معنی ہے سب معبودوں سے ناتا توڑ کر ایک ہی معبود کا ہو رہنا۔ سمحہ کے معنی ہیں میانہ روی، معقولیت، اعلیٰ ظرفی، وسعت نظر کے ساتھ آسانی و نرمی، رواداری و رحم دلی۔ گویا اسلام مذہبی جکڑبندیوں کا نام نہیں۔ اسلام میں جائز خواہشات کو دبا دینا اور جذبات و احساسات کا قتل جائز نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں ہمیں حنیفیہ اور سمحہ کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ایک طرف ایسے اصول ہیں جن پر کوئی مفاہمت نہیں، یعنی باطل سے کوئی مفاہمت نہیں، یکسو ہوکر ایک رب کا ہورہنا ہے۔ دوسری طرف دعوت و تربیت، ابلاغ اور قائل کرنے میں کوئی جبر نہیں۔ دعوتی عمل میں معقولیت، مخاطبین کی سہولت کا خیال ، نہ ماننے والوں سے کسی الجھائو کا شائبہ تک نہ ہونا، لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کے شرک بے زار اعلان کے ساتھ ہر ایک کو بَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا کی نوید جاںفزا ۔ (مسلم ، رقم ۳۲۶۲ )
اصولی مسائل میں جب خاندان میں آپؐ کے واحد پشتی بان چچا ابوطالب نے بھی سردارانِ قریش کے دبائو اور اپنی مجبوریوں کا احساس دلا کر ایک موقعے پر آپؐ کو کچھ مفاہمت کی راہ دکھانا چاہی، تو آپؐ کا یہ فرمانا کہ واللہ !اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی لاکر رکھ دیں تو بھی میں اس دعوت سے باز نہیں آئوں گا۔ آپؐ کے اس اسوہ میں ہمارے لیے یہ رہنمائی موجود ہے کہ دینی اصولوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا۔ عتبہ بن ربیعہ کی طرف سے کلمہ کی دعوت چھوڑنے کے نتیجے میں حکومت و دولت کی پیش کش کو آپؐ کی طرف سے ٹھکرا یا جانا معمولی بات نہیں۔ کوئی دانش ور کہہ سکتا ہے کہ آپؐ پہلے حکومت بنالیتے اور پھر حکومت کی طاقت سے توحید کی دعوت کی ترویج کرتے لیکن آپ نے اصولِ توحید کی تنفیذ کے لیے مشرکانہ سیادت کا بار ِاحسان ہونا گوارا نہ کیا۔
اسوئہ رسولؐ کی روشنی میں ایک مسلمان کا کام دین کو بلاکم و کاست انسانوں تک پہنچا دینا ہے۔ اب کوئی اللہ کے نازل کردہ دین کو نہیںمانتا تو اس زندگی میں اسے اس کی پوری آزادی حاصل ہے۔ اس کا فیصلہ روزِ محشر اللہ نے کرنا ہے، ہم نے نہیں۔ البتہ دنیا میں باطل کے پرستاروں پر ان کی غلطی واضح کرنا اور انھیں عذابِ الٰہی سے ڈرانا ہماری ذمہ داری ہے۔
مسلم مکاتبِِ فکر کے درمیان رواداری
اب تک ہم نے دیگر اقوام و مذاہب کے معاملے میں رواداری کے مفہوم کے تعین کی کوشش کی ہے۔ اب خود مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے مختلف مکاتب ِ فکر کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ کے لیے جس رواداری کی ضرورت ہے، اسے سیرتِ رسولؐ کی روشنی میں جاننے کی کوشش کریں گے۔
اس میں شک نہیں کہ آج مسلمانوں میں بہت سے مکاتب فکر ہیں جن میں ایک دوسرے کے خلاف بدگمانیاں پائی جاتی ہیں۔ کسی کو کسی کی توحید مشکوک نظر آتی ہے تو کوئی کسی دوسرے کو منکرِ رسولؐ قراردیتا ہے۔ عقائد اور معاملات میں کہیں کہیں بڑے انحرافات بھی نظر آتے ہیں۔ ان پر تنقید نہ کرنا بھی اُمت کے مفاد میں نہیں۔ اُمت کو اصل دین پر قائم رکھنے کے لیے اصل دین کا اُجاگر کرتے رہنا ضروری ہے۔ لیکن اس تنقیدوتحقیق کو ایسے اصولوں کا پابند رکھنا ضروری ہے جو ہمیں اسوۂ رسولؐ سے حاصل ہوتے ہیں۔
لوگوں پر کفروشرک کے فتوے لگانا، جب کہ وہ کلمہ گو ہوں، یہ نبویؐ دعوت کا اسلوب نہیں ہے، خصوصاً جب ان پر کوئی دعوتی حجت بھی قائم نہ ہوئی ہو۔ حضوؐر پر تو منافقین کا نفاق واضح تھا، آپؐ نے کبھی کسی منافق کو بھی منافق کہہ کر مخاطب نہیں فرمایا۔ قرآن میں کسی ایک جگہ بھی یایھا المنافقون کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے حالانکہ قرآن میں جگہ جگہ منافقین کے رذائل بیان ہوئے ہیں۔ جب بھی کسی مسلمان یا مسلمانوں کے کسی گروہ کی خامی حضوؐر کے علم میں آتی تو آپؐ برسرِ منبر اس خرابی پر توجہ ضرور دلاتے لیکن ان افراد کا نام کبھی نہ لیتے تھے۔
اگر کسی امر پر دلیل ملتی ہو اور اُمت کے معتبر اہلِ علم کی گواہی بھی موجود ہو تو اس کی روشنی میں یہ کہنا کہ یہ کام شرک ہے، یا یہ رویّہ کفر ہے، یہ گناہ ہے یا فسق ہے، اس کے کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ کسی متعین فرد یا گروہ کا نام لے کر اُسے کافرومشرک، بدعتی یا منافق کہنا بہت سے پہلوئوں سے تحقیق و تفتیش کا متقاضی ہے۔ لوگوں کو خدا کا حق بتانے میں پُرحکمت اور مؤثر انداز اختیار کرنا ضروری ہے۔
جہاں حق بات کے اظہار کی استطاعت و اہلیت نہ ہو یا جہاں باطل کو رد کرنے کی حالات اجازت نہ دیتے ہوں، وہاں وقتی طور پر خاموش رہنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ حضرت موسٰی ؑ جب ۴۰روز بعد بنی اسرائیل کی طرف واپس آئے اور انھیں گئوپرستی میں مبتلا پایا تو انھوں نے اپنے بھائی حضرت ہارون ؑ سے پوچھا: مَا مَنَعَکَ اِذْ رَاَیْتَھُمْ ضَلُّوْٓا o اَلَّا تَتَّبِعَنِط (طٰہٰ۲۰:۹۲-۹۳) ’’تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں تو کس چیز نے تمھارا ہاتھ پکڑا تھا کہ تم میرے طریقے پر عمل نہ کرو‘‘۔ تو حضرت ہارون ؑ نے جواب میں کہا: اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ (طٰہٰ۲۰:۹۴) ’’مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ تو آکر کہے گا کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا‘‘۔
حضرت موسٰی ؑ کے بعد قوم نے جو بت پرستی اور سرکشی کی راہ اختیار کی، سورئہ اعراف کے مطابق حضرت ہارون ؑ کو اپنی جان کی ہلاکت اور اس کے نتیجے میں قوم کے انتشار کا خطرہ محسوس ہوا تو انھوں نے حضرت موسٰی ؑ کی واپسی کے انتظار تک جو مصلحت اختیار کی، قرآن نے اسے ناپسندیدہ قرار نہیں دیا۔
دین کے اجتہادی و فروعی معاملات میں حضوؐر نے مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو نہ صرف برداشت کرنے کی تربیت دی بلکہ اس عمل کو حصولِ فضیلت کا ذریعہ قرار دیا۔ فرمایا: اَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِیْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ وَ اِنْ کَانَ مُحِقًّا ’’میں اس شخص کے لیے جنت کے وسط میں گھر کا ضامن ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے‘‘۔(ابی داؤد، رقم ۴۸۰۰)
قوم کے فتنہ و ہیجان میں مبتلا ہونے کے خطرے کے پیش نظر آپ نے اپنے پسندیدہ عمل کو بھی ترک کردیا۔ خانہ کعبہ کی عمارت ادبارِ زمانہ کے باعث ان بنیادوں پر موجود نہ تھی جن پر اسے حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا، حضوؐر ایسا کرنا چاہتے تھے لیکن فتنہ پیدا ہوجانے کے اندیشے سے ایسا نہ کیا۔ ایک دن حضرت عائشہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’میرا دل چاہتا ہے کہ خانہ کعبہ کی عمارت انھی بنیادوں پر تعمیرکروں جہاں اسے حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا لیکن اس وجہ سے رُک جاتا ہوں کہ تیری قوم نئی نئی مسلمان ہوئی ہے‘‘۔ (بخاری، رقم ۱۴۸۳)
اللہ کے رسولؐ جنھوں نے دعوتِ حق کے بیان میں کبھی سختیوں اور مخالفتوں کی پروا نہ کی اور نہ کسی ملامت کا خوف کھایا، وہ اس بات سے کیوں محتاط ہیں کہ خانہ کعبہ کی نئی تعمیر سے قوم بگڑ جائے گی۔ اس لیے کہ یہ مسئلہ دین کا اساسی مسئلہ نہ تھا کہ جسے پایۂ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ کسی بھی ملامت کا خوف نہ کھاتے۔ چونکہ یہ مسئلہ فروعی نوعیت کا تھا اس لیے آپؐ نے لوگوں کے جذبات کا لحاظ کرکے کعبہ کی تعمیرنوپر ترجیح دی۔ گویا مسلمانوں کو یہ راہ دکھائی کہ وہ فروعی معاملات میں آپس میں اُلجھنے سے زیادہ اُمت کے اتحاد کو اہمیت دیں اور باہمی رواداری کا رویّہ اپنائیں۔
اسوئہ رسولؐ میں ہمیں احکامِ شریعت کے فہم و استنباط میں توسّع اور تنوع کی اتنی گنجایش نظر آتی ہے کہ اس میں تعدّد مسالک کا قبول کیا جانا، ہمارے اَسلاف کی شان دار علمی روایت کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اس ذریعے سے انسان کو اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے مواقع حاصل ہوتے ہیں اور تعمیری و تحقیقی عمل کے لیے ایک سازگار ماحول بنانے میں بے حد متوازن آداب و حدود رہنمائی کا کام دے سکتے ہیں۔
بخاری میں ہے کہ حضوؐر نے بنی قریظہ کی طرف ایک دستے کو روانہ کرتے ہوئے نصیحت کی: لَایُصَلِّیَنَّ اَحَدٌ الْعَصْرَ اِلَّا فِیْ بَنِی قُرَیْظَۃَ ’’کوئی بھی شخص بنی قریظہ کی بستی کے سوا نمازِعصر نہ پڑھے‘‘۔ صحابہ کرامؓ ابھی راستے میں تھے کہ انھیں محسوس ہوا کہ وہ نمازِ مغرب سے پہلے کسی طرح بھی بنی قریظہ کی بستی میں نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس لیے ایک گروہ نے نماز قضا ہونے کے اندیشے کے پیش نظر کہا کہ نمازِ عصر یہیں ادا کرلینی چاہیے۔ دوسروں نے کہا کہ آپؐ کا حکم بنی قریظہ میں پہنچ کر نمازِ عصر ادا کرنے کا ہے۔
پہلے گروہ نے اس کی تاویل کی کہ آپؐ کا مقصد تھا کہ ہم جلد از جلد وہاں پہنچیں لیکن اب ایسا ممکن نہیں، جب ہم نمازِعصر کے دورانیے میں وہاں نہیں پہنچ سکتے تو نماز قضا نہ کریں۔ لہٰذا ایک گروہ نے عصر کی نماز راستے میں پڑھی، جب کہ دوسرے گروہ نے منزل پر پہنچنا ضروری سمجھا لیکن ان کی نماز قضا ہوگئی۔ آپ سے اس معاملے کا ذکر کیا گیا تو آپؐ نے کسی کی بھی سرزنش نہ فرمائی: فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ فَلَمْ یُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْھُمْ (بخاری، رقم ۴۱۱۹)
ایک اور حدیث جس کے راوی حضرت ابوسعید خدریؓ اور عطائؓ بن یسار ہیں، کے مطابق دوصحابی سفر پر تھے کہ پانی کی عدم دستیابی کے باعث تیمم کرکے نماز ادا کرلی اور پھر مزید سفر پر روانہ ہوگئے۔ ادا کی گئی نماز کا وقت ابھی باقی تھا کہ پانی میسر آگیا۔ ایک صحابی نے کہا کہ اب ہمارا عذر ختم ہوگیا ہے اور نماز کا وقت بھی باقی ہے، لہٰذا ہمیں وضو کرکے نماز دوبارہ پڑھنی چاہیے۔دوسرے نے کہا کہ میں تو نہیں دہرائوں گا کیونکہ جس وقت ہم نے تیمم سے نماز پڑھی تھی اس وقت ہمارا عذر موجود تھا۔ جب بارگاہِ رسالتؐ میں رہنمائی کے طلب گار ہوئے تو جس نے نماز نہیں دُہرائی تھی آپؐ نے اس سے کہا کہ تو سنت کو پاگیا اور تیرے لیے تیری نماز کافی ہوگئی، جب کہ نماز دہرانے والے سے فرمایا کہ تمھارے لیے دہرا اجر ہے۔ (ابوداؤد) گویا آپؐ نے دونوں کی حوصلہ افزائی فرمائی۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صحابہؓ میں بھی مختلف علمی ذوق و مزاج اور علمی سطح کے افراد موجود تھے اور حضوؐر نے قرآن و حدیث کے فہم و تعبیر میں ان کے اختلاف کو جائز قرار دیا۔ اس لیے کہ دونوں آرا رکھنے والوں کو قولِ رسولؐ کی حجیت اور اہمیت سے انکار نہیں تھا لیکن پیش آمدہ نئی صورت حال میں آپؐ کے الفاظ کی تفہیم و تعبیر میں اختلاف ہوا۔ اس لیے آپؐ نے کسی پر گرفت نہیں کی۔
اسوئہ رسولؐ کے اسی پہلو کے پیش نظر اَسلاف میں وہ روادارانہ طرزِعمل دکھائی دیتا ہے جس کا تذکرہ شاہ ولی اللہ کی کتاب الانصاف میں ملتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالکؒ سے کہا کہ آپ کے مجموعہ احادیث موطا کی فقہی آرا کا کیوں نہ تمام اُمت کو سرکاری طور پر اس کا پابند کردیا جائے، تو امام مالکؒ نے انھیں یہ کہہ کر منع فرما دیا کہ امیرالمومنین ایسا نہ کریں۔ مختلف دیار میں محدثین و فقہا پہنچ چکے ہیں جن کے علم و تقویٰ پر وہاں کے لوگوں کا اعتماد قائم ہے۔ آپ زبردستی کرکے ان پر زیادتی کریں گے۔ اسی طرح امام شافعیؒجو نماز ِ فجر میں دعاے قنوت پڑھنے کے قائل تھے۔ جب انھوں نے کوفہ میں امام ابوحنیفہؒ کے مدرسے میں نمازِ فجر پڑھائی اور دعاے قنوت نہ پڑھی، تو لوگوں نے پوچھا کہ آج آپ نے دعاے قنوت نہیں پڑھی، تو آپ نے فرمایا کہ آج میں ان کے شہر میں ہوں جو ایسا نہیں کرتے۔ لہٰذا میں نے اس کے خلاف کرنا مناسب نہ جانا۔ ( الانصاف فی بیان سبب الاختلاف، ص ۴۱)
آج کے عالمی گائوں (Global Village) ،نئی دنیا میں جس تہذیبی اور ثقافتی کش مکش سے ہمیں واسطہ ہے اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جہاں ایک طرف دین کے ٹھیٹھ اور واضح تصور کو اپنانے کی ضرورت ہے، وہاں داعیانِ دین کے لیے زمانہ شناس ہونا بھی ضروری ہے۔ اپنے زمانے کو سمجھے بغیر اگر ہم نے کوئی اقدام کیا تو اس کمزوری کا فائدہ کفر ہی کو ہوگا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جن موضوعات پر آج بین الاقوامی سطح پر بحث ہورہی ہے، ان کے بارے میں کسی ردعمل کی نفسیات کا شکار ہوئے بغیر اسوئہ رسولؐ کی روشنی میں ٹھیک ٹھیک رہنما خطوط متعین کیے جائیں، تاکہ ایک طرف ہم اپنی اقدار و روایات کا تحفظ کرسکیں تو دوسری طرف دیگر اقوام کے سامنے اسلام کا تشخص پیش کرسکیں۔
مقالہ نگار شعبہ علومِ اسلامیہ، گورنمنٹ کالج، ٹاؤن شپ لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ برقی پتا: drakhtarazmi27@gmail.com
موجودہ دور میں ایک سماجی مسئلہ، جس نے ملکی اور عالمی دونوں سطحوں پر گمبھیر صورت اختیار کرلی ہے، خواتین کی عزت و آبرو کی پامالی اور عصمت دری ہے۔ وہ اپنوں اور پرایوں دونوں کی جانب سے زیادتی اور دست درازی کا شکار ہیں۔ کوئی جگہ ان کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ گھر ہو یا دفتر، پارک ہو یا بازار، ٹرین ہو یا بس، ہر جگہ ان کی عصمت پر حملے ہو رہے ہیں اور انھیں بے آبرو کیا جا رہا ہے۔ کبھی معاملہ عصمت دری پر رُک جاتا ہے، تو کبھی ظلم کی شکار خاتون کو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ ایک گھناونی صورت اجتماعی آبروریزی کی ہے، جس میں کئی نوجوان مل کر کسی معصوم لڑکی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں، پھر بڑے درد ناک طریقے سے اسے قتل کردیتے ہیں۔
اس طرح کے واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔ کسی دن کا اخبار اٹھاکر دیکھ لیجیے، عصمت دری کی بہت سی خبریں اس میں مل جائیں گی۔ ان میں سے کچھ ہی معاملے عدالتوں تک پہنچ پاتے ہیں۔اور جو پہنچتے ہیں، ان میں بھی عدالتی پیچیدگیوں کی وجہ سے فیصلہ آنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں اور بہت کم مقدمات میں مجرموں کو سزا مل پاتی ہے۔
یہ واقعات اب اتنی کثرت سے پیش آنے لگے ہیں کہ ان کی سنگینی کا احساس ختم ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن انھی کے درمیان کبھی کوئی درد ناک واقعہ رونما ہوتا ہے تو عوام بیدار ہوجاتے اور اس کے خلاف سراپا احتجاج بن جاتے ہیں۔ اس موقعے پر ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے مختلف تجاویز سامنے آتی ہیں، مثلاً مجرموں کو سرِ عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیاجاتا ہے، سخت سے سخت قوانین بنانے کی بات کی جاتی ہے، کڑی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے اور مضبوط سیکورٹی فراہم کرنے پر زور دیا جاتا ہے، لڑکیوں کو جوڈو کراٹے سیکھنے اور خود حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں بعض اطراف سے ایک آواز یہ بھی سنائی دیتی ہے کہ زنا کی وہ سزا نافذ کی جائے جو اسلام نے تجویز کی ہے۔ اسی بات کو بعض لوگ ان الفاظ میں کہتے ہیں کہ سزاے زنا کے لیے عرب ملکوں جیسا قانون بنایا جائے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ مطالبے ان لوگوں کی طرف سے بھی ہوتے ہیں، جو اسلام کے شدید مخالف ہیں، جو اسلام پر اعتراضات کرنے اور مسلمانوں کو برا بھلا کہنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، لیکن چوں کہ انھوں نے کہیں سے سن رکھا ہے کہ اسلام زنا کرنے والے کو پتھر مار مار کر ہلاک کرنے کا حکم دیتا ہے، اور جرم کی سنگینی کی بنا پر یہ سزا ان کے دل کی آواز ہوتی ہے، اس لیے ان کے اندرون میں چھپی خواہش ان کی زبان پر آجاتی ہے اور وہ خواہی نہ خواہی اسلام کا نام لینے لگتے ہیں۔
آبرو ریزی کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت سے سخت قانون بنانے کی بات کی جائے، یا اسلامی سزاے زنا کو نافذ کرنے کی تجویز رکھی جائے، دونوں مطالبے جذباتیت کے مظہر اور سنجیدگی سے محروم ہیں۔ کتنا ہی سخت قانون بنا لیا جائے، اس سے جرائم کا بالکلیہ خاتمہ ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے معاشرے کو پاکیزہ بنانے کی تدابیر اختیار کی جائیں اور جو چیزیں افراد کو غلط کاموں پر ابھارتی اور جرائم کے ارتکاب کی جانب مائل کرتی ہیں، ان پر پابندی عائد کی جائے۔ قانون جرائم کو روکنے میں معاون تو ہوسکتا ہے، لیکن محض قانون سے ان کا سدِّ باب ناممکن ہے۔ اگر جرائم کے تمام محرکات اور ترغیبات کو علی حالہٖ باقی رکھا جائے اور محض کوئی سخت تر قانون منظور کرلیا جائے تو جرائم میں تو کوئی کمی نہیں آئے گی، البتہ قانون کے غلط انطباق اور استعمال کے اندیشے بڑھ جائیں گے۔ عدالتوںکے بھاری مصارف کی بنا پر اس کا خدشہ رہے گا کہ غریب اور اپنے دفاع سے عاجز سزاپاجائیں اور مال دار اور طاقت ور اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے سزا سے بچ جائیں۔
اسی طرح اسلام کے کسی ایک حکم کا مطالبہ اور دیگر احکام سے صرفِ نظر درست رویّہ نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے اسلامی نظام کو ایک کُل کی حیثیت سے قبول کرنا ہوگا۔ اسلامی تعلیمات کے اثرات کا مشاہدہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پورے کے پورے اسلام کو نافذ کیا جائے۔ جس طرح کوئی مشین اسی وقت صحیح طریقے سے کام کرے گی، جب اس کے تمام پرزے اپنی اپنی جگہ نصب ہوں۔ اگر اس میں سے کوئی ایک پرزہ نکال لیا جائے تو نہ مشین صحیح ڈھنگ سے وہ کام کرے گی جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اور نہ اس نکالے گئے پرزے سے وہ کام لیا جاسکتا ہے جو پوری مشین کے کرنے کا تھا۔ اسی طرح اسلام کے کسی ایک قانون کو نافذ کردیا جائے اور اس کے دیگر احکام پر عمل نہ کیا جائے، تو اس سے بھی مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہوسکتے۔
ہر انسان میں بنیادی طور پر تین طرح کی خواہشات پائی جاتی ہیں: کھانے کی خواہش، پینے کی خواہش اور جنسی خواہش۔ کوئی بھی انسان ہو، چاہے وہ دہریہ ہو یا سیکولر، یا اس کا کسی مذہب سے تعلق ہو، بہ حیثیت انسان اس کے اندر ان فطری خواہشات کا پایا جانا لازمی ہے۔ جنس کے تعلق سے مختلف رویّے اختیار کیے گئے ہیں۔
کچھ لوگوں نے جنسی خواہش کو دبانے اور کچلنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے یہ تصور پیش کیا کہ جنسی خواہش کو دبا کر ہی انسان کی نجات ممکن ہے، تبھی اسے نروان [نجات] حاصل ہوسکتا ہے اور وہ کامیابی کے مدارج طے کرسکتا ہے۔ یہ تصور عیسائیت میں راہبوں اور ہندو مت میں جوگیوں کے یہاں ملتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے جنسی تعلق کو ایک قابل نفرت چیز سمجھا اور شادی بیاہ کے بکھیڑوں میں پڑنے سے گریز کیا۔ انھوں نے جنگلوں اور بیابانوں کی راہ لی اور وہاں کٹیا بنا کر تنہائی کی زندگی گزارنے لگے۔ اسی طرح ان مذاہب میں ان لوگوں کو عظمت کی نگاہ سے دیکھا گیا جو غیرشادی شدہ رہتے ہوئے پوری زندگی گزار دیں، چنانچہ انھیں گرجوں اور مندروں میں اعلیٰ مناصب سے سے نوازا گیا۔ لیکن انسانی فطرت کو دبا کر اور اس سے جنگ کرکے زندگی گزارنا ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ چرچ سے وابستہ پادری اور مندروں کے پجاری بارہا بدکاری میں ملوث پائے گئے ہیں اور روحانیت اور پوجا پاٹ کے ان مراکز کی پاکیزگی پامال ہوئی ہے۔
اس کے بالمقابل کچھ لوگوں نے جنس کے معاملے میں ہر طرح کی آزادی کی وکالت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے، اس لیے اس کو یہ حق حاصل ہے کہ جس طرح چاہے اپنی جنسی خواہش پوری کرلے، خواہ اس کے لیے وہ کتنا ہی غیرفطری طریقہ کیوں نہ اختیار کرے۔ چنانچہ ہم جنسی (Homosexuality)کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا اور مرد کو مرد کے ذریعے اور عورت کو عورت کے ذریعے جنسی تسکین حاصل کرنے کا حق دیا گیا۔ جن لوگوں نے یہ غیر فطری طریقہ اختیار نہیںکیا انھوں نے بھی نکاح کرنے اور خاندان تشکیل دینے کو فرسودہ قرار دیا اور بہتری اس میں سمجھی کہ کوئی مرد اور عورت جب تک چاہیں ساتھ رہیں اور جب چاہیں الگ ہوکر اپنی اپنی راہ لیں۔ کھلی چھوٹ دے دی گئی کہ وہ باہم رضا مندی سے جب چاہیں جنسی تعلق قائم کرلیں۔صرف زور زبردستی کو قانوناً جرم قرار دیا گیا۔ یہ تصو ّر پیش کیا گیا کہ ہر انسان اپنے جسم کا مالک ہے، وہ اپنے جس عضو کو چاہے چھپائے اور جس کو چاہے کھلا رکھے۔ اسی طرح اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ اپنے اعضا سے جیسا چاہے کام لے۔ چنانچہ عورتوں کے رحم (uterus)کرایے پر ملنے لگے کہ کوئی بھی مرد اس میں اپنا نطفہ داخل کروا کے بچہ حاصل کرسکتا ہے۔ اسی طرح مردوں کے نطفے (sperm) کی بھی تجارت ہونے لگی اور اس کے بنک قائم ہوگئے۔ ان چیزوں نے بہت بڑی صنعت کی صورت اختیار کرلی، جس میں کروڑوں اربوں روپے کا سرمایہ لگا ہوا ہے۔
اس بے مہار آزادی نے انسانی معاشرے کو جانوروں کے باڑے میں تبدیل کردیا۔ اس کے نتیجے میں انارکی، انتشار، فتنہ و فساد او رقتل و غارت گری کو خوب فروغ ملا۔ زنا بالجبر کے واقعات کثرت سے پیش آنے لگے، جنسی بیماریاں: آتشک، سوزاک، امراض رحم، اسقاط وغیرہ عام ہوئیں۔ یہاں تک کہ فطرت سے بغاوت کی سزا ایڈز کی صورت میں ملی، جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اربوں کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اب تک اس پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والے سروے رپورٹوں سے ظاہر ہے کہ ایڈز کے متاثرین میں ۸۰ فی صد سے زائد افراد کو یہ مرض جنسی آوارگی کے نتیجے میں لاحق ہوا ہے۔
جنس کے بارے میں تیسرا نقطۂ نظر وہ ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔ یہ نقطۂ نظر افراط اور تفریط کے درمیان ہے۔ اسلام نہ تو جنسی جذبے کو دبانے اور کچلنے کی ترغیب دیتا ہے اور نہ انسان کو کھلی چھوٹ دے دیتا ہے کہ جس طرح اور جہاں چاہے اس کی تسکین کرلے۔ وہ ہر انسان کو اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کا حق دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی اسے کنٹرول کرنے کی راہ دکھاتا ہے۔
اسلام نے جنسی خواہش کی تکمیل کو نکاح کا پابند بنایا ہے اور اس سے ماورا کسی طرح کا تعلق رکھنے کو حرام قرار دیا ہے۔ اس نے مردوں اور عورتوں دونوں پر سخت پابندی عائد کی ہے کہ وہ نکاح کے علاوہ باہم کسی طرح کا جنسی تعلق نہ رکھیں۔ قرآن میں ہے:
اس طرح کہ تم (مرد) ان (عورتوں) سے باقاعدہ نکاح کرو، یہ نہیں کہ علانیہ زنا کرو یا پوشیدہ بدکاری کرو۔(المائدہ۵:۵)
وہ (عورتیں) پاک دامن ہوں، نہ کہ علانیہ بدکاری کرنے والیاں، نہ خفیہ آشنائی کرنے والیاں۔(النساء۴:۲۵)
ان آیات میں مردوں اور عورتوں دونوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے نکاح کریں۔ اس طرح وہ شیطان کے حملوں سے محفوظ ہوجائیںگے۔ نکاح سے ماورا کسی طرح کا تعلق نہ علانیہ قائم کریں نہ چوری چھپے۔
اسلام نے زنا کو ایک سنگین سماجی جرم قرار دیا ہے اور اسے گھناونااور برا فعل کہتے ہوئے اس سے دُور رہنے کی ہدایت کی ہے:’’اور زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ بلاشبہہ وہ بڑی بے شرمی کا کام اور بڑا ہی بُرا راستہ ہے‘‘(بنی اسرائیل۱۷: ۳۲)۔اس نے کامیاب انسانوں کا ایک وصف یہ قرار دیا ہے کہ:’’وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں بجز اپنی بیویوں اور لونڈیوں کی حد تک سو اس بارے میں ان کو کوئی ملامت نہیں‘‘۔(المومنون۲۳:۵-۶)
اسلام کی نظر میں جتنا سنگین جرم زنا بالجبر ہے، اتنا ہی سنگین جرم زنا بالرضا بھی ہے۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جس طرح ایک مرد کسی عورت پر جبر کرکے اس کی عصمت کو داغ دار کرتا اور اس کی پرسکون زندگی میں زہر گھولتا ہے، اسی طرح دو مرد و عورت باہم رضا مندی سے جنسی تعلق قائم کرکے معاشرے کی پاکیزگی کو ختم کرتے اور اجتماعی امن و سکون پر ڈاکا ڈالتے ہیں، اس لیے دونوں برابر کے مجرم ہیں۔
اسلام چاہتا ہے کہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد کوئی بھی لڑکا یا لڑکی بغیر نکاح کے نہ رہیں، بلکہ جلد از جلد نکاح کے بندھن میں بندھ جائیں۔ چنانچہ وہ ان کے سر پرستوں کو اس کی طرف متوجہ کرتا اور ان کا نکاح کرادینے کی تلقین کرتا ہے۔ زمانۂ نزولِ قرآن میں غلامی کا رواج تھا، مردوں اور عورتوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔ قرآن نے حکم دیا کہ نہ صرف اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے نکاح کی فکر کرو، بلکہ اپنے غلاموں اور لونڈیوں کا بھی نکاح کرادو:’’تم میں سے جو لوگ مجر ّد ہوں اور تمھارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ان کے نکاح کردو‘‘۔(النور۲۴:۲ ۳)
اسلام نہیں چاہتا کہ کوئی نوجوان مرد بغیر بیوی کے اور کوئی نوجوان عورت بغیر شوہر کے رہے۔ اللہ کے رسولؐ نے اپنے متعدد ارشادات میں نکاح کی ترغیب دی ہے اور اس سے غفلت کے بُرے نتائج سے ڈرایا ہے۔ ایک مرتبہ آپؐ نے نوجوانوں کو مخاطب کرکے فرمایا:’’اے نوجوانوںکے گروہ! تم میں سے جو بھی شادی کی استطاعت رکھتا ہو اسے شادی کرلینی چاہیے، اس لیے کہ یہ نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے کا زیادہ کارگر طریقہ ہے‘‘۔ (بخاری، مسلم)
ایک موقعے پر آپؐ نے سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:’’جو شخص نکاح کرنے پر قادر ہو، پھر بھی نکاح نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں‘‘۔ (دارمی)
آپؐ نے لڑکیوں کے سرپرستوں کو مخاطب کرکے انھیں نصیحت کی کہ اگر کوئی اچھا رشتہ آجائے تو نکاح کرنے میں بالکل تاخیر نہ کریں:’’جب تمھارے پاس کسی ایسے شخص کی طرف سے پیغام آئے جس کی دین داری اور اخلاق تمھارے نزدیک پسندیدہ ہوں تو اس سے نکاح کرادو۔ اگر ایسا نہیں کروگے تو روے زمین پر فتنہ اوروسیع فساد برپا ہوجائے گا‘‘۔ (ترمذی)
رسولؐ اللہ نے نکاح کی صرف ترغیب ہی نہیں دی، بلکہ اسے آسان بنانے کے صریح احکام دیے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا:’’سب سے بہتر نکاح وہ ہے جو بہت سہولت سے انجام پا جائے‘‘۔ (ابوداؤد)
اسلام میں نکاح کے انعقاد کا طریقہ بھی بہت آسان ہے۔ دو گواہوں کی موجودگی میں لڑکا اور لڑکی میں سے کوئی نکاح کی پیش کش کرے اور دوسرا اسے قبول کرلے، بس نکاح ہوگیا۔ نکاح کے وقت دعوت لڑکی والوں کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ نکاح کی خوشی میں لڑکے کو ولیمہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
آج کل مختلف اسباب سے نکاح میں تاخیر کی جاتی ہے۔ ان میں سے ایک سبب بڑے پیمانے پر جہیز کا لین دین ہے۔ اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو جہیز دیا تھا، لیکن یہ سراسر غلط ہے۔ آپؐ نے جب حضرت فاطمہؓ کا نکاح اپنے چچا زاد بھائی حضرت علیؓ بن ابی طالب سے (جو بچپن ہی سے آپؐ کی سرپرستی میں آپؐ کے ساتھ رہتے تھے) کرنا چاہا تو ان سے دریافت کیا: تمھارے پاس کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ایک زرہ۔ آپؐ نے اسے فروخت کروایا اور اس کی رقم سے شادی کے بعد کام آنے والا کچھ سامان خریدنے کا حکم دیا۔ گویااس موقعے پر جو بھی سامان آیا اس کے مصارف خود حضرت علیؓ نے برداشت کیے تھے۔ حضرت فاطمہؓ کے علاوہ آپؐ نے اپنی تین اور صاحب زادیوں کا نکاح کیا۔ کسی موقع پر بہ طور جہیز کچھ دینے کا تذکرہ روایات میں نہیں ملتا ہے۔
عہد نبویؐ میں نکاح کو آسان بنانے کے واقعات حدیث کی کتابوں میں اتنی کثرت سے ملتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ایک خاتون خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئی اور آپؐ سے اپنا نکاح کرا دینے کی خواہش کی۔ اس مجلس میں موجود ایک نوجوان آمادہ ہوگیا۔ آپؐ نے اس سے دریافت کیا: تمھارے پاس کچھ ہے؟ اس نے جواب دیا: کچھ بھی نہیں۔ آپؐ نے پھر سوال کیا: کیا تمھارے پاس لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ہے؟ اس نے جواب دیا: وہ بھی نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تمھیں کچھ قرآن یاد ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں، فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ آپؐ نے اسی پر دونوں کا نکاح کرادیا۔ (بخاری، مسلم)
ایک نوجوان، جو قبیلۂ بنوبیاضہ کے آزاد کردہ غلاموں میں سے تھا، پچھنے لگانے کا کام کیا کرتا تھا۔ اس پیشے سے وابستہ لوگوں کو کم تر درجے کا سمجھا جاتا تھا۔ آپؐ نے قبیلے والوں کو حکم دیا کہ اس نوجوان کی شادی کی فکر کریں اور قبیلے کی کسی لڑکی سے اس کا رشتہ کردیں۔ (ابوداؤد)
اسلام نے مرد کو ایک سے زیادہ (چار تک) عورتوں کو بہ یک وقت اپنے نکاح میں رکھنے کی اجازت دی ہے۔ قرآن میں ہے:’’اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کرسکوگے تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو ، لیکن اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کرسکوگے تو پھر ایک ہی بیوی کرو‘‘۔(النساء۴: ۳)
اسلام کی اس تعلیم کو بھی اعتراضات کا نشانہ بنایا جاتا ہے، حالاں کہ غور کرنا چاہیے کہ اسلام نے اس کا حکم نہیں دیا ہے کہ لازماً ہر مرد ایک سے زائد شادیاں کرے، بلکہ اس کی صرف اجازت دی ہے۔ جب یہ حکم نازل ہوا تھا، تب ہنگامی حالات تھے، جنگیں ہو رہی تھیں، مرد مارے جا رہے تھے اور شادی شدہ عورتیں بیوہ ہو رہی تھیں۔ اس وقت ان کے نکاح کی یہ صورت نکالی گئی۔ بعد میں بھی اس حکم کو عام رکھا گیا، اس لیے کہ کسی شخص کے حالات ایسے ہوسکتے ہیں کہ اسے ایک سے زیادہ نکاح کرنے کی ضرورت پیش آجائے، مثلاً پہلی بیوی کسی ایسے مرض میں مبتلا ہوجائے کہ وہ جنسی تعلق کے قابل ہی نہ رہے۔ پھر کیا مرد دوسری عورت سے نکاح کرنے کے لیے اسے طلاق دے دے؟
بعض معاشروں میں مرد کو صرف ایک عورت سے نکاح کرنے کا پابند کیا گیا ہے، لیکن اسے کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے کہ ناجائز طریقے سے جتنی عورتوں سے چاہے جنسی تعلق رکھے۔ اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی ہے۔ اس کی تعلیم یہ ہے کہ اگر ضرورت ہو تو آدمی ایک سے زائد چار عورتوں تک سے نکاح کرسکتا ہے، لیکن اس صورت میں اس پر لازم ہوگا کہ وہ ان سب کو تمام قانونی حقوق دے اور ان کے ساتھ برابری کا معاملہ کرے۔
اسلام اس چیز کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اگر کسی مرد کی بیوی یا کسی عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے یا کسی شادی شدہ جوڑے کے درمیان علیحدگی ہوجائے، تو ان میں سے ہر ایک اپنی بقیہ زندگی تجّرد کی حالت میں گزار دے، کیوں کہ اسلام نہیں چاہتا کہ معاشرے میں کوئی مرد بغیر بیوی کے اور کوئی عورت بغیر شوہر کے رہے۔ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں اس کی بڑی روشن مثالیں ملتی ہیں۔
حضرت عاتکہؓ بنت زید مشہور صحابیہ ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ کے صاحب زادے عبد اللہؓ سے ان کا نکاح ہوا۔ وہ شہید ہوگئے تو حضرت زید بن خطابؓ نے ان سے نکاح کرلیا۔ ان کی شہادت کے بعد وہ حضرت عمر بن الخطابؓ کی زوجیت میں آگئیں۔ وہ بھی شہید ہوگئے تو حضرت زبیر بن العوامؓ سے ان کا نکاح ہوگیا۔ آخر میں وہ حضرت حسن بن علیؓ کی زوجیت میں آئیں۔ اسی بنا پر ان کا نام ہی زوجۃ الشھداء (شہید ہونے والوں کی بیوی) پڑ گیا تھا۔ (اسدالغابۃ، ابن الاثیر)
حضرت اسما بنت عمیسؓ کی شادی حضرت جعفر بن ابی طالبؓ سے ہوئی۔ ان کی شہادت کے بعد وہ حضرت ابوبکرؓ کی زوجیت میں آئیں، پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو حضرت علیؓ نے ان سے نکاح کرلیا۔ (اسد الغابۃ)
حضرت فاطمہ بنت قیسؓ کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی۔ عدت پوری ہوتے ہی ان کے پاس نکاح کے پیغامات آنے لگے۔ انھوں نے اللہ کے رسولؐ سے مشورہ کیا۔ آپؐ نے ایک اچھے رشتے کی نشان دہی فرمادی۔ (مسلم)
اسلام کے بنیادی عقائد انسان کی بھرپور تربیت کرتے ہیں اور اسے زندگی کے کسی معاملے میں بہکنے سے بچاتے ہیں۔ ان عقائد پر ایمان سے آدمی کی زندگی سنورتی ہے اور اس میں پاکیزگی آتی ہے۔ خاص طور پر دو عقائد کا کردار اس معاملے میں بہت نمایاں ہے:
اسلام یہ تصور دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرجگہ موجود ہے اورہر انسان کو دیکھ رہا ہے۔ وہ کوئی کام چاہے علانیہ کرے یا چھپ کر، کسی کھلی جگہ کرے یا بند کمرے میں یا کسی تہہ خانے میں، کوئی بات زور سے کہے یا کسی کے ساتھ سرگوشی کرے، کسی غلط کام کا ارتکاب روے زمین پر کرے یا سمندر کی تہوں میں جاکر، کوئی لفظ زبان پر لائے یاکوئی خیال اس کے دل میں آئے یا محض آنکھوں سے اشارہ بازی کرے، اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کی خبر ہوجاتی ہے۔ اس لیے کہ وہ کائنات کے ذرّے ذرّے پر نظر رکھتا ہے، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔ اس مضمون کی چند آیات کا ترجمہ درج ذیل ہے:
اس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔(الحدید۵۷:۴)
خشکی اور سمندر میں جو کچھ ہے، سب سے وہ واقف ہے، درخت سے گرنے والا کوئی پتّہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو۔(الانعام۶: ۵۹)
وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی، تمھارے کھلے اور چھپے سب حال جانتا ہے اور جو برائی یا بھلائی تم کماتے ہو اس سے خوب واقف ہے‘‘۔(الانعام ۶:۳)
کیا تم کو خبر نہیں ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا اللہ کو علم ہے؟ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ تین آدمیوںمیں کوئی سرگوشی ہو اور ان کے درمیان چوتھا اللہ نہ ہو، یا پانچ آدمیوں میں سرگوشی ہو اور ان کے اندر چھٹا اللہ نہ ہو۔ خفیہ بات کرنے والے خواہ اس سے کم ہوں یا زیادہ، جہاں کہیں بھی وہ ہوں، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔(المجادلہ ۵۸:۷)
’’اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چھپا رکھے ہیں‘‘۔(المومن ۴۰:۱۹)
جس شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ کے ہر جگہ موجود ہونے اور ہر چیز سے باخبر رہنے کا عقیدہ راسخ ہوگا وہ اس جگہ بھی، جہاں کوئی آنکھ اسے دیکھ نہ رہی ہو، کسی برائی کے ارتکاب سے بچے گا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی عورت تنہائی کا فائدہ اٹھا کر اسے معصیت کی دعوت دے گی تو بھی وہ اس کی دعوت کو ٹھکرا دے گا اور فوراً پکار اٹھے گا کہ مجھے اللہ کا خوف ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن سات افراد عرشِ الٰہی کے سایے میں ہوں گے۔ ان میں سے ایک وہ شخص ہوگا جس کو کوئی خوب صورت اور جاہ و منصب والی عورت بدکاری کے لیے بلائے، لیکن وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ (بخاری، مسلم)
دوسرا اسلامی عقیدہ، جو انسان کو دنیا میں محتاط زندگی گزارنے پر آمادہ کرتا ہے، آخرت کا عقیدہ ہے۔ اس کے مطابق یہ دنیا امتحان گاہ ہے۔ ایک وقت آئے گا جب یہ دنیا فنا ہوجائے گی اور دوسری دنیا برپا ہوگی۔ اس میں تمام انسان دوبارہ پیدا کیے جائیں گے اور ان سے اس دنیا میں کیے گئے ان کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ جن لوگوں نے یہاں اچھے کام کیے ہوں گے انھیں جنت عطا کی جائے گی، جس میں طرح طرح کی نعمتیں ہوں گی اور جن لوگوں نے یہاں بُرے کام کیے ہوں گے انھیں جہنم میں جھونک دیا جائے گا، جس میں تکلیف و اذیت کا ہر سامان موجود ہوگا۔ اِس دنیا میں کیا گیا کوئی عمل خواہ اچھا ہو یا برا، وہاں نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوسکے گا۔ قرآن میں ہے:’پھر جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرّہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا‘‘۔(الزلزال:۷-۸)
یہاں اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر اپنے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو ان کی تمام حرکات و سکنات کو نوٹ کر رہے ہیں۔ روزِ قیامت ہر انسان کا پورا نامۂ اعمال اس کے سامنے ہوگا اور وہ دنیا میں کیے گئے کسی عمل کا انکار نہ کرسکے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’بلکہ تم لوگ جزا و سزا کو جھٹلاتے ہو، حالاں کہ تم پر نگراں مقرر ہیں، ایسے معزّز کاتب جو تمھارے ہر فعل کو جانتے ہیں‘‘۔(الانفطار۸۲:۹-۱۲)
اسلام نے ہر فرد کے اندر حیا کا جذبہ ابھارا ہے۔یہ جذبہ اسے بے حیائی کے کاموں سے روکتا ہے۔ اگر کسی کے اندر حیا نہ ہو تو وہ غلط سے غلط کام کا ارتکاب کرسکتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا:’’سابقہ زمانوں کی ایک پیغمبرانہ بات یہ ہے کہ اگر تم میں حیا نہ ہو توجو جی میں آئے کر بیٹھوگے (سخت گھناؤنے کام سے بھی نہیں ہچکچاؤگے)‘‘۔ (بخاری)
حیا کے جذبے ہی سے انسان اپنے اعضاے ستر کو دوسروں کے سامنے کھولنے سے باز رہتا ہے۔ ایک موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا: اپنے اعضاے ستر اپنی بیوی کے علاوہ اور کسی کے سامنے نہ کھولو۔ انھوں نے سوال کیا: اے اللہ کے نبیؐ، اگر کوئی شخص کسی جگہ تنہا ہو اور وہاں دوسرا کوئی نہ ہو تو کیا تب بھی وہ اپنے اعضاے ستر کو چھپائے رہے؟ آپؐ نے جواب دیا: انسانوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے حیا کی جائے‘‘۔ (ابوداؤد)
اسلام نے افراد کے لیے جنسی آسودگی فراہم کرنے کے ساتھ معاشرے کی پاکیزگی قائم رکھنے کے لیے مختلف احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔ یہ تدابیر افراد کو جرائم کا ارتکاب کرنے سے باز رکھتی ہیں اور جنسی جرائم کے تمام ممکنہ چور دروازوں کو بند کرتی ہیں۔ یہ تدابیر درج ذیل ہیں:
اسلام نے مردوں اور عورتوں دونوں کو حکم دیا ہے کہ وہ بدنگاہی سے بچیں اور آبرو کی حفاظت کریں۔ قرآن میں ہے:
اے نبیؐ! مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔(النور۲۴:۳۰)
اور اے نبی، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔(النور۲۴:۱ ۳)
ان آیات میں دو باتیں (نظریں بچانا اور شرم گاہ کی حفاظت کرنا) ساتھ ساتھ کہی گئی ہیں۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ دونوں کا خاص تعلق ہے۔ اگر کوئی شخص، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اپنی نگاہوں کو قابو میں نہیں رکھے گا تو اس کے بدکاری کی کھائی میں جاگرنے کا اندیشہ رہے گا۔
ایک مرتبہ اللہ کے رسولؐ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت علیؓ کو، جو آپ کے داماد بھی تھے، نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے علیؓ، اگر کسی اجنبی عورت پر تمھاری نظر پڑ جائے تو فوراً اپنی نظر پھیر لو اور دوبارہ اسے نہ دیکھو، اس لیے کہ پہلی نظر تو قابل مواخذہ نہیں، لیکن دوبارہ اسے دیکھنے کا تمھیں حق نہیں ہے‘‘۔ (ابوداؤد، ترمذی)
اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ کوئی مرد یا عورت کسی نامحرم کے ساتھ تنہائی میں نہ رہے۔ اس کی بہت سخت الفاظ میں ممانعت آئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا:’’کوئی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہ رہے،کیوں کہ اس صورت میں ان کے ساتھ تیسرا لازماً شیطان ہوگا‘‘۔ (ترمذی)
ایک مرتبہ آپؐ نے صحابہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’جب عورتیں تنہا ہوں تو ان کے پاس ہرگز نہ جاؤ‘‘۔ اس پر ایک شخص نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول، کیا عورت کا سسرالی رشتہ دار (دیور یا جیٹھ وغیرہ) بھی نہیں جاسکتا؟ فرمایا: وہ تو موت ہے‘‘۔ (بخاری، مسلم)
اسلام مردوں اور عورتوں کا آزادانہ اختلاط پسند نہیںکرتا۔ وہ چاہتا ہے کہ مرد اور عورتیں گھل مل کر نہ رہیں،اس لیے کہ مخلوط طور پر رہنے سے ان میں صنفی جذبات ابھرنے کا امکان رہتا ہے اور یہ چیز بسا اوقات بدکاری تک پہنچا سکتی ہے۔
ایک مرتبہ اللہ کے رسولؐ نے دیکھا کہ کچھ عورتیں سڑک کے درمیان مردوں کے ساتھ گھل مل کر چل رہی ہیں۔ آپؐ نے انھیں ٹوکا اور فرمایا: ’’پیچھے ہٹ جاؤ، تمھارا راستے کے درمیان میں چلنا مناسب نہیں۔ کنارے ہوکر چلا کرو‘‘۔ (ابوداؤد)
اُم المومنین حضرت عائشہؓ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دی ہے کہ آپؐ نے کبھی کسی اجنبی عورت کو ہاتھ نہیں لگایا۔ (بخاری، مسلم)
اسلام کی ایک ہدایت یہ ہے کہ کوئی عورت اپنے شوہر یا محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ عورتیں جہاں رہتی ہیں وہاں تو وہ اپنی ضروریات کے لیے تنہا نکل سکتی ہیں، لیکن دور کی مسافت پر تنہا جانا ان کے لیے روا نہیں ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا ہے:’’کوئی عورت، جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ بغیر محرم کے ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر کرے‘‘۔(بخاری، مسلم)
اسلام کی اس تعلیم پر اعتراض کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس نے عورت کی آزادی کو محدود کردیا ہے اور اسے گھر کی چار دیواری میں مقید کردیا ہے۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ اسلام نے عورت کو گھر سے باہر نکلنے سے نہیں روکا ہے، لیکن وہ اس کی عزت و عصمت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اس لیے وہ چاہتا ہے کہ جب عورت دور کی مسافت کے لیے نکلے تو اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو، تاکہ کوئی آوارہ اور بدچلن شخص اس کے ساتھ چھیڑ خانی کی جراء ت نہ کرسکے۔
اسلام نے حکم دیا ہے کہ کوئی عورت سج دھج کر گھر سے باہر نہ نکلے اور نہ باہر نکلتے وقت خوشبو لگائے۔ اس لیے کہ اگر وہ ایسا کرے گی تو اجنبی مردوں کی نگاہیں اس کی جانب اٹھیں گی اور ان کے صنفی جذبات مشتعل ہوں گے، اس وجہ سے اس پر دست درازی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ یہاں تک تاکید کی ہے کہ جب عورتیں گھر سے باہر نکلیں تو اپنے عام لباس کے اوپر ایک اور بڑا کپڑا (چادر وغیرہ) اوڑھ لیں، جس سے ان کا بدن خوب اچھی طرح ڈھک جائے اور ان کا کوئی عضو نمایاں نظر نہ آئے۔
قرآن میں ہے:’’اے نبی، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلّو لٹکا لیا کریں‘‘(الاحزاب ۳۳:۵۹)۔ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا:’’عورت جب خوشبو لگا کر کسی ایسی جگہ سے گزرتی ہے جہاں بہت سے مرد ہوں تو وہ ایسی اور ایسی ہے، (یعنی وہ بدکار ہے)‘‘۔ (ترمذی)
اسلام کا ایک حکم یہ ہے کہ عورتیں ایسا لباس پہنیں جو ان کے پورے جسم کو (سوائے چہرہ اور ہاتھ کے) چھپانے والا ہو۔ نہ ان کا سر کھلا ہو، نہ گریبان چاک ہو اور نہ لباس اتنا شفاف ہو کہ ان کا بدن جھلکتا ہو۔ قرآن میں ہے:’’عورتیں اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں‘‘(النور۲۴:۳۱)۔ایک مرتبہ اللہ کے رسول ؐ کی زوجۂ محترمہ ام المومنین حضرت عائشہؓ کی بڑی بہن حضرت اسماءؓ آپؐ کے گھر آئیں۔ اس وقت وہ باریک کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔ ان پر آپؐ کی نظر پڑی تو آپؐ نے اپنا چہرہ پھیر لیا اور فرمایا:’’اے اسماء،لڑکی جب بالغ ہوجائے تو اس کے چہرے اور ہاتھ کے علاوہ جسم کا کوئی حصہ کھلا نہیں رہنا چاہیے‘‘۔ (ابوداؤد)
ایک مرتبہ آپؐ نے بہت سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:’’بہت سی عورتیں ایسی ہیں جو لباس پہنے ہونے کے باوجود عریاں ہوتی ہیں۔ وہ دوسروں کو اپنی طرف مائل کرنے والی اوردوسروں کی طرف خود مائل ہونے والی ہوتی ہیں، ان کے سر بختی اونٹوں کے کوہان کی طرح اُٹھے ہوتے ہیں۔ وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہ پائیں گی، حالاں کہ اس کی خوشبو کافی فاصلے سے محسوس ہوگی‘‘۔ (مسلم)
ایک حدیث میں ہے کہ ’’آپؐ نے ایسے مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں‘‘۔ (ابوداؤد، ترمذی)
عورتوں کو ایک خصوصی حکم یہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ غیرمردوں کے سامنے اپنی زینت کا اظہار نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں، بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے‘‘(النور۲۴:۳۱)۔اس آیت میں صرف اس زینت کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے، جو خود بہ خود ظاہر ہوجائے، اور جس کے چھپانے پر عورت کا اختیار نہ ہو۔ ’’اس سے صاف مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو خود اس کا اظہار اور اس کی نمایش نہیں کرنی چاہیے، البتہ جو آپ سے آپ ظاہر ہوجائے.... حکمِ حجاب میں منہ کا پردہ شامل [ہے]‘‘ (تفہیم القرآن، سوم، ص ۳۸۵-۳۸۶)۔ بعض علما کا خیال ہے کہ اس سے مراد چہرہ اور ہاتھ (گٹے تک) ہیں کہ انھیں عورت کھلا رکھ سکتی ہے، باقی پورے بدن کو چھپانا ضروری ہے۔ علما یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر فتنے کا اندیشہ ہو تو عورت کا اپنے چہرے کو چھپانا بہتر ہے۔
درج بالا احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ اسلام نے ان چیزوں پر بھی پابندی عائد کی ہے جو بدکاری پر ابھارنے والی اور مردوں اور عورتوں میں صنفی جذبات برانگیختہ کرنے والی ہیں۔
موجودہ دور میں معاشرے میں فحاشی، بے حیائی اور عریانی پھیلانے والی بہت سی چیزیں رواج پا گئی ہیں، مثلاً گندی فلمیں، عریاں پوسٹر اور اشتہارات، بے حیائی کا پرچار کرنے والے رسائل، انٹرنیٹ پربے شمار عریاں سائٹس وغیرہ۔ معاشرے کے لیے ان چیزوں کا ضرر رساں ہونا کھلی حقیقت ہے، لیکن چوں کہ انھوں نے صنعت کی شکل اختیار کرلی ہے اور ان سے حکومت اور سربر آوردہ طبقے کو خطیر رقمیں حاصل ہوتی ہیں، اس لیے ان کی خطرناکی کو نظر انداز کرکے انھیں خوب بڑھا وا دیا جا رہا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے یہ تمام چیزیں معاشرے کے لیے سمِّ قاتل ہیں، اس لیے ان میں سے کسی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
ان تمام تعلیمات اور ہدایات کے بعد، جو فرد اور معاشرے کی تربیت سے متعلق ہیں، آخر میں اسلامی قانون اپنا کام کرتا ہے۔ ان تمام کوششوں کے باوجود معاشرے میں کچھ ایسے بدخصلت افراد ہوسکتے ہیں جو بدکاری میں ملو ّث ہوجائیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اسلام درد ناک سزا تجویز کرتا ہے۔ وہ قانون یہ ہے:’’زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو ۱۰۰ کوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو، اگر تم اللہ تعالیٰ اور روز ِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ اور ان کو سزا دیتے وقت اہلِ ایمان کا ایک گروہ موجود رہے‘‘۔(النور۲۴:۲)
اس آیت سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:
اس آیت میں زنا کی سزا ۱۰۰ کوڑے بیان کی گئی ہے۔ یہ سزا غیر شادی شدہ افراد کے لیے ہے۔ احادیث اور عہد نبویؐ میں نافذ کی جانے والی سزاؤں کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ زنا کا ارتکاب کرنے والے شادی شدہ افراد کی سزا یہ ہے کہ انھیں پتھر مار مار کر ہلاک [رجم]کردیا جائے۔
غیر شادی شدہ اور شادی شدہ افراد کی سزاؤں میں فرق کی حکمت علما نے یہ بیان کی ہے کہ شادی شدہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کو جنسی آسودگی حاصل ہوچکی ہے، اس کے باوجود اس نے اس گھناونے فعل کا ارتکاب کیا ہے، اس لیے وہ سخت ترین سزا کا مستحق ہے۔
اسلام نے زنا کی سزا جتنی سخت رکھی ہے، اس کے ثبوت کے لیے اتنی ہی کڑی شرائط بھی عائد کی ہیں۔ یا تو کوئی شخص اپنے ضمیر کی آواز پر اعتراف کرلے کہ اس سے یہ غلط کام سرزد ہوگیا ہے، تب اس پر یہ سزا نافذ کی جائے گی، یا چار مرد یہ گواہی دیں کہ انھوں نے اپنی کھلی آنکھوں سے کسی مرد اور عورت کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ قطعی ثبوت فراہم ہونے کے بعد ہی کسی کو یہ سزا دی جائے۔
ایک خاص بات یہ ہے کہ اسلام نے ہر شخص کے ضمیر کو بیدار کیا ہے اور اس کے اندر گناہ سے بچنے اور اگر اس کا ارتکاب ہوجائے تو اس سے پاکی حاصل کرنے کا جذبہ پیدا کیا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عہد ِ نبویؐ میں ایک واقعہ بھی ایسا پیش نہیں آیا، جس میں چار مردوں نے یہ گواہی دی ہو کہ انھوں نے کسی مرد اور عورت کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھا ہے اور اس گواہی کے نتیجے میں ان پر سزا کا نفاذ ہوا ہو۔ سزاے زنا کے جو اِکّا دکّا واقعات اس دور میں پیش آئے ان سب میں زنا کرنے والوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر خود آکر اعتراف کیاتھا۔
معاشرے کو پاکیزہ رکھنے کے لیے اسلام کی یہ تعلیمات محض نظری نہیں ہیں، بلکہ ان پر عمل ہوچکا ہے اور دنیا نے ان کے اثرات کا اپنی کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے۔ عرب کا معاشرہ فسق و فجور کے دلدل میں غرق تھا، برائی کو برائی نہیں سمجھا جاتا تھا، عصمت و عفّت کے کوئی معنیٰ نہیں تھے، شراب ان کی گھٹّی میں پڑی تھی۔ اسلام کی ان تعلیمات کے نتیجے میں ان کی زندگیاں پاکیزہ ہوگئیں، اخلاقی قدروں کو ان کے درمیان فروغ ملااور عورت کو عزت و توقیر حاصل ہوئی۔ بعد کے ادوار میں جہاں جہاں ان تعلیمات پر عمل کیا گیا اور ان احکام کو نافذ کیا گیا وہاں وہاں معاشرے پر ان کے خوش گوار اثرات مرتب ہوئے۔ آج بھی جو لوگ معاشرے میں برائیوں کو پنپتا دیکھ کر فکرمند ہیں اور آبروریزی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے اسلامی سزا کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور اسے نافذ کیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اگر وہ سنجیدہ ہیں تو انھیں پورے اسلامی نظامِ معاشرت کو قبول کرنا اور اسلام کی تمام تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا، تبھی مطلوبہ فائدے حاصل ہوسکتے ہیں، برائیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے اور معاشرے کی پاکیزگی قائم رکھی جاسکتی ہے۔
مقالہ نگار مجلہ تحقیقاتِ اسلامی، علی گڑھ کے معاون مدیر ہیں۔
اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ تصور ہے کہ انسان اللہ کا بندہ ہے۔ عربی میں اللہ کے بندے کو ’عبداللہ‘ کہتے ہیں۔ یہ نام مسلمان ملکوں میں عام پایا جاتا ہے۔ اسلام کے حقیقی معنی ہیں اللہ کی مرضی کے آگے جھک جانا۔ وہ سب لوگ جو اللہ کی اطاعت و رضا کی اس زندگی کو اختیار کرتے ہیں مسلمان کہلاتے ہیں۔ چونکہ اللہ کی ذات برترو بالا ہے اور وہی ساری کائنات کی فرماں روا ہے، اس لیے مسلمان ذہن کو کلیسا اور ریاست کی تفریق کا مسیحی تصور بالکل غیرمنطقی نظر آتا ہے۔ اسلامی حکومت کا مقصد اللہ کے قانون کا نفاذ ہے، جو قرآن و سنت میں محفوظ ہے۔ مسلمان حکمران نہ تو خود قانون کی حیثیت اختیار کرسکتا ہے، نہ وہ اپنے طور پر کوئی نیا قانون بنانے کا حق رکھتا ہے۔ شریعت ِ الٰہی کو کبھی بدلا نہیں جاسکتا۔ ہاں ، اس کی تعبیر کی جاسکتی ہے، وہ بھی کڑی حدود کے اندر۔
ہرچیز کا مالک اللہ ہے۔ انسان کی اپنی کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ کلیتاً اللہ تعالیٰ کا دست ِ نگر ہے۔ ہر وہ شے جو انسان کے قبضہ و تصرف میں ہے، حتیٰ کہ اُس کا جسم بھی___ اللہ تعالیٰ نے محض مستعار دی ہے، تاکہ وہ اسے حتی الامکان انتہائی معقول طریقے سے کام میں لائے۔ اگر کوئی شخص اِس ذمّہ داری سے پہلوتہی کرتا ہے تو وہ عبرت ناک سزا پائے گا۔ انسان کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی بندگی کا حق ادا کرنے کے لیے بوقت ضرورت ہرشے اپنی ذاتی مسّرت،اپنا عیش و آرام، اپنی خواہشات، آسایشیں، دولت، مال و متاع، حتیٰ کہ زندگی تک راضی خوشی قربان کردینے میں کوئی پس و پیش نہ کرے۔ اِس کا اجر اُسے ابدی مسرت اور قلبی اطمینان کی صورت میں ملے گا۔ ’اللہ کا بندہ‘ ہونے کا مطلب انسانوں کے جورواستبداد سے آزادی ہے۔ سچا مسلمان کسی انسان سے نہیں ڈرتا، وہ صرف اللہ سے ڈرتا ہے۔
مسلمان دنیا کو دو مخالف کیمپوں___ دارالاسلام اور دارالکفر میں تقسیم کرتا ہے۔ نوعِ انسان کی بدترین مصیبت، غربت، بیماری یا ناخواندگی نہیں، کفر ہے۔ نوعمر حاملہ دُلھنیں، کنواری مائیں، امراضِ خبیثہ، اسقاطِ حمل، زنا بالجبر، حرامی بچے، لاوارث شرابی اور جنگ جویانہ وطن پرستی، سب کفر کے منطقی نتائج اور تلخ ثمرات ہیں۔ جو کچھ اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہے، سب سے بڑی نیکی اور بھلائی اُسی سے عبارت ہے۔ اس کے برعکس کفر اللہ تعالیٰ کے خلاف کھلی بغاوت ہے جسے کبھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ایک مسلمان اپنے دوسرے ہم چشم انسان کی سیرت کا اندازہ اُس کے عقیدے کی صحت اور روزمرہ زندگی میں اس کے عملاً نفاذ کی اساس پر کرتا ہے۔ کسی شخص کی نسل، قومیت، دولت یا معاشرتی حیثیت کا، اس کے حقیقی انسانی وصف سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک شخص جس چیز پر ایمان لانے کا مدعی ہے، اگر اُس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش نہیں کرتا تو وہ محض ایک منافق ہے، فی الحقیقت وہ سرے سے ایمان ہی نہیں رکھتا۔ ایک مسلمان کے نزدیک انسان کے کسی فعل کا دارومدار اُس کے عقائد پر ہے۔ کیونکہ فوق الفطرت دینی بنیادوں کے بغیر وہ حُسنِ عمل اور اخلاقیات کے وجود کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
سچا مسلمان موت سے نہیں ڈرتا۔ موت وہ گھاٹی ہے جس سے گزر کر ایک مسلمان اَبدی زندگی سے ہمکنار ہوتا اور قربِ الٰہی حاصل کرتا ہے۔ مسلمان جب بیمار ہوتا ہے تو صحت یاب ہونے کے لیے ہرممکن علاج معالجہ کرواتا ہے، لیکن بایں ہمہ اگر تمام طبی وسائل اس کی صحت بحال کرنے اور زندگی بچانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ بڑے سکون و اطمینان کے ساتھ داعی اجل کو لبیک کہتا ہے۔ اُس کا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جان دار کی زندگی کی مدّت پہلے ہی سے مقرر کردی ہے۔ کوئی شخص نہ تو اس مقررہ وقت سے پہلے مرسکتا ہے نہ دنیا بھر کی دوائیں اور طبیب مل کر اس کی موت کو آنِ واحد ہی کے لیے مؤخر کرسکتے ہیں۔
سچا مسلمان متعصب نہیں ہوتا۔ قرآنِ پاک تجسس اور غیبت کی ممانعت کرتا ہے۔ کوئی مسلمان چاہے کتنا ہی غلط کار کیوں نہ ہو، جب تک وہ اپنے دین کو علانیہ نہیں چھوڑتا، اُسے دوسرا مسلمان دینی و معاشرتی حقوق سے محروم نہیں کرسکتا۔ مسلمان نہ تو دوسرے مذاہب پر دست ِ جورو وتعدّی دراز کرتے ہیں اور نہ لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلامی حکومت کے سایے میں مذہبی اقلیتیں خودمختار اور سالم گروہوں کی صورت میں زندگی بسر کرتی ہیں۔ انھیں اپنے مذہبی قوانین پر چلنے، اپنے بچوں کو اپنی مرضی کے مطابق تعلیم دینے اور اپنی تہذیب و ثقافت کو دوام بخشنے کی اجازت ہوتی ہے۔ مزیدبرآں انھیں جان و مال کا مکمل تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق وہ بحیثیت انسان مساوی انصاف اور عمدہ سلوک کے مستحق ہوتے ہیں۔ تاہم شریعت ِ اسلامی کے اِن تمام عطا کردہ حقوق کے باوجود کسی غیرمسلم کو مسلمان کا ہم سر نہیں سمجھا جاسکتا۔ اسلامی حکومت کے سایے میں بسنے والے غیرمسلم، فوجی خدمت سے مستثنیٰ ہوتے ہیں، کیونکہ جو لوگ اسلام کی دعوت پر ایمان رکھتے ہیں وہی اس کی خاطر جنگ کرسکتے ہیں۔ اسی بنا پر کسی غیرمسلم کو حکومت کے کلیدی مناصب پر بھی فائز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک مسلمان نسلی و قومی اختلاف کے باوجود دوسرے مسلمانوں کے ساتھ گہری قرابت محسوس کرتا ہے، لیکن غیرمسلموں کے درمیان وہ اپنے آپ کو ہمیشہ اجنبی پاتا ہے۔
اسلام ایک عالم گیر دین ہے۔ اُس کے دروازے تمام نوعِ انسانی پر کھلے ہیں۔ وہ غیرمسلموں کو اپنی آغوشِ رحمت میں لانے کے لیے سرگرم جدوجہد کرتا ہے۔ مسیحیوں کے برعکس ہمیں پیشہ ور مبلّغین کی ضرورت نہیں۔ ہرمسلمان بجاے خود ایک مبلّغ ہے۔ اسلام کی تبلیغ و اشاعت، اپنی امکانی حد تک، اُس کا مقدس فریضہ ہے۔ بہت سے غیرمسلم یہ جان کر ورطۂ حیرت میں ڈوب جائیں گے کہ دنیا کے وسیع و عریض علاقوں میں خصوصاً جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ میں ___ اسلام عام عرب اور ہندستانی تاجروں کے ذریعے پھیلا۔ اس مقصد کے لیے نہ تو جبروتشدد اور قوت سے کام لیا گیا نہ ان ممالک کو سیاسی طور پر کبھی محکوم بنایا گیا۔ یہ نتائج صرف اس لیے رُونما ہوئے کہ ان تاجروں اور بیوپاریوں نے پہلے اسلام کو پیش کیا اور پھر کاروبار کی طرف توجہ دی۔
صحیح راسخ الاعتقاد یہودیوں کی طرح مسلمان بھی یہ ایمان رکھتے ہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کا تقرب اُس کے مقدس قوانین کی تعمیل اور پابندی ہی سے حاصل ہوسکتا ہے۔ بنابریں وہ عبادات اور اخلاقیات کے درمیان کوئی نمایاں خط ِ امتیاز نہیں کھینچتے، جو ایک دوسرے کے ساتھ غیرمنفک طور پر مربوط ہیں۔ مسلمان روح کو اُس کے خارجی قالب سے الگ نہیں کرتے کیونکہ ان کا ایقان ہے کہ کوئی عقیدہ اپنے محسوس مظہر کے بغیر مؤثر اور کارگر نہیں ہوتا۔
وضو اور نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے عین مطابق ادا کرنا لازمی ہے۔ نماز ایک مسلمان کے اندر حساس ضمیر اور بلندکردار کو نشوونما دیتی اور اسے پختگی عطا کرتی ہے۔ اس لیے کہ جب وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی یہ دیکھنے والا نہیں ہوتا کہ اُس نے یہ فرض ٹھیک ٹھیک انجام دیا ہے یا نہیں۔ شخصی حفظانِ صحت اور طہارت و پاکیزگی کی ضرورت پر اور کوئی مذہب اس قدر زور نہیں دیتا۔ جسمانی طہارت، روحانی پاکیزگی کو متاثر کرتی ہے اور خارجی انسان داخلی انسان کا مظہر ہوتا ہے۔
قرآن و سنت کا تعزیری قانون وہ اہم ترین موضوع ہے جس پر غیرمسلموں نے نکتہ آفرینی کی اور غلط فہمی پھیلائی ہے۔ اسلام جن اُمور کو معاشرے کے خلاف بدترین جرائم قرار دیتا ہے مغربی ممالک میں انھیں شاید ہی جرم سمجھا جاتا ہے، اور چوری کے سوا کسی جرم پر شاذونادر ہی قانونِ تعزیرات نافذ کی جاتی ہیں۔ مسلمان نہ تو اس بات کے قائل ہیں کہ قانون کی خوبی اور فضیلت کا انحصار اس کی نرمی پر ہے اور نہ اُن کا یہ اعتقاد ہے کہ مجرم معاشرے سے زیادہ ہمدردی اور شفقت کے سزاوار ہیں۔
مسلمانوں کی نظر میں قرآن و سنت کا تعزیری قانون ساتویں صدی عیسوی کے قدیم عرب کا ظالمانہ اور وحشیانہ حاصل نہیں ہے اور نہ وہ آج کی دنیا سے غیرمتعلق ہے۔ اس کے برعکس ان کا ایقان یہ ہے کہ یہ قانون ہمارے جدید قیدخانوں کی اخلاقی سیہ کاریوں اور انتہائی نفسیاتی تخریب کاریوں سے زیادہ مجرموں کا شفیق و ہمدرد اور ایک حقیقی اسلامی معاشرے کو جرائم سے پاک صاف رکھنے میں انسان کے خودساختہ قوانین سے زیادہ مؤثر ہے۔
مسلمانوں کا ایمان ہے کہ ایک صحت بخش معاشرہ وجود میں لانے کے لیے مردوں اور عورتوں کی علیحدگی نہایت ضروری ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسلام مردوں اور عورتوں کے آزادانہ میل جول کی ممانعت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی مسلمان مخلوط معاشرتی تقریبات، مخلوط درس گاہیں یا لڑکوں اور لڑکیوں میں شادی سے پہلے عشق و محبت کی پینگیں (کورٹ شپ) برداشت نہیں کرسکتا۔ لازم ہے کہ نہ تو مرد غیرعورتوں کی طرف دیکھیں، نہ عورتیں غیرمردوں کی طرف۔ ہروقت حیادار لباس زیب تن رہے۔ عورتوں کو کسی کام سے باہر جانا ہو تو اپنا پورا جسم پردے میں ڈھانپ کرنکلیں اور حتی الامکان سیدھے سادے، غیرنمایاں انداز میں چلیں پھریں۔ عورت کا حُسن و جمال صرف اس کے اپنے لیے ہے۔ اُس کا جسم کسی حالت میں بھی بے پردگی اور آوارہ نگاہوں کا ہدف نہیں بننا چاہیے۔ مردوں اور عورتوں کے درمیان عشق و محبت کے کھلے عام مظاہرے سخت تعزیر کے لائق ہیں۔ اسلام مرد کو گھر سے باہر کے معاشرتی فرائص سونپتا ہے اور عورت کو درونِ خانہ کے تمام معاملات کا ذمہ دار بناتا ہے۔ بنابریں کاروبار یا سیاست کے میدان میں مردوں کے ساتھ مسابقت عورتوں کا کام نہیں ہے۔مسلمان خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ عورت جب ایک دفعہ گھر کو چھوڑ دیتی ہے تو گھر باقی نہیں رہتا۔
تجرد کی زندگی کو قرآن و سنت مذموم قرار دیتے ہیں۔ ہر مرد اور عورت سے ازدواجی زندگی بسر کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ اگرچہ مرد کو چار بیویاں کرنے کی اجازت ہے، تاہم نہ تو اسلام تعددِ ازدواج کا حکم دیتا ہے اور نہ مسلمان معاشرے میں اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ بس یہ ایک اجازت ہے جس سے خال خال لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ مسلمانوں کی غالب اکثریت ہمیشہ یک زوجگی پر عامل رہی ہے۔
اسلام کی طرف سے محدود تعددِ ازدواج کی اجازت ناجائز تعلقات کو بڑی حد تک ختم کردیتی ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص کسی دوسری عورت سے تعلقات استوار کرنے کا خواہش مند ہے تو اُس کے لیے پہلے اُس عورت کے ساتھ شادی کرنا، اس کی کفالت کا بار اُٹھانا اور ربویت کی ذمہ داری کو قبول کرنا ضروری ہے۔ اسلام بھی قومی اور بین الاقوامی پیمانے پر ’خاندانی منصوبہ بندی‘ کے اتنا ہی مخالف ہے جتنا کہ رومن کیتھولک چرچ اور اس مخالفت کے اسباب بھی تقریباً یکساں ہیں۔ ایک مسلمان کے نزدیک اس سے بڑھ کر فساد اور دین و مذہب سے انحراف اور نہیں ہوسکتا کہ انسان ازدواجی تعلقات بھی قائم رکھے اور ان کی اصل غرض و غایت کی راہ میں رکاوٹ بھی ڈالے۔ مانع حمل ادویات وغیرہ استعمال کرنے کی اجازت صرف غیرمعمولی انفرادی صورتوں میں ہے اور وہ بھی محض طبی بنیادوں پر۔ بچوں کی تعداد میں تخفیف کی عمداً کوشش کرنے کے لیے اقتصادی وجوہ کا عذر ناکافی ہے ، کیونکہ آدمی کا رازق خود آدمی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہے۔
اسلام ’فنونِ لطیفہ‘ کی حوصلہ شکنی کرتا اور اس سلسلے میں تمام دیگر مذاہب سے مختلف راے رکھتا ہے۔ ایک مسلمان قوم میں کسی میخائیلنگلو، ریمبرانٹ، بیتھوئون یا شیکسپیئر کو اپنے اُوپر نچھاور کرنے کے لیے تحسین و آفرین کے پھول نہیں ملیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان شہروں میں سمفنی سرودگاہوں، اوپیرا گھروں،تھیٹروں اور فنی عجائب خانوں کا نمایاں فقدان ہے۔ اسلامی فن کی تخلیقی قوت نے اپنا کاملاً اظہار عربی خطاطی کی صورت میں کیا ہے یا طرزِتعمیر میں، جس سے آج تک کوئی قوم سبقت نہیں لے جاسکی۔
سازوسرود کو ہرجگہ مذموم قرار دیا جاتا ہے۔ مساجد میں تو وہ بالکل ممنوع ہے۔ پیشہ ور مطرب اور سازندے پوری دنیاے اسلام میں معاشرتی لحاظ سے پست اور ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔ سازوسرود انسان کے قلب و ذہن کو اپنے اللہ سے غافل کردیتے ہیں اور بالآخر اُسے شہوت پرستی کی پستیوں میں پہنچا دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنے جذبات کے اظہار پر بے حد مجبور ہوجائے تو اُسے گانے کی اجازت ہے، لیکن احتراز و اجتناب اولیٰ تر ہے۔ کوئی عفیف اور پاک دامن شریف مسلمان خاتون کھلے عام نہیں گائے گی۔ قرآنِ پاک کی قرأت، اذان اور قوالی کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت گوئی واحد نغمہ و سرود ہے جسے مستحسن سمجھا جاتا ہے۔
چونکہ رقص ناجائز جنسی تعلقات کا نہایت طاقت ور محرک ہے، اس لیے اسلام میں اس کی مکمل ممانعت ہے۔ شاید عیدالفطر اور عیدالاضحی کے تہوار، جب کہ لوگوں کو جہاد کے لیے جوش میں لانا مقصود ہو، یا شادی کی تقریبات اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اس قسم کے جشن کبھی مخلوط نہیں ہوتے۔ مرد مردوں کے ساتھ مل کر رقص کرتے ہیں اور عورتیں صرف عورتوں کے ساتھ۔
اسٹیج، سینما یا ٹیلی ویژن کے پردوں پر سوانگ بھرنے کی بھی اسی بناپر حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ کھیل، تماشے، خواہ ان میں کوئی شخص ایک کردار کی حیثیت میں شریک ہوتا ہے یا تماشائی کی، نہ صرف فسق و فجور کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، بلکہ لوگوں کو اپنے ذاتی تصورات میں اس حد تک گم کردیتے ہیں کہ حقیقی زندگی سے اُن کی دل چسپی جاتی رہتی ہے۔
لٹریری فکِشن، خواہ ڈرامے کی شکل میں ہو یا ناول کی، کسی مسلمان ملک سے کوئی فطری تعلق نہیں رکھتا۔ البتہ خطابت اور شاعری کو بے حد ترقی دی جاتی ہے اور فصیح تقریروں کو مسلمان ہرجگہ بڑی قدرووقعت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
اسلام کا نظامِ حیات بدیہی اقدار پر مبنی ہے۔ اخلاق و صداقت ابدی اور عالم گیر ہیں۔ انھیں انسان نے نہیں اللہ نے جاری کیا ہے۔ بنابریں انسان ان میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ مسلمانوں کے نزدیک قرآنِ کریم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں، اللہ کی کتاب ہے۔ ان کا ایمان ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ حقیقی معنوں میں سچا ہے اور اس کی اطاعت لازمی ہے۔ قرآنِ کریم علمِ کُل کا منبع ہے اور اُس کے کسی جزو کے متعلق شک و ریب کا اظہار اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو مسترد کردینے کے مترادف ہے۔ حدیث یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور سنت___ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا عمل___ قرآن کریم کی صحیح تعبیروتشریح کے لیے لازمی ہیں۔ دوسرے کے بغیر تنہا کسی ایک پر انحصار بے معنی ہے۔ چونکہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی خطا سے مبریٰ، مکمل اور آخری وحی ہے جو انسان کی ہدایت کے لیے بھیجی گئی ہے۔ اس لیے اسلام کی نہ تو ’تہذیب و اصلاح‘ کی جاسکتی ہے، نہ اس میں کسی قسم کا ردّ وبدل کیا جاسکتا ہے۔ اس کو ’ترقی دینے‘ کی ضرورت کبھی پیش نہیں آسکتی۔ اسلام ایک مکمل اور خودمکتفی دین ہے۔ اخذ وانتخاب کی اس میں کوئی گنجایش نہیں ہے۔ مسلمان کے نزدیک ’ترقی‘ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو قرآنِ کریم کے الفاظ اور روح کے عین مطابق ڈھالیں۔ اُن کا دنیاوی مقصود مادی کامیابی نہیں، آخرت کی زندگی کے لیے سازوسامان مہیا کرنا ہے۔
اسلام مسلمانوں سے کامل اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے۔ مسلمان شب و روز کے ہرلمحے میں مسلمان رہتا ہے۔ اسلام کی ضابطہ پسندی کسی دوسرے مذہب کے پیروکاروں کے لیے ناقابلِ تصور ہے۔ اس کے قوانین ایک مسلمان کی پیدایش سے لے کر موت تک، زندگی کے ہرپہلو پر حاوی ہیں۔ وہ بیداری کے عالم میں ہو یا خوابیدہ، اسلام ہروقت مسلمان کے ساتھ رہتا ہے۔ اُسے ایک لمحے کے لیے بھی اپنی اسلامی حیثیت کو فراموش کرنے کی اجازت نہیں۔ (اسلام ایک نظریہ، ایک تحریک، ص۵۳-۶۱)
(آخری قسط)
ایک اور بحث جو اُٹھائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن و سنت کی شکل میں دستور کے ہوتے ہوئے کسی پارلیمان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ قانون سازی کرے۔ یہاں بھی پورے خلوصِ نیت کے باوجود ان اصطلاحات کا مفہوم ذہن میں واضح نہ ہونے کے سبب یہ سوال اُبھرتا ہے۔ قرآن و حدیث کے دستور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان دو مصادر کو ہرمعاملے میں فوقیت حاصل ہوگی لیکن ان دونوں کو سامنے رکھتے ہوئے حالات و واقعات کے لحاظ سے نئے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے اجتہاد، قیاس اور اجماع کے اصولوں کا استعمال کیا جائے گا۔ اجتہاد کا مطلب ہی یہ ہے کہ نصوص میں کوئی اجتہاد نہیں ہوتا، بلکہ جہاں نصوص خاموش ہوں وہاں نصوص کی روشنی میں راے کے قائم کرنے کا نام اجتہاد ہے۔ اگر اجتہاد کی بنیاد پر ایک صورتِ حال پر دوسری کو قیاس کرنا ہو تو اسے قیاس کہتے ہیں، اور جب اجتہاد پر ایک دور کے علما کا اتفاق ہوجائے تو اسے اجماع کہا جاتا ہے۔ وہ تمام مسائل اجتہادی کہے جاتے ہیں، جن کے بارے میں قرآن و سنت میں متعین طور پر واضح ہدایات موجود نہ ہوں۔
اسلامی نظامِ حکومت میں شوریٰ کو جو مرکزی مقام حاصل ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ خلیفہ باوجود اپنے تقویٰ، علم اور فقہی علم کے، ایک انسان ہے۔ وہ کوئی معصوم ہستی نہیں ہے۔ اس کو دوسرے اہل الراے کے مقابلے میں اپنے یقین اور اپنی راے کو اس درجے اہمیت دینے اور اس کے مانے جانے پر اصرار کرنے کا حق نہیں ہے کہ وہ اپنی تنہا راے کے مقابلے میں دوسرے اہل الراے کی متفقہ راے یا ان کی اکثریت کو ردّ کردے۔ اگر ایک امرِاجتہادی میں کوئی خلیفہ اپنے یقین کو اس درجے شک و شبہے سے بالاتر سمجھتا ہے تو دوسرے الفاظ میں اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ایک معصوم شخص سمجھتا ہے۔مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنی کتاب اسلامی ریاست (مطبوعہ دارالفکر، لاہور) میں یہی پوزیشن واضح کی ہے اور اس وضاحت کے بعد مولانا اصلاحی فرماتے ہیں: ’’خلیفہ کے لیے مجلس شوریٰ کی اکثریت کے فیصلوں کی پابندی ضروری ہونے کی اول دلیل تو وہ ہے جو صاحب ِ احکام القرآن ابوبکرجصاصؒ نے دی ہے کہ یہ شوریٰ کی فطرت کا اقتضا ہے کہ اہلِ شوریٰ کی اکثریت کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے۔ اس لیے کہ یہ بات بالکل بے معنی سی معلوم ہوتی ہے کہ اسلام میں شوریٰ کا حکم تو اس شدومد سے دیا جائے اور مقصود صرف یہ ہو کہ چند لوگوں کو شریکِ مشورہ کر کے ذرا ان کی دل داری اور عزت افزائی کردی جائے۔ خلیفہ کے لیے ان کے مشوروں کی پابندی ضروری نہ ہو۔ صاحب ِ احکام القرآن کے نزدیک یہ شکل لوگوں کی دل داری اور عزت افزائی نہیں، ان کی دل شکنی اور توہین کے مترادف ہے‘‘۔(اسلامی ریاست، ص ۳۹)
اس دلیل کی طرف اشارہ کرنے کے بعد کہ ’’ایک شخص کے مقابلے میں ایک جماعت کی راے اپنے اندر صحت و اصابت کے زیادہ امکانات رکھتی ہے‘‘، مولانا فرماتے ہیں: ’’اس وجہ سے عقل و فطرت کا تقاضا یہی ہے کہ خلیفہ اپنی تنہا راے کے مقابلے میں یا اپنے ہم خیال افراد کی راے کے حق میں اکثریت کی راے کو ردّ نہ کرے۔آخر ایک اجتہادی یا مبنی بر مصلحت معاملے میں اس کو یہ علم کس طرح ہوا کہ اس کی راے صحیح اور دوسروں کی راے غلط ہے۔ صحت اور غلطی کا امکان دونوں طرف ہے لیکن صحت کا غالب امکان اس طرف ہے جس طرف اکثریت ہے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر فرد کے مقابل میں جمہور کے مسلک اور انفرادی اجتہاد کے بالمقابل اجماع کو شریعت میں ترجیح دی گئی ہے‘‘۔ (ایضاً، ص ۳۹)
ہم نے اس طویل اقتباس کو اس لیے دینا پسند کیا کہ بعض حضرات پارلیمان کے حوالے سے یہ بات کہتے ہیں کہ اکثریت تو نااہل ہوتی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ پاکستان میں اس وقت جو پارلیمنٹ پائی جاتی ہے اور جسے دستور شوریٰ کا نام دیتا ہے، اس میں نااہل افراد چاہے زیادہ ہوں، لیکن کیا اس بنا پر ایک اسلامی اصول کو ردّ کرنا شریعت سے مطابقت رکھتا ہے؟ ہونا یہ چاہیے کہ اصول بدلنے کے بجاے پارلیمنٹ میں ہی ایسے افراد لائے جائیں جو اہل، امانت دار اور دین کا علم رکھنے والے ہوں۔
دین کا کام کرنے والوں کو منفی فکر کی جگہ مثبت فکر کو اپنانا چاہیے اور قرآنِ کریم میں کسی ایک لفظ کے من مانے مفہوم نکالنے سے بچنا چاہیے۔ اگر قرآنِ کریم منکرینِ حق کے بارے میں کہتا ہے کہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو عقل استعمال نہیں کرتے یا سمجھتے نہیں، تو اکثر کا یہ مفہوم لینا کہ مسلمانوں میں بھی اکثریت جاہلوں کی ہی ہوگی، بہت نامناسب بات ہے۔ شوریٰ کے اصول کی وضاحت کرتے ہوئے ہم یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ شوریٰ کی اکثریت کے فیصلے کو ماننا کسی بھی جماعت کے امیر پر دینی طور پر واجب ہے۔ یہی شکل باشعور پارلیمنٹ میں بھی اختیار کی جائے گی۔
اگر پاکستان کا دستور یہ کہتا ہے کہ وہ ایک اسلامی ریاست ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کے لیے ہے، اور دستور کی دفعہ یہ کہتی ہے: شوریٰ یا پارلیمنٹ جو دستورسازی بھی کرے گی وہ قرآن و سنت کے مطابق ہوگی، اس کے خلاف نہ ہوگی لیکن بعض ممبران پارلیمنٹ اس کی خلاف ورزی کریں، تو معقول رویہ کیا یہ ہوگا کہ پارلیمان کو توڑ دیا جائے، دستور کو پھینک دیا جائے اور ایک ’جہاد‘ کے ذریعے نیا نظام نافذ کردیا جائے، یا پارلیمان میں ایسے افراد کو لایا جائے جو دستور کی پابندی اور قرآن و سنت کی روشنی میں قانون سازی کریں۔
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ شریعت اور قانون سازی کی اصطلاحات معروف علمی اصطلاحات ہیں۔ انھیں سمجھے بغیر جو تعبیر کسی کے ذہن میں آجائے اسے لے لینا اور عاجلانہ نتائج اخذ کرلینا ایک غیردانش مندانہ رویہ ہے۔ شریعت کی اصطلاح صرف قرآن و سنت کے لیے استعمال ہوتی ہے، جب کہ قانون سازی روزِ اوّل سے ان اسلامی اداروں نے کی ہے، جو شریعت اور حالاتِ حاضرہ کا علم رکھتے ہوں۔ اگر قرآن کریم یا حدیث شریف میں براہِ راست ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا ذکر نہیں پایاجاتا، تو یہ کام قرآن و سنت سے واقف ماہرین کا ہوگا کہ وہ قرآن و سنت کے واضح احکام اور بالواسطہ ہدایات کو سامنے رکھتے ہوئے اس نئے معاملے میں اجتہاد کے بعد قانون سازی کریں۔ ان کا یہ کرنا دینی فریضہ ہوگا، دین سے انحراف نہیں ہوگا۔ قانون سازی ہمیشہ انسانی اداروں نے ہی کی ہے۔ یہ ایک دینی اور معاشرتی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتاتو اجتہاد کی کوئی گنجایش اسلام میں نہیں ہونی چاہیے تھی۔ آخر امام مالک ہوں یا امام ابوحنیفہ ، امام شافعی ہوں یا امام احمد ابن حنبل، یا امام جعفر صادق یا امام ابن تیمیہ یا امام شاہ ولی اللہ دہلوی ہوں، ان حضرات نے قرآن و سنت کی بنیاد پر جو اجتہاد کیا اور پھر اس پر اجماع ہوا اور مسلم ریاستوں نے اس کی بنیاد پر قانون سازی کی، تو کیا یہ سب شرک کے مرتکب ہوئے؟
دین میں توازن اور عدل شرط ہے۔ جذباتیت سے بلند ہوکر اور دین کے مصادر کو سبقاً سبقاً سمجھنے کے بعد ان معاملات پر راے قائم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ نوجوان نسل کسی انتہاپسندی کی شکار نہ ہو۔ قانون سازی کی بنیاد ہمیشہ قرآن و سنت رہی ہے اور رہے گی لیکن قانون سازی ہمیشہ ادارے اور افراد ہی کریں گے۔ اور ان کا ایسا کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خلفا اور بعد میں آنے والے ائمہ فقہا کی روایت پر عمل کرنا ہے۔ دورِجدید میں یہ کام پارلیمنٹ کرسکتی ہے اگر اس میں ایسے افراد منتخب ہوں، جو قرآن و سنت اور اسلامی فقہ میں مہارت رکھتے ہوں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پارلیمنٹ ایسے بااختیار بورڈ بنائے جو اسے قانون سازی میں مدد دیں۔ یہ خیال نہ شرعی طور پر اور نہ عقلی طور پر درست ہے کہ بغیر کسی قانون سازی کے صرف قرآن و حدیث کو دستور مان لینا مسائل کا حل ہے۔ جہاں تک قرآن و حدیث کے دستور ہونے کا تعلق ہے، یہ تو وہ بنیادی حقیقت ہے جو شرطِ ایمان ہے اور اس میں کسی اختلاف کی گنجایش نہیں، لیکن عقلِ عام (common sense ) کو استعمال کر کے یہ دیکھا جائے کہ کیا دنیا میں کسی جگہ بھی دستور اور قانون دونوں کا مفہوم ایک پایا جاتا ہے؟ کیا ایسے ممالک نہیں ہیں جہاں تحریری دستور نہیں ہے لیکن قانون ہے یا جہاں چند صفحات کا دستور ہے، جب کہ بیسیوں جلدوں میں قانون ہے۔ کیا فتاویٰ عالم گیری جو اورنگ زیب عالم گیر یا مجلّہ احکام عدلیہ جو عثمانی فرماں روا نے وضع کیا، قرآن کریم اور حدیث کے ہوتے ہوئے ایک کافرانہ، مشرکانہ یا طاغوتی اقدام تھا؟
دعوتِ دین کی حکمت عملی اور نفاذ احکامِ شریعت کی حکمت عملی ایک اہم موضوع ہے اور جب تک اس میں اولیات یا ترجیحات (priorities) کا تعین نہ کیا جائے، حصولِ مقصد میں دقت اور مشکل پیش آسکتی ہے۔ اس لیے پاکستان میں شریعت کا نفاذ ہو یا کہیں اور، قرآن و سنت اور انبیاے کرام ؑ کے طریقِ دعوت کو سامنے رکھتے ہوئے مقام اور صورتِ حال کی مناسبت سے حکمت عملی کا وضع کرنا، ہرمقام پر درست حکمت عملی ہوگی، جو حالات اور مقامات کے لحاظ سے وضع کی جائے، جب کہ ہر حکمت عملی کا مشترک نکتہ اللہ کی حاکمیت کا قیام اور طاغوت کا انکار ہوگا۔
خلافت علی منہاج النبوہ کا واضح مفہوم یہ ہے کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاسی، معاشرتی، معاشی اور دیگرمعاملات میں ایک جانب اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت ’القرآن‘ کو اور دوسری جانب قرآن کی تشریح اور اس پر مبنی تشریع کو اختیار فرمایا، اسی طرح دین کے مکمل ہوجانے کے بعد آپؐ کے بعد خلفا نے قرآن و سنت کو مصدراوّل مانتے ہوئے، حالات کی مناسبت سے مشاورت و اجتہاد کو استعمال کیا۔ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کے اجتہادات غیرمعمولی طور پر یہ شہادت دیتے ہیں کہ قانون سازی مشاورت کے ساتھ کیسے کی جاتی ہے۔
خلفاے راشدین کے بعد سب سے بڑا سانحہ، انتخاب سربراہِ مملکت کے حوالے سے، انتخابی خلافت کو موروثی حکومت میں تبدیل کرنے کا تھا۔ حضرت عمرؓ نے اس تحریف کے امکان کو سمجھتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں، گو وہ علم و تجربے اور تقویٰ میں کسی سے کم نہ تھے اور خلیفہ بننے کی شرائط پر پورے اُترتے تھے، یہ حکم دیا کہ وہ مشاورت میں شامل رہیں لیکن انھیں خلیفہ نہ بنایا جائے تاکہ موروثی حکومت کا آغاز نہ ہوسکے۔ یہی شکل حضرت علیؓ کی شہادت میں پیش آئی، جب آپؓ سے پوچھا گیا کہ کیا حضرت حسنؓ کو خلیفہ بنایا جائے تو آپؓ نے فرمایا: یہ فیصلہ لوگ مسجد میں کریں گے، میں نہ منع کرتا ہوں نہ حکم دیتا ہوں۔ گویا خلیفہ کے انتخاب کا حق عوام کو دیا جانا سنت ِ خلفاے راشدین ہے۔
خلافت ِ راشدہ کے بعد جو لوگ حکمران ہوئے، بہ استثنا حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ، وہ حکمران تو مانے گئے لیکن انھیں خلیفہ نہیں مانا گیا۔ گو، وہ خود کو خلیفہ کہتے اور کہلواتے رہے۔ اسی بناپر اُمویوں کی حکومت دمشق میں ہو یا قرطبہ میں، فاطمین کی حکومت مصر میں ہو ، عثمانیوں کی حکومت ترکی اور شام و عراق پر ہو،ان میں سے کسی کو بھی ہم صحیح معنوں میں خلافت اور حکمرانوں کو خلیفہ نہیں کہہ سکتے۔ ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مسلمان سلاطین کا دور تھا۔ عثمانیوں کی حکومت کو خلافت راشدہ کا تسلسل کہنا تاریخ کے ساتھ ظلم ہے۔
ایک بنیادی سوال جو ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ سے کرنا چاہیے، یہ ہے کہ اگر ایک اُموی فرماں روا اپنی زندگی میں اپنے بعد حکومت کرنے کے لیے اپنے بیٹے یا بھائی کو مقرر کرتا ہے، تو اس کا یہ کرنا، قرآن کریم کی آیت اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ (انعام ۶:۵۷) کے مطابق درست ہے یا غلط؟ یہی سوال فاطمین مصر اور عثمانی فرماں روائوں کے حوالے سے اُٹھانے کی ضرورت ہے۔
ہمیں چاہیے کہ جذبات سے بالاتر ہوکر قرآن و سنت کے مطالعے کے بعد پہلے یہ طے کریں کہ حاکمیت اعلیٰ سے مراد کیا ہے؟ پھر قرآن و سنت کو دستور مانتے ہوئے یہ طے کریں کہ اس دستور کی روشنی میں قانون سازی کون کرے اور جو یہ کام کرے گا اس کی خصوصیات کیا ہونی چاہییں؟ پھر اِن خصوصیات کے افراد کو اُن اداروں میں لایا جائے جو قانون سازی کرنے کے ذمہ دار قرار دیے گئے ہوں۔
یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ چونکہ ۶۶سال میں جو لوگ پارلیمنٹ میں منتخب ہوئے وہ کردار اور عمل کے لحاظ سے اچھے نہیں تھے، اس لیے پارلیمنٹ کا ادارہ ہی غلط ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ عدلیہ میں ایسے جج مقرر ہوجائیں جو رشوت خور ہوں، تو کیا اس بناپر عدلیہ کے ادارے کو ختم کرنا بہتر ہوگا یا ایسی شرائط کا لگانا جن کی بناپر عدلیہ میں صرف ایمان دار لوگ آسکیں۔
پھر یہ کہنا کہ مغربی جمہوریت میں فیصلے کے لیے ۵۱ فی صد ووٹ کا ہونا کافی ہے، جب کہ اسلام کسی تناسب کا قائل نہیں ہے، سادہ لوحی کے سوا کچھ نہیں۔ فقہ اسلامی کے بنیادی اصولِ اجماع کا مطلب کیا ہے؟ کیا اجماع ہمیشہ ۹۰ فی صد افراد کی راے پر ہوگا یا ۵۱ فی صد راے پر بھی اجماع ہوجائے گا؟
ایک سوال جو بار بار اُٹھایا جاتا ہے، یہ ہے کہ کیا مغربی جمہوریت کی اصلاح ہوسکتی ہے اور اگر اصلاح کی جائے تو کس طرح؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ اگر ایک مثال کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس پر غور کیا جائے تو شاید ہمیں سمجھنے میں آسانی ہو۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا ایک مشرک جو سات پشتوں سے شرک میں پلابڑھا ہو، مسلمان ہوسکتا ہے یا نہیں، یا جب تک اس کے جسم کے خون کا ہرقطرہ جو حرام پر پلا بڑھا تھا، نکال کر جسم میں نیا اور پاک خون ڈال کر پہلے پاک صاف نہ کیا جائے، اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا تو ایسی صورتِ حال میں عقل کا فیصلہ کیا ہوگا؟
قرآن کریم نے سود کی ابدی حُرمت کے ساتھ کیا یہ بات نہیں کہی کہ جو حرام ماضی میں کھاچکے وہ کھاچکے اب آیندہ ایک رتی کے برابر سود بھی نہ لیا جائے۔ اس لیے اگر ایک تنظیمی ڈھانچا ایسا ہے جس میں ایک بادشاہ ہے یا فوجی آمر، یا غیرفوجی آمر ہے، اس کے تحت بے بس پارلیمنٹ ہے، بے بس عدلیہ ہے، بے بس پولیس ہے، بے بس سول انتظامیہ ہے اور اس تنظیم کو درست کرنا ہو تو کیا محض آمر کو مار کر تمام نظام ایک دم درست ہوجائے گا یا سارے نظام کو تہس نہس کرکے نئے سرے سے ایک تنظیمی ڈھانچا بنایا جائے گا، یا یہ طے کیا جائے گا کہ سب سے اہم اور اوّلین اقدام کیا ہو۔ عقل کہتی ہے کہ سب سے پہلے آمریت یا بادشاہت کی جگہ ایسے افراد کو لایا جائے، جو عدل و انصاف کے علَم بردار ہوں اور موروثی بادشاہت یا آمریت کے قائل نہ ہوں۔ ایسے ہی عدلیہ میں ایک تدریج اور ترتیب کے ساتھ ایسے افراد کو لایا جائے، جو اللہ کا خوف رکھتے ہوں اور دینی علم کی دولت سے مالامال ہوں، نیز اس کے ساتھ ہی نظام میں قانون سازی سے وہ تبدیلیاں لائی جائیں جو نظام کو اسلامی اصولِ عدل کے مطابق بناسکیں۔
اس کے مقابلے میں یہ راے بھی لازماً قابلِ غور ہوسکتی ہے کہ ایک سہانی صبح کو عدلیہ، پارلیمنٹ، پولیس، فوج، قصرصدارت، کابینہ، غرض ہرادارے کو تحلیل کرکے ایک نئے نظام کا اعلان کردیا جائے۔ اس راے کے قائم کرنے سے کسی کو روکنے کا حق نہیں لیکن کیا یہ راے انسانوں کی دنیا میں آج تک قابلِ عمل ہوسکی؟ کیا افرادِکار کی تیاری، اداروں میں قانون سازی کے ذریعے اصلاح و تبدیلی اور بتدریج اصلاحی عمل کے بغیر دنیا میں کہیں بھی کوئی نظام کامیاب ہوا ہے؟ کیا صحابہ کرامؓ کی سیرت سازی، تزکیہ و تربیت اور مصائب و مشکلات سے گزارے بغیر ممکن تھی، اور کیا آج بھی انسانوں کی ماہیت ِقلبی کے بغیر اسلامی نظام نافذ ہوسکتا ہے؟
بلاشبہہ ایک مسلمان کی معاشی ظلم کے خلاف جدوجہد ہو، مشرکانہ، کافرانہ فکر کے خلاف مہم ہو، اپنی جان و مال کے ساتھ طاغوت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا ہو، نفس کے مطالبات کے خلاف جنگ کرنا ہو، یہ سب جہاد کی تعریف میں آتے ہیں۔ لیکن جہاد اسباب کی تیاری کے بغیر، جہاد حکمت عملی کے بغیر، جہاد اہداف کے تعین کے بغیر، جہاد ترجیحات کے بغیر ایک نیک خواہش تو ہوسکتا ہے، ایک تعمیری عمل نہیں ہوسکتا۔
یہ مسئلہ پاکستان میں نہیں، تمام دنیا میں جہاں بھی انتخابات کے ذریعے لوگ منتخب کیے جاتے ہیں، پایا جاتا ہے۔ اس کا حل نظام کو اُٹھا کر پھینک دینا نہیں ہے بلکہ تعلیم، ابلاغ عامہ اور انتخابات کی اہمیت کے پیش نظر عوام کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے کے عمل کی ضرورت ہے۔ اگر انتخابات سے چھے ماہ پہلے سے عوام کو ان معاملات کا شعور دلایا جائے تو ووٹروں کی تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اور عوام اچھے اور نیک افراد کو ووٹ دینے کا فیصلہ بھی کرسکتے ہیں۔ یہ ایک تعلیمی اور ابلاغی معاملہ ہے۔ اس کا کوئی تعلق جمہوریت کے اچھے یا بُرے ہونے سے نہیں ہے۔
اگر جائزہ لیا جائے تو چاروں خلفاے راشدین کے انتخاب میں حل و عقد کی حیثیت بنیادی تھی۔ اہلِ مدینہ نے جس کو منتخب کیا، پورے عالمِ اسلامی نے اس کی قیادت کو تسلیم کیا۔ یہ تعداد کُل مسلم آبادی کا ایک بہت چھوٹا تناسب رکھتی تھی۔ اس کے باوجود خلافت قائم ہوئی اور لوگوں نے اس کی اطاعت اور تعاون میں کمی نہیں کی۔عوام کے انتخابات میں زیادہ تعداد میں حصہ لینے کے پہلو کو تعلیم اور جدید ٹکنالوجی کے ذریعے بہت بہتر بنایا جاسکتا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد ووٹ کا استعمال کرسکیں۔
ایک غیرضروری سوال نظر آتا ہے۔ اسلامی تحریکات خصوصاً جماعت اسلامی پاکستان نے ہمیشہ اسلامی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کی ہے اور اپنے لٹریچر اور دیگر ذرائع کے استعمال سے اسلامی نظام کے قیام ہی کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن تحریکاتِ اسلامی یہ بات بھی تسلیم کرتی ہیں کہ مغربی لادینی جمہوریت کی تمام خامیوں کے باوجود اگر کسی ملک کا دستور حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ کے لیے تسلیم کرتا ہو اور شریعت پر مبنی قانون کے نفاذ کا دعویٰ کرتا ہو، تو عبوری دور کے لیے ایسے نظام میں شرکت نہ شرک کی تعریف میں آتی ہے نہ کفر اور نہ طاغوت کی۔ اگر ووٹ، عوامی راے کے استعمال اور پارلیمان میں قانون سازی کے ذریعے اسلامی نظام تعلیم، معیشت و قانون اور ابلاغِ عامہ میں صحت مند تبدیلی لائی جاسکتی ہے تو اس کی کوشش کرنا تحریکاتِ اسلامی کا فرض ہے۔ دین یہ مطالبہ کرتا ہے کہ دعوت و اصلاح کے لیے تمام ممکنہ ذرائع کو استعمال کیا جائے اور صرف ان کاموں سے بچا جائے، جہاں قرآن و سنت کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ حلال و حرام کو قرآن و سنت نے طے کردیا ہے لیکن مباح کے دائرے میں آنے والی چیزوں کو بغیر کسی دلیلِ شرعی کے حرام قراردینا، دینی حکمت کے منافی ہے۔ جب تک ایک ملک کا دستور اللہ کی حاکمیت کا اقرار اور شریعت کی بالادستی کو تسلیم کرتا ہے، اس دستور کے تحت سیاسی، معاشی اور دیگر سرگرمیاں نہ شرک ہوسکتی ہیں نہ کفر۔
اگر پارلیمان کوئی قانون خلافِ شریعت بنانا چاہتی ہو جیساکہ ماضی میں ہوا کہ تحفظ خواتین کے نام پر اللہ اور اس کے رسولؐ کی مقرر کی ہوئی سزائوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، تو ایسے قوانین کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر کے کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔ پارلیمنٹ کا ایک غلط فیصلہ بجاے خود پارلیمنٹ کے ادارے کو قابلِ گردن زدنی نہیں بنادیتا۔یہ تصور کہ پارلیمان کو قانون سازی کا اختیار ہی نہیں ہے، ایک بے بنیاد بات ہے۔ اگر دستورپاکستان پارلیمان کو یہ حق دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پارلیمان کی ہرقرارداد ہمیشہ درست ہوگی۔ پارلیمان انسانوں کا اجتماع ہے اور اگر یہ انسان قرآن و سنت کے معیار پر پورے اُترتے ہوں، تو اُمید کی جاتی ہے کہ وہ جو قانون بھی بنائیں گے اس کی بنیاد شریعت ہوگی۔ خلافت راشدہ میں بھی شوریٰ یہ کام کرتی تھی۔ آج بھی شوریٰ یا پارلیمان یہ کام کرسکتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد دستورساز اسمبلی میں علما پر مبنی ایک تعلیماتِ اسلامی بورڈ قائم کیا گیا تھا، جس میں ملک کے جید علما بشمول مولانا سیّد سلیمان ندوی، مفتی محمد شفیع اور علامہ جعفرحسین مجتہد شامل تھے۔ ان کی سفارشات کی روشنی میں دستور کا اولین مسودہ تیار کیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ فوجی اور غیرفوجی آمروں نے دستور پر صحیح معنوں میں عمل نہ کرنے دیا۔ اس میں قصور نہ دستور کا ہے نہ پارلیمان کا، بلکہ وہ افراد اللہ اور اہلِ پاکستان کے سامنے جواب دہ ہیں، جو اس کام میں رکاوٹیں ڈالتے رہے۔