۲۰۱۶ فروری

فہرست مضامین

کلام نبویؐ کی کرنیں

مولانا عبدالمالک | ۲۰۱۶ فروری | فہم حدیث

حضرت ابی بن کعبؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں قیامت کے روز تمام انبیاؑ کا امام و خطیب اور شفیع ہوں گا اور اس پر مَیں فخر نہیں کرتا ۔(ترمذی)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مرتبہ اللہ تعالیٰ نے عنایت فرمایا ہے۔ اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیا ؑ سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی بندگی کی اور اللہ تعالیٰ کے دین کو دنیا میں غالب فرمایا۔ ’اظہارِدین‘ کا    یہ فریضہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی اُمت نے ادا کیا۔ اس لیے آپؐ تمام انبیا ؑ سے افضل اور آپؐ کی اُمت تمام اُمتوں سے افضل ہے۔ قیامت کے روز شفاعت کبریٰ اور مقامِ محمود اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو عطا فرمایا ہے۔ اُمت مسلمہ کو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت بنایا اور تمام اُمتوں سے افضل بنایا۔ پھر اس کا تقاضا ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پوری طرح پیروی کریں اور دین اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوں۔ اپنی زندگیوں کو تقسیم نہ کریں کہ مسجد میں اللہ کے بندے ہوں اور مسجد سے باہر غیراللہ کے بندے بن کر زندگی گزاریں۔ بازاروں میں، کھیتوں میں، عدالت میں، ایوانِ حکومت میں، ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کو لازمی سمجھ کر اور سعادت سمجھ کر اپنائیں۔ اسی کو ذریعۂ نجات سمجھیں اور اسی کو عزت کا راستہ سمجھیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا کہ ہم وہ قوم ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی بدولت عزت عطا فرمائی ہے۔ جب ہم کسی دوسرے ذریعے سے عزت حاصل کرنا چاہیں گے تو     اللہ تعالیٰ ہمیں ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ آج ہم نے یہ راستہ چھوڑ دیا ہے اس لیے ہم عزت کھو چکے ہیں۔ عزت کی بحالی کا راستہ یہی ہے کہ اسلام کو پوری زندگی کا دین بنا دیں۔ اللہ توفیق عطا فرمائے، آمین!

o

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تورات میںجو پیشن گوئی کی گئی ہے، حضرت کعب  بن احبارؓ اُسے یوں بیان فرماتے ہیں: ’’ہم تورات میں لکھا ہوا پاتے ہیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پسندیدہ بندے ہیں، نہ سخت گو، نہ سخت دل، نہ بازاروں میں شور کرنے والے اور بُرائی کا بدلہ بُرائی سے نہیں دیتے بلکہ معاف کر دیتے اور بخش دیتے ہیں۔ ان کی پیدایش مکہ میں ہوئی، ان کا مقامِ ہجرت مدینہ طیبہ ہے اور ان کا اقتدار شام میں ہوگا اور آپؐ کی اُمت اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کرنے والی ہوگی۔ وہ خوشی اور تکلیف دونوں حالتوں میں اللہ تعالیٰ کی حمد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کی ہرمقام پر حمد کریں گے، اللہ کی کبریائی ہربلندی پر بیان کریں گے، سورج کا خیال رکھیں گے، نماز پڑھیں گے۔ جب نماز کا وقت آئے گا اپنی چادریں آدھی پنڈلی تک اُونچی رکھیں گے اور وضو میں اپنے دونوں طرف کے اعضا کو دھوئیں گے (دونوں ہاتھ، چہرے کے دونوں طرف، پائوں کے دونوں طرف اور سر کا مسح)۔ ان کا منادی جو ندا دے گا وہ آسمان کی فضائوں میں گونجے گی۔ میدانِ جنگ میں ان کی صفیں اسی طرح سیدھی ہوں گی جس طرح نماز میں سیدھی ہوں گی۔ راتوں کو قرآن پڑھنے کی گنگناہٹ ایسی ہوگی جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔(مصابیح السنۃ، دارمی)

ایمان والوں کے لیے بڑی سعادت ہے کہ تورات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفاتِ عالیہ کی طرح ان کی صفات کا بھی بیان ہے۔ آپؐ کی جاے پیداش، جاے ہجرت اور اقتدار کی توسیع کا آغاز   جس ملک سے ہوتا ہے، اس کا تذکرہ ہے۔ آپؐ کی شانِ کریمی اور اسوئہ حسنہ کا بیان ہے۔ آپؐ کی اُمت کی حمدوثنا، ان کی تلاوت،ان کی دعائوں،  ان کی صف بندیوں کا تذکرہ ہے۔ یہ چیز ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم ان صفات کو اپنائیں، اپنا لباس اور وضع قطع کو اس کے مطابق درست کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کے لباس کو اپنا لباس بنانے سے نہ شرمائیں بلکہ اسے اپنے لیے عزت کا لباس سمجھیں۔ مغرب زدگی کی بیماری سے نکل آنے کی کوشش کریں۔

o

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ مجھے حضرت عمرؓ نے یہ واقعہ سنایا کہ جب خیبر کی جنگ ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ آئے اور کہنے لگے: فلاں آدمی شہید ہے، فلاں آدمی شہید ہے (مختلف آدمیوں کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا)۔ یہاں تک کہ ایک آدمی پر گزر ہوا تو کہا: یہ فلاں بھی شہید ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات سنی تو فرمایا: ہرگز نہیں ، میں نے اسے ایک چادر میں جلتے ہوئے دیکھا ہے جسے اس نے خیبر کے دن چرایا تھا۔   پھر آپؐ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا: خطّاب کے بیٹے! جائو لوگوں میں تین دفعہ اعلان کرو کہ جنت میں نہیں داخل ہوں گے مگر ایمان والے۔ تب میں نکلا اور لوگوں میں تین دفعہ اعلان کیا کہ جنت میں نہیں داخل ہوں گے مگر ایمان والے۔(مسلم)

ایک آدمی جو اللہ کی راہ میں جان لڑا رہا ہے، جان قربان کر دیتا ہے، اس کے بارے میں ہم کوئی قطعی حکم نہیں لگا سکتے، یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ جنتی ہے۔ اس نے اللہ کی راہ میں جامِ شہادت نوش کر لیا ہے۔ اگرچہ ظاہراً وہ شہید ہے لیکن کیا عنداللہ بھی وہ شہید ہے؟ اس بارے میں کوئی آدمی بھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہاں، اللہ تعالیٰ کا نبیؐ اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر فرما سکتے ہیں کہ فلاں شہید ہے لیکن دوسرا کوئی ایسی بات کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ نیز اگر اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے کے ساتھ بندوں کے حقوق میں سے کوئی حق کسی نے مارا ہو تو اسے بندوں کا حق ادا کرنا پڑے گا یا ان سے حق معاف کرانا پڑے گا۔ لیکن ایک حق ایسا ہے جسے معاف کرانا بڑا مشکل ہے وہ مشترکہ مال میں خیانت ہے، جیسے مالِ غنیمت یا دوسرا کوئی مال جو سرکاری خزانے سے کسی نے چرایا ہو، خیانت کی ہو، کرپشن کی ہو۔ اس حق میں بے شمار لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اسی لیے اسے معاف کرانا بڑا مشکل ہے۔ سرکاری خزانے میں کرپشن کرنے والے اس دنیا میں کرپشن واپس کر کے معافی حاصل کرسکتے ہیں لیکن آخرت میں ان کے لیے معافی پانا ناممکن ہوگا، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی آدمی کے کسی عمل سے خوش ہوجائیں اور اس نے جو بندوں کا حق مارا ہے اللہ تعالیٰ بندوں سے معاف کرا لیں اور انھیں اپنے پاس سے ان کا حق ادا کردیں۔ لیکن ایسا پارسا اور ایسی نیکی کرنے والا کون ہوسکتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ یہ مہربانی کرے۔ لہٰذا کرپٹ لوگ خوف کریں، بندوں کی حق تلفی کا ازالہ اپنی زندگی میں جس قدر جلدی کرسکتے ہوں کرلیں۔ اللہ توفیق عطا فرمائے۔

o

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب (تحریر) لکھی ہے: ان رحمتی سبقت غضبی ’’یقینا میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے‘‘۔ اور وہ تحریر اللہ تعالیٰ کے پاس اس کے عرش پر ہے۔(متفق علیہ)

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر مہربان ہے، وہ رحمن ہے۔ اس نے اپنی مخلوق کو ہر طرح کی نعمتوں اور ضروریات سے نوازا ہے، وہ ان کا پالنے والا ہے۔ ہر ایک کو رزق دیتا ہے۔ صحت و عافیت سے نوازتا ہے، زندگی عطا فرماتاہے۔ وہ تکوینی اور طبعی دائرے میں بھی رحمن ہے اور انسانوں پر تشریعی دائرے میں بھی رحمن ہے۔اس نے انبیا علیہم السلام کے ذریعے جو نظام بھیجا ہے، وہ نظامِ رحمت ہے۔ اس نظام کے عقائد، افکار و نظریات، عبادات، معاشرت، معیشت، سیاست، حکومت، عدالت وغیرہ زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں اس کے تمام احکام رحمت ہیں۔ اس کے ہاں نیک و بد برابر نہیں ہیں، نیکی اور بدی برابر نہیں ہے۔ وہ عبادت گزاروں اور فرماں برداروں کی قدر کرتا ہے اور شرپسندوں، مجرموں، چوروں اور ڈاکوئوں کو سزائیں دیتا ہے۔ ان کو سزائیں نہ دی جائیں، قید نہ کیا جائے، کوڑے نہ لگائے جائیں،  سنگسار نہ کیا جائے تو معاشرہ فتنے اور مصیبت سے دوچار ہوجائے۔ قتل و غارت گری سے دوچار ہوجائے۔ اس لیے جہا ں نیکوں کے لیے ثواب ہے وہاں فساق و فجار کے لیے سزائیں بھی ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق شر و فساد اور ظلم و جور سے محفوظ ہوجائے۔ بہت سے لوگ سزائوں کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی بنا پر جرائم اور مجرموں کی مذمت کے بجاے مجرموں کے لیے شرعی سزائوں کی مذمت کرتے ہیں۔ شعوری یا غیرشعوری طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے نظام کی توہین کرتے ہیں۔ ایسے لوگ معاشرے کے لیے بہت بڑا ناسور ہیں۔ ان کی ہدایت کے لیے منظم انداز میں جدوجہد کرنا چاہیے۔

o

حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: معاذ! میں تجھ سے محبت رکھتا ہوں۔ اس پر میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں بھی آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بھی نماز کے بعد ان کلمات کو نہ چھوڑو۔ اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ،’’اے اللہ! میری مدد فرما کہ میں تیرا ذکر کروں،  تیرا شکر ادا کروں اور تیری خوب صورت عبادت کروں‘‘۔ (ابوداؤد ، نسائی)

نبی کریمؐ کو اپنے تمام صحابہ سے محبت تھی اور صحابہ کرامؓ کو بھی آپؐ سے محبت تھی۔ نبی کریمؐ نے اپنے تمام صحابہؓ سے اپنی محبت کا اظہاروقتاً فوقتاً کیا اور بعض صحابہؓ سے انفرادی طور پر اپنی محبت کا اظہار فرمایا ہے۔ اس موقعے پر نبی کریم ؐ نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے محبت کا اظہار فرمایا۔ اس محبت کا تقاضا تھا کہ آپؐ حضرت معاذؓ کو کوئی خاص تحفہ عنایت فرمائیں۔ چنانچہ آپؐ نے ایسا تحفہ عنایت فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور جملہ احکام کی پیروی اور قربِ الٰہی کی منزلیں طے کرنے میں نسخۂ کیمیا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہے وہ اس ذکر کو اپنی زندگی کا وظیفہ بنا لے۔