۲۰۱۶ فروری

فہرست مضامین

رسولِ اکرمؐ کا فلسفۂ تعلیم

پروفیسر عبدالقدیر سلیم | ۲۰۱۶ فروری | اسوۂ حسنہ

صحابہ کرامؓ کی ایک مجلس میں، جہاں بہت سے صاحب ِ علم جوان اور معمراصحاب حاضر تھے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ اپنے ساتھیوں سے گفتگو فرماتے ہوئے آپؐ نے پوچھا: بھلا وہ کون سا درخت ہے، جس کے پتّے جھڑتے نہیں، اور جو مومن سے مشابہت رکھتا ہے؟ مجلس میں جتنے لوگ بیٹھے تھے، وہ مختلف جنگلی درختوں کے بارے میں سوچنے لگے، کسی نے کوئی درخت بتلایا، اور کسی نے دوسرا، مگر آپؐ نے ان سب سے انکار کیا۔ حاضرین مجلس میں حضرت عمرؓ کے کمسن صاحب زادے حضرت عبداللہؓ بھی بیٹھے تھے۔ اس واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ میرے ذہن میں آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہوگا۔ لیکن میری عمر بہت کم تھی، اس لیے مجھے بڑی عمر کے بزرگوں کے سامنے بولنے کی جرأت نہ ہوئی، اور میں خاموش رہا۔جب کوئی اس سوال کا صحیح جواب نہ دے سکا ، تو لوگوں نے عرض کیا کہ حضوؐر ہی بتا دیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔

اس تمثیلی سوال سے آپؐ یہ بتلانا چاہتے تھے کہ کھجور کا درخت ایک ایسا درخت ہے ، جس میں سراسر بھلائی ہی بھلائی ہے۔ وہ سایہ بھی دیتا ہے اور اس کا پھل بھی کھایا جاتا ہے، گٹھلیاں اُونٹوں کے کام آتی ہیں، پتّیوں سے چٹائیاں بنائی جاتی ہیں، تنے اور شاخیں مکان کی تعمیر وغیرہ کے کام آتی ہیں، اور انھیں ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ غرض یہ درخت ہرپہلو سے نفع ہی کا باعث ہے، اور اس کی کوئی چیز بے کار نہیں۔ پھر اس کی ضروریات بھی محدود ہیں۔ نسبتاً ناموافق آب و ہوا اور نامساعد حالات میں بھی نشوونما پاتا اور پھلتا پھولتا ہے، اور کبھی عریاں نہیں ہوتا۔

یہی حال مسلمان کا ہے۔ اس کی زندگی اور شخصیت، اس کے اقوال اور افعال، کوئی بے کار اور بے معنی نہیں۔ وہ دوسروں کا مددگار اور ان کے دُکھ سُکھ میں شریک ہوتا ہے۔ دنیا کے لیے اس کا وجود سراسر رحمت کا باعث ہوتا ہے، زحمت کا نہیں۔ دوسروں کو اس سے نفع ہی پہنچتا ہے۔ جو ہدایت اُسے مل چکی ہے، وہ دوسروں کو بھی اس سے ہم کنار دیکھنا چاہتا ہے،اور مرنے کے بعد بھی اس کا فیض جاری رہتا ہے، کیوں کہ اس نے دنیا میں جو اچھے کام کیے ، لوگوں کو کوئی اچھی بات بتائی یا کسی کے کام آیا، اس کے اچھے نتائج جاری رہتے ہیں۔ نیک لوگوں اور بھلائی کے کام کرنے والوں کی مثال قرآنِ مجید میں کلمۂ طیّبہ، یعنی پاکیزہ بات سے دی گئی ہے۔ گویا وہ ایک پاکیزہ درخت ہے، جس کی جڑ مضبوط ہے، اور شاخیں آسمان میں پھیلی ہوتی ہیں، اور وہ ہمیشہ پھل دیتا رہتا ہے، یعنی اس کی فیض رسانی جاری ہے اور کبھی منقطع نہیں ہوتی۔ کھجور کے درخت کی طرح مسلمان کی دُنیوی ضروریات بھی بڑی محدود ہیں۔ وہ نامساعد حالات میں زندگی گزار لیتا ہے۔ تو یہ ایک تمثیل تھی، جو صحابہ کی ایک مجلس میں حضور اکرمؐ نے بیان کی۔ ابن عمرؓ جو اس واقعے کے راوی ہیں، تمام عمر افسوس کرتے رہے کہ وہ خاموش کیوں رہے ، اور اپنے خیال کو ظاہر کیوں نہ کر دیا۔

تعلیم کے بنیادی مباحث

تعلیم کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ہمارا ذہن اس کے تین بنیادی مباحث کی طرف منتقل ہوتا ہے، اور وہ ہیں: مقاصد تعلیم، طریق تعلیم اور نظامِ تعلیم۔ ابھی جس تمثیل کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد ِ تعلیم، طریقِ تعلیم اور نظامِ تعلیم تینوں پر روشنی پڑتی ہے۔ یہاں تعلیم کا مقصد اپنے مخاطبین میں ایک مفید اور بامقصد زندگی کا شعور پیدا کرنا ہے، چاہے حالات اس کے لیے نامساعد ہی کیوں نہ ہوں۔ طریق تعلیم ایسا ہے کہ تلامذہ میں دل چسپی پیدا ہوجائے، اور وہ معلومات کے منفعل وصول کنندہ نہ بن جائیں۔ مجرد تصورات کے بجاے محسوس اور مانوس مثال سے مطلوبہ پیغام پہنچا دیا گیا۔ جہاں تک نظامِ تعلیم کا تعلق ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ وہ غیررسمی ہے۔ یہاں کوئی کمرئہ جماعت، مقررہ نصاب اور عمر کے لحاظ سے شاگردوں کی درجہ بندی نہیں ہے۔

نبی اکرمؐ کا طریقِ تعلیم

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ صرف طریق تعلیم آپؐ کے عہد کے تعلیمی طریقوں سے مختلف تھا، بلکہ آپؐ کی تعلیم کے مقاصد بھی عام مقاصد سے قطعی مختلف تھے، اور اس لیے یہ بات بھی بالکل فطری ہے کہ آپؐ کا نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم بھی مروجہ تعلیمی ڈھانچے سے ہٹ کر تھا۔ اگرچہ آپؐ کی ذات ہمہ پہلو اور ہمہ صفات تھی تاہم آپؐ کی بنیادی حیثیت ایک معلّم کی تھی۔ اِسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا ’’میں تو دراصل معلّم بناکر بھیجا گیا ہوں‘‘۔

یہ حیثیت حضراتِ ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ کی دُعا کے عین مطابق تھی کہ: ’’اے آقا، ان لوگوں میں انھی میں سے ایک رسول مبعو ث فرما جو انھیں تیری آیات سنائے، اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے، اور اُن کا تزکیہ کرے۔ تو ہی طاقت ور اور عقل مند ہے‘‘۔ (البقرہ۲:۱۲۹)

اس تناظر میں عرب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا واقعہ تاریخ انسانی کا ایک عجیب واقعہ ہے۔ عرب اس وقت کی معلوم اور معروف دنیا کا پس ماندہ ترین خطہ تھا۔ یہاں کے باشندے زیادہ تر جاہل اور خواندگی سے ناآشنا تھے۔ پھر انسانوں کو علم و حکمت سے بہرہ ور کرنے کے اس عظیم اعزاز کے لیے جس ذات کو منتخب کیا گیا، اس نے کسی بھی انسان کے سامنے زانوے تلمذ تہہ نہ کیا تھا، نہ کسی سے کچھ سیکھا ہی تھا۔ محمد رسولؐ اللہ کے بڑے معجزوں میں سے ایک یہ ہے کہ آپؐ ’اُمّی‘ تھے، یعنی ناخواندہ لیکن آپؐ نے دنیا کا عظیم ترین علمی، فکری اور تمدنی انقلاب برپا کیا، جس کے آگے سیاسی اور عسکری فتوحات ثانوی حیثیت اختیار کرجاتی ہیں، اور پھر آپؐ سے کسب ِ فیض کرنے والوں، آپ کے متعلّموں نے بھی علم و تہذیب کی دنیا پر نہ مٹنے والے نقوش ثبت کیے۔

قرآنِ مجید میں اسے اللہ کے انعام کے طور پر گنوایا گیا ہے کہ اس نے جاہلوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک ایسے رسولؐ کو مبعوث کیا، جو ان تک اس کے احکام پہنچاتا ہے۔ ان کی زندگی کو پاکیزہ بناتا ہے، اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تعلیم کا مقصد یا مقاصد، کیا ہیں؟

مقاصدِ تعلیم اور تعلیمی نظریات

مقاصد ِ تعلیم کو ہم دو خانوں میں تقسیم کرسکتے ہیں: فوری مقاصد، جیسے کسی حرفت یا مہارت کا حصول، کسب ِ معاش کے لیے افراد کو تیار کرنا یا قومی سطح پر مادی اور تمدنی ضروریات کی تکمیل۔ دوسری طرف تعلیم کے کچھ اصل اور بنیادی مقاصد بھی ہوسکتے ہیں، جن میں ہم فرد کی فلاح و بہبود اور معاشرے میں امن و ہم آہنگی اور خیر کی ترویج کو شامل کرسکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا تعلق فوری مقاصد سے نہیں بلکہ بنیادی مقاصد سے تھا۔ اس سلسلے میں آپؐ کے فلسفۂ تعلیم کو حکما کے قدیم و جدید تعلیمی نظریات کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔

حکماے قدیم میں افلاطون نے مقصد اور طریق تعلیم کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ اس کے نزدیک تعلیم کا بنیادی مقصد ریاست کے لیے محافظین تلاش کرنا اور انھیں کاروبارِ مملکت چلانے کے لیے تیار کرنا ہے۔ اس کی مثالی ریاست ایک اشرافیہ تھی۔ اشراف کے اس طبقے کی پرورش و پرداخت اس کی تصنیف جمہوریہ کا بنیادی موضوع ہے۔ ارسطو کے نزدیک، ریاست اور فرد دونوں کی تعلیم و تربیت کا بنیادی مقصد حصولِ مسرت ہے۔ ظاہر ہے کہ تعلیم کے یہ مقاصد بہت محدود ہیں۔ ساری کی ساری آبادی کو محض حکمران اشراف کی تلاش میں کھنگال ڈالنا اور سارے نظامِ تعلیم کی اسی ایک محور کے گرد گردش، معاشرے کے سارے طبقوں کے ساتھ انصاف کا تصور  نہیں دیتی۔ پھر حصولِ مسرت، اس میں شک نہیں کہ انسانی زندگی کے بنیادی داعیوں میں سے ہے، لیکن اس پر ضرورت سے زیادہ اصرار اور اسے ساری مساعی کا مرکز بنادینے سے نہ صرف ایک غیرمتوازن معاشرہ وجود میں آئے گا بلکہ وہ سارے سوال بھی پیدا ہوجائیں گے جو فلسفۂ مسرت کے ضمن میں عام طور پر اُٹھائے جاتے ہیں، مثلاً کس کی مسرت کا حصول مقصد ہونا چاہیے، اور پھر یہ کہ مسرت کی بھی اعلیٰ اور اسفل کئی اقسام ہوتی ہیں، کون سی مسرت کا حصول مطلوب ہے؟ وغیرہ۔

عہدِ جدید کے مشہور فلسفیِ تعلیم جان ڈیوی نے تعلیم کے مقصد کو عملی قرار دیا ہے۔ اس کے خیال میں تعلیم کا مقصد فرد کی نشوونما کے سوا کچھ اور نہیں مگر سوال یہ ہے کہ نشوونما کس سمت میں؟ نشوونما براے حصولِ مقاصد۔ یہ ٹھیک ہے مگر مقاصد اچھے، بُرے اور بے رنگ بھی ہوسکتے ہیں۔ دراصل ڈیوی کا نقطۂ نظر انیسویں صدی کی اس اندھی رجائیت کی پیداوار ہے، جس کے مطابق ارتقا (evolution) اور ترقی (progress) خود ’قدر‘ کی حیثیت رکھتے ہیں، اور اُنھیں مزید کسی اور پیمانے سے ناپنے کی ضرورت نہیں۔ تعلیم کے اس تصور نے مغربی ملکوں میں بے مقصد ترقی اور اس سے پیدا ہونے والی اُکتاہٹ، خلفشار اور تباہی کو جنم دیا ہے۔ دوسری طرف تعلیم کے اس تصور سے پس ماندہ ملکوں اور معاشروں میں ایک بے اطمینانی اور احساسِ محرومی کا دریچہ بھی کھل گیا ہے۔

تعلیم کے اس نام نہاد ’آزاد‘ تصور کے مقابلے میں اشتراکی فلسفۂ تعلیم کا مقصد انسان، سماج اور کائنات کے سلسلے میں مادی جدلیت کے نقطۂ نظر کا فروغ اور ایک ایسے معاشرے کا قیام ہے، جہاں فرد اپنی شخصی آزادی اور ارتقا ے ذات کے بجاے معاشرے میں معاشی اور مادی اقدار کے خالق کی حیثیت سے پروان چڑھے۔ یہاں بھی تعلیم کی کامیابی یہ ہے کہ کوئی فرد مادی تصور میں اضافے کے لیے اپنا کردار کتنے بہتر انداز میں ادا کرسکتا ہے۔ جدید سرمایہ داری سے اس کا کوئی نقطۂ تصادم ہے تو یہ کہ معاشرے میں فرد کے مقام اور کردار کے تعین کے سلسلے میں سرمایہ دار معاشرے میں جو یک گونہ آزادی نظر آئی ہے، وہ یہاں مفقود ہے۔ بہرحال دونوں نظام، فرد کی تعلیم و تربیت میں اس کے معاشی کردار کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ ان دونوں کے نزدیک اچھی تعلیم وہ ہے جو مفید شہری پیدا کرے، اور وہ معاشی اقدار کے خالق کی حیثیت سے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ دونوں، انسانوں کو بنیادی طور پر ایک ’معاشی حیوان‘ قرار دیتے ہیں، اشیا اور خدمات کا پیدا کنندہ اور صَرف کنندہ۔پھر اشیا اور خدمات میں بھی ضروری اور غیرضروری کے درمیان کوئی واضح خطِ امتیازنہیں، کیوں کہ ایک ترقی پذیر معاشرہ وہ بتلایا جاتا ہے، جہاں نت نئی اشیا اور خدمات کی ’ضرورت‘ پیدا کردی جائے (چاہے وہ کتنی ہی مصنوعی ہو)، اور پھر ان کی تسکین کا اہتمام ہو۔

اسلام کا تصورِ تعلیم

اسلام مادی اقدار اور اشیا سے الرجک نہیں، اور نہ عالمِ مادّی کو فی نفسہٖ شر پر مبنی ہی قرار دیتا ہے۔ دوسرے مذاہب کے برخلاف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا، اس کی متاع اور لذات سے بھاگنے کی تعلیم نہیں دی۔ تاہم متاعِ دنیا کی ہوس کو ضرور قابلِ مذمت ٹھیرایا ہے اور غیرضروری ’ضروریات‘ سے نفرت پیدا کی ہے۔ حضور اکرمؐ کا یہ ارشاد اس سمت اشارہ کرتا ہے کہ ابن آدم کو کوئی چیز مطمئن نہیں کرسکتی، اگر اس کے پاس دو وادیوں جتنا مال و دولت ہو، تو وہ خواہش کرے گا کہ کاش مال سے بھری ہوئی ایک اور وادی ہوتی۔ ہاں، اس کا پیٹ اگر کوئی چیز بھر سکتی ہے، تو وہ مٹھی بھر خاک ہے۔ نیز یہ کہ اللہ کے نزدیک دنیا کی وقعت مچھر کے ایک پَر جتنی بھی نہیں۔ حضور اکرمؐ فطرتِ انسانی کی گہری بصیرت رکھتے تھے۔ مناسب تعلیم و تربیت کے بغیر انسان کو لذت کوش معاشی حیوان بننے سے نہیں روکا جاسکتا۔ آپؐ اس کا پورا پورا شعور رکھتے تھے اور معاشرے پر اس کے مضمرات آپؐ پر عیاں تھے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ دو بھوکے بھیڑیے جن کو بکریوں پر چھوڑ دیا جائے اتنا نقصان نہیں پہنچاتے، جتنا انسان کی طلب ِ دولت و جاہ اس کے دین کو نقصان پہنچاتی ہے۔

ہوس اور افراط و تفریط سے قطع نظر اسلام نے پاک چیزوں اور اللہ کی بنائی ہوئی نعمتوں سے فرار کو زندگی کا نصب العین کبھی قرار نہیں دیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان قابلِ غور ہے کہ ساری دنیا میرے لیے مسجد بنائی گئی ہے۔ گویا پہلے بعض مذاہب کے ماننے والوں کے لیے جس طرح عبادت گاہ ’پاک‘ اور اس سے باہر کی فتنہ پرور دنیا ’ناپاک‘ تھی، اسلام نے اس دوئی کو ختم کرکے ساری دنیا کو اللہ کی عبادت گاہ بنا دیا۔ اس طرح دین و دنیا کی تفریق ختم کر کے، یہاں بھی وحدت کا ایک تصور پیش کیا گیا، جو تصورِ توحید الٰہیہ کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ تاہم، جیساکہ ہم دیکھ چکے ہیں، دنیا اور متاعِ دنیا کو مقصود نہیں بنایا گیا، بلکہ انھیں مقصود کے تابع کر دیا گیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ مقصود کیا ہے ، اور کس طرح فرد اور معاشرے کی تعلیم و تربیت اس مقصود کے محور پر گردش کرتی ہے۔

مقصدِ زندگی کا تعین

قرآنِ مجید، انسان کو زمین پر اللہ کا خلیفہ اور نائب قرار دیتا ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انسان کے ذمے یہ فریضہ عائد کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی منشا اور اس کی مرضی کے مطابق اس دنیا اور کائنات پر حکمرانی کرے۔ یوں تعلیم کا مقصد یہ قرار پاتا ہے کہ وہ انسان کو اللہ کی نیابت اور کائنات پر تصرف کے لیے تیار کرتی ہے۔ اب چوں کہ نیابت اور خلافت ِ الٰہی کسی فرد یا گروہ تک محدود نہیں کی گئی، بلکہ پوری نسلِ انسانی کو یہ اعزاز بخشا گیا ہے، اس لیے تعلیم کا پہلا کام یہ ہوگا کہ افراد، اور پوری نسلِ انسانی میں نیابت و خلافت کا شعور، اس کی ذمہ داریاں، فرائض اور مطلوبات کا واضح تصور پیدا کیا جائے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہیے کہ تعلیم،انسان کو کائنات میں اپنا صحیح مقام متعین کرنے اور اُسے اپنے کردار سے آگاہی حاصل کرنے میں مدد دے گی۔ انسان کے اس کردار کا تعین خود قرآن کردیتا ہے، جس کے مطابق اپنی مرضی کو منشاے الٰہی کے تابع کرلینا ہی اسلام ہے، جس کی ضد کفر و گمراہی ہے: اور جو اللہ کے نازل کردہ احکام و ہدایت کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔

کائنات میں اپنے مقام کا شعور تعلیم کا بنیادی مقصد ہے۔ نہ صرف قرآن میں جگہ جگہ اس بنیادی مسئلے کی طرف مختلف انداز میں توجہ دلائی گئی ہے ، بلکہ حضور اکرمؐ، آغازِ دعوت سے آخری وقت تک بار بار اس تصور کا اعادہ فرماتے رہے۔ آپؐ کی یہ غالباً پہلی ہی تقریر ہے، جس میں آپؐ نے ایک مجمعے میں نہایت اختصار اور وضاحت کے ساتھ تعلیم و تربیت کی اس اساس کو بیان فرما دیا: ’’تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، میں اس کی تعریف بیان کرتا ہوں، اس سے مدد کا طالب ہوں، اُس کی پناہ لیتا ہوں، اور اُس پر بھروسا کرتا ہوں۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔

’’اس میں شک نہیں کہ قافلے کا پیش رو اپنے ساتھیوں سے جھوٹ نہیں بولتا۔ اور خدا کی قسم! اگر میں تمام انسانوں سے جھوٹ بولتا بھی ہوتا، تو تم سے جھوٹ نہ بولتا۔ اور اگر میں تمام انسانوں کو دھوکا دیتا بھی ہوتا، تو تمھیں دھوکا نہ دیتا۔

’’قسم ہے اس خدا کی! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں تمھاری طرف خصوصاً اور دوسرے تمام انسانوں کی طرف اللہ کا پیغام پہنچانے والا ہوں۔

’’خدا کی قسم! جس طرح تمھیں نیند آتی ہے، اُسی طرح [ایک دن] تم ضرور مرو گے، اور جس طرح [نیند کے بعد] تم جاگ اُٹھتے ہو، اُسی طرح تم دوبارہ ضرور اُٹھائے جائو گے۔ تم جو کام کرتے ہو، ان کا تم سے حساب ضرور لیا جائے گا، اور تمھیں اچھے کاموں کا اچھا بدلہ اور بُرائی کا بُرا بدلہ ضرور ملے گا۔ اور یہ بدلہ یا تو ہمیشہ رہنے والی جنت ہوگا، یا ہمیشہ کی آگ…‘‘۔

فرد کی تربیت

کائنات اور انسانی زندگی کی حقیقت سے آگاہی اگر تعلیم کا بنیادی مقصد ہے تو انسان کو اس مقام کے مناسب عمل کے لیے تیار کرنا، فطری طور پر، تعلیم کا دوسرا بنیادی مقصد قرار پائے گا۔ اپنے پیروکاروں کے سلسلے میں حضورِ اکرم ؐ کی کاوش و کوشش کا ہدف یہی نظر آتا ہے۔ تعلیم کا یہ عملی اور اخلاقی پہلو سرمایہ دارانہ جمہوری فلسفۂ تعلیم کے خلاف پڑتا ہے، جس کی نمایندہ فکر جان ڈیوی کے ہاں ملتی ہے۔ جان ڈیوی کے نزدیک جمہوری رہنمائی، تعلیم کا جوہر ہے، جب کہ حضور اکرمؐ نے الہامی رہ نمائی کو معیارِ عمل قرار دیا۔ غیرمذہبی جمہوری معاشرے میں ایک فرد، یا معاشرے کا دوسرے فرد کے رویّے اور طرزِ حیات کو کنٹرول کرنا نامناسب خیال کیا جاتا ہے۔ وہاں مثالی معاشرہ وہ ہے ،جہاں ہرشخص اپنے لیے غایتیں متعین کرسکتا ہے، ان کے حصول کے لیے ذرائع منتخب کرسکتا ہے، اور اپنے افعال کی خود ہی رہ نمائی کرسکتا ہے۔ آزادی کا یہ تصور بظاہر بڑا خوش نما معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کی کمزوری اس وقت واضح ہوجاتی ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ اپنی جائز و ناجائز خواہشات کے درمیان خط ِ امتیاز کھینچنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں۔ آپؐ کا قول ہے کہ عاقل اور محتاط وہ شخص ہے ، جو اپنے نفس کو بے حقیقت جانے [اور اُسے اپنے قابو میں رکھے] اور عاجز و درماندہ وہ ہے، جو اپنے نفس کی خواہشات کا غلام ہو، اور اس کے باوجود اللہ سے بھلائی کی آرزو کرے۔

تعلیم اور تزکیۂ نفس

اس لیے حضور اکرمؐ کی تعلیم کا تیسرا اہم مقصد تزکیۂ نفس تھا۔ تزکیۂ نفس کسی چیز کو صاف ستھرا کردینے اور نکھار دینے کو کہتے ہیں۔ قرآنِ مجید کے مطابق انسان میں خیر اور شر دونوں کی صلاحیت اور رجحان موجود ہے۔ چنانچہ کہا گیا ہے کہ ’’ہم نے انسان کو بہترین اندازے پر پیدا کیا، پھر اُسے پست ترین نشیبوں کی طرف لوٹا دیا، سواے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے‘‘(التین ۹۵: ۴-۶)۔ ایک دوسری جگہ انسان کو ’دو راستوں کی طرف‘ لے جانے کا ذکر ہے، ان میں سے ایک راستہ فلاح اور کامرانی کا ہے، اور دوسرا خُسران اور بربادی کا۔ دراصل انسان کے سارے محرکات اور جبلّتیں ہی اس کے رُتبے کی بلندی کا باعث ہیں، بشرطے کہ وہ اس کے قابو میں ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ کردار کی پختگی اور شرفِ انسانی، محرکات اور جبلّتوں کو قابو میں رکھنے اور انھیں حدود کو عبور کرنے سے روکنے ہی کا نام ہے۔ اس کے برخلاف کردار کی کمزوری جبلّتوں اور حیوانی خواہشات کے غلبے کا نام ہے۔ جب انسان ان کے ہاتھوں ایک بے بس کھلونا بن جاتاہے، تو انسانیت کے رُتبے سے گر کر اسفل حیوانات کی صف میں شامل ہوجاتا ہے۔ حضور اکرمؐ  کے مقاصد ِ تعلیم میں حیوانی محرکات پر قابو پانے کو بڑی اہمیت دی گئی۔ چنانچہ آپؐ نے خواہشات کی اندھی پیروی، ظلم، قتلِ نفس، تکبر، غرور، دوسروں کی تحقیر اور استہزا، بسیارخوری، بے لگام جنسی تسکین، بے حیائی، فضول خرچی، بخل، غصے اور بزدلی کی بار بار مذمت کی، اور ان سے بچنے کی ہدایت فرمائی۔

تزکیۂ نفس، دراصل زبانی ہدایت اور تلقین کے بجاے ایک عملی پروگرام کا تقاضا کرتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے وسیع مفہوم میں دیکھیں تو ساری اسلامی عبادات کسی نہ کسی طرح نفس، جبلّتوں یا محرکات پر قابو پانے کی مشقیں ہیں۔ فجر کو جب نیند کا غلبہ ہوتا ہے، تو نماز کے لیے بیدار کردیا جاتا ہے، اور اس کے لیے رغبت یوں دلائی جاتی ہے کہ جس نے عشاء اور فجر کی نماز جماعت سے ادا  کرلی، اس نے گویا ساری رات عبادت میں گزاری۔ اسی طرح ظہر، عصر اور مغرب کی نمازیں ہیں، کہ ان اوقات میں لوگ اکثر اپنے کاروبار یا تفریح میں مصروف ہوتے ہیں، اور معاً نماز کا وقت ہوجاتا ہے اور اللہ کے ذکر کی طرف بلا لیا جاتا ہے، اگرچہ یہ نفس کے داعیات کو کتنا ہی نامرغوب ہو۔ ماہِ رمضان میں نہ صرف بھوکا پیاسا رکھا جاتا ہے، بلکہ اس دوران نفس کے تمام داعیات پر بھی پابندی ہوتی ہے۔ حج تو سراسر جسمانی مشقت اور راحت و آرام کی قربانی کا نام ہے۔ زکوٰۃ کی ادایگی فرض کر کے مال کی محبت کا امتحان لیا گیا، اور خیرات و صدقات کے فضائل بتلا کر بخل کا علاج کیا گیا۔ جہاد کے ذریعے نہ صرف آرام و راحت تج دینے بلکہ تکلیف و مشقت برداشت کرکے صبر کرنے، حتیٰ کہ جان تک قربان کردینے پر آمادہ کیا گیا۔ ان تمام عبادات میں سے کوئی ایسی نہیں، جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی کثیر تعداد کے ساتھ خود حصہ نہ لیا ہو۔ اس طرح عملی تعلیم و تربیت کے نتیجے میں انسانوں کا جو گروہ تیار ہوا اس کے سبھی افراد اپنی جگہ نہایت پختہ کردار کے مالک اور نکھری ہوئی شخصیت رکھنے والے لوگ تھے،  جن کا کردار خود دوسروں کے لیے نمونہ تھا۔

شخصیت کی تعمیر

حضور اکرمؐ کی تعلیم کا ایک اہم مقصد فرد کی تمام صلاحیتوں کا بھرپور نشوونما تھا۔ ہر انسان میں تمام صلاحیتیں یکساں نہیں ہوتیں۔ کوئی مردِ میدان اور اچھا سپاہی ہوتا ہے، اور کوئی علم و قلم کا دھنی۔ کوئی اچھا منتظم ہوتا ہے اور کوئی اچھا مُبلّغ اور استاد۔ تاہم، آپؐ نے صحابہ کی سبھی بنیادی صلاحیتوں کی نشوونما کا اہتمام فرمایا۔ جنگوں میں اکثر کوئی استثنا نہ ہوتا تھا، اور سبھی بالغ اور صحت مند مرد شریکِ جہاد کیے جاتے تھے۔ بغیر کسی عذر کے شریکِ جنگ نہ ہونے والوں سے سختی سے بازپُرس کی گئی۔ مقصد یہ تھا کہ بنیادی جنگی مہارت و کارکردگی سے کوئی محروم نہ رہے۔ اس طرح پیشہ ور سپہ گروں سے قطع نظر پوری قوم کی عسکری تربیت کا اہتمام کیا گیا۔ اسی طرح طلب ِ علم اور حصولِ علم میں بھی کوئی استثنا نہ برتا گیا، جب ارشاد ہوا کہ علم حاصل کرنا ہرمسلمان پر فرض ہے۔ چوں کہ نماز میں قرآن کی کچھ نہ کچھ تلاوت کی جاتی ہے، اس لیے کسی نہ کسی حد تک تعلیم کتاب بھی سبھی مسلمانوں پر فرض قرار پائی۔ ہرشخص کو اپنے زیردستوں کا ذمہ دار منتظم (راعی) قرار دے کر سبھی پر یہ فرض عائد کیا کہ اپنی رعایا، حکومتوں، سپاہ، زیرکفالت افراد، بیوی بچوں وغیرہ کی دیکھ بھال اور فلاح و بہبود کا خیال رکھیں۔ اسی طرح ہرشخص پر دین کی تبلیغ فرض کی گئی، چاہے وہ ایک آیت جیسا فقرہ ہی کیوں نہ ہو۔ افراد میں قابلیت و صلاحیت کے اختلاف کے باوجود ان کی شخصیت کی ہمہ گیر تعمیر کا یہ پروگرام دراصل ایک نادر مقصد اور طریق کی پیداوار ہے، جس کی دنیا کے کسی اور نظامِ تعلیم میں مثال نہیں ملتی۔

فرد اور معاشرے کی تعمیر

کائنات اور انسان کا واضح شعور رکھنے والے، نفس پر قابو یافتہ، صاف ستھرے اور پاک باز لوگ،جو علم کے طالب اور جہل سے گریزاں ہوں، جن کا مقصد ِ زندگی ان کی فطرت میں واضح طور پر متعین ہو، ان کی صلاحیتوں کو مناسب انداز میں سینچا گیا ہو اور ان کی جبلّتوں اور خواہشوں کی احتیاط سے تراش خراش کی گئی ہو۔ ایسے ہی لوگ ایک مناسب اور ہم آہنگ معاشرے کی تعمیر کرسکتے ہیں۔ یہ معاشرہ مجموعی طور پر تناقض اور تضادات سے پاک ہونا چاہیے۔ اور اگر ایسے معاشرے کی تعمیر کو بھی ہم تعلیم کے مقاصد میں سے ایک مقصد شمار کرلیں، تو ہم دیکھیں گے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کا یہ مقصد بھی نہایت خوش اسلوبی سے حاصل کرلیا تھا۔

مدینہ میں آپؐ نے جو معاشرہ تشکیل دیا،اس میں سبھی درجاتِ زندگی سے تعلق رکھنے والے مختلف قبیلوں، اور مختلف معاشی اور مالی حیثیتوں کے افراد شامل تھے۔ یہاں کاشت کار بھی تھے، اور صنّاع بھی، تاجر بھی تھے اور استاد بھی، غریب الدیار بے زر طلبہ بھی تھے اور امرا بھی، محنت کش مزدور بھی تھے اور آجر بھی۔ لیکن یہاں کوئی طبقاتی، لسانی، قبائلی کش مکش نظر نہیں آتی ۔ نہ آجر، مزدور کا حق مارتا ہے اور نہ مزدور آجر کے خلاف سرکشی پر آمادہ ہے۔ غریب اپنی محنت میں مگن ہیں، تو امرا اپنی دولت پر سانپ بن کر نہیں بیٹھے، بلکہ راہِ خدا میں بے دریغ خرچ کرتے ہیں: ’’اور ان کے مال و دولت میں سائل اور محروم کے لیے حق ہے‘‘ جسے وہ دل میں تنگی محسوس کیے بغیر ادا کرتے ہیں۔ یہاں دولت مند کی عزت اس کے مال کی بنا پر نہیں کی جاتی اور نہ غریب بے زری کی بنا پر بے وقعت ہے، بلکہ معیارِ عزت و تکریم، اللہ سے تعلق اور حُسنِ اخلاق ہے۔ عملاً ایک بلند اور پاکیزہ معاشرہ قائم کرکے دراصل حضور اکرمؐ نے مقصد ِ تعلیم کی اس بلندی کو چھو لیا، جو افلاطون سے لے کر آج تک کے فلاسفہ، معلمینِ اخلاق اور مفکرینِ سیاست کے لیے خوابِ گریزاں ہی رہی ہے۔ شاہ ولی اللہؒ اسے ’حصولِ سعادت‘ کا نام دیتے ہیں اور ایسے مثالی معاشرے کو مفید معاشرہ قرار دیتے ہیں۔