۲۰۱۶ فروری

فہرست مضامین

تحریک ِ اسلامی اور فکری چیلنج: چند گزارشات

عبدالرشید صدیقیo | ۲۰۱۶ فروری | بحث و نظر

  • ’تحریک اسلامی اور فکری چیلنج؟‘ (دسمبر ۲۰۱۵ئ)از سیّد سعادت اللہ حسینی بڑا فکرانگیز مقالہ ہے۔ امید ہے اہلِ دانش ان اُمور کی طرف توجہ فرمائیں گے جن کی نشان دہی کی گئی ہے۔ میرا یہ مقام نہیں کہ میں ان پر کوئی تبصرہ کرسکوں۔ صرف چند اہم مسائل کی طرف توجہ دلانی مقصود ہے جن کی تحریکی لٹریچر میں کمی محسوس ہوتی ہے۔

 دھریت اور تشکیک کا چیلنج:ایک اہم موضوع جس کی طرف توجہ کی ضرورت ہے وہ دہریت (Atheism) اور تشکیک (Agnosticism) ہیں۔ ان نظریات کے رد میں بہت کم لکھا گیا ہے۔ جو چیزیں لٹریچر میں موجود ہیں وہ ناکافی ہیں۔ خاص طور سے نئے چیلنج جو مغربی مفکرین نے بڑی شدومد سے اُٹھائے ہیں اور انھوں نے باقاعدہ دہریت کے پرچار کی تحریک چلائی ہے۔ ان کا مؤثر دلائل سے جواب نہیں دیا گیا ہے۔

دہریت کی ترویج و تبلیغ میں چند شخصیات کاخاصا نمایاں حصہ ہے۔ ان میں سب سے زیادہ پُرزور مبلغ رچرڈڈوکنس (Richard Dawkins)ہے جو اوکسفرڈ یونی ورسٹی میں پروفیسر رہ چکا ہے، اور مذہب کو دنیا کی سب سے بڑی بُرائی تصور کرتا ہے۔ اس کی کتاب The God Delusion  (خدا کا واہمہ) جو ۲۰۰۶ء میں شائع ہوئی اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب بن گئی اور نئی دہریت کی تحریک کی محرک بھی ثابت ہوئی۔ رچرڈ ڈوکنس بذاتِ خود اس تحریک کے فروغ میں سرگرم ہے۔ اس نے ۲۰۰۸ء میں لندن میں بسوں پر اشتہارات کے ذریعے دہریت کے پرچار کی مہم شروع کی تھی۔

اس سلسلے میں دوسرا اہم شخص کرسٹوفر ہٹ چنس(Christopher Hitchens) تھا جو اپنے آپ کو atheist (دہریہ) کہنے کے بجاے anti-theism کا مخالف کہتا تھا۔ اس لیے کہ theism (خدا پرستی) کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس کا کہنا تھا:’’جو چیز بغیر ثبوت کے مان لی جائے، وہ بغیر ثبوت کے رد کی جاسکتی ہے‘‘۔ اس کی کتاب God is not Great (خدا بالاتر نہیں ہے) جو ۲۰۰۷ء میں شائع ہوئی تھی کافی مقبول ہوئی جس میں اگرچہ تمام ہی مذاہب کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھالیکن خاص طور پر ابراہیمی مذاہب اس کا ہدف تھے۔ اس کی نظر میں یہ Axis of Evil (بُرائی کا محور) ہیں۔ اُس نے دہریت کے فروغ کے لیے جارحانہ رویہ اختیار کیا اور چیلنج کیا کہ وہ کسی بھی مذہبی اسکالر سے مناظرہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ۲۰۰۶ء میں جب ڈنمارک کے ایک اخبار نے نازیبا خاکے شائع کیے تھے تو اس نے ان کی حمایت میں ریلی نکالی تھی۔

دہریت کا تیسرا حامی مشہور سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ(Stephen Hawking) ہے جو پہلے تشکیک کا شکار تھا لیکن اب علانیہ دہریت کو قبول کرلیا ہے۔ اس کی ۲۰۱۰ء میں شائع ہونے والی کتاب The Grand Design(اعلیٰ ڈیزائن) میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کائنات کی تخلیق کے نظریے میں خدا کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ خدا کا کوئی وجود نہیں ہے اور نہ کائنات کو ہی کسی نے پیدا کیا ہے اور نہ کوئی ہماری تقدیر ہی بنارہا ہے اور مرنے کے بعد کوئی اور زندگی نہیں ہے۔

ان خیالات کی اشاعت کا نتیجہ یہ ہے کہ برطانیہ میں دہریت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ ۲۰۱۱ء کی مردم شماری میں وہ لوگ جنھوں نے اپنا کوئی مذہب نہیں بتایا ان کی تعداد ۱۰سال میں دگنی ہوگئی ہے۔ اب یہ لوگ ۱۴ملین سے زیادہ ہیں۔ اس طرح کُل آبادی کا ۱ئ۲۵، یعنی چوتھائی سے زیادہ تعداد میں ہیں۔ تقریباً اس طرح کی صورتِ حال دوسرے مغربی ممالک میں بھی ہے، لہٰذا یہ مسئلہ بڑی سنگین صورت اختیار کر رہا ہے۔

یہ مسئلہ اس لیے اور بھی ہمارے لیے قابلِ توجہ ہے کہ خود مسلمان نوجوانوں میں اس کے اثرات تیزی سے پھیل رہے ہیں اور وہ علانیہ یا خفیہ طور پر مرتد ہوکر اسلامی عقائد کے خلاف متحرک ہو رہے ہیں۔ برطانیہ میں چند سال قبل Council of Ex-Muslims (کونسل براے سابق مسلمان) قائم ہوئی تھی۔ اس کی ممبرشپ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ برطانیہ کے اخبارات اور ٹی وی پروگراموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان نوجوان اپنے خاندان کے دبائو کی وجہ سے علی الاعلان دہریت کا اظہار نہیں کر رہے ہیں۔ سائمن کوٹ(Simon Cottee) کی حالیہ کتاب The  Apostates: When Muslims Leave Islam (مرتدین: جب مسلمان اسلام ترک کردیتے ہیں) میں ان مشکلات کا تجزیہ کیا گیا ہے جو انھیں پیش آتی ہیں۔ اس ضمن میں اسلام میں مرتد کی سزا کا مسئلہ بھی زیربحث رہتا ہے۔ کونسل آف ایکس مسلمز کا اثر زیادہ تر یونی ورسٹی کے طلبہ میں ہے اور اب یہ وبا یورپ کے دیگر ممالک میں بھی پھیل رہی ہے، اور بہت سے ملکوں میں اس طرح کی کونسلیں بن گئی ہیں۔ اب ایک متحدہ ادارہ Central Council of Ex-Muslims کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ برطانوی کونسل کا ایک منشور (Manifesto) بھی ہے جس میں ۱۰نکات پر مشتمل اپنے حقوق کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ ان کا کلمہ یہ ہے: There is no God and Muhammad is not the Messenger of God (کوئی خدا نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول نہیں ہیں)۔ افسوس کہ مسلمان دانش وروں (بشمول تحریکِ اسلامی کے زعما) کی طرف سے ان نظریات پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ دہریت کی تردید ہی میں کچھ لکھا گیا ہے اور ارتداد کا مسئلہ بھی اسی طرح نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

  •  سیاسی حکمت عملی کا چیلنج:ایک اور ہم مسئلہ جس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ تحریک نے ہمیشہ صالح قیادت کو برسرِاقتدار لانے کی کوشش کو اپنا ہدف بنایا ہے اور اس کے لیے جمہوری طریقۂ کار سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی ہے۔اب تک کے نتائج ملے جلے ہیں۔ انڈونیشیا، سوڈان، مراکش اور ترکی کے تجربات میں روشنی کی کرن ہے لیکن دوسرے بیش تر ممالک میں حالات ایک دوسرا ہی نقشہ پیش کر رہے ہیں۔اس طریقۂ کار کے اختیار کرنے سے خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ تاہم مصر میں اخوان نے الیکشن میں اکثریت حاصل کر کے حکومت بنائی جو بمشکل ایک سال قائم رہ سکی اور فوج نے اسے برطرف کر دیا۔ اس سے پہلے الجزائر میں اسلامی قیادت کو کچل دیا گیا تھا۔ مسلم ممالک میں منصفانہ انتخابات ہونا تقریباً ناممکن ہیں ۔ یہ بات متعدد تجربات سے سامنے آئی ہے۔ بالفرض غیرمنصفانہ انتخابات کے باوجود بھی    اگر ایک اسلامی جماعت برسرِاقتدار آبھی جائے تو اسے زیادہ عرصہ ٹکنے نہیں دیا جائے گا۔ خرم مرادؒ کا تجزیہ ہے کہ ’’دنیا میں اسلام کی راہ میں سب سے زیادہ مزاحم بیوروکریسی، فوج اور سرمایہ دار طبقے کا متحدہ محاذ ہے‘‘(مسائل و افکار، ص ۴۹)۔ مولانا مودودیؒ کا بھی یہی نظریہ ہے: ’’اب مسلمان ملکوں کے لیے ان کی فوجیں ایک مصیبت بن چکی ہیں… اب مسلمان ملکوں کی قسمتوں کے فیصلے انتخابات یا پارلیمنٹوں میں نہیں بلکہ فوجی بیرکوں میں ہو رہے ہیں‘‘۔(’دنیاے اسلام کی موجودہ حالت‘، ترجمان القرآن، جون ۱۹۶۳ئ)

یہ سب ہی ادارے بیرونی طاقتوں کے آلۂ کار بنتے رہے ہیں اور مسلم حکمران اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے ان ہی پر انحصار کرتے ہیں۔ حالیہ واقعات سے جو چیز سامنے آئی ہے وہ یہ کہ کم از کم تین عرب ممالک کی حکومتوں نے کھلم کھلا تحریکِ اسلامی کو کچلنے کا التزام کیا ۔ نہ صرف خود اپنے ملکوں میں بلکہ مغربی ممالک میں بھی تحریک کو ختم کرنے کے لیے وہاں کی حکومتوں پر زور ڈالا جس کے نتیجے میں وہاں اسلامی جماعتوں اور اداروں کے لیے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

اس صورتِ حال میں تحریک کی حکمت عملی کیا ہو؟ ایک اہم سوال ہے۔ یہ بات ظاہرہے کہ سیاست دان اور حکمران ہر جائز اور ناجائز طریقے سے اقتدار پر قابض رہنا چاہتے ہیں اور اگر بعض لوگ اسلام کا نام لیتے بھی ہیں تو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ ان حالات میں کیا ساری قوت براہِ راست تبدیلی پر صرف کی جائے یا دوسرے ذرائع کے بارے میں بھی سوچ بچار اور نئے تجربات کی کوشش کی جائے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ براہِ راست ان سے اقتدار کی کش مکش کے بجاے ایسے ذرائع استعمال کیے جائیں جن سے وہ اصلاحات اور نتائج کسی نہ کسی حد تک حاصل کیے جاسکیں جو مطلوب ہیں؟ ان کے مصاحبین اور بااثر اشخاص کے ذریعے ان پر اثرانداز ہوکر وہ تبدیلیاں لائی جاسکیں۔ اصطلاحاً ان کو Hidden Persuders (خفیہ ترغیب دینے والے) کہہ سکتے ہیں جن کو ہم پس پردہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے بروے کار لاسکتے ہیں۔ اس طرح کی کامیاب کوشش مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ نے اکبر کے دربار میں بارسوخ افراد کے ذریعے کی تھی جس سے دین الٰہی کا خاتمہ عمل میں آیا۔ اس امر پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی تبدیلی کے لیے جس قسم کی تنظیم کار اور مہم جوئی کی ضرورت ہے اسے کہاں تک اسلامی قوتوں نے اختیار کیا ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کی تقریباً آدھی سے زیادہ آبادی غیرمسلم ممالک میں آباد ہے۔ ان کی ایک بہت بڑی تعداد ہندستان میں ہے، تاہم وہاں کے مسلمان حکومتوں کے امتیازی اور ناروا رویے اور شدت پسندقوتوں کے جارحانہ اقدامات کے باوجود کچھ بہتر پوزیشن میں ہیں کہ تاریخی طور پر ان کے حقوق کا تحفظ کسی نہ کسی حد تک برطانوی دور سے چلا آرہا ہے اور وہاں مساجد اور دیگر تعلیمی اور سماجی ادارے قائم ہیں۔ افسوس کہ اب انھیں بھی بڑھتی ہوئی ہندو جارحیت کا سامنا درپیش ہے لیکن مغربی ممالک میں آباد مسلمانوں کو جن مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے، وہ کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ اگرچہ فقہ الاقلیات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے خاص طور سے ہندستان میں اسلامک فقہ اکیڈمی اور یورپ میں Europeon Council for Fatwa & Research جو غیرمسلم معاشرے میں مسلمانوں کے مسائل پر رہنمائی کر رہے ہیں، تاہم تحریکی کام کے لیے ان کی حکمت عملی اور رول ماڈل کیا ہو؟ اس میں کوئی خاص رہنمائی مہیا نہیں کی گئی ہے۔ وہ اب بھی اپنے دیرینہ ملکی مسائل میں دل چسپی لیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب Priorities of the Islamic Movement in the Coming Phase(عصرِحاضر میں اسلامی تحریک کی ترجیحات) میں مختصراً کچھ باتوں کا ذکر کیا گیا ہے لیکن کوئی قابلِ عمل تجاویز نہیں پیش کی گئی ہیں۔ اس شعبے میں مزید تحقیق اور راہ نمائی کی ضرورت ہے۔

یہ چند اُمور ہیں جن میں تحریکی لٹریچر کی تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ امید ہے ارباب حل و عقد ان کا نوٹس لیں گے اور اپنے مفید مشوروں سے راہ نمائی فرمائیں گے۔

کتابیات

1.            Richard Dawkins: The God Delusion, Boston: Houghton Mifflin, 2006.

2.            Chrostopher Hitchen: God is Great: The Case Against Religion, Atlantic Books, 2007.

3.            Stephen Hawking and Leonard Mlodinow: The Grand Design, Bantam Books, 2010.

4.            Cottee, Simon: The Apostates: When Muslims Leave Islam, London: C. Hurst & Co, 2015.

5.            http://ex-muslim.org.uk/manifesto

.6            خرم مراد، مسائل اور افکار، لاہور، منشورات، لاہور۔

.7            سیّدابوالاعلیٰ مودودی، دنیاے اسلام کی موجودہ حالت، ترجمان القرآن، جون ۱۹۶۳ئ۔

8.            Sheikh Yusuf Al-Qaradawi: Priorities of the Islamic Movement in the Coming Phase, Swansea: Awakening Publications, 2000, pp. 179-185.