۲۰۱۶ فروری

فہرست مضامین

سجدہ سہو

| ۲۰۱۶ فروری | رسائل و مسائل

سوال : اتفاقاً نمازِ مغرب میں امام صاحب سے سہواً قعدۂ اولیٰ ترک ہوگیا اور وہ سیدھے قیام میں چلے گئے۔ پھر کسی مقتدی کے سبحان اللہ کہنے پر وہ قیام سے قعدۂ اولیٰ کی طرف لوٹ گئے۔ نماز کے بعد بعضوں نے کہا کہ بغیر لوٹے سجدئہ سہو سے نماز کی تکمیل ہوجاتی ہے، مگر بعض حضرات نے نماز کو قطعی طور پر فاسد بتایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نماز دوبارہ پڑھی گئی۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

۱- قعدۂ اولیٰ سہواً ترک کر کے اگر امام سیدھا کھڑا ہوجائے اس کے بعد اسے خود یاد آجائے یا مقتدی تنبیہہ کرے تو اس کو کیا کرنا چاہیے؟

۲- نبی ؐسے نماز میں کن مواقع پر سہو ہوا ہے اور ان مواقع پر آپؐ نے کیا عمل فرمایا ہے؟

۳- اگر امام سیدھا کھڑا ہوجانے کے بعد پھر بیٹھ جائے تو کیا اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے اور اس کو دُہرانا ضروری ہے؟

جواب: ۱-کوئی شخص تنہا نماز پڑھ رہا ہو یا کسی جماعت کا امام ہو، دونوں صورتوں میں اگر وہ قعدۂ اولیٰ سہواً ترک کرکے سیدھاکھڑا ہوجائے تو اب اس کو بیٹھنا نہیں چاہیے بلکہ قعدۂ اخیرہ کے بعد سجدئہ سہو کر کے نماز پوری کرلینی چاہیے۔ یہی طریقہ سنت کے مطابق ہے جس کی تفصیل    سوال نمبر۲ کے جواب میں آرہی ہے۔ ہاں، اگر وہ پوری طرح کھڑا نہ ہوا ہو اور اسی اثنا میں اسے خود یاد آجائے یا مقتدی تنبیہہ کرے تو بیٹھ جانا چاہیے۔ اس صورت میں سجدئہ سہو کی ضرورت نہیں ہے۔

۲- نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چارمواقع پر نماز میں سہو ہوا ہے:

پہلا موقع: عبداللہ بن بحینہؓ سے روایت ہے کہ ایک بار ظہر کی نماز میں آپؐ سے    قعدۂ اولیٰ سہواً ترک ہوگیا اور آپؐ تیسری رکعت میں کھڑے ہوگئے۔ جب پوری نماز پڑھ چکے تو سہو کے دو سجدے کر کے اس کمی کی تلافی فرما دی۔ علامہ ابن قیم نے زادالمعاد میں لکھا ہے کہ اس حدیث کے بعض طرق میں یہ بات بھی ہے کہ جب آپؐ  کھڑے ہوگئے تو مقتدی صحابہؓ نے سبحان اللہ کہہ کر یاد دلایا، لیکن حضوؐر نہ بیٹھے بلکہ اشارے سے فرمایا کہ تم بھی کھڑے ہوجائو ۔ اس کی تاکید مزید دو روایتوں سے ہوتی ہے۔ مسند اور ترمذی میں ہے کہ ایک بار حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے نماز پڑھائی اور قعدۂ اولیٰ ترک ہوگیا۔ مقتدیوں نے سبحان اللہ کہہ کر ان کو متنبہ کیا تو انھوں نے اشارے سے کہا کہ تم لوگ بھی کھڑے ہوجائو۔ نماز پوری کر کے انھوں نے سہو کے دو سجدے کیے اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک بار اسی طرح عمل فرمایا تھا۔ دوسری روایت بیہقی کی ہے: ایک بار حضرت عقبہ بن عامر جہنیؓ کے ساتھ بھی یہی واقعہ پیش آیا اور مقتدیوں نے سبحان اللہ کہہ کر تنبیہہ کی لیکن انھوں نے نماز جاری رکھی اور آخر میں سجدئہ سہو کے بعد جب فارغ ہوئے تو کہا: ’’تمھاری تسبیح (سبحان اللہ) میں نے سنی تھی۔ تم چاہتے تھے کہ میں بیٹھ جائوں لیکن سنت وہی ہے جو میں نے کیا۔

دوسرا موقع: ایک بار عصر کی نماز میں آپؐ نے دو رکعتوں کے بعد ہی سلام پھیر دیا۔ پھر حضرت ذوالیدینؓ کے توجہ دلانے پر آپؐ نے باقی دو رکعتیں ادا فرمائیں اور سجدئہ سہو کیا۔

تیسرا موقع: حضرت عمران بن حصینؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک بار آپؐ نے عصر کی نماز میں تین رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر توجہ دلانے پر ایک رکعت ادا کر کے سجدئہ سہو کیا۔

چوتھا موقع: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک بار آپؐ نے پانچ رکعتیں پڑھ لیں، پھر توجہ دلانے پر سہو کے دو سجدے کیے۔

یہی چار مواقع ہیں جن میں حضوؐر سے نماز میں سہو ہوا ہے۔ میں نے ان صحیح احادیث کی تفصیلات چھوڑ کر مختصراً اصل بات یہاں لکھ دی ہے۔

۳- تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ سیدھا کھڑا ہوکر بیٹھ جانے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ سجدئہ سہو کرلینے سے مکمل ہوجاتی ہے۔ فقہ حنفی کا صحیح قول یہی ہے اور جمہور فقہا کا مسلک بھی یہی ہے۔ فقہاے احناف کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے لیکن اس قول کی کوئی تشفی بخش دلیل نہیں ہے۔ تیسری رکعت میں کھڑے ہونے کے بعد پھر بیٹھ جانا خلافِ سنت ضرور  ہے لیکن اس سے نماز فاسد و باطل ہوجانے کی کوئی وجہ نہیں۔ (مولانا سیّد احمد عروج قادری، احکام و مسائل، اوّل، ص ۲۰۶-۲۰۷)


چلتی ہوئی گاڑی میں فرض نمازیں

س : زندگی کی مصروفیات میں مجھے اِدھر اُدھر سفر کرنے کی نوبت اکثر آتی رہتی ہے۔ میں کار، ریل گاڑی، بس اور ہوائی جہاز میں فرض نمازیں ادا کرتا رہتا ہوں۔ میرے چند دوستوں کو اس پر اعتراض ہے۔ چنانچہ میرے ایک دوست نے مجھے ایک خط لکھا ہے اور انھوں نے چند احادیث اپنے موقف کی تائید میں تحریر کی ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ فرض نمازیں سواری پر ادا نہیں کی جاسکتیں۔ انھوں نے اپنی تائید میں یہ بھی لکھا ہے کہ میں نے کسی عالم دین کو دورانِ سفر گاڑی میں چلتے ہوئے فرض نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے اور نہ کسی سے سنا ہے۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے، سواری پر نماز فرض بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ آپ اس کے بارے میں اپنی تحقیق سے مطلع کریں۔

ج:احادیث میں صرف جانور، یعنی اُونٹ پر نوافل اور وتر ادا کرنے کی صراحت ملتی ہے۔ آپ کے دوست نے وہی حدیثیں آپ کو لکھی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور پر کبھی کوئی فرض نمازادا نہیں کی۔ فقہ کی کتابوں میں کشتی پر نماز فرض ادا کرنے کی تفصیلات بکثرت موجود ہیں۔ ائمہ مذاہب اربعہ کے زمانے میں موجودہ دور کی جدید سواریاں موجود نہ تھیں۔ اس لیے فقہ کی قدیم کتابوں میں ان کے بارے میں کوئی جزئیہ نہیں مل سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے۔

آپ کے دوست نے چلتی ہوئی ریل گاڑی میں کسی عالم کو فرض نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا، لیکن میں نے بہت سے علما کو چلتی ہوئی گاڑی میں فرض نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ چلتی ہوئی ریل گاڑی میں نماز کی ایک شکل تو یہ ہوتی ہے کہ پوری نماز کھڑے ہوکر رکوع و سجود کے ساتھ ادا کی جائے۔ اس کو ناجائز کہنے کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے۔ اگر کھڑے ہوکر رکوع و سجود کے ساتھ نماز ادا کرسکتا ہو تو اسے بیٹھ کر نماز ادا نہیں کرنی چاہیے۔لیکن اگر ایسا نہ ہو اور نماز قضا ہو رہی ہو تو اس کو ریل گاڑی میں بیٹھ کر فرض نماز ادا کرلینی چاہیے۔ کسی نماز کے قضا ہوجانے اور اس کا وقت نکل جانے کا عذر سب سے بڑا عذر ہے۔ دوسرے تمام اعذار کا اعتبار اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب نماز کے قضا ہوجانے کا اندیشہ ہو، ورنہ کوئی عذر، عذر نہیں ہے۔

فقہاے احناف کے نزدیک جانورپر بلاعذر فرض نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے اور عذر کے ساتھ جائز ہے۔ فقہ کی کتابوں میں ان اعذار کی ایک فہرست دی گئی ہے جن کی بنا پر فرض نماز جانور کی پیٹھ پر ادا کی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک عذر یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر جانور سرکش ہو اور سوار اس سے اُتر کر کسی کی مدد کے بغیر دوبارہ اس پر سوار نہ ہوسکتا ہو اور کوئی مددگار موجود نہ ہو تو وہ فرض نماز جانور پر ہی ادا کرسکتا ہے۔ یہ عذر اسی وقت عذر بنے گا جب اس وقت کی نماز قضا ہوجانے کا اندیشہ ہو۔ اور وقت کے اندر منزل پر پہنچ کر نماز پڑھی جاسکتی ہو تو وہ عذر، عذر ہی نہیں۔


جانور کی پیٹھ پر نماز اشارے سے ادا کی جائے گی:

وَکَیْفِیَّۃُ الصَّلٰوۃِ عَلٰی الدَّآبَّۃِ اَنْ یُّصَلِّیَ بِالْاِیْمَائِ (فتاویٰ عالم گیری، ج۱) جانور پر نماز ادا کرنے کی کیفیت یہ ہے کہ سوار اشارے سے نماز ادا کرے گا۔

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک پانی پر چلتی ہوئی کشتی میں بلاعذر بیٹھ کر نماز ادا کرنا بھی جائز ہے لیکن امام ابویوسف اور امام محمد کے مسلک میں کشتی میں بلاعذر بیٹھ کر نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر عذر ہو تو بالاتفاق جائز ہے۔ مثال کے طور پر اگر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے میں دورانِ سر کی شکایت پیدا ہوتی ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھی جاسکتی ہے:

اَجْمَعُوا عَلٰی اَنَّہٗ لَوْ کَانَ بِحَالٍ یَدُوْرُ رَاْسُہٗ لَوْ قَامَ تَجُوْزُ الصَّلٰوۃُ فِیْھَا قَاعِدًا کَذَا فِی الْخَلَاصَۃ (فتاویٰ عالم گیری، ج۱) اس پر اتفاق ہے کہ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی صورت میں دورانِ سر ہوتا ہو تو کشتی میں بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔

الجامع الصغیر جو امام محمد کی تصنیف اور فقہ حنفی کی مستند ترین کتاب ہے، اس میں لکھا ہے:

رَجُلٌ فِی السَّفِیْنَۃِ قَاعِدًا مِنْ غَیْرِ عِلَّۃٍ اَجزَاہٗ وَالْقِیَامُ اَفْضَلُ وَقَالَ اَبُویُوْسفَ وَمُحَمَّد رَحِمَھُمَا اللّٰہُ لَا یُجْزِیْہِ اِلَّا مِنْ عُذْرٍ،کسی شخص نے کشتی میں بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھی تو یہ اس کے لیے کافی ہے اور قیام افضل ہے۔ ابویوسف و محمد رحمہما اللہ نے کہا کہ یہ اس کے لیے کافی نہ ہوگا الا یہ کہ کوئی عذر ہو۔

کشتی میں اگر قبلہ رُو ہوکر نماز پڑھی جاسکتی ہو تو استقبال قبلہ ضروری ہے۔ لیکن اگر استقبالِ قبلہ سے عاجز ہو تو جدھر رُخ کر کے نماز پڑھنے پر قادر ہو اُدھر ہی رُخ کر کے نماز ادا کرے گا:

وَ اِنْ عَجِزَ عَنْ اِسْتِقْبَالِھَا صَلَّی  اِلٰی جِھَۃِ قُدْرَتِہٖ (الفقہ علی المذاہب الاربعہ) اگروہ استقبال قبلہ سے عاجز ہو تو جس سمت پر قدرت ہو اُدھر ہی رُخ کر کے نماز پڑھے گا۔

اسی طرح اگر رکوع و سجود پر قدرت ہو تو اس کے بغیر نماز جائز نہ ہوگی۔ اشارے سے نماز اس وقت جائز ہوگی جب رکوع و سجود پر قدرت نہ ہو:

وَلَوْ صَلَّی فِیْھَا بِالْاِیْمَائِ وَھُوَ قَادِرٌ عَلَی الرُکُوعِ وَالسُّجُودِ لَا یُجْزِیْہِ فِی قَوْلِھِمْ جَمِیْعًا (فتاویٰ عالم گیری، ج۱) اگر رکوع و سجود پر قدرت کے باوجود کسی نے کشتی میں اشارے سے نماز پڑھی تو بالاتفاق یہ اس کے لیے کافی نہ ہوگا۔


لیکن اگر وہ سجدہ کرنے سے عاجز ہو تو سجدہ ساقط ہوجائے گا:

وَیَسْقُطُ عَنْہُ السُّجُوْدُ اَیْضًا اِذَا عَجِزَ عَنْہٗ (الفقہ علی المذاھب الاربعہ)  اور سجدہ کرنا بھی ساقط ہوجائے گا اگر وہ اس سے عاجز ہو۔

فقہ کے یہی وہ مسائل ہیں جن پر قیاس کر کے موجودہ دور کی جدید سواریوں پر فرض نماز کے مسائل مستنبط کیے گئے ہیں۔ جب چلتی ہوئی کشتی پر مختلف حالتوں میں کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر یا اشارے سے فرض نماز ادا کرنا جائز ہے تو چلتی ہوئی ریل گاڑی پر بدرجہ اولیٰ جائز ہونا چاہیے، کیوں کہ کشتی پانی پر چلتی ہے اور ریل زمین پر۔ موجودہ دور کے فقہا نے اسی قیاس پر ہوائی جہاز میں فرض نماز ادا کرنے کو بھی جائز قرار دیا ہے:

وَمِثْلُ السَّفِیْنَۃ اَلقُطُرُ البُخَارِیَّۃُ الْبَرِّیَۃُ وَالطَّائِرَاتُ الْجَوَّیَۃُ (الفقہ علی المذاھب الاربعہ) کشتی ہی کے مثل، ریل گاڑیاں، ہوائی جہاز، اور اس طرح کی دوسری سواریاں ہیں۔


اس تفصیل سے درج ذیل مسائل مستنبط ہوتے ہیں:

  •                 چلتی ہوئی ریل گاڑی میں اگر کھڑے ہوکر نماز ادا کرنے کی گنجایش نہ ہو اور نماز کے قضا ہوجانے کا اندیشہ ہو تو بیٹھ کر نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
  •               اگر بیٹھ کر باقاعدہ رکوع و سجود کے ساتھ نماز ادا کرنے کی گنجایش بھی نہ ہو اور نماز کا وقت ختم ہوجانے کا اندیشہ ہو تو اشار ے سے بھی فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
  •        قبلہ رُو ہوکر نماز ادا کرنے سے آدمی عاجز ہو، یعنی استقبالِ قبلہ کی کوئی صورت نہ ہو تو جدھر رُخ کرکے نماز پڑھی جاسکتی ہو اُدھر ہی رُخ کر کے نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
  •      یہی حکم موٹرکار، بس اور ہوائی جہاز کا بھی ہے۔

اشارے کے ساتھ نماز ادا کرنے کی صورت و کیفیت یہ ہے کہ بیٹھ کر ہر رکعت میں وہ سب کچھ پڑھنا ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے اور پھر دونوں طرف سلام پھیرنا ہے۔ البتہ رکوع میں کچھ جھک جانا چاہیے اور سجدے میں اپنی پیشانی کسی چیز پر رکھے بغیر، رکوع کے مقابلے میں کچھ زیادہ جھک جائے۔ (سید احمد عروج قادری، احکام و مسائل، اوّل، ص ۱۸۷-۱۹۰)


غائبانہ نمازِ جنازہ

س : ہمارے یہاں نمازِ جنازہ پڑھنے کے مسئلے پر اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ غائبانہ نمازِ جنازہ مسنون ہے اور بعض کہتے تھے کہ جائز نہیں ہے۔ مہربانی کرکے وضاحت کر دیجیے؟

ج:غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھنے کے بارے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہؒ  کا مسلک یہ ہے کہ نمازِ جنازہ غائبانہ نہیں پڑھنی چاہیے۔ امام شافعیؒ اور دوسرے ائمہ کے نزدیک  نمازِ جنازہ غائبانہ پڑھی جاسکتی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی (جو مسلمان ہوگئے تھے) کا انتقال ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپؐ نے ان کی غائبانہ  نمازِ جنازہ پڑھی تھی۔ امام شافعیؒ اور دوسرے لوگ اسی حدیث کو اپنی دلیل میں پیش کرتے ہیں۔

حنفی فقہا اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ حضوؐر کی خصوصیت تھی اور بادشاہ حبشہ کی بھی خصوصیت تھی۔ حضوؐر نے غائبانہ نمازِ جنازہ کا نہ کوئی حکم دیا ہے اور نہ خود بادشاہ نجاشی کے علاوہ کسی اور کی نمازِ جنازہ غائبانہ پڑھی ہے۔ حالانکہ متعدد صحابہ کرامؓ نے دوسرے مقام پر وفات پائی تھی لیکن حضوؐر نے ان کی نمازِ جنازہ غائبانہ نہیں پڑھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ کوئی عام حکم نہیں ہے۔ ایک بات یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ جس وقت بادشاہِ حبشہ کا انتقال ہوا تھا اس وقت وہاں اسلامی طریقے پر نمازِ جنازہ ادا کرنے والے لوگ موجود نہ تھے۔ اس لیے حضوؐر نے غائبانہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھی ہوگی۔ لیکن یہ کوئی لڑنے جھگڑنے کی بات نہیں ہے۔ اگر کچھ لوگ کسی کی نمازِ جنازہ غائبانہ پڑھنی چاہتے ہوں تو رکاوٹ ڈالنا صحیح نہیںہے۔ البتہ جس شخص کا یہ خیال ہوکہ غائبانہ نمازِ جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے وہ اس میں شریک نہ ہو۔(سیّد احمد عروج قادری، احکام و مسائل، ص ۲۴۵)


بُرائی کو زبردستی مٹانا

س : کچھ لوگ سختی کے بغیر بُرائی سے باز نہیں آتے تو ایسے لوگوں کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے؟

ج: کچھ لوگ سختی کے بغیر باز نہیں آتے لیکن ایسی سختی جو مصلحت کے خلاف ہو، یا جس کا نتیجہ اس سے بھی بُرا نکلتا ہو تو وہ جائز نہیں ہے، کیونکہ واجب یہ ہے کہ حکمت و دانش کو اختیار کیا جائے۔ سختی، یعنی مارنا، ادب سکھانا اور قید کرنا تو حکمرانوں کا کام ہے۔ عام لوگوں کا فرض یہ ہے کہ وہ حق کو بیان کردیں اور بُرے کاموں کی تردید کردیں، باقی رہا بُرائی کو ہاتھ سے مٹانا تو یہ حکمرانوں کا منصب ہے۔ یہ ان پر فرض ہے کہ وہ بقدر استطاعت بُرائی کو ختم کریں کیونکہ وہ اس کے ذمہ دار ہیں۔

اگر انسان اپنے ہاتھ سے اس بُرائی کو مٹانا چاہے جو وہ دیکھے تو اس سے ایسی خرابی پیدا ہوسکتی ہے، جو اس بُرائی سے بھی بڑھ کر ہو، لہٰذا اس معاملے میں حکمت و دانش سے کام لینا چاہیے۔ آپ بُرائی کو اپنے ہاتھ سے اپنے گھر میں تو مٹا سکتے ہیں لیکن اگر اس بُرائی کو بازار میں اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کریں تو ہوسکتا ہے کہ اس کا نتیجہ اس بُرائی سے بھی زیادہ بُرا ثابت ہو۔ اس صورت میں آپ کے لیے واجب یہ ہے کہ بات اس شخص تک پہنچا دیں، جسے بازار میں اپنے ہاتھ سے بُرائی ختم کر دینے کی قدرت حاصل ہو۔(محمد بن صالح عثیمین، فتاویٰ اسلامیہ، چہارم، ص۳۱۰-۳۱۱)


علما پر تنقید

س : جناب کی ان بعض نوجوانوں کے بارے میں کیا راے ہے، جن کا شیوہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ بعض علما پر تنقید کرتے، لوگوں کو ان سے متنفر کرتے اور ان سے الگ تھلگ رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں؟ کیا یہ عمل شرعی طور پر درست ہے؟

ج:میری راے میں ایسا کرنا حرام ہے کیونکہ کسی انسان کے لیے جب یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کی غیبت کرے خواہ وہ عالم نہ بھی ہو، تو یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ان مسلمان بھائیوں کی غیبت کرے جو علما ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کے لیے یہ واجب ہے کہ وہ اپنی زبان کو اپنے مسلمان بھائیوں کی غیبت سے روکے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یٰٓاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ ز اِِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا ط اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِہْتُمُوْہُ ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط اِِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌo (الحجرات ۴۹:۱۲) اے اہلِ ایمان! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے (تو غیبت نہ کرو) اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔

اس مصیبت میں مبتلا انسان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب وہ کسی عالم کو تنقید کا نشانہ بنائے گا تو وہ گویا اس عالم کی حق باتوں کی تردید کا بھی سبب بنے گا ،تو حق کی تردید اور اس کی عدم قبولیت کا گناہ بھی اس کے ذمہ ہوگا، کیونکہ ایک عالم پر تنقید ایک شخص پر تنقید نہیں بلکہ یہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی میراث پر تنقید ہے۔

علماے کرام انبیاے کرام علیہم السلام کے وارث ہیں۔ لہٰذا جب علما پر طعن و تشنیع کی جائے تو لوگ اس علم پر بھی اعتماد نہیں کریں گے، جو ان کے پاس ہے حالانکہ وہ علم تو رسولؐ اللہ کی میراث ہے اور اس طرح وہ گویا شریعت کی کسی بھی ایسی چیز کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھیں گے جس کو یہ عالم بیان کرتا ہو، جسے طعن و تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہرعالم معصوم ہے، بلکہ ہر انسان خطا کا پتلا ہے۔ اگر آپ زَعم میں کسی عالم کو غلطی پر دیکھیں تو اس سے ملیں اور تبادلۂ خیال کریں۔اگر یہ بات واضح ہوجائے کہ اس عالم کا موقف حق پر مبنی ہے، تو آپ پر واجب ہے کہ اس کی اتباع کریں۔ اگر یہ واضح نہ ہو کہ اس کا موقف حق پر مبنی ہے لیکن اس کی بات کی بھی گنجایش ہو تو آپ کے لیے واجب ہے کہ رُک جائیں، اور اگر اس کی بات کی کوئی گنجایش ہی نہ ہو تو پھر اس کی بات کو قبول کرنے سے اجتناب کریں کیونکہ غلطی کو برقرار رکھنا جائز نہیں ہے لیکن آپ اس پر جرح نہ کریں، خصوصاً، جب کہ وہ عالم حُسنِ نیت میں معروف ہو۔ اگر ہم حُسنِ نیت میں معروف علما پر مسائل فقہ میں کسی غلطی کی وجہ سے جرح کرنے لگیں گے تو ہم بڑے بڑے علما پر جرح کربیٹھیں گے، لہٰذا واجب وہی ہے، جو میں نے ذکر کر دیا ہے۔ اگر آپ کسی عالم کی کوئی غلطی محسوس کریں اور گفتگو اور افہام و تفہیم سے واضح ہوجائے کہ ان کا موقف درست ہے تو آپ کو ان کی بات مان لینی چاہیے اور اگر آپ کا موقف درست ثابت ہو تو پھر اُنھیں آپ کی بات تسلیم کرلینی چاہیے، اور اگر بات واضح نہ ہو اور اختلاف کی گنجایش موجود ہو تو پھر آپ ان کو نظرانداز کر دیں کہ وہ اپنی بات کہتے رہیں اور آپ اپنی بات کہتے رہیں۔

اختلاف صرف اسی زمانے میں نہیں ہے بلکہ اختلاف تو حضرات صحابہ کرامؓ کے زمانے سے آج تک چلا آرہا ہے۔ اگر غلطی واضح ہونے کے بعد بھی کوئی عالم اپنی ہی بات پر اصرار کرے تو آپ کے لیے واجب ہے کہ آپ غلطی کو واضح کریں اور اس سے الگ ہوجائیں مگر توہین و تذلیل اور ارادئہ انتقام کی بنیاد پر نہیں۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس اختلافی مسئلے کے سوا دیگر مسائل میں وہ حق بات کہتا ہو۔

بہرحال میں اپنے بھائیوں کو اس مصیبت اور اس بیماری سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور انھیں ہر اس چیز سے شفا عطا فرمائے جو ہمارے لیے دین و دنیا کے اعتبار سے باعث ِ عار اور موجب ِ نقصان ہو۔(محمد بن صالح عثیمین، فتاویٰ اسلامیہ، چہارم، ص۳۱۰-۳۱۱)