اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لیے نعمتوں اور انعامات کا شمار ممکن نہیں لیکن اللہ کی ان نعمتوں میں رمضان المبارک کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مہینے کا انتظار رہتا تھا اور اس کا وہ جس شوق کے ساتھ استقبال کرتے تھے، اس کا احساس اور ذکر خود ایمان افروزاور اس انعامِ الٰہی کی قدرومنزلت کو سمجھنے اور اس سے فائدہ اُٹھانے کے لیے مہمیز کا کام کرتا ہے۔ آپؐ رجب کا چاند دیکھتے تو دعا فرمایا کرتے تھے کہ
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی رَجَبْ وَشَعْبَان وَبلغنَا رَمضَان، اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا دے۔
اور پھر جب رمضان کا چاند نظر آجاتا تو لسان نبویؐ سے یہ الفاظ گوہر بن کر ضوفشاں ہوتے:
اَللّٰھُمَّ اَھْلِہٗ عَلَیْنَا بِالْامْنِ وَالْاِیمَانِ والسَّلَامۃِ والْاسِلَام ربّی وربَّک اللّٰہ (بخاری) اے اللہ ! ہم پر یہ چاند امن و ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع فرما۔ (اے چاند) میرا اور تیرا رب اللہ ہی ہے۔
حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کی آخری تاریخ کو ایک خطبہ دیا جس میں رمضان کے بابرکت مہینے کے استقبال کے لیے ہمیں اس طرح تیار فرمایا:
اے لوگو! بہت بڑی عظمت اور بابرکت والا مہینہ تم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ اس مبارک مہینے کی ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ نے اس مہینے کے روزے تم پر فرض کیے ہیں، اور رات کے قیام ( مسنون تراویح) کو نفل قرار دیا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں دل کی خوشی سے ایک نیکی کا کام کرے گا اس کو دوسرے مہینوں کے فرض کے برابر ثواب ملے گا، اور جو شخص اس مہینے میں ایک فرض ادا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو دوسرے مہینوں کے ۷۰فرضوں کے برابر ثواب بخشے گا۔ یہ ’صبر‘ کا مہینہ ہے، صبر کا اجر جنت ہے اور یہ غریبوں کی مالی ہمدردی اور امداد کا مہینہ ہے۔ (مشکٰوۃ)
رمضان کی برکتوں کا ذکر فرماتے ہوئے آپؐ نے اس خطبے میں روزے کے دو اہم پہلوئوں کو اُجاگر فرمایا ہے جو روزے کی روح اور مقصد کو سمجھنے میں مد د دیتے ہیں، یعنی صبر کا مہینہ اور مواساۃ کا مہینہ، یعنی غریبوں اور دوسرے انسانوں کے لیے مالی ہمدردی اور امداد کا مہینہ۔ صبر کا تعلق خواہشات اور جذبات پر قابوکی صلاحیت پیدا کرکے اور رب کی اطاعت اور حق کی راہ میں ثابت قدمی سے ہے، اور مواساۃ کا تعلق دوسرے انسانوں کے لیے رحمت اور اخوت کے جذبات کو پروان چڑھاکر ایک دوسرے کے لیے سہارا بننے اور انسانی معاشرے کو محبت، تعاون اور سلامتی کا گہوارا بنانے سے ہے۔ قرآن کی تعلیمات کا خلاصہ اللہ کی اطاعت اور اللہ کے بندوں کے لیے رحمت کی صفات میں بیان کیا جاسکتا ہے۔
روزے کے باب میں قرآن نے تین چیزوں کی طرف خصوصیت سے ہمیں متوجہ کیا ہے:
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مبارک مہینے سے فائدہ اُٹھانے کا مؤثر ترین نسخہ اس طرح بیان فرمایا : ’’جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے‘‘۔
یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مبارک مہینے کو نیکیوں کی فصلِ بہار قرار دیا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک انعامِ خاص ہے کہ پاکستان کا قیام اس مبارک مہینے میں بلکہ ۲۷رمضان المبارک کو ہوا اور اس سال بھی ۱۱مئی کے انتخابات کے بعد یہ مبارک مہینہ ہم پر سایہ فگن ہو رہا ہے۔ آیئے رمضان المبارک کے نعمت خداوندی ہونے کے مختلف پہلوئوں پر غور کریں اور پھر اس مبارک مہینے میں اپنے، اپنے ملک اور اُمت مسلمہ کے حالات پر ایمان اور احتساب کے ساتھ نظر ڈالنے کی کوشش کریں، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہمیں اپنی ذاتی زندگیوں میں بھی اس سے پورا پورا فائدہ اُٹھانے کی توفیق سے نوازے اور پاکستان، اُمت مسلمہ اور تحریکِ اسلامی کو بھی ان اخلاقی، مادی اور اجتماعی قوتوں کے حصول کی سعادت سے فیض یاب کرے جو دورِحاضر میں اسلام اور مسلمانوں کو درپیش چیلنجوں کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے لائق بنائیں۔
روزہ اسلام کے نظامِ تربیت و اصلاح کا ایک بنیادی رکن ہے۔ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اسلام کے نظامِ تربیت میں عبادات اور معاملات کے ذریعے نہ صرف فرد، بلکہ معاشرے اور پوری انسانیت کے لیے کرنے کے ایسے کام فرض کیے ہیں جن میں سے ہر ایک اس نظامِ تربیت کو قوت اور سہارا دیتا ہے ۔ روزے کے بارے میں جامع تعریف مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی نے یوں فرمائی ہے: ’’روزہ سال بھر میں ایک مہینے کا غیرمعمولی نظامِ تربیت (special training course) ہے جو آدمی کو تقریباً ۷۲۰گھنٹے تک مسلسل اپنے مضبوط ڈسپلن کے شکنجے میں کسے رکھتا ہے تاکہ روزانہ کی معمولی تربیت میں جو اثرات خفیف تھے وہ شدید ہوجائیں‘‘ (سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ، اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر، لاہور، ۱۹۷۷ء، ص ۶۷)۔ اسی پہلو کو کچھ مختلف الفاظ میں محترم مولانا یوں فرماتے ہیں : ’’نہ صرف روزہ بلکہ تمام عبادات کی غرض یہی ہے کہ ان کے ذریعے آدمی کی تربیت کی جائے اور اس کو اس قابل بنادیا جائے کہ اس کی پوری زندگی اللہ کی عبادت بن جائے‘‘(خطبات، لاہور، ۲۰۱۲ء، ص ۱۱۹)۔ گویا عبادات انسان کے مقصد وجود کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِo (الذاریات ۵۱:۵۶) ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا اسی لیے کیا ہے کہ وہ میری عبادت و بندگی کریں‘‘۔
ایک بنیادی فرق روزے اور دیگر عبادات میں یہ ہے کہ ان کی ادایگی ایک قابلِ محسوس شکل رکھتی ہے، جب کہ روزہ ایک ایسی مخفی عبادت ہے جسے صرف وہ جس کی عبادت کی جارہی ہے، جانتا ہے۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں: ابن آدم کا ہر (نیک) عمل کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ ایک نیکی ۱۰نیکیوں کے برابر، حتیٰ کہ ۷۰۰ گنا تک بڑھا دی جاتی ہے۔ اللہ کریم فرماتا ہے سواے روزے کے جو صرف میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا کیونکہ وہ میری وجہ سے اپنی شہوت اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔(مسلم، حدیث ۱۱۵۱)
یہ دوسروں کو نہ نظر آنے والی عبادت اثرات و نتائج کے اعتبار سے صحیح معنی میں جہادِاصغر کہی جاسکتی ہے، کیونکہ اس میں نفس میں پائی جانے والی اور مخفی بغاوت (طاغوت) اور انانیت (شیطان) جو ایک انتہائی بھلے اور راست باز انسان کو وقتی طور پر اپنے قابو میں لے آتی ہے، اس کو پورے ایک ماہ کے لیے ایک نظر نہ آنے والے قیدخانے کی سنگین سلاخوں کے پیچھے بیڑیاں پہناکر قیدکردیا جاتا ہے۔ رسولِ کریمؐ نے فرمایا: تمھارے پاس رمضان کا مہینہ آپہنچا۔یہ بابرکت مہینہ ہے۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض فرمائے، اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور اس میں شیطان جکڑ دیے جاتے ہیں۔ (سنن نسائی، حدیث۲۱۰۶، بخاری، حدیث۳۲۷۷)
عام دنوں میں شیطانی وساوس مومن کو بہت سے نیک کاموں سے روکنے کے لیے نئی نئی شکلوں میں مزاحم ہوتے ہیں لیکن رمضان ایسا موسمِ بہار لے کر آتا ہے جس میں فضا بھلائیوں کے لیے سازگار اور بُرائیوں کے لیے سدِراہ بن جاتی ہے۔ روزہ ایک ڈھال بن کر آتا ہے۔ اس لیے اگر کسی روزہ دار کو کوئی شخص جھگڑے پر آمادہ کرنا چاہے تو وہ صرف یہ کہہ کر الگ ہوجاتا ہے کہ ’’میں روزے سے ہوں‘‘۔ (بخاری، حدیث ۱۹۰۴، مسلم، حدیث ۲۷۶۰)
یہ ہمت، یہ اعتماد اور یہ حوصلہ کہ ایک دھمکی کا جواب ہاتھ سے دینے کی صلاحیت ہو اور پھر بھی صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا جائے میں روزے سے ہوں، صرف ایسی صورت حال ہی میں ہوسکتا ہے جب ایک شخص کو یہ شعور اور آگہی ہو کہ وہ ایسے نظامِ تربیت سے گزر رہا ہے جس میں ہرنفسیاتی ردعمل اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشی کے تابع ہو۔ یہ ضبط نفس صرف اور صرف رمضان ہی کی برکت سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اس ماہ کی برکات اور اس عبادت کے ذریعے اپنی شخصیت و سیرت میں انقلابی تبدیلی کا عمل ہم اسی وقت کرسکتے ہیں جب چند باتوں سے اجتناب کیا جائے اور ایسے عمل کو وظیفۂ حیات بنا لیا جائے جو رمضان کے دوران اور اس کے بعد ہمارے ہر سانس، ہرقدم، ہرخیال، ہرمنصوبے اور ہر ارادے کو صحیح رُخ اور معنی دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جن چیزوں سے بچنے اور اجتناب کرنے سے یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے انھیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے لیکن تعداد میں کم ہونے کے باوجود ان سے بچنے کے لیے مضبوط عزم اور اللہ تعالیٰ کے آنکھوں کے سامنے ہونے کا تصور ضروری ہے۔ ان میں جنسی لذت کی نیت سے قربت، غذا، پانی، جھوٹ اور جاہلیت کے دور میں کی جانے والی عادات شامل ہیں۔ ’’جو شخص جھوٹ بولنے، اس کو پھیلانے اور جہالت کی باتوں کو ترک نہیں کرتا تو اللہ رب العزت کو اس کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اپنے کھانے پینے کو ترک کرے‘‘(بخاری، حدیث ۱۹۰۳)۔ خصوصاً زبان کی احتیاط کہ کوئی فحش بات نہ ہونے پائے۔
یہ نظامِ تربیت جن مطلوبہ صفات کو جِلا بخشتا ہے ان میں سرفہرست تقویٰ کی روش ہے (البقرہ۲:۱۸۳)۔ دوسری صفت صبر، یعنی ایک جانب اپنے آپ کو نفس کے مطالبات سے روکنا اور دوسری جانب مثبت اور تعمیری پہلو سے بھلائی، قیامِ حق اور نظامِ عدل کے قیام، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بندگی کے نظام کو نافذ کرنے کی جدوجہد کو استقامت کے ساتھ کرتے ہوئے اس پر جم جانا ہے۔ ’’صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا‘‘ (الزمر ۳۹:۱۱)۔ وھو شھرُ الصَّبرِ (مشکوٰۃ عن سلمان الفارسیؓ)۔ تیسری مطلوبہ صفت حاجت مندوں اور معاشرے کے غریب افراد کے ساتھ ہمدردی کی صفت کا پیدا کرنا ہے۔ … وَشَھرُ المُواسَاۃِ (مشکوٰۃ عن سلمان الفارسیؓ)۔ یہ ہمدردی مالی بھی ہوسکتی ہے، غذا فراہم کر کے، لباس دے کر، حتیٰ کہ ایک ملازم پر سے اس کا بوجھ کم کرنے کی شکل میں بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ اس مہینے میں غیرمعمولی طور پر آپؐ کی جود و سخاوت بارش لانے والی ہوائوں کو مات کردیتی تھی (متفق علیہ)۔ اس دوران آپؐ سے جو کچھ مانگا جاتا آپؐ انکار نہیں فرماتے تھے۔ (مسنداحمد)
ان اعلیٰ صفات کو پیدا کرنے کی تربیت کے ساتھ ساتھ یہ مہینہ ایک اور اہم پیغام بھی لے کر آتا ہے جو تمام عبادات اور معاملات کے مغز کی حیثیت رکھتا ہے، یعنی جو بھلائی بھی کی جارہی ہے یا جس کے کرنے کی تربیت حاصل کی جارہی ہے اس کا محرک اصل میں کیا ہے۔ صادق الامین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: من صام رمضان ایماناًواحتساباً غفرلہ ما تقدم من ذنبہ ’’جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کی نیت سے رکھے تو اس کے گذشتہ گناہ بخش دیے گئے‘‘ (بخاری، حدیث ۱۹۰۱، مسلم، حدیث ۱۷۵)۔ اگر غور کیا جائے تو یہ جامع قولِ حق و صداقت، یعنی ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے کا رکھنا روزے کی روح ہے اور رمضان سے قبل پیش آنے والے تمام معاملات پر غور کرنے کی دعوت۔ ان کا تجزیہ کرکے اپنی کمزوریوں کو طاقت میں بدلنے کی تربیت ہے۔اس سلسلے میں وہ حدیث بھی ہمارے سامنے رہنی چاہیے جس میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : ’’قیامت کے دن اللہ کی عدالت سے آدمی نہیں ہٹ سکتا جب تک اس سے پانچ باتوں کے بارے میں حساب نہیں لے لیا جاتا۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ عمر کن مشاغل میں گزاری، دین کا علم حاصل کیا تو اس پر کہاں تک عمل کیا، مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، جسم کو کس کام میں گھلایا۔ (ترمذی،عن ابی برزۃ الاسلمی )
حضرت عمرؓ کے مشہور قول حاسبوا قبل ان تحاسبوا ’’احتساب کرو، قبل اس کے احتساب کیا جائے‘‘ اور رمضان کے روزے احتساب کے ساتھ رکھنے والی حدیث مبارکہ کی اہمیت تحریکِ اسلامی کے کارکنوں کے لیے غیرمعمولی ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس احتساب کے مختلف پہلوئوں پر اپنے ذہن کو تازہ کرتے ہوئے اس نسخۂ کیمیا کے ذریعے اپنی تمام بھول چوک کے لیے اس مبارک مہینے کے روز و شب میں رب کریم سے خصوصی استغفار، استعانت و نصرت کی طلب کے ساتھ کیا جائے، تاکہ بھول اور لغزش فیصلے کی ہو، ذاتی طور پر ذمہ داریوں کی ادایگی میں ہو، انفاق فی سبیل اللہ میں کی گئی ہو، اپنی صلاحیتوں کو وقت پر استعمال نہ کرنے کی ہو، صحیح منصوبہ بندی نہ کرنے کی ہو یا پورے خلوص کے ساتھ ایک ایسا رویہ اختیار کرنے کی ہو جس کی توقع ایک داعی سے نہیں کی جاتی، کے اثرات نہ ہوں۔ غرض کہ ضرورت ہے کہ ماضی کے ہرہرعمل کے بارے میں خود احتسابی اور دیانت و امانت اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ اس رمضان کا استقبال کیا جائے۔
اس احتسابی عمل کا آغاز، ایک کارکن ہو یا ذمہ دار، اسے اوّلاً اپنے آپ سے سوال کرنا ہوگا کہ دعوتِ دین اور اقامت ِ دین کی مہم میں چاہے وہ انتخابی مہم میں حصہ لینے کی شکل میں ہو، کیا وہ فرائض کی ادایگی میں چاق چوبند رہا، یا اپنے خیال میں ایک بھلائی کے کام میں مصروف ہونے کے عذر نے اسے نمازوں میں سستی پر آمادہ کردیا؟ کیا اس کی زبان سے اس کا پڑوسی، حتیٰ کہ اس کا نظریاتی اور سیاسی مخالف محفوظ رہا اور اُس نے حق کا اظہار اس طرح کیا جیسے کہ قرآن نے سنت ِ رسولؐ کا تذکرہ کیا ہے کہ ’’دیکھو تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمھارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمھاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے شفیق اور رحیم ہے‘‘۔ (التوبہ ۹:۱۲۸)
داعی کے لیے ضروری ہے کہ اس کا قول، قولِ لیّن ہو، اس کا میٹھا بول دل اور روح میں جاگزیں ہوجائے (طٰہٰ ۲۰:۴۴)۔ وہ مخالف کی تلخ کلامی، الزام تراشی، درشتی، غرض ہرہر غلط بات کا جواب مخالف کی زبان میں نہ دے بلکہ حکمت سے دے جس طرح ایک داعی کی زبان اظہار کرتی ہے۔ ’’اور اس شخص کی بات سے اچھی بات کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ اور اے نبیؐ نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو، تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیب والے ہیں۔ اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اُکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے‘‘۔ (حم السجدہ ۴۱: ۳۳-۳۶)
ان اہم قرآنی ہدایات کی روشنی میں اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم میں سے ہرشخص ذاتی طور پر اپنا احتساب کرے اور اس کے ساتھ ہرمسلمان، ہرپاکستانی اور تحریکِ اسلامی کا ہرکارکن موجودہ حالات کے تناظرمیں اپنا، اپنے رویوں اور احساسات، اپنے مقاصد، اہداف اور سرگرمیوں کو، اور جو عہد اس نے اپنے اللہ سے کیا ہے اس کی روشنی میں احتساب کے ساتھ عزمِ نو کا عہد کرے، تاکہ رمضان کی برکتوں سے وہ خود بھی فیض یاب ہو اور ملک و ملت اور تحریک و دعوت کو بھی قوت حاصل ہو۔ یہ جائزہ جہاں دنیا، اُمت اور پاکستان کے عمومی حالات کی روشنی میں لیا جانا چاہیے وہیں خود تحریکِ اسلامی اس وقت جس مرحلے سے گزر رہی ہے اور حال ہی میں ملک گیر انتخابی معرکے نے جو نئے چیلنج اُبھارے ہیں ان کو سامنے رکھ کر یہ کام کیا جائے۔
ہم نے بات کا آغاز اس حدیث مبارکہ سے کیا تھا جس میں ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان کے روزوں کو رکھنے کی برکت، یعنی اللہ کی طرف سے مغفرت کا تذکرہ ہے۔ کسی بھی رابطہ عوام مہم میں جو مراحل پیش آتے ہیں وہ تحریک اسلامی کے کارکنوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ کسی بھی نظریاتی گروہ کو پیش آسکتے ہیں۔ ان میں سے چند پر غور کرنے کی ضرورت ہے:
۱- وسیع پیمانے پر عوامی رابطہ مھم کا مقصد: اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس مہم کا مقصد کیا صرف حصولِ اقتدار تھا یا رضاے الٰہی کا حصول اور دین کے قیام کے لیے سلطہ کا حصول۔ وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا o (بنی اسرائیل ۱۷:۸۰) ’’اور دعا کرو کہ پروردگار مجھ کو جہاں بھی تو لے جا (مکہ سے مدینہ منورہ) سچائی کے ساتھ لے جا، اور جہاں کہیں سے بھی نکال (مکہ مکرمہ سے) سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنادے‘‘۔
اقامت دین کی جدوجہد میں اقتدار بذاتِ خود نہ کبھی مقصود تھا نہ ہوسکتا ہے بلکہ یہ دین کے نفاذ کا تشریعی ذریعہ ہے۔ قرآن کریم کے تمام احکامات کا نفاذ اسی ذریعے کے ساتھ وابستہ ہے۔ اسلامی رفاہی اصولوں کا نفاذ ہو، یا زکوٰۃ کا نظام ہو یا نماز کا یا حج کا، ابلاغِ عامہ کے برقی ذرائع سے حیا، سچائی ، عدل و انصاف کے اصولوں کی تعلیم دینا ہو، یا تعلیم گاہ میں جدید علوم کی آگاہی، یا جداگانہ نظامِ تعلیم ہو، یا عدالتوں میں سچے، جری اور متقی قاضیوں کا تقرر ہو۔ اسی طرح اسلامی تعزیرات کا نفاذ ہویا حدود پر عمل، ہر ایک کے نفاذ کے لیے سلطہ، اقتدار کا حصول دینی مطالبہ ہے جو نصوص قرآنی کی بناپر قطعی الثبوت اور قطعی الدلالہ ہے۔ رمضان مطالبہ کرتا ہے کہ اس فریضے کی ادایگی کے حوالے سے ذاتی اور اجتماعی احتساب کیا جائے کہ رابطہ عوام مہم میں کہیں ذات اور قریب المیعاد مقاصد تو نہیں آگئے؟ کیا یہ صرف اور صرف ایک اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے برپا کی گئی؟
۲- مخاطب کی نفسیات و مسائل کا اِدراک: کیا عوامی مہم میں اس بات کو پیش نظر رکھاگیا کہ جن عوام الناس کو افہام و تفہیم کی جارہی ہے ان کے بنیادی مسائل___ بے روزگاری، تعلیم کا نہ ہونا، صاف پانی کا میسر نہ ہونا، جان مال اور عزت کا تحفظ نہ پایا جانا، ملک میں گرانی کی آفت کا پایا جانا، صحت اور زندگی کی سہولیات کا نہ پایا جانا، صنعت کاروں کا بجلی کی عدم موجودگی کے سبب کاروبار میں خسارہ اور عوام کا گرمی اور سردی دونوں میں پریشان ہونا___ کیا اِن مسائل کے قابلِ عمل حل عوام کے سامنے پیش کیے گئے اور انھیں اپنے ساتھ شامل کیا گیا یا ملاقاتوں اور اجتماعات میں نظری گفتگو اور حالات کی صرف منفی تصویر سامنے پیش کی گئی۔ اسلام اُمید کا نام ہے۔ نصرتِ الٰہی پر یقین کے ساتھ بہترین نتائج کی بشارت اور ان کے لیے کوشاں ہونے کا نام ہے۔ کیا ہم لوگوں میں اُمید اور حالات کے قابلِ تبدیل ہونے کا احساس پیدا کرسکے۔ کیا ملک کے عوام اور نوجوانوں پر طاری مایوسی کو ہم نے ایک الگ، مثبت اور قابلِ عمل منصوبہ پیش کر کے دُور کیا یا ہم بھی منفی اور غیرتعمیری تنقید کے دائرے میں گھومتے رہے۔
۳-مخالفین سے رویہ: کیا اس مہم کے دوران ہم نے مختلف الخیال افراد تک پہنچ کر انھیں حکمت، موعظہ حسنہ اور اپنی نرم گفتاری سے اپنے سے قریب کیا یا انھیں مخالف اور محارب کے خانے میں دھکیل دیا۔ قرآن کریم ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ کل تک جو ہمارا دشمن تھا ہم اسے اپنی بھلائی سے ولی حمیم میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی وضع کریں، اور پھر احتساب کریں کہ اللہ کی نصرت سے ہم کتنے مخالفین کو غیرجانب دار کرسکے۔ کتنے افراد کو تحریک کے ماحول میں لاسکے اور کتنے ہمدردوں کو سرگرم کارکن بناسکے۔ اگر رابطہ عوام مہموں میں ایک ایک کارکن صرف تین ایسے افراد سے رابطے قائم کرکے، جن میں سے ایک مخالف کو ہم خیال ، ایک لاتعلق کو متعلق اور ایک متعلق کو کارکن بنانے کی حکمت عملی پر عمل ہو، تو پانچ نہیں ایک سال میں تحریک سے وابستہ افراد میں تین گنا اضافہ ہوسکتا ہے، اور اس طرح دعوتِ دین وسیع تر حلقے تک پہنچانے میں اپنا فرض ادا کرسکتے ہیں۔
۴- اپنے گہر کی فکر: اس پہلو سے بھی احتساب کی ضرورت ہے کہ ہم نے دعوت کی اشاعت کے لیے جن جن محاذوں پر کام کیا، کیا ان میں گھر بھی شامل رہا ، اور اگر شامل رہا ہے تو کس حد تک ابلاغی خلا (communication gap) دُور کیا جاسکا۔ عام مشاہدہ ہے کہ نظریاتی طور پر بچوں پر اثرات کے باوجود بعض گھروں میں عوامی مہم ہو یا انتخابات کا معاملہ، والدین اور بچوں کے فیصلے حالیہ انتخابات میں یکساں نہیں رہے۔ اس میں جہاں یہ پہلو مثبت ہے کہ بچوں نے اپنی آزادیِ راے کا استعمال کیا، لیکن کیا انھیں اچھے انداز میں ان کے فیصلے کے اثرات سے آگاہ کیا گیا؟
۵- نوجوان قیادت: تحریکاتِ اسلامی کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ عصرِحاضر میں اسلامی تحریکات کے قائدین نے عمر کے جس مرحلے میں عوامی رابطے کا آغاز کیا وہ خود ان کا بھی دورِ جوانی تھا جس کی بنا پر نوجوانوں کو متحرک کرنے اور attract کرنے میں انھیں آسانی ہوئی۔ اس بات پر غور کرنے اور تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ عوامی رابطے میں جن افراد کو اُمیدوار نامزد کیا گیا، کیا وہ نوجوانوں کو اپیل کرنے میں کامیاب ثابت ہوئے، یا ہماری توقع کے باوجود صحیح نتائج حاصل نہ کرسکے۔تحریکات کی حیات کا انحصار نئے خون اور نئے ولولے، نئے زاویے، نئے طریقے تلاش کرنے والے ذہنوں کے ساتھ ہے۔ بلاشبہہ حکمت جس چیز کا نام ہے وہ محض علم سے حاصل نہیں ہوسکتی، نہ صرف تجربے سے اور، نہ صرف عمر کی بزرگی سے۔ بعض نوعمرصحابہ کرامؓ خلفاے راشدین کی شوریٰ کے رکن تھے۔ بعد کے اَدوار میں بعض نے سندھ اور بعض نے اسپین اور چین پر یلغار کی، جب کہ ان کے بال سیاہ تھے۔ خود حضرت اسامہ بن زیدؓ کا فوج کی قیادت کرنا ایک سبق آموز مثال ہے۔ تحریک کو اپنی عوامی رابطے کی دعوتی مہم کے لیے ایسے نوجوانوں کو آگے بڑھانا ہوگا جو پاکستان کے ۶۶فی صد نوجوانوں سے ان کی زبان میں بات کرسکیں۔ یہ ایک اہم اسٹرے ٹیجک معاملہ ہے اور اسے نظرانداز کرنا تحریک کے مستقبل کے لیے بہت خطرناک ہوسکتا ہے۔
۶- انفاق فی سبیل اللّٰہ:عوامی تحریکات میں دُوردراز علاقوں بلکہ مقامی اجتماعات کے لیے جو بھاگ دوڑ کرنی پڑتی ہے اور انتظامی اُمور میں جو مالی وسائل درکار ہوتے ہیں، نظریاتی تحریکات اس کے لیے ہمیشہ اپنے کارکنوں پر بھروسا کرتی ہیں اور وہ خود یا دوسروں کے تعاون سے وسائل پیدا کرتے ہیں۔ یہی درست طریقہ ہے لیکن اسے وسیع کیے بغیر آج کے دور کی ضروریات پوری نہیں کی جاسکتیں۔ اس بات کا احتساب کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہرکارکن نے مالی انفاق میں حصہ لیا اور اگر لیا تو کس حد تک۔ کیا وہ ’ہلکے اور بھاری‘ گھر سے نکلا، یا انتظار میں رہا کہ جس رب کے لیے کام کیا جا رہا ہے وہ خود سب کام کرکے اقتدار ہمارے حوالے کردے گا؟ کیا تمام ممکنہ قوتوں وقت، مال، صلاحیت کو لگاکر منزل کے حصول کی کوشش کی گئی یا ضابطے کی کارروائی کے طور پر کام کیا گیا اور اُمید یہ کی گئی کہ ووٹر خود اپنا ووٹ لسٹ میں چیک کریں گے اور خود جاکر راے کا استعمال کریں گے، جب کہ بہت سے اُمیدواروں نے ووٹرز کے لیے ہرمرحلہ خود آسان کر کے انھیں مدد فراہم کی۔
۷- جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال: اس بات کے بھی احتساب کی ضرورت ہے کہ ہم دین کی دعوت اور عوامی مہم میں کس حد تک برقی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا، مثلاً فیس بک یا ٹویٹر یا دیگر ویب کے ذرائع کو استعمال کرسکے یا محض ’عرب بہار‘ کے خودبخود واقع ہوجانے کی اُمید پر قانع رہے۔ ہوسکتا ہے بعض حضرات کو یہ باتیں بعد از مرگ واویلا نظر آئیں لیکن میں سمجھتا ہوں تحریکات کسی ایک یا دو انتخابات میں نہ مستقلاً کامیاب ہوتی ہیں اور نہ مستقلاً ناکام۔ تحریکاتِ اسلامی کے لیے احتسابی عمل ایمان او ر اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ ہرمرحلے میں انھیں ہمت، حوصلہ اور اُمید سے روشناس کراتا ہے۔ تنقید ہمیشہ صحت کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ قرآن کریم ہمیں یاد دہانی کراتا ہے کہ بعض باتیں اچھی نہیں معلوم ہوتیں، جب کہ ان میں ہمارے لیے خیر ہوتا ہے اور بعض اچھی معلوم ہوتی ہیں ، جب کہ ان میں شر ہوتا ہے۔
ان چند گزارشات کا مقصد صرف سورئہ حم السجدہ کی آیات کی روشنی میں یہ جائزہ لینا ہے کہ کس طرح تحریک ان ا فراد کو جو کل تک تحریک سے اختلاف کرتے تھے، آیندہ پانچ برسوں میں ایک جامع اور قابلِ عمل منصوبے کے ذریعے نہ صرف اپنا ہم خیال بلکہ اپنا جگری دوست بناسکتی ہے۔ اس معاملے میں شیطان بے کار نہیں بیٹھتا۔ اگر ہم ۱۰گھنٹے دن میں کام کرتے ہیں تو وہ دن رات کے ۲۴گھنٹے اپنی شرانگیزی میں لگاتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا کہ اللہ کی پناہ میں آیا جائے اور اس کے شر سے بچا جائے، اور اسی لیے کہا گیا کہ مخالف کی ضد، ہٹ دھرمی، تلخ کلامی، الزام تراشی کا جواب بھلائی سے دیا جائے۔ بُرائی کو بھلائی سے دُور کیا جائے تو وہی جو کل تک مخالف تھا، سرگرم کارکن بن سکتا ہے۔
رمضان میں جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ روزہ رکھا اس کے تمام ماضی کے گناہ، بھول، غیرشعوری طور پر غلطی سب کو رب کریم معاف کردیتا ہے۔ جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ قیام کیا اس کے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔جس نے رمضان میں ایمان و احتساب کے ساتھ رات کو قیام کیا اس کے نہ صرف ماضی بلکہ دو رمضانوں کے درمیان تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ اس ماہ کا ہرلمحہ مطالبہ کرتا ہے کہ اسے تعمیرسیرت، ضبط ِ نفس، عوام الناس کی خدمت، ناداروں اور ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے اور ملک و ملّت میں عدل و انصاف کا نظام قائم کرنے کی کوششوں میں صرف کیا جائے، تاکہ یہ مہینہ قیامت میں ہماری شفاعت اور گواہی دے کہ ہم نے اس کا حق ادا کردیا۔
عالمی تحریکات اسلامی کو اقامت ِ دین اور تبدیلیِ نظام کی جدوجہد میں عموماً پانچ بنیادی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔
اوّلین مرحلہ مقصد ِ حیات کے شعوروآگہی کے نتیجے میں اپنی فکر اور ذاتی زندگی میں اصلاح اور تزکیہ کا عمل ہے۔ اس مرحلے میںایک فرد جو کل تک روایتی مذہبی ماحول میں پل بڑھ کر زندگی کو دوخانوں میں تقسیم سمجھتا تھا کہ ایک خانہ عبادت اور تقویٰ کا ہے جس میں نمازوں کا اہتمام، روزے کی پابندی، عمرے اور حج کی سعادت اور کمائی ہوئی دولت اور کاروبار یا کاشت کاری میں سے ایک حصہ بطور زکوٰۃ کے ادا کردینا۔ یہ تمام کام اگر جزوی طور پر بھی کرلیے گئے تو ایک شخص کی شہرت دین دار فرد کی بن جاتی ہے اور وہ خود بھی مطمئن رہتا ہے کہ اُس نے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا حق ادا کردیا۔ اس کے ساتھ اگر اُس نے والدین کی خدمت سال میں ایک مرتبہ اپنے کاروباری مرکز سے جاکر ان کو شکل دکھاکر کر دی یا انھیں کوئی رقم بھیج دی تو وہ سمجھتاہے کہ اس نے تمام فرائض پورے کردیے۔ دوسرا خانہ اس کی کاروباری اور پیشہ ورانہ زندگی کا ہوتا ہے جس میں وہ بطور تاجر، بطور طبیب، بطور استاد، بطور سرکاری ملازم مقررہ وقت پر حصولِ نفع کے لیے کام کرتا ہے اور جس شعبے سے تعلق ہو اُس کے رواج کو بنیاد بناکر شہرت حاصل کرتا ہے۔ چنانچہ اگر وہ کاروباری ہے تو کاروباری برادری میں مروجہ طریقوں کی پیروی کرتا ہے، چاہے ان میں اسے جھوٹ بولنا پڑے اور اپنے مال کو فروخت کرنے کے لیے دوسروں کے حقوق کو پامال کرنا پڑے۔ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ نفع کے حصول کی دوڑ میں شامل ہوکر دوسروں سے آگے بڑھنا اور اپنا مقام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ سرکاری ملازم ہے تو اپنی تمام نمازوں اور روزوں کے ساتھ وہ اپنے سے اعلیٰ افسر اور اقتدار پر قابض افراد کو اپنا مالک اور رب مانتے ہوئے ہرلمحہ ان کی خوش نودی اور بندگی کے ذریعے اپنا مقام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہوا کے رُخ کو دیکھ کر چلتا ہے اور حکمران جماعت کے ہرحکم کو اپنی ذہانت کے استعمال سے نافذ کرنے میں سرگرم رہتا ہے۔
زندگی کے یہ دوخانے نہ صرف عام کاروباری انسان یا پیشہ ور افراد ہی نہیں، بلکہ ان میں سے بھی کچھ جو دین کے خدمت گار سمجھے جاتے ہیں وہ بھی زندگی کو عملاً ان دو خانوں میں تقسیم کرنے کو عین دین کے مطابق سمجھتے ہیں اور اس طرح شعوری یا غیرشعوری طور پر دین و دنیا کے الگ الگ اصولوں پر عمل پیرا رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ چنانچہ منبرومحراب سے جس اعلاے کلمۃ الحق پر خطاب ہوتا ہے یا معاشرتی حقوق پر دل گداز اظہارِ خیال کیا جاتا ہے اپنے گھر اور اپنی برادری میں شادی بیاہ کے موقع پر ان تمام اصولوں اور خطابات کے برخلاف وہ تمام رسوم ادا کی جاتی ہیں جن کی بنیاد ہندومت، قبائلیت اور جاہلی برادری کے نظام میں پائی جاتی اور جو دین اسلام کی واضح تعلیمات سے ٹکراتی ہیں۔ ایسے تمام مواقع پر کہا جاتا ہے کہ آخر برادری میں رہنا ہے، اگر یہ سب کچھ نہ کیا گیا تو برادری والے کیا کہیں گے۔ زندگی میں یہ تقسیم آج کے دور کی پیداوارنہیں ہے۔ یہ تقسیم جب سے انسان نے شعور کی آنکھ کھولی ہے، پائی جاتی ہے۔ اسی لیے قرآن کریم نے کہا تھا کہ وَہَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ(البلد ۹۰:۱۰) ’’ہم نے دونوں راستے دکھا دیے‘‘۔ حق و باطل کی نشان دہی اور اچھائی اور بُرائی کے راستوں کا علم ہونے کے باوجود، روایتی مذہبیت زندگی کو دوخانوں میں تقسیم کرنے میں کوئی ہرج نہیں سمجھتی بلکہ فخر سے اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ دین و دنیا دونوں میں توازن رکھنا ہی اسلام ہے۔ چنانچہ زندگی میں تقسیم کے ذریعے بیک وقت دو خدائوں کی بندگی کرنے کے فن کو کامیاب زندگی قرار دیا جانا ہے۔ قرآن کریم دوسری جانب یہ واضح ہدایت دیتا ہے کہ اللہ وحدہٗ لاشریک کی بندگی کرتے ہوئے انسان پورے کا پورا اسلام میں داخل ہوجائے۔ ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَـآفَّۃً ص وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ(البقرہ ۲:۲۰۸)، ’’اے ایمان لانے والو، تم پورے کے پورے اسلام میں آجائو اور شیطان کی پیروی نہ کرو‘‘۔
تحریکاتِ اسلامی قرآن کریم کے اس مطالبے کو اپنی دعوت کا اوّلین نکتہ قرار دیتی ہیں اور جب بھی ایک شخص کا تحریکی شعور جاگتا ہے وہ زندگی میں اس تقسیم سے نجات حاصل کر کے اپنی ذاتی اور گھریلو زندگی میں، اپنے کاروبار اور اپنے تمام ’دنیاوی‘ معاملات میں صرف اور صرف اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا بندہ بن کر اپنے تمام معاملات کو صرف اس کی رضا کا تابع فرمان کردینے میں لگ جاتا ہے۔
تحریکِ اسلامی کی دعوت پر لبیک کہنے والوں میں ایک بڑی تعداد ان افراد کی بھی پائی جاتی ہے جو پہلے جاہلیت کی زندگی گزارتے تھے اور نجی زندگی میں بھی اسلام کے احکام اور تعلیمات کی پاسداری نہیں کرتے تھے لیکن جب اللہ نے انھیں ہدایت دی تو بتدریج انھوں نے اپنی ذاتی اور گھریلو زندگی کے تضادات دُور کرنے کی بھرپور کوشش کی اور وہ اس دعوت کے نتیجے میں ایک نومسلم کے جذبے کے ساتھ اپنی زندگی کو مکمل طور پر عبدیت میں تبدیل کرنے میں لگ جاتے ہیں۔
دوسرا مرحلہ ان کا اپنی ذات سے آگے بڑھ کر اپنے اہلِ خانہ کو اس نئے شعورِحیات سے واقف کرانا اور اپنی عملی زندگی کے نمونے کے ذریعے بندگیِ رب کی دعوت دینا ہے۔ تحریکِ اسلامی کا ہر کارکن اور ہرہم خیال فرد اللہ تعالیٰ کے سامنے اس بات پر جواب دہ ہے کہ جو ہدایت اُس تک پہنچی اس نے اسے اپنے اہلِ خانہ تک پہنچایا یا نہیں اور اپنے عمل سے کس حد تک اس دعوت کی عملی مثال پیش کی۔ اگر وہ بڑے بڑے اجتماعات میں تزکیۂ نفس پر تقاریر کرتا ہے اور گھر میں اس کا طرزِعمل ایک جابر اور نفس پرست انسان کا ہے اور وہ صرف اپنے آرام، اپنی سہولت، اپنی ذات کو اہمیت دیتا ہے تو اس نے خود ابھی تک دعوت کا صحیح شعور حاصل نہیں کیا۔ یہ مرحلہ آسان نہیں ہے، نہ مختصر ہے بلکہ مسلسل شعوری جدوجہد کا مطالبہ کرتا ہے اور عین ممکن ہے مسلسل کوشش کے باوجود بھی ایک کارکن اپنے اہلِ خانہ کو مکمل طور پر تحریکی شعور نہ دے سکے۔ قرآن کریم بعض انبیاے کرام ؑ کے واقعات بیان کرکے سمجھاتا ہے کہ یہ امکان بھی ہوسکتا ہے کہ بہترین کوشش کے باوجود ایک بیوی یا ایک بیٹا یا ایک بیٹی سربراہِ خاندان کی طرح دعوت کو اختیار نہ کرے۔ ایسی شکل میں قرآن نااُمیدی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ آخروقت تک کوشش کرتے رہنے کا حکم دیتا ہے۔ اہم بات جو اس مرحلے میں ہرکارکن کے لیے قابلِ غور ہے وہ اس کی کامیابی سے بھی کہیں زیادہ اہم اس کی وہ پُرخلوص کوشش ہے جو اسے اِس دنیا اور آخرت دونوں جگہ بہترین اجر کا مستحق بناتی ہے، یعنی رضاے الٰہی کا حصول۔
تیسرا مرحلہ اپنے خاندان سے آگے نکل کر اہلِ محلہ اور اردگرد کے معاشرے کو دینی شعور سے آگاہ کرنے کا ہے اور اس میں سب سے زیادہ بنیادی کردار مسجد اور معاشرتی فلاح کے کاموں کا ہے۔اگر ایک کارکن مسجد میں نظر نہیں آتا اور ہر عوامی مظاہرے میں سب سے آگے دکھائی دیتا ہے تو یہ اس دعوتی مرحلے کی کمزوری کی علامت ہوگی اور ایک عام فرد اسے سیاسی کارکن تو سمجھے گا دین کا کارکن نہیں سمجھے گا۔ مسجد میں چندلمحات کے لیے قرآن کی تلاوت اور اگر ممکن ہو تو ایک ایسے حلقے کا قیام جو صرف قرآن کریم پر غور کرنے کے لیے قائم ہو، اس مرحلے کی بنیادی ضرورت ہے۔ ان تمام مشکلات کے علی الرغم جو مساجد کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں اگر حکمت سے کام کیا جائے تو قرآنی حلقے کا قیام ممکن ہے۔ آخر بعض تبلیغی جماعتوں کے افراد ہر مسجد میں کھڑے ہوکر مقررہ جملوں میں اپنی بات کہتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ایک فرد یہ بات نہ کہہ سکے کہ نماز کے بعد پندرہ منٹ کے لیے قرآنی حلقہ ہوگا اس میں شرکت کی درخواست ہے۔
اگر یہ کام خلوصِ نیت سے ذاتی اَنا کو رد کرتے ہوئے کیا جائے گا تو ان مساجد میں بھی جہاں تحریک کے ساتھ فکری ہم آہنگی موجود نہ ہو وہاں بھی ان شاء اللہ کامیابی ہوگی۔ یہاں بھی یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اگر ایک کارکن جو اہلِ محلہ سے نہ ملتا ہے نہ ان کے غم اور خوشی میں شرکت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ مسجد میں اس کے اعلان پر لوگ درس میں شرکت کرلیں تو وہ خام خیالی میں مبتلا ہے۔ ایک کارکن کا طرزِعمل ہی اسے عوام الناس میں تحریک کی دعوت سے روشناس کرانے کا اصل ذریعہ ہوتا ہے۔
چوتھا مرحلہ اہلِ محلہ سے آگے بڑھ کر اپنے گائوں اور اپنے شہرمیں ان مواقع کا استعمال کرنا ہے جو تحریکی دعوت کو عام کرنے کا ذریعہ بن سکیں۔ یہ ماہانہ فکری حلقہ بھی ہوسکتا ہے ادبی حلقہ بھی، اور معاشرتی فلاح کے کاموں کا ایک سلسلہ بھی۔ یہ بیٹھک اسکول بھی ہوسکتا ہے۔ یہ خواتین کے لیے طبی مشورہ اور امداد کا مرکز بھی ہوسکتا ہے۔ یہ سلائی سکھانے کا ادارہ بھی ہوسکتا ہے اور یہ محلے کے بچوں یا بچیوں کو مختلف درجوں میں کوچنگ فراہم کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ فلاحی کام وہ سنت ہیں جنھیں اگر خلوصِ نیت کے ساتھ کیا جائے تو دعوت کے پھیلنے کو کوئی نہیں روک سکتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی بوڑھی خاتون کی عیادت کرنا اور حضرت ابوبکرؓ کا خلافت کے بعد بھی ایک بوڑھی خاتون کی بکریوں کا دودھ دوہنا خدمت ِ خلق کی وہ واضح مثالیں ہیں جن پر عمل کرنا سنت پر عمل کرنا ہے۔
شہروں اور گائوں میں طبی مراکز، تعلیمی مدارس، یتامیٰ اور ناداروں کے لیے تربیتی و تعلیمی اداروں کا قیام، خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد یہ وہ اہم کام ہیں جو دعوت کے لازمی مراحل میں شامل ہیں۔ اگر تحریکی کارکن یا قائدین ایسے تعلیمی مراکز تو قائم کردیں جن میں سرکاری نظامِ تعلیم کے نصاب کے مطابق سیکڑوں اور ہزاروں بچوں کو تعلیم دی جارہی ہو لیکن ان طلبہ و طالبات کے ساتھ اساتذہ کا طرزِعمل کاروباری ہو، اور رضاے الٰہی کے حصول کی جگہ محض تنخواہ کا حصول مقصد بن گیا ہو تو پھر بظاہر تعلیمی شعبے میں کام پھیلنے کے باوجود اس کی دعوتی افادیت صفر بلکہ منفی صفر رہے گی۔ اس حوالے سے اعلیٰ ترین سطح پر اور انتظامی سطح پر یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر تحریکِ اسلامی سے وابستہ افراد کی زیرنگرانی اسکولوں کا ایک سلسلہ (chain)موجود ہے جس میں ایک ایک اسکول سسٹم نے تین تین سو اسکول قائم کررکھے ہیں تو کیا ان اسکولوں کے طلبہ و طالبات اور ان کے والدین تک دعوت مؤثر طور پر پہنچائی گئی یا نہیں؟ اگر اس بڑے دعوتی بنک کو ضائع ہونے دیا گیا اور محض ہراسکول میں طلبہ کی تعداد بڑھانے کو مقصد بنا لیا گیا تو پھر یہ دعوت سے صریح انحراف ہے۔ طلبہ کے والدین تک پیغام پہنچانے سے یہ مراد نہیں ہے کہ اسکول کے سالانہ پروگرام میں دین اسلام پر کوئی جوشیلی تقریر ہوجائے بلکہ اسکول کی نصابی سرگرمی کے علاوہ ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ و طالبات میں دین کا شعور، بنیادی تصورات کی وضاحت اور ان کے ذریعے ان کے والدین سے قریبی رابطہ تاکہ ان کے سامنے ایک ایسا عملی ماڈل آسکے جس میں تعلیم میں اعلیٰ مہارت کے حصول کے ساتھ وہ اپنے بچے میں سیرت و کردار کی تبدیلی دیکھ سکیں اور خود ان کو والدین اساتذہ اجتماعات کے ذریعے دعوت کا شعور دینا، انھیں مختلف مواقع پر دعوت دے کر تبادلۂ خیال کے ذریعے تحریک سے قریب لانا۔اگر صرف تحریکِ اسلامی کے افراد کے قائم کردہ اسکولوں میں بچوں اور ان کے والدین تک دین کا صحیح تصور دیا جائے اور عملاً اسلامی اخلاق پر عمل کیا جائے تو نتائج کے لحاظ سے یہ کسی عظیم الشان جلسے یا دھرنے سے کم مؤثر نہیں ہوسکتا۔ اگر صرف اسکولوں کے سلسلے کو صحیح طور پر استعمال کرلیا جائے تو ہزاروں لاکھوں گھروں تک اللہ کے دین کا پیغام پہنچ سکتا ہے اور یہ لوگ آخرکار اپنے سیاسی تصورات پر غور کرنے پر آمادہ ہوں گے اور ’دعوتی ووٹ‘ سیاسی ووٹ میں تبدیل ہوسکے گا۔
پانچواں مرحلہ قومی سطح پر اپنی دعوت کو مؤثر انداز میں ملک کے مختلف طبقات تک پہنچانے اور ملکی سطح پر ان افراد کو ایک تنظیم میں شامل کرنے کا ہے جو دعوت سے اتفاق رکھتے ہوں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جس میں خود تحریکی ذہن رکھنے والے افراد خلوصِ نیت کے ساتھ ایک سے زائد طریق کار اور حکمت عملی کے ممکن ہونے کی بنا پر بعض اوقات مغالطے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس پانچویں مرحلے کے اوّلین حصے پر، یعنی اقامت دین کی دعوت کو کس طرح اس کے مخاطبین تک پہنچایا جائے؟ ایک سے زائد طریق کار کا وجود بارہا یہ سوال ذہن میں اُٹھاتا ہے کہ کیا جو طریق کار دعوت کے لیے اختیار کیا گیا ہے یہی سب سے زیادہ مناسب اور سنت انبیا کی روح اور مثال سے قریب ہے یا اس کے علاوہ دیگر طریقۂ ہاے کار بھی حصولِ مقصد کے لیے اختیار کیے جاسکتے ہیں؟
بعض حضرات کے نزدیک اگر صرف عبادات کے صحیح طریقے کی اصلاح کرلی جائے تو دین کی اقامت ہوجاتی ہے چنانچہ وہ عبادات کی ظاہری شکل پر اپنی توجہ مرکوز رکھنے کو کافی سمجھتے ہیں۔ کچھ حضرات زندگی کے اسلامی ہونے کے لیے قلب کو مرکز قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قلب کی اصلاح ہر شے پر مقدم ہے اور اس غرض سے اذکار اور اوراد کا اہتمام ساری توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ بلاشبہہ مسنون اذکار و اوراد تزکیۂ نفس کا اہم ذریعہ ہیں لیکن اگر باقی اُمور کو نظرانداز کر کے صرف اذکار کو دین سمجھ لیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کاروبارِ حیات کے بہت سے اہم معاملات کو تزکیۂ قلب کی روح کے منافی سمجھتے ہوئے ترک کردیا جائے گا اور دین و دنیا کی تقسیم کو مزید مستحکم کردیا جائے گا اور اللہ والے افراد خانقاہوں اور زاویوں میں گوشہ نشین ہونے اور دنیاوی معاملات کو خیرباد کہنے میں اپنی عافیت سمجھیں گے۔ یہ طرزِفکر روحانیت میں اضافے کو بنیادی اہمیت دیتا ہے تاکہ قلب کی دنیا میں تبدیلی آجائے اور قلب اللہ تعالیٰ کے نور سے بھر جائے تو پھر نظامِ کفر ہو یا استحصالی معاشرہ ہر ایک فرد خود بخود ٹھیک ہوجائے گا۔
ایک طرف یہ رویہ ہے تو دوسری طرف منہج نبویؐ کا گہری نظر سے مطالعہ کرنے اور قرآن و سنت سے استدلال کرتے ہوئے انبیاے کرام ؑ کے طریق کار کے تجزیے کے نتیجے میں ایک نقطۂ نظر یہ سامنے آتا ہے کہ اقامت دین کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے حضرت سلیمان ؑ سلطنت اور حکومت کو قائم فرماتے ہیں۔ حضرت دائود ؑ کو اللہ تعالیٰ خلافت کے منصب پر خود فائز فرماتے ہیں اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ میں مقامِ قیادت اور تھوڑے عرصے میں فاتحِ مکّہ کی حیثیت سے حضرت ابراہیم ؑ کے شہر میں داخل فرماتے ہیں۔ آپؐ مدینہ منورہ میں بین الاقوامی معاہدے کرتے ہیں۔ مختلف ممالک کے فرماں روائوں کو مدینہ منورہ میں قائم شدہ اسلامی ریاست کے امیر اور اللہ کے نبیؐ کی حیثیت سے دعوتی خطوط تحریر فرماتے ہیں۔ قرآن کریم کی مقرر کردہ تعلیمات کو خاندانی معاملات میں، معیشت میں اور تعزیراتی معاملات میں حکومتی اختیارات کے ذریعے نافذ فرماتے ہیں۔ گویا عملاً کر کے دکھاتے ہیں کہ تزکیہ محض قلب کا نہیں بلکہ معیشت و سیاست کا تزکیہ بھی یکساں طور پر بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اس نقطۂ نظر کی روشنی میں جو طریق کار اور حکمت عملی تحریکاتِ اسلامی اختیار کرتی ہیں وہ انبیاے کرام ؑ کے طریق دعوت سے براہِ راست ماخوذ اور اسی پر مبنی ہوتی ہے۔
پانچویں مرحلے کے اس اوّلین پہلو کے ساتھ ہی جو دوسرا اہم پہلو ہمارے سامنے آتا ہے، اس کا تعلق دعوت سے متاثر افراد کی تنظیم، ان میں دعوت کی تطبیق اور جو لوگ دعوت سے اتفاق نہ کرتے ہوں ان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کا ہے۔ تحریکِ اسلامی کا تنظیمی ڈھانچا کیا ہو؟ کیا یہ ضروری ہے کہ تحریک ہر کام خود کرے یا وہ بعض مقاصد کے حصول کے لیے تقسیم کار کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اپنی عمومی رہنمائی اور تائید کے ساتھ تحریک کے ہم خیال افراد کو معاشی خدمت ِ خلق یا سیاسی معاملات میں بڑی حد تک خودمختاری کے ساتھ کام کا موقع دینی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر اختیارکرے؟
اسی طرح اس مرحلے میں یہ امر بھی غورطلب ہوگا کہ کیا تحریک ہمیشہ سیاسی محاذ پر اپنی دعوت اور اصولوں کی بنا پر تنہا سیاسی محاذ پر کام کرے یا وقتی طور پر دیگر سیاسی جماعتوں سے متعین وقت کے لیے تعاون کو حسب ِ ضرورت اختیار کرے؟ ایک زاویہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں سے کسی قیمت پر اتحاد یا اشتراک نہ کیا جائے اور مکمل طور پر اپنے افرادی اور مادی وسائل پر بھروسا کیا جائے، چاہے تحریک کو حصولِ مقصد میں سو دو سو سال لگ جائیں ۔ وہ ہر کام اپنے نظریاتی اصولوں کے مطابق کرے اور کسی کے ساتھ مخصوص اہداف کے لیے بھی تعاون و اشتراک پر غور نہ کرے۔
دوسروں سے عدم تعاون کے نقطۂ نظر کے لیے فکری بنیاد عموماً قرآن و سنت کے بعض جزوی احکام سے اخذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اسلام اور جاہلیت، اسلام اور طاغوت، اسلام اور کفر کا مقابلہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ جو جماعتیں اپنے اہداف اور دعوت کے لحاظ سے قرآن و سنت کی تعلیمات سے انحراف کرتی ہوں وہ جاہلی جماعتیں ہیں اور ان کے ساتھ کسی معاملے میں تعاون کرنا اسلام کے منافی ہے۔
اقامت دین اور قیامِ نظامِ اسلامی کی جدوجہد کے اس پانچویں مرحلے میں جو ملک گیر بنیاد پر دعوتِ دین کو حکمت کے ساتھ عوام الناس تک پہنچانے اور انھیں منظم کرنے کا ہے،دعوتی اور سیاسی تنظیم بندی بالعموم یک جان ہوجاتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے مکہ سے مدینہ منورہ آنے کے بعد اسلام کے عالم گیر دعوتی اصول بالخصوص دعوتِ توحید، معیشت اور سیاست کے شعبے میں انقلاب لانے کا سبب بنی۔ اس مرحلے میں تحریک اسلامی کے لیے قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ جس طرح اس کی دعوت کا منطقی اور قرآن و سنت پر مبنی ہونا عوام کو مطمئن کرتا ہے کہ یہ دعوتِ حق ہے، کیا وہی افراد جو اس کی دینی دعوت کو پسند کرتے ہیں تحریک کی سیاسی حمایت اور اُس کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرنا پسند کرتے ہیں؟کہیں ایسا تو نہیں کہ تحریکی کارکنوں کے خلوص اور قربانی کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی دعوت کو تو پسند کیا جا رہا ہو لیکن سیاسی فیصلے میں وفاداری، برادری، موروثی سیاست دانوں یا جذباتی نعرے بلند کرنے والوں کے ساتھ ہو اور اگر بالفرض ایسا ہے تو تحریک کی دعوت کی حکمت عملی اس پہلو کو حل کرنے کے لیے اور ان افراد کو جیتنے کے لیے جو دعوت کو تو پسند کرتے ہیں لیکن ووٹ ڈالتے وقت جذبات یا پرانی وابستگی سے متاثر ہوجاتے ہیں،کیا مؤثر اقدامات کرتی ہے؟ اس مرحلے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ رضاے الٰہی کے حصول کے لیے اگر بعض ایسے سیاسی طبقات کے ساتھ وقتی اور جزوی تعاون کرنا پڑرہا ہے جو چاہے اپنی ذات میں اسلام کے اعلیٰ اصولوں پر عامل نہ ہوں لیکن اس تعاون کے نتیجے میں ملک میں اسلامی معاشرہ اور نظامِ عدل قائم کرنے کے امکانات پیدا ہو رہے ہوں تو تحریک کا ان کے ساتھ تعاون کرنا وسیع تر حکمت عملی کا ایک جزو سمجھا جائے گا نہ کہ مداہنت کی کوئی شکل! بات بہت واضح ہے، ایسے حالات میں سیاست شرعیہ کا تقاضا ہے کہ ایسے جزوی تعاون کو اختیار کرکے بڑے مقصد کے حصول کے راستے کو ہموار کیا جائے۔ ایسا تعاون کفر اور طاغوت کے ساتھ تعاون قرار نہیں دیا جاسکتا۔
عصرِحاضر کے تحریکِ اسلامی کے نام وَر مفکرین سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ اور سید قطب شہیدؒ نے اسلام اور جاہلیت کے حوالے سے جو تصور پیش کیا ہے وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ایک جانب وہ طاغوتی نظام کے خلاف فکری، دستوری اور عملی جہاد کا تصور پیش کرتے ہیں اور دوسری جانب طاغوتی نظام کے زنجیری حلقے کو توڑنے کے لیے نقطۂ آغاز کے حوالے سے یہ تصور پیش کرتے ہیں کہ اگر اصولی طور پر ایک ریاست اپنے آپ کو غیراسلامی ریاست قرار دیتی ہو،مثلاً خود کو سکیولر کہے تو اس کے ساتھ سیاسی معاملات میں شراکت نہ کرنا افضل ہوگا، جب کہ ایک ریاست اصولی طور پر خود کو اسلامی ریاست اپنے دستور کی دفعات کے ذریعے قرار دے لیکن نظامِ حکومت ابھی مکمل طور پر اسلامی نہ ہو تو اس کے معاملات کی اصلاح کے لیے دستور کی روشنی میں معاملات میں شراکت نہ کرنا دین کی حکمت کے منافی ہوگا۔ ایسے حالات میں اُمت مسلمہ کی فلاح اور حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کرنا، سیاسی جدوجہد کرنا اور اس جدوجہد میں دیگر جماعتوں کے ساتھ اس مقصد کے حصول کے لیے تعاون کرنا دین کی حکمت کے مطابق ہوگا۔ اس کی مثال ایک نومسلم کی حیثیت سے بھی سمجھی جاسکتی ہے جس کا صرف اقرارِ ایمان اسے مسلمان بنادیتا ہے۔ گو ابھی اسلامی شعور اور کردار کا حصول ایک وقت لے گا، بلکہ مدت عمر کا متقاضی ہوگا۔
حکمت عملی کے حوالے سے دوسرا اقدام مروجہ نظام میں موجود افراد کو اس تبدیلی کے لیے آمادہ کرنا ہوگا اور اس غرض سے پارلیمان ہو یا ایوانِ تجارت، جامعات ہوں یا سرکاری دفاتر، فوج ہو یا مذہبی اُمور میں رہنمائی کرنے والے افراد ہر ایک سے رابطہ، تبادلۂ خیالات اور ان تمام اداروں میں ایسے افراد کو داخل کرنا ہوگا جو ان مختلف محاذوں پر دین کے مفاد کا تحفظ کرسکیں۔ اسی کا نام دین کی حکمت ہے۔ قرآن کریم اس سلسلے میں حضرت یوسف ؑ کے ایک ایسے نظام میں جو بظاہر شریعت الٰہی پر مبنی نہ تھا داخل ہوکر اس کی اصلاح کرنے کی حکمت عملی ہمارے سامنے پیش کرتا ہے تاکہ اولوالالباب اس پر غور کریں اور حالات و مواقع کے لحاظ سے اللہ کے ایک برگزیدہ نبی ؐ کے اسوہ کی پیروی کرتے ہوئے چاہے پارلیمان ہو یا ایوانِ تجارت، عدلیہ ہو یا دیگر اہم ادارے، ان میں شمولیت کر کے اندر سے اصلاح کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو یہ سیاست شرعیہ اور مصلحت عامہ کے اصولوں کے منافی ہوگا۔
یہاں یہ بات واضح کردینی ضروری ہے کہ ایک اصولی اور دستوراً اسلامی ریاست اور ایک عملاً غیراسلامی ریاست میں دینی حکمت عملی یکساں نہیں ہوسکتی۔ دین کی بنیادی دعوت بلاشبہہ ایک ہی ہوگی، یعنی نفس، معاشرہ، معیشت اور سیاست کے خدائوں سے نجات حاصل کرکے صرف اور صرف خالق کائنات کی حاکمیت کا قیام اور اسلام کے نظامِ عدل کا قیام۔
ہم یہاں ایک اصولی، دستوری اور اسلامی ریاست کی بات کر رہے ہیں جس میں چاہے عملاً دین کی تمام تعلیمات پر سرکاری اداروں میں مکمل طور پر عمل نہ کیا جا رہا ہو۔ ایسی صورت حال میں تبدیلی کا عمل اسلامی منہج پر عمل کرتے ہوئے surgical operation سے بھی ہوسکتا ہے اور medical treatment سے بھی۔دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔ ایک میں اندرونی طور پر تشخیص مرض کے بعد اندر سے اصلاح کرنے کے لیے معروف اور بّر کے ذریعے نظامِ فساد کی اصلاح کی تدبیر کی جاتی ہے۔ چنانچہ حسنات اور معروف میں بتدریج اضافے کے ذریعے فساد جسم کو ختم کیا جاتا ہے، جب کہ سرجری میں، اس صورت میں جب دوسری دوائیں کام نہ کریں تو فساد کا سبب بننے والے اجزا کو نشتر کے ذریعے تراش کر الگ کردیا جاتا ہے۔ ان دونوں کی بنیاد دین کے بنیادی اصولوں پر ہے۔ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ (ھود ۱۱:۱۱۴)، ’’بلاشبہہ بھلائیاں برائیوں کو دُور کردیتی ہیں‘‘۔ اس طرح فتنہ اور فساد کو دُور کرنے کے لیے جنگ کرنے کا حکم بھی قرآنِ کریم کی تعلیمات کا حصہ ہے۔ وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ (البقرہ ۲:۱۹۳)، ’’تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہوجائے‘‘۔
قرآن کریم اور سنت مطہرہ تبدیلی کے دونوں طریقوں کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں اور ایک تیسرے قرآنی اصولِ استحسان اور مصلحت عامہ کے ذمہ دارانہ استعمال سے یہ فیصلہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں کہ ایک مخصوص صورت حالات میں کس حکمت عملی کو اختیار کیا جائے۔ ان میں کوئی تضاد نہیں۔ یہ فیصلہ کہ کب تک طبابت سے کام لیا جائے اور کب نشتر کا استعمال ہو، ایک اجتہادی اقدام ہے۔ اس لیے کسی ایک طریقے کو جائز اور حلال اور دوسرے کو مردود اور حرام قرار دے دینا، نہ دین ہے اور نہ دین کی تعلیم کردہ عقل و حکمت سے مطابقت رکھتا ہے۔
یہ سوال اُٹھاتے وقت کہ انتخابی سیاست میں ضرورتاً حصہ لینے کے باوجود اگر متوقع نتائج حاصل نہ ہوں تو پھر اس سرگرمی کا کیا جواز ہے؟ بات بہت آسان سی ہے، جسے ہم بالعموم شدتِ جذبات میں نظرانداز کرجاتے ہیں، یعنی ہمارا اصل مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہے یا ایک خاص تعداد میں نشستوں کا حصول؟ کیا سیاسی جدوجہد کا مقصد محض حصولِ اقتدار ہے یا اسلامی اخلاقی اصولوں پر مبنی دعوت کو عوام الناس تک پہنچا کر ان میں حق و باطل کے درمیان انتخاب کرنے کا شعور بیدار کرنا اور یہ یاد دہانی کرانا کہ وہ اپنے ذاتی مفادات، برادری سے تعلق اور سیاسی وابستگی کے باوجود اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ اپنا ووٹ کا حق استعمال کریں۔اگر ہمارا مقصد اپنی دعوت پہنچانا اور دعوت کو بہتر طور پر پیش کرنے کے لیے ایوانِ نمایندگان میں پہنچ کر ملک میں اصلاح اور عدل کے نظام کا قیام ہے تو نشستوں کی کثرت یا قلت اور انتخاب میں بھرپور کامیابی یا ناکامی سے بلند ہوکر اپنے احتساب کی ضرورت ہے کہ ہم نے کس حد تک صحیح حکمت عملی اور اخلاقی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کو سرانجام دیا۔
اللہ تعالیٰ نے ان صالح افراد کی کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے، جو خلوصِ نیت کے ساتھ اللہ کو اپنا رب قرار دیتے ہوئے دین پر استقامت اختیار کرلیتے ہیں۔ وہ انھیں لازمی طور پر زمین میں خلیفہ بناتا ہے۔سیاسی محاذ پر انتخاب میںکامیابی یا ناکامی ہو یا میدانِ جہاد میں کفروظلم کے مقابلے میں صف آرا ہوکر جان کی بازی لگانا ہر دعوتی جدوجہد اور جہادِ حق کے لیے قرآن کریم نے اسلامی عالمی اصول بیان کردیا ہے کہ آخرکار کامیابی اور سرفرازی دین کی ہوگی جو ایمان، خلوص، منزل کے شعور، دعوت الی اللہ اور ایثار و قربانی کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔
وَ لَا تَھِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ o (اٰل عمرٰن ۳:۱۳۹) ، دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔
اسی بات کو ایک دوسرے انداز سے یوں فرمایا گیا:
اِِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَo (احقاف ۴۶:۱۳) یقینا جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے، پھر اُس پر جم گئے، ان کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اصل غور طلب بات یہ ہے کہ کیا سیاسی جدوجہد میں ہم نے صرف اور صرف اللہ کو رب بناتے ہوئے استقامت اختیار کی یا اس جدوجہد میں جسے خالصتاً اللہ کے لیے ہونا چاہیے تھا کہیں ذات اور شخصیت تو درمیان میں نہیں آگئی یا چند لمحات ہی کے لیے سہی منصب کی طلب کا وسوسہ تو نہیں پیدا ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے جب وہ فرماتا ہے کہ میں تمھیں سربلند (الاعلون) کروں گا تو وہ ایسا ہی کرتا ہے، کمی ہماری جانب سے رہتی ہے ۔ کبھی منصوبہ بندی میں کہ جو کام انتخابات سے ایک سال پہلے کرنے کا ہو ہم نے دو ماہ پہلے کیا ہو یا حالات کا تجزیہ کہ ہم نے محض معلومات کے ایک ذریعے پر بھروسا کیا ہو وغیرہ۔
کسی بھی جماعت کے لیے کامیابی کا حصول بڑی اہمیت رکھتا ہے خصوصاً ایسی جماعت کے لیے جسے اس کے ناقدین ملک کی سب سے زیادہ منظم، نظریاتی جماعت کہتے ہوں۔ لیکن اس سے زیادہ اہم اس کا اپنے اصولوں پر قائم رہنا اور استحصال، بدعنوانی، رشوت اور اقرباپروری پر مبنی نظام کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔ بلاشبہہ تبدیلی اور مکمل تبدیلی ہمارا اصل ہدف ہے لیکن اس ہدف کا سو فی صد حصول پورے طور پر ہمارے ہاتھ میں نہیں۔ صحیح انداز میں کوشش ضروری ہے اور اس کا بار بار تنقیدی جائزہ بھی ضروری ہے لیکن خلاف گمان نتائج پر مایوسی کا کوئی جواز ہی نہیں۔ کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی کرتا ہے اور بعض اوقات بظاہر ناکامی بعد میں حاصل ہونے والی عظیم تر کامیابی کا ذریعہ بن جاتی ہے بشرطیکہ کوشش جاری رہے اور کبھی ہمت نہ ہاری جائے۔
یہی وجہ ہے کہ مطلوبہ اہداف کا حصول نہ ہونے کی شکل میں اسلام اپنے ماننے والوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ نااُمیدی کو کسی بھی راستے سے اپنے اندر داخل نہ ہونے دیں اور تجزیہ کر کے دیکھیں کہ ہماری جانب سے وہ کون سی کمی تھی جس کی بنا پر نتائج وہ نہ نکلے جن کی اُمید تھی۔ اس تجزیے کے ساتھ ہی اس بات کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ اقامت ِ دین کی جدوجہد کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے سیاسی تبدیلی کے عمل کو آیندہ بہتر طور پر کرنے کے لیے مطلوبہ اقدامات کیے جائیں۔
یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی حکمت عملی کو ہرحالت میں دعوتی حکمت کا تابع ہونا چاہیے اور اصل مقصد اللہ کی رضا کا حصول رہنا چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حالات اور ضروریات کے لحاظ سے جو حکمت عملی وضع کی جائے اسے بھی وقتاً فوقتاً تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہوگی۔ اس سلسلے میں چند بنیادی نکات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
غورکرنے کی ضرورت ہے کہ جو دعوتی زبان استعمال کی گئی کیا وہ عوامی نفسیات سے مطابقت رکھتی تھی یا جن اُمور پر ہمیں زور دینا چاہیے تھا کیا کسی اور نے ان عنوانات کو اغوا کر کے عوام کے دل میں اُترنے کا ذریعہ بنایا۔ کیا تحریکِ اسلامی نے ظلم، بدعنوانی، عدم مساوات اور عدم تحفظ، دہشت گردی، معاشی استحصال، بے روزگاری اور صحت سے متعلقہ اُمور کو ایسی زبان میں جو عوام کو متاثر کرے سیاسی مہم میں تذکرہ کیا؟کیا تبدیلی کی ضرورت جیسے بنیادی اُمور پر عوام سے رابطے میں پہل کی اور انھیں یقین دلانے میں کامیاب ہوئی کہ وہ تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، یا ان موضوعات پر دیگر افراد نے زیادہ زورِ بیان کے ساتھ اپنی image بنائی، جب کہ تحریک اسلامی کے ایک پہلے سے قائم شدہ ذہنی خاکے کی بنا پر اسے ایک صالح افراد کی کم تعداد والی جماعت سمجھا جاتا رہا جس کو ووٹ دینے کے باوجود اس کے اکثریت میں آجانے کا امکان کم نظر آتا ہو۔
زکوٰۃ و صدقات کی وصول یابی اور تقسیم خود ایک ایسا عظیم کام ہے کہ جو بھی اسے صحیح طور پر کرے گا وہ عوام الناس میں مقبول ہوگا۔ اس کے ساتھ تعلیم، صحت ، آفات سے متاثر افراد کی خدمت، غرض یہ سارے کام جب اللہ کی رضا کے لیے کیے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے خصوصی کرم سے دعوت کو مقبولیت دیں گے۔تحریک اسلامی کو آیندہ پانچ سالوں کے لیے ایک واضح منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے کہ پہلے سال میں خدمت کے کام کو کہاں تک پہنچایا جائے اور آیندہ پانچ برس میں اس کا دائرہ کہاں تک ہو۔
بعض سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد حکومتی رقم کو اپنے آنجہانی لیڈروں کی فاتحہ سمجھتے ہوئے تقسیم کرکے ملک میں لاکھوں افراد کو اپنا ممنونِ احسان بنالیتی ہیں جو اخلاقی اور قانونی طور پر جرم اور گناہ ہے، جب کہ زکوٰۃ، صدقات و عطیات کی وصولی اور ان کی مناسب تقسیم ایک دینی فریضہ ہے اور تحریکاتِ اسلامی اس کی زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس کام کو اپنے ہاتھ میں لیں اور معاشرے کے نادار افراد کی جائز امداد اور ان کی سیاسی تعلیم کا بندوبست کریں۔ کیا اس سلسلے میں شعوری طور پر کوئی منصوبہ بنایا گیا اور اس پر احتساب کے ساتھ عمل کیا گیا؟ اس سلسلے میں لوگوں کی غلط فہمی کہ زکوٰۃ کی رقم کا سیاسی استعمال نہیں کیا جا رہا ،کا دُور کرنا بھی ضروری ہے۔
ان چند اُمور کو سامنے رکھتے وقت اور تنقیدی جائزہ لیتے وقت یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ کامیابی کا پیمانہ نشستوں کی تعداد کبھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کامیابی کا اصل معیار یکسوئی، خلوص، بے لوثی، قربانی اور استقامت کے ساتھ اپنی دعوت کو بغیر کسی معذرت اور مفاہمت کے اپنے عمل سے پیش کرنا ہے۔ بہترین دعوت عملی دعوت ہے۔ زبان کی قوت بلاشبہہ ایک انعام ہے لیکن اس سے محرومی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی ؑکو اپنا نبی ؑاور رسول ؑبنانا پسند فرمایا اور ان کے بھائی ہارون ؑ کے ذریعے ان کی مدد فرمائی، جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بچپن سے عرب کے سب سے زیادہ فصیح قبیلے کی لغت اور زبان کو سننے اور اختیار کرنے کا موقع ملنے کے سبب کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ مفہوم ادا کرنے کی صلاحیت سے نوازا گیا۔یہ تمام پہلو تنقیدی نگاہ سے باربار غور کرنے کے ہیں اور پھر آیندہ پانچ برسوں کے لیے بتدریج ایک حکمت عملی کی تیاری بلاتاخیر کرلینے کی ضرورت ہے۔ یہ حکمت عملی دعوتی حکمت عملی کے ضمیمے کے طور پر مرتب ہونی چاہیے تاکہ ہرہرمعاملے میں تحریک کے اصول عوام کے سامنے مثالی شکل میں آسکیں اور سیاسی فیصلے کرنے میں انھیں مدد فراہم کی جاسکے۔
منصوبہ بندی اور مستقبل کا لائحہ عمل تحریکاتِ اسلامی کے لیے ایک دینی فریضے کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے انتخابات یا اس جیسے دیگر امتحانات سے گزرنے کے بعد سالوں اور مہینوں کا انتظار کیے بغیر اس بات کی ضرورت ہے کہ تحریک اور تحریک سے باہر کے ایسے افراد پر مبنی ایک کمیٹی ترتیب دی جائے جو نہ صرف حالیہ انتخابات بلکہ گذشتہ تمام انتخابات کا مختلف زاویوں سے جائزہ لے کر آیندہ چھے ماہ میں ایک مفصل حکمت عملی تجویز کرے، جسے آیندہ پانچ سالہ منصوبے کے طور پر ہرسال میں ترجیحات کی شکل میں مشاورت کے بعد نہ صرف قرارداد کی شکل دی جائے بلکہ ایک بااختیار شعبہ ان اقدامات کے نفاذ، ان کے ہر تین ماہ میں جائزے اور اس کی روشنی میں مزید اقدامات کروانے کا مجاز ہو۔ اختیارات کے بغیر کوئی کام نتائج پیدا نہیں کرسکتا۔ تجزیہ و تحلیل اگر حصول نتائج میں مددگارنہ ہو تو محض ذہنی ورزش ہی ہوگی جس سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
اکیسویں صدی میں تحریکاتِ اسلامی کو درپیش مسائل، خطرات اور امکانات کا جائزہ لیا جائے تو سرفہرست جو چیز نظر آتی ہے، وہ سیاسی تبدیلی کے ذریعے نفاذِ عدل ہے۔ اسلام اپنی تمام تعلیمات میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی حاکمیت ِاعلیٰ اور معاشرے میں عدل کے قیام کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ وہ انسانوں کے اپنے اعمال کے ذریعے پھیلائے ہوئے فساد کو اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت و اصلاح کی تعلیمات اور ان کے اُس عملی نمونے کے ذریعے (جو انبیاے کرام علیہم السلام اور خصوصاً خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے رہتی دنیا تک کے لیے پیش فرمایا) دُور کر کے اس فساد کو معاشرتی توازن، عدل، امن اور رحمت سے بدلنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے تمام انبیاے کرام ؑکی دعوت اور جدوجہد کا بنیادی نکتہ ہر طرح کے طاغوتوں کی بندگی سے نکل کر صرف اور صرف اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کا اقرار اور زمین پر اس کا قیام تھا۔
اسی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو چار مختلف مقامات پر قرآن کریم انبیاے کرام ؑکے مقصد اور مشن کو انتہائی جامع الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے:
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍo (اٰل عمرٰن ۳:۱۶۴)درحقیقت اہلِ ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انھی میں سے ایک ایسا پیغمبر اُٹھایا جو اُس کی آیات انھیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔
اور پھر صاف الفاظ میں یہ بھی واضح کردیا کہ تلاوتِ کتاب، تزکیۂ نفس، تعلیم، کتاب اور تعلیم حکمت کی اس ہمہ گیر جدوجہد کے نتیجے میں جو تبدیلی انسانی معاشرے میں رُونما ہوئی وہ قیام عدل و انصاف ہے:
لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ (الحدید ۵۷:۲۵) ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایت کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔
اگر غور کیا جائے تو اس آیت مبارکہ میں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اور کارِنبوت کا مشن بیان کیا گیا ،ہے وہیں انسانوں اور معاشرے میں تبدیلی کے عمل کی بنیادیں بھی سامنے رکھ دی گئی ہیں۔ تبدیلی کے اس عمل کی بنیاد اللہ کی کتاب اور اس کی دی ہوئی ہدایت پر ہے اور اس کا عملی راستہ تزکیہ ہے، خواہ تزکیۂ فرد ہو یا تزکیۂ معاشرہ، تزکیۂ مال ہو یا تزکیۂ قیادت۔ فرد اور معاشرے کی صحیح نشوونما اور ارتقا کے لیے اگر کوئی صحیح حکمت عملی ہوسکتی ہے تو وہ صرف اللہ کی کتاب ہے۔ صرف اسی کتاب کی تعلیم کے ذریعے زندگی میں فکری اور عملی انقلاب ممکن ہے۔
قوت کے استعمال سے یہ تو ممکن ہے کہ بظاہر ایک وقتی تبدیلی آجائے لیکن چہروں کے بدلنے سے کوئی بنیادی فرق واقع نہیں ہوسکتا۔ اصل تبدیلی کے لیے اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی آیات کی صحیح تلاوت، ان کا صحیح فہم اور ان کی صحیح تطبیق کے ذریعے تبدیلیِ کردار وعمل سے ہی لائی جاسکتی ہے۔ ظاہر ہے انسان کے اندرون کی تبدیلی اس کی فکر کے زاویے کا درست کرنا، اس کے طرزِحیات کو بدلنا، اس کے معاش کو حلال کا تابع بنانا، اس کی سیاسی فکر کو ذاتی مفاد، نفسا نفسی اور قوت کے نشے سے نکال کر قیامِ عدل، اجتماعی فلاح اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں کے تابع کرنا ہے جو ایک حادثاتی کام نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے مناسب تیاری، مناسب آبیاری، مناسب محنت اور مناسب وقت درکار ہوگا۔
تبدیلیِ قیادت کا تعلق محض برسرِ اقتدار افراد کی معزولی اور ان کی جگہ بس متبادل افراد کے تقرر سے نہیں ہے۔ قیادت کی تبدیلی اور اچھے افراد کو ذمہ داری کے ساتھ مناصب پر لانا ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ نظام کی تبدیلی اور نظام کی بنیادوں کی تبدیلی بھی ضروری ہے۔ ایک دیمک لگے ہوئے درخت کی ٹہنیوںمیں تازہ پھل باندھ کر لٹکا دینے سے درخت کی بیماری ختم نہیں ہوسکتی اور نہ اس میں تازہ پھل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ایسے ہی ایک غیرعادلانہ نظام کو چلانے والے ظالموں کی جگہ دوسرے افراد کے آجانے سے اس وقت تک اصلاح نہیں ہوسکتی جب تک افراد خود صالح اور باصلاحیت نہ ہوں اور نظام میں مناسب تبدیلیاں بھی کی جائیں۔
تحریکاتِ اسلامی کو عموماً ایک پیچیدہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ کیا تبدیلیِ نظام کے لیے وقتی طور پر مروجہ نظام میں شمولیت اختیار کی جائے یا پہلے نظام کو تبدیل کیا جائے، اور پھر نظام کی تبدیلی کے بعد اس میں شمولیت اختیار کی جائے؟ اس سوال کو ذہن میں اُٹھاتے وقت عموماً یہ بات محو ہوجاتی ہے کہ کیا نظام خود بخود اپنے آپ کو درست کرلے گا اور پھر دست بستہ تحریک سے عرض کرے گا کہ تشریف لاکر کرسیِ قیادت سنبھال لے۔ دوسری ممکنہ صورت یہی ہوسکتی ہے کہ پہلے نظام کو تہس نہس کیا جائے۔ اس کے بعد نیا نظام قائم کیا جائے۔ تاریخ اُمم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اگر کوئی صحت مندتبدیلی آئی ہے تو اس میں ایک سے زیادہ مصالح اور حکمتوں کا دخل رہا ہے، تنہا ایک بے لچک حکمت عملی نے آج تک کوئی دیرپا تبدیلی پیدا نہیں کی۔
انبیاے کرام ؑ کی دعوت کا نقطۂ آغاز تمام خدائوں کا رد اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کا اعلان ہی رہا ہے:
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ o مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اَسْمَآئً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَo (یوسف۱۲:۳۹-۴۰) اے زندان کے ساتھیو! تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟ اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمھارے آباواجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اُس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی [دین] ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیںہیں۔
اسی حقیقت کو کلمہ طیبہ میں ہرمسلمان ادا کرتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے اور آخری رسول ہیں۔ جہاں کہیں بھی نظامِ ظلم پایا جاتا ہے، وہ ان دو صداقتوں سے انحراف کی بنا پر وجود میں آتا ہے۔ اگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی حاکمیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو تسلیم کرلیا جائے تو طرزِ زندگی، طریق خشیت، نظامِ سیاست و قانون، غرض زندگی کے ذاتی معاملات ہوں یا معاشرے کے مختلف پہلو، سب اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے ماتحت ہوجاتے ہیں۔ اسی کا نام نفاذِ شریعت اور قیامِ نظامِ اسلامی ہے۔
نفاذِ شریعت اور اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد میں بعض مواقع پر ایسا نظر آتا ہے کہ اسلامی جماعت یا تحریک اسلامی سمجھوتے (compromise) کر رہی ہے اور بظاہر اپنے مقصد سے انحراف کر رہی ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ معلوم ہوتا ہے کہ حق و باطل کی کش مکش میں پہلے مرحلے ہی میں باطل کو مکمل طور پر بے دخل کرکے حق کو قائم کردیا جائے، جب کہ انسانی معاشرے میں تبدیلی عموماً ایک لمبے عمل کے بعد ہی آتی ہے، اور بعض اوقات طویل عرصے کی جدوجہد اور ہمہ تن توجہ کے باوجود مطلوبہ نتائج دُور دُور نظر نہیں آتے ، جس کا یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ تحریک ناکام ہوگئی۔ قرآن کریم اپنے ماننے والوں پر سعی اور کوشش کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ نتائج کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اختیار میں دے دیتا ہے، تاکہ مایوسی، اور نااُمیدی کو دلوں سے نکالتے ہوئے تحریکی کارکن نتائج سے بے پروا ہوکر اپنے کام میں پوری قوت کے ساتھ لگے رہیں۔
تحریکاتِ اسلامی کو عموماً ایسے مواقع کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب بظاہر ایک کارکن کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ تحریک اپنے اصل مقصد سے انحراف کر رہی ہے، حالاں کہ قیادت مکمل طور پر یقین رکھتی ہے کہ وہ صحیح سمت میں جارہی ہے۔ ایسے تمام حالات میں حکمت ِدین کا تقاضا ہے کہ قرآن و سنت کی طرف رجوع کرتے ہوئے دیکھا جائے کہ کیا واقعی اہداف میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے، یا اصل اہداف کے حصول کے لیے حالات کی روشنی میں ایک تدریجی طریقہ اختیار کیا گیا ہے؟
تمام تحریکاتِ اسلامی کا مقصد وجود اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے یہ تحریکات قرآن و سنت رسولؐ سے اخذ کردہ اصول و کلیات کی روشنی میں اپنی حکمت ِعملی وضع کرتی ہیں اور ترجیحات کا تعین کرتی ہیں۔ مسلم دنیا کے تناظر میں خصوصاً مصر اور ترکی میں جو تبدیلی کی لہر آئی ہے وہ تجزیہ و تحلیل کے لیے اہم مواد فراہم کرتی ہے۔ مصر میں اخوان المسلمون کی دعوت کا بنیادی نکتہ شریعت پر مبنی نظام کا قیام ہے۔ لیکن مصر کے سیاسی، عسکری اور معاشی حالات کے پیش نظر خصوصاً ایک بااثر عیسائی قبطی اقلیت کی موجودگی میں جو تعلیم، تجارت اور سیاست ہر میدان میں اپنا ایک مقام رکھتی ہے اور بالخصوص مصر کی امریکا سے ۳۰سالہ گہری وابستگی، اسرائیل کے ساتھ مفاہمت اور فوج کے براہِ راست سیاسی امور میں دخیل رہنے کی روایت کے پیش نظر، کیا تحریکِ اسلامی کے لیے مناسب راستہ یہ تھا کہ وہ باطل، کفر اور ظلم کی روایت کو بیک قلم منسوخ کر کے شریعت پر مبنی نظام کا اعلان کردے یا ایک بتدریج عمل کے ذریعے حالات کے رُخ کو تبدیل کرے؟ یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ موجودہ قیادت کے بار بار یہ کہنے کے باوجود کہ وہ امریکا سے ٹکرائو نہیں چاہتی، حتیٰ کہ اسرائیل کے ساتھ بھی سیاسی مذاکرات سے دیرپا حل چاہتی ہے، مصر کے لادینی عناصر اور بیرونی قوتیں (بشمول بعض مسلم ممالک) پوری قوت سے موجودہ حکومت کو کمزور اور ناکام بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ ایسے حالات میں تحریکی ترجیحات کیا ہوں گی؟ کیا تحریک کا بیک وقت دس محاذ کھول کر اپنی تمام قوت کا رُخ اُدھر کر دینا حکمت کی بات ہوگی یا حالات کا جائزہ لینے کے بعد اور اولیات کا تعین کرنے کے بعد آگے چلنا قرآن و سنت سے زیادہ قریب ہوگا؟
قرآن کریم نے جابجا مثالیں بیان کر کے ہمیں ان اُمور پر غور کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ ان سے حاصل کردہ علم کے ذریعے، نئے پیش آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے حصول کی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکے۔
مدینہ منورہ میں مثالی اسلامی ریاست کے قیام کے بعد عقل کا تقاضا تھا کہ فوری طور پر قبلے کو درست کیا جائے۔ لیکن تقریباً دو سال انتظار کرنے کے بعد اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی طرف سے حکم آیا کہ قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ حَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ (البقرہ ۲:۱۴۴)، ’’اے نبیؐ! یہ تمھارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ لو، ہم اُسی قبلے کی طرف تمھیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجدحرام کی طرف رُخ پھیر دو۔ اب جہاں کہیں تم ہو، اُسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو‘‘۔
وحی الٰہی کے آتے ہی اس پر عمل کیا گیا اور عین حالت نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام اصحابِ رسولؐ نے (جو اس وقت جماعت میں شریک تھے) بغیر کسی ہلڑاور افراتفری اور بغیر کسی حیل و حجت کے اپنا رُخ مکمل مخالف سمت میں پھیر دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مدینہ منورہ آتے ہی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی عطا کردہ حکمت دینی کی بناپر قائد تحریک اسلامی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ اقدام فوری طور پر کیوں نہیں اُٹھایا اور ۱۶،۱۷ماہ بعد ۲ہجری میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحویل قبلہ کے حکم کے آجانے کے بعد یہ اقدام کیوں کیا گیا؟
اس اہم واقعے پر عموماً جس زاویے سے غور کیا جاتا ہے اس کا محوریہی رہا ہے کہ اُمت مسلمہ کا قیادت و سیادت پر مقرر کیا جانا اور بنی اسرائیل کو اقوامِ عالم کی قیادت سے مطلق طور پر محروم کیا جانا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نقطۂ نظر سے یہ تاریخ کا ایک انقلاب انگیز واقعہ ہے کہ اب قیامت تک کے لیے اس دینِ حنیف اور اُس کے لانے والے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو تمام انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا لائحہ عمل قرار دیا گیا۔ تاہم، غیرمعمولی اہمیت کے حامل اس واقعے میں دینی حکمت عملی کے حوالے سے ہمارے لیے غوروفکر کا بہت سامان موجود ہے۔
پہلی بات جس کا تعین اس واقعے سے ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا قانونِ مکافاتِ عمل ہے۔ جب بنی اسرائیل نے اپنے عمل سے اللہ تعالیٰ سے وفاداری کا ثبوت نہیں دیا تو ان کی جگہ اُمت مسلمہ کو اقوامِ عالم کی قیادت بطور ایک امانت اور ذمہ داری کے دے دی گئی۔ دوسری بات یہ کہ جس قوم کو قیادت سونپی جاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس فریضے کی ادایگی کے لیے جواب دہ بھی ہوگی۔ مزید یہ کہ اُمت مسلمہ کو اپنے تمام ثقافتی، فکری اور روایتی رابطوں کو توڑ کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا رنگ اختیار کرنا ہوگا۔ اور آخری بات یہ کہ اس واقعے کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جس طرح قبلۂ اوّل کی طرف واپسی سے قبل مکہ میں ایمان لانے والوں کا امتحان لیا تھا کہ وہ بیک وقت حرمِ کعبہ اور حرم القدس الشریف کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھ رہے تھے، اسی طرح مدینہ آنے کے بعد اطاعت الٰہی اور اطاعت ِ رسولؐ کو جانچنے کے لیے جب یہ کہا گیا کہ اپنا رُخ موڑ دو تو حالت ِ نماز ہی میں سب نے اپنا رُخ موڑ دیا۔ دوسری طرف یہودِ مدینہ اور وہ نومسلم جو ماضی میں یہودیت سے وابستہ تھے، ان کے لیے بھی یہ امتحان تھا کہ اب وہ قبلۂ ابراہیمی ؑ کی طرف رُخ کر رہے تھے، اور حضرت موسٰی ؑکے مرکز دعوت کی جگہ بیت اللہ کو یہ مقام دوبارہ حاصل ہورہا تھا۔ اس امتحان نے یہ واضح کردیا کہ کون صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرہرحکم کی بلاحیل وحجت اطاعت کرنے پر آمادہ ہے۔
تحریکی حکمت عملی کے نقطۂ نظر سے یہ واقعہ کئی اہم سوالات کی طرف اشارہ کرتا ہے:
پہلا سوال یہ اُبھرتا ہے کہ آخر تحویلِ قبلہ تقریباً دو سال کے بعد کیوں ہوا، جب کہ مدینہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد ریاستی اختیار کے اظہار کے لیے اسے بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا؟
دوسرا سوال یہ کہ توحید خالص کی دعوت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کو قیامت تک کے لیے شریعت قرار دینے کے باوجود اس رواداری کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ قبلہ جیسی بنیادی چیز کو حکمت اور مصلحت دینی کی بنا پر مؤخر کیا جانا مقاصد شریعت سے مطابقت رکھتا ہے؟
ان سوالات کو اگر آگے بڑھایا جائے تو ایک اہم قابلِ غور پہلو یہ ہوگا کہ کیا کسی بھی مسلم ملک میں تحریکِ اسلامی اپنے اصل ہدف، یعنی رضاے الٰہی اور اقامت ِ دین پر قائم رہتے ہوئے وقت کی ضرورتوں کے پیش نظر اور دین میں معتبر حکمت اور مصلحت کی بنا پر مؤخر کرسکتی ہے؟ اور راہ ہموار کرنے کے لیے ایسے عناصر کے ساتھ جو دل سے تحریکِ اسلامی کو پسند نہ کرتے ہوں تعاون و اشتراک کرسکتی ہے؟ اس تناظر میں میثاقِ مدینہ کی حیثیت کیا ہوگی، اور کیا اسے ایک عبوری حکمت عملی سے زیادہ اہمیت دینا درست ہوگا؟ ان سوالات کا براہِ راست تعلق مسلم ممالک میں تحریکاتِ اسلامی کے سیاسی عمل کے ساتھ ہے اور جب تک ان پر کھلے ذہن اور جذبات اور تعصبات سے بلند ہوکر غور نہ کرلیا جائے تحریکاتِ اسلامی بہت سے مغالطوں کا شکار ہوسکتی ہیں اور اس خطرے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ کم از کم تحریک کے کارکن بغیر گہری فکر کے محض سطحی مسائل پر غور کرکے تحریک کے لائحہ عمل کے بارے میں شک کا شکار ہوسکتے ہیں، اور اس طرح شیطان ان کو اپنی تحریک سے بدظن کرنے حتیٰ کہ فرار تک اُبھار سکتا ہے۔
یہاں پہلی قابلِ غور بات یہ ہے کہ جس طرح مکے میں اوّلین مخاطب مشرکینِ مکّہ تھے، مدینہ منورہ میں اوّلین مخاطب یہود اور ان کے زیراثر اور ان کی روایات سے آگاہ دیگر قبائل کے افراد تھے جو یہود کی طرف رہنمائی کے لیے متوجہ ہوتے تھے۔
قرآن کریم نے ان کو یاد دلایا کہ حضرت ابراہیم ؑ سے لے کر حضرت موسٰی ؑاور حضرت عیسٰی ؑ تک تمام انبیا ؑ کی دعوت کا مرکز توحید تھی۔ اس لیے اسلام کو تسلیم نہ کرنے کا کوئی جواز ان کے پاس نہیں ہے۔
دوسری بات یہ سمجھائی گئی کہ ان کی اپنی کتب میں جس نبیِ برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کی گئی تھی، اس کے آنے کے بعد اور ان نشانیوں کے ظاہر ہونے کے بعد جو اس کی آمد کے بارے میں خود ان کی روایات میں پائی جاتی ہیں، ان کا اس دینِ حق کا انکار دراصل اپنی کتب سے انحراف و بغاوت ہے، اس لیے انھیں اسلام کے قبول کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ جس طرح مکہ میں ۱۳سال تک مشرکینِ مکہ کو اس نئی دعوت پر غور کرنے، سمجھنے اور قبول کرنے کا آزادی کے ساتھ موقع دیا گیا، بالکل اسی طرح اب انھیں مہلت دی گئی کہ وہ مکمل آزادیِ راے کے ساتھ اس عرصے میں دعوتِ حق کو آگے بڑھ کر قبول کرسکیں۔
دوسری جانب اہلِ ایمان کو سمجھانے کے لیے کہ اہلِ کتاب کا اسلام کی حقانیت اور اس کے من جانب اللہ ہونے کا علم رکھنے کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی کی بنا پر اسلام کی دعوت کو قبول نہ کرنا، اہلِ ایمان کو پریشان نہ کرے ۔ جو لوگ دنیا کی وقتی منفعت کے بدلے آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی کا سودا کرلیتے ہیں، ان کے ذہن مائوف، آنکھیں روشنی سے محروم اور کان سماعت کے لیے بند ہوجاتے ہیں۔ ان کے دل پتھر ہوجاتے ہیں ، ان ہٹ دھرم اہلِ کتاب کی شقاوت قلبی، قبولیت ِ دعوت میں مزاحم ہوتی ہے، اس لیے عموماً قصور دعوتِ حق کا نہیں ان ظالموں کا اپنے کانوں، آنکھوں اور دلوں کو غلافوں میں لپیٹ لینے کا ہوتا ہے۔
اس حقیقت ِنفس الامری کے باوجود تقریباً دو سال تک تحویلِ قبلہ کو مؤخر کیا گیا تاکہ اتمامِ حجت ہوسکے۔قرآنِ کریم کی اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر دعوتِ اسلامی اپنی تمام حقانیت کے باوجود ۷۰ برسوں میں وہ مقصد حاصل نہ کرسکی، جو اس کی دعوت کی بنیاد ہے، یعنی اقامت دین اور حاکمیت ِ الٰہیہ کا قیام تو اس میں حیرت، افسوس اور مایوسی کا کیا سوال! ثانیاً: اگر حکمت ِدینی اور مصلحت ِ دینی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ مدینہ کے اہلِ کتاب کے ساتھ میثاق پر دستخط ہوں تو کیا ایک اعلیٰ تر مقصد کے حصول کے لیے دیگر تنظیموں کے ساتھ وقتی اور متعین مدت کے لیے میثاق اور معاہدے کرنا دین کے اصولوں کے منافی ہوسکتا ہے؟
مزید یہ کہ اُمت مسلمہ کے فرضِ منصبی کی ادایگی، یعنی شہادت علی الناس کے لیے کیا یہ ضروری نہ ہوگا کہ اس دور کے مؤثر ترین ذرائع کو اس کام کے لیے استعمال کیا جائے جن میں ایوانِ نمایندگان میں پہنچ کر حق کا کلمہ بلند کرنا اور حکومتی ذرائع کے توسط سے دین کی فکر کا پیش کیا جانا مرکزی مقام رکھتے ہیں۔ شہدا علی الناس بننے کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام وسائل کا استعمال اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی صداقت کے اظہار کے لیے کیا جائے۔ یہ وہ امانت ہے جسے پہاڑوں نے اُٹھانے سے انکار کر دیا تھا لیکن جسے اللہ تعالیٰ اپنے انعام کے طور پر اپنے بندوں کو دیتا ہے۔ یہ اس کی میراث ہے جو اس کے عابد بندوں کو یہاں اور آخرت میں ملتی ہے۔
تحریکاتِ اسلامی کے کارکنوں کو قرآن و سنت کے سایے میں اپنے دور کے مطالبات کے پیش نظر آگے بڑھ کر ایسے معاہدے بھی کرنے ہوں گے، جو وقت کی ضرورتوں کی روشنی میں متعین اور محدود اہداف کے حصول کے لیے ہوں اور بالآخر جن کا مقصد دین کا قیام ہو۔
تحریکاتِ اسلامی کے کارکنوں کو تنقیدی نگاہ سے اپنی حکمت عملی کا جائزہ لینا ہوگا اور کسی مداہنت اور اصولوںسے انحراف کیے بغیر، اعلیٰ تر مقاصد کے حصول کے لیے وقتی حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔ یہی دین کا مدعا ہے اور یہی دین کی راست حکمت عملی ہے۔
تحویلِ قبلہ کے حکم کے سیاق و سباق پر غور کیا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے منصب ِ امامت سے معزول کیے جانے کا بنیادی سبب ان کا کتمانِ حق تھا [البقرہ۲: ۱۴۰]، اور اُمت مسلمہ کو یہ منصب سونپنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ تمام انسانوں پر گواہ بنا دیے جائیں اور وہ حق کی اُس شہادت کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفسِ نفیس دی، اقوامِ عالم تک پہنچانے کے لیے ذمہ دار اور جواب دہ بنا دیے جائیں [البقرہ۲: ۱۴۳]۔ اس اہم منصب پر فائز ہونے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت سے مدینے میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد یہ جانتے ہوئے کہ یہود کی تاریخ مسلسل وعدہ خلافی، چکمے دینے اور دوعملی کی ہے، دوبارہ اتمامِ حجت کے لیے تقریباً دوسال یہودِ مدینہ کو یہ بات سمجھنے کا عملی موقع دیا گیا کہ دین اسلام، دین ابراہیمی ہے اور ان کی فلاح اسی میں ہے کہ وہ بھی اس دین کو قبول کرلیں۔ جب اتمامِ حجت ہوگئی تو پھر تبدیلیِ قبلہ کے ذریعے یہ پیغام پہنچا دیا گیا کہ اب مسلمان اور یہود ایک اُمت نہیں بن سکتے بلکہ یہ دو الگ الگ ملّتیں ہیں اور دونوں کے قبلے جدا ہیں۔
ان آیاتِ مبارکہ پر غور کرنے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ دعوتی مصالح کے پیش نظر ایک محدود اور متعین عرصے کے لیے ان افراد اور گروہوں سے بھی سیاسی اتحاد کیا جاسکتا ہے جن کے مقاصد میں کُلی اشتراک نہ ہو۔ یہ حاکمیت ِ الٰہیہ کے قیام کے لیے سیاسی جدوجہد کے جملہ پہلوئوں میں سے ایک ہے اور نظریاتی سیاست ہی کا ایک حصہ ہے۔
قرآنِ کریم شہادتِ حق کے تصور کو تفصیل سے ہمارے سامنے رکھتا ہے۔ ایک جانب دین اسلام کی تعلیمات کو تمام انسانوں تک پہنچانا شہادتِ حق ہے تو دوسری جانب اسلامی معاشرے اور ریاست کے قیام کے لیے ایسے افراد کو منتخب کرنا بھی شہادتِ حق کی ایک شکل ہے، جو ذمہ داری اُٹھانے کے اہل ہوں:
اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا وَ اِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہٖ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیْعًام بَصِیْرًاo (النساء ۴:۵۸)،مسلمانو،اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے، اور یقینا اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔
ایک مسلم معاشرے اور مملکت میں قیادت کے انتخاب کے حوالے سے بھی قرآنی ہدایات دوٹوک اور واضح ہیں۔ اگر ایک شخص کسی کو یہ جاننے کے باوجود کہ وہ ایک منصب یا ذمہ داری کی اہلیت نہیں رکھتا، اسے ووٹ دیتا ہے تو یہ قرآنی حکم کی صریح خلاف ورزی ہے اور بقول مفتی محمد شفیعؒ گناہِ کبیرہ ہے۔ حق کی شہادت اسی وقت دی جاسکتی ہے جب مختلف مناصب پر وہی لوگ مقرر کیے جائیں جن میں امانت، صدق، شفافیت، عدل، توازن، اللہ کا خوف، اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس اور اُمت مسلمہ کے مفاد کے تحفظ کی فکر پائی جاتی ہو۔
جس طرح اللہ کے حقوق میں یہ بات شامل ہے کہ صرف اس کی عبادت کی جائے، اسی طرح انسانوں کے حقوق میں یہ بات شامل ہے کہ انھیں امانت کے ساتھ ادا کیا جائے اور ہرمعاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ انصاف اور آخری سند اور معیار اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا ہو۔ اُمت مسلمہ اور خصوصاً پاکستان کا بنیادی مسئلہ نااہل افراد کا ناجائز ذرائع سے حکومت پر قابض ہوجانا ہے۔ تبدیلی کے ذرائع ، ایک سے زائد ہوسکتے ہیں، مگر جو ذریعہ یا ذرائع استعمال کیے جائیں، ان کے لیے شرط صرف ایک ہے کہ وہ اسلام کے دیے ہوئے راستے کے مطابق ہوں اور فساد فی الارض کا ذریعہ نہ بنیں۔
موجودہ حالات میں دعوتی حکمت اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستان کے عوام اپنے ووٹ کے حق کو امانت کے احساس کے ساتھ اہل افراد کو قیادت کے منصب پر لانے کے لیے استعمال کریں۔ پاکستان کا المیہ ہی یہ ہے کہ عوام قیادت کی ناکامیوں اور بے وفائیوں کا گلہ تو کرتے ہیں (اور بجا طور پر کرتے ہیں) لیکن اس امرپر غور نہیں کرتے کہ قیادت کے انتخاب کے وقت خود انھوں نے کہاں تک اپنی ذمہ داری ادا کی ہے۔ اگر وہ برادری، تعلّقِ خاطر، سیاسی مفاد پرستی، لالچ، دھونس یا ایسے ہی دوسرے عوامل کے زیراثر ووٹ دیتے ہیں تو پھر قیادت کی غلط کاریوں کی ذمہ داری سے اپنے کو کیسے بری الذمہ قرار دے سکتے ہیں۔ ووٹ کا صحیح استعمال ہی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ ہے۔ بدعنوان، مفاد پرست اور نااہل قیادت سے نجات کا ذریعہ انتخابات میں اس فرد اور جماعت کو ووٹ دینا ہے جس کے نمایندے باصلاحیت ہوں اور صاحب ِ کردار ہوں۔ قیادت کی سب سے ضروری صفات صلاحیت اور صالحیت ہیں۔ یہ دین کا تقاضا ہے اور اچھی سیاست کے فروغ کے لیے سب سے ضروری امر ہے کہ اچھے اور باکردار افراد کو ذمہ داری کے مناصب پر لایا جائے، اور ان کا ایسی جماعت سے وابستہ ہونا بھی ضروری ہے جس کا ریکارڈ قابلِ بھروسا ہو، جس کا ماضی بے داغ ہو، اور جس میں احتساب کا نظام موجود ہو۔
تحریکِ اسلامی کے کارکنوں کا فرض ہے کہ خود بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں اور اپنے حلقے میں دوسرے تمام ووٹروں کو اس بات کو سمجھانے میں سردھڑ کی بازی لگادیں کہ اصلاح اور تبدیلی کا عمل ووٹ کے صحیح استعمال کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہ دین اور اچھی سیاست دونوں کے لیے کم سے کم تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت کی واضح ہدایت یہ ہے کہ امامت اور ولایت کی ذمہ داری صرف ان کے سپرد کی جائے جو ایمان، علم، دیانت، عدالت اور اعلیٰ صلاحیت کے حامل ہوں۔ قیادت کے لیے علم اور جسم یعنی صلاحیت اور قوتِ کار کو ضروری قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود ؑکو قیادت پر فائز کیا تو اس کی یہی وجہ بتائی، فرمایا:
راست بازی، اعلیٰ کردار، حق شناسی اور دامن کے بے داغ ہونے کو ضروری قرار دیا:
انصاف پر قائم رہنا اور سب کے درمیان انصاف سے معاملہ کرنا قیادت کے لیے ازبس ضروری ہے۔
یہی وہ صفات ہیں جن کو خود پاکستان کے دستور میں سیاسی قیادت کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے اور جن کا ذکر دفعہ۶۲ میں ضروری صفات کی حیثیت سے اور دفعہ ۶۳ میں قیادت کو نااہل بنانے والی صفات کے طور پر کیا گیا ہے۔ ان کے چند اہم جملے ہم یہاں نقل کر رہے ہیں تاکہ ان سے ہر ووٹر کو روشناس کرایا جائے اور انھیں سمجھایا جائے کہ اگر وہ اپنے ملک کے حالات کی اصلاح چاہتے ہیں تو ووٹ دیتے وقت اُمیدوار کو اس کسوٹی پر جانچیں اور اس احساس کے ساتھ اپنے ووٹ کو استعمال کریں کہ وہ ایک امانت ہے جسے صرف امانت دار کو دینا ان کا فرض ہے۔ نیز ووٹ ایک شہادت اور گواہی ہے کہ جسے آپ ووٹ دے رہے ہیں اس کے بارے میں آپ یہ گواہی دے رہے ہیں کہ وہ اس ووٹ کا مستحق ہے، اور ووٹ ایک قسم کا وکالت نامہ ہے کہ آپ اپنی طرف سے ایک شخص کو یہ اختیار دے رہے ہیں کہ وہ آپ کے اور قوم کے معاملات کو آپ کی طرف سے ٹھیک ٹھیک انجام دے___ اور آپ کی دنیا اور آخرت میں ان تینوں اعتبار سے ووٹ کے استعمال کے باب میں جواب دہی ہوگی۔
(د) وہ اچھے کردار کا حامل نہ ہو اور عام طور پر احکام اسلام سے انحراف میں مشہور ہو۔
(ہ) وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم نہ رکھتا ہو اور اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند نہ ہو، نیز کبیرہ گناہوں سے مجتنب نہ ہو۔
(و) وہ سمجھ دار، پارسا نہ ہو اور فاسق ہو اور ایمان دار اور امین نہ ہو، عدالت نے اس کے برعکس قرار نہ دیا ہو۔
(ز) اس نے قیامِ پاکستان کے بعد ملک کی سالمیت کے خلاف کام کیا ہو یا نظریۂ پاکستان کی مخالفت کی ہو۔
(ز) وہ کسی مجاز سماعت عدالت کی طرف سے کسی ایسی راے کی تشہیر کے لیے سزایاب رہ چکا ہو، یا کسی ایسے طریقے پر عمل کر رہا ہو، جو نظریۂ پاکستان یا پاکستان کے اقتدارِ اعلیٰ، سالمیت یا سلامتی یا اخلاقیات، یا امن عامہ کے قیام یا پاکستان کی عدلیہ کی دیانت داری یا آزادی کے لیے مضر ہو، یا جو پاکستان کی مسلح افواج یا عدلیہ کو بدنام کرے یا اس کی تضحیک کا باعث ہو، تاوقتیکہ اس کو رہا ہوئے پانچ سال کی مدت نہ گزر گئی ہو، یا
(ح) وہ کسی بھی اخلاقی پستی کے جرم میں ملوث ہونے پر سزایافتہ ہو، جس کو کم از کم دوسال سزاے قید صادر کی گئی ہو، تاوقتیکہ اس کو رہا ہوئے پانچ سال کا عرصہ نہ گزر گیا ہو، یا
(ن) اس نے کسی بنک، مالیاتی ادارے، کوآپریٹو سوسائٹی یا کوآپریٹو ادارے سے اپنے نام سے اپنے خاوند یا بیوی یا اپنے زیرکفالت کسی شخص کے نام سے دوملین روپے یا اس سے زیادہ رقم کا قرضہ حاصل کیا ہو جو مقررہ تاریخ سے ایک سال سے زیادہ عرصے کے لیے غیرادا شدہ رہے یا اس نے مذکورہ قرضہ معاف کرالیا ہو، یا
(س) اس نے یا اس کے خاوند یا بیوی نے یا اس کے زیرکفالت کسی شخص نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی داخل کرتے وقت چھے ماہ سے زیادہ کے لیے ۱۰ ہزار روپے سے زائد رقم کے سرکاری واجبات اور یوٹیلٹی اخراجات بشمول ٹیلی فون، بجلی،گیس اور پانی کے اخراجات ادا نہ کیے ہوں۔
تحریکی کارکنوں پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ عوام کو دستور کی شق کی روح اور معنی سے متعارف کرائیں اور نئے نظام کے قیام کے لیے آگے بڑھ کر صرف ایسے مخلص افراد کو منتخب کریں جو اپنے وعدوں پر قائم رہنے والے ہوں، جو اللہ کے حضور جواب دہی کے احساس کے ساتھ اس کی مخلوق کی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں، اور اپنے نفس کے بہکانے میں آنے کو تیار نہ ہوں۔
تحریکِ اسلامی کے کارکنوں کو یہ امر بھی سامنے رکھنا چاہیے کہ انتخابات ہمارے لیے جہاں نئی اور بہتر قیادت کو برسرِاقتدار لانے کی فیصلہ کن جدوجہد کا اہم ترین پہلو ہیں، وہیں خود عوام کی تعلیم، ان میں سیاسی، نظریاتی اور اخلاقی شعور کو بیدار کرنے، ان میں حق و باطل اور خیروشر میں تمیز اور تبدیلی اور اصلاح کے عمل میں شرکت کے لیے باہر نکلنے، راے عامہ کو تیار کرنے اور اپنا فرض ادا کرنے کا داعیہ پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ یہ ہماری دعوت کا ایک اہم پہلو ہے اور ان شاء اللہ اس سلسلے میں صحیح نیت کے ساتھ مسلسل جدوجہد کا شمار عبادت اور جہاد میں شرکت کے زمرے میں ہوگا۔ وما توفیقی الا باللّٰہ۔
بیسویں صدی میں اُبھرنے والی تحریکاتِ اسلامی اور تحریکاتِ حریت کی دعوت کا ایک اہم پہلو نفاذِ شریعت یا نظامِ اسلامی کی خواہش رہا ہے۔ یہ تحریکات شمالی افریقہ میں ہوں یا مشرق وسطیٰ میں یا جنوب مشرقی ایشیا میں، ان کے منشور مغربی لادینیت اور آمرانہ نظاموں کی جگہ اسلام کے اصولِ عدل پر مبنی سیاسی نظام کے نفاذ کو اپنا مقصد وحید قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب ان تحریکات کے نقاد انھیں یہ الزام دیتے ہیں کہ یہ تحریکات ماضی کی طرف سفر کرنا چاہتی ہیں اور اسلامی شریعت کو جو ان کے اندازے کے مطابق نیم مہذب بدویانہ روایات پر مبنی ہے، سائنس اور ٹکنالوجی کے دور میں، کم فہم انسانوں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
اسلامی شریعت کی قدامت پسندی، انتہا پسندی اور انسانی حقوق کے تصور سے متصادم ہونے کے مفروضے کو اتنی شدت اور تکرار سے بیان کیا گیا ہے کہ آج بہت سے پڑھے لکھے مسلمان بھی اپنی سادہ لوحی میں اسلامی شریعت کو محض چند ’جابرانہ سزائوں‘ کا مجموعہ سمجھنے لگے ہیں۔ ضرورت پہلے بھی تھی لیکن جتنی شدت سے آج ہے، شاید پہلے کبھی نہیں تھی کہ اسلامی شریعت کے صحیح خدوخال کو براہِ راست اس کے مصادر کی روشنی میں اہلِ علم اور عام قارئین کے سامنے سادہ الفاظ میں رکھا جائے۔
قرآن کریم کا یہ خصوصی اسلوب ہے کہ وہ اکثر احکامِ الٰہی کے تذکرے کے ساتھ ان کی حکمت و علّت کو بھی سمجھاتا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ علّت بہت واضح ہوتی ہے اور بعض اوقات غوروفکر کے بعد علّت کا پتا چلتا ہے۔ یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ قرآن کریم انسان کی تخلیق کا سبب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بندگی و عبادت کو قرار دیتا ہے۔ انبیاے کرام کی بعثت اور نزولِ کتب ِ سماوی کی غایت انسانوں کو نظامِ عدل اور تحفظ فراہم کرنا قرار دیتا ہے لیکن بعض اوقات نص میں غایت کی صراحت نہیں ہوتی اور ایک طالب علم غوروفکر کے نتیجے میں غایت اور سبب تک پہنچتا ہے۔ قرآن کریم اپنے بارے میں کہتا ہے کہ یہ ایک موعظہ، نصیحت اور سینوں کے امراض کے لیے شفا ہے (یونس ۱۰:۵۷)۔ اسی طرح وہ کہتا ہے کہ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمام انسانوں کے لیے، اور ہدایت و رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین لائیں۔ (الجاثیہ ۴۵:۲۰)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ قرآن کریم دلوں کے امراض کی شفا اور رحمت ہے۔ اس میں کوئی بھی حکم ایسا نہیں ہے جس میں کوئی دقت، مشکل، سختی، یا شدت پائی جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تمھارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا‘‘ (البقرہ ۲:۱۸۵)۔ اس کے برخلاف شیطان اور اس کی ذُریت اپنی ہرہر چال سے انسان کو گمراہی، شدت پسندی، بُغض و عداوت، دشمنی اور قتل و غارت کی طرف للچا کر لے جانا چاہتی ہے۔ ’’شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمھارے درمیان عداوت اور بُغض ڈال دے اور تمھیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے؟‘‘ (المائدہ ۵:۹۱) ۔ ان آیات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شارع اپنے احکام کے اسباب و علل بھی بیان فرماتا ہے تاکہ انسان شریعت پر بربناے تحقیق عمل کرے اور اس کی حکمتوں سے براہِ راست آگاہ ہو۔
شریعت لغت میں پانی کے چشمے کو جانے والے راستے کو کہتے ہیں۔ جس طرح پانی انسان کو زندگی دیتا ہے، اسی طرح شریعت انسان کو زندگی گزارنے کا طریقہ اور ادب سکھاتی ہے۔ جس طرح پانی انسان کے جسم سے گندگی کو دُور کردیتا ہے، شریعت کی آبیاری انسان کی معاشی، معاشرتی، سیاسی اور دیگر سرگرمیوں کو فساد سے پاک کر کے اللہ کی مرضی کے تابع بنا دیتی ہے۔
شریعت کے احکام کس نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کی نوعیت کا تعین کس طرح کیا جائے گا، مزید یہ کہ حکمِ شرعی کی تطبیق کن کن حالات میں ہوئی، اس کے لیے کون سی حکمت عملی اختیار کی جائے گی___ یہ اور اس سے ملتے جلتے بے شمار سوالات کا جواب علم مقاصد و مصالح کا موضوع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مقاصد ِشریعت اور مصالحِ عامہ ایسے اہم علمی شعبے ہیں جن کے بغیر ایک مسلمان زندگی میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اُمت مسلمہ کی ایک بڑی تعداد نے محض سنی سنائی پر اعتماد کر کے شریعت کو ایک انتہائی مشکل اور ناقابلِ عمل ضابطہ سمجھ لیا ہے، جب کہ شریعت کی آفاقیت اور عملیت اس کے ہرہر حکم سے واضح ہوتی ہے۔
مقاصد شریعت ایک انتہائی اہم تدریسی مضمون ہے لیکن بہت کم دینی مدارس اس پر اتنی توجہ دیتے ہیں جس کا یہ مستحق ہے۔ عموماً پانچ معروف مقاصد کا تذکرہ اور چند مثالوں سے ان کی وضاحت کو کافی سمجھا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس شعبۂ علم پر سالہا سال غوروفکر کرنے کے باوجود یہ کہنا مشکل ہے کہ ایک شخص اس علم کا احاطہ کرسکا ہے۔
سوڈان کے نام ور فقیہ ڈاکٹر یوسف حامد العالم نے عصرحاصر میں مقاصدِ شریعت اور مصالح کی اسی اہمیت کے پیش نظر اس موضوع پر قلم اُٹھایا ہے اور زیرتبصرہ کتاب تحریر کی ہے۔ یہ تصنیف ان کے ڈاکٹریٹ کے مقالے پر مبنی ہے جسے جامعہ الازہر میں پیش کیا گیا۔ راقم الحروف کو ان سے دو تین کانفرنسوں میں ذاتی طور پر ملاقات کا موقع بھی ملا اور ان کے علم اور خلوص نے بہت متاثر کیا۔ اللہ تعالیٰ انھیں اس خدمت پر اعلیٰ درجات سے نوازے، آمین! مقاصد شریعت پر عصرِحاضر میں جو علمی کام ہوا ہے یہ کتاب اس میں ایک اہم علمی اضافہ ہے۔
زیرتبصرہ کتاب پانچ فصول میں منقسم ہے۔ فصل اوّل اہداف سے بحث کرتی ہے جس میں ہدف کی لغوی اور شرعی تعریف، شارع کے مقصد کے منافی عمل کرنے کے نتائج، اور مقاصد ِ شارع کی معرفت کے لیے اجتہاد کی ضرورت سے بحث کی گئی ہے۔
فصل دوم مصلحت سے بحث کرتی ہے جسے ہمارے ہاں مصلحت عامہ کہا جاتا ہے۔ باب دوم میں مصالح کا تفصیلی بیان ہے جس میں دین کی حفاظت، جان کی حفاظت، نسل کی حفاظت اور مال کی حفاظت شامل ہیں۔ خلاصۂ بحث، حواشی و تعلیقات اور مراجع و مصادر پر کتاب کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔
مقاصد اور مصالح کا تعین اور صحیح تطبیق ایک تحقیق طلب امر ہے۔ عام طور پر مصلحت کا استعمال کسی شر سے بچنے کے لیے کیا جاتا ہے اور اس کی اصل بنیاد، یعنی شارع کی منشا کا دریافت کرنا، اور پھر منشا سے مطابقت رکھتے ہوئے ایک حکمت عملی وضع کرنا علم الاصول کا مقصد ہے۔ اس حوالے سے مصنف بحث دوم کے زیرعنوان بہت قیمتی نکات زیربحث لاتے ہیں۔ مثلاً ’’کوئی بھی مکلف کسی جائز کام کو اس حیثیت سے کرتا ہے جو شارع کے مقصد کے خلاف ہے تو حقیقتاً یہ سمجھا جائے گا کہ وہ ناجائز کام کر رہا ہے‘‘ (ص ۱۰۴)۔ اس طرح وہ تحریر کرتے ہیں: ’’جب مکلف کا ارادہ شارع کے ارادے کے خلاف ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مکلف نے شارع کے مقصد کو ناقابلِ اعتبار قرار دے دیا، اور جس امر کو شارع نے مقصد نہیں سمجھا تھا اسے مقصد قرار دے دیا‘‘ (ص ۱۰۴)۔ ان دونوں سادہ سے نکات پر اگر غور کیا جائے تو ایک عام شخص کے لیے بھی ان میں غیرمعمولی حکمت و دانائی پائی جاتی ہے۔ ایسے ہی ان نکات کی اہمیت اسلامی تحریکوں کے کارکنوں کے لیے غیرمعمولی طور پر اہم ہے۔
ان اصولوں کی بنیاد قرآن کریم کا وہ حکم ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَ یَتَّبِــعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَھَنَّمَ ط وَ سَآئَ تْ مَصِیْرًاo (النساء ۴:۱۱۵) ’’مگر جو شخص رسولؐ کی مخالفت پر کمربستہ ہو اور اہلِ ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، درآں حالے کہ اس پر راہِ راست واضح ہوچکی ہو، تو اس کو ہم اُسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جاے قرار ہے‘‘۔اس قرآنی آیت سے استدلال کرتے ہوئے مصنف کہتے ہیں: ’’مصالح کے حصول اور مفاسد سے بچنے کے لیے ایسے اعمال کا سہارا لینا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیے آپؐ کی کھلی مخالفت ہے، اور آپؐ کی مخالفت درحقیقت اس وحی کی مخالفت ہے جو آپؐ اللہ کی طرف سے لے کر تشریف لائے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ارشاد ہے: رسول اکرمؐ اور آپؐ کے بعد خلفا نے کچھ طریقے چھوڑے ہیں، انھی کو اختیار کرنا کتاب اللہ کی تصدیق، اطاعت رسولؐ کی تکمیل اور دین کی قوت کا باعث ہے‘‘۔ (الموافقات ،ج۲، ص ۳۳۴)
شارع کے مقاصد کے خلاف جو عمل بھی کیا جائے گا وہ باطل ہوگا۔ مندرجہ بالا استدلال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہرحکمت عملی کو اختیار کرنے سے پہلے اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ وہ کہاں تک مقاصد شریعت سے مطابقت رکھتی ہے۔ مشہور حدیث ہے کہ اعمال کی بنیاد نیت پر ہے۔ اقرارِ توحید و رسالت اور صلوٰۃ اور دیگر عبادات قربِ الٰہی کے حصول کے لیے ہیں اور یہی شارع کا مقصود ہے۔ لیکن ان اعمال سے کسی کی نیت دنیوی مفاد کا حصول ہو یا دنیوی نقصان سے بچنا مقصود ہو، تو اس کا یہ عمل شارع کے مقصد سے ہٹ جانے کے سبب باطل ہوجائے گا۔ زکوٰۃ کی فرضیت سے شارع کا مقصد مال داروں کو حرص اور دولت کی محبت و پرستش سے نکالنا ہے اور ہبہ کرنا ایک نیکی کا کام ہے، لیکن اگر ایک شخص زکوٰۃ کی ادایگی سے بچنے کے لیے اپنا مال عین واجب مدت سے قبل کسی اور کو ہبہ کردے تو شارع کے دونوں مقاصد کے خلاف عمل کرے گا۔
یہ دو مثالیں محض بات کو آسان کر کے سمجھانے کے لیے عرض کی گئی ہیں۔ مصنف نے کتاب میں ہر ہر نکتے کی وضاحت کے لیے مثالیں دے کر مقاصد و مصالح کے علم کو آسان بنا کر پیش کیا ہے۔ہم دوبارہ اپنی بات کو دہراتے ہیں کہ یہ فقہ کا ایک ایسا شعبہ ہے جو فقہ کا مصدر ہے اور اسی بنیاد پر فقہ وجود میں آتا ہے۔ اس لیے دین کو سمجھنے اور زندگی کے اہم معاملات میں اس کی تطبیق طے کرنے کے لیے مقاصد اور مصالح کا سمجھنا، اور حتی الامکان مقاصد و مصالح اور قواعد کو سامنے رکھتے ہوئے حکمت عملی وضع کرنا ہی دین کا تقاضا ہے۔
یہ کتاب تحریک اسلامی کی قیادت اور کارکنوں کے لیے ایک عمدہ فکری غذا فراہم کرتی ہے۔ مقاصد شریعت کا جاننا تحریکِ اسلامی کی قیادت کے لیے نہ صرف ضروری ہے بلکہ ان پر مسلسل غور اور ان کی ہمہ وقت تطبیق کے بغیر تحریک آگے نہیں بڑھ سکتی ۔ یہ طے کرنا کہ اس وقت تحریک کی ترجیح کیا ہو، کیا تمام قوت محض تربیت کے نظام کی اصلاح پر لگا دی جائے، تحقیق و تجزیے کو اولیت دی جائے، یا سیاسی محاذ پر تمام توجہ مرکوز کردی جائے، یا معاشرتی فلاح کے کاموں کو فوقیت دی جائے، خواتین کے کن مسائل کو ملک گیر تحریک کا موضوع بنایا جائے، عوام الناس کے کون سے مسائل ہیں جن پر مہم چلائی جائے، تعلیمی میدان میں ہماری اولیت کیا ہو، کاروبار و تجارت کرنے والوں سے تعلق کی نوعیت کیا ہو___ غرض تحریکی مسائل و معاملات میں جب تک مقاصد کا علم گہرائی کے ساتھ حاصل نہ کرلیا جائے یہ طے کرنا بہت مشکل ہے کہ تحریک کی حکمت عملی کہاں تک اصولِ شریعت کی پیروی کررہی ہے۔
تحریک کے نظامِ تربیت میں اس موضوع پر مستقلاً توجہ کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر یوسف حامدالعالم کی یہ تحقیقی کتاب سلاستِ بیان کی بنا پر تربیتی لٹریچر میں شامل ہونی چاہیے اور اسلامی فقہ سے گہری واقفیت رکھنے والے اساتذہ کے ذریعے اس کی تعلیم کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔
(اسلامی شریعت مقاصد اور مصالح ، یوسف حامد العالم، مترجم: محمدطفیل ہاشمی۔ ناشر: ادارہ تحقیقاتِ اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد۔ صفحات (بڑی تقطیع): ۶۴۵ ۔ ہدیہ: ۹۰۰ روپے)
محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی دنیا کے ہر گوشے میں ربیع الاوّل کے مہینے میں آپؐ کی حیاتِ مبارکہ کے مختلف پہلوئوں پر غور کرتے اور اپنا ایمان تازہ کرتے ہیں اور جس طرح رمضان الکریم میں گھر گھر قرآن کی تلاوت کی مبارک آواز فضائوں کو گرما دیتی ہے، اسی طرح اس مہینے میں اسکول ہوں یا بازار، ایوانِ حکومت ہو یا ہمہ وقت منکر (لغویات اور لہوولعب) میں مصروف ٹی وی چینل، کم از کم ایک دن کے لیے درود و سلام ہر لہوالحدیث پر غالب آجاتے ہیں۔
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمان کا تعلق ہی کچھ ایسی نوعیت کا ہے کہ چاہے وہ سال بھر دین کی ہرتعلیم سے کتنا ہی غافل رہا ہو، اس مہینے میں وہ رسولؐ اللہ سے اپنی نسبت کو کسی نہ کسی شکل میں تازہ کرلیتا ہے۔ اور کچھ نہیں تو چراغاں کر کے اپنے دل کی تاریکی میں روشنی کی کچھ رمق پیدا کرلیتا ہے۔ صدیوں کی غلامی اور آزادی کے بعد کی بے راہ روی بھی اسے اس راکھ میں دبی ہوئی چنگاری سے محروم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہی وہ خاص ترکیب ایمانی ہے جو ایک بظاہر ’سیکولر مسلمان‘ کو بھی شاتمین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مظاہروں، دھرنوں اور پُرجوش بیانات پر آمادہ کرتی ہے اور مغرب و مشرق کے اصحابِ دانش کے لیے ایک معمّہ کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ مغرب اپنی تمام تر مادیت، مغربیت اور لادینیت کے باوجود مسلمانوں کو اس نعمت سے محروم نہیں کرسکا۔
سوال یہ ہے کہ کیا حُب ِ رسولؐ کا بہترین اظہار صرف جلسوں، جلوسوں، بجلی کے قمقموں اور رنگارنگ محفلوں میں بہترین ترنم کے ساتھ مدحِ رسولؐ کرنے سے ہوسکتا ہے یا قرآن کریم انسانیت کی اس عظیم ہستیؐ سے محبت کے اظہار کا کوئی اور طریقہ تجویز کرتا ہے؟ قرآن کریم نے اس مسئلے کو محض دو آیات میں آسان بناکر قیامت تک کے لیے حل کردیا ہے۔ فرمایا گیا: قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ (اٰل عمرٰن ۳:۳۱)’’اے نبیؐ،لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو‘‘، اور مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ (النساء ۴:۸۰)’’جس نے رسولؐ کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی‘‘۔ گویا اللہ سے محبت کا حق ادا کرنا ہو تو اللہ کے محبوب کی تعریف و توصیف کے ساتھ ان پر ایمان اور ان سے محبت کے اظہار کا اصل طریقہ ان کی اطاعت کو اختیار کرنا ہے، اور اس اطاعت کادائرہ پوری زندگی اور اس کے ہرعمل سے ہے، خواہ وہ ہاتھ ملانے کا طریقہ ہو یا مسکراتے ہوئے رُخِ مبارک کے ساتھ ہراہلِ ایمان کا استقبال کرنا ہو۔ وہ بازار میں فروخت ہونے والے مال کی کوالٹی کا جانچنا ہو یا پڑوس میں رہنے والی کسی غیرمسلم ضعیف خاتون کی تیمارداری۔ یہی آپؐ کا خلق عظیم ہے اور یہ اس کی پیروی کا کرشمہ ہے کہ دوست ہو یا دشمن آپؐ کا ہرسچا پیرو ہرکسی کے لیے رحمت بن کر دل و نگاہ میں مقام پیدا کرلیتا ہے۔
قرآنِ کریم نے آپؐ کی صفاتِ حمیدہ کے حوالے سے جہاں اخلاق [خلق] کی اصطلاح استعمال کی ہے، وہیں رحمت للعالمینؐ کے لقب سے بھی نواز ا ہے۔ اس رحمت کے یوں تو بے شمار پہلو ہیں لیکن موجودہ حالات کی روشنی میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم چار پہلوئوں پر خصوصی توجہ دی جائے:
اوّلاً: اس رحمت کا تعلق اس نور اور ہدایت کے ساتھ ہے جو خود اپنے لیے فرقان، ذکریٰ اور قرآن جیسے نام استعمال کرتا ہے۔ آپؐ اس لیے رحمت للعالمینؐ ہیں کہ آپؐ تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے کتابِ ہدایت اور سامانِ رحمت لانے والے ہیں۔ یہ وہ کلام ہے جو انسانوں کے لیے سرتاسر رحمت ہی رحمت ہے۔ اس کی ہرہرآیت انھیں گھٹاٹوپ اندھیرے سے نکال کر نور کی پاکیزہ کرنوں سے منور کردیتی ہے۔ اس کلامِ رحمت میں وہ ہستی جو الرحمن اور الرحیم ہے، اپنے بندوں کی نادانیوں اور بھول ہی نہیں، جان بوجھ کر غلطیوں کا ارتکاب کرنے پر بھی رحمت و مغفرت کی اُمید جگاتا اور اپنے کمالِ کرم و رحمت سے ان کے بڑے بڑے گناہوں کو اظہارِندامت پر معاف فرمانے کا وعدہ فرماتا ہے، اور کس کا وعدہ اُس سے زیادہ سچا ہوسکتا ہے جو مکمل طور پر صدق اور حق ہے، جو اپنے بندوں پر ایک ماں سے بھی زیادہ شفقت و رحمت فرمانے والا ہے۔ ایسا کلام رحمت لانے والا انسانوں کے لیے رحمت نہ ہوگا تو اور کیا ہوگا؟ اسے اور کس نام سے پکارا جاسکتا ہے؟
دوسرا اہم پہلو جو مطالبہ کرتا ہے کہ مقامِ محمود پر فائز علم اور رہنمائی کے اس سرچشمے اور تمام انسانوں کو علم سے مالا مال کردینے والی اس ہستی کو رحمت للعالمینؐ کہہ کر پکارا جائے۔ آپؐ ہی کا عمل وہ اسوہ ہے جس میں ہرہرقدم پر رحمت کا اظہار ہوتا ہے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رحمت عالم کے سامنے جب دو کاموں میں انتخاب کا معاملہ ہوتا تو اپنی اُمت کو یُسر فراہم کرنے اور عُسر سے نکالنے کے لیے آپؐ جو عمل زیادہ آسان ہوتا، اسے پسند فرماتے۔ چند اصحابِ رسولؐ جب اُمہات المومنینؓ سے دریافت کرتے ہیں کہ آپؐ کے شب و روز کس طرح گزرتے ہیں اور انھیں بتایا جاتا ہے کہ آپؐ عبادات و معاملات کے درمیان کیا حسین توازن قائم کرتے ہیں، تو واپسی پر راستے میں وہ سوچتے ہیں کہ ایسا معاملہ آپؐ کے ساتھ خاص ہو، عام انسانوں کے لیے یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو خصوصی رخصت دے دی ہو، اور اس بنا پر آپؐ اُس شدت سے عبادت نہ کرتے ہوں جس کی اُمید میں وہ اُمہات المومنینؓ سے معلومات کرنے گئے تھے۔ ان میں سے ایک ارادہ کرتا ہے کہ وہ تمام رات قیام کرے گا۔ دوسرا طے کرتا ہے کہ وہ ہردن روزے سے ہوگا، اور تیسرا قصد کرتا ہے کہ وہ بیوی کے پاس نہیں جائے گا۔ رحمت للعالمینؐ کو جب اس کی اطلاع ملتی ہے تو آپؐ ان کو طلب فرماتے ہیں اور جن دو کلمات سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ آپؐ اللہ کے رسولؐ اور ان سے زیادہ اللہ کی خشیت اور تقویٰ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود رات کے کچھ حصے میں عبادت، اور کچھ میں آرام فرماتے ہیں، بعض دنوں میں روزہ رکھتے اور بعض میں نہیں رکھتے، اور پھر یہ بات فرمائی کہ نکاح آپؐ کی سنت ہے جس سے معلوم ہوا کہ جو اللہ کے رسولؐ کی سنت سے رغبت نہیں رکھتا اس کا آپؐ سے کوئی تعلق نہیں [فلیس منّی]۔
تقویٰ اور خشیت کی تعریف اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی جو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت پر رحمت بن کر بیان فرماتے ہیں کہ رات کے کچھ حصے میں قیام، صرف بعض دنوں میں روزہ، اور خاندان کی زندگی سنتِ رسولؐ سمجھتے ہوئے گزارنا۔ یہاں بھی رحمت اور یُسر کا پہلو غالب ہے ، جب کہ دنیا کے دیگر مذاہب میں تقویٰ اور بندگی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان گھربار کو چھوڑ کر جنگل بیابان میں، کسی پہاڑی کے دامن میں، کسی غار میں جاکر بیٹھ جائے اور اس طریقے سے چنددنوں میں مرجع خلائق بن جائے! کیا یہ عمل ایسے فرد کو رحمت للعالمینؐ سے جوڑنے والا ہوگا یا توڑنے والا؟ گویا عبادات ہوں یا معاشرت توازن و اعتدال کی عملی مثال، وہ رحمت ہے جو آپؐ کی حیاتِ مبارکہ میں ہمارے لیے مثال بن کر نظر آتی ہے۔
تیسرا اہم پہلو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نہ صرف انسانوں بلکہ تمام موجودات کے لیے رحمت و شفقت کا مظہر و مرکز ہیں۔ انسانوں کے ساتھ تو آپؐ کا تعلقِ رحمت کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ جب آپؐ ایک صحابیؓ سے وہ واقعہ سماعت فرماتے ہیں جس میں اُس صحابیؓ نے قبلِ اسلام اپنی بیٹی کو ایک غیرآباد کنویں میں ڈال کر مارنا چاہا اور وہ کنویں میں گرائے جانے کے باوجود اپنے شقی القلب باپ کو پیار سے پکارتی رہی، تو رحمت للعالمینؐ آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ بات انسانوں تک محدود نہیں، جب ایک باغ میں تشریف لے جاتے ہیں اور ایک اُونٹ کو تکلیف سے ہنکارتے ہوئے دیکھتے ہیں تو رحمت للعالمینؐ اس کے لیے بھی رحیم و کریم ہونے کے سبب اس کے مالک کو نصیحت کرتے ہیں کہ اسے مناسب غذا دی جائے اور اس پر زیادہ بوجھ نہ لادا جائے۔ پرندوں پر آپؐ کی شفقت و رحمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یوم الحساب آپؐ اُس چڑیا کے بھی وکیل ہوں گے جسے بغیر ضرورت ناحق نشانہ بنایا گیا۔ یہ آپؐ کی محبت و شفقت تھی جس نے خادمِ حدیث و سنت کو ابوہریرہؓ (بلّی کے باپ)کی کنیت دلوائی۔
آپؐ کے رحمت للعالمینؐ ہونے کا ایک بہت نمایاں پہلو آپؐ کا دونوں عالموں، یعنی اس دنیا میں اور آخرت میں واقع ہونے والے دوسرے عالم میں اپنی اُمت کے لیے سراپا رحمت ہونا ہے۔ قرآن کریم شہادت دیتا ہے کہ آپؐ مشرکینِ مکّہ کو اللہ کے عذاب سے بچانے کے لیے دعوتِ دین میں اتنے مصروف رہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے متوجہ کیا کہ آپؐ ان کے غم میں خود کو نہ گھلائیں،آپؐ ان پر وکیل نہیں ہیں، آپؐ کاکام صرف ابلاغِ دعوت ہے۔ آپؐ کی یہی محبت و لگن تھی کہ جب تک آپؐ اس دنیا میں رہے، ہرہرعمل سے اُمت کے لیے آسانی کی شکل نکالی اور ایسے ہی عالمِ آخرت میں اللہ کے ان بندوں کی اللہ تعالیٰ کے اذن سے شفاعت فرمائیں گے جنھوں نے حق کی خاطر اپنے نفس اور مال کو اللہ کی راہ میں لگایا۔ گویا آپؐ دونوں عالموں کے لیے رحمت ہی رحمت ہیں۔
قابلِ غور پہلو یہ بھی ہے کہ جو ہستی ہرمعاملے میں انسانوں کے لیے رحمت ہو، کہیں ایسا تو نہیں کہ قرآن کی طرح وہ بھی یومِ حساب فریاد کرے کہ اسے اُس کے ماننے والوں نے تنہا چھوڑ دیا تھا، پسِ پشت ڈال دیا تھا اور محض سال میں ایک دن اس کی یاد میں جشن منا کر اپنے خیال میں اس کی محبت و شفقت کا قرض اُتار دیا تھا؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق اور محبت کا اہم ترین تقاضا نظامِ ظلم و کفر کے خلاف جہاد، اور معروف اور بھلائی کے قیام کے لیے اپنے گھر میں، معاشرے میں، اپنی تجارت میں، اپنی سیاست میں، غرض زندگی کے ہرمعاملے میں بندگی و اطاعت کو صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خالص کردینا ہے۔ قرآن نے اس سلسلے میں جو قولِ فیصل ہمیں سنایا ہے وہ ہرلمحے نگاہوں کے سامنے رہنا چاہیے:
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ (اٰل عمرٰن ۳:۳۱) ، اے نبیؐ،لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو۔
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ط (النساء ۴:۸۰)، جس نے رسولؐ کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی۔
یاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلاَ تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَکُمْ (محمد ۴۷:۳۳)، اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرلو۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا o(النساء ۴:۶۱)، اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئو اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے، اور آئو رسولؐ کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمھاری طرف آنے سے کتراتے ہیں۔
عصرِحاضر میں جہاں کہیں بھی تحریکِ اسلامی کو سیاسی محاذ پر کامیابی حاصل ہوئی ہے وہاں اللہ کے بندوں کے حقوق کی ادایگی ایک اہم عنصر رہا ہے۔ سب سے نمایاں مثال ترکی کی ہے۔ ۱۹۷۰ء سے ترکی میں تحریکی قیادت نے جس حکمت عملی کو اختیار کیا اسے ترکی کی حد تک محدود سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ حکمت عملی ایک عالم گیر دعوتی اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسے جہاں بھی استعمال کیا جائے گا متوقع نتائج فطری طور پر وجود میں آئیں گے۔
ترکی میں تین عشروں پر محیط اس حکمت عملی کے جائزے سے کیا سبق ملتا ہے، ایک تفصیل طلب باب ہے، اور اس کے ہرمرحلے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہرملک اور مقام کے حالات کسی اور مقام پر مکمل طور پر دہرائے نہیں جاسکتے لیکن جن امور کی حیثیت اصولوں کی ہو، وہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔ پاکستان کے تناظر میں یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ترکی میں ۳۰سالہ حکمت عملی نے جو نتائج ظاہر کیے، ان میں سے کون سے پہلو پاکستان کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں، اور اس تقابل کے پیش نظر معمولی تبدیلی کے ساتھ اختیار کیے جاسکتے ہیں، اور کن پہلوئوں کو سمجھنے اور جاننے کے باوجود یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اس تقابل اور جائزے کے عمل سے گزرتے ہوئے ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ تحریکات عموماً اپنے روزمرہ کے سیاسی، تنظیمی اور معاشی حالات کی بنا پر ملکی اور مقامی مسائل میں اتنی اُلجھی رہتی ہیں کہ بعض اوقات طویل المیعاد اور مختصرالمیعاد حکمت عملی وضع کرنے، اس کی مناسبت سے انسانی قوت پیدا کرنے اور مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے حکمت عملی کی تنفیذ جیسے اہم اسٹرے ٹیجک مراحل نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس دوران خود احتسابی بھی ایک بنیادی شرط ہے اور خود احتسابی ہی قلیل اور طویل المیعاد منصوبہ بندی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس تناظر میں ترکی کے ماڈل پر نظرڈالی جائے تو وہاں تحریک کی حکمت عملی کو ہم تین مراحل میں تقسیم کرسکتے ہیں۔
جدید ترکی کی تاریخ کا آغاز کمال ازم کے قیام (۱۹۲۳ئ-۱۹۳۸ئ) سے ہوتا ہے۔ اس عرصے میں اسلام کو ذاتی عبادات کے دائرے میں محدود کردیا گیا اور سرکاری نگرانی میں خطیب امام اسکول کے لیے ایسے امام تیار کرنے کا منصوبہ عمل میں لایا گیا جو حکومت کے فراہم کردہ فرمودات کو بطور خطبہ مسجد میں بیان کریں۔ دورِعثمانی خود ایک روبہ زوال معاشرہ تھا اور خلیفہ باوجود احترام کے حکومتی معاملات میں فیصلہ کن مقام نہیں رکھتا تھا۔ اس کے باوجود خلافت علاماتی طورپر اُمت مسلمہ کے اتحاد اور قوت کا مظہر تھی۔ کمال ازم نے ریاست کو مکمل طور پر مغربی لادینیت کے تصور پر قائم کیا اور مذہبی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے مغربی تہذیب و ثقافت کی یلغار، رسم الخط کی تبدیلی، اذان کا عربی میں ممنوع کیا جانا، مغربی لباس کا اختیار کیا جانا، لباس میں حجاب پر پابندی اور روایتی ترکی ٹوپی کی جگہ انگریزی ہیٹ کو علاماتی طور پر رواج دے کر ملک کی ثقافت کو تبدیل کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔
یہی وہ زمانہ ہے جب بدیع الزماں سعید نورسی(۱۸۷۶ئ-۱۹۶۰ئ) نے اپنی تحریک کا آغاز کیا۔ قرآن کریم کے دروس کے ذریعے اور مختصر رسائل کی شکل میں اور بعض اوقات طویل خطوط کی شکل میں زیرحراست ہونے کے باوجود اپنے طلبہ تک پہنچائے، انھوں نے ان قرآنی رموز کی دستی نقول تیار کر کے جہاں جہاں ممکن ہوا اسے عام کرنے کی کوشش کی۔ استاذ سعید نورسی کی تحریک کمال ازم کے تمام سرکاری زور و قوت کے باوجود عوامی سطح پر پھیلتی رہی اور آخرکار اس دعوت کے اثرات ۷۰ کی عشرے میں ان کے انتقال کے ۱۰ سال بعد واضح ہوکر نظر آنے لگے۔
۷۰ کے عشرے کے آخری دور میں ترکی دو واضح انتہائوں میں گھرا نظر آتا ہے۔ ایک جانب دائیں بازو کے الٹرا نیشنلسٹ اور دوسری جانب انقلابی یا بائیں بازو کے اشتراکیت سے متاثر گروہ، مثلاً Neo-Markist Kurdish Worker Party یا PKK تھے۔ چنانچہ ۱۹۷۵ء اور ۱۹۸۰ء کے درمیان پانچ ہزار سے زائد افراد ملک میں بدامنی، دہشت گردی اور قتل و غارت میں زندگی کی نعمت سے محروم ہوئے اور ۱۹۸۰ء میں ترکی میں ایک خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔ تقابلی طور پر دیکھا جائے تو معاشی بدحالی، زر کی کساد بازاری، جرائم، بدامنی، بدعنوانی ، اقرباپروری، غرض ہر وہ خرابی جس کا رونا آج ہم پاکستان میں یا کل تک مصر، تیونس، عراق اور شام میں روتے رہے ہیں ان میں سے ہر خرابی بدرجۂ اتم ترکی میں موجود تھی۔ پھر کس جادو کی چھڑی نے ملک و قوم کی قسمت بدلی۔ یہ امر سنجیدہ، تنقیدی اور معروضی تجزیے کا محتاج ہے۔
اس ٹکرائو میں نیشنل سالویشن پارٹی (NSP) جو اسلامی رجحانات کی حامل تھی کسی بھی تشدد کی کارروائی میں ملوث نہیں ہوئی۔ ۶ستمبر ۱۹۸۰ء کو ’القدس بچائو‘ کے لیے پُرامن اور انتہائی منظم مظاہرے اور جلوس کا اہتمام کیا اور اس موقع پر ترکی میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا نعرہ تھا:’’شریعت آئے گی، سفاکیت جائے گی‘‘، ’’حاکمیت صرف اللہ کی ہے‘‘، ’’ہمارا دستور قرآن ہے‘‘، ’’سیکولرزم لادینیت ہے‘‘، ’’ہم ایک غیرطبقاتی اسلامی معاشرہ چاہتے ہیں‘‘۔
اس ریلی میں انھوں نے روایت سے ہٹ کر ترکی کا قومی ترانا گانا بھی پسند نہیں کیا۔ اس تحریک کی قیادت ڈاکٹر نجم الدین اربکان مرحوم نے کی۔ مظاہرے میں شامل لاکھوں افراد نے یک زبان ہوکر ان کی حمایت میں نعرے لگائے اور کہا:ہمیں حکم دیں اور ہم جان دیں گے وغیرہ۔ یہ گویا فوج اور سیکولرزم کے خلاف اعلانِ جہاد تھا اور ا س تاریخ سے ترکی کی جدید تاریخ کا دھارا ایک نیا رُخ اختیار کرگیا۔
اس کا ردعمل جلد ہی سامنے آیا اور ۳۰؍اکتوبر ۱۹۸۰ء کو چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ایورن نے اپنے خطاب میں آگاہ کیا کہ ہر اُس کوشش کو جو ترکی کے سیکولرنظام کو نقصان پہنچانے کے لیے ہوگی، قوت سے کچل دیا جائے گا۔ فوج میں گھس کر انتشار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ فوج کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کی سالمیت اور وحدت کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرے اور جو اقدامات ضروری ہوں قومی ضرورت کے طور پر ان میں کمی نہ کرے۔ چنانچہ فوج نے اعلان کیا کہ اُس نے ملک کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ۔ یہ دور ۱۹۸۰ء سے ۱۹۸۳ء تک رہا۔ اس فوجی انقلاب میں ساڑھے چھے لاکھ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ۱۶ لاکھ افراد پر مقدمات قائم کیے گئے۔ ۵۱۷؍افراد کو سزاے موت سنائی گئی اور ۴۹؍افراد کو پھانسی دی گئی۔۱۴ ہزار افراد کی ترکی شہریت ختم کی گئی اور ۶۶۷ تنظیموں اور مؤسسات کو خلافِ قانون قرار دیا گیا۔ ان زمینی حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے غور کرنے کی ضرورت یہ ہے کہ قرآن کریم جس آزمایش اور امتحان کی بات کرتا ہے اس کی ایک جھلک یہاں تو موجود ہے لیکن کیا ابھی تک ایسی کوئی آزمایش تحریک کو پیش آئی ہے؟ گو، یہ ضروری نہیں کہ ہرتحریک اتنی سخت آزمایش سے لازماً گزرے۔
چونکہ NSP کسی تشدد یا عسکری سرگرمی میں ملوث نہ تھی اس لیے فوج نے اسے اپنے لیے خطرہ تصور نہیں کیا۔ فوج نے اپنی زیادہ توجہ بائیں بازو کی جماعتوں پر رکھی جو اشتراکی فکر سے متاثر تھیں۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ ترکی میں ۵۰، ۶۰ اور ۷۰ کے عشرے میں اشتراکی رجحانات نمایاں تھے۔ ان حالات میں فوج کا اسلامی فکر رکھنے والی جماعتوں کو گوارا کرنا اور اشتراکیت کے قلع قمع کے لیے انھیں اپنے سے قریب لانا ایک فطری عمل تھا۔ بالکل یہی شکل مصر میں انورسادات کے زمانے میں پیش آئی اور دیگر مسلم ممالک کے فوجی اور غیرفوجی آمروں نے ہمیشہ اسی حکمت عملی کو اختیار کیا۔ اشتراکیوں کے خلاف فوج کے اقدامات سے بظاہر اسلام پسند بھی مطمئن تھے، لیکن مسئلے کا حل فوج اور اسلامی رجحان والے افراد کا اشتراکِ عمل نہیں تھا، بلکہ اس کے نتیجے میں ایک معاشرتی تحریک (social movement)کا برپا ہونا تھا جو آگے چل کر سیاسی تبدیلی کا باعث بنی۔ یہ دوسرے دور کا آغاز تھا جس میں تحریک ایک معاشرتی تحریک کی شکل اختیار کرگئی۔
یہ معاشرتی یا سوشل موومنٹ جن بنیادوں پر قائم ہوئی ان میں نورسی تحریک سے متاثر حضرات کے اخوتی حلقے (brotherhoods)، تعلیمی میدان میں اسکولوں کا قیام، آزاد اوقاف کے ذریعے معاشرتی بھلائی کے کام اور روحانی پہلو پر توجہ تھی۔ اس دوران ترکی نیشنلزم کی تحریک میں Pan-Turkism کے تصور میں اسلام کو بھی بطور ایک عنصر شامل کیا گیا تاکہ اشتراکی فکر کی مخالفت کے لیے ایک زیادہ مضبوط فکر اُبھر سکے۔ علمی اور فکری سطح پر بعض مفکرین نے ترک قومیت کے حوالے سے یہ تصور پیش کیا کہ یہ قومیت، سُنّی اسلام اور اپنے مخصوص معاشرتی ثقافتی خصوصاً فنِ تعمیر و طریق بودوباش سے مل کر بنی ہے۔ یہ بات بھی کہی گئی کہ ترک وہ مسلمان ہے جو ترکی زبان بولتا ہے۔ گویا اس دور میں ترک قوم نے اپنی شخصیت کی تلاش شروع کی اور یہ سمجھنا چاہا کہ ان کے ترک ہونے کا مطلب کیا ہے۔ اس کش مکش اور پاکستان میں پائی جانے والی سرگرم اور غالب سیکولر ابلاغ عامہ کے جتھے کی قائداعظم کو اور پاکستان کو سیکولر پیش کرنے میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہ پہلو بطور جملہ معترضہ قابلِ غور ہے کہ سیکولر ابلاغ عامہ بالخصوص الیکٹرانک میڈیا جو منفی تصور عوام اور نوجوانوں میں پھیلا رہا ہے اس کا مثبت جواب کس حد تک دیا جارہا ہے۔ اس فکر کو سیاسی محاذ پر آگے بڑھانے میں ڈاکٹر نجم الدین اربکان نے غیرمعمولی اہم کردار ادا کیا اور اب یہ بات زبان زدعام ہونے لگی کہ اسلام اور ترک قومیت کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔اس کا اظہار Turk Ocaklari سے وابستہ افراد نے اپنے بیانات میں خاص طور پر کیا۔ اس گروہ کے صدر Suleyman Yalcin کے الفاظ میں: ’’ترک قوم کے زندگی، وجود اور کردار کے سرچشمے ترک تصور اور اسلامی عبادات اور تصورِجہاں دونوں پر مبنی ہیں‘‘۔(بحوالہ The Mobilization of Political Islam in Turkey, ، Banu Eligur، کیمبرج، کیمبرج یونی ورسٹی پریس، ۲۰۱۰، ص ۱۰۰)
اس فکر کے حامل افراد Turkish Hearths کے نام سے مشہور ہوئے اور ان کے نمایندہ Yalcin نے واضح طور پر اپنے بیانات میں بغیر کسی معذرت پسندانہ رویے کے اسلامی تصورات کا اظہار کیا، اور اشتراکیت اور سرمایہ داری دونوں کو تنقید کا ہدف بناتے ہوئے اسلام کو بطور حل پیش کیا۔
اس فکر کے علَم بردار مفکرین نے مغربی ثقافتی سامراجیت، سیاسی بازی گری، تیزی کے ساتھ مغربی مادہ پرستی، اور نتیجتاً ترک اسلامی ثقافت و معاشرت کے فضا میں تحلیل ہونے کی سنگین صورتِ حال کو علمی سطح پر اور عوامی زبان میں پیش کرنا شروع کیا۔ Yalcin کا کہنا تھا کہ When Truks lose their faith in Islam, they disappear ۔ اس قسم کے مؤثر جملوں کو زبان زدعام کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کی ایک مثال یہ ہے:
ترک نسلیت اور اسلام کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک ترک کا مسلمان ہونا لازمی ہے۔ اس لیے اسے بطور ایک ترک کے سوچنا چاہیے اور بطور مسلمان کے بودوباش اختیار کرنی چاہیے۔
اس تحریک نے ۱۹۸۲ء کے دستور کے بننے میں اہم کردار ادا کیا۔ ملک گیر پیمانے پر اسلامی فکر رکھنے والے دانش وروں اور فوج کے اپنی مجبوری اور ضرورت کی بنا پر اسلامی فکر رکھنے والے افراد کو اپنے سے قریب رکھنے کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ فوجی رہنما بھی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنے بعض بیانات میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئے، مثلاً:’’ہمارے مذہب میں کوئی فرقہ بندی نہیں ہے۔ ہم سب ایک اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، ہمارا ایک رسولؐ ہے، ہم سب ایک ہی قرآن پڑھتے ہیں۔ پھر یہ تقسیم کس لیے؟‘‘
یقین کے ساتھ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ فوجی حکمرانوں کی زبان جس بات کا اظہار کر رہی تھی وہ کہاں تک ان کے دل کی آواز تھی لیکن قومی سطح پر اسلامی فکر کے مطالبے نے انھیں لازمی طور پر ایسے الفاظ استعمال کرنے پر مجبور کیا جو بعد میں اسلامی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ نہ صرف مصر بلکہ خود پاکستان کے فوجی حکمران بشمول ضیاء الحق اور پرویزمشرف کے اسلام کے حوالے اور ترک فوجی آمروں کے اسلام کے حوالے میں غیرمعمولی مماثلت نظر آتی ہے۔ چنانچہ ترکی میں تعلیمی اصلاحات کا اعلان کرتے وقت اور لوگوں کو بچوں کو اسکول بھیجنے کی تلقین کرتے وقت جنرل ایوران نے جو زبان استعمال کی وہ انتہائی قابلِ غور ہے:
اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہم کو یہ حکم دیتے ہیں ۔محمدؐ ایک حدیث میں فرماتے ہیں: سائنس مسلمانوں کے لیے فرض ہے۔کیا کوئی ناخواندہ صاحب ِعلم ہوسکتا ہے، اس لیے ہمیں سب سے پہلے خواندہ ہونا چاہیے۔
اصل نکتہ جس کی طرف یہ جادو سر پر چڑھ کر اشارہ کرتا ہے وہ ایک جانب فوج کا اپنی ضرورت کے پیش نظر اسلام کا حوالہ استعمال کرنا ہے تو دوسری طرف تحریکِ اسلامی کے دانش وروں کا اس Turkish-Islamic synthesisکو اپنی حکمت عملی میں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ گویا اگر جزوی طور پر ہی سہی، اشتراکیت کے خطرے کے خلاف معروف طاغوتی نمایندوں سے مصلحت عامہ اور سیاست شرعیہ کی بنا پر کوئی رسم و راہ رکھی گئی تو اس سے کون سے اہداف کا حصول مقصود تھا۔ بالعموم تحریک جو آئیڈیلزم اپنے کارکنوں، خصوصاً گرم خون رکھنے والی نسل کے دل و دماغ میں اُتارتی ہے اس کا شعار یہی ہوتا ہے کہ قرآن ہمارا دستور، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قائد، اور شہادت ہماری تمنا ہے۔ اس کلمۂ حق سے سرشار نوجوان فوری تبدیلی اور طاغوتی قوتوں کو اپنے پائوں کے نیچے کچلنے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ جس دین کے قیام کے لیے انبیاے کرام ؑ اور صحابہ کرام اجمعینؓ نے اپنی قوتیں، وسائل اور جانیں صَرف کیں، اس میں حکمت، مصلحت عامہ اور سیاست شرعیہ بنیادی دعوتی اصول ہیں۔ یہ وہ اصول ہیں جن کو نظرانداز کرکے حضرت یوسف ؑ مصر میں تبدیلی نہیں لاسکتے تھے۔
تحریکی قیادت اور کارکنوں کو ہمیشہ یہ بات سامنے رکھنی چاہیے کہ مداہنت اور حکمت عملی دومختلف چیزیں ہیں۔ آخری فیصلہ کن بات نیت، طریق کار کی شفافیت اور باہمی مشاورت کے بعد عزم الامور میں مضمر ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا صداقت سے بھرپور فرمان ہے کہ اُمت گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی۔ اس لیے اگر تحریک میں مشاورت، تنقید، تجزیہ و تحلیل کے بعد ایک پالیسی مصلحت عامہ کے شرعی اصول کی بنا پر طے پاجائے تو پھر چند نوجوانوں یا کسی بھی گروہ کا تنہا اپنی عقل کے فیصلے پر قائم رہنا دین کی حکمت سے عدم آگاہی ہے(یہ اہم بنیادی فکری بحث مزید تفصیل کی محتاج ہے جس کا یہ مقام ہے نہ موقع)۔
ترکی کی اسلام پسند قوتوں نے اس Turkish-Islamic synthesis کا بروقت اور بربناے حکمت عملی استعمال کرکے دیگر تحریکات کے لیے ایک لمحۂ فکریہ فراہم کیا ہے۔ حکمت عملی اور اسٹرے ٹیجی کے نقطۂ نظر سے اس بات کی ضرورت ہے کہ اپنے وژن، مشن، اسٹرے ٹیجی اور وقت کے میقات کے تعین میں بے لاگ طور پر، اور پہلے سے قائم کیے ہوئے تحفظات و خدشات سے آزاد ہوکر، غور کیا جائے، چاہے اس میں ہمیں اپنے بعض سیاسی اور تنظیمی فیصلوں کی غلطی کا اعتراف کرنا پڑے۔ آخر حضرت علیؓ کے اُس قول کا اور کیا مفہوم ہوگا کہ انسان کے ارادوں کی ناکامی اللہ تعالیٰ کی قدرتِ عظمت و علم کے اعلیٰ ترین ہونے کی دلیل ہے۔ہر انسانی حکمت عملی اپنے تمام تر کمال کے باوجود ایک محدود انسانی فکر پر مبنی ہوتی ہے اور ہمیشہ دوبارہ غور کرنے اور تبدیل کرنے کی مستحق ہوتی ہے۔
Hearths سے وابستہ ترک دانش ور اس فضا کی تیاری میں مصروفِ عمل رہے۔ چنانچہ ۹مئی تا ۱۰مئی ۱۹۸۱ء کو انقرہ میں ’قومی تعلیم اور دینی تعلیم‘ کے موضوع پر ایک سیمی نار منعقد کیا گیا اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ دینی تعلیم کو لازمی مضمون کی حیثیت سے سیکنڈری اور ہائی اسکولوں میں پڑھایا جائے۔ اس سیمی نار میں جن حضرات نے شرکت کی ان میں مذہبی امور کے شعبے کے ڈائرکٹر طیارالکنولچ، نیکاتی اور ترگت اوزال جو اس وقت نائب وزیراعظم تھے اور بعد میں وزیراعظم بنے اور صالح تگ جو معروف مذہبی اسکالر اور مرمرا یونی ورسٹی کے الٰہیات کے ڈین تھے، شامل تھے۔ اس سیمی نار میں اور دیگر مواقع پر یہ بات ذہن نشین کرائی گئی کہ نوجوان نسل ترکی کی وفادار نہیں ہوگی جب تک دینی تعلیم نہ دی جائے۔ مزید یہ کہ ترکی کی لادینیت اور مذہبی تعلیم دیے جانے میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اس علمی بحث میں برسرِاقتدار جماعت نے دینی تعلیم کی مخالفت کی اور اس بات پر زور دیا کہ جو اخلاقی تعلیم دی جارہی ہے وہ کافی ہے۔
اس مقام پر یہ اشارہ کرنا ضروری ہے کہ مشرف کے دور میں تعلیمی اصلاحات کے زیرعنوان پاکستان سے اسلامی رجحانات اور پاکستانیات کو خارج کرنے کے لیے جو غیرسرکاری تنظیموں کے افراد پر ماہرین کی کمیٹیوں نے، مثلاًA.H. Nayyar اور Ahmed Salim کی رپورٹ The Subtle Subvirsion: The State Curricular and Tenthly in Pakistan (اسلام آباد، مارچ ۲۰۰۳ئ) وغیرہ کے نتیجے میں نصابی کتب سے قرآنی آیات اور اسلامی حوالوں کو نکالا گیا۔ یہ ایک عالمی طور پر آزمودہ حکمت عملی کا دھرایا جانا تھا۔ اسی طرح انگریزی کے لازمی مضمون کے طور پر پہلی جماعت سے پڑھائے جانے، ایک بڑے صوبے میں تو تدریس کی زبان کے طور پر اسے نہایت بھونڈے انداز میں قوم پر مسلط کرنے میں بھی اصل محرک پاکستان کی نظریاتی بنیاد اور اُردو کے بین الصوبائی اتحاد کے کردار کو مجروح کرنا مقصود ہے۔ ترکی میں تحریکی دانش وروں نے جو حکمت عملی وضع کی اس میں ترکی کے سیکولر ماضی اور حال کو دوبارہ اسلام کی طرف لانے کی فکر کارفرما تھی۔
ملک گیر فکری اور علمی بحث کے نتیجے میں جنرل ایوران جو فوجی حکومت کے سربراہ تھے ایک دینی تعلیمی مشاورتی کمیشن بنانے پر مجبور ہوئے۔ گو، کمال ازم کے زیراثر ۱۹۳۰ء میں مذہبی تعلیم کو محض ایک اختیاری مضمون قرار دیا گیا تھا اور ۱۹۳۷ء میں سیکنڈری اسکول کے نصاب سے خارج کردیا گیا تھا، اور ۱۹۳۱ء میں ابتدائی تعلیم اور ۱۹۳۸ء میں گائوں کے ابتدائی اسکولوں سے بھی خارج کردیا گیا تھا۔
۸۰ کے عشرے میں ہونے والی ان بنیادی تبدیلوں نے اسلامی فکر کے احیا اور تعلیم کے میدان میں یہ گنجایش پیدا کی کہ پرائیویٹ تعلیم میں دینی تعلیم کو بلاروک ٹوک پڑھایا جاسکے۔ ادھر تعلیمی کمیشن نے بھی تجویز کردیا کہ مذہبی تعلیم کو لازمی قرار دے دیا جائے۔ یہاں پر یاد رہے کہ ان اقدامات کے پس منظر میں PKK جو کرد سوشلسٹ فکر کی حامی تنظیم تھی، اس کے نظریاتی سطح پر رد کرنے کا جذبہ بھی کارفرما تھا۔
۱۹۸۲ء میں قومی ثقافتی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ترک قومیت کے عناصر ترکیبی میں اسلام شامل ہے۔ اس لیے مغرب کی نقالی اور مذہب سے دُوری ترکی کے مفاد کے منافی ہے۔ ۱۹۸۲ء کے دستور کی دفعہ۲۴ میں تعلیم کے حوالے سے یہ بات کہی گئی کہ: ’’مذہبی ثقافت اور اخلاقیات کی تعلیم پرائمری اور ثانوی کے نصاب میں شامل ہوگی‘‘۔
گو، دستور کی دفعہ۲ میں ترکی کو ایک سیکولر ریاست قرار دیا گیا تھا۔ اس صورت حال کو ہم یوں بھی بیان کرسکتے ہیں کہ ترکی کے خصوصی حالات میں سیکولرزم کی علَم بردار فوج نے ملک کے دفاع اور سوشلسٹ خطرے کے مقابلے کے لیے ضروری سمجھاکہ اسلامی فکر کے حامل افراد کا تعاون حاصل کرے۔ دوسری جانب دینی فکر رکھنے والے افراد کو سانس لینے کا موقع ملا تو انھوں نے بھی اس موقع کو نہ صرف غنیمت جانا بلکہ ایک طویل المیعاد حکمت عملی کے ذریعے اس موقعے کو اسلامی احیا کے لیے استعمال کرنا چاہا جسے Turkish-Islamic synthesis سے تعبیر کیا گیا ہے۔
۸۰ کے عشرے میں ایک اور عنصر ترکی کی معاشی پالیسی کا سامنے آیا۔ ترگت اوزال کی معاشی پالیسی کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ انھوں نے ملک کے باہر سے ان افراد کو ترکی میں اپنے مالی وسائل کو معیشت میں لگانے کی دعوت دی جو اسلامی رجحان بھی رکھتے تھے۔ چنانچہ سعودی شہزادہ محمدالفیصل، کویتی فنانس ہائوس اور سعودی ارب پتی شیخ صالح کامل نے بڑے پیمانے پر ترکی میں تجارتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی۔ ۱۹۸۳ء میں دانش ور اور علمی حلقے Hearths کی کوششوں سے دورِ عثمانی کی ثقافتی علامات، مثلاً محمدالفاتح کے زمانے میں استعمال ہونے والا فوجی نغمے اور مقامی ترک زبانوں کے احیا کی کوشش بھی کی گئی۔ ساتھ ساتھ یہ بات بھی دہرائی گئی کہ شہریوں کی روحانی ضرورت کو پورا کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
۱۹۸۰ء کے فوجی انقلاب سے قبل نجم الدین اربکان مرحوم نے واضح طور پر ترکی میں بے چینی اور بدامنی کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی کہ اس بدامنی کا اصل سبب تعلیم میں روحانی اور اسلامی پہلو کا نہ ہونا ہے۔ چنانچہ ۱۹۸۳ء میں رفاہ پارٹی ( Welfare Party)نے اپنے منشور میں اس بات کو شامل کیا کہ دینی تعلیم کو لازمی کیا جائے۔
۶نومبر ۱۹۸۳ء کو ہونے والے عام انتخابات میں فوج نے رفاہ پارٹی کو حصہ لینے کا موقع نہیں دیا اور صرف تین سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی۔ ان میں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (NDP) جس کی سربراہی ریٹائرڈ جنر ل ترگت سونالپ کر رہے تھے۔ Populistپارٹی (PP) جس کی سربراہی ایک سابقہ سرکاری افسر Necdit Calp کر رہے تھے۔ ترگت اوزال نے ۱۹۸۳ء میں Motherland Party (MP) قائم کی اور اس کی پہچان روایت پرست آزد معیشت اور سوشل جمہوریت کو قرار دیا۔ چونکہ ویلفیئر پارٹی یا رفاہ پارٹی کو انتخاب میں شرکت کی اجازت نہ تھی اس لیے رفاہ کے بہت سے افراد نے اوزال کی پارٹی میں شرکت کی۔ اوزال نے صوفی نقشبندی سلسلے کی حمایت بھی حاصل کرلی اور اس طرح ۱۹۸۳ء سے ۱۹۹۱ء تک اوزال کی وطن پارٹی برسرِاقتدار رہی۔
یہی وہ دور ہے جس میں اسلامی عناصر نے معاشرتی فلاح کے کاموں اور شہری انتظامیہ میں اثرورسوخ حاصل کیا۔ ترکی میں اسلام پسند حضرات کا اُوپر آنا محض ان کے اسلام پسند ہونے کی بناپر نہیں تھا۔ جن لوگوں نے استنبول، انقرہ اور دیگر مقامات پر شہریوں کی سہولیات فراہم کیں اور دیانت داری سے کام کیا، ان کا کام ان کی حمایت کا سبب بنا۔ تحریکِ اسلامی کے لیے قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ سیاسی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے ایسے لمحے کی تلاش میں رہنا چاہیے جب وہ سیاسی سفینے پر سوار ہوسکے اور سیاسی توازن پیدا کرنے کے لیے اس کے وجود کو بخوشی تسلیم کیا جائے۔ MP میں کثرت سے اسلام پسندوں کی شمولیت نے پارٹی کی پالیسی پر گہرا اثر ڈالا۔ اوزال کے دور میں ترکی میں اسلامی احیا اور عثمانی ثقافت کو جدید دور میں متعارف کرانے کے لیے مثبت اقدامات کیے گئے۔ نصابِ تعلیم میں تبدیلیاں کی گئیں لیکن فوج کو ہاتھ نہیں لگایا گیا۔ اوزال نے دستوری عدالت (Constitutional Court) ، اعلیٰ تعلیمی بورڈ، یونی ورسٹیوں کے صدور کے لیے دینی رجحان والے افراد کا تقرر کیا اور سرکاری دفاتر میں بھی ایسے افراد کو داخل کیا جو دینی فکر کے حامل تھے۔ امام خطیب مدارس کو مراعات دی گئیں اور دورِعثمانی کے بہت سے اوقاف کو کھل کر کام کرنے کا موقع دیا گیا۔ یہ معاشرتی تبدیلی آگے ہونے والی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ بنی۔
۸۰ء کے وسط میں ویلفیئرپارٹی یا رفاہ پارٹی نے ایک عالم گیر ایجنڈا بنایا جو جمہوریت کے فروغ، انسانی حقوق اور آزادی اور ’سیاسی شناخت‘پر مبنی تھا۔ ڈاکٹر اربکان نے حالات، سیاسی ضرورت اور عالمی سطح پر اپنی بات کے ابلاغ کے لیے وہ زبان استعمال کی جو مغرب بھی سمجھ سکے۔ یہ نہ اصولوں پر سمجھوتا تھا، نہ دبنا تھا اور نہ مداہنت تھی بلکہ خالصتاً سیاسی اور دعوتی حکمت عملی تھی۔ چنانچہ انھوں نے ۱۹۸۷ء کے سیاسی انتخابات کی مہم میں جمہوریت Democratization (یعنی حقیقتاً عقیدے پر عمل کرنے کی آزادی اور اسلامی فکر کو کھل کر پیش کرنے کے حق) کو اپنے سیاسی لٹریچر میں نمایاں مقام دیا۔ اس میں بغیر کسی تصریح کے سر پر اسکارف باندھنے کا حق بھی شامل تھا لیکن اس کے لیے جو سیاسی زبان استعمال کی گئی وہ اُس سے مختلف تھی جو روایتی طور پر علما استعمال کرتے ہیں۔ یہ یاد رہے کہ ڈاکٹر اربکان انجینیرنگ میں پی ایچ ڈی تھے لیکن ان کی دینی ثقافت کے پیش نظر انھیں ہمیشہ خوجہ، جو ترکی میں عالم کے لیے استعمال ہوتا ہے، کہہ کر خطاب کیا گیا۔
دوسری بات جو کہی گئی وہ just order یا عادلانہ نظام سے متعلق تھی۔ کرپشن اور بدعنوانی کا خاتمہ، عوام کو روزگار، پانی، صحت اور دیگر ضروریات کی فراہمی، ملک میں قانون کی بالادستی جس میں دینی آزادی، بیرونی فکری اور مالی غلامی سے آزادی، ترکی میں مضبوط معاشی نظام کا قیام، عالمِ اسلام میں تجارتی تعلقات کو بجاے ڈالر پر مبنی حقیقت کے براہِ راست جنس کے بدلے جنس کی تجارت کا تصور، غرض ڈاکٹر اربکان نے اپنے سیاسی منشور میں ان مسائل کو مرکزی مقام دیا جو عوامی مسائل تھے، اور لوگوں کو یہ یقین ہوگیا کہ ’عادلانہ نظام‘ کا مطلب امریکا کو بُرا بھلا کہے بغیر امریکی اور مغربی غلامی سے نجات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ہے۔
اس سیاسی زبان نے رفاہ پارٹی کو عوامی جماعت بنا دیا۔ چنانچہ ۱۹۸۴ء میں صرف ۴ئ۴ فی صد ووٹ حاصل کرنے والی رفاہ پارٹی ۱۹۹۵ء میں ۴ئ۲۱ فی صد ووٹ حاصل کر کے ۱۵۸ نشستوں پر کامیاب ہوئی۔ اس عرصے میں ترکی کی معیشت کی کمزوری سے عوام پریشان تھے چنانچہ رفاہ پارٹی کے معاشی منصوبے نے اس کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا۔
تفصیلات میں جائے بغیر یہ بات ہمارے لیے قابلِ غور ہے کہ رفاہ پارٹی ہو یا عدالت پارٹی(J.P)، یا بعد میں وجود میں آنے والی جسٹس اور ڈویلپمنٹ پارٹی(JDP) یا عدالت و کلکینا پارٹی (AKP)، جب تک زمینی حقائق کے پیش نظر وہ سیاسی زبان جو عوام سمجھتے ہیں، جس میں لازمی طور پر نظریاتی تعلق کا کھلا اظہار ہو، لیکن عوامی مسائل کا معقول حل اور تبدیلی کے لیے پُرامیدی بلکہ یقین پایا جائے، حکمت عملی کے ایک لازمی حصے کے طور پر بھرپور اور مؤثر انداز میں استعمال نہیں کی جائے گی، تحریک کی دعوت عوام کے ذہن کو متاثر نہیں کرسکتی۔ انسانی نفسیات ہے کہ وہ ایک مضبوط اور فربہ گھوڑے کے مقابلے میں اس گھوڑے کو جو دوڑنے میں تیز ہو، ترجیح دیتی ہے۔ اس لیے عوام کا مطمئن کیا جانا اور یقین کا مستحکم کیا جانا سیاسی حکمت عملی میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
ترکی کی صورت حال میں اسلام پسند جماعتیں وقت کے تقاضوں کے لحاظ سے خلافِ قانون قرار دی جاتی رہیں لیکن ہرقانونی یا دستوری عدالت کے حکم نامے کے بعدو ہ ایک نئے نام کے ساتھ دوبارہ اُبھر کر آتی رہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ سیاسی حکمت عملی میں اگر ایک نام سے کام کرنا ممکن نہ ہو تو ایک تحریک اپنے تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے دوسرانام بھی اختیار کرسکتی ہیں۔ چنانچہ National Salvation Party (NSP) یا MSP ملّی سلامت پارٹی نے ۷۲-۱۹۸۰ء کام کیا اور ۱۹۸۰ء میں فوجی مداخلت کے بعد غیرقانونی قرار دے دی گئی۔ یہی ویلفیئر پارٹی کے عنوان سے ۸۳-۱۹۹۸ء تک کام کرتی رہی۔ اسے بھی خلافِ قانون قرار دے دیا گیا تو یہ Virtue Party، فضیلت پارٹی کے نام سے سرگرم ہوئی۔ چنانچہ ۱۹۹۸ئ-۲۰۰۹ء تک یہ عوام میں مصروفِ عمل رہی۔ جب اس پر بھی دستوری عدالت نے پابندی عائد کردی تو تحریکِ اسلامی دوحصوں میںتقسیم ہوگئی۔ جسٹس اور ترقی پسند جماعت جو ۲۰۰۹ء میں اردوگان اور عبداللہ گل کی قیادت میں عمل میں آئی اور استاذ اربکان کی فضیلت پارٹی سعادت پارٹی جو ۲۰۰۹ء میں الگ ہوگئی۔
جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) جو اس وقت بھی حکمران ہے اپنے منشور کے علاوہ جس میں تعلیم، بے روزگاری، صحت، تقسیمِ دولت، سوشل سیکورٹی ، صنعت کاری، قرض پر مبنی معاشی بوجھ سے نجات، شہری سہولتوں اور ماحولیات پر واضح سوچے سمجھے اور قابلِ عمل منشور کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ عوام کی خدمت کا ایک عملی نمونہ لے کر آئی۔ چنانچہ اردوگان اور ان کے ساتھیوں نے استنبول کی لوکل باڈی اور دیگر تین بڑے شہروں کی انتظامیہ میں اپنے دور میں جو کام کیے ان سے عوام میں یہ اعتماد پیدا ہوا کہ اگر یہ جماعت ملک گیر پیمانے پر کامیاب ہوگئی تو تبدیلی کا عمل واقعی ہوگا۔
۱۹۹۱ء میں ۵۶ فی صد آبادی نے انفرادی راے شمارے کے اندازوں میں اس بات کا اظہار کیا کہ عوامی فلاح کا کام ریاست کی ذمہ دری ہے۔ ۵۰ فی صد نے کہا کہ وہ سیاسی نظام پر یقین نہیں رکھتے اور ۴۲ فی صد نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ پر اعتماد نہیں کرتے۔ ۹۱ فی صد نے فوج پر اعتماد کا اظہار کیا، جب کہ ۶۷ فی صد نے اسلامی جماعتوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔ (ایضاً، بحوالہ سابقہ، ص۱۵۹)
طیب اردوگان نے استنبول کے صوبے سے سربراہ کی حیثیت سے بار بار اس بات کا اعلان کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی حمایت پر مکمل یقین رکھتے ہیں، وہی ہماری قوت ہے، یہی ہماری منزل ہے اور اس کے بعد عوام ہماری قوت ہیں۔
طیب اردوگان نے برسرِاقتدار آتے ہی جو اقدامات کیے ان میں استنبول کے صوبے میں پانی کی فراہمی، ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ، شہر کی صفائی اور کچرا صاف کرنا عوامی سفری سہولت کے لیے بسوں اور ٹرینوں کا نظام، عوامی شکایت کے وصول کیے جانے پر ۴۸گھنٹے میں اس پر عمل ، چھوٹے تاجروں کے لیے ایک مجلس مشاورت جو ان کی تکالیف کو دُور کرنے کے لیے تجاویز دے، شامل تھے۔ غرض ان تمام اقدامات نے عوام کو یہ یقین دلا دیا کہ واقعی یہ لوگ ہمارے مسائل کا حل کرسکتے ہیں، جب کہ دوسری سیاسی جماعتیں وعدے، دعوے اور منصوبے تو بناتی ہیں ، ملک میں کوئی قابلِ محسوس تبدیلی نہیں لاسکتیں۔ چنانچہ محتاجوں اور غریبوں کے لیے سہولتیں پیدا کی گئیں۔ ان کے لیے کم خرچ پر مکانات کی تعمیر اور مالی امداد فراہم کی گئی۔
شہروں میں اصلاح و بہتری کے لیے اور آبادی کے بڑھنے سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے کیے گئے فوری اقدامات نے طیب اردوگان کی حکومت اور پارٹی کو عوام میں غیرمعمولی طور پر مقبول بنا دیا۔ ۸۰ء اور ۹۷ء کے دوران شہری آبادی میں اضافہ ہوا اور وہ ۴۴ فی صد سے بڑھ کر ۶۰ فی صد ہوگئی۔ اس اضافے کی بنا پر سڑکیں، پانی، رہایش، صفائی، غرض ہرہرشعبے میں مسائل میں اضافہ ہوا۔ AKP نے ان مسائل کو حل کیا اور تین بڑے آبادی والے علاقوں استنبول، انقرہ اور ازمیر میں بے روزگاری کے خاتمے کے لیے اقدامات اور ملکی معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لیے پالیسی میں تبدیلی نے AKP کے سیاسی استحکام میں بنیادی کردار ادا کیا۔
AKP نے اپنی انتخابی حکمت عملی میں نوجوانوں اور خواتین کو شامل کر کے لاکھوں رضاکاروں کی ایسی فوج تیار کرلی جو خلوصِ نیت کے ساتھ ملک میں عدل و انصاف کے نظام کی جدوجہد میں سرگرمِ عمل ہوئی اور اس کے نتائج جلد سامنے آگئے۔
یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ اس عرصے میں سیکولر قوتیں خاموش رہیں لیکن چونکہ اسلام پسند افراد بیک وقت بیوروکریسی، طلبا، تاجر برادری، خواتین، دیہی علاقہ جات اور شہروں میں عوامی اور سیاسی سطح پر نفوذ کے نتیجے میں سرگرمِ عمل ہوگئے تھے اس لیے سیکولر جماعتوں کے اثرات میں نمایاں کمی ہوئی۔ اوزال کا اسلام پر غیرمتزلزل عقیدہ اور سیکولرزم کے بارے میں یہ تصور کہ اس کا جبری نفاذ حقوقِ انسانی کے منافی ہے، ترک نوجوانوں اور عوام الناس میں ان کی مقبولیت کا بڑا سبب بنا۔
۱۹۸۳ء سے ۱۹۹۰ء کے دوران ہرسال ۱۳۵ سے زائد قرآنی حلقہ جات کااضافہ ہوا۔ ۱۹۹۰ء میں قرآنی کورس کرانے والے تقریباً ۵ہزار حلقے سرگرمِ عمل تھے۔ ان حلقات میں تقریباً ۱۰لاکھ نوجوانوں نے قرآنی کورس کی تکمیل کی۔ امام خطیب اسکول سے فارغ ہونے والے طلبا کی تعداد ۱۹۷۵ء میں ۴۸ہزار۹سو تھی، جب کہ ۱۹۸۱ء تک یہ ۲لاکھ ایک ہزار۴ اور ۱۹۹۱ء میں ۳۰لاکھ۹ہزار ۵سو۵۳ تک پہنچ گئی۔ یہ لاکھوں تربیت یافتہ کارکن دیہات اور شہروں میں سیاسی شعور بیدار کرنے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوئے۔
اپنے بچوں کو منشیات، تمباکو نوشی اور اخلاقی خرابیوں سے بچانے کے لیے بہت سے والدین نے امام خطیب اسکول میں داخلہ دلوایا، اور اس طرح یونی ورسٹیوں میں جب یہ بچے پہنچے تو ملک کی جامعات میں ایک واضح تبدیلی کا آغاز ہوا۔
بعد میں پیش آنے والے حالات کو اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو تحریکاتِ اسلامی کے لیے اس طویل سوچے سمجھے سفر میں غور کرنے کے لیے بہت سے پہلو نظر آتے ہیں۔ چند نمایاں نکات درج ذیل ہیں:
۱- تحریکِ اسلامی نے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے تبدیلیِ زمان و مکان کے لحاظ سے طویل المیعاد حکمت عملی بنائی اور سیاسی مواقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ یہ بالکل فطری بات ہے کہ تحریکی آئیڈیل ازم مطالبہ کرتا ہے کہ اس کا ہر کارکن اعلیٰ ترین اخلاقی طرزِعمل کی مثال ہو اور کسی بھی معاملے میں خواہ سیاسی ہو یا انفرادی کسی لچک کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ لیکن بنیادی تعمیر سیرت اور قرآن و سنت سے وابستگی پر کوئی سمجھوتا کیے بغیر حالات کی مناسبت سے تحریک کے سیاسی تعلقات اور وابستگیوں میں تبدیلی اور سیاسی پابندیوں سے نکلنے کے لیے کسی نئی جماعت کے قیام کو مناسب طور پر استعمال کیا گیا۔
۲- طویل حکمت عملی کے پیش نظر تعلیمی اداروں کا قیام اور موجود تعلیمی اداروں میں نوجوانوں میں نظریاتی کام کے ذریعے بیداری اور نظم کا قیام عمل میں لایا گیا۔ نتیجتاً اردوگان کی مہم میں ایک لاکھ سے زائد تربیت یافتہ کارکن ہمہ وقت سیاسی اور معاشرتی کاموں میں مصروف رہے ، جس کے بعد وہ نتائج سامنے آئے جن کی توقع تھی۔
۳- تحریک کا معاشرتی تبدیلی کے عمل میں براہِ راست متعلق ہونا تاکہ تاجر برادری اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کا ایک ایسا منظم گروہ بن جائے جو اپنی خدمات اور products میں ایمان داری اور معاملات میں شفاف ہو۔ ان حضرات نے نہ صرف تجارت اور معیشت کو بلند کرنے میں بلکہ اپنے مالی ایثار سے تحریک کو کامیاب کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
۴- مرکزی قیادت تک پہنچنے سے قبل شہری انتظامیہ کے ذریعے اپنی مثبت تصویر اور کارکردگی کی بناپر عوام کی حمایت کا حاصل کرنا۔ اس سلسلے میں شہر میں سڑکوں، ٹرانسپورٹ کے نظام، بجلی، پانی کی فراہمی، شہر میں صفائی، شہر کی خوب صورتی، معاشی طور پر کم تر افراد کو روزگار کی فراہمی، تحریک کی کامیابی کا ایک بڑا سبب بنا۔
۵- تحریک کی امداد و رہنمائی کے لیے ایسے اداروں کا قیام جو ملکی اور بیرونی پالیسی سازی میں فنی رہنمائی فراہم کرسکیں۔ ان مشاورتی اور تجزیاتی اداروں (Think Tanks ) نے افرادی قوت اور ماہرین فراہم کیے اور حکومت کے حصول کے بعد مختلف شعبوں میں سربراہی کے کام انجام دینے میں مدد کی۔ کسی بھی تحریک میں جب تک اعلیٰ ذہنی اور انتظامی صلاحیت کے افراد نہ ہوں وہ اپنے منصوبوں کو عملی شکل نہیں دے سکتی۔
۶- عوامی سطح پر (grassroot level ) پر کام کے دوران اپنی نظریاتی تربیت کرتے رہنا تاکہ اقتدار ملنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے خوف کی بنا پر کسی بدعنوانی، اقرباپروری اور جماعتی تعصبات کی وجہ سے کسی کے ساتھ ناانصافی اور غیرعادلانہ رویہ اختیار نہ کیاجاسکے۔
۷- جامعات اور سرکاری شعبوں میں اپنا اثرونفوذ پیدا کرنے کے لیے تربیت یافتہ نوجوانوں کو وہاں کام کرنے پر راغب کرنا اور اسلامی فلاحی اداروں کا نیٹ ورک قائم کرنا۔ اس روابط کے نظام نے شہری اور دیہاتی سطح پر متوسط اور اس سے کم تر طبقات کو تحریک سے وابستہ کردیا اور اس طرح عوامی طاقت میں اضافہ تحریک کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے کا باعث بنا۔
۸- تحقیق اور مطالعہ و تجزیے کی بنیاد پر نئے معاشی راستے نکالنا تاکہ ایک جانب روزگار فراہم ہو اور دوسری جانب صنعتی ایجادات میں اضافہ ہو۔ یہ entropreneurship یا مسابقت کرتے ہوئے ایک کام کا کرنا کاروبار تک محدود نہیں رہا ،بلکہ اس نے دعوتی میدان میں نئے تجربات کی دعوت دی اور اس طرح تحریک نہ کبھی جمود کا شکار ہوئی اور نہ مایوسی اور بے دلی اس پر طاری ہوسکی۔
۹- ایک بڑا قابلِ غور پہلو مختلف دینی قوتوں کو ایک دوسرے سے الگ ہونے کے باوجود ایک دوسرے کی مخالفت سے اجتناب، باہمی رواداری کا اہتمام اور اپنے دائرے میں اپنے کام کو محدود رکھتے اور دوسرے کو بدنام کرنے یا اس پر طعن زنی سے بڑی حد تک گریز کرنا ہے۔
۱۰- ایک اور لیکن اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی قوتوں نے خود اپنے ذہن اور رویے اور اپنی عام ذہنی تصویرکشی (image) میں اپنے کو تنہا رہ جانے سے بچایا اور عوام میں سے ہونے اور عوام کے لیے ہونے کا احساس اور شعور پیدا کیا۔ اپنے وژن کو محکم اور اپنے تربیتی نظام کو مستحکم رکھا مگر اس کے ساتھ ساتھ پوری کمیونٹی اور قوم اور اس کے تمام ہی عناصر سے اپنے کو مربوط رکھا۔ ان کو اپنی سرگرمیوں میں خواہ ان کا تعلق معاشرتی اصلاح، تعلیم، دعوت اور نوجوانوں کی سرگرمیوں بشمول اسپورٹس ہوں یا یقینی طور پر سیاسی اور اجتماعی اصلاح کی کوششیں اور ان میں بھی لوکل باڈیز میں مضبوط کام اور اعلیٰ مثال کے قیام جو نمونہ بنا ، اُوپر کے دائروں میں کام اور عوامی اعتماد کے حصول کا ذریعہ بنا۔ دوسرے الفاظ میں نظری اور تربیتی، ہردواعتبار سے مرکزی اور اندرونی نظام کو مضبوط رکھتے ہوئے ایک وسعت پذیری (outer reach) کا شعوری اہتمام اور تحریک کے دائرۂ اثر کو مقامی سطح سے بڑھا کر قومی اور بین الاقوامی سطح تک پہنچانا اس دیرپا اور خاموش حکمت عملی کا ایک اہم پہلو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ترکی ہی میں نہیں بلکہ پورے یورپ میں ترک آبادیاں اس عمل کا ایک مؤثر حصہ رہیں، اور جو تبدیلی ۲۰۰۰ء کے عشرے میں سامنے آئی اس کی پشت پر کم از کم ۴۰سال کی محنت، مناسب منصوبہ بندی اور اس پر مؤثر عمل کی لازوال جدوجہد کے نشانات دیکھے جاسکتے ہیں۔
ان تمام پہلوئوں سے زیادہ جو بات قابلِ غور ہے وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے خصوصی نصرت کی درخواست اور اپنی کمزوریوں پر مغفرت مانگتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے ہرقربانی کے لیے تیار رہنا ہے۔ انسانی کوششیں کتنی ہی اعلیٰ کیوں نہ ہوں جب تک رب کریم کی خصوصی عنایت نہ ہو، کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔
ترکی کے تجربے کو تجزیاتی نظریے کے ساتھ دیکھنے کے بعد ہمیں اور دوسری اسلامی تحریکات اور تنظیموں کو کھلے ذہن کے ساتھ غور کرنا ہوگا کہ ہم اس تجربے کے کن کن پہلوئوں کو اپنے حالات کے پیش نظر مناسب تبدیلی کے ساتھ استعمال کرسکتے ہیں، اور کون سے پہلو ایسے ہیں جو ترکی کے حالات کی مخصوص ضرورت تھے۔ تحریک اسلامی کو اجتہاد کے اصول کو مسلسل استعمال کرنا ہوگا اور تحریکی قیادت کو اپنی سابقہ حکمت عملی کے دفاع کی جگہ نئے راستے نکالنے ہوں گے۔ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جو بات جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع میں تیزرو پہاڑی دریا اور راہ میں حائل پہاڑ کی مثال دے کر سمجھانی چاہی تھی اس پر عمل کرنا ہوگا، تاکہ مشکلات کے پہاڑ راستہ نہ روک سکیں اور نئے راستے منزل تک پہنچنے کے سفر کو کامیاب بناسکیں۔یہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں کہ اس کام کے لیے خوداحتسابی، اپنے بعض فیصلوں پر نظرثانی کی ضرورت اور طویل المیعاد حکمت عملی کے نفاذ کے لیے صحیح افرادی قوت کی تیاری وہ بنیادی کام ہیں جن کے بغیر توقعات اور اُمیدیں عملی شکل نہیں اختیار کرسکتیں۔وما توفیقی الا باللّٰہ۔
دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ اس وقت اگر تمھیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمھارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے۔ یہ تو زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں، اوراُن لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے) گواہ ہوں___ کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں___ اور وہ اس آزمایش کے ذریعے سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کردینا چاہتا تھا۔ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جائو گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں۔ تم تو موت کی تمنائیں کر رہے تھے! مگر یہ اُس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی، لو اب وہ تمھارے سامنے آگئی اور تم نے اُسے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ محمدؐ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں، اُن سے پہلے اور رسول بھی گزرچکے ہیں، پھر کیا اگر وہ مرجائیں یاقتل کردیے جائیں تو تم لوگ اُلٹے پائوں پھر جائو گے؟ یاد رکھو! جو اُلٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، البتہ جو اللہ کے شکرگزار بندے بن کر رہیں گے انھیں وہ اس کی جزا دے گا۔ کوئی ذی رُوح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا۔ موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے۔ جو شخص ثوابِ دنیا کے ارادے سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دیں گے، اور جو ثوابِ آخرت کے ارادے سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے والوں کو ہم اُن کی جزا ضرور عطا کریں گے۔ اس سے پہلے کتنے ہی نبی ایسے گزر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں اُن پر پڑیں اُن سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے، انھوں نے کمزوری نہیں دکھائی، وہ (باطل کے آگے) سرنگوں نہیں ہوئے۔ ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے۔(اٰل عمرٰن ۳: ۱۳۹-۱۴۶)
سورۂ آل عمران کی سات آیات میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے ہر دور میں تحریکِ اسلامی کو پیش آنے والے مطالبات، مشکلات، مغالطے اور ان سے نجات حاصل کرنے کی حکمت عملی کو ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔ حق کے متلاشی جب ایک مرتبہ شعوری طور پر اسلام کی دعوت کو قبول کرلیتے ہیںتو فطری طور پر یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ جس حق کو انھوں نے پہچان کر حاصل کیا ہے، اب اس کا نفاذ اور اس کی سربلندی کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ ایک ماہر انجینیر جب سورج کی شعاعوں سے چلنے والی ایک موٹرکار ایجاد کرتا ہے تو چاہتا ہے کہ اپنی سالہا سال کی محنت کو سڑک پر دندناتا ہوا بھی دیکھے۔ وہ اسے محض کاغذ پر یا اپنے کمپیوٹر پر دیکھ کر خوش نہیں ہوتا۔ یہی مشکل تحریکی قیادت اور کارکنوں کو درپیش آتی ہے۔
ایک تحریک اگر ۷۰برس سے حق کی دعوت دے رہی ہو اور اس کے بعد بھی کروڑوں کی آبادی میں اس کا انسانی اثاثہ بمشکل ۵۰ہزار یا حد سے حد ایک لاکھ افراد ہوں تو اس کا یہ سوچنا معقول نظر آتا ہے۔ جو لوگ باطل، طاغوت اور کفر کی دعوت دیتے ہیں، عصبیتوں کی طرف بلاتے ہیں، ذاتی مالی فائدے کا لالچ دے کر لاکھوں کروڑوں افراد کی حمایت حاصل کرلیتے ہیں وہ دنیا میں کامیاب ہیں۔ ان کے پاس اقتدار ہے، پارلیمنٹ میں اکثریت ہے، عوامی عہدے ہیں۔ ان کا حکم مقامی انتظامیہ پر چل رہا ہے۔ اور جو حق کے متوالے، دن رات اللہ کے دین کی دعوت دینے میں مصروف ہوں ان کے پاس نہ قیمتی گاڑیاں ہوں، نہ ان کے مکانات کئی کئی ایکڑ پر تعمیر ہوئے ہوں، نہ ان کو پارلیمنٹ میں بھاری وزن سمجھا جائے۔
یہ وہ پیش آنے والے مغالطے، مایوس کرنے والے مشاہدات اور غیرمحسوس طور پر قوتِ عمل کو مفلوج کردینے والے وسوسے ہیں جنھیں طبی زبان میں ’وائرس‘ کہا جاتاہے۔ یہ وسوسے غیرمحسوس طور پر تحریکی قیادت ہو یا کارکن، ان کے دل و دماغ میں داخل ہوجاتے ہیں اور پھر انسان کو یہ غم کھانا شروع کردیتا ہے کہ وہ کس طرح کسی شارٹ کٹ، کسی سیاسی کرتب، جوڑتوڑ، سیاسی نعرے یا اتحاد کے ذریعے ثوابِ دنیا کو حاصل کرلے۔
ایک لمحے کے لیے رُک کر جائزہ لیا جائے تو جو بات آغاز میں فرمائی گئی ہے وہ تحریکی قیادت اور کارکنوں کے لیے چونکا دینے والی بات ہے یعنی تِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ ۔ کسی کی وقتی مقبولیت، وسائل پر قابض ہونا، پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرلینا ایسا ہی ہے جیسے بدر کی فتح کے بعد اُحد اور حنین کی آزمایش و امتحان۔ اور اس کا مقصد بھی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے بیان فرما دیا کہ وہ چاہتاہے کہ اپنے ان مخلص بندوں کو چھانٹ لے جو دعوتِ اسلامی سے بغیر کسی مفاد اور ذاتی شہرت کے وابستہ ہوئے ہیں ۔ جن کے لیے کارکن ہونا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ جو نہ عہدوں کی خواہش رکھتے ہیں اور نہ ان کے حصول کے لیے جوڑتوڑ اور منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا گیا: ’’تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا تھا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں‘‘۔ یہ فرمانے کے بعد ایک انتہائی اہم اور کانٹے کی بات یہ فرمائی جارہی ہے کہ اس آزمایش کی گھڑی میں کفروباطل کے ساتھ مقابلے میں جو اہلِ ایمان شہید ہوئے، دراصل اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کی جماعت میں سے کچھ کو یہ اعزاز بخشناچاہتا تھا___ آج بھی پاکستان ہو یا کوئی اور ملک، تحریک اسلامی کے بعض مخلص کارکن دہشت گردوں کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہید ہوتے رہے ہیں___ کہ وہ جس دعوت کو لے کر اُٹھے تھے اس کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔
لیکن دوسرا اہم پہلو جس کی طرف صاحب ِتفہیم القرآن متوجہ کرتے ہیں، یہ ہے کہ ’’اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان اور منافقین کے اُس مخلوط گروہ میں سے جس پر تم ا س وقت مشتمل ہو، ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو حقیقت میں شہدا علی الناس ہیں، یعنی اس منصب جلیل کے اہل ہیں جس پر ہم نے اُمت مسلمہ کو سرفراز کیا ہے‘‘۔ (تفہیم القرآن،ج۱، ص ۲۹۰)
اگر تحریکی کارکنوں کا تعلق قرآن کریم سے قریبی ہوگا تو ہرچوٹ کھانے کے بعد، ہر ظاہری ناکامی کے بعد ان کے عزمِ شہدا علی الناس میں اضافہ ہوگا اور اگر ان کا زاویۂ نظر بھی یہ ہوجائے کہ وہ کسی طرح عددی قوت کے سہارے اپنے ’ثوابِ دنیا‘ کو حاصل کرلیں تو پھر ان پر مایوسی اور پژمردگی کے اثرات ہونے لازمی ہیں۔ مقصد کے حصول میں شبہہ، منزل کے دُور ہونے کا احساس، کوششوں کے باوجود مطلوبہ مقام تک نہ پہنچنے کی حسرت اس نفسیاتی بلکہ وسوساتی کیفیت کے فطری نتائج ہیں۔
پھر یہ بات بیان کی جارہی ہے کہ جس جنت، یعنی اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اس دنیا میں جدوجہد کی جارہی ہے وہ محض ۷۰سال کی کوشش سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے تو ۹۰۰سال کی جدوجہد بھی شاید قلیل ہو۔ لیکن جن اعلیٰ مقام افراد نے ۹۰۰ سال اپنی دعوت کی کامیابی کے لیے جدوجہد کی، ان کا نام آج ان کی استقامت ، پُراُمیدی، رب پر اعتماد و بھروسے اور اللہ کی نصرت پر یقین کی بنا پر زندہ ہے۔ اگر مقصود ’ثوابِ آخرت ہے‘ تو پھر ثوابِ دنیا میںتاخیر بلکہ بعض اوقات اس کا حاصل نہ کرپانا بھی نہ تو ناکامی ہے اور نہ مایوسی کی علت۔
ان آیاتِ مبارکہ کے تناظر میں آج تحریکِ اسلامی کے ہرکارکن، متفق اور ہمدرد کے لیے جو اصل بات سوچنے کی ہے وہ اس کا خود اپنا احتسابی جائزہ لینا ہے کہ کیا وہ شہدا علی الناس کی تعریف میں آتا ہے؟ کیا اس کی پسند، ناپسند، جڑنا اور کٹنا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے یا اس میں ’ثوابِ دینا‘ کہیں نہ کہیں داخل ہوگیا ہے، اور غیرمحسوس طور پر وہ بھی معاشرتی مقام (status)، منصب اور سیاسی دوڑ میں آگے نکل جانے کے پُرکشش سراب میں تو گرفتار نہیں ہو رہا؟ اپنی ذات کو خود جانچنے کا پیمانہ اُس حدیث صحیح میں بیان کردیاگیا ہے جس کو حضرت ابوامامہؓ نے روایت کیا ہے: ’’جس نے اللہ کے لیے دوستی کی اور اللہ کے لیے دشمنی کی اور اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے روک رکھا، اس نے اپنے ایمان کو مکمل کیا ‘‘۔(بخاری)
وہ بہت سے سوالات جو آئے دن ہمارے ذہنوں میں اُٹھتے رہتے ہیں اور نتیجتاً مایوسی، وسوسے اور مغالطے پیدا کرتے ہیں۔ اگر قرآن کریم میں ان کا جواب تلاش کیا جائے تو اس کتاب و حکمت کی محض دو تین آیات نہ صرف ان کا جواب بلکہ پیش آنے والے مسائل کے حل کی حکمت عملی بھی سمجھا دیتی ہیں۔
قوموں کا عروج و زوال، کسی دعوت کا قبولیت ِ عام حاصل ہونا اور لوگوں کا جوق در جوق اس میں شامل ہونا اس کی کامیابی کاتنہا معیار نہیں ہے۔ ایک دعوتِ حق برس ہا برس کے مسلسل عمل کے باوجود محدود تعداد میں افراد کو متاثر کرسکتی ہے اور وہی دعوت بعض اوقات کم وقت میں تیزی سے اثرانداز ہوسکتی ہے۔ نہ ان دو کیفیات میں کوئی تضاد ہے، نہ ایک یا دوسری کیفیت کامیابی یا ناکامی کا حتمی فیصلہ کرسکتی ہے۔
جس پہلو پر ہرلمحے توجہ کی ضرورت ہے وہ دعوت کا مرکزی نکتہ ہے۔ یعنی کیا دعوت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے قیام کی دعوت ہے یا اس میں وہ بہت سے خدا بھی شامل ہوگئے ہیں جنھیں ہم اقتدار، دولت، منفعت، شہرت، تسلیم کیے جانے کی خواہش، نفس کی تسکین وغیرہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ کام ایک فرد خود ہی کرسکتا ہے لیکن یہی کام تحریکات کو اجتماعی احتساب کی شکل میں کرنا لازمی ہے۔ تحریک کا ہرفیصلہ، اس کی ہرپالیسی ابدی طور پر نہ تو درست ہوسکتی ہے اور نہ غلط۔ ایک حکمت عملی جو آج درست ہو، تبدیلیِ حالات کی بنا پر آیندہ کسی مرحلے میں غلط ہوسکتی ہے۔ وقتی طور پر، مخصوص اہداف کے لیے دیگر قوتوں کے ساتھ اتحاد کو نہیں کہا جاسکتا اور نہ کسی وقتی اتحاد کی بناپر تحریک کو قیامت تک کسی غلط فیصلے کے لیے موردِالزام ٹھیرایا جاسکتا ہے، اس لیے تحریکی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معاملات پر بغیر کسی حجاب کے کھل کر اجتماعی طور پر پالیسی یا حکمت عملی کا احتساب کرے، اور جہاں پالیسی میں کوئی جھول پایا جائے اس کی بروقت اصلاح کی جائے۔ اصلاح کرنا، اللہ کی طرف لوٹنا اور غلطی کا اعتراف کرنا، تحریک کی عظمت کی نشانی ہے۔ فیصلے میں عجلت یا تاخیر انسانی عقل کے محدود ہونے کی بنا پر ایک فطری عمل ہے۔ اس میں کسی فیصلے کے بروقت یا درست ہونے کا اعتراف کرنا اصلاح کی طرف پہلا قدم ہے۔ جس چیز پر کوئی گفتگو نہیں ہوسکتی، وہ قرآن و سنت کا بتایا ہوا مقصد حیات ہے۔
تخلیق انسان کے وقت ہی انسان اور فرشتوں کو یہ بات سمجھا دی گئی تھی کہ اسے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو زمین پر نافذ کرنا ہے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ کے تمام انبیا ؑ نے اپنی دعوت کا بنیادی نکتہ قرار دیا، اور خاص طور پر انبیاے کرام کے طریق دعوت اور تبدیلیِ اقتدار کی حکمت کے حوالے سے قرآن کریم جہاں جہاں ہمیں متوجہ کرتا ہے وہ واضح طور پر اس پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ حضرت یوسف ؑنے اپنے جیل کے ساتھیوں سے جو ایک طاغوتی ملوکیت پر مبنی نظام کے تحت جیل میں آپ کے ہمراہ اپنی مدت گزار رہے تھے یہی سوال تو کیا تھا کہ کیا بہت سے خدا بہتر ہیں یا صرف اللہ وحدہٗ لاشریک۔ آج کے تناظر میں یہی سوال اگر کیا جاتا تو یوں کیا جاتا کہ کیا سیاست کا خدا مغربی لادینی جمہوریت کو ہونا چاہیے؟ اور معیشت کا خدا استحصالی سودی نظام، اور ہرلمحے غربت میں اضافہ کرنے والی تجارتی سرگرمی کو ہونا چاہیے؟ کیا ثقافت کا خدا ہندووانہ اور مغربی تہذیب میں پائی جانے والی فحاشی، عریانی اور تشدد کو ہونا چاہیے؟ اور کیا معاشرت میں برادری خدا ہے، نسب، ذات اور دولت کی کثرت بنیاد ہے کہ اس کی پرستش کی جائے؟ کیا تعلیم کا خدا مادی منفعت ہے کہ تعلیم کا مقصد ہی یہ ہو کہ ایک فرد کس طرح معاشی میدان میں دوسروں سے آگے نکل سکتا ہے، یا مذہب کے شعبے میں خدا رہبانیت کی تعلیم ہے کہ ایک شخص اپنا گھربار، کاروبار، تعلقات چھوڑ کر جنگل بیابان میں جاکر بیٹھ جائے یا کسی لمبے تبلیغی سفر پر نکل جائے اور اپنے گھر، معاشرے اور ملک کو شیطان کے رحم و کرم پر چھوڑ دے؟ یا اس کی معیشت ہو یا سیاست، معاشرت ہو یا تعلیم، ہرہرشعبۂ حیات میں وہ صرف اُس بات کو مانے جو خالق انسان نے انسانوں پر اپنے خصوصی رحم و کرم، رحمت و محبت کی بنا پر ہدایت، بُرہان، تذکرہ اور الفرقان کی شکل میں نازل کردی ہے؟___ اور اس طرح ہرہرشعبۂ حیات میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت، قدرت و اقتدار کو عملاً نافذ کردیا جائے۔ حضرت یوسف ؑ کے قصے میں اسی پہلو کی طرف ہمیں متوجہ کیا گیا اور فرمایا گیا کہ ایمان کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ حاکمیت اور اقتدار صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو:
اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (یوسف ۱۲:۴۰) ، فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سواتم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریقِ زندگی ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
حقیقت واقعہ یہ ہے کہ جس بات کا مطالبہ انسان سے کیا جا رہا ہے، کائنات کی ہرشے اللہ تعالیٰ کی اُس حاکمیت کا اقرار جب سے اس کا وجود ہے رضامندی کے ساتھ یا ناپسندیدگی اور مجبوری کے ساتھ اس حاکمیت اور اقتدار کوتسلیم کرتے ہوئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی وحدانیت اور حاکمیت کی گواہی دے رہی ہے۔چنانچہ ارحم الراحمین فرماتا ہے:
اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ کَرْھًا وَّ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ o قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ مَآ اُنْزِلَ عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی وَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّھِمْ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ o وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo (اٰل عمرٰن ۳:۸۳-۸۵)، اب کیا یہ لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ (دینُ اللہ) چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چار و ناچار اللہ ہی کی تابع فرمان (مسلم) ہیں اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے؟ اے نبیؐ، کہو کہ’’ہم اللہ کو مانتے ہیں، اُس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے، اُن تعلیمات کو بھی مانتے ہیں، جو ابراہیم ؑ،اسماعیل ؑ، اسحاقؑ، یعقوب ؑ اور اولادِیعقوب ؑ پر نازل ہوئی تھیں،اور اُن ہدایات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسٰی ؑ اور عیسٰی ؑ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئیں۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے تابع فرمان اور مُسلم ہیں۔ اس فرماں برداری (اسلام) کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اُس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔
توحید کو عملاً اختیار کرنے کے ساتھ جب تک عملی طور پر اپنے تمام معاملات میں اللہ کے بھیجے ہوئے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرہرعمل کو اختیار کرنے کی نیت اور کوشش نہ کی جائے ایمان کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ قرآن کریم نے دوٹوک انداز میں یہ وضاحت کردی کہ اللہ کی بندگی اور حاکمیت کے ساتھ اللہ کے رسول کی اطاعت اور پیروی اور سنت کو حتمی اور تشریعی سمجھے اور نافذ کیے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا:
یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا o (النساء ۴:۵۹)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب ِ امر ہوں، پھر اگر تمھارے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو۔ اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔
اس اطاعت ِ رسولؐ کو نہ صرف مطلوب اور مثبت رویہ قرار دیا گیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی سمجھا دی گئی کہ اگر رسولؐ کے فیصلے، ارشاد اور عمل کے بارے میں کسی تردد یا تحفظ کا اظہارکیا گیا تو یہ ایمان کو ضائع کردینے کے مترادف ہوگا اور ایسا عمل یا تو منافق کا ہوگا یا کافروفاسق کا۔ فرمایا گیا:
وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًاo (النساء ۴:۶۱)، اور جب ان سے کہا جاتا ہے آئو اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آئو رسولؐ کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ تمھاری طرف آنے سے کتراتے ہیں۔
ایمان کی اس اوّلین بنیاد کا قریبی تعلق اُس کیفیت سے ہے جس کی طرف آیت مبارکہ کے آغاز میں اشارہ کیا گیا، یعنی انسان کا اپنی کوششوں کو متوقع طور پر کامیاب نہ دیکھنے کے نتیجے میں دل شکستہ اور غمگین ہوجانا۔ کسی بھی تحریک میں اگر جدوجہد کرتے ہوئے ۷۰سال نہیں صرف ۱۰ سال ہی گزرے ہوں تو اعلیٰ تربیت یافتہ افراد بھی پکار اُٹھتے ہیں: وہ مدد کب آئے گی جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟متی نصراللّٰہ؟ اس سوال کے پس منظر میں وہ شیطانی وسوسہ مخفی ہوتا ہے جو دل کو شکستہ اور غمگین کرتا ہے۔ اللہ اور رسولؐ پر پورے ایمان کے دعوے کے ساتھ اعلیٰ ترین تربیت یافتہ ہوں یا عام کارکن، اس سوال کا اُٹھنا حیرت انگیز نہیں کہا جاسکتا۔ اس لیے اس سوال کے اُٹھنے پر نہ قیادت کو اور نہ مجموعی طور پر جماعت کو حیرت ہونی چاہیے۔ ہاں، جو بات ضروری ہے وہ اس زمینی حقیقت کا اقرار کرتے ہوئے اس کا قرآن و سنت میں حل تلاش کرنا ہے۔ قیادت کا فرض ہے کہ وہ اپنے عزم، ولولے اور اعتماد کو کارکنوں کے ساتھ مسلسل تبادلۂ خیال کے ذریعے ان تک منتقل کرے اور کسی لمحے تھکن، سُستی اور مایوسی کو قریب نہ پھٹکنے دے۔ چنانچہ مثبت اور تعمیری طرزِ فکر کے ساتھ مروجہ طریقوں کا جائزہ اور نئے طریقوں کا استعمال کرنا ہی مسئلے کا حل ہے۔ اندرونی تنقید کا نہ صرف برداشت کرنا بلکہ دعوت دے کر تنقید پر آمادہ کرنا اور پھر بغیر مدافعانہ طرزِعمل کے مشاورت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا تحریک سے جمود، تھکن اور سُستی کو دُور کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
تحریک میں قیادت اور کارکن کے درمیان اصل رشتہ ایمان اور زندگی کے مقصد کے اشتراک کا ہے۔ یہ محض کوئی انتظامی معاملہ نہیں ہے، نہ یہ حاکم اور محکوم کا سا رشتہ ہے، اس لیے جب تک تحریک کے کارکن اور قیادت ایمان کی یکساں سطح پر نہ ہوں، جمود ، سُستی اور رفتار ِ کارمیں کمی کا حل نہیں ہوسکتا۔ ایمان کے اس مقام تک لانے کے لیے نہ صرف قرآن و سنت سے تعلق بلکہ نظامِ عبادت کا قیام اور نظامِ عبادت کی روشنی میں معاملات میں شفافیت، امانت، سچائی اور پاسِ عہد پر عمل کیا جانا بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔ اگر فکری اور شعوری طور پر ایمان کا تصور تو ذہن میں ہو لیکن اس کا اثر عبادات میں نہ ہو، اور اگر عبادات کا اہتمام ہو، نماز باجماعت ادا کی جارہی ہو، نوافل کا اہتمام بھی ہو رہا ہو، لیکن مالی معاملات، خاندانی ذمہ داریوں، کاروباری تعلقات میں،حتیٰ کہ غیرتحریکی افراد کے حقوق و فرائض کی ادایگی میں غفلت ہو، اور ان معاملات میں اللہ کی رضا کے ساتھ دیگر مقاصد شامل ہوجائیں تو قیادت اور کارکن میں فاصلہ پیدا ہونا ایک فطری عمل ہوگا،اور حزن اور نااُمیدی کسی نہ کسی حوالے سے تحریک میں داخل ہوجائے گی، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور نصرت کا وعدہ ذہن سے محو ہوجانے کے بعد یاس ومحرومی اور مستقبل کے دھندلانے کی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔
ایمان، دل شکستگی اور مایوسی ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایسے موقع پر بھی جب داعیِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کے دشمن غار کے دہانے پہنچ جاتے ہیں، غار سے بھاگ نکلنے کا کوئی راستہ بھی نہیں ہے، اس وقت بھی حوصلہ ہارنے کا کوئی جواز قرآن میں نہیں پایا جاتا ۔ ایسی آزمایش کی صورت میں بھی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ پر ایمان، بھروسا اور اس کی نصرت پر اعتماد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ گویا ایسے حالات میں جب بظاہر کوئی متبادل سیاسی حل (option) نظر نہ آتا ہو، اللہ پر ایمان کا مطلب استقامت کا اختیار کرنا ہے اور بغیر نااُمیدی اور دل شکستگی کے اُمید، عزم اور یقین کے ساتھ راہِ حق پر آگے بڑھتے رہنا ہی اسوئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
نااُمیدی، فضا کا گرد آلود ہونا اور منزل کا دھندلا جانا ایمان کے منافی ہے۔ اس لیے جس لمحے بھی تحریک کے کارکنوں کو یہ احساس ہو کہ منزل قریب کیوں نہیں آرہی، اور کتنا انتظار کرنا ہوگا، ظالم و جابر کب تک فرماں روائی کرتے رہیں گے؟ فوری طور پر ایمان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہوگی، اور عزمِ نو کے ساتھ قیادت اور کارکنوں کو رجوع الی اللہ اور اتباعِ رسولؐ سے سہارا لینا ہوگا۔ اسلام نام ہی اُمید اور کامیابی پر یقین کا ہے۔ یہ اپنے آپ کو تمام تصورات کی بندگی سے نکال کر صرف اور صرف رب کریم کی بندگی میں لے آنے کا نام ہے۔
سفر کی طوالت ، دوسروں کو بظاہر منزل سے قریب دیکھنا ہر حساس انسان میں یہ سوچ پیدا کرسکتا ہے کہ جو شریکِ سفر نہیں وہ تو منزل پر پہنچتے نظر آرہے ہیں، اور جو آبلہ پا ہونے کے باوجود سنگلاخ وادیوں کے تپتے ہوئے فرش پر چل رہے ہوں، وہ ابھی تک منزل کی طرف رواں دواں ہی ہوں؟ آخر ایسا کیوں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا نہ اُبھرنا غیرفطری ہوگا۔ اس لیے اس قسم کے سوالات سے پریشان ہونے کے بجاے یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہوگی کہ کیا اس کام کے لیے جو مادی اور انسانی وسائل اور تربیت یافتہ افراد کی جماعت مطلوب ہے، اسے ہم پیدا کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں؟ کیا سمت کا تعین درست ہے؟ کیا جن قریبی اہداف کو منزل سمجھ لیا ہے وہی منزل ہیں، یا منزل اور مقصد رب کریم کی رضا ہے اور اقتدار و حکومت محض اس کا ایک ذریعہ ہے۔
ایک اور اہم پیغام جو اس آیت مبارکہ میں تحریکی کارکنوں اور قیادت کے لیے قابلِ غور ہے اس کا تعلق آزمایش سے ہے۔ یوں تو مسلمان کی تمام زندگی ہی ایک آزمایش و امتحان ہے، دن اور رات کا کون سا لمحہ ہوگا جب مومن کی آزمایش نہ کی جارہی ہو، لیکن تحریکی زندگی میں یہ آزمایش مختلف شکلوں میں سامنے آتی ہے۔ کبھی یہ کثرت کی شکل میں ہوتی ہے اور کبھی قلت کی شکل میں۔ بعض اوقات ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے تعداد کے لحاظ سے اپنا مطلوبہ ہدف بڑی حد تک حاصل کرلیا ہے اور حلقۂ اثر کو وسیع کرلیا ہے، جب کہ اگر وسیع تر منظرنامے میں دیکھاجائے تو شاید آبادی کے صرف چند فی صد تک ہی ہماری بات پہنچی ہوتی ہے۔ کبھی ہم یہ دیکھ کرکہ ۱۸کروڑ افراد میں سے صرف ایک یا دو فی صد تک بات پہنچی ہے، تو ہم اپنی قوت کو غیرمؤثر سمجھ بیٹھتے ہیں۔ قرآن کریم جو اصول ہماری ہدایت کے لیے بیان کرتا ہے وہ اس منفی فکر کی تردید کرتا ہے:
یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ وَ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ o اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ وَ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ o (انفال ۸: ۶۵-۶۶)
اے نبیؐ! مومنوں کو جنگ پر اُبھارو۔ اگر تم میں سے ۲۰ افراد صابر ہوں تو وہ ۲۰۰ پر غالب رہیں گے اور اگر ۱۰۰ آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آدمیوں پر بھاری ہوں گے۔ کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے، اچھا اب اللہ نے تمھارا بوجھ ہلکا کردیا۔ اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں سے ۱۰۰آدمی صابر ہوں تو ۲۰۰ پر اور ہزار دو ہزار پر غالب آئیں گے اور اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔
تعداد کی قلت و کثرت سے زیادہ اہم اور بنیادی چیز صبرواستقامت ہے۔ قلت تعداد سے بے پروا ہوکر جب ایک جماعت شہادتِ حق کے لیے نکل کھڑی ہوتی ہے تو پھر حزن و پریشانی اس کے آس پاس بھی نہیں پھٹک سکتے۔ وہ وسائل کی کمی کے باوجود اپنے سے بہت بڑے طاغوت پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی نصرت سے غالب آکر رہتی ہے۔ قرآن یہ چاہتا ہے کہ تحریکی کارکن چاہے ہلکے ہوں یا بھاری ، وہ نتائج سے بے پروا ہوکر وسائل کا انتظار کیے بغیر جو کچھ ان کے پاس ہو اسی کے ساتھ میدان میں نکل کھڑے ہوں:
اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاھِدُوْا بِاَمْوَالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (التوبہ ۹:۴۱) نکلو ،خواہ ہلکے ہو یا بوجھل، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ، یہ تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔
جب جماعت اہلِ ایمان یہ طرزِعمل اختیار کرے گی تو پھر فرشتوں کے پّرے کے پّرے ان کی استعانت کے لیے آشامل ہوں گے:
کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً (البقرہ ۲:۲۴۹) بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے۔
اپنی قوت کو کم تر سمجھنا یا اس پر ناز کرنا، دونوں رویے ایمان کے منافی ہیں۔ یہ طرزِفکر بھی آزمایش کی ایک شکل ہے۔
وہ آزمایشیں جن سے تحریکاتِ اسلامی ہر دور میں گزری ہیں یکساں طور پر اہمیت رکھتی ہیں جن میں قیدوبند اور شہادت شامل ہیں لیکن ان کے علی الرغم آزمایش کی اور بہت سی شکلیں ہیں جن کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر بڑی اور چھوٹی آزمایش میں تحریکی قیادت اور کارکن کا وظیفہ حسبی اللّٰہ، علیہ توکلت، ونعم الوکیل ہو کیونکہ نعم المولیٰ اور نعم الوکیل سے بڑھ کر اور کوئی سہارا اور وسیلہ نہیں ہوسکتا۔ تحریکات کی عمر میں ۴۰سال تو صحیح طور پر بلوغت تک پہنچنے ہی میں لگ جاتے ہیں۔ اگر کوئی تحریک اس سے قبل بالغ ہوجائے تو یہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم ہی سے ممکن ہے۔
ایمان کے تقاضوں میں استقامت کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی شامل ہے کہ ہم ظلم، طغیان، شرک، کفر اور ضلالت کو دُور کرنے کے لیے اللہ کے بندوں کو دعوتِ حق دیتے ہوئے اُن عملی مسائل کے حل کے لیے کہاں تک کوشاں رہے ہیں جن کے بوجھ نے ان کی کمر دہری کردی ہے۔ کیا غربت کے خاتمے کے لیے جو انسان کو شرک پر مجبور کردیتی ہے، کیا پانی کی فراہمی، بجلی کے بحران سے نجات، کیا روزگار کی فراہمی اور عوام کی صحت سے متعلق مسائل میں ہم نے اتنی ہی پیش رفت کی ہے جتنی تنظیمی اجتماعات کی شکل میں کی گئی ہے؟ایمان کا ایک تقاضا اللہ کے بندوں کی خدمت صرف اللہ کو خوش کرنے کے لیے ہے۔
انسانی مسائل میں فکری اور اعتقادی مسائل کے ساتھ ساتھ معاشی مسائل، وسائل کی غیرعادلانہ تقسیم، صحت، غربت اور تعلیم کے حوالے سے اللہ کے بندوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جہاد کیے بغیر ہم مکمل دین پر عمل نہیں کرسکتے۔اللہ کے حقو ق کے ساتھ اللہ کے بندوں کے حقوق کو یکساں اہمیت دینا تحریکِ اسلامی کی ایک ایمانی ضرورت ہے۔
دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے مسلمان ہرسال لاکھوں کی تعداد میں دُوردراز سے سفر کرنے کے بعد ملّت کے قلب مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا رُخ کرتے ہیں اور حج اور عمرہ کی نعمتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کا کوئی عالمی میلہ نہیں ہے کہ اولمپک کی طرح سے لوگ تفریح اور سیاحت کی غرض سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اور میدانِ عرفات میں جاکر قیام کریں، بلکہ یہ ایک جسمانی، روحانی اور نفسیاتی عبادت ہے جس کے صحیح طور پر ادا کرلینے کے بعد ایک نیا مسلمان اور نیا انسان وجود میں آتا ہے۔ اس شعوری عمل کے نتیجے میں انسان کے قلب و دماغ کے ہرہرگوشے میں پائی جانے والی کمزوریوں کا تزکیہ ہوجاتا ہے اور جس طرح ایک معصوم بچہ شکمِ مادر سے دنیا میں آتا ہے، ایسے ہی ایک زائر، حج کرنے کے بعد برف کے گالے کی طرح پاک و صاف ہوکر نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے۔ سید مودودیؒ نے اس عمل کو جسم میں خون کی گردش اور قلب سے گزرنے کے بعد خون کی اصلاح و پاکیزگی سے تعبیر کیا ہے کہ جس طرح تمام جسم سے خون کھینچ کر قلب کی طرف جاتا ہے اور قلب سے گزرنے کے بعد تزکیے کے بعدجسم کو توانائی دینے کے لیے پھر گردش میں آجاتا ہے، اسی طرح تمام اہلِ ایمان اپنی کمزوریوں، بھول و نسیان اور خطائوں کے ساتھ حرم شریف کی طرف جاتے ہیں اور میدانِ عرفات میں اپنی غلطیوں کے اعتراف ، عزمِ اصلاح اور عہدِنو کے ساتھ گھروں کو واپس ہوتے ہیں، تاکہ اُمت مسلمہ ہرسال ایک عملی تطہیر و تزکیے کے ذریعے تازہ قوت، بلند حوصلوں اور قابلِ عمل اصلاحی حکمت عملی سے لیس ہوسکے۔
اگر غور کیا جائے تو حج اور عمرہ اور اسلام کے تصورِ ہجرت میں ایک انتہائی قریبی معنوی ربط پایا جاتا ہے۔ جن لوگوں نے مکہ مکرمہ کی آزمایشوں کی بھٹی سے گزرنے کے بعد حبشہ اور مدینہ منورہ ہجرت کی، ان کے مقام کی بلندی اور ان کے خلوص کا اعتراف قرآن و سنت نے تحسینی کلمات کے ساتھ کیا اور انھیں کامیاب اور بامراد قرار دیا۔ حضرت عمرؓ کی مشہور روایت میں نیت کو اعمال کی بنیاد قرار دیتے ہوئے جو مثال سمجھانے کے لیے استعمال فرمائی گئی، وہ ہجرت ہی کی مثال ہے کہ جس نے اللہ کے لیے ہجرت کی وہ کامیاب ہوگیا۔ حج اور عمرہ کا وجوب بھی قرآن کریم کی آیت مبارکہ وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ (البقرہ ۲:۱۹۶) ’’اللہ کی خوش نودی کے لیے جب حج اور عُمرے کی نیت کرو، تو اُسے پورا کرو، اور اگر کہیں گِھرجائو تو جو قربانی میسر آئے، اللہ کی جناب میں پیش کرو‘‘، اور وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ (الحج ۲۲:۲۷) ’’اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمھارے پاس ہر دُور دراز مقام سے پیدل اور اُونٹوں پر سوار آئیں‘‘، سے بطور ایک عبادت و فریضہ ثابت ہے۔ مشہور حدیث میں اسلام کے ارکان میں حج ایک رکن کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے لیکن سوال یہ اُبھرتا ہے کہ آخر اس کی اتنی اہمیت کیوں ہے کہ ہرسال لاکھوں افراد اپنا مال، وقت، اور محنت صرف کر کے اس فریضے کو انجام دیں۔
پہلی ہجرت ایک مومن اس وقت کرتا ہے جب وہ یہ نیت کرے کہ اسے حج کرنا ہے۔ اس کا نیت کرنا اپنے رُخ اور قبلے کو درست کرنے کے بعد یہ ارادہ کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ایک عبداً شکوراً بنانے کے لیے تیار رہے۔ ہجرت کی جانب اس کا دوسرا قدم اس وقت اُٹھتا ہے جب وہ اُس مال کی طرف دیکھتا ہے جو اُس نے بڑی محنت اور مشقت کے بعد کمایاتھا اور طے کرتا ہے کہ اس مال کو اللہ کی راہ میں صرف اُس کی خوش نودی کے لیے، اس کے گھر کی زیارت کے لیے استعمال کرے۔ یہ خواہش اسے یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جس مال کو وہ اِس غرض کے لیے استعمال کرنے جا رہا ہے، کیا اسے جائز اور حلال طریقے سے حاصل کیا تھا یا غیراخلاقی ذرائع سے۔ما ل کا یہ تزکیہ اس کے ایمان اور صرف حلال کمائی کے ذریعے ایک اچھے کام کو کرنے کی تربیت کرتا ہے۔
اس عمل کے دوران تیسری ہجرت کا آغاز اس وقت شروع ہوجاتا ہے جب وہ اپنے اہلِ خانہ، دوستوں، کاروباری شراکت داروں، غرض ہرفرد کی وابستگی سے نکل کر صرف اللہ کے لیے ان سب کو پسِ پشت ڈال کر صرف اللہ کی طرف لپکتا ہے اور زبان اور دل سے کہنا شروع کرتا ہے کہ میں حاضر ہوں، مالک میں حاضر ہوں۔ صرف آپ کی ایک آواز کے جواب میں، سب کچھ پیچھے چھوڑ کر، آپ کے گھر کی طرف رُخ کر رہا ہوں اور یہ اس لیے کر رہا ہوں، کہ آپ اور صرف آپ، سب سے اعلیٰ، بلند، عزیز، حمد کے مستحق اور نعمتوں کے دینے والے ہیں۔
حج و عمرہ کے لیے نکلتے وقت وہ چوتھی ہجرت اس وقت کرتا ہے جب اپنے قومی لباس، اور زبان کو ترک کر کے صرف دو سفید چادروں میں اپنے آپ کو لپیٹ کر سفر پر روانہ ہوتا ہے، اور عملاً اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ انسانی ضروریات کو خود اپنے ہاتھ اور ارادے سے کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔ وہ اس بات کی تصدیق بھی کرتا ہے کہ اس کی اصل پہچان نہ اس کا قومی لباس ہے نہ قومی زبان، بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا بندہ بن جانا اسے دنیا کے تمام انسانوں سے ممتاز کرتا ہے۔
پانچویں ہجرت وہ اس وقت کرتا ہے جب اس کی پہلی نظر خانہ کعبہ پر پڑتی ہے اور وہ جذبات سے بے تاب ہوکر طلب ِعفو و درگزر اور شعوری اور غیرشعوری گناہوں کے احساس کے ساتھ ایک سوالی بن کر اس عظمت والے گھر میں قدم رکھتا ہے۔ انسانوں کے اس سمندر میں جو طوفانی ریلے کی طرح اللہ کے گھر میں موجزن نظر آتا ہے، وہ عاجزی اور خاکساری اختیار کرتے ہوئے دوسروں کو تکلیف نہ دینے کی خاصیت پیدا کرتا ہے۔
چھٹی ہجرت وہ اس وقت کرتا ہے جب وہ مراسمِ حج سے فارغ ہونے کے بعد اس عزمِ نو کے ساتھ اپنے گھر کی طرف لوٹتا ہے کہ اب وہ اپنے آپ کو تمام غلامیوں سے نکال کر صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بندگی میں دے چکا ہے۔ اس لیے بات وہ کرے گا جو حق ہو۔ کام وہ کرے گا جو حلال ہو، نگاہ وہ ڈالے گا جو پاکیزہ ہو، اور اپنے گھر، معاشرے اور ملک میں صرف اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق کام کرے گا، اور ان تمام رسومات سے اپنے آپ کوکاٹ لے گا جو اس کی برادری اور دوستوں نے ایجاد کررکھی ہیں۔
حج اور عمرہ کے ذریعے ہونے والی ہجرت اسے اُس مقام سے قریب تر لے آتی ہے جو اسلام کے دورِ اوّل میں اللہ کے نیک بندوں نے اپنا سب کچھ اپنے رب کے لیے قربان کرنے کے بعد حاصل کیا تھا۔ یہ ہجرت فتح مکہ کے بعد اور قیامت تک اسے موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹ کر اُن افراد میں شامل ہوجائے جن کا جینا اور مرنا، جن کی قربانی اور عبادت، جن کی فکروعمل صرف اور صرف احکم الحاکمین کی مرضی کے تابع ہوتی ہے، اور جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو ہر بندگی پر فوقیت دیتے ہیں۔ یہ ہجرت زندگی میں ایک مرتبہ حج کرلینے اور حسب ِاستطاعت ایک سے زائد عمرے کے ذریعے زندگی میں کئی بار بھی کی جاسکتی ہے، لیکن صرف ایک شرط کے ساتھ کہ اس کا مقصد صرف اور صرف اپنے تمام وجود کو اللہ تعالیٰ کی بندگی و اطاعت میں دینا مقصود ہو۔
صحت مند تنقید دین کے فرائض میں سے ایک ذمہ داری ہے۔ الدین نصیحۃ، یہ حدیث مبارکہ اپنی جامعیت کی بنا پر اللہ اور اللہ کے رسولؐ کی اطاعت کے دائرے میں اور حکمرانوں اور دیگر معاصرین کے طرزِفکر اور طرزِعمل کا جائزہ لینے اور جہاں کہیں اصلاح کی ضرورت ہو متوجہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ میں شکرگزار ہوں کہ عالمی ترجمان القرآن کے ایک فاضل قاری نے الدین نصیحۃ کی پیروی کرتے ہوئے میرے مضمون: ’جنسی تعلیم اسلامی اقدار کے تناظر میں‘ (جون ۲۰۱۲ئ) پر چند سوالات اُٹھائے اور اس موضوع پر مزید چند سطور تحریر کرنے کی تحریک دی۔
محترم قاری کا تبصرہ درج ذیل ہے: ’’’جنسی تعلیم اسلامی اقدار کے تناظر میں‘ بہت ہی اچھا لگا، مگر اس میں بھی ڈاکٹرصاحب کی شانِ اجتہادی نمایاں ہے۔ دو مثالیں ملاحظہ ہوں: قرآن کریم جنسی جذبے کو حلال و حرام اور پاکیزگی اور نجاست کے تناظر میں بیان کرتا ہے تاکہ حصولِ لذت ایک اخلاقی ضابطے کے تحت ہو نہ کہ فکری اور جسمانی آوارگی کے ذریعے۔ چنانچہ عقدِ نکاح کو ایمان کی تکمیل اور انکارِ نکاح کو اُمت مسلمہ سے بغاوت کرنے سے تعبیر کیا گیا (ص ۶۴)۔ پتا نہیں یہ کسی آیت کا ترجمہ ہے یا حدیث کا، یا کوئی اجماعی قانون ہے؟ ایک اور جگہ وَعَنْ شَبَابِہٖ فِیْمَا اَبَلَاہُ سے درج ذیل نتیجہ اخذ کیا ہے کہ: احادیث بار بار اس طرف متوجہ کرتی ہیں کہ یوم الحساب میں جو سوالات پوچھے جائیں گے، ان میں سے ایک کا تعلق جوانی سے ہے اور دوسرے کا معاشی معاملات سے۔ گویا جنسی زندگی کا آغاز شادی کے بعد ہے، اس سے قبل نہیں (ص ۶۶)۔ ایک تو یہ کہ الفاظِ حدیث عام ہیں۔ دوسرے یہ کہ جوانی اور شادی میں کیا نسبتِ مساوات ہے؟‘‘
عصرجدید میں ’جنسی تعلیم‘ کی اصطلاح جس تناظر میں استعمال کی جاتی ہے، اس کا مقصد عالم گیریت کے زیرعنوان مغربی اخلاقی اقدار کو تعلیمی نصاب اور کمرئہ درس میں وضاحت کے ذریعے نئی نسل کو جنسی اباحیت کی طرف راغب کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی تہذیب ہو یا مشرقی تہذیب دونوں میں جنسی موضوعات پر جو رویہ صدیوں سے اختیار کیا گیا ہے وہ اسلامی اقدارِ حیات اور قرآنی اخلاق کی ضد نظر آتا ہے۔ ہندوازم جو خالصتاً ایک مشرقی خطے کا مذہب ہے اپنے فن تعمیر کے ذریعے جنسی تعلقات کو سرعام مذہبی عقیدت کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔ مغربی تہذیب میں لذت پرستی (hedonism) میں جنسی لذت کا اپنا مقام ہے اور جدیدیت (Modernism ) اور مابعد جدیدیت (Post-Modernism) اور ریخ تیگیت (Destructivism) جیسے فلسفوں نے آج کے مغرب کو جو راستہ دکھایا ہے وہ زندگی کو ایک جنسی لذتیت کے زاویے سے دیکھتا اور جنسی لذت کے ذرائع کو وہ مقام دے دیتا ہے جو زندگی کے عام معمولات، مثلاً صبح کا ناشتہ، رات کا کھانا، بازار سے پھل خرید کر لانے سے یا چائے کی ایک پیالی پینے سے زیادہ مختلف نہیں سمجھتا۔ اسی بنا پر جنسی تعلیم کے ذریعے عالمی پالیسی پر زور دیا جاتا ہے کہ اگر اسکول کے بچوں کو یہ سکھا دیا جائے کہ وہ کس طرح محفوظ جنسی تعلق قائم کرسکتے ہیں، تو دنیا ایڈز جیسے مہلک مرض سے محفوظ ہوجائے گی۔
واضح رہے کہ جنسی تعلیم کا محرک بڑی حد تک مغرب و مشرق کے ممالک کا یہ تصور ہے کہ وہ ہندستان ہو یا امریکا، جہاں کثرت سے ایڈز کے مثبت کیس پائے جاتے ہیں، اگر انھیں کم کرنا ہے تو آنے والی نسلوں کو ان ذرائع کی تعلیم دی جائے جن کے بعد اسکول کے بچے آپس میں محفوظ جنسی تعلق قائم کرسکیں۔ گویا جنسی تعلق قائم کرنا صبح کے ناشتے کی طرح کی ایک معصوم سرگرمی ہے، اور جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ناشتے میں کوئی جراثیم آلودہ غذا نہ ہو، اسی طرح جنسی تعلق قائم کرتے وقت کیا احتیاط کی جائے کہ اس عمل میں ملوث افراد کسی جسمانی بیماری کا شکار نہ ہوں۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس تعلیم کو دیتے وقت استاد یا معلمہ کمرۂ درس میں نہ صرف تصاویر کے ذریعے بلکہ زبانی وضاحت سے بھی اُن معاملات کو بیان کرے گی جو آج تک کمرئہ استراحت تک رہے ہیں، اور اس کے باوجود ہزارہا سال سے انسانی آبادی میں اضافہ بھی ہوتا رہا ہے۔
گویا عالمِ انسانی ہو یا عالمِ حیوانی ، دونوں میں زواج کا قائم کیا جانا ایک فطری، اخلاقی اور شرعی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت چونکہ انسانوں سے وابستہ ہے، اس لیے اس میں زمان و مکان کا تعین بھی کیا جانا ضروری ہے۔ سنت مطہرہ اس پہلو کی وضاحت و تشریح کرتی ہے کیونکہ سنت کو دو امتیاز حاصل ہیں۔ اوّلاً یہ کہ سنت تشریعی ہے، اور ثانیاً یہ کہ سنت تشریحی ہے۔ چنانچہ یوم الحساب جو سوالات پوچھے جائیں گے ان میں یہ بات شامل ہے کہ جوانی کس طرح گزاری؟ کیا عفت و عصمت کو برقرار رکھا؟ کیا جوانی کی تعمیری قوت کو معروف کی اشاعت کے لیے استعمال کیا؟ کیا جوانی میں مادی وسائل اور وقت کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں سے استعمال کیا، یا بے راہ روی اور عبث میں گزاری؟
جوانی، بلوغ اور عقل، ان سب کا قریبی تعلق ایک مومن کے جنسی معاملات کے ساتھ اتنا واضح ہے کہ اس پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں۔ عقلی رویے کا مطالبہ ہے کہ ایک شخص جو ان ہو تو یا روزے رکھے یا رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو۔ یہ بلوغ کا تقاضا ہے کہ اس سن کو پہنچے تو اس فکر میں نہ رہے کہ جب تک کثیرمالی وسائل کا مالک نہ ہو، نکاح سے دُور رہے۔ قرآن نے اس معاشی پہلو کا دوٹوک جواب دیا ہے کہ: وَانْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ وَالصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِِمَآئِکُمْط اِِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآئَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ o (النور ۲۴:۳۲) ’’تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں، اور تمھارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں، ان کے نکاح کردو۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا۔ اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے‘‘۔ یہاں یہ بات واضح کردی گئی کہ مالی وسائل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور اللہ کے لیے، اور عفت و عصمت کے تحفظ کے لیے اگر یہ کام کیا جائے گا تو وہ اپنی رحمت سے مالی ضروریات پورا کرنے کا راستہ نکال دے گا۔گویا اپنی اولاد کو رشتۂ ازدواج میں اس لیے منسلک نہ کرنا کہ ابھی تنخواہ کم ہے، کاروبار سے منافع کم آرہا ہے، ابھی عمر ہی کیا ہے، یہ اور اس قسم کے وہ تمام تصورات جو ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں، اسلام ان کو رد کرتا ہے۔ مندرجہ بالا قرآنی آیت ان رواجی تصورات کی تردید کرتی ہے۔
جنس کے حوالے سے قرآن و سنت کے اخلاقی اسلوب کے الہامی اور اعلیٰ ترین ہونے کا احساس اسی وقت ہوسکتا ہے جب ایک محقق کلامِ الٰہی اور دیگر مذاہب کے اساطیر کا ایک تقابلی مطالعہ کرے۔ اساطیر نہیں بلکہ یہودیت اور عیسائیت کی کتب مقدس میں جہاں ان مسائل کا ذکر ہے صرف انھیں ایک نظر دیکھ لیں تو زمین و آسمان کا فرق کھل کر سامنے آجاتا ہے۔
اس بنا پر ہم یہ بات کہنے پر مجبور ہیں کہ اسلام جنسی مسائل پر ایک اعلیٰ الہامی اخلاقی اسلوب اختیار کرتا ہے، اور چاہتا ہے کہ اس اسلوب کی بنیاد پر تدریس و تعلیم میں مواد اور طریق تدریس ایجاد کیے جائیں۔ فقہ ان میں سے ایک ایسا مؤثر ذریعہ ہے جس کی تعلیم بہت سے جنسی مسائل سے، بغیر کسی لذتیت کے، زمینی حقائق سے ایک غیربالغ اہلِ ایمان مرد اور عورت کو ان مسائل سے آگاہ کرتا ہے جن کو آج کل اسکولوں میں جنسی تعلیم کے زیرعنوان سکھانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے، جو فی الواقع طلبہ و طالبات کو بجاے اخلاقی طرزِعمل اختیار کرنے کے فحاشی و عریانی اور بے شرمی کی طرف لے جانے کا ذریعے ہوگی۔ مغرب و مشرق میں جہاں کہیں بھی عمر کے اس مرحلے میں جب ایک بچہ اور بچی تجسس میں مبتلا ہوتے ہیں، یہ طریقہ اختیار کیا گیا تو نتائج تباہ کن ہی رہے ہیں۔ امریکی نصابِ تعلیم میں جنسی تعلیم کی شمولیت کے بعد جس تیزی سے غیراخلاقی جنسی تعلق، قبل از وقت ناجائز ولادت اور حمل کے واقعات ہوئے ہیں وہ ہرصاحب ِ علم کے سامنے ہیں۔
اس لیے جنسی تعلیم کی اہمیت کو مانتے ہوئے اصل مسئلہ اسلوب کا ہے۔ اصل مسئلہ اسے اخلاقی ذمہ داری سے منسلک کرنے کا ہے۔ اصل مسئلہ ایک پاکیزہ خاندان کے قیام کاہے، جب کہ موجودہ سرکاری تعلیمی اداروں کے سربراہ مستعار اور استعمال شدہ فکر کو اختیار کرنے کو اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ موضوع جو مغرب و مشرق کے دانش ور اُٹھاتے ہیں، ہمارے ہاں آنکھیں بند کر کے اس کی پیروی کو ’ترقی پسندی‘، ’روشن خیالی‘ سمجھتے ہوئے اختیار کرنا ایک قومی فریضہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حکومتی اور غیرحکومتی مدارس میں اسلامیات کے نصاب کو، نظرثانی کے بعد بطور لازمی اور قابلِ امتحان مضمون کے جس کا اثر نتائج میں ظاہر ہو، اسلام کے جامع تصور کو سمجھانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس جامع نصاب میں جنسی اخلاقیات بھی بطور ایک باب کے ہو اور وہ بغیر کسی مانع حمل ذرائع کی تعلیم کے جنسی ذمہ دارانہ رویے پر روشنی ڈالے۔
یہ خبر کہ ایک الیٹ اسکول ہم جنس پرستی کے موضوع پر ۱۶جولائی کو ’میونخ ڈیبٹس‘پروگرام کے تحت مباحثہ منعقد کرنے جارہا ہے (جنگ، ۱۰جولائی ۲۰۱۲ئ)، اس خبر پر مختلف حلقوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے لیکن جو بات قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ جنسی تعلیم کے زیرعنوان آخر وہ کون سی منزل ہے جس کی طرف قوم کے نوجوانوں کو دھکیلا جا رہا ہے۔ کیا ہر وہ اخلاق باختہ کام جو مغرب نے ’ترقی‘، ’روشن خیالی‘، اور ’جدیدیت‘ کے عنوان سے کیا ہے، کرنا ہمارے لیے فرض سمجھ لیا گیا ہے؟
ہم شکرگزار ہیں کہ محترم قاری نے سوالات اُٹھا کر اس موضوع پر چند مزید نکات تحریر کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔ جہاں تک سوال ’شانِ اجتہادی‘ کا ہے، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کی جو جو بات خوش کرتی ہے اس کو اختیار نہ کرنا ہمارے خیال میں کوئی مناسب رویہ نہیں ہے۔ حدیث معاذ بن جبل میں جو بات ذہن نشین کرائی گئی ہے وہی اُمت مسلمہ کے لیے ذریعۂ نجات ہے۔ اس کوشش میں خلوصِ نیت کے ساتھ جو کام بھی کیا جائے گا اگر وہ قرآن و سنت کے اصولوں سے مطابقت رکھے تو اس کے لیے دو اجر کا وعدہ ہے، اور اگر پورے خلوص اور کوشش کے باوجود انسانی فکر سہو کا شکار ہو، جب بھی الرحم الراحمین کی طرف سے ایک اجر کا وعدہ ہے۔ اگر دین اسی کا نام ہے تو پھر طنزاً ’شانِ اجتہادی‘ تلاش کرنا یا نہ کرنا غیرمتعلق ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نفس کے فتنوں، گمراہی، غلو اور اباحیت سے محفوظ رکھے، قرآن و سنت پر غور کرنے اور نئے مسائل و معاملات کے حل تلاش کرنے کی توفیق دے۔ وما توفیقی الا باللّٰہ۔
گذشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں مشرق وسطیٰ میں جو نمایاں اور اہم انقلابی تبدیلیاں عمل میں آئی ہیں وہ ایک جانب مغرب و مشرق کے اہلِ فکر کے لیے غور کرنے کا مواد فراہم کرتی ہیں، تو دوسری جانب مسلمان اہلِ فکر کے لیے ایک چیلنج کی شکل اختیار کرگئی ہیں۔
مصر میں ۸۰ سالہ دورِاستبداد کا آغاز ۱۹۵۲ء میں فوجی آمریت سے ہوا۔ یہ آمریت وقت کے دھارے کے لحاظ سے اپنی کینچلی بدلتی رہی، تاہم اس کے زہرِ استبداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ اس طویل دورِ استبداد کا خاتمہ مصر کی جدید تاریخ میں پہلے عوامی صدر ڈاکٹر محمد مُرسی کے منتخب ہونے پر ہوا۔ لیکن اقوام عالم کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طاغوتی اور فرعونی قوتیں اپنی شکست آسانی سے قبول نہیں کرتیں اور ایک زخم خوردہ سانپ کی طرح سے دائیں اور بائیں جس طرف سے ممکن ہو ڈسنے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں۔ بالکل اسی طرح مصر میں موجود نظام (status quo) کی حامی جماعت، یعنی فوج اور عدلیہ نے اس انقلابی عوامی تبدیلی کو بے اثر اور ناکام بنانے میں اپنی مشترکہ قوت اور چال بازیوں کے ذریعے جو اقدامات کیے وہ قرآن کریم کی زبان میں کیدالشیطان کی بہترین مثال ہیں۔
یہاں اس بات کا اظہار ضروری ہے کہ مغرب اور خصوصاً امریکا اور اسرائیل کی دلی خواہش اور حمایت کے باوجود حسنی مبارک کے سابق وزیراعظم کا، جو فضائیہ کا ریٹائرڈ جنرل تھا، ناکام ہونا بھی ایک معجزے سے کم نہیں کہا جاسکتا۔ آخر وقت تک فوجی کونسل نے پوری کوشش کی کہ اور کچھ نہیں تو کم از کم انتخابی نتائج میں تاخیر کرکے عوام کو نفسیاتی طور پر جانچا جائے کہ وہ ان کی مزعومہ دھاندلی کو کہاں تک برداشت کرسکتے ہیں۔ جب تمام ذرائع سے انھیں یہ یقین ہوگیا کہ دھاندلی نہیں چل سکے گی تو مجبوراً یہ اعلان کیا گیا کہ ایک معمولی تناسب کے فرق کی بناپر اخوان المسلمون کے نامزد صدر محمد مُرسی کو کامیابی حاصل ہوگئی ہے۔ لیکن دوسری جانب اس انتخاب کو بے اثر بنانے اور فیصلہ کن اختیارات کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے فوج اور عدلیہ کے دماغوں نے جو کسی تبدیلی کے لیے آج بھی تیار نہیں ہیں، اور فروری ۲۰۱۱ء میں مصر میں نوجوانوں کی تحریک کے علی الرغم، جس میں جانی قربانیاں بھی دی گئیں اور پورے ملک نے حصہ لے کر فوج اور بدعنوان عدلیہ کی حاکمیت کو رد کر دیا تھا، موجود نظام کو برقرار رکھنے کے لیے جو اقدامات کیے وہ ان تمام تحریکات کے لیے قابلِ غور ہیں جو بدعنوانی، اقرباپروری، ظلم و استحصال کے نظام کی جگہ عدلِ اسلامی اور معاشرتی فلاح پر مبنی نظام لانا چاہتی ہیں۔ یہ انقلابی جماعتیں چاہے مصر میں ہوں، لیبیا میں ہوں یا پاکستان میں، انھیں اسی نوعیت کے حربوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ خیال کہ اسلامی انقلاب محض مطالبوں، مظاہروں، نعروں اور جلسوں سے آجائے گا اور طاغوت بھلے مانس انداز میں اقتدار کی کنجی سرجھکا کر اسلامی تحریکات کے منتخب شدہ نمایندوں کے حوالے کردے گا، ایک واہمہ اور سادہ لوحی سے کم نہیں کہا جاسکتا۔
فوج نے عوامی صدر کے انتخاب کے حتمی اعلان سے قبل موجود نظام کے تحفظ اور اپنی مدافعت کے لیے جو اقدامات کیے ان میں اولاً: بدعنوان عدلیہ کو استعمال کرتے ہوئے عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کو اس بنا پر تحلیل کرنا کہ اس کی ۳/۱ نشستوں کے انتخاب میں ان کے خیال میں کوئی بے ضابطگی ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ اس پارلیمنٹ میں اخوان المسلمون کو ملک کے ۸۰سالہ دورِآمریت و استبداد میں پہلی مرتبہ ۴۴ فی صد سے اکثریت حاصل ہوئی تھی۔
ثانیاً: دستور کی معطلی کا اعلان اور نئے دستور کی تشکیل کے تمام اختیارات پارلیمنٹ کی جگہ فوجی کونسل کو منتقل کرنے کا حکم نامہ۔
ثالثاً: ملک کے داخلی، خارجی اور مالی معاملات میں فیصلے کا اختیار فوج کو دیا جانا، یعنی بجٹ اور ملک کی اندرونی و بیرونی پالیسی فوج طے کرے گی۔
رابعاً: پارلیمنٹ کے آیندہ انتخابات کا فوج کی مرضی کے مطابق کیا جانا، اور عدلیہ میں تقرر کا حق بھی فوج کے ہاتھ میں رہنا۔
خامساً: ملک میں عملاً مارشل لا لگانا کہ فوج جسے چاہے امن عامہ کے خطرے کی بنا پر گرفتار کرسکے۔
یہ تمام مدافعانہ اقدامات جس ذہن کا پتا دیتے ہیں وہ مصر میں نہیں، ہر اُس ملک میں پایا جاتا ہے جہاں بدعنوان، لالچی، بے ضمیر، ظالم، خودغرض، اقرباپرور فرماں روا عوام الناس پر ان کی مرضی کے خلاف مسلط ہیں۔ یہ اقدامات ایک شکست خوردہ ذہن کی دلیل ہیں جو اپنے آپ کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے اردگرد کے ہرتنکے اور شاخ کے سہارے اپنے انجام سے بچنے کی سر توڑ کوشش کرتا ہے لیکن وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْن کو بھول جاتا ہے۔
مصر میں تحریکِ اسلامی کی کامیابی کو نہ صرف مصری فوج اور عدلیہ نے بلکہ مغرب خصوصاً امریکا نے بھی ایک انتہائی تلخ گھونٹ کے طور پر گوارا کیا ہے۔ دونوں کی مسلسل کوشش ہے کہ اب بھی کسی طرح مصر کے منتخب صدر کو یا تو مکمل طور پر بے اثر کردیا جائے اور تمام اختیارات فوجی کونسل اور عدلیہ کے ہاتھوں میں رہیں، یا مُرسی کو اس طرح استعمال کیا جائے کہ اخوان المسلمون سے وابستہ اُمیدیں ٹھنڈی پڑجائیں اور اخوان کی تصویر مصری عوام میں داغ دار بن جائے۔ چنانچہ بار بار یہ بات کہی جارہی ہے کہ اخوان المسلمون ایک انتہائی قدامت پرست جماعت ہے اور عیسائی اقلیت اور خواتین کے لیے سخت خطرہ ہے۔
اس بات کو بار بار دہرانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ مُرسی سرکاری طور پر یہ اعلان کریں کہ وہ عیسائی اقلیت اور خواتین کو کابینہ اور دیگر مناصب میں ان کے عمومی تناسب سے زیادہ اہمیت دیں گے۔ مُرسی کے حالیہ بیان سے کہ ان کے ایک نائب صدر عیسائی اور ایک خاتون ہوں گی، اس حکمت عملی کے اثرات کی جھلک نظر آتی ہے۔
مغربی قوتوں کا دل کی ناگواری اور مجبوراً مُرسی کو صدر مان لینے کا یہ مطلب لینا بھول ہوگا کہ وہ واقعی ان کے اقتدار کی حمایت اور تائید کریں گے۔ مغربی سیاست کاروں کا متفقہ عقیدہ آج تک یہی ہے کہ ایک سیکولربدعنوان اقرباپرست اور اخلاقی طور پر کنگال جماعت یا فرد کو، ایک اسلام پسند لیکن حق گو، مخلص اور ایمان دار شخص یا جماعت کے مقابلے میں فوقیت دینا ان کے مفاد میں ہے۔ اس لیے وہ کسی بھی شکل میں دل کی آمادگی کے ساتھ ایک اسلام پسند کو برسرِاقتدار دیکھنا گوارا نہیں کریں گے۔ یہ بات بھی بار بار دہرائی جارہی ہے کہ اسلام پسند جماعت کا برسرِاقتدار آنا، اسرائیل کی سالمیت کے لیے اور اس کے منطقی نتیجے کے طور پر امریکا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ خطرے کی یہ گھنٹیاں امریکا اور اسرائیل دونوں کے ہاں اس وقت گھڑیال کی شکل اختیار کرجائیں گے جب صدر بھی اسلام پسند ہو اور پارلیمنٹ میں بھی اخوان کی اکثریت ہو۔ اس بات کو سیاسی زبان میں بار بار دہرانے کامقصود یہی ہے کہ صدر مُرسی اسرائیل کو یقین دلائیں کہ اسے ان سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا، ساتھ ہی امریکا کو بھی یقین دہانی کرائیں کہ وہ اس کے دشمن نہیں ہیں۔ مغربی صحافت اس بات کو بھی اُچھال رہی ہے کہ مُرسی نے امریکا کی مشہور یونی ورسٹی، یونی ورسٹی آف سائوتھ کیلی فورنیا (USC) سے تعلیم حاصل کی ہے اور ان کے بچے وہاں پیدا ہوئے ہیں جس کی بنیاد پر بچوں کی شہریت امریکی ہے، تاکہ اخوان اور دینی حلقوں میں ان کی وفاداری اور امریکا کی جانب رویے کو مشتبہ بناکر اندرونی کھنچائو پیدا کیا جاسکے۔ خصوصاً نوجوان اخوان کو، جو نہ صرف مصر بلکہ پوری دنیا میں ہر اُس فرد کو شبہے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس کا کوئی تعلق امریکا سے ہو ، یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ مُرسی پر بھروسا نہ کرو۔ یہ منفی سیاست طاغوتی قوتوں کا خاصا ہے، اس لیے اس پر کسی حیرت کی ضرورت نہیں۔
اوّلاً: قانون کے حوالے سے یہ بات کہی جارہی ہے کہ اخوان برسرِاقتدار آکر نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیرمسلموں پر شرعی سزائیں نافذ کریں گے۔ یہ وہ ہوّا ہے جو ہرمسلم ملک میں برسرِاقتدار طبقہ قیامت تک استعمال کرتا رہے گا اور اس بنیاد پر سیکولر افراد کے تحفظ اور حمایت حاصل کرنے کے لیے عوامی جذبات کو متاثر کرتا رہے گا۔ یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں تقریباً ۲۰فی صد عیسائی اقلیت ہو، اسلام کا نفاذ ظلم ہوگا۔ ان اعتراضات کو اُٹھاتے وقت ایک تیر سے دو شکار کرنے کی حکمت عملی کی بنا پر قرآن و سنت کو بالواسطہ طور پر عملی زندگی سے خارج کرنے کی طرف واضح اشارے بھی کیے جاتے ہیں اور کیے جاتے رہیں گے۔
دوسرا اہم خطرہ مطلق العنانی دور کا غالب آجانا ہے۔ مغربی اور سیکولر طبقہ اپنی ذہنی ساخت کی بنا پر ہمیشہ اسلام کو مذہب اور مذہب کو مذہبی آمریت اور مطلق العنانی سے تعبیر کرتا ہے۔ اس میں زمان و مکان کی کوئی قید نہیں۔ خود پاکستان کے نام نہاد دانش ور یہ بات ہرمحاذ پر دہراتے ہیں، حتیٰ کہ عوام کو اس جھوٹ پر یقین آجائے۔ یہ لوگ اپنی ڈفلی بجاتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ حسنی مبارک، قذافی، اسد، صدام اور الجزائر، تیونس اور مراکش کے آمروں نے جس مطلق العنانی کا عملی مظاہرہ ایک آدھ سال نہیں ۳۰،۳۰ سال کیا، اس کی بنیاد مذہب تھا یا سیکولرزم؟
یہ ایک اہم اندرونی خطرہ ہے جس کا مُرسی اور ان کے رفقا کو صبروحکمت کے ساتھ سامنا کرنا ہوگا۔ اس کے لیے انھیں تبدیلیِ اقتدار کے بعد اپنے طرزِعمل کو قابو میں رکھنا اور اقتدار کی بنا پر اقرباپروری اور مراعات کا غلط استعمال نہ کرنا، عوام کے ساتھ اپنا رابطہ بھلے انداز سے قائم رکھنا، اور نوجوان نسل کی توقعات پر پورا اُترنا جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ کام آسان نہیں ہے لیکن تحریک کی تربیت کا امتحان ایسے ہی مواقع پر ہوتا ہے۔ اس لیے پوری اُمید کی جاسکتی ہے کہ اخوان سے وابستہ افراد اس زیادہ نازک امتحان میں پورے اُتریں گے، ان شاء اللہ۔
صدر مُرسی اور امریکی انتظامیہ کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی اور امریکا کس حد تک مصر کے عوامی صدر کی حمایت کرے گا؟ یہ امکانات سے بھرا ہوا ایک سوال ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلقات کی نوعیت چینی بازی گر کے رسی پر ہاتھ چھوڑ کر چلنے سے کم مشکل نہیں ہوگی۔
ہمارے لیے اخوان المسلمون کے ساتھ کام کرنا بہت مشکل ہوگا، خاص طور پر اس لیے کہ ہم گذشتہ ۳۰ برس سے انھیں نظرانداز کرکے تنہا کرتے رہے ہیں۔
اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ امریکی انتظامیہ بادل ناخواستہ ہی مُرسی سے بات چیت کرے گی، جب کہ پس پردہ مصری فوجی قیادت کے ساتھ سازباز میں برابر کی شریک رہے گی۔ دوسری جانب دنیا کو دکھانے کے لیے صدر اوباما اور ان کی انتظامیہ جسے عموماً جمہوریت، حقوق انسانی، اور عالمی امن کادورہ پڑتا رہتا ہے اور جس نے عملاً ان تینوں معاملات میں ہمیشہ منفی کردار ادا کرتے ہوئے جمہوری قوتوں کے مقابلے میں فوجی اور شاہی آمروں کی حمایت کی ہے اور آج بھی کررہی ہے، اس حکومت نے خود اپنے ملک میں اور دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی پامالی پر سواے مگرمچھ کے آنسو بہانے کے اور کچھ نہیں کیا ہے۔ وہی انتظامیہ صدر اوباما کے بقول یہ کہنے پر مجبور ہے کہ:
جب مصری عوام جمہوریت، عزت و وقار اور امکانات کے لیے آگے بڑھیں گے، اور اپنے انقلاب کے وعدوں کو پورا کریں گے تو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ (ترجمان وائٹ ہائوس، اتوار، ۲۴ جون ۲۰۱۲ئ، بحوالہ نیویارک ٹائم، ۲۶ جنوری ۲۰۱۲ئ)
امریکا نے گذشتہ ۳۰ سال سے زائد عرصے میں اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں مصر کی فوجی آمریت اور اسرائیل کے صہیونی ظالم حکمرانوں سے اپنے آپ کو مکمل وابستہ رکھا ہے۔ اب بدلے ہوئے سیاسی نقشے میں اخوان المسلمون کے صدر کے ساتھ جو اخوان کا سابق رکن بھی ہے تعلقات استوار کرنا دو طلاقوں کے بعد رجوع سے کم مرحلہ نظر نہیں آتا، لیکن اس تلخ گھونٹ کو مسکراتے ہوئے پئے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں۔
اگر امریکا میں تھوڑی بہت عقل ہو تو اسے اس وقت مصری عوام کا مزاج اور جذباتی کیفیت کو سمجھنا چاہیے۔ اسے اپنے آپ کو فوج سے دُور اور عوامی نمایندوں سے قریب کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن امریکی سیاست کی ۵۰ سالہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ امریکی انتظامیہ کی ذہانت سے ایسے دانش مندانہ فیصلے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
اوّلاً: عوامی دبائو کو برقرار رکھنا۔ چنانچہ تحریر چوک پر ہزارہا اخوان کی موجودگی اس مطالبے کے ساتھ کہ پارلیمنٹ بحال کی جائے، فوج اپنی قوت اور چالاکی سے لیے ہوئے دستوری اور حفاظتی اختیارات سے دستبردار ہو اور صدر کو اس کے اختیارات دیے جائیں___ دن رات اپنی یک جہتی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
دوم: صدر مُرسی دیگر سیاسی جماعتوں سے مل کر جن میں سیکولر جماعتیں شامل ہیں، یہ کوشش کررہے ہیں کہ جمہوریت کے مستقبل پر کوئی آنچ نہ آنے پائے، اور تمام سیاسی جماعتیں مل کر پارلیمنٹ کی برتری اور آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں۔
سوم: صدر مُرسی کوشش کر رہے ہیں کہ فوج کے ساتھ بھی مذاکرات بند نہ ہوں، اور انھیں اس بات کا احساس دلایا جائے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ سیاسی اختیارات سے دستبردار ہوں۔ یہ سب سے زیادہ نازک، حساس اور مشکل معاملہ ہے اور فوج پر کسی مسئلے میں بھی بھروسا کرنا جوے بازی سے کم نہیں۔ لیکن شریعت کی اصطلاح میں ضرورت کی بنا پر اِس اقدام کو کرنا ہوگا تاکہ اتمامِ حجت ہوجائے۔
تحریر چوک پر دھرنا کافی نہ ہوگا۔ اخوان المسلمون کو ملک کے نوجوانوں کو ساتھ ملا کر ایک ملک گیر مہم جیسی فروری ۲۰۱۱ء میں چلائی گئی، چلانا ہوگی۔ یہ کام محض دھرنے سے نہیں ہوسکتا۔ جب تک فوج اپنی آنکھ سے نہ دیکھ لے کہ عوامی قوت اسے بہا لے جائے گی، اس وقت تک فوج اپنی موت کے حکم نامے پر دستخط نہیں کرے گی۔
اوّل: ملک گیر پیمانے پر نوجوانوں کی ایک پُرامن مہم جس میں فوج کے منتخب شدہ پارلیمنٹ کو عدلیہ کے ذریعے برخواست کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے، اور یہ تجویز کیا جائے کہ اگر عدلیہ کو پارلیمنٹ کی ایک تہائی نشستوں پر یہ اعتراض تھا کہ ان میں کوئی بے ضابطگی کی گئی ہے تو ان ۳/۱ نشستوں پر دوبارہ انتخاب کرائے جائیں، نیز جن نشستوں میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی انھیں برخواست کرنا عدل کے منافی ہے۔ یہ کام سیاسی مہم سے کرنے کا ہے اور عوام کو ساتھ لے کر چلنے سے اس میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔
دوم: اس بات کی ضرورت ہے کہ اخوان کی قیادت اپنے دائرۂ اثر کو وسیع کرنے کے لیے جمہوریت کے تحفظ کی بنیاد پر ان سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملائے جو چاہے اسلام سے دل چسپی نہ رکھتی ہوں لیکن ملک میں جمہوریت کا نفاذ دیکھنا چاہتی ہیں۔
تیسرے، عوامی مہم کے ذریعے فوجی کونسل کے لامحدود اختیارات کو جن میں بجٹ، خارجہ پالیسی اور داخلہ پالیسی کی منظوری شامل ہے، پارلیمنٹ کو منتقل کرنا تاکہ پارلیمنٹ عوام کی نمایندہ ادارے کی حیثیت سے ان معاملات پر فیصلہ کرسکے۔ دستوری عدالت (Consititutional Court) کے جج جنھیں حسنی مبارک نے اس غرض سے مقرر کیا تھا کہ دستوری مباحث میں جو کچھ آمر چاہتے ہوں عدالت بھی اسی کی توثیق کردے، یہ کام نہیں کرسکتی۔ اس کے لیے عوامی مہم چلانا ہوگی۔ اگر عوامی مہم حسنی مبارک کو ہٹاسکتی ہے تو یہ کام بھی کیے جاسکتے ہیں۔
چوتھے، نئی حکومت کو ردعمل دینے کے بجاے اقدامی طور پر بعض فیصلے خود کرنے ہوں گے۔ جیساکہ پہلے عرض کیا گیا: سیکولر اور امریکی لابی بار بار وہ مسائل اُٹھائے گی جن پر صدرمُرسی کے مثبت یا منفی موقف اختیار کرنے سے مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔ اگر صدرمُرسی ردعمل کے طور پر یہ کہیں کہ وہ امریکا کے دشمن نہیں ہیں بلکہ دوستی چاہتے ہیں، تو وہ نوجوانوں کی حمایت کھوبیٹھیں گے، جو بظاہر ایک امریکی اور فوجی ہدف معلوم ہوتا ہے۔ فوج اور امریکا، دونوں یہ چاہیں گے کہ اخوان کی صفوں میں انتشار واقع ہو، اور کم از کم اخوان کے علاوہ جو مذہبی جماعتیں خصوصاً سلفی حضرات ہیں ان کے ساتھ اختلافات میں اضافہ ہوجائے تاکہ پارلیمنٹ بننے کی شکل میں اخوان کی قوت مؤثر نہ ہو۔ اگر صدر مُرسی ردعمل کے طور پر یہ کہتے ہیں کہ وہ امریکا کے مخالف ہیں تو اسے بھی ان کے خلاف استعمال کیا جائے گا، کہ فوج کی رگ جان ۱ئ۳ بلین ڈالر کی امریکی امداد اگر بند ہوجاتی ہے تو مصر کیا کرے گا؟ گویا بجاے ردعمل کے طور پر کوئی بات کہنے کے صدر کو بہت سوچ سمجھ کر ایسا موقف اپنانا ہوگا کہ وہ نہ تو اپنی نوجوان قوت کو مایوس کریں اور نہ امریکی اور فوجی عزائم کو کامیاب ہونے دیں۔
یہ کہنا فطری طور پر بہت آسان ہے کہ اخوان کو چاہیے کہ وہ مصر میں ترکی کا ماڈل اختیار کریں۔ اپنی تصویر کو جو اس وقت تک قدامت پرست، بنیاد پرست، جہادی، خواتین کے حقوق کو پامال کرنے والی، اور اقلیتوں کو تہس نہس کردینے والی جماعت کی ہے، بدلنے کے لیے ایسے اقدامات کرے جس سے اس کی ایک متوازن، معتدل اسلامی جماعت کی شبیہ اُبھر کر سامنے آئے۔ لیکن ہماری اس تمام تر خواہش کے باوجود فوری طور پر یا مختصر عرصے میں ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔ ذہنی تصویر کا درست کرنا ایک طویل نفسیاتی اور ابلاغی حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے اور اخوان المسلمون ان شاء اللہ اسے کر بھی سکتے ہیں لیکن مقابلتاً ایک طویل حکمت عملی کے ذریعے۔
طیب اردگان کو جس مقام پر وہ آج پہنچے ہیں، اس کے لیے ۳۰سال سے اُوپر واضح منصوبہ، ہدف اور افرادی قوت کے ساتھ کام کرنا پڑا۔ تب جاکر وہ اپنا یہ تشخص بنا سکے اور وہ مقام حاصل کرسکے جس کی بنا پر آج مغرب ہو یا مشرق، ترکی کے ماڈل کی بات کرتا ہے۔
یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے اور اس پر علیحدہ گفتگو کی ضرورت ہے لیکن فی الوقت اس حد تک کہا جاسکتا ہے کہ صدر مُرسی کو اپنے بیانات میں اردگان کی طرح توازن پیدا کرنا ہوگا، تاکہ ایک جانب وہ اپنی اصل قوت نوجوان اخوان کو جو نظریاتی طور پر کفر کے ساتھ تعاون کو کفر قرار دینے کے عادی ہیں، نہ تو مایوس کریں اور نہ انھیں کوئی الگ پریشر گروپ (pressure group) بننے دیں اور اسی قوت کو تحریکِ اسلامی کے لیے صحیح طور پر استعمال کرسکیں۔
ڈاکٹر مُرسی ایک غیرجذباتی شخصیت رکھتے ہیں لیکن انھیں موجودہ حالات میں عوامی قوت کو ساتھ رکھنے کے لیے چند ایسے اقدامات لازماً کرنا پڑیں گے جن کا تعلق ملک کی معیشت اور عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ سے ہے، جب کہ سلفی بھائیوں کی ترجیح اسلامی شریعت کے بعض پہلوئوں کے نفاذ کی ہوگی۔ حکمت کا تقاضا ہے کہ مکی دور سے مدنی دور تک کے تدریجی عمل کو سامنے رکھتے ہوئے شریعت کی بالادستی کو متاثر کیے بغیر پہلے شریعت کے اُن پہلوئوں کو نافذ کیا جائے جن کا تعلق اللہ کے بندوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ سے ہے، یعنی ان کے معاشی اور انسانی حقوق۔ اس کے بعد ان پہلوئوں کا نفاذ ہونا چاہیے جنھیں عام تصور میں شرعی نظام کہا جاتا ہے جس سے مغرب و مشرق اپنے خطرے اور خوف کا اظہار کرتا رہا ہے۔
ترکی کے تجربے میں ہمیں کیا مطالعاتی نکات ملتے ہیں، اور کیا مصر اور پاکستان کے مسائل کا حل ترکی کے تجربے کے دہرانے سے ہوسکتا ہے، ایک تفصیل طلب موضوع اور علیحدہ گفتگو کا مستحق ہے۔