انسانی تاریخ میں برپا ہونے والے انقلابات کا جائزہ لیا جائے تو یوں نظرآتا ہے جیسے مکافاتِ عمل کا ایک سلسلہ ہے جس پر غور کرنے سے کامیابی یا زوا ل اور تباہی کا راستہ واضح شکل میں نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے۔ اگر تاریخی حقائق سے آنکھیں بند کرلی جائیں تو سورج کی روشنی بھی منظر کو صاف طور پر نہیں دکھاسکتی۔ قرآن کریم نے اسی انسانی فطرت کے پیش نظر جگہ جگہ اور باربار نئے سے نئے پیرایے میں اہلِ دانش، اہلِ ہوش اور اہلِ فکر کو پکارا ہے: کدھر جارہے ہو؟ این تذھبون! آنکھیں کھولو، مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ، زمین کو، آفاق کو، اپنی ہستی کو تجزیاتی نگاہ کے ساتھ جائزہ لے کر دیکھو۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی تخلیق کردہ اشیا میں ایسی خوب صورتی ، ایسا تناسب، ایسا حُسن رکھ دیا ہے جو ہر دیکھنے والے کو اس کی قدرت، کمال اور قوت سے آگاہ کرتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ دیکھنے والے کے پاس نگاہِ بینا ہو اور اس نے عقل کے دروازے بند نہ کردیے ہوں۔ فرمایا گیا: دیکھو آسمانوں اور زمین میں، رات اور دن کے اختلاف میں منہ بولتی روشن نشانیاں ہر اُس فرد کے لیے رکھ دی گئی ہیں، جو سوچنے سمجھنے اور غور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ (اٰل عمرٰن ۳:۱۹۰)
کلامِ عزیز کی روشن آیات اور حق و صداقت کے یہ جواہر باشعور تحریکی کارکنوں کو متوجہ کرتے ہیں کہ جب تک وہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ: بازار میں اور دفتر میں، گھر میں اور مسجد میں، جہاں کہیں بھی ہوں، اس کی حمد، اس کے کلام پر غوروفکر اور اس کے حضور رات کی تنہائی میں اپنی بندگی کا ثبوت پیش نہیں کریں گے، ان کے کام میں برکت پیدا نہیں ہوگی۔
اس عظیم کتابِ ہدایت، ذکریٰ اور نور کے سایے میں زندگی گزارنے کا عہد کرنے والے ہرلمحے اپنے رب سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ انھیں ان افراد میں سے کردے، جنھیں وہ خود جہنم کی آگ سے محفوظ کر دے گا اور اپنے دامنِ عفو و مغفرت میں، اپنی اُس رحمت میں جس کی وسعتیں زمین اور آسمانوں کی مجموعی وسعتوں سے زیادہ ہیں، لیتے ہوئے نہ صرف اُخروی زندگی میں ہی نہیں بلکہ اس دنیا کی زندگی میں، یہاں کے کاروبارِ حیات میں شرمندگی اور ناکامی سے بچاتا رہے، اوران میں شامل نہ کرے جو اپنے اُوپر ظلم کرنے والے ہوں۔ ان ابدی کلماتِ ہدایت کو اگر روزمرہ کی زندگی کی سرگرمیوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو نقشۂ عمل بڑا واضح نظر آتا ہے۔
اس اعلانِ توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ کو اپنا رب ماننے والا ہر شخص اور خصوصیت سے تحریکِ اسلامی کا ہر کارکن اپنا جائزہ لے کر دیکھے کہ وہ جس مالک کی بندگی میں آنے کا اعلان زبان سے کرتا ہے، اُس عہد کا پاس کرتے ہوئے اُس نے اپنی زندگی کے ایک دن میں، ہفتے کے سات دنوں میں اور مہینے کے ۳۰دنوں میں کتنا وقت اپنے کاروبار اور پروفیشن کی ترقی میں صرف کیا، اور کتنے لمحات احتسابِ نفس کرتے ہوئے، اپنے ہرہرکام کو ستایش اور خودپرستی کی شکل میں نہیں، بلکہ اپنے کام میں کمی اور کمزوری تلاش کرنے میں صرف کیے۔
یہ کہنا بڑا آسان ہے کہ ہمارا واسطہ ایسے لوگوں سے ہے، جو بدنظمی کے عادی اور قانون شکنی پر فخر کرتے ہیں، جو مادیت کے غلام اور سیاسی مفادات کے بندے ہیں۔ یہ لوگ ہلڑبازی، ناچ گانے کے رسیا ہیں۔ ہماری باتیں سن کر ہوا میں اُڑا دیتے ہیں۔ بھلا ہم انھیں کیسے تبدیل کریں؟ کیوں نہ ہم بھی انھی نسخوں کو استعمال کریں؟ شاید اسی طرح بات دلوں میں اُتر جائے! لیکن وہ شعور جو قرآن کریم دیتا ہے وہ ایک نئے زاویے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ وہ حسنِ صوت کو تو تسلیم کرتا ہے لیکن چیخ پکار اور دھمکیوں کی سیاست کی جگہ حکمت ِدعوت اورموعظۂ حسنہ کی حکمت عملی سے روشناس کراتا ہے۔
یہ حکمت عملی وہی ہے جو انبیاے کرام ؑ نے ہر دور میں اختیار کی۔ یہ دعوت بھی وہی ہے جسے انبیاے کرام ؑ نے ہر دور میں اپنے دور کے اُن جباروں، ناچ گانوں کے رسیا اور اپنی ذاتی عظمت اور اپنی شخصیت اور بزعمِ خود اپنی کرشمہ سازی پر فخر کرنے والوں کے سامنے پیش کی۔ یہ لوگ انبیا ؑ کی دعوت کا مذاق اُڑانے کے عادی تھے۔ اس کے باوجود انبیاے کرام ؑ بددل نہیں ہوئے، مایوس نہیں ہوئے اور انھوں نے دعوت کا کام جاری رکھا۔ ایسے افراد ہر دور میں رہے ہیں اور دعوتِ دین کا اعجاز یہی ہے کہ وہ ایسے افراد کو جو گمراہی کے گرو سمجھے جاتے ہوں، انھیں خیارکم فی الاسلام میں تبدیل کردیتی ہے۔ یہ دعوت ان لوگوں کو جو ہادیِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کے پیاسے ہوں، پلک جھپکتے شمعِ رسالت کے پروانے بنادیتی ہے۔ یہی تو وہ چیلنج ہے، جسے ایک داعی اور ایک کارکن کو اپنے رب کی نصرت پر بھروسے کے ساتھ آگے بڑھ کر اختیار کرنا ہے۔ یہی اقامت ِ دین کا تقاضا ہے۔
اس دعوت اور دعوت کے طریق کار کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں نمود و نمایش اور ریا کا کوئی دخل نہ ہو۔ خودستائی اور ہربات کی تان ’میں‘ پر آکر نہ ٹوٹتی ہو۔ اس دعوت کے طریقے میں حکمت ِ دین کو اختیار کیا گیا ہو، یعنی دعوتی ترجیحات متعین ہوں اور ایک ترتیب سے ،ایک منصوبے کے تحت اقدامات کیے جائیں۔ اگر رب کریم نے ایسے مواقع پیدا کردیے ہوں کہ کسی مقام پر برسوں سے قابض سیاسی قوتوں کی نااہلی، خرابی اور بدمعاملگی کی بنا پر عوام کوئی اور راستہ تلاش کرنے لگے ہوں، تو ایسے حالات میں اپنے رب کے ساتھ اپنی وابستگی میں اضافہ، اپنی کمزوریوں کا جائزہ اور اس کی نصرت کے سہارے روشن مستقبل کی حکمت عملی پر بلاتاخیر دن رات کی محنت سے کام میں لگ جانا ہی دینی مصلحت ہے۔
اقامت ِ دین کی جدوجہد اور جہاد فی سبیل اللہ کو دن اور رات کی متاعِ حیات سمجھتے ہوئے اختیار کیا جائے، اس تگ و دو اور جہاد کا مقصد نہ محض حصولِ اقتدار ہو، نہ عوامی مقبولیت و شہرت، نہ علمی کمال کا اعتراف، بلکہ صرف اور صرف وتوفنا مع الابرار کی تمنا اور اس تمنا کی تکمیل کے لیے ہمہ تن شہادتِ حق میں مصروف ہوجانا ہو۔
اس جدوجہد میں مصروف ایک کارکن ہو یا قائد، اس کا ہر چھوٹا یا بڑا عمل، وہ جو عالم الغیب والشہادہ ہے ،اسے اپنے پاس محفوظ کرلیتا ہے اور ضائع نہیں ہونے دیتا۔ ایک عام دیکھنے والی آنکھ یہ سمجھتی ہے کہ اقامت ِ دین کی جدوجہد میں کسی اجتماع گاہ میں کرسیوں کی صف بنانا، یا دریاں بچھانا، یا شرکاے اجتماع کا خوش دلی سے استقبال کرنا ایک چھوٹا سا عمل ہے، لیکن وہ جو سراپا رحم و رحمت ہے، وہ ایسے کام کو بھی جس میں جیب سے ایک پیسا خرچ نہ ہو رہا ہو، ایک صدقہ قرار دیتا ہے۔ لکھنے والے اس چھوٹے سے عمل کو بھی ایسے لکھتے ہیں جیسے اس نے اپنی جیب سے سونے کا پہاڑ اللہ کی راہ میں انفاق کر دیا ہو۔
اقامت ِ دین کی مستقبل کی حکمت عملی کا ہدف جہاں اس دنیا میں متوقع نتائج کے تناظر میں ہونا ہے، وہاں اُس سے بھی زیادہ آخرت میں کامیابی کے نقطۂ نظر سے طے ہونا چاہیے۔ اس دنیا میں سیاسی اتحاد ہو یا معاشی اتحاد، وقتی افہام و تفہیم ہو یا طویل المیعاد اسٹرے ٹیجک تعاون، ایسے تمام معاہدوں پر غور کرتے ہوئے مقصود و مطلوب حصولِ اقتدار نہیں بلکہ حصولِ رضاے الٰہی ہونا چاہیے۔ اس جادۂ حق پر عمل کرتے ہوئے حصولِ مقصد کے لیے عمرنوح ہی کیوں درکار نہ ہو۔
یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے یہود و نصاریٰ کے حوالے سے بُرہانِ قاطع ہمارے سامنے رکھ دی ہے کہ وہ کبھی اسلامی جماعت کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔ اگر یہودو نصاریٰ کے رویے پر اصولی نقطۂ نظر سے غور کیا جائے تو وہ طرزِعمل غیریہودی اور غیرنصاریٰ میں بھی پایا جاسکتا ہے، یعنی جو اپنے وعدوں کو مسلسل توڑنے اور ان کے خلاف عمل کرنے کی ایک تاریخ رکھتے ہوں۔
اس تناظر میں تحریکاتِ اسلامی کو اپنے روشن مستقبل کے حوالے سے یہ سخت فیصلہ کسی نہ کسی مرحلے میں کرنا پڑتا ہے کہ ایک وقتی مفاد کو ترجیح دی جائے یا ابدی کامیابی کے لیے طویل جدوجہد کے راستے کو اختیار کیا جائے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جس میںحکمت دین (جو اللہ کی طرف سے ایک عطیہ ہے) کے ساتھ زمینی حقائق کا جامع علم رکھنا انتہائی اہم اور ضروری ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر کہیں مڈٹرم انتخابات کا معاملہ ہو تو اپنی مقبولیت و شہرت کا اظہار کرنے کے لیے ہرہرمقام سے افراد کو قیادت کے لیے کھڑے کر دینا جذباتی اعتبار سے تو شاید قابلِ فہم ہو مگر طویل عرصے کی حکمت ِعملی کے اعتبار سے محلِ نظر ہے۔ ہماری کامیابی کا انحصار اصولی اور اخلاقی برتری پر ہے، عوامی برتری پر نہیں۔ ممکن ہے قریب تک دیکھنے والی نگاہ کے لیے ایک اچھا کام ہو، لیکن وہ جو دُور رس نگاہ رکھتا ہو اس کے لیے فوری اور بھاری کامیابی کی جگہ وہ عمل جو چاہے چھوٹا نظرآئے مگر دیرپا ہو اور مطلوبہ تبدیلی کے لیے مؤثر ذریعہ بنے، کہیں زیادہ اہم ہے۔ انبیاے کرام ؑ اور اہلِ حق کی نظر ظاہری سے زیادہ اس کامیابی پر رہی ہے جو جوہری اعتبار سے دین کے قیام کے لیے ممدومعاون ہو اور سب سے بڑھ کر جو آخرت میں جواب دہی کے وقت ساتھ دے سکے۔ گویا سیاسی حکمت عملی ہو یا انسانوں کو دین کی طرف بلانے کے ذرائع، ہرشعبے میں اصل ہدف آخرت کی کامیابی اور ’ابرار‘ کے ساتھ جنت میں داخلے کی طلب ہو، تو پھر دنیوی اعتبار سے بھی مفید اور دیرپا اثرات رُونما ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی یہی توشۂ نجات ہوں گے۔ اس پس منظر میں ہماری کامیابی اور ناکامی کا معیار محض دنیا طلب قوتوں سے مختلف ہے۔ یہی وجہ ہے کبھی یہاں کی ظاہری ہاری ہوئی بازی بھی بہت بڑی کامیابی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
ایک ظاہربین نگاہ کے لیے تو قریب المیعاد کامیابی ہی قوت کا مظہر ہوتی ہے کہ کسی طرح اقتدار پر قابض ہوجائے۔ کسی طرح ایک مروجہ نظام کو چیخ پکار کے ذریعے ایک نام نہاد، غیرمنصفانہ، غیرجمہوری نظام قرار دے کر گلی کوچے میں ہلڑبازی کرنے والوں کی مدد سے گرا کر کرسیِ اقتدار پر قبضہ کرلیا جائے۔ مگر ایسی تبدیلی صرف قصرِاقتدار کے پہرے داروں کی تبدیلی ثابت ہوتی ہے۔ لیکن وہ جو بجاے خود نہ اقتدار کا طالب ہو، نہ سیدھے یا ٹیڑھے قوتِ نافذہ پر قبضہ کرلینے کو فتح سمجھتا ہو، بلکہ اُس کے لیے اصل مقصود اللہ رب العالمین کی رضا اور خوشنودی ہوتی ہے، وہ اُس راستے کو اختیار کرتا ہے جو چاہے طویل ہو لیکن ہرقدم انبیاے کرام ؑ کے نقوشِ پا کی پیروی میں آگے بڑھ رہا ہو۔
وہ جو روشن مستقبل اور اُخروی کامیابی کے لیے پکارتے ہیں، جو نمازوں میں خشیت اختیار کرتے اور اپنی عبادات میں توازن و اعتدال اختیار کرتے ہیں، جو اپنے وعدوں اور عہد کی پاسداری کرتے ہیں، جو اپنی پاک بازی پر قائم رہتے ہیں، جو اپنے اہلِ خانہ کو اپنے عمل سے دعوت دے کر نارِ جہنم سے بچانے والے ہوتے ہیں___ ایسے ہی اہلِ ایمان کے لیے کہا گیا ہے کہ اگر وہ اقامت ِ دین کی جدوجہد میں صرف ۲۰ افراد ہوں تو ۲۰۰ پر غالب آئیں گے۔ دنیا ہجوم جمع کر کے اپنی قوت کا مظاہرہ کرتی ہے اور غضب ناک ہجوم کے بل پر نظاموں کو تہس نہس کرنے کا اعلان کرتی ہے، جب کہ ربِ کریم ان اہلِ ایمان کی صرف ۲۰ کی نفری کو جنھیں ہم کسی شمارقطار میں نہیں لاتے ۲۰۰؍افراد پر بھاری ہونے کا فیصلہ فرماتے ہیں۔ سوچنا ہوگا کہ وہ ۲۰؍ افراد کیا اپنی قوتِ ایمانی، ایثار و قربانی، مقصد کی لگن، منزل کے واضح شعورسے کس حد تک آگاہ ہیں۔ اگر ان کا تصورِ منزل دھندلا گیا ہو، اگر ایثاروقربانی کی جگہ نفسا نفسی ہو، اگر قوتِ ایمانی کی جگہ محض افرادی قوت کو کامیابی کا پیمانہ بنابیٹھیں، تو یہ قصور حکمت ِعملی کا نہیں ان افراد کا ہے جو آغازِ سفر ہی کو اپنی منزل سمجھ بیٹھے ہوں۔
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جو راہِ حق میں داعی بن کر نکلا ہے، کیا اُس نے واقعی وہ ہجرت کی ہے جو اسے ان تمام تعلقات اور وابستگیوں سے آزاد کرے، جو ماضی میں اس کی زندگی کا حصہ رہی ہیں؟ کیا وہ اب بھی اپنے کاروبار میں وسعت و برکت کی بنا پر اپنے آپ کو طاقت ور انسان سمجھتا ہے؟ کیا وہ اب بھی قیادت و سربراہی کرنے والے افراد کے اردگرد رہ کر اپنے مستقبل کے روشن امکان تلاش کرتا ہے؟ کیا وہ منظرنامے میں نظر نہ آنے کو پسند کرتا ہے اور اُس اینٹ کی طرح جو منوں ملبے کے بوجھ تلے دب کر بنیاد کا حصہ بن جاتی ہے اور جسے کبھی کوئی پرچم لگاکر نمایاں نہیں کیا جاتا، خاموش کارکن کی حیثیت سے اپنے دعوتی کام میں مصروفِ عمل رہتا ہے۔ کیا وہ اللہ کی راہ میں باطل کے خلاف جدوجہد کرتے وقت نہ صرف اپنے وقت، اپنی صلاحیت، اپنے مال، بلکہ اپنی جان کو بھی بازی پر لگانے کے لیے تیار رہتا ہے۔
ایسے افراد کے لیے ان جنتوں کا وعدہ ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جہاں ہر وہ شے ہے جو ایک متلاشیِ حق کو خوش، مطمئن اور مسرور کرسکتی ہے۔ اس حقیقی منزل تک پہنچنے کا راستہ جس وادی سے گزرتا ہے، وہ یہی چند روزہ دنیا ہے جہاں اصل کارزارِ حیات حق و باطل کی کش مکش ہے۔ جہاں ایک شخص کو صرف اور صرف ہدایتِ الٰہی اور سنتِ رسولؐ سے اپنی حکمت عملی اور طریق کار کو اخذ کرنا ہے۔ ہمارے لیے غورطلب بات یہ ہے کہ کیا ہم ان ۲۰؍افراد میں سے ہیں جن کی کامیابی کا وعدہ وہ ہستی کر رہی ہے جس کا ہر وعدہ سچا ہوتا ہے!
اس منزل کے حصول کے لیے جو وصیت قرآن کریم فرماتا ہے وہ بڑی واضح، عملی اور جامع ہے، یعنی اہلِ ایمان کا صبر کی روش کو اختیار کرنا اور مضبوطی کے ساتھ، یکسو ہوکر اسلامی دعوت میں لگ جانا۔ موعظۂ حسنہ اور حکمت کے ساتھ دین کو بلاکسی تردد اور مداہنت کے پیش کرنا۔ وہ ایوانِ حکومت ہو یا عوامی اجتماع، حق کی بات کو پہنچانا اور اس میں کمی بیشی نہ کرنا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ بعض سیاسی اتحادوں سے وقتی فائدے ہوسکتے ہیں، جو شاید دعوت کی توسیع میں آسانی پیدا کردیں گی، اس کے باوجود ان قوتوں کے ساتھ شامل نہ ہونا جو اپنی ذاتی زندگی میں اور سیاسی تاریخ میں دین کا احترام نہ کرتی ہوں۔ عقل کہتی ہے کہ کشاکش کا حصہ بننے سے تنہا صدیوں تک جدوجہد کرنا زیادہ برکت کا باعث ہے۔
بلاشبہہ بعض مشروط اتحاد ایسے ہوسکتے ہیں جو وقتی مصلحت کی بنا پر کیے جائیں لیکن وہاں بھی اس بات کا خیال رکھنا کہ تحریک کسی ایسے کام میں تعاون نہ کرے جو دین کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہو۔ جس طرح کفر ملت واحدہ ہے ایسے میں قرآن کریم چاہتا ہے کہ اسلامی جماعت کے افراد کی پہچان صبر، ربط باہمی اور تقویٰ ہو: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ o (الِ عمرٰن ۳:۲۰۰) ’’اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو، صبر پر قائم ہوجائو، صبر پر ثبات کے ساتھ قائم رہو، آپس میں جڑجائو، ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح سے، تمھارے دل اور تمھارے احساسات سب یک جان ہوجائیں‘‘۔
اصْبِرُوْا کہنے پر اکتفا نہیں کیا گیا اور فوری طور پر کہا گیا وَ صَابِرُوْا، یعنی یہ ایک انفرادی صفت ِ محمودہ نہیں ہے بلکہ اسے اجتماعی طور پر اختیار کیے بغیر کامیابی نہیں ہوسکتی۔ اس صبر کا مفہوم نہ صرف انفرادی طور پر استقامت ہے بلکہ تحریک کا مجموعی طور پر اس طرزِعمل کو اختیار کرنا ہے جو اس کے اخلاص، تقویٰ، بے لوثی اور صرف اور صرف رضاے الٰہی کے حصول کا مظہر ہو۔
تحریکاتِ اسلامی کی مستقبل کی حکمت عملی میں جائزہ و احتساب کو مرکزیت حاصل ہے کہ ہماری آج تک کی پالیسی میں کہاں خلا تھا، کہاں عاجلانہ اقدام کیا گیا، اور کہاں مستقبل کے مطالبات کو سمجھتے ہوئے حکمت عملی اختیار کی گئی، جس کی بنیاد قرآن و سنت کے اصول ہوں، تو پھر وہ غیبی نصرت، جس کا وعدہ ماضی میں انبیاے کرام ؑ کی اُمتوں سے کیا گیا تھا، جس کا وعدہ اُمت محمدیہؐ سے کیا گیا ہے، وہ نصرت آئے گی۔
قوموں کی زندگی میں ایسے مواقع بارہا آتے ہیں جب دیکھنے والی آنکھ یہ سمجھے کہ ملک میں افراتفری ہے،قانون کو پامال کیا جا رہا ہے، حکومت اور مہذب معاشرہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر رہے، حکومت ماضی اور حال سے کوئی سبق لیے بغیر اپنی روش پر قائم ہے، معیشت غیرمستحکم ہے، ثقافتی یلغار جاری ہے۔ جس ملک کو پسندیدہ قرار دیا جاتا ہے وہ ہماری شہری آبادی پر بم باری کر رہا ہے اور سیاسی بیانات میں خصوصاً کشمیر کے حوالے سے وہ باتیں دہرا رہے ہیں جن کا ہرلفظ زہر، عناد اور تکبر سے بھرا ہوا ہے۔ ان حالات میں دارالحکومت میں دھرنے کی شکل میں دو سیاسی جماعتوں نے اپنی حمایت اور قوت کے مظاہرے کے ساتھ ایسی صورت حال پیدا کردی کہ اچھے خاصے باشعور افراد بھی ملک کی سالمیت، یک جہتی اور تحفظ کے حوالے سے خاصے فکرمند نظر آتے ہیں۔
اس تناظر میں کیا ایک عام شہری سیاسی منظرنامے کے پیش نظر مستقبل کو روشن اور کامیابی سے ہم کنار دیکھ رہا ہے یا اُس میں ہمت اور ارادے میں کمی اور شدید مایوسی کی کیفیت پیدا ہورہی ہے؟ اس حوالے سے برقی ابلاغ عامہ نے خصوصاً جو کردار ادا کیا ہے، قوم اسے کس نگاہ سے دیکھتی ہے، اور اس عرصے میں جو سیاسی مطالبات بار بار دہرائے جاتے رہے ہیں، ان کے کیا اثرات ملک کے اندر اور عالمی تناظر میں پاکستان کی تصویر (image) پر پڑ رہے ہیں؟ ملک میں سیاسی ارتقا کے نقطۂ نظر سے دو جماعتوں کی مہم جمہوری روایت کو تقویت دے گی یا تبدیلی یا انقلاب کا نعرہ دوبارہ قوم کو اُس مقام پر لاکھڑا کرے گا کہ ماضی کے چار مارشل لائوں کی طرح ایک مرتبہ پھر خدانخواستہ سیاسی بساط کو لپیٹ دیا جائے، اور فوج ملک کی نجات دہندہ بن کر ایک پیشہ ورانہ نمایندہ حکومت اپنی سرپرستی میں قائم کرنے کے بعد یہ طے کرے، کہ اسے دوبارہ اپنی بیرکوں میں واپس جانا ہے، یا ماضی کی طرح کم از کم ۱۰ برسوں کے لیے ملک میں اصلاح کے نام پر فوج کو سابقہ فوجی سربراہوں کی طرح جمہوریت کے احیا کے نام پر جمہوریت کا قتلِ عام کرنا ہے؟
یہ وہ چند سوالات ہیں جو آج قوم کے ہرباشعور فرد کو پریشان اور متفکر کر رہے ہیں۔ یہ سوالات کوئی نئے سوالات نہیں ہیں۔ ماضی میں جب بھی فوج نے سیاسی اقتدار سنبھالا تو اسی نوعیت کے سوالات قوم کے ذہن میں اُبھرے تھے۔ اب ان کی شدتِ تاثیر میں اضافہ ہوگیا ہے۔ برقی ذرائع ابلاغ عامہ مسلسل مایوسی اور الزام تراشی کو ہوا دے رہے ہیں۔ ایک جانب حکومت مخالف صحافتی اتحاد اور دوسری جانب حکومت حمایتی صحافتی اتحاد جس طرح حالات کا رُخ دکھا رہا ہے، اس نے ابلاغ عامہ کی غیرجانب داری اور معلومات کو ان کے صحیح تناظر میں پیش کرنے اور براہین پر مبنی واقعات پیش کرنے پر سے قوم کے اعتماد کو اُٹھا دیا ہے اور ابلاغ عامہ صحافتی دیانت (professional integrity) سے عوام کو حالات و واقعات سے مطلع کرنے کے بجاے خود سیاسی پریشر گروپوں کی شکل اختیار کرگئے ہیں۔
جب برقی ابلاغ عامہ دن کے کم از کم ۱۰ گھنٹے مسلسل دو متضاد تصاویر پیش کر رہے ہوں، ایک حکومت کے اقدامات کی توثیق اور عقلی جواز اور دوسری جانب چند ہزار افراد کے ایک ہجوم کا مطالبہ کہ اپنی ناکارہ کارکردگی کی بنا پر حکومت ِوقت مستعفی ہوجائے اور پانچ سال تک انتظار کرنے کے بجاے فوری طور پر مستعفی ہوجائے اور چند ماہ میں تازہ انتخابات کرائے جائیں، تو نہ صرف مغالطہ بلکہ حالات سے مایوسی کا رجحان بھی تقویت پکڑنے لگتا ہے۔
ان حالات سے نجات کی راہ کیا ہو اور کس طرح فوج کی دخل اندازی کے بغیر حالات کو صحت مند اور تعمیری رُخ پر لے جایا جائے؟ یہ وہ اہم سوال ہے جس پر ملک کے ہرباشعور شہری کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔
دو سیاسی جماعتوں کے گذشتہ مہینوں کے احتجاجی منظرنامے نے بعض بنیادی پہلو اُجاگر کیے ہیں۔ ایک یہ کہ ملک کے عوام پاکستان میں دو پارٹیوں اور فوج کے یکے بعد دیگرے ملک پر حکمرانی کرتے رہنے سے تنگ آچکے ہیں اور اب دو نام نہاد بڑی پارٹیاں عوام کے اعتماد سے محروم ہو چکی ہیں۔ دونوں کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ فرق صرف انیس بیس کا ہے۔ جب ایک پارٹی پانچ سال حکومت کرتی ہے تو لوگ ایک ایک دن گن کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں کب ان سے نجات دے گا، اور جب دوسری پارٹی برسرِاقتدار آتی ہے تو محض چند دن کے لیے تویہ احساس اُبھرتا ہے کہ شاید یہ اپنی ماضی کی غلطیوں پر نادم ہوکر قوم کو معاشی، سیاسی، اخلاقی اور اندرونی وبیرونی خطرات سے محفوظ کرنے میں کوئی پیش رفت کرے گی، لیکن چند ماہ کے بعد ہی یہ اُمید دم توڑتی نظر آتی ہے اور پھر تبدیلی کے انتظار کی گھڑیاں شروع ہوجاتی ہیں۔
لیکن آخر کب تک؟ یہی وجہ ہے کہ حالیہ احتجاج نے قوم کی ایک نفسیاتی ضرورت کو پورا کیا اور اسے بلندآواز سے یہ اعلان کرنے کا موقع دیا کہ وہ دو موروثی سیاست والی جماعتوں کی جگہ ایک تیسری نجات دہندہ قوت کی منتظر ہے۔ یہ ایک انتہائی مثبت طرزِعمل ہے جو اُبھر کر سامنے آیا ہے۔
اس فضا میں جو سوالات ہرباشعور شہری کے ذہن میں اُبھر رہے ہیں وہ بھی کچھ غیراہم نہیں ہیں، مثلاً یہ کہ ملک کی آبادی کا تقریباً نصف یا ۶۰ فی صد حصہ نوجوان آبادی کا ہے اور کم از کم ایک سیاسی پارٹی نے ان نوجوانوں کو سابقہ انتخابات اور حالیہ احتجاج کی مہم میں شامل کر کے اس بات کا ثبوت فراہم کیا ہے کہ اگر نوجوانوں کو صحیح طور پر متحرک کیا جائے تو ملکی حالات میں اصلاح کے لیے ایک تیسرے عنصر کا اُبھرنا اور کامیاب ہونا ایک ممکن بات ہے۔ بزرگ اور معمر سیاست کاروں کی سیاسی دانش مندی، تجربہ اور حکمت کے اعتراف کے ساتھ اب دَور نوجوان قیادت کا ہی ہے۔ اس لیے وہی سیاسی جماعت قیادت کی زیادہ مستحق ہوگی جو بڑی تعداد میں نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے کر ان کی قوت کو تعمیری رُخ دے اور روایتی سیاست سے ہٹ کر قومی مفادات کے حصول اور عوام کی مشکلات کے حل کے لیے خود قوم کی عملی شرکت کے ذریعے تبدیلی کی راہ ہموار کرے۔
یہ بات بھی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ تبدیلی کی ضرورت پر قومی اجماع ہے لیکن تبدیلی کون سی؟ اور نوجوانوں کو متحرک کرنے والا کون سا نعرہ؟مستقبل کی تعمیرواصلاح کی کون سی حکمت عملی اور کون سا ٹھوس قابلِ عمل منصوبہ قوم کو اس دلدل سے نکال سکے گا؟
۱۸ کروڑ انسانوں نے اپنی آنکھوں سے تبدیلی کے نام پر ہرشب نوجوانوں کو موسیقی اور رقص میں مصروف جو منظر دیکھا، اس پر قوم یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ تبدیلی لانے کے دعوے دار ایک جانب جس معاشی اور سیاسی حل کا ذکر کر رہے ہیں، کیا ان کے پاس کوئی واضح پروگرام ہے اور کیا ایسی ٹیم موجود ہے جو اہلیت اور دیانت کے ساتھ انقلابی تبدیلیوں کا سفر کامیابی سے انجام دے سکے؟ محض جوش اور بھنگڑوں کے ذریعے تو یہ کام انجام نہیں پاسکتا۔ اس کے لیے جہاں نوجوان خون ازبس ضروری ہے، وہیں مقصد اور منزل کا صحیح شعور رکھنے اور اعلیٰ صلاحیت اور اچھے اخلاق کی حامل نئی قیادت بھی بشرط لازم ہے۔ ضرورت ایسے نوجوانوں کی ہے جو اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے دیے ہوئے تصورِ پاکستان پرسنجیدگی سے یقین رکھتے ہوں۔ جن کے شب و روز اس ملک کی نظریاتی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں صرف ہورہے ہوں، جنھیں محض موسیقی اور رقص کی کشش کھینچ کر نہ لائی ہو بلکہ وہ سوچ سمجھ کر اس ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے ہرقربانی دینے کے لیے تیار ہوں اور جن سے اعلیٰ کارکردگی اور بہترین اخلاق دونوں کی توقع کی جاسکے۔
اس پہلو سے دیکھا جائے تو جس طرح ایک طوفان کی طرح تبدیلی کا نعرہ اُبھرا اور اسے پذیرائی ملی، اس رفتار سے شام کی محفلوں، بیانات اور عمل میں تضاد نے اُس تیسرے راستے (option ) کی اُمید کی لَو کو مدہم کردیا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ نوجوانوں کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے انھیں محض شورشرابے اور اُچھل کود کی جگہ ایک واضح نقشۂ عمل دے کر متحرک کیا جائے، تاکہ قوم مایوسی اور نااُمیدی سے نکل سکے اور نوجوان علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے تصورِ پاکستان کو عملی شکل دے سکیں۔
ملک کی دو آزمودہ سیاسی پارٹیوں اور دیگر جماعتوں نے اس سیاسی ارتعاش کے دوران جس عزم کے ساتھ دستورِ پاکستان کی پاس داری پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے، چاہے اس کا سبب ان کی اپنی کوئی ذاتی ضرورت ہی کیوں نہ ہو، اس کے باوجود یہ ایک قابلِ تحسین عمل ہے۔ اس کے مقابلے میں جن جماعتوں نے دستور اور اسمبلی کے ادارے کو یا عدلیہ کو نظرانداز کرتے ہوئے ماوراے دستور اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، شاید انھیں جلد یا بدیر اپنے موقف کی کمزوری کا احساس ہوجائے گا۔
سیاسی عمل کا تحفظ اور تسلسل ملکی مسائل کے دیرپا حل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ملک سے افلاس، بھوک، تعلیم کی کمی، مغرب کی اندھی تقلید اور غلامی، ریاستی اداروں کی کمزوری، فرقہ واریت، اسلام کے نام پر تشدد کا استعمال، اور تشدد کو دُور کرنے کے بہانے اسلام پر ہاتھ صاف کرنے کی خواہش، جہاد کو دہشت گردی سے وابستہ کرنا، بعض علاقائی اور قبائلی روایات کو پہلے اسلام قرار دینا اور پھر ان کے پردے میں دراصل اسلام پر تنقید کرنا، ان مسائل کو جو ہمارے آج اور مستقبل سے کوئی تعلق نہیں رکھتے، انھیں بلاضرورت اُبھار کر پیش کرنا___ یہ اور ان جیسے مسائل کا حل صرف ایک ہے کہ قوم کے سامنے ایک ایسا واضح اور قابلِ عمل نقشۂ کار پیش کیا جائے جو بجاے نظری حل پیش کرنے کے، عملی حل پیش کرے۔ پاکستان کی نظریاتی اساس کا فیصلہ تو مفکرِپاکستان علامہ اقبالؒ اور بانیِ پاکستان محمد علی جناحؒ کے ۱۰۰ سے زیادہ ارشادات کی روشنی میں قرارداد مقاصد اور دستور پاکستان میں دوٹوک الفاظ میں رقم کیا جاچکا ہے کہ اس ملک کی بنیاد صرف اور صرف اسلام ہے۔ اصل کرنے کا کام یہ ہے کہ دستور میں دیے ہوئے قومی پالیسی کے اصولوں کی روشنی میں عوام کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، مفاد پرست طبقات کی گرفت سے قوم کو نجات دلائی جائے اور تعمیرو تشکیلِ نو کے لیے صحیح ترجیحات کے تعین کے ساتھ ان پر عمل درآمد کے لیے حکمت عملی اور مدت کے تعین کے ساتھ نقشۂ کار پیش کیا جائے، تاکہ قوم جس تیسری قیادت کی تلاش میں ہے، اُس قیادت کی طرف سے قوم کے سامنے ایک قابلِ عمل منصوبہ آسکے۔ نعروں، احتجاجوں اور دھرنوں کی جگہ معاشی، معاشرتی، تعلیمی، قانونی، ضلعی سطح پر پیش آنے والے مسائل کے حل شریعت کی روشنی میں ترتیب دینے کے ساتھ، ملک کے نوجوانوں کو اُس تبدیلی کے عمل میں مصروف کیا جائے جو مصلحانہ جہاد کا درجہ رکھتی ہو۔
قرآنِ کریم نے ہمیں بار بار اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمت ِعملی شیطان کی سو حکمت ِعملیوں پر غالب ہوتی ہے۔ پاکستان لازمی طور پر ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جب عوام نے ایک تیسرے حل اور تیسری پسند کے بارے میں کھل کر حمایت کا اعلان کیا ہے۔ تحریکِ اسلامی نے اس بحران میں اللہ تعالیٰ کی مدد سے اپنے ناقدین اور حامیوں اور حمایتیوں دونوں کی نگاہ میں ایک اچھا مقام حاصل کیا ہے، اور آج پاکستانی عوام اس بات کے شاہد ہیں کہ سنجیدہ، بے لوث، قابلِ اعتماد اور تعمیری رُخ پر لے جانے والی قیادت تحریک میں موجود ہے۔
اس بات کی ضرورت ہے کہ بلاتاخیر ملک کے نوجوانوں کو تحریک سے وابستہ کرنے کے لیے شہروں اور ضلعوں کی بنیاد پر ایک منصوبۂ عمل بنایا جائے۔ اس میں اس بات کا خیال رہے کہ ہم کن تعمیری سرگرمیوں کو اختیار کرسکتے ہیں اور کم سے کم مدت میں نوجوانوں کی کتنی تعداد کو دعوتِ حق سے روشناس کرانے کے بعد ان کی زندگیوں میں عملی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ کردار کی تبدیلی اور خلوصِ نیت کے ساتھ اللہ کی بندگی اختیار کیے بغیر نوجوانوں کا کوئی جمِ غفیر ایک ہجوم تو فراہم کرسکتا ہے، حقیقی سماجی تبدیلی نہیں لاسکتا۔
آج تحریک کے لیے سنہری موقع ہے کہ تاریخ اسلامی تحریک کو ایک کلیدی کردار کی دعوت دے رہی ہے جس میں ملک و ملّت سے تمام مخلص اور خیرخواہ عناصر کو جمع کر کے اور نوجوانوں کی قوت کو صحیح طور پر منظم کر کے پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی اور جمہوری ریاست کی اس منزل کی طرف رواں دواں کیا جاسکتا ہے جو تحریکِ پاکستان کا اصل مقصد اور ہدف تھا۔
اس تبدیلی کی بنیاد محض ہمارے دعوے نہیں ہوسکتے۔ ہمیں قوم اور خصوصیت سے نوجوانوں کو متعین طور پر ایک ایسا منشور اور نقشۂ کار دینا ہوگا جو ان کی اُمنگوں، قوتوں اور صلاحیتوں کو تعمیری اور مثبت رُخ پر لے جائے، اور وہ ہنگاموں اور بھنگڑوں کی ثقافت سے نکل کر اقبال کے شاہینوں کی طرح نئے اُفق اور نئے محاذوں پر اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد کے سہارے ملک و ملّت کا پرچم سربلند کرسکیں۔
قرآنِ کریم تعداد کی قوت کی جگہ تقویٰ، ایمان، اخلاص اور ایثار و قربانی کی بنیاد پر ایک نئی نسل کی تعمیر چاہتا ہے۔ جیساکہ پہلے عرض کیا گیا وہ صرف ایسے ۲۰ باشعور، مخلص، عادل نوجوانوں کو تربیت دے کر یہ اصول بیان کرتا ہے کہ یہ ۲۰ اللہ کے سپاہی، ۲۰۰ مسلح اور اعلیٰ ٹکنالوجی سے لیس افراد کو بآسانی شکست دے سکیں گے۔ گویا سوال صرف ۲۰ نوجوانوں کا ہے۔ یہ تربیت یافتہ نوجوان جن کے سامنے منزل واضح ہو اور لائحہ عمل قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کرلیا گیا ہو، اپنے سے ۱۰گنا زیادہ باطل نظام کے ماننے والوں پر بھاری رہیں گے۔ یہ اعلان اُس کی طرف سے ہے جو انسانوں اور کائنات کا خالق ہے۔ جس کا ہر وعدہ سچا ہوتا ہے۔ کیا وقت نہیں آگیا کہ نوجوانوں کو متحرک و سرگرم کرکے ملک گیر پیمانے پر عوام کی انتظار کی گھڑیوں کا جواب فراہم کیا جائے!
قرآن کریم نے توحید کو انبیاے کرام ؑ کی دعوت کا مرکزی مضمون قرار دیا ہے۔ ہر دور میں ہراُمت کو دعوت دیتے وقت انبیاے کرام ؑ نے صرف یہی کہا : اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ (النحل ۱۶:۳۶)، یعنی ایک مثبت رویہ اور طرزِعمل کو اختیار کرتے ہوئے صرف اور صرف اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی بندگی اور اپنے آپ کو ہرقسم کے باغیانہ اور نافرمانی کے رویے سے نکال کر اللہ کی پناہ میں آجانا۔ اسلام اللہ کی بندگی، اللہ کی حاکمیت، ربوبیت اور آخرت میں مالکِ حقیقی ماننے اور اپنے عمل سے اطاعت کے رویے کے اظہار کا نام ہے۔ توحید کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ ہے کہ رب کریم اپنی رحمت و ربوبیت میں جوشِ کمال کے سبب یہ چاہتا ہے کہ اسے خوش کرنے کے لیے اس کے بندوں کی خلوص کے ساتھ مدد، رہنمائی اور دست گیری کی جائے۔ ایسا کرنے میں اللہ کا بندہ،نہ صرف ربِ کریم کے عبد کی حیثیت سے اس کی عبادت کر رہا ہوتا ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایک اعلیٰ صفت کو ادنیٰ انسانی درجے پر اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کے اخلاقِ حمیدہ کی پیروی کر رہا ہوتا ہے۔
تحریکِ اسلامی کی دعوت کا بنیادی نکتہ بھی اللہ تعالیٰ کی بلاشرکت غیربندگی اور اللہ کی حاکمیت کو زمین پر قائم کرنے کی جدوجہد کرنا ہے۔ تحریکِ اسلامی کے ہر باشعور کارکن کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ دین کی دعوت چند مراسمِ عبودیت کی طرف بلانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اللہ کے بندوں کو مشکلات سے نکالنے، ان کی خدمت کے ذریعے ربِ کریم کو خوش کرنے کا نام ہے۔ مکہ مکرمہ میں دعوتِ توحید محض نظری دعوت نہ تھی، بلکہ مظلوم کو ظالم کے چنگل سے نکالنے اور لوگوں پر سے بوجھ اُتارنے کا نام تھی۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے ہزارہا اشرفیاں ان معمر اور کمزور افراد کو رہا کرانے میں صرف کردیں جن سے انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اس طرح حضرت ابوبکرؓ نے خدمت ِ خلق اور رفاہِ عامہ کے کام کا اجر اپنے رب کے پاس محفوظ کرلیا۔
قرآنِ کریم کے بنیادی مضامین سے ایک اہم مضمون انفاق فی سبیل اللہ ہے جس کی وضاحت خود قرآن کریم نے کردی ہے: یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ط قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ ط وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ o (البقرہ ۲:۲۱۵)’’لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتہ داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہوگا‘‘۔
یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ فعل خیر کی اصطلاح کا استعمال حقوق العباد کی ادایگی میں غیرمعمولی وسعت پیدا کردیتا ہے: وَمَآ اَدْرٰکَ مَا الْعَقَبَۃُ o فَکُّ رَقَبَۃٍ o اَوْ اِِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ o یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ o اَوْمِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ o (البلد۹۰:۱۲-۱۶)’’ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوار گھاٹی؟ کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا، یا فاقے کے دن کسی قریبی یتیم یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا‘‘۔ یہ وہ فعلِ خیر ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْکَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّکُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ o(الحج ۲۲:۷۷) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو رکوع اور سجدہ کرو، اپنے رب کی بندگی کرو اور نیک کام کرو اسی سے توقع کی جاسکتی ہے کہ تم کو فلاح نصیب ہوگی‘‘۔
سورئہ ماعون میں مزید فرمایا گیا: اَرَئَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ o فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ o وَلاَ یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ o (الماعون۱۰۷:۱-۳)’’تم نے دیکھا اُس شخص کو جو آخرت کی جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اُکساتا‘‘۔
اس سے معلوم ہوا کہ یومِ آخرت اور دین کا انکار صرف اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان سے انکار تک محدود نہیں، بلکہ حقوقِ انسانی کی ادایگی کے لیے اللہ اور اس کے رسولؐ نے جو احکام دیے ہیں ان کا مکمل اہتمام بھی ضروری ہے، اور مسکین کو کھانا نہ کھلانا اور یتیم کے حقوق کی ادایگی کا اہتمام نہ کرنا بھی دین اور آخرت کے انکار کے مترادف ہے۔ حقوقِ انسان کی ادایگی کے لیے اس سے بڑا چارٹر اور کون سا ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ پاک میں ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ اقامت ِ صلوٰۃ اور انفاق کا حکم دیا گیا ہے اور یہ ناقابلِ تقسیم ہے۔ حقوق العباد کی ادایگی کے بغیر ایمان کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔
حدیث فعلِ خیر کی مزید وضاحت کرتی ہے اور اہلِ ایمان کو اللہ کے بندوں کے حوالے سے ذمہ داریوں سے آگاہ کرتی ہے کہ ربِ کریم جو رحمت ہی رحمت ہے، کرم اور بندوں کی بھلائی کے جذبے سے بھرپور ہے، ہم سے کیا توقع رکھتا ہے۔
حدیث قدسی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انسان سے کہے گا: اے ابن آدم! میں بیمار پڑا رہا لیکن تو نے میری عیادت نہیں کی۔ انسان گھبرا کر عرض کرے گا: اے میرے رب! تو سارے جہانوں کا پروردگار، تو کب بیمار تھا اور میں تیری عیادت کیسے کرتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے نہیں معلوم تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے لیکن اس کے باوجود تو اس کی تیمارداری کے لیے نہیں گیا۔ اگر تو اس کے پاس جاتا تو مجھے وہاں پاتا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے مجھے کھانا نہیں دیا۔ انسان عرض کرے گا: اے رب العالمین! تو کب بھوکا تھا اور میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے یاد نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا طلب کیا تھا لیکن تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا۔ اگر تو نے اس کا سوال پورا کیا ہوتا تو آج اس کا ثواب یہاں پاتا۔
اسی طرح رب العالمین فرمائے گا: اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔ انسان عرض کرے گا: اے دوجہاں کے پروردگار! تو کب پیاسا تھا اور میں تجھے پانی کیسے پلاتا؟ فرمایا جائے گا: میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی طلب کیا تھا لیکن تو نے اس کی پیاس بجھانے سے انکار کر دیا تھا۔ اگر تو نے اس کی پیاس بجھائی ہوتی تو آج اس کا ثواب پاتا‘‘۔(مسلم، کتاب البر والصلۃ)
حدیث قدسی واضح پیغام دے رہی ہے کہ اگر اللہ کو خوش کرنا ہے تو اس کا راستہ اس کے بندوں کی خدمت ہے۔ جب اہلِ ایمان کی جماعت زمین پر بسنے والوں سے رحمت و شفقت کا سلوک کرے گی تو الرحم الراحمین جو سراپا عفو و درگزر اور محبت و کرم ہے وہ زمین پر بسنے والوں پر رحمت کرے گا۔ اگر ایک ملک میں سیلاب نے تباہی مچائی ہو، اللہ تعالیٰ کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کے سبب اللہ کی طرف سے ایک سخت انتباہ (red warning) کے طور پر پانی کے ریلے نے اللہ کے بندوں کو، حیوانات کو گھر سے بے گھر کر دیا ہو، تو عقل کا تقاضا ہے کہ نہ صرف اس پیغام کو سمجھا جائے، بلکہ جو لوگ سیلاب سے متاثر نہ ہوئے ہوں وہ اپنے رب کا شکر ادا کرنے اور متاثرین کی امداد کے ذریعے اپنے رب کو خوش کرنے کے لیے گھروں سے نکل آئیں۔
اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ وہ جب کسی آبادی میں ظلم، حقوق کی پامالی، اپنے احکامات کی خلاف ورزی، سودی کاروبار، فحاشی اور عریانی کو حد سے گزرتا دیکھتا ہے، تو وہ آبادی والوں کو مختلف آفات کے ذریعے متنبہ کرتا ہے کہ وہ سنبھل جائیں اور جس دنیاطلبی، منافع خوری اور دولت کے جمع کرنے کے لیے وہ بڑی بڑی زمینوں پر کاشت کاری اور کئی کئی منزلہ مکانوں کی تعمیر کے ذریعے اپنی بڑائی اور تکبر کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، ان سب کو پانی کے ایک ریلے سے تباہ کردیتا ہے کہ انسان سبق لے اور اس کی طرف لوٹ آئے۔ دوسری جانب دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والے دل رکھنے والوں کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ سیلاب سے بچ گئے تو ان کی نجات ہوگئی۔ جب تک وہ اپنے فرائض، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو جیساکہ ان کا حق ہے، ادا نہیں کریں گے وہ بھی خطرے سے محفوظ نہیں ہوسکتے ۔ اگر کسی رحم و کرم کی بنا پر ان کی گرفت فوری طور پر اس دنیا میں نہیں ہوسکی تو بہرصورت آخرت میں اللہ کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ بلاشبہہ اللہ کی گرفت سب سے زیادہ شدید گرفت ہے اور اُس سے بچنے کے لیے اگر انسان اس دنیا میں اپنی تمام جمع کردہ پونجی بھی لگا دے تو سودا بہت سستا ہے۔
قرآن و سنت کا بڑا واضح رجحان یہ نظر آتا ہے کہ وہ ایک بندئہ مومن اور خصوصاً ان افراد میں جو اپنے آپ کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ تصور کرتے ہیں، اجتماعیت کا احساس جاگزیں کرنا چاہتا ہے۔ اسلام کی اعلیٰ پہچان اس کی اجتماعیت میں ہے جو اس کے ہرہر مطلوب عمل میں پائی جاتی ہے۔ وہ نماز ہو، روزہ ہو، حج ہو یا جہاد، اجتماعیت کے بغیر اس سے صحیح استفادہ نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام میں عبادات جہاں انفرادی نجات کے لیے ضروری ہیں وہیں اجتماعی فلاح کا بھی ذریعہ ہیں، اور ان دونوں کے درمیان کوئی تفریق جائز نہیں۔ اس کا اظہار پانچ وقت اذان کے کلمات میں بھی صاف نظر آتا ہے۔ اس اجتماعیت میں قرآن کریم نہ صرف خاندان کی مرکزیت کو بلکہ خاندان سے باہر کے حلقے کے افراد کو بھی شامل کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اہلِ ایمان اُس فطری داعیے کو جو اپنے والدین یا اولادکی ضروریات پورا کرنے کا انسانوں ہی میں نہیں حیوانات تک میں پایا جاتا ہے، اسے مزید آگے بڑھائیں اور اللہ کی مخلوق کو اس میں اہم مقام دیں۔ فرمایا گیا: ’’اور تم سب اللہ کی بندگی کرو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو، ماں باپ کے ساتھ نیک برتائو کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آئو، اور پڑوسی رشتہ دار سے ، اجنبی ہمسایے سے ، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان خدمت گاروں سے جو تمھارے قبضے میں ہوں احسان کا معاملہ رکھو۔ یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے‘‘۔ (النساء ۴:۳۶)
اس آیت مبارکہ میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی بندگی اور اطاعت کے مطالبے کے فوراً بعد جس فریضے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ والدین کے ساتھ احترام، خدمت اور بھلائی کا رویہ ہے۔ پھر اسے مزید وسعت دیتے ہوئے اجتماعیت کی روح پیدا کرنے کے لیے حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ اقربا جو رشتہ دار بھی ہوں اور پڑوس میں بھی ہوں، اور پھر وہ جو رشتہ دار تو نہ ہوں لیکن صرف پڑوسی ہوں، پھر جو مستقل پڑوسی نہ ہوں بلکہ وقتی طور پر پڑوسی بن گئے ہوں جیسے ویگن میں سفر کرتے وقت برابر بیٹھا شخص یا ٹرین یا جہاز میں ساتھ سفر کرنے والا، ان سب کے حقوق ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ گھر کے خدمت گار ہوں، یا جن پر ایک شخص کو حاکم بنا دیا گیا ہو اس کے تمام ماتحت، ان کے ساتھ بھلائی کا رویہ اور ان کی خدمت اختیار کی جائے تاکہ صحیح اجتماعیت معاشرتی فلاح کی ضامن ہو۔
معاشرے کے بے بس، ضرورت مند افراد کی امداد اور مصیبت زدہ افراد کو وسائل فراہم کرنا اللہ کی مخلوق کے حقوق میں شامل ہے۔ یہ کسی پر احسان کرنا نہیں ہے بلکہ خود اپنے اُوپر احسان کرنے کی ایک شکل ہے۔ اسی بات کو کئی مقامات پر یوں فرمایا گیا کہ ’’ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے‘‘۔ (المعارج ۷۰:۲۵)
اسی تصور کو قرآن کریم نے انفاق فی سبیل اللہ کی جامع اصطلاح سے بیان کیا ہے کہ ’’لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتہ داروں پر، یتیموں اور مسکینوں او ر مسافروں پر خرچ کرو۔ اور جو بھلائی [خیر] بھی تم کرو گے اللہ اس سے باخبرہوگا‘‘۔ (البقرہ ۲:۲۱۵)
اسی سورۃ میں چند آیات کے بعد دوبارہ اس طرف متوجہ فرماتے ہوئے کہا گیا: ’’پوچھتے ہیں ہم راہِ خدا میں کیا خرچ کریں؟ کہو: جو کچھ بھی تمھاری ضرورت سے زیادہ ہو‘‘۔ اس طرح اللہ تمھارے لیے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے شاید کہ تم دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرو‘‘۔(البقرہ ۲:۲۱۹)
یہاں قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ نہ صرف ان رشتوں پر جو معروف ہیں بلکہ ان اللہ کے بندوں پر جو اجنبی اور غیرمعروف ہیں، خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی اور اللہ کو خوش کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ مزید یہ کہ ایک شخص کی اپنی ضروریات سے زائد جو کچھ بھی ہو وہ اسے اللہ کی راہ میں لگادے تاکہ یہ عملِ خیر اس کے لیے توشۂ آخرت بن جائے۔احادیث صحیحہ بھی اسی بات پر زور دیتی ہیں کہ ایک شخص اگر حلال کمائی خود اپنی اولاد اور بیوی پر اور ماں باپ پر خرچ کرتا ہے تو یہ ایک قسم کا صدقہ ہے۔ اسی طرح اپنے ایک بھائی سے مسکرا کر ملنا بھی صدقہ ہے۔
صدقے کا غلط العام تصور جو ہمارے ہاں پایا جاتا ہے اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ صدقہ دراصل سچائی کے ساتھ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ایک کام کا کرنا ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا: وَ اٰتُوا النِّسَآئَ صَدُقٰتِھِنَّ نِحْلَۃً (النساء ۴:۴) ’’اور عورتوں کے مہر صدقِ دل کے ساتھ (فرض جانتے ہوئے) ادا کرو‘‘۔
صدقِ دل کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ لینا دوہرے اجر کا باعث ہے۔ جہاد بجاے خود وہ عمل ہے جس کو قرآنِ کریم نے سب سے افضل قرار دیا اور پھر اسے صدقِ دل سے کرنا، اپنے وقت کا، مال کا اور اپنی جان کا صدقہ ہے۔یہ صدقہ نہ صرف قابلِ محسوس اور قابلِ پیمایش (measurable) اعمال میں ہے، بلکہ اجتماعیت کی روح پیدا کرنے والے رویوں میں بھی ہے۔ اگر ایک صاحب ِ ایمان اپنے بھائی یا بہن کو مسکراہٹ کے ساتھ خوش آمدید کہتا ہے تو اس کا مسکرانا صدقہ ہے۔ سبحان اللہ، وہ دین کتنا اعلیٰ ہوگا جو مسکراہٹ کو بھی عبادت کا حصہ بنادے اور اپنے پاس سے ایک روپیہ خرچ کیے بغیر محض اپنے بھائی کو دیکھ کر محبت و الفت کے اظہار کے لیے مسکرانے کو صدقہ قرار دے دے۔
احادیث ِ شریفہ میں خدمت ِ خلق اور رفاہِ عامہ کے لیے اپنے مال، وقت، صحت کو لگانا صدقہ قرار دیا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں رفاہی کاموں کا براہِ راست تعلق اللہ تعالیٰ کی بندگی، اس کی حاکمیت اعلیٰ کے قیام، اور ایک بندے کی عاجزی اور صرف اللہ کو خوش کرنے کے لیے انسانوں کی خدمت کرنے کے عمل کے ساتھ ہے۔ حضرت ابوموسیٰ الاشعریؓ سے روایت ہے، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہر مسلمان پر صدقہ کرنا واجب ہے۔ اس پر صحابہ نے سوال کیا کہ اگر کسی کے پاس صدقے کے لیے کچھ نہ ہو تو کیا کرے؟ فرمایا: اپنے ہاتھ سے کوئی کام کرے ،جو ملے ا س سے خود بھی فائدہ اُٹھائے اور دوسروں پر خرچ کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: اس کی بھی طاقت نہ ہو تو کیا کیا جائے؟ فرمایا: کسی ضرورت مند اور مصیبت زدہ کی (مال کے علاوہ کسی اور طریقے سے) مدد کرے۔ عرض کیا گیا: اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو کیا کیا جائے؟ فرمایاکہ: معروف کا حکم دے۔ عرض کیا گیا کہ: اگر کوئی شخص یہ بھی نہ کرسکے تو اس کے لیے کیا ہدایت ہے؟ فرمایا: وہ بُرائی سے رُک جائے۔ یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔(بخاری، کتاب الادب، باب کل معروف صدقہ، مسلم، کتاب الزکوٰۃ)
موجودہ حالات میں اس حدیث کی صداقت اُبھر کر سامنے آتی ہے کہ لاکھوں کروڑوں میں کھیلنے والا ایک شخص ہو یا بمشکل نان جویں پر گزربسر کرنے والا شخص، حتیٰ کہ ایک ایسا شخص بھی جو یہ بھی نہ کرسکتا ہو کہ کسی کو بھلائی کا حکم دے، دعوتِ دین دے، دین کا علم سکھائے، تو ایسا شخص بھی اللہ تعالیٰ کو خوش کرسکتا ہے صرف اپنے آپ کو بُرائی سے روک کر۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ الرحم الراحمین کس کس طریقے سے اپنے بندوں پر رحم و کرم کرنا چاہتا ہے کہ اگر ایک شخص نے کسی مصیبت زدہ کی، سیلاب سے متاثر خاندان کی مالی مدد کر دی، کھانا کھلا دیا، کپڑا دے دیا، تو یہ لازماً صدقہ ہے۔ لیکن اگر وہ یہ سب کچھ نہ کرسکے اور صرف ان مصیبت زدہ افراد کا ہاتھ پکڑ کر سواری پر سوار کرا دے تو یہ بھی صدقہ ہے۔
ایک دوسری حدیث میں یہی بات فرمائی گئی ہے کہ کسی کو سواری پر سوار کرا دینا بھی صدقہ ہے۔ راستے سے ایک کانٹے یا پتھر کا ہٹانا بھی صدقہ ہے، تاکہ معاشرتی ذمہ داری کا احساس پیدا ہو اور ایک صاحب ِ ایمان اپنی ذات سے باہر نکل کر یہ سوچے کہ وہ معاشرے کو کیا دے رہا ہے۔ معاشرے کی بھلائی کے لیے کون سے کام کر رہا ہے، یا وہ صرف روزمرہ کی دفتری کارروائیوں کی حد تک اسلام پر عامل ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمام مخلوق اللہ کی عیال (کنبہ) ہے، سو ان میں سے اللہ کو سب سے زیادہ پیارا شخص وہ ہے جو اُس کے عیال کو زیادہ نفع پہنچانے والا ہے‘‘۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص دنیا میں کسی مومن کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دُور کرے گا، جو شخص کسی مشکل میں پھنسے ہوئے آدمی کو آسانی فراہم کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے لیے آسانی فراہم کرے گا۔ جو کسی مسلمان کی سترپوشی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی سترپوشی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگارہتا ہے‘‘۔ (مسلم، کتاب الذکر والدعا)
حدیث کے آخری کلمات غیرمعمولی طور پر تحریکِ اسلامی کے کارکنوں کے لیے حکم کا درجہ رکھتے ہیں اور آج ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی نفسا نفسی کا حقیقی علاج ہیں، یعنی جب تک ہم اپنے بھائی کی مدد، اس کی مشکل کے حل اور اس کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہیں گے، تو خود ہمارے لیے اللہ تعالیٰ آسانیاں پیدا کرتا رہے گا۔ جب اجتماعیت کو چھوڑ کر ہم فرد بن جائیں، محض اپنی نجات ، محض اپنے مفاد کی فکر ہوگی، تو اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت اور حمایت بھی حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس حدیث کی تائید اُس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لَایَرْحَمُ اللّٰہُ مَنْ لَّا یَرْحَمُ النَّاسُ، یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم نہیں فرماتا جو انسانوں پر رحم نہیں کرتا۔ (بخاری، کتاب التوحید)
جو لوگ آفات و مصائب کا شکار ہوں، جو گھر سے بے گھرہوگئے ہوں، جن کے مویشی سیلاب میں بہہ گئے ہوں، جن کے کھیت اور گھر طوفانی پانی کی نذر ہوگئے ہوں، ان سے زیادہ امداد کا مستحق کون ہوسکتا ہے۔ تحریکِ اسلامی کے کارکنوں کے لیے اسلام کی دعوت ان مصائب کے شکار افراد کی دلجوئی، ان کی مالی اور جسمانی مدد ہے لیکن یہ اُسی وقت تک عبادت ہے جب اس سے کوئی غرض وابستہ نہ ہو۔ نہ ستایش نہ تمغہ، نہ سرٹیفیکیٹ، یا کوئی سیاسی مفاد بلکہ صرف اور صرف اللہ رب العالمین کو خوش کرنے کے لیے اس کے بندوں کی خدمت۔
ایک آخری بات یہ کہ اللہ کے بندوں کی خدمت اور امداد کرتے وقت تحریکی کارکنوں اور اداروں کو (مثلاً الخدمت) یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آفات و مصائب میں گرفتار افراد میں سے بعض تو وہ ہوں گے جو خود آگے بڑھ کر امداد طلب کریں گے یا اُس کے خواہاں ہوںگے لیکن کچھ افراد ایسے بھی ہوں گے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے یا اپنا دُکھ درد بیان کرنے سے گریزاں ہوں گے۔ ایسے سفیدپوش ،خوددار، غیرت مند، قناعت کرنے اور سوال نہ کرنے والے افراد کو نظرانداز کرنا اور بظاہر ضرورت مند نہ سمجھنا قرآنی دعوت کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ نہ صرف ان کی جو آنکھوں کے سامنے امداد کی توقع کر رہے ہوں، بلکہ ان کی بھی جو آگے بڑھ کر امداد مانگنے سے گریز کریں ، یکساں بلکہ زیادہ امداد کی جائے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گھِر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسب ِ معاش کے لیے زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے۔ ان کی خودداری دیکھ کر ناواقف آدمی گمان کرتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں۔ تم ان کے چہروں سے ان کی اندرونی حالت پہچان سکتے ہو مگر وہ ایسے نہیں ہیں کہ لوگوں کے پیچھے پڑ کر کچھ مانگیں۔ ان کی اعانت میں جو کچھ مال تم خرچ کرو گے وہ اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گا‘‘۔ (البقرہ ۲:۲۷۳)
خدمت ِ خلق اسلامی دعوت کا ایک لازمی جز ہے۔ تحریکاتِ اسلامی کے کارکنوں کی ترجیحات میں اس کا مقام اعلیٰ ہونا چاہیے اور ربِ کریم کے حضور اس کا اجر اس کی خصوصی رحمت کی بناپر حدوشمار سے زیادہ ہے۔ اس لیے ایسے مواقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے، جن میں حقوق العباد کی ادایگی کے ذریعے، ہم معاشرے میں بھلائی اور نیکی پھیلانے کا کام صداقت اور دل کی یکسوئی کے ساتھ کرسکیں۔ اگر دیکھا جائے تو تحریکِ اسلامی کی دعوت اس کے سوا کیا ہے کہ لوگوں کو موعظۂ حسنہ کے ذریعے نصیحت کی جائے۔ خود ایسا کرنا بھی صدقہ اور عبادت کا حصہ شمار کیا جاتا ہے۔
حضرت تمیم بن ادس الداریؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین سراپا خیرخواہی [نصیحۃ] ہے۔ صحابہؓ کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: کس کے لیے خیرخواہی ہے؟ فرمایا: اللہ کے لیے، اس کے رسول ؐکے لیے، اللہ کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے سربراہوں کے لیے، اور اُمت کے عام لوگوں کے لیے۔(بخاری)
عام مسلمانوں کی خیرخواہی یہی ہے کہ ان کے معاشی، معاشرتی اور سیاسی حقوق کے حصول میں ان کی مدد کی جائے۔ ان کے مسائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں حل کیا جائے، اور رحم و شفقت کے رویے کے ساتھ ہر مصیبت زدہ کو مصیبت سے نجات دلانے میں اپنی تمام قوت صرف کردی جائے۔ معاشرے میں ظلم و استحصال کا خاتمہ اور عدل و سلامتی کے نظام کے قیام کی جدوجہد اس نصیحت کا لازمی جزو ہے۔ یہی وہ دین کی اجتماعی فکر ہے جس کی بنا پر مسلمان ایک جسدِ واحد کی طرح ہوجاتے ہیں کہ اگر جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو تمام جسم اس کی کسک کو محسوس کرے، اور ایک صاحب ِ ایمان اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہو۔
اگست ۲۰۱۴ء کا یہ مہینہ پاکستان پر بہت ہی بھاری پڑا ہے۔ اس وقت ملک اور قوم جس خطرناک صورتِ حال سے دوچار ہیں، اس پر ہر محب وطن دل گرفتہ اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دست بہ دُعا ہے کہ حکومت اور اسے چیلنج کرنے والے دونوں ہی گروہ ذاتی اور گروہی مفادات اور اَنا کے ہر جذبے سے بلند ہوکر، اس ملک کے مفاد میں، جو تاریخ اور ملت اسلامیہ پاک وہند کی ہم سب کے ہاتھوں میں بڑی قیمتی امانت ہے، افہام و تفہیم کے ذریعے دستور، قانون اور اجتماعی اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی حل نکالیں، اور جو خطرات سیاسی اُفق پر منڈلا رہے ہیں ان کے پورے اِدراک کے ساتھ تصادم اور خون خرابے کی ہرشکل سے اجتناب کریں۔ جماعت اسلامی نے الحمدللہ اس زمانے میں مفاہمت اور مسائل کے سیاسی حل کے لیے جو کوششیں بھی کی ہیں ہم ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ ان شاء اللہ ان کے اچھے نتائج نکلیں گے۔ جماعت اسلامی اس جدوجہد میں تنہا نہیں، دوسری سیاسی اور دینی قوتیں بھی اپنااپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ہمیں توقع ہے اور شب و روز اللہ تعالیٰ سے دُعا کررہے ہیں کہ وہ ان کوششوں کو بارآور فرمائے اور یہ ملک تصادم، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، تنقید اور تنقیص میں ہرحد کو پامال کردینے اور کفن اور قبرستان کے المیے سے بچ جائے، اور ملک و ملت کے بدخواہ جو خطرناک کھیل پورے عالم اسلام میں کھیل رہے ہیں اس سے پاکستان محفوظ رہے۔ بلاشبہہ حالات بے حد سنگین ہیں لیکن ہمیں اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اور ہرسطح پر اپنی کوششوں کو جاری رکھنا چاہیے۔ ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بے حدوحساب ہے اور اس کا ارشاد بھی یہی ہے کہ اہلِ ایمان کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں (لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ط الزمر ۳۹:۵۳)۔
یہ صورتِ حال کیوں رُونما ہوئی، بگاڑ کے اس مقام تک پہنچنے میں کس نے کیا اور کتنا کردار ادا کیا اور مسئلے کے مستقل حل خصوصیت سے نظامِ حکمرانی کی اصلاح، حقیقی اسلامی جمہوریت کے فروغ، اور ایک عوام دوست فلاحی معاشرے کا قیام، انتخابی نظام کی تشکیلِ نو، سیاسی اختلاف اور تبدیلی کے طریقے کے بارے میں صحیح حدود کا تعین اور ان کے مطابق عملی جدوجہد کے آداب کا تعین اور ان کا احترام، اختلاف کی حدود اور تنقیدواحتساب کی زبان___ یہ سب وہ اُمور ہیں جن پر کھل کر بات کرنے اور قومی اتفاق راے کے ذریعے سیاست کو صحیح خطوط پر استوار کرنے، اور ہرسطح پر اور ہر قوت کے لیے دستور اور قانون کی حدود میں رہ کر اپنے اپنے پروگرام کے مطابق جدوجہد کرنے کے مکمل اور کھلے مواقع فراہم کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ ان شاء اللہ !
آیندہ ہم ان اُمور کے بارے میں اپنی معروضات پیش کریں گے لیکن اس وقت اللہ تعالیٰ سے ہدایت، رہنمائی اور توفیق کی دعائوں کے ساتھ حکومت اور اسے چیلنج کرنے والی قوتوں سے پوری دل سوزی کے ساتھ یہی درخواست کرتے ہیں کہ تصادم سے ہرقیمت پر پرہیز کریں۔ ہرپارٹی چند قدم پیچھے ہٹائے اور ملک و قوم کے اعلیٰ مفاد میں بیچ کا راستہ نکالنے اور ماضی کے اُمور پر انتقام کی جگہ آگے کے حالات کی اصلاح کو اولیت دے۔ احتساب ضرور ہونا چاہیے لیکن اس کے لیے بھی مناسب ماحول بنانا ضروری ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ احتساب قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے، ورنہ احتساب انتقام بن جاتا ہے جو بڑے فساد کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اس سے بچنا اس وقت ہم سب کے لیے ضروری ہے۔
ان حالات میں، اس دُعا اور گزارش کے ساتھ ہم اس مہینے کے ’اشارات‘ کو کچھ اصولی باتوں کی یاددہانی کے لیے مخصو ص کر رہے ہیں تاکہ ہم سب اپنا اپنا جائزہ لے سکیں اور نفس کی اُکساہٹوں سے بلند ہوکر اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ ایک مظلوم قوم اور ملک کے مفاد کی خاطر وہ راستہ اختیار کریں جو فساد سے پاک اور خیروصلاح کی راہوں کو استوار کرنے کا ذریعہ بن سکے۔ رَبَّنَا ظَلَمْنَـآ اَنْفُسَنَا سکتۃ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ o (اعراف ۷:۲۳) ’’اے رب، ہم نے اپنے اُوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقینا ہم تباہ ہوجائیں گے‘‘___ (مدیر)
قرآنِ کریم نے اہلِ ایمان کی جماعت اور معاشرے کو باہم دگر محبت ، نرمی، رواداری، گرم جوشی، عفو و درگزر اور اخوت و یک جائی کی صفات سے متصف جماعت قرار دیا ہے۔ یہ وہ پہلو ہیں جو اہلِ ایمان کے اپنے رب کو رب مان کر اس پر مستقیم ہوجانے اور اپنی عبادات اور قربانیوں کو صرف اللہ کے لیے خالص کردینے کے نتیجے میں شخصیت کا لازمی حصہ بن جاتے ہیں۔ ان صفات پر مبنی جماعت جہاں آپس میں ریشم کی طرح نرم ہوتی ہے، وہاں ایک محبت کرنے والے باپ کی طرح بیک وقت گرفت کرنے والی اور شفیق، اور ایک درگزر کرنے والے بھائی کی طرح نظرانداز کرنے والے معاشرے کی مثال ہوتی ہے۔
ربِ کریم نے اس جماعت کے بارے میں یوں بیان فرمایا : مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ (الفتح ۴۸:۲۹) ’’محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں اہلِ ایمان کی دو بنیادی صفات کو، جو ان کی پہچان قرار دی گئی ہیں نمایاں کیا گیا ہے۔ ایک مثبت صفت جس کا تعلق ان کے باہمی تعلقات اور معاملات سے ہے۔ یہ ہے کہ جب وہ آپس میں کوئی معاہدہ کرتے ہیں تو اپنے جائز حق کو بھی اپنے بھائی کے لیے قربان کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ جب ان کے ایک بھائی کو دنیا کے کسی خطے میں تکلیف پہنچتی ہے وہ غزہ ہو، بنگلہ دیش ہو، تھائی لینڈ ہو، کشمیر ہو، عراق ہو، مصر ہو یا شام، اس کے درد کی کسک وہ نہ صرف محسوس کرتے ہیں بلکہ ایک رحیم شخصیت ہونے کی بنا پر اس کو سکون پہنچانے، امن دینے، ان کی جان و مال کے تحفظ میں اپنی تمام قوت صرف کردیتے ہیں۔
ایک رحیم ماں یا باپ یہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ ان کا لخت ِ جگر درد میں مبتلا ہو اور وہ سکون کی نیند سو سکیں۔ ان کی بے چینی اور اضطراب محض پریشانی کی حد تک نہیں بلکہ ان کے عمل کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اور وہ آگے بڑھ کر اپنا مال، اپنی جان، اپنی قوت، اپنی صلاحیت ہرشے کے ساتھ اپنے بھائی کو ظلم سے بچانے، اس کی جان کا تحفظ کرنے، اس کے مال کو ظالم سے بچانے کے لیے بے خطر میدان میں کود پڑتے ہیں۔ یہ ایک عظیم عطیہ الٰہی ہے کہ وہ جو کل تک ایک دوسرے کے مال پر نگاہیں جمائے ہوئے تھے، قبائلی تعصبات اور نسلی دشمنیوں میں گھرے ہوئے تھے، اس نے انھیں آپس میں رحیم بنا کر ان کے دلوں کو، ان کی روحوں کو، ان کی فکر کو، ان کے طرزِعمل کو ایک اعتماد کے رشتے میں جوڑ دیا اور وہ دیکھتے دیکھتے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔
دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ کفار پر سخت (اشداء) ہوتے ہیں۔ ایک تو خود کفر میں سخت ہونا ہے جس کا تذکرہ سورئہ توبہ میں یوں ہوا: اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ کُفْرًا وَّ نِفَاقًا (التوبہ ۹:۹۷) ’’یہ بدوی عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں‘‘۔کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کو شدید قرار دیا گیا ہے: وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (البقرہ ۲:۱۹۶) ’’خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے‘‘۔ دوسری جانب کفار پر سخت ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ جب اہلِ ایمان اور اہلِ کفر ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہوتے ہیں تو پھر خون اور خاندان یا قبیلے کی محبت درمیان میں نہیں آتی۔ نظریاتی جنگ میں اہلِ ایمان اہلِ کفر کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ دین کے معاملے میں کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتے اور اپنے موقف پر جم کر استقامت کے ساتھ کفر کو اس کے انجام تک پہنچاتے ہیں۔
پھر کیا وجہ ہے کہ مسلم دنیا میں اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کبھی فرقہ پرستی کے نام پر اور بعض اوقات قبائلی عصبیت اور جغرافیائی قومیت کی بنیاد پر ایک مسلمان دوسرے کے سامنے صف آرا ہوجاتا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ وہ جنھیں باہم شیروشکر ہونا چاہیے تھا نہ صرف زبان سے بلکہ ہاتھ سے اپنے بھائی کو نقصان پہنچانے پر آمادہ ہوجاتے ہیں؟انفرادی اور معاشرتی سطح پر تشدد، عدم رواداری اور عدم برداشت کیوں پیدا ہوتی ہے؟ کیا اس کا علاج مزید شدت، عسکریت اور قوت کے ساتھ اس کو دبانے سے کیا جاسکتا ہے یا ان برائیوں کو اچھائیوں میں تبدیل کرنے کے لیے کسی خاص حکمت عملی کی ضرورت ہے؟ اس تحریر کا مقصد ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ہے۔
انسانی معاشرے میں بُرائی، ظلم و استحصال اور طاغوت کا آغاز غیرمحسوس طور پر ایک بظاہر معصومانہ غلطی سے ہوتا ہے اور وہی غلطی جو کل تک غیرمحسوس تھی انسان کو گھنائونے جرم تک لے جاتی ہے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور حدیث ہے کہ برائی کا آغاز انسان کے دل پر ایک چھوٹے سے داغ سے ہوتا ہے۔ اگر مسلمان توبہ کرلے اور نیکی کی طرف پلٹ آئے تو یہ داغ مٹ جاتا ہے لیکن اگر وہ دوبارہ غلطی کا ارتکاب کرے تو یہ داغ بڑھتا رہتا ہے، حتیٰ کہ یہ پورے قلب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ جب پورا قلب اس کی گرفت میں آجاتا ہے تو پھر انسان کے ذہن سے برائی کے برائی ہونے کا احساس ختم ہوجاتا ہے۔ ہم عموماً یہ بات کہتے ہیں کہ کیا کوئی انسان ایسا گھنائونا جرم کرسکتا ہے کہ وہ ایک بچی یا بچے کو زیادتی کا نشانہ بنائے، یا کسی مسلمان بھائی پر قتل کی نیت سے ہاتھ اُٹھائے، یا کسی راہ چلتے کو، یا مسجد میں اللہ کے حضور اپنا سر جھکانے والے کو مسجد میں گھس کر نشانۂ قتل بنائے؟ اس حدیث ِ مبارکہ میں سمجھایا گیا ہے کہ شقاوتِ قلبی کس طرح پیدا ہوتی ہے۔ قرآن کریم جن دلوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ وہ شقاوتِ قلبی میں پتھر بلکہ اس سے زیادہ سخت ہوجاتے ہیںکیونکہ بعض پتھر ایسے بھی تو ہوتے ہیں جو پھٹ پڑتے ہیں اور ان سے پانی کا چشمہ رواں ہوجاتا ہے۔ لیکن جو قلب احساسِ بندگی کو دبا کر نفسی نفسی کے زیراثر داغ دار ہوچکے ہوں پھر وہ انسان جن کے دل میں ایک دھڑکنے والا قلب ِ سلیم نہ ہو بلکہ پتھر کا ایک ٹکڑا ہو تو وہ نہ اپنی آنکھ سے سچائی اور جھوٹ میں تمیز کرسکتے ہیں، نہ اپنے کان سے اچھی اور فحش بات میں تمیز کرسکتے ہیں۔ قرآن کریم نے صحیح کہا ہے: صُمٌّم بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَo (البقرہ ۲:۱۸) ’’یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، یہ اب نہ پلٹیں گے‘‘۔
عدم رواداری، شدت پسندی، ظلم، ناانصافی، حقوق پر ڈاکا، بچوں اور خواتین کے ساتھ ظالمانہ رویہ، معاشرے میں دھوکا دہی، رشوت، عدم تحفظ، غرض تمام برائیوں کا آغاز ایک فرد کے دل کے داغ دار ہو جانے سے ہوتا ہے اور جب کئی دل داغ دار ہوجائیں تو پورے معاشرے میں فساد و بدامنی پھیل جاتی ہے۔
اس داخلی سبب کے ساتھ ساتھ بعض بیرونی عناصر بھی انسان میں انتقام، توڑ پھوڑ، ظلم و استحصال کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم انسانوں کے حقوق کا پامال کرنا ہے۔ اگر ایک معاشرہ یا ریاست اپنے باشندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرے اور خود آسایش اور ثروت کی زندگی گزارے تو حقوق سے محروم افراد میں انتقامی جذبہ اُبھرنا ایک فطری عمل ہے۔ ایک حدیث میں اس طرف یوں اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے پڑوسی کو عمدہ اور قیمتی پھل نہ کھلا سکتا ہو تو کم از کم پھل کھانے کے بعد ان کے چھلکے اپنے دروازے کے سامنے گلی میں نہ پھینکے۔ احساسِ محرومی اور فقر انسان میں جو ردعمل پیدا کرتا ہے حدیث میں اسے شرک سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور شرک ایک شخص کو کسی بھی ایسے کام پر آمادہ کرسکتا ہے جو اسلام کے اعلیٰ اخلاقی رویے کی ضد ہو۔ چوری، ڈاکا، قتل کا ایک سبب یہی احساسِ محرومی ہوتا ہے کہ ایک فرد یہ سمجھتا ہے کہ جس دولت میں سے اسے کچھ ملنا چاہیے تھا وہ صرف چند افراد کے قبضے میں ہے، اس لیے وہ اسے غیر اسلامی ذرائع سے چھین کر حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ریاست اور معاشرہ اپنی اس ذمہ داری سے اسی وقت عہدہ برآ ہوسکتا ہے جب وہ ناداروں کو ان کا حق دے، بے علم افراد کو تعلیم سے آراستہ کرے اور بے روزگار افراد کو روزگار فراہم کرے۔ یہ شہریوں کے وہ حقوق ہیں جو اسلام نے آج سے تقریباً پندرہ سو سال قبل قرآن اور سنت کے واضح احکامات کی شکل میں ہم کو دیے ہیں۔ ہم نہ ان احکامات سے واقفیت حاصل کرنے کی جستجو کرتے ہیں اور نہ انھیں معاشرے اور ریاست میں نافذ کرنے کی۔ آخر زکوٰۃ کو ایک عبادت اور فریضہ قرار دینے کا مقصد اور کیا تھا۔ زکوٰۃ کو ایک ٹیکس قرار دینا زکوٰۃ کے مفہوم اور روح سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ یہ دراصل معاشرے سے افلاس، فقر، بھوک، جہالت، بیماری اور عدم تحفظ کے خاتمے کے شرعی نظام کا نام ہے۔ نہ صرف زکوٰۃ بلکہ وسیع تر پیمانے پر صدقات اور انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعے اسلامی معاشرے کے ہر مجبور، نادار اور ضرورت مند کو اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
معاشرے اور فرد میں بغاوت و انتقام کا جذبہ پیدا کرنے میں جہالت کا کردار اہم ہے۔ اسی بنا پر قرآن و سنت میں تعلیم کو ایک فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ تعلیم محض چند صلاحیتوں کا پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ بنیادی اخلاقی رویوں کے اختیار کرنے کا نام ہے۔ وہ تعلیم اُمت کے لیے زہر ہے جو اخلاق و آداب اور تعمیر سیرت کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک اعلیٰ معاشی مزدور تو پیدا کرتی ہو لیکن اسے اخلاق، عدل و انصاف، سچائی، پابندیِ عہد اور انسانوں کے حقوق سے آگاہ نہ کرتی ہو۔
انسانی کردار کی تعمیر کی پہلی بنیاد گھر کی چار دیواری میں رکھی جاتی ہے۔ اگر ایک بچے کو ماں باپ کی طرف سے محبت، توجہ اور اچھے اخلاق و عادات کو پیدا کرنے پر متوجہ نہ کیا جائے اور بچوں کو مصروف رکھنے اور ان کے سوالات سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ٹی وی اسکرین کے حوالے کردیا جائے، تو پھر وہ روزِ اوّل سے تشدد ، ماردھاڑ ، قتل و غارت، چالاکی ، دھوکادہی اور عریانیت و فحاشی کو کارٹونوں کی شکل میں بار بار دیکھ کر اُس حدیث کے مصداق احساسِ مروت، احساسِ شرم، احساسِ فرض سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاتے ہیں جس میں دل کی سختی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔جدید تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ ایک بچہ عموماً دن میں چار تا آٹھ گھنٹے ٹی وی کے سامنے گزارتا ہے، اور مسلسل چار تا آٹھ گھنٹے تک جب آنکھ کے پردے پر تشدد کے مناظر دہرائے جائیں تو ان کے نقوش یادداشت کے پردے پر مرتسم ہوجاتے ہیں۔ پھر ایک بچے کا ہنسنا، رونا، روٹھنا، مطالبہ کرنا، چلنا، اپنے چہرے سے مختلف قسم کے تاثرات کا اظہار کرنا، غرض اس کا پورا کردار کارٹون کے کردار کا ایک چربہ بن جاتا ہے۔
جنسی مساوات (Gender Equality) کے زیرعنوان خاندان کے تقدس و احترام کو بڑی تیزی کے ساتھ پامال کیا جارہا ہے اور اس میں ابلاغِ عامہ اور سرکاری تعلیم کے نصاب کا بڑا دخل ہے۔ تعلیمی ادارے سرکاری ہوں یا نجی، دونوں شکلوں میں جو کتب استعمال کی جارہی ہیں ان میں انفرادی امتیازات (individualities) اور جنسی مساوات کو مثالوں اور بیانات کی شکل میں بار بار دہرایا جاتا ہے،حتیٰ کہ ایک طالب علم اس مغربی تصور ہی کو حق سمجھتا ہے۔ یہ تصور نہ صرف اس کی ذاتی شخصیت بلکہ اس کی خاندانی زندگی کو اجتماعیت کی جگہ انفرادیت میں تبدیل کردیتا ہے۔ ایک شوہر اور بیوی دونوں اپنی اَنا، ذاتیت اور انفرادیت کے خول میں گرفتار رہتے ہیں۔ ان کی فکر، ان کا طرزِعمل، ان کا اظہارِ محبت بھی اسی کا اسیر ہوتا ہے اور کسی لمحے بھی اپنے آپ کو بدلنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے۔ شوہر کی ہرمعاملے میں اپنی پسند ، وہ کھانا ہو، لباس ہو، گھر کا رہن سہن ہو، تفریح ہو، باہمی تعلقات ہوں، اور ایسے میں بیوی کا اپنی ذاتی پسند پر اصرار ، گھریلو عدم تعاون، جذباتی فاصلے اور آخرکار گرم گفتاری اور پھر گھریلو تشدد تک پہنچتا ہے۔ جدید اعداد و شمار، انتہائی تشویش ناک حد تک یہ پتا دیتے ہیں کہ اس وقت ۸۰، ۸۵ فی صد شادیاں اس بحران یا انتشار سے دوچار ہیں۔ یہ وبا ایک معاشرتی کینسر کی شکل اختیار کرگئی ہے اور جب تک تشدد، خودرائی اور انفرادیت کے بتوں کو گھر کے اندر مسمار نہیں کیا جائے گا، ان بتوں کی پرستش سے معاشرہ پاک نہیں ہوسکتا۔
جو بچے ایسے ماحول میں تربیت پائیں گے جہاں گھر روزانہ ایک معرکۂ جنگ کی شکل پیش کرتا ہو وہ معاشرے کو امن و سکون نہیں دے سکتے۔ جو بچہ باپ کو ماں پر ہاتھ اٹھاتے دیکھتا ہے یا جو ماں باپ اپنے بیٹے کو اپنی بہن کو دھکا دے کر گرانے پر سزا نہیں دیتے وہ گھریلو اور معاشرتی فساد کو کبھی نہیں روک سکتے۔
جس کھیت سے دہقان کو تو روزی میسر نہ ہو لیکن اس کھیت کے مالک کے گھر میں ہر شام محفلِ موسیقی اور پُرتکلف دعوتیں ہورہی ہوں وہ کب تک اپنی ناداری پر نازاں ہوسکتا ہے۔ معاشرے میں معاشی ظلم و استحصال جب بھی بڑھے گا ، عدم تحفظ، تشدد اور توڑپھوڑ کے عمل میں اضافہ ہوگا۔ اس برائی کا دُور کرنا نہ صرف ریاست بلکہ معاشرے کے ہرفرد کا فرض ہے۔ اجتماعی اصلاح کا احساس اس کے لیے مناسب اداروں کا قیام اور سیاسی اور سماجی تحریکات کا ان معاملات میں آگے بڑھ کر اصلاح کا آغاز کرنا ہی معاشرے کو دوبارہ امن و سکون دے سکتا ہے۔
معاشرے میں جب سیاسی عدم استحکام ہوگا اور کسی کو یقین نہیں ہوگا کہ کل کیا ہونے والا ہے، حکومت کتنے دن کی مہمان ہے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا تقدس بھی متاثر ہوگا، اور جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اثر معاشرے میں نہیں ہوگا تو بدامنی ، قانون شکنی اور فساد زمین پر پھیلے گا۔ بیرونی دشمن ہمیشہ یہی حکمت عملی اختیار کرتا ہے کہ کسی ملک کو اندورنی خلفشار میں مبتلا کردے تو پھر بغیر کسی جنگ یا عسکری فتح کے وہ دوسرے ملک کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔ جب بھی سیاسی عدم استحکام اور بدامنی ہوگی معاشی بدحالی اور بدانتظامی کا دور دورہ ہوگا تو یہ مزید استحصال، ظلم اور عدم تحفظ کو پیدا کرے گا۔ اس طرح بیرونی سرمایہ کار اس ملک کا رُخ کرتے ہوئے ہچکچائیں گے اور مقامی سرمایہ کار اپنا سرمایہ ملک سے باہر منتقل کرنا چاہیںگے۔ نتیجتاً معاشی انتشار، زوال اور بے روزگاری اور قتل و غارت کا بازار گرم ہوگا۔
اس لیے معاشرتی توڑ پھوڑ کے عمل کو چند خوب صورت سیاسی بیانات سے دُور نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے حکومت ِ وقت اور معاشرے کے ذمہ دار ارکان کو یکساں طور پر اپنے فرائض کو پورا کرنا ہوگا۔
کسی بھی معاشرے کے بگاڑ میں سب سے بنیادی دخل اس معاشرے کی اخلاقی اقدار کا ہوتا ہے۔ اگر اخلاق گر گیا تو معاشرہ بھی گرے گا اور اگر اخلاق اعلیٰ اور بلند ہوگا تو معاشرہ بھی صاف ستھرا، پُرامن اور پُرسکون ہوگا۔
ہم نے مغرب کی اندھی نقالی میں اپنے اخلاقی سرمایے کو ایک طرف لپیٹ کر رکھ دیا ہے اور ہرہرشعبے میں مغربی اخلاق و اقدار کے منفی پہلوئوں کو عالم گیریت کے نام پر سینے سے لگا لیا ہے۔ چنانچہ مغرب کی پابندیِ وقت، محنت کرنے کی عادت، عوام کو جواب دہی، عدالتوں میں قانون کی بالادستی جیسی عادات کی جگہ مغربی فحاشی ، آزادی کے نام پر احترام اور تقدس کو تارتار کرنا، مساوات کے نام پر خواتین کا استحصال اور انھیں ایک معاشی کھلونا بنا دینا، دین کی جامع تعلیمات کی جگہ اسلام کو مذہب قراردینا اور پھر مذہب کو تمام معاشرتی، ثقافتی، تعلیمی، معاشی، سیاسی اور قانونی معاملات سے خارج کرنے کو ترقی پسندی کا نام دے دیا ہے۔
اسلام کے اعلیٰ اخلاقی نظام کی جگہ ہم نے لادینی مفاد پرست اخلاقیات کو ہرسطح پر رائج کرنے کے لیے اپنے ابلاغِ عامہ کو بداخلاقی کے ہراول دستے کا مقام عطا کردیا ہے۔ ہمارا ابلاغِ عامہ ملک سے مایوسی، ملک کے محافظوں سے نفرت، ملک کی اخلاقی اقدار کی جگہ ہندوانہ ثقافت کو رائج کرنے میں پیش پیش ہے، اور ہر وہ بُرائی جو سرحد پار کے معاشرے میں رائج ہو اسے مزید بدتر شکل میں ہمارے ہاں متعارف کرانے میں مصروف ہے۔
اس غیر اخلاقی عمل کو ہم نے ’ابلاغِ عامہ کی آزادی‘ کے خوش کن نعرے کی شکل دی ہے اور آزادیِ اظہار کی ایک نئی تعریف ایجاد کی ہے جس کے نتائج معاشرے میں جابجا نظر آرہے ہیں۔
ہر وہ معاشرہ جو اسلامی تصور صبر، قناعت، مسابقت فی الخیرات، اخوت، قربانی اور تعاون علی البر کی جگہ درآمد کیے ہوئے ہندوانہ یا مغربی تصورات و اقدار کو اختیار کرے گا، اس میں معاشرتی توڑ پھوڑ کا عمل فطری طور پر ہوگا اور قوتِ برداشت کی جگہ فوری فائدے کے حصول کی نفسیات کارفرما ہو گی۔
قرآن و سنت کا دیا ہوا حل نہ صرف آسان ہے بلکہ انتہائی عملی ہے۔ زندگی کے ہرمرحلے کے لیے اس نے جو حکمت عملی دی ہے ہم نے اسے اپنی ناسمجھی کی بنا پر پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اسلام کایہ حل نہ وقت میں قید ہے نہ مکان میں بلکہ ہر دور میں اور ہرمقام پر یکساں قابلِ عمل ہے۔ اس حکمت عملی کے چند نمایاں پہلو یہ ہیں:
توازن اور عدل کا رویہ:قرآن کریم کاہر فرمان ایک فرد، خاندان، معاشرے اور ریاست ہر سطح پر امن و سکون پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ ہمیں اسے گھر، تعلیم گاہ اور معاشرے میں متعارف کرانا ہوگا۔
قرآنِ کریم کی بنیادی تعلیمات میں توحید کے بعد سب سے اہم تعلیم، عدل، توازن اور اعمال کو جیساکہ اس کا حق ہے ادا کرنے کی ہے۔ ’’اے لوگو، جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور عدل کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ توازن سے پھر جائو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کی روش سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے‘‘ (المائدہ ۵:۸)۔ یہ عدل انسان کے ذاتی، خاندانی، معاشرتی اور بین الانسانی معاملات میں خوب صورتی اور حُسن پیدا کرتا ہے اور اس عدل کی کمی ، ظلم، استحصال اور ناانصافی کو پیدا کرتی ہے۔ اس لیے عدل کے بغیر کسی معاشرے میں بھلائی اور اصلاح نہیں ہوسکتی ۔ معاشی بدحالی سے زیادہ عدل کا فقدان تباہی کا باعث بنتا ہے۔
وہ حقوق والدین کے ہوں یا بیوی اور بچوں اور پڑوسیوں کے، ہمیں انھیں اولیت دینا ہے اور مغربی انفرادیت کے خول سے نکل کر اسلام کے اجتماعیت کے تصور کو اختیار کرنا ہے۔اسلام ایک جامع اجتماعی نظام ہے، یہ محض ایک فرد کی انفرادی اصلاح کا نسخہ نہیں ہے۔ حقوق کی ادایگی باہمی رواداری، اخوت کو پروان چڑھانے اور طبقاتی نظام سے نجات کا ذریعہ بنے گی۔ فقرا و مساکین کی ضروریات کا پورا کرنا کوئی ’خیراتی‘ کام نہیں ہے۔ یہ انفرادی اور اجتماعی فریضہ ہے۔ اس لیے فرمایا گیا: وَفِیْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ (الذاریات ۵۱:۱۹)یعنی’’ تمھارے اموال میں سائل اور محروم کا حق ہے‘‘۔
مسلمان کے مسلمان پر حقوق کو تعلیم گاہوں، دفتروں، تجارتی مراکز، غرض ہر مقام پر تعلیمی اور دیگر ذرائع کا استعمال کرکے ان حقوق کی آگاہی اور ان پر عمل کو ضابطہ بنانا ہوگا۔ اس سلسلے میں جو کم از کم عملی کام کرنے ہوں گے وہ اختصار سے درج ذیل ہیں:
یہ وہ شیطانی عمل ہے جو ایک انسان کو چند لمحات کے لیے عقل و دانش کی جگہ انتقام اور زیادتی کی طرف لے جاتا ہے۔ ارشاد رحمۃ للعالمینؐ ہے: ’’جو (خلافِ حق بولنے سے) اپنی زبان کی حفاظت کرے گا، اللہ اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا، اور جو اپنے غصے کو روکے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عذاب کو اس سے ہٹائے گا،اور جو خدا سے معافی مانگے گا خدا اس کو معاف کردے گا‘‘۔(عن انسؓ، مشکوٰۃ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسٰی ؑ نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا: ’’اے میرے رب! آپ کے نزدیک آپ کے بندوں میں سے کون سب سے پیارا ہے؟‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وہ جو انتقامی کارروائی کی قدرت رکھنے کے باوجود معاف کردے‘‘۔(عن ابوہریرہؓ، مشکوٰۃ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’طاقت ور وہ شخص نہیں ہے جو کُشتی میں دوسروں کو پچھاڑ دیتا ہے بلکہ طاقت ور تو درحقیقت وہ ہے جو غصے کے موقعے پر اپنے اُوپر قابو رکھتا ہے (یعنی غصے میں آکر کوئی ایسی حرکت نہیں کرتا جو اللہ او رسولؐ کو ناپسند ہو)۔(عن ابوہریرہؓ، بخاری)
ہر وہ شے جھوٹ ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیے گئے معاہدۂ اطاعت و فرماں برداری سے ٹکراتی ہو۔ ایفاے عہد، خوش کلامی، عفو و درگزر، امانت داری یہ وہ احکامات ہیں جن کے خلاف کوئی عمل کرنا جھوٹ پر عمل کرنا ہے۔
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:’’چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ پکا منافق ہوگا اور جس شخص کے اندر ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی تو اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہوگی، یہاں تک کہ اس کو ترک کردے۔ وہ چار خصلتیں یہ ہیں: جب اس کے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرے، اور جب گفتگو کرے تو جھوٹ بولے، اور جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے، اور جب کسی سے اس کا جھگڑا ہوجائے تو گالی پر اُتر آئے‘‘۔(عن عبداللہ بن عمروؓ، بخاری، مسلم)
ہمارے معاشرے میں دوعملی اور دورُخاپن ایک بیماری کی شکل اختیار کرگیا ہے جو آخرکار تشدد و ٹکرائو کا باعث بنتا ہے۔ ہمیں دورُخے پن کو ختم کر کے اخلاص اور بھلائی کی تلقین کا رویہ اختیار کرنا ہوگا۔
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’جو شخص دنیا میں دو رُخاپن اختیار کرے گا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی دو زبانیں ہوں گی‘‘۔( عن عمارؓ، ابوداؤد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم قیامت کے دن بدترین آدمی اُس شخص کو پائو گے جو دنیا میں دو چہرے رکھتا تھا۔ کچھ لوگوں سے ایک چہرے کے ساتھ ملتا تھا اور دوسرے لوگوں سے دوسرے چہرے کے ساتھ‘‘۔(متفق علیہ)
ظلم اور عدم رواداری کا ایک بڑا سبب برائی کا دفاع، اپنی برادری یا قبیلے کا ساتھ دینے کی بنا پر کرنا ہے۔ یہ ایک عظیم گناہ اور معاشرتی بگاڑ کا ایک بڑا سبب ہے۔ جو شخص اس مرض میں گرفتار ہوا اس کی آنکھ وہی دیکھتی ہے جو اس کی برادری، قبیلہ یا جماعت اسے دکھائے۔
ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرض کی نشان دہی یوں فرمائی: ’’وہ شخص ہم میں سے نہیںہے جو عصبیت کی دعوت دے، اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں ہے جو عصبیت کی بنیاد پر جنگ کرے، اور وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے جو عصبیت کی حالت میں مرے‘‘۔( عن جبیر بن مطعمؓ، ابوداؤد)
راوی کہتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ’’اپنے لوگوں سے محبت کرنا کیا عصبیت ہے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’نہیں، بلکہ عصبیت یہ ہے کہ آدمی ظلم کے معاملے میں اپنی قوم کا ساتھ دے‘‘۔(عن ابونسیلہؓ، مشکوٰۃ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص (کسی ناجائز معاملے میں) اپنی قوم کی مدد کرتا ہے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کوئی اُونٹ کنویں میں گر رہا ہو اور یہ اس کی دُم پکڑ کر لٹک گیا ہو تو یہ بھی اس کے ساتھ جاگرا‘‘۔(عن ابن مسعودؓ، ابوداؤد)
ہم اکثر اپنی وابستگیوں اور تعلقات کے اتنے غلام ہوجاتے ہیں کہ عدل اور حق ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ لسانی عصبیت ہو یا قبائلی اور نسلی عصبیت ان بتوں کو پوجنے کے لیے ہم ایسی اصطلاحات ایجاد کرلیتے ہیں جو ہمیں محبت کے نام پر نفرتوں کو پھیلانے کی آزادی دے دیں۔
کسی طاغوتی طاقت کو امن و سلامتی کا رکھوالا سمجھنا، کسی سودی قرض دینے والے ادارے کی ہرطرح کی شرائط تسلیم کرکے قوم کو قرض کے بوجھ تلے دبا دینا، کسی نام نہاد عالمی ادارے کو خوش کرنے کے لیے اسلامی شریعت کے منافی دستوری ترمیمات کے ذریعے شرعی احکام کو پامال کرنا، اپنے ذاتی مفاد اور معاشی فائدے کے لیے قومی مفاد کو پسِ پشت ڈال دینا___ یہ سب معاملات شہادت زور (جھوٹی گواہی) کی تعریف میں آتے ہیں اور جب تک ان سے توبۃ النصوح نہ کی جائے اور ان کی طرف پھر کبھی رُخ نہ کیا جائے اس وقت تک معاشرے میں امن و سکون، رواداری اور اخوت و محبت پیدا نہیں ہوسکتی۔
آج شہادت زور ٹی وی اسکرین پر ہو یا عدالت میں یا کسی عظیم الشان اجتماع میں، اسے ایک فنکارانہ صلاحیت اور چابک دستی قرار دیاجاتا ہے۔ اس کی اصلاح کے بغیر معاشرہ اور فرد بھلائی اور سکون حاصل نہیں کرسکتا۔ شارع اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرض کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے: ’’خریم بن فاتکؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور جب لوگوں کی طرف رُخ پھیرا تو بیٹھے رہنے کے بجائے آپؐسیدھے کھڑے ہوگئے اور تین بار فرمایا: ’’جھوٹی گواہی دینا اور شرک کرنا دونوں برابر کے گناہ ہیں‘‘۔(ابوداؤد)
پھر آپؐ نے پڑھا: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ (تو تم ناپاکی یعنی بتوں سے دُور رہو اور جھوٹی بات کہنے سے دُور رہو اور خدا کے لیے یک سُو ہوجائو، شرک چھوڑ کر توحید اختیار کرو)۔
شہادتِ زور کو الرجس قرار دینا خود اس کے گھنائونا ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ جھوٹی گواہی محض عدالتوں میں نہیں بلکہ ایمان کے دعوے کے بعد نماز کی ادایگی نہ کرنا، زکوٰۃ کا ادا نہ کرنا، ظلم ہوتے ہوئے دیکھ کر خاموش رہنا، طاغوتی قوتوں کے خلاف کلمۂ حق بلند نہ کرنا غرض زندگی کے تمام معاملات میں اس اہم تعلیم کا دخل ہے۔ اسلامی شخصیت کی تعمیر اسی وقت ہوسکتی ہے جب شہادتِ زور سے مکمل طور پر نجات حاصل کی جائے۔
آج آزادیِ صحافت اور آزادیِ راے کے نام پر جس بے دردی کے ساتھ حقائق کا گلا کُندچھری سے ذبح کیا جاتا ہے وہ اپنی مثال آپ بن گیا ہے۔ یہ افواہیں بُرائی کے فروغ اور ظلم و استحصال کے لیے سازگار فضا پیدا کرتی ہیں اور لوگوں کو ورغلا کر سڑکوں پر آکر توڑپھوڑ اور معصوم شہریوں کی اِملاک کو نقصان پہنچانے پر اُبھارتی ہیں۔ اس فتنے کی اصلاح بلاتاخیر کرنی ہوگی۔ دین کی حکمت کو قیامت تک سب سے زیادہ سمجھنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’شیطان آدمی کے بھیس میں کام کرتا ہے، وہ لوگوں کے پاس آکر جھوٹی باتیں بیان کرتا ہے۔ پھر لوگ جدا ہوجاتے ہیں (یعنی مجلس ختم ہوجاتی ہے اور یہ لوگ منتشر ہوجاتے ہیں) تو ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے کہ مَیں نے یہ بات ایک آدمی سے سنی ہے جس کا چہرہ تو مَیں پہچانتا ہوں لیکن نام نہیں جانتا‘‘۔ ( عن ابن مسعودؓ، مسلم)
معاشرے کے ہر کلمہ گو فرد کو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر عمل کرتے ہوئے اصلاح اور نیکی کے قیام کے لیے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کو انجام دینا ہوگا۔ وہ افراد جو اپنے آپ کو اسلامی تحریک سے وابستہ سمجھتے ہوںان پر یہ فریضہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ عائد ہوتا ہے کہ وہ ہرہرسطح پر اپنے ہاتھ،اپنی زبان اور اپنے دل کے ساتھ امربالمعروف ونہی عن المنکر اور خیرخواہی اور نصیحت کے فریضے کو انجام دیں۔
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’دین خلوص و خیرخواہی کا نام ہے‘‘۔ یہ بات آپؐ نے تین دفعہ فرمائی۔ صحابہؓ نے عرض کیا: کس کے لیے خلوص اور خیرخواہی؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے اجتماعی نظام کے سربراہوں کے لیے، اور عام اہلِ اسلام کے لیے‘‘۔(عن تمیم داریؓ، مسلم)
خلوصِ نیت سے اصلاحِ احوال کے لیے بھلائی کا مشورہ دینا، امر بالمعروف کرنا اور اس مشورے میں کوئی تخصیص نہ کرنا دین کا تقاضا ہے۔ یہ نصیحت ہرہرسطح پر کرنی ہوگی۔ وہ ایوانِ اقتدار ہو یا کسی تحریک کا نظم، وہ عام کارکن ہوں یا مرکزی ذمہ داران، اس سے کسی کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک یہ پُرخلوص تنقید ہوتی رہے گی ادارے، تحریکات اور ملک کے سربراہان راہِ راست پر رہیں گے۔ جب مصلحت، بزرگی اور منصب کے احترام کی بنا پر حق بات کا نہ کہنا عام ہو جائے تو پھر نہ کوئی ادارہ، نہ کوئی گھر، نہ کوئی جماعت اور نہ کوئی ملک صحیح خطوط پر ترقی کرسکتا ہے۔
دین کے تمام معاملات کا انحصار تعلق باللہ پر ہے۔ اس لیے امربالمعروف اور نصیحت ہو یا افواہوں کو رد کرتے ہوئے حق کی گواہی دینے کا مرحلہ، تحریک کے اندر کسی کمزوری کی نشان دہی اور خلوصِ نیت کے ساتھ اس کی اصلاح کی کوشش ہو یا احتسابِ نفس اور ذمہ داران کا احتساب، ہرہرعمل کی بنیاد تعلق باللہ پر ہے۔ جتنا ہمارا تعلق اپنے رب سے، اس کے بھیجے ہوئے کلامِ قرآنِ مجید اور اس کے مقرر کردہ ہادی اعظمؐ اور خاتم النبیینؐ سے انتہائی قریبی نہیں ہوگا، ہماری کوئی کوشش بارآور نہیں ہوسکتی۔ ربِ کریم کا وعدہ ہے اور اس کا ہر وعدہ حق ہوتا ہے کہ جب اہلِ ایمان اللہ کو رب مان کر اس پر استقامت سے جم جاتے ہیں اور کسی اور کی حاکمیت ماننے کو تیار نہیں ہوتے، تو وہ اَن دیکھی قوتوں سے ان کی نصرت کرتا ہے اور کامیابی کو ان کا مقدر بنا دیتا ہے۔
معاشرہ، خاندان اور ریاست سے تشدد کا خاتمہ مزید تشدد سے نہیں دین کی حکمت اور دین کی واضح تعلیمات کے نفاذ ہی سے ہوسکتا ہے۔ عدل کا قیام، سچائی کا فروغ اور امانتوں کا ان کے اہل افراد کے سپرد کرنا کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔
اکیسویں صدی کا آغاز جن واقعات سے ہوا، انھوں نے اسلام اور مغرب کی تاریخی آویزش کو ایک نئی شکل دے دی اور ہر دو فریق جن خدشات، خطرات اور تنازعات کا شکار ہوئے، وہ عالمی نقشے پر بعض بنیادی تبدیلیوں کا سبب بن گئے۔ مغربی اقوام خصوصاً امریکا کے سامراجی عزائم عملی شکل اختیار کر گئے اور مغرب کے تمام حقوق انسانی، سرحدی آزادی، ملکی خود مختاری اور امن عالم کے نام نہاد نعروں کی قلعی کھل کر سامنے آگئی۔ مغرب کے بعض نمایندہ مفکرین نے سیاسی، سامراجی عزائم کو نئے عالمی نظام (نیو ورلڈ آرڈر) کا چوغا پہنا کر مسلم ممالک کے توانائی کے وسائل پر عسکری قوت سے قبضہ کرنے کے گھنائونے عمل کو امریکا کی ـ’قومی سا لمیت کے تحفظ‘ کا نام دیا۔ ۱۹۹۲ء میں امریکی مفکر سیموئل پی ہن ٹنگٹن نے اپنے ایک مقالے میں جس تہذیبی ٹکرائو کے خدشے کا اظہار کیا تھا وہ عملاً پہلے سے تحریر شدہ ایک کہانی کے خاکے کی طرح ستمبر ۲۰۱۱ء میں افغانستان اور عراق پر یلغار کی شکل میں ظہور پذیر ہوا۔ واقعات کے اس منطقی تسلسل نے مسلم ممالک کی غالب آبادی کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ان کے فرماںروا جس امریکا یا مغرب دوستی کا دم بھرتے ہیں وہ کتنی کھوکھلی، ناپایدار اور مغرب کے مفاد پر مبنی ہے۔
نائن الیون نے جہاں منفی تاثرات پیدا کیے، وہیں خود مغرب میں اس سانحے نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تجسّس اور حقیقت حال کو سمجھنے کی خواہش کو بیدار کیا۔ اس واقعے کے ایک ماہ کے اندر امریکا کے کتب فروشوں کے پاس قرآن کریم کے جتنے نسخے انگریزی ترجمے کے ساتھ موجود تھے، فروخت ہو گئے اور اسلام پر کتب کی بڑی مانگ پیدا ہو گئی۔ قرآن کریم نے بالکل صحیح کہا ہے کہ بعض چیزوں سے انسان کو کراہت آتی ہے، جب کہ ان میں رحمت ہوتی ہے، اور بعض چیزیں اچھی معلوم ہوتی ہیں، جب کہ ان میں ضرر ہوتا ہے۔ اسلام اور مغرب کی اس تازہ آویزش نے دونوں جانب دانش وروں اور محققین کو اس نئی صورتِ حال کے تجزیے اور اس کے پس ِ منظر میں چھپے اسباب پر تفکر کی دعوت دی، اور مغرب جو اپنے سامراجی دورسے استشراق کے زیرِ عنوان مسلم ممالک کی زبانوں، ثقافت اور تاریخ کو سمجھنے میں مصروف تھا، اب اس کی اس کاوش میں مزید اضافہ ہوا۔
اگر تاریخ کے آئینے میں اس صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو ساتویں صدی عیسوی میں ظہور اسلام کے ساتھ ہی قرآن کریم نے اہلِ کتاب کو دعوتِ مکالمہ دینے میں پہل کرتے ہوئے مختلف سطح پر رابطہ اور تبادلۂ خیال کی راہیں نکالیں۔ اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نامۂ مبارک، جو مختلف عیسائی و غیر عیسائی فرماںروائوں کو لکھوائے گئے تھے ، رابطے کے اولین اقدامات کہا جا سکتا ہے۔ قرآن کریم نے دیگر مذاہب کے ماننے والوں اور خصوصاً اہل ِکتاب کو باربار دعوتِ فکر دیتے ہوئے مشترک بنیادوں پر اس مکالمے کا آغاز کرنے کی دعوت دی۔ اس بنا پر یہ خیال کرنا درست نہ ہو گا کہ اسلام اور مغرب کا مکالمہ کوئی نئی چیز ہے۔ یہ مکالمہ اسلامی ریاست اور معاشرے کے دورِ عروج میں بھی رہا اور مسلمانوں کے دورِ زوال بلکہ مغربی سامراج کی محکومی کے دوران بھی جاری رہا ،گو ہر دور کے لحاظ سے مکالمے کے دائرے اور زاویے بدلتے رہے۔
قرآنی زاویے سے اس مکالمے کا پہلا مقصد الہامی ہدایت کو ماننے والے مذاہب میں قُرب پیدا کرنا ہے، تا کہ ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے جس میں اسلامی نظام نافذ ہو چند مشترک بنیادوں پر اہلِ کتاب کو معاشرتی اور عائلی تعلق کے دائرے میں لے آیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اسلام نے اہلِ ایمان مسلمان مردوں کو صالح اہلِ کتابیہ سے عقد نکاح کی اجازت دے کر اہلِ کتاب کے ساتھ خاندانی تعلق کے قیام کو ممکن بنایا، لیکن اس بات کی اجازت نہیں دی کہ ایک مسلمان خاتون کسی اہلِ کتاب سے نکاح کر سکے۔ وجوہات بڑی واضح ہیں۔ اس طرح مادی طور پر خاندانی رشتہ تو قائم ہو جاتا ہے لیکن گھر کے تمام امور کا فیصلہ اسلامی شریعت کو تسلیم نہ کرنے والے کے ہاتھ میں رہتا ہے، اور نہ صرف یہ بلکہ آیندہ آنے والی اولاد بھی غیر اسلامی اصولوں پر پرورش پاتی ہے، جب کہ اہلِ کتابیہ سے شادی کی شکل میں گھر کا ماحول اور اولاد کی تربیت مکمل طور پر ایک صاحب ِ ایمان کی سرپرستی میں ہوتی ہے۔ یہ موقع تفصیلات میں جانے کا نہیں ہے ہم صرف یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان مکالمہ محض نظری سطح پر نہیں بلکہ خاندان، تجارت اور بین الاقوامی امور پر ہر سطح پر ظہور ِ اسلام سے رہا ہے، اس لیے کثرتیت (Pluralism) کی بات اسلام کے تناظر میں کوئی نئی دریافت نہیں ہے۔
تاریخی حیثیت سے مغرب اور عیسائی دنیا کا تعلق اتنا قریبی رہا ہے کہ عموماً مغرب دوستی یا مغرب دشمنی کو عیسائی دوستی اور دشمنی سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے، جب کہ مغرب نے سولھویں صدی عیسوی کے بعد شعوری طور پر عیسائیت سے اپنا فاصلہ بڑھانے کے عمل___ آزادیِ راے، جمہوریت، انفرادیت، مادیت، مثبتیّت (Positivism) ___کو اپنی فکری بنیاد قرار دیا اور سرمایہ دارانہ فکر کو اپنا بنیادی نظریہ اور پہچان قرار دیتے ہوئے اپنے معمولات میں ہفتہ میں ایک دن کا کچھ حصہ اپنے مذہب کے لیے مخصوص کرنے میں اپنی بھلائی جانی، اور مذہب اور دیگر معاملات کے درمیان عدم تعلق اور فاصلہ رکھنے کو علمی اور عملی حیثیت سے اتنی تکرار کے ساتھ پیش کیا کہ دیارِ مغرب کے باہر بسنے والے افراد بھی اپنی تمام ’مذہبیت‘ کے باوجود زندگی کی اس دوئی میں عملاً مبتلا ہو گئے۔
لیکن غیر مغربی معاشروں کو جب اور جہاں بھی اس خرابی کا شعور ہوا، ان کے دانشوروں اور علما و اساتذہ نے اس پہلو پر توجہ دی۔ چنانچہ تاریخ کے ہر دور میں اصلاح و تجدید کی کوششوں کا بنیادی نکتہ یہی رہا کہ قرآن و سنت کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنی زندگی کے تمام معاملات کو اللہ کی بندگی میں لایا جائے۔
یہاں صرف یہ اشارہ کرنا مقصود ہے کہ مغرب سے مکالمہ ہو یا مجادلہ، دونوں شکلوں میں مشترک بنیادوں پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے بعض بدیہی پہلو نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ مغرب جس فکر کا ملغوبہ ہے اس کی روح ’مذہب‘ کو محدود کرنے میں مضمر ہے۔ چنانچہ سیکولرازم عموماً یہ نہیں کہتا کہ خالق کائنات، انسانوں کے مالک اور رب کا مکمل انکار کیا جائے، بلکہ صرف اتنی بات کہہ کر اس مقصد کو حاصل کر لیتا ہے کہ اللہ کے دائرہ کار کو مسجد، کلیسا اور ہیکل تک محدود کر دیا جائے۔ مسلمان ہو یا عیسائی یا یہودی وہ اپنے مقررہ دن اور مقررہ وقت پر اپنے عبادت خانے میں جا کر جو چاہے کرے لیکن ہفتہ کے بقیہ دنوں میں کاروبار ہو یا سیاست، معاشرت ہو یا ثقافتی سرگرمیاں، ان تمام معاملات میں ’مذہب‘ کو دخل دینے کا اختیار نہ ہو۔ دین اور دنیا کی یہ تفریق مغربی ذہن اور مغربی تہذیب کی بنیاد ہے۔ اسی کو ہم لادینیت یا سیکولر ازم کہتے ہیںجسے لامذہبیت یا الحاد کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ لادینیت مذہب کو غیر فعال بنانے اور زندگی کو دو خانوں میں بانٹ دینے کا نام ہے۔ یہ ذہن اور یہ فکر اگر ایک ایسے شخص کے اندر پائی جاتی ہو جو ہر جمعہ کو نماز پڑھتا ہو اور ہفتہ کے بقیہ دنوں میں سر پر نماز کی ٹوپی پہن کر اسٹاک ایکسچینج میں بازی لگاتا ہو ،تو اس کا نماز کی ٹوپی پہننا اور جمعہ کو باقاعدگی سے نماز ادا کرنا اسے غیر سیکولر نہیں بنا سکتا۔ سیکولرازم وہ بنیادی مرض ہے جس کے زہریلے اثرات مغربی تہذیب اور مغرب کے ہر ہر شعبۂ حیات میں سرایت کر چکے ہیں، اور اب یہ زہر اس کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لیے مغرب خود اپنے اس اندرونی مرض کا احساس بھی نہیں کر پاتا۔
مغرب سے مکالمے کی طرف بڑھتے وقت اس تاریخی پس منظر پر نگاہ دوڑائی جائے تو اسلام کا مکالمہ کم از کم چھے محاذوں یا چھے سطح (levels) پر کرنا ہوگا۔
ان میں سب سے اول سطح تصور حیات ہے، یعنی مغربی تہذیب جس تصور حیات کی نمایندگی کرتی ہے اور اسلام جو تصور حیات دیتا ہے، ان میں کون سی چیزیں مشترک ہیں اور کہاں پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ کن مقامات پرمفاہمت کی شکل کا امکان ہے اور کہاں پر کوئی تعاون نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک ان حدود کا تعین نہ کر لیا جائے مکالمہ اور مکالمے کا تذکرہ ایک نمایش سے زیادہ نہ ہو گا۔ کسی بھی سنجیدہ اور مخلصانہ کوشش کے لیے ضروری ہے کہ قواعدِ عمل اور موضوعات کا تعین پہلے کرتے ہوئے گفتگو کو انھی نکات تک محدود رکھا جائے۔
مغربی تصورِ حیات تین بنیادوں پر قائم ہے۔ اولاً: انسان کی معاشی ضروریات اس کی تمام مساعی کا محرک اور کامیابی کا پیمانہ ہیں۔ چنانچہ مادیت اور مادی ترقی زندگی کا اولین مقصد ہے۔ ثانیاً: زندگی گزارنے کے لیے خوشی اور لذت کا حصول، انسان کی تمام توجہات کا مرکز ہونا چاہیے۔ چنانچہ لذیذ کھانے، تفریحی سفر، شام کے اوقات میں ثقافت کے نام پر حصولِ لذت و خوشی کے لیے موسیقی، ڈراما اور ٹاک شوز، فیشن شوز میں شرکت ایک بنیادی داعیہ اور ضرورت ہے۔ ثالثاً: ’مذہب‘ ایک شخص کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس لیے مذہب کو زندگی کے دیگر معاملات میں داخل ہونے سے روکا جائے اور کائنات اور انسانی معاشرہ دونوں کو کسی الٰہی ہدایت کا پابند نہ بنایا جائے ۔انسان اپنی ذاتی راے اور قوتِ فیصلہ سے اپنے معاملات طے کرے۔ اخلاق اور مذہب ایک اضافی چیز ہے۔ انفرادیت (Individualism) یا فرد کی مکمل آزادی کہ وہ جو چاہے کرے، مغربی تہذیب کی پہچان ہے۔
تصورِ حیات کی سطح پر اسلام ان تمام تہذیبوں سے اختلاف کرتا ہے، جو مغرب میں ہوں یا مشرق میں، اور جن کی بنیا داُوپر تحریر کردہ تثلیث ہو۔ اسلام انسان کو ایک اخلاقی مخلوق قرار دیتے ہوئے زندگی کے تمام معاملات عالم گیر اخلاقی اصولوں کے مطابق کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر جھوٹ بولنا اور عدل نہ کرنا انفرادی سطح پر غلط ہے، تو معاشرتی اور ملکی اور عالم گیر سطح پر بھی ناقابلِ قبول ہے۔ یہ وقت کے ساتھ نہ تبدیل ہوتا ہے اور نہ فرد کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنی صوابدید اور عقل کے مطابق سچ اور عدل کی تعریف کرلے۔ اسلامی تہذیب کی بنیاد ایک ایسے خالق کے وجود پر نہیں ہے جو کائنات بنانے کے بعد کسی گوشے میں آرام کر رہا ہو، بلکہ وہ حي و قیوم(زندۂ جاوید ہستی) اور عزیز و علیم(صاحب ِ اقتدار و صاحب ِ علم ہستی) ہونے کی بنا پر، ہر لمحے اپنی مخلوق کی نگرانی اور بھلائی میں مصروفِ عمل ہے۔ وہ انسان کو اس کی ضروریات کے پیش نظر ہدایت سے نوازتا ہے اور وقتاً فوقتاً الہامی ہدایت کی شکل میں عالم گیر اخلاقی ضابطہ اور قانون دیتا ہے، تا کہ معاشرے میں عدل و اخوت اور رواداری قائم ہو اور لوگوں کے حقوق پر ڈاکے نہ ڈالے جاسکیں۔ وہ اپنے بندوں کو مال، صحت اور وسائل دیتا ہے، تاکہ وہ اس کے نمایندہ اور خلیفہ ہونے کی حیثیت میں ان وسائل کو انسانیت کی فلاح کے لیے امانت کے احساس کے ساتھ توازن و اعتدال سے استعمال میں لائیں۔ اسلامی نظریۂ حیات اس دنیا کو ایک تجربہ گاہ قرار دیتے ہوئے، انسان کی محدود زندگی کا مقصد تعمیری، اصلاحی اور اخلاقی طرزِ عمل سے ایک طرف مثالی عادلانہ معاشرہ قائم کرناقرار دیتا ہے، جس میں ایک جانب انسان خوشی، لذت اور اطمینان پاتا ہے اور دوسری طرف اس دنیا میں اخلاقی طرزِ عمل اختیار کرنے کے نتیجے میں وہ آنے والی ابدی زندگی میں انسان سے بہترین اجر اور انعامات سے نوازے جانے کا حقیقی اور سچا وعدہ فرماتا ہے۔
اس حیثیت سے دیکھا جائے تو تصورِ حیات میں اختلاف کے باوجود ایسے اُمور میں جہاں انسانوں کا مجموعی مفاد ہو اسلام اور وہ تہذیبیں جو لذت، دولت اور فرد کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں، انتہائی محدود اور مخصوص صورتوں ہی میں تعاون علی البرّ کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام سے وابستہ افراد کا یہ فریضہ بھی ہے کہ وہ اپنے تصور حیات کی وضاحت اور تعارف کے لیے دیگر تہذیبوں کے ساتھ تبادلۂ خیالات اور مکالمے کا مناسب استعمال کریں، تاکہ حق، عدل، اخوت اور عالمی انسانی برادری کے عالم گیر اصولوں پر تعاون کی فضا پیدا ہو سکے۔
مکالمے کی دوسری سطح تعلیم اور علمی تحقیق ہے، یعنی اسلام کے ماننے والے افراد اشاعت ِعلم، تصورِ علم، علم کی مختلف شاخوں اور مناہج پر عبور حاصل کرنے کے بعد نتائجِ فکر کو انسانی برادری کے سامنے پیش کریں، اور اس طرح اسلامی فکر عالمی سطح پر دیگر انسانوں کو غوروفکر اور اسلامی نظامِ حیات کی برکتوں سے متعارف کرا سکے۔ تاریخی طور پر مسلمان نہ صرف علوم اسلامی کے ماہربنے،بلکہ طب، ریاضی، طبیعیات، کیمیا اور دیگر علوم کے یورپ تک پہنچنے کا ذریعہ بنے۔ اور آگے چل کر مسلم دنیا سے مغرب کی جانب علوم کی یہ منتقلی ایک علمی مکالمے کی شکل میں یورپ کی ترقی کی بنیاد بنی اور یورپ بالخصوص علم کی استخراجی حکمتِ عملی (Deductive method) کی جگہ علم کی استقرائی حکمتِ عملی (Inductive method) سے آشنا ہُوا۔
مغرب کے ساتھ مکالمے کی تیسری سطح معیشت کا میدان ہے۔ جہاں آج اس حقیقت کے باوجود کہ یورپ و امریکا کے معاشی ادارے اور بین الاقوامی معاشی تنظیمات، مثلاً عالمی تجارتی تنظیم (WTO)، عالمی بنک اور آئی ایم ایف مغربی سامراجیت کے زیر سایہ ترقی پذیر اقوام کو معاشی محکوم بنانے میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب مغرب میں سرمایہ دارانہ معیشت اور سودی بنکاری کی ناکامی اب نوشتۂ دیوار سے زیادہ ایک منہ بولتی حقیقت ہے۔ تاریخ کے اس نازک موڑ پر اسلامی معیشت کے عادلانہ اصول، اخلاقی طرزِ عمل اور شراکت کی بنیاد پر تجارت کا فروغ ایسے اصول ہیں، جو آج بھی علمی اور عملی مکالمے کے ذریعے مغرب کے سامنے پورے اعتماد اور فخر کے ساتھ سرمایہ دارانہ نظام کے متبادل کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔
مغربی سرمایہ دارانہ معاشی نظام ہو یا ہندو بنیے اور یہودی سود خواری کا نظام، ان نظاموں کا زوال ایک زیادہ ذمہ دار متبادل معاشی نظام کی ضرورت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاریخ کے اس نازک دور میں اسلام اور مغرب کا معاشی سطح پر مکالمہ اور اسلامی اصولوں کی اشاعت مغرب کے گرتے ہوئے معاشی نظام کو ایک نئی زندگی سے روشناس کر ا سکتا ہے۔
اسلام اور مغرب کے مکالمہ کی ایک اور سطح ان بنیادی اقدار کے دوبارہ متعارف کرانے کا عمل ہے جو کچھ عرصہ قبل خود مغرب میں بھی قابل احترام سمجھی جاتی تھیں، لیکن مادیت، انفرادیت اور لذتیت کی تثلیث پر ایمان و عمل نے ان اقدار کو متزلزل کر دیا ہے۔ ان اقدار میں نظامِ خاندان کا احیا اور اسلامی خاندان کے تصور کا مغرب کے سامنے پیش کیا جانا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ مغربی تہذیب ہی نہیں، کسی بھی تہذیب کی بقا اور احیا اس کی آنے والی نسلوں پر منحصر ہوتا ہے ۔ اگر آنے والی نسلوں کو اخلاقی اقدار سے روشناس نہ کرایا جائے، ان کی تربیت گھر اور تعلیم گاہ میں نہ ہو، انھیں قربانی، ایثار، حق گوئی، عدل اور رواداری کی صفات گھر کے ماحول اور تعلیم گاہ میں نظر نہ آئیں تو اس تہذیب کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔ مغرب اور اس کی نقالی میں بہت سی دیگر اقوام نے خاندان کے ادارے کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے، شادی دیر سے کرنے اور تنہا رہنے کے تصور کو، اور ’انسانی حقوق‘ کے نام پر حیوانی حقوق سے بھی کم تراِس تصور کو سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے یک جنسی شادی کے تصور کو یورپ اور امریکا میں قانونی تحفظ فراہم کر کے، انسانی تہذیب کی مکمل طور پر تباہی کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ روم اور یونان اپنے فلسفہ اورادب کی ترقی کے باوجود، اپنی اخلاقی بے راہ روی اور خاندان کے نظام کے تباہ ہونے کے بعد سنبھالا نہیں لے سکے، تو مشینوں پر پلنے والی تہذیب اور ٹکنالوجی پر فخر کرنے والی اقوام کب تک مشینی کُل پرزوں کے سہارے تہذیب و ثقافت کی گرتی ہوئی دیوار کو سنبھالا دے سکیں گی۔ اس مکالمے میں اسلام، مغرب کو بہت کچھ دے سکتا ہے اور عالمِ انسانیت کی بقا اور احیا کے لیے صحت مند اور آزمودہ اقدار فراہم کر سکتا ہے۔
اسلام اور مغرب کے مکالمے کی ایک سطح دہشت گردی، سفاکیت اور خودکش ذہنیت کے حوالے سے وہ غلط العام ابلاغی اور دانش ورانہ یلغار ہے، جس نے اسلام اور اسلامیان کو بہت سے مقامات پر ایک معذرت پسندانہ رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کر دیا ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ قرآن و سنت کی بنیاد پر جہاد اسلامی کی حقیقی صورت کو واضح کیا جائے، کہ یہ ظلم و استحصال اور ناانصافی کو دور کرنے ، امن، اخوت، محبت اور انسانیت کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ اسلامی جہاد کے صحیح خدوخال کو واضح کیا جائے۔ اب سے تین چوتھائی صدی قبل مولانا محمد علی جوہر ؒکی خواہش پر سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جو تحریر اس حوالے سے لکھی تھی (الجہاد فی الاسلام) جدید تناظر میں اسی معیار اور وزن کی علمی تحریر کے ذریعے اس سطح پر مکالمے کی ضرورت ہے۔ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ابلاغِ عامہ جس تکرار کے ساتھ بعض الزامات کو دہراتا رہا ہے، حتیٰ کہ بہت سے صحیح الفکر افراد بھی اس مغالطے میں آ چکے ہیں کہ اسلام شدت پسندی اور دہشت گردی کو گوارا کرتا ہے، اس پروپیگنڈے کا علمی سطح پر جواب دیا جائے اور مغرب کے دانش وروں اور ابلاغ عامہ کو اس طرف متوجہ کیا جائے۔ یہ نہ صرف دو تہذیبوں کے باہم افہام و تفہیم کے لیے بلکہ خود دعوتِ اسلامی کے مستقبل کے لیے غیرمعمولی اہمیت کا حامل موضوع ہے اور اس پر بلاکسی تاخیر کے علمی کام کرنے کی ضرورت ہے۔
خواتین کے حوالے سے مغرب اور مغرب زدہ مسلمانوں نے جن شبہات اور اعتراضات کو بار بار دہرایا ہے ان پر بھی مکالمے کی ضرورت ہے، تاکہ ہر دو جانب سے رجوع کے بعد اسلام کی صحیح تعلیمات کھل کر سامنے آ سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام مساواتِ مرد و زَن کو بنیادی انسانی خمیر (Constituent) کی سطح پر تسلیم کرتا ہے، یعنی مرد اور عورت دونوں کا خالق اللہ ہے اور دونوں کو ایک ہی جان سے پیدا کیا گیا ہے۔ اس اصولی موقف کے بعد اسلام ہر دو صنفوں کے حقوق و فرائض اور معاشرے میں کردار کی روشنی میں عادلانہ بنیاد پر دائرۂ کار کو متعین کرتا ہے، اور اس میں بعض اوقات مردوں کو اور اکثر اوقات عورتوں کو فضیلت دیتا ہے۔ لیکن غیر مسلم تہذیبوں کے اثرات جو صدیوں سے مسلم معاشرے میں نفوذ کرتے رہے ہیں، ان کے سبب بہت سے ایسے رواج نہ صرف مسلم معاشرے میں بلکہ عالمی طور پر دیگر معاشروں میں رائج ہوگئے جن کا کوئی رشتہ اسلام سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ یہ قبائلی روایتی عصبیت اور نام نہادمردانگی کے تصور پر مبنی رویے اسلام کی بنیادی تعلیمات سے ٹکراتے ہیں، اور بعض اوقات مسلمانوں کا انھیں اختیار کرنا ایسا ہی ہے جیسے بعض مسلمان اپنے پیدایشی اسلام کے باوجود غیر اخلاقی حرکات کا ارتکاب کرتے ہوں۔ کیا ان کے اس انحراف کو اسلام سے منسوب کیا جا سکتا ہے؟ کیا ایک یورپی جو صرف اتوار کے دن چرچ جاتا ہو اور بقیہ تمام دنوں میں سخت بد اخلاقیوں کا ارتکاب کرتا ہو، تشدد کو پسند کرتا ہو، اس کے اس عمل کی بنا پر ہم عیسائیت کو اس کی بے راہ روی کا ذمہ دار قرار دے سکتے ہیں؟ لیکن جب انسانی ذہن ابلاغ عامہ کی زہر پھیلانے والی یلغار کا شکار ہو جاتا ہے تو پھر عقل کی آنکھ بند ہو جاتی ہے اور وہ محض سنی سنائی بات پر یقین کر بیٹھتا ہے۔ مغرب کے ساتھ مکالمے کا ایک اہم پہلو اسلام کے حوالے سے خواتین کے حقوق اور ان کا مقامِ فضیلت ہے جس پر غیر معمولی سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ علمی سطح پر کام کی ضرورت ہے۔
اسلام اور مغرب کے مکالمے کے موضوعات اورکس کس سطح پر اس مکالمے کو ہونا چاہیے، کے حوالے سے ایک طویل فہرست پیش کی جاسکتی ہے لیکن ہمارا مقصود کوئی حتمی فہرست ِ موضوعات پیش کرنا نہیں، بلکہ صرف اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ ٹکرائو اور آویزش کی جگہ علمی اور فکری مکالمہ ایک ایسی تعمیری کوشش ہے جسے ہمیشہ اولیت حاصل ہونی چاہیے۔ اگر صرف ان چھے بنیادی مباحث پر علمی اور سنجیدہ مکالمے کو آگے بڑھایا جائے تو نہ صرف ان سے متعلق مغا لطوں کو دُور کیا جاسکتا ہے، بلکہ اسلام اور مغرب کی آویزش میں کمی اور افہام و تفہیم کے ذریعے اسلام کے عالمی پیغام کو متعارف کرایا جاسکتا ہے۔(بہ شکریہ مغرب اور اسلام، شمارہ ۳۹، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد)
روزہ جہاں تقویٰ پیدا کرنے کا ذریعہ ہے وہاںیہ ایک نئی ثقافت ، ایک نئی فکر اور ایک نئے تصورِ حیات سے روشناس کرانے کا نام بھی ہے۔چنانچہ رمضان ایک ایسی ثقافت کو پروان چڑھاتا ہے جس کی بنیاد تقویٰ اور توحید ہے۔ یہ تہذیب اپنے مظاہراور اپنے اثرات کے لحاظ سے ایک منفرد پہچان اور شخصیت کی حامل ہے۔ ہم عام طور پر ثقافت اس مجموعی تہذیبی عمل کو کہتے ہیںجس میں اس تہذیب کی اقدارِ حیات، فنونِ لطیفہ، شعر و ادب، فن تعمیر، قانون، تعلیم معاشرت او رمعیشت اس تہذیب کے نظریے کی عکاسی کرتی ہوں، مثلاً مغربی ثقافت کی بنیادی قدر (value) مادہ پرستی اور لذت پرستی ہے۔ چنانچہ مغربی تہذیب کی معیشت ہو یا شعر وادب، فنون لطیفہ ہو یا تعلیم اور قانون، تمام شعبوں میں مادیت اور لذت پرستی اور لادینیت کے واضح اثرات پائے جاتے ہیں۔
مغربی ہی نہیںکوئی بھی مادی تہذیب ایسی نہیں پائی جاتی جو زندگی کو دو خانوں میں تقسیم نہ کرتی ہو، یعنی مادی اور روحانی معاملات۔ مغربی تہذیب کے معاشی اور سیاسی نظام میں مادیت کو مرکزی اور کلیدی مقام حاصل ہے۔ اس تہذیب میں مذہب کو ایک ذاتی فعل سمجھا جاتا ہے۔ گویا لادینی نظام میں مذہب کو صرف اس حد تک آزادی ہوتی ہے کہ ایک شخص جن کاموں کو مذہبی سمجھتا ہو انھیں اپنی ذات کی حد تک کر سکے۔ گرجا میں جا کر عبادت کرنی ہو یا شادی بیاہ کے موقعے پر مخصوص مذہبی رسوم، وہ ان سب کا اہتمام کرتا ہے لیکن اس کی معیشت اور سیاست میں مذہب کے لیے کوئی مقام نہیں پایا جاتا۔ چنانچہ مغربی تہذیب میں مذہب کو انفرادی معاملہ سمجھتے ہوئے ایک ذاتی سرگرمی قرار دیا جاتا ہے۔ اس بنیادی تصور کا انعکاس مغربی تہذیب کے ہر ہر شعبے میں نظر آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اسلامی تہذیب و ثقافت کی بنیاد توحید، یعنی اللہ تعالیٰ کی مکمل حاکمیت پر ہوتی ہے۔ چنانچہ معاشرتی مسائل ہوں یا معاشی، سیاسی اُمور ہوں یا ثقافتی، ان سب کی بنیاد تقویٰ اور توحید کے قرآنی اصولوں پر رکھی جاتی ہے۔
ثقافت اور تہذیب کی اصطلاحات میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے اور یہ اکثر بطور متبادل کے استعمال ہوتی ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو ثقافت کا بڑا حصہ ان اصول و مبادی پر مبنی ہوتا ہے جو کسی نظریۂ حیات کی اساس ہوتے ہیں، مثلاً وہ کائنات کے بارے میں کیا تصور رکھتے ہیں، ان کا خالق کائنات کے بارے میں کیا عقیدہ ہے، وہ اچھائی اور برائی کے کن معیارات کو اپنی زندگی کے معاملات کو طے کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ اصول و مبادی اور یہ ثقافت ایسے علم کو، ایسی معیشت کو، ایسی معاشرت کو اور ایسی تہذیب (civilization) کو پیدا کرتے ہیں جو بنیادی ثقافتی اقدار کی نمایندہ ہوں، مثلاً اسلامی ثقافت کی بنیاد توحید اور تقویٰ پر ہے۔ توحید کا تقاضا ہے کہ تہذیبی مظاہر (manifestations) میں شرک کا وجود نہ ہو مثلاً فن تعمیر میں جان دار تصاویر، وہ انسانوں کی ہوں یا جانوروں کی، ان کا استعمال نہ کیا جائے۔ چنانچہ اسلامی فن تعمیر ہو یا خطاطی اور مصوری اس کے اعلیٰ نمونوں میں انسانی شکل اور حیوانی مجسمے اور شکلیں نہیں بنائی جاتی ہیں۔
اسلامی ثقافت کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔ یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ رمضان المبارک تقویٰ پیدا کرنے والا مہینہ ہے اور تقویٰ کا واضح مظہر وہ زبان، وہ لباس، وہ غذا ہوگی جو تقویٰ پر مبنی ہو، مثلاً تقویٰ مطالبہ کرتا ہے کہ لباس سادہ اور ساتر ہو، غذا حلال ہو، زبان فحش نہ ہو اور اس میں نرمی و احترام پایا جائے۔ چنانچہ جو تہذیب بھی ان بنیادوں پر قائم ہوگی اس کے ماننے والوں کے طرزِ عمل اور بودو باش میں توحید اور تقویٰ کی جھلک ہوگی۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو رمضان ایسی ثقافت کو متعارف کراتا ہے جو توحید اور تقویٰ پر قائم ہے اور جس کااظہار تہذیبی اداروں میں پایا جاتاہے۔
روزہ ایک الہامی ثقافت کو پروان چڑھاتا ہے، چنانچہ رمضان کا پورا عرصہ اس بات کی تربیت دیتا ہے کہ ایک شخص سوچنے کے زاویے کون سے اختیار کرے۔ اس کے علم کاماخذ اور مصدر کیا ہو؟ صداقت سے کیا مراد ہے؟ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ عدل کی حقیقت کیا ہے؟ اسلامی ثقافت ان تمام بنیادی سوالوں کے واضح جواب فراہم کرتی ہے۔ چنانچہ اس مہینے کا آغاز جس چیز سے ہوتا ہے وہ رضا کارانہ طور پر اللہ کی بندگی میں آنا اور حاکمیت الٰہی کا اقرار ہے کہ ایک انسان اپنی قسمت کا، اپنے معاملات کافیصلہ کرنے والا خود نہیں ہے بلکہ یہ دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ اُس کا خالق ، اُس کا مالک، اُس کا رب کس چیز سے خوش ہوتا ہے۔ کسی بھی معاملہ کو طے کرنے کی بنیاد کیا محض ذاتی راے، محض ذاتی تجربہ، محض ذاتی مشاہدات ہوں یا فیصلے کی بنیاد اللہ کی بھیجی ہوئی وحی اور ہدایت ہوگی رمضان جس ثقافت کو قائم کرتا ہے اس کی پہچان للہیت ہے، یعنی ہر کام کو کرنے سے قبل یہ جائزہ لینا کہ اس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ خوش ہوں گے یا ناراض۔ یہی تقویٰ کی عام فہم تعریف ہے۔
اسلامی ثقافت جس تہذیب کو قائم کرتی ہے اس میں توازن، سادگی اور تقویٰ کا اظہار ہرعمل میں پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر لباس ایک تہذیبی علامت ہے۔ ایک شخص جو لباس پہنتا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کا مقصد حیات کیا ہے؟ کیا وہ معاشرے میں بسنے والے افراد کو اپنے لباس کے ذریعے اپنی دولت اور معاشی مقام و مرتبے سے آگاہ کرنا چاہتا ہے، یا ساتر اور سادہ لباس کے ذریعے اپنی سادگی اور نمایشی کاموں سے بچنے کی عادت کو ظاہر کرنا چاہتا ہے۔اس لیے اگر کوئی ایسا لباس استعمال کرے جس سے نمایش مقصود ہو تو ایسا لباس اسلامی ثقافت و تہذیب کے منافی ہوگا۔ رمضان کے دوران نہ صرف لباس بلکہ گفتگو میں بھی اسلامی اخلاقی اصولوں کا لحاظ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ رمضان میں جو ماحول پیدا ہوتا ہے وہ ہر اچھی بات کو پھیلانے میں مدد گار ہوتا ہے اور ہربُری بات کو روکنے میں امداد کرتا ہے۔
رمضان الکریم جس ثقافت کو متعارف کرانا چاہتا ہے اس کی پہچان زبان کی احتیاط ، نگاہ کی احتیاط، کان کی احتیاط، معاملات میں احتیاط ہے۔ گویا کہ یہ ایک ایسی تہذیبی تبدیلی ہے جو ایک ماہ کے عرصے میں ایک نئی تہذیبی روایت اور ماحول کو پیدا کرتی ہے۔ جس میں تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی (جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب تعاون کرو) اور وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔المائدہ ۵:۲)کی جھلک نظر آتی ہے۔
ثقافت کے عناصر ترکیبی میں قانون بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان کے دوران اسلامی شریعت کے ہر ہر حکم کی پیروی پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ اس ماہ کی تربیت شریعت کے احترام اور پابندی کی عادت کو مستحکم کر دیتی ہے۔ اسلامی ثقافت کی بنیادی اقدار میں سے ایک اہم قدر خواتین کا احترام اور ان کو جنسِ تجارت بنانے (commercialization ) سے اجتناب ہے۔ اسلامی ثقافت مطالبہ کرتی ہے کہ خواتین کے اعلیٰ مقام کو پامال نہ کیا جائے اور ان کے جسم کو معاشی فائدے کے حصول کے لیے استعمال نہ کیا جائے، چنانچہ اشتہارات میں خواتین کا استعمال اسلامی ثقافت کی ضد ہے۔ اسی طرح اسلامی ثقافت چاہتی ہے کہ مردو زن میں اختلاط نہ ہو کیونکہ یہ برائی کی جانب پہلے قدم کی حیثیت رکھتا ہے۔ رمضان کے دوران اس ثقافتی قدر کو باربار یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اجتماعات ہوں یا تقریبات، ان میں مرد اور عورتیں الگ الگ نشست و برخواست رکھیں۔ بعض مسلم ممالک میں ابلاغ عامہ کو چلانے والے ادارے مغربی اورسرحد پار کی غیر اسلامی تہذیبوں کے زیر اثر رمضان میں بھی اپنے خیال میں جو ’دینی‘ پروگرام کرتے ہیں ان میں ایک نوجوان اور دوسری جانب ایک بنی سنوری خاتون کو بٹھا کر اسلامی معاشرت پر قرآن و حدیث کے حوالے سے بات چیت یا سوال و جواب کراتے ہیں۔ یہ رمضان کے تقدس کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ حدیث نے حیا کو ایمان کا بڑا حصہ قرار دیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جس میں حیا نہیں وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اسلامی ثقافت حیا کی ثقافت ہے اور اس ماہ میں خصوصی طور پر حیا کا اختیار کرنا روزے کو مقبول بنا دیتا ہے۔ حیا محض شرم کا نام نہیں ہے بلکہ حیا ایک وسیع تصور ہے۔ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بزرگوں کا احترام اور بچوں کے ساتھ شفقت و محبت کس طرح اختیار کی جائے۔
رمضان کے دوران دین کے علم میں اضافے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں۔ مالی اختیارات میں فضول خرچی سے بچتے ہوئے ہاتھ کی کشادگی کس طرح اور کس حد تک اختیار کی جائے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے دوران اپنے اہل خانہ اور دیگر مسلمانوں پر کثرت سے خرچ کرتے تھے۔ اس انفاق کی ثقافت کو کس طرح رائج کیا جائے۔ خصوصاً ایسے افراد کی امداد جو ہاتھ پھیلانے میں شرم محسوس کرتے ہوں، ان کی ضروریات کو کیسے پورا کیا جائے۔ گھروں میں قرآن کریم کی تعلیمات کو کس طرح رائج کیا جائے اور روایتی طورطریقے جو صدیوں سے گھروں میں رواج پا گئے ہیں کس طرح ان کی جگہ اسلامی اخلاقی ضابطوں کو نافذ کیا جائے۔ یہ پورا مہینہ ان تمام معاملات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی میں آنے کے اعلان کے ساتھ خلوص نیت سے قرآنی تعلیمات کو بتدریج اپنی زندگی میں، اپنے گھر میں اور اپنے معاشرے میں نافذ کرنے کے لیے مؤثر عملی اقدامات کیے جائیں۔
اپنے روز مرہ کے معاملات اور تعلقات کو اللہ کی مرضی کے مطابق ڈھالنے کا نام ہی توحید ہے۔ جب ایک شخص اپنے آپ کو ان تمام غلامیوں سے نکالتا ہے جو بچپن سے جوانی تک اور جوانی سے بڑھاپے تک غیر محسوس طور پر اس پر اثر انداز ہوتی ہیں، وہ برادری کی روایات ہوں، والدین اور بزرگوں کے سکھائے ہوئے طریقے ہوں یا معاشرے سے اخذ کی ہوئی عادات، جب ایک شخص ان سب کو جانچنے کے لیے توحید کی کسوٹی استعمال کرتا ہے، تو پھر اس کے تعلقات، فکر اور معاش، سیاست، گھر کے فیصلے، سب کی بنیاد صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہو جاتی ہے۔ یہی روزے کا مقصد ہے کہ انسان میں تقویٰ کی روش پیدا ہو، وہ اپنے قلب، دماغ، جسم خواہشات ہر چیز کو اللہ کی خوش نودی کا تابع بنائے۔ یہی توحیدی ثقافت ہے جو ہر انسانی عمل کو اللہ کی بندگی میں لے آتی ہے۔
ایک اور اہم خصوصیت جو یہ ثقافت ہمارے اندر پیدا کرتی ہے وہ احترام آدمیت اور احترام انسانیت ہے، یعنی روزے کے دوران اس بات کی شدت سے ممانعت ہے کہ ایک شخص کے ہاتھ سے کسی کو نقصان پہنچے، زبان سے کسی کو تکلیف پہنچے، اس کی گفتگوئوں سے کسی کی دل آزاری ہو۔ اگر ایسا کیا جائے گا تو اس کا ایسا کرنا اسلامی ثقافت کی روح کے منافی ہوگا۔ گویااحترام انسانیت کے ساتھ وہ طرزِ عمل جوروزہ ہمارے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے یہ ہے کہ ایک مومن نہ کسی سے بلند آواز سے مخاطب ہو، نہ کسی پر ہاتھ اُٹھائے، نہ کسی کی جان لے، نہ کسی کو تکلیف پہنچائے،بلکہ اس مہینے میں اپنی تربیت اس طرح کرے کہ وہ دوسروں کی جان، مال اور عزت کا محافظ بن سکے۔
ایک اور اہم پہلو جو اس ثقافت کی پہچان ہے وہ یہ ہے کہ افراد کے ساتھ معاملات میں، بالخصوص مالی معاملات میںدیانت داری کو اختیار کیا جائے۔ چنانچہ یہ ثقافت ہمارے اندر مال کے احترام اور حُرمت کااحساس پیدا کرتی ہے کہ اگر سونے کا ڈھیر بھی کسی کے سامنے پڑا ہو تو وہ اس کو ہاتھ بھی نہ لگائے کیونکہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ جو شخص روزے کے دوران سخت پیاس اور بھوک میں بہترین کھانا سامنے ہونے کے باوجود اپنا ہاتھ آگے نہیں بڑھاتا، وہ یہ کیسے کرسکتا ہے کہ عام حالات میں کسی دوسرے کی دولت پر ہاتھ ڈالے۔ گویا اس ثقافت کی ایک بنیاد وہ احترا م ہے جو دوسرے کی ملکیت یا مال کے بارے میں یہ ثقافت ہمارے اندر پیدا کرنا چاہتی ہے۔
اس ثقافت کا ایک اوراہم پہلو جو روزہ ہمارے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے سارے معاملات کی بنیاد ایک شعوری عمل ہو، عقلی رویہ ہو جس میں ایک شخص سوچنے سمجھنے کے بعد یہ طے کرے کہ مجھے کوئی کام کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے۔ مثلاً ایک شخص اگرمعمولی سی فہم بھی رکھتا ہو، تو وہ یہ بات تسلیم نہیں کرے گا کہ اپنی زندگی کو تباہ کرنے کے لیے منشیات کا استعمال کرے، یا شراب کا استعمال کرے جو اس کواپناغلام بنا لیں۔ یہ رویہ عقل و شعور کا نہیں ہوسکتا۔ روزہ ایسی فضا پیدا کرتا ہے جس میں منشیات کے خلاف جہادکا جذبہ پیدا ہو جائے اور ایک شخص بجاے منشیات کا غلام بننے کے ایسا عقلی رویہ اختیار کرے جس میں شعوری طور پر یہ دیکھ سکے کہ اس کے لیے کیا چیز مفید ہے اور کیا نقصان دہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک ظلم یہ ہے کہ اشتہارات کے ذریعے بچوں کو بھی ایسے مشروبات پینے کی ترغیب دی جاتی ہے جو طبی معلومات کی روشنی میں صحت کے لیے مضر ہیں اور آہستہ آہستہ منشیات تک پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ انتہا یہ ہے کہ رمضان کے دوران ان مُضِر مشروبات کے اشتہار افطاری کے حوالے سے دکھائے جاتے ہیں جو اسلامی ثقافت سے ناواقفیت کی علامت ہے۔
رمضان وہ ثقافت پیدا کرتا ہے جس میں محض شعوری رویہ ہی نہیں بلکہ انسانوں کے حوالے سے بھی یہ احساس بیدار ہوتا ہے کہ انسان اپنی فطری ضروریات کو اخلاقی ضابطے میں رہتے ہوئے کس طرح پورا کرے۔چنانچہ روزہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ روزے کے دوران کن کاموں سے اجتناب کیا جائے، مثلاً جنسی ضرورت کا پورا کرنا۔ اسلامی ثقافت میں جنس بجاے خود ناپسندیدہ چیز نہیں ہے۔ روزے کے دوران جنسی تعلق قائم نہ کرنا تزکیہ اور تربیت کا ایک ذریعہ ہے لیکن روزہ مکمل کرنے کے بعد جائز تعلق قائم کرنا تقویٰ کی علامت ہے۔ قرآن کریم رہبانیت اور مجرد رہنے کی ممانعت کرتا ہے اور ترغیب دیتا ہے کہ اہل ایمان خاندانی زندگی گزاریں۔ چنانچہ وہ حکم دیتا ہے کہ مسلمانوں میں سے جو مجرد ہوں ان کے نکاح کر دیے جائیں۔ رمضان میںجنسی تعلق کے حوالے سے قرآن پاک اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ علم تھا کہ اگر اجازت نہ دی گئی تو بعض افراد خیانت کریں گے، اس لیے روزے کے افطار کے بعد سے سحر کے وقت تک ایک شخص کو جائز خواہشات کو پورا کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ گویا اس ثقافت کی بنیاد جائز تعلقات کا احترام ہے، اُن کا باقی رکھنا، اوران کے حقوق کا ادا کرنا ہے۔ روزے کے دوران بعض کاموں سے رُک جانا اور افطار کے بعد انھی کاموں کا مباح ہو جانا یہ پیغام دیتا ہے کہ روزے کی اصل روح اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کا احترام ہے۔ یہ حدود جنسی تعلقات سے متعلق ہوں یا غذا اور آرام سے متعلق، ان پر عمل کرنا ہی روزے کو باعث اجر بناتا ہے۔
روزہ ہمارے اندروہ ثقافت پیدا کرتا ہے جواللہ سبحانہ و تعالیٰ کے وجود کے احساس کے ساتھ ساتھ، اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ؐکی محبت ہمارے دلوں میں اُتارتی ہے۔ ہم ہر معاملے میں یہ چاہتے ہیں کہ یہ دیکھیں کہ خاتم النبینؐ نے کس کام کو کس طرح سے کیا۔ چنانچہ آپؐ کی سنت اور آپؐ کے عمل کی پیروی ہمارے ایمان میں وہ قوت اور تازگی پیدا کردیتی ہے جو اس با برکت موسم کا امتیاز ہے۔ روزے کے ذریعے جو ثقافت پیدا ہوتی ہے وہ گویا توحیدی ثقافت ہے۔ وہ ثقافت عدل والی ہے۔ وہ احترام اور حیا کی ثقافت ہے۔ وہ احترام مال کی ثقافت ہے۔ وہ احترام عقل و شعور کی ثقافت ہے ۔وہ اطاعتِ رسولؐ کی ثقافت ہے۔ اس کے اندر وہ تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں جو ایک معاشرے کو پُرامن بنا سکتی ہیں۔ اس ثقافت کو وجود میں لانے اور اس کی حیات کو روح فراہم کرنے والی شے قرآن کریم ہے جس کے نزول کی شان میں یہ عبادتوں والا مہینہ اس کلام عزیز کے بھیجنے والے نے خود منتخب فرمایا۔ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ أُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ کا اشارہ اسی جانب ہے کہ یہ محترم مہینہ ہے جو ایسی ثقافت کو وجود میں لاتا ہے جس میں ہرعمل اللہ تعالیٰ کی رضا کا پابند ہے۔ اس مہینے کو قرآن کریم کے ساتھ وابستہ کردیا گیا ہے۔ فرمایاگیا: شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ أُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَــیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ (البقرہ۲:۱۸۵)، یعنی یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن کریم کو نازل فرمایا جو ہدایت ہے انسانوں کے لیے۔ یہ فرق بتانے والا ہے اچھائی میں اور برائی میں۔ یہ ہر چیز کو واضح بیان کردیتا ہے اور ہمیں سمجھا دیتا ہے کہ کون سے کام کرنے کے ہیں اور کون سے نہ کرنے کے۔
رمضان جو ثقافت پیدا کرتا ہے وہ کوئی نمایشی اور مصنوعی ثقافت نہیں ہے، بلکہ ایک عالم گیر ثقافت ہے جس میں تمام انسانوں کے لیے بھلائی، ہدایت اور کامیابی کا راز ہے۔ یہ مہینہ قرآن کے ساتھ قریبی تعلق پیدا کرنے کا مہینہ ہے۔ اس میں ہر صاحب ایمان کتاب کے ساتھ ایک ذاتی اور گہرا تعلق پیدا کرتا ہے۔ وہ زندگی کو مختلف خانوں میں تقسیم نہیں کرتا بلکہ توحید کی اکائی کے تحت زندگی کے تمام کاموں میں یک جہتی، یگانگت اور وحدانیت پیدا کرتا ہے۔
روزہ اس ثقافت کو پید ا کرتا اور پروان چڑھاتا ہے جو اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیمات کی روشنی میںہمیں تعمیراور ترقی کے تمام مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہ اُس ثقافت کی مخالفت کرتا ہے جو برقی ذرائع ابلاغ کے ذریعے مغربی یا ہمسایہ ملکوں کی غیر اخلاقی ثقافت کو ہم تک پہنچاتی ہو۔ یہ ثقافت، علاقائیت، رنگ و نسل، زبان اور جغرافیائی حدود کی غلام نہیں ہے بلکہ آفاقی اور عالم گیر ہے۔ قرآن کریم اپنے بارے میں یہی کہتا ہے کہ وہ تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ اس کی ثقافت بھی عالم گیر ثقافت ہے۔ یہ عالمی امن، احترامِ انسانیت اور حقوق انسانی کو بحال کرنے والی ثقافت ہے۔ اس کی پہچان اخلاقی رویہ اور انسانوں کے حقوق کو جیسا ان کا حق ہے ادا کرنا ہے۔ یہ حقوق و فرائض کی واضح تقسیم پر مبنی ثقافت ہے۔ (مقالہ نگار کی کتاب روزہ اور ہماری زندگی کا ایک باب۔، ناشر: منشورات، لاہور)
عالمی سطح پر گذشتہ نصف صدی سے عمرانی علوم (سوشل سائنسز) کی جانب تدریسی اور تحقیقی میدانوں میں انحطاط کا رحجان محسوس کیا جا رہا ہے۔ بظاہر اس کا سبب طلبہ اور حکومتوں کا ٹیکنالوجیکل مضامین میں دل چسپی لینا اور جامعات میں انجینیرنگ، کمپیوٹر سائنس، بیالوجیکل اور فزیکل سائنسز میں داخلوں اور سہولیات پر زیادہ توجہ دینا نظر آتا ہے۔ اس رحجان کا اثر عمرانی علوم کے شعبوں میں داخلوں میں کمی اور اطلاقی علوم میں داخلوں میں کثرت کے ساتھ طلبہ اور طالبات کے تناسب میں بھی نظر آتا ہے۔ عموماً میڈیکل کالجوں اور ڈینٹل کالجوں میں طالبات کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ یہ تناسب اکثر ۶۰،۷۰ فی صد طالبات اور تقریباً ۳۰، ۴۰ فی صد طلبہ کی تعداد کی شکل میں کم از کم اسلام آباد کی جامعات میں بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔
بالعموم عمرانی علوم کو طلبہ اور والدین وہ اہمیت نہیں دیتے جس کے یہ مستحق ہیں۔ ان علوم میں تاریخ، سیاسیات، عمرانیات، نفسیات اور اسلامی علوم وغیرہ سب ہی شامل ہیں۔ وہ طلبہ جو اطلاقی علوم (Applied Sciences) میںداخلے نہ حاصل کر سکیں عموماً عمرانی علوم میں داخلہ لے کر عمرانیات، نفسیات، معاشیات، سیاسیات یا اداراتی علوم میں ایم اے کرنے کے بعد عام طور پر تدریس سے وابستہ ہو جاتے ہیں اور ڈگری کالجوں میں اپنے مضمون کو جیسا کہ انھوں نے اپنے اساتذہ سے پڑھا تھا، پڑھا کر ایک پُرسکون زندگی گزارنے پر قناعت کرتے ہیں۔ عمرانی علوم پڑھانے والے اساتذہ میں سے بہت کم افراد ایسے ہیں جو ان علوم کے فکری اور نظریاتی ارتقا سے واقفیت اور اس پورے عمل پر گہری نگاہ رکھتے ہوں۔ اکثر اساتذہ کا ہدف کورس کی کتاب میں درج اصطلاحات و مضامین کی کچھ وضاحت اور ان میں پیش کیے گئے تصورات کو طلبہ تک منتقل کرنا ہوتا ہے۔ بہت کم اساتذہ ایسے پائے جاتے ہیں جو کورس کی مقررہ کتابوں کے علاوہ تحقیقی مضامین اور تازہ طبع ہونے والی کتب سے استفادہ کرتے ہوں یا طلبہ کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہوں۔ نتیجتاً عمرانی علوم علمی حیثیت سے جس مقام پر کھڑے ہوں انھیں وہیں پر رہنے دیا جاتا ہے، جب کہ فزکس، کیمسٹری اور دیگر سائنسز کے بارے میں جدید تحقیقات، کم از کم ایم ایس اور ایم فِل کی سطح پر ضرور علم میں لائی جاتی ہیں۔ جدید علمی تحقیقات سے کما حقہ واقفیت اور ان کے تجزیہ و تحلیل کے بعد ہی ان علوم میں آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ گذشتہ ۱۰ برسوں میں ایچ ای سی (ہائر ایجوکیشن کمیشن) نے جامعات کی زمرہ بندی اور اساتذہ کی ترقی کے حوالے سے جو علمی پیمانے بنا کر نافذ کیے ہیں اس کے نتیجے میں کم از کم عالمی جرائد میں پاکستانی اساتذہ کے مضامین کی اشاعت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، اور امید کی جاسکتی ہے کہ نہ صرف تعداد کے لحاظ سے بلکہ اپنے اعلیٰ معیار کی بنا پر ان مضامین سے نئی ایجادات میں بہت مدد ملے گی۔ اس خوش آیند پہلو کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ یہ جائزہ لیا جائے کہ جو عمرانی علوم اور اطلاقی علوم ہماری جامعات میں پڑھائے جا رہے ہیں وہ کس حد تک قومی تعلیمی مقاصد و اہداف پر پورے اُترتے ہیں۔ ہم اس سلسلے میں چند گزارشات اپنے قارئین کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں:
تاریخی طور پر عمرانی علوم یا Social Sciences اور Behavioral Sciences کی اصطلاحات متبادل طور پر استعمال کی جاتی رہی ہیں۔ انھیں Human Sciences بھی کہا جاتا ہے جو شاید زیادہ جامع اصطلاح کہی جا سکتی ہے۔ اصطلاح کی افضلیت سے قطع نظر اگر دیکھا جائے تو گذشتہ ڈیڑھ سو سال سے پاکستان میں جو عمرانی علوم پڑھائے جا رہے ہیں یہ انگریز کے دورِ غلامی سے آج تک ایک تسلسل کی شکل میں یورپی جامعات میں اب سے ڈیڑھ سو سال قبل پڑھائے جانے والے مضامین کا ایک چربہ ہیں، حتیٰ کہ نصابی کتب بھی جوں کی توں ہیں۔ گذشتہ ۵۰برسوں میں یورپ اور امریکا میں ان علوم میں جو اضافے اور تبدیلیاں عمل میں آئی ہیں ہماری جامعات ان سے بڑی حد تک بے خبر انھی کتب اور تصورات کو ہمارے طلبہ کو پڑھا رہی ہیں جو انگریز کے دورِغلامی میں ہم پر لادینی نظامِ تعلیم میں نافذ کی گئی تھیں۔
جنوب مشرقی ایشیا کی بعض جامعات میں عمرانی علوم کے اِس پہلو پر علمی مکالمہ جاری ہے۔ پاکستان کے تناظر میں عمرانی علوم کے فکری اور نظریاتی پہلو پر تنقیدی نگاہ ڈالنا بہت ضروری ہے۔
عمرانی علوم کسی بھی معاشرے میں پائے جانے والے انسانوں کے باہمی تعلقات اور معاشی، سیاسی، قانونی، ثقافتی، تعلیمی اور عائلی تعلقات سے بحث کرتے ہیں۔ اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ یہ انسانی طرزِ عمل (behavior) کا جائزہ لیتے ہیں اور نہ صرف اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اس کے بارے میں تبدیلی اور ممکنہ ردعمل سے بھی مطلع کرتے ہیں۔ چنانچہ علمِ معاشیات نہ صرف انسان کے معاشی ذرائع پیداوار، تقسیم وسائل بلکہ دولت اور وسائل کے پیداواری عمل میں لگائے جانے اور حصولِ منفعت کے حوالے سے اندازے قائم کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے اور انسان کے معاشی طرزِ عمل کی سمت کا تعین کرنے میں موجودہ معلومات کی بنیاد پر مستقبل کے نقشے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ایسے ہی علمِ عمرانیات (سماجیات) کسی بھی معاشرے میں پائے جانے والے بنیادی ادارہ، خاندان اور اس سے متعلقہ قانونی، اخلاقی اور دیگر پہلوئوں سے آگاہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ انسان کس طرح معاشرے سے متاثر ہوتا ہے، معاشرہ کیسے وجود میں آتا ہے اور اس کے ترقی کرنے یا زوال کے اسباب کیا ہوتے ہیں۔ قانون اور تعلیم کا کردار معاشرے میں کیا ہے اور اخلاقی اقدار کیسے وجود میں آتی ہیں۔
جہاں تک سوشل سائنسز یا عمرانی علوم کے طریقِ تحقیق کا تعلق ہے اس کا ماخذ بھی یورپ میں استعمال کیے جانے والے تجربی طریقے (Empirical Methods) ہیں۔ چنانچہ معاشیات ہو یا عمرانیات جو پیمانے ترقی(Progress, Development) کو ناپنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، ان کی فکری بنیاد یورپی تصورِ حیات (World View) ہی فراہم کرتا ہے۔ اگر سماجی ترقی کا اندازہ کرنا ہو تو یورپی تصورِ حیات میں جو معیارِ زندگی (Quality of Life)، گھر کی مکانیت اور اس میں سہولیات کا ہونا، سڑکوں، بجلی اور ذاتی سواری کا ہونا، اوسط عمر، خاندان میں افراد کی تعداد، غرض وہ بہت سے پہلو جنھیں تجربی طور پر اعدادو شمار میں لایا جا سکتا ہے وہی ترقی، کامیابی اور ڈویلپمنٹ کے اشاریے (Indicators) قرار دیے جاتے ہیں۔
اس وضاحت سے جو بات کھل کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اور عالمِ اسلام میں جو عمرانی علوم، عمرانیات یا معاشیات پڑھائے جاتے ہیں اور جس کی بنیاد پر کسی ملک یا معاشرے کو ترقی یافتہ، کسی کو پس ماندہ اور کسی کو زیرِ ترقی کہا جاتا ہے ، ان سب کو ناپنے کے پیمانے ان ممالک کے اپنے حالات، تصورِ حیات، معاشرتی روایات، اقدارِ حیات سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ ان کا مقصد و ماخذ مغربی تصورِ حیات اور تہذیب و تمدن ہیں۔
بعض حضرات اس تاثر کا اظہار کرتے ہیں کہ عمرانی علوم کا تعلق نہ کسی خاص مذہب سے ہے نہ کسی خاص ثقافت سے، یہ تو معاشرے میں پائے جانے والے حقائق کا عکس ہوتے ہیں۔ حقیقت واقعہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ تصورِ معاشرہ کا مفہوم آسان زبان میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس معاشرے میں جو انسان پایا جاتا ہے اس کا تصورِ حیات، تصورِ کامیابی، تصورِ فلاح اور تصورِکائنات اور تصورِ الٰہ یا رب کیا ہے؟ کوئی بھی معاشرہ اُس تصورِ حیات کا عکس ہوتا ہے جو اس میں پائے جانے والے انسان اختیار کرتے ہیں۔ مغربی علومِ عمرانی فرد، معاشرے اور ریاست کے بارے میں اور بالخصوص الٰہ، رب اور کائنات کے بارے میں جو تصور رکھتے ہیں وہی ان کے معاشرے کو تشخص فراہم کرتا ہے، چنانچہ مغرب میں عمرانی علوم کو جن بنیادوں پر اٹھایا گیا ہے ان میں انسان ہی کائنات کا مرکز قرار پاتا ہے۔ انسانی خوشی، تسکینِ خواہش اور رضامندی ہر معاشرتی عمل کی بنیاد تسلیم کی جاتی ہے۔
فلسفیانہ اصطلاحات میں مغربی تہذیب و ثقافت کی بنیاد Individualism (انفرادیت پسندی)، Hedonism (حصولِ لذت)، Materialism (مادہ پرستی) اور Relativist Ethics (اضافی اخلاقیات) پر قائم ہے۔ چنانچہ ایک فرد طے کرتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی تسکین کے لیے کتنی دولت کمائے اور اپنی نجی زندگی میں کن چیزوں کو جائز اور کن کو ناجائز قرار دے۔ گویا خاندانی تعلق ہو یا کاروباری، ملازمت ہو یا کاشت کاری، دوستی ہو یا دشمنی، وراثت کا معاملہ ہو یا سیاسی اقتدار، ہرانسانی فیصلے کی بنیاد انسان کا اپنا ذاتی مفاد، دولت، لذت یا تسکین فیصلہ کن مقام کی حامل اقدار ہیں اور انسان کو کسی بیرونی غیرجانب دار، مفادات سے بالاتر ہستی کی ہدایت کی ضرورت نہیں۔
مغربی سوشل سائنسز کے تمام شعبے اس بنیادی تصورِ حیات و کائنات کو اپنی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ عمرانیات کا پہلا کُلیہ ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے کیوں کہ وہ انسانوں کے ساتھ گروہ کی شکل میں مل جل کر رہتا ہے۔ یہاں جو بات بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور ایک لادینی افادیت پرست (Utilitarian) تصور کو اسلام کے عالمی اخلاقی تصور سے ممتاز کرتی ہے وہ مغربی علوم عمرانی میں انسان کا بنیادی طور پر حیوان ہونا ہے، جب کہ اسلامی تصورِ حیات اللہ تعالیٰ کو خالق و حاکمِ کائنات اور انسان کو اس کا خلیفہ قرار دیتا ہے اور انسان کا وجود محض حیوانی نہیں بلکہ حیوانی پہلو کے ساتھ اس کی اصل شناخت اس کا روحانی، ملکوتی اور اخلاقی وجود ہے جو اسے استخلاف کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا اہل بناتا ہے اور دنیا کے سارے وسائل کے صحیح تصرف کو اس کی جولان گاہ بنا دیتا ہے۔
مغربی سوشل سائنسز کی آغوش میں تربیت پانے والا ذہن آغاز سے ہی اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ انسانی نفسیات کی بنیاد اس کی انا، لذت، قوت اور قبضہ کرنے کی جبلّت (Instinct) ہے اس لیے وہ ہمیشہ ان محرکات کی بنا پر کام کرے گا۔ یہ وہی اصول ہیں جو، بصد معذرت، چوہوں پر تجربات کرکے حاصل کیے جاتے ہیں اور پھر انسانوں پر لاگو کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ روایتی نفسیات کا دائرہ انسان کو دو پائوں پر چلنے والے بڑے چوہے میں تبدیل کر دیتا ہے جو پنیر (cheese) کی خوشبو پر بھول بھلیوں سے تیزی سے گزرتا ہوا آخر جا کر پنیر کو کتر لیتا ہے۔
سگمنڈ فرائڈ اور دیگر ماہرین نفسیات انسان کی زندگی کے تقریباً تین چوتھائی اعمال اور فیصلوں کو اس کے لاشعور اور تحت الشعور کا کارنامہ سمجھتے ہیں، جب کہ اسلام انسانی زندگی کے تمام کاموں کو شعوری اور ارادی عمل (نیت، ارادہ) سے وابستہ قرار دیتا ہے۔ اس طرح تصورِ انسان اور تصورِ حیات کا بنیادی فرق عمرانی علوم کے ہر ہر شعبے میں نمایاں نظر آتا ہے۔ مسلم دانشور کا اصل مسئلہ اس کی وہ فکری اور ذہنی مرعوبیت ہے جس کی بنا پر وہ لادینی مغربی عمرانی علوم کا اتنا عادی ہو چکا ہے کہ اب وہ ان کے فکری سانچوں سے نکلنا بھی چاہے تو بآسانی نہیں نکل سکتا۔ وہ گندے تالاب کی مچھلی کی طرح اپنے اردگرد کے بُرے ماحول میں فرحت محسوس کرتا ہے کیوں کہ اسے ابھی تک تازہ اور صحت مند پانی میں تیرنے کا اتفاق نہیں ہوا۔
نصف صدی قبل الجزائری مفکر مالک بن نبی نے اس صورتِ حال کو محض ایک لفظ میں یوں بیان کیا تھا کہ Colonizibility یعنی محکومانہ ذہنیت سیاسی اور تہذیبی محکومیت سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ اسی بات کو FANON نے Neo-Colonialism کی اصطلاح سے واضح کرنا چاہا۔ دراصل ہمارے علومِ عمرانی مغربی لادینی (Secular) جمہوریت، انفرادیت پسندی (Individualism)، مادیت (Materialism) اور لذتیت (Hedonism) کے ارکان اربعہ پر ایمان بالغیب لاتے ہوئے ان مفروضوں کو انسانی فکر اور معاشرے کی تخلیق و ارتقا کی بنیاد سمجھتے ہیں اور ہر وہ فکر جو ان مفروضوں سے ٹکراتی ہے اسے قدامت اور روایت پرستی قرار دے دیتے ہیں۔ ہمارے دانش ور بھی انھی تصورات کی تشہیر کرتے ہیں اور کبھی اس دامِ خیال سے باہر نکل کر ان تصورات پر تنقیدی نظر نہیں ڈالتے۔
کسی ملک و قوم کی ترقی کا انحصار اس کے تصورِ حیات کی عظمت پر ہوتا ہے اور اس تصورِ حیات کا عکس علوم میں نظر آتا ہے۔ ہمارے سماجی علوم کی تشکیلِ جدید ہماری اپنی اخلاقی اقدار پر کرنے کے لیے ہمیں مغربی فکر کی اندھی تقلید سے نکل کر اسلام کی آفاقی اقدار کی بنیاد پر تصورِ علم اور اصنافِ علم کو نئے سرے سے مدون کرنا ہو گا تاکہ ہر شعبۂ علم سے وابستہ محقق کائنات اور خالق کائنات کے باہمی تعلق کو تسلیم کرتے ہوئے انسانیت کی فلاح اور ایک اخلاقی معاشرے، اخلاقی معیشت، اخلاقی سیاست اور اخلاقی ثقافت کی تعمیر کرسکے۔
مغربی معاشرہ ہو یا معیشت و سیاست و اخلاق، ہر ہر شعبے میں جو ترقی ایک نگاہِ ظاہر بین کو نظر آتی ہے اس کی اصل یہی چار اصول ہیں جن کا تذکرہ اوپر کیا گیا۔ معاشرے کے قیام کا آغاز خاندان کی اکائی سے ہوتا ہے۔ مغربی عمرانیات اور سماجیات میں خاندان کی تعریف اور اس پر ایمان بالغیب لانے کے نتیجے میں خود ہمارے معاشرے میں اکیسویں صدی میں خاندان کی تعریف یہی کی جاتی ہے کہ شوہر بیوی اور ان کے حد سے حد دو بچے۔ اسی بنیادی اکائی کی بنیاد پر ایک خاندان کی معاشرتی اور معاشی ضروریات کا تعین کرتے ہوئے ایک فرد اپنے مستقبل کا نقشہ ذہن میں بناتا ہے، یعنی اگر وہ چاہتا ہے کہ اپنا مکان خود تعمیر کرے تو اس میں اس کا ماسٹر بیڈ روم ہو گا اور ان’دوبچوں‘ کے لیے ایک کمرہ تاکہ بالغ ہونے کے بعد وہ خود اپنی فکر کریں اور جو کمرہ ان کے استعمال میں تھا وہ یہ معمر ماں باپ کسی اور مصرف میں لا سکیں۔ اس مکان میں دادا دادی یا نانا نانی یا بچوں کی پھوپھی یا خالہ یا کسی بھی عزیز کے لیے تصوراتی طور پر کوئی جاے رہایش نہیں پائی جاتی۔ اس تصور کی بنیاد پر گھروں اور شہروں کی منصوبہ بندی ( Town Planning) کی جاتی ہے اور اس کی روشنی میں پانی کی فراہمی، سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر قرب و جوار میں کسی باغ کا بنایا جانا متوقع تعداد کے لحاظ سے بچوں کے اسکول، ہسپتال یا بازار کا تعین کیا جاتا ہے۔
گویا بنیادی مفروضہ اگر یہ ہو کہ ایک ’خوش حال‘ گھرانہ صرف وہ ہے جہاں حد سے حد ایک یا دو بچے پائے جائیں تو یہ انفرادی بلکہ اجتماعی فیصلہ جن محرکات پر مبنی ہوتا ہے وہ بقیہ تین ارکان، یعنی لذتیت، مادیت اور دنیویت (غیرمذہبی سوچ) ایک فرد کو اپنے فیصلوں میں خودمختار سمجھتے ہوئے اخلاق کو انفرادی پسند کا تابع بنا دیتے ہیں، اور وہ حد سے حد دو بچوں والے ’خوش حال گھرانے‘ کے خودساختہ تصور میں گم رہتا ہے۔ اگر صرف سماجیات اور معاشرے کے نقطۂ نظر سے اس مثال پر غور کیا جائے تو محض دو نسلوں میں اس ’خوش حال‘ گھرانے میں پیدا ہونے والے یہ دو بچے اگر لڑکے تھے تو جب یہ بڑے ہوتے ہیں تو بذات خود بہن کے وجود سے آگاہ نہیں ہوتے اور ان کی اولاد ساری عمر کسی پھوپھی کا تصور نہیں کر سکتی۔
اگر یہ پیدا ہونے والے بچے دو لڑکیاں ہیں تو یہ خود بھائی کے وجود سے غیرآگاہ اور ان کی اولاد کسی ماموں سے مکمل طور پر ناآشنا رہتی ہے۔ اگر ان دو میں سے ایک لڑکا ہو ایک لڑکی ہو تو لڑکے کی اولاد چچا یا تایا کے رشتہ سے ناآشنا اور لڑکی کی اولاد خالہ کے تصور سے لا علم رہتی ہے۔ یہ لاعلمی محض نظری نہیں کہی جا سکتی یہ اسلامی شریعت میں ’قطع رحمی‘ کی تعریف میں آ سکتی ہے۔ یہ رشتوں کا توڑنا اور دفن کر دینا جو تہذیب و ثقافت پیدا کرے گا وہ محض فرد کے گرد گھومے گی۔ اس میں اجتماعیت نہیں پائی جائے گی اور جب اجتماعیت نہیں ہو گی تو معاشرت اور معاشرے کی بنیادی اکائی ہی ختم ہو جائے گی۔ گویا مغربی لادینی عمرانیات اور سماجیات کا یہ بظاہر ’معصوم‘ نعرہ کہ خاندان کا مطلب کیا ہے اورجسے___ بلا تخصیص تمام معاشرتی علوم کی کتب میں، پاکستان ہو یا دیگر مسلم ممالک ___ بچوں کو پڑھایا جاتا ہے، اور جس عمرانیات میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی ایک شخص یونی ورسٹی میں استاد بنتا ہے وہ اسی تصورِ خاندان اور معاشرے کی بنیاد پر تمام تحقیق اور ملک کی معیشت، سیاست اور دفاع کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔
اس لیے یہ سمجھنا کہ عمرانی علوم محض تفریح طبع کے لیے ہوتے ہیں اور اطلاقی علوم ہی ترقی کی طرف لے جاتے ہیں، ایک لاعلمی پر مبنی تصور ہے، اور جیسا کہ ہم نے ایک روز مرہ کی مثال سامنے رکھ کر یہ بات واضح کی ہے کہ کس طرح مغربی لادینی اور انفرادیت پسند تصورِ خاندان ایک تہذیب کُش فکر ہونے کی بنا پر انسانی ثقافت کو تباہی و بربادی کی طرف لے جاتا ہے۔ اگر انسانی معاشرے سے معاشرتی اقدار کو خارج کر دیا جائے اور خاندان جو رشتوں سے وابستہ ہوتا ہے ان رشتوں ہی کو انسانی یاد داشت سے نکال دیا جائے تو تہذیب کس بنیاد پر آگے بڑھے گی؟ آج مسلم دنیا میں مغربی لادینی علوم عمرانی کے بنیادی تصورات پر اندھا ایمان لانے کے نتیجے میں جو خاندانی انتشار، اضمحلال اور زوال پیدا ہو رہا ہے اس کے اسباب بڑے واضح ہیں لیکن ان کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے ماہرین تعلیم اور منصوبہ بندی کو اپنے ذہن کو مغربی استعماری (Colonial) فکر کے جال سے نکالنا ہو گا۔ مغربی عینک سے ہر فکر کا مطالعہ کرنے کی عادت کو ترک کرنا ہو گا اور ایک علمی ماہیت قلبی (Epistemic Paradigm Shift) سے گزرنا ہو گا۔ گویا بنیادی اصطلاحات جن پر علوم عمران کو قائم کیا گیا ہے خود ان فکری بنیادوں کی جگہ متبادل فکری بنیاد پر علوم عمرانی کی تشکیلِ جدید کرنا ہو گی۔
اس تشکیلِ جدید کو اسلام کے تصورِ رب اور اس کے عالم گیر اخلاقی اصولوں پر قائم کرنا ہو گا تاکہ نئے علوم عمرانی ہرہر شعبے میں توحید، عدل، امانت و خلافت اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بنیادی الہامی اصولوں کی روشنی میں معاشیات، سیاسیات، عمرانیات، نفسیات، تاریخ ، ادب، تہذیب و ثقافت، غرض ہرہرشعبۂ علم میں اُس علم کے مقاصد، مناہج و اہداف اور ان کے حصول کے اخلاقی طریقوںپر عمل کرسکیں۔
اگریہ کام نہیں کیا گیا تو مغربی لادینی علوم عمرانی بشمول تصورِ جمہوریت، ہمیں غیر محسوس طور پر غلامی میں گرفتار رکھے گا اور ہم گندے پانی کی مچھلی کی طرح اپنے ماحول کے پاک صاف، ترقی یافتہ اور معیارِ زندگی میں مسلسل اضافے کے خام تصورات میں محو خواب رہیں گے۔
ترقی کی بنیاد جب تک ایک ملت کی تہذیبی اقدار، تصورِ حیات اور تصور ِ فلاح نہیں ہو گا، اگر وہ کوئی مادی ترقی کر بھی لے، اس کے ہا ں سڑکیں اور پل تعمیر ہو جائیں ، بڑے بڑے بازار بن جائیں، سات ستاروں والے ہوٹل تعمیر ہو جائیں، جب بھی وہ ملت مفلسی کا شکار رہے گی۔ یہ مفلسی فکر میں بھی ہو گی، رشتوں کے احترام میں بھی ہو گی اور انسانیت کے احترام میں بھی۔ یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ اگر ایک ملت انسانیت میں مفلسی کا شکار ہو تو پھر اس کی ٹکنالوجی میں ترقی اس کو تباہی سے نہیں بچا سکتی۔
ماضی کی اقوام جن کا تذکرہ قرآن کریم میں پایا جاتا ہے، جو پہاڑوں کو تراش کر محلات بناتے تھے، جو اہرامِ مصر جیسے حیران کن تعمیراتی کارنامے بغیر کسی ’مغربی ٹکنالوجی‘ کے انجام دے سکتے تھے، ان سب اقوام نے جب الہامی ہدایت و اقدار کو چھوڑ کر یہ دعویٰ کیا کہ وہ خود مقامِ ربوبیت پر فائز ہیں یا دوسرے الفاظ میں وہ یک قطبی طاقت ہیں جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا، (اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی)، تو پھر ان کی تمام مادی قوت انھیں تباہی سے نہیں بچا سکی۔ آج ان کی ترقی کے قصے تاریخ کے صفحات میں دفن ہیں۔ روم و ایران اور یونان دیو مالائوں سے زیادہ اہم مقام نہیں رکھتے۔
مسلم ماہرین علوم عمرانی کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ کس طرح مغربی لادینی تصورِ علم سے اپنے آپ کو آزاد کریں اور علومِ عمرانی کی تشکیل وحی الٰہی، توحید، عدل، امانت، خلافت، عالم گیر اسلامی اخلاقی تعلیمات، یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد پر رکھ کر ایک نئی روایت ِعلم کی تدوین توحید کی بنیاد پر کریں جو انسانیت کے لیے رحمت و ترقی کا زینہ بن سکے۔
توحید کی بنیاد پر علوم ِعمرانی اور اخلاقی علوم کی تدوین جدید کے لیے ضروری ہو گا کہ ان کی اساس قرآنِ کریم کے فراہم کردہ تصورِ علم یا Epistimology پر ہو، یعنی وحی الٰہی اور ہدایت ربانی سے جو علم حاصل ہو وہ علم کی اعلیٰ ترین اور حقیقی شکل قرار پائے اور تجرباتی، حسّی یا جبلّی ذرائع علم اس کے تابع ہوں۔ قرآن کریم ہر صفحے پر انسان کو مشاہدہ، تجربہ اور تجزیہ و تحلیل کی دعوت دیتا ہے اور انسانی معاشرے کی تعمیر عدل، معروف اور حقوق کی بنیاد پر کرتا ہے۔ اس بنا پر وحی کے ذریعے حاصل ہونے والے مطلق علم اور حواس خمسہ اور انسانی عقل کے ذریعے تخلیقِ علم میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔ انسانی عقل اور وحی الٰہی کے باہمی تعامل سے اطلاقی علم وجود میں آتے ہیں۔ ایسے ہی وحی کی بنیاد پر وجود میں آنے والے علومِ عمرانی میں حاکمیت الٰہی اور حقوق العباد کو مرکزی مقام ملتا ہے۔ اس طرح جو علم پیدا ہوتا ہے وہ نہ صرف انسانی فطرت کے عین مطابق ہوتا ہے بلکہ وہ انسانیت کے وسیع تر مفاد، قیامِ امن اور قیامِ عدل کے عمل کو آسان بنا دیتا ہے۔ آج بلا کسی تاخیر کے اس تخلیقی عمل کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف مسلمان بلکہ تمام انسانیت عادلانہ معاشرے اور سیاسی استحکام کی برکتوں سے فیض یاب ہو سکے۔ (بہ شکریہ: ــمغرب اور اسلام، شمارہ نمبر ۴۰، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد )
(آخری قسط)
ایک اور بحث جو اُٹھائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن و سنت کی شکل میں دستور کے ہوتے ہوئے کسی پارلیمان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ قانون سازی کرے۔ یہاں بھی پورے خلوصِ نیت کے باوجود ان اصطلاحات کا مفہوم ذہن میں واضح نہ ہونے کے سبب یہ سوال اُبھرتا ہے۔ قرآن و حدیث کے دستور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان دو مصادر کو ہرمعاملے میں فوقیت حاصل ہوگی لیکن ان دونوں کو سامنے رکھتے ہوئے حالات و واقعات کے لحاظ سے نئے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے اجتہاد، قیاس اور اجماع کے اصولوں کا استعمال کیا جائے گا۔ اجتہاد کا مطلب ہی یہ ہے کہ نصوص میں کوئی اجتہاد نہیں ہوتا، بلکہ جہاں نصوص خاموش ہوں وہاں نصوص کی روشنی میں راے کے قائم کرنے کا نام اجتہاد ہے۔ اگر اجتہاد کی بنیاد پر ایک صورتِ حال پر دوسری کو قیاس کرنا ہو تو اسے قیاس کہتے ہیں، اور جب اجتہاد پر ایک دور کے علما کا اتفاق ہوجائے تو اسے اجماع کہا جاتا ہے۔ وہ تمام مسائل اجتہادی کہے جاتے ہیں، جن کے بارے میں قرآن و سنت میں متعین طور پر واضح ہدایات موجود نہ ہوں۔
اسلامی نظامِ حکومت میں شوریٰ کو جو مرکزی مقام حاصل ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ خلیفہ باوجود اپنے تقویٰ، علم اور فقہی علم کے، ایک انسان ہے۔ وہ کوئی معصوم ہستی نہیں ہے۔ اس کو دوسرے اہل الراے کے مقابلے میں اپنے یقین اور اپنی راے کو اس درجے اہمیت دینے اور اس کے مانے جانے پر اصرار کرنے کا حق نہیں ہے کہ وہ اپنی تنہا راے کے مقابلے میں دوسرے اہل الراے کی متفقہ راے یا ان کی اکثریت کو ردّ کردے۔ اگر ایک امرِاجتہادی میں کوئی خلیفہ اپنے یقین کو اس درجے شک و شبہے سے بالاتر سمجھتا ہے تو دوسرے الفاظ میں اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ایک معصوم شخص سمجھتا ہے۔مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنی کتاب اسلامی ریاست (مطبوعہ دارالفکر، لاہور) میں یہی پوزیشن واضح کی ہے اور اس وضاحت کے بعد مولانا اصلاحی فرماتے ہیں: ’’خلیفہ کے لیے مجلس شوریٰ کی اکثریت کے فیصلوں کی پابندی ضروری ہونے کی اول دلیل تو وہ ہے جو صاحب ِ احکام القرآن ابوبکرجصاصؒ نے دی ہے کہ یہ شوریٰ کی فطرت کا اقتضا ہے کہ اہلِ شوریٰ کی اکثریت کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے۔ اس لیے کہ یہ بات بالکل بے معنی سی معلوم ہوتی ہے کہ اسلام میں شوریٰ کا حکم تو اس شدومد سے دیا جائے اور مقصود صرف یہ ہو کہ چند لوگوں کو شریکِ مشورہ کر کے ذرا ان کی دل داری اور عزت افزائی کردی جائے۔ خلیفہ کے لیے ان کے مشوروں کی پابندی ضروری نہ ہو۔ صاحب ِ احکام القرآن کے نزدیک یہ شکل لوگوں کی دل داری اور عزت افزائی نہیں، ان کی دل شکنی اور توہین کے مترادف ہے‘‘۔(اسلامی ریاست، ص ۳۹)
اس دلیل کی طرف اشارہ کرنے کے بعد کہ ’’ایک شخص کے مقابلے میں ایک جماعت کی راے اپنے اندر صحت و اصابت کے زیادہ امکانات رکھتی ہے‘‘، مولانا فرماتے ہیں: ’’اس وجہ سے عقل و فطرت کا تقاضا یہی ہے کہ خلیفہ اپنی تنہا راے کے مقابلے میں یا اپنے ہم خیال افراد کی راے کے حق میں اکثریت کی راے کو ردّ نہ کرے۔آخر ایک اجتہادی یا مبنی بر مصلحت معاملے میں اس کو یہ علم کس طرح ہوا کہ اس کی راے صحیح اور دوسروں کی راے غلط ہے۔ صحت اور غلطی کا امکان دونوں طرف ہے لیکن صحت کا غالب امکان اس طرف ہے جس طرف اکثریت ہے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر فرد کے مقابل میں جمہور کے مسلک اور انفرادی اجتہاد کے بالمقابل اجماع کو شریعت میں ترجیح دی گئی ہے‘‘۔ (ایضاً، ص ۳۹)
ہم نے اس طویل اقتباس کو اس لیے دینا پسند کیا کہ بعض حضرات پارلیمان کے حوالے سے یہ بات کہتے ہیں کہ اکثریت تو نااہل ہوتی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ پاکستان میں اس وقت جو پارلیمنٹ پائی جاتی ہے اور جسے دستور شوریٰ کا نام دیتا ہے، اس میں نااہل افراد چاہے زیادہ ہوں، لیکن کیا اس بنا پر ایک اسلامی اصول کو ردّ کرنا شریعت سے مطابقت رکھتا ہے؟ ہونا یہ چاہیے کہ اصول بدلنے کے بجاے پارلیمنٹ میں ہی ایسے افراد لائے جائیں جو اہل، امانت دار اور دین کا علم رکھنے والے ہوں۔
دین کا کام کرنے والوں کو منفی فکر کی جگہ مثبت فکر کو اپنانا چاہیے اور قرآنِ کریم میں کسی ایک لفظ کے من مانے مفہوم نکالنے سے بچنا چاہیے۔ اگر قرآنِ کریم منکرینِ حق کے بارے میں کہتا ہے کہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو عقل استعمال نہیں کرتے یا سمجھتے نہیں، تو اکثر کا یہ مفہوم لینا کہ مسلمانوں میں بھی اکثریت جاہلوں کی ہی ہوگی، بہت نامناسب بات ہے۔ شوریٰ کے اصول کی وضاحت کرتے ہوئے ہم یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ شوریٰ کی اکثریت کے فیصلے کو ماننا کسی بھی جماعت کے امیر پر دینی طور پر واجب ہے۔ یہی شکل باشعور پارلیمنٹ میں بھی اختیار کی جائے گی۔
اگر پاکستان کا دستور یہ کہتا ہے کہ وہ ایک اسلامی ریاست ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کے لیے ہے، اور دستور کی دفعہ یہ کہتی ہے: شوریٰ یا پارلیمنٹ جو دستورسازی بھی کرے گی وہ قرآن و سنت کے مطابق ہوگی، اس کے خلاف نہ ہوگی لیکن بعض ممبران پارلیمنٹ اس کی خلاف ورزی کریں، تو معقول رویہ کیا یہ ہوگا کہ پارلیمان کو توڑ دیا جائے، دستور کو پھینک دیا جائے اور ایک ’جہاد‘ کے ذریعے نیا نظام نافذ کردیا جائے، یا پارلیمان میں ایسے افراد کو لایا جائے جو دستور کی پابندی اور قرآن و سنت کی روشنی میں قانون سازی کریں۔
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ شریعت اور قانون سازی کی اصطلاحات معروف علمی اصطلاحات ہیں۔ انھیں سمجھے بغیر جو تعبیر کسی کے ذہن میں آجائے اسے لے لینا اور عاجلانہ نتائج اخذ کرلینا ایک غیردانش مندانہ رویہ ہے۔ شریعت کی اصطلاح صرف قرآن و سنت کے لیے استعمال ہوتی ہے، جب کہ قانون سازی روزِ اوّل سے ان اسلامی اداروں نے کی ہے، جو شریعت اور حالاتِ حاضرہ کا علم رکھتے ہوں۔ اگر قرآن کریم یا حدیث شریف میں براہِ راست ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا ذکر نہیں پایاجاتا، تو یہ کام قرآن و سنت سے واقف ماہرین کا ہوگا کہ وہ قرآن و سنت کے واضح احکام اور بالواسطہ ہدایات کو سامنے رکھتے ہوئے اس نئے معاملے میں اجتہاد کے بعد قانون سازی کریں۔ ان کا یہ کرنا دینی فریضہ ہوگا، دین سے انحراف نہیں ہوگا۔ قانون سازی ہمیشہ انسانی اداروں نے ہی کی ہے۔ یہ ایک دینی اور معاشرتی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتاتو اجتہاد کی کوئی گنجایش اسلام میں نہیں ہونی چاہیے تھی۔ آخر امام مالک ہوں یا امام ابوحنیفہ ، امام شافعی ہوں یا امام احمد ابن حنبل، یا امام جعفر صادق یا امام ابن تیمیہ یا امام شاہ ولی اللہ دہلوی ہوں، ان حضرات نے قرآن و سنت کی بنیاد پر جو اجتہاد کیا اور پھر اس پر اجماع ہوا اور مسلم ریاستوں نے اس کی بنیاد پر قانون سازی کی، تو کیا یہ سب شرک کے مرتکب ہوئے؟
دین میں توازن اور عدل شرط ہے۔ جذباتیت سے بلند ہوکر اور دین کے مصادر کو سبقاً سبقاً سمجھنے کے بعد ان معاملات پر راے قائم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ نوجوان نسل کسی انتہاپسندی کی شکار نہ ہو۔ قانون سازی کی بنیاد ہمیشہ قرآن و سنت رہی ہے اور رہے گی لیکن قانون سازی ہمیشہ ادارے اور افراد ہی کریں گے۔ اور ان کا ایسا کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خلفا اور بعد میں آنے والے ائمہ فقہا کی روایت پر عمل کرنا ہے۔ دورِجدید میں یہ کام پارلیمنٹ کرسکتی ہے اگر اس میں ایسے افراد منتخب ہوں، جو قرآن و سنت اور اسلامی فقہ میں مہارت رکھتے ہوں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پارلیمنٹ ایسے بااختیار بورڈ بنائے جو اسے قانون سازی میں مدد دیں۔ یہ خیال نہ شرعی طور پر اور نہ عقلی طور پر درست ہے کہ بغیر کسی قانون سازی کے صرف قرآن و حدیث کو دستور مان لینا مسائل کا حل ہے۔ جہاں تک قرآن و حدیث کے دستور ہونے کا تعلق ہے، یہ تو وہ بنیادی حقیقت ہے جو شرطِ ایمان ہے اور اس میں کسی اختلاف کی گنجایش نہیں، لیکن عقلِ عام (common sense ) کو استعمال کر کے یہ دیکھا جائے کہ کیا دنیا میں کسی جگہ بھی دستور اور قانون دونوں کا مفہوم ایک پایا جاتا ہے؟ کیا ایسے ممالک نہیں ہیں جہاں تحریری دستور نہیں ہے لیکن قانون ہے یا جہاں چند صفحات کا دستور ہے، جب کہ بیسیوں جلدوں میں قانون ہے۔ کیا فتاویٰ عالم گیری جو اورنگ زیب عالم گیر یا مجلّہ احکام عدلیہ جو عثمانی فرماں روا نے وضع کیا، قرآن کریم اور حدیث کے ہوتے ہوئے ایک کافرانہ، مشرکانہ یا طاغوتی اقدام تھا؟
دعوتِ دین کی حکمت عملی اور نفاذ احکامِ شریعت کی حکمت عملی ایک اہم موضوع ہے اور جب تک اس میں اولیات یا ترجیحات (priorities) کا تعین نہ کیا جائے، حصولِ مقصد میں دقت اور مشکل پیش آسکتی ہے۔ اس لیے پاکستان میں شریعت کا نفاذ ہو یا کہیں اور، قرآن و سنت اور انبیاے کرام ؑ کے طریقِ دعوت کو سامنے رکھتے ہوئے مقام اور صورتِ حال کی مناسبت سے حکمت عملی کا وضع کرنا، ہرمقام پر درست حکمت عملی ہوگی، جو حالات اور مقامات کے لحاظ سے وضع کی جائے، جب کہ ہر حکمت عملی کا مشترک نکتہ اللہ کی حاکمیت کا قیام اور طاغوت کا انکار ہوگا۔
خلافت علی منہاج النبوہ کا واضح مفہوم یہ ہے کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاسی، معاشرتی، معاشی اور دیگرمعاملات میں ایک جانب اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت ’القرآن‘ کو اور دوسری جانب قرآن کی تشریح اور اس پر مبنی تشریع کو اختیار فرمایا، اسی طرح دین کے مکمل ہوجانے کے بعد آپؐ کے بعد خلفا نے قرآن و سنت کو مصدراوّل مانتے ہوئے، حالات کی مناسبت سے مشاورت و اجتہاد کو استعمال کیا۔ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کے اجتہادات غیرمعمولی طور پر یہ شہادت دیتے ہیں کہ قانون سازی مشاورت کے ساتھ کیسے کی جاتی ہے۔
خلفاے راشدین کے بعد سب سے بڑا سانحہ، انتخاب سربراہِ مملکت کے حوالے سے، انتخابی خلافت کو موروثی حکومت میں تبدیل کرنے کا تھا۔ حضرت عمرؓ نے اس تحریف کے امکان کو سمجھتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں، گو وہ علم و تجربے اور تقویٰ میں کسی سے کم نہ تھے اور خلیفہ بننے کی شرائط پر پورے اُترتے تھے، یہ حکم دیا کہ وہ مشاورت میں شامل رہیں لیکن انھیں خلیفہ نہ بنایا جائے تاکہ موروثی حکومت کا آغاز نہ ہوسکے۔ یہی شکل حضرت علیؓ کی شہادت میں پیش آئی، جب آپؓ سے پوچھا گیا کہ کیا حضرت حسنؓ کو خلیفہ بنایا جائے تو آپؓ نے فرمایا: یہ فیصلہ لوگ مسجد میں کریں گے، میں نہ منع کرتا ہوں نہ حکم دیتا ہوں۔ گویا خلیفہ کے انتخاب کا حق عوام کو دیا جانا سنت ِ خلفاے راشدین ہے۔
خلافت ِ راشدہ کے بعد جو لوگ حکمران ہوئے، بہ استثنا حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ، وہ حکمران تو مانے گئے لیکن انھیں خلیفہ نہیں مانا گیا۔ گو، وہ خود کو خلیفہ کہتے اور کہلواتے رہے۔ اسی بناپر اُمویوں کی حکومت دمشق میں ہو یا قرطبہ میں، فاطمین کی حکومت مصر میں ہو ، عثمانیوں کی حکومت ترکی اور شام و عراق پر ہو،ان میں سے کسی کو بھی ہم صحیح معنوں میں خلافت اور حکمرانوں کو خلیفہ نہیں کہہ سکتے۔ ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مسلمان سلاطین کا دور تھا۔ عثمانیوں کی حکومت کو خلافت راشدہ کا تسلسل کہنا تاریخ کے ساتھ ظلم ہے۔
ایک بنیادی سوال جو ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ سے کرنا چاہیے، یہ ہے کہ اگر ایک اُموی فرماں روا اپنی زندگی میں اپنے بعد حکومت کرنے کے لیے اپنے بیٹے یا بھائی کو مقرر کرتا ہے، تو اس کا یہ کرنا، قرآن کریم کی آیت اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ (انعام ۶:۵۷) کے مطابق درست ہے یا غلط؟ یہی سوال فاطمین مصر اور عثمانی فرماں روائوں کے حوالے سے اُٹھانے کی ضرورت ہے۔
ہمیں چاہیے کہ جذبات سے بالاتر ہوکر قرآن و سنت کے مطالعے کے بعد پہلے یہ طے کریں کہ حاکمیت اعلیٰ سے مراد کیا ہے؟ پھر قرآن و سنت کو دستور مانتے ہوئے یہ طے کریں کہ اس دستور کی روشنی میں قانون سازی کون کرے اور جو یہ کام کرے گا اس کی خصوصیات کیا ہونی چاہییں؟ پھر اِن خصوصیات کے افراد کو اُن اداروں میں لایا جائے جو قانون سازی کرنے کے ذمہ دار قرار دیے گئے ہوں۔
یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ چونکہ ۶۶سال میں جو لوگ پارلیمنٹ میں منتخب ہوئے وہ کردار اور عمل کے لحاظ سے اچھے نہیں تھے، اس لیے پارلیمنٹ کا ادارہ ہی غلط ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ عدلیہ میں ایسے جج مقرر ہوجائیں جو رشوت خور ہوں، تو کیا اس بناپر عدلیہ کے ادارے کو ختم کرنا بہتر ہوگا یا ایسی شرائط کا لگانا جن کی بناپر عدلیہ میں صرف ایمان دار لوگ آسکیں۔
پھر یہ کہنا کہ مغربی جمہوریت میں فیصلے کے لیے ۵۱ فی صد ووٹ کا ہونا کافی ہے، جب کہ اسلام کسی تناسب کا قائل نہیں ہے، سادہ لوحی کے سوا کچھ نہیں۔ فقہ اسلامی کے بنیادی اصولِ اجماع کا مطلب کیا ہے؟ کیا اجماع ہمیشہ ۹۰ فی صد افراد کی راے پر ہوگا یا ۵۱ فی صد راے پر بھی اجماع ہوجائے گا؟
ایک سوال جو بار بار اُٹھایا جاتا ہے، یہ ہے کہ کیا مغربی جمہوریت کی اصلاح ہوسکتی ہے اور اگر اصلاح کی جائے تو کس طرح؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ اگر ایک مثال کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس پر غور کیا جائے تو شاید ہمیں سمجھنے میں آسانی ہو۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا ایک مشرک جو سات پشتوں سے شرک میں پلابڑھا ہو، مسلمان ہوسکتا ہے یا نہیں، یا جب تک اس کے جسم کے خون کا ہرقطرہ جو حرام پر پلا بڑھا تھا، نکال کر جسم میں نیا اور پاک خون ڈال کر پہلے پاک صاف نہ کیا جائے، اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا تو ایسی صورتِ حال میں عقل کا فیصلہ کیا ہوگا؟
قرآن کریم نے سود کی ابدی حُرمت کے ساتھ کیا یہ بات نہیں کہی کہ جو حرام ماضی میں کھاچکے وہ کھاچکے اب آیندہ ایک رتی کے برابر سود بھی نہ لیا جائے۔ اس لیے اگر ایک تنظیمی ڈھانچا ایسا ہے جس میں ایک بادشاہ ہے یا فوجی آمر، یا غیرفوجی آمر ہے، اس کے تحت بے بس پارلیمنٹ ہے، بے بس عدلیہ ہے، بے بس پولیس ہے، بے بس سول انتظامیہ ہے اور اس تنظیم کو درست کرنا ہو تو کیا محض آمر کو مار کر تمام نظام ایک دم درست ہوجائے گا یا سارے نظام کو تہس نہس کرکے نئے سرے سے ایک تنظیمی ڈھانچا بنایا جائے گا، یا یہ طے کیا جائے گا کہ سب سے اہم اور اوّلین اقدام کیا ہو۔ عقل کہتی ہے کہ سب سے پہلے آمریت یا بادشاہت کی جگہ ایسے افراد کو لایا جائے، جو عدل و انصاف کے علَم بردار ہوں اور موروثی بادشاہت یا آمریت کے قائل نہ ہوں۔ ایسے ہی عدلیہ میں ایک تدریج اور ترتیب کے ساتھ ایسے افراد کو لایا جائے، جو اللہ کا خوف رکھتے ہوں اور دینی علم کی دولت سے مالامال ہوں، نیز اس کے ساتھ ہی نظام میں قانون سازی سے وہ تبدیلیاں لائی جائیں جو نظام کو اسلامی اصولِ عدل کے مطابق بناسکیں۔
اس کے مقابلے میں یہ راے بھی لازماً قابلِ غور ہوسکتی ہے کہ ایک سہانی صبح کو عدلیہ، پارلیمنٹ، پولیس، فوج، قصرصدارت، کابینہ، غرض ہرادارے کو تحلیل کرکے ایک نئے نظام کا اعلان کردیا جائے۔ اس راے کے قائم کرنے سے کسی کو روکنے کا حق نہیں لیکن کیا یہ راے انسانوں کی دنیا میں آج تک قابلِ عمل ہوسکی؟ کیا افرادِکار کی تیاری، اداروں میں قانون سازی کے ذریعے اصلاح و تبدیلی اور بتدریج اصلاحی عمل کے بغیر دنیا میں کہیں بھی کوئی نظام کامیاب ہوا ہے؟ کیا صحابہ کرامؓ کی سیرت سازی، تزکیہ و تربیت اور مصائب و مشکلات سے گزارے بغیر ممکن تھی، اور کیا آج بھی انسانوں کی ماہیت ِقلبی کے بغیر اسلامی نظام نافذ ہوسکتا ہے؟
بلاشبہہ ایک مسلمان کی معاشی ظلم کے خلاف جدوجہد ہو، مشرکانہ، کافرانہ فکر کے خلاف مہم ہو، اپنی جان و مال کے ساتھ طاغوت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا ہو، نفس کے مطالبات کے خلاف جنگ کرنا ہو، یہ سب جہاد کی تعریف میں آتے ہیں۔ لیکن جہاد اسباب کی تیاری کے بغیر، جہاد حکمت عملی کے بغیر، جہاد اہداف کے تعین کے بغیر، جہاد ترجیحات کے بغیر ایک نیک خواہش تو ہوسکتا ہے، ایک تعمیری عمل نہیں ہوسکتا۔
یہ مسئلہ پاکستان میں نہیں، تمام دنیا میں جہاں بھی انتخابات کے ذریعے لوگ منتخب کیے جاتے ہیں، پایا جاتا ہے۔ اس کا حل نظام کو اُٹھا کر پھینک دینا نہیں ہے بلکہ تعلیم، ابلاغ عامہ اور انتخابات کی اہمیت کے پیش نظر عوام کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے کے عمل کی ضرورت ہے۔ اگر انتخابات سے چھے ماہ پہلے سے عوام کو ان معاملات کا شعور دلایا جائے تو ووٹروں کی تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اور عوام اچھے اور نیک افراد کو ووٹ دینے کا فیصلہ بھی کرسکتے ہیں۔ یہ ایک تعلیمی اور ابلاغی معاملہ ہے۔ اس کا کوئی تعلق جمہوریت کے اچھے یا بُرے ہونے سے نہیں ہے۔
اگر جائزہ لیا جائے تو چاروں خلفاے راشدین کے انتخاب میں حل و عقد کی حیثیت بنیادی تھی۔ اہلِ مدینہ نے جس کو منتخب کیا، پورے عالمِ اسلامی نے اس کی قیادت کو تسلیم کیا۔ یہ تعداد کُل مسلم آبادی کا ایک بہت چھوٹا تناسب رکھتی تھی۔ اس کے باوجود خلافت قائم ہوئی اور لوگوں نے اس کی اطاعت اور تعاون میں کمی نہیں کی۔عوام کے انتخابات میں زیادہ تعداد میں حصہ لینے کے پہلو کو تعلیم اور جدید ٹکنالوجی کے ذریعے بہت بہتر بنایا جاسکتا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد ووٹ کا استعمال کرسکیں۔
ایک غیرضروری سوال نظر آتا ہے۔ اسلامی تحریکات خصوصاً جماعت اسلامی پاکستان نے ہمیشہ اسلامی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کی ہے اور اپنے لٹریچر اور دیگر ذرائع کے استعمال سے اسلامی نظام کے قیام ہی کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن تحریکاتِ اسلامی یہ بات بھی تسلیم کرتی ہیں کہ مغربی لادینی جمہوریت کی تمام خامیوں کے باوجود اگر کسی ملک کا دستور حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ کے لیے تسلیم کرتا ہو اور شریعت پر مبنی قانون کے نفاذ کا دعویٰ کرتا ہو، تو عبوری دور کے لیے ایسے نظام میں شرکت نہ شرک کی تعریف میں آتی ہے نہ کفر اور نہ طاغوت کی۔ اگر ووٹ، عوامی راے کے استعمال اور پارلیمان میں قانون سازی کے ذریعے اسلامی نظام تعلیم، معیشت و قانون اور ابلاغِ عامہ میں صحت مند تبدیلی لائی جاسکتی ہے تو اس کی کوشش کرنا تحریکاتِ اسلامی کا فرض ہے۔ دین یہ مطالبہ کرتا ہے کہ دعوت و اصلاح کے لیے تمام ممکنہ ذرائع کو استعمال کیا جائے اور صرف ان کاموں سے بچا جائے، جہاں قرآن و سنت کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ حلال و حرام کو قرآن و سنت نے طے کردیا ہے لیکن مباح کے دائرے میں آنے والی چیزوں کو بغیر کسی دلیلِ شرعی کے حرام قراردینا، دینی حکمت کے منافی ہے۔ جب تک ایک ملک کا دستور اللہ کی حاکمیت کا اقرار اور شریعت کی بالادستی کو تسلیم کرتا ہے، اس دستور کے تحت سیاسی، معاشی اور دیگر سرگرمیاں نہ شرک ہوسکتی ہیں نہ کفر۔
اگر پارلیمان کوئی قانون خلافِ شریعت بنانا چاہتی ہو جیساکہ ماضی میں ہوا کہ تحفظ خواتین کے نام پر اللہ اور اس کے رسولؐ کی مقرر کی ہوئی سزائوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، تو ایسے قوانین کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر کے کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔ پارلیمنٹ کا ایک غلط فیصلہ بجاے خود پارلیمنٹ کے ادارے کو قابلِ گردن زدنی نہیں بنادیتا۔یہ تصور کہ پارلیمان کو قانون سازی کا اختیار ہی نہیں ہے، ایک بے بنیاد بات ہے۔ اگر دستورپاکستان پارلیمان کو یہ حق دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پارلیمان کی ہرقرارداد ہمیشہ درست ہوگی۔ پارلیمان انسانوں کا اجتماع ہے اور اگر یہ انسان قرآن و سنت کے معیار پر پورے اُترتے ہوں، تو اُمید کی جاتی ہے کہ وہ جو قانون بھی بنائیں گے اس کی بنیاد شریعت ہوگی۔ خلافت راشدہ میں بھی شوریٰ یہ کام کرتی تھی۔ آج بھی شوریٰ یا پارلیمان یہ کام کرسکتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد دستورساز اسمبلی میں علما پر مبنی ایک تعلیماتِ اسلامی بورڈ قائم کیا گیا تھا، جس میں ملک کے جید علما بشمول مولانا سیّد سلیمان ندوی، مفتی محمد شفیع اور علامہ جعفرحسین مجتہد شامل تھے۔ ان کی سفارشات کی روشنی میں دستور کا اولین مسودہ تیار کیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ فوجی اور غیرفوجی آمروں نے دستور پر صحیح معنوں میں عمل نہ کرنے دیا۔ اس میں قصور نہ دستور کا ہے نہ پارلیمان کا، بلکہ وہ افراد اللہ اور اہلِ پاکستان کے سامنے جواب دہ ہیں، جو اس کام میں رکاوٹیں ڈالتے رہے۔
نوجوان نسل کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتی ہے۔ اگر نوجوانوں میں عزم، خوداعتمادی، اللہ پر انحصار، صبر، پُراُمیدی، محنت کشی اور منزل کا شعور پایا جائے تو وہ قوم مشکل ترین حالات سے بآسانی نکل کر ترقی کے کٹھن مراحل کو بہ سہولت طے کرتی چلی جاتی ہے۔ اگر کسی قوم کے نوجوانوں میں بے روزگاری، عدم تحفظ، نفسیاتی دہشت گردی اور مستقبل کے تاریک ہونے کا احساس بٹھا دیا جائے اور ابلاغِ عامہ خصوصاً یہ کوشش کرے کہ ملک میں ہونے والی ہرہر بُرائی کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے کہ گویا ملک میں نہ کوئی نظم ہے، نہ تحفظ، نہ ترقی کی صلاحیت تو وہی نوجوان جو قوم کا اثاثہ اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں اس نفسیاتی حربے کا شکار ہوکر عموماً تین راستوں پر چل پڑتے ہیں۔
اگر تینوں راستوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ تیسرے راستے والے بظاہر ہرلحاظ سے کامیاب نظر آتے ہیں کہ اگر دنیا میں کامیاب ہوئے تو کم عرصے میں کام کرنے کے باوجود تبدیلی لے آئیں گے اور اگر کامیاب نہ ہوئے جب بھی آخرت تو بن گئی۔ ایک مسلمان کے لیے ا س سے بڑھ کر کامیابی کیا ہوسکتی ہے کہ اس کے ماضی کے تمام گناہ، غلطیاں، بے راہ روی ہرہر بُرائی معاف ہوجائے اور شہادت کے حصول کے بعد وہ سیدھا جنت میں جائے، جہاں اللہ کی ساری نعمتیں اس کا انتظار کر رہی ہوں گی۔
ایک بات جو ان تینوں راستوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرتے وقت غور کرنے اور خلوصِ نیت کے ساتھ اپنے آپ کو تمام تصورات سے آزاد کرکے سوچنے کی ہے، وہ یہ ہے کہ قرآن و سنت جن کے نفاذ اور قیام کے لیے یہ ساری جدوجہد کی جاتی ہے وہ خود کس راستے کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ دنیاطلبی، مفاہمت، وقت پرستی یا پھر بس شہادت کے حصول اور طلب کو مقصد حیات قرار دیتے ہیں یا شہادتِ حق کے فریضے کی ادایگی کے لیے انبیاے کرام ؑ کے اسوہ اور خصوصاً خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اختیار کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔
کسی بھی مسلمان کے لیے وہ جوش اور ولولے سے بھرا ہوا نوجوان ہو یا سکون و ٹھیرائو کے ساتھ سوچنے والا معمرشخص، جو بات فیصلہ کن ہے وہ اس کا اپنے ذہن سے ایک تصور قائم کرلینا نہیں ہے بلکہ قرآن اور سنت رسولؐ اللہ کی سند اور دلیل کی بنیاد پر اپنے لیے لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اوقات اس تعمیری عمل میں ایک سے زائد لائحہ عمل ایسے ہوسکتے ہیں جو قرآن و سنت سے مطابقت رکھتے ہوں۔ ایسی شکل میں سنت کا اصول سیدہ عائشہؓ کی روایت کی روشنی میں وہ ہے جو زیادہ ’یسر‘ پر مبنی ہو اور جس کی دلیل سنت ِ رسولؐ میں پائی جاتی ہو۔
گویا راستے کا تعین، حکمت عملی کا انتخاب اور تبدیلی کا طریقہ طے کرتے وقت منزل محض حصولِ شہادت نہیں ہوسکتی بلکہ حق کی شہادت دینے کے لیے وہ تمام ذرائع اختیار کرنے ہوں گے جو سنت ِ نبویؐ سے ثابت ہوں اور جو آخرکار شہادت تک لے جانے والے ہوں۔
انبیاے کرام ؑ کی بنیادی دعوت حضرت آدم ؑ سے لے کر خاتم النبیینؐ تک صرف یہی رہی ہے کہ تمام انسان اپنے خالق، مالک اور رب کی بندگی میں آجائیں اور اللہ جل جلالہٗ کے سوا تمام بندگیوں سے اپنے آپ کو آزاد کر کے اس کے عبد یا تابع دار بن جائیں۔
وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ (النحل ۱۶:۳۶) ہم نے ہر اُمت میں ایک رسول ؑ بھیج دیا اور اس کے ذریعے سے سب کو خبردار کردیا کہ اللہ کی بندگی اختیار کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔
عبدیت قرآنِ کریم کی ایک جامع اور اہم اصطلاح ہے جس میں نہ صرف نماز اور دیگر عبادات بلکہ زندگی کے تمام ممکنہ معاملات میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کو حاکم، مالک، آقا اور فیصلہ کرنے والاتسلیم کیاجانا شامل ہے۔ ایک مسلمان اسلام لانے کے بعد یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی حد تک تو اللہ ہی کی عبادت یا بندگی اختیار کروں گا لیکن میرے سیاسی معاملات لادینی جمہوریت کے اصول طے کریںگے اور معاشی معاملات کو سرمایہ دارانہ معیشت کی روشنی میں فیصلہ کروں گا اور معاشرتی، ثقافتی معاملات میں فلاں علاقہ یا ملک کے کلچر او رروایات پر عمل کروں گا۔ اسلام میں داخل ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایک فرد اسلام میں پورے کا پورا داخل ہو۔ ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَـآفَّۃً وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ(البقرہ ۲:۲۰۸)’’اے ایمان والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آجائو اور شیطان کی پیروی نہ کرو وہ تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘۔
آیت مبارکہ بلاکسی ابہام کے یہ بات واضح کرتی ہے کہ انسان اپنی زندگی کو الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں کرسکتا۔ وہ یہ نہیں کرسکتا کہ جمعہ کے دن وہ اللہ کا بندہ ہو، جب کہ تجارتی معاملات میں سرمایہ دارانہ نظام کا تابع ہو اور سیاسی معاملات میں مفادپرست، لادینی سیاسی نظام پر ایمان لے آئے۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کو وحدہٗ لاشریک ماننے کا مفہوم اس کے سوا کچھ نہیں کہ اپنے تمام ذاتی، گھریلو، معاشرتی، معاشی، سیاسی اور قانونی معاملات میں ایک فرد اور جماعت صرف اور صرف اللہ کی حاکمیت پر ایمان رکھے اور اس کا عمل اس کی شہادت پیش کرے۔
کلمۂ شہادت کا مطلب ہی یہ ہے ایک شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کواپنے تمام معاملات میں حاکم اور شارع مان کر اسلام میں داخل ہو رہا ہے۔ عقیدہ اور ایمان، اسلام کی نگاہ میں ایک خفیہ اور ذاتی معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک عوامی شہادت (public testimony)ہے کہ ایک شخص اپنے دل و دماغ اور عمل سے صرف اللہ کی بندگی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر راضی ہوگیا ہے۔
بعض سادہ لوح افراد اسلام میں داخل ہونے اور اسلام کے نفاذ کے عمل کو دو مرحلوں میں تقسیم کردیتے ہیں، جب کہ یہ ایک ہی مرحلے سے تعلق رکھنے والا عمل ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ پہلے لاالٰہ کا عمل ہوگا اس کے بعد الااللہ کا۔ ہمارے علم میں نہ قرآن میں اور نہ سنت مطہرہ میں کوئی ایسی شہادت ہے، جو اس تعبیر کی تصدیق کرتی ہو۔ حقیقت ِواقعہ یہ ہے کہ مکہ مکرمہ ہو یا مدینہ منورہ، جہاں کہیں بھی کسی نے دعوتِ اسلام کو قبول کیا تو اسلام میں پورے داخل ہونے کے ساتھ ہی کیا۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ پہلے مرحلے میں صرف کفروشرک کا رد کیا جائے اور پھر کسی دوسرے مرحلے میں اللہ کی بندگی اختیار کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کو رب اور مالک ماننے کا مطلب بلکہ مطالبہ یہ ہے کہ اس کے علاوہ سب کا انکار کیا جائے، ’لاالٰہ‘ اور ’الااللہ‘ ایک ہی عہد اور میثاق کا حصہ ہیں، اس لیے شہادت کو دو مراحل میں تقسیم کرنا ایک غیرضروری بحث ہے۔ اللہ کی بندگی کی مثبت دعوت خود بخود تمام منفی تصورات کو جڑبنیاد سے اُکھاڑ کر انسان کے دل و دماغ اور عمل کو توحید کے رنگ میں رنگ دیتی ہے۔ مکہ کے دورِ ابتلا میں دعوتِ توحید قبول کرنے والے ہرمتنفس کو اس بات کا مکمل شعور تھا کہ اللہ کو ماننے کا مطلب ہی تمام خودساختہ خدائوں کا رد اور انکار ہے۔ اگر مسئلہ محض مکہ کے اندر مانے جانے والے ۳۶۰ سے زائد خدائوں میں ایک اور کے اضافے کا تھا تو اس پر مشرکینِ مکہ کو نہ کوئی اعتراض تھا، نہ شکایت۔ اگر وہ ۳۶۰بتوں سے تعلقات بنا کر رکھ سکتے تھے تو اس میں ایک کے اضافے سے انھیں کوئی پریشانی نہ ہوتی۔ اصل مسئلہ یہی تھا کہ ایک اللہ کو ماننے کے بعد وہ ۳۶۰سے زائد خدا سب کے سب بے اصل اور بے اثر ہوجاتے۔ شرک کا آسان سا مطلب یہی ہے کہ اللہ وحدہٗ لاشریک کے ساتھ دوسروں کو اس کی ذات یا صفات میں شامل کرلیا جائے۔ مشرکین میں سے بھی بعض افراد اللہ کو مانتے تھے۔ قرآنِ کریم ہمیں بتاتا ہے کہ جب یہ مشرکین سمندر میں طوفان میں گھِر جاتے ہیں اور انھیں اپنی مضبوط کشتی ڈولتی اور ڈوبتی نظر آتی ہے تو وہ اللہ ہی کو پکارتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جب سفر پر جانا ہو، جنگ کرنی ہو، اولاد کی خواہش ہو یا بارش کی ضرورت ہو تو وہ اپنے مقرر کردہ خدائوں ہی سے رجوع کرتے تھے۔
آج کے جدید دور میں ان خدائوں کے نام بدل گئے ہیں۔ کسی کا نام آئی ایم ایف اور ورلڈبنک ہے، جس سے لوگ قرضوں کی التجا کرتے اور سمجھتے ہیں کہ ہماری روزی اور روزگار دینے والا خدا یہی ہے۔ بعض کسی نام نہاد عالمی طاقت کو اپنی فرماں برداری کا یقین دلاتے ہیں کہ وہ انھیں اقتدار پر قابض رہنے میں مدد فراہم کرے گی اور وہ اُس کے سہارے عوام پر حکومت کرسکیں گے۔ بعض اپنے ملکی دفاع کے لیے کسی بڑی عسکری طاقت کے قدموں کو بوسا دیتے ہیں کہ وہ انھیں اسلحے کی بھیک دے کر ان کے دفاع کو مضبوط بنانے کا ضامن بن سکے۔ یہ نئے ادارے اور نام ایجاد کرنے کے ساتھ اگر ایک شخص یہ ایمان رکھتا ہو کہ وہ بندہ تو اللہ کا ہے لیکن خادم کسی بیرونی مالی طاقتوں کا یا کسی نام نہاد عسکری قوت کا یا کسی ثقافتی سامراج کا ہے تو یہ سارے کام اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی تعریف میں آئیں گے۔
توحید اسلام کا نقطۂ آغاز بھی ہے اور نقطۂ کمال بھی۔ یہ ہرہرمعاملے میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا مالک اور آقا ماننے کے عمل کا نام ہے۔ حضرت نوحؑ سے لے کر خاتم النبیینؐ تک اللہ کے ہرنبی ؑ نے صرف ایک دعوت دی کہ اپنے تمام معاملات کو اللہ کے لیے خالص کرو۔ اسلام نے جن بتوں کو پاش پاش کیا ان میں نہ صرف عصبیت، قبائلیت، نسلیت، لسانیت کے بت تھے بلکہ وہ تمام تصورات بھی شامل تھے جنھیں انسانوں نے اپنے ذہن اور قیاس کی بناپر قائم کرلیا تھا، اسلام ان سب کا رد کرنے کا نام ہے اور دعوت الی الحق کا واضح مطلب ہی یہ ہے کہ اپنے تمام معاملات میں صرف اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا حکم مان لینا اور اس کی شہادت اپنے عمل سے دینا۔ اسلامی معاشرے اور ریاست کے قیام کا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ سیاسی، معاشی، معاشرتی اور ثقافتی و قانونی تمام معاملات کو طاغوت کے نظاموں کے اثر سے مکمل طور پر آزاد کر کے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کی بنیاد پر اور اس کی رہنمائی کی روشنی میں مرتب اور منظم کیا جائے۔ دورِ جدید کی تمام تحریکاتِ اسلامی کا، وہ جماعت اسلامی پاکستان ہویا اخوان المسلمون یا جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر یا جماعت اسلامی ہند، ان سب کی دعوت کا بنیادی ستون ہی قیامِ حاکمیت الٰہی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان نے قیامِ پاکستان سے قبل اور اس کے بعد اسی بنیادی دعوت کی طرف اللہ کے بندوں کو بلایا ہے اور اسلامی ریاست اور معاشرے کے قیام کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں ایک بتدریج تبدیلی کی حکمت عملی وضع کی ہے۔ اس حکمت عملی میں رہنمااصول انبیاے کرام کا طریق دعوت اور قیام حاکمیت الٰہی کے لیے ان کی حکمت عملی کی روشنی میں لائحہ عمل کو وضع کرنا شامل ہے۔
جدید تحریکاتِ اسلامی کے مفکرین امام حسن البنا شہید ہوں یا مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی یا سیدقطب شہید یا ڈاکٹر محمدناصر، ہرصاحب علم نے مغربی لادینی جمہوریت کی فکری بنیادوں کو رد کرتے ہوئے ہی اسلامی ریاست کو بطور متبادل نظام کے پیش کیا اور جو تحریکات ان مفکرین کو اپنا رہنما کہتی ہیں انھوں نے ایک لمحے کے لیے بھی اس موقف سے انحراف نہیں کیا۔ اس لیے کسی نظری بحث میں اُلجھے بغیر ہمیں ان ضمنی سوالات پر غور کرنا ہوگا جن پر بہت سے مخلص، دردمند اور اسلام کی سربلندی کے لیے جان کی بازی لگانے والے نوجوان مکمل صورتِ واقعہ کو سامنے نہ رکھنے کے سبب جذبات کی رُو میں بہہ کر عجلت کے ساتھ نتائج اخذ کرلیتے ہیں۔
پہلی بات یہ طے ہوجانی چاہیے کہ کیا مغربی لادینی اور اباحیت پسند جمہوریت اسلامی نظامِ حکومت کی ضد ہے اور اس کی بنیاد یں اسلام کی بنیادوں سے بالکل مختلف ہیں۔ یہ بات بھی طے ہوجانی چاہیے کہ کیا تحریکاتِ اسلامی نے، بشمول جماعت اسلامی پاکستان، کسی موقع پر بھی مغربی لادینی جمہوریت کی تائید کی ہے یا اس کی جگہ نظامِ اسلامی کے قیام کی دعوت اور اس مقصد کے لیے ہرقسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا ہے۔ کیا مصر میں حالیہ واقعات میں ہزارہا افراد کی جانی قربانی، مصر کی ’طاغوتی جمہوریت‘ کے لیے دی گئی یا خالصتاً اللہ کے دین کے قیام کے لیے یہ قربانیاں دی گئیں۔ کیا اسی اخوان المسلمون نے جو ایک وقت زیرزمین سرگرمی کو حکمت عملی کے طور پر صحیح سمجھتی تھی، گذشتہ ۳۰سال کے عرصے میں جمہوری ذرائع سے جدوجہد کو اختیار نہیں کیا اور حسنی مبارک کے آمرانہ دو ر میں مصرکی پارلیمنٹ میں دعوتی حکمت عملی اور سیاسۃ شرعیہ کی پیروی کرتے ہوئے شرکت نہیں کی۔ رہا یہ سوال کہ وہ تبدیلی جو وہ چاہتے تھے کہاں تک آئی اور کیا فوجی مداخلت کی بناپر یہ کہنا درست ہوگا کہ جمہوری ذرائع ناکام ہوگئے، ایک الگ بحث ہے۔
دوسری بات یہ بھی طے ہوجانی چاہیے کہ اگر مرض پُرانا ہو اور جراحت اس کا تنہا علاج نہ ہو تو ایک ماہر اور مخلص طبیب ہی یہ طے کرسکتا ہے کہ کس ترتیب کے ساتھ کون سی دوائیں دی جائیں تاکہ مرحلہ بہ مرحلہ مریض صحت یاب ہوتا جائے۔ یہ طے کرنا کہ پھیپھڑے دل یا جگر میں جو خرابی تمام جسم کو فاسد مادوں سے بھر رہی ہے اسے یک دم جراحت کرکے ختم کردیا جائے یا بتدریج ادویات، غذا، ورزش، آب و ہوا کی تبدیلی، عادات کی تبدیلی اور دیگر ذرائع کا استعمال کر کے مریض کو ایک صحت مند انسان بننے میں مدد دی جائے، ایک ماہر طبیب ہی کا کام ہے۔ اس میں بھی شبہہ نہیں کیا جاسکتا کہ ایک ہی مریض اور ایک ہی مرض کو اگر دو یا تین ڈاکٹر دیکھیں تو ان کی تشخیص میں فرق ہوسکتا ہے۔
لیکن اگر تین ڈاکٹروں کا ایک بورڈ تمام ممکنہ امتحانات اور جائزے کروانے کے بعد اس پر متفق ہو کہ مریض کا علاج بغیرجراحت کے ہوسکتا ہے اور ایک ڈاکٹر یہ کہے کہ چونکہ مرض مہلک یا طاغوتی نوعیت کا ہے اس لیے پہلے جراحت کرو بعد میں مریض کی قوتِ برداشت، اور دوائوں کے ذریعے صحت مندی کی طرف لائو تو اس کی راے اس کے اپنے خیال میں تو درست ہوسکتی ہے لیکن مریض کی جان اور دیگر اطبا کے اجتماعی تجربے کے مقابلے میں کیے گئے فیصلے کے سامنے کوئی وزن نہیں رکھتی۔ ہاں اس بات کا امکان بہرصورت رہتا ہے کہ کئی ماہ کی مسلسل کوشش کے بعد مریض مکمل صحت یاب ہوجائے یا ڈاکٹر اپنی راے تبدیل کرلے۔ اسی طرح بالکل یہ امکان بھی رہتاہے کہ اگر تنہا ایک ڈاکٹر کی راے پر جراحت کردی جائے تو جراحت کے دوران ہی مریض انتقال کرجائے۔ اس لیے محض امکانات پر فیصلے نہیں کیے جاسکتے۔ ماضی کی تاریخ، اجتماعی تجربے اور طبی حکمت عملی کے پیش نظر ہی دنیا میں صحت کا نظام چل رہا ہے۔
اس روزمرہ کی مثال کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ’تبدیلی صرف جہاد سے آئے گی‘ کے نعرے کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ قرآن و سنت نے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ جہاد ارکانِ اسلام میں سے ایک رکن ہے اور اگر کسی خطے میں مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہو اور انھیں مستضعفین فی الارض بنادیا گیا ہو تو ان کی امداد کرنا اہلِ ایمان پر فرض ہے۔ وَمَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُھَاوَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا o (النساء ۴:۷۵) ’’(ایسے لوگوں کو معلوم ہو کہ) اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے اُن لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو فروخت کردیں، پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اُسے ضرور ہم اجرعظیم عطا کریں گے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوںکی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کردے‘‘۔
اسی طرح فتنہ اور فساد فی الارض کو دُور کرنے کے لیے بھی اسلامی ریاست کو جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ فَاِنِ انْتَھَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیْنَo (البقرہ ۲:۱۹۳) ’’تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہوجائے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں، تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی روا نہیں‘‘۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کی تمام زندگی ہی جہاد ہے۔ ظلم کے خلاف، نفس کے خلاف اور طاغوت کے خلاف۔
آیاتِ جہاد پر غور کیا جائے تو دو اصول بالکل واضح ہوکر سامنے آتے ہیں: اوّلاً کسی بھی ظالم اور طاغوتی نظام میں محض مظلوم بن کر رہنا، اسلامی فکر سے مطابقت نہیں رکھتا۔ طاغوتی نظام میں دو ہی راستے ہوسکتے ہیں: اوّلاً: اس کے خلاف جدوجہد کہ اس کی جگہ عدل کا نظام آئے اور اگر تمام تر کوششوں کے بعد صبروتحمل کے ساتھ تمام دعوتی مراحل سے گزرنے کے بعد یہ یقین ہوجائے کہ یہاں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی تو پھر وہاں سے ہجرت۔ اس میں اگر عجلت کی گئی تو وہ غلط ہوگا [حضرت یونس ؑ کی مثال ہمارے سامنے رہنی چاہیے]۔ یہی شکل مکہ مکرمہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے ثابت ہوتی ہے کہ ۱۳برس تک ہرہرآزمایش اور تعذیب سے گزرنے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے خود ہی حکم دیا تو ہجرت کی گئی، ورنہ مکہ میں بذریعہ قوت قریش کی حکمرانی کو ختم کردینا بھی ایک امکانی اقدام (option) تھا۔ حضرت عمرؓ، حضرت حمزہؓ اور دیگر صحابہ تعداد میں کم ہونے کے باوجود مشرکین کے سرداروں کو ایک رات میں قتل کر کے اسلامی نظام قائم کرسکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
قرآن کریم نے جان اور مال کے ساتھ جہاد کو افضل قرار دیا ہے اور بیٹھے رہنے والوں کے مقابلے میں میدانِ جہاد میں آنے والوں کے لیے اعظم درجے کا وعدہ فرمایا ہے۔ سورئہ نساء میں فرمایا گیا: لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰھِدِیْنَ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃً وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی وَفَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰھِدِیْنَ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاo (النساء ۴:۹۵) ’’ مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرتے ہیں ، دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے۔ اگرچہ ہرایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے، مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے ، اُن کے لیے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے، اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔
سو، فساد میں اس بات کو دوٹوک انداز میں واضح کردیا گیا۔ مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرتے ہیں، دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ اعظم و افضل رکھا ہے۔ اگرچہ ہر ایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے، مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے۔ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے اور اللہ بڑا معاف کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔
جہاد قرآن کریم میں ایک جامع اصطلاح ہے جس میں افضل ترین شکل وہ نہیں ہے جو بعض حضرات ایک ضعیف حدیث کی بناپر سمجھتے ہیں بلکہ میدانِ عمل میں طاغوتی قوتوں کے خلاف مناسب حکمت عملی اور تیاری کے ساتھ جہاد کرنا قرآن کریم کا مقصود ہے۔ اس جہاد کے بارے میں یہ بات بھی سمجھادی گئی ہے کہ اگر اہلِ ایمان طاغوتی قوتوں سے عددی لحاظ سے کم بھی ہوں تو وہ اپنے خلوص، اللہ پر اعتماد، صبر اور حکمت عملی کے صحیح ہونے کے سبب کامیاب ہوں گے، چاہے ان کا تناسب ایک اور دس کا ہی کیوں نہ ہو، یعنی اہلِ ایمان ۲۰ ہوں اور طاغوتی قوت ۲۰۰ کے لگ بھگ ہو۔
یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ وَ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَھُوْنَo (انفال ۸:۶۵) ’’اے نبیؐ! مومنوں کو جنگ پر اُبھارو۔ اگر تم میں سے ۲۰آدمی صابر ہوں تو وہ ۲۰۰ پر غالب آئیں گے اور اگر ۱۰۰ آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزارآدمیوں پر بھاری رہیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے‘‘۔
اسی چیز کو اہلِ ایمان نے بدر میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جب اُحد اور حنین میں حکمت عملی پر صحیح عمل نہ کیا تو دوسری نوعیت کے نتائج سامنے آکر رہے۔ مکہ مکرمہ میں ۱۳برس کا عرصہ بھی عرصۂ جہاد تھا کہ ہرہرسطح پر مزاحمت کا سامنا تھا۔ تعذیب تھی، امتحان تھا، ظلم تھا لیکن یہاں جہاد کی ایک خاص شکل تھی اور مدنی دور میں حالات کی تبدیلی کے بعد اس کی دوسری شکلیں سامنے آئیں گی، لہٰذا یہی جہاد مدینہ منورہ میں معاشرے کی تعمیر، عدل کے نظام کے قیام اور اہلِ کتاب کے ساتھ تعلقات کی نوعیت طے کرنے میں میثاقِ مدینہ کی شکل اختیار کرگیا اور پھر بدر، اُحد، خندق، حدیبیہ، تبوک، فتح مکہ، حنین اور خیبر سب ہی جہاد کے مختلف رُخ ہیں۔گویا جہاد اہلِ ایمان کی زندگی کا لازمی جزو ہے۔ اس کی شکلیں مختلف ہوسکتی ہیں، لیکن جہاد ہی ہے، جو اُمت مسلمہ کے جسم کو زندہ اور متحرک رکھتا ہے۔
جہاد کے میدان کا تعین کہ کہاں پر کیا جائے، اور کیا کیا جائے، نیز جہاد کے وقت کا تعین کہ کس مرحلے میں کون سی شکل اختیار کی جائے، جہاد کے ہدف کا تعین کہ اصل مطلوب کیا ہے ۔ ان تمام معاملات میں فیصلہ کن حیثیت محض انسانی عقل کی نہیں ہے بلکہ انسانی عقل کو اسوئہ نبیؐ کی روشنی میں دیکھنا ہوگا کہ کس صورتِ حال میں شارعِ اعظمؐ نے کیا حکمت عملی اختیار فرمائی۔ مکہ سے ہجرت جہاد کی ایک شکل تھی اور پھر مدنی دور کے تمام ہی سال جہاد کے مختلف مراحل کی تیاری اور ان کی انجام دہی کے سال ہیں۔ فتح مکہ جہاد کی ایک ایسی مثال ہے جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی کہ خون بہائے بغیر اللہ کی حاکمیت کو قائم کیا گیا، لیکن یہ بھی اس کا ایک پہلو ہے کہ جن پر حق کی قوتوں نے غلبہ حاصل کیا ہے، ان سے کیسے معاملہ کیا جائے، یعنی یہ طے کرنا کہ مکہ میں کن مشرکین کو قتل کرنا ہے اور کن کو ان کی ساری زیادتیوں کے باوجود معافی دے کر ان کے دلوں کو فتح کرلینا ہے۔ یہ سب کچھ اسوۂ حسنہ ہی تو ہے، جس پر غور کیے بغیر جہاد کا مقام، جہاد کا وقت اور جہاد کی حکمت عملی طے نہیں ہوسکتی۔ حدیبیہ کے موقع پر جانوں کی قربانی کرنے کا عہد جہاد ہی تھا لیکن اس کے باوجود بظاہر دشمن کے حق میں ہونے والی شرائط پر معاہدہ کرنا بھی جہاد کی حکمت عملی تھا اور وقت نے ثابت کردیا کہ شارع اعظمؐ کی نگاہ جن نتائج کو دیکھ رہی تھی ان تک فاروق اعظمؓ تک کی نگاہ اس خاص لمحے نہ پہنچ سکی۔ نہ یہ ان کے ایمان کی کمزوری تھی نہ فراست میں کمی۔ اصل چیز منہجِ نبوت کی اس کے تمام پہلوئوں کے ساتھ، تعلیم اور تعیین تھی اور اس منہج میں یہ تمام پہلو قوسِ قزح کی طرح ہمیشہ کے لیے موجود ہیں اور رہیں گے۔
جہاد کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اس کا اعلان کون اور کب کرے گا؟ امام ابن تیمیہؒ اور دیگر علماے کرام کا اس پر اجماع ہے کہ چونکہ یہ ایک اسٹرے ٹیجک معاملہ ہے کہ اس میں اُمت مسلمہ کی جان اور مال دونوں کا دخل ہے اس لیے یہ فیصلہ ذمہ داری اور عواقب پر غور کے بعد کیا جائے گا۔ اور یہ مسلمان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔ استثنا کی شکل میں یہ کام ان علما کا ہے جو کسی سیاسی یا معاشی مفاد کے زیراثر یہ کام نہ کریں بلکہ اُمت مسلمہ کے مفاد اور مصلحت عامہ کے اصول پر غیرجذباتی طور پر غور کرنے کے بعد کریں جیساکہ حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی نے سکھوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور حضرت سیّداحمداور شاہ اسماعیل شہید نے تحریکِ مجاہدین کا آغاز کیا۔
لیکن کسی مسلم ریاست کے خلاف خروج اور خود مسلمانوں کے خون کو حلال کر لینا اس سے بہت مختلف معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ محض اس قیاس پر نہیں کیا جاسکتا کہ چونکہ حکومت کے فلاں ذمہ دار نے کسی بیرونی قوت سے ایک understanding یا ایک خفیہ معاہدہ کرلیا ہے، اس لیے اس سے وابستہ کسی بھی فرد کو جہاں کہیں چاہیں ہلاک کردیں۔ اس کی گنجایش دین اسلام میں نہیں ہے۔ اس سلسلے میں سب سے نمایاں مثال خوارج کی ہے۔
خوارج نے اپنی فکری غلطی کی بنا پر یہ سمجھ لیا کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ نے بجاے براہِ راست قرآن کو حکم بنانے کے دو نمایندوں کے سپرد یہ کام کردیا کہ وہ قرآن کی روشنی میں طے کریں کہ مسئلے کا حل کیا ہو۔ اس لیے یہ دونوں حضرات خوارج کی نگاہ میں کفراور شرک کے مرتکب ہوگئے۔ چنانچہ ان کا خون ان کے لیے حلال ہوگیا۔ اس بناپر خوارج نے یہ طے کیا کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کو جہاں کہیں وہ پائے جائیں قتل کیا جائے اور ان کے ساتھ جو لوگ شامل ہوں وہ بھی قتل ہوں۔ اُمت مسلمہ کی تاریخ گواہ ہے کہ خوارج کی اس فکر کو اجماعی طور پر رد کیا گیا اور انھیں ایک گمراہ فرقہ قرار دیا گیا۔ گو ،ان میں سے بہت سے افراد وہ تھے جو دن میں حضرت علیؓ کے خلاف جنگ کرتے تھے، راتوں کو تہجد اور قرآن سے رشتہ جوڑتے تھے۔ ان کے چہروں پر محرابیں تھیں اور وہ قرآن کے حافظ تھے۔ فکری غلطی کے لیے ضروری نہیں ہے کہ ایک شخص غیرمخلص اور دھوکے باز ہو۔ انتہائی خلوصِ نیت کے ساتھ اور دین کا جامع تصور نہ ہونے کے سبب اللہ کا ایک بندہ فکری غلطی کا مرتکب ہوسکتا ہے۔
جو چیز دیکھنے اور سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنی جان کے دشمن افراد کے بارے میں کیا پالیسی ا ختیار کی اور کیا آپ کا یہ کرنا اسلام تھا یا اسلام سے انحراف! آپؓ نے حکم دیا کہ اگر وہ حملہ کریں تو جواب دیا جائے گا کہ جان کا تحفظ کرنا دین کا اصول ہے، لیکن ان کا پیچھا نہ کیا جائے، نہ انھیں غلام بنایا جائے نہ ان کی املاک پر قبضہ کیا جائے، جب کہ وہ کھلی بغاوت کے مرتکب تھے۔ دین کسی ایک پہلو کا نام نہیں ہے بلکہ مجموعی طور پر ہرپہلو کو سمجھ کر حکمت عملی وضع کرنے کا نام ہے۔
جس طرح خوارج نے یہ فیصلہ کرلیا کہ حضرت ابوموسیٰ الاشعریؓ اور حضرت عمرو بن عاصؓ کو فیصلہ کرنے پر مامور کرنا شرک اور کفر تھا، قرآن کے حکم ماننے کا انکار تھا، ایسے ہی بہت سے سادہ لوح افراد دین کے نام پر خلوصِ نیت کے ساتھ یہ عاجلانہ فیصلہ کربیٹھتے ہیں کہ اگر کسی نے نام نہاد طاغوت کے کسی نمایندے سے بات کرلی، مصافحہ کرلیا، کسی ایسے اجتماع میں یا کانفرنس میں شرکت کرلی جس میں طاغوتی نمایندے موجود ہوں تو وہ شرک اور کفر کا مرتکب ہوگیا، اس لیے واجب القتل ہوا۔ اس قسم کی منطق اختیار کرنے سے قبل دین اسلام کے مقصد و مدعا، نبی کریمؐ کے اسوہ اور حکمت عملی کو سمجھنے اور اس کی روشنی میں ذمہ دارانہ اور اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ فیصلے جذباتی انداز میں نہیں کیے جاسکتے۔
خوارج اور اس طرح کے افراد نے جو شکل اختیار کی، اُمت کی تاریخ نے اس پر کیا فیصلہ دیا، یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ اُمت نے جس چیز کو اسوہ نبویؐ کے مطابق سمجھا وہ خوارج کی فکر نہ تھی بلکہ بتدریج، مرحلہ بہ مرحلہ، صبرواستقامت اور قربانی کے ساتھ دعوتی کام کرتے رہنا، وقت کے لحاظ سے موجود ذرائع ابلاغ کا استعمال کرنا اور وقت کی قید سے بے پروا ہوکر اپنی تمام قوت اللہ کے دین کے قیام کے لیے لگادینے ہی کو سواء السبیل قرار دیا۔
یہ بات بھی سامنے رہنی چاہیے کہ دین میں شرعی احکام کا نفاذ صرف اور صرف ظاہر پر ہے باطن پر نہیں۔ یہی سبب ہے کہ مدینہ منورہ میں منافقین کی کھلی اور چھپی ہوئی سرگرمیوں کے باوجود نبی کریمؐ نے منافقین کے قتل کا حکم نہیں دیا، جب کہ وہ اہلِ مکہ کے ساتھ خفیہ سازشوں میں شریک تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم اور سنت مطہرہ نے انسانی جان کی حُرمت کو جو مقام دیا ہے ہم اُس سے بہت دُور نکل چکے ہیں۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ نبی کریمؐ کو بہت عزیز تھے لیکن جب حضرت اسامہ نے ایک شخص کو دورانِ جنگ یہ کہنے کے باوجود کہ وہ ایمان لاتا ہے قتل کردیا تو نبی رحمتؐ نے اس پر سخت غصے کا اظہار فرمایا اور اسامہ سے پوچھا کہ کیا انھوں نے اس کے دل کو چیر کر دیکھا تھا کہ اس میں ایمان تھا یا نہیں؟ اور یہ کہ وہ دل سے مسلمان ہوا تھا یا دکھانے اور جان بچانے کے لیے! اس لیے کسی کی تکفیر کردینا اور مشرک قرار دے کر اس کے خون کو حلال کرلینا نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ سنت سے۔ خوارج کا بھی عجیب معاملہ تھا کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کو تو وہ قتل کے لائق سمجھتے تھے لیکن ذمیوں پر جو غیرمسلم تھے، اس بنا پر کہ ان کی جان کا ذمہ اللہ اور رسولؐ نے لیا تھا، ہاتھ اُٹھانا حرام سمجھتے تھے۔ فہم کی غلطی انسان کو کہاں تک پہنچادیتی ہے کہ وہ تصویر کا ایک ہی رُخ دیکھتا ہے اور اس پر نازاں بھی ہوتا ہے کہ اصل اسلام پر وہ عمل کر رہا ہے۔ خوارج خلوصِ نیت سے یقین رکھتے تھے کہ وہ حق پر ہیں اور جیساکہ پہلے عرض کیا یہ تہجدگزار اور قرآن کے حافظ تھے اس کے باوجود فکر کی غلطی نے انھیں گمراہ کردیا۔
اسلامی نظامِ حکومت میں دستور اور قانون کی تدوین کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ قرآن و سنت کو دستور مان لینے کے بعد نہ کسی مزید دستور کی ضرورت ہے نہ کسی قانون کی۔ اسلام کا ہر طالب علم یہ جانتا ہے کہ قرآن و سنت کا دوسرا نام شریعت ہے اور شریعت نے جو حدود متعین کردی ہیں انھیں دنیا کے تمام مسلمان مل کر بھی تبدیل نہیں کرسکتے۔ لیکن جن معاملات کے بارے میں قرآن و سنت میں واضح ہدایت موجود نہ ہو، ان کا کیا کیا جائے۔ ظاہر ہے کوئی نئی وحی تو آنہیں سکتی۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ فلاں معاملے میں اس پر یہ وحی آئی ہے۔ جو ایسا کرے گا وہ اللہ اور رسولؐ اللہ پر جھوٹ باندھے گا۔
اس کا حل خود قرآن کریم اور سنت رسولؐ نے یہ بتایا کہ ایسے تمام معاملات میں اجتہاد، قیاس اور اجماع پر عمل کیا جائے گا لیکن اس پورے عمل میں اسلامی نظامِ حکومت کی اصل روح مشاوت کا کرنا ہے، حتیٰ کہ دورِ نبویؐ میں بھی بہت سے اہم معاملات مشاورت کے بعد طے کیے گئے۔ یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ نبی کریمؐ اپنی فراست اور وحی الٰہی کے جاری رہنے کی بناپر اگر چاہتے تو بغیر کسی سے پوچھے فیصلے فرما سکتے تھے اور آپؐ کا ہرفیصلہ صحابہؓ کے لیے قابلِ قبول ہوتا لیکن آپؐ نے ایسا نہیں کیا تاکہ آپؐ کی اُمت اسلامی نظم مملکت کے اس اصول کو عملاً دیکھ کر اس کی اہمیت سے آگاہ ہوسکے۔ غزوئہ بدر میں میدان کے انتخاب کا معاملہ ہو یا اُحد کے موقع پر مدینہ منورہ میں ٹھیر کر مقابلہ یا باہر نکل کر مقابلہ، غزوئہ احزاب میں دفاعی حکمت عملی ہو یا احزاب کے بعد یہود کے ساتھ طرزِعمل کا سوال، ہر اہم معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شوریٰ کو نہ صرف قائم کیا بلکہ اس کی راے کا پورا احترام فرمایا۔
آپؐ کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے مانعین زکوٰۃ کے معاملے میں اور اسامہ بن زیدؓ کے لشکر کی روانگی کے سلسلے میں جو فیصلے کیے، انھیں معلومات نہ ہونے کی بناپر بعض حضرات ان کا veto کرنا کہتے ہیں، جو صحیح نہیں۔ پہلے معاملے میں حضرت ابوبکرؓ کے پاس دلیل اپنی راے کی نہیں تھی بلکہ قرآن میں صلوٰۃ اور زکوٰۃ کی یکساں مرکزیت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صحیح احادیث کی تھی جن کے واضح الفاظ کی پیروی میں انھوں نے یہ اقدام کیا۔ چنانچہ آپ نے نبی کریمؐ کا ارشاد سنایا کہ: ’’مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کریں۔ جب وہ اقرار کرلیںگے تو ان کی جانیں اور ان کے مال میری طرف سے محفوظ ہوجائیں گے، مگر اس کلمہ کے کسی حق کے تحت اور ان کے باطن کا محاسبہ اللہ کے ذمے ہے‘‘۔دوسری حدیث جو آپؐ نے بیان فرمائی اس کے الفاظ بھی بہت اہم ہیں:’’مجھے حکم ملا ہے کہ مَیں تین چیزوں پر لوگوں سے جنگ کروں: کلمہ لاالٰہ الا اللہ کی شہادت پر، نماز قائم کرنے پر اور زکوٰۃ کی ادایگی پر‘‘۔
ان احادیث کے دلیل قطعی ہونے کی بنیاد پر حضرت ابوبکرؓ کا فیصلہ کرنا دلیلِ شرعی اور واضح نص پر تھا ۔یہاں معاملہ شوریٰ کے دائرے سے باہر تھا۔ قرآن و سنت کے نصوص کی موجودگی میں خلیفہ کا کام صرف ان احکام کا نفاذ تھا۔ مشاورت کس بات پر کی جاتی؟
اسی طرح جس لشکر کو تیار کروانے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے علَم حوالے کیا ہو، کیا اسے روکنا رسول اللہ کی اطاعت تھی یا اسے آپ کی منشا کے مطابق روانہ کرنا ادایگی فرض تھا۔ یہاں بھی معاملہ نہ شوریٰ کا تھا نہ اکثریت یا اقلیت کا۔
یہ خیال کہ خلیفہ صرف اللہ کو جواب دہ ہے قرآن و سنت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ شوریٰ اور مشاورت کا مطلب ہی یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد ان کے خلفا اپنے تمام اُمور میں مشاورت کریں اور مسئلے کے تمام پہلوئوں پر غور کرنے کے بعد جس راے پر اکثریت کا اتفاق ہو اسے نافذ کیا جائے۔ شوریٰ کا مقصد محض نمایشی طور پر تفنن طبع کے لیے لوگوں کی راے معلوم کرنا نہیں ہے کہ تمام بحث و مباحثے کے بعد کرے وہی جو خلیفہ خود چاہتا ہو۔(جاری)
تحریکِ اسلامی سے وابستہ افراد اگر آج سے ۵۰سال قبل کے منظرنامے پر ایک نگاہ ڈالیں تو دعوت اور دعوت کے طریقوں میں کتاب کا مقام مرکزی نظر آتا ہے۔ بہت سے ایسے افراد جو تحریکی شخصیات اور دعوت سے مخالفت براے مخالفت یا سرکاری ملازمت کی بنا پر اپنے آپ کو فاصلے پر رکھنا پسند کرتے تھے، اگر محض حادثاتی طور پر انھیں تحریکی کتب میں سے کسی کتاب کے مطالعے کا موقع مل گیا، تو وہ دعوت اسلامی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ ان میں سے بعض محض ایسے ہی کسی حادثے کے نتیجے میں اس حد تک متاثر ہوئے کہ سرکاری ملازمت کو ترک کرکے تحریک کے ایک عام کارکن بننے پر آمادہ ہوگئے۔ کتاب اور تحریر کا یہ جادو محض ادبی اسلوب کی بناپر نہیں، بلکہ ایک بات کے حق ہونے اور حق کو بلاکسی تصنع، مداہنت یا شدت پسندی کے صرف سادہ الفاظ میں بیان کردینے کی بنا پر ہوا۔ بلاشبہہ اس میں تحریر کے پُرخلوص اور خالصتاً لِلّٰہ ہونے کا بڑا دخل ہے لیکن کتاب اور تحریر کا یہ پہلو دعوتِ اسلامی کی اشاعت اور قبولیت کا ایک ناقابلِ تردید واقعہ ہے۔
اگر غور کیا جائے تو دعوتِ اسلامی کے الہامی طریق کار میں آسمانی صحیفوں کا بنیادی کردار رہا ہے۔ قرآن کی جانب دعوت اس عظیم ترین کتاب کا بغور مطالعہ کرنے، اس کے مفہوم کو سمجھنے اور اس کی تعلیمات کو عملی شکل دینے کی دعوت تھی۔ اسی لیے باربار پکار کر کہا گیا: فَاَیْنَ تَذْہَبُوْنَ o اِِنْ ھُوَ اِِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ o لِمَنْ شَآئَ مِنْکُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَ o (التکویر ۸۱:۲۶-۲۸) ، یعنی تم کدھر بھٹکے چلے جارہے ہو؟ آئو اس کتاب کی طرف! یہ کتاب تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے، تم میں سے ہراس شخص کے لیے جو راہِ راست پر چلنا چاہتا ہو۔ ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا: ’’یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں، بلندرُتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں، معزز اور نیک کاتبوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں‘‘۔(عبس ۸۰:۱۲-۱۶)
الکتاب کی اہمیت کو جگہ جگہ بیان کرتے ہوئے تعلیم دی گئی کہ ’’اس کا مطالعہ ٹھیرٹھیر کر ہرہرلفظ پر غور کرتے ہوئے کیا جائے‘‘ (المزمل ۷۳:۴-۵) ۔اس کی تلاوت میں بھی تیزی اور جلدی نہ اختیار کی جائے کیونکہ اس کا اصل مقصد محض ثواب کا حصول نہیں بلکہ اس کتابِ ہدایت کو سمجھ کر اسے زندگی کے معاملات میں نافذ کرنا ہے۔ اسی بنا پر بار بار یہ یاد دہانی کرائی گئی کہ یہ کتاب چونکہ ہدایت ہے اس لیے اسے سادہ اور آسان بنادیا گیا ہے تاکہ ایک عام طالب ِ حق بھی اس سے رہنمائی حاصل کرسکے۔ ’’بلاشبہہ ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان میں آسان بنا دیا تاکہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں‘‘ (الدخان ۴۴:۵۸)۔اس عظیم کتاب سے دُوری اور تعلق میں کمی نہ صرف دنیا کی زندگی میں انسان کو ہدایت سے دُور کرتی ہے بلکہ آخرت میں محرومی اور سخت جواب دہی سے دوچار کرتی ہے۔ ’’اور رسولؐ کہیں گے: اے پروردگار!میری قوم نے اس قرآن کو نظرانداز کیا ہوا تھا‘‘۔(الفرقان۲۵:۳۰)
قرآنِ کریم سے قریبی تعلق اور اس پر مسلسل غور تحریکِ اسلامی کی دعوت کا پہلا مطالبہ ہے۔ پورے اعتماد سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ تحریکِ اسلامی، ترجمۂ قرآن، یعنی قرآن کو اپنے معاملات میں نافذ کرنے کی دعوت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تحریک سے وابستگی اور فکر کو تازگی دینے کے لیے ضروری ہے کہ ان تحریرات کا مطالعہ کیا جائے جو قرآن و سنت پر مبنی فکر کو پیش کرتی ہیں اور آج کے مسائل کے اسلامی حل کی طرف نشان دہی کرتی ہیں۔
یہ خیال بے بنیاد ہے کہ ایک تحریکی کارکن نے اگر تحریک سے تعارف کے وقت چند کتابچوں کا مطالعہ کرلیا تھا اور تحریک میں شامل ہوگیا تھا، یا نصابِ رکنیت پر سرسری نظر ڈال کر رکن بن گیا تھا اور پھر وقت کے گزرنے کے ساتھ ذمہ دار بھی بن گیا، تو اس کا وہ سرسری مطالعہ اسے دین کا معتبر علم دینے کے لیے کافی ہے۔
تحریک کے متحرک رہنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ہرکارکن متحرک فکر رکھتا ہو اور نہ صرف اساسی کتب بلکہ اسلامی مصادر سے بھی پوری واقفیت رکھتا ہو۔ تحریک جس بات کی دعوت دیتی ہے وہ محض سڑکوں پر اپنی قوت اور تعداد کا مظاہرہ نہیں ہے، بلکہ اسلام کی فکر کی برتری، تازگی اور عصری مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ بات تقاضا کرتی ہے کہ ہرلمحے قرآن کریم کے علم میں اضافہ ہو۔ اگر اُس نے تفہیم القرآن کا اوّل تا آخر مطالعہ کرلیا ہے تو خود تفہیم القرآن کی انفرادیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہوگا کہ عصری تفاسیر میں سے کم از کم تین چار تفاسیر کا مطالعہ کرے۔ اور پھر دیکھے کہ قرآنِ کریم کی جامع اور عملی تعلیمات کس طرح آج کے دور میں جاری و ساری کی جاسکتی ہیں۔
اسے نہ صرف قرآن کریم بلکہ سیرتِ پاکؐ کا مطالعہ اس زاویے سے کرنا ہوگا کہ آپ ؐ کی حیاتِ مبارکہ آج کے دور کے مسائل کے بارے میں کیا ہدایات دیتی ہے، اور اس کی ذاتی، خاندانی، معاشرتی، معاشی، سیاسی اور تعلیمی زندگی میں اس مطالعے کے نتیجے میں کیا تبدیلیاں ہونی چاہییں۔
اسے فقہ کی کم از کم اتنی معلومات ہوں کہ وہ حلال و حرام میں فرق کرسکے اور بنیادی عبادات و معاملات میں لوگوں کی رہنمائی کرسکے۔ ایک داعی محض ایک جوشیلا مقرر نہیں ہوتا کہ دوسروں کو گفتار میں شکست دے سکے، بلکہ اس کا اصل کام شکست دینے کی جگہ دوسرے کو جیتنا، اپنے سے قریب لانا اور مخالف کے کیمپ سے وابستہ افراد کو اپنی جماعت کی طرف راغب کرنا ہے۔ دین کی حکمت نہ کبھی یہ تھی نہ آج ہوسکتی ہے کہ مخالفین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور اپنے ہرتیز اور نوکیلے جملے سے انھیں مجروح کرکے لطف اُٹھایا جائے، بلکہ دین کا مطالبہ ہے کہ جو کل تک دشمنِ جان تھے انھیں اپنے قولِ لیّن اور حکمت و محبت سے وَلِیٌّ حَمِیْمٌ بنایا جائے۔داعی کی بات اور طرزِعمل وہ ہو جو پھول کی پتی سے ہیرے کے جگر کو دولخت کردینے والا ہو۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب سیرتِ پاکؐ کا مطالعہ اسلوبِ دعوت، استقامت و صبر اور دعوت کی حکمت کو سمجھنے کے لیے کیا جائے۔ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ جو کارکن اور ذمہ داران تحریک سے ۱۰،۲۰ یا ۳۰سال سے وابستہ ہیں انھوں نے اس عرصے میں سیرتِ پاکؐ کے حوالے سے اپنی معلومات اور علم میں کتنا اضافہ کیا ہے اور سیرتِ سرورعالمؐ کے علاوہ کون سی کتاب گذشتہ دوبرسوں میں پڑھی، اور کیا واقعی سیرتِ سرورعالمؐ کو بھی اس طرح پڑھا ہے جیسا اس کا پڑھنے کا حق ہے؟
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ اسلامی لٹریچر کے علاوہ اپنے زمانے کے افکار، تصورات، تحریکات کا بھی دقت ِنظر سے مطالعہ کیا جائے، اور اسلام اور اسلامی تحریکات کو جو فکری اور تہذیبی چیلنج درپیش ہیں ان کو سمجھ کر ان کے مقابلے کی علمی اور عملی استعداد پیدا کی جائے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کارکن اور قیادت ان پہلوئوں سے اپنے آپ کو باخبر رکھیں اور صرف ماضی کے سرمایۂ فکر پر قناعت نہ کریں۔
تحریکِ اسلامی کی ترقی اور کامیابی کا پہلا زینہ خود داعی کی فکری ترقی سے وابستہ ہے۔ اگر مطالعہ نہیں کیا جائے گا تو ہمارا ذہن نئے زاویوں اور متبادل حل تلاش کرنے سے قاصر رہے گا اور ہم روایت کے شکنجے میں گرفتار ہوکر ایک ضابطے کی جماعت بن جائیں گے، جو دستور اور ضوابط کی تو پابند ہو لیکن دستور کی روح اور ضوابط کی حکمت سے مکمل طور پر ناآشنا ہو۔ اس کا نام جمود ہے، اس کا نام fossilization ہے ، اس کا نام قدامت پرستی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم اسے روایت، اشرافیت اور تقویٰ کا نام دے کر اپنے آپ کو خوش کرلیں۔
کتاب کا کلچر جب تک زندہ رہے گا تحریک بھی زندہ اور متحرک رہے گی۔ ہر نئی آنے والی فکر ایک داعی کو قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے اور وہاں سے ہدایت حاصل کرنے پر راغب کرے گی، اور وہ اس نام نہاد عالم گیریت کے دور میں نوزائیدہ مسائل پر اجتہادی راے دے سکے گا۔ اگر اُس نے مطالعہ ترک کردیا تو وہ مقلد تو بن سکتا ہے قائد نہیں بن سکتا۔ تحریکِ اسلامی کی بنیادی کوشش یہی رہی ہے کہ وہ ہرکارکن میں قائدانہ صلاحیت پیدا کرسکے اور وہ ہرصورت حال سے تحریکی ذہن اور اسلام کے بتائے ہوئے اخلاقی ضابطے کی روشنی میں نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرسکے۔
تحریکات کی زندگی کا تعلق ان کی قیادت کی طرف سے مسلسل فکری غذا کا فراہم کرنا ہے۔ یہ فکری غذا نہ صرف سیاسی مسائل پر بلکہ خالصتاً علمی مسائل پر بھی یکساں طور پر ضروری ہے۔ اگر ہمارا عالمی سطح پر معاشی، معاشرتی، ابلاغی، بین الاقوامی معاملات پر مطالعہ سطحی ہوگا تو تحریک بھی دن بدن فکری محدودیت اور افلاس کا شکار ہوگی۔ اگر اس کے ساتھ صورتِ حال کچھ یوں بھی ہو کہ تحریکِ اسلامی کی قیادت نے اب سے ۵۰سال قبل جو تجزیہ اور مسائل کا حل تجویز کیا ہو، اس پر بھی تحقیقی نگاہ نہ ہو تو پھر تحریک کا اللہ ہی حافظ ہے۔
اس عمل کے جاری رکھنے کے لیے تحریکی قیادت کو خود اپنی مثال پیش کرنی ہوگی اور نئی فکر کی تخلیق کے ذریعے فکر کے نئے زاویوں کی طرف نشان دہی کرنی ہوگی۔ ۱۹۶۲ء میں مولانا مودودیؒ نے جس بناپر ایک تحریکی تحقیقی ادارے کی بنیاد کراچی میں رکھی تھی، اس کے ایک عینی شاہد کی حیثیت سے، مَیں سمجھتا ہوں کہ ان کے سامنے ایک ایسی ٹیم کی تیاری تھی جو نہ صرف ان کی فکر کو بلکہ ان کی فکر سے آگے علم و عمل کے نئے اُفق تلاش کرے اور تحریک کی علمی ترقی میں تعمیری کردار ادا کرسکے۔
یہ مستقبل کے لیے ایک علمی اثاثہ تیار کرنے کی خواہش کا اظہار تھا۔ یہ اس عزم کا اظہار تھا کہ تحریک کو ٹھوس علمی بنیاد پر قرآن، حدیث، فقہ، تاریخ، سیرت پاکؐ اور مسلم علما و مفکرین کے کاموں سے براہِ راست روشناس کرانے کے بعد نئے تحریکی لٹریچر کی تصنیف اور فکری قیادت کے لیے تیار کیا جائے۔ یہ محض مولانا کے اپنے رسائل کے ترجمے یا انھیں مختلف مجموعوں میں مرتب کردینے کا کام نہ تھا بلکہ بدلتے حالات میں جرأت، ذمہ داری اور نصوص پر مبنی علم کے ذریعے ملک اور بیرونِ ملک ہدایت کے طالب انسانوں تک دعوت پہنچانے کے لیے ایک پوری نسل کو تیار کرنے کی خواہش کا اظہار تھا۔
آج تحریک جس دور سے گزر رہی ہے اس میں نہ صرف تازہ فکر کی بلکہ جو فکر سیدمودودیؒ نے پیش کی خود اس کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سید مودودیؒ کی بعض تحریرات ایسی ہیں کہ انھیں جتنی مرتبہ پڑھا جائے اتنی مرتبہ کوئی نیا پہلو سامنے آتا ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ بطور ایک پالیسی کے تحریک سے وابستہ افراد میں مطالعے کی ثقافت کو حلقہ ہاے فکر کے ذریعے زندہ کیا جائے اور کھلے ذہن کے ساتھ نہ صرف تحریکی قائدین بلکہ دیگر اسلامی مصادر کے تحقیقی مطالعہ کو اختیار کیا جائے۔
دعوتِ اسلامی کا پہلا مرحلہ فکری انقلاب ہے۔ جب تک فکر تبدیل نہ ہو، معاشرتی تبدیلی، سیاسی انقلاب اور تبدیلیِ قیادت ایک زیبایش تو ہوسکتی ہے حقیقت نہیں بن سکتی۔ دل و دماغ کا پورے اعتماد کے ساتھ یک سو ہونا دعوتی کامیابی کا پہلا مرحلہ ہے۔ یہ مرحلہ اگر کمزور ہوگا تو آسمان کی بلندیوں تک جو عمارت بنے گی وہ ٹیڑھی اور بودی بنیاد پر ہوگی۔ اس کی ظاہری عظمت اسے زیادہ عرصہ برقرار نہیں رکھ سکتی۔ وہ زمین کی معمولی حرکت سے بلندیوں سے گر کر نشیب کی شکل میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
جس شجرطیبہ کی مثال قرآنِ کریم نے دی ہے اس کی بنیاد کتابِ عظیم پر ہے، اور کتابِ عظیم یہ حکم دیتی ہے کہ نہ صرف ایک عام کارکن اور ذمہ دار بلکہ خود ہادی اعظم ؐ اقرأ کے حکم پر عمل کریں۔ قرآن کریم اور تحریکی لٹریچر کا بغور اور باربار مطالعہ ہی تحریک کو نئی فکر کی تخلیق کی طرف اُبھار سکتا ہے۔ جب تک فکر میں ندرت اور تازگی نہ ہو، تحریک قومی اور عالمی اُفق پر مقامِ قیادت حاصل نہیں کرسکتی۔
۳۰جون ۲۰۱۳ء کو مصر میں جمہوریت کا قتل عرب بہار (Arab Spring) پر خزاں کا ایک ایسا حملہ ہے جس نے ہرباشعور شخص کو تذبذب میں ڈال دیا ہے۔ وزیردفاع کا فوج کے ذریعے جمہوری انتخابات میں اکثریت سے منتخب ہونے والے صدر اور اس کی کابینہ کا برطرف کرنا اور عوامی راے سے براہِ راست منتخب کیے ہوئے صدر کو نظربند کرنا اور فوجی مداخلت کے خلاف جمہوری مزاحمتی جدوجہد کو قوت، دھونس اور دبائو کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش اور فوجی حکم نامے کے ذریعے ایک عبوری حکومت بنانے اور عارضی دستور کے نام پر ایک من مانا نظام مسلط کرنے کو فوجی قبضے (coup deta)کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
جمہوریت کے اس قتل عام پر یورپ اور امریکا کا ردعمل شرم ناک ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ مغرب کا اپنا مفاد اگر فوجی آمروں اور بادشاہتوں سے وابستہ ہو تو اسے کبھی جمہوریت کی یاد نہیں آتی اور اگر ایک عوامی جمہوری انتخاب کے بعد قائم ہونے والی ایسی جمہوریت ہو جس میں مصر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عوام نے اپنا صدر منتخب کیا ہو تو وہ ایسی جمہوریت کے مقابلے میں دوبارہ فوجی آمریت کے قیام میں سرگرم نظر آتا ہے۔
مغربی طاقتوں کی یہ دوعملی کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ اکیسویں صدی میں مسلم دنیا میں جو کچھ ہوا ہے وہ مغرب کی دوعملی کی زندہ مثال ہے۔ لیکن اس اندوہناک واقعے نے بہت سے اہم اور بنیادی سوالات کو ایک مرتبہ پھر ہمارے سامنے لاکر کھڑا کردیا ہے اور اُمت مسلمہ کے ہرباشعور شہری کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ یورپ اور امریکا، ایشیا اور افریقہ آخر کس جمہوریت کی بات کرتے ہیں، کیا ایک جمہوری صدر اور حکومت کو فوج کے ذریعے زیرحراست لاکر فوج کی طرف سے ایک عارضی صدر کا مقرر کیا جانا جمہوریت ہے؟ کیا تحریر چوک میں چند لاکھ افراد کے مظاہرہ کرنے اور مصر کی عوامی اکثریت کے منتخب کردہ صدر کے خلاف نعرے لگانے سے فوج کو یہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ ایک جمہوری حکومت کو برطرف کردے؟
کیا یہ محض ایک اتفاق ہے کہ ۳۰جون ۲۰۱۲ء کو صدرمرسی نے حلف اُٹھایا اور ۳۰ جون ۲۰۱۳ء کو ایک سال گزرنے پر فوج نے انقلاب برپا کرکے انھیں نظربند کردیا؟ یا یہ سب ایک سال سے پلنے والی ایک سازش ہے جس میں فوج، عدلیہ اور مصر کے سیکولر افراد کے ساتھ مغربی طاقتیں اور ان کے زیراثر بعض مسلم ممالک جو مصر میں اسلامی احیا اور بالخصوص اخوان المسلمون کے برسرِاقتدار آجانے کو کسی صورت ہضم کرنے کو تیار نہ تھے، شریک تھے۔ ان ممالک نے بھی اس غیرجمہوری فوجی مداخلت کو پسند کیا اور جمہوریت کے قتل پر اطمینان کا اظہار کرنے میں شرم محسوس نہیں کی۔
نیویارک ٹائمز کے گلوبل اڈیشن میں قاہرہ سے اس کے نمایندوں Ben Hubbard اور David D. Kirkspatrick اپنے مقالے میں ہمارے اس بیان کی تصدیق جن الفاظ میں کی ہے، وہ ہر صاحب ِ عقل کے لیے سوچنے کا مواد فراہم کرتے ہیں:
ریاست کے مختلف ادارے پٹرول کے ذخیروں سے لے کر اسے ملک بھر میں گیس اسٹیشن تک پہنچانے والوں ٹرکوں، سب نے اس بحران کو پیدا کرنے میں حصہ لیا۔
وہ مزید کہتا ہے: پس منظر میں کام کرنے والے حسنی مبارک کے قریبی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھی اور ملک کے چوٹی کے جرنیلوں نے ان لوگوں کو مالیات فراہم کرنے، مشورہ دینے اور منظم کرنے میں مدد دی جو اسلامی قیادت کو اُکھاڑ پھینکنے کا پختہ ارادہ رکھتے تھے۔ ان میں نجیب سویریس بھی شامل تھا جو ایک ارب پتی ہے اور اخوان کا معروف کھلادشمن ہے۔ اور تہامی الجبالی بھی جو سپریم دستوری عدالت کے جج جو حکمران جرنیلوں کے بہت قریب ہیں۔
وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ فوجی کو (Coup) کے بعد یکایک سڑکوں پر پولیس اور پٹرول پمپوں پر پٹرول کی فراوانی ہوگئی اور اچانک پوری انتظامیہ حرکت میں آگئی گویا فوج، عدلیہ اور سول انتظامیہ اور مال دار طبقہ سب نے مل کر صورت حال خراب کی تاکہ اسلامی قوتوں کو ناکام کرسکیں۔
اس افسوس ناک واقعے پر غور کرتے وقت ہمیں چند پہلوئوں پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے اس پورے عمل میں ابلاغِ عامہ کے کردار کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
مصر میں اخوان المسلمون اور دیگر اسلام پسند جماعتوں کے اتحاد کی کامیابی مصر کے سیکولر عناصر خصوصاً میڈیا کے لیے سخت غم و غصے کا سبب بنی۔ چنانچہ روزِ اوّل سے برقی ابلاغِ عامہ خصوصاً نجی چینلوں نے اخوان دشمن مہم کا آغاز کردیا اور عیسائی اقلیت کے حوالے سے بار بار یہ بات اُٹھائی کہ اخوان شریعت نافذ کریں گے اور عیسائیوں کو ’ذمی‘ کا درجہ دیتے ہوئے دوئم درجے کا شہری بنا دیا جائے گا۔ اس بات کو بھی اُچھالا گیا کہ اسلامی سزائوں کے نفاذ سے سب سے زیادہ نقصان غیرمسلموں کو پہنچے گا وغیرہ۔ پھر ابلاغِ عام نے مصر کی معاشی صورت حال کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا شروع کیا کہ روٹی اور پانی کی فراہمی مشکل ہوگئی ہے، جب کہ یہی صورت حال حسنی مبارک کے دور میں تھی اور میڈیا اس پر خاموش تھا۔ دستور میں بعض دفعات کے اضافے اور شریعت کی بالادستی پر بھی میڈیا نے احتجاج اور مخالفت کی مہم چلائی۔ یہ بات بھی پھیلائی گئی کہ اسلامی حکومت میں مصر کی سیاحت کی انڈسٹری ختم ہوجائے گی جو قومی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ہے۔
۳۰سالہ دورِ آمریت میں حسنی مبارک نے مصر کو جس معاشی بدحالی میں مبتلا کر دیا تھا اور جو حسنی مبارک کے خلاف عوامی مہم اور انقلاب کا ایک سبب تھا اسے ابلاغِ عامہ نے نظرانداز کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ گویا معاشی زوال سب کا سب مرسی کے آنے کا نتیجہ ہے۔
ابلاغ عامہ کی اس سازش میں مصر کا مال دار ترین شخص نجیب سویریس جو ٹی وی چینل اور اخبار کا مالک ہے اور حسنی مبارک کا قبطی دست ِ راست رہا ہے، پیش پیش تھا۔ (اس کا اپنا بیان نیویارک ٹائمز نے ان الفاظ میں کیا ہے: Tammarrud did not even know it was me, I am not ashamed of it. ’تمرد‘ کو معلوم بھی نہ تھا کہ یہ مَیں تھا۔ مجھے اس پر کوئی شرم نہیں ہے)۔ اس نے سب سے بڑے اخبار اور ٹی وی چینل کے ذریعے اس مہم کو چلایا۔
یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ مصر مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ بیرونی امداد وصول کرنے والا ملک رہا ہے۔ ۳۰سال سے گرتی ہوئی معاشی حالت کو ایک سال سے کم عرصے میں عروج و ترقی کی طرف لے جانا ایک اچھی تمنّا تو ہوسکتا ہے لیکن عملاً ایک ناممکن ہدف ہی کہا جاسکتا ہے۔ جس میڈیا نے حسنی مبارک کو ۳۰سال کی مہلت دی کہ وہ معاشی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے جو اقدامات چاہتا ہو کرے، اسی میڈیا نے صدر مرسی کے سلسلے میں ۳۶۵ دن کی مہلت کو بھی ضرورت سے زیادہ مدت قرار دیا اور بار بار اس بات کو دہرایا کہ حکومت معاشی اصلاح میں ناکام ہوگئی ہے۔ کیا اسی کا نام عدل ہے۔ کیا یہی غیر جانب دارانہ صحافت ہے۔ کیا دنیا میں کسی عوامی منتخب حکومت کو چار پانچ سال کی مدت کے لیے منتخب کیا جائے، اور پھر ایک سال کے بعد یہ کہہ کر کہ وہ ناکام ہوگئی ہے دوبارہ فوج کو مسلط کردینا مسائل کا حل ہوسکتا ہے؟ یا یہ صرف فوج اور عدلیہ کی طرف سے ایک ردعمل ہے تاکہ وہ جس طرح ۳۰سال سے عوام پر حکومت کر رہی تھی اور فوائد حاصل کر رہی تھی، دوبارہ پرانے نظام کو لاکر اصلاح اور تبدیلی کی کوششوں کو قوت کے ذریعے کچل سکے۔
واضح رہے کہ مصر کی معاشی صورت حال کو بگاڑنے اور تیل اور گیس کا مصنوعی بحران پیدا کرنے میں مفادپرست عناصر کا ہاتھ تھا اور اس کا سب سے واضح ثبوت یہ ہے کہ فوجی مداخلت سے دوسرے دن ہی چشم زدن میں تیل،گیس اور بجلی بحال ہوگئی اور یہ بھی لطف کی بات ہے کہ صدرمرسی کی وزارت میں جو غیراخوانی وزیر، وزیرداخلہ اور وزارتِ پٹرولیم کے وزیر تھے، فوج کی بنائی ہوئی نئی وزارت میں وہی ان وزارتوں پر براجمان ہیں۔
۳۰سالہ دورِ استبداد میںپولیس اور فوج نے جن مراعات کو حاصل کرلیا تھا اور جن اختیارات پر ان کو تسلط حاصل ہوگیا تھا وہ اب اس تبدیلی سے سخت برہم تھے۔ چنانچہ وزارتِ داخلہ میں وہ عناصر جو سابقہ دور میں بااختیار تھے پسپا نہیں ہوئے۔ نیویارک ٹائمز کے نمایندے David Kirkspatrick نے اپنے یکم جولائی کے مراسلے میں جن دو اُمور کا تذکرہ کیا وہ حالات کی سنگینی اور ان میں پولیس اورفوج کے کردار کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔ وہ کہتا ہے: mismanagement or sabotage of the institutions of the old government has stunned the transition to democracy یعنی سابقہ حکومت کے اداروں کی بدانتظامی اور سبوتاژ نے جمہوریت کی طرف تبدیلی کے عمل کو بالکل روک کر رکھ دیا۔ وہ آگے چل کر پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کے الفاظ کو بیان کرتا ہے:
وہ لوگ جو جیلوں میں تھے آج صدر ہیں۔ اگر اتوار کو اخوان کے دفتر کی حفاظت کے لیے کوئی ایک افسر بھی گیا تو میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اسے گولی ماردی جائے گی۔ جنرل صلاح زیدان نے یقین دلایا: ہم سب نے متفقہ طور پر طے کیا ہے کہ اخوان المسلمون کے ہیڈکوارٹر کو کوئی سیکورٹی نہیں فراہم کی جائے گی۔
پولیس کے ذمہ داران اور فوجی جنرل کا یہ باغیانہ بیان اخوان کے مخالف سیکولر عناصر نے موبائل فون پر ایک دوسرے کو پہنچا کر مزید ہمت بڑھائی کہ اخوان کے خلاف وہ جو کارروائی کرنا چاہیں کریں۔ فوج اور پولیس کے کردار کونرم ترین الفاظ میں ایک جمہوری حکومت کے خلاف بغاوت ہی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ دنیا میں کس جمہوریت میں ۳۶۵ دن کسی نومنتخب حکومت کی کامیابی یا ناکامی کے لیے پیمانہ قرار دیے جاسکتے ہیں؟ نہ صرف یہ بلکہ کہاں پر ایک نومنتخب صدر اور اس کی کابینہ کو حزبِ اختلاف کے مظاہرے اور صدر کی کسی پالیسی سے اختلاف کی بنا پر فوج کو یہ حق حاصل ہوسکتا ہے کہ وہ ایک منتخب صدر کو محبوس کرے اور نہ صرف اس کی کابینہ کو برطرف کردے بلکہ فوج کی طرف سے مقرر کیا ہوا ’عارضی‘ صدر ملک کے منتخب کردہ ایوانِ بالا کو بھی برطرف کردے؟ ظاہر ہے اس کا سبب صرف یہ ہے کہ حالیہ انتخابات کے بعد اخوان المسلمون ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور ایوانِ بالا میں اسے واضح اکثریت حاصل ہے۔ اخوان اور اسلامی قوتوں نے ایک نہیں پانچ بار عوامی راے سے انتخاب اور استصواب جیتے ہیں اور انھیں عوامی ووٹ کی قوت سے ہٹانا ناممکن تھا۔ اس لیے پہلے مبارک دور کی مقرر کردہ عدالت کے ذریعے منتخب ایوان کو برطرف کرنے کا اقدام کیا گیا اور پھر فوج نے بلاواسطہ مداخلت کر کے جمہوری بساط کو لپیٹ دیا۔
موجودہ حالات کے تناظر میں سب سے اہم اور کلیدی سوال یہ ہے کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آیندہ کوئی فوجی سربراہ یا وزیرداخلہ یا وزیردفاع کسی جمہوری حکومت کو اپنی مرضی اور خوشی کے مطابق نہ پاتے ہوئے برطرف نہیں کرے گا؟ اگر ایک مرتبہ فوج کے اس استحقاق کو مان لیا گیا تو وہ سیاسی معاملات میں دخل اندازی کو اپنا پیدایشی حق سمجھے گی اور جب چاہے گی کسی بھی منتخب حکومت کو قوت کے ذریعے برطرف کر کے خود اقتدار پر قابض نہیں ہوجائے گی۔ اس سوال کا تعلق اس بات سے ہے کہ کیا فوج قانون سے بالاتر ایک ادارہ ہے؟ یا ملک کا دستور اور قانون دونوں فوج سے بلند شمار کیے جانے چاہیں اور فوج کو بھی دستور کی پابندی کرنی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہرفوجی جب عہدے کا حلف اُٹھاتا ہے تو دستور کی پابندی کا عہد کرتا ہے۔ فوج دستور کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اسے دستور کے تحت قانونی عمل کے ذریعے دستور کا پابند کرنا ہوگا۔ اگر صرف ایک فوجی سربراہ پر دستور کی خلاف ورزی کرنے کی بنا پر عوامی عدالت میں بغاوت کے الزام کے تحت مقدمہ قائم کیا جائے تو صرف ایک مرتبہ اس عمل کے بعد کسی فوجی کو دستور کو توڑنے اور خود آگے بڑھ کر حکومت پر قبضہ کرنے کی خواہش اور خیال بھی نہیں آئے گا۔
مصر میں ۳۰سالہ فوجی آمریت نے جو کلچر پیدا کیا اس میں نہ صرف فوج اور انتظامیہ نوکرشاہی ذہنیت اور بادشاہ نوازی کے طرزِعمل کی عادی بنی بلکہ فوج کے زیراثر عدلیہ میں بھی ایسے افراد کو مقرر کیا گیا جو ہاں میں ہاں ملانے کے لیے قانونی نکات تلاش کرنے میں ماہر ہوں۔ اس سہ طرفہ اخلاق باختہ نظام کے خلاف بغاوت اور تبدیلی کا عمل کسی بھی پیمانے سے ایک سال میں مکمل ہونا ناممکن تھا۔ ہاں جس بات کی ضرورت تھی وہ یہ کہ درجہ بدرجہ تبدیلی کے عمل کو اختیار کیا جائے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صدر مرسی نے جو اندازے قائم کیے وہ اپنی مثبت فکر اور حسنِ ظن کی بنا پر تھے، جب کہ ایک سازشی اور نوکرشاہی ذہنیت رکھنے والی انتظامیہ اور اقتدار کا مزہ اُٹھانے والی فوج اور ان دونوں کے پشت پناہ اسلام دشمن غیرمسلم اور مسلم حکمران ان سب نے مل کر وہ طریقہ اختیار کیا جسے قرآن کریم نے شیطان کے مکر سے تعبیر کیا ہے۔ شیطان کا مکر بظاہر بہت متاثرکن، غلبہ رکھنے والی اور قوت سے بھرپور نظر آتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی تدبیر آخرکار کامیاب ہوتی ہے۔ اس بظاہر اَبرآلود فضا میں بھی ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بجلی کا کڑکا آئے گا اور تاریکی روشنی میں تبدیل ہوگی کیونکہ آخرکار حق ہی کو غالب ہونا ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت سے صدر مرسی نے حلف اُٹھایا اسی وقت سے مخالف قوتوں نے اپنی حکمت عملی وضع کرنے کے بعد اس پر عمل کا آغاز کردیا ۔دوسری جانب اخوان نے یہ قیاس کیا کہ فوج اور عدلیہ جمہوری طور پر منتخب افراد اور اداروں کا احترام کرتے ہوئے کوئی ایسی کارروائی نہیں کریں گے جو جمہوری روایات کے منافی ہو۔ چنانچہ ۳۰جون ۲۰۱۲ء کو صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد صدرمرسی نے ۱۲؍اگست ۲۰۱۲ء کو حسنی مبارک کے زمانے کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل طنطاوی کو برطرف کردیا۔ صدرمرسی کا یہ اقدام ایسا ہی تھا جسے ایک بپھرے ہوئے سانپ کو زخمی کردیا جائے۔ تین ماہ بعد ۳۰نومبر کو صدر مرسی نے دستور میں اسلامی دفعات کے اضافے کے بعد ایوانِ بالا میں پیش کیا جس نے اسے منظور کرلیا۔ صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کے لیے صدر مرسی نے ۲۲نومبرکو خصوصی اختیارات کا اعلان کیا تھا جسے حزبِ اختلاف نے ایک قومی مسئلہ بناکر ان کے خلاف مہم شروع کی تو صدرمرسی نے ۸دسمبر کو صدر کے وہ اختیارات ختم کردیے۔
۱۵تا ۲۰ دسمبر کو ملک گیر ریفرنڈم میں ۶۴ فی صد افراد نے دستوری ترامیم خصوصاً اسلامی دفعات کی دو رائونڈ کے بعد توثیق کردی۔ اس کے باوجود افواہوں کا بازار گرم کیا گیا اور ۵؍اپریل ۲۰۱۳ء کو قاہرہ کے شمال میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دی گئی۔ ۷مئی کو صدر نے اپنی کابینہ میں ردوبدل کیے لیکن عدالت عالیہ نے جون کی ۲تاریخ کو اسلامی اکثریت رکھنے والی سینیٹ کو معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ عموماً جب تک پارلیمنٹ کے انتخابات نہ ہوں، سینیٹ فعال رہتی ہے۔ یہ گویا عدالت عالیہ کی طرف سے صدر اور اخوان کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ۲۳جون کو وزیردفاع جنرل عبدالفتاح السّیسی نے بیان دیا کہ اگر ملک میں ہنگامے ہوئے تو فوج کو مداخلت کرنا پڑے گی۔ ۲۸جون کو امریکی سفارت خانے نے اپنے غیرضروری عملے کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی اور ۲۹جون کو صدر اوباما نے صدر مرسی کو مشورہ دیا کہ وہ تعمیری رویہ(constructive) اختیار کریں۔ گویا جو لوگ جمہوری طور پر منتخب صدر اور حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے اور کھلی بغاوت (rebellion) یا تمرد میں مشغول تھے، ان کے ساتھ بھلائی کا رویہ اختیار کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمرد کرنے والوں پر ایک خالی فائر بھی نہ کیا گیا جب کہ جہاں کہیں اخوان یا ان کے ہمدردوں نے پُرامن مظاہرہ کرنا چاہا ان کی روک ٹوک کے ساتھ ان پر گولیاں برسائی گئیں اور ۳۰جون کو سرکاری طور پر ۳۰۰، جب کہ غیرسرکاری طور پر کئی ہزار اخوان کو قید میں ڈال دیا گیا۔
حالات کا یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ صدر مرسی کے حلف اُٹھانے کے ساتھ ہی ایک گھنائونی سازش تیار کرلی گئی تھی جس پر قدم بہ قدم عمل کیا گیا اور آخرکار برہنہ قوت کا استعمال کرتے ہوئے فوج نے مداخلت کر کے جمہوری عمل کو منجمد کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر مرسی کے چند اقدامات بظاہر جلدی میں کیے گئے فیصلے نظر آتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انھیں کسی نہ کسی مقام سے تبدیلی کے عمل کا آغاز کرنا تھا۔ حسنی مبارک کی میراث ۲ء۱۳ فی صد بے روزگاری جس میں ۱۵ تا ۲۹سال کے افراد کا تناسب ۷۷فی صد تھا، کسی طلسماتی عمل سے ہی ایک سال میں اس مسئلے کا حل کیا جاسکتا تھا۔ امریکا اپنی ۱۲فی صد بے روزگاری کو صدر اوباماکے دو مرتبہ صدر منتخب ہونے کے باوجود حل نہ کرسکا تو صدرمرسی ایک سال میں اسے کیسے حل کرسکتے تھے۔ لیکن جھوٹ، افواہوں اور ابلاغِ عامہ و اخبارات میں باربار یہ بات دہرائی گئی کہ حکومت اپنے اہداف کے حصول میں ناکام ہوگئی ہے۔ اخوان المسلمون حکومت کرنے کا تجربہ نہیں رکھتے اور نہ حکومت کرنا جانتے ہیں، یا یہ کہ صدر مرسی اور حسنی مبارک میں کوئی فرق نہیں ہے وغیرہ۔ ۳۰جون کو تحریر چوک میں چند ہزار افراد کے دھرنے اور مظاہروں کو حسین کمال نے، جو حسنی مبارک کے خفیہ ادارے کے سربراہ کے دست ِ راست تھے اور گذشتہ کئی ماہ سے مسلسل بیانات داغ رہے ہیں، اس مظاہرے کے بارے میں فرمایا کہ ہم اسے عوام کا ریفرنڈم سمجھتے ہیں۔ عجیب بات ہے، تحریر چوک میں جو افراد جمع ہوئے، خواہ ان کی تعداد کتنی ہی ہو، وہ پورے ملک کے نمایندہ کیسے ہوگئے؟ پھر جو لوگ وہاں جمع ہوئے، وہ کھلے طور پر ان پارٹیوں سے تعلق رکھتے تھے جو صدر کی مخالف ہیں۔ اس لیے ان کا نعرہ لگانا ایک بے معنی بات ہے۔ نیز ان کو فوج کی کھلی سرپرستی حاصل تھی جس نے کئی بار fly past کر کے، اور جھنڈے جہازوں سے چھوڑ کر ان کے ساتھ اپنی شرکت کا اظہار کیا جسے ٹی وی پر دکھایا گیا اور خود فوجی ہیلی کوپٹرز نے فلم بناکر میڈیا کو دی۔
اس پس منظر میں اگر غور کیا جائے تو ایک جانب نوجوان نسل ہی نہیں بلکہ وہ افراد بھی جن کے بال سفید ہونے لگے ہوں، یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ آخر جمہوریت میں رکھا ہی کیا ہے کہ ہم صبح و شام اس کی تسبیح پڑھتے ہیں جب کہ مغرب ہو یا مشرق، فوجی اور غیرفوجی آمر انھیں جب بھی موقع مل جائے وہ جمہوریت کے عمل کو قوت کے استعمال کے ذریعے برسوں پیچھے پھینک دیتے ہیں۔ کیوں نہ خونیں انقلاب کے ذریعے حکومت پر قبضہ کر کے اسلامی نظام کو نافذ کردیا جائے۔
یہی وہ نفسیاتی کیفیت ہے جس کا ذکر قرآنِ کریم میں آتا ہے کہ متٰی انصراللّٰہ ’’اللہ کی وہ مدد کب آئے گی‘‘ جس کے انتظار میں بلالؓ مکہ کی گلیوں میں تپتی ریت پر گھسیٹے جارہے ہیں اورخبابؓ کو دہکتی آگ پر لٹا کر اسلام سے پھرنے کے لیے کہا جا رہا ہے اور وہ اپنے رب کی بندگی سے ایسے خوش ہیں کہ آگ ان کے خون اور پسینے سے ٹھنڈی ہوجاتی ہے مگر وہ جادۂ حق سے سرمُو ہلنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ وہ مدد کب آئے گی؟ یہ سوال بالکل فطری ہے لیکن اس کا جواب اپنی محدود عقل اور محدود تجربے کی روشنی میں نہیں، حکمت نبویؐ اور صبرواستقامت ِ صحابہؓ کی روشنی میں تلاش کرنا ہوگا۔
ہم ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں کہ نوجوانوں کی ایک جماعت فوج میں بعض افراد کو ساتھ ملا کر ایک مبارک رات میں قصرِصدارت، ٹی وی اسٹیشن اور پارلیمنٹ پر اپنا جھنڈا لگاکر اعلان کردیتی ہے کہ اسلامی خلافت قائم کردی گئی ہے۔ صبح فجربعد سے شریعت کا نفاذ عمل میں آجائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اعلان کے بعد وہ انتظامیہ جو ۶۰ سال سے اللہ کے باغی نظام کو چلارہی تھی، وہ فوج جو بیرونی امداد کے سہارے نہ صرف فوائد بلکہ حاکمانہ اختیارات پر قابو کیے ہوئے تھی، وہ پارلیمنٹ جس کی اکثریت غاصب اور ظالم افراد پر مبنی تھی، کیا وہ سب ایک مبارک رات میں تبدیل ہوکر اسلام کے متوالے نوجوانوں کے اعلان پر اپنا ’مذہب‘ تبدیل کر کے ان کے حواری بن جائیں گے۔ کیا انبیاے کرام ؑ کی دعوت پر طاغوت کی پرستش کرنے والے افراد نے ایسا ہی جواب دیا تھا؟ کیا مکہ اور مدینہ منورہ میں ایک رات میں معجزاتی تبدیلی کے بعد سارا معاشرہ اللہ کا تابع دار معاشرہ بن گیا تھایا مکہ میں تیرہ سال شب و روز کی مشقت اور تزکیے کے عمل سے گزرنے کے بعد حبشہ تک ہجرت کرنے اور جان، مال، گھر، ہرہرشے کی قربانی کرنے کے بعد کامیابی کا راستہ مکہ سے حبشہ ہوتا ہوا مدینہ منورہ پہنچا اور ان تمام قربانیوں اور صبرآزما مراحل کے باوجود منافقین کی سازشوں سے محفوظ نہ رہ سکا۔ اسلام کی کامیابی کا عمل ایک صبرآزما عمل ہے۔اس کی منزل محض پارلیمنٹ اور ایوانِ اقتدار نہیں ہے بلکہ وہ ابدی کامیابی ہے جس کے مقابلے میں محض دنیاوی کامیابی اور پارلیمنٹ میں ۹۰ فی صد نشستیں حاصل کرلینا یا صدارت اور وزارت کے عہدے پر بیٹھ جانا ایک قابلِ تعریف کام نہیں ہے۔ اصل کامیابی وہی ہے، اصل منزل وہی ہے ۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا فضل اور خصوصی کرم ہے کہ وہ اس جدوجہد میں اپنے بندوں کو اس زمین میں خلافت کا منصب بخش دے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کی عنایت ہے اگر وہ اسے مؤخر کرتا ہے تو بھی اس کی حکمت سے وہی آگاہ ہے۔ اگر وہ تمام تر کوششوں کے باوجود اس دنیا میں کامیابی نہیں دیتا تو اس کا وعدہ کہ وہ صابرین، مجاہدین اور صادقین کو آخرت میں بلند مقامات دے گا، یہ اتنا قیمتی وعدہ ہے اس کے لیے اس دنیا میں پیدایش سے موت تک قربانیاں کرنا ایک سستا سودا ہے۔
اصل بات جو غور طلب ہے وہ یہ کہ جمہوری عمل کا اسلامی جواز کیا ہے؟ سادہ الفاظ میں اسلام بھلائی، اچھائی اور نیکی کی طرف دعوت کا نام ہے۔ یہ تمام نظاموں کو ایک طرف رکھ کر، اللہ تعالیٰ کے دین کو انسانی معاشرے میں نافذ کرنے کا نام ہے۔ اس میں حکومت، اور حکومتی ادارے ایک اہم مقام رکھتے ہیں جن کا صحیح استعمال اسلام کا مدعا ہے۔ ان اداروں کی اصلاح بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی افرادِکار کی۔ جمہوری عمل سے مغربی لادینی جمہوریت مراد لینا سادہ لوحی ہے۔ اسلامی تحریک نے کسی بھی مرحلے میں مغربی لادینی جمہوریت کو نہ تسلیم کیا اور نہ اس کی حمایت کی۔ اس کی جگہ تحریکاتِ اسلامی نے مروجہ جمہوری نظام کو پہلے مرحلے میں دستوری تبدیلی کے ذریعے اسلامی نظام کی راہ میں ایک زینہ کی حیثیت دی اور اسے بااِکراہ اس حد تک بطورِ حکمت عملی کے اختیار کیا جس سے اس کا اصل ہدف یعنی نظامِ اسلامی کا قیام عمل میں آسکے۔
حالت ِ جنگ میں اگر حکمت عملی کا مطالبہ ہو کہ وقتی طور پر پیچھے ہٹ کر دشمن کو اپنی زمین پر قبضہ کرنے دیا جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ اسلامیان پشت پھیر کر اپنی دعوت سے پھر گئے۔ تحریکاتِ اسلامی نے تبدیلیِ قیادت کے لیے حکمت عملی کے طور پر بعض ممالک میں دستور میں تبدیلی کے ذریعے، مثلاً پاکستان میں اور ابھی حال میں مصر، اور بعض مقامات پر بغیر دستور میں تبدیلی لائے پہلے مرحلے میں ایوانِ حکومت میں اپنے قدم مضبوط کرنے کی کوشش کی اور پھر ان اداروں میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جو لادینیت پر مبنی تھے مثلاً ترکی میں دستوری ترمیمات کے ذریعے فوج کے عمل دخل کو ختم کرنا، گو آج بھی ترکی اپنے آپ کو سیکولر ریاست کہتا ہے۔ اس طویل حکمت عملی میں جب تک ہدف اور منزل واضح ہو اور اس کے لیے اخلاقی ذرائع استعمال کیے جارہے ہوں کم تر بُرائی کا گوارا کرنا تاکہ مناسب وقت پر بُرائی کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے، دین کی حکمت کا لازمی حصہ ہے۔
فقہ اسلامی میں سیاسۃ شرعیہ، مصالحِ عامہ اور قواعد فقیہہ کی روشنی میں غور کیا جائے تو بغیر کسی مداہنت اور مفاہمت کے دین نے شریعت کے نفاذ کے لیے عملی راستے تجویز کیے ہیں۔ یہ ہماری اپنی ناسمجھی ہے کہ ہم اپنے اصل ہدف کو بھول جائیں اور جزوی بحثوں میں اُلجھ کر اپنا وقت ضائع کریں۔ جیساکہ پہلے عرض کیا گیا حصولِ مقصد کے لیے اصل طریقہ اور مثال انبیاے کرام ؑ کا دعوتی اسلوب ہے، دین کے لیے مسلسل جدوجہد ہے، حق کی دعوت کو بہترین طریقے سے پہچانا ہے ، دین میں کسی مداہنت کے بغیر اپنے اصولوں پر قائم رہنا ہے۔ اگر دینی مصالحت کا تقاضا ہو کہ قوت کے استعمال کو مؤخر کیا جائے تو یہ نہ بے ہمتی ہے نہ بزدلی بلکہ یہ عین دین کا تقاضا ہے۔ قرآنِ کریم نے صبر کی اصطلاح کو جس مفہوم میں استعمال کیا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ صبر کی ایک شکل وہ ہے جو حضرت ایوبؑ کو پیش آئی یعنی جسمانی تکلیف کو اللہ پر اعتماد کے ساتھ بخوشی برداشت کرنا ، یہی شکل حضرت یعقوب ؑ کو پیش آتی ہے لیکن صبر کی ایک شکل وہ ہے جو قرآن کریم سورئہ انفال میں سمجھاتا ہے کہ اگر باطل اور طاغوت کے ساتھ مقابلہ ہو اور صرف ۲۰؍افراد صابر یا مجاہد ہوں تو وہ ۲۰۰پر غالب آئیں گے یعنی تعداد کی کثریت اصل مسئلہ نہیں ہے جب تک ایمان مستحکم ہے، اہلِ ایمان کی چھوٹی جماعت بھی باطل کی بڑی تعداد پر غالب آئے گی۔ حضرت موسٰی ؑکی اُمت میں طالوت اور جالوت کی معرکہ آرائی قرآنی آیات کی عملی تفسیر پیش کرتی ہے۔
جمہوری جدوجہد سے دراصل جو چیز مراد لی جاتی ہے وہ اس دور کی زبان کو استعمال کرتے ہوئے ’عوامی رابطہ براے دعوت و اصلاح‘ہے۔ یہی وہ جادئہ حق ہے جسے انبیاے کرام نے اپنے اپنے دور میں اختیار فرمایا اور گھر گھر جاکر شب و روز اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے میں مصروف رہے حتیٰ کہ بعض نے سیکڑوں سال یہ اعلیٰ فریضہ ادا کیا اور اس کے باوجود مطلوبہ نظام قائم نہ کرسکے جب کہ بعض نے مثلاً حضرت یوسف ؑ نے دینی حکمت عملی پر گامزن رہتے ہوئے باطل نظام کو صالح اور عادل نظام سے بتدریج تبدیل کیا، چاہے اس راستے میں انھیں قیدوبند کے مراحل سے گزرنا پڑا ہو۔
دعوتی طریقہ افراد تک پہنچ کر انھیں ایک رشتۂ اخوت میں وابستہ کرنے کے بعد ان کی اخلاقی اور دینی تربیت کے ذریعے انھیں ایک اخلاقی قوت میں تبدیل کرنے کا مرحلہ ہے۔ یہ قوت اگر تعداد میں زیادہ ہو تو کامیابی کا امکان بھی زیادہ ہوگا۔ لیکن اگر یہ قوت تعداد میں زیادہ نہ ہو جب بھی داعی ناکام نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس کی خصوصی امداد کرتا ہے لیکن شرط صرف ایک ہے یعنی صبرواستقامت، مسلسل عمل، اَن تھک کوشش، ہرہروسیلے اور ذریعے کا استعمال، حتیٰ کہ اللہ کی نصرت آن پہنچے اور وہ کم تعداد والے صابرین، صادقین اور مجاہدین کو ان کے خلوصِ نیت کی بنا پر بڑی تعداد والے منکر اور گھمنڈ کرنے والے افراد پر غلبہ دے دے۔
جمہوری عمل سے تبدیلی لازماً صبرآزما عمل ہے اور اسی بنا پر ہرلمحہ انسان سوچتا ہے کہ برسہا برس سے جدوجہد کر رہے ہیں، آخر تبدیلی کب آئے گی؟ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اصل قابلِ قدر کام وہ سعی اور کوشش ہے جو صرف اسی کے لیے کی جارہی ہو۔ نتائج اگر مطلوبہ اندازے کے مطابق ہوں تو یہ صرف اس کی عنایت ہے۔ ہمارے زورِبازو کی بنا پر نہیں ہیں اور اگر اس میں تاخیر ہوجائے چاہے وہ تاخیر برسوں کی ہی کیوں نہ ہو، تو یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کیونکہ صرف وہ ہے جو کسی عمل کی بھلائی اور بُرائی سے آگاہ ہے۔ وہی جانتا ہے کہ ایک کام کی تاخیر سے وہ اپنے بندے کے لیے کس طرح کی خیر اسے دینا چاہتا ہے۔
اس زاویے سے اگر مصر کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ آزمایش جہاں ہر صاحب ِ شعور کے لیے تکلیف و اذیت کا باعث ہے اور واضح طور پر مغربی دوعملی جمہوریت کی ڈفلی بجانے کے ساتھ فوجی آمریت کی حمایت اور اسلام دشمنی کی کھلی دلیل ہے، وہاں وہ لوگ بھی جنھوں نے انتخابات میں صدر مرسی کو ووٹ نہیں دیا فوج کے اس شب خون کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ صدر مرسی نے بعض فیصلے غلط کیے ہوں لیکن کیا کوئی غلط فیصلہ کرنا ایسا جرم ہے کہ اسے ایک جمہوری حق سے محروم کردیا جائے؟ کیا آج تک امریکی صدر کا ہرفیصلہ درست تھا اور اگر اس نے ۱۰۰ فیصلے غلط کیے تو کیا اس بنا پر امریکی عوام ایک سال کا موقع دینے کے بعد اسے منصب سے ہٹاسکتے ہیں ؟ کیا اسی کا نام مغربی جمہوریت ہے؟ گویا اس شر میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک خیر کا پہلو یہ پیدا کردیا کہ اخوان کے وہ مخالفین بھی جنھوں نے انھیں ووٹ نہیں دیا تھا وہ بھی اس جابرانہ عمل کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب اخوان کے رہنماے اعلیٰ نے صاف طور پر اعلان کیا ہے کہ ہم قوت کا استعمال نہیں کریں گے جب کہ ایک دن میں قاہرہ یونی ورسٹی میں ۱۷نوجوان اخوان کی حمایت کرنے والے شہید کردیے گئے۔ ایک دن میں پُرامن مظاہرہ کرنے والے عوام پر فوجی یلغار رہی، ۵۳ افراد شہیدہوگئے۔ اخوان کے مرکز اور ملک بھر میں اس کے متعدد دفاتر کو نذرِآتش کردیا گیا ہے اور اخوان کی تحریکِ مزاحمت میں سو سے زیادہ افراد بشمول چار خواتین شہید ہوچکے۔ اس سب کے باوجود اخوان کی پوری تحریک دستوری (legitimacy) اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ہے اور پُرامن ہے۔ فوج اور پولیس کا نشانہ اخوان کی تحریک ہے، جب کہ تحریر چوک پر مظاہرہ کرنے والے صدر مرسی کے مخالفین پر نہ پولیس نے نہ فوج نے ایک ہوائی فائر تک نہیں کیا ہے بلکہ تازہ اطلاعات کی روشنی میں فوج اور پولیس کے علاوہ بھی غنڈوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو اخوان کی مزاحمتی تحریک پر حملہ آور ہورہی ہے۔
اگر مصری عوام صرف دو آنکھیں رکھتے ہوں تو وہ خود دیکھ سکتے ہیں کہ فوج اور انتظامیہ خصوصاً وزارتِ داخلہ کس طرح دو معیارات کا استعمال کر رہی ہے کہ اخوان کے مظاہروں پر آنسوگیس اور گولی، جب کہ اخوان کے خلاف مظاہروں پر رحمت و تحفظ۔ وزارتِ داخلہ، پٹرولم کی وزارت اور فوج کی قیادت اور اعلیٰ عدلیہ کا کردار جمہوریت کش اور اخوان اور ان کے اتحادیوں کی حکومت کو ناکام بنانا تھا۔ بدقسمتی سے خود صدرمرسی کی وزارت میں ایسے لوگ موجود تھے جو حکومت میں ہوتے ہوئے حکومت کو ناکام کرنے میں مصروف تھے۔ صدرمرسی کی accomdate کرنے کی پالیسی اس خطرناک انتہا تک گئی کہ دشمنوں کو بھی وزارت میں جگہ دی لیکن اس سے بھی ان پر الزام یہ ہے کہ انھوں نے دوسروں کو ساتھ نہیں لیا۔
اخوان المسلمون جانوں کی قربانی دینے کے باوجود پُرامن ہیں لیکن سی این این ، سکائی نیوز اور دیگر مغربی ذرائع ابلاغ انھیں جنگجو ( millitant) کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں ، جب کہ جمہوریت کے باغی سیکولر اور غیرمحب وطن افراد کو عوامی مہم کہا جارہا ہے۔ یہ ابلاغی تعصب کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے، لیکن مغربی اور مصری ابلاغِ عامہ کا بار بار ایک بات کو دہراتے رہنا اخوان المسلمون کے بارے میں صرف ایک ہی تاثر کو گہرا کرتا ہے کہ وہ حکومت چلانے کے قابل افراد نہیں ہیں، جذباتی اور شدت پسند ہیں، جب کہ حقیقت حال اس سے بالکل مختلف ہے۔ اخوان تشدد کا نشانہ ہیں اور ملک میں جمہوری عمل سے اصلاح لانے کے عمل سے قوت کے ذریعے روک دیے گئے ہیں۔
حالات جس رُخ پر جارہے ہیں ان میں اس بات کا امکان ہے کہ ملک گیر بدامنی پیدا ہونے دی جائے تاکہ دوبارہ اخوان پر پابندی لگائی جاسکے اور وسیع پیمانے پر انھیں زیرحراست لاکر حزبِ اختلاف کو بے بس کیا جاسکے۔ مسلم ممالک میں کویت، یواے ای اور سعودی عرب میں فوجی انقلاب لانے والے ٹولے کو فوری طور پر مجموعی امداد کی ۱۲ملین ڈالر رقم کا اعلان کیا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض مسلم ممالک اسلامی قوتوں سے کتنے خائف ہیں۔
تحریکاتِ اسلامی کے لیے اس میں اہم سبق یہ ہے کہ ۶۰ فی صد کامیابی کے باوجود تبدیلی کے عمل کو صبروحکمت کے ساتھ کرنا ہوگا تاکہ تبدیلی پایدار ہو، ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا اور بعض ایسے پہلوئوں کو جو عوامی نفسیات کی روشنی میں بڑے اہم اور بنیادی نظر آتے ہوں اپنی مہم میں اہم مقام دینا ہوگا تاکہ کلمہ طیبہ کا یہ پودا مضبوط تنے اور شاخوں کے ساتھ ایک مرتبہ مستحکم ہوجائے اور اس کا سایہ ہر مظلوم و محکوم کو اپنی آغوش میں لے کر یہ بات باور کرادے کہ صبرواستقامت کے بعد جب اسلامی نظامِ عدل قائم ہوتا ہے تو وہ ہر انسان کے لیے برکت کا باعث ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نظام میں عدل ہے انسانوں کی جان، مال، عزت کا تحفظ ہے اور رنگ، نسل اور زبان کی قید سے آزاد معاشرہ کی تعمیر ہے۔
(ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن)