اخبار اُمت


بین الاقوامی برادری کئی مہینوں سے اسرائیل سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ غزہ کی شہری آبادی کے خلاف بھوک کا شکار کرنے والے ہتھیار کا استعمال بند کرے۔ مگر اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ فلسطینی عوام کو تکلیف پہنچا کر وہ حماس کے ساتھ ایک بہتر مذاکراتی معاہدہ کر سکتا ہے۔

درحقیقت اس طرح کی اسرائیلی کارروائی ایک جنگی جرم ہے، جس کا بدترین مظاہرہ جمعرات کو اس وقت ہوا، جب اسرائیلی فوجیوں نے غزہ شہر کے باہر امدادی ٹرکوں کے قافلے سے خوراک کے لیے بھاگنے والے بھوکے فلسطینیوں پر فائرنگ کرکے ان میں سے ۱۰۰ سے زائد افراد شہید کردیئے۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کا قانون اور جنگی قوانین یہ واضح کرتے ہیں کہ جنگی ہتھیار کے طور پر شہریوں کو بھوکا مارنا ممنوع ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم کے قانون میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جان بوجھ کر شہریوں کو ’’ان کی بقا کے لیے ناگزیر چیزوں سے محروم رکھنا، بشمول جان بوجھ کر امدادی سامان میں رکاوٹ ڈالنا‘‘ ایک جنگی جرم ہے‘‘۔ غزہ کے معاملے میں ارادے اور عمل دونوں کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ اسرائیلی وزیردفاع نے جنگ کے پہلے دن سے علانیہ کہا کہ کسی بھی قسم کی خوراک، پانی یا بجلی کو محصور علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

’’اسرائیل کا غزہ کی مسلسل ناکہ بندی، اور ۱۶ سال سے زیادہ مدت پر پھیلی بندش، شہری آبادی کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے، جو ایک جنگی جرم ہے۔ غزہ میں قابض طاقت کے طور پر، چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت اسرائیل کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ شہری آبادی کو خوراک اور طبّی سامان ملے‘‘، ہیومن رائٹس واچ نے دسمبر ۲۰۲۳ء میں یہ مطالبہ کیا تھا۔ تاہم، مارچ ۲۰۲۴ء کے آخر تک صورتِ حال بہت زیادہ خراب ہو چکی تھی۔

اسرائیلیوں نے نہ صرف غزہ کے شمالی علاقوں میں، جہاں اسرائیل کے ساتھ سرحد ہے، خوراک اور طبّی امداد کے داخلے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے، بلکہ انھوں نے مصر کے ساتھ جنوبی سرحد پر بھی ایسا کیا ہے۔ اسرائیل نے مصر سے امدادی سامان لے کر آنے والے ٹرکوں پر بمباری کی، تاکہ مصریوں کو مجبور کیا جاسکے کہ وہ اسرائیلی کنٹرول کو قبول کریں کہ کب اور کیسے غزہ میں کسی بھی چیز کو عبور کرنے کی اجازت دی جائے۔ نتیجے کے طور پر، کھانے پینے کا سامان لے جانے والے ہر ٹرک کو سب سے پہلے اسرائیلی سرحدی مقام تک جانا پڑتا ہے، جہاں اس کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ اس جانچ پڑتال میں کافی وقت لگتا ہے اور پھر ان ٹرکوں کو، اسرائیل کے ساتھ، رفح راہداری کے ذریعے غزہ جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ خوراک کے ٹرکوں کی قلیل تعداد جو بالآخر رفح تک پہنچتی ہے قدرتی طور پر بھوک سے مرنے والی آبادی کے لیے ناکافی ہوتی ہے۔

امدادی سامان پہنچانے میں مصروف کارکن بتاتے ہیں کہ بھوک سے مرنے والی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں خوراک کے ٹرک غزہ میں داخل کرنے کی ضرورت ہے۔ خوراک کی عدم دستیابی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ۳ کلو گندم کا تھیلا ۱۰۰ ڈالر میں فروخت ہو رہا ہے جسے غزہ کا کوئی بھی خاندان برداشت نہیں کر سکتا۔

غزہ کے جنوب میں صورتِ حال اس وقت اور بھی سنگین ہوگئی، جب اسرائیلی فوج شمال سے جنوبی مرکز کی طرف منتقل ہو گئی۔ انھوں نے غزہ شہر پر قبضہ کر لیا، پھر فلسطینیوں کو جنوب میں رفح کی طرف دھکیلتے ہوئے خان یونس پر بھی قبضہ کرلیا، جہاں پہلے سے تقریباً ۱۵لاکھ لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر شمال کی طرف واپس نہیں جا سکتے، اور مصری کسی کو بھی اس خوف سے سینا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے کہ اسرائیل انھیں کبھی واپس جانے کی اجازت نہیں دے گا۔ اس طرح نسل کشی کرنا ایک اور جنگی جرم ہے۔

غزہ میں خوراک کی وافر مقدار میں عام داخلے کی اجازت دینے کے بجائے، بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اسرائیلی کوشش نے بھوک سے مرتے فلسطینیوں کو ’مُردہ فلسطینیوں‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف جنوبی غزہ کی صورتِ حال تشویشناک ہے، تو وہیں شمال میں غذائی قلت کی صورتِ حال اس سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ اسرائیل مٹھی بھر نسل پرست یہودی اسرائیلی مظاہرین کی وجہ سے گندم کے ٹرکوں کو شمال میں جانے کی اجازت دینے سے انکار کر رہا ہے۔ اگر وہ فلسطینی ہوتے تو یقیناً انھیں فوراً گولی مار کر ہلاک کر دیا جاتا۔ لیکن چونکہ وہ اسرائیلی ہیں، اس لیے فوج دباؤ کو برقرار رکھنے میں مستعد ہے۔ اس نے گندم کے ٹرکوں کو فلسطین میں داخلے کی بہت کم اجازت دی ہے۔ اگرچہ اسرائیل نے اپنے اتحادی امریکا سے وعدہ کیا تھا کہ وہ شمالی غزہ تک گندم کے ٹرک جانے کی اجازت دے گا۔

شمالی غزہ کی سنگین صورتِ حال نے اُردن کی فضائیہ کو روزانہ خوراک کے پیکٹ پھینکنے پر مجبور کیا ہے، حالانکہ قابض فوجیں بین الاقوامی قانون کے تحت لوگوں کی تمام انسانی ضروریات کو اپنے براہ راست فوجی کنٹرول میں فراہم کرنے کی پابند ہیں۔

جمعرات کے قتل عام میں اسرائیلیوں نے نہ صرف ان لوگوں پر گولیاں چلائیں جن سے انھیں کوئی خطرہ نہیں تھا،بلکہ یہ دعویٰ کیا کہ زیادہ تر مرنے والے کھانے کے لیے افراتفری اور بھگدڑ میں کچلے گئے۔ لیکن جیسا کہ صحافی گیڈون لیوی جیسے روشن خیال اسرائیلیوں نے بارہا مشاہدہ کیا ہے کہ اسرائیل حقیقی متاثر فلسطینیوں کو اپنی موت کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔

عالمی عدالت انصاف، امریکا سمیت اسرائیل کے مضبوط ترین اتحادیوں اور پوری دنیا سے مطالبہ کر رہی ہے کہ اسرائیل بھوک کو بطور جنگی ہتھیار کے استعمال کرنا بند کرے۔ اس سفاکیت میں لازم ہے کہ دنیا اسرائیل پر پابندیاں لگانا شروع کر دے۔ کوئی بھی ملک جو اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرتا ہے وہ بھی جنگی جرائم اور فلسطینی عوام کی نسل کشی میں ملوث ہے۔

 اب تک۳۲ہزار سے زیادہ فلسطینی جان سے جا چکے ہیں، جن میں دو تہائی تعداد میں فلسطینی خواتین اور بچے شامل ہیں۔اسرائیل کو مغربی دنیا میں ہونے والے مظاہروں کی پروا ہے نہ ۵۷رکنی ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC) کا کوئی دبائو۔ وہ پوری طرح دولت و ثروت اور قوت و سلطنت کے حاملین سے بےنیاز ہے۔ اسی سبب رمضان المبارک کے دوران بھی اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کرنے سے انکار اور رفح پر جنگی یلغار کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ صرف یہی نہیں غزہ کے ۲۳لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے لیے رمضان المبارک میں بھی خوراک اور ادویات تک کی فراہمی میں حائل بے رحمانہ رکاوٹوں کو ہٹانے تک کے لیے تیار نہیں ہوا۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس حد تک کہہ کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی کہ ’غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے،‘ مگر تاحال سلامتی کونسل کے ضمیر کی نیند پوری طرح سلامت ہے۔

نہ صرف یہ کہ غزہ میں اسرائیل نے اشیائے خورد و نوش کی ترسیل رمضان المبارک میں بھی روکے رکھی بلکہ فلسطینیوں کو سحر وافطار اور صلوٰۃ و تراویح کے دوران کسی بھی وقت بمباری کا نشانہ بنایا۔ اسی طرح اسرائیلی میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ ٹینکوں سے گولہ باری اور سنائپرز کا استعمال بھی جاری رکھا اور غزہ کو ملبہ کا ڈھیر بناکر رکھ دیا ہے۔ واضح طور پر اسرائیل کا اعلان ہے ’کر لو جو کرنا ہے، میں اسرائیل ہوں! جو چاہوں گا کروں گا‘۔اس بہیمانہ طرزِ ریاست نے پورے خطے ہی نہیں عرب و عجم میں پھیلی مسلم دُنیا کو ایک سانپ کی طرح سونگھ کر چھوڑ دیا ہے۔

بات غزہ میں ملبے کے ڈھیراور چند بچے کھچے بے چراغ گھروں کی ہو رہی تھی۔ یہ درمیان میں ’راکھ کے پرانے چلے آ رہے ڈھیر‘ کا ذکر آ گیا۔ واپس اسی بےچراغ اور تاراج غزہ کی گلیوں کی طرف چلتے ہیں جہاں موت و حیات کی کش مکش جاری ہے، مگر اہل غزہ نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ ہر قیمت اور ہر صورت زندہ رہیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ چھٹے ماہ میں داخل اسرائیلی جنگ نہ ان کے عزم کو کمزور کر سکی ہے اور نہ اُمید کو مایوسی میں بدل سکی ہے۔اس عزم اور امید کا تازہ اظہار رمضان المبارک کی آمد کے موقعے پر دیکھنے میں آیا۔ اگرچہ غزہ اور اس سے جڑے فلسطینی علاقوں، مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس بشمول مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی جبر کے سائے گہرے اور سنگین پہرے ہیں، اس کے باوجود غزہ میں گھروں کے ملبے پر بھی اہل غزہ نے علامتی طور پر ہی سہی رمضان المبارک کا استقبال کیا۔

روایتی انداز میں غزہ کے فلسطینیوں نے رمضان کی آمد پر اپنے اپنے گھروں کے ملبے کے ڈھیروں پر بھی سجاوٹی جھنڈیاں لگائیں اور چراغاں کرنے کی کوشش کی۔ بلاشبہہ یہ جھنڈیاں اور یہ چراغاں وسیع پیمانے پر نہیں، مگر یہ ان کی اللّٰہ کی رحمت و نصرت اور برکت سے اُمید کا غیر معمولی اظہار ضرور ہے۔

ایک ایسا اظہار جس سے صاف لگ رہا ہے کہ جس طرح فلسطینی روایتی طور پر اپنی اگلی نسلوں کو اپنے ’حق وطن واپسی‘ کی علامت کے طور پر ’کنجیاں‘ منتقل کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس رمضان المبارک کی آمد کے موقعے پر بھی اپنے پُرجوش جذبے کا حتی المقدور اور روایتی اظہار کرکے انھوں نے اپنی اگلی نسلوں کو رحمتِ خداوندی سے جڑے رہنے کا سبق اور بےرحم دنیا کو پیغام دیا ہے: ’مایوس نہیں، پُرامید اور پرعزم ہیں ہم‘۔

غزہ کے فلسطینی بدترین جنگ میں اپنے بہت سے پیاروں کو کھو چکے ہیں۔ چھتوں سے محروم ہو کر بے گھر ہو چکے ہیں، حتیٰ کہ کھانے پینے کی بنیادی اشیا تک سے بھی محروم کر دیے گئے ہیں۔ بزبان حال کہہ رہے ہیں کہ امید اور حوصلے کا دامن چھوڑ دینا ان کا شعار نہیں ہے۔

ان فلسطینیوں کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ عالم اسلام کے قبلہ اول کے امین اور متولی ہونے کے ناتے وہ مسجد اقصیٰ کے لیے بھی تمام تر مشکلات کے باوجود بلا کا اہتمام کرتے ہیں۔ وہ آج بھی ارضِ فلسطین کو معراج کی سرزمین کے طور پر عقیدت و محبت سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے اس کے تحفظ اور مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے اپنی زندگیوں کی ہی نہیں بچوں کی جانیں تک قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔

مسجد اقصیٰ کے گرد لگے اسرائیلی فوجی پہروں کو بار بار توڑتے ہیں۔ خصوصاً رمضان المبارک میں یہاں جوق در جوق پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ خود آتے ہیں بلکہ اپنے اہل خانہ کو ساتھ لاتے ہیں۔ فلسطینی خواتین اس سلسلے میں مردوں سے کسی بھی طرح پیچھے رہنے والی نہیں ہیں۔ جیسا کہ انھوں نے غزہ کی چھٹے ماہ میں داخل اسرائیلی جنگ میں ہزاروں کی تعداد میں جانیں پیش کر کے بھی ثابت کیا ہے۔

یہ فلسطینی خواتین ’المرابطات‘ کی صورت رمضان المبارک میں مسجد اقصیٰ آ کر تلاوت و نوافل کا اہتمام کرتی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ افطاری کے اوقات میں حرمِ اقصیٰ میں موجود نمازیوں کے لیے سامان افطار کا بھی اہتمام کرتی ہیں۔گویا تمام تر اسرائیلی پابندیوں کے باوجود رمضان المبارک میں بطور خاص مسجد اقصیٰ کا آنگن رحمتوں سے بھرا ہوا نظر آتا ہے۔ فلسطینیوں کے پورے پورے گھرانے رحمت و برکت اور اسرائیلی عذاب سے نجات کی تمناؤں کے ساتھ اپنی جانوں پر کھیل کر یہاں پہنچ کر تلاوت و تراویح اور اعتکاف کا اہتمام کرتے ہیں۔

فلسطینی عوام اپنی اس روایت کو اس رمضان المبارک میں بھی تمام تر اسرائیلی رکاوٹوں اور جنگی قہر سامانیوں کے باوجود جاری رکھنے کے لیے تیار رہے۔ وہ مسجد اقصیٰ جسے اسرائیل کھنڈر میں تبدیل کرنے پر تلا ہوا ہے، آباد رکھنے کی کوشش میں رہتے ہیں، اس پر چراغاں کا اہتمام کرتے ہیں۔

اسرائیل ایک عرصے سے مسجد اقصیٰ میں ۴۰ سال سے کم عمر کے فلسطینیوں کے داخل ہونے پر پابندی لگائے ہوئے ہے۔ بڑی عمر کے لوگوں کو اجازت بھی انتہائی محدود تعداد میں دی جاتی ہے۔ جگہ جگہ ناکے، چوکیاں، جامہ تلاشیاں اور پہرے اسرائیلی ریاست کی سالہا سال سے امتیازی شناخت بن چکے ہیں تاکہ مسلمان مسجد اقصیٰ میں نہ جا سکیں۔

رمضان المبارک سے پہلے بھی یہ پابندیاں اور رکاوٹیں پورا سال موجود رہتی ہیں، لیکن رمضان المبارک میں مزید سخت کر دی جاتی ہیں۔ یہودی بستیوں میں گھرے مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی فوج، پولیس اور یہودی آبادکاروں کو مسجد اقصیٰ کی طرف آنے والے مسلمانوں کو روکنے کے لیے بےرحمی سے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس سال نتن یاہو کے انتہا پسند اتحادی بن گویر نے بیان دیا ہے کہ مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ جانے کی اجازت دینے کا رسک نہیں لے سکتے۔لیکن حقائق نے بتایا یہ سوچ غلط ہے کہ اہل فلسطین بھی ہماری طرح کے دیگر مسلمانوں کی طرح تذبذب میں پڑ کر رُک جائیں گے، چپ ہو کر بیٹھ جائیں گے، خوفزدہ ہو جائیں گے یا سمجھوتہ کر لیں گے۔ صیہونیوں کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا، اور مسلمان مردوزن پروانوں کی طرح، مسجد اقصیٰ کی طرف کھچے چلے آئے۔

غزہ میں اتنی وسیع پیمانے پر تباہی اور بڑے پیمانے پر اموات کے بعد بھی اگر فلسطینی بھائی رمضان المبارک کی آمد پر اپنے گھروں کے ملبے پر بیٹھ کر جھنڈیاں لگاتے اور چراغاں کرتے ہیں تو کیونکر ممکن ہے کہ مسجد اقصیٰ کے لیے اسرائیلی ایجنڈے کی راہ ہموار کرنے میں وہ بھی دوسروں کی طرح سہولت کار اور معاون بننے کے الزام کی کالک اپنے منہ پر ملیں؟ رمضان المبارک تو رحمت، برکت و نصرت کا مہینہ ہے۔ اس میں قرآن نازل ہوا تھا۔ اس میں تو اللّٰہ کے فرشتوں اور روح الامین کی آمد ہوتی ہے۔ فرشتے نصرت لے لے کر آتے ہیں، اس لیے کوئی تیل بھیجے نہ بھیجے، وہ تو اپنے خون سے بھی مسجد اقصیٰ کے چراغوں کو روشن رکھیں گے۔

خواہ ان کے سحر وافطار کے دستر خوان، ان کے اڑوس پڑوس اور دور و نزدیک کے آسودہ حال مسلمانوں کے دستر خوان انواع واقسام کے کھانوں سے محروم رہیں، کہ وہ اب پرندوں کی خوراک اور جانوروں کے چارے یا درختوں کے پتوں پر گزارا کرنے کے عادی ہورہے ہیں۔

جنگ بندی کا نہ ہونا اور ناکہ بندیوں کا ہونا، اب ان کے لیے معنی نہیں رکھتا۔ انھیں یقین کی دولت مل چکی ہے کہ اصل روشنی تو خونِ جگر سے جلائے جانے والے چراغوں سے ہوتی ہے، کہ جنھیں حق نے دیئے ہیں اندازِ خسروانہ!

بھارت میں عام انتخابات ۱۹؍اپریل سے شروع ہوں گے اور سات مرحلوں میں مکمل ہونے کے بعد ۴جون کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ حکمران پارٹی کے لیے سب سے بڑا چیلنج جنوبی ہند میں اپنی پوزیشن محفوظ بنانا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ صرف ’شمالی انڈیا‘ کا لیڈر ہونے کا داغ مٹانا چاہتے ہیں۔ پھر یہ کہ جنوبی ہند بنیادی طور پر انڈیا کی معاشی قوت کا مرکز ہے۔ اگرچہ حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہروقت ہی انتخابی مہم کی حالت میں رہتی ہے، مگر اس بار ۷مارچ کو سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریند را مودی نے یہ عندیہ دے دیا کہ اس بار ہندستان میں ووٹروں کو لبھانے کے لیے ’کشمیر کارڈ‘ کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔ یاد رہے ۲۰۱۹ء کے انتخابات میں پاکستان کو سبق سکھانے کو انتخابی موضوع بنایا گیا تھا۔ ماضی میں بھی بھارت کے وزرائے اعظم سرینگر آتے رہے ہیں۔ مودی کے پیش رو من موہن سنگھ نے اپنے دس سالہ دو رِ اقتدار میں چار بار سرینگر کا دورہ کیا۔

مودی نے اس سے قبل ۲۰۱۵ء میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید، جن کی پیپلزڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ساتھ انھوں نے ریاست میں مخلوط حکومت بنائی تھی، کے ہمراہ سرینگر میں عوامی ریلی سے خطاب کیا تھا۔مگر اب کی بار خصوصیت یہ تھی، کہ اس خطے کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد ان کا سرینگر کا پہلا دورہ تھا۔ پھر یہ خالصتاً بی جے پی کی اپنی ریلی تھی۔

بھارت کی ملک گیر پارٹیوں میں ماضی میں اس طرح کی ریلیاں صرف کانگریس پارٹی ہی وزیراعظم اندرا گاندھی کے لیے اپنے بل بوتے پر کشمیر میں منعقد کراتی تھی۔ ان کے بعد راجیو گاندھی سے لے کر ڈاکٹر من موہن سنگھ تک ، جن وزرائے اعظم نے سرینگر میں کسی ریلی سے خطاب کیا ہے، ان کومقامی پارٹیوں: نیشنل کانفرنس یا پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے ان کے لیے منعقد کیا تھا۔ اندرا گاندھی نے ہمارے قصبے سوپور میں بھی دو بارعوامی جلسے سے خطاب کیا ہے۔۱۹۸۳ء میں کانگریس نے جب ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کے خلاف انتخابات میں پوری طاقت جھونک دی تھی، تو اس انتخابی مہم کی کمان وزیر اعظم اندرا گاندھی نے خود ہی سنبھالی تھی، اور ایک کھلی جیپ میں ہمارے گھر کے سامنے سے ہی گذر کر جلسہ گاہ میں پہنچی تھیں۔

نریندرا مودی کی ریلی کے بارے جموں و کشمیر روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے ایک عہدے دار نے اعتراف کیا کہ ’’شرکا کو لے جانے کے لیے ۹۰۰ سرکاری بسوں کا انتظام کیا گیا تھا‘‘۔ اس سے قبل، یہ اطلاع بھی دی گئی تھی کہ ’’تقریباً ۷ہزار سرکاری ملازمین، اساتذہ اور جموں اینڈ کشمیر کے بینک کے عملے کو ریلی میں لازمی شرکت کا حکم دیا گیا تھا۔ انھیں فجر سے پہلے مختلف مخصوص جگہوں پر جمع ہونے کو کہا گیا تھا، جہاں سے ان کو بسوں میں لاد کر اسٹیڈیم پہنچایا گیا تھا۔ ان میں سے ۱۴۵بسیں بارہمولہ ضلع سے لوگوں کو جلسہ گاہ تک پہنچانے کے لیے وقف کی گئی تھیں۔

جس طرح ماضی میں اندرا گاندھی کو یہ شوق چرایا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقہ وادیٔ کشمیر سے سیٹیں جیت کر ایک طرح کا پیغام دیا جائے، اسی راستے پر مودی چل رہے ہیں۔ وادیٔ کشمیر میں جگہ بنانے کے لیے کانگریس بھی اپنی بھر پور طاقت جنوبی کشمیر یعنی اننت ناگ کی سیٹ حاصل کرنے کے لیے لگاتی تھی، بی جے پی بھی اسی سیٹ کو حاصل کرنے کے لیےپر تول رہی ہے۔

۱۹۸۷ء کے دھاندلی زدہ انتخابات کے بعد یہاں کے عوام کا جمہوری نظام پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے اور ووٹر ٹرن آوٹ عدم دلچسپی اور آزادی پسند پارٹیوں کے بائیکاٹ کال کی وجہ سے  بہت ہی کم ہوتا آیا ہے ۔ مگر پھر بھی ماضی میں حکومتی عہدوں پر جو افراد براجمان ہوتے تھے، وہ کسی حد تک ان کے مسائل سے آگاہ ہوتے تھے۔ لیکن ۲۰۱۸ءکے بعد سے یعنی پچھلے سات سال سے جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو مرکزی بیور کریسی چلا رہی ہے۔ اس وقت ۲۰ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں میں سے صرف آٹھ ہی مقامی ہیں۔ خطے کے ۱۱۲؍اعلیٰ پولیس افسران میں صرف ۲۴مقامی ہیں۔

جموں و کشمیر کی چھ پارلیمانی نشستوں میں تین وادیٔ کشمیر ، دو جموں اور ایک لداخ کے لیے مختص کی گئی تھیں۔ چونکہ اب لداخ کو علیحدہ کر دیا گیا ہے، اس لیے یہ سیٹیں اب پانچ ہی رہ گئی ہیں۔ ۲۰۱۸ء میںہونے والے پنچایتی انتخابات کا نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بائیکاٹ کیا تھا۔ کیونکہ وہ وزیر اعظم سے دفعہ۳۷۰ ، اور ۳۵-اے کو برقرار رکھنے کی یقین دہانی چاہتے تھے۔ اس وجہ سے بی جے پی نے غیر متعلقہ افراد کو کھڑا کرکے اور ان کو جتوا کر سیاسی کارکنوں کی ایک نئی کھیپ تیار کرلی،  جو اب ان کو چیلنج دے رہے ہیں، گو کہ ان میںسے کئی تو مزاحیہ کردار لگتے ہیں۔

اس وقت دو بڑی مقامی پارٹیوں کے علاوہ سید الطاف بخاری کی ’اپنی پارٹی‘، غلام نبی آزاد کی ڈیموکریٹک آزاد پارٹی اور سجاد غنی لون کی پیپلز کانفرنس بھی میدان میں ہے۔ سابق ممبر اسمبلی انجینئر رشید، جو پچھلے پانچ برسوں سے دہلی کی تہاڑ جیل میں ہیں، کی عوامی اتحاد پارٹی بھی انتخابات میں اُترنے کا عزم رکھتی ہے۔ گویا بی جے پی سمیت سات پارٹیاں انتخابات میں قسمت آزمائی کریں گی۔

چونکہ بی جے پی جنوبی کشمیر یعنی اننت ناگ سیٹ پر نظریں جمائے ہوئے ہے، اس لیے حدبندی کمیشن کے ذریعے اس کا حلیہ تبدیل کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ اس میں اب جموں ڈویژن کے دو اضلاع یعنی راجوری اور پونچھ کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ دونوں اضلاع اس سے قبل جموں،توی سیٹ کا حصہ ہوتے تھے۔ ریاسی ضلع کو ادھم پور سیٹ سے الگ کر کے جموں حلقے میں شامل کیا گیا ہے۔

اسی طرح شوپیاں کو جو جنوبی کشمیر کے بالکل وسط میں ہے، سرینگر کی سیٹ کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اس کا سرینگر حلقہ کے ساتھ زمینی رابطہ ہی نہیں ہے۔ اننت ناگ کو راجوری پونچھ سے ملانے کا واحد ذریعہ شوپیاں کے راستے مغل روڈ ہے اور یہ راستہ سردیوں میں بند رہتا ہے ۔ کسی بھی امیدوار کو اس انتخابی حلقہ کے پیر پنچال کے دوسری طرف کے علاقوں کی طرف انتخابی مہم کے لیے جانا ہو، تو پہلے ڈوڈہ، پھر ادھم پور او ر پھر جموں یعنی تین اضلاع کو عبور کرکے اپنے حلقہ کے دوسری طرف پہنچ سکتا ہے۔

 جنوبی کشمیر واحد ایسا خطہ ہے، جو خالصتاً کشمیری نژاد نسل پر مشتمل تھا۔ ورنہ چاہے وسطی کشمیر ہو یا شمالی کشمیر ، اس میں دیگر نسل کے افراد بھی آباد ہیں۔ اب پونچھ ، راجوری کو شامل کرکے اس میں گوجر اور پہاڑی آبادی کو شامل کیا گیا ہے، تاکہ کشمیری آبادی کے اثر و رسوخ پر روک لگائی جاسکے۔ اعداد و شمار کے مطابق اب اس حلقے کی کُل ۲۶لاکھ ۳۱ہزار کی آبادی میں ۱۴لاکھ ۸۰ہزار کشمیری یعنی ۵۶ء۲۵فی صد، گوجرو بکروال ۸۱ فی صد، پہاڑی ۸۴ فی صد، ڈوگرہ۴۷ فی صد اور پنجابی ۴۹ فی صد ہوں گے۔

بی جے پی کو یقین ہے کہ حال ہی میں پہاڑی آبادی کو شیڈول ٹرائب (ST) کی فہرست میںشامل کرنے سے یہ آبادی یکمشت اس کے امیدوار کو ووٹ دے گی۔ پہلے یہ سہولت صرف گوجربکروال کمیونٹی کو ہی مہیا تھی، جو پس ماندہ قوم تصور کی جاتی تھی۔ اس سہولت کی وجہ سے پہاڑی کمیونٹی ، جو جموں و کشمیر کی آبادی کا ۷فی صد یعنی کل ۷ء۹ لاکھ ہیں، کے لیے اسمبلی، ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں نشستیں مخصوص ہوں گی۔ مگر اس کی وجہ سے گوجر بکروال کمیونٹی ناراض ہے، کیونکہ ابھی تک وہ اکیلے ہی ان نشستوں کی دعوےدار تھی۔

مگر اس سب کے باوجود اور جموں و کشمیر میں ’امن و امان کی بحالی‘ کے بلندبانگ دعوئوں کے باوجود اسمبلی کے انتخابات نہیں ہوں گے۔ چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کا کہنا ہے: ’’اگرچہ سب سیاسی پارٹیوں نے لوک سبھا کے ساتھ ہی یہاں کی اسمبلی کے انتخابات کرانے کی وکالت کی تھی، مگر سیکورٹی اداروں نے اس کی مخالفت کی ہے‘‘۔ان کا کہنا ہے کہ ’’نئی حدبندی کے مطابق جموں و کشمیر  کی ۹۰نشستوں کے لیے تقریباً ایک ہزار اُمیدوار ہوں گے، اور سیکورٹی فورسز کی اضافی ۵۰۰ کمپنیوں کی ضرورت ہوگی‘‘۔

کشمیر میں زمینی حقیقت یہ ہے کہ سبھی روایتی سیاسی قوتوں کی ایک طرح سے زبان بندی کرکے ان کو بے وزن کر دیا گیا ہے اور کشمیر میں واقعی قبرستان کی سی خاموشی کا ماحول مسلط کردیا گیا ہے۔ اگر اطمینان کی خاموشی درکار ہے، تو اس کے لیے سیاسی عمل کے ساتھ سیاسی زمین بھی واپس دینی ہوگی، اور مسئلہ کے دیرپا حل کے لیے بین الاقوامی کوششیںبھی کرنا پڑیں گی۔

ذرائع ابلاغ اور اہم ٹی وی چینلوں پر تقریباً مکمل کنٹرول اورسوشل میڈیا پلیٹ فارم میں زبردست دراندازی کے بعد اب ’ہندوتوا تحریک‘ ہندستانی مسلمانوں کو بدنام کرنے اور اپنے نسل پرستانہ سیاسی مقاصد کے لیے ہندستانی فلم اور سنیما کو استعمال کر رہی ہے۔ چنانچہ گذشتہ چند برسوں کے دوران مسلمانوں کو بدنام کرنے کی غرض سے متعدد فلمیں منظر عام پر آئی ہیں۔ اس نئی سرگرمی کے پس پشت یقینی بات ہے کہ ہندستان کے موجودہ حکام ہی ہیں، اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ حکمران پارٹی کے لیڈران اور ان کی ریاستی حکومتیں بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ ان کوششوں کی تائید کر رہی ہیں۔ ان فلموں کی تشہیر بھی کی جا رہی ہے۔ان فلموں کے مفت خصوصی شو چلانے کا اہتمام  کیا جاتا ہے، اور جن ریاستوں میں بی جے پی حاکم ہے وہاں تفریحی (انٹرٹینمنٹ) ٹیکس بھی معاف کیا جا رہا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں میں منظر عام پر آنے والی فلموں میں یہ شامل ہیں:

  • کشمیر فائلز:اس سلسلے کی ایک اہم فلم ’کشمیر فائلز‘ ہے۔ اس فلم میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’کشمیر کے مسلمانوں نے ہندوؤں پر مظالم ڈھائے اور انھیں کشمیر سے نکل جانے پر مجبور کیا‘۔ فلم کا اشارہ اس واقعے کی طرف ہے جس میں مبینہ طور پر ۱۹۹۰ء میں پنڈتوں کی ایک تعداد کشمیر سے اس وقت نقل مکانی کر گئی تھی، جب کہ وہاں مسلح تحریک چل رہی تھی۔ اس مسلح تحریک میں بعض ہندو جانیں بھی گئی تھیں ، لیکن اس دوران مسلح علیحدگی پسندوں یا فوج کی گولیوں سے جن مسلمانوں کی جانیں گئی تھیں، وہ ہندوؤں کو پہنچنے والے نقصانات سے کئی گنا زیادہ تھیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وادیٔ کشمیر سے اچانک ان ہندوؤں کی نقل مکانی کا اصل سبب آج تک متعین کرنے کے لیے کوئی تحقیقاتی کارروائی نہیں کی گئی، حالانکہ اس کے لیے کشمیر کی مسلم تنظیموں نے بارہا مطالبہ کیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اُس زمانے میں کشمیر کے گورنر جگ موہن نے، جو کہ مسلم دشمنی کے لیے معروف تھا، وادیٔ کشمیر کے ہندوؤں سے کہا کہ وہ چند ہفتوں کے لیے کشمیر سے چلے جائیں تاکہ مسلمانوں کو سبق سکھایا جا سکے اور کشمیر کی سڑکوں پر آزادی کے ساتھ گولیاں چلائی جاسکیں۔  پھر وادیٔ کشمیر سے ہندوؤں کے نکل جانے کے فوراً بعد جگ موہن نے یہی کیا بھی۔ اس نے ایک جنازے پر گولیاں برسانے کا حکم بھی دیا ، جس کے نتیجے میں چند منٹوں کے اندر ہی ۴۰ سے زیادہ افراد جاں بحق ہو گئے۔ یہ وہی گورنر ہے جس نے ان ہندوؤں کو ہندو اکثریت والے علاقے ’جموں‘ میں منتقل کرنے کے لیے آدھی رات کو فوجی گاڑیاں فراہم کی تھیں۔ جموں میں ان ہندوؤں کے لیے گھر بنائے گئے اور انھیں وظیفے، ملازمتیں اور دوسری بہت سی سہولتیں آج بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ مگر ایسی سہولتیں نقل مکانی کرنےو الے متاثر مسلمانوں کو کبھی نہیں فراہم کی گئیں۔

حکومتِ کشمیر یا حکومتِ ہند نے کشمیر سے ہندوؤں کی نقل مکانی کے اصل حقائق کا پتہ لگانے کے لیے آج تک عدالتی کمیشن مقرر نہیں کیا۔ لیکن یہ چیز بھی انتہا پسند ہندوؤں کو مسلمانوں پر یہ الزام عائد کرنے سے نہیں روک پائی کہ انھوں نے ہی ہندؤوں کو کشمیر سے نکالا ہے ، جب کہ کشمیر کے مسلمان تو خود ا ٓج تک مغلوب و شکست خوردہ ہیں، اور اس فوج کا قہر برداشت کر رہے ہیں جو کشمیر کے اندر بڑی تعداد میں موجود ہے ۔ کشمیریوں کے خلاف فوج کی ظلم وزیادتی کو قانون کی حمایت حاصل ہے۔فلم ’کشمیر فائلز‘ انھی جھوٹی باتوں کو دُہراتی ہے، تاکہ عام ہندوؤں میں یہ پیغام پہنچایا جا سکے کہ ’’ہندستان کے واحد مسلم اکثریتی خطے کشمیر میں مسلمانوں نے ہندوؤں پر ظلم کیا ہے اور جہاں بھی یہ اکثریت میں ہوتے ہیں یہی کرتے ہیں‘‘۔

  • کیرالا اسٹوری :فلم ’کشمیر فائلز‘ کے بعد ’کیرالا اسٹوری‘ فلم آئی۔ اس فلم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’۳۲ ہزار ہندو لڑکیوں کو لالچ دے کر مسلمان بنا لیا گیا اور پھر انھیں شام میں داعش کے کیمپوں میں بھیج دیا گیا‘‘۔ یہ ایک حددرجہ بے بنیاد اور گھنائونا جھوٹ ہے ۔ اس لیے کہ ا ن تمام برسوں کے دوران بھارتی حکومت نے جن ہندستانی مسلمانوں کے بارے میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے داعش کے کیمپ میں شامل ہونے کے لیے ملک کو خیر باد کہا ہے، ان کی تعداد ایک سو کے اندر ہی ہے، اور ان میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔

ہم نے ذاتی طور پر ہندستان کی وزارت داخلہ سے (ہندستان کے آر ٹی آئی قانون کے تحت) داعش کیمپ میں شامل ہونے والی تعداد کے متعلق معلوم کیا تو وزارت داخلہ کا جواب یہ تھا کہ اس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے۔ پھر جب ہم نے ریاست کیرالا کے ڈائرکٹر جنرل پولیس سے بھی یہی سوال کیا تو ان کا جواب تھا کہ ’یہ خفیہ معلومات ہیں، انھیں بیان نہیں کیا جا سکتا‘۔ پھر فلم بنانے والوں کو یہ معلومات کہاں سے حاصل ہوئیں؟ اس پر ہنگامہ ہوا تو بعض مسلمان عدالت چلے گئے۔ نتیجہ یہ کہ فلم پروڈیوسر بھی پلٹ گئے اور کہنے لگے کہ ’’تین ہندو لڑکیوں نے اسلام قبول کیا تھا اور اسلام قبول کرنے کے بعد داعش کیمپ میں شامل ہو گئی تھیں‘‘۔ لیکن وہ لڑکیاں کون تھیں،ان کی متعین نشان دہی آج تک نہیں کی گئی۔

گذشتہ نومبر۲۰۲۳ء کے دوران جب ہندستان کے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ’دی کیرالا اسٹوری‘ کو پیش کیا گیا تو حیرت کی بات یہ ہوئی کہ سلیکشن کمیٹی کے صدر اسرائیلی فلم پروڈیوسر نداف لبید نے سلیکشن کمیٹی کے ارکان کی طرف سے یہ بیان دیا کہ یہ ’’ایک پروپیگنڈا فلم ، معیار سے فروتر اور بے ہودہ فلم ہے اور فیسٹیول میں پیش کیے جانے کے لائق نہیں ہے‘‘۔ مذکورہ بالا اسرائیلی پروڈیوسر کو ہندستان سے نکالنے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ اس بیان کے خلاف فوراً بڑا ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا ، کیوں کہ انتہاپسند نسل پرست ہندوؤں کے نزدیک اسرائیل تو ہندستان کا جگری دوست سمجھا جاتا ہے۔ آخرکار مجبور ہو کرہندستان میں اسرائیل کے سفیر کو معذرت کرنا پڑی کہ’’وہ بیان اسرائیلی فلم پروڈیوسر کی ذاتی رائے پر مبنی ہے‘‘۔

جھوٹ کا پردہ فاش ہوجانے کے باوجود یہ فلم ہندستان بھر کے سنیما ہالوں میں دکھائی جارہی ہے اور لوگوں کے ذہنوں کو مسموم کر رہی ہے۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے لیڈر، جن میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں، نے اس فلم کی تعریف کی اور بی جے پی کے لیڈروں نے بعض مقامات پر اس فلم کو مفت میں دکھانے کا بندوبست بھی کیا، بلکہ سینما کے ٹکٹ خرید کر انھیں ہندوؤں میں تقسیم کیا تاکہ وہ فلم دیکھ سکیں۔

  • ۷۲ حوریں :اسی سلسلے کی تیسری فلم ’۷۲ حوریں‘ ہیں۔ اس فلم کا پلاٹ یہ ہے کہ مسلمان دہشت گردی کرتے ہیں ۔ انھیں شہادت سے پیار ہوتا ہے کیوں کہ ان کا مذہب کہتا ہے کہ شہادت کی موت مرنے والے کو جنت میں ۷۲ حوریں ملیں گی۔

ان فلموں کے پرڈیوسروں کا کہنا ہے کہ ’’یہ آرٹ فلمیں ہیں، جن کی بنیاد ایسے قصے کہانیاں ہیں جن کا درست ہونا ضروری نہیں ہے‘‘۔ تاہم، یہ بات تو طے شدہ ہے کہ سادہ لوح ہندو اِن فلموں کو دیکھ کر یہ تاثر لیں گے کہ اسلام ظلم و تشدد اور دہشت گردی کا مذہب ہے اور اس مذہب پر ایمان رکھنے والے دہشت گرد ہوتے ہیں جو دہشت گردی کے ذریعے سے اپنے مذہب پر عامل ہیں۔

  • ہندوؤں کو اُکسانے والی فلم :اس سلسلے کی چوتھی فلم کچھ عرصہ پہلے ’ہندوتوا تحریک‘ کے لیڈران کی تائید و حمایت کے ساتھ منظر عام پر آئی ہے ۔ اس فلم کا نام ’’آدی پُرُش‘ ہے۔ یہ فلم راماین کی دیومالائی کہانی پیش کرتی ہے جس میں ہندوؤں کے افسانوی دیوتا ’رام‘ ، ان کی بیوی ’سیتا‘ اور ان دونوں کے وفادار ساتھی ’بجرنگ‘ (بندر) کی زندگی کو فلمایا گیا ہے۔

فلم کے اندر ’رام‘ کو ایک جنگ جُو اور انتہاپسند کے رُوپ میں دکھایا گیا ہے، جو ان کی اس تصویر سے مختلف ہے جس میں انھیں ایک نرم خُو،فیاض اور انسانیت نواز شخصیت کے طور پر دکھایا جاتا ہے، اور ہندو آج بھی انھیں انسانیت کے اعلیٰ نمونے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لیکن ’ہندوتوا‘ کی سیاسی تحریک افسانوی کرداروں کے ہاتھوں میں اسلحہ دے کر ہندو نوجوانوں کو مشتعل کرنا اور انھیں انتہا پسندی و دہشت گردی پر اُبھارنا چاہتی ہے۔اس فلم کی وجہ سے ہند کے اندر ایک بحران کی صورت نے جنم لیا ۔ حزب مخالف کے لیڈروں نے فلم اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر شدید تنقید شروع کردی، کیوں کہ فلم میں ہندو دھرم کی مذہبی علامتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔نیپال کے اندر تو معاملہ اس قدر سنگین ہوگیا کہ اس نے اپنی سرزمین پر اس فلم کی نمایش کو ممنوع کر دیا۔

  • دوسری فلمیں: مذکورہ بالا فلموں کے علاوہ بھی اسی قسم کی بہت ساری فلمیں پچھلے چند برسوں میں ’ہندوتوا‘ کے پروپیگنڈا کے طور پر نمایش کے لیے مارکیٹ میں پیش کی چکی ہیں،جن کے ذریعے جھوٹ یا مسخ شدہ سچ کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے تاکہ سیاسی پولرائزیشن ہو سکے اور اس کا فائدہ موجودہ حکمران پارٹی (بی جے پی) کو مل سکے۔ ان میں یہ فلمیں شامل ہیں: ’ہر ہر مہادیو‘ (۲۰۲۲)، ’پانی پت‘ (۲۰۱۹)، ’ہندوتوا‘ (۲۰۲۲)، ’مجیب‘ (۲۰۲۳)، ’تنہا جی‘ (۲۰۲۰)، ’باجی راؤ مستانی‘ (۲۰۱۵)، ’      پدماوت‘ (۲۰۱۸)، ’سوریا ونشی‘ (۲۰۲۱)، ’لپسٹک انڈر مائی برقعہ‘ (۲۰۱۶)، ’رام سیتو‘ (۲۰۱۹)، ’دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر‘ (۲۰۱۹)،’ٹھاکرے‘ (۲۰۱۹)، ’یوری‘ (۲۰۱۹)، ’نریندر مودی‘ (۲۰۱۹)، ’رومیو اکبر و الٹر‘ (۲۰۱۹)، ’سمراٹ پرتھوی راج‘ (۲۰۲۲)، ’کیسری‘ (۲۰۱۹)، ’غنڈے‘ (۲۰۱۴)، ’بیل باٹم‘ (۲۰۲۱)، ’کمانڈو ۳ ‘(۲۰۱۹)، ’فراز‘ (۲۰۲۲)، ’مشن مجنوں‘ (۲۰۲۳) وغیرہ۔ ان سب کا مقصد ایک نئی خود ساختہ تاریخ بنانا، اشتعال پھیلانا اور مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے۔

کچھ اور فلمیں اگلے چند ہفتوں میں ریلیز ہونے والی ہیں تاکہ آنے والے انتخابات میں حکمران پارٹی کو فائدہ پہنچ سکے۔ ان آنے والی فلموں میں چند یہ ہیں: ’فائٹر‘ (پلواما کے بارے میں)، ’آرٹیکل ۳۷۰ ‘(کشمیر کی خود مختاری کے بارے میں)، ’نکسل اسٹوری، جے این یو‘ (دہلی کی لیفٹ نوازیونی ورسٹی کے بارے میں)، ’سابر متی رپورٹ‘ (گودھرا ٹرین کے حادثے کے بارے میں جس کو گجرات فسادات ۲۰۰۲ بھڑکانے کے لیے استعمال کیا گیا)، ’رضاکار‘ (حیدر آباد دکن کی ملیشیا کے بارے میں)، ’گاندھی گوڈسے، میں اٹل ہوں‘ (اٹل بیہاری کے بارے میں)، ’سواتنتر ویر ساورکر‘ (ہندوتوا کے نظریہ ساز کے بارے میں)۔ یہ سب فلمیں واقعات کو ایسا رُخ دیں گی، جو ’ہندوتوا‘ کے نظریے سے میل کھاتا ہے تاکہ الیکشن میں بی جے پی کو فائدہ پہنچ سکے ۔

  • مشکوک فنڈنگ :آخر میں ایک سوال باقی رہ جاتا ہےکہ یہ اور اس طرح کی مزید فلمیں جو آچکی ہیں یا عن قریب منظر عام پر آنے والی ہیں ، ان کی فنڈنگ اور سرمایہ کاری کون کرتاہے؟ یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ فلم سازی مالی اعتبار سے بڑے پیمانے پر اخراجات کا عمل ہے۔ پھر ممبئی فلم انڈسٹری کی عام فلموں کے برعکس اس قسم کی فلموں کے بارے میں یہ توقع بھی نہیں ہوتی کہ واقعی بڑی نفع بخش ہوں گی۔ اس لیے لازمی طور پر کچھ خفیہ ہاتھ ہیں، جو ان فلموں کی فنڈنگ اس لیے کرتے ہیں تاکہ ان سے سیاسی فائدے حاصل کیے جائیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی ، جو کہ دنیا کی سب سے مال دار سیاسی جماعت ہے یا اس جماعت کی حمایت کرنےو الے تاجر اوربزنس مین وہی لوگ ہیں، جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس پروپیگنڈا مہم کی فنڈنگ کرتے ہیں، تاکہ حکمران جماعت کی پالیسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے ان فلموں سے سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے ۔موجودہ حکومت ِ ہند کی پالیسی مسلمانوں کے خلاف نفرت کو مسلسل ہوا دینے کی ہے، تاکہ شدید قسم کی گروہی پولرائزیشن ہو اور انتخابات میں وہ اس کا فائدہ اُٹھا سکے۔ ’اسلامک کونسل آف وکٹوریہ‘ آسٹریلیا (ICV)کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۹ء- ۲۰۲۱ء کے دوران دنیا بھر میں مسلم مخالف (Islamophobic)سوشل میڈیا پوسٹ سب سے زیادہ ہندستان سے نکلے، جب کہ دُنیا بھر سے مسلم مخالف سوشل میڈیا مہم کا ۸۵ فی صد زہریلا لوازمہ تین ملکوں (انڈیا، امریکا، برطانیہ) سے پھیلایا جارہا ہے:

نفرت کی آگ بھڑکانے والی اس پست درجے کی سیاست کاری کو روکنے کے لیے ابلاغی، صحافتی، ادبی ، علمی، فکری اور ثقافتی حلقوں کی جانب سے افسوس کہ کوئی قابلِ ذکر کوشش دکھائی نہیں دے رہی۔ خوف کی اس فضا میں مجموعی طور پر نقصان ہوگا، کاش کوئی اس پر سوچے!

جنگی جرائم اور بین الاقوامی دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں فلسطین اور کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ اگر فلسطین کی صورت حال پر توجہ نہیں دی جاتی ہے، تو اس کے ردعمل کے نتیجے میں ممکنہ طور پر غیر ریاستی عناصر کے ذریعے یہ تنازع دوسرے خطوں تک پھیل سکتا ہے۔ اس طرح یہ عناصر دُنیا کے باقی علاقوں میں مسلح تصادم پھیلانے کے لیے عالمی نیٹ ورکس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور امن کو خطرے میں ڈالنے کے لیے تشدد بڑے پیمانے پر اور بڑی تیزی سے پھوٹ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ غزہ میں مسلسل جنگ مشرق وسطیٰ میں طاقت کی حرکیات کو مزید غیرمتوازن کردے گی، جہاں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کی وجہ سے امریکی اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے۔ انجامِ کار امن اور علاقائی سلامتی کی امیدیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں کیونکہ کشمیر اور فلسطین کے مسائل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود حل طلب ہیں۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کو آزاد ریاست بنانے کی اجازت نہ دے کر ’بالفور اعلامیہ‘ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کی مسلسل توہین کی ہے۔

بالکل اسی طرح بھارت بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری نہیں کرتا اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے، اور کسی نیوٹرل پارٹی کے ذریعے ثالثی کے عمل کو بھی خارج از امکان قرار دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنی سرپرستی میں رائے شماری کروا کر معاملے کا فیصلہ کرنے میں غیر مؤثر رہی ہے۔ دونوں مسائل نسلی، علاقائی، تاریخی اور نظریاتی نوعیت کے ہیں۔ بھارت کشمیر کی آئینی پوزیشن کو تبدیل کر کے آبادیاتی تبدیلی لانے کے لیے جنگی قوت اور جبری قانون سازی کے مختلف حربے استعمال کر رہا ہے۔

اسرائیل، حماس کو الگ تھلگ کر کے مقامی لوگوں کو اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کر رہا ہے۔ اس طرح، ’اسرائیل اور بھارت‘ دونوں امریکا کے اسٹرے ٹیجک شراکت دار اپنے مضبوط گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی اسی طرح کی حکمت عملیوں کا استعمال کرتے ہوئے فلسطین اور کشمیر کی آبادیوں کو ہدف بناکر ان کے خلاف مہم چلانے میں مصروف ہیں۔ مسلم دنیا کی حکمران اشرافیہ جو اپنی قوم کے بجائے مغرب کے مفادات کی وفادار ہے، بھارت اور اسرائیل کی حکومتوں کے ان اقدامات کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کر رہی ہے۔بھارتی اور اسرائیلی قیادت اپنے زیرتسلط خطّوں میں بے بس اور مظلوم لوگوں کو زیرتسلط لانے کے لیے سنگین اقدامات کررہی ہے۔ فلسطین میں اسرائیل  اور کشمیر میں بھارت اپنے جبری قبضہ سے بچوں سمیت ہزاروں لوگوں کا وحشیانہ قتل اور تشدد، قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک سمیت مسلسل متعدد جنگی جرائم کے مرتکب ہورہے ہیں۔ یہ وحشیانہ جرائم منظم طریقے سے فلسطین اور کشمیر دونوں میں بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی کے طور پر رُوبہ عمل ہیں۔اس کے علاوہ شہریوں اور طبّی عملے پر حملے اور مسلح تصادم انسانیت کے خلاف صریح جرائم کی مثالیں ہیں۔

۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیل رد عمل کے طور پر فلسطین کے اسپتالوں، یادگاروں، مذہبی اور ثقافتی ورثے کے مقامات پر خوفناک حملے کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بھارت اور اسرائیل دونوں نے بین الاقوامی قوانین کے تحت ممنوعہ دھماکا خیز ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔ کشمیر میں، بھارت ماورائے عدالت قتل، حراستی تشدد، غیرقانونی حراستوں، شہریوں کے خلاف تشدد اور جبری گمشدگیوں میں ملوث چلا آرہا ہے۔ بھارتی سیکورٹی فورسز نے پیلٹ گنز کا بھی بے دریغ استعمال کیا ہے جس سے معصوم شہری زخمی اور اندھے ہورہے ہیں۔ مزیدبرآں کشمیریوں کی اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی پر سنگین پابندیاں لگانا اور طویل کرفیو عائد کرنا اور لاک ڈائون، عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ان کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں چلنے چاہییں۔ ان خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے اور جنیوا کنونشنز میں درج انسانی حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ فلسطین کی صورتِ حال روم کے قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، اور بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی سی) انسانیت کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث افراد کی تحقیقات اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اختیار رکھتی ہے۔ بہت سے قوانین جو جنگ اور امن میں انسانوں کی حالت زار کے خلاف انسانی وقار کی حفاظت کرتے ہیں، انھیں حرکت میں لانے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، نسل کشی کی روک تھام کے کنونشن کو اقوام متحدہ نے ۱۹۴۸ء میں قابل سزا جرم کے طور پر اپنایا تھا۔ ۱۹۶۵ء میں، اقوام متحدہ نے نسلی امتیاز کی تمام اقسام کے خاتمے اور روک تھام اور انسانی مساوات کے فروغ کے لیے ICERD کنونشن منظور کیا۔ ۱۹۸۴ء میں ٹارچر کے خلاف کنونشن (سی اے ٹی) انسانوں کے ساتھ تشدد اور ظالمانہ سلوک کو روکنے کے لیے اپنایا گیا۔ سال ۲۰۰۲ء کے دوران تشدد اور غیرانسانی کارروائیوں کو روکنے کے لیے ایک طریق کار تیار کرنے کے لیے پروٹوکول بنایا گیا۔ جبری گمشدگیوں سے تمام افراد کے تحفظ کے لیے، ۲۰۰۶ء میں ایک بین الاقوامی کنونشن منظور کیا گیا تھا، تاکہ مختلف شکلوں میں جبری گمشدگیوں کے قابلِ سزا جرم کو روکا جا سکے، جس میں ریاست یا اس کی رضامندی سے افراد کی گرفتاری، حراست اور اغوا شامل ہے۔

 اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر ۱۶۷۴(۲۰۰۶ء) کو نسل کشی اور تشدد جیسے جرائم کے خلاف ایک مؤثر قانون کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فلسطین اور کشمیر کی صورتِ حال مقبوضہ سرزمین کی طرح ہے، لہٰذا بین الاقوامی انسانی بہبود کا قانون (IHL) اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون (IHRL) کا اطلاق ماورائے عدالت پھانسیوں کی مختلف صورتوں سے نمٹنے کے لیے ہے، جو کہ روم کے قانون کے آرٹیکل ۷ کے تحت جرم ہے اور IHL کے تحت جان بوجھ کر قتل، چوتھا جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ روم انسٹی یٹوٹ آف انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) کے مطابق یہ جنگی جرائم کے مترادف ہے۔

تاہم، IHL اور IHRL کو نافذ کرنے میں عالمی اداروں کی راہ میں بڑی طاقتوں کے شاونزم (وطن پرستی) کی وجہ سے بڑی رکاوٹ کھڑی ہے۔ بڑی طاقتیں عالمی فیصلہ سازی میں آمرانہ اختیار رکھتی ہیں۔ اس اختیار کے باوجود، وہ جارحیت کو روکنے سے گریزاں ہیں اور اگر ان کے جغرافیائی، سیاسی، فوجی اور سفارتی مفادات کو پورا نہ کیا جائے تو وہ سفاکانہ تنازعات میں ثالثی کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ وہ عسکری کارروائیاں کرکے، اسلحہ بیچ کر، مالیاتی بحران کو بڑھا کر اور اتحاد اور جوابی اتحاد بنا کر اپنے اثر و رسوخ کے نیٹ ورک کے ذریعے خطّوں کو غیرمستحکم کرکے عالمی سیاست کو کنٹرول کرتی ہیں۔ اس وجہ سے اقوام متحدہ کی حیثیت اور ساکھ ختم ہوکر رہ گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، جنگجو ریاستوں پر اقتصادی اور سفارتی پابندیاں لگا سکتی ہے جو امن کو خطرے میں ڈالتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ سلامتی کونسل کو غزہ میں بڑھتے ہوئے مسلح تصادم میں جارح فریقوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت دینے کا اختیار ہے۔ تاہم فلسطین کی صورتِ حال پر ویٹو کے یک طرفہ اور غیر جمہوری انداز نے خود سلامتی کونسل کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور امن کے امکان کو شدید دھچکا لگایا ہے۔  بین الاقوامی برادری کو سلامتی کونسل کو جمہوری بنانے اور شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے آرٹیکل ۶ پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں کرنی چاہییں جو تسلیم کرتا ہے کہ ’’ہر انسان کو زندگی گزارنے کا حق ہے‘‘۔

اس پس منظر میں ہرزندہ ضمیر انسان پر لازم ہے کہ وہ کشمیر اور فلسطین کے مظلوموں کی مظلومیت کو دل و دماغ میں زندہ رکھے اور اپنی آواز بلند کرے۔(ایکسپریس ٹربیون، ۲۲جنوری ۲۰۲۴ء)

امریکی ریاست پنسلوینیا کی سٹنفرڈ یونی ورسٹی سے پروفیسر حفصہ کنجوال کی حال ہی میں شائع شدہ کتاب Colonizing Kashmir ایک اہم تحقیقی اضافہ ہے۔یہ کتاب ۱۹۵۳ءکے بعد کے واقعات کا احاطہ کرتی ہے، جب جموں وکشمیر کے پہلے وزیر اعظم (ان دنوں وزیر اعلیٰ کے بجائے وزیر اعظم کہلاتا تھا) شیخ عبداللہ کو برطرف اور گرفتار کرکے بخشی غلام محمد کو مسند پر بٹھایا گیا تھا، جو اگلے دس سال تک اقتدار میں رہے۔ ان کا واحد مقصد کشمیریوں کو چانکیہ کے سام ، دام، ڈنڈ اور بھید کے ذریعے رام کرنا یا سبق سکھانا تھا، تاکہ وہ رائے شماری یا جمہوری حقوق کے مطالبہ سے دستبردار ہوکر بھارتی یونین میں ضم ہونے کے لیے تیار ہوجائیں یا کم از کم اس کے خلاف کوئی آواز اٹھانے کے قابل نہ رہ جائیں۔ اس کتاب کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے ، کہ ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے بعد اُوپر تلے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں، کم وبیش اسی طرح کے اقدامات ، جن میں مقامی آبادی کو محصور کرنے، میڈیا پر قدغن اورمفت یا کم قیمت پر چاول فراہم کروانا وغیر ہ شامل رہے ہیں، بخشی دورِ حکومت میںبھی کشمیر میں آزمائے گئے ہیں۔ کتاب پڑھ کر لگتا ہے کہ جیسے مصنف نے موجودہ دور کی ہی عکاسی کی ہے۔

مصنفہ نے بتایا ہے کہ جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق میں کلیدی کردار ادا کرنے پر، جب شیخ عبداللہ کو وزیر اعظم بنایا گیا، تو ۱۹۴۹ء ہی میں وہ بھارتی حکمرانوں کے رویہ سے دلبرداشتہ ہو چکے تھے۔ ان کو لگتا تھا کہ نہرو کے سیکولرزم کے بعد کشمیریوں اور مسلمانوں کا جینا بھارت میں دوبھر ہونے والا ہے۔ دوسری طرف جواہر لال نہرو ان کو بار بار تاکید کررہے تھے کہ ’’آئین ساز اسمبلی کے ذریعے مہاراجا کے دستخط شدہ الحاق کی توثیق کروائیں، جس کو شیخ ٹال رہے تھے۔ ۱۹۵۳ءتک بھارتی لیڈروں بشمول شیخ کے انتہائی قریبی دوست نہرو کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور ۹؍اگست کو رات کے اندھیرے میں جب شیخ صاحب، گلمرگ سیر و تفریح کرنے کے لیے گئے تھے، ان کو معزول اور گرفتار کرکے زمام اقتدار بخشی غلام محمد کے سپرد کر دی گئی۔ جس کو آج تک کشمیری بکائو اور غدار کے نام سے یاد کرتے ہیں، اگرچہ تعمیر و ترقی کے حوالے سے بخشی کا دور امتیازی رہا ہے۔

پروفیسر حفصہ کا کہنا ہے: ’’سری نگر کی حضرت بل درگاہ کے قریب واقع نسیم باغ کے قبرستان جہاں شیخ عبداللہ کی قبر ہے ، رات دن پولیس کے دستے حفاظت کرتے ہیں۔کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے چیمپئن ہونے ا ور جیل جانے کے باوجود، ۱۹۹۰ءکے عشرے میں جب مسلح عوامی بغاوت شروع ہوئی تو شیخ عبداللہ کی قبر کی حفاظت ایک مسئلہ بن گئی۔ کشمیر کی نئی نسل نے ان کو نئی دہلی کے ساتھ ۱۹۷۵ء کے معاہدے کے لیے معاف نہیں کیا۔ اس کے برعکس سرینگر کے مرکز میں واقع میر سید علی ہمدانی یا شاہ ہمدان کی خانقاہ کے احاطہ سے ذرا دور بخشی غلام محمد کی قبر ہے، جس کی حفاظت کے لیے انتظامیہ کو کبھی پولیس کی مدد نہیں لینی پڑی۔ شاید کسی کو اس قبر کے بارے میںمعلوم بھی نہیں ہے۔

کتاب کے مطابق ۱۹۵۲ء میں نہرو نے شیخ کو ایک خط میں بتایا تھا کہ: دستاویز الحاق کی آئین ساز اسمبلی میں توثیق کرنا ضروری ہوگئی ہے، کیونکہ بیرونی طاقتیں ، جمو ں و کشمیر میں استصواب رائے کروانے پر دباؤ ڈال رہی ہیں اور اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی قانونی اور عوامی تائید پر مبنی دستاویز کی ضرورت ہے۔ چونکہ آئین ساز اسمبلی عوامی ووٹ سے منتخب ہوئی ہے، اس لیے عوام کے منتخب نمایندوں کے ذریعے کی گئی توثیق کو بھارت رائے شماری کے متبادل کے بطور پیش کرے گا___ مگر جب شیخ نے ان کو یاد دلایا: ’’ رائے شماری کے حوالے سے آپ نے جو وعدے مختلف فورموں پر کیے ہیں ، تو ان کا کیا ہوگا؟‘‘ تو نہرو نے بتایا: ’’ وادیٔ کشمیر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے لوگ، اگرچہ ذہین اور ہنر مند ہیں، وہ کسی قسم کے تشدد اور غیض و غضب سے دُور رہنے والے ہیں۔ وہ (کشمیری) نرم مزاج کے مالک اور آسان زندگی گزارنے کے عادی ہیں۔ عام لوگ بنیادی طور پر چند چیزوں میں ہی دلچسپی رکھتے ہیں۔ایک ایماندار انتظامیہ، سستی اور مناسب خوراک‘‘۔ چونکہ یہ قوم صدیوں سے قحط اور کم خوراک کی شکار رہی تھی، نہرو کا کہنا تھا: ’’اگر وہ یہ حاصل کرتے ہیں، تو وہ کم و بیش مطمئن رہیں گے اور حقِ خود ارادیت اور رائے شماری کو بھول جائیں گے‘‘۔ نہرو کی اسی منطق کو اگلے دس سال تک بخشی غلام محمد نے اپنی حکومت کی اساس بنادیا۔

بخشی غلام محمد ۲۰ جولائی ۱۹۰۷ء کو سری نگر کے مرکز میں صفاکدل نامی محلے میں پیدا ہوئے۔ اپنے چچا کی مالی مدد سے، بخشی نے مقامی عیسائی مشنری اسکول میں تعلیم توحاصل کی،مگر آٹھویں جماعت مکمل کرنے کے بعد اسکول چھوڑ دیا۔ اپنی تحقیق کے دوران پروفیسر حفصہ نے  کئی ایسی کہانیاں ریکارڈ کیں ہیں، جن میں بتایا گیا کہ بخشی سڑک پر گاڑی کھڑ ی کرکے لوگوں کو بلا کر ان کی استعداد معلوم کرتے تھے، جونہی معلوم ہوتا تھا کہ مذکورہ شخص کسی طرح پڑھا لکھا ہے، تو وہیں پر تقرر کا پروانہ تھما دیتے تھے۔ تقرر کے پروانے لکھنے کے لیے وہ کاغذ ڈھونڈنے کا تکلف بھی نہیں کرتے تھے۔ کبھی ماچس کی ڈبیہ پر اور تو کبھی سگریٹ کے پیکٹ کے کاغذ کو پھاڑ کر اسی پر متعلقہ محکمہ کو اس شخص کے تقرر کا حکم صادر کردیتے تھے۔ انھوں نے ہفتہ وار اپنے دفتر میں عام لوگوں سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا ہوا تھااور موقع پر ہی انتظامیہ کو حکم دے کر اس کا فالو اَپ بھی کرتے تھے، جب تک سائل کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تھا۔

اپنے دور میں شیخ عبداللہ نے بھارتی حکومت سے فنڈز لینے میں احتیاط برتی تھی۔ ان کے دور میں کشمیر جانے کے لیے پرمٹ لینا پڑتا تھا۔ اسی طرح کسٹم کا سسٹم قائم تھا۔ جس سے ریاست کو آمدن ہو جاتی تھی۔وہ کشمیریوں کو باور کرارہے تھے کہ وہ چاول کھانا ترک کرکے آلو کو بطور غذا اپنائیں، کیونکہ چاول درآمد کرنے پڑتے تھے۔ مگر جب اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے بخشی نے نئی دہلی سے مالی امداد طلب کی تو ان کو بتایا گیا کہ الحاق کی توثیق کے بعد ہی وہ مالی امداد فراہم کرسکتے ہیں۔ رائے شماری کے کسی بھی امکان کو روکنے کے لیے، فروری ۱۹۵۴ء میں، بخشی نے قانون ساز اسمبلی سے ریاست کے بھارت کے ساتھ الحاق کی توثیق کرنے کی قرارداد پیش کی، جس کو منظور کرکے معاشی طور پر کشمیر کو بھارت کے ساتھ ضم کیا گیا۔

بخشی کو احساس تھا، کہ کشمیر ی عوام کو قابو میں رکھنے کا واحد طریقہ یہ تھا کہ گرفتاریوں اور سخت نگرانی وغیرہ کے ساتھ ساتھ خطے کو معاشی خوش حالی فراہم کرنے کے علاوہ عوام کو ثقافتی سطح پر مصروف بھی رکھا جائے، جس کے لیے ہر سال جشنِ کشمیر منانے کی روایت قائم ہوئی اور تقریباً ہر نئے دن فلمی اداکاروں کو کشمیر کے دورے کرائے جاتے۔ خوراک کی رعایتی قیمت بخشی کا ایک بڑا کارنامہ تھا، جس کی وجہ سے اس کو اب بھی یاد کیا جاتا ہے۔ کشمیر کے ایک معمر صحافی پران ناتھ جلالی نے ایک بار راقم کو بتایا کہ وہ شیخ عبداللہ سے جیل میں ملاقات کے لیے گئے، تو انھوں نے شکوہ کیا کہ ’’کشمیریوں کا پیٹ بخشی نے چاولوں سے بھر دیا ہے۔ وہ مجھے بھول گئے ہیں اور مجھے جیل میں سڑنے کے لیے چھوڑدیاہے‘‘۔ قانون ساز اسمبلی سے الحاق کی توثیق کرواکے بخشی کا کام دنیا کو باور کروانا تھا کہ ’’کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے اور عوا م نے تبدیلی کو تسلیم کرلیاہے‘‘۔

مصنفہ کے مطابق کشمیر کے تناظر میں نارملائزیشن کا مطلب یہ تھا کہ ریاست کا سیاسی اور اقتصادی فائدہ بھارتی یونین میں ضم ہونے میں ہی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم کے شعبہ میں اسکول و کالج کی ٹیکسٹ کی کتابوں میں سیکولرزم پر ازحد زور اور کشمیر اور بھارت کے درمیان زمانہ قدیم کے رشتوں کا بار بار ذکر کرنا اور کشمیر کو ہندو دیوی دیوتاؤں کا مسکن قرار دینا، اسی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ بخشی دور، کشمیر میں بدعنوانی کے لیے بھی بدنا م ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر کوئی بخشی دور میں دولت حاصل نہیں کرسکا تو وہ کبھی نہیں کرسکتا ہے۔کہتے ہیں کہ کسی ٹھیکے دار کو ایگزیکٹو انجینیر نے بطور رشوت کسی مخصوص قالین کی فرمایش کی۔ قالین توٹھیکے دار نے فراہم کرادیا، مگر اس نے تہیہ کیا کہ اس انجینیر کی شکایت بخشی سے ضرور کرے گا۔ جب ملاقات کا وقت لے کر مقررہ وقت پر وزیراعظم کی رہایش گاہ پر پہنچا تو دیکھا کہ وہی قالین وہاں بچھا ہو ا تھا۔

تعمیر وترقی اور خوراک کی خریداری میں رعایت کے علاوہ بخشی نے اپنی ایک فورس پیس بریگیڈ کے نام سے بناکر انٹیلی جنس کا ایک وسیع نیٹ ورک ترتیب دیا تھا۔ ان کا کام مخالفین کی سن گن لینا، ان پر حملہ یا ہراساں کرنا ہوتا تھا۔ اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ پیس برگیڈمیں گلی محلے کے غنڈوں کو بھرتی کردیا گیا تھا۔ وہ مخالفین کے منہ میں گرم آلو ڈالنے، ان کے سینے پر بھاری پتھر رکھنے اور گرم لوہے سے داغدار کرنے کے لیے مشہور تھے۔ان کو مقامی زبان میں خفتن فقیر یا رات کے بھکاری کے نام سے جانا جاتا تھا، کیونکہ عشاء کی نماز کے بعد وہ گشت کرکے معلوم کرنے کی کوشش کرتے تھے، کہ کوئی ریڈیو پاکستان تو نہیں سن رہا ہے۔ ایسے شخص کا ریڈیو ضبط ہوتا تھا اور اس کو گرفتار کیا جاتا تھا یا مارپیٹ کر چھوڑا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ علیحدہ سرکاری ملیشیا بھی بنائی گئی تھی، جن کا کام شیخ عبداللہ کے حامیوں سے متعلق خفیہ معلومات حاصل کرنا تھا۔ یہ خاص محلوں کو کنٹرول کرتے تھے، اور ان کو کشمیری میں گوگہ کہتے تھے۔

ان دونوں میلیشاز کی وحشت زدگی کی داستانیں جب نئی دہلی پہنچیں، تو اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ، گووند بلبھ پنت نے بخشی سے ان کی سرگرمیوں کے بارے میں سوال کیا۔ میرقاسم، جو کشمیر کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں اور بخشی حکومت میں وزیر تھے، ان کے مطابق،بخشی نے پنت کو بہلانے کی کوشش کرتے ہوئے بتایا کہ جب یہ دونوں گروپ غیر مسلح ہیں، تو کیسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو سکتے ہیں؟ بھارتی وزیر داخلہ نے بتایا کہ سرکاری سرپرستی میں پلنے والا ایک غنڈا، ہزاروں لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا سکتا ہے۔مگر کتاب کے مطابق اس کے تحفظات کے باوجود بھارتی حکومت نے بخشی کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی اور کبھی ان گروپوں کو لگام نہیں ڈالی گئی۔

مصنفہ کے مطابق نہرو، کشمیر کو ایک خوب صورت عورت کے ساتھ تشبیہہ دیتے تھے، جو ’اُمیدوں اور خواہشات‘ کو بھڑکاتی ہے اور اس کے کئی عاشق ہیں۔ ان کے مطابق کشمیر کی یہ جنسی تصویر کشی، بھارت میں آج کل زیادہ ہی زور و شور کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کے اقدامات کے بعد تو کئی لیڈروں نے بیانات داغے جن کے مطابق کشمیر کے تصور کو ایک نسائی جنت کے طور پراُبھارا جاتا ہے، جس کو دریافت کرنا اور جس کے اندر جگہ بنانا ضروری ہے۔ جنسی زبان کا استعمال کرکے کشمیرکے پہاڑوں اور مناظر کو نسوانی حوالہ بنا دیا گیا ہے۔ مصنفہ کا استدلال ہے، خواتین کے اجسام کے ساتھ کشمیر کے منظر نامہ کا موازنہ کرنا اور پھر بھارتی فوج کی مردانگی بیان کرنا، جو ان مناظر اور وادیوں کو پاؤں تلے روندتے رہتے ہیں، ایک طرح کے تعصب اور غیض و غضب کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ کتاب ان واقعات اور پالیسیوں کا ایک جامع تجزیہ پیش کرتی ہے، جو اس نازک دور میں کشمیر میں رُونما ہوئے۔کتاب کا مرکزی موضوع سیاست ہے کہ اس سیاست کو کس طرح کشمیری باشندوں کے روزمرہ کے معمولات ، بشمول روزگار، خوراک، تعلیم اور بنیادی خدمات سے متعلق مسائل کے ساتھ نتھی کردیا گیا ہے۔ یہ طے کردیا گیا ہے کہ اگر کوئی کشمیری روزگار یا زندگی کے مسائل کے لیے جدو جہد کرتا ہے یا اس کا طالب ہوتا ہے ، تو اس کو حقِ خود ارادیت سے دستبرداری یا ہتھیار ڈالنے سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ جس سے ایک پیچیدہ اور اکثر متضاد منظر نامہ پیدا ہوجاتا ہے۔ کنجوال نے ان طریقوں کا بھی جائزہ لیا ہے جن میں بخشی دور میں کشمیر میں بھارت کے کنٹرول کومضبوط کرنے کے لیے ’سیکولر‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی۔ اسی کے ساتھ مسلم تاریخ کو مٹانے اور ’اچھے‘ مسلم اور ’بُرے‘ مسلم کے فرق کو واضح کیا گیا۔

پروفیسر حفصہ کی یقینا یہ ایک چونکا دینے والی تحقیق ہے۔یہ کتاب نوآبادیاتی اور مابعد نوآبادیاتی قوم کی تشکیل کے روایتی دہرے معیار کو چیلنج کرتی ہے۔ اس کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ اس وقت بھی بھارتی حکومت کشمیر میںپرانے آزمائے ہوئے طریقوں ہی کو ٹھونس رہی ہے۔ یہ سبھی اقدامات بخشی دور کی طرح تاریخ کے اوراق میں گم ہو جائیں گے۔ بخشی کے دس سالہ اقتدار کے بعد ۱۹۶۳ء میں حضرت بل میں موئے مقدس کی گم شدگی کو لے کر جب کشمیر اُبل پڑا ، تو بخشی اور اس کے حواریوں کو کہیں جائے پناہ بھی نہیں مل پا رہی تھی۔ نہرو کو سب سے زیادہ حیرانی اس بات پر تھی کہ دس سال تک جس نسل کو سیکولرزم اور کشمیر کے بھارت کے ساتھ قدیمی رشتوں کا پاٹھ پڑھایا گیا اور جس کی ذہن سازی کی گئی تھی، وہی اس ایجی ٹیشن میں پیش پیش تھی۔

جن افراد نے بخشی کو شیخ عبداللہ کے متبادل کے بطور اقتدار میں بٹھایا تھا، انھوں نے ہی اس کے خلاف بدعنوانی اور دیگر کئی معاملوں میں مقدمے درج کرکے اس کو جیل میں پہنچا دیا۔ دوسروں کی چاکری کرنے اور اپنوں سے بے وفائی کرنے والوں کی یہ تاریخ بار بار دُہرائی جاتی ہے، مگر افسوس کہ مفاد پرست عناصر اس سے کچھ بھی سبق نہیںلیتے۔ آخرکار ۱۹۷۲ء میں ایک تنہا اور غیر مقبول شخص کے رُوپ میں بخشی غلام محمد کا انتقال ہوگیا۔ یہ موجودہ حکمرانوں کے لیے بھی ایک سبق اور تازیانہ ہے، جو اختراعی اقدامات کے بجائے جز وقتی اقدامات کا سہارا لے کر ایک پریشر ککر جیسی صورت حال پیدا کرکے اس کو ’نارملائزیشن‘ کا نام دیتے ہیں۔ اُن سب کے لیے سوچنے کا     یہ وقت ہے کہ ماضی سے سبق سیکھ کر خطّے میں دیرپا اور حقیقی امن قائم کرنے کے لیے ٹھوس حکمت عملی بنائی جائے، نہ کہ ڈگڈگی بجاکر قبرستان کی خاموشی کو امن قرار دے کر اپنے آپ کو دھوکا دیا جائے۔

غزہ شہر سے گذشتہ ماہ لاپتہ ہونے والی ایک چھ سالہ بچی اپنے کئی رشتہ داروں اور انھیں بچانے کی کوشش کرنے والے دو طبی اہلکاروں کے ساتھ مُردہ پائی گئی ہے، جسے اسرائیلی ٹینکوں نے گولیوں کا نشانہ بنایا ہے۔

چھ سالہ ہند رجب کو اس وقت نشانہ بنایا گيا جب وہ اپنی چچی، چچا اور تین کزنز کے ساتھ کار میں شہر سے فرار ہو رہی تھیں۔ہند اور ایمرجنسی کال آپریٹرز کے درمیان فون پر ہونے والی باتوں کی آڈیو ریکارڈنگ سے پتا چلتا ہے کہ کار میں صرف چھ سالہ بچی زندہ بچی تھی اور وہ اپنے رشتہ داروں کی لاشوں کے درمیان اسرائیلی فورسز سے چھپ رہی تھی۔

ایک موقعے پر وہ ایمرجنسی سروسز سے کہتی ہیں کہ ’’ٹینک میرے کافی قریب ہے۔ وہ پاس آ رہا ہے۔ کیا آپ مجھے آ کر بچا سکتے ہیں؟ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے‘‘۔

ان کی التجا اس وقت ختم ہو گئی جب مزید فائرنگ کی آواز کے درمیان فون لائن کٹ گئی۔

فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی (پی آر سی ایس) کے پیرامیڈیکس ہفتہ کے روز اس علاقے تک پہنچنے میں کامیاب رہے جسے ایک فعال جنگی زون ہونے کی وجہ سے پہلے بند کر دیا گیا تھا۔

انھیں موٹر کمپنی کِیا کی سیاہ کار نظر آئی جس میں ہند رجب اپنے اہل خانہ کے ساتھ سفر کررہی تھیں۔ اس کار کی ونڈ سکرین اور ڈیش بورڈ پاش پاش ہو گئے تھے اور گاڑی پر چار اطراف سے گولیوں کے سوراخ تھے۔

ایک پیرامیڈیک نے صحافیوں کو بتایا کہ کار کے اندر سے ملنے والی چھ لاشوں میں ہندرجب کی میت بھی شامل تھی، جن میں سے سبھی پر گولیوں اور گولہ باری کے نشانات تھے۔ چند میٹر کے فاصلے پر ایک اور گاڑی پڑی تھی جو مکمل طور پر جل چکی تھی۔ اس کا انجن نکل کر زمین پر پھیل گیا تھا۔ ہلال احمر کا کہنا ہے کہ یہ ہند رجب کو لانے کے لیے بھیجی گئی ایمبولینس تھی۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ رجب کو بچانے کے لیے روانہ کیا جانے والا ان کا عملہ یوسف الزینو اور احمد المدعون اس وقت مارے گئے جب ایمبولینس پر اسرائیلی فورسز نے بمباری کر دی۔

ایک بیان میں پی آر سی ایس نے اسرائیل پر ایمبولینس کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس گاڑی کو ۲۹ جنوری کو جائے وقوعہ پر پہنچتے ہی نشانہ بنایا گیا۔ اس میں کہا گیا: 'قابض (اسرائیلیوں) نے جان بوجھ کر ہلال احمر کے عملے کو نشانہ بنایا، حالانکہ ان سے پیشگی تعاون حاصل کرنے کے لیے ایمبولینس کو جائے وقوعہ پر پہنچنے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ بچی ہند کو بچایا جاسکے۔

پی آر سی ایس نے بتایا کہ اسے ہند کو بچانے کے لیے پیرا میڈیکس بھیجنے میں کافی وقت لگا کیونکہ اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطہ قائم کرنے میں کئی گھنٹے لگ گئے تھے۔پی آر سی ایس کے ترجمان نیبل فرسخ نے رواں ہفتے کے شروع میں مجھے بتایا: 'ہمیں کوآرڈینیشن ملا، ہمیں گرین لائٹ ملی۔ ہمارے عملے نے وہاں پہنچنے پر اس بات کی تصدیق کی کہ انھیں وہ کار نظر آ رہی ہے، جس میں ہند رجب پھنسی ہوئی تھیں، اور وہ اسے دیکھ سکتے ہیں۔ آخری بات جو ہم نے سنی وہ مسلسل فائرنگ تھی۔ فون کال آپریٹرز کے ساتھ ہند کی بات چیت کی ریکارڈنگز کو فلسطینی ہلال احمر نے پبلک پلیٹ فارم پر شیئر کیا ہے۔ جس کے بعد اس بات کو جاننے کی ایک مہم چل پڑی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا؟

ہند کی ماں نے ہمیں بتایا کہ بیٹی کی لاش ملنے سے پہلے تک وہ 'ہر لمحے، ہر پل اس کی آمد کی منتظر تھیں۔اب وہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ اس کا احتساب ہونا چاہیے اور کسی نہ کسی کو اس کا ذمہ دار ٹھیرایا جانا چاہیے۔انھوں نے بتایا کہ 'میں ہر اس شخص کو جس نے میری اور میری بیٹی کی التجا سنی، پھر بھی اسے نہیں بچایا، قیامت کے دن اللہ کے سامنے ان سے سوال کروں گی۔ میں نتن یاہو، بائیڈن اور ان تمام لوگوں کے لیے اپنی دل کی گہرائیوں سے بددعا کروں گی جنھوں نے ہمارے خلاف، غزہ اور اس کے لوگوں کے خلاف تعاون کیا ہے۔

اس ہسپتال میں جہاں وہ اپنی بیٹی کی خبر کا انتظار کر رہی تھیں ہند کی والدہ وسام کے پاس اب بھی وہ چھوٹا سا گلابی بیگ ہے جو وہ اپنی بیٹی کے لیے رکھے ہوئے تھیں۔ اس بیگ کے اندر ایک نوٹ بک ہے جس میں ہند اپنی خوش خطی کی مشق کرتی تھی۔

ہند رجب کی والدہ پوچھتی ہیں: 'آپ اس درد کو محسوس کرنے کے لیے اور کتنی ماؤں کا انتظار کر رہے ہیں؟ اور کتنے بچوں کو مارنا چاہتے ہیں؟ہم نے دو بار اسرائیلی فوج سے اس دن علاقے میں ان کی کارروائیوں کے بارے میں تفصیلات جاننے کی کوشش کی اور ہند کے لاپتہ ہونے اور اسے بازیافت کرنے کے لیے بھیجی گئی ایمبولینس کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں جانچ کر رہے ہیں۔ہم نے ہفتے کے روز فلسطینی ہلال احمر کی طرف سے لگائے گئے الزامات پر ان سے دوبارہ جواب طلب کیا ہے۔

جنگ کے اصولوں میں کہا گیا ہے کہ طبی عملے کو تحفظ دیا جانا چاہیے اور انھیں کسی تنازعے میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اور یہ کہ زخمی افراد کو ممکنہ عملی حد تک اور کم سے کم تاخیر کے ساتھ ہی سہی وہ طبّی دیکھ بھال فراہم کی جانی چاہیے جس کی انھیں ضرورت ہو۔

یہ خبر دوپہر ۲ بجے کے قریب آئی کہ غزہ میں طبی عملے کے رُکن محمود المصری اور اُن کی ٹیم کے ارکان شمالی غزہ کے العودہ ہسپتال میں ایمرجنسی کال کا انتظار کر رہے تھے۔

اس دوران اعلان ہو گیا کہ ’ایمبولینس ۵-۱۵ کو نشانہ بنایا گیا ہے‘۔ یہ وہی ایمبولینس تھی کہ جس میں محمود المصری کے والد اور اُن کی ٹیم کے ارکان سوار تھے۔ یاد رہے محمود کے والد بھی  طبّی عملے کے رُکن تھے۔محمود اور اُن کے ساتھی یہ دیکھنے کے لیے اُس جانب بھاگے کہ آخر ہوا کیا ہے؟جب وہ وہاں پہنچے، تو انھوں نے دیکھا کہ ایمبولینس سڑک کے کنارے متعدد ٹکڑوں میں بکھری پڑی تھی۔ محمود چیختے ہوئے گاڑی کے ملبے کی طرف بھاگے، لیکن اس ایمبولینس کے اندر موجود تمام افراد ’بُری طرح جل چکے تھے اور اُن کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے‘ ہو چکے تھے۔  محمود نے روتے اور ہچکیاں لیتے ہوئے کہا کہ ’میرے والد کا چہرہ قابلِ شناخت نہیں رہا تھا‘۔

یہ اسرائیل، غزہ جنگ شروع ہونے کے پانچ دن بعد یعنی ۱۱؍ اکتوبر کی بات ہے۔ محمود کے والد یوسری المصری کا بے جان جسم سفید کفن میں لپٹا ہوا تھا اور اسی کے ساتھ اُن کا خون آلود ہیلمٹ بھی پڑا تھا۔جنازے کے موقعے پر جب محمود اپنے والد کی میت کے پاس گھٹنے ٹیکے اپنے آنسو پونچھ رہے تھے تو ایسے میں اُن کے دوست اُن کے قریب جمع ہو گئے۔ ایسے ہولناک واقعات کو غزہ کے ایک مقامی صحافی فراس الاجرامی نے دستاویزی فلم ’غزہ ۱۰۱: ایمرجنسی ریسکیو‘ کے لیے فلم بند کیا ہے۔

اپنے والد کی موت کے بعد، ۲۹ سالہ محمود، جن کے اپنے تین بچے ہیں، نے چند ہفتوں کی چھٹی لے لی۔لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’گہرے دُکھ کے باوجود مَیں کام پر واپس جانا چاہتا ہوں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میری سب سے بڑی خواہش فلسطینی عوام کی خدمت کرنا ہے‘۔

انھوں نے اپنے فون کے وال پیپر پر اپنے والد کی تصویر لگا رکھی ہے ،صرف اس لیے تاکہ ’وہ اپنے والد کے چہرے کو دن رات دیکھ سکیں‘۔محمود کی اپنے والد سے آخری ملاقات اُن کی ہلاکت سے چند گھنٹے قبل ہی ہوئی تھی۔ انھوں نے محمود سے ایک کپ کافی کی فرمایش کی تھی جو انھوں نے دوپہر کی نماز سے قبل پی لی تھی۔ اس کے بعد ایمبولینس سنٹر میں محمود کے والد یوسری کی ایمبولینس کا نمبر پُکارا گیا اور انھیں زخمیوں کو طبی امداد دینے کے لیے روانہ ہونا پڑا۔

اس واقعے سے صرف دو دن پہلے محمود خود بھی زخمی ہوئے تھے اور اُنھیں سٹریچر پر ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ ایک حملے کے دوران محمود کی گردن اور پیٹھ میں چھرے لگے تھے۔ اُس وقت کو یاد کرتے ہوئے محمود نے کہا کہ ’ان کے والد شدید پریشانی کے عالم میں اُن کے پہلو میں کھڑے رو رہے تھے اور وہ بہت پریشان تھے‘۔

مگر اب چند ہفتے گزر جانے کے بعد خود محمود کو اپنے والد کی تباہ شدہ ایمبولینس کو دیکھنے کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ محمود نے کہا کہ ’جب بھی میں اکیلا بیٹھتا ہوں، میں انھیں یاد کرتا ہوں کہ میں ایمبولینس کی طرف بھاگ رہا تھا، میں اپنے والد کی طرف بھاگ رہا تھا، میں ان کے جسم کے ٹکڑے دیکھ کر نیم بے ہوشی کے عالم میں ڈوب چکا تھا۔ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ میرے والد کے ساتھ کیا ہوا؟ میں حواس باختہ ہوگیا تھا‘۔

محمود سات سال سے میڈیکل عملے کے رکن ہیں اور اِس وقت ’فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی‘ (پی آر سی ایس) کی ٹیم میں شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں مقیم تھے۔

اس دستاویزی فلم میں ۷؍اکتوبر کے ایک ماہ بعد تک کے واقعات کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ یادرہے حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فوج کے غزہ پر حملوں میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ۳۰ ہزار سے بڑھ چکی ہے۔

اس دستاویزی فلم میں طبّی عملے کے اراکین کو قریب سے اس دورانیے میں فلمایا گیا ہے، جب وہ اندھیری گلیوں سے گزر رہے تھے اور زخمی بچوں کی لاشوں اور ان کے جسموں کے ٹکڑے جمع کر رہے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کس طرح ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی۔ اس صورتِ حال نے اس صدمے کو ظاہر کیا جس کا انھیں سامنا تھا، خاص طور پر جب انھیں بچوں کی لاشوں سے نمٹنا پڑا۔

جنگ کے ان ابتدائی دنوں میں طبی عملے کے ایک اور رُکن رامی خمیس اپنی ایمبولینس کے سٹیرنگ ویل کے سامنے بیٹھے روتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھیں ایک ایسے گھر کی جانب بلایا گیا کہ جو اس کے اپنے ہی مکینوں پر آن گرا تھا، اور اس گھر میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہی موجود تھے۔ جب وہ اس تباہ حال گھر کے ایک کمرے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تو انھوں نے وہاں تین فلسطینی بچیوں کو مُردہ حالت میں پایا اور انھیں یہ منظر دیکھ کر اپنی بیٹیوں کا خیال آیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکا، میں یہ دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا‘۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب رامی کی روتے ہوئے ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔گذشتہ برس اکتوبر کے آخر میں ٹیم کے ایک اور رکن علاء الحلبی کو ایک رشتہ دار کی طرف سے ایک ایمرجنسی کال موصول ہوئی۔

علاء نے کہا کہ ’ان کے چچا کے گھر کو دو روز قبل اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن ہلاک ہونے والے کچھ افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ان کے کزن کی لاش نکال لی گئی تھی اور وہ اسے ہسپتال لے جانے کی کوشش میں تھے‘۔جیسے ہی وہ ایک تنگ گلی میں داخل ہوئے، جہاں لوگوں کا ایک گروپ کنکریٹ کے ڈھیر کو ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا، ایک رشتہ دار نے انھیں بتایا کہ ’ایک لڑکی ہے، یا تو اس کا آدھا یا پورا جسم ہے‘۔

وہ رُک گئے، ایک گہری سانس لی، اُن کا چہرہ جزوی طور پر ان کے میڈیکل ماسک کے پیچھے چھپا ہوا تھا، انھوں نے کہا کہ ’لڑکی کے اعضا اس کے ساتھ ہی رکھ دیں‘۔

اسی دن علاء ایک ایسے گھر میں پہنچے جہاں بُری طرح جھلسے ہوئے پانچ مردہ بچوں کو رکھا گیا تھا۔ انھوں نے ایک ٹیم کو ہدایت کی کہ بچوں کو پلاسٹک کے کفن میں اُن کی ایمبولینس میں رکھ دیں۔انھوں نے کہا کہ جب آپ کسی بچے کے جسم کے اعضا کو پکڑتے ہیں تو سب سے پہلے جو چیز ذہن میں آتی ہے وہ آپ کے اپنے بچے ہوتے ہیں۔

طبّی عملے کے یہ اراکین فون پر یا ریڈیو نیٹ ورک پر ہونے والی گفتگو کے ذریعے اپنے بیوی بچوں سے رابطے میں رہتے تھے۔ رامی دو عشروں سے طبی عملے کے رُکن کے طور پر کام کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب بھی غزہ میں تشدد کا کوئی نیا واقعہ پیش آتا ہے تو میری بیٹیاں مجھ سے چپک جاتی ہیں اور مجھ سے کام پر نہ جانے کی التجا کرتی ہیں۔ علاء نے یہ بھی کہا کہ جب وہ بچوں کی بات نہ مانتے ہوئے کام پر چلے جاتے ہیں تو اُن کے بچے روتے ہیں۔

ایک اور واقعے میں، جب طبی عملے کے چند اراکین العودہ ہسپتال کے باہر اپنی گاڑی میں انتظار کر رہے تھے تو ایک بڑے دھماکے نے انھیں ہلا کر رکھ دیا۔ اس حملے میں کم از کم دو ایمبولینسوں کو نقصان پہنچا۔ طبی عملے کے ایک رُکن نے بتایا کہ اسرائیلی فضائی حملے میں ہسپتال کے قریب واقع ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

پی آر سی ایس کا کہنا ہے کہ ۷؍ اکتوبر سے اب تک غزہ میں اس کی ٹیموں کے گیارہ ارکان ہلاک ہو ئے ہیں۔تنظیم کی ترجمان نیبل فرسخ کا کہنا ہے کہ ’ہر مشن میں ہماری ٹیموں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے‘۔وہ کہتی ہیں کہ ’ڈیوٹی کے دوران ہمارے عملے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جن حالات میں ہم کام کر رہے ہیں وہ خطرناک اور خوفناک ہیں‘۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اسرائیلی کارروائیوں کے دوران استعمال ہونے والی ٹکنالوجی کے ہوتے ہوئے یہ کہنے کا کوئی جواز نہیں کہ اسے دیکھا ہی نہیں گیا‘۔

پی آر سی ایس کا کہنا ہے کہ ۷؍ اکتوبر سے جاری لڑائی کی وجہ سے اس کی اپنی ۱۶ گاڑیاں ناکارہ ہوئی ہیں اور غزہ بھر میں مجموعی طور پر ۵۹؍ ایمبولینسیں مکمل طور پر تباہ ہو ئی ہیں۔

فرسخ کہتی ہیں کہ ’پی آر سی ایس کو کبھی فلسطینی جنگجوؤں کی مداخلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا‘۔ وہ کہتی ہیں کہ ’زمین پر ہمارا کام صحت اور انسانی ہمدردی کی خدمات فراہم کرنا ہے‘۔

جنوری کے اواخر میں، جب خان یونس کے ارد گرد لڑائی میں شدت آئی، محمود نے اپنی بیوی اور بچوں، ۶سالہ محمد، ۵ سالہ لیلیٰ اور ۳ سالہ لیان کو ساحلی صحرائی علاقے المواسی میں ایک خیمے میں رہنے کے لیے منتقل کر دیا، جسے پہلے اسرائیل نے محفوظ علاقہ قرار دیا تھا۔اپنے والد کی موت کے چار ماہ بعد بھی وہ کہتے ہیں کہ بیماروں اور زخمیوں کی مدد کرنے کا ان کا عزم جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ میرے والد کا پیغام اور مشن تھا اور مجھے اسے جاری رکھنا ہے‘۔

۱۹۷۱ءکی جنگ میں ہندستان نے اس اُمید پر مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کی عسکری اور سفارتی مدد کی تھی کہ مشرقی سرحد پر بننے والی یہ نئی ریاست آزادی کے بعد مستقل اس کے تسلط میں رہے گی۔ بھارتی رہنماؤں کو اُمید تھی کہ پاکستان سے علیحدگی کے بعد بنگالی رفتہ رفتہ اپنا اسلامی تشخص بھول جائیں گے اور ہندو بنگالی ثقافت کو قبول کر کے ’عظیم بھارت‘ کا حصہ بن جائیں گے۔  جنوبی ایشیا میں مجموعی طور پر ہندستان کی حکمت عملی یہی ہے کہ کمزور ہمسایوں کو ڈرا دھمکا کر یا ان کے اندرونی اختلافات کو ہوا دے کر انھیں اپنا دست نگر رکھا جائے۔

عوامی لیگ کے دعوئوں اور حقائق کے مطابق شیخ مجیب نے پاکستان بننے کے کچھ عرصے بعد اس ہندستانی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز کیا لیکن تب ذرا جھجک باقی تھی۔ اس ضمن میں ’اگرتلہ‘ بھارت مجیب گٹھ جوڑ اور سازشوں کا مرکزبنا۔ جس سے پہلے تو عوامی لیگی انکار کرتے رہے، مگر ۲۰۱۱ء کو اس سازش کے ایک براہِ راست کردار ڈپٹی اسپیکر شوکت علی نے بنگلہ دیش پارلیمنٹ میں کھل کر اعتراف کیا کہ ’’ہم اگرتلہ میں ۱۹۶۲ء سے بھارت کے رابطے میں تھے‘‘۔ ۱۹۷۵ء میں شیخ مجیب کے خلاف خون ریز فوجی بغاوت کی ایک بڑی وجہ ان کی ہندستان نوازی بھی تھی، اگرچہ وسیع بدعنوانیوں، ۱۹۷۴ میں پڑنے والے قحط کے اثرات اور یک جماعتی آمر حکومت سےلوگوں کی بیزاری نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ ہندستانیوں نے خاموشی سے اس صدمے کو برداشت کیا اور دوبارہ ایسے عالمی و مقامی سیاسی حالات کا انتظار کرنے لگے، جن کے اندر اپنی کٹھ پتلی حکومت کو بنگلہ دیش پر دوبارہ مسلط کر سکیں، تاکہ شیخ مجیب الرحمٰن کے جانے سے ہونے والے نقصان کی تلافی ہو سکے۔ ہندستان کو یہ مراد پوری ہونے کے لیے تین عشروں تک انتظار کرنا پڑا۔

تاہم، اس دوران ہندستان فارغ نہیں بیٹھا رہا۔ اس کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لوگ پیہم بنگلہ دیشی عدلیہ، انتظامیہ، فوج، صحافت، تعلیم اور سول سوسائٹی میں نقب لگاتے رہے، تا کہ حتمی وار سے پہلے زمین ہموار کی جا سکے۔ نائین الیون کے بعد پیدا ہونے والی اسلام مخالف سیاسی صورتِ حال کا ہندستان نے بھرپور فائدہ اُٹھایا اور امریکی انتظامیہ کے تعاون سے بنگلہ دیش کے خلاف شکنجہ تنگ کرنا شروع کر دیا۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں جب امریکی صدر بش نے ’’آپ ہمارے دوست ہیں یا دشمن‘‘ کا نعرہ لگایا، تو مسلم ممالک میں پائی جانے والی سیکولر جماعتوں کی اہمیت مغربی دنیا میں بڑھنے لگی۔ عراق اور افغانستان پر خوفناک اور خوں ریز حملے کے بعد بش حکومت مسلم ممالک میں ایسی جماعتوں کو مضبوط کرنا چاہتی تھی، جو اسلامی نظریات کو دباسکیں۔ ہندستان نے اس صورتِ حال کا پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے ۲۰۰۹ء میں امریکی حکومت کے تعاون سے بنگلہ دیش میں شیخ مجیب کی بیٹی حسینہ واجد کی حکومت قائم کروا دی۔

بنگلہ دیشی فوج پہلے ہی ’را‘ کے ذریعے رام کی جا چکی تھی۔ چنانچہ اس نے ۲۰۰۹ء کے انتخابات میں عوامی لیگ کی فتح یقینی بنانے کے لیے ہر طریقہ استعمال کیا، تا کہ ایک ایسی آمرانہ حکومت (Orwellian State) قائم کی جا سکے جو اپنے شہریوں پر ہر جبر کو روا رکھتے ہوئے ہندستانی غلبے کو قبول کرے اورقبول کرائے۔ تب بنگلہ دیشی فوج کے سپہ سالار جنرل معین نے پہلے ہی اپنے عہدے اور معاشی مفادات کے لیے بنگلہ دیشی خودمختاری کا سودا کر لیا تھا۔ بھارتی صدر پرناب مکھرجی (م: ۲۰۲۰ء)اپنی یادداشتوں The Presidential Years میں لکھتے ہیں: ’’فروری ۲۰۰۸ء میں بنگالی سپہ سالار معین احمد چھ دن کے دورے پر ہندستان آئے۔ اس دوران وہ مجھ سے بھی ملے۔غیر رسمی گفتگو کے دوران میں نے سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے زور دیا۔ وہ حسینہ واجد کی رہائی کے بعد اپنی نوکری کے لیے فکر مند تھے۔ تاہم، میں نے ذاتی ذمہ داری لیتے ہوئے انھیں یقین دہانی کروائی کہ حسینہ واجد کے آنے پر ان کی نوکری متاثر نہیں ہو گی‘‘۔ (ص ۱۱۴)

پرناب مکھرجی اور حسینہ واجد دونوں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ جنرل (ر) معین نے حسینہ واجد کی سربراہی میں اپنی مدت اطمینان سے پوری کی۔ اس دوران انھوں نے ۲۰۰۹ء کی بی ڈی آر بغاوت میں ۵۷ افسران کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے اور بڑی مہارت سے بنگلہ دیشی فوج کا مورال کچل کر اسے نااہل، بزدل، بدعنوان اور ملک دشمن فوج بنا دیا۔ آج کل وہ اپنے خاندان کے ساتھ بہت ساری دولت سمیٹ کر نیویارک منتقل ہوکر زندگی بسر کررہے ہیں۔

۲۰۰۹ء سے حسینہ واجد، ہندستان کی کھلی حمایت کے ساتھ تین جعلی انتخابات کروا چکی ہیں اور ریاستی طاقت پر ان کی گرفت سخت سے سخت ہوتی جا رہی ہے۔ جنوری ۲۰۱۴ میں قاضی راکب الدین کے الیکشن کمیشن نے یک جماعتی الیکشن کروایا، جس میں ۳۰۰ کے ایوان میں عوامی لیگ کے ۱۵۳ ؍ارکان بلامقابلہ الیکشن سے پہلے ہی منتخب کرا دیئے گئے۔ چنانچہ پہلے سے جاری حکومت کو بغیر ایک بھی ووٹ ڈالے، آئندہ پانچ سال کا مینڈیٹ سونپ دیا گیا۔

ہندستان نے سفارتی سطح پر کوششیں کرکے واشنگٹن اور دیگر دارالحکومتوں میں الیکشن کے نام پر ہونے والے اس فراڈ کے لیے قبولیت پیدا کی۔ اس وقت کے ہندستانی سیکرٹری اور وزیر خارجہ نے واشنگٹن، لندن اور برسلز کا دورہ کر کے حسینہ واجد کے لیے سازگار فضا پیدا کی۔ دریں اثناء حسینہ واجد نے امریکی حمایت برقرار رکھنے کے لیے ’اسلامی دہشت گردی ‘ کا بھی بھرپور شور مچایا۔ ان کے خفیہ اداروں نے ڈھاکہ اور گردونواح میں کئی جعلی دہشت گرد حملے کر کے بے گناہ لوگوں کو قتل کیا اور کئی افراد کو بغیر کسی ثبوت کے ’دہشت گرد‘ قرار دے کر تختۂ دارپر چڑھا دیا گیا۔ اسلام مخالف مغربی مقتدرہ کی جانب سے حسینہ واجد کی اس حکمت عملی کو سمجھنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی اور مغربی ممالک ایک بے رحم آمر کی حمایت میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہے۔ یوں بنگلہ دیش میں ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کی رات طویل تر ہوتی چلی گئی۔

دسمبر ۲۰۱۸ء میں نورالہدیٰ کی سربراہی میں ہونے والے الیکشن میں عوامی لیگ کے غنڈے اور پولیس کے سپاہی الیکشن سے ایک رات قبل انتخابی باکس بھرتے رہے، تا کہ عوامی لیگ کی جیت یقینی بنائی جا سکے۔ ۳۱ دسمبر ۲۰۱۸ کو ٹائم میگزین نے رائے دہندگان کی حق تلفی پر ایک مضمون شائع کیا، جس کا عنوان ’’ حسینہ واجد کی جیت ووٹروں کی واضح حق تلفی سے عبارت ہے‘‘ تھا۔ بنگلہ دیش میں جمہوریت کے قتل پر جہاں ہر طرف سے مذمت ہوئی، وہیں ہندستان اس دفعہ بھی اپنی کٹھ پتلیوں کے ساتھ کھڑا رہا۔

جنوری ۲۰۲۴ء میں ہونے والے انتخابات کو حسینہ واجد خود ’ڈمی الیکشن‘ قرار دے چکی ہیں۔ ان انتخابات میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں خصوصاً بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش [یاد رہے کہ جماعت اسلامی کے براہِ راست انتخاب میں حصہ لینے پر اس حکومت نے پابندی عائد کر رکھی ہے]کے بائیکاٹ کے بعد عوامی لیگ نے حسینہ واجد کے ’ڈمی‘[جعلی] اُمیدواروں کو میدان میں اتارا اور الیکشن ’جیت‘ لیا۔ بنگالی عوام نے بھی انتخابات کے نام پر ہونے والے اس شرمناک ڈرامے کو مسترد کر دیا اور تمام تر حکومتی کوششوں کے باوجود صرف ۱۰ فی صد لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلے۔ تقریباً ۹۵ فی صد حلقوں میں عوامی لیگ کے اصل اور ’ڈمی‘ اُمیدواروں کو ’فاتح‘ قرار دے دیا گیا۔ کچھ نشستیں دوسری ہندستان نواز جماعتوں کو بھی دے دی گئیں، جن کا انتخاب خود حسینہ واجد نے ’را‘ کے مشورے سے کیا تھا۔ ’حبیب الاول کمیشن‘ نے ۴۱ فی صد ٹرن آؤٹ کا دعویٰ کرتے ہوئے فسطائی حکمرانوں کی خواہش کے مطابق انتخابی نتائج کا اعلان کر دیا۔ نسل پرست اور متنازعہ ہندو وزیر اعظم نریندر مودی نے ۴۸ گھنٹوں کے اندر فون کرکے حسینہ واجد کو اس فراڈ الیکشن میں ’کامیابی‘ اور چوتھی دفعہ وزیر اعظم بننے پر مبارک باد دی۔

 حسینہ واجد نے بھی ہندستان کے ان احسانات کا پورا پورا بدلہ ادا کیا ہے اور اکثریتی عوام کی اُمنگوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تمام ہندستانی مطالبات پورے کیے ہیں۔ تاریخی تناظر میں بنگلہ دیش سے متعلق ہمیں بھارت کے مندرجہ ذیل سفارتی اہداف نظر آتے ہیں:

            ۱-         ہندستان، بنگلہ دیش میں ایک وفادار حکومت چاہتا ہے، جو جنوبی ایشیا میں اس کے عزائم کو پورا کرنے کے لیے معاون ہو سکے۔

            ۲-         ہندستان کو بنگلہ دیش کے بری، بحری اور فضائی وسائل کی ضرورت، تا کہ علیحدگی کے خواہش مند اور متنازعہ شمال مشرقی علاقوں پر گرفت برقرار رکھ سکے۔

            ۳-         ہندستان نہ صرف یہ چاہتا ہے کہ بنگلہ دیش کی جانب سے اسے کوئی دفاعی خطرہ نہ ہو بلکہ یہ مشرق میں بنگلہ دیش کو اپنی چھاؤنی کے طور پر بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔

            ۴-         بنگلہ دیش، ہندستان کے سول اور عسکری منصوبوں کے لیے ایک راہداری ہو سکتا ہے۔

            ۵-         بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی اسلامی بیداری اور ہندستان مخالف سوچ کو دبانے کے لیے بھارت کو یہاں ایک وفادار حکومت کی ضرورت ہے۔

            ۶-         ہندستان اپنی معاشی ترقی کے لیے بنگلہ دیشی وسائل پر قبضے کا خواہش مند ہے تا کہ ایک چھوٹے ہمسائے کی ملکیت کو غصب کر کے اپنے مفادات کو آگے بڑھایا جائے۔

گذشتہ ۱۵ سال میں ہندستان نے یہ تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ ایک اتحادی کا کردار ادا کرتے ہوئے حسینہ واجد نے نہ صرف ملک کا جمہوری انتخابی نظام تباہ کر دیا ہے بلکہ شہریوں کی آزادی اور خودمختاری بھی نئی دہلی کے ہاتھ بیچ دی ہے۔ ایک سابقہ سینئر جرنیل لیفٹیننٹ جنرل (ر) حسن سہروردی جو آج کل سرکاری حراست میں ہیں، کے بقول: ’’بنگلہ دیش ہندستانی مقتدرہ کی پیشگی منظوری کے بغیر اپنا آرمی چیف بھی تعینات نہیں کر سکتا‘‘۔

            ملک کے تمام عسکری، عدالتی اور انتظامی عہدوں پر تعیناتی، ہندستان کے خفیہ اہلکاروں کی ایما اور کلیرنس پر کی جاتی ہے، جو سیکریٹیریٹ اور چھاؤنیوں میں قیام پذیر ہیں۔ ہندستان میں برسرِاقتدار شدت پسند جماعت کی پالیسیوں کے مطابق حسینہ واجد نے ’عظیم بھارت‘ کے لیے ملک کے ۹۰ فی صد مسلمان عوام پر ہندو غلبہ قائم کر دیا ہے۔ ہندو غلبے کے اس عمل کوتیز تر کرنے کے لیے حسینہ واجد حکومت نے تعلیمی نظام میں بھی ہندو ثقافت، روایات، عقائد، داستانوںاور مذہبی رسوم و رواج کو شامل کیا ہے۔ نصابی کتب میں تیرھویں سے سترھویں صدی تک سلاطین کے زمانے میں بنگال کی آزاد سیاسی تاریخ کو بھی مسخ کر کے دکھایا جاتا ہے۔ دوسری طرف بالکل یہی عمل ہندستان میں دُہرایا جا رہا ہے، جہاں نسل پرست حکومت اپنی کتابوں میں مغل سلطنت اور سلاطین دہلی کی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرتی ہے۔ اس سب کا حتمی مقصد یہ ہے کہ آغاز میں ہی نوجوانوں کے ذہن میں غلط معلومات اور مسخ تاریخ کو داخل کر کے بنگالیوں کا اسلامی تشخص ختم کر دیا جائے۔

سارک ریاستوں میں سے بھوٹان باضابطہ طور پر ہندستانی تسلط میں ہے۔ ہمالیہ میں واقع اس سلطنت نے نوآبادیاتی نظام کے خاتمے پر بھی آزادی کا چہرہ نہیں دیکھا۔ بیسویں صدی کے آغاز سے یہ علاقہ برطانوی ہندستان کے انتداب میں تھا۔ ہندستان کو نہ صرف یہ تعلق ورثے میں ملا، بلکہ ۱۹۴۹ء میں بھارت۔بھوٹان معاہدے کے ذریعے اس کو قانونی حیثیت بھی دے دی گئی۔ تب سے یہ ریاست باقاعدہ طور پر براہ راست نئی دہلی کے زیرتسلط ہے۔ اکیسویں صدی میں حسینہ واجد کے ذریعے ہندستان نے بنگلہ دیش کو بھی یہی حیثیت دے دی ہے۔ بھارت میں انتہاپسند نسل پرستی کے عروج کے ساتھ عسکری طور پر کمزور ممالک مثلاً بنگلہ دیش اور بھوٹان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

’ہندوتوا‘ کا فلسفہ جنوبی ایشیا میں ہندو غلبے کا علَم بردار ہے۔ سخت قسم کے شدت پسند ہندو سمجھتے ہیں کہ ’اکھنڈ بھارت‘ کا نقشہ بنگلہ دیش سے لے کر افغانستان تک پورے جنوبی ایشیا پر مشتمل ہو گا۔ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کا جنون انتہا پسند ہندوؤں کی کئی نسلوں کو اپنی گرفت میں لے چکا ہے۔ مشرق اور جنوب میں واقع ممالک کو فتح کرنا نسل پرست مودی حکومت کے لیے ضروری ہے تاکہ اپنے ووٹروں کو مطمئن رکھا جا سکے۔ حسینہ واجد اس مہم میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ بڑی ذمہ داری سے تمام علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر ہندستانی موقف کی تائید کرتی نظر آتی ہیں۔ چنانچہ ہندستان کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ بنگلہ دیش میں عوامی حمایت کے ساتھ یا اس کے بغیر، حسینہ واجد کی حکومت قائم رکھی جائے۔ پس حسینہ واجد کی فسطائی حکومت کے خلاف بنگلہ دیش کے جمہوریت پسند، مگر مظلوم اور مجبور عوام کی جدوجہد دراصل ملکی خودمختاری کے حصول کے ساتھ براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔

ویسے تو ۲۰۱۹ء ہی میں بھارتی سپریم کورٹ کے عجیب و غریب فیصلے نے ایودھیا شہر میں واقع تاریخی بابری مسجد کی شہادت پر مہر لگادی تھی، مگر اب اس سال ۲۲جنوری کو اسی مسجد کی جگہ پر ایک بہت بڑے رام مندر کے افتتاح کے بعد یہ مسجد تاریخ کے اوراق میں گم ہوگئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے خود ہی اس مندر کا افتتاح کرکے بھارتی سیکولرازم کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ مندر کے افتتاح سے قبل اور بعد میں پورے ملک میں یاترائیں نکالی گئیں اور کئی جگہوں پر شرپسندوں نے مسلم محلوں میں شر انگیزی کی۔ مسجدوں کے سامنے ’جے شر ی رام‘ کے نعرے لگائے گئے۔ دفاتر میں ایک دن کی چھٹی دی گئی اور دیوالی کی طرح چراغاں کیا گیا، کیونکہ بتایا گیا کہ چار سو برسوں کے بعد بھگوان رام کو اپنا گھر نصیب ہوا ہے۔

اساطیری کہانی رامائن کے مطابق:جب بارہ سال کے بن باس کے بعد رام واپس ایودھیا شہر آگئے تھے، تو اس وقت بھی اس طرح کا جشن نہیں منایا گیا ہوگا، جو اس وقت منایا گیا۔ ایودھیا میں پجاری پرم ہنس اچاریہ نے مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر کا پتلا جلا کر اپنے دل کی بھڑاس نکال دی۔ مندر کے افتتاح کو پران پرتشٹھا کا نام دیا گیا، یعنی سیاہ پتھر سے بنی بھگوان رام کی جو مورتی اس مندر میں رکھی گئی، اس میں روح داخل کی گئی۔ ویسے ۱۹۴۹ء میں جب یہ قضیہ شروع ہوا تھا، تب بتایا گیا تھا کہ ’’بابری مسجد کے محراب میں بھگوان رام کی ایک چھوٹی سی مورتی نمودار ہوگئی‘‘، جس سے اخذ کیا گیا، کہ رام اسی جگہ پر پیدا ہوئے تھے۔سپریم کورٹ نے بھی مسمار شدہ بابری مسجد کی جگہ اسی مورتی یعنی رام للا کو دی۔ تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ نرموہی اکھاڑہ سے تعلق رکھنے والے چندافراد عشا ء کی نماز کے بعد رات کی تاریکی میں دیوار پھاند کر مسجد میں گھس گئے اور مورتی محراب کے پاس رکھ دی، جس کی شکایت مسجد کے قریب رہائشی ہاشم انصاری نے درج کروائی ۔ اگلے دن پورے شہر میں افواہ پھیل گئی کہ بابری مسجد کی محراب میں رام کی مورتی نمودار ہوگئی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے اس افواہ کی علّت کا تدارک کرنے کے بجائے مسجد پر ہی تالا چڑھا دیا۔ بعد میں ۱۹۸۰ء کی دہائی میں ہندوؤں کو پوجا پاٹ کرنے کی اجازت دی۔

ہندستان دھرم کے چار شنکر اچاریوں نے اس افتتاحی تقریب میں یہ کہہ کر شرکت کرنے سے منع کردیا کہ ’’ابھی مندر کی تعمیر نامکمل ہے اور اس میں کیسے مورتی میں روح ڈالی جاسکتی ہے؟ پوری تعمیر میں ابھی ایک سال اور لگ سکتا ہے‘‘۔ مگر مودی تاریخ میں اپنا نام درج کروانے کے علاوہ اس سال اپریل-مئی میں ہونے والے عام انتخابات میں ووٹروں کے دل لبھانے کے لیے ایجنڈے کو ترتیب دینے کے لیے بے چین تھے۔ ان کے رفقا نے تو اُلٹا شنکر اچاریوں پر ہی سوالات اٹھائے اور مودی ہی کو بھگوان ویشنو کا اوتار قرار دیا۔ جس طرح مودی کو اس مندر کے افتتاح کی جلدی تھی، لگتا ہے کہ عام انتخابات کے حوالے سے وہ خاصے فکرمند ہیں اور اقتدار میںواپسی کا ان کو شاید یقین نہیں ہے۔ ان کو معلوم تھا کہ اگر وہ انتخاب ہار جاتے ہیں یا کسی وجہ سے دوبارہ مسند پر بیٹھ نہیں پاتے، تو ان کی اپنی پارٹی ہی ان کی یاد کو ایسے کھرچ ڈالے گی، جیسے وہ کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ یہ اس جماعت کا وتیرہ رہا ہے۔ جو کچھ ایل کے ایڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کے ساتھ ہوا، مودی کو شاید آئینے میں وہ سب نظر آرہا تھا۔

ہندو قوم پرست جماعتیں، خاص طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) تین متنازعہ ایشوز  لے کر ہی انتخابی میدان میں اترتی ہے۔ یہ ایشوز تھے بابری مسجد کی جگہ ایک عظیم الشان رام مندر کا قیام ، جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ، اور پورے ملک میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ۔ پچھلے دس سالہ دور اقتدار میں مودی حکومت نے دو اہم وعدوں کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ یکساں سول کوڈ، مسلمانوں کے بجائے قبائل اور ہندوؤ ں کے ہی مختلف فرقوں کو قابل قبول نہیں ہے، کیونکہ شادی بیاہ کی رسوم بھارت کے ہر خطے میں مقامی رواج کے ساتھ عمل میں آتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق: ’’بی جے پی کے پاس ہندو ووٹروں کو لام بند کرنے کے لیے تین اہم ہتھیار: ’’گائے، پاکستان اور مسلمان‘‘ ہوتے ہیں۔ ۲۰۱۴ء کے انتخابات میں ’’گائے کو تحفظ فراہم کرنا‘‘ ایک اہم ایشو تھا۔ گائے اب اس حد تک محفوظ جانور ہے، کہ شمالی بھارت میں کسانوں کے لیے درد سر بن چکی ہے۔ دودھ خشک ہونے کے بعد ان کو گھروں سے نکالا جاتا ہے، تو یہ دندناتے ہوئے بغیر کسی خوف کے کھیتوں میں گھس کر کھڑی فصلوں کو تہس نہس کرتی رہتی ہیں۔ چند برس قبل مدھیہ پردیش کے کسی شہر میں ایک ٹرک حادثہ میں کسی بزرگ خاتون کی جان چلی گئی، جو سڑک کے کنارے چہل قدمی کررہی تھی۔ ٹرک کے ڈرائیور نے بتایا کہ سڑک پر ایک گائے کو بچانے کے لیے اس نے فٹ پاتھ پر ٹرک موڑ دیا، جس سے بزرگ خاتون کی جان چلی گئی۔ اس کا استدلال تھا کہ اگر گائے کو ٹکر لگ جاتی تو وہ اور اس کا ٹرک ’ہجومی تشدد‘ کی نذر ہوجاتا۔ خاتون کی جان جانے سے کم از کم وہ اور اس کا ٹرک تو محفوظ رہا۔ گائے کا ایشو انتخابات میں کیش ہو چکا ہے، اب اس پتّے پر ووٹ کی بازی جیتنا مشکل ہے۔

 بی جے پی نے۲۰۱۹ء میں ’پاکستان اور قومی سلامتی‘ کے ایشو کو لے کر بھاری منڈیٹ حاصل کرلیا۔ انتخابات سے بس چند ماہ قبل جنوری ۲۰۱۹ء میں رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق مودی حکومت خاصی غیر مقبول ہوگئی تھی اور ۵۴۳ رکنی ایوان میں بی جے پی ۲۰۰ سیٹوں کے اندر ہی سمٹ کررہ گئی تھی۔ مگر فروری میں کشمیر میں پلوامہ کے مقام پر فوجی ہلاکتوں اور پھر بالاکوٹ پر فضائیہ کے آپریشن نے تو فضا ہی بدل ڈالی اور انتخابی نتائج میں بی جے پی نے ۳۰۰کا ہندسہ عبور کرلیا۔ اب اس وقت پاکستان خود ہی اپنے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر بھی کامیابی کے ساتھ رُوبہ عمل ہے۔ اب لے دے کے ایک ہی ایسا ایشو بچتا ہے، ’’وہ ہے مسلمان‘‘۔

 رام مندر کے افتتاح کے لیے بھارتی وزیر اعظم کا خود موجود رہنا اور اس تقریب کو ’’صدیوں کی غلامی کا طوق اُتار پھینکنے‘‘ سے تشبیہ دینا ، واضح پیغام دے رہا تھا کہ اس بار ہدف  براہِ راست مسلمان ہے۔ اس لیے رام مندر کے افتتاح کے دن کو پورے ملک میں دیوالی کی طرح منایا گیا۔بی جے پی کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ جنوبی بھارت میں اس کی دال گل نہیں رہی ہے۔ اگرچہ ریاست کرناٹک کے بغیر باقی جنوبی ریاستوں میں اس کا وجود پہلے سے ہی برائے نام تھا، مگر تلنگانہ، آندھرا پردیش اور تامل ناڈو میں وہ مقامی پارٹیوں کے کندھوں پر سوار ہوکر کسی طرح اپنا اُلو سیدھا کیا کرتی تھی۔ مگر یکے بعد دیگرے کرناٹک اور پھر تلنگانہ میں کانگریس کی جیت نے ان مقامی پارٹیوں کے غبارے سے ہوا نکال کر رکھ دی ہے اور تامل ناڈو میں اس کی اتحادی پارٹی ڈی ایم کے (DMK) بھی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ لوک سبھا میں جنوبی بھارت کی ۱۳۲نشستیں ہیں۔

 بی جے پی نے ۲۰۱۹ء میں جن۳۰۳نشستوں پرقبضہ کیا، ان میں ۳۰ سیٹیں جنوبی بھارت سے تھیں۔ ۲۲۴نشستوں پر اس کو ۵۰فی صد سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔ حکومت سازی کے لیے لوک سبھا میں ۲۷۲سیٹیں رکھنا لازمی ہے۔ یعنی اس ہدف کو پار کرکے بی جے پی کے پاس اضافی ۳۱سیٹیں ہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر بی جے پی شمالی بھارت کی سبھی ۲۲۴سیٹیں برقرار بھی رکھتی ہے، تو اس کو مزید ۴۸سیٹیں ساتھ ملانے کے لیے خاصی جدو جہد کرنی پڑے گی۔ پچھلی بار اس کو مہاراشٹرا، مغربی بنگال، اڑیسہ، تلنگانہ اور شمال مشرقی صوبوں سے کل ملا کر ۷۹سیٹیں حاصل ہوئی تھیں، جس نے اس کی تعداد کو تین سو سے اوپر پہنچایا دیا تھا۔

اس بار ان صوبو ں میں کانگریس کے زیر قیادت نو زائدہ ’انڈیا‘ ( یعنی انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائینس)اتحاد کو خاصی سیٹیں ملنے کا امکان ہے۔ بی جے پی کے اپنے اندرونی سروے کے مطابق اگر اپوزیشن متحدہ ہوکر لڑتی ہے تو ۱۰۱؍ایسی سیٹیں ہیں، جن پر دوبارہ جیتنا مشکل ہے۔ اگرچہ ابھی اپوزیشن میں سیٹوں کے بٹوارے پر خاصی لے دے ہونے کے امکانات ہیں، مگر جس طرح ابھی حال ہی میں پارلیمنٹ اراکین کو تھوک کے حساب سے معطل کر دیا گیا اور تفتیشی ادارے اپوزیشن لیڈروں کو زچ کررہے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ وہ متحدہوکر انتخابات میں آر یا پار کی لڑائی لڑیں گے۔ اس وجہ سے بی جے پی کے لیڈروں کی نیند اُڑی ہوئی ہے۔ وہ اس تاک میں ہیں کہ کوئی ایسا ایشو ہاتھ آجائے ، جس سے ۲۰۱۹ءکی طرح پورے ملک کو سحر میں گرفتار کرکے ووٹ اس کی جھولی میں گر جائیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی رام مندر کا افتتاح ہے۔

 بابری مسجد پر جب سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تھا، تو لگتا تھا کہ اب ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دیرینہ تنازعات ختم ہو جائیں گے۔ ۸۰کی دہائی کے آخر میں جب اس قضیہ نے ایک خون ریز رُخ اختیار کیا تھا، تو کئی مسلم لیڈروں اور علما جن میں مولانا وحید الدین خان پیش پیش تھے، مشورہ دیتے تھے، کہ ’’فرقہ وارانہ ماحول کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کو اس مسجد کی قربانی دینی چاہیے‘‘۔ مگر بقول سینئر صحافی عبدالباری مسعود، ’’یہ سہانا خواب اَدھورا ہی رہ گیا۔ اب تو ہر دوسرے دن کسی نہ کسی مسجد پر دعویٰ ٹھونک کر ہندو تنظیمیں عدالتوں کا رُخ کرتی ہیں‘‘۔ اس سلسلے میں ابھی تک وارانسی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی عید گاہ مسجد پر عدالت نے شنوائی بھی شروع کردی ہے۔ گو کہ نوّے کی دہائی میں پارلیمنٹ نے عبادت گاہوں کی موجودہ حیثیت کو ۱۹۴۷ءکی پوزیشن میں جوں کا توں رکھنے کا قانون پاس کیا تھا، تاہم اس میں صرف بابری مسجد کو باہر رکھا گیا تھا۔ مگر اب عدالتوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون گو کہ موجودہ پوزیشن کو جوں کا توں رکھنے کی بات کرتا ہے، مگر یہ مسجد کسی اور عمارت یا عبادت گا ہ کے اوپر بنی ہے، اس کا فیصلہ کرنے یا تجزیہ کرنے سے نہیں روکتا ہے۔ ویسے اس پورے قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے، اور اس پر جلدیا بدیر کوئی فیصلہ آہی جائے گا۔ لیکن جس طرح کا فیصلہ بابری مسجد کے سلسلے میں آیا، اس کے بعد عدالت سے کس طرح کی توقع کرسکتے ہیں۔

 مستقبل کا مؤرخ بھی حیران و پریشان ہوگا کہ اکیسویں صدی میں بھی کسی جمہوری ملک کی عدالت کوئی ایسا فیصلہ دے سکتی ہے!وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی حکومت میں مشیر اور تجزیہ کار موہن گوروسوامی کے مطابق: ’’عدالت کا فیصلہ کچھ اس طرح کا تھا کہ کسی کے مکان پر قبضہ کرنا اور اس کو مسمار کرنا غیر قانونی اور جرم ہے، مگر اس کی جگہ پر نئے مکان کی تعمیر جائز ہے اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے‘‘۔۲۰۱۹ء میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے استدلال کے بجائے عقیدے کو فوقیت دے کر متنارعہ زمین، اساطیری شخصیت، ہندو دیوتا رام للاکے سپرد کرکے، وہاں پر ایک مندر بنانے کے لیے راستہ صاف کردیا تھا۔

اس فیصلے میں بھی کورٹ نے ہندو فریق کے دلائل کی دھجیاں بکھیر دی تھیں۔ ان کی دلیل بھی رَد کردی کہ مسجد کسی مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے اندر مورتیاں رکھنے اور مسجد کو منہدم کرنے کے واقعات کو بھی غیر قانونی اور مجرمانہ سرگرمی قرار دیا ۔ کورٹ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہاں بابری مسجد ایستادہ تھی اور نماز کا سلسلہ منقطع ہوجانے سے مسجد کا وجود ختم نہیں ہوجاتا۔عدالت نے مسجد کے نیچے کسی تعمیر کا تو اشارہ دیا ہے، مگر یہ تعمیر ۱۶ویں صدی کے بجائے ۱۱ویں صدی کی تھی۔ یہ بھی کہا ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ نے یہ نہیں بتایا کہ مسجد کی تعمیر مندر توڑ کر کی گئی تھی۔فیصلے کا دلچسپ پہلو یہ ہے، کہ عدالت نے فیصلہ ہندوؤں کے حق میں تو دیا، مگر مسمار شدہ مسجد کی زمین، ہندو فریقین کو دینے کے بجائے ، بھگوان رام کے سپرد کرنے کے احکامات صادر کر دیئے۔ پھر یہ بھی بتایا کہ چونکہ رام للا، نابالغ ہے، اس لیے اس کی سرپرستی کے لیے حکومت کو ایک ٹرسٹ بنانے کے لیے تین ماہ کا وقفہ دے دیا۔کورٹ نے بتایا کہ چونکہ رام للا کی مورتی بابری مسجد کی جگہ پر تعمیر کیے گئے عارضی مندر میں براجمان ہے، اس لیے وہ جگہ ان کی ملکیت ہے۔ کورٹ نے رام للا کو Juristic Personیعنی معنوی و اعتباری شخص، جس پر قانون کے سبھی حقوق و فرائض کا اطلاق ہوتا ہے، قرار دیا۔

 بابری مسجد کا مقدمہ ایک سیدھا سادا سا ملکیتی معاملہ تھا۔مگر جج صاحبان نے برسوں کی عرق ریزی کے بعد قانون اور آئین کی پروا کیے بغیرکہا کہ Law of Limitations کا اطلاق ہندو دیوی،یوتائوں پر نہیں ہوتا ہے اور نہ ان جگہوں پر ہوتا ہے جہاں ان کی نشانیاں ہوں۔ دوسرے لفظوں میں کسی بھی جگہ پر کوئی شخص کوئی مورتی، چاہے وہ پتھرکا ٹکڑا یا کسی درخت کی شاخ یا پتا ہی کیوں نہ ہو، رکھ کر اس پر مالکانہ حقوق جتا سکتا ہے، چاہے اس جگہ کا مالک وہاں صدیوں سے ہی مقیم کیوں نہ ہو۔ اس فیصلے کا اعتبار اور بھی مضحکہ خیز ہو جاتا ہے، جب جج صاحبان نے یہ تسلیم کیا کہ ’’بھگوان رام کا جنم اسی مقام پر ہوا جہاں بابری مسجدکا منبر واقع تھا‘‘، اور یہ بھی کہا کہ ان کے مطابق: ’’رام آٹھ لاکھ سال قبل مسیح میں اس جگہ پر موجود تھے‘‘۔ مگر دوسری طرف دنیا بھر کے تاریخ دان اور آثار قدیمہ کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جنوبی ایشیا میں اتنی پرانی آبادی کے کوئی آثارابھی تک نہیں ملے ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ آزاد اور خودمختار ہی سہی، مگر جب اس طرح کامعاملہ یہاں پر پہنچتا ہے تو انصاف کی دیوی حقیقت میں آنکھوں پر پٹی باندھ لیتی ہے۔ اگر اس کو عدالتی بحث کا موضوع بنایا جاتا ہے، تو بہت سے مندروںاوردیگر عمارتوں کو توڑنا پڑے گا۔بھارت کے طول و عرض میں لاتعداد مندر تو بدھ مت اور جین مت کی عبادت گاہوں کو توڑ کر بنائے گئے ہیں۔ آٹھویں صدی میں آدی شنکر آچاریہ نے جب ہندو مت کے احیا کی خاطر ملک کے طول و عرض کا دورہ کرکے بدھ بھکشوؤںکے ساتھ مکالمہ کیا، تو بدھ عبادت گاہوں کو مندروں میں تبدیل کرایا۔ اشوکا [م:۲۳۲ ق م] اور کنشکا [پیدائش:۷۸ء]کے عہد حکومت میں تو بھارت کی کثیر آبادی بدھ مت اختیار کر چکی تھی، تو پھر آج بھارت میں بد ھ آبادی محض ۸۵ لاکھ یعنی کل آبادی کا اعشاریہ سات فی صد ہی کیوں ہے؟

بھارت میں ایک خطرناک نظیر پیش کر دی گئی ہے کہ مسلم دور کی کسی بھی عمارت کو لے کر تنازع کھڑا کر دیا جائے پھر محکمہ آثار قدیمہ سے کھدائی کرا کے اس کے نیچے کوئی ہندو اسٹرکچر بتا دیا جائے اور پھر اسے کھود ڈالا جائے۔ ہندی کے ایک معروف صحافی و سماجی کارکن شتیلا سنگھ نے اپنی ایک تصنیف ایودھیا۔رام جنم بھومی بابری مسجد وواد  کا سچ  میں انکشاف کیا ہے کہ کس طرح تین عشرے قبل ان کی موجودگی میں پرم ہنس رام چندر داس کی قیادت میں فریقین نے ایک فارمولے پر اتفاق کیا تھا۔ ’ویشوا ہندو پریشد‘ (VHP)کے سربراہ اشوک سنگھل جب اس فارمولے پر مہر لگانے کے لیے ہندو انتہا پسندو ں کی مربی تنظیم آرایس ایس کے سربراہ بالا صاحب دیورس کے پاس پہنچے ، تو ان کو خوب پھٹکار لگائی گئی۔ دیورس کا کہنا تھا ’’ رام مندر تو ملک میں بہت ہیں، اس لیے اس کی فکر (یعنی رام مندر کی تعمیر) چھوڑ کر اس کے ذریعے ہندو ؤں میں آرہی بیداری کا فائدہ اٹھانا ہے‘‘۔ یعنی اگر معاملہ سلجھ جاتا ہے تو فرقہ وارانہ سیاست کی آگ سرد ہوجائے گی اور اقتدار تک پہنچنے کا راستہ بند ہوجائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق: بابری مسجدکا سانحہ اس خطے کی جدید تاریخ کے چھ بڑے واقعات میں سے ایک ہے۔ پہلا ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی، دوسرا ۱۹۲۰ء میں گاندھی کی قیادت میں کانگریس کا  نیا آئین اور سوراج کا مطالبہ، تیسرا ۱۹۴۷ء میں برصغیر کی تقسیم اور آزادی، چوتھا ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کا وجود میں آنا‘ اور پانچواں ۱۹۸۴ء میں سکھوں کی مقدس عبادت گاہ گولڈن ٹمپل پرحملہ اور چھٹا ۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کا انہدام‘ جو دراصل اعتماد کا انہدام تھا۔

بابری مسجد کے قضیے کا لاہورکی مسجد شہید گنج کیس کے ساتھ موازنہ کرنا بے جا نہ ہو گا۔ یہ کیس اور اس پر پاکستانی سوسائٹی کا رویہ ’ہندوستانی سیکولرازم‘ او ر اس کی نام نہاد لبرل اقدار پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ ۱۷۶۲ء میں لاہور پر سکھوں کے قبضے کے بعد اس مسجد پر ان کے فوجیوں نے ڈیرہ ڈالا اور بعد میں اس کوگوردوارہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ۱۸۴۹ء میں جب پنجاب برطانوی عمل داری میں شامل ہوا تو مسلمانوں نے اس مسجد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ ’پریوی کونسل‘ نے Law of Limitation کو بنیاد بنا کر اس کا فیصلہ سکھوں کے حق میں کیا۔ ۱۸۵۰ء میں مسجد کے متولی نور احمد نے عدالت میں فریاد کی اور وہ ۱۸۸۰ء تک قانون کے مختلف دروازوں پر دستک دیتے رہے، مگر ہر بار Law of Limitation کا حوالہ دے کر عدالتیں ان کی اپیلوں کو خارج کرتی رہیں۔ ۱۹۳۵ء میں انگریز گورنر نے اس عمارت کو محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد کرنے کی تجویز دی ‘ جس پر ابھی رائے عامہ ہموار ہو ہی رہی تھی کہ سکھوں نے رات کے اندھیرے میں مسجد کی عمارت ڈھا دی۔ جب بادشاہی مسجد لاہور سے ناراض مسلمانوں نے ایک پُرجوش جلوس نکالا تو کئی افراد لاہور کی سڑکوں پر گولیوں سے شہید کردیئے گئے۔ پورے لاہور میں کرفیو نافذکرنا پڑا۔ عدالتی فیصلے کو رَد کرنے کے لیے مسلم لیگ کے اراکین نے پنجاب اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے یہ جگہ مسلمانوں کے سپرد کرنے کی تجویز پیش کی۔ معروف قانون دان اور مؤرخ اے جی نورانی کے بقول قائد اعظم محمد علی جناح نے اسے رد کر دیا ۔ قائد اعظم کے شدید ناقد ہونے کے باوجود نورانی کا کہناہے کہ انھوں نے اس قضیے کو کبھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیںکیا، بلکہ قانون کی عمل داری کا پاس کیا۔ پاکستان بننے کے ۷۰ سال بعد بھی یہ گوردوارہ لنڈا بازار میں آب و تاب کے ساتھ کھڑا ہے، جب کہ شاید ہی اب کوئی سکھ اسے عبادت کے لیے استعمال کرتا ہو۔ لاہور میں جس طرح اس مسئلے نے جذباتی رُخ اختیار کیا تھا، آزادی کے بعداندیشہ تھاکہ اس کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، مگر کسی پاکستانی سیاستدان یا مذہبی شخصیت نے عدالت کا فیصلہ رد کرنے کی کوشش نہ کی۔

 اس کے برعکس بھارتی عدلیہ کی جانب داری کا عالم یہ ہے کہ ایک سابق چیف جسٹس جے ایس ورما نے ’ہندوتوا‘ کو مذہبی علامت کے بجائے بھارتی کلچرکی علامت اور ایک نظریۂ زندگی بتایا ۔ انھوں نے ہندو انتہا پسندوںکے گورو ویر ساورکر یا گولوالکر کی تصنیفات کے بجائے مولانا وحیدالدین خان کی تحریروںپر اعتماد اور انحصار کر کے ہندو انتہا پسندی کو ایک جواز فراہم کردیا۔ ۱۹۹۲ء میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس وینکٹ چلیا کے طریق کار نے بھی مسجد کی مسماری کی راہ ہموارکی۔ وہ مسجد کو بچانے اور آئین و قانون کی عمل داری کو یقینی بنانے کے بجائے کار سیوکوں (مسجد کو شہید کرنے والے) کی صحت کے بارے میں زیادہ فکرمند تھے۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ ۱۹۹۸ء میں بی جے پی حکومت نے انھیں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن کا سربراہ مقرر کردیا۔

 نورانی نے اپنی کتابDestruction of Babri Masjid:A National Dishonour میں کئی حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس کے اندرا گاندھی کے دور اقتدارمیں ہی بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے لیے ’ویشوا ہندو پریشد‘ کے ساتھ ایک ڈیل ہوئی تھی۔اگرچہ پریشد نے اندرا گاندھی کی ہلاکت کے بعد اپنی تحریک روک دی، مگر راجیو گاندھی نے اس ڈیل کو پھر زندہ کیا،تاہم اس سے پہلے وہ مسلمانوں پر کوئی احسان کرنا چاہتے تھے۔  اس کے لیے ان کے حواریوں نے ایک مسلم مطلقہ خاتون شاہ بانو کا قضیہ کھڑا کرکے پارلیمنٹ سے ایک قانون پاس کروایا کہ مسلم پرسنل لا میں عدالت کوئی ترمیم نہیں کر سکتی۔مصنف کے بقول انھوں نے راجیو گاندھی کو مشورہ دیا تھا کہ اس قضیہ کو کھینچنے کا کو ئی فائدہ نہیں ہے، اور اس کو اینگلو محمڈن قانون کے بجائے شرعی قانون کے مطابق حل کیا جاسکتا ہے ،مگر وہ مسلمانوںکو سیاسی طور پر بے وقوف بنانے پر تلے ہوئے تھے، تاکہ پریشد کے ساتھ ڈیل کو آگے بڑھایا جاسکے۔ اور یہی ہوا۔

کانگریس پارٹی کے علاوہ دیگر سیکولر جماعتوں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی، جن کی سانسیں ہی مسلمانوں کے دم سے ٹکی ہیں، کا رویہ بھی افسوس ناک رہا ہے۔ ان دونوں پارٹیوں نے،جو پچھلے ۲۰برسوں سے اتر پردیش میں حکومت کر رہی ہیں ،بابری مسجد کی مسماری کے ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے میں کبھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔حتیٰ کہ ایک معمولی نوٹیفکیشن تک کا اجرا نہیں کرسکیں، جس سے خصوصی عدالت میں ان افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا۔

یہ ہے بھارت میں سیکولرزم کا جنازہ اور ہندو نسل پرستی کا جادو!

کشمیریوں کے خصائل اور کردار پر بات کرتے ہوئے پنڈت نہرو نے کہا تھا: کشمیری بہت ذہین اور بہت سی صلاحیتوں کے حامل ہونے کے باوجود شرپسند نہیں ہیں، بلکہ یہ لوگ نرم خو اور آرام دہ طرزِ زندگی کے خواہش مند ہیں۔ جنھیں چند ایک چیزوں جیسے ایمان دار انتظامیہ اور سستی و مناسب غذا کے سوا دوسری چیزوں سے سرو کار نہیں، اور اگر انھیں یہ چیزیں فراہم کر دی جائیں تو یہ لوگ آپ کے مد مقابل ہرگز کھڑے نہیں ہوں گے۔ کہتے ہیں نہرو نے شیخ محمد عبداللہ سے یہ بھی کہا تھا: بھارت کشمیریوں کو سونے کی زنجیروں میں جکڑ لے گا یہاں تک کہ یہ لوگ آزادی اور حقِ خود ارادیت جیسے الفاظ ہی بھول جائیں گے۔

اگرچہ نہرو کی ان دونوں مبینہ باتوں سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کیا جاسکتا لیکن اس سے بہرحال ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نہرو کیونکر مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے بہانے طول دینا چاہتے تھے، تاکہ وہ وقت حاصل کر کے کشمیریوں کو سونے کی زنجیروں میں جکڑ سکیں۔ ۱۹۵۲ء میں پنڈت نہرو نے ایک خط کے ذریعے شیخ عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کے ذریعے متنازعہ الحاق کی توثیق کروا کر اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں، کیونکہ اس مسئلے کی وجہ سے ہی بھارت کے اپنے پڑوسی پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے جو عالمی سطح پر بھارت کے لیے سبکی کا باعث بن رہے تھے۔ مگر شیخ عبداللہ کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ وہ دہلی کے ساتھ ’تیتر بٹیر والا‘ کھیل کھیل رہے تھے۔ چنانچہ جب وہ دلی جاتے تو بھارت کے حق میں بیان داغ دیتے، اور جب کشمیر میں ہوتے تو الحاق ہند کی مخالفت میں بیان دیتے۔اس پر مستزاد یہ کہ جب شیخ عبداللہ کے نہرو کے ساتھ اچھے تعلقات ہوتے تو اس وقت وہ خود کو ہندوستانی کہتے، لیکن جونہی نہرو کے ساتھ ان کی ذرا سی اَن بن ہو جاتی، تو وہ کشمیر کی آزادی کی بات کرنے لگ جاتے۔ شیخ عبداللہ کا یہ رویہ نہرو اور سردار پٹیل کو کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں تھا۔ ویسے بھی انھیں جو کام ان سے لینا تھا، وہ پہلے ہی لے چکے تھے۔ ان کے نزدیک اب شیخ عبداللّٰہ کی وہ اہمیت نہیں رہی تھی جو ۱۹۴۷ء تک تھی۔

 اب پیمانے بدل چکے تھے اور بھارتی حکومت کشمیر میں نئے چہرے تلاش کر رہی تھی، جو ان کے منصوبوں کے عین مطابق کام کرسکیں۔ اس کام کے لیے کانگریس کی نظرِ انتخاب شیخ عبداللّٰہ کے قریبی ساتھی بخشی غلام محمد پر جا پڑی، چنانچہ ۱۹۵۳ء میں نہرو نے شیخ عبداللّٰہ کو کرسی سے اتار کر جیل میں ڈال دیا اور بخشی غلام محمد کو کشمیر کا وزیر اعظم بنا دیا۔ بخشی غلام محمد نے ’نیا کشمیر‘ کا نعرہ لگا کر کشمیر کی معاشی ترقی اور خوش حالی کا بیڑا اٹھایا اور حکومت کرنے لگے۔ اقتدار میں آتے ہی بخشی غلام محمد نے کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کے ذریعے متنازعہ الحاق کی توثیق کرا دی اور اپنا سارا زور کشمیری قوم کو بھارتی یونین میں ضم کرنے میں لگا دیا۔ یہ انضمام صرف زمینی اور سیاسی نہ تھا بلکہ معاشی انضمام بھی تھا۔ اس مقصد کی خاطر بخشی حکومت کے لیے نئی دہلی حکومت نے اپنے خزانے کھول دئیے۔

شیخ عبداللّٰہ کے دور حکومت میں کشمیر کے ہوم سیکرٹری اور پھر ہوم منسٹر رہنے والے ڈی پی دھر، پنڈت نہرو کے خاص آدمی تھے۔ انھوں نے بقولِ شیخ عبداللّٰہ نہرو کو یہ مشورہ دیا کہ کشمیریوں کو سیاست بالکل بھی نہیں آتی، زیادہ سے زیادہ اگر انھیں کسی چیز کی فکر ہے تو وہ ہے مناسب اور دلکش کھانا۔  ڈی پی دھر کے بقول کشمیریوں کے دل تک پہنچنے سے پہلے ان کے معدے تک رسائی حاصل کرنی ہوگی۔ رفتہ رفتہ جب یہ لوگ بہترین کھانا اور مفت سہولیات حاصل کر کے آسان طرزِزندگی کے عادی ہو جائیں گے، تو لازماً آزادی کو بھول جائیں گے۔ دھر کے الفاظ میں They could be won over gastronomically ۔ یہ حکمت عملی برطانیہ کی چین میں اپنائی جانے والی ’افیون حکمت عملی‘ کے طرز پر تھی۔

 بخشی غلام محمد نے اسی حکمت عملی کے تحت لوگوں کو غلامی کا خوگر بنانا شروع کیا۔ انھوں نے لوگوں کو سرکاری نوکریاں دینا شروع کیں اور ہر کس و ناکس کے لیے حکمنامے جاری کرنے شروع کیے۔ اس طرح رفتہ رفتہ کشمیری قوم کو ایک خاص Comfort Zone (گوشۂ عافیت) میں دھکیلا گیا۔  اس حکمت عملی کو Politics of Life کہا جاتا ہے، جس میں مقبوضہ علاقے کا باقی دنیا سے رشتہ کاٹ کر مکمل طور پر قابض ملک کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ فلسطین میں اسرائیل اور کشمیر میں بھارت اسی حکمت عملی کے ذریعے لوگوں کے عزم کو کمزور کر رہے ہیں۔ مشہور ہے کہ جب کوئی شخص بخشی غلام محمد کے پاس نوکری مانگنے جاتا تو بخشی صاحب وہیں بیٹھے بیٹھے ماچس کے ڈبے پر یا کاغذ کی پھٹی ہوئی سلپ پر اسے نوکری کا پروانہ تھما دیتے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ جو شخص بخشی کے دور میں بھی بھوکا رہا، وہ زندگی بھر پھر کبھی پیٹ بھر کھانا نہیں کھا سکتا۔اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بخشی دورِ حکومت میں پیسے اور سہولیات کی کتنی ریل پیل رہی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی آسودگی کے اعتبار سے بخشی دور حکومت کو کشمیر کا منفرد دور قرار دیا جاتا ہے۔

تاہم اس دور کے پیچھے دو وجوہ کارفرما تھیں: پہلی یہ کہ کشمیر میں تعمیر و ترقی کو فروغ دے کر اول تو دنیا کے سامنے یہ دلیل پیش کی جائے کہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے اور لوگ بھارت کے ساتھ الحاق کر کے خوش ہیں۔ دوم یہ کہ کشمیری قوم کو کمفرٹ زون میں دھکیل کر رام کیا جائے، تاکہ انھیں جذباتی طور پر بھارت میں ضم کیا جا سکے۔ یہ کشمیر میں استعماریت (Colonialism) کی طرف پہلا قدم تھا جس کا بی جے پی ’آبادکار استعماریت‘ (Settler Colonialism ) کے ذریعے اب کلائمکس چاہتی ہے۔

 بخشی دور حکومت کے بعد ۱۹۶۲ء میں بھارت چین، ۱۹۶۵ء میں پاک بھارت اور ۱۹۷۱ء میں پھر دوسری پاک بھارت جنگ ہوئی۔ اسی دوران سقوطِ ڈھاکہ کا دل خراش واقعہ پیش آگیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ ذوالفقار بھٹو اور اندرا گاندھی کے درمیان ’شملہ معاہدہ‘ بھی ہوا۔ ان تمام تاریخی واقعات بالخصوص سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ’شملہ معاہدہ‘ کا مسئلہ کشمیر پر براہِ راست اثر پڑا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد شیخ عبداللہ نے اندرا گاندھی کے ساتھ جو معاہدہ کیا، اسے ’اندرا عبداللہ ایکارڈ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ شیخ عبداللہ نے ۲۲ سال کی جدوجہد کو ’۲۲ سالہ صحرا نوردی اور سیاسی آوارہ گردی‘ کا نام دے کر اپنی طرف سے مسئلہ کشمیر کی بساط ہی لپیٹ دی۔

اس کے بعد ۱۹۸۴ء میں شہید مقبول بٹ کو تختۂ دار پر چڑھایا گیا۔ تحریکِ آزادئ کشمیر میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا، جب ۱۹۸۸ء کے انتخابات میں ریکارڈ توڑ دھاندلیوں کے جواب میں کشمیری نوجوانوں نے جمہوری طریقوں سے مایوس ہو کر مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کرلیا۔ اس طرح کشمیر کی تاریخ میں عسکری تحریک کا آغاز ہوا اور کشمیر کی تحریک آزادی اپنے دوسرے دور میں داخل ہوگئی۔

 اس وقت اگر آپ کشمیر کی آبادی کو تقسیم کریں تو آپ کا سابقہ چار نسلوں کے لوگوں سے پڑے گا۔ پہلی نسل وہ ہے، جس نے یا تو ڈوگرہ دور حکومت کے خلاف مزاحمت کی یا وہ اسی مزاحمت کے دوران پیدا ہوئے۔ یہی وہ نسل ہے جس نے تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی بنیاد رکھی۔ بدقسمتی سے شیخ عبداللّٰہ اس نسل کے قائد ِکارواں تھے۔ یہ نسل تحریک آزادی کا اختتام، آزادی کی صبح پر نہیں کرپائی۔ شیخ عبداللّٰہ کی ایک غلطی نے کشمیری قوم کو آزادی کی منزل سے مزید سو سال دور کر دیا۔ بقول اقبال:

  لیکن نگاہِ نُکتہ بیں، دیکھے زبوں بختی مری

’’ رفتم کہ خار از پاکشم ، محمل نہاں شد از نظر

  یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ راہم دَور شد‘‘

 دوسری نسل پہلی نسل کے لوگوں کی اولاد ہے، جو۱۹۶۵ء اور ۱۹۷۵ء کے درمیانی عرصے میں پیدا ہوئی۔ یہی وہ نسل ہے جس نے ۱۹۸۸ء میں مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کیا تھا ۔ تیسری نسل جو۱۹۹۰ء اور ۲۰۰۴ء کے درمیان یعنی مسلح مزاحمتی تحریک کے عین شباب میں پیدا ہوئی۔ اور چوتھی نسل وہ ہے جو۲۰۰۴ء کے بعد پیدا ہوئی جب مشرف کا چار نکاتی فارمولا گفتگو کا موضوع بنا ہوا تھا۔ جہاں تک پہلی نسل کے لوگوں کا تعلق ہے، یہ لوگ اس وقت اپنی عمر کے آخری پڑاؤ میں ہیں، لہٰذا ان سے بھارت کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔ دوسری نسل جس نے مسلح مزاحمتی تحریک میں حصہ لیا تھا، اس وقت تقریباً پچاس اور ساٹھ سال کی عمر کے درمیانی حصے میں ہیں۔ ان لوگوں نے مسلح مزاحمتی تحریک کے دوران بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کا بذاتِ خود مشاہدہ کیا ہے، یہ لوگ بھی اب بھارت کے لیے اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہیں۔

رہی آخری دو نسلیں جن میں ۱۹۹۰ءکی مسلح مزاحمتی تحریک میں پیدا ہونے والی نسل نے۲۰۰۸ء، ۲۰۱۰ء اور ۲۰۱۶ء کی تحریک کو جنم دیا، جب کہ آخری نسل جو ۲۰۰۴ء کے بعد پیدا ہوئی، ان تحریکات کے دور میں کم عمری کی وجہ سے حالات سے اتنی آگاہ نہیں ہے۔ البتہ مستقبل میں کشمیر کی تحریک آزادی کیا رُخ اختیار کرتی ہے؟ اس کا انحصار انھیں آخری دو نسلوں پر ہے۔ یہ بات بھارت کے منصوبہ ساز ادارے بھی بخوبی جانتے ہیں اور اسی وجہ سے تیسری نسل کے جوانوں کو ٹارگٹ کر کے یا تو ہیرو بنا کر چوتھی نسل کے سامنے پیش کیا جاتا ہے یا پھر انھیں آہستہ آہستہ منظر سے ہٹایا جاتا ہے۔ اس نسل کو رام کرنے کے لیے بھارت Stick and Carrot والی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

سب سے پہلے ’Carrot‘ یعنی ’نرم پالیسی‘ اختیار کرکے سکولوں اور کالجوں میں ان کی ذہن سازی کی جاتی ہے تاکہ یہ لوگ کسی بھی طرح سے نئی دہلی کے ’قومی دھارے‘ میں شامل ہو جائیں، اور جو لوگ اس حکمت عملی میں نہیں پھنستے انھیں ’سٹک‘ کے ذریعے مجبور کیا جاتا ہے۔ ’سٹک‘ کے معاملے میں صرف ڈرانا دھمکانا نہیں بلکہ دیگر بہت سے ذرائع ہیں ، جیسے جسمانی طور پر ٹارچر کرنا، ذہنی پریشان کرنا، قید و بند کی صعوبتیں، پی ایس اے ایکٹ لگا کر کریئر کو تباہ کرنا اور نشے کی لت میں مبتلا کروانا جیسے ہتھکنڈے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت جموں و کشمیر میں تقریباً ۱۳لاکھ ۵۰ہزار افراد نشے کی لت میں مبتلا ہیں، جن میں تقریباً ایک لاکھ خواتین بھی شامل ہیں،جب کہ دس سال قبل پوری ریاست میں یہ تعداد ایک یا ڈیڑھ لاکھ سے سے زیادہ نہیں تھی۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حالات کس سمت میں لے جائے جا رہے ہیں۔

 نئی نسل کی ذہن سازی کے لیے کبھی بھارتی فلم انڈسٹری کا سہارا لیا جاتا ہے، کبھی کے اے ایس اور آئی اے ایس افسران کو ترقیاں دے کر نوجوان نسل کو ان کی دیکھادیکھی کشمیر کی بھارت نواز بیوروکریسی کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔جان بوجھ کر طے شدہ منصوبے کے تحت کشمیر میں پہلے بے روزگاری کو بڑھاوا دیا جاتا ہے، پھر سروس سلیکشن بورڈ (ایس ایس بی) کے ذریعے سرکاری ملازمتوں کے لیے نوٹس نکالے جاتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آسامیاں پُر کرنے کے لیے پہلی فہرست میں آزادی پسند ملازمین کو ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاکر نوکریوں سے برخواست کر دیا جاتا ہے اور پھر ان کی جگہ نئی آسامیوں کو پُر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح نوجوان نسل کو ٹارگٹ کر کے لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے خصوصی انعامات دلا کر انھیں ’یوتھ آئکون‘ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ صحافیوں کی ایک فوج اس مقصد کے لیے تیار کی گئی ہے، جو عوام کو روز مرہ کے جھمیلوں میں اُلجھائے رکھنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔

چوتھی نسل جو اس وقت شعوری طور پر خام ہے، تعلیمی اداروں میں مخصوص تاریخ پڑھا کر ان کی اسلامی روح فنا کی جا رہی ہے۔ بھارتی حکومت کی طرف سے ہر سال تقریباً پانچ ہزار کشمیری طلبہ و طالبات کو’پرائم منسٹرز اسپیشل اسکالرشپ اسکیم‘ (PMSSS) کے تحت وظائف فراہم کیے جاتے ہیں، جس کے پیچھے صرف یہ مقصد کار فرما ہے کہ کشمیر کی نوجوان نسل جب بھارتی ریاستوں میں مخلوط تعلیمی نظام میں پروان چڑھے گی، تو لازماً بھارت کے مشرکانہ ماحول کو اپنے اندر جذب کرلے گی۔ اس طرح سے بوائے فرینڈ، گرل فرینڈ کلچر کو فروغ ملے گا اور ان کی غیرت و حمیت فنا ہوجائے گی۔ پہلے ہی کشمیر میں نوجوان ’غمِ روزگار‘ کے مارے ہوئے ہیں، اس پر جب ’غم عشق‘ کا بھی اضافہ ہوگا تو اس کا نتیجہ ڈپریشن اور قنوطیت کی صورت میں نکلے گا۔ اور یوں نئی نسل اپنے اصلی مقصد سے دُور ہو جائے گی۔

بھارتی حکومت نے تقریباً تین سو سے زائد NGO's کو کشمیری طلبہ و طالبات کے لیے خصوصی پیکیجز مختص کرنے کی ہدایت کی ہوئی ہے اور ہر سال ان پیکیجز میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ یہ NGO's کبھی ’اُڑان‘ کے نام پر تو کبھی ’کھیلو انڈیا‘ پروگرامات کے تحت کشمیری طلبہ و طالبات کو نوکریوں کے بہانے باہر کی ریاستوں میں لے جاتے ہیں۔ اس کام کے لیے کشمیر کی خوب صورت دوشیزاؤں کو اوّلین ترجیح دی جاتی ہے اور اخبارات میں با ضابطہ طور پر اشتہارات دیئے جاتے ہیں۔ جب یہ لڑکیاں باہر کی ریاستوں میں پہنچتی ہیں تو وہاں آر ایس ایس کا ایک مخصوص گروہ انھیں اپنے جال میں پھانسنے کے لیے پہلے سے ہی تیار ہوتا ہے۔ بھارت میں اس گروہ کو’بھگوا لوّ ٹریپ‘  (Bhagva Love Trap) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس کا مقصد بھولی بھالی مسلم بچیوں بالخصوص کشمیری لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر ان کا مذہب تبدیل کروانا ہوتا ہے۔ آرایس ایس اس کے لیے ان کی خصوصی معاونت کرتی ہے۔

کچھ سال پہلے تک کشمیر میں یہ قانون تھا کہ اگر کوئی کشمیری خاتون کسی غیر ریاستی باشندے سے شادی کر لیتی تو اسے وراثت میں کسی قسم کا حصّہ نہیں مل سکتا تھا، لیکن بھارت نے اس قانون کو ختم کرکے ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے آر ایس ایس کے بھگوا اسکواڈ کو کھلی چھٹی دے دی ہے۔ جموں صوبہ کی ہزاروں ہندو لڑکیاں ایسی ہیں، جو بھارت کی دیگر ریاستوں میں شادیاں کر چکی ہیں اور اس طرح سے ان کے شوہروں کو بھی کشمیر میں مالکانہ حقوق حاصل ہوگئے ہیں۔ یہ مسئلہ ابھی تک تو اتنا خطرناک نہیں تھا، لیکن اگست ۲۰۱۹ء میں چونکہ دفعہ ۳۷۰ کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے، اس وجہ سے صورت حال خوفناک ہوتی جارہی ہے۔ دفعہ ۳۷۰ کے ہوتے ہوئے کوئی بھی غیر ریاستی باشندہ کشمیر میں نہ تو زمین کے مالکانہ حقوق حاصل کرسکتا تھا اور نہ ووٹ ڈال سکتا تھا، لیکن اس کے خاتمے کے ساتھ ہی یہ شرط ختم ہو گئی ہے۔ اب بھارت کی کسی بھی ریاست کا باشندہ کشمیر میں زمین خرید بھی سکتا ہے اور ووٹ بھی ڈال سکتا ہے۔

آر ایس ایس اسی لیے دستورِ ہند بنتے ہی دفعہ ۳۷۰ کو ختم کروانا چاہتی تھی تاکہ کشمیر میں ہندوؤں کو بسا کر مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جاسکے، اور یہ امکان بھی دم توڑ جائے کہ اگر کبھی حریت پسند قیادت اور عالمی دباؤ کے تحت کشمیر میں ریفرنڈم کروانا پڑے تو اس وقت ہندو آبادی چونکہ اکثریت میں ہوگی، اس لیے ان کا ووٹ بھارت کے حق میں پڑے گا اور یوں کشمیری قوم کی غلامی کی رات مزید طویل ہو جائے گی۔

 حالات کی شدت بتا رہی ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اس مسئلے کو اپنی مرضی کے مطابق انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں اور کشمیر کو ہندو سٹیٹ بنانے کے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے جا رہے ہیں۔ پنڈتوں کو الگ کالونیوں میں بسانے کے بعد اب اسرائیلی طرز پر فوجی کالونیوں (Sainik Colonies) بنائی جا رہی ہیں۔ پیر پنجال صوبہ کے مسلمانوں کو دبانے کے لیے وہاں VDC یعنی ’ولیج ڈیفنس‘ کمیٹیاں پہلے سے ہی موجود تھیں، اب انھیں مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ کل کو اگر VDC's کے یہ مسلح غنڈے پیر پنجال میں مسلمانوں کا قتلِ عام شروع کردیتے ہیں تو کون ہے جو انھیں روک سکتا ہے؟ جموں صوبہ جہاں پہلے سے ہی ہندوؤں کی اکثریت ہے، VDC's کا ہونا کس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے؟ ابھی گذشتہ مہینے ہی فوج نے پونچھ ضلع میں تیرہ نوجوانوں پر ٹارچر کیا، جن میں تین نوجوان زیر تشدد ہی شہید ہوگئے۔

سوشل میڈیا پر کشمیری مسلمانوں کی جاسوسی کی جا رہی ہے کہ کون کیا کر رہا ہے، کس سے رابطے میں ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ جس جس پر حکومت کو آزادی پسند ہونے کا شک ہوتا ہے اسے زینتِ زنداں بنا دیا جاتا ہے۔ ایک طرف ہندوؤں کو مضبوط کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف کشمیر میں موجود آزادی پسند تنظیموں خواہ وہ اسلامی ہوں یا قوم پرست، سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جا رہا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کشمیر میں کسی بھی قسم کی آزادی پسند تحریک کو برداشت نہیں کرنا چاہتی ہے۔ پہلے جماعت اسلامی پر پابندی عائد کر دی گئی، پھر جے کے ایل ایف کو ملک مخالف قرار دے کر غیر قانونی قرار دیا گیا اور اب مسلم لیگ اور تحریکِ حریت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ گوتم نولکھا کے بقول بھارت جب کشمیریوں پر جمہوری طریقے بند کر دے گا، تو لازماً اس کا نتیجہ عسکری تحریک کی صورت میں نکلے گا۔

اس وقت کشمیر میں تقریباً آٹھ سے نو لاکھ بھارتی فوج موجود ہے۔ اس کے علاوہ انتخابات اور امرناتھ یاترا کی سیکورٹی کے نام پر الگ سے فوج منگوائی جاتی ہے، آخر اتنی فوج کا کشمیر جیسی وادی میں کیا کام؟ جب ایک چھوٹی سی وادی میں آٹھ نو لاکھ فوج موجود ہو، ولیج ڈیفنس کمیٹی کے نام پر مسلح جتھے ہوں، آر ایس ایس کے غنڈوں کی کثیر تعداد میں نفری ہو، وہاں کس قسم کے خوف کا ماحول ہوگا؟ اس کا اندازہ آپ فلسطین کی صورتِ حال دیکھ کر لگا سکتے ہیں۔

اسی خوف تلے کشمیر میں نفسیاتی امراض بالخصوص خواتین میں روز بہ روز بڑھ رہے ہیں۔ Poly Cyst Ovarian Syndrome اس وقت وادئ کشمیر میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ حرکت قلب بند (Cardiac Arrest ) ہونے کے کیسوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان حالات کی یلغار میں اگر وادی کو بذریعہ ٹرین بھارت کی دیگر ریاستوں سے جوڑا جا رہا ہے تو سمجھ جانا چاہیے کہ آر ایس ایس اور بھارت کے منصوبہ ساز ادارے کیا کرنے جا رہے ہیں۔ آخر بھارت اتنا بیوقوف بھی نہیں ہے کہ جو کشمیری مسلمان ان سے آزادی مانگتے ہیں اور ان پر پتھر برساتے ہیں، ان کے لیے وہ ۲۸ہزار کروڑ کی لاگت سے ٹرین کی سہولت فراہم کرے۔

بھارتی ریاستوں کے لوگ اس وجہ سے بھی کشمیر نہیں آتے تھے کہ بس، ویگن یا کار کے ذریعے کشمیر کا سفر دشوار گزار ہے، لیکن ٹرین کی آمد کے ساتھ یہ مشکل بھی ختم ہو جائے گی اور غیرریاستی لوگ مزدوروں اور سیاحوں کے نام پر سیلاب کی مانند کشمیر کا رخ کریں گے۔ نہرو نے سچ کہا تھا کہ بھارت کشمیریوں کو سونے کی زنجیروں میں جکڑ دے گا، اور زنجیر چاہے سونے کی ہو یا لوہے کی، ہرصورت میں یہ غلامی کی علامت ہوتی ہے۔ ٹرین سروس بھی کشمیریوں کے لیے غلامی کی زنجیر سے کم نہیں ہے۔ اس سروس کے بحال ہوتے ہی بھارت کی مختلف ریاستوں سے لوگوں کو لا لا کر وادی میں بسایا جائے گا اور انھیں ولیج ڈیفنس کمیٹیوں کے نام پر مسلح کیا جائے گا، پھر جب بھارتی فوج، آر ایس ایس کے غنڈے اور یہ ہندو جتھے کشمیری مسلمانوں کا خون بہا رہے ہوں گے تو انھیں فسادات کا نام دے کر دبا دیا جائے گا۔ ۱۹۴۷ء میں جموں میں کیا جانے والا قتلِ عام، اس کی زندہ مثال ہے، جب تقریباً پانچ لاکھ مسلمانوں کا نسلی صفایا کیا گیا اور پھر اسے تاریخ سے غائب کر کے کسی کو بھنک بھی نہیں پڑنے دی گئی۔ آج کشمیر کی نئی نسل کو جموں قتلِ عام کے بارے میں بالکل بھی نہیں پتہ کہ وہاں کیا ہوا تھا۔ بالکل اس طرح جیسے ایک سال کے دوران مکتی باہنی اور بھارتی مداخلت کاروں کے ہاتھوں مشرقی پاکستان میں غیربنگالیوں کا ہولناک قتل عام کروا کے اس کا تذکرہ غائب کرادیا گیا۔

ان دنوں کشمیر میں انتخابات کا بگل بجایا جا رہا ہے اور کشمیر کو پھر سے ریاست کا درجہ دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔کشمیر کی بھارت نواز سیاسی جماعتیں اپنی بازی گری کے کرتب دکھانے میدان میں اُتری ہوئی ہیں۔ اس بار ان کا منشور ہے: ’دفعہ ۳۷۰ کو دوبارہ واپس لاکر رہیں گے‘۔  اب اس نام پر کشمیری عوام کو فریب دیا جا رہا ہے کہ اگر کشمیری عوام انھیں ووٹ دیتے ہیں تو وہ  دفعہ۳۷۰ کو واپس لا کر رہیں گے، جب کہ نریندر مودی نے دو ٹوک الفاظ میں یہ بات کہی کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت دفعہ ۳۷۰ کو واپس نہیں لا سکتی۔ انتخابات میں چاہے نیشنل کانفرنس جیتے، پی ڈی پی جیتے یا پھر الطاف بخاری کی پارٹی جیت جائے۔ یا اگر یہ ساری جماعتیں متحد ہوکر بھی جیت جائیں، تب بھی انھیں دلی کے سامنے ناک رگڑنے پر مجبور کیا جائے گا۔ لہٰذا، کشمیر کے موجودہ انتخابات اس طرح سے بے حیثیت ہو کر رہ جاتے ہیں۔

اب رہا سوال نئی دہلی میں کون سی حکومت بنتی ہے؟ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ اگر مرکز میں کانگریس کی حکومت آتی ہے تو اس سے بھارت کے مسلمانوں کو کچھ آسانی تو مل سکتی ہے، لیکن کشمیریوں کے لیے کسی قسم کی راحت (relaxation )نہیں ہوسکتی۔ بی جے پی ہو یا کانگریس ، کشمیر میں ’ہندوتوا‘ کلائمکس پہ لے جانا دونوں صورتوں میں طے ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بی جے پی یہ کام کھل کے اور جلدی کرنا چاہتی ہے، جب کہ کانگریس آہستگی سے اور سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر کرنا چاہتی ہے۔

۸ جولائی ۲۰۱۶ء کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی نے بُرہان مظفروانی کو شہید کردیا اور اس کا نام ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا۔میں اُس زمانے میں نئی دہلی میں پاکستان کا ہائی کمشنر تھا۔  بُرہان وانی کی شہادت کے بعد تقریباً چار ماہ تک مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلسل احتجاج ہوتا رہا،اور بھارتی سیکورٹی فورسز نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا تاکہ آزادی کی آواز کو دبایا جاسکے۔ اس مقصد کے لیے پیلٹ گنز کا بھی بے دریغ استعمال کیا اور بے شمار معصوم کشمیری بچوں، عورتوں اور شہریوں کو بینائی سے محروم کردیا گیا۔

’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘ ___ یہ نعرہ سیّد علی شاہ گیلانیؒ نے دیا ، جسے مقبوضہ کشمیر کے ہرگھر میں محسوس کیا جاسکتا ہے اور اس کی آواز سنی جاسکتی ہے۔ بلاشبہہ یہ آواز آتی رہے گی، اس لیے کہ کشمیریوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ہم نے بھارت کے غاصبانہ قبضے سے جان چھڑانی ہے اور جب تک آزادی نہیں مل جاتی، ہم اپنی یہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اکثر لوگ مجھ سے سوال پوچھتے ہیں کہ کشمیریوں کی جدوجہد تو واضح ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں، لیکن ہمیں بتایئے کہ کشمیر کاز کے حوالے سے پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ پھر یہ سوال بھی پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان میں کس حکومت نے مسئلہ کشمیر کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، اور کس حکومت، کس قیادت یا کس سیاست دان نے کشمیر کاز کو بہتر طریقے سے آگے بڑھایا؟

آپ کے سامنے کشمیر کے حوالے سے میں پاکستانی سفارتی محاذ کی نسبت سے چندحقائق بیان کروں گا، جو عام طور پر لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ ہم یہ دیکھیں گے کہ آج جہاں کھڑے ہیں، یہ معاملہ کیسے شروع ہوا؟ اور کس طرح ہماری حکومتیں اپنے اصولی موقف سے بہت پیچھے ہٹ گئی ہیں؟

پہلی سفارتی پسپائی: ۶جنوری ۲۰۰۴ء کو اسلام آباد میں سارک سربراہی کانفرنس ہونا تھی۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارت کے اُس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان آئے تھے اور پاکستان میں حکمران صدر جنرل پرویز مشرف سے ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ اس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اس اعلامیے میں جو الفاظ استعمال کیے گئے، اس نے کشمیرکاز کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ اس اعلامیے میں صدرجنرل پرویزمشرف نے بھارتی وزیراعظم کو یہ یقین دلایا:

Pakistan will not permit in territory under Pakistan's control to be used to support terrorism in any manner.

یعنی پاکستان اپنے زیرانتظام  آزاد جموں و کشمیر مع گلگت و بلتستان کو بھارت کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

مطلب یہ کہ دانستہ یا نادانستہ طور پر پاکستان نے اس بات کو تسلیم کرلیا کہ یہاں سے لوگ جاکر  مقبوضہ جموں و کشمیر میں ’دہشت گردی‘ کرتے ہیں۔ یہ پہلی بار ہوا کہ یہاں سے حقِ خود ارادیت کی آئینی جدوجہد کو بھارت کی شکایت کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ آج تک بھارت اس اعلامیے کو استعمال کرتا ہے اور اس نے بڑی چالاکی سے جموں و کشمیر کی جدوجہد کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ دیا۔ جس کے نتیجے میں بعدازاں امریکا نے بھی ۲۰۱۷ء میں حزب المجاہدین جوکہ مقامی تنظیم تھی، اسے دہشت گرد تنظیم قراردے کر پابندی لگادی۔ چنانچہ اس اعلامیے سے سفارتی سطح پر پسپائی کا سفر شروع ہوا۔

دوسری سفارتی پسپائی: صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے زمانۂ اقتدار میں پس پردہ سفارت کاری کا آغاز کیا اور اس میں چار نکاتی فارمولا پیش کیا۔ بلاشبہہ سفارت کاری میں لینا دینا ہوتا ہے اور گفتگو کرتے ہوئے بعض جگہ دوطرفہ مفاہمت بھی کرنی پڑتی ہے، لیکن جو غلطی صدر مشرف سے ہوئی وہ یہ کہ انھوں نے پبلک میں آکر یہ بتایا کہ ہم اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ اصولی موقف یہ تھا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت جموں و کشمیر میں استصواب رائے کروایا جائے۔ لیکن جب آپ عوامی سطح پر اصولی موقف سے پیچھے ہٹتے ہیں تو سفارت کاری میں آپ کے پاس لینے دینے کے لیے کچھ نہیں باقی بچتا، کیونکہ جو کچھ لینا دینا تھا وہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی آپ نے دے دیا،تو اب مذاکرات کس بات پر کیے جاسکتے ہیں؟

یہ اتنی بڑی غلطی تھی کہ اس کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں حُریت کانفرنس دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ سیّد علی شاہ گیلانیؒ نے بجاطور پر اس فارمولا کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح تو ہم پاکستان کے اصولی موقف سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔ لیکن حُریت کانفرنس کا دوسرا حصہ جو میرواعظ عمر فاروق کی قیادت میں تھا اس نے یہ تسلیم کرلیا۔ بعد میں ہم نے دیکھا کہ جیسے ہی ۶جنوری ۲۰۰۴ء کو بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان سے واپس گئے تو ۲۲جنوری ۲۰۰۴ء کو ان کی میرواعظ صاحب کی حُریت کانفرنس کی قیادت سے ملاقات ہوئی۔

اس طرح صدر پرویز مشرف نے اپنی ایک بات سے کئی صدمے پہنچا ڈالے۔ ایک تو وہ پاکستان کے اصولی موقف سے عوامی سطح پر پیچھے ہٹ گئے اور مذاکرات کے لیے کچھ باقی نہ بچا۔ دوسرایہ کہ حُریت کانفرنس تقسیم ہوگئی۔ مجھے معلوم ہے کہ ان دونوں حصوں کو قریب لانے کے لیے دہلی میں ہمیں کتنی محنت کرنا پڑی۔بُرہان مظفروانی کی شہادت کے بعد ہمیں کچھ کامیابی ملی اور حُریت کانفرنس کی متحدہ قیادت سامنے آئی، جس میں سیّد علی گیلانی ، یاسین ملک اور میرواعظ عمرفاروق شامل تھے۔

گویا کہ صدر پرویز مشرف نے ایک طرف کشمیر کاز کو دہشت گردی کے ساتھ ملا دیا اور دوسرا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے چارنکاتی فارمولا کو عوامی سطح پر زیربحث لائے جس نے پاکستان کے اصولی موقف کو بڑا شدید نقصان پہنچایا۔ سفارتی سطح پر ہم ایک صحیح پوزیشن میں بھارت کے ساتھ بات چیت کرسکتے تھے، لیکن بدقسمتی سے ہم نے اپنی پوزیشن خود ہی کمزور کرڈالی۔ اس طرح پس پردہ سفارت کاری میں جنرل صاحب کی مہم جوئی کے نتیجے میں تو مسئلۂ کشمیر پر کم بات ہوئی اور زیادہ تر بات دہشت گردی پر ہوتی رہی۔

 مسئلہ کشمیر ایک جائز (legitimate ) اور حل طلب مسئلہ ہے، اس کو دہشت گردی کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا۔ لیکن جنرل مشرف کی نامناسب سفارت کاری اور بیان بازی نے بنیادی غلطی کردی اور پھر اسی دوران مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان جنگ بندی لائن پر انڈیا کو باڑ لگانے کی بھی اجازت دے دی۔

تیسری سفارتی پسپائی: اس کے بعد ۱۶ جولائی ۲۰۰۹ء کو پاکستان اور بھارت کی طرف سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا، جب کہ پاکستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے۔ ’غیر جانب دارانہ تنظیم‘ (NAM)کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے وہ شرم الشیخ، مصر گئے، جہاں بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے اُن کی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد ایک اعلامیہ جاری ہوا۔ ماضی میں پاکستان اور انڈیا کے جو اعلامیے جاری ہوتے رہے، مثال کے طور پر ۲۰۰۴ء کے اعلامیے کو لے لیجیے، جو صدر پرویز مشرف اور وزیراعظم واجپائی کی ملاقات کے بعد جاری ہوا۔ اس میں یہ کہا گیا:

The two leaders are confident that the resumption of composit dialogue will lead to peacful settelment of all bilateral issues including Jammu and Kashmir.

اس مشترکہ اعلامیے میں الفاظ ’بہ شمول جموں اور کشمیر‘ (including Jammu and Kashmir) کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی۔ ہم نے ہمیشہ یہی بات کہی تھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل مسئلہ تو جموں و کشمیر ہے، اور باقی سب جزوی مسائل ہیں۔ ایک بار جموں و کشمیر کا تنازع حل ہوجائے تو پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی ایسے بنیادی اختلافات نہیں ہیں، جو دُور نہ ہوسکیں بلکہ وہ سب اختلافات آسانی کے ساتھ حل ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ ۲۷؍اکتوبر ۱۹۴۷ء سے جموں و کشمیر ہی بنیادی مسئلہ تھا، سیاچن ہو یا سرکریک، یہ تو سب بعد کی پیداوار ہیں۔

جموں و کشمیر کو ہم ہمیشہ مشترکہ اعلامیے میں مرکزی اہمیت دیتے رہے ہیں، لیکن ۱۶جولائی ۲۰۰۷ء کو شرم الشیخ میں جو مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا، پہلی مرتبہ اس کی سفارتی زبان تبدیل کی گئی:

Singh said that India was ready to discuss all issues with Pakistan including all outstanding issues.

گویا اس مشترکہ اعلامیے میں بھارتی وزیراعظم یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ ’’بھارت تمام مسائل پر بات چیت کے لیے تیار ہے‘‘۔مطلب یہ ہوا کہ اپنی جگہ جموں و کشمیر کی اہمیت ختم کرکے اسے آپ نے باقی مسائل کے ساتھ لاکر کھڑا کردیا، جیساکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثقافتی یا تجارتی اور دیگر مسائل رہے ہیں۔

بدقسمتی سے یہ پہلی بار ہوا کہ پاکستان کے مشترکہ اعلامیہ میں کشمیر کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس سے پہلے ۲۸مئی ۱۹۹۸ء کو جب پاکستان اور بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تھے تو سلامتی کونسل نے ایک قرارداد ۱۱۷۲، ۶جون ۱۹۹۸ء میں منظور کی۔ اس کے پیرا نمبر ۵ میں بڑے واضح طور پر یہ کہا گیا:

UN Security Council encourages both Pakistan and India to find mutally acceptable solution that address root causes of those tentions including Kashmir.

یعنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی اس بات کا احساس اور ادراک ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازع جموں و کشمیر ہی ہے۔مگر یہ کیونکر ہوا کہ ہم نے شرم الشیخ میں جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا اس میں جموں و کشمیر کا ہی ذکر نہیں کیا؟

چوتھی سفارتی پسپائی: ۲۰۱۵ء میں روس کے شہر’ اوفا‘ میں شنگھائی آرگنائزیشن کی سربراہی کانفرنس ہوئی، اس وقت پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف تھے۔ کانفرنس کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ان کی ملاقات ہوتی ہے۔ ۱۰جولائی ۲۰۱۵ء کو یہ مشترکہ اعلامیہ دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد جاری ہوا۔ اس میں بھی ویسا ہی معاملہ ہوا، جو شرم الشیخ میں ہوا تھا۔ اس اعلامیہ میں بھی کشمیر کا ذکر حذف کردیا گیا۔

بنیادی طور پر ہم نے بہت کمزور مذاکرات کیے اور یک طرفہ طور پر ’دہشت گردی‘ کے مسئلے کو ہم نے خاص اہمیت دی۔ بلاشبہہ دہشت گردی کے مسئلے پر پاکستان، بھارت کے ساتھ کوئی معذرت خواہانہ رویہ نہیں رکھتا،اس مسئلے پر بھارت کے ساتھ ہمارے بہت زیادہ خدشات ہیں، جو وہ پاکستان میں کر رہا ہے۔ یہاں مَیں بات یہ کر رہا ہوں کہ مشترکہ اعلامیہ میں ایک توازن ہونا چاہیے، مگر وہ توازن یہاں بگڑ گیا۔ یہاں پر کشمیر کا کہیں ذکر نہیں کیا اور all outstanding issues لکھ دیا گیا، جو شرم الشیخ اعلامیہ میں لکھا گیا تھا۔

ڈپلومیسی میں جب ایک بات مثال بن جاتی ہے تو پھر اسے بار بار پیش کیا جاتا ہے۔ اگر ہم نے شرم الشیخ اعلامیہ میں یہ سفارتی زبان اختیار نہ کی ہوتی تو شاید اوفا میں بھی استعمال نہ ہوتی۔ چونکہ شرم الشیخ میں ہم نے بھارت کو موقع دے دیا تھا تو اس لیے بھارت نے اسی بنیادپر کہا کہ آپ نے پہلے بھی اس سفارتی زبان سے اتفاق کیا تھا، تو اب آپ اس سے کیوں پیچھے ہٹ رہے ہیں؟ لیکن، یہ ماننا ہمارے لیے لازم نہیں تھا، اور اگر کوشش کرتے تو ہم اس مشترکہ اعلامیہ میں جموں و کشمیر کو شامل کرسکتے تھے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم کوئی اعلامیہ جاری ہی نہ کرتے۔ اس طرح شرم الشیخ کی مثال اوفا میں دُہرائی گئی۔

اس کے بجائے اگر ہم بی جے پی کے منشور کو سامنے رکھتے کہ مودی حکومت کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیا عزائم ہیں؟ اور ذرا سخت موقف اختیار کرتے۔ اس وقت ایسی کوئی صورتِ حال بھی نہیں تھی کہ پاکستان کوئی مجبور تھا کہ ہم نے ہرصورت میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کرنے تھے۔ سبق یہ ہے کہ جب آپ اپنے اصولی موقف سے ایک بار پیچھے ہٹ جاتے ہیں تو پھر اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

اوفا کی میٹنگ کے بعد ۲۰۱۵ء میں مجھے اسلام آباد بلایا گیا اور وزیراعظم نواز شریف صاحب نے کہا کہ اسلام آباد میں افغانستان کے معاملات پر ’ہارٹ آف ایشیا کانفرنس‘ ہونے والی ہے۔ آپ کو یہ ذمہ داری دی جاتی ہے کہ انڈین حکومت کو قائل کریں کہ اس کانفرنس میں سشما سوراج تشریف لائیں۔

پاکستان کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر سرتاج عزیز صاحب نے اسی سال اگست ۲۰۱۵ء میں اپنے ہم منصب سے ملنے کے لیے بھارت جانا تھا، لیکن وہ نہیں جاسکے تھے کیونکہ بھارت کی حکومت نے حُریت کانفرنس کے رہنمائوں سے ان کی ملاقات کروانے سے انکار کردیا تھا۔ ہمارا مطالبہ یہی تھا کہ اگر سرتاج عزیز صاحب آئیں گے تو وہ کشمیری رہنمائوں سے ملاقات ضرور کریں گے۔ چونکہ بھارت اس تجویز کو ماننے پر تیار نہ ہوا تو وہ دورہ منسوخ کر دیا گیا۔ اس لیے ایک لحاظ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنائو پیدا ہوگیا تھا۔ ان حالات میں مجھے یہ کہا گیا کہ اس بات کو یقینی بنائوں کہ ۹-۱۰دسمبر ۲۰۱۵ء کو افغانستان پر ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں سشما سوراج شرکت کریں۔ بہرحال میں نے کوشش کی اور بھارت کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ بھارتی وزیرخارجہ پاکستان جائیں گی۔ لیکن اس سے پہلے انھوں نے ایک شرط رکھی، جو ہم نے مان لی کہ ’’دونوں ممالک کے نیشنل سیکورٹی افسران کی ایک پس پردہ ملاقات بنکاک، تھائی لینڈ میں ہوگی‘‘۔ ۶دسمبر ۲۰۱۵ء کو یہ ملاقات ہوئی اور اس میں دہشت گردی کے مسائل پر بات چیت ہوئی اور خاص طور پر ممبئی حملہ زیربحث آیا اور بعد میں اس ملاقات کی خبر بھی دے دی گئی۔

سشما سوراج اس کانفرنس میں شرکت کے لیے ۹دسمبر کو پاکستان آئیں اور اس کانفرنس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اوفا کے بعد یہ تیسرا اعلامیہ تھا، جس میںہم نے باقاعدہ یہاں تک کہہ دیا کہ:

Under the dialogue including peace and security, CBM, Jammu & Kashmir, Siyachen, Sircreek, Wular Barrage, economic and commercial cooperation, counter terrorism, narcotics control, humantarian issues, people to people exchange and religious terrorism....

گویا کہ ۸ستمبرکو ہونے والے ’جامع مذاکرات‘ (Composite dialogue) کو یہاں لاکر جمع کردیا گیا۔ اب تو واضح ہوگیا کشمیر کی حیثیت وہی ہے جو عوامی سطح پر لوگوں کے میل جول کی ہے یا پھر باہم تجارتی سرگرمی کی ہے۔ جب آپ ایک مسئلے کی اہمیت کم (downsize )کردیں گے تو پھر بھارت کیسے سنجیدہ لے سکتا ہے یا دُنیا کیسے کشمیر کے معاملے کو سنجیدہ لے سکتی ہے؟ جب یہ مذاکرات ہورہے تھے تو میں بھی ان میٹنگوں میں شریک تھا۔ اب یہ مذاکرات کس طرح سے ہورہے تھے، یہ الگ کہانی ہے۔

دفتر خارجہ میں سرتاج عزیز صاحب سے سشما سوراج کی کافی طویل ملاقات ہوئی جو پانچ گھنٹے پر پھیل گئی۔ اس ملاقات کے دوران تُو تُو مَیں مَیں بھی ہوئی اور تنائو بھی پیدا ہوا۔ آخرکار بھارت نے ہمیں جو draft دیا تھا ہم نے من و عن اسی کو تسلیم کرکے اسے بھارت کی خدمت میں پیش کر دیا:’ ’ٹھیک ہے جو آپ کہتے ہیں لکھ دیجیے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں‘‘۔ یہ تیسرا اعلامیہ ہے جس میں سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر پر پسپائی اختیار کی گئی۔

پہلا اعلامیہ جنوری ۲۰۰۴ء، دوسرا اعلامیہ جولائی ۲۰۰۹ء کی شرم الشیخ کا ہے، تیسرا اوفا میں جولائی ۲۰۱۵ء کا اور پھر چوتھا دسمبر ۲۰۱۵ء کا یہ اعلامیہ ہے۔ آپ کو بالکل ایک تسلسل نظر آرہا ہے کہ پرویز مشرف کے زمانے سے لے کر ۲۰۱۵ء میں نواز شریف وزارتِ عظمیٰ تک کس طرح کشمیر پر ایک لحاظ سے سمجھوتے کیے گئے۔ کچھ باتیں جو پبلک میں کہنے کی نہیں ہوتیں، حکمرانوں نے وہ بھی کہہ ڈالیں، جس کی وجہ سے بھارت نے بھی پاکستان کو سنجیدہ نہیں لیا۔ دُنیا بھلا کشمیر کے معاملے کو کیا سنجیدہ لیتی، جب کہ ہمارے مقتدر حضرات خود کشمیر کے معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے تھے۔ اس طرح ایک تسلسل کے ساتھ مختلف حکومتوں نے کشمیر سے کھلواڑ کیا جو کہ نہیں کرنا چاہیے۔ سفارت کاری میں ایسی ایسی غلطیاں کیں جو نہیں ہونی چاہییں تھیں۔

پانچویں سفارتی پسپائی:  اب آجاتے ہیں ۵؍اگست ۲۰۱۹ء پر۔ بھارت نے کشمیر پر جو کیا یہ ہمارے لیے صدمے کی بات تو تھی، مگر حیران کن بات نہیں تھی۔ یہ نظر آرہا تھا کہ کیا کچھ ہونے جارہا ہے، لیکن اس سے صرفِ نظر کیا گیا، مگر ایسا کس بنیاد پر کیا؟ کچھ معلوم نہیں اور پھر اس کے بعد ہم نے کیا کیا؟

ہم بھارت سے اپنے تعلقات کو نچلی سطح پر لے آئے اور اپنا ہائی کمشنر واپس بلالیا۔ ہم نے بھارت کے ساتھ اپنی تجارت بند کرلی۔ تین ماہ کے لیے فضائی حدود کو بھارت کے لیے بند کردیا۔ اس کے بعدہم نے اور بھی اقدامات کیے، مگر جن کا تسلسل برقرار نہیں رہ سکا۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ کہا تھا کہ ہم کشمیر سے یکجہتی کے لیے ہرجمعہ کی نماز کے بعد کھڑے ہوں گے، لیکن اسے جاری نہ رکھ سکے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ساری چیزیں ختم ہوگئیں۔

ایک طرف یہ کہا: ’’بھارت کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے، جب تک بھارت ۴؍اگست ۲۰۱۹ء کی صورتِ حال کو بحال نہیں کرتا۔ اس نے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کو ختم کیا ہے۔ وہ ان اقدامات کو واپس لے، تب ہم بھارت کے ساتھ مذاکرات کریں گے‘‘۔ لیکن ہوا کیا؟ بھارت کے ساتھ بیک چینل پر بات چیت جاری رہی اور اس کے نتیجے میں ہم سب کے لیے وہ ایک بہت بڑا دھچکا تھا، جب ۲۵فروری ۲۰۲۱ء کو بھارت کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا کہ ملٹری ڈائرکٹر جنرل آپریشن کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائربندی معاہدہ کرتے ہیں۔ یاد رہے نومبر ۲۰۰۳ء سے فائربندی پر ہماری بھارت کے ساتھ ایک رسمی معاملہ فہمی تھی، لیکن فائربندی برائے نام ہی تھی اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہوتی رہتی تھی اور بھارت کی جانب سے اس کی بہت زیادہ خلاف ورزیاں ہوئیں۔

یہاں پر میں آپ کو ذرا ماضی میں لے جاتا ہوں۔ ۲۰۱۵ء میں وزیراعظم نواز شریف نے جب اقوام متحدہ سے خطاب میں ۲۱ستمبر ۲۰۱۵ء کو مسئلۂ کشمیر کے حوالے سے متعدد تجاویز دیتے ہوئے یہ کہا کہ کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر ہماری فائر بندی کی formal understanding ہے اور ہم اسے فارمل معاہدے میں تبدیل کردیں۔

ان کی تقریر کے بعد بھارت کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت دول سے مَیں ملنے گیا کہ معلوم کروں کہ بھارت کا کیا ردعمل ہے؟ لیکن انھوں نے اس کا کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں دیا اور کہا کہ’’ چھوڑیئے یہ وقت نہیں ہے ان باتوں کا‘‘۔ وہی بھارت جو ۲۰۱۵ء میں سیزفائر انڈرسٹینڈنگ کو ایک معاہدے کی شکل دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھا، وہ ۲۰۲۱ء میں ہمارے ساتھ یہ معاہدہ کرتا ہے۔ ہم نے وہ معاہدہ کیوں کیا؟ مجھے اس کی ابھی تک سمجھ نہیں آئی۔ اگرچہ وہ ایک مناسب معاہدہ تھا لیکن اس کا وقت بہت غلط تھا۔ ۲۰۱۹ء کے بعد یہ معاہدہ کرنا بنتا ہی نہیں تھا۔ پھر اسی طرح ’کرتارپور کوریڈور‘ بنانا بھی نہیں بنتا تھا۔

ایک طرف یہ پوزیشن لی کہ ہم بھارت سے کوئی معاہدہ نہیں کریں گے اور دوسری طرف بیک چینل پر بھارت سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ اس سے دُنیا کو معلوم ہوگیا کہ یہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ۔ اس لیے ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے بعد دُنیا سے جس ردعمل کی توقع کی جارہی تھی، وہ نہیں ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ وہ سب اقدامات ہیں جوگذشتہ سولہ برسوں سے کیے جارہے تھے۔

پھر ایک اور دلچسپ بات ہوئی کہ نومبر ۲۰۱۹ء میں شنگھائی کارپوریشنز کے نیشنل ایڈوائزرز کی میٹنگ تھی۔ اس موقعے پر ہماری جانب سے پاکستان کا ایک نیا سیاسی نقشہ جاری کیا گیا۔ اس نقشے میں جہاں مقبوضہ جموں و کشمیر، گلگت، بلتستان اور لداخ کو ایک متنازعہ خطے کے طور پر پیش کیا، جو کرنا بھی چاہیے تھا، لیکن اس کے ساتھ جوناگڑھ کو بھی ایک متنازع علاقہ کے طور پر پیش کردیا۔ جوناگڑھ گجرات (انڈیا) کا علاقہ ہے۔ ۱۹۴۷ء میں اس وقت کے نواب مسلمان تھے، اور انھوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کردیا ، جب کہ ریاست کی اکثریت ہندو آبادی پر مشتمل تھی۔ بعد میں بھارت کی فوجوں نے وہاں قبضہ کیا اور پھر ریفرنڈم کروایا۔ چونکہ اکثریت ہندوئوں کی تھی، انھوں نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اس وقت جوناگڑھ کا پنڈورا باکس کیوں کھول دیا گیا؟ لیکن سوال یہ ہے کہ ان حالات میں اس سوال کو اُٹھانے کی کیا اہمیت ہے؟ آپ کیوں جموں و کشمیر پر اپنے موقف کو کمزور کر رہے ہیں؟

کشمیر کے اصولی موقف سے پسپائی کے یہ مختلف مراحل ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم کسی ایک حکومت یا کسی ایک شخصیت کو الزام نہیں دے سکتے۔ یہ ایک تسلسل ہے جو کہ جاری تھا اور جاری ہے۔ ہم نے مسلسل سفارتی غلطیوں پر غلطیاں کیوں کیں؟ کوئی اقدام کرنے سے پہلے ہم نے سوچ بچار کیوں نہیں کی؟

سفارت کاری ایک بڑا مشکل فن ہے۔ جو اسے معمولی کھیل سمجھتے ہیں اور بس چند دوست احباب کی باہم رواداری کے معاملے کے طور پر لیتے ہیں، وہ صرف اپنے ساتھ ہی نہیں، اپنی ریاست کے ساتھ بھی مذاق کرتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے تنازعات کہ جن سے لوگوں کی براہِ راست جانیں وابستہ ہوتی ہیں۔ کشمیر کوئی علاقائی تنازع تو نہیں ہے۔ یہ ایک کروڑ ۲۰ لاکھ کشمیریوں کی آزادی کا معاملہ ہے۔ آپ کس طرح اس کو اتنا ہلکا لے سکتے ہیں؟

یہ بات ضرور معلوم کرنی چاہیے کہ اگر صدر جنرل پرویز مشرف نے چار نکاتی فارمولا دیا تو اس کے پیچھے کیا حکمت عملی کارفرما تھی؟ کیا دفتر خارجہ کے اس وقت کے لوگ صدر مشرف کو مشورہ نہیں دے سکتے تھے؟ اگر دیا تو کس نے اور کس بنیاد پر اسے وزن نہ دیا؟ اور کیا اس کے اصل فریق کشمیری قیادت کو اعتماد میں لیا گیا؟

آگے کیا کرنا ہے؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ ہمارے مسائل کا تعلق اندرونِ ملک کے حالات سے ہے۔ جب تک ہمارے ملکی حالات بہتر نہیں ہوں گے، جب تک ہم اچھی حکمرانی کا مظاہرہ نہیں کرتے، کرپشن کو ختم نہیں کریں گے، اپنی معیشت کو ٹھیک نہیں کریں گے، سیاسی عدم استحکام سے جان نہیں چھڑائیں گے، اس وقت تک ہم سفارتی میدان میں کامیابیاں حاصل نہیں کرسکیں گے۔

یہ دُعا اور اُمید ہے کہ ان شاء اللہ کشمیریوں کو ان کا حقِ خود ارادیت ضرور ملے گا۔ تحریکوں میں اُتارچڑھائو آتا رہتا ہے، لیکن اگر ایمان پختہ ہو اور عزم راسخ ہو تو کوئی طاقت کامیابی سے روک نہیں سکتی۔ بقول اقبال  ؎

پُر دَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرئہ اُفتاد
شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا