۵ جنوری پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ تعجب ہے کہ ملک میں حکومت اور عوامی سطح پر اس مسئلے کو اُٹھانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی، جو سخت تشویش ناک ہے۔ پاکستان کی حکومت کو ملک اورعالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو مؤثرانداز میں اُٹھانے کا فوری اہتمام کرنا چاہیے۔ (ادارہ)
۵جنوری کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، جس کا تعلق حقِ خود ارادیت، امن، انصاف اور کشمیریوں کے انسانی وقار سے ہے، جس سے وہ گذشتہ سات عشروں سے محروم چلے آرہےہیں۔ ہرسال ۵جنوری کو عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانب دارانہ استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو یقینی بنانے کے وعدے اورذمہ داریوں کو پورا کرے۔ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی قراردادوں میں اسے اس کا پابند کیا گیا ہے۔ حقِ خود ارادیت ایک بنیادی انسانی حق ہے، اور اس کا مطالبہ کرنا کوئی غیرقانونی عمل نہیں ہے کیونکہ دنیا کے بہت سے ممالک نے جدوجہد کر کے اسے حاصل کیا ہے۔ لیکن یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ بھارت کئی برسوں سے کشمیریوں کو اُن کے اس بنیادی اور جائز حق سے محروم کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی قرارداد ۵ جنوری ۱۹۴۹ء کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندستان اور پاکستان (UNCIP) کے اجلاس میں منظور کی گئی تھی (دستاویز۱۱۹۶/۵)۔ یہ قراردادیں بالترتیب ۲۳دسمبر اور ۲۵ دسمبر۱۹۴۸ء کو ہندستان اور پاکستان کی حکومتوں سے موصول ہوئی تھیں۔ ۱۳؍ اگست ۱۹۴۸ء کو کمیشن کے تحت منظور کی گئی قرارداد میں درج ذیل اُصولوں کو ضمیمہ کی حیثیت حاصل ہے:
۱- ریاست جموں و کشمیر کے ہندستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے سوال کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانب دارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے کیا جائے گا۔
۲- استصواب رائے کا انعقاد اس وقت کیا جائے گا، جب کمیشن کو معلوم ہوگا کہ کمیشن کی ۱۳؍اگست ۱۹۴۸ء کی قرارداد کے حصہ اوّل اور دوم میں طے شدہ جنگ بندی اور عارضی جنگ بندی پر عمل درآمد کیا جارہا ہے اور رائے شماری کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
۳- (الف) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، کمیشن کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے، استصواب رائے کے لیے ایک افسر (Plebiscite Administrator) کو نامزد کرے گی، جو بین الاقوامی حیثیت کی حامل ایک اعلیٰ شخصیت ہو گی۔ انھیں حکومت جموں و کشمیر کی طرف سے باضابطہ طور پر اس عہدے پر تعینات کیا جائے گا۔
(ب) رائے شماری کا منتظم ریاست جموں و کشمیر سے وہ اختیارات حاصل کرے گا، جو وہ استصواب رائے کے انعقاد اور غیر جانب داری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔
(ج) رائے شماری کے منتظم کو ضروری عملے یا معاونین اور مبصرین کے تقرر کا اختیار حاصل ہوگا۔
۵جنوری ۱۹۴۹ء کو UNCIP نے اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا۔ کمیشن کے ارکان میں ارجنٹائن ، بیلجیم، کولمبیا، چیکوسلواکیہ اور امریکا شامل تھے۔
کشمیری سات عشروں سے خون کے آنسو روتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی تعمیل کے منتظر ہیں، لیکن اس کے برعکس ان کے جائز حق کے حصول کی جدوجہد میں انھیں ہراساں اور قتل کیا جاتا ہے۔ کسی بھی قانونی کارروائی سے استثنا کے ساتھ ' بھارتی ' افواج کو عطا کردہ صوابدیدی اختیارات، بھارت کی جان بوجھ کر اختیار کردہ ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں۔ اس کے نتیجے میں ظالمانہ گرفتاریاں، نظربندی، ماورائے عدالت قتل، معصوم شہریوں کے قتل کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انسانیت کے خلاف ان جرائم کا اصل محرک کشمیری عوام کو بنیادی حقِ خودارادیت کی جدوجہد ترک کرنے پر مجبور کرنا ہے اور اس نسل کشی کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے۔
مظلوم کشمیریوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے کوئی عدالت نہیں ہے کیونکہ جموں و کشمیر میں عدلیہ بھی شدید دباؤ میں کام کر رہی ہے۔ معتبر ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ جج خوف کے عالم میں، سیکورٹی فورسز کے اقدامات کو چیلنج کرنے سے گریزاں ہیں۔ (سپریم کورٹ کا مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے مودی حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھنا اس کا واضح ثبوت ہے)۔
مظلوم کشمیری اپنی سرزمین پر نیلے ہیلمٹ والے افسران کو جو ہندستان اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ (UNMOGIP) کے ایک حصے کے طور پر کام کررہے ہیں، اس اُمید کے ساتھ دیکھتے ہیں کہ اُن کا مقدمہ زندہ ہے اور ایک دن وہ آزادی کا سورج دیکھیں گے۔ مگر اس سمت میں شاید ہی کوئی پیش رفت ہوئی ہو بلکہ حالات روز بروز خراب ہوتے جارہے ہیں۔ بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام نہ کرنے پر بضد اور عمل درآمد کے لیے تیا ر نہیں۔ کنٹرول لائن پر، فوج میں ملازمت کے دوران، اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے ساتھ کام کرتے ہوئے، میں نے ذاتی طور پر دیکھا تھا کہ اقوام متحدہ کے پرچم بردار 'یو این ملٹری آبزرور جب لائن آف کنٹرول کے قریب ہماری طرف اپنے مشن کو انجام دے رہے تھے تو بھارتی فورسز نے ان پر فائرنگ کی اور انھیں خبردار کیا کہ وہ لائن آف کنٹرول کے قریب نہ آئیں۔
’ہندوتوا‘ کے فلسفے کو فروغ دینے والے بھارتی وزیر اعظم مودی نے ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کو خطے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرکے اور اسے یک طرفہ طور پر ہندستانی ریاست کا حصہ بنا کر اپنے تمام پیش روؤں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کی اس بدترین غیر قانونی اور یک طرفہ کارروائی کے ساتھ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی اور سیاسی تبدیلیوں کی انجینئرنگ کر رہا ہے، تاکہ کشمیریوں کو اپنے ہی وطن میں ایک بے اختیار اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر طے شدہ اصول و ضوابط کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، جسے نہ تو اتفاق رائے کے بغیر تبدیل کیا جا سکتا ہے اور نہ کوئی رکن ریاست یک طرفہ طور پر ایجنڈے کو تبدیل کر سکتا ہے۔ نئے سال کے آغاز کے موقعے پر اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے درخواست ہے کہ وہ صورتِ حال کا نوٹس لیں اور مظلوم کشمیریوں کے دُکھوں کا مداوا کریں تاکہ ۲۰۲۴ءکو پُرامن سال بنایا جا سکے۔ یہ اقوام متحدہ کی ۵جنوری ۱۹۴۹ء کی قرارداد پر اس کی حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد سے ہی ممکن ہے۔
۱۹۲۲ء کے موسم بہار میں ۲۲ سالہ آسٹریا نژاد نوجوان یہودی لیوپولڈ کو ان کے چچا دوریان کی جانب سے ایک خط موصول ہوا کہ فوراً برلن چھوڑ کر میرے گھر ا ٓجاؤ۔ ان کا پتھروں سے بنا قدیم طرزکا یہ گھر یافا کے داخلی راستے پر قدیم فلسطینی قصبہ میں واقع تھا۔ چچاکی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ۱۹۲۲ء کی گرمیوں کی ایک دھندلی صبح، محمد اسد مشرق کے راستے پر رواں بحری جہاز کے لکڑی کے عرشے پر کھڑے تھے۔یہی یہودی نوجوان اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہے اور علّامہ محمد اسد (۱۹۰۰ء-۱۹۹۲ء)کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس سفر کے دوران محمد اسد کو عربوں سے میل ملاقات کا پہلا تجربہ ہوا۔لگتا تھا کہ یہ نوجوان، اپنے لیے مستقبل میں چھپے امکانات کو تلاش کرنا چاہتا ہے۔ اس یادگار سفر کے تقریباً دو برس بعد اور مسلمان ہونے سے دو برس پہلے محمد اسد واپس جرمنی لوٹے تو ان کے ساتھ روزانہ کی ڈائری کے وہ اوراق بھی تھے، جو انھوں نے جرمن زبان میں لکھے تھے۔ بلادِ مشرق کے بارے میں ان کے تاثرات خصوصاً ان کی منزلِ اوَلین،القدس کے مشاہدات پر مشتمل ڈائری کے یہ اوراق بعد میں جرمن زبان میں (Unromantisches Morgenland) ’غیر رومانوی مشرق‘ کے نام سے شائع ہوئے۔
کتاب کی کہانی محمد اسد اور صہیونی تحریک کے اس وقت کے روسی نژاد لیڈر حائیم وائزمین (م:۱۹۵۲ء) کے درمیان گرما گرم مباحثے سے شروع ہوتی ہے۔ وائز مین بعد میں قابض اسرائیلی ریاست کے پہلے صدر بھی بنے۔ دونوں کے درمیان یہ مکالمہ بیت المقدس میں واقع محمد اسد کے ایک دوست کے گھر پر ملاقات کے دوران ہوا تھا۔ محمد اسد کا موقف تھا کہ فلسطین پر عربوں کا حق اصلی ہے اور یہ کہ صہیونی تحریک اپنی فکر و فلسفہ کے لحاظ سے عقل ومنطق اور دلیل و استدلال سے قطعی محروم ہے۔ یہود،عرب ۔ اسرائیل کش مکش کو یک رخے انداز میں دیکھ رہے ہیں۔
اس کتاب میں اہم ترین اور قابل توجہ بات محمد اسد کی صہیونی تحریک کی مذمت بلکہ مخالفت کرتی ایک قطعی رائے ہے، حالانکہ یہ رائے ان کے مسلمان ہونے سے قبل کی ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں ایسے بہت سے مضامین بھی درج کیے ہیں جن میں وہ عربوں کو یہودیوں کے منصوبوں اور ان کے نتائج سے باخبر کرتے ہیں۔ جس چیز نے انھیں دلی صدمہ سے دوچار کیا، وہ اہل یہود کا فوج در فوج فلسطین کی طرف نقل مکانی کرنا اور اس سلسلے کو اتنا بڑھانا تھا کہ وہ یہاں پر اکثریت حاصل کر لیں۔
محمد اسد کی یہی آزادانہ آراء تھیں، جن کی وجہ سے ان کے موقف کو یہودیوں نے ’یہود مخالف‘ (Anti-Sematic) قرار دے دیا تھا۔ محمد اسد ، اسرائیل کے قیام کے منصوبے کو ناکام صہیونی منصوبے سے تعبیر کرتے ہیں۔ وہ صہیونی تحریک کے ممبران کو اپنے عقیدے اور اپنے اُوپر عائد ہونے والے اخلاقی فرائض کی پامالی اور ان سے خیانت کا مجرم گردانتے ہیں، حالانکہ ابھی اسد کا اپنا دین بھی یہودیت ہی تھا۔
محمد اسد مذکورہ نتیجۂ فکر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ابتدا ہی سے میرا خیال تھا کہ فلسطین میں یہود کی مصنوعی آباد کاری کی سوچ کا بدترین پہلو یہ ہے کہ اس سے یورپی معاشروں کی مشکلات اور سماجی پیچیدگیوں کا رُخ ایک ایسے خطے اور ملک کی طرف مڑجائے گا جو ان یہودیوں کے بغیر زیادہ خوش حال ہے۔ اگر یہود یہاں آکر نہ بسیں تو یہ خطہ خوش حال تر رہے گا۔اسی طرح محمداسد نے یہودیوں کے قومی وطن کی نوید سنانے والے ۱۹۱۷ء کے بالفور ڈیکلریشن کو انتہائی وحشیانہ اور قساوت قلبی پر مبنی سیاسی چال سے تعبیر کیا اور کہا کہ یہ ان استعماری طاقتوں کی ’لڑاؤ اور حکومت کرو‘ پالیسی کی آزمودہ شکل ہے اور اسی دیرینہ پالیسی کو کامیاب بنانے کے لیے یہ بدنام زمانہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔
محمد اسد اس وقت اگرچہ نسلاً یہودی تھے، تاہم ان کا یہودی ہونا انھیں حالات و واقعات کا معروضی انداز میں جائزہ لینے اور اس پر لکھنے سے کبھی نہیں روک سکا۔ وہ ڈس انفارمیشن اور حقائق کو مبہم رکھنے کے سخت خلاف تھے۔ وہ نتائج کی پروا کیے بغیر حقائق کا اظہار کرنے کو فرض سمجھتے تھے، اسی لیے برطانوی صہیونی گٹھ جوڑ کو نمایا ں کرنے میں مصروف رہے۔ یورپ کے کئی بڑے اخباروں میں فلسطین میں یہودی نو آباد کاری اور اس کے مضمرات و خطرات کے بارے میں مسلسل لکھتے رہے۔ صہیونیوں کے اس پروپیگنڈے کی تردید کرتے رہے کہ یہودی، فلسطین میں اکثریت میں ہیں اور سرزمین ِ فلسطین ایک امر واقعہ کے طور پر یہودیوں کا قومی وطن (Jewish Homeland)بن چکا ہے جسے دنیا کو تسلیم کر لینا چاہیے۔
یورپی باشندے مذکورہ صہیونی پروپیگنڈے کے دھوکے میں آگئے، حتیٰ کہ محمد اسد ابتداً خود بھی اسی پروپیگنڈے کا شکار تھے اور جب تک بنفسِ نفیس خود جاکر ارضِ فلسطین کا مشاہدہ نہ کر لیا، انھیں ادراک ہی نہ ہوا کہ حقیقت وہ نہیں ہے جو بیان کی جا رہی ہے بلکہ اصل معاملہ کچھ اور ہے۔ چنانچہ انھوں نے یورپی معاشرے کے سامنے بھی صہیونی پروپیگنڈے کا پول کھولنے کا بیڑا اُٹھایا اور اس مسئلے پر مضامین لکھنے شروع کیے۔انھوں نے لکھا کہ ’’فلسطین میں یہود کی پوزیشن اس فرد کی سی نہیں ہے، جو ایک عرصہ تک بھولا بھٹکا رہا ہو اور اب شام کو واپس اپنے ہی گھر لوٹ رہاہو،بلکہ ان کی کوشش ہے کہ زور زبردستی، دھونس دھاندلی اور جائزو ناجائز، غرض ہر طرح سے اس سرزمین پر قابض ہوں اور یورپی قومی ریاستوں (Nation States)کے دھوکے میں آ کر فلسطین کو اپنا قومی وطن بنا لیں‘‘۔
محمد اسد نے لکھا: ’’یہود کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ فلسطینیوں کے در پر اجنبیوں کی طرح کھڑے ہیں۔ ایسے میں مجھے ہرگز کوئی تعجب نہیں ہوگا اگر عرب اپنے وطن کے عین دل میں ایک (’یہودی قومی ریاست‘) کے قیام کے تصور کی مزاحمت کریں‘‘۔
ایک اور جگہ کہتے ہیں:’’میں اگرچہ یہودی ہوں، لیکن میرا موقف صہیونیت دشمنی ہے۔ میں نے بڑی طاقتوں خصوصاً برطانیہ عظمیٰ کے غیراخلاقی موقف کی ہمیشہ مذمت کی ہے، اس لیے کہ برطانیہ یہودی مہاجروں کو دنیا کے کونے کونے سے جمع کر کے فلسطین میں دھکیل رہا ہے تا کہ ان کی یہاں اکثریت ہو جائے اور اس سرزمین کے اصل، جائز اور قانونی وارثوں سے اس خطۂ ارضی کو بزور چھین لیں جو مدتوں سے یہاں رہتے چلے آرہے ہیں۔ ہر ایسی مجلس میں جہاں عرب یہودی تنازعہ زیر بحث ہوتا، میں خود بخود اپنے آپ کو عربوں کی صف میں کھڑا پاتا۔ بہت سے ان یہودیوں کے لیے میرا موقف سمجھنا انتہائی مشکل ہوتا، جن سے اتفاقاً میری ملاقات ہو جاتی یا فلسطین میں رہتے ہوئے مختلف تہواروں پر ہم کہیں اکٹھے ہوتے۔ وہ سمجھ نہیں پاتے تھے کہ مجھے ان عربوں میں ایسی کیا بات دکھائی دیتی ہے، جنھیں وہ انتہائی پسماندہ سمجھتے تھے، بالکل اسی نظر سے دیکھتے تھے جیسے کوئی یورپی باشندہ، وسطی افریقہ کے اجڈ اور گنوار باشندوں کو دیکھتا ہے۔ عرب ذہن کیا سوچتا ہے؟ اس سے انھیں کوئی سروکار نہ تھا، نہ ان میں سے کوئی یہ تکلف ہی کرتا تھا کہ عربی زبان ہی سیکھ لے۔
محمد اسد نے اپنی اس کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اس کی اہمیت محض اس وجہ سے نہیں ہے کہ ان کی مذکورہ رائے کی بنیاد منطقی اسباب پر تھی، ہرگز نہیں۔ درحقیقت یہ اس عینی شاہد کا بیان ہے، جسے ان نتائج تک واقعی،حقیقی اور آنکھوں دیکھے زندہ واقعات و حوادث نے پہنچایا تھا۔ محمد اسد خود ان واقعات اور ان کی جزئیات کا حصہ رہے ہیں۔ گویا یہ اس زمانے کے احوال و واقعات کے بارے میں ایک باخبر صحافی کے ایسے رپورتاژ ہیں جو انتہائی باریک بینی اور دقت نظری سے مرتب کردہ تھے، زمینی حقائق پر مبنی اور نتائج بھی عقلی استدلال سے پُر۔
محمد اسد لکھتے ہیں: ’’ان دنوں ایک عام یورپی باشندہ، فلسطینی عربوں کے بارے میں کیا جانتا تھا؟عملاً کچھ بھی نہیں۔ جب یورپی یہودی فلسطین آئے تو اپنے ساتھ بہت سے غلط العام جذبات و احساسات بھی لے کر آئے۔ان میں سے جو بھی صاف نیت اور تھوڑی سی عقل و شعور کا مالک ہوگا، وہ ضرور اقرار کرے گا کہ ارض فلسطین پر عربوں کی موجودگی کے بارے اسے کچھ معلوم نہیں تھا۔ میں خود بھی ارضِ فلسطین پر آنے سے قبل ہرگز یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ عرب سرزمین ہے جو عربوں ہی کی ہے۔ بس یہاںکے بارے میں کچھ مبہم سی معلومات تھیں کہ چند عرب لوگ بھی یہاں رہتے ہیں اور ان عربوں کے بارے میں میرا تصور یہ تھا کہ یہ عرب قبائلی بدو ہوں گے خیمہ بدوش، کبھی یہاں کبھی وہاں پڑاؤ ڈالنے والے اور صحرائی میدانوں میں اونٹ چرانے والے۔میں نے گذشتہ چند برسوں میں فلسطین کے بارے میں اگر کچھ پڑ ھا تو وہ صہیونیوں کا لکھا پروپیگنڈا لٹریچر ہی تھا، جس میں ان کا اپنا موقف ہی دیا ہوتا تھا۔میں نہیں جانتا تھا کہ فلسطین کے شہر، عرب شہر ہیں جن میں عرب رہتے بستے ہیں۔ ۱۹۲۲ء میں یہاں آبادی کا تناسب کچھ اس طرح تھا کہ ایک یہودی کے مقابلے میں پانچ عرب اور اس کا سیدھا سادہ مطلب یہی تھا کہ یہ ایک عرب ملک ہے‘‘۔
اس طرح صہیونی تحریک کی جانب سے اسرائیل کے قیام کے غیر قانونی اعلان سے ربع صدی قبل محمد اسد صہیونی سازشوں کو بے نقاب کر رہے تھے اور اس واضح وژن کے ساتھ، جس میں خوف اور تردد کا ادنیٰ سا شائبہ بھی نہیں تھا، پوری تفصیلات اور بھرپور اعتماد کے ساتھ۔ اس لیے کہ انھوں نے عینی شاہد کے طور پر، صحافی کے طور پر، ایک رپورٹر اور ادیب کے طور پر بچشم سر خود مقبوضہ فلسطین کو دیکھا تھا۔اس مشاہدے اور تجربے نے یورپی قلم کاروں کے ہاتھوں پہلے سے بنائی ہوئی اس مسخ شدہ تصویر کو تبدیل کر کے رکھ دیا جس کی بنیاد غلط معلومات اور فلسطین کے بارے میں یہودی پروپیگنڈا پر تھی جو دن رات وہ کرتے رہتے تھے۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہود اور ان کا پروپیگنڈا ہی اُس دور میں معلومات اور خبروں کا واحد ذریعہ تھا کہ جب انفارمیشن اور خبروں کے ذرائع خال خال ہی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ محمد اسد جس اخبار میں اپنے مراسلات بھیجتے تھے، وہ بڑے اہتمام کے ساتھ ان کے مضمون کے آخر میں یہ لکھنا نہیں بھولتا تھا کہ’’مقالہ نگار کے خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے‘‘ ۔ اس کی ایک وجہ شاید ان اداروں میں یہود ی اثر و نفوذ بھی تھا۔
محمد اسد کے دورۂ فلسطین کی ایک اہم یادگار ان کی اس وقت صہیونی تحریک کے رہنما حائیم وائز مین کے ساتھ ملاقات بھی تھی۔ اس گرماگرم بحث سے محمد اسد کی صہیونی تحریک کے بارے میں ذاتی رائے بھی معلوم ہوتی ہے اور صہیونی تحریک کی ان کوششوں کے بارے میں آگاہی بھی ملتی ہے، جو وہ فلسطین اور پورے عرب کی صورت مسخ کرنے، اور پھر اس مسخ شدہ تصویر کو عالمی رائے عامہ کے ذہنوں پر مسلط کرنے کے حوالے سے کر رہی تھی۔ اس سطحی صہیونی عقل و منطق کا اندازہ بھی اس سے بخوبی ہو جاتا ہے، جو وہ فلسطین پر ناجائز قبضہ کے جواز کے طور پر رکھتے تھے۔ اس مکالمے سے ہم یہ اندازہ بھی لگا سکتے ہیں کہ دنیا کے اس پُرآشوب خطّے اور اس میں رہنے والے قبائل اور نسلوں کے بارے میں محمد اسد کی اپنی معلومات کس قدر وسیع اور گہری تھیں۔
گفتگو کا آغاز اس وقت ہوا جب وائز مین ان مالی مشکلات پر شکایت کناں تھے جو فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے میں آڑے ا ٓرہی تھیں کہ ’’فلسطین سے باہر رہنے والے لوگ ہماری باتوں اور اپیلوں پر کان نہیں دھر رہے‘‘۔ محمد اسد کہتے ہیں کہ اس سے مجھے خیال گزرا کہ یہ بھی دیگرصہیونیوں کی طرح فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے میں ناکامی کا بوجھ بیرونی دنیا پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ بات چیت کے دوران خاموشی کا ایک وقفہ آیا تو میں نے اسے غنیمت جانتے ہوئے ایک سوال اُچھالا:’’ اور یہاں رہنے والے عربوں کا کیا ہوگا؟‘‘ مجھے لگا جیسے میں نے کوئی پہاڑ جیسی غلطی کر دی ہو، یہودی محفلوں کے لیے بالکل اجنبی سا سوال پوچھ کر۔
ڈاکٹر وائز مین نے آہستہ آہستہ اپنا چہرہ میری طرف پھیرا اور میرا ہی سوال دُہرا دیا: ’’عربوں کا کیا ہوگا؟‘‘ میں نے اپنا سوال خود ہی مکمل کیا کہ ’’فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن کیسے بنا پائیں گے، جب کہ عربوں کی طرف سے ہمیں شدید مخالفت کا سامنا ہے اور اس پر طرہ یہ کہ وہ اکثریت میں بھی ہیں؟‘‘ یہودی لیڈر نے اپنے کندھے اچکائے گویا جواب دے رہے ہوں اور پھر خشک لہجے میں بولے: ’’ہمیں امید ہے کہ چند برسوں بعد وہ اکثریت میں نہیں ہوں گے‘‘۔
میں نے جواباً کہا: ’’اس امر کی کوشش تو آپ برسوں سے کر رہے ہیں اور یقینا مجھ سے زیادہ حقائق کو بھی جانتے ہیں لیکن کیا اس معاملے کا اخلاقی پہلو تو کبھی آپ کو شرمسار نہیں کر دے گا؟ کیا آپ کو فکر ہے کہ اس خطے میں ساری ساری زندگیاں گزارنے والی قوم کو ان کے گھر بار اور علاقے سے نکال دینا بہت بڑی غلطی ہوگی؟
وائز مین نے اپنی آنکھوں کی بھنویں سکیڑیں اور جواب دیا: ’’یہ ہماری زمین ہے اور ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر رہے کہ غلطی سے جوعلاقہ ہم سے چھن گیا تھا، وہی اب ہم واپس لے رہے ہیں‘‘۔ میں نے جواب دیا: ’’لیکن آپ لوگ تقریباًد و ہزار برس تک اس خطے سے دور تھے۔ ہاں، ٹھیک ہے اس سے قبل اس خطے پر آپ کی حکومت رہی، لیکن پورے خطے پر نہیں اور وہ بھی کوئی ۵۰۰ برس سے بھی کم عرصے کے لیے صرف۔ آپ کی منطق کو اگر قبول کر لیا جائے تو کیا عرب بھی اندلس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کر سکتے؟ انھوں نے تو اندلس پر ۷۰۰ برس سے زیادہ عرصہ تک حکومت کی ہے اور ابھی انھیں وہاں سے نکلے پانچ سو برس بھی نہیں ہوئے؟‘‘ اس پر وائز مین کا صبر جواب دے گیا اور وہ کہنے لگے: ’’یہ سب بے کار کی باتیں ہیں۔ عربوں نے اندلس پر جنگ مسلط کی تھی۔ اندلس کبھی بھی ان کی سرزمین نہیں رہا۔ زیادہ معقول اور آخری بات یہ ہے کہ اندلسیوں نے خود انھیں نکال باہر کیا تھا‘‘۔
میں نے ان کی دلیل کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’’معاف کیجیے گا، لگتا ہے تاریخی تناظر کے اعتبار سے غلط موقف بنایا جارہا ہے۔ آپ کچھ بھی کہہ لیں مگر حقیقت یہ ہے کہ عبرانی بھی جنگجو بن کر فلسطین میں داخل ہوئے تھے اور ان سے پہلے طویل مدت تک سامی اور غیر سامی قبائل فلسطین میں رہتے آ رہے تھے۔ عموری،فلسطینی، موابی،حتی اور عبرانیوں کی ان سے جنگ کے بعد بھی مسلّمہ تاریخی حقیقت یہی ہے کہ یہ قبائل فلسطین ہی میں رہتے بستے رہے۔اسی طرح یہودا اور اسرائیل، دونوں یہودی مملکتوں کے اندر بھی یہ لوگ بستے رہے۔یہ لوگ اس وقت بھی اس سرزمین میں بس رہے تھے، جب رومیوں نے ہمارے یہودی اسلاف کو ارضِ فلسطین سے بے دخل کیا تھا اور یہی لوگ آج بھی فلسطین کی سرزمین پررہ بس رہے ہیں‘‘۔
میری گرم جوشی دیکھ کر ڈاکٹر وائز مین مسکرا دیے اور غالباً بے بس ہوکر گفتگو کا رُخ دوسری طرف موڑ کر دیگر موضوعات پر بات کرنے لگے‘‘۔
بقول محمد اسد: ’’مجھے اس ملاقات اور اس کے نتائج پر کوئی خوشی نہیں ہوئی۔ مجھے ہرگز توقع نہیں تھی کہ صہیونی منصوبہ عقل و منطق اور دلیل و حجت سے اس قدر عاری ہوگا۔مجھے امید تھی کہ میری طرف سے عرب مسئلہ کا دفاع اس صہیونی منصوبے کے بارے میں اس کے خالقوں کے ذہن میں شک و شبہہ پیدا کردے گا یا کم سے کم اس کی کامیابی کے بارے میں عدم یقین کی کیفیت تو ضرور ہی پیدا ہوگی، جن سے ان میں یہ احساس جنم لے گا کہ ان کے منصوبے کی عربوں کی طرف سے مزاحمت اخلاقی طور پر بر حق ہے، لیکن اس کے برعکس میں نے اپنے آپ کو چبھتی نظروں کی ٹھنڈی دیواروں میں گھرا ہواپایا۔ایسی نظریں جو میری جرأت اور بے باکی کی مذمت کر رہی تھیں۔ ان امور پر اظہارِ تشکیک ان کے نزدیک جرم تھا، جن میں شک و شبہہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہو۔ ان کے نزدیک یہودیوں کا ان کے آباؤ اجداد کی سرزمین فلسطین پر حق فائق تھا۔
صہیونی تحریک کے رہنما کی اپنی دلیل ایک ۲۲ سالہ نوجوان صحافی کے سامنے نہ ٹھیرسکی۔ یہی نہیں بلکہ وہ جواب دینے سے کترانے لگا اور بات کا رُخ محض اس لیے موڑ دیا کہ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور نہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو کا متحمل ہو سکتا تھا۔اپنے انھی خیالات، منطقی استدلال اور عملی مشاہدے کی بنیاد پر محمد اسد فلسطین میں یہودیوں کے انجام اور ان کی ریاست کے جلد یا بدیر، زوال کی توقع رکھتے تھے۔
شامی نامہ نگار حیدر الغدیر ۱۹۷۹ء میں مراکش میں محمد اسد کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے ان کا قول دہراتے ہیں: ’’یہود ایک ایسی احمق قوم ہیں، جنھوں نے اپنی تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور نہ اپنی غلطیوں ہی سے کچھ سیکھا ہے۔ ان میں غرور بھی ہے اور لالچ بھی اور یہی دو چیزیں ہلاکت خیز ہوتی ہیں۔ ان کی مثال اس بندر کی سی ہے جس نے ایک بوتل میں بند بادام دیکھے تو انھیں کھانے کے لیے جھٹ سے اپنا ہاتھ بوتل میں ڈال کر مٹھی بھر لی اب لگا زور لگانے کے ہاتھ باہر نکالے، لیکن کوئی چارہ نہیں تھا۔اتنی عقل تھی نہیں کہ بادام چھوڑے، مٹھی کھولے اور ہاتھ نکال لے۔ باداموں کا لالچ بھی اسے مٹھی میں بھرے بادام چھوڑنے نہیں دے رہا تھا۔ لہٰذا وہ اسی حالت میں رہا، یہاں تک کہ اس کا مالک آگیا اور اس نے مار مار کر اس سے بادام چھڑوائے اور اس کا ہاتھ آزاد کرایااوربندر کو اپنے لالچ کی سزا ملی۔ بس ایسی ہی صورتِ حال فلسطین میں یہودیوں کی بھی ہے۔ ان کے لالچ کی سزا انجامِ کار ان کی منتظر ہے۔ انھیں بھی بالکل اسی طرح مجبوراً فلسطین کو چھوڑنا پڑے گا جیسے لالچی بندر کو مار کھا کھا کر بادام چھوڑنے پڑے تھے‘‘۔
تصور کریں اگر ایران، شام، لبنان یا ترکی - روس اور چین کی مکمل سفارتی حمایت اور مسلح مدد اور ارادے کی قوت کے ساتھ ساتھ وسائل سے بھی لیس ہو اور تل ابیب پر تین ماہ تک دن رات بمباری کرے، دسیوں ہزاروں اسرائیلیوں کو قتل کرے، لاتعداد کو معذور اور لاکھوں کو بے گھر کرے اور پورے شہر کو غزہ کی طرح ناقابلِ رہایش ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردے۔
صرف چند لمحوں کے لیے یہ تصور کریں کہ: ایران اور اس کے اتحادی تل ابیب کے آبادی والے حصوں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں، اسکولوں، یونی ورسٹیوں، لائبریریوں اور ایسی کوئی بھی جگہ جہاں انسان آباد ہوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنارہے ہیں، تاکہ یقینی طور پر زیادہ سے زیادہ شہری ہلاکتیں ہوں۔ اور دنیا کو یہ بتائیں کہ وہ صرف اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی جنگی کابینہ کو تلاش کر رہے ہیں۔
اپنے آپ سے پوچھیے کہ امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا اور جرمنی اس خیالی جنگی منظر نامے کے جواب میں ۲۴ گھنٹوں کے اندر اندر کیا کریں گے؟
اب حقیقت کی طرف واپس لوٹ آئیےاور اس حقیقت پر غور کریں کہ ۷؍ اکتوبر سے پہلے (اور اس تاریخ سے بھی پہلے کے کئی عشروں تک) تل ابیب کے مغربی اتحادیوں نے نہ صرف یہ دیکھا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ کیا کیا ہے،بلکہ ان اتحادیوں نے اسے فوجی سازوسامان، بم، گولہ بارود اور سفارتی امداد فراہم کرنے کے ساتھ مکمل پشت پناہی بھی کی ہے، جب کہ فلسطینیوں کے قتل عام اور نسل کشی پر امریکی ذرائع ابلاغ اسرائیلی جارحیت کے حق میں نظریاتی جواز بھی پیش کرتے آ رہے ہیں۔
مذکورہ بالا خیالی جنگی منظر نامے کو موجودہ عالمی نظام ایک دن کے لیے بھی برداشت نہیں کرے گا۔ اسرائیل کی پشت پر امریکا، یورپ، آسٹریلیا اور کینیڈا کی فوجی غنڈا گردی کے مقابلے میں ہم بے بس لوگ، فلسطینیوں کی طرح کسی شمار میں نہیں لائے جاتے۔ یہ صرف ایک سیاسی حقیقت نہیں ہے بلکہ وہ شے جو’مغرب‘ کہلائی جاتی ہے، اس کے ’اخلاقی‘ وجود اور فلسفہ کائنات کا ایک لازمہ ہے۔
ہم میں سے وہ لوگ جو یورپ کے اخلاقی تخیل کے دائرہ کار سے باہر رہتے بستے ہیں، وہ ان مغربیوں کی فلسفیانہ کائنات میں شمار نہیں کیے جاتے: عرب، ایرانی اور مسلمان؛ یا ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے لوگ - ہم یورپی فلسفیوں کے لیے کوئی حقیقی وجود نہیں رکھتے،سوائے اس کے کہ ہم ایک مابعد الطبیعیاتی خطرہ ہیں، جسے ہر طور پر فتح کر لینا یا خاموش کر دینا چاہیے۔
ایمانویل کانٹ اور جارج ولہیم فریڈرک ہیگل سے لے کر، ایمینوئل لیوناس اور سلووج زیزیک کے بعد بھی، ہم یا تو عجیب و غریب چیزیں ہیں، اشیا ہیں یا وہ معلوم چیزیں ہیں، جن کو سمجھنے کی ذمہ داری مستشرقین کو سونپی گئی تھی۔ اسی طرح، اسرائیل یا امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے ہاتھوں، ہم میں سے ہزاروں افراد کا قتل، یورپی فلسفیوں کے ذہنوں میں ذرا بھی رُک کر سوچنے کا باعث نہیں بنتا۔
اگر آپ کو اس پر شک ہے، تو آپ معروف یورپی فلسفی جرگن ہیبرماس (Jurgen Habermas) اور اس کے چند ساتھیوں پر ایک نظر ڈالیں، جو حیران کن بے شرمی کے ساتھ ظالمانہ بدمعاشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ اب سوال یہ نہیں ہے کہ آیا ہم ایک انسان کے طور پر ۹۴ سال کے ہیبرماس کے بارے میں کیا سوچیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم ان کے بارے میں ایک سماجی سائنس دان، فلسفی اور تنقیدی مفکر ہونے کے ناطے کیا سوچیں؟
دنیا اسی قسم کے سوال ایک اور بڑے جرمن فلسفی، مارٹن ہائیڈیگر کے بارے میں اس کی نازی ازم کے ساتھ انسانیت سوز وابستگی کی روشنی میں پوچھتی آ رہی ہے۔ ہمیں بھی اسی طرح ہیبرماس کی متشدد صہیونیت اور اس کے پورے فلسفیانہ منصوبے اور ان کے اہم نتائج کے بارے میں، ایسے اہم سوالات پوچھنے چاہئیں۔
اگر ہیبرماس کے اخلاقی تصور میں فلسطینیوں جیسے لوگوں کے لیے دُنیا میں ذرا برابر بھی جگہ نہیں ہے، تو کیا ہمارے پاس اس کے پورے فلسفیانہ منصوبے کو قبائلی یورپی سامعین کے علاوہ، باقی انسانیت سے متعلق سمجھنے کی کوئی وجۂ جواز موجود ہے؟
ایک کھلے خط میں ممتاز ایرانی ماہر عمرانیات آصف بیات نے ہیبر ماس کو لکھا ہے: ’’جب غزہ کی صورتِ حال پر بات کرنے کا وقت آتا ہے تو ہیبر ماس ’اپنے ہی خیالات سے متصادم‘ بات کرتا ہے۔ میں اس بات سے اختلاف کرتا ہوں۔ فلسطینی زندگیوں سے بے خبری اور سفاکانہ لاتعلقی کی صہیونیت سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہے۔ یہ اس عالمی نظریہ سے بالکل مطابقت رکھتا ہے جس میں غیر یورپی لوگ، مکمل طور پر انسان نہیں ہیں، یا محض ’انسان نما جانور‘ ہیں، جیسا کہ اسرائیلی وزیر دفاع یاو گیلنٹ نے سر عام کہا ہے۔
فلسطینیوں کی زندگیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، ہیبرماس کی صہیونیت ہائیڈیگر کے نازی ازم سے جا ملی ہے۔ فلسطینیوں کو سراسر نظر انداز کرنے کے اس رویے کی جڑیں جرمن اور یورپی فلسفیانہ تخیلات میں بہت گہری ہیں۔ عام حکمت کے مطابق ’ہولوکاسٹ‘ کے جرم میں شرم کے مارے جرمنوں نے اسرائیل کے لیے ٹھوس وابستگی پیدا کر لی ہے۔لیکن باقی دنیا کے لیے، جیسا کہ جنوبی افریقہ کی جانب سے بین الاقوامی عدالت انصاف میں پیش کی گئی شاندار دستاویز سے ثابت ہوتا ہے، جرمنی میں نازی دور میں جو کچھ کیا گیا، اور اب صہیونی دور میں جو کچھ کیا جارہا ہے، میں مکمل مطابقت ہے۔
یقینا ہیبرماس کی پوزیشن صہیونیوں کے ہاتھوں فلسطینی قتل عام کے لیے جرمن ریاست کی پالیسی کے مطابق ہے۔ یہ &’جرمن بائیں بازو‘ ; کی نسل پرستانہ دشمنی، اسلام دشمنی رویوں کے بھی بالکل مطابق ہے، جو وہ عربوں اور مسلمانوں سے کرتے ہیں۔ اور یہ ان کے اس رویے کے بھی مطابق ہے، جس کی بنا پر وہ اسرائیلی غیر قانونی آباد کاروں کی فلسطینی نسل کشی کی حمایت کرتے ہیں۔
ہمیں اس بات پر معاف رکھیے، اگر ہم یہ بات سوچ رہے تھے کہ جرمنی ہولوکاسٹ کی تاریخ پر شرمندہ ہے، نہیں بلکہ وہ نسل کشی کی بیماری میں مبتلا ہے، کیونکہ اس پوری صدی (نہ کہ صرف پچھلے ایک سو پندرہ دن) میں اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے قتل عام میں جرمنی بالواسطہ ملوث رہا ہے۔
یورو سینٹرزم (Eurocentrism) کا الزام جو یورپی فلسفیوں کے تصورِ دنیا کے خلاف مسلسل لگایا جاتا ہے، وہ محض ان کی سوچ کی ایک علمی خامی کی طرف اشارہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان کی اخلاقی پستی کی ایک مستقل علامت ہے۔ ماضی میں متعدد موقعوں پر میں نے یورپی فلسفیانہ سوچ کی اس لاعلاج نسل پرستی کی طرف نشان دہی کی ہے اور آج بھی ان کے مشہور نمایندوں کے سامنے نشاندہی کرتا رہتا ہوں۔
یہ اخلاقی پستی محض ایک سیاسی غلطی یا نظریاتی خلا پر مشتمل نہیں ہے۔ یہ ان کے فلسفیانہ تخیلات میں گہرائی سے لکھی گئی ہے، جو ناقابل تلافی طور پر ایک وحشیانہ قبائلی سوچ ہے۔ آج کی دنیا، یورپی نسلی فلسفے کی جھوٹی نیند سے بیدار ہو چکی ہے۔ آج ہم نے یہ آزادی فلسطینیوں جیسے مصائب میں گھرے لوگوں کے ہاتھوں حاصل کی ہے۔
یہاں، ہمیں مارٹنیک کے ایک عظیم الشان شاعر ایمی سیزائر (Aime Cesaire)کے ایک بیان کو دُہرانا چاہیے؛ &’’ہاں، یہ سود مند ہوگا، اگر ہم طبی لحاظ سے، ہٹلر کے اقدامات اور ہٹلرازم کا تفصیلی مطالعہ کریں اور بیسویں صدی کے بہت ہی ممتاز، انتہائی انسان دوست، انتہائی مسیحی بورژوا کے سامنے یہ انکشاف کیا جائے کہ اپنے اندر موجود ایک ہٹلر سے وہ ناواقف ہے، وہ ہٹلر اس کے اندر بستا ہے، وہ ہٹلر اس کا شیطان ہے، اور اس کے خلاف آواز اٹھانا اس کے لیے متضاد عمل ہے، اور وہ اس پر قائم نہیں رہ سکتااور یہ کہ دل کی گہرائیوں میں وہ جس چیز کے لیے ہٹلر کو معاف نہیں کرسکتا وہ بذات خود اس کا جرم نہیں جو اس نے انسانیت کے خلاف کیا، اور نہ یہ انسانیت کی بے توقیری پر مبنی رویہ ہے، بلکہ دُکھ صرف اس بات پر ہے کہ یہ جرم ایک سفید فام آدمی کے خلاف ہوا، جس میں سفید فام آدمی کی تذلیل ہوئی اور یہ حقیقت اس میںمضمر ہے کہ اس نے نوآبادیاتی طریق کار کا اطلاق یورپ پر کیا جو اس وقت تک صرف [عرب، ہندستانی اور افریقیوں کے لیے مخصوص تھا]‘‘۔
فلسطین، آج نوآبادیاتی مظالم کی ایک توسیع ہے جس کا حوالہ سیزائر نے اپنی تحریرمیں دیا ہے۔ ہیبرماس اس بات سے لاعلم دکھائی دیتا ہے کہ اس کی فلسطینیوں کے قتل عام کی توثیق کرنا مکمل طور پر اُس نسل کشی سے مطابقت رکھتا ہے، جو اُس کے آباؤ اجداد نے نمیبیا میں ہریرو اور نِما قبیلوں کی کی۔ اس ضرب المثلی شتر مرغ کی طرح، جرمن فلسفی بھی اپنے سروں کو یورپی فریبوں کے اندر پھنسائے ہوئے ہیں، جو یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ دنیا اسے نہیں دیکھ رہی۔
میری نظر میں، ہیبرماس نے کچھ بھی کہا، وہ حیران کن یا متضاد نہیں کہا ہے۔ بالکل معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وہ اپنے فلسفیانہ حسب نسب کی لاعلاج قبائلیت کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہے، جس نسب نے غلطی سے آفاقی رنگ اختیار کرنے کا دعویٰ کر رکھاتھا۔
دنیا نے اب اس نام نہاد ’آفاقیت‘ کے غلط داغ سے خود کو صاف کر لیا ہے۔ ہیبر ماس اور اس قبیل کے لوگوں کے مقابلے میں دیگر فلسفی جیسا کہ ڈ یموکریٹک رپبلک آف کانگو کے وی وائی موڈیمبے،ارجنٹائن کے میگنولو یا اینرک ڈوسل یا جاپان کے کوجن کراتانی کے پاس آفاقیت کے کہیں زیادہ جائز دعوے ہیں۔
میری رائے میں، فلسطین پر ہیبرماس کے بیان کا اخلاقی دیوالیہ پن، یورپی فلسفے اور باقی دنیا کے درمیان نوآبادیاتی تعلق میں ایک اہم موڑ ہے۔ دنیا یورپی نسلی فلسفے کی جھوٹی نیند سے بیدار ہوچکی ہے۔ ہم نے یہ آزادی آج فلسطینیوں جیسے مصائب میں گھرے لوگوں کے طفیل حاصل کی ہے، جن کی طویل، تاریخی بہادریوں اور قربانیوں نے آخرکار &’مغربی تہذیب‘ کی بنیادیں، جو بے شرم وحشت و درندگی پر کھڑی تھیں، منہدم کر دی ہیں۔(مڈل ایسٹ آئی)
مذہب و نسل کی بنیاد پر انسان سے نفرت کی تمام شکلیں قابلِ مذمت ہیں لیکن امریکا میں خاص طور پر اکثر یہ ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے تمام ناقدین کو ’یہود دشمن‘ (Antisemitists) قرار دے کر ان کا محاسبہ ہوتا ہے،جب کہ ’عرب دشمنی‘ کے واقعات کو بڑی آسانی سے نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ پہلی عرب اسرائیل جنگ سے بھی پہلے کا ہے اور ۱۹۳۰ء کے عشرے سے یہود پسند گروہ یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ ’ارضِ فلسطین سے مسلمانوں اور عیسائیوں کو نکالا جائے‘۔ یہ مذہبی اور نسلی تعصب نہ صرف برداشت کیا گیا بلکہ جب امریکی صدر [۵۴-۱۹۴۵ء] ہیری ٹرومین جیسے سیاست دانوں نے فلسطین کی غیر یہودی اور عرب آبادی کے تحفظات کو مکمل نظر انداز کرنا شروع کیا، تو اُس دن سے لے کر آج تک یہ امریکی خارجہ پالیسی کا باقاعدہ حصہ بن گیا۔
چونکہ اسرائیل اپنی اچھی خاصی غیر یہودی آبادی کے باوجود خود کو یہودی ریاست قرار دیتا ہے، اس لیے اس کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والا ہر فرد بڑی آسانی سے ’یہود دشمن‘ قرار پاکر مطعون ٹھیرتا ہے۔ اس رویے کا نقصان عربوں کو ہوتا ہے جو اپنے خلاف پائے جانے والے تعصب یا مسئلہ فلسطین پر بات کریں تو فوراً ’یہود دشمن‘ قرار پاتے ہیں کیونکہ اسرائیلی برادری تاریخی طور پر امریکی میڈیا اور تعلقات عامہ کے دیگر اداروں میں اپنے رسوخ کے باعث الفاظ اور بیانیے کی اہمیت سے بہتر طور پر واقف ہے۔ یہ ’عرب دشمنی‘ کی ایک واضح مثال ہے کہ اسرائیلی وزارتِ دفاع، وزارتِ داخلہ اور کئی منتخب نمایندے کھلم کھلا یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ ’’فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر مصر کی جانب دھکیل دیا جائے‘‘۔
اسرائیلی حکومت کی جارحیت کے ناقدین کو خاموش کرنے کے لیے ’یہود دشمنی‘ کا بطور ہتھیار استعمال نہ صرف اسرائیل غزہ جنگ میں نمایاں ہے بلکہ اس کے اثرات امریکا میں بھی واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں، جو اسرائیلی ریاست کا سب سے بڑا سرپرست اوراس بات کا ضامن ہے کہ اسے اپنے جنگی جرائم کی سزا نہ مل سکے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اسرائیلی حکومت کے ناقدین کو خاموش کروانے کا فریضہ امریکا نے سنبھال رکھا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکا نے غزہ میں ’انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی‘ کی قرار داد کو ویٹو کردیا تھا جس نے یہ حقیقت مزید آشکارا کر دی کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق جیسے بنیادی معاملات پر بھی طاقت ور ممالک کے سامنے بے بس ہے۔
’یہود دشمنی‘ کا یہ استعمال ہمیں یونی ورسٹیوں میں بھی نظر آتا ہے، جہاں طویل عرصے سے یہودی طلبہ کو فلسطینی ہم مکتبوں کے مقابلے میں بہتر حقوق اور سہولیات حاصل ہیں۔ میں ۱۹۷۰ء کی دہائی میں یونی ورسٹی آف الینائی (University of Illinois) میں عرب طلبہ کی تنظیم، عرب اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (ASO) کی قیادت کر چکا ہوں۔اس عہدے پر مجھے یونی ورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مسلسل مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ اکثر ہماری تقریبات کے لیے فنڈز دینے سے انکار کر دیا جاتا یا فلسطین پسند سمجھے جانے والے مقررین کو مدعو کرنے کی اجازت نہ ملتی۔ اس کے مقابلے میں اسرائیل کے حق میں ہونے والی تقریبات کو اکثر یونی ورسٹی کی مالی معاونت حاصل ہوتی۔
جب ہم اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے تو ہمیں نہ صرف اساتذہ بلکہ یونی ورسٹی کے اخبار کی جانب سے بھی ’یہود دشمن‘ قراردیا جاتا۔ اسی صورتِ حال کے باعث میں نے میڈیکل کو چھوڑ کر صحافت کو پیشہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ آج فلسطین کے حق میں احتجاج کرنے والوں کے لیے یونی ورسٹیوں کی صورتِ حال اس سے بھی بری ہے۔ اس صورت حال کی تشکیل میں امریکی میڈیا کے تعصبات کا کلیدی کردار ہے۔
۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کو اسرائیل میں ہونے والے پُر تشدد واقعات کے بعد سے امریکا کی اسرائیل پسند تنظیموں کی پوری کوشش ہے کہ تل ابیب کے رد عمل اور اس کے ناجائز اور ناروا مظالم پر ہونے والی ہر تنقید کو ’یہود دشمنی‘ قرار دے کر دبا دیا جائے۔ ۷؍اکتوبر کو حماس کے حملے کو اسرائیل نے اپنے غصے کا جواز بناتے ہوئے وسیع پیمانے پر بلا امتیاز جنگی کارروائیاں کی ہیں، جن کے نتیجے میں ۲۲ہزار سے زیادہ شہری اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ ان میں ۸ہزاربچے بھی شامل ہیں۔ ۷؍اکتوبر کے بعد سے اسرائیل غزہ کے تقریباً ۷۰ فی صد گھروں کو مسمار کرچکا ہے۔
اس ضمن میں جو بھی اسرائیلی حکومت کی خونخوار پالیسی کی جانب اشارہ کرتا ہے، اسے ’یہود دشمن‘ قرار دے کر سختی سے خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ کوئی یونی ورسٹی بھی اس یک طرفہ ظلم سے محفوظ نہیں ہے۔ ہارورڈ جیسی مؤقر یونی ورسٹی کی پہلی سیاہ فام خاتون صدر کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا گیا۔ ڈاکٹر کلاڈین گی پر ان الزامات کے ساتھ حملہ کیا گیا کہ انھوں نے یونی ورسٹی میں ’یہود دشمنی‘ کو جگہ دی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ یونی ورسٹی میں پائے جانے والی ’عرب دشمنی‘ کے جذبات یا اسرائیلی مظالم کے حق میںہونے والے مظاہروں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، پھر ’عرب دشمنی‘ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا۔ اس یلغار اور دیگر پروفیسروں، اسرائیل پسند تنظیموں، میڈیااور دائیں بازو کے اراکین کانگریس کی جانب سے یوں ہراساں کیے جانے کے بعد کلاڈین نے مستعفی [۲جنوری ۲۴ء] ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
ڈاکٹر کلاڈین کا جرم کیا تھا؟ دراصل انھوں نے یونی ورسٹی میں ’یہود دشمنی‘ کے الزامات کا ایک متوازن جواب دینے کی کوشش کی اور کہا کہ’ ’یہود دشمنی تشدد پر اُبھارنے والے جذبات کا نام ہے۔ یہ سلامتی کے اصولوں کے خلاف اور ہراسمنٹ سے متعلق ہارورڈ کے قوانین سے متصادم ہے‘‘۔ انھوں نے قبول کیا کہ یونی ورسٹی میں اسرائیل پسند اور فلسطین پسند گروہوں کی جانب سے ’بے جا اور بے سوچا سمجھا بیانیہ‘ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس بیانیے میں ہمیں ’عرب دشمنی‘ یا فلسطین مخالف جذبات کا کہیں ذکر نہیں ملتا، جس کی مخصوص سیاسی وجوہ ہیں۔ مزید برآں اس سے عیسائی مذہب رکھنے والے عربوں کے تحفظات کا ازالہ بھی نہیں ہوتا، چنانچہ اصل پالیسی وہی ہونی چاہیے جو ’عرب دشمنی‘ اور ’یہود دشمنی‘ دونوں کا تدارک کر سکے۔
اسرائیلی مظالم کے خاتمے کے لیے اٹھنے والی ہر آواز دبا دی جاتی ہے، جب کہ حماس پر الزامات کی بازگشت امریکا میں ہر سطح پر سنائی دے رہی ہے۔ اس غیر متوازن صورتِ حال کا باعث یہی ہے کہ ’یہود دشمنی‘ کو ایک ایسا ہتھیار بنا لیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسی قدر ہولناک جرائم اور اسرائیل کے خلاف ہونے والے واقعے سے کہیں زیادہ فلسطینی بچوں اور عورتوں کی قتل و غارت گری نظر انداز کی جا رہی ہے۔
فرانز کافکا کا یہ قول مشہور ہے:’’شاید تم ہر اس شے کو کھو دو جس سے تمھیں محبت ہے، لیکن آخر میں محبت کسی اور صورت میں تمھارے پاس لوٹ آئے گی۔‘‘ میری رائے میں یہی اصول دیگر انسانی جذبات مثلاً نفرت، بے زاری، غصے اور انتقام پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اربوں ڈالر کی عسکری اور معاشی امداد اور ہر ممکن طریقے سے فلسطینیوں کی نسل کشی میں معاون بننے والے امریکی حکام کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے۔
پوری دنیا اس صورتِ حال کو دیکھ ، سن اور پڑھ رہی ہے اور امریکی ریاست کو براہ راست فلسطینیوں کی خون ریزی کا حصہ بنتے ہوئے دیکھ کر لوگوں کا غصہ بڑھ رہا ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے اندازہ لگاتے ہوئے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا تھا: ’’غزہ میں اسرائیلی جارحیت نے ۲۰۱۲ء سے ۲۰۱۶ء کے درمیان شام کے شہر حلب میں ہونے والی تباہی، یوکرینی شہر ماریوپول کی بربادی، اور دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں کی جانب سے جرمنی پر ہونے والی بمباری کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اب یہ جنگ حالیہ تاریخ کی سب سے ہولناک اور خون ریز جنگ بن چکی ہے‘‘۔
مرنے اور ملبے میں دب کر لاپتہ ہونے والے ہزاروں شہریوں سے کہیں زیادہ تعداد ان کی ہے جو زخمی یا معذور ہو چکے ہیں۔ ان میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں۔ یونیسف کے مطابق ’’کتنے ہی بچے ایسے ہیں جو اپنی ٹانگ یا بازو کے نقصان کو رو رہے ہیں۔ غزہ کی یہ تکلیف ٹیلی ویژن اور دیگر تمام ممکنہ ذرائع مواصلات پر براہِ راست دکھائی جا رہی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ساری دنیاکے لوگ فلسطینی بچوں کی تکلیف میں شامل ہیں، لیکن اس نسل کشی کو روکنے کے لیے کوئی قدم اٹھانے سے قاصر ہیں‘‘۔
اگرچہ تمام یورپی ممالک اپنی رائے کو بدلتے ہوئے غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کر چکے ہیں،لیکن واشنگٹن نے ایسے تمام مطالبوں کو رد کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ۱۸؍اکتوبر کو جنگ بندی کے لیے کی جانے والی پہلی سنجیدہ کوشش کو ’ویٹو‘ کرتے ہوئے امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ کا کہنا تھا کہ ’’اسرائیل کو اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج آرٹیکل ۵۱کے مطابق اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘‘یہ منطق ساری دنیا کے سامنے غزہ کی جنگ کا پس منظر واضح ہونے کے بعد بھی امریکی حکام کی جانب سے کئی موقعوں پر دُہرائی جا چکی ہے۔ خودغرضی پر مبنی یہ منطق بین الاقوامی اور انسانی حقوق کے خلاف ہے، جن کے مطابق جنگ کے دوران بھی نہتے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جاسکتا اور نہ جنگ کا شکار ہونے والے عام شہریوں تک امداد کی رسائی کو روکا جاسکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بننے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی ہے اور اس میں بھی ۷۰ فی صد تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ مزید برآں، اسرائیل کے غیر انسانی اقدامات کے باعث غزہ کی بچ جانے والی آبادی کو اب قحط کا سامنا ہے، جس کی مثال ہمیں فلسطین کی حالیہ تاریخ میں اس سے قبل نہیں ملتی۔ چنانچہ اسرائیل خوراک، ادویات، ایندھن اور دیگر فوری ضرورت کی اشیا کا قحط پیدا کر کے واشنگٹن کے اپنے قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بیرونی امداد سے متعلق امریکی قانون کے سیکشن ۶۲۰۱ کے مطابق: ’’کسی ایسے ملک کو امداد نہیں دی جائے گی جس کے متعلق صدر کو یہ علم ہو کہ یہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر امریکی امداد کی رسائی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے یا ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے‘‘۔
امریکا میں بائیڈن حکومت نے مجبور کرنا تو درکنار، اسرائیلی حکومت پر یہ زور بھی نہیں دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی حالیہ نسل کشی کے دوران انسانیت کے بالکل بنیادی قوانین کا احترام کرے۔ اس کے برعکس صدر بائیڈن اس جنگ کو طول دینے کے لیے درکار تمام وسائل اسرائیلی حکومت کو مہیا کر رہے ہیں۔
اسرائیلی چینل ۱۲ پہ ۲۵دسمبر کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ۲۰بحری بیڑے اور ۲۴۴کے قریب امریکی ہوائی جہاز، ۱۰ ہزار ٹن سے زائد اسلحہ و بارود اسرائیل پہنچا چکے ہیں۔ اس فوجی رسد میں تقریباً ۱۰۰؍ایسے ۲ہزارپاؤنڈ کے بنکر شکن بم بھی شامل ہیں، جو اس جنگ میں مسلسل استعمال ہوتے آرہے ہیں اورہر دفعہ سیکڑوں شہریوں کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں۔ جنگ کے آغاز سے اب تک امریکا نے جو قابل ذکر قدم اٹھایا ہے، وہ بحیرہ احمر میں ’آپریشن پراسپیریٹی گارڈین‘ کے نام سے ایک اتحاد کی تشکیل ہے، تا کہ اسرائیل سے آنے جانے والے بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔
گمان غالب ہے کہ امریکا نے اپنے ماضی، عراق جنگ اور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ وغیرہ سے کچھ نہیں سیکھا ہے، کیونکہ یہ آج بھی اسرائیلیوں ، فلسطینیوں، عربوں اور مسلمانوں کی حمایت میں توازن پیدا کرنے میں ناکام ہے۔ دوسری طرف کچھ امریکی حکام حقیقت سے بالکل ہی لاتعلق نظر آتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں گذشتہ ماہ ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ ’’آپ مجھے کسی ایک ملک، دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کا نام بتا دیں جو امریکا سے زیادہ فلسطینیوں کے دکھ درد کا مداوا کرنے کی کوشش کر رہا ہو، تو مجھے یقین ہے کہ آپ نہیں بتا سکیں گے‘‘۔ لیکن یہ سوال موجود ہے کہ بدنام زمانہ اسمارٹ بم، بنکر شکن بم، اور ہزاروں ٹن اسلحہ بارود ’فلسطینیوں کے دکھ درد کا مداوا‘ کیسے کر سکے گا؟
اگر جان کربی فلسطینیوں کی نسل کشی میں اپنی ریاست کے کردار سے لاعلم ہیں تو میرے خیال میں امریکی خارجہ پالیسی کا بحران ہماری توقعات سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ اگر وہ اس سب سے باخبر ہیں، جو کہ انھیں ہونا چاہیے، تو امریکا کا اخلاقی بحران ہماری حالیہ تاریخ کی بدترین مثال ہے۔ امریکی سیاست کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں انتظامیہ کی تمام تر توجہ اسی بات پر رہتی ہے کہ ان کا کوئی عمل یا بے عملی آیندہ انتخابات میں ان کی جماعت کے لیے کن مضمرات کا باعث بنے گی۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ نہ ہر چارسال بعد نومبر کی ایک مقررہ تاریخ سے شروع ہوتی ہے اور نہ اس پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ کافکا نے کہا تھا، ’’آخر میں محبت کسی اور صورت میں تمھارے پاس لوٹ آئے گی‘‘۔ ان کی بات درست ہے لیکن نفرت بھی اسی طرح واپس آ سکتی ہے جس کا اظہار عجیب و غریب طریقوں سے ہوتا ہے۔ خود امریکا کو اپنے تجربات کی بنیاد پر سب ملکوں سے زیادہ اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے تھا، مگر وہاں کوئی مردِ دانش یہ بات کرتا دکھائی نہیں دیتا۔
ہر مسلمان کا دل رنجیدہ ہے۔ ہر توحید پرست کا دل زخمی ہے۔ ہر بندۂ مومن کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ مگر یہ رنجید گی، یہ زخم اور آنسوؤں کی برکھا، کسی بندوق کی گولی، بم کے ٹکڑے یا تلوار کے وار کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ بے چارگی دراصل حرمین الشریفین سے نسبت رکھتی ہے۔
اگر کوئی عام تنازع نہ ہو توریاستوں کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات کے فروغ میں کسی کے لیے اعتراض کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ لیکن ہر ملک محض تجارت کی منڈی اور سفارت کی مسند پر نہیں جھول رہا ہو تا، بلکہ ان مفادات کے ساتھ اپنی تاریخ و تہذیب کے کچھ سوالات بھی پیش نظر رکھتا ہے۔ سعودی عرب کی مادی ترقی پر سبھی مسلمان خوش ہیں، لیکن سعودی عرب محض دوسو ملکوں میں سے ایک ملک نہیں ہے۔ حرمین الشریفین کی مناسبت سے یہ ملک پہچان اور بڑے منفرد تقاضے رکھتا ہے، جس سے نہ وہ چھٹکارا پا سکتا ہے اور نہ مسلم دنیا کی توقعات کو وہاں کے حکمران روند سکتے ہیں۔
جیسا کہ اس تحریر کے شروع میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کےدل خون کے آنسورو ر ہے ہیں تو اس تلخ نوائی کا حوالہ یہ ہے کہ بھارت میں ایک ایسی حکومت اپنے مسلم دشمنی پر مبنی ایجنڈے کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے، جو: مسلمانوں کو قتل و غارت میں جھونکنے، مسجدوں کو شہید کرنے، ہجومی قتل عام کی سرپرستی کرنے، مسلمان عورتوں کی بے حرمتی کرنے کے واقعات کو بڑھاوا دینے اور بہت سے نوجوانوں کو مقدمات کے بغیر جیلوں میں پھینک دینے جیسی کارروائیوں میں مصروف ہے۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کی سرپرستی میں قائم اس بدنام حکومت کی وزیر برائے اقلیتی اُمور، سمرتی ایرانی، جن کے ہمراہ خارجہ امور کے وزیر مملکت مرلی دھرن بھی تھے، انھوں نے مدینہ منورہ کا دورہ کیا ۔ سمرتی نے اُسی روز یعنی ۸جنوری کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر بڑی خوشی سے اپنی نوعدد تصویریں شائع کرتے ہوئے لکھا ’’آج میں مدینہ کے تاریخی سفر پر نکلی، جو اسلام کے متبرک ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ اس میں مسجد نبویؐ کے اطراف کی زیارت کرنے کے ساتھ ہی احد پہاڑ اور مسجد قبا کی بیرونی حدود شامل ہیں‘‘۔ انڈین سرکاری نشریاتی ادارے ’دوردرشن‘ نے اس دورے کو غیر معمولی اور تاریخی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا: ’’یہ پہلا موقع ہے کہ جب ایک غیر مسلم وفد کا استقبال مدینہ میں کیا گیا، جس سے انڈیا اور سعودی عرب کے غیرمعمولی رشتوں کی عکاسی ہوتی ہے‘‘۔
مراٹھی زبان میں ہندو نسل پرست اخبار سناتن پرابھات نے ۱۲ جنوری کی اشاعت میں فخریہ لہجے میں لکھا:’’بھارتی یونین وزیر سمرتی ایرانی نے مسلمانوں کے مقدس شہر مدینہ کا دورہ کیا،جہاں عورتیں سر ڈھانپ کر جاتی ہیں، وہاں سمرتی اپنی ساڑھی میں ملبوس گئی اور اپنے سر کو بالکل نہیں ڈھانپا۔ سعودی عرب نے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، لیکن پاکستان والے اس بات پر ضرور پریشان ہیں۔‘‘ بی بی سی لندن نے اس استقبال کو ’’غیر معمولی تاریخی واقعہ‘‘ قرار دیا۔
بنگلہ دیشی تسلیمہ نسرین نے اپنے بیان میں لکھا، ’’میں سمرتی کو سلام پیش کرتی ہوں کہ اس نے سر نہیں ڈھانپا‘‘۔ جرمن ٹیلی ویژن کے مطابق:’’ایک بھارتی میڈیا پرسن نے لکھا ہے: آپ نے ایک کٹر مسلم ملک میں سر نہ ڈھانپ کر اپنی حقیقی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے‘‘ ۔
جواہر لال نہرو کے ہاتھوں ۱۹۳۷ء میں جاری کردہ اخبار قومی آواز (۱۴جنوری ۲۰۲۴ء) کے مطابق: ’’۲۰۲۱ ء میں ولی عہد نےمدینہ منورہ میں غیر مسلموں کے لیے داخلے سے متعلق بورڈ ہٹادیےتھے۔ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ اس دورے کے پیچھے وزیر موصوفہ کی اپنی ذاتی خواہش تھی یا سعودی حکام کی جانب سے خود کو لبرل دکھانے کی ایک کوشش؟ بہر حال، اس واقعے سے اتنا اندازہ ہو گیا ہے کہ سعودی حکام آنے والے دنوں میں یہ عمل مکہ مکرمہ میں بھی دکھا سکتے ہیں۔ ویسے سمرتی ایرانی کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے کبھی بھی اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کو چھپانے کی کوشش نہیں کی، بلکہ جہاں اور جب جب موقع ملا ہے کھل کر اپنی ذہنیت کا مظاہرہ کیا‘‘۔ یہی اخبار مزید لکھتا ہے: ’’سمرتی کے دورے سے پہلے تک سعودی حکمرانوں نے بھی حرم مکہ کی طرح حرم مدینہ میں بھی غیر مسلموں، کے داخل ہونے پر پابندی عائد کر رکھی تھی، اور اس پالیسی کے تحت حدودِ حرم پر باضابطہ علانیہ بورڈ لگائے جاتے تھے، جس میں حرم مدینہ کے راستوں پر ’’صرف مسلمین‘‘ (Only Muslims)کے بورڈ لگا ئےجاتے تھے۔اب ۹۴ سال بعد اچانک مدینۃ الرسول میں غیرمسلموں کو عزت و احترام سے بلانا کیا ظاہر کرتا ہے؟‘‘
اسی طرح اُردو العربیہ ڈاٹ نیٹ (۴؍مئی۲۰۲۱ء) کا یہ شذرہ دیکھیے: ’’سعودی عرب کی حکومت نے مذہبی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مدینہ منورہ میں داخلے کے راستوں پر غیرمسلموں، اور مسلمانوں کے لیے مختص راستوں کی راہ نمائی کے لیے لگائے گئے بورڈوں پر اصطلاحات تبدیل کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس ضمن میں پہلی تبدیلی لفظ ’غیرمسلم‘ کے بجائے ’حدود حرم‘ کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ ماضی میں یہ عبارت مدینہ منورہ کے تقدس کے پیش نظر اپنائی گئی تھی کہ ’حرمِ مکی‘ کی طرح ’حرمِ مدنی‘ میں بھی غیر مسلم داخل نہیں ہوسکتے تھے‘‘۔ بی بی سی (۹جنوری ۲۰۲۴ء) کےمطابق: ’’سعودی ’ای ویزہ‘ ویب سائٹ کے مطابق غیر مسلم افراد کو مدینہ کی سیر کی دعوت دی جاتی ہے، تاہم مسجد نبویؐ کے احاطے میں ان کا داخلہ ممنوع ہے‘‘۔
ان تفصیلات کا مقصد یہ ہے کہ چودہ سو سال سے اختیار اور نافذ کیے گئے فیصلے اور روایت کو ختم کرنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا حرمِ مدنی کے حوالے سے حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کے فیصلے کو تبدیل کرنا پیش نظر ہے؟ اور کیا اس کا سبب واقعی مغربی دنیا کے سامنے لبرل بننے کی خواہش ہے؟
تین احادیث نبویؐ الجامع الصحیح سے مطالعے کے لیے درج کی جاتی ہیں:
l…’’ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے ثابت بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمٰن احول عاصم نے بیان کیا، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ حرم ہے فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک (یعنی جبل عیر سے ثور تک )۔ اس حد میں کوئی درخت نہ کاٹا جائے نہ کوئی بدعت کی جائے اور جس نے بھی یہاں کوئی بدعت نکالی اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب فضائل المدینہ،حدیث: ۱۸۶۷) [یعنی حرم مدینہ کا بھی وہی حکم ہے، جو مکہ کے حرم کا ہے۔ امام مالک اور امام شافعی اور احمد بن حنبل اور اہل حدیث کا یہی مذہب ہے]۔
l…’’ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے عبید اللہ نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں میں جو زمین ہے وہ میری زبان پر حرم ٹھہرائی گئی۔ حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ نبی کریمؐ بنوحارثہ کے پاس آئے اور فرمایا بنوحارثہ ! میرا خیال ہے کہ تم لوگ حرم سے باہر ہو گئے ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا اور فرمایا کہ نہیں بلکہ تم لوگ حرم کے اندر ہی ہو۔(رقم: ۱۸۶۹)
l…ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمان بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے اعمش نے، ان سے ان کے والد یزید بن شریک نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے پاس کتاب اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صحیفہ کے سوا جو نبی کریم ؐ کے حوالے سے ہے اور کوئی چیز (شرعی احکام سے متعلق ) لکھی ہوئی صورت میں نہیں ہے۔ آنحضرتؐ نے فرمایا: مدینہ عائر پہاڑی سے لے کر فلاں مقام تک حرم ہے، جس نے اس حد میں کوئی بدعت نکالی یا کسی بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اورانسانوں کی لعنت ہے…آپؐ نے فرمایا کہ تمام مسلمانوں میں سے کسی کا بھی عہد کافی ہے۔ اس لیے اگر کسی مسلمان کی (دی ہوئی امان میں دوسرے مسلمان نے ) بدعہدی کی تو اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے۔ نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے، نہ نفل۔(رقم:۱۸۷۰)
ہمیں اس بات سے غرض نہیں کہ مملکت سعودی عرب مادی ترقی کے لیے کن راستوں کا انتخاب کرتی ہے (اگرچہ اسلامی شریعت اس معاملے میں بھی واضح احکامات بیان کرتی ہے)۔ تاہم، یہ ضرور عرض کیے دیتے ہیں کہ حرمین الشریفین کسی بادشاہ کی ملکیت نہیں ہیں اور نہ اسلامیانِ عالم اُن کی رعایا ہیں۔ اس لیے وہ تقریباً دو ارب مسلمانوں کے جذبات و احساسات کا احساس کریں اور چودہ سو برس کی تاریخ کا احترام کریں۔ مدینہ منورہ کو ٹورسٹ سنٹر بنانے سے اجتناب برتیں، اور ایسے راستے نکالنے کے لیے درباری علما کی فتویٰ نویسی پر اعتماد کرنے کے بجائے، اللہ اور اس کے رسولؐ سے اپنی محبت کو فروغ دیں، کہ جس پر وہ عشروں سے کاربند چلے آئے ہیں۔
اسی طرح اُن علما اور دانش وروں سے درخواست ہے کہ وہ وہاں کانفرنسوں میںجا کر محض میزبانی کا لطف نہ اٹھائیں بلکہ جس دین کی بنیاد پر وہ یہ اعزاز حاصل کرتے ہیں، اس کی تعلیمات کے مطابق حکمرانوں تک اپنے سچے اور حقیقی جذبات پہنچا کر، انھیں غلط فیصلوں سے منع کریں۔
دوران سفر قسمت سے ایک ہوائی اڈے پر میری ملاقات عبداللہ بن منصور سے ہو گئی۔ عبداللہ بن منصور، فرانس میں اسلامی تنظیموں کے اتحاد (Musulmans De France) کے صدر ہیں اور کچھ برس پہلے میرے ٹی وی پروگرام ’بلا حدود‘ کے مہمان بھی رہ چکے ہیں۔ اگرچہ گذشتہ کئی برس سے ان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی، تاہم ان سے اچھی شناسائی ہے، کیوں کہ یورپ میں اسلامی مفادات کے لیے ان کی کوششیں اور ان کی موجودگی بہت نمایاں ہے۔
فرانسیسی صدر میکرون کی جانب سے اسرائیل کے حق میں جس اندھے تعصب کا اظہارکیا گیا ہے اور فرانس میں اسلاموفوبیا کو ہوا دینے میں فرانس نے جو کردارادا کیا ہے، ان پہلوئوں کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے ابن منصور سے سوال کیا کہ ’’غزہ کے خلاف جنگ نے فرانس کے مسلمانوں کو کس طرح متاثر کیا ہے؟‘‘ جواب میں انھوں نے مجھے ۷ ؍اکتوبر [کے حملے] کے بعد ۲۴ گھنٹوں میں سامنے آنے والےسرکاری احکامات کے بارے میں بتایا: ’’یہ احکامات ہر اس چیز کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں، جس کا تعلق فلسطین سے ہو، یعنی فلسطینی جھنڈا اُٹھانا، اور حماس کا نام تک لینا بھی غیر قانونی ہے، حالاں کہ خود اسرائیلی حکام رات دن ’حماس’ کا ہی نام لیتے رہتے ہیں‘‘۔ اس کے بعد انھوں نے مجھے ان تبدیلیوں کے بارے میں بتایا، جوغزہ میں اسرائیل کے ناقابلِ تصور جرائم کی روشنی میں اس مختصر مدت میں فرانسیسی سوسائٹی کے اندر اور بعض سیاسی شخصیات کے اندر واقع ہوئی ہیں۔
لیکن مجھے ابن منصور کی گفتگو میں جس بات نے اپنی طرف متوجہ کیا، وہ مغرب اور خاص طور سے فرانس میں کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اسلام کے تعلق سے مثبت سوچ کا پایا جانا ہے ،حالاں کہ گذشتہ عشروں کے دوران اسلام سے خوف زدہ کرنے کے لیے زبردست مہمات چلائی گئیں۔ اسلام کی منفی تصویر کشی کی گئی اور ’اسلاموفوبیا‘ نام کی اصطلاح وجود میں لائی گئی۔ غزہ کے لوگوں نے، ہزاروں کی تعداد میں عام ہونے والی ویڈیوز کے توسط سے مغرب کی ان تمام کوششوں کے بیش تر اثرات کو دھو ڈالا ہے اور اسلام کی ایک روشن و شفاف تصویر پیش کر دی ہے۔ ان ویڈیوز کو بہت سی بین الاقوامی زبانوں میں ڈب بھی کیا گیا ہے۔ یہ ویڈیوز اہلِ غزہ کے صبر اور یقین کو بیان کرتی ہیں اور دکھاتی ہیں کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ اس پر اللہ کی خوشنودی کے طلب گار رہتے ہیں۔ صبرواستقامت کی اس روشن و شفاف تصویرنے ، جسے دنیا نے اب تک دیکھا نہیں تھا، دیکھنے والوں کو محوِ حیرت کر دیا ہے۔اس منظر نے بے شمار اہل مغرب کو اسلام کے متعلق جاننے ، قرآن کا مطالعہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ابن منصور کہتے ہیں: ’’۴۰ برسوں کے طویل عرصے کے دوران ہم نے فرانس میں خاص طور سے وہاں کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے اندر اسلام میں داخل ہونے کا ایسا رجحان نہیں دیکھا، جیسا غزہ کی جنگ کے بعد سے دیکھ رہے ہیں۔ اسلام کو اختیار کرنے والے نومسلمین کی رسمی تعداد ۸۰ افراد یومیہ سے بڑھ کر بعض اوقات ۴۰۰ تک پہنچ چکی ہے، اور یہ تعداد روزانہ اوسطاً ۳۰۰ فرانسیسی نومسلم سے کم نہیں ہوتی‘‘۔ اسی سے آپ دوسرے مغربی ممالک کے بارے میں اندازہ لگا لیجیے۔
میں نے ابن منصور سے کہا کہ ’’کیا آپ نے ان سے یہ سوال کیا کہ وہ اسلام میں کیوں داخل ہونا چاہتے ہیں؟‘‘ انھوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا: ’’اکثر لوگوں کا جواب یہ ہوتا ہے کہ سنگین ترین مصائب کے باوجود اور اپنے گھر والوں، اپنے پیاروں ، اپنے گھروں اور اپنا مال و دولت کھو دینے کے باوجود صبر و رضا ، یقین و ایمان ، طمانیت اور امن و سلامتی کا جو شعور ہم نے غزہ کے لوگوں کے اندردیکھا ہے، اس نے ہمیں اس کے پیچھے چھپا راز جاننے پر مجبور کر دیا۔ یہ راز ہمیں اسلام اور قرآن کے اندر ملا۔ یہ کیسا عظیم دین ہے جو لوگوں کے دلوں کو، ان کی زندگیوں کو اس یقین اور اس امن و سلامتی سے معمور کر دیتا ہے جس سے ہماری زندگی محروم ہے! ہم نے اسلام کے متعلق پڑھا اور قرآن پر ہمارا دل مطمئن ہو گیا تو اس کے بعد ہم نے اس دین میں داخل ہونے کا فیصلہ کر لیا‘‘۔
اسلام قبول کرنے والوں کی عمر کے متعلق سوال کیا تو ابن منصور نے کہا: ’’اکثریت نوجوانوں کی ہوتی ہے، جن میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو ہم ان کے والدین کی موجودگی میں اور ان کی رضامندی کے ساتھ ہی کلمۂ شہادت پڑھوا تے ہیں، ورنہ نہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات والدین بچوں کے ساتھ آتے ہیں اور اپنے بچوں کے اسلام میں داخلے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہیں‘‘۔
سب سے زیادہ حیرت میں ڈالنے والے کسی واقعے کے متعلق پوچھا تو ابن منصور کا جواب تھا: ’’۱۸ سال کی ایک لڑکی تھی۔ میں نے اس سے اسلام میں داخل ہونے کی وجہ معلوم کی تو اس نے بتایا کہ میں قرآن کا ترجمہ لے کر آئی کہ اسے پڑھ کر اُس معبود کے بارے میں جاننے کی کوشش کروں، جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور [غزہ کے] ان لوگوں پر ایسی سکینت نازل کی ہے۔ جب میں نے اسے پڑھنا شروع کیا تو میں مکمل نہیں کر پائی تھی کہ ٹھیر گئی اور رونے لگی۔ میری آنکھوں سے آنسو اس طرح بہہ رہے تھے کہ اس سے پہلے کبھی اس طرح نہیں بہے تھے۔ میں نے کہا کہ یہی وہ معبود ہے جس کی میں عبادت کرنا چاہتی ہوں، اور میں نے اسلام میں داخل ہونے کا فیصلہ کر لیا‘‘۔
ایک دوسری لڑکی نے کہا: ’’میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے پانچ بچوں کو کھو چکی تھی، اور بجائے اس کے کہ وہ اپنا منہ پیٹتی، چیختی، چلّاتی اور روتی پیٹتی، میں نے دیکھا کہ وہ صبر کا پیکر بنی ہوئی ہے اور کہہ رہی ہے: میرے بچے جنت میں پہنچنے میں مجھ سے بازی لے گئے۔ میں نے سوچا کہ یہ لوگ انسان نہیں ہو سکتے۔ ایسا کیسے ہو کہ میں بھی ان جیسی بن جاؤں؟ پھر مجھے معلوم ہوا کہ اس یقین کے پیچھے دین اسلام ہے۔ بس میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس دین میں داخل ہو نا ہے‘‘۔
عبد اللہ بن منصور نے مجھے جو باتیں بتائیں، حالاں کہ ان کی گفتگو صرف فرانس سے متعلق تھی اور انھوں نے چند ایک نمونے ہی بیان کیے تھے، وہی باتیں میں نے مغربی اخبارات سے ترجمہ شدہ ان مختلف رپورٹوں میں بھی پڑ ھیں، جو گذشتہ عرصے کے دوران شائع ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بے شمار ویڈیوز اور خاص طور سے ’ٹِک ٹاک‘ پر مغرب کے نوجوان بچے اور بچیوں کے ویڈیو کلپ دیکھیے۔ ان ویڈیوز میں بھی یہ نوجوان انھی باتوں کی تائید کر رہے ہیں جن کا ذکر ابن منصور نے کیا ہے ۔ یہ نوجوان یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ اس عظیم دین کو جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاید فلسطین اور غزہ سے ہمدردی و اظہار یک جہتی نے ہی امریکا اور یورپی یونین کو ’ٹِک ٹاک‘ ایپ کے سلسلے میں سخت پابندیاں عائد کرنے اور امریکی قانون سازوں سے یہ مطالبہ کرنے پر مجبور کیا ہے کہ اس ایپ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی جائے۔ نیویارک ٹائمز اور دیگر امریکی اخبارات کے علاوہ دوسرے ذرائع ابلاغ نے ایک سے زائد رپورٹیں شائع کی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں سب سے زیادہ بکنے والی کتابیں وہ ہیں، جو اسلام، قرآن اور فلسطین کے موضوع پر ہیں۔
شاید ۱۱ ستمبر۲۰۰۱ء (نائن الیون)کے افسوس ناک المیے کے بعد ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ البتہ ۱۱ ستمبر اور ۷؍اکتوبر کے درمیان فرق یہ ہے کہ اول الذکر واقعے کو اسلام کی تصویر بگاڑنے اور مسلمانوں کو مجرم ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا، جب کہ ۷ ؍اکتوبر پوری دنیا کو صحیح اسلام کی تلاش پر لگانے میں کامیاب رہا ہے۔ اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مسلمانوں کی مسخ شدہ تصویر، مغربی صہیونیوں کی حرکت تھی اور یہ تصویر خلافِ حقیقت ہے۔ صبر کے پیمانوں سے لبریز اہل غزہ کی ان تصویروں کا مشاہدہ ہی کافی ہے، جن میں وہ صبر و رضا کے ساتھ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو الوداع کہہ رہے ہیں، یا ان اسرائیلی قیدیوں کی تصویروں کو دیکھ لینا کافی ہے، جو حماس کے جنگجوؤں سے گرم جوشی کےساتھ وداع ہورہے اور ان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ ان تصویروں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے، گویا یہ لوگ جنگی قیدی نہیں تھے، بلکہ اسلام اور مسلمانوں کی اصل حقیقت کو جاننے کے لیے سیاحتی سفر پر آئے ہوئے تھے۔ ممکن ہے انھی تصویروں نے اسرائیلی مجرموں کو دوبارہ جنگ شروع کرنے اور غزہ میں اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھنے پر آمادہ کیا ہو ، کیوں کہ قیدیوں کی رہائی کی کارروائی جشن کے ماحول میں تبدیل ہو گئی تھی، جس کا مشاہدہ پوری دنیا کر رہی تھی۔
جس طرح ۱۱ ستمبر کا دن تاریخ میں تبدیلی کی ایک نمایاں علامت بن چکا ہے، بالکل اسی طرح ۷ ؍اکتوبر بھی ایسی ہی ایک نمایاں علامت بن جائے گا۔ شاید فرانس کے اندر اسلام میں داخل ہونے والی تعداد پر دوسرے مغربی ممالک، خاص طور سے امریکا کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے، جہاں کے عوام کے اندر ایک ایسی کش مکش جاری ہے، جس کی مثال نہیں ملتی۔
۷ ؍اکتوبر کے بعد سے دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کائنات میں آنے والی عظیم تبدیلیوں کی طرف اشارہ ہے۔ یہ شدید درد اور سنگین آزمائش جس سے غزہ اور مغربی پٹی کے لوگ دوچار ہیں، وہ عنقریب ایک ایسی انسانی بیداری کا سبب بنے گی، جو گذشتہ کئی عشروں سے صہیونیوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے ذہنوں میں بٹھائے جانے والے بیش تر منفی افکار و تصورات کو بدل کر رکھ دے گی۔
خدا کی قسم ، اے غزہ کے باشندو! تمھارا پاکیزہ اور مقدس لہو، تمھاری پاک روحیں اور تمھارے پاکیزہ نفوس نہ رائیگاں ہوئے ہیں اور نہ ہرگز ہوں گے۔ کیوں کہ مومن کے خون کی حُرمت اللہ کے نزدیک بہت عظیم ہے۔ قرآن میں مذکور اصحابِ اُخدود کا قصہ جسے ہم تلاوتِ قرآن میں دُہراتے ہیں ، ہمارے دلوں کو یقین اور اللہ کی بنائی ہوئی تقدیر کے سامنے تسلیم و رضا کے احساس سے بھر دیتا ہے۔ جب ظالم بادشاہ کو اس بندۂ مومن نے ’بسم اللہ رب الغلام‘ کہنے پر مجبور کیا تو بادشاہ اس کے بعد ہی اس کو قتل کر پایا تھا۔ پھر یہی قتلِ مومن لوگوں کا اللہ کے دین میں فوج در فوج داخلے کا سبب بن گیا تھا۔ اس کے بعد اسلام میں داخل ہونے والے ان لوگوں کی آزمایش یوں ہوئی تھی:
وَمَا نَقَمُوْا مِنْہُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا بِاللہِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ۸ۙ (البروج۸۵: ۸)اور ان اہل ایمان سے اُن کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اُس خدا پر ایمان لے آئے تھے جوزبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔
یہی اہلِ غزہ کی بھی آزمائش ہے۔ اسی طرح فرعون کے جادوگروں کے ایمان لے آنے سے فرعونی معاشرے میں زلزلہ برپا ہو گیا تھا۔ فرعون کی حکومت و سلطنت اور اس کی فاسد معبودیت بھی اس واقعے سے لرز اٹھی توان جادوگروں کو تکلیف دہ انداز سے قتل کرنے کا حکم دے دیا:
اچھا، اب میں تمھارے ہاتھ پائوں مخالف سمتوں سے کٹواتا ہوں اور کھجور کے تنوں پر تم کو سُولی دیتا ہوں۔ پھر تمھیں پتا چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے (یعنی میں تمھیں زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یا موسٰی؟)۔ جادوگروں نے جواب دیا: قسم ہے اُس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے! یہ ہرگز نہیں ہوسکتاکہ ہم روشن نشانیاں سامنے آجانے کے بعد بھی (صداقت پر) تجھے ترجیح دیں۔ تُو جو کچھ کرنا چاہے کرلے۔ تُو زیادہ سے زیادہ بس اسی دُنیا کی زندگی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔(طٰہٰ ۲۰:۷۱-۷۲)
یہ دونوں واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ آخرت پر یقین رکھنے والوں اور اللہ کی بارگاہ میں درجۂ شہادت کے لیے منتخب کر لیے جانے والوں کی نظر میں موت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زندگی ختم ہو گئی، وہ تو ’’اللہ کے پاس زندہ ہیں اور اپنا رزق پا رہے ہیں‘‘۔ موت اگر ایک حتمی تقدیر ہے تو شہادت کی یہ موت اشرف ترین موت ہے، جسے انسان حاصل کرسکتا ہے۔ ان آیات پر ایمان و یقین حیات و کائنات کے سلسلے میں انسان کے فہم و تصور کو تبدیل کر دیتا ہے۔ اور مغرب میں اس وقت جو لوگ اسلام کا مطالعہ کر رہے ہیں ان کے ساتھ یہی معاملہ پیش آ رہا ہے۔ غزہ اور مغربی پٹی میں ہمارے لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ تکلیف دہ اور دلوں کو چیر دینے والا ہے، خاص طور سے اس لیے کہ یہ سب کچھ بیش تر مسلم حکمرانوں کی سازش، بے ہمتی، بزدلی یا خیانت کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ البتہ ہمیں اطمینان او ر تسلی ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے اہلِ غزہ کو اسی طرح شہید اور پاکیزہ نفوس کی شکل میں پسند کیا ہے، جس طرح اصحابِ اُخدود اور ان کی طرح اللہ کی رضا پر صبر و قناعت کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ کائنات میں ایسی تبدیلیاں راتو ں رات واقع نہیں ہوا کرتیں، لیکن باوجود اس کے کہ مغربی سوساٹیوں میں اسلام کو بدنام کرنے کی عمداً کوششیں کی جاتی ہیں اور وہاں سیاسی و اقتصادی اور میڈیا کی سطح پر صہیونی لابیوں کا تسلط ہے، ہزاروں مغربی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا دین اسلام میں فوج در فوج داخلہ اس بات کا غماز ہے کہ کائنات کے اندر عنقریب کوئی بڑی تبدیلی ظہور پذیر ہونے والی ہے، خواہ ابھی اس تبدیلی کے آنے میں وقت ہو، اس لیے کہ اللہ کا وعدہ ہے : كَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۰ۭ (المجادلہ ۵۸:۲۱) ’’اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسولؑ ہی غالب ہوکر رہیں گے‘‘۔وہ وقت ضرور آئے گا کیوں کہ: وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُولًا O(بنی اسرائیل ۱۷:۵)’’اور اللہ کا وعدہ پورا ہو کر ہی رہتا ہے‘‘۔
ہمیں غزہ کی جنگ میں سوائے بدمعاش صہیونی غنڈوں کے سنگین جنگی جرائم کے کچھ نظر نہیں آتا۔ تاہم، اس جنگ کے کچھ ایسے بے شمار پہلو بھی ہیں جو ہمیں نظر نہیں آ رہے ہیں ۔ وَاللہُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِہٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۲۱ (یوسف۱۲:۲۱)’’اللہ اپنا کام کرکے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں‘‘۔
خان یونس کے ناصر ہسپتال کے سامنے جینز اور ہوائی چپل پہنے نوجوان مرد ایسے قطار میں کھڑے تھے، جیسے وہ کسی جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ رہے ہوں۔یہ ہسپتال کی ایمرجنسی کے باہر رات کے وقت کے مناظر ہیں۔ طبی عملہ اپنا مخصوص لباس پہنے مزید زخمیوں کو وصول کرنے کے لیے تیار ہے۔اونچی آوازیں آنے لگتی ہیں اور مردوں کا ہجوم جمع ہو جاتا ہے۔
عوامی امن و امان کی صورتِ حال مکمل طور پر خراب ہونے والی ہے۔ لوگ خوف زدہ ہیں اور تھک چکے ہیں۔ایک گاڑی اُونچا ہارن بجاتے ہوئے اور جلتی بجھتی سرخ روشنیوں کے ساتھ رُکتی ہے۔ ایک نوجوان کو اس سے نکالا جاتا ہے اور ایک سٹریچر پر رکھ کر جلدی سے اندر لے کر جایا جاتا ہے۔پھر دھول میں لپٹی ایک اور گاڑی آتی ہے اور ایک چار، پانچ سال کے بچے کی مدد کر کے اسے گاڑی سے نکالا جاتا ہے۔ وہ اتنی ہمت رکھتا ہے کہ گاڑی سے اُتر کر خود چل کر اندر چلا جائے۔
جمعے سے اسرائیل نے غزہ کے جنوب میں شدید بمباری کا آغاز کیا ہے، جس کے بعد غزہ کے دوسرے سب سے بڑے شہر خان یونس کے ہسپتالوں میں زخمیوں کی بڑی تعداد آ رہی ہے، جو اس کی گنجایش سے کہیں زیادہ ہے۔
اسرائیلی ٹینک اور فوجی بھی شہر میں داخل ہو چکے ہیں اور حماس کے ساتھ عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد زمینی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے کم از کم ۱۲۰۰ سے زائد لوگ جان کی بازی ہار چُکے ہیں اور اس کے بعد غزہ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ۱۷ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسرائیلی فوج نے عام شہریوں کو شمالی غزہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ غزہ کے ۲۳ لاکھ رہایشیوں کی بڑی تعداد نے اپنی جانیں بچانے کے لیے جنوب کا رخ کیا تھا۔ لیکن خان یونس تک لڑائی کے پہنچنے کے بعد ایسی جگہیں کم رہ گئی ہیں، جہاں وہ جان بچانے کے لیے رُخ کرسکیں۔
شہر کے یورپین ہسپتال کے میدان اور راہداریاں ہزاروں بے گھر ہونے والے افراد سے بھری ہوئی ہیں۔ دھماکوں کی آوازوں کے درمیان ایک بچے نے کہا:’ ’جب ہم کھیل رہے ہوں اور بمباری شروع ہو جائے تو ہم فوراً دیواروں کے ساتھ خیموں میں جا کر سو جانے کا بہانا کرتے ہیں۔ ہمیں ڈر لگتا ہے۔ ہمارے اوپر کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ کر گرتے ہیں‘‘۔
ہسپتال میں ایک خاتون نے بتایا کہ ’’میں خان یونس کے مشرقی علاقے الفاخاری کی جانب گئی، تو مجھے فون کالوں کے ذریعے بتایا گیا کہ وہ جگہ ’محفوظ مقام‘ ہے۔ لیکن اب صورتِ حال یہ ہے کہ اس علاقے میں بہت بمباری ہو رہی ہے اور صورتِ حال بہت بُری ہے‘‘۔
’’مجھے کوئی علاقہ محفوظ نظر نہیں آتا اور نہ کسی جگہ رہا جا سکتا ہے‘‘۔
۷۵ سال کے بزرگ اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ کوئی جگہ محفوظ نہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’’صورتِ حال کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں عورتیں اور بچے ہیں۔ ہم بڑے تو جو کچھ ہو رہا ہے برداشت کر سکتے ہیں‘‘۔
انھوں نے مزید بتایا:’’ان آوازوں کو سنیے ، کوئی کیسے محفوظ مقام پر جانے کے موقعے کے لیے بیٹھ کر انتظار کرسکتا ہے؟ تحفظ کہاں ہے؟ ہم تو محسوس نہیں کر سکتے۔ جہاں بھی ہم جاتے ہیں، جسے وہ محفوظ کہتے ہیں، ہمیں وہ نہیں ملتا‘‘۔
خان یونس مرکز میں سماح الوان دو خالی پانی کی بوتلیں لہراتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کے چھے بچے پیاسے ہیں۔ ان کی پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے:’’ہم کتے بلیوں کی طرح بن گئے ہیں۔ شاید کتے اور بلیوں کو پناہ مل جاتی ہے، ہمارے پاس کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ ہم گلیوں میں پھنسے ہوئے ہیں‘‘۔
اقوام متحدہ کے ایک اہلکار کے مطابق غزہ میں انسانی بحران ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ بدتر ہوتا جا رہا ہے۔مجھے اپنی زندگی ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ جنگ کی ابتدا سے میرے اور میرے خاندان کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس سب کے باوجود یہ پہلی دفعہ ہے جب مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کیا جائے؟
مُجھ سے میری قوت ارادی اور میرا اختیار چھین لیا گیا ہے۔ اپنے گھر والوں کو محفوظ رکھنے کا اب میں کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہا۔ میرا تعلق شمال سے ہے لیکن میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اس وقت جنوب کی طرف روانہ ہوا، جب اسرائیلی فوج نے ہم کو حکم دیا کہ ’’ایسا کریں‘‘۔
ابھی میں اکیلا خان یونس میں ہوں اور میرے گھر والے وسطی غزہ میں ہیں اور معلوم نہیں کس حال میں ہیں؟پہلے تومیں کچھ دن بعد ان سے ملنے جاتا تھا اور ہماری ملاقات ہو جاتی تھی مگر اب حالات پہلے جیسے نہیں ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اب وہاں جانے والی ایک مرکزی سڑک کو بند کردیا ہے، جب کہ دوسری سڑک انتہائی خطرناک ہے۔
کیا مجھے جنوب میں رفح کی جانب جانا چاہیے، اپنا کام جاری رکھنا چاہیے اور اُمید رکھنی چاہیے کہ میرے گھر والے ٹھیک رہیں گے؟
یا پھر مجھے رپورٹنگ چھوڑ کر واپس جانے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ اگر کوئی آفت ہی آنی ہے تو ہم سب پر اکٹھی آئے کم از کم ہم اکٹھے مر تو جائیں گے؟میں اُمید اور دعا کرتا ہوں کہ کبھی کسی پر ایسا کربناک وقت نہ آئے کہ اُس کے پاس انتخاب کرنے کو کچھ نہ ہو۔
اگست ۲۰۱۹ء میں جموں و کشمیر کی آئینی خود مختاری ختم کرنے اور ریاست کو تحلیل کرکے دو مرکزی زیر انتظام علاقے بنانے کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے بھارتی حکومت کے اس قدم کو درست ٹھیرایا ہے۔ ویسے سپریم کورٹ میں ۱۶دنوں تک چلنے والی طویل بحث کے بعد کورٹ کی طرف سے جموں و کشمیر کی اس آئینی خود مختاری کو بحال کرنے کے بارے میں کوئی خوش فہمی تو نہیں تھی، مگر اُمید تھی کہ ریاست جموں و کشمیر کو دولخت کرنے اور اُن کو مرکزی زیر انتظام علاقے بنانے کے لیے سپریم کورٹ، حکومت کی سرزنش ضرورکرے گی، کیونکہ اس کی نظیر بھارت کے دیگر صوبو ں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
پچھلے ۷۰ برسوں میں بھارت میں مرکزی حکومتوں نے مختلف وجوہ کی بنا پر ۱۱۵ بار آئینِ ہند کی دفعہ ۳۵۶ کا استعمال کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو معزول کیا ہے۔ اب مرکزی حکومت کو ایک اور ہتھیار مل گیا ہے۔ حزبِ اختلاف کے زیر اقتدار کسی بھی صوبائی حکومت کو نہ صرف ا ب معزول کیا جا سکے گا، بلکہ اس ریاست کو پارلیمنٹ کی عددی قوت کے بل پر براہ راست مرکزی علاقے میں تبدیل بھی کیا جاسکے گا اور صوبائی اسمبلی کے مشورہ کے بغیر ہی دولخت بھی کیا جا سکے گا۔ اس لیے بھارت کے اندر کئی دانش وروں اور قانون دانوں نے اس فیصلے کے مضمرات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’یہ فیصلہ ملک کے وفاقی ڈھانچے کو چیلنج کرتا ہے‘‘۔
افضل گورو کو سزائے موت دینے کے فیصلے کو اجتماعی ضمیر سے جوڑنے اور بابری مسجد کے معاملے پر عجیب و غریب فیصلہ دینے کے بعد، کشمیر کی خودمختاری کے سوال پر بھارتی سپریم کورٹ سے کسی مثبت فیصلے کی شاید ہی کوئی اُمید تھی۔ بہرحال، بابری مسجد پر خو د سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ: ’’اس کو نظیر نہیں بنایا جاسکتا ہے‘‘۔ کیونکہ اس میں بابری مسجد کی زمین ہندو یا مسلم فریق کو دینے کے بجائے بھگوان رام للا کو دے دی گئی تھی اور کورٹ نے جو قانونی سوالات طے کیے تھے، فیصلے کے وقت ان کو نظرانداز کردیا۔
۲؍اگست ۲۰۲۳ء سے شروع ہونے والی سماعت ستمبر کے پہلے ہفتے کو مکمل ہو گئی تھی اور کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ عدالت میں۱۳ہزار ۵۱۵ صفحات پر مشتمل دستاویزات کے علاوہ ۲۸جلدوں پر مشتمل۱۶ ہزار ۱۱۱ صفحات پر مشتمل کیس فائلز دائر کی گئی تھیں۔ سماعت کے دوران کئی شہرۂ آفاق کتابیں جن میں The Federal Contract، Oxford Constitutional Theory اور وی پی مینن کی The Transfer of Power بھی کورٹ کے سپرد کی گئیں۔
چیف جسٹس چندرچوڑ کے علاوہ پانچ رکنی بنچ میں جسٹس ایس کے کول، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس بی آر گاوائی اورجسٹس سوریہ کانت شامل تھے۔ یہ طے تھا کہ دسمبر کے وسط میں فیصلہ آئے گا، کیونکہ جسٹس کول دسمبر میں ہی ریٹائر ہونے والے تھے۔ وہ سپریم کورٹ کے واحد کشمیری جج تھے، اگرچہ پانچ ججوں نے متفقہ فیصلہ دیا، مگر تین الگ فیصلے لکھے گئے۔ ایک چیف جسٹس نے جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس سوریہ کانت کے ساتھ مل کر تحریر کیا۔ جسٹس کول نے الگ سے اپنے تاثرات تحریر کیے۔جسٹس سنجیو کھنہ نے دونوں فیصلوں سے اتفاق کیا اور صرف کچھ معاملات میں اپنی رائے بیان کی ہے۔
اس آئینی بنچ کے سامنے آٹھ معاملات تھے:
کیا بھارتی آئین میں درج آرٹیکل۳۷۰ کی دفعات کو عارضی یا مستقل حیثیت حاصل ہے اور کیا دستاویز الحاق پر دستخط ہونے کے وقت مہاراجا کشمیر نے کچھ اختیارات اپنے پاس رکھے تھے،جو ریاستی حکومت کو منتقل ہوگئے؟ کیونکہ یہی دفعہ جموں و کشمیر کے اپنے آئین کو تحفظ فراہم کرتی تھی اور اسی وجہ سے اس خطے کی انفرادیت کو تحفظ دینے کے لیے شہریت کا الگ قانون تھا۔
دوسرا سوال یہ کہ چونکہ مذکورہ قانون آئین ساز اسمبلی نے بنایا تھا اورطے تھا کہ قانون ساز اسمبلی ہی اس میں ترمیم کرسکتی ہے۔ اگست ۲۰۱۹ءکو مودی حکومت نے پارلیمنٹ کو پہلے قانون ساز اسمبلی میں تبدیل کیااور پھر اس کے ذریعے دفعہ۳۷۰ میں ترمیم کروائی۔ کورٹ کے سامنے سوال تھا کہ ’کیا آئین اس میکانزم کی اجازت دے سکتا ہے؟ ‘
تیسرا : کیا آرٹیکل۳۷۰ (۱) (d) کے تحت طاقت کے ذریعے بھارت کا پورا آئین ریاست جموں و کشمیر پر لاگو کیا جا سکتا ہے؟
چوتھا: کیا آرٹیکل ۳۷۰ (۳) کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اور جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی سفا رش کے بغیر بھارتی صدر آرٹیکل ۳۷۰کو منسوخ کرسکتا ہے؟
پانچواں : کیا ۲۰۱۸ء میں گورنر کی طرف سے قانون ساز اسمبلی کو تحلیل کرنادرست قدم تھا؟
چھٹا: اس کے چھ ماہ بعد کیا ریاست میں صدارتی راج کا نفاذ درست تھا؟
ساتواں : کیا ’جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ ۲۰۱۹ء‘ کے تحت ریاست کو دولخت کرنا آئینی طور پر درست تھا؟
آٹھواں : کیا ریاست کی حدود کو ریاستی اسمبلی کے مشورہ کے بغیر تبدیل کیا جاسکتا ہے؟ کیونکہ ابھی تک بھارت میں جو بھی نئے صوبے وجود میں آئے ہیں، ان کی سفارش مقامی اسمبلی نے مرکزی حکومت کو بھیجی تھی۔ اس کے علا وہ کیاکسی فعال صوبے کو راتوں رات مرکزی زیر انتظام علاقے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے؟
پہلے سوال کے جواب میں عدالت نے فیصلہ دیا کہ ’دفعہ ۳۷۰ ایک عارضی انتظام تھا اور۱۹۴۷ء میں یونین آف انڈیا میں شمولیت کے وقت مہاراجا نے کوئی اختیار اپنے پاس نہیں رکھا تھا، بلکہ تمام اختیارات حکومت ہند کو سونپ دیے تھے‘۔ نومبر ۱۹۴۹ءکو اس وقت کے صدر ریاست ڈاکٹرکرن سنگھ کا حوالہ دے کر عدالت نے کہا کہ ’بھارتی آئین، ریاستی آئین پر فوقیت رکھتا ہے۔ اس لیے ریاست جموں و کشمیر کسی بھی ایسی داخلی خودمختاری کا دعویٰ نہیں کرسکتی ہے، جو دیگر صوبوں کو مہیا نہ ہو۔ آرٹیکل ۳۷۰ (۱) (d) کے تحت صدر کی طرف سے جاری کردہ متعدد آئینی احکامات جو آئین کی مختلف دفعات کی ترامیم کا اطلاق کرتے ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پچھلے ۷۰ برسوں کے دوران، یونین اور ریاست نے باہمی تعاون کے ذریعے آئینی طور پر ریاست کو یونین کے ساتھ ضم کر دیا‘۔ عدالت نے کہا کہ ’اچانک ستّر سال بعد پورے بھارتی آئین کو لاگو نہیں کیا گیا بلکہ ریاست کے آئینی انضمام کا عمل جاری تھا‘۔
عدالت نے ڈاکٹر کرن سنگھ کے اعلامیے کا تذکرہ کیا ہے، مگر ۱۹۵۰ء میں ہونے والے اُس وقت کشمیر کے وزیراعظم شیخ محمدعبداللہ اور بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو کے درمیان طے پائے گئے ’معاہدہ دہلی‘ کو حیرت انگیز طور پر بالکل ہی نظرانداز کردیا گیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ۳ جولائی ۱۹۴۷ء کو سردار پٹیل کے ایک خط کا تذکرہ کیا ہے، جو انھوں نے راجا ہری سنگھ کو لکھا تھا:’’کشمیر کے مفادات بغیر کسی تاخیر کے بھارتی یونین اور اس کی آئین ساز اسمبلی میں شامل ہونے میں مضمر ہیں اور یہ کہ اس کی ماضی کی تاریخ اور روایت اس کا تقاضا کرتی ہے، اور بھارت آپ کی طرف دیکھتا ہے۔ اور آپ سے یہ فیصلہ کرنے کی توقع رکھتا ہے‘‘۔ اسی طرح ۲۷ ستمبر۱۹۴۷ء کو نہرو نے سردار پٹیل پر زور دیا کہ ’’پاکستانی حکمت عملی یہ ہے کہ کشمیر میں مداخلت کی جائے، اور جیسے ہی کشمیر آنے والے موسمِ سرما کی وجہ سے کم و بیش الگ تھلگ ہوجائے تو بڑی کارروائی کی جائے‘‘، یعنی اُن کا کہنا تھا کہ کشمیر کے الحاق پر جلد کارروائی کی جائے۔ بھارت میں جو لوگ نہرو کو کشمیر پر فیصلہ نہ کرنے کا ذمہ دار ٹھیراتے ہیں، اور پاکستان میں جو افراد قبائلی حملے کو ہی کلی طور پر مسئلہ کشمیر کی پیداوار قرار دیتے ہیں، ان کے لیے شاید یہ ایک دلچسپ اطلاع ہوگی کہ اس کھیل کی بساط تو اکتوبر ۱۹۴۷ء سے بہت پہلے ہی بچھائی جاچکی تھی۔
سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ’چونکہ آئین کی تمام دفعات کو ریاست پر لاگو کرنے کے لیے آرٹیکل ۳۷۰ (۱) (d) کے تحت ریاستی حکومت کی رضامندی کی ضرورت نہیں تھی، اس لیے صدر نے بھارتی حکومت کی رضامندی حاصل کی‘۔ریاستی آئین کی بحالی کے حوالے سے عدالت نے دلیل دی کہ ’بھارتی آئین کے کچھ حصوں کے عدم اطلاق سے جو خلا رہ گیا تھا، اسے ریاستی آئین پور ا کرتا تھا۔ اب آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد چونکہ پورے بھارتی آئین کا اطلاق ریاست پر ہوتا ہے، اس لیے اب ریاستی آئین کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور یہ اب غیر فعال ہوگیاہے‘۔
عدالت نے لداخ کو ایک علیحدہ مرکزی علاقہ تسلیم کیا، یعنی ریاست کے دو لخت ہونے پر بھی مہر لگائی۔ مگر عدالت نے اس پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے کر سوال اُٹھایا ہے کہ ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کی کیا ضرورت تھی؟اور پھر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سالیسٹر جنرل نے حکومت کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کیا جائے گا اور یہ کہ مرکزی زیر انتظام والی حیثیت عارضی ہے۔ عدالت نے پھر اس پر کوئی حکم نہیں دیا، بلکہ اُمید ظاہر کی کہ جلد ہی ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی۔ مگر الیکشن کے حوالے سے اس نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ ریاست میں ستمبر ۲۰۲۴ء تک اسمبلی کے انتخابات ہونے چاہییں۔ لداخ کی بطور یونین ٹیریٹری کی حیثیت برقرار رہے گی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ کسی بھی ریاست سے کسی بھی علاقے کو الگ کرکے یونین ٹیریٹری بنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
جسٹس سنجے کشن کول، جوسپریم کورٹ کے واحد کشمیری جج، اور اس بنچ کے رکن تھے، انھوں نے الگ سے اپنے تاثرات درج کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ اس خطے نے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا سامنا کیا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے تجویز دی کہ جنوبی افریقہ کی طرز پر ایک ’سچائی اور مفاہمت کمیشن‘ (Truth and Reconciliation Commission) ترتیب دیا جائے، جہاں متاثرین اپنا دُکھ درد بیان کرسکیں گے۔ جسٹس سنجے کول کا کہنا ہے کہ ’کشمیر میں زمینی سطح پر ایک پریشان کن صورت حال تھی، جس کا ازالہ نہیں کیا گیا‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’اس خطے میں زخموں کو بھرنے اور سماجی تانے بانے کو بحال کرنے کی ضرورت ہے‘۔
تاہم، سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس مفاہمتی یا مصالحتی کمیشن کے سامنے فوج اور سیکورٹی سے وابستہ وہ افسران حاضر ہوں گے، جو علی الاعلان ا پنے گناہوں کا اعتراف کرسکیں گے؟خیر، یہ تجویز بُری نہیں ہے، مگر اس کمیشن کا قیام کسی غیرمتازع اور آزاد ادارے کے تحت ہی ہونا چاہیے۔ کشمیر میں جو واقعات پچھلے تین عشروں میں رُونما ہوئے، ان کو ریکارڈ پر لانا اَز حد ضروری ہے۔ بہرحال،سپریم کورٹ کے اس ایک جج نے اس قدر تسلیم تو کیا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔
سپریم کورٹ میں تقریباً ۲۳ کے قریب رٹ پیٹیشنیں دائیر کی گئی تھیں -ان میں سے ایک پیٹیشنر رادھا کمار کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلہ سے خاصی مایوس ہیں ۔ رادھا کمار کو من موہن سنگھ حکومت کے دور میں مصالحت کار نامزد کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے ابتدا میں یقین تھا کہ عدالت ریاست کو مرکزی زیر انتظام علاقہ بنانے کے حوالے سے کچھ نہ کچھ ریلیف ضرور دے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب حکومت نے غیر ریاستی باشندوں کے لیے ریاست میں زمینیں خریدنے کا دروازہ کھولا، تو میں نے اس پر جیسے ہی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، تو مجھ کو بتایا گیا کہ آخری فیصلے تک انتظار کیا جائے۔ لیکن اب عدالت کے اس فیصلے کے بعد ہم جانتے ہیں کہ زمینی حقائق کو آسانی سے نہیں پلٹا جا سکتا، لیکن پلٹنا ناممکن بھی نہیں۔‘ رادھا کمار کے مطابق ہم نے سوچا تھا کہ عدالت آرٹیکل ۳۷۰ پر ہماری حمایت نہیں کر سکتی، اور ضرور اس بات سے متفق ہو گی کہ ریاست کا خاتمہ بھارتی آئین کے آرٹیکل ۳کے خلاف ہے۔ یہ بھی اُمید تھی کہ عدالت قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کرے گی، مگر اس نے یہ بھی نہیں کیا۔ اس کے بجائے، پانچ ججوں نے سالیسٹر جنرل کی اس یقین دہانی کو قبول کیا ہے کہ ریاست کا درجہ 'مناسب وقت پر بحال کیا جائے گا اور الیکشن کمیشن کو اسمبلی انتخابات کرانے کے لیے مزید دس ماہ کا وقت دیا ہے۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ ۲۰۱۹ء، ۲۰۲۰ء، ۲۰۲۱ء، اور ۲۰۲۲ء میں وزیر داخلہ امیت شا کی بار بار کی یقین دہانیوں کے بعد ریاست کا درجہ واپس کیوں نہیں دیا جارہا ہے؟
اگست ۲۰۱۹ء کے فوراً بعد، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما محبوبہ مفتی اور کئی دیگر افراد نے خبردار کیا تھا کہ مودی حکومت نے کشمیر کو ایک لیبارٹری بنا یا ہے۔ جو کچھ وہ کشمیر میں آزما رہے ہیں، وہی بہت جلد بھارت کے دیگر علاقوں میں بھی نافذ کرکے ہی دم لیں گے۔ ۱۱دسمبر ۲۰۲۳ء کو عدالت کےکشمیر پر مایوس کن فیصلے کے کچھ ہی دنوں کے اندر، ۱۴۷ کے قریب ممبران پارلیمنٹ کو دونوں ایوانوں سے معطل کیا گیا۔ ان کی غیر موجودگی میں تعزیراتی قوانین، شہادت قانون اور ضابطہ فوجداری کے تین نئے قوانین پاس کیے گئے اور برطانوی دور کے تعزیراتی قوانین کو معطل کیا گیا۔
اسی ایوان میں چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کرنے والی کمیٹی سے چیف جسٹس آف انڈیا کو بے دخل کرکے اُن کی جگہ ایک وزیر کو رکھنے کا قانون بھی پاس کیا گیا۔ عدالت کی طرف سے کشمیر کے عوام کے حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کے بعد بھارت میں پارلیمانی جمہوریت میں کسی بحث و مباحثے کے بغیر ایسے قوانین کو پاس کرنا، جن کا عوام پر براہِ راست اثر پڑتا ہو، آخر کس بات کی نشاندہی کرتا ہے؟ کیا اب بھی بھارتی جمہوریت میں کچھ باقی رہ گیا ہے؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام واحد ایسے پیغمبر ہیں، جنھیں دنیا کے تینوں بڑے مذاہب کے لوگ یعنی مسلمان ، عیسائی اور یہودی اپنا پیغمبر، پیشوا اور ابو الانبیا مانتے ہیں۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی ہیں جن سے یہودی ، عیسائی اور مسلمانوں کی نسلیں چل پڑیں۔ اسی لیے اسلام ، یہودیت اور عیسائیت کو ابراہیمی مذاہب کہا جاتا ہے۔ یہ بات بھی غور کرنے کے قابل ہےکہ ایک ہی پیغمبر کی اولاد ہونے کے باوجود ہمیشہ ان تینوں قوموں کے درمیان گھمسان کی لڑائیاں ماضی میں ہوئی ہیں، ابھی بھی ہو رہی ہیں اور مستقبل میں بھی ہوتی رہیں گی۔
مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ماضی میں صلیبی جنگیں ہوتی رہی ہیں، جب کہ عیسائیوں اور یہودیوں میں بھی باہم جنگیں کوئی چھپی ہوئی بات نہیں۔ تاہم، موجودہ دور میں یہود و نصاریٰ حکومتیں یک جان ہو کر عالم اسلام کے خلاف صف آراء ہوگئی ہیں اور نائن الیون کے وقت امریکا کے صدر جارج بش نے کہا بھی تھا کہ صلیبی جنگیں دوبارہ شروع ہوگئی ہیں۔ اس سے ایک عشرہ قبل افغانستان میں جنگ کے بعد سوویت روس کے حصے بخرے ہوئے تو اس وقت مغربی اتحادی افواج (نیٹو) کے سربراہ سے جب پوچھا گیا کہ ’’سوویت روس کی شکست اور سقوط کے بعد کیا نیٹو اتحاد کو ختم کر دیا جائے گا؟‘‘ تو اس پر نیٹو کے سربراہ نے کہا تھا کہ ’’ابھی مغرب کا اصلی معرکہ باقی ہے جو اسلام سے خطرے کی صورت میں سامنے ہے۔ اس لیے ہم نیٹو اتحاد کو ختم کرنے کا خطرہ نہیں لے سکتے‘‘۔ فرانسس فوکویاما نے سوویت روس کی شکست کے بعد کہا تھا کہ ’’دنیا کے دو بڑے نظریات یعنی سوشلزم اور سرمایہ دارانہ نظام کی لڑائی میں بالآخر سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism)کی جیت ہوئی اور تاریخ کا خاتمہ ہوگیا۔ اب دنیا کے پاس سرمایہ دارانہ نظام کو ماننے کے علاوہ کو چارہ نہیں ہے‘‘۔ فرانسس فوکویاما نے سرمایہ دارانہ نظام کو ’اچھا آدمی‘ اور سوشلزم کو ’بُرا آدمی‘ کہہ کر اچھائی اور بُرائی کی جنگ بتایا تھا، جس میں بقول فوکویاما کے بالآخر ’اچھے آدمی‘ کی جیت ہوئی۔ اسی طرح برنارڈ لیوس اور سیموئیل پی ہن ٹنگٹن نے مغربی نظام کے سامنے موجود دو بڑے چیلنجز اسلام اور چینی تہذیب کی نشان دہی کی تھی، جو مستقبل میں مغرب کے لیے درد سر بن سکتے ہیں۔ اسی طرح امریکی مفکر ہنری کسنجر نے بھی یہی بات بڑی تفصیل سے کہی کہ اگر کبھی مستقبل میں مسلم ممالک چین کے قریب آتے ہیں تو اسی وقت مغربی ورلڈ آرڈر کی موت واقع ہو جائے گی۔ اس پس منظر کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ دنیا کی تینوں بڑی تہذیبیں حضرت ابراہیم ؑ کو اپنا باپ تسلیم کرتی ہیں۔ سوربون یونی ورسٹی کے اسکالر پروفیسر جی ایم ڈی صوفی رجسٹرار یونی ورسٹی آف دہلی، دو جلدوں میں اپنی مشہور کتاب Kashir, Being a History of Kashmir (مطبوعہ پنجاب یونی ورسٹی، لاہور، ۱۹۴۸ء) میں کشمیریوں کی تاریخ پر قلم اٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ دراصل کشمیری قوم فلسطین کے باشندے ہیں، کشمیری اور فلسطینی ایک ہی باپ کی دو اولادیں ہیں اور ان کا سلسلۂ نسب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملتا ہے۔ ملک کنعاں (موجودہ فلسطین) کے بنی قطورہ قبیلے کی خاتون سے شادی کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جو اولاد ہوئی، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انھیں مال و اسباب دے کر فلسطین سے مشرق کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ کنعان یعنی موجودہ فلسطین سے ہجرت کر کے یہ لوگ پہلے وسطی ایشیا پھر ترکستان کے شہر کاشغر اور آخر میں لداخ کے کوہستانی سلسلے کو عبور کرتے ہوئے سونہ مرگ علاقے سے کشمیر میں داخل ہو گئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کی۔اس زمانے میں کشمیر میں کوئی آبادی نہیں ہوتی تھی اور کشمیر آنے والے یہ پہلے لوگ تھے جو آگے چل کر یہاں کے اصلی باشندے کہلائے۔ ان لوگوں نے اس نئی جگہ کو ’کشیر‘ نام دیا۔
واضح رہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی زبان عبرانی تھی اور اس وقت ملک کنعان یعنی فلسطین کی زبان بھی عبرانی ہوا کرتی تھی۔ایک یہودی مؤرخ بھی کشمیریوں کی فلسطین سے اس ہجرت کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کشمیری قوم بڑی بہادر قوم ہے۔ یہ لوگ ہر وقت وادی کے دروں کی حفاظت پر مامور رہتے ہیں اور کسی بیرونی شخص کو وادی میں آنے سے روکتے ہیں۔ فطرتاً یہ قوم جنگجو اور محنت کش ہے اور مہمان نوازی میں بھی یہ لوگ اپنی مثال آپ ہیں۔ لفظ ’کوشر‘ عبرانی زبان کا لفظ ہے اور اس کا تلفظ داردک زبانوں جیسا ہے نہ کہ سنسکرت جیسا۔ یہ الگ بات ہے کہ کشمیر کی تاریخ پر شب خون مار کر یہاں کی تاریخ کو بھی تلپٹ کر کے رکھ دیا گیا۔ اس تاریخی بددیانتی کی ابتدا کلہن نامی شخص نے راج ترنگنی نامی کتاب لکھ کر کی تھی۔ یہ کتاب نہیں بلکہ دنیا بھر کے جھوٹ کا پلندہ اور دیو مالائی کہانیوں کا مجموعہ ہے، جو صرف اس لیے لکھی گئی تاکہ کشمیری قوم کی اسلامی شناخت کو تبدیل کر کے ہندو خاکے میں ڈھالا جا سکے۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ماضی میں بھی کوششیں ہوئی ہیں اور تا حال بھی ہو رہی ہیں۔ دفعہ ۳۷۰ اور دفعہ ۳۵-الف کاخاتمہ اسی سمت کا سفر ہے۔ جس میں یہاں پر موجود مسلمانوں کا قتلِ عام کا کام ہی باقی بچا ہے اور یہ کام ایک خاص منصوبے کے تحت جاری ہے۔
ہم چاہیں گے کہ پہلے مرحلہ وار طریقے سے کشمیری قوم کی اصل سے واقف کرائیں ، اس کے بعد مسئلہ کشمیر کے آغاز اور جموں میں ہونے والے قتل عام اور مستقبل میں کشمیر میں آر ایس ایس اور بھارت کے منصوبے پر بھی بات ہوگی۔ بدقسمتی سے کلہن کے بعد آنے والے ہر مؤرخ، جس نے بھی کشمیر کی تاریخ پر قلم اٹھایا، راج ترنگنی کو حرفِ آخر جان کر اس پر آمنا و صدقنا کہا۔ کلہن، ’شیومت‘ کا ماننے والا تھا۔ اس نے کشمیریوں کی تاریخ میں ہندوانہ رسومات کا ذکر زیبِ داستان کے لیے کیا۔ کشمیریوں کے متعلق یہ کہنا کہ یہ یہودیوں کے گیارہ قبیلوں میں سے ایک کھویا ہوا قبیلہ ہے، ایک مفروضہ ہے۔ کلہن نے کشمیری قوم کی کنعان سے ہجرت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے بلکہ کشمیر کے ہندو بادشاہوں کا ہی ذکر کیا ہے۔ کشمیری قوم حضرت ابراہیمؑ کی اولاد ضرور ہے، لیکن یہودیوں سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ یہودی حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے حضرت یعقوبؑ کی اولاد ہیں، جن کا دوسرا نام اسرائیل تھا اور اسی نسبت سے یہودیوں کو بنی اسرائیل یعنی اسرائیل کی اولاد کہا جاتا ہے، جب کہ کشمیریوں کے بارے میں اس چیز کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا۔
فلسطین سے ہجرت کے بعد کشمیریوں نے پہلے پہل اپنے آبائی دین ’دین اسلام‘ کو مضبوطی سے تھامے رکھا، لیکن رفتہ رفتہ صدیاں گزرنے کے ساتھ برصغیر میں پہلے بدھ مت اور پھر ہندومت کے عروج کے ساتھ کشمیریوں پر بھی ان کے اثرات پڑے اور انھوں نے پہلے بدھ مت اور پھر ہندومت کو اختیار کیا۔ اس بات کے تاریخی شواہد بھی ملتے ہیں کہ بدھ مت کے بڑے بزرگوں کی کانفرنس کشمیر میں ہی ہوتی تھی اور کشمیر میں ہی پہلی بار بدھ مت کے قوانین تانبے کی چادروں پر لکھے گئے اور پھر زمین کے نیچے دفن کیے گئے۔ محکمہ آثارِ قدیمہ کو اس کے شواہد کشمیر کے خطہ لداخ میں ملے ہیں۔ کشمیر کو وسط ایشیا سے جوڑنے والا راستہ جو بانڈی پورہ کے گریز علاقے سے گزر کر گلگت سے آگے بڑھتا تھا۔ مذکورہ قوانین اسی راستے سے وسط ایشیا پہنچے اور وہاں بدھ مت کا پھیلاؤ ہوسکا۔
صدیوں بعد ترکستان سے حضرت عبدالرحمان بلبل شاہ ترکستانی اور پھر ہمدان کے میرسیّدعلی ہمدانی اسلام کی دعوت لے کر کشمیر آئے تو وہ بھی اسی شاہراہِ ریشم کے راستے کشمیر میں وارد ہوئے۔ کشمیر پہنچ کر یہاں کی ہندو آبادی کے سامنے جب انھوں نے اسلام یہ کہہ کر پیش کیا کہ دراصل یہ وہی دین ابراہیمی ہے، جس کی تعلیم حضرت ابراہیمؑ نے دی تھی، تو کشمیری قوم جوق در جوق اسلام قبول کرتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ پورے کشمیر میں صرف گیارہ گھر ہی ہندو رہ گئے اور اسی وقت سے یہ مثل مشہور ہوگئی: ’کشیر چھ کاہے گھر‘ یعنی اصلی کشمیری اب صرف گیارہ گھر بچے ہیں باقیوں نے ہندومت چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس بات سے خود اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر کی کہانی جان بوجھ کر الجھائی گئی ہے تاکہ اس قوم کا اسلام کے ساتھ رشتہ کاٹ دیا جائے۔ اس طرح کی ہندوانہ تاریخ لکھنے والے نام نہاد مؤرخوں کی سرکاری سطح پر ہمیشہ سے حوصلہ افزائی ہوتی رہی ہے، جنھوں نے صوفیت اور ریشیت کا شوشہ چھوڑ کر، جو کہ اسلام سے زیادہ ہندو مذہب کے قریب ہے، اور جو اس جھوٹ کو حقیقت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کشمیر کی تاریخ ہندو مذہب کی پروردہ رہی ہے اور ہندو مذہب ہی کشمیریوں کا حقیقی مذہب ہے۔
فلسطینیوں اور کشمیریوں کی قسمت دیکھیے کہ دونوں برادر قوموں کی ایک جیسی تقدیر ہے۔ فلسطینی قوم اگر یہود کے ہاتھوں تختۂ مشق بنی ہوئی ہے تو کشمیری قوم، اہل ہنود (ہندو قوم) کے ہاتھوں تختۂ مشق بن رہی ہے۔ اس وقت اسرائیل کی طرف سے فلسطین پر بالخصوص اہل غزہ پر جو قہر ڈھایا جا رہا ہے، کچھ اسی طرح کی منصوبہ بندی کشمیری قوم کے بارے میں بھی بنائی جا رہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس خاکے میں رنگ بھرنے میں کچھ عناصر رکاوٹ بنےہوئے ہیں۔ اللہ نہ کرے اگر یہ رکاوٹیں دُور ہوگئیں یا کمزور پڑگئیں تو جو منظرنامہ اس وقت غزہ میں بنا ہوا ہے، وہی المیہ کشمیر میں بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے اور بھارت کی ایک سخت گیر ہندو فاشسٹ حکومت اسی جانب بڑھ رہی ہے۔ جنوری ۲۰۲۴ء سے جموں سرینگر ٹرین سروس شروع ہو رہی ہے، جس پر ۲۸ہزار کروڑ کی رقم خرچ کی گئی ہے۔ اگرچہ بتایا یہی جا رہا ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے سے کشمیر میں ترقی کو فروغ ملے گا اور کشمیر کی سیاحت انڈسٹری میں اضافہ ہوگا۔ لیکن غور کیا جائے تو حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ دراصل یہ ٹرین پراجیکٹ کشمیر کے سینے میں ایک خنجر کی طرح پیوست کیا گیا ہے، جس سے کشمیریوں کا روز مرہ کا سفر آسان تو ہوجائے گا لیکن آزادی کی منزل بہت دُور ہو جائے گی۔
تقسیم برصغیر کے وقت کشمیر کی بھارت کے ساتھ صرف ۱۸ فی صد سرحد ملتی تھی اور وہ بھی دریائے راوی، جو پنجاب اور ریاست جموں و کشمیر کے آخری گاؤں لکھن پور کو آپس میں تقسیم کرتا تھا۔ اُس زمانے میں یہ راستہ بالکل ناقابلِ استعمال تھا، بلکہ اگر اسے راستے کے بجائے پگڈنڈی کہا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔ چونکہ کانگریس کی قیادت پہلے ہی شیخ محمد عبداللہ کو اپنے رنگ میں رنگ چکی تھی اور کشمیر کے راجا ہری سنگھ نے بہت پہلے ہی کانگریس کے ساتھ مل کر کشمیر کو ہندستان سے جوڑنے کا منصوبہ بنالیا تھا، اس خاکے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پٹیالہ فوج ، ڈوگرہ فوج، بھارتی افواج اور آر ایس ایس کے ہتھیار بند جتھوں نے مل کر جموں صوبے میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ ہزاروں مسلمان بچیوں کو اغوا کیا گیا اور ان کی عصمت دری کی گئی۔ تقسیم کے وقت پنجاب میں جو قتلِ عام کیا گیا، وہ اسی لیے تھا تاکہ کسی بھی طرح سے وادئ کشمیر پر قبضہ کیا جاسکے۔ ایک بار وادی قبضے میں آ گئی، پھر لداخ، گلگت اور بلتستان کے پہاڑی سلسلے کو ہدف بنایا جاسکتا تھا اور شاہراہِ ریشم بھارت کے تسلط میں آجاتی۔
۷۰ سال پہلے جس قتلِ عام کی ابتدا جموں صوبے سے کی گئی تھی، آج پوری ریاست میں اسی طرح کا قتلِ عام مختلف صورتوں میں جاری ہے۔ اب چونکہ بھارت نے دفعہ ۳۷۰ اور ۳۵-الف کو ختم کر کے جموں وکشمیر کو مکمل طور پر بھارتی بھیڑیوں کے سامنے ڈال دیا ہے، تو صورتِ حال اور بھی خوفناک ہونے والی ہے۔ مذکورہ بالا دفعات کے ہوتے ہوئے اس بات کا کم از کم یقین تھا کہ بھارت کی کسی دوسری ریاست کا باشندہ کشمیر میں زمین نہیں خرید سکتا۔ لیکن ان کے خاتمے کے ساتھ ہی یہ دیوار بھی درمیان سے ہٹ گئی ہے۔
اسرائیل کی وحشت ناک بمباری کے بعد، جس نے ۴۹دنوں میں تقریباً۱۵ہزار افراد کو ہلاک کردیا، جس میں چھ ہزار کے قریب بچے اور چار ہزار خواتین شامل ہیں، ایک عارضی جنگ بندی نے فلسطینی خطہ کی غزہ کی پٹی کے مکینوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کردیا ہے۔ اس خطے میں لگاتار ہورہے موت کے رقص کے دوران، لوگ کس طرح زندگی گزار رہے تھے؟ فری لانس صحافی صفاء الحسنات کا کہنا ہے کہ بس اُدھار کی زندگی جی رہے تھے اور یہ پتہ نہیں تھا کہ اگلے ایک منٹ کے بعد زندہ ہوں گے یا نہیں۔ ان ۴۹ دنوں کے دوران، جب اسٹوری یا تفصیلات جاننے کے لیے کبھی ان کو فون کرنے کی کوشش کرتا، یا تو کال ہی نہیں ملتی تھی یا مسلسل گھنٹی کے باوجود وہ فون نہیں اٹھاتی تھیں۔ جنگ بندی کے اگلے دن ان سے رابطہ ہوا اوراس سے قبل شکایت کے لیے لبوں کو حرکت دیتا، کہ انھوں نے کسمپرسی کی ایسی ہوش ربا دردرناک داستان بیان کی،جس نے ہو ش اُڑا دیئے۔
شمالی غزہ کی مکین الحسنات کے شوہر ۷؍اکتوبر سے قبل ہی انتقال کر گئے تھے۔ وہ ابھی سوگ کی حالت میں ہی تھیں، کہ جنگ شروع ہوگئی اور اسرائیل نے شمالی غزہ کو خالی کرنے کا فرمان جاری کردیا۔ چار یتیم بچوں کو لے کر وہ جنوبی غزہ کی طرف روانہ ہوگئیں، جہاں وہ کسی کو نہیں جانتی تھیں۔ خیر کسی نے ان کو مہمان بنالیا۔ مگر اسی رات ان کے پڑوس میں شدید بمباری ہوگئی اور وہ کسی دوسرے ٹھکانے کی تلاش میں نکل پڑیں۔ دوسرا ٹھکانہ تو مل گیا، مگر صبح سویرے اس مکان پر بھی بمباری ہوگئی اور بڑی مشکل سے بچوں کے ساتھ وہ جان بچاکر ملبہ سے باہر آپائیں۔ اس دوران ان کے ایک بچے کو چوٹ بھی آگئی۔ اس وقت زخم کو کون دیکھتا، زندگی بچ گئی تھی۔ مگر اب کوئی ٹھکانہ نہیں رہ گیا تھا۔ رات گئے تک وہ غزہ کی سڑکوں پر گھوم پھر کر اپنے اور بچوں کے لیے چھت تلاش کرتی رہیں۔ خیر سلطان محلہ میں ایک کمرہ میں جگہ مل گئی، جہاں تین خاندان پہلے ہی رہ رہے تھے۔ پناہ تو مل گئی، مگر پیٹ کی آگ بھی بجھانی تھی۔ان کی کہنا تھا کہ صبح سویرے بچوں کو الوداع کرکے بیکری کے باہر ایک لمبی قطار میں روٹی کا انتظار کرنا پڑتا تھا اور کسی وقت باسی روٹی ہی مل پاتی تھی، جس پر پھپھوندی جمی ہوئی ہوتی تھی۔ ہمہ وقت اسرائیلی بمباری کا خطرہ ہوتا تھا۔
اکثر اسرائیلی بمبار طیارے اسی طرح کے ہجوم کو نشانہ بناتے تھے۔ خیر روٹی کے ملنے کے بعد پانی کی ایک بوتل ڈھونڈنے کا مرحلہ طے کرنا ہوتا تھا۔ چونکہ گیس یا دیگر ایندھن کے ذرائع مسدود کردیئے گئے تھے، اس لیے پرانے زمانے کے مٹی کے چولہے پر کھانا بنانے اور روٹی کو گرم کرنے کے لیے لکڑی اور کوئلہ کی تلاش میں سرگرداں ہونا پڑتا تھا۔
الحسنات کہہ رہی تھیں کہ صبح سویرے جب بچوں کو الوداع کرتی تھی، تو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ واپس روٹی، پانی اور لکڑی لے کر آؤں گی یا میری لاش ان کے پاس پہنچے گی۔ جس گھرمیں کسی عزیز کی لاش پہنچتی تھی، وہ بھی اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرتے تھے، کہ انھوں نے عزیز کا جنازہ پڑھا۔ ورنہ بمباری سے ملبہ کے اندر ہی لاشیں دب جاتی تھیں یا ان کی شناخت ہی نہیں ہوپاتی تھی اور پھر گھر والوں کو لاش ڈھونڈنے کی تگ ودو کرنی پڑتی تھی۔ وہ بتا رہی تھیں کہ ’’گھر سے نکلتے وقت اکثر مجھے لگتا تھا کہ شاید آخری وقت بچوں کا چہرہ دیکھ رہی ہوں۔کیا پتہ اس دورا ن اسرائیلی بمباری سے یہ ٹھکانہ بھی مسمار ہو جائے۔ یہ بچے حال ہی میں یتیم ہو گئے تھے اوران کی آنکھیں اور اُداس معصوم چہرے بتاتے تھے کہ اب وہ ماں کے آنچل سے اتنی جلدی محروم نہیں ہونا چاہتے تھے۔ کھانا حاصل کرنے کی اس تگ و دو کے بعد صحافتی ذمہ داریاں بھی نبھانی تھی اور پھر اسٹوری حاصل کرنے کے لیے میدان میں آنا پڑتا تھا۔ یہ میرے پورے ایک دن کی سرگزشت تھی۔ اس لیے اگر میں نے اس دورا ن فون نہیں اٹھایا یا کال کا جواب نہیں دیا،، تو مجھے معافی ملنے کا پورا حق ہے‘‘۔
اس گفتگو کے بعد پھر کون شکایت کرتا۔ یہ نہ صرف الحسنات، بلکہ پورے ۲۰لاکھ غزہ کے مکینوں کی کہانی تھی۔ اسرائیلی بمباری کے سائے میں ۴۹دن انھوں نے کم و بیش اسی طرح گزارے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس عارضی جنگ بندی کو لاگو کروانے اور اس پر اسرائیل کو راضی کروانے کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ۱۳ بار فون پر بات چیت کے دور ہوئے اور اس کے علاوہ امریکی صدر نے مسلسل قطر کے امیر تمیم بن حماد الثانی کے ساتھ رابطہ رکھا۔ انقرہ، دوحہ اور بیروت میں مقیم مذاکرات کاروں نے راقم کو بتایا کہ قطر نے گو کہ اس معاہدے کی ثالثی میں اہم کردار ادا کیا، مگر اس میں ایران، مصر اور ترکیہ نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ چھ صفحات پر مشتمل جنگ بندی دستاویز میں اسرائیلی فوجی سرگرمیاں بند کرنے، جنوبی غزہ پر اسرائیلی پروازوں پر پابندی اور شمالی فضائی حدود میں کارروائیوں کو محدود کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔اس کے علاہ قیدیوں کے تبادلہ کا نظم بھی وضع کردیا گیا۔ اس کا ابتدائی ڈرافٹ ۲۵؍ اکتوبر کو قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمٰن الثانی اور وائٹ ہاؤس کے مشرق وسطیٰ کے کوآرڈی نیٹر بریٹ میک گرک کے ساتھ طے پایا تھا۔
عالمی سطح پر احتجاج اور عرب ممالک خاص طور پر اس کے حکمرانوں سے تعلقات کی مجبوری نے امریکا کو اسرائیل پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے پر مجبور کردیا۔ ان مذاکرات پر نظر رکھنے اور جلد فیصلہ لینے کے لیے، قطر، امریکا اور اسرائیل کے نمایندوں کا ایک ’سیل‘ ترتیب دیا گیا۔ اس میں امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز،قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان، اور میک گرک، اسرائیل کے موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا شامل کیے گئے۔ قطر کے امیر نے وزیر اعظم عبدالرحمٰن الثانی کو ’سیل‘ کے لیے نامزد کردیا، تاکہ فیصلہ سازی میں آسانی ہو۔ بعد میں اس عمل میں ترک وزیرخارجہ حکان فیدان،جو ایک سابق اینٹلی جنس سربراہ ہیں، اور مصری انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ اس سے قبل ۲۰ اور ۲۵؍اکتوبر کے درمیان، بارنیا نے برنز کے ساتھ کئی بار بات چیت کی، اور بائیڈن نے اس عرصے کے دوران نیتن یاہو سے چار بار بات کی تاکہ معاہدے کا خاکہ تیار کیا جا سکے، جس کے بعد ۲۵؍اکتوبر کو قطر کو ہری جھنڈی دی گئی۔
اس سے پہلے کہ مذاکرات کوئی سنجیدہ موڑ لیں، دوحہ، استنبول اور بیروت میں حماس کی سیاسی قیادت کو کہا گیا کہ وہ زمین پر اور عسکری قیادت پر اپنی گرفت کو ثابت کریں، تاکہ بعد میں معاہدہ کے بعد ان کی زمینی قیادت ا س سے انکاری نہ ہو۔ اس کامظاہرہ کرنے کے لیے، حماس نے ۲۱؍ اکتوبر کو امریکی شہریوں جوڈتھ اور نٹالی رانان کو رہا کردیا، جس سے قطر کی ثالثی کی صلاحیتوں پر اعتماد بڑھ گیا اور حماس کی سیاسی قیادت پر اعتماد قائم ہوگیا۔ تاہم، یہ مذاکرات دو بار تعطل کا شکار ہوگئے۔ پہلی بار جب اسرائیلیوں نے ۲۹؍ اکتوبر کو زمینی حملہ کیا اور دوسری بار ۱۵ نومبر کو جب اسرائیل نے غزہ کے الشفا ہسپتال کا محاصرہ کرلیا۔ لیکن سی آئی اے کے سربراہ نے قطری وزیر اعظم اور موساد کے سربراہ کو بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق بائیڈن کی قطر کے امیر کے ساتھ براہِ راست فون کال نے بھی بات چیت کی بحالی میں مدد کی۔ تل ابیب میں میک گرک نے اسرائیلی قیادت کو بائیڈن کا پیغام پہنچایا۔ الشفا ہسپتال پر اسرائیلی حملے کے بعد جب روابط دوبارہ منقطع ہو گئے، تو اس کو بحال کرنے میں دودن لگ گئے۔ اس طرح ۱۸ نومبر کو میک گرک اور برنز نے ایک مسودہ کے ساتھ قطری وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ قطری وزیراعظم نے اس مسودے پر حماس کے رہنماؤں سے کئی گھنٹے تک بات چیت کی۔اجلاس میں حماس کے سربراہ اسماعیل حانیہ، سابق سربراہ خالد مشعل اور دیگر اہم پولٹ بیورو کے ارکان بھی شامل تھے، تاکہ بعد میں کسی کو شکایت کا موقع نہ ملے۔
ایک طویل اعصاب شکن بات چیت کے بعد بالآخر سی آئی اے کے سربراہ برنز اور قطری وزیر اعظم نے چھ صفحات پرمشتمل معاہدہ اسرائیل کے حوالے کرنے کے لیے تیار کرلیا۔ اگلے دن میک گرک نے قاہرہ میں مصری انٹیلی جنس چیف عباس کامل سے ملاقات کی، جس نے کچھ باقی ماندہ خلا کو پُر کرنے میں مدد کی۔اس دوران دوسرے ٹریک پر ایران بھی سرگرم تھا، جس کی وجہ سے تھائی لینڈ اور فلپائن کے قیدیوں کو رہائی مل گئی۔ حتمی تجویز اسرائیل کے سامنے پیش کی گئی تھی، مگر اس نے شمالی سرحد پر حزب اللہ کے بارے میں خدشات ظاہر کیے اور لبنان بارڈر پر بھی جنگ بندی پر زور دیا۔ اس کے جواب میں ۲۳نومبر کو بیروت میں حماس کے لیڈروں اسامہ ہمدان اور خلیل الحیا ء نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصرا للہ سے ملاقات کی۔حزب اللہ نے حماس کو بات چیت اور فیصلہ کرنے کا کلی اختیار دے دیا اور یہ باور کرادیا کہ حماس، جو معاہدہ کرے گا، وہ اس کی پاسداری کرے گا۔ اس تگ ودو کے بعد ہی غزہ کے مکینوں کو راحت کی چند سانسیں لینے کا موقع ملا۔ مگر کب تک؟ جب تک فلسطین کے مسئلہ کا کوئی پائیدار حل عمل میں نہیں لایا جائے گا، تب تک جنگ بندی عارضی ہی رہے گی۔ پائیدار حل ہی میں اسرائیل کی سلامتی بھی ہے، مگر ان کو کون سمجھائے!
اسامہ ہمدان اس وقت مزاحمتی تنظیم کے کور گروپ کے ممبر ہیں۔ ان کے خاندان کا تعلق یبانہ قصبہ سے ہے، جو اب اسرائیل کی ملکیت میں ہے۔ ۱۹۴۸ء میں ان کے والدین کو گھر سے بے گھر کردیا گیا اور وہ مصر کی سرحد سے ملحق غزہ کے رفح کے علاقہ کے ایک ریفوجی کیمپ میں منتقل ہوگئے۔ وہ اسی کیمپ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم غزہ میں مکمل کرنے کے بعد انھوں نے کنسٹرکشن مینجمنٹ میں امریکا کی کولاریڈو یونی ورسٹی سے ماسٹرس کی ڈگری حاصل کی۔
میں نے چھوٹتے ہی ان سے پوچھاکہ ۷؍اکتوبر کو حماس نے دنیاکی ایک مضبوط ترین فوج سے ٹکراکر اسے حیران و پریشان تو کردیا، مگر جس طرح اسرائیل نے اب جوابی کارروائی کی ہے، جس طرح عام شہری اور بچے مارے جا رہے ہیں ، کیا یہ کارروائی اس قابل تھی، کہ اتنی قیمت دی جاسکے ؟ ابو مرزوق نے کہا ’’ فلسطینیوں پر مظالم یا فلسطین کی کہانی ۷؍ اکتوبر کو شروع نہیں ہوئی۔ اس کی جڑ عشروں پر پھیلی ہے، جس کے دوران سیکڑوں قتل عام کیے گئے۔ اسرائیل روزانہ ہمارے لوگوں کو بغیر کسی مزاحمت کے مارتا ہے۔ غزہ کی پٹی کا محاصرہ ۱۷ سال پرانا ہے، اور یہ ایک سخت محاصرہ ہے۔ جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے، اور نوجوانوں کی اکثریت کا مستقبل تباہ ہو گیاہے۔ آپ مجھے بتایئے، کیا ہتھیار ڈالنا یا اسرائیل کے سامنے خود سپردگی کرنا کوئی حل ہے ؟ جن لوگوں نے ہتھیار ڈالے کیا اسرائیلیوں کو وہ قابل قبول ہیں ، کیا ان کے خلاف کارروائیاں کم ہوئی ہیں ؟ اسرائیلی صرف فلسطینیوں کو قتل کرنا اور ان کو اپنی زمینوں اور گھروں سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں جو نقشہ لہرایا، اس نے تو ان کے عزائم کو واضح کردیا ہے۔ ہم آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں اور مغربی ممالک کے حمایت یافتہ قبضے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہم صرف آزادی چاہتے ہیں کیونکہ ہم اسرائیلی قبضے کے تحت نہیں رہنا چاہتے۔ جس طرح ہندستان نے برطانوی قبضے کو مسترد کر کے آخر کار اسے نکال باہر پھینکا، ہم بھی ویسی ہی جنگ آزادی لڑ رہے ہیں۔ کیا ۱۸۵۷ء کی جنگ جس میں ہزاروں افراد مارے گئے وہ کوئی نا جائز جنگ تھی ؟ اس کا دفاع کیا جاسکتا ہے، ، تو ہماری جدوجہد بھی جائز ہے۔ اگر کوئی اُس وقت کہتا کہ یہ عظیم قربانیاں ہم نہیں دینا چاہتے ، تو آج تک برصغیر پر برطانیہ قابض ہوتا۔
میں نے دوسراسوال پوچھا :’’مگر آپ نے تو نہتے اور عام اسرائیلی شہریوں کو قتل کیا، اس کاکیا جواز ہے؟‘‘ ابو مرزوق نے جواب دیا :”شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں اسرائیلی موقف ہی غلط ہے۔ خود کئی اسرائیلیوں نے گواہی دی ہے، کہ ہمارے عسکریوں نے ان کو نشانہ نہیں بنایا۔ ایسی شہادتیں بھی ہیں کہ اسرائیلی شہریوں کو مارنے والوں میں ان کی اپنی فوج ہی ملوث تھی، کیونکہ فوج نے جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کےلیے بد حواسی میں رہایشی علاقوں پر بمباری کی، جس میں درجنوں شہری مارے گئے۔ ہمارے جنگجوؤں کے پاس ہلکے ہتھیار اورزیادہ سے زیادہ ہلکے مارٹرز تھے۔ جن اسرائیلی علاقوں کی تباہی اور بربادی کو ٹی وی پر دکھاکر ہمارے کھاتے میں ڈالا جا رہا ہے، کسی بھی ماہر سے اس کا معائنہ کروالیں ، وہ بکتر بند گاڑیوں کے گولوں اور بھار ی ہتھیاروں سے تباہ ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس اس طرح کے ہتھیار ہی نہیں تھے۔ جہاں تک اس میوزک فیسٹیول کا تعلق ہے جو اسرائیلی پروپیگنڈے کے ذرائع استعمال کر رہے ہیں اور واویلا کیا جا رہا ہے کہ وہاں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ پہلے تو یہ کہ ہمیں بالکل معلوم نہیں تھا کہ اس علاقہ میں کوئی میلہ لگا ہوا ہے۔ جب ہمارے جنگجو وہاں پہنچے، وہاں اسرائیلی فوج سے جم کر مقابلہ ہوا۔ ان کو نکالنے یا راہداری دینے کے بجائے اسرائیلی فوج نے ان کی آڑ لی۔ یہ علاقہ وار زون بن گیا۔ اسرائیلی فوج نے تو اس علاقے میں میزائل داغے۔ جب ہمارے جنگجوؤں نے سرحد عبور کی، تو وہ سخت مقابلہ کی توقع کر رہے تھے، ان کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ عسقلان تک ان کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ بارڈر پوسٹ پر اسرائیلی گارڑز نے ہتھیار ڈال دیئے یا بھاگ گئے۔ جس کی وجہ سے خاصی افراتفری مچ گئی۔ جب سرحد کی باڑ ٹوٹ گئی، تو غزہ کی پٹی سے سیکڑوں شہری اور دیگر افراد دھڑا دھڑ اسرائیلی مقبوضہ علاقوں میں داخل ہوئے۔ یہ نظم و نسق کا معاملہ تھا، مگر ایسے وقت میں اس کو سنبھالنا مشکل تھا۔ ہماری منصوبہ بندی میں ایسی صورت حال کی عکاسی نہیں کی گئی تھی۔ ان شہریوں نے اپنے طور پر کئی اسرائیلیوں کو یرغمال بنالیا۔ ہم نے تمام متعلقہ فریقوں کو مطلع کیا ہے کہ ہم عام شہریوں اور غیر ملکیوں کو رہا کر دیں گے، اور ان کو پکڑکر رکھنا ہمارے منشور میں نہیں ہے۔ ہم ان کی رہائی کےلیے مناسب حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ غزہ کی پٹی پر شدید بمباری کے وجہ سے یہ مشکلات پیش آرہی ہیں ‘‘۔
میں نے ان سے پوچھا :” کیا آپ کے حملے کا ایک مقصد ’ابراہیمی معاہدہ‘ یا عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانے میں رکاوٹ پیدا کرنا تھا ؟” انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان نارملائزیشن کے معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کےلیے حماس کے حملے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ عرب عوام تو پہلے ہی ان کو مسترد کر چکے ہیں۔ مثال کے طور پر، مصراور اُردن نے اسرائیل کے ساتھ ۴۰ سال قبل امن معاہدے کیے تھے، لیکن ان کے عوام نے ان کو مسترد کر دیا ہے۔ ان ممالک کو بھی معلوم ہے کہ اس کے جواب میں ان کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ اس لیے ہم اس ’ابراہمی معاہدہ‘ سے خوف زدہ نہیں ہیں۔ وہ خود اپنی موت آپ مرجائے گا۔
میں نے ابو مرزوق کی توجہ دلائی کہ دنیا بھر میں مسلح مزاحمتی تحریکوں کی اب شاید ہی کوئی گنجایش باقی رہ گئی ہے۔ ان گروپوں کو اب دہشت گردوں کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ جیسا آپ نے خود ہی دیکھا ، پورا مغرب اسرائیل کے پیچھے کھڑا ہو گیا ہے۔ کیا اس نئے ماحول میں آپ پُر امن تحریک کی گنجایش نہیں نکال سکتے ہیں ؟ تو انھوں نے جواب دیا ’’۳۰ سال تک انھوں نے پُرامن راستہ آزمایا۔ الفتح تحریک نے اوسلو معاہدے پر دستخط بھی کیے۔ ۳۰ سال بعد کیا نتیجہ نکلا؟ ہمیں فلسطینی ریاست نہیں ملی جیسا کہ انھوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اور مغربی کنارہ الگ تھلگ جزیرہ کی طرح رہ گیا ہے۔ یہودی بستیوں نے اسے ہڑپ کر لیا ہے، اور غزہ کا محاصرہ کر لیا گیا ہے۔ دونوں فلسطینی علاقوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے لوگ اب صرف پرامن حل اور جدوجہد پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم ’جامع مزاحمت‘ پر یقین رکھتے ہیں جس میں مسلح مزاحمت اور عوامی مزاحمت بھی شامل ہے۔ ہمارے لوگوں نے عظیم مارچ میں شرکت کی اور سیکڑوں ہزاروں لوگ روزانہ غزہ کی سرحد پر محاصرہ توڑنے اورمغربی کنارہ کے ساتھ رابط کرنے کا مطالبہ کرتے تھے، مگر اس پُر امن جدوجہد کا کیا نتیجہ نکلا؟ جدوجہد کو پُرامن رکھنا یا اس کو پُرتشدد بنانا ، قابض قوت کے اختیار میں ہوتا ہے۔ اگر وہ پُر امن جدوجہد کو موقع دے، تو یہ پُرامن رہ سکتی ہے‘‘۔
ایک اور اہم سوال میرے ذہن میں تھا کہ ۲۰۰۶ء میں حماس غزہ میں برسراقتدار آگئی۔ مغربی کنارہ کے برعکس اس خطے کے پاس سمندری حدود تھیں اور اگر گورننس پر توجہ دی گئی ہوتی تو اس کو علاقائی تجارتی مرکز میں تبدیل کرکے مشرق وسطیٰ کے لیے ہانگ کانگ یا سنگاپور بنایا جاسکتا تھا۔ اس طرح سے خطے میں مثالی علاقہ بن جاتا، مگر حماس نے اس کو میدان جنگ بنادیا۔ ابو مرزوق نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ الزام سن کر ہی عجیب لگتا ہے کہ غزہ کو ہم نے میدان جنگ بنادیا۔
حماس ۱۹۸۷ء میں قائم ہوئی۔ ہم نے ۲۰۰۶ء میں اقتدار سنبھالا، اور اسی کے ساتھ ہی ہمارا محاصرہ کیاگیا تاکہ ہم اچھی طرح حکومت نہ کر سکیں۔ اسرائیل، امریکا، اور ظالم مغربی دنیا نے ہمیں ناکام بنانے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ پھر بھی ہم ثابت قدم رہے۔ اسرائیل نے جان بوجھ کر ہمیں تباہ کرنے کے لیے منظم طریقے سے نشانہ بنایا۔ اس صورت حال میں ہم کیسے ایک معیشت کو ترتیب دے سکتے تھے؟ کیا سنگاپور یا ہانگ کانگ کو اسی طرح کی صورت حال کا کبھی سامنا کرنا پڑا؟ خوش حالی کا پہلا قدم نظم و نسق اور مجرموں سے نجات اور پھر ریاست کی تعمیر ہے۔ اسرائیلی قبضے سے قبل ہم واقعتاً خطے کے سب سے ترقی یافتہ علاقوں میں سے ایک تھے۔ جب قبضہ ہوا تو ہم پر جنگیں، نقل مکانی ٹھونس دی گئی۔ ہمارے آدھے لوگ فلسطین سے باہر پناہ گزین ہوگئے۔ ہم ترقی اور خوش حالی کی زندگی جینا چاہتے ہیں۔ مگر کیا قبضے میں رہتے ہوئے ہم خوش حال ریاست بنا سکتے ہیں؟
میں نے پوچھا، خیر آپ نے تو اب جنگ شروع کردی ہے، اس کا انجام کیا ہوگا؟ ; ابومرزوق نے جواب دیا کہ جنگ تو انھوں نے شروع کی ہے، جنھوں نے سرزمین پر قبضہ کیاہے۔ ’’حماس کے مجاہد خطے کی سب سے مضبوط فوج کو بے بس کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ہم اپنی مزاحمت اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کہ ہم اپنی آزادی حاصل نہیں کر لیتے، اور ہماری آزادی ہی اس جنگ کا انجام ہے‘‘۔
عرب ممالک ہمیشہ ہی حماس سے خائف رہتے ہیں۔ کیونکہ حماس کو اخوان المسلمون کی ایک شاخ تصور کیا جاتا ہے۔ ایران نے اس کی بھر پور مدد کی ہے۔ میں نے جب ان کی توجہ اس طرف دلائی، تو ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی مزاحمت ایرانی انقلاب سے پہلے موجود تھی۔ ’’ایران ہمیں مدد فراہم کرتا ہے، اور ہم اس کے لیے اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، اور ہم مختلف جماعتوں اور ملکوں سے ہر قسم کی حمایت حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب عوام ان کے ساتھ ہیں ، اور یہ ان کا بڑا سرمایہ ہے۔
میں نے پوچھا کہ کیا مشرق وسطیٰ میں امن کی خاطر اسرائیل اور فلسطین کا ایک ساتھ رہنا ممکن ہے ؟حماس کے لیے یہ قابل قبول کیوں نہیں ہے؟انھوں نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ بھیڑ کے بچے سے یہ کہلوانا چاہتے ہیں کہ تم بھیڑیے کے ساتھ رہنے پر راضی ہوجائو؟ آپ کو یہ سوال بھیڑیئے سے کرنا چاہیے ، جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور مشرق وسطیٰ میں انتہائی جدید ترین فوج کا مالک ہے۔ جہاں تک ہم فلسطینیوں کا تعلق ہے، ہم نے اوسلو میں مذاکرات کیے، دو ریاستی حل کی راہ بھی ہمیں دکھائی گئی۔ پھر کیا ہوا، کیا ہمارے علاقے خالی کیے گئے؟کیا ہمیں ریاست بننے دیا گیا ؟درحقیقت اسرائیل کے موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو فلسطینیوں کے ذہنوں سے فلسطینی ریاست کے قیام کے تصور کو کھرچنا چاہتے ہیں۔ کیا ایسے افراد یا ایسے نظریہ کے ساتھ رہنا ممکن ہے؟ کیا ان لوگوں کے ساتھ رہنا ممکن ہے جو یہ مانتے ہیں کہ ایک اچھا فلسطینی مردہ فلسطینی ہی ہے؟‘‘ میں نے پوچھا کہ ا یک تاثر یہ بھی ہے کہ فلسطینی خود بکھرے ہوئے اور منقسم ہیں۔ دنیا میں کوئی منقسم تحریک کے ساتھ معاملات طے کرنا پسند نہیں کرتا ہے ؟ انھوں نے کہا یہ ایک مضحکہ خیز دلیل ہے۔ حماس تو ۲۰۰۶ء میں غزہ میں برسراقتدار آئی۔ یعنی اسرائیل کے قیام کے چھ دہائیوں بعد، تو پھر ان دہائیوں کے دوران دنیا نے فلسطینی عوام کو آزادی کیوں نہیں دلائی؟آج دنیا فلسطینیوں کے منقسم ہونے کا بہانہ ڈھونڈ رہی ہے تاکہ فلسطینیوں پر الزام دھرا جا سکے۔ ان کی بین الاقوامی پوزیشن مشکوک بنائی جائے۔ آزادی کے عمل کے دوران ہر ملک میں الگ الگ موقف اور رائے رہی ہے، کیا آپ کو برصغیر کی آزادی کی تحریک کی تاریخ معلوم نہیں ہے؟ مگر اس سے عمومی تحریک کی نفی نہیں کی جاسکتی ہے۔ وہ بہرحال برحق ہے۔
بڑے پیمانے پر رپورٹس آ رہی ہیں، خاندانوں کے بارے میں جو مارے جا چکے ہیں۔ ایک خاندان کے نو افراد ،دوسرے خاندان کے ۱۰ افراد بشمول بچے وغیرہ۔ میں نہیں چاہتا کہ کسی بھی شہری کو تکلیف پہنچے ، خواہ فلسطینی ہو ں یا اسرائیلی ، لیکن سوال یہ ہے کہ اسے ختم کیسے کیا جائے؟ کیا یہ غزہ کی پٹی پر دوبارہ حملہ کرنے سے ختم ہو جائے گا؟ اسرائیل اس سے پہلے غزہ پر پانچ جنگیں۱۱ کرچکا ہے، جن میں سے ایک ۵۱ دن تک جاری رہی۔ جس میں انھوں نے سب کچھ تباہ کردیا تھا۔ اس سے حماس نہیں رکی، مزاحمت نہیں رکی۔ کسی بھی قسم کے تشدد کو روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اسرائیلی قبضے کو ختم کرنا اور یہ کہ امریکا اس میں منصفانہ کردار ادا کرے۔ وہ یہ بات نہیں کہہ سکتے کہ اسرائیل کو تو اپنے دفاع کا حق ہے مگر ہم فلسطینیوں کو اپنے دفاع کا حق حاصل نہیں ہے۔ میں آپ کو شیرین ابو عاقلہ کا معاملہ یاد دلاتا ہوں، جو نہ صرف فلسطینی بلکہ ایک امریکی شہری بھی تھی۔ ایک انتہائی پُرامن صحافی، جسے اسرائیلی سنائپر نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ کیا کسی پر فرد جرم عائد کی گئی؟ کیا کسی کو عدالت میں لے جایا گیا؟ نہیں۔ ۵۲ دیگر صحافی بھی مارے گئے۔ ہمارے ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے والوں پر گولیاں چلائی جاتی ہیں، ہمارے ڈاکٹروں کو گولیاں ماری جاتی ہیں، اسے رُکنا چاہیے۔ اور اسے روکنے کا واحد طریقہ اسرائیل کو بتانا ہے کہ آپ کو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا ہوگا۔ آپ کو اس ناجائز قبضے کو ختم کرنا ہوگا اور فلسطینیوں کو برابر کے انسانوں کے طور پر قبول کرنا ہوگا۔
کیا ہم اسے روک سکتے ہیں جو اب ہو رہا ہے؟ ہاں، بلاشبہ تمام اسرائیلی جو اس وقت غزہ میں ہیں کل رہا ہو سکتے ہیں بشمول عام شہری، حتیٰ کہ اسرائیلی فوج کے جرنیلوں کو بھی رہا کیا جا سکتا ہے اگر اسرائیل بھی ہمارے ۵۳۰۰ فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دے، جو اسرائیلی جیلوں میں بند ہیں۔ جن میں وہ ۱۲۶۰ فلسطینی بھی شامل ہیں، جو یہ جانے بغیر کہ ان کا جرم کیا ہے نام نہاد ’انتظامی حراست‘ میں ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ انھیں کیوں گرفتار کیا گیا؟ ان پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی، ان کے وکلا کو نہیں معلوم کہ انھیں کیوں گرفتار کیا گیا اور یہی وہ زندگی ہے، جو ہم نے دیکھی ہے۔ ہم نے ساری زندگی قبضے میں گزاری ہے۔ میرے والد قبضے میں رہتے تھے، میری بیٹی قبضے میں رہ رہی ہے۔ ہم ایک ایسا وقت چاہتے ہیں، جب ہم فلسطینی آزاد ہوں گے۔
حماس ۳۰ سال پہلے یا ۴۰ سال پہلے نہیں تھی، لیکن اس سے پہلے پی ایل او کو دہشت گرد قرار دیا جاتا تھا۔ جو فلسطینی اپنے حقوق یا آزادی کے لیے جدوجہد کرتا ہے اسے دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے اور یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں آزادی کی جدوجہد کا حق ہے؟ کیا ہمیں حقیقی جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے کا حق ہے؟ کیا ہمیں عام جمہوری انتخابات کرانے کا حق ہے، جس کی بدقسمتی سے اسرائیل اور امریکا حمایت نہیں کرتے؟ ہم اس کے حق دار ہیں، لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اگر ہم عسکری جدوجہد کرتے ہیں تو ہم دہشت گرد ہیں۔ اگر ہم غیر متشدد طریقے سے جدوجہد کرتے ہیں تو اس کے باوجود ہمیں متشدد قرار دیا جاتا ہے۔ اگر ہم الفاظ کے ساتھ مزاحمت بھی کرتے ہیں تو ہمیں ’اشتعال انگیز‘ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر آپ فلسطین کی حمایت کرتے ہیں اور آپ غیر ملکی ہیں تو وہ آپ کو ’یہود مخالف‘ قرار دیتے ہیں۔ اور اگر آپ یہودی ہیں ،اور بہت سے ایسے یہودی ہیں جو فلسطینی مقدمہ کی حمایت کرتے ہیں ،تو وہ اسے خود سے نفرت کرنے والا یہودی کہتے ہیں۔ یہ سفاکانہ کھیل ختم ہونا چاہیے۔ یہ بالکل بے معنی ہے۔ ہم سب کو یکساں زندگی گزارنی چاہیے۔ ہم سب کو امن میسر ہونا چاہیے، ہم سب کو انصاف میسر ہونا چاہیے اور ہم سب کو عزت سے رہنا چاہیے۔ اس کو حاصل کرنے کا بنیادی طریقہ یہ ہے کہ نسلی عصبیت کی شکل میں اس قبضے کو ختم کیا جائے، جس پر مجھے یقین ہے کوئی بھی یہودی فخر نہیں کرسکتا۔ اس کا وقت آگیا ہے۔ اور انصاف اور آزادی کا وقت آگیا ہے۔ اگر ہم یہ حاصل کرلیتے ہیں تو کوئی تشدد نہیں ہو گا اور کسی کو تکلیف نہیں پہنچے گی۔
_______________
حواشی
۱- حماس: اردو میں اسلامی مقاومت تحریک، عربی میں حركة المقاومة الإسلامية اور انگریزی میں Islamic Resistance Movement کہا جاتا ہے۔ فلسطینی سنی اسلامی سیاسی اور فوجی تنظیم ہے، جس کی بنیاد فلسطینی امام احمد یاسین نے۱۹۸۷ ء میں پی ایل او اور ’اوسلوا کارڈ‘ کی مخالفت میں رکھی، جو آج کل مقبوضہ فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی کی حکومتی اور فوجی تنظیم سنبھالے ہوئے ہے۔ حماس کے ۲۰۱۷ء کے چارٹر کے مطابق وہ ۱۹۶۷ ء کی فلسطینی ریاستی حدود کو تسلیم کرتا ہے ،اسرائیل کو تسلیم کیے بغیر۔
۲- اسماعیل ہانیہ ۲۰۱۷ ء میں حماس کے سیاسی امیر بنے۔ اس سے پہلے وہ ۱۹۹۷ ء میں حماس کی تنظیم سے وابستہ ہوئے اور ۲۰۰۶ ءکے الیکشن کے نتیجے میں فلسطین کے وزیر اعظم بھی بنے،جن کو صدر محمود عباس نے ۲۰۰۷ ء میں دفتر سے فتح-حماس کشیدگی کی وجہ سے نکال دیا۔ اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے غزہ کی پٹی پر حکمرانی جاری رکھی۔
۳- مصطفیٰ البرغوثی ایک طبیب اور سیاست دان ہیں، جو کہ فلسطینی قومی اقدام عربی میں: المبادرة الوطنية الفلسطينية اور انگریزی میں Palestinian National Initiative نام سے جانی جاتی ہے کے بانیوں میں سے ہیں۔ ۲۰۰۷ ء میں مصطفیٰ فلسطین کی یکجا حکومت میں اطلاعات کے وزیر بھی رہے ہیں۔
۴- یہ اسرائیلی قبضہ سے پاک بقیہ فلسطینی ریاست کا نام ہے۔ اسے عربی میں السلطة الوطنية الفلسطينية اور انگریزی میں Palestinian National Authority یا Palestinian Authority یا State of Palestineبھی کہا جاتا ہے۔
۵- ’فلسطینی قومی اقدام پارٹی‘ ۲۰۰۲ ء کو وجود میں آئی، جس کے آج کل امیر مصطفیٰ البرغوثی ہیں۔ یہ اپنے آپ کو فلسطینی سیاست میں فتح ، جسے یہ کرپٹ اور غیر جمہوری پارٹی اور حماس ، جسے یہ بنیاد پرست اور انتہا پسند پارٹی سمجھتے ہیں کے بعد ،تیسری بڑی جمہوری طاقت قرار دیتی ہے ۔
۶- فتح ، سابقہ فلسطینی نیشنل لبریشن موومنٹ ،عربی میں:حرکت التحریر الوطنی الفلسطینی، فلسطینی نیشنلسٹ اور سوشلسٹ سیاسی جمہوری پارٹی ہے۔ فلسطینی اتحاد کے صدر محمود عباس فتح کے چیئرمین ہیں۔ یہ یاسرعرفات کو اپنی پارٹی کا بانی مانتے ہیں۔
۷- یہ ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ ءکے حماس کے اسرائیل پر حملے کی طرف اشارہ ہے، جس کی وجہ سے حماس کی اسرائیل سے ایک بڑی جنگ چھڑ گئی ہے جو کہ غزہ کی پٹی میں لڑی جا رہی ہے۔
۸- فلسطینی تحریک آزادی (عربی: منظمة التحریر الفلسطينية، انگریزی: Palestine Liberation Organization) ایک فلسطینی قومی متحدہ محاذ ہے، جو بین الاقوامی سطح پر فلسطینی عوام کے آفیشل وکیل کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ ۱۹۶۴ ءمیں تشکیل دی گئی۔ ابتدائی طور پر اس نے پورے فلسطینی علاقے پر ایک عرب ریاست قائم کرنے کی کوشش کی اور اسرائیل کی ریاست کو ختم کرنے کی تجویز دی۔ تاہم،۱۹۹۳ ء میں، پی ایل او نے ’اوسلوا کارڈ‘ کو تسلیم کیا، اور اب صرف مغربی کنارے اور غزہ کے علاقے میں ایک عرب ریاست چاہتی ہے۔
۹- نیتن یاہو۲۰۲۲ء سے اب تک کے اسرائیلی وزیراعظم ہیں، جو پہلی دفعہ ۱۹۹۶ء تا ۱۹۹۹ء وزیراعظم رہے پھر ۲۰۰۹ء تا ۲۰۲۱ ء وزیراعظم رہے۔ انھوں نےامریکا کے ایم آئی ٹی سے تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد اسرائیلی فوج میں بھی ملازمت کی ۔سیاست میں آنے سے پہلے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مستقل مندوب بھی رہے۔وہ دائیں بازو کی سیاسی پارٹی لیکود کے صدر بھی ہیں۔ نیتن یاہو کے سابق امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ خاص مراسم تھے، جس کی بدولت کئی عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور سرکاری تعلقات استوار کیے۔
۱۰- یہ شام کے سرحدی علاقے کی پہاڑی چوٹیاں ہیں، جس کا ایک بڑا حصہ ۱۹۶۷ ء کی چھ دن کی جنگ کے دوران اسرائیل نے قبضہ میں لے لیا ۔ جس کو اس نے اپنی ریاست میں ۱۹۸۱ ء میں ضم کر لیا ۔
۱۱- ۲۰۰۵ ء میں اسرائیل کے غزہ سے انخلاء کے فوراً بعد حماس انتخابات جیت گئی اور تب سے اب تک حماس اور اسرائیل پانچ جنگیں لڑ چکے ہیں۔ پہلی جنگ ۲۰۰۸ -۲۰۰۹ء میں ۲۳ دن جاری رہی، دوسری ۲۰۱۲ ء میں ۸ دن جاری رہی، تیسری ۲۰۱۴ء میں ۵۰ دن جاری رہی، چوتھی ۲۰۲۱ ء میں گیارہ دن جاری رہی، اور پانچویں اب ۷؍ اکتوبر سے تاحال جاری ہے، جسے مہینے سےزیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔
۱۲- بزلائی یول سموٹرچ مذہبی انتہا پسند دائیں بازو کے سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والا وکیل اور رہنما ہے، جو کہ ۲۰۲۲ء سے اب تک اسرائیل کا وزیر خزانہ ہے۔وہ مغربی کنارے کی ایک آباد کاری کدومیم جو کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی ہے میں رہتا ہے۔
۱۳- اتمار بن گویر مذہبی انتہا پسند دائیں بازو کی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والا سیاست دان اور وکیل ہیں، جو ۲۰۲۲ء سے اسرائیل کے وزیربرائے قومی سلامتی ہیں ۔ وہ مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادکاری میں رہتا ہے اور عربوں کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کرنے کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس پر کئی دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کا الزام ہے اور وہ انتہا پسندانہ صیہونی نظریہ رکھتا ہے۔