اس دن قاہرہ کے علاقے رابعہ العدویہ چوک،قاہرہ میں ٹوٹنے والی قیامت کے بہت سے ثبوت موجود ہیں۔ عینی شاہدین، تصاویر، ویڈیوز، یہاں تک کہ ایک مکمل دستاویزی فلم بھی (Memories of a Massacre،ایک قتل عام کی یادیں)، جو اگست۲۰۲۳ء میں جاری کی گئی ہے۔ ان تمام شواہد کے باوجود وہاں موجود متاثرین کا کہنا ہے کہ ایک عشرہ قبل ہونے والے اس قتل عام میں ملوث کسی بھی ایک کردار کو آج تک قرار واقعی سزا نہیں ملی۔
۱۴ ؍اگست ۲۰۱۳ء کو رابعہ العدویہ چوک میں تقریباً ۸۵ ہزار افراد،اپنے وطن عزیز میں فوجی مداخلت سے پیدا شدہ صورتِ حال کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، کہ مصری مسلح افواج نے جنرل سیسی کی قیادت میں انھیں گھیرے میں لے لیا۔ وہ مظاہرین یہاں اس لیے جمع ہوئے تھے کہ گذشتہ مہینے جولائی (۲۰۱۳ء) میں مصری فوج نے منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ اُلٹ کر حکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔ محمد مرسی اخوان المسلمون میں بھی ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ اس کارروائی کے بعد ان کے حامی مصر کے مختلف علاقوں میں جمع ہورہے تھے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق مصری مسلح افواج نے مظاہرین کو منتشر ہونے کا حکم دیتے ہی ان پر گولیاں برسانا شروع کر دیں۔ مختلف اندازوں کے مطابق اس دن ۶۰۰ سے ۱۰۰۰ کے درمیان پُرامن اور نہتے شہریوں کو بلا اشتعال موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
مصری فوجی حکومت، انسانی حقوق کے اداروں کی مذکورہ بالا رپورٹوں کو[کمال ڈھٹائی سے] ’جانب دارانہ‘ قرار دیتی ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان رپورٹوں کی تردید کے لیے جنرل سیسی کی حکومت نے کسی درجے میں غیر جانب دارانہ تحقیقات کی ضرورت محسوس کی ہے اور نہ اس ضمن میں کسی سوال کا جواب دیا ہے۔ تاہم، عالمی دبائو بڑھنے پر مصری حکومت نے اس قتل عام کے متعلق اندرونی طور پر تحقیقات کا اعلان کیا تھا، اور ۲۰۱۳ء کے اواخر میں حقائق کی نشاندہی کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا تھا،جب کہ ایک دوسری تفتیش انسانی حقوق کی مصری کونسل کے تحت کی گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں تحقیقات، صدرمرسی کی جبری برطرفی کے خلاف مظاہرین ہی کو قصوروار قرار دیتی ہیں، کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ’’اکثر یت مسلح ہتھیاروں سے لیس تھی‘‘۔ دوسری طرف عینی شاہدین اس دعویٰ کو باطل قرار دیتے ہیں۔ بہرحال دونوں تحقیقاتی رپورٹیں اس بات پر متفق ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے طاقت کا بلاجواز اور بے حساب استعمال کیا، لیکن قصورواروں کے لیے کوئی سزا تجویز نہیں کرتیں۔
۲۰۱۸ء میں اسی فوجی نظام کے تابع مصری حکومت نے ایک قانون کے ذریعے اعلیٰ فوجی افسروں کو عدالتی استثنا فراہم کر دیا تھا۔اس قانون کی رُو سے ’’۲۰۱۳ء میں آئین کی معطلی سے لے کر پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس تک فوجی افسران کے تمام اعمال عدالتی مواخذے سے مستثنیٰ ہیں‘‘۔ اس کے بعد ۲۰۲۱ء میں مصری فوجی حکومت نے اپنی ’دستوری سپریم کورٹ‘ سے متعلق قوانین میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔
ان ترامیم کی رُو سے یہ قرار دیا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی بھی بین الاقوامی عدالت یا ادارہ مصری سرکار کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب اور سزا کا حق دار قرار دیتا ہے تو اس معاملے کو بھی کارروائی کے لیے مصری سپریم کورٹ کے پاس ہی بھیجا جائے گا، اور یہی مصری سپریم کورٹ حتمی فیصلہ کرے گی کہ بیرونی اداروں کا فیصلہ درست اور قابل عمل ہے یا نہیں۔ انسانی حقوق کی وکیل مے السادانے کہتی ہیں: ’’یہ ترامیم ایک واضح پیغام ہے۔ اپنے شہریوں کو بتایا جا رہا ہے کہ انسانیت کے مجرم اپنی کارروائیاں اسی طرح قانونی استثنیٰ کے ساتھ جاری رکھیں گے، جب کہ بین الاقوامی برادری کو کھلا پیغام دیا جارہا ہے کہ مصر بین الاقوامی نظام کے تابع نہیں ہے‘‘۔
۲۰۱۴ء میں مصری وکلا اور صدر محمد مرسی کی حریت و انصاف پارٹی نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ رابعہ میں ہونے والے قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کی جائیں۔ لیکن اس عدالت نے ان کی درخواست کو اس اعتراض کے ساتھ رد کر دیا تھا کہ’’ درخواست گزار مصری حکومت کے نمایندہ نہیں ہیں‘‘۔
۲۰۱۵ء میں حریت و انصاف پارٹی کے وکلا نے برطانوی پولیس سے درخواست کی تھی کہ جنرل محمود حجازی کو گرفتار کر لیا جائے جو ان دنوں ہتھیاروں کی ایک نمائش میں شرکت کے لیے برطانیہ آ رہے تھے کہ ان پر تشدد اور رابعہ آپریشن میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام ہے۔ تاہم، پولیس نے اس بنیاد پر یہ درخواست رد کر دی تھی کہ ’’جنرل حجازی کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے‘‘۔
روپرٹ سکل بیک لندن میں ’مداوا‘ (Redress) کے نام سےقائم ایک ادارے کے سربراہ ہیں، جو تشدد کا شکار ہونے والے افراد کو قانونی مدد فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق: ’’مصریوں کے پاس واحد راستہ یہی ہے کہ اقوام متحدہ کی مختلف کمیٹیوں کے ذریعے تحقیقات کی درخواست دیں یا قضائے عالمی (Universal Jurisdiction) کے تحت عالمی اداروں سے کارروائی کا مطالبہ کریں‘‘۔
lکیا قضائے عالمی کا اصول معاون ہوسکتا ہـے ؟ :سکل بیک کا کہنا ہے: ’’اس معاملے کو حقیقت پسندی کی نظر سے دیکھا جائے تو قضائے عالمی کا اصول بھی اس قدر معاون نظر نہیں آتا کیونکہ مصر کی جانب سے اپنے اعلیٰ حکام کو ملک بدر کرنے یا کسی اور ملک کے حوالے کیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جرمنی میںبھی ، جہاں اس قانون کا استعمال سب سے زیادہ کیاجاتا ہے، یہ مقدمہ چلنا مشکل ہے۔ ‘‘
برلن میں قائم ’یورپی ادارہ برائے انسانی و دستوری حقوق‘ کے ڈائریکٹر،اینڈریاس شلر کا کہنا ہے:’’سب سے پہلے تو آپ کو قانون میں مقررہ تعریف کے مطابق یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ واقعی انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیاگیا ہے؟‘‘ حال ہی میں شام کے جنگی مجرموں کے خلاف جرمنی میں جو مقدمے چلائے گئے ہیں، ان کا بنیادی محرک یہی تنظیم تھی۔ ان کا کہنا ہے: ’’عدالت یا ادارے کی جانب سے اس واقعے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دینے کے لیے بہت محنت درکار ہے‘‘۔
اس قانون کے تحت شامی مجرمان کے خلاف مقدمہ کی کئی وجوہ تھیں۔مثلاً گواہان، شواہد اور مجرمان کی جرمنی میں موجودگی اور جرمنی کا سیاسی عزم۔ اینڈریاس کا کہنا ہے: ’’یہ معاملہ شام کی صورتِ حال سے مختلف ہے۔ شامی حکومت کے ساتھ جرمنی کے سفارتی تعلقات نہیں تھے،جب کہ مصری حکومت کو بین الاقوامی طور پر اچھی خاصی حمایت حاصل ہے۔ مزیدبرآں مصری حکومت نے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور اقوام متحدہ کے متعلقہ چارٹر پر بھی دستخظ نہیں کیے ہیں۔ چنانچہ کوئی بھی ملک ان کی شنوائی کے لیے تیار نہیں ہے۔
سکل بیک کا کہنا ہے: ’’انسانی حقوق کے لیے کام کرتے ہوئے یہ مشکل اکثر پیش آتی ہے کہ کچھ مغربی ممالک سیاسی مصلحتوں کے باعث دیگر ممالک میں انسانی حقوق کے مسائل کو لے کر واضح مؤقف اختیار نہیں کرتے ‘‘۔
’ہیومن رائٹس واچ‘ سے تعلق رکھنے والے سینئر محقق امر مگدی بھی اسی موقف کے طرف دار ہیں: ’’خطے کی سیاسی صورتِ حال کے باعث مصر میں ہونے والی انسانی حقوق کی یہ خلاف ورزیاں نظر انداز ہوئی ہیں۔ اس زمانے میں یمن، لیبیا، شام سمیت سارا خطہ انھی مسائل سے دوچار تھا۔ مصری حکومت نے بین الاقوامی برادری کے مفادات کا بڑی مہارت سے فائدہ اٹھایا ہے۔ موجودہ حکومت نقل مکانی، دفاع اور معاش جیسے معاملات میں مغربی ممالک کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے اور بدلے میں یہ ممالک جمہوریت اور انسانی حقوق کے معاملے میں مصری حکومت کے جرائم کو نظرانداز کر دیتے ہیں‘‘۔
تاہم، پچھلے ایک عشرے میں صورتِ حال کافی تبدیل ہو چکی ہے۔ جنرل عبدالفتح السیسی کی حکومت اپنے آمرانہ طرز عمل اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں کے باعث تنقید کی زد میں رہتی ہے۔ سکل بیک کا کہنا ہے: ’’یہ ایک اچھا نکتہ ہے۔ یہ ساری کاروائی واقعے کے فوراً بعد کی گئی تھی۔ جب معاملہ گرم ہو تو لوگ ردعمل میں محتاط رہتے ہیں۔ ایسے واقعات میں عموماً شواہد اکٹھے کرنے کے لیے طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اس ضمن میں طویل عرصے سے جاری روانڈا، کمبوڈیا، سابقہ یوگوسلاویہ اور جنگ عظیم دوم کے مقدموں کی مثال بھی موجود ہے، اور ایک عام قتل کے مقدمے کو بھی کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ اس لیے ان مقدمات میں بھی وقت صرف ہوسکتا ہے۔ تاہم، ہمارے پاس اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے‘‘۔(انگریزی سے ترجمہ:اطہر رسول حیدر)
یہ ایک چشم کشا مضمون ہے۔ چین کی سفارت کاری سے سعودی عرب اور ایران میں بحالی تعلقات کی جو خوش آیند کیفیت پیدا ہوئی ہے، امریکا اور اسرائیل اسے بے اثر بناکر شرق اوسط میں بے اطمینانی کا ایک نیا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک بڑا خطرناک کھیل ہے، جس کا مسلم دُنیا کی حکومتی، ریاستی، صحافتی اور دانش ور قوتوں کو بروقت نوٹس لینا چاہیے۔ امریکی سفارتی جارحیت کا راستہ روک کر، چین کی پہل قدمی سے شرق اوسط جس سمت بڑھ سکتا ہے، اس کی تائید کے لیے ہمہ پہلو کوششیں کرنی چاہئیں۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کو اس پر ضروری مشاورت اور اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ تحریک اسلامی پر لازم ہے ان موضوعات پر عوامی دبائو کو مؤثر بنائے۔(مدیر)
جہاں ایک طرف ایران اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی معاہدہ امریکا کی بائیڈن حکومت کے لیے زبردست دھچکا ثابت ہوا ہے، وہیں اس میں موجودہ امریکی حکومت کے لیے کئی مشکلات بھی پوشیدہ ہیں۔ ایران و سعودی عرب کی صلح نے مشرق وسطیٰ میں امریکا کے کئی علاقائی اہداف خطرے میں ڈال دیئے ہیں۔ مثلاً طویل عرصے سے ایران کو تنہا کرنے اور سعودی عرب واسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے کی امریکی امیدوں پر پانی پھر چکا ہے۔ اس معاہدے پر ثالثی کا کردار ادا کر کے چین نے مشرق وسطیٰ میں ایک اہم طاقت کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کر لی ہے۔ اب اس معاہدے نے مقامی ریاستوں کے تعلقات کو یکسر تبدیل کر کے خطے کی سفارتی ہیئت پر اثر ڈالنا شروع کیا ہے، تو امریکا کے لیے اپنی بے چینی چھپانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
بائیڈن حکومت اب خطے میں چینی اثر کو کم اور اپنی ساکھ کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ صدر بائیڈن نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ ۲۸ جولائی کو اپنی اگلی انتخابی مہم کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی غرض سے منعقدہ ایک دعوت سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’’صلح کا امکان موجود ہے‘‘، البتہ انھوں نے اس سے زیادہ معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا۔ تاہم، اس بارے میں ایک دن قبل نیویارک ٹائمز میں شائع شدہ ایک مضمون میں تھامس فرائیڈمین نے کچھ معلومات فراہم کی ہیں، جنھوں نے گذشتہ ہفتے بائیڈن کا انٹرویو کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے: ’’بائیڈن حکومت شرق اوسط میں ایک ’بڑی سودے بازی‘ پر کام کر رہی ہے۔ اس معاہدے کے تحت سعودیہ کے تعلقات اسرائیل سے قائم کروائے جائیں گے اور بدلے میں دونوں ممالک کو امریکا سے ایک دفاعی معاہدہ حاصل ہو گا۔ سعودیہ، مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے لیے ایک بڑے امدادی پیکج کا اعلان کرے گا اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو محدود کر لے گا۔ جس کے بدلے میں اسرائیل مغربی کنارے پر قبضے کا منصوبہ ترک کر دے گا، وہاں آبادکاری کا عمل روک کر مسئلے کے دوریاستی حل پر راضی ہوجائے گا۔ اس کے ردعمل میں فلسطینی انتظامیہ ’سعودی-اسرائیل معاہدے‘ کی توثیق کرے گی‘‘۔
حال ہی میں ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد نے ولی عہدمحمد بن سلمان سے ملاقات میں ظاہر کیا ہے کہ امریکی خطے میں ایسے معاہدے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وایٹ ہائوس کے نمایندے نے یہ کہا کہ ۲۷ جولائی کو سعودی رہنماؤں کی امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اور نمایندہ برائے مشرق وسطیٰ بریٹ مکگرک کے ساتھ ملاقات میں اسرائیل کے ساتھ صلح پر بات چیت ہوئی ہے۔ تاہم، دونوں طرف سے جاری ہونے والے سرکاری بیانات میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
اگرچہ ابھی کوئی ٹھوس پیش قدمی تو نہیں ہوئی ہے، لیکن مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے پیش نظر معاہدے پر کئی قسم کے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ وایٹ ہائوس کی جانب سے اس قسم کے معاہدوں کے لیے اب کوششیں کیوں کی جا رہی ہیں؟ اس کے مقاصد کیا ہیں؟ ان کوششوں کی کامیابی کے امکانات کس قدر ہیں؟ اگر اس قسم کا معاہدہ ہو بھی جاتا ہے، تو کیااس پر عمل ہوپائے گا؟
ہم پہلے موقع محل کی بات کرتے ہیں۔ واشنگٹن بہت عرصے سے سعودی عرب اور اسرائیل تعلقات کی استواری کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ ۲۰۲۰ء میں ’ابراہیمی معاہدوں‘ کے تحت کئی عرب ریاستوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات استوار ہونے کے بعد ان کوششوں میں بھی تیزی آ چکی ہے۔ خبروں کے مطابق سعودیہ کی جانب سے بدلے میں کئی اہم مطالبات کیےگئے ہیں، مثلاً امریکا کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ، ایک غیر عسکری نیوکلیئر معاہدہ، میزائیل ڈیفنس سسٹم اور دیگر جدید آلات، اور فلسطینیوں کے لیے اسرائیل سے کئی قسم کی رعایتیں۔ حالیہ ایران سعودی صلح نے یقیناً سعودیہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو متاثر کیا ہے، مگر دوسری جانب اس سودے بازی میں سعودی عرب کی پوزیشن مزید بہتر بھی ہو گئی ہے۔ لیکن اس معاہدے کے بعد امریکی کوششوں میں بھی تیزی آ گئی ہے اور اب امریکا خطے میں اپنا کھویا ہوا اثر و رسوخ بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس سال کے اختتام تک امریکی صدارتی انتخابی سرگرمیاں شروع ہو جائیں گی۔ اس صورت میں امریکی توجہ اندرونی سیاست کی جانب مرکوز ہو جائے گی۔ صدر بائیڈن نے اس معاملے کا ذکر بھی انتخابات سے متعلق ایک تقریب میں کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ اس کے ذریعے اپنی اندرونی سیاست میں بھی کچھ فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ معاہدہ اس لیے بھی اہم ہوگا کہ آیندہ انتخابات میں صدر بائیڈن کے پاس اپنی خارجہ پالیسی کے حق میںاس معاہدے کے علاوہ دکھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ان انتخابات میں صدر بائیڈن کو اپنی فتح کے امکانات بہتر کرنے کے لیے ہر قسم کی مدد درکار ہے۔ لیکن اسی تناظر میں دیکھا جائے تو ان کی یہ کوششیں ذرا تاخیر کا شکار دکھائی دیتی ہیں، کیونکہ اس قسم کے پیچیدہ اور پہلو دار معاہدے کے لیے طویل مذاکرات درکار ہوں گے۔ مزید برآں اگر کوئی معاہدہ ہو بھی جائے، تو بائیڈن کی صدارت خطرے سے دوچار ہے۔
اس معاہدے سے حاصل ہونے والے اہداف بڑے واضح ہیں: خطے میں امریکی بالادستی کی بحالی، چین کی سفارتی و معاشی کامیابیوں کا تدارک، امریکی و اسرائیلی مفادات کے حق میں علاقائی سیاست کی تنظیم نو۔ اس سب کے ساتھ اگر مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو کچھ چھوٹ مل جائے تو اس میں بھی امریکی فائدہ ہے۔ اس سے عرب اور دیگر مسلم ریاستوں میں واشنگٹن کے لیے مثبت جذبات پیدا ہوں گے، چاہے حتمی اور نقد فائدہ اسرائیل کو ہی پہنچے!
ایسی سفارتی کامیابی کے امکانات کم ہیں کیونکہ چار فریقین (امریکا، اسرائیل، سعودی عرب اور فلسطین) کے درمیان مذاکرات کی راہ میں کئی مشکلات حائل ہیں۔ حال ہی میں امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی بڑھانے کا اعلان کیا ہے، جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ واشنگٹن یہاں اپنا رسوخ بڑھانے میں سنجیدہ ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب فریقین امریکا اور معاہدے میں مذکور شرائط اور رعایتوں پر عمل درآمد کروانے کی اس کی صلاحیت پر اعتبار کرسکتے ہیں؟ یہ سوال جواب طلب ہے اور یہ دیکھتے ہوئےکہ امریکا میں صدارتی انتخابات کی آمد آمد ہے، جواب کاملنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ قیاس ہے کہ کوئی بھی حتمی معاہدہ کرنے سے قبل سعودی و اسرائیلی حکومتیں، امریکی انتخابات کے نتائج کا انتظار کریں گی۔ گذشتہ برسوں میں دونوں ریاستوں کے بائیڈن حکومت کے ساتھ تعلقات تناؤ کا شکار رہے ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین امریکی انتظامیہ کے اس مجوزہ معاہدے کو ایک ’ناقابل عمل‘ منصوبہ اور دورازکار سمجھتے ہیں،جب کہ فرائیڈمین نے اسے ایک دور کی کوڑی قرار دیا ہے۔ ان مذاکرات کو وسعت دینے کے لیے سعودیوں، اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو بنیادی قسم کے سمجھوتے کرنے ہوں گے۔ کیا امریکا اب بھی ان ریاستوں پر اس قدر رسوخ رکھتا ہے کہ انھیں سمجھوتوں پر مجبور کر سکے؟ اس سوال کا جواب واضح نہیں ہے۔ اسرائیل میں قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا ہے کہ اس قسم کے معاہدے کے لیے ابھی طویل سفر طے کرنا ہو گا، جب کہ انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے حکومتی وزرا نے فلسطینیوں کو کسی قسم کی رعایت دینے کی مخالفت کی ہے۔ اس سب کے علاوہ ایک مسئلہ امریکی کانگریس کی منظوری کا ہے جہاں ری پبلکن اراکین سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے لیے آسانی سے راضی نہیں ہوں گے، جب کہ ڈیموکریٹ اراکین کو کسی ایسے حل کے لیے مطمئن کرنا مشکل ہو گا جو دو ریاستی فارمولے سے متصادم ہو یا فلسطینیوں کے حقوق کو پامال کرتا ہو۔
ان تمام مشکلات کو دیکھتے ہوئے اس قسم کے معاہدے کے لیے امکانات کافی کم ہیں۔ تاہم، آخر کار سفارت کاری بھی سیاست کی طرح ناممکن کو ممکن کر دکھانے کا نام ہے!
(بشکریہ روزنامہ ڈان، ترجمہ:اطہر رسول حیدر)
وزیر اعظم نریندر مودی حکومت نے ۵؍اگست ۲۰۱۹ء میں جموں و کشمیر کی آئینی خود مختاری ختم اور ریاست کو تحلیل کرکے مرکز کے زیر انتظام دو علاقے بنانے کا جو قدم اُٹھایا تھا،اس کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر فی الوقت بھارتی سپریم کورٹ روزانہ سماعت کر رہی ہے۔ پیر اور جمعہ چھوڑ کر ہفتے کے بقیہ تین دنوں میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی آئینی بینچ صرف اسی مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔ ۲؍اگست ۲۰۲۳ء کو جب سماعت شروع ہوئی، تو چیف جسٹس ، جسٹس دھنن جے یشونت چندرا چوڑ نے اعلان کیا کہ ’’اس ایشو پر کُل ۶۰گھنٹے کی سماعت ہوگی‘‘۔ اس لیے اگست کے آخر تک سماعت مکمل ہونے کا امکان ہے۔
اس مقدمے کا فیصلہ جو بھی ہو ، مگر وکیلوں کے دلائل، ججوں کے سوالات اور کورٹ میں جمع کرایا گیا تحریری مواد ، کشمیر کے موضوع سے دلچسپی رکھنے والوں کے علاوہ قانون و سیاست کے کسی بھی طالب علم کے لیے ایک بڑ ا خزانہ ہے۔ عدالت میں۱۳ہزار ۵ سو ۱۵ صفحات پر مشتمل دستاویزات کے علاوہ ۲۸جلدوں پر مشتمل ۱۶ ہزار ایک سو۱۱ صفحات پر مشتمل کیس فائلز دائر کی گئی ہیں۔ کئی شہرۂ آفاق کتابیں Oxford Constitutional Theory, The Federal Contract اور The Transfer of Power by V P Menonکی جلدیں بھی کورٹ کے سپرد کردی گئی ہیں اور وکلا دلائل کے دوران ان کے نظائر اور شواہد پیش کر رہے ہیں۔ لیکن جس کتاب کے حوالوں کو سب سے زیادہ عدالت اور وکلا نے سوالات یا دلائل کے دوران استعمال کیا ہے وہ شہرۂ آفاق مصنف اے جی نورانی کی مدلل کتاب: Article 370: Constitutional History of Jammu and Kashmir ہے۔ بطور ایک ریسرچر کے اس کتاب میں تحقیقی معاونت سے منسلک ہونے کا مجھے اعزاز حاصل ہے۔
معروف وکیل کپل سبل نے ۲؍اگست کو بحث کا آغاز کرتے ہوئے ججوں کو یاد دلایا: ’’ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ تاہم، اس کیس کی سماعت کا آغاز کرنے میں عدالت کو پانچ سال لگے۔ یہ اس لیے بھی تاریخی ہے کہ پچھلے پانچ برسوں کے دوران میں، جموں و کشمیر میںکوئی نمایندہ حکومت نہیں ہے‘‘۔ اس کے بعد کپل سبل نے ترتیب زمانی کے ساتھ تاریخوں کی ایک فہرست پڑھی، جس میں ان عوامل کی نشاندہی کی گئی کہ جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ کیوں دیا گیا تھا؟ انھوں نے کہا: ’’کشمیر کے لیے ایک علیحدہ ستور ساز اسمبلی تشکیل دی گئی تھی۔ پارلیمنٹ خود کو دستور سا ز اسمبلی میں تبدیل نہیں کرسکتی۔ جب ایک بار آئین منظور ہو جاتا ہے، تو ہر ادارہ اس پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
۱۸۴۶ء کے ’معاہدۂ امرتسر‘ سے لے کر ۱۹۴۷ء کی ’دستاویزالحاق‘ کی شقوں کو بنیاد بنا کر کپل سبل نے تقریباً ڈھائی دن تک بحث کی۔ انھوں نے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا وہ خط بھی پڑھا، جس میں انھوں نے الحاق کے سوال کو عوامی رائے کے ذریعے طے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ان دستاویزات کے مطابق، بھارت کی دیگر ریاستوں کے لیے وفاق کے پاس جو اختیارات ہیں، ان کے برعکس ،بقیہ اختیارات جموں و کشمیر ریاست کے پاس ہی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا:میرا نکتہ یہ ہے کہ، حکومت ہند اور ریاست کے درمیان ایک مفاہمت تھی کہ ان کی ایک آئین ساز اسمبلی ہوگی جو مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین کرے گی‘‘۔
کپل سبل نے کہا: اس لیے آرٹیکل ۳۷۰ ایک عارضی انتظام تھا، کیونکہ یہ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کو طے کرنا تھا کہ وہ اس کو مستقل بنیادوں پر رکھنا چاہتی ہے یا منسوخ کرنا چاہتی ہے؟ اس دوران چیف جسٹس نے بار بار پوچھا کہ ’’آئین ساز اسمبلی تو سات سال کی مدت ختم کرنے کے بعد اس دفعہ پر کوئی فیصلہ کرنے سے قبل ہی تحلیل ہوگئی ، تو ا ب اس دفعہ کی ترمیم وغیرہ کے لیے کیا طریقۂ کار ہے؟‘‘ سبل نے استدلال پیش کیا کہ ’’چونکہ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کا وجود ختم ہو گیا ہے، اس لیے آرٹیکل ۳۷۰ کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا، آرٹیکل ۳۷۰ کی شق (۳) ناقابل اطلاق ہو جاتی ہے‘‘۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ’’ اگر سبل کی طرف سے پیش کردہ استدلال کو مدنظر رکھا جائے تو آرٹیکل ۳۷۰، جو کہ ایک 'عبوری پروویژن ہے، مستقل پوزیشن کا کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اب کوئی آئین ساز اسمبلی موجود نہیں ہے‘‘۔ جسٹس کانت نے یہ بھی استفسار کیا کہ آرٹیکل ۳۷۰ کو کیسے عارضی سمجھا جا سکتا ہے جب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اس دفعہ کو کبھی منسوخ نہیں کیا جا سکتا؟‘‘ جسٹس کھنہ کے مطابق: ’’جس مسئلے پر توجہ دینا باقی ہے وہ یہ ہے کہ کیا آرٹیکل ۳۷۰ کی عارضی نوعیت، جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی موروثی عارضی نوعیت سے ہم آہنگ ہے؟یعنی، ایک بار جب جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کا وجود ختم ہو گیا، کیا آرٹیکل ۳۷۰ کی شق (۳)، جو آرٹیکل ۳۷۰ کو منسوخ کرنے کی اجازت دیتی ہے، ناقابل عمل بن جاتی ہے؟‘‘
بحث کے دوسرے د ن کپل سبل نے عدالت کو بتایا:’’ آرٹیکل ۳۷۰(۱) کی شق (b )(i) بھارتی پارلیمنٹ کے وفاق کے تحت جموں و کشمیر کے لیے قانون بنانے کے اختیارات کو محدود کرتی ہے اور بھارتی آئین کے ساتویں شیڈول کی کنکرنٹ لسٹوں میں الحاق کی دستاویز میں مذکور مضامین کے سلسلے میں جموں و کشمیر حکومت کی ’مشاورت‘ کا لفظ درج ہے۔ دوسری طرف، آرٹیکل ۳۷۰(۱) کی شق (b) (ii)، پارلیمنٹ کو یونین کے تحت جموں و کشمیر کے لیے قانون بنانے کے اختیار میں توسیع کرتی ہے اور آئین کے ساتویں شیڈول کی کنکرنٹ لسٹیں معاملات کا احترام کرتی ہیں۔
اس سماعت کے آغاز میں، چیف جسٹس نے آرٹیکل ۳۷۰ پر چند مشاہدات پیش کیے: آرٹیکل ۳۷۰(۱) کی شق (b) پارلیمنٹ کو ریاست جموں و کشمیر کے لیے قانون بنانے کا اختیار نہیں دیتی۔ یعنی قانون بنانے کااختیار آرٹیکل ۳۷۰(۱)کے علاوہ کہیں اور ہے۔اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے جسٹس کول نے کہا کہ آرٹیکل ۳۷۰(۱) کی شق (b) ایک محدود شق ہے۔ مزید یہ کہ آرٹیکل ۳۷۰(1) کی شق (b) (i) کے تحت جموں و کشمیر کے لیے قانون بنانے کی بھارتی پارلیمنٹ کی طاقت دو چیزوں پر محدود ہے۔سب سے پہلے، پارلیمنٹ کا دائرہ جموں و کشمیر پر لاگو قوانین بنانے کا اختیار صرف 'یونین اور کنکرنٹ لسٹ کے معاملات تک محدود ہے۔دوسرا، حکومت جموں و کشمیرکے ساتھ مشاورت یونین اور کنکرنٹ لسٹوں میں ایک شرط ہے جو دستاویز الحاق کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ یعنی جموں و کشمیر سے متعلق کسی بھی معاملے میں ریاستی حکومت کی آمادگی اور رائے کی ضرورت ہے۔
دوسرا، یہاں تک کہ اگر صدر کوئی استثنیٰ اور ترمیم نہیں کر رہے ہیں، لیکن ہندستانی آئین کی کچھ شقوں کو جموں و کشمیر پر لاگو کیا جا رہا ہے، تب بھی جموں و کشمیر حکومت کی مشاورت یا 'اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ جسٹس کول نے یہ مسئلہ بھی اٹھایا کہ اگر دفعہ ۳۷۰ کا کوئی مستقل کردار نہیں ہے، تو پھر اس کو کس طریقے سے ختم کیا جا سکتا ہے اور کیا جو طریقۂ کار اپنایا گیا، وہ درست تھا؟‘‘
سبل کی دلیل تھی کہ آرٹیکل ۳۷۰ مختلف مراحل سے گزرا ہے۔ اس کا آغاز ایک عبوری انتظام کے طور پر ہوا، جس میں جموں و کشمیر میں ایک دستور ساز اسمبلی تشکیل کرنے کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ جب ایک بار جموں و کشمیر کی دستور ساز اسمبلی نے جموں و کشمیر کا ایک آئین بنا کر اپنا مقصد پورا کر لیا، جس میں ہندستانی آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ کی توثیق کرنے والی مخصوص اور واضح دفعات موجود تھیں ، اس کے تحلیل ہونے کے بعد آرٹیکل ۳۷۰'منجمدہو گیا۔اس طرح اس دفعہ کے مستقل کردار کو قبول کیا گیا۔ اس کے بعد، سبل نے عرض کیا کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کےپاس ہندستانی آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ کی شق (۳) کے تحت جموں و کشمیر کو دیے گئے اختیارات کو منسوخ کرنے کا اختیار نہیں ہے، کیونکہ اس طرح کے اختیارات کو منسوخ کرنے کا اختیار صرف آئین ساز اسمبلی کو دیا گیا تھا۔
جب جسٹس کول نے پوچھا کہ کیا ہندستانی پارلیمنٹ کے پاس ایسا کرنے کا اختیار ہے، تو سبل نے جواب دیا کہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ قانون ساز ادارہ کسی ایسے اختیارپر مداخلت نہیں کرسکتا، جو پہلے اس کے پاس نہیں تھا، جیسا کہ سپریم کورٹ نے ایس آر بومائی بمقابلہ میں مشاہدہ کیا تھا۔اب سوال یہ تھا کہ کیا پارلیمنٹ آئین ساز اسمبلی کا کردار ادا کرسکتی ہے؟ اس پر چیف جسٹس نے خود ہی کہا کہ جب پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کرتی ہے، تب بھی وہ آئین ساز اسمبلی کے اختیارات کا استعمال نہیں کر رہی ہوتی، بلکہ ایک جزوی طاقت کا استعمال کرتی ہے۔ جسٹس چندر چوڑ نے استدلال دیاکہ پارلیمنٹ اور آئین ساز اسمبلی دوالگ الگ ادارے ہیں اور پارلیمنٹ کے لیے خود کو آئین ساز اسمبلی میں تبدیل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
سماعت کے تیسرے دن سبل نے عدالت کو بتایا: جموں و کشمیر کے گورنر ، جو خود ہی وفاق کا نمایندہ ہے کے ذریعے خصوصی حیثیت کو چھین لیا گیا اور بتایا گیا کہ ریاست کے ساتھ مشاورت کی گئی ہے۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم شیخ عبداللہ کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے، سبل نے نشاندہی کی کہ اگرچہ آرٹیکل ۳۷۰ کو ایک عارضی شق قرار دیا جاتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دفعہ ۳۷۰ کو 'یک طرفہ طور پر منسوخ، ترمیم یا تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ۱۱؍ اگست ۱۹۵۲ء کی تقریر میں شیخ عبداللہ نے کہا تھا کہ آرٹیکل ۳۷۰ کی عارضی نوعیت جموں و کشمیر اور یونین آف انڈیا کے درمیان آئینی تعلقات کو حتمی شکل دینے کے پہلو میں ہے، جس کا اختیار خاص طور پر جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کے پاس ہے۔ ہندستان کے آئین نے یونین کے اختیارات کے دائرہ کار اور دائرہ اختیار کو الحاق کی شرائط کے ذریعے محدود کر دیا ہے ۔شیخ عبداللہ نے کہا کہ آرٹیکل ۳۷۰ ہندستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کی بنیاد ہے۔ اس میں چھیڑ چھاڑ ، ہماری ریاست کی ہندستان کے ساتھ وابستگی پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی شیخ عبداللہ نے کہا کہ یہ دو حکومتوں کے درمیان معاہدے کی طرح ہے۔
سبل نے دلیل دی کہ دونوں خودمختارریاستوں یا مملکتوں کے ذریعے طے شدہ اور دستخط شدہ معاہدے کی ایک توقیر ہوتی ہے اور اس کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو جو کچھ ہوا، وہ ایک صدارتی حکم کے تحت کیا گیا۔ اس صدارتی آرڈرکے جاری ہونے سے پہلے راجیہ سبھا میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی، جس کے ذریعے جموں و کشمیر کی تنظیم نو کرکے اس کو دولخت کردیا گیا، جب کہ ضابطے میںیہ طے ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے نام یا حدود کو تبدیل کرنے والا کوئی بل ریاستی مقننہ کی رضامندی کے بغیر پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گورنر ایک 'مکمل اتھارٹی نہیں ہے بلکہ ایک آئینی مندوب ہے۔سبل نے سوال کیا: اگر صدر مرکزی کابینہ کی مدد اور مشورے کے بغیر پارلیمنٹ کو تحلیل نہیں کر سکتے تو گورنر اس اختیار کا استعمال کیسے کر سکتا ہے؟سبل نے اپنی گذارشات کو یہ کہتے ہوئے ختم کیا:جموں و کشمیر کے لوگوں کی آواز کہاں ہے؟ کہاں ہے نمایندہ جمہوریت کی آواز؟ پانچ سال گزر چکے ہیں ۔ انھوں نے دوبارہ کہا کہ عدالت اس وقت تاریخ کے ایک کٹہرے میں ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ عدالت خاموش نہیں رہے گی بلکہ عدل و انصاف کی گواہی دے گی۔
سبل کی تقریباً تین دن تک محیط اس بحث کے بعد سینیر وکیل گوپال سبرامنیم نے دلائل کا آغاز کیا۔ انھوں نے اس سے بحث شروع کی کہ بھارتی آئین کی طرح ، جموں و کشمیر کا بھی اپنا آئین ہے ، جو ۱۹۵۷ءمیں آئین ساز اسمبلی نے تشکیل دیا۔ انھوں نے کہا کہ دفعہ ۳۷۰کے ذریعے دونوں آئین ایک دوسرے سے مطابقت پیدا کرتے ہیں۔ سبرامنیم نے دوسرا نکتہ یہ پیش کیا کہ موجودہ کیس میں، عدالت کا تعلق صرف ایک نہیں بلکہ دو آئین ساز اسمبلیوں کے مینڈیٹ سے ہے، یعنی ہندستان کی دستور ساز اسمبلی اور جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی۔سبرامنیم نے آئین سے متعلق ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی تعارفی تقریر کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ہندستانی آئین کا وفاقی ڈھانچا ریاست میں لوگوں کو خصوصی حقوق اور مراعات دینے کی اجازت دیتا ہے۔
سبرامنیم نے کہا کہ عدالت کو اس حقیقت کو دھیان میں رکھنا چاہیے کہ ’’جموں و کشمیر کسی دوسری ریاست کی طرح نہیں تھا‘‘۔انھوں نے اس دلیل کو یہ بتاتے ہوئے واضح کیا کہ دیگر راجواڑوں کے برعکس، جموں و کشمیر کا اپنا ۱۹۳۹ء کا آئین تھا، یہاں تک کہ ہندستان کے تسلط کے ساتھ الحاق کے معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے بھی وہاں ایک پرجا پریشد تھی۔ انھوں نے جموں و کشمیر کی دستور ساز اسمبلی کے مباحثوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی تھی جس نے آرٹیکل ۳۷۰(۱)(d) کے تحت ہندستان کو ۱۹۵۰، ۱۹۵۲ء اور ۱۹۵۴ء کے صدارتی احکامات کے ذریعے جموں و کشمیر پر ہندستانی آئین کے اطلاق کے سلسلے میں کچھ مستثنیات کو لاگو کرنے کی دعوت دی۔
سبرامنیم نے کہا کہ ہندستان ان صدارتی احکامات کی پابندی کرنے پر راضی ہے۔ واضح رہے کہ ۱۹۵۴ء کے صدارتی حکم نامے کی، جس نے پہلے کے احکامات کی جگہ لے لی تھی، بالآخر جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی نے توثیق کی۔ اس طرح جموں و کشمیر کی دستور ساز اسمبلی نے ایک رسمی قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا کہ ہندستان کو ۱۹۵۴ء کے صدارتی حکم کی پابندی کرنی چاہیے اور اسے آرٹیکل ۳۷۰ کی شق (۱) اور شق (۳) کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ اس دوران سبرامنیم نے خود سپریم کورٹ کے ہی پچھلے فیصلوں کا حوالہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر آرٹیکل ۳۷۰ کو منسوخ کرنا جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کا مینڈیٹ نہیں تھا اور ریاستی مقننہ کے ذریعے منسوخی کا اختیار کبھی بھی استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے، تو ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ وفاق یا پارلیمنٹ خود کو ریاست کی آئین ساز اسمبلی میں تبدیل کرکے اس دفعہ کو منسوخ کرادے۔
سبرامنیم ، جو لندن سے آن لائن دلائل دے رہے تھے، ان د س گھنٹے کی بحث کے بعد پوڈیم جموں و کشمیر کے معروف وکیل ظفر شاہ نے سنبھالا۔ انھوں نے وضاحت کی کہ آرٹیکل ۳۷۰ نے جموں و کشمیر کے آخری ڈوگرہ مہاراجا، مہاراجا ہری سنگھ کے ذر یعے دستاویز الحاق میں درج اختیارات کو برقرار رکھا۔انھوں نے کہا کہ مہاراجا نے جموں و کشمیر کا ہندستان کے ساتھ الحاق کیا تھا مگر انضمام کا کوئی معاہدہ عمل میں نہیں آیا تھا۔انھوں نے الحاق اور انضمام کی تشریح کی۔ شاہ نے کہا کہ چونکہ انضمام کے کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے تھے، جموں و کشمیر نے اپنی آئینی خودمختاری کو برقرار رکھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ قانون بنانے کے بقایا اختیارات کے ذریعے ہی ریاست نے اپنی خودمختاری کا استعمال کیا۔آرٹیکل ۳۷۰(۱) کے حوالے سے، انھوں نے کہا کہ یہ شق ہندستانی آئین کے ساتویں شیڈول کے تحت تین فہرستوں کے قوانین کے اطلاق کے بارے میں بات کرتی ہے جو جموں و کشمیر پر لاگو ہوگی۔ظفر شاہ نے واضح کیا کہ چونکہ جموں و کشمیر کے لیے تین موضوعات یعنی دفاع، خارجی امور اور مواصلات پر قانون بنانے کے لیے ہندستان کو پہلے ہی مکمل اختیارات دیے گئے تھے، اس لیے آرٹیکل ۳۷۰(۱)(i) لفظ ’مشاورت‘ کا استعمال کرتا ہے۔اس موقع پر، شاہ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ آرٹیکل ۳۷۰(۱)(ii) یا ۳۷۰(۱)(d) میں استعمال ہونے والے اظہار ’اتفاق‘ کا مطلب ہے کہ دونوں فریقوں کو متفق ہونا پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ انسٹرومنٹ آف ایکشن کے تحت متعین کیے گئے ہندستانی قوانین میںیہ واضح ہے کہ دونوں فریقین کا رضامند ہونا ضروری ہے۔
ظفر شاہ نے کہا کہ آرٹیکل ۳۷۰ کے تحت، یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ پارلیمنٹ کوئی یک طرفہ فیصلہ کرے۔ جسٹس کھنہ نے شاہ کی اس بات کا جواب دیتے ہوئے کہ جموں و کشمیر کا ہندستان کے ساتھ انضمام مکمل نہیں ہوا، کہا کہ انضمام کا سوال 'مکمل طور پر یقینی ہے۔انھوں نے ہندستانی آئین کے آرٹیکل (۱) کا حوالہ دیا جس میں لکھا ہے کہ ہندستان ریاستوں کا ایک یونین ہے جو جموں و کشمیر کے آئین کے آرٹیکل ۳ سے مطابقت رکھتا ہے۔کھنہ نے واضح کیا کہ آرٹیکل ۳۷۰ صرف ریاستی مقننہ کو اپنے لیے قانون بنانے کا خصوصی حق دیتا ہے۔جسٹس کھنہ نے ریمارکس دیئے: مجھے مکمل انضمام کے لفظ کے استعمال پر تحفظات ہیں۔ انھوں نے مزید کہا: 'بھارتی آئین کے آرٹیکل(۱) کے لحاظ سے مکمل انضمام ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے جموں و کشمیر کے ذریعے الحاق کے مسودہ پر دستخط کرنے کے بعد انضمام کی بحث ختم ہوتی ہے۔ ظفرشاہ، بنچ کے استدلال سے متفق نہیں ہوسکے۔ انھوں نے اپنے استدلال کو دہرایا کہ خودمختاری دستاویز الحاق کے ذریعے منتقل نہیں کی گئی۔ اسے صرف انضمام کے معاہدے کے ذریعے منتقل کیا جا سکتا ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے نشاندہی کی کہ آج بھی، پارلیمنٹ کے پاس ریاستی فہرست میں اندراجات کے لیے قانون بنانے کے مکمل اختیارات نہیں ہیں لیکن اس سے اس حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کہ بالآخر خودمختاری ہندستان کے پاس ہے۔انھوں نے مزید کہا: 'ایک بار جب ہندستانی آئین کا آرٹیکل (۱) کہتا ہے کہ ہندستان ریاستوں کا ایک یونین ہوگا، جس میں ریاست جموں و کشمیر شامل ہے، خودمختاری کی منتقلی مکمل ہوگئی تھی۔ ہم ہندستانی آئین کو ایک دستاویز کے طور پر نہیں پڑھ سکتے جو آرٹیکل ۳۷۰ کے بعد جموں و کشمیر کو کچھ خودمختاری برقرار رکھے۔اس دلیل کو آگے بڑھاتے ہوئے، چیف جسٹس نے کہا کہ لفظ ’اتفاق‘ کا استعمال جموں و کشمیر کے آئینی حوالہ جات کے لیے منفرد نہیں ہے، ہندستان کے آئین میں ’اتفاق‘ کے بہت سے مختلف شیڈز کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے ہندستانی آئین کے آرٹیکل ۲۴۶-اےکی مثال پیش کی، جو گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے لیے جواز فراہم کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس دفعہ کے تحت پارلیمنٹ ریاستی مقننہ کی منظوری کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی۔
ظفرشاہ، جنھوں نے اسی معاملے پر پھر بنچ سے کہا کہ وہ ہندستانی آئین کے آرٹیکل ۲۵۳ جو بین الاقوامی معاہدوں، معاہدوں اور کنونشنز سے متعلق ہے، میں ایک شرط شامل کی گئی، کہ ریاست جموں و کشمیر کے اختیار کو متاثر کرنے والا کوئی فیصلہ ریاست کی حکومت کی رضامندی کے بغیر انڈیا کی حکومت نہیں کرسکتی ہے۔ شاہ نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی صورت حال کی ایک اندرونی اور ایک بیرونی جہت ہے اور دونوں ایک ساتھ ہندستانی آئین کے آرٹیکل ۳۰۶-اے کے مسودہ میں شامل ہیں جو کہ حتمی فیصلہ تک زیر التوا ہے۔شاہ نے اپنی دلیل کا اختتام بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی۲۰۰۵ء کی سری نگر کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کیا کہ 'مسئلہ کشمیر کو انسانیت اور جمہوریت کے دائرے میں حل کیا جائے گا۔ شاہ نے امید ظاہر کی کہ عدالت اس بیان کی روشنی میں اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔
شاہ کی آٹھ گھنٹے طویل بحث کے بعد ڈاکٹر راجیو دھون نے مختصر بحث میں عدالت کو بتایا کہ بھارت ایک ملک کے بجائے ایک براعظم ہے اور اس کے تنوع کے لیے خود مختاری کے انتظامات کی ضرورت ہے جیسا کہ آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ کے تحت جموں و کشمیر میں موجود تھا۔ راجیو دھون نے دلیل دی کہ آئینی اخلاقیات تجویز کرتی ہے کہ اس طرح کے انتظامات کو محفوظ رکھا جانا چاہیے۔انھوں نے نشاندہی کی کہ بحث کے دوران چیف جسٹس نے آرٹیکل ۲۴۹ اور ۲۵۲ کا حوالہ دیا۔انھوں نے ان آرٹیکلز کے حوالے سے بینچ کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کو بہت اہم قرار دیا اور کہا کہ اس نے درخواست گزاروں کو 'بنیادی ڈھانچا کے خطوط پر بحث کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بینچ نے انضمام کے معاہدوں کی حیثیت سے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ اس پر دھون نے کہا کہ دستاویز الحاق کی رو سے بیرونی خودمختاری ختم ہو جاتی ہے، لیکن اندرونی خودمختاری ختم نہیں ہوتی ہے۔
دھون نے نشاندہی کی کہ مہاراجا ہری سنگھ نے ہندستان کے ساتھ جوں کے توں یعنی اسٹینڈ اسٹل کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے۔اس طرح کا معاہدہ مہاراجا نے پاکستان کے ساتھ کیا تھا۔ دھون نے اپنی دلیل کو مضبوط کرنے کے لیے پریم ناتھ عدالتی فیصلہ کا حوالہ دیا کہ آرٹیکل ۳۷۰ اسٹینڈ اسٹل یا انضمام کے معاہدے کا آئینی متبادل ہے۔ انھوں نے کہا کہ دستاویز الحاق کے ذریعے مہاراجا نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ جموں و کشمیر ہندستان کے تسلط کا حصہ بن چکا ہے۔ لیکن مہاراجا نے الحاق کے ذریعے اپنی خودمختاری کو منتقل نہیں کیا۔دھون نے نشاندہی کی کہ خودمختاری کی منتقلی کا عمل جزوی طور پر سیاسی وجوہ اور جزوی طور پر آرٹیکل ۳۷۰ کی وجہ سے شروع ہوا۔ انھوں نے آرٹیکل ۳ کے مندرجات کا حوالہ دے کر کہا کہ اس کی رُو سے کسی بھی ریاست کے نام یا حدود کو تبدیل کرنے والا کوئی بل ریاستی مقننہ کی رضامندی کے بغیر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ۱۹۵۴ء (صدارتی حکم CO 48) نے آرٹیکل ۳ میں ایک اور شرط شامل کی، جس میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے رقبے کو بڑھانے یا کم کرنے یا ریاست کے نام یا حدود کو تبدیل کرنے کا کوئی بل جموں و کشمیر مقننہ کی رضامندی کے بغیر ہندستانی پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ دھون نے سوال کیا کہ ریاستی مقننہ کی مشاورتی طاقت کو پارلیمنٹ کے ساتھ کیسے بدل دیا گیا؟دھون نے ہندستانی آئین کے آٹھویں شیڈول کے ساتھ پڑھے گئے آرٹیکل ۳۴۳ کا بھی حوالہ دیا، جو کشمیری کو ایک زبان کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔انھوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ایک ایگزیکٹو ایکٹ کے ذریعے کشمیری کو بطور زبان نہیں چھینا جا سکتا۔انھوں نے کہا کہ آرٹیکل ۳۵۶ کے تحت صدر کو جو اختیارات دیئے گئے ہیں وہ مکمل نوعیت کے نہیں ہیں۔ اختیارات کا اس حدتک استعمال اور غلط استعمال کیا گیا ہے کہ ان کے استعمال میں کچھ نظم و ضبط لازمی ہے۔ دھون نے متنبہ کیا کہ صدارتی راج کی آڑ میں جموں و کشمیر کے ساتھ جو ہوا وہ کسی اور ریاست کے ساتھ ہوسکتا ہے اگر آرٹیکل ۳۵۶ کے تحت اختیارات پر قدغن نہیں لگائی گئی۔انھوں نے دلیل دی کہ آرٹیکل ۳اور ۴ کے تحت نہ تو صدر اور نہ پارلیمنٹ ہی ریاستی مقننہ کا متبادل ہو سکتے ہیں۔
چیف جسٹس نے دھون سے سوال کیا کہ ’’کیا پارلیمنٹ آرٹیکل ۲۴۶(۲) کے تحت صدر راج کے دوران ریاست کے لیے قانون بنا سکتی ہے؟‘‘اس پر دھون نے جواب دیا: پارلیمنٹ ریاستی فہرست کے تحت قانون بنا سکتی ہے لیکن جب وہ آرٹیکل ۳ کے تحت کوئی قانون پاس کرتی ہے، تو اسے مذکورہ شرائط کی پابندی کرنی ہوگی۔انھوں نے نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر میں ایک قانون ساز کونسل بھی تھی جسے آئینی ترمیم کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دھون نے کہا کہ آرٹیکل۲۴۴-اے خود مختار ریاستوں کے قیام کا انتظام کرتا ہے۔ یہ ریاستوں کی خود مختاری کو تقویت دیتا ہے جو آرٹیکل ۳۷۰ میں جموں و کشمیر کو دی گئی خود مختاری کے مطابق ہے۔دھون نے کہا کہ آئین کو اخلاقیات کے ساتھ پڑھا جانا چاہیے۔ بھارتی حکومت نے کشمیری عوام کے ساتھ جو وعدے کیے ہیں کہ ان کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ہوگا۔ انھوں نے یاد دلایا کہ کئی مواقع پر بھارتی لیڈران نے عزم کا اظہار کیا کہ وہ رائے شماری کے ذریعے لوگوں کی مرضی جاننے کے لیے پابند ہیں بشرطیکہ پُرامن اور معمول کے حالات بحال ہوں اور رائے شماری کی غیر جانب داری کی ضمانت دی جا سکے۔ دھون نے کہا کہ ہم نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ آئین ساز اسمبلی کے ذریعے لوگوں کی مرضی ریاست کے آئین کے ساتھ ساتھ یونین کے دائرۂ اختیار کا تعین کرے گی۔انھوں نے کہا کہ یہ وہی عہد ہے جو آرٹیکل ۳۷۰ کی روح ہے۔
دھون کے بعد وشانت دوئے نے دلیل دی کہ ۲۰۱۹ء کے آئینی احکامات تضادات کا مجموعہ اورآئین ہند کے ساتھ دھوکا دہی ہیں۔ انھوں نے عدالت کو کہا کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے، ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔آرٹیکل ۳۷۰ کے عارضی ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے دوئے نے کہا کہ یہ ہندستان کے لیے کبھی بھی عارضی نہیں تھا۔ یہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے اس حد تک عارضی تھا کہ وہ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کے ہاتھوں اپنی قسمت کا فیصلہ کر سکتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے آخری ڈوگرہ مہاراجا ہری سنگھ نے ہندستان کے اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ مشروط طور پر ہندستان کے تسلط میں الحاق کے لیے جو معاہدہ کیا تھا، اس کی تشریح آرٹیکل ۳۷۰ کی روشنی میں کی جانی چاہیے۔وشانت دوئے نے کہا کہ معاہدہ سازی کی طاقت کو آئین کے زیر غور طریقے سے استعمال کرنا ہوگا اور اس کی طرف سے عائد کردہ حدود کے تابع ہونا پڑے گا۔ آیا یہ معاہدہ عام قانون سازی کے ذریعے نافذ کیا جا سکتا ہے یا آئینی ترمیم کے ذریعے یہ قدرتی طور پر خود آئین کی دفعات پر منحصر ہوگا۔دوئے نے کہا کہ آرٹیکل ۳۷۰ کی تشریح آرٹیکل ۳۷۰ میں ہی موجود ہے۔
کشمیر کے معاملے پر وہ چاہے سپریم کورٹ ہو یا انڈین قومی انسانی حقوق کمیشن ، بھارت کے کسی بھی ادارے کا ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا ہے، مگر چونکہ اس مقدمے کے بھارت کے عمومی وفاقی ڈھانچے پر بھی دُور رس اثرات مرتب ہوں گے، اس لیے شاید سپریم کورٹ کو اس کو صرف کشمیر کی عینک سے دیکھنے کے بجائے وفاقی ڈھانچے اور دیگر ریاستوں پر اس کے اثرات کو بھی دیکھنا پڑے۔ اس تناظر میں امید ہے کہ وہ ایک معروضی نتیجے پر پہنچ کر کشمیری عوام کی کچھ دادرسی کا انتظام کر پائے گا۔خیر اس وقت تمام نگاہیں بھارتی سپریم کورٹ کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ کیا سپریم کورٹ واقعی کوئی تاریخ رقم کرے گا؟ ایک بڑا سوال ہے، جس کا جواب وقت ہی دے گا۔
ایران اور امریکا نے حالیہ دنوں میں طے پانے والے ایک پیچیدہ معاہدے کے تحت اپنے اپنے ملکوں میں ایک دوسرے کے قیدی شہریوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس معاہدے پر یہ اتفاق رائے دونوں ملکوں کے درمیان بالواسطہ (indirect) مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔ جس کے تحت تہران کو امریکی ایما پر منجمد کیے جانے والے چھ ارب ڈالر مالیت کے اثاثوں تک دوبارہ رسائی ملنے کا امکان بھی پیدا ہوا ہے۔ امریکا اور ایران اپنی سطح پر محدود مقاصد کے حامل’ قیدیوں کے معاہدے‘ کو تبدیلی کے ایک بڑے قدم کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مصروف ہیں۔
معاہدے کی خبر شائع ہوتے ہی تہران میں قید پانچ امریکی شہریوں کو ’ایون جیل‘ سے نکال کر نامعلوم مقام پر ہوٹل کے الگ الگ کمروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔جیل سے رہائی کے بعد ہوٹل میں نظربند کیے جانے والوں میں تاجر صیامک نمازی، عماد شرجی اور ماہر ماحولیات مرادطہباز شامل ہیں، جو برطانوی شہری بھی ہیں۔ اسی طرح امریکا میں قید ایرانیوں کو بھی رہائی کا پروانہ جلد ملنے والا ہے۔
اس پیش رفت کے باوجود ایران پر امریکی پابندیاں اور فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کی فضا پہلے کی طرح برقرار ہے۔ تاہم، یہ معاہدہ اہم سیاسی پیش رفت ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ کار اسے ۲۰۱۵ء میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے پر نظرثانی کے لیے بنیادی کام قرار دے رہے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قیدیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کے دُور رس نتائج کا حامل کوئی نیا معاہدہ سامنے آنے والا ہے؟ کیا یہ معاہدہ دیرینہ دشمن ملک سے تعلقات میں بہتری کا پیش خیمہ بن سکتا ہے؟
یاد رہے ’قیدیوں کا معاہدہ ‘ تہران اور واشنگٹن کے درمیان خلیج کے علاقے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں طے پایا۔خلیج میں تجارتی جہازوں کی نقل وحمل کی نگرانی کے لیے امریکا نے اپنے ہزاروں فوجی خطے میں تعینات کر رکھے ہیں، تاکہ ایران کو بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے سے باز رکھا جا سکے۔
ایران کو قطر اور عمان جیسے اہم علاقائی ملکوں کا اعتماد بھی حاصل ہے، جو منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی کے لیے بطور چینل استعمال ہوں گے۔ ایران کو روس اور چین جیسی بڑی طاقتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔سعودی عرب کے ساتھ ایران کے دیرینہ کشیدہ تعلقات، چین کی ثالثی کے بعد کافی حد تک معمول پر آرہے ہیں۔ دونوں ملکوں نے اپنے مستقل سفارتی رابطے کو یقینی بنا لیا ہے۔
تاہم، امریکی وزیرخارجہ اس رائے کا اظہار کر چکے ہیں:’’امریکا میں ایران کے غیر منجمد اثاثوں کو صرف انسانی ضروریات یعنی ادویہ اور خوراک کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے‘‘۔ حالانکہ ادویہ اور خوراک کی خریداری پہلے بھی امریکی پابندیوں سے مستثنیٰ تھی۔
اس صورت حال کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ۲۰۱۵ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی بحالی کا امکان پیدا ہوا ہے، تاہم امریکی حکومت ردعمل اور خجالت کے ڈر سے بار بار اس امر کی تردید کرتی بھی دکھائی دیتی ہے۔
امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان جان کربی کے بقول: ’جوہری معاہدے کی طرف واپسی یا اس سے متعلق مذاکرات نہ امریکا کی ترجیح ہیں اور نہ قیدیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کی شرائط میں یہ بات شامل تھی۔‘
تہران نے ’مشترکہ جامع منصوبۂ عمل معاہدے‘ کے تحت اس شرط پر جوہری پروگرام میں کمی لانے پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ ’’اگر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں ختم کر دی جائیں‘‘۔ مگر ۲۰۱۸ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جوہری معاہدے سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا اور نتیجتاً ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ اگرچہ اُن کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی میں دلچسپی تو ظاہر کی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کی صورت میں دونوں فریقوں کو نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
قیدیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کو عملی جامہ پہنانے سے متعلق لائحہ عمل میں کچھ دوسرے ملک بھی ملوث ہیں۔ معاہدے کے لیے کئی برسوں سے دونوں ملکوں کے درمیان گفتگو جاری تھی، لیکن اسی دوران میں تہران نے ایک اور امریکی شہری کو یرغمال بنا کر واشنگٹن کا اعتماد مجروح کیا۔
اس پیش رفت نے امریکا کو تذبدب کا شکار کر دیا کہ قیدیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کے ذریعے تہران کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے؟ واشنگٹن کو خدشہ تھا کہ تہران منجمد اثاثے واپس ملنے کے بعد انھیں ’سپاہ پاسداران انقلاب‘ کے لیے ہتھیار خریدنے میں استعمال کرے گا، جس سے خطے میں تہران کے خفیہ پروگراموں کو قوت ملے گی۔
دوسری جانب امریکا کو اس بات کا بھی ادراک تھا کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو جوہری معاہدے سے متعلق گفتگو کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔ قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ دراصل علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی فضا کو کم کرنا تھا تاکہ مشرق وسطیٰ کسی بڑی جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آنے سے محفوظ رہے۔ایران کو اپنی معیشت بچانا تھی اور امریکا کو جنگ سے گریز کی پالیسی میں عافیت دکھائی دیتی تھی۔ ایران نے چین کی ثالثی میں سعودی عرب سے مذاکرات کا ڈول ڈالا، تو اس کے بعد تہران کے پاس امریکا کے ساتھ مذکرات سے انکار کا کوئی جواز باقی نہیں تھا۔
امریکی جاسوس دنیا کے کئی ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔ واشنگٹن کی ایران دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس وقت ایرانی ہوٹل میں نظر بند امریکی شہریوں میں کتنے جاسوس ہیں یا نہیں؟ اس بحث میں اُلجھے بغیر یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ امریکی سی آئی اے نے روس، ایران اور چین کو کئی برسوں سے اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنا رکھا ہے۔
ماضی میں بھی حکومتی تبدیلی کی امریکی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے تہران مشتبہ غیرملکیوں کو ’یرغمال‘ بنانے کی پالیسی پر عمل کرتا چلا آیا ہے۔ ایران کے پانچ شہری بھی امریکی جیلوں میں قید ہیں۔ سی آئی اے کا الزام ہے کہ ان گرفتار ایرانیوں نے امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔
ایران سے ’جوہری معاہدے‘ کو معطل کر کے امریکا نے ایران پر جن پابندیوں کا دوبارہ احیا کروایا، امریکی فہم کے مطابق آج تک ان کا کوئی مثبت نتیجہ دُنیا کے سامنے نہیں آیا ہے۔ تہران کی پالیسیاں جوں کی توں برقرار ہیں اور ان پابندیوں نے ساڑھے آٹھ کروڑ ایرانیوں کو گوناگوں مسائل سے دوچار کیا ہے۔
قیدیوں کی رہائی اور ’جوہری معاہدے‘ سے متعلق مذاکرات کا آغاز حالیہ دنوں میں طے پانے والے ’قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ‘ کا ایک انتہائی چھوٹا حصہ ہے، جس پر اذیت پسند امریکا نے تہران پر اپنی اقتصادی پابندیوں کو برقرار رکھنے کا اعلان کر کے ایران کی خوش گمانی کو ایک مرتبہ پھر گہرا صدمہ پہنچایا ہے۔
نائیجر چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ملک ہے اور سرکاری طور پر اس کا نام جمہوریہ نائیجر ہے۔ مغربی افریقہ میں واقع اس ملک کا نام اسی سرزمین پر بہنے والے دریائے نائیجر کی نسبت سے رکھا گیاہے ۔ملک کے جنوب میں نائجیریا اور بنین ،مغرب میں بورکینا فاسو اور مالی، شمال میں الجزائر اور لیبیا، جب کہ اس کی مشرقی سرحد پر چاڈ واقع ہے ۔
نائیجر کا کُل رقبہ ۱۲ لاکھ ۷۰ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ مغربی افریقہ کا یہ سب سے بڑا ملک ہے۔۲۰۲۱ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی ۲ کروڑ ۵۰لاکھ سے کچھ زیادہ ہے اور بیش تر آبادی ملک کے انتہائی جنوبی اور مغربی علاقوں میں آباد ہے۔ دارالحکومت نیامی ہی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے اور یہ دریائے نائیجر کے مشرقی کنارے پر ملک کے جنوب مغرب میں واقع ہے ۔آبادی کی غالب ترین اکثریت مسلمان ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملکی آبادی کے ۹۹ء۳ فی صد کا مذہب اسلام ہے ۔
نائیجر میں اسلام کب آیا؟ اس کے بارے میں مؤرخین کی رائے مختلف ہے ۔کچھ مؤرخین کے نزدیک اس علاقے میں اسلام بالکل ابتدائی دور میں جلیل القدر صحابی حضرت عقبہ بن عامرؓ کے ہاتھوں پہنچا تھا ، اور مؤرخ عبد اللہ بن فودیو کی کتاب بھی اسی رائے کی تائید کرتی ہے ۔ بعض مؤرخین اس کی نسبت حضرت عقبہ بن نافعؓ کی طرف کرتے ہیں، جو ۶۶۶ء میں اس علاقے میں تشریف لائے تھے۔ روایات میں ملتا ہے کہ حضرت عقبہ بن نافعؓ براعظم افریقہ کے اس گریٹ صحارا ریگستان میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے اور جنوب کی طرف فتوحات کرتے شہر’ کعوار‘ تک جاپہنچے اور اسے بھی فتح کیا۔ انھوں نے ریگستان کے جنوب میں واقع تقریباً تمام قابلِ ذکر شہر فتح کرلیے تھے۔ آج کل ’کعوار‘ کا علاقہ نائیجر اور لیبیا کی سرحد پر ملک کی شمال مشرقی سمت میں واقع ہے ۔اس روایت کے مطابق اسلام نائیجر اور اس کے اطراف میں واقع دیگر علاقوں میں اپنی تاریخ کے بالکل ابتدائی زمانے یعنی پہلی صدی ہجری میں ہی پہنچ چکا تھا ۔
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ بحیرۂ چاڈ کے کنارے اور ملک کے مشرق میں رہنے والوں نے پہلے پہل اسلام قبول کیا ۔اور ان میں دین حق کی روشنی پہنچانے کا شرف ان مسلمان عرب تاجروں کو حاصل ہے جو نائیجر کے ساتھ تجارتی تعلقات اوربندھنوں میں جڑے ہوئے تھے اور انھی کے توسط سے علاقے میں عربی زبان بھی عام ہوئی۔ بعد ازاں مملکت غانا کے خاتمے کے بعد یہاں مرابطین کی حکمرانی رہی۔ غربی نائیجر کا علاقہ مالی کی اسلامی مملکت کے تابع بھی رہا اور اس کے بعد یہ علاقہ سنغی حکومت کے تابع تھا جو شمالی نائیجر میں اجادیس (شہر) تک پھیلی ہوئی تھی۔
نائیجر کا مغربی سامراجیوں سے ۱۸۹۹ء میں اس وقت واسطہ پڑا، جب فرانس نے اس علاقے پر فوجی حملہ کیا۔ اس حملے میں فرانسیسی فوجوں کو مقامی مجاہدین کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا رہا اور وہ علاقے میں قدم نہ جماسکیں۔ پے درپے حملوں کے بعد فرانس کو ان افریقی ممالک میں اسی وقت قدم جمانے میں کامیابی حاصل ہوئی جب ۱۹۲۲ء میں علاقے میں شدید قحط اور خشک سالی کا دور آیا اور صحرا نشین لوگوں کی مزاحمت اس کے آگے بے بس ہوگئی ۔یوں نائیجر بھی مغربی افریقہ کے دیگر ممالک کی طرح فرانسیسی مقبوضات کا حصہ بن گیا ۔
۱۹۴۶ءمیں نائیجر کو فرانس کا حصہ بناکر یہاں کے لوگوں کو فرانسیسی شہریت دی گئی۔ان کے لیے مقامی پارلیمنٹ بنائی گئی جس کے نمایندوں کو ایک خاص تناسب کے مطابق فرانسیسی پارلیمنٹ میں بھی نمایندگی دی گئی تھی ۔۱۹۵۶ء میں جب فرانس نے اپنے بعض قوانین میں تبدیلی و ترمیم کی تو افریقی مقبوضات میں سے کچھ علاقوں کو فرانسیسی قوانین کے اندر رہتے ہوئے داخلی خود مختاری حاصل ہوگئی۔
۱۹۵۸ء میں نائیجر نام کی حد تک رسمی طور پر فرانس سے علیحدہ ہوگیا، تاہم ۱۹۶۰ء میں مکمل طور پر اس کی آزادی کو تسلیم کرلیا گیا ۔تحریک آزادی کے رہنما حمانی دیوری یہاں کے پہلے سربراہ بنے۔ تاہم، ان کے عہد حکومت کو بےتحاشا کرپشن کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے ۔
۱۹۷۴ء میں ایک فوجی انقلاب کے نتیجے میں حمانی حکومت کا خاتمہ ہوا اور انقلابی جرنیل سانی کونتشیہ نے ملک کی باگ ڈور سنبھال لی۔ وہ ۱۹۸۷ء میں اپنی وفات تک ملک کی سربراہی کرتے رہے ۔ ان کی وفات کے بعد علی سیبو نے نائیجر کی سربراہی سنبھالی اور نائیجر کی دوسری جمہوریہ کے قیام کا اعلان کیا۔اپنے دور میں ان کی کوشش رہی کہ ملک کو ایک پارٹی سسٹم کے تحت چلایا جائے۔ لیکن انھیں عوامی مطالبات کے آگے جھکنا پڑا اور ملک میں نئے سرے سے جمہوری دور کا آغاز ہوا ۔
۱۹۹۳ء میں پہلے کثیر جماعتی انتخابات میں ماھمان عثمان ملک کے پہلے صدر منتخب ہوگئے۔ ان کا عرصۂ اقتدار زیادہ عرصہ نہیں رہا اور ۱۹۹۶ء میں ایک فوجی بغاوت کے نتیجے میں ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوگیا اور ابراہیم مناصرہ نئے فوجی صدر بنے۔ تاہم، ان کی حکومت کو ملک کے سیاسی حلقوں میں پذیرائی نہ مل سکی۔
۱۹۹۹ء میں ایک اور فوجی بغاوت میں ابراہیم مناصرہ قتل کردئیے گئے اور نئی عبوری حکومت تشکیل دی گئی ۔ملک میں یہ تیسرا فوجی انقلاب تھا، جسے خونی انقلاب کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس انقلاب کے نتیجے میں فوجی سربراۂ مملکت ابراہیم مناصرۃ قتل کردئیے گئے تھے۔حالانکہ اس سے قبل کسی فوجی انقلاب کے نتیجے میں کوئی خون خرابہ نہیں ہوا تھا ۔
اسی سال ملک کا نیا دستور منظور ہوا اور نئی جمہوری حکومت مامادو تانجا کی زیر قیادت تشکیل پائی۔ اس دور میں سیاست دانوں کے درمیان اختلاف رہا کہ شریعت اسلامیہ کو ملکی دستور اور قانون کی اساس ہونا چاہیے یا نہیں ؟
۲۰۰۴ء میں ملک میں نئے انتخابات ہوئے جن میں ایک بار پھر مامادو تانجا دوسری مدت صدارت کے لیے منتخب ہوئے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا دسمبر۲۰۰۹ء میں آئینی طور پراپنی مدت صدارت کی تکمیل پر وہ عہدۂ صدارت چھوڑ دیتے لیکن ان کا مطالبہ تھا کہ ان کی تیسری مدت صدارت کے لیے بھی دستور میں گنجایش نکالی جائے۔ لیکن فروری ۲۰۱۰ء میں ان کی حکومت ملک کے چوتھے فوجی انقلاب کے نتیجے میں ڈھیر ہوگئی ۔
نئی فوجی حکومت نے عبوری فوجی کونسل بنائی ،دستور پر عمل درآمد کو معطل کیا، مملکت کے تمام آئینی ادارے تحلیل کردئیے گئے اور نعرہ یہ لگایا کہ ہم حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں ۔عملاً ایک نیا دستور وضع کیاگیا جس میں صدر کے بہت سے اختیارات کو سلب کرلیا گیا۔ نئے دستور کی روشنی میں ۳۱جنوری ۲۰۱۱ء کو ملک میں نئے صدارتی انتخابات ہوئے اور دوسری بار کے انتخاب میں محمدایسوفو کامیاب ہوکر ملک کے نئے صدر بنے۔
۲۰ مارچ ۲۰۱۶ء کو محمد ایسوفو دوسری مدت صدارت کے لیے پھر منتخب ہوگئے اگرچہ ملک اس وقت شدید سیاسی اختلافات کا شکار تھا اور کئی سیاسی پارٹیاں الیکشن کا بائیکاٹ بھی کرچکی تھیں۔ ملک بدامنی کا بھی شکار ہوچکا تھا اور مسلح حملوں کا سامنا کررہا تھا ۔تاہم، ان کی دوسری مدت صدارت اس لحاظ سے کچھ کامیاب کہلاسکتی ہے کہ ان کے اس عہد ِحکومت میں خط ِغربت سے نیچے رہنے والی آبادی کی شرح ۵۰٪ فی صد سے گھٹ کر ۴۱ فی صد رہ گئی تھی ۔
۲۱فروری ۲۰۲۱ء کے صدارتی الیکشن میں اقلیتی عرب قبائل سے تعلق رکھنے والے محمد بازوم ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے ۔ایک ایسے ملک میں جہاں قبائلی عصبیتیں عروج پر ہوں ایک اقلیتی قبیلے کے فرد کا صدر منتخب ہوجانا انہونی بات ہے۔ تاہم، خوشی کا یہ عالم زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا اور ۲۶ جولائی ۲۰۲۳ء کو ایک نیا فوجی انقلاب صدارتی محل کے دروازے پر دستک دے رہا تھا ۔ صدارتی محافظوں نے اپنے ہی صدر کو یرغمال بناکر ایک بار پھر پورے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا۔ حالیہ فوجی بغاوت کا آغاز اگرچہ صدارتی محل کے گارڈز نے کیا تھا، تاہم اب ملک کی بَری اور فضائی اور ساری فوج ایک ہی پیج پر آچکی ہے۔
مغربی ممالک نے اس فوجی بغاوت کو یکسر مسترد کر ہوئے نظر بند صدرمحمد با زوم کی فوری رہائی اور دستور کی مکمل بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایکواس ممالک (اکنامک گروپ برائے مغربی افریقی ممالک) نے جس کی سربراہی اس وقت پڑوسی ملک نائجیریا کے پاس ہے ،یورپین یونین اور فرانس اس کے اقدامات کی حمایت کررہے ہیں ،نئی فوجی قیادت کو بیرکوں میں واپسی کے لیے ۱۵ دن کی مہلت دی ہے۔ نائیجر کےہمسایہ ایکواس ممالک نے گذشتہ اتوار کو اپنے سربراہی اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ نائیجر میں جمہوریت کی بحالی اور فوجی انقلاب کی پسپائی اور منتخب مگر تاحال نظر بند صدر محمد بازوم کے اقتدار کی اَز سر نو بحالی کو بہرصورت ممکن بنایا جائے گا، خواہ اس مقصد کے حصول کے لیے انھیں فوجی مداخلت ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ مغربی ممالک نے نئی انتظامیہ پر اقتصادی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ دوسری طرف ایکواس ممالک کی سربراہی کرنے والے ہمسایہ ملک نائجیریا نے بجلی کی سپلائی بند کردی ہے ۔
مغرب کی نائیجر میں دلچسپی کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ غریب مسلم ملک کسی وقت فرانسیسی کالونی رہا ہے ۔دوسرے، یہ علاقہ قیمتی معدنیات سے مالامال ہے۔نائیجر افریقہ کا یورینیم برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ملک کا ۳۵ فی صد یورینیم فرانس کو برآمد کیا جاتا ہے، جس سے فرانس اپنی توانائی کی ۷۵ فی صد ضروریات کی تکمیل کرتا ہے ۔بدلے میں فرانس اس غریب افریقی ملک کو کیا دیتا ہے ؟محض ۱۵۰ ملین یورو سالانہ۔قیمتی معدنیات سے مالا مال ہونے کے باوجود اس ملک کا شمار براعظم افریقہ کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے۔
بحر اطلس پر واقع یورپی ممالک کے لیے نائیجیر کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہوجاتی ہے کہ اس کے ہمسایہ ملک نائیجیریا سے نکلنے والی زیر تعمیر گیس پائپ لائن، نائجیر سے گزر کر ہی شمالی افریقہ اور پھر یورپی ممالک تک گیس کی سپلائی یقینی بنائے گی۔
اپنے مذکورہ مفادات کے تحفظ کے لیے اور علاقے میں بوکو حرام اور دیگر مسلح گروپس کے مقابلے کے لیے مغربی ممالک نے نائیجر میں اپنے فوجی اڈے قائم کررکھے ہیں ۔اس وقت نائیجر میں فرانسیسی فوجی اڈوں کی تعداد چار ہے، جن میں ہزاروں فوجی تعینات ہیں ۔ علاقے میں نیٹو افواج کا ہیڈ کوارٹر بھی نائیجر ہی میں واقع ہے ۔ علاوہ ازیں امریکا سے باہر امریکی ڈرونز کا سب سے بڑا اڈا بھی نائیجر ہی میں واقع ہے اور اس کی منتخب فوج کی اسپیشل یونٹ بھی نائیجر کے شہر اکا دیش میں تعینات ہے ۔نائیجر کے علاوہ ہمسایہ ممالک، مالی، چاڈ، موریطانیہ، برکینا فاسو میں بھی جگہ جگہ امریکی، فرانسیسی اور جرمن فوجی اڈے قائم ہیں۔ اسی بنا پر کہا جاتاہے کہ نائیجر سمیت پورا غربی افریقہ ایک بار پھر مغربی سامراجی قبضے کا شکار ہوچکا ہے ۔
دیکھیے نائیجر کے تازہ ترین فوجی انقلاب کے بعد علاقے کے حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں، اور بدلتے حالات میں کیا غریب نائیجر مسلمانوں کے لیے بھی خوشی اور راحت کا کوئی پیغام پوشیدہ ہےیا نہیں ؟
کشمیر کی جنت نظیر وادی اپنی بے پناہ خوب صورتی کے نیچے کئی المیوں کو چھپائے ہوئے ہے۔ انسانی مصائب، منظم ظلم و جور اور بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی، اس خطے کی پہچان بن چکے ہیں، اور اس ہر دم بڑھتے ہوئے بحران کی بازگشت بین الاقوامی برادری کے درمیان فقط سرگوشیوں کی صورت سنائی دے رہی ہے۔
کشمیریوں سے دُنیا کی لاتعلقی پریشان کن ہے کیونکہ اس سے بین الاقوامی امن اور استحکام براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری اس تنازعے کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی ادارے جو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہی قائم کیے گئے تھے، ایک طرف ہو چکے ہیں۔
انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل (AI)کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار صورت حال کی بھیانک منظر کشی کرتے ہیں۔ ۱۹۹۰ء سے لے کر اب تک ۸ہزارکشمیری جبری طور پر لاپتا،جب کہ ۶۰ ہزار سے زائد ریاستی حراست میں یا کوچہ و بازار کے اندر شہید کیے جا چکے ہیں۔ ان خوفناک اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے بھی بین الاقوامی برادری کا ردعمل گونگے، بہرے اور اندھوں جیسا ہے۔
مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں عالمی طاقتوں کی بے حسی تلے دب کر فراموش ہو چکی ہیں۔ ان میں قرارداد نمبر ۴۷ بھی شامل ہے، جو کشمیر میں استصواب رائے کو ضروری قرار دیتی ہے۔ حق خودارادیت بنیادی انسانی حقوق کااہم ترین جزو ہے اور اس کے بغیر ایک پُرامن، منصفانہ اور جمہوری اصولوں پر مبنی عالمی نظام کا قیام ممکن نہیں۔ چنانچہ یہ اصول کشمیریوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی سیاسی حیثیت کا فیصلہ خود کریں اوراسی کے مطابق اپنی سماجی، معاشی اور ثقافتی بہبود کے لیے کام سرانجام دیں۔
گذشتہ کئی عشروں سے یہ جنت ارضی، کشمیریوں کی نسل کشی، جبری قبضے اور زبردستی آبادکاری جیسے مسائل کو برداشت کر رہی ہے، جو دنیا کی اخلاقی منافقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ گذشتہ کچھ مہینوں سے صورتِ حال مزید خراب ہو چکی ہے۔ بھارتی حکومت کشمیریوں کو معاشی طور پر بے دست و پا کرنے اور ان کی آبادی کا تناسب بدلنے کے لیے لوگوں کے گھر، کاروبار اور کھیت کھلیان تباہ کر رہی ہے۔ خطے کی آبادیاتی ہئیت کو بدلنے کے لیے کی جانے والی یہ کوششیں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ کشیدگی میں اضافے کا بھی باعث ہیں۔ ان وجوہ سے دنیا میں کشمیریوں کا احساسِ تنہائی بڑھ رہا ہے۔
من مرضی کی گرفتاریاں اور ریاستی تشدد کشمیریوں کے لیے ایک جیتی جاگتی حقیقت ہیں۔ ۲۰۲۰ء کی سالانہ رپورٹ میں ’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW) نے ان مظالم پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ان اقدامات کے لیے اکثر متنازعہ قسم کے قوانین کو بنیاد بنایا جاتا ہے، مثلاً قانون تحفظ عوامی یا قانون اختیاراتِ خصوصی برائے مسلح افواج۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکڑوں لوگ اس ظالمانہ قانون کے تحت گرفتار ہیں، جو بغیر مقدمے کے دو سال تک لوگوں کو قید رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔
’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ اور ’اقوام متحدہ کمیشن برائے انسانی حقوق‘ (UNCHR) نے ان منظم ناانصافیوں، طاقت کے ناروا استعمال اور ظلم کو تفصیل سے لکھا ہے۔ لیکن اس پیچیدہ صورتِ حال کی سنگینی کا مکمل ادراک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بحران کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی تصور کے پس منظر میں دیکھا جائے۔ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں ہے بلکہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ایک بدترین مسئلہ ہے جو بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کے لیے بھی چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا ایسے سنگین مسئلے کو اتنی لا پروائی اور سنگ دلی سے نظر انداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی ضابطوں کی ساکھ تب ہی قائم رہ سکتی ہے، جب وہ اس قسم کے بحرانوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے نظر آئیں۔
دنیا کے دیگر علاقائی مسائل پر عالمی برادری کے ردعمل کو دیکھا جائے تو کشمیر سے ان کا صرفِ نظر کرنا اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ مثلاً بوسنیا، مشرقی تیمور اور سوڈان میں اہداف حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی اداروں کا طرز عمل بالکل مختلف رہا ہے۔ ۹۰ کے عشرے کے وسط میں بوسنیائی جنگ میں تقریباً ایک لاکھ لوگ ہلاک اور۲۲ لاکھ بے گھر ہوئے تھے۔ بین الاقوامی برادری نے فیصلہ کن طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے دخل اندازی کی اور ۱۴دسمبر ۱۹۹۵ء کو ’معاہدہ ڈیٹن‘ عمل میں آیا، جس سے امن بحال ہوا۔
اسی طرح ۹۰ کے عشرے کے آخر میں مشرقی تیمور کی زندگی بھی کشت و خوں سے عبارت تھی، جس میں ملک کی تقریباً ربع آبادی رزقِ خاک بن گئی۔ تاہم، اقوام متحدہ کی سربراہی میں شدید بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں آخر مشرقی تیمور کو آزادی مل گئی۔ سوڈان کی تقسیم اور جنوبی سوڈان کے قیام کے لیے بھی بین الاقوامی برادری خصوصاً افریقا متحدہ اور اقوام متحدہ نے اہم کردار ادا کیا اور اس ملک کو خانہ جنگی سے بچایا۔
اس کے برعکس، اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں اور بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے باوجود کشمیر کے مسئلہ پر بین الاقوامی ردعمل بھیانک خاموشی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بین الاقوامی برادری کا یہ متضاد رویہ یہاں بہت واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔بوسنیا، مشرقی تیمور اور سوڈان کے معاملے میں جو تحریک، اتحاد اور عزم ہم نے دیکھا تھا وہ کشمیر کے معاملے میں سرے سے ناپید ہے۔
کشمیر کے متعلق دنیا کا مایوس کن رویہ اس کے دوہرے معیارات کی نشان دہی کرتا ہے۔ مغرب جو اپنے آپ کو انسانی حقوق کا رکھوالا قرار دیتا ہے، کشمیر کے مسئلے پر مکمل خاموش ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کے لیے سیاسی اور معاشی مفادات کشمیریوں کے بنیادی حقوق سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں؟
اس وقت اشد ضرورت ہے کہ دنیا کے طاقت ور ممالک اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے میدان میں آئیں۔ خصوصاً انگلستان تاریخی طور پر بھی اس مسئلے کے لیے ذمہ دار ہے۔ اس بحران کا آغاز ۱۹۴۷ء میں برصغیر کی غیرمتوازن تقسیم سے ہوا تھا جو برطانیہ کے ماتحت ہوئی تھی۔ اس وقت دوراندیشی اور منصوبہ بندی کے مجرمانہ فقدان سے ہی بعد میں یہ سرحدی تنازع پیدا ہوا۔ جس کے نتیجے میں برطانیہ کی اخلاقی اور تاریخی طور پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔
بین الاقوامی تنظیموں اور خاص طور پر اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر سے متعلق اپنی رائے منوانے کے لیے مزید ثابت قدم ہونے کی ضرورت ہے۔ کشمیر سے متعلق ان کی خاموشی کو دیکھتے ہوئے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بننے والے ان اداروں کے متعلق شدید شکوک و شبہات پیدا ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے عالمی اجلاس منعقدہ ۲۰۰۵ء میں ہونے والے معاہدہ’حق دفاع‘ کے مطابق یہ ادارہ اس بات کا پابند ہے کہ دنیا بھر کے انسانوں کو نسل کشی، قتل عام اور دیگر جنگی جرائم کے خلاف تحفظ مہیا کرے۔
اس معاہدے کی تیسری شق کے مطابق ’’ اگر ایک ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے، تو انھیں تحفظ فراہم کرنا بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے‘‘۔ اس سے ان جرائم کے خلاف بین الاقوامی کوششوں کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اگر یہ ادارے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسی طرح بت بنے دیکھتے رہیں، تو ان کی رہی سہی ساکھ بھی خطرے میں پڑجائے گی۔
کشمیر کا بحران ایک انسانی بحران ہے، جو فوراً بین الاقوامی توجہ کا متقاضی ہے۔ دنیا کی خاموشی اس مسئلے سے ناواقفیت کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ خاموشی بھارت کو اپنے اقدامات کے لیے جواز مہیا کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کو اب اپنا سکوت توڑ کر اس مسئلے کے حل کے لیے عملی کوششیں کرنا ہوں گی۔ یہ بحران اتنا شدید ہے کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے خانہ پُری کے طور پر کی جانے والی کوششوں سے حل نہیں ہو گا۔ اب عملی اور فیصلہ کن کوششوں کا وقت ہے، جن کے لیے انصاف اور امن کے اصولوں کو رہنما بنایا جائے، تا کہ دنیا کے اخلاقی معیارات پر مزید زد نہ پڑے۔ امن کا سفر چاہے طویل ہو لیکن اس کا آغاز ابھی سے ہو جانا چاہیے۔ (ترجمہ: اطہر رسول حیدر)
مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتِ حال دُنیابھر کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ انسانی حقوق کے ممتاز علَم بردار خرم پرویز کو ایک من گھڑت مقدمے میں بھارتی حکام نے نومبر۲۰۲۱ء کو سری نگر سے گرفتار کیا۔ ان کی گرفتاری پر پوری دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے حساس طبقوں نے زبردست احتجاج کیا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن اور پروفیسر نوم چومسکی جیسے عالمی شہرت یافتہ اسکالر مسلسل ان کی رہائی کے لیے آواز بلند کرتے آرہے ہیں۔
خوش آیندہ بات یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انھیں فراموش نہیں کیا گیا۔ گذشتہ ماہ ان کی رہائی کی مہم کو غیر معمولی اہمیت ملی۔ اقوام متحدہ کی خصوصی نمایندہ برائے انسانی حقوق مری لاولرجو نے رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’انسانی حقوق کے حوالے سے کیے جانے والے ان کے غیرمعمولی کام کی بدولت ان پر مقدمہ قائم کیا گیا ہے‘‘۔
اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ آن آربیٹریری ڈیٹنشن نے خرم پرویز کے مقدمہ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے ۱۶ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی جس میں نہ صرف اُن کی فوری رہائی کا مطالبہ ہی نہیں کیا گیا بلکہ انھیں بے گناہ اور ضمیر کا قیدی قراردیاگیا۔ یو این کے اس ورکنگ گروپ نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ بھارتی حکام خرم پرویز کے خلاف تمام الزامات واپس لیں اور انھیں ہرجانہ اداکریں، یعنی اس زیادتی کی تلافی کے لیے معاوضہ ادا کریں۔ رپورٹ میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ خرم پرویز کو اپنے وکیل سے ملاقات اور مشاورت کے لیے درکار مناسب وقت نہیں دیاگیا۔
گذشتہ دوعشروں سے اپنی سلامتی کو خطرات میں ڈال کر کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کے واقعات کی دستاویز بندی کرتے رہے ہیں۔ ان کی بے لوث خدمات اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر کی جانے والی جرأت مندانہ رپورٹنگ نے ان کے لیے دنیا بھر میں ہمدردی کی غیرمعمولی لہر پیدا کی ہے۔چنانچہ گرفتاری کے باوجود انھیں ’مارٹن اینالز‘ ایوارڈ سے نوازاگیا۔
انھوں نے انسانی حقوق کی پامالیوں پر ایک نہیں درجنوں رپورٹیں مرتب کیں۔ ان کی جرأت مندانہ لیڈرشپ میں اور ان سے جذبہ پاکر عرفان معراج کی طرح کے درجنوں نوجوانوں نے انسانی حقوق پر کام کیا اور جیلوں کی ہوا کھائی۔ چند سال پہلے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سیکریٹریٹ سے کشمیر پر دو جامع رپورٹیں جاری ہوئیں تھیں۔ ان دونوں رپورٹوں میں خرم پرویز اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے مرتب کردہ حقائق کوبطور حوالہ استعمال کیا گیا۔
خرم پرویز کی گرفتاری کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے،بلکہ یہ کشمیر میں انسانی حقوق کے محافظوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کا حصہ تھا۔ بھارتی حکام نے اختلاف رائے کو دبانے کے لیے سماجی کارکنوں، سیاسی شخصیات اور صحافیوں پر دہشت گردی کے الزامات لگائے ہیں تاکہ یہ لوگ خوف زدہ ہوکر دبک جائیں اور کوئی بھی سرکار کی زیادتیوں کے خلاف آواز نہ اٹھائے۔ چنانچہ خرم پرویز کی گرفتاری کے بعد انسانی حقوق کی پامالیوں پر ہونے والا کام بُری طرح متاثر ہوا۔
دو عشروں سے زیادہ عرصے سے خرم پرویز، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی دستاویز بندی کررہے ہیں۔ وہ حکام کو بے خوفی کے ساتھ چیلنج کرتے ہیں۔ انھوں نے ہر موقعے پر مظلوموں کے حقوق کی وکالت کی۔۲۰۰۰ء میں انھوں نے انسانی حقوق کے ایک اور ممتاز علَم بردار پرویز امروز ایڈووکیٹ کے اشتراک سے ایک تنظیم’ جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی‘ کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے خطے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ باقاعدہ ترتیب سے مرتب کیا گیا۔ اس تنظیم کی رپورٹوں میں اجتماعی قبروں، جبری گمشدگیوں، ٹارچرسیلز، ماوراے عدالت قتل اورجنسی تشدد جیسے انسانی حقوق کی پامالیوں کے چونکا دینے والے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ لاپتا افراد کے والدین کی ایک تنظیم کے تعاون سے خرم نے جبری گمشدگیوں جیسے گھناؤنے جرم کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
خرم پرویز کی انتھک محنت کو بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پذیرائی اور حمایت حاصل ہوئی ہے۔ ان کی کوششوں کو اقوام متحدہ کی رپورٹوں میں تسلیم کیا گیا۔ ’تشدد کے خلاف عالمی تنظیم‘ (OMCT) کے سیکرٹری جنرل جیرالڈ سٹیبروک نے کہا: ’’خرم پرویز کی جبری، سفاکانہ اور غیر منصفانہ نظر بندی کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ بھارت کی جانب سے ان افراد پر مسلسل حملوں کا نتیجہ ہے جو اس کی امتیازی پالیسیوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو اختلاف رائے کرنے والی ہر آواز کو دبانے کی پالیسی تبدیل کرنی چاہیے اور انسانی حقوق کے دفاع کے حق کو یقینی بنانا چاہیے‘‘۔
ایف آئی ڈی ایچ کی ایلس موگوے نے تبصرہ کیا،’’خرم پرویز کے معاملے پر اقوام متحدہ کا فیصلہ واضح طور پر اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس کی نظر بندی، دراصل ان کی جانب سے انسانی حقوق کے کام کے خلاف انتقامی کارروائی ہے، جو دراصل پوری کشمیری سول سوسائٹی کو خاموش کرانے کی کوشش ہے۔ اقوام متحدہ کی سفارشات کے مطابق خرم پرویزکو فوری رہا کیا جائے‘‘۔
نمایاں شخصیات کی گرفتاری کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کی وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل نگرانی بھی کی جاتی ہے۔ بھارتی حکام سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر اُبھرنے والی تنقیدی آوازوں کو زور زبردستی دباتے ہیں۔سوشل میڈیا پر نظر رکھنے کے لیے ایک خصوصی پولیس یونٹ کا قیام عمل میں لایاگیا ہے، جو کشمیری نوجوانوں اور سماجی کارکنان کی سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کی نگرانی پر مامور ہے۔بھارتی حکام اسپائی ویئر جیسی جدید ٹکنالوجی کا استعمال بھی کرتے ہیں، جو کسی بھی موبائل فون اور اس کے ڈیٹا تک آسانی سے رسائی حاصل کرلیتی ہے۔ جو بھی شخص حکومتی اقدامات پر نکتہ چینی کرتاہے اسے ’عسکریت پسندوں‘ (مجاہدین) کا حامی کہہ کر نشانہ بنایا جاتاہے۔
بھارتی حکام نے کشمیریوں کے آن لائن اختلاف رائے کو خاموش کرانے اور دبانے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی ہے۔ ہراساں کرنے، ملازمت سے نکالنے،نظر بندیوں اور انسداد دہشت گردی کے سخت قوانین کے تحت گرفتاریوں جیسے ہتھکنڈوں کا سہارا لے کر لوگوں کو خوف زدہ کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے کشمیر میں میڈیا کو مختلف ذرائع سے خاموش کر دیا گیا ہے اور طاقت کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو حراست میں لے لیا جاتاہے۔یہ پریشان کن صورتِ حال بین الاقوامی توجہ کی متقاضی ہے۔
؍اگست ۲۰۱۹ء کو بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل ۳۷۰ کے اہم مندرجات کو ختم کر دیا تھا۔ اسی کے ساتھ دفعہ ۳۵-اے، جس کی رو سے ریاستی باشندوں کو خصوصی اور علیحدہ شہریت کے حقوق حاصل تھے، اسے بھی منسوخ کردیا گیا تھا۔ اس اقدام کے خلاف انڈین سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا، جس کے جواب میں چارسال گزرنے کے بعد، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ۲؍اگست ۲۰۲۳ء سے سماعت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ فریقین کو ۲۷جولائی ۲۰۲۳ء تک دستاویزات جمع کرانے کے لیے ہدایت کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف جسٹس جسٹس دھنن جے چندراچوڑ نے سرینگر کے ایک روزہ دورہ سے واپسی پر دفعہ۳۷۰ کے حوالے سے زیر التوا درخواستوں پر سماعت کرنے کا اچانک فیصلہ کرلیا۔ آخر سرینگر میں ان کو کیا کچھ نظر آیا ، جس کی وجہ سے انھوں نے سماعت کا فیصلہ کیا؟
اگرچہ کشمیر کے معاملے پر چاہے سپریم کورٹ ہو یا قومی انسانی حقوق کمیشن ، بھارت کے کسی بھی مؤثر ادارے کی تاریخ کچھ زیادہ اچھی نہیں رہی، مگر چونکہ اس مقدمے کے بھارت کے عمومی وفاقی ڈھانچے پر دور رس اثرات مرتب ہوںگے، اس لئے شاید سپریم کورٹ کو اس کو صرف کشمیر کی عینک سے دیکھنے کے بجائے وفاقی ڈھانچے اور دیگر ریاستوں پر اس کے اثرات کو بھی دیکھنا پڑے گا۔ اس تناظر میں مثبت نتائج پر نظر رکھنے والے لوگوں کو اُمید ہے کہ سپریم کورٹ ایک معروضی نتیجے پر پہنچ کر کشمیری عوام کی کچھ داد رسی کا انتظام کرسکے گی۔
دفعہ ۳۷۰ کی قانونی حیثیت و افادیت کے علاوہ سپریم کورٹ کے سامنے یہ بڑے سوالات ہیں:(۱) بھارتی پارلیمان کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے بھی، کیا یہ ممکن ہے کہ عددی طاقت کے بل پر کسی بھی ریاست کو دولخت کرکے اس کو مرکزی زیر انتظام علاقہ بنایا جا سکتا ہے؟ (۲)کیا اس سلسلے میں اس خطے کی اسمبلی یا اس خطے کے اراکین پارلیمان کی رائے کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے؟
پچھلی صدی کے اواخر میں اتراکھنڈ، چھتیس گڈھ، جھاڑکھنڈ، نئے صوبے تشکیل دیئے گئے۔ ان میں جو طریق کار اپنایا گیا، وہ یہ تھا کہ ریاستی اسمبلیوں نے پہلے صوبہ کی تشکیلِ نو کے لیے ایک قرار داد منظور کرکے اس کو مرکزی حکومت کو بھیجا۔ مرکزی کابینہ نے اس کی منظوری دے کر ایک بل ڈرافٹ کرکے اس کو پھر ریاستی اسمبلی کو منظوری کے لیے بھیجا۔ اس کے بعد اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرکے پاس کرنے سے قبل ہاؤس کمیٹی کے سپرد کرکے اس کے خدوخال کا جائزہ لیاگیا۔ صرف تلنگانہ کے معاملے میں اس طریقے کو تبدیل کیا گیا۔ مگراس معاملے میں بھی کئی برس قبل آندھرا پردیش کی اسمبلی قرار داد پاس کر چکی تھی۔ بعد میں اس اسمبلی نے اپنا موقف تبدیل کردیا تھا، مگر اس وقت کانگریس کی قیادت میں مرکزی حکومت نے پچھلی قرار داد کی بنیاد پر زبردست ہنگامہ اور شور شرابہ کے دوران پارلیمنٹ سے اس نئے صوبہ کی تشکیل کا بل پاس کروایا۔
اگر ریاستوں کو تحلیل کرنے اور ان کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کے عمل کو بھارتی سپریم کورٹ تسلیم کرتا ہے، تو اس سے بھارت کے پورے وفاقی ڈھانچا کے مسمار ہونے کا خطرہ ہے۔ ماضی میں نظم و نسق وغیرہ کا بہانہ بناکر مرکزی حکومتوں نے تو کئی بار اپوزیشن کی زیر قیادت صوبوں کی منتخب حکومتوں کو برخواست کیا ہے،مگر بعد میں سپریم کورٹ نے ایس آر بومئی کیس میں اس پر کئی رہنما اصول طے کر دیئے، جس کے بعد نئی دہلی حکومتوں کے لیے صوبائی حکومتیں برخواست کرنے کے اختیار پر روک لگ گئی۔
چیف جسٹس ڈی وائی چندراچوڑ کی سربراہی میں پانچ ججوں کا بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گا۔ اس بنچ میں جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس بھوشن رام کرشن گاوائی اور جسٹس سوریا کانت ہوں گے۔ جسٹس کول کے بغیر بقیہ تینوں جج اگلے کئی برسوں میں باری باری چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوں گے۔ جسٹس چندراچوڑکے والد یشونت ویشنو چندراچوڑ بھی ملک کے ۱۶ویں چیف جسٹس ( ۱۹۷۸ءسے ۱۹۸۵ء)رہے ہیں۔ وہ بھارت کی سول سوسائٹی کے لیے کچھ اچھی یادیں چھوڑ کر نہیں گئے۔ ۱۹۸۴ء میں بھوپال شہر میں زہریلی گیس کے اخراج کے بعد، جس میں ہزاروں لوگوں کی جانیں چلی گئیں، تو انھوں نے امریکی کمپنی یونین کاربائیڈ کے سربراہ وارن اینڈرسن کو ملک سے باہر جانے میں مدددی۔ ان پر مقدمہ بھی نہیں چلایا جاسکا۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی تصدیق کے بغیر ہی فروری ۱۹۸۴ءمیں انھوں نے کشمیری لیڈر مقبول بٹ کی سزائے موت کے فرمان کے خلاف پٹیشن خارج کی،اور اگلے ہی دن مقبول بٹ کو تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔
مگر ان کے فرزند موجودہ چیف جسٹس اپنے اعتدال پسندانہ رویہ اور معرکہ آرا فیصلوں کی وجہ سے اپنے والد کے برعکس سول سوسائٹی کے چہیتے ہیں۔ انھوں نے اظہارِآزادی، شخصی آزادی، حق راز داری وغیر ہ جیسے قوانین کی تشریح کرکے اور ان پر فیصلہ دیتے وقت عوامی مفاد کو مقدم رکھ کر خوش گوار تاثر قائم کیا ہے۔ ۲۰۰۰ء میں ممبئی ہائی کورٹ میں جج کے عہدے پر فائز ہونے سے قبل ان کو ۱۹۹۸ءمیں اٹل بہاری واجپائی کے اقتدار میں آتے ہی اڈیشنل سولسٹر جنرل مقرر کیا گیا تھا۔ اس دوران مجھے ان سے کئی بار ملنے کا موقع ملا ہے۔ دوسرے جج جسٹس سنجے کشن کول کشمیری پنڈت ہیں۔ وہ سورج کشن کول کے خاندان سے نسبت رکھتے ہیں، جو ڈوگرہ حکومت میں وزیر مالیات ہوتے تھے۔ وہ اور ان کے ایک اور برادر دہلی ہائی کورٹ کے جج رہ چکے ہیں۔بطور دہلی ہائی کورٹ جج انھوں نے معروف مصور مرحوم ایم ایف حسین کے خلاف ہندو تنظیموں کی پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے ، بزرگ مصور کی دادرسی کی تھی۔اس فیصلے میں انھوں نے لکھا تھا: ــ’’تکثیریت اور یگانگت جمہوریت کی روح ہوتی ہے۔ جس سوچ کو ہم پسند نہیں کرتے ہیں، اس کے اظہار کی بھی آزاد ی ہونا ضروری ہے۔ اگر تقریر یا اظہار رائے کے بعد آزادی نہ ہو، تو یہ آزادی کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔ جمہوریت کی حقیقت آزادی اور ناقدین کو برداشت کرنے میں مضمر ہے‘‘۔
تیسرے جج جسٹس سنجیو کھنہ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بھی ججوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اور نومبر ۲۰۲۴ء کو وہ چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے۔ ان کے والد ونود راج کھنہ دہلی ہائی کورٹ میں جج تھے۔ وہ بھارت کے ایک معروف جج جسٹس ہنس راج کھنہ کے بھتیجے ہیں، جنھوں نے ۱۹۷۶ء میں آنجہانی وزیر اعظم اندراگاندھی کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ اور بنیادی حقوق کی معطلی کے خلاف فیصلہ دیا تھا، حالانکہ بینچ کے دیگر ججوں نے اس کی حمایت کی تھی۔ جس کی وجہ سے ان کو چیف جسٹس نہیں بننے دیا گیا تھا۔ انھوں نے سپریم کورٹ سے استعفا دے دیا تھا۔ ۱۹۸۲ءکے صدارتی انتخابات میں گیانی ذیل سنگھ کے خلاف وہ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار تھے۔ جسٹس سنجیو کھنہ مئی ۲۰۲۵ءکو چیف جسٹس بن جائیں گے۔
اس بینچ کے چوتھے جج بھوشن رام کرشن گاوائی ہیں۔ وہ اس وقت سپریم کورٹ کے واحد دلت جج ہیں۔وہ مئی ۲۰۲۵ء چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے۔ ۲۰۱۰ء میں جسٹس بالا کرشنن کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پہلے دلت چیف جسٹس اور بھارت کی تاریخ میں دوسرے دلت چیف جسٹس ہوں گے۔ فی الوقت بھارتی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے کل ۵۶۹ ججو ں میں صرف ۱۷دلت کمیونٹی سے ، نو درجہ فہرست قبائل سے، ۱۵؍اقلیتی برادریوں سے اور ۶۴دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ بھوشن کے والد آر، ایس گاوائی مہاراشٹرہ کے مشہور دلت رہنما اور ری پبلکن پارٹی کے سربراہ تھے۔ یہ پارٹی بھارت کے معروف دلت لیڈر ڈاکٹر بھیم راو امیبڈکر نے تشکیل دی تھی۔ گاوائی بود ھ مت سے تعلق رکھتے ہیں۔
پانچویں جج جسٹس سوریہ کانت کا تعلق ہریانہ صوبہ سے ہے۔ جج بننے سے قبل وہ قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے خاصے سرگرم رہے ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ میں جج کے عہدے پر رہتے ہوئے بھی انھوں نے جیلوں میں اصلاحات کے نفاذ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ممبئی میں بھارت کے معروف ادارے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز، جو جیلوں کی اصلاحات کے سلسلے میں ورکشاپ کا انعقاد کرتے ہیں۔ ان سے ملاقات اور ان کے لیکچر سننے کا کئی بار موقع ملا ہے۔
۱۵؍ اپریل ۲۰۲۳ءکو خرطوم کے باسیوں کی آنکھ گولیوں کے چلنے اور گولہ باری اور فضائی بمباری کے دھماکوں سے کھلی۔ نیلے اور سفید دریائے نیل کے سنگم پر واقع دارالحکومت خرطوم کے تینوں مرکزی اضلاع کے داخلی راستوں پر سوڈانی فوج اور الدعم السریع (Rapid Force) کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی شروع ہوچکی تھی۔ حکومتی انتظامی دفاتر سے اٹھتے ہوئے دھوئیں کے مرغولے لڑائی کی شدت اور ہولناکی پر دلالت کر رہے تھے ۔
سوڈانی وزیر صحت کے مطابق اس وقت تک اس لڑائی میں ۵ہزارافراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جب کہ ۶ہزار سے زائد شدید زخمی ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ سے زیادہ بچے، مرد اور خواتین، بے گھر اور بے در ہوچکے ہیں۔
یہ مسلح ملیشیا جسے’ریپڈ فورس‘ کا نام دیا گیا تھا، ۲۰۱۳ ءمیں اس وقت قائم کی گئی تھی جب مقتدرہ کو دارفور کے علاقے میں علیحدگی پسند مسلح تحریک کا سامنا تھا ۔مسلح تنظیمیں یکے بعد دیگرے قصبوں اور شہروں پر قبضہ کرتی چلی جارہی تھیں اور اس کھلے صحرائی علاقےاور دُور دراز کے پہاڑی علاقوں میں ا ن کے سامنے سوڈان کی مسلح فوج بے بس تھی ۔خصوصاً اس لیے بھی کہ باقاعدہ فوج کی جنگی تربیت صحرائی جنگ لڑنے کی تھی ہی نہیں اور نہ وہ ایسی جنگ لڑنے کے لیے ضروری اسلحے اور وسائل و نقل و حمل سے لیس تھی۔ عشروں تک یہ فوج جنوبی سوڈان کے جنگلوں میں جنگ لڑتی آئی تھی۔ اس کی تربیت اور اس کے لیے اسلحہ بھی اسی نوعیت کی جنگ لڑنے کے لیے فراہم کیا گیا تھا ۔ دوسری طرف دارفور کے علیحدگی پسندوں کا اصل ہتھیار ان کی تیز ترین نقل و حرکت ،گوریلا جنگی چالیں، ’فور بائی فور گاڑیاں‘ اور ان پر نصب مشین گنیں تھیں، جن کا مقابلہ سوڈان کی باقاعدہ فوج اور اس کے بھاری بھرکم اسلحے کے بس میں نہیں تھا ۔
لہٰذا، فوج کے منصوبہ سازوں نے اس کا حل یہ سوچا کہ دارفور کے علاقے میں موجود قبائلی جنگجوؤں کو منظم اور مسلح کیا جائے ۔علیحدگی پسندوں کے مقابل انھیں بھی ویسی ہی ’فور بائی فور گاڑیاں‘ اور ہلکی مشین گنیں اور آٹومیٹک رائفلیں دی جائیں اور انھیں تربیت دی جائے تاکہ یہ دشمن کا مقابلہ اسی چابک دستی سے کرسکیں ۔اس مقصد کے لیے علاقے کے ان عرب جنگجو قبائل کے افراد کو منظم کیا گیا جو پہلے ہی خانہ جنگی اور علیحدگی پسندوں کے ہاتھوں ستائے ہوئے اور انتقام کی آگ میں سُلگ رہے تھے ۔عوامی زبان میں ان کا نام ’جنجوید‘ تھا یعنی گھڑسوار سپاہی۔ جلدہی علاقے میں ان جنگجو سپاہیوں کی دھاک بیٹھ گئی اور انھیں یکے بعد دیگرے کامیابیاں ملنے لگیں،بہت سے علاقے جو باغیوں کے زیر تسلط تھے یکے بعد دیگرے وا گزار ہونے لگے۔تاہم، اس ساری کارروائی میں باقاعدہ فوجی ڈسپلن کا نہ صرف فقدان تھا بلکہ طاقت کے استعمال میں حد سے تجاوز ہی اس فورس کا طرۂ امتیاز تھا۔’جنجوید‘ پر تسلسل کے ساتھ انسانیت کے خلاف جرائم ،قتل عام اور نسل کشی جیسے الزامات لگتے رہے ۔
دوسری طرف خرطوم کے فیصلہ ساز اپنے فیصلے کی اصابت پر داد و تحسین وصول کرنے میں لگے ہوئے تھے اور نتائج و عواقب سے بے نیاز ہوکر اس ریپڈ فورس کے لیے ریاست کے بجٹ میں بڑے بڑے وسائل رکھے جارہے تھے۔ اس وقت بھی جہاندیدہ لوگوں نے اس سارے عمل اور اس کے خوف ناک نتائج و عواقب سے یہ کہہ کر خبردار کیا تھا کہ ’’ایک ہی ریاست میں دو فوجیں نہیں ہوسکتیں ‘‘۔لیکن اس رائے کو کوئی وقعت نہیں دی گئی اور ایسے خیالات کے مالک بہت سے افسران کو فارغ کردیا گیا۔
تاہم، اصلاح احوال کی خاطر ۲۰۱۷ء میں سوڈانی پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا، جس کا نام Rapid Forces Act رکھا گیا ۔اس قانون میں صاف لکھا تھا کہ یہ ریپڈ فورس ،سوڈان کی باقاعدہ افواج کے کمانڈر ان چیف کے تابع ہوگی۔ سیکڑوں فو جی افسروں اور ملٹری انتظامیہ کے دیگر ارکان کو ڈیپو ٹیشن پر اس ’جنجوید فور س‘ میں تعینات کیا گیا جنھوں نے انھیں لڑنے کی تربیت بھی دی اور جنگی چالیں بھی سکھائیں۔ تاہم، اس سب کے باوجود مجموعی طور پر اس ملیشیا کا رنگ ڈھنگ قبائلی ہی رہا اور قائد اعلیٰ کی حیثیت سے اس پر گرفت جنرل حمیدتی کی رہی، جن کا تعلق اسی علاقے کے طاقت ور قبیلے دقلو سے ہے۔
۲۰۱۵ءمیں یمن کی خانہ جنگی شروع ہوئی اور محمد بن سلمان نے عرب فوجی اتحاد قائم کیا تو سوڈان کی مسلح افواج کے ساتھ اس ’جنجویدفورس‘ کے سپاہی بھی دادِ شجاعت دینے یمن پہنچے ۔اس طرح بین الاقوامی فرنٹ پر بھی انھیں اپنی لڑنے کی صلاحیت آزمانے ،جنگی تجربہ حاصل کرنے اور اس کے قائد حمیدتی کو بین الاقوامی شخصیات اور اداروں کے ساتھ خصوصی نجی اور ذاتی تعلقات استوار کرنے کا خوب موقع ملا ۔
۲۰۱۸ءکے اختتام پر خرطوم میں مظاہرے پھوٹ پڑے، جن کا اختتام صدر عمر حسن البشیر کے استعفا اور پھر قید کی صورت میں نکلا۔’ریپڈ فورس‘ کے قائد حمیدتی کو اپنا مفاد اسی میں نظر آیا کہ صدر عمر حسن البشیر کی طاقت ور اور تجربہ کار شخصیت ان کے راستے سے ہٹ جائے اور انھیں طالع آزمائی کا موقع مل سکے، لہٰذا انھوں نے اپنا وزن صدر مخالف پلڑے میں ڈال دیا ۔
اگلے ہی سال ۲۰۱۹ء میں مظاہرین ایک بار پھر سڑکوں پر تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ مسلح افواج یکسر سیاسی عمل سے باہر ہو جائیں۔اس بار مظاہرین نے دھرنے کا مقام سوڈانی افواج کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے چنا ۔دھرنا طویل ہوا تو طاقت کے استعمال کا فیصلہ کیاگیا اور جس میں مبینہ طور پر سیکڑوں نوجوان جان سے گئے۔اس قتل عام میں ’جنجوید‘ کے سپاہی پیش پیش تھےاور ان پر ایک بار پھر یہ الزام لگا کہ ’’اس ملیشیا نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے‘‘۔حد یہ ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے بننے والے کمیشن کی رپورٹ کبھی منظر عام پر نہیں آسکی ۔
ریپڈ فورس کی خود سری کا آغاز اس وقت ہوا جب عبوری دور کے لیے حکمران کونسل کے سربراہ اور سوڈانی افواج کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عبد الفتاح برھان نے ریپڈ فورس ایکٹ کی دفعہ ۵ کو منسوخ کرتے ہوئے اسے کسی بھی قانونی مواخذے سے بالاتر قرار دیا۔مقصد یہ تھا کہ اس کے غیر قانونی اقدامات کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔اس استثنا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ریپڈفور س کے قائد حمیدتی نے بہت سے اہم اُمور، جن میں فورس میں نئی بھرتیاں ، نئے اور جدید اسلحے کی خریداری، اپنی فورس اور اپنے لیے مالی وسائل کی فراہمی وغیرہ شامل تھے، ان میں من مانی شروع کردی۔ گذشتہ چار برسوں میں ریپڈ فورس جس کی تعداد صدر عمر حسن البشیر کے دور میں صرف ۲۵ہزار تھی، اس سے چار گنا زیادہ بڑھا کر اس کے سپاہیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ کرلی گئی ہے۔اس فورس کی قائدانہ آسامیوں پر اپنے بھائی بندوں اور اقربا، برادری اور قبیلہ کے افراد سے بھر لیا گیا ہے۔مالی وسائل کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے علاقے میں موجود اور سونے کی کانوں کے لیے مشہور ’جبل عامر‘ پرمکمل قبضہ کرلیا ہے ۔
دوسری طرف جنرل حمیدتی نے اندرون ملک امور سیاست و سیادت میں بھی تیزی کے ساتھ اپنا اثر و نفوذ بڑھایا۔جنرل عمر حسن البشیر کے بعد بننے والی مجلس حاکمہ میں دو بار نائب صدر مقرر کیے گئے ۔مالیات اور فائنانس کی شد بد نہ ہونے کے باوجود وہ کابینہ کی مالیاتی کمیٹی کے صدر بنے اور طرفہ تماشا یہ تھا کہ نامزد وزیر اعظم جو کہ سوڈان کے معروف معیشت دان ہیں، عبداللہ حمدوک کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی اس کمیٹی میں نائب کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حمیدتی کا شروع سے ہی ارادہ قومی ذرائع اور وسائل دولت و ثروت پر قبضہ جمانا اور اسے اپنے ذاتی تصرف اور اختیار و نفوذ میں اضافے کے لیے استعمال کرنا تھا۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں تواتر کے ساتھ یہ امر رپورٹ ہوتا رہا ہے کہ سوڈانی سونا خلیجی ملک متحدہ عرب امارات اور اسی طرح روس میں بھی بلاروک ٹوک اور بڑی مقدار میں فروخت کیا جاتا رہا ہے ۔
یہ بالکل درست بات ہے کہ ’’وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا‘‘۔ سوڈان کے معاملے میں بھی حالیہ خانہ جنگی کے اسباب کو برسوں نشوونما پانے کا موقع ملا اور آخرکار ۱۵؍ اپریل ۲۰۲۳ء کو وہ تاریک ایام شروع ہوئے، جن کے گہرے سایوں نے سوڈان اور سوڈانی قوم کے ترقی و خوش حالی اور امن و استحکام اور اس خطے کے لیے رول ماڈل بننے کے سارے خوابوں کو گہنا دیا ۔
مارچ ۱۹۹۴ء جنیوا میں تنظیم اسلامی کانفرنس نے جموں و کشمیر میں ابتر ہوتی انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے ’اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن‘ (جو اب ’کونسل‘ کہلاتا ہے) میں ایک مشترکہ قرار داد پیش کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے طے کیا تھا کہ کمیشن سے منظور ی کے بعد اس پر سلامتی کونسل میں بحث کرائی جائے اور اقوام متحدہ کی طرف سے بھار ت پر اقتصادی اور دیگر پابندیاں عائد کرائی جائیں۔
بھارت کا قریبی دوست اور ویٹو کی طاقت رکھنے والا ملک اشتراکی روس (USSR: سوویت یونین) تمام انسانی ضابطوں کو روندتا ہوا، بھارت کے دفاع میں ہرحد کو پھلانگتا تھا اور جو اس کی حمایت میں مسلسل ویٹو کرتا تھا۔ لیکن جب دسمبر۱۹۹۱ء میں اشتراکی روس ٹوٹ گیا تو روس کے نئے صدر بورس یلسن مغرب سے مدد کے طلب گار تھے۔ دراصل بھارتی قیادت کو خدشہ تھا کہ ماضی کی طرح اب کی بار سلامتی کونسل میں روس اس کی مدد کرنے سے قاصر ہوگا۔ اس دوران بھارتی وزیراعظم نرسمہا راؤ (م:۲۰۰۴ء)نے رات کی تاریکی میں اپنے علیل وزیر خارجہ دنیش سنگھ کے ہاتھ ایرانی صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی (م: ۲۰۱۷ء)کے نام ایک پیغام بھیجا، جس سے پوری بازی پلٹ گئی۔ یہ تفصیل تو ابھی تک معلوم نہیں ہوئی کہ راؤ نے ایران کو کیا درس دیا؟ لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ ایران نے اس قرارداد کی حمایت سے دستبردار ہوکرمشکل وقت میں بھارت کو خاصا سہارا دیا۔
اس بحران سے نکلنے کے لیے بھارت نے بین الاقوامی برادری کے سامنے دو وعدے کیے، جن میں: ایک قومی سطح پر اعلیٰ اختیار والے انسانی حقوق کے کمیشن کا قیام، دوسرا بین الاقوامی ریڈ کراس کو نئی دہلی اور سرینگر میں دفتر کھولنے کی اجازت ، نیز اس کے عملے کو مختلف جیلوں میں بند کشمیری نظربندو ں سے وقتاً فوقتاً ملاقاتوں کی اجازت دینا شامل تھا۔
لیکن ۲۰۱۴ءکے بعد سے ریڈ کراس کے عملے نے تو کشمیری قیدیوں کی خیریت معلوم کرنے کے لیے جیلوں میں جانا ہی بند کردیا ہے۔ وہ اپنے اس عمل یا فیصلے کے سلسلے میں آج تک کوئی وضاحت بھی پیش نہیں کر رہے ہیں۔ اگر معاہدہ کی خلاف ورزی کرکے بھارتی حکومت ان کو جیلوں میں جانے سے روک رہی تھی یا روک رہی ہے، تو اسے آن ریکارڈ لانے میں کیا رکاوٹ درپیش ہے؟ ریڈکراس کے نمایندوں کے جیلوں میں جانے سے بے نوا قیدیوں کو راحت ملتی تھی کہ دُنیا میں کوئی تو ہے جو اُن کے بارے میں فکرمند ہوکر اُن کے دُکھ درد کو دوسروں کے سامنے پیش کرے گا۔ خاص طور پر جو افراد دُور دراز کی جیلوں میں قید کیے جاتے ہیں اور جہاں ان کے رشتہ داروں کے لیے پہنچنا مشکل ہوتا تھا،یہ ریڈ کراس کا عملہ ہی خیرخبر پہنچانے کا ذریعہ ہوتا تھا۔ ان کی وجہ سے قیدیوں کی صحت وغیر ہ کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سفارتی سطح پر جنیوا میں موجود ان کے صدر دفتر سے اس بار ے میں باز پُرس کی جاتی؟
بتایا جاتا ہے کہ نرسمہماراؤ کی کابینہ میںوزیر وٹھل نارائین گاڈگل (جو بعد میں کانگریس پارٹی کے طویل عرصے تک ترجمان بھی رہے) نے ہی ’قومی انسانی حقوق کمیشن‘ تشکیل دینے کی تجویز دی تھی اور وزیراعظم راؤ کو یہ تجویز پسند آگئی۔اس کمیشن کے قیام کے قانون پر بحث کا جواب دیتے ہوئے اس وقت کے وزیر داخلہ شنکر راؤ چوان نے بتایا تھا:’’ یہ کمیشن کسی بھی قسم کی بین الاقوامی جانچ پڑتال کے خلاف بفر کے طور پر کام کرے گا اور حکومت کی لا اینڈ آرڈر مشینری کو متاثر نہیںکرے گا‘‘۔ اس سے بھارت کو یقیناً خاصا فائدہ پہنچا۔
جب بھی کسی عالمی فورم پر بھارت میں انسانی حقوق کی بُری صورتِ حال کا معاملہ اٹھتا ہے، تو مندوبین کے سامنے ایک ہی دفاعی موقف پیش کیا جاتا ہے کہ: ’’انڈیا کے پاس ملک میں ہی حقوق انسانی کی دیکھ بھال کے لیے ایک مضبوط نظامِ کار (میکانز م) موجود ہے‘‘۔مگر حال ہی میں اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے نے بھارت کے اس کمیشن کو درجہ اوّل کی ایکریڈیٹیشن دینے سے انکار کر دیا۔ اقوام متحدہ کی گلوبل الائنس آف نیشنل ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوشنز ، جس کا بھارت بھی ممبر ہے، کا کہنا ہے:’’انسانی حقوق کا یہ کمیشن غیرفعال ہوچکا ہے‘‘۔ دراصل بھارت کی کئی غیر سرکاری تنظیموں نے ہی اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے کی توجہ اس طرف دلائی کہ یہ کمیشن خاموش تماشائی بن کر بیٹھا ہوا ہے۔
’قومی انسانی حقوق کمیشن‘ کاوجود کشمیر کی وجہ سے عمل میں آیا تھا، مگر شاید ہی اس نے کبھی کشمیر کے بارے میں کسی شکایت یا کیس کی شنوائی کی ہو۔ تاہم، دیگر ایشوز پر اس نے کئی بار خاصی فعالیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ۲۰۰۲ء کے گجرات کے مسلم کش فسادات میںملوث افراد کو سزا دلوانے کے لیے اس کمیشن نے خود فریق بن کر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ چونکہ اس کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کا سابق چیف جسٹس ہوتا ہے، اس لیے اس کی آواز میں وزن بھی ہوتا ہے۔ مگر گجرات کے شاید واحد ایسے فسادات تھے، جہاں ملزموں کو عدالت نے سزائیں دیں، اور اس پیش قدمی کا کریڈٹ قومی حقوق انسانی کمیشن کو جاتاہے ۔
تاہم، بھارت میں جہاں دیگر اداروں کو زوال آگیا ہے ، وہیں یہ ادارہ بھی سخت زوال کا شکار ہے۔ اس کے موجودہ سربراہ اور ممبران کو دیکھ کر یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کی سانس روکی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ارون کمار مشرا اس کے سربراہ ہیں۔ یہ وہی چیف جسٹس ہیں، جن کی جانب داری کے خلاف سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججوں کو پریس کانفرنس کرنی پڑی تھی۔ اس کے دیگر ممبران وزارت خارجہ کے سابق افسر دھنونشور منوہر مولے اور انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ راجیو جین ہیں۔
’ساؤتھ ایشیا ہیومن رائٹس ڈاکومنٹیشن سینٹر‘ (SAHRDC)کے سربراہ روی نیّر کے مطابق: ’’نہ صرف ممبران ، بلکہ کمیشن کا عملہ بھی انٹیلی جنس بیورو (IB) اور خارجی خفیہ ادارہ ’را‘ (RAW)سے ڈیپوٹیشن پر منگوایا جاتا ہے‘‘۔ ان کا کہنا ہے: ’’اس وقت آئی بی کا ایک سابق اسپیشل ڈائریکٹر کمیشن کے تفتیشی سیل کا سربراہ ہے۔ اس کے علاوہ دو اور افسران کا تعلق بھی خفیہ اداروں سے ہے‘‘۔ جب انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے اکثر کیس ہی حکومت ، پولیس اور خفیہ اداروں کے خلاف آتے ہوں، تو یہ اسٹاف اور ممبران بھلا کس حد تک انصاف کر تے ہوں گے؟
۲۰۱۹ء میں، انڈین حکومت نے تقرریوں کے معیار میں ردوبدل کرتے ہوئے سول سوسائٹی سے مشاورت کے بغیر انسانی حقوق کے تحفظ کے ایکٹ میں ترمیم کی۔ ترامیم سے پہلے، قانون کا تقاضا تھا کہ کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کا سابق چیف جسٹس ہو،جب کہ دیگر چارممبران سپریم کورٹ کے موجودہ یا سابق جج، ہائی کورٹ کے موجودہ یا سابق چیف جسٹس ہوں اور دو ممبران کو انسانی حقوق سے متعلق معاملات کا علم، یا عملی تجربہ ہونا چاہیے۔
اس ترمیم میں یہ کہا گیا کہ ’’کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کا کوئی بھی سابق جج ہو سکتا ہے،اور دیگر ممبران کے بارے میں بھی حکومت کو اختیار دیا گیا‘‘۔ دوسری طرف کمیشن کے فیصلہ ساز ادارے میں ایک سابق اعلیٰ انٹیلی جنس اور سیکورٹی اہلکار کا تقرر واضح طور پر بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے ۔ راجیو جین کا تقرر انٹیلی جنس بیورو میں ان کی مدت کار کے دوران مختلف کارروائیوں کی وجہ سے بھی تشویش کا باعث ہے۔ ان کا کارنامہ یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے دور میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کو نشانہ بنایا گیااور ان میں سے کچھ پر مسلح گروپوں کی پشت پناہی کا خانہ زاد الزام لگایا گیا۔ تنظیموں پر غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنے کے الزامات عائد کرکے قدغن لگائی گئی۔
روی نیّر کا کہنا ہے کہ ’’اس پورے کمیشن کاڈھانچا ابتدا سے ہی غلط تھا۔ اس کو ایک آزاد ادارے کے بجائے وزارت داخلہ کے تحت رکھا گیا تھا۔ اس طرح یہ ادارہ بین الاقوامی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ مگر اب عالمی ایجنسیوں کو اس کی کارگزاری کا ادراک ہوچکا ہے۔ یہ معاملہ عالمی سطح پر بھارت کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہا ہے۔مگر مغرب کی بدلی ترجیحات کی وجہ سے ان کی حکومتوں نے بھارت کے حوالے سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
۱۹۹۴ءسے دریائے جہلم میں پانی کے ساتھ اب مظلوم انسانوں کا کافی خون بھی بہہ چکا ہے۔ سیاست دانوں کی دھوکے بازیوں اور کرشمہ سازیوں نے کشمیری عوام کو اندھیر نگری میں دھکیلنے میں کردار ادا تو کیا ہی تھا، کہ انسانی حقوق کمیشن ا ور بین الاقوامی ریڈ کراس بھی اپنے وعدوں کو نبھا نہ سکے۔
ہمیں پہلے ہی سے اندازہ تھا کہ بھارت کی جانب سے ایک خاص لائن لی جا رہی ہے اور اس کا ایک بہت واضح ثبوت بھارتی حکومت کی جانب سے ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو کشمیرکا سٹیٹس تبدیل کرنا تھا۔ اس وقت حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا کہ ہم نے بھارت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو ڈائون گریڈ کرنا ہے، ہائی کمشنر وہاں نہیں بھجوانا ہے اور تجارت نہیں کرنی ہے۔ حکومت اور وزارتِ خارجہ کی اس پالیسی کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ، انڈین کارندے اجیت دوول کے ساتھ بات چیت کرتی رہی۔ اس کے نتیجے میں ہی ۲۵ فروری ۲۰۲۱ء کو فوجی کمانڈروں کی سطح پر اچانک فائر بندی معاہدہ سامنے آیا ۔ میری نظر میں فائر بندی کا یہ معاہدہ اس وقت جن حالات میں کیا گیا، اس کے لیے وہ ہرگز مناسب وقت نہ تھا۔یہ تجویز ہم نے ۲۰۱۵ء میں پیش کی تھی اور اس تجویز کو پیش کرنے کے بعد اجیت دوول سے میری ملاقات بھی ہوئی تھی اور اُس وقت انھوں نے یہ تجویز رد کردی تھی۔
ہمیں یہ سوچنا چاہیے تھا کہ ۲۰۱۵ء میں جس تجویز کو انھوں نے رَد کر دیا تھا ۲۰۲۱ء میں اس پر عمل درآمد کر رہے ہیں تو آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی ایک واضح وجہ یہ تھی کہ ۲۰۲۱ء میں بھارت، لداخ میں چین کے ساتھ بُری طرح اُلجھ چکا تھا اور مسلسل ہزیمت اُٹھا رہا تھا، اور سخت دبائو میں تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی طرح پاکستان سے متصل دوسرے محاذ پر بھی کشیدہ صورتِ حال پیدا ہو۔ امرواقعہ ہے کہ ایک لحاظ سے ہماری جانب سے بھی چین کو غلط تاثر بھیجا گیا۔ یوں بھارت، ہمارے تعلقات میں غلط فہمی پیدا کرنے اور اپنے اُوپر سے دبائو کم کرنے میں کامیاب رہا۔ معلوم نہیں، اسٹیبلشمنٹ نے اس سے فائدہ ملک کو کیسے پہنچایا؟
اب جو باتیں ہو رہی ہیں کہ کشمیر کو ۲۰ سال کے لیے فریز کر دینا چاہیے وغیرہ۔ اس سے نہ صرف یہ کہ ہماری کشمیر ڈپلومیسی کمزور ہوئی بلکہ دنیا بھر میں ہماری کریڈ بیلٹی بھی متاثر ہوئی۔ اب جب ہم دنیا میں کشمیر پر بات کرتے ہیں تو ہماری بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا ۔
کہا جاتا ہے کہ یہ عمل نواز شریف کے دور میں شروع ہو چکا تھا، جب انھوں نے نئی دہلی میں حُریت کانفرنس کے لیڈروں سے ملاقات نہیں کی تھی۔ ان کے دور میں ہی ۱۰ جولائی ۲۰۱۵ء کو ’اوفا معاہدہ‘ ہوا تھا، جس میں کشمیر کا ذکر تک نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد بھی نواز صاحب کی یہ خواہش تھی کہ دوطرفہ تعلقات کو بڑھایا جائے، لیکن اُس وقت کی ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا خیال تھا کہ ہمیں یک طرفہ کوئی چیز نہیں کرنی چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں بھارت کے ساتھ تعلقات میں ’برف پگھلانے‘ والی بے معنی باتوں پر وقت ضائع کرنے کے بجائے ٹھوس بنیادوں پر مسئلۂ کشمیر ہی کو عالمی سطح پر طے شدہ اُمور کے مطابق حل کرنے کی بات چیت کرنی چاہیے۔
کشمیر کا تنازع بہت پیچیدہ ہو گیا ہے ۔ اب اس کے لیے ضروری ہے کہ اگر ہمیں بات چیت کا عمل شروع کرنا ہے ، خواہ وہ فرنٹ چینل پر ہو یا بیک ڈور چینل پر، اس میں صرف اور صرف کشمیر کا مسئلہ زیر بحث آنا چاہیے ۔ اگر بھارت واقعی سنجیدہ ہے تو مذاکرات کا آغاز کشمیر سے ہونا چاہیے ۔ مثال کے طور پر ۲۰۰۵ء اور ۲۰۰۷ء کی پالیسی کے تحت کشمیر سے تجارت اور سیاحت کے تعلق کو بحال کیا جائے، حُریت لیڈر شپ کو رہا کریں۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو بھارت کو لینے چاہییں یا ہمارے مذاکرات کے نتیجے میں فوری طور پر لینے چاہییں۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں وزیر خارجہ شرکت کے لیے ترجیحاً گئے، جب کہ سمر قند میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے لیے نہیں گئے۔ حالانکہ افغانستان ہمارے لیے زیادہ اہم ہے۔ اگر وزیر خارجہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ایک اجلاس میں شرکت نہ کرتے تو اس سے کوئی قیامت نہ آ جاتی۔ اگر اس اجلاس میں شرکت بھی کرنا تھی تو ہمارے لیے اس موقعے پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی ضرورت تھی کہ یہ مسئلہ ہمارے لیے کتنا اہم ہے۔ بہتر تھا کہ ہم اپنی شرکت کو ڈائون گریڈ کر دیتے اور منسٹر آف سٹیٹ کو بھجوادیتے۔ اُمید ہے کہ جولائی میں جو کانفرنس منعقد ہونے والی ہے، اس میں ہمارے وزیر اعظم شرکت نہیںکریں گے اور وزیر خارجہ کو بھجوایا جائے گا۔
یوں محسوس ہوتاہے کہ ہماری کشمیر پالیسی ابہام سے دوچار ہے یا پھر واضح طور پر ہم امریکا کی طرف مائل ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ’شنگھائی تعاون تنظیم‘ کے اس اجلاس میں شرکت بھی امریکی دبائو کی وجہ سے ہی کی گئی ہے۔ حکومت ابھی یہ سوچ رہی تھی کہ بھارت سے مذاکرات کے لیے پیش کش کی جائے یا نہیں ؟ لیکن وزیر خارجہ کی خواہش تھی جس کا انھوں نے گذشتہ برس جون میں اپنی گفتگو میں اظہار بھی کر دیا تھا کہ ’’بھارت سے ہمارے تعلقات استوار ہونے چاہییں اور ہمیں نقصان ہو رہا ہے ‘‘۔ یقینا امریکا کا دبائو ہے کہ ہم بھارت سے اپنے تعلقات ٹھیک کریں اور وہ چاہتا ہے کہ ہم چین سے بھی کچھ فاصلہ پیدا کریں ۔ ایران او ر سعودی عرب کے سفارتی تعلقات بحال ہونے سے امریکا اور اسرائیل کو تشویش لاحق ہے۔ فیفا عالمی فٹ بال کپ میں قطر حکومت نے آٹھ بھارتی جاسوس پکڑے ہیں جو کہ ریٹائرڈ نیوی افسر تھے اور موساد کے لیے کام کر رہے تھے ۔ قطر میں اٹلی کے تعاون سے سب میرین بن رہی ہیں۔ ان چیزوں کو نظر میں رکھتے ہوئے ہمیں اپنا مستقبل بینی پر مبنی وژن واضح رکھنا چاہیے۔
۱۴ جنوری ۲۰۲۲ء کی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں تیار کردہ پاکستان کی قومی سکیورٹی پالیسی پیش کی گئی تھی، جس میں بہت سے بنیادی تضادات تھے۔ واضح طور پر محسوس ہورہا تھا کہ یہ امریکی اثرات کے تحت بنائی گئی ہے ۔ یہ ان لوگوں نے بنائی تھی جو خاص طور اس ایجنڈے کے لیے لائے گئے تھے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم اس کیمپ میں شامل نہیں ہوں گے یا ہم نیوٹرل ہیں، تو یہ باتیں سفارت کاری کی باتیں نہیں ہوتی ہیں۔ آپ کسی کیمپ میں شامل نہ ہوں لیکن اس کا اظہار نہیں کیا جاتا ۔ کیا آپ نے کبھی بھارت سے اس قسم کی لفاظی سنی ہے جس کا ہم اظہار کرتے رہتے ہیں؟
چین سے ہمارے تعلقات خراب کرنے کے لیے ایک عرصے سے کوششیں ہورہی ہیں۔ چین کو ہم سے کچھ شکایات بھی ہیں ، مثلاً ایک طرف سی پیک اور دوسری جانب ہمارا امریکا کی طرف جھکائو کچھ زیادہ لگ رہا ہے ۔ ہمارے وزیر خارجہ تقریباًپانچ مرتبہ امریکا سے ہو آئے ہیں اور اس دوران صرف ایک مرتبہ ان کی انٹنی بیکر سے ملاقات ہوسکی، جب کہ باقی اسفار میں وہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے چھوٹے چھوٹے افسروں سے مل کر آگئے۔ اس سے ہماری ریاست کی مزید تحقیر ہوئی ہے۔ یہ بڑی شرمندگی کی صورتِ حال ہے کہ آپ واشنگٹن میں موجود ہیں، مگر آپ کو ڈپٹی سیکرٹری آف سٹیٹ بھی نہیں ملتی اور آپ ایک کونسلر کی سطح کے افسر سے مل کر آ جاتے ہیں۔
پھر بیرونی دُنیا میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ ’ہم کشمیر کو بھلا چکے ہیں اور کشمیر پالیسی میں بنیادی تبدیلی آچکی ہے ، اگرچہ اس کااظہار نہیں کیا جاتا‘۔ تاہم، میرے نزدیک ایسا نہیں ہے کہ ہم کشمیر پالیسی کو بدل چکے ہیں، البتہ کوششیں جاری ہیں کہ کسی طریقے سے کشمیر کو پس پشت ڈال کر بھارت کے ساتھ باقی بہت سے اُمور پر معاملات کا عمل شروع ہو جائے ۔ پچھلے ۷۵سال سے کشمیر پر ہمارے قومی موقف کے حوالے سے کسی بھی حکومت یا کسی ایک فرد کے اختیار میں نہیں ہے کہ قومی کشمیر پالیسی کو تبدیل کردے۔
البتہ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ہم نے عملی سطح پر کشمیر کو کئی حوالوں سے بھلا دیا ہے ۔ کشمیر پالیسی میں پسپائی نظر آتی ہے اور تسلسل نہیں پایا جاتا۔ اس لیے جب ہم کشمیر پر بات کرتے ہیں تو لوگ ہماری بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ۔
پی ڈی ایم حکومت کے تحت کشمیر پارلیمنٹری کمیٹی کا چیئرمین کون ہے؟ اس کا نام شاید لوگوں کو معلوم نہ ہو۔ ایک ایسے شخص کو کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا ہے جس کا کوئی سٹیٹس ہی نہیں ہے۔ماضی میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین نواب زادہ نصراللہ خاں تھے، جو ایک نامور سیاست دان تھے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے خود اس مسئلے کو ڈائون گریڈ کر کے رکھ دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جموں وکشمیر پر اپنے قومی موقف اور نقطۂ نظر کو مؤثر انداز میں پیش کیا جائے۔ ہمارے اس نیم دلانہ رویے سے خود اہلِ کشمیر کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔
کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کچھ عرصہ کے لیے منجمد کرکے چین، افغانستان، وسطی ایشیا اور بھارت کے درمیان پاکستان کو ایک کوریڈور بنا دیا جائے۔ اس طرح سے ہم بہت سے معاشی مفادات حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن حقائق کی دُنیا میں یہ ایک ناقابلِ عمل تجویز ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی بے اعتمادی اس قدر زیادہ ہے کہ اس قسم کی تجاویز پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔ ہم تو بذریعہ سڑک بطور راہداری، انسانی بنیادوں پر امداد بھی نہیں بھجواسکتے کہ کوئی حادثہ پیش آ جائے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ اس قسم کے کام وہاں ہو سکتے ہیں جب دو طرفہ تعلقات مستحکم بنیادوں پر استوار ہوں اور باہمی اعتماد پایا جاتا ہو۔
کسی ملک کی خارجہ پالیسی، اس کے نظریاتی، جغرافیائی، اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی تقاضوں کی مجسم صورت ہوتی ہے، جو اس کے قومی مفادات کی حفاظت کرتی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد اپنے تزویراتی (اسٹرے ٹیجک) اہداف کا تحفظ اور دفاع کرنا ہے اور سب سے بڑھ کر، اس بدلتی ہوئی گلوبلائزڈ دنیا میں، پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اسٹرے ٹیجک خودمختاری کے تصور کو اپنانے کی پُرجوش خواہش ہے۔ یہ خواہش اور اُمنگ کسی ریاست کی صلاحیت کو اپنے قومی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرنے اور اپنی ترجیحی خارجہ پالیسی کو اپنانے کی دلیل ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے برعکس پاکستان دیگر غیر ملکی ریاستوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا دکھائی دیتا ہے۔
نظریاتی طور پر، خارجہ پالیسی کی حکمت عملی کا تعین اس ملک کے اہل حل و عقد کے انتخاب کا جوہر ہوتا ہے۔ اس تناظر میں خارجہ پالیسی کی حکمت عملی کا انتخاب بین الاقوامی نظام کے تناظر میں کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کی بدلتی ہوئی حرکیات کو سامنے رکھیں تو پاکستان کی خارجہ پالیسی ان اہم بنیادوں (پیرامیٹرز)پر مرکوز ہے: نظریہ، سلامتی، ڈیٹرنس، امن، جغرافیائی سیاست، اقتصادیات، تجارت اور موسمیاتی سفارت کاری۔ تاہم، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنا ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔
سات عشروں سے، کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سنگ بنیاد ہے۔ ہمارے سویلین اور فوجی اداروں نے کشمیری عوام کی آزادی اور حق خودارادیت کی حمایت کے غیر متزلزل عزم کو قومی میثاق (چارٹر) کا درجہ دیا ہے۔ جموں و کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا کلیدی ستون رہے گا۔ ماضی کی تمام حکومتوں کی طرح، موجودہ حکومت پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے حصول تک کشمیری عوام کی بلاامتیاز اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔
بلاشبہہ خارجہ پالیسی اور سلامتی کا ستون دوسرے ستونوں کے ساتھ پوری قوت سے کھڑا ہے تاکہ ہمارے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک جامع اور مربوط نقطۂ نظر کو آگے بڑھایا جاسکے۔ پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی (NSP) میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ’’روایتی اور غیر روایتی خطرات اور مواقع مل کر مجموعی قومی سلامتی کو متاثر کرتے ہیں‘‘۔ اس ضمن میں باضابطہ طور پر معاشی سلامتی کو قومی سلامتی کا مرکز قرار دینا ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے ملک کو معاشی استحکام حاصل کرنے میں مدد ملے گی، جس کے حصول کے لیے وہ طویل عرصے سے کوشاں ہے۔
پاکستان عالمی طاقتوں بالخصوص امریکا، چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کا پرجوش حامی نظر آتا ہے۔ ہمیں عالمی طاقتوں کی مخالفت کے بجائے ان کو زیادہ سے زیادہ حمایتی بنانا ہوگا۔ اس تناظر میں اسلام آباد کو بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان کسی سرد جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ چین کے ساتھ ہمارے تزویراتی تعلقات کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کے باوجود، پاکستان چین، امریکا اور روس کے ساتھ دوطرفہ دوستی کے قابل عمل اور پائیدار رشتوں کو جوڑنے کی عملی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ’پاکستان روس تیل معاہدے‘ کے حوالے سے امریکا کی جانب سے کسی قسم کے تحفظات کا نہ ہونا اچھی علامت ہے۔ گلوبلائزڈ دنیا کے اس دور میں، پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے تصور سے جڑا ہوا ہے جس کی بنیاد اسٹرے ٹیجک خود مختاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپی کلب (EUC) میں GSP+ جوں کی توں صورتِ حال کو بحال کرنا پالیسی کی ترجیحی لائن ہے۔ اسی طرح عرب لیگ کے بیش تر رکن ممالک کے ساتھ بھی پاکستان کے وسیع ثقافتی اور دفاعی تعلقات ہیں، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ وسیع تجارتی تعلقات ہیں۔
۲۰۲۱ء میں، چین اور پاکستان نے اپنے دوطرفہ تعلقات کے ۷۰سال مکمل کر لیے۔ ایک وژن اور آئیڈیلزم ان تعلقات میں گہرے رشتے کی رہنمائی کرتا ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف باہمی مفادات میں ایک دوسرے کے ساتھ عملی یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ اس شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی بھرپور خواہش بھی رکھتے ہیں۔ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو اپنی خارجہ پالیسی کا سنگ بنیاد سمجھتا ہے،جب کہ چین پاکستان کو قابلِ اعتماد بھائی کہتا ہے۔ ’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘ درحقیقت علاقائی رابطے کا فریم ورک ہے۔ ’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘ سے نہ صرف چین اور پاکستان کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ایران، افغانستان، بھارت، وسطی ایشیائی جمہوریہ اور خطے پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اسٹرے ٹیجک استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے، پاکستان نے کم از کم ڈیٹرنس کی پالیسی اپنائے رکھی جسے بعدازاں ۲۰۰۱ء میں انڈیا کے ’کولڈ سٹارٹ نظریے‘ کی وجہ سے مکمل اسپیکٹرم ڈیٹرنس میں تبدیل کر دیا گیا۔ یوں پاکستان کی جوہری حکمت عملی، جنوبی ایشیائی خطے میں تزویراتی عدم استحکام کا مقابلہ کرنے پر مرکوز ہے۔ اگرچہ نسل پرست نریندرا مودی کی خارجہ پالیسی خطے میں اسٹرے ٹیجک امن کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہے، لیکن پاکستان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن کو فروغ دینے پر یقین رکھتا ہے۔ اس وقت پاکستان، عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے میں مصروف ہے، لیکن یہ ادارے ایک بے رُخی کا رویہ اپناتے نظر آرہے ہیں۔
’سندھ طاس معاہدے‘ (IWT )میں طے شدہ شرائط کو برقرار رکھنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی نمایاں ترین ضرورت ہے۔ لیکن ’سندھ طاس معاہدے‘ کے مقابلے میں تسلط پسندانہ اور غیر قانونی بھارتی پالیسی جس میں بھارت کی بدتہذیبی اور انسانیت دشمنی بھی شامل ہے، بھارت اور پاکستان کے متنازعہ تعلقات کا سبب بنی ہے۔
اس حقیقت کے باوجود کہ اگست ۲۰۲۱ء میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد، پاکستان کو افغانستان میں دہشت گردوں کی جانب سے مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ پُرامن تعلقات برقرار رکھنا پاکستان کی حکومت کی ترجیح رہی ہے اور پاکستان، طالبان کے ساتھ اعتماد پیدا کرنے کی توقع رکھتا ہے۔