بنگلہ دیش میں ۵؍اگست کے ’طلبہ انقلاب‘ نے بنگلہ دیش پاکستان تعلقات کے معاملے کو دونوں ممالک کے درمیان بلندی پر پہنچا دیا ہے۔ یہ انقلاب اپنی نظریاتی، ملّی اور قومی بنیادوں پر بنگلہ دیش، پاکستان اور اُمت مسلمہ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ صرف پندرہ روز کے اندر اندر پورے بنگلہ دیش کے طول و عرض میں زبردست بیداری اور مزاحمت کے بہائو کا مشاہدہ کیا جائے، تو یہ حقیقت بہت نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے کہ یہ واقعہ خطے میں ہندوستانی بگٹٹ تسلط پسندی کو چیلنج کرنے کا عوامی اظہار ہے، جس کے پیچھے پڑھی لکھی نوجوان نسل پُرعزم کھڑی ہے۔
تاریخی اُمور کے ساتھ ساتھ یہاں پر چند اہم حالیہ واقعات و معاملات پیش ہیں:
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا: عوامی لیگ کی باقیات کی جانب سے واویلا ایک بے معنی اور فضول حرکت ہے۔ شیخ حسینہ نے ۱۵ برس کی فسطائی حکمرانی میں ملک، قوم، اداروں اور اپنی پارٹی عوامی لیگ کو برباد کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک سے فرار کے بعد ان کی پارٹی میں کوئی شخص ایسا نظر نہیں آتا جو پارٹی کو سنبھال سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوامی لیگ سرے سے کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے بلکہ مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ ہے، جس کا جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام سے کوئی دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے سرکردہ اور بزرگ رہنمائوں کو جھوٹے مقدموں میں ملوث کرکے، انصاف کا خون کیا گیا، پھانسیاں دی گئیں، کئی رہنمائوں کو قید کے دوران موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا، درجنوں کو لاپتا کردیا گیا اور ہزاروں کو قید رکھا گیا ہے۔ پھر غصے میں آکر جماعت پر کئی پابندیاں بھی عائد کردیں۔ بنگلہ دیش کے غیرت مند شہری، جماعت اسلامی کا احترام کرتے ہیں۔ ۱۵برس کے مسلسل جبر کے باوجود شیخ حسینہ حکومت، جماعت اسلامی کو تباہ نہیں کرسکی، جس پر ہم اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر اس مالک و خالق کے حضور سجدئہ شکر ادا کرتے ہیں۔(ایضاً)
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا: ’’عوامی لیگ کی انسانیت کش حکمرانی کے دوران اختلاف کرنے والے دانش وروں، وکیلوں اساتذہ اور صحافیوں کو غائب، قید اور قتل کرنے سے بھی اجتناب نہیں برتا گیا۔ افسوس کہ وکلا کے ایک طبقے نے عدل کے قتل میں قاتل حکومت کا مسلسل ساتھ دیا۔ حکومتی آلہ کاروں نے سارا پیسہ بیرونِ ملک اسمگل کیا اور اپنی بداعمالیوں کی سزا سے بچنے کے لیے لیگ کے لُوٹ مار کرنے والے ملک سے بھاگ گئے ہیں اور بھاگ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس تحریک کے دوران شہید ہونے والے تمام نوجوان اور شہری قوم کے ہیرو ہیں۔ انھیں قوم ہی کی نسبت سے یاد رکھنا، خدمات کا اعتراف کرنا اور ان کے پسماندگان کی مدد کرنا ہوگی‘‘۔(ایضاً)
۲۲ستمبر کو بنگلہ دیش کے مشہور انگریزی روزنامہ ڈیلی اسٹار ،ڈھاکا نے، جو ایک آزاد خیال، سیکولر اور جماعت اسلامی کا مخالف اخبار ہے، اس نے ووٹرز کے سروے پر مبنی دل چسپ اعداد و شمار شائع کیے ہیں، جن کے مطابق: ’’عام طور پر یہی سمجھا جارہا تھا کہ فسطائی عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد بیگم خالدہ ضیاء کی زیرقیادت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) بھاری اکثریت سے حکومت سنبھال لے گی، مگر حقائق کے مطابق شاید کرسیاں بدل گئی ہیں۔ ۲۹؍اگست سے ۸ستمبر۲۰۲۴ء کے درمیان رائے عامہ کے جائزے سے ووٹروں کے رجحان کا اندازہ سامنے آیا ہے: ۴۶ء۴۴ فی صد حصہ ’فیلڈ سے ۵۱۱۵؍ افراد کے سائنٹفک (sample) سروے پر مبنی ہے۔ ۳۴ فی صد نے کہا کہ آیندہ ’’رائے دہی کے لیے ہم غیریقینی صورتِ حال کا شکار ہیں کہ کس کو ووٹ دیں؟‘‘ جب کہ ۱۰ فی صد نے کہا کہ ’’ہم طلبہ کی قیادت میں سیاسی پارٹی کو ووٹ دیں گے‘‘۔ مگر جب بنگلہ دیش کے تمام ۶۴ اضلاع میں ’آن لائن‘ ۳۵۸۱؍ افراد پر مشتمل سائنٹفک سیمپل سروے کیا گیا تو اُن میں سے ۳۵ فی صد نے کہا: ’’ہم طلبہ کی زیرقیادت پارٹی کو ووٹ دیں گے‘‘ اور ۱۱فی صد نے کہا: ’’ہم فیصلہ نہیں کرسکے کہ کسے ووٹ دیں گے؟‘‘ یاد رہے ابھی تک طلبہ کی زیر قیادت یا اس سوچ کی نمایندہ سیاسی جماعت وجود میں نہیں آئی۔ اس طرح ’فیلڈ سروے‘ کے ۴۴ فی صد اور ’آن لائن‘ کے ۴۶ فی صد ووٹر غیرفیصلہ کن پوزیشن میں ہیں، جب ان سے پوچھا گیا: ’’آپ غیرفیصلہ کن کیوں ہیں؟‘‘ توزیادہ تر نے کہا: ’’ہم ممکنہ اُمیدواروں سے ناواقف ہیں، اور محض پارٹی نشان کو ووٹ نہیں دینا چاہتے‘‘۔
اس سروے کا دل چسپ پہلو ۱۹۹۷ء سے ۲۰۱۲ءکے درمیان پیدا ہونے والی ’زیڈ پود‘ اور اُن سے قبل پیدا ہونے والی ’بزرگ نسل‘ کا طبعی رجحان ہے۔ ’آن لائن‘ سروے میں ’زیڈ پود‘ کے ۳۷ فی صد نے، اور ’بزرگ نسل‘ نے ۳۰ فی صد تعداد میں طلبہ کی سیاسی پارٹی کی حمایت کی۔ دوسری طرف ’آن لائن‘ سروے کے مطابق:۱۹۵۵ء سے ۱۹۶۴ء کے درمیان پیدا ہونے والوں نے ۱۷ فی صد ، ۱۹۸۱ء سے ۱۹۹۶ء کے درمیان پیدا ہونے والوں نے ۲۴ فی صد اور ’زیڈ پود‘کے ۲۷ فی صد ووٹروں نے کہا کہ ’’ہم جماعت اسلامی کو ووٹ دیں گے‘‘۔ ان نتائج کو دیکھ کر ہر کوئی حیران ہے کہ بالکل نوخیز ’زیڈ پود‘ میں جماعت اسلامی کی اتنی پذیرائی کیونکر سامنے آرہی ہے؟ خواتین آبادی کا ۵۱ فی صد ہیں، ان کی آراء دیکھیں تو ان کی بڑی تعداد تاحال ’غیرفیصلہ کن‘ ہے، یا پھر طلبہ کی طرف جھکائو رکھتی ہے۔ دوسرا یہ کہ خواتین میں جماعت کی مقبولیت کا گراف کم تر ہے۔ ’فیلڈ سروے‘ میں خالدہ ضیاء پارٹی کو ۲۱ فی صد ووٹ ملے، جب کہ جماعت اسلامی کو ۱۴ فی صد۔ مگر ’آن لائن‘ سروے کے مطابق خالدہ ضیاء پارٹی کو ۱۰ فی صد اور جماعت اسلامی کو ۲۵ فی صد ووٹ ملے۔ بی این پی ’فیلڈ سروے‘ میں تمام ڈویژنوں میں آگے ہے، لیکن ’آن لائن‘ سروے میں تمام ڈویژنوں میں جماعت اسلامی آگے ہے۔ دونوں سروے میں بی این پی کو ’زیڈ پود‘ کے برعکس ’بزرگ نسل‘ میں برتری حاصل ہے، مگر نئی نسل میں اس کی مقبولیت کم ہے۔ عوامی لیگ کی پوزیشن یہ ہے کہ ’فیلڈ سروے‘ میں عوامی لیگ کو صرف ۵ فی صد اور ’آن لائن‘ میں ۱۰ فی صد ووٹروں کی حمایت حاصل ہوسکی ہے۔ عوامی لیگی حلقے جماعت اسلامی کی مقبولیت پر سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔
تاریخ کے اوراق دیکھیں تو خطۂ بنگال سے جڑے چار بڑے موڑ سامنے آتے ہیں، جن کا تعلق پاکستان سے ہے: lپہلا یہ کہ ۱۹۰۵ء میں تقسیم بنگال ہوئی۔ اسے مسلم اکثریتی علاقے کو مذہبی پہچان کی بنیاد پر الگ وجود تسلیم کیا گیا (تاہم، ۱۹۱۱ء کو یہ تقسیم ہندوئوں کے دبائو سے واپس ہوگئی، مگر اس نے تقسیم کا نظریہ پیش کر دیا)۔ l دوسرا یہ کہ دسمبر ۱۹۰۶ء کو ڈھاکہ میں کُل مسلم لیگ قائم ہوئی، جس نے تحریک پاکستان کی قیادت کی۔ lتیسرا یہ کہ ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کی ’قرارداد لاہور‘ کو پیش کرنے کا اعزاز بنگال ہی کے رہنما اے کے فضل الحق (م: ۱۹۶۲ء)کو حاصل ہوا، lاور چوتھا یہ کہ ۶ تا ۹؍اپریل ۱۹۴۶ء کو ہونے والے مسلم لیگ لیجس لیچرز کنونشن دہلی میں، جو قائداعظم کی صدارت میں منعقد ہوا، وہاں پر بنگال ہی سے تعلق رکھنے والے حسین شہید سہروردی (م:۱۹۶۳ء) نے قرارداد پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ اس میں لکھا ہے: ’قراردادِ لاہور‘ میں پاس کردہ لفظ ’states‘کو ’state‘ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
لفظ ’ریاستوں‘ کو ’ریاست‘ کر نا دُور اندیشی پر مبنی حکمت ِ کار تھی کیونکہ ہندوستان نے مسلم آبادی کے اس علاقے کو تین اطراف سے گھیر رکھا ہے۔ بالکل وہی صورتِ حال آج بھی برقرار ہے۔ انڈیا نے بنگلہ دیش میں ایک انتہائی بھارت نواز انتظامیہ قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی، لیکن حالیہ انقلاب سے بھارتی مذموم عزائم کو منہ کی کھانا پڑی ہے۔ بنگلہ دیش میں انقلابی قوتیں سفارتی حمایت کے لیے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہیں، اور پاکستان اس انقلاب کو محفوظ بنانے اور جنوبی ایشیا میں انڈیا کی بالادستی اور دھونس کو کم کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ پاکستان اس انقلاب کی حمایت کے لیے یہ اقدامات کر سکتا ہے:
۱- پاکستان ’اسلامی کانفرنس تنظیم‘ (OIC) اور دیگر بین الاقوامی حکومتی پلیٹ فارموں کے ذریعے انقلاب کی حمایت کے لیے سابق سفارت کاروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے۔
۲- یہ کمیٹی سارک (SAARC) کی تنظیم نو کے لیے بنگلہ دیش کی مدد کرے۔ یاد رہے کہ مالدیپ، نیپال اور سری لنکا،ہندوستان کے تسلط پسندانہ عزائم سے پریشان ہیں۔
۳- پاکستانی سیاست دانوں اور این جی اوز کو انقلاب کی حمایت کرنے پر اُبھارا جائے۔
۴- یہ کمیٹی بنگلہ دیشی صحافیوں اور میڈیا کے افراد سے باقاعدہ پیشہ ورانہ سطح پر معاونت لے، تاکہ پاکستانی عوام بنگلہ دیش میں تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ ہوسکیں۔
۵- پاکستان، بنگلہ دیشی دانش وروں، صحافیوں، مصنّفوں، پروفیسروں اور اساتذہ اور طلبہ کو پاکستان آنے کی دعوت دے اور اسی مقصد کے لیے پاکستانی صحافیوں کو بنگلہ دیش بھیجے۔
۶- پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی اداروں میں بنگلہ دیشی طلبہ اور تعلیمی عملے کے لیے اسی طرح کے تبادلے کے پروگرام تیار کیے جائیں۔
۷- پاکستانی تعلیمی اداروں کو بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے اسکالرشپ پیش کرنے پر اُبھارا جائے۔
۸- سیاسی، معاشی، ثقافتی اور کھیلوں کے میدان میں وسعت لانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر معاہدے کیے اور عمل درآمد کی صورت بنانی چاہیے۔
۹- بنگلہ دیش چیمبرز آف کامرس اور ڈھاکہ و چٹاگانگ کے ایوان ہائے صنعت و تجارت کے قائدین کو پاکستان آنے اور باہم سرمایہ کاری کی سہولت دی جانی چاہیے۔
۱۰- کراچی یونی ورسٹی اور پنجاب یونی ورسٹی میں بنگلہ زبان و ادب کے شعبے کھولے جائیں۔
۱۱- دونوں ملکوں میں ویزا کی نرمی پیدا کی جائے اور اشیاء کی ترسیل اور وصولی کے تیزرفتار نظام کو عملی شکل دی جائے۔ (مجوزہ سفارتی کمیٹی مزید اقدامات تجویز کرسکتی ہے)۔
بنگلہ دیش کے عوام کی اس اُمنگ کے جواب میں ،جو بھارتی تسلط سے چھٹکارا پانے کے لیے وہ ظاہر کرچکے ہیں، مثبت جواب دینا چاہیے۔ ہمیں خوف کی فضا سے باہر آنا چاہیے اور تاریخ کے اس موقعے کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔بنگالی نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں نے سروں پر کفن باندھ کر اس انقلاب کے دوران ہندوستان کو بنگلہ دیش سے باہر نکالنے کے لیے ایک ہزار سے زیادہ جانوں کی قربانی دی ہے۔ ہمیں اس کا پاس و لحاظ رکھنا چاہیے۔
ہندوستانی میڈیا، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) اور خفیہ ایجنسیاں یہ موقف پھیلانے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہیں کہ ’’بنگلہ دیشی مسلمان انتہا پسندوں نے کچھ بین الاقوامی قوتو ںکے ساتھ مل کر ہندوستان کو بنگلہ دیش سے اُکھاڑ پھینکنے کی بڑی ’سازش‘ کی ہے‘‘۔ انھیں اس بات پر یقین ہی نہیں آرہا کہ غیرمعروف سے طالب علموں کی قیادت میں ایک ’مقامی کوٹہ تحریک‘ ایسا بلاخیز سیلاب بھی بن سکتی ہے، جو اُن کی گماشتہ ڈکٹیٹر اور اس کے حمایتی ہندوستان کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ وہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہے کہ ہندو نسل پرست بھارتی دھونس نے بنگلہ دیش کی نئی نسل میں مسلم قومیت کی شناخت اور دفاع کے جذبے کو پروان چڑھایا ہے۔
انڈیا کی رہنمائی اور قیادت میں حسینہ واجد حکومت نے پاکستان کے خلاف شدید نفرت کی فصل کاشت کرنے کی خاطر ایک باقاعدہ وزارت قائم کی، جس نے پندرہ برس تک تعلیم، میڈیا اور صحافت میں پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈے کی انتہائوں کو چھوا، لیکن وہ سب مذموم پروپیگنڈا دھرے کا دھرا رہ گیا۔ انقلاب کے بعد ۶ستمبر ۲۰۲۴ء کو قائداعظمؒ کی برسی کے موقعے پر ڈھاکہ نیشنل پریس کلب میں بھرپور پروگرام ہوا۔ طلبہ تحریک کے مرکزی رہنما ناہید الاسلام کے اس جملےنے تاریخ کے ۵۴برس پلٹا کر ۱۹۷۱ء سے پہلے کے مشرقی پاکستان سے جوڑ دیا کہ ’’اگر پاکستان نہ بنتا تو آج بنگلہ دیش بھی وجود میں نہ آتا‘‘۔یہ چیز ایک مقبول رہنما کی زبان سے عام لوگوں کو حقیقت کا فہم دینے میں مددگار بنی ہے۔
تاریخ کا یہ عجیب معاملہ ہے کہ ایک طرف تو بنگلہ دیش کی حکومتوں نے پاکستان کے بارے میں جھوٹے، خودساختہ بلکہ بیہودہ موقف کو نئی نسل کے ذہنوں میں اُنڈیلا، تو دوسری طرف پاکستان میں حکام نے مشرقی پاکستان اور بنگالیوں کے ساتھ اپنی چوبیس سالہ رفاقت کو فراموش کرنے، بنگال کے سرفروشوں کے ساتھ وابستگی کی پوری تاریخ کو مٹانے کی دانستہ اور جاہلانہ کوششیں کیں۔
۱۹۷۱ء میں تقسیمِ پاکستان کے المیے نے خود پاکستانی حکومتوں اور اداروں کے شعور کی دُنیا کو بُری طرح عدم توازن کی نذر کر دیا۔ تاہم، پاکستان کے جوہری پروگرام کی کامیابی نے پاکستان کو مستقبل میں ممکنہ جارحیت سے بچانے میں مدد دی ہے۔ بنگالی دانش ور، پاکستان کی تقلید اور پاکستان کے ساتھ تعاون کی ضرورت کے بارے میں بڑی اُمید کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کو اپنی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھرپور طریقے سے قدم آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اس صورت حال کا نہایت خطرناک پہلو یہ ہے کہ انڈیا کی حکومت اور خفیہ ایجنسیاں بنگلہ دیش میں مسلسل بدامنی کو ہوا دے رہی ہیں۔ حالات و واقعات سے ظاہر ہے کہ خود ہندوئوں کی املاک پر متعدد حملوں اور عوامی لیگیوں کے چند مقامات پر ہجومی قتل کے پیچھے بھی انڈیا کی یہ حکمت عملی کارفرما ہے کہ اس طرح عبوری حکومت بدنام ہو اور عوامی لیگ ہمدردی حاصل کرسکے۔ ان چیزوں پر میڈیا کو بہت محتاط رویہ اپنانا چاہیے۔
ماضی میں اسرائیل نے ہمیشہ مختصر اور فیصلہ کن جنگیں اسرائیل میں نہیں بلکہ اپنے اردگرد محصور عرب سرزمین پر لڑی ہیں۔ آخری بار ۱۹۷۳ء کی جنگ میں عرب اتحادی فوج کو شکست دینے کے بعد سے، اسرائیل نے کبھی اپنے خلاف مؤثر عرب اتحاد کی تشکیل کی اجازت نہیں دی۔ نتیجہ یہ کہ اسے کبھی مشترکہ عرب اتحاد کی طاقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جس سے اسے متعدد محاذوں پر جنگ کا خطرہ ہو۔
۱۹۷۳ءمیں عرب اتحادی فوج کو شکست دینے کے کئی عشروں بعد، اسرائیل آج نہ صرف غیر ریاستی عناصر اور گروہوں سے بلکہ ’مزاحمت کا محور‘ (حماس) سے نبرد آزما ہے۔ اس بار اسرائیل ایک طویل جنگ لڑ رہا ہے جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔ غزہ میں یہ زمینی اور فضائی کارروائیاں کررہا ہے، اور لبنان میں حزب اللہ کی طرف سے شمالی سرحد پر لاحق خطرہ بھی جنگ میں ڈھل چکا ہے۔ مغربی کنارے کی کارروائیاں بھی اسرائیلی فوجیوں کو وہاں اُلجھاتی رہتی ہیں۔بیرونی طور پر شام سے آنے والے پراکسی گروپوں کا خطرہ اور ایران کے ہوائی حملوں یا یمن سے حوثیوں کی طرف سے بحیرۂ احمر میں فوجی کارروائیوں نے اسرائیل اور اس کی حلیف خلیجی ریاستوں کے مفادات سمیت اس جنگ کو بہت پیچیدہ بنادیا ہے۔
یہ پہلی بار ہے کہ اسرائیل نے اپنی سرزمین کے اندر جنگ شروع کی ہے۔ پھر وہ مختصر اور فیصلہ کن نہیں بلکہ ایک طویل جنگ لڑ رہا ہے، اور اسے متعدد خطرات کا سامنا ہے۔ اسے ایسے سیکورٹی مخمصے کا سامنا ۱۹۷۳ء میں عرب اتحاد کے خلاف جنگ کے بعد سے نہیں ہوا تھا۔
اس جنگ کی مہلک خامیاں سیاسی اور قانونی دائرے میں ہیں۔ اسرائیل جتنا زیادہ طویل فوجی جدوجہد میں اُلجھتا جائے گا، اس کے سیاسی اور قانونی مسائل میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ واضح سیاسی ہدف کے بغیر، کوئی بھی عسکری حکمت عملی اپنی اہمیت کھودیتی ہے۔ بلاشبہہ جنگ ایک سیاسی عمل ہے۔ چونکہ طاقت کا استعمال سیاسی ہے، اس لیے اسرائیلی سیاست دانوں کو جس چیز پر غورکرنے کی ضرورت ہے، وہ صرف ذرائع نہیں بلکہ انجام بھی ہے۔ غزہ کی جنگ میں سیاست کس طرح اپنا کردار ادا کر رہی ہے؟ کیا اسرائیل کی سیاسی حکمت عملی صرف غزہ میں حماس کو شکست دینے تک محدود ہے؟ کیا فوجی جبر کی یہ حکمت عملی عالمی اثرات پیدا نہیں کر رہی؟ کیا غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائی پوری دنیا کو نقصان نہیں پہنچا رہی، جیسا کہ عالم گیریت کی دنیا میں تمام ریاستوں کی معیشتیں ایک دوسرے پر منحصر ہیں؟
اس جنگ میں اسرائیلی حکمت عملی سے پوری دنیا کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ابھی تک ایسا لگتا ہے کہ سیاسی مقصد صرف حماس کی عسکری قوت کا خاتمہ اور پناہ گزینوں کی واپسی نہیں ہے، بلکہ ایک وسیع تر ایجنڈے پر عمل کرنا ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ دنیا اس جنگ کے لیے اسرائیل کے حقیقی مقاصد کے بارے میں اندازہ لگانے میں ناکام ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ اسرائیل کا یہ رویہ خطے میں وسیع تر تنازعے کا باعث بن سکتا ہے۔ اسرائیل کا اندازہ ہے کہ حماس کے ۳۰ ہزار جنگجو ہیں اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے ان میں سے تقریباً ۱۸ ہزار کو مار دیا ہے۔ اس میں جو بات واضح نہیں کی گئی وہ یہ ہے کہ حماس نے اس اسرائیلی ظلم و سفاکیت کے خلاف لڑنے کے لیے مزید کتنے لوگوں کو بھرتی کیا ہے؟ سیاسی طور پر اسرائیل کو عالمی تنہائی کا سامنا ہے اور قانونی طور پر اس کے اقدامات کو عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں چیلنج کیا گیا ہے، جس نے وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیا ہے۔ دنیا نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے جواز کو چیلنج کیا ہے اور اسرائیلی مسلح افواج کے پاؤں کے نیچے سے قانونی جواز کا قالین کھینچ لیا ہے۔ جنگ کو ختم کرنے کے واضح سیاسی ہدف کے بغیر اسرائیل اپنی معیشت، معاشرے، فوج اور سب سے بڑھ کر ایک قومی ریاست کے طور پر اپنی ساکھ کی بھاری قیمت چکا رہا ہے۔
غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے بارے میں سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے کچھ مفروضوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے:
حماس کی جگہ فلسطینی حکومت کا قیام، لبنان میں حزب اللہ کے خطرے سے نمٹنا، ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا، اور یمن میں حوثیوں کے خطرے سے نمٹنا___ وہ تمام چیلنجز ہیں، جن کا اسرائیل کو اس کثیر محاذ جنگ میں سامنا ہے۔
۱۳ جولائی ۲۰۲۴ء سے شروع ہونے والی طلبہ تحریک کی لہر نے اتحاد، جرأت، عزم، قربانی اور ثابت قدمی سے بنگلہ نسل پرستی کے اُس بُت کو پاش پاش کردیا، جس کی تعمیر کے لیے جھوٹ، تشدد اور عالمی استعمار نے شکنجہ کَس رکھا تھا۔ اس تحریک کا ہراوّل دستہ طلبہ تھے، اور اُن میں طالبات سبقت لے گئیں۔ بہت سی طالبات پولیس کی گولیوں اور عوامی لیگی غنڈوں کے تشدد کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
یاد رہے ۱۹۷۲ء میں حسینہ واجد کے والد مجیب الرحمان نے بھی جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی تھی، جو ۱۹۷۶ء تک برقرار رہی۔ اسی روایت پر عمل کرتے ہوئے عوامی لیگ نے ۲۰۱۳ء میں جماعت پر ہرقسم کے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی لگائی، اور اب بدحواس ہوکر یکم اگست کو بنگلہ دیشی ڈکٹیٹر نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش، اور اسلامی جمعیت طلبہ [اسلامی چھاترو شبر] پر پابندی عائد کردی۔ اس سے قبل ۱۳جولائی سے جماعت اور جمعیت کے کارکنوں کو گھروں سے اُٹھانے، تشدد کا نشانہ بنانے، ’انسانی باڑوں‘میں پھینکنے، اور ان کے گھروں کو روندنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔ ۱۴جولائی کی رات یعنی ۲۴گھنٹوں میں ان دو تنظیموں کے اٹھارہ سو کارکنوں کو آزاد زندگی سے محروم کردیا گیا تھا، اور اگلے صرف بیس روز کے دوران جماعت اور جمعیت کے دس ہزار سے زائد کارکنوں کو قید اور ۲لاکھ کو جعلی مقدمات میں نامزد کیا گیا۔ عوامی لیگی غنڈے اور پولیس اہل کار دندناتے ہوئے آتے اور گھر میں بچوں، عورتوں کو گالیاں بکتے ہوئے، ان کے جوانوں کو پکڑ کر لے جاتے۔
دوسری طرف ہاسٹلوں، کلاس روموں، کالجوں، اسکولوں اور یونی ورسٹیوں میں انقلابی شعلے جوالا بن چکے تھے۔ اُن میں بڑی تعداد ان نوخیز نوجوانوں کی تھی، جنھوں نے اکیسویں صدی میں آنکھ کھولی تھی، مگر چاروں طرف اندھیر نگری دیکھی تھی، جس کی چوپٹ رانی خون کی پیاسی اور کرپشن کی دیوی تھی، جس کی آنکھوں سے نفرت کے شعلے لپکتے تھے اور زبان سے نفرت کے کانٹے جھڑتے تھے۔ یہ وہ نوجوان تھے، جنھیں پرائمری کے قاعدے سے لے کر بی ایس تک صرف ایک بات پڑھائی، سنائی اور ذہن میں بٹھائی گئی تھی کہ ’’پاکستان دُنیا کا بدترین ملک ہے اور جماعت دُنیا کی ناپسندیدہ ترین پارٹی ہے‘‘۔ اس کے باوجود احتجاج کرتے ان نوجوانوں نے جماعت اسلامی کی رفاقت کو خوش آمدید کہا۔ ان لاکھوں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد پارٹی عصبیتوں سے بالاتر، اور اپنی قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی اُمنگ سے وابستہ تھی۔ بلاشبہہ ان احتجاجی انقلابیوں میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن پوری قوت کے ساتھ شامل تھے،مگر نوجوانوں کا یہ اُبھار جمعیت کے پھیلائو سے کہیں زیادہ وسعت رکھتا تھا۔
جوان جذبوں کے سیلاب کی طرح اُمڈتی اور بپھری اس تحریک کی میدانِ عمل میں موجود قیادت کے کوئی گہرے تنظیمی آثار حکومت کو نظر نہیں آرہے تھے، اس لیے حسینہ حکومت نے اس پورے اُبھار کو جمعیت کی ذمہ داری قرار دے کر، منفی پروپیگنڈے کا ایک گھنائونا طوفان اُٹھادیا۔ ان کا خیال تھا کہ طوفان تھم جائے، تو چُن چُن کر جماعت کے حامیوں کو نشانہ بنانے کا جواز فراہم کیا جائے گا۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ انڈیا سے ’را‘ اور برہمنی نسل پرست ’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ‘ (RSS) کی پشت پناہی میں چلنے والے سوشل میڈیا اکائونٹس اور ویڈیو چینلوں نے بھی اپنی توپوں کا رُخ جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف موڑ دیا کہ ’’یہ ایک جمہوری حکومت کو گرانا اور بنگلہ دیش کی قومی ترقی کو دفن کرنا چاہتے ہیں‘‘۔مگر زمینی حقائق بالکل مختلف تصویر پیش کررہے تھے۔ جن کے مطابق یہ تحریک ہر گھر کی تحریک تھی اور ہر پڑھے لکھے طلبہ و طالبات کی تحریک تھی، جنھوں نے آمریت، لاقانونیت اور بدعنوانی کے سوا کچھ اور اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھا ہی نہیں تھا۔
ظلم بڑھتا گیا۔ روزانہ شہروں اورقصبوں میں مظاہرین کی لاشیں گرائی جاتی رہیں۔ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق بیس روز میں اٹھارہ سو افراد کو قتل کردیا گیا، جب کہ مظاہرین اس سے کہیں زیادہ جانوں کے ضائع ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ اس بات سے اندازہ لگایا جائے کہ ۴؍اگست کو صرف ایک روز میں ڈھاکہ کے ۱۳۴ طلبہ و طالبات کو پولیس، عوامی لیگیوں اور کچھ بنگلہ دیشی فوجیوں نے گولیوں سے اُڑا دیا۔ یہ خونیں رات ابھی ڈھلی نہیں تھی کہ پُرعزم طلبہ قیادت نے اعلان کردیا: ’’کچھ بھی ہو، ہم ۵؍اگست کو وزیراعظم ہائوس کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دیں گے‘‘۔
فجر کے بعد، کرفیو کو توڑتے ہوئے ہزاروں طلبہ و طالبات مارچ کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف چل پڑے۔ بنگلہ دیشی نوجوان فوجی افسروں نے اپنی ہائی کمان کے سامنے مظاہرین طلبہ پر گولی چلانے سے معذوری کا اظہار کردیا اور پولیس میدان چھوڑ کر بھاگ گئی۔ نہتے طلبہ و طالبات اپنی جان کی حفاظت سے بے پروا، رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے، منزل کی طرف گامزن تھے کہ بنگلہ دیشی فوج کے سربراہ جنرل وقارالزماں نے طوفان کا موڈ دیکھ لیا۔ دن کے ساڑھے بارہ بجے حسینہ واجد سے کہا: ’’ایک ڈیڑھ گھنٹے میں چیزیں سمیٹیں اور انڈیا چلی جائیں۔ ہیلی کاپٹر لے جانے کے لیے تیار ہے۔ اگر آپ نہ گئیں تو میں آپ کی اور اپنی جان کی ضمانت نہیں دے سکتا‘‘۔حسینہ واجد نے تکرار کی اور دھمکی کی زبان استعمال کی، مگر آرمی چیف نے رشتہ داری کا واسطہ دے کر کہا: ’’اس وقت میں آپ کے ساتھ اس سے بہتر احسان اور سلوک کا کوئی دوسرا رویہ اختیار نہیں کرسکتا‘‘۔ اور پھر وہ روتی پیٹتی اپنے اصلی وطن انڈیا چلی گئی___ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔
تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ہزاروں طلبہ نے وزیراعظم ہائوس میں داخل ہوکر اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ دوسری طرف شیخ مجیب الرحمٰن کے ’تاریخی‘ گھر ۳۲- دھان مندی [بنگ بندھو میموریل میوزیم] کو جلاکر راکھ کردیا۔ سڑکوں پر مجیب کے سارے دیوقامت مجسمے توڑ دیئے، دیواروں پر لگی مجیب اور اس کی بیٹی کی تصویریں نوچ ڈالیں اور عمارتوں پر چُنی باپ، بیٹی کی افتتاحی تختیاں اُکھاڑ کر کوڑے دانوں میں پھینک دیں۔
اسی طرح مارچ ۲۰۱۰ء میں انڈین حکومت کی خطیر رقم سے قائم ’اندرا گاندھی کلچرل سنٹر‘ (IGCC) ڈھاکہ کو بھی مظاہرین نے انڈیا کی مسلسل مداخلت اور عوامی لیگ کی سرپرستی کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہوئے نذرِ آتش کردیا۔ اس سنٹر میں موسیقی، یوگا اور کتھک رقص کی تربیت دی جاتی تھی۔ ڈھاکہ میں یہی مشہور تھا کہ ’’یہ دراصل انڈین جاسوسوں اور ’را‘ کا مرکز ہے، جہاں بداخلاقی، بے دینی اور ملک دشمنی کی تعلیم دی جاتی ہے‘‘۔
حسینہ واجد کے جانے کے دوگھنٹے بعد فوجی سربراہ جنرل وقارالزمان نے عبوری حکومت کے لیے ایک فہرست سوشل میڈیا پر چلوائی۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ اس فہرست کو طلبہ قیادت نے ہوا میں اُچھال دیا اور کہا: ’’حکومت وہی بنے گی، جو ہم کہیں گے۔ ہم فوجی حکومت اور فوجی مداخلت سے چلنے والی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے‘‘۔ ساتھ ہی نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمدیونس کا نام عبوری حکومت کے لیے تجویز کردیا۔اسی دوران، انڈیا کے استحصالی رویے اور فاشسٹ حکومت کی مسلسل پشت پناہی کے سبب عوام میں انڈیا کے خلاف نفرت کا لاوا اُبل رہا تھا، اور بعض جگہ لوگ مندروں کی طرف جانے لگے۔ ملک میں ہیجانی کیفیت عروج پر تھی، مگر اس کے باوجود جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ بنگلہ دیش کی قیادت نے کمال درجے تدبر کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ ’’فوراً مندروں اور ہندو آبادیوں کی حفاظت کے لیے میدان میں آئیں، ساری رات پہرا دیں اور مظاہرین کو باز رکھنے کی بھرپور کوشش کریں‘‘۔ اس حکمت عملی کا خاطرخواہ فائدہ ہوا۔ مگر عوامی لیگ اور انڈین میڈیا اس حقیقت کو جان بوجھ کر نظرانداز کرکے جماعت، جمعیت کو پروپیگنڈے کا نشانہ بناتا چلا آرہا ہے۔
یہ ۵؍اگست ہی کی شام تھی کہ وہی جماعت اسلامی، جس پر حسینہ واجد نے بنگلہ دیشی فوجی سربراہ کی مشاورت سے پابندی عائد کی تھی، اسی جماعت کے سربراہ ڈاکٹر شفیق الرحمان صاحب کو یہی فوجی سربراہ فون کر رہے تھے کہ ’’ملک کے مستقبل کو بہتر بنانے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے آپ مشورہ دیں‘‘۔ گویا کہ اب کی بار پابندی کا یہ دورانیہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے چار روز میں ریزہ ریزہ ہوکر رہ گیا۔ تاہم، ۲۸؍اگست تک جماعت اور جمعیت پر پابندی کے خاتمے کا باضابطہ اعلان ہوا۔
ڈاکٹر محمد یونس آئے، حکومت بنی، جماعت اسلامی نے کوئی وزارت نہیں لی اور حکومت کے قیام کی تائید کی۔ اس بات پر فوج کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے ایک عذاب سے جان چھڑانے کے لیے درست راستہ اختیار کیا ہے۔نئی نسل کی تحسین کہ اس نے ثابت قدمی سے قوم کو بدعنوان اور فاشسٹ ٹولے سے آزادی دلائی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدئہ شکر بجا لائے کہ اُس نے خون کے دریا سے قوم کو پار نکالا ہے۔
نئی حکومت نے دو روز بعد، جماعت اسلامی کے ان تمام دفتروں کی سیلیں توڑ دینے کی ہدایت کی، جنھیں گیارہ برس پہلے حسینہ حکومت نے بند کر رکھا تھا۔ یہ خبر سن کر کارکن خوشی سے جہاں موجود تھے، وہیں اللہ کی بارگاہ میں سجدے میں گرگئے۔ پانچ روز گزرنے کے بعد عوامی لیگی کارکنوں اور نام نہاد ’انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل‘ میں جماعت اسلامی کے برگزیدہ رہنمائوں کو پھانسیاں سنانے والے ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کو طلبہ نے نشانے پر رکھا، تو ۱۰؍اگست کی دوپہر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت چھ ججوں نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ یہ سب بدنام اور معروف بدعنوان لوگوں کا ٹولہ تھا۔
اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں کوئی بھی پارٹی یہ نہیں چاہتی کہ فوراً الیکشن ہوں، بلکہ عوامی لیگ نے جو تباہی مچا رکھی ہے، اسے درست کرکے چھ ماہ سے ایک سال کے اندر الیکشن پر اتفاق ہے۔ گندگی کا جو بازار گرم ہے، اس کی صرف ایک مثال دیکھیے:
’بنگلہ دیش اسلامی بنک‘جسے جماعت اسلامی کے رفقا نے ۱۹۸۰ء سے مسلسل بڑی محنت سے قائم کیا تھا، اور جس کی نیک نامی نے اسے بنگلہ دیش کا سب سے بڑا بنک بنا دیا تھا۔ عوامی لیگی حکومت نے جماعت اسلامی کے دوسرے تعلیمی اور ادویہ سازی کے اداروں پر قبضہ جمانے کے ساتھ اس بنک کو بھی قبضے میں لے لیا۔ جبری طور پر عملے اور بورڈ کے ممبروں سے دستخط کرائے، اس کی املاک اور جمع شدہ رقوم ہتھیالیں۔ ایک منظورِنظر ’عالم گروپ‘ کو اس کا انتظامی قبضہ دے دیا۔ ۱۹؍اگست کو عبوری حکومت نے حسینہ واجد کے مقرر کردہ اسلامی بنک کے بورڈ کو توڑدیا اور نیا عارضی بورڈ مقرر کیا۔ ۲۰؍اگست کو معلوم ہوا کہ بنک کے ۷۵ہزار کروڑ ٹکے [یعنی ۱۵۰کھرب پاکستانی روپے] قرضوں، بے نامی منصوبوں اور مختلف ناموں سے نکلوائے اور ہڑپ کر لیے گئے ہیں۔ اس ایک خبر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مزید کتنے معاشی قتل ہوئے ہوں گے اور بدعنوانی کے کتنے ہمالہ تعمیر ہوئے ہوں گے۔ یہ ’’ایک سیکولر، ایک روشن خیال، ایک ترقی پسند، ایک عوام دوست‘‘ حکومت کی سیاہ کاری کی شرمناک تصویر ہے۔ صفحات کی قلت کے سبب ہم نے بہت سی دیگر معاشی غداریوں کی داستانیں یہاں نہیں چھیڑیں، جو ثبوتوں کے ساتھ بنگلہ دیش کے اخبارات میں روزانہ کی بنیاد پر قارئین کو لرزا دیتی ہیں۔
۱۹؍اگست کو بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان صاحب نے بنگلہ دیش ہندو کمیونٹی کے سربراہوں سے ملاقات کی اور ان کے مرکز ’کافرل مندر‘ کا دورہ کیا۔ وہاں پوجاکمیٹی اور مندرکمیٹی کے صدر بابو تاپیندرا نارائن کے مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔ ان کے ہمراہ ڈھاکہ جماعت کے امیر محمد سلیم الدین بھی تھے۔
ڈاکٹر شفیق الرحمٰن نے کہا: ’’بنگلہ دیش میں رہنے والے تمام لوگ برابر کے شہری ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اکثریت اور اقلیت کی بحث کو ختم کیا جائے۔ ہماری پہلی پہچان انسان ہونا ہے۔ ہماری دوسری پہچان ہمارا ملک بنگلہ دیش ہے، جہاں ہم پیدا ہوئے، اور ہماری تیسری پہچان ہماری مذہبی و فکری وابستگی ہے۔ اس ملک کے تمام شہری اپنے مذہب، کلچر اور حقوق کو آزادی سے بروئے کار لانے کا حق رکھتے اور ایک دوسرے کے احترام کی ذمہ داری اُٹھاتے ہیں۔ مَیں پُرامید ہوں کہ ہماری نئی نسل یہ ذمہ داری اُٹھائے گی اور اس ذمہ داری کو خوش اسلوبی سے نبھائے گی۔ اس طرح مستقبل کا بنگلہ دیش، پارٹی یا گروہی عصبیت پر نہیں بلکہ معیار، صلاحیت اور میرٹ پر کھڑا ہوگا، اور معیار پر ہی چلایا جائے گا۔ میں بنگلہ دیش کے تمام شہریوں، سماجی طبقوں اور مذہبی برادریوں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ ہم ایک دوسرے کو آدم علیہ السلام کی اولاد کی طرح دوستوں اور بھائیوں کی طرح قبول کریں، ایک دوسرے کی عزّت ، آبرو اور جان کا احترام کریں۔ تشدد، نفرت، جھوٹے پروپیگنڈے اور جبر کی جڑ کاٹ کر رکھ دیں۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ اور اگر اس کے باوجود کوئی فرد ایسی کسی بدنمائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے جرم کا تعلق اسلام اور اسلامی تہذیب سے نہیں ہے، بلکہ اُس فرد سے ہے اور وہ فرد اس کے لیے قانون، قوم اور اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔ اسلام، انسانی جان و مال اور عزّت و آبرو کے احترام کا درس دیتا ہے۔ اسلام انسانوں کو حیوانیت اور خود غرضی کے بجائے انسانیت اور ہمدردی کا پیغام دیتا ہے۔ یہی پیغام لے کر میں آپ کے پاس آیا ہوں‘‘۔ (روزنامہ سنگرام، ڈھاکہ، ۱۹؍اگست ۲۰۲۴ء)
یہ تو ہوا اس منظرنامے کا ایک پہلو۔
اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ بنگلہ دیش کا یہ انقلاب فی الحقیقت دو قومی نظریے کی ایک طاقت ور بازگشت ہے۔ وہی دو قومی نظریہ، جسے سرزمین بنگال کے مسلمانوں کی قیادتوں نے انیسویں صدی میں ’فرائضی تحریک‘ اور تیتومیر شہید کی صورت میں اُٹھایا، جس کی تصویرکشی ۱۹۰۵ء میں تقسیم بنگال نے کی اور جسے ۱۹۰۶ء میں کُل ہند مسلم لیگ کے قیام نے سیدھی شاہراہ پر ڈالا۔ ۱۹۴۷ء میں قیامِ پاکستان کے بعد مغربی پاکستان کے حکمرانوں کی حماقتوں اور مشرقی پاکستان سے بنگالی قوم پرست لیڈروں کے جھوٹے پروپیگنڈے نے نفرت کی آگ کا ایسا الائو بھڑکایا کہ دسمبر ۱۹۷۱ء میں پاکستان دوحصوں میں تقسیم ہوگیا۔ تب انڈین وزیراعظم اندرا گاندھی نے کہا تھا: ’’دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے‘‘۔ موجودہ انقلاب نے یہ پیغام دیا ہے کہ ’’دو قومی نظریہ زندہ ہے، توانا ہے اور اپنا دفاع کرنا جانتا ہے‘‘۔
دوسرا یہ کہ نئی نسل اور عام شہری جبر اور فسطائیت پر مبنی آمریت کو کسی صورت قبول نہیں کرتے۔ اس مقصد کے حصول اور آزادی کے لیے وہ اپنے معاشی مستقبل اور اپنی جان کی بازی تک لگادینے سے دریغ نہیں کرتے۔یہ درس ہے آئندہ حکمرانوں کے لیے بھی اور یہی درس ہے ہمسایہ ملک کے نسل پرست برہمنوں کے لیے بھی۔
تیسری چیز یہ ہے کہ اس زلزلہ فگن تحریک کے جھٹکے ابھی تک بنگلہ دیش کے مختلف حصوں میں مسلسل محسوس کیے جارہے ہیں، تاہم حالات گرفت میں ہیں۔ مثال کے طور پر۲۴؍اگست کو ’انصار فورس‘ نے ہنگامہ کھڑا کردیا۔ یہ حکومت کی مسلح ملیشیا ہے، جس میں بڑی تعداد ’طلب کرنے پر‘ ڈیوٹی پر آتی ہے‘۔ انھوں نے اپنی نوکریاں پکّی کرنے کے لیے مظاہرہ کیا، جسے روکنے کے لیے طلبہ نے کوشش کی تو تصادم ہوگیا۔ بعدازاں ۲۵؍اگست کو طلبہ اور فوج نے یہ مزاحمت ختم کردی۔ اسی طرح ڈھاکہ یونی ورسٹی کے وائس چانسلر اور اسی یونیورسٹی کے دس اہم تعلیمی اور انتظامی سربراہو ں نے اپنے کیے کرائے پر شرمندگی محسوس کرتے ہوئے استعفے دے دیے ہیں۔ مختلف انتظامی شعبہ جات کے بدعنوان منتظم افراد ملک سے بھاگنے کی کوشش میں گرفتار ہوچکے ہیں۔ گویا کہ حالات کے پُرسکون ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ عبوری حکومت کے مشیر اعلیٰ ڈاکٹر محمد یونس نے بجا طور پر نشان دہی کرتے ہوئے کہا ہے: ’’جب تک حسینہ واجد حکومت میں رہی، ہم ایک مقبوضہ ملک ہی رہے۔ ایک قابض قوت، ڈکٹیٹر اور بے رحم جرنیل کی طرح اس نے ہرچیز کو اپنے شکنجے میں کَس رکھا تھا۔ مگر آج بنگلہ دیش کا ہرشہری آزادی محسوس کر رہا ہے اور پوری قوم اس آزادی کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے‘‘۔
۲۹جولائی کو فلسطین کی وزارتِ تعلیم اور ہائر ایجوکیشن نے جب میٹرک کے امتحان کے نتائج کا اعلان کیا تو سارہ رو پڑی۔ ۱۸ سالہ سارہ نے سوشل میڈیا پر مقبوضہ مغربی کنارے کے دیگر طلبہ و طالبات کو دیکھا، جو اپنی کامیابیوں پر خوشیاں منارہے تھے،تو وہ اپنے آنسو ضبط نہ کرسکی۔ جب میں غزہ میں اس کے خیمے میں اس سے ملنے گئی تو اس نے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ مجھے بتایا، ’’میرے لیے یہ خوشی کا وقت ہونا تھا، کیونکہ میں اپنے ہائی اسکول کے سرفہرست طلبہ میں شامل تھی۔ میں نے اپنی کامیابی پر انٹرویو دینے کا خواب دیکھا تھا مگر میرے ہم وطنوں کے ساتھ آج میری تعلیم کا گلابھی گھونٹ دیا گیا ہے‘‘۔
سارہ، غزہ کے ظہرت المدائین سیکنڈری اسکول میں زیر تعلیم اور ڈاکٹر بننے کی خواہش مند ہے۔ میٹرک کا امتحان، جس کے لیے اس نے مہینوں محنت کی تھی، اس کو میڈیکل فیکلٹی میں پڑھنے کے لیے درخواست دینے کا اہل بنادیتا کہ یہ امتحانی نتائج فلسطینی یونی ورسٹیوں میں داخلے کا بنیادی معیار ہیں، لیکن اب سارہ اپنا وقت مایوسی میں گزارتی ہے۔ – اس کا گھر اور ایک بہتر مستقبل کا خواب، اسرائیل کی بمباری سے خاک میں مل چکے ہیں۔وہ غزہ کے۴۰ ہزار فلسطینی طالب علموں میں سے ایک ہے، جنھیں اس سال میٹرک کا امتحان دینا تھا لیکن وہ نہیں دے سکے۔
تاہم، سارہ ان ’خوش قسمت‘ لوگوں میں سے ایک ہے کہ جو زندہ سلامت ہیں۔ فلسطینی وزارت تعلیم کے مطابق، جن طالب علموں کو ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنا تھی، ان میں سے کم از کم ۴۵۰ ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی کی جارحیت میں ۲۶۰ سے زائد اساتذہ سمیت مختلف درجات کے ۵ہزار سے زائد دیگر افراد بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہائی اسکول سے وابستہ افراد اُن اسکولوں میں مارے گئے، جو غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد بے گھر فلسطینیوں کے لیے پناہ گاہوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ یہ ایک بڑا ہولناک المیہ ہے کہ غزہ میں علم کی روشنی کی جگہیں موت کی وادیوں میں بدل چکی ہیں۔
جولائی سے لے کر اب وسط اگست تک اسرائیل اسکولوں پر ۲۳ بار بمباری کرچکا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ تازہ ترین حملے میں غزہ کا المدائین اسکول ۱۰۲ سے زائد افراد کا قبرستان بن گیا ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ اس سانحے کی خوفناک رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ والدین کی اپنے مقتول بچوں کی تلاش بیکارہے، کیونکہ بموں سے بچوں کے جسموں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق ۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ کے ۵۶۰؍ اسکولوں میں سے ۹۳ فی صد یا تو تباہ ہوچکے ہیں یا انھیں بُری طرح نقصان پہنچا ہے۔ تقریباً ۳۴۰ پر اسرائیلی فوج نے براہِ راست بمباری کی ہے۔ ان میں سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلنے والے اسکول بھی شامل ہیں۔ اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اسرائیل خاص طور پر منظم طریقے سے غزہ کے اسکولوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس کی ایک وجہ بھی ہے۔ فلسطینیوں کے لیے یہ تعلیمی مراکز تاریخی طور پر سیکھنے، انقلابی سرگرمیوں، ثقافتی تحفظ اور اسرائیلی نوآبادیات کی وجہ سے ایک دوسرے سے منقطع فلسطینی زمینوں کے درمیان تعلقات کے تحفظ کے اہم مرکز کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ فلسطینی عوام کو بااختیار بنانے اور ان کی آزادی کی تحریک میں اسکولوں نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
دوسرے لفظوں میں، دینی اور جدید تعلیم پر مشتمل تعلیمی ادارے،’۱۹۴۸ء کے نکبہ‘ کے بعد سے فلسطینی عوام کو مٹانے کی اسرائیلی کوششوں کے خلاف فلسطینی مزاحمت کی ایک شکل ہیں۔ جب یہودی ملیشیا فورسز نے فلسطینیوں کی نسل کشی کرتے ہوئے تقریباً ۷لاکھ ۵۰ ہزار فلسطینیوں کو ان کے وطن سے بے دخل کیا، تو پناہ گزین کیمپوں میں منتقل ہونے کے بعد ان فلسطینیوں نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے بچوں کے لیے خیموں میں اسکول کھولے۔ تعلیم کو قومی قدر کے طور پر فروغ دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں فلسطینی تعلیم کا شعبہ ترقی کے اس مقام تک پہنچا کہ جہاں اس نے دنیا میں خواندگی کی سب سے بلند شرح پیش کی۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ غربت و کسمپرسی، محصور اور مسلسل بمباری کا شکار غزہ روایتی طور پر امتحانات میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والوں کا مرکز رہا ہے۔ غزہ کے طالب علموں کی ایسی کہانیاں بکثرت مشہور ہیں، جو بلیک آؤٹ کے دوران تیل کے لیمپوں یا موبائل فونوں کی روشنی میں باقاعدگی سے مطالعہ کرتے ہیں اور اسرائیل کی گھروں پر بمباری کے باوجود رُکنے سے انکار کردیتے ہیں، اور پھر سب سے زیادہ نمبر بھی حاصل کرتے ہیں۔ اہل فلسطین کی جدوجہد میں ساری مشکلات کے باوجود تعلیم کے حصول میں سبقت حاصل کرنا مزاحمت کی ایک شکل رہی ہے۔
اسرائیل اب جو کچھ کر رہا ہے، وہ فلسطینی مزاحمت کی اس شکل کو ’تعلیمی قتل عام‘ (Scholasticide) کے ذریعے تباہ و برباد کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ یہ تعلیمی اور ثقافتی اداروں کو ختم کر رہا ہے تاکہ ان ذرائع کو ختم کیا جا سکے، جن کے ذریعے فلسطینی اپنی ثقافت، علم، تاریخ، شناخت اور اقدار کو آئندہ نسلوں تک محفوظ اور منتقل کر سکتے ہیں۔
یہ ’تعلیمی قتل عام‘ (Scholasticide) نسل کشی کے سلسلے کا ایک تشویش ناک پہلو ہے۔ اس اسکول کشی کی مہم نے طلبہ کے مستقبل اور تعلیمی شعبے پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ تعلیم بہت سے لوگوں کو یہ اُمید دلاتی ہے کہ ان کے لیے زندگی بہتر ہو سکتی ہے، اور وہ محنت کے ذریعے اپنے خاندانوں کو غربت سے نکال سکتے ہیں مگر اسرائیل اُمید کا یہ چراغ بھی بجھا رہا ہے، اور مغرب تماشائی ہے۔
غزہ کے بچوں اور نوجوانوں میں پھیلنے والی نااُمیدی کے بارے میں مَیں نے اس وقت سوچا جب ۱۸ سالہ احسان کو دیر البلاح کی دھول بھری سڑک پر چلچلاتی دھوپ میں ہاتھ سے بنی مٹھائیاں فروخت کرتے ہوئے دیکھا ۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ شدید گرمی اور چلچلاتی دھوپ میں کیا کر رہا ہے؟ اس نے مجھے بتایا کہ ’’میں اپنے خاندان کو زندہ رہنے میں مدد دینے کے لیے تھوڑی سی رقم کمانے کے لیے ہاتھ سے بنی ہوئی مٹھائیاں بیچ کر اپنا دن گزارتا ہوں‘‘۔ پھر اس نے مایوسی سے کہا:’’میں نے اپنے خواب کھو دیے ہیں۔ میں نے انجینئر بننے، اپنا کاروبار شروع کرنے، کسی کمپنی میں کام کرنے کا خواب دیکھا تھا، لیکن اب تو میرے سارے خواب خاک میں مل چکے ہیں‘‘۔
سارہ کی طرح احسان بھی میٹرک کا امتحان دینا چاہتا ہوگا اور یونی ورسٹی میں پڑھنے کا شوق رکھتا ہوگا۔ میں نے غزہ میں سارہ اور احسان جیسے بہت سے روشن چہروں کے حامل نوخیز لڑکے لڑکیاں دیکھی ہیں، جن کی خواہش تھی کہ اپنی ہائی اسکول کی کامیابیوں پر خوشیاں مناتے، لیکن اب وہ اپنے اُجڑے خوابوں کا ماتم کررہے ہیں، جو ان پر ظلم و ستم، تشدد اور بمباری کے نتیجے میں چھین لیے گئے ہیں۔ جو لوگ غزہ کے مستقبل کے ڈاکٹر اور انجینئر بن سکتے تھے، اب وہ موت اور مایوسی میں گھرے ہوئے بمشکل زندہ رہنے کے لیے خوراک اور پانی کی تلاش میں جدوجہد کرتے زندگی گزار رہے ہیں۔
اس تمام تر ظلم و جور اور سفاکیت کے باوجود مزاحمت ختم نہیں ہوئی ہے۔ تباہ شدہ غزہ کے فلسطینیوں میں تعلیم کی تڑپ ختم نہیں ہوئی۔ مجھے یاد آیا جب میں چھ سالہ ماسا اور اس کے اہل خانہ سے دیر البلاح میں ان کے خیمے میں ملنے گئی تھی، اور اس کی ماں سے بات کر رہی تھی، جو مجھے آنسوئوں سے بھیگی آنکھیں پونچھتے ہوئے بتا رہی تھی: ’’ہر بار جب میری بیٹی روتی ہے تو میرے دل میں درد اُٹھتا ہے کیونکہ وہ اسکول نہیں جا سکتی‘‘۔ ماسا نے التجا کی: ’’ماں، میں اسکول جانا چاہتی ہوں۔ چلو بازار چلتے ہیں اور میرے لیے ایک بیگ اور اسکول یونیفارم خرید دیں‘‘۔ ماسا نے ستمبر میں پہلی جماعت شروع کی ہوگی۔ اس مہینے میں اسکول کی اسٹیشنری، یونیفارم اور اسکول بیگ کی خریداری کا وقت ہوتا، جس سے اس کو بے پناہ خوشی ہوتی۔
آج فلسطینی بچوں کی اسکول جانے کی خواہش بہت سے والدین کے دلوں کو افسردہ کر رہی ہے، تعلیم کی یہ پیاس کل غزہ کے تعلیمی شعبے کی تعمیرِ نو کا آغاز کرے گی، جب یہ نسل کشی کا سیلاب ختم ہوجائے گا۔
حالیہ دنوں میں جاری ہونے والے ایک کھلے خط میں، غزہ کے سیکڑوں اسکالرز اور یونی ورسٹی اساتذہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’’غزہ کے تعلیمی اداروں کی تعمیرِ نو صرف تعلیم کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے اُبھرنے کی صلاحیت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے غیرمتزلزل عزم کا ثبوت ہے‘‘۔ درحقیقت، بہت سے فلسطینی اپنی معاشرتی زندگی اور آزادی کے لیے تعلیمی اداروں کی ضروری تعمیرِ نو کی خواہش رکھتے ہیں، جو ان کی ثابت قدمی اور پختہ عزم کا مجسم اظہار ہے۔ اس خط کے اختتامی جملے میں کہا گیا ہے: ’’غزہ کے بہت سے اسکول، خاص طور پر اس کے پناہ گزین کیمپوں میں، خیموں میں بنائے گئے تھے، اور فلسطینی اپنے دوستوں کے تعاون سے بہت جلد انھیں دوبارہ خیموں میں قائم کرلیں گے‘‘۔(الجزیرہ، ۱۱؍اگست ۲۰۲۴ء)
جموں و کشمیر کا تنازعہ، جموں و کشمیر کے لوگوں کی اُمنگوں پر مبنی سیاسی حل کا مطالبہ کرتا ہے۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی دو قراردادوں۱۳؍ اگست ۱۹۴۸ء اور ۵ جنوری ۱۹۴۹ء میں واضح طور پر جموں و کشمیر کے لوگوں کو حقِ خودارادیت اور ریاست میں رائے شماری کے انعقاد کا حق دیا گیا ہے۔ حقِ خود ارادیت اقوام متحدہ کے چارٹر میں انسان کے بنیادی حق کی حیثیت رکھتا ہے، جس کا تقاضا ہے کہ ہر قوم اور برادری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ بغیر کسی تفریق، پابندی اور رکاوٹ کے اپنے عوام کی خواہشات کے مطابق کرے۔ اگر یہ حق پوری عالمی برادری پر لاگو ہوتا ہے تو کشمیریوں کو، انڈیا اور پاکستان کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے بعد اس سے مستثنیٰ نہیں کیا جاسکتا اور نہ انھیں غیر معینہ مدت تک غیر ملکی قبضے کے ذریعے محکوم بناکر رکھا جاسکتا ہے۔ بھارت نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو تسلیم تو کیا ہے، لیکن سات عشروں سے اس پر عمل درآمد سے انکار ی ہے۔
تنازعہ کشمیر کے سیاسی حل سے مسلسل بھارتی انکار نے جموں و کشمیر کے لوگوں میں مایوسی اور بے چینی پیدا کی۔ کشمیریوں کی مایوسی برسوں کے بھارتی قبضے، اپنی ہی ریاست میں کشمیریوں کے ساتھ امتیازی اور ناروا سلوک اور ریاست کی داخلی خودمختاری سے انکار کا نتیجہ تھا۔ نتیجتاً، مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے ۱۹۹۰ء میں غیر قانونی انڈین حکمرانی اور اس کی مسلسل استحصالی پالیسیوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ اس تحریک کا مقبول نعرہ ’آزادی اور حقِ خودارادیت‘ کشمیری عوام کا واحد مطالبہ تھا۔
بھارت نے وحشیانہ ردعمل کے ذریعے پورے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر فوج اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کردی اور مختلف غیر انسانی حکمت عملیوں کے ذریعے کشمیریوں پر ظلم و ستم شروع کر دیا۔ ۱۹۹۰ء کے آغاز سے ہی پُرامن کشمیریوں کے مظاہروں پر بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، حراستی مراکز میں تشدد، زیرحراست قتل اور اندھا دھند فائرنگ روز کا معمول بن گیا۔ ۱۹۹۰ء کی اس تحریک میں مختلف غیرجانب دار ذرائع کے مطابق، بھارتی سفاک سیکورٹی فورسز نے ایک لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔ کشمیری قیادت کو اکثر یا تو براہ راست حملے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے، یا پھر بھارتی سکیورٹی فورسز کے زیر حراست اور گھر میں نظربند رہتے ہوئے مارا گیا ہے۔ عظیم کشمیری رہنما سیّد علی شاہ گیلانی، کشمیریوں کی مزاحمتی تحریک کے بانی، یکم ستمبر ۲۰۲۱ءمیں پانچ سال سے زائد عرصے تک گھر میں نظر بند رہنے کے دوران انتقال کر گئے۔
مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق۱۲ہزار سے زیادہ کشمیری خواتین کو ہراساں کیا گیا، عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا، جن میں اجتماعی عصمت دری اور عصمت دری کے بعد قتل کرنا بھی شامل ہے۔ ہندوستانی ریاست نے مختلف قوانین جیسے آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA)، پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے ذریعے ان غیر انسانی کارروائیوں کو قانونی تحفظ بھی فراہم کیا ہے۔ ان امتیازی قوانین نے بھارتی فوج اور اس کے نیم فوجی دستوں کو کشمیریوں کی گرفتاری، غیر قانونی حراست، تشدد اور قتل کے لیے خصوصی دفعات فراہم کیں۔ اس طرح کے قوانین اور وحشیانہ طاقت کے استعمال کے ذریعے کشمیریوں کے ساتھ ناروا سلوک بین الاقوامی قوانین، انسانی قوانین، معاہدوں اور درجنوں بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے، جسے عالمی سطح پر چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
دوسری طرف بھارت نے اپنی ۹لاکھ سے زیادہ سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو جاری رکھا۔ اس نے ۵؍ اگست ۲۰۱۹ءکو اس کے آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کو منسوخ کرکے غیر قانونی اور یکطرفہ طور پر ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا۔ اس کے علاوہ، اس نے ہندوستانی یونین کے تحت دو مرکز کے زیر انتظام علاقے (جموں و کشمیر اور لداخ) بنا کر ریاست کی ریاستی حیثیت کو بھی ختم کردیا۔ ریاست پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے، نئی دہلی نے اپریل ۲۰۲۰ء میں جموں و کشمیر کے لیے نئے ڈومیسائل قوانین متعارف کروائے۔
ان قوانین کے تحت انڈین حکومت نے بھارت کے مختلف حصوں سے غیر کشمیری ہندوؤں کو لاکھوں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں جو چوتھے جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس کنونشن کا آرٹیکل ۴۹ (۶)قابض طاقتوں کو اپنی آبادی کو مقبوضہ علاقے میں منتقل کرنے سے منع کرتا ہے۔ درحقیقت یہ انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
۱۸ جنوری ۲۰۲۲ء کو، برطانیہ کی ایک قانونی فرم نے لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کو اس وقت کے بھارتی آرمی چیف جنرل منوج اور بھارتی وزیر داخلہ امیت شا کی مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گرفتار کرنے کے لیے اپیل دائر کی۔ ہندوستانی حکومت کے دو اعلیٰ عہدیداروں کی گرفتاری کے لیے یہ قانونی اپیل ’عالمی دائرہ اختیار‘ کے تحت درج کی گئی تھی۔
۹ لاکھ سے زیادہ ہندوستانی افواج کی تعیناتی کے ساتھ، مقبوضہ کشمیر ایک جنگی علاقہ بن گیا ہے۔ لہٰذا، تنازعہ کے سیاسی حل کے علاوہ، بین الاقوامی انسانی قانون (IHL)تنازعہ کو انسانی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ٹھوس بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ IHL درحقیقت قوانین کا ایک مجموعہ ہے جو مقبوضہ کشمیر جیسے جنگی علاقے میں مسلح تصادم کے اثرات کو محدود کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے علاوہ، ’بین الاقوامی انسانی قانون‘ مقامی آبادی کو تمام جہتوں سے بچانے کے لیے ریاستوں کی ذمہ داریوں کا تعین کرتا ہے: ان کے بنیادی شہری حقوق، ان کی آزادی اور تحفظ اور سب سے بڑھ کر ان کا حقِ خود ارادیت۔ مسئلہ کشمیر کو قانون کی بنیاد پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو بھارت کو مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کو روکنے پر مجبور کرنے کے لیے اہل دانش اور سفارت کاروں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ آبادی کے تناسب میں جبری تبدیلیوں کو روکنا اور انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کو بھی نمایاں کرنا چاہیے، جن کے نتیجے میں انسانی المیہ ایک دہکتے الائو کی طرف بڑھتا نظر آرہا ہے۔
تحریک صہیونیت اصل میں اشکنازی یہودیوں نے شروع کی تھی، جو سرخ و سفید رنگت رکھتے ہیں اور مذہب سے جن کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کابانی تھیو ڈور ہرزل تھاجس کے انتقال کےبعد چیم ویزمین تحریک صہیونیت کا چیرمین بنا اور قیامِ اسرائیل کے بعد وہی ملک کاپہلا صدربھی بنا تھا۔ یہ لوگ یروشلم کے صہیون پہاڑ پر تخت ِداؤد لانا چاہتے ہیں ۔ یاد رہےکہ لادینی اور مذہبی دونوں ہی قسم کے یہودی مل کر ایک ہی مقصد پر کام کر رہے ہیں کہ تخت داؤد کو لایا جائے اور صہیون پہاڑ پر رکھا جائے۔ یہ دونوں گروہ گریٹر اسرائیل کی بھی بات کرتے ہیں اور اس نکتے پر متفق ہیں کہ گریٹر اسرائیل بنانا ان کا خدائی حق ہے ۔ ان کی پارلیمنٹ اور کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ ’’اسرائیل تیری سرحدیں فرات سے لے کر نیل تک ہیں‘‘۔ بلکہ وہ تو خیبر مدینے تک پر اپنا حق جتاتے ہیں،جہاں کبھی یہودی رہے بسے تھے ۔ اسرائیل نے ۱۹۸۸ء میں ایک سکہ جاری کیاتھا، جس میں دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا علاقہ دکھایا گیا تھا ۔لیکن وہاںکے اسٹیٹ بینک نے اس کی یہ کہہ کر تردید کی تھی کہ نقشےکی غلط تشریح کی جارہی ہے۔اسرائیلی پرچم پر بھی اوپر نیچے نیلی دو سیدھی لکیریں اسی نظرئیے کی تائید کرتی ہیں۔
ان کے پروٹوکولز میں لکھا ہوا ہےکہ’’ہماری حکومت قائم ہونےکے وقت ہمارے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کا باقی رہنا مناسب نہیں۔ ضروری ہے کہ ہم ہر قسم کے اعتقادات (ایمانیات) کا خاتمہ کردیں‘‘۔ (دستاویز نمبر ۱۴-۱۷)۔ان کا مذہبی عقیدہ ہے کہ ہم اعلیٰ ترین نسل اور خدا کے چنے ہوئے بندے ہیں۔ ہم تبلیغ بھی اسی لیے نہیں کرتے کہ ہماری نسل سب سے اعلیٰ ہے ۔ اس لیے دوسری قوموں کو ہم اپنے اندر کیسے ملا لیں؟ یہی وجہ ہے کہ ان کی تعداد آج کل بھی دو یا سوا دو کروڑ سے کبھی زیادہ نہیں ہو سکی ہے ۔ پروٹوکولز کے مطابق: ’’ہم یہ چاہتے ہیں کہ دُنیا کی تمام مملکتوں میںہمارے علاوہ صرف مزدوراور محنت کش طبقہ ہو‘‘۔ جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو ہم سب سے پہلے یونی ورسٹیوں کی تعلیم کی از سرنو تنظیم کریںگے‘‘ (دستاویز نمبر بالترتیب ۷،۹،۱۶)
صہیونی یہودی دعویٰ کرتےہیں کہ ساری دنیا ہمارے کنٹرول میں ہوگی اور اسے ہم اپنے ماتحت رکھیں گے۔ ہمارا ایک میگا کمپیوٹر ہوگا، جس میں ایک ایک شہری کا ڈیٹا رکھیں گے ۔اور جو ہماری خلاف ورزی کرے گا اسے سزائیں سنائیں گے ۔ انھوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ دنیا کی ہر لڑکی ہماری لڑکی ہوگی۔
پروٹوکولز زوردیتے ہیںکہ ’’ہم قتل عام کرائیںگے اور اپنے کسی مخالف کومعاف نہیں کریں گے‘‘(نمبر ۹)۔دنیا میں بے حیائی پھیلانے کے ان کے جو طریقے ہیں، ان کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ امریکا میں انھوں نے ہالی وُڈ اسی مقصد کے تحت قائم کیا تھا۔ ہالی وڈ جب پہلی دفعہ آیا تھا تو انھوں نے کچھ بے شرمی کی باتیں شروع کی تھیں، جس پر سنجیدہ عیسائی چیخ اُٹھے تھے کہ ایسی فلمیں بند کرو جن کے نتیجے میںہماری اخلاقی قدریں کمزور ہورہی ہیں۔ نتیجے میں صہیونی کچھ پیچھے ہٹے تھے۔ مگر پھر آہستہ آہستہ لوگوں کی حِس کو سُن کرکے مطلوبہ درجے پر پہنچ گئے۔
چنانچہ اگر ہم اسرائیلیوں کی باتیں تسلیم کر لیں گے تو ہمارے پاس بچے گا کیا؟پھر مسلمانوں ہی میں سے نعوذ باللہ حج اور عمرے کو برا بھلا کہا جائے گا۔لوگ کہیں گے کہ ’’یہ سب عیاشی ہے‘‘۔ اور دبے لفظوں میں یہ کہا جانے بھی لگا ہے۔ پھر کہا جائے گا: ’’ قربانی کی ضرورت ہی کیا ہے ؟‘‘ ۔ پھر ہماری زبان بدل جائے گی ، پھرہماری نظریں بدل جائیں گی۔ یوں رفتہ رفتہ وہ ثقافتی، تعلیمی اور مذہبی و اخلاقی حوالے سے بھی آگے بڑھتے جائیں گے، بلکہ بڑھ رہے ہیں۔
قیامِ اسرائیل سے اب ۷۵ برسوں تک دہشت گردی اور نسل انسانی کے مٹانے کے رویے میں وہاں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ جو بھی وزیراعظم آتا ہے، (اِس طبقے کا یا اُس طبقے کا)، اس نے اسرائیل کی توسیع ہی کی ہے۔ شروع میں جب اسرائیل کوبرطانیہ کی جانب سے بسانے کی اجازت دی گئی تھی تو نتیجے میں انھیںسات ،آٹھ ،یادس فی صد زمین دی گئی تھی۔ مگر سوچنے کی بات ہے کہ کیوں یہ ریاست آج ا س حد سے بھی آگے بڑھ گئی ہے؟مقامی فلسطینی آبادی گھٹ گئی اور یہودی آبادی بڑھ گئی ہے ۔ تو یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوا ؟ جیسا کہ پہلے بتایاگیا کہ اسرائیل کی کوئی حدود ہی متعین نہیں ہیں۔ دنیا کا یہ واحد ملک ہے جس کی کوئی حدود نہیں ہیں ۔یہودی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ ’’اے اسرائیل تیری سرحدیں دریائے نیل سے دریائے فرات تک ہیں‘‘۔
امریکی کار کمپنی فورڈکے بانی ہنری فورڈنے یہودیوں کے خلاف اپنی معروف کتاب The International Jews ترجمہ عالمی یہودی فتنہ گر از میاں عبدالرشید میں صہیونیوںکی کئی خفیہ سازشوںکو بے نقاب کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں فورڈ لکھتاہے کہ ’’کالجوں میں بھی یہودیوں نے وہی طریقہ اختیارکیا ہے، جس سے وہ ہمارے گرجوں کو تباہ کرچکے ہیں۔ نوجوانوںکو یہ تاثر دیا جاتاہے کہ وہ ایک نئی عظیم تحریک میںحصہ لے رہے ہیںجو انسانوں کی فلاح کے لیے ہے ‘‘۔ وہ سوال کرتاہے کہ پھرا س کا علاج کیا ہو؟ کہتاہے کہ ’’علاج بالکل آسان ہے۔ طلبہ کو بتایا جائے کہ ان تمام افکار کی پشت پر یہودی ہیں، جوہمیں اپنے ماضی سے منقطع کرکے آئندہ کے لیے مفلوج کرنا چاہتے ہیں۔انھیں بتایا جائے کہ وہ (عیسائی طلبہ) ا ن لوگوںکی اولاد ہیں جو یورپ سے تہذیب لے کر آئے ۔تہذیب ان کی گھٹی میںپڑی ہوئی تھی۔ اور اب یہ یہودی ہمارے اند ر گھس آئے ہیں۔ ان کی نہ کوئی تہذیب ہے نہ مذہب ‘‘۔وہ مزید آگاہ کرتا ہے کہ’’ یہودیوں کی مطبوعات، کتابوں، پمفلٹوں، اعلانوں، اوران کے اداروں کے دستوروں سے ثابت ہےکہ ان کے اندر غیریہودیوں کے لیے سخت نفرت پائی جاتی ہے‘‘ (ص ۱۴، ۵۱)۔آگے زور دیتے ہوئے وہ کہتاہے: ’’اب ہرحکومت کو یہودی مسئلے کانوٹس لینا پڑے گا کیونکہ اس وقت یہ مسئلہ دنیاکے تمام مسائل سے عظیم تر ہوچکاہے۔اور ساری دنیا کےچھوٹے بڑے قومی یا بین الاقوامی مسائل،اسی کی کوکھ سے جنم لے رہے ہیں ‘‘(ص ۵۷)۔ ہنری فورڈکا زمانہ ۳۴،۱۹۳۳ء کا تھا، جب جرمنی میں ہٹلر برسرِاقتدار تھا۔ ہٹلر نے اس کتاب پر فورڈ کو مبارک باد بھی دی تھی ۔کیونکہ اس نے ہٹلر کےکام کو علمی لحاظ سےمزید آسان کیا تھا۔
ایک اور اہم شخصیت نے بھی یہودیوں کی خباثت اور گہری سازشوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ امریکی سی آئی اے کا ایک سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر جان کولمین تھا، جواپنی تحقیقی کتاب The Conspirators Hierarchy, the Committee of 300 میں ،جو اس کے بقول صہیونیوں کی ’نادیدہ عالمی تنظیم‘ ہے، انکشاف کرتاہے کہ یہ لوگ دنیا بھر میں ایسی جنسیاتی و ہذیانی کیفیت پیداکرنا چاہتے ہیں، جس میں کسی قسم کاکوئی خوف ، جھجک ،اور شرم نہ ہو ۔ڈاکٹرکولمین نےاس مقصد کے لیے ایک نئی اصطلاح استعمال کی ہے: Mindless Sex۔ یعنی ایسی شہوت اور بدکاری جس میںکوئی بھی ،کسی سے بھی ، کہیں بھی، اور کسی طرح بھی، باہمی مصروف ہوجائے۔ (ص ۵۴)
یہ سوچنا چاہیے کہ ان کی ایک خفیہ تنظیم فری میسینری ہے۔ عظیم ملک ترکی کو انھوں نے اسی فری میسنری تنظیم کے سائے میں کاٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کیا تھا۔ اور اب وہ پاکستان کے وجود کےدرپے ہیں۔ان کی نظریں ایٹم بم اور پاکستان کی سلامتی پر ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں ۷۰ء کےعشرے میں ایک کامیاب مہم کے نتیجے میں صہیونیوں کی ’فری میسنری تنظیم‘ پر پہلے ہی پابندی لگائی جاچکی ہے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ زمین پر وہ پابندی غیرمؤثر ہوچکی ہے۔ اس ’سافٹ دہشت گرد تحریک‘ کے بارے میں پاکستانی قومی سلامتی کے اداروں کو حساس اور خبردار ہونا چاہیے۔
غرض یہ تو اپنے مقاصد کو لے کے چل ہی رہے ہیں ۔ان کے پروٹوکولز کے کل۲۴ باب ہیں جنھیں ہمیں ضرور ہی پڑھنا چاہیے۔ مطالعہ کرنا چاہیے کہ دنیا پران یہودیوں نے کس طرح قبضہ کیا تھا؟ انقلاب انگلینڈ اور انقلاب اسپین انھی کی سازشوں کی وجہ سے آیا تھا ۔ انقلاب اسپین میں ملکہ اور بادشاہ کے سروں کو اُڑایا گیا تھا ، وہ عمل بھی انھی صہیونیوںنے انجام دیا تھا۔ یہ کہیں بھی ہوں، فساد کرتے ہیں۔اور یہ وہ قوم ہے جس کے دل میں رائی کے برابر بھی رحم نہیںہے ۔
یہودی ، اقوام متحدہ سمیت دنیا کے ہر بڑے عہدے پر موجود ہیں اور وہی مسلم ممالک کی معاشی و سیاسی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے شکنجے میں کسے جانے والے تمام بجٹوں کے مشیر اصل میں یہی بڑے یہودی عہدیدار ہوتے ہیں۔
جب ۱۵؍ اگست ۲۰۲۱ء کو تحریکِ طالبان افغانستان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل کا انتظام سنبھالا تو یہ ایک محیرالعقول واقعہ تھا۔ اس سے پہلے کم و بیش پورے افغانستان پر ان کا قبضہ ہوچکا تھا ۔تمام بڑے شہر ،ایئرپورٹوں اور اہم عسکری تنصیبات پر وہ ’امارت اسلامی‘ کے جھنڈے گاڑ چکے تھے۔ نیٹو افواج اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ افغانستان سے رخصت ہوچکی تھیں۔ ساڑھے تین لاکھ افغانوں پر مشتمل فوج، جس کو امریکا نے اربوں ڈالر خرچ کر کے تیار اور بہترین اسلحے سے لیس کیا تھا، طالبان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔امریکی کٹھ پتلی صدر اشرف غنی سمیت اُن کی پوری کابینہ ملک سے فرار ہو گئی اور بغیر جنگ لڑے طالبان کابل میں داخل ہو گئے۔ گذشتہ تین سال میں ایک طویل عرصے کےبعد افغانستان میں امن و امان بحال رہا۔ ’داعش‘ تنظیم نے متعدد مقامات پر کئی خودکش حملے کیے، جس سے سیکڑوں جانیں ضائع ہوئیں۔ لیکن اب وہ سلسلہ بھی تھم چکا ہے۔ داعش کی بیش تر قیادت ملک سے باہر نکل گئی ہے اور دیگر ممالک میں سرگرمِ عمل ہے ۔
۱-ملک میں مکمل امن و امان کی بحالی، جنگ کا خاتمہ، عوام کا تحفظ ،شاہراؤں کی حفاظت۔
۲- حکومتی رٹ کا قیام، کابل کی مرکزی حکومت کا پورے افغانستان پر مکمل کنٹرول ہے۔ ملک کے ۳۴ صوبوں اور ۴۰۰ اضلاع میں ایک ہی حکومت ہے۔ تمام صوبوں کے والی، اور بڑے چھوٹے اضلاع کے حکام اس کے سامنے جواب دہ ہیں، اور اس کا حکم پورے ملک میں نافذ ہوتا ہے۔
۳- قانون کی بالادستی اور لاقانو نیت کے خاتمے کے بعد پورے ملک میں شرعی قوانین نافذ ہیں۔ عدالتیں قائم ہیں اور وہ روزمرہ کے مسائل اور تنازعات کا بروقت فیصلہ کرتی ہیں۔ عالمی ادارے نے کابل کو اس خطے کا سب سے محفوظ شہر قرار دیا ہے جہاں جرائم کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
۴- بدعنوانی اورکرپشن کا ہر سطح پر سد باب کردیا گیا ہے۔ رشوت ستانی ،بھتہ خوری، کمیشن وغیرہ جیسے مسائل جو گذشتہ حکومتوں میں عام تھے، ناپید ہیں۔ تمام حکومتی محصولات کی وصولی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ بجلی کے بل اور دیگر خدمات پر ادائیگی پوری طرح لی جاتی ہے، جس سے حکومت کو مستحکم بنانے میں بہت مدد ملی ہے ۔
۵- ملک میں اقتصادی ترقی، تجارت کے فروغ اور معاشی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔ افغان کرنسی کو عالمی بینک نےاس خطے کی مضبوط ترین کرنسی قرار دیا ہے۔ افغان تاجر بغیر کسی روک ٹوک کے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر آزادانہ طور پر کاروبار کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی کمپنیاں اور کاروباری افراد بھی افغانستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
۶- ملک میں بلاامتیاز یکساں طور پر ترقیاتی کام زور و شور سے جاری ہیں ۔ پہلے سال چھوٹے پیمانے پر کاموں کا آغاز ہوا،لیکن اب پورے ملک میں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ شاہراؤں کی تعمیر ہو رہی ہے، ڈیم بن رہے ہیں اور سالانگ ٹنل کی تعمیرِ نو ہو چکی ہے۔ ۲۸۰کلومیٹر طویل قوش ٹپہ نہر بن رہی ہے، جو کہ شمالی صوبوں کی لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کرے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام ترقیاتی کام خود انحصاری کی بنا پر کیے جا رہے ہیں۔ کوئی غیر ملکی قرضہ نہیں لیا گیا۔ بیرونی ممالک مثلاً چین اگر کسی منصوبے میں شریک ہے، تو وہ امداد کے طور پر کام کر رہا ہے۔
۷- مرکزی بینک اور دیگر مالیاتی ادارے ملک کی ترقی اور معاشی کنٹرول میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، خاص طور پر قیمتوں کے کنٹرول اور درآمدات و برآمدات پر نظر رکھتے ہیں اور جو اقدام ضروری ہے وہ کرتے ہیں۔ غیر ملکی کرنسی کی آمد اور خروج پر بھی دسترس ہے ۔ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ملک میں بینکاری کا نظام جاری ہے اور سودی نظام کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
۸- اقوام متحدہ کے اداروں اور دیگر ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ تعلقاتِ کار قائم ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام ،عالمی ادارہ صحت، ریڈ کراس وغیرہ تمام تر پابندیوں کے باوجود کام کر رہے ہیں اور ان کے کارکنان اور دفاتر کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے، جب کہ ان کو براہِ راست عوامی مفادات کے کاموں اور امدادی اشیاء کی تقسیم کی دسترس فراہم کی گئی ہے۔ زلزلوں، سیلابی صورتِ حال اور وبائی امراض، انسداد پولیو مہمات میں دیگر ریلیف کے کاموں میں عالمی رفاہی اداروں کو کام کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ ان اداروں میں خواتین کارکنان بھی کام کر رہی ہیں ۔علاوہ ازیں شعبۂ صحت میں ایک لاکھ ۵۰ ہزار اور شعبہ تعلیم میں ۹۰ ہزار خواتین پر مشتمل عملہ کام کر رہا ہے۔
۹- پڑوسی ممالک کے ساتھ سماجی ومعاشی تعلقات کو فروغ دیا گیا ہے۔ چین، ایران، پاکستان ،روس، ازبکستان ،ترکمانستان، تاجکستان وغیرہ کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار اور سرحدیں کھلی ہیں، اور اس میں بہتری آرہی ہے۔ ان ممالک کو طالبنائزیشن کا جو خوف درپیش تھا وہ اب معروضی اور عملی معاشی تعلقات میں ڈھل چکا ہے۔ کمیونسٹ ملک چین کے ساتھ خاص طور پر معاشی تعلقات میں بہت اضافہ ہوا ہے اور اس وقت ملک کی ۷۰ فی صد بیرونی تجارت اس کے ساتھ ہے۔ کابل میں اکثر ممالک کے سفارت خانے فعال ہوچکے ہیں۔
۱۰- ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ طالبان قیادت نے برسرِ اقتدار آنے کے بعد جس عام معافی کا اعلان کیا تھا، اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔ انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ جو لوگ بیرونی ملک جانا چاہتے ہیں یابیرون ملک سے واپس آنا چاہتے ہیں وہ بلا خوف و خطر آسکتے ہیں۔ اندرون ملک اور بیرونی ملک فضائی پروازیں بحال ہو چکی ہیں۔
۱- جس عبوری کابینہ کا اعلان ۲۰۲۱ء میں کیا گیا تھا،وہی ابھی تک چل رہی ہے اور مستقل حکومت اور نظام ابھی تک معرض وجود میں نہیں آیا۔ ملک میں جمہوری ،شورائی نظام اور پارلیمنٹ کا وجود نہیں ہے۔ باقاعدہ ملکی دستور و آئین بھی منظور نہیں کیا جاسکا ہے۔ ملکی انتخابات یا اس کا متبادل کوئی نظام بھی ابھی تک قائم نہیں کیا جا سکا ہے۔
۲- کسی بھی ملک نے ابھی تک امارت اسلامی افغانستان کو باقاعدہ رسمی طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ کئی ملکوں نے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن پڑوسی ممالک سمیت کسی نے تسلیم نہیں کیا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ میں بھی افغانستان کی نمائندہ نشست خالی ہے۔
۳- افغانستان پر عائد بین الاقوامی پابندیاں جاری ہیں ۔اقوام متحدہ ،سیکورٹی کونسل، مغربی ممالک و دیگر عالمی اداروں نے معاشی و سفارتی اور ذمہ دارانِ حکومت پر بین الاقوامی سفر کی جو پابندیاں عائد کی تھیں، برقرار ہیں۔ نیز بینکاری، ہوا بازی اور معاہدوں پر پابندیاں جوں کی توں ہیں۔ گذشتہ حج کے موقع پر طالبان کے اہم رہنما سراج الدین حقانی کو فریضۂ حج کے لیے خصوصی استثنا دیا گیا تھا۔
۴- گذشتہ دو برسوں سے افغانستان میں بچیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی ابھی تک برقرار ہے۔ امیر المومنین ملاہبت اللہ کے ایک فرمان کے مطابق کالجوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے دروازے طالبات پر بند کیے گئے تھے جس سے پوری دنیا میں طالبان قیادت کو ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ اس سال امارت اسلامی نے اعلان کیا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو اسلامی اصولوں کے مطابق بچیوں کا تعلیمی نصاب تیار کرے گی، لیکن ابھی تک اس معاملے پر کوئی اقدام سامنے نہیں آیا جس پر اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک امارت اسلامی کے حامیوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
۵- پاکستان کے ساتھ تعلقات میں جو بہتری کی توقع کی جا رہی تھی، ابھی تک وہ پوری نہیں ہوئی۔ طالبان کے پہلے دور (۱۹۹۶ء-۲۰۰۱ء) میں پاکستان نے امارت اسلامی کی حکومت کو نہ صرف تسلیم کیا تھا بلکہ سفارتی محاذ پر اس کی بھرپور حمایت بھی کی تھی۔ اس کے بعد حامد کرزئی اور ڈاکٹراشرف غنی کے دور میں تعلقات کشیدہ رہے۔ طالبان کی کابل آمد پر پاکستان میں بھی بالعموم خوشی کا اظہار کیا گیا، لیکن اس کے بعد باہمی تعلقات میں تناؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی جس کی بڑی وجہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے بڑے پیمانے پر دہشت گردی ہے۔ افغانستان سے متصل قبائلی اور جنوبی اضلاع میں ہزاروں کی تعداد میں ان کے وابستگان، فورسز کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں اور ان کی قیادت افغانستان میں موجود ہے۔
تیسری دوحہ کانفرنس منعقدہ ۳۰ جون تا یکم جولائی ۲۰۲۴ء میں ان کے یہ دونوں مطالبات منظور کر لیے گئے۔ کانفرنس میں افغانستان اور اقوام متحدہ کے نمائندگان کے علاوہ امریکا، روس، چین، پاکستان، ایران، تاجکستان، ازبکستان ،قازکستان،کرغزستان، ترکی ،جاپان ،انڈیا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، ناروے، سعودی عرب ،انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، اور قطر شامل رہے۔ یورپی یونین اور اسلامک کانفرنس کے نمائندے بھی موجود تھے جس سے آپ اس کانفرنس کی اہمیت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ کابل کے ایک مؤثرتھنک ٹینک سی ایس آر ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کانفرنس سے امارت اسلامی نے تین اہم فوائد حاصل کیے :
۱ -امارت اسلامی افغانستان کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک بین الاقوامی فورم میں پوری نمائندگی دی گئی ۔جس سے اب تک اس کو محروم رکھا گیا تھا۔
۲- ایجنڈا میں وہ نکات شامل کیے گئے،جوافغانستان کی ضرورت ہیں اور زمینی حقائق کے مطابق ہیں ۔جن میں افغانستان پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ختم کرنا، بینکاری کی سہولیات اور نجی سیکٹر پر پابندیاں ختم کرنا، افغانستان کے منجمد اثا ثے بحال کرنا ،افیون کی کاشت پر پابندی کے نتیجے میں متاثرہ کسانوں کو ریلیف مہیا کرنا جیسے نکات شامل تھے۔ جس پر کانفرنس کی دوسری نشست میں تفصیلی غور وخوض ہوا اور افغان نمائندوں کو سناگیا ۔
۳- بین الاقوامی برادری نے ایک طرح سے تسلیم کر لیا ہےکہ امارت اسلامی افغانستان کے ساتھ براہ راست رابطہ اور مل کر کام کرنا ناگزیر اور مفید ہے اور اس پر پابندیاں عائد کرنا اور دباؤ ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں، اس لیے اس کو اپنے ساتھ ملاکر چلانے کی ضرورت ہے ۔
اگر چہ اس کانفرنس سے فوری طور پر تو افغانستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، لیکن امارت اسلامی افغانستان نے عالمی فورم میں اپنی تین سالہ کارکرد گی بیان کی۔ جس میں امن و سلامتی، معاشی ترقی، پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات، ملک میں افیون کی کاشت پر مکمل پابندی اور افغانستان سے منشیات کی سمگلنگ جیسی بڑی سماجی لعنت کا خاتمہ شامل ہے۔ یہ کام طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں بھی کیا گیا تھا، لیکن ملک پر امریکی قبضے کے دوران یہ پھربڑے پیمانے پر شروع ہوا اور ۲۰۲۰ء کے اختتام پر ایک اندازے کے مطابق صرف افغانستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد ۴۰لاکھ سے زائد تھی۔ منشیات کا خاتمہ امارت اسلامی افغانستان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔
دوحہ کانفرنس کے دوران ایک اہم اجلاس قطر کی میزبانی میں منعقد ہوا ،جس میں پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں ان تین ممالک کے درمیان کارگو ریلوے سروس کے قیام کے منصوبے پر بات چیت کی گئی جس کی فنڈنگ قطر کرے گا۔ یہ پاکستان کے لیے ایک بہت اہم منصوبہ ہے، جس کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک اور روس کی مارکیٹوں تک براہ راست رسائی حاصل ہوسکے گی۔ازبکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے ریلوے لائن موجود ہے، جو مزار شریف تک ہے ،جب کہ پاکستان کی طرف سے ریلوے طورخم تک ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’وائس آف امریکا‘ (VOA )کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند گروپوں کا اتحاد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان میں ’سب سے بڑا دہشت گرد گروپ‘ ہے۔ اسے پاکستان میں سرحد پار سے حملے کرنے کے لیے طالبان حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم دیر گئی۔ اس کے مطابق ٹی ٹی پی کی زیرقیادت، پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں بڑا اضافہ ہوا، جن میں حالیہ ہفتوں میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے: ’’ٹی ٹی پی، افغانستان میں بڑے پیمانے پر کام جاری رکھے ہوئے ہے، اور وہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لیے، اکثر افغانوں کو (یا افغانستان کی سرزمین کو ) استعمال کرتی ہے‘‘۔ مزید یہ کہ ’’عالمی سطح پر نامزد دہشت گرد گروپ، جسے پاکستانی طالبان بھی کہا جاتا ہے، افغانستان میں تقریباً۶ہزار۵سوجنگجوؤں کے ساتھ کام کر رہا ہے‘‘۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ’ ’پاکستان، ٹی ٹی پی کے پاکستان میں بڑھتے ہوئے حملوں سے نمٹنے کے لیے مشکلات کا شکار ہے اور طالبان کی ٹی ٹی پی کی حمایت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ان پُرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے اسلام آباد اور کابل میں طالبان حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں،جب کہ افغان طالبان (امارت اسلامی افغانستان ) دہشت گرد گروہ کی موجودگی کے الزامات کو مسترد کرتی ہے یا یہ کہ پڑوسی ممالک کو دھمکی دینے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کرنےکی اجازت دیتی ہے‘‘۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ: ’’طالبان، ٹی ٹی پی کو ایک دہشت گرد گروپ کے طور پر تصور نہیں کرتے اور ان کے درمیان باہمی مضبوط تعلقات ہیں۔ ٹی ٹی پی ۲۰۰۷ء میں پاکستان کے غیر مستحکم (قبائلی علاقوں )سرحدی علاقوں میں اُبھری، جس نے افغان طالبان کو بھرتی اور پناہ فراہم کی کیونکہ اس کے بعد کے برسوں میں انھوں نے افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوجیوں کے خلاف گوریلا حملے تیز کر دیے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے: افغانستان میں القاعدہ کے علاقائی کارندے، جن کے طالبان سے طویل مدتی تعلقات ہیں، پاکستان کے اندر بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ کارروائیوں میں ٹی ٹی پی کی مدد کر رہے ہیں‘‘۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں رکن ممالک کے حوالے سے بتایا گیا ہے: ’’ٹی ٹی پی کے کارندوں کو مقامی جنگجوؤں کے ساتھ مل کر القاعدہ کے اُن کیمپوں میں تربیت دی جا رہی ہے جو اس تنظیم نے متعدد سرحدی صوبوں جیسے ننگرہار، قندھار، کنڑ اور نورستان میں قائم کیے ہیں۔ اس طرح القاعدہ ٹی ٹی پی کی حمایت کر رہی ہے۔ اس طرح القاعدہ کے ساتھ ’زیادہ تعاون‘ ٹی ٹی پی کو ’پورے خطے کو خطرے‘ میں تبدیل کر سکتا ہے‘‘۔
لکھا گیا ہے: ’’نیٹو افواج کے ہتھیار، خاص طور پر رات میں دیکھنے کی صلاحیت (Night vision کے حامل حساس آلات) جو کہ طالبان کے قبضے کے بعد سے ٹی ٹی پی کو فراہم ہوچکے ہیں، پاکستانی فوجی سرحدی چوکیوں پر اس کے حملوں میں جان لیوا اضافہ کرتے ہیں‘‘۔
اسلام آباد میں حکام نے بھی بار بار سکیورٹی فورسز میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ جدید امریکی ہتھیاروں کو قرار دیا ہے جو بین الاقوامی افواج کے ہاتھوں پیچھے رہ گئے تھے اور ٹی ٹی پی کے ہاتھ لگ گئے تھے۔ امریکی محکمہ دفاع نے مئی [۲۰۲۴ء]کے آخر میں منظر عام پر آنے والی سہ ماہی رپورٹ میں ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’’پاکستانی انٹیلی جنس فورسز نے اس سال کے شروع میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران، M-16 اور M-4 رائفلز سمیت چند امریکی تیار کردہ چھوٹے ہتھیار برآمد کیے ہیں اور ٹی ٹی پی سمیت عسکریت پسند، پاکستان میں حملوں کے لیے ممکنہ طور پر محدود مقدار میں امریکی ساخت کے ہتھیاروں اور آلات بشمول چھوٹے ہتھیاروں اور نائٹ ویژن چشموں کا استعمال کر رہے ہیں‘‘۔ تاہم، اس میں آگے چل کر کہا گیا ہے: ’’امریکی ساختہ ہتھیاروں کی مقدار جس کا دعویٰ پاکستانی ذرائع نے کیا ہے کہ وہ پاکستان مخالف عسکریت پسندوں کے ہاتھ میں ہے، یہ ممکنہ طور پر مبالغہ آرائی ہے‘‘۔
اسلام آباد نے بارہا کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’وہ ٹی ٹی پی کی زیر قیادت سرحد پار دہشت گردی کو لگام ڈالے اور محسود سمیت اس کے رہنماؤں کو پکڑ کر پاکستان کے حوالے کرے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق: ٹی ٹی پی نے بتدریج پاکستان کے خلاف حملوں کی تعداد کو ۲۰۲۱ء میں ۵۷۳ سے بڑھا کر ۲۰۲۳ء میں ۱۲۰۳ کر دیا ہے، اور یہ رجحان ۲۰۲۴ء میں بڑھتا جارہا ہے۔ پاکستانی حکام بھی تشدد میں اضافے کی وجہ ’زیادہ سے زیادہ آپریشنل آزادی‘ کو قرار دیتے ہیں جو تقریباً تین سال قبل طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دہشت گرد تنظیم کو افغانستان میں حاصل ہوئی ہے۔ طالبان کی جاسوسی ایجنسی، جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس نے، ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کے لیے کابل میں تین نئے گیسٹ ہاؤسز کی سہولت فراہم کی اور مبینہ طور پر ٹی ٹی پی کی سینئر شخصیات کو نقل و حرکت میں آسانی اور گرفتاری سے استثنا کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں کے اجازت نامے جاری کیے تھے۔ اس جائزے میں یہ بھی بتایا گیا کہ ’’طالبان کو خدشہ ہے کہ[امارت اسلامیہ کی جانب سے] ’زیادہ دباؤ‘ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں قائم داعش کے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور کر سکتا ہے‘‘۔
طالبان نے اقوام متحدہ کی ان تازہ رپورٹوں پر فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ تاہم، طالبان نے یہ ضرور ظاہر کیا ہے کہ ’’افغانستان پر الزام لگانے کے بجائے (ٹی ٹی پی) پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے‘‘۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس رپورٹ میں شائع شدہ حقائق یا تصورات زیادہ تر پہلے سے پاکستان اور افغانستان کی قیادت کے علم میں ہیں اور ان پر پاکستانی وزیر دفاع اور دیگر حکام اظہار خیال بھی کرتے رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں دہشت گردی کے واقعات کے بعد پاکستانی وزارت خارجہ میں افغان ناظم الامور کو بلا کر سفارتی انداز میں متنبہ بھی کیا گیا اور کم از کم ایک مرتبہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے مبینہ ٹھکانہ پر بمباری بھی کی گئی ہے اور آئندہ بھی ایسا کرنے کی وارننگ دی گئی ہے، جس پر افغان قیادت کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس وقت پاک افغان تعلقات تناؤ کا شکار ہیں اور اعلیٰ سطحی رابطوں کا فقدان ہے۔ پاکستان نے اب تک افغانستان کو سفارتی سطح پر تسلیم بھی نہیں کیا۔ تاہم، ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان افغانستان کو رسمی طور پر باقاعدہ تسلیم کرکے اس کے ساتھ اعلیٰ سطح پر مذاکرات کے عمل کا دروازہ کھولے، جس میں دونوں طرف کی سیاسی اور دینی قیادت شریک ہو۔ جنگی اقدامات کو خیرباد کہنا چاہیے اور دونوں ممالک کے درمیان روزمرہ بنیادوں پر مضبوط سیاسی، اقتصادی اور سماجی تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔ اس کام میں پاکستان ہی کو سبقت لینی چاہیے۔ گذشتہ ماہ جولائی کو فرینکفرٹ میں پاکستانی کونسل خانے پر جو افسوس ناک واقعہ ہوا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارتی لابی افغانستان میں پاکستان مخالف رائے عامہ کو کسی بھی وقت استعمال کر سکتی ہے، حالانکہ اس مظاہرے میں پاکستانی طلبہ بھی بڑی تعداد میں شریک تھے، جو ممتاز پختون قوم پرست شاعر گیلامند وزیر کی اسلام آباد میں پُراسرار ہلاکت کے خلاف احتجاجی مراسلہ پاکستانی سفارتی عملے کو دینے گئے تھے۔ مگر اسی دوران جن دو افغان طلبہ نے پاکستانی پرچم اُتارا تھا، ان کو اسی وقت پاکستانی طلبہ نے پکڑ کر پولیس کے حوالے بھی کیا تھا۔
’’۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے بھارتی لوک سبھائی حملے کے نتیجے میں کیا مقبوضہ کشمیر پُرامن ہوگیا ہے؟‘‘ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔
گذشتہ پانچ برسوں کے دوران جہاں ایک طرف نئی دہلی سرکار کے ظلم و تشدد نے مختلف نئے حربے اپنائے ہیں، وہیں عوامی سطح پر محکوم کشمیریوں نے بعض حوالوں سے مایوسی اور ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے جدوجہد کے لیے نئے راستے اپنائے ہیں۔ یہ زمانہ ظلم کی مختلف داستانوں کومجسم پیش کرتا ہے اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس) کی مسلم نسل کش حکمت عملی کا جواب دینے کے لیے اپنی کوششوں میں تبدیلی لایا ہے۔
اس دوران تحریک آزادیٔ کشمیر اپنے عظیم رہنما سیّدعلی گیلانی کی رہنمائی سے ستمبر۲۰۲۱ءکو محروم ہوگئی۔ وہ مسلسل بھارتی حکومت کی قید میں تھے۔ انتقال سے قبل انھیں علاج معالجے کی سہولت سے محروم رکھا گیا۔پھر ان کی میّت بھی بھارتی فورسز نے قبضے میں لے لی اور خاندان کو تجہیزو تدفین کرنے کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اُن کی وصیت کے مطابق انھیں شہدا کے مرکزی قبرستان میں دفن کرتے۔ اہل کشمیر کے لیے گیلانی مرحوم ایک والد کی سی قدرومنزلت رکھتے تھے مگر لوگوں کو ان کے جنازے میں شریک نہیں ہونے دیا گیا۔
قابض حکومت کی جانب سے اخبارات سخت سنسرشپ اور پابندیوں میں جکڑے گئے۔ اسکولوں سے اُردو کی کمر توڑنے اور اسلامی تہذیب سے وابستہ اسباق کی بیخ کنی کے انتظامات کیے گئے، اور اسلامی اسکولوں کو قومیایا گیا۔ اچانک چھاپے مار کر لکھنے پڑھنے والے دانش وروں اور صحافیوں کی ایک تعداد کو مقدمات کے بغیر انڈیا کی دُور دراز جیلوں میں ٹھونسا یا غائب کردیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر سے اُن طلبہ کے راستے میں شدید ترین رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جانا چاہتے تھے اور ان کے داخلے بھی ہوچکے تھے۔ اس پالیسی کا شکار وہ طلبہ بھی ہوئے، جو بھارتی حکمرانوں کے کشمیر موقف کے حامی ہیں، لیکن ان کا مسلمان ہونا، ان کی راہ میں رکاوٹ بنادیا گیا۔
اقوام متحدہ کے مطابق مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر متنازعہ علاقے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کے شہری کشمیر کے ایک دوسرے علاقے میں جانے کا حق رکھتے ہیں۔
۲۰۰۲ء میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جموں و کشمیر میں یک طرفہ باڑ لگانے سے ایک تو یہاں کے لوگوں کا بنیادی شہری حق سلب ہوا، اور دوسری طرف جو طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کرنے آزاد کشمیر آئے تھے، بھارتی حکومت نے ان کی ڈگریاں تسلیم کرنے سے انکار پر مبنی قانون نافذ کردیا۔
اس مدت میں تمام تر بلندبانگ دعوئوں کے باوجود بھارتی حکومت نے یورپی ممالک کے صحافیوں کو آزادی سے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی، اور اگر ایک مرتبہ چند افراد کو جانے دیا بھی، تو ایک دو روز بعدہی انھیں کشمیر سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ پھر تجاوزات مٹانے کے نام پر خاص طور پر شہری علاقوں اور سری نگر شہر میں بڑے پیمانے پر بلڈوزر چلا کر سیکڑوں برسوں سے آباد کشمیریوں کے کاروبار تباہ اور گھربرباد کر دیئے گئے۔
۱۳جون کی شام نئی دہلی میں نریندرا مودی کی تیسری حلف برداری کی تقریب سے صرف ایک گھنٹہ پہلے ہندو یاتریوں سے بھری بس پر اچانک حملے کے نتیجے میں ۹؍افراد ہلاک ہوگئے۔ انھی دنوں انڈین سیکورٹی فورسز پر چار دن میں چار حملے ہوئے، جن میں کٹھوعہ کے مقام پر ہیرانگر میں دوحُریت پسندوں اور ایک بھارتی فوجی کی جان گئی۔جموں کا یہ علاقہ نسبتاً پُرامن تصور کیا جاتا رہا ہے۔ ذرا ماضی میں دیکھیں تو ۲۰۰۲ء میں جب جموں کے کالوچک علاقے میں فوجی کوارٹروں پر مسلح حملے میں درجنوں بھارتی فوجی اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہلاک ہوئے تھے، تو نتیجے میں پاک بھارت سرحدوں پر جنگ جیسی صورتِ حال پیدا ہوگئی تھی۔
اسی دوران کشمیر میں حُریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ ڈی ڈبلیو ٹی وی (جرمنی)کے نمائندے صلاح الدین زین کے مطابق ۹جولائی کو ضلع کٹھوعہ میں مجاہدین نے بھارتی فوجی قافلے کو نشانہ بنایا، جس میں پانچ فوجی مارے گئے، ان میں ایک کمیشنڈ افسر بھی شامل تھا۔ یہ واقعہ کٹھوعہ سے تقریباً ۱۵۰کلومیٹر کے فاصلے پر مچیڈی، کنڈلی، ملہار کے پاس پیش آیا۔ فوجی ذرائع کے مطابق حُریت پسندوں نے ٹرک پر دستی بم (گرنیڈ)پھینکا اور پھر فائرنگ شروع کردی۔ سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی، مگر اس دوران حُریت پسند جنگل کی جانب فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق فوجی قافلے پر دو سمتوں سے حملہ کیا گیا۔
ان مہینوں کے دوران جموں اور عام طور پر وادیٔ کشمیر کے علاقے میں حُریت پسندوں کا غلبہ رہا ہے۔ اس طرح خطۂ جموں میں بھارتی فوج پر حملوں میں خاصی تیزی آئی ہے، اور جولائی کے شروع تک یہ اپنی نوعیت کا پانچواں حملہ ہے، جس میں بھارتی فوج کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔
جون کے مہینے میں حُریت پسندوں نے انڈین سیکورٹی فورسز کی ایک بس پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں وہ کھائی میں جاگری، اور نو افراد کی ہلاکت ہوئی۔ اس واقعے کے کچھ دن بعد مجاہدین نے ایک گائوں میں سیکورٹی فورسز سے مقابلہ کیا، جس میں سی آر پی ایف کا ایک فوجی مارا گیا اور دو مجاہدین نے جامِ شہادت نوش کیا۔ جون ہی میں ضلع ڈوڈہ (جموں) کے علاقے گندوہ میں مجاہدین اور بھارتی فورسز کے درمیان مقابلہ ہوا، اور تین مجاہدین شہید ہوئے۔
۹جولائی کو ’وائس آف امریکا‘ میں یوسف جمیل نے رپورٹ کیا ہے کہ ضلع کولگام کے مُدھرگام اور فرسل چھنی گام دیہات میں حُریت پسندوں اور بھارتی فوجیوں کے درمیان دو روز تک جھڑپیں جاری رہیں۔ ان جھڑپوں میں حزب المجاہدین سے تعلق رکھنے والے چھ حُریت پسند شہید ہوئے، جن میں: یاور بشیرڈار، ظہیراحمد ڈار، توحید راتھر، شکیل احمد درانی، عادل احمد اور فیصل احمد شامل ہیں، جب کہ دو فوجی مارے گئے۔ یہ سب مقامی کشمیر ی شہری تھے۔ بھارتی حکام کے مطابق: ’’وہ بھاری اسلحے سے لیس تھے‘‘ [جو ظاہر ہے کہ بھارتی فوجیوں ہی سے چھینا گیا تھا]۔ مقامی لوگوں کے مطابق ان تمام شہدا کا تعلق مقامی آبادی سے تھا اور یہ نوجوان مارچ ۲۰۲۱ء سے تادمِ آخر مجاہدین کی صفوں میں شامل رہے۔
انڈین حکومت دُنیا کے سامنے مسلسل یہ کہتی آرہی ہے کہ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد اُس نے جموں و کشمیر میں حُریت پسندی کو کچل دیا ہے۔ مگر دوسری جانب کشمیری نوجوان تحریکِ جہاد کا حصہ بنتے اور اپنا ایک اَن مٹ نشان چھوڑ جاتے ہیں۔اسی دوران میں انڈین فوج نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسپیشل فورسز (پیراشوٹ رجمنٹ) کے کمانڈوز کو اس علاقے میں اُتارا اور تربیت یافتہ کھوجی کتوں کا بھی استعمال کیا ہے۔
’وائس آف امریکا‘ نے وادیٔ کشمیر کے جنوبی اضلاع میں جڑ پکڑنے والی تحریک جہاد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ ۸جولائی ۲۰۱۶ء کو یہاں پر بُرہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد انڈین فوجیوں نے سرچ آپریشن کے دوران مقامی مسلم آبادی کے ساتھ جس نوعیت کا بہیمانہ سلوک کیا، اس نے لوگوں کو نہایت گہرے زخم دیئے ہیں اور توہین و تذلیل کے واقعات نے ان کے دلوں سے خوف نکال دیا ہے اور حقارت بھر دی ہے۔
۲۴جولائی کو کپواڑہ کے علاقے میں مجاہدین اور بھارتی فوجیوں میں تصادم ہوا، جس میں ایک فوجی مارا گیا اور ایک مجاہد شہید ہوا۔ بھارتی فوجی حکام یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ حالیہ چند مہینوں میں فوج کے خلاف جنگجو سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے نئی فوجی پوسٹیں اور نئے فوجی کیمپ قائم کیے جارہے ہیں۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کو ہراساں کرنے کے لیے بھارتی حکومت کے جاری کردہ کالے قوانین کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے۔ فوج اور پولیس مل کر میڈیا پر پابندیاں عائد کیے ہوئے ہیں۔ انٹرنیٹ پر گہری نگرانی (سرویلنس) ہروقت جاری ہے۔ سیاسی قیادت کو جیلوں میں بند یا اپنی نگرانی میں جکڑ رکھا گیا ہے۔
۱۹جولائی کو کُل جماعتی حُریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے ایک بیان میں یہ حقیقت آشکار کی ہے: بی جے پی کی حکومت جموں و کشمیر کے لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے اور اپنی بات کہنے کی اجازت نہیں دے رہی، بلکہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کو ہراساں کرنے کے لیے طاقت اور انسانیت کش قوانین کا اندھادھند استعمال کر رہی ہے۔ اسی طرح راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی چھتری تلے ’ہندوتوا‘ تنظیموں کے خفیہ ایجنڈے نے ۱۰لاکھ بھارتی فوج کی مدد سے کشمیر کی معیشت کو شدید بدحالی کا شکار کر دیا ہے، ان کے قدرتی وسائل چھین لیے گئے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور چھاپوں نے نفسیاتی دبائو زدہ درندہ صفت فوجیوں کے مظالم کا نشانہ بنارکھا ہے اور اندھا دھند گرفتاریوں نے خاندانوں کو تباہ کردیا ہے۔
دوسری طرف بھارتی شہریوں کو وادیٔ کشمیر میں زبردستی آباد کرنے اور مقامی لوگوں کی تجارت پر اجارہ داری مضبوط بنانے کے لیے مربوط پروگرام پر عمل کیا جارہا ہے۔ تیزرفتار مواصلاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے شاہرائوں، پُلوں اور ریل گاڑی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ کلچرل حملے کو تیز کرنے کے لیے متعدد پروگراموں کو وسعت دی جارہی ہے۔
یہ صورتِ حال، پاکستان اور دُنیا کے دیگر ممالک میں تحریک آزادیٔ کشمیر کو قوت فراہم کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ مگر افسوس کہ چند ماہ پہلے یہاں آزاد کشمیر میں معمولی واقعات کو بدامنی کی راہ پر دھکیل دیا گیا، جس نے پاکستان کی ساکھ کو صدمہ پہنچایا۔ بلاشبہہ اُس میں حقائق سے بے خبر نوجوانوں کا حصہ ہے اور ساتھ دشمن نے بھی اس صورتِ حال کو استعمال کیا ہے۔ کشمیر کے نوجوانوں کے جائز تحفظات کا سنجیدگی سے جواب دینا چاہیے۔ لیکن ردعمل پیدا کرکے اُن میں غصہ پیدا کرنے سے اجتناب بھی برتنا چاہیے۔ آزاد کشمیر کا مواصلاتی نظام بڑے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر آزاد کشمیر میں اضطراب پیدا ہوگا تو اس کا منفی اثر مقبوضہ جموں وکشمیر کی تحریک پر پڑے گا۔ اس نزاکت کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے ذرائع ابلاغ میں سیاست دانوں اور انتظامیہ کو دُوراندیشی سے کام لینا چاہیے۔
بہت مشکل صورت حال ہے۔ حالیہ اسرائیل غزہ جنگ نے منطقی اندازِ فکر کو معطل کر رکھا ہے۔ درست طور پر کہا جاتا ہے کہ جنگ میں پہلی موت سچ کی ہوتی ہے۔
موجودہ تنازع کھڑا ہونا ہی تھا کیونکہ برق رفتار ’ابراہیمی معاہدوں‘ کے دوران فریق دوم یعنی فلسطینیوں کو مکمل نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ کم سے کم الفاظ میں بھی اسے انتہائی احمقانہ حکمت عملی کہا جاسکتا ہے۔ اس دھونس کا نتیجہ وہی ہوا جو ہونا تھا، نظرانداز فریق (اور اس کے حامیوں) نے اپنا ردعمل ظاہر کردیا۔ نتیجہ ایک مہلک نسل کشی کی صورت میں نکلا، جس نے فریقین کو ایک بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ اگر امریکا اپنا سارا وزن اسرائیل کے پلڑے میں ڈال دے تو مشرق وسطیٰ اور یورپ میں طاقت کا توازن مکمل طور پر بدل جائے گا۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو امریکا کبھی یہودی مسئلے کا غیر مشروط حامی نہیں رہا ہے۔ ۱۸۷۶ء میں وفاق کے حامیوں کی شکست کے ساتھ امریکی خانہ جنگی ختم ہوئی، تو یورپی سرمایہ دار اس طرف متوجہ ہوئے۔ ان کے پاس سرمائے کی فراوانی تھی اور وہ نئی منڈیوں کا رُخ کرنا چاہتے تھے، لیکن امریکی خانہ جنگی کے خاتمے کا انتظار کر رہے تھے۔
چنانچہ بہت جلد امریکا میں صنعت کاری کا عمل شروع ہو گیا۔ بڑے صنعت کار (جنھیں ڈاکو رئیس بھی کہا جاتا ہے) سرمائے کی تلاش میںتھے کیونکہ امریکا میں اس کی قلت تھی۔ صنعتوں، ریل گاڑیوں، نہروں، سڑکوں اور تیل کی صورت میں امریکی توسیع کسی حد تک یورپ سے حاصل ہونے والے یہودی سرمائے کے باعث ہی ممکن ہو پائی تھی۔
بیسویں صدی کے آغاز میں وال سٹریٹ کا سب سے بڑا بینکر پیئر پونٹ مورگن (Pierpont Morgan) بھی دراصل روتھ شیلڈ (Rothschild) اور دوسرے یہودی گروہوں کی نمایندگی کر رہا تھا۔ سرمائے کے ساتھ ساتھ یہودی بنکار، فنکار، عالم و دانش ور اور دوسرے ہنرمند بھی امریکا آکر بس گئے اور یہاں انھوں نے اپنے لیے ایک جگہ پیدا کر لی۔
دسمبر ۱۹۱۷ء میں برطانیہ نے فلسطین کے اندر یہودیوں کا قومی وطن قائم کرنے کے سلسلے میں اپنی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا۔ بہت کم یہودیوں کو اس وقت سمجھ آئی کہ دراصل یہ انھیں یورپ سے نکالنے کا بہانہ تھا۔
سابق برطانوی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ آرتھر بالفور نے یہ قرارداد تیار کی جو صہیونی نمایندہ بیرن روتھ شیلڈ تک پہنچا دی گئی۔ اس قرارداد میں واضح طور پر لکھا گیا تھا: فلسطین میں آباد عرب شہریوں کو بالکل پریشان نہیں کیا جائے گا اورنہ وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی۔
اس وقت برطانوی جنگی کابینہ کا واحد مقصد، جنگ عظیم اول میں کامیابی حاصل کرنا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس اعلامیہ کے بعد صہیونی قوتیں اتحادیوں سے آ ملیں گی۔سیاسی بے رحمی کی ایسی مکمل ترین (یا بدترین) مثال ملنا مشکل ہے۔
۱۹۳۹ء تک جرمنی میں اقتدار ہٹلر اور نازی پارٹی کے پاس آ چکا تھا۔ ہٹلر کو جرمن عوام کےدرمیان جادوئی حیثیت حاصل تھی۔ اس کا بنیادی نظریہ آریائی نسل کی برتری، یہودی و جپسی نسلوں کی کمتری اور پہلی جنگ کے بعد جرمنی کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر استوار تھا۔
اس صورتِ حال میں ہٹلر اور اس کے ساتھی جس حل تک پہنچے، وہ یہ تھا کہ جرمنی سے یہودیوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ اس پر جب امریکا و یورپی طاقتوں نے اعتراض کیا تو ہٹلر نے دوبدو جواب دیا، ’’ اس میں نیا کیا ہے؟ یورپی نوآبادیاتی قوتیں کئی صدیوں سے قتل عام جیسے افعال سرانجام دیتی آئی ہیں۔ اسپین اور پرتگال نے یہ کام جنوبی امریکا میں کیا، برطانیہ نے ساری دنیا میں، ولندیزیوں نے انڈونیشیا میں، جب کہ بیلجیم یہی کام کانگو میں کر رہا ہے‘‘۔ ‘ امریکا کو ہٹلر کا جواب یہ تھا: ’’نسل کشی اور کشور کشائی کے معاملے میں ہم تو امریکی نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ جس طرح امریکیوں نے مقامی باشندوں کو ختم کر کے ان کی زمین اور وسائل پر قبضہ کیا اور جس طرح وہاں سیاہ فاموں کو غلام بنا کر ہر قسم کے ظلم و جور سے گزارا گیا‘‘۔
ہٹلر کا کہنا تھا کہ: ’’نازی پارٹی یہودیوں یا دیگر نسلوں کے ساتھ جو کچھ کر رہی ہے وہ معمول کی کارروائی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار اس کا نشانہ یورپی بن رہے تھے اور نسل کشی کا یہ کام جدید ٹکنالوجی کی مدد سے صنعتی پیمانے پر کیا جا رہا تھا‘‘۔ یہ دلیل ناقدین کو خاموش رکھنے کے لیے کافی تھی۔ اتحادیوں کو آخرکار جنگ میں فتح مل گئی، لیکن اس کا باعث ان کی قوت نہیں بلکہ جرمنی اور جاپان کی ایک بنیادی غلطی تھی۔
جنگ عظیم دوم کے بعد امریکا اور اتحادیوں کو یہ سوال درپیش تھا کہ یہودی مسئلے کا کیا کیا جائے؟ انھیں یہ فکر اس لیے تھی کہ وہ اپنے ملک میں یہودی پناہ گزینوں سے بچنا چاہتے تھے۔ پیشہ ور اور تکنیکی ماہرین کو پہلے ہی امریکا اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔
چنانچہ اسرائیل کا قیام اس مسئلے کا کامل ترین حل تھا، جس سے تمام قوتوں ، امریکا، یورپ اور اشتراکی روس کا منشاء بھی حاصل ہو جاتا اور انھیں یہودیوں کو اپنے علاقوں سے نکال باہر کرنے کا بہترین موقع بھی مل جاتا۔ ۱۹۵۶ء میں جب برطانوی، فرانسیسی اور اسرائیلی فوجیں مل کر نہر سویز پر حملہ آور ہوئیں، تو امریکا اور اقوام متحدہ نے اس پر اعتراض کیا۔ چنانچہ تھوڑے ہی عرصے بعد انھیں وہاں سے نکلنا پڑا۔
تاہم، ۱۹۷۳ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد امریکی منصوبہ ساز، اسرائیل کی دفاعی و جارحانہ صلاحیتوں سے متاثر نظر آئے، چنانچہ امریکا اسرائیل کا مربی بن گیا۔ اسے ایک دشمن اور ناقابل بھروسا خطے میں اپنی کاسہ لیس ریاست مل گئی تھی۔ اس خطے میں حکومتیں بدلنے یا ان کی تبدیلی کو روکنے کے لیے یہ ریاست ایک مضبوط عسکری قوت اور امریکا کے لیے ایک قابلِ اعتبار اتحادی ثابت ہوئی اور یوں دو طرفہ تعلقات مضبوط سے مضبوط ہوتے چلے گئے۔ لیکن پھر ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء آ گیا۔
آگے کیا ہوگا؟ کون جانتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جہاں فرشتوں کے بھی پَر جلتے ہوں وہاں بے وقوف بے دھڑک قدم رکھ دیتے ہیں۔
بنگلہ دیش کے قیام اور پاکستان کی تقسیم میں بنیادی کردار ادا کرنے والے گروہ کا نام ’عوامی لیگ‘ ہے۔ قیام پاکستان کے پونے دو سال بعد۲۳؍جونٍ۱۹۴۹ء کو مشرقی پاکستان میں، مسلم لیگ کے لیڈر عبدالحمید بھاشانی اور شیخ مجیب وغیرہ نے علیحدہ پارٹی بنائی، جس کا نام ’آل پاکستان عوامی مسلم لیگ‘ رکھا۔ مگر بہت جلد، مشرقی پاکستان کی سات فی صد ہندو آبادی کو اپنی جانب مائل کرنے، یا پھر ہندو مقتدرہ کے زیر اثر پارٹی چلانے کے لیے ۱۹۵۳ء میں ’آل پاکستان‘ اور ’مسلم‘ کا لفظ اڑا کر اسے '’عوامی لیگ‘ بنا دیاگیا۔ اس پس منظر سے عوامی لیگ کی تشکیل میں مضمر ایک بنیاد واضح ہوتی ہے۔
عوامی لیگ نے اپنے قیام کے ساتھ ہی مغربی پاکستان کے خلاف مبالغہ آمیز پراپیگنڈے اور مسلم قومیت جو پاکستان کی بنیاد تھی، اس کی نفی پر زور دینا شروع کیا۔ اس مقصد کے لیے جھوٹ، اتہام ’غیربنگالی سے نفرت‘ اور تشدد کو اپنی پالیسی کا بنیادی پتھر قرار دیا (فاطمہ جناح کی حمایت کا ایک مرحلہ اور آخری مرحلے میں ۱۹۵۶ءکے دستور کی حمایت عوامی لیگ کے دو مثبت حوالے ہیں)۔
مارچ ۱۹۶۹ء میں جنرل یحییٰ خان کے ہاتھوں مارشل لا لگنے سے پہلے عوامی لیگ کا فسطائی رنگ، مشرقی پاکستان میں پوری طرح اپنا نقش جما چکا تھا۔ اس دوران ’اگر تلہ سازش کیس‘ جو براہِ راست بھارتی مداخلت اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے تعاون سے پاکستان توڑنے، مختلف تنصیبات پر قبضہ جمانے اور اہم حکومتی شخصیتوں کو قتل کر کے علیحدگی کے منصو بے کو عملی جامہ پہنانے پر مشتمل تھا۔ اس مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت پر عوامی لیگ اور اس کی طلبہ تنظیم ’چھاترو لیگ‘ (اسٹوڈنٹس لیگ) نے حملہ کر کے عدالتی مقام کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور ججوں نے بڑی مشکل سے جان بچائی۔ ایک مدت تک عوامی لیگ اور پاکستانی لیفٹ کی طرف سے اس سازش کے وجود کا انکار کیا جاتا رہا، لیکن ۲۲فروری ۲۰۱۱ء کو سازش کے ایک اہم کردار کیپٹن شوکت علی (ڈپٹی اسپیکر بنگلہ دیش پارلیمنٹ) نے اسمبلی کے فلور پر برملا اعتراف کیا کہ یہ منصوبہ سچ تھا، بلکہ ہم نے تو ۱۹۶۳ء ہی سے ’اگرتلہ‘ میں بھارت سے ساز باز شروع کر رکھی تھی۔ اگست ۱۹۶۹ء میں ڈھاکا یونی ورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ ڈھاکہ کے ناظم محمد عبدالمالک کو لوہے کے سریے مار مار کر شہید کر دیا گیا۔ ۱۹۷۰ء کے پورے سال میں کسی بھی مدمقابل پارٹی کو انتخابی مہم تک نہیں چلا نے دی گئی۔ انتخابی عملہ اپنی مرضی سے تعینات کرایا اور نتائج اپنی مرضی کے مطابق مرتب کیے، جنھیں عوامی لیگ کی ’زبردست جیت‘ قرار دیا جاتا ہے۔
۱۹۷۱ء شروع ہوا تو بھٹو، مجیب اور جنرل یحییٰ کے درمیان تناؤ کی فضا پیدا ہوئی۔ انجام کار یکم مارچ سے لے کر۲۵؍مارچ۱۹۷۱ء تک عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کے طول و عرض میں غیربنگالیوں کا قتل عام کیا، لُوٹ مار کی، عورتوں کی عصمت دری کی اور محب وطن بنگالی پاکستانیوں کو چُن چن کر مارنا شروع کیا۔ جس پر مارچ، اپریل ۱۹۷۱ء میں دنیا بھر کے اخبارات نے رپورٹنگ کی اور حقائق کے شائع کیے۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ نہ بنگلہ دیش میں، نہ انڈیا میں اور حد تو یہ ہے کہ خود پاکستان میں اس نسل کشی (Genocide) کا تذکرہ تک نہیں کیا جاتا اور تواریخ کی درسی کتب کو اس وحشیانہ جنون اور قاتلانہ شیطنت سے خالی رکھا گیا ہے۔ معلوم نہیں کون سا دستِ شرانگیز ہے، جس نے نصابوں اور اخباری صفحات کو ان دردناک تفصیلات سے دُور رکھا ہے۔
۱۶دسمبر۱۹۷۱ء کو انڈین فوج کے تعاون سے مشرقی پاکستان الگ کر کے بنگلہ دیش بنا لیا گیا۔ جس میں پاکستانی حاکم طبقوں کی غلط پالیسیوں کا ایک اہم حصہ تھا۔ لیکن مرکزی کردار بہرحال دشمن سے ساز باز کر نے والی عوامی لیگ ہی تھی۔ مراد یہ ہے کہ اپنے جائز حقوق کےلیے جدو جہد ایک جائز جمہوری عمل ہے، لیکن جھوٹ، نفرت، نسل کشی، فسطائیت اور دشمن سے ساز باز کو سیاسی جدوجہد نہیں کہا جاسکتا۔
مجیب نے اقتدار سنبھال کر ’مکتی باہنی‘ کے لوگوں کے لیے ملازمتیں محفوظ کرنے کی خاطر مخصوص کوٹا رکھا۔ ایسے مستحقین کا فیصلہ عوامی لیگ پارٹی ہی کرتی، نہ کہ کوئی غیر جانب دار اتھارٹی۔ مجیب نے ۱۹۷۲ء میں ڈھا کہ پہنچتے ہی پارٹی کا مسلح مافيا ’جاتیا راکھی باہنی‘ (JRB) کے نام سے قائم کیا، جو مجیب کی زندگی تک سیاسی مخالفین کے لیے تشدد اور دہشت کی علامت بنا رہا۔ (اس کے بارے میں معروف صحافی انتھونی مسکرہینس نے اپنی کتاب Bangladesh: A Legacy of Blood میں اسے ’’ہٹلر کی خاکی وردی والے غنڈوں کی طرح کا ایک ریاستی گینگ قرار دیا‘‘۔ہوڈر اینڈ سٹوگٹس، لندن، ۱۹۸۶ء، ص ۳۷)
اس نوعیت کے اقدامات سے لوگوں میں ردعمل پیدا ہونا شروع ہوا۔ آگے چلیں تو شیخ مجیب کے خون میں رچے فسطائی جذبے نے، ۲۴جنوری ۱۹۷۵ء د کو بنگلہ دیش میں ’بکسل‘(BKSAL) یعنی ’بنگلہ دیش کرشک سرامک عوامی لیگ‘ (بنگلہ دیش مزدورکسان عوامی لیگ) کی بنیاد رکھی، اور اس کے مقابلے میں ملک سے باقی تمام سیاسی پارٹیوں کو کالعدم قراردے دیا۔ پھر اسی سال ۱۵؍اگست کو بغاوت ہوئی، جس میں فوج کے نوجوان افسروں نے مجیب کے گھر پر حملہ کرکے اسے قتل کر دیا۔
۲۲جنوری ۲۰۰۶ء کو وزیراعظم خالدہ ضیاء (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی: BNP )نے ملک میں عام الیکشن کرانے کا اعلان کیا، مگر شیخ مجیب کی بیٹی اور عوامی لیگی لیڈر حسینہ واجدنے ہنگامہ کھڑا کرکے ۱۱جنوری ۲۰۰۶ء کو انتخابی عمل پٹڑی سے اُتار دیا، یہی وہ موڑ ہے جہاں سے فساد کا آغاز ہوا۔ پھر اُس وقت بنگلہ دیش آرمی کے چیف جنرل معین الدین احمد کی سرپرستی میں ٹیکنوکریٹ کی ایسی حکومت بنی کہ اُس نے دسمبر ۲۰۰۸ء کے الیکشن میں عوامی لیگ کو کامیاب کرا دیا۔
جنوری ۲۰۰۹ء میں عوامی لیگ ایک خونیں رنگ و رُوپ کے ساتھ میدان میں اُتری، مگر جلد ہی ۲۵ اور ۲۶ فروری ۲۰۰۹ء کی رات ’بنگلہ دیش رائفلز‘ (BDR) کے جوانوں نے ہیڈکوارٹر پُل خانہ میں بغاوت کرکے بی ڈی آر کے ڈائریکٹر جنرل احمد سمیت ۵۷؍افسروں اور ۱۶ سویلین شہریوں کو قتل کردیا۔ یہاں پر ’مجیب اندرا گٹھ جوڑ‘ کی طرح ’حسینہ ، من موہن سنگھ گٹھ جوڑ‘ کا آغاز ہوا۔ پروفیسر ایویناش پلوال نے اپنی کتاب India`s Near East: A New History (۲۰۲۳ء) میں تفصیل بتائی ہے کہ حسینہ واجد نے پرنام مکھرجی کے ذریعے نئی دہلی حکومت کو پیغام بھیجا: ’جان بچائو‘ (SOS)۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی ہدایت پر انڈین آرمی پیراشوٹ رجمنٹ بٹالین کے میجر کمل دیپ سنگھ سندھو نے حکم ملنے پر ۲۶فروری کی شام تیاری شروع کی اور ڈھائی گھنٹے بعد ایک ہزار چھاتہ برداروں کے ساتھ ڈھاکہ اُترنے کے لیے تیار ہوگئے۔ بھارتی کمانڈوز نے ۲۷فروری کو بنگلہ دیش میں براہِ راست مداخلت شروع کی اور چار روز میں ناراض فوجیوں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ وہ دن اور آج کا دن، بنگلہ دیش آرمی اور اس کی مسلح معاون رجمنٹیں، انڈین فوج کی براہِ راست اور تابع مہمل اکائیاں ہیں، بلکہ حسینہ واجد نے یہ طے کرایا ہے کہ بنگلہ دیشی فوج کا سربراہ، انڈین فوج کے مشورے سے مقرر کیا جائے گا۔
حسینہ واجد نے ۲۰۰۹ء سے ۲۰۲۴ء کے دوران میں جو حکمرانی کی ہے، اس میں اپنے اقتدار کی مضبوطی، مدمقابل قوتوں سے انتقام، اپنی پارٹی مافیا کے استحکام اور انڈیا کے تابع نظامِ حکومت کو وسعت دینا شامل رہا ہے۔ اس دوران نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (ICT) کے ذریعے جماعت اسلامی کے چوٹی کے رہنمائوں کو پھانسیاں دی گئی ہیں۔ جماعت اسلامی کو الیکشن لڑنے سے نااہل قرار دیا اور مولانا مودودی کی کتب کی اشاعت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
اگرچہ ۲۰۱۸ء میں بھی کوٹہ سسٹم ، جو کہ عوامی لیگی کارکنوں کو نوازنے کا ایک شرمناک بہانہ تھا، اس کے خلاف مظاہرے ہوئے، مگر ان کو دبا دیا گیا۔ پھر عوامی لیگ نے اپنے فعال کارکنوں پر مشتمل ہائی کورٹ ججوں کے ذریعے کوٹہ سسٹم میں ۳۰ فی صد استحقاق کو محفوظ بنایا، تو نئی نسل میں بے چینی پھیلنا شروع ہوئی۔
یہ تقسیم اس طرح ہے کہ ۳۰ فی صد مکتی باہنی کے لوگوں کے پوتوں دوہتوں کا حق، ۱۰فی صد عورتوں کا، ۱۰ فی صد غیرترقی یافتہ علاقوں کا، ۵ فی صد قبائل کا اور ایک فی صد معذوروں کا حق ہے۔ اس طرح عوامی لیگ کے من پسندوں کو چھوڑ کر، پورے بنگلہ دیش کے نوجوانوں کے لیے ۴۴ فی صد حصہ رہ جاتا ہے، جو اپنی جگہ انتظامیہ کے رحم و کرم پر ہے، کہ وہ جسے چاہے رکھیں۔
جولائی ۲۰۲۴ء میں مضطرب طلبہ و طالبات نے ڈھاکہ یونی ورسٹی میں احتجاج کیا تو ۱۳جولائی کی سہ پہر حسینہ واجد نے طنز کرتے ہوئے کہا: ’’کوٹے کی مخالفت کرنے والے غدار ہیں، یہ پاکستان کے ایجنٹ ہیں، اور رضاکار ہیں‘‘۔ یاد رہے ۵۴ سالہ تاریخ میں بنگلہ دیش نے اپنے ہاں لفظ ’رضاکار‘ کو: تعلیم، صحافت، تاریخ اور سیاست کے میدان میں گالی بنادیا ہے۔ جیسے ہی حسینہ واجد نے یہ جملہ کہا تو طلبہ و طالبات نے اس ’گالی‘ کو اپنے لیے اعزاز سمجھ کر اپنا لیا اور ڈھاکا یونی ورسٹی کے درودیوار گونجنے لگے: ’تو کون، میں کون___ رضاکار، رضاکار۔ اس پر حکومت نے جھنجلاہٹ میں کہا: ’’یہ نعرے لگانے والے غدار ہیں، جماعت اسلامی کے ایجنٹ ہیں، ان کو سبق سکھانے کے لیے عوامی لیگ کے کارکن اور ہماری طلبہ تنظیم چھاترو لیگ ہی کافی ہے‘‘۔ یہ بیان وزیرقانون، وزیرداخلہ اور وزیر اطلاعات نے تکرار کے ساتھ دُہرایا۔ ساتھ ہی عوامی لیگی مسلح کارکنوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ طلبہ و طالبات پر حملے کریں، ان کے سامان کو لوٹیں، کمروں کو آگ لگائیں، ہڈیاں توڑیں یا قتل کریں۔ یوں صرف دو دن میں پورا بنگلہ دیش ایک دہکتا ہوا الائو بن گیا۔
اسلامی جمعیت طلبہ جو اس تحریک میں حصہ لینے والا ایک حامی اور مددگار کردار ہے، اس کے تین ہزار سے زائد کارکنوں کو صرف پہلے دو روز میں گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس تماشائی بن کر عوامی لیگیوں کی سرپرستی کے لیے ساتھ ساتھ چلتی رہی، اور عوام میں غصہ بڑھتا گیا، طلبہ و طالبات کٹ کٹ کر سڑکوں پر گرتے رہے۔ پھر جب بہتے خون کا دریا بلند ہوا تو حسینہ واجد نے جمعہ ۱۹جولائی کی رات پورے بنگلہ دیش میں فوج طلب کرکے کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کردیا، اخبارات کی اشاعت پر پابندیاں عائد کردیں، انٹرنیٹ کی سروس معطل اور سڑک پر آتے ہی مظاہرین کو گولی مار دینے کا حکم دے دیا۔ اس سب کے باوجود ہنگامے تھمنے میں نہیں آرہے۔
۲۴ جولائی کو طلبہ تحریک کے لیڈروں نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جو وی پی این کے ذریعے دُنیا میں پھیل گیا: ’’حسینہ واجد نے چھاترو لیگ (اسٹوڈنٹس لیگ) کے نام سے دہشت گرد پیدا کیے ہیں۔ اس نے ووٹ کی عزّت پامال کی ہے۔ اس نے جمہوریت کو برباد کیا ہے۔اس نے عدالتی نظام کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ اس نے پولیس میں عوامی لیگی غنڈوں کو بھرتی کرکے عوامی لیگ پارٹی کو ذاتی مافیا کا درجہ دے رکھا ہے۔ اس نے بنگلہ دیش رجمنٹ کے ذہین ترین افسروں کو گولیوں سے اُڑا دیا ہے۔ اس نے میرٹ کے نام پر پارٹی بدمعاشوں کو بھرتی کرنے کا ایک مربوط نظام قائم کیا ہے، جس کے جال کو توڑنا عام آدمی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ اس نے ملک کا اقتداراعلیٰ، انڈین حکومت اور انڈین فوج کے ہاتھوں بیچ دیا ہے۔ ہم ایسی حکومت اور ایسی پارٹی کے اقتدار کو مسترد کرتے ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق ڈیڑھ ہزار سے زیادہ طلبہ و طالبات اور شہری شہید ہوچکے ہیں۔ ۲۵ہزار سے زیادہ مہلک زخموں سے چور موت و حیات کی کش مکش میں مبتلا ہیں۔ ۶۱ہزار سے زیادہ طلبہ و طالبات اور شہری گرفتار کرلیے گئے ہیں۔ ہم عالمی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نہتے بنگلہ دیشی طلبہ و طالبات کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں‘‘۔
’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ (AI)نے اپنے بیان میں کہا ہے: ’’ہم نے فوٹوگرافی، ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے اور دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ یہ معلومات جمع کی ہیں کہ بنگلہ دیشی سیکورٹی فورسز نے طلبہ و طالبات مظاہرین کے خلاف غیرقانونی اور بدترین طاقت استعمال کی ہے۔ ان نہتوں پر براہِ راست گولیاں چلائی گئی ہیں۔ بند جگہوں میں مظاہرین کو دھکیل کر خطرناک اور جان لیوا آنسو گیس کا استعمال کیا گیا ہے، اس طرح دم گھٹنے سے بہت سے لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ ’اے کے پٹرن اسالٹ رائفلز‘ جیسے مہلک آتشیں اسلحے کا بے لگام اور اندھا دھند استعمال کیا گیا ہے۔ ہم فوری طور پر غیرجانب دار انہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں اور ہلاک شدگان کی درست معلومات فراہم کرنے پر زو ر دیتے ہیں‘‘۔ ۲۳جولائی کو ’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW) نے الزام عائد کیا: ’’بنگلہ دیش کی جیلیں اور حوالات سیاسی قیدیوں سے بُری طرح ٹھونسی ہوئی ہیں‘‘۔
۲۵جولائی کو ایک اور بھیانک واقعہ یہ ہوا کہ طلبہ مظاہروں کو دبانے کے لیے حکومت نے بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کے نشان والی بکتربند گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کو استعمال کیا ۔ جس پر مختلف ممالک کے سفیروں نے عوامی لیگی حکومت پر سخت سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ معلوم ہونا چاہیے، اس وقت اقوام متحدہ کے ’امن مشن‘ پروگرام میں بنگلہ دیش آرمی، بنگلہ دیش پولیس، بنگلہ دیش بارڈر گارڈ (BBG) اور ’ریپڈ ایکشن بٹالین‘ (RAB) سستے کرائے کے فوجیوں کی مانند خدمات انجام دے رہے ہیں کہ ان کے پاس کرنے کا کوئی کام نہیں (کیونکہ ’دفاعی ذمہ داری‘ تو انڈین آرمی اپنے ہاتھوں میں لے چکی ہے، یا یہ ذمہ داری اسے دی جاچکی ہے)۔ اس لیے ان بنگلہ دیشی فورسز کا اقوام متحدہ کی گاڑیوں اور ہوائی مشینوں کے نشانات کے پردے میں طلبہ کے خلاف استعمال کرنا، دُنیا بھر میں زیربحث ہے۔
بظاہر امن کی فضا بحال ہوتی نظر نہیں آرہی۔ ان حالات میں انڈیا کی کوشش ہے کہ حسینہ واجد کی صورت میں بدنما حکومت سے جو کام لینا تھا وہ لے لیا اور اب اگر اس سے چھٹکارا پانا ضروری ہو تو اسے چلتا کیا جائے۔ جنرل معین الدین احمد کی طرح موجودہ بنگلہ دیش آرمی چیف جنرل وقارالزماں سے مدد لے کر عوام کی توجہ تقسیم کی جائے(یاد رہے جنرل وقار،حسینہ واجد کے قریبی عزیز اور بھروسے کے آدمی ہیں)۔ لیکن عوام نہ تو انڈیا کا نام سننا چاہتے ہیں اور نہ انڈیا سے منسلک کسی نسبت پہ اعتبار کرنے کو تیار ہیں۔ دوسری طرف انڈیا کے اخبارات اور آر ایس ایس کے سوشل میڈیا پر متحرک گروپ یہ کہہ رہے ہیں: ’’حسینہ واجد کی اقتدار سے بے دخلی، انڈین مفادات کی بربادی ہے۔ اگر یہ حکومت گئی تو جماعت اسلامی اسلامی نظام لانے کے لیے آگے بڑھے گی۔ پھر دوسری طرف خالدہ ضیاء کی بی این پی اور جماعت اسلامی نے پورے بنگلہ دیش میں مہم چلا رکھی ہے کہ مارکیٹ میں انڈیا کے ہرمال کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جماعت کے لوگوں کو دبایا،پکڑا یا مارا جائے‘‘___ دُنیا بھر کے امن پسند شہری ظلم کی اس یلغار پر نوحہ کناں ہیں۔
انڈین خفیہ ایجنسی ’را‘ کے زیرنگرانی چلنے والے نام نہاد ’بنگلہ دیش انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل‘ (ICT) اور پھر بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے بنگلہ دیش بننے کے چالیس برس بعد اچانک ایک عدالتی ڈراما شروع کیا۔ جس کے تحت وہاں کے معزز سیاسی و دینی رہنمائوں مطیع الرحمٰن نظامی[۱۱مئی ۲۰۱۶ء]، علی احسن مجاہد[۲۲ نومبر۲۰۱۵ء]، میرقاسم علی [۳ستمبر ۲۰۱۶ء]، قمر الزماں [۱۱؍اپریل ۲۰۱۵ء]، عبدالقادر مُلّا[۱۲دسمبر۲۰۱۳ء]،صلاح الدین قادری چودھری [۲۲نومبر ۲۰۱۵ء]کو پھانسی دے دی، جب کہ پروفیسر غلام اعظم (م: ۲۳؍اکتوبر ۲۰۱۴ء)، اے کے ایم یوسف (م: ۹فروری ۲۰۱۴ء)، مولانا عبدالسبحان (م:۱۴فروری ۲۰۲۰ء) ، دلاور حسین سعیدی (م:۱۴؍اگست ۲۰۲۳ء) کو قیدکے دوران موت کی وادی میں دھکیل دیا۔
دوسری طرف جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے متعدد رہنمائوں کو غیرحاضری میں پھانسی کی سزائیں سنادیں۔ پھر ایک بڑی تعداد اِن جعلی عدالتوں کی بے مغز اور بے ثبوت کارروائیوں کے بوجھ تلے آج تک جیلوں میں بند ہے۔ جماعت اسلامی بحیثیت سیاسی پارٹی، قومی یا بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتی۔جماعت کو اجتماع کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ اس کے رفاہی ادارے تباہ کردیئے گئے ہیں، یا ان پر عوامی لیگی حکومت نے قبضہ کر لیا ہے۔ مولانا مودودی کی کتب کو دو مرتبہ لائبریریوں سے نکال نکال کر جلایا یا ضائع کیا گیا ہے۔ حالیہ عرصے میں جماعت اور جمعیت کے کارکنوں کے قاتلوں کو کھلی چھٹی دی گئی ہے۔
اس تمام بے انصافی، ظلم اور انسانی حقوق کی پامالی پر برصغیر (بنگلہ دیش، انڈیا، پاکستان) میں انسانی حقوق کے علَم بردار خاموش اور قاتل حسینہ واجد کے طرف دار ہیں۔ مذکورہ بالا عدالتی ڈرامے میں، بنگلہ دیش کی انھی کنگرو عدالتوں نے چودھری معین الدین (فی الوقت بنگلہ نژاد برطانوی شہری) کو بھی غیرموجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔یاد رہے معین الدین زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ ڈھاکہ سے وابستہ تھے، لیکن انتخابات کے سال ۱۹۷۰ء اور فساد کے سال ۱۹۷۱ء میں وہ ایک ممتاز اور فعال صحافی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ سزائے موت سنانے کے بعد بنگلہ دیش حکومت نے ریڈ وارنٹ جاری کراتے ہوئے، معین الدین کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔
۲۰۱۹ء میں برطانوی ہوم ڈیپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ میں انھیں ایک سزایافتہ اور جنگی مجرم کے طور پر درج کیا۔ جس پر معین الدین چودھری نے برطانوی سپریم کورٹ میں ’ہتک ِ عزّت‘ کا دعویٰ کیا۔ انھوں نے بنگلہ دیشی عدالتی کارروائی اور فیصلے کو جعلی، ظالمانہ، بے بنیاد اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے دادرسی کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، جس پر جمعرات ۲۰جون ۲۰۲۴ء کو برطانوی سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے، معین چودھری کو بنگلہ دیشی عدالت کے نام نہاد فیصلے سے بری قرار دیا اور پُرزور لفظوں میں حسینہ واجد کی غلام ’عدالتوں‘ کی حیثیت کو بے نقاب کر دیا۔ یہاں پر اسی فیصلے کی روشنی میں چند حقائق پیش کیے جارہے ہیں۔
برطانوی سپریم کورٹ میں ممتاز مسلم کمیونٹی رہنما چودھری معین الدین کی جانب سے برطانوی ہوم سیکرٹری کے خلاف ہتک عزّت کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے صدر لارڈ ریڈ نے اس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد متفقہ تاریخی فیصلے کا اعلان کیا۔ کیس کی سماعت یکم و ۲ نومبر ۲۰۲۳ء کو ہوئی، لارڈ ریڈ کی سربراہی میں سماعت کرنے والے بنچ میں جسٹس لارڈ سیلز، لارڈ ہیمبلن، لارڈبروز اور لارڈ رچرڈز شامل تھے۔
دسمبر ۲۰۱۹ء میں، چودھری معین الدین نے قانونی فرم ’کارٹرک‘ کے ذریعے ہوم آفس کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ شروع کیا۔ اس کی قانونی ٹیم میں سینئر وکیل ایڈم ٹیوڈر اور مشیر جیکب ڈین اور للی واکر پار شامل تھے۔ چودھری معین نے برطانوی ہوم آفس کے کمیشن برائے انسداد انتہا پسندی کی ۲۰۱۹ء کی رپورٹ کی مناسبت سے ہوم سیکرٹری کے خلاف:’’منافرت انگیز انتہا پسندی کو چیلنج ‘‘کے عنوان سے کارروائی شروع کرائی۔ دراصل ہوم آفس کی رپورٹ میں چودھری معین الدین پر ’انتہا پسندی‘ کا الزام لگاتے ہوئے بنگلہ دیش میں نام نہاد ’جنگی جرائم کی عدالت‘ کے متنازعہ فیصلے کا حوالہ دیاگیا تھا۔ ۱۹۷۱ء میں پاکستان کے خلاف جنگ کے دوران چودھری معین الدین نے اپنے پر لگنے والے تمام ’جنگی جرائم‘ کے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی اور بنگلہ دیشی حکام کے الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد اور سیاسی محرک قرار دیا۔
برطانوی سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا ہے: چودھری معین الدین ۱۹۴۸ء میں مشرقی بنگال میں پیدا ہوئے، جو اس وقت پاکستان کا حصہ تھا۔ بنگلہ دیش نے دسمبر ۱۹۷۱ء میں جنگ سے گزر کر پاکستان سے علیحدگی اختیار کی۔۱۹۷۳ء سے، چودھری معین الدین برطانیہ کے رہائشی ہیں اور ۱۹۸۴ء سے برطانوی شہری ہیں۔ برطانیہ میں اپنے قیام کے دوران، انھوں نے متعدد سماجی اور رفاہی اداروں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح کئی اعلیٰ سطحی شہری اور انسانی ہمدردی کے عہدوں پر فائز رہے ہیں، جن میں کونسل برائے مساجد برطانیہ اور آئرلینڈ کے سیکرٹری جنرل اور برطانوی وزارت صحت کے تحت ایک پراجیکٹ 'NHS میں مسلم اسپرچوئل کیئر پروویژن کے ڈائریکٹر شامل ہیں۔ وہ بین الاقوامی انسانی فلاحی تنظیم ’مسلم ایڈ یو کے‘ کے بانی ممبر اور چیئرمین تھے۔ انھوں نے ایک متنوع کثیر العقیدہ اتحاد کی سربراہی کی، جس میں عالمی مذہبی گروہ شامل ہیں، جن میں مسلم، عیسائی، یہودی، ہندو، بودھ مت اور دیگر مذہبی کمیونیٹیوں کے معزز لوگ شامل ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے: چودھری معین الدین نے بنگلہ دیش میں چلنے والے مقدمے تک، ۴۱سال کے دوران برطانیہ میں کھلے عام اور فعال زندگی گزاری۔ بنگلہ دیشی حکومت اس پورے عرصے میں ان کے ٹھکانے سے باخبر تھی۔ بنگلہ دیشی خصوصی عدالت کا یہ کہنا کہ ’’وہ یا تو 'مفرور تھے یا 'خود کو چھپا لیا تھا‘‘، واضح طور پر غلط مفروضہ ہے۔ فیصلے میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ چودھری معین الدین کو ۲۰۱۳ء میں بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (ICT) نے ۱۹۷۱ء کی جنگ کے دوران انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کے الزام میں ۴۰ سال بعد اچانک غیرحاضری میں سزائے موت سنائی تھی۔
اپنی کارروائی کے دوران قابلِ قبول عدالتی معیارات کو برقرار رکھنے میں ICT بُری طرح ناکام رہا۔ اس نے اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے ان گواہوں کی گواہی پیش کی، جو اس وقت نابالغ تھے۔ ان شواہد، اور میڈیا رپورٹس کی اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی عدالتی، قانونی اور انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے بڑے پیمانے پر تنقید اور مذمت کی گئی ہے۔ یورپی یونین، اور بہت سی غیر ملکی حکومتیں انھیں مسترد کرچکی ہیں۔
فیصلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے:انٹرپول نے ابتدائی طور پر بنگلہ دیش کی حکومت کی درخواست پر چودھری معین الدین کے خلاف ’ریڈوارنٹ‘ جاری کیا تھا، لیکن بعد میں ICTکے قانونی طریق کار کی بے ضابطگیوں اور مضحکہ خیز حرکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسے منسوخ کر دیا گیا، جو بین الاقوامی منصفانہ سماعت کے معیارات کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے سزائیں دے رہا ہے۔
فیصلے میں انٹرپول کمیشن کے حوالے سے ان بین الاقوامی اداروں کی ایک طویل فہرست بھی دی گئی ہے، جنھوں نے آئی سی ٹی کی کارروائیوں پر تنقید کی تھی جیسے: اقوام متحدہ(ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، ججوں اور وکلا کی آزادی کے لیے خصوصی نمائندے، خصوصی نمائندہ ماورائے عدالت، سزائے موت اور تشدد پر خصوصی ورکنگ گروپ) مختلف غیر ملکی حکومتیں اور قومی ادارے (امریکا کے خصوصی سفیر برائے عالمی فوجداری انصاف)، ریاستہائے متحدہ کانگریس کے ٹام لینٹوس، انسانی حقوق کمیشن، یورپی یونین پارلیمنٹ، برطانیہ کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی مختلف تنظیمیں یعنی ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ، انٹرنیشنل سینٹر فار ٹرانزیشنل جسٹس وغیرہ___ یہ سبھی ادارے بنگلہ دیشی ٹریبونل (ICT) کے طریق کار پر شدید تحفظات اور سخت تشویش کا اظہار اور گواہوں کے اغوا، دھمکیوں کے واقعات کی دستاویز پیش کرتے آئے ہیں۔ دفاعی وکیل، میڈیا سنسرشپ، حکومت کی طرف سے مجرم کو سزا دینے کا دباؤ، عدالتی افسران کی آزادی کا فقدان بھی شامل ہے۔ خود بنگلہ دیشی حکام کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر صاف طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ معین چودھری کے خلاف انٹرپول کے آئین یا انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے مطابق آئی سی ٹی کی شفاف کارروائی نہیں کی گئی۔
برطانوی ہوم سیکرٹری نے معین الدین کے دعوے کو مسترد کرنے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی اور کہا تھا کہ معین الدین کا ہتک عزت کا مقدمہ برطانوی ہائی کورٹ میں قابلِ سماعت نہیں ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ۱۹۹۵ء میں چینل۴ کی دستاویزی فلم میں جنگی مجرم قرار دینے اور بنگلہ دیشی عدالت سے سزا کی بنیاد پر معین الدین کی ساکھ ختم ہوگئی ہے۔ عدالت نے ہوم آفس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ چینل ۴ کی دستاویزی فلم کے بعد سے، معین الدین نے ایچ ایم دی کوئین اور موجودہ بادشاہ اور اس وقت کے پرنس آف ویلز سے کئی مواقع پر ملاقات کی، بکنگھم پیلس میں کوئینز گارڈن پارٹیوں میں شرکت کی۔ سپریم کورٹ کے صدر لارڈ ریڈ نے کارروائی کی نگرانی کرتے ہوئے لکھا: ’’کسی بھی فرد کے لیے عدالتوں تک رسائی کا بنیادی شہری حق ہے۔ اس حق کو صدیوں سے عام قانون اور میگنا کارٹا کے ذریعے تسلیم کیا گیا ہے، اور یہ انسانی حقوق ایکٹ ۱۹۹۸ء کے تحت محفوظ ہے‘‘۔
برطانوی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک تاریخی عدالتی فتح ہے۔ اگر بنگلہ دیش کا نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (ICT) واقعی ’انٹرنیشنل‘ اور ایک عدل و انصاف کا فورم ہوتا تو دُنیا اس کے فیصلوں کو مانتی۔ اس نوعیت کا ڈراما تو اس سے قبل دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد نیورمبرگ اور ٹوکیو ٹرائلز میں بھی نہیں کھیلا گیا تھا، مگر بنگلہ دیش میں یہ سنگین، صریح اور کھلی بے انصافی کی گئی۔ برطانوی ہوم سیکرٹری کو چودھری معین کی بلندپایہ قانونی ٹیم اور درخواست کے مندرجات کی سچائی اور بنگلہ دیشی عدالت کی بددیانتی کا پردہ چاک ہونے کی بنیاد پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے صدر جج لارڈر یڈ کی جانب سے برطانوی ہوم سیکرٹری کے استدلال کو ’بیہودہ‘ قرار دینا ایک اہم موڑ تھا۔ یاد رہے اس فیصلے کو لکھنے والے تمام افراد غیرپاکستانی اور غیرمسلم ہیں، کہ جن پر کسی حوالے سے پاکستانی یا اسلامی ہونے کے ’تعصب‘ کی پھبتی نہیں کَسی جاسکتی۔ انھوں نے فیصلہ خالص قانون اور عدل کی بنیاد پر دیا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ دُنیا بھر میں جن لوگوں پر، بے گناہ پھانسی پانے والے افراد کی مظلومیت کا کیس پیش کرنے کی ذمہ داری ہے، ان پر لازم ہے کہ وہ اخبارات، ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، سیمی ناروں اور تحقیقی و تجزیاتی مقالات کی صورت میں مظلوم مقتولین کا کیس پیش کریں اور بنگلہ دیشی قاتل حکومت کو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔
ہم میں سے بہت سے لوگ سال میں چند بار پرندوں کا گوشت کھاتے ہیں، لیکن دنیا بھر میں لوگوں کی ایک غیر معمولی تعداد ان کی بھی ہے جو فطری ماحول میں ان کا مشاہدہ کرکے خوش ہوتی ہے۔ غزہ شہر کی چالیس سالہ دو جڑواں بہنیں میندی اور لارا سردہ بھی پرندوں کا ان کے فطری ماحول میں مشاہدہ کرنے کی شوقین ہیں۔ تقریباً ایک عشرہ قبل انھوں نے اپنے گھر کے پچھواڑے میں پرندوں کی تصویریں بنانا شروع کر دی تھیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنی تصویریں پوسٹ کرنا شروع کیں، آخرکار غزہ کی پٹی میں دلدل اور پرندوں کی متحرک سرگرمیوں کے دیگر مقامات کا دورہ کیا۔ ۲۰۲۳ء میں غزہ کے پرندوں کی دستاویزبندی اور ان کی پہلی فہرست کی اشاعت میں بنیادی کردار ادا کیا۔
اگر یہاں اسرائیلی قبضہ نہ ہوتا — اور موجودہ بڑے پیمانے پر جنگ جس میں ۳۴ ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں، جن میں سے ۷۲ فی صد خواتین اور بچے ہیں، اور ۶۲ فی صد مکانات کو نقصان پہنچا یا یا تباہ کر دیا گیا ہے، — تو غزہ پرندوں کے لیے مثالی آماج گاہ ہوتا۔ مشرق وسطیٰ کے بیش تر حصوں کی طرح، یہ علاقہ لاکھوں نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے لیے دنیا کی عظیم فضائی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ بحیرۂ روم سے جڑا اس کا ساحل پرندوں کو راغب کرتا ہے۔ وادیٔ غزہ، ایک ندی سے چلنے والا گھاٹی اور سیلابی میدان جو غزہ کے وسط میں پرندوں کی ۱۰۰سے زیادہ اقسام کے ساتھ ساتھ نایاب پرندوں کا گھر ہے۔ دوسرے لفظوں میں، زمین کی وہ پٹی پرندوں کی جنت ہے۔
پرندوں کی اس جنّت کو کن مسائل کا سامنا ہے؟ اس کی طرف ڈیلی بیسٹ نے ایک سال پہلے رپورٹ میں اشارہ کیا تھا: غزہ میں پرندوں کی نگرانی کرنے کا مطلب لامتناہی پابندیوں کا سامنا کرنا ہے۔ اسرائیل مصر کی سرحد کے علاوہ غزہ کے علاقائی پانیوں، فضائی حدود اور لوگوں اور سامان کی نقل و حمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ زیادہ تر فلسطینی جو ۲۰۰۷ء میں مسلط کردہ پابندیوں کے بعد سے غزہ میں پلے بڑھے ہیں، جب سے حماس کی زیر قیادت فلسطینی اتھارٹی کا کنٹرول حاصل ہوا ہے، انھوں نے ۳۷کلومیٹر لمبی اور ۱۰کلومیٹر چوڑی پٹی کو کبھی نہیں عبور کیا۔
غزہ میں پرندوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے مختلف آلات کا حصول غزہ سے باہر نکلنے سے بھی زیادہ دشوار ہے بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ ٹیلی فوٹو لینز کے ساتھ دوربین یا کیمرے خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں، تو اسرائیلی حکومت اس طرح کے آلات کو ممکنہ طور پر فوجی اور شہری مقاصد کے لیے کام کرنے کے طور پر دیکھتی ہے اور اس لیے ان اشیاء کو حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر غزہ میں پرندوں کے بارے مطالعے کی غرض سے سازوسامان کو لانے کے لیے لارا سردہ کو اجازت کے لیے مختلف دستاویزات درکار تھیں۔
غزہ سے باہر نکلنا اور کسی دوسرے ملک جانا تقریباً ناممکن ہے۔ اس کے ۲۳ لاکھ باشندوں میں سے زیادہ تر کی طرح دونوں بہنیں پرندوں کی کانفرنسوں میں شرکت کرنے، اپنی فوٹو گرافی کی نمائشوں کا اہتمام کرنے، یا اپنے کام پر ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے بھی علاقہ چھوڑ نہیں سکتی تھیں۔ گویا وہ زمین کی ایک پٹی میں قید ہیں۔ ذرا تصور کیجیے کہ اس چھوٹی سی جگہ پر ۲۳ لاکھ لوگوں کو دھکیلنا، اس کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بموں اور میزائلوں سے ان کا پیچھا کرنا اور اس سب کے باوجود ایک بار پھر سب کچھ شروع کرنا کیسا ہوگا؟ جیسا کہ اسرائیل لاکھوں پناہ گزینوں کے ساتھ جنوبی غزہ کے شہر رفح میں کرنے جا رہا ہے۔
lتعلیمی اداروں کی تباہی کا ہدف: لاراسردہ نے اپنے پرندوں کی جانچ پڑتال کے منصوبے میں پروفیسر عبدالفتاح کے ساتھ تعاون کیا، جو غزہ کی اسلامی یونی ورسٹی میں ماحولیاتی علوم کے ایک بہت ہی معزز پروفیسر ہیں۔ وہ غزہ میں پرندوں اور دیگر جنگلی حیات کے مطالعے اور تحفظ کے لیے اپنے آپ کو وقف کیے ہوئے ہیں۔ غزہ کی اسلامی یونی ورسٹی موجودہ جنگ کے پہلے ادارہ جاتی اہداف میں سے ایک تھی۔ اس پر ۱۱؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو اسرائیلی افواج نے بمباری کی تھی۔ اسرائیلی اخبار ہارٹیز کے مطابق، غزہ میں علم کے وسیع ذخیرے اور تعلیمی اداروں کو مٹانے کا منصوبہ بنیادی طور پر مکمل ہو چکا ہے۔
غزہ میں یونی ورسٹیوں کی مکمل تباہی، جنگ کے پہلے ہفتے میں اسلامی یونی ورسٹی پر بمباری سے شروع ہوئی اور ۴ نومبر سے اسراء یونی ورسٹی پر فضائی حملوں کے ساتھ جاری رہی۔ اس کے بعد سے، غزہ کے تمام تعلیمی ادارے تباہ ہو چکے ہیں، اور ساتھ ہی بہت سی لائبریریاں، آرکائیوز اور دیگر تعلیمی ادارے بھی اپنی کتب، دستاویزات، لیبارٹریوں اور تمام امتحانی ریکارڈ سمیت تباہ ہوچکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کے مطابق: ’’غزہ میں ۸۰ فی صد سے زیادہ اسکولوں کو نقصان پہنچا یا یا تباہ کر دیا گیا ہے۔ فلسطینی تعلیمی نظام کو جامع طور پر تباہ کرنے کی جان بوجھ کر کوشش کی جا رہی ہے۔ یقینا یہ ایک کارروائی بطور ’علمی قتل‘ ہی ہے!
اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ کے مطابق:چھ ماہ کے فوجی حملے کے بعد، غزہ میں ۱۷ہزار سے زیادہ بچے، ۵ہزار ۴سو ۶۹ سے زیادہ طلبہ، ۲۶۱؍ اساتذہ اور یونی ورسٹیوں کے ۹۵پروفیسر مارے جا چکے ہیں، اور ۷ہزار ۸سو۱۹ سے زیادہ طلبہ اور ۷۵۶؍ اساتذہ زخمی ہوچکے ہیں۔ یہ تعداد ہر روز بڑھ رہی ہے۔ کم از کم ۶۰ فی صد تعلیمی سہولیات بشمول ۱۳ پبلک لائبریریوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کیا جاچکا ہے اور کم از کم۶ لاکھ ۲۵ ہزار طلبہ کی تعلیم تک رسائی نہیں رہی۔ مزید ۱۹۵ تاریخی مقامات، ۲۲۷ مساجد اور تین گرجا گھروں کو بھی نقصان پہنچایا گیا یا تباہ کردیا گیا ہے، جن میں غزہ کے مرکزی آرکائیوز بھی شامل ہیں، جن میں ۱۵۰ سال کی تاریخ اور سیکڑوں برس پرانے مخطوطے تھے۔ اسراء یونی ورسٹی، غزہ کی آخری باقی ماندہ یونی ورسٹی کو اسرائیلی فوج نے ۱۷جنوری ۲۰۲۴ء کو مسمار کر دیا۔
میں جاننا چاہتی تھی کہ کیا پروفیسر عبدالفتاح ان ۹۵ یونی ورسٹی فیکلٹی پروفیسروں میں شامل تھے، جو غزہ کی جنگ میں اب تک مارے گئے تھے؟ میں نے انھیں ’گوگل‘ کیا اور ان کا ’فیس بک پیج‘ تلاش کیا۔ پتا چلا کہ وہ ابھی زندہ ہیں اور حال ہی میں مایوس کن حالات، بیماری، آلودگی، تباہ شدہ سیوریج کے بارے میں پوسٹ کر رہے ہیں۔ عارضی پناہ گاہوں میں پناہ گزینوں کو جس کا سامنا تھا، ان کی انھوں نے ایک تصویر پوسٹ کی۔ کچھ دن پہلے، انھوں نے ایک اور ذاتی تصویر اَپ لوڈ کی تھی: سفید چیزوں کا ایک پلاسٹک بیگ، جس پر نیلے عربی حروف میں لکھا ہوا تھا: ’بارش کا پہلا قطرہ‘۔ انھوں نے لکھا: ’’الحمدللہ، آٹے کا پہلا تھیلا مہینوں بعد میرے گھر میں مدد کے طور پر ملا۔سردا اور اس کی جڑواں بہن بھی زندہ ہیں، اور وہ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتی ہیں۔
’اسکولوں کے قتل عام‘ کے ساتھ ساتھ، اہل غزہ ایک انسانیت کش ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جیسا کہ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، غزہ نے تقریباً نصف درخت اور کھیتی باڑی کی ساری بنیاد کھو دی ہے، جس کا بیش تر حصہ زمین میں تیل اور گولہ باری سے برباد اور پانی اور فضا زہریلے مادوں سے آلودہ ہوچکے ہیں۔ سمندر کا پانی سیوریج اور فضلہ کے ساتھ آلودہ ہوگیا ہے۔ غزہ بنیادی طور پر ناقابلِ رہائش بن چکا ہے، اور آنے والے برسوں تک اسی صورتِ حال سے دوچار رہے گا۔ اور پھر بھی لاکھوں لوگ وہاں رہنے پر مجبور ہیں۔ انسان اس بات پر حیران ہوتا ہے کہ کیا زہریلے مادوں سے اَٹی فضا، اذیت ناک ماحولیات اور دیگر اُمور انسانی زندگی برقرار رہنے کا باعث ہوسکتے ہیں؟
lغزہ کے پرندے:غزہ کے جنگلی پرندوں کے ساتھ ساتھ پنجروں میں بند چہکنے والے پرندے اب بھی بازاروں میں خریدے جاسکتے ہیں اور رفح کے کچھ مایوس باشندے انھیں تلاش کرتے ہیں، اس امید پر کہ ان کی آوازوں میں بھری موسیقی جنگ کی آوازوں کو چھپادے گی۔ وائس آف امریکا نے نقل مکانی کرنے والی ایک خاتون کی رُوداد سنائی، جس نے سفر کے دوران محسوس کیا کہ اس نے اپنے پرندوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وہ پنجرے میں بند ایوئین کو بچانے کے لیے واپس آئی، اور یوں ان پرندوں کے ساتھ گہری محبت کا مظاہرہ کیا۔ تاہم، پروفیسر عبدالفتاح کہتے ہیں: ’’زیرتسلط افراد کے طور پر ہمیں پرندوں کو پنجروں میں قید نہیں رکھنا چاہیے‘‘۔
’غزہ کے پرندے‘ بھی ایک بین الاقوامی آرٹ پروجیکٹ کا نام ہے، جو جنگ میں مارے گئے بچوں کی یاد منانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ کی بنیاد سادہ ہے: دنیا بھر کے بچے ایک مخصوص مقتول فلسطینی بچے کا انتخاب کریں، اور اس کے اعزاز میں پرندے کو پینٹ کریں۔ ۶ہزار۵ سو سے زیادہ بچوں کا ڈیٹا بیس میں سے انتخاب کرسکتے ہیں جو گذشتہ اکتوبر سے غزہ میں مرچکے ہیں، پھر اپنی تخلیقات کی تصاویر برڈز آف غزہ کی ویب سائٹ پر اَپ لوڈ کر سکتے ہیں۔ دُنیا بھر میں بچے ایسا کر رہے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ فلسطین کا ایک قومی پرندہ بھی ہے؟ ’فلسطینی سن برڈ‘ ایک خوب صورت پرندہ ہے، جس نے چمک دار سبز اور نیلے رنگ کے پروں کا تاج پہنا ہوا ہے۔ مغربی کنارے کے فلسطینی مصور خالد جرار نے ’سن برڈ‘ کا جشن مناتے ہوئے ڈاک ٹکٹ ڈیزائن کیا۔وہ کہتے ہیں: ’’یہ پرندہ آزادی اور تحریک کی علامت ہے۔یہ کہیں بھی اڑ کر جاسکتا ہے‘‘۔
lایک بہتر دُنیا کے لیـے پرندوں کی نگہداشت:آیئے واپس امریکا چلتے ہیں جہاں برڈ کلب پرندوں کے مشاہدے کو کسی کے لیے قابلِ رسائی بنانے کے لیے پُرعزم ہے، خاص طور پر وہ لوگ جنھیں ماضی میں مختلف علاقوں میں پرندوں کے مشاہدے کے لیے محفوظ رسائی حاصل نہیں ہوسکتی تھی۔ ان کا کہنا ہے: ’’اس کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم پرندوں کے لیے تقاریب منعقد نہیں کرسکتے اور ایک ہی وقت میں مساوات اور انصاف کے بارے میں اپنے محبوب نظریات کی حمایت نہیں کرسکتے‘‘۔ ہمارے لیے ، یہ ’ہے‘ یا پھر’ نہیں ہے‘۔ پچھلے سال ایک کتاب برڈنگ فار اے بیٹر ورلڈ شائع ہوئی۔ یہ کتاب اس بارے میں ہے کہ لوگ کیسے حقیقی طور پرندوں سے جڑ سکتے ہیں؟ ’برڈ کلب‘ ماہنامہ برڈز فار فلسطین کو سپانسر کرتا ہے، جس میں شرکا سیکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنے پرندوں سمیت فلسطین کے لوگوں کی مدد کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
جب میں اپنے صحن میں برڈ فیڈر پر شان دار پیلے رنگ کے گولڈ فنچز کو اپنے پروں کو کھرچتے ہوئے دیکھ رہی ہوں، یہ جانتے ہوئے کہ، اس خوب صورت چھوٹے سے جزیرے پر، میں اتنی ہی محفوظ ہوں جتنا کہ ایک شخص ہو سکتا ہے۔ پھر میں فلسطین کی ہولناکیوں کے بارے میں سوچتی ہوں کہ میرے ٹیکس کی بنیاد پر امریکی کانگریس نے صرف اسرائیل کے لیے براہِ راست فوجی امداد کے لیے مزید اربوں ڈالر کی منظوری دی، اور دوسری طرف محکمۂ خارجہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق اپنی۲۰۲۳ء کی رپورٹیں بھی جاری کیں۔ اُن میں یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کی انسانی حقوق کی بہت سی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں ماورائے عدالت قتل، تشدد، بلاجواز حراست، جنسی تشدد وغیرہ شامل ہیں۔ اس سب کے باوجود، تباہ حال غزہ میں ظلم و درندگی کے شکار فلسطینیوں کے ساتھ، پرندوں کی حالت ِ زار پر کچھ لوگ تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں۔ (Tom Dispatch، مئی ۲۰۲۴ء)