مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی زندگی کا کوئی پہلو بھی حکمران جماعت بی جے پی کی دست برد سے محفوظ نہیں ہے۔ ۲۰۲۲ء کے آغاز سے نسل پرست بھارتی حکومت، کشمیر کا آبادیاتی تناسب بدل کر کشمیری مسلمانوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کشمیری ثقافت، زبان، مذہبی شناخت، غرض زندگی کا ہر پہلو نئی دہلی حکومت کی جانب سے منظم حملوں کی زد میں ہے۔
لوگوں کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں۔ کشمیریوں کی زمین چھین کر باہر سے آنے والوں کو دی جارہی ہے اور اس مقصد کے لیے نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ذرائع ابلاغ خاموش ہیں اور صحافی قید کاٹ رہے ہیں۔ انھیں ملک سے باہر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ انسانی حقوق کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں،ماورائے عدالت قتل اور حراستی تشدد عام ہے، کل جماعتی حُریت کانفرنس کی ساری قیادت جیل میں ہے، لیکن ہندستانی سرکار کو دُنیابھر میں کوئی پوچھنے والا نہیں، بلکہ حال ہی میں دنیا کی سب سے بڑی چھاؤنی میں مزید فوجیں بھیج دی گئی ہیں۔
کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کی مثال دنیا میں کہیں اور ملنا مشکل ہے۔لیکن پھر بھی اس صورتِ حال کے سامنے وہ تمام ممالک، ایک بے حس دیوار کی مانند خاموش ہیں، جو دنیا میں انسانی حقوق کے علَم بردار کہلاتے ہیں۔ دوسری طرف ان مظالم کے خلاف پاکستان کی بین الاقوامی مہم کوئی خاطر خواہ نتائج پیدا کرنے سے قاصر ہے کیونکہ ہم اپنے اندرونی مسائل میں ہی اس قدر اُلجھے ہوئے ہیں کہ کشمیر کے مظلوموں کے لیے وقت نکالنے سے قاصر ہیں۔ کشمیر سے متعلق اسلام آباد کی ساری کوششیں اب صرف اقوام متحدہ کو خط لکھنے تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں۔
اگرچہ مقبوضہ وادی کی داستان خونچکاں سات عشروں پر محیط ہے لیکن ۵ ؍اگست ۲۰۱۹ء کو بھارتی سرکار کی یک طرفہ کارروائی نے مظالم کا ایک نیا باب شروع کیا ہے، جو کشمیریوں کے خون سے لکھا جا رہا ہے۔ بھارتی سرکار نے غیر قانونی طور پر ریاست جموں و کشمیر کو ہندستان میں ضم کر کے اس کے دو ٹکڑے کیے اور انھیں زبردستی ہندستانی یونین کا حصہ بنا دیا۔ یہ ساری کارروائی اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کردہ قراردادوں کی صریح طور پر خلاف ورزی ہے۔ کشمیر سے متعلق اب تک ۱۱ قراردادیں منظور ہو چکی ہیں، لیکن خصوصی طور پر سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر ۳۸ قابل ذکر ہے، جس کے پیرا نمبر ۲ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کوئی بھی فریق کشمیر کے مادی (material) حالات میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کر سکتا۔
اس سب کے باوجود کشمیر میں ایک طویل کرفیو نافذ کر کے مواصلات کا نظام معطل کردیا گیا، فوجی محاصرہ سخت تر ہو گیا، عوامی اجتماعات پر پابندی لگ گئی،میڈیا کو خاموش کروا کر بھارت نواز کشمیری سیاست دانوں سمیت تمام کشمیری رہنماؤں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ یہ سب صرف اس لیے کیا گیا کہ کشمیری اس غیر قانونی اقدام کے خلاف کوئی مزاحمت نہ کر سکیں، جس نے بیک جنبش قلم ان کو تمام تر حقوق سے محروم کر دیا ہے۔
اس دن سے لے کر آج تک بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت، کشمیریوں کو کمزور کرنے، انھیں ان کے حق رائے دہی سے محروم کرنے اور ان کی مسلم شناخت کو ختم کرنے کے لیے کئی قسم کی انتظامی، آبادیاتی، اور انتخابی تبدیلیاں کر چکی ہے۔یہ کم و بیش وہی اقدامات ہیں جو مقبوضہ فلسطین کو دبانے کے لیے اسرائیلی حکومت کی جانب سے اٹھائے جاتے ہیں۔ مئی ۲۰۲۲ء میں انڈین حدبندی کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں کا اعلان کیا تھا، جن کے ذریعے جموںو کشمیر اسمبلی میں جموں کو زیادہ نمایندگی دے دی گئی تھی کہ پارلیمنٹ میں مسلم نمایندگی کو کم کر کے ہندو اکثریت حاصل کی جا سکے۔ ۲۰۱۱ء کی آخری مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر کی آبادی میں ۶۸فی صد سے زائد حصہ مسلمانوں کا ہے، جب کہ ہندو ۲۸ فی صد سے بھی کم ہیں۔ ان نئی حدبندیوں کے ذریعے بھارتی حکومت مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتی ہے۔
آبادی کے اس تناسب کو اُلٹ دینے کے لیے نئی دہلی نے شہریت کے نئے قانون بھی متعارف کروائے ہیں۔ ۲۰۱۹ء میں آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵ -اے کی معطلی کے بعد شہریت کے اہل ہونے والے تقریباً ۳۴ لاکھ ہندستانیوں کو کشمیری ڈومیسائل جاری کر دیے گئے ہیں۔ جولائی ۲۰۲۲ء میں مقبوضہ وادی کے چیف الیکشن کمشنر نے تمام شہریوں، حتیٰ کہ عارضی طور پر کشمیر میں رہایش پذیر افراد کو بھی ووٹ کا حق دینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ مضحکہ خیز قدم بھی کشمیر کے آبادیاتی تناسب کو بدلنے کے لیے اٹھایا گیا ہے اور اس سے تقریباً ۲۵ لاکھ نئے رائے دہندگان انتخابات کا حصہ بن جائیں گے، جن میں سے اکثر غیر مقامی ہیں۔ یوں رائے دہندگان کی تعداد تقریباً ۳۰ فی صد بڑھ جائے گی۔ نئی حد بندیوں کی طرح اس جارحانہ قدم نے بھی کشمیریوں کے اندر غم و غصے کو ہوا دی ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس اور روایتی طور پر بھارت نواز سمجھے جانے والے وزرائے اعلیٰ اور دیگر سیاست دانوں نے بھی ان اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔ فاروق عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس کا کہنا تھا کہ ’’غیر مقامیوں کو انتخابی عمل میں شامل کرنا اس بات کا کھلم کھلا اعلان ہے کہ کشمیریوں سے ان کی نمائندگی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے‘‘ ۔
تاہم، یہ مذمتی بیانات مودی حکومت کو شرم دلانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ اس حکومت کی سرگرمیاں صرف انتخابی عمل تک محدود نہیں ہیں۔ پچھلے سال بھارتی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے ’وقف بورڈ‘ کو سرکاری تحویل میں لے لیا تھا اور جس کے نتیجے میں بورڈ کی تمام املاک بھی سرکاری قبضے میں چلی گئی ہیں۔ یہ سب دراصل اس منظم مہم کا حصہ ہے، جس کے ذریعے کشمیر میں مزارات سمیت مسلمانوں کے تمام مذہبی مقامات پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ مسلمان علما اور مذہبی پیشواؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اکثر مسجدوں میں نماز پر پابندی ہے۔ جموں و کشمیر جماعت اسلامی پر ۲۰۱۹ء میں پابندی لگا دی گئی تھی، لیکن اب اس کے خلاف کریک ڈاؤن کی آڑ میں حکومت لاکھوں روپے مالیت کی جائیدادوں پر قبضہ کر رہی ہے۔ ان املاک میں اس عظیم حُریت رہنما سید علی گیلانی کا گھر بھی شامل ہے، جس سے ۲۰۲۱ء میں مناسب تدفین کا حق بھی چھین لیا گیا تھا۔
کشمیری ثقافت پر بی جے پی کے حملوں کا خصوصی نشانہ اُردو زبان بھی بن رہی ہے۔ یہ زبان ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے تک کشمیر کی سرکاری زبان رہی ہے لیکن ۲۰۲۰ء میں نئی قانون سازی کے ذریعے اردو کے اس استحقاق کو ختم کر کےہندی، کشمیری اور ڈوگری کے ساتھ ساتھ انگریزی کو بھی سرکاری زبان بنا دیا گیا ہے۔ اب کشمیری زبان کے رسم الخط کو نستعلیق سے بدل کر ’دیوناگری‘ کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔
بی جے پی کے یہ تمام اقدامات بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے کشمیری صحافت کا گلا گھونٹے جانے، غداری اور دہشت گردی کے قوانین کے تحت صحافیوں کی گرفتاری، اور ۲۰۲۰ء کی نئی میڈیا پالیسی کے تحت خوف کی جو فضا پیدا کی گئی ہے، اس کی مذمت کی ہے۔ فروری ۲۰۲۲ میں ’ہیومن رائٹس واچ‘ (Human Rights Watch) نے کشمیر میں صحافت پر ظالمانہ کریک ڈاؤن کی مذمت کی اور کشمیر میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں، ان کو ہراساں کیے جانے اور ان کو درپیش خطرات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ستمبر ۲۰۲۲ء میں ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ (AI) نے بھی میڈیا کے خلاف سخت کارروائیوں اور آزادیٔ اظہار پر عائد پابندیوں کا جائزہ لیتے ہوئے ’کشمیر پریس کلب‘ کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
بی جے پی کی حکومت حد سے بڑھے ہوئے مظالم، تبدیلیٔ تناسب آبادی، اور نئی حدبندیوں کے ذریعے ہندو اکثریت کی راہ ہموار کرنے کے بعد انتخابات کروانا چاہتی ہے۔ اس کا مقصد اپنے ۲۰۱۹ء کے اقدامات کی توثیق کے علاوہ یہ تاثر دینا بھی ہے کہ کشمیر میں حالات ’معمول‘ پر آچکےہیں۔ تاہم اس کی کشمیری رہنماؤں یہاں تک کہ بھارت پسند کشمیری رہنماؤں کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ نئی حدبندیوں اور نئے انتخابی قوانین کے خلاف کشمیریوں کی شدید مزاحمت کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ انتخابات ہو سکیں گے، اور اگر ہوبھی جائیں تو وہ کیسے معتبر ہوں گے؟ کشمیر میں بھارت کی جابرانہ و منافقانہ پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں۔ ان پالیسیوں نے کشمیریوں کے جذبۂ حُریت کو مزید مضبوط کیا ہے اور بھارت کے خلاف کشمیریوں کی نفرت مزید بڑھی ہے۔ ایسے منفی بھارتی اقدامات، مستقبل میں بھی کوئی مختلف نتائج پیدا نہیں کر سکیں گے۔ اس لیے نئی دہلی سرکار کو تاریخ سے لڑنے کے بجائے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
پچھلے ۳۰برسوں کے دوران جموں و کشمیر کی شورش میں ۲۵۰ کے قریب پنڈتوں کی ہلاکت کےلیے ۲۰۲۲ءمیں بنی ایک فلم ’کشمیر فائلز‘ کے ذریعے کشمیری مسلمانوں کو پوری دنیا میں معتوب و مغضوب بنانے اور مزاحمتی تحریک کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے بعد آخرکار سچ پھوٹ ہی پڑا۔ پچھلے ہفتے جموں و کشمیر کے گورنر منوج سنہا نے ہی بھارتی عوام سے اپیل کی کہ ’’خطے میں اقلیتی افراد کی ہلاکت کو مذہب کی عینک سے دیکھنا بند کردیں ، کیونکہ اس شورش زدہ خطے میں دوسری برادریوں [یعنی مسلمانوں]کے لوگ بھی بڑی تعداد میں مارے گئے ہیں‘‘۔ میڈیا اور دیگر ذرائع کے مطابق۱۵ ہزار ۶سو ۹۶ ؍ افراد اور سرکاری ذرائع کے مطابق ۴۰ہزار افراد ۱۹۹۰ءسے لے کر اب تک کشمیر میں ہلاک ہو چکے ہیں ، جن میں بڑی تعداد مقامی مسلمانوں کی ہے ۔
اسی دوران خطے کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ اور ان کے نائب وجے کمار نے سال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’سال ۲۰۲۲ء سیکورٹی کے محاذ پر پچھلے چار برسوں کے مقابلے میں پُرامن سال تھا جس میں ۵۶غیر ملکیوں سمیت ۱۸۶ عسکریت پسندوں کو مارا گیا‘‘ ۔ ان کا کہنا تھا کہ سال ۲۰۲۳ءمیں پولیس کی توجہ دہشت گردی ختم کرنے پر مرکوز ہوگی، یعنی سیاسی جماعتوں اور سویلین آبادی میں مزاحمتی تحریک کے حمایتی یا سرکردہ افراد کو تختۂ مشق بنایا جائے گا ۔ جس کا آغاز پہلے ہی ہوچکا ہے ۔ سنگھ کے مطابق پچھلے سال پولیس نے ۵۵گاڑیاں اور ۴۹ جائیدادیں ضبط کیں، کیونکہ ان کے مالکان علیحدگی پسندی کو شہ دیتے تھے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ سال ۲۰۲۲ء میں ۱۰۰ نوجوانوں نے عسکریت میں شمولیت اختیار کی، جن میں سے ۱۷ کو گرفتار کیا گیا اور باقی مختلف مقابلوں میں مارے گئے ۔ اب صرف ۱۸ باقی ہیں ۔ اب اگر ان سے کوئی پوچھے کہ ان ۱۸عسکریت پسندوں سے نپٹنے کےلیے فوج کی دو کورز، نیم فوجی دستوں کی سیکڑوں بٹالین اور پولیس کی ہزاروں کی تعداد میں نفری کی آخر کیاضرورت ہے؟ لیگل فورم فار کشمیر کے مطابق اپریل ۲۰۲۲ء میں نیم فوجی دستوں کی مزید۳۰۰کمپنیاں اور پھر مئی میں مزید ۱۵۰۰فوجی کشمیر میں تعینات کیے گئے ۔ اس نئی تعیناتی کی بھی پھر کیوں ضرورت پیش آئی؟
اگر دیکھا جائے تو پولیس سربراہ کا یہ دعویٰ کہ انھوں نے کشمیر میں نسبتاً امن و امان قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، کچھ غلط نہیں ہے ۔ مگر یہ قبرستان کی پُراسرار خاموشی جیسی ہے ۔ خود بھار ت کے سیکورٹی اور دیگر اداروں میں بھی اس پر حیرت ہے کہ کشمیریوں کی اس خاموشی کے پیچھے مجموعی سمجھ داری یا نااُمیدی؟ آیا یہ کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے ؟
’لیگل فورم فار کشمیر‘ کے سال ۲۰۲۲ء کے جائزے میں بتایا گیا ہے کہ اس سال کے دوران خطے میں ۳۱۲ ہلاکتیں ہوئیں ، جن میں ۱۸۱عسکریت پسند، ۴۵شہری اور ۸۶سیکورٹی کے افراد شامل ہیں ۔ ان ۱۲ماہ کے دوران سیکورٹی دستوں نے ۱۹۹سرچ آپریشن کیے اور عسکریت پسندوں کے ساتھ تصادم کے ۱۱۶واقعات پیش آئے ۔ ان سرچ آپریشنز کے دوران ۲۱۲شہری جائیدادوں کو تختۂ مشق بنایا گیا ۔ اسی طرح سال میں ۱۶۹ بار انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنبیہ کے باوجود جموں خطے کے مسلم اکثریتی علاقوں پیر پنچال اور چناب ویلی میں عسکریت سے نپٹنے کےلیے سویلین ملیشیا ولیج ڈیفنس کمیٹیوں کا احیا کیا گیا ۔ اس میں ہندو آبادی کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ مقامی آبادی کو ہراساں کرنے کےلیے اس ملیشیا کے خلاف ۲۱۲ فوجداری مقدمات درج ہیں ۔ حالانکہ ۲۰۱۲ء میں بھارتی سپریم کورٹ نے سکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے سول افراد کو مسلح کرنے اور شورش سے نمٹنے کے لیے انھیں ہراول دفاعی دستوں کے طورپراستعما ل کرنے پر پابندی لگائی تھی ۔ عدالت عظمیٰ کا استدلال تھا کہ عوام کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرناحکومت کے اوّلین فرائض میں شامل ہے اورسکیورٹی کی نج کاری کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ عدالت نے یہ فیصلہ ایک پٹیشن کی سماعت کے بعد صادر کیا، جس میں وسطی بھارت کے قبائلی علاقوں میں بائیں بازو کے انتہاپسندوں کے خلاف حکومتی اداروں کی طرف سے قائم کردہ ایک سویلین آرمی ’سلواجدوم‘ کے وجود کوچیلنج کیا گیا تھا ۔ اس آرمی نے شورش سے نمٹنے کے نام پر مقامی آبادی کو ہراساں اور پریشان کر رکھا تھا ۔
لیگل فورم کی رپورٹ کے مطابق ۱۹؍اکتوبر کو سیکورٹی دستوں نے ایک نوجوان عمران بشیر کو شوپیاں علاقہ میں اس کے گاؤں ہرمین سے گرفتار کیا ۔ اس پر عسکریت پسندوں کی معاونت کا الزا م تھا ۔ آج کل سیکورٹی ایجنسیوں نے ایک ٹرم ’ہائبرڈ ملی ٹنٹ‘ وضع کی ہے، یعنی وہ عسکریت پسند جس کے پاس ہتھیار نہ ہوں ۔ پولیس نے بعد میں بتایا کہ عمران نوگام میں تصادم کے دوران مارا گیا، جو اس کے گھر سے ۱۵کلومیٹر کی دوری پر ہے ۔ گویا حراست میں لینے کے بعد اس کوہلاک کیا گیا ۔ اسی طرح ۹ جولائی کی صبح کو سرینگر کے ایک رہائشی مسلم منیر لون کو حراست میں لیا گیا ۔ دوپہر کو اس کی لاش اس کی والدہ شفیقہ کے حوالے کی گئی ۔ لیگل فورم کے مطابق اس سال کے دوران سیکورٹی دستوں کا خصوصی نشانہ سویلین جائیدادیں رہیں ۔ بلڈوزروں کا استعمال یا اگر کسی مکان میں کسی عسکریت پسند کی موجودگی کا شک ہو، تو اس کو پوری طرح تباہ کرنا اس نئی حکمت عملی کا حصہ تھا ۔ اس رپورٹ کے مطابق جنگ زدہ علاقوں میں بھی بین الاقوامی قوانین کی رو سے اور جنیوا کنونشن کی کئی دفعات کے تحت سویلین جائیدادوں کو تحفظ حاصل ہے ۔ حریت کانفرنس کے معروف لیڈر شبیر احمد شاہ، جو خود جیل میں ہیں کی رہایش گا ہ کو سیل کردیا گیا ۔ ان کے اہل خانہ کو دس دن کے نوٹس پر مکان خالی کرنے کے لیے کہا گیا ۔ جماعت اسلامی ، جس پر پابندی لگائی گئی ہے، کی جائیدادوں، جن میں اسکول، دفاتر اور اس کے کئی لیڈروں کی رہایش گاہیں شامل ہیں ، کو سیل کر نے کا عمل متواتر جاری ہے ۔
اپریل میں قومی تفتیشی ایجنسی نے ایک اسکالر عبدل اعلیٰ فاضلی کو گرفتار کرکے اس کے دس سال قبل ایک ویب سائٹ پر لکھے آرٹیکل کا حوالہ دے کر اس کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا ۔ ایک قابل احترام پروفیسر شیخ شوکت حسین کو یونی ورسٹی سے صرف اس لیے برطرف کیاگیا کیونکہ ۲۰۱۶ء میں انھوں نے دہلی میں ایک سیمینار میں شرکت کی تھی ۔ جن دیگر اسکالروں کو نوکریوں سے نکالا گیا ان میں ڈاکٹر مبین احمد بٹ اور ڈاکٹر ماجد حسین قادری بھی شامل ہیں۔
عام بھارتیوں کو جموں و کشمیر میں جائیدادیں خریدنے اور ڈومیسائل حاصل کرنے کے اختیار سے پیدا شدہ صورت حال سے پریشان سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی بھی چیخ اُٹھی ہیں ۔ بھارت کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے نام ایک خط میں انھوں نے لکھا ہے کہ ۲۰۱۹ء میں دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد سے جموں و کشمیر میں اعتماد کی کمی اوربیگانگی میں اضافہ ہوا ہے ۔ بھارتی آئین میں درج بنیادی حقوق اب بس صرف ان منتخب شہریوں کو عطا کیے جا رہے ہیں ، جو نئی دہلی حکومت کی صف میں شامل ہیں ۔ انھوں نے لکھا ہے کہ کشمیر کے ہر باشندے کے بنیادی حقوق من مانی طور پر معطل کیے گئے ہیں اور خطے کو الحاق کے وقت دی گئی آئینی ضمانتوں کو اچانک اور غیر آئینی طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ سیکڑوں نوجوان جموں و کشمیر سے باہر جیلوں میں بند ہیں ۔ ان کی حالت نہایت خراب ہے ۔ فہد شاہ اور سجاد گل جیسے صحافیوں کو ایک سال سے زیادہ عرصے سے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت قید رکھا گیا ہے ۔
محبوبہ مفتی نے بھی بھارتی عدلیہ کے رویے کی شکایت کی ہے: ’’میری بیٹی کی طرف سے ۲۰۱۹ء میں دائر کردہ اپنے حبس بے جا کیس میں ، سپریم کورٹ کو میری رہائی کا حکم دینے میں ایک سال سے زیادہ کا وقت لگا، جب کہ مجھے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت من مانی طور پر حراست میں لیا گیا تھا ۔ میری بیٹی التجا کے علاوہ اور میرا پاسپورٹ بھی بغیر کسی واضح وجہ کے روک لیا گیا ہے ۔ میں نے یہ مثالیں صرف اس حقیقت کو اُجاگر کرنے کے لیے پیش کی ہیں کہ اگر سابق وزیر اعلیٰ اور رکن پارلیمنٹ ہونے کے ناطے میرے اپنے بنیادی حقوق کو اتنی آسانی سے معطل کیا جا سکتا ہے تو آپ کشمیر میں عام لوگوں کی حالت زار کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں ‘‘۔
دفعہ ۳۷۰ کے خاتمے سے پہلے صرف جموں و کشمیر کے رہائشی ہی ریاست میں جائیداد کی خرید و فروخت کر سکتے تھے ۔ لیکن اب کوئی بھی بھارتی شہری یہاں جائیداد خرید سکتا ہے ۔ اسی طرح سے صرف مستقل رہایشی ہی جموں وکشمیر میں ووٹ ڈال سکتے تھے یا یہاں امیدوار کے بطور انتخابات لڑسکتے تھے ۔ اب یہ پابندی ختم ہو گئی ہے ۔ اس کے علاوہ اب کوئی بھی شخص جو کشمیر میں پچھلے ۱۵سال سے مقیم ہے، ڈومیسائل حاصل کر سکتا ہے ۔ مرکزی حکومت کے حکام اور ان کے بچوں کے لیے یہ حد ۱۰سال ہے، جب کہ کسی طالب علم کو سات سال بعد ہی ڈومیسائل مل سکتا ہے ۔ یعنی اگر بھار ت کے کسی بھی خطے کا کوئی طالب علم کشمیر کے کالج یا یونی ورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے آتا ہے، تو وہ بھی ڈومیسائل کا حق دار ہوگا ۔
اس سب سے بھارتی حکومت حاصل کیا کرنا چاہتی ہے؟ ایک بڑا سوال ہے ۔ کشمیر میں لوگ بات کرنے سے کتراتے ضرور ہیں لیکن بھارت اور کشمیریوں کے درمیان جو بھروسے اور اعتماد کی پہلے سے ہی کمی تھی وہ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی ہے ۔ کسی سیاسی عمل کی غیر موجودگی میں یا اعتماد بحال کیے بغیر اور عوام کو خوف کی نفسیات میں مبتلا رکھنے سے قبرستان کی خاموشی ہی پیدا کی جاسکتی ہے، امن و امان کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔
بھارت میں کانگریس پارٹی کے لیڈر راہول گاندھی نے ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے نام سے ملک کے انتہائی جنوبی سرے بحر ہند کے ساحل پر کنیا کماری سے جو مارچ ۷ستمبر ۲۰۲۲ء کو شروع کیا تھا، وہ ساڑھے تین ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد اس کی آخری منزل جموں و کشمیر کا دارالحکومت سرینگر قرار دی گئی ہے۔
۱۹۸۳ءمیں جب پنجاب میں سکھ علیحدگی تحریک عروج پر تھی، تو جنتا پارٹی کے لیڈر چندر شیکھر نے اسی طرح کنیا کماری سے دہلی تک چھ ماہ تک مارچ کیا۔ تجزیہ کاروں کا خیا ل ہے اس مارچ نے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے خلاف عوامی ماحول بنانے میں خاصی کامیابی حاصل کی تھی، مگر ان کی ہلاکت نے پانسہ پلٹ دیا اور ان کے فرزند راجیو گاندھی کی قیادت میں ہمدردی کا ووٹ بٹور کر کانگریس نے بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپسی کی۔
مگر موجودہ دور میں جس یاترانے بھارتی سیاست پر اَن مٹ نقوش ثبت کیے ہیں وہ ۱۹۹۰ء میں بی جے پی کے لیڈر لال کشن ایڈوانی کی ”رتھ یاترا“ہے، جو ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور ہندوتوا نظریہ کے احیا کے لیے شروع کی گئی تھی۔ دس ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے لیے ایڈوانی کے لیے ایک خصوصی ایر کنڈیشنڈ رتھ تیار کیا گیا تھا۔ ۱۹۹۲ءمیں بابری مسجد کی مسماری،بی جے پی کا سیاسی عروج اور اس کا اقتدار تک پہنچنا اسی یاترا کا ’پھل‘ ہے۔
ایڈوانی کی اس یاترا کے بعد ان کے جانشین مرلی منوہر جوشی نے ۱۹۹۱ء میں ’ایکتا یاترا‘ کے نام سے کنیا کماری سے کشمیر تک مارچ کرنے کا اعلان کیا۔ اس یاترا کے منتظم نریندر مودی تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ چونکہ ’رتھ یاترا‘ کی وجہ سے ایڈوانی اور اس کے منتظم پر مودمہاجن کا پروفائل کافی اُونچا ہوگیا تھا، اس لیے پارٹی کی اندرونی چپقلش کے شاخسانہ کے بطور جوشی اور مودی نے بالترتیب ایڈوانی اور مہاجن کے قد کی برابری کرنے کے لیے یہ یاتراترتیب دی تھی۔ اس سفر کے دوران جوشی دعویٰ کر رہے تھے کہ ’’میرے پاس کشمیر ی عسکریت پسندوں کی گولیوں سے زیادہ رضا کار ہیں اور میں ان سب کے ساتھ سرینگر کے لال چوک میں بھارت کے یوم جمہوریہ یعنی ۲۶ جنوری، ۱۹۹۳ءکو قومی پرچم ترنگا لہرائوں گا‘‘۔ مگر جب وہ سرینگر پہنچے، تو ان کے ساتھ صرف ۶۷کارکنان ہی تھے، اور تقریب بھی بس ۱۲منٹ میں ختم کرنی پڑی۔ زمینی سفر کے بجائے جوشی اور ان کے رفقا جموں سے ایر فورس کے اے این ۳۲ طیارہ میں رات کے اندھیرے میں سرینگر پہنچے اور ان کو ایر پورٹ کے پاس ہی بارڈر سیکورٹی فورس کے میس میں ٹھیرایا گیا۔
اس سے دو دن قبل یعنی ۲۴جنوری [۱۹۹۳ء] کو سرینگر کے پولیس ہیڈ کوارٹر میں جب اس یاترا کے انتظام کے حوالے سے پولیس سربراہ جے این سکسینہ دیگر حکام کے ساتھ میٹنگ میں مصروف تھے، تو اسی کمرے میں بم دھماکہ ہوا، جس میں کئی افسران ہلاک ہوگئے۔ سکسینہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔ ۲۳جنوری کو پنجاب سے گزرتے ہوئے اس قافلہ پر حملہ ہوا، جس سے جموں تک پہنچتے پہنچے اس یاترا کا جوش و خروش ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔ گورنر گریش چند سکسینہ نے بی جے پی کے لیڈروں کو بتایا کہ اگر وہ بذریعہ سڑک کشمیر جانے پر بضد ہیں، تو و ہ سیکورٹی فراہم کر سکتے ہیں اورپوری قومی شاہراہ کو فوج کے حوالے کر سکتے ہیں، مگر اس کے باوجود ان کی زندگیوں کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ اگلے روز ادھم پور سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بی ایل نمیش نے شاہرائوں پر لینڈسلائیڈنگ کا خطرہ بیان کرکے قافلے کو روک دیا اور اس یاترا کے منتظم مودی نے شامل افراد کو گھر جانے کا مشورہ دیا۔ اس پر راجستھان کے ایک ممبر اسمبلی تارا بھنڈاری اس قدر بدکے کہ انھوں نے الزام لگایا کہ ’’ان کو بے وقوف بنایا گیا ہے اور آخر اس جگہ تک لانے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
شمالی بھارت کے اکثر شہروں میں اس یاترا کی رپرٹنگ کرتے ہوئے مجھے ادراک ہوا کہ شاید ہی کسی کو پتہ تھا کہ اس کا موضوع کشمیر ہے، اکثر افراد اس کو رام مندر تحریک کا ہی ایک جز تصور کر رہے تھے۔انتہائی سیکورٹی کے درمیان جب جوشی کا قافلہ سرینگر کے لال چوک میں پہنچا، تو معلوم ہوا کہ جو جھنڈا کنیا کماری سے بطور خاص اس جگہ پر نصب کرنے کے لیے ساتھ تھا، وہ جموں میں بھول گئے یا پھر طیارہ میں ہی رہ گیا ہے۔ خیر مودی نے جوشی کو ایک جھنڈا تھما دیا، مگر وہ اس کو لگا نہیں پارہے تھے۔ کہیں قریب ہی گولیوں کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔ جس پر مدن لال کھورانہ نے لقمہ دیا کہ ’’عسکریت پسند اس جھنڈے کو سلامی دے رہے ہیں‘‘۔ کئی بار کی کوشش کے بعد بھی جب جھنڈا نصب نہیں ہوا تو بارڈر سیکورٹی فورس کے اہلکاروں نے جوشی کے ہاتھ میں متبادل جھنڈ ا تھما دیا، جس کو انھوں نے نصب کرکے تقریب کے ختم ہونے کا اعلان کیا اور ایرپورٹ کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس پوری تقریب میں شاید ہی کوئی مقامی فرد شریک ہو ا ہوگا۔ پوری وادی میں انتہائی سخت کرفیو نافذ تھا۔
راہول گاندھی کی یاترا کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایک طویل مدت کے بعد کانگریس نے بی جے پی اور اس کی سرپرست تنظیم راشٹریہ سیویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کردیا ہے۔ اس سے قبل خاص طور پر راہول گاندھی بی جے پی کے سخت گیر ہندو توا کے مقابلے میں نرم ہندو توا کے علَم بردار بن گئے تھے۔ اس لیے ان کو بی جے پی کی ’بی‘ ٹیم سے بھی تشبیہہ دی جاتی تھی۔ مگر اس مارچ کے دوران پارٹی کواَز سرِ نو منظم کرنے کے علاوہ راہول نے سول سوسائٹی کے افراد کے ساتھ مل بیٹھ کر ’ہندوتوا‘ نظریے کے مخالفین کو منظم کرکے ایک نظریاتی محاذ بنانے کی کوشش کی ہے۔
بی جے پی ۲۰۲۳ء میں بھارت کی گروپ ۲۰ممالک یعنی جی ۲۰کی صدارت، ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر اور اسکو درشن کے لیے اگلے سال جنوری میں کھولنے کو اہم انتخابی موضوع بنارہی ہے۔اس دوران سب سے اہم بات یہ ہو گئی ہے کہ رام مندر کے مہنت اور اس کے دیگر ذمہ داروں نے بھی راہول گاندھی کی یاترا کی حمایت کی ہے، مگر یہ بھی طے ہے کہ اگلے عام انتخابات میں بی جے پی ہندوتوا کو اپنے اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے جا رہی ہے۔ اس لیے پاکستانی حکمران اور اس کے تجزیہ کار کتنی ہی خوشامد اور تعلقات کی بہتری کی بات کریں، فی الحال مودی حکومت ان کی بات سننے کے موڈ میں نہیں ہے۔ انتخابات تک آئے دن ہندوؤں کو یاد دلایا جائے گا کہ ’’اس ملک کو مسلمان حملہ آوروں نے زخم لگائے ہیں‘‘، پاکستان پر لفظی یا حقیقی حملے ہوں گے، تاکہ اس شور میں بے روزگاری اور مہنگائی جیسے موضوعات دب جائیں۔
؍اگست ۲۰۱۹ء میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارت نے کشمیر کی نیم خودمختاری کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔ساڑھے تین سال بعد وہاں رہنے والے کہتے ہیں کہ احتجاج تو دُور کی بات ہے، لوگ آپس میں کھل کر بات کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔
کچھ عرصے سے ایسا لگتا ہے کہ کشمیر سے خبریں تو آرہی ہیں، لیکن ذرا مختلف نوعیت کی۔ سڑکوں پر احتجاج یا کوئی سیاسی سرگرمی بھی نہیں ہے۔ کیا کشمیر میں واقعی سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہے؟
ہم نے ایک نوجوان کشمیری خاتون سے بات کی جن کا کہنا کچھ یہ تھا:
’’گھر پربھی اگرہم لوگ ڈنر کر رہے ہوں گے تو لوگ بولتے ہیں کہ بات نہ کرو۔ ہوسکتا ہے کہ فون ٹیپ ہورہا ہو۔ایسا اتنا سائیکالوجیکلی ہوگیا ہے کہ اگر کوئی راستے میں بھی ہو تو لوگ دھیمی دھیمی آواز میں بات کر تے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ دیواروں کے بھی کان ہیں۔ بھارتی حکومت بہت مختلف طریقے سے لوگوں کی آواز کو دبا رہی ہے۔ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ احتجاج ہوگا تو ہارڈ اپروچ تھی۔ یعنی گنز ہوں گی، پیلٹ گنز ہوں گی، تشدد ہوگا اور راستوں پر تصادم ہوگا مگر اب بہت کچھ تبدیل گیا ہے۔ بہت سی ویب سائٹس جو کشمیر کے بارے میں بات کرتی ہیں وہ کشمیر میں نہیں چلتی ہیں۔ سوشل میڈیا اکائونٹس معطل ہوئے ہیں۔ میرے خیال میں ایسا کرنا ’نرم جبر‘ (Soft Violence) کا طریقہ ہے، جہاں پر ہم لوگوں کو مار تو نہیں رہے، لیکن چھوٹے چھوٹے طریقوں سے لوگوں کو ہراس زدہ کر رہے ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اگر سوشل میڈیا پر کچھ لکھیں گے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی الزام کے تحت انھیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اسی طرح [احتجاج کرنے والے] لوگوں کو اُٹھا کر لے جائیں گے اور ان کی تفتیش کریں گے۔ یعنی دھیرے دھیرے وہ ماحول بن رہا ہے جہاں لوگوں کو لگ رہا ہے کہ اگر اپنی زندگی بچانی ہے تو پھر بات کم کرنی ہے‘‘۔
گویا کشمیر میں خوف کے ماحول کا تاثر ملتا ہے۔ اس بارے میں جب ہم نے عام کشمیریوں سے بات کرنی چاہی تو لوگوں نے کیمرے پر آکر بات کرنے سے انکار کر دیا۔ کچھ نے لکھ کر ہمیں اپنے تاثرات بھیجے۔ایک نوجوان کشمیری خاتون نے لکھا: ’’کشمیریوں کو یہ بات سمجھا دی گئی ہے کہ انھیں بات کرنے کی، خطے میں خلاف ورزی کرنے کی قیمت چکانی پڑے گی۔ کچھ لوگوں کو [عبرت کی] مثال بناکر سب کو خاموش کر دیا گیا ہے‘‘۔ایک اور نے بتایا:’’لوگوں کا دم گھٹ رہا ہے۔ کوئی لکھے تووہ گرفتار ہوجاتا ہے۔ صرف کشمیر کے باہر ہی نہیں بلکہ کشمیر کے اندر بھی کوئی خبر نہیں۔ ہم جو سانس لیتے ہیں اُس تک میں خوف گھلا ہوا ہے‘‘۔
ایک نوجوان کشمیری نے بتایا: ’’صرف کشمیر ہی نہیں، مجھے لگتاہے کہ انڈیا بھی اس خاموشی سے سراسیمہ (کنفیوژ) ہے۔ پتا نہیں کشمیریوں کی خاموشی کے پیچھے مجموعی سمجھ داری ہے یا پھر وسیع نااُمیدی‘‘۔
اگر ہم سول سوسائٹی ، ہیومن رائٹس کے فعال علَم برداروں اور صحافیوں کے خلاف ریاستی کارروائیوں، نظربندیوں اور گرفتاریوں کی تعداد دیکھیں تو شاید اس خوف اور خاموشی کی وجوہ واضح ہوجائیں گی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعداد و شمار کے مطابق ۵؍اگست ۲۰۱۹ء سے لے کر اب تک کشمیر میں کم از کم ۲۷صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اسی عرصے میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف کریک ڈائون کے ۶۰ واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اگست ۲۰۲۲ء تک ان تین برسوں میں غیرقانونی نظربندی کے خلاف پٹیشنوں میں ۳۲فی صد اضافہ ہوا ہے اور ان مقدمات میں یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے متنازع قوانین کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔
اس بڑی تعداد میں آصف سلطان اور فہد شاہ جیسے صحافی اور خرم پرویز [اور محمداحسن انتو] جیسے انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں جو طویل عرصے سے نظربند ہیں۔ اس کے علاوہ لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیوں کی خبریں بھی ہیں جیساکہ پلئرز پرائز جیتنے والی فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد مٹو ہیں، جنھیں ویزا اور ٹکٹ رکھنے کے باوجود ملک سے باہر سفر کرنے سے روک دیا گیا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات نے ایک خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔
کشمیر ٹائمز کی ایڈیٹر اور تجزیہ کار انورادھا بھسین کا کہنا ہے: حکومت کی سرویلنس (خفیہ نگرانی) کی اَپروچ ہے۔ اس کے ذریعے بہت سے لوگ خاموش ہوجاتے ہیں۔ یہ ڈر اور خوف کا ایک ایسا ماحول ہے کہ ہم پر نظر رکھی جارہی ہے۔ کئی سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو کئی بار ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ انھیں کئی طریقوں سے خوف زدہ کیا جاتا ہے، ہراساں کیا جاتا ہے، گرفتار بھی ہوئے ہیں، کریمنل مقدمات بھی قائم کیے گئے ہیں اور ان کے علاوہ کبھی فون کال کے ذریعے دھمکایا جاتا ہے، کبھی طلب کیا جاتا اور باقاعدہ ایک انٹروگیشن ہوتی ہے۔ وہاں پر ایک ڈر اور خوف کا ماحول بنا ہوا ہے اور لوگ کچھ نہیں بول پارہے ہیں‘‘۔
کشمیر میں اس وقت غیر یقینی کیفیت اور پریشانی کی ایک وجہ شاید بدلتے ہوئے قوانین بھی ہیں۔ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد کشمیر میں سیاسی اور انتظامی طور پر غیرمعمولی تبدیلیاں آئی ہیں۔
تین اہم قوانین جن کے بارے میں خدشات ہیں کہ وہ وادی کا پورا لینڈاسکیپ (منظرنامہ) بدل دیں گے:l جائیداد کی خریدوفروخت: آرٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے سے پہلے صرف جموں و کشمیر کے رہایشی جائیداد کی خریدوفروخت کرسکتے تھے۔ اب کوئی بھی بھارتی شہری یہاں پر جائیداد خرید سکتا ہے۔l ووٹنگ اور سیاسی اُمیدوار بننے کا حق:آرٹیکل ۳۷۰ کی وجہ سے صرف مستقل رہایشی جموں و کشمیر میں ووٹ ڈال سکتے تھے یا یہاں انتخابات میں اُمیدوار بن سکتے تھے۔ اب یہ پابندی ختم ہوگئی ہے۔l ڈومیسائل کا حق: عشروں سے اس خطے میں ڈومیسائل صرف مقامی لوگوں کو مل سکتا تھا۔ اب کوئی بھی شخص جو یہاں ۱۵سال سے رہ رہا ہو اسے ڈومیسائل مل سکتا ہے۔ مرکزی حکومت کے حکام اور ان کے بچوں کے لیے یہ حد کم ہوکر ۱۰سال ہوجاتی ہے، جب کہ ہائی اسکول کے طالب علموں کے لیے یہ مدت سات سال ہے۔ مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ ایک بڑی تعداد میں باہر سے آنے والے لوگوں کو یہ حق حاصل ہوگا اور یہ وادی کی شکل بدل کر رکھ دے گا۔
بھارتی حکومت کہتی ہے کہ یہ خدشات بے بنیاد ہیں اور آرٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے سے دراصل کشمیریوں کو فائدہ ہورہا ہے۔جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کہتے ہیں: ’’میں ایک بات کہہ سکتا ہوں کہ جس مقصد سے آرٹیکل ۳۷۰ ہٹایا گیا ہے، ان تین برسوں میں وہ مقصد کافی حد تک پورا ہوگیا ہے۔ اب کئی ملکی قوانین جموں کشمیر پر بھی لاگو ہوں گے۔ یہ ۸۹۰ کے لگ بھگ قوانین ہیں جو جموں کشمیر پر لاگو ہوگئے ہیں‘‘۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) ایک کشمیری سیاسی پارٹی ہے، جو اگست ۲۰۱۹ء سے پہلے کشمیر میں بی جے پی کی اتحادی تھی۔ موہت بھان ، ترجمان پی ڈی پی کے مطابق ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے بعد سے لوگ ایک صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ لوکل انتظامیہ یا مرکزی حکومت کے جو فیصلے آرہے ہیں، لوگ اس پر رِدعمل کا اظہار ہی نہیں کر رہے۔ لوگوں کے اندر جمہوری نظام پہ عدم اطمینان ہے، اور بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے کہ وہ یہ بھی ضروری نہیں سمجھتے کہ وہ اس پر کوئی بات کریں۔ لوگوں کا بھروسا اس قدر ٹوٹ چکا ہے اور اندر اتنا زیادہ غصہ ہے کہ وہ کہتے ہیں اب بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ا نھیں اگر ہمیں کچلنا ہی ہے تو پھر کچلنے دو‘‘۔
آخر اس سب کچھ سے حکومت حاصل کیا کرنا چاہتی ہے؟
انورادھا بھسین کہتی ہیں: ’’بی جے پی اور آر ایس ایس کا ایجنڈا صرف جغرافیہ کو تبدیل کرنا نہیں ہے بلکہ وہاں کی آبادی کو بے اختیار اور بے بس کرنا ہے۔ اس لیے جتنے بھی قوانین بن رہے ہیں، چاہے وہ ووٹ دینے کا حق ہو، یعنی آپ جن لوگوں کو باہر سے لارہے ہیں، اور ان کو ووٹ کا حق دے رہے ہیں، ان کو وہاں کا ڈومیسائل دے رہے ہیں، یا پھر مقامی علاقائی جماعتوں کو جس طرح سے سائیڈ لائن کیا جارہا ہے اور ان کے لیے مختلف طریقوں سے جگہ کو کم کیاجارہا ہے، تو ظاہر سی بات ہے کہ وہاں کے لوگ ایسی تبدیلیوں سے خوش نہیں ہیں اور اگر خوش نہیں ہیں تو پھر احتجاج کے لیے باہر کیوں نہیں نکل رہے؟ وہ اس لیے باہر نہیں نکل رہے کہ ڈر اور خوف کا ایک ماحول پیدا کیا ہوا ہے، الگ الگ طریقوں سے لوگوں کو ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے‘‘۔
مگر بھارتی حکومت کہتی ہے کہ ’’کشمیر میں خاموشی دراصل امن کی وجہ سے ہے‘‘۔ لیکن کشمیر میں ایک واضح تاثر یہ ملتا ہے کہ بھارت اور کشمیریوں کے درمیان اعتماد کا جو فقدان عشروں سے چلا آرہا ہے، وہ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا ہے اور کشمیری ہونا اگر پہلے مشکل تھا تو اب بھی آسان نہیں۔
پاکستان میں عسکری منظر بدلتے ہی کئی معروف صحافیوں نے تواتر کے ساتھ یہ انکشاف کرنا شروع کیا ہے کہ ’’سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ نے بھارت کے ساتھ ایک ’پیس پروسیس‘ شروع کیا تھا، جس کا منطقی نتیجہ کشمیر کو نظرانداز کرکے پاک بھارت تعلقات کی بحالی تھا‘‘۔ اس انکشاف کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’آئی ایس آئی کے اُس وقت کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، دوحہ میں بھارتی وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال کے ساتھ خفیہ مذاکرات کے بعد اس بات پر متفق ہوچکے تھے کہ نریندر مودی ۹؍ اپریل۲۰۲۱ء کو پاکستان آئیں گے۔ مودی ہنگلاج ماتا کے پجاری ہیں، وہ سیدھا ہنگلاج ماتا کے مندر جائیں گے، وہاں دس دن کا بھرت رکھیں گے، واپسی پر عمران خان سے ملیں گے، ان کا بازو پکڑ کر ہو ا میں لہرائیں گے اور پاک بھارت دوستی کا اعلان کریں گے۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت اور تجارت کھولنے کا اعلان کریں گے اور کشمیر کو بیس سال کے لیے پس پشت ڈال دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ہونے کے بعد جب وزیراعظم عمران خان سے اس پر عمل درآمد کی رضامندی لی گئی تو انھوں نے صاف انکار کردیا، اور یوں بھارت سے معاملات طے کرنے کا موقع ضائع ہوگیا‘‘۔
اس حقیقی یا افسانوی کہانی کو دیکھا جائے تو یہ ساری پیش رفت ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد ہوئی، جب بھارت نے یک طرفہ طور پر کشمیر کا تشخص ختم کرکے اسے ’بھارتی یونین ٹیریٹری‘ قرار دیا۔ اس فیصلے کے ردعمل میں عمران خان نے بھارت سے سیاسی، سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرکے ۵؍ اگست کا فیصلہ واپس لینے کی شرط عائد کی۔ ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد عمران خان کا غیرمعمولی ردعمل اس امر کا واضح اظہار تھا، کہ موصوف بھی بہت سے پاکستانیوں کی طرح یہ سمجھتے تھے کہ بھارت کے سخت گیر اور انتہا پسند وزیراعظم نئے مینڈیٹ کے ساتھ آکر کشمیر کے حوالے سے کوئی مثبت اور بڑا فیصلہ کریں گے، مگر انتہاپسند مودی نے اس کے جواب میں پاکستان کو مایوس کن جواب دیا اور یک طرفہ طور پر کشمیر کا اسٹیٹس بدل دیا، جس کو عمران خان نے اپنی طرف سے بڑھے ہوئے دوستی کے ہاتھ کو جھٹکنے سے تعبیر کرکے نریندر مودی کی انانیت، نخوت اور تکبر کے بخیے ادھیڑنا شروع کیے۔ انھوں نے مودی کو ہٹلر سے تشبیہ دے کر بجاطور پر مغرب میں ان کی خوفناک شبیہ پیش کرنا شروع کی۔یہاں تک کہ مودی اس قدر زچ ہوئے کہ اُنھوں نے اگلے ہی ماہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے سے بھی گریز کیا۔ ہماری معلومات کے مطابق جنرل فیض اور اجیت دووال کی عرب ملک میں پکائی گئی کھچڑی جب عمران خان کے سامنے رکھی گئی تو ان کا بے ساختہ سوال تھا کہ ’’اس میں کشمیر کہاں ہے؟‘‘ جواب ملا کہ ’’کشمیر تو بیس سال کے لیے ڈیپ فریزر میں رکھ دیا گیا ہے‘‘۔ اس پر عمران خان نے اس ڈیل کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔
ملک کے تین صحافیوں کے بعد اب نئی دہلی میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر اور پاکستانی دفتر خارجہ کے سینئر ترین ڈپلومیٹ عبدالباسط صاحب نے ایک وی لاگ میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس عمل کی مشاورت میں شریک تھے اور بہت سے واقعات کے چشم دید گواہ ہیں۔ انھوں نے اپنے وی لاگ کے آخر میں تسلیم کیا کہ ’’عمران خان نے کشمیر کے بغیر اس ڈیل کو ماننے سے انکار کیا‘‘، اور ساتھ انھوں نے اس حرف ِانکار کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک اچھا فیصلہ تھا‘۔
عبدالباسط صاحب کا کہنا تھا کہ اس ڈیل میں مسئلہ کشمیر کو ۲۰ برس فریز کرنے کی بات نہیں ہورہی تھی بلکہ یہ ڈیل بھی جنرل پرویزمشرف کے چار نکاتی فارمولے کے گرد گھوم رہی تھی۔ اس فارمولے میں دوطرفہ مفاہمت اور اقدامات کا بیس سال بعد جائزہ لینے کا ذکر تھا اور اسی ماحول کے زیراثر بزنس ٹائیکون میاں منشا اور سابق وزیر تجارت دائود ابراہیم نے بھارت سے تجارت کی مکمل بحالی کی وکالت شروع کی تھی۔ اس ڈیل سے عمران خان کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ بھارت نے کشمیر پر کسی پیش رفت کی ہامی نہیں بھری اور عمران خان نے کہا کہ یہ ڈیل ہوجائے اور بھارت آگے نہ بڑھے تو اس طرح ہمارا مؤقف ہی ختم ہوجائے گا۔ وہ اس ڈیل کو ’کشمیر کی مرکزیت‘ میں رکھنا چاہتے تھے، مگر بھارت کشمیر پر کچھ بھی لچک پیدا کرنے کو تیار نہ تھا۔
اس گواہی میں ایک المیہ پوشیدہ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب بھارت ۵؍ اگست کو کشمیر کی خصوصی شناخت کو بے رحمی سے ختم کرچکا تھا اور ۸۰ ہزار افراد کو جانوروں کی طرح لاک ڈائون کے ذریعے گھروں میں قیدی بناکر رکھا گیا تھا۔ ان سے جدید ذرائع ابلاغ سمیت ہر سہولت چھین لی گئی تھی اور ان کی مساجد اور درگاہوں پر تالے چڑھا دیے گئے تھے۔ سید علی گیلانی جیسے مقبول قائد کے جنازے کو رات کی تاریکی میں گھر سے اُٹھایا جارہا تھا اور خواتین سے چھین کر کسمپرسی کے عالم میں پیوندِ خاک کیا جارہاتھا۔ اشرف صحرائی جیسے دلیر لیڈروں کو سلو پوائزننگ کے ذریعے جیل میں موت کی جانب دھکیلا جارہا تھا اور ان کے اہلِ خانہ کو اپنے مرحومین کے سرہانے پر آخری لمحوں میں کلمہ پڑھنے کے حق سے محروم رکھا جارہا تھا۔ یاسین ملک کی بہنیں دہلی اور سری نگر کے درمیان بے بسی اور کرب کے عالم میں ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھیں، کیونکہ ان کا بھائی پھانسی کے پھندے کی طرف قدم بہ قدم بڑھ رہا تھا اور اس کی صحت خراب سے خراب تر ہورہی تھی، اس کے باوجود ان بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں مل رہی تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب نوجوانوں کو قتل کرکے آبائی قبرستانوں کے بجائے سیکڑوں کلومیٹر دُور ویرانوں اور جنگلوں میں مٹی میں دبایا جاتا تھا، اور یہ اہلِ خانہ کو مستقل طور پر ایک نفسیاتی عذاب میں مبتلا کرنے اور ذہنی ٹارچر کی ایک شکل تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب بھارت کشمیرکی شناخت اور تشخص بدلنے کے لیے نازی جرمنی طرز کے قوانین متعارف کرا رہا تھا۔ کشمیر کی تقدیر دہلی میں امیت شا اور اجیت دووال کے دفتروں میں لکھی جارہی تھی۔ خطرے کی سطح اس قدر بلند تھی کہ خود بھارت نواز سیاست دان بھی پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن کے پلیٹ فارم سے بھارت کے اقدامات کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے تھے اور انھی لمحوں میں سابق وزیراعلیٰ کشمیر محبوبہ مفتی کا یہ جملہ مشہور ہوا تھا کہ ’’ہم سوچ رہے ہیں کہ ہمارے بزرگوں نے قائداعظم کا ساتھ نہ دے کر غلطی کی تھی‘‘۔ ایسی ’کشمیر ڈیل‘کے اندر مستقل خرابی یہی ہے کہ اس میں کشمیر کہیں نہیں ہوتا۔
یوں لگ رہا ہے کہ اب کی بار بھارت کا یہ فیصلہ یک طرفہ نہیں تھا۔ اس کھیل کا آغاز عمران خان اور جنرل باجوہ کے بیک وقت امریکا کے دورے سے ہوا تھا۔ عمران خان بڑے جلسوں سے خطاب کرتے اور ٹرمپ کے ساتھ گپ شپ کرتے رہے، جب کہ عین انھی لمحوں میں جنرل باجوہ ’سینٹ کام‘ میں امریکی فوج کے شاہانہ اور پُرتپاک استقبال اور سلامی کا لطف لیتے رہے۔ وائٹ ہاؤس میں محض گپ شپ جاری رہی،جب کہ ’سینٹ کام‘ میں اصل فیصلے ہوگئے تھے۔ اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’’نریندر مودی نے مجھ سے کشمیر پر کردار ادا کرنے کو کہا تھا‘‘۔ یہ حقیقت میں امریکا کو ۵؍ اگست کے فیصلے پر اعتماد میں لینے اور پاکستان کے ممکنہ ردعمل کو کنٹرول کرنے کی درخواست تھی۔ اس کھیل میں بعض عرب ممالک اور سرمایہ دار شریک تھے، جنھیں بھارت نے یہ جھانسہ دیا کہ مقبوضہ کشمیر کے مقامی قوانین اور تشخص کی موجودگی میں بھارت بے بس ہے، وہ نہ تو عرب سرمایہ داروں کی کشمیر میں کوئی مدد کرسکتا ہے نہ اپنے طور پر انھیں وہاں رسائی دے سکتا ہے۔ اس کے لیے کشمیر کا تشخص ختم کرنا ہوگا، تاکہ قانونی پوزیشن بدل جانے کے بعد بھارت اپنے بل بوتے پر عرب سرمایہ داروں کو کشمیر تک رسائی دے سکے۔ مغربی ملکوں کو بھی یہی جھانسہ دیا گیا، اور یوں خاموش بین الاقوامی حمایت حاصل ہونے کے بعد بھارت نے یہ فیصلہ لیا تھا۔
۵؍ اگست کے فیصلے کے خلاف آزادکشمیر سے کسی صدائے احتجاج کو بلند ہونے سے روکنے کے لیے اُس وقت کے وزیراعظم آزادکشمیر راجا فاروق حیدر کو منظر سے غائب کرکے امریکا پہنچا دیا گیا۔ ان بیس سال میں بھارت کو کشمیر کی آبادی کا تناسب اور تشخص تبدیل کرنے کی مہم میں کامیابی حاصل کرنا تھی، مگر پاکستان اس عمل پر زبانی کلامی رسمی احتجاج کے حق سے بھی دست بردار ہورہا تھا۔ یہ پسپائی کی بدترین شکل تھی جس میں کنٹرول لائن کو مستقل سرحد تسلیم کرنا بنیادی تصور ہے۔ شملہ معاہدے کے بعد بھارت نے کنٹرول لائن کو مستقل سرحد تسلیم کرانے کے لیے پلان بنا رکھا ہے۔کچھ بھارتی حلقوں کا دعویٰ رہا ہے کہ شملہ میں غیر تحریری طور پر ذوالفقارعلی بھٹو یہ یقین دہانی کرا چکے تھے کہ کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنایا جائے گا۔
۱۹۹۰ء کے عشرے میں پہلی بار ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے نتیجے میں میاں نوازشریف نے بھارت کے ساتھ معاہدہ کرنے کا بڑا فیصلہ کیا۔ اس مفاہمت میں کشمیر میں ’اسٹیٹس کو‘ برقرار رکھتے ہوئے دونوں ملکوں کے تعلقات کو بحال کیا جانا مقصود تھا۔ کنٹرول لائن کو نرم کرکے مستقل قرار دینا بھی اس منصوبے کا حصہ تھا۔ اسی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے واجپائی لاہور آئے، مگر پاکستان کی ہیئتِ مقتدرہ نے اس کوشش کو کشمیر فروشی قرار دے کر تسلیم کرنے سے انکار کردیا، جس کے بعد کرگل کی جنگ ہوئی اور سارا منظر بدل گیا۔ جنرل پرویزمشرف نے نوازشریف حکومت کو برطرف کرکے عنان ِ حکومت سنبھالی اور وہ بھارت کے ساتھ پُراعتماد ہوکر مذاکرات کرتے رہے اور کشمیر کے مسئلے کو اولیت دینے کی بات پر کاربند رہے۔ ان کی کشمیر دوستی کا یہ دور آگرہ مذاکرات تک چلتا رہا، جہاں انھوں نے پاک بھارت مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کا ذکر نہ کرنے پر اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کیا اور واک آؤٹ کے انداز میں آگر ہ سے وطن واپس چلے آئے۔ مگر اگلے ہی برس وہ دوبارہ بھارت گئے، دہلی میں انھوں نے اپنے آبائی گھر نہروالی حویلی کا دورہ کیا اور یہاں انھوں نے آگرہ والے پرویزمشرف کو خداحافظ کہہ کر دہلی والا پرویزمشرف بننے کا فیصلہ کیا۔ وہ کشمیر کو نظرانداز کرکے یا کنٹرول لائن کو نرم کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ معاہدے کی راہ پر چل پڑے۔ یہ قریب قریب وہی تصور تھا جس کی آبیاری نوازشریف نے کی تھی، مگر وہ اس کوشش پر جنرل پرویزمشرف کے معتوب ٹھیرے تھے۔ اب جنرل پرویزمشرف یہی کام خود کررہے تھے، مگر وکلا تحریک نے عین اُس وقت جنرل پرویز کے اقتدار کی چولیں ہلا کر رکھ دیں جب بقول خورشید محمود قصوری ’’ہم کشمیر پر معاہدے سے تین ماہ کی دُوری پر تھے‘‘۔
اب یوں لگتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے نوازشریف اور جنرل پرویزمشرف کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا تھا، مگر تاریخ میں پہلی بار ایک سویلین حکمران عمران خان نے اس رنگ میں بھنگ ڈال دی اور کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنانے کی یہ کوشش بھی بہت قریب پہنچ کر کامیابی سے ہم کنار نہ ہوسکی۔
نومبر ۱۸۹۳ء میں ہندستان پر قابض بر طانوی استعمار کے نمایندے وزیر امور خارجہ مارٹیمر ڈیورنڈ اور امیر افغانستان عبدا لرحمٰن خان کے درمیان تین ماہ سے جاری خفیہ مذاکرات کے بعد دونوں حکومتوں کے درمیان ایک مستقل معاہدہ ہوا۔ جس میں ہندستان اور افغانستان کے مابین شمال مغربی سرحد کا تعین ہوا۔۲ہزار ۶سو۴۰کلومیٹر طویل اس سرحد کو خط ڈیورنڈ (Durand Line) کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق: واخان کافرستان کا کچھ حصہ نورستان، اسمار، موہمند لال پورہ اور وزیرستان کا کچھ علاقہ افغانستان کا حصہ قرار پایا۔ افغانستان: استانیہ ،چمن، نوچغائی، بقیہ وزیرستان، بلند خیل، کرم، باجوڑ، سوات، دیر، چلاس اور چترال پر اپنے دعوے سے معاہدے کے مطابق دستبردار ہوگیا۔
۱۴؍ اگست ۱۹۴۷ءکو جب پاکستان بر طانیہ سے آزاد ہوا تو دیگر تمام معاہدوں کے ساتھ یہ معاہدہ بھی بر قرار رہا، لیکن بعد میں افغان حاکم ظاہر شاہ کے دور میں کابل کی حکومت نے خط ڈیورنڈ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، اور دعویٰ کیا کہ دریائے اٹک تک کا علاقہ، افغانستان کا حصہ ہے۔
اسی بنیاد پرحکومت افغانستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی تھی اور بعد میں ان علاقوں کو پختون آبادی کی بنیاد پر ’پختونستان‘ قرار دے کر اس کی آزادی کا مطالبہ کرتے رہے اور پاکستان میں مقیم قوم پرست حلقے بھی ان کے ہمنوا رہے۔ اس کے بعد کمیونسٹ حکمرانوں اور دیگر اَدوار میں بھی یہ معاہدہ برقرار رہا، لیکن افغانستان کی جانب سے حل طلب ہے، جب کہ پاکستان اور تمام بین الاقوامی اداروں نے اس کو پاک افغان سرحد کے طور پر قبول کیا ہے۔
یہ پس منظر بیان کرنا اس لیے ضروری ہے کہ جب بھی پاک افغان سرحد پر تناؤ کی کیفیت پیدا ہو تی ہے، تو افغانوں کے اس ذہنی پس منظر کو مدنظر رکھنا ہو گا۔جب ۲۰۲۱ء میں امارت اسلامی افغانستان بحال ہو ئی، تو بجا طور پر پاکستانی عوام نے ان سے کئی توقعات وابستہ کیں۔ اس سے پہلے کے دور حکومت میں (۱۹۹۶ء-۲۰۰۱ء) طالبان اور پاکستان کے مابین نسبتاً خوش گوار تعلقات کار تھے۔ پاکستان نے ان کی حکومت کو رسمی طور پر تسلیم بھی کیا تھا،لیکن سرحد کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی تھی۔آج، اس وقت بھی افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت قائم ہے،لیکن اس کو پاکستان سمیت کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس لیے ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے طور پر اس متنازعہ فیہ مسئلے کو حل کریں گے، ممکن نہیں ۔ابھی باڑ (Fence) لگانے کے مسئلے پر چمن بارڈر پر جو افسوس ناک واقعات پیش آئے ہیں، وہ اسی مسئلے کا شاخسانہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان جو تاریخی گزرگاہیں ہیں ان پر شہریوں کی آمدورفت کے حوالے سے کئی مسائل ہیں، جس کی بارہا نشاندہی کی جاچکی ہے، لیکن پاکستانی حکومت نے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کی ہیں۔ بین الاقوامی سرحد پر آمد ورفت کے لیے جو معیاری سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، وہ بھی پو ری نہیں کی ہیں۔ رشوت دے کر پار کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے عملے کے درمیان تلخی بھی تنازعات کا باعث بنتی ہے۔
لیکن پاکستان کے عوام کے لیے زیادہ اہم اور سنگین مسئلہ ملک میں ’تحریک طالبان پاکستان‘ (TTP) کی روز افزوں دہشت گردی ہے،ان کا خاص ہدف پولیس کے اہل کار ہیں، ان کی چیک پوسٹوں پر متعین سپاہیوں کو نشانہ بنا یا جارہا ہے، جب کہ پاکستان کی مسلح افواج کی گاڑیوں کو بھی ریموٹ کنٹرول بموں سے اڑایا گیا ہے۔ صرف ۲۰۲۲ء میں تخریب کاری کے ۳۲۶ واقعات ہوچکے ہیں، جن میں ۳۵۲ ؍افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں ۶۴ پولیس اہلکار، ۵۰فوج کے جوان اور ۲۲۴عام شہری شامل ہیں۔ ٹی ٹی پی نے ۲۰۲۰ء میں جس سیز فائر کا اعلان کیا تھا، اس کو ختم کر نے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے اور مذاکرات کا عمل بھی ختم ہو چکا ہے۔ بدقسمتی سے ان تخریبی سرگرمیوں کا مرکز صوبہ خیر پختونخوا بن چکا ہے۔ خاص طور پر قبائلی اور جنوبی اضلاع میں کارروائیاں عروج پر ہیں۔گذشتہ ہفتے لکی مروت اور بنوں میں بڑے واقعات ہو چکے ہیں، جن میں پولیس اور ’ان کا ؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ‘ (CTD) کی چوکیوں اور مراکز کو نشانہ بنا یا اور بنوں میں مرکز تفتیش میں بڑی تعداد میں عسکری و دیگر اداروں کے اہلکاروں کو یرغمال بنا یا گیا۔ لیکن کمانڈو ایکشن کے ذریعے یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔
بدقسمتی کی بات ہے کہ ان واقعات کی روک تھام کا فی الحال کو ئی امکان نظر نہیں آتا۔ دوسری طرف مذاکرات کا کوئی سرا بھی حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہے۔افغان طالبان کی ایما پر حکومت پاکستان اور طالبان تحریک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔یہ مذاکرات دراصل پاکستانی فوج اورٹی ٹی پی کے مابین ہو رہے تھے، جن میں قبائلی عمائدین اور بعض علمائے کرام کو واسطہ بنایا گیا تھا۔ لیکن پاکستانی طالبان کے مطالبوں کو تسلیم کرنا ریاست پاکستان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ ملکی سیاست میں جو دنگل اس وقت چل رہا ہے، اس میں سیاسی قیادت اس قابل بھی نہیں ہے کہ وہ افغان اُمور پر سنجیدگی سے غور وفکر کر کے اہم فیصلے کر سکے۔
اس دوران افغانستان میں امارت اسلامی نے ایک چونکا دینے والا فیصلہ کر کے پوری دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر امارت اسلامی افغانستان کو سفارتی طور پر تسلیم نہ کرنے کے غیرمنصفانہ رویے پر افغان قیادت کا رد عمل ایک عجیب و غریب اقدام کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ امارت اسلامی کی وزارت اعلیٰ تعلیم کے عبوری وزیر مُلّا ندا احمد ندیم نے امیر مُلّا ہیبت اللہ کی ہدایت پر افغانستان میں بچیوں کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کا حکم نامہ جاری کردیا۔ اس سے پہلے ساتویں درجے سے لے کر ۱۲ویں کلا س تک پابندی عائد کی گئی تھی، جس پر اکثر ولایتوں میں عمل درآمد جاری تھا۔ اب تمام سرکاری اور نجی یونی ورسٹیوں اور پیشہ ورانہ کالجوں کی گریجویٹ کلاسوں کی طالبات پر بھی تعلیم کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں ۔اس اقدام کی مذمت میں یورپی اور مغربی ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی حکومتوں نے بیا نات جاری کیے ہیں۔ ہم نے ترجمان (ستمبر ۲۰۲۲ء) میں اس موضوع پر اسی خدشے کا اظہار کیا تھا اور بعض مغربی ممالک کے سفارت کاروں سے ملاقاتوں میں ،ان پر زور دیا تھا کہ وہ افغانستان کو تنہا کرنے کی کوشش ترک کرکے ان کو بین الاقوامی برادری کا حصہ بنا ئیں، تاکہ وہاں کے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں میسر آئیں ۔ اب بھی وقت ہے کہ پاکستان سمیت مسلم اور پڑوسی ممالک افغانستان کو تسلیم کر کے افغان عوام کو ریلیف پہنچائیں اور غیرصحت مند اقدامات کو مکالمے کے ذریعے درست سمت دے سکیں۔
آپ نے آج تک گھروں، دکانوں یا بنکوں میں ڈاکا پڑنے کا حال تو سنا ہوگا، مگر پورے کا پورا ملک ڈاکے میں اڑا لے جانے کی مثال اس سے پہلے کم ہی دیکھی سنی گئی ہوگی۔ لیکن بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کی سربراہ حسینہ واجد نے ۱۷کروڑ آبادی پر مشتمل پورا ملک لوٹ کر انفرادیت قائم کی ہے۔ پھر یہ کام صرف ایک دفعہ نہیں بلکہ دو، دو بار کیا: پہلے ۲۰۱۴ء اور پھر ۲۰۱۸ء میں۔
۱۰ دسمبر ۲۰۲۲ کو بنگلہ دیش میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) نے ڈھاکہ میں لاکھوں لوگوں کے جلسے کے دوران اپنے نئے لائحہ عمل کا اعلان کیا ہے۔ اس نئی تحریک کا ایک نکاتی ایجنڈا ’فاشسٹ حسینہ واجد کی ظالمانہ حکومت کا خاتمہ‘ ہے، جو ۲۰۰۸ء سے شروع ہونے والے اپنے ۱۵سالہ دورِ ظلم میں ملک کی معیشت، سیاست، تعلیم، عدلیہ، فوج اور پولیس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکی ہے۔
ملک کے سول اور عسکری اداروں کو حسینہ واجد کی پالیسیوں نے تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ قومی اداروں کی کچھ ایسی درگت بنا دی ہے کہ یہ اب صرف اس کے ظالمانہ اور بدعنوان احکامات کی پیروی میں چلنے والے روبوٹ ہیں۔ اخباروں میں شائع ہورہا ہے کہ ملکی خزانے سے ۷ ارب ڈالر غائب ہو چکے ہیں۔ سرکاری و نجی بنکوں سے اربوں ٹکے [روپے] لوٹے جا چکے ہیں۔ ساڑھے سات ہزار کروڑ ٹکہ تو صرف ملک کے سب سے بڑے بنک ’اسلامی بنک بنگلہ دیش لمیٹڈ‘ (IBBL) سے لوٹ لیا گیا ہے۔ یہ سب کارستانی حسینہ واجد کے قریبی ساتھیوں نے جعلی کاغذات، جعلی کمپنیوں اور جعلی پتوں کے ساتھ انجام دی ہے۔ تاحال سرکار کی طرف سے ان الزامات پر نہ کسی تحقیق کی خبر ہے اور نہ کسی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
حسینہ واجد حکومت کے منصوبے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ لوگوں کے ووٹ پر ڈاکازنی کے لیے سب سے پہلے اس نے اپنی ماتحت عدلیہ کے ہاتھوں، انتخابی عمل مکمل کرانے کے لیے نگران حکومتوں کا نظام ختم کردیا۔ یاد رہے، جنرل حسین محمد ارشاد کے آمرانہ دور کے اختتام پر ۱۹۹۱ء میں تمام جماعتوں نے باہمی اتفاق سے پروفیسر غلام اعظم کے پیش کردہ تصور کے مطابق انتخاب کرانے کے لیے نگران حکومتوں کا نظام لاگو کیا تھا۔ اُس وقت حسینہ واجد کی جماعت بنگلہ دیش عوامی لیگ بھی اس اتفاق رائے میں شامل تھی، لیکن بعد میں عوامی لیگ نے انتخابات پر شب خون مارنے کے لیے اس معاہدے سے رُوگردانی کا رویہ اختیار کر لیا۔
حزبِ اختلاف کے حلقوں میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا تھا کہ جب تک یہ ٹولہ اقتدار کی کرسی پر موجود ہے، ریاستی ادارے اس کے اقتدار کو طول دینے کے لیے انتخابات میں دخل اندازی کرتے رہیں گے۔ اسی لیے حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے حسینہ واجد کے کروائے گئے ۲۰۱۴ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور انتخاب کے دن یہ ثابت بھی ہو گیا کہ ان کے خدشات مبنی بر حقیقت تھے۔ آدھے سے زیادہ انتخابی حلقوں میں ووٹ ڈالنے کے لیے کوئی جگہ ہی مقرر نہیں کی گئی تھی، چنانچہ تمام نشستوں پر شیخ حسینہ اور اس کے ساتھیوں کو شان دار ’کامیابی‘ حاصل ہوئی۔ انتخابات تو عوام کو با اختیار بنانے کے لیے منعقد ہوتے ہیں، لیکن بنگلہ دیش میں یہ سارا عمل اقتدار پر قابض ٹولے کی چوری چھپانے کے لیے دُہرایا گیا ہے۔
یہ بات سخت مایوس کن رہی کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے ۲۰۱۴ میں شیخ حسینہ کی انتخابی دھونس و دھاندلی کو برداشت کر لیا۔ جب ملک پر سماج دشمن قوتوں کا قبضہ ہو تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا جرم ہے۔ ۲۰۱۴ میں اس کامیاب ڈاکازنی کےبعد حسینہ حکومت مزید بے باک ہو گئی اور اسے عوام کے خلاف اپنے جرائم کو جاری رکھنے کے لیے پارلیمنٹ پر کنٹرول حاصل ہوگیا۔ چنانچہ اس نے غیر عدالتی قتل، جبری گمشدگیوں،حزب اختلاف کے رہنماؤں کی پھانسیوں اور اسلام دوست قوتوں کی نسل کشی کا منصوبہ پوری قوت سے جاری رکھا۔ سیکڑوں علما ہنوز جیلوں میں بند اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔
یہ بات بھی بڑی عجیب ہے کہ چار سال تک ایک غیر قانونی پارلیمان کا حصہ رہنے کے بعد حال ہی میں بی این پی کے سات ارکان نے اپنی رکنیت سے استعفا دے دیا ہے۔ ان استعفوں کا اعلان ۱۰ دسمبر ۲۰۲۲ کو کیا گیا ہے۔ ان اراکین کو اگر جمہوری اقدار سے محبت یا عوامی ووٹوں کی چوری سے نفرت ہوتی تو یہ اس چوری شدہ الیکشن سے اگلے ہی دن مستعفی ہو جاتے۔ لیکن بی این پی اور دیگر جماعتیں اس سیاسی ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام رہیں۔
یہ ایک مایوس کن حقیقت ہے کہ بی این پی کو شیخ حسینہ کے خلاف یک نکاتی مہم کا فیصلہ کرنے میں ۱۵ سال لگ گئے۔ دنیا کے کسی مہذب ملک میں ایک گھنٹے کے لیے بھی کسی بدعنوان حاکم کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ لیکن بنگلہ دیش میں حالات اس کےبرعکس ہیں اور یہ بنگالی عوام اور ریاست کے لیے انتہائی شرمندگی کا مقام ہے۔
اگر بی این پی کے رہنماؤں کو لگتا ہے کہ وہ اکیلے حسینہ واجد سے نپٹ سکتے ہیں تو شاید انھیں ملک میں کارفرما تمام تر غیر جمہوری قوتوں اور ان کی صلاحیتوں کا ادراک نہیں ہے۔ انھیں سمجھنا چاہیے کہ شیطانی قوتیں ملک کی جڑوں تک اپنا رسوخ رکھتی ہیں اور متحد ہو کر کام کرتی ہیں۔ چنانچہ یہ فرض کرلینا غلط ہو گا کہ یہ حواری اتنی آسانی سے قابض حکومت کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ یہ لوگ سیاست، پولیس، فوج، عدلیہ اور انتظامیہ میں اہم عہدوں پر مکمل رسوخ رکھتے ہیں۔ بی این پی اتنے بڑے اتحاد کے خلاف تن تنہا کیونکر کامیاب ہو سکتی ہے؟
بی این پی کے رہنما جانتے ہیں کہ شیخ حسینہ کو ہٹائے جانے کا سب سے زیادہ فائدہ انھیں ہوگا۔ اس لیے انھیں اس تحریک کے دوران صف اول میں رہنا ہو گا اور قربانیاں بھی دینا ہوں گی۔ بی این پی کو اس حقیقت کا بھی ادراک کرنا ہو گا کہ شیخ حسینہ ،سابق صدر جنرل ارشاد جیسی نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ اپنے آخری دنوں میں جنرل ارشاد اپنی سب سے بڑی طاقت یعنی فوج کی حمایت بھی کھو چکا تھا۔ اس کے برعکس حسینہ کو ہنوز فوج کی حمایت حاصل ہے، جس کے پیچھے ایک مخصوص وجہ یہ ہے کہ عوامی خزانے کی لوٹ مار میں سب سے بڑا حصہ فوج کو ملتا ہے۔ بنگلہ دیشی فوجی قیادت کو یہ سہولت توجنرل ارشاد کے زمانے میں بھی حاصل نہیں تھی۔ مزیدبرآں جنرل ارشاد کو بھارت کی اس درجے میں پشت پناہی بھی حاصل نہیں تھی۔ ہندستان کی ’ہندوتوا پرچارک‘ حکومت کبھی نہیں چاہے گی کہ بنگلہ دیش میں ان کے مہرے کو شکست ہو۔ اس کے علاوہ عوامی لیگ کی نئی دہلی حکومت سے نظریاتی ہم آہنگی بھی موجود ہے۔ عوامی لیگ کے فسطائی رہنما ’ہندوتوا‘ کے فسطائی رہنماؤں کی جانب نظریاتی جھکاؤ رکھتے ہیں۔ اسی لیے یہ بات ریکارڈ سے ثابت ہے کہ عوامی لیگ کے فسطائیوں نے بابری مسجد کی شہادت یا ہندستان میں مسلمانوں کے قتل عام کی کبھی مذمت نہیں کی۔
بنگلہ دیش کی دینی قوتوں کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ چونکہ حسینہ واجد نے خود کو ’ہندوتوا‘ کا دوست ثابت کیا ہے، اس لیے اُمت مسلمہ سے بے وفائی کرکے مشرک قوتوں کی ہم نوائی کرنے والی مقتدر انتظامیہ کےخلاف سیاسی میدان میں تحریر، تقریر، اجتماع اور سوشل میڈیا پر کی جانے والی جدوجہد عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس لیے ان میں سے اگر کوئی انتخابی عمل میں حصہ لیتا ہے یا حصہ نہیں لیتا، مگر اسے کم از کم عوامی جدوجہد میں اپنا مؤثر کردار ضرور ادا کرنا چاہیے۔
دسمبر ۲۰۱۸ء میں یہی دن تھے جب خرطوم کی سڑکوں پر عوامی احتجاج کاشعلہ بھڑکا۔ وہ احتجاج روٹی کی قیمت تین گنا ہونے پرشروع ہوا تھا اور پھر مظاہروں کا نہ تھمنے والا سلسلہ چل نکلا۔ مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر کے سامنے دھرنا دیا گیا اور تین عشروں سے جما ہوا عمرحسن البشیر کے مقتدر نظام کا دھڑن تختہ ہوگیا۔
عبوری حکومتی نظام، فوجی قیادت اور فوج کے مقرر کردہ سول نمایندوں پر مشتمل تھا، جس میں زیادہ تر کمیونسٹ اور نیشنلسٹ خیالات کے حامی شامل تھے۔ یہ عبوری حکومت ’عدل و انصاف کے قیام، حُریت و آزادی اور عام آدمی کی خوش حالی‘ کے نعروں کے ساتھ برسرِاقتدار آئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ تین برس گزرنے کے بعد یہ سارے مقاصد، اہداف اور نعرے حاصل ہوسکے؟ اس جائزے سے پہلے ضروری ہے کہ صدر عمرحسن البشیر کے۳۰سالہ دورِاقتدار کا مختصر طور پر جائزہ لیا جائے۔
یہ ۱۹۸۹ء تھا جب عمرالبشیر فوجی انقلاب لے کر آئے۔ اس وقت سوڈان کی کمزور ترین حکومت کی باگ ڈور وزیراعظم صادق المہدی کے پاس تھی اورجنوب میں ’پیپلز موومنٹ‘ متعصب علیحدگی پسند عیسائی رہنما جون قرنق کی زیرقیادت دردِ سربنی ہوئی تھی۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ سوڈان کا سارا جنوب جون قرنق کےقبضے میں چلا جائے گا۔ ان حالات میں کچھ فوجی افسروں نے جنرل عمر حسن البشیر کی زیرقیادت المہدی حکومت کا تختہ پلٹا اور ملک میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
اقتدار کے ابتدائی کچھ برسوں میں انقلاب کی نظریاتی جہت کا تعین ڈاکٹر حسن الترابی [یکم فروری ۱۹۳۲ء- ۵مارچ ۲۰۱۶ء] اور ان کے رفقا پس منظر میں رہتے ہوئے کررہے تھے، جب کہ حکومتی اسٹیج پر نمایاں فوجی چہرے نمایشی حیثیت رکھتے تھے۔ رفتہ رفتہ بیرونی طاقتوں کی مدد و اعانت کی حامل اپوزیشن کی طرف سے فوجی حکومت کی مخالفت میں شدت آتی گئی، اور اپوزیشن کے کچھ گروہوں نے مسلح مزاحمت شروع کی، نیز ملک کے فیصلہ ساز مراکز میں دوئی کی بناپر فیصلہ سازی میں تضادات نمایاں ہونے لگے، تو مناسب یہی سمجھاگیا کہ ڈاکٹر حسن الترابی اورحکومت کے اعلیٰ عہدے داران ’حزب الموتمر الوطنی‘ کے پلیٹ فارم سے سامنے آکر اپنی سرکاری حیثیت میں شرکت اقتدار اور فیصلہ سازی کےعمل میں باقاعدہ شامل ہوجائیں۔تاہم، اسپیکر اسمبلی ہوتے ہوئے واضح ہوا کہ حسن الترابی وقت کی رفتار اور اپنی تبدیل شدہ حیثیت کو ٹھیک سے سمجھ نہیں پائے اور اپنی نئی حیثیت کو چیلنج کرنے والے عہدے داران سے اُلجھتے رہے۔
اس دورکے مقتدر نظامِ حکومت میں چونکہ حسن الترابی اور ان کے رفقائے کار فیصلہ کُن اثرورسوخ کے حامل تھے، لہٰذا حکومتی اقدامات خواہ قانون سازی کے ہوں یا انتظام و انصرام کے، ان میں اسلامی رنگ نمایاں نظر آتا تھا۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نمایاں اسلامی رنگ کی ایک وجہ جنوب کی طرف سے بڑھتا ہوا دبائو بھی تھا۔ فیصلہ سازوں کے خیال میں متعصب علیحدگی پسند عیسائی رہنما جون قرنق، جو سیکولر اپوزیشن گروپوں کے اتحادی بھی تھے، ان کا مقابلہ جوابی اسلامی احیائی لہر اور اسلامی شعور اور اسلامی جوش و جذبے کی بیداری ہی سے ممکن تھا۔ یہی وہ عرصہ تھا، جس میں سوڈانی مقتدرہ نے جہاد کی دعوت کو نوجوانوں میں عام ہونے دیا اور اس طرح بہت سے ایسے مسلح گروہ سامنے آئے جو جنوب کے عیسائیوں کے ساتھ معرکہ آرائی میں اپنی افواج کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار تھے۔
اسی عرصۂ اقتدار میں سوڈانی قوانین اور معاشرے کی اسلامائزیشن کا عمل شروع کیا گیا۔ اس سلسلے میں جو نمایاں کارنامہ سرانجام پایا وہ سوڈان کے دستور کی اسلامی تدوین تھی۔ دستور کا یہ اسلامی رنگ ۱۹۹۸ء کے دستور میں نمایاں نظر آتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’شریعت اسلامیہ، اجماع اُمت ’دستورا اور عرفا‘ قانون سازی کا مصدر و منبع ہوں گے اور ان سے ہٹ کر ہرگز کوئی قانون سازی نہیں کی جائے گی‘‘۔ اسلامائزیشن کا یہ عمل تقریباً انھی خطوط پر تھا، جو صدرجنرل ضیاء الحق کے دور میں ہمارے ہاں انجام پاچکا تھا۔
تاہم، اسلامائزیشن کے اس عمل کی وجہ سے یہ عشرہ، پڑوسی ملکوں اور علاقائی و بین الاقوامی طاقتوں کی طرف سے سوڈان کے محاصرے پر منتج ہوا۔ ان سب ملکوں کی طرف سے دشمنی پر مبنی اس رویے کا مقصود دراصل اسلامائزیشن کے عمل کو روکنا تھا۔ یہ عشرہ ۱۹۹۳ء میں سوڈانیوں کے لیے امریکا کی طرف سے ابتلا اور آزمایش کا یہ پیغام بھی لے کرآیا کہ سوڈان کا نام دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرلیا گیا۔ اب اگلے تین عشرے، سوڈانی عوام کو اس اعلان کی المناکیوں کو بھگتنا تھا۔ ملک کی درآمدات اور برآمدات تباہ ہوکر رہ گئیں۔ دُنیا کے بنکاری نظام سے سوڈان کا ناتا توڑ دیا گیا، جس کے سوڈان کی معیشت پر انتہائی خوفناک اثرات مرتب ہوئے۔ دوسری طرف خطے کی سیاسی صورتِ حال اس وقت یہ تھی کہ سوڈان کے پڑوسی ممالک ایتھوپیا، اری ٹیریا اور یوگنڈا کی مدد سے اپوزیشن اتحاد مسلح مداخلت پر تلا بیٹھا تھا۔ دوسری طرف مصر جسے سوڈان ہمیشہ اپنے مضبوط دفاعی حلیف اور پشتی بان کے طور پردیکھتا رہا، اس نے مکمل لاتعلقی کا رویہ اپنا لیا۔
عمر حسن البشیر کی حکومت نے گمبھیر ہوتی ہوئی اس صورتِ حال کا تدارک یہ نکالا کہ اقتدار کے دوسرے عشرے میں علانیہ اسلامائزیشن کا عمل تقریباً روک دیا۔ ڈاکٹر حسن الترابی اور ان کے رفقا کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا۔ ۱۹۹۸ء کے دستور میں ۲۰۰۵ء کے اندر ترمیم کردی گئی۔ اگرچہ دستور میں حسب سابق یہ الفاظ تو برقرار رکھے گئے تھے کہ شریعت اسلامیہ قانون سازی کا منبع و مصدر ہوگی، تاہم بہت ساری دفعات میں شریعت کے احکامات کو پہلے کی طرح برقرار نہیں رکھا گیا۔
مغرب کو خوش کرنے کے لیے کی جانے والی اس ساری کاوش کا حاصل تو کچھ نہیں نکلا بلکہ ’ڈومور‘ کے تقاضے کے ساتھ ان طاقتوں نے سوڈانی مقتدرہ کو مزید اَدھ موا کرنے اور اس کی قوت کو مضمحل اور شل کرنے کے لیے دارفور کے صوبہ میں علیحدگی پسند قوتوں کی نہ صرف سرپرستی اور مدد کی، بلکہ نسل کشی کے الزام میں صدر عمر حسن البشیرکے لیے انٹرنیشنل وار کرائمز ٹربیونل کی طرف سے وارنٹ گرفتاری جاری کروا دیئے۔ عالمی طاقتوں سے موافقت اور ان کی ڈکٹیشن قبول کرنے کا یہ عشرہ آخرکار جنوبی سوڈان سے مکمل دست برداری اور بالفعل ایک عیسائی مملکت کے قیام پر منتج ہوا۔
یوں عمرالبشیر حکومت نہ تو ملکی سالمیت برقرار رکھ سکی، اور نہ مقتدر حلقوں کی روزافزوں بدعنوانی کو روک سکی۔ سوڈانی مقتدرہ چند گنے چنے افراد کے گرد گھوم رہی تھی اور ملک فساد اور رشوت ستانی کا گڑھ بنتا جارہا تھا۔ اس پر طرفہ یہ کہ مقتدرہ کی ساری کارستانیاں، اسلامائزیشن کے علَم بردار اسلام پسندوں کے کھاتے میں درج ہوتی جارہی تھیں۔ سسٹم میں فیصلہ کن اختیار رکھنے والے بیرونی طاقتوں سے مفاہمت اور ان سے طاقت کے حصول کی اُمیدیں لگائے بیٹھے تھے۔
بیرونی طاقتوں کی تائید و حمایت سے اقتدار اور سسٹم کو بچانے کے لیے ہی صدر عمر حسن البشیر نے دمشق کا دورہ کیااور شام کے خونی ڈکٹیٹر بشارالاسد سے راہ و رسم بڑھائی۔اسی طرح اقتدار کے اس آخری عرصے میں سوڈانی انٹیلی جنس سربراہ صلاح قوش کی اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ سے ملاقاتیں بھی دراصل اسی پالیسی کا شاخسانہ تھیں۔ اب مقتدرہ کی کوشش تھی کہ اپنے آپ کو مغرب کا قابلِ اعتماد حلیف بتائے اور اسلامائزیشن کی کوششوں کے ناقد اور گریزپا کے رُوپ میں پیش کرسکے۔ تاہم، اب ہاتھ پائوں مارنے کا حاصل کچھ نہیں تھا۔ لہٰذا، چند ماہ کے عوامی احتجاج کے بعد بالآخر ۱۱؍اپریل ۲۰۱۹ء کو فوجی جنتا نے اپنے سابقہ سربراہ عمرحسن البشیر کی معزولی اور ایک فوجی مجلس سیادت کے قیام کا اعلان کردیا۔
چند ماہ بعد اگست ۲۰۱۹ء کو شرکت اقتدار کا فارمولا وضع کیا گیا جس کی رُو سے مجلس سیادت کے پانچ فوجی ممبران اور پانچ سویلین ممبران متعین کیے گئے۔ اس مجلس نے تین برس کے عرصے میں نئے انتخابات کی راہ ہموار کرکے نومبر ۲۰۲۲ء کو اقتدار کی باگ ڈور منتخب جمہوری حکومت کو سونپ دینی تھی۔ سوڈان میں مسلسل چہ مگوئیاں ہوتی رہی ہیں کہ مجلس سیادت کے سویلین ممبران کا چنائو فوج نے خود کیا تھا، یا یہ نام مغربی طاقتوں کے فراہم کردہ تھے؟
اس مجلس سیادت کی قائم کردہ سول حکومت ملک کو کس ڈگر پر لے کر چل رہی تھی، اس کا اندازہ اس قانون سازی سے بخوبی ہو جاتا ہے، جو گذشتہ دو سالہ اقتدار کے دوران کی گئی ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ اس کا ایجنڈا عالمی طاقتوں کی رضاجوئی ہے۔
علاوہ اَزیں مشرقی سوڈان کےعلیحدگی پسندوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا گیا ہے جس میں یہ اعلان بھی شامل ہے کہ سوڈان کا مجوزہ دستور سیکولر بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔
یہ دیکھنا ضروری ہے کہ گذشتہ برسوں میں اس عبوری حکومت نے جو کچھ کیا ہے، اس کے نتائج کیا ہیں؟ اور کیا سوڈان کے مسلمان ان نتائج سے مطمئن ہیں؟ اکثر تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ عام سوڈانی فرد اس حکومت کی کارکردگی سے مایوس بھی ہے اور ناراض بھی۔ اس وقت سوڈان کو تین بڑے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے: آئی ایم ایف کی پالیسیاں معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان خلیج کو وسعت دے رہی ہیں۔ غربت اور بے روزگاری کے ساتھ مہنگائی زوروں پر ہے۔
سوڈان کی سالمیت اور وحدت کو درپیش خطرات ٹلے نہیں ہیں۔ جنوبی سوڈان کے بعد دارفور اور مشرقی سوڈان کی علیحدگی کی تحریکیں سرگرمِ عمل ہیں۔ان چیلنجوں سے نمٹنے کا واحدطریقہ اسلام پسندوں کا اتحاد اور سوڈان کی اسلامی شناخت کی طرف مخلصانہ واپسی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انتخابات کے شفاف انعقاد کو یقینی بنانا ہے۔
۱۷دسمبر ۲۰۲۲ء کو تیونس کے عام انتخابات میں صرف ۸فی صد ووٹ ڈالے گئے۔ سواکروڑ سے بھی کم آبادی والا یہ چھوٹا سا ملک تیونس، بحرِ روم کے کنارے شمالی افریقا میں واقع ہے۔ قدیم عرب جغرافیہ داں اس علاقے کو ’مغرب العربی‘ کہا کرتے تھے، جو تیونس، الجزائر، لیبیا، مراکش اور موریطانیہ پر مشتمل ہے۔ ساحلی علاقوں میں بربر عرب آباد ہیں اور اس مناسبت سے مغرب کا ایک اور نام ’بربری ساحل‘ بھی ہے۔ مشہور مسلم جرنیل طارق بن زیاد بربر نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ علمی سطح پر مسجد و جامعہ الزيتونہ دوسری صدی ہجری کے آغاز میں قائم ہونے والا تعلیمی ادارہ، دُنیا کے قدیم ترین مدارس میں شمار ہوتا ہے اور یہ بھی تیونس میں ہے۔
۲۴ دسمبر ۲۰۱۰ءکوبےر وزگاری سے تنگ آکر ایک نوجوان محمد بو عزیزی نے تیونس کے صدارتی محل کے سامنے بطور احتجاج خود کو نذر آتش کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی سارے ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ یہاں کے صدر زین العابدین بن علی (م:۲۰۱۹ء)نے پہلے تو طاقت کا بھر پور استعمال کیا اور پھر معافی تلافی کی کوشش کی۔ لیکن طلبہ کے پر امن مظاہروں سے مجبور ہوکر۲۳ سال تک مطلق العنانیت سے منسوب خودساختہ مردِ آہن اپنے اہل خانہ کے ساتھ ۱۴ جنوری ۲۰۱۱ءکو سعودی عرب فرار پر مجبور ہوگئے۔ صدر صاحب کی خواہش تھی کہ وہ امریکا یا یورپ کے کسی ملک میں پناہ حاصل کریں، مگر ان کے مغر بی سرپرستوں نے اپنے پٹے ہوئے مہرے سے آنکھیں پھیر لیں۔
فوج نے اخوان المسلمون کی فکر سے متاثر ’حرکۃ النہضۃ‘ (تاسیس:۱۹۸۱ء) کے سربراہ راشد الغنوشی (پ:۲۲جون ۱۹۴۱ء)کو قومی حکومت بنانے کی دعوت دی، جسے النہضہ نے فوری طور پر مسترد کردیا۔ جناب غنوشی کا کہنا تھا:’’تیونسی عوام نے چہرے نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی کے لیے قربانیاں دی ہیں اور اس وقت ملک کی ترجیح ایک ایسے دستور کی تدوین ہے، جو عوامی اُمنگوں کا ترجمان ہو‘‘۔ چنانچہ پارلیمان کے اسپیکر فواد مبزا کو قائم مقام صدر بناکر انتخابات کی تیاری شروع ہوگئی۔
اُسی سال ۲۳؍اکتوبر کومتناسب نمایندگی کی بنیاد پر انتخابات منعقد ہوئے اور آئین ساز اسمبلی تشکیل دی گئی۔ ملکی تاریخ کے پہلے عام انتخابات میں جوش و خروش دیدنی اور ووٹ ڈالنے کا تناسب ۹۰ فی صد رہا۔ النہضہ نے ۴۱ فی صد ووٹ لے کر ۲۱۷ کے ایوان میں ۹۰ نشستیں حاصل کیں، جب کہ اس کی مخالف سیکولر جماعت پی ڈی پی کو صرف ۱۷ نشستیں مل سکیں۔ کانگریس فار ری پبلک المعروف موتمر ۳۰ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔
النہضہ نے جو آئین ترتیب دیا اس کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے، ’’یہ دستور نہیں بلکہ انسانی اقدار کا منشور ہے، جس میں قیدیوں کے حقوق تک کی بھی ضمانت دی گئی اور تفتیش کے لیے تشدد کی ہر شکل کو قابل دست اندازیِ پولیس قراردیا گیا۔ ضلعوں کی بنیاد پر سارے ملک میں انسانی حقوق کی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، جس کے سربراہ حاضر سروس جج تھے ۔ آئین کے مطابق رنگ، نسل، مذہب اور لسانیت کی بنیاد پر امتیاز ایک جرم قرار پایا۔آزادیٔ اظہار کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ عدلیہ کو انتظامیہ کے اثر سے کلیتاً آزاد کردیا گیا‘‘۔
آئین منظور ہوتے ہی جنوری ۲۰۱۳ء میں ایک قومی حکومت تشکیل دی گئی، جس کی نگرانی میں ۲۶؍اکتوبر کو ایوان نمائندگان کے انتخابات منعقد ہوئے۔ لیکن ان انتخابات میں النہضہ کو شکست ہوگئی۔ فوج کی حامی ’ندائے تیونس‘ ۸۶ نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی اور ۶۹ سیٹوں کے ساتھ النہضہ نے حزب اختلاف کا کردار سنبھال لیا۔ پانچ سال بعد ۲۰۱۹ء میں ایک بار پھر انتخابات ہوئے، جس میں کوئی بھی جماعت اکثریت نہ حاصل کرسکی، لیکن ۵۲ نشستوں کے ساتھ النہضہ پارلیمان کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔
کچھ دن بعد ہونے والے صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں کسی بھی امیدوار کو مطلوبہ ۵۰ووٹ نہ مل سکے، چنانچہ ووٹوں کے اعتبار سے پہلے نمبر پر آنے والے قیس سعید اور ان کے قریب ترین حریف نبیل قروئی کے درمیان Run-offمقابلہ ہوا۔ النہضہ نے قیس سعیدکی حمایت کی اور وہ بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوگئے۔ دوسری طرف راشد الغنوشی کو پارلیمینٹ کا اسپیکر چن لیا گیا۔ یعنی ’انقلابِ یاسمین‘ کی کامیابی کے بعد تیونس میں تین پارلیمانی اور دو صدارتی انتخابات ہوئے اور انتقالِ اقتدار سمیت کسی بھی مرحلے پر کوئی بدمزگی دیکھنے میں نہ آئی۔نظریاتی اختلافات کے باوجود وزیراعظم، صدر، اسپیکر اور حزب اختلاف کے تعلقات انتہائی شان دار رہے۔
عرب دنیا کی تحریکِ آزادی یا ’ربیع العربی‘(Arab Spring) کے آغاز پرعرب حکمراں، اسرائیل اور ان کے مغربی سرپرست لرز کر رہ گئے تھے۔ تب دیکھتے ہی دیکھتے ساری عرب دنیا آمریت کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی۔ شیوخ و امرا نے جہاں اس تحریک کو کچلنے پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے، وہیں اس کی بنیادیں اکھیڑنے کے لیے ان کے سرپرستوں نے بہت عرق ریزی سے کام کیا۔جس میں نصاب کی تبدیلی، اسرائیل سے قریبی تعلقات اور اخوان المسلمون کی بیخ کنی شامل ہے۔
’ربیع العربی‘ صرف تیونس ہی میں اپنے اہداف حاصل کرسکی ۔ مصر میں مغرب و اسرائیل کی ایما پر فوج نے عوامی اُمنگوں کا گلا گھونٹ دیا۔ الجزائر اور بحرین میں بھی یہ مزاحمت کچل دی گئی، جب کہ لیبیا اور یمن میں اٹھنے والی تحریک خانہ جنگی کا شکار ہوگئی۔ یہی حال شام کا ہے جہاں فرقہ وارانہ محاذآرائی نے داعش کا روپ اختیار کرلیا ہے۔ مراکش میں بادشاہ نے اپنے کچھ اختیارات پارلیمینٹ کو منتقل کیے، لیکن وقتاً فوقتاً جاری ہونے والے شاہی احکامات کے ذریعے یہ تمام اقدامات کالعدم کردیئے گئے۔ تیونس کی اس کامیابی کو عالمی و علاقائی قوتوں نے تسلیم نہیں کیا او ر اس کے خلاف ایک منظم مہم دس سال سے جاری ہے۔
مارچ ۲۰۲۰ء میں وارد ہونے والے کورونا نے ملکی معیشت کو برباد کرکے رکھ دیا اور مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کردی۔اب جمہوریت دشمنوں کی جانب سے حکومت کے خلاف الزام تراشی اور انگشت نمائی کا سلسلہ شروع ہوا،اور تیونسی سیاست دانوں کی برداشت اور مل کر کام کرنے کی ۱۰سالہ مخلصانہ کوششوں پر پانی پھرگیا۔صدر قیس نے شکوہ کیا کہ معیشت میں بہتری کے لیے پارلیمان ان کے اقدامات کی توثیق میں بہت دیر لگارہی ہے۔ دوسری طرف اسپیکر راشد الغنوشی کا کہنا تھا کہ ’’پارلیمان میں بحث کے بغیر قانون سازی نہیں ہوسکتی، تاہم فوری اقدامات کے لیے جاری ہونے والے صدارتی آرڈی ننس پر وہ اعتراض نہیں کریں گے‘‘۔
فوج کی ایماپر حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے اور جلد ہی اس کا رُخ پارلیمان اور خاص طور سے النہضہ کی طرف ہوگیا۔ پارلیمان کا گھیراؤ کرکے حکومت سے استعفا کا مطالبہ کیاگیا۔ اس دوران تشدد کے واقعات میں درجنوں افراد زخمی ہوئے، کئی مقامات پر نقاب پوش گروہوں نے النہضہ کے دفاتر پرحملے کئے اور جنوب مغربی تیونس کے شہر توزر میں مقامی دفتر کو آگ لگادی گئی اور مارشل لا کے فلک شگاف نعرےبلند ہوئے۔ صدر قیس نے ۲۵ جولائی ۲۰۲۱ءکو پارلیمان معطل کرکے وزیراعظم ہشام المشیشی کو کابینہ سمیت گھر بھیج دیا۔قوم سے اپنے خطاب میں صدر قیس نے حکومت پر سنگین الزام لگائے اور ساتھ ہی دھمکی بھی دے گئے کہ ’’اگر کسی نے صدارتی حکم کی خلاف ورزی کی، تو مسلح افواج روایتی تنبیہہ کے بغیر گولی چلائے گی‘‘۔
ابتدا میں جناب راشد الغنوشی نے صدر کے فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا، لیکن جب النہضہ کی شوریٰ نے مزاحمت کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، تو غنوشی صاحب نے مظاہرہ منسوخ کرکے صدر قیس کو بات چیت کی پیش کش کردی۔معزول وزیراعظم نے بھی صدر کافیصلہ قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ نامزد وزیراعظم کو فوری طور پراقتدار منتقل کردیں گے۔ لیکن اس پیش کش کے جواب میں فوج نے پکڑ دھکڑ شروع کردی۔ ساتھ ہی صدر قیس نے منتخب قانون ساز اسمبلی سے منظور کیا جانے والا دستور بیک جنبشِ قلم منسوخ کردیا، اور نئے آئین کی تدوین کے لیے 'قانونی ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ دوسری طرف معیشت کی تعمیر نو کے لیے ایک عظیم الشان منصوبے کا اعلان ہوا جس کے مطابق: ’’حکومت کے زیرانتظام تمام اداروں کوفروخت کردیا جائے گا اور انھیں فروخت کے لیے پُرکشش بنانے کی غرض سے ان میں بڑے پیمانے پر چھانٹی ہوگی‘‘۔
نئے دستور کا مسودہ سامنے آتے ہی تیونسی مزدوروں کی وفاقی انجمن ’الاتحاد العام التونسي للشغل‘(UGTT) نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’بڑی طاقتوں کے ایما پر تحریر کی جانے والی یہ دستاویزِ غلامی کسی قیمت پر قبول نہیں کی جائے گی ۔ عوام کی منتخب پارلیمان نے ۲۰۱۱ء میں جو آئین بنایا وہ تیونسیوں کی اُمنگوں کا ترجمان ہے اور اس کی منسوخی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ اس کے باوجود حکومت نے ۲۶ جولائی کو ریفرنڈم کے ذریعے نیا دستور منظور کرلیا۔ طلبہ و مزدور یونینوں اور سیاسی جماعتوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے ریفرنڈم میں ووٹ ٖڈالنے کا تناسب صرف ۳۰فی صد رہا ۔
نئے دستور کی بنیاد پر اس ہفتے عام انتخا بات اس طرح ہوئے کہ سیاسی جماعتوں کو براہِ راست حصہ لینے کی اجازت نہ تھی۔ جماعتی کارکنوں کے امیدوار بننے پر تو کوئی اعتراض نہیں ہوا لیکن مہم کے دوران کسی سیاسی جماعت کا نام، پرچم یا نشان کے استعمال پر پابندی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ۲۵ فی صد نشستوں پر صرف ایک امیدوار ہونے کی وجہ سے ووٹنگ کی نوبت ہی نہ آئی۔الیکشن کمیشن کے سربراہ جسٹس فاروق بوسکار نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’۹۰ لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے ۸ لاکھ افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا‘‘۔ ’النہضہ‘ سمیت پانچ جماعتی ’محاذِ نجات‘ (Salvation Front)نے انتخابی ڈرامے کا بائیکاٹ کرکے صدر قیس سعید، نئے دستور اور پارلیمان کی تحلیل پر عوام نے اپنے ردعمل کا اظہار کردیا ہے۔محاذ کے سربراہ احمد نجیب الشابی نے کہا کہ تیونسی صدر کے پاس اب استعفا اور دستور و پارلیمان کی بحالی کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔ تاہم، الغنوشی صاحب نے جمہوریت کے آبگینے کو حفاظت سے بحال کرنے کے لیے صدرقیس کو پیش کش کی ہے کہ اگر وہ عوامی اُمنگوں کا احترام کریں تو انھیں صدر برقراررکھا جاسکتا ہے۔
یاد رہے ، صدر قیس کی ساری زندگی قانون پڑھانے اور قانون کی بالادستی پر لیکچر دینے میں گزری ہے۔ کچھ ایسی ہی شخصیت راشد الغنوشی کی بھی ہے۔ صدر قیس نے عبوری وزیراعظم کے لیے جس خاتون کا انتخاب کیا وہ بھی معاملہ فہم شخصیت ہیں۔ المدرسہ الوطنیہ للمھندسين تیونس (National School of Engineers) میں ارضیات کی پروفیسر نجلہ ابومحی الدین رمضان، درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ النہضہ نے اپنے دورِحکومت میں انھیں ’تعلیمی کمیشن‘ کی سربراہ بنایا تھا۔
’النہضہ‘ کی جانب سے بڑھائے جانے والے مفاہمت کے ہاتھ کو صدر قیس جس طرح رعونت سے جھٹک رہے ہیں، اس کے پیچھے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر تو کھل کر قیس کے پشت پناہ ہیں، جب کہ مغرب کچھ کھلے میں، اور کچھ چھپے میں ان کا پشتی بان ہے۔
آئین پر ریفرنڈم اور اس کے بعد عام انتخابات میں عوام کی عدم شرکت سے جناب قیس سعیداپنا اعتماد کھوتے نظر آرہے ہیں اور معاشرے کو انتشار کا شکار کرکے طالع آزماؤں کے لیے نرم چارہ بنا رہے ہیں۔الجزائر، مصر اور فلسطین کے بعد تیونس میں عوامی اُمنگوں پر شب خون سے یہ حقیقت ایک بار پھر واضح ہوگئی کہ مغرب کے لیے وہی جمہوریت قابل قبول ہے جس کا قبلہ واشنگٹن یا بریسلز ہو۔
عالمی سطح پر اُبھرنے والی چند شخصیات میں نیلسن منڈیلا [م:۵دسمبر ۲۰۱۳ء]کے بعد داتو سری انور ابراہیم [پ:۱۰؍اگست ۱۹۴۷ء]، موجودہ وزیراعظم ، ملایشیا، ایک ایسی شخصیت ہیں، جنھیں ہم تاریخ ساز اور سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز کرنے والی شخصیت کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ جنھوں نے ملایشیا کے نومبر۲۰۲۲ء میں منعقد ہونے والے ۱۵ویں عام انتخابات میں سب سے بڑی تعداد میں نشستیں جیتنے والے محاذ کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ انور ابراہیم کے محاذ کی یہ انتخابی کامیابی، دراصل ناانصافی کے خلاف عوام کا ردعمل ہے۔ تقریباً ۲۵سال کے طویل عرصے کے بعد انور ابراہیم کے ساتھ انصاف کیا گیا اور اُنھیں حکومت بنانے کے لیے مدعوکیا گیا۔ درحقیقت یہ انصاف کی کامیابی ہے۔
انورابراہیم جنھیں ۲۵ سال قبل ہی ملایشیا کےوزیراعظم بن جانا چاہیے تھا، لیکن ڈاکٹر مہاتیرمحمد سابق وزیراعظم ملایشیا کی پالیسی کے نتیجے میں انھیں نائب وزیراعظم کے عہدے سے محض اس بناپر علیحدہ کردیا گیا، کہ انھوں نے ملک میں برپا ہونے والی معاشی بدعنوانیوں اور انتظامی بے ضابطگیوں کے خلاف آواز اُٹھانا شروع کی تھی۔
ڈاکٹر مہاتیرمحمد نے اُنھیں نہ صرف برطرف کردیا بلکہ بے بنیاد الزامات لگاکر جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ ڈاکٹر موصوف کی اس ظالمانہ روش نے نہ صرف انورابراہیم کو نقصان پہنچایا، بلکہ خود ملک کو بھی نقصان پہنچایا۔ اگر ڈاکٹر مہاتیرمحمد اقتدار سے انور ابراہیم کو غیرفطری طریقے سے راستے سے نہ ہٹاتے تو آج ملایشیا، لاجواب ترقی کی منازل طے کرکے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں جگہ حاصل کرسکتا تھا۔
انورابراہیم نے مہاتیرمحمد کی جانب سے کی جانے والی ان تمام ناانصافیوں کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی اور ایک نئی سیاسی جماعت پیپلزجسٹس پارٹی (PKR) کے قیام کا اعلان کیا۔ جس کی قیادت اُن کی اہلیہ ڈاکٹر وان عزیزہ [پ:۱۹۵۲ء]نے سنبھال لی اور ایک تاریخ ساز شخصیت بن کر ملایشیا کے سیاسی اُفق پر نمودار ہوئیں۔ انورابراہیم جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے اپنی آواز بلند کرتے رہے۔ ان کی حالیہ کامیابی اور اُن کا وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونا دراصل ان کی اَن تھک جدوجہداور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ اسلام کے اجتماعی نظام کو پیش کرتے ہیں اور سیاسی نظام کی اصلاح چاہتے ہیں اور ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، اُنھیں انورابراہیم کی جدوجہد سے سبق سیکھنا چاہیے، اور اپنے عمل کو جہد ِ مسلسل میں تبدیل کردینا چاہیے۔
انورابراہیم نے بحیثیت اسٹوڈنٹ لیڈر، ملایشیا کی سماجی زندگی میں ۱۹۷۱ء میں ABIM (Muslim Youth Movement of Malaysia ) کے قیام کے ذریعے حصہ لیا اور پھر ۱۹۹۸ء تک مسلسل ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے ملایشیا کی سیاست پر چھاگئے۔ اسلام سے اُن کی وابستگی اور اسلام کے آفاقی تصورنے اُنھیں ساری دُنیا میں جاری اسلامی انقلابی تحریک سے قریب کر دیا۔ وہ ملایشیا میں اسلامی جدوجہد کے طاقت ور نمایندے کی حیثیت سے اُبھرے اور ۱۹۸۲ء میں ملایشیا کی معروف سیاسی جماعت UMNO میں شریک ہوئے۔ پھر اسلامی سیاسی جماعت PAS کے ساتھ مل کر اسلامی نظامِ تعلیم کے لیے جدوجہد جاری رکھی، جس کے نتیجے میں ۱۹۸۳ء میں انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔بحیثیت وزیرتعلیم انور ابراہیم نے اسلامی یونی ورسٹی کی ترقی میں زبردست کردار ادا کیا۔یہ یونی ورسٹی آج عالمِ اسلام کی ایک بہترین درس گاہ کی حیثیت سے ممتاز مقام رکھتی ہے۔
۲۴نومبر ۲۰۲۲ء، شام پانچ بجے ملایشیا کے بادشاہ کی جانب سے اُنھیں وزیراعظم کا حلف دلایا گیا۔ ملایشیا کے بادشاہ شاہ سلطان عبداللہ سلطان احمد شاہ نے انور ابراہیم کے حق میں فیصلہ کرنے سے پہلے ملک کے بہت سے لوگوں سے مشورہ کیا اور آخر میں ملایشیا کی تیرہ ریاستوں کے بادشاہوں سے بھی مشورہ کیا۔ سبھی لوگوں نے انورابراہیم کووزیراعظم کی حیثیت سے قبول کرتے ہوئے اپنا تعاون پیش کیا۔
انورابراہیم کی پارٹی اور اُن کی اتحادی جماعتوں نے حالیہ انتخابات میں صرف ۸۲سیٹیں جیتی ہیں، اس لیے اُنھیں ملک کی مشہورومعروف سیاسی جماعت UMNO اور اُن کے محاذ، BN جنھوں نے ۳۰سیٹیں جیتی ہیں اور دیگرچھوٹی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا پڑی۔ اس طرح وہ ملک کے دسویں وزیراعظم بن کر سیاست کے ایوانوں میں شاندار طریقے سے واپس آئے ہیں۔ ۷۵سالہ سیاست دان انورابراہیم ملک کے تمام طبقوں اور نسلی گروپوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے سیاسی استحکام کے لیے جدوجہد کریں گے۔ اسی لیے کہہ رہے ہیں کہ اُن کی زیرقیادت حکومت کسی ایک سیاسی جماعت کی حکومت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ’متحدہ حکومت‘ ہے، جس میں کئی سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ سب کا مقصد ملک کی معیشت کو بہتر بنانا اور عوام کی مشکلات کو آسان کرنا ہے۔
انور ابراہیم ملک کو مالی بدعنوانی اور بدانتظامی سے نجات دلانا چاہتے ہیں اور اسلامی بنیادوں پر ملک کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ لوگ اُن سے یہی اُمید کرتے ہیں کہ وہ اسلامی بنیادوں پر ملک کی تعمیر و ترقی کےلیے کام کریں گے۔ حالیہ انتخابات میں پارٹی کی سطح پر اسلامی جماعت نے سب سے زیادہ سیٹیں جیتی ہیں۔ اس لیے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے نوجوانوں کی اکثریت اسلامی خطوط پر ملک کی تشکیلِ نو چاہتی ہے۔ انورابراہیم کے لیے بحیثیت وزیراعظم سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ کیا وہ اسلامی شناخت اور سب کے ساتھ مل کر ملک کو روحانی اور اخلاقی بنیادوں پر ایک منفرد مقام دلانے میں کامیاب ہوں گے؟ اس کام کے لیے اُنھیں ملک کی اسلامی جماعتوں کا تعاون حاصل کرنا ہوگا۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ انورابراہیم بحیثیت وزیراعظم ملایشیا میں کامیاب ہوں گے اور ملک کو معاشی اور سیاسی مسائل سے نجات دلا کر ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔
’اسرائیل امریکن جیوش کمیٹی‘ کا ایک وفد بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ ملاقات کرکے اسرائیل اور بھارت کے درمیان تعاون کے نئے امکانات اور راستوں پر بات چیت کررہا تھا۔ اور دوسری طرف دہلی میں اسرائیلی سفارت خانے کا زرعی اتاشی یائر ایشیل کنڑول لائن کے قریب دو زرعی فارموں کا دورہ کرتے ہوئے کہہ رہا تھا:’’ اسرائیل [مقبوضہ] کشمیر میں بھارت اسرائیل زرعی منصوبے کے تحت دو سینٹر آف ایکسی لنس کھولنے کے لیے تیار ہے، ہم اپنی جدید ٹکنالوجی جموں و کشمیر کے کسانوں کو دینے کو تیار ہیں‘‘۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسرائیل کی طرف سے زرعی شعبے میں اس دلچسپی کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔
اگرچہ خفیہ طور پر تو پنڈت نہرو ہی کے زمانے میں بھارت اسرائیل تعلقات کا دورشروع ہوچکا تھا جس نے ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لیے اندرا حکومت کو معاونت بھی دی تھی۔ تاہم، ان تعلقات کا مسلسل انکار کیا جاتا رہا ، مگر اہلِ نظر جانتے تھے کہ ’بھارت اسرائیل تعلقات‘ ایک گہرے راستے پر گامزن ہیں۔ پھر اسرائیل اور بھارت کے درمیان کھلے تعلقات کا آغاز ۳۰سال قبل ہوا تھا، اور نریندر مودی کے دور میں یہ تعلقات بلندیوں کی انتہا پر پہنچ گئے۔ مودی نے ان تعلقات کو باضابطہ تسلیم کیا اور اپنی سرپرستی میں لیا۔ اس طرح وہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم بنے۔
بات یہیں ختم نہیں ہوئی، بلکہ نریندر مودی نے اس دورے میں فلسطینیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا اور راملہ کا دورہ کرنے سے احتراز کیا۔ یہ اس بات کا پیغام تھا کہ بھارت اب فلسطینی عوام کی تحریک اور مستقبل کے بارے میں اپنا عالمی سفارتی موقف بھی مکمل طور پر تبدیل کرچکا ہے، جس میں فلسطینیوں کی الگ حیثیت یا ریاست کا کوئی تصور نہیں۔
۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی الگ حیثیت پر شب خون مارا تو مغرب کی خاموش تماشائی کی حیثیت اور کردار کی سطحیں کھلنا شروع ہوگئیں۔ بھارت نے کشمیر کی مناسبت سے تمام قانونی اور آئینی جھوٹے سچّے پردے نوچ کر پھینک دیئے اور دنیا کے چند طاقتور ملکوں کو بتادیا کہ اب وہ اس حوالے سے کسی کی بات نہیں سنے گا۔ یہ پیغام دیتے وقت سرفہرست اسرائیل تھا، جب کہ عرب دنیا دوسرے نمبر پر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ۵؍اگست کے بھارتی فسطائی قدم کے خلاف عرب دنیا نہ صرف خاموش رہی بلکہ پاکستان اور عمران خان کو بھی ایسے ہی ’صبر ‘کی تلقین کرتی رہی، جس ’صبر وتحمل‘ کا مظاہرہ انھوں نے فلسطین میں کیا تھا۔ صبر و تحمل کی اس ظالمانہ تلقین پر پاکستان اور عرب ملکوں کے درمیان تلخی کا ماحول بھی بنا اور پاکستان کے وزیراعظم نے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہم خیال ملکوں کا اسلامی تعاون تنظیم (OIC) سے ہٹ کر ایک نیا پلیٹ فارم بنانے کی دھمکی دی۔ عرب ملکوں کے پیروں تلے سے زمین سرکنے ہی لگی تھی، اور پھر پاکستان کو اندر سے مجبور کرکے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت سے روک دیا گیا۔
اسرائیل، فلسطینیوں کی زمین انچوں، گزوں اور ایکڑوں میں ہتھیانے کا مجرم ہے۔ اسرائیل نے پہلا کام ہی یہ کیا تھا کہ فلسطینیوں سے منہ مانگے داموں زمینیں خریدیں۔ جب یہودیوں کی آبادی ان علاقوں میں بڑھ گئی تو یہودی اکابرین کے’اعلانِ بالفور‘ پر عمل درآمد کے اگلے مرحلے کا آغاز ہوا اور باقاعدہ اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا گیا، یعنی بین الاقوامی طاقتیں اسی موقعے کی تاک میں تھیں، انھوں نے بیرونی مدد کرکے اسرائیل کی ریاست قائم کردی۔ بعد میں فلسطینی در بہ در ہوتے چلے گئے اور ان کی زمینوں پر اسرائیلی بستیاں تعمیر ہوتی رہیں۔ آج مقبوضہ فلسطین میں خود فلسطین ایک نقطہ ہے اور اسرائیل ایک بڑا دائرہ۔
بھارت اور اسرائیل کے درمیان کھلے عام فوجی تعاون تو ۳۰برس سے جاری ہے، اور یہ تعاون ۱۹۹۰ء میں اُس وقت بے نقاب ہوا تھا جب کشمیری حریت پسندوں نے جھیل ڈل میں ایک شکارے پر حملہ کرکے اسرائیلی کمانڈوز کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ سیاحوں کے رُوپ میں کمانڈوز تھے جنھوں نے حریت پسندوں کو ٹف ٹائم دیا تھا۔ بعد میں یہ تعلق مختلف واقعات کی صورت میں عیاں ہوتا چلا گیا۔
اب بھارت نے کشمیریوں کی زمینیں ہتھیانے اور انھیں اقلیت میں بدلنے کے لیے اسرائیل کے تجربات سے استفادہ کرنا شروع کردیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ کشمیریوں کی زمینیں عرب باشندوں کے ناموں سے یا انھیں آگے رکھ کر خریدی یا استعمال میں لائی جائیں، مگر اس کے پیچھے حقیقت میں اسرائیل اور بھارت ہی ہوں گے۔ بھارت نے ۵؍ اگست کے فیصلے کے ذریعے متروکہ املاک کے نام پر مختلف جنگوں اور دوسرے مواقع پر نقل مکانی کرنے والے مسلمانوں کی زمینوں کا کنٹرول اور حقِ ملکیت حاصل کرناشروع کیا ہے۔
فی الحال تو انھیں نئی زمینیں حاصل کرنے کی ضرورت نہیں، مگر وہ ان ہتھیائی گئی زمینوں کو ماڈل بستیاں یا باغ بنانے کے بعد کشمیر کے دوسرے زمین داروں کو بھی اپنی طرف دیکھنے اور شراکت داری قبول کرنے پر مجبور کریں گے۔ اسی لیے کشمیر کی سب سے بڑی صنعت سیب کے باغات کو حیلوں بہانوں سے تباہ کیا جارہا ہے، تاکہ ان باغوں کے مالکان ’نئے تجربات‘ کے نام پر بھارت اور اسرائیل کی شراکت داری قبول کرلیں۔اُونٹ کو خیمے میں سر دینے تک مشکل ہوتی ہے، یہ کام ایک بار ہوجائے تو پھر خیمہ اس کے سر پر ہوتا ہے۔
گذشتہ ماہ سے فلسطین کے قدیمی، تاریخی اور مزاحمتی روایات کے حامل شہر نابلس میں اسرائیلی قابض فوج نے سنگین ترین محاصرے کا آغاز کیا ہے۔رومی حکمرانوں کے دور میں قائم کیے گئے فلسطینی شہر نابلس کی کئی حوالوں سے شناخت ہے۔ یہ پہاڑوں کے درمیان آباد ہے۔ ایک زرعی شہر ہے۔ زیتون کے باغوں سے سرسبز و شاداب ہے۔ ڈیڑھ دو لاکھ کی آبادی کے اس شہر کی ایک شناخت یہ بھی رہی ہے کہ یہ بیرون ملک سے لا کر مسلط کردہ قوتوں کے خلاف مزاحمت کا مرکز بنتا رہا ہے۔
نابلس کے آزادی پسند فلسطینیوں سے برطانوی قبضہ کاروں کو بھی مسائل رہے ہیں۔ آج امریکی سہولت کاری سے قائم ناجائز اسرائیلی قابض حکومت کے فوجی بھی اس شہر کے لوگوں سے خوش نہیں۔ اس لیے نابلس کے باسیوں کو اسرائیلی قابض فوج نے اور اس کے باغوں کو بیرونِ ممالک سے اکٹھے کیے گئے یہودی آباد کاروں نے ہمیشہ نشانے پر رکھا ہے۔
اسی سبب گذشتہ ماہ کے پہلے عشرے سے نابلس کا محاصرہ جاری ہے۔ اس دوران کئی فلسطینیوں کو شہید کیا جاچکا ہے اور نابلس شہر کے باسیوں کے خلاف اسرائیلی قابض فوج کی کارروائیاں ہیں کہ مسلسل جاری ہیں۔گھروں سے نوجوانوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔ چوک چوراہوں پر گولی چلائی جاتی ہے۔ زہریلی آنسو گیس کا اندھا دھند استعمال کیا جاتا ہے۔ بے گناہوں کو جیلوں میں نظر بند کیا جاتا ہے۔ لیکن عالمی ذرائع ابلاغ اور عالمی ضمیر دونوں ہیں کہ چین کی نیند سو رہے ہیں۔ جیسے یہ ’گلوبل ویلج‘[عالمی گائوں] کے نہیں ایک عالمی قبرستان کے مکین ہوں۔
نابلس سے ۱۱۰ کلومیٹر کے فاصلے پر غزہ کی پٹی ہے۔ ۲۰ لاکھ کی آبادی کی یہ بستی، بستے بستے بسنے والی اور بس بس کر اُجڑنے والی ایک فلسطینی بستی اسرائیلی قابض فوج کے ظالمانہ اور معلوم تاریخ کے طویل ترین محاصرے کی ایک مثال ہے۔ غزہ کے فوجی محاصرے کو ساڑھے ۱۵سال ہونے کو آئے ہیں۔ غزہ کے تین اطراف میں خشکی پر اسرائیلی فوجی ناکوں اور چیک پوسٹوں میں ہمہ وقتی گشت اور پہروں کی صورت موجود ہوتے ہیں، جب کہ چوتھی جانب سمندر میں اسرائیلی بحریہ کا محاصرہ موجود ہے۔ پھر فضائی نگرانی کے ہمہ وقت اہتمام کے علاوہ اسرائیل جب دل چاہے بم باری بھی کر لیتا ہے، تاکہ خوف کی کیفیت یہاں کے بچوں اور عورتوں پر ہروقت مسلط رہے۔
محاصرے کے ان مسلسل ساڑھے پندرہ برسوں نے غزہ کو دنیا کی ایک بدترین کھلی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ اس کھلی جیل کا کسی ایک آدھے حوالے سے اگر کوئی تقابل ہو سکتا ہے تو وہ جنت نظیر وادیٔ کشمیر ہے۔ جنت ارضی کشمیرپر بھی پچھلے کئی عشروں سے سات لاکھ سے زیادہ بھارتی افواج نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ وہ بھی ایک کھلی جیل ہے۔
حالیہ برسوں کی ایک مثال برما کے روہنگیا مسلمانوں کی صوبہ اراکان بھی رہی ہے کہ انھیں بھی اسی طرح گھیر کر مارا گیا اور ان کے حالات میں ابھی تک کوئی جوہری تبدیلی نہیں آئی ہے۔
تاہم، غزہ کا معاملہ کئی حوالوں سے دیگر سب محاصروں سے زیادہ خوفناک اور المناک ہے۔ یہ ایک ہی بستی ہے۔ اس بستی کا رابطہ ہر دوسری بستی سے کاٹ دیا گیا ہے۔ یہ دنیا کی گنجان ترین آبادیوں میں سے ایک ہے۔ اس میں خوراک کی ضروریات سے لے کر لباس، رہایشی حاجات اور ادویات سمیت تقریباً ہر چیز کا انحصار دوسری جگہوں سے آنے پر ہے، جو مکمل ’بلاکیڈ‘ (محاصرے)کی وجہ سے ممکن نہیں رہا ہے۔
اس متواتر ’محاصرے‘ کی وجہ سے ۲۰ لاکھ کی آبادی میں سے کم از کم ۱۰ لاکھ کی آبادی کو صبح و شام سادہ سی خوراک بھی میسر آنا آسان نہیں رہا ہے۔ بھوک و افلاس اور خوراک کی قلت کے شکار ان اہل غزہ کے لیے ان کے اڑوس پڑوس کے لوگوں سمیت دنیا بھر کے انسانی حقوق اور عالمی برادری کے سب نعرہ باز، ظالمانہ حد تک خاموش ہیں۔
غزہ کے مسلسل اسرائیلی فوجی محاصرے کی وجہ سے یہ بستی عملاً بیروزگاروں کی غالب اکثریت کی بستی بن چکی ہے۔ غزہ سے باہر مزدوری کے لیے جانے کے حق سے بھی اہل غزہ کومحروم کر دیا گیا ہے اور حصولِ تعلیم کے لیے بھی غزہ سے نکلنا ممکن نہیں ہے۔ حتیٰ کہ علاج معالجے کے لیے کسی ہسپتال اور مناسب علاج گاہ تک پہنچنا غزہ کے مکینوں کے لیے ناممکن ہے۔
صرف یہی نہیں، ان ساڑھے پندرہ برسوں کے دوران پانچ مرتبہ اسرائیل کی طرف سے دنیا کی اس کھلی جیل پر جنگی جارحیت مسلط کی جا چکی ہے۔ بار بار غزہ کے ٹوٹے پھوٹے ہسپتالوں اور ادھورے تعلیمی اداروں کو بمباری کا نشا نہ بنایا جا چکا ہے۔ گویا مہذب دنیا کی قیادت کرنے والی نام نہاد ’مہذب‘ اور ’انسان دوست‘ عالمی طاقتوں کے سامنے ان فلسطینیوں کو باندھ کر مارا جا رہا ہے۔ دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے کہ اسرائیل اس محاصرے کو ختم کر دے گا۔
ستم بالائے ستم یہ کہ رفاہ کی راہداری ان اہل غزہ کے لیے اس محاصراتی زندگی میں سانس لینے کی واحد صورت ہے۔ اسے بھی مصر کے آمرمطلق جنرل سیسی جب چاہے بند کر دیتا ہے۔ بلاشبہہ اسرائیل سے دوستی اور محبت و سفارت کا بانی ہونے کی وجہ سے مصر کو اپنے دوست اسرائیل کے لیے وفا شعاری کا تقاضا نبھانا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے ادارے ’انروا‘ کی دو سال سے سرگرمیاں مالی مشکلات کی وجہ سے محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ’انروا‘ غزہ میں زیر محاصرہ انسانوں کے لیے ایک سہارا بن گیا تھا۔ یہ تعلیم و صحت کے معاملات میں بھی متحرک ہو گیا تھا۔ اس لیے غزہ پر جنگی جارحیت کے دوران غزہ کے تمام شہریوں کی طرح یہ ’انروا‘ بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
امریکا نے اقوام متحدہ کی امداد بند کر کے اس کا گلا بھی گھونٹ دیا ہے۔ اسرائیل کو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے فلسطینی پناہ گزینوں کی موجودگی بھی تکلیف دیتی ہے، جب کہ ’انروا‘ ان فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے لگا تھا۔
غزہ کی آبادی پر مسلسل فوجی محاصرہ ہونے کی وجہ سے اس کی پندرہ سال تک کی تقریباً ۴۵فی صد آبادی نے اسی محاصرے کے ماحول میں آنکھ کھولی ہے۔ یہ ۴۵ فیصد آبادی نہیں جانتی کہ غزہ کے باہر کی فلسطینی بستیاں اور دُنیا کیسی ہے؟ اگر یہ اسرائیلی محاصرہ اگلے پندرہ سال بھی جاری رہتا ہے تو بلاشبہہ غزہ کی آبادی کا ۶۰فی صد سے زیادہ حصہ وہ ہو سکتا ہے، جسے غزہ کی اس جیل سے باہر نکلنے ہی نہ دیا گیا ہو گا۔
اسرائیل کا منصوبہ پورے فلسطین کو جیل بنا دینے اور سارے ہی فلسطینی عوام کو اس طرح قید کر رکھنے کا ہے۔ اسی مقصد کے لیے ۲۰۰۲ء میں اسرائیل نے مغربی کنارے کے علاقے میں ایک دیوار کھڑی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ ۷۰۸کلومیٹر تک پھیلی دیوار ہے، جس نے مغربی کنارے اور یروشلم کے درمیان بھی رخنہ و رکاوٹ پیدا کی ہے اور خود مغربی کنارے میں آباد بستیاں بھی اسرائیل کی قائم کردہ اس دیوار کی زد میں ہیں۔شروع میں ۶۷ شہروں، قصبوں اور دیہات کو اس دیوار کی زد میں لانے کا منصوبہ تھا تاکہ انھیں اس دیوار کے ذریعے محاصرے میں لیا جا سکے۔
اسرائیل کی بنائی گئی اس دیوار کی لمبائی اس کی زد میں آنے والے بستیوں کے محاصرے کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کی بلندی نو فٹ سے لے کر ۳۰ فٹ تک ہے۔ بلاشبہہ یہ فلسطینیوں کے ہرطرح کے معاشی، سماجی، سیاسی اور تعلیمی مقاطعے کے جملہ مقاصد پورے کرتی ہے۔ لیکن اس کی تعمیر میں اسرائیلی بدنیتی کا دائرہ اس سے بھی وسیع تر ہے۔
اسرائیل نے یہ بھی اہتمام کیا کہ جہاں بھی کسی فلسطینی بستی کے نزدیک کنواں، چشمہ، ندی یا پانی کسی بھی دوسرے امکان اور ذخیرے کی صورت موجود تھا۔ اسرائیل نے اس دیوار کے ذریعے اس بستی کو کاٹ کر اپنے ساتھ ملا لیا ہے تاکہ فلسطینی اور ان کی سرزمین پانی کو ترستی رہے۔
مگر فلسطینیوں نے اسرائیل کی اس دیوار کو اپنے لیے ’دیوار گریہ‘ نہیں بنایا کہ صدیوں سے روتے رہنے والی قوم کہلائیں۔ فلسطینیوں نے اسی دیوار کو اپنی آواز بلند کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے اور جگہ جگہ اس دیوار پر احتجاجی آرٹ کے نقوش و نگار بنا کر اس دیوار کو اسرائیل کے خلاف احتجاج کی گواہی بنا دیا ہے۔
اسی اسرائیلی دیوار پر فلسطینی نژاد امریکی صحافی خاتون شیریں ابو عاقلہ کی تصویر بنا دی گئی ہے کہ ابو عاقلہ نے اپنی جان پیش کر کے اپنی قوم کی آزادی کے لیے جدو جہد میں حصہ لیا تھا۔ اس کی تصویر بنانے والے فلسطینی مصور نے اسرائیلی دیوار پر بنائی گئی تصویر کے ساتھ لکھا ہے:
Live News, Still Alive۔ انگریزی میں لکھی گئی یہ تحریر درحقیقت فلسطینی جدوجہد کا وہ نوشتۂ دیوار ہے کہ جو بلند آہنگ سے کہہ رہا ہے کہ میں کٹ گروں یا سلامت رہوں، نہ میری منزل کھوٹی کی جاسکتی ہے اور نہ مجھے جھکایا جاسکتا ہے، اور ان شاء اللہ یہ ستم کی دیوار گرا دوں گا!
برما (میانمار) کے مسلمانوں پر گذشتہ ۸۰برس سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، لیکن گذشتہ دس برسوں کے دوران اس ستم کاری اور بدھ مت کے پیروکاروں کی وحشت انگیزی میں بے پناہ شدت آئی ہے۔ مگر افسوس کہ نام نہاد عالمی ضمیر خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔
’’روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ ایک نہایت خطرناک موڑ پر آچکا ہے۔اگر بین الاقوامی رہنماؤں نے فوراً کوئی لائحہ عمل تیار نہ کیا تو خدشہ ہے کہ مہاجرین کی واپسی کے تمام امکانات ختم ہوجائیں گے‘‘۔ ان خیالات کا اظہار ناروے کی مہاجرین کونسل کے سیکرٹری جنرل جان ایجی لینڈ نے ستمبر۲۰۲۲ء میں بنگلہ دیش کے دورے کے دوران کیا۔
انھوں نے مزید کہا: ’’یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بنگلہ دیش میں مہاجر روہنگیا برادری ایک ایسے مقام تک پہنچ چکی ہے کہ اگر فوراً ان کی دربدری کا کوئی سدباب نہیں کیا گیا تو بہت دیر ہو جائے گی۔ یہاں بسنے والے خاندان بنی نوع انسان کی بدترین بے حسی کے گواہ ہیں۔ اگر معاملات یونہی رہے تو ان کی میانمار میں اپنے گھروں کو واپسی ہمیشہ کے لیے ناممکن ہو جائے گی‘‘۔
اگست ۲۰۱۷ء میں میانمار میں تباہ کن مسلم کش فسادات شروع ہوئے تو ۱۰ لاکھ روہنگیا مہاجرین نے جان بچانے کے لیے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لی اور تاحال یہیں مقیم ہیں۔ مکمل طور پر بیرونی امداد پر گزربسر کرنے والے ان مہاجرین کے لیے ۳۱ عارضی آبادیاں قائم کی گئیں، جنھیں مجموعی طور پر دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ کہا جاتا ہے۔
ان مہاجرین میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ کی تعداد میں بچے، نابالغ اور نوجوان شامل ہیں، جوشاید ایک ’گمشدہ نسل‘ کے طور پر پروان چڑھ رہے ہیں۔ عالمی برادری کی توجہ دوسرے بہت سے مسائل کی طرف بٹ رہی ہے اور امدادی فنڈز کی فراہمی میں مسلسل کمی ہو رہی ہے،ان حالات میں مہاجرین کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
مہاجرین کونسل ناروے نے ۳۱۷ روہنگیا نوجوانوں پر تحقیق کی، جس میں معلوم ہوا کہ ۹۵ فی صد نوجوان بے روزگاری کے سبب شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی روزگار ہے اور نہ زندہ رہنے کا وسیلہ۔ یہ قرض کے بوجھ تلے دب چکے ہیں اور دنیا سے مدد کا انتظار کر کے تھک چکے ہیں۔ شکستہ وعدوں اور مایوسی کے اندھیروں نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے‘‘ ۔ روہنگیا آبادی کی بحالی کا منصوبہ فنڈز کی مسلسل کمی کا شکار رہتا ہے۔ گذشتہ اگست تک درکار امداد کا صرف ۲۵ فی صد ہی مہیا ہو سکا۔ اب تک حاصل ہونے والی رقم ۳۵ سینٹ (۶۰روپے) یومیہ فی مہاجر بنتی ہے۔
ایجی لینڈ نے کہا:’’میں بنگلہ دیش سے باہر بین الاقوامی قیادت کی اس مسئلے میں عدم دلچسپی دیکھ کر شدید مایوس ہوا ہوں۔ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے اور اس سیاسی بحران کو ختم کرنے کے بجائے ہماری قیادتوں کے درمیان بے حسی کا مقابلہ چل رہا ہے۔جو لوگ باہر کہیں پناہ ڈھونڈنے نکلتے ہیں انھیں اُلٹا زبردستی واپس دھکیل دیا جاتا ہے۔چین اور اس علاقے کے ممالک کو مل کر اس مسئلے کے حل پر غور کرنا چاہیے۔ روہنگیا مہاجرین ایک گہری کھائی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اگر ہم نے ان کا ہاتھ نہ تھاما اوراگر ہم اس ظلم کو یونہی خاموشی سے دیکھتے اور برداشت کرتے رہے تو آیندہ نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی کہ ہم کو جو کہنا چاہیے تھا، وہ نہیں کہا اور جو کرنا چاہیے تھا، وہ ہم نے نہیں کیا‘‘۔
بنگلہ دیش کی طرف روہنگیا مسلمانوں کی پہلی بڑی ہجرت ۱۹۷۸ء میں ہوئی۔اس کے بعد ۹۰ء کے عشرے کے آغاز میں اور پھر ۲۰۱۷ء میں بڑے پیمانے پر یہ ہجرت عمل میں آئی۔ روہنگیا مہاجرین کی اکثریت مسلمان ہے۔
روہنگیا آبادی ’راکھائن‘ کے علاقے سے سرحد کو پار کر کے اس طرف کاکس بازار میں آباد ہوئی ہے اور یہ شہر مہاجرین کی مسلسل آمد کے باعث آبادی کے بے پناہ دبائو کا شکار ہو چکا ہے۔ اب بنگلہ دیشی حکومت مہاجرین کو جزیرہ ’بھاشن چار‘ پر منتقل کرنے کا سوچ رہی ہے۔
۲۰۱۷ء کی بڑی نقل مکانی سے پہلے بھی کاکس بازار کے کیمپوں’کٹاپالونگ‘ اور’ نیاپرا‘ میں ہزاروں روہنگیا مہاجرین موجود تھے۔ اکثر فلاحی تنظیمیں مثلاً UNHCR وغیرہ چاہتی ہیں کہ روہنگیا برادری امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزارے۔لیکن بنگلہ دیش کی کمزور معیشت اتنے مہاجرین کو سہارا دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ عالمی بنک کے اعداد و شمار کے مطابق ڈھاکا میں غربت کی شرح ۳۵ فی صد ہے اور کاکس بازار میں۸۵ فی صد۔ اس پر مستزاد یہ خطہ قدرتی آفات مثلاً سیلاب اور سمندری طوفانوں کی زد میں رہتا ہے،جب کہ یہاں بنیادی صحت اور تعلیم کا نظام بھی موجود نہیں۔
اس وقت بنگلہ دیش میں بنیادی ضروریات کی قیمتیں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ بالائی درمیانہ طبقہ بھی سخت متاثر ہو رہا ہے۔ بہت سے کاروبار بند ہو چکے ہیں اور بے روزگاری میں بہت اضافہ ہو چکا ہے۔ ۲۰۱۹ء کی ۴ء۳ فی صد شرح بے روزگاری ۲۰۲۰ء میں بڑھ کر۵ء۳ فی صد ہو چکی ہے۔بہت سے کاروبار جو بند ہو گئے تھے وہ دوبارہ شروع نہیں ہو رہے، کیونکہ کوئی سرمایہ موجود نہیں ہے۔
کاروبار شروع یا بحال کرنے کے لیے بنکوں سے قرضہ لینا انتہائی مشکل ہے۔ اس کی ایک وجہ بنگلہ دیش میں ہر طرف پھیلی بدعنوانی ہے اور دوسری وجہ فرسودہ بنکاری نظام۔ پھر بیرونِ ملک سے ہونے والی ترسیلات زر (Remittances) میں کمی نے ہلاکر رکھ دیا ہے، جن پر بنگلہ دیشی معیشت بڑی حد تک منحصر ہے۔
سب سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ معاشی تباہی کے شکار روہنگیا مسلمانوں کی خواتین کے ایک حصے میں جسم فروشی زہر بن کر پھیل رہی ہے۔ اس موضوع پر شائع شدہ تحقیقی رپورٹوں میں اتنے شرمناک اعدادوشمار اور تفصیلات درج ہیں کہ ہم انھیں یہاں پر پیش کرنے کی ہمت نہیں پاتے۔
فی الحال اس سیاہ رات کے بعد کسی دن کا اُجالا نظر نہیںآتا۔ لاکھوں مہاجرین کو گن پوائنٹ پر واپس راکھائن کی طرف دھکیلنے کے بجائے اس مسئلے کا کوئی قابلِ عمل حل تلاش کیا جائے۔
اس وقت کیفیت یہ ہے:
(ریلیف ویب اور روزنامہ اسٹار، اور سودا دیس رائے کی معلومات سے بھی استفادہ کیا گیا ہے)۔