اخبار اُمت


ماہ مئی میں افغانستان کے حوالے سےدو اہم اقدامات ہوئے، جن کے ہمارے پڑوسی ملک کے مستقبل پر اثرات مرتب ہوں گے ۔یکم اور ۲ مئی ۲۰۲۳ ء کو دوحہ، قطر میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام افغانستان کے بارے میں ایک عالمی کا نفرنس منعقد ہوئی، اور ۵مئی تا ۸ مئی پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امارت اسلامی افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کا باقاعدہ دورہ ہوا۔ اسی دوران سہ فریقی مذاکرات بھی منعقد ہوئےجس میں چین، پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ سہ فریقی مذاکرات کا یہ سلسلہ ۲۰۱۷ء سے جاری ہے۔

۱۵؍ اگست ۲۰۲۱ء کو امارت اسلامی افغانستان کا دوبارہ احیاء اس وقت ہوا جب تحریک طالبان افغانستان کے رضا کار کابل میں داخل ہو ئے اورڈاکٹر اشرف غنی کی کٹھ پتلی حکومت کا خاتمہ عمل میں آیا۔ ۲۹ فروری۲۰۲۰ ء کو ایک طویل مذاکراتی عمل کے بعد امریکا اور تحریک طالبان کے نمایندوں کے درمیان دوحہ میں ہی ایک تاریخی معاہدۂ امن طے پایا تھا، جس کو اُس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مائیکل پومپیو نے بڑی سفارتی کامیابی سے تعبیر کیا تھا۔ لیکن کسی کو یہ اندازہ نہ تھا کہ اس معاہدے کے بعد ایک سال کے عرصے میں افغانستان میں قائم کردہ حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا، تمام غیر ملکی فوجیں ملک سے نکل جائیں گی اور طالبان پھر سے برسرِاقتدار آجائیں گے۔

گذشتہ ۲۰ ماہ کے عرصے میں طالبان نے افغانستان میں ایک مضبوط حکومت قائم کرلی ہے۔ اپنی فوج،پولیس اور تمام صوبوں اور اضلاع میں حکومتی ڈھانچا قائم ہو چکا ہے۔ ملک میں امن و امان ہے، شاہراہیں کھلی ہو ئی ہیں۔دن اور رات کے کسی بھی وقت، آپ کسی بھی سڑک پر بلا خوف و خطر سفر کرسکتے ہیں ۔باہر سڑک پر آپ کو کوئی بھی اسلحہ بردار نظر نہیں آئے گا۔داخلی امن و امان کے ساتھ اقتصادی بحالی پر بھی پوری توجہ دی گئی ہے ۔پاکستان،ایران،ازبکستان وغیرہ سے آنے والے ٹرک کسی بھی شہر کی طرف بلا روک ٹوک سفر کر سکتے ہیں۔ تمام پھاٹکوں، سڑکوں کی بندشوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ سرحدی راہداریوں پر محصول چونگی کی ادائیگی کے بعد اسی پرچی پر آپ ہر جگہ پہنچ سکتے ہیں، اور پھر پورے راستے میں کوئی آپ سے زور زبردستی راہداری کے نام پر پیسے یا رشوت وصول نہیں کرسکتا۔حکومتی ادارے اپنی فیس ،ٹیکس وغیرہ کم شرح پر لازماًوصول کرتے ہیں، مثلاً بجلی کا بل، پارکنگ فیس وغیرہ۔ اس کے علاوہ کوئی اضافی ادائیگی نہیں کی جاتی۔اس کی وجہ سے جہاں لوگوں کا حکومت پر اعتماد پیدا ہوا ہے، وہاں حکومتی وسائل اور آمدن میں بھی خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔ ہرمعاملے میں حکومت بچت اور وسائل کے درست استعمال پر کاربند ہے۔عالمی مالیاتی ادارے بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ’’افغانستان نے خود انحصاری کی ایک بہترین مثال قائم کی ہے‘‘۔

افغان حکومت نے اپنے تمام ائرپورٹوں کو مقامی اوربین الاقوامی پروازوں کے لیے فعال رکھا ہے۔ بنکاری کا نظام پوری طرح کام کر رہا ہے اور افغان کرنسی مستحکم ہے۔ ملک سے باہر زرمبادلہ کی ترسیل پر پابندی ہے۔ ہر ہفتہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک مخصوص رقم امریکی ڈالروں کی صورت میں افغانستان کو دی جاتی ہے، جسے افغان کرنسی میں تبدیل کرکے شعبۂ تعلیم و صحت و دیگر مفاد عامہ کے اداروں کی تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں۔ تمام سرکاری ملازمین کو اب ماہانہ تنخواہ باقاعدگی سے مل رہی ہے۔ قیمتوں کو کنٹرول کیا گیا ہے۔ ملک میں اشیائے ضرورت کی فراہمی کو یقینی بنایاگیا ہے ۔میونسپل سروسز عوام کو میسر ہیں۔ اور چھ بڑے ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔

افغانستان کے اندر دہشت گردی پر کافی حد تک قابو پایاجاچکا ہے۔داعش کے سہولت کاروں کا تعاقب جاری ہے۔سابقہ شمالی اتحاد کے مسلح گروہوں کو بھی کارروائی کا موقع نہیں مل رہا ۔ لیکن اس سب کے باوجود امارت اسلامی افغانستان کو کئی داخلی اور عالمی چیلنجوں کا سامنا ہے، جس کا حل ضروری ہے۔

داخلی طور پر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں اب تک عبوری حکومت کام کر رہی ہے، جسے مستقل بنیادوں پر قائم نہیں کیا جاسکا ہے۔ ملک میں کوئی باقاعدہ دستور،آئین و قانون نافذ نہیں ہے۔ مقننہ کا کوئی وجود نہیں ۔تحریک طالبان کی رہبری شوریٰ امیر ہبت اللہ کی قیادت میں معاملات دیکھ رہی ہےاور پالیسی سازی بھی کرتی ہے،لیکن اس کو سرکاری اور رسمی حیثیت نہیں دی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے خواتین کے کام پر پابندی اور طالبات پرپابندی کو سخت گیر فیصلے قرار دیا جا رہا ہے، جس کو ملکی اور عالمی دونوں سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، لیکن تادمِ تحریر امارت اسلامی ان فیصلوں پر کار بند ہے۔ عالمی سطح پر بھی امارت اسلامی افغانستان کو مزاحمت کا سامنا ہے، اور ابھی تک کسی بھی ملک بشمول پاکستان نے اس کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس پر کئی نوعیت کی پابندیاں اور سفارتی دباؤ ہے۔

اقوام متحدہ نے کئی مواقع پر افغانستان کے لیے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کرنے اور انسانی ہمدردی میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے باوجود افغانستان کو اقوام متحدہ جیسے بڑے فورم میں اب تک حق نمایندگی سے محروم رکھا ہے۔یکم مئی ۲۰۲۳ء کو دوحہ میں افغانستان کے بارے میں کانفرنس میں بھی امارت اسلامی کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی، جو ایک امتیازی نوعیت کا اقدام ہے۔ اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ بظاہر طالبات کی تعلیم اور خواتین کے کام پر پابندیوں کے تناظر میں ہے، لیکن ان پابندیوں سے پہلے بھی اقوام متحدہ نے افغانستان کو نمایندگی سے محروم رکھا تھا۔

دوحہ کانفرنس میں اگرچہ امریکا، روس، چین ،جرمنی اور پاکستان کےنمایندے موجود تھے۔ لیکن افغانستان کی نمایندگی نہ ہونے کی وجہ سے یہ کانفرنس ایک بے معنی مشق تک محدود رہی، جب کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس اس کانفرنس کے روح رواں تھے۔

کانفرنس سے واپسی پر چینی وزیر خارجہ کن گینگ اسلام آباد پہنچے اور انھوں نے پاکستان اور افغانستان کےوزرائے خارجہ سے سے مل کر سہ فریقی مذاکرات میں حصہ لیا۔افغان وزیرخارجہ کا یہ پانچ روزہ دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس کو اقوام متحدہ کی تائید بھی حاصل تھی اور انھوں نے اس کی رسمی طور پر منظوری دی تھی۔ یہ ایک اہم سفارتی پیش رفت تھی، جس کی تیاری پہلے سے کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پاکستانی سفیر نے درخواست دی تھی۔

افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے جب سے یہ منصب سنبھالا ہے، ان کی سفارتی سطح کی کارکردگی بے مثال رہی ہے۔ ان کے تمام بیانات ،انٹرویو اور تقاریرکسی بھی کہنہ مشق سیاستدان اور اُمور خارجہ پر دسترس رکھنے والے سفارت کار سے کم نہیں ۔ان کے بیانات میں جھول اور ابہام شامل نہیں ہوتا۔وہ صاف اور کھلی بات کرتے ہیں۔ پاکستان کے بارے میں بھی ان کے بیانات مثبت اور واضح رہے ہیں اور انھوں نے ہمیشہ اچھے تعلقات کی نوید سنائی ہے۔ اس سے پہلے افغان زعما،پاکستان کا دورہ کرنے کے بعد واپسی پر کابل میں قدم رکھتے ہی پاکستان کے خلاف بیان داغنا ضروری سمجھتے تھے، جس پر پاکستانی قوم کو افسوس اور صدمہ پہنچتا تھا۔

اس پانچ روزہ دورے میں جہاں کئی اہم سفارتی ،تجارتی اور باہمی دلچسپی کے اُمور پر مفید تبادلۂ خیال ہوا، وہاں مجموعی طور پر باہمی خیرسگالی کے جذبات پائے گئے۔پاکستانی وزیر خارجہ بلاول زرداری کا رویہ بھی مثبت رہا۔یاد رہے کہ اب تک پاکستان پیپلز پارٹی کا مجموعی طور پر اور بلاول زرداری کا خاص طور پر افغانستان کے بارے میں موقف مثبت نہیں تھا۔تحریک طالبان کے خلاف ان کے پے دَر پے بیانات ریکارڈ پر ہیں اور پاکستانی وزیر خارجہ کے ایسے بیانات امریکی پالیسی کے زیراثر نظر آتے تھے۔ موجودہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف بھی افغان امور سے لاتعلق نظر آتے ہیں۔اس لحاظ سے لگتا ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے وزیر کو اچھی بریفنگ دی تھی اور چینی وزیر خارجہ کی موجودگی نے بھی اس رویے کی تبدیلی میں کردار ادا کیا، جو اس وقت امارت اسلامی افغانستان کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات کی بحالی اور تعمیر نو کے کام میں پورا کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور دونوں حکومتوں کے درمیان کئی بڑے ترقیاتی منصوبوں پر بات چیت جاری ہے۔ علاوہ ازیں چین کو مشرقی ترکستان کے صوبوں میں جاری مسلم مزاحمتی تحریک (ETIM) سے بھی خطرات لاحق ہیں جس کے ازالے کے لیے وہ کوشاں ہے۔

گذشتہ سال بھی اس طرح کی ایک کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہو ئی تھی، جس میں تینوں ممالک کے باہمی تجارتی امور،امن و سلامتی، دہشت گردی کے اسباب اور منشیات کا قلع قمع جیسے اُمور پر تبادلۂ خیال کیا گیا تھا۔امیر خان متقی کے ہمراہ وزیر تجارت نورالدین عزیزی بھی شریک تھے، جن کاتعلق پنج شیر سے ہے۔ مُلّا امیر خان متقی نے اپنے دورے میں دیگر اہم شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں، جس میں پاکستانی سپہ سالار جنرل عاصم منیر سے بھی ملاقات شامل ہے۔ پاکستان میں ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور تخریبی کارروائیوں کو افغانستان میں قائم مراکز سے جوڑا جاتا ہے۔ ان افسوس ناک واقعات اور حملوں میں مسلسل سیکورٹی فورسز،افواج پاکستان،پولیس کے جوانوں اور عوام کا جا نی و مالی نقصان ہو رہا ہے، جس پر پوری قوم میں سخت تشویش پائی جاتی ہےاور امارت اسلامی افغانستان سے اس کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اس بارے میں افغان وزیر خارجہ نے پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف سے جو مذاکرات کیے، اس کی تفصیلات تو معلوم نہیں ہوسکیں،البتہ ان کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ امارت اسلامی نے پہلے بھی ٹی ٹی پی کی قیادت کو مذاکرات کے لیے آمادہ کیا تھا اور آیندہ بھی اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

افغان وزیر خارجہ نے پاکستانی قومی و صوبائی سیاست دانوں کو ظہرانے پر مدعو کیا، جن میں امیرجماعت ا سلامی پاکستان سراج الحق ،جمعیت العلماء اسلام اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، پختون ملّی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان شامل تھے۔ اس ملاقات میں پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان رابطوں کی اہمیت پر زور دیا گیا اور خطے میں امن و سلامتی کے قیام کی ضرورت پر بات ہوئی۔ افغان وزیر خارجہ نے اسلام آباد کے تھنک ٹینک ،انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرے ٹیجک اسٹڈیز کی ایک بڑی مجلس سے بھی خطاب کیا، جس میں سفارت کار اور اہم شخصیات شریک تھیں۔

بدقسمتی سے ان دو اہم اجتماعات میں جو مسئلہ زیر غور نہ آسکا وہ عالمی سطح پر امارت اسلامی افغانستان کو تسلیم کرنا اور ان کو اقوام عالم کی صف میں اپنا مقام دینا ہے، جس سے مسلسل محرومی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور ملت افغان کے ساتھ زیادتی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جب دوحہ کانفرنس کے حوالے سے شروع میں میڈیا میں یہ بات آئی کہ شاید اس موقعے پر افغان حکومت کو تسلیم کرنے کی جانب کوئی مثبت پیش رفت ہو، تو سوشل میڈیا پر اس تجویز کی فوراً مخالفت شروع ہو گئی اور خواتین کے حوالے سے امارت اسلامی کی پالیسی کو بنیاد بناکر مطالبہ کیا جانے لگا کہ ’’موجودہ افغان حکومت کو تسلیم نہ کیا جائے‘‘، حالانکہ افغان امور سےوابستہ اکثر لوگ اس کی اہمیت اور ضرورت کے قائل ہیں۔

ــــــــــــــــــــــ اسی طرح ۱۷مئی کو افغانستان میں اُس وقت ایک اہم تبدیلی رُونما ہو ئی، جب سن رسیدہ افغان وزیر اعظم مولانا محمدحسن اخوند کو خرابیٔ صحت کی وجہ سے فارغ کر کے نسبتاً جواں سال   نائب وزیر اعظم مولوی عبدالکبیر کو وزیر اعظم مقرر کر دیا گیا۔یہ تقرر تحریک طالبان کے امیر مُلّا ہبت اللہ کے حکم سے ہوا۔مولوی عبدالکبیر صاحب، طالبان کے پہلے دور میں بھی وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔

کشمیر کی سب سے قدیم اور تاریخی جامع مسجداب کے برس بھی عید الفطر کے موقعے پر اُداس اور ویران رہی، اپنے نمازیوں کی نمازِ عید اور دید کو ترستی رہ گئی۔ وجہ یہ تھی کہ جبر کی طاقت کے خیال میں ’’کشمیریوں کے اس قدر بڑے اجتماع سے بغاوت پھیلنے اور اندیشۂ نقص امن کا خطرہ ہوتا ہے‘‘۔ اس لیے مجبوراً کشمیریوں نے عید الفطر کے چھوٹے اجتماعات منعقد کیے۔ ایسے ہی کئی اجتماعات کی وڈیو کلپس میڈیا میں گردش کرتی دیکھی جاسکتی ہیں، جن میں جموں کی چناب ویلی کے بھدرواہ علاقے کی ایک سرگرمی نے ساری توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ وہاں سیکڑوں لوگ سبز پرچم لیے گھوم رہے تھے۔ یہ پُرجوش لوگ کورس کی شکل میں اقبال کا انقلابی اور آفاقی کلام پڑھ رہے تھے:

خودی کا سرِ نہاں لااِلٰہ الااللہ
باطل سے دبنے والے، اے آسماں نہیں ہم

چناب ویلی کی یہ سرگرمی جس انداز سے اس بار زبان زدِعام ہوئی ہے، اس سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ یہ رسمِ وفا پورے جموں وکشمیر کے قصبوں، دیہات اور شہروں تک وسیع ہوجائے گی، اور آیندہ مزاحمت میں یہی رنگ نمایاں دکھائی دے گا۔چار سال کے بے سود انتظار اور گردوپیش سے مایوس ہو کر صوفی منش عوام اور مجاہد صفت قوم نے اپنے محسن اور فکری رہنما اقبال کو دوبارہ پکار ا ہے، اور اقبال نے مظلوموں اور مقہوروں کا یہ بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا ہے۔ اس طرح ان کی قیامت خیز تنہائی میں وہ اپنی قوم کی مدد کو آگئے ہیں۔

یہ وہی دیس ہے جس کے بارے میں اقبال خود کہتے ہیں:

تنم گُلے زخیابانِ جنّتِ کشمیر
دل از حریمِ حجاز و نواز شیرازاست

میرا جسم کشمیر کی مٹی سے آیا ہے، میرا دل سرزمین حجاز کا ہے اور میرے نغمے ایران کے ہیں۔

پھر وہ کشمیریوں کی حالت ِ زار پر اپنی افسردگی کا اظہا ریوں کرتے ہیں:

آج وہ کشمیر ہے محکوم ومجبور وفقیر
کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر

آہ یہ قومِ نجیب وچرب ودست وتر دماغ
ہے کہاں روزِ مکافات اے خدائے دیر گیر؟

کشمیر میں ڈوگرہ کی شخصی حکمرانی کے خلاف وادیٔ کشمیر کے مسلمانوں میں برپا انقلاب میں کشمیر سے باہر اگر کسی فرد کا بھرپور کردار ہے تو یہ نام اقبال ہی کا ہے۔ بدقسمتی سے کچھ بیرونی ہمدردوں کی بے تدبیریوں اور غلطیوں کی وجہ سے کشمیری اس انقلاب کی تکمیل سے محروم رہ گئے اور یہ انقلاب عملی شکل میں نہ ڈھل سکا۔ڈوگرہ درندگی سے نکل کر وہ فاشسٹ ہندستان کی غلامی کا شکار ہوگئے اور اقبال کے ہاتھوں برپا کردہ بیداری کا انقلاب ان کے سینوں میں موجزن اورشعلہ بار ہوا۔

اقبال کشمیریوں کی فکری رہنمائی اور ان کی حالتِ زار دنیا تک پہنچانے کے لیے کام کرتے رہے۔انھی کی تحریک پر ہی کشمیری وکلا نے وائسرائے ہند کے نام خطوط لکھنے کا سلسلہ شروع کیا، جس کے نتیجے میں انگریز سرکار نے ڈوگرہ حکمرانوں کو ایسی اصلاحا ت پر مجبور کیا، جن میں کشمیریوں کے لیے سانس لینے کی آزادی کا حصول ممکن ہوا۔ان خطوط میں اقبال کے استعاروں اور اصطلاحات نے ڈوگرہ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ انگریز کو بھی چونکا دیا تھا۔ اقبال، کشمیر کومسلم امت کی تحریک سے جوڑتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔

 پھر ۱۹۳۱ء میں جب اقبال اپنے دوسرے سفر پر کشمیر آئے تو تحقیق کاروں کے مطابق وہ یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ کشمیر کی وادیوں میں اب آزادی و انقلاب کے آثار پیدا ہو چکے ہیں۔ دبے اور کچلے ہوئے عوام میں خوئے بغاوت اور جذبۂ حُریت دکھائی دینے لگا ہے۔ان مناسبتوں کے پس منظر میں کشمیریوں اور اقبال کا ساتھ بہت پرانا اور گہرا ہے۔وہ اس حقیقت سے بخوبی  آگاہ ہیں کہ اقبال کے فارسی کلام میں کوہ ودمن میں آگ لگانے کی صلاحیت ہے۔یہ مُردہ ضمیر اور بے حس وحرکت جسموں کو اُٹھا کر معرکہ زن بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایران کے انقلاب میں اقبال کے کلام سے رہنمائی کا اعتراف آیت اللہ علی خامنہ ای نے۱۹۸۶ء میں کرتے ہوئے کہا تھا: ’’ایران کا انقلاب اقبال کے خواب کی تعبیر ہے۔ہم اقبال کے دکھائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں‘‘۔

اور ۱۹۹۰ء میں جب سوویت یونین ٹوٹ رہا تھا تو تاجکستان کے طول و عرض میں آزادی کی راہ پر چلنے والے ہزاروں افراد اقبال کے اس نغمے پر جھوم رہے تھے:

اے غنچۂ خوابیدہ چو نرگس نگراں خیز
از خوابِ گراں، خوابِ گراں، خوابِ گراں خیز

اے خوابیدہ کلی تو نرگس کے پھول کی طرح آنکھ کھول۔گہری نیند سے، گہری نیند سے، گہری نیند سے جاگ۔

اس روز بی بی سی،لندن نے ’سیر بین‘ پروگرام کا آغاز دوشنبے میں انھی لوگوں کی زبان سے ادا ہونے والے اسی نغمے سے کیا تھا۔آج کشمیریوں پر عتاب کا دور ماضی سے کہیں زیادہ سخت ہے، جب ان کے لیے ایک اور ’گلانسی کمیشن‘ (۱۹۳۲ء)کی ضرورت محسو س کی جارہی ہے، کیونکہ ان کے جمہوری اور انسانی حقوق اور کشمیری اور مسلمان کی حیثیت سے بھی ان کی شناخت خطرات کی زد میں ہے۔ مگر آج کوئی اقبال موجود نہیں ہے،جس کے لکھے اور بولے ہوئے لفظوں سے جبر کی دیوار میں شگاف ڈالا جا سکے۔المیہ یہ نہیں کہ کشمیری حالات کے جبر کا شکار ہو چکے ہیں اور ہرن، بھیڑیوں کے غول میں پھنس چکا ہے۔ بلکہ المیہ یہ ہے کہ ان حالات میں ان کا مونس اور غم خوار اور ہمدرد ہونے کا  دعوے دار بھی حالات کے آگے سپر ڈال چکا ہے۔

 کشمیری جب بھی حالات کے جبر کا شکار ہوکر تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں، تو اسی دھرتی کے خمیر سے جنم لینے والا ایک نابغہ روزگار ان کی فکری اور عملی مدد کو آتا ہے۔یہ کشمیر کی وادیِ لولاب کا فرزند ہوتاہے، جسے دنیا علامہ محمد اقبال کے نام سے جانتی ہے۔انیسویں صدی میں جب کشمیری شخصی حکمرانی کے جبر کا شکار تھے اور ان کی آواز وادی کے قید خانے کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتی تھی۔ بڑے مراکز میں رہنے والوں کو کچھ اندازہ نہیں تھا کہ بانہال کے پہاڑوں کی اُوٹ میں جنّت گم گُشتہ کے باسی کس حال میں ہیں، تو اس ہلاکت خیز تنہائی میں اس دور کے علّامہ محمد اقبال جو اپنے کلام اور فکر وفن کے لحاظ سے دنیا بھر میں مشہور ہوچکے تھے ،اپنی درماندہ حال قوم کی مدد کو آئے تھے۔

علّامہ اقبال نے نہ صرف اپنے آبائی وطن کشمیر اور علاقے لولاب کا دورہ کیا بلکہ اپنی شاعری کے ذریعے کشمیریوں کو بیدار کرنے کا بیڑا بھی اُٹھایا۔انھوں نے لاہور کے پرانے کشمیریوں کی محفلوں میں کشمیر کے حالات پر بات کا آغاز کیا،لاہور کے اخبارات کو کشمیر کے حالات پر لکھنے اور بولنے کا مسلسل مشورہ دینا شروع کیا۔ایسی ہی ایک محفل میں علامہ نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا تھا:

پنجۂ ظلم وجہالت نے برا حال کیا
بن کے مقراض ہمیں بے پر و بے بال کیا

توڑ اس دست جفا کیش کو یارب جس نے
روحِ آزادیٔ کشمیر کو پامال کیا

یوں اقبال کی رہنمائی میں کشمیر کے حالات کی خبر وادی کی تنگنائے سے نکل ہندستان کی وسعتوں تک پہنچنے لگی، جس کا مطلب یہ تھا کہ معاملے کی حقیقت انگریز سرکارتک پہنچنے لگی ہے۔شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ انگریز سرکار کے دباؤ پرڈوگرہ حکمران کشمیر میں اصلاحات کے لیے ’گلانسی کمیشن‘ جیسے فورمز کو جگہ دینے پر مجبور ہونے لگے۔ اقبال ایک راہ دکھلا کر دنیا سے چلے گئے، مگر ان کا کلام اور فکر کشمیر میں حُریت اور انقلاب کے شعلوں کومسلسل زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی۔اسی فکری انقلاب کے اثرات اگلے ہی عشرے میں ایک واضح بیداری کی شکل میں اُبھرتے نظر آئے۔

آج کشمیری ایک بار پھر ۱۹۳۰ءکے زما نے میں پہنچ گئے ہیں، بلکہ حالات تو اس سے بھی بدتر ہیں۔وہ ایک بار پھر وادی کے پہاڑوں کے پیچھے قید ہوچکے ہیں۔آزاد دنیا سے ان کے روابط منقطع ہو چکے ہیں۔اگر روابط قائم بھی ہیں تو وہ دل کی بات زبان پر لانے سے قاصر ہیں۔ اس کی پُراثر اور دل دوز منظر کشی بھارت کےThe Wire ٹی وی کی میزبان عارفہ خانم شیروانی صاحبہ نے اس سال جنوری میں اپنے دورۂ سری نگر میں کی تھی۔

جب وہ مائیک اُٹھائے سری نگر کی گلیوں میں لوگوں سے پوچھ رہی تھیں کہ ’’۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے فیصلے کے بعد حالات کیسے ہیں؟‘‘اکثر لوگ تو جواب دینے سے پہلو بچاکر اور نگاہیں جھکا کر خاموشی سے آگے بڑھ جاتے تھے، مگر انھی لوگوں میں ایک واجبی سے حلیے والے ذہین شخص نے کچھ نہ کہتے ہوئے سب کچھ کہہ دیا۔وہ اگر ایک لفظ بھی نہ بولتا تو تب بھی اس کے چہرے کے تاثرات پوری کہانی سنا رہے تھے۔عارفہ خانم نے مائیک آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ’’ ۵؍اگست کے بعد حالات کیسے ہیں؟‘‘ تو اس شہری کا جواب تھا: ’’ٹھیک ہیں، سب ٹھیک ہے۔حالات اچھے ہیں‘‘۔شاید عارفہ خانم کو اس جواب میں روکھا پن محسوس ہوا،تو انھوں نے کچھ بتانے پر اصرار کیا۔ اس شخص نے زمانے بھر کا کرب اپنے لہجے میں سمیٹتے ہوئے کہا:’’کیا بتاؤں، اب کہنے کو کیا بچا ہے؟ سب کچھ تو چھن گیا۔ جو شخص دن کو بات کرتا ہے، وہ رات کو اُٹھالیا جاتا ہے‘‘۔

یوں دکھائی دیتا ہے کہ اس ماحول میں کشمیر کے لوگ اپنے جذبات کاا ظہا رکرنے سے قاصر ہیں۔ایسے میں اقبال کی فکر اور انقلابی سوچ کو اپنا کرانھوں نے حالات کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سے یہ اندازہ بھی ہورہا ہے کہ کشمیری عوام کے جذبات نے اپنے اظہار کے لیے ایک نیاراستہ اور اپنی قیادت کے لیے اپنا فکری رہنما ڈھونڈ لیا ہے۔ ۵؍اگست کے بعد ظلم کے سیاہ بادلوں میں انھوں نے روشنی کا ایک طاقت ور استعارہ تلاش کر لیا ہے:

باطل سے دبنے والے، اے آسماں نہیں ہم

 کلامِ اقبال کورس کی شکل میں عید کے روز گلی کوچوں میں پڑھتے ہوئے گھومنے والے کشمیریوں کے مزاج اور موڈ سے یہی انداز ہ ہورہا ہے۔اب کی بار کشمیر کواقبال کی ضروت بیداری کے لیے نہیں، بلکہ ایک بیدار معاشرے میں احساس کی ایسی چنگاری کو زندہ رکھنے کے لیے ہے۔

چین کی ثالثی کے نتیجے میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت، مشرق وسطیٰ کے جغرافیائی اور سیاسی منظر نامے میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مخالفت کے ایک طویل دورانیے نے بڑے پیمانے پر عدم استحکام اور عدم تحفظ کو جنم دیا، جس کا اثر پورے خطے پر پڑا تھا۔ الحمدللہ، یہ پیش رفت دو روایتی حریفوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام اور خطے سے باہر تعاون اور اشتراک کا ایک نیا باب رقم کر رہی ہے۔

’سعودی، ایران معاہدہ‘ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مقاصد کے لیے مثبت نقطۂ نظر کو سامنے لاتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی یہ بحالی، توانائی اور تجارتی تعاون کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے گی، جو خود پاکستان کی معیشت کے فروغ کا باعث ہوگا۔ پاکستان کے تاریخی اور روایتی طور پر ایران کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات رہے ہیں، جب کہ سعودی عرب دینی اور اقتصادی طور پر ایک اہم ملک ہے جس میں پاکستانی تارکین وطن کی بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ معاہدہ علاقائی امن و استحکام کی جانب ایک قدم کی نشاندہی کرتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا تعمیری کردار، قیامِ پاکستان کے بعد سے قائم ہے اور اس نے خطے کے ممالک کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کی کوششوں کی مسلسل حمایت کی ہے۔ چین کے ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو‘ (BRI) کا مقصد ایک بڑی اور ایک دوسرے کے تعاون پر منحصر مارکیٹ تیار کرنا ہے۔ اس طرح بلاشبہہ چین، تجارتی اہداف کے ساتھ ساتھ اپنے عالمی اور سیاسی مفادات کو بھی فروغ دے گا۔ بی آر آئی پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم ہے۔ سعودی عرب اور ایران نے چین کے تعمیراتی منصوبوں کے لیے مشرق وسطیٰ کے دیگر ۱۹ ممالک کے ساتھ بی آر آئی پر دستخط کیے ہیں۔

’چین پاک اقتصادی راہداری‘ ( CPEC) کے فریم ورک کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور چین کو بہت کچھ معاونت دے سکتا ہے۔ چین نے اقتصادی راہداری اور بی آر آئی کا ایک فلیگ شپ کوریڈور ۲۰۱۵ء میں شروع کیا تھا جس کی مالیت تقریباً ۶۲ بلین ڈالر ہے، اور اس منصوبے میں تقریباً ۲۶بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے۔ سی پیک کا دوسرا مرحلہ اس وقت جاری ہے اور مکمل ہونے پر یہ چین پاکستان کو مغربی چین سے گوادر پورٹ تک قدرتی گیس اور خام تیل کی نقل و حمل کا راستہ فراہم کرے گا۔ شمالی پاکستان میں شاہراہ قراقرم (KKH)کی تزئین و آرائش ہو چکی ہے،  جس نے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں اور مستقبل قریب میں اسے مزید جدید بنایا جائے گا اور وسعت دی جائے گی۔

پاکستان میں گوادر بندرگاہ کا تزویراتی (strategic) محل وقوع چین اور پاکستان دونوں کے لیے عظیم اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی امکانات پیش کرتا ہے۔ گوادر کی بندرگاہ، آبنائے ہرمز کی گزرگاہ پر واقع ہے، جو دنیا میں تیل کی ایک تہائی کھیپ کو سنبھالتی ہے، اور مشرق وسطیٰ کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعلقات میں گیم چینجر ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین ’پاکستان اقتصادی راہداری،  میں گوادر کا مقصد چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو بحرہند سے جوڑنا ہے۔ پاکستان کا گوادر فری زون منصوبہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کر سکتا ہے، جب کہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ ٹیکس مراعات، کاروباری اداروں کو وہاں صنعت کاری کرنے کی ترغیب دے سکتی ہیں۔ صنعت کاری کے مرکز (Hub) کے طور پر گوادر کی صلاحیت چینی اور مشرق وسطیٰ کی کمپنیوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے، جو اپنے صنعتی اور تجارتی اہداف کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔

ایران، بھارت اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو اسٹرے ٹیجک طور پر متوازن بنا رہا ہے کیونکہ وہ خطے میں اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کرتے ہیں۔ بھارت، چابہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری کرکے علاقے میں پاکستان کو نظرانداز کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ لیکن یہ غیر یقینی ہے کہ بھارت ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے گا کیونکہ امریکا کے ساتھ بھارت کے تعلقات بڑھ رہے ہیں۔ بی آر آئی میں ایران کی شمولیت کے اس فیصلے سے ایران کا کردار کیا ہوگا؟ یہ توجہ طلب پہلو ہے۔ تاہم، پاکستان کی گوادر پورٹ میں چین کی سرمایہ کاری، چابہار میں بھارت کی سرمایہ کاری کا مقابلہ کرتی ہے۔ یہ دونوں ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے۔ بہر حال، چابہار کو گوادر سے جوڑنے والی ایک شاہراہ اور قدرتی گیس کی پائپ لائن کی تعمیر ایران کو گوادر کے راستے پاکستان اور چین کو قدرتی گیس برآمد کرنے کے قابل بنا سکتی ہے، جس سے پاکستان اور ایران کے درمیان کثیر جہتی تعاون کے مواقع موجود ہیں۔

چین کا ۲۰۲۱ء میں ایران کے ساتھ ۲۵ سالہ اسٹرے ٹیجک تجارت اور سرمایہ کاری کا معاہدہ، جس کی مالیت ۳۰۰ بلین ڈالر ہے، یہ اس کے ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو‘ (BRI)کا حصہ ہے۔ اس اقدام کو چابہار گہرے پانی کی سمندری بندرگاہ میں بھارتی سرمایہ کاری کو چیلنج کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ پھر اس معاہدے میں سعودی عرب کی شمولیت سے خطے میں امن قائم ہوسکتا ہے جو پاکستان کے لیے خوش آیند پیش رفت ہے۔ معاہدے کے تحت توانائی کی فراہمی کے لیے پاکستان کے راستے کی ضرورت ہوگی۔ اسلام آباد ممکنہ طور پر ایران سے تیل اور گیس رعایتی شرح پر حاصل کرے گا، جب کہ چین، ایرانی تیل سے کم از کم ۱۲  فی صد کی رعایت پر فائدہ اٹھائے گا۔

سعودی ایران تعلقات کی خوش گواری، پاکستان کے لیے سعودی عرب کے دباؤ کے بغیر ایرانی تیل اور گیس حاصل کرنے کا ایک موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ سی پیک میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری بشمول گوادر میں ایک بڑی آئل ریفائنری کا قیام خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، سی پیک منصوبے کے تحت ڈبل ٹریک ریلوے اور پائپ لائنیں، جو اس وقت زیر تعمیر ہیں، مشرق وسطیٰ اور چین کے درمیان سامان کی آمدورفت کے لیے ایک نیا چینل بنائیں گی، جس سے مخصوص جغرافیائی صورتِ حال میں باہم اقتصادی اور سیاسی انحصار میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان  ان ممالک کے درمیان راستوں کو جوڑ کر اور سستے نرخوں پر تجارت کر کے نمایاں آمدنی حاصل کر سکتا ہے، جس سے اس کی معیشت کو نمایاں فروغ حاصل ہو گا۔

گوادر پورٹ شہر کی ترقی پاکستان میں سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے اور عرب ممالک سے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ یہ جدید نقل و حمل کا بنیادی ڈھانچا ہے اور اعلیٰ ترین سہولیات دنیا بھر کے سیاحوں کو خاص کر مشرق وسطیٰ کے سیاحوں کو راغب کر سکتا ہے۔ مزید برآں، گوادر اسپیشل اکنامک زونز اور ری ایکسپورٹ زونز کی جاری ترقی سے پاکستان کی معیشت کو فروغ ملے گا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی گوادر کے  آئل ٹرمینل سٹی میں بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کر چکے ہیں۔ سابقہ حکومت نے ۲۰۱۹ء میں پیٹرو کیمیکلز میں ۱۰بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی اور بعد میں آئل ریفائنری کی تعمیر کے لیے ۵ بلین ڈالر کے مشترکہ منصوبے کی تیاری کی جارہی تھی۔

آخر میں، سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کا معمول پر آنا پاکستان کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون سے فائدہ اٹھانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ BRI میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر، پاکستان اس نئی پیش رفت سے فائدہ اٹھانے کے لیے اچھی پوزیشن میں ہے اور امید ہے کہ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کا باعث بنے گی۔ مگر اس سب کچھ کے لیے ملک میں امن اور خارجہ پالیسی میں توازن اور معاملات میں شفافیت ضروری ہے۔

مسلم دُنیا میں تصادم اور تنائو کی فضا ایک طویل تاریخ رکھتی ہے، لیکن گذشتہ پچاس برسوں میں اس تصادم کے ماحول میں جن دو ممالک کے درمیان کبھی کم اور کبھی زیادہ کشیدگی نے مسلم دُنیا کے حال اور مستقبل پر گہرے منفی اثرات ڈالے، یہ دو ممالک ہیں سعودی عرب اور ایران۔

اس فضا کو گہرائی اور وسعت دینے میں جہاں دونوں ممالک کی سیاسی قیادتوں کا کردار تھا، وہیں اسرائیل کے نام سے ایک آلہ کار امریکی اسرائیلی ریاست کا وجود اہم سنگ میل ہے کہ جسے طاقت اور قوت دے کر امریکی اور مغربی ممالک نے مسلم دُنیا کی کلائی مروڑنے کا کام لیا۔ اس دوران بے مقصد عراق ایران جنگ نے لاکھوں مسلمانوں کی جان لی، اور پھر قریب کے مسلم ممالک مختلف تصادموں اور المیوں کی آماج گاہ بنے رہے۔جس سے خاص طور پر پاکستان متاثر ہوا۔

اس ماحول میں ۱۱مارچ ۲۰۲۳ء کو دُنیا اُس وقت حیران اور امریکی حکومت ششدر رہ گئی، جب بیجنگ میں سعودی عرب اور ایران نے چینی حکومت کے سامنے یہ عہد کیا کہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول کا پاس و لحاظ رکھیں گے اور ایک دوسرے کی ریاستی خود مختاری کا احترام کریں گے،دوستانہ ہمسائیگی کے تعلقات قائم کریں گے، اور اختلافات بات چیت سے حل کریں گے۔ کھیلوں، سائنسی ترقی اور معیشت کے میدانوں میں تعاون بڑھائیں گے۔

یہ اعلان بیجنگ، ریاض اور تہران سے بہ یک وقت نشر کیا گیا، اور دونوں ممالک نے چینی حکومت کی ثالثی کی کوششوں کی تحسین کرتے ہوئے، تعاون کی اس فضا کو ترقی دینے اور مستحکم کرنے کی کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اعلان کیا۔

یاد رہے دسمبر۲۰۲۲ء میں چینی صدر شی چن پنگ نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور پھر فروری ۲۰۲۳ء میں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے بیجنگ کے دورے میں مستقبل کے تعلقات کی اس فضا کو بہتر بنانے میں پیش رفت کی۔ اگرچہ اس اعلان سے یہ ایک مبارک پیش رفت ہوچکی ہے، لیکن آثار بتاتے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل اس کے نتیجے میں اپنے تزویراتی اہداف کو پہنچنے والے جھٹکے کو خوش دلی سے قبول نہیں کریں گے۔ اب یہ سعودی اور ایرانی قیادتوں کی بالغ نظری کا امتحان ہے کہ وہ پُرامن خطے کو وجود میں لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں اور سازشی عناصر کے جوڑ توڑ پر کڑی نگاہ رکھیں۔

۱۹۷۹ء میں انقلاب کے بعد ایران مغرب کی طرف سے مسلسل نشانے پر رہا۔ گذشتہ برسوں میں سعودی عرب اور اسرائیل کے باہم تعلقات میں پیش رفت نے ایران کے لیے خطرات کا گراف مزید بلند کردیا، جسے کم کرنے کے لیے ایرانی قیادت نے سوچ بچار کے عمل کو تیز تر کیا۔

ماضی قریب میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے، جب شمالی افریقا کے عربوں میں ۲۰۱۱ء کے دوران عوامی بیداری کی تحریک شروع ہوئی تو عرب حکمرانوں نے اس آزادی کے سیلاب کا رُخ موڑنے کے لیے فرقہ واریت کو پروان چڑھانے کا منفی کام کیا، جس کے نتیجے میں یہ عوامی اُبھار اُلجھ کر رہ گیا اور جس کو خاص طور پر شام میں تباہ کن عذاب دیکھنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں خود فلسطینی تحریک مزاحمت کو انتہائی شدید نقصان پہنچا۔

دوسری طرف ۲۰۱۴ء میں یمن میں جو تضاد بھڑکا، اس نے شیعہ سُنّی مناقشے کا رُوپ دھار لیا، جس میں ایران نے براہِ راست پیش قدمی کرکے ۲۰۱۵ء میں سعودی عرب کی سلامتی کے لیے مسائل کھڑے کر دیئے۔ اسی تسلسل میں جنوری ۲۰۱۶ء کے دوران سعودی عرب نے ممتاز شیعہ عالم نمرباقر کو پھانسی دے دی اور حالات میں کشیدگی برق رفتاری سے بڑھ گئی۔ جس کے نتیجے میں سعودی عرب اسلحے کی خریداری کی ایک حددرجہ مہنگی اور ناقابلِ تصور دوڑ میں اُتر گیا۔ امریکی اسلحہ سازی کی صنعت کو ہوش ربا فائدہ ہوا اور سعودی معیشت پر ناقابلِ بیان بوجھ پڑگیا۔

یہ امر بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ سعودی عرب پر امریکا اور اسرائیل کا ناقابلِ تصور دبائو مختلف سمتوں سے بڑھ رہا تھا، جس کے رَدعمل کے طور پر سعودی عرب اور امریکا میں دُوری کا عمل شروع ہوگیا۔ اسی طرح امریکا، سعودی عرب پر دبائو ڈال رہا تھا کہ وہ تیل کی قیمتیں کم کرے، جسے سعودی عرب نے تسلیم کرنے سے انکار کیا، جس سے ان کے درمیان تنائو اور فاصلہ مزید بڑھ گیا۔اس فضا میں سعودی قیادت کوشش کر رہی تھی کہ امریکا کے اثرات سے آزادہوکرعلاقے میں کردار ادا کرے۔ سعودی عرب کی اس داخلی سوچ کا چین کو ادراک تھا اور اس نے اس پس منظر میں ایک انقلابی اور تعمیری کردار ادا کرکے سعودی عرب اور ایران کو اپنے تعلقات درست کرنے کی طرف متوجہ کیا۔ ان ممالک کی قیادتوں کو باور کرایا کہ تصادم کے بجائے اشتراک اور تعاون کے ذریعے علاقے کے مسائل کو حل کریں اور اپنے وسائل کو اپنے ممالک کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کریں۔ اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں امریکا کا اثرورسوخ کم ہوگا، اسرائیل کے عزائم اور منصوبوں پر ضرب پڑے گی اور علاقائی ممالک کو اپنا کردار ادا کرنے کا موقع میسر آئے گا۔

اس میں پاکستان کے لیے بھی نئے امکانات کا بڑا سامان ہے، بشرطیکہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کو امریکا کے اثرات سے آزاد کروا کے، اپنے قومی مفادات اور مشرق وسطیٰ کی ترقی کے لیے استعمال کریں۔ تاہم، پیش نظر رہے کہ پاکستان کے لیے ایک پہلو خطرے کا بھی ہے ،جس کے بارے میں ضروری سوچ بچار کرنا اور ایران سے تعلقات میں جس کا خیال رکھنا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ اس اُبھرتے ہوئے نظام میں وسط ایشیا کی ریاستوں اور خود افغانستان کا عرب دُنیا تک رسائی کے لیے پاکستان پر انحصار کم ہوجائے گا اور وہ ایران کے راستے براہِ راست رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمیں اس سلسلے میں بہت سوچ سمجھ کر پالیسی بنانا ہوگی اور ایران سے خصوصیت سے معاملات طے کرنا ہوں گے۔

آج، جب کہ یہ منظر بدلا ہے تو اس کے تسلسل میں سعودی حکومت نے شام کے ساتھ معاملات کو معمول پر لانے کے لیے بڑا قدم اُٹھایا ہے۔ یہ چیز بھی امریکا اور اسرائیل کے لیے سفارتی پسپائی کا عنوان ہے۔

بہرحال، سعودی عرب اور ایران کے ان تعلقات کی بحالی کا مثبت اثر نہ صرف مسلم دُنیا بلکہ عالم انسانیت پر بھی پڑے گا۔ اسرائیلی ریاست کو قائم کرنے کے لیے برطانیہ، امریکا اور یورپ نے جس راستے کا انتخاب کیا تھا،اس کا بڑامقصد دُنیا کے اعصاب مرکز کو مسلسل اضطراب کا شکار کرکے وہاں کے قدرتی وسائل کا استحصال کرنا اور اسلحے کی مہنگی صنعت کے ذریعے یہاں کی دولت بٹورنا تھا۔ اس کے برعکس چین کی سفارت کاری میں صاف نظر آرہا ہے کہ اس کا مقصد اس علاقے کو دھونس پر مبنی امریکی اثرات سےبچاکر عمومی تجارتی مفادات کو فروغ دینا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک انسانیت کش جنگی صنعت کے مقابلے میں یہ تجارتی دھارے کا سفر ہے۔

مناسب ترین صورت یہ ہے کہ مستقبل میں ایسی تباہ کن صورتِ حال سے بچنے کے لیے سعودی عرب اور ایران آگے بڑھ کر پاکستان اور ترکیہ کے تعاون سے ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC) کو ایک نیا، فعال اور مؤثر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

دوسرے یہ کہ تاریخ کے اوراق کو تو ہم تبدیل نہیں کرسکتے مگر عوامی اور سماجی سطح پر آپس کے تعلقات میں بہتری اور خوش گواری کے لیے، فرقہ وارانہ مغائرت سے بلند ہوکر حیات بخش راستے تلاش کریں اور ایک نئے عہد کا آغاز کریں۔

تیسرا یہ کہ سائنس، ٹکنالوجی، ابلاغیات اور انتظامیات کے میدانوں میں شان دار پیش رفت کا آغاز کریں۔

چوتھا یہ کہ چین کی قومی سلامتی کو برقرار رکھتے ہوئے، وہاں ایغور مسلمانوں کے تعلیمی، تہذیبی، معاشی اور اختیاراتی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اس طرح مسلم دُنیا میں اطمینان کی لہر پروان چڑھانے کی غرض سے دُور اندیشی پر مبنی اقدام کی طرف متوجہ کریں۔

پانچواں یہ کہ افغانستان میں امن، سکون، شہری زندگی کی بحالی اور جنگی اثرات سے نجات دلانے کے لیے یہ تینوں ممالک پاکستان سے مل کر کردار ادا کریں۔

۲۳مارچ ۲۰۲۳ء کو جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول سے متصل ٹیٹوال،کرناہ میں بھارتی وزیر داخلہ امت شا نے ’ماتادا دیوی‘ کے مندر کا افتتاح کیا، کہ آزاد کشمیر سے آوازیں بلند ہونے لگیں کہ ’’کرتار پور کی طرز پر اس علاقے میں بھی ایک کوریڈور کا قیام عمل میں لایا جائے، تاکہ ہندو زائرین اصلی شاردا پیٹھ کے درشن کر سکیں اور اس علاقے کی آمد ن کے ذرائع پیدا ہوں‘‘۔ امت شا نے کہا کہ ’’یہ سب دونوں جانب سول سوسائٹی سمیت لوگوں کی مشترکہ کوششوں سے ممکن ہوا ہے‘‘۔

پھر دیکھتے ہی دیکھتے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرار داد بھی پاس کی، جس میں مذکورہ کوریڈور بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اگرچہ بعد میں حیرت انگیز طور پر حکومت نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا، مگر جو نقصان ہونا تھا، وہ ہو چکا تھا۔ ۲۰۱۹ء میں پنجاب میں کرتار پور گوردوارہ کے درشن کی خاطر سکھ عقیدت مندوں کے لیے ایک راہداری کی منظوری کے فوراً بعد سے یہ خبریں آنا شروع ہو گئیں تھیں کہ ’’اسی طرز پر اب پاکستانی حکومت لائن آف کنٹرول کے پاس ہندو زائرین کے لیے شاردا پیٹھ جانے کے لیے بھی ایک کوریڈور کھولنے پر غور کر رہی ہے‘‘۔

لائن آف کنٹرول کو کھولنے، آمد و ررفت کو آسان بنانے اور آر پار کشمیری عوام کے ملنے جلنے جیسے اقدامات کی کون مخالفت کرسکتا ہے۔ ۲۰۰۵ء میں سرینگر۔مظفر آباد بس سروس اور پھر ۲۰۰۸ء میں تجارت کے لیے اس کو کھولنے سے دونوں طرف کے عوام نے خاصا بہتر محسوس کیا تھا، مگر ۲۰۱۴ء میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے آنے کے بعد اس سمت میں رکاوٹیں کھڑی ہونا شروع ہوگئیں تھیں، تاآنکہ اس کو بند ہی کردیا گیا۔ ویسے تو پاکستان میں بھارت کے ساتھ تجارتی روابط بحال اور استوار کرنے کا طرف دار ایک طبقہ ہر لمحہ پنجاب میں واہگہ اور سندھ میں کھوکھراپار کے راستے تجارتی راہداریاں کھولنے کا مطالبہ کرتا آیا ہے، مگر وہ اتنی سنجیدگی کے ساتھ جموں و کشمیر لائن آف کنٹرول کے اطراف میں راہداریاں کھولنے پر اصرار کرتے نہیں دیکھے گئے۔

آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفر آباد سے ۲۲۱کلومیٹر دور شمال میں اٹھ مقام اور دودنیال کے درمیان، شاردا کھنڈرات، کشمیر کی قدیم تہذیب اور علم و فن کے گواہ ہیں۔ بودھ مت کی عظیم دانش گاہوں نالندہ اور ٹیکسلا کی طرح شاردا بھی ایک قدیم علمی مرکز تھا۔ نیلم اور مدھومتی کے سنگم پر واقع ان یادگاروں کو صرف ایک مندر یا عبادت گاہ کے طور پر فروغ دینا، تاریخ اور اس دا نش گاہ کے ساتھ انتہائی زیادتی ہے۔ اس جگہ پر اب بغیر چھت کے پتھروں کی ایک عمارت کھڑی ہے اور یہ علاقہ لائن آف کنٹرول سے صرف ۱۰کلومیٹر دُور ہے۔

چند برسوں سے ہندو خاص طور پر کشمیری پنڈتوں کے ایک طبقے کو اس بات پر اصرار رہا ہے کہ یہ ان کا مقدس مقام ہے اور ’’۱۹۴۷ءتک یہاں شاردا یا علم کی دیوی سرسوتی کے نام پر ایک مندر قائم تھا اور اس مندر کی زیارت کے لیے بھی ہر سال ہزاروں ہندو یاتری اس علاقے میں آتے تھے۔ دونوں اطراف خصوصاً آزاد کشمیرمیں اپنی روشن خیالی ثابت کروانے والے کئی لوگ بھی بغیر تحقیق کے اسی مسخ شدہ تاریخ کو تسلیم کرتے ہوئے اس یاترا کی بحالی کا مطالبہ کرنا شروع کرتے ہیں۔ بھارت میں ہندو قوم پرست آرایس ایس کی طرح پاکستان میں بھی تاریخ کو توڑ مروڑ کر اَزسرنو لکھنے کی دوڑ لگی ہے۔ بھارت میں یہ کام ہندو انتہا پسندوں کا خاصہ ہے، پاکستان میں یہ کام وہ افراد کررہے ہیں، جن پر اپنے آپ کو ’اعتدال پسند‘ اور ’روشن خیال‘ کہلوانے کا خبط سوار ہے۔

چارلس الیسن بیٹس نے ۱۸۷۲ء میں جب گزیٹئر آف کشمیر اینڈ لداخ مرتب کیا تواُس نے اس مقام پر ایک قلعے کی موجودگی کا ذکر کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ قلعے سے ۴۰۰گز کی دوری پر ایک عبادت گاہ کے کھنڈرات ہیں۔ اس نے لکھا ہے کہ یہ عمارت نہایت خستہ اور ویران حالت میں ہے۔ یاد رہے یہ ہندو ڈوگرہ حکمرانوں کا دور تھا، لہٰذا یہ دعوی ٰ کرنا کہ ’’اس علاقے میں ایک عالی شان مندر واقع تھا اور وہاں ۱۹۴۷ءتک جوق در جوق یاتری آتے تھے، ایک لغو بات اور غلط بیانی کی انتہا ہے۔ بیٹس اورانگریز سرویر جنرل والٹر لارنس نے اس دور میں کشمیر کا قریہ قریہ گھوم کر معمولی واقعات تک قلم بند کیے ہیں۔ ان کی نگارشات میں کہیں بھی، کسی شاردا مندر کی یاترا کا تذکرہ نہیں ہے۔کہتے ہیں کہ ۱۹ویں صدی میں ادھورے من سے ڈوگرہ حکمرانوں نے اس کی تزئین کی کوشش کی تھی، مگر اس کو اَدھورا چھوڑ دیا گیا تھا، اور بس اس عبادت گاہ کے ارد گرد مٹی کی ایک دیوار بنائی گئی۔ اگر اس جگہ پر عقیدت مند وں کا تانتا بندھا ہوتا، تو ہندو حکمرانوں نے اس جگہ پر عالیشان مندر یقینا تعمیر کرایا ہوتا۔ 

تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ جگہ بودھ مت کے عروج کے دوران ایک یونی ورسٹی کا درجہ رکھتی تھی۔نالندہ اور ٹیکسلا کے برعکس یہاں بدھ اشرافیہ یا چیدہ اسکالرز فلسفہ، سائنس اور بودھ مت کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ مشہور چینی سیاح و محقق ہیون سانگ[۶۰۲ء-۶۶۴ء] نے ساتویں صدی میں جب اس علاقے کا دورہ کیا، تو اس کے مطابق اس یونی ورسٹی میں بدھ بھکشو انتہا درجہ کی ریاضت اور تعلیم حاصل کرتے تھے۔ شاردا سے سرینگر تک اپنے سفر کے دوران اس نے کئی سو بودھ خانقاہیں دیکھیں، جن میں ہزاروں بھکشو مقیم تھے۔ اس دور میں یہاں ہر سال ۵۰ہزار کے قریب عقیدت مند آتے تھے اور اس دانش گاہ کے قلب میں واقع عبادت گاہ میں جانے سے قبل پاس کے شاردایا مدھومتی یا کھوچل دریا میں ڈبکی لگاتے تھے۔

شاردا کے کھنڈرات دراصل تاریخ کی اس کڑی کی نشاندہی کرتے ہیں، جب ہندو مت کو دوبارہ عروج حاصل ہوا اور بود ھ مت کو نشانہ بناکر ان کی عبادت گاہوں کو مندروں میں تبدیل کرایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آٹھویں صدی میں جب کیرالا سے ہندو برہمن آدی شنکر آچاریہ نے بودھ مت کے خلاف محاذ کھول کر پورے جنوبی ایشیا کا دورہ کیا، اس نے شاردا یعنی علم کی دیوی کے نام پر مندر تعمیر کروائے، جن میں سب سے بڑا مندر کرناٹک میں دریائے تنگ کے کنارے سرنگری میں واقع ہے۔جب وہ کشمیر آئے اور اس جگہ پر ان کا بد ھ بھکشوؤں کے ساتھ مکالمہ ہوا۔ ہندو تاریخ نویسوں کے بقول انھوں نے بدھ بھکشوؤں کو مکالمے میں چت کردیا۔ چونکہ اس دور میں اکثر راجے مہاراجے دوبارہ ہندو مت میں داخل ہو گئے تھے، شنکر آچاریہ نے ان کی مدد سے بھکشوؤں کا ناطقہ بند کرادیا اور ان کی عبادت گاہوں کو تہس نہس کرکے ان کی جگہوں پر مندروں کی عمارات کھڑی کردیں۔ یہی کچھ اس شارد ا پیٹھ کے ساتھ بھی ہوا ہے۔

۱۳۷۲ء میں میر سید علی ہمدانی کی آمد تک کشمیر میں وقتاً فوقتاً بودھ مت اور ہندو شیوازم کے درمیان انتہائی کشیدگی جاری تھی۔ ایک دوسرے کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنا ایک طرح سے معمول تھا۔ اسلام کو جس طرح اس خطے میں عوامی پذیرائی ملی، اس کی شاید ایک وجہ یہ بھی تھی۔ کشمیر میں ۱۲۶۰ء قبل مسیح میں سریندرا پہلا بودھ بادشاہ تھا۔ اشوکا [۳۰۴ ق م- ۲۳۲ ق م]کی حکومت کے خاتمے کے بعد راجا جالو نے ہندو شیوا زم قبول کیا اور بودھ مت پر ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔ بودھ اسٹوپوں، وہاروں کو تاراج کیا گیا۔ بودھ مت کی دانش گاہوں پر شیو مندر بنائے گئے۔ پھر ۶۳ء میں دوبارہ بودھ مت کو عروج حاصل ہوا۔ راجا کنشک کے عہد حکمرانی [۱۲۷ء-۱۵۰ء]میں بارہمولہ کے کانس پورہ میں چوتھی بودھ کونسل منعقد ہوئی اور بودھ مت کے ایک لبرل مہایانہ فرقہ کی بنیاد ڈالی گئی، جس کے پیروکار چین اور کوریا میں فی الوقت پائے جاتے ہیں۔

  جولوگ اس علاقہ کو ہندو زائرین کے لیے کھولنے کی وکالت کرتے ہیں، انھیں چند منٹ جنوبی کشمیر میں امرناتھ اور شمالی بھارت کے صوبہ اترا کھنڈ کے چار مقدس مذہبی مقامات بدری ناتھ، کیدارناتھ، گنگوتری اوریمنوتری کی مذہبی یاترا کو سیاست اور معیشت کے ساتھ جوڑنے کے مضمرات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ایک عشرہ قبل تک امرناتھ یاترا میں محدودتعداد میں لوگ شریک ہوتے تھے، لیکن اب ہندو قوم پرستوں کی طرف سے چلائی گئی مہم کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ اس کی یاتراکو فروغ دینے کے پیچھے کشمیر کو ہندوؤں کے لیے ایک مذہبی علامت کے طور پر بھی اُبھار نا ہے، تاکہ بھارت کے دعویٰ کو مزید مستحکم بناکر جواز پیدا کیا جاسکے۔

بھارت کے موجودہ قومی سلامتی مشیر اجیت دوبال تو کشمیر کو سیاسی مسئلہ کے بجائے تہذیبی جنگ قرار دیتے ہیں اور ان کے مطابق اس مسئلہ کا حل ہی تہذیبی جارحیت اور اس علاقہ میں ہندو ازم کے احیا میں ہے۔ ایک باضابطہ منصوبے کے تحت کشمیر کی پچھلی ۶۴۷سال کی مسلم تاریخ کو ایک تاریک دور کے بطور پیش کیا جاتا ہے۔ خطرہ تو بس یہ ہے کہ نام نہاد اعتدال پسندی کا دکھاوا کرکے وادیٔ نیلم یا شاردا کا علاقہ حقیر مفادات کے لیے کہیں دوسرا پہلگام اور بال تل نہ بن جائیں اور حریص طاقتیں ان کو سیاست ومعیشت کے ساتھ جوڑ کرکسی سانحے کا سامان پیدا نہ کریں۔ ایسی روشن خیالی کے ساتھ اگر بے ضمیری شامل ہے تو یہ زہر ہلاہل ہے!

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپیڈ کہتے ہیں:’’میں بوجھل دل کے ساتھ [اسرائیلی وزیراعظم] نتن یاہوکے ہمراہ سیکیورٹی بریفنگ میں شریک ہوا، لیکن بریفنگ کے مندرجات نے میرا غم دو چند کر دیا۔ ہمارے دشمنوں کو چہار سو جو منظر دکھائی دے رہا ہے اس میں حکومت کی نااہلی ہانکے پکارے نمایاں ہو رہی ہے۔ یاہو حکومت پر کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ اسرائیل اپنی سدِ جارحیت (ڈیٹرینس) کھو رہا ہے۔ اسرائیل ایک ایسا ملک بنتا جا رہا ہے، جس میں حسن انتظام نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی‘‘۔

کثیر الاشاعت اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے بھی لاپیڈ کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ’ تل ابیب، امریکی اور بین الاقوامی حمایت سے تیزی سے محروم ہو رہا ہے۔‘

یائر لاپیڈ کے فکر انگیز موقف کو دیکھ کر ذہن میں دو اہم سوال پیدا ہو رہے ہیں: پہلا یہ کہ اسرائیل کیا واقعتاً اپنی سدِجارحیت کی حیثیت کھو رہا ہے؟ دوسرا یہ کہ کیا مشرق وسطیٰ میں امریکا کا چہیتا اسرائیل دنیا کی حمایت سے محروم ہو رہا ہے؟

ہم دوسرے سوال کا جواب پہلے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دنیا میں اسرائیلی مقبولیت کا گراف کتنا نمایاں رہا ہے؟ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے اگر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر فلسطین اور اسرائیل سے متعلق پیش کی جانے والی قراردادوں اور بحث مباحثوں پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہو جائے گا کہ دنیا کے ملکوں کی بڑی اکثریت نے ہمیشہ فلسطینیوں کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ امریکی ویٹو کے سامنے اکثریتی ووٹ ہمیشہ ہیچ ہی رہا اور مطلوبہ نتائج سامنے لانے میں ناکام رہا۔

یائر لاپیڈ کے بیان میں بھی اسرائیل کی مطلق عالمی مقبولیت کا ذکر نہیں، بلکہ ان کا اشارہ روایتی طور پر امریکا کے حامی مٹھی بھر ملکوں کی جانب تھا۔ ان ملکوں میں بعض کا تعلق مشرق وسطیٰ سے ہے،جب کہ مغربی ممالک کی بڑی اکثریت بھی اس فہرست میں شامل رہی ہے۔لیکن اب یہ ممالک بھی سمجھ چکے ہیں کہ امریکا، مشرق وسطیٰ سے کنارہ کش ہو چکا ہے۔ یہ پسپائی روس اور یوکرین جنگ کے بعد سے شروع نہیں ہوئی بلکہ اس کا آغاز ۲۰۱۲ء میں بہت پہلے ہو چکا تھا۔

سابق امریکی صدر براک اوباما نے اپنے دور حکومت میں واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کا ارتکاز مشرق وسطیٰ سے ہٹا کر ایشیا پیسیفک ریجن کی طرف کر لیا تھا۔ ۲۰۱۲ء سے صدر اوباما نے Pivot to Asia پالیسی کو امریکی خارجہ پالیسی کا محور بنایا۔ اس پالیسی پر عمل درآمد کی رفتار میں  خاص طور پر اس وقت تیزی آئی، جب فروری ۲۰۲۲ء میں روس- یوکرین جنگ کا آغاز ہوا۔

دکھائی دیتا ہے کہ عرب دُنیا کو اب واشنگٹن کی علانیہ یا خفیہ حمایت کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ یہاں امریکی دلچسپی معدوم ہو رہی یا کم از کم اس درجے میں نہیں جتنی واشنگٹن نے ۲۰۰۳ءمیں مقبوضہ عراق پر ایک ایسی مہنگی ترین جنگ مسلط کرتے وقت دکھائی تھی کہ جس میں لاکھوں انسان لقمۂ اجل بنے۔

اب ہم پہلے سوال کی طرف آتے ہیں ۔کیا اسرائیل حقیقت میں اپنی ڈیٹرینس [سدِجارحیت] سے محروم ہو رہا ہے؟ در حقیقت اسرائیل اگر زیادہ نہیں تو کم از کم اب بھی اتنا طاقت ور ضرور ہے، جتنا وہ مئی ۲۰۲۱ء میں غزہ پر مسلط کی جانے والی جنگ کے وقت تھا۔دراصل یائر لاپیڈ یہ حقیقت باور کرانا چاہ رہے ہیں کہ فی زمانہ اسرائیل فلسطینیوں اور عرب ہمسایوں کے ساتھ اپنے تنازعے کو کسی ایک محاذ تک محدود رکھنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

گذشتہ کئی دنوں سے فلسطینی اور متعدد عرب مزاحمتی تنظیموں نے غزہ، جنوبی لبنان اور شام سے اسرائیل پر راکٹوں کی بارش کر رکھی ہے۔ غرب اردن میں فلسطینی عسکری گروپوں نے بھی قابض اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ماضی میں ایسی صورت حال کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس سے پہلے تاریخی طور پر اسرائیل نے ہمیشہ ایک وقت میں کسی ایک مزاحمتی گروپ یا ریجن پر فوکس کر کے طاقت کا توازن ہمیشہ اپنے حق میں برقرار رکھا، مگر اب یہ بات قابل عمل نہیں رہی کیونکہ شام، جنگ کی تباہی کے بعد چھٹنے والی دھول میں پہلے سے زیادہ طاقت ور ہو کر ابھر رہا ہے۔

حزب اللہ، اسرائیل کے غزہ اور لبنان پر حملوں کے بعد ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کی متحمل نہیں ہو سکتی اور غزہ اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے پہلے ہی اندوہناک صورت حال سے دوچار ہے۔ ایک لحاظ سے اہل غزہ کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں۔ دوسری جانب حالات معمول پر لانے کے شوروغل میں عرب ملک بھی اسرائیل کی ریشہ دوانیوں کے خلاف آواز اٹھانے لگے ہیں۔

رمضان المبارک کے دوران مسجد اقصیٰ پر صہیونی فوج کے چھاپے اور نمازیوں پر بہیمانہ تشدد پر سعودی عرب، او آئی سی(اسلامی تعاون تنظیم)، عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی مظالم کی مذمت کی۔ اس تبدیلی کا سہرا بدلتے ہوئے جیو پولیٹکل حالات کے سر جاتا ہے۔ مسجد اقصیٰ پر اسرائیل کی چھاپہ مار کارروائی پر خطے کے اہم عرب، مسلم اور مغربی ممالک خاموش نہ رہ سکے۔

قبلۂ اول کے خلاف جارحیت کے تسلسل کو اسرائیل اپنی روایتی چھاپہ مار کارروائی سمجھنے کی غلطی کر بیٹھا۔ صہیونی کار پرداز اس حقیقت کے ادارک میں ناکام رہے کہ مشرق وسطیٰ کی جیو پالیٹکس تبدیل ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسجد اقصیٰ میں ڈھائے جانے والے اسرائیلی مظالم پر فلسطینی ردعمل صرف غزہ، نابلس یا جنین سے نہیں بلکہ اس مرتبہ یہ ردعمل بیک وقت لبنان، شام اور پورے فلسطین سے سامنے آیا۔یاد رہے کہ اس سال صرف پہلے تین ماہ میں ۹۰ فلسطینی اسرائیلی افواج کے ہاتھوں شہادت پاچکے ہیں، مگر مزاحمت میں کچھ کمی نہیں آرہی۔

اس بات پر اسرائیلی انتظامیہ بدحواسی میں سر پکڑ کر بیٹھ گئی ہے۔ تل ابیب اس ردعمل کے لیے تیار نہیں تھا، نہ ہر بار کی طرح فخریہ انداز سے امریکا خم ٹھونک کر اسرائیل کی مدد کو لپکا۔

عرب دنیا مکمل طور پر نئی جیو پولیٹیکل صورت حال میں اپنا مقام ومرتبہ متعین کرنے میں مصروف ہے۔ اسرائیل بری طرح جال میں پھنس چکا ہے، جس کی مثال ماضی میں ملنا مشکل ہے۔

ادھر امریکی طوق وسلاسل میں جکڑے عربوں کو ’چلو چلو، چین چلو‘ کا نیا آہنگ اور نغمہ لبھانے لگا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان چینی ثالثی میں طے پانے والا معاہدہ حتمی طور پر ۶؍ اپریل کو دستخط کے لیے پیش کیا گیا۔

چین، اب مشرق وسطیٰ میں امن کا نیا سرپرست بن کر سامنے آیا ہے۔ اسرائیل کے لیے محال ہے کہ اس جال سے جلد نکل آئے کیونکہ امریکانے اسرائیل نوازی کی رفتار میں کچھ ٹھیرائو پیدا کیا ہے، اور دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں خود امریکا سے ہٹ کر نئے اتحاد تشکیل پارہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں فاشزم (فسطائیت)اپنی تمام وحشیانہ خصوصیات کے ساتھ پروان چڑھ رہا ہے۔ جمہوریت اور بنیادی شہری حقوق کی جگہ اب صرف قبرستان کا سا ماحول ہے۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو حکومت کے لیے کافی وقت، طاقت اور مواقع ملے، مگر انھوں نے عوام کے خلاف مجرمانہ عزائم کا مظاہرہ کیا اور بھارتی سرپرستی میں فاشسٹ حکمرانوں کی بدترین شکل بن کر اُبھریں۔ ان کی حکومت سفاکیت، آمریت، بدعنوانی اور بدانتظامی کا ’منفرد نمونہ‘ ہے۔ بنگلہ دیش کے عوام ۱۴ سال کی طویل حکمرانی کے دوران ایسے ریاستی جرائم کا قریب سے مشاہدہ کررہے ہیں۔ ریاستی ادارے عوام کو دبانے اور جبر پر مکمل اختیار رکھتے ہیں۔

حسینہ واجد، عوام، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کی دشمن کے طور پر پوری طرح جم کر کھڑی ہیں۔ اس لیے عوام اس حکومت سے مایوس ہیں۔ خود شیخ حسینہ کو اپنے جرائم اور عوام کے غصے کا پوری طرح اندازہ ہے۔ لہٰذا، لوگوں کے خلاف انھوں نےایک مخصوص حکمت عملی اپنا رکھی ہے۔ لوگوں کے ووٹ کے اختیار کو چھین کر ان کو بے اختیار بنانا یہ کلیدی حکمت عملی ہے۔ جس کے لیے انتخابی عمل کا مکمل اختیار سنبھال لیا گیا ہے۔ اس طرح یہ حکومت عوام کے ووٹوں پر ڈاکا ڈال کر خود کو منتخب کروا سکتی ہے۔ انتخابی دھاندلی اور ڈکیتی ۲۰۱۴ء اور پھر ۲۰۱۸ء کے انتخابات میں بھی ہوئی۔ یوں بنگلہ دیش کے عوام اپنے نمایندے خود منتخب کرنے کے آئینی حقوق سے محروم ہوگئے ہیں۔

l ووٹوں پر ڈاکا:آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو روکنے کے لیے حسینہ واجد نے نگراں حکومت (CTG) فارمولے کو ختم کر دیا ہے۔ یہ فارمولا پروفیسر غلام اعظم نے پیش کیا تھا، جس کی ۱۹۹۱ء میں تمام جماعتوں نے توثیق کی تھی۔ یہ ایک طویل سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ اس سے پہلے انتخابات اقتدار میں آنے والی پارٹی منعقد کراتی تھی۔ اس طرح حکمران پارٹی اپنے حق میں انتخابات میں دھاندلی کے تمام مواقع سے لطف اندوز ہوتی تھی۔لیکن جب حسینہ واجد ۲۰۰۸ء میں اقتدار میں آئیں تو انھوں نے تمام اپوزیشن سیاسی جماعتوں کی شدید مخالفت کے باوجود اسے ختم کردیا۔ اس اقدام نے حسینہ کے لیے انتخابی دھاندلی کی راہیں کھول دیں۔

حسینہ واجد سمجھتی ہیں کہ کسی بھی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات میں ان کی جیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ پچھلے انتخابات میں، وہ دو حلقوں میں اپوزیشن کے دو عام نمایندوں سے بھی شکست کھا گئی تھیں۔ تب سے، وہ زبردست انتخابی فوبیا کا شکار ہیں۔ الیکشن کمیشن اسے آزادانہ اور منصفانہ انتخاب قرار دینے کے لیے تیار ہے۔ ملک کی پولیس اور عدلیہ خاموش تماشائی ہیں۔

انتخابی دھاندلی کی تاریخ میں حسینہ نے مصر کے ابوالفتح السیسی اور شام کے بشار الاسد جیسے سفاک آمروں کے ریکارڈ کو بھی مات دے دی ہے ۔ ۳۰دسمبر ۲۰۱۸ء کو، اس کی پولیس نے الیکشن کے دن سے ایک رات پہلے جگہ جگہ ووٹ ڈالے۔ چونکہ پولیس خود ایک ادارہ ہونے کے ناتے اس جرم میں شریک تھی، اس لیے اس طرح کی بھیانک ڈکیتی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ انتخاب کے دن پولنگ سٹیشنوں پر پہنچنے والے حقیقی ووٹروں سے کہا گیا کہ وہ گھر واپس چلے جائیں کیونکہ ان کے ووٹ ڈالے جا چکے تھے۔ یہ حسینہ کے تکبر اور عوام کے خلاف دھوکا دہی کا عالم تھا۔ اس طرح کی لوٹ مار کے ذریعے، ۳۰۰ میں سے ۲۹۳ پارلیمانی نشستوں پر قبضہ کرلیا گیا۔ درحقیقت اس طرح وہ تمام ۳۰۰  پارلیمانی نشستیں آسانی سے لے سکتی تھیں۔ ۲۰۱۴ء کے انتخابات میں تو ۱۵۳ نشستوں پر عوامی لیگ کے اُمیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے۔ یہاں تک کہ ۱۰ فی صد ووٹروں سے زیادہ لوگوں نے ووٹ نہیں ڈالا۔ یہ حسینہ کا طرز انتخاب ہے۔ ایسی انتخابی دھاندلی کی توثیق سے بچنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں نے ۲۰۱۴ء میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

l اداروں کی تباہی:شیخ حسینہ نے۲۰۰۸ء میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے فوراً بعد جمہوریت کے بنیادی ادارے اور انتخابی نظام کو بآسانی تباہ کر دیا۔ عوام کو بنیادی انسانی حقوق تک حاصل نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ پُرامن احتجاج کرنے پر بھی لوگوں کو گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا یا جان سے مار دیا گیا۔ حفاظت ِ اسلام پارٹی کے سیکڑوں اسلام پسندوں کو ۵ مئی ۲۰۱۳ء کو ڈھاکہ میں ایک پُرامن احتجاجی ریلی منعقد کرنے پر قتل کر دیا گیا۔ شیخ حسینہ نے عدلیہ پر بھی کامیابی سے تسلط حاصل کر لیا ہے۔ وہ چاہے تو کسی کو پھانسی دے سکتی ہے یا جیل بھیج سکتی ہے۔ اس نے جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے کئی رہنماؤں کو پھانسی دے دی ۔

فوج اور پولیس کے اہلکاروں کا مقام ان کے پرائیویٹ ملازموں سے زیادہ نہیں ہے۔ وہ صرف اس کی حکمرانی کا تحفظ کرتے ہیں، نہ کہ لوگوں کی زندگیوں اور ان کے آئینی حقوق کا تحفظ۔ میڈیا اب مکمل طور پر قابو میں ہے۔ حسینہ واجد نے اپنی حکومت پر کسی بھی طرح تنقید کرنے والے کو جیل میں ڈالنے کے لیے ’ڈیجیٹل سیکیورٹی ایکٹ‘ متعارف کرایا ہے۔ اس کی حکومت پر تنقید کو ’ریاست مخالف عمل‘ قرار دیا جاتا ہے، لہٰذا انھیں گرفتار کر کے سزا دی جاسکتی ہے۔ بھارتی فاشسٹ وزیراعظم مودی کے دورے کے خلاف احتجاج کرنے پر مشرقی ضلع برہمن باڑیا میں پولیس کے ہاتھوں ۱۶؍ افراد ہلاک ہوگئے ۔ اس قتل کے جرم میں نہ کسی کو گرفتار کیا گیا اور نہ سزا ہی دی گئی اور اس قتل عام کی خبر کا مکمل بلیک آؤٹ کیا گیا۔

l ریاست __ دہشت گردی کا ادارہ:بنگلہ دیش کی ریاست جو فوج اور پولیس کے اہلکاروں کے ذریعے ڈیتھ اسکواڈ تشکیل دیتی ہے، اسے RAB  (The Rapid Action Batalion  ) کہتے ہیں۔ یہ وہ ادارے ہیں جو لوگوں کو حسینہ کی فاشسٹ حکمرانی کے تابع رکھنے اور خاموش رہنے کے لیے دہشت زدہ کر رہے ہیں ۔ وہ سیکڑوں ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ان کا نشانہ حکومت مخالف سیاسی کارکن، صحافی اور دانشور ہیں۔ RAB بغیر کسی عدالتی وارنٹ کے رات کی تاریکی میں لوگوں کو اغوا کرتا ہے۔ پورا ملک ایسے ڈیتھ اسکواڈز کا یرغمال بنا ہوا ہے۔ وہ ڈھاکہ چھاؤنی کے اندر دہشت ناک ٹارچر سیل چلاتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانا اور قتل کرنا حکومتی سرپرستی میں ایک اداراتی عمل بن چکا ہے۔ کچھ بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورکس جیسے ڈوئچے ویلے ، الجزیرہ، نیٹرو نیوز نے حکومتی سرپرستی پر مبنی ایسے اداروں پر دستاویزی فلمیں بنائی ہیں۔

اپوزیشن لیڈروں اور کارکنوں کے خلاف ہزاروں جھوٹے مقدمات درج ہیں۔ اس لیے گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ زیر زمین چلے جانے یا ملک چھوڑ کر غیر ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرلینے پر مجبور ہیں۔ گرفتار ہونے والے برسوں تک بغیر مقدمہ چلائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑتے رہتے ہیں۔

l حسینہ: ہندستان کی وائسرائے:حسینہ نہ صرف فاشسٹ، بدعنوان اور اسلام دشمن ٹھگ کی سی بدترین شکل ہے، بلکہ انھوں نے بنگلہ دیش کو بھی ہندستان کی ایک کالونی بنا دیا ہے۔   اس نے سات مشرقی ریاستوں تک رسائی کے لیے ہندستان کو مفت گزرگاہ فراہم کردی ہے، اور   بنگلہ دیشی بندرگاہوں تک رسائی دی ہے۔ ملک کی مارکیٹوں پر ہندستان کا قبضہ ہوچکا ہے۔ بنگلہ دیش کی دکانوں اور گھروں میں زیادہ تر سامان ہندستان کا بنا ہوا دستیاب ہے۔ زیادہ تر گاڑیاں، بسیں، ٹرک، سکوٹر اور سائیکل بھارت سے آتے ہیں۔ چونکہ تقریباً ۱۰ ملین بنگلہ دیشی بیرون ملک مقیم ہیں، اس لیے ایک بنگلہ دیشی کی فی کس آمدنی اور قوت خرید ایک ہندستانی سے زیادہ ہے۔ ہندستان مسابقت سے پاک زیرقبضہ مارکیٹ نہیں چھوڑ سکتا۔ بنگلہ دیش میں ہندستانی سامان کی مارکیٹ ہندستانی ریاستوں جیسے مغربی بنگال، آسام، بہار اور اڑیسہ کی مشترکہ مارکیٹ سے بڑی ہے۔ ایسے ہندستانی اقتصادی اور سیکیورٹی مفادات کے تحفظ کے لیے حسینہ دہلی کے حکمران گروہ کی وائسرائے کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اس لیے بھارت اس حکمرانی کا ہر ممکن اقدام سے تحفظ کر رہا ہے۔  ان حالات میں حسینہ کے خلاف کھڑے ہونا درحقیقت ہندستانی سامراجیت کے خلاف لڑنا ہے۔

حسینہ کو ۲۰۰۸ء میں دھاندلی زدہ الیکشن کے ذریعے امریکا، برطانیہ اور بھارت کی مشترکہ سازش کے ذریعے۱۸کروڑکی آبادی والے ملک میں اسلامی بیداری کی لہر کو روکنے کے لیے اقتدار میں لایا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بنگلہ دیش میں اسلام پسندوں کو غیرمنصفانہ عدالتی کارروائیوں اور نسل کشی کا سامنا کرنا پڑا تو ان سازشی طاقتوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ اب اسے بھارت، چین اور روس کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ بھارتی، چینی اور روسی کمپنیاں حسینہ اور اس کے ساتھیوں کو ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر کک بیک کے طور پر دیتی ہیں۔

اگلا پارلیمانی الیکشن ۲۰۲۴ء میں ہے۔ حسینہ واجد عوام کے ووٹوں پر ایک اور ڈاکا ڈالنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ وہ اس موقع کو کھونے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اگر وہ اقتدار سے باہر ہوتی ہے تو اپنے بے شمار قاتلانہ جرائم کی سزا سے نہیں بچ سکتی۔ درحقیقت بنگلہ دیش کے ۱۸کروڑ عوام کے لیے یہ واقعی ایک بہت بڑا امتحان ہے کہ وہ دشمن نما حکمران کو کب تک برداشت کریں گے؟

 یہ مختصر مضمون اس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہےکہ دُنیا کی طاقتوں نے اہلِ فلسطین پر جو مجرمانہ خاموشی اختیار کی تھی اوربالخصوص مسلم ممالک کی حکمران قیادتوں نے اس ضمن میں ظالم طاقتوں کے خلاف بظاہر احتجاجی مگر فی نفسہٖ اعانتِ مجرمانہ کا رویہ اختیار کیا تھا، اسے اللہ کے بھروسے پر فلسطینیوںنے اپنی جدوجہد اور قربانیوں سے ناکام بنا کر مسلسل آگے بڑھنے کا راستہ بنایا۔ یہی ماڈل اہل کشمیر کو اپنانا ہے، جس پر بلاشبہہ وہ کام تو کر رہے ہیں، مگربہت زیادہ کام کی ضرورت ہے۔ پاکستان، جس کی یہ ذمہ داری تھی اس کی حکومتیں اس میدان میں اپنی قرار واقعی ذمہ داری ادا نہیں کرسکیں۔ اس لیے لازم ہے کہ کشمیری بھائی اپنی عملی اور سیاسی جدوجہد کے ساتھ ابلاغی محاذ پر سرگرم ہوں۔ (ادارہ)

دُنیا بھر میں فلسطینی اور فلسطینیوں کے حامی کس کے خلاف لڑرہے ہیں، اور اسرائیل کے حامی کس کے لیے لڑ رہے ہیں؟ اس مسئلے کی حقیقت یہ جملہ واضح کر رہا ہے: ’’ہمیں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ چیلسیا اور ویسٹ منسٹر ہسپتال نے غزہ کے بچوں کے بنائے ہوئے آرٹ کے فن پاروں کو نمایش سے ہٹا دیا ہے‘‘۔

یہ اسرائیل کے حامی وکیلوں کے گروپ ’یوکے لائرز فار اسرائیل‘ کے ہوم پیج پر شائع ہونے والی ایک خبر کا خلاصہ ہے۔ یہ اس گروپ کا ہی کارنامہ قرار دیا جارہا ہے کہ جس نے مغربی لندن کے ایک ہسپتال کی انتظامیہ کو غزہ کے پناہ گزین بچوں کے تخلیق کردہ آرٹ کے چند فن پاروں کو ہسپتال سے ہٹانے کے لیے کامیابی سے قائل کیا۔

بچوں کے فن پاروں کو ہٹانے کی اپنی مہم کے پیچھے چھپی منطق کی وضاحت کرتے ہوئے، اس گروپ کے ترجمان نے کہا: ’’ہسپتال میں یہودی مریض اس نمایش سے اپنے آپ کو ہدف اور تنقید کا نشانہ سمجھتے تھے‘‘۔ یاد رہے، آرٹ کے چند فن پاروں میں مشرقی یروشلم میں گنبد صخرا کی نمایندگی، فلسطینی پرچم اور دیگر علامتیں تھیں جن سے شاید ہی کسی کو نشانہ بنایا جاسکتا ہو۔ وکلا گروپ کے مذکورہ بالا مضمون میں بعدازاں ترمیم کرکے اس کا جارحانہ خلاصہ ہٹا دیا گیا، حالانکہ یہ اب بھی سوشل میڈیا کے ذریعے سب لوگوں کو میسر ہے۔

یہ کہانی جتنی مضحکہ خیز لگتی ہے، حقیقت میں یہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے دُنیابھر میں شروع کی گئی فلسطین مخالف مہم کا نچوڑ بھی ہے۔ جہاں تک فلسطینیوں کا تعلق ہے، وہ بین الاقوامی قانون میں تسلیم شدہ بنیادی انسانی حقوق، آزادی اور خودمختاری کے لیے لڑ رہے ہیں، جب کہ اسرائیل نواز کیمپ فلسطینیوں کی ہرچیز کے مکمل خاتمے کے لیے لڑ رہا ہے۔

آج کچھ لوگ اسے فلسطینیوں کی ثقافتی نسل کشی یا فلسطینیوں کی نسل کشی کہتے ہیں، جب کہ فلسطینی، اسرائیل کے قیام ہی سے اس اسرائیلی طرزِ عمل سے واقف ہیں۔ درحقیقت اسرائیل اور اس کے سرپرستوں نے جنگ کی حدود کو دُنیا کے کسی بھی حصے میں، خاص طور پر مغربی نصف کرہ تک پھیلا دیا ہے۔ اسرائیل اور یوکے لائرز اور ان کے اتحادیوں کا غیرانسانی سلوک واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے، تاہم صرف یہ گروپ نہیں جو اس الزام کا مستحق ہو۔ یہ وکلا اسرائیلی نوآبادیاتی ثقافت کا تسلسل ہیں جوفلسطینی عوام کے وجود کو سیاسی، صہیونی اور نوآبادیاتی نقطۂ نظر کے ساتھ دیکھتے ہیں، جس میں پناہ گزین معصوم بچوں کا فن بھی شامل ہے، اور اسے اسرائیل کے ’وجود کے لیے خطرہ‘ سمجھتے ہیں۔

کسی ملک کے وجود اور کم عمر معصوم بچوں کے فن کے درمیان تعلق مضحکہ خیز لگتا ہے، مگر یہ دیکھا جاسکتا ہے___ لیکن اس کی اپنی ہی عجیب منطق ہے۔ جب تک ان پناہ گزین بچوں میں خود کو فلسطینی کے طور پر پہچاننے کے لیے خود آگاہی ہے، جب تک وہ ایک فلسطینی کے طور پر شمار ہوتے رہیں گے، ان کی پہچان کا کوئی انکار نہیں کرسکے گا۔ اسی مثال کو دیکھیے کہ لندن کے ایک ہسپتال میں مریض اور عملے کے لیے اسرائیل کے مقابلے میں یہ اجتماعی فلسطینی شناخت بھلانا ممکن نہیں۔

فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے فتح کا مطلب دو بالکل مختلف چیزیں ہیں جنھیں یکجا نہیں کیا جاسکتا۔ فلسطینیوں کے لیے فتح کا مطلب فلسطینی عوام کی آزادی اور وہاں سب بسنے والوں کے لیے برابری ہے، مگر اسرائیل کے لیے فلسطینیوں کے مٹانے کے ذریعے ہی فتح حاصل کی جاسکتی ہے۔ ان فلسطینیوں کے وجود کو مٹادینے میں اسرائیل اپنی کامیابی دیکھتا ہے، جو جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اعتبار سے فلسطینی شناخت کا حصہ ہوں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ چیلسیا اور ویسٹ منسٹر ہسپتال اب فلسطینیوں کی شناخت مٹانے کے اس المناک عمل میں سرگرمی سے شریکِ کار ہیں۔ بالکل اُس طریقے سے جیسے ورجن ایئرلائنز ۲۰۱۸ء میں دبائو کے سامنے جھکی اور جب اس نے اپنے مینو سے ’فلسطینی پکوان‘ ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت مذکورہ کمپنی کی یہ حرکت فلسطینی- اسرائیلی تنازعے کا ایک عجیب واقعہ لگتی تھی، حالانکہ حقیقت میں یہ کہانی اس تنازعے کی اصل نمایندگی کرتی تھی۔

اسرائیل کے لیے ، فلسطین کی جنگ تین بنیادی اُمور کے گرد گھومتی ہے: زمین کا حصول، فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنا، اور تاریخ کو دوبارہ لکھنا۔

پہلا کام تو ۱۹۴۷ء کے بعد نسلی قتل و غارت (cleansing) اور فلسطین کی نوآبادیاتی محکومی کے عمل کے ذریعے حاصل کیاجاچکا ہے۔ نیتن یاہو کی موجودہ انتہاپسند حکومت صرف اس عمل کو حتمی شکل دینے کی اُمید کر رہی ہے۔ دوسرا کام تسلسل کے ساتھ نسلی تطہیر سے زیادہ ہمہ پہلو ہے، اور وہ یہ کہ فلسطینیوں کے بارے میں آگاہی اور ان کی اجتماعی شناخت کو ثقافتی نسل کشی کے ذریعے شناخت سے محروم کرنا ہے ۔تیسرے یہ کہ اسرائیل نے کئی برسوں کی جارحیت کے نتیجے میں تاریخ کو دوبارہ لکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ لیکن اب اس کام کے برعکس فلسطینیوں اور ان کے اتحادیوں نے استقامت سے سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کی طاقت کے ذریعے اسے چیلنج کرنا شروع کیا ہے۔

فلسطینیوں کو ڈیجیٹل میڈیا کے عروج سے بہت زیادہ فائدہ پہنچاہے، جس نے اسرائیلیوں کے سیاسی اور تاریخی بیانیے کی مرکزیت کو ختم کرنے میں حصہ ڈالا ہے۔ کئی عشروں سے اسرائیل اور فلسطین کی تشکیل کے بارے میں عام فہم مرکزی دھارے کو بڑی حد تک اسرائیل کی طرف سے منظور شدہ بیانیہ کے ذریعے کنٹرول کیا گیا تھا۔ جو لوگ اس بیانیہ سے منحرف ہوئے ان پر حملے کیے جاتے اور ان کے تشخص کو مجروح کردیا جاتا اور ہمیشہ ’سامی دشمنی‘ کا الزام لگایا جاتا۔ اگرچہ اب بھی یہ ہتھکنڈے اسرائیل کے ناقدین پر چلائے جارہے ہیں، لیکن اب ان کے نتائج اتنے مؤثر نہیں ہیں۔

مثال کے طور پر اسرائیل کے لیے یوکے لائرز کی ’خوشی‘ کو بے نقاب کرنے والی ایک ٹویٹ کو ٹویٹر پر آن کی آن میں۲۰ لاکھ لوگوں نے پڑھا اور پھر دُنیا بھر میں لاکھوں مشتعل برطانوی اور سوشل میڈیا صارفین نے ایک مقامی کہانی کو فلسطین اور اسرائیل پر دُنیا بھر میں سب سے زیادہ زیربحث موضوع میں تبدیل کردیا۔ اس طرح بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے وکلا کی ’خوشی‘ میں حصہ نہیں لیا، جس کے نتیجے میں گروپ کو اپنے مضمون پر نظرثانی پر مجبور ہونا پڑا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایک ہی دن میں لاکھوں لوگوں کو فلسطین اور اسرائیل پر ایک بالکل نئے موضوع سے متعارف کرایا گیا: ’ثقافت کو مٹانا‘۔ اس طرح لائرز گروپ کی’فتح‘ ایک مکمل شرمندگی اور پسپائی میں بدل گئی ہے۔

فلسطینی موقف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سوشل میڈیا کے اثرات کی بدولت، اب اسرائیل کی ابتدائی فتوحات کے برعکس اثر ہورہا ہے۔ ایک اور حالیہ مثال ہارورڈ کینیڈی اسکول میں ہیومن رائٹس واچ کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ کو فیلوشپ کی پیش کش واپس لینے کا فیصلہ تھا۔ جنوری میں کینتھ روتھ کی فیلوشپ اس کی اسرائیل پر ماضی کی تنقید کی وجہ سے منسوخ کردی گئی تھی۔ ایک بڑی مہم، جو چھوٹی متبادل میڈیا تنظیموں کی طرف سے شروع کی گئی تھی، اس کے نتیجے میں روتھ کو دنوں میں بحال کردیا گیا۔ یہ اور دیگر معاملات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل پر تنقید کرنا اب کسی کیریئر اور مستقبل کا اختتام نہیں بن رہا، جیساکہ ماضی میں اکثر ہوتا تھا۔

اسرائیل فلسطین پر اپنے قبضے کو کنٹرول کرنے کے لیے پرانے حربے استعمال کرر ہا ہے مگر رائے عامہ کو گمراہ کرنے میں یہ ناکام رہا ہے کیونکہ وہ روایتی ہتھکنڈے آج کی دُنیا میں کام نہیں کرتے، جہاں معلومات تک رسائی کی مرکزیت ختم کردی گئی ہے اور جہاں کوئی بھی سنسرشپ گفتگو کو کنٹرول نہیں کرسکتی۔

فلسطینیوں کے لیے یہ نئی حقیقت دُنیا بھر میں اپنی حمایت کا دائرہ وسیع کرنے کا ایک نادر موقع ہے۔ اسرائیل کے لیے، مشن ایک غیر یقینی ہے،خاص طور پر جب ابتدائی فتوحات، گھنٹوں کے اندر، ذلّت آمیز شکست میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔(عرب نیوز، ۶مارچ ۲۰۲۳ء)

ترکیہ کے گیارہ صوبوں میں جس طرح زلزلے نے قہر برپا کیا، اسی پیمانے پر شمالی شام کے چھ صوبوں کا ۶۰ہزار مربع کلومیٹر علاقہ بھی اس کی زد میںآگیا۔ مگر بین الاقوامی برادری جس تیزی کے ساتھ ترکیہ میں مدد لے کر پہنچی، شاید ہی کسی کو ان شامی علاقوں کے متاثرہ افراد کی مدد کرنے یا ان کی اشک شوئی کرنے کی توفیق ہوئی۔ ترکیہ کے حتائی صوبے کے سرحدی قصبہ ریحانلی سے صرف ۱۲ کلومیٹر دُور بال الحوا کراسنگ پوائنٹ پر ۴۲سالہ شامی شہری محمد شیخ نے مجھے بتایا کہ وہ اپنی اور اپنے ہم وطنوں کی قسمت پررو رہا ہے۔ وہ ۱۲سال قبل حلب یا الیپو سے جنگ کی وجہ سے نقل مکانی کرکے ترکیہ میں پناہ گزین ہو گیا تھا اور اب اپنے رشتہ داروں کی خیریت جاننے اور زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں مدد کرنے کے لیے واپس جا رہا تھا۔ وہ شکوہ کر رہا تھا: ’’ہماری زندگیاں تو پہلے ہی پچھلے ۱۲برسوں سے جنگ و شورش کی نذر ہوگئی تھیں۔ پھر کورونا وبا نے ہمیں نشانہ بنایا۔ اس میں جوں ہی کمی آگئی تو ہیضہ اور خشک سالی نے اس پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور اب زلزلے نے توہماری زندگیاں برباد کرکے رکھ دی ہیں‘‘۔

رومی دورِ حکومت کی کئی ہزار سالہ پرانی سڑک ، جس نے تاریخ کے کئی اَدوار دیکھے ہیں، اس پر اقوام متحدہ کے ٹرکوں کا ایک کاروان امدادی سامان لے کر رواں تھا۔ ترکیہ کی سرحد کے پار شام کے مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ’’امدادی ٹیموں، نیزبھاری اوزاروں اور سامان کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہم کو اپنے ہاتھوں سے ملبہ کو ہٹا کر زندہ بچنے والوں کو نکالنا پڑا‘‘۔ اقوام متحدہ کے مطابق ملبے سے اب تک صرف ۶ہزار لاشیں نکالی جا سکی تھیں، جن میں شام کے حاکم بشار کے مخالفین کے زیرقبضہ شمال مغرب میں ۴ہزار۴سو لاشیں ملی تھیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق۲ہزار ۷سو ۶۲ سے زائد عمارتیں منہدم ہوچکی ہیں۔ شام کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’رسپانس کوآرڈینیٹرز گروپ‘،  جس کے ترکیہ میں دفاتر ہیں ، نے کہا کہ خطے میں ۴۵  فی صد انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ سے لوگ شکایت کر رہے تھے۔ اس کی جانب سے پہلا امدادی ٹرک چار دن بعد تباہ شدہ شہر دیر الزور پہنچا، تو مکینوں نے اقوام متحدہ کے جھنڈوں کو اُلٹا لٹکا کر احتجاج درج کروایا۔ بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے شام کے صدر بشار الاسد نے ۱۰ فروری کو حزب اختلاف کے زیرقبضہ علاقوں میں انسانی امداد بھیجنے کا اعلان تو کیا تھا، مگر یہ امدادی سامان نو دن بعد بھی نہیں پہنچا تھا۔ ان کے وزیروں کا کہنا تھا کہ انھوں نے امداد تو روانہ کی تھی ، مگر عسکریت پسند گروپ حیات تحریر الشام کے سربراہ ابومحمدالجولانی نے ان امدادی رضاکارگروپوں میں شامل افراد کی جانچ پڑتال کرنے میں کافی وقت صرف کردیا۔ ان کو خدشہ تھا کہ شامی حکومت شاید امدادی ٹیموں کی آڑ میں انٹیلی جنس اور کمانڈو اہل کار بھیج رہی ہے۔

’وائٹ ہیلمٹس‘ نام سے شامی شہری دفاع گروپ کے لیے کام کرنے والی رضاکار سورمر تمر نے مجھے بتایا: ’’زلزلہ آنے کے کئی روز بعد تک ملبوں سے انسانی ہاتھ نمودار ہوکر ہاتھ ہلاہلا کر مدد کی دہائی دے رہے تھے۔ منجمد کرنے والی سردی کے دوران بھی ملبو ں سے انسانی چیخ پکار کی آوازیں آرہی تھیں۔ یہ ہولناک یادیں اور آوازیں مجھے ساری زندگی پریشان کرتی رہیں گی۔پھر جب ہم ان تباہ حالوں میں سے کسی کا ہاتھ پکڑتے تھے تو وہ ہاتھ ہی نہیں چھوڑتے تھے۔ ان کو خوف ہوتا تھا کہ اگر انھوں نے ہاتھ چھوڑا تو ہم ان کو چھوڑ کر آگے بڑھ جا ئیں گے ‘‘۔

اپنے آنسو پونچھتے ہوئے تمر نے کہا:’’سچ تو یہ ہے کہ مجھ کو ایسے کئی ہاتھ چھوڑنے پڑے، کیونکہ ملبہ ہٹانے اور ان کو نکالنے کے لیے کوئی سامان نہیں تھا۔ ہم آگے بڑھ کر دیکھتے تھے کہ ننگے ہاتھوں سے کون سا ملبہ ہٹایا جاسکتا ہے او ر کون سی جان بچائی جاسکتی ہے۔ اور پھر دو دن بعد ان ملبوں سے انسانی آوازیںآنا بند ہوگئیں‘‘۔اُس وقت تک علاقے میں کوئی امدادی ٹیم نہیں پہنچ پائی تھی۔ میں ان تمام مرنے والوں سے معافی مانگتی ہوں، جنھیں ہم بچانے میں ناکام رہے‘‘۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ’’صرف پہلے ۷۲گھنٹوں میں پانچ فی صد علاقے میں ریسکیو کا کام ہوسکا‘‘۔

زلزلے کے بعد پہلے ۷۲گھنٹوں ہی میں کسی زندہ وجود کو ملبہ سے نکالنے کا امکان موجود رہتا ہے۔ ’وائٹ ہیلمٹس‘ کے سربراہ رائد صالح نے بتایا: ’’ہم نے بے بسی کے ساتھ بہت جدوجہد کی کہ زندہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔ مگر مناسب آلات کی کمی ہماری اس بے بسی کی ایک بڑی وجہ تھی، لیکن قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم نے اپنی سی پوری کوشش کی۔ تاہم، اقوام متحدہ کا غفلت برتنا بہت صدمہ خیز ہے۔ ان علاقوں میں ہزاروں شامی خاندان منفی درجہ حرارت میں سڑکوں پر یا ایسے خیموں میں زندگی گزار رہے تھے ، جن میں کمبل ، بستر یا گرمی کا کوئی انتظام نہیں تھا‘‘۔ مغربی ادلب صوبہ کے گاؤں امرین کے ندال مصطفےٰ بتا رہے تھے: ’’اپنی پوری فیملی کے ساتھ پہلے تین دن ہم نے کھلی سڑک پر گزارے۔ باب الحوا کی سرحد کے اس پار، ادلب صوبے میں تقریباً ۴۰ لاکھ افراد آباد ہیں، جن میں ۲۸ لاکھ ایسے افراد ہیں ، جو جنگ زدہ علاقوں سے ہجرت کر کے آئے ہیں‘‘۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ۲۰۱۱ءسے اب تک شام کے تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے شمال مغرب میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد تقریباً ۵۳ لاکھ ہے۔ تقریباً ڈ یڑھ کروڑ شامی شہری جنگ اور سخت مغربی پابندیوں کی وجہ سے شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ ترکیہ کا یہی متاثرہ جنوبی علاقہ ان کے لیے ایک ڈھال تھا، مگر زلزلہ کی وجہ سے ترکیہ کے اس خطے کا انفرا اسٹرکچر تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ ترکیہ میں ۳۵ لاکھ رجسٹرڈ شامی پناہ گزینوں میں سے ۱۷ لا کھ زلزلے سے متاثرہ صوبوں میں رہتے ہیں۔

 امدادی اداروں کے مطابق اگرچہ کئی عرب ممالک اور بین الاقوامی انسانی امداد کے کئی اداروں نے دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امداد پہنچائی تھی، مگر یہ امداد اپوزیشن کے زیراثر شمال مغربی شام تک نہیں پہنچ سکی، جہاں ۸۵ فی صد متاثرہ افراد رہ رہے ہیں۔ رسپانس کوآرڈینیٹرز گروپ نے الزام لگایا کہ ۹۰ فی صد امداد حکومت کے زیر قبضہ علاقوں میں تقسیم کی گئی۔ ۲۰۱۴ء میں ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے انسانی امداد کی ترسیل کے لیے شام میں چار بارڈر کراسنگ کی منظوری دی تھی۔ مگر اب لے دے کے صرف باب الحوا ہی قانونی طور پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں واحد سرحدی گزرگاہ رہ گئی ہے۔

زلزلہ کی وجہ سے مقامی آبادی پریشان حال تو تھی ہی، کہ اسی دوران شامی حکومتی افواج اور باغی افواج کے درمیان حلب کے نواح میں جھڑپوں کے دوران دونوں نے ایک دوسرے پر  خوب گولہ باری کی۔ جس کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگنا پڑا۔ سیریئن ابزرویٹری فار ہیومن رائٹس میں اس جنگ کی نگرانی کرنے والے کارکن ابو مصطفےٰ الخطابی کا کہنا تھا کہ اسد فورسزکی بیس ۴۶ سے گولہ باری شروع ہوئی اور انھوں نے مغربی حلب کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ عطریب قصبہ ،کفر اما ، کفر تال اور کفر نو دیہاتوں میں بھی شدید جھڑپیں ہوئیں۔ یاد رہے کہ عطریب اور اس کے نواح میں زلزلے کے نتیجے میں ۲۳۵؍ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور متعدد افراد ملبے کے نیچے دبے ہوئے تھے۔ ایسے وقت میں اس طرح کی مسلح جھڑپوں سے ابتدائی امدادی کام بھی نہیں ہوسکے۔

حقیقت یہ ہے کہ جو شامی زلزلے کے دوران ملبے میں دب کر مارے گئے اور کئی روز تک ہاتھ ہلا ہلا کر مدد کی دہائی دے رہے تھے، ان کا خون بین الاقوامی برادری اور شامی متحارب گروپوں کے ہاتھوں پر ہے۔

سات عشروں سے کشمیری اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے جان کی بازی لگارہے ہیں، اور دوسری طرف انڈیا کی کبھی نام نہاد سیکولر حکومتیں اور کبھی فاشسٹ حکومتیں انھیں کچلتی اور ان کی اولادوں کو عذاب کی مختلف صورتوں میں دھکیلتی چلی آرہی ہیں۔ نئی دہلی کے سفاک حکمرانوں نے جب یہ دیکھا کہ مسلم دُنیا کے دولت مند ممالک اُن کی نازبرداری کرتے ہوئے انڈین تجارت، کلچر اور دفاعی تعاون تک کے لیے بچھے جارہے ہیں، تو اُنھوں نے کشمیری مسلمانوں پر ظلم و وحشت کے پہیے کو تیز تر کردیا۔ جنوری ۲۰۲۳ء میں جب کشمیر شدید برف باری اور بارشوں میں گھرا ہوا تھا، ظلم اور توہین کی ایک نئی یلغار سے اہل کشمیر کو اذیت سے دوچار کیے جانے کا آغاز ہوا۔ یہ ہے سری نگر سمیت کشمیر کے تمام اضلاع میں، سرکاری املاک پر ’تجاوزات‘ کے نام پر سالہا سال سے مقیم کشمیری مسلمانوں کی دکانوں اور گھروں کو بلڈوزروں کے ذریعے مسمار کرنے اور شہری زندگی کے آثار کچلنے کا وحشیانہ عمل۔ اس پر نعیمہ احمد مہجور نے اخبار دی انڈی پنڈنٹ (۱۷فروری) میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’عنقریب مقامی آبادی کا ایک حصہ سڑکوں یا گلی کوچوں میں پناہ لے رہا ہوگا یا روہنگیا مسلمانوں کی مانند لائن آف کنٹرول کی جانب بھاگنے پر مجبورہوگا‘‘۔

سری نگر سے بی بی سی کے نمایندے ریاض مسرور نے ۱۸فروری ۲۰۲۳ء کو رپورٹ کیا: ’’انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں مقبول احمد اُن ہزاروں بے گھر کشمیریوں میں شامل ہیں، جنھوں نے برسوں کی جدوجہد کے بعد دو کمروں کا گھر تعمیر کیا۔ ایسی بستیوں کو حکومت کی طرف سے بجلی، پانی اور سڑکوں جیسی سہولت بھی میسر ہے، مگر اب اچانک کہا جارہا ہے کہ تم سب ناجائز قابضین ہو‘‘۔

 حکومت کی طرف سے ’ناجائز‘ یا ’غیرقانونی‘ قرار دی جانے والی تعمیرات کو گرانے کی مہم زوروں پر ہے اور ہر روز حکومت کے بُلڈوزر تعلیمی اداروں، دکانوں، مکانوں اور دیگر تعمیرات کو منہدم کررہے ہیں۔ اس نئی مہم کے تحت کسی کی دکان جارہی ہے، کسی کا مکان اور کسی کی زرعی زمین چھینی جارہی ہے۔ مقبول احمد کہتے ہیں:’’ہماری تین نسلیں یہاں رہ چکی ہیں۔ ہم کہاں جائیں؟ یہاں کے لوگ خاکروب یا مزدور ہیں۔ اگر یہ گذشتہ ۷۵برس سے غیرقانونی نہیں تھے تو اب کیسے ناجائز قابضین ہوگئے؟ یہ کون سا انصاف ہے‘‘۔ بھارتیہ جنتاپارٹی کے مقامی کشمیری لیڈر الطاف ٹھاکرے نے اس صورتِ حال سے لاتعلق ہوکر کہا:’’بابا کا بلڈوزر تو چلے گا‘‘ حالانکہ عالمی نشریاتی اداروں کی دستاویزی رپورٹوں میں تباہ شدہ گھروں کے ملبے پر کھڑی عورتیں فلک شگاف فریادیں کرتی نظر آتی ہیں کہ ’’ہمارے ساتھ انصاف کرو ، ہمیں برباد نہ کرو‘‘۔

نئی دہلی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ حکومت نے گذشتہ تین سال کے دوران زمین سے متعلق ۱۲قوانین ختم کیے ہیں، ۲۶قوانین میں تبدیلیاں کی ہیں اور ۸۹۰ بھارتی قوانین کو جموں کشمیر پر نافذ کر دیا ہے۔اکتوبر ۲۰۲۲ء میں ’’جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن تھرڈ آرڈر‘‘ نافذ کیا گیا، جس کا مقصد مقامی کشمیریوں کو زمین سے بے دخل کرکے ، سرزمین کشمیر کو پورے ہند کی چراگاہ بنانا ہے۔ اس کے بعد دسمبر ۲۰۲۲ء میں ’لینڈ گرانٹس ایکٹ‘ نافذ کیا گیا ہے، جس کے ذریعے تعمیرات کو ناجائز قرار دینے کا یہ سارا فساد برپا کیا گیا ہے۔

ان مسلط کردہ ضابطوں کے مطابق کہا جارہا ہے: ’’کوئی زمین یا عمارت پہلے اگر لیز پر دی گئی تھی تو حکومت حق رکھتی ہے کہ وہ پراپرٹی واپس لی جائے‘‘۔ سرینگر، جموں اور دوسرے اضلاع میں تقریباً سبھی بڑی کمرشل عمارتیں لیز پر ہی تھیں، اب وہ لیز ختم کی جارہی ہے۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ ’’سابق وزرا، بڑے افسروں اور حکومت کے حامی تاجروں کی عمارات کو چھیڑا نہیں جارہا۔ مقامی صحافی ماجد حیدری کے بقول: ’’ان بلڈوزروں کا نشانہ صرف غریب مسلمانوں کی جھونپڑیاں ہیں‘‘۔ ’بلڈوزر مہم‘ سے مسلمانوں کی آبادیوں میں سخت خوف پایا جاتا ہے اور کئی علاقوں میں احتجاج بھی ہوئے ہیں، مگر احتجاجیوں کی فریاد سننے کے بجائے ان کو بُری طرح تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لوگ بجاطور پر سمجھتے ہیں کہ ’’یہ زمینیں حاصل کر کے انھیں پورے انڈیا کے دولت مند لوگوں میں فروخت کر دیا جائے گا‘‘۔پہلے یہ بات خدشہ تھی، اب عملاً یہ سب کچھ ہورہا ہے۔

روزنامہ دی گارجین،لندن(۱۹مارچ ۲۰۲۳ء) میں آکاش حسان نے سری نگر سے اور حنان ایلس پیٹرسن نے نئی دہلی سے ایک مشترکہ رپورٹ میں اسی نوعیت کے حقائق پیش کیے ہیں۔

۵۲ برس کے فیاض احمد کا کھردرا باغ میں ۳۰سال پرانا گھر بھی بغیر کسی وارننگ کے منہدم کردیا گیا تو انھوں نے کہا: ’’یہ سب حربے کشمیریوں کو دبانے کے لیے برتے جارہے ہیں‘‘۔ ۳۸سال کے سہیل احمد شاہ اُس ملبے کے سامنے صدمے اور مایوسی کی کرب ناک تصویر بنے کھڑے تھے، جو دوعشروں سے اُن کا ذریعۂ معاش تھا۔ وہاں وہ اپنی ورکشاپ میں کام میں مصروف تھے کہ ایک ناگوار کرخت آواز سنی، جو دراصل اُن کی ٹین کی چھت کو چڑمڑ ہونے سے پیدا ہورہی تھی، اور وہ چھت اُن کے اُوپر گرا چاہتی تھی کہ بمشکل بھاگ کر جان بچاسکے۔انھوں نے بتایا: ’’نہ ہمیں کوئی نوٹس دیا گیا اور نہ کوئی پیشگی اطلاع دی گئی۔ ہم مدتوں سے کرایہ دے کر یہاں روزی روٹی کماتے تھے، اور اب تباہ ہوکر یہاں کھڑے ہیں‘‘۔

سری نگر شہر میں پرانی کاروں کے پُرزوں کی مارکیٹ میں اس نوعیت کی تباہی کے آثار بکھرے دکھائی دے رہے ہیں، جسے حکومت ’زمینیں واپس لینے‘ کا نام دے رہی ہے، حالانکہ کشمیر میں رہنے والے اسے ایک مذموم اور مکروہ مہم قرار دے رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندونسل پرست نریندرا مودی وسیع ایجنڈے کے تحت کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین سے بے دخل، بے گھر اور بے روزگار کرکے نقل مکانی پر مجبور کرنے میں مصروف ہے۔ یاد رہے، واحد کشمیر ہی وہ علاقہ ہے، جہاں مسلمان واضح اکثریت رکھتے ہیں اور اس پہچان کو ختم کرنا آر ایس ایس کے پیش نظر ہے۔

۲۰۱۴ء میں نئی دہلی میں مودی حکومت کی آمد کے ساتھ ہی انڈیا کے طول و عرض میں مسلم اقلیت کو ستم کا نشانہ بنانے کا مؤثر ذریعہ بلڈوزر رہے ہیں۔ اترپردیش، دہلی، گجرات اور مدھیہ پردیش میں فعال مسلمانوں کے گھروں کو تہس نہس کرنے کے لیے بلڈوزروں ہی کو ہتھیار کے طور پر برتا گیا ہے۔ جب اس بلا کا رُخ کشمیر کی طرف مڑا تو سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا:’’انہدام کی یہ مہم [کشمیر میں] لوگوں کو ان کے گھروں اور معاش و روزگار کے مراکز کو تباہ کرکے پسماندگی کی طرف دھکیلنے کی ایک مکروہ چال ہے‘‘۔ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا: ’’انڈیا میں واحد مسلم ریاست کے شہریوں کے استحصال کی یہ نئی لہر درحقیقت ماضی کی زیادتیوں کا ہی تسلسل ہے‘‘۔کانگریس نواز نیشنل کانفرنس کے لیڈر فیصل میر کے مطابق: ’’بی جے پی جموں و کشمیر کو واپس ڈوگرہ دور میں لے جانا چاہتی ہے۔ بلڈوزر سے زمین ہتھیانا اور جائیداد چھیننا اسی پالیسی کا تسلسل ہے‘‘۔

اگست ۲۰۱۹ء میں مودی حکومت کی نسل پرست حکومت نے یک طرفہ طور پر جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت چھین لی اور ریاست کے دروازے تمام بھارتیوں کے لیے کھول دیئے کہ وہ یہاں جائیدادیں خرید سکتے ہیں اور یہاں کے ووٹر بن سکتے ہیں۔ یہ سب کام یہاں کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے ہیں، تاکہ ووٹوں کا تناسب تبدیل اور من مانی حلقہ بندیاں کرکے، مسلم آبادی کو نام نہاد انتخابی عمل میں بے بس کر دیا جائے۔

ریاست جموں و کشمیر میں آزادیٔ اظہار سلب ہے، سیاسی نمایندگی تارتار ہے، اور کشمیر  اب دُنیا میں سب سے زیادہ فوجیوں کی موجودگی کا علاقہ بن گیا ہے، جس میں ہرچند کلومیٹر کے فاصلے پر مسلح فوجیوں کی چوکیاں موجود ہیں۔  سنسرشپ عائد ہے، جو کوئی سوشل میڈیا پر حکومتی ظلم کے خلاف آواز بلند کرے، پولیس اسے فوراً گرفتار کرکے جیل بھیج دیتی ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں میں صحافیوں آصف سلطان، فہدشاہ، سجادگل اور عرفان معراج کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت اُٹھا لیا گیا ہے، جب کہ ہزاروں کشمیریوں کے سر سے چھت چھین لی گئی ہے۔دراصل یہ وہی ماڈل ہے جو اسرائیل نے فلسطینیوں پر مسلط کرکے عرب آبادی کا تناسب تبدیل کر دیا ہے، اور جسے برہمن نسل پرست، صہیونی نسل پرستوں سے سیکھ کر کشمیر میں نافذ کر رہے ہیں۔ مقامی شواہد کے مطابق گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران تقریباً سات لاکھ غیرکشمیری، یہاں لاکر آباد کیے جاچکے ہیں۔

ظلم کی اس سیاہ رات میں مظلوموں کے گھر روندے جارہے ہیں،وہ کھلے آسمان تلے حسرت کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ دُنیا کا میڈیا اور مسلمانوں کی حکومتیں، جماعتیں، ادارے اور سوشل میڈیا پر فعال نوجوان اس درندگی اور زیادتی کا کرب محسوس کرنے سے لاتعلق نظر آتے ہیں۔ معلوم نہیں کس قیامت کے ٹوٹنے کا انتظار ہے، حالانکہ ہزاروں کشمیری گھروں پر قیامت تو ٹوٹ بھی چکی ہے۔

کیمرے کے سامنے منہ لپیٹے درمیانی عمر کے ایک صاحب کہنے لگے: ’’کہنے کو کیا رہ گیا ہے اب، بس زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں۔ اللہ مالک ہے، حالات ایسے ہیں کہ کچھ بولتے ہیں تو شام کو اُٹھا کر لے جاتے ہیں۔ بس چل رہا ہے‘‘۔ دوسرے صاحب بتاتے ہیں: ’’اب ہم بالکل بے کار ہوچکے ہیں، ہم دس روپے کمائیں گے، گھر پر ماں باپ بیمار ہیں، ان کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ غریب آدمی ہیں‘‘۔

میں نے ایک راہ گیر سے پوچھا: ’’وعدہ کیا گیا تھا کہ آرٹیکل۳۷۰ ختم کرنے کے بعد حالات بالکل بہتر ہوجائیں گے؟‘‘بولے: ’’وہ تو آپ دیکھ ہی رہی ہیں۔ حالات خراب ہیں، حالات کہاں ٹھیک ہیں، خراب ہی ہیں‘‘۔

ایک نوجوان نے کہا:’’شام کو چھے بجے یہاں حالات کرفیو جیسے ہوتے ہیں۔ حالات بہت خراب ہیں۔ وہ حالات نہیں ہیں جب لوگ رات کو ۱۰ بجے تک بازارمیں گھومتے پھرتے تھے۔ کیسے کہیں کہ حالات ٹھیک ہیں‘‘۔

ایک بزرگ نے کہا: ’’حالات بہت زیادہ خراب ہوگئے ہیں۔ لوگ مالی اعتبار سے پیچھے ہوگئے ہیں اور ذہنی لحاظ سے اس سے بھی زیادہ پیچھے ہوگئے ہیں‘‘۔

پختہ عمر کے ایک فرد سے سوال کیا: ’’یہاں کے حالات کیسے ہیں؟‘‘وہ مسکرا کر اور گھبرا کر کہنے لگے:’’ ٹھیک ہی ہیں‘‘۔

قریب کھڑے ایک نوجوان نے غصے سے کہا: ’’سب سنسان پڑا ہے۔مارکیٹ میںکچھ کام دھندا نہیں ہے۔ ہمارے لیے یہاں کچھ نہیں رکھا‘‘۔

’The Wire ٹی وی‘سے میرا تعلق ہے اور زینہ کدل، سری نگر سے مخاطب ہوں۔ یہ شہر کا پرانا علاقہ ہے۔ میں اور میری ٹیم نے یہاں کئی گھنٹے کوشش کی ہے کہ لوگ حالات کے بارے میں بات کریں اور اگر سیاسی حالات کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے تو کم سے کم اپنے ذاتی حالات کے بارے میں ہی کوئی بات کریں۔لیکن لوگ بات کرنے یا کوئی ردعمل دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تاہم، کچھ لوگوں کے تاثرات پیش ہیں:

ایک صاحب سے بات ہوئی تو کہنے لگے کہ’’کام مندا ہے، مہنگائی بڑھ گئی ہے۔ سب کام بیٹھے ہوئے ہیں۔ اولڈسٹی کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ یہاں زیادہ حالات خراب ہوتے ہیں اور زیادہ سیکورٹی ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں کوئی آتا جاتا نہیں ہے، گاہک نہیں ہے‘‘۔ اُن سے پوچھا کہ ’’پچھلے دنوں کے مقابلے میں کاروباری حالات کیا زیادہ خراب ہوئے ہیں؟‘‘ کہنے لگے: ’’ آپ خود دیکھ سکتی ہیں کہ مارکیٹ کی صورتِ حال کیا ہے۔ اگرچہ کرفیو بھی نہیں لگتا اور ہڑتال بھی نہیں ہوتی، مارکیٹ ہفتہ بھر کھلی رہتی ہے، لیکن مارکیٹ بہت مندی ہے‘‘۔

’’کہا جارہا ہے کہ آرٹیکل ۳۷۰ ہٹ جائے گا تو حالات بہتر ہوجائیں گے‘‘، میں نے ایک اور راہ گیر سے پوچھا۔وہ کہنے لگے: ’’کیا آپ سمجھتی ہیں کہ واقعی حالات بہتر ہوگئے ہیں؟‘‘ اندرونی حالات تو بہتر نہیں ہوئے ہیں۔ آزادی سے گھوما پھرا نہیں جاسکتا۔ شام کو چھ بجے کرفیو کے سے حالات ہوتے ہیں۔ بازار کا ماحول کرفیو جیسا ہوتا ہے۔ وہ حالات نہیں ہیں کہ جب لوگ رات کو دیر تک گھومتے پھرتے رہتے تھے۔ ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ حالات ٹھیک ہیں؟ اگر مارکیٹ رات کو ۱۰بجے کھلی ہوتی تو ہم کہہ سکتے تھے کہ حالات ٹھیک ہیں۔ یہاں ڈر کا ماحول ہے۔ سب کے دلوں میں ڈر سا ہے۔ کوئی بہتری نہیں ہوئی۔ آپ خود دیکھ لیں‘‘۔

ایک نوجوان نے کہا کہ ’’مودی نے آکر حالات خراب کیے ہیں۔ آرٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے کے بعد پوری وادی میں حالات خراب ہیں۔ غربت بڑھی ہے۔ لوگوں کے پاس کام کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ بے روزگاری بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ نوجوانوں کے لیے کوئی کام نہیں ہے۔ آرٹیکل ۳۷۰ اُٹھانے سے حالات بہت خراب ہوگئے ہیں بلکہ اس سے پہلے کے حالات کچھ بہتر تھے۔

’’کیا انتظار کرنے سے شاید حالات بہتر ہوجائیں گے؟‘‘ میں نے پوچھا تو جواب ملا: ’’ہم تو کھانے پینے کے لیے چاول اور روٹی بھی نہیں کما پارہے ہیں۔ یہ دیکھیں مارکیٹیں سنسان پڑی ہوئی ہیں۔ کوئی کام اور دھندا نہیں ہے۔اگر کوئی دو مرلے یا چار مرلے زمین بیچنا چاہتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ کاغذ لائو، وہ کاغذ لائو۔ ہم کہاں سے کاغذ لائیں؟‘‘

میں نے حالات خراب ہونے کی وجہ جاننا چاہی تو بتایا گیا: ’’مودی نے حالات خراب کیے ہیں، یہ دفعہ لگائی ہے، وہ دفعہ لگائی ہے، بہت سے ایکٹ لگائے ہیں۔ شام کو چھ بجے کے بعد ہم باہر نہیں نکل سکتے‘‘۔ قریب میں ایک بزرگ کھڑے تھے۔ غصے میں کہنے لگے: ’’خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔ مجھے یہاں رہتے ہوئے ۴۰ سال ہوگئے ہیں۔ اس بازار میں اتنی بھیڑ ہوتی تھی کہ ہم یہاں کھڑے نہیں ہوسکتے تھے، یہ پرانا بازار ہے‘‘۔

جب میں نے پوچھا کہ ’’آپ مودی جی سے کچھ کہنا چاہیں گے؟ ‘‘تو اس بزرگ نے چلتے ہوئے وی [فتح]کا نشان بناتے ہوئے کہا: ’’آپ سمجھ دار ہیں۔ اس کا مطلب بخوبی سمجھتی ہیں‘‘۔

مایوسی اور غصے میں ڈوبے ایک نوجوان نے کہا: ’’میں آٹوٹرانسپورٹ چلاتا ہوں، انھوں نے وہ بھی ختم کر دی ہے۔ کوئی کام نہیں رہا۔ کہاں سے کمائیں؟‘‘

ایک نوجوان نے کہا کہ ’’جن کے پاس اعلیٰ پروفیشنل ڈگریاں ہیں وہ بھی یہاں بیکار ہیں۔ ہم خالی ہاتھ ہیں، بے روزگار ہیں۔ اب کاروبار نہیں چل رہا ہے۔ جب سے یہ حکومت آئی ہے حالات بہت خراب ہوگئے ہیں۔ پہلے حالات بہتر تھے۔ ہم بالکل بے کار ہوچکے ہیں‘‘۔

میں نے کہا: ’’ابھی وہ بزرگ کہہ گئے ہیں کہ لوگوں کے دل میں غصہ ہے‘‘، تو نوجوان نے کہا:’’ہاں، غصہ ہے۔ مودی نے آکر کئی دفعات لگا دی ہیں، بچوں کے لیے، بڑوں کے لیے قانون لگارہے ہیں۔ ہم کیا کریں گے؟ پولیس روکتی ہے۔ شام کو باہر نہیں نکلنے دیتی ہے۔ ہمیں کاروبار سے مطلب ہے۔ لیکن یہاں تو اب وہ دن ہی نہیں رہے کہ پیسے کمائیں‘‘۔

چلتے ہوئے ایک نوجوان کہنے لگا: ’’سرکار جب سے آئی ہے، بہت غربت ہوگئی ہے۔ ہم نے بہت مصیبت دیکھی ہے۔ ہم کاروبار کرنا چاہ رہے تھے اور جب کاروبار ہی بیٹھ گیا تو کیا کریں گے؟ لوگوں کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ ہم جو مال بناتے ہیں وہ گھر پر پڑا رہتا ہے۔ لوگوں کے پاس خریداری کے لیے پیسہ نہیں ہے، لہٰذا ہم بہت مجبور ہیں۔ ہم حکومت سے کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارا کاروبار چلنا چاہیے۔ ہم نے غریبی بہت دیکھی ہے، ہم محنت کرنا چاہتے ہیں۔ میرے پاس ایک کمرہ تھا۔ میں نے محنت سے تین کمرے بنائے اور قرض بھی لیا ہے۔ مجھے قرض بھی اُتارنا ہے‘‘۔

میں نے کہا: ’’حکومت کہتی ہے کہ کچھ انتظار کریں سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ابھی آرٹیکل ۳۷۰ ہٹائے ہوئے دو تین سال ہی تو گزرے ہیں ‘‘۔نوجوان نے کہا:’’یہ بات نہیں ہے، گھر بھی تو چلانا ہے، غریبی بھی بہت ہے۔ کشمیر پہلے آگے تھا، اب پیچھے ہوگیا ہے‘‘۔

ایک اور صاحب سے پوچھا: ’’ماحول کیسا ہے؟‘‘ مفلر سے منہ لپیٹے کہنے لگے کہ’’ سب ٹھیک ہے لیکن کاروبار بیٹھا ہوا ہے۔ اس کی وجہ مہنگائی ہے اور یہ پچھلے ایک دو سال سے بڑھی ہے‘‘۔

’’ماحول کے بارے میں کچھ بتائیں کہ لوگ کیوں خوف زدہ ہیں؟‘‘ وہ بتانے لگے: ’’یہاں انھوں نے ماحول ہی ایسا بنایا ہے اور ایسی فضا بنا دی ہے‘‘۔

’’پوچھا: وعدہ تو یہ کیا گیا تھا کہ آرٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے کے بعد حالات بہتر ہوجائیں گے؟‘‘ وہ بولے:’’حالات کہاں ٹھیک ہوئے ہیں بلکہ خراب ہی ہوئے ہیں‘‘۔

ایک تاجر سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا:’’ ۲۰۱۹ء میں آرٹیکل ۳۷۰ ہٹانے کے بعد آپ کیا محسوس کرتے ہیں کہ حالات بہتر ہوئے ہیں یا خراب ہوئے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا: ’’حالات پہلے سے بہت زیادہ خراب ہوگئے ہیں۔ آرٹیکل ۳۷۰ ہٹانے کے بعد اور پھر کووڈ میں کشمیر بند رہا تو اس کے اثرات اب سامنے آرہے ہیں۔ ان دو برسوں میں لوگوں کے پاس جو پیسہ تھا، بچت تھی، اور اگر سونا رکھا تھا تو اسے بیچ کر کھایا، اُدھار لے کر کھایا۔ اُوپر سے حکومت کے نئے نئے قوانین پریشانی کا باعث ہیں۔ اب تجاوزات ہٹانے کے نام پر مارنے کچلنے کی مہم چل رہی ہے۔ لیز پر دکانیں بھی گرائی جارہی ہیں اور مکانات بھی۔ لوگ ذہنی صحت کے اعتبار سے بہت پیچھے ہوگئے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جو بھی سیاسی پارٹی اقتدار میں آئی اور اس نے ہمارے ساتھ وعدے کیے، مگر ہمیں دھوکا ہی دیا۔ ۱۹۴۷ء سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ ہم سے لوگوں نے جو وعدے کیے وہ کبھی سچ نہیں ہوئے۔رہی مودی صاحب کی بات تو انھوں نے کچھ اچھے اقدامات بھی کیے ہیں، جس سے سرکاری محکموں میں رشوت تو کم ہوگئی ہے لیکن تجارت کا شعبہ بہت پیچھے چلا گیا ہے۔ پچھلے دو تین برسوں میں تجارتی سطح پر جو نقصان ہوا ہے، اس کا ازالہ نہیں ہوپارہا۔ زیادہ تر تاجر بنکوں کے نادہندہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آمدن کم ہے‘‘۔

’’کیا ماحول میں خوف کی کیفیت ہے؟‘‘ میں نے سوال کیا۔ان کا جواب تھا: نہیں، خوف تو نہیں ہے لیکن ایک ڈر اور خدشہ ہے کہ حکومت ہمارے ساتھ مخلص نہیں ہے۔ وہ ہمارے ساتھ صاف شفاف نہیں ہے۔ حکومت جس طرح دہلی اور دوسری ریاستوں سے معاملہ کرتی ہے، ہمارے ساتھ اس کا الگ رویہ ہے۔ ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا بلکہ زیادتی ہورہی ہے‘‘۔

ایک اور صاحب سے پوچھا: ’’یہاں کے حالات کیسے ہیں؟‘‘ تو انھوں نے کہا: ’’ٹھیک ہی ہیں‘‘۔اور جب پوچھا: ’’کچھ بتانا چاہیں گے؟‘‘ تو انھوں نے کہا کہ ’’نہیں‘‘۔

جب کاروباری حالات کے بارے میں ایک صاحب سے بات ہوئی تو کہنے لگے: ’’میں پھل کی تجارت سے وابستہ ہوں، اسی کے متعلق بات کروں گا۔ اس سال سیب کی پیداوار دوگنی ہوگئی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کشمیر سے ہرسال سیب کی پیداوار ۱۰کروڑ پیٹیاں ہوتی ہیں تو اس سال تقریباً دگنا ہوگئی ہے۔ لیکن دوسری طرف حکومت نے اس سال ایران سے جو پھل درآمد کیا جاتا تھا اس پر امپورٹ ڈیوٹی کم کردی ہے، جس سے ہماری مارکیٹ دبائو میں آگئی ہے‘‘۔

’’آپ ان مسائل کو اُٹھا نہیں پاتے ہوں گے کیونکہ آپ کے انتخابی نمایندے موجود نہیں اور بہت برسوں سے الیکشن بھی نہیں ہوئے ہیں‘‘، میں نے کہاتو وہ صاحب کہنے لگے: ’’میں تو ایک چھوٹا سا کاروباری ہوں، اس لیے میں سیاست پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ ہم بہت مشکلات میں ہیں‘‘۔

یہاں پر لوگوں میں ایک جھجک تو ہے ہی اور بات کرنے کے لیے بہت کم لوگ تیار ہیں۔ سیاست پر بات کرنے کے لیے تو بالکل تیار نہیں ہیں۔ اگر کاروباری مسائل پر بات کرتے بھی ہیں تو سیاست پر بات کرنے سے بچتے ہیں۔ آج کا یہ بہت الگ کشمیر ہے۔ وہ کشمیر جو میں نے ۲۰۱۹ء سے پہلے دیکھا اور جو کشمیر آج کا ہے،اس میں زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔

ایک بزرگ سے پوچھا کہ ’’حالات کیسے ہیں؟‘‘ تو انھوں نے کہا کہ ’’حالات پر ہم کیا کہہ سکتے ہیں…کچھ کہہ نہیں سکتے ،بس چل رہے ہیں‘‘۔جب میں نے کہا کہ ’’اگر کچھ کہیں گے تو کیا مشکل ہوگی؟‘‘ اس پر کہنے لگے: ’’اب کہنے کو کیا رہ گیا ہے؟ بس دن کاٹ رہے ہیں بیٹا!‘‘

سری نگر کے اس پرانے شہر میں، کئی گھنٹے گزارنے کے بعد مَیں نے لگ بھگ پوری دوپہر اور شام یہاں پر گزاری ہے۔ درجنوں لوگوں نے بات کرنے سے انکار کردیا۔ کوئی بھی ہم سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ صرف چند لوگوں نے اپنی کاروباری مشکلات کا تذکرہ کیا۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت دُکھ اور افسوس ہوا کہ سری نگر اور کشمیر کو سیاسی طور پر دبانے کی ہمیشہ ہی کوشش کی گئی، اور آرٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے کے بعد تو ایک کشمیری کی اُمنگ ہی کو کچل دیا گیا۔ حالانکہ اس سے پہلے میں نے دیکھا تھا کہ یہاں لوگ منہ پر کھڑے ہوکر بولتے رہے۔پہلی بار یہ احساس ہوا کہ یہ بدلا ہوا کشمیر ہے۔ یہ وہ کشمیر نہیں ہے جو ۲۰۱۹ء سے پہلے مَیں نے دیکھا تھا، جہاں تمام طرح کی حکمران طاقتیں کبھی کشمیری شہری کا دل نہیں توڑ پائی تھیں۔ یہاں آج آپ جس کسی سے پوچھیں کہ کیسے حالات ہیں تو اس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی بھی ہوتی ہے: ’’کیا کہیں؟ سارے حالات آپ کے سامنے ہیں‘‘۔ اگر حالات کے بارے میں بات کریں گے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ’’یہ حالات بھی نہیں بچیں گے‘‘۔ یوں سمجھیے کہ پچھلے تین برسوں سے آرٹیکل ۳۷۰ کے ہٹنے کے بعد یہاں یہ کہانی ہرشخص جانتا ہے کہ ’’بولنے کی قیمت کیا ہوتی ہے؟‘‘ کشمیر ہمیشہ مسائل سے دوچار رہا ہے، مشکلات کا گڑھ رہا ہے، لیکن اس کے باوجود ایک کشمیری میں کم از کم اتنی آزادی اور ہمت ہواکرتی تھی کہ وہ سینہ تان کر اپنی مشکلات اور پریشانیوں کا اظہار کیا کرتا تھا، لیکن اب پہلی بار ایسا ہوا کہ یہاں کوئی بھی بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کوئی امیر ہو یا غریب، رکشہ چلانے والا ہو، ٹھیلہ لگانے والا ہو، کوئی پروفیسر ہو یا طالب علم، کوئی صحافی ہو، کوئی بڑا یا چھوٹا کاروباری ہو، کوئی بھی فرد ہو، یہاں اس کی زندگانی سیاسی ہوچکی ہے، وہ کوئی بھی بات نہیں کرنا چاہتا۔

مَیں امید کرتی ہوں کہ اُونچے پائیدانوں پر بیٹھے وہ سیاست دان جنھوں نے کشمیریوں سے کسی قسم کی بات چیت اور مشورہ کیے بغیر کشمیر کے لیے بڑے بڑے فیصلے کر دیئے۔ اس نئے کشمیر کی موجودہ صورتِ حال کو دیکھ کران کا دل ضرور دُکھے گا کہ کیا وہ کشمیر کے لیے یہی چاہتے تھے؟

جمہوریہ ترکیہ کے جنوب مشرق میں شام کی سرحد سے متصل ۶فروری ۲۰۲۳ءکو آئے زلزلے نے ملک میں قہر مچا دیا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط علاقہ اس کی زد میں آیا ہے۔ دس صوبوں، قہرمان مارش، حاتائی، عثمانیہ، غازی ان تپ، شانلی عرفہ، دیاربکر، مالاتیہ، کیلس، آدانا اور آدیمان کی ایک کروڑ ۲۰ لاکھ کی آبادی متاثر ہوئی ہے۔ اس متاثرہ علاقے کے ایک سرے یعنی آدانا سے دوسرے سرے یعنی دیار بکر یا مالاتیہ تک ۷۰۰کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔   یہ سارا علاقہ تباہی اور بربادی کی ایک داستان بیان کر رہا ہے۔ ۵۰ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت کا اندیشہ ہے ۔ اتنے بڑے علاقے میں بچائو اور سہارے کے لیے حکومتی اہل کاروں اور رضاکاروں کی ایک بڑی فوج کی ضرورت ہے۔ ترکی کے ان صوبوں کے علاوہ سرحد کی دوسری طرف شام کے پانچ صوبہ لاتیکا، ادلیب، رقہ اور الحکہ بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

تین سال قبل جب ترکیہ کی قومی نیو ز ایجنسی انادولو سے دارالحکومت انقرہ میں وابستگی اختیار کی تو مجھے بتایا گیا: ’’ترکیہ میں زلزلے آتے رہنا تو ایک عام سی بات ہے، اس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بلڈنگوں کے ڈیزائن و تعمیر ایسی ہے کہ یہ ہلتی تو ہیں، مگر گرنے کا احتمال کم ہی ہوتا ہے۔ ترکیہ دوٹیکٹونک پلیٹوں کے بیچ میں واقع ہے اور یہ پلیٹ ایک دوسرے سے ٹکراتے رہتے ہیں‘‘۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہمارے دفتر میں کئی ترک ساتھیوں کو اپنے اہل خانہ یا والدین کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔

شانلی عرفہ کے سرحدی سوروج قصبہ میں مقامی صحافی آیان گلدووان مجھے بتا رہے تھے: ’’جب زلزلے کے جھٹکے سے مَیں بیدار ہوا تو پہلے تو مجھے یوں لگا کہ ترکیہ نے شاید شام میں امریکا کے حلیف کرد باغیوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیاہے اور بمباری ہو رہی ہے۔ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق ۴بج کر ۱۷منٹ پر آیا، جب کہ باہر برف باری ہو رہی تھی۔ آج کل فجر کی اذا ن ۶بج کر ۴۵ منٹ پر ہوتی ہے۔ اپنے والدین کے ساتھ جان بچانے کے لیے میں بلڈنگ سے باہر نکلا۔ دُور سے تاریخی عرفہ شہر سے گرد و غبار آسمان کی طرف بلند ہوتا دکھا ئی دیا۔زمین کی تھرتھراہٹ ۶۵ سیکنڈ تک جاری رہی اور پندرہ منٹ کے بعد، میں برف باری اور منجمد کرتی سردی سے بچنے کے لیے اپنی بلڈنگ کی طرف جانے لگا۔ اسی دوران ایک اور زلزلہ آگیا اور مَیں نے اپنی آنکھوں سے اس بلڈنگ کو گرتے دیکھا ، جس میں میرا فلیٹ تھا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے بے گھر ہوچکا تھا‘‘۔

متمول صوبہ غازی ان تپ، جس کے دارالحکومت کا نام بھی غازی ان تپ ہے، کے نواح میں ایک پہاڑی پر نیوز اینکر اوکتے یالچن کا فلیٹ تھا۔ ان کی بلڈنگ بھی زلزلے کے دوسرے جھٹکے سے گر گئی۔ پہاڑی سے وہ شہر پر آئی قیامت دیکھ رہے تھے۔ ان کا کہناہے: ’’ہمیں یوں لگا جیسے کوئی ایٹم بم گرادیا گیا تھا۔ ماہرین نے بتایا کہ اس زلزلہ کی شدت ۵۰۰میگاٹن ایٹم بم جتنی تھی۔ جاپان کے ہیروشیما شہر پر جو ایٹم بم امریکا نے گرایا تھا اس کی طاقت تو بس ۱۵کلو ٹن تھی۔ زلزلہ تھمنے کے بعد میں شہر کے مرکز کی طرف روانہ ہوا، تو دیکھا کہ شاپنگ مال، کلبس اور ریسٹورنٹس ، جہاں کل رات تک لوگ چمکتی ہوئی بھڑکیلی روشنیوں کے جلو میں ویک اینڈ جشن منا رہے تھے، زمین بوس ہو چکے تھے۔ قہر مان مار ش صوبہ کے دو قصبے پزارجک اور البستان کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔ زلزلہ کا مرکز یہیں تھا‘‘۔

حاتائی میں ہی انادولو نیوزایجنسی کے ایک اور رپورٹر اپنے مکان کے گرنے سے اپنے خاندان کے ساتھ زندہ ہی ملبے میں دفن ہو گئے تھے۔ وہ بتا رہے تھے:’’ہر طرف اندھیر ا تھا اور  لگتا تھا کہ ہم زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ چند گھنٹوں کے بعد مَیں نے محسوس کیا کہ زلزلہ کے مزید جھٹکوں نے دیوار میں شگاف ڈال دیا، جس سے روشنی نظر آنا شروع ہوئی۔ پھر میں نے کئی گھنٹوں کی مشقت کے بعد وہاں پڑی ایک سخت چیز سے اس سوراخ کو بڑا کیا۔ مجھے کچھ یاد نہیں کہ و ہ آلہ کیا تھا اور کیسے ہاتھ میں آگیا تھا۔ سوراخ تھوڑا بڑا ہوگیا ، تو پہلے اپنے بچوں کو باہر نکالا اور پھر اپنے والدین اور پھر خود اپنی اہلیہ کے ساتھ باہر آگیا۔ ہم دو دن تک خون جمانے والی سردی اور بارش میں بغیر جوتوں کے نائٹ سوٹ پہنے سڑک پر کسی ریسکیو ٹیم کا انتظار کر رہے تھے‘‘۔

 بحیرۂ روم کے ساحل پر حاتائی صوبہ کی بندرگاہ اسکندرون تو آگ کی نذر ہو گئی ۔ یہاں ترکیہ کی قومی بحریہ کا ایک اسٹیشن بھی ہے۔ زلزلہ سے کئی کنٹینر الٹ گئے اور آگ بھڑک اٹھی، کئی روز کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔ پڑوس میں آدانا صوبہ میں انجیرلک کے مقام پر ناٹو اور امریکی فوج کی فارورڈ بیس کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ مگر اس کے ایئرپورٹ کو ٹھیک کرکے بھاری طیاروں کے اترنے کے قابل بنا دیا گیا ہے۔

 غازی ان تپ کے دو ہزار سال پرانے تاریخی قلعے نے کئی زمانے دیکھے ،مگر اس زلزلہ کی وجہ سے اس کا ایک بڑا حصہ مسمار ہو گیا ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کے لیے اس کی مرمت اور بحالی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ ترکیہ کا یہ متاثرہ علاقہ تاریخی لحاظ سے خاصا اہم ہے۔ شان لی عرفہ کے صوبے میں عرفہ شہر کو فلسطین کی طرح پیغمبروں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ اس کا قدیم نام شہر’ ار‘ ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اور ان کو نمرود نے آگ میں ڈالا تھا۔ جس جگہ ان کو آگ میں ڈالا گیا تھا وہاں اب ایک خوب صورت تالاب ہے، جس میں ہزاروں مچھلیاں تیرتی رہتی ہیں۔ یہ حضرت شعیبؑ ، حضرت ایوبؑ اور حضرت الیاس علیہم السلام کا بھی وطن ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنی زندگی کے سات سال یہاں گزارے۔

جمہوریہ ترکیہ میں آفات سے نمٹنے والی ایجنسی AFADدنیا بھر میں اپنی کارکردگی اور مہارت کی وجہ سے مشہور ہے ۔ مگر یہ تباہی جس بڑے پیمانے پر اور جس وسیع خطے میں آئی ہے،  اس وجہ سے اکیلے یہ بحالیات کرنے والی ایجنسی شاید ہی اس سے نپٹ سکے۔ فی الحال دینا بھر کے نوّے ممالک کی ٹیمیں میدا ن میں ہیں۔ان میں پاکستان اور بھارت کی ریسکیو ٹیمیں بھی شامل ہیں۔ پاکستان ریسکیو ٹیم نے آدیمان میں ایک ۱۵ سالہ بچے کو ملبے سے زندہ نکالا، جو یقینا ایک کرشمۂ قدرت ہے۔ اس ٹیم نے اب اس جگہ پر ریسکیو آپریشن ختم کر دیا تھا کہ اس کے ایک کارکن نے موہوم آواز میں کسی کو کلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے سنا ۔انھوں نے دوبارہ آلات نصب کیے، تو معلوم ہو اکہ آواز ملبے سے آرہی ہے۔ کئی گھنٹوں کی مشقت کے بعد اس بچے کو برآمد کیا گیا، جو منفی درجہ حرارت میں ۱۳۷گھنٹوں تک ملبہ میں دبا رہا ۔ ایسے اَن گنت واقعات منظر عام پر آرہے ہیں۔چونکہ زندہ افراد کے ملبے سے نکلنے کا سلسلہ جاری رہا، اس لیے بلڈوزر اور بھاری مشینری استعمال کرنے سے پرہیز کیا گیا ہے۔ ہاتھوں سے ملبہ اٹھانا اور اس میں زندہ وجود کا پتہ لگانا انتہائی صبر آزما کام ہے۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ ایک بڑی متاثرہ آبادی کی آبادکاری اور ان کی متبادل رہایش کا انتظام کرنا، شہروںاور قصبوں کا پورا انفراسٹرکچر کھڑا کرنا ایک بہت بڑا اور سخت کٹھن کام ہے۔ یاد رہے، عددی اعتبار سے ترکیہ، امریکا کے بعد دُنیابھر میں بیرونِ ملک انسانی امداد پر خرچ کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ چاہے بنگلہ دیش، میانمار، روہنگیا کے متاثرین ہوں یا افغانی، شامی، جنوبی امریکی اور افریقی آفت زدگان۔ ۲۰۲۱ء میں طیب اردوان کی حکومت نے بیرونِ ملک انسانی امداد کے لیے ۵ء۵ بلین ڈالر خرچ کیے تھے۔

ترکیہ کا ایک ادارہ ’ترکش کوآپریشن اینڈ کوآرڈی نیشن ایجنسی‘ انھی خدمات کے لیے مختص ہے۔ علاوہ ازیں مذہبی اُمور کی وزارت اور بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں بھی امداد اور زکوٰۃ جمع کرکے دُوردراز ممالک میں ضرورت مندوں تک پہنچاتی ہیں۔ اس طرح جمہوریہ ترکیہ کی مجموعی قومی پیداوار کا اعشاریہ ۸۶ فی صد بیرون ملک انسانی امداد پر مختص کرکے، ترکیہ امریکا سے کافی آگے ہے۔ اب آزمایش دیکھیے کہ سخاوت، دریا دلی اور خود داری کے لیے مشہور یہ ملک،جس کے پاس عرب دنیا کی طرح تیل کے چشمے بھی نہیں ہیں، اس مصیبت کی گھڑی میں خود امداد کامستحق ہوگیا ہے۔

ان آفت زدہ علاقوں کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے دور دور تک صرف ملبے کے ڈھیر نظر آتے ہیں اور ان کے درمیان جزیروں کی طرح چند عمارتیں کھڑی نظر آ رہی ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق یہ حکومت کی طرف سے رعایتی نرخوں پر غریبوں کے لیے بنائے گئے مکانات ہیں، جو شدید زلزلوں کے جھٹکوں کو سہہ سکے ہیں، جب کہ اسکائی اسکریپرز، پُر تعیش کثیر منزلہ عمارات، ان میں سے کئی تو بس چند ماہ پہلے ہی مکمل ہو چکی تھیں، اور ان کو بیچنے کے لیے کئی شہروں میں ہورڈنگس لگی ہوئی تھیں، زمین بوس ہو چکے ہیں۔ اسی طرح  زلزلہ کے مرکز قہرمان مارش صوبہ کے پزارجک قصبہ سے صرف ۸۰کلومیٹر دُور ایرزان قصبہ کا بال بھی بیکا نہیں ہوا۔ اس کے سبھی مکین مع مکانات صحیح و سلامت ہیں۔

آفت زدہ علاقے کے باسی ابھی تک دہشت زدہ ہیں، اور ابھی تک گھروں کے بجائے سڑکوں اور پارکوں میں خیموں میں رہ رہے ہیں۔آفٹر شاک آنے کا سلسلہ جاری ہے ۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ۱۹ہزار کثیر منزلہ عمارات زمین بوس ہو چکی ہیں اور مزید ۳۰ہزار ناقابل رہایش ہوچکی ہیں۔ اس کے علاو ہ لاتعداد عمارتوں کو انتہائی مرمت کی ضرورت ہے۔ چونکہ ۱۹۸۰ءسے ہی ترکیہ میں قانونی طور پر انفرادی مکانات یا بنگلے تعمیر کرنے پر پابندی عائد ہے، اس لیے کم و بیش پوری آبادی کثیر منزلہ عمارات میں ہی رہتی ہے۔

۱۹۹۹ء میں ازمت اور استنبول کے آس پاس آئے زلزلے کے بعد بلڈنگ قوانین میں بڑی تبدیلیاں کرکے یہ لازم کردیا گیا تھا کہ زلزلہ کو سہنے والی عمارات ہی بنائی جائیں۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ جنوب مشرق کے ان صوبوں کی مقامی بلدیہ نے ان قوانین کا سختی کے ساتھ اطلاق نہیں کیا ہے۔ مالاتیہ صوبہ میں ایک ایسی بلڈنگ گر گئی، جس کا پچھلے سال ہی افتتاح ہوا تھا۔ حاتائی کے انتاکیا شہر میں جب ایک ۱۲منزلہ عمارت گرنے کی خبر آئی تو اس کے بنانے والے مہمت یاسا ر ملک سے باہر فرار ہو رہے تھے، ان کو استنبول ایرپورٹ پر گرفتار کیا گیا۔ اسی شہر میں بحر روم کے کنارے ایک ۲۵۰  فلیٹوں پر مشتمل سپر لگزری ۲۴منزلہ عمارت ایک ڈویلپر نے بنائی تھی، جس کے ہورڈنگس ملک بھر کے خریداروں کو لبھا رہے تھے۔ یہ عمارت تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی ہے۔

زلزلوں کے ماہر اور اسٹرکچر انجینئر مہدی زارا کے مطابق اکثر ہلاکتیں زلزلہ کے بجائے بلڈنگوں کے گرنے سے ہوئی ہیں اور اگر کوئی بلڈنگ شاک سے گر جاتی ہے، تو یہ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ اس کی تعمیر میں کوئی نقص تھا۔ ان کے مطابق جدید ٹکنالوجی کے ذریعے بلڈنگوں کو شاک پروف بنایا جاسکتا ہے اور یہ تکنیک عمارت بنانے کے لیے استعمال کرنا تو ترکیہ میں لازمی ہے۔ اس کا بڑاثبوت اسی علاقے میں غریب افراد کے لیے بنائی گئی عمارات ہیں، جو بالکل سلامت کھڑی ہیں۔ لگتا ہے کہ بلڈنگ قوانین یا کوڈ کو سختی سے ان علاقوں میں لاگو نہیں کیا گیا تھا۔ حالانکہ ایک بہتر ڈیزائن والی عمارت اس سے بھی زیادہ شدت کے زلزلے برداشت کر سکتی ہے۔کسی بھی بلڈنگ کو شاک پروف بنانے کے لیے اس کی بنیاد میں اسٹیل کی راڈیں ڈالی جاتی ہیں اور پھر استونوں کے کالم بھی اسٹیل سے ہی کھڑے کیے جاتے ہیں۔ زلزلہ کے وقت لچک کی وجہ سے اسٹیل کالم جھٹکے کے بعد واپس اپنی پوزیشن میں آتے ہیں اور بلڈنگ محفوظ رہتی ہے۔

انقرہ میں حکومت کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں چونکہ بلدیاتی ادارے اپوزیشن گڈ پارٹی اور کرد ایچ ڈی پی کے پاس ہیں، انھوں نے مقبولیت حاصل کرنے کے لیے اور رئیل اسٹیٹ بوم دکھانے کے لیے بلڈنگ بنانے کی شرائط اور ان پر عمل درآمد کروانے میں نرمی برتی ہے۔ نائب صدر فواد اوکتہ کے مطابق ابھی تک ۱۳۱ٹھیکے داروں، انجینئرو ں اور معماروں کی نشان دہی کی گئی ہے، جن کے خلاف مقدمے درج کیے جائیں گے۔ وزارت انصاف نے تو باضابطہ تفتیش کے لیے ایک ٹیم بھی تشکیل دی ہے۔ ترکیہ میں ہر گھر کا انشورنس کرنا لازمی ہوتا ہے، اس کے بغیر بجلی، پانی اور گیس کا کنکشن مل ہی نہیں سکتا۔ اس طرح ہر سال انشورنس کمپنیاں مکان مالکان سے ۲ء۱۹ بلین لیرا اکٹھا کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے عائد زلزلہ ٹیکس میں بھی ۸۸بلین لیرا حکومت کے خزانے میں جمع ہیں۔ ہر سال بلدیہ کے ضابطہ محکمہ کے افراد جدید آلات لیے عمارتوں کی چیکنگ کرتے رہتے ہیں۔ انقرہ میں جس علاقے میں، مَیں رہایش پذیر ہوں ، صرف پچھلے ایک سال کے دوران پانچ بلڈنگوں کو غیر محفوظ قرار دے کر مسمار کردیا گیا ۔ ضابط محکمہ مکینوں کو نوٹس دیتا ہے اور پھر ان کو ایک سال تک متبادل رہایش اور سامان کے نقل و حمل کے لیے خرچہ دے کر مسمار شدہ جگہ پر نئی عمارت بغیر کسی خرچہ کے تعمیر کراتا ہے۔ اس کا خرچہ مکان مالک کے بجائے انشورنس کمپنی سے لیا جاتا ہے۔

یہ زلزلہ ایسے وقت آیا ہے کہ جب صدر رجب طیب اردوان اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ انھوں نے پہلے ہی ۱۴مئی ۲۰۲۳ء کو صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کردیا تھا۔ ان زلزلوں کا ایک ضمنی مثبت اثر یہ رہا کہ ترکیہ اور یونان میں مفاہمت کے آثار نظر آرہے ہیں۔ سیاسی کشیدگی ہوتے ہوئے بھی یونان نے سب سے پہلے اپنی ریسکیو ٹیموں کو بھیجا اور ان کے وزیر خارجہ نکوس ڈنڈیاس خود اس کی نگرانی کرنے پہنچ گئے۔ دوسری طرف آرمینیا اور ترکیہ کے درمیان بارڈر پوسٹ ۳۰سال بعد کھولی گئیں۔ کاش! اسی طرح کی کوئی مفاہمت شام اور ترکیہ کے درمیان بھی ہوتی، تاکہ اس خطے میں امن بحال ہوسکے اور شورش کی وجہ سے ۴۰لاکھ کے قریب بے گھر شامی اپنے گھروں کو جاکر زندگی گزار سکیں۔