بھارتی مقبوضہ کشمیر (IOK) کا تنازعہ برطانوی انڈیا کی ۱۹۴۷ء کی تقسیم سے پیدا ہونے والا ایک طویل مدتی قضیہ ہے، جو انڈین حکمرانی کے خلاف حقِ خود ارادیت کی جدوجہد، پاکستان کے ساتھ بار بار جنگوں، اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ رکھتا ہے۔ ۲۰۱۹ء میں انڈیا کی طرف سے آرٹیکل۳۷۰ اور ۳۵-اے کے منسوخ ہونے سے اس علاقے کی رہی سہی، واجبی سی خودمختاری بھی ختم ہوگئی، جس نے مقامی سطح پر بے گانگی کو مزید شدید کر دیا، آبادی میں تبدیلیاں کیں اور بحران کو گہرا کر دیا۔
یہ مسئلہ ۱۹۴۷ء میں شروع ہوا جب مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کے حکمران ہری سنگھ نے اکثریتی آبادی کی خواہشات کے برعکس انڈیا کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا، حالانکہ اکثریت پاکستان سے وابستگی یا الگ وجود برقرار رکھنے کی طرف مائل تھی۔ اس سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کئی جنگوں میں سے پہلی جنگ چھڑ گئی۔ اقوام متحدہ نے قراردادوں کے ذریعے عوام کی مرضی جانچنے کے لیے ’استصواب رائے‘ (براہ راست ووٹ) کا فیصلہ کیا، جو اب تک نافذ نہیں ہوا۔ رپورٹوں میں اکثر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا جاتا ہے، جن میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور تشدد شامل ہیں۔ مقامی مزاحمت عشروں سے جاری ہے۔ وادی میں سیکیورٹی فورسز کی طرف سے ماورائے عدالت قتل اور جعلی انکاؤنٹرز ان لوگوں کے لیے معمول بن چکے ہیں، جو ریاستی انتظامی درندگی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ اس وقت پوری وادی ایک جیل بن چکی ہے، ’زمین پر سب سے بڑی انسانی جیل‘ ناقابلِ بیان پابندیوں کے ساتھ۔ کشمیریوں کی نئی نسل، جنھوں نے اپنے پیاروں کو جعلی انکاؤنٹرز اور جعلی کورڈن اینڈ سرچ آپریشنز میں شہید ہوتے دیکھا ہے، نے خود ارادیت کے اپنے حق کے طور پر مزاحمت کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔
انڈیا اپنے بے مثال ریاستی جبروبہیمیت کو چھپانے کی ناپاک کوششیں کرتا چلا آرہا ہے۔ بنیادی طور پر ۱۹۴۸ء سے ۱۹۵۷ء کے درمیان منظور ہونے والی اقوام متحدہ کی قراردادیں یہ تسلیم کرتی ہیں کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت آزاد، منصفانہ اور غیر جانب دار ’استصواب رائے‘ کے ذریعے اقوام متحدہ کی نگرانی میں طے کی جائے گی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کلیدی قراردادیں (۴۷، ۵۱، ۸۰، ۹۱، ۱۲۲) نے سیز فائر قائم کیا، غیر فوجی کاری کا حکم دیا، اور خود ارادیت کے حق کو تسلیم کیا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں موجودہ تحریک لوگوں کی خود ارادیت کے حق کی جدوجہد پر مبنی ہے۔ آزادی کے نعرے لگانے والی پُرامن ریلیوں پر انڈین فوج اور پولیس کی فائرنگ ایک معمول رہا ہے۔ ہزاروں مرد، خواتین اور بچے مارے یا زخمی ہو چکے ہیں۔ نئی دہلی کا یہ الزام کہ کشمیری عوام کو پاکستان کی طرف سے مدد مل رہی ہے، بے بنیاد ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی معروضی رپورٹس گواہی دیتی ہیں کہ کشمیر کی تحریک مقامی ہے۔
اگرچہ یہ قراردادیں چالیس کے عشرے کے آخر اور پچاس کے عشرے کے شروع میں منظور ہوئی تھیں، لیکن آزادی کی بڑی تحریک ۱۹۹۰ء تک شروع نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کشمیریوں کی اکثریت کو یقین تھا کہ بین الاقوامی برادری کی مرضی غالب آئے گی اور ان کے مقدمے میں انصاف ہو گا۔ البتہ انڈیا نے بدنیتی سے ایک طرف بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا ڈھونگ رچایا اور پاکستان کے ساتھ طویل بات چیت میں مصروف رہا۔ تاہم، پردے کے پیچھے اس نے علاقے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ریاست کی خودمختاری کو کم کرنے کے لیے کئی دُور رس اقدامات کیے، جن میں وفاقی قوانین کو علاقے میں توسیع دینا شامل تھا۔ ایک واضح مثال علاقے کو بھارتی سپریم کورٹ کے دائرۂ کار میں لانا تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ، بین الاقوامی سطح پر تسلیم کردہ ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے بجائے اٹوٹ انگ کا راگ الاپنا شروع کیا۔ ان اقدامات اور زہریلی تقاریر نے کشمیری نوجوانوں کے جذبات کو مشتعل کیا، جنھوں نے انڈین خیانت کاری اور توہین آمیزی کے جواب میں آزادی کی جدوجہد شروع کردی۔ کشمیری عوام کی اکثریت نے اس تحریک میں شمولیت اختیار کر لی جو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گئی۔ اس سے انڈین حکومت گھبرا گئی اور اس نے اس جدوجہد کا مقابلہ کرنے کے لیے دہشت گردی کا دور شروع کردیا۔ ۱۹۹۰ء سے ۲۰۱۱ء تک کی بے مثال سفاکیت میں ایک لاکھ ۲۰ ہزار سے زائد نوجوان شہیدکیے گئے، گیارہ ہزار ۳سو خواتین کو گینگ ریپ کیا گیا، ہزاروں کشمیری لاپتہ ہیں اور آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ انڈین مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دانش وروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اجتماعی قبروں کی دریافت کی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے شروع کی گئی ان کوششوں کو انڈین حکومت نے روک دیا۔
اگست ۲۰۱۹ء میں، انڈین حکومت نے آرٹیکل ۳۷۰ منسوخ کر دیا، جموں و کشمیر کی خصوصی خودمختار حیثیت ختم کرتے ہوئے اور علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی موجودگی میں بڑا اضافہ کردیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر نگرانی کرنے والے اداروں نے نوٹ کیا کہ اظہار رائے، اجتماع اور نقل و حرکت پر پہلے سے موجود پابندیاں اس کے بعد شدید ہو گئی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ l خود ارادیت کے مطالبے کی حمایت کرنے والی آوازوں کو دبانا l جتنا ممکن ہوسکے نوجوانوں کو ختم کرنا lقانونی باشندوں کی زمین اور جائیداد ضبط کرنا l مسلح ہندو نسل پرستوں کو علاقے میں داخل کرنا اور ان کی آبادکاری کو آسان بنانا l مسلمان افسروں کو کلیدی عہدوں سے ہٹانا اور ان کی جگہ نسل پرستانہ ذہنیت رکھنے والے ہندوؤں کو بھرتی کرنا l مجموعی طور پر، کشمیر پر براہِ راست نئی دہلی سے حکمرانی کرنا، ایسے اقدامات کو وسعت دینا جو مقامی آبادی کو مکمل طور پر مطیع کریں اور انھیں ذہنی، سماجی اور معاشی طور پر غلام بنا دیں۔
انڈین حکومت ۵؍اگست۲۰۱۹ء کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلی لانے کے لیے جو اقدامات کر رہی ہے، اس کی بڑی حکمت عملی ’سیٹلرکالونیلزم‘ (Settler Colonialism)ہے۔ یہ علاقائی حصول اور آبادیاتی ڈھانچا سازی کا عمل ہے، جس میں انڈیا نے جموں و کشمیر کی خصوصی خودمختاری منسوخ کرتے ہوئے تیز رفتاری سے قدم اٹھایا۔ مقامی زمین کی ملکیت اور رہائشی حقوق کی حفاظت کرنے والے قوانین کو ختم کر کے، انڈین غیر کشمیریوں کی آبادکاری کو ممکن بنا یا ہے، جس کا مقصد علاقے کی مسلم اکثریتی آبادی کو تبدیل کرنا، مقامی باشندوں کو بے دخل کرنا، اور علاقے کو ہندو قوم پرست فریم ورک میں ضم کرنا ہے۔
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں سیٹلر کالونیلزم کے کلیدی پہلو یہ ہیں:
۱- آبادیاتی انجینئرنگ: آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کی منسوخی نے غیر رہائشیوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی اجازت دے دی، جس سے ایک ’سیٹلر کلاس‘ کو علاقے میں منتقل ہونے کا موقع ملا۔
۲- زمین کی بے دخلی: نئے زمینی قوانین بیرونی لوگوں کو زمین کی منتقلی کی اجازت دیتے ہیں، سابقہ ’زمین کسان کی ‘ اصلاحات کو الٹتے ہوئے اور کشمیری کسانوں کی روزی روٹی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
۳- ثقافتی اور سیاسی مٹاؤ: انڈین پالیسیوں میں کشمیری شناخت کو کمزور کرنے، مقامی سیاسی موقف کو دبانے، اور انھیں ’زمین کی بازیافت‘ کا ہدف سامنے رکھا گیا ہے۔
۴- فوجی قبضہ: تقریباً ۹ لاکھ فوجیوں اور ’آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ‘ (AFSPA) کی حمایت سے، جو سیکیورٹی فورسز کو قانونی استثنیٰ فراہم کرتا ہے، ریاست اس تبدیلی کو شدید نگرانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذریعے نافذ کرتی ہے۔
۵- معاشی استحصال: وسائل، بشمول ممکنہ لیتھیم کے ذخائر اور جنگلات کی زمین، ریاست کے کنٹرول سے نکالے جا رہے ہیں، مقامی ماحولیاتی خدشات کو نظرانداز کرتے ہوئے۔
مقبوضہ کشمیر میں مظالم اکثر غیر رپورٹ شدہ رہتے ہیں یا بین الاقوامی توجہ کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ انڈین حکام کی طرف سے پروپیگنڈا مشینری کا ایک ہمہ گیر اور مربوط عمل ہے، جو حقائق کو مسخ کرتا ہے۔ اس شیطانی عمل میں شامل ہیں:
۱-مواصلاتی بلیک آؤٹس اور میڈیا پابندیاں: انڈین حکام نے تاریخی طور پر مواصلاتی بلیک آؤٹس کا استعمال کیا ہے، جس میں انٹرنیٹ سروسز کو دبانا شامل ہے، تاکہ علاقے سے معلومات کے بہاؤ کو کنٹرول کیا جا سکے۔ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ کرنے پر معمول کی ہراسانی، قید اور ’دہشت گردی‘ کے الزامات کا سامنا کرتے ہیں، جس سے خوف اور خود سنسرشپ کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
۲- سیکیورٹی فورسز کو استثنیٰ: آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) انڈین سیکیورٹی اہلکاروں کو علاقے میں ان کے اقدامات پر قانونی استثنیٰ فراہم کرتے ہیں، جس کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ یہ جواب دہی کی کمی پیدا کرتا ہے اور مزید خلاف ورزیوں کو فروغ دیتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل PSA کو ’قانون کے بغیر قانون‘ کہتا ہے۔
۳-حکومت کا انکار: انڈین حکومت اکثر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس کو اپنا ایک اندرونی تنازع کا حصہ قرار دے کر مسترد کر دیتی ہے، زمینی حقائق سے انکار کرتی ہے اور بیرونی جانچ کو محدود کرتی ہے۔
۴- جیو پولیٹیکل اور معاشی مفادات: بہت سی قومیں اس مسئلے پر خاموش رہتی ہیں، ’جیوپولیٹیکل احتیاط‘ اور انڈیا کے ساتھ بڑے معاشی و تجارتی مفادات کی وجہ سے۔ خاص طور پر مغربی طاقتیں اکثر انسانی حقوق کے خدشات سے زیادہ چین کے علاقائی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے انڈیا کے ساتھ اپنے اسٹرے ٹیجک تعلقات کو ترجیح دیتی ہیں۔
۵- بین الاقوامی مبصرین کی رسائی کی کمی: انڈیا کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی طرف سے بار بار زور دیا گیا ہے کہ وہ آزاد تحقیقات کی اجازت دے اور اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹرز، آزاد صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بلا رکاوٹ رسائی دے، لیکن ان درخواستوں کو زیادہ تر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
ان چیلنجوں کے باوجود، انسانی حقوق کی تنظیمیں جیسے ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کی رپورٹس نے سنگین الزامات کی وسیع دستاویزات تیار کی ہیں، جن میں جبری گمشدگیاں، تشدد، جنسی تشدد اور ماورائے عدالت قتل شامل ہیں۔ ان رپورٹس نے بین الاقوامی سطح پر آگاہی پیدا کی ہے اور انڈین حکومت کو جواب دہ ٹھیرانے کے مطالبات کیے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے حالیہ مہینوں میں علاقے میں خلاف ورزیوں کے بارے میں سرکاری طور پر سنگین خدشات پر آواز اُٹھائی ہے۔ ۲۲؍ اپریل ۲۰۲۵ء کو پہلگام حملے کے بعد، جہاں ۲۶ ؍افراد، زیادہ تر عام سیاح فالس فلیگ آپریشن، میں مارے گئے، تو انڈین فوج کی کارروائیاں پورے کشمیر میں شدید ہو گئیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے دہشت گردی کی مذمت کی، لیکن زور دیا کہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی پابندی کرتے ہوئے ہونے چاہییں۔ انھوں نے متعدد اضلاع میں تقریباً۲۸۰۰ ؍ افراد کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور حراستوں کو رپورٹ کیا، جن میں طلبہ، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔ حراست میں لیے گئے افراد کو اکثر سخت قوانین جیسے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور ’ان لاء فل ایکٹیویٹیز (پریونشن) ایکٹ‘ (UAPA) کے تحت رکھا جاتا ہے، جو بغیر الزام یا بروقت مقدمے کے طویل حراست کی اجازت دیتے ہیں ، جو حقوق کے ماہرین کی طرف سے خاص طور پر تنقید کا نشانہ ہے۔
آزاد رپورٹس اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے کئی دستاویزات تیار کی ہیں:
اقوام متحدہ کے ماہرین اور سول رائٹس کی تنظیمیں بار بار حکام پر زور دے چکی ہیں کہ وہ سیکیورٹی چیلنجوں سے نمٹتے ہوئے ان معیاروں کو برقرار رکھیں۔ ان کلیدی خدشات میں شامل ہیں:
۱- بروقت مقدمے کے بغیر من مانی حراست، ۲-انسداد دہشت گردی کے قوانین کا استعمال طویل حراست کے لیے، ۳-گھروں کی مسماری اور جبری بے دخلی، ۴-اظہار رائے اور اجتماع پر پابندیاں، ۵- تشدد، خواتین کی توہین و بے حُرمتی، تحویل میں اموات، اور سول سوسائٹی کے دبانے کے بڑے پیمانے پر مقدمات۔
ان تمام مسائل کو اقوام متحدہ کے ماہرین، بین الاقوامی حقوق کی تنظیموں، اور آزاد رپورٹس نے اٹھایا ہے ،اور یہ علاقے میں انسانی حقوق پر جاری مباحث کا حصہ ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کے ایک گروپ نے عوامی طور پر علاقے میں ’سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں‘ قرار دے کر مذمت کی ہے اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی کی تاکید کی ہے۔ اس کے علاوہ، کئی حکومتوں اور این جی اوز نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور آزاد تحقیقات، جواب دہی کے طریقہ کار، اور بنیادی آزادیوں کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارتی مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال انتہائی متنازع اور حساس ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، آزاد مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے من مانی حراست، آزادیوں کو محدود کرنے، جبری بے دخلی، مواصلاتی کنٹرولز، اور سول سوسائٹی کے دبانے کے نمونوں کی دستاویزات انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں شدید تشویش پیدا کر رہی ہیں۔ لیکن یہ تمام خدشات بہرے کانوں پر پڑ رہے ہیں، اور انڈین حکومت نہ صرف انھیں جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ کشمیری آبادی کو ختم کرنے اور اسے ایک ایسے علاقے میں تبدیل کرنے کے لیے اپنے پروگرام تیز کر رہی ہے جہاں ہندو مذہب/طرزِ زندگی غالب ہو یا غالب رہے۔
مئی ۲۰۲۵ء میں سرحدی جھڑپ کے دوران انڈیا اور پاکستان کے درمیان صورتِ حال اس درجہ بھڑک اُٹھی تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان جوہری جنگ چھڑنے کا خوفناک خدشہ حقیقت بن کر سامنے آگیا تھا۔ ایسی خوفناک صورتِ حال سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ مسئلۂ کشمیر کو حل کیا جائے، کہ مسئلہ کشمیر ایک بارود کا ڈھیر ہے اور جو کسی بھی وقت تباہی و بربادی کا محرک بن سکتا ہے۔