مارچ ۲۰۲۶

فہرست مضامین

غزہ: طاقت کے مقابلے میں عزم

مسعود ابدالی | مارچ ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

غزہ آج محض ایک جغرافیائی پٹی نہیں رہا، یہ عالمی سیاست کا آئینہ بن چکا ہے۔ یہاں گرنے والا ہر بم صرف کسی عمارت کو مسمار نہیں کرتا بلکہ بین الاقوامی قانون، اخلاقی اقدار اور سفارتی توازن کو بھی کسوٹی پر رکھ دیتا ہے۔ یہاں طاقت کے بے دریغ استعمال اور مزاحمت کے عزم کے درمیان ایک کش مکش جاری ہے۔ایسی کش مکش جس کا فیصلہ میدانِ جنگ سے زیادہ بیانیوں، عدالتوں اور سفارتی میزوں پر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ 

  • غزہ کا انسانی منظرنامہ: بمباری اور ناکہ بندی بدستور جاری ہیں۔ اسرائیل کے اندر امدادی ٹرکوں کے سامنے دھرنے دینا ایک معمول کی سیاسی سرگرمی بنتی جا رہی ہے۔ ۲ فروری سے شدت پسند عناصر ’کیریم شالوم کراسنگ‘ پر انسانی امداد لے جانے والے ٹرکوں کو روک رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ’یسرائیل بیتینو پارٹی‘ کا رہنما ایویگڈور لیبرمین ، جو خود کو لبرل اور سیکولر قرار دیتا ہے  اپنی جماعت کے کنیسٹ ارکان یولیا مالینووسکی اور شیرون نیر کے ہمراہ وہاں پہنچا۔ لیبرمین نے کہا کہ یہ ٹرک ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے غزہ کو بجلی، پانی اور دیگر سامان فراہم کر رہے ہیں، اور جب تک مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، امداد کی بحالی اسرائیلی عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ یہ منظر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کی ذمہ داری صرف مذہبی شدت پسندوں تک محدود نہیں، اسرائیلی سیاست کے لبرل اور سیکولر حلقے بھی سخت گیر پالیسیوں کے حامی ہیں۔ 
  • طاقت کی سیاست اور بیانیے کی جنگ:مغربی حمایت پر مبنی اعتماد نے اسرائیلی قیادت کو رسمی احتیاط برتنے سے بھی بے نیاز کر دیا ہے۔ چند روز قبل اسرائیل کی وزارتِ قومی سلامتی نے جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ تشدد اور بدسلوکی کی تصاویر جاری کیں، جسے ناقدین نفسیاتی جنگ کے ذریعے خوف پھیلانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ سرکاری ذرائع یہ خبر بھی پھیلا رہے ہیں کہ نئی قانون سازی کے تحت قتل اور دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار فلسطینیوں کو سزائے موت دی جا سکتی ہے، اور اس مقصد کے لیے جلادوں کی تربیت جلد شروع کی جائے گی۔ 
  • زندہ، معصوم بچّے جو بخارات میں بدل گئے:دوسری جانب ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ نے ہر صاحبِ ضمیر انسان کو لرزا دیا۔ اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں امریکا ساختہ تھرمل (Thermal) اور تھرمو بارک (Thermobaric) ہتھیار استعمال کیے۔ ایسے ہتھیار جو شدید حرارت اور دباؤ پیدا کرتے ہیں اور درجہ حرارت کو تقریباً ۳۵۰۰ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا دیتے ہیں۔ اس غیر معمولی حرارت کے نتیجے میں بعض مقامات پر زندہ انسانی جسم بخارات میں تبدیل ہو گئے اور ان کے قابلِ شناخت آثار تک باقی نہ رہے۔ 

غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق فرانزک سائنسی شواہد کی بنیاد پر تیار کردہ دستاویزات کم از کم ۲ہزار ۸سو۴۲  افراد کی نشاندہی کرتی ہیں،جنھیں ’بخارات بن جانے والے‘ قرار دیا جاسکتا ہے،یعنی تباہ شدہ مقامات سے ان کے جسموں کی کوئی قابلِ شناخت باقیات برآمد نہ ہوسکیں۔ ان دعوؤں کی آزاد اور بین الاقوامی سطح پر تصدیق پیچیدہ اور متنازع ہے۔ تاہم، اگر شہری آبادی کے خلاف ایسے ہتھیاروں کے استعمال کا ثبوت مل جاتا ہے تو سوال یہ ہے کہ ذمہ دار کون ٹھہرایا جائے گا —اور سزا کون بھگتے گا؟ 

  • عسکری دباؤ اور سیاسی نتائج کا امکان:ہولناک ہتھیاروں کے بے رحمانہ استعمال، جیلوں میں تشدد کی کھلی نمائش، اور امریکی صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کے باوجود کہ اگر مزاحمتی جنگجو غیر مسلح نہ ہوئے تو وہ غزہ پر ’’جہنم کے دروازے کھول دیں گے‘‘، مزاحمت کاروں میں ہتھیار ڈالنے کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی۔ 

’بورڈ آف پیس‘ کے نام سے شروع کیے گئے ایک المیہ ڈرامے میں بڑے دعوے کے ساتھ غزہ کے لیے ۱۲ رکنی نیشنل کمیٹی (NCAG) کے قیام کا اعلان کیا گیا، جس کا مقصد غزہ جا کر انتظامی کنٹرول سنبھالنا تھا۔ مگر شیر کے منہ میں قدم رکھنا آسان نہیں۔امریکا اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مزاحمت کاروں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں۔ واشنگٹن میں امن معاہدے پر دستخط کر دینا بذاتِ خود امن قائم نہیں کر سکتا۔ 

  • غیر مسلح کرنے کے مطالبے سے پسپائی:مظلوموں کی ثابت قدمی اور متکبروں کی جزوی پسپائی کے آثار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے ایک ایسے فارمولے پر غور کیا، جس کے تحت مزاحمتی قوتوں کو محدود ہلکے ہتھیار رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جب کہ بھاری ہتھیار مرحلہ وار ختم کیے جائیں گے۔ 

غیر مسلح کرنے کے منصوبے میں یہ مبینہ ترمیم امریکی اور اسرائیلی تکبر میں دراڑ کی علامت ہے —اور اس بات کا بالواسطہ اعتراف بھی کہ سفاک عسکری کارروائیاں، منظم نسل کشی، اور بھوک و موسمی حالات کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بھی غزہ کے عوام کو توڑنے میں ناکام رہا ہے۔ یا یوں کہیے کہ غزہ کے لوگوں کے پُرعزم صبر نے ظلم کو اپنا مؤقف نرم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ 

  • بین الاقوامی مداخلت اور ISF پر بحث:فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے غزہ میں غیرملکی افواج کی تعیناتی کو مشروط طور پر قبول کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ نیوزویک کے مطابق ان کے ترجمان باسم نعیم نے کہا کہ اگر بین الاقوامی افواج دونوں جانب کی سرحد کے درمیان بفر زون کے طور پر کام کریں اور فلسطینی شہری، عسکری، سیکیورٹی، سیاسی یا انتظامی معاملات میں مداخلت نہ کریں تو انھیں غزہ میں ان کی آمد پر کوئی اعتراض نہیں۔ 

بیان میں خبردار کیا گیا: اگر بین الاقوامی افواج اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گی تو فلسطینی انھیں ’قبضے کا متبادل‘ سمجھ سکتے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق انڈونیشیا نے اصولی طور پر ISF میں کردار ادا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ 

  • مغربی کنارے کی صورتِ حال اور علاقائی ردعمل: مغربی کنارے میں، مسلم دُنیا، یورپی یونین اور حتیٰ کہ امریکا کی جانب سے ’تشویش‘ کے اظہار کے باوجود، اسرائیلی فیصلوں کے بعد اراضی ملکیت اور منتقلی کے قوانین میں ترمیم کے تحت الحاق کے منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔ مغربی الخلیل میں فوج نے رہائشیوں کو بجلی کے نظام کے خاتمے کے نوٹس جاری کردیے ہیں۔ جب بجلی اور پانی منقطع کر دیے جائیں، تو رہائشیوں کے پاس اپنے گھروں کو خالی کرنے کے سوا کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟ 
  • عدالتی محاذ اور اظہارِ رائے کی حدود:جیسے امریکا میں، ویسے ہی برطانیہ میں بھی فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات جاری ہیں۔ تاہم ۱۳فروری کو ہائی کورٹ نے فلسطین ایکشن پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دے دیا۔ قانونی ماہرین جسٹس وکٹوریہ شارپ کے اس فیصلے کو اظہارِ رائے کی آزادی کے میدان میں ایک اہم نظیر قرار دے رہے ہیں۔ 
  • اسرائیل کے اندر مذہبی اور سیکولر کشیدگیاں:اسرائیل کے داخلی منظرنامے میں بھی تناؤ برقرار ہے۔ ۱۱ فروری کو ربی ڈو لاندو—جو حریدی جماعت یونائیٹڈ توراہ یہودیت کے اہم دھڑے (دیگل ہاتوراہ،’توراہ کا پرچم‘) کے روحانی رہنما ہیں، نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ایک بھی یشیوا کا طالبِ علم فوج میں شامل نہیں ہوگا۔ ان کے بقول توراہ کے علما کی جگہ میدانِ جنگ نہیں بلکہ یشیوا اور کولیل (مذہبی درسگاہیں) ہیں۔یہ کش مکش اسرائیلی معاشرے کے سیکولر اور مذہبی طبقات کے درمیان پہلے سے موجود خلیج کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ 
  • قیادت، کردار اور سیاسی اخلاقیات :قدامت پسند حلقوں کے دباؤ کے ساتھ ساتھ اسرائیلی قیادت کو ایپسٹین فائلز سے متعلق انکشافات پر بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تقریباً ایک ہفتہ قبل رپورٹس سامنے آئیں کہ سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود باراک نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ گفتگو میں اعتراف کیا کہ فلسطینی آبادی کی قدرتی افزائش اسرائیل کے لیے ایک تزویراتی کمزوری ہے۔ اس تناظر میں بعض تجزیہ کار غزہ میں جاری نسل کشی اور مغربی کنارے میں زمینوں پر قبضے کو دیکھنے لگے ہیں۔ایک حالیہ بیان میں باراک نے جیفری ایپسٹین سے اپنی ملاقاتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ افسوس کس بات پر؟ خود ان ملاقاتوں پریا اس بات پر کہ وہ ملاقاتیں منظرعام پر آ گئیں؟ 

غزہ کا بحران محض ایک جنگ نہیں، یہ طاقت اور ثابت قدمی، بیانیے اور حقیقت، خوف اور اعتماد کے درمیان ایک طویل کش مکش ہے۔ عسکری قوت وقتی غلبہ تو دے سکتی ہے، مگر پائیدار استحکام کے لیے سیاسی بصیرت، قانونی توازن اور سفارتی جراءت درکار ہوتی ہے۔ اگر مکالمے کے راستے مسدود رہے تو یہ تصادم صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کے سیاسی اور سماجی مستقبل کو شکل دے گا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ عارضی طور پر غالب کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ پائیدار امن کی طرف قدم بڑھانے کا حوصلہ کس کے پاس ہے؟