مارچ ۲۰۲۶

فہرست مضامین

رمضان المبارک اور روزہ , احادیث ِ رسولؐ کی روشنی میں

مولانا محمد فاروق خاں | مارچ ۲۰۲۶ | رمضان المبارک

Responsive image Responsive image

عَنْ سَلْمَان الْفَارِسِیِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ  قَالَ: خَطَبَنَا  رَسُوْلُ اللہِ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم  فِی اٰخِرِ یَوْمٍ مِّنْ  شَعْبَانَ فَقَالَ:  یَااَیُّھَا النَّاسُ قَدْ اَظَلَّکُمْ شَھْرٌ عَظِیْمٌ شَھْرٌ مُبَارَکٌ شَھْرٌ فِیْہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ  اَلْفِ شَھْرٍ جَعَلَ اللّٰہُ صیَامَہٗ فَرِیْضَۃً وَ قِیَامَ لَیْلِہٖ تَطَوُّعًا مَنْ تَقَرَّبَ فِیْہِ  بِخَصْلَۃٍ مِّنَ الْخَیْرِ کَانَ کَمَنْ اَدّٰی فَرِیْضَۃً فِیْمَا سِوَاہٗ وَمَنْ اَدّٰی فَرِیْضَۃً فِیْہِ کَانَ کَمَنْ اَدّٰی سَبْعِیْنَ فَرِیْضَۃً فِیْمَا سِوَاہٗ وَھُوَ شَھْرُ الصَّبْرِ وَالصَّبْرُ ثَوَابُہُ الْجَنَّۃُ وَ شَھْرُ الْمُوَاسَاۃِ وَ شَھْرٌ یُزَادُ فِیْہِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ مَنْ فَطَّرَ فِیْہِ صَائِمًا کَانَ لَہٗ مَغْفِرَۃً لِذُنُوْبِہٖ وَعِتْقَ رَقَـبَتِہِ مِنَ النَّارِ وَ کَانَ لَہٗ مِثْلُ اَجْرِہٖ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْتَقِصَ مِنْ اَجْرِہٖ شَیءٌ قُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ لَیْسَ کُلُّنَا نَجِدُ مَا نُفَطِّرُ بِہِ الصَّائِمَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْطِی اللّٰہُ ھَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلٰی مَذْقَۃِ لَـبَنٍ اَوْ تَمْرَۃٍ اَوْ شَرْبَۃٍ مِّنْ مَاءٍ وَمَنْ اَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاہُ اللّٰہ ُ مِنْ حَوْضِیْ شَرْبَۃً لَا یَظْمَأُ حَتّٰی یَدْخُلَ الْجَنَّۃَ وَھُوَ شَہْرٌ اَوَّلُہٗ رَحْمَۃٌ وَ اَوْسَطُہٗ مَغْفِرَۃٌ وَّ اٰخِرُہٗ عِتْقٌ مِّنَ النَّارِ وَ مَنْ خَفَّفَ عَنْ  مَّـمْلُوْکِہٖ فِیْہِ غَفَرَ اللّٰہُ لَہٗ وَ اَعْتَقَہٗ مِنَ النَّارِ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)  

سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا: ’’اے لوگو! تم پر ایک بڑی عظمت والا بابرکت مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے۔ اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس مہینے کے روزے اللہ نے فرض فرمائے ہیں اور اس کی راتوں میں (اللہ کی بارگاہ میں) کھڑا ہونے کو نفل مقرر کیا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں کوئی خیر کا کام اللہ کی رضا اور قرب حاصل کرنے کے لیے کرے گا تو وہ ایسا ہوگا جیسے اس مہینے کے سوا دوسرے مہینے میں اس نے فرض ادا کیا ہو اور جو اس مہینہ میں فرض ادا کرےگا وہ ایسا ہوگا جیسے اس نے ستّر فرض ادا کیے ہوں۔ اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنّت ہے۔ اور یہ ہمدردی و غم خواری کا مہینہ ہے۔ اور اس مہینہ میں ایمان والوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ جس کسی نے اس میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو [یہ عمل] اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور (جہنم کی) آگ سے آزادی کا سبب ہوگااور اسے اس روزہ دارکے برابر ثواب دیا جائے گا بغیر اس کے کہ اس روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔ 

ہم نے کہا: اے اللہ کے رسولؐ! ہم میں ہر ایک کو سامان میسر نہیں ہوتا جس سے وہ کسی روزہ دار کوافطار کراسکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ یہ ثواب اس شخص کو بھی عطا فرمائے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسّی یا کھجور یا پانی کے ایک گھونٹ سے ہی کسی روزہ دار کو افطار کرا دے۔اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلا دے گا، اللہ اسے میرے حوض سے ایسا سیراب کرے گا کہ اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی یہاں تک کہ وہ جنّت میں داخل ہوجائے گا۔ یہ (رمضان) وہ مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت، اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے۔ اور جو شخص اس مہینہ میں اپنے مملوک (غلام یا خادم) کے کام میں تخفیف کردے گا ، اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا اور اسے آگ سے آزادی دے دے گا۔ 

عظمت اور برکت والے مہینہ سے مراد رمضان المبارک کامبارک مہینہ ہے۔ رمضان المبارک کی فضیلت اور خصوصیت کے کئی پہلو اس حدیث میں آپؐ نے بیان فرمائے۔ آپؐ نے شب قدر کے بارے میں فرمایا کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے، قرآن کریم اسی مبارک رات سے اُترنا شروع ہوا۔ اس رات کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ وہ رات ہے جس میں ان باتوں کا فیصلہ ہوتا ہے جو علم و حکمت پر مبنی ہوتی ہیں اور جن میں دنیا کی فلاح اور بھلائی ہوتی ہے۔ دنیا کے تمام معاملات کا فیصلہ اسی رات میں ہوتا ہے، جس رات میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا وہ کوئی معمولی رات نہیں ہوسکتی۔ یہ رات تو ہزاروں مہینوں سے بہتر ہے۔ کبھی ہزار مہینوں میں بھی انسانوں کی فلاح کے لیے وہ کام نہیں ہوتا جو اس ایک رات میں ہوا۔اس رات کی ایک خاصیت یہ ہے کہ: تَنَـزَّلُ الْمَلٰۗىِٕكَـۃُ وَالرُّوْحُ فِيْہَا بِـاِذْنِ رَبِّہِمْ۝۰ۚ  ’’اس رات فرشتے اور روح الامین اپنے ربّ کے حکم سے اُترتے ہیں‘‘۔ (سورۃ القدر اور سورۃ الدخان: ۳-۵) 

رمضان میں دن کو روزہ رکھنا فرض ہے اور رات کوتراویح پڑھنا اور زیادہ سے زیادہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونا اگرچہ فرض تو نہیں ہے، لیکن یہ عمل اللہ کو بے حد پسند ہے۔ 

رمضان المبارک کا مہینہ روزہ کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس مبارک مہینے میں تمام مسلمان مل کر روزہ رکھتے ہیں۔ اس طرح انفرادی عبادت ایک اجتماعی عبادت بن جاتی ہے۔ لوگوں کے الگ الگ روزہ رکھنے سے جو روحانی واخلاقی فائدے ہوسکتے تھے، سب کے مل کر روزہ رکھنے سے وہ فائدے بے حدو حساب بڑھ جاتے ہیں۔ یہ اجتماعی عمل رمضان المبارک کے مہینہ کی پوری فضا کو نیکی اور پرہیزگاری کی روح سے بھر دیتا ہے۔ روزہ دار کو روزہ رکھ کر گناہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ لوگوں میں نیکی کی رغبت بڑھ جاتی ہے اور ان کے دلوں میں یہ خواہش اُبھرتی ہےکہ وہ غریبوں اور محتاجوں کے کام آئیں اور نیک کاموں میں حصہ لیں۔ نیکیوں کی تاثیر اور برکت بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے اللہ کے یہاں ان کے اجر میں بھی بے انتہا اضافہ ہوجاتاہے۔ 

اس مبارک مہینے میں آدمی بھوک پیاس کی تکلیف اُٹھا کر اپنی خواہشات پر قابو پانے اور اپنے آپ کو اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے احکام کا پابند بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنے اندر ایسی صلاحیت اور قوت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے وہ اللہ کے راستے میں صبرواستقامت کے ساتھ آگے بڑھ سکے اور ان تکالیف و مصائب کا جو اسے راہِ حق میں پیش آئیں ، پامردی کے ساتھ مقابلہ کرسکے۔ 

روزے میں اپنے دوسرے بھائیوں کے لیے ہمدردی کا جذبہ شدت کے ساتھ پیدا ہونا چاہیے۔ بھوک پیاس میں مبتلا ہوکر آدمی اس بات کو اچھی طرح محسوس کرسکتاہے کہ مفلسی اور تنگ دستی میں آدمی پر کیا کچھ گزرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے انتہا رحیم و شفیق تھے، مگر رمضان المبارک میں آپؐ کے تیز ہوا کی مانند ہوجانے والے جودوسخا سے کوئی محروم نہیں رہتا تھا۔کوئی سائل دروازے سے خالی نہیں جاتا تھا اور نہ کوئی قیدی قید میں رہتا تھا۔ ظاہری اور باطنی ہرطرح کی برکات اس مہینہ میں حاصل ہوتی ہیں۔ 

یہ مبارک مہینہ نیکیوں کی بہار لے کر آتا ہے۔ اہلِ ایمان اس مبارک مہینہ میں زیادہ سے زیادہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی اطاعت اور بندگی میں لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں پر اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی خاص رحمت اور عنایت ہوتی ہے یہاں تک کہ رمضان المبارک کا ابتدائی حصہ گزرنے کے بعد اہلِ ایمان اور اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے اطاعت گزار بندوں کی حالت ایسی ہوجاتی ہے کہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  ان کی پچھلی غلطیوں اور گناہوں سے درگزر فرماتے ہوئے ان کی خطائوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ اس مبارک مہینے کے آخری حصے تک پہنچتے پہنچتے اس مبارک مہینہ سے فائدہ اُٹھانے کی مخلصانہ کوشش کرنے والوں کی زندگیوں میں اتنی پاکیزگی آجاتی ہے اور اس درجہ کا تقویٰ اور خدا ترسی کا جذبہ ان کے اندر پیدا ہوجاتاہے کہ وہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی طرف سے نجات یافتہ قرار دیے جانے کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اللہ سبحانہٗ تعالیٰ دوزخ سے ان کی رہائی اور آزادی کا فیصلہ فرما دیتے ہیں۔ 

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ  : کُلُّ عَـمَلِ ابْنِ اٰدَمَ یُضَاعَفُ ، الْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَالِہَا اِلٰی سَبْعِ مِائَۃِ  ضِعْفٍ ، قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی اِلَّا الصَّوْمَ فَاِنَّہٗ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ ، یَدَعْ شَہْوَتَہٗ وَطَعَامَہٗ مِنْ اَجْلِیْ ،  لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ:  فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہٖ وَفَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَآءِ رَبِّہٖ ، وَلَخَلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ ، وَالصِّیَامُ جُنَّــۃٌ ، وَ اِذَا  کَانَ  یَوْمُ  صَوْمِ اَحَدِکُمْ ، فَلَا یَرْفَثْ  وَلَا یَصْخَبْ  ، فَاِنْ  سَابَّہٗ  اَحَدٌ  اَوْ قَاتَلَہٗ  فَلْیَقُلْ  اِنِّیْ  اِمْرُءٌ   صَائِمٌ (بخاری ، مسلم) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے ہرعمل کا ثواب ۱۰ گنا سے ۷۰۰ گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ اس سے مستثنیٰ ہے، کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور مَیں ہی اس کا (جتنا چاہوں گا) بدلہ دوں گا۔ [کیونکہ] انسان اپنی شہوتِ نفس اور اپنا کھانا میری ہی خاطر چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو مسرتیں ہیں: ایک مسرت افطار کے وقت اور دوسری اپنے ربّ کی ملاقات کے وقت۔ اور روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ نہ فحش باتیں کرے اور نہ شورو شغب اور دنگا فساد کرے اور اگر اسے کوئی گالی دے یا اس سے لڑے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں (میں تمھارے اس مشغلے میں حصہ نہیں لے سکتا)۔ 

اس حدیث میں کئی اہم اور بنیادی باتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمالِ صالحہ کا اجر ان کی نیتوں اور خلوص کے اعتبار سے ۱۰ گنا سے ۷۰۰ تک دیتا ہے لیکن روزے کا معاملہ اس عام قانون سے مختلف ہے۔ کیونکہ روزہ خالصتاً اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے لیے ہوتا ہے۔ دوسرے اعمالِ صالحہ کسی نہ کسی ظاہری صورت میں کیے جاتے ہیں۔ اس لیے دوسرے لوگوں سے چھپانا بے حدمشکل ہوتا ہے لیکن روزہ ایسا خاموش اور غیرمرئی عمل ہے جس کو روزہ دار اور اللہ کے سوا دوسرا کوئی نہیں جان سکتا۔ اس لیے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ اس کا اجر بھی بے حدوحساب عطا فرماتے ہیں۔ اس کے علاوہ رمضان المبارک میں نیکی اور تقویٰ کا عام ماحول میسر آتا ہے جس میں خیر اور صلاح کے پھلنے پھولنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ آدمی جتنی زیادہ نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ اس مہینے میں عمل کرے گا اور جتنا زیادہ رمضان المبارک کی برکتوں سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرے گا اور سال کے باقی گیارہ مہینوں میں رمضان کے اثرات کو باقی رکھے گا اتنا ہی زیادہ اس کے نیک اعمال پھلتے پھولتے رہیں گے۔ جس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ یہ خصوصیت دیگر اعمال کو حاصل نہیں ہے۔ 

بندہ روزے میں اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی رضا کے لیے نہ اپنی جنسی خواہش پوری کرتا ہے اور نہ کھاتا پیتا ہے تو اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  بھی ان ظاہری نعمتوں سے بڑھ کر اسے نعمتیں عطا فرماتے ہیں۔ 

روزے دار کے لیے دو مسرتیں ہیں: ایک مسرت اور خوشی اسے دنیا ہی میں افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے۔ دن بھر بھوکا پیاسا رہنے کے بعد جب وہ شام کو افطار کرتا ہے تو اسے جو لذت اور راحت حاصل ہوتی ہے وہ عام حالات میں کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس کی بھوک پیاس بھی دُور ہوجاتی ہے اور اسے یہ روحانی خوشی بھی حاصل ہوتی ہے کہ اس کو اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی توفیق ملی۔ روزِ محشر اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  سے ملاقات کے وقت جو خوشی روزہ دار کو حاصل ہوگی اس کا تو کہنا ہی کیا۔ اس خوشی کا مقابلہ تو کوئی بھی خوشی نہیں کرسکتی۔ 

روزے کی حالت میں منہ کی بُو خراب ہوجاتی ہے (اس لیے بار بار مسواک کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے) لیکن اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی نگاہ میں وہ مشک کی خوشبو سے کہیں زیادہ قابلِ قدر ہے۔ اس لیے کہ یہ بُو اس بھوک اور پیاس کی وجہ سے ہے جس کے پیچھے اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضا کی طلب کے سوا کوئی اور جذبہ کام نہیں کر رہا ہوتا۔ روزے کی حیثیت ڈھال کی ہوتی ہے۔ جس طرح ڈھال کے ذریعے آدمی دشمن کے وار سے اپنے آپ کو بچاتا ہے اسی طرح روزہ شیطان اور نفس کے حملوں سے بچنے کے لیے ڈھال ہے۔ روزہ کے آداب کا آدمی اگر لحاظ رکھے تو وہ روزہ کی وجہ سے بہت سے گناہوں سے محفوظ رہ سکتا ہے اور آخرت میں آتش دوزخ سے نجات پاسکتا ہے۔ 

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ  : مَنْ صَامَ  رَمَضَانَ  اِیْمَانًا  وَّاحْتِسَابًا  غُفِرَ  لَہٗ  مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ  ، وَمَنْ   قَامَ  رَمَضَانَ  اِیْمَانًا  وَّاحْتِسَابًا  غُفِرَ  لَہٗ  مَا  تَقَدَّمَ  مِنْ ذَنْبِہٖ  ، وَمَنْ قَامَ  لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا  وَّاحْتِسَابًا  غُفِرَ  لَہٗ  مَا  تَقَدَّمَ  مِنْ ذَنْبِہٖ (بخاری ، مسلم) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان المبارک کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے اس کے سب پچھلے گناہ معاف کردیے گئے۔ (اسی طرح) جو رمضان میں ایمان اور احتساب کے ساتھ (راتوں میں) کھڑا ہوا اس کے بھی سب پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، اور (اسی طرح) جس نے شب قدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کیا اس کے بھی سب پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے۔ 

ایمان کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور آخرت کا جو عقیدہ اسلام نے دیا ہے وہ اس کے ذہن میں تازہ ہو اور احتساب کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی رضا کا طالب ہو۔ ہروقت اپنے خیالات اور اعمال پر نظررکھے کہ کہیں وہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی رضا کے خلاف تو نہیں جارہے۔ اس کے اعمال و افکار کے پیچھے کوئی دوسرا جذبہ ہرگز نہ ہو۔ ایمان اور احتساب کے ساتھ روزہ رکھنے سے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہوں کو بخش دیں گے۔ اس لیے کہ وہ کبھی اگر اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کا نافرمان تھا بھی تو اب وہ نافرمانی سے باز آگیا ہے اور اس نے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ  کی طرف رجوع کرلیا ہے۔ 

وَعَنِ  ابْنِ   عُمَر  اَنَّ  رَسُوْلَ اللہِ  : سَمِعَ  رَجُلًا  یَتَجَشَّاءُ فَقَالَ: اَقْصِرْ  مِنْ جُشَاءِکَ  فَاِنَّ اَطْوَلَ  النَّاسِ  جُوْعًا  یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ  اَطْولُھُمْ  شَبِعًا فِی الدُّنْیَا(شرح السنہ، ترمذی) ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ڈکار لیتے سنا تو فرمایا: اپنی ڈکار کو کم کر، اس لیے کہ قیامت کے دن سب سے بڑھ کر بھوکا وہ شخص ہوگا جو دنیا میں خوب پیٹ بھر کر کھاتا ہے۔ 

مراد یہ ہے کہ آخرت میں آسودگی اور چین و راحت تو اس شخص کے لیے ہے جس کو آخرت کی فکر نے دنیا میں آسودہ ہونے کا موقع نہ دیا۔ اتنا زیادہ کھانا کہ آدمی لمبی لمبی ڈکاریں لیتا پھرے، آدمی کو کسل مند و غفلت شعار یعنی کاہل اور غافل بنا دیتا ہے۔ غافل شخص اپنے دل کو تاریکی سے بچا نہیں سکتا۔ دل کی تاریکی سب سے بڑی محرومی ہے۔ روزہ آدمی کو اس بات کا سبق دیتا ہے کہ وہ شکم پروری کو حیات کا اصل مقصود نہ سمجھے۔ زندگی کی قدروقیمت اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ 

اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: 

مَا  مَلَأَ آدَمِیٌّ  وِعَآءً  شَرًّا  مِّنْ بَطْنِ  ، حَسَبُ ابْنِ  اٰدَمَ  اُکُلَاتٌ  یُقِمْنَ  صُلْبَہٗ  ، فَاَنَ  کَانَ  لَا مَحَالَۃَ  ، فَثُلُثٌ  لِطَعَامِہِ  وَثُلْثٌ  لِشَـرَابِہٖ وَثُلْثٌ  لِّنَفَسِہٖ(ترمذی، ابن ماجہ) کسی آدمی نے کوئی برتن پیٹ سے بدتر نہیں بھرا (جب کہ پیٹ کو اس طرح بھرا جائے کہ آدمی محض چرنے چگنے والا جانور بن کر رہ جائے اور دین کے تقاضوں کو سمجھنے سے قاصر ہی رہے)۔ ابن آدم کے لیے تو چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھی رکھ سکیں اور اگر پیٹ بھرنا ضروری ہو تو پیٹ کے تین حصے کرے۔ ایک حصہ کھانے کے لیے، ایک پینے کے لیے اور ایک حصہ اپنے لیے (یعنی سانس وغیرہ لینے کے لیے)۔ 

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ : لِکُلِّ  شَیْ ءٍ  زَکٰوۃٌ  وَزَکٰوۃُ  الْجَسَدِ الصَّوْمُ(ابن ماجہ) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرچیز کی زکوٰۃ ہوتی ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔