مارچ ۲۰۲۶

فہرست مضامین

تکبر اور تواضع

ڈاکٹر احمد عروج مدثر | مارچ ۲۰۲۶ | تزکیہ و تربیت

Responsive image Responsive image

ہر قسم کی بڑائی اور فخر صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جو زمین و آسمان کا مالک، جن و انس، نباتات و جمادات، حیوانات و حشرات کا خالق، یومِ جزا کا منصف اور مٰلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے۔ وہ ذات جو ہر شے پر قادر، ہر دل کے بھید سے واقف اور ہر عمل کا حساب لینے والی ہے۔ جب انسان کو خالق نے مٹی سے بنایا، وہ مٹی میں لوٹ جائے گا اور اسی مٹی سے دوبارہ اٹھایا جائے گا، تو اسے کس بات کا گھمنڈ؟  مِنْہَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْہَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُكُمْ تَارَۃً اُخْرٰى۝۵۵ (طٰہٰ۲۰: ۵۵) ’’ہم نے تمھیں اسی زمین سے پیدا کیا، اسی میں تمھیں واپس کریں گے اور اسی سے تمھیں دوبارہ نکالیں گے‘‘۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ۝۲۳ (النحل۱۶:۲۳) ’ ’وہ ہرگز ان لوگوں کو پسند نہیں فرماتا جو تکبر اور غرور میں مبتلا ہوں‘‘۔  

 یہ زمین کئی متکبروں کے انجامِ بد کی گواہ ہے، جن کو اللہ نے رہتی دنیا تک عبرت کا نشان بنا دیا۔ وَقَارُوْنَ وَفِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ۝۰ۣ وَلَقَدْ جَاۗءَہُمْ مُّوْسٰي بِالْبَيِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ وَمَا كَانُوْا سٰبِقِيْنَ۝۳۹ۚۖ (العنکبوت۲۹:۳۹) ’’اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا موسٰی اُن کے پاس بیّنات لے کر آیا مگر انھوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے‘‘۔ 

 اللہ رب العزت نے اپنے صالح بندوں کے لیے حضرت لقمان علیہ السلام کی نصیحت کے انداز میں ارشاد فرمایا: وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ۝۱۸ۚ وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ۝۰ۭ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ۝۱۹ۧ (لقمان۳۱: ۱۸-۱۹)’’اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے‘‘۔ 

 اسی طرح سورۂ فرقان میں ارشاد ہے: وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ ہَوْنًا  (الفرقان۲۵:۶۳) ’’رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور انکساری سے چلتے ہیں‘‘۔ تکبر کی جڑ ایمان کی کمزوری اور دل سے اللہ کی عظمت کا شعور ختم ہونا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو، اور وہ شخص جہنم میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو‘‘۔ (سنن ابن ماجہ: ۴۱۷۳)  

تکبر کی صورتیں 

  • علم کا غرور: علم کا غرور انسان کو اس فریب میں مبتلا کر دیتا ہے کہ وہ کامل ہو گیا ہے۔ حالانکہ علم کی حفاظت کرنے والا دماغ خود اس کی صحت کی ضمانت نہیں رکھتا۔ چند کتابوں کا مطالعہ کرلینے سے بعض افراد دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ علم سے حقیقی طور پر فیض یاب نہیں ہوئے۔ سچا علم تو وہی ہے جو انسان کو عاجزی سکھائے اور اسے اللہ کی بندگی کی طرف راغب کرے۔ جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’علم عاجزی پیدا کرتا ہے، اور جہالت تکبر‘‘۔ 
  • عبادت کا غرور: یہ غرور بڑے بڑوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ جب کوئی شخص خود کو عظیم عابد سمجھنے لگتا ہے، تو اس کی شخصیت اور عبادت کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ وہ عبادت جو فخر جتانے کے لیے کی جائے، اللہ کے حضور مقبول نہیں ہوتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تین چیزیں ہلاکت کا باعث ہیں: چھپی ہوئی خواہش، حرص کی پیروی اور اپنی ذات پر فخر‘‘۔ (شعب الإيمان: ۵۵۳۹)  

عبادت کا مقصد صرف قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۶۲ۙ (الانعام۶: ۱۶۲) ’’کہو، میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے‘‘ ہونا چاہیے۔ ایسی عبادت سے معاشرے پر رحمت نازل ہوتی ہے، ورنہ عبادت کے غرور میں مبتلا شخص سے نحوست ٹپکتی ہے۔ مال و دولت، عہدہ و منصب، حُسن و جمال، یہ سب عارضی نعمتیں ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ چیزیں کسی کے پاس مستقل نہیں رہتیں۔ خلفائے راشدین سے لے کر یزید اور حجاج تک، سخی و منصف سے لے کر ظالم و جابر تک، اقتدار ہر طرح کے لوگوں کے ہاتھ آیا، مگر نہ کوئی ہمیشہ قائم رہا اور نہ ہمیشہ اقتدار ان کے پاس رہا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: وَمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۝۱۸۵ (اٰل عمرٰن۳:۱۸۵) ’’رہی یہ دُنیا تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے‘‘۔ جو چیز فانی ہے، اس پر غرور صرف نادان ہی کر سکتا ہے۔  

  •  حسب و نسب کا غرور: حسب و نسب پر فخر کرنا بے معنی ہے۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ہیں کہ جن کا شجرہ امراء و رؤسا سے ملتا تھا، مگر وہ وقت کی ستم ظریفی یا ظلم کی وجہ سے نیست و نابود ہوگئے۔ آج کئی شہزادوں اور شہزادیوں کے شجرے مغلیہ سلاطین سے ملتے ہیں، مگر وہ بنگال کی کچی بستیوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔حسب و نسب کی بڑائی پر غرور بے معنی عمل ہے۔  
  •  صلاحیتوں کا غرور: عصرِ حاضر میں بعض لوگ اپنے خیالات اور تصوّرات کو کلیدی سمجھ کر فخر کرتے ہیں۔ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ان کے مشورے کے بغیر کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ یہ مرض بڑی کمپنیوں سے لے کر چھوٹے بازاروں تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی طرح بعض واعظ اپنی خطابت کو ہی محراب و منبر کی روح سمجھتے ہیں۔ صلاحیتوں پر غرور بھی نقصان دہ ہے۔ ہماری صلاحیتیں اللہ کی امانت ہیں، جنھیں اخلاص اور ریاکاری سے پاک ہو کر ادا کرنا ضروری ہے۔  
  • معاشرتی رجحانات میں تکبر: آج کے دور میں سوشل میڈیا اور معاشرتی دباؤ نے تکبر کی نئی صورتیں جنم دی ہیں۔ لوگ اپنی ظاہری شخصیت، لباس، طرزِ زندگی اور سماجی حیثیت کو نمایاں کر کے دوسروں پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ رجحانات انسان کو اپنی اصل حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى۝۶ۙ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰى۝۷ۭ( العلق۹۶: ۶-۷)’’ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتا ہے اس بناپر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے‘‘۔ یہ گمانِ بے نیازی ہی انسان کو تکبر کی طرف لے جاتا ہے۔ 
  • تکبر کا نفسیاتی اور معاشرتی نقصان:تکبر نہ صرف روحانی زوال کا باعث ہے بلکہ نفسیاتی اور معاشرتی نقصانات کا بھی پیش خیمہ ہے۔ متکبر شخص اپنی خود ساختہ برتری کے خول میں بند ہو کر دوسروں سے دُوری اختیار کر لیتا ہے، جس سے اس کے رشتوں میں دراڑیں پڑتی ہیں۔ وہ اپنی رائے کو حتمی سمجھتا ہے اور دوسروں کی بات سننے کا روادار نہیں ہوتا ہے۔ یہ چیز اس کی شخصیت کو تنہائی اور خود پسندی کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ تکبر معاشرے میں نفرت اور دشمنی کو جنم دیتا ہے، کیونکہ لوگ اس شخص سے دوری اختیار کرتے ہیں جو اپنی بڑائی کا گرویدہ ہو۔  

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’متکبر شخص اسی طرح ذلیل ہوتا ہے جیسے پانی کے نیچے دبائی گئی چیز اوپر آنے کی کوشش کرتی ہے، مگر ناکام رہتی ہے‘‘۔ (مسند احمد:۱۲۳۴۵) اس لیے ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کو تکبر سے پاک رکھے تاکہ معاشرتی ہم آہنگی اور روحانی سکون میسر رہے۔  

  •  تواضع کے ذریعے روحانی ترقی:تواضع صرف ایک اخلاقی خوبی ہی نہیں، بلکہ روحانی ترقی کا زینہ ہے۔ جب انسان اپنی کمزوریوں اور اللہ کی عظمت کا شعور رکھتا ہے، تو اس کا دل اللہ کی طرف جھکتا ہے۔ تواضع انسان کو دوسروں کے دُکھ درد کو سمجھنے اور ان کی مدد کرنے کا شعور عطا کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اس کی روشن مثال ہے کہ آپ ؐنے غلاموں کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھایا اور اپنے جوتوں کی مرمت خود کی۔ آپ ؐنے فرمایا: ’’جو شخص اللہ کے لیے عاجزی کرتا ہے، اللہ اسے اسی قدر بلند کرتا ہے‘‘۔ (صحیح ابن حبان: ۵۹۴)  

تواضع کے ذریعے انسان نہ صرف اللہ کے نزدیک محبوب بنتا ہے، بلکہ معاشرے میں بھی عزّت و مقام پاتا ہے۔ یہ خوبی انسان کو اپنی اصلیت سے جوڑتی ہے اور اسے اللہ کی رحمت کا مستحق بناتی ہے۔  

غرور، گھمنڈ اور تکبر کی متضاد کیفیت تواضع و انکساری ہے، جو اللہ ربّ العزت کو بہت پسند ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ تواضع کی اعلیٰ مثال ہے۔ آپ ؐسادہ لباس پہنتے، زمین پر بیٹھتے، اپنے ہاتھوں سے کام کرتے اور کبھی اپنی عظمت کو نمایاں نہ کرتے۔ آپ ؐنے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے عاجزی اور انکساری اختیار کرنے کا حکم دیا، تاکہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے‘‘۔ (مسنداحمد: ۱۷۱۴۴)  

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں عاجزی و انکساری کا مظاہرہ فرماتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ آپ ؐدعا فرماتے: ’’اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نفع نہ دے، اس دل سے جو تیری بارگاہ میں عاجزی نہ کرے، اس دعا سے جو قبول نہ ہو، اس نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو، اور اس بھوک سے جو بدترین ساتھی ہے۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں خیانت سے، سستی سے، بخل سے، بزدلی سے، بڑھاپے سے، اور اس عمر سے جو انسان کو بے توقیر کر دے۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں دجال کے فتنے، قبر کے عذاب اور حیات و موت کے ہر فتنے سے۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایسی دعا مانگتے ہیں جو تیرے حضور رجوع کرنے والی ہو، اور ایسے اعمال مانگتے ہیں جو تیری مغفرت کا سبب اور عذاب سے نجات کا ذریعہ ہوں۔ ہم ہر گناہ سے حفاظت اور ہر نیکی کی توفیق مانگتے ہیں جو جنت تک لے جائے اور جہنم سے نجات دلائے‘‘۔’’جو رضائے الٰہی کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرماتا ہے‘‘۔ (صحیح مسلم: ۲۵۸۸)  

  • تکبر سے بچنے کا راستہ: تکبر سے بچنے کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ کی عظمت کا شعور اور اپنی حقیقت کا ادراک ہے۔ انسان کو ہر وقت یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ مٹی سے بنا اور مٹی میں لوٹ جائے گا۔ اس کی ہر نعمت، خواہ وہ علم ہو، مال ہو، حسن ہو یا منصب، اللہ کی عطا کردہ امانت ہے۔ اسے اس امانت کو شکر اور اخلاص کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے بھائی کے سامنے عاجزی کرتا ہے، اللہ اسے بلند کرتا ہے، اور جو تکبر کرتا ہے، اللہ اسے ذلیل کرتا ہے‘‘ (ابن ماجہ: ۴۱۷۴)۔ ہمیں ہر قسم کے تکبر سے بچنا چاہیے، خواہ وہ علم، مال،حُسن، صلاحیت یا منصب سے متعلق ہو۔ ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے، عجز و انکساری اپنانا، اخلاص کے ساتھ عمل کرنا اور تکبر سے بچنے کی دعائیں مانگنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تواضع کی دولت سے نوازے اور تکبر کے شر سے محفوظ رکھے، آمین!