مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence - AI) آج کل ہماری گفتگو کا ایک اہم موضوع ہوتا ہے۔ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی پر اس کے اثرات اکثر زیر بحث آتے ہیں۔ گھریلو محفل ہو یا دفتری ماحول یا معاشرتی روابط کی دیگر سرگرمیاں، یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ’اے آئی‘ ٹکنالوجی کے اثرات کو ہم لوگ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ہماری زندگی پر ’مصنوعی ذہانت‘ کے اثر کا ایک فطری رد عمل ہے۔ کیونکہ جس انداز میں یہ ٹکنالوجی ہماری زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ اس کے اثر سے خالی نہ رہے گا۔ ’اے آئی‘ کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے اور اب نجی زندگی سے لے کر بین الاقوامی معاملات تک میں اس کا عمل دخل یقینی ہو گیا ہے۔ اب ہم اپنے گھر کے کمروں کی آرائش کے لیے بھی ’اے آئی‘ سے مدد لیتے ہیں اور ملکوں کے درمیان جنگیں بھی اس کی مدد سے لڑی جا رہی ہیں۔
انٹرنیٹ نے برقی مواصلاتی نظام کی ترقی کے ساتھ مل کر ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ پھر موبائل فون کے سمارٹ ہو جانے سے اس انقلاب میں اور شدت آگئی۔ اس انقلاب کی زد میں شہری اوردیہی، گویا ساری دنیا آگئی۔
مصنوعی ذہانت یا ’اے آئی‘ کے بارے میں ہم میں سے بہت سوں کے لیے یہ امر تشویش کا باعث ہے کہ اس ٹکنالوجی کے فروغ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو گا، انسانوں کی جگہ روبوٹ اور کمپیوٹر کام کریں گے۔ دراصل انسانی ترقی و تمدن کے سفر میں اکثر یہ ہوا ہے کہ کئی لوگ جدید دریافتوں کو اور ان کے استعمال کو ابتدا میں نقصان دہ، غیر فطری، غیر انسانی اور یہاں تک کہ غیر شرعی بھی سمجھتے رہے ہیں۔
یہ بھی ہوتا آیا ہے کہ بدلتے ہوئے حالات کو دیکھ کر بہت سے لوگ مستقبل میں پیدا ہونے والی مشکلات کے بارے میں نہ صرف فکر مند ہوتے رہے، بلکہ انسانیت کے لیے بھیانک مستقبل کی پیش گوئیاں بھی سامنے لاتے رہے ہیں۔ تاہم، ایسی پیش گوئیاں اکثرغلط ثابت ہوئی ہیں۔
ہمارا خیال ہے کہ ’اے آئی‘ کے بارے میں پیدا ہونے والی تشویش کا بھی کچھ یہی انجام ہو گا۔ انسان اپنے لیے کچھ اور مشاغل دھونڈ نکالیں گے، ایک نئی دنیا بسا لیں گے، جس کو چلانے میں انسان کے عمل دخل کی ضرورت رہے گی۔
مصنوعی ذہانت: منفی پہلو اور نقصانات
’ اے آئی‘ کے پھیلاؤ سے کسی خوف کی ضرورت نہیں۔ تاہم، جیسا کہ ہر ٹکنالوجی کے اچھے اور برے استعمالات ہو سکتے ہیں، انٹرنیٹ اور ’اے آئی‘ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ تاہم، اس ٹکنالوجی کے بعض ایسے نقصانات ہو سکتے ہیں جو ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوئے، ان کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہم ان کا کچھ ذکر کرتے ہیں:
- یہ تو سب جانتے ہیں کہ ’اے آئی‘ کا ایک نہایت غلط استعمال اس کے ذریعے کسی شخص کی آواز اور شکل کو استعمال کرتے ہوئے اس سے ایسے بیانات یا ایسی حرکات کو منسوب کر دینا ممکن ہوگیا ہے، جو نہ تو اس کے اپنے الفاظ و افکار ہوں اور نہ اس کی اپنی حرکات وسکنات ہوں۔ اس کے ایسے ہی استعمال کو ایڈوانس امیجنگ کے ذریعے ترقی دی جارہی ہے، اور اس میں ’میٹا اے آئی‘ سر فہرست ہے۔ یہ کسی انسان کی شکل کے تاثرات کو تبدیل کرنے کا معاملہ ہے، جس کی بنا پر دیکھنے والے کی اصل شخصیت کا کوئی پہلو چھپا دینا اور کوئی دوسرا پہلو اُبھار دینا یا کوئی اور پہلو شامل کر دینا ممکن ہو جاتا ہے۔ مثلاً، مارک زیکربرگ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’میری مسکراہٹ بہت زیادہ جاذب نظر نہیں، لیکن ’میٹا اے آئی‘ کی مدد سے میں اسے ابھار کر جاذبِ نظر بناسکتا ہوں۔ اس طرح کی ٹکنالوجی کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اس سے لوگوں کو کسی شخصیت کے بارے میں اصل حقائق سے اندھیرے میں رکھا جاسکے گا۔
- انٹرنیٹ پر، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غیرمعیاری اور گمراہ کن مواد کی بہتات ہوگئی ہے اوراب یہ پہچاننے کے لیے خاصی مہارت درکار ہوتی ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط؟
- ’اے آئی‘ اب اس دھوکا دہی کو مزید بلندی پر لے جا رہا ہے۔ اس شعبےکے ایک ماہر ڈاکٹر زاہد محسن نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ عین ممکن ہے، کہ کسی معروف شخصیت کی شکل اور آواز میں ’اے آئی‘ کی تیار کردہ جعلی شخصیت کو استعمال کر کے ایسا مواد انٹرنیٹ پر پوسٹ کرنا شروع کر دیا جائے جس میں اس کی فکر کو ہی نہیں بلکہ تعلیمات ہی کو مسخ کر کے گمراہی کا ایک ذریعہ بنا دیا جائے۔ اس کے نتیجے میں اس شخصیت سے عقیدت و احترام کا رشتہ رکھنے والے اس سب کچھ کو اسی کی آواز اور اسی کا پیغام سمجھ کر گمراہ ہوتے رہیں گے۔
- انٹرنیٹ پر اسلام دشمن حلقوں نے قرآن کے تحریف شدہ نسخے جاری کیے، جن کی خاصی حد تک کامیابی سے نشاندہی کر لی گئی۔ تاہم، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے گھڑی ہوئی روایات کواحادیث کے طور پر عام کرنے کے کام کو مکمل طور پر روکا نہ جا سکا اور اچھے خاصے صاحبِ علم لوگ بھی ایسے من گھڑت اقوال کو حدیث سمجھ کر بلا تحقیق ان کا پرچار کرتے اور آگے پھیلاتے چلے جاتے ہیں۔ ’اے آئی‘ کے دستیاب ہو جانے سے یہ جنگ اب اور مشکل ہوجائے گی اوراسی لحاظ سے حقائق کی مدافعت کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔
- مدافعت کی ایک صورت تو مسلسل انٹرنیٹ پر جاری کیے جانے والے مواد پر نظر رکھنے کی صورت ہے اور اس سلسلے میں ہمارے اداروں کو مستعدی سے کام کرنا ہوگا۔ حکومتی سطح پر جہاں ملک مخالف اور فوج مخالف سرگرمیوں اور مواد کی نشاندہی اور اس کے سدباب کے لیے کام کیا جارہا ہے، وہاں دین کے بارے میں گمراہ کن اور اخلاقی طور پر مضر مواد کی روک تھام کے لیے بھی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
- بعض اندازوں کے مطابق سائنس میں تحقیق کا حال یہ ہے کہ سات میں سے ایک اشاعت میں ڈیٹا جعلی ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعےہونے والی اس کرپشن کو کیسے ختم کیا جائے؟ اس موضوع پر امریکا میں نارتھ ویسٹرن یونی ورسٹی آف الینوائے میں ایک تحقیق ہوئی۔ جس کے بارے میں درج ذیل بیان ڈی ڈبلیو نیوز (ایجیئس میتھیو وارڈ) سے ماخوذ ہے۔
سائنسی پبلشنگ گروپس بھی اس مسئلے سے آگاہ ہیں اور جعلی تحقیق کی نشاندہی کرنے اور اسے واپس لینے کے لیے نئے طریقے بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ ایک بڑے پبلشر، اسپرنگر نیچر نے ۲۰۲۴ء میں اپنی اشاعتوں سے ۲ہزار ۹سو مضامین کو واپس لے لیا تھا۔ لیکن ان جعلی دستاویزات کو واپس لینے کا مطلب یہ ہے کہ اسی دوران غیرمعیاری سائنسی مضامین کی اشاعت ہو چکی ہے۔
ابالکینا اور رچرڈسن جیسے ماہرین کا کہنا ہے کہ مسائل بالآخر اس بات سے آتے ہیں کہ سائنسی تحقیق کی قدر کیسے کی جاتی ہے؟ سائنسی ملازمتیں اور فنڈنگ سائنسی اشاعت پر منحصر ہیں۔
رچرڈسن نے کہا: ’’وسائل کی (کمی) کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ جب آپ پر سائنسی (اشاعتوں) کو شائع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے، تو آپ کے پاس حقیقت میں دو ہی راستے رہ جاتے ہیں: یا تو آپ سائنسی فریب سے کام لیتے ہیں، یا پھر سائنس پر کام ترک کر دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس میں دسیوں ہزار سائنس دان مبتلا ہیں‘‘۔ اسی لیے رچرڈسن نے کہا کہ ’’فریب پر مبنی ایسی اشاعتوں کی روک تھام کا بہترین حل یہ ہے کہ اشاعتوں کی تعداد اور اس طرح کے حوالہ جات جیسے تحقیقی تشخیص کے تمام پیمانوں (میٹرکس) کو ختم کر دیا جائے‘‘۔
- اس صورتِ حال سے ہم یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ تصورسازی (پرسیپشن مینجمنٹ) جس نے پہلے ہی ہماری سوچ اور فکر کو جدید طریقوں کے ذریعے محدود و مقید کر دیا ہے، ’اے آئی‘ کے اس قسم کے استعمالات سے ہماری فکرمزید پا بہ زنجیر ہو جائے گی۔ اس سے ’تخلیقی سوچ‘ متاثر ہوگی۔ یہ بھی ’برین راٹ‘ (Brainrot)کے عمل کا ایک جز ہے۔ ’برین راٹ‘ پچھلے برس کے دوران سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے اور ۲۰۲۵ءمیں اسے اوکسفرڈ ڈکشنری میں شامل کر لیا گیا ہے۔ ’برین راٹ‘ ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر سامنے آ رہا ہے، جس کا بالواسطہ ایک گہرا تعلق ’اے آئی‘ کے استعمال میں اضافے سے ہے۔ ’اے آئی‘ معلومات کا ایک خزانہ پیش کرتا ہے، جو آپ سے چند کلک کے فاصلے پر موجود ہے، تاہم معلومات سے علم تک پہنچنے کے سفر میں ’اے آئی‘ آپ کا معاون ہو سکتا ہے بشرطیکہ آپ ذہانت کی اس سطح پر ہوں، جہاں آپ ’اے آئی ٹولز‘، مثلاً چیٹ جی پی ٹی یا ڈیپ سیک کو استعمال کر سکتے ہوں۔ ورنہ ’اے آئی ٹول‘ دراصل اپنے علم میں اضافے کے لیے آپ کو استعمال کریں گے اور آپ کے لیے کم ہی مفید ثابت ہوں گے۔
ہمارا اندازہ ہے کہ ’جنریشن زی‘ کے مقابلے میں ’جنریشن وائی‘ علم کی وسعت، گہرائی اور آئی کیو میں زیادہ بہتر سطح پرہیں۔ غالباً، ’جنریشن ایکس‘ اور کسی حد تک بے بی بومر جنریشن بھی ایک بہتر مقام پر ہیں۔ کیونکہ ان نسلوں نے علم کے دیگر ذرائع سے بھی استفادہ کیا اور دورِ حاضر کی سائبرسپیس اور ’اے آئی‘ سے بھی مستفید ہوئے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ پچھلی صدی تک آئی کیو کی سطح ہرنسل میں دو سے تین پوائنٹ بڑھتی رہی، جب کہ پچھلے تقریباً بیس برسوں سے آئی کیو کا بڑھاؤ یا تواپنی سطح مرتفع پر پہنچ کر رُک گیا ہے یا کئی ممالک میں اس نسبت سے تنزلی آئی ہے، جن میں مغربی ممالک بھی شامل ہیں۔ اس تحقیق کے روح رواں فلین کے نام پراسے ’فلین ایفیکٹ‘ کہا جاتا ہے۔
مصنوعی ذہانت: مفید استعمال کے لیے تجاویز
- علم سے آگے اس کا مفید استعمال ہے جو حکمت کا مرہونِ منت ہے۔ علم سے حکمت تک کا سفر تو آپ کو اپنے بل بوتے پر ہی طے کرنا ہے۔ اس سفر میں دیگر ذرائع سے حاصل کردہ علم کام آئے گا جو آپ کے اپنے ذہن کے میموری سسٹم میں محفوظ ہے۔ ’اے آئی‘ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی اس دنیا میں، ہم میں سے اکثر اور بالخصوص نئی نسل کی ایک بہت بڑی اکثریت نے دیگر ذرائع سے علم حاصل کرنے کو غیر ضروری سمجھ لیا ہے، جو کہ ایک خطرناک صورتِ حال ہے۔ اس رجحان کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اس میں بہتری لانے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ دیگر ذرائع علم کو بھی اسی انداز میں مہیا کر دیا جائے جس کے ہم عادی ہوتے جا رہے ہیں، اور بالخصوص نئی نسل اس تساہل پسندی میں زیادہ آگے نکل گئی ہے۔ وہ نسلیں جن کا جس حد تک بھی تعلق متفرق ذرائع علم سے رہا ہے، وہ ’اے آئی‘ کے مفید استعمال میں اتنی ہی زیادہ آگے رہیں گی۔ مزید یہ کہ ایسے ہی لوگوں میں ’اے آئی ٹولز‘ کی غلطیاں اور جھکاؤ کو پہچان لینے کی صلاحیت بھی زیادہ ہوگی۔
- اسلامی تعلیمات کو ’اے آئی‘ کے پیرائے میں مہیا کرنا آج کے دور کی نہایت اہم ضرورت ہے۔ ’چیٹ بوٹس‘ کی صورت میں یہ تعلیمات فوری طور پردستیاب ہوں، تو ان سے آج کے دور میں زیادہ استفادہ کیا جائے گا۔ قرآن وحدیث سے لے کر کلاسیکی لٹریچر اور دور جدید کی تحقیق وتصنیف اسی اندازسے مہیا کی جائیں۔ جماعت اسلامی نے اس صورتِ حال کا ادراک کرتے ہوئےاس سلسلےمیں ایک پروجیکٹ پر کام شروع کیا ہے، اور اس طرح کے بعض چیٹ بوٹس پر کام مکمل بھی ہوچکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بڑے کام کو سرانجام دینے کے لیے مزید افراد اور ادارے آگے آئیں اور اس کام کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں، تاکہ کام کی تکرار سے بھی بچا جا سکے اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکے۔
- دورِ حاضر میں جہاں حصول علم کے انداز بدل گئے ہیں، وہاں تنقیدی سوچ بچار (کریٹیکل تھنکنگ) بھی متروک ہوتی جا رہی ہے۔ زیادہ زور معلومات پر، ان کے حصول میں تیزی اور مستعدی پر ہے، جب کہ تنقیدی فکر ایک مربوط ذہنی ورزش کی متقاضی ہے اور اس بناپر وقت طلب عمل ہے۔ اس مسئلے کو فکری میدان میں باہمی تعاون کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ یعنی، یہ قابل عمل طریقہ ہو سکتا ہے کہ کئی لوگ اپنے پاس موجود علم کو جو بہت وسیع و عمیق نہ بھی ہو، مشترکہ طور پر علم کے ایک وسیع ذخیرے کی شکل دے دیں اور اس کی بنیاد پر تنقیدی سوچ بچار کو بھی ایک مشترکہ صورت میں فروغ دیا جائے۔ اس صورتِ حال کے تناظر میں ’اے آئی ٹکنالوجی‘ ’فکری تعاون‘ (کلیبریٹیو تھنکنگ) کے لیے ایک اچھی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ کارپوریٹ دنیا میں بھی ’کلیبریٹیو لیڈرشپ‘ کا ماڈل مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ اسے زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی رائج کیا جانا چاہیے۔ تعلیمی اور تحقیقی ادارے بھی اس ماڈل کو اپنا سکتے ہیں۔
- سوشل میڈیا نے معلومات کے حصول کے ایک اچھے ذریعے کی حیثیت سے اڑان بھری تھی، لیکن اب یہ مخاصمت اور اپنے زاویۂ نظرکے مقابلے میں کسی بھی دوسری رائے کوسرنگوں کرنے کی کوششوں کا ایک مرکز بن گیا ہے۔ اوپر تجویز کردہ ’فکری تعاون‘ کو فروغ دے کر سوشل میڈیا کی افادیت کو بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ گو کہ بہت سے پروفیشنل فورمز پر بہت اعلیٰ درجے کی بحث اور تبادلۂ خیال دیکھنے کو ملتا ہے، تاہم عام طور پر لا حاصل بحثوں اور اپنے اپنے مورچوں میں بند افراد کا شور زیادہ ہے۔ یہ رجحان بھی عام ہے کہ ایسی پوسٹ جس کے ’لائک‘ زیادہ ہوں اسے ہم مفید یا اہم سمجھتے ہیں، اور اسی پس منظر میں بہت سے کاروباری ادارے اور سیاسی قوتیں رجحان سازی کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ فکر کو ایک خاص انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے، جب کہ انفرادی فکر جلا نہیں پا رہی۔ یقیناً ’اے آئی‘ کے ٹولز اس میں مدد گار ہو رہے ہیں اور ان کا مقابلہ انھی کے میدان میں کرنے کی ضرورت ہے۔
- اس سلسلے میں متعلقہ میدان کے صاحب الرائے افراد کے فورم تشکیل دیے جائیں، جو نئے دور کے تقاضوں کا جائزہ لیتے رہیں اور حسب ضرورت مناسب راہِ عمل تجویز کرتے رہیں۔ اسی طرح ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ادارے کمربستہ ہوں اور مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔