اخبار اُمت


جولائی ۱۹۵۷ء میں تیونس کی آزادی کے بعد سے لے کر نومبر ۱۹۸۷ تک حبیب بورقیبہ ملک کے سیاہ و سفید کا مالک رہا۔ اس دوران اپنے مخالفین پر ناقابل بیان مظالم کے پہاڑ توڑنے کے علاوہ، عالم اسلام کے کئی آمروں کی طرح موصوف نے خود اسلام کو بھی مشق ستم بنانے کی کوشش کی۔ فروری ۱۹۶۰ میں محنت کشوں کے ایک اجتماع سے خطاب کے دوران ’فرمایا‘ کہ: ’’ہم ملک میں تعمیر و ترقی کے جہاد اکبر میں مصروف ہیں، اس لیے ہمیں روزہ ترک کردینا چاہیے۔ ہاں، ریٹائرمنٹ کے بعد یا کسی اور مناسب موقعے پر ان روزوں کی قضا ادا کی جاسکتی ہے‘‘۔ بعدازاں تیونس کے مفتی اعظم محمد العزیز جعیط سے اس حکم کے حق میں فتویٰ بھی جاری کروادیا۔ لیکن بات جب تیونس کے جلیل القدر عالم دین الطاہربن عاشور تک پہنچی تو انھوں نے قوم سے ایک مختصر ترین خطاب کیا۔ حمد و صلاۃ کے بعد فرضیت صیام کی قرآنی آیت تلاوت کی اور پھر تین بار فرمایا: صَدَقَ اللہُ وَ کَذَبَ بوُ رقیبہ، اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا اور بورقیبہ نے کہاجھوٹ۔ اس ایک مختصر جملے نے بورقیبہ کا حکم شاہی خاک میں ملادیا۔

روزہ ساقط کرنے کی جسارت ہی نہیں، موصوف نے کئی واضح اسلامی تعلیمات کو بھی بدلنے کی ناکام کوشش کی۔ قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ بیان کیے گئے احکام وراثت کو قانوناً تبدیل کرتے ہوئے مرد و عورت کے حصے برابر قرار دے دیے۔ بزعم خود مساوات کا ثبوت دیتے ہوئے بہ امر مجبوری بھی مردوں کی ایک سے زیادہ شادی پر پابندی لگادی۔ حج پر جانے سے منع کرتے ہوئے فتویٰ دیا کہ ’’اس فضول خرچی کی کیا ضرورت ہے۔ تیونس میں ابوزمعہ البلویؓ کی قبر پہ حاضری ہی کافی ہے‘‘۔ ایک روز ترنگ میں آکر کہنے لگا کہ ’’مجھے ذرا سرخ قلم دینا میں قرآن میں موجود اغلاط درست کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ پھر اس ظالم شخص کا انجام یہ ہوا کہ ہر نافرمانی میں شریک اپنے ہی وزیراعظم نے اس کا تختہ الٹ کر نظربند کردیا۔ پھر ذرائع ابلاغ پر ایک ڈاکٹری سرٹیفکیٹ کی خبر چلنے لگی کہ ’’طوالت عمر کے باعث دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے‘‘۔ بورقیبہ کا جانشین زین العابدین بن علی بھی اپنے سلف کے نقش قدم پر چلا اور بالآخر جنوری ۲۰۱۱ء میں عوام نے خوف کا بت توڑتے ہوئے اسے بھی ظالم حکمرانوں سے بھرے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا۔

تیونس اور پھر مصر، لیبیا، یمن اور شام میں شروع ہونے والی تحریک ’عرب بہار‘ کو کس طرح خزاں میں بدلا گیا او رمسلسل بدلا جارہا ہے وہ ایک الگ المناک باب ہے، لیکن اُمت مسلمہ میں ایک بار پھر ’اسلام اکبری‘ کے نفاذ کا بھوت کئی حکمرانوں پر سوار ہے۔ ۱۳ اگست کو تیونس کے حالیہ صدر ۹۱ سالہ الباجی قائد السبسی نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ وراثت کوئی دینی مسئلہ نہیں،      ایک معاشرتی ضرورت ہے۔ آج کی خاتون کو وراثت میں برابر حصہ دینے کا قانون بنایا جائے۔     یہ قانون بھی بنایا جائے کہ مسلم خاتون کو غیر مسلم مرد سے شادی کی اجازت ہے۔ بدقسمتی سے تیونسی دارالافتاء نے بھی اس فرمان کی تائید کردی ہے، اور مصری صدر عبد الفتاح السیسی کے تابع مفتیان اور جامعہ ازہر کے بعض ذمہ داران نے بھی حمایت کردی ہے۔ اب تیونسی صدر نے ایک قانونی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو ۲۰۱۴ء میں منظور ہونے والے دستور کی روشنی میں مزید قانون سازی کرے گی۔ لیکن عوام کی اکثریت نے نہ صرف اس بیان کو مسترد کردیا ہے، بلکہ وہ اس انتظار میں ہیں کہ بورقیبہ کا یہ سابق دست راست کب اپنے پیش رو کے انجام کو پہنچتا ہے۔

روشن خیال ،معتدل، دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ، اور نہ جانے کن کن خوش نما پردوں میں چھپے یہ اقدامات صرف تیونس تک محدود نہیں، پورے عالم اسلام اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے یہی ایجنڈا زیر تکمیل ہے۔ آئیے اس پورے کھیل کے پالیسی ساز اور اصل عالمی حکمرانوں کے احکامات کی چند جھلکیاں دیکھیں۔

امریکا میں بحث و تحقیق اور پالیسی سازی کے لیے کے بہت سارے ادارے کام کرتے ہیں۔ برطانوی رسالے اکانومسٹ نے ایک بار لکھا تھا کہ یہ ادارے (Think Tanks) ہی امریکا کی اصل حکومت ہیں۔ اصل سیاسی فیصلے یہی ادارے کرتے ہیں، حکومتوں کا کام صرف ان پر دستخط کرنا ہوتا ہے۔ ’رینڈ کارپوریشن‘ کا نام ان اداروں میں بہت نمایاں ہے۔ اس کا سالانہ بجٹ ۱۵۰ ملین ڈالر (۱۵ کروڑ ڈالر) ہے، جب کہ اس کے بنائے گئے منصوبوں پر عمل درآمد کا بجٹ بعض اوقات اربوں ڈالر تک جاپہنچتا ہے۔ آج سے دس سال پہلے ۲۰۰۷ء میں اس ادارے نے ۲۱۷ صفحات پر مشتمل ایک منصوبہ پیش کیا جس کا عنوان تھا : Building Moderate Muslim Networks  ’معتدل مسلمانوں کے نیٹ ورک کی تشکیل‘۔ اس دستاویز کے مطالعے سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ یہ نہ صرف مسلمانوں کو قابو میں لانے کی سفارشات ہیں بلکہ خود اسلام کی جڑیں کاٹنے کی ایک اور جسارت بھی ہے۔ اس دستاویز میں بتایا گیا کہ جس طرح ہم نے سوشل ازم کا مقابلہ کرنے کے لیے خود ان کے اندر سے مختلف گروہ تشکیل دیے تھے، اسی طرح ان تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اب اسلام اور مسلمانوں کو اپنی ڈھب پہ لایا جائے گا۔ واضح رہے کہ ان سفارشات کا ہدف صرف ’اسلام پسند‘ طبقہ ہی نہیں تمام مسلمان ہیں ۔ کیونکہ اب ہرمسلمان کو ایک امکانی خطرے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ان سفارشات میں جس طرح کے ’مسلمان‘ بنانے کی تجویز دی گئی ہے ان کی چند نمایاں خصوصیات ملاحظہ کیجیے:

  •  شریعت کے احکام پر عمل، یعنی اس کے نفاذ کو ضروری نہ سمجھتا ہو۔
  •   خواتین کا یہ حق تسلیم کرتا ہو کہ وہ (شادی کے بغیر) اپنا ساتھی چن سکتی ہیں۔
  •  مسلم اکثریتی ممالک میں اقلیت سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو اعلیٰ ترین عہدہ ملنے کا حق دینے کا قائل ہو۔
  •  جمہوریت کے مغربی تصور کو بلاکم و کاست تسلیم کرتا ہو (یعنی جس طرح کئی مغربی ممالک میں انسانی اقدار کی نفی بلکہ توہین کرنے والی حرام کاریوں کو قانونی جواز بخشا گیا ہے، وہ ان سب کو بھی جمہوری حق قرار دیتا ہو)۔

ان سفارشات میں کئی ایسے سوالات بھی درج کیے گئے ہیں جن کے ذریعے یہ امر یقینی ہوسکتا ہے کہ فلاں شخص واقعی مطلوبہ معیار کا ’روشن خیال‘ ہوگیا یا نہیں۔ مثلاً اس سے پوچھا جائے کہ کیا تم ایک مسلمان کو یہ حق دیتے ہو کہ وہ چاہے تو اپنا مذہب تبدیل کرلے؟ پھر اسی سوال کی آڑ میں اسلام میں مرتد کی سزا کو ’ظالمانہ‘ قرار دینے کا پورا ایجنڈا سامنے آجاتا ہے۔ مختلف مسلم ممالک سے مختلف شخصیات کا تعارف کرواتے ہوئے مطلوبہ ’روشن خیال‘ عناصر کی مثالیں بھی دی گئی ہیں۔    یہ امر یقینا اتفاقیہ نہیں کہ ان میں سے اکثر افراد پر یا تو قرآن کریم کے بارے میں تشکیک کا الزام تھا، جیسے مصری نام نہاد دانش ور نصر ابوزید۔ اس کا قرآن کے بارے میں کہنا تھا کہ: Work of Litrature and a Text that should be subjected to Rational and Scholarly Analysis.  ’’یہ ایک ادب پارہ اور ایک ایسا متن ہے جس کا عقلی جواز اور دانش ورانہ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔ یا پھر اس رپورٹ کے ’مثالی روشن خیال‘ ایسے لوگ ہیں کہ جنھوں نے کسی نہ کسی حوالے سے توہینِ رسالت کا ارتکاب کیا تھا۔ اس ضمن میں پاکستان کے ڈاکٹر یونس شیخ کی مثال دی گئی ہے جو ۲۰۰۰ء میں توہین رسالت کے الزام میں گرفتار ہوا اور پھر رہائی پاکر یورپ جاپہنچا۔ یا ایسے افراد ہیں جو اسلام کو صرف ایک معاشرتی یا انفرادی معاملہ قرار دیتے ہوئے دین اور ریاست و حکومت کو جدا جدا رکھنے کا پرچار کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ترک رہنما فتح اللہ گولان اور شامی ’روشن خیال اسکالر‘ محمدشحرور کا مفصل ذکر کیا گیا ہے۔ جو یہ کہتے ہیں کہ: چوںکہ ہر انسان اپنے اعمال کا خود جواب دہ ہے، اور دین کسی پر جبر نہیں کرتا، اس لیے ریاست و حکومت کا دین اور اس کی تعلیمات کے نفاذ میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔ ان سفارشات میں ایسے تمام عناصر کو باہم مربوط کرنے کے لیے مختلف عملی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ انھیں مختلف کانفرنسوں اور اجتماعات میں اکٹھے کرنے کا ذکر ہے۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان کی تشہیر و تعریف کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ نیز ان کی اخلاقی، سیاسی اور مالی مدد کرنے کا مطالبہ و منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔

دیگر معاملات کے علاوہ مساوات مردوزن کا مسئلہ بھی خاص طور پر زیر بحث لایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ: The Issue of Women's right is a major battle ground in the war of ideas within Islam ’حقوق نسواں کا مسئلہ خود اسلام کے اندر چھیڑی جانے والی فکری جنگ کا ایک مرکزی میدان ہے‘۔ اسی ضمن میں خاتون کے حق وراثت اور ’اپنی مرضی کی ذاتی زندگی‘ گزارنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ وراثت کے بارے میں بات کرتے ہوئے بعینہ وہ دلائل دیے گئے ہیں کہ جو سابقہ و حالیہ تیونسی صدر یا ان کے ہم نواؤں کی زبان سے ادا ہوتے ہیں۔ یعنی  یہ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے زمانے میں حالات کے تقاضے اور ضروریات مختلف تھیں، جب کہ آج کے حالات و ضروریات مختلف ہیں، کہ جب ہر خاتون معاشی زندگی کا فعال حصہ بن چکی ہے۔ نہ جانے ان عالمی پالیسی سازوں کو یہ کیوں معلوم نہیں ہوسکا کہ اس وقت بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا جیسی کامیاب تجارت کرنے والی عظیم خاتون موجود تھیں اور آج بھی کسی مسلم خاتون کی تجارت و محنت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ خالق کائنات کی خواتین پر رحمت تو یہ ہے کہ تب بھی کسی خاتون پر کسی طرح کا مالی و معاشی بوجھ نہیں ڈالا گیا تھا اور آج بھی ایک خاتون کی زندگی کے ہر مرحلے میں اس کے معاشی حقوق اس کے خاندان ہی کے ذمے ہیں۔ یہ تو مغربی تہذیب ہے کہ شوہر اپنی بیگم اور بیٹے اور اپنی ماں تک کی معاشی ذمہ داری اُٹھانے سے انکار کردیتے ہیں۔ مقصد چوں کہ اسلام پر حملہ آور ہونا ہے، اس لیے خواتین پر ظلم جیسے یہ بے بنیاد الزامات مسلسل دہرائے جاتے رہیں گے۔

گذشتہ عرصے میں اس عالمی ایجنڈے اور پروپیگنڈے کی باز گشت اس لیے بھی زیادہ رہی کہ ایک ہی طرح کی بات بیک وقت کئی ممالک سے سنائی دی جانے لگی۔ اس کا ایک اندازہ آپ کو معروف سعودی تجزیہ نگار جمال خاشقجی کے کالم ’سیکولرزم کی دکان‘ سے لیے گئے ان چند جملوں سے ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ جمال خاشقجی کا تعلق اعلیٰ ترین سرکاری حلقوں سے رہتا ہے۔ ارب پتی سعودی شہزادے ولید بن طلال نے جب اپنا بڑا ٹی وی چینل کھولنے کا ارادہ کیا تھا تو انھیں ہی اس کا سربراہ بنایا  تھا۔ سعودی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ اور شاہ فیصل مرحوم کے صاحبزادے ترکی الفیصل نے جب افغانستان اور خطے کے بارے میں کئی قسطوں پر مشتمل اپنے تہلکہ خیز انٹرویو نشر کروائے تو    وہ انٹرویو بھی جمال ہی نے کیے۔ اپنے تازہ کالم میں وہ لکھتے ہیں: ’’سیکولرزم کوئی دکان نہیں کہ ہم میں سے کوئی وہاں جائے، سامان کا جائزہ لے اور اپنی مرضی کی ایک دو چیزیں خرید کر باقی سب کچھ وہیں چھوڑ کر آجائے، لیکن ہمارے بعض ساتھی سیکولرزم کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ ہمارے اخبارات میں اچانک سیکولرزم کے فضائل و محاسن بیان کرنے کا مقابلہ شروع ہوگیا ہے۔ ایسا کرنے والے لوگ سیکولرزم کو ہمارے اس نظام میں شامل کرنا چاہتے ہیں جو اپنے مزاج و ترکیب کے اعتبار سے بالکل مختلف ہے۔ مملکت سعودی عرب اپنے اساسی نظام حکومت کے اعتبار سے ایک اسلامی ریاست ہے۔ اس میں آپ یہ تو کرسکتے ہیں کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو سمجھنے کی مزید کوشش کریں۔ لیکن اگر آپ اس کے وجود اور بقا و تسلسل کی بنیاد ہی تبدیل کرنا چاہیں تو یہ ایک بہت بڑا خطرہ ہوگا‘‘۔

اس سے پہلے امریکا میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ کا ایک امریکی ٹی وی PBS  سے انٹرویو بہت مشہور ہوا جس میں اس نے قطر کے ساتھ اختلافات کے سبب بتاتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ ’’اگر آپ امارات، سعودیہ، اُردن، مصر اور بحرین سے پوچھیں کہ وہ آج سے دس سال بعد کس طرح کا مشرق وسطیٰ چاہتے ہیں، تو ان کا جواب قطر کے جواب سے بالکل مختلف ہوگا۔ ہم علاقے میں ’سیکولر‘ اور ترقی یافتہ حکومتیں چاہتے ہیں۔ لیکن اگر گذشتہ ۱۵ سال میں قطر کی پالیسیاں دیکھیں تو وہ الاخوان المسلمون، حماس، طالبان، شام کی مسلح تنظیموں اور لیبیا کی مسلح تنظیموں کی مدد کررہا ہے۔ یہ ہماری ان تمام پالیسیوں کے بالکل برعکس ہے جن کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے خطے کو ان کی طرف بڑھنا چاہیے‘‘۔ اب ایک طرف ان صدارتی فرمانوں، انٹرویووں، ابلاغیاتی جنگوں اور سوشل میڈیا پر ہونے والی لڑائیوں کو دیکھیں اور دوسری جانب امریکی پالیسی ساز اداروں میں ہونے والی بحثوں کو دیکھیں، جن میں مسلم ممالک کے نصاب تعلیم کے بارے میں اظہار تشویش کیا جارہا ہے۔ مثلاً کچھ عرصہ قبل امریکی کانگریس میں ہونے والی بحث کے یہ الفاظ ملاحظہ فرمائیں کہ: ’’سعودی عرب کا اپنے نصاب تعلیم میں سے وہ تمام حصے حذف کرنا کہ جو انتہاپسندی کی تعلیم دیتے ہیں، صرف ایک درست اقدام ہی نہیں، ہماری قومی سلامتی کا جزو ہے۔ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ اس کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی۔ گذشتہ مئی میں ہم نے انھیں ایک طویل فہرست ان عبارتوں کی پیش کی ہے، جو انتہا پسندی کی تعلیم دیتی ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ سال ۱۷ -۲۰۱۶ءکی نصابی کتب میں بھی ان تمام اقدامات پر موت کی سزا کی تعلیم دی جارہی ہے جنھیں امریکی قانون شخصی آزادی قرار دیتا ہے۔ مثلاً زنا، اور اسلام کا مذہب ترک کرنا (مرتد ہونا) وغیرہ… اسی طرح یہ کتب مسیحیت اور یہودیت بالخصوص صہیونیت کے خلاف بات کرتی ہیں۔ ان میں لکھا گیا ہے کہ مسیحیت ایک تحریف شدہ دین ہے… ان کتابوں میں ایسی قرآنی آیات پڑھائی جاتی ہیں کہ (اے اہل ایمان یہود و نصاریٰ کو اپنے جگری دوست نہ بناؤ۔ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں)۔ ان تمام چیزوں کو نصاب سے خارج کرنا ہوگا‘‘۔

امریکی کانگریس کے ایک اور سیشن میں سعودی خواتین میں تبدیلی کی ضرورت پر براہِ راست بحث کی گئی۔ سوال کیا گیا کہ کیا سعودی عرب میں دینی آزادی اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے پائی جانے والی صورت حال، حقوق انسانی کی صریح خلاف ورزی نہیں ہے؟ کانگریس کمیٹی کے سامنے اس کا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن نے کہا: ’’سعودی عرب اور امریکا کی اقدار یقینا مختلف ہیں، لیکن خطے میں امریکی مفادات سعودیہ کو مسلسل اس بات پر اُبھار رہے ہیں کہ وہ ان انسانی حقوق کا احترام کریں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ گذشتہ عرصے میں اس سلسلے میں بہت سارا سفر طے ہوچکا ہے‘‘۔

یہی امریکی وزیر نصابی اور دینی کتب کے بارے میں کہتے ہیں کہ: ’’ریاض کانفرنس کہ جس میں دہشت گردی کے خلاف مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کے بعد، نئی نصابی کتب تیار کی جارہی ہیں جو تمام مدارس اور دنیا بھر کی مساجد میں بھی عام کی جائیں گی۔ یہ کتب ان پرانی کتابوں کی جگہ لیں گی، جن میں ’متعصب وہابی‘ تعلیمات دی جاتی تھیں اور جن میں تشدد کا جواز فراہم کیا جاتا تھا۔ ہم نے صرف نئی کتب متعارف کروانے کا ہی نہیں، پرانی کتابیں اُٹھالینے کا بھی مطالبہ کیا ہے‘‘۔ وزیر موصوف کا مزید کہنا تھا کہ: ’’یہ تو صرف ایک مثال ہے وگرنہ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ میڈیا او رسوشل میڈیا کے ذریعے بات کیسے پھیلانا ہے؟ نوجوان ائمہ مساجد کو کیسے اور کیا تربیت دینا ہے؟ یہ وہ تمام اُمور ہیں جو امریکی وزارت خارجہ سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک کے ذریعے انجام دے رہی ہے اور جس پر ہم خود کو جواب دہ سمجھتے ہیں‘‘۔

                ایک طرف ان تمام عالمی منصوبوں، سازشوں اور ان پر عمل درآمد کو دیکھیں اور دوسری طرف اپنی غفلت کی جانب نگاہ دوڑائیں کہ ہم اپنی تباہی سامنے دیکھ کر بھی اس سے بچنے کی کوئی فکر نہیں کررہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن جو دام بچھانا چاہتے ہیں ہم خود آگے بڑھ کر اس کا کام آسان کرنے لگ جاتے ہیں۔ تاہم، ایک ابدی حقیقت جو اپنوں پرایوں سب کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں۔ قرآن کریم آخری کتاب ہے اور قرآن و سنت پر مبنی دین حنیف نہ صرف قیامت تک ہر تحریف و ہزیمت سے پاک رہنا ہے بلکہ اسے بہرصورت غالب ہوکر رہنا ہے۔ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں: ’’عزت مندوں کی عزت میں اضافہ کرتے ہوئے اور ذلیلوں کو مزید ذلیل کرتے ہوئے‘‘۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جنوبی ایشیا کے پہلے سربراہ مملکت ہیں، جنھوں نے اسرائیل کی سرزمین پر قدم رکھا۔ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعلقات کی داغ بیل ۱۹۷۱ءکی بھارت-پاکستان جنگ کے دوران ہی پڑی تھی، البتہ حساس اداروں کے درمیان اشتراک ۱۹۵۳ء سے ہی جاری تھا، جب ممبئی میں اسرائیل کو قونصل خانہ کھولنے کی اجازت مل گئی تھی، مگر ان تعلقات میں سیاسی عنصر کی عدم موجودگی اسرائیل کو بُری طرح محسوس ہو رہی تھی۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی سیکورٹی کے انچارج رامیشور ناتھ کائو (جو بعد میں خفیہ ایجنسی ’ریسرچ اینڈ انالیسز وِنگ یعنی ’را‘ کے پہلے سربراہ بنے) نے ۵۰کے عشرے میں ہی افریقی ملک گھانا میں قیام کے دوران اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ کے ساتھ تعلقات استوار کر لیے تھے۔باضابطہ سفارتی تعلقات کی پراو کیے بغیر ، ۱۹۷۱ءکی جنگ میں اسرائیل نے فوجی ماہرین کے ساتھ اسلحے کی ایک بڑی کھیپ بھارت روانہ کی۔ چوںکہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں بھارتی فوجی آپریشن کی قیادت ایک یہودی افسر میجر جنرل جے ایف آر جیکب کے سپرد تھی، تب اسرائیلی وزیر اعظم گولڈ امیئر نے ایران جانے والے اسرائیلی اسلحے کے ایک بڑے ذخیرہ کوبھارت کی طرف موڑ دیا۔

حال ہی میں عام کی گئی دستاویزات کے مطابق، اگست ۱۹۷۱ء میں ’را‘ کے سربراہ کاؤ نے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مشیر پی این ہکسر کو لکھے ایک تفصیلی خط میں بتایا کہ: ’’اسرائیلی اسلحے کو فوج اور مکتی باہنی کے گوریلا دستوں میں تقسیم کیا گیا ہے‘‘۔یاد رہے جنرل جیکب کا پچھلے سال ہی انتقال ہوا ۔ اکثر نجی ملاقاتوں میں جنرل جیکب بتایا کرتے تھے کہ: ’’اسرائیلی اسلحے کے بغیر مشرقی پاکستان میں آپریشن کی کامیابی ممکن نہ تھی‘‘۔ وہ اندرا گاندھی سے سخت ناراض تھے، کہ: ’’ایک تو اس نے مجھے فوجی سربراہ بننے نہیں دیا، اور دوسرا یہ کہ پاکستانی جنرل نیازی سے ہتھیار ڈلوانے کی تقریب کے لیے ایک سکھ افسر جنرل جگجیت سنگھ ارورا کو ڈھاکہ بھیجا، جب کہ ملٹری آپریشنز کی کمان میرے سپرد تھی‘‘۔ جنرل جیکب کے مطابق اندراگاندھی کو اسرائیل سے معاونت لینے میں کوئی لیت و لعل نہیں تھا، مگر اس ضمن میں وہ ایک یہودی افسر کی تشہیر نہیں چاہتی تھیں۔ انھیں اندیشہ تھا کہ پاکستان اس چیز کو عرب ممالک میں بھارت کے خلاف استعمال کرسکتا تھا۔

۷۰ءکے عشرے کے اواخر تک دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کا اشتراک اور محور پاکستان کے جوہری پروگرام کو سبوتاژ کرنا تھا۔ بھارت کے لیے تو پاکستانی ایٹمی پروگرام خطرہ تھا ہی، مگر اسرائیل اس کو ’اسلامی بم‘ سے تشبیہ دیتا تھا۔ فرانس کے اشتراک سے پاکستان میں ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کی خبر تو سبھی کو تھی،مگر چھن چھن کر یہ خبریں گشت کر رہی تھیں کہ: ’’پاکستانی سائنس دان یورونیم کی افزودگی پر بھی کام کر رہے ہیں، مگر کہاں او ر اس کا پلانٹ کدھر ہے؟ یہ پتا نہیں چل رہا تھا‘‘۔ منصوبہ یہ تھاکہ پلانٹ کا پتا چلتے ہی ’موساد‘ بھارتی سرزمین سے فضائی کارروائی کرکے اس کو تباہ کردے گا، جیساکہ بعد میں ۱۹۸۱ء میں اس نے اسی طرح کا آپریشن کرکے عراقی ایٹمی ریکٹر کو تباہ کردیا تھا۔

’را‘ کے ذمے اس پاکستانی پلانٹ کا پتا لگانا تھا۔ جب کئی آپریشنز ناکام ہوگئے، تو بتایا جاتا ہے کہ بھارتی خفیہ اہل کاروں نے پاکستان کے مختلف علاقوں سے حجاموں کی دکانوں سے بکھرے بالوں کے نمونے اکٹھے کرنے شروع کر دیے۔ ان کو ٹیسٹ ٹیوبوں میں محفوظ اور لیبل لگا کر بھارت بھیجا جاتا تھا، جہاں انتہائی باریک بینی سے ان میں جوہری مادہ یا تابکاری کی موجودگی کی جانچ ہوتی تھی۔ سالہا سال پر پھیلے اس آپریشن میں ایک دن ایک سیمپل میں یورینیم-۲۳۵  کی تابکاری کے ذرات پائے گئے۔ حالاں کہ یہ سیمپل اسلام آباد کے نواح میں کہوٹہ کے پاس ایک حجام کی دکان سے حاصل کیا گیا تھا۔ یہ تقریباً ثابت ہوگیا کہ پاکستان ۹۰ فی صد افزودگی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر چکا ہے، جو بم بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ نیوکلیر پاور پلانٹ کے لیے ۴/۵فی صد افزودگی ہی کافی ہوتی ہے، مگر یہ خبر ہونے تک بھارت میں اندرا گاندھی حکومت سے بے دخل ہوگئی تھی۔

۱۹۷۷ء میں نئے بھارتی وزیر اعظم مرارجی ڈیسائی کے پاس جب ’را‘ کے افسران یہ منصوبہ لے کر پہنچے، تو انھوں نے نہ صرف اس کی منظوری دینے سے انکار کیا، بلکہ پاکستانی صدرجنرل محمدضیاء الحق کو فون کرکے بتایا کہ ’’بھارت کہوٹہ پلانٹ کی سرگرمیوں سے واقف ہے‘‘۔’را‘ نے ڈیسائی کو اس کے لیے کبھی معاف نہیں کیا کہ اس کے مطابق مرارجی ڈیسائی نے پاکستانی صدر کو یہ بتاکر ’را‘ کے ایجنٹوں کے لیے مشکلات کھڑی کر دیں۔ اس کے بعد برسوں تک ’را‘ اس طرح کا نیٹ ورک پاکستان میں دوبارہ قائم نہیں کرسکا۔ پھر پاکستان نے کہوٹہ کو فضائی حملوں سے بھی محفوظ بنالیا۔

پاکستانی صدرجنرل پرویز مشرف کے دور میں جب بھارت اور امریکا کے درمیان ’سویلین جوہری معاہدے‘ کے خدو خال طے ہورہے تھے، تو واشنگٹن میں طاقت ور یہودی لابی کو اس کی حمایت سے باز رکھنے کے لیے پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اسرائیلی وزیر خارجہ سے استنبول میں ملاقات کی تھی۔ ۲۰۱۵ء میں قصوری صاحب نے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا کہ: ’’یہ میٹنگ کسی جیمز بانڈ فلم کے اسکرپٹ سے کم نہیں تھی۔ ترکی میں اس وقت کے وزیر اعظم (اور موجودہ صدر) رجب طیب اردوان نے یہ میٹنگ طے کی تھی‘‘۔ قصوری صاحب کے مطابق: ’’میرا جہاز پاکستان سے لیبیا کے لیے روانہ ہوا، بعد میں مالٹاسے ہوتا ہوا استنبول میں اُترا۔ جہاز کو ایئرپورٹ کی بلڈنگ سے دُور لینڈنگ کی اجازت مل گئی، جہاں پر طیب اردوان کے ایک معتمد نے میرا استقبال کیا۔  اسی دوران پورے استنبول شہر کی بتیاں گل کر دی گئیں۔ سرکاری طور پر بتایا گیا کہ پاور سپلائی میں خرابی آگئی ہے۔ گھپ اندھیرے میں پاکستانی اور اسرائیلی وزراے خارجہ کی میٹنگ ہوئی۔ خدشہ تھا کہ اگر یہ خبر میڈیا تک پہنچ گئی، تو پاکستان میں سیاسی اور عوامی سطح پر قیامت آجائے گی۔ قصوری صاحب کے بقول: ’’یہ میٹنگ کچھ زیادہ کامیاب نہیں رہی۔ اسرائیل نے فوجی اور دیگر ٹکنالوجی دینے کی پیش کش کی،مگر مَیں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتے، جب تک وہ مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے اُردن کے شاہ عبداللہ کے فارمولے کو تسلیم نہیں کرتا‘‘۔

اسرائیلوں کا کہنا ہے: ’’جب عرب ممالک اس کے ساتھ رشتے بنا سکتے ہیں، تو باقی ممالک کو آخر کیوں اعتراض ہے؟ تل ابیب سے ۱۵کلومیٹر دور سوریک کا سمند ر سے صاف پانی کشید کرنے کا پلانٹ ہی اردن کو پانی مہیا کرتا ہے۔ مصر صحراے سینا میں سیکورٹی کو کنٹرول کرنے کے لیے اسرائیل سے اشتراک کر رہا ہے۔گوکہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں، مگر کچھ عرصے سے خبریں گشت کر رہی ہیں کہ پس پردہ دونوں ممالک کے درمیان سلسلہ جنبانی جاری ہے۔ اور یہ خبر عام ہے کہ سعودی حکومت بطور خادمِ حرمین، قبلہ اوّل کی خدمت کا ذمہ لینا چاہتی ہے (یاد رہے اس وقت مسجد اقصیٰ کی خدمت اُردن کے محکمہ اوقاف کے تحت ہے)۔

اب سوال یہ ہے، کہ آخر مودی کے اسرائیل دورے سے اس خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ وہ بھارت کے ایسے پہلے سیاسی لیڈرہیں، جو اس دورے کے دوران فلسطینی لیڈروں سے نہیں ملے۔ ماضی میں چاہے بھارتی وزیرداخلہ لال کشن ایڈوانی ہو یا بھارتی صدر پرناب مکرجی، سبھی اسرائیلی دورے کے دوران فلسطینی علاقوں میں بھی جاتے تھے۔ بھارت اور چین نے تقریباً ایک ہی سال، یعنی۱۹۹۲ء میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے تھے۔ دونوں ممالک کو اسرائیل سے دفاعی ٹکنالوجی درکار تھی، جو انھیں امریکا براہِ راست فراہم نہیں کرسکتا تھا۔ اگر موجودہ عالمی صورت حال کا جائزہ لیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل کو بھی اس وقت بھارت کی ضرورت ہے۔ یورپی ممالک میں اسرائیل کا قد خاصا چھوٹا ہے۔ فلسطینیوں پر اس کے مظالم کی آوازیں یو رپی شہروں میں اب واضح طور پر سنائی دے رہی ہیں۔ ایسے وقت، عالمی اداروں میں اسرائیل کو سیاسی اور سفارتی دوستوں کی اشد ضرورت ہے۔ پھر اسلحے کی خریداری میں بھارت، اسرائیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور یوں اس کی اقتصادیات کا ایک بڑا سہارا ہے۔

اسرائیل میں طرزِ زندگی خاصا مہنگا ہے۔ یورپی ممالک اسرائیل سے اس لیے بھی خار کھائے ہوئے ہیں، کہ وہ ’القاعدہ‘ اور ’داعش‘ (ISIS) کو لگام دینے میں اتنی مستعدی نہیں دکھا رہا ، جتنا کہ ’حماس‘ یا ’حزب اللہ‘ کے خلاف اس کی ایجنسیاں برسر پیکار ہیں۔ جب یہی سوال میں نے دہلی میں اسرائیلی سفیر ڈینیل کارمون سے کیا تو موصوف کا برجستہ جواب تھا: ’’ان کی مستعدی ان تنظیموں کے خلاف ہے، جو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہیں‘‘۔ دو سال قبل یہ خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کا علاج ایک اسرائیلی ہسپتال میں چل رہا تھا۔میں نے اس حوالے سے جب اسرائیلی سفیر سے استفسار کیا ، تو ان کا گو ل مول جواب تھا کہ: ’’ہمارا ملک ڈاکٹری اصولوں کے مطابق کسی بھی زخمی یا بیمار شخص کے علاج کا پابند ہے، جو سرحد عبور کرکے اسرائیل کی پناہ میں آیا ہو‘‘۔ تاہم، اس سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوسکتا کہ: ’’کیا     یہ ڈاکٹری اصول حزب اللہ یا حماس کے زخمیوں پر بھی لاگو ہوگا؟‘‘

بھارت اور اسرائیل تعلقات کے حوالے سے ایک اور بحث کشمیر پر اس کے اثرات کی مناسبت سے زبانِ زد خاص و عام ہے۔ بھارت میں سخت گیر عناصر کشمیر میں اسرائیلی طرز اپنانے پر زور دے رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ۲۰۱۰ء میں کشمیر میں حالات انتہائی خراب تھے۔ اسی دوران بھارت کے سینر صحافیوں کے ہمراہ مجھے اسرائیل اور فلسطین کے دورے کا موقع ملا۔ تل ابیب میں اسرائیلی وزیر اعظم کے مشیر ڈیوڈ رائزنر بریفنگ دے رہے تھے۔ وہ اسرائیلی فوج میں اہم عہدے دار رہ چکے تھے، لبنان کی جنگ میں ایک بریگیڈ کی کمان بھی کی تھی۔ اس کے علاوہ ’انتفاضہ‘ [’حماس‘ کی عوامی تحریکِ آزادی] کے دوران بھی فوج اور پولیس میں اہم عہدوں پر براجمان رہ چکے تھے، اس لیے بھارتی صحافی ان سے یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ آخر وہ غیرمسلح فلسطینی مظاہرین سے کیسے نمٹتے ہیں؟ ڈیوڈ رائزنر نے کہا:’’ ۱۹۸۷ء کے ’انتفاضہ‘ کے دوران ہماری فوج اور پولیس نے پوائنٹ ۴ کے پیلٹ گن استعمال کیے تھے، مگر اس کے نتائج کا تجزیہ کرنے کے بعد  ان پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ ان ہتھیاروں کی کھیپ اسلحہ خانے میں زنگ کھا رہی تھی ۔ جس کمپنی نے یہ ہتھیار بنائے، اس نے حکومت کو پیش کش کی تھی کہ وہ پوائنٹ ۹ کے پیلٹ سپلائی کرے گی، جو نسبتاً کم خطرناک ہوں گے، مگر اس وقت تک اسرائیلی حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا‘‘۔ رائزنر نے تسلیم کیا کہ مسلح جنگجوؤں کے برعکس مظاہرین سے نمٹنا آسان نہیں ہوتا، خصوصاً جب عالمی میڈیا اس کی رپورٹنگ بھی کر رہا ہو‘‘۔

 حیرت کی بات ہے کہ ہمارے دورے کے چند ماہ بعد ہی یہ ہتھیا ر،جو اسرائیل کے اسلحہ خانوں میں زنگ آلود ہو رہے تھے،کشمیر میں استعمال کرنے کے لیے بھارت کی وزارت داخلہ نے درآمد کر لیے۔ اور لائسنس ایگریمنٹ کے تحت خود بھارت کے دفاعی ادارے اب یہ تیار کرتے ہیں۔ ڈیوڈ رائزنرنے بتایا تھا کہ : ’’ہم نے ربر سے لپٹی ہوئی اسٹیل کی گولیوں اور بے ہوش کرنے والی گیس کا بھی تجربہ کیا تھا، مگر نشانہ بننے والے بچوں پر ان کے مہلک اثرات کے سبب ان پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ بھارت میں پیلٹ گنوں کے بعد اب یہ دونوں ہتھیارکشمیر میں استعمال ہورہے ہیں‘‘۔ اس اسرائیلی افسر نے بھارتی صحافیوں کو ششدر اور رنجیدہ کردیا، جب اس نے کشمیر میں تعینات ’بھارتی فوج کے افسروں کے کارنامے‘ سنانے شروع کیے۔ اس نے کہا: ’’بھارتی افسر اس بات پر سخت بے زاری کا اظہار کرتے ہیں کہ:’’ شورش زدہ علاقوں میں مسلح اور غیر مسلح کی تفریق کیوں کی جائے؟ حال ہی میں اسرائیل کے دورے پر آئے ہوئے ایک بھارتی جنرل نے مجھ کو بتایا کہ کشمیر میں ہم پوری آبادی کوگھیرکرگھروں میں گھس کر تلاشی لیتے ہیں، کیوںکہ    ان کے لیے کشمیر کا ہردروازہ دہشت گردکی پناہ گاہ ہے‘‘۔ ڈیوڈ رائزنر نے سلسلۂ کلام جوڑتےہوئے کہا: ’’ہم نے بھارتی جنرل کو جواب دیا کہ اسرائیل پوری دنیا میں بدنام سہی، مگر اس طرح کے آپریشن اور وہ بھی بغیر کسی انٹیلی جنس کے، ہماری جوابی کارروائیوں میں شامل نہیں ہیں‘‘۔ یاد رہے رائزنر، اسرائیلی وزیراعظم یہود برک کے اس وفد کے بھی رکن تھے، جس نے کیمپ ڈیوڈ میں فلسطینی رہنماؤں کے ساتھ جولائی ۲۰۰۰ء میں گفت و شنید کی تھی۔

مارچ۲۰۱۶ءمیں ایک اسرائیلی سپاہی ایلور ارزانیہ نے زمین پر گرے ایک فلسطینی زخمی شخص کے سرکو نشانہ بناکر ہلاک کردیا تھا۔ اگرچہ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ شخص ان پر حملہ کرنے کی نیت سے آیا تھا اور اس کی شناخت ایک دہشت گرد کے طور پر کی گئی تھی، مگر ارزانیہ پر ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلا اور اس کو ۱۸ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ اس پر پورے اسرائیل میں دائیں بازو کی جماعتوں نے ہاہا کار مچادی، کہ ایک دہشت گرد کو ہلاک کرنے کے الزام میں فوجی کو کس طرح سزا ہوسکتی ہے۔ اس ہا ہا کار میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو بھی شریک تھے، مگر اسرائیلی فوج نے عوامی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی۔

ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد کسی بھی طور پر اسرائیلی جرائم کا دفاع کرنا نہیں بلکہ صرف یہ باورکرانا ہے کہ کشمیرکس حد تک عالمی ذرائع ابلاغ میں اور سفارتی سطح پر ناقص ابلاغِ عامہ (under reporting) کا شکار رہا ہے اور فوجی مظالم کی تشہیرکس قدر کم ہوئی ہے۔ ڈیوڈ رائزنرنے جنرل کا نام تو نہیں بتایا مگر کہا کہ: ’’ہم نے بھارتی فوجی وفد کو مشورہ دیا تھا کہ : عسکری اور غیرعسکری میں تفریق نہ کرکے آپ کشمیر میں صورت حال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں‘‘۔

نوعِ انسانی کی خاطر برپا ہونے والی امت کے احوال دیکھ کر ایک سوال ذہن کے دریچوں پر دستک دیتا ہے کہ آخر ہم کیوں پیچھے رہ گئے؟ اُمتِ مسلمہ آج اس زبوں حالی کا شکار کیوں کر ہوئی ہے اور اس زبوں حالی سے نکلنے کا کیاکوئی راستہ بھی ہے؟ اس نوعیت کے سوالات ہمیں جوابات تلاش کرنے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ اُمتِ مسلمہ جسے ’خیر اُمت‘ کا لقب حاصل ہے اور جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی امین بھی ہے اور جانشین بھی ۔ یہ ایک ایسی امت جسے بجا طور پر سیادت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہونا چاہیے تھا، اپنے آپ کو مظلوم و محکوم پاتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ  مشرقِ وسطیٰ سے لے کر کشمیر، برما ، فلسطین، بھارت میں اس امت کی بد حالی، مظلومیت اور مفلوجیت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ایک ایسی امت جو عددی اعتبار سے دنیا کی ایک چوتھائی آبادی پر مشتمل ہو، جو جغرافیائی اعتبار سے اسٹرے ٹیجک علاقوں میں سکونت پذیر ہو اور جس کی سرزمین قدرتی و معدنی وسائل سے مالا مال ہو، آخر ایسا کیوں ہے کہ آج اُمتِ مسلمہ کی حیثیت ایک ایسے بے حس جان دار کی سی ہو گئی ہے، جس پر جو چاہے اپنی اجارہ داری قائم کر سکتا ہے۔انسانیت کو اندھیروں سے نور کی طرف لے آنے والی امت آج خود پستی کی دلدل میں دھنسی نظر آتی ہے۔

عالمی سطح پر ۵۶ سے زیادہ اسلامی ممالک کا وزن پانی پر جھاگ کے ماند بھی نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں مسلم ممالک خود کو بے وزن محسوس کرتے ہیں۔ ان کی راے کی کوئی حیثیت نہیں۔ سارے عالمی معاملات جی سیون، جی ففٹین وغیرہ سے منسوب ممالک طے کرتے ہیں۔ امریکا اور اس کے حواری اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی آڑ میںبین الاقوامی مسائل کو اپنی اغراض کے مطابق طے کرتے ہیں۔ الغرض اُمتِ مسلمہ پر ذلت اور مسکنت کا دور جاری و ساری ہے اور عذابِ الٰہی کے کوڑے بڑی شدت کے ساتھ اس اُمت پر برس رہے ہیں۔ ایسی حالتِ زار میں اگر یہ وعدہ پیش نظر رکھا جائے: اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ [اٰلِ عمرٰن ۳:۱۳۹]،   ’’تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو‘‘، اگر قرآن میں اہلِ ایمان کے لیے غلبے کی بشارتیں ہیں تو اُمت کیوں کر پستی اور جمود کا شکار ہو کے رہ جائے؟آخر اس پستی کے اسباب کیا ہوئے اور اس سے نکلنے کی کیا راہ ہے؟              

اگر غور سے اس مسئلے پر سوچا جائے تو ہمیں اس بات کے اعتراف میں کوئی باک نہیں رہتا کہ یہ امت خیر اُمت کی تاویل میں غلطی کر گئی ہے ۔ اہل یہود کی طرح شاید ہم مسلمان بھی مدت سے کچھ اسی خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ اپنی تمام کج فکریوں کے باوجود بھی ہم ہی تا قیامت دنیا کی سیادت پر مامور کر دیے گئے ہیں۔ چوں کہ خیر اُمت ہم ہیں، لہٰذا اقوامِ عالم کی سیادت پر فائز بھی ہمیں ہی کیا گیا ہے۔ اب چاہے کوئی ہماری اقتدا کرے یا نہ کرے ۔ کوئی کہتا ہے کہ غلبے سے مراد سیاسی، تہذیبی یا معاشی غلبہ نہیں بلکہ روحانی غلبہ ہے۔دراصل ’خیر‘ کا لفظ ان تمام کاموں پر محیط ہے، جس سے نوعِ انسانی کی فلاح و بہبود وابستہ ہے۔ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہماری ساری توانائی ان باتوں میں خرچ ہوتی ہے کہ لائوڈاسپیکر پر اذان دی جائے یا نہیں، قرآن کی تلاوت جائز قرار دی جائے یا نہیں، موبائل پر بنا وضو قرآن پڑھا جائے یا نہیں، گھڑی دائیں ہاتھ میں پہننی جائز ہے یا بائیں ہاتھ میں، ہوائی جہاز میں کس سمت ہو کر نماز پڑھی جائے؟ ہم نئی ٹکنا لوجی کے خریدار ضرور ہیں، مگر اس کی پیداوار میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔ جہاں دوسری قوموں نے دیانت یا محنت کے نتیجے میں اپنا قائدانہ تفوق برقرار رکھا اور اس سمت میں اپنی پیش رفت جاری رکھی، وہیں ہم خیر کے ان کاموں سے یکسر کٹ کر رہ گئے۔ اس سے بڑی کرب ناک اور اذیت دینے والی بات کیا ہو سکتی ہے کہ جب ہمارے سرکردہ علما کسی سائنسی تحقیق [جسے غیر اقوام نے انجام دیا ہو] کے بارے میں کہتے ہیں کہ: ’’یہ ہمارے قرآن میں ساڑھے چودہ سو سال پہلے اشارات میں واضح کیا جا چکا ہے‘‘۔ اس بات سے انکار نہ کرنے کے باوجود لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کو وہ اشارے اور ارشادات تب تک نظر کیوں نہیں آتے جب تک کہ غیر اقوام کسی سائنسی تحقیق کو سامنے نہیں لے آتیں۔

آج اُمتِ مسلمہ کے ذہن مفلوج ہو گئے ہیں، اس لیے نہیں کہ وہ صلاحیت سے عاری ہیں، بلکہ شاید اس لیے کہ امت نے ان سے کام لینا بند کر دیا ہے۔ اُمت ’ توکل‘ میں اس حد تک غلو کی مرتکب ہوئی کہ عقل کو طاقِ نسیاں میں رکھ دیا۔ ’محرک اور نتیجے‘ کے اصول کا سرے سے انکار کیا جاتا ہے۔ اس اصول سے آیاتِ آفاق وانفس کو سمجھنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی ہے۔ اس کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ امت مسلمہ ’فکرودانش کی خودکشی‘ کے دہانے پر آکھڑی ہوئی۔ امت اب اونٹوں کو کھلا چھوڑ کر ’توکل‘ کا فریضہ انجام دیتی ہے۔

نیال فرگوسن نے اپنی کتاب Civilization: The West and the Rest  (۲۰۱۲ء) میں مغربی طاقت کے چھے بنیادی محرکات کو واضح کیا ہے، جو اسے تمام دنیا کی اقوام پر غلبہ اور سیادت بخشتے ہیں۔ان چھے محرکات میں فرگوسن پہلے نمبر پر مقابلے اور مسابقت کو جگہ دیتا اور کہتا ہے کہ یورپ میں مقابلے و مسابقت کی سوچ کے پیدا ہوتے ہی مادی اور فوجی طاقتوں میں حد درجہ اضافہ ہو گیا جو یورپی طاقتوں کے غلبے کا سبب بنا۔اس مسابقت سے نہ صرف معیار میں اضافہ ہوا بلکہ مقدار میں بھی حد درجہ اضافہ ہوا۔ پھر پیداوار اور اس کی کھپت میں انقلابی سطح کی تبدیلی دیکھنے کو ملی۔فرگوسن کی اس بات کو ہمارا طرزِفکر یہ کہہ کر خارج کر دیتا ہے کہ: ’’اسلام مقابلے کا نہیں بلکہ تعاون کا خواہاں ہے‘‘۔ لیکن فرگوسن کے باقی کے پانچ وجوہ(طب، ملکیت، سائنس، محنت اور کھپت) تو ایسی ہیں، جن سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں۔ ان میں وہ سائنسی میدان میں یورپ کی ترقی کو دوسری بنیادی وجہ سمجھتا ہے۔

اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ جب یورپ پر تہذیبی زبوں حالی کے گھٹاٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے، اُمتِ مسلمہ علوم و فنون کے میدان میں اپنے عروج پر تھی۔ لیکن جب یورپی قومیں اپنی شکست خوردگی سے بیدار ہونی شروع ہوئیں، انھی ایام میں اُمتِ مسلمہ پر ایسی گہری نیند چھائی کہ اب تک بیدار ہونے کانا م نہیں لیتی۔ دورِ رسالت اوردور خلافت وہ   شان دار اَدوار تھے، جب اُمتِ مسلمہ ایک تعمیری اُمت ہوا کرتی تھی۔علوم و فنون کی افزایش و ترقی میں اس امت کا ایک کلیدی کردار تھا۔ لیکن جوں جوں مسلم ذہنوں پر سُستی اور کاہلی چھاتی گئی، اس بنیادی کام میں ہمارا حصہ گھٹتا گیا اور آج حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ نہ صرف علمی ترقی میں ہمارا کوئی خاص حصہ نہیں ہے، بلکہ علم کے جذب و اجتہاد میں بھی یہ امت بخل سے کام لیتی نظر آتی ہے۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ پرمُسلم ہے کہ اس سائنسی ترقی کا ایک اور رخ بھی ہے جسے ہم نظرانداز نہیں کر سکتے۔ جہاں علم کی ترقی نے انسان کو ایٹمی طاقت پر دسترس عطا کی، وہیں وحی سے کٹ کر انسان نے ایٹم بم بنا کر انسانیت کو ایک دہکتے ہوئے آتش فشاں پر دھکیل دیا ہے۔ انسانیت کی فوز وفلاح کے لیے صرف نت نئی ٹکنالوجی کافی نہیں بلکہ مشفق اور محسن اور آخرت کی جواب دہی سے سرشار انسانوں کی ضرورت ہے، جو اس ٹکنا لوجی کو انسانیت کی بقا کے خاطر استعمال کرسکیں ۔ انسانیت کو اس فساد سے نکال کر امن کی شاہراہ پر صرف اُمتِ مسلمہ ہی ڈال سکتی ہے۔

اُمتِ مسلمہ ایک بانجھ امت نہیں ہے اور نہ کبھی بانجھ رہی ہے۔ اس امت نے علوم و فنون کے ہر شعبے میں اعلیٰ صلاحیت اور امتیازی حیثیت رکھنے والے افراد کو جنم دیا ہے۔ حسن بصریؒ،   امام بخاریؒ، امام مسلم ؒ ،امام ابو حنیفہؒ، امام غزالیؒ ، امام ابن تیمیہؒ، شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ، علّامہ محمداقبالؒ، سیّدقطب شہیدؒ اور مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودیؒ، اس اُمت کے وہ موتی ہیں، جنھوں نے نہ صرف اس امت کے احیا کے لیے کام کیا، بلکہ تمام انسانیت کی فلاح کے لیے ان کے دل ہمیشہ تڑپتے رہے۔ آج ضرورت ایسے ہی ذہنوں کی ہے، جو اسلامی علوم کی تشکیل جدیدکا بیڑا اٹھائیں اور اس سمت میں اپنی خدمات انجام دیں۔ عشروں کی محنت سے ہم صرف جامعۃ الازہر ،دارالعلوم دیوبند جیسے گنتی کے چند اعلیٰ اداروں کا قیام عمل میں لاسکے ہیں، جب کہ غیر مسلم قومیں علم اور تحقیق کے ایسے ادارے قائم کرنے میں کامیاب ہوئیں، جن کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔ ایسے ہی تحقیقی اداروں سے ایسے کافرانہ نظریات بھی جنم لیتے ہیں جو نہ صرف اسلام دشمن ہوتے ہیں بلکہ انسانیت کے دشمن بھی۔ غرض مغربی ممالک علم وتحقیق کو غلبے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس غلبے سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس تحقیقی کلچر کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے جو سابقون الاولون میں دیکھنے کو  ملا تھا۔ اس ناکامی کی اصل جڑ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو دو بڑے خانوں میں تبدیل کر دیا: دُنیوی تعلیم اور دینی تعلیم۔ دنیاوی تعلیم کو ہم نے سرے سے ہی وحی سے کاٹ دیا اور دینی تعلیم کو دنیا سے کاٹ دیا ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے [دینی یا دنیوی] صرف اور صرف ’یک رُخا انسان‘ تیار اور فراہم کرتے ہیں، جن میں بنیادی طور پر منقسم شخصیت ہی پیدا ہوسکتی ہے، اسلام کے انسانِ مطلوب کا تصور محال ہے۔

وقت کی خاص بات تو دیکھیے کہ اس میں تسلسل کے ساتھ تغیر ہے اور یہی تغیر حالات کے بدلنے کا سبب بن جاتا ہے۔ برطانیہ کی وسیع سلطنت پر بھی سورج آخر کار غروب ہو ہی گیا۔ اشتراکی روس جیسی سوپر پاور کا ٹکڑوں میں بکھر جانا، اور ہٹلر اور مسولینی جیسے انسانیت کے قاتلوں کا وقت کی سولی پہ چڑھ جانا ظاہر ہے۔ اسی طرح تحریکوں پر بھی وقت کے بدلنے کے آثار دیکھنے کو ملتے ہیں۔

جموں و کشمیر میں رواں تحریک کو، جو بُرہان مظفر وانی کی شہادت [۸جولائی ۲۰۱۶ء] سے شروع ہوئی، دیکھنے کے دو زاویے ہیں: ایک نقطۂ نظر تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس ایک سال کے دوران بہت سی انسانی جانیں شہادت سے ہم کنار ہوئیں، ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے، جیلیں بھر دی گئیں، سیکڑوں نوجوان اور بچے بینائی سے محروم ہو گئے، اور اربوں کی جایداد کو نقصان پہنچا۔ تجارت اور تعلیم متاثر ہوئی، ٹرانسپورٹ کے ٹھپ ہونے سے گاڑی مالکان کو خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ گویا زندگی کی گاڑی رُک سی گئی۔ ترقی کی رفتار پر ایک ایسا زبردست بریک لگ گیا جس نے زندگی کی گاڑی پٹڑی سے اُتاردی اور زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہو کر رہ گیا۔ ابتدائی پانچ مہینوں تک کشمیری قوم لگاتار احتجاج پر رہی اور ایک بھی دن ناغہ نہ کیا۔ کوئی قوم پانچ مہینے تک گھروں میں محصور ہو کر     رہ جائے تو زندگی کی رونقیں پھیکی پڑجاتی ہیں، جذبات سرد پڑ جاتے ہیں، مایوسی انسانوں پر اپنا  شکنجہ کَس لیتی ہے۔ ایسے حالات میں انسان ٹوٹ جاتا ہے ۔

مادیت کے اس دور میں ہرلمحے کو تولا اور نفع و نقصان کی گنتی کی جاتی ہے۔ اُس قوم کی حالتِ زار سے ہر کوئی بخوبی واقف ہو سکتا ہے کہ جس کی نئی نسل کے تعلیمی سال ضائع ہورہے ہوں۔ کشمیر کی آبادی کا کثیر حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی نوجوان کسی قوم کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر یہ نسل اسی طرح تعلیم سے دُور ہوتی رہی تو قوم کے مستقبل کا اندازہ لگانا کسی بھی صاحبِ عقل کے لیے کچھ بھی دشوار نہیں۔ یہ سب اعداد و شماراپنی جگہ، لیکن کسی بھی تحریک کو اس طرح دیکھناکوتاہ بینی کو ظاہر کرتا ہے، کیوںکہ بڑے مقاصد کے حصول کے لیے عظیم قربانیاں پیش کرنا ایک ناگزیر حقیقت ہے۔

ہر تحریک کے دو دور ہوتے ہیں: ایک اس تحریک کے نشیب کو ظاہر کرتا ہے تو دوسرا اس کے فراز کو۔ لیکن یہ دونوں دور مل کر ایک کامل تحریک کا روپ دھار لیتے ہیں۔ کوئی بھی تحریک کبھی یکساں طریقے سے نہیں چلتی بلکہ اس میں اتار چڑھاو آتے رہتے ہیں۔ اگر برطانوی تسلط میں ہندستان کی تحریکِ آزادی کی بات کی جائے تو ہمیں اس میں ایک دور وہ بھی ملتا ہے جس میں بھگت سنگھ، جیسے نوجوان مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے غاصب حکومت کے خلاف صف آرا ہوگئے تھے، لیکن حکومت نے نہ صرف ان کی تحریک کو کچل دیا، بلکہ ان نوجوانوں کو تختۂ دار پر لٹکا کر یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کی کہ ہندستان آزادی کا خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ حالت تو یہاں تک پہنچ گئی کہ۸؍اگست ۱۹۴۲ءکو Quit India Movement کے نام سے ایک تحریک شروع ہوئی۔ اس تحریک کو بھی انگریزوں نے پوری طاقت کے ساتھ تتربتر کر دیا اور یہ تحریک ۱۹۴۴ء کے اوائل میں ختم ہوکر رہ گئی۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ ہندستان کی آزادی ایک خیالِ خام کے سوا کچھ نہیں، لیکن جلد ہی وہ وقت بھی آگیا کہ قربانیوں نے اپنا رنگ دکھایا اور اگست ۱۹۴۷ء میں آزادی کا سورج طلوع ہوگیا۔

۲۰۰۸ء سے کشمیر کی تحریکِ آزادی نے ایک نیا موڑ لیا ۔ عوامی احتجاجوں نے ظالموں کے پیروں تلے زمین کھسکا دی۔ ۲۰۰۹ء اور ۲۰۱۰ء کی عوامی تحریکوں کے بعد یہ دعوے کیے جانے لگے کہ شاید اس نوعیت کی عوامی تحریک پھر کبھی برپا نہیں ہوسکتی، لیکن ۲۰۱۶ء نے ان تمام بودے دعوئوں کو غلط ثابت کر دیا۔

دراصل، دنیا والوں کو ایک بات ذہن میں بٹھالینی چاہیے کہ آج تحریکِ آزادی کا ایک دور چل رہا ہے، جس میں گیرائی بھی ہے اور گہرائی بھی۔ جس میں قوم کے جذبات اپنے نقطۂ عروج پر ہیں، جذبۂ اطاعت اور جذبۂ ایثار و قربانی حد درجہ دیکھنے کو مل رہا ہے، لیکن کسی بھی وقت یہ تحریک اپنے دوسرے پڑائو کی طرف گامزن ہوسکتی ہے۔

ظلم اور ظلم کے خلاف جدوجہد ،یہ دو الگ الگ طاقتیں ضرور ہیں، لیکن ایک زاویے سے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ دونوں طاقتیں ایک ساتھ پیدا ہوتی ہیں۔ ظلم جدوجہد سے ہی ختم ہو سکتا ہے، لیکن ظالم ہمیشہ اس جدوجہد کو ختم کرنے کے درپئے ہوتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

تاریخ کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ظالم کی طاقت ہر دور میں ظلم کے خلاف جدوجہد کرنے والوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ نہ ہوتا تو نہ ظالم کا ظلم ہی وجود میں آسکتا اور نہ جدوجہد کی کوئی ضرورت ہی باقی رہتی ۔ظلم اور جبر مٹنے کی چیزیں ہیں ۔  ظلم کم ہویا زیادہ، اگر برداشت کی حد کم ہو جائے تو ظلم کے خلاف جدوجہدچھڑ جاتی ہے اور ظلم و جبر کی اُلٹی گنتی شروع ہوجاتی ہے۔   رواں جدوجہد میں ظالم نے ظلم کی تمام حدود توڑ ڈالیں۔ اس ظلم کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ کشمیر میں قبروں کی تعداد بڑھ گئی، زخمیوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہوا جاتا ہے، جیل خانوں میں جگہ کی کمی واقع ہونے لگی ہے۔ دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو خود ظلم بھی اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اب اس کے مٹنے کے دن قریب ہیں۔

ایک چیز تو طے شدہ ہے کہ کشمیری عوام نے خوف سے آزادی پا لی ہے۔اور جو قوم خوف سے آزاد ہوجائے، اس کو غلامی سے نجات مل ہی جاتی ہے، کیوںکہ انسان کی غلامی اور آزادی کے درمیان خوف ہی کا پردہ حائل رہتا ہے۔ خو ف سے آزادی ہی دراصل باقی تمام آزادیوں کے لیے دروازہ کھول دیتی ہے۔ خوف سے بے خوفی کے اس عالم کوشاید لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے، اور جموں و کشمیر سے باہر بسنے والے لوگوں کے لیے اس زمینی حقیقت کو تصور میں لانا تو اور بھی مشکل ہے۔ ذرا تصور میں لایئے وہ منظر، کہ جب نہتے نوجوان قابض فوجی گاڑیوں اور کیمپوں پر بے سروسامانی کی حالت میں دھاوا بول دیتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ آگ اور موت برسانے والی بڑی تعداد میں خونیں بندوقیں انھیں نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔ یہ مناظر ہر دیکھنے والے کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں ۔ رواں تحریک میں اس بے خوفی کے رنگ کو ظاہر کرنے کے لیے نئے نئے نعرے لبوں کی زینت بن گئے، مثلاً نعرہ لگتا ہے: ـ’گولی بھی چلے گی ــ‘ تو جواب آتا ہے: ’چلنے دو‘۔ایک کم سن بچہ پکارتا ہے: ’سینے پہ لگے گی‘۔ جواب میں بلندآواز دل دہلا دہتی ہے:’ لگنے دو‘۔تیسرا جوان نعرہ بلند کرتا ہے: ’ پیلٹ بھی چلیں گے‘۔ جواب آتا ہے:’چلنے دو‘۔ بزرگ پوری قوت سے نعرہ بلند کرتا ہے: ’آنکھوں میں لگیں گے‘۔ ہزاروں کا مجمع جواب دیتا ہے:’لگنے دو ‘!

یہ نعرے تمام احتجاجی قافلوں میں فلک شگاف لہجوں میں لگائے جاتے ہیں۔ یہی ہے وہ بے خوفی،جو ظلم کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتی ہے۔جو قوم اُن چیزوں سے بے نیاز ہو جائے، جن سے خوف وجود میں آتا ہے، تو اُس قوم کو آزاد ہونے سے کون سی طاقت روک سکتی ہے؟ اس بے خوفی کا عالم تو یہ ہے کہ مظلوم عوام خصوصاً نوجوانانِ کشمیر اپنے محسن مجاہدین کی جان بچانے کے لیے ’جعلی مقابلوں‘ کی جگہوں (انکائونٹر سایٹس) پر جا جا کر قابض فوج کے خلاف سنگ بازی کرتے ہیں، تاکہ مجاہدین کو فرار ہونے کا موقع مل سکے۔ بھارتی فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے حال ہی میں کشمیری نوجوانوں کو یہ دھمکی دے کر خوف زدہ کرنے کی کوشش کی کہ انکائونٹر سایٹس پر جمع ہونے والوں سے ویسے ہی نبٹا جائے گا جیسا کہ مجاہدین سے۔ اس بیان سے خوف کھاکر کشمیری عوام خصوصاً نوجوان اپنے گھروںمیں محصور ہو کر نہیں رہ گئے، بلکہ اور شدت سے اپنی آزادی کی خاطر جدوجہد میں برسرِ میدان ہیں۔ اس شدت کا اظہار سوشل میڈیا پر ان وڈیوز سے ہوتا ہے، جن میں کشمیری نوجوان بھارتی فوجیوں کو ’گو انڈیا گو بیک‘ کے نعرے لگانے پر مجبور کرتے ہیں۔

کشمیریوں کی بے خوفی اب سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ ۷لاکھ سے زیادہ فوجیوں کی کشمیر میں تعیناتی دراصل کشمیر کو کھو دینے کے خوف کو ظاہر کرتی ہے۔ بھارتی سفاک حاکم اپنی ناکامی کو جانتے ہیں، جس کا ثبوت فوج کے سربراہا ن کے ان بیانات سے بخوبی ہوتا ہے، جن میں وہ اس بات کا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ ’’بھارت کشمیر میں ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہا ہے‘‘۔ اب بیانات یہاں تک آنا شروع ہوگئے ہیں کہ ’’فوجی تسلط کشمیر کے مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلۂ کشمیر سیاسی حل چاہتا ہے‘‘۔

اہلِ کشمیر عرصۂ دراز سے قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں۔ یہی قربانیاں تحریکوں کو قوت فراہم کرتی ہیں اور ظالموں پرایسا بوجھ بن جاتی ہیں، جن کے نیچے وہ دبتے چلے جاتے ہیں اور آخرکار انھی قربانیوں کا بوجھ انھیں زیر کر دیتا ہے۔

ایک طرف اقوام متحدہ نے مواصلاتی بریک ڈاؤن کو کشمیریوں کے لیے اجتماعی سزا قرار دے کر ایسی پابندیوں کو عالمی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیاہے، دوسری جانب بھارت کی مختلف ریاستوں میں مزید ڈھٹائی کے ساتھ کشمیریوں کا ذہنی ٹارچر اور جسمانی تعذیب کے نت نئے حربے بروے کار لائے جارہے ہیں۔ اور ایسا کر تے ہوئے تمام اخلاقی اور انسانی اقدار کے ساتھ ساتھ ملکی آئین اور بین الاقوامی قانون کو پیروں تلے روندا جارہا ہے۔   یہاں کے اخبارات کے مطابق ایک اندوہ ناک خبر یہ ہے کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک مریضہ کاپی جی آئی، چندی گڑھ میں ڈاکٹر نے صرف اس بناپر علاج کرنے سے انکار کردیا کہ وہ کشمیر سے تعلق رکھتی ہیں۔

نسرین ملک نامی اس مریضہ کے بیٹے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ میں اپنی والدہ کو علاج کی غرض سے پی جی آئی، چندی گڑھ لے گیا، جہاں منوج تیواڑی نامی ڈاکٹر نے ابتدا میں ہم سے اچھا سلوک کیا۔ لیکن جب انھوں نے صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے نسخہ جات اور کاغذات دیکھے، جن سے انھیں پتا چل گیا کہ ہم کشمیری ہیں تو وہ آگ بگولا ہوگئے‘‘۔ ڈاکٹرصاحب نے ہم سے کہا: ’’ تم لوگ وہاں کشمیر میں ہمارے( فوجی ) جوانوں کو پتھر مارتے ہو اور پھر یہاں علاج کرانے آتے ہو‘‘۔ یہ کہہ کر ڈاکٹر نے ہمارے تمام کاغذات پھینک دیے اور مریضہ کا علاج کرنے سے صاف انکار کردیا۔ اگر چہ ڈاکٹر نے ہمیں براہ ِراست ہسپتال سے چلے جانے کے لیے تو نہیں کہا، البتہ اُنھوں نے ہم سے کہا: ’’ علاج پر ۱۵ لاکھ روپے خرچ آئے گا‘‘۔ حالاں کہ جس بیماری میں میری والدہ مبتلا ہیں، اُس کا وہاں پر زیادہ سے زیادہ ۸۰؍ہزار روپے خرچ آتا ہے۔ اس طرح ہمیںوہاں نسلی تعصب اور بیمار سوچ کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی ایک فرد نے بھی از راہ ِ انسانیت ہماری رہنمائی نہیں کی، بالآخر ہسپتال انتظامیہ کے بہت ہی بُرے برتاؤ کی وجہ سے ہمیں بغیر علاج کے واپس لوٹنا پڑا۔‘‘ ازاں بعد جب اس افسوس ناک واقعے کو تشہیر ملی تو پی جی آئی، چنڈی گڑھ کی  انتظامیہ نے تحقیقات کرکے قصور وار ڈاکٹر کے خلاف ضابطے کی ’کارروائی‘ کی یقین دہانی کرائی ہے، مگر آثار وقرائین سے لگتا ہے کہ یہ محض زبانی جمع خرچ ہے اور ان’تحقیقات‘ کا حشر بھی کشمیر میں کسی نوجوان کے قتل پر انکوائری بٹھانے کے عمل جیسا ہو نا طے ہے۔

اس واقعے سے واضح ہوجاتا ہے کہ ریاست سے باہر کشمیریوں کے تئیں کیسی مردہ ضمیری اور مریضانہ ذہنیت پائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے چشم فلک نے اور چیزوں کے علاوہ وہ دن بھی دیکھا، جب ۴ا۲۰ ء کے تباہ حال سیلاب متاثرہ کشمیریوں کی ا مداد کے لیے بھارت کے ایک تعلیمی ادارے کے پنڈت سربراہ نے امدادی اشیا جمع کرنے کے لیے کیمپ لگایا ۔ دیش بھگتوں نے نہ صرف اسے اُکھاڑپھینکا، بلکہ پرنسپل موصوف پر یہ کہہ کر تشدد کیا کہ وہ کشمیر کے’ ملک دشمنوں‘کے لیے چندا کیوں جمع کر رہے تھے؟ آج کل اس نوع کی مریضانہ ذہنیت چونکہ سیاسی سرپرستی اور سماجی پذیرائی حاصل کر چکی ہے ،اس لیے کشمیر یوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھے جانے کے ان واقعات پر ناک بھوں چڑھانا اور حیرت یا رسمی تشویش ظاہر کر نا حماقت کے مترادف ہے ۔

 اہلِ کشمیر کے ساتھ بھارت بھر میں منا فرت ، شکوک وشبہات ،تعصب اور تنگ نظری کی ذہنیت روز بروز اپنی تمام زہر ناکیوں کے ساتھ جا بجا ظاہر ہورہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ  بھارتی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کی جانب سے کشمیر یوں کے ساتھ ناروا سلوک ترک کیے جانے کی ہدایت ریاستوں کے نا م جا ری کی گئی ہے۔ اُن کایہ سرکاری حکم نامہ او ر بھارتی عوام کے نام یہ تازہ پیغام کہ ان کے یہاں کشمیر ی طلبہ اور مزدوروں وغیرہ کا ’خیرمقدم‘کیا جائے، ا س حقیقت کی تصدیق ہے کہ بھارت کی ریاستوں میں کشمیریوں کے تئیں راے عامہ کس قدر خراب ہے ۔ یہ صرف آج کی بات نہیں بلکہ نوے کے عشرے سے برابر کشمیریوں کو بھارت میں جرم بے گناہی کی پاداش میں ہزارہا تکالیف ، جیلیں ، ہلاکتیں، لوٹ مار، نفرتوں اور تعصبات کا سامنا رہا ہے ۔ یہاں تک کہ اپنے دور ِ اقتدار میں ریاست جموں و کشمیر کے اُس وقت کے کانگریسی وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد کو بھی مجبوراً بھارتی ریاستوں کے آٹھ وزراے اعلیٰ کو ان کی حدود میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ ، تاجروں، مزردوں اورملازمین کوتحفظ دینے کی فہمایش کر نا پڑی تھی ۔ بہرصورت پی جی آئی، چندی گڑھ کا شرم ناک اور قابل صد تشویش واقعہ اہل عالم کے لیے چشم کشامعاملہ ہے کہ اہل کشمیر اپنے گھر اور گھر سے باہر یکساں طور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ہمارے اجتماعی حافظے کی تختی پر کشمیریوں کی ہراسانی اور پریشانی  کے ایسے ایسے دل دہلادینے والے واقعات رقم ہیں کہ کتنے ہی کم نصیب کشمیری ہیں جن کو ریاست سے باہر نسلی تعصب اور مذہبی نفرت کا شکار ہونا پڑا ہے ۔ ایسے درجنوں واقعات اخبارات اور ٹی وی چینلوں کی زینت بن چکے ہیں۔

کشمیریوں سے بیرون ریاست عام بھارتی شہریوں کی جانب سے تعصب کی ایک اور کہانی گذشتہ سال عوامی احتجاج کے دوران سامنے آئی ۔ اس وقت پیلٹ گن سے متاثر ہونے والے  جن چار زخمیوں کو سرکاری سطح پر آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ منتقل کیا گیا تھا ، دو ماہ گزر جانے کے بعد جب وہ وادی میں واپس آئے تو اُنھوں نے یہاں دل دہلادینے والی سرگذشت بیان کی۔ اُن کے مطابق ہسپتال انتظامیہ نے اِن زخمی مریضوں کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کیا۔ اُن کے علاج کی جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی بلکہ چھرّوں سے متاثر ہ ان کی آنکھوں پر صرف میڈیکل تجربات کیے گئے۔ان مریضوں کی وادی واپسی پر یہاں کے ڈاکٹروں نے جب اُن کا معائنہ کیا تو وہ بھی دنگ رہ گئے۔ اُنھوں نے بھی اس بات کا کھلا اعتراف کیا کہ ان مریضوں کی آنکھوں کو ماہرانہ طریقے سے نہیں دیکھا گیا بلکہ اِن پر صرف پیلٹ اثرات کی جانچ کے لیے تجربات کر کے اُن کی حالت کومزید ابتر کیا گیا۔حالاںکہ سری نگر حکومت نے اُن کے علاج معالجے کے حوالے سے اپنی مسیحائی اور غم گساری کا خوب پروپیگنڈا کیا اور اُنھیں تمام سہولیات دستیاب رکھنے کے وعدے بھی کیے تھے۔ دونوں آنکھوں کی بصارت سے محروم ایک متاثرہ فرد نے ذاتی طور پر راقم سے کہا کہ وہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈر آکر صرف ہمارے ساتھ اپنا فوٹو کھینچواتے تھے ،وہاں ہمارا کسی قسم کا کوئی علاج معالجہ نہیں ہوا، اور ہمیں معمولی دوائی تک بازار سے خرید کر لانے کو کہا جاتا تھا۔

 یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ بیرون ریاست کشمیری طلبہ ، تاجروں اور ضروری کام کاج کے لیے عام کشمیریوں کی جگہ جگہ تذلیل ایک معمول بنا ہوا ہے۔گاڑیوں میں ، مارکیٹ میں، ریل گاڑیوں کے ڈبوں میں کشمیری لوگ تعصب اور تنگ نظری کا شکار بنائے جاتے ہیں۔ اُنھیں طعنے دیے جاتے ہیں اور خوف اور ڈر کے ماحول میں اُن کا جینا دو بھر کردیا جاتا ہے۔ پنجاب پولیس ریل کے سفر کے دوران ہر ڈبے میں جاکر کشمیری مسافروں کو تلاش کرتی رہتی ہے اور ڈرا دھمکاکر اُن سے پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔ اس لیے عام کشمیری کے لیے ریاست سے باہر کے سفر میں ہروقت خطرہ لگا رہتا ہے۔ بیرون ریاست کے تعلیمی اداروں میں جنونی فرقہ پرست اور تو اور  بھارتی ٹیم کے ہارنے پر سارا غصہ کشمیری طلبہ پر نکالتے ہیں ۔ عدم برداشت کا جذبہ جب مسیحا کہلانے والے ڈاکٹروں تک میں سرایت کرجائے تو سمجھ لیا جانا چاہیے کہ بھارتی معاشرہ شدت پسندی کی کس سطح تک پہنچ چکا ہے۔ڈاکٹر کو آج بھی انسانیت کامسیحا سمجھا جاتا ہے جو اس محترم پیشے میں جاتے وقت عہد کرتا ہے کہ خالص انسانی بنیادوں پر اپنی خدمات انجام دیتا رہوں گا۔ وہ اگر میڈیائی پروپیگنڈے کے ذریعے شدت پسند نظریات اور نفرت کے حامل بن گئے ہوں، تو یہ بات سمجھنے میں دیر نہیں لگنی چاہیے کہ اس معاشرے سے انسانیت ، ہمدردی اور خدمت کا جذبہ مرچکا ہے۔ بھارت کے عام لوگ نفرت اور تعصب کی عینک ہی سے کشمیرکو دیکھنے کے اس لیے عادی ہوچکے ہیں، کیوںکہ ان کے ’محب ِ وطن‘ سیاست دانوں نے انھیں ایسے موڑ پر لاکھڑا کردیا ہے، جہاں اپنی قوم ، مذہب اور نسل کے بغیر اُنھیں کوئی بھی کشمیری انسان دکھائی ہی نہیں دیتا ہے۔

کشمیریوں پر کیا گزر رہی ہے؟ اس کا اندازہ بھارت میں رہنے والے لوگوں کو نہیں ہوگاکیوںکہ وہ ’حب الوطنی‘ اور ’قومی مفاد‘ کی خود ساختہ عینک اپنی آنکھوں پر چڑھائے ہوئے ہیں۔ اُنھیں فرقہ پرستی کی افیون نے اس قدر مست کردیا ہے کہ کشمیر میں جاری زیادتیوں کے نتیجے میں یہاں کی سسکتی انسانیت کی چیخیں انھیں سنائی ہی نہیں دیتیں ۔ بھارتی فوج اور اقتدار کی کرسی پر فریفتہ سیاست دانوں نے یہاں مشترکہ طور پر عوام کے خلاف اعلانِ جنگ کررکھا ہے۔ وہ یہاں لاشیں گرا کراپنی کرسیوں کو دوام بخشتے ہیں۔ وہ یہاں معصوم بچوں کی زندگیاں اُجاڑ رہے ہیں اور اس کے ردعمل میں جب قفس کا پنچھی بنا عام کشمیری اپنے دفاع میں معمولی احتجاج کرنے کی جسارت کرتا ہے تو وہ ٹی وی چینل سے لے کر پنڈال تک ہر جگہ دنیا کا ’بدترین ‘انسان اور ’خونخوار دہشت گرد‘ کہلاتا ہے۔

تصویر کا یہ رُخ بھی دیکھیے کہ ہم سیلاب میں خو د دردر کی ٹھوکریں کھاتے رہے، لیکن غیرریاستی مزدروں ، کاریگروں ، یاتریوںاور سیاحوں بلکہ وردی پوشوںکو بھی بچاتے اور کھلاتے پلاتے رہے۔ اُنھیں اپنے گھروں میں جگہ فراہم کرتے رہے۔ وہ وردی پوش جو ہمارے نونہالوں کو گولیوں سے بھون ڈالتے ہیں۔ کیا ہمارے ہی نوجوانوں نے سیلاب کے دوران اُنھیں سیلابی پانی سے نکال کر محفوظ مقام تک نہیں پہنچایا؟ جن کشمیریوں پر بھارت کی فیکٹریوں میں بننے والا بارود فوجی بے دریغ برساتے ہیں، ۲۰۱۶ء میں وہی کشمیری بجبہاڑہ میں یاتری بس کو پیش آنے والے حادثے میں نہ صرف زخمی یاتریوں کو نکال کر ہسپتال پہنچا دیتے ہیں بلکہ وہاں ان کی زندگی بچانے کے لیے اپنا خون بھی دیتے ہیں۔ کشمیریوں نے ہمیشہ بھارت کو انسانیت، اخوت ، ہمدردی اور دل جوئی کا سبق دیا ہے، مگر بدلے میں اُنھیں تعصب، تنگ نظری اور نفرت ہی ملی ہے۔ ہم نے اُنھیں انسان دوستی کا پیغام دیا ہے، اُنھوں نے ہمیں نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھا ہے۔

بھارت میں جو نسل پرستانہ سیاست اپنے جوبن پر ہے، دنیا اسے بُری نگاہ سے دیکھتی ہے۔ نسل پرستی کے جنون میں کسی مظلوم قوم کو اس کے سیاسی نظریات کی بنیاد پر دُھتکارناانسانی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔ ایسی مظلوم قوم کے مریضوںکا علاج اپنے ہسپتالوں میں نہ ہونے دینا انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے۔ یہ کام تو اسرائیل محصور شدہ غزہ کی پٹی میں بھی نہیں کرتا۔ بایں ہمہ اگر پنجرے میں مقید اس قوم کو طبی سہولیات تک سے محروم رکھنا بھارت کی حب ِ وطن کا لازمہ ہے تو کھول دیجیے سری نگر راولپنڈی روڈ اور پھر دیکھیں کشمیر کے بیماروں کے علاج معالجے کی جدید ترین سہولیات کن کن ممالک سے یہاں پہنچتی ہیں۔ویسے بھی دلی، چندی گڑھ یا کسی اور جگہ علاج کی سہولیات فراہم کرکے کشمیریوں پر کوئی احسان نہیں کیا جاتا۔ نہ وہ مفت علاج کرانے اتنا دُور دراز سفر اختیارکرتے ہیں، بلکہ اس کے عوض بھارتی ڈاکٹر اور ہسپتال، کشمیریوں سے بھاری معاوضے وصول کرتے ہیں۔ بھارت کے میڈیکل شعبے نے کاروباری حیثیت اختیار کرلی ہے۔   اس لیے بھارت کے تمام نامی گرامی ہسپتالوں نے وادیِ کشمیر میں ہر جگہ اپنے ایجنٹ پھیلا رکھے ہیں، جو مریضوں کی کونسلنگ کرکے اُن کا علاج اپنے ہسپتالوں میںکروانے کے لیے اُنھیں ذہنی طور پر تیار کرتے ہیں ۔ بنابریں کشمیری اپنی جیب سے پیسہ خرچ کرکے علاج کروانے پنجاب، دلی یا کسی اور جگہ جاتے رہتے ہیں،لیکن چنڈی گڑھ کے زیر بحث واقعے نے کشمیریوں کو بہت زیادہ مایوس کیا ہے۔

اہلِ کشمیر کے خلاف اناپ شناپ پھیلا کر بھارتی میڈیا نفر ت اور شکوک کے زہریلے بیج بوتا ہے۔ پرائم ٹائم میں چلنے والے ٹاک شوز میں فرقہ پرست ذہنیت کے حامل لوگوں کو بٹھایا جاتا ہے، جو کشمیر اور کشمیریوں کے خلاف زہر اُگلتے رہتے ہیں۔میڈیا پر چلنے والے ان پروگراموں نے بھارتی عوامی ذہنوں کو اس قدر مسخ کررکھا ہے کہ اکثریتی آبادی میں خود بخود کشمیریوں کے تئیں نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر اس میں کچھ کسر باقی رہ گئی تھی تو وہ آر ایس ایس کے سیاست دان پوری کرتے جارہے ہیں۔ بھارتی میڈیا اور فرقہ پرست اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ کشمیر میں آج بھی انسانیت کا بول بالا ہے۔ اسی لیے غیرریاستی مزدوروں اور کاریگروں سمیت طلبہ اور تاجر لاکھوں کی تعداد میں یہاں بلاخوف وخطر اپنا کام کاج کر تے ہیں۔ جو رویہ بھارت کی دیگر ریاستوں میں کشمیریوں کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے، اگر خدانخواستہ وہی رویہ کشمیری بھی غیر ریاستیوں کے ساتھ اختیار کر یں تو کیا انسانیت کا گلستان بھسم نہیں ہو گا؟

کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے۔ یہاں کے لوگ سیاسی جدوجہد کرکے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کررہے ہیں اور حصولِ تعلیم ، علاج یا تجارت کی غرض سے جو کشمیری دیگر ریاستوں کو جاتے ہیں،   یہ اُن کا حق ہے۔ دلّی یہاں کے وسائل کو دلِ بے رحم سے ہڑپ کر رہا ہے ۔ اس کے بدلے میں کشمیریوں کو سواے اس کے کیا ملتا رہا ہے کہ یہاں کے طالب علم، تاجراور مریض بیرون ریاست مجبوریوں کے تحت جب دیگر ریاستوں میںجاتے ہیں تو وہاں سے اگر صحیح سلامت لوٹیں بھی تو بھارت کے مریضانہ تعصب اور تنگ نظر جنونیوں کے تعصب کا سامنا کرکے ہی لوٹتے ہیں۔ اس بیمار ذہنیت کے لوگ اپنی گھٹیا ذاتی اغراض کے لیے یہ گھنائونا کھیل کھیل رہے ہیں۔

ہندستان کے مسلم دور حکومت میں بھی راجوں، مہاراجوں اور سلاطین کے درمیان ملک کی توسیع اور ترقی کے لیے بڑی بڑی جنگیں ہوئیں ، مگر دونوں فریقوں کے درمیان دین ومذہب اور ذات پات کے نام پر کبھی کوئی قابل ذکر ٹکراؤ نہیں ہوا۔ نہ تو غیر مسلموں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پائی جاتی تھی اور نہ مسلمانوں نے مذہبی اختلاف کی وجہ سے انھیں مقہور بنانے کی کوشش کی، نیز نہ کسی کو بہ جبر مسلمان بنایا گیا۔ اسی سے مسلم ہندستان، کثرت میں وحدت کا منظر پیش کرتا رہا۔

جب برطانوی سامراج کا زمانہ آیا تو اس نے ’تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی اختیار کی۔ اس مقصد کے لیے انگریزوں نے یہاں کی جو تاریخ رقم کی یا ’تاریخ سازی‘ کی، اس میں مسلم حکمرانوں کے تعلق سے من گھڑت باتوں کو وضع کیا اور پھر بڑھا چڑھا کر پیش کیا، تاکہ یہاں کی غیرمسلم آبادی کو یہ باور کرا یا جاسکے کہ مسلمان تمھارے خیر خواہ نہیں ہیں۔ اور پھر جب مشترکہ کوششوں سے وطن عزیز انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوگیا اور معروضی حالات کے مطابق افہام و تفہیم سے ملک دوحصوں میں تقسیم ہوگیا، جن مسلمانوں نے بھارت میں رہنے کو ترجیح دی تھی ، وہ عددی اعتبار سے اور کم ہوکر اقلیتی طبقات میں شمار کیے جانے لگے۔

۱۹۲۵ء میں فرقہ پرست جماعت راشٹریہ سیوک سنگھ (آرایس ایس) وجود میں آئی۔ یہ اپنے ایک خاص مشن کے تحت شروع ہی سے اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں مصروف ہوگئی۔ جمہوری بنیاد پر بھارت کے آئین کی تدوین و تنقید ہوئی، تواس میں اقلیتی طبقات کو بھی مساویانہ حقوق، جان ومال اور عزت وآبروکے تحفظ کی ضمانت اور اپنے اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی آزادی دی گئی، مگر روزِ اوّل سے آج تک زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ایک دانش ور نے خوب کہا: ’’بھارت میں گذشتہ ۶۰ برسوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ دستور کی دفعات کے حروف تو بہت سنہرے ہیں، مگر اقلیتوں کو مختلف شعبوں میں حکومت اور اکثریت کی طرف سے جو زخم لگے ہیں وہ بہت گہرے ہیں‘‘۔

چاہے بر سرِ اقتدار پارٹی کا نگریس کا دور رہا ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا، دونوں نے اقلیتوں کے ساتھ انصاف روا نہیں رکھا ۔ اسی طرح جب جب بی جے پی نے اپنے آپ کو پھیلانے اور اقتدار میں جگہ بنانے کی کوشش کی ہے، تب تب ملک کے حالات بگڑے ہیں اور افرا تفری مچی ہے۔ بالخصوص مسلم اقلیت نشانے پر رہی ہے۔ اس وقت عمومی صورتِ حال یہ ہے کہ مسلمان ملک کے کسی بھی حصے میں محفوظ اور مامون نہیں ہیں۔ان کی آزادی پر بندش لگائی جاتی ہے، مذہب پر عمل کرنے سے روکا جاتا ہے، گھروں کو لوٹا اور کاروبار کو نذرِ آتش کیا جاتا ہے ، چلتے پھرتے ان پر فقرے کسے جاتے ہیں،’وندے ماترم‘ کا ورد نہ الاپنے والوں کو وطن دشمن قراردیاجاتا ہے،یا ’جہاد سے محبت کرنے والا‘ کہہ کر زدو کوب کیا جاتا ہے۔ ’گھر واپسی کے نام‘ پر مرتد بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مسلمانوں پر حصولِ روزگار کے دروازے بند کیے جاتے ہیں، سرکاری مراعات سے محروم کیا جاتا ہے۔ تعلیم سے دُور رکھنے کے لیے منفی پالیسی اختیارکی جاتی ہے۔ مدارس کی جدید کاری کے نام پر مسموم فضا ہموار کی جاتی ہے۔بے بنیاد الزامات لگاکر عرصۂ حیات تنگ کیا جاتا ہے۔ سنگین جرم کوئی دوسرا انجام دے اوربڑی خوش اسلوبی سے اسے مسلمانوں کے سر منڈھ دیا جاتا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو دہشت گردی کے نام پر پھنسایا اور کال کوٹھڑی میں بند کر دیا جاتا ہے۔ جرم ثابت نہ ہونے کی صورت میں جعلی مقابلے میں گولیوں سے اُڑا دیا جا تا ہے۔ عبادت گاہوں کو مسمار کیا جاتا ہے۔ اذان پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ زبردستی مسلمانوں کی پیشانی پر قشقہ لگادیا جاتا ہے ہے۔ ٹوپی پہننے اور داڑھی رکھنے سے روکا جاتا ہے۔ دورانِ سفر ریلوں اور بسوں میں بے ہودگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ عزت وآبر و پر حملے کیے جاتے ہیں۔ برقعہ پوش خواتین کا نقاب اُترواکر سرِراہ شرمندہ کیا جاتا ہے۔مسلم پرسنل لا پر حملہ کیا جاتا ہے، تعدد ازواج کے مسئلے کو غلط رنگ میں پیش کیا جاتا ہے، تین طلاق کے نام پرلوگوں کو ورغلایا جاتا ہے۔ معصوم اور سیدھی سادی عورتوں کو روپے کا لالچ دے کر مذہب تبدیل کروایا جاتا ہے۔ یکساں سول کوڈ کا پابند بنانے کے لیے فضا ہموار کی جاتی ہے۔ گائے کی تجارت کرنے والوں کو موت کی نیند سلادیا جاتا ہے۔ مختصراً یہ کہ اس وقت بالخصوص مسلمانوں کو عدم تحفظ اور خطرات کاجو سامنا ہے، اس کی وضاحت کہاں تک کی جائے   ؎

ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی

درد بے چارا پریشاں ہے کہاں سے اٹھے

’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ [ترقی]کے نعرے کے ساتھ بھارتیہ جنتا پاٹی اقتدار میں آئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملک کا منظر نامہ بدل گیا۔ادھر اترپردیش کی سیاست میں تبدیلی کیا آئی پورے ملک میں افراتفری مچی ہوئی ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں: مودی جی سے آگے یوگی جی چل رہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر جو مناظر سامنے آتے ہیں ، ان سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ فسطائی طاقتوں کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے ہیں کہ ہر طرف کشت وخوں کا بازا ر گرم کیے ہوئے ہیں۔ ان کی نگاہ میں ملک کے آئین اور قانون کی کوئی وقعت نہیں ، بلا خوف و خطر    یکے بعد دیگرے شہر اور گاؤں کو فرقہ واریت کی آماج گاہ بناتے جارہے ہیں۔ کوئی باز پُرس کرنے والا نہیں اور قانون کے رکھوالے بھی تماشائی بن گئے  یا انھیں بے بس بنا دیا گیا ہے۔ جو حکومت سے جتنا زیادہ قریب ہے، وہ اتنا ہی زیادہ ملک میں مجرمانہ عمل انجام دینے کو فخر سمجھتا ہے ۔

آزادی کے بعد سے لے کر ۲۰۱۳ء تک بھارت میں بڑے بڑے درجنوں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔جن میں زیادہ تر مسلمانوں یا دوسری اقلیتوں کا ہی ناقابل تلافی جانی ومالی نقصان ہو اہے اور وہ انصاف سے محروم رہے ہیں۔ فسادات کے برسوں بعد بھی خونیں بلوائیوں اور قاتل قوم پرست ہندوئوں کے خلاف مقدمہ شروع نہیں ہواہے،کیوں کہ تفتیش اب بھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کہ اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا کر رکھا جائے۔

بھارتی وزیر اطلاعات کے مطابق ۲۰۱۵ء کے ابتدائی آٹھ مہینوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے ۶۰۰  واقعات رُونما ہوئے۔۲۰۱۶ء کے ابتدائی چھے مہینوں میں ۲۵۲فسادات ہوئے ، جس میں اُترپردیش سر فہرست ہے۔یہاں جنوری تا اگست ۲۰۱۵ ء میں سب سے زیادہ ۶۸ فی صد فسادات رُونما ہوئے جن میں متعدد افراد کی ہلاکت اور ۵۰۰ زخمی ہوئے۔ اسی طرح ۲۰۱۶ ء میں ۳۳فرقہ وارانہ وارداتیں ہوئیں۔ مہاراشٹرا میں ۲۰۱۵ء کے درمیان فرقہ وارانہ تشددکے ۵۹، جب کہ ۲۰۱۶ء میں ۹ واقعات ہوئے۔بہار میں جنوری تا جون ۲۰۱۵ ء فرقہ وارانہ تشد دکے ۶۱ اور ۲۰۱۶ء میں ۲۱واقعات رُونما ہوئے۔گجرات میں جنوری سے جون ۲۰۱۵ ء تک فرقہ وارانہ تشدد کے ۲۵واقعات ہوئے اور ۲۰۱۶ء میں۷۶ واقعات ہوئے۔علاوہ ازیں دوسری ریاستوں کی صور تِ حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے ۔ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ شہر کی گود میں فسادات پل رہے ہیں یا فسادات کی گود میں شہر۔ کسی نے بہت خوب صورت تبصرہ کیا ہے:’’ہم ہندستان کے جغرافیے سے فسادات کے ذریعے واقف ہوتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ کون سا مقام اور کون سا شہر کہاں ہے‘‘۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ تشدد کے یہ واقعات حادثاتی نہیں بلکہ دانستہ اور پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کرائے جاتے ہیں اور اس میں پولیس کا کردار بھی جارحانہ اور یک طرفہ ہوتا ہے۔

انتخابات کے موقعے پر ٹیکنیکل مشین کے ذریعے قبل ازوقت طے کردیا جاتا ہے کہ ملک کا سیاسی رہنما کون ہوگا۔ المیہ یہ بھی ہے کہ عوام اپنا سیاسی رہنماایسے ہی لوگوں کو منتخب کرنے کی ڈگر پر چل نکلے ہیں، جوکچھ زیادہ ہی مجرمانہ ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ اب تو عوامی حق راے دہی بھی بے معنی ہوکر رہ گیا ہے۔ بیش تر ریاستوں میں حکمران پارٹی کے لوگ براہ راست یا بالواسطہ قیادت سنبھالے اسی طرف گام زن ہیں۔ ہندوتواکے علَم برداروں نے انھیں اپنی گرفت میں اس طرح   جکڑ رکھا ہے کہ وہ اس سے الگ ہوکر کو ئی مثبت عمل انجام دینے کی آزادی کم کم ہی پاتے ہیں۔ اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ آئین ہند کے دیباچے کے مطابق جہاں برابری ، بھائی چارہ اور انصاف کو بروے کار لانے پر زور دیا گیا ہے، اس کو رُوبۂ عمل لائیں گے۔

 بابری مسجد کے انہدام اور رام مندر کی تعمیر کو لے کر جو گندی سیاست ہورہی ہے ، اس سے ہر کوئی واقف ہے۔ خود اعلیٰ عدلیہ بھی آنکھ مچولی کھیل رہی ہے۔ اب پھر سے اس مسئلے کو ہوا دی جارہی ہے، جس کی وجہ سے خطرات و خدشات کے بادل منڈلارہے ہیں ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اسی مسئلے کو ہوا دے کر یہاں تک پہنچی ہے۔یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کی ہے کہ اقتدار میں آنے کے لیے  بی جے پی نے ہمیشہ رام مندر کے مسئلے کو اپنے ایجنڈے میں غیر معمولی اہمیت دی ، جس کا اسے براہِ راست فائدہ ہوا اور اس سے ملک کا ماحول کچھ زیادہ ہی مکدرہوا ہے:

فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کے لیے مذہبی جذبات کے استحصال کی روایت پرانی ہے، مگر پچھلے چند برسوں سے جو رجحان دیکھنے میں آیا ہے، وہ یہ ہے کہ مذہبی فرقوں کے درمیان تناؤ کو عسکریت پسند عناصر، جرائم پیشہ افراد اور سیاست دان بھی استعمال کرنے لگے ہیں۔اس نئے رجحان نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج کو بڑھایا ہے۔

معاشی اعتبار سے مسلمانوں کو کم زور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔تعلیمی میدان میں بھی مسلمان کم زور ہیں اور جو بچے کچھ کرنے کا عزم وحوصلہ رکھتے ہیں ، ان کو بھی بعض اوقات کامیابی حاصل کرنے میں دشوارکن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور کبھی مایوسی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ پرائمری اور سیکنڈری سطح پر انھیں تعلیم کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ غربت اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ بعض گھروں میں فاقہ کشی تک کی نوبت آجاتی ہے۔ ’جسٹس سچر کمیٹی‘ اور دوسری رپورٹ میں بالخصوص مسلم اقلیت کی مفلوک الحالی اور تعلیم کی تشویش ناک صورتِ حال کی جو وجوہ بیان کی گئی ہیں ، اس میں سدھار لانے کی حکومت کو ذرہ برابر فکر نہیں ہے ،مگر اندرون خانہ مسلمانوں میں کیا ہوتا ہے اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر باہر لایا جاتا اور اسے منفی انداز میں پیش کرکے مسلمانوں کا تشخص بگاڑا جاتا ہے۔

مذہبی آزادی ہرکسی کا فطری اور آئینی حق ہے ۔ اس کے باوجود مذہبی معاملات میں مداخلت کی جاتی ہے۔پوری طاقت کے ساتھ تعلیمی اداروں کو برہمنی غسل دیا جارہا ہے ۔ نصابی کتابوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں ۔مزید برآں ’وندے ماترم‘ کو ہرکسی  کے لیے لازم کیا جارہا ہے ۔دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ ہندو راشٹر ہے ، اس سے وطن کا تقدس ظاہر ہوتا ہے۔کیا اسی طرح سے ملک کی ترقی ہوسکتی ہے؟

مسلم اقلیت کو خوف وہراس میں مبتلا کرنے کے لیے آئے دن ایک نہ ایک نیا مسئلہ چھیڑدیا جاتا ہے ، جس کو مفاد پرست میڈیا بھی لے اڑتا اوراسے بڑے پیمانے پر توڑ مروڑ کر نشر کرتاہے ۔ جس سے بعض اوقات دومذاہب کے ماننے والے آپس میں ٹکڑا جاتے ہیں۔اس کی واضح مثال مسلمانوں کے مسلم پرسنل لا پررہ رہ کر حملہ کرنا ہے۔ اکثریتی طبقات میں جو سماجی ومعاشرتی بگاڑ پایا جاتا ہے ، اس کی اصلاح کی کوئی بات نہیں کرتا، مگر مسلمانوں کے پرسنل لا کو سدھارنے کی فکر ہر کسی کو ستاتی رہتی ہے ۔ ہما شما بھی اس مسئلے میں ’مجتہداعظم‘ بننا چاہتا ہے ۔ بر سرِ اقتدار پارٹی کو مسلم عورتوں کی بہتر تعلیم اور اس کے روز گار کی کوئی فکر نہیں ، مگر تین طلاق کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا    جارہا ہے۔پرانی رپورٹوں کو تو چھوڑ ہی دیجیے، چند روز قبل RTI کے ذریعے حاصل کی گئی معلومات میں بھی یہ انکشا ف ہوا ہے کہ ۲۰۱۲ء سے ۲۰۱۵ ء کے درمیان مسلمانوں میں ۱۳۰۷ ؍طلاق کی درخواستیں درج کی گئی ہیں ، جب کہ ہندوؤں میں ۱۶ہزار۵سو۵ ریکارڈ کی گئی ہیں۔ عیسائیوں میں ۴ہزار ۸سو۲۷ اور سکھوں میں ۸ طلا ق واقع ہوئی ہیں۔ یہ اعدادوشمار پورے ملک کے نہیں، بلکہ جنوبی ہند کی مختلف ریاستوں کے صرف آٹھ کثیرآبادی والے اضلاع کے ہیں۔

حکومت کے ایجنڈے میں ہزاروں مطلقہ ہندو خواتین کوسہارا دینے کی بات شامل نہیں ہے ، مگر صرف ۱۳۰۷ مسلم خواتین کی ’درماندگی‘ سے حکومت کے ڈھانچے میں زلزلہ آیا ہوا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اگر اس کا حل نہیں نکالا گیا تو پورے بھارت میں زلزلہ آجائے گا۔ لیکن جب بات مسلم معاشرے میں طلاق وتفریق کی تشویش ناک صورت حال کی ہوگی ،جو اگر چہ ایک مفروضہ ہی ہے، تو ہندوسماج میں اس حوالے سے جو بے اعتدالی پائی جاتی ہے ، جس سے بہت کم لوگ واقف ہیں، اس پر بھی کھل کر بحث ہونی چاہیے۔ ہندوؤں میں مذہبی امتناع کے باوجود طلاق وتفریق کی بہ کثرت درخواستیں جمع ہوتی ہیں۔ تعددازواج کے معاملے میں بھی ہند و معاشرہ مسلمانوں سے بہت زیادہ بڑھا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی بعض ہندو سوسائٹی میں کثیر شوہری کا رواج پایا جاتا ہے۔

 حکومت کے اعلیٰ ذمہ داران جلسہ وجلوس میں کھلے عام اقلیتوں کودھمکاتے اور بعض اوقات تیکھا مشورہ دیتے ہیں کہ ’’یا تو اکثریتی طبقے کا دھرم قبول کرلیں ، یا ترک وطن کرلیا جائے‘‘،نیز ’’اگر مسلمان یکساں سول کوڈ کونہیں مانیں گے، تو وہ حق راے دہی سے دست بردار ہوجائیں‘‘۔ اس طرح کی لغویات کا مطلب ہی خوف وناامیدی پیدا کرنا ہے۔ در اصل حکمران جماعت کی پالیسی یہی رہی ہے کہ مسلمانوں کو ہمیشہ کسی نہ کسی مسئلے میں الجھائے رکھو، تاکہ وہ اپنی فلاح وبہبود کے تئیں کچھ نہ کرسکیں۔

تاہم، مسلمان عارضی حوادث سے ڈر کر اپنے دین وایمان کا سوداکرنے والا نہیں ہے۔ فرقہ پرست طاقتوں اور شر پسند عناصر کوچاہیے کہ وہ مسلمانوں کی نفسیات کو سمجھیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمانوں پر جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے ، تو ایسے نازک وقت میں ان کا ایمان اور بھی مضبوط ہو جاتا اور اس میں پختگی آجاتی ہے، جس سے انھیں اپنے عزائم پر قائم رہنے میں بڑھاوا ملتا ہے۔ آزادی کے بعد سے لے کر آج تک نہ جانے کتنے ہی مسلمانوں کو قتل وغارت کیا گیا ، ان کے گھر بار کو لوٹا گیا ، ہنگا مے کیے گئے ،لیکن ان میں کوئی بھی ایسا بد بخت مسلمان نہیں نکلا ہوگا، جو یہ کہے کہ تم ہمارے اُوپر سے مظالم کو روک لو، ہم اپنے دین ومذہب سے دست بردار ہوجاتے ہیں۔ مسلمان نیک عمل کے اس معیار پر، جس کواسلام پیش کرتا ہے، اگرچہ نہ اترتا ہو، مگر جہاں تک اس کے دل کے اندر ایمان کا تعلق ہے، تو ایک مومن کے اندر اس کی مضبوطی اور استقامت موجود ہے۔

مسلمانوں کو اس بات کی بھی جدو جہدکرنی چاہیے کہ بین الاقوامی قانون اور خود ملک کے آئین نے اقلیتوں کو جن حقو ق سے نوازا ہے ، ان کے حصول کی کوشش، آئین کی روشنی اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی ہو۔کیوں کہ دستور کی حفاظت اور قانون کا احترام بھی لازمی ہے۔مزید برآں بلاتفریق مذہب وملت ہر کسی کو آئین میں دیے گئے حقوق سے واقفیت اور اس سے دوسروں کو بھی متعارف کرانے کی شدید ضرورت ہے ۔

 یہ وقت باہمی انتشار کا نہیں، اتحاد کا متقاضی ہے۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مسلمان بکھرے ہوئے ہیں اور ان کا کوئی متحدہ پلیٹ فارم بھی نہیں ہے ۔ غیر ذمہ دارانہ اور لاشعوری زندگی سے  کنارہ کش ہونے ، مضبوط اور دوررس لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے مسلمانوں کو متحد ہونا ہی پڑے گا ۔  اگر اتنے شدید بحران سے دوچار مسلمان صرف انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد ہی جاگنے کی کوشش فرمائیں گے، تو اُن کا جاگنا سونا ایک برابر ہے۔ آرایس ایس ، بجرنگ دل، ویشواہندو پریشد، بی جے پی جیسی فرقہ پرست جماعتوں نے اپنے منفی نظریات کو تھوپنے میں طویل عرصہ لگا دیا اور ساری توانائی صرف کردی ۔ کیامثبت عمل کو انجام دینے اورفسطائی طاقتوں کو پسپا کر نے کے لیے مسلمانوں میں اتحاد نہیں ہوسکتا؟ کیا وہ اپنے اخلاق وکردار سے برادران وطن کا دل جیت نہیں سکتے؟ مسلک و مشرب سے بالاتر ہوکر صرف کلمۂ واحدہ کے نام پر مسلمان متحد ہوگئے اور من جانب اللہ انسانیت کی فلاح کی ان پر جو ذمہ داری عائد کی گئی ہے، اس پر عمل کرکے اپنے فرائض کو انجام دینے لگے ، تو گو آج وہ سماجی اور سیاسی سطح پر بے وقعت ہوگئے ہیں، لیکن بہت جلد ان کی حیثیت تسلیم کر لی جائے گی اور ان کی عظمت رفتہ بحال ہوجائے گی۔

تحریکِ آزادی کشمیر پچھلے سات عشروں سے بہت سے نشیب وفراز سے گزرتے ہوئے موجودہ دور میں داخل ہوچکی ہے۔ ہمارے سینے پر کھنچی ہوئی خونی لکیر نے انسانی دردوکرب اور جذبات و احساسات کے جواَن مٹ نقوش چھوڑے ہیں، وہ ہر دور میں، ہر موسم میں، ہر گام وشہر میں، ہر ذہن اور ہر قلب وجگر میں کچھ اس طرح رچ بس چکے ہیں کہ قابض طاقتوں کی سفاکیت اور درندگی ان کو ختم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ مقامی غدار ابن غداروں کی فریب کاری اور ساحری کے کرتب اس جذبے کو سرد نہ کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریکِ مزاحمت کا ہر مرحلہ پہلے سے زیادہ شدید اور حیران کُن ہوتا ہے۔

۲۰۱۶ء میں برہان وانی کی شہادت نے آزادی کی اس تحریک کو اور زیادہ جلا بخشی۔ چھے ماہ تک خاک وخوں میں غلطاں اس لہو لہان وادی کا چپہ چپہ کربلا کی تصویر پیش کرتا رہا۔ معصوموں کی چیخ و پکار سے طول وعرض کی خاموش فضاؤں میں ارتعاش پیدا ہوتا رہا۔ بصارت سے محروم جوانوں کی پوری دنیا ہی اُجڑتی گئی۔ مکانوں کی تباہی اور مکینوں کی خانماں بربادی ، میدانِ جنگ کا سماں پیش کرتی رہی۔ ہرطرف انسانی خون کی ارزانی انسانیت کو دم بخود کرتی رہی ۔ دنیا بھر میں انسانیت کا درد رکھنے والے ہزاروں لوگوں نے واویلا کیا۔

ہزاروں کلومیٹر دُور انسانیت کے جذبے سے سرشار آوازوں نے ہماری بے کسی اور مجبوری پر احتجاج کیا، لیکن ہماری اپنی قوم میں ہماری ہی ہڈیاں نوچنے والے ’سیاسی گِدھ‘ اس خون سے بھی اپنے سنگھاسن سجانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں لگ گئے۔ اُن کی آنکھوں کے سامنے ظلم وسفاکیت کے دل دہلانے والے واقعات ہوتے رہے، لیکن وہ لیلاے اقتدار سے اس طرح بغل گیر رہے کہ اپنی کرسیاں مضبوط کرنے کے لیے ہماری لاشوں کی دلالی کرنے میں بھی فخر محسوس کرنے لگے۔ ’تعمیر وترقی، امن اور خوش حالی‘ کی خوش کُن ڈفلیوں سے عوام کو بہلانے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ قاتلوں اور جلادوں کی پیٹھ تھپتھپا کر اپنے لیے بھیک میں ملی کرسی کو ہی بچاتے رہے۔ اُن کی آنکھوں پر حرص ولالچ کے ایسے پردے چڑھے کہ اپنی اَنا اور خود غرضی کے سوا انھیں کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔

قابض طاقتوں کے ان مقامی گماشتوں نے بھانپ لیا کہ ان کے چہروں سے نقاب سرکنا شروع ہوگئے ہیں۔ اب عوام اور خاص کر یہاں کا نوجوان ان کی بھیانک صورت اور انسانی کھال میں چھپے مکروہ وجود کو پہچان چکا ہے، تو انھوں نے ضمیروں کی خریدوفروخت کا کاروبار شروع کیا۔   جو جس دام میں بکا اس کو خرید لیا اور جو نہ بکا انھیں بے دریغ کچلتے اور روندتے گئے۔ ان کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ حق کیا ہے اور باطل کیا؟ سچائی، دیانت اور شرافت قدر کے لائق ہے یا جھوٹ، بے ایمانی اور فریب کاری؟ انصاف کیا ہے اور ظلم کیا ہے؟

یہ بندگانِ شکم کی ایک ایسی فوج ہے جن میں خودداری کی ہلکی سی رمق بھی موجود نہیں ہے۔ یہ دشمنوں کی غلامی پر فخر کرتے ہیں۔ غیروں کے بخشے ہوئے منصبوں اور عہدوں پر فائز ہوکر اُن کی چاکری کرنے میں یہ لوگ عزت محسوس کرتے ہیں۔ ہماری قوم کے ایسے غیرت سے تہی دامن نام نہاد حکمران اغیار کی چاپلوسی میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ جب کوئی غیرت مند شخص ان کی حقیقت کو بے نقاب کرنے کے لیے اُٹھتا ہے، تو یہ اس کا سر کاٹ کر دشمنوں کے سامنے پیش کرکے    خراج وصول کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک صرف اور صرف ذاتی مفادات اہمیت رکھتے ہیں، جن کے لیے وہ ہرظالم کا ساتھ دیتے ہیں، ہر جابر کے آگے ڈھیر ہوجاتے ہیں، ہر باطل کو قبول کرنے اور ہرصداے حق کو دبانے کے لیے پیش پیش رہتے ہیں۔

ہماری قوم کے جوانوں نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے سنا، محسوس کیا    اور دیکھا۔ ایک حساس اور باشعور ذہن کے لیے مزاحمت میں ہر اول دستہ بننے کے لیے اتنا ہی  کافی ہے اور یہی وہ پسِ منظر ہے جس میں یہاں کے نوخیز جوان، طلبہ و طالبات___ نہتے ہوکر بھی جذبات و احساسات کے تیز دھار ہتھیاروں سے لیس ہوکر آہنی بوٹوں اور بکتر بند فوجی گاڑیوں کے سامنے سینہ سپر ہوجاتے ہیں۔

جذبۂ آزادی سے سرشار ہماری محکوم قوم کا نوجوان جب دشمن کو للکارتا ہے، تو اپنے گھروں میں آرام دہ کمروں میں بیٹھے لوگ دم بخود رہ جاتے ہیں۔ بھارت خود اپنی آنکھوں دیکھے ان مناظر پر یقین نہیں کرپارہا ہے کہ ۱۵، ۱۶سال کا ایک نوجوان بندوقوں سے لیس فوجیوں کو بھاگنے پر   کس طرح مجبور کرتا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کو بصارت ہوتی، عقل وخرد کی تھوڑی سی رمق بھی ہوتی، انسانی جذبات اُن کے دلوں میں جگہ پا چکے ہوتے، تو شاید وہ کب کے ان ہمالیائی حقائق کو تسلیم کرکے اپنی ضد اور جھوٹی اَنا کو خیرباد کہہ چکے ہوتے۔

جوانوں کی اس موجودہ کھیپ نے اسی گولی بارود کی گھن گرج میں شعور کی آنکھ کھولی ہے۔ انھوں نے بچپن ہی سے اپنے بھائیوں کو کٹتے دیکھا ہے۔ اپنے بزرگوں کی تذلیل ہوتے دیکھی ہے۔ اپنی ماؤں بہنوں کی عصمتوں کو تار تار ہوتے دیکھا ہے۔ اپنے آشیانوں کو کھنڈرات میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے۔ ان کی آنکھوں نے وہ خونیں اور ڈراؤنے مناظر بھی دیکھے ہیں، جو شاید اُس عمر میں دیکھنے کی کسی میں تاب نہ ہو۔ یہ وہ سونا ہے جو ظلم وجبر کی بھٹی میں تپ کر کُندن بن چکا ہے اور اس کو زیر کرنے کی حماقت جو بھی کرے گا، ریزہ ریزہ ہوکر زمین بوس ہونے میں اس کو دیر نہیں لگے گی، ان شاء اللہ۔

ہمالیہ کی گود میں ماضی کی جنت نظیر کہلانے والی یہ بدنصیب سرزمین کئی عشروں سے آگ وآہن، تباہی وبربادی، خونِ ناحق، حقوقِ انسانی کی بدترین خلاف ورزیوں، لٹی عصمتوں، اُجڑی بستیوں، خزاں رسیدہ سبزہ زاروں، حسرت ناک کھنڈرات میں تبدیل ہوئی شان دار عمارتوں میں رہنے والے بے یارو مددگار، بے کس اور بے بس عوام کا مسکن بن چکی ہے۔ یہاں کے کئی   بلند چوٹیوں سے دل موہ لینے والے چشمے لہو اُبل رہے ہیں۔ یہاں کی میٹھی میٹھی خوشبومیں گولی بارود کی زہریلی ملاوٹ ہوچکی ہے۔ ہر گھر اور ہر فرد دادوفریاد کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔

لہو لہان وادی کے یہ ہرے زخم اور ان سے ٹپکتے ہوئے لہو کو یہاں کی صحافی برادری دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ حق وصداقت کی بات کرنے والوں کو غاصبوں اور ظالموں نے کب ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا ہے کہ اب کریں گے۔ معاشرے کے ہرطبقے کی طرح یہاں پر اخبارات اور میڈیا سے وابستہ افراد کو بھی سچ بولنے کی سزا بھگتنا پڑتی ہے۔ حکومتی عتاب کا رونا رونے اور اس کی آڑ میں اگرچہ کچھ حضرات نے استبدادی طاقتوں کا آلۂ کار بننے ہی میں عافیت سمجھی، لیکن اس کے باوجود حق وصداقت چھن چھن کر اپنا راستہ بنا ہی لیتی ہے۔

صحافی برادری اس ستم رسیدہ اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی قوم کا ایک باشعور اور حساس طبقہ ہے۔ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی اس غیر یقینی پن اور خوف وہراس کے ماحول کا حصہ ہے۔ حقائق کو اس کے صحیح تناظر میں عوام اور باہر کی دنیا تک پہنچانا ان کی منصبی ذمہ داری ہے۔ یہاں کے غیور اور آزادی پسند عوام یہی چاہتے ہیں کہ ان کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ ان کے اصل مرض کی نشان دہی ہو۔ مصائب اور مشکلات کا سامنا ہر فرد کی طرح صحافی حضرات کو بھی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی حکومت اور اس کے مقامی دُم چھلے سوشل میڈیا اور جدید عوامی رابطے سے اس قدر خوف زدہ ہیں کہ آئے دن اپنی درندگی اور وحشت کو چھپانے اور ان خبروں کو باہر کی دنیا تک پہنچنے نہ دینے کے لیے بچگانہ اور بزدلانہ حرکتیں کرکے ان تمام مواصلاتی رابطوں پر پابندی لگاکر اپنی جگ ہنسائی کا سامان فراہم کرتے آرہے ہیں۔

زخموں سے چُور اس وادیِ گل پوش کے درد اور کرب میں اُس وقت بے پناہ اضافہ ہوتا ہے جب عالمی ادارے اور اُن کے ذرائع ابلاغ خاموش تماشائی بن کر ظالموں، جابروں اور قاتلوں کی تائید کا ذریعہ بنتے ہیں۔ عالمی برادری نہ تو خود اپنے اداروں کی پاس کردہ دستاویزات پر عمل درآمد کی کوئی فکر کرتی ہے اور نہ یہاں کے چپے چپے پر بہتا معصوم لہو ان کو نظر آتا ہے۔ کاش! عالمی برادری اقتصادی مفادات اور تجارتی منڈیوں کے خول سے باہر جھانکنے کی کوشش کرتی تو شاید کراہتی انسانیت کی چیخ و پکار اور اُجڑے دیاروں کی ہیبت ناک تصویر اُن کے ضمیر کو کچھ تو جھنجھوڑنے میں کامیاب ہوجاتی، لیکن واحسرتًا۔

اس اجتماعی جرم میں ہر ایک برابر کا شریک ہے۔ مغربی دنیا کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی بے حس ریاستی اور سیاسی قیادت کو بھی جیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔ رب العالمین کی طرف سے عطا کیے ہوئے قدرتی خزانوں پر انھوں نے غیروں کو مالک بنادیا۔ خود اس بے انتہا دولت کی بالائی کھا کر شباب وکباب کی دنیا میں بے سدھ پڑے رہنے ہی کو مسلم اُمت پر بطورِ احسان جتایا۔ اُمت مرحومہ کن مشکل ترین اور صبر آزما ادوار سے گزررہی ہے؟ ملت کس طرح زخموں سے چُور ہے؟ آباد شہروں کو کس طرح زمین بوس کیا جاتا ہے؟ معصوم بچوں، عورتوں اور بزرگوں کو کس طرح خون میں نہلایا جارہا ہے؟___ لیکن یہ نام نہاد مسلم حکمران خوابِ غفلت میں بے حس وحرکت اپنے عشرت کدوں میں بیٹھے دادِ عیش دے رہے ہیں۔ حالاںکہ ان کو سمجھنا چاہیے کہ ان کے قرب وجوار میں لگی آگ کی تپش سے یہ خود بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔

ریاست جموں وکشمیر کا مسئلہ ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند کے فارمولے کے غیرمنصفانہ نفاذ کی پیداوار ہے۔ جس کے نتیجے میں اس ریاست کے سینے پر ایک خونی لکیر کھینچی گئی ہے اور یہاں کے عوام کے جذبات، اُن کے رشتوں، اُن کی برادری اور ان کے کلچر کو تقسیم کردیا گیا ہے۔

پاکستان اس مسئلے کا اہم فریق ہے۔ اس نے ہمیشہ سے اس دیرنہ مسئلے کو حقائق کی روشنی میں حل کرنے کے لیے سفارتی، اخلاقی اور سیاسی سطح پر ہر ممکن مدد فراہم کی ہے، لیکن اپنے اندرونی خلفشار اور ہمسایہ ممالک کی درپردہ سازشوں کی وجہ سے ہمارا یہ مضبوط وکیل بہت سے محاذوں پر کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ کشمیر کو اپنی شہ رگ تسلیم کرنے کے بعد کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی فرد یا قوم اپنی شہ رگ کو دشمن کے خونیں جبڑوں میں پچھلے ۷۰برس سے دیکھتی چلی آرہی ہے۔

 اگر واقعی پاکستان کی سالمیت اور سلامتی کی شاہراہ کشمیر سے ہوکر گزرتی ہے، تو اس اہم اور بنیادی مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر لے کرچلنے کی ٹھوس کوشش قیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہونی چاہیے تھی۔ لیکن مصلحتوں، کمزوریوں اور سازشوں کی آلودگیوں نے اس مسئلے کی چمک ہی دھندلی کرکے رکھ دی ہے۔ یہاں کے عوام اپنی جانوں کا نذرانہ پچھلے ۳۰سال سے دیتے چلے آرہے ہیں، لیکن اس لہو کے نکھار اور آزادی کی اس گونج کو جس حرارت اور گرج سے عالمی ایوانوں تک پہنچانے کی ضرورت تھی، ہمیں آج سات عشرے گزرنے کے بعد بھی اس کی حسرت ہی رہی۔

جنوبی ایشیا میں رستے ہوئے اس ناسور نے انسانی سروں کی کئی فصلیں نگل لی ہیں اور اب یہ خونخوار بھیڑیا ہر گزرتے دن، انسانی لہو سے اپنی پیاس بجھا رہا ہے۔ خون چاہے بھارتی فوجی کا ہو، پاکستانی فوجی کا ہو، کشمیری کا ہو، ہے تو انسانی لہو کہ جس کا احترام بحیثیت انسان ہم سب پر فرض ہے۔ کئی عشروں سے جاری اس کشت وخون میں ایک نہتی اور مظلوم قوم پسی چلی جارہی ہے۔

غاصب اور قابض بھارت نے اپنی جھوٹی، فریب کارانہ اور چانکیائی سیاست کے داؤپیچ سے ہمارے اندرہی غداروں کی ایک اچھی خاصی کھیپ تیار کرلی ہے، جو اس کے ایک اشارے پر پوری کشمیری قوم کو زمین بوس کرنے سے بھی ہچکچائے گی نہیں۔ اس جابر طاقت کی کلہاڑی کے یہ مقامی دستے، جب تک اپنی شکم سیری اور فرضی شان وشوکت اور جاہ وحشمت کے لیے بے غیرت اور بے ضمیر دلالوں کا گھناؤنا کردار ادا کرتے رہیں گے، تب تک سروں کی فصل کٹتی رہے گی۔

پچھلے کئی برسوں سے تو بھارت کا ترنگا یہاں کی عمارتوں پر لہرانے کے بجاے اپنے فوجیوں کی لاشوں کو لپیٹنے ہی کے کام آرہا ہے، مگر اس کے باوجود بھارتی سورماؤں کی آنکھیں کھلنے کا نام نہیں لے رہیں۔ غریب اور مفلس فوجیوں کو قوم پرستی کا امرت پلا کر یہ عاقبت نااندیش سیاسی جادوگر انھیں اپنے اقتدار کی بھینٹ چڑھاتے رہتے ہیں، ورنہ بھارتی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ اُن کے عوام کو بھی یہ بات سمجھ آچکی ہے کہ ریاست جموں وکشمیر نہ کبھی بھارت کا حصہ تھی، نہ ہے اور نہ آیندہ کبھی ہوگی۔ بھارت کو یہاں سے ذلت اور خواری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا اور وہ خود اپنے جرائم کے بوجھ تلے دب کر دُم دباکے یہاں سے بھاگنے پر مجبور ہوگا۔ اس میں اگر وقت لگ رہا ہے تو صرف اور صرف ہماری اپنی کمزوریوں کی وجہ سے۔ ورنہ قانونِ قدرتِ حق کا فیصلہ بالکل صاف ظاہر ہے، اور وہ یہ کہ خطۂ جموں و کشمیر کو بھارتی سامراج سے آزاد ہوکر رہنا ہے، ان شاء اللہ!

_______________

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے مسلسل سوچ بچار کے بعد اپنا ترمیم شدہ پروگرام اور پالیسی، ایک دستاویز کی صورت میں جاری کی ہے۔ ۴۲نکات پر مشتمل اس پروگرام اور لائحۂ عمل کو تنظیم کے ۳۰برس قبل جاری کیے جانے والے منشور کا نظرثانی شدہ متبادل قرار دیا جا رہا ہے۔

اہمیت

’حماس‘ کی حالیہ دستاویز کئی حوالوں سے اہم ہے۔ پہلے نکتے میں واضح کیا گیا ہے:

اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) فلسطین کی قومی، اسلامی اور مزاحمتی تحریکِ آزادی ہے۔ اس کا مقصد فلسطین کو آزاد کرانا اور صہیونی منصوبے کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس کی پہچان اسلام ہے۔ اسی سے اس کے طریق کار، مقاصد اور ذرائع اخذ کیے جاتے ہیں۔

 یہ تنظیم اپنی تاسیس کے تین عشروں کے بعد بھی اس بات پر ثابت قدم ہے کہ جن اصولوں پر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی، الحمدللہ آج تک ان پر کاربند ہے۔ اس کے طریق کار، فکری بنیاد اور اصولوں میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ وہ آج بھی فلسطین کو فلسطینیوں کا اصل اور حقیقی وطن سمجھتی ہے۔ دریاے اُردن سے لے کر بحرمتوسط (Mediterranean) تک کا علاقہ عرب علاقہ ہے اور اسلامی فلسطین کی سرزمین ہے۔ دستاویز میں پیشہ وارانہ انداز میں مسلّمہ سیاسی بیانیہ واضح کرتے ہوئے کہا گیاہے کہ فلسطینیوں کی آزادی، وطن واپسی اور مزاحمت جیسے تمام بنیادی اصول آج بھی حماس کے لیے مشعل راہ ہیں۔ تنظیم نے ۳۰ سالہ سفر کے دوران پیش آنے والے تمام دباؤ، مصائب اور آلام کے باوجود اپنے اصل پیغام کو تحریف سے بچائے رکھا ہے۔

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ حالیہ دستاویز کے ذریعے حماس نے خود کو ایک زیرک تنظیم کے طور پر منوایا ہے۔ اس نے ۳۰برسوں کے دوران پیش آنے والے متعدد کٹھن مراحل کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے۔ تنظیم نے مسلّمہ اصولوں پرکسی قسم کی سودے بازی کیےبغیر اپنی جدت پسند سوچ اور فکر کو واضح کیا ہے۔

اس دستاویز کے ذریعے تیسرا پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ ’حماس‘ بدلتی ہوئی سیاسی و جغرافیائی تبدیلیوں اور صورتِ حال کو سمجھنے اور راستہ نکالنے کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہے۔ حصولِ منزل کے لیے لچک پیدا کرنے اور صہیونی دشمن کے ساتھ اپنی جنگ کو پیشہ وارانہ انداز میں منظم کرنے کی بھی  اہلیت رکھتی ہے۔

فلسطینی سرزمین کی تعریف

دستاویز کے مطابق: ’’فلسطین کی سرزمین مشرق میں دریاے اُردن سے مغرب میں بحرمتوسط اور شمال میں راس الناقورہ سے جنوب میں ام الرشراش تک ہے۔ یہ ایک باہم مربوط علاقائی یونٹ ہے۔ یہ فلسطینی عوام کی سرزمین اور ان کا وطن ہے‘‘۔ بعض حلقے اس کی تشریح کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کر رہے ہیں کہ فلسطینی علاقے کی اس تشریح کا مقصد ہے کہ حماس کا مقصد اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹانا ہے ، جب کہ دستاویز کے ۲۰ ویں نکتہ میں بیان کردہ موقف مختلف صورت پیش کرتا ہے۔ ریکارڈ کی درستی اور قارئین کے استفادے کے لیےدستاویز کا ۲۰ واں نکتہ یہاں نقل کیا جا رہا ہے:

حماس اس بات میں یقین رکھتی ہے کہ فلسطینی سرزمین کے کسی حصے پر: کسی بھی سبب،  حالات اور دباؤ کی بنا پر کوئی سمجھوتا کیا جائے گا اور نہ اس کو قبول کیا جائے گا۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ قبضہ کتنی زیادہ دیر تک برقرار رہتا ہے۔ حماس [دریاے اُردن سے بحر متوسط تک] فلسطین کی مکمل آزادی کے سوا کسی بھی متبادل حل کو مسترد کرتی ہے۔ تاہم، صہیونی ریاست کے استرداد اور فلسطینیوں کے کسی حق سے دست بردار ہوئے بغیر، ۴جون ۱۹۶۷ء کی حدود کے اندر حماس ایک مکمل خود مختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر غور کرے گی۔ القدس اس کا دارالحکومت ہوگا۔ وہ مہاجرین اور اپنے گھروں سے بے دخل کیے گئے فلسطینیوں کی قومی اتفاق راے کے فارمولے کے مطابق واپسی کی حمایت کرتی ہے۔

اس دستاویز سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ماضی میں ’تنظیم آزادی فلسطین‘ (PLO) یا دیگر فلسطینی جماعتوں نے فلسطین کے کسی حصے میں آزاد ریاست کے قیام کے حوالے سے جو باتیں کیں، وہ کسی باقاعدہ ہوم ورک کے بغیر تھیں۔ اسی لیے آج تک اسرائیل نے مذاکرات کا ڈول ڈالنے والے فلسطینی فریق کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا اور یک طرفہ طور پر من مانے فیصلے کر رہا ہے۔ ’حماس‘ کی دستاویز میں بیان کردہ شق۲۰ کے دوسرے حصے میں جو موقف اختیار کیا گیا ہے وہ اس طرح ہے کہ: ’’صہیونی ریاست کے استرداد اور فلسطینیوں کے کسی حق سے دست بردار ہوئے بغیر،۴جون ۱۹۶۷ء  کی حدود کے اندر حماس ایک مکمل خود مختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر غور کرے گی۔ القدس اس کا دارالحکومت ہوگا۔ وہ مہاجرین اور اپنے گھروں سے بے دخل کیے گئے فلسطینیوں کی قومی اتفاق راے کے فارمولے کے مطابق واپسی کی حمایت کرتی ہے‘‘۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حقیقت

شہ سرخیاں پڑھ کر تبصرہ کرنے والوں نے اس شق کی حقیقی روح کو سمجھے بغیر اسے ’’حماس کی جانب سے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے‘‘ کا بالواسطہ اعلان قرار دے دیا ہے۔حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ حماس کی دستاویز کی شق ۲۰میں دو اُمور بیان کیے گئے ہیں:

 پہلے حصے میں حماس نے فلسطین کو فلسطینیوں کاوطن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہی اس کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔اس کے کسی بھی حصے سے کسی صورت میں دست بردار نہیں ہوا جاسکتا۔ ۳۰ برس قبل حماس کی تاسیس سے لے کر آج تک تمام بین الاقوامی ، عرب اور فلسطینی فورمز پر دو ریاستی منصوبے کو قضیے کے مجوزہ حل کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔

حماس اور اس کی قیادت نے دو ریاستی حل کے علَم برداروں سے ہمیشہ ایک ہی سوال کیا کہ: ’’آپ اپنی تجویز کوعملی جامہ کیسے پہنائیں گے؟‘‘ اب حماس نے اس ضمن میں پائے جانے والے ابہام کو اپنی دستاویز میں یہ جواب دے کر دُور کرنے کی کوشش کی ہے کہ کسی بھی ایسی تجویز پر عمل صرف اسی صورت ممکن ہے کہ جب مسلّمہ اصولوں سے دست برداری سے باز رہا جائے۔

حماس نے دو ریاستی حل کے تجویز کنندگان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ: اگر آپ کے پاس کوئی قابلِ عمل مثبت منصوبہ ہے کہ جس کے ذریعے فلسطین کے کسی حصے کی آزادی ممکن نظر آتی ہو، تو ہم آزادی کے اس عمل میں آپ کے ساتھ ہوں گے۔ اگر فلسطین کا حصہ اسرائیل کو بغیر کسی بھاری سیاسی قیمت ادا کیے آزاد کرا لیا جائے تو اس کے لیے حماس کا تعاون حاضر ہے۔ فلسطین کے کسی حصے کی اسرائیلی تسلط سے آزادی پر حماس مثبت تعاون کرے گی۔

’حماس‘ نے اپنی دستاویز کے ۲۰ویں نکتے میں واضح کیا ہے کہ ایسا صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب ہم سے اس آزادی کے عوض کوئی ایسا سیاسی خراج نہ مانگا جائے، جو فلسطین کی  قومی وحدت کی نفی پر منتج ہوتا ہو۔ کوئی بھی ذی عقل نہیں چاہے گا کہ فلسطین کے کسی حصے کو آزاد کرائے اور پھر وہاں اپنی حکومت قائم نہ کرے۔ فلسطین میں ’دو ریاستی حل‘ کی مخالفت کے الزام کا جواب دیتے ہوئے حماس کا کہنا ہے: ’’اگر فلسطین کے کسی حصے پرآزاد ریاست، جارح اسرائیل کو سیاسی قیمت ادا کیے بغیر قائم ہوتی ہے توہم اس کا خیر مقدم کریں گے‘‘۔

اس مقصد کے لیے ’حماس‘ نے فلسطین میں قومی وحدت کی فضا قائم کرنے کے لیے  مشترکات پر مبنی فارمولا پیش کیا، جس میں تمام گروپوں کو ’تنظیم آزادی فلسطین‘ میں شرکت کا موقع دینا سر فہرست ہے، تاکہ داخلی سیاسی انتشار کی کیفیت سے اسرائیل فائدہ نہ اٹھا سکے۔ حماس نے واضح کردیا ہے کہ ہم جن مشترکات کی بنا پر ۱۹۶۷ءکی سرحدوں میں آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کرتے ہیں، وہ غیر مشروط ہے۔ قومی امور میں شراکت کے لیے ہمارا یہ معیار ہے کہ ہم آزادی کے عوض اسرائیل سے سیاسی سودے بازی نہیں کر سکتے۔

سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ: ’’اگر فلسطینی قیادت عرب امن فارمولے پر عمل کرنے کی خواہش ظاہر کرے تو حماس اس کا جواب کیسے دے گی، کیوںکہ یقیناً یہ 'زمین کے بدلے امن کے اصول پر آگے بڑھے گا‘‘۔ حماس دستاویز کے ۲۲ویں نکتے میں بیان کرتی ہے کہ: 

’حماس‘ ان تمام سمجھوتوں، اقدامات اور معاملہ کاری کے منصوبوں کو بھی مسترد کرتی ہے، جن کا مقصد فلسطینی نصب العین اور ہمارے فلسطینی عوام کے حقوق کو نقصان پہنچانا ہے۔ اس ضمن میں کوئی بھی موقف، اقدام یا سیاسی پروگرام ان حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی نہیں ہونا چاہیے۔نیز وہ ان حقوق سے متصادم یا منافی بھی نہیں ہونا چاہیے۔

 اس نکتے میں حماس نے  انتہائی اہم اصول وضع کر دیا ہے ۔ اس اصول کا اطلاق صرف عرب امن منصوبے پر نہیں ہوتا بلکہ تنظیم نے فلسطینی عرب عوام کے حقوق کو بنیاد بنا کر یہ اصول تشکیل دیا ہے۔ نیز تنظیم کی یہ سوچ فلسطین کے حوالے سے عرب اور ملت اسلامیہ کے موقف کی بھی ترجمانی کرتی ہے۔ ’مصالحت‘ (compromise) کے نام پر اگر فلسطینیوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی گئی، تو حماس اسے یکسر مسترد کر دے گی، چاہے وہ منصوبہ عربوں، امریکا، اسرائیل، روس اور چین کسی نے بھی پیش کیا ہو ۔ حماس نے اپنی دستاویز میں کسی امن منصوبے کا نام نہیں لیا ہے بلکہ اس ضمن میں عمومی اصول اور پالیسی وضع کی ہے۔اس لیے کوئی بھی فلسطینی، عرب یا مسلمان ان اصولوں کی روشنی میں حماس کے نقطۂ نظر کو بخوبی جان سکتا ہے۔ عرب امن منصوبے میں اسرائیل کو تسلیم کرنے اور صہیونی ریاست سے تعلقات معمول پر لانے کی بات کی گئی ہے۔ یاد رہے، حماس اور اس کی قیادت اس بات کو ماضی میں کئی بار مسترد کر چکی ہے۔

دوحہ، قطر سے جاری ہونے والی حماس کی اہم پالیسی دستاویز کے حوالے سے ایک اعتراض یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ: ’’تنظیم نے ۱۹۸۸ء میں جاری کردہ اپنے بنیادی منشور میں اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی بات اور یہودیوں کے خلاف جنگ کا پرچار کیا تھا۔ کیا دوحہ میں جاری کی جانے والی اصولوں اور پالیسی کی دستاویز، بین الاقوامی اور علاقائی طاقتوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو سکے گی کہ تنظیم سے دہشت گردی کا نشان(tag) اُتار دیں، کیوںکہ حالیہ دستاویز میں حماس نے واضح کیا ہے کہ: ’’اسرائیلیوں سے مخاصمت کی بنیاد ان کا مذہب نہیں بلکہ ان کی لڑائی دراصل ارض فلسطین پر قابض ان صہیونیوں کے خلاف ہے کہ جنھوں نے فلسطینیوں کو اپنے حقیقی وطن سے بے خانماں کیا ہے‘‘۔

حماس کی حالیہ دستاویز میں جگہ جگہ اس بات کا اعلان اور اظہار ملتا ہےکہ وہ فلسطین سے صہیونی منصوبے کا خاتمہ چاہتی ہے اور پورے مقبوضہ علاقے میں فلسطینی ریاست قائم کرنا چاہتی ہے، جس کی سرحدیں دریاے اردن سے بحر متوسط تک پھیلی ہوں۔ اسرائیل کا وجود دراصل ایک باطل مفروضے پر قائم ہے۔ ’اعلان بالفور‘ (نومبر ۱۹۱۷ء) ایک باطل معاہدہ ہے۔ فلسطینیوں سے ان کا حق چھیننے والا ہرمعاہدہ باطل ہے اوراس کا خاتمہ حماس کی ذمہ داری ہے۔

حماس کا ہدف یہودی مذہب نہیں

یہودیوں کو ہدف بنانے کے حوالے سے جن شکوک و شبہات کا پرچار کیا جارہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حماس نے ۱۹۸۸ءمیں اپنا منشور جاری کیا تو اس میں یہودیوں کا لفظ استعمال کیا گیا تھا، کیوںکہ وہ اس کے ذریعےپورے اسرائیل کا حوالہ دینا چاہتے تھے، جہاں یہودیوں کو آباد کیا جارہا تھا۔

’حماس‘ یہودیوں کو یہودی مذہب کے پیروکار کے طور پر نشانہ نہیں بنانا چاہتی بلکہ ان کا نشانہ توسیع پسندانہ عزائم کے حامل صہیونی ہیں۔ اگر ’حماس‘ کے نزدیک تمام یہودیوں کو نشانہ بنانا ہوتا تو پھر اُس کے اہداف دنیا بھر میں پھیلے ہوتے، جب کہ ایسا نہیں کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے  علَم برداروں اور فلسطین دشمنوں نے اس ابہام کو پروپیگنڈے کے ایک آلے کے طورپر استعمال کیاکہ حماس یہودیوںکا قتل چاہتی ہےاور یہودی مذہب کی وجہ سے ان کے خلاف ہے۔ دستاویز میں اس معاملے کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ توسیع پسندانہ صہیونی منصوبے پر عمل درآمد کرنے والے دراصل فلسطینیوں کو ان کے دیس سے نکالنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہمارا مقصد ان صہیونی منصوبے کے پیروکاروں سے فلسطین کو پاک کرنا ہے۔ یہ اقدام ان کے یہودی ہونے کی بنا پر نہیں بلکہ ہماری زمین پر غاصبانہ اور توسیع پسندانہ قبضے کی وجہ سے ہے۔ اگر کل کلاں کو ہندو، بدھ مت اور عیسائی ہماری زمین پر قبضہ کرتے ہیں تو فلسطینی ان کے خلاف بھی اسی طرح علَمِ مزاحمت بلند کریں گے،  جیسا کہ وہ آج صہیونی منصوبے کے پیروکاروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنی زمین ان سے واگزار کرائیں گے۔حماس کی سوچی سمجھی راے ہے کہ علماے کرام کے فرمودات اور اسلامی تعلیمات میں یہودیوں کے حوالے سے الگ احکام موجود ہیں۔ ان پر وہ تمام حکم لاگو ہوتےہیں جو اسلام نے تمام اہل کتاب کے لیے مقرر کر رکھے ہیں۔

تنظیم آزادی فلسطین کے موقف سے ہم آہنگی کا الزام

حالیہ دستاویز پرایک اعتراض یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ:’’ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حماس کا دستاویز میں بیان کردہ نقطۂ نظر ’تنظیم آزادی فلسطین‘ کے موقف سے ہم آہنگ ہے۔ اگر ایسا ہے تو حماس کو ’الفتح‘ تنظیم 'سے معافی مانگنی چاہیے کہ اس نے فلسطینی قوم کے کئی سال ضائع کر دیے اور غزہ کو تین ہولناک اسرائیلی جنگوں میں دھکیلا‘‘۔

’حماس‘ اپنی تاسیس کے دن سے ہی ’تنظیم آزادی فلسطین‘ کے ساتھ تعاون کے لیے آمادہ اور تیار رہی ہے۔ اسلامی تحریک مزاحمت حماس، پی ایل او کو خاندانی کلب بنانے کے بجاے اسے فلسطینیوں کی حقیقی نمایندہ تنظیم بنانےکے لیے اصلاحات کا مطالبہ کرتی چلی آئی ہے۔ دستاویز میں اسی روح کی از سرِ نو تجدید کی گئی ہے، جس پرحماس کے بعض ناقدین یہ کہہ کر اعتراض کررہے ہیں کہ تنظیم نے اپنی حالیہ دستاویز میں پی ایل او کے سیاسی فریم ورک کو تسلیم کر لیا ہے ۔ یہاں اس امر کی جانب اشارہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دستاویز میں پی ایل او کے ڈھانچے میں تبدیلی کا جو مطالبہ شدومد سے کیا گیا ہے، اس کا مقصد پی ایل او کو حقیقی معنوں میں فعال ادارہ بنانا ہے تاکہ تمام فلسطینی دھڑے اس میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں۔ پی ایل او کی روحِ رواں ’الفتح‘ ' تنظیم کی قیادت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ قومی شراکت کے اصول اور براہ راست انتخابات کے ذریعے پی ایل اوکی صفوں میں وسعت لائی جائے۔ جس سے اس میں فلسطین کے اندر اور باہر، موجود تمام فلسطینیوں کی نمایندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ حماس نے دستاویز میں اپنے اسی مسلّمہ موقف کو مختصر مگر جامع انداز میں بیان کیا ہے۔

’تنظیم آزادی فلسطین‘ کی سیاسی میراث اور اس کی جانب سے مسلّمہ اصولوں سے دست برداری کے یکے بعد دیگرے اعلانات کو ۱۰ نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے، جن کا اعلان پی ایل او نے اکتوبر ۱۹۷۳ء کی جنگ کے بعد کیا تھا۔ ان نکات میں اسرائیلی دشمن سے واگزار کرائی گئی سرزمین پر فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا، تاہم بعد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد ۲۴۲کو تسلیم کرتے ہوئے فلسطینیوں کے حقوق کو ۱۹۶۷ء کے مقبوضہ علاقوں تک محدود  کردیا گیا۔ بات بڑھتے بڑھتے ’میڈرڈ امن مذکرات‘ اور پھر ’معاہدہ اوسلو‘ تک جا پہنچی۔

’اوسلو معاہدہ‘ [۱۳ستمبر ۱۹۹۳ء]پر دستخط کے بعد ’تنظیم آزادی فلسطین‘ کو اپنی سیاسی تنہائی کم کرنے کا موقع ملا کیوںکہ اگست ۱۹۹۰ء میں عراق کے کویت پر حملے کی وجہ سے اس کے مالی سوتے خشک ہو گئے تھے۔ ہزیمت کا نیا باب رقم کرتے ہوئے پی ایل او نے ’اوسلو معاہدے‘ کے تحت مقبوضہ فلسطین کے علاقے غرب اُردن اور القدس میں لا کر بسائے گئے آٹھ لاکھ آبادکاروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ’ڈیٹن فورس‘ تشکیل دی، جس نے آزاد فلسطینی ریاست کا خواب دل میں بسائے یاسرعرفات کو منوں مٹی تلے ابدی نیند سلا دیا۔

افسوس کا مقام ہے کہ اس وقت تحریک ’الفتح‘ تنظیم جو’تنظیم آزادی فلسطین‘ کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے، اس نے میڈرڈ کانفرنس کے راستے ’اوسلو معاہدے‘ کی ذلت پر دستخط کر کے اپنے اصل راستے سے ہٹنے کا ارتکاب کیا ۔ یوں فلسطین کے قومی مقصد کو ’بلدیاتی سطح کے اختیار‘ جیسی دلدل میں اتار لیا اور فلسطین کے اہم مسلّمہ اصولوں سے دست برداری کا اعلان کیا۔ اب وہ فلسطین کے ۷۷ فی صد حصے سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ انجامِ کار اس طرح اس علاقے پر اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر چکے ہیں۔

اخوان سے لاتعلقی: حقیقت کیا ہے؟

حماس کی دستاویز کے اعلان سے بہت پہلے اس کے مندرجات کی میڈیا میں لیکس کے ذریعے یہ کہہ کر پیالی میں طوفان اٹھانے کی کوشش کی گئی کہ: ’’حماس نے الاخوان المسلمون سے لاتعلقی کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس ضمن میں تنظیم جلد ہی اپنے ترمیم شدہ سیاسی منشور میں باقاعدہ اعلان کرنے والی ہے‘‘۔ دستاویز کی ۴۲ شقوں میں کسی ایک میں بھی الاخوان المسلمون کا ذکر نہیں ملتا۔ تحریک کے سیاسی شعبے کے سابق سربراہ خالد مشعل سے پریس کانفرنس میں بھی یہ سوال پوچھا گیا تو انھوں نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ: ’’ہماری سرگرمیوں کا مرکز و محور فلسطینی سرزمین ہے۔ الاخوان المسلمون سے اگرچہ ہمارا تنظیمی تعلق نہیں، تاہم ان کی فکری سوچ ، جہد مسلسل اور قربانیوں سے عبارت تاریخ حماس کے لیے ہمیشہ منارۂ نور کا کام کرتی رہے گی۔ حماس اور اخوان کو باہم لڑا کر مذموم مقاصد حاصل کرنے اور سازشوں کے جال بننے والے دوست نما دشمن کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے‘‘

۱۵؍اپریل ۲۰۱۷ء کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ڈگری کالج میں ریاستی پولیس،بھارتی فوج اور سی آر پی ایف داخل ہوئی۔ کالج میں ہزاروں طلبہ و طالبات نے پولیس اور آرمی کی اس کارروائی پر سخت احتجاج کیا، جس پر قابض فورسزاہل کار آگ بگولا ہوگئے اور انھوں نے پیلٹ کے چھرّوں اور آنسو گیس شیلوں کی بارش کرکے کالج کو میدان جنگ میں تبدیل کردیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ۶۰نہتے اور معصوم طلبہ و طالبات زخمی ہوگئے، جن میں چند طالبات کو نازک حالت میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس دوران بھارتی فوج کئی طالب علموں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی اور اُن کا سرِراہ بڑی ہی بے رحمی سے ٹارچر کیا گیا۔

بھارتی فوج، اپنے اہل کاروں کے ہاتھوں اس وحشیانہ طرزِ عمل کی وڈیو بھی بناتی ہے اور ان وڈیوز کو بعد میں سوشل میڈیا پر ڈال دیا جاتا ہے۔ درحقیقت ان وڈیوز کے ذریعے سے   بھارتی فوج دراصل نفسیاتی طور پر کشمیری نوجوانوں پر دباؤ ڈالنا چاہتی تھی، تاکہ وہ خوف زدہ ہوکر جدوجہد آزادی کی موجود لہر سے کنارہ کشی اختیار کرلیں ، لیکن ان وڈیوز کا اُلٹا اثر ہوا۔ پوری وادی میں پہلے سے ہی سراپا احتجاج طلبہ اس ظلم و جبر اور درندگی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ ہائی اسکولوں سے لے کر یونی ورسٹیوں تک ، انجینیرنگ کالجوں ، میڈیکل کالج، حتیٰ کہ زنانہ کالج کی طالبات تک پُرامن احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں۔ریاستی حکومت جس کی ساجھے دار بھارتی جنتا پارٹی ہے، اس نے احتجاجی طلبہ سے نبٹنے کے لیے اپنا روایتی طریقہ ہی اختیار کیا، یعنی طاقت کے ذریعے سے طلبہ و طالبات کو دبانے کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔اپنے سامنے تمام راستوں کو مسدود  دیکھ کر نہتے کشمیری طلبہ و طالبات سڑکوں پر حرب و ضرب سے لیس مسلح فوج اور پولیس کے ساتھ   دو دو ہاتھ کررہے ہیں۔معصوم طالبات تک کو سنگ بازی کے لیے مجبور کیا جارہا ہے اور چھے ہفتے گزر جانے پر بھی وادی بھر میں طلبہ و طالبات کی احتجاجی لہر جاری ہے۔صبح جب بچے اور بچیاں اسکول یونیفارم میں گھر سے روانہ ہوتے ہیں ،تو والدین دن بھر تذبذب میں رہتے ہیں کہ نہ جانے اُن کے نونہال صحیح سلامت شام کو لوٹ کر بھی آئیں گے یا نہیں۔ آئے روز ہسپتالوں میںزخمی طلبہ و طالبات کو داخل کرایا جاتا ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گذشتہ سال برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد عوامی احتجاج کے پیش نظر حکومت نے چار ماہ تک مسلسل کرفیو نافذ کیے رکھا۔ اس مدت میں طلبہ و طالبات کو اسکول جانے سے روکا گیا اور اُن کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی۔ بعد میں حکومت اور بھارتی میڈیا نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ: ’حریت قیادت نے احتجاج اور ہڑتال کی کال دے کر طلبہ و طالبات کے مستقبل کو برباد کیا‘۔ حالاںکہ اُس مدت میں حکومت کی جانب سے مسلسل کرفیو کے پیش نظر تعلیمی ادارے بند رہے ۔

پہلے کی طرح اس سال بھی حکومت از خود آئے روز تعلیمی اداروں کو بند رکھ رہی ہے۔ جس دن تعلیمی ادارے کھلے ہوتے ہیں، اُس دن پولیس اور دیگر فورسز ایجنسیاں صبح ہی سے اسکولوں اور کالجوں کے گیٹ پر کھڑی ہوجاتی ہیں اور مختلف بہانوں کی آڑ میں ہدف شدہ طلبہ کو گرفتار کرنے   لگ جاتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں نوجوان نسل میں غصے کی لہر دوڑ جاتی ہے اور وہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتے ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ ایسا جان بوجھ کر کیا جارہا ہے۔ یہ دراصل اُس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت کشمیر کی نسلِ نو کو تعلیم سے محروم رکھنے کا منصوبہ ہے۔اس طرزِ عمل سے بھارتی ایجنسیاں مختلف اہداف حاصل کرنا چاہتی ہیں، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ کشمیری نسلیں جہالت کے اندھیرے میںڈوب جائیں اور پھر وہ اپنی جائز اور مبنی برحق جدوجہد سے خود بخودد ست بردار ہوجائیں گے۔

۹؍اپریل کو وسطی کشمیر کے ضمنی انتخابات میں لوگوں کی عدم شرکت اور انتخاب کے دن  عوام کی جانب سے زبردست احتجاج نے ریاستی انتظامیہ اور دلی میں اُن کے آقاؤں کے اوسان خطا کردیے۔اس روز ایک ہی ضلع میں مختلف مقامات پر ۱۰نوجوانوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا، اور درجنوں دیگر افراد زخمی کر دیے گئے۔ نام نہاد انتخابات کے بعد ہر روز، نئی دہلی اور سری نگر میں سیکورٹی میٹنگیں منعقد کی جارہی ہیں۔ دہلی سے آئے روز فوجی ماہرین اور حکومتی کارندے کشمیر آتے رہتے ہیں۔ بھارتی آرمی چیف، بی جے پی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو اور وزیردفاع ارون جیٹلی نے بھی سری نگر کا دورہ کرکے یہاں کے حالات کا جائزہ لیا اور کشمیریوں کی موجودہ سیاسی جدوجہد پر  قابو پانے کے لیے سر جوڑ کر صلاح مشورے کرتے رہے۔ حالات پر قابو پانے کے لیے ہر طرح کا نسخہ آزمایا جارہا ہے۔ دلی سے حکم نامے نازل ہوتے ہیں اور مجبوبہ مفتی کٹھ پتلی بن کر دلی کے ہر حکم کو من و عن نافذ کرتی ہیں۔ گرفتاریوں کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جارہا ہے۔

رات کے دوران چھاپوں میں پولیس اور فوج گھروں میں گھس کر نہ صرف نوجوانوں کو گرفتار کرتی ہے بلکہ سارا سامان تہس نہس کرنے کے علاوہ مکینوں کی شدید مارپیٹ کی جاتی ہے۔ یہاں ہر روز بستیوں اور دیہات میں قیامت صغریٰ برپا کی جاتی ہے۔عوامی جذبے کو دبانے کے لیے گذشتہ سال کی تاریخ ساز مزاحمتی مہم کے دوران بھارتی فوج نے’آپریشن توڑپھوڑ‘شروع کیا  جو ہنوز جاری ہے۔ اس آپریشن کے دوران فوج ، پولیس اور نیم فوجی دستے ہزاروں کی تعداد میں کسی بستی میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اُن کے سامنے جو کچھ آتا ہے وہ وحشیوں اور درندوں کی طرح اُس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانا، گاڑیوں کے شیشے توڑنا، مکانات کے کھڑکی دروازوں کو توڑنا اور گھروں میں قیمتی ساز و سامان کو برباد کرنا، اس آپریشن کا حصہ ہے۔ کشمیر میں موسمی حالات کے پیش نظر لوگ کھانے کی اشیا گھروں میں اسٹور کرکے رکھتے ہیں۔ بھارتی فورسز اُن کو بھی    تہس نہس کرکے جمع کی گئی غذائی اجناس کو ضائع کر دیتی ہیں۔ جس بستی میں یہ آپریشن کیا جاتا ہے، اُس کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اُس بستی کو دوبارہ اپنی اصل حالت میں آنے کے لیے مہینوں لگ جاتے ہیں۔یہ ’آپریشن توڑ پھوڑ‘ تاحال جاری ہے۔عوامی بغاوت کو کچلنے کے لیے فوج کی جانب سے نفسیاتی جنگ لڑی جارہی ہے اور اس جنگ میں اخلاقیات اور انسانی حقوق کی تمام تر قدروں کو وحشیانہ انداز سے پاؤں تلے روندا جارہا ہے۔

۴مئی کو بھارتی فوج کے قریباً ۳۰ہزار اہل کاروںنے ضلع شوپیاں کے ایک درجن سے زائد دیہات کا محاصرہ کرکے جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کا اعلان کردیا۔ ۲۰برسوں کے بعد اپنی نوعیت کا یہ پہلا کریک ڈاون ہے، جس میں حرب و ضرب سے لیس فوج، پولیس اور سی آرپی ایف استعمال ہوئی ہے۔ اس آپریشن میں ڈرون اور فوجی ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے آپریشن کے دن صبح ہی سے اس فوجی کارروائی کے حوالے سے رپورٹیں نشر کرنا شروع کردیں، اور سنسنی خیر انداز میں آپریشن کو اس طرح پیش کیا گیاکہ جیسے بھارتی فوج کنٹرول لائن پر اپنے ہلاک شدہ فوجیوں کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان کے خلاف میدانِ جنگ سجا چکی ہو۔شام ہوتے ہوتے آپریشن کے اختتام تک کھودا پہاڑ نکلا چوہا والا معاملہ ہوگیا۔ ان درجن بھر دیہات کی جو کہانیاں میڈیا اور لوگوں کے ذریعے سے سامنے آئیں، وہ دل دہلا دینے والی تھیں۔ فورسز اہل کاروں نے مکانات، فرنیچر اور درجنوں گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرکے کروڑوں روپے مالیت کا نقصان کرنے کے علاوہ نہتے اور عام شہریوں کی شدید مارپیٹ کی۔ شام کو دو درجن کے قریب لوگوں کو ہسپتالوں میں داخل کرانا پڑا۔ اس ظلم و جبر کے خلاف جب عوام نے احتجاج کرنا چاہا تو اُن پر پیلٹ گن کے چھرے اور آنسوگیس کے گولے داغے گئے۔

پاکستان کے ساتھ جب بھارت کے معاملات بگڑ جاتے ہیں تو پاکستان کو سبق سکھانے اور بدلہ لینے کے لیے بھارت بھر میں آوازیں اُٹھنا شروع ہوجاتی ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان جب بھی سفارتی سطح پر کچھ مؤثر سرگرمی دکھائے تو کشمیرمیں سول آبادی کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا جاتا ہے۔ عملاً کشمیریوں کو پاکستانیوں کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ جب بھی کشمیریوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے، اُن کا قتل عام کیا جاتا ہے، اُنھیں زخمی کردیا جاتا ہے، ہماری خواتین کے ساتھ دست درازیاں کی جاتی ہیں تو بھارتی سماج کا ’اجتماعی ضمیر‘ مطمئن ہوجاتا ہے۔ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ کشمیریوں کے خلاف کارروائی کا مطلب یہ ہے کہ اُن کی فوج نے پاکستان سے بدلہ لیا ہے۔ گرفتاریوں اور چھاپوں کے دوران بھارتی فورسزاہل کار اس بات کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو خطرناک ترین سزائیں اس لیے دیتے ہیں کیوںکہ وہ ہندستانی نہیں بلکہ پاکستانی ہیں۔ اُن کا دل پاکستان کے لیے دھڑکتا ہے اور اُن کی وفاداریاں پاکستان کے لیے ہیں۔

بھارتی حکومت، مقبوضہ کشمیر میں اپنا کنٹرول کھو چکی ہے۔ اُن کی فوج جنگجوؤں کی آڑ میں عوام کے ساتھ برسرِ پیکار ہے۔ فورسز اہل کار وں کے حوصلے بھی روز بروز پست ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ریاست میں تعینات رہنے والے ایک اعلیٰ بھارتی فوجی افسر جنرل ڈی ایس ہوڈا نے برملا کہا کہ: ’’کشمیر میں فوج کو جتنا کچھ کرنا تھا، اُس نے وہ کیا۔ وہاں طاقت سے حالات پر قابو پانا  مشکل ہے‘‘۔ اُنھوں نے اپنی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ کشمیر میں فوجی طاقت کے بجاے سیاسی عمل شروع کریں اوربات چیت کا دروازہ کھولا جائے۔این ڈی ٹی وی کی معروف صحافی برکھادت نے ۱۹مئی کو ہندستان ٹائمز میں اپنے ایک مضمون میں مودی سرکار کو خبردار کیا ہے کہ: ’’وہ کشمیریوں سے فوری طور پر بات چیت کا راستہ اختیار کرے‘‘۔ اُنھوں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ: ’’کشمیر میں اس پیمانے پر کبھی حالات خراب نہیں تھے۔ پہلے ہماری فوج ’پاکستانی جنگجوؤں‘ کے ساتھ لڑ رہی تھی لیکن آج وہ ’اپنے‘ لوگوں کے ساتھ نبرد آزما ہے‘‘۔

المیہ یہ ہے کہ بھارت میں برسرِاقتدار ٹولہ کشمیر کے معاملے میں اپنی سخت گیر پالیسی پر قائم ہے اور کسی بھی مرحلے پر اُس میںلچک دکھانے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان یا کشمیریوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے وہ آمادہ نہیں۔ دوسری جانب کشمیر میں اَبتر صورتِ حال سے اندرون ملک مودی حکومت کافی دباؤ کا شکار ہے۔ خود مودی سرکار بھی اپنے تمام تر سخت گیریوں کے باوجود پریشان نظر آرہی ہے ۔ وہ کسی بھی طرح سے کشمیریوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں، تاکہ کشمیریوں کی موجودہ احتجاجی تحریک کمزور پڑ جائے۔ اس کے لیے مختلف سطحوں پر کام ہورہا ہے۔ بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے حالیہ دنوں میں کئی مرتبہ کہا ہے کہ آنے والے ایک سال کے دوران وہ کشمیر میں بیانیہ ہی تبدیل کر دیں گے۔ اُنھوں نے ہندستانیوں کو انتظار کرنے کے لیے کہا اور  اُن کے اس بیان کی تائید کشمیر میں اُن کی کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی کی ہے۔کشمیر اُمور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ایجنسیوں کے ذریعے سے آزادی پسند حلقوں میں دراڑ پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس کے لیے وہ آئے روزکوئی نہ کوئی ایشو کھڑا کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔

کشمیر میں سیاسی اختلافات کو ہوا دی جارہی ہے۔ کشمیر سیاسی مسئلہ ہے یا مذہبی ، اس طرح کے مباحثے شروع کروائے جاتے ہیں۔ حالانکہ ہم میں سے ہر ایک کو یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ بحیثیت مسلمان ہماری جدوجہد رضاے الٰہی کے لیے ہوتی ہے۔ ہماری کوششیں اسلام کی سربلندی کے لیے ہوتی ہیں۔ ہم جب جان دیتے ہیں تو اس میں پیش نظر یہ ہوتا ہے کہ ہمیں اللہ کی بارگاہ میں شہادت کا درجہ نصیب ہوجائے۔جاننے اور سمجھنے کے باوجودہم غیر ضروری مباحثے شروع کرنے کے درپے ہیں اور بھارتی میڈیا اس کو خوب ہوا دے رہا ہے۔اس کے لیے بھارتی ایجنسیاں مقبوضہ کشمیر میں تمام حربے آ زمارہی ہیں۔

دہلی میں قائم بھارتی ٹی وی چینلوں اور پرنٹ میڈیا کشمیر، کشمیریوں اور پاکستان کے خلاف ہمیشہ زہر اُگلتا رہتا ہے۔ کشمیریوں کی تحریک کو ’دہشت گردی‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہاں کے لوگوں کا تشخص مسخ کرنے کے لیے پروپیگنڈے پر مبنی درجنوں پروگرام روز نشر کیے جاتے ہیں۔ بھارتی میڈیا کی اس مہم کے نتیجے میں کشمیر سے باہر بھارت کی مختلف ریاستوں میں کشمیریوں کی زندگیاں خطرہ میں پڑ چکی ہیں۔ آئے روز کسی نہ کسی ریاست میں کشمیری طلبہ پر حملے کیے جاتے ہیں۔ ابھی گذشتہ ماہ میں بھارتی پنجاب کی ایک یونی ورسٹی میں کشمیری طلبہ کے ساتھ شدید مارپیٹ کی گئی اور اُنھیں ہاسٹل سے نکال باہر کیا گیا۔کشمیر سے باہر کشمیری جان ہتھیلی پر لے کر جاتا ہے۔  حد تو یہ ہے کہ گذشتہ ماہ بھارت کے معروف ہسپتال پی جی آئی چندی گڑھ میںڈاکٹروں نے ایک کشمیری مریضہ کا علاج صرف اس بنیاد پر نہیں کیا کیونکہ وہ کشمیری تھیں اور بھارتی ڈاکٹر سمجھتے ہیں کہ: ’’کشمیری، پاکستانی ہیں‘‘۔ ایک جانب کشمیریوںکو بھارت سے باہر جانے کے لیے سفری دستاویزات فراہم نہیں کی جاتی ہیں۔ اُن کا کسی دوسرے ملک میں جانا اس قدر مشکل بنادیا گیا ہے کہ عام آدمی  سوچ بھی نہیں سکتا ہے کہ وہ بھارت سے باہر علاج یا کسی اور ضرورت کے لیے جاپائے گا۔ دوسری طرف بھارت کے اندر کشمیری لوگوں کو نسلی تعصب کا شکار بنایا جارہا ہے۔ اُنھیں بنیادی طبی سہولیات فراہم نہیں کی جاتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بھارت کشمیر میں ہر طریقے سے نسل کشی کررہا ہے۔یہی نہیں بلکہ مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جارہا ہے۔

بھارتی میڈیا پروپیگنڈے کا مقابلہ کشمیری نوجوان نسل سوشل میڈیا کے ذریعے سے کررہی تھی۔ کشمیر کے اصل حالات کو بیرونی دنیا تک پہنچانے کے لیے عام کشمیری سوشل میڈیا کا استعمال کرتے تھے۔جب کشمیریوں کے اس جوابی وار سے بیرونی دنیا میں بھارت کی رُسوائی ہونے لگی تو اس نے ۱۵؍اپریل سے کشمیر میں نہ صرف سوشل میڈیا پر پابندی عائد کردی، بلکہ اس کے لیے موبائل کمپنیوں کو ۲۲سوشل میڈیا سائٹس کو بلاک کردینے کے احکامات بھی جاری کردیے گئے۔

کشمیریوں کی تمام تر اُمیدیں پاکستان سے وابستہ ہیں۔ یہاں کے لوگ اپنے ہر درد کی دوا پاکستان کو سمجھتے ہیں۔ بھارتی میڈیا وار کا مقابلہ پاکستانی میڈیا بخوبی کرسکتا ہے، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ وہاں بھارتی فلموں پر ایک ایک گھنٹے کا پروگرام تو ضرور نشر ہوتا ہے، جب کہ کشمیرکے حوالے سے رپورٹیں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ کبھی کبھار اگر کوئی چینل کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کا ذکر کرتا بھی ہے تو وہ چند منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا ہے اور اُس میں حقائق کی تہہ تک پہنچنے کے بجاے سطحی چیزوں پر اکتفا کیا گیا ہوتا ہے۔یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے اپنی ترجیحات میں کشمیر کو ثانوی حیثیت دے کر اپنے مقدمے کو کمزور بنانے کا کام خود انجام دیتے ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں پر پاکستان زیادہ سے زیادہ کام کرے۔ پاکستانی میڈیا دنیا کو باخبر کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ جس طرح سے کشمیر میں پاکستان کے تمام چینلوں کی نشریات روک دی گئی ہیں اُسی طرح پاکستان میں بھی بھارتی چینلوں کی نشریات کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام مملکت پاکستان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ صحیح معنوں میں ہماری سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد کریں۔زبانی جمع خرچ سے نہ کشمیریوں کا کچھ بھلا ہوتا ہے اور نہ پاکستانی مفادات کی آبیاری ہی ہوپاتی ہے۔

’’الزام لگایا جا رہا ہے کہ طیب اردوان آمر بننا چاہتا ہے۔ اردوان ایک فانی انسان ہے، اسے تو یہ تک نہیں معلوم کہ وہ ۱۶؍اپریل تک زندہ بھی رہتا ہے یا نہیں۔ ہم ملکی نظام میں دُور رس اصلاح لانا چاہتے ہیں۔ الزام لگانے والوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آمر ووٹ کی پرچیوں اور عوام کی حقیقی راے کے ذریعے نہیں آیا کرتے‘‘___ ترک صدر رجب طیب اردوان ۱۶؍اپریل کو ہونے والے ریفرنڈم کے خلاف جاری پروپیگنڈے کا جواب دے رہے تھے۔ یہ دن اب ترک تاریخ کے اہم ترین دنوں میں شامل ہوگیا ہے۔ اس روز ۸۰ فی صد سے زائد عوام نے دستوری ترامیم کے حق یا مخالفت میں ووٹ دیتے ہوئے بالآخر پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ان ترامیم کی تفصیل سے پہلے آیئے ذرا اس جوہری تبدیلی کا پس منظر تازہ کرلیں۔

۹۳سال قبل مصطفیٰ کمال اتاترک نے خلافت ِ عثمانیہ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے سیکولر ترک ریاست کی بنیاد رکھی تھی۔ اس نے اذان، نماز اور قرآنِ کریم سمیت تمام دینی شعائر پر پابندی عائد کر دی۔ اس نے اپنی پارٹی کے علاوہ کوئی دوسری سیاسی جماعت بنانے پر بھی پابندی لگادی۔ اتاترک کے اس نظام اور پالیسیوں کے خلاف سب سے پہلی بغاوت اس کی اپنی پارٹی کے ایک رکن اسمبلی عدنان مندریس اور اس کے ساتھیوں نے کی۔ انھوں نے اتاترک کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ۱۹۴۵ء میں اپنی الگ ’ڈیموکریٹک پارٹی‘ (DP)بنا لی۔ ۱۹۵۰ء کے انتخابات میں ان کی پارٹی نے بھاری اکثریت حاصل کرتے ہوئے اذان، نماز اور قرآن کی تلاوت پر لگی پابندی ختم کر دی اور ملکی تعمیروترقی کے سفر میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کے ۱۰سالہ دورِاقتدار کے بعد ۲۷مئی ۱۹۶۰ء کو ۳۸ فوجی افسروں نے ان کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے ۲۳۵ جرنیلوں سمیت ساڑھے پانچ ہزار فوجی افسر ملازمت سے فارغ کر دیے۔ صدر جلال بایار کو عمرقید اور وزیراعظم عدنان مندریس کو تین ساتھیوں سمیت دُوردراز جزیرے میں لے جاکر ۱۶ستمبر ۱۹۶۰ء کو پھانسی دے کر وہیں دفن کر دیا (۱۷؍اپریل ۱۹۹۰ء کو وزیراعظم ترگت اوزال نے ان کا جسد ِ خاکی وہاں سے لاکر استنبول میں دفن کیا۔ اسمبلی نے باقاعدہ قانون سازی کرتے ہوئے انھیں شہید ِ وطن قرار دیا اور انھیں دی گئی سزاے موت کو غلط قرار دیا)۔

ظلم و جبر، محلاتی سازشوں، پے درپے فوجی انقلابات اور اتاترک ذہنیت کے ہرمخالف پر رجعت پسندی و شخصی اقتدار کے الزامات پر مشتمل ترک تاریخ کے مزید کئی ابواب رقم کیے جانے لگے۔ اتاترک سے لے کر آج تک کے ۹۳سالہ عرصے میں ۶۵ حکومتیں بنائیں اور ختم کی گئیں، یعنی ہرحکومت کی اوسط عمر تقریباً ۱۷مہینے رہی۔ عدنان مندریس، ترگت اوزال اور طیب اردوان کے عہد ِ حکومت نکال دیے جائیں تو، فی حکومت یہ عرصہ ایک سال سے بھی کم رہ جائے۔ کئی بار دستوری ترامیم کی گئیں۔ ۱۹۶۱ء اور ۱۹۸۲ء میں ان ترامیم کے لیے عوامی ریفرنڈم بھی کروائے گئے لیکن ملک کو ہمیشہ کسی نہ کسی بحران کا سامنا رہا۔ مختلف قائدین نے اس پورے نظام کو تبدیل کرنے کی خواہش و کوشش کی لیکن کسی کو بھی کامیاب نہ ہونے دیا گیا۔ خود صدر طیب اردوان کو گذشتہ سال جولائی میں خونیں فوجی انقلاب کا نشانہ بنایا گیا۔ ۲۴۰ بے گناہ ترک شہری شہید اور سیکڑوں زخمی کر دیے گئے۔ ربِ ذوالجلال کی حفاظت نہ ہوتی تو اردوان بھی کسی صورت بچ نہ سکتے۔

اس تناظر میں صدر طیب اردوان نے اعلان کیا کہ وہ ترک جمہوریہ کے ۱۰۰سال پورے ہونے تک ترکی کو پھر سے دنیا کی کامیاب ریاست بنادیں گے۔ ان کے عہد ِ اقتدار میں ہونے والی بے پناہ ترقی اور حالیہ دستوری ترامیم ان کے اسی خواب کا حصہ ہیں۔ ان ترامیم میں ۱۸شقیں شامل ہیں۔ اس کا اہم ترین پہلو عوام کے براہِ راست ووٹ کے ذریعے منتخب ہونے والے     صدرِ مملکت کو سربراہِ حکومت بنانا ہے۔ پارلیمنٹ کو اس کے اصل کام، یعنی حکومت کی کارکردگی پر   نگاہ رکھنے اور قانون سازی کرنے کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے۔ یہ جوہری تبدیلی ترکی کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ اسی تاریخی ربط کو واضح کرتے ہوئے ریفرنڈم کے اگلے روز صدر اردوان نے استنبول میں مدفون صحابیِ رسولؐ حضرت ابوایوب انصاریؓ کی قبر پر فاتحہ خوانی کی، جو آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش خبری کی روشنی میں فتح قسطنطنیہ کی کوششوں میں شریک ہوکر شہادت کے رُتبے پر فائز ہوئے۔ ان کے بعد وہ فاتح قسطنطنیہ اور خلافت عثمانیہ کے بانی محمد الفاتح کی قبر پر گئے۔ پھر پھانسی پانےوالے سابق وزیراعظم عدنان مندریس، سابق صدر ترگت اوزال اور سابق وزیراعظم نجم الدین اربکان کی قبر پر گئے۔ ان کی یہ فاتحہ خوانی اس بات کی علامت تھی کہ جس تبدیلی کے لیے آپ سب کوشاں رہے، آج ہم اس کا عملی آغاز کرچکے ہیں۔

حالیہ ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ کے ارکان کی تعداد ۵۵۰ سے بڑھا کر ۶۰۰ کردی گئی ہے۔ اس طرح ارکان اسمبلی کا حلقۂ انتخاب مختصر کرتے ہوئے انھیں عوامی مسائل حل کرنے کے زیادہ مواقع حاصل ہوں گے۔ چوں کہ اب پارلیمنٹ کو تمام تر سیاسی جوڑتوڑ سے پاک کر دیا گیا ہے، اس لیے اُمید کی جاسکتی ہے کہ ارکانِ اسمبلی کی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں بہتر کارکردگی کا موجب بنیں گی۔پارلیمنٹ صدر، اس کے نائبین اور وزرا کا احتساب کرسکتی ہے۔ پارلیمنٹ کی طرف سے صدر کے مواخذے کے اعلان کے بعد صدرِ مملکت نئے انتخابات کا اعلان بھی نہیں کرسکے گا۔ انتہائی ناگزیر حالات میں اگر صدر اسمبلی توڑنے اور نئے انتخابات کا اعلان کرنا چاہے گا، تو اسے صرف پارلیمانی انتخابات ہی نہیں، صدارتی انتخابات بھی دوبارہ کروانا ہوں گے، یعنی خود بھی جانا ہوگا۔ حالیہ ترامیم کے مطابق صدر اور پارلیمنٹ ایک ہی روز ہونے والے عام انتخابات کے ذریعے منتخب ہوا کریں گے۔ واضح رہے کہ حالیہ پارلیمانی اور صدارتی مدت کو ۲۰۱۹ء میں ختم ہونا ہے اور ابھی سے آیندہ انتخابات کی تاریخ طے کردی گئی ہے جو ۳نومبر ۲۰۱۹ء کو ہوں گے۔ ان ترامیم کے ذریعے تمام فوجی عدالتیں ختم کر دی گئی ہیں۔ ایسی عارضی عدالتوں کا قیام صرف حالت ِ جنگ میں کیا جاسکے گا۔

حالیہ ترامیم کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اس کی ۱۸ شقوں میں سے ۱۶شقیں ۳نومبر ۲۰۱۹ء کے انتخابات کے بعد نافذالعمل ہوں گی۔ فی الحال صرف دو شقوں پر عمل درآمد ہوگا۔ ایک تو یہ کہ صدرِ مملکت اگر چاہے تو وہ کسی سیاسی پارٹی کا رکن بن سکتا ہے۔ گویا یہ منافقت ختم کر دی گئی کہ صدرِ مملکت عملاً تو اپنی پارٹی کا مدار المہام تک رہتا ہے، لیکن بظاہر یہ اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ اس کا کسی پارٹی سے تعلق نہیں۔ سیاسی وابستگی کی اجازت کا مطلب ہے کہ اب صدر اردوان اپنی  جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے رکن بلکہ سربراہ بھی بن سکیں گے۔ دوسری شق جس پر فوری عمل درآمد ہوگا وہ عدلیہ کے ججوں کی تعیناتی سے متعلق ہے۔ اس وقت بھی تمام ججوں کا تعین صدرِمملکت کی منظوری ہی سے ہوتا ہے، لیکن آیندہ صدر کو ۱۰ میں سے ۴ جج اپنی صواب دید پر مقررکرنے کا اختیار ہوگا۔

ایک طرف طیب اردوان ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ میں ایک فانی انسان ہوں جسے اپنے کل کی خبر نہیں، دوسری طرف ان کے مخالفین کا الزام ہے کہ اردوان نے ۲۰۲۹ء تک اقتدار پر قبضہ کرلیا ہے۔ حقیقت دیکھیں تو الزام لگانے والوں کی فہم و فراست پر شک ہونے لگتا ہے۔ صدرِمملکت کا عہدہ پانچ سال کا ہوتا ہے۔ حالیہ ترامیم کے مطابق وہ زیادہ سے زیادہ دو بار منتخب ہوسکے گا۔  الزام لگانے والے گویا ابھی سے اعترافِ شکست کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ۳نومبر۲۰۱۹ء کو ہونے والے انتخابات میں طیب اردوان جیت جائیں گے اور پھر پانچ سال بعد ۲۰۲۴ء میں بھی وہی صدر منتخب ہوں گے، اور اس طرح ۲۰۲۹ء تک وہ اقتدار پر براجمان رہیں گے۔

طیب اردوان فرشتہ نہیں، دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان ہے۔ غلطیاں کرتا بھی ہے اور کربھی سکتا ہے لیکن ان پر آمریت کا الزام لگانے والے مغرب کا حال ملاحظہ ہو۔ ناکام فوجی بغاوت کے مرکزی کردار اب بھی امریکا اور مختلف یورپی ممالک میں براجمان ہیں۔ ترک حکومت کے مطابق فوجی بغاوت میں ناکامی کے بعد اب اندرونی خلفشار کی لہر کے پیچھے بھی ان کا واضح کردار ہے۔ مغرب جو خود کو جمہوریت اور حقوقِ انسانی کا ہیرو سمجھتا ہے، حالیہ دستوری ریفرنڈم کے موقعے پر یورپ میں مقیم ترک عوام کو اس کے حق میں بات کرنے سے روک دیا گیا۔ خود ترک وزیرخارجہ کا جہاز ہالینڈ میں اُترنے سے روک دیا گیا تاکہ وہ اپنے شہریوں سے ریفرنڈم کے بارے میں بات نہ کرسکیں۔ ترک خاتون وزیر کار کے ذریعے ہالینڈ جانے میں کامیاب ہوگئیں، تو ترک قونصل خانے سے ۵۰۰ میٹر کے فاصلے پر انھیں روک کر زبردستی واپس بھجوا دیا گیا۔ یورپ میں تقریباً ۴۰لاکھ ترک شہری رہتے ہیں۔ خدا کی شان دیکھیے کہ یورپ کے تمام منفی ہتھکنڈوں کے باوجود بیرونِ ملک مقیم ترک شہریوں کی غالب اکثریت نے دستوری ترامیم کے حق میں راے دی۔

اب ایک بار پھر یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت پر بحث کی جارہی ہے۔ ترکی ہی نہیں خود اسلام اور مسلمانوں کو اعتراضات کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یورپ کے کئی اہم ممالک میں اس وقت انتخابی عمل جاری ہے۔ تقریباً ہر جگہ انتہاپسند سیاسی جماعتیں شدومد سے اسلام پر الزام تراشی کرر ہی ہیں۔

جرمنی میں اپنے آپ کو ’متبادل‘ کے طور پر پیش کرنے والی جماعت کے رہنما بیاٹریکس فون شڑوگ کا فرمانا ہے کہ’’اسلام کوئی مسیحت کی طرح کا باقاعدہ دین نہیں بلکہ چند افکاروخیالات کا مجموعہ ہے جو ریاست کو زبردستی مسلمان بنانا چاہتا ہے۔ اسلام جرمنی کے لیے ایک سنگین خطرہ اور جرمنی کے دستور سے متصادم ہے۔ فرانس کے سابق صدر نیکولا سرکوزی کا ارشاد ہے کہ ’’یورپ کسی طرح ایسے ملک کو اپنا حصہ نہیں بناسکتا جو ۷۰ملین مسلمانوں پر مشتمل ہے‘‘۔ جرمن چانسلر میرکل، گاہے مسلمانوں سے اظہارِ ہمدردی کرتی دکھائی دیتی ہیں، یورپی یونین میں ترک رکنیت کے بارے فرماتی ہیں کہ ’’ہم ترکی کو رکنیت نہیں دیں گے لیکن اس سے مذاکرات بھی ختم نہیں کریں گے‘‘۔ گویا وہی پالیسی جو مقبوضہ فلسطین میں نیتن یاہو یا اس کے پیش رو صہیونی رہنمائوں کی رہی کہ فلسطینیوں کو لاحاصل مذاکرات میں اُلجھائے رکھو اور ان کا قتل عام بھی جاری رکھو۔

اپنے عوام کی تائید اور ملک میں ایک مستحکم و مضبوط سیاسی نظام کی بنیاد رکھنے کے بعد صدر طیب اردوان نے بھی دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت پڑی تو ایک اور ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی راے معلوم کرنے کے بعد ہم یورپی یونین کے ساتھ ان مذاکرات کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کردیں گے۔ اس صورتِ حال پر کئی یورپی دانش وروں نے تشویش کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ فرانس کے انسٹی ٹیوٹ براے عالمی تعلقات کے نائب صدر دیدیہ پیلیون کا کہنا ہے کہ ’’یورپی یونین ایک سیاسی پلیٹ فارم ہے، کوئی مسیحی پلیٹ فارم نہیں۔ یورپی یونین کی پارلیمنٹ سے ایسی آوازیں اُٹھنا کہ ہمیں ترکی کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ منقطع کر دینا چاہیے، یورپی ریاستوں کے لیے تباہ کن ہوسکتا ہے۔ ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس وقت ترکی نہیں بلکہ یورپ ایک ’مرد بیمار‘ کی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔ ایک مضبوط ترکی کے ساتھ رابطہ منقطع کرنا یورپ کی سنگین سیاسی حماقت ہوگی‘‘۔

اسی تناظر میں صدر طیب اردوان کا یہ بیان بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ ’’معاہدۂ لوزان پر نظرثانی کی ضرورت ہے‘‘۔واضح رہے کہ ۲۴جولائی ۱۹۲۳ء کو سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں ہونے والے اس معاہدے میں خلافت ِ عثمانیہ کا ترکہ تقسیم کرتے ہوئے ترکی کو اس کے بہت سارے اعصابی مراکز سے محروم کر دیا گیا تھا۔ اس معاہدے میں ایک طرف ترکی تھا اور دوسری جانب برطانیہ، فرانس، اٹلی، جاپان اور یونان سمیت کئی ممالک۔ ۱۴۳ شقوں پر مشتمل معاہدے میں خلافت ِ عثمانیہ کا عملاً خاتمہ کرتے ہوئے اسے اس کی حالیہ سرحدوں میں مقید کر دیا گیا۔ اس کے اہم بحری راستوں اور سمندری علاقوں پر عملاً اس کا اختیار ختم کر دیا گیا تھا۔ باسفورس اور مرمرہ جیسی انتہائی اہم بحری گزرگاہوں کو بہرصورت اور مفت کھلا رکھنے کا عہد کروا لیا گیا تھا۔ اگرچہ سوشل میڈیا میں گردش کرنے والے ان دعوئوں کی تو کوئی تاریخی سند نہیں کہ معاہدۂ لوزان میں ترکی پر تیل کی تلاش اور کھدائی پر ۱۰۰سال کے لیے پابندی لگادی گئی تھی جو ۲۰۲۳ء میں ختم ہوجائے گی۔ لیکن صدر اردوان کے الفاظ میں ہمیں ۱۹۲۰ء کے معاہدہ ’سیفر‘ کی موت دکھلا کر ۱۹۲۳ء کے معاہدۂ لوزان کے دائمی اپاہج پن پر راضی کرلیا گیا۔ اردوان کی طرف سے اس معاہدے کا ذکر بنیادی طور پر اندرون و بیرون کے لیے ایک پیغام ہے کہ اس وقت ایک بار پھر خطے میں جو نئے ’معاہدہ ہاے لوزان‘ تیار اور نافذ کیے جارہے ہیں، عراق اور شام کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ترکی سے بھی کئی علاقے کاٹنے کی کوششیں ہورہی ہیں، ہمیں خود کو مضبوط تر کرتے ہوئے، ایک مستحکم نظامِ حکومت تشکیل دیتے ہوئے اور اپنے دورِعروج کو یاد رکھتے ہوئے انھیں ناکام بنانا ہے۔ آخر میں ترک دستوری ریفرنڈم پر ایک عوامی تبصرہ جو خود ترکی میں بھی بہت معروف ہوا ہے اور عالمِ عرب میں بھی کہ ’’اتاترک کا انتقال تو ۷۹سال قبل ہوگیا تھا، لیکن اس کی تدفین اب ہوسکی‘‘۔

یہ امر بھی البتہ ایک حقیقت ہے کہ خود اتاترک کے بہت سے حامیوں نے بھی ’ہاں‘ میں ووٹ دیا۔ ترک قوم پرست جماعت نے تو باقاعدہ ان کی حمایت کا اعلان کر رکھا تھا، جب کہ دوسری جانب پروفیسر نجم الدین اربکان کی سعادت پارٹی نے کھل کر ان ترامیم کا ساتھ نہیں دیا۔ سعادت پارٹی کے صدر تمل کرم اللہ اوغلو کا ایک ملاقات میں کہنا ہے کہ کئی ترامیم اچھی ہیں، کچھ پر تحفظات بھی ہیں، لیکن اصل تشویش اس بات پر ہے کہ طرفین ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین زبان استعمال کررہے ہیں۔ ایک فریق ’ناں‘ کہنے والوں کو غدار کہتا ہے تو دوسرا ’ہاں‘ کہنے والوں کو۔ یہ خلیج خطرناک ہے۔ تاہم، اصل ضرورت ملک کا جمہوری نظام مضبوط کرنا ہے۔

مملکت ِخداداد پاکستان کے ساتھ جموں و کشمیر کے لو گوں کی محبت و عقیدت کو ئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔یہ آج کی بات نہیں ہے بلکہ یہ اُنس اور لگاؤ کا تعلق اُ س دن سے چلا آرہا ہے، جب سے یہ مملکت معرضِ وجود میں آئی ہے۔

یہ محبت دلوں میں لیے کشمیری قوم کی دو نسلیںرخصت ہو چکی ہیں۔ اپنے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے یہ قوم بر صغیر کے تقسیم کے دن ہی سے جدوجہد میںمصروف ہے اور اسے قدم قدم پر مصائب اور صعوبتوں کا سامنا رہا ہے۔آزادی کی یہ تحریک اب با ضا بطہ طور پر تیسری نسل تک منتقل ہوچکی ہے ۔ بھارت کے وحشت ناک مظالم کشمیریوں کے صبرو اسقامت اور قربانیوں سے مزین اس تحریک آزادی کی راہ کھو ٹی نہ کر سکے ا ور نہ اپنوں کی بے رُخی اس جذبۂ حُریت کو کمزور کر سکی ہے۔ بلامبالغہ آج کی تاریخ میں، یہ حقیقت علی الاعلان کہی جاسکتی ہے کہ کشمیریوں کے جذبۂ آزادی اور پاکستان سے محبت کو ہر کٹھن اور مشکل حالات سے مہمیز ملی ہے۔

کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ محبت کا اظہار کو ئی جز وقتی یا مادی فوائد کے حصول کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک روحانی اور نظریاتی رشتہ ہے، جس کی بنیادیں بہت ہی راست و پیو ست ہیں ۔ یہ رشتہ حرص و طمع کے کسی مفروضے پر استوار نہیں ہے، بلکہ یہ مادی قدروں سے ماورا ایک ایسا لافانی تعلق ہے، جو ایمان و ایقان سے تعلق رکھتاہے ۔ اس رشتے کا تعلق لاالہ الا اللہ سے ہے، جس کی بنیاد پر یہ مملکت خداداد قائم کی گئی ہے۔ پاکستان محض متعین جغرافیائی حدود کا نا م نہیں ہے بلکہ یہ ایک نظریہ اور فکر ہے، جس کی اپنی ایک ایسی شان دار تہذیب اور درخشاں تاریخ ہے جس نے عالمِ انسانیت کو ظلمت کدوں سے نکال کر خیر اور روشنیوں سے منور کر دیا ہے۔

اسی نظریے اور تہذیب و تاریخ سے وابستگی کشمیریوں کی پاکستان سے محبت اور عقیدت کا مظہر ہے۔یہی وجہ ہے کہ لاکھوں بھارتی فورسز کی ناک کے نیچے کشمیر میں سبز ہلالی پرچم لہرایا جاتا ہے ۔کھلے سینوں کے ساتھ، اُگلتی گولیوں بندوقوں کے دہانوں کے سامنے ’ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہما را ہے‘ کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں ۔ نہ صرف کشمیر میں، حتیٰ کہ بھارت کی دوسری ریاستوں میں نتائج کی پروا کیے بغیر کشمیری پاکستان کے حق میں اپنے جذبا ت کا اظہار کرتے ہیں۔

پاکستان میں پیش آئے کسی ناخوش گوار واقعے پر کشمیریوں کے دل مضطرب ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے دعائوں اور نیک تمناؤں سے یہاں کی مسجدیں گونج اُٹھتی ہیں ۔ خود غلامی کی ذلت میں جکڑے ہونے کے با وجود ہمیشہ کشمیریوںکو پاکستان کی نظریاتی بقا اور جغرافیائی سالمیت اور وہاں کے عوام الناس کی سلامتی کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کے بعد کشمیریوں کی تمام تر نظریں پاکستان پر مرکوزہیں ۔اسے اپنا محسن قرار دیتے ہیں، اُمیدوں اور تمنائوں کا مر کز مانتے ہیں۔

بھارت کے ظالمانہ جبری قبضے سے نجات حا صل کر نے کے لیے وہ پاکستان کی ہر ممکن مدد کو پاکستان کی منصبی ذمہ داری سمجھتے ہیں ۔کیو نکہ پاکستان نہ صرف تنازعہ کشمیر کا فریق بلکہ مغلوب و مجبور قوم کا خیرخواہ ہونے کے ساتھ ساتھ وکیل بھی ہے۔ اس حوالے سے وہ پاکستان سے کسی غیرمستعدی کی اُمید نہیں رکھتے۔کسی ایسے اقدام اور لاپروائی سے پاکستان کے ساتھ بے پناہ عقیدت رکھنے والے کشمیریوں کی د ل آزاری ہوتی ہے جس سے مسئلۂ کشمیر کو زک پہنچتی ہو، جو کشمیریوں کے جذبات سے ہم آہنگ نہ ہو، بے مثال قربا نیوں سے مطابقت نہ رکھتا ہو،اور زمینی حقائق کے بر عکس ہو۔ 

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ تنازعہ کشمیر کو بین الاقوامی رنگ دینے اور اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کو اس میں دخل اندازی کی دعوت دینے میں بھارت نے پہل کی تھی۔ پاک بھارت کے مابین کشمیر پر تنازع اُٹھ کھڑا ہو نے اور آج تک حل نہ ہونے کی بنیادی وجہ جہاں انگریز سامراج کی بھارت کے ساتھ ملی بھگت اور جموں و کشمیر کے فرقہ پرست ڈوگرہ مہاراجا کا سازشیں رچانا ہے،  وہاں پاکستان کی سیاسی عدم حساسیت اور لَیت ولعل پر مبنی پالیسی بھی بنیادی وجہ ہے۔

چو نکہ اصولِ تقسیم کے فارمولے کی رُو سے جموں و کشمیر کا پاکستان کے ساتھ شامل ہونا یقینی تھا اور یہاں کے لوگوں کی غالب اکثریت اس کے حق میں تھی لیکن اس کے با وجود ایسا ہونے نہیں دیا گیا اور بھارت، جموں و کشمیر کا زبردستی ’الحاق‘ اپنے ساتھ کر نے اور اسے اپنی ریاستوں کی فہرست میں شامل کر نے میں کامیاب ہوگیا۔ قائد اعظم نے جموں و کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا جس کے بغیر پاکستان کا وجود نا مکمل ہے۔

کشمیر کو پاکستان کے لیے ’کورا چیک‘(Blank Cheque) کہا گیا تھا، جسے پاکستان جب چاہے وصول کر سکتا ہے اور بھارت چاہے کچھ بھی کرے، زمینی حقائق بہرحال ہر لحا ظ سے پاکستان کے حق میں ہیں ۔ پاکستان اسی زعم میں مبتلا رہ کر کوئی خا طر خو اہ اقدام کر نے سے پس وپیش کر تا رہا اور نتیجتاً وقت گزرنے کے ساتھ آسان اور قابل فہم کشمیر کا معاملہ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا چلاگیا۔ بھارت نت نئے فرضی بہانوں سے وقت گزاری کی اپنی پالیسی پر عمل پیرا رہا ۔ پاکستان مسئلے کی حساسیت سے بے پروا رہ کر محض زبا نی بیانات پر قانع رہا، مگر دوسری جانب بھارت جموں و کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے جان توڑ کو ششوں میں منہمک ہو گیا۔

ایک طرف بھارت نے جموں و کشمیر کے قد آور سیاسی شخصیات کو اپنی جھولی میں ڈالنے کی کامیاب کو ششیں کر ڈالیں، تو وہیں دوسری طرف بھارتی آئین کی توسیع جموں و کشمیر تک کر نے کا  باقاعدہ عمل بھی شروع کر دیا گیا۔ پُرفریب انداز سے بھارتی آئین میں دفعہ ۳۷۰ کی تخلیق کرکے چپکے سے ایسے داؤ کھیلتا رہاکہ ریاست کو بھارتی یو نین کے ساتھ غیر محسوس انداز سے ضم کرنے کی راہیں کھول کر رکھ دیںاور آہستہ آہستہ یہ منصوبہ ا ب اپنے تکمیل کے قریب پہنچتا دکھا ئی دینے لگا ہے۔ بھارتی آئین کی مذکورہ دفعہ بھارت کی طرف سے جمو ں و کشمیر کے لوگوں پرکوئی با رِ احسان یا کوئی فراخ دلانہ تحفہ نہیں تھا، بلکہ یہ بھارت کی طرف سے ایک منصوبہ بنداقدام تھا، جس کی رُو سے بھارت آئینی طور پر جموں وکشمیر کے معاملات میں دخل اندازی کر نے کی پو زیشن میں آگیا ۔ وگر نہ بھارت کے پاس ریاست جمو ں و کشمیر میں کسی بھی قسم کی سیاسی یا اقتصادی دخل اندازی کا کوئی آئینی اور قانونی جوا ز مو جو د نہیں تھا۔ پھر یہاں سے اپنے ہم نوا طالع آزما سیاسی لیڈروں کی وساطت سے جموں و کشمیر کے عوام کو یہ بات باور کرانے میں بھی ایک حد تک کا میاب رہا کہ یہاں کے لوگوں کا پشتی بان اور عزت و وقار کا ضامن بھارتی آئین ہے۔اسی لبادے کی آڑ میں بھارت ریاست کے وسائل اورذخائر پر قابض ہو کر دودوہاتھوںلوٹنے میں لگا ہواہے۔ بھارت کی جانب سے ایک سے بڑھ کر ایک ترکیب اور سازشیں پروان چڑھانے کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔

جموں و کشمیر میں یہ احساس موجود ہے کہ بھارتی جارحانہ عزائم اور وقوع پذیر حالات کے علی الرغم پاکستان محض تما شائی بن کر اس صورتِ حا ل کا مشاہدہ کر تا رہا اور اس نے مدافعانہ پالیسی کے بجاے چپ سادھ لینے میں عافیت جانی۔ زبانی جمع خرچ اور خواب و خیالات کی دھن میں اس مستی کے جواب میں بھارت فائدہ اُٹھا کر تنازعے کی ہیئت بگا ڑنے میں مصروف عمل رہا اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ آگے بڑھتا چلاگیا۔ پاکستان مناسب جوابی اقدام کے بجاے حالات دیکھتا رہا۔

پاکستانی حکمرانوں کی نیم دلانہ پالیسی کا یہ نتیجہ برآمد ہو ا کہ بھارت تنازعہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک عام مسئلے کی سطح پرلاکر اسے باہمی مسئلہ قرار دینے کے اپنے دعوے میں جری ہو تا گیا۔ وہ ببانگ دہل اقوام متحدہ یا دیگر کسی غیر جانب دار ادارے یا ملک کی مداخلت کو گوارا نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ جمو ں وکشمیر کے عوام کے پیدایشی حق خودارادیت کے مطالبے کی ادایگی پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر وعدہ کرنے کے باوجود بھارت اپنے وعدے سے علانیہ مکر گیا ہے ۔ تنازعہ کشمیر پرسلامتی کو نسل کی منظور کردہ قراردادوں کی نفی کرکے انھیں نا قابل عمل قرار دے رہا ہے۔ مقامی انتظا می اُمور کی بجا آوری کے لیے گذشتہ عرصے کے دوران اسمبلی انتخابات کواستصواب راے کا متبادل کہہ کر اسے اپنے حق میں فیصلہ قرار دے رہا ہے۔ ا سی پر اکتفا نہیں بلکہ آگے بڑھ کر اب تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازعہ کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دے رہا ہے اور پاکستان کی جانب سے کشمیرکے مسئلے پر بات کرنے پر اپنے اندرونی معاملے میں دخل اندازی کرنے کا الزام صادر کر دیتا ہے۔

دوسری طرف پاکستان کشمیر کے حوالے سے غیر مستقل پالیسی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ گذشتہ سات دہائیو ں کے عرصے کے دوران بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازعہ کشمیر کے ہوتے ہوئے بھارت کے ساتھ کئی دوطرفہ معاہدوں میں شامل ہو گیا، جس سے مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی نوعیت پر حرف آنے کے دریچے وَا ہوئے ہیں۔ معاہدہ تاشقند اور شملہ سمجھو تہ نامی با ہمی معاہدوں پر دستخط ثبت کرکے پاکستان نے جو پسپائی اختیار کی، اس سے تنازعہ کشمیر متاثر ہو ئے بغیر نہیں رہا۔ اسی طرح پاکستان کی سیاسی قیادت کی طرف سے کئی بار ایسے بیانات سامنے آئے جن سے پاکستانی حکومت کی مسئلہ کشمیر کے تئیں سرد مہری کے واضح آثار دکھائی دیتے تھے۔ کبھی اس کا حل نکالنا آنے والی نسل پرچھوڑنے کی بات کی گئی اور کبھی بھارت کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کو اس پر فوقیت دی گئی۔

اس کے بعد بچی کھچی کسر پاکستا نی فو جی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور حکو مت میں نکال کر رکھ دی گئی۔ پرویز مشرف نے پاکستان کی زمام کار ہاتھ میں لیتے ہی ’سب سے پہلے پاکستان‘ کا نعرہ بلند کیا ۔ وہ بھارت کے ساتھ دوستی کر نے اور پینگیں بڑھانے کے فراق میں پاکستان کی تاریخی پس منظر کی روشنی میں مرتب کی ہوئی کشمیر پالیسی سے منحرف اور پاکستان کے تاریخی اور روایتی موقف سے دست بردار ہوگیا۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے خود ساختہ اور غیر منطقی آوٹ آف بکس چار نکاتی فارمو لہ پیش کیا ۔ مذکورہ فارمولا جموں و کشمیر کے عوام کی اُمنگو ں اور جذبات پر شب خو ن کے مترادف تھا۔

ایک طرف یہ ’جنرل مشرف فارمولا‘ پاکستان کی دیرینہ کشمیر پالیسی سے متصادم تھا، وہیں دوسری طرف اس نا م نہاد فارمولے نے آزادی پسند کشمیریوں میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے۔ نتیجتاً ریاست کی آزادی پسند قیادت انتشار کا شکار ہو گئی۔جموں وکشمیرکے ہند نوازسیاسی لیڈروں کو پاکستان مدعو کر کے ان کے لیے ریڈ کارپٹ بچھائے گئے۔حالاںکہ پاکستانی حکومت اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے کہ ریاست کا یہ ہند نواز طبقہ بھارتی مقبوضہ مشینری کا آلۂ کار ہے جو جموں و کشمیر میںبھارتی قبضے کو مستحکم کر نے اور دوام بخشنے میں ہراول دستے کا کام انجام دے رہا ہے ۔ یہ طبقہ جموں وکشمیرکے لوگوں پر مصائب اورجبر وستم ڈھانے میں بھارتی فورسز کے ساتھ برابر کا شریک رہاہے۔ ریاست میںبھارتی مظالم کا دفاع اور انھیںجواز بخشنے میں پیش پیش چلا آرہا ہے۔ اس کے باوجود جنرل پرویز مشرف کی طرف سے اس کا والہانہ اسقبال کیا گیاجو آزادی پسند کشمیری قوم کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف تھا۔

بھارت کے ساتھ کنٹرول لائن پر جنگ بندی کرکے جنرل پرویز مشرف نے بھارت کو لائن آف کنٹرول پر دیوار تعمیر کرنے اور تاربندی کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی۔ اس طرح سے بھارت، جموں وکشمیر کو منقسم کرنے والی خو نیں عبوری لائن کو نا قابلِ عبور بنا نے میں کا میاب ہو گیا، تاکہ منقسم کشمیری ایک دوسرے کے ساتھ مل نہ سکیں، مشکل اور مجبوری کے حا لات میںمقبوضہ کشمیر کے لوگ آزاد کشمیر میں پناہ نہ لے سکیں ۔ یہ سب کچھ پاکستانی حکو مت کی اجازت سے ہی یقینی ہوسکا ہے۔ بصورت دیگر ایسا کر نا بھارت کے لیے نہ ممکن تھا اور نہ حقوق انسانی اور بین الاقوامی قانون ہی اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ ما ہر قانون و اعلیٰ پایے کے دانش ور حضرات او ر تجزیہ نگاروں کے مطابق ’مشرف فارمولا‘ مسئلے کے حل کے لیے نہیں، بلکہ اس مسئلے کو مٹانے کی کوشش تھی۔

بھارتی ظالموں کا ظلم اپنی جگہ ننگا ناچ، ناچ رہا ہے، لیکن پاکستانی حکمرانوں کی اس متلون مزاجی سے مسئلۂ کشمیر کی قانونی اور اخلاقی بنیادوںکی بیخ کنی ہوتی رہی ہے۔ یوں پاکستان کو مسئلے کے ایک فریق اور مظلوم کشمیریوں کے وکیل ہونے کے اعتبار سے مقدمہ پیش کرنے میں کمزوری در آئی۔ پاکستان کی جانب سے ایسی بے جا لچک دکھانے سے یہاں کشمیر میں یہ تاثر اخذ کیا جانے لگا ہے کہ پاکستان اب مسئلہ کشمیر سے چھٹکارا حا صل کر نے کی کو ششیں کر رہا ہے۔ درآں حالاںکہ وہ اپنے بیانات میں کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھنے کا دعویٰ بھی کررہا ہے۔ دوسری طرف بھارت اپنے موقف کے اندر سخت شدت لا تا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر پر اپنے قبضے کو مضبوط کرنے کے لیے ہمہ جہت نو عیت کے منصوبے تشکیل دے رہا ہے۔

پچھلے ۷۰ برسوں سے با لعموم اور گذشتہ ۲۷ برسوں سے با لخصوص محوِ جدوجہد کشمیریوں کو   تختۂ مشق بنا یا ہواہے ۔ راے عامہ اور عالمی برادری کے سامنے منفی پروپیگنڈا کر کے جموں و کشمیر کی تحریک خو د ارادیت کو بھارت ’دہشت گردی‘ سے منسوب کر نے کی کو ششیں کر رہاہے۔ ایسی  صورتِ حال کے حوالے سے پاکستان کس قدر متفکر ہے اور بھارتی منصوبوں اور پروپیگنڈے کا توڑ کرنے کے لیے کیا کاوشیں کی جارہی ہیں؟ کوئی مناسب، مؤثر اور خیرخواہ اقدام کشمیری ہنوز دیکھنے سے قاصر ہیں۔پھر پاکستان کی کشمیر کمیٹی کا رُخِ کردار’تو ایک ’معمّہ ہے سمجھنے اور سمجھانے کا‘۔

پاکستان کی جانب سے دی گئی ان یک طرفہ رعایتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ محوِ جدو جہد کشمیری قوم پر عذاب و عتاب ڈھانے میں بھارتی حکو مت اور بھارتی فورسز تیز سے تیزتر اور بد سے بدترین ہوتے گئے ۔۱۹۹۰ء سے لے کر اب تک ایک لاکھ سے زائد نہتے کشمیریوں کو بھارتی فورسز کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اُتاردیا گیا ہے۔ یتیموں ، بیواؤںاور نیم بیواؤں کی ایک بڑی تعدا د سسک سسک کر زندگی گزارنے پر مجبور کردی گئی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں گمنام قبریں جموں و کشمیر میں اب تک دریافت کی جا چکی ہیں۔ عزت و عصمت اور جان و مال کی بے مثال قربانی اس عرصے کے دوران اس قوم نے پیش کی ہے۔ اس قوم کے جیالے تختۂ دار کو چوم رہے ہیں اور آج کی تاریخ میں    اب بھارتی قبضے کے خلاف آواز بلند کرنے والے کشمیرکی نو خیز نسل کو بے رحمی سے بینائی سے محروم  کیا جارہا ہے۔ کمسن بچوں سے لے کر عمر رسیدہ بزرگ بلا نا غہ جیلوں کے اندر پابند سلاسل کیے جارہے ہیں۔ بندوق اور توپ تفنگ کا مقابلہ اب نہتے کشمیری درختوں کی ٹہنیاں اور سنگ ریزے  اُٹھا اُٹھا کر کررہے ہیں۔ سینوں پر گو لیاں کھاکھاکر بھارتی جبری قبضے کو للکار رہے ہیں۔

جب ایک طرف کشمیری قوم تحریک آزادی کو منزل مقصود سے ہمکنار کرنے کا عزم لیے میدانِ کارزار میں کو دپڑی ہو ئی ہے اورتحریک آزادی سے کسی بھی حال میں دست بردار ہو نے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں، تو پاکستان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشمیریوں کی ہرممکن مدد کے لیے پوری یکسوئی کے ساتھ سامنے آئے۔ کشمیریوں کو بھارت کی جانب سے درپیش مظا لم اورجارحیت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہ کرے، بلکہ ایک محسن اور لائق وکیل ہو نے کے ناتے مؤثر اقدام کرے۔ پاکستانی عوام ہمیشہ سے کشمیریوں کی پشت پر رہے ہیں اور بیش بہا قربا نیاں پیش کرتے آرہے ہیں۔

پاکستانی عوام اور کشمیریوں کے مابین پیار و عقیدت کا یہ رشتہ اس بات کا متقاضی ہے کہ حکومت پاکستان، تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اپنے اصولی اور تاریخی موقف سے پسپائی اختیار نہ کرے۔ پاکستانی عوام اور کشمیری قوم کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے حکومت پاکستان منظم اور مربوط انداز سے کشمیر کی تحریک آزادی کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اقدام کرے۔ عصرِ حا ضر کے تقاضوں کا ادراک کر کے ہر اُس سعی کو عملی جا مہ پہنایا جا ئے، جو اس سمت میں ممد و معاون ثابت ہو۔ کشمیر کے خونیں میدانِ کارزار سے یہی فلک شگاف آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ یہاں کی عزت مآب مائیں اور بہنیں پاکستان سے یہی امید لگائے ہوئے اپنے لخت ہاے جگر اس راہ میں قربانی کے لیے پیش کر رہی ہیں۔  

پاکستانی حکومت کے ایوانوں میں ہے کوئی یہ پکار سننے والا؟

۲۰کروڑ آبادی کے ساتھ اُتر پردیش بھارت کا سب سے بڑا صوبہ ہے اورتاریخی لحاظ سے بھی یہ بہت اہم ریاست ہے۔ رانی جھانسی کا قلعہ اور تاج محل (آگرہ) کی پُرشکوہ عمارت بھی اسی ریاست میں ہے۔ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، جس کی بنیاد جناب سرسیّداحمد خاں نے رکھی تھی،      اسی صوبے کا معروف نام ہے۔ وارنسی(بنارس) شہر ،جسے برہمنوں کا ’مذہبی دارالحکومت‘ کہا جاتا ہے، اُترپردیش کا حصہ ہے۔ فیض آباد (جہاں مبینہ طور پر رام دیوتا کی پیدایش ہُوئی) اور گورکھ پور جیسے خالصتاً ہندو شہر اسی صوبے کے جزو ہیں جن پر کٹر ہندو قوم پرست فخر کرتے ہیں۔

اب یہ برہمنی رنگ، گورکھ پور کے بڑے مندر کے مہنت یوگی ادیتا ناتھ کی شکل میں   بطور وزیراعلیٰ اُترپردیش، سیاسی اور اقتداری لحاظ سے غالب آ چکا ہے۔ ادیتا ناتھ اور اُن کے کروڑوں چاہنے والوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ ہم اقتدار میں آئے تو بھارت بھر کا ہروہ شہر جو کسی مسلمان نام سے معروف ہے، اُس کا نام تبدیل کر کے ہندو شکل دے دیں گے۔ بی جے پی بھارتی مسلمانوں کے مشہور علمی شہر، دیوبند، کا نیانام ’دیوربند‘ رکھنے کی تجویز اُترپردیش کی صوبائی اسمبلی میں پیش کر چکی ہے۔ وہ تاج محل کا نام بھی تبدیل کرنے کے عزم کا اعلان کر چکے ہیں۔ ادیتا ناتھ نے حالیہ صوبائی انتخابی مہم کے دوران واضح طور پر جگہ جگہ اعلان کیا تھا کہ: ’’اگر مَیں وزیر اعلیٰ بن گیا تو ہمایوں پور کا نام’ہنومان پور‘ اور اسلام پور قصبے کا نام ’ایشور پور‘ رکھ دوں گا‘‘۔ اب اس سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اپنے انتخابی منشور کے مطابق اُتر پردیش کے مسلمانوںکے نام سے منسوب تمام شہروں کے نام تبدیل کرے۔ کیا ایسا کرنا ممکن ہوگا؟

اُترپردیش ایسی بڑی ریاست کے بڑے شہروں کی تعداد ۶۵ہے۔ اِن میں مسلمانوں کے نام سےمنسوب ۱۶ بڑے شہر آباد ہیں جن میں: غازی آباد، الٰہ آباد، علی گڑھ،مراد آباد،فیض آباد، مظفر نگر، شاہجہان پور، فرخ آباد، فتح گڑھ، فتح پور، مغل سراے،غازی پور،سلطان پور،اعظم گڑھ، اکبر پوراورشکوہ آباد شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بھارتی مسلمان، جو اُترپردیش ریاست کی کُل آبادی کا ۲۰ فی صد سے زیادہ ہیں، کیا یہ زیادتی برداشت کریں گے؟ ایک معروف بھارتی نجی ٹی وی کے ٹاک شو’آپ کی عدالت‘ میں ادیتا ناتھ نے اعلان کیا ہے کہ ہندوؤں کا حق ہے کہ ہم اقتدار میں آکر مسلمانوں کے ناموں سے منسوب بھارتی شہروں کے نام تبدیل کردیں، کیوں کہ اب تاریخ بدلنے کاوقت آگیا ہے‘‘۔

اُترپردیش کے یہ زعفرانی وزیر اعلیٰ، بی جے پی اور انتہاپسند آر ایس ایس کے اُن مقتدر ہندو سیاست دانوں میں سے ایک ہیں، جو بھارت میں اسلام کی تبلیغ پر بھی پابندی عائد کرنے کے حامی ہیں اور کہتے ہیں کہ: ’’بھارتی مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو مذہب اختیار کرلینا چاہیے‘‘۔  اس کوشش اور’اپیل‘ کو وہ ’گھر واپسی‘ کا نام دیتے ہیں۔ ادیتا ناتھ نے اَب تک بھارت کے ۱۸۰۰ عیسائیوں کو ہندو بنانے کا دعویٰ کیا ہے ۔مسلمانوں سے نفرت اور دنگے کے بیوپاری اُترپردیش کے یہ نئے وزیر اعلیٰ مسلمانوں کے خلاف تشدد کو اپنا حق سمجھتے اور ایسا کہتے اور کرتے ہُوئے ذرا بھی حیا محسوس نہیں کرتے ، حالاںکہ وہ خود کو ’سنیاسی‘ بھی کہتے ہیں۔

ایک بھارتی نجی ٹی وی کے پروگرام میں جب ادیتاناتھ سے پوچھا گیا کہ: ’’سنیاسی ہو کر خوں ریزی، تشدداور مسلمانوں کے خلاف فساد کی بات کیوں کرتے ہو؟ تو تُرت جواب دیا: ’’مَیں سنیاسی ہو کر ہروقت مالا بھی رکھتا ہُوں اور بھالا(خنجر)بھی‘‘۔ موصوف نے زعفرانی لباس پہننے والے سیکڑوں جوگیوں کی ایک نجی فوج بھی بنا رکھی ہے، جن کے پاس ہمیشہ تیز دھار بھالے ہوتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بن کر بھی ادیتا ناتھ کو اپنے اُن نفرت آگیں بیانات پر کچھ شرم محسوس نہیں ہوتی، جب اس نے کہا تھا:’’ اگر کسی مسلمان لڑکے نے کسی ہندو لڑکی سے شادی کی تو ہم ۱۰۰مسلمان لڑکیوں کو اُٹھا لائیں گے۔ اگر کسی ایک بھارتی مسلمان نے کسی ہندو کا قتل کیا تو ہم قتل کا مقدمہ  نہیں درج کروائیں گے بلکہ خود بدلہ لینے کے لیے ایک ہندو کے بدلے میں ۱۰ مسلمانوں کا قتل کریں گے‘‘۔ نئے وزیراعلیٰ نے یہ بھی اعلان کر رکھا ہے کہ: ’’اقتدار میں آکر ہم اُترپردیش کی  تمام مساجد میں اپنی دیوی اور دیوتاؤں کے بُت بھی رکھیں گے‘‘۔

بھارتی مسلمانوں کے خلاف ادیتا ناتھ کی نفرت انگیز مہم کو بی جے پی کے صدر امِت شا  کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے۔ دونوں کے گٹھ جوڑ ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ حالیہ اُترپردیش(یوپی) کے انتخابات میںکسی ایک بھی مسلمان امیدوار کو بی جے پی نے پارٹی ٹکٹ نہیں دیا۔ اور جب  اس بارے امِت شا سے پوچھا گیا تو جواب میں کہا:’’ اُتر پردیش میں ہمیں کوئی موزوں مسلمان امیدوار ملا ہی نہیں‘‘۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ’آل انڈیا مجلسِ مشاورت‘ کے سابق صدر، ظفرالاسلام خان [ملّی گزٹ کے ایڈیٹر]، نے ٹھیک ہی کہا :’’ بی جے پی نے یو پی میں مسلمان امیدواروں کی نفی کی ہے۔ جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ بی جے پی نے نفرت کی فتح حاصل کی ہے‘‘۔

اُتر پردیش اسمبلی میں کُل ۴۰۳نشستوں میں سے بی جے پی نے ۳۱۲جیتی ہیں، جب کہ مجموعی طور پر کامیاب مسلمان امیدواروں کی تعداد۲۴ہے۔ یو پی میںمسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے یہ تعداد اصولی طور پر۱۰۰ہونی چاہیے تھی (یاد رہے ۲۰۱۲ء میں جیتنے والے مسلمان اُمیدواروں کی تعداد۶۹تھی)۔ ان ۲۴ کامیاب مسلمان اُمیدواروں میں ۱۷سماج وادی پارٹی، ۵ کانگرس اور ۲ بھوجن سماج پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ تعداد بھی نریندر مودی، اِمت شا اور ادیتاناتھ سے برداشت نہیں ہو رہی ہے؛ چنانچہ چند روز قبل راجیہ سبھا(بھارتی سینٹ) میں ایک کٹر ہندو رکن، ایم رامیش نے کہا ہے کہ: ’’بھارت میں مسلمانوں کی تعداد میں تشویش ناک اضافہ ہورہاہے، ہمیں آن دی ریکارڈ بتایا جائے کہ ہر بھارتی صوبے میں مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے؟‘‘اور جب رامیش کو بتایا گیا: ’’بھارت کے کُل ۶۷۵ضلعوں میں۸۶ضلعے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی تعداد ۲۰فی صد سے زائد، اور ان ۸۶ضلعوں میں ۱۹ضلعے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی تعداد۵۰فی صد سے زائد ہے‘‘ تو رامیش کے منہ سے بے اختیار نکلا:’’ اوہ، یہ تو بہت بڑھ گئے ہیں‘‘۔

حالیہ انتخابات سے قبل عالمی شہرت یافتہ ماہرینِ معیشت کی پیش گوئی تھی کہ نریندر مودی نے بھارت میں جن خطرناک معاشی پالیسیوں کا اجرا کر رکھا ہے، اِن کی بنیاد پر وہ یہ انتخابات جیت نہیں سکیں گے لیکن بی جے پی ۴۷ سیٹوں سے اُٹھ کر ۳۱۲ سیٹوں پر آگئی۔

آخر ہوا کیا کہ بی جے پی اور مودی کے خلاف پیش گوئیاں کرنے والے سارے تجزیہ نگار چِت ہو گئے؟ دراصل نریندر مودی اور بی جے پی قیادت نے ایک خاص انتخابی حکمت عملی کے تحت زیادہ تر ٹکٹ اُن لوگوں کو دیے جو بدمعاش ، بھتہ خور، قاتل،جرائم پیشہ ، سزا یافتہ اور بھاری کالے دھن کے مالکان تھے۔ انھی لوگوں نے ماردھاڑ، اپنی دہشت، کالے دھن اور مجرمانہ سرگرمیوں کو بروے کار لا کر اُترپردیش کا الیکشن بھاری اکثریت سے جیتا ہے۔ یہ محض ہمارا الزام یا تعصب نہیں ہے بلکہ بھارتی میڈیا بھی اِس کی گواہی دیتے ہوئے نشان دہی کر رہا ہے۔بھارت کے ایک ممتاز انگریزی اخبارنے اپنے صفحہ اوّل کی سٹوری میں بتایا ہے کہ اُترپردیش کے تازہ ترین انتخابات میں رگھوراج پرتاپ سنگھ ،راجا بھائیا، امنمانی ترپاٹھی،  وجے مشرا،سوشیل سنگھ ایسے درجنوں لوگ جیت کر سامنے آئے ہیں، جن پر قتل، بھتہ خوری، اغوا کار ی ایسے سنگین جرائم کے ارتکاب کے نہ صرف الزامات ہیں، بلکہ اُن میں سے بیش تر کا سیاسی پس منظر بھی یہی ہے۔

ایسے لوگ بھی اُترپردیش اسمبلی کے رکن بن گئے ہیں،جو خوفناک جرائم کے تحت مختلف جیلوں میں قید تھے لیکن اُنھیں خصوصی طور پر پیرول پر رہا کیا گیا، تاکہ وہ الیکشن لڑسکیں۔ قاتل امنمانی ترپاٹھی نے تو جیل میں بیٹھ کر الیکشن میں کامیابی حاصل کی۔ قتل کے الزام میں قید راجا بھائیانے اپنے سیاسی حریف ،جانکی سرن، کو ایک لاکھ سے زائد ووٹوں سے ہرایا ہے۔ ریاست اُترپردیش کے حالیہ انتخابات میں ایک مشہور گینگسٹرسوشیل سنگھ نے بی جے پی کے ٹکٹ پر اپنے سیاسی حریف، شیام نرائن سنگھ کو شکست دی ہے۔وجے مشرا نامی ایک ایسا شخص جس کی غنڈا گردی اور بھتہ خوری کے چرچے اُتر پردیش کے ہربڑے شہر میں ہیں، یہ بھی ریاستی اسمبلی کا رکن بن گیا ہے۔ بی جے پی کی ایک رکن، سنجو دیوی، قتل کے الزام میں جیل میں ہے، وہ بھی جیت گئی ہیں۔ بی جے پی کی ایک اور مشہور لیڈر نیلم کرواریا، جو لڑائی مار کٹائی میں بہت شہرت رکھتی ہے، بھی بھاری ووٹوں سے جیتی ہیں۔

بی جے پی کے کئی سزا یافتہ مجرم ، جو اس وقت اُتر پردیش کی مختلف جیلوں میں قید ہیں، خود اگر تازہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے تو اُن کی بیویوں نے اُن کی جگہ الیکشن لڑا ہے۔ مثال کے طور پرسنجیو مہیشواڑی، پریم سنگھ عرف مُنا بجرنگی اور ڈی پی یادیو۔ یہ لوگ خود تو مظفر نگر اور تہاڑ جیل میں مختلف سنگین جرائم کے تحت سزائیں کاٹ رہے ہیں، اُن کی جگہ اُن کی بیویوں نے الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئیں۔

اتنے بھاری مینڈیٹ سے جیتنے کا ایک سبب انڈین ایکسپریس کی ممتاز تجزیہ نگار، سروتھی رادھا کرشن، نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:’’ بی جے پی نے دولت مند اور طاقت ور افراد کو زیادہ تر ٹکٹ دیے تھے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ یو پی کے حالیہ انتخابات میں بی جے پی کے جو لوگ جیت کر سامنے آئے ہیں، اُن میں ۸۰فی صد کروڑ پتی ہیں‘‘۔ حیرت مگر اس بات پر ہے کہ مذکورہ جرائم پیشہ افراد کے رکن اسمبلی بننے کے باوجود مغرب کی ’مہذب دنیا‘ میں کسی کو بھارتی جمہوریت پر کوئی اعتراض نہیں ہے!  حتیٰ کہ سی این این ایسے بظاہر وقیع امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے اپنے تبصرے میں اُترپردیش میں بی جے پی کی تازہ کامیابی کو ’جمہوری دنیا کے لیے قابلِ فخر اور قابلِ تقلید‘ قرار دے ڈالا ہے۔ ہم توحیران ہُوئے ہی ہیں، خود بھارتی غیرجانب دار میڈیانے بھی سی این این کے اس تبصرے پر سخت حیرانی کا اظہار کیا ہے!

بھارتی انتخابی نتائج اور مسلم فکرمندی

سیّد سعادت اللہ حسینی o

مسلمانوں نے بالعموم اور ہندستانی مسلمانوں نے بالخصوص اپنی حالیہ تاریخ میں خود کو سب سے زیادہ نقصان اپنی جذباتیت سے پہنچایا ہے۔ جذباتیت صرف تشدد کا نام نہیں ہے ، بلکہ بسااوقات بغیر سوچے سمجھے کیے جانے والے پُرامن اقدامات بھی جذباتیت کا حصہ بن جاتے ہیں، جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے بعض صورتوں میں سخت مہلک ہوسکتے ہیں۔ یہ شدتِ جذباتیت ہی ہے جو بعض پر انتہاپسندی کا بخار طاری کردیتی ہے اور بعض پر مایوسی و قنوطیت مسلط کردیتی ہے۔ اسی شدت کی وجہ سے ہم اپنے پسندیدہ لوگوں کی خرابیوں کو نہیں دیکھ پاتے اور ناپسندیدہ لوگوں کی خوبیوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اسی شدت کی وجہ سے ہم دنیا اور اس کی ہرچیز کو سیاہ اور سفید کے انتہائی خانوں میں بانٹ دیتے ہیں اور خاکستری (Grey) کا اندازہ نہیں کرپاتے۔ اسی شدت کے نتیجے میں بھارتی اکثریتی طبقے کے ذہن اور جذبات کو نہیں سمجھ پاتے اور نہ اس سے رابطہ کاری (communication) کی راہیں تلاش کرپاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ملّت ِ اسلامیہ ہند میں عوامی جذبات آگے ہیں اور قیادت پیچھے، بلکہ صحافت اور دانش وری کا کام بھی صرف عوامی جذبات کی ترجمانی تک ہی محدود ہوکر رہ گیا ہے۔

حالیہ انتخابی نتائج کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل کا جو طوفان اُمڈ آیا ہے، وہ اسی نفسیات کا مظہر ہے۔ کوئی یوپی کے مسلمانوں کو کوس رہا ہے کہ انھوں نے ’’بہار کے مسلمانوں کی طرح دانش مندی کا مظاہرہ نہیں کیا‘‘، تو کسی نے یہ نتیجہ نکال لیا ہے کہ: ’’مسلمان تباہی گوارا کرتے ہیں، لیکن اتحاد پسند نہیں کرتے‘‘۔ کوئی ایک قدم آگے بڑھ کر مسلم سیاسی جماعتوں کو بی جے پی کا ایجنٹ ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے، اور کسی کے خیال میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی سیاسی جماعت کو چھوڑ کر ’غیروں‘ کو ووٹ دیا۔ غرض یہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔

شدید ردعمل کی عمر بہت کم ہوتی ہے۔ چند دنوں تک جذبات کی آندھیاں چلتی ہیں، پھر حالات معمول پر آجاتے ہیں۔ شدتِ جذبات کی اوجِ ثریا سے کمالِ سکون کے تحت الثریٰ تک کا  یہ طویل سفر بس چند گھنٹوں میں مکمل ہوجاتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمارا یہی اجتماعی احتجاجی مزاج ہمارے بہت سے مسائل کی جڑ ہے۔ وہ مزاج جو واقعات کے صرف انتہائی سُروں ہی کو سن پاتا ہے۔ جو اُمیدیں وابستہ کرنے میں بھی فراخ دل ہوتا ہے اور مایوس ہونے میں بھی دیر نہیں لگاتا۔ جو ہرکوشش کا نتیجہ فوری دیکھنا چاہتا ہے۔ ایسا مزاج اور ذوق، اصلاحِ احوال کی سنجیدہ، دھیمی اور طویل المیعاد کوششوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

واقعہ یہ ہے کہ نہ یوپی کے مسلمانوں نے کوئی غیرمعمولی غلطی کی ہے اور نہ جو کچھ ہوا ہے، وہ کوئی بڑی تباہ کن آفت ہے۔ واقعات کو ہمیں اس کے اصلی رنگ میں اور درست تناسب میں دیکھنا چاہیے۔ یہی معقول رویہ ہے۔ بہار میں اتحاد مسلمانوں کا نہیں، بلکہ سیکولر جماعتوں کاہوا تھا۔ یوپی کی سیاست میں ایسا اتحاد ممکن نہیں ہوسکا، اور اس پر مسلمانوں کا کوئی بس نہیں تھا۔ مسلمانوں نے کبھی متحد ہوکر ووٹ نہیں دیا۔ ذات پات اور سیاسی جماعتوں کی تقسیم ہمیشہ رہی ہے۔ اس بار عام مسلمانوں نے معقولیت کے ساتھ ووٹ دینے کی ہرممکن کوشش کی۔کئی مسلم سیاسی جماعتوں نے حالات کو دیکھ کر خود کو انتخابی معرکے سے دُور رکھا۔ یہ خود ایک غیرمعمولی بات ہے، اور اس سے پہلے کسی صوبے میں ایسا نہیں ہوا۔ جن مسلم جماعتوں نے ان حالات میں بھی انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا، مسلمانوں نے عام طور پر انھیں لائقِ اعتنا نہیں سمجھا، جیساکہ ووٹوں کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ پہلے غیرمسلم ووٹ منقسم رہتے تھے، اس دفعہ وہ متحد ہوگئے۔ متحد کیوں ہوئے؟ اس کی وجوہ کئی ہیں۔ فرقہ پرست طاقتوں کا وفادار ووٹ بنک تو موجود ہے ہی۔ مسلمانوں کی جذباتی تقریریں، مذکورہ بالا قسم کے سوشل میڈیا پوسٹ، مسلم قائدین کی بے محل اور بے فیض اپیلیں، اُردو میڈیا کا شورشرابہ وغیرہ، فرقہ پرستوں کے وہ کارگر ہتھیار ہیں، جو مخلص مسلمانوں کے سادہ لوح ہاتھوں کے ذریعے پوری قوت سے استعمال ہوتے ہیں۔ انھوں نے منفی نتائج بخشنے کا کام خوب کیا۔ پھر بہت سے درمیانی ووٹرز بھی پلٹ گئے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی ایک قابلِ ذکر آبادی ایسی ہے، جو فرقہ پرست نہیں ہے، لیکن فرقہ پرستی کا خاتمہ اس کا سب سے بڑا ایجنڈا بھی نہیں ہے۔ وہ متبادل، حوصلہ مند، نسبتاً زیادہ دیانت دار اور محنتی حکمران چاہتے ہیں ، اور اپنی سوچ کے مطابق موجودہ وزیراعظم میں انھیں یہ خوبیاں دکھائی دیں اور انھوں نے دوسروں پر انھیں ترجیح دی۔

ذات پات اور طبقات میں بٹے ہوئے اس معاشرے کو کوئی طاقت ور مشترک خواب، کوئی مشترک اُمید اور کوئی نہایت حرکیاتی مشترک قیادت ہی متحد کرسکتی ہے۔ جوں ہی ملک کی بڑی آبادی کو یہ چیز میسر آئی، تو ذات پات کی دیواریں گرنے لگیں۔ مسلمانوں کو میسر آئے گی تو وہ بھی متحد ہوجائیں گے۔ ایسے کسی مشترکہ وژن اور متحدہ قیادت کے بغیر یہ اُمید کرنا کہ ہرمسلمان غیبی الہام کے ذریعے کسی ایک امیدوار کو متحد ہوکر ووٹ دے گا، خام خیالی ہے۔ بڑے سے بڑا تجزیہ نگار بھی بی جے پی کی مدمقابل پارٹی کی انتخابی پوزیشن کا اندازہ نہیں بتا سکتا تھا ،تو ایسے میں ایک عام مسلمان صحیح اندازہ کرکے ووٹ کیسے دیتا؟

رہی بی جے پی کے پردے میں آر ایس ایس کی جیت، تو اس کی بنیاد پر مسلمانوں کو خواہ مخواہ احساسِ شکست کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ نہ بی جے پی نے پہلی بار کسی ریاست میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور نہ یوپی میں پہلی بار کسی کو اتنی سیٹیں ملی ہیں۔ یہ صرف ایک سیاسی پارٹی نہیں ہے، بلکہ ایک نظریاتی تحریک ہے۔ یہ تحریک ایک عرصے سے اس ملک میں سرگرم ہے اور بہت پہلے   اس نے طاقت کے بہت سے مراکز پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔

آزادی سے قبل اور فوری بعد، خود کانگریس کا ایک بڑا طبقہ اسی نظریے کی سیاسی نمایندگی کرتا تھا۔ اسی طبقے کی انتہاپسندانہ اور عدم رواداری کی سوچ کے نتیجے میں تقسیم ہند کا عمل تیز تر ہوا۔اسی طبقے نے فسادات کو ہندستان کی تاریخ کا مستقل حصہ بنایا۔ اسی نے منظم طریقے سے اُردو زبان کی جڑیں کاٹیں۔ جگہ جگہ مسجد مندر کے مصنوعی تنازعے پیدا کیے۔ پولیس اور انتظامیہ میں تعصب کا زہر پھیلایا۔ وقتی اور جذباتی مسائل میں مسلمانوں کو اُلجھایا۔ ان کی قیادتوں کو کمزور کیا۔ یاد رہے بھارت کا حقیقی اقتدار اصلاً بہت پہلے سے اسی طبقے کے کنٹرول میں ہے۔ اس لیے محض بی جے پی کے جیت جانے سے کسی بہت بڑے ’انقلاب‘ کا امکان نہیں ہے۔ انقلاب کا عمل آزادی کے بعد ہی سے جاری ہے۔ آزادی کے فوری بعد جس مقام پر کانگریس کھڑی تھی، اُس مقام پر   آج بی جے پی کھڑی ہے۔ اُس وقت کانگریس کا ایک طبقہ مسلم دشمن تھا، آج بی جے پی کا ایک طبقہ مسلم دشمن ہے۔ اُس وقت وہ مقبول جماعت تھی اور آج یہ ہے۔ اُس وقت کانگریس میں لبرل اور  انصاف پسند لوگ بھی تھے اور آج بی جے پی میں بھی ہیں (اگرچہ تعداد اور تناسب میں یہ کم زیادہ ہوسکتے ہیں)۔ ان فرقہ پرست قوتوں کو یقینا ہارنا چاہیے تھا، لیکن اگر وہ نہیں ہاریں تو ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں پر کوئی بالکل نئی اور غیرمتوقع قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔

اصل قابلِ توجہ چیز اس ملک کے عوام کا ذہن ہے۔ خاص طور پر اس ملک کی نئی نسل اور تعلیم یافتہ نوجوان کیا سوچ رہے ہیں؟ یہ اصل مسئلہ ہے۔ اگر ذہن مثبت ہے تو بی جے پی بھی کوئی غیرمعمولی کام نہیں کرپائے گی اور کچھ کرے گی تو ٹک نہیں پائے گی، اور اگر ملک کا اجتماعی ذہن منفی ہے تو سیکولر جماعتیں بھی مسلمانوں کی طرف داری کا خطرہ مول لے کر ’خودکشی‘ کا راستہ نہیں اختیار کریں گی۔ اَمرِواقعہ ہے کہ ان نتائج کے باوجود غیرمسلم اکثریت میں بدترین تعصب نہیں پایا جاتا۔ لیکن اب ذہن تیزی سے مسموم ہوتے جارہے ہیں اور ان کا بروقت نوٹس لینا ضروری ہے۔

کرنے کا اصل کام پہلے بھی یہ تھا اور آج بھی یہ ہےکہ ہم مسلمان ملک کی اکثریت کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار کریں۔ ان کی غلط فہمیاں اور ان کے غلط شبہات اور اندیشے دُور کریں۔ پوری خوداعتمادی کے ساتھ دعوتِ دین کا فریضہ انجام دیں اور اس دعوت کی عملی شہادت بھی دیں۔ انھیں دین اسلام کے بارے میں بھی بتائیں اور اپنے عمل سے بھی خود کو خیرخواہ ثابت کریں۔ قوموں نے انبیاے علیہم السلام کی مخالفت ضرور کی ہے، لیکن کسی نبیؑ کو ان کی قوم نے اپنا بدخواہ نہیں سمجھا۔ دعوت کے آغاز سے پہلے ہرنبیؑ کا امیج اپنی قوم میں ایک مخلص اور خیرخواہ فرد کا تھا۔ ہمارا ایسا امیج کا   نہ ہونا دعوت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے اور ہمارے بہت سے مسائل کی جڑ بھی۔ یہاں کی آبادی سے خیرخواہی کا تعلق قائم کرنا اور اسے منوانا، اس وقت ہماری اصل ترجیح ہونی چاہیے۔

سیاسی سطح پر بڑی ضرورت بیدارمغز سیاسی قیادت کے اُبھرنے کی ہے۔ مسلمانوں کی سیاسی و ملّی جماعتیں مل بیٹھ کر مشترکہ سیاسی قوت کو اُبھاریں۔ یاد رہے خود مسلم فرقہ پرستی ۱۰گنا زیادہ طاقت ور ہندو فرقہ پرستی پیدا کرتی ہے۔ اس لیے ہماری سیاست کو فرقہ پرست اور مسلم قوم پرست رنگ کے بجاے اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں اصول پسند اور انصاف پسند سیاست کا رنگ اختیار کرنا چاہیے۔

یہ خیال بھی صحیح نہیں ہے کہ ہرجگہ انتخابات میں حصہ لینا ضروری ہے۔ ملک کے اکثر مقامات پر غیرانتخابی سیاسی اثراندازی کی حکمت ِ عملی ہی کامیاب ہوسکتی ہے۔کہیں کہیں محدود پیمانے پر صرف مسلمانوں کی نہیں، بلکہ تمام طبقات کی نمایندگی کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ بھی لیا جاسکتا ہے، لیکن زیادہ تر ہماری قیادت کو سیاسی جماعتوں سے گفت و شنید اور مصالحت و معاہدات ، ووٹرز کی صحیح رہ نمائی کرنا اور منتخب نمایندوں سے کام کرانا جیسے عمل ہی کرنے ہوں گے۔ ایسی مشترکہ اور دانش مند قیادت اُبھرتی ہے تو وہ بی جے پی سے بھی بہت سے مفید کام کراسکتی ہے، اور ایسی قیادت کے بغیر من موہن سنگھ جیسے وزیراعظم کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود ’سچرکمیٹی‘ جیسے متعدد فیصلے بھی ۱۰برس بعد بے اثر رہ جاتے ہیں۔