ہمارے معاشرے میں ناخواندگی کے بادل چھٹتے جارہے ہیں، علم کا نور بہ تدریج پھیل رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ چھوٹی عمر سے بچوں کا تعلیمی ادارے سے تعلق ہے۔ اب تین سال کے بچے کو نرسری اور کے جی کی راہ دکھائی جانے لگی ہے۔ اس کے برعکس مساجد میں چھوٹے بچوں کے ساتھ رویّہ عام مسلمان اور علما سب کے لیے قابلِ غور ہے۔
رسول کریمؐ کی ہدایت کے تحت تلقین کی جاتی ہے کہ ’’سات سال کے بچے کو مسجد میں نماز کے لیے لائو‘‘۔ کہا جاتا ہے کہ ۱۱ سال کے بچے کو مسجد میں ضرور لایا جائے۔ اگر بچہ آنے میں پس و پیش کرے تو اس پر سختی کی جائے، اس میں مارپیٹ کی اجازت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو انگلی پکڑے مساجد کی طرف لے جایا کرتے تھے۔ یہ رواج نمازِ جمعہ اور عیدین میں خصوصیت کے ساتھ دیکھنے میں آتا رہا۔ عام نمازوں میں والدین بچوں کو لانے سے ہچکچاتے ہیں۔ لیکن اگر کچھ نمازی بچوں کو مسجد میں لے آئیں تو انھیں بعض اوقات شرمندگی اُٹھانا پڑتی ہے۔ فرض نماز کی ادایگی کے فوری بعد ان بچوں کی سرزنش اور پھر بچوں کے والدین کی شناخت کے بعد ان کو بھی ایسی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ بچوں کو کیوں لائے؟
بچوں کو مسجد میں لانے اور ان کی شرارت کی بنا پر جس شرمندگی کا احساس والدین یا دیگر بزرگوں کو ہوتا ہے اس کی وجہ ہمیشہ خود بچے نہیں ہوتے۔ کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ بچے تو بڑے اہتمام کے ساتھ صف بناتے اور نماز کی ادایگی میں مصروف ہوتے ہیں مگر چند بچے اس موقع پر شرارت پر اُتر آتے ہیں۔ یوں دھکا دینے، کچھ پوچھنے یا مختلف اشارے کرنے کی بنا پر بچے ہنسنے یا دیگر مشاغل میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بچے صف بنائے بڑی تنظیم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کوئی بڑا آیا اور اس نے بچوں کو سب سے پیچھے کی طرف دھکیل کر خود اس کی جگہ سنبھال لی۔ اس وجہ سے بھی وہ تمام اخلاقی تلقین اور تربیت کو فراموش کرکے شرارت پر اُتر آتے ہیں۔
مفتی عبدالرئوف سکھروی لکھتے ہیں:’’ بچوں کی صف کا مردوں کی صف کے پیچھے ہونا سنت ہے۔ لہٰذا جب جماعت کا وقت ہو اور بچے حاضر ہوں تو پہلے مرد اپنی صفیں بنائیں پھر ان کے بعد بچے اپنی صفیں بنائیں۔ پھر اس ترتیب سے جماعت قائم ہوجانے کے بعد اگر بعد میں کچھ مرد حاضر ہوں تو اوّل وہ مردوں کی صفوں کو مکمل کریں، اگر وہ پوری ہوچکی ہوں تو پھر بچوں کی صف ہی میں دائیں بائیں شامل ہوجائیں، بچوں کو پیچھے نہ ہٹائیں، کیونکہ بچے اپنے صحیح مقام پر کھڑے ہیں۔ مردوں اور بچوں کی مذکورہ ترتیب جماعت کے شروع میں ہے۔ نماز شروع ہوجانے کے بعد نہیں۔‘‘ (صف بندی کے آداب، مکتبہ الاسلام، کراچی، ص۳۱)۔مفتی عبدالرؤف بچوں کو مردوں کی صفوں کے درمیان شامل کرنے کی گنجایش بھی پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:’’ اگر بچے تربیت یافتہ نہ ہوں اور دورانِ نماز شرارتیں کریں جس سے اپنی نماز کو باطل کرنے یا ان کے کسی طرزِعمل اور شرارت سے مردوں کی نماز باطل ہوجانے کا قوی اندیشہ ہو تو پھر ان کی علیحدہ صف نہ بنائی جائے، بلکہ ان کو منتشر اور متفرق طور پر مردوں کی صفوں میں کھڑا کرنا چاہیے۔ بہتر ہوگا کہ ان بچوں کو صف میں انتہائی بائیں جانب یا داہنی جانب متفرق طور پر کھڑا کیا جائے تاکہ وہ نماز میں کوئی شرارت کرکے اپنی یا دوسروں کی نماز برباد کرنے کا ذریعہ نہ بنیں۔ ایسی صورت میں مردوں کی صفوں میں ان کے کھڑے ہونے سے مردوں کی نماز میں کوئی کراہت نہ آئے گی۔‘‘(ایضاً، ص۳۲)
ہمارے معاشرے میں یہ رویہ فروغ پا رہا ہے کہ اکثر بڑے اپنے بچوں کو مسجد میں لانے سے ہچکچاتے ہیں کہ کہیں ان کی شرارت کی وجہ سے خجالت اور شرمندگی کا سامنا نہ ہو۔ اس طرح بچوں کی تربیت نہیں ہوپارہی۔ ساتھ ہی مسجد میں بچوں کی عدم موجودگی بھی خصوصیت سے محسوس ہوتی ہے۔ کسی بھی کام کی عادت بچپن ہی سے پڑا کرتی ہے۔ اگر بچپن ہی سے بچوں کو مسجد میں لایا جائے گا تو بتدریج وہ نماز کی ادایگی سیکھ جائیںگے۔ گھر میں رہ کر ان کی تربیت ایک حد تک تو ہوسکتی ہے مگر آدابِ نماز مسجد آکر سیکھے جاسکیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ اپنے بچے یا چھوٹے بھائی کو اپنے ساتھ لائیں اور ابتدائی طور پر اپنے برابر میں کھڑا کریں۔ ساتھ ہی اسے یہ احساس بھی دلائیں کہ مسجد اللہ کا گھر ہے، یہاں شرارت کرنا بے ادبی اور گناہ ہے۔ اس طرح اُمید ہے کہ بچہ آپ کی قربت کے پیش نظر بھی خیال رکھے گا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں اور وہ شرارت سے بچنے کی کوشش کرے گا۔ پھر بھی اس سے اگر کوئی لغزش ہوجائے تو اُسے سب کے سامنے ڈانٹنے اور بے عزت کرنے کے بجاے بڑے آرام اور تحمل سے سمجھائیں۔ اس طرح اس کی اصلاح بھی ہوگی اور اُسے حوصلہ بھی ملے گا، یوں وہ کامل مسلمان بن جائے گا۔
مسجد اور بچوں کا تعلق ہمیشہ سے ہے۔ خود نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسوں حضرت امام حسنؓ و حسینؓ کو مسجد میں لاتے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ واقعہ دیکھیے: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے۔ اسی اثنا میں حسنؓ اور حسینؓ آئے، انھوں نے سرخ رنگ کی قمیص پہنی ہوئی تھیں اور وہ چلتے ہوئے لڑکھڑا رہے تھے تو رسولؐ اللہ فرطِ محبت سے منبر سے نیچے تشریف لائے اور ان دونوں کو اُٹھا لیا اور اپنے سامنے بٹھا دیا۔ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: تمھارے لیے مال اور اولاد فتنہ (آزمایش) ہیں۔ جب میں نے ان دونوں بچوں کوچلتے اور لڑکھڑاتے ہوئے دیکھا تو میں صبر نہیں کرسکا، یہاں تک کہ مجھے اپنی بات ختم کرنا پڑی اور ان دونوں کو اُٹھا لیا۔(رحمت ہی رحمت، تالیف: شیخ عطاء اللہ بن عبدالغفار، ترجمہ: مولانا امیر الدین مہر، اسلامک ریسرچ اکیڈمی، کراچی، ص۵۵)
دورانِ نماز بچوں کی موجودگی کے حوالے سے یہ روایت خصوصی اہمیت کی حامل ہے ۔ حضرت عبداللہ بن شداد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ظہر یا عصر میں سے کسی نماز کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپؐ حسنؓ یا حسینؓ کو اُٹھائے ہوئے تھے۔ آپؐ نے اس کو آگے کر کے بٹھا دیا اور نماز کے لیے تکبیر کہہ کر نماز شروع کی۔ پھر جب سجدہ کیا تو آپؐ نے اپنی نماز کے درمیان سجدے کو طویل کیا۔ میرے والد کہتے ہیں کہ میں نے اپنا سر اُٹھاکر دیکھا تو رسولؐ اللہ سجدے کی حالت میں ہیں اور بچہ آپؐ کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر میں واپس سجدے میں چلا گیا۔ پھر جب رسولؐ اللہ نے نماز پوری کی تو لوگوں نے کہا: یارسولؐ اللہ! آپؐ نے اپنی نماز کے درمیان سجدہ اتنا طویل کیا ، یہاں تک کہ ہمیںگمان ہوا کہ کوئی معاملہ درپیش ہے یا پھر آپؐ کی طرف وحی کی جارہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ان میں سے کوئی بات نہ تھی لیکن میرا بیٹا میرے اُوپر سوار تھا اور مجھے یہ بات ناپسند لگی کہ میں اس کے لیے عجلت کروں یہاں تک کہ وہ اپنی (کھیلنے کی) ضرورت پوری کرلے۔(ایضاً، ص ۵۸)
حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی روایت ہے کہ میں نے حسن بن علیؓ کو دیکھا کہ وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے، جب کہ آپؐ سجدے میں ہوتے تو آپؐ کی پیٹھ پر سوار ہوجاتے۔ آپؐ انھیں اُتارتے نہیں تھے، جب تک وہ خود نہیں اُتر جاتے، اور وہ آتے اور آپؐ رکوع کررہے ہوتے تو اپنے دونوںپیروں کو پھیلا دیتے اور وہ دوسری طرف نکل جاتے۔(ایضاً، ص ۵۹)
کوئی ایسی روایت نہیں ملتی جس کے ذریعے یہ ثابت ہوکہ نبی مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسنؓ و حسینؓ کے اوقاتِ نماز میں مسجد آنے پر ناراض ہوئے ہوں اور اپنی لختِ جگر سیدہ فاطمۃ زہراؓ سے کبھی یہ کہا ہو کہ بچے مسجد میں نماز کے دوران کیوں جاتے ہیں یا روکنے کی ہدایت کی ہو۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ سیدنا حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کا جو زمانہ پایا، اس میں ان کی عمریں محض چند سال تھیں۔
بچوں کے حوالے سے مختصر نماز پڑھنے کا بھی حکم ہے تاکہ بچوں کے رونے سے ان کی ماں یا دیگر نمازیوں کا دھیان بٹنے کا امکان کم رہے۔ حضرت ابوقتادہؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں تو چاہتا ہوں کہ نماز طویل کروں۔ پھر بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اپنی نماز اس ڈر سے مختصر کرتا ہوں کہ اس کی ماں کے لیے تکلیف کا سبب نہ بن جائے۔
خانۂ کعبہ اور مسجد نبویؐ میں بچوں کو ساتھ لانے کا عام رواج ہے۔ تقریباً تمام ہی نمازوں میں ناسمجھ اور سمجھ دار ہردو قسم کے بچے ہوتے ہیں اور ان مقاماتِ مقدسہ پر کثیرتعداد کے پیش نظر یہ اہتمام بھی نہیں ہوپاتا کہ مردوں کی صفوں کے بعد بچوں کی صف بنائی جائے، بلکہ بچوں کو اپنے ساتھ کھڑا رکھنے کا رواج ہے۔ خود میں نے دیکھا کہ مغرب کی نماز کے دوران بیت اللہ اور پہلی صف کے درمیان بچے بھاگتے دوڑتے رہے۔ مجھے خدشہ ہوا کہ نماز کے بعد ان بچوں کو بُری طرح ڈانٹا یا پیٹا جائے گا مگر یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ نماز کے بعد بچوں کو ان کے والدین نے بڑے پیار سے چوما اور اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اسی طرح مسجد نبویؐ میں بھی ہوا اور جب میرے خدشے کے پیشِ نظر بچوں کی سرزنش نہ ہوئی تو میں نے مدینہ میں مقیم اپنے ایک عزیز سے استفسار کیا کہ ہمارے یہاں تو والدین خود اور دیگر نمازی بچوں پر برس پڑتے ہیں۔ مگر یہاں بچوں کو ڈانٹنا تو کجا، انھیں پیار کرنے اور چومنے کی کیا وجہ ہے؟ وہ بولے: اچھا ہوا تم نے اس پورے معاملے کو خاموشی سے دیکھا۔ اگر کہیں غلطی سے بچوں کو ڈانٹ دیتے یا ان کے والدین سے شکایت کرتے تو لوگ تم پر برس پڑتے۔ کیونکہ یہ عام خیال ہے کہ مسجد نبویؐ پر بچوں کا حق سب سے زیادہ ہے۔ اگر وہ نادانی میں بھاگیں دوڑیں، شرارت کریں یا نمازیوں کی پیٹھ پر چڑھ جائیں تو کوئی حرج اور کراہیت کی بات نہیں۔ کیونکہ حضرت امام حسنؓ و حسینؓ بھی مسجد میں بھاگتے دوڑتے آتے اور منبر تک چلے جاتے تھے۔
ہمارے معاشرے میں بچوں اور مسجد کے تعلق کے درمیان ایک خلیج حائل کردی گئی ہے۔ اگر کوئی اپنے بچے کو ساتھ لے آئے اور برابر میں کھڑا کرے تو دوسرے اعتراض کرتے ہیں۔ اگر بچے پیچھے نماز پڑھ رہے ہوں تو دورانِ نماز چند بچوں کی شرارت پر سب بچوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہوئے بُرا بھلا کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی اپنے بچے کی حمایت کرے تو اُسے بھی آڑے ہاتھوں لیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بچے مسجد میں آنے سے کتراتے ہیں۔ یوں مساجد بچوں سے غیرآباد ہوتی جارہی ہیں۔
اب ذرا اپنے گردوپیش پر نظر کیجیے۔ ہماری اکثر مساجد کے گرد دکانیں ہوتی ہیں۔ ایک اسلامی معاشرہ ہونے کے باوجود دکان دار اور قریبی مکین مسجد کے تقدس سے ناآشنا ہیں۔ موسیقی، گانے اور اشیاے ضروریہ بیچنے والوں کی صدائیں، ان سب سے بڑھ کر قریب سے گزرنے والی گاڑیوں کا شور اور بلاوجہ ہارن کا استعمال___ ان مواقع پر مسجد میں موجود نمازی کیا کرتے ہیں؟ محض ان اُمور کو نظرانداز کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ کسی کی مجال نہیں کہ دکان دار یا صاحب ِ مکاں کو کچھ کہہ سکے۔ ہاں، اگر غصہ آتا ہے تو ان معصوم بچوں پر جو اپنے والدین کے ہمراہ خوشی خوشی مسجد میں آتے ہیں اور ابھی آدابِ نماز اور احترامِ مسجد سے واقف نہیں۔ اس لیے دورانِ نماز بچے گلیوں میں کھیلنے یا گھروں میں ٹی وی دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ عمل اسلامی معاشرے کی تیاری کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ آیئے! غور کریں ہم کس طرح بچوں کو مسجد میں لاکر ان کی بہتر تربیت کرسکتے ہیں۔
مرزا محمد الیاس نے ارقم آفاق پرنٹر، بلال گنج سے چھپوا کر اچھرہ، لاہور سے شائع کیا۔
اولاد ماں باپ کے پاس اللہ تعالیٰ کی ایک امانت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس لطیف، خوب صورت، زند گی سے بھرپور اور معصوم نعمت کے حصو ل کے لیے پیغمبروں نے بھی اپنی اپنی التجا اللہ رب العزت کے سا منے دعا کی صورت میں رکھی۔ حضرت زکریا ؑ نے صالح اولاد کے لیے دعا فر ما ئی جو سورئہ آل عمران میں اس طرح مو جو د ہے: رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآئِ (اٰل عمران ۳:۳۸)،’’اے میر ے ر ب ! مجھے اپنے پا س سے پا کیز ہ اولا د عطا فر مابے شک تو دعا سننے والا ہے‘‘۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان الفاظ میں اپنے رب کو پکارا: رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَo (الصافات۳۷:۱۰۰)،’’اے میرے رب مجھے ایک صالح(لڑکا )عطا فرما‘‘۔ حضرت ابراہیم ؑ کی یہ دعا ایک پاک باز ، نیک و صالح اور امام امت کے لیے دعا تھی۔ حضرت اسماعیل ؑ کی فرماںبرداری ، اللہ کی اطاعت اور قربانی کا جذبہ ایک ایسا نشان راہ ہے جو اُمت ِمسلمہ کے لیے اپنی اولادوںکی تربیت کے لیے مثالی نمونہ ہے۔
بچوں کی تربیت کا کا م والدین کی اصل ذمہ داری ہے۔ قرآن میں ارشا د ہے کہ: یایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا (التحریم۶۶:۶)، ’’اے ایمان والو! بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو (جہنم کی) آگ سے‘‘۔ بچوں سے متعلق منصوبے بنا نا اور ان کے مستقبل کے لیے تگ و دو کرنا ایک فطر ی عمل ہے۔ ہر ما ں با پ کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے کامیابی و کامرانی کے ساتھ نمایاںمقا م حاصل کر یں۔ تاہم، صرف دنیاوی کا میابی کا تصور اس کوشش ، جدوجہد اور ساری مساعی کو صرف اس فانی دنیا تک محدود کر دیتا ہے، جب کہ دنیا کی کامیابی وکامرانی بھی غیر یقینی ہوتی ہے۔ مو من کی اپنی ذات کا ایک ایک لمحہ اللہ رب العزت کی خوشنودی کے لیے وقف ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کے اولا د سے متعلق منصوبے اور خواہشات بھی اللہ کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے ہوتے ہیں۔ دنیا کی محدود کامیابی کے بر عکس اللہ تعالیٰ اپنے بند و ں کو جہا ں کامیابی کا ایک وسیع تصور دیتا ہے، وہاں کامیابی کے ہمیشگی کے تصور کو سمجھنے کے لیے ایک خاص ذہنی بلوغت کا بھی مطالبہ کرتا ہے جس کا تعلق ایمان کی دولت اور خوف خدا رکھنے والے سے دل ہے۔ کامیا بی کا یہ تصور جو قرآ ن میں جا بجا موجود ہے تربیت اولا دکا ایک اہم جزو ہے۔ عصر حاضر میں جب طاغوتی قوتوں کی سربراہی میں ہر طرف امت مسلمہ کے لیے فتنہ و فساد برپا کررکھا ہے وہاں نسلِ نو کی اسلا می نہج پر تربیت ایک ایسی اہم ذمہ داری ہے جس کا احساس ہنگامی بنیادوں پر کرنا ضروری ہے۔ اسلامی تاریخ ہما رے سامنے حضرت علی ؓ ، معا ذ ؓ و معوذؓ ، معصب بن عمیر ؓ جیسے نوعمر صحابہ کرام ؓکی مثالیں رکھتی ہے۔ دوسری طرف بہادر، جری نوعمر محمد بن قاسم جیسا سپہ سالار بھی اسی تاریخ کا حصہ ہے جو اپنی نوجو انی کے دور میں ہی اسلامی تاریخ میں اَنمٹ نقوش چھوڑگئے۔ آج اس عمر کو کھیل کود کے دن کہہ کر ضائع کرنے کی ترغیب دی جا تی ہے اور یو ں امت مسلمہ کا ایک گراں قدر سرمایہ اس مادی دنیا کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے جس کا حاصل سوائے خسارے کے کچھ نہیں ہے۔
بد قسمتی سے جس قدر ابتدائی عمر کو تربیتی حوالے سے اہمیت حاصل ہے اسی قدر اس عمر کو نظرانداز کیا جا تا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق بچوں کی شخصیت کی تعمیر کا ۸۰ فی صد ابتدائی چھے سال کی عمر میں مکمل ہوجاتا ہے۔ باقی پوری زندگی اسی چھے سالہ تربیت کے محاسن کا عکس ہوتی ہے۔ اس عمر میں مزاج ، عادتیں اور ذوق و شوق کو جس طرف لے جایا جائے گا اسی طرف بچے کا رحجان ہوجاتاہے۔ اس عمر میں عادت بنانا آسان بھی ہے اور ضروری بھی۔ اسلام اصلاح کا جو فطری طریقہ بتاتا ہے وہ بھی عادت پر ہی منحصر ہے۔ اسلا م میں چھوٹے بچوں کی تربیت کے لیے تلقین کے ساتھ ساتھ عادت ڈالوانے کا فطری طریقہ اختیار کرنے کو کہا گیا ہے۔ ابتدائی عمر میں بچے کی سیکھنے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ امام غزالی کے مطابق اس عمر کا بچہ ایک پاک و نفیس موتی کی مانند ہوتا ہے، لہٰذا اسے خیر کا عادی بنایا جائے تو وہ اسی میں نشوونما پائے گا۔ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو فطرتاً سلیم الطبع اور توحید پر پید ا ہوتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ اللہ کی اس فطر ت کا اتبا ع کرو جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہو ئی فطرت میں تبدیلی نہیں (الروم ۳۰:۳۰)۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ :ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پید ا ہوتا ہے بھر اس کے والدین یا اسے یہودی بناتے ہیں یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں (مسلم)۔ گویا ماحول بچے کی پاکیزہ فطرت کو پراگندہ کرتا ہے، لہٰذا بچے کے لیے اردگرد کے افراد اور ماحول دونوںکا اسلامی حوالوں سے پاکیزہ ہونا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ شخصیت پر موروثی اثرات سے زیادہ ماحول کی تربیت کا اثر پڑتا ہے۔ کہا جا تا ہے عادتیں صرف ۳۰ فی صد مورثی اور باقی ۷۰ فی صد ماحول سے بنتی ہیں۔
بچے کی تربیت کا پہلو یو ں تو بہت ہمہ گیر اور وسیع ہے لیکن اس کا اہم جز تصورِ حیا ہے۔ اس مضمون میں اسی پہلو کی طرف والدین اور مربی کی توجہ مبذول کروانا مقصود ہے تاکہ اسلامی معاشرے کی کمزور ہوتی اقدار کی طرف ہماری توجہ ہو۔
اسلام میں تصورِ حیا شخصیت کا ایک اہم جز ہے اور بنیادی اخلاقی صفت ہے۔ ارشاد رسولؐ پاک ہے کہ: ’’ہردین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور ہمارے دین کا ممتاز اخلاق شرم کرناہے۔ بچے کی اخلاقی تربیت کا ایک اہم عنصر تصورِ حیا ہے۔ معاشرے کی مضبوطی ایسے اخلاق و کردار کے لوگوں سے وابستہ ہے جن کا کردار شرم وحیا کا پیکر ہو۔ جب پورا معاشرہ بے حیائی اور فحش مناظر سے بھرا پڑا ہو، چاروں طرف بے ہودہ ہورڈنگز، فحش رسالوں، اخبارات ، پوسٹروں کی بھرمار ہو اور سٹرکوں، گھروں، مجالس اور محافل پر شیطانیت کی یلغار ہو، لوگوں کی گفتگو حتیٰ کہ موبائل فون پر بھیجے جانے والے پیغامات تک بھی فحش گوئی کے چنگل میں گرفتار ہوں___ ایسے میں بچوں میں تصورِ حیا پیدا کرنا اور ابتدا ہی سے بچوں کے مزاج کا حصہ بنا دینا والدین و مربی کا اہم فرض ہے۔ حیا کے تصور کو مزاج کا حصہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ’احتیاطی تدابیرـ‘ اور پرہیزگاری کا اصول اپنایا جائے تاکہ بے حیائی کے قریب پائی جانے والی چیزوں سے بھی بچاجاسکے۔ بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے حیا کا احساس دیں۔
بچہ جب پیا ر ے اور اچھے الفاظ بولتا ہے تو کتنا پیا را لگتا ہے۔ اگر اسے صا ف ستھرے اور بھلے الفا ظ سکھا ئے جائیںتو کتنا بھلا معلوم ہوگا۔ لیکن یہی ننھی ننھی زبانیں گالم گلوچ، بے ہودہ گانے ، ٹی وی اور فلموں کے لچر مکالموں کو ادا کرنے لگیں تو سماعت پر انتہائی گراں گزرتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ الفاظ جو معصومیت اور نا سمجھی میں ادا ہوتے ہیں بچوں کی گفتگو کا حصہ بن جا تے ہیں، اور ان کو ایسی بے ہودہ گفتگو میں لطف آنے لگتا ہے۔ عام طو ر پر نومولود بچوں سے پانچ سال تک کے بچوں کے بارے میں یہ سوچ کر کہ یہ بچے ناسمجھ ہیں ہر طرح کی بات، فحش گوئی ، لچر مذاق، اور دوسری بداخلاقیاں بغیر کسی شرم و حیا کے کرنا عار نہیں سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ تما م باتیں ننھے سے ذہن میں بیٹھ جاتی ہیں اور رفتہ رفتہ شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ یوں تصورِ حیا پر جو کاری ضرب پڑ تی ہے وہ ابتدا ہی سے بچے کو بے حیائی کی ترغیب دے کر بے باک بننے پر اُکساتی ہے۔
زبان کو پاکیزہ رکھنے کے لیے غیر اخلاقی گفتگو، ناشائستہ الفاظ، گالی گلوچ، غیبت و جھوٹ سے بچنا بہت اہم ہے۔ حدیث ہے کہ ’’انسان کوئی بات کرتا ہے اور اسے اتنا معمولی سمجھتا ہے کہ اسے کہنے میں کوئی حرج نظر نہیں آتا مگر درحقیقت وہ بد ی ہوتی ہے ، جس کے بدلے وہ ۷۰برس کی راہ تک آگ میں گر جائے گا۔ (ترمذی)۔ فضول گوئی کے علاوہ بچوں کو زبان کی آلودگی سے بچانا ہی دراصل زبان کو پاکیزہ بنانا ہے۔ زبان زدعام الفاظ بچہ سیکھتا ہی اپنے ماحول سے ہے۔ گھر کے بڑوں کی زبانوں پر بداخلاقی ، بے ہودگی اور فحش گوئی بچے کو اس گندگی سے بے نیاز کردے گی۔ یوں بچہ ایسی ہی زبان کا عادی ہو جائے گا۔
شعور کی عمر آنے پر لڑ کے اور لڑکیوں کو یہ بتانا بھی بہت ضروری ہے کہ خواتین مردوں سے اور مرد خواتین سے میٹھے ، پیارے ، لوچ دار لہجے میں بات نہ کریں۔ جب بچے اپنے ماں ، باپ، یا دیگر رشتہ داروں کو دیکھتے ہیں کہ خواہ مخواہ ہی امی کی آواز بازار میں دکان داروں کے ساتھ انتہائی مٹھاس والی ہوجا تی ہے یا ابوجان ضرورتاً بھی کسی خاتون سے بات کرتے وقت بناوٹی تمیز اور شائستگی کی مٹھاس گھول لیتے ہیں، تو نوعمر ذہن اس تبدیلیِ لہجہ اور الفاظ کو اپنا کر دوسروں کو متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاق کا حصہ بھی سمجھتا ہے۔ اسی لیے جب کبھی کو ئی ایسا موقع آئے جہاں بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی خریداری یا کسی مرد و عورت ملازمہ سے بات کا مظاہر ہ کرنا ہو تو بالخصوص اس بات کی تا کید کردی جائے کہ دکان دار کو اپنے مطلب کی چیز نکلوانے کے لیے اٹھلانا اور لاڈ دکھانا کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ ڈرائیور، ملازم، دکان دار، اساتذہ سے بات کرنے کا شائستہ طریقہ سکھانا اور مناسب لہجہ جس سے کسی بھی قسم کی دلی بیماری اور بدنیتی کا شائبہ نہ رہے ، حیا کا اہم جز ہے جس کی تاکید قرآن میں سورۂ احزاب میں کی گئی ہے: ’’اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو‘‘ (۳۳:۳۲)۔ بلوغت کے بعد اس قرآنی آیت پر عمل کرنا اسی وقت آسان ہو گا جب بچپن سے اس کی عاد ت ہوگی۔ اسی لیے ایسی گفتگو جو ایمانی حالت کو تباہ کرنے کا باعث بنے اور شیطانی اثرات رکھتی ہو اس سے بچنا اور بچانا ایک مسلسل تربیت کا تقاضا کرتا ہے۔
لباس اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے اور حیا کے مظاہر میں سے ایک مظاہرہ لباس سے بھی ہوتا ہے۔ اس ضمن میں چھوٹے بچوں کے ساتھ عام طور پر بے حد لاپروائی اختیار کی جاتی ہے۔ بچوں کے کپڑے تبدیل کرنا، نہلانا، ڈایپر بد لنا جیسے تمام کام بعض اوقات لوگوں کی موجودگی میں کیے جاتے ہیں جس میں بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کی موجودگی بھی نظرانداز کر دی جاتی ہے۔ بعض گھرانوں میں بچوں کو کپڑوں سے بے نیاز کرکے آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اسی طرح چھوٹے بچوں کو مکمل برہنہ کرکے ایک ساتھ غسل کرنے کو بھی عار نہیں سمجھاجاتا ہے۔ بچیوں کو بچپن میں بغیر آستین اور کھلے گلے کی فراک و قمیص یا ٹانگیں کھلی رکھنے کو ایک عام فعل خیال کیا جاتا ہے۔ فقہا لکھتے ہیں کہ: چار سال سے کم عمر کا بچہ چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی، اس کا جسم ستر کے حکم میں نہیں۔ پھر جب وہ چار سال سے زیادہ کا ہو جائے تو اس کامستور جسم شرم گاہ اور اس کے اطراف ہیں، بالغ ہونے پر ستر بالغ افراد کی طرح ہوگا۔ تاہم، بچے کو بچپن ہی سے پردے کا جتنا عادی بنایا جائے اتنا ہی اچھا ہے (اسلام اور تربیت اولاد ، شیخ عبداللہ ناصح علوان، ص۷۱۵)۔ لہٰذا کپڑے تبدیل کرتے وقت ایسی جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے جہاں کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔ بعدازاں جب بچے اپنا لباس خود تبدیل کرنے کے عادی ہو جائیں تو ان کو بھی یہی ہدایت کرنی چائیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ستر دکھانے والے اور یکھنے والے کو اللہ اپنی رحمت سے دُور رکھیں‘‘( شعب الایمان ۶؍۲۶۱ سنن بیہقی ۸؍۹۹)
اگر ابتدا ہی سے بچوں کو اپنے جسم کو چھپانے اور اس کی حفاظت کرنے کی عادت نہیں ڈالوئی جاتی تو بچے بچپن ہی سے بے حیا اور بد نگاہ ہو جاتے ہیں۔ جن بچوں کو ہم اپنے شوق پورے کرنے کے لیے مغربی طر ز کے ایسے لباس پہناتے ہیں جن میں ابتدا ء ہی سے ایک معصوم بچے کا تاثرہونے کے بجا ئے حیا باختہ لڑکی یا لڑکے کا تصور پنہا ں ہوتا ہے وہ دیکھنے والوں کو بھی اس معصوم کے اندر بچوں والی معصومیت کے بجاے لڑکا یا لڑکی تلا ش کرنے کا موقع دیتا ہے۔ آئے دن اخبارات میں دل دہلا دینے والی خبریں آتی ہیں کہ درندہ صفت لوگ چھوٹی بچیوں کو بھی اپنی ہوس کا نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے۔ حیا کی پرورش اسی وقت ہی ممکن ہے جب اس کو بچے کے ننھے سے دل میں پروان چڑھنے کا موقع دیا جا ئے۔ فطری حیا کو ختم کرنے کے بجاے اس کو ابھارا جائے تاکہ حیا بچے کی شخصیت کا لازمی جز بن جائے۔ لہٰذا بچوں میں ایسے مردوخواتین جن کے لباس حیا سے عاری ہوں دیکھنے پر، اس لباس سے نفرت اور نا پسندید گی کاجذبہ بیدار کیا جائے۔ ایسی گڑیاں (خصوصاً باربی) جن کے لباس اسلامی لباس کے لحاظ سے مناسب نہیں ہوتے، نہ دلائی جائیں، اور بچوں کو اس کی وجہ بھی بیان کی جا ئے کہ اس کا لباس اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نہیں ہے۔
حاکم اور ابوداود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’تمھارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انھیں نماز کا حکم دو،اور جب ۱۰ سال کے ہوجائیں تو ان کو مارو، اور ان کے بستر علیحدہ علیحد ہ کردو۔ اس نص سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ والدین شرعاً اس بات پر مامور ہیں کہ بچے جب ۱۰سال کے ہوجائیں تو ان کے بستر الگ کر دیے جائیں تاکہ ایک ساتھ لیٹنے کی وجہ سے کہیں ایسا نہ ہو کہ بلوغت کی عمر تک پہنچنے پر کبھی شیطان غالب آجائے اور ان کے جذبات کو شیطانی رنگ دے دے۔ اسی طرح خلوت کا ماحول فراہم کرنا جس میں کزن آپس میں بے تکلفانہ ماحول میں موجود ہوں ، یا ایسے انداز و اطوار کا خیال نہ کرنا جس میں نامحرم رشتہ دار بچوں سے زیادہ بے تکلف نہ ہوں ، مستقبل کے مفاسد کا راستہ آسان کرتا ہے۔ احتیاط علاج سے بہتر ہے کا اصول اپنایا جائے تو ابتدا ہی سے ایک ایسا مزاج ڈھالا جا سکتا ہے جو اسلامی حدود کی پابندی کرنے والا ہوگا۔ ورنہ ایک خاص عمر میں پہنچ کر زور زبردستی کرنے سے بچے میں بغاوت، چڑچڑاپن پیدا ہوجاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو قیدی تصور کرتا ہے۔
بچے کی نیک صالح تربیت کے لیے اسلام ان تمام محرکات کا بھی قلع قمع کرتا ہے جو جذبات کو مشتعل کرنے اور نفس کو غالب کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
کارٹونز کے نام پر عجیب الخلقت کرداروں سے مانوس کروانا ، ان کو ہیرو کے طور پر پیش کرنا اور پھر غیر معمولی طاقت کا مالک دکھانا بچے کے ذہن کو اللہ کی طاقت اور واحدانیت کے تصورسے خالی کر دیتا ہے۔ بچے کی نظر میں جب کارٹونز کے یہ مناظر گزرتے ہیں کہ ایک ہیرو بے پنا ہ طاقت کا مالک ہے ، ناقابل شکست ہے ، اس کو موت نہیں آتی ہے ، تو اس کے ذہن میں کیا تصویر بنے گی، اس کا اندازہ کرنا ذرا بھی مشکل نہیں۔ بچپن ہی سے روپے پیسوں کا لالچ اور مادیت پرستی کا تصور دے کر ایسے شیطانی ذہن تیار کرنا جو بعد میں دجالی قوتوں کے ہی زیر اثر رہیں آج کے میڈیا کا کام ہے۔ فلم ، سنیما، سب اسی کی شاخیں ہیں، تاہم ٹی وی کی رسائی آج ہر گھر میں ہو چکی ہے اور اس کے زہر سے کوئی محفوظ نہیں، لہٰذا اس کی ہولناکی سے واقفیت خاص طور پر ضروری ہے۔ ٹی وی اسکرین کے سامنے وقت گزرنے کا ایمانی نقصان تو یہ ہے ہی کہ پوری شخصیت کی تعمیر اسی نہج پر ہوجاتی ہے جیسا شیطانی قوتوں کا مقصد ہے۔ تاہم، اس کے ضمنی اثرات میں بچے کے ذہن کا یکسوئی سے محروم ہوجانا، تعلیمی سرگرمیوں سے بددل رہنا اوردور بھاگنا، مطالعے کے شوق و ذوق کا پیدا نہ ہونا، ہروقت غیر سنجیدہ رہنا، اور hyperactivity بھی شامل ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کے ساتھ دوستی کی جا ئے ان کو اپنا صدقہ جاریہ سمجھا جا ئے اور ان کے لیے اپنے اوقات کا ر کو ترتیب دیا جا ئے جس میں والدین اور بچوں کا آپس میں تعلق بنے نہ کہ سارا رشتہ تعلقات کی بنیاد پر چلتا رہے۔ اردگرد نظر دوڑائی جا ئے تو والدین اور بچوں کے درمیان صرف تعلقات کا رشتہ ہوتا ہے جس میں کو ئی رمقِ تعلق کی نہیں ہوتی۔ بچپن میں والدین اپنی ذمہ داری یہی سمجھتے ہیں کہ اچھا کھانا، بہترین لباس، اور تعلیمی سہولیا ت مہیا کرکے ان کی ذمہ داریاں پوری ہو گئیں ہیں اور بڑھاپے میں یہی فصل اپنے بچوں کے ہاتھوں کاٹ کا ٹ کر کھا تے ہیں جس میں بچوں کو بھی یہی تربیت ہوتی ہے کہ والدین کی خدمت اسی مادی حد تک محدود ہے۔ اپنے بچوں کی دل کی باتوں کو سننے کی عادت ڈالیں۔ ان کے روزمرہ کے کاموں کو ان کی زبانی سنیں ، جس میں ان کے اسکول، کالج کا احوال ان کے دوستوں کی روداد، ان کی احمقانہ حرکتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ غلط اور ناپسندیدہ باتوں پر فوری طور پر ردعمل ظاہر کرنے کے بجاے مناسب وقت میں اس کی اصلاح کی جائے۔ یہ وہ عوامل ہیں جن سے والدین اور بچوں میں دوستی کا رشتہ قائم ہوتا ہے۔ عمر کے نازک دور میں بچے اپنے والدین سے چھپ چھپ کر جو سرگرمیاں اختیار کر تے ہیں، اس کی آدھی سے زیادہ وجہ والدین کی اپنے بچوں سے ذہنی لحاظ سے دوری ہوتی ہے۔ بے جا سختی ،ہر وقت لعن طعن ، حد سے بڑ ھا ہو ا پیا ر و محبت بچوں کو بگا ڑنے کا سبب بنتا ہے۔ تعلق ہی رشتے کو قائم بھی رکھتا ہے اور مضبو ط بھی لہٰذا اپنے بچوں سے تعلق قائم کیجیے کیو ں کہ بچے آپ کی آخرت میں نجات کا با عث بھی ہیں، اور اُمت کا سرمایہ بھی۔
مقالہ نگار عثمان پبلک اسکول، شمالی ناظم آباد، کراچی میں معلمہ ہیں،
ہر عبادت انسانی زندگی میں ایک تغیر پیدا کرنا چاہتی ہے۔ جس عبادت کو بھی اس کی اصل روح کے ساتھ ادا کیا جائے گا، عابد کے سامنے وہ اپنا یہ مطالبہ رکھے گی۔ نماز کا سب سے پہلا مطالبہ نمازی سے یہ ہوتا ہے کہ وہ ہروقت اللہ کو یاد رکھے، ہرقدم پر اس کے حکموں پر نگاہ رکھے، اور ہرحکم پر نماز کے رکوع و سجود کی مشق کا اعادہ کرتا چلا جائے۔ اگر نمازی نماز کے پورے حقوق کی رعایت اور اس کے مطالبہ کے شعور ساتھ پابندی سے نماز ادا کرتا ہے تو نماز اُس سے اپنا مطالبہ پورا کرلیتی ہے اور اس کی زندگی میں ایک عظیم تغیر رونما ہوجاتا ہے۔ روزہ، روزہ دار میں صبر وتقویٰ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اگر پورے رمضان کے روزے اس مطالبہ کے گہرے دھیان کے ساتھ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مطابق ادا کیے جائیں تو روزہ داران اعلیٰ صفات کا حامل ہوسکتا ہے۔
حج، جو کہ ایک بڑے درجے کی عبادت ہے اور نماز، روزے کے مقابلے میں مشکل اور مہنگی عبادت ہے، حاجی کی زندگی میں ایک بڑے تغیر کا مطالبہ کرتی ہے۔ نماز روزے کی طرح اگر اس کے اعمال و ارکان کو بھی اس کی اصلی روح، یعنی عشق و محبت کی والہانہ کیفیات، اور اس کے تقاضوں اور مطالبات کے پورے شعور کے ساتھ ادا کیا جائے تو حج کے بعد حاجی کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوجانا لازمی ہے۔ لیکن جس طرح ہماری دوسری عبادات کا حال یہ ہے کہ وہ ان دو اہم شرطوں کے مفقود ہونے کی وجہ سے شجر بے ثمر بنی ہوئی ہیں، عام طور پر حج کا حال بھی یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ حج و زیارت سے مشرف ہونے کے بعد بھی ہمارے حجاج کی زندگی میں کوئی خاص تغیر اور انقلاب رونما نہیں ہوتا، الا ماشاء اللّٰہ۔
حج کے ایک ایک عمل کو دیکھیے اور ان اعمال کی ساری فہرست پر نظر ڈال جایئے۔ پوری فہرست عاشقانہ اور مجنونانہ ادائوں کا مجموعہ نظر آئے گی۔ کفن جیسا لباس، لبیک لبیک کا مجنونانہ شور، کعبہ کے اردگرد والہانہ طواف، حجرِ اسود کو بڑھ بڑھ کے چومنا، چومنے کا موقع نہ ملے تو محبت کی نظر اور ہاتھ کے اشارے سے اپنی حسرت کا اظہار کردینا، صفا و مروہ کے درمیان سعی، عرفہ کا وقوف، بال بکھرے ہوئے، جسم غبارِ راہ سے اَٹا ہوا، اور رہ رہ کے وہی ایک لبیک لبیک کی رٹ___ گویا یہ عبادت عبد و معبود کے درمیان علاقۂ عشق کا مظہرِاتم ہے، ورنہ یہ ادائیں عشق کے سوا اور کس مذہب میں جائز ہیں، اور خود احادیث سے اس عبادت کی یہ خصوصیت ظاہر ہوتی ہے۔
ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے: الحج ، الحج، والحج ، حج (تلبیہ کے مجنونانہ اور والہانہ) شور، اور قربانیوں کا خون بہانے کا نام ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے: الحاجُّ الشَعِثُ التَفِل، سچا حاجی وہ مست ہے جسے اپنی کچھ خبر نہ ہو، بال بکھرے ہوئے، اور لباس و جسم پر میل چڑھا ہوا۔ حاجی کے اسی حالِ بے حالی کو دیکھ کر باری تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں: اُنظروا الٰی زوار بیتی قد جاء نی شُعثًا غُبرًا ___ میرے دیوانوں کی مستی کا عالم تو دیکھو، میرے در پہ کس شان سے آئے ہیں کہ، نہ بالوں کے بکھرنے کی خبر ہے، نہ جسم کے گردوغبار کا ہوش!
اگران عاشقانہ افعال اور مجنونانہ وضع کے ساتھ حاجی کے دل میں کسی قدر گرمیِ عشق بھی موجود ہو اور ساتھ ہی دماغ کو کچھ بیدار رکھ کر وہ اس پر بھی غور کرتا جائے کہ حج کا ہرہر عمل اُس سے کیا مطالبہ کر رہا ہے، تو بہت واضح طور پر چند مطالبات اس کے سامنے آئیں گے۔ گھربار اور اہل و عیال کو چھوڑ کے اس کا اللہ کے لیے نکل پڑنا، اور پھر جسم سے کپڑے تک اُتار کے کفن جیسا لباس پہن لینا، اور اپنے ظاہر و باطن کو سب سے کاٹ کر لبیک لبیک پکارتے ہوئے مطلق عبدیت کا اعلان کرنا، اس سے مطالبہ کرے گا کہ وہ حضرت ابراہیم ؑکی طرح اپنے بارے میں یہ فیصلہ کرے، کہ:
اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ج وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَo (انعام ۶:۱۶۲-۱۶۳)، میری نماز اور میری قربانی میری موت اور میری زندگانی سب اللہ وحدہٗ لاشریک کے لیے ہے، مجھے یہی حکم ملا ہے، اور میرا کام تعمیلِ حکم ہے۔
اگر یہ فیصلہ نہیں ہے تو پھر اس احرام اور اس تلبیہ کے کیا معنی ہیں جس میں اللہ کی لاشریک اُلوہیت، ربوبیت اور حاکمیت کا اقرار اور اس کی مطلق طاعت و بندگی کے لیے عاجزانہ اور نیازمندانہ حاضری کا اعلان ہے۔
پھر مکۂ معظمہ پہنچ کر ’اللہ کے گھر‘ کا طواف کرتے وقت وہ اگر سوچے گا تو وہ صاف طور پر اس عمل کایہ تقاضا محسوس کرے گا کہ اس گھروالے کی محبت اور اطاعت کو ہر دوسری چیز کی محبت اور اطاعت پر غالب ہوجانا چاہیے، اور اس کی رضاطلبی کی فکر دوسری ہر چیز کی رضاطلبی سے مقدم ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ اس کا گھربار، مال و اولاد اور اقارب و احباب کو چھوڑ کر اتنی دُور آنا اور بلاکسی دنیوی مقصد و منفعت کے آنا، پھر سر سے پائوں تک مجنونوں اور سائلوں کی سی صورت بنانا، پھر مستانہ وار وحدہٗ لاشریک کے نام کا راگ الاپنا، پھر اس کے گھر کو دیکھ کر دیوانہ وار اس کے اردگرد چکر لگانا، ایک نہیں دو نہیں، ایک ایک مرتبہ میں سات سات چکر لگانا، پھر ایک دن نہیں روز روز اور ہر روز باربار کا یہی مشغلہ، اس کی دیواروں سے لپٹنا، رونا، گڑگڑانا، اور مجسم صورتِ سوال بن جانا___ یہ تو اسی بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ گھر جس کی تجلّی گاہ ہے، وہ سب سے بڑا محبوب اور سب سے برتر مطاع ہے، اور اسی کی رضا اس قابل ہے کہ اس کی جستجو میں بندے کے پاے فکروعمل کو ہر دم سرگرداں اور طواف کناں رہنا چاہیے۔
طواف کے بعد صفا و مروہ کی سعی کا نمبر آتا ہے، اس کے متعلق معلوم ہے کہ اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑکی زوجہ محترمہ حضرت ہاجرہؓ اپنے ننھے سے صاحبزادے حضرت اسماعیل ؑکے لیے پانی کی تلاش میں دوڑتی تھیں اور پھر صاحبزادے کی تنہائی کے خیال سے واپس ہوجاتی تھیں۔ ان کی یہ سعی اسی جگہ ہوئی تھی، بس ان کی سعی کی یادگار کے طور پر اللہ تعالیٰ نے حجاج کے لیے یہ سعی مقرر فرما دی ہے۔ ظاہر ہے کہ نہ تو اس عمل کا تعلق عشقِ خداوندی سے ہے، اور نہ بظاہر کوئی خاص رُوحانی فائدہ ہی اس سے متوقع ہے، بلکہ محض اس لیے کیا جاتا ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ بندے کو اس سے کوئی بحث نہیں کہ اس فعل سے کیا فائدہ ہے، لہٰذا اس عمل کا خاص مطالبہ حاجی سے یہ ہے کہ اس میں بلاچون و چرا اطاعت کی شان پیدا ہونی چاہیے، خدا اور رسولؐ کے ہرحکم اور ہرفرمان کے آگے اس کا سر جھک جانا چاہیے، خواہ کسی حکم کی حکمت اور اس کا فائدہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ علاوہ ازیں حج کے اس عمل سے چونکہ ایک ایسے واقعے کی یاد وابستہ ہے جس میں اُمت ِ مسلمہ کے لیے دو بڑے اہم اور قیمتی سبق موجود ہیں، اس لیے اس عمل میں دو اور تقاضے اور مطالبے مضمر نظر آتے ہیں۔ صفا و مروہ کی سعی سے جس واقعے کی یاد تازہ ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ: ’’حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ کا حکم ہوا کہ اپنی اہلیہ محترمہ اور اپنے اکلوتے صاحبزادے کو مکہ کی بے آب و گیاہ سرزمین میں لے جاکر چھوڑ دیں، چنانچہ آپ نے حکم کی تعمیل فرمائی اور حضرت ہاجرہؓ اور حضرت اسماعیل ؑکو اس غیرآباد اور بنجر سرزمین میں چھوڑ کر چلے آئے، ان کے پاس جو دانہ پانی کا مختصر سا ذخیرہ تھا چند دن میں ختم ہوگیا۔ حضرت اسماعیل ؑپیاس سے بے چین ہوئے، بولنے کی عمر نہ تھی، شدتِ تکلیف سے ایڑیاں رگڑتے تھے۔ حضرت ہاجرہؓ پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر دوڑتی تھیں، جب کچھ دُور نکل جاتیں صاحبزادے کی تنہائی کا خیال آتا تو لوٹ آتیں۔ تنہا اللہ کی ذات ان کا سہارا تھی، اس سے دعا بھی جاری تھی اور اپنی سی کوشش بھی، آخرکار ایک دفعہ جو پلٹ کر آئیں تو یہ منظر دیکھا کہ صاحبزادے جہاں ایڑیاں رگڑ رہے تھے وہاں سے پانی پھوٹ رہا ہے‘‘۔
یہ ہے وہ واقعہ صفا و مروہ کی سعی جس کی یاد دلاتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی ذُریت کے اس واقعے میں اُمتِ مسلمہ کے لیے پہلا سبق تو یہ ہے کہ اللہ کے دین کو رائج اور قائم کرنے کے لیے اور اس کی عبادت اور بندگی کو عالم میں عام کرنے کے لیے بڑے سے بڑا خطرہ مول لینے سے بھی نہ جھجکنا چاہیے۔ اس سے بڑا کیا خطرہ ہوسکتا ہے جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی چہیتی بیوی اور اکلوتی اولاد کے لیے مول لیا کہ انھیں تنہا ایک ایسی جگہ چھوڑ دیا جہاں نہ انسان نہ کوئی اور جان دار، نہ سبزہ نہ پانی، نیچے تپتی زمین، اُوپر تپتا آسمان، دو نازک سی جانیں اور بس اللہ نگہبان.... ایسا کیوں کیا گیا؟___ صرف اللہ کے دین کے لیے۔ قرآن پاک اس بارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول نقل کرتا ہے:
رَبَّنَـآ اِنِّیْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ لا رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ (ابراھیم ۱۴:۳۷) میرے مالک میں نے اپنی کچھ آس اولاد تیرے محترم گھر کے پاس بن کھیتی والی ایک وادی میں بسا دی ہے تاکہ اے پروردگار وہ نماز کو قائم کریں۔
یہ واقعہ ہمیں دوسرا سبق یہ دیتا ہے کہ حاجات و ضروریات کی ساری کنجیاں اللہ کے دستِ قدرت میں ہیں، اس میں اس کا کوئی شریک نہیں، ہماری حاجت روائی نہ کسی دوسری ہستی کے بس میں ہے نہ اسباب پر موقوف، بندہ اس بات پر یقین رکھے اور اپنی طاقت و استطاعت کے مطابق کوشش کرتے ہوئے اس وحدہٗ لاشریک کے سامنے دستِ سوال دراز کرے پھر اسباب ظاہری کی نامساعدت میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اس داتا کی داد و دہش اور اعانت کو روک سکے۔
اس بے آب وگیاہ سرزمین میں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل ؑ کے لیے دانے پانی کی ساری راہیں بظاہر مسدود اور اسباب ایک ایک کرکے مفقود تھے، لیکن حضرت ہاجرہؓ کی سعی اور دُعا پر مسبب الاسباب کا حکم ہوا تو بے وہم و گمان اس جلتی بھنتی اور خشک دھرتی کی چھاتی سے پانی کا دھارا پھوٹ نکلا۔ سچ فرمایا کرتے تھے نبی اُمّی: فدہ ابی و اُمّی۔
لا مانع لما اعطیت، داتا تیری دہش کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔
یہ دو سبق ہیں جو اس واقعے سے ہمیں ملتے ہیں۔ پس جو لوگ صفا و مروہ کی سعی کرکے اس واقعے کی یاد تازہ کرتے ہیں انھوں نے اگر غوروفکر کی قوت کو معطل نہیں کر رکھا ہے تو وہ محسوس کریں گے کہ ان کا یہ عمل (سعی) ان سے دو باتوں کا مطالبہ کرتا ہے:
۱- اللہ کے دین کو فروغ دینے اور اس کی عبدیت و عبادت والی زندگی کو دنیا میں رائج کرنے کے لیے اپنی محبوب اور عزیز ترین چیزوں کو بھی خطرے میں ڈالنے سے گریز نہ کریں، خواہ وہ اپنی جان ہو یا اپنے بیوی بچوں کی زندگیاں۔ اس مقصد کے لیے بیوی بچوں کی جدائی اگر ضروری ہو تو اُسے گوارا کریں، غریب الدیاری کی نوبت آجائے تو اس میں پس و پیش نہ کریں، بھوک پیاس اور شدائد و خطرات کی کیسی ہی خوفناک تصویریں ذہن میں گھوم جائیں مگر دینی جدوجہد کے قدم پیچھے نہ ہٹنے پائیں۔
۲- دین کے فروغ اور سربلندی کی جدوجہد میں کامیاب ہونے کے لیے بھی، اور اپنی انسانی ضروریات کے پانے کے لیے بھی اپنی طاقت اور استطاعت کی حد تک تو کوئی کسر اُٹھانہ رکھیں، مگر یہ یقین رکھیں کہ ہماری کوششوں کے کامیاب نتائج برآمد کرنے والا، حقیقی داتا اور حقیقی مشکل کشا تنہا اللہ ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، لہٰذا اُس کے حضور میں اپنی انتہائی عاجزی اور بے بسی کے استحضار کے ساتھ اپنی کوششوں کی کامیابی اور نتیجہ خیزی کے لیے دعا کرنے میں بھی کوئی کمی نہ کریں۔ بالفاظِ دیگر اسبابی کوشش اور جدوجہد اس طرح کریں کہ مسبب الاسباب کے منکر اور تنہا اسباب کے پرستار اُن سے پیچھے نظر آئیں، لیکن جب کوئی دعا کے وقت انھیں دیکھے تو یہ سمجھے کہ انھیں اسباب پر بالکل یقین اور اعتماد نہیں ہے، اسباب ان کی نظر میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ ان کی نظر اور ان کا اعتماد صرف اللہ پر ہے، وہ اللہ جس نے ظاہری حالات کے علی الرغم حضرت ہاجرہؓ اور حضرت اسماعیل ؑکو صرف یہی نہیں کہ زندہ رکھا بلکہ اُن سے ایک ایسی نسل چلائی جو اُس وقت سے آج تک عزت کے ساتھ زندہ ہے اور جس کی عزت کبھی ذلّت سے نہیں بدلی ہے۔
الغرض اگر غور سے دیکھا جائے تو حج کے یہ اعمال و اشغال اپنے اندر کچھ ایسے تقاضے لیے ہوئے ہیں کہ اگر ان کو سمجھنے اور پورا کرنے کی طرف توجہ دی جاتی تو ہمارے حجاج کی زندگیوں کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا، اور حج سے واپس آنے کے بعد ہرسال ہماری آبادیوں میں اسلامی زندگی کے لاکھوں نئے نمونے پیدا ہوجایا کرتے۔
حج کے اعمال و اشغال اور ایامِ حج کی پابندیاں مومن کی مثالی زندگی کی ٹریننگ ہے جو ہرسال اُمت مسلمہ کے لاکھوں نفوس کو بیک وقت دے دی جاتی ہے جس میں ان کو اسلامی زندگی کے اصول، قواعد و ضوابط اور خصوصیات کی عملی مشق کرائی جاتی ہے۔اللہ کی ذاتی و صفاتی توحید کا گہرا اعتقاد، شرک کا بہرصورت و بہرنوع قلبی انکار، تحلیل و تحریم کا حق صرف اللہ کے لیے ماننا اور اسے اس معاملے میں مختار مطلق ماننا (یعنی صرف اسی کو یہ حق ہے کہ وہ جب چاہے اور جس چیز کو چاہے حلال قرار دے، اور جس چیز کو چاہے حرام قرار دے۔ موت کا دھیان، آخرت کی یاد، میدانِ حشر کا استحضار، دعا اور اس میں الحاح و تضرع کی کیفیت، اللہ سے بے انتہا محبت، ہردم اس کی یاد اور ذوق و شوق کے ساتھ اس کی اطاعت، زہد و توکل، انفاق فی سبیل اللہ، نفس کشی، سادگی اور جفاکشی، جماعت اور امارت، لایعنی باتوں سے پرہیز، باہمی نزاع اور جدل و جدال سے مکمل اجتناب، گناہوں کا بالکلیہ ترک، اخلاق میں طینت، کلام میں نرمی، شعائراللہ کی عظمت، اس کے اعدا خصوصاً شیطان سے نفرت، غرض اسلامی زندگی کے سارے اجزا و عناصر کی ایسی مکمل عملی مشق ان دنوں میں کرا دی جاتی ہے کہ اگر حجاج اس کو اپنی کھوئی ہوئی متاع سمجھ کر مضبوطی سے پکڑ لیں تو وہ کام (یعنی زندگیوں میں اسلامی انقلاب) جو اس وقت دنیا کے ہرکام سے زیادہ مشکل نظر آرہا ہے، اتنی آسانی سے ہوسکتا ہے کہ بڑے بڑے انقلابی دماغ تحیر اور سکتے کے عالم میں رہ جائیں۔ پھراس مکمل دینی تربیت کے ساتھ ساتھ دو باتیں اور بھی ہیں:
۱- حجراسود کا استلام: حجراسود کو احادیث میں یمین اللہ (اللہ تعالیٰ کا دست مبارک) قرار دیا گیا ہے، لہٰذا اس کا استلام اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کے قائم مقام ہے۔ گویا یہ عمل عہداطاعت، اور اس بات کا پیمان ہے کہ وہ جس ذات کی کبریائی اور آقائی کا زبانِ حال و قال سے کلمہ پڑھ چکا ہے اس سے بیوفائی نہ کرے گا، گویا ٹریننگ کے درمیان میں ہی اس بات کا عہد لے لیا گیا ہے کہ اب ساری بقیہ عمر کو اسی تربیت کے سانچے میں ڈھالا جائے گا اور اب باقی زندگی ویسی ہی گزرے گی جیسی زندگی کی یہاں مشق کرائی گئی ہے۔
یوں تو اس عہد کے بغیر خود وہ ٹریننگ ہی اس بات کی متقاضی تھی کہ اب تک اگر زندگی اس تربیتی نقشۂ زندگی سے مختلف رہی ہے تو اب یہ اختلاف مٹ جانا چاہیے، لیکن استلام کے وقت جو لطیف الحس انسان واقعی ایسا محسوس کرے کہ گویا وہ اپنا ہاتھ اللہ کے ہاتھ میں دے رہا ہے تو اُس کے لیے کوئی گنجایش ہی اس بات کی نہیں رہ جاتی کہ اب بھی اس کی زندگی اس تربیتی نقشہ کے مطابق نہ بنے۔
۲- ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بشارت دی ہے کہ:
جس نے محض اللہ کی رضامندی کے لیے حج کیا اور بے حیائی کی باتوں سے، بے حیائی کے کاموں سے، اور عام گناہوں سے محفوظ رہا، توو ہ ایسا پاک ہوکر لوٹتا ہے جیساکہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے روز تھا۔ (بخاری و مسلم)
تربیت اور عہدِوفا کے بعد یہ تیسری چیز ہے جو حجاج سے زندگی کو پوری طرح اسلامی اور ایمانی زندگی بنانے کا مطالبہ کرتی ہے، اس بشارت کی پکار ہے: ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَـآفَّۃً، ’’پورے پورے فرماں بردار اور اطاعت گزار ہوجائو‘‘۔
یہ حدیث بتاتی ہے کہ جو شخص حج کو پوری پابندیوں اور اس کے حقوق کے ساتھ صحیح صحیح اداکرے اُس کو ایک نئی زندگی بخش دی جاتی ہے، گویا گناہوں سے پاک صاف کرکے اور پچھلی زندگی کا معاملہ ہلکا کر کے اُسے موقع دیا جاتا ہے کہ اب اپنی زندگی اللہ کے پسندیدہ نقشے اور اس کے رسولوں کے بتائے ہوئے نظام کے مطابق گزارے اور اپنے پروردگار کے اس زبردست انعام کی قدر کرتے ہوئے اپنی حیات کے ایک عہدِ جدید کا آغاز کرے اور گزری ہوئی زندگی کے وہ تمام رُسوا کن ابواب بند کر کے جن سے رحمت ِ حق نے خود چشم پوشی کا مژدہ سنادیا ہے، ایک نئے باب کی ابتدا کرے جس کا عنوان ہو: ’اسلامی زندگی‘۔
پورے حج میں اسی کی ٹریننگ ہے، اسی نئے رنگ کے لیے اُورہالنگ ہے اور قدم قدم پر اسی کا تقاضا ہے اور حج کے بعد کی زندگی میں یہی دینی انقلاب اس ’سفرِعشق‘ کے مقبول ہونے کی دلیل ہے، اس لیے کہ بارگاہِ عشق میں جانے والے تو بہت ہوتے ہیں مگر مقبول ہونے والے وہی ہوتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے اسیرِزلف یار ہوجائیں، وہ تادمِ مرگ اس قید سے کبھی چھٹی نہیں پاتے، اور نہ رہائی چاہتے ہیں۔
اس دنیا میں ہماری زندگی ایک حقیقت ہے، اور جتنی بڑی حقیقت دنیا کی یہ زندگی ہے، اتنی بڑی حقیقت یہ ہے کہ اس زندگی کو لازماً ختم ہوجانا ہے۔ کسی بات کے بارے میں بھی بحث، گفتگو یا اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن اس بارے میں کوئی اختلاف یا بحث کی گنجایش نہیں ہے کہ یہ زندگی ختم ہوگی___ یہ بڑی واضح اور اٹل بات ہے۔ اور پھر جتنی بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہ زندگی اللہ کی بخشی ہوئی ہے اور اسی نے اس کو پیدا کیا ہے، اتنی ہی بڑی حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ مخلوق کی خالق سے ملاقات ہوگی۔ اس سے ملاقات نہ ہو تو یہ سارا سلسلہ محض ایک واہمہ اور ایک تخیل بن کر رہ سکتاہے___ اللہ موجود ہے، وہ یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور یہ کہ واقعی وہ ہے، اس کی آخری تصدیق اسی وقت ہوسکتی ہے جب اس سے ملاقات ہو۔ ساری زندگی اللہ کی بندگی اور اس کی غلامی میں گزارنے کے لازمی معنی یہ ہیں کہ موت کے بعد آنے والی زندگی میں اس سے ملاقات ہو، اور اس کی بندگی اور غلامی کی راہ میں جو ہماری کوششیں ہوں، ان کو وہ قبول فرمائے اور وہ اس کی خوشنودی اور اس کی رضامندی کی مستحق ٹھیریں۔ پس جو آدمی اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان کا دعویٰ کرے، اس کو ان دونوں کو ملا کر چلنا ہوگا۔ اس لیے کہ اللہ پر ایمان کا دعویٰ آخرت کے یقین کے بغیر، عملی زندگی میںکوئی وزن نہیں رکھتا۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم نے جس ہستی کو ہر جگہ محسوس کیا ہو، ہر جگہ پایا ہو، موت کے ساتھ ہی اچانک وہ ہم سے لاتعلق ہوجائے۔ اگر اللہ سے ملاقات، آنے والی زندگی، اس کا احتساب، اس کی رضا اور اس کا انعام، یہ ساری چیزیں حقیقت نہ ہوں تو پھر بندگی، اطاعت، اس کی راہ میں جان لڑانے اور جہاد فی سبیل اللہ کے معنی کیا رہ جاتے ہیں، بلکہ وہ آدمی بڑا احمق ہے جو نیکی کرے اور یہ یقین نہ رکھتا ہو کہ آخرت میں اللہ سے ملاقات ہونی ہے، یعنی خدا کو مانتا ہو، آخرت کو نہ مانتا ہو۔ صاحب ِ ایمان تو صاحب ِ شعور بھی ہوتا ہے، اور ایمان کو بہرطور کامل ہونا چاہیے۔ یہی شعور کا تقاضا ہے___ یہ بنیادی مقدمات ہیں، جنھیں ذہن میں صاف ہونا چاہیے۔
دوسری بات یہ ہے کہ عبادت، غلامی اور بندگی کی دعوت جہاں بھی آئی ہے اس میں آخرت کو مطلوب و مقصود قرار دینے اور اس کی کامیابی کو سمجھ کر جینے کی دعوت بھی شامل ہے۔ انبیا علیہم السلام کی ساری دعوت کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ زندگی اگر غلامی میں بسر کرنا ہے تو یہ سمجھ کر بسر کرو کہ جب اس سے ملاقات ہوگی تو وہی اس فیصلے کا دن بھی ہوگا کہ ہم نے فی الواقع زندگی اس کی غلامی میں بسر کی یا نہیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ ہمیں ایک مشکل کا سامنا ہے___ دنیا ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔ اس کو ہم دیکھتے ہیں، محسوس کرتے ہیں۔ اس کی لذات سے ہم آگاہ ہیں۔ اس کی تکالیف سے اور درد اور الم کی کیفیات سے گزرتے ہیں۔ یہ ایسی حقیقتیں ہیں جن سے انکار ممکن نہیں ہے۔ آخرت ایک وعدہ ہے، نگاہوں سے اوجھل ہے۔ اس کی لذتیں ہم محسوس نہیں کرتے۔ دیکھتے نہیں، سنتے ہیں کہ وہ ایسی ہوں گی۔ اس کی تکلیفوں سے ہم واقف نہیں ہیں۔ اور یہ ہماری فطرت ہے کہ ہم کل کے اُوپر آج کو، دُور کے مقابلے میں قریب کو، اور غیرمحسوس چیز کی جگہ محسوس چیز کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ یہ معاملہ دنیا اور آخرت کے بارے میں ہی نہیں ہے بلکہ خود دنیا میں ہمارا یہ حال ہوتا ہے کہ کل آنے والی چیز اور کچھ مدت بعد ملنے والی شے کو ہم ٹال دیتے ہیں اور جو چیز فوری طور پر مل رہی ہو، اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ فی الحقیقت ہمارے امتحان کا ایک حصہ ہے۔
یہ بیماری کہ آدمی دنیا کو ترجیح دے، دنیا سے محبت کرے، نقد کو حاصل کرے، اُدھار کو ٹال دے اور آج جو کچھ ہے اس کو قیمتی جانے، اور جو کچھ کل آنے والا ہے اس کو محسوس نہ کرے___ یہ جس طرح کافروں کے ساتھ لگی ہوئی ہے اسی طرح ان کے ساتھ بھی لگی رہتی ہے جو ایمان کی راہ پر آتے ہیں۔ ایک ہی دنیا ہے۔ کافر بھی اس میں رہتے ہیں اور مسلمان بھی اسی میں رہتے ہیں۔ دونوں کو ایک ہی قسم کے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔
جہاں جہاں بھی مسلمان ایمان کے دعوے میں اور اس کے تقاضے پورے کرنے میں کمزوری دکھاتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ نے اس بیماری کی نشان دہی کردی ہے۔ یہ دراصل دُکھتی رگ ہے اور ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ غزوئہ بدر ہوا تو فرمایا: تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا (الانفال ۸:۶۷) ’’تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو‘‘۔ غزوئہ اُحد میں ڈسپلن کی کمزوری ظاہر ہوئی تو فرمایا: مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ، (اٰل عمرٰن ۳:۱۵۲) ’’تم میں سے بعض دنیا کے طلب گار تھے اور بعض آخرت کے طلب گار تھے‘‘۔ غزوئہ تبوک میں جن لوگوں نے کمزوری دکھائی ان کا ذکر سورئہ توبہ میں یوں ہوا: ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تمھیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا؟ ایسا ہے تو تمھیں معلوم ہو کہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا‘‘ (۹:۳۸)۔ گویا ہرجگہ ایک ہی بات کہی گئی۔ ایسے معاملات میں خرابی کی جڑ یہ دنیا کی محبت ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بگڑی ہوئی مسلمان اُمتوں کو اپنی طرف بلایا تو اس میں اس بات کو بنیادی اہمیت دی کہ ہر وہ چیز جس سے آخرت میں اپنے اعمال کی جواب دہی کا احساس کمزور ہوتا ہو، یا جس سے دنیا کی محبت ظاہر ہوتی ہو، اس کو ختم کیا جائے، اس کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا جائے۔
ہماری دعوت کے اندر اس کی حیثیت ایک مرکزی نکتے کی ہونی چاہیے۔ جب دنیا کی محبت دل سے نکل جائے گی اور آخرت کی طلب دل کے اندر ڈیرہ ڈال لے گی اور وہاں کی کامیابی ہی اصل کامیابی ٹھیرے گی تو ہمیں صحیح عمل کرنے کے لیے یقین اور قوت بھی حاصل ہوگی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جن عوام کو ہم پکارتے ہیں اور جن کی عدم توجہی کی ہم شکایت کرتے ہیں، ان کے بھی سارے امراض کا علاج اسی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عوام کو بھی پکارا اور جب بھی پکارا تو یہی پکارا کہ وہ ایسے فریب اور دھوکے سے باہر نکل آئیں جو ان کو نیک عمل سے غافل کرتے ہیں۔
یہ حدیث آپ کی بار بار کی سنی ہوئی ہوگی جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ ایک وقت آئے گا دنیا کی قومیں اس اُمت کے اُوپر اس طرح سے ٹوٹ پڑیں گی جس طرح سے بھوکے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں، تو صحابہؓ نے پوچھا کہ کیا ہم تعداد میں بہت کم ہوجائیں گے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں، تمھاری تعداد تو ریگستان کے ذروں اور درخت کے پتوں کی طرح ہوگی۔ انھوں نے کہا: پھر کیا وجہ ہوگی، تو آپؐ نے فرمایا: تمھارے اندر وہن پیدا ہوجائے گا۔ صحابہ ؓ نے پوچھا: وہن کیا ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا: دنیا کی محبت اور موت سے نفرت___ گویا جب یہ پیدا ہوجائے تو انسانوں کی ساری استعداد اور قوت ختم ہوجاتی ہے، اور اگر انسان میں وہن نہ رہے تو اس کی جدوجہد اور اس کے عمل میں نئی زندگی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس نکتے سے غافل ہوکر جو کوششیں ہوں گی، ہوسکتا ہے وہ پوری طرح بارآور نہ ہوں۔
اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جو آدمی آخرت کو مقصود بنائے وہ دنیا سے دستبردار ہوجائے گا___ مطلب یہ ہے کہ دنیا اس کے لیے مطلوب، محبوب اور مقصود کی حیثیت نہیں رکھے گی بلکہ یہ آخرت کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہوگی۔ اس کی رشتہ داریاں، اس کی دوستیاں، اس کی محبتیں، اس کی جدوجہد، سب ایک ذریعے کی حیثیت اختیار کرجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کو بار بار واضح کیا ہے، مختلف مثالوں سے سمجھایا ہے۔ یہ جاننے کے باوجود کہ آخرت کو مطلوب ہونا چاہیے، کئی جگہ بتایا ہے کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے، آخرت کی حقیقت کیا ہے، دنیا سے کیا ملتا ہے، آخرت کیا دیتی ہے، اور اس لیے ان دونوں میں سے کس چیز کو تمھیں اختیار کرنا چاہیے۔ دنیا کا نفع دنیا کی چیزیں ہیں، مثلاً مال، اولاد، جاہ و حشمت، مقبولیت۔ دوسری طرف آخرت کا فائدہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہے، اور وہاں کا نقصان اس کی طرف سے دیا ہوا عذاب ہے۔
دنیا اور آخرت کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے مختلف پہلوئوں سے واضح کیا ہے۔ ان میں پہلی بات یہ ہے کہ دنیا کی ہرچیز، نعمت ہو یا تکلیف، گزر جانے کی چیز ہے۔ چونکہ وقت نہیں ٹھیرسکتا، اس لیے تکلیف بھی نہیں ٹھیرسکتی اور آرام بھی نہیں ٹھیرسکتا۔ اب اس صورت میں کہ وقت کا گزرنا یا رُک جانا ہمارے بس میں نہیں ہے، ہم اس کو روک کے نہیں بیٹھ سکتے۔ اس لیے یہاں کی خوشی، یہاں کا آرام، یہاں کی تکلیف، یہاں کا الم، اور یہاں کا درد، یہ سب چیز گزر جانے والی ہیں۔ یہ ہمارا روز کا تجربہ ہے کہ خوشی کا بڑا انتظار رہتا ہے۔ ہم اس کی تمنا ہی نہیں کرتے، خواب دیکھتے ہیں۔ خوشی آتی ہے اور بالآخر گزر جاتی ہے۔ تکلیف سے ہم ڈرتے رہتے ہیں۔ تکلیف بڑھتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی اب گزر ہی جائے گی۔
دنیا کی مثال تفصیل کے ساتھ دو تین جگہ دی گئی ہے۔ ایک جگہ فرمایا کہ دنیا کی مثال ایک بارش کی سی ہے۔ بارش ہوتی ہے، فصل اُگتی ہے، ہری بھری ہوتی ہے، بہار آتی ہے، اس کے بعد زرد پڑتی ہے اور چورا چورا ہوکر زمین کے اندر مل جاتی ہے۔ سورئہ کہف میں، سورئہ حدید میں اور سورئہ یونس میں تین جگہ اس مثال کے مختلف پہلو مختلف انداز سے اُجاگر کیے گئے ہیں۔ ان سب میں یہی بتایا گیا ہے کہ جس طرح کھیتی باڑی ہوتی ہے، انسان کھیتی کرتا ہے، وہ کچھ نتائج دیکھتا ہے لیکن پھر بالآخر سب کچھ مٹی میں مل جاتا ہے۔ دنیا کے معاملات اسی طرح ہیں۔
آخرت کے بارے میں یہ بات بالکل صاف کہی گئی ہے کہ وہاں پر موت نہیں آئے گی۔ عذاب ہوگا تو وَ یَاْتِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّ مَا ھُوَ بِمَیِّتٍ ط (ابراہیم ۱۴:۱۷) ،یعنی وہ عذاب تو ایسا ہوگا کہ جیسے ہر طرف سے موت آرہی ہے مگر انسان مرنے نہ پائے گا۔ دنیا میں جب درد و الم بہت بڑھتا ہے تو آدمی یہ آرزو کرتا ہے کہ بس اب موت آجائے تاکہ یہ درد و اَلم ختم ہو اور موت آبھی جاتی ہے، اور درد و اَلم ختم ہو بھی جاتا ہے۔ لیکن وہاں کا عالم ایسا ہے جو موت ہی کی طرح ہوگا کہ موت آرہی ہے، لیکن آدمی مرے گا نہیں۔ یہ عذاب کی بڑی تکلیف دہ صورت ہوگی۔ لیکن انعام پانے والے بھی ایک موت کے بعد کسی دوسری موت کا مزا نہیں چکھیں گے۔
قرآنِ مجید نے دنیا کو اس لحاظ سے اہم قرار دیا ہے کہ آخرت کی پوری راہ دنیا سے ہوکر جاتی ہے۔ یہی راہ، یہی مال، اور یہی نعمتیں آخرت کے حصول کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اسی لیے دنیا کے مال کو خیر بھی کہا گیا۔ اس میں کوئی تضاد نہیں۔ اگر یہی مال آخرت بنانے کے لیے استعمال ہو تو یقینا وہ خیر ہے۔ گویا یہ دو دھاری تلوار ہے۔ جو اس کے پیچھے چلتا ہے وہ برباد ہوگیا، اور جس نے اس کو اپنے پیچھے چلایا اور آخرت کی منزل کی طرف لے گیا تو وہ کامیاب ہوگیا۔ جو انسان ان حقائق سے واقف ہو، اس کو اپنی منزلِ مقصود آخرت ہی کو قرار دینا چاہیے۔ لیکن اگر یہ سب کچھ چھوڑ کر آپ دنیا کو مقصود بنائیں اور اس کے پیچھے دوڑیں تو آپ خود ہی سوچیں کہ اس سے بڑی غلطی کیا ہوسکتی ہے۔
یہاں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ مہلتِ عمل مختصر بھی ہے اور یہ بغیر کسی نوٹس کے ختم ہونے والی بھی ہے۔ اور یہ بھی دعوت دی گئی ہے کہ ا س سے پہلے کہ وہ وقت آئے جب تم دنیا سے رخصت ہو، اس سے پہلے ہی اس کی تیاری کرلو۔ یہی دعوت اس انداز سے بھی دی گئی ہے کہ اس سے پہلے کہ تم کو پکڑ لیا جائے اور موت تمھارے اُوپر آجائے، اس مہلت سے فائدہ اٹھا لو۔ اس لیے کہ اس کے بعد پھر کوئی اور عمل کی مہلت نہیں ہوگی۔
اگر آخرت مقصود بن جائے تو پوری دنیا کا رُخ متعین ہوجاتا ہے۔ شادی ہو، عائلی زندگی ہو، کیریئر ہو، اولاد ہو، کارخانے ہوں، کھیت ہوں، پیداوار ہو، تجارت اور مالِ تجارت ہو، بنک بیلنس ہو، سب چیزیں موجود ہوں گی اور آدمی کا ان سے تعلق بھی یقینا ہوگا۔ لیکن اب سب سے برتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی چیز ہی اس کی منزلِ مقصود ہوگی۔ یہی طاقت کا اصل سرچشمہ اور قوت کا اصل منبع ہے۔ (ایک خطاب کی تلخیص) (کتابچہ منشورات سے دستیاب ہے، منصورہ، لاہور)
موجودہ دور میں نفسا نفسی اور مادیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ رشتہ داروں کی خبرگیری کرنا، ضرورت کے وقت کام آنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاندان کا شیرازہ بکھر رہا ہے اور معاشرہ انتشار و افتراق کا شکار ہو رہا ہے۔ ایسے میں صلۂ رحمی کی ضرورت و اہمیت پہلے سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ خاند ان کی شیرازہ بندی ونگہداشت اوراس کے قیام وبقاکے لیے قرآن وسنت میں بہت سی تعلیمات وہدایات دی گئی ہیں۔ ان میںصلۂ رحمی کواساسی حیثیت حاصل ہے۔سطور ذیل میں قرآن مجیداوراحادیث نبوی سے صلۂ رحمی کی اہمیت، اس کے دینی و دنیوی فوائداورقطع رحمی کے دینی و دینوی نقصانات پرروشنی ڈالی جائے گی۔
صلۂ رحمی دولفظوں سے مرکب ہے :صلہ اوررحم۔ ’صلہ‘ کے معنی ہیںجوڑنالیکن جب اس کے ساتھ ’رحم‘ کا استعمال ہوتواس کے معنی بدل جاتے ہیں۔
وصل رحمہٗ کے معنی ہیں: نسب کے اعتبار سے جورشتے دارقریب ہوں ان کے ساتھ مہربانی کرنااورنرمی کابرتاؤکرنا۔(المنجد،ص ۲۵۲)
رحم، بطنِ مادر کے اس مقام کوکہتے ہیںجہاں جنین استقرار پاتا ہے اور اس کی نشوونماہوتی ہے۔ مجازاً اسے رشتہ داری کے معنی میں استعمال کیاجاتاہے، اوریہ اللہ تعالیٰ کے نام رحمن سے ’مشتق‘ ہے (الراغب الاصفھانی: المفردات فی غریب القرآن، ص ۱۴۷)۔امام اصفہانی نے تائید میں ایک حدیث پیش کی ہے جس کامضمون یہ ہے: حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواشارد فرماتے ہوئے سناہے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:میںہی اللہ ہوں اورمیں ہی رحمن ہوں۔ میں نے رحم (رشتہ داری) کوپیداکیا۔ میں نے اس کانام اپنے نام سے نکالاہے۔ جواس کوجوڑ ے گامیں اس کوجوڑ وں گا،اورجواس سے قطع تعلق کرے گا میں بھی اسے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا۔(ترمذی، باب ماجاء فی قطعیہ الرحم،۹۰۷)
لغوی اعتبار سے ’رحم‘ کے معنی شفقت ،رافت اوررحمت کے ہیں۔ جب یہ بندوں کے لیے استعمال ہوتاہے تواس کے معنی شفقت ورافت کے ہوتے ہیں، اورجب اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوتاہے تواس کے معنی رحمت کے ہوتے ہیں۔ (لسان العرب، ابن منظور، ،ج۱۷،ص۲۳۰)
اسلام نے رشتہ داری کووہ بلندمقام دیاہے جوپوری انسانی تاریخ میںکسی مذہب ،کسی نظریے اورکسی تہذیب نے نہیںدیا۔ اس نے رشتوں کاپاس ولحاظ رکھنے کی وصیت کی ہے ۔قرآن کریم میں بہت سی آیات ہیں جواسلام میں رشتہ داری کی اہمیت کوواضح کرتی ہیں۔ رشتہ داری کا احترام کرنے اوران کے حقوق کی ادایگی پر ابھار تی ہیں، اورانھیں پامال کرنے اوران پر ظلم و زیادتی کرنے سے روکتی ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآئَ لُوْنَ بِہٖ وَ الْاَرْحَامَ ط (النساء ۴:۱) اس اللہ سے ڈرو جس کاواسطہ دے کرتم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو اور رشتہ داری اورقرابت کے تعلقات کوبگاڑ نے سے پرہیز کرو۔
قرآن کریم میں قطع رحمی کاتذکر ہ فساد فی الارض کے ساتھ کیاگیاہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ دونوں کاباہم گہراتعلق ہے۔چندآیات ملاحظہ ہوں:
فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰہَ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ o فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَکُمْ ط (محمد ۴۷:۲۱-۲۲)
مگر جب قطعی حکم دے دیا گیا اُس وقت وہ اللہ سے اپنے عہد میں سچے نکلتے تو انھی کے لیے اچھا تھا۔ اب کیا تم لوگوں سے اِس کے سوا کچھ اور توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر تم اُلٹے منہ پِھر گئے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے؟
سورۂ رعد میںارشاد باری ہے :
وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْ م بَعْدِ مِیْثَاقِہٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ اُولٰٓئِکَ لَھُمُ اللَّعْنَۃُ وَ لَھُمْ سُوْٓئُ الدَّارِo (الرعد ۱۳:۲۵) اورجولوگ اللہ کے عہد کوباندھنے کے بعد توڑتے ہیں اوراس چیز کوکاٹتے ہیں جسے اللہ نے جوڑنے کاحکم دیااورزمین میںفساد برپاکرتے ہیں،وہی لوگ ہیں جن پر لعنت ہے، اوران کے لیے براانجام ہے۔
قرآن میں کفارکی فساد انگیزیوں کومختلف پہلوئوں سے اجاگر کیاگیاہے۔ ان میں سے ایک پہلوقطع رحمی بھی ہے۔ارشاد ہے:
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْ م بَعْدِ مِیْثَاقِہٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ o (البقرہ ۲:۲۷) جواللہ تعالیٰ کے عہد کواس کے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اورجس چیز کواللہ تعالیٰ نے جوڑ نے کاحکم دیاہے اس کوکاٹتے ہیں اور زمین میںفساد برپا کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اُٹھانے والے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر میں شیخ محمدعلی الصابونی نے لکھاہے: ’’جس چیز کے جوڑنے کاحکم دیا گیاہے اس سے مراد رشتہ اورقرابت ہے، اورجس چیز کواہل کفر وفساد کے اوصاف میں توڑنے کاذکر کیا گیاہے اس سے مراد رشتہ داری کے تعلقات ختم کرنااورنبی اورمومنین سے الفت ومحبت کوختم کرنااوران سے تعلق توڑنا ہے‘‘(صفوۃ التفاسیر، ج ۱، ص ۳۱)
اللہ تعالیٰ نے سورۂ نحل میں جن چیزوں کاحکم دیاہے ان میں عدل اوراحسان کے بعد تیسری چیزاہل قرابت کے حقوق کی ادایگی ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی (النحل ۱۶:۹۰) اللہ تعالیٰ عدل اور احسان اور صلۂ رحمی کاحکم دیتاہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم منصب نبوت سے سرفراز ہونے سے قبل ہی سے صلۂ رحمی پر عمل پیراتھے۔ اس کاثبوت ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکی گواہی ہے کہ غار حرا میں جبرائیل ؑ نے آکرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کوپہلی وحی سنائی اورنبوت کابار آپؐ پر ڈالاگیا۔ اس کی وجہ سے آپؐ پر ایک اضطراری کیفیت طاری تھی۔ آپؐ گھر تشریف لائے، اور جوواقعہ پیش آیاتھااس سے ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکوآگاہ کیا اور کہاکہ مجھ کواپنی جان کاخوف ہے۔اس وقت آپؐ کوتسلی دیتے ہوئے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جوباتیں کہیں وہ یہ تھیں : ’’ہرگز نہیںہوسکتا، اللہ تعالیٰ آپ کوکبھی رنجیدہ نہیںکرے گا ، کیوں کہ آپ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں، بے سہاروںکاسہارا بنتے ہیں، محتاجوں کے لیے کماتے ہیں، مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں۔ ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں‘‘۔(بخاری، باب بداء الوحی:۳)
صلۂ رحمی ،شریعت اسلامی کے بنیادی اصولوں میں سے ہے جس کے ساتھ یہ دین روزِاوّل ہی سے دنیا والوں کے سامنے ظاہر ہوا۔ اس کی تائید ہر قل کے ساتھ ابو سفیان کی گفتگو سے بھی ہوتی ہے۔صلح حدیبیہ(۶ہجری)کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف سلاطین کے پاس خطوط ارسال کیے جن میں انھیں اسلام کی دعوت دی۔ جب آپؐ کانامہ مبارک ہرقل کے پاس پہنچا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جاننے کی غرض سے اپنے درباریوں سے کہاکہ مکہ کے کسی آدمی کو دربار میں پیش کرو۔ انھوں نے ابوسفیانؓ کو(جن کواس وقت تک قبول اسلام کی سعادت نہیں ملی تھی)، دربار میں پیش کیا۔ ہرقل نے ان سے بہت سے سوالات کیے اور ایک سوال یہ بھی کیاکہ تمھارے نبی تمھیں کس چیز کاحکم دیتے ہیں؟ ابو سفیانؓ نے جواب دیا: وہ ہمیں نماز، زکوٰۃ، صلۂ رحمی ، پاک دامنی کاحکم دیتے ہیں۔(مسلم)
اس حدیث سے بھی بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ صلۂ رحمی اس دین کی ممتاز خصوصیات میں سے ہے جن کے بارے میں دین کے متعلق پہلی مرتبہ پوچھنے والے کوآگاہ کیاجاتاہے۔
سیدنا عمروبن عنبسہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث مروی ہے، اس میں اسلام کے جملہ اصول وآداب بیان کیے گئے ہیں، وہ فرماتے ہیں:’’میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںحاضر ہوا۔ یہ آغازِ نبوت کازمانہ تھا۔ میں نے عرض کیا:آپ کیاہیں؟ فرمایا: نبی ہوں۔ میں نے عرض کیا: نبی کسے کہتے ہیں؟ فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔ میں نے کہا:اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو کیا چیز دے کربھیجا ہے؟ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے رشتوں کوجوڑ نے اور بتوں کوتوڑنے کے لیے بھیجا ہے اور اس بات کے لیے بھیجا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوایک سمجھا جائے اور اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ کیاجائے ۔(مسلم،باب اسلام، عمروبن عنبسہ۱۹۳۰)
یہ بات بالکل عیاں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اسلام کے اہم اصول ومبادی کی تشریح کرتے ہوئے صلہ رحمی کومقدم رکھاہے۔ اس سے دین میں صلۂ رحمی کے مقام ومرتبہ کابخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول مجھے ایسا عمل بتائیے جس سے میں جنت میں داخل ہوجاؤں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ بناؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرو‘‘(بخاری، باب فصل صلۃ الرحم، ۵۹۸۳)۔ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی عبادت ، توحید ، نماز اور زکوٰۃ کے ساتھ ہی صلۂ رحمی کاتذکرہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ صلۂ رحمی کاشمار بھی ان اعمال میں ہوتاہے جوانسان کوجنت کامستحق بناتے ہیں۔
حضرت جبیر بن مطعمؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا: ’’جنت میں قطع رحمی کرنے والا نہیں جائے گا‘‘(بخاری، باب اثم القاطع، ۵۹۸۳)۔ قطع رحمی کرنے والے کی محرومی اور بدبختی کے لیے اللہ کے رسولؐ کی یہی وعید کافی ہے۔
صلۂ رحمی کرنے والے سے اللہ تعالیٰ کاتعلق مضبوط ہوتاہے اور قطع رحمی کرنے والے سے اللہ کاتعلق ٹوٹ جاتاہے جیسا کہ حدیث میںہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رحم (رشتہ داری) رحمن سے بندھی ہوئی ہے ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو تجھے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا، اور جوتجھے کاٹے گا میں اسے کاٹوں گا‘‘۔(بخاری، ۵۹۸۴)
قطع رحمی کرنے والے پر آخرت سے قبل دنیا ہی میں گرفت ہوتی ہے۔ ایک حدیث کے مطابق: ’’دوسرے گناہوں کے مقابلے میں بغاوت اور قطع رحمی ایسے گناہ ہیںکہ ان کے ارتکاب کرنے والے کواللہ تعالیٰ دنیا ہی میں عذاب دیتاہے آخرت میں ان پر جوسزا ہوگی وہ تو ہوگی ہی‘‘۔(ترمذی،باب فی عظم الوعید علی البغی وقطیعۃ الرحم، ۲۵۱۱)
ایک متقی اور باشعور مسلم اسلامی تعلیمات کے مطابق صلۂ رحمی کرتا ہے۔ جس ذات باری نے اس تعلق کو قائم کیا ہے اسی نے اہمیت اور قرابت کے مطابق اس کی درجہ بندی بھی کی ہے۔چنانچہ پہلا درجہ والدین کاقرار دیا۔قرآن کریم کی متعدد آیات میں والدین کے ساتھ سلوک کرنے کومستقل طورپر بیان کیا گیا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد باری ہے:
وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاط (بنی اسرائیل ۱۷:۲۳) اور تیرے پروردگار نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو مگر صرف اس کی اور ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک کرو۔
وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًاط (العنکبوت ۲۹:۸) اور ہم نے انسان کواپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کاحکم کیا ہے۔
سورۂ لقمان میں ارشاد باری ہے:
وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ وَّ فِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْکُرْلِیْ وَ لِوَالِدَیْکَط اِلَیَّ الْمَصِیْرُo (لقمان ۳۱:۱۴) اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہنچانے کی خود تاکید کی ہے۔ اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اُٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے۔ (اسی لیے ہم نے اس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے۔
اس آیت میںقابل ذکر بات یہ ہے کہ جہاں تک شکر گزاری اور خدمت کاتعلق ہے تو اس کی ہدایت ماں باپ دونوں کے لیے فرمائی گئی ہے لیکن قربانیاں اور جاں فشانیاں،حمل، ولادت اور رضاعت صرف ماں کی گنوائی گئی ہیں، باپ کی کسی قربانی کاحوالہ نہیں دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں کاحق باپ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن،ابوعبداللہ محمدبن احمد الانصاری القرطبی، ج ۱۴،ص،۶۴)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا:اے اللہ کے رسولؐ! میرے حسن سلوک کاسب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تمھاری ماں۔ اس نے پھر پوچھا: اس کے بعد کون ہے؟ آپؐ نے جواب دیا: تمھاری ماں۔ اس نے دریافت کیا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: تمھارا باپ۔ ایک دوسری روایات میں باپ کے بعد قریبی رشتہ دار کابھی تذکرہ ہے‘‘۔ (مسلم، باب بر الوالدین وایھما احق بہ (۲۵۴۸)
دین اسلام کی یہ تعلیم نہیں کہ مسلمان صرف ان رشتہ داروں کے ساتھ صلۂ رحمی کریں جوان کے ساتھ بھی صلۂ رحمی کریں، بلکہ اس سے آگے بڑھ کران رشتہ داروں کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ اور صلۂ رحمی کرنے کاحکم دیتا ہے جوان کے ساتھ کسی قسم کاتعلق نہیں رکھتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’صلۂ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جواحسان کابدلہ احسان سے ادا کرے ،بلکہ صلۂ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے قطع رحمی کی جائے تو وہ صلۂ رحمی کرے‘‘۔(بخاری، کتاب الادب، باب لیس الواصل بالمکافی، ۵۹۹۱)
اسلام نے غیر مسلم رشتہ داروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے پر زور دیاہے ، ارشاد باری ہے:
وَ اِنْ جَاھَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْھُمَا وَ صَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا(لقمان ۳۱:۱۵) اگر وہ تجھ پر دبائو ڈالیں کہ میرے ساتھ ایسی چیز کوشریک ٹھیرائے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ ماننا اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتائو کرنا۔
اس آیت کی تفسیر میں امام قرطبی نے لکھا ہے کہ یہ آیت اس بات پردلالت کرتی ہے کہ کافر والدین کے ساتھ صلۂ رحمی کی جائے۔ اگروہ غریب ہوں توانھیں مال دیاجائے، ان کے ساتھ ملائمت کی بات کی جائے، انھیں حکمت کے ساتھ اسلام کی دعوت دی جائے(الجامع لاحکام القرآن، ج۱۴، ص۶۵)
حدیث میں بھی غیر مسلموں سے صلۂ رحمی کی تلقین ملتی ہے: حضرت اسما بنت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میری ماں عہد نبویؐ میں میرے پاس آئیں، جب کہ وہ مشرک تھیں۔ میںنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں میرے پاس آئی ہیں، اور وہ مجھ سے کچھ امید رکھتی ہیں، توکیا میں ان کے ساتھ صلۂ رحمی کروں؟ آپؐ نے فرمایا: ’’ہاں، تم اپنی ماں کے ساتھ صلۂ رحمی کرو‘‘۔(مسلم، کتاب الزکاۃ ، باب فصل النفقۃ والصدقۃ علی الاقربین،۲۳۲۵)
شریعت میں صلۂ رحمی پربہت زور دیاگیا ہے لیکن اس کامطلب یہ نہیں کہ کسی کی بے جا طرف داری کی جائے، رشتہ داروں کو ہر صورت میں فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جائے،اگرچہ وہ حق پرنہ ہوں، اور ان کے ساتھ ہمدردی کی جائے اگرچہ وہ ظالم کیوں نہ ہوں۔ دین اسلام اس کی تعلیم نہیں دیتاہے ۔ چنانچہ قرآن مجید میںخاص طور پر اس پر تنبیہ کی گئی ہے ، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:
وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ (المائدہ ۵:۲) ایک دوسرے کی نیکی اور تقویٰ میں مدد کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میںایک دوسرے کی مددنہ کرو۔
دوسری جگہ ارشاد باری ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآئَ لِلّٰہِ وَ لَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ ج اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِھِمَاقف فَلَا تَتَّبِعُوا الْھَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْا ج وَ اِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا o (النساء۴: ۱۳۵) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علَم بردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمھارے انصاف اور تمھاری گواہی کی زد خود تمھاری اپنی ذات پر یا تمھارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریق معاملہ خواہ مال دار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیرخواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہشِ نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔
سورۂ انعام کی آیت ملاحظہ ہو:
وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی وَ بِعَھْدِ اللّٰہِ اَوْفُوْاط ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ o (الانعام ۶:۱۵۲) جب بات کہو تو انصاف کی کہو، اگرچہ معاملہ اپنے رشتہ دار کا کیوں نہ ہو، اوراللہ سے جوعہد کیا ہے اسے پورا کرو، اس کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔
اس طرح اسلام نے صلۂ رحمی کے نام پر ناانصافی و اقربا پروری پر روک لگادی ہے۔ صلۂ رحمی کامطلب یہ ہے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ بغیر کسی کاحق تلف کیے ہوئے ان کے دُکھ درد میںشریک رہاجائے، اور اپنی طرف سے ہو سکے تو ان کی مدد کی جائے۔
صلۂ رحمی کامفہوم بہت زیادہ وسیع ہے۔ اس کاایک طریقہ یہ ہے کہ رشتہ داری پر مال خرچ کیاجائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ (البقرہ ۲:۲۱۵) ’’آپ کہیے فائدہ کی جوچیز تم خرچ کروتوو ہ ماں باپ رشتہ دار وں کے لیے ‘‘۔ دوسری جگہ یہ تصریح فرمائی گئی کہ مال و دولت کی محبت اورذاتی ضرورت اورخواہش کے باوجود صرف خداکی مرضی کے لیے خود تکلیف اٹھاکر اپنے قرابت مندوں کی امداد اورحاجت روائی اصل نیکی ہے۔ وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی(البقرہ ۲:۱۷۷)’’جس نے اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتہ داروں کودیا‘‘۔
صلۂ رحمی رشتہ دار وں کے ساتھ ملاقاتوں سے بھی ہوتی ہے جس سے قرابت کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں، محبت کے تعلقات پایدار ہوتے ہیں، اورباہم رحم وہمدردی اورمودت میں اضافہ ہوتاہے۔ صلۂ رحمی رشتہ داروں کے ساتھ ہمدردی، خیرخواہی، تعاون کے ذریعے ہوتی ہے۔ گاہے بگاہے تحائف سے نوازنے ،دعوت مدارت کرنے اور ان کی خدمت اورمزاج پرسی کرنے اور خندہ پیشانی سے ملاقات کرنے سے۔ اس کے علاوہ ان تمام اعمال سے ہوتی ہے جن سے محبت کے سوتے پھوٹتے ہیں اوررشتہ داروں کے درمیان الفت ومحبت کے جذبات موجزن ہوتے ہیں۔ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میںصلۂ رحمی پر زور دیاہے اوراس کے لیے ایسی شکلیں بتائی ہیں جن میں کوئی زحمت، پریشانی ،اورتکلیف نہیں۔ فرمایا: ’’اپنے رشتوں کوتازہ رکھوخواہ سلام ہی کے ذریعے سے ‘‘۔(الموسوعۃ الفقہہ،بحوالہ مجمع الزوائد:۸/۱۵۲)
رشتہ داری کاپاس ولحاظ رکھنے سے رب العالمین کے احکام کی بجاآوری کے علاوہ بہت سے روحانی ومادی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اس کاایک فائدہ یہ ہے کہ رشتہ داروں پرخرچ کرنے میںزیادہ اجروثواب ملتاہے:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’صدقہ مسکین پر صرف صدقہ ہے، اور رشتہ دار پرکرنے کی وجہ سے دہرا اجرملتاہے، ایک صدقہ کرنے کا،دوسرے صلۂ رحمی کا‘‘۔ (ترمذی، باب ماجا فی الصدقۃ علی ذالقربۃ ۶۵۸)
اس کاایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے عمر میں درازی اوررزق میں وسعت ہوتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جس شخص کویہ پسند ہوکہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اوراس کی موت میں تاخیر اورعمر میںاضافہ ہوتواسے چاہیے کہ صلۂ رحمی کرے ‘‘(مسلم، باب صلۃ الرحم وتحریم قطعیتھا ۶۵۲۳)
اس حدیث کامطلب یہ بھی ہوسکتاہے کہ ان نیک اعمال سے مال ودولت میںفراخی اورعمر میں زیادتی ہوتی ہے۔ لیکن اس کی توجیہہ یہ بھی کی جاسکتی ہے کہ انسان کے خانگی مسائل اور تنازعات اس کے لیے تکدر اور پریشانی کا سبب ہوتے ہیں لیکن جولوگ اپنے رشتہ دار وں کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آتے ہیں، ان کے ساتھ نیک برتاؤکرتے ہیں، اس کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے اعصابی تناؤ سے آزاد ایک ایساماحول پیداہوجاتاہے جو پُرسکون زندگی گزارنے کے لیے بڑاسازگار ہوتاہے ۔ اس کے برخلاف اعصابی تناؤ جو زندگی کی مدت کم کردیتاہے قطع رحمی کے نتیجے میں پیداہوتاہے۔
اس کے علاوہ صلۂ رحمی سے انسان بہت سے ان اجتماعی مسائل سے جوآج کے مغربی معاشرے کی پہچان بن گئے ہیں چھٹکاراپایاجا سکتاہے۔
مغربی معاشروں میں خاندان کے بوڑھے افراد ایک بوجھ ہوتے ہیں چنانچہ انھیں ’بوڑھوں کے گھر‘ (old age homes)کے حوالے کردیاجاتاہے جہاں وہ خوشیوں بھری زندگی سے محروم کسمپرسی کی حالت زار میں زندگی گزارتے ہیں۔ صلۂ رحمی سے محروم ان افراد کے بیٹے سال میں ایک بار ’یومِ مادر‘(Mother day) ’یوم والدین‘ (Parents day) مناکر اورچند رسمی تحائف دے کر اُن بے پایاں احسانات سے سبکدوش ہوجاتے ہیں جوان والدین نے ان کے ساتھ کیے تھے ۔صلۂ رحمی سے آشنااسلامی معاشرہ ان کوبوجھ سمجھنے کے بجاے ان کی خدمت کوجنت کے حصول اوران کی رضاکوخداکی رضاکے حصول کاسبب سمجھتاہے۔
اسی طرح مغربی معاشروں میں یتیم بچوں کی پرورش اورتعلیم وتربیت کے لیے ’یتیم خانے‘ قائم کیے جاتے ہیں۔ لیکن اسلام میں یتیموں کی دیکھ بھال اورکفالت پربڑازور دیاگیاہے، اوریہ حکم دیاگیاکہ ایسے بچوں کو ان کے قریبی رشتہ دار اپنے خاند ان کے افراد میں شامل کرلیں اوران کے ساتھ اپنے بچوں جیسامعاملہ کریں ۔
بیواؤں کے لیے مغربی معاشرے میں بیوائوں کے گھر بنائے گئے ہیں۔ اس کے برخلاف اسلام میں بیواؤں کے نکاح ثانی اوران کے اخراجات کی ذمہ داری ان کے عزیز وقریب رشتہ داروں پر عائدکی ہے۔ان کواس قسم کے خیراتی ادارے کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑاجاتاہے۔
اسلام جس نے صلۂ رحمی پر اس قدر زور دیا ہے، مقامِ افسوس ہے کہ آج مسلمان اور مسلم معاشرے مغربی تہذیب اور مادیت سے متاثر ہوکر، اسلامی معاشرے کی اس نمایاں خصوصیت اور اخلاقی قدر سے غفلت برتتے نظر آتے ہیں۔ نفسانفسی بڑھ رہی ہے۔ معاشرہ انتشار سے دوچار ہے۔ خاندان کا شیرازہ بکھر رہا ہے اور انتشار و افتراق کی وجہ سے گھر برباد ہورہے ہیں۔ لوگ افلاس اور بے بسی کے ہاتھوں مجبور ہوکر خودکشی جیسے گناہ کے مرتکب ہونے لگے ہیں جس کا مسلم معاشرے میں کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ مغربی طرزِ معاشرت کی طرح والدین کو بوجھ سمجھا جانے لگا ہے اور اب ’بوڑھوں کے لیے گھر‘ بھی بنائے جانے لگے ہیں۔ اگر صلۂ رحمی جیسی اساسی معاشرتی قدر کو مسلمانوں نے مضبوطی سے نہ تھاما تو مادیت کی دوڑ کے نتیجے میں خود ہمارا معاشرہ بھی معاشرتی انتشار کا شکار ہوکر مغرب کی طرح معاشرتی مسائل سے دوچار ہوسکتا ہے۔
ریحان اختر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ، علی گڑھ میں شعبۂ سنی دینیات میں ریسرچ اسکالر ہیں۔
ہماری موجودہ حالت ہمارے ماضی کی وجہ سے ہے۔ ہمارا مستقبل وہ ہوگا جس کے لیے ہم آج کوشش کریں گے۔ماضی جاچکا، مستقبل نامعلوم ہے اور صرف حال ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ناکامی کی کچھ عمومی تاویلیں اس طرح ہیں جنھیں ہم حقیقت جان کر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور خود کو بری الذمّہ قرار دیتے ہیں:
غلطی کے خوف سے کام نہ کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ناکامی کے خوف سے ابتدا ہی نہ کرنا، سب سے بڑی ناکامی ہے۔ یہ سوچنا کہ سائیکل سے گرجائوں گا یا تیرنے سے ڈوب جائوں گا، اس لیے آپ وہ کام ہی نہ کریں___ یہ سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ کامیابی کا ایک فارمولا یہ بھی ہے: ۲۵ فی صد منصوبہ بندی + ۷۵فی صد سخت محنت =کامیابی۔ کوئی بھی کام ابتدا میں پہلی بار ہی ہوگا۔ اس کے بعد ہی آپ کمال کی جانب بڑھیں گے۔ اگر آپ کام ہی نہ کریں تو وہ لمحہ زندگی میں کبھی نہیں آئے گا جب آپ کوئی کام اچھی طرح انجام دیں گے۔مشق اور تجربے سے ہی کمال کی طرف سفر ہوگا اور منزل ہاتھ آئے گی۔مشق، مہارت میں اضافہ کرتی ہے۔
تبدیلی یک لخت نہیں ہوگی۔اس کے لیے وقت درکار ہوگا۔ مایوسی کی کوئی گنجایش نہیں۔ اگر آپ نے درخت جڑ سمیت دوسری جگہ لگادیا تب بھی کچھ بنیادی خصوصیات تبدیل نہیں ہوں گی۔ اس حقیقت کا ادراک کریں۔ ابھی، اسی وقت، میرے سامنے میں جیسا چاہتا ہوں ویسا___ اس طرح کی انتہا پسندانہ سوچ سے تبدیلی نہیں آئے گی۔جہاں تک ممکن ہو اپنے اندر تبدیلی لائیے۔ کچھ باتیں چھوڑ دیجیے جو آپ کے دائرہ اختیار میں نہیں ہیں، مثلاً رنگ، قد، وزن وغیرہ نہیں بدل سکتا۔ وہاں تبدیلی لائیے جو آپ کے بس میں ہے، مثلاً اندازِ گفتگو، اخلاق، کردار وغیرہ۔ ’ضد‘ اور انتہا پسندی کو حکمت سے دُور کریں۔ آپ اپنے دائرہ اختیار کے اندر باہر کے معاملات کا بے لاگ جائزہ لیجیے۔اپنی ذات اور جذبات اور احساسات و خیالات کی نفی مت کیجیے۔ انھیں بھی احترام اور عزت دیجیے۔ذاتی فیصلوں کے اچھّے بُرے یا مثبت و منفی اثرات کا تعیّن کیجیے۔
صد فی صد کامیابی یا مکمّل کامیابی ناممکن ہے۔ کمال کا حصول کبھی نہ ختم ہونے والا سفر ہے، لہٰذا ترقی کے لیے محنت کیجیے نہ کہ کمال کے حصول کے لیے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس دنیا میںکوئی چیز کامل نہیں ہے۔ہم ترقی کی منزل کے راہی ہوسکتے ہیں مگر منزل ہر بار دور ہوتی جاتی ہے۔اس لیے اس کی فکر میں دبلا ہونا فضول ہے۔ترقی پر نظر رکھیے۔ شاہ راہِ ترقی پر گامزن رہنا ہی کامیابی ہے۔
ایک دوسری تصویر دیکھیں: پر عزم، روشن آنکھیں، چال میں وقار، گفتگو میں جان اور بحیثیت مجموعی ایک فاتح ہونے کا احساس___ وجہ صاف ظاہر ہے۔ ایسے اشخاص زبانِ حال، یعنی ’اپنے ظاہر‘ سے آدھا مقابلہ پہلے ہی جیت چکے ہوتے ہیں۔ان کے ظاہر سے ان کی قابلیت اور صلاحیت گویا چھلکتی ہے، ہاں میں یہ کرسکتا ہوں، میں یہ ضرور کروں گا، میں جیت سکتا ہوں، میں ضرور فتح پائوں گا،میں قابل ہوں، مزید قابل بن سکتا ہوں___ اللہ بھی ایسے ہی بندوں کی مدد کرتا ہے۔
تقدیر پر ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہاتھ پائوں نہ ہلائیں اور تقدیر پر تکیہ کیے رہیں، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی پوری توانائی اور قابلیت لگادیں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔ ہتھیلی کی لکیریں آپ کے مستقبل کا تعیّن نہیں کریں گی، بلکہ آپ کی منزل کا تعیّن آپ کے مضبوط بازوئوں سے ہوگا۔تقدیر کو اپنی کم عملی یا بے عملی کے لیے جواز مت بنائیے۔ اللہ بھی ان کی حالت بدلتا ہے جو خود اپنی حالت بدلنا چاہتے ہیں۔
گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے
جو شخص چیلنج کا سامنا کرتا ہے، حالات و واقعات سے دو ، دو ہاتھ کرتا ہے اور تجربات سے گزرتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے۔میدان کار زار میں اترنے سے گریز ہی سب سے بڑی کمزوری اور ناکامی ہے۔ فاتح یا کامیاب شخص کسی بھی حالت میں میدان سے بھاگتا نہیں۔ حالات کتنے ہی کٹھن ہوں، کتنی ہی مصیبتیں آئیں وہ میدان عمل میں ڈٹا رہتا ہے۔یہ تاریخ کی بہت بڑی سچائی ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب آزمایشیں، حالات اور مشکلات اس مرد آہن سے ٹکراکر پاش پاش ہوجاتی ہیں۔
آئیے مقابلہ کیجیے! کامیابی نظرنہ بھی آئے تب بھی میدان سے پیٹھ پھیر کر مت بھاگیے۔ ہوسکتا ہے کہ مقابلے میں آپ تھک کر چور ہوجائیں، لہولہان ہوجائیںمگر اسی جدوجہد میں آپ کی کامیابی پوشیدہ ہے۔ کامیابی ضرور آپ کے قدم چومے گی۔ عزم راسخ ہو ، ارادہ مضبوط ہو اور ساتھ میں عملی کوششیں ہوں تو اللہ کی رحمت بھی دست گیری کرتی ہے اور بالآخر منزلِ مراد ہاتھ آتی ہے۔
(ڈاکٹر بدر الاسلام، اقرا اُردو بوائز ہائی اسکول، اورنگ آباد، بھارت میں صدر مدرس اور کئی کتب کے مصنف ہیں)
مسافر تباہ حال بستی سے گزرا تو پکار اٹھا: اب بھلا اس اوندھے منہ پڑی، کھنڈر بستی کو کیسے دوبارہ زندہ کیا جاسکے گا؟ خالق نے کہا: خود ہی مشاہدہ کرلو، فوراً اسے اور اس کی سواری کو موت کی نیند سلادیا گیا۔ پورے ۱۰۰ سال مُردہ حالت میں گزر گئے۔ پھر خالق نے اپنی قدرت سے مُردہ جسم میں دوبارہ روح پھونکی اور پوچھا: کیا خیال ہے کتنا عرصہ گزر گیا؟ ۱۰۰ سال تک مردہ پڑے رہنے والے مسافر نے کہا: ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ خالق نے بتایا: تم نے پورے ۱۰۰ سال گزار دیے۔ اب میری قدرت کا ایک اور مظہر دیکھو۔ تمھارا گدھا بھی ۱۰۰ برسوں میں پیوند خاک ہوگیا ہے ،لیکن تم اپنے ساتھ جو کھانا لے کر جارہے تھے وہ جوں کا توں پڑا ہے، باسی تک نہیں ہونے دیا گیا۔ اور اب دیکھو ہم تمھارے گدھے کو کیسے زندہ کرتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے راکھ بنی ہڈیوں کا ڈھانچا کھڑا ہوگیا، پھر ان پر ماس اور چمڑا مڑھ دیا گیا، تازہ دم سواری پھر سے تیار تھی۔ مسافر پکار اٹھا: پروردگار! میں بخوبی جان گیا کہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔
سورہء بقرہ میں تفصیل سے بیان کیے گئے اس واقعے سے کئی اسباق حاصل ہوتے ہیں، لیکن ایک اہم حقیقت جو اس منظر کی طرح دیگر کئی قرآنی مناظر سے بھی واضح ہوتی ہے یہ ہے، کہ گزرا ہوا وقت جتنا بھی طویل کیوں نہ ہو، مختصر ہی محسوس ہوتا ہے۔ بندہ اس حقیقت کا مشاہدہ و اظہار آخرت میں بھی کرے گا اور قرآن کریم کے الفاظ میں یہی تکرار کرے گا: ’’پروردگار! ہم تو دنیا میں ایک آدھ روز ہی گزار کر آئے ہیں‘‘۔ ’’ہم تو بس اتنی دیر دنیا میں رہے کہ ایک دوسرے سے تعارف حاصل کرسکے‘‘، ’’بس چند ساعتیں ہی گزاری ہیں‘‘، ’’صرف چاشت کی کچھ گھڑیاں گزریں‘‘۔ حالانکہ ان سب لوگوں نے معمول کی زندگی گزاری ہوگی اور ان میں سے ایک بڑی تعداد کی پیٹھ پر گناہوں کا خوف ناک انبار لدا ہوگا۔
گزرا وقت مختصر لگنے اور گزرنے والا وقت تیز رفتار ہونے کا مشاہدہ ،انسان کو دنیا میں بھی ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔ جتنی بھی عمر گزر جائے، آنکھیں بند کرکے دیکھیں تو کل کی بات لگتی ہے۔ ابتدائی بچپن کی یادیں، بھولے بسرے مناظر، گاہے اچانک مجسم صورت میں سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر وقت کا حساب کریں تو حیرت ہوتی ہے کہ --- اچھا --- اتنا عرصہ گزر گیا۔
تازہ مثال دیکھ لیجیے، ابھی کل ہی ساری دنیا میں نئی صدی کے آغاز کا غلغلہ تھا۔ نئے ہزاریے، نئے ملینیم اور اکیسویں صدی کے بارے میں مختلف تجزیے اور تبصرے کیے جارہے تھے۔ طرح طرح کے دعوے، خدشے اور منصوبے سامنے آرہے تھے۔ وقت کی ایک ہی کروٹ میں آج ہم اس صدی کے پہلے ۱۰ سال پورے کرچکے ہیں۔ یکم جنوری ۲۰۱۰ء میں موجود ہر شخص ،آج صدی کا پہلا عشرہ مکمل کرچکا ہے۔ پل جھپکنے میں گزرنے والے اس عرصے کا مطلب ہے، ہم میں سے ہرشخص نے نئے ہزاریے کے ۳ہزار ۶ سو ۵۲ دن گزار لیے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ اطلاع دے دی تھی کہ ’’ایک وقت آئے گا کہ سال مہینے کی طرح گزر جائے گا۔ مہینہ ہفتے کی طرح، ہفتہ ایک دن اور ایک دن ایک ساعت کی طرح گزرتا دکھائی دے گا‘‘۔ (احمد، ترمذی)
تیزی سے گزرتا یہ وقت ہی انسان کی سب سے قیمتی متاع ہے، لیکن انسان اسی قیمتی متاع کے بارے میں ہی سب سے زیادہ غافل ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور ارشاد کے مطابق: ’’اللہ کی عطا کردہ دو نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کے بارے میںاکثر لوگ دھوکے کا شکار ہیں: ’’صحت اور وقت فرصت‘‘۔ صحت کی نعمت بھی اسی وقت قیمتی لگتی ہے، جب بندہ اس سے محروم ہونے لگے۔ ایک عرب محاورے کے مطابق صحت، صحت مندوں کے سر پر ایک ایسا تاج ہے جو صرف بیماروں کو دکھائی دیتا ہے۔ اور وقت کے بارے میں عرب شاعر کہتا ہے ؎
دقات قلب المرء قائلۃ لہ
إن الحیاۃ دقائق و ثوان
(دل کی دھڑکنیں بندے کو ہر دم یہی سمجھا رہی ہیں کہ زندگی تو فقط یہی منٹ اور ثانیے ہیں۔ ہر طلوع ہونے والا دن مخلوق میں منادی کرتا ہے۔)
یا ابن آدم أنا خلق جدید، و علي عملک شہید، فتزود مني، فانی اذا مضیت لا أعود الی یوم القیامۃ ’’اے ابن آدم! میں نئی تخلیق ہوں۔ میں تمھارے عمل پر گواہ بنایا گیا ہوں۔ تم مجھ سے جتنا استفادہ کرسکتے ہو کرلو۔ میں چلا جاؤں گا تو پھرقیامت تک واپس نہیں لوٹوں گا‘‘۔ صرف یہی نہیں بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتادیا کہ تیزی سے گزرنے والے ان لمحات کے بارے میںہر انسان جواب دہ ہوگا۔روز محشر کسی شخص کو تب تک قدم نہیں ہٹانے دیے جائیں گے جب تک اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے کہ جو مہلت عمر تمھیں دی گئی تھی، وہ کہاں فنا کی؟ عرب شاعر پھر یاد دلاتا ہے:
یسر المرء ما ذھب اللیالی
و کان ذھابہن لہ ذھابا
(بندہ خوش ہوتا ہے کہ روز و شب گزرگئے حالانکہ ان کا گزرنا خود بندے کا اپنی ہستی سے گزرتے چلے جانا ہے۔)
نئی صدی کے پہلے ۱۰ برس پلک جھپکتے مکمل ہوگئے۔ لیکن اگرسرسری سا جائزہ بھی لیں تو اس دوران عالمی، علاقائی اور ملکی سطح پر بہت بڑی بڑی تبدیلیاں روپذیر ہوچکی ہیں۔ نائن الیون کے بعد ایک نئی دنیا وجود میں آچکی ہے۔ اس نئی دنیا میں الفاظ کے معانی، اصطلاحات کے مفہوم اور روایات و اقدار سے لے کر، مختلف عالمی بلاک، ملکوں کے نقشے اور اپنے عہد میں سیاہ و سفید کے مالک بہت سے اصحاب اقتدار تک تبدیل ہوچکے ہیں۔ خود کو سپریم اور اکلوتی عالمی قوت سمجھنے والا امریکا، عراق اور افغانستان میں اپنا نشۂ قوت ہرن کروا چکا ہے۔ یہ اور بات کہ خود فریبی اورجھوٹی انا اب بھی اسے اعترافِ جرم و شکست سے روک رہی ہے، لیکن یہ حقیقت نوشتۂ دیوار ہے کہ اگر امریکی انتظامیہ نے خدائی کے جھوٹے زعم سے نجات نہ پائی تو بہت جلد ریاست ہاے متحدہ امریکا بھی سلطنتوں کے قبرستان میں برطانیہ عظمیٰ اور آنجہانی سوویت یونین کی طرح ماضی کی علامت بنا دکھائی دے گا۔ معاملہ صرف امریکا ہی کا نہیں، خود یورپ اور ناٹو سے لے کر عراق اور افغانستان کے پڑوسی ملکوں تک، سب بری طرح خاک و خون میں لتھڑ چکے ہیں۔ عالمی اقتصادی بحران کا کوڑا بھی سب کی کمر پر سڑاک سڑاک برس رہا ہے۔ پیٹرو ڈالر کے بلند مینار بنانے کی دوڑ میں لگی، کئی صحرائی ریاستیںسکتے کا شکار ہو گئی ہیں۔
مختلف معاشی، سیاسی اور معاشرتی بحرانوں کی فہرست طویل ہوسکتی ہے ، لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی بہت اہم ہے۔ اسی عشرے میں مفلوک الحال افغانوں، بے نوا فلسطینیوں اور کس مپرسی کے شکار عراقیوں نے مزاحمت، جدوجہد اور جہاد کے الفاظ کو نئے مطالب عطا کیے ہیں۔ ۶۳ سال سے اپنے حقوق کی جنگ لڑنے والے کشمیریوں نے بھی ثابت کردیاہے کہ جب اپنے بھی منہ موڑ لیں، تب بھی عزم و ارادے اور جذبۂ آزادی کی حفاظت کیوں کر کی جاتی ہے۔ غزہ میں محصور ۱۵ لاکھ فلسطینیوں نے حقوق انسانی کے جھوٹے دعویداروں کے مکروہ چہرے سے مکر و فریب کا پردہ نوچ ڈالا ہے ۔ بچوں، بوڑھوں اور خواتین نے بھی دنیا کو سکھادیا ہے کہ زندگی کی تمام راہیں مسدود کردی جائیں، تب بھی صرف اور صرف اللہ کے سہارے کیسے جیا اور آگے بڑھا جاتا ہے۔ اسی عشرے میں پاکستان کو تباہ کن زلزلے اور صدی کے بدترین سیلاب سے بھی دوچار ہونا پڑا، لیکن قیامت کی ان گھڑیوں میں اہل پاکستان نے من حیث القوم زندگی اور اسلامی اخوت کا ثبوت دیا۔
تصویر کے یہ دونوں رخ ،اور ان کے بہت سارے مزید پہلو بہت اہم ہیں۔ لیکن ہم اگر مجموعی طور پر دیکھیں تو ہمارا ملک، قوم اور امت سب سنگین بحرانوں کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ ہم ان بحرانوں کے اسباب کا جائزہ لے کر مختلف شخصیات حکومتوں اور سیاسی و دینی پارٹیوں میں سے ان کے ذمہ داران کا تعین بھی کرسکتے ہیں۔ لیکن سوچنے کی بات ہے کہ قوم، ملک اور امت آخر کیسے تشکیل پاتے ہیں___؟ کیا افراد کے بغیربھی کوئی قوم یا امت تشکیل پاسکتی ہے؟ تو پھر کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سب کو ہمیشہ دوسروں کے سر ذمہ داری ڈالنے اور تباہی کا رونا رو کر بیٹھ جانے کے بجائے، فرداََ فرداََ میدان میں آنا ہوگا۔ فرد میں بھی ہوں، آپ بھی ہیں، آپ کے اہل خانہ، دوست احباب، اہل محلہ، اہل علاقہ___ یہی سب افراد بالآخر قوم اور امت کی تشکیل کرتے ہیں۔
اگرہم میں سے ہرفرد سوچے، ہر فرد اس بات کاجائزہ لے کہ جتنی عمر گزر گئی، اس میں ایک فرد کی حیثیت سے اس نے اصلاح و نجات کی خاطر کیا کیا؟ حالیہ دس برس ہی کو دیکھ لیجیے۔ ہم ذرا دیکھیں کہ ان ۳ ہزار ۶ سو ۵۲ دنوں میں ہم میں سے ہر فرد نے کیا کارنامہ انجام دیا؟___ اپنے اور اپنے اردگرد بسنے والے ’افراد‘ کے دل میں کتنا احساس زیاں پیدا کیا___؟ اسی سوال کے جواب میں ہماری بہت سی مصیبتوں کا علاج چُھپا ہوا ہے۔
آئیے ۱۰ سال کے اس عرصے کی اہمیت، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان مبارک کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی معروف حدیث میں فرمایا: کلمتان خفیفتان علی اللسان، ثقیلتان فی المیزان، حبیبتان إلی الرحمن، تملآن ما بین السماء و الأرض، دو کلمے ایسے ہیں کہ ادا کرنے میں انتہائی آسان و مختصر، لیکن قیامت کے روز میزان میں انتہائی وزنی، رحمن کو انتہائی محبوب، اور اپنے اجر و ثواب سے زمین و آسمان کے مابین پوری فضا کو بھر دینے والے ہیں۔ اور وہ دو کلمے ہیں: سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم۔ خود کو اللہ کے سامنے کھڑا محسوس کرکے، سکون و اطمینان کے ساتھ یہ تسبیح ادا کرنے میں زیادہ سے زیادہ چھے سیکنڈ لگتے ہیں۔ کیا ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ ۱۰ سال میں ہم رب ذو الجلال سے کیا اور کتنا کچھ حاصل کرسکتے تھے۔
آج اتفاق سے ہجری اور عیسوی دونوں برسوں کا اختتام اور نئے برس بلکہ نئے عشرے کا آغاز ہورہا ہے۔ اگر ہم میں سے ہر فرد یہ فیصلہ کرلے کہ اس نے صرف اللہ کا بندہ بن کر رہنا ہے، اسے سب کی بھلائی چاہنا ہے، سب کے لیے سراسر خیر ثابت ہونا ہے، ہر حرام سے بچنا ہے، رب ذوالجلال، اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی کتاب مجید کی محبت کو دیگر تمام محبتوں پر غالب کردینا ہے، اس کو اپنی تمام ذمہ داریاں تن دہی اور جاں فشانی سے انجام دینا ہیں، خود ہی اس راہ پر نہیں چلنا، جہاں تک آواز پہنچتی ہے، خیر کی اس آواز کو پہنچانا اور عام کرنا ہے، اپنی سب سے قیمتی متاع یعنی وقت کا ایک ایک لمحہ رب کی قربت کا مستحق بننے کی سعی کرنا ہے___ اگر ہم میں سے ہرفرد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ہر شہری اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر امتی یہ پختہ فیصلہ کرلے___ پھر اللہ سے استعانت طلب کرتے ہوئے ،اس پر عمل شروع کردے تو یقینا… یقینا… یقینا آیندہ آنے والا وقت ہمارا ہوگا،اور آخرت کی سرخروئی اس سے بھی پہلے یقینی ہوجائے گی۔
آج معاشرے میں جھوٹ اتنا عام ہوگیا ہے کہ اب سچ بولنا اور سچ پر یقین کرنا قریباً ناپید ہے۔ آج اگر کوئی شخص کسی کی بات کو سچ سمجھ کر یقین کرلے تو اس کو بے وقوف سمجھا جاتا ہے، اور فرض کرلیا گیا ہے کہ سب کچھ جھوٹ ہے، جب تک کہ کوئی سچ ثابت نہ کردے۔ تہذیبوں کی تاریخ میں ہمیشہ سچ کو یہ مقام حاصل رہا ہے لیکن آج ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر جھوٹ کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ جھوٹ بولا، سنا اور برتا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ ہماری زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔ سیاست سے لے کر تجارت، عدالت اور صحافت سارے کے سارے اداروں کا کاروبار بحیثیت مجموعی اسی سے شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم۔ اسی وجہ سے اب ہمارے معاشرے میں سماجی طور پر، اور ہمارے گھروں میں خاندانی طور پر، اور ہماری ذات میں انفرادی سطح پر بھی یہ اتنا عام ہوگیا ہے کہ کسی صاحب ِ ایمان اور صاحب ِ عمل کے لیے بھی اپنا دامن بچانا مشکل ہوگیا ہے۔ اس لیے کہ جب ایک بیماری وبا کی طرح عام ہوجائے تو کسی نہ کسی درجے پر ہر انسان اُس کا شکار ہوکر رہتا ہے۔
حقیقت میں اگر ہم جائزہ لینا شروع کریں تو ہم ایسے ایسے مواقع پر جھوٹ سے کام لیتے ہیں جہاں اس کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ اپنے احباب، رشتہ داروں کے سامنے شیخی بھگارنا ایک عام بیماری بن گئی ہے۔ یونہی محفل میں رنگ بھرنے کے لیے چند واقعات سنا دینا جس سے وقتی طور پر سب واہ واہ کر اُٹھیں، محض لوگوں کے اندر اپنی دھاک بٹھانے کے لیے زندگی کے ناکردہ واقعات سنا دینا جن کو اب ثابت نہیں کیا جاسکتا وغیرہ۔ اس معاملے میں خواتین کا تناسب تھوڑا زیادہ ہوجاتا ہے کہ نبی کریمؐ نے معراج کے موقع پر خواتین کو جہنم میں زیادہ دیکھا تو اس کی تصریح یہی فرمائی کہ خواتین زبان کے معاملے میں زیادہ احتیاط نہیں برتتی ہیں۔ غیبت، بدزبانی، جھوٹ اور زیادہ تر اخلاقی برائیوں کا تعلق چونکہ زبان سے ہے اور عموماً خواتین اس کے استعمال میں غیرمحتاط اور جذباتی ہوتی ہیں اسی لیے وہ جہنم میں بھی زیادہ ہوں گی۔
خواتین چونکہ اپنے میکے، شوہر اور بچوں کے معاملے میں حساس ہوتی ہیں اس لیے گھریلو سطح پر جھوٹ کی یہ بیماری رگوں میں سرایت کرگئی ہے۔ میکے اور سسرال میں پیدا ہونے والی مختلف صورت حال میں جائز اور ناجائز طور پر محض اپنے دفاع کے لیے غلط بیانی سے کام لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات کوئی وجہ نہیں بھی ہوتی لیکن عادتاً ہی جھوٹ بول دیا جاتا ہے۔ بچے بڑے ہونے لگتے ہیں تو اُن کی بے جا تعریف میں اُٹھتے بیٹھتے رشتہ داروں اور سہیلیوں کے سامنے اس کا اظہار اس طریقے سے ہوگا کہ جو کام بیچارے نے نہ بھی کیے ہوں یا اگر کیے بھی ہوں تو بڑھا چڑھا کر اُس کو بیان کرنا۔ اس میں شک نہیں کہ اولاد کی محبت ایک فطری امر ہے اور ہمارا دل بھی کرتا ہے کہ بچے کے اچھے کام کی تعریف اور اُس کی حوصلہ افزائی کریں مگر ہماری چھوٹی سی یہ عادت خاندانوں کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ نکاح اور شادی جس کو عبادت کا درجہ حاصل ہے اُس کی بنیاد ہی کئی طرح کے جھوٹ پر رکھی جاتی ہے۔ عمر، سلیقہ، اسناد اور تعلیم و تربیت کے متعلق اس قدر جھوٹ بولے جاتے ہیں یا مبالغے سے کام لیا جاتا ہے کہ اصل حقیقت جب بعد میں کھلتی ہے تو اعتماد کی ڈُور ٹوٹنا شروع ہوجاتی ہے۔ یہ سب کچھ محض اس لیے کیا جاتا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا تو ظاہر ہے رشتے نہیں ہوں گے چاہے بعد میں اُس رشتے کا انجام ہی علیحدگی پر ہو۔ یہ ایک ایسا مروج جھوٹ ہے جو شروع تو ایک ذات سے ہوتا ہے مگر اس کے نقصانات وقت کے ساتھ ساتھ پھیلتے چلے جاتے ہیں۔
گھریلو سطح پر بولے جانے والا یہ جھوٹ اب ایک نفسیاتی بیماری کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے افراد اور خصوصاً خواتین کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ نفسیاتی تربیت کی بھی ضرورت ہے، جس پر اہلِ علم حضرات کو توجہ دینی چاہیے۔ اس لیے کہ اہلِ مغرب کے مقابلے میں ہم اپنے خاندانی نظام پر فخر کرسکتے ہیں۔ لیکن اب بڑھتی ہوئی طلاقیں اور ناچاقیاں اس نظام کے درپے ہیں۔ اس لیے اس کو بچانے کی فکر کرنی چاہیے۔ دراصل یہ کثرت سے بولے جانے والے جھوٹ کی ہی بے برکتی ہے جو ہمارے خاندانی نظام کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔
وَالَّذِیْنَ لاَ یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ لا وَاِِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا o (الفرقان ۲۵:۷۲) اور (رحمن کے بندے وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغو چیز پر اُن کا گزر ہوجائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔
جس جھوٹ سے کسی کی حق تلفی ہورہی ہو یا کسی کو انصاف نہیں ملتا، اس کی بنیاد پر کوئی ٹھیک اجتماعی فیصلہ اور صحیح راے قائم نہیں کی جاسکتی۔ یہ اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ اس کے نقصانات اجتماعی ہی نہیں ہوتے بلکہ دُوررس بھی ہوتے، اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دل خدا کے خوف سے خالی اور انسان خدا کی پکڑ سے بے نیاز ہے۔
اس کی بھی کئی شکلیں ہیں، مثلاً بعض اوقات ہم الفاظ سے جھوٹ نہیں بولتے لیکن صحیح بات کو معلوم ہونے کے باوجودچھپا لیتے ہیں، جس سے معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچا جاسکتا اور نتیجہ ایک غلط فیصلے کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اجتماعی معاملات خواہ کسی بھی سطح کے ہوں اُس میں حق اور سچ کا ساتھ دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ ملکی سطح اور معاشرتی سطح کے بڑے بڑے معاملات، یعنی ہماری سیاست، ہماری عدالتوں میں جھوٹی گواہی، جھوٹے مقدمے، تجارت میں جھوٹ اور دھوکا دہی، تعلیمی اداروں کی جعلی اسناد، صحافت میں میڈیا کی غلط اور مبہم رپورٹنگ جس سے سچ اور جھوٹ گڈمڈ ہوکر رہ گیا ہے اور ایک عام آدمی کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ یہ سارے جھوٹ آج بولے جارہے ہیں۔ یہ سب کو نظر آرہے ہیں اور من حیث القوم ہم جس عذاب سے گزر رہے ہیں یہ اسی کا نتیجہ ہے۔
اسی طرح سچ بولنے کی اتنی فضیلت ہے کہ غیبت جیسی برائی بھی چند خاص صورتوں میں جائز ہوجاتی ہے، مثلاً مظلوم کی فریاد رسی اور انصاف کے حصول کے لیے، فتویٰ حاصل کرنے کے لیے، اور معاملات کی اصلاح کے لیے اُن لوگوں کے سامنے حال بیان کرنا جو اس کو درست کرنے کے ذمہ دار ہوں (اس سلسلے میں تفصیلی احادیث اور فقہا کا بیان ریاض الصالحین (حصہ اول) میں غیبت کا جواز کے بیان میں دیکھا جاسکتا ہے)۔
ان دونوں قسم کی احادیث کو دیکھتے ہوئے ہم اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں کہ حقیقت میں اخلاق اور معاملات کی درستی مطلوب ہے، اور اسلام، مسلمانوں کے مابین محبتوں کو پروان چڑھانا چاہتا ہے۔ اسی لیے محبتوں میں اضافے اور مصالحت کے لیے جھوٹ جیسے گناہِ کبیرہ کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہم نے چیزوں کو اُلٹ دیا ہے۔ جہاں چھوٹا موٹا جھوٹ بول کر معاملات کو سنبھالا اور بچایا جاسکتا ہے وہاں تو ’بھرپور سچ‘ کا مظاہرہ کر کے دلوں کو چیر پھاڑ دیا جاتا ہے، اور جہاں حقیقت میں سچ کی تلاش میں معلومات لی جاتی ہیں تو ’کہیں غیبت نہ ہوجائے‘ کا سوچ کر ہم اصل سچ تک پہنچنے میں رکاوٹ بنتے ہیں اور نتیجتاً ایک بڑا نقصان منتظر ہوتا ہے۔ اس طرح ہم محبتوں کو پروان چڑھانے کے بجاے بدگمانیاں بڑھاتے ہیں۔
قرآن کی اس آیت پر اپنا ایمان پختہ کرلیں کہ اللہ جسے چاہتا ہے عزت سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ کوئی اسے روک نہیں سکتا تو پھر کیوں ہم اپنی جھوٹی عزت بنانے کے لیے ایسے طریقے اختیار کریں جس سے آخرت میں تو رُسوائی ہوگی ہی لیکن دنیا میں بھی سب اس کا تعفن محسوس کرلیں۔ اس لیے کہ وقت گزرنے کے ساتھ سچ اور جھوٹ دنیا میں بھی واضح ہوکر رہنا ہے۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے۔
اپنے ذہن میں اس تصور کو پختہ کرلیں کہ اس دنیا میں جتنی بھی بڑی کامیابی ہو وہ بہرحال اس دنیا کی کامیابی ہے اور آخرت کی بڑی کامیابی کے سامنے اُس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اسی طرح اس دنیا کی بڑی سے بڑی ناکامی بھی آخرت کی ناکامی کے سامنے ہیچ ہے۔ اس لیے آخرت کی کامیابی کے لیے، دنیا کا بڑے سے بڑا نقصان بھی اُٹھانا پڑے تو سچ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا چاہیے۔
اسلام میں عبادات کے مقاصد میں سے ایک بڑا مقصد انسان کی اخلاقی تربیت ہے اور اخلاقی تربیت کی بنیاد ہی جھوٹ سے پرہیز اور سچ کی تلقین ہے۔ اگر ہم دنیا کے کسی بھی چھوٹے اور بڑے فائدے کے لیے بولے جانے والے جھوٹ کو اپنی ذات سے نکالنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو آخرت کی کامیابی یقینا ہماری منتظر ہے ہی، اس دنیا میں بھی من حیث القوم ہم پھر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدینؓ کے نظام کو نافذ کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
مسجدِ حرام میں قدم رکھا تو ایک عجیب سی طمانیت کا احساس ہوا۔ راستہ ڈھلواں ہے، دونوں طرف فرشِ مسجد پر قیمتی قالین بچھے ہیں۔ سامنے کعبہ کی مختصر سی عمارت ہے--- حرم شریف نشیب میں واقع ہے۔ ایک پیالہ ساکہ جس کے کناروں پر مسجدالحرام کی دومنزلہ عمارت ہے۔ حرم کے مینار اتنے اُونچے نہیں کہ پگڑی سنبھالنی پڑے۔ اس لمحے میں نے صرف اتنا کچھ دیکھا یا دیکھ سکا۔ میں حرمِ کعبہ کے پہلے نظارے میں یوں کھو گیا تھا کہ ماحول کی ہرتفصیل نگاہوں سے اوجھل ہوگئی تھی۔ یہ لمحہ بہت عظیم تھا اور اب بھی ہے۔ (ارضِ تمنّا، ص۱۴۲-۱۴۳)
o
میں باب السلام کے سامنے کھڑا تھا۔ حرم میں داخل ہوا اور کعبہ کی کشش کو دل میں محسوس کرتے ہوئے، بیرونی ہال سے گزرتے ہوئے ان سیڑھیوں کے پاس جا پہنچا جو کھلے آسمان تلے موجود اُس وسیع احاطے تک جاتی ہیں جس کے بیچوں بیچ، سیاہ غلاف میں ملفوف، وہ مکعب عمارت ہے جسے کوئی چار ہزار سال قبل ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی مدد سے تعمیر کیا تھا اور جو سیکڑوں سال سے اربوں انسانوں کی روحانی زندگی کا مرکز رہی ہے۔
آنکھیں سیاہ پوش عمارت پر مرتکز اور دل ایک عجب سرور سے سرشار، پائوں سرد سنگِ مرمر پر یوں جیسے اس سحرانگیز لمحے میں جسم کے وزن سے آزاد ہوچکے ہوں۔ نہ جانے کتنا وقت گزر گیا، بالآخر دل میں کوئی چیز پگھلی، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جیسے کوئی چشمہ خاموشی سے جاری ہوگیا ہو۔
ہزاروں مرد، عورتیں، اور بچے صحن میں موجود تھے۔ ان میں طواف کرنے والے بھی تھے اور وہ بھی جو رات کے اس اوّل پہر میں کعبہ کے گرد عبادت میں مصروف تھے۔ طواف کرنے والوں میں احرام میں ملبوس زائر بھی تھے اور عام کپڑوں میں ملفوف مکین بھی، سب کعبہ سے نکلنے والی پُراسرار جذبی شعاعوں کی غیرمرئی کشش میں محصور، متحرک بچے، عورتیں، مرد اور فرشتے جو اس رات بیت اللہ کی زیارت کے لیے بلائے گئے تھے۔
نظر درِ کعبہ پر مرتکز کیے، صحن کی طرف اُترنے والی سیڑھیوں پر کھڑا ایک حاجت مند فقیر جس کا دل ربِ کعبہ کی بڑھتی ہوئی کشش سے یوں دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پھٹ جائے گا اور اپنے قفس کو توڑ کر کسی پرندے کی طرح پھڑک کر ڈھیر ہوجائے گا۔ (سحرِمدینہ،ص ۲۰-۲۱)
o
دنیا کے بتکدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا
یہ سیاہ پتھروں سے بنا ہوا چوکور کمرہ حرم شریف کی عالی شان دومنزلہ عمارت کے درمیان اس طرح مسند نشیں ہے جیسے کسی قیمتی انگوٹھی میں کوئی بیش قیمت سیاہ پتھر آویزاں ہو جس سے بے شمار کرنیں پھوٹ رہی ہوں۔ میں اور میری اہلیہ عجب عالمِ استغراق میں تھے۔ دعا کے لیے ہاتھ بلند تھے۔ سارے اعزا و اقربا، احباب جو دنیا میں تھے یا دنیا سے جاچکے تھے ایک ایک کرکے یاد آرہے تھے۔ بیت اللہ کے سنہرے دروازے پر نگاہ ٹکی ہوئی تھی کہ کاش! یہ کھل جاتا اور کاش! ہم اندر کا منظر بھی دیکھ لیتے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اللہ کا گھر تو بالکل ایک عام انسان کے گھر سے بھی معمولی ہے، مگر اس کے اردگرد بقعۂ نور بنی ہوئی بلندوبالا عمارتیں حقیر محسوس ہورہی تھیں۔ اللہ کے گھر میں کوئی چمک دمک نہ تھی مگر مسجدحرام کی پُرشکوہ محرابیں، سلیٹی دھاریوں والے سنگِ مرمر کی بلندوبالا دیواریں، پُروقار و چمک دار ستون جن کو بڑے بڑے روشن فانوس اپنی شعاعوں سے جگمگا رہے تھے لیکن کسی زائر کی نگاہیں اللہ کے گھر کے سامنے ان عمارات پر نہیں ٹکتی تھیں۔ سب کی نگاہوں کا محور وہ سیاہ غلاف سے ڈھکا ہوا چوکور کمرہ تھا جو ہر طرح کی زیبایش سے بے نیاز تھا۔ اس گھر کے جاں نثار اگر اجازت ہوتی تو اسے سونے کی چادروں سے ڈھک دیتے مگر اس گھر کے مالک کی یہی مرضی تھی کہ اس کا گھر بھی ایک عام انسانوں کے گھر جیسا نظر آئے اور اسی صورت میں برقرار رہے جس شکل میں اسے معمارِ اوّل حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا۔ (جلوے ہیں بے شمار،ص ۱۵)
o
تم اس گھر پہنچ گئے ہو جس کو حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا اور ان کے رب نے اس شہر کو ایسا امن کا مسکن بنایا کہ جو اس میں داخل ہوتا ہے اس کے جان و مال محفوظ و مامون ہوجاتے ہیں۔ یہی گھر اُس ہدایت کا مرکز بھی ہے جس میں انسان پورے کے پورے داخل ہوجائیں تو ان کے قلب و روح، فکروسوچ، اخلاق و کردار، شخصی زندگی اور حیاتِ اجتماعی، سب محفوظ و مامون ہوجاتے ہیں۔ انسان اگر کہیں خوف و حزن، ظلم و فساد اور دنیا و آخرت کے بگاڑ اور تباہی سے امن حاصل کرسکتا ہے تو اس بناے ہدایت میں داخل ہوکر جو عالمِ معنوی میں خانہ کعبہ کی مثال ہے، وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا (اٰل عمرٰن ۳:۹۷)۔ (حاجی کے نام، ص ۲۰)
o
حرم کا صحن بقعۂ نور بنا ہوا ہے۔ برآمدوں میں فروزاں ہزاروں یا شاید لاکھوں برقی قمقموں اور فانوسوں کی روشنی خانۂ خدا کی طرف لپک رہی ہے۔ برآمدوں کی چھت پر نصب ۱۴۴ انتہائی طاقت ور سرچ لائٹس، ۱۴۴ ننھے منھے سورجوں کی طرح دہک رہی ہیں۔ قطار اندر قطار بیٹھے ان ہزاروں لاکھوں زائرین میں سے کچھ اللہ کے ایسے پُراسرار بندے بھی ہیں جن کے زمانے عجیب اور جن کے فسانے غریب ہیں- -- اگلے دن مغرب کی نماز سے ذرا پہلے ایک ایرانی نوجوان میرے پہلو میں بیٹھا تھا۔ اذان کی آواز بلند ہوتے ہی اُس نے جھٹ سے کوئی نمبر ملایا، لمحہ بھر کو بات کی اور پھر فون بند کیے بغیر ہاتھ میں پکڑے رکھا۔ اذان ختم ہوئی تو اُس نے فون بند کر دیا اور میری طرف دیکھ کر بولا: ’’میری ماں نے کہا تھا کہ مجھے حرم شریف کی اذان ضرور سنانا‘‘۔
میں مسلسل کعبہ کے غلاف کو دیکھ رہا ہوں۔ حجراسود کے عین اُوپر، چھت کے قریب سنہری ریشے سے بنے الفاظ یاحیی یاقیوم، میری نگاہوں کے سامنے ہیں۔ شام رات میں تحلیل ہورہی ہے لیکن ہزاروں لاکھوں برقی قمقموں کی روشنی نے حرم کے دالان کو نور میں نہلا دیا ہے۔ ایک دو دن بعد جب میں یہاں سے چلا جائوں گا تو بھی یہ دالان، یہ روشنیاں، یہ بیت اللہ اسی طرح موجود ہوں گے۔ یاحیی یاقیوم ، میں تو شاید پھر سے دنیا کے جھمیلوں میں تجھے بھول جائوں، لیکن تو مجھے یاد رکھنا۔ تو نے بھلا دیا تو میں کہاں جائوں گا؟ (مکہ مدینہ، ص ۴۶-۴۷)
o
اللہ کے گھر کے سامنے ہم نہ جانے کتنی دیر دست بدعا رہے، یاد نہیں۔ سفر کی تکان غائب ہوچکی تھی اور ہم مطاف میں داخل ہوکر عشاق کے اُس سیلِ رواں کا ایک حصہ بن گئے تھے جو مصروفِ طواف تھا۔ کبھی نگاہ ملتزم پر جاکر رُک جاتی تھی، کبھی حجراسود کو دُور سے بوسہ دیتی، کبھی رکنِ ایمانی پر دل اٹک جاتا اور کبھی حطیم کے اندر داخل ہوکر نماز ادا کرنے کی اُمنگ دل پر چھا جاتی۔ طواف تھا کہ جاری تھا۔ میری اہلیہ اپنے گھٹنوں کے درد کو بھول کر اس طرح چل رہی تھی گویا جنت کی کسی کیاری میں گلگشت کر رہی ہوں۔ ہمارے آگے پیچھے دائیں بائیں کبھی ایرانی، کبھی ترکی، کبھی مصری، کبھی شامی، کبھی امریکی و یورپین، کبھی پستہ قد انڈونیشیائی، کبھی درازقد اور بھاری بھرکم صافوں اور لبادوں میں ملبوس افغانی، کبھی وسط ایشیا و چین کے مخصوص رنگ و بناوٹ کے مرد عورت اس طرح چل رہے تھے جیسے سمندر میں بے شمار موجیں اُٹھ رہی ہوں، مگر ہرشخص اسی فکر میں غلطاں کہ اس کی وجہ سے دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے۔ سب کی زبان پر دعائیں، کوئی بآواز بلند اور کوئی دھیرے دھیرے اللہ کے کلام اور مسنون دعائوں کے ورد میں مصروف مگر کچھ ایسے بے تاب و مضطرب لوگ بھی تھے جو مطاف میں سب سے آگے نکلنے کی دُھن میں یوں چھلانگ لگاتے گویا سامنے جنت کا دروازہ ہے اور وہ سب سے پہلے داخل ہونا چاہتے ہیں۔(جلوے ہیں بے شمار، ص۱۶)
o
اس گھر کے گرد جتنے طواف کرو، کم ہیں، بلکہ میں تو یہی کہوں گا کہ جتنا وقت بھی تمھیں اس کے جوار میں گزارنے کے لیے ملے، اور جتنی محبت و استطاعت اللہ تمھیں دے، سب طواف کرنے میں لگا دینا۔ نماز، رکوع، سجدہ، تلاوت، سب عبادات ہر جگہ ہوسکتی ہیں، اگرچہ مسجدالحرام میں ان عبادات کا ثواب لاکھوں گنا زیادہ ہے، لیکن طواف کی نعمت تو اور کہیں بھی میسر نہیں آسکتی۔ طواف میں جو والہیت ہے، وارفتگی ہے، عشق و محبت ہے، وہ اور کسی عبادت میں نہیں۔ طواف کی ہمت نہ ہو، تو اس محبوب اور حُسن و جمال میں یکتا گھر کو جی بھر کے دیکھنا، اس کے گرد نثار ہوتے ہوئے پروانوں کو دیکھنا۔ دل کے لیے کیف و لذت کا یہ سرمایہ بھی اور کہیں میسر نہ آئے گا۔ (حاجی کے نام، ص۲۱)
o
رکنِ یمانی کے پاس سے گزرتے ہوئے میں کعبہ کی دیوار سے متصل اس قطار میں جاکھڑا ہوا جو حجرِاسود کی طرف بڑھ رہی تھی--- قطار زیاہ طویل نہ تھی اور اس وقت قطار کے باہر سے حجراسود کی طرف آنے والوں پر سخت پہرہ تھا۔ اس لیے لوگ تیزی سے سیاہ پتھر تک پہنچ رہے تھے۔ وہ آگے بڑھتے، ہونٹوں کو حجراسود پر رکھتے اور دو تین ثانیوں میں پہرے دار ان کے سر کو پیچھے دھکیل دیتا۔ ایک شخص پیچھے ہٹایا جاتا تو فوراً دوسرا اس کی جگہ لے لیتا۔ میری باری آئی، میں نے سر جھکا کر چاندی کے طاقچے میں رکھے ہوئے پتھر پر ہونٹ رکھے، پتھر چمکا، اس کے اندر ہزارہا سفید اور سبز لکیریں پل بھر کو جگمگائیں، پھر ایک سخت اور کھردرے ہاتھ نے میرے سر کو پیچھے دھکیل دیا، اور ایک ہجوم مجھے اپنے ساتھ لیتا ہوا ملتزم کی طرف بڑھا۔
درِ کعبہ اور حجرِاسود کے درمیان واقع دیوار کے قریب کھڑے پندرہ بیس آدمی، کچھ گریہ کناں، کچھ خاموش، کچھ ذرا بلندآواز میں رحمت ِ خداوندی کے خواستگار، اور ان میں شامل ایک فقیر جو طواف کے بعد کعبہ کے رب کی خوشنودی اور اعانت کا طالب تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ ادھیڑ عمر آدمی جس کے پیچھے کھڑا میں دیوارِ کعبہ کو چھونے کا منتظر تھا، آہستگی سے پیچھے ہٹا، ایک نظر مجھ پر ڈالی اور اپنی آنسوئوں سے تر داڑھی اور چہرے کے نقوش کی اَنمٹ یاد چھوڑتے ہوئے ہجوم میں اوجھل ہوگیا۔
میں آگے بڑھا، کعبہ کے غلاف کو چھوا اور پھر غلاف کے نیچے موجود پتھروں کو۔ جیسے ہی ہاتھ پتھروں سے مَس ہوئے، سارے وجود میں ایک غیرمرئی طاقت ور لہر دوڑ گئی، جسم کپکپایا اور دل نے التجا کی:
یااللہ! اے اس قدیم گھر کے رب! آزاد فرما ہماری اور ہمارے آبا کی گردنوں کو، اور ہماری مائوں اور بھائیوں کی اولاد کی گردنوں کو، اے صاحب ِ جُود و کرم و فضل و عطا! اے احسان کرنے والے! اے اللہ! ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا فرما اور ہمیں بچالے دنیا کی رسوائی سے اور آخرت کے عذاب سے۔
اے اللہ! تجھ سے التجا ہے کہ ---
اے اللہ! میں تیرے در سے لپٹا گریہ کناں ہوں ---
اے اللہ! اے اللہ! ---
وہ ایک نرم ہاتھ تھا لیکن اس کے اندر نہ جانے کیا پکار تھی کہ جیسے ہی میں نے اسے اپنے شانے پر محسوس کیا، میں دیوار سے پیچھے ہٹ آیا اور احرام میں ملبوس ادھیڑعمر آدمی، جس نے مجھ سے کامل خاموشی کے ساتھ دیوارِ کعبہ کے قرب میں کھڑے ہونے کی فہمایش کی تھی، میری جگہ پر جاکھڑا ہوا۔ اس خاموش تبادلے میں ایک خوبی تھی، ایک بہائو تھا، ایک باہمی رشتے کی خوشبو تھی، ایک نسبت تھی جو دین حنیف سے منسلک انسانوں کو ایک دوسرے کا مونس بناتی ہے۔ (سحرِمدینہ،ص ۲۷-۲۹)
m
اللہ کا گھر ہر لمحے، ہرثانیے، ہر پَل یونہی آباد رہتا ہے۔ کعبۃ اللہ کے گرد، دن رات اور دھوپ چھائوں کی تمیز کے بغیر خلقِ خدا کا دائرہ پیہم حرکت میں رہتا ہے--- قافلۂ شوق صدیوں سے رواں دواں ہے---
لبیک اللّٰھم لبیک کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ چہرے عقیدت کی آنچ سے تمتما رہے ہیں۔ آنکھوں سے آنسوئوں کے سیلاب جاری ہیں۔ آہیں اور سسکیاں تھمنے میں نہیں آرہیں۔ مرد بھی، عورتیں بھی، بچے بھی، بڑے بھی، جوان بھی اور لب ِ گور پہنچ جانے والے بھی۔ کچھ طواف کر رہے ہیں، کچھ نوافل ادا کر رہے ہیں اور کچھ سعی میں مصروف ہیں۔ کچھ تسبیح پر اوراد و وظائف پڑھ رہے ہیں۔ کچھ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے ہیں اور کچھ گردوپیش سے بے نیاز خانۂ کعبہ پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ ان سب کے دل عبودیت اور بندگی کے احساس سے لبالب بھرے ہیں۔ سب اپنی خطائوں پر نادم ہیں۔ سب خداے رحیم و کریم سے عفو و درگزر کے خواستگار ہیں۔ سب کی گردنیں عجزوانکسار سے جھکی جارہی ہیں--- انڈونیشیا سے مراکش تک پھیلی مسلم ریاستوں میں بسنے والے، غیر مسلم ممالک میں اقلیتوں کی زندگی گزارنے والے، سب کھنچے چلے آرہے ہیں۔ ۱۴ سو سال سے صحن حرم یونہی آباد ہے۔ فجر کی اذان کے ساتھ ہی ابابیلوں کے جھنڈ اسی طرح اُمنڈ اُمنڈ کر آرہے ہیں اور حرم کا معطر دالان سرمئی کبوتروں سے لبالب بھرا ہے۔ (مکّہ مدینہ،ص ۲۲-۲۳)
o
تمھاری نظروں کے سامنے جو گھر ہے، وہ گھر والے کی تجلیات گاہ ہے۔ انھوں نے اسے زمین کا مرکز بنایا ہے، کنویں کے گھاٹ کی طرح لوگ پلٹ پلٹ کر اس کی طرف آتے ہیں اور کسی طرح سیراب ہونے میں نہیں آتے۔ لوگوں کے قیام و بقا کا سامان بھی اسی گھر کے دم سے ہے۔ جَعَلَ اللّٰہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قَیَامًا لِلّنَّاسِ (المائدہ ۵:۹۷) مَثَابَۃً لِلَّنَّاسِ وَاَمْنًا (البقرہ ۲:۱۲۵)۔ (حاجی کے نام، ص ۲۱)
o
ایسا کیوں ہے کہ ہم لوگ جو حرم میں داخل ہوتے ہی اپنے اندر ایک جہاں نو کروٹیں لیتا محسوس کرتے ہیں اور ہمارے احساس و خیال کی دنیا میں زلزلہ سا بپا ہوجاتا ہے، حرم سے نکلتے اور اپنے آشیانوں کو لوٹتے ہی، سارے لطیف احساسات اور ساری منور سوچوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔
مسلم ممالک مسلسل گردابِ بلا کے تھپیڑے کھا رہے ہیں۔ ہمارے دیکھتے دیکھتے افغانستان آگ اور خون میں نہاگیا۔ ہماری آنکھوں کے سامنے بصرہ و بغداد پر قیامت ٹوٹ گئی۔ فلسطین، کشمیر اور چیچنیا میں درندہ صفت سامراجیوں کی بھوک مٹنے میں نہیں آرہی۔ ہم کہ سوا ارب سے زائد سر اور اس سے دُگنے ہاتھ رکھتے ہیں، بے چارگی اور بے بسی کی تصویر بنے تماشا دیکھ رہے ہیں--- سوال پیدا ہوتا ہے کہ سوا ارب انسان کیا کرر ہے ہیں؟ اگر اتنی چنگاریاں بھی بہم ہوجائیں تو جانے کتنے سامراج بھسم ہوجائیں لیکن ایسا کیوں نہیں ہو رہا؟ ممکن ہے اس سیاہ بختی کا ایک سبب سائنس اور ٹکنالوجی سے محرومی بھی ہو۔ لیکن بلاشبہہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عشق کی آگ بجھ چکی ہے اور مسلمان راکھ کا ڈھیر بن کر رہ گیا ہے۔ ہماری صفیں کج، دل پریشاں اور سجدے بے ذوق ہیں۔ ہمارے دلوں میں ایمان کی حرارت سرد پڑتی جارہی ہے اور ہمارا کردار و عمل ان تعلیمات سے دُور ہوتا جا رہا ہے جو اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسولؐ نے ہم تک پہنچائیں---
میں حجراسود کے عین سامنے بیٹھا، غلافِ کعبہ پر نظریں جمائے سوچتا رہا کہ ایسی ہریالی ، ایسی زرخیزی اور ایسی شادابی کے بعد بھی ہمارے دل و نگاہ کا شجر یکایک ٹنڈ منڈ کیوں ہوجاتا ہے؟ حج اور عمرے، طواف اور سعی، اوراد اور وظائف، عبادتیں اور زیارتیں، سب کچھ پُربہار موسم کی خوشبو بھری پھوار کی طرح آتے اور گزر جاتے ہیں اور ہم ایک بار پھر دنیاداری کے لق و دق صحرا میں غرق ہوجاتے ہیں--- جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے وقت ہمارے ایک ہاتھ میں آبِ زم زم کا کنستر اور دوسرے ہاتھ میں کھجوروں کی پوٹلی ہوتی ہے اور صحن حرم میںعطا ہونے والے جذب و کیف اور روح و فکر میں بپا ہونے والے انقلاب کی گٹھڑی ہم اُسی میقات پر چھوڑ آتے ہیں، جہاں سے احرام باندھ کر حدودِ حرم میں داخل ہوتے ہیں۔(مکہ مدینہ، ص ۲۳-۲۴)
مدینہ کی فضا کافی خوش گوار تھی۔ بادل آسمان پر آتے تھے اور گاہے گاہے بارش ہوتی تھی۔ مکّہ کی فضا میں عجب جاہ و جلال تھا۔ چٹانوں اور پہاڑوں، وادیوں اور گھاٹیوں کے بیچ میں کھردرے سیاہ پتھروں کے نہایت سادہ سُودہ گھر کے سامنے سارے انسان حقیر نظر آتے ہیں جو والہانہ اس گھر کا طواف کرتے ہیں--- مدینہ میں انسان خود کو ہر طرح کے بوجھ (tension) سے آزاد اور ایک عجیب دوستانہ ماحول میں خود کو محسوس کرتا ہے۔ ہر شے سے اُنس و محبت کی خوشبو آتی ہے۔ ہرطرف لطافت اور خوش گواری کے منظر نظر آتے ہیں۔ حرمِ نبویؐ کے ساتھ ہی مدینہ شہر اور اس کے مضافات کا گوشہ گوشہ اپنی حیات افروز تاریخ چھپائے ہوئے ہے۔ (جلوے ہیں بے شمار،ص ۴۹)
o
مسجدنبویؐ کے اس حصے میں جو روضۂ اطہر سے ملحق ہے اور جہاں حجرۂ عائشہ صدیقہؓ اور حضور اکرمؐ کا مصلیٰ و منبر تھا، قدم رکھتے ہوئے احساس ہو تاکہ کہیں ہمارے ناپاک وجود ناپاک قدم اس مقام کے تقدس کو مجروح تو نہیں کر رہے ہیں۔ مسجد نبویؐ اور روضۂ اطہر ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ مسجد کی عمارت بے حد وسیع و شان دار ہے۔ بے حد کشادگی ہے۔ سب کو نماز ادا کرنے کی جگہ آسانی سے حاصل ہوجاتی ہے۔ بقول مولانا عبدالماجد دریابادی حُسن و جمال کے لحاظ سے، خوبی و محبوبی کے لحاظ سے، زیبائی و دل کشی کے لحاظ سے پردئہ زمین پر اس مسجد کا جواب نہیں۔ بس یہ جی چاہتا ہے کہ ہروقت صحن میں بیٹھے ہوں اور عمارتِ مسجد کی طرف ٹکٹکی لگی رہے۔ تصور میں ۱۴سوسال کی تاریخ پھر جاتی ہے۔ دورِصحابہ، تابعین و تبع تابعین اور اہل اللہ و اہلِ حق کی ایک طویل قطار سامنے آتی ہے جنھوں نے تاریخ میں اس مسجد کے صحن و محراب میں آکر خدا کے حضور رکوع و سجود کیا ہوگا۔ روضۂ اطہر پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا ہوگا--- اللہ اللہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم خود دورِ نبویؐ میں آگئے ہیں۔ (جلوے ہیں بے شمار،ص ۴۸-۴۹)
o
روضۂ رسولؐ کے سامنے کھڑا فرد عجیب کیفیتوں سے دوچار ہوتا ہے۔ وہ ہیبت، خوف اور تلاطم جو کعبہ کے قرب سے دل میں پیدا ہوتا ہے، نبیؐ کی قبر کے پاس محبت، نرمی اور سکون سے بدل جاتا ہے۔ کوئی دومیٹر چوڑا راستہ، جو زائرین کو سبز جالیوں کے پیچھے موجود ان تین قبروں کے قریب لاتا ہے جن میں حضوؐر اور ان کے دو اصحابؓ مدفون ہیں، نسبتاً خالی ہوا تو میں اس قطار میں جاکھڑا ہوا جو آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی اور جس میں شامل لوگ اس عظیم تجربے کے منتظر تھے جو روضۂ رسولؐ کے قرب سے دلوں میں تغیر پیدا کرتا ہے۔
روضے کے قریب پہنچ کر میں قطار سے نکل کر اس چھوٹے سے ہجوم میں شامل ہوگیا جو رواں قطار کے پیچھے کھڑا تھا۔ اس ساکت گروہ میں موجود لوگ نبیؐ پر درود و سلام بھیج رہے تھے، دعاگو تھے اور اپنی اپنی کیفیت و حالت و مقام کے مطابق اس مبارک مقام سے فیض حاصل کر رہے تھے۔ ان میں سے اکثر کے لبوں سے سلام و درود کی صدائیں اُبھر رہی تھیں۔(سحرِمدینہ،ص ۷۴-۷۵)
o
سامنے رسولؐ خدا سو رہے ہیں۔ کوئی لمحہ درود و سلام اور سجدہ و تکبیر سے خالی نہیں۔ یہ تسبیح و تہلیل، قرآن و حدیث، ذکر و اذکار، نوافل و وظائف اور دعا و صفا کی دنیا ہے۔ اس کی بنیادیں وہی ہیں جو رسولؐ اللہ نے اٹھائی تھیں۔ اس کی روح رسولؐ اللہ کی روح ہے۔ اُمہات المومنینؓ کی حیا چاروں طرف محیط ہے۔ صحابہؓ کی آوازیں گندھی ہوئی ہیں اور اہلِ بیت بولتے چالتے ہیں۔ صرف محسوس کرنے کی ضرورت ہے اور احساس کسی کسی کو ملتا ہے۔(شب جاے کہ من بودم، ص ۱۴۰)
o
اس حجرے سے متصل چبوترے پر بیٹھ کر میں نے قرآن شریف کا ربع پڑھا۔ یہ جگہ وہ ہے جو مسجدنبویؐ کے صحن میں اصحابِ صفہ کے لیے مخصوص تھی۔ قرآن شریف میں نے ریک میں رکھ دیا اور سر جھکا کر بیٹھ گیا۔ میں یہ دعویٰ نہیں کروں گا کہ مجھ پر استغراق کی حالت طاری ہوئی اور میں ۱۴سو سال پیچھے چلا گیا، البتہ یہ ضرور ہوا کہ حضوؐر کی سیرت و سوانح پر میں نے بچپن سے بڑھاپے تک جو کچھ پڑھا تھا، وہ ایک فلیش [جھلک] کی صورت میں میری نگاہوں کے سامنے سے گزر گیا۔ اس کی تفصیل میں بیان نہیں کرسکتا۔
تاہم میں نے ایک انقلاب کو مدینے میں مکمل ہوتے ہوئے دیکھا، جس کا آغاز مکّے میں ہوا تھا۔ آغاز اور انجام کے درمیان صرف ۲۳ سال کا زمانہ حائل تھا۔ یہ ایک مکمل و اکمل انقلاب تھا جس میں انسانیت کے ہرپہلو کی تنقیح و تہذیب ہوگئی تھی۔ معاشرت انسانی کی ایک نئی تعبیر وجود میں آئی تھی۔ دین و دنیا میں ہم آہنگی کی ایک نئی تصویر اُبھری تھی اور ایک نہایت خوب صورت متوازن، مہذب اور متمدن معاشرہ قیام پذیر ہوگیا تھا۔ (ارضِ تمنّا، ص۸۷)
o
رات مسجد اور غسل خانوں کے درمیان صحن سے گزرتے ہوئے آسمان نے مجھے روک لیا۔ اس کی گہرائیوں میں ایسا سکون تھا جو میں نے آج سے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا۔ ستاروں سے مزین گہرے نیلے رنگ کے شفاف آسمان میں ایک نور تھا جو اس کی بسیط وسعتوں میں موجزن تھا۔ نہایت دھیما، ٹھنڈا نور جو اس کے نیلے رنگ کے اندر سے اُمڈ رہا تھا۔ کیا یہ لیلۃ القدر تھی؟
تراویح کے دوران قرآن حکیم کی آخری سورتوں کے اثر سے دل کانپتا رہا، آنکھوں سے آنسو بہتے رہے اور دل کے اندر کوئی شے یوں پگھلتی رہی جیسے موم بتی پگھلتی ہے۔ (سحرِمدینہ، ص ۱۲۷)
o
مدینہ منورہ، چمنستان ہستی کا ایک سدا بہار پھول ہے جس کی لطافت سب سے جدا، جس کے رنگ سب سے منفرد اور جس کی خوشبو سب سے مسحورکن ہے۔ اس کی ہوائوں میں کچھ ایسا جادو اور فضائوں میں کچھ ایسا حسن ہے کہ کسی بھی خطۂ ارضی سے آنے والا انسان اپنے جذبات و احساسات پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ مکہ مکرمہ کے پُرشکوہ جلال کے دائرے سے نکل کر مسجدنبویؐ کے احاطۂ جمال میں داخل ہوتے ہی قلب و نظر ایک سراسر مختلف کیفیت سے ہم کنار ہوجاتے ہیں۔ اس کیفیت کی سرشاری اور سرمستی کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جو برسوں کوچۂ جاناں تک پہنچنے کی آرزو میں سلگتا رہا ہو۔ جس کی زندگی کا ہرلمحہ حضوری و حاضری کی تمناے بے تاب سے مہکتا رہا ہو۔ جس نے انتظار کی لمبی راتیں اور آتشیں دن گزارے ہوں۔ جو صرف اس لیے جیتا رہا ہو کہ مرنے سے قبل اپنی آنکھوں کو گنبد خضریٰ کے عکس جمیل سے منور کرلے۔(مکہ مدینہ، ص ۲۵)
o
اب سکون قلب، طبعی اہتزاز و انبساط، احساس فرحت و مسرت سے طبیعت چمن چمن ہوتی محسوس ہوئی، شاید حضوؐر اپنے غلاموں کو رخصت کرتے ہوئے اُن کے اضمحلال و نقاہت کو ان کی رگوں سے نکال کر ایک جذبۂ توانا بھر دیتے ہیں۔ انعاماتِ بارگاہ رسالت کا یہ جرعۂ اولیں سیر ہوکر اپنی نَس نَس میں اُتارتا ہوں۔ یہ آس بندھ جاتی ہے کہ حضوؐر اپنے حوضِ کوثر سے اپنے غلام ابن غلام کو ایک جامِ لب ریز سے ضرور نوازیں گے۔ اس یقین کے ساتھ واپس اپنے ہوٹل آجاتا ہوں۔(حرمین شریفین میں،ص ۱۴۶)
o
حج کے اس سفر سے بڑا سکون بڑی طمانیت حاصل ہوئی۔ دل میں یہ خواہش بار بار کروٹ لیتی رہی کہ کاش! اسی طرح بار بار جوارِ حرم اور دیارِ حبیب کی حاضری کا شرف حاصل ہوتا رہے، مگر پھر یہ خیال آتا کہ اس حرم کے مالک اور اسی دیار کے حبیب نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ہر مومن کو اپنے گردوپیش سے باخبر رہنے اور اسے صالحیت کی طرف موڑنے کی ہرآن فکرکرنی چاہیے۔ حج اگر فرض کی ادایگی کے بجاے سیاحی و تفریح بن جائے تو یہ پسندیدہ بات نہیں۔ افسوس کہ کتنے اہلِ ثروت اپنی ملّت کے غریب و پس ماندہ لوگوں کی ضرورتوں کی طرف توجہ نہیں کرتے اور کرتے بھی ہیں تو اس طرح کہ اپنے وسائل کے سمندر سے چند قطرے ملّت کے پریشان لوگوں کی طرف بھی ٹپکا دیتے ہیں۔ چنانچہ اسلامی معاشرے میں عدم توازن اور اسلام کی قوت و شوکت کے فقدان کے مظاہر ہروقت سامنے آتے رہتے ہیں۔ کاش! حج ہر انسان کو ایک انقلابی انسان ایک مردِ مجاہد اور ایک دین کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردینے والا حوصلہ مند انسان بنائے۔ کاش! یہ ملّت کے مقدر کو تبدیل کرنے کا ایک ذریعہ بن سکے۔ کاش! یہ بھی ہماری دیگر عبادتوں کی طرح ایک بے روح عبادت بن کر نہ رہ جائے۔ (جلوے ہیں بے شمار،ص ۵۸)
o
ہم حج بھی کریں، عمروں کے لیے بھی جائیں، منہ کعبہ شریف کی طرف کر کے نمازیں بھی پڑھیں، مگر ہم پر وہ رنگ نہ چڑھے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا رنگ تھا، تو اس سے بڑھ کر ہماری حرماں نصیبی اور کیا ہوسکتی ہے، اور جو حرماں نصیبی ہمارا مقدر بن گئی ہے، اس کا سبب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ ہم سے دنیا میں جو وعدے ہیں___ استخلاف فی الارض کا وعدہ ہے، غلبۂ دین کا وعدہ ہے، خوف سے نجات اور امن سے ہم کنار کرنے کا وعدہ ہے___ وہ سب وعدے اس شرط کے ساتھ مشرط ہیں کہ ہم اللہ کے ایسے بندے بن جائیں کہ بندگی اور کسی کے لیے نہ ہو: یَعْبُدُوْنِی لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَئْـیًا (النور ۲۴:۵۵)۔(حج کا پیغام، ص ۹)
۱- ارضِ تمنّا، غلام الثقلین نقوی، فیروز سنز، لاہور، ۱۹۸۸ء
۲- پھر نظر میں پھول مہکے، محمد اکرم طاہر، ادارہ معارف اسلامی، لاہور، ۲۰۰۹ء
۳- جلوے ہیں بے شمار، ڈاکٹر سید عبدالباری، ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، دہلی، ۲۰۰۷ء
۴- حاجی کے نام، خرم مراد، منشورات، لاہور، ۲۰۰۱ء
۵- حج کا پیغام، خرم مراد، منشورات، لاہور، ۲۰۰۵ء
۶- حرمین شریفین میں، محمد رفیق وڑائچ، منشورات، لاہور، ۲۰۰۸ء
۷- سحرِمدینہ، مظفراقبال، دوست پبلی کیشنز، اسلام آباد، ۲۰۰۹ء
۸- شب جاے کہ من بودم، شورش کاشمیری، مکتبہ چٹان، لاہور، ۱۹۷۱ء
۹- مکّہ مدینہ، عرفان صدیقی، جہانگیر بکس، لاہور، ۲۰۱۰ء
روزِ اوّل سے انسان پریشانیوں اور اَن گنت طوفانوں میں گھرا ہوا ہے۔ انسانیت کا یہ قافلہ وقت کے کسی خاص لمحے سے گزر کر وقت کے کسی خاص لمحے تک پہنچتا ہے۔ اہلِ دانش اس کو رنگوں سے بھر کر نت نئے عنوانات سے پیش کرتے ہیں۔ قرآن پاک نے تو اس کی گواہی دی ہے کہ انسان بڑا ظالم اور جاہل واقع ہوا ہے۔ خود اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے، اپنے پیر پر کلہاڑی مارتا ہے، خود ہی محرومی کا شکار ہوتا ہے اور خود ہی اس محرومی کا رونا روتا ہے۔ پھر جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیرے میں خود ہی ٹامک ٹوئیاں مارتا ہے اور منزل سے دُور ہوتا چلا جاتا ہے۔ اپنے آپ سے بے خبر یہ ایک ایسی منزل کی طرف مسلسل گامزن رہتا ہے جو کبھی ہاتھ نہیں آتی، بلکہ بیک وقت کئی کئی منزلوں، کئی کئی کشتیوں کا سوار یہ مسافر متضاد سمتوں کے اندر رواں دواں نظر آتا ہے۔
یہی وہ پس منظر ہے جس میں دعوتِ انبیا ؑکی گونج سنائی دیتی ہے۔ اپنے رب کی طرف بلانے، اس کی پہچان اور شناخت قائم کرنے، چاروں طرف سے اپنے رُخ کو اپنے رب کی طرف موڑ لینے کے لیے یہ دعوت انبیا ؑکی دعوت ہے، جو ہر دور کے اندر سنی گئی۔ اس پکار کو لوگوں نے قریب اور دُور سے سنا، بہ زبان حال اور بہ زبان قال سنا، بہ اندازِ سرگوشی سنا، اور بہ آواز بلند بھی سنا۔
انبیا ؑکی یہ دعوت ان تمام حالات کو ٹھیک ٹھیک بیان کرکے انسانوں کو انسانوں کے رب کی طرف لے جانے کا کام کرتی ہے۔ بھولے بھٹکے اور خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے انسانوں کو راہِ مستقیم دکھاتی ہے۔ پورا قرآنِ پاک اس بات کا گواہ ہے، جابجا اس کی نشانیاں بکھری ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس جانب متوجہ کرتا اور تسلسل کے ساتھ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ تمام انبیا ؑ اسی ایک دعوت کو پیش کرتے ہیں کہ طاغوت کو ٹھکرایا جائے۔ ہر چھوٹے بڑے جھوٹے خدا سے لاتعلقی کا اعلان کیا جائے۔ دل ودماغ کی دنیا کے اندر جو بت سجے ہوئے ہیں، جن بتوں سے اُمیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں، ان سے برأت کا اعلان کیا جائے۔ قرآن کریم نام لے لے کر بتاتا ہے کہ حضرت نوحؑ کی دعوت بھی یہی تھی۔ حضرت ابراہیم ؑبھی یہی کہتے رہے۔ حضرت ہود ؑبھی یہی دعوت لوگوں میں پہنچاتے رہے، تاآنکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی دعوت اور اسی پیغام کو لے کر خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے انسانوں کو بیدار کرنے اور منزل کی طرف لے جانے کے لیے تشریف لائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں اپنے پانچ نام گنوائے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میرا نام محمدؐ ہے، یعنی وہ جس کی سب سے زیادہ تعریف کی گئی، خود اللہ تعالیٰ نے تعریف کی، اس کے فرشتوں اور اس کے بندوں نے تعریف کی۔ میرا دوسرا نام احمدؐ ہے، یعنی وہ نبیؐ جو سب سے زیادہ اپنے رب کی تعریف کرنے والا ہے۔ کسی نے اپنے رب کی اتنی تعریف نہیں کی، اتنی حمدوثنا بیان نہیں کی، اس کی اتنی صفات اور خصوصیات کا تذکرہ نہیں کیا جتنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ میرا تیسرا نام اَلْمَاحِیْ ہے جس کا سیدھا سادا مفہوم اور ترجمہ آج کے بیان کے مطابق انقلابی ہوگا، یعنی مٹانے والا، شرک کو مٹانے والا، حرفِ غلط کی طرح ہر غلط چیز کو مٹانے والا، باطل کو مٹانے اور اس کی جگہ حق کو قائم کرنے والا، اللہ تبارک و تعالیٰ کی کبریائی کو بیان کرنے والا۔ آپ نے چوتھا نام الْحَاشِر بتایا، یعنی جمع کرنے والا کہ روزِ محشر سب سے پہلے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ حشر میں داخل ہوں گے۔ اپنی اُمت کو اور سارے لوگوں کو اکٹھا کریں گے اور آپ کے بعد دیگر انبیا ؑوہاں تشریف لے جائیں گے۔ آپ نے اپنا پانچواں نام اَلْعَاقِبْ فرمایا، یعنی وہ نبیؐ جو آخر میں آنے والا ہے، آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔
فی الحقیقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری جدوجہد، پوری زندگی اور حیاتِ طیبہ، کش مکش کا ہرہرلمحہ اور مرحلہ کہ جس سے آپگزرے ، لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ، (الاحزاب ۳۳:۲۱) کی صورت میں ہمارے لیے مثال اور نمونہ قرار پایا۔ یہ ان سب لوگوں کے لیے دعوتِ عمل اور پیغام غوروفکر ہے جو لذت آشنائی کے مفہوم سے آشنا ہونا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے ناگزیر ہے کہ اس پوری جدوجہد اور کش مکش کو، آپ کے شب و روز اور زندگی کے تمام معمولات، اور ساری ترجیحات کو مسلسل دیکھیں، بار بار مطالعہ کریں۔ بہت قریب سے اس کو پڑھیں، آپس میں موضوعِ گفتگو بنائیں اور جتنی کہکشاں اس کے عنوانات میں سجی ہیں، سب کو سمیٹنے کے لیے اپنے دامن کو زیادہ سے زیادہ وسیع کریں، بصیرت اور بصارت اور عمل کی نگاہوں سے اس پورے دور کا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی، مثال اور اتباع و پیروی کا دور ہے، کا مطالعہ کریں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت کا آغاز تلاوتِ آیات، یعنی کتاب وحکمت کی تعلیم سے کیا۔ اس انقلاب اور تبدیلی لانے کا کام انبیا ؑجب بھی معاشرے کے اندر لے کر اُٹھے ہیں، اور ان کے بعد اسی طریقے سے جب معاشروں کے اندر اسلامی تحریک اُٹھتی ہے، اس نے انبیا ؑ کی پیروی میں یہی کام کیا ہے کہ معاشرے میں نئے انسان تیار کیے جائیں، تاکہ پرانے انسانوں کے حلیے میں سے نیا انسان جنم لے۔ وہ جو پہلے صرف عمر بن خطاب تھا، وہ بعد میں حضرت عمر فاروقؓ بن جائے۔ گئے گزرے اور بگڑے ہوئے لوگوں، حالات کی خرابی کے ذمے دار، فساد پھیلانے والے اور انسانوں کو باہم دست و گریبان کرنے والے لوگوں کے معاشرے کے اندر جب نبی مبعوث ہوتا ہے، اور خاتم الانبیا ؑکے بعد ایک ایسے معاشرے کے اندر جب اسلامی تحریک اُٹھ کھڑی ہوتی ہے، تو وہ پہلے سے موجود انسانوں کو فناکے گھاٹ اُتار کر کوئی نئے انسان علیحدہ سے وجود میں نہیں لاتی، بلکہ اپنی دعوت کے ذریعے، اللہ کی طرف پکارنے اور آخرت کے عنوان کے ذریعے، اللہ اور بندے کے درمیان عہدوپیمان کو تازہ کرکے انھی انسانوں کو بیدار کرتی ہے۔ ان کے کرداروعمل کی لہلہاتی فصل تیار کرتی ہے، منزل کا شعور دلاتی ہے، اور منزل کی جانب مسلسل رواں دواں رکھتی ہے۔ انھی انسانوں کے اندر سے پھر مجاہد اور اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے انسان پیدا ہوتے ہیں۔ کتاب و حکمت کے ذریعے ان کا تزکیۂ نفس ہوتا ہے۔ اسی کے نتیجے میں نئے انسان وجود میں آتے ہیں۔ ان کی فکر کا زاویہ اور سوچ کا عنوان بدل جاتا ہے، اور زندگی کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ سمتِ معکوس میں سفر کرنے والے، مثبت اور تعمیری جدوجہد کے خوگر ہوجاتے ہیں۔
یہ معاشرے کے اندر ایک نیا انقلاب، ذہنی و فکری انقلاب، جسم و جان اور دل و دماغ کی دنیا میں اُبھرتا ہوا انقلاب ہے، جو انسانوں کے اندر ٹھاٹھیں مارتا ہے اور یکسوئی کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔ پھر لوگ انشراح صدر کی کیفیت سے اپنے رب سے جڑنے اور جڑتے چلے جانے،بس اسی کا ہو رہنے، اور اسی کے دامن سے وابستہ ہونے کی دولت سے اس طرح سرشار ہوتے ہیں کہ بے خوف ہوکر مسلسل چلتے چلے جاتے ہیں۔ صرف اسی سے ڈرتے ہیں جس کا کلمہ انھوں نے پڑھا ہو، جس پر ایمان کا انھوں نے اعلان کیا ہو، جس نے ان کو پیدا کیا ، جو ان کا پروردگار ہے، جس کے پاس انھیں لوٹ کر جانا ہے، اپنا نامۂ اعمال پیش کرنا ہے اور زندگی کے تمام معمولات کے ایک ایک لمحے کی رپورٹ پیش کرنی ہے۔ اس خالق و مالک کے ساتھ وابستگی کا ایک لطف اور ایک ایمانی حلاوت ہے۔ جب ایسے سرشاروں کا وزن معاشرہ محسوس کرتا ہے تو پھر ایک انقلاب برپا ہوتا ہے۔ دُور دُور تک بسا ہوا منکرات کا جھاڑ جھنکار اندر کی دنیا سے بھی نکل جاتا ہے اور باہر کی دنیا بھی سکون و آشتی اور پاکیزگی کی دولت سے مالا مال ہوتی ہے۔ یہ انقلاب دل کی زمین کو ہموار کرتا ہے اور اپنے رب سے ملانے، اور اسی جانب بڑھانے کے لیے نرمی و گداز اور ملائمت کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
انبیا ؑکے انقلاب اور انبیا ؑ کے طریقِ کار کے نتیجے میں جب اور جہاں اسلامی تحریک بیدار ہوگی، اسلامی تحریک کا یہی ایک کام ہوگا کہ لوگوں کے سامنے تذکیر کرے، تعمیر سیرت کرے، نفوس کا تزکیہ کرے اور ان کے زاویہ ہاے نگاہ کو درست کرے۔ انبیا ؑ کا طریقِ انقلاب، ہمہ گیر انقلاب کا عمل ہے۔ یہ انقلاب جزوی نہیں بلکہ مکمل انقلاب ہے، حاشیوں اور لکیروں کا نہیں بلکہ متن کا انقلاب ہے۔ یہ ایک ایسا انقلاب ہے جو انسان کی پوری کی پوری زندگی کو متاثر کرنے والا انقلاب ہے، یعنی گھر کی محدود فضائوں سے لے کر بین الاقوامی دوائر کا انقلاب۔ جن جن اُمور پر سوچا جا سکتا ہے، جہاں جہاں تک انسان کمند ڈال سکتا ہے، جن جن جہتوں کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے، عنوانات سجائے جاسکتے ہیں، ان سب کے اندر انقلاب برپا کرنا مطلوب و مقصود ہے۔ یہ انقلاب ان سب حوالوں سے تبدیلی کا پیغام اور ان سب دائروں میں ایک اللہ کا نام، وہی اوّل، وہی آخر، ہرہرحوالے سے بس اسی کی تعلیم، اسی کی دی ہوئی کتابِ انقلاب کو تھامنے کا انقلاب ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک انقلابی تحریک یا تحریک اسلامی جس معاشرے کے اندر برپا ہوتی ہے وہ اپنے ساتھ چلنے والوں کو معاشرے کے افراد سے کاٹتی بھی ہے، انھیں اس چلن کا باغی بھی بناتی ہے اور انھیں مجسم احتجاج بھی بناتی ہے۔ جب بھی نظریاتی، انقلابی، اصولی تحریک معاشرے کے اندر وجود پذیر ہو تو جزوی طور پر ہرانسان اس سے متاثر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی نے رسالہ پڑھ لیا، کسی کی کسی سے ملاقات ہوگئی، کوئی کسی اجتماع کے قریب سے گزر گیا، کسی نے کسی اجتماع کو دُور سے دیکھ لیا، کسی نے آکر ریلی اور جلسے کو دیکھ لیا، اس طرح جزوی طور پر لوگ نظریاتی ہوتے چلے جاتے ہیں، مگر جم کر ساتھ نہ دینے اور تزکیۂ نفس کی شاہراہ پر یکسوئی سے نہ چلنے کے نتیجے میں تضادات کا شکار ہوتے ہیں۔ اچھی بات کرتے کرتے بُری بات بھی کرنے لگتے ہیں۔ اصولی بات کرتے کرتے بے اصولی کی طرف بھی نکل جاتے ہیں۔ مادیت کے طوفان میں بھی گھرے نظر آتے ہیں، اور وہاں پر کوئی اچھا عمل بھی ان سے صادر ہوجاتا ہے۔
یہ کش مکش اس بات کا پتا دیتی ہے کہ اس معاشرے میں کوئی نظریاتی تحریک موجود ہے، کوئی اصولی اور انقلابی تحریک موجود ہے، بندوں کو ان کے رب سے ملانے والی، حالات اور منزل کا ٹھیک ٹھیک پتا دینے والی تحریک موجود ہے۔ اس معاشرے کے اندر سلیم الفطرت لوگ اپنے رب سے ملاقات کے منتظر اور بے قرار ہوتے ہیں۔ ان کے اندر طلب اور جستجو، حسنِ طلب اور طلب ِ صادق کچھ زیادہ نظرآتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آگے بڑھ کر ایک نظریاتی اور اصولی تحریک کا حصہ بنتے ہیں۔ یہ سعید روحیں جذب و انجذاب کے مراحل سے گزرتی ہیں۔ ان کے لیے یہ تحریک ایک بہت بڑا سرمایہ بن جاتی ہے اور ان بے قرار روحوں کو اپنے رب سے ملا دیتی ہے کہ یہ اس سے راضی اور وہ ان سے راضی ہوجاتا ہے۔ یہ پکار پکار کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ جس دعوت الیٰ اللہ کی تم بات کرتے ہو، جس تربیت و تزکیے کا تم تذکرہ کرتے ہو، ع میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے! میں تو کہیں گم ہوگیا تھا، آپ ہی کی تلاش میں تھا اور اس کی تلاش کے نتیجے میں گویا مجھے سب کچھ مل گیا، میں نے خود اپنے آپ کو دریافت کر لیا۔
دلوں پہ دستک دینے کے لیے تو بس کوشش کی جاتی ہے۔ اس لیے ایسے پس منظر میں بندوں کو اللہ کی بندگی کی طرف بلانے والی تحریک، جو سرتاپا بندگی اور مکمل حوالگی اور کامل سپردگی کی تحریک ہے، اس تحریک سے حسبِ توفیق استفادہ کرنے والے کا دامن جتنا وسیع ہوتا ہے، یہ اس میں اتنی ہی دولت ِرحمت، پاکیزگی و سعادت بانٹتی ہے۔ یہ تحریک نہیں بلکہ رب تعالیٰ کی نعمت ہے۔ وہ یہ سب نعمتیں بانٹتا ہے کہ زندگیوں کا سودا اسی سے ہوتا ہے۔ اس کے خزانے بے پایاں ہیں، وہ تو اپنی رحمت کے تمام خزانوں کو لٹاتا ہے۔ یہاں اور وہاں ہر جگہ پکارنے والا، منادی کرنے والا مسلسل پکارتا ہے کہ کوئی ہے جو مغفرت طلب کرنے والاہے، ہے کوئی جو رحمت کا سزاوار بنے، ہے کوئی جو ہماری طرف ایک قدم آگے بڑھے تو ہم اس کی طرف دس قدم آئیں، ہے کوئی جو صرف نیت اور ارادہ کرے، ہے کوئی جو اپنے دل کی گہرائیوں میں ہمیں پانے کی کوشش کرے…! یہ مکمل حوالگی اور کامل سپردگی کی کیفیت، دراصل لذتِ ایمان اور لذتِ آشنائی کی کیفیت ہے۔
یہ تحریکیں جو چہارطرف طوفان اُٹھاتی ہیں، نیکی کے جتنے عنوانات قرآن وسنت کے اندر سجے ہوئے ہیں، جن کو ہم اصطلاحاً چھوٹی نیکی اور بڑی نیکی بھی کہہ دیتے ہیں، ان تمام نیکیوں کی طرف پکارنے کے لیے، ان تمام نیکیوں کا سزاوار ٹھیرانے کے لیے، یعنی تمام نیکیوں کی طرف اپنے دامن کو وسیع کرنے کے لیے، گویا اپنے رب کی طرف بڑھنے اور بڑھتے ہی چلے جانے کے لیے یہ تحریکیں معاشرے میں ابر رحمت بن کر برستی ہیں اور برستی چلی جاتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چٹیل پہاڑوں اور چٹانوں پر بھی سبزا اُگ آتا ہے، پتھر بھی دیکھتے ہی دیکھتے سبزا اُگل دیتے ہیں، اور ہر طرف ہریالی لہلہانے لگتی ہے، خزاں چھٹ جاتی ہے اور واقعی بہار کا موسم مشامِ جان معطر کرتا ہے۔ مگر کچھ قطعات اور رمینیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ جو اس بارانِ رحمت کے باوجود خزاں رسیدہ رہتی ہیں۔ اسی طرح کسی معاشرے میں اللہ کی طرف بلانے والی انقلابی تحریک برپا ہو تو آدمی خود اپنے ظرف کے مطابق اس سے مستفید ہوتا ہے۔ تحریک تمام پہلوئوں سے انسان کو مسلسل چلانے اور آگے بڑھانے کا سامان کرتی ہے۔ اس کو اُٹھا کر کھڑا کردیتی ہے، اسے معاشرے کے اندر اجنبی بنادیتی ہے، اور قلب و نظر کے اندر ایک ایسی آگ لگا دیتی ہے کہ جو چھو جائے وہ کندن بن جائے، جو قریب آجائے وہ اس کی تپش محسوس کیے بغیر نہ رہ سکے اور سونے پہ سہاگہ ہوجائے۔
یہاں اس کیفیت کا احاطہ کرنے کی بھی ضرورت ہے جو معاشرے کے اندر رہتے ہوئے بھی اجنبی بن جانے کی کیفیت ہے۔ اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ انسان اس معاشرے سے نکل جائے، نہ لوگ اس کو پہچانیں اور نہ وہ کسی کو پہچانے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ وہ دربدر ہوکر کہیں کا نہ رہے، جنگلوں کا رُخ کرلے اور خاک چھانتا پھرے۔ اس لیے کہ جس تربیت اور تزکیے کے نتیجے میں گوشہ نشینی کا جذبہ پیدا ہو، اور لوگوں سے کٹ جانے کا جذبہ پیدا ہو وہ انبیا ؑکا طریقۂ کار نہیں ہوسکتا۔ انبیا ؑتو گوشہ نشینی سے نکل کر، حرا سے سوے قوم آیا کا مصداق بنتے ہیں۔ وہ تو غاروں سے نکل کر اور پہاڑوں کی چوٹیوں سے اُتر کر انسانوں کی طرف آتے ہیں۔ کن انسانوں کی طرف، ابوجہل اور عبداللہ بن ابی جیسے لوگوں کی طرف آتے ہیں۔ اللہ کی طرف بلانے کے نتیجے میں لوگوں کے دلوں کے اندر وہ بیج بوتے اور فصل اُگاتے ہیں، جو بھٹکے ہوئے لوگوں کو ٹھنڈک اور تراوت دیتی ہے۔
اجنبی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ذہنی طور پر کھویا کھویا سا ہو، اسے چاروں طرف کے حالات میں کوئی مطابقت محسوس نہ ہوتی ہو۔ وہ اسی دنیا میں رہتا ہے، انھی لوگوں کے درمیان اُٹھتا بیٹھتا ہے، انھی کے درمیان معمولات اور معاملات طے کرتا ہے، انھی کی خوشی اور غمی کا حصہ بنتا ہے لیکن ان کے تمدن، کلچر اور معاشرت اور اس کی ہر اکائی سے ایک دُوری اور فاصلے پہ اپنے کو پاتا ہے۔ دعوت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ انھی کے درمیان رہے۔ اللہ کی طرف بلانے کے فرض پر لبیک کہنے کے لیے وہ انسانوں میں نظر آئے، اور اپنی گفتگو اور طرزِعمل سے مسلسل ان کے درمیان اللہ کی طرف بلانے والا بنے۔ گویا انھی کے درمیان رہتے ہوئے، ان جیسا نہ ہوتے ہوئے ایک اجنبیت کی کیفیت اس پر طاری ہوتی ہے۔ یہی مطلوب ہے۔ یہ تحریک اور دعوت الی اللہ اسی جانب لوگوں کو متوجہ کرتی ہے۔ اس لیے لذت آشنائی کا نام ہم نے انقلاب رکھ دیا ہے کہ یہ زیادہ آسانی سے سمجھ میں آتا ہے۔
آیئے ہم جس چیز کو ایمان کہتے ہیں، اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کریں۔ راہِ حق میں ایمان اور انقلاب ایک ہی کیفیت کے دو نام ہیں۔ ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں۔ ایک ہی حلاوت، مزہ اور شیرینی لیے ہوئے اور اپنے مفہوم و معانی کے اعتبار سے ایک ہی سمت پہ لوگوں کو لے جانے والے الفاظ ہیں۔ ہم جس چیز کو چھوٹا سا کلمہ لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کہتے ہیں، یا اشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ واشھد ان محمدا عبدہٗ ورسولہٗ کہتے ہیں، اور اس موقع پر ہم اکثر سنی اَن سنی کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں___ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اور انقلاب سبھی کچھ اس میں پنہاں ہے۔ اس ضمن میں ایک واقعہ عرض ہے۔
حضرت ابوذر غفاریؓ پانچویں صحابی ہیں کہ جو ایمان لائے۔ ایمان لانے کے بعد ان سے یہ بات کہی گئی کہ ابھی اہلِ ایمان کی قوت بہت تھوڑی ہے، اہلِ ایمان کی کُل جمع پونجی بس یہی دوچار افراد ہیں، اس لیے ذرا احتیاط سے اور ذرا سنبھل کر چلنا ہے۔ حضرت ابوذر غفاریؓ کے دل کے اندر ایمان کی جو چنگاری پہنچی تھی، وہ شعلہ جوالہ بن کر لپکی، ضبط کا یارا نہ رہا۔ سیدھے حرمِ کعبہ میں پہنچتے ہیں جہاں کفار ڈیرہ ڈالے بیٹھے تھے، ان کے درمیان کھڑے ہوتے ہیں اور پکار اُٹھتے ہیں: اشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ واشھد ان محمداً عبدہٗ ورسولہٗ۔ کفارِ مکہ حیران رہ جاتے ہیں کہ ان کی یہ مجال اور یہ جرأت کہ ہماری ہی مجلس میں کھڑے ہوکر یہ نعرۂ دیوانہ و مستانہ بلند کرتے ہیں۔ پھر سب کے سب ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں، انھیں زد و کوب کرتے ہیں، مارتے پیٹتے ہیں تاآنکہ حضرت ابوذر غفاریؓ بے ہوش ہوکر گر پڑتے ہیں۔ اسی حال میں وہاں سے لے جائے جاتے ہیں۔ جب ہوش میں آتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ میں کہاں ہوں؟ کس حال میں ہوں؟ بتایا جاتا ہے کہ تم اس حال میں یوں پہنچے ہو کہ تم نے وہ نعرۂ مستانہ کفار کے بیچ جاکر بلند کیا تھا، تو زیر لب مسکرائے اور کہا کہ اچھا! اس جرم کے پاداش میں یہاں تک پہنچا ہوں۔ یہ جرم تو کل پھر سرزد ہوگا۔ تم کہتے ہو کہ مارا پیٹا گیا ہوں، حال سے بے حال ہوا ہوں، مجھ سے پوچھو، ایمان کی جو حلاوت، لطف و مزا اور اس کی شیرینی مجھے ملی ہے، کل پھر اپنے کیف و سُرور کو دوبالا کروں گا___ یہ کیا جذبہ ہے، یہ جذبۂ لذت آشنائی ہے۔
ہم نے بھی یہ کلمہ سیکڑوں ہزاروں دفعہ پڑھا ہوگا، مگر کب یہ عشق کی کیفیت طاری ہوتی ہے، کب یہ جنوں کا سودا ذہنوں کے اندر سماتا ہے، کب اس کے نتیجے میں نکلنے اور ہلکے اور بوجھل ہرحال میں نکلنے کے لیے انسان آمادہ اور برسرِپیکار ہونے کے لیے تیار ہوجاتا ہے___ کیا اس پہلو پر بھی کبھی آپ نے غور کیا!
اس نعرے کے اندر انقلاب اور ایمان دو علیحدہ علیحدہ مختلف چیزوں کے نام نہیں بلکہ ایک ہی کیفیت کے دو نام ہیں۔ اس کلمے نے تاریخ کی عظیم ترین حقیقت کی حیثیت سے اپنے آپ کو ایک مکمل اور اعلیٰ ترین انقلاب کی حیثیت سے منوایا ہے۔ ایسا انقلاب کہ جو انسان کے تمام باطنی اور ظاہری رویوں کو بدل دیتا ہے۔ اس کے اندر ایک ایسا ایمانی انقلاب پنہاں اور سرایت کرتا ہے جو انسان کی تمام ضرورتوں اور تمام ترجیحات کو صحیح رُخ دیتا ہے۔
اس مقصد کے لیے یہ انسانوں کو اُٹھاتا، کھڑا کرتا اور جدوجہد کا پیکر بناتا ہے۔ انسان کا معاملہ مجھ سے اور آپ سے بھلا کہاں ڈھکا چھپا ہے۔ انسان بالکل ٹھیک چل رہا ہوتا ہے اور لوگ یہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ بس کامیابی نے اس کے قدم چوم لیے کہ اچانک وہ گر پڑتا ہے، اور ناکامی سے دوچار ہوجاتا ہے۔ پھر یہی انسان ہے جو ہمت پکڑتا ہے، اُٹھتا ہے اور پھر منزل کی طرف چل پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ گرے گا وہی جو چلے گا، جو چلنے سے توبہ کرلے وہ کہاں گرے گا۔ جو کنارے پر بیٹھ کر محض نظارہ دیکھے گا، وہ تو صرف مشورے دے گا اور کچھ بھی نہ کرسکے گا۔ لہٰذا اس راہ پر کچھ ڈوبنے کا خطرہ مول لینا پڑے گا، تبھی تو تیرنا آئے گا۔ گرنے کو انگیز کرنا ہوگا تبھی تو چلنا آئے گا۔ منزل کی طرف مسلسل دیکھنا ہوگا تاکہ نشاناتِ منزل جب جب آئیں تب تب ایمان کے اندر اضافہ ہو، تب اللہ کے ساتھ تعلق بڑھتا ہوا محسوس ہو کہ ہاں، اسی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پھر یہی انسان پوری قوت سے پکار اُٹھے گا:
سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحٰنَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ (متفق علیہ)، میں اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور حمد بیان کرتا ہوں، اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک اور عظمت والی ہے۔
لَّا ٓ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَo (انبیائ۲۱:۱۸) نہیں ہے کوئی معبود مگر تو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا۔
وہ اپنے ہاتھوں اپنے اُوپر کیے ہوئے ظلم کو بھی یاد کرتا ہے۔ معافی اور درگزر کا در تو کبھی بند نہیں ہوتا۔ توبہ کرنا، گرنا اُٹھنا، اس کی طرف چلنا، اس کی طرف بڑھنے کے لیے عزم و ارادہ کرنا یہی مطلوب ہے۔ اس لیے کہ انسان کو جگانے، اُٹھانے، آگے بڑھانے کے لیے اور انسانیت کی اعلیٰ ترین قدروں سے ہمکنار کرنے کے لیے ایمان اور انقلاب دونوں ہم آہنگی کا تقاضا کرتے ہیں۔
ایک لمحے کے لیے ٹھیر کر ایمان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ اس پر شب خون مارنے، اس پونجی کو اُڑا لے جانے والے شیطان کے حملے بھی موجود ہیں۔ ان حملوں سے بچائو کے لیے ضروری ہے کہ اس ایمان کا مسلسل جائزہ لیا جاتا رہے، اس کا احاطہ کیا جائے، اس پر چوکنا رہا جائے اور اس پر کوئی پہرے دار بٹھایا جائے۔ اس کے گھٹنے اور بڑھنے کو، جنھیں ہم قرآن اور احادیث نبویؐ کے اندر پڑھتے ہیں، واقعی محسوس کیا جائے کہ یہ شمع کبھی ٹمٹمانے لگتی ہے، کبھی اس کی لَو نیچے ہونے لگتی ہے، لیکن یہی شمع کبھی دُور دُور تک اُجالے کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے، اور خود انسان کے اپنے اطراف کو روشن کرتی ہے، لہٰذا ان کیفیتوں سے پوری طرح آگاہی حاصل کی جائے۔
ایمان کی فریاد بھی سنی جائے، اس کی آہ و بکا سے واقف رہا جائے۔ یہ ایمان پکار پکار کر کہتا ہے کہ غیر تو مجھ پر اتنا ظلم نہیں کرتے جتنا کہ تم خود میرے اُوپر ظلم کرتے ہو۔ تم خود ہی میری لَو کو مدھم کرنے اور اس کو بجھانے کے لیے کوشاں ہوتے ہو۔ اُدھر بلایا گیا تھا، تم اِدھر لبیک کہہ رہے ہو۔ تم نے تو عہدوپیمان باندھا تھا، گواہ بناکر اعلان و اقرار کیا تھا، پھر تمھیں کیا ہوگیا! ایمان کا احتجاج اس کے اندر سے ہوتا ہے، قراردادیں بھی منظور کرتا ہے اور ہمارے قدموں کو کبھی کبھی روکتا اور ہم سے کہتا ہے: ’’کدھر جا رہے ہو، اچھے بھلے آدمی ہو، لوگ بھی اچھا بھلا ہی سمجھتے ہیں، لیکن تم کہاں کا رُخ کر رہے ہو، یہ تمھارے ذہن میں کون سی بات سمائی ہے، اور تم نے کس جذبے سے یہ فیصلہ کرلیا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ اس طرف مت جانا‘‘۔ گویا یہ ہمارے قدموں کو روکتا ہے۔ یہ مسلسل منزل کی طرف ہم کو بلاتا ہے۔ اس لیے اس کی آہ و فغاں کو سنا جائے اور اپنے ہی ہاتھوں اس پر ہونے والے ظلم کی داستان سے بے خبر نہ رہا جائے۔ اس قیمتی متاعِ حیات کو، ایمان کا جوہر سمجھ کر اسے مسلسل کلیجے سے لگائے رکھا جائے، اور اس میں اضافے کے لیے مسلسل کوشاں ہوا جائے۔
صحابہ کرامؓ کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو ان میں غوروفکر کے بے پناہ جوہر موجود ہیں۔ یہ ایک مربوط سلسلہ ہے۔ یہ کوئی اتفاقی اور حادثاتی واقعات نہیں ہیں۔ یہ ایک بڑی تحریک ہیں اور اس تحریک کے اندر جو کچھ موجود ہے، اسے دیکھنا، روشنی حاصل کرنا، ہماری اپنی ضرورت اور ذمہ داری ہے۔ ان واقعات میں سے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا ایک واقعہ ہے جو بارہا آپ نے سنا اور پڑھا ہوگا۔ اس میں ہمارے لیے غوروفکر کے لیے کئی پہلو ہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے۔ صحابہ کرامؓ حلقہ بنائے بیٹھے تھے۔ ایک صحابی آئے اور انھوں نے ایک چادر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی۔ نبیؐ نے اس کو پسند فرمایا۔ مجلس سے اُٹھ کر آپ اپنے حجرے میں تشریف لے گئے اور پرانی اور بوسیدہ چادر جو آپ پہنے ہوئے تھے، اس کی جگہ اس نئی چادر کو زیب تن کیا اور دوبارہ مجلس میں آکر تشریف فرما اور رونق افروز ہوئے۔ حضرت سعدؓ نے دیکھا تو عرض کیا: حضوؐر یہ چادر بہت اچھی ہے، بہت بھلی معلوم ہوتی ہے، اور خوش رنگ بھی ہے۔ اور انھوں نے آپ سے یہ چادر مانگ لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ سنا تو واپس اپنے حجرے میں تشریف لے گئے۔ اسی طرح پرانی چادر کو آپ نے زیب تن کیا اور نئی چادر لپیٹ کر، تہ کرکے لائے اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو پیش کردی۔ انھوں نے فوراً اس کو قبول کرلیا۔
صحابہ کرامؓ کو یہ بات قدرے ناگوار گزری۔ جب مجلس برخاست ہوئی تو صحابہ نے عرض کیا: سعد! تم نے آج اچھا نہیں کیا، تم دیکھ نہیں رہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نہایت ہی بوسیدہ اور پرانی چادر میں ملبوس تھے اور ایک نئی چادر ملی تو آپ نے بدل کر اس کو پہن لیا۔ کیا تم جانتے نہیں ہو کہ حضوؐر کے سامنے کسی چیز کی تعریف کی جائے تو وہ تعریف کرنے والے کو پیش کردیتے ہیں؟ تم نے اس طریقے سے تعریف کی اور مسلسل تعریف کی تو آپ دوبارہ حجرے میں تشریف لے گئے اور چادر بدل کر آئے اور تمھیں وہ پیش کر دی اور تم نے بخوشی اسے قبول کرلیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے سنا تو اپنے ساتھی صحابہؓ سے عرض کیا کہ میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ کام کیا، یعنی کوئی اتفاقی طور پر عمل سرزد نہیں ہوگیا۔ میں نے تو یہ طے کیا ہوا تھا کہ وہ چادر جس نے حضوؐر کے جسمِ اطہر کو مَس کیا ہو وہ حاصل کروں اور وہی چادر میرا کفن بنے۔
واقعات میں آتا ہے کہ بالآخر اسی چادر کے اندر وہ کفنائے گئے لیکن اس کو کوئی نام دیجیے، اس واقعے کا کوئی عنوان تلاش کیجیے۔ چاہیں تو آپ اسے عشق مصطفیؐ کہہ لیجیے لیکن سچی بات یہ ہے کہ عشق مصطفیؐ ہی درحقیقت رب کی طرف لے جانے والا راستہ ہے۔ یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی چیزیں بڑی رہنمائی کرتی ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزں مل کر ہی بڑی بنتی ہیں۔ ہر چھوٹی نیکی بھی بڑی نیکیوں کی رغبت پیدا کرتی ہے۔ ہر چھوٹی نیکی، نیکیوں کے ایک بڑے خاندان کی طرف لے کر جاتی ہے اور ان نیکیوں کی کشش لذتِ ایمان سے آشنا کرتی ہے۔ اس لیے صحابہ کرامؓ کے ان واقعات میں ایک سبق اور سوزوگداز پنہاں ہوتاہے، ایک پکار ہوتی ہے جس پر لبیک کہا جائے۔ ان سے حب ِ الٰہی کا ایک ایسا دَر کھلتا ہے جس کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی کا سفر سہولت سے طے کرلیتا ہے۔
ہم ایک عجیب و غریب دنیا میں رہتے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ بھئی آپ لوگ تو آسمان کی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ ہم زمین پہ رہتے ہیں۔ نہیں، یہ آسمان کی باتیں نہیں، زمین کی باتیں ہیں۔ البتہ زمین کو ہم انسانوں نے چاروں طرف سے اس طرح دبوچ لیا ہے کہ اس دنیا میں رہتے ہوئے، تصورِ دنیا کو کھو چکے ہیں۔ ہم روزانہ مشاہدہ کرنے کے باوجود یہ تسلیم کرتے ہی نہیں کہ اس دنیا میں ہم مسافر ہیں۔ اصل پڑائو تو آخرت میں ہونا ہے۔ اس لیے تصورِ آخرت کو واضح کرنے کی ضرورت ہے، کہ آخرت سے مفر نہیں اوردنیا سے بھی فرار ممکن نہیں۔
دنیا کو آخرت کی کھیتی کہا جاتا ہے۔ کل روزِ محشر میں خود اہلِ جنت کو بھی جس چیز پر سب سے زیادہ حسرت ہوگی، وہ دنیا میں گزرے ہوئے وہ لمحات ہوں گے جو ضائع ہوگئے۔ وہ نیکی کرسکتے تھے، اپنے رب کی طرف قربت کے کچھ قدم بڑھا سکتے تھے، کچھ بندوں کی خدمت اور کچھ لوگوں کی دل جوئی کے ذریعے، کچھ زخموں پر پھائے کے ذریعے، کچھ دکھوں کے مداوے کے ذریعے، لوگوں کی ہمت بندھاتے ہوئے اور احساسِ تنہائی سے بچاتے ہوئے اپنے رب کی یاد اور اس کے ذکر کو دوبالا کرتے ہوئے وہ نیکی کما سکتے تھے مگر کما نہ سکے۔ لہٰذا وہ لمحات جو ایسے ہی گزر گئے کچھ کیے بغیر گزر گئے اور کسی نیکی کو سمیٹنے کا ذریعہ اور سبب بن سکتے تھے مگر نہ بن سکے، ان پر تاسف، ملال اور حسرت ہوگی، کہ یہ لمحات بھی اگر نیکی کے کام میں گزرے ہوتے تو جنت کے اندر وہ درجات جو بڑی دُور تک نظر آتے ہیں، ان تک پہنچنا اوررسائی حاصل کرنا ممکن، آسان اورسہل ہوتا۔
اسی لیے یہ فرمایا گیا ہے کہ قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ قبر کے اس گڑھے کو ہرلمحے انسان نیکی کے پھولوں سے بھر رہا ہے یا دوزخ کی آگ کے انگاروں سے۔ انسانوں کا معاملہ تو یہ ہے کہ کسی نیک عمل کے نتیجے میں لمحے بھر میں نیکی کے پھول کھل اُٹھتے ہیں، اور اگلے ہی لمحے غفلت اور پھسل جانے کے سبب دوزخ کی آگ کے انگارے اور بھی دھک جاتے ہیں۔ ذرا تصور میں اس بات کو لایئے، اس گڑھے کو دیکھیے تو سہی، وہ گڑھا موجود تو ہے نا۔ ہر انسان اپنی قبر کے کنارے کھڑا ہے یا اپنی قبر کے اندر پیر لٹکائے بیٹھا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے بالآخر اس کے قدم اسی کی طرف بڑھ رہے ہیں، اور ہرلمحے یہ منظر موجود ہے، ایک بیلنس شیٹ بن رہی ہے نیکی اور برائی کی اور پھول چُننے اور آگ کے انگارے سمیٹنے کی۔
اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُس چیز کو بہ کثرت یاد کرتے رہو جو دنیوی لذتوں اور ان کے اشتیاق کو ڈھانے والی ہے۔ دنیاوی لذتوں کے کیا کہنے، چشم ما روشن دل ماشاد۔ دنیاوی لذتوں کی ایک طویل فہرست ہے اور وہ ہر ایک کی جیب میں موجود ہے۔ جب پوچھیں تو وہ فرفر پڑھ کر سنائے گا کہ یہ سب لذتیں مطلوب ہیں۔ ان کی طرف مسلسل بڑھ رہا ہوں مگر مل نہیں پاتیں۔ اس قدر بے وفا ہے یہ دنیا۔ جتنا اس کی طرف چلیں اتنا ہی یہ دُور ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس لیے آپ نے فرمایا کہ اس موت کو یاد کرتے رہو۔ اس لیے تصورِ دنیا، تصورِ آخرت اور تصورِ مال، واضح ہونے کی ضرورت ہے۔ اس جانب متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔
اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ انسان خود اپنے دل کے دیئے روشن کرے۔ اپنے لیے اپنے ہی اندر ایک مزکی کو، ایک مربی کو، پوری تحریک اسلامی کو اپنے اندر بٹھائے۔ دل کی محفل کو خود ہی آراستہ و پیراستہ کرے۔ اس کا ہفتہ وار اجتماع بلائے۔ اس میں خود ہی آپ اپنی رپورٹ پیش کرے، اور اس رپورٹ پر خود ہی تبصرہ پیش کرے۔ اس میں آپ خود ہی محاسب ہوں، خود اپنا دامن تھام کر اپنا احتساب کریں، ’’اور اپنا احتساب کرلو قبل اس کے کہ تمھارا احتساب کیا جائے‘‘ کے مصداق اپنا جائزہ لیں۔ یا پھر یہ کہ جو بڑی عدالت لگنی ہے، عدالتِ کبریٰ! اس سے پہلے کوئی چھوٹی عدالت بار بار دل و دماغ کی دنیا کی لگنی چاہیے۔ عدالتِ صغریٰ، وہ عدالت جو پکار پکار کر فیصلہ دے، جو مجھ سے، آپ سے کہہ رہی ہو کہ آج یہ فیصلہ تمھارے خلاف صادر ہوا ہے، یہ فیصلہ تمھارے حق میں بھی ہوسکتا ہے۔ … آخر تم کتنے فیصلے اپنے خلاف کرائو گے۔ اس لیے یہ جو ایمان کا تقاضا ہے، یعنی احساس ذمہ داری جو بار بار سن پڑ جاتا ہے، اس احساس ذمہ داری کو اٹھایا، جگایا، بیدار کیا جائے اور اسے ہوش میں لایا جائے۔ لَھَا مَا کَسَبَتْ وَ لَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ (البقرہ ۲:۱۴۱)، اس کا بھی کوئی مفہوم ہے۔ لَنَـآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ (الشوریٰ ۴۲:۱۵)، یعنی جو بوئو گے، وہی کاٹو گے، گندم بوئو گے تو گندم کاٹو گے، اور جس کے اعمال ہیں وہ اسی کے لیے ہیں کسی اور کا اس کے اندر کوئی حصہ نہیں ہے۔ لَّیْسَ لِلْاِِنْسَانِ اِِلَّا مَا سَعٰی (النجم۵۳:۳۹)، جو بوئے گا وہی کاٹے گا، جیسی کرنی ویسی بھرنی کے مصداق اس کو پائے گا۔
زندگی اور موت بھی اضافی شے ہے، اصل چیز وہی ہے ایمان، تزکیہ اور انقلاب۔ اگر ایمان ہے تو زندگی ہے، بلکہ وہ جسے موت کہتے ہیں وہ بھی زندگی ہے اور کیا خوب زندگی ہے۔ لیکن اگر ایمان نہیں ہے تو پھر یہ زندگی بھی موت ہے۔ اس حوالے سے اس زندگی کو بہتر بنانے اور مسلسل اپنے رب کی طرف چلانے کی ضرورت ہے۔
ایک بڑے مشہور صحابی گزرے ہیں۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامؓ آپس میں یہ بات کیا کرتے تھے کہ عجیب و غریب انسان ہیں۔ انھوں نے ایک بھی نماز نہیں پڑھی اور جنت میں چلے گئے ہیں۔ یہ صحابی حضرت اسود راعیؓ تھے، جو پیشے کے اعتبار سے ایک چرواہے تھے۔ اُجرت پر بکریاں چرایا کرتے تھے۔ غزوئہ خیبر کے موقع پر لوگوں سے انھوں نے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ ہمارے قلعے کا گھیرائو اور محاصرہ کس نے کیا ہے؟ کسی نے ان کوبتایا کہ ایک شخص ہے جو نبوت کا دعوے دار ہے، رب کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ دلوں میں گداز، نرمی اور ملائمت پیدا کرتا ہوں اور اللہ کی طرف بلانے کا کام انجام دیتا ہوں۔ حضرت اسود راعیؓ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس بزرگ ہستی سے ملنا چاہیے۔
ایک دن بکریاں ہنکاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کی طرف نکل آئے اور خیمے کے اندر داخل ہوگئے۔ آپ تشریف فرما تھے، نام پوچھا اور بیٹھ گئے اور کہا کہ آپ کیا لے کے آئے ہیں؟ رسول کریمؐ نے پوری دعوت پیش کی اور بتایا کہ بندوں کو بندوں کے رب کی طرف ہی چلنا چاہیے۔ یہی پیغام میں لے کر آیا ہوں اور اس کا نبی ہوں۔ پوچھا کہ: اچھا! میں آپ کی بات مان لوں اور سمجھ جائوں تو کیا ملے گا؟ آپ نے فرمایا کہ: ’’جنت ملے گی‘‘۔ پھر جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کیا، اس کی وسعتوں کا تذکرہ کیا۔ بہت خوش ہوئے، لیکن پھر کہنے لگے: حضوؐر میری طرف دیکھیے تو سہی، میں کس قدر کالا کلوٹا اور کس قدر بدشکل اور بھدا انسان ہوں۔ کیا اس کے باوجود مجھے جنت ملے گی؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں، اللہ کو پہچان لینا اور اس کے راستے پر چلنا ،اللہ تعالیٰ تم کو خوش شکل بنا دے گا۔ کہنے لگے: حضور ذرا میرے قریب تو ہوں۔ کس قدر بدبو میرے جسم سے اُٹھ رہی ہے، کیسا تعفن ہے، کیا اس کے باوجود میں جنت میں جاسکوں گا؟ آپ نے فرمایا: اس کے باوجود اگر ایمان ہے تو جنت میں جاسکو گے۔ وہ کہنے لگے: اچھا پھر میں ایمان لاتا ہوں، اور کلمہ پڑھ کر ایمان لے آئے، پھر فوراً یہ سوال کیا کہ ان بکریوں کا کیا کروں؟ یہ تو میرے پاس امانت ہیں،ان کو اُجرت پر چراتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: بکریوں کو قلعے کی طرف ہنکا دو۔ جب آخری بکری بھی قلعے کے اندر چلی جائے تو میرے پاس آجائو۔ انھوں نے یہی کیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔
معرکہ اپنے عروج پر تھا۔ آپ نے حکم دیا کہ جائو اس میں شریک ہوجائو۔ وہ فوراً جاکر شریک ہوئے اور اگلے ہی لمحے شہید ہوگئے۔ تذکروں میں آتا ہے کہ غزوئہ خیبر کے ۲۰ شہدا تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ان ۲۰ شہدا کی میتیں پیش کی گئیں تو آپ سب صحابہ کرامؓ کی میتوں کے سرہانے کھڑے ہوئے، سب کو دیکھا اور دعا کی۔ جب حضرت اسودراعیؓ کے سرہانے آپ جاکر کھڑے ہوئے تو صحابہؓ نے عجیب منظر دیکھا کہ ایک نظر آپ نے ان کے چہرے پر ڈالی اور فوراً اپنا چہرہ دوسری طرف کرلیا اور رُخ موڑ لیا۔ صحابہؓ کچھ حیران ہوئے اور بعد میں نبیؐ سے دریافت کیا کہ حضوؐر باقی تمام شہدا کو تو آپ نے جی بھر کر دیکھا، ان کے سرہانے دیر تک کھڑے رہے لیکن حضرت اسودراعیؓ کے سرہانے لمحے بھر کے لیے کھڑے ہوئے اور اپنا رُخ پھیر لیا، یہ کیا ماجرا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اس خاص لمحے اسودراعیؓ حوروں کے درمیان تھے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حسین و جمیل بنا رکھا تھا، اور ان کے جسم سے خوشبو کی لپٹیں اُٹھ رہی تھیں۔ میں نے مناسب نہ سمجھا کہ اس لمحے ان کی طرف زیادہ دیر تک دیکھوں۔ یوں میں آگے بڑھ گیا۔
یہی وہ صحابی ہیں جن کے ایمان نے بظاہر بہت سارے اعمال کیے بغیر بھی ان کو اپنے رب کے دربار میں اس طرح پہنچا دیا کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ عموماً جن شرائط اور سوالوں کو کرتے ہوئے وہ اس راستے پر آئے تھے، ان کا جواب بھی مل گیا۔ اس لذت آشنائی، حلاوتِ ایمان، اور اپنے رب تک پہنچنے، اس کی طرف بڑھنے کے شوق نے بالآخر انھیں ان جنتوں کی طرف پہنچایا جومطلوب ہیں، جس کی طلب ہم سب کے اندر موجود ہے، اور ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی راہ میں آگے بڑھائے اور لذتِ ایمانی سے آشنا کرے۔ یہی ایمان، تزکیہ کی پہلی شرط ہے اور تزکیہ کو پانے کے لیے عدالتِ صغریٰ کا وجود اور ہر آن اپنا جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔
دین میں دعا کی بڑی اہمیت ہے اور یہ ایک ایسی عبادت ہے جس سے اعراض اللہ رب العالمین کو سخت ناپسند ہے۔ قرآن و احادیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی عبادت شرائط و آداب سے خالی نہیں ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم عبادات کے نتائج و ثمرات تو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے شرائط و آداب کی تکمیل کی طرف دھیان نہیں دیتے۔
قرآن و احادیث میں دعا کے جو شرائط و آداب مذکور ہیں وہ تین قسموں میں بانٹے جاسکتے ہیں۔ کچھ شرائط و آداب دعا سے پہلے ہیں، کچھ اس کے اندر ہیں، اور کچھ اس کے بعد ہیں۔ اگر ہم مثال کے طور پر نماز کو اپنے سامنے رکھ لیں تو ان شرائط و آداب کو سمجھنا آسان ہوجائے گا کیونکہ نماز کے لیے بھی کچھ شرائط و آداب اس سے پہلے ہیں، کچھ اس کے اندر ہیںاور کچھ اس کے بعد ہیں۔ دعا سے پہلے کی دو شرطیں بڑی اہم ہیں:
یہ ایک ایسی شرط ہے جو اللہ رب العزت کی تمام عبادتوں میں لگی ہوئی ہے۔ کوئی عبادت اس شرط کو پورا کیے بغیر قبول نہیں ہوتی۔ دین کو اللہ کے لیے خالص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی بندگی کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی کو شریک نہ کیا جائے۔ پرستش صرف اسی کی اور پیروی و اطاعت صرف اسی کے احکام و اوامر کی کی جائے۔ اس کے حکم کے علی الرغم کسی کی اطاعت نہ کی جائے اور جو کچھ کیا جائے صرف اسی کی رضا حاصل کرنے اور اسی کے حکم کی تعمیل کی نیت سے کیا جائے۔ کوئی عمل محض دکھاوے کے لیے نہ کیا جائے۔ ہر عبادت اور ہر اطاعت شرک اور ریا کی آمیزش سے پاک ہو۔ قرآن میں متعدد مقامات پر صراحت کے ساتھ یہ حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی عبادت کی جائے اور اس سے دعا مانگی جائے۔ اگر کوئی شخص اس شرط کی خلاف ورزی کرکے یہ توقع کرے کہ اس کی عبادت اور اس کی دعا بارگاہ الٰہی میں قبول کی جائے گی تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ عبادت کے بارے میں فرمایا گیا ہے:
اِِنَّـآ اَنْزَلْنَـآ اِِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ o اَلاَ لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ط (الزمر ۳۹: ۲-۳) (اے محمدؐ!) یہ کتاب ہم نے تمھاری طرف برحق نازل کی ہے، لہٰذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو، دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔ خبردار، دین خالص اللہ کا حق ہے۔
قُلِ اللّٰہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَہٗ دِیْنِیْ o فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖط (الزمر ۳۹: ۱۴-۱۵) کہہ دو کہ میں اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اسی کی بندگی کروں گا تم اس کے سوا جس جس کی بندگی کرنا چاہو کرتے رہو۔
یہ ایک سخت تنبیہی انداز ہے جو غیراللہ کی بندگی کرنے پر مشرکین کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ اسی طرح کی آیتیں قرآن میں اور بھی ہیں۔ مخصوص طور پر دعا کے لیے قرآن میں کہا گیا ہے: وَّادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ(الاعراف ۷:۲۹) ’’اور پکارو اس کو خالص اس کے فرماں بردار ہوکر‘‘۔ سورئہ مومن میں ہے: فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَo (المومن ۴۰:۱۴) ’’پس اللہ ہی کو پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص کر کے خواہ تمھارا یہ فعل کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو‘‘۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندگی و طاعت کو اللہ کے لیے خالص کر کے صرف اسی کو پکارنا، اس کی دہائی دینا اور اس سے دعا کرنا کافروں کو سخت ناگوار ہے۔ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی پکارنا اور ان کی دہائی دینا پسند کرتے ہیں۔ سورئہ مومن ہی میں دوسری جگہ ہے:
فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَط اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo (المومن ۴۰:۶۵) وہی زندہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کو تم پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص کر کے، ساری تعریف اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔
آج بہت سے مسلمانوں کا بھی حال یہ ہے کہ ان کی بندگی و اطاعت اللہ کے لیے خالص رہی ہے اور نہ ان کی دعا۔ وہ اوامر الٰہی کے علم الرغم دوسروں کی اطاعت بھی کر رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ دوسروں کی دہائی بھی دے رہے ہیں۔ کاش! وہ من گھڑت تاویلات کو ترک کرکے ان آیات پر غور کرتے۔
قبولیت ِ دعا کے لیے دوسری اہم شرط یہ ہے کہ دعا کرنے والے کا رزق حلال ہو اور اس کی کمائی یا ذریعۂ معاش بھی حلال ہو، حرام خوری کے ساتھ دعا قبول نہیں ہوتی۔ یہ شرط صراحت کے ساتھ صحیح حدیث میں مذکور ہے اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی دو آیتوں سے استشہاد فرمایا ہے۔ اس لیے کہنا چاہیے کہ اکل حلال و کسب حلال کی شرط اشارتاً خود قرآن میں مذکور ہے۔
امام مسلم نے کتاب الزکوٰۃ میں اور امام ترمذی نے سورئہ بقرہ کی تفسیر میں حضرت ابوہریرہؓ سے یہ روایت کی ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! بلاشبہہ اللہ تمام نقائص و عیوب سے پاک ہے اور صرف حلال اور پاک چیزوں ہی کو قبول فرماتا ہے اور اس کے متعلق اس نے مومنوں کو وہی حکم دیا ہے جو اپنے رسولوں کو دیا ہے۔ اللہ نے اپنے رسولوں سے فرمایا ہے: ’’اے میرے پیغمبرو! تم پاک اور حلال غذا کھائو اور صالح عمل کرو۔ تم جو کچھ کرتے ہو میں پوری طرح اس سے باخبر ہوں‘‘۔ اور اپنے مومن بندوں سے اس نے کہا ہے: ’’اے ایمان لانے والو، تم میری دی ہوئی روزی میں سے حلال اور پاک چیزیں کھائو۔ پھر آپ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو (کسی مقدس مقام میں) لمبا سفر طے کر کے آتا ہے، پریشان مو اور غبارآلود مگر حال یہ ہوتا ہے کہ اس کاکھانا حرام، لباس حرام اور اس کا جسم حرام غذا سے پلا ہوا۔ پس اس شخص کی دعا کس طرح قبول ہو۔حضوؐر نے اپنے ارشاد میں جن دو آیتوں کا حوالہ دیا ہے ان میں سے پہلی سورۃ المومنون کی آیت۵۱ ہے اور دوسری سورئہ بقرہ کی آیت ۱۷۲ ہے۔ قبولیت ِ دعا کی اس شرط سے بھی مسلمان جو غفلت برت رہے ہیں اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
۱- حضور قلب کا مطلب یہ ہے کہ دعا کے وقت داعی کا دل اللہ کی طرف متوجہ اور اس کی بارگاہ میں حاضر ہو۔ ایسا نہ ہو کہ زبان سے تو دعا کے الفاظ نکل رہے ہوں اوردل کہیں اور کی ہوا کھا رہا ہو۔ دعا کے وقت اگر دل غافل ہو تو وہ قبول نہیں ہوتی۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے: اور جان لو کہ اللہ دعا قبول نہیں کرتا کسی غافل دل کی۔ (کنزالعمال، ج ۲)
اسی معنی کی حدیث طبرانی نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ اگر دل ہی حاضر نہ ہو تو پھر تضرع اور خوف و رجا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ جب آدمی دعا کر رہا ہو تو اسے شعور ہونا چاہیے کہ وہ کیا کر رہا ہے، کیا کہہ رہا ہے اور کس سے کہہ رہا ہے۔
۲- تضرع کی شرط صراحتاً قرآن میں مذکور ہے۔ سورئہ اعراف کی آیت ۵۵-۵۶ کو سامنے رکھنا چاہیے۔ آیت ۵۵ کا پہلا ٹکڑا یہ ہے: اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا (اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے)۔ یہاں تضرع کا مطلب یہ ہے کہ دعا کرنے والا اللہ کے سامنے اپنی ذلت، عاجزی، پستی اور ضعف کے زندہ شعور اور تازہ احساس کے ساتھ دعا کرے۔ اس کا مطلب زور زور سے چیخ چیخ کر دعا کرنا نہیں ہے کیونکہ اس کی صراحتاً ممانعت آئی ہے اور یہ آدابِ دعا کے خلاف ہے۔ مفسرین نے اس لفظ کی تفسیر تذلل تخثع اور استکانت کے الفاظ سے کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے سامنے اپنے بندے کی عاجزی کو بے حد پسند فرماتا ہے۔ وہ جب اپنے آقا و مولیٰ کے سامنے گڑگڑا کر دست سوال دراز کرتا ہے تو اس کے مالک کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے۔ قرآن میں کفار و مشرکین کی جن کیفیات و حالات کی مذمت کی گئی ہے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ انھوں نے خدا کے سامنے عاجزی کا اظہار نہیں کیا اور نہ اس کے سامنے گڑگڑائے۔
وَلَقَدْ اَخَذْنٰھُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَکَانُوْا لِرَبِّھِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُوْنَo (المومنون ۲۳:۷۶) اور ہم نے ان کو آفت میں پکڑا پھر نہ انھوں نے اپنے رب کے سامنے عاجزی کی اور نہ گڑگڑائے۔
قرآن ہی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دعا میں تضرع اور اخلاص وہ چیز ہے جو دنیا میں کفار و مشرکین کو بھی بعض مصیبتوں سے بچا لیتی ہے۔ مشرکین پر ان کے شرک کی حماقت واضح کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے:
اے محمدؐ! ان سے پوچھو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمھیں خطرات سے بچاتا ہے؟ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گڑگڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے تو نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکرگزار ہوں گے۔ کہو، اللہ تمھیں اس سے اور ہرتکلیف سے نجات دیتا ہے۔ پھر تم دوسروں کو اس کا شریک ٹھیراتے ہو۔ (الانعام ۶:۶۳، ۶۴)
کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جب کہ وہ اسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور (کون ہے جو) تمھیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ کے سوا کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا) ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔ (آیت۱۶)
ان آیتوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دعا میں تضرع اور اضطرار و بے قراری کی کیفیت اسے بارگاہِ الٰہی میں قابلِ قبول بنادیتی ہے۔ دعا اور ذکر دونوں ہی میں تضرع اور خوف و رجا کا مقام وہی ہے جو نماز میں خشوع اور خضوع کا ہے۔ ذکرِ الٰہی کے بارے میں فرمایا گیا ہے:
وَ اذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً (الاعراف ۷:۲۰۵) اے نبیؐ! اپنے رب کو یاد کیا کرو دل ہی دل میں گڑگڑاتے ہوئے اور خوفِ خدا کے ساتھ۔
۳- خوف اور اُمید کے ساتھ دعا کرنے کی تعلیم بھی الاعراف، آیت ۵۶ میں صراحتاً موجود ہے۔ وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاط (اور اس کو پکارو خوف کے ساتھ اور اُمید کے ساتھ)۔ اللہ کے عذاب کا خوف اور اس کے ثواب کی اُمید وہ چیز ہے جو مومن کو راہِ اعتدال پر قائم رکھتی ہے۔ وہ نہ اسے بے پروا اور نڈر ہونے دیتی ہے اور نہ اسے مایوس اور دل شکستہ بناتی ہے۔ خاص دعا کے لحاظ سے اس بات کا اندیشہ کہ کسی کوتاہی کی وجہ سے دعا رد نہ کردی جائے۔ اسے دعا کے شرائط و آداب کی طرف متوجہ رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت بیکراں کا خیال اسے قبولیت ِ دعا کا اُمیدوار بناتا ہے۔ قرآن میں انبیاے کرام علیہم السلام اور صالح بندوں کی دعا و عبادت کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے اس میں خوف و رجاء کا خاص طور پر ذکر ہے۔ ایک مقام پر انبیاؑ کے مختلف حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:
اِنَّھُمْ کَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَھَبًَا ط وَ کَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَo(الانبیاء ۲۱:۹۰) یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دوڑدھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔
ایک جگہ صالحین کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے:
تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ o (السجدہ ۳۲: ۱۶) ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
ہمیں اپنی عبادتوں اور دعائوں کو ان آیات کی کسوٹی پر کس کر دیکھنا چاہیے اور انھیں کھرا بنانے کی سعی کرنا چاہیے۔ یہی حقیقی تدبیر ہے ان کے نتائج و ثمرات حاصل کرنے کی۔
دعا میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کی شرط لگانا صحیح نہیں ہے، بلکہ جو کچھ مانگنا ہو پوری قطعیت اور عزم کے ساتھ مانگنا چاہیے۔ بخاری میں ہے: ’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو یوں نہ کہے کہ اے اللہ! مجھے بخش دے اگر تو چاہے، اے اللہ مجھ پر رحم کر! اگر تو چاہے بلکہ بغیر شرطِ قطعیت کے ساتھ دعا کرے۔ اس لیے کہ اللہ پر جبر کرنے والا کوئی نہیں ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ اگر اللہ نہ چاہے تو زبردستی اس سے کوئی چیز حاصل نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے اس کے چاہنے کی شرط لگانا بے کار ہے اور ادب دعا کے خلاف بھی ہے۔
دعا میں تصنع اور تکلف کر کے مسجّع و مقفّٰی الفاظ استعمال کرنا غلط ہے کیونکہ اس طرح دعا کی روح اس سے غائب ہوجاتی ہے۔ نہ حضور قلب باقی رہتا ہے اورنہ تضرع کی کیفیت پیدا ہوتی ہے بلکہ ذہن قافیے اور سجّع کی تلاش میں لگ جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ایک بار اپنے شاگرد حضرت عکرمہ کو چند ہدایتیں دیں، ان میں سے ایک یہ تھی: ’’دعا میں سجع سے اجتناب کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو ایسا کرتے نہیں پایا‘‘ (بخاری)۔ البتہ اگر بلاتکلف مسجّع و مرصّع الفاظ زبان سے نکلیں تو دعا ایک پارۂ ادب بھی بن جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر دعائیہ کلمات، بہترین پارہ ہاے ادب بھی ہیں۔
دعا میں اعتدائ، یعنی حد سے تجاوز کرنا بھی ایک غلط کام ہے۔ سورئہ اعراف کی آیت ۵۵ میں فرمایا گیا ہے: ’’اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔
دعا میں حد سے تجاوز کرنے کی متعدد صورتیں ہوتی ہیں:
وَ اذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً (الاعراف ۷:۲۰۵) اے نبیؐ! اپنے رب کو یاد کیا کرو دل ہی دل میں گڑگڑاتے ہوئے اور خوفِ خدا کے ساتھ۔
حضرت زکریا علیہ السلام کی مدح کرتے ہوئے ان کی ایک خاص دعا کا بیان قرآن میں اس طرح ہے: اِذْ نَادٰی رَبَّہٗ نِدَآئً خَفِیًّا o(مریم ۱۹:۳) ’’جب کہ انھوں نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا‘‘۔ امام رازی نے لکھا ہے کہ اس آیت سے بھی یہی مستنبط ہوتا ہے کہ آہستگی کے ساتھ دعا کرنا مستحب ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ ایک سفر جہاد میں صحابہ کرام بآواز بلند تکبیر کہنے لگا تو حضوؐر نے انھیں اس سے روکا اور فرمایا کہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو بلکہ ایک ایسی ذات کو پکار رہے ہو جو سمیع و قریب ہے اور وہ تمھارے ساتھ ساتھ ہے۔
امام رازی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے: حضرت حسن بصریؒ کہتے تھے کہ کوئی شخص پورا قرآن حفظ کرلیتا تھا لیکن اس کے پڑوسی کو اس کی خبر بھی نہ ہوتی تھی۔ اسی طرح کوئی شخص تہجد کی طویل نمازیں پڑھتا تھا اور اس کے پاس لیٹے ہوئے شخص کو اس کا شعور بھی نہیں ہوتا تھا۔ وہ فرماتے تھے کہ ہم نے ایسے لوگوں کو پایا ہے جو اعمالِ خیر کے اخفاء میں مبالغہ کرتے تھے۔ ہم نے ان مسلمانوں کو دیکھا ہے جو دعا میں پوری محنت صرف کرتے تھے لیکن ان کی آواز بلند نہیں ہوتی تھی، اس لیے کہ اللہ نے فرمایا ہے: ’’اپنے رب کو یاد کرو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے‘‘۔
اس کے علاوہ انسان کا نفس دکھاوے اور شہرت طلبی کی طرف میلان رکھتا ہے۔ اس لیے بآواز بلند دعا کرنے میں اندیشہ ہے کہ اس میں ریا کی آمیزش ہوجائے۔ اس سے بچنے کے لیے بھی بہتر یہی ہے کہ چیخ چیخ کر دعا نہ کی جائے۔ آج کل جلسوں میں اور مسجدوں میں زور زور سے دعا مانگنے کا جو رواج ہوگیا ہے، وہ دعا کے اس ادب سے لاعلمی کی دلیل ہے۔ میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو سنن و نوافل سے فارغ ہوکر بآواز بلند دعا مانگنے لگتے ہیں۔ انھیں یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ دوسرے لوگوں کو جو ابھی نماز میں مشغول ہیں پریشانی ہوگی۔ البتہ اگر کوئی ضرورت داعی ہو تو درمیانی آواز کے ساتھ دعا مانگی جاسکتی ہے۔
’جامع دعا‘ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ آپؐ دنیا اور آخرت دونوں ہی کی بھلائیاں طلب فرماتے تھے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ کی دعائوں کے الفاظ کم لیکن معانی بہت ہوتے تھے، یعنی آپ اپنی دعائوں کو غیرضروری الفاظ بڑھا کر طویل نہیں کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ نے دعا کے اس ادب کو اچھی طرح ذہن نشین کیا تھا اور وہ غیرضروری الفاظ کے اضافے کو دعا میں اعتداء قرار دیتے ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ حضرت سعد بن وقاصؓ نے اپنے ایک بیٹے کو دعا مانگتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ’’اے اللہ! میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں اور اس کی نعمتیں، اور اس کا ریشم اور یہ، اور یہ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں دوزخ سے اور اس کی زنجیروں سے اور اس کے طوق سے‘‘۔
جب وہ دعا ختم کرچکے تو حضرت سعدؓ نے ان سے کہا: تم نے خیرکثیر کی دعا کی اور بہت سے شر سے پناہ مانگی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو دعا میں حد سے تجاوز کریںگے اور بعض حدیثوں میں ہے کہ لوگ وضو میں اور دعا میں حد سے تجاوز کریںگے۔ جنت کی طلب میں اس کی تمام نعمتوں اور آسایشوں کی طلب خودبخود داخل ہے۔ اسی طرح دوزخ سے استعاذہ میں اس کی تمام سزائوں اور زحمتوں سے استعاذہ خود بخود داخل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سعد نے جنت کی دعا کے ساتھ اس کی نعمتوں کی تفصیل اور جہنم سے استعاذے کے ساتھ اس کی سزائوں کے ذکر کو ناپسند کیا اور ان غیرضروری الفاظ کے اضافے کو ادبِ دعا کے خلاف قرار دیا۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مغفل نے اپنے بیٹے کو کہتے ہوئے سنا: ’’اے اللہ! میں تجھ سے قصر ابیض (سفیدمحل) مانگتا ہوں جنت کے داہنے جانب‘‘۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: جنت مانگو اور جہنم سے پناہ چاہو۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب اس اُمت میں ایسے لوگ ہوں گے جو وضو اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے۔ اس دعا میں انھوں نے غیرضروری قید اور شرط کو ادب دعا کے خلاف قرار دیا۔ وضو میں حد سے تجاوز کی ایک صورت یہ ہے کہ بلاضرورت ہرعضو کو تین بار سے زیادہ دھویا جائے۔ اگر کسی شخص کو اپنی کوئی خاص اور وقتی حاجت و ضرورت کی دعا مانگنی نہ ہو تو بہتر یہ ہے کہ وہ دعاے ماثورہ، یعنی قرآن اور احادیث میں مذکور دعائیں مانگے۔ ان میں خاص برکت بھی ہے اور وہ ان تمام بے اعتدالیوں سے محفوظ بھی ہیں جو دعا میں انسان سے ہوسکتی یا ہوجایا کرتی ہیں۔
دعا کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ سینے تک اُٹھا کر دعا مانگے اور دعا ختم کرنے کے بعد دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے پر پھیرلے۔ اگر دعا کرنے والا باوضو اور قبلہ رو ہو تو زیادہ بہتر ہے۔ فرض نمازوں کے بعد یا سنن و نوافل کے بعد جو دعائیں مانگی جاتی ہیں ان میں ان آداب پر بآسانی عمل کیا جاسکتا ہے اور مسلمان ایسا کرتے بھی ہیں۔ دعا سے پہلے اللہ کی حمدوثنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا اور دعا کے بعد آمین کہنا بھی آدابِ دعا میں داخل ہے۔ دعا کے یہ آداب، احادیث ِ رسولؐ سے ثابت ہیں۔ میں طوالت کے خوف سے وہ حدیثیں یہاں نقل نہیں کر رہا ہوں۔
دعائوں کے لیے شریعت نے پنج وقتہ نمازوں کی طرح کوئی خاص وقت مقرر نہیں کیا ہے۔ دعا ہروقت کی جاسکتی ہے لیکن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دعائوں کے لیے بہتر اوقات و حالات کا انتخاب کرنے سے ان کی مقبولیت کی زیادہ توقع پیدا ہوجاتی ہے۔ امام غزالی اور دوسرے علما و صوفیا نے ان اوقات و حالات کو یک جا کرکے بیان کیا ہے۔
ایک وقت تو پورے سال میں ایک بار آتا ہے جیسے یومِ عرفہ، اور سال کے ۱۲ مہینوں میں ایک مہینہ رمضان المبارک اور بالخصوص شب ِقدر۔ بعض اوقات ہر ہفتہ آتے ہیں جیسے جمعہ کی رات اور جمعہ کا دن۔ بالخصوص نمازِ جمعہ کے دو خطبوں کے درمیان اور سورج ڈوبنے سے تھوڑی دیر پہلے۔ بعض اوقات روزانہ آتے ہیں جیسے آخر شب میں سحر کا وقت، فرض نمازوں کے بعد، اذان و اقامت کے وقت اور اذان و اقامت کے درمیان بارش کے وقت۔ سجدے کی حالت میں تکثیر دعا کی ترغیب دی گئی ہے۔ روزہ دار کے لیے افطار کا وقت، مسافر کے لیے ابتداے سفر کا وقت اور حالت سفر میں، حالت اضطرار میں۔ اس حالت میں جب اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قیامت کی ہولناکی کے تصور سے جسم پر لرزہ طاری ہو۔ دعائوں کے لیے ان اوقات و احوال کے بہتر ہونے کے ثبوت میں قرآن کی آیات اور صحیح احادیث موجود ہیں۔
دعا کے بعد اس کی مقبولیت کی ایک اور شرط یہ ہے کہ دعا کرنے والا اس کے لیے جلدی نہ مچائے۔ امام بخاری و مسلم دونوں ہی نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے جو شخص بھی دعا کرے اس کی دعا اس وقت تک قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلدبازی کرکے یہ نہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی لیکن وہ قبول نہیں کی گئی‘‘۔
امام مسلم کی روایت میں یہ ہے: ’’بندے کی دعا اس وقت تک قبول کی جاتی ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحم کی دعا نہ کرے اور جب تک وہ جلدی نہ مچائے۔ پوچھا گیا کہ استعجال (جلدبازی) کا مطلب کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعاگو کہنے کے لیے میں دعا کی پھر دعا کی لیکن میں نہیں سمجھتا کہ وہ قبول ہوگی اور پھر وہ دعا کرنا ترک کر دے‘‘۔
مقبولیت ِ دعا میں جلدبازی چند نادانیوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایک نادانی یہ ہے کہ دعا کرنے والا دعا کی حقیقت ہی سے ناواقف ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ غلام، تسلیم و رضا کا پیکر بنا ہوا اپنے مہربان آقا کے دامن سے چمٹا رہے اور اس کے سامنے احتیاج کا ہاتھ پھیلائے رہے۔ دعا عبادت بلکہ مغز عبادت ہے اور عبادت کے اجر کا محل اصلاً یہ دنیا نہیں ہے بلکہ آخرت ہے۔ جلدباز دعاگو کی دوسری نادانی یہ ہے کہ وہ اپنی دعا کو ہرطرح قابلِ قبول سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ وہ کیوں نہیں سمجھتا کہ مقبولیت ِ دعا کی جو شرطیں ہیں وہ پوری نہ ہوئی ہوں۔ وہ جانتا ہے کہ آقا اس کا بخیل نہیں ہے اور نہ اس کے خزانے میں کوئی کمی ہے۔ وہ رحمن و رحیم بھی ہے، عادل بھی، حکیم بھی ہے اور جواد و فیاض بھی۔ اب اگر اس کی مانگی ہوئی چیز نہیں مل رہی ہے تو اس کی کوئی خاص وجہ ہوگی۔
تیسری نادانی یہ ہے کہ وہ مقبولیت ِ دعا کا صحیح مطلب نہیں جانتا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ بندہ جو کچھ مانگے وہ ہر حال میں اسے دے ہی دیا جائے خواہ اس کی مصلحت کے مطابق ہو یا نہ ہو، بلکہ دعا کی مقبولیت اللہ کی حکمت اور بندے کی مصلحت کے ساتھ مربوط ہے۔
انسان کی فطرت میں چونکہ جلدبازی داخل ہے اس لیے اس کے بُرے اثرات سے بچانے اور مطمئن کرنے کے لیے دعا کے بارے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتا دیا ہے کہ مومن کی دعا کبھی رد نہیں کی جاتی بلکہ ہمیشہ قبول کی جاتی ہے۔ البتہ قبول کرنے کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔
حضرت سلمان فارسیؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بلاشبہہ تمھارا رب صفت حیا سے متصف اور کریم ہے۔ جب اس کا بندہ اس کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے تو اسے حیا آتی ہے کہ ان ہاتھوں کو خالی لوٹا دے‘‘(ترمذی، ابوداؤد، بیہقی)۔ اس سے معلوم ہوا کہ بندۂ مومن کے دعا میں اُٹھے ہوئے ہاتھ کبھی محروم اور خالی واپس نہیں آتے بلکہ اپنے مولاے کریم سے کچھ نہ کچھ لے کر لوٹتے ہیں، لیکن یہ بات ذہن میں اوجھل نہ ہونے دینا چاہیے کہ قبولیت ِ دعا کے آداب و شرائط کا لحاظ ضروری ہے۔
حضرت ابوسعید خدریؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: جب کوئی مسلمان ایسی دعا کرتا ہے جس میں کوئی گناہ یا رشتے کو کاٹنے والی بات نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز عطا فرماتا ہے: ۱-جو کچھ اس نے مانگا ہے دنیا ہی میں اسے دے دے ۲- اس کا اجر آخرت کے لیے ذخیرہ کردے ۳-جو خیر اس نے مانگی تھی اسی کے مثل کوئی شر اس سے دُور کردے۔ صحابہؓ نے کہا: تب تو ہم بہ کثرت دعائیں مانگیں گے۔ حضوؐر نے فرمایا: اللہ کا خزانہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ (ترغیب و ترہیب بحوالہ مسنداحمد ، بزار و ابویعلٰی)
اسی مضمون کی حدیثیں حضرت عبادہ بن الصامتؓ، حضرت ابوہریرہؓ، اور حضرت جابرؓ سے بھی مروی ہیں۔ ان حدیثوں میں بھی قبولیت دعا کی ایک شرط مذکور ہے، یعنی یہ کہ اس کی دعا میں کسی گناہ کی طلب یا قطع رحمی کی کوئی بات نہ ہو۔ دعا میں قطع رحمی کی ایک صورت یہ ہے کہ رشتہ داروں کے حق میں دعاے خیر کے بجاے بددعا کی گئی ہو۔
یہ حدیثیں مجھ جیسے عجلت پسند انسان کو اطمینان دلاتی ہیں کہ شرائط و آداب کے ساتھ کوئی بھی مخلصانہ دعا رد نہیں کی جاتی۔ ہم دنیا میں کوئی بھلائی مانگتے ہیں اور وہ نہیں ملتی یا کسی مصیبت اور تکلیف کو دُور کرنے کی دعا کرتے ہیں اور وہ دُور نہیں ہوتی توہم دل شکستہ اور مایوس ہونے لگتے ہیں۔ یہ حدیثیں اس دل شکستگی اور مایوسی کو ختم کردیتی ہیں اور ہمیں یقین دلاتی ہیں کہ مانگنے کے باوجود دنیا میں ہمیں جو کچھ نہیں ملا اس کا بدلہ آخرت میں ضرور ملے گا اور وہاں جو کچھ ملے گا وہ بہتر بھی ہوگا اور پایندہ تر بھی۔
فلسفۂ یونان کے اثر سے جب اسلامی عقائد اور اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں بحثیں شروع ہوئیں تو اسلامی لٹریچر میں ایک نئے علم، علمِ کلام کا اضافہ ہوا، اور تصوف بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ فلسفہ اور علمِ کلام نے جو سب سے بڑا نقصان پہنچایا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی نگاہ سے قرآن اور احادیث کے دلائل اوجھل ہوگئے اور انھوں نے بھی فلسفیوں کی طرح عقلی و دماغی تیر تکّے چلانے شروع کر دیے۔ کتاب و سنت کے معقول دلائل انسان کے دل میں اطمینان اور یقین کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف فلسفے کے عقلی دلائل قلب کو شک اور تردد میں مبتلا کردیتے ہیں۔ بہرحال فلسفیانہ بحث و مباحثے کی زد ’دعا‘ پر بھی پڑی اور اس کے بارے میں بھی لوگوں نے عقلی تیر تکے چلانے شروع کر دیے۔ تصوف میں بھی اس مسئلے میں متعدد اقوال پیدا ہوگئے۔
رسالہ قشیریہ میں جو تصوف کی قدیم اور مستند کتاب ہے، وہ اقوال نقل کیے گئے ہیں: ۱-دعا کرنا افضل ہے ۲- خاموش اور راضی برضاے الٰہی رہنا افضل ہے ۳- بہتر یہ ہے کہ بندے کی زبان دعاگو رہے اور قلب راضی برضا رہے ۴-مختلف اوقات و حالات کا حکم مختلف ہے۔ بعض حالات میں دعا کرنا خاموش رہنے سے افضل ہے اور اس وقت کا یہی ادب ہے اور بعض حالات میں خاموش رہنا دعا کرنے سے افضل ہے اور اس وقت کا یہی ادب ہے۔ اس کا معیار یہ ہے کہ اپنے قلب کو دیکھے اگر وہ دعا کا اشارہ کرے تو دعا افضل ہوگی اور اگر سکوت کا اشارہ کرے تو سکوت افضل ہوگا ۵- اپنے حال کا لحاظ کرے۔ اگر دعا کے وقت کیفیت بسط میں زیادتی محسوس کرے تو دعا افضل ہوگی اور اگر اس وقت کسی قسم کی اُکتاہٹ اور ’قبض‘ کی کیفیت محسوس ہو تو سکوت افضل ہوگا اور اگر نہ ’بسط‘ میں زیادتی ہو اور نہ ’قبض‘ میں تو دعا اور ترکِ دعا کا معاملہ برابر رہے گا۔ ۶- اگر ارادۂ دعا کے وقت ’علم‘ غالب ہو تو دعا افضل ہے، اس لیے کہ وہ عبادت ہے اور اگر اس وقت ’معرفت‘ ، ’حال‘ اور ’سکوت‘ غالب ہو تو خاموش رہنا افضل ہوگا ۷-جس دعا میں مسلمانوں کا حصہ ہو یا حق تعالیٰ کا اس میں حق ہو تو دعا بہتر ہے اور اگر اس میں خود تمھارے اپنے لیے حظ و نصیب ہو تو سکوت اولیٰ ہے۔
ان اقوال میں فلسفیانہ تصوف کی چند اصطلاحیں بھی استعمال ہوئی ہیں۔ وقت، حال، اشارہ، بسط، قبض، علم، معرفت، سکوت___ دعا کے بارے میں قرآن و حدیث کی جو تصریحات اُوپر گزریں انھیں پڑھیے اور پھر رسالہ قشیریہ میں منقول ان اقوال پر نظر ڈالیے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ تمام اقوال تصوف میں فلسفے کو داخل کر دینے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ ہم نہ فلسفۂ یونان کی افادیت کے قائل ہیں اور نہ ہمیں اجنبی عناصر سے مخلوط تصوف سے دل چسپی ہے، اس لیے ان اقوال و اصطلاحات کی توضیح بے کار ہے۔ البتہ ایک غلطی کا ازالہ ضروری ہے جس کا تعلق حدیث نبویؐ سے ہے۔ دعا کے سلسلے میں دوسرا قول یہ نقل کیا گیا ہے کہ خاموش اور راضی بقضا یا راضی برضاے الٰہی رہنا افضل ہے۔ اس قول کی دلیل کے طور پر رسالہ قشیریہ میں یہ حدیث نقل کی گئی ہے: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس شخص کو میرے ذکر نے مشغول کر دیا مجھ سے سوال کرنے سے، میں اس کو دوں گا، اس سے بہتر جو سوال کرنے والوں کو دیتا ہوں‘‘۔
راقم الحروف نے مشکوٰۃ، جمع الفوائد، ترغیب و ترہیب اور کنزالعمال میں یہ حدیث تلاش کی لیکن ناکام رہا، البتہ قرآن کریم کی فضیلت کے بیان میں امام ترمذی اور دارمی نے یہ حدیث روایت کی ہے: ’’ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رب تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: جس کو قرآن نے مشغول کر دیا میرے ذکر اور دعا سے میں اس کو عطا کروں گا اس سے بہتر جو سوال کرنے والوں کو عطا کرتا ہوں، پس دوسرے کلاموں پر کلام اللہ کی فضیلت ایسی ہے جیسے اللہ کی فضیلت اس کی مخلوق پر‘‘۔ (ترمذی)
امام دارمی نے یہ حدیث باب فضل کلام اللہ علیٰ سائر کلام اللہ میں روایت ہے: ’’جس کو قرآن کی تلاوت نے مشغول کر دیا مجھ سے سوال کرنے اور میرا ذکر سے میںاس کو دوں گا سوال کرنے والوں سے بہتر اجر اور اللہ کے کلام کی فضیلت بقیہ دوسرے کلاموں پر ایسی ہے جیسے اللہ کی فضیلت اس کی مخلوق پر‘‘۔ (دارمی)
یہ ایک ضعیف حدیث ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کے کلام قرآنِ مجید کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے کہ اگر قرآن کی تلاوت میں اس درجہ مشغولیت رہی کہ قاریِ قرآن، اللہ کا کوئی اور ذکر اور اس سے دعا نہ کرسکا تو وہ اسے مانگنے والوں کے مقابلے میں افضل اور بہتر چیز عطا کرے گا اور اس کی یہ وجہ بھی اس میں بیان کر دی گئی ہے کہ اللہ کا کلام چونکہ دوسرے تمام کلاموں سے افضل ہے۔ اس لیے اس کا اجر اور اس کی برکت بھی سب سے زیادہ ہوگی۔ اس ضعیف حدیث میں شاغل (مشغول کرنے والا) قرآن ہے اور مشغول عنہ (مشغولیت کی وجہ سے جس کی طرف توجہ نہیں کی جاسکی) ذکر بھی ہے اور دعا بھی۔ اسی حدیث میں کسی نے تحریف کر کے ان صوفیوں کو سنا دی جو ترکِ دعا کو افضل قرار دیتے تھے اور انھوں نے بلاتحقیق اسے قبول کرلیا اور پھر صاحب ِ رسالہ قشیریہ نے بھی اسے اپنی کتاب میں نقل کر دیا۔ تحریف کرنے والے نے تلاوتِ قرآن کو حذف کر کے ذکر کو شاغل اور دعا کو مشغول عنہ بنادیا حالانکہ اس حدیث میں ذکر اور دعا دونوں ہی مشغول عنہ اور قرآن شاغل تھا۔
اصل میں رضا بقضا، یعنی اللہ کے فیصلے اور اس کی مرضی پر راضی رہنے کا مطلب ان لوگوں نے صحیح نہیں سمجھا جو ترکِ دعا کو افضل کہتے ہیں۔ ان کے خیال میں اللہ سے اپنے لیے کچھ مانگنا مقامِ تسلیم و رضا کے خلاف ہے حالانکہ یہ خیال قرآن و حدیث کی تصریحات کے خلاف اور بالکل غلط ہے۔ حد ہوگئی کہ ابوسلیمان دارانی نے جو اپنے وقت کے ایک بڑے صوفی تھے، ’رضا‘ کی تعریف میں یہاں تک کہہ دیا: ’’ابوسلیمان نے کہا کہ ’رضا‘ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے نہ جنت کی دعا کرو اور نہ دوزخ سے پناہ مانگو‘‘ (الرسالۃ القشیریہ)۔ یہ قول جس کا بھی ہو، اللہ و رسولؐ کے اقوال کی عین ضد ہے اور صوفیاے کرام ہی کی تصریحات کے مطابق اسے قبول نہیں کرنا چاہیے۔
دعا کے لغوی معنی ہیں: پکارنا، بلانا، مانگنا اور سوال کرنا، اور شرعی اصطلاح میں دعا کے معنی ہیں: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں استغاثہ اور عرض معروض کرنا۔ دعا کی حقیقت دو چیزوں سے مرکب ہے۔ اللہ کے حضور اپنی عبودیت، غلامی، احتیاج، عاجزی اور ضعف و ذلّت کا اظہار، اور اس کی اُلوہیت، ربوبیت، قدرت، رحمت اور عظمت و جلال کا اقرار۔ انسان جب اپنی بندگی و پستی اور اللہ رب العالمین کی آقائی و بالادستی کے زندہ شعور و احساس کے ساتھ اس کی بارگاہ میں عرض نیاز کرتا اور اس سے کچھ مانگتا اور کچھ چاہتا ہے تو دعا کی حقیقت وجود میں آتی ہے۔ وہ اپنے مالک کو کبھی دل ہی دل میں پکارتا ہے اور اکثر اس کی زبان بھی اس کے دل کا ساتھ دیتی ہے۔ کبھی ہاتھ پھیلائے بغیر اس سے مانگتا ہے اور اکثر دست سوال دراز کر کے اس کے حضور گڑگڑاتا ہے۔ یہی حقیقت ہے جس کا اظہار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کو مغزِ عبادت بلکہ عین عبادت قرار دے کر کیا ہے۔ انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا مغزِ عبادت ہے۔ (ترمذی)
حضوؐر نے دعا کو مغزِ عبادت یا روحِ عبادت اس لیے فرمایا ہے کہ دعا کرنے والا ماسوا اللہ سے اپنی تمام اُمیدیں منقطع کر کے اللہ کو پکارتا ہے اور یہی توحید اور اخلاص کی حقیقت ہے اور توحید و اخلاص سے بلند تر کوئی عبادت نہیں ہے۔ محی الدین ابن عربی کہتے ہیں کہ جس طرح جسم کے تمام اعضا ہڈیوں کے مغز سے قوت حاصل کرتے ہیں اسی طرح دعا وہ مغز ہے جس سے عابدوں کی عبادت کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ ایک دوسری حدیث میں حضوؐر نے قرآن کی آیت سے استدلال کرتے ہوئے دعا کو عین عبادت بھی کہا ہے۔ ظاہر ہے کہ دعا کو عبادت یا مغزِ عبادت اسی وقت قرار دیا جاسکتا ہے جب دونوں کی حقیقت ایک ہو۔ کتاب و سنت کے بیسیوں دلائل و شواہد سے ثابت ہے کہ عبادت کی حقیقت بھی وہی ہے جو دعا کی ہے، یعنی یہ کہ انسان اپنی عبودیت کا اظہار اور اللہ کی معبودیت کا اعتراف و اقرار کرے۔ تمام عبادتیں اسی اظہار و اقرار کے مظاہر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہم اللہ کی پرستش کریں یا اس کی اطاعت، ہماری ہر پرستش اور ہراطاعت اپنی عبودیت کا اظہار اور اس کی معبودیت کا اقرار ہے۔
اس کائنات کے معبودِ برحق نے اپنی کتاب قرآنِ مجید میں جس طرح بہت سے احکام و اوامر نازل فرمائے ہیں، اسی طرح دعا کا حکم بھی نازل فرمایا ہے۔ اللہ کا اپنے بندوں سے مطالبہ ہے کہ وہ اس سے اور صرف اسی سے دعا مانگیں اور مدد کے لیے اسی کو پکاریں۔ اس لیے کہ سب کچھ اسی کے دستِ قدرت میں ہے اور اس کائنات میں اس کی مشیت کے بغیر ایک پتّا بھی اپنی جگہ سے ہِل نہیں سکتا، اور اس لیے بھی کہ دعا عبادت ہے اور عبادت کسی دوسرے کی جائز نہیں۔ سورئہ مومن میں حکم دیا گیا ہے:
وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ط اِِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دٰخِرِیْنَ o (المومن۴۰:۶۰) اور تمھارا رب کہتا ہے مجھے پکارو، میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔ بے شک جو لوگ میری عبادت سے گھمنڈ کرتے ہیں وہ عنقریب ذلّت و خواری کے ساتھ جہنم میں داخل ہوںگے۔
اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کو عین عبادت قرار دیا ہے۔ نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دعا عین عبادت ہے۔ پھر آپؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’اور تمھارا رب کہتا ہے: مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔ بے شک جو لوگ میری عبادت سے گھمنڈ کرتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے‘‘۔ (ترمذی، ابن حبان ، احمد، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، حاکم)
اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً ط اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ o وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ط اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَo (الاعراف ۷:۵۵-۵۶) اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ زمین میں فساد برپا نہ کرو، جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ۔ یقینا اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے۔
۱- اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے۔ اس ہدایت میں دعا کی حقیقت اور اس کے ادب کی بھی تعلیم دی گئی ہے۔
۲- اس کو پکارو خوف اور اُمید کے ساتھ۔ خوف اللہ کے عذاب کا اور اُمید اس کے فضل و کرم کی، نیز ڈر اس بات کا کہ دعا کسی کوتاہی کی وجہ سے وہ رد نہ کردی جائے، اور اُمید اس بات کی کہ اللہ اپنے بندے کے عجزو قصور کو دیکھتے ہوئے اسے قبول فرما لے گا۔
۳- دوسرے اعمال کی طرح دعا میں بھی حد سے تجاوز نہ کرو۔ اس لیے کہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
۴- اصلاح کے بعد زمین میں فساد نہ مچائو۔ سب سے بڑا فساد یہ ہے کہ اللہ سے منہ موڑ کر دوسروں کو اپنا ملجا و ماویٰ بنایا جائے، ان کو مدد کے لیے پکارا جائے اور ان کے نام کی دہائی دی جائے۔
۵- جو لوگ خوف اور اُمید کے ساتھ صرف اللہ کو پکارتے اور اس سے دعائیں کرتے ہیں وہ محسن ہیں، اور اللہ کی رحمت محسنوں سے قریب ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی دعا بندے کو درجۂ احسان تک پہنچا دیتی ہے۔ سورئہ اعراف ہی میں ایک دوسرے مقام پر کہا گیا ہے: وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا (الاعراف ۷:۱۸۰) ’’اللہ کے بہت سے اچھے نام ہیں تو تم اسے انھی ناموں سے پکارو‘‘۔
اللہ کے اسماے حسنیٰ قرآن میں بھی ہیں اور احادیث میں بھی اور چونکہ اس کی صفات بے شمار ہیں، اس لیے کتنے ہی ایسے نام ہوں گے جن کا علم صرف اسی کو ہے۔ چنانچہ ایک دعا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں وہ اس آیت کی بھی بہترین تفسیر ہیں۔ اس دعا کا متعلقہ ٹکڑا یہ ہے: ’’میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ہر اس نام سے جس سے تو نے اپنے آپ کو موسوم کیا ہے، یا وہ نام جو تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے، یا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو اس کا علم عطا کیا ہے، یا اسے تو نے اپنے ہی علمِ غیب میں اپنے پاس محفوظ رکھا ہے‘‘۔(تفسیر ابن کثیر، ج ۲،ص ۲۶۹)
دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَo (البقرہ ۲:۱۸۶) میں قبول کرتا ہوں دعا مانگنے والے کی دعا کو جب مجھ سے دعا مانگے۔ لہٰذا انھیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ راہِ راست پالیں۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ میں اپنے بندوں سے دُور نہیں ہوں کہ انھیں زور سے مجھے پکارنے کی ضرورت پڑے۔ میں تو ان کے قریب ہی ہوں۔ مجھے نہ زور سے پکارنے کی ضرورت ہے اور نہ میری بارگاہ میں درخواست پیش کرنے کے لیے کسی دوسری ہستی کے واسطے کی حاجت ہے۔ میرا ہر بندہ بلاواسطہ مجھ سے دعا کرسکتا ہے۔ میں اس کی دعا کو صرف سنتا ہی نہیں ہوں بلکہ اسے قبول بھی کرتا اور اس کے بارے میں فیصلہ بھی کرتا ہوں۔ جب ایسا ہے تو میرے بندوں پر بھی لازم ہے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔ لہٰذا آیت کے اس ٹکڑے سے معلوم ہوا کہ یہ بڑی نادانی ہوگی کہ انسان اللہ کی اطاعت تو نہ کرے لیکن یہ توقع رکھے کہ اس کی دعائیں قبول کی جائیں گی۔ دراصل اللہ پر ایمان اور اس کی اطاعت ہی انسان کو اس کا مستحق بناتی ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے۔
اُوپر کی آیتوں میں بالعموم تمام بندوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رب سے دعا مانگیں اور اسے پکاریں۔ اب ہم ایسی آیتیں پیش کرتے ہیں جن میں اللہ نے اپنے سب سے مقرب، سب سے محبوب اور سب سے بلندمرتبہ بندے کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اس سے دعا مانگیں۔ دین میں دعا کی اہمیت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگاکہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا حکم دیاگیا اور آپؐ نے اس حکم کی ایسی تعمیل کی جس کی کوئی مثال تاریخِ انسانی میں موجود نہیں ہے۔
وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا o (طٰہٰ ۲۰:۱۱۴) اور دعا کرو کہ اے پروردگار! مجھے مزید علم عطا کر۔
مزید علم کی دعا سے ایک مراد یہ ہے کہ قرآن کے جو حصے ابھی نازل نہیں ہوئے ہیں اسے بھی عطا فرما اور دوسری مراد یہ ہے کہ جو حصے نازل ہوئے ہیں اس کے معانی و مسائل و معارف کا بیش از بیش فہم عطا فرما۔ اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ اللہ کو اپنے بندے کی دعا بے حد محبوب ہے اور دوسری یہ کہ علمِ دین میں اضافہ انتہائی پسندیدہ چیز ہے۔ اس چھوٹی سی آیت سے دین میں دعا اور علم دونوں ہی کی اہمیت و فضیلت پر روشنی پڑتی ہے۔
وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا o (بنی اسرائیل ۱۷:۸۰) اور دعا کرو کہ پروردگار جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور مجھ کو اپنے پاس سے ایسا غلبہ دے جس کے ساتھ تیری نصرت ہو۔
جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کا زمانہ قریب آیا تو اللہ نے اپنے آخری رسول کو یہ حکم دیا کہ غلبہ و اقتدار کی دعا مانگیں، اس لیے کہ آپؐ کی ہجرت اللہ کے باغیوں سے جنگ کا پیش خیمہ تھی اور اس کے لیے تین چیزیں ضروری تھیں:
ا - اس بات کی واضح دلیل اور کھلا ہوا بینہ کہ آپ ہی سچائی کے علَم بردار ہیں اور جو دین آپ پیش کر رہے ہیں وہی دین حق ہے اور وہی اس کا مستحق ہے کہ دوسرے باطل ادیان پر غالب ہو۔
ب- حکومت کا اقتدار تاکہ اس کے ذریعے نیکی کو فروغ دیا جائے اور بدی کو مٹایا جائے۔
ج- اللہ کی نصرت کیوں کہ اس کے بغیر دشمنوں پر فتح حاصل نہیں کی جاسکتی۔ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا کے فقرے میں یہ تینوں چیزیں داخل ہیں۔ ظاہر ہے کہ غلبہ و اقتدار کے بغیر نہ دین باطل کو شکست دی جاسکتی ہے اور نہ قرآن کے تمام فرائض، احکام اور حدود کی تنفیذ ممکن ہے۔ یہی حقیقت ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں ظاہر فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ حکومت کے اقتدار سے ان چیزوں کا سدِّباب کردیتا ہے جن کا سدِّباب قرآن سے نہیں کرتا۔
قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآئُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآئُ وَ تُعِزُّمَنْ تَشَآئُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ ط بِیَدِکَ الْخَیْرُ ط اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌo (اٰل عمرٰن ۳:۲۶) دعا کرو اے اللہ! ملک کے مالک تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے، جسے چاہے عزت بخشے اور جسے چاہے ذلّت دے تیرے ہی ہاتھ میں خیر ہے، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
ابن جریر نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ فارس اور روم کی سلطنت آپؐ کی اُمت کو عطا کر دی جائے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور امام رازی نے حسن بصری کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اس آیت میں اللہ نے اپنے نبی کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ فارس اور روم کی حکومت طلب کریں، اور موجودہ زمانے کے بعض ذی علم مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت میں بشارت دی گئی ہے کہ امامت و سیادت کا وہ منصب جس پر بنی اسرائیل اب تک فائز رہے ہیں اب وہ بنی اسماعیل کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ بہرحال اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت لطیف انداز میں امامت، سیادت اور حکومت طلب کرنے کی دعا کا حکم دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ حکومت طلبی کی یہ دعا دنیا پرستی کے لیے نہیں سکھائی گئی ہے بلکہ اعلاء کلمۃ اللہ اور اللہ کے نازل کیے ہوئے قوانین کو نافذ کرنے کے لیے سکھائی گئی ہے اور اس مقصد کے لیے حصولِ اقتدار کی دعا عین امرالٰہی کی تعمیل ہے۔ اسی مقصد کے لیے حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے لیے ایک ایسی بے مثال حکومت کی دعا مانگی تھی جو ان کے سوا کسی کو نہ دی گئی ہو۔
قُلِ اللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ اَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْ مَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ o (الزمر ۳۹: ۴۶) (اللہ سے دعا میں) کہیے کہ اے اللہ! آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے آپ ہی اپنے بندوں کے درمیان ان امور میں فیصلہ فرمائیںگے جن میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے۔
اس دعا میں یہ لطیف انداز اختیار کیا گیا ہے کہ اس میں صرف اللہ کی حمدوثنا کی گئی ہے اور اس کی حاکمیت کا اظہار کیا گیا ہے اور دعائیہ جز مخفی رکھا گیا ہے۔ اس مخفی جز کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں ظاہر فرما دیا ہے۔ حضرت عائشہؓ کی ایک روایت میں ہے کہ حضوؐر نمازِ تہجد کے افتتاح میں سورئہ زمر کی یہ آیت فِیْ مَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ تک پڑھتے تھے۔ اس کے بعد یہ دعائیہ فقرہ کہتے تھے: ’’حق کے بارے میں جو اختلاف پیدا کیا گیا ہے اس میں مجھے ہدایت پر قائم رکھ، بلاشبہہ تو جسے چاہتا ہے صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے‘‘۔ (ابن کثیر بحوالہ مسلم،ج ۴،ص ۵۶)
خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَo وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِط اِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌo (الاعراف ۷:۱۹۹-۲۰۰) اے نبیؐ! نرمی اور درگزر کا طریقہ اختیار کرو۔ معروف کی تلقین کیے جائو اور جاہلوں سے نہ اُلجھو۔ اگر کبھی شیطان تمھیں اُکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
حق کی وصیت، نیکی کی تلقین اور برائی سے اجتناب کی نصیحت ایسی چیزیں نہیں ہیں جو ہمیشہ ٹھنڈے پیٹوں قبول کرلی جائیں بلکہ اس راہ میں داعیانِ حق پر زیادتیاں بھی کی جاتی ہیں اور جاہلوں کی اشتعال انگیزیوں سے بچنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ داعیِ حق اس سے اللہ کی پناہ مانگے جس کی قدرت شیطان پر بھی حاوی ہے۔ سورئہ حم السجدہ میں بھی انھی الفاظ کے ساتھ آپؐ کو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے اور سورئہ مومنون میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شیطان سے کس طرح اللہ کی پناہ مانگی جائے:
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ السَّیَِّٔۃَ ط نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ o وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِینِ o وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ o (المومنون ۲۳: ۹۶ تا ۹۸) برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں اور دعا کرو کہ پروردگار میں شیاطین کی اُکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بلکہ اے رب! میں تو اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔
ان آیتوں میں بھی پہلے حکم دیا گیا ہے کہ برائی کو بھلائی سے دفع کرو اور اس کے بعد شیطان کی اُکساہٹوں سے پناہ مانگنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس لیے کہ اس کا علاج صرف اللہ کے دستِ قدرت میں ہے۔ ان آیتوں کے علاوہ قرآن کی سب سے آخری سورہ شیاطین جن و انس کی وسوسہ اندازیوں سے استعاذہ کے لیے ہی نازل کی گئی ہے۔ اس میں پناہ مانگنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور اس کے الفاظ بھی سکھائے گئے ہیں۔ سورۃ الناس سے پہلے سورۃ الفلق میں ہر شر اور ہربرائی سے اللہ کی پناہ مانگنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔ اسی لیے ان دونوں سورتوں کا نام ’المعوذتین‘ ہے۔ ان دومستقل سورتوں کو نازل کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ استعاذہ اور تعوذ، یعنی اللہ کی پناہ مانگنے کی دعائوں کو دین میں کیا مقام حاصل ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے۔ غصے اور غضب کو دُور کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھنے کی تعلیم دی ہے اور قرآن کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے بھی پڑھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کسی کم درجے کے انسان کی معمولی کوتاہی نظرانداز کی جاسکتی ہے لیکن کسی بڑے درجے کے انسان کی معمولی کوتاہی بھی قابلِ گرفت بن جاتی ہے۔ نزدیکاں را بیش بود حیرانی، اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ اصولی بات یاد رکھنی چاہیے کہ انبیاے کرام علیہم السلام کو استغفار کا جو حکم دیا گیا ہے وہ ان کے بلند درجات کی مناسبت سے دیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ یاد رکھنا چاہیے کہ استغفار سے صرف کوتاہیاں ہی معاف نہیں ہوتیں بلکہ اس سے درجات بھی بلند ہوتے ہیں۔ ان دونوں باتوں کو سامنے رکھ کر دیکھیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ کہیں صرف اپنے لیے اور کہیں اپنے لیے بھی اور مسلمانوں کے لیے بھی:
وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ o (المومنون ۲۳: ۱۱۸) اور کہیے اے میرے رب! میری خطائیں معاف کر اور رحم کر اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
اس آیت سے پہلے مشرکین کے انکارِ آخرت اور معبودانِ باطل سے ان کی دعائوں کی تردید کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ غیراللہ کو پکارنے اور ان کی دہائی دینے والے کافروں کو فلاح نصیب نہیں ہوسکتی۔ اس کے بعد حضوؐر کو اپنے رب سے مغفرت اور رحمت طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ صرف اللہ سے دعا، توحید کی تکمیل بھی ہے:
فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا اللّٰہُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْـبِکَ م وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَکُمْ وَمَثْوٰکُمْ o (محمد۴۷:۱۹) پس تم جان رکھو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور اپنے گناہ کی مغفرت طلب کرو اور مسلمان مرد اور عورتوں کے لیے بھی استغفار کرو۔ اللہ کو معلوم ہے تمھاری بازگشت اور تمھارا گھر۔
استغفار کے حکم کی تعمیل حضوؐر نے اس طرح کی ہے کہ نمازوں کے اندر آپؐ جو استغفار کرتے تھے اس کے علاوہ بھی بعض حدیثوں میں آتا ہے کہ روزانہ ۷۰ بار اور بعض میں آتا ہے کہ روزانہ ۱۰۰ بار استغفار کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو دعائیں، استعاذے اور استغفار کی مروی ہیں، اگر ان سب کو تشریح کے ساتھ جمع کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب آسانی کے ساتھ تیار کی جاسکتی ہے۔
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ ط اِِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا (النصر۱۱۰:۳) پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور اس سے مغفرت طلب کیجیے۔ بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
جب حضوؐر کی وفات کا زمانہ قریب آیا تو سورہ اِِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ نازل ہوئی اور آپؐ کو اس میں بھی حمدوتسبیح اور استغفار کا حکم دیا گیا۔ صحیح احادیث میں مروی ہے کہ سورئہ نصر میں آپؐ کو زمانۂ وفات کے قریب ہونے کی خبر دی گئی تھی اور صحیح احادیث میں یہ بھی آتا ہے کہ اس سورہ کے نازل ہونے کے بعد آپؐ نمازوں کے اندر بھی اور دوسرے اوقات میں بھی سُبْحَنٰکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ (اے اللہ! اے ہمارے رب میں حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتا ہوں، اے اللہ مجھے بخش دے) پڑھا کرتے تھے۔
قرآن نے ہمیں بتایا ہے کہ فرشتے ہر کام امرالٰہی کے تحت کرتے ہیں۔ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ (النحل ۱۶:۵۰) ’’فرشتے وہی کام کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے‘‘۔ اس کے پیشِ نظر یہ بات یقینی ہے کہ مسلمان مرد اور عورتوں کے لیے جو دعا وہ کرتے ہیں وہ بھی امرالٰہی کے ماتحت ہی ہے۔ فرشتوں کو بھی اللہ نے حکم دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے دعا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے بھی دین میں دعا کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ فرشتوں کی طویل دعا سورئہ مومن کی ابتدا میں ہے۔ (المومن ۴۰: ۷-۹)
ان آیتوں سے ایک طرف دین میں دعا کی اہمیت اور فضیلت معلوم ہوتی ہے اور دوسری طرف ان میں اپنے گناہوں سے تائب اور راہِ حق پر چلنے والے مسلمانوں کے عظیم فضل و شرف کا ذکر ہے۔ تسلی یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے مقرب ترین فرشتے خود اس کے حکم کے تحت ان کے لیے مغفرت اور دخولِ جنت کی دعا کر رہے ہیں تو پوری توقع ہے کہ ان کی دعا قبول کی جائے گی، اور فضل و شرف یہ ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں حاضر مقرب ترین فرشتے تک ان سے محبت کرتے ہیں۔ ان کی طرف متوجہ ہیں اور بارگاہِ الٰہی میں ان کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔
چونکہ دعا کی حقیقت عین توحید اور خود دعا عقیدۂ توحید کا ایک بڑا مظہر ہے، اس لیے قرآن نے غیراللہ سے دعا کو شرک قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو صراحتاً اس سے منع فرمایا ہے۔ اس لیے اس سلسلے کی بھی چند آیتیں یہاں پیش کی جاتی ہیں:
وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ان میں سے ہر ایک مقررہ مدت کے لیے رواں دواں ہے۔ یہ ہے اللہ تمھارا رب، بادشاہی اسی کی ہے اور اللہ کو چھوڑ کر جنھیں تم پکارتے ہو وہ پرکاہ کے برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ اگر تم انھیں پکارو تو وہ تمھاری دعا نہیں سنیں گے اور اگر سُن لیں تو تمھیں اس کا جواب نہیں دے سکیں گے اور قیامت کے دن تمھارے شرک کا انکار کریں گے، اور باخبر (اللہ) کی طرح تمھیں اس حقیقت کی صحیح خبر کوئی نہیں دے سکتا۔ (الفاطر ۳۵: ۱۳-۱۴)
سورئہ فاطر کی اس آیت میں غیراللہ سے دعا کو بالفاظِ صریح شرک کہا گیا ہے کیونکہ اس سے پہلے ان کے مشرکانہ اعمال میں سے غیراللہ سے دعا ہی کا ذکر ہے اور اس کے بعد یہ کہا گیا ہے کہ قیامت میں وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔ بلاشبہہ شرک میں غیراللہ کی پرستش، نذر ونیاز اور چڑھاوا سبھی داخل ہے لیکن آیت کا سیاق بتا رہا ہے کہ یہاں اس سے اوّلین مراد غیراللہ سے دعا ہی ہے۔
وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنْفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ o (یونس ۱۰:۱۰۶) اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچاسکتی ہے نہ نقصان۔ اگر تو ایسا کرے گا تو ظالموں میں سے ہوگا۔
اس آیت میں غیراللہ سے دعا کرنے اور اس کی دہائی دینے کی صریح ممانعت کے ساتھ وہ حقیقت بھی بتا دی گئی ہے جس کی وجہ سے لوگ ایسا کرتے ہیں۔ انسان اپنی حماقت اور شیطان کے اغوا کی وجہ سے یہ سمجھ لیتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کے پاس بھی اختیار واقتدار اور ایسی قدرت ہے کہ وہ کسی دوسرے کو نقصان اور نفع پہنچا سکتا اور اس کی قسمت کو بنا اور بگاڑ سکتا ہے۔ اس لیے اللہ نے اس آیت میں بھی اور متعدد دوسری آیتوں میں یہ حقیقت واضح کی ہے کہ اس طرح کا اقتدار اللہ کے سوا کسی اور کے پاس نہیں ہے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی کسی کو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اسی طرح اس نے یہ حقیقت بھی کھول دی ہے کہ اگر اللہ کی طرف سے کوئی ضرر پہنچے تو اس کو اس کے سوا اور کوئی دفع نہیں کرسکتا، اور اگر وہ کسی خیرکا ارادہ کرے تو کوئی نہیں جو اسے نفع پہنچانے سے روک سکے۔ قرآن کریم میں کہا گیا ہے:
اگر اللہ کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اس کے سوا کوئی نہیں جو اس مصیبت کو ٹال دے۔ اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ (یونس ۱۰:۱۰۷)
قرآن نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر کوئی شخص غیراللہ کی دہائی دیتا اور اس سے دعائیں مانگتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس کو اپنا معبود بنا رہا اور اللہ کے ساتھ اس کو شریک قرار دے رہا ہے۔ غیراللہ کی عبادت کرنے اور اس سے دعا مانگنے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں کی حقیقت ایک ہے۔
فَلاَ تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِِلٰھًا اٰخَرَ فَتَکُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَo (الشعراء ۲۶:۲۱۳) پس اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو، ورنہ تم بھی سزا پانے والوں میں شامل ہوجائو گے۔
معلوم ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارنا، اس کو معبود کی حیثیت دینا ہے، اور اللہ کا قانون بے لاگ ہے، اس شرک میں جو بھی مبتلا ہوگا وہ اللہ کی سزا سے بچ نہیں سکے گا۔
دعا کے بارے میں اس کثرت سے احادیث مروی ہیں کہ کتب احادیث میں اس کے لیے مستقل ابواب مخصوص کرنے پڑے ہیں۔ میں پہلے دعا کی اہمیت و فضیلت کے سلسلے میں چند حدیثیں پیش کرتا ہوں:
حضرت ابن عمرؓ نے حضوؐر سے روایت کی ہے کہ دعا ان مصیبتوں اور بلائوں کو دُور کرنے میں بھی نافع ہے جو نازل ہوچکی ہوں، اور ان میں بھی جو نازل نہ ہوئی ہوں۔ اور قضا کو دعا کے سوا کوئی چیز ٹال نہیں سکتی، پس تم پر لازم ہے کہ دعا کرو۔ (ترمذی)
فعلیکم بالدعاء (تم پر لازم ہے کہ دعا کرو) ایک موکد حکم ہے۔
ابن مسعودؓ حضوؐر سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ سے اس کا فضل مانگو۔ اس لیے کہ اللہ (اپنے بندوں کے) سوال کو پسند کرتا ہے اور تنگی میں کشایش کا انتظار بہترین عبادت ہے۔ (جمع الفوائد بحوالہ ترمذی)
تنگی و ترشی کی حالت میں یا کسی بھی مصیبت و بلا کے وقت کشادگیِ رزق اور دفع بلا کے انتظار کو بہترین عبادت اس لیے کہا گیا ہے کہ بندۂ مومن اپنے آقا و مولا سے اس کے فضل و کرم کی بھیک مانگتا رہتا ہے۔ وہ نہ اس سے تھکتا ہے، نہ اُکتاتا ہے اور نہ کشادگی و رفع بلا کے لیے کوئی غلط ذریعہ یا غلط طریقہ اختیار کرتا ہے، بلکہ صرف اللہ کے فضل کی آس لگائے رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس حالت میں بندے کا صبروتوکل بہترین عبادت ہے۔
’’جو اللہ سے دعا نہیں کرتا اللہ اس پر غضب ناک ہوتا ہے‘‘ (ترمذی)۔ اس حدیث میں جو خبر دی گئی ہے وہ دعا کے بارے میں انتہائی مؤکد حکم کا درجہ رکھتی ہے۔ اس حدیث کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو مسلمان اپنے آپ کو غضب ِ الٰہی سے بچانا چاہتا ہو، اسے اللہ سے دعا مانگنا چاہیے۔ یہ حدیث ابن ماجہ نے بھی روایت کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں: من لم یدع اللّٰہ غضب علیہ۔ اسی اہمیت کے پیشِ نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں صحابہ کرامؓ کو دعائوں کی باضابطہ تعلیم دی ہے اور ان کے الفاظ تک سکھائے ہیں۔
ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو دعا کے فوائد بتائے تو ان میں سے بعض نے عرض کیا: ’’تب تو یارسولؐ اللہ ہم بکثرت دعا مانگیں گے‘‘۔ حضوؐر نے جواب دیا: ’’اللہ کا فضل تمھاری دعائوں سے بہت زیادہ ہے‘‘، یعنی اللہ کا خزانۂ فضل و کرم بے کراں ہے۔ اس لیے تمھاری کثیر دعائوں کو قبول کرنے کے بعد بھی اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ حضوؐر کے اس جواب میں تکثیر دعا کی کتنی دل آویز ترغیب ہے۔ یہ حدیث امام ترمذی نے حضرت عبادہ بن الصامتؓ سے ابواب الدعوات میں روایت کی ہے۔
دعا بندۂ مومن کو اللہ کی رحمتوں کا مستحق بناتی ہے: حضرت ابن عمرؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ’’جس شخص کے لیے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا، اس کے لیے رحمت کے دروازے کھل گئے‘‘۔ گویا جس کو اللہ سے دعا مانگنے کی توفیق مل گئی اور جس کو دعا کا ذوق پیدا ہوگیا اس نے اپنے آپ کو اللہ کی رحمتوں کا مستحق بنالیا۔ وہ اس کو اپنی رحمتوں سے نوازے گا۔
دعا سے درجات بلند ہوتے ہیں: ’’حضرت ابوہریرہؓ حضوؐر سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کا درجہ بلند فرماتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ مجھے یہ درجہ کہاں سے ملا۔ اللہ فرماتا ہے کہ اس دعا کے بدلے میں جو تیری اولاد نے تیرے لیے کی‘‘ (جمع، بحوالہ بزار)۔ ظاہر ہے کہ جب دعا سے والدین کے درجے بلند ہوں گے تو کیا دعا کرنے والی اولاد کے اپنے درجات بلند نہ ہوں گے؟ اسی معنے کی ایک حدیث موطا امام مالک میں بھی ہے۔
دین میں دعا کی بڑی اہمیت ہے اور یہ ایک ایسی عبادت ہے جس سے اعراض اللہ رب العالمین کو سخت ناپسند ہے۔ دعا کی تاکید بھی کی گئی ہے کہ اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارو۔ دعا ایک مومن کے لیے پریشان کن حالات اور مصائب و مشکلات میں امید اور حوصلے کا سامان اور مضبوط سہارا ہے اور اسے مایوسی اور نااُمیدی سے محفوظ رکھتی ہے، لہٰذا خشوع و خضوع سے دعا کا اہتمام ایک مومن کا شعار ہونا چاہیے۔ (مصنف: اسلامی تصوف)