تزکیہ و تربیت


انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا اپنا نفس ہے جو اس کے اندر گھسا بیٹھا ہے۔ یہی نفس اسے برائی اور گناہ کی طرف مائل کرتا ہے۔ اسی نفس کے تزکیے اور راہِ راست پر رکھنے کا کام انسان کے سپرد ہوا ہے۔ پس اگر آپ اپنے نفس کی خبر نہ لیں تو وہ سرکش ہو جاتا ہے۔ اگر آپ اسے ملامت کرتے رہیں گے تو وہ نفسِ لوامہ بن جائے گا، اور راہِ راست پر لانے کی یہ کوشش جاری رہے تو رفتہ رفتہ نفسِ مطمئنہ بن جائے گا اور آپ ان بندگانِ خدا میں شامل ہوجائیں گے جو اللہ سے راضی ہوں اور اللہ ان سے راضی ہو۔

اپنے نفس کا تزکیہ اور محاسبہ صرف وہی کرسکتا ہے جس میں اپنے نقائص کو جاننے، اور اعتراف کرنے کا حوصلہ ہو، اور ساتھ ہی وہ اتنا اصلاح پسند بھی ہو کہ اپنے نقائص کو دُور کرنے، اور ان کی جگہ خوبیاں پیدا کرنے کی تڑپ بھی رکھتا ہو۔ ایسے ہی شخص سے توقع کی جاسکتی ہے، کہ وہ اپنے آپ کو برائیوں سے پاک کرنے کی جدوجہد کرے۔

انسان کا برائی کی طرف مائل ہونے میں سب سے بنیادی سبب اس کی غفلت ہے۔ انسان کو جب ضروریاتِ زندگی بآسانی اور کثرت سے مل رہی ہوں تو وہ آہستہ آہستہ دنیا میں کھو جاتا ہے اور دین سے غفلت برتنے لگتا ہے اور دنیا کی ہوس کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی غفلت کے نتیجے میں وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور کیا کر رہا ہے۔ اس غفلت سے انسان کو بیدار کرنے کے لیے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنا ناگزیر ہے۔

انسانی زندگی میں اخلاق کی اہمیت بھی اسی وجہ سے ہے کہ انسان اخلاق کے پیمانے پر اپنے آپ کو پرکھ سکے، اچھے اخلاق اپنا لے اور بُرے اخلاق سے اجتناب کرے۔ انسان اخلاق کے بل بوتے پر دوسروں کے دلوں پر حکومت کیا کرتا ہے۔ اخلاق سے دشمن، دوست بن جاتا ہے۔ اخلاق ہی وہ شے ہے جس سے پتھر دل موم ہو جایا کرتے ہیں۔ اخلاق ایک دوسرے کے اندر  انس و محبت پیدا کرتا ہے۔ اخلاق سے انقلاب آجاتا ہے۔ اخلاق سے بڑی بڑی جنگیں سر کرلی جاتی ہیں۔ جس انسان میں اخلاق جیسی کوئی صفت نہ ہو تووہ اکھڑمزاج، بدتمیز اور کھردرا کہلاتا ہے۔ اس کے رویے سے زندگی تلخ ہوجاتی ہے، تعلقات کشیدہ ہوجاتے ہیں۔ انسان تو انسان حیوان بھی خوف کھانے لگتے ہیں، لہٰذا ہمیں اپنے اخلاق کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے تاکہ بداخلاقی سے گریز کرسکیں اور لوگوں کی نظروں سے گرنے سے بچے رہیں۔

بعض لوگوں کی خودپسندی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اپنے طرزِعمل پر کسی کے ذرا سے جائز اعتراض کو بھی اپنی عزتِ نفس پر حملہ خیال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک عزت نفس اور غیرت کا مفہوم یہی ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے۔ ایسے لوگوں کو اگر زندگی میں اپنی کسی غلطی پر معافی مانگنا پڑ جائے تو ان کے لیے یہ مرحلہ موت سے کم نہیں ہوتا۔ وہ اپنے بڑے سے بڑے دینی اور دنیوی نقصان کو گوارا کرلیں گے مگر معافی مانگنے کی ذلت کو گوارا نہیں کریں گے۔ اس کے برعکس کچھ لوگ منکسرالمزاج ہوتے ہیں۔ اپنے آپ کو غلطیوں سے بالا نہیں سمجھتے اور جھوٹی آن پر ایمان نہیں رکھتے۔ یہ لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہاں معاف کرا لینا قیامت میں سزا پا لینے سے بدرجہا بہتر ہے۔ ایسے لوگوں سے جب کوئی خطا ہوتی ہے تو وہ بآسانی معافی مانگ لیتے ہیں، اور معافی مانگنے کے بعد کافی راحت محسوس کرتے ہیں۔

نفس کے ساتھ جہاد کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ نفس سے جہاد کو جہادِ اکبر کہا گیا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ فرماتے ہیں کہ کافروں کے ساتھ جہاد کرنا چھوٹا جہاد ہے مگر نفس کے ساتھ جہاد کرنا بڑا جہاد ہے۔ حضرت شداد بن اوسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دانا وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشوں کے پیچھے لگا رہے اور اللہ تعالیٰ سے اُمیدیں باندھے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ جس نے اپنے نفس کا جائزہ لیا وہ نفع میں رہا، اور جس نے غفلت برتی وہ گھاٹے میں رہا، اور جو اللہ سے ڈرا وہ بے خوف ہوگیا۔ سورئہ شمس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا o وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا o (الشمس ۹۱: ۹-۱۰) یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبا دیا۔

حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن آدم علیہ السلام کے بیٹے کے پائوں اس وقت تک سرک نہیں سکتے جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے: ۱-عمر، کن کاموں میں صرف ہوئی؟ ۲- جوانی، کن مشاغل میں گزری؟ ۳-مال، کن طریقوں سے کمایا؟ ۴- مال، کن مصارف میں خرچ کیا؟ ۵- جو علم حاصل کیا تھا، اس پر کہاں تک عمل کیا؟

محاسبۂ نفس کے سلسلے میں ایک اہم بات جو پیش نظر رہنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ ابتدا میں جب انسان یہ عمل شروع کرتا ہے تو اسے کچھ مایوسی سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ روزانہ اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اسے یہی احساس ہوتا ہے کہ وہ تو اپنی ذرا سی بھی اصلاح نہیں کرسکا۔ اس سے دل برداشتہ ہونے کے بجاے محاسبۂ نفس کے عمل کو صبر سے برابر جاری رکھنا چاہیے اور مایوس ہوکر اسے ترک نہیں کرنا چاہیے۔

محاسبۂ نفس کے حوالے سے چند اہم تقاضوں کا ذیل میں تذکرہ کیا جا رہا ہے:

  • کبر اور خود پسندی: انسان کا بدترین عیب کبر و غرور اور خودپسندی ہے جو ایک سراسر شیطانی فعل ہے۔ جو شخص یا گروہ اس بیماری میں مبتلا ہو، وہ اللہ کی تائید سے محروم ہوجاتا ہے۔ کبریائی صرف اور صرف اللہ ہی کی ذات کے لیے مخصوص ہے۔ نفس کی ایک ذرا سی ڈھیل اور شیطان کی ایک ذرا سی اُکساہٹ اسے تکبر اور خودپسندی میں تبدیل کردیتی ہے۔
  • تنگ دلی: مزاج کی بے اعتدالی سے ملتی جلتی ایک اور کمزوری تنگ دلی ہے، جسے قرآن پاک میں شُح نفس سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس میں انسان خود جتنا بھی پھیلتا چلا جائے، اسے اپنی جگہ تنگ ہی نظر آتی ہے اور دوسرے جس قدر سکڑ جائیں، اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ پھیلے ہوئے ہیں۔ اپنے لیے ہر رعایت چاہتا ہے مگر دوسروں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتتا۔ یہ رویہ ان صفات سے بالکل برعکس ہے جو اسلامی زندگی کے قیام کی جدوجہد کے لیے مطلوب ہیں۔
  • غصہ اور اشتعال انگیزی:کچھ لوگ غصے میں آکر بے قابو ہوجاتے ہیں اور اشتعال میں آکر ایسی حرکت کربیٹھتے ہیں جس پر انھیں بعد میں پچھتانا پڑتا ہے۔ غصے کی وجہ سے جھگڑا اور فساد برپا ہوجاتا ہے۔ نصیحت کی گئی ہے کہ انسان کو جب کسی معاملے کا فیصلہ کرنا ہو تو وہ اس بات کا یقین کرلے کہ وہ غصے کی حالت میں نہ ہو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’طاقت ور شخص وہ نہیں ہے جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقت ور تو درحقیقت وہ ہے جو غصے کے موقع پر اپنے اُوپر قابو پالے‘‘۔ گویا غصے میں آکر کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیے جو اللہ اور اس کے رسولؐ کو ناپسند ہو۔
  • وقت کی قدر: عموماً لوگ وقت کی قدر کرنا نہیں جانتے۔ انھیں یہ معلوم نہیں کہ انسان کے ہاتھ میں اصلی دولت وقت ہی ہے۔ جس نے وقت کو ضائع کیا، اس نے سب کچھ ضائع کردیا۔ وقت ایک گراں قدر دولت ہے۔ اس کی مثال ایک برف فروش کی سی ہے۔ اگر دکان دار نے برف کے پگھلنے سے پہلے اسے فروخت کر دیا تو نفع کما لیا، ورنہ گھاٹے میں رہا۔ اسی طرح ایک ضرب المثل مشہور ہے ’’تب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘۔ اسی لیے انسان کو چاہیے کہ وہ وقت کا صحیح استعمال کرے اور غفلت سے دُور رہے۔
  • قرآن سے تعلّق: ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو اہم چیزیں اپنی اُمت کے لیے چھوڑ گئے: ایک قرآن اور دوسری آپؐ کی سنت۔ قرآنِ مجید، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا معجزہ ہے۔ ہم اس مقدس کتاب سے صرف اسی وقت مکمل طور پر مستفید ہوسکتے ہیں، جب اس کا صحیح حق ادا کریں۔ اس کا حق صرف اسی وقت ادا ہوسکتا ہے جب ہم اس کی صحیح تلاوت کرسکیں، اس کے معنی و مطلب کو سمجھ سکیں، اس کے ایک ایک حکم پر سختی سے عمل پیرا ہوں، اور اس پیغام کو اپنے بیوی بچوں، پڑوسیوں، دوست احباب اور رشتہ داروں اور غیرمسلموں کو پہنچائیں۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کرکے یہ جانیں کہ ان تمام ذمہ داریوں کو ہم کس حد تک نبھا رہے ہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت کے لیے تجوید کا خصوصی اہتمام ضروری ہے اور اس کے بغیر تلاوت کا حق ادا نہیں ہوتا۔
  • نماز اور محاسبۂ نفس: نمازوں کو برباد کرنے والی سب سے عام آفت کسل مندی اور سستی ہے۔ یہ بیماری جب کسی شخص کو لاحق ہوتی ہے تو نہ وہ وقت کی پابندی برقرار رکھ سکتا ہے،  نہ جماعت کا اہتمام قائم رکھ سکتا ہے اور نہ نماز میں حضور قلب کی کیفیت رکھ سکتا ہے۔ ایسا شخص آہستہ آہستہ نماز سے غفلت برتنے لگتا ہے اور اگر پڑھتا بھی ہے تو بالکل بے جان اور بے روح نماز۔

نماز کی دوسری عام آفت وسوسہ ہے۔ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہی آدمی کے ذہن پر وسوسوں اور پراگندہ خیالات کا ہجوم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو بندے کی نماز سے جتنی محبت ہے شیطان کو اس سے اتنی ہی دشمنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دورانِ نماز ابلیس کے کارندوں کا حملہ سب سے زیادہ سخت انھی لوگوں پر ہوتا ہے جو اس کے مقابل میں قوتِ ایمانی کا ثبوت دیتے ہیں۔ وسوسوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے تین باتیں مفید ہیں:

  • جس وقت یہ کیفیت ہو کہ شیطان سے اللہ کی پناہ مانگی جائے اور ذہن کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کیا جائے
  • نماز کے کلمات صرف دل میں نہ پڑھے جائیں بلکہ زبان سے اس طرح پڑھیں کہ خود ان کو سن سکے
  •  روزہ مرہ زندگی میں اپنے خیالات کو پاکیزہ اور بلند رکھنے کی کوشش کیجیے۔

نماز میں ایک حادثہ چوری کا بھی پیش آیا کرتا ہے۔ وہ اس طرح کہ بعض لوگ وضو اور نماز میں اتنی جلدی کرتے ہیں کہ وہ ان کے کسی بھی رکن کا حق ادا نہیں کرپاتے۔ وضو اور نماز کے ارکان اطمینان سے ادا کرنے چاہییں، ورنہ وضو اور نماز فاسد ہوجائیںگے۔

نماز کی سب سے عام اور زیادہ خطرناک آفت ریا ہے۔ ریاکاری یہ ہے کہ جب کسی کے سامنے نماز ادا کی جائے تو اس طرح گویا کوئی بہت متقی اور پرہیزگار ہے، اور جب اکیلے میں نماز پڑھی جائے تو بس دوچار ٹھونگیں مار لی جائیں۔

حضرت احنف بن قیس تابعیؒ کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ ان کی عبادت کا خاص وقت رات کو ہوتا تھا۔ جب سب لوگ میٹھی نیند کے مزے لے رہے ہوتے تو وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوکر اظہارِ بندگی کرتے اور اپنے اعمال کا جائزہ لیتے۔ وہ چراغ جلا کر اس کی لَو پر اپنی انگلی رکھتے اور اپنے نفس سے مخاطب ہو کے کہتے کہ فلاں فلاں کام کرنے پر کس چیز نے تجھے آمادہ کیا تھا۔

  • روزہ اور محاسبۂ نفس: روزے کا محاسبہ انسان کی آنکھیں کھول دیتا ہے کہ روزے کے دوران اس نے جانے اور انجانے میں کتنے ایسے اعمال کیے ہیں جن کی وجہ سے اس کا روزہ فاسد ہوسکتا تھا۔ سب سے پہلے ہرمومن کو اپنے ذہن میں روزے کے مقصد کو رکھنا چاہیے اور سختی سے روزوں کی پابندیوں پر عمل کرے اور زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں صرف کرے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ رمضان کے روزے ایمان و احتساب کے ساتھ رکھیں گے ان کے گذشتہ گناہ معاف کردیے جائیں گے، اور ایسے میں جو لوگ ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان کی راتوں میں نوافل (تراویح و تہجد) پڑھیں گے ان کے (سب پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے)۔ (بخاری ، مسلم)

اکثر لوگ روزے کے مقصد کو ملحوظ نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک ماہِ رمضان خاص طور پر کھانے پینے کا مہینہ ہوتا ہے۔ ان کا یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ اس مہینے میں کھانے پینے پر جتنا بھی خرچ کیا جائے، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا کوئی حساب نہیں ہوگا۔ اس خیال کے لوگ اگر خوش قسمتی سے کچھ خوش حال بھی ہوں تو پھر تو فی الواقع ان کے لیے روزوں کا مہینہ کام و دہن کی لذتوں سے متمتع ہونے کا موسم بہار بن کے آتا ہے۔ وہ روزے کی پیدا کی ہوئی بھوک اور پیاس کو نفس کشی کے بجاے نفس پروری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ وہ صبح سے لے کر شام تک طرح طرح کے پکوانوں کے پروگرام بنانے اور ان کو تیار کرانے میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں اور افطار سے لے کر سحر تک اپنی زبان اور اپنے پیٹ کی تواضع میں وقت گزارتے ہیں۔

آدمی جب بھوکا اور پیاسا ہوتو اس کا غصہ بڑھ جاتا ہے۔ جہاں کوئی بات ذرا بھی مزاج کے خلاف ہوئی تو فوراً اس کو غصہ آجاتا ہے۔ روزے کے مقاصد میں سے یہ بھی ہے کہ جن کے مزاج میں غصہ زیادہ ہو، وہ روزے کے ذریعے سے اپنی اصلاح کریں اور غصہ کرنے سے پرہیز کریں۔

روزے کی ایک عام آفت یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ جن کی ذہنی تربیت نہیں ہوئی ہوتی کھانے پینے اور زندگی کی بعض دوسری دل چسپیوں سے علیحدگی کو ایک محرومی سمجھتے ہیں، اور اسی محرومی کے سبب سے ان کے لیے دن کاٹنے مشکل ہوجاتے ہیں۔ اس مشکل کا حل وہ یہ نکالتے ہیں کہ بعض ایسی دل چسپیاں تلاش کرلیتے ہیں جو ان کے خیال میں روزے کے مقصد کے منافی نہیں ہوتیں، مثلاً تاش کھیلنا، ڈرامے دیکھنا، گانے سننا اور بے مقصد مطالعہ کرنا۔ دوستوں میں بیٹھ کر گپیں ہانکتے ہیں جس میں وہ جھوٹ اور غیبت جیسے گناہوں کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔ خیال رہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی روزہ رکھتے ہوئے باطل کلام اور باطل کام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

  • انفاق اور محاسبۂ نفس: انفاق کے محاسبے سے ریا، تکبر اور احسان فراموشی وغیرہ جیسے گناہوں سے ہماری آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ اگر ہم اپنا محاسبہ نہ کریں تو ہمیں کبھی یہ پتا نہ چلے گا کہ ہم نے جو انفاق کیا ہے آیا وہ پاکیزہ بھی ہے یا نہیں، اور اس سے اللہ راضی بھی ہے یا نہیں۔

بہت سے لوگ اللہ کی راہ میں خرچ تو کرتے ہیں لیکن دل کی فیاضی اور حوصلے کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے پیش نظر صرف ایک مطالبے کو کسی نہ کسی طرح پورا کر دینا ہوتا ہے۔ جس طرح وہ حکومت کا ٹیکس ادا کرتے ہیں، اسی بددلی اور افسردگی کے ساتھ کسی دینی و مذہبی کام کے لیے بھی  کچھ مال نکال دیتے ہیں۔ اس بددلی کے سبب سے اللہ کی راہ میں وہ چیزیں دیتے ہیں جن کا دینا ان کے دل پر گراں نہ گزرے، جو ان کی ضرورت سے بالکل فاضل ہوں یا جس سے کم از کم ان کو کوئی بڑا فائدہ اُٹھا سکنے کی توقع نہ ہو۔ اگر قربانی کریں گے تو ایسے جانور کی جو کم قیمت اور      بے حیثیت ہو۔ اس طرح کا انفاق نہ صرف یہ کہ کوئی خیر و برکت پیدا نہیں کرتا بلکہ وہ سرے سے   اللہ تعالیٰ کے ہاں شرفِ قبولیت ہی نہیں پاتا۔ اس کی تائید سورۂ بقرہ کی یہ آیت کرتی ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ وَ مِمَّـآ اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ o (البقرہ ۲:۲۶۷) اے لوگو جو ایمان لائے ہو۔ جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمھارے لیے نکالا ہے، اس میں سے بہتر حصہ راہِ خدا میں خرچ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لیے بُری سے بُری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمھیں دے، تو تم ہرگز اسے لینا گوارا نہ کرو گے، الا یہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم اغماض برت جائو۔ تمھیں جان لینا چاہیے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے۔

انفاق کو برباد کرنے والی ایک بہت بڑی آفت لوگوں کے ساتھ بدسلوکی ہے۔ وہ مانگنے والوں کو دے تو دیتے ہیں مگر اتنی جھڑکیاں اور ایسا توہین آمیز سلوک کرتے ہیں کہ جتنی نیکیاں کماتے ہیں اس سے کہیں زیادہ گناہ اپنے سر مول لے لیتے ہیں۔ دوسروں کی عزتِ نفس کو مجروح کرکے انفاق کرنا اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ اہلِ ایمان تو دوسروں کی مدد اپنا فرض سمجھ کر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کرتے ہیں کہ وہ اسے شرفِ قبولیت بخشے نہ کہ کسی پر احسان جتاتے ہیں۔

  • حج اور محاسبۂ نفس: ہر مسلمان کی زندگی میں حج ایک بار اس وقت فرض ہوتا ہے جب کہ وہ صاحبِ استعداد ہو۔ حج کے لیے دنیا کے ہرملک اور ہرکونے سے مسلمان جمع ہوجاتے ہیں تو بھیڑ کی وجہ سے کئی دقتوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حج کے ہر رکن کو ادا کرنے میں حاجیوں کو کافی مشکلات ہوتی ہیں۔ ایسے وقت میں صبروتحمل کے مظاہرے کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آدمی حج کے ارکان ادا کرتے وقت اپنا محاسبہ بھی کرتا رہے تو اس کو ارکان ادا کرنے میں آسانی بھی ہوگی اور انجانے میں ہونے والی گناہوں اور لغزشوں سے بھی محفوظ رہے گا۔

روز مرہ زندگی میں جو لوگ شریعت کے احکام و آداب کی پابندیوں کے عادی نہیں ہوتے وہ حج کے موقع پر کچھ زیادہ ڈھیلے ڈھالے ہوجاتے ہیں، اور قدم قدم پر ان سے ایسی باتیں صادر ہوتی ہیں جو اس فسق کے تحت آتی ہیں جسے قرآن پاک نے حج کے سلسلے کی ایک آفت قرار دیا ہے۔ بہت سے لوگ بات بات پر لڑتے جھگڑتے ہیں۔ بے تکلفی میں گالی گلوچ کرتے ہیں اوراپنے ساتھیوں کو اذیت دیتے ہیں۔ ان امور سے اجتناب کرنا چاہیے۔

حج کے سلسلے کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ عام طور پر لوگ حج کے شعائر اور مناسک کی روح اور حقیقت سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں۔ بس لوگ عقیدت کے جذبے کے ساتھ جاتے ہیں اور معلم حضرات ان سے جو رسوم ادا کرواتے ہیں، آنکھیں بند کرکے ان کو ادا کیے چلے جاتے ہیں۔ نہ حج اور عمرے کا فرق معلوم، نہ طواف کی حقیقت کاپتا، نہ حجراسود کو بوسا دینے کا مدعا واضح، نہ معلوم کہ سعی کیوں کی جاتی ہے۔قربانی کی اصلی روح کیا ہے، رمی جمرات سے ہمارے اندر کس روح کو زندہ رکھنا اور بیدار رکھنا مقصود ہے وغیرہ سے بے خبر ہوتے ہیں۔

  • ایک قابلِ تقلید مثال: حضرت حنظلہ اسید رضی اللہ عنہ جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبین میں سے تھے، کہتے ہیں: ایک مرتبہ میری ملاقات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انھوں نے پوچھا: اے حنظلہ! تم کیسے ہو؟ میں نے عرض کیا: حنظلہ منافق ہوگیا۔ ابوبکر صدیقؓ نے کہا: سبحان اللہ، آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں نے کہا: جب ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور آپؐ ہمیں جنت و جہنم کے بارے میں بتا رہے ہوتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جنت و جہنم ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور ہمیں اس کا عین الیقین حاصل ہے، مگر جب ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے اُٹھ جاتے ہیں تو بال بچے اور دنیاوی مشاغل میں اس قدر مگن ہوجاتے ہیں کہ اکثر باتیں بھول جاتے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا: اللہ کی قسم! یہی حال میرا بھی ہے۔ پھر ہم دونوں رسول اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں گویا ہوا: اے اللہ کے رسول! حنظلہ منافق ہوگیا! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: ہم آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور آپؐ ہمیں جنت جہنم کے بارے میں بتلا رہے ہوتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جنت و جہنم ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، مگر جوں ہی آپؐ کی مجلس سے اُٹھ کر جاتے ہیں۔ بیوی بچوں اور دیگر مشاغل میں پھنس جاتے ہیں تو ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر تم لوگ سدا ویسے ہی رہو جیسے میرے پاس رہتے ہو اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہو تو فرشتے تمھارے بچھونوں پر اور تمھارے راستوں میں تم سے مصافحہ کریں گے۔ یاد رکھو    اے حنظلہ! ایک وقت کاروبار کے لیے اور ایک وقت پروردگار کی یاد کے لیے ہے۔ یہ بات آپؐ نے تین مرتبہ فرمائی۔

محاسبۂ نفس کے یہ مختلف پہلو ہیں جن سے اس کی اہمیت اُجاگر ہوتی ہے۔ محاسبۂ نفس    نہ صرف تزکیۂ نفس کے لیے ناگزیر ہے بلکہ ذاتی اصلاح اور خود احتسابی کے لیے بھی ضروری ہے۔ انسان چونکہ ضعیف العقل ہے اس لیے وہ بہت جلد شیطان کے وسوسوں اور ورغلانے کا شکار ہوجاتا ہے۔ اپنے محاسبے کی وجہ سے انسان اپنی عاقبت سنوارنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، اور شیطان کے وسوسوں اور ورغلانے سے محفوظ رہتا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ اپنے خالق و مالک کی رضامندی اور خوشنودی کے حصول کا باعث بھی بنتا ہے۔ ہمیں محاسبۂ نفس اور خود احتسابی کو اپنا معمول بنانا چاہیے۔

انسان کے لیے دنیا کی بڑی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت بچے ہیں۔ وہ انسان    خوش قسمت اور سعادت مند ہے جو اولاد کی نعمت سے بہرہ ور ہے۔ یہ وہ شگفتہ پھول ہیں جو گلشنِ حیات میں ہمارے لیے مستقبل کی روشن اُمید ہیں۔ یہ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک، گھر کی رونق اور مستقبل کے معمار ہیں۔

ہر انسان میں طویل عرصے تک جینے، اس کا نام باقی رہنے اور اس کی کمائی ہوئی جایداد  خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ اس کا وارث ہونے اور سنبھال کر رکھنے کی فطری خواہش ہوتی ہے۔      اس خواہش کی تکمیل، اس کی نیک اولاد کے ذریعے ہوسکتی ہے۔ نیک بچے ہمارے وارث، قوم و ملک کے مستقبل کے سنبھالنے والے اور ملت کا دفاع کرنے والے ہیں۔ اسی وجہ سے قرآن و حدیث میں بچوںکی تعلیم و تربیت، اچھا مسلمان اور اچھا انسان بنانے کے لیے رہنمائی کی گئی ہے۔ نیک، پرہیزگار اور اطاعت گزار اولاد کے لیے دعا مانگنا مومنین کی صفات میں شمار کیا گیا ہے:

وَالَّـذِیْنَ یَـقُوْلُوْنَ رَبَّـنَا ھَـبْ لَـنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰـتِنَا قُـرَّۃَ اَعْیُنٍ        وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِِمَامًا o (الفرقان ۲۵:۷۴) اور جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ     ’’اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنادے۔

اسی نوع کی دوسری دعائیں ہیں جنھیں بندہ خود مانگتا ہے اور دوسروں سے بھی درخواست کرتا ہے۔

ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو ایک کورے کاغذ کی طرح پاک و صاف اور تحت الشعور میں اپنے خالق کی خالقیت، توحید اور فطرتِ سلیمہ لیے ہوئے ہوتا ہے۔       ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور قائم ہوجائو اس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی‘‘ (الروم ۳۰:۳۰)۔ اس حقیقت کو سرور دوجہاں رحمۃ للعالمینؐ نے اس طرح بیان فرمایا: ’’ہر بچہ فطرت (سلیمہ) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں‘‘۔ (بخاری، مسلم)

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سب سے مشکل کام بچے کی تربیت و تعلیم ہے۔ یہ کام کسی مختصر مدت کا کام نہیں، بلکہ برسہا برس کی محنت، کاوش اور جدوجہد پر محیط ہے۔ جس طرح برسوں کی مدت سے ایک موتی سیپ میں بنتا ہے، اسی طرح برسوں کی مسلسل کاوش سے ایک کامل انسان بنتا ہے۔

ایک بچہ اسکول سے واپس آنے کے بعد دن رات کا تقریباً تین چوتھائی کا حصہ گھر میں گزارتا ہے۔ اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں، عزیز و اقارب کے درمیان رہتا ہے، اور ایک حصہ  گھر سے باہر اپنے ہم جولیوں کے ساتھ بھی گزارتا ہے۔ اس لیے تربیت کی بڑی ذمہ داری بچے کے ماں باپ اور بھائی بہنوں کے ذمے ہے، البتہ ایک حصہ (اوقات اسکول) تعلیمی ادارے اور اساتذہ کے ذمے ہے۔ بچہ اپنے ماحول سے بہت اثر لیتا ہے بلکہ اسے اپنے ذہن میں بٹھا لیتا ہے۔ اس لیے بچے کو اچھا ماحول دینا اور خراب ماحول سے بچانا ضروری ہے۔ لیکن یہ کام جتنا ضروری ہے اتنا مشکل بھی، اور ایک طویل عرصے تک جاری رہنے والا عمل ہے۔ یہاں بچے کی تربیت کے حوالے سے چند گزارشات پیش ہیں:

  •  پھلا مدرسہ: بچے کا سب سے پہلا مدرسہ اس کا گھر اور گھر میں خاص طور پر اس کی ماں ہے۔ جس طرح اپنی ماں کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے ویسے ہی کرتا ہے۔ جس طرح وہ بولتی ہے ویسے ہی وہ بولتا ہے۔ غرض کہ جو کام وہ کرتی ہے بچہ بھی اس کی طرح کرتا ہے۔ گھر کے بعد دوسرا تربیتی مرکز اس کا مدرسہ اور اسکول ہوتا ہے اور ان میں استاد اس کا ماڈل ہوتا ہے۔ بعض اوقات اسے اپنے استاد کی بات پر اتنا اعتماد ہوتا ہے کہ وہ کسی اور کی بات کسی صورت میں قبول نہیں کرتا، اور کہتا ہے کہ میرے استاد نے مجھے ایسے ہی بتایا ہے۔ اس لیے اساتذہ کو اپنی ذمہ داری کو محسوس کرنا چاہیے۔

بچہ چونکہ بیش تر وقت گھر میں گزارتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کی تربیت کی ذمہ داری بنیادی طور پر والدین پر رکھی ہے۔ مذکورہ بالا حدیث کے الفاظ واضح ہیں کہ ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔ اس حدیث کی گہرائی میں جائیں تو ماں باپ پر تربیت کی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس ذمہ داری کو ادا کرنے سے وہ دنیا اور آخرت کی خوشی، راحت و شادمانی اور مسرت کے مستحق بنتے ہیں۔

بچے کی تربیت عام طور پر تین ذریعوں سے ہوتی ہے۔ ان میں سے دو کے ذمہ دار خاص طور پر ماں باپ ہوتے ہیں: (۱) تقلید (۲) رہنمائی (۳) تجربہ۔ ماں باپ کے ہرعمل کا مشاہدہ بچے کے ذہن پر نقش ہوتا چلا جاتا ہے۔ اسی کی وہ پیروی کرتا ہے اور اسی سے رہنمائی لیتا ہے، اور بتدریج تجرباتِ زندگی سے سیکھتا چلا جاتا ہے۔

بچوں کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ ناسمجھ اور نادان ہوتے ہیں اور سمجھتے نہیں، یہ بات صحیح نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمام ضروری صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ بنیادی طور پر یہ صلاحیتیں آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں، اور بچہ جو بھی دیکھتا ہے اسے کسی قدر اپنے ذہن میں محفوظ کر لیتا ہے۔ تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ابتدائی عمر میں بچے کی شخصیت پر سب سے زیادہ اثرانداز دو ہی افراد ہوتے ہیں، یعنی ماں باپ۔ والدین کی فطری توجہ اور شفقت اسے حاصل ہوتی ہے۔ اس کے سبب وہ ان کی شخصیت کے ہر پہلو کو قابلِ تقلید خیال کرتا ہے۔

اس معصومانہ عمر اور ذہن میں جب وہ غلط اور صحیح کا علم نہیں رکھتا اور ابھی اس کی قوتِ فیصلہ نہیں بن پاتی، اس کے نزدیک ہر وہ بات جسے اس کے والدین نے صحیح بتایا ہو، صحیح اور جسے وہ    غلط کہیں، غلط ہوتی ہے۔ جو کام والدین کریں گے بچہ بھی وہی کرے گا۔ والدین اشارے کریںگے تو وہ بھی کرے گا، جیسے وہ بیٹھیں گے، ویسے ہی وہ بھی بیٹھے گا۔ لہٰذا والدین، بڑے بھائی، بہنیں اور گھر کے دیگر افراد بچے کے لیے پہلا ماڈل ہیں۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو ماں باپ پر کتنی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اور اس ذمہ داری سے عہدبرآ ہونا کتنا کٹھن کام ہے۔

lگفتگو کا سلیقہ: بچے سے گفتگو کرتے ہوئے ان تمام باتوں کو لحاظ رکھیں، جنھیں بڑوں سے گفتگو کرنے میں ملحوظ رکھتے ہیں۔ ان سے تو تڑاک اور گھٹیا لفظوں سے گریز کریں ورنہ وہ بھی ایسے ہی الفاظ بولیں گے۔ ہم ان سے تعظیم کے کلمات سے بات کریں گے تو وہ بھی ایسے ہی کلمات سیکھیں گے اور گفتگو کریں گے۔ لہٰذا بچے سے گفتگو کے دوران محتاط رویہ اپنایئے۔ ان کے سامنے بیہودہ، مذاق، گالی گلوچ، تہذیب سے گرے ہوئے الفاظ ہرگز نہ بولے جائیں۔ ان سے گفتگو نرمی سے کریں، اور ہر وقت کی ڈانٹ ڈپٹ بھی مناسب نہیں۔ اس سے بچے کے دل سے رعب جاتا رہتا ہے اور اس کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آپ گھر کے مدرس و معلم ہیں، کوئی تھانیدار اور صوبیدار نہیں۔ مناسب رویہ یہی ہے کہ بچے کو حکمت سے صحیح اور غلط کی تمیز سکھائی جائے۔ جہاں ضرورت ہو سرزنش بھی کریں اور بچے کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ میری کیا کوتاہی تھی جس کی بناپر سرزنش کی گئی۔ اس سے بچے کو اپنی غلطی کا احساس بھی ہوگا اور اس میں احساسِ ذمہ داری بھی بیدار ہوگا۔

  •  بچوں کی گفتگو پر نظر: بچے کی گفتگو پاکیزہ، مہذب اور عمدہ اخلاق پر مبنی ہونی چاہیے۔ اس کام میں اس کی رہنمائی کرتے رہنا چاہیے، تاکہ آج کا بچہ کل بڑا ہوکر عمدہ گفتگو کرنے پر قادر ہوسکے اور اپنی عمدہ گفتگو سے دوسروں کو متاثر کرسکے۔ ہمارے معاشرے میںگالیوں اور بُری زبان بولنے اور گھٹیا الفاظ استعمال کرنے کارواج ہے۔ انسان کی تعلیم و تربیت میں زبان کا بہت بڑا کردار ہے۔ اس لیے بچے کی گفتگو کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور کوئی گالی زبان پر چڑھ گئی ہو تو اسے بھی چھڑوانا چاہیے۔ بعض گالیاں، کفریہ کلمے، گناہ ہوتے ہیں، جیسے کسی پر لعنت کرنا، جھوٹی قسم کھانا۔ ان گناہوں سے بچانا چاہیے۔ بچے کے سامنے اچھا نمونہ اور معیار رکھنا ضروری ہے۔ بچے کو افراد اور اشخاص کی مثال دی جائے تو دینی، اخلاقی، سماجی، معاشرتی اور علمی لحاظ سے اُونچے اور بڑے لوگوں کی مثالیں دینا چاہیے۔ یہ سنت ِ نبویؐ ہے۔
  • جہوٹ سے اجتناب : بچے کے سامنے دھوکا، ٹھگی اور بے ایمانی کی بات نہیں کرنا چاہیے اور نہ بچے سے کہیں کہ دروازے پر جاکر پوچھنے والوں سے کہہ دو کہ ابا گھر پر نہیں ہیں۔     یہ جھوٹ اور بُری تعلیم ہے۔ بچے کی شخصیت کی اُٹھان سچ پر ہونی چاہیے۔ اسلام میں جھوٹ کی  کس شدت سے مذمت کی گئی ہے کہ اس کا اندازہ رسول اکرمؐ کے اس فرمان سے لگایا جاسکتا ہے کہ مومن جھوٹا اور خائن نہیں ہوسکتا۔
  •  تھذیب و اخلاق:کوشش کریں کہ ایک کھانا تمام گھر کے افراد ضرور مل کر کھائیں۔    اس سے محبت بڑھتی ہے، بے تکلفی پیدا ہوتی ہے اور کھانے کا سلیقہ آتا ہے۔ کھانے میں برکت بھی ہوتی ہے۔ چھوٹوں، بڑوں کی تربیت ہوتی ہے، اور کمتری و برتری کا احساس ختم ہوتا ہے۔ باہمی محبت پرورش پاتی ہے، اور ہلکی پھلکی دین و دنیا کی باتیں بھی ہوتی ہیں۔ آج کل جنریشن گیپ اور باہمی دُوری کی ایک وجہ یہ ہے کہ چھوٹے، بڑے مل کر نہیں بیٹھتے، بلکہ ایک دوسرے سے دُور دُور اور  کھنچے کھنچے رہتے ہیں۔ اجتماعی کھانے کے اور بہت سے فائدے اور مصلحتیں بھی ہیں۔ باہم مل جل کر بیٹھنے سے بڑوں کا ادب اور چھوٹوں سے شفقت کا سلیقہ پیدا ہوتا ہے۔ بچے بڑوں کا ادب کرنا اور سلیقے سے گفتگو کرنا سیکھتے ہیں۔ اسلامی تہذیب اور آداب سیکھتے ہیں۔
  •  صفائی و طھارت کی تربیت: ماں باپ کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری اپنی اولاد کو صفائی اور طہارت کی تعلیم و تربیت دینا ہے۔ ان میں حرام و حلال، پاک و پلید، جائز و ناجائز، صفائی و گندگی کی تمیز پیدا کرنا ہے۔ ان کو شعور دینا چاہیے کہ پیشاب یا گندگی سے ہاتھ آلودہ ہوجائے تو اسے صاف کرنا اور ہاتھ صابن سے دھونا اور تولیہ استعمال کرنا چاہیے۔ ہرشخص کا علیحدہ تولیہ ہونا اور بچے کو بھی اپنا تولیہ دینا چاہیے۔ اس سے اس میں اپنی چیز ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اسی طرح کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کی تعلیم دینا اور اس کی حکمت اُجاگر کرنی چاہیے۔
  • ماحول کے بگاڑ سے محفوظ رکہنا: گھروں سے باہر کے ماحول کو دیکھتے ہوئے اپنے آپ کو اور بچے کو اس سے بچانے کے لیے اسے گھر میں رکھیں لیکن صرف گھر میں بٹھادینا اور کوئی مصروفیت و مشغولیت نہ دینا ان کے ساتھ زیادتی اور غیرفطری کام ہے۔ اس لیے اس کی مصروفیت کی ایک لمبی فہرست سامنے ہونی چاہیے، جیسے کلاس کا ہوم ورک، چھوٹے بچوں کے لیے کھلونے، اِن ڈور کھیل، ڈرائنگ اور رنگ بھرنا، اخلاقی اور معلوماتی کہانیاں پڑھنا، لڑکوں کو والد یا بڑے بھائی کے ساتھ مسجد لے جانا اور نماز پڑھانا، تفریحی پارک میں لے جانا، ٹی وی کے معلوماتی و تفریحی پروگرام (جیسے کارٹون دکھانا) وغیرہ۔ بچے کو بااخلاق اور اچھے پڑوسی کے بچوں کے ساتھ کھیلنے کی محدود اجازت دینا بھی چاہیے۔ رات کو بلکہ سورج غروب ہونے کے بعد بچے کو گھر سے نکلنے نہ دیں۔ حدیث شریف میں اس کی ممانعت بھی ہے۔ بچے کو جیب خرچ کم دینا چاہیے اور اگر زیادہ دیا جائے تو اسے کسی طریقے سے جمع کرنے کی عادت ڈالنا چاہیے۔ اس سے بچے کو ذمہ داری کے ساتھ پیسے کو خرچ کرنے اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے بچت کی تربیت ہوتی ہے۔
  •  روز مرہ دعائیں سکہانا: بچوں کو روز مرہ کی دعائیں صحیح تلفظ سے یاد کرائیں، ان کی معنی بھی بتائیں اور موقع پر پڑھنے کی عادت ڈالیں، جیسے صبح اُٹھنے کی دعا، سلام کرنا، بیت الخلا میں جانے اور واپس آنے کی دعا، وضو کے بعد کی دعا، بسم اللہ صحیح پڑھنا، کھانا ختم کرنے کے بعد کی دعا، سبق پڑھنے اور علم میں اضافے کی دعا، الحمدللہ کہنا، شکرادا کرنے کی دعا اور سونے وغیرہ کی دعا۔
  •  برابری کا برتاؤ: بچے چاہے لڑکے ہوں یا لڑکیاں ان سے برابر کا سلوک اور ایک سا برتائو کرنا چاہیے۔ یہ برتائو کھانے پینے، لباس، بول چال اور لین دین میں کرنا اسلام کی تعلیم و تہذیب اور روح ہے۔ بیٹیوں اور بیٹوں میں برابری کا سلوک نہ کرنا جاگیردارانہ اور جاہلانہ طریقہ ہے، اور دورِ جاہلیت کی نشانی ہے۔ اسلام نے اس سلسلے میں واضح ہدایات دی ہیں۔
  • بچوں کی حفاظت: بچوں کی صحت کے تحفظ کی ذمہ داری والدین پر ہے۔ اس لیے بیماری کے وقت خود ہی علاج نہ کرنا چاہیے، خواہ مخواہ بیماری کو بڑھانا نہیں چاہیے، بلکہ کسی لائق ڈاکٹر یا حکیم کو دکھانا چاہیے۔ کھانے پینے کی اشیا میں ان کی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ مضرصحت غذا ہرگز نہ دینا چاہیے۔ حفظانِ صحت کے اصولوں کو پیش نظر رکھیے اور بچوں کو بھی ان سے آگاہ کریں۔
  • کتاب دوستی اور تعمیری سرگرمیاں: بچے کی تربیت کے حوالے سے ایک اہم پہلو ذوقِ مطالعہ کو پروان چڑھانا ہے۔ گھر چونکہ ابتدائی مدرسہ ہے، لہٰذا کتاب دوستی کی بنیاد گھر سے پڑنی چاہیے۔ آغاز میں ماں یا والد بچوں کو سوتے وقت قصے کہانیاں، انبیا کے قصص، حکایات اور دلچسپ کہانیاں سنا کر اس رجحان کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔ بچوں کے ذوق اور سمجھ کے مطابق کتب سے کہانیاں پڑھ کر بھی سنائی جاسکتی ہیں۔ گھر میں بچوں کے رسائل بھی اس ذوق کو بڑھانے کا ذریعہ ہیں۔ کبھی کبھی بچوں کو کسی کتاب کی دکان پر لے جاکر کتب بھی خرید کر دیں۔ امتحانات یا کسی کامیابی کے موقع پر کتاب بطور انعام دیں۔ بچے کا لائبریری سے تعلق پیدا کریں۔ کسی قریبی لائبریری میں بچوں کو ساتھ لے کر جائیں۔ اسی طرح اسکول لائبریری سے تعلق پیدا کریں، اور اساتذہ بھی اس کا اہتمام کریں۔ اس سے بچے کی کتاب دوستی بتدریج مضبوط ہوتی چلی جائے گی۔

کتب بینی اور رسائل کا مطالعہ بچوں کی ضرورت بنا دیں۔ وہ اس طرح کہ بچوں کو ’بزمِ ادب‘ کی طرز پر پروگرام میں شریک کروائیں۔ بچہ اپنی صلاحیت اور رجحان کے مطابق قصہ کہانی،   تقریر، قرآن و حدیث سے انتخاب،اقوالِ زریں، پہیلیاں اور کوئز مقابلے کے لیے سوالات کی تیاری     کے لیے کتب کی طرف رجوع کرے گا۔ اس سے کتب بینی کا شوق بھی بڑھے گا اور تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لینے سے بچے کی شخصیت کے پوشیدہ جوہر بھی کھلیں گے۔ اگر خود کتاب دوستی کا مظاہرہ کریں، کتب خریدیں، لٹریچر پڑھیں اور دوسروں کو پڑھنے کو دیں، خدمتِ خلق کا کام کریں تو فطری انداز میں بچہ ان کاموں سے وابستہ ہوجائے گا۔ تحریکی نظم سے وابستہ ہونے سے یہ کام ایک تسلسل سے  ہوسکتے ہیں۔

  • تعلیمی ادارے سے ربط رکہنا: جہاں آپ کا بچہ پڑھ رہا ہے، کوئی ہنر سیکھ رہا ہے،وہاں کے پرنسپل اور ذمہ دار یا استاد سے کبھی کبھار مل لیا کریں، حال احوال لے لیا کریں۔  کبھی فون کریں، کبھی خود چلے جائیں، کبھی گھروالوں میں سے کسی کو بھیج دیں اور رابطے میں رہیں۔ بچے کو باقاعدہ اسکول بھیجیں اور چھٹی کی صورت میں ادارے کی انتظامیہ کو اطلاع دیں۔

بچے کی تعلیمی، دینی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت کریں، اس کا دین و ایمان پختہ کریں تو وہ آپ کے لیے دنیا اور آخرت کی راحت کا سبب بنے گا۔ اس کی نیکیوں سے ایک حصہ آپ کو قبر کے اندھیرے اور تنہائی میں پہنچے گا، اور حساب کے دن اس کی شفاعت نصیب ہوگی۔ بچے کو درس گاہ  اس طرح بھیجیں کہ وہ تعلیم کے وقت پر ادارے میں موجود ہو۔ بچہ مکمل تیاری کے ساتھ مقررہ لباس (یونیفارم) میں ملبوس ہو اور صفائی ستھرائی کا انتظام کر کے آئے۔

یہ چند باتیں، اسکول،مدرسہ اور کسی ادارے میں جانے والے بچے کے بارے میں عرض کی گئی ہیں۔ ان میں اولاد کے تمام حقوق بیان نہیں کیے گئے۔ ایک گزارش یہ ہے کہ بچوں کے والدین نفسیات کی دو تین کتابیں خاص طور پر بچوں کی نفسیات، تعلیمی نفسیات، عمومی نفسیات ضرور ملاحظہ کریں اور انھیں عمل میں لانے کی کوشش کریں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے بچوں کو ہمارے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک اور اچھے وارث بنائے، نیک صالح کرے اور دینی و دنیوی ترقی سے نوازے اور پاکستان کے اچھے شہری بنائے، آمین!

قرآن حکیم کا آغاز دعا سے ہوتا ہے اور اس میں بہت سی دعائیں ہیں جو انسان کو انداز بدل بدل کر ربِ کائنات کے آگے نہایت عاجزی کے ساتھ اپنی حاجتیں بیان کرنے اور اسی کے سامنے اپنی استدعائیں پیش کرنے کے طریقے سکھلاتی ہیں، لیکن مختلف مقامات پر رب العزت نے اپنے انبیا کی زبانی پوری دنیا کے انسانوں کے لیے دعائوں کے جو تحفے عطا کیے ہیں ان میں سے ہر ایک قبولیت کے حوالے سے ایک نسخۂ کیمیا ہے۔ یہ دعائیں گواہی دیتی ہیں کہ پیغمبروں جیسی برگزیدہ ہستیوں نے بھی اپنی حاجت براری کے لیے صرف اسی کی طرف رجوع کیا اور اسی کے آگے اپنی جھولی پھیلائی۔

ذیل میں اس آس پر مختلف انبیا علیہم السلام کی چند قرآنی دعائیں مع ترجمہ و مختصر تشریح  پیش کی جاتی ہیں کہ ربِ دوجہاں یقینا ایک دن اپنی ان عظیم اور بزرگ ترین ہستیوں کی دعائوں کے صدقے اُمت ِمسلمہ کو موجودہ مشکلات کے گرداب سے نکال لے گا، اور اس وطنِ عزیز کے حالات پر کہ جو صرف اسی کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، کرم فرمائے گا اور اس میں سچے دین کو سربلندی اور اپنے نام لیوائوں کو سرخروئی عطا کرے گا۔

  •  حضرت ابراھیم ؑ کی دعا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا اس وقت مانگی جب دونوں باپ بیٹا، یعنی حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسماعیل ؑ خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے۔ اس دعا کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ خدا کے گھر کی تعمیر کے مبارک کام کے دوران آنے والے زمانوں کے اندر تک اپنی دعائوں کو پھیلا کر خدا سے اس گھر کی پاسبانی اور اس کی عظمت کو تسلیم کرنے والی ایک قوم کی استدعا کر رہے تھے، اور پھر خدا نے ان کی اِس دعا کو یوں قبول کیا کہ ان کی نسل کو سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں اس عظیم ترین ہستی سے نوازا جو ساری دنیا کے لیے رحمت بن کر مبعوث ہوئی:

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ وَ اَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُo (البقرہ۲:۱۲۸) اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے تو سب کی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے، اے رب! ہم دونوں کو مسلم (مطیع فرماں ) بنا۔ ہماری نسل سے ایسی قوم اُٹھا جو تیری فرماں بردار ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

  •  نبی کریمؐ کی دعا: نبی کریمؐ نے خدا کے حضور اپنی امت کی طرف سے ایک ایسی درخواست جمع کرا دی ہے جو ہرمشکل میں قیامت تک اس کے کام آتی رہے گی اور ہر تاریکی میں اس کے لیے ایک شمع کی صورت جگمگاتی رہے گی:

رَبَّنَـآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِo (البقرہ۲:۲۰۱) اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔

  •  حضرت داؤدؑ کی دعا: حضرت دائود علیہ السلام نے یہ دعا اس وقت مانگی جب ان کے ایما پر طالوت اپنے ساتھی مسلمانوں کو لے کر جالوت کے مقابلے پر نکلا اور پھر اسے ایک بڑے لشکر کا سامنا کرنا پڑا۔ تب اللہ نے ان کی یہ دعا یوں قبول کی، کہ حضرت دائود علیہ السلام نے جو اس وقت تک ابھی ایک کم سِن نوجوان تھے، جالوت کو سرِمیدان قتل کردیا اور اللہ نے انھیں یعنی حضرت دائود علیہ السلام کو ان کا سردار بنا دیا:

رَبَّنَـآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَo (البقرہ۲:۲۵۰) اے ہمارے رب! ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر۔

  •  حضرت زکریاؑ کی دعا:یہ دعا حضرت زکریا علیہ السلام نے اس وقت مانگی جب انھوں نے حضرت مریمؑ کو ایک حجرے میں گوشہ نشین دیکھا اور یہ دیکھا کہ اس پاک باز لڑکی کو اللہ اس حال میںبھی رزق پہنچا رہا ہے تو ان کے منہ سے بے ساختہ یہ دعا نکلی اور پھر اللہ نے ان کی دعا اس طرح قبول کی کہ اس بڑھاپے میں انھیں حضرت یحییٰ جیسا بیٹا عطا کیا:

رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآئِo (اٰل عمرٰن۳:۳۸) پروردگار! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر، تو ہی دعا سننے والا ہے۔

  •  حضرت آدمؑ کی دعا: یہ دعا حضرت آدم علیہ السلام نے اس وقت مانگی جب اللہ نے ان دونوں، یعنی آدم و حوا کی لغزش پر ان کے ستر ایک دوسرے پر کھول دیے، انھیں حیا کے فطری جذبے نے بالکل مغلوب کرکے رکھ دیا اورانھیں اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا تو انھوں نے رو رو کر اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! ہم پر رحم کیجیے، ہمیں معاف کر دیجیے اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو ہم بالکل تباہ ہوکر رہ جائیں گے:

رَبَّنَا ظَلَمْنَـآ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ o (الاعراف ۷:۲۳)اے ہمارے رب! ہم نے اپنے اُوپر ظلم کیا، اب اگر تونے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقینا ہم تباہ ہوجائیں گے۔

  • حضرت شعیبؑ کی دعا: جب حضرت شعیب علیہ السلام اہلِ مدین کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے اورانھوں نے اہلِ مدین کو اللہ کے احسانات یاد دلا دلا کر راہِ راست پر آنے کی دعوت دی لیکن وہ اپنی چودھراہٹ کے گھمنڈ میں اللہ کا حکم ماننے اور ان کی پیروی سے مسلسل انکار کرتے رہے تو حضرت شعیب ؑنے اللہ سے یہ دعا مانگی جس پر اللہ نے اہلِ مدین کو ان کے جرم کی پاداش میںاس طرح مٹا دیا جیسے وہ کبھی دنیا میں تھے ہی نہیں:

رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَo (الاعراف ۷:۸۹) اے ہمارے رب! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

  •  حضرت موسٰیؑ کی دعا: حضرت موسیٰ علیہ السلام جب کوہِ سینا سے واپس آئے اور انھوں نے دیکھا کہ ان کے بھائی ہارون ؑ کے منع کرنے کے باوجود ان کی قوم نے ایک بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا ہے تو وہ سخت برہم ہوئے اور اس پریشانی کے عالم میں اپنے رب سے یہ دعا کی اور پھر اس میں یوں اضافہ کیا۔ ہمارے سرپرست تو آپ ہی ہیں، پس ہمیں معاف کردیجیے اور ہم پر رحم فرمایئے، آپ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ہیں:

رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَo (الاعراف ۷:۱۵۱) اے رب! مجھے اور میرے بھائی کو معاف کردے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے۔

  •  حضرت نوحؑ کی دعا: حضرت نوح علیہ السلام نے جب اپنے نافرمان بیٹے کے حق میں دعا کی اور اللہ نے ان کی دعا رد کرتے ہوئے ان سے کہا کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنالے تو حضرت نوحؑ نے اس دعا کی صورت میں اپنے رب سے معافی طلب کی اور پھر جواب میں رب العزت نے فرمایا کہ اب دیکھتے رہنا کہ کس طرح تجھ پر اور تیرے پیروکاروں پر ہماری برکتیں اور سلامتی نازل ہوتی ہے:

رَبِّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَسْئَلَکَ مَا لَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ وَ اِلَّا تَغْفِرْلِیْ وَ تَرْحَمْنِیْٓ اَکُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ o (ھود ۱۱:۴۷) اے میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں، اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجائوں گا۔

  •  حضرت یوسفؑ کی دعا: جب حضرت یوسف علیہ السلام کو بادشاہت عطا ہوئی اور ان کی اپنے باپ حضرت یعقوب علیہ السلام سے اور اپنے بھائیوں سے ملاقات ہوگئی تو انھوں نے اپنے پروردگار سے ان الفاظ میں اپنی شکرگزاری کا اظہار کیا اوربادشاہت کے باوجود صالحین کے ساتھ اپنے انجام کی درخواست کی:

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَo (یوسف ۱۲:۱ ۱۰) اے میرے رب! تو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھ کو باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھایا، زمین و آسمان کے بنانے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے۔ میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجامِ کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا۔

  •  ایک جامع دعا: جب بڑھاپے میں رب کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاقؑ اور حضرت اسماعیل ؑجیسے فرزند عطا کیے تو انھوں نے یہ دعا کی اور پھر ان کی دعا یوں قبول ہوئی کہ ان کی یہ دعا قیامت تک ہر مومن کی نماز کا مستقل حصہ بنا دی گئی:

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآئِ o رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُo (ابراھیم ۱۴: ۴۰-۴۱) اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی ایسے لوگ اُٹھا جو یہ کام کریں۔ پروردگار! میری دعا قبول کر، پروردگار میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اس دن معاف کردیجیو جب کہ حساب قائم ہوگا۔

  •  حضرت سلیمانؑ کی دعا:اللہ تعالیٰ نے جب حضرت سلیمان علیہ السلام کو ایک عظیم بادشاہت اور چرند پرند سب پر حکومت عطا کی اور ایسے میں جب وہ ایک روز اپنے لشکر کے ہمراہ کہیں جارہے تھے تو ان کے راستے میں آنے والی چیونٹیوں نے آپس میں کہا کہ سب اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ورنہ کچلے جائیں گے تو حضرت سلیمان ؑ نے یہ سن کر اللہ کا شکر ادا کیا اور دعا کی کہ اے اللہ! اس سب کے باوجود میری آرزو ہے کہ میرا انجام صالحین میں ہو:

رَبِّ اَوْزِعْنِیْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہٗ وَاَدْخِلْنِی بِرَحْمَتِکَ فِیْ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیْنَ o (النمل ۲۷:۱۹) اے میرے رب! مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اس احسان کا شکر  ادا کرتا ہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عملِ صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر۔

  •  شرح صدر کے لیے دعائیں: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو معجزے دے کر فرعون کے پاس جانے کو کہا تو حضرت موسٰی ؑنے کہ جن کی زبان میں بچپن ہی سے لکنت تھی اس دعا کے الفاظ میں اللہ سے اپنی استعانت کی درخواست کی لیکن جب فرعون نے ان کے معجزوں کو جادو کا محض ایک کھیل قرار دیا اور ان کی مسلسل دعوت کے جواب میں مسلسل انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عبرت کا نشان بنا کر رکھ دیا:

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ o وَ یَسِّرْ لِیْٓ اَمْرِیْ o وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ   لِّسَانِیْ o یَفْقَھُوْا قَوْلِیْ o (طٰہٰ ۲۰:۲۶ تا ۲۸) پروردگار! میرا سینہ کھول دے اور میرے کام کو میرے لیے آسان کردے اور میری زبان کی گرہ سلجھا دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔

  •  حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے اُترتے وقت حضرت جبریل ؑکے ہمراہ وحی کے الفاظ دہرانے کی کوشش کرتے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپؐ کو وحی کا یاد کرا دینا ہمارا کام ہے۔ اس سلسلے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ یوں کہا کریں کہ میرے رب! مجھے مزید علم عطا کر۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے بعد آپؐ پر کبھی پریشانی کی کیفیت طاری نہ ہوئی اور پھر پوری اُمت نے ان الفاظ کو اپنا وظیفہ بنا لیا:

رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًاo  (طٰہٰ ۲۰:۱۱۴) اے پروردگار! مجھے مزید علم عطا کر۔

  •  مصیبت اور پریشانی کے وقت کی دعائیں: یہ حضرت یونس علیہ السلام کی دعا ہے۔ جب وہ اللہ کے اذن کے بغیر اپنی قوم سے مایوس ہوکر اور اس خوف سے کہ اس قوم پر اب اللہ کا عذاب آیا چاہتا ہے گھر سے نکل کھڑے ہوئے اور ایک مچھلی نے انھیں نگل لیا اور اللہ نے اپنی قدرت سے انھیں وہاں زندہ سلامت رکھا۔ اس حال میں مچھلی کے پیٹ کے اندر تاریکی میں ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلے اور اللہ نے انھیں اس دعا کی بدولت اس تاریکی اور مصیبت سے نجات بخشی:

لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَo (الانبیا ۲۱:۸۷) نہیں ہے کوئی خدا مگر تو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا (اے خدا! مجھے معاف کردے)

  •  یہ حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا ہے۔ وہ خود بہت ضعیف اور ان کی بیوی بانجھ ہوچکی تھی۔ انھوں نے اپنے رب سے ان الفاظ میں اپنے لیے ایک وارث کی التجا کی اور ان کے رب نے ایک معجزانہ شان کے ساتھ ان کی دعا قبول کی اور انھیں حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسا بیٹا عطا کیا:

رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَ o (الانبیا ۲۱:۸۹) اے پروردگار! مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور بہترین وارث تو تو ہی ہے۔

  •  حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو جب قریش کبھی مجنوں، کبھی شاعر، اور کبھی جادوگر ہونے کا الزام دیتے اور کسی صورت حضوؐر کی دعوت کو مان کر نہ دیتے تو حضوؐر نے آخر ان الفاظ میں فیصلہ طلب کیا اور پھر اللہ نے ان کی یہ دعا یوں قبول کی کہ ان الزام دینے والوں کے دیکھتے ہی دیکھتے حق غالب آگیا اور باطل پرست سب منہ دیکھتے رہ گئے:

رَبِّ احْکُمْ بِالْحَقِّ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ o (الانبیا ۲۱:۱۱۲) اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ کردے اور لوگو، تم جو باتیں بناتے ہو ان کے مقابلے میں ہمارا رب رحمن ہی ہمارے لیے مدد کا سہارا ہے۔

  •  حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اپنے باپ کے ظلم سے تنگ آکر گھر سے نکل کھڑے ہوئے اور پھر برس ہا برس تک اپنی قوم کو بت پرستی چھوڑ کر اللہ کی حاکمیت میں آنے کی دعوت دیتے رہے اور وہ قوم کہ جس میں ان کا باپ بدستور شامل رہا،مسلسل انکار کرتی رہی تو حضرت ابراہیم ؑ نے یہ دعا کی اور اپنے لیے اللہ سے صالحین میں شمولیت کی التجا کی۔ اس پر اللہ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ دیکھ لینا قیامت کے روز جنت صرف ایمان لانے والوں کے لیے اور دوزخ منکرین کے سامنے ہمیشہ کے لیے کھول دی جائے گی:

رَبِّ ھَبْ لِیْ حُکْمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ o وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ o وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیْمِ o وَاغْفِرْ لِاَبِیْٓ اِِنَّہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَ o وَلاَ تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَo (الشعرا ۲۶:۸۳) اے میرے رب! مجھے حکم عطا کر اور مجھے صالح لوگوں کے ساتھ ملا اور بعد میں آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر، اور مجھے جنت کے وارثوں میں شامل فرما اور میرے باپ کو معاف کردے کہ وہ بے شک گمراہ لوگوں میں سے ہے اور مجھے اس دن رسوا نہ کر، جب کہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔

  •  مفسدین سے مقابلے کے لیے دعا: حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جب مسلسل ان کی نافرمانی کرتی رہی اور علانیہ فحش کاری میں مبتلا رہی اور یہاں تک کہ حضرت لوطؑ سے اللہ کا عذاب لے آنے کاچیلنج کرنے لگی تو حضرت لوطؑ نے یہ دعا مانگی جس پر اللہ نے ان نافرمانوں کو ہمیشہ کے لیے مٹا کر رکھ دیا:

رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَی الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ o (العنکبوت ۲۹:۳۰) اے میرے رب! ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔

آیئے! اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور رو رو کر اس سے ملتجی ہوں:

رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَـآ اِنْ نَّسِیْنَـآ اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَـآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ وَاعْفُ عَنَّا وَ اغْفِرْلَنَا وَ ارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰـنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ (البقرہ ۲:۲۸۶) (ایمان لانے والو، تم یوں دعا کیا کرو) اے ہمارے رب! ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہوجائیں، ان پر گرفت نہ کر۔ مالک، ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے۔ پروردگار، جس بار کو اُٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے، وہ ہم پر نہ رکھ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر، ہم سے درگزر فرما، ہم پر رحم کر، تو ہمارا مولیٰ ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔

 

اچھی تقریر، اچھی بات اور اچھے مدرس کو کون پسند نہیں کرتا۔ کئی مقرر، کئی لکھنے والے اور کئی مدرس ہیں جن کی باتیں ہیرے موتیوں جیسی ہیں۔ دوسری طرف دیکھیں تو ہمیں سننے والے نظر آتے ہیں اور اگر اس دوسری جانب سننے سمجھنے کا ذوق، چاہت، اور پیاس نہ ہو تو یہی ہیرے موتی خشک پتوں، بکھرے تنکوں اور آواز کی ناقابلِ فہم سنسناہٹ سے زیادہ اہم نہیں۔ باتیں کتنی ہی اچھی ہوںاگر سننے کی چاہت اور پیاس نہ ہو تو یہی باتیں بے معنی ہوکر ہوا میں تحلیل ہوجاتی ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں سمع و بصر یعنی سننا اور دیکھنا کا ذکر ۱۹ جگہ پر کیا ہے، جن میں سے ۱۷ مواقع پر سمع کا ذکر بصر سے پہلے آیا ہے۔ انسان کو زمین پر گزربسر کرنے کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سی نعمتیں عطا کی ہیں اور انھی نعمتوں میں سننے کی صلاحیت بھی ہے۔ اس نعمت کا اندازہ کان بند کر کے کیجیے کہ کتنی اُلجھن ہوتی ہے، بلاشبہہ سماعت جہاں اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے وہاں اس کی بازپُرس بھی ہے۔ سورئہ بنی اسرائیل میں فرمایا گیا ہے: ’’یقینا آنکھ، کان اور دل سب ہی کی بازپُرس ہونی ہے‘‘(۱۷: ۳۶)۔ خیال رہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ بازپُرس کا معاملہ وہیں فرماتے ہیں جہاں ہمیں اختیار دیا جاتا ہے۔ سننے کے لیے ہمیں دو کان دیے گئے اور جب کان کے متعلق بازپُرس ہوگی تو یقینا یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم کیا سنیں اور کیا نہ سنیں۔ سورئہ انفال میں فرمایا گیا: ’’اے ایمان لانے والو! اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائو جنھوں نے کہا ہم نے سنا، حالانکہ وہ نہیں سنتے‘‘۔ (۸:۲۰- ۲۱)

یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے صاف صاف ہدایت آگئی اور ہمیں ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مرضی اور منشا کیا ہے۔ یہ احکام ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دینے کے لیے نہیں بلکہ عمل کرنے کے لیے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہمہ تن گوش ہوکر احکام سنے جائیں اور سمجھے بھی جائیں تاکہ عمل کرنے میں سہولت ہو۔ یہ احکام ہدایت کے لیے ہیں اور ہدایت تبھی حاصل ہوگی اگر ہم احکامات کو غور سے سنیں، ذہن نشین کریں اور عمل بھی کریں۔      علما فرماتے ہیں کہ اس کا کیا فائدہ کہ بندہ کہے تو سمعنا واطعنا لیکن اطاعت کے آثار اس پر ظاہر نہ ہوں۔ یہی غور سے سننے اور سمجھنے کی بات سورئہ فرقان میں سختی سے کہی گئی ہے، فرمایا گیا: ’’کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے‘‘(۲۵:۴۴)۔ اگرچہ انسان کو ’احسن تقویم‘ اور اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے مگر یہاں جو معاملہ بیان ہوا ہے وہ لاپروائی سے سننے کے بارے میں ہے۔ گویا اگر ہم سنتے اور سمجھتے نہیں تو اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود ہماری حیثیت اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں جانوروں جیسی بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتی ہے۔ اگر یہی کیفیت مسلسل رکھی جائے تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی سلب کرلی جاتی ہے۔ بالفاظ دیگر کانوں پر مہر لگا دی جاتی ہے کہ ہدایت کی کوئی بات نہ ہم سنتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں اور نہ عمل کرنے کی توفیق ہوتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعاگو رہنا چاہیے کہ ہم ایسی حالت تک گرنے سے محفوظ رہیں۔ آمین!

سورئہ جاثیہ میں یہی بات مختلف انداز میں فرمائی گئی ہے: ’’پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر غور کیا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اُسے گمراہی میں پھینک دیا اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟‘‘ (۴۵:۲۳)

یہاں ایک خاص ذہنی کیفیت کی طرف اشارہ اور ہدایت ہے۔ جب ہم بات کرنے والے کی بات پہلے سے طے شدہ ذہن (pre-set mind)  سے سنتے ہیں، یعنی سننے والا سنتا ہے مگر ذہن میں طے رکھتا ہے کہ جو بات یا جو فیصلہ اس کے ذہن میں پہلے سے موجود ہے، وہی صحیح ہے اور دیگر سب لایعنی باتیں ہیں۔ ایسی صورت حال میں علم کے باوجود گمراہی میں پھینکے جانے کی نوید سنائی جارہی ہے کہ بات نہ کانوں سے گزرتی ہے، نہ دل پر اثرکرتی ہے۔ یہی تو کبر کا معاملہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہدایت کی توفیق ہی چھین لیتے ہیں۔

اسی طرح سورئہ یونس میں فرمایا گیا: ’’وہ اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے رات بنائی کہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا۔ اس میں نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو (کھلے کانوں سے پیغمبرؐ کی دعوت کو) سنتے ہیں‘‘۔ (۱۰:۶۷)

ان سننے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جنھیں یہ گھمنڈ ہوتا ہے کہ جو وہ جانتے ہیں صرف وہی  صحیح ہے اور آنے والی ہدایت پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ بار بار   قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والے بھی انھیں قرآنی آیات میں کئی مرتبہ نئی روشنی اور ہدایت پاتے ہیں۔ یہ کیفیت جبھی ہوگی کہ پڑھنے والا ہدایت کے لیے تیار رہے۔ یعنی کان کھلے رکھے اور ذہن کو نئی ہدایت قبول کرنے کے لیے بھی تیار رکھے۔

ہم مسلمان لوگوں کے نزدیک یہ یقینی بات ہے کہ جنت میں ماحول اور صورتِ حال حددرجے کی معیاری ہوگی۔ کئی مقامات پر اس کا ذکر قرآن مجید میں ہوا ہے اور سننے سے متعلق نعمتوں کا ذکر بھی ہے:

  •  جنتی لوگ کوئی بے ہودہ بات نہ سنیں گے اور جو کچھ بھی سنیں گے ٹھیک ہی سنیں گے۔ (مریم ۱۹:۶۲)
  •  جنتی لوگ کوئی بے ہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے۔(الواقعۃ ۵۶:۲۵)
  •  جنتی لوگ کوئی لغو اور جھوٹی بات نہ سنیں گے۔(النبا ۷۸:۳۵)

گویا جنت کا ماحول ایسا ہوگا کہ وہاں لوگ بے ہودگی، یاوہ گوئی، جھوٹ، غیبت، چغلی، بہتان، گالی، لاف و گذ اف، طنزوتمسخر اور طعن و تشنیع جیسی باتیں نہیں سنیں گے۔ وہ سوسائٹی بدزبان اور بدتمیز لوگوں کی سوسائٹی نہ ہوگی جس میں لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالتے ہیں۔ وہ شریف اور مہذب لوگوں کا معاشرہ ہوگا جہاں لغویات ناپید ہوں گی۔ جو لوگ دنیا میں شائستگی اور مذاق سلیم کے حامل ہیں، وہ محسوس کرسکتے ہیں کہ دنیا کی زندگی میں یہ کتنا بڑا عذاب ہے جس سے نجات پانے کی نوید سنائی گئی ہے۔

کیوں نہ ہم آج ہی عہد کریں کہ ہم کسی بھی بے ہودہ بات، افترا، تہمت اور یاوہ گوئی جیسی باتوں پر کان نہیں دھریں گے اور نہ ایسی صورت حال کا حصہ بنیں گے۔ اس طرح ہم کئی ایک سمعی قباحتیں چھوڑ کر کئی مصیبتوں سے بچ سکیں گے۔

احادیث اور سیرتِ النبیؐ کے مطالعے سے بھی پتا چلتا ہے کہ صحابہ کرامؓ مجلسِ نبویؐ میں اس طرح بیٹھتے تھے گویا کہ ان کے سروں پر پرندے ہیں جو ہلنے سے اُڑ جائیں گے۔

امام طبرانی نے صحیح سند سے عمروؓ بن عاص سے روایت فرمایا کہ اللہ کے نبی قوم کے ادنیٰ ترین آدمی کی طرف بھی بھرپور متوجہ رہتے اور اس سے بات کرتے تاکہ اس کی تالیف قلب ہو اور وہ میری طرف اس طرح متوجہ ہوتے، حتیٰ کہ میں نے گمان کیا میں ہی قوم کا بہترین آدمی ہوں۔ ہجرت سے تین سال قبل حج کے موقع پر حسب ِ معمول حضوؐر مکہ میں حاجیوں کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ سوید بن صامت آپؐ کی تقریر سن کر بولا: آپ جو باتیں پیش کر رہے ہیں ایسی ہی ایک چیز میرے پاس بھی ہے۔ آپؐ  نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: مجلۂ لقمان۔ پھر آپؐ  کی فرمایش پر اُس نے اس مجلے کا کچھ حصہ آپؐ کو سنایا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ بہت اچھا کلام ہے مگر میرے پاس ایک اور کلام اس سے بھی بہتر ہے۔ اس کے بعد آپ نے اسے قرآن سنایا اور اس نے اعتراف کیا کہ یہ مجلۂ لقمان سے بلاشبہہ بہتر ہے (سیرۃ ابن ہشام۔ تفصیل ملاحظہ ہو، سیرت النبیؐ، ج۴، ص ۱۳)۔ یہاں رسول اکرمؐ کی حکمت اور صبر ملاحظہ ہوکہ اُنھوں نے دوسرے کی بات کی نفی نہیں کی، بلکہ اس کی بات سنی اور پھر اپنی بات سنائی۔ یہاں اس یقین کی کیفیت پر غور بھی کیجیے جو پیغمبروں کا خاصہ ہوتا ہے۔ ایسے میں اپنی بات روک کر زمانۂ جاہلیت کا کلام سننے کی فرمایش کرنا یقینا بڑے ضبط، حلم اور بُردباری کی زندہ مثال ہے۔

بات کو اچھی طرح سننا، اختلاف کی شدت کو کم کر دیتا ہے۔ مشہور قول ہے کہ عالِم کے پاس بیٹھو تو خاموشی اختیار کرو اور جاہل کے پاس بیٹھو تو بھی خاموشی اختیار کرو۔ حکمت یہ ہے کہ عالِم کی بات سن کر علم میں اضافہ ہوگا اور جاہل کے ساتھ خاموش رہنے سے بُردباری اور حلم میں اضافہ ہوگا۔ سننے کے بارے میں علما ہدایت کرتے ہیں کہ بات اس لیے دھیان سے سنو کہ تم سمجھنا چاہتے ہو نہ کہ اس لیے کہ اس میں غلطیاں نکالنی ہیں اور لغزشوں کو گننا ہے۔ دوسرے کی بات کی تشریح اپنے نقطۂ نظر سے نہ کرو بلکہ اُسی کے زاویۂ نگاہ سے بات سمجھو۔ اسی طرح امام ابن حزمؒ فرماتے ہیں کہ جو بہترین طریقے سے خاموشی اختیار کرنا چاہے تو اپنے آپ کو دوسرے فریق کی جگہ تصور کرے۔ اس طرح اُس کی بات اور نقطۂ نظر واضح ہوجائے گا۔ یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ جو کوئی پریشان اور غم زدہ ہو، اس کی بات سننے سے اس کی پریشانی اور غم میں کمی آجاتی ہے، جب کہ جلدبازی اور بات کاٹنے کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے، وقت کا ضیاع ہوتا ہے اور تعلقات کشیدہ ہوجاتے ہیں۔

سننے میں مانع امور

آج کل مینجمنٹ کے مضامین میں ’سننا‘ یعنی ’listening‘ پر کئی مضامین لکھے گئے ہیں اور سننے میں مانع امور پر بحث کی گئی ہے:

۱- موضوع کو ’بور‘ (bore) اور بے روح قرار دینا، یعنی مکمل بات سنے بغیر ہی راے قائم کر لینا۔ ممکن ہے کہ ہم اس موضوع سے پہلے ہی بے زار ہوں اور چڑ رکھتے ہوں اور سننا بھی نہ چاہتے ہوں کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ اچھے سننے والے تحمل سے اس انتظار میں سنتے ہیں کہ کوئی کام کی بات گفتگو سے نکل آئے۔

۲- موضوع ہی نہیں ہم بعض اوقات مقرر سے چڑرکھتے ہیں اور راے رکھتے ہیں کہ یہ مقرر ہمارا وقت ہی برباد کرے گا۔ ہم اپنی راے اپنے آپ پر ٹھونسنا چاہتے ہیں اور اپنا نقصان کربیٹھتے ہیں۔ یہ صورت حال اپنے ہی گھر میں چھوٹی عمر کے افراد کے ساتھ اور بعض اوقات اساتذہ کی شاگردوں کے ساتھ ہوجاتی ہے۔ وہ نہیں مانتے کہ چھوٹی عمر میں بھی کوئی کام کی بات کہہ سکتا ہے، جب کہ یہاں معاملہ تو تجربے اور مطالعے کا ہے۔

۳- بعض اوقات تقریر یا گفتگو کے ایک حصے سے بھرپور اثر لے لیا جاتا ہے اور بقیہ تقریر  یا گفتگو محض وقت کا ضیاع محسوس ہوتی ہے۔ اس رویے سے سننے پر اثر پڑتا ہے۔ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ بعض مقرر خاص طور پر سامعین سے درخواست کرتے ہیں کہ پوری بات سننے کے بعد ہی راے قائم کی جائے۔

۴- سننے والے کئی مرتبہ صرف حالات سننے پر اکتفا کر لیتے ہیں اور تجزیہ نہیں سنتے۔ اچھے سامع دونوں باتیں سن کر تجزیہ اور حالات کا ربط دیکھ کر راے قائم کرتے ہیں۔

۵- کئی مرتبہ تقریر سنتے وقت سامع اُس تقریر کے بارے میں ایک خاکہ بنانے کی کوشش کرتا ہے جو اُس خاکے سے مختلف ہوتا ہے جو مقرر کے ذہن میں ہوتا ہے۔ یقینا ہر شخص کی سوچ کا اپنا زاویہ ہوتا ہے اور مقرر اور سامع مختلف سمتوں میں سوچتے ہیں اور سامع کی سمجھ میں پوری بات نہیں آتی۔

۶- کئی سامع یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ (جھوٹ موٹ) ہمہ تن گوش ہیں مثلاً سر کو برابر جنبش دینا کہ بات سمجھ آرہی ہے یا یہ کہ پوری توجہ لیکچرر کی طرف ہے جب کہ اصل   میں ان کا سننا سطحی ہی ہوتا ہے ۔صحیح سنا جا رہا ہو تو دل کی دھڑکن اور جسم کا درجۂ حرارت بات اور موضوع کے مطابق تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

۷- جو لوگ کمزور سامع ہیں، اُن کا دھیان بہت آسانی سے اِدھر اُدھر ہونے والے واقعات کی طرف بٹ جاتا ہے مثلاً کسی موبائل فون کی گھنٹی بجی تو دھیان اُس طرف ہو گیا یا کسی کی پنسل گرگئی تو دھیان اس لڑھکتی ہوئی پنسل کی طرف ہی ہوگیا یا دھیان بانٹنے کے لیے یہی احساس کافی ہے کہ لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں۔

۸- آسانی کسے پسند نہیں؟ کئی سامع موضوع کے صرف آسان پہلوئوں پر غور کرتے ہیں۔ اس طرح کے سننے والے موضوع کا مکمل احاطہ نہیں کرپاتے اور پوری بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کئی موقعوں پر مقرر اپنی بات میں کوئی ایسا لفظ بولتا ہے یا ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جو سامع کی سوچ کسی پرانے موقع یا تجزیہ کی طرف لے جاتی ہے یعنی اس کا تعلق ماضی میں کسی معاملے سے رہا ہو مثلاً مقرر کو چھینک آئی، اُس نے رومال استعمال کر کے جیب میں رکھنے کے بجاے آستین ہی میں اڑس لیا۔ سامع کو اُس کی دیکھی ہوئی ’جناح‘ فلم یاد آگئی اور پھر سوچ اُسی فلم کی طرف ہورہی۔

۱۰- سننا ایسا عمل ہے جس کے لیے بولنا ایک ضروری حصہ ہے ۔ اگر الفاظ فی منٹ گنے جائیں تو بولنے والا ایک سو الفاظ فی منٹ بولتا ہے، جب کہ سننے کی صلاحیت پانچ سو الفاظ فی منٹ تک ہوسکتی ہے۔ اس طرح بولنے والا اور سننے والے کی ایک ہی معاملے میں مختلف رفتار ہوتی ہے۔ یہ فاصلہ زیادہ ہوجائے تو بات سمجھنے پر اثر پڑتا ہے۔

۱۱- سامع کا ذہن اگر کسی دوسری بات میں الجھا ہو تو سننے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ مثلاً کسی عزیز کی بیماری، بچے کا رزلٹ یا سڑک پر ہونے والا حادثہ۔

۱۲- اردگرد کا شور شرابہ بھی سماعت پر اثر ڈالتا ہے۔ شور کی وجہ سے مقرر کی آواز بھی دب جاتی ہے اور سامع کی توجہ ہٹ جاتی ہے۔

۱۳- ممکن ہے جس کرسی پر سامع بیٹھا ہے، وہ آرام دہ نہ ہو اور دھیان کرسی کی طرف ہی جائے۔ یہی صورت حال تکلیف دہ لباس اور جوتوں سے بھی ممکن ہے۔

۱۴- ہمارے ہاں آنکھوں کا معائنہ کروانا اور عینک کا استعمال ایک عام بات سمجھی جاتی ہے۔ بعض اوقات عینک فیشن کے ضمن میں بھی آتی ہے۔ لوگ اپنی سماعت کا معائنہ نہیں کرواتے۔ اگرچہ ہماری سماعت کئی ایک وجوہات سے کمزور بھی ہوسکتی ہے۔ آلۂ سماعت لگانے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اگر سماعت کمزور ہو تو یہ ایک ضرورت ہے۔

۱۵- ہم دیکھتے ہیں کہ پریزنٹیشن (presentation) میں مقرر حضرات کم وقت میں بہت سا لوازمہ سامعین کے کانوں میں انڈیلنا چاہتے ہیں۔ مقرر جلد جلد بولتا ہے، جب کہ سلائیڈوں پر بہت سا لوازمہ ٹھونس کر بھر دیا جاتا ہے اور یہ کمزوری کئی اہم مواقع پر بھی درست نہیں کی جاتی۔ کئی دفعہ مقرر بھی مجبور ہوتا ہے، جب کہ تقریر سے پہلے ہی اسے بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ ۴۰منٹ کا وقت تھا مگر آپ اپنی تقریر ۲۵ منٹ ہی میں ختم کریں۔ یہ قصور مقرر کا نہیں بلکہ پروگرام کے منتظمین کا ہے جو وقت کو منصوبے کے مطابق تقسیم نہ کرسکے۔

۱۶- کئی مواقع پر سوالات کا وقفہ آخر کے بجاے تقریر کے دوران میں رکھا جاتا ہے اور کئی سامعین لایعنی سوال یا پھر سوال براے سوال لے کر بات شروع کردیتے ہیں۔ یہ صورت حال سننے والوں پر گراں گزرتی ہے۔

۱۷- کئی مرتبہ سامعین بے صبری اور جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم عرصے میں بہت سا لوازمہ بشمول ذاتی راے ہضم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجتاً اصل بات سمجھنے سے رہ جاتی ہے۔

ہم بات کیوں سنتے ہیں؟ یا اچھا سامع ہونا کیوں ضروری ہے؟ ہر کام کا ایک ہدف ہوتا ہے اور سامع کے سامنے چند مقاصد ہوتے ہیں: 

  • لطف اندوزی کے لیے 
  • سمجھ اور فہم کے لیے 
  • فیصلہ کرنے کے لیے
  • تنازع یا اختلاف کا حل نکالنے کے لیے 
  • معلومات کے لیے۔

بات سنتے وقت اس کا ایک مقصد واضح ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح بات سنانے والے کا بھی وہی مقصد ہونا چاہیے جو بات سننے والے کا ہے، وگرنہ اختلاف پیدا ہونے کا خدشہ ہوگا۔

کرنے کے کام

۱- آپ بات سنتے وقت فوری فیصلہ یا راے قائم کرنے سے باز رہیں کیونکہ آپ کی   یک طرفہ سوچ آپ کے فیصلے اور راے پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

۲- بات سنتے وقت اندازہ لگائیں کہ بات کرنے والے کے احساسات کیا ہیں۔ سنانے والے کی جسمانی حرکات (body language) آواز کا اُتارچڑھائو، باتوں میں پیغام، سب کچھ ہمدردی سے برداشت کریں تاکہ آپ پوری بات کُلّی طور پر سمجھ سکیں۔

۳- بات سنانے والے کے احساسات کی قدر کریں اور اعتراف بھی کہ سنانے والا کن حالات اور ذہنی کیفیت سے گزر رہا ہے۔

۴- بات مکمل سننے کے بعد اپنے لفظوں میں مختصراً بیان کریں کہ آپ نے کیا سمجھا۔ سنانے والے سے مدد کی درخواست بھی کریں کہ اگر آپ نے بات سمجھنے میں غلطی کی ہے تو وہ خود تصحیح کردے، یعنی correct me if I am wrong۔

۵- اگر آپ نے سوال کرنا ہو تو کھلا سوال (open ended) ہو، مثلاً فرمایئے میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں؟ یا آیا یہ اپنی قسم کا پہلا واقعہ ہی ہے یا اس سے پہلے بھی یوں ہی ہوتا رہا ہے؟ اس طرح آپ کو زیادہ معلومات مل سکیں گی۔

بات غور سے سننا ایسا موضوع ہے کہ اس پر خال خال ہی بحث ہوتی ہے، جب کہ سارا زور اچھی تقریر، اچھے الفاظ اور اچھے فقروں پر ہوتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ بات اچھی طرح سننا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ اچھی بات کہنا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گھر پر تربیت کرتے ہوئے اس بات کا دھیان رکھیں۔ خطبۂ جمعہ، تقاریر اور تبادلۂ خیالات اور دعوتِ دین کے سلسلے میں اور دفاتر میں روزمرہ کے کام میں بھی اس امر پر بھرپور توجہ ہو کہ بات سننے والوں نے کیا رویہ رکھا۔ اس طرح  کم از کم دگنا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

 

رمضان المبارک کی مناسبت سے امام حسن البنا شہیدؒ نے مختلف مواقع پر مضامین تحریر کیے جو جریدۃ الاخوان ،مصر میں شائع ہوئے۔ خواطر رمضانیۃ کے نام سے یہ مضامین کتابی شکل میں حال ہی میں شائع ہوئے ہیں۔ مذکورہ کتاب سے چند منتخب مضامین پیش ہیں۔(ادارہ)

اے خیر کے طلب گار آگے بڑھ!

رمضان ایک نادرموقع ہے جو سال میںصرف ایک دفعہ میسر آتا ہے۔ اب ہمارے اور اس مبارک مہینے کے درمیان چند ہی دن باقی ہیں۔ یہ مہینہ شروع ہوتے ہی آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ کے نیک بندوں پرمزید برکتوں کا نزول شروع ہوجاتا ہے۔ اس ماہ مبارک کے شب وروز میں اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں پرخصوصی نظر کرم فرماتا ہے، اُن کی دعائیں قبول فرماتا ہے ، اطاعت گزاروںکے ثواب کو دُگنا کرتا ہے، اور گنہگا روںاور خطاکاروں سے درگزر فرماتا ہے۔

نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : جب رمضان آنے لگتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیںاور جہنم کے دروازے بندکردیے جاتے ہیں، سرکش شیطانوں کو باندھ دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک منادی یہ آواز لگاتا ہے : اے بدی کے طلب گار! رک جااور اے خیر کے طلب گار! آگے بڑھ۔ (بخاری)

ماہ صیام ایسے حالات میں طلوع ہورہا ہے کہ جب مسلمان گوناگوں مسائل کا شکار ہیں  جن کا مقابلہ کرنا اللہ کی اُس تائید ونصرت کے بغیر ممکن نہیں ہے جس کااس نے اپنے مومن بندوں سے وعدہ فرمایاہے :

یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے،نیکی کا حکم دیں گے اوربرائی سے منع کریں گے ۔ اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ (الحج ۲۲:۴۱)

آج مسلمانوںکے سامنے وادیِ نیل کا مسئلہ ہے، فلسطین وجزائر عرب کا مسئلہ ہے،  برعظیم میں پاکستان ، ریاست حیدرآباد اور ہندستان میں مسلم اقلیت کے مسائل ہیں ۔ان کے علاوہ یورپ اور افریقہ میں مسلمانوں کو درپیش لا تعداد مسائل ہیں۔ان گمبھیر مسائل سے نکلنا تائیدِ خداوندی کے بغیرممکن نہیں، اور اللہ کی نصرت ،معصیت سے نہیں بلکہ اطاعت سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

لہٰذا اس عظیم موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے کمر بستہ ہوجائیے۔ دلوں کو آلایشوں سے صاف کیجیے، اپنے نفس کو آمادہ کیجیے، دل وجان سے رمضان کااستقبال کیجیے، کثرت سے توبہ واستغفار کا اہتمام کیجیے اورہمیشہ اللہ کے ساتھ جڑے رہیے تاکہ اللہ آپ کے ساتھ رہے۔جب اللہ آپ کے ساتھ ہوگا تو وہ آپ کی نصرت فرمائے گااور اللہ کی مدد شامل حال ہو توکوئی آپ پر غلبہ نہیں پاسکتا۔(۲ جولائی ۱۹۴۸ء)

عبادت کی حکمت

اسلام میں جو اعمال اور عبادات فرض یا واجب کی گئی ہیں، ان میں ایک حکمت پوشیدہ ہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ نے بندوں پرخصوصی مہربانی کرتے ہوئے ان کے لیے وہی اصول وضوابط مقرر فرمائے ہیں جو بندوں کی کامیابی اورسعادت دارین کا موجب ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے دربار میں مقبول عبادت کا سب سے اہم اور بنیادی قاعدہ ،خلوص نیت اور حضور قلبی ہے۔ اگر عبادت کابنیادی محرک رضاے الٰہی نہ ہو تو نہ اس عبادت کی کوئی حیثیت ہے اور نہ ثواب بلکہ حدیث نبویؐ کے مطابق: کتنے ہی روزہ دار ہیں جنھیں ان کے روزے سے سواے بھوک اور پیاس کے کچھ نہیں ملتا۔

دوسرا اصول یہ ہے کہ اسلام عبادت گزاروں کو مشقت میں نہیں ڈالتابلکہ عبادت میں آسان شرائط کے ساتھ رخصت بھی فراہم کرتا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی بیمار ہے تو اسے روزہ نہ رکھنے کی آزادی ہے، کہ تندرستی کے بعد رکھے یا اگر تندرستی کی امید نہیں ہے تو فدیہ ادا کرے (یہ بھی یاد رہے کہ بلا عذر عبادات سے محرومی ابدی محرومی ہے)۔

تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر ان تمام عبادات کے گہرے اثرات مرتب ہونے چاہییں۔ یہ فرائض محض عبادت براے عبادت نہیں ،بلکہ اُخروی فلاح کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی پر ان کے اثرات وفوائد بھی ملحوظ رکھے گئے ہیں۔اسلام نے کوئی ایسا عمل فرض نہیں کیا ،جس کے نتائج انسان کی عملی زندگی میں ظاہرنہ ہوں۔ شریعت نے اگر کسی چیز کا حکم دیا ہے تو وہ سراسر خیر ہی ہوتا ہے اور بندوں کی زندگی پراس کا براہ راست مثبت اثر ہوتاہے، اور اگر کسی عمل سے منع کیا ہے تو اس لیے کہ وہ انسانی زندگی کے لیے ضرر رساں ہوتاہے۔ ارشاد ربانی ہے:

(پس آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اُس پیغمبر، نبی اُمی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر انھیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ وہ انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، اُن کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور اُن پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔(اعراف ۷: ۱۵۷)

میں اسلامی حکومتوں سے گزارش کروں گا کہ وہ دیگر ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوںکی طرح رمضان کے مہینے میں روزہ نہ رکھنے والوں کے لیے بھی کڑی سزا مقرر کریں تاکہ کسی کو اس ماہِ مقدس کی حرمت پامال کرنے کی جراء ت نہ ہو۔اس ضمن میں چند سرکاری محکموں سے اپنے ذیلی اداروں کورمضان کے احترام پر مشتمل ایسی رسمی ہدایت جاری کردینا کافی نہیں ہے جس کی نہ پیروی کی جاتی ہے نہ مخالفت کرنے پر کوئی سزا ہی دی جاتی ہے۔حکومت اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اس حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھائے ۔ (۲۶ جولائی ۱۹۴۶ء)

نیکیوں کا موسمِ بھار

اسلام میں عبادت کی حیثیت ٹیکس یاجرمانے کی نہیں کہ جسے ادا کرکے کوئی بوجھ اتارنا مقصود ہو،بلکہ اسلامی عبادات رب اور بندے کے درمیان ایک مقدس روحانی تعلق کی ایک علامت ہوتی ہیں۔ اس سے ان کے دلوں میں ایک سرمدی نور پیدا ہوتا ہے،جو ان کے گناہوں ،وسوسوں اور اندیشوںکے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ انسان کی تکریم وعزت ہے کہ خاکی ہونے کے باوجودوہ ان عبادات کے ذریعے رب ذوالجلال کے ساتھ مناجات کرسکتا ہے۔

رمضان کا مہینہ اطاعت و عبادات کا موسم بہار ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ بندوںکے شب وروز کو مزین فرماتاہے اور یہی اس مہینے کے حسن وجمال کا سبب ہے۔ اطاعت گزاری تو ہروقت ایک مطلوب صفت ہے لیکن رمضان میں اس کی قدرو قیمت اور حسن میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں عبادت کا ثواب اور قدر افزائی بہت زیادہ ہے لیکن اس مہینے میں تو اجر وعطابے حساب ہوجاتی ہے۔ اس مہینے کی سب سے اہم عبادت روزہ ہے ۔ فقہی اعتبار سے اگریہ روزہ توڑنے والی چیزوں سے اجتناب کا نام ہے تو روحانی اعتبار سے یہ صرف اور صرف    اللہ تعالیٰ کی رضااور اس کا قرب حاصل کرنے کو ،اپنے نفس، فکر، ارادہ اور اپنی سوچ وشعور کا محور بنانے کو کہتے ہیں۔

اس مہینے میں قرآن کے ساتھ خصوصی تعلق جوڑنا چاہیے اور کثرت سے کلام پاک کی تلاوت کرنی چاہیے کیونکہ یہ قرآن کا مہینہ ہے ۔ جبریل امین ؑ خصوصی طور پر رمضان میں آکر حضور پاکؐسے قرآن سنتے تھے۔ زندگی کے آخری برس آپؐ نے دو دفعہ جبریل ؑ کو قرآن سنایا۔ یہ وہی قرآن ہے جوصحابہ کرامؓ اور ہمارے اسلاف کے پاس موجود تھا۔ ہم بھی اسے اسی طرح پڑھتے اور سنتے ہیں جس طرح وہ سنتے تھے پھر کیا وجہ ہے کہ قرآن نے اس طرح ہماری زندگی کو نہیں بدلا جس طرح صحابہ کرامؓ کی زندگی کو بدلا تھا؟ اس سے ہمارے اخلاق ومعاملات میں وہ تبدیلی کیوں نہیں آتی جو ان کی زندگی میں آئی تھی؟

یہ اس لیے کہ انھوں نے اس کتاب کومضبوط ایمان کے ساتھ قبول کیا، تدبر کے ساتھ اس کو پڑھا،اس کے احکام کو نافذ کیااور اپنے آپ کومکمل طور پر اس کے سپرد کردیا۔ آپ اور ہم بھی ان کی طرح بن سکتے ہیں اگر اس کتاب پر ان کی طرح ایمان لے آئیں۔ اُن کی طرح اس کے مطابق چلیں، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام مانیں، اس کی آیات میں غور وفکر کریں۔ اس کے احکام کونافذ کردیںاور اس کے مطابق اپنی زندگی ڈھال لیں۔تو کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں؟

کثرت سے صدقہ اور غریبوں اور مساکین کی مدد کرنا بھی اس مہینے کے امتیازی اعمال میں سے ہے۔ نبی پاکؐ جود وسخاکے پیکر تھے لیکن اس مہینے میں آپؐ کی سخاوت تیز ہوا کی مانند ہوجاتی تھی۔

اسی طرح دعا اور کثرت سے استغفار بھی اس ماہ کی خصوصی عبادات میں شامل ہے۔     یہ دعائوں کی قبولیت کا مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مانگنے والوں کے لیے دروازے کھول دیتا ہے، اور توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ اس مہینے میں روزے داروں کی دعا رد نہیں کی جاتی۔     لہٰذا میرے مسلمان بھائیو! کہیں اس مہینے کی مبارک راتیں اللہ کی رحمتیں سمیٹے اور اُس کی رضا حاصل کیے بغیر نہ گزرجائیں۔

اس مشینی دور میں جب ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے ،اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کو روح کی تسکین کا سامان بنایا۔ اس میںدن کو روزہ رکھ کر تمام دنیاوی لذتوں اور لغوکاموں اور باتوں سے اجتناب کیا جاتا ہے اوررات کو اٹھ کر اللہ کے حضور طویل قیام اور تلاوت قرآن سے اپنے دلوں کو منور کیا جاتا اور روح کو تسکین پہنچائی جاتی ہے۔ لہٰذا میرے عزیز بھائیو! اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلے ہی دن سے مضبوط ارادے کے ساتھ اس مدرسے میں داخل ہوجایئے۔ ہر وقت اپنی توبہ کی تجدید کرتے رہیے ۔ غور وفکر کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کیجیے۔ اپنے نفس کو روزے کے فوائد سے روشناس کیجیے۔جتنا ممکن ہو قیام اللیل کا اہتمام کیجیے۔زیادہ سے زیادہ ذکر و فکر میں وقت گزاریئے۔اپنی روح کو مادیت کے فتنے سے بچائیے اور کوشش کیجیے کہ اس ماہ مبارک سے متقی بن کر نکلیں۔ (۱۷ نومبر ۱۹۳۶ء)

 

آج کے عدیم الفرصت دور میں اگر خوش قسمتی سے فرصت کے کچھ لمحات میسر آجائیں اور اہلِ خانہ مل جل کر کچھ وقت گزار سکیں تو بلاشبہہ یہ اللہ کی کسی نعمت سے کم نہیں ۔ اسی بات کی اہمیت کے پیش نظر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مصروفیت سے پہلے فرصت کو غنیمت جانو (ترمذی)۔ لہٰذا نبی کریمؐ کے اس ارشاد کے مطابق فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے فرصت کے ان لمحات کو بہترین انداز میں صرف کرنا چاہیے۔ بالخصوص انفرادی اصلاح، گھر کے ماحول کی بہتری اور بچوں کی تربیت اور کردار سازی کے لیے باقاعدہ منصوبہ بنا کر ایک مربوط پروگرام ترتیب دینا چاہیے۔

ہمارا حال یہ ہے کہ ہم فرصت کے لمحات کی صحیح معنوں میں قدر نہیں کرتے۔ ملک کے بعض حصوں میں ہر سال گرمیوں کی اور بعض علاقوں میں سردیوں کی طویل چھٹیاں آتی ہیں۔ ان کی آمد جہاں طالب علموں،اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے کارکنان کے لیے باعثِ مسرت ہوتی ہے، وہاں گھر کی خواتین کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ اس قیمتی وقت کو کماحقہٗ استعمال نہیں کرسکتیں اور نہ ان دنوں ہی سے فیض یاب ہو پاتی ہیں۔ چھوٹے بچوں کی مائیں اور خصوصاً لڑکوں کے والدین ذہنی دبائو کا شکار رہتے ہیں۔ اس ضمن میں چند عملی نکات پیش ہیں:

  • …  پہلا مرحلہ شب و روز کے لیے نظام الاوقات کا تعین ہے۔ نبی کریمؐ کے فرمان کے پیش نظر کہ صبح کے وقت میں برکت ہے، اپنے دن کا آغاز نمازِ فجر سے کیجیے۔ نمازِ فجر کے بعد ہی سے دن بھر کی سرگرمیوں کا آغاز کیجیے۔ یہ بہترین اور بابرکت وقت سونے کی نذر نہ کریں۔ عام طور پر تعطیلات کا آغاز ہوتے ہی بچوں کا رات کے وقت جاگنا اور صبح دیر سے اُٹھنے کا معمول بن جاتا ہے جو کہ نامناسب اور خلافِ فطرت ہے۔ اس میں میڈیا کا کردار بھی نمایاں ہے کہ لوگ رات گئے اسے دیکھنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رات آرام و سکون کے لیے اور دن کام کے لیے بنایا ہے۔ اس کے لیے والدین خود عملی نمونہ پیش کریں۔

___ بچوں کی عمر، تعلیم، مصروفیات کو مدنظر رکھ کر، بچوں سے مشاورت کرکے سونے کے اوقات کا تعین کرلیا جائے اور اس پہ کاربند بھی رہا جائے۔ رشتہ دار بہنوں بھائیوں کے سامنے اس بات کا اظہار نہ کریں کہ ’’لمبی چھٹیاں ہوگئی ہیں۔ اب تو ہر وقت بچے سر پہ سوار رہیں گے‘‘۔ اگر اپنے بچوں کا استقبال ان جملوں سے کریں گی تو آپ کے اور بچوں کے درمیان پہلے دن ہی دُوری کا احساس لاشعور میں جا بسے گا، اور وہ وقت جو آپ کے حُسنِ استقبال سے بچوں کے دلوں میں بہار لا سکتا تھا ضائع ہوجائے گا۔

___ بچوں کے ساتھ مل کر ہرہفتے کا پروگرام ترتیب دیجیے۔ ان کے ذہن اور دل چسپیوں کے مطابق ذمہ داریاں بانٹ دیجیے۔ فون پہ گھنٹوں گفتگو میں مصروف رہنا، اگرچہ کوئی صحت مند سرگرمی نہیں، مگر جب آپ کی سب سے ’قیمتی متاع‘ اور وہ ’خزانے‘ آپ کے سامنے موجود ہیں، جن کی حفاظت و نگہبانی پہ آپ کے ’مستقبل‘ یعنی اُخروی زندگی کی کامیابی کا دارومدار ہے تو اس خزانے کو ضائع کیوں کریں؟ جس گھر میں جتنے بچے ہیں، یقین جانیے اتنے ہی حل طلب پرچے موجود ہیں۔ اس وقت ان ’پرچوں‘ میں بہترین گریڈ حاصل کرنے کا کام دنیا کے سب کاموں سے زیادہ اہم ہے۔

  • … فجر کی نماز کے لیے اُٹھنے پہ انعام دیا جاسکتا ہے۔ ایک بھائی یا بہن کی فجر کے وقت اٹھانے کی ذمہ داری لگایئے اور پھر اس کو تبدیل کرتے رہیے تاکہ سب کو ذمہ داری کا احساس ہو، اور ایک دوسرے کے درمیان مروت اور نیکی میں تعاون کا جذبہ پیدا ہو۔ ایک دوسرے کا حفظِ قرآن سن لیں، چاہے دو آیات ہی کیوں نہ ہوں۔ اجتماعی مطالعے کی ایک مختصر نشست بھی ہوسکتی ہے جس میں چند آیات کی مختصر تفسیر، ایک حدیث کا مطالعہ اور لٹریچر سے کچھ انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ عملی رہنمائی کے طور پر روز مرہ دعائیں، نماز اور اس کا ترجمہ، نمازِ جنازہ، مختصر سورتیں وغیرہ تھوڑا تھوڑا کرکے یاد کی جائیں۔ گھر کے افراد کے ساتھ ’آج کے ایجنڈے‘ پہ بات ہو۔ سب اپنی اہم مصروفیات کے بارے میں دوسروں کو آگاہ کریں۔ اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے مشورہ طلب کریں اور تعاون کی پیش کش کریں۔ نبی کریمؐ کے اس ارشاد کے پیش نظر کہ جس کا آج اس کے کل سے   بہتر نہیں وہ تباہ ہوگیا، گذشتہ کل کا جائزہ بھی لیا جائے کہ اپنے آج کو گذشتہ کل سے کیسے بہتر بنایا جائے۔ اس طرح اپنا جائزہ و احتساب اور مشورہ دینے اور قبول کرنے کی تربیت بھی ہوگی۔ اگر  چند منٹ بھی مل کر بیٹھیں گے تو اس کی برکت کے اثرات بہت جلد محسوس ہونے لگیں گے۔ نمازِ فجر ادا کر کے جلد از جلد سو جانے کی غیرفطری روایات نے انسانی روح کا حُسن غارت کر دیا ہے۔ نماز فجر کے بعد سونا ناگزیر ہو تو بھی دوبارہ اٹھنے کا وقت مقرر کردیا جائے۔ ایک زندہ قوم اٹھانی ہے تو آج کے والدین زندہ لمحوں کو اپنی زندگی میں جذب کریں۔
  • … چھٹیوں میں سب اہلِ خانہ ایک ساتھ ناشتہ، دونوں وقت کا کھانا کھائیں تو باہمی محبت میں اضافہ ہوگا۔ بچوں اور بچیوں کو جس قدر ہوسکے اپنے قریب رکھیے۔ کمپیوٹر ایسی جگہ پہ رکھیے جہاں آپ اس پہ نظر رکھ سکیں۔ اگر آپ کو کمپیوٹر سے کوئی لگائو نہیں تو اس کی تھوڑی بہت مشق آپ کو کرنی چاہیے۔ جب چھوٹے بچوں میں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنے والدین سے زیادہ کچھ جانتے ہیں تو ایک احساسِ برتری پیدا ہوتا ہے۔ دوسرا اکثر بچے اپنی مائوں کو اندھیرے میں رکھتے ہیں کہ ہم کام کررہے ہیں، حالانکہ وہ جو کچھ کر رہے ہوتے ہیں مائیں ان سے غافل ہوتی ہیں۔ کمپیوٹر نے اس دور کے ماں باپ کو سخت امتحان میں مبتلا کر دیا ہے۔ اکثر ماں باپ نے اس آزمایش و امتحان میں کامیاب نہ ہوسکنے کا اعلان کر کے، جیسے خود کو بری الذمہ قرار دے لیا ہے۔ احساسِ مروت کو کچلنے والے آلات کا مقابلہ خلوصِ نیت، مستحکم ارادے، سچے ایمان اور مناجات کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔ واقعی اگر ہم یہ راز جان لیں کہ کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحرگاہی اور جب تک آنکھیں اَشک بار نہ ہوں تو مناجات بھی بے اثر رہتی ہے۔
  • … فرصت کے لمحات کو محض ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر کی نذر نہ ہونے دیں۔ بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ان کو متبادل مصروفیات اور مشاغل دیں۔ بچوں کو ان کی عمر اور ذوق کے لحاظ سے کوئی نیا کام سکھانے کی کوشش کیجیے۔ کاغذ کے کھلونے بنانا ، کاغذ پہ تصویر بنانا، رنگ بھرنا، سلائی کرنا، کسی ڈیکوریشن پیس کو صاف کرنا___ والد لڑکوں کو ساتھ ملا کر گھر کی مرمت طلب اشیا کو ٹھیک کرسکتے ہیں کہ مل جل کر گھر کے بگڑے کام سنوارنا بھی ایک فن ہے۔ آپ کو یہ کامیابی اسی صورت میں ملے گی، جب آپ اپنی پوری توجہ، وقت اور معاونت بچے کو مہیا کریں گی۔

___  اسکول کے ہوم ورک کی مرحلہ وار تقسیم کرکے اپنی نگرانی میں روزانہ تھوڑا تھوڑا کرکے کام کروایئے۔ ٹیوشن پڑھوانا مجبوری ہو تو بچے کے معاملات پر نظر رکھیں۔

___ گھر میں لان یا کیاری کی جگہ ہو تو بچے کو کوئی پودا اُگانے، اس کی نگہداشت کرنا سکھایئے۔ بچوں کی ضروریات ہی پورا کرنا کافی نہیں ہے بلکہ انھیں وقت اور توجہ کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ اپنی مصروفیات میں اس کے لیے بھی وقت رکھیں۔ یہ بچوں کا حق ہے جو انھیں ملنا چاہیے۔ والدین کی شفقت سے محرومی کے نتیجے میں بچے احساسِ محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہی جذبہ منفی رُخ اختیار کرلے تو بچے غلط صحبت اختیار کرلیتے ہیں اور انتقامی جذبہ سر اُٹھا لیتا ہے۔

___  بچوں کے دوستوں کو گھر بلوایئے اور ان کی عزت کیجیے، ان کو توجہ دیجیے تاکہ وہ آپ پہ اعتماد کریں۔ بچوں کے دوستوں کے گھروالوں سے بھی تعلقات بہتر رکھیے۔ اگر آپ کے خیال میں ان کے گھر کے ماحول سے آپ مطمئن نہیں تو بچے کو برملا نہ کہیں___ حکمت و تدبر سے کام لیجیے تاکہ آپ کے اور بچے کے درمیان اعتماد کے رشتے کو ٹھیس نہ پہنچے۔

___  بچوں میں ذوق مطالعہ کو پروان چڑھانا، اس کی تسکین کا سامان کرنا ایک اہم فریضہ ہے۔ اچھی اچھی کتب و رسائل پڑھنے کو فراہم کریں۔ بچوں کو کہانی سننا اچھا لگتا ہے۔ دل چسپ انداز میں کہانی سنایئے، بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کہانی پڑھیے اور پھر اس پر بات چیت ہو۔ ذوقِ مطالعہ بڑھانے میں یہ مددگار ہوسکتا ہے۔ کسی اچھی لائبریری کا تعارف کروایئے اور معیاری کتب منتخب کرکے دیں۔ اس طرح اسلامی لٹریچر اور علم کی ایک وسیع دنیا تک ان کی رسائی ہوجائے گی۔

___  اچھائی اور برائی کے پہلو کی بچے کی عمر کے مطابق وضاحت کریں۔ بچوں کے ساتھ وہ پروگرام اور کارٹون دیکھے جائیں جو وہ شوق سے دیکھتے ہیں۔ ان کے اچھے اور بُرے پہلو کو بحیثیت مسلمان اُجاگر کیا جائے اور بچوں کو مسلمان ہیروز کے بارے میں بتایا جائے۔ قرونِ اولیٰ کے بچوں کی ایمانی کیفیت کی اخلاق و کردار کی کہانیاں سنائی جائیں۔ جن تعلیمی اداروں میں ہم اپنے بچوں کو تعلیم دلا رہے ہیں وہاں کے ماحول اور نصابِ تعلیم کے بُرے اثرات، آپ کو اپنی محنت و خلوص سے ہی ختم کرنے ہوں گے۔ اگر ختم نہ بھی ہوں تو آثار کم تو کرنا ہی ہیں۔ آپ محنت کی مکلف ہیں۔ دو ڈھائی ماہ بچے آپ کے لیے عذابِ جاں نہیں بلکہ بچوں کی تربیت کے پیش نظر انھیں توجہ دینا، وقت لگانا ان کا بنیادی حق اور تربیت کا ناگزیر تقاضا ہے۔ یہ آپ کا اخلاقی فریضہ ہی نہیں بلکہ آپ اس کے لیے خدا کے ہاں جواب دہ ہیں۔ آپ راعی ہیں اور اپنی رعیت کی نگہانی آپ نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق آپ اپنی اولاد کو اچھی تعلیم و تربیت کی صورت میں بہترین تحفہ دے سکتے ہیں۔ (مشکوٰۃ)

  • … روزانہ نہ سہی ہفتہ میں چند احادیث بچوں کے ذہن نشین ضرور کرائی جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعامات، محبت کے مظاہر یاد کرواتے رہیں تو بہترین نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔  کلامِ اقبال کے مختلف حصے بھی یاد کرایئے۔ یہ چیز بھی ان کی تربیت پہ بڑی خوبی سے اثرانداز ہوگی۔
  • … آج کے بچے کل کے قائد ہیں۔ مستقبل کی قیادت کی تیاری کے پیش نظر گھر کی ذمہ داریوں کو بچوں میں تقسیم کر کے ان کی صلاحیتوں کا امتحان لیا جاسکتا ہے، مثلاً نوعمر (teen age) بچوں کے ساتھ کبھی یہ تجربہ کرکے دیکھا جائے کہ ایک دن والدین، گھر میں اپنی ذمہ داریاں، اپنی جگہ، اپنے بچوں کو سونپ کر خود ’بچے‘ بن جائیں۔ بچوں کو باری باری سے ایک دن کی ’بادشاہت‘ دے کر ان کے چھپے ہوئے جوہر کو سامنے لایا جاسکتا ہے، اور یہ ایک دل چسپ تجربہ بھی ہوگا۔
  • … نوعمر بچوں کو ’جج‘ بناکر گھر میں چھوٹے موٹے خاکے، کھیل کے طور پر پیش کیے جائیںتاکہ ان کو انصاف کرنے، فیصلہ کرنے کی تربیت دی جاسکے۔ بچوں کی لڑائی میںصلح کرانا،  ان کی شرارتوں، نادانیوں کی اصلاح کرانے کے لیے ان سے تعاون لیا جاسکتا ہے۔ جب نوعمر بچوں سے ذمہ دار، قابلِ اعتماد ہستی کے طور پر برتائو کیا جاتا ہے تو ان کی خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں۔

___  نوعمر بچوں کو احساس دلانا کہ وہ گھر میں اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے ’راعی‘ ہیں، لہٰذا شفقت و محبت اور تحمل و برداشت سے ان کی بہتری کے لیے کوشاں رہیں۔ والدین کی نگرانی اور توجہ سے تربیت کا یہ عمل اگر آگے بڑھتا رہے تو ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

___  لڑکوں کو باجماعت نماز کی عادت پختہ کروایئے۔ گھر میں فیملی کے ساتھ بھی کبھی کبھار باجماعت نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ اس طرح نوعمر لڑکوں کو امامت کے آداب سکھائے جاسکتے ہیں۔

  • … جمعہ کو ایک روزِ خاص کے طور پر منانا___ اہلِ خانہ کا مل کر ’سورئہ کہف‘ کی تلاوت کرنا، باعث سعادت و برکت ہوگا۔ ہر فرد ایک رکوع کی تلاوت کرکے ثواب میں حصہ دار ہوسکتا ہے۔ جمعہ کی نماز کے لیے سب اہلِ خانہ تیار ہوکر مسجد میں جائیں تو گھر میں صبح سے جمعہ کی تیاری، نماز میں شرکت سے ’عید‘ کا سماں بندھ جائے گا۔ اگر اہتمام سے کسی اچھے مقرر کے خطابِ جمعہ کو سنا جائے تو جمعہ کی تربیتی اہمیت بھی اجاگر ہوگی اور دین کا فہم اور فکری غذا بھی میسر آئے گی، نیز ایک تسلسل سے ہفتہ وار تربیت کا عمل جاری رہے گا۔
  • … گھر میں یا گھر سے باہر بچوں کے ’اسلامی نغمے‘ سننا اور اس میں ہم آواز ہونا،  آپس میں رفاقت اور محبت کی خوشی کو دوچند کر دے گا۔ اس سے بے تکلفی کا ماحول پیدا ہوگا۔ یہ ذہنی دبائو کو کم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔
  • … کبھی کبھار بچوں کے ساتھ ان کی ذہنی سطح پہ آکر کھیل میں شریک ہونا، ان کی باتوں میں دل چسپی لینا، اپنے بچوں کے ساتھ کھیل میں مقابلہ کرنا___ کبھی جیت کر، کبھی بچوں سے ہارکر ___ دونوں کیفیات میں صحیح طرزِعمل کی تلقین سے کھیل ہی کھیل میں بچوں کی جذباتی تربیت کے ساتھ ساتھ کئی رویوں کی رہنمائی ہوگی۔ اگر صبح یا شام کے وقت بچے باقاعدہ کھیل کے میدان میں جاکر کھیل سکیں تو یہ بہت مفید سرگرمی ہوگی۔
  • … نوعمر بچوں پہ اپنے خیالات کو حاوی کرنا___ اپنی پسند اور راے کو زبردستی ٹھونسنا مناسب نہیں۔ دلیل سے بات کو منوایئے۔ یہ عمر اپنی صلاحیتوں کا اظہار چاہتی ہے۔ ان سے مشورہ لینا اور تحمل سے ان کا نقطۂ نظر سننا ان کے اعتماد کو بڑھاتا ہے۔ کبھی ان کے مشورے اور راے کے سامنے اپنی راے چھوڑ بھی دینی چاہیے۔ بعض اوقات بچوں کے مشورے اور راے کہیں بہتر ہوتے ہیں۔ ان کی نگاہ وہاں جاتی ہے، جہاں بڑوں کی نگاہ نہیں جاتی۔ بچوں کے ذہن اور عمر کو مدنظر رکھ کر بھی معاملات کو جانچا جائے۔
  • … بچوں کے ساتھ صبح یا شام کو اگر کہیں ممکن ہو تو کسی پارک میں، نہر کے کنارے یا ساحلِ سمندر پہ پیدل چلنے کی عادت ڈالی جائے۔ فجر کے بعد کھلی فضا میں چہل قدمی کا لطف اُٹھایئے۔ کائنات کے اس وقت کا حُسن قدرت کے قریب کرنے کا موجب ہوگا۔ بچوں کو کائنات پہ غوروفکر کی دعوت دیجیے۔
  • … طویل چھٹیوں میں والدین بچوں کو مختلف ہنر سکھا سکتے ہیں، مثلاً خوش خطی،  مضمون نویسی، تجوید، آرٹ کے کچھ مزید کام اور خواتین سلائی کڑھائی، کپڑوں کی مرمت، مہندی کے ڈیزائن وغیرہ سکھا سکتی ہیں۔ اپنے تجربات و مشاہدات کو آپس میں زیربحث لایا جاسکتا ہے۔ بچے ہمارا مشترکہ سرمایہ اور ہمارا مستقبل ہیں۔ بحیثیت اُمت مسلمہ ہماری ذمہ داریاں عام انسانوں سے بڑھ کر ہیں۔ ان کو ادا کرنے کے لیے اجتماعی سوچ اور عمل کی ضرورت ہے۔
  • … بچوں کو ہسپتالوں میں مریضوں کی عیادت کے لیے لے کر جانا، اللہ تعالیٰ کے شکر کا جذبہ پیدا کرنا، اور دوسروں سے ہمدردی، محبت کا اظہار کرنا سکھانا، اس لیے کہ آج کے دور میں ہر کوئی اپنی دنیا میں مگن ہے۔ ایک گھر کے افراد بھی ایک گھر میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے دُور ہیں۔ یہ بیگانگی رشتوں کے باہم تعلق و تقدس کے لیے سمِّ قاتل ہے۔
  • … حلقۂ احباب ، رشتہ داروں وغیرہ کے ساتھ مل کر پکنک پہ جانا، جہاں حقوق العباد کی اہمیت اُجاگر کرنے کا ذریعہ ہے وہاں اسلامی تہذیب کے آداب سکھانے میں بھی مفید ہے۔
  • … بچوں کی تربیت اور سکھانے کے عمل میں ماحول بہت اہمیت کا حامل ہے۔ تزکیہ و تربیت میں دعوتِ دین اور دعوتی سرگرمیاں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ اگر آپ کے ہاں درس قرآن، دوست احباب کو دعوت دینا، لٹریچر تقسیم کرنا، خدمت خلق کے تحت مستحق افراد کی مدد کرنا اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا معمول ہو تو یہ عمل بغیر کسی نصیحت اور تلقین کے بچوں کو خود بخود سیکھنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ اس طرح اُمت کے فرض منصبی، نبی کریمؐ کے مشن اور فریضہ اقامت دین کو فطری انداز میں بخوبی آگے ادا کیا جاسکتا ہے، اور بچوں کو تحریک سے وابستہ کیا جاسکتا ہے۔

بیرونِ ملک پاکستانی والدین کی ذمہ داری

  • … بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانی بچوں کو پاکستان کے حالات سے آگاہ کرنا، پاکستان کی تاریخ سے آگاہ کرنا، اور وطن اور اُمت سے محبت پیدا کرنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ اگر والدین خود پاکستان کے بارے میں منفی گفتگو کریں گے تو وہ بچوں کو وطن کی محبت کیسے سکھائیں گے۔ بیرون ملک وہ پاکستانی بچے جو اُردو نہ بولنے اور نہ پڑھنے پہ فخر محسوس کرتے ہیں، ان کے والدین کو احساس کرنا چاہیے کہ یہ بچے پاکستانی ہوکر بھی پاکستانی نہ ہوں گے تو پھر ان کی شناخت کیا ہوگی؟ خصوصاً وہ پاکستانی بچے جو شرق اوسط میں یا ان ملکوں میں رہتے ہیں، جہاں ان کو وہاں کی شہریت بھی نہیں مل سکتی تو وہ آخرکار پاکستانی پاسپورٹ پہ ہی پاکستان آئیں گے۔ اگر اپنے وطن سے پیار ہی نہ ہوگا تو وہ اس کے لیے کیا عملی خدمات انجام دے سکیں گے، لہٰذا چھٹیوں میں ان والدین کو چاہیے کہ خاص طور پر اپنے بچوں کو پاکستان کے بارے میں ان کی ذمہ داریوں سے ان کو آگاہ کریں۔ اگر ممکن ہو تو اپنے وطن کی سیاحت اور عزیز و اقربا سے ملاقات کا پروگرام بھی بنایئے۔ اس سے جہاں وطن کی قدر پیدا ہوگی وہاں بہت سے چاہنے والوں کی پُرخلوص محبتیں بھی ملیں گی جو قربت کا باعث ہوں گی۔

___ اگر والدین اپنے بچوں کے ساتھ چھٹیوں میں کسی تفریحی مقام پہ جا رہے ہیں یا کسی رشتہ دار کے ہاں مقیم ہیں تو بھی یہ تربیت کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اللہ تعالیٰ کے مظاہر، رشتہ داروں کے حقوق کی اہمیت کا ساتھ ساتھ احساس دلایا جاتا رہے۔ جتنا سفر میں انسان سیکھتا اور سکھاتا ہے___ وہ گھروں میں ممکن نہیں ہوتا___ ہروقت کا ساتھ___ کچھ نئے عوامل، سفر کے تجربات، بہت کچھ نیا سیکھنے کو ہوتا ہے۔

  • … چھٹیوں میں اسلامی تربیتی کیمپ بھی لگائے جاتے ہیں، والدین وہاں بچوں کو بھیجیں اور بیرون ملک رہنے والے تربیتی ادارے ان کیمپوں میں پاکستان اور اُردو زبان سے تعلق کا کوئی پروگرام ضرور رکھیں۔
  • … گھر میں پاکستان کا تفصیلی نقشہ لٹکا کر رکھیں تاکہ بچوں کے ذہن میں ملک کا حدود اربعہ نقش ہوجائے، اور مقامات کی پہچان ہوجائے۔
  • … پاکستانی اور سب سے پہلے مسلمان ہونے کا احساس، والدین اور خصوصاً والدہ کا طرزِعمل، خود ہی بچوں میں اُجاگر کردے گا۔ بچوں میں اتنی ایمانی جرأت پیدا کیجیے کہ وہ مسلمان ہونے اور پاکستانی ہونے پہ فخر کرسکیں۔ اندرونی و بیرونی دشمنوں سے آگاہی دیجیے۔ اگر آج ہم نے پاکستان کے مفاد کے خلاف کچھ کیا ہے، یا اپنے غیرایمانی طرزِعمل سے بچوں کو غلط تاثر دیا ہے تو اس غلطی کی اصلاح کیجیے۔ غلطی کرنا اتنا بڑا عیب نہیں جتنا بڑا عیب غلطی کو تسلیم نہ کرنا ہے۔ تسلیم کریں گے تو اصلاح ہوگی۔ اپنی اصلاح ہوگی تو بچوں سے کچھ کہنے کے لیے اپنے اندر اعتماد پائیں گے۔
  • … ہر والد، والدہ، اپنے خاندان کے مزاج، ماحول، حالات کو سامنے رکھ کر چھٹیوں کو اپنے لیے یادگار بناسکتا ہے۔ مسلمان ہیں، مسلمان گھرانہ ہے تو اس کو عملی طور پر ثابت بھی کرنا ہوگا۔ حسنِ نیت اور خلوص سے بھرپور کوشش کرنے والوں کو ہی اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے۔
  • … آخرت میں وہ مسلمان والدین ہی اس ’اجرعظیم‘ کے مستحق ہوں گے جنھوں نے اولاد جیسی نعمت کو ضائع نہیں کردیا ہوگا بلکہ پوری ہوش مندی اور شعور سے ’داعی‘ کی ذمہ داریاں نبھائی ہوں گی۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌo (الانفال ۸:۲۸) ’’اور جان رکھو کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد حقیقت میں سامانِ آزمایش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے‘‘۔
  • … آج ہی عزم کیجیے___ پروگرام مرتب کیجیے___ چھٹیوں کے ہر دن کو ایسا بنانا ہے کہ وہ ’گزرے کل سے بہتر ہو‘۔ اِک نئے جذبے سے بچوں کے ساتھ دوستی، محبت کا رشتہ استوار کیجیے___  اپنے لیے، اُمت مسلمہ کے لیے، اللہ کی رضا کے لیے، اپنی آخرت سنوارنے کے لیے۔ ضروری نہیں کہ وہ سب منصوبے جو آپ بنائیں وہ پورے ہوں۔ حالات و واقعات ان میں ردّ و بدل کروائیں گے لیکن آپ نے اس ردّ و بدل میں بھی اپنا اصلی ٹارگٹ نہیں بھولنا۔ بچے آپ کا قیمتی خزانہ ہیں___ ان سے غافل نہیں ہونا۔
  • … ایک بات کا خاص طور پر خیال رہے کہ نبی کریمؐ کو وہ عمل زیادہ محبوب ہے جو  ثابت قدمی سے مسلسل کیا جائے۔ لہٰذا فرصت کے لمحات اور چھٹیوں کے لیے جو نظام الاوقات اور تربیتی امور طے کرلیں، انھیں باقاعدگی سے انجام دیں، اور چھٹیوں کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں، تب ہی مؤثر اور نتیجہ خیز تربیت ہوسکے گی۔ اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد، استعانت اور دعائوں کا خصوصی اہتمام بھی ضرور کیجیے۔

آیئے دعا کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمارے شریکِ زندگی اور ہماری اولاد کو آنکھوں کی ٹھنڈک بنادے اور ہمیں وہ تقویٰ عطا کردے کہ ہم نیک لوگوں کے امام بن جائیں اور ہماری نسلیں ہمارے لیے صدقۂ جاریہ ہوں۔ آمین!

رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا o (الفرقان ۲۵:۷۴)

 

وقت اور اس کی ترتیب و تنظیم ایک اہم علمی، سائنسی اور تکنیکی موضوع بن چکا ہے۔ اس موضوع پر سیمی نارز اور ورک شاپس منعقد کرائی جارہی ہیں اور کتابیں لکھی جارہی ہیں۔ وقت کی ترتیب وتنظیم کا شعور و ادراک مغربی دنیا میں مخصوص مادی مسائل کے باعث صرف نصف صدی سے زیادہ قدیم موضوع نہیں ہے۔ لیکن وقت کی اہمیت اور اس سے متعلق جملہ امور کے بارے میں قرآن کریم اور نبی کریمؐ نے ۱۴۰۰ سال پہلے دنیا کو آگاہ کردیاتھا۔ یہ ہماری بدنصیبی نہیں تواور کیا ہے کہ مغربی اور دیگر اقوام نے وقت کی اہمیت کا بروقت احساس کرکے دنیوی شعبوں میں ترقی کرلی اور ہم سے آگے نکل گئے مگر ہم وقت کی اہمیت کو فراموش کرکے ہر میدان میں پیچھے رہ گئے۔

سید مودودیؒ اپنی معرکہ آرا تفسیر تفہیم القرآن میں سورۃ العصر کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’پہلے یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ جو زمانہ اب گزر رہاہے وہ دراصل وقت ہے جو ایک ایک شخص اور ایک ایک قوم کو دنیا میں کام کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ اس کی مثال اس وقت کی سی ہے جو امتحان گاہ میں طالب علم کو پرچے حل کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ یہ وقت جس تیزی کے ساتھ گزررہا ہے اس کا اندازہ تھوڑی دیر کے لیے اپنی گھڑی میں سیکنڈ کی سوئی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھنے سے آپ کو ہوجائے گا، حالانکہ ایک سیکنڈ بھی وقت کی بہت تھوڑی مقدار ہے۔ اسی ایک سیکنڈ میں روشنی ایک لاکھ ۸۶ ہزار میل کا راستہ طے کرلیتی ہے اور خدا کی خدائی میں بہت سی چیزیںایسی بھی ہو سکتی ہیں جو اس سے بھی تیز رفتارہوں ’خواہ وہ ابھی ہمارے علم میںنہ آئی ہوں، تاہم اگر وقت کے گزرنے کی وہی رفتار سمجھ لی جائے جو گھڑی میں سیکنڈ کی سوئی کے چلنے سے ہم کو نظر آتی ہے اور اس بات پر غور کیا جائے تو ہم جو کچھ بھی اچھا یا برا فعل کرتے ہیں اور جن کاموں میں بھی ہم مشغول رہتے ہیں سب کچھ اسی محدود مدت عمر ہی میں وقوع پذیر ہوتا ہے جو دنیا میں ہم کو کام کرنے کے لیے دی گئی ہے تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا اصل سرمایہ تو یہی  وقت ہے جو تیزی سے گزرا جارہاہے‘‘۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، ص ۴۵۰)

وقت کی اہمیت و افادیت کو حضوراکرمؐ نے متعدد مواقع پر مختلف انداز سے امت کی رہنمائی اور فلاح و کامرانی کے لیے بیان فرمایا ہے۔ حضرت عمرو بن میمونؓسے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ ’’پانچ حالتوں کو پانچ حالتوں کے آنے سے پہلے غنیمت جانو اور ان سے جو فائدہ اٹھانا چاہو وہ اٹھالو.....غنیمت جانو جوانی کو بڑھاپے کے آنے سے پہلے، تندرستی کو بیمار ہونے سے پہلے، خوشحالی اور فراخ دستی کو ناداری اور تنگدستی سے پہلے، فرحت اور فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور زندگی کو موت سے پہلے‘‘ (الترغیب و ترھیب)۔ اس حدیث مبارکہ میں جن حالتوں کو بیان کیا گیا ہے وہ ہمارے لیے وقت کے استعمال اور ترجیحات سے متعلق رہنمائی کا نمونہ ہیں۔

وقت کی اھمیت

قرآن وحدیث کی روشنی میں وقت کی چار بنیادی خصوصیات ہیں:

۱-  اس کائنات میں ہر جان دار و بے جان مخلوق کا ایک وقت مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا مقدر اور وقت مقرر کررکھا ہے اور یہ مقدر اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے۔دنیا میں ہر انسان کے نہ صرف پیدا ہونے اور مرنے کا وقت مقرر ہے بلکہ اس کے ہر کام کا وقت مقرر ہے، حتیٰ کہ ہماری سانسیں بھی مقرر ہیں کہ کتنی سانسیں بندہ اس دنیا میں لے گا۔

۲-  وقت گزرنے والی چیز ہے۔ وقت لمحہ بہ لمحہ گزر رہا ہے اور گزر جائے گا۔امام رازیؒ نے کسی بزرگ کا قول نقل کیا ہے کہ ’’وقت کی مثال ایک برف والے کی طرح ہے جو پکار پکارکر  کہہ رہا ہے کہ دیکھومیرا زندگی کا سرمایہ گھلا جارہا ہے اور اگر یہ برف کارآمد نہیں ہوئی تو یہ رکھے رکھے گھل جائے گی اور ختم ہوجائے گی۔(تفہیم القرآن ،ج ۶، ص ۴۵۰)

۳-  تیزی کے ساتھ گزرتا ہوا ہر سیکنڈ اور لمحہ جو گزر گیا وہ واپس نہیں آئے گا۔ اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ انسان جو پیسہ خرچ کرلے وہ دوبارہ کمایا جاسکتاہے لیکن وہ وقت جو گزر گیا واپس نہیں آسکتاہے ۔حضوراکرمؐ نے فرمایا کہ’’ہر آنے والا دن جب شروع ہوتا ہے تو وہ پکار پکار کر کہتا ہے کہ اے انسان! میں ایک نوپیدا مخلوق ہوں، میں تیرے عمل پر شاہد ہوں، تو مجھ سے کچھ حاصل کرلے، میں تو اب قیامت تک لوٹ کر نہیں آئوں گا۔

۴-  وقت کے ایک ایک لمحے کا حساب ہمیں اللہ تعالیٰ کو دینا ہوگا۔ حدیث میںآتا ہے کہ ’’ حشر کے میدان میں آدمی آگے نہ بڑھ پائے گا جب تک کہ پوری زندگی کا حساب نہ دے لے۔ پوچھا جائے گا کہ عمر کہاں گزاری، جوانی کیسے گزاری، مال کس طرح کمایا اور کہاں خرچ کیا اور جو علم حاصل کیا اس کو کس طرح استعمال کیا(الترغیب و ترھیب)۔ حضوراکرمؐ نے فرمایا کہ’’ تباہ ہو گیا وہ شخص جس کا آج اس کے گزرے ہوئے کل سے بہتر نہ ہو‘‘۔ سرورکائناتؐ کا ایک اور فرمان ہے:  ’’مومن کے لیے دو خوف ہیں: ایک اجل جو گزر چکا ہے معلوم نہیں خدا اس کا کیا کرے گا اور ایک اجل، جو ابھی باقی ہے معلوم نہیں اللہ تعالیٰ اس میں کیا فیصلہ صادر فرمائے؟ لہٰذا انسان کو لازم ہے کہ اپنی طاقت سے اپنے نفس کے لیے اور دنیا سے آخرت کے لیے ،جوانی سے بڑھاپے کے لیے اور زندگی سے قبل موت کے لیے کچھ نفع حاصل کرلے‘‘۔

وقت کی کمی یا ترجیحات کا تعین

اصل مسئلہ وقت کی کمی کا نہیں بلکہ ترجیحات کے تعین کا ہے۔اگر ہم طے کرلیں کہ کون سی چیز یا کام ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے، دوسری ترجیح کیا ہونی چاہیے، اور تیسری ترجیح کیا ہو، تو  وقت کی کمی کا مسئلہ خودبخود حل ہوجائے گا۔حضوراکرمؐ کی پوری ۲۳ سالہ نبوی زندگی میں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ جس دن حضوؐر نے قرآن نہ پڑھا ہو اور دوسروں کو پڑھ کر نہ سنایا ہو۔یہ ان کی زندگی کی ترجیح تھی اوران کے صحابہ ؓ کی زندگی کی ترجیح تھی۔حضوراکرمؐ کے صحابہؓ اتنا قرآن پڑھتے تھے کہ حضوراکرمؐ نے ان کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ’’ کوئی تین دن سے کم میں قرآن ختم نہ کرے‘‘(حدیث)۔ اگر ہماری بھی ترجیحات وہی ہوں گی جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے مقرر کی ہیں تو ہمارے لیے وقت کی کمی کا کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔حضوراکرمؐ اور صحابہؓ کے بعض خطبوں کا ابتدائی جملہ  یہ ہوتا تھاکہ ’’ اے لوگو! تمھاری زندگی گزرتی چلی جارہی ہے۔ یہ اچانک کسی پل ختم ہوجائے گی، جو وقت گزر گیا وہ تو گزر گیا لیکن جو آنے والا ہے اس کی فکر کرو۔ اللہ سے ڈرو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنی جنت کے لیے کچھ مال جمع کرلو‘‘۔ حضوراکرمؐ نے فرمایا کہ ’’بندہ کا صرف وہی ہے جو اس نے کھا لیا یاپہن لیا یا آگے بھیج دیا۔ جو اس نے خرچ نہیں کیا وہ سب وارثوں کا مال ہے‘‘۔(سنن کبریٰ، بیہقی)

وقت کے صحیح استعمال کا مقصد

ہمارے نزدیک وقت کی ترتیب و تنظیم کے دو بنیادی مقاصدہیں۔ پہلا تو یہ ہے کہ ہم اس بات کا اہتمام اور کوشش کریں کہ ہمارے وقت کا کوئی ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایمان والوں کی یہ خصوصیت بیان کی ہے کہ وہ اپنے وقت کو لغویات میں ضائع ہونے سے بچاتے ہیں(معارف القرآن، سورئہ مومنون)۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ جو ۲۴ گھنٹے ہمیں روزانہ ملتے ہیں اس میں ہم کتنا زیادہ سے زیادہ وقت اپنے فرائض کی ادایگی اور اللہ تعالیٰ کے عائدکردہ حقوق کی ادایگی کے لیے نکالتے ہیں، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

وقت میں اضافے کے لیے اور وقت کی کمی کو دور کرنے کے لیے بہت سارے طریقے ہمیں اللہ کے رسولؐ کی احادیث میں ملتے ہیں،نیزجدید دور میں وقت کے ضیاع کے حوالے سے تحقیقات نے بھی ہماری رہنمائی کے کچھ نکات متعین کردیے ہیں۔ ان میں سے چند اہم اصول و نکات درج ہیں۔

دن کا آغاز نماز فجر سے پھلے

حضوراکرمؐ کی بہت ساری احادیث ہیں جن میں آپؐ نے فرمایا کہ صبح سویرے اُٹھو گے تو اس کے نتیجے میں تمھارے رزق و مال میں برکت ہوگی، اور اگر صبح نہیں اُٹھو گے تو پریشان و رنجیدہ رہو گے۔ایک دن حضوراکرمؐ اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ کے پاس صبح کے وقت تشریف لے گئے۔ وہ آرام فرما رہی تھیں۔ حضوراکرمؐ نے ان کو جگاتے ہوئے فرمایا: ’’بیٹی! اُٹھو، اپنے رب کے رزق کی تقسیم کے وقت حاضر رہو اور غفلت کرنے والوں میں سے نہ بنو، کیونکہ اللہ تعالیٰ طلوعِ فجر اور طلوعِ شمس کے درمیان لوگوںکا رزق تقسیم کرتے ہیں‘‘۔

صبح جلدی اٹھنے اور فجر کے بعد نہ سونے کے نتیجے میں ہم کو دن میں کئی گھنٹے اضافی      مل جاتے ہیں۔ یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ صبح ۶ بجے سے ۸ بجے کے وقت کو جسے دنیا میں پرائم ٹائم کہا جاتاہے ہم سونے میں گزار دیتے ہیں۔امام ترمذیؒ نے حضوراکرمؐ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ’’اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے اوقات میں برکت عطا فرما‘‘۔ایک مشہور چینی روایت ہے کہ ’’جو آدمی صبح جلدی اُٹھتا ہے اس کو دولت مند بننے سے کوئی نہیں روک سکتا‘‘۔

جدید تحقیق سے ثابت ہے کہ انسان رات کو ۹ بجے کے بعد جو کام ایک گھنٹے میں کرتا ہے  صبح کے اوقات میں وہی کام صرف ۲۰ منٹ میں کرلیتا ہے۔اس دن اور رات میں ایک وقت ایسا بھی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پرائم ٹائم قرار دیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ’’ رات کے آخری پہر میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر آجاتے ہیں اور منادی کردیتے ہیں کہ مجھ سے مانگو میں تمھیں دوں گا، مجھ سے طلب کرو میں تمھاری ضرورت کو پورا کروں گا‘‘(بخاری)۔ پورے ۲۴ گھنٹوں میں اس سے زیادہ قیمتی وقت کوئی نہیں ہے اوروقت کی ترتیب و تنظیم اس بات کا ہی نام ہے کہ انسان اپنے پرائم ٹائم کو سب سے بہترین طریقے سے استعمال کرسکے۔دنیا میں کوئی لیڈر شپ ایسی نہ ہوگی جس کو کوئی بڑی کامیابی ملی ہو اور وہ سحر خیزی کی عادی نہ ہو۔اگر ہم صبح ۵ بجے اُٹھ جائیں تو جو کام دن میں ہم ۳گھنٹے میں کرتے ہیں وہ صبح میں ایک گھنٹے میں ہی کرلیں گے۔ہمیں محسوس ہوگا کہ ہمارا دن ختم ہی نہیں ہورہا ہے۔ اس سنت کو اپنائے بغیر اور اس عادت کو اختیار کیے بغیر ہمارے لیے نہ اُخروی کامیابی ممکن ہے اور نہ دنیاوی برتری ہی۔

معاشی مصروفیا ت کی منصوبہ بندی

ہرفرد کو چاہیے کہ اپنے معاش کے لیے ایک وقت مقرر کرے کہ مجھے اپنے اوقات کا کتنا حصہ معاش کے لیے صرف کرنا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ ہر آدمی کی روزی اور اس کا رزق مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جتنا ہمارے مقدر میں لکھاہے اُتنا ہی ہمیں ملے گا، چاہے ہم ۸گھنٹے کام کریں یا ۱۶گھنٹے۔ حضوراکرمؐ نے فرمایا کہ ’’روزی انسان کا پیچھا کرتی ہے‘‘(الترغیب و ترھیب)۔ ’’رزق میں کمی یا تاخیر سے پریشان نہ ہو اورروزی کو کمانے میں خوش اسلوبی سے کام لو‘‘۔ (ایضاً)

انسان کی جسمانی استطاعت کے بارے میں محققین کہتے ہیں کہ کوئی بھی آدمی جب اپنے معاش کے لیے آٹھ گھنٹے سے زیادہ صرف کرتاہے تو اس کا زائد صرف کردہ وقت کارآمدنہیں ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشروں میں ۸گھنٹوں سے زیادہ کی ملازمت نہیں ہوتی۔اور یہ کہا جاتاہے کہ آدمی انھی اوقات میں زیادہ سے زیادہ کام کرکے اپنے حصے کا کام پورا کرے۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے معاش کے لیے ایک وقت مقرر کریں جو ۸ گھنٹے سے زیادہ نہ ہو۔انھی گھنٹوں میں پوری قوت اور توانائی کے ساتھ کام کریں۔بہت سارے لوگوں نے تجربہ کرکے یہ سیکھا ہے کہ واقعی جو کام ہم ۱۲ اور ۱۴ گھنٹوں میں کررہے تھے وہی کام اب ہم آٹھ گھنٹوں میں کرسکتے ہیں۔اس کے نتیجے میں ہم اپنے اوقات میں کافی اضافہ کرسکتے ہیں۔

 معذرت کرنا سیکہیں

روزمرہ معاملات میں ہم بعض اوقات تکلف یا تعلق کی وجہ سے وعدہ کرلیتے ہیں اور وقت کی کمی کی وجہ سے اس وعدے کوپورا نہیں کرپاتے۔ اس کے نتیجے میں جن سے ہم وعدہ کرتے ہیں وہ بھی مشکل میں پڑ جاتے ہیں اور ہماری ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے ۔اس بات کا بھرپور اہتمام کرنا چاہیے کہ فرد کسی کو وقت دینے سے پہلے پوری طرح اطمینان کرلے کہ یہ ممکن بھی ہو گا یا نہیں۔ معذرت کرنا کوئی گناہ کا کام نہیں لیکن وقت دینے کے بعد نہ پہنچنا عہد کی خلاف ورزی ہے۔  مغربی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ نے ’نہیں‘ کہنا سیکھ لیا ہے تو آپ نے گویا اپنا آدھا وقت بچا لیا۔

وقت کو ضائع کرنے والی چیزیں

وقت کو ضائع کرنے والی چیزوں میں سب سے پہلا نمبر ٹیلی وژن کا ہے۔ ایک عام امریکی دن میں ۳ سے ۴ گھنٹے ٹی وی دیکھتا ہے، جب کہ پاکستان میںاوسطاً لوگ روزانہ دو سے ۳گھنٹے ٹیلی وژن کے سامنے گزارتے ہیں۔ ٹیلی وژن کے بعد اب دوسرا نمبر موبائل فون کا ہے۔ ہمیں یہ اندازہ کرنا چاہیے کہ روزانہ ہم کتنے گھنٹے ٹیلی فون پر صرف کرتے ہیں۔ اوسطاً ایک موبائل فون پر روزانہ ۲۰ کالز اور ۱۲ ایس ایم ایس موصول ہوتے ہیں۔اگر آپ اس وقت کو کنٹرول نہیں کرسکیں گے تو روزانہ ایک سے ۲گھنٹے فون کا اور ایس ایم ایس کا جواب دینے میں لگ جائیں گے۔اپنے ٹیلی فون پر گزرے ہوئے وقت کا اندازہ اور تعین کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کو اس حوالے سے ایک نظم میں لانے کی ضرورت ہے، اگر ہم ہر فون کال کا جواب اُسی وقت دینا چاہیں گے تو ہم نہ آرام کرسکتے ہیں نہ کوئی سنجیدہ کام اور نہ کوئی میٹنگ ہی پوری توجہ کے ساتھ کرسکتے ہیں، فون ہمارے وقت کو ضائع کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے جس کو کنٹرول کیے بغیر ہم اپنے وقت کو قابو نہیں کرسکیں گے۔اسی طرح ہماراجو وقت ٹیلی وژن کے سامنے ضائع ہوتا ہے، اس کو بھی کم سے کم کرنے کی ضرورت ہے۔

وقت مقررہ کی پابندی کا اھتمام

ہمارے معاشرے میں دیے گئے وقت کی پابندی کا اہتمام نہ ہونے کے کلچر کی وجہ سے روزانہ کئی گھنٹے ضائع ہوجاتے ہیں۔بالعموم میٹنگز اور پروگرامات دیے گئے وقت سے ۲۵،۲۰منٹ بعد شروع ہوتے ہیں۔کچھ لوگ وقت پر آجاتے ہیں اور کچھ لوگ دیر سے آتے ہیں۔اس کے نتیجے میں جو وقت پرآجاتا ہے اس کا بھی وقت ضائع ہوتا ہے اور جس نے بلایا ہوتا ہے اس کا بھی۔ اگرہم اس کا تعین کریں تو روزانہ آدھا یا پوناگھنٹہ انتظارمیں ہی ضائع ہوجاتا ہے۔ اس انتظار کے وقت کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے اپنے دائروں میں انتہائی ممکنہ حد تک وقت کی پابندی کا اہتمام کریں اور کروائیں توسب کے وقت کو ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

بَہ یک وقت کئی کاموں سے اجتناب

اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بہ یک وقت ہمارے سامنے کئی کام ہوتے ہیں۔ اور ہم انھیں ایک ساتھ کرنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں، اس کے نتیجے میں نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ وہ کام بھی اچھی طرح سے پورا نہیں ہوپاتا۔بہتر یہ ہے کہ اگر کئی کام ہمارے سامنے ہوں تو ہم اس کی ترجیحات طے کریں۔ ان میں سے جو سب سے زیادہ ضروری اور فوری ہو، اس کو مکمل کریں اور اس کے بعد دوسری ترجیح کا کام شروع کریں۔اس کے نتیجے میں نہ صرف ہم اپنے وقت کو بچانے میں کامیاب ہوں گے بلکہ ان کاموں کو بھی موثر طور پر بروقت مکمل کرسکیں گے۔

تاخیراور ٹال مٹول سے گریز

بعض اوقات ایک ہی وقت میں ہمارے سامنے کئی کام ہوتے ہیں۔ ہم ایک کام شروع کرتے ہیں لیکن اس کو پورا کیے بغیر دوسرا کام شروع کردیتے ہیں۔مثلاًدفتری زندگی میں روزانہ بہت سے خطوط اور نوٹس ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ہم ان کو پڑھتے ہیں اور پھر رکھ دیتے ہیں۔ ایک دو دن کے بعد انھیں پھر دوبارہ پڑھتے ہیں اوررکھ دیتے ہیں، اور پھر تیسری دفعہ اس پر کام شروع کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میںجو خط ہم ایک ہی دفعہ پڑھ کر کام کرسکتے تھے اس کو تین دفعہ پڑھنے کے بعد اس کام کو کرپاتے ہیں۔اسی طرح توجہ اور تجاویز کے ضمن میں بہت ساری چیزیں ہمیں موصول ہوتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان کے جواب دینے کے وقت کو کم سے کم کریں۔ اس کا طریقہ بھی یہی ہے کہ جو کام ہمیں خود کرنے ہیں ان کی ترجیح متعین کریں، اور جو کام دوسروں کے حوالے کرنے ہیں ان کو فوری طور پر دوسروں کے سپرد کردیں۔

کام کوتقسیم کرکے وقت بچائیں

روزمرہ کے کاموں میں بہت سے کام ہمارے پاس ایسے ہوتے ہیں جو اگر دوسروں کے سپرد کردیے جائیں تو کام بھی بہتر انداز میں ہوجائے گا اور وقت بھی بچے گا۔ اگر ہم سارے کام خود کرنے کی کوشش کریں گے، مثلاً رپورٹیں بھی خود بنائیں گے، اس کو خود ہی بھیجیں گے بھی، ہر چیز کا ریکارڈ بھی خود رکھیں گے اور جائزہ بھی خود لیںگے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف ہمارے وقت کا ضیاع ہو گا بلکہ کام بھی بہتر طریقے سے نہیں ہو سکے گا۔اس کو Micro Management کہتے ہیں جو کہ وقت کے ضیاع کا ایک بڑا سبب ہے۔ اس کا علاج کام دوسروں کو تفویض یا سپرد کرنا ہے اور پھر اس کا جائزہ لیتے رہنا ہے تاکہ ہدف بروقت حاصل ہوسکے۔

طویل گفتگو سے گریز

مختصر گفتگو ایک فن ہے۔ حضوراکرمؐ کے جو خطبات تحریری صورت میں احادیث کی کتابوں میں ملتے ہیں ان سب کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مختصر ہیں۔ حجۃ الوداع کے موقع پر ڈیڑھ لاکھ صحابہؓ کے سامنے حضور اکرمؐ نے جو خطبہ ارشاد فرمایا اس کو پڑھنے میں صرف ۷منٹ لگتے ہیں۔ اسی طرح صحابہؓ کے خطبے بھی مختصر ہوتے تھے۔حضوراکرمؐ کے خطبات کی ایک خصوصیت اختصار کے ساتھ ساتھ تکرار بھی تھی۔ حضور اکرمؐ ایک ہی بات کو دو تین دفعہ بیان کرتے تھے تاکہ بات ذہن نشین ہوجائے۔ جدید سائنسی تحقیق سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی فرد ایک گھنٹے کی تقریر توجہ   سے سنے تو اس کا صرف ۱۰ فی صد اگلے دن تک یاد رکھ سکتا ہے۔ مختصر گفتگو میں یہ تناسب بڑ ھ کر ۲۵فی صد تک ہوجاتا ہے۔ ہم جتنی طویل گفتگو یا خطاب کریں گے، اس کا استحضار اتنا ہی کم ہوگا۔

اپنی بات کو مختصر کرنے کی عادت ڈالیں اور اس کی تیاری کریں۔ مشہور برطانوی سیاست دان چرچل کا کہنا ہے کہ اگر مجھے تین گھنٹے تقریر کرنی ہو تو میں تیاری نہیں کرتا بس بولتا چلا جاتا ہوں، اور اگر ۱۵منٹ تقریر کرنی ہو تو ۳گھنٹے اس کی تیاری کرتا ہوں۔یہ ایک صلاحیت ہے جس کو ہمیں   اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے کہ بات مختصر اور نکات کی صورت میں کی جائے۔ اس سے اپنا بھی اور دوسروں کا بھی وقت بچتا ہے۔ اگر کسی میٹنگ میں ۱۰، ۱۵ لوگ ہوں اور سب ۱۰سے ۱۵منٹ گفتگو کریں تو ۱۵۰منٹ ہوجاتے ہیں۔ اگر ہر آدمی اپنی بات ۳منٹ میں مکمل کرنے میں کامیاب ہوجائے تو ۴۵منٹ میں بات مکمل ہوجائے گی۔ دعوتی کام کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ بات جامع اور مختصر ہو اور تکرار کے ساتھ ہو تاکہ بات ذہن نشین ہوجائے۔ گفتگو کرنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے اس بات کا تصور ضرور کریں کہ جو الفاظ بھی ہم بولیں گے اس کا پورا پورا حساب ہمیں اللہ تعالیٰ کے ہاں دینا ہوگا۔

اھل خانہ کے لیے وقت ضرور نکالیں

احادیث سے اس بات کا پتا چلتا ہے کہ حضوراکرمؐ نبوت و رسالت اور اسلامی ریاست کے سربراہ ہونے کی گراں بہا ذمہ داریوں کے باوجود بھی اپنے گھر والوں کے لیے اور تفریح کے لیے وقت نکالتے تھے۔دین کے کام کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہ کھا سکے، گھر کے کام کاج میں ہاتھ نہ بٹا سکے یا تفریح نہ کرسکے۔ احادیث میں آتا ہے کہ حضوراکرمؐ اپنی ساری بیویوں کو جمع کرکے ایک ساتھ کھانا کھاتے تھے ، گفتگو کرتے تھے، ہنسی مذاق کرتے تھے،گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے تھے اور اپنے نواسوں کو جمع کرکے ان کے درمیان کشتی کرواتے تھے۔ یہ ساری چیزیں ہماری زندگی کا بھی حصہ ہونا چاہییں۔ ہمیں اپنی ترجیحات میں اس بات کو بھی شامل کرنا چاہیے کہ ہمارا گھر بھی ہماری دعوت کا مرکز ہو۔گھروالوں کی تربیت اور خوشی و تفریح ان کا حق ہے۔ ہمارے والدین اگر زندہ ہیں توان کی خدمت کرکے جنت کما لینا ہماری ترجیحات کی فہرست میں لازماً شامل ہونا چاہیے۔

فارغ اوقات کا بھتر استعمال

روزمرہ کی زندگی میں بہت سارے اوقات ایسے آتے ہیں کہ جب ہم فارغ بیٹھے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ہم سفر میں ہوتے یا انتظار کررہے ہوتے ہیں یا کچھ بھی نہیں کررہے ہوتے۔ ان اوقات میں ہمیں اس بات کی عادت اپنا لینی چاہیے کہ جب بھی ہم فارغ ہوں تو اپنی زبان کو    اللہ کے ذکر سے تر رکھیں۔حضوراکرمؐ نے بہت سارے کلمات بتائے ہیں جو زبان پر بہت ہلکے اور اجر میں بہت بھاری ہیں۔ ان کلمات کو باربار دہراتے رہیں۔ کثرت سے استغفار کریں۔ ایک ایک لمحہ جو ہمارے پاس ہے وہ اللہ کے ذکر میں اور استغفار میں صرف ہو تو یہ وقت کا بہترین استعمال ہے۔ ہمارے وقت کا کوئی لمحہ فارغ ہونے کی وجہ سے ضائع نہ ہو۔ حدیث سے اس بات کا پتا چلتا ہے کہ مومن کا ہر لمحہ کارآمد ہوتا ہے۔ جب اس پر کوئی مشکل پڑتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے، جب خوش ہوتا ہے تو شکر ادا کرتاہے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے۔

دوسروں کے وقت کی قدر

ایک ذمہ دار کی حیثیت سے ہمیں اس بات کا بھرپور اہتمام کرنا چاہیے کہ نہ تو ہمارے وقت کا کوئی حصہ ضائع ہو اور نہ ہماری ٹیم میں سے ہی کسی کا وقت ضائع ہو۔جب ہم دوسروں کے وقت کی قدروقیمت کا احسا س کریںگے تو اللہ تعالیٰ ہمارے وقت میں برکت ڈال دے گا۔ اگرہم دوسروں کے وقت کی قدروقیمت کا احساس نہیں کریں گے اور ہماری وجہ سے دوسروں کا وقت ضائع ہوتارہے گا تو اللہ تعالیٰ ہمارے وقت کی قدروقیمت بھی کم کردے گا۔

وقت میں برکت کی دعا

وقت میں برکت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، جس طرح ہم اپنے مال ،کاروبار ، رزق اور اولاد میں برکت کی دعا کرتے ہیں اسی طرح اپنے وقت میں برکت کے لیے بھی دعا کریں۔ اگر ہمیں وقت میں برکت حاصل ہوگئی تو زندگی بڑی آسان ہو جائے گی۔ جن لوگوں کو اللہ کی یہ نعمت حاصل ہوتی ہے ان کے پاس وقت کی کمی کا شکوہ نہیں ہوتا بلکہ ان پر یہ احساس غالب رہتا ہے کہ میرے پاس وقت ہے اور جو کام بھی میرے سپرد ہوگا میں اُسے کرنے میں کامیاب ہوجائوں گا۔وقت میں یہ برکت اللہ تعالیٰ کا خاص انعام اور اس کی رحمت ہے جو ان لوگوں پر نازل ہوتی ہے جو اس سے برکت طلب کرتے ہیں۔حضرت عمر فاروقؓ دعا فرماتے تھے: ’’یااللہ! زندگی کے اوقات میں برکت دے اور انھیں صحیح مصرف پر لگانے کی توفیق عطا فرما‘‘۔

وقت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک غیر معمولی امانت ہے۔ اس کے ایک ایک لمحے کی قدروقیمت کے احساس کے ساتھ اللہ کی بندگی کے لیے ، جہنم سے بچنے اور جنت کے حصول کے لیے اس کا استعمال ہونا چاہیے۔کامیاب وہی ہے جو اس احساس کے ساتھ زندگی گزارے کہ اسے زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب اللہ تعالیٰ کو دینا ہوگا، یقینا وہ اپنے وقت کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی مقرر کردہ ترجیحات کے مطابق گزارنے کااہتمام کرے گا۔

 

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں ایک خاندان کا حصہ بنایا ۔ ایک وقت آتا ہے جب بزرگ ساتھی دنیا سے چلے جاتے ہیں اور کچھ ننھے ننھے بچے اسی خاندان کا حصہ بن جاتے ہیں۔ زندگی اسی طرح رواں دواں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ انعام مانگے بغیر ہی عنایت کردیا کہ خاندان کے افراد میں آپس میں محبت پیدا کردی۔ ماں باپ کی محبت، بیوی کی محبت، خاوند کی محبت، بچوں کی محبت اور پھر اگلی پود، یعنی بچوں کے بچوں سے محبت۔ یہ محبت نہ صرف بڑوں کو بچوں سے ہوتی ہے بلکہ بچے بھی اپنے سے بڑوں کی محبت کا معصومانہ انداز میں اظہار کرتے ہیں۔ چند بدنصیب اس دنیا میں ایسے بھی ہوسکتے ہیں، اور ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اس سے محروم رکھا، یا وہ خود محروم رہ گئے۔ محبت کا یہی باہمی جذبہ ہے جو ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور ایک دوسرے کی بہتری کے لیے کوشش اور مدد کرنے پر اُبھارتا ہے۔ کوئی عزیز تکلیف میں ہو تو آنکھیں پُرنم ہوجاتی ہیں۔ کسی کو خوشی ملتی ہے تو خوشیاں بانٹنے کو دل چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دعا کا ہتھیار دیا ہے۔ ہم ہروقت دعائوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ایک دوسرے کی خوشی،عافیت اور سلامتی کے لیے دعائیں مانگتے ہیں، ایک دوسرے کی بہتری چاہتے ہیں، اور اپنی تمنائیں اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرا انعام بھی ہم پر کیا ہے۔ وہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو اچھائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں___ کیوں؟ اس لیے کہ لوگ بُری عادات اور بُرے انجام سے بچ سکیں۔ یہ امربالمعروف نہی عن المنکرمسلم معاشرے کی خوب صورتی ہے۔ یہاں انسان نہ صرف ایک دوسرے کی بھلائی چاہتے ہیں، بلکہ ایک دوسرے کی مدد کے لیے بھی تیار رہتے ہیں۔ آج کل کے لوگ اس عمل کو شخصی آزادی میں رکاوٹ سمجھتے ہیں مگر  یہ بھول جاتے ہیں کہ معاشرہ ظالم کو ظلم سے نہ روک کر دراصل ظالم کی مدد کر رہا ہوتا ہے۔

بات محبت کے جذبے کی ہو رہی تھی۔ جب کوئی اپنا اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو قدرتی طور پر دل بے تاب ہوجاتا ہے۔ پھر دعا کا سہارا لیا جاتا ہے___ اے اللہ! اسے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما، اس کے مراحل آسان کردے، اس کے درجات بلند فرما دے___ کون چاہتا ہے کہ اس کا عزیز، والدین، بچے، بیوی، خاوند اور دیگر عزیز و اقارب جنت میں نہ جائیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بشارت دی ہے کہ اہلِ خاندان کا جنت میں ساتھ ناممکن نہیں تو پھر کیوں نہ ہم کوشش کریں کہ اکٹھے جنت چلیں۔

محبت کے جذبے کا سرچشمہ اللہ کی ذات پاک ہے مگر اس محبت کا حصول مشروط ہے۔  اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے نبیؐ! لوگوں سے کہہ دو کہ ’’اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھاری خطائوں سے درگزر فرمائے گا۔ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے‘‘۔ اُن سے کہو کہ ’’اللہ اور رسولؐ کی اطاعت قبول کرو‘‘۔ پھر اگر وہ تمھاری یہ دعوت قبول نہ کریں، تو یقینا یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے، جو اس کی اور اس کے رسولؐ کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں‘‘۔ (اٰل عمرٰن۳:۳۱-۳۲)

یہ آفاقی اصول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بتا دیا ہے اور زندگی کا اصول بھی یہی ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے محبت کرے جو اس کی اور اس کے رسولؐ کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں۔ یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہے کہ اگر ہم اللہ سے محبت کریں گے، تو وہ ہم سے محبت کرے گا___ کوئی خاندان، کوئی رشتے داری، کوئی حسب و نسب ہمیں اللہ کی محبت کا دعوے دار نہیں بناسکتا۔ یہ محبت کیا ہے؟ اور پھر اللہ سے محبت!___ اللہ سے محبت یہی ہے کہ ہماری مرضی اور پسند، اللہ اور اس کے رسولؐ کی پسند کے تابع ہوجائے۔ اس کا کہا مانا جائے، اس پر عمل کیا جائے، اور اس کا حکم بلاچوں و چرا بجا لایاجائے۔ یہ نہیں کہ حی علی الصلٰوۃ ، حی علی الفلاح کی صدا بلند ہو اور ہم ٹس سے مس نہ ہوں۔

یہ بڑی سادہ اور سیدھی بات اور واضح اصول ہے جو ہمیشہ ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے، اور جو یہ اصول نہیں مانتے ان کے لیے کسی لگی لپٹی کے بغیر تنبیہہ ہے: ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بنائو اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔ تم میں سے جو ان کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوں گے‘‘ (التوبہ ۹:۲۳)۔ گویا جن سے محبت کے دعوے ہوتے ہیں، جن کے لیے آدمی راتوں کو جاگتا اور تکلیف اٹھاتا ہے، اگر وہ بھی ایمان پر کفر کو ترجیح دیں تو ان کو ساتھی بنانے سے بھی منع کردیا گیا ہے۔ اس کے باوجود جو ایسا کرے اسے ظالم قرار دیا گیا ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ظالم کے لیے قرآن مجید میں کیا کیا احکام ہیں اور ان کا کیا انجام بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ظلم کرنے سے باز رکھے، اور اللہ نہ کرے کہ کسی وجہ سے ہمارا شمار ظالموں میں ہو۔ اللہ تعالیٰ بڑی صاف بات فرما رہے ہیں کہ یہ دوغلی پالیسی نہیں چلے گی، اور پھر دعاے قنوت میں بھی ہم روزانہ وعدہ کرتے ہیں کہ: ’’ہم نافرمانی نہیں کرتے اور چھوڑ دیتے ہیں اس شخص کو جو تیری نافرمانی کرے‘‘۔

دنیا میں ہمارے ساتھی___ والدین، زوجین، یعنی خاوند اور بیوی اور پھر اولاد___ یہی لوگ مل کر عموماً خاندان بناتے ہیں، اور اکٹھے ماہ و سال بسر کرتے ہیں۔ مغرب کے خاندان کا تصور ہمارے پیشِ نظر نہیں جہاں والدین کو خاندان سے باہر بلکہ بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ یہ تو ہمارے خاندان کا حصہ ہیں، آپس میں محبت کی لڑی میں پروئے ہوئے موتی ہیں جن کی ہمیں فکر رہتی ہے، ان کی بہتری کی خواہش بھی رہتی ہے، اور اگر انھیں تکلیف پہنچے تو طبیعت غمگین ہوجاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بشارت دی ہے کہ یہی والدین، زوج اور اولاد جنت میں بھی ساتھی بن سکتے ہیں۔ یہ کیوں کر ممکن ہے اور اس کے لیے نسخۂ کیمیا کیا ہے؟ فرمایا:

اے ہمارے رب، اور داخل کر اُن کو ہمیشہ رہنے والی اُن جنتوں میں جن کا تو نے  اُن سے وعدہ کیا ہے اور اُن کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں(اُن کو بھی وہاں اُن کے ساتھ ہی پہنچا دے)،   ُتو بلاشبہہ قادرِ مطلق اور حکیم ہے۔ (المومن: ۴۰:۸)

ان آیات کے ذریعے دراصل ہمیں اِس دعا کی تعلیم دی گئی ہے۔ یاد رکھیے، یہ دعائیں  اللہ تعالیٰ نے یونہی تو نہیں بتائیں___ یہ اس لیے بتائی ہیں کہ قبول بھی ہوتی ہیں۔ ہمیں قرآن پاک کے الفاظ پر جتنا یقین ہے، اسی طرح اس بات پر بھی یقین ہونا چاہیے کہ یہ دعائیں نری لفاظی نہیں ہیں بلکہ اللہ کا وعدہ ہیں۔ سوچیں تو سہی، وعدہ کون کر رہا ہے، پھر پورا کیوں نہ ہوگا! بہرحال شرائط تو ہمیں پوری کرنی ہیں۔ یہاں دیکھیے والدین، بیویوں اور اولاد کے لیے جنت کی نوید ہے اور پھر شرط بھی ہے___ کہ وہ جو صالح ہوں، وہی مستحق ہوں گے۔

قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر بیویوں اور اولاد کے لیے جنت کا وعدہ ہے مگر یہ وعدہ دوشرائط کے ساتھ مشروط ہے___ صالح ہونا اور صابر ہونا۔ سورئہ رعد میں اہلِ ایمان کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا:

آخرت کا گھر اِنھی لوگوں کے لیے ہے، یعنی ایسے باغ جو اُن کی ابدی قیام گاہ ہوں گے۔ وہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور ان کے آباواجداد اور اُن کی بیویوں اور  اُن کی اولاد میں سے جو جو صالح ہیں وہ بھی امن کے ساتھ وہاں جائیں گے۔ ملائکہ ہرطرف سے اُن کے استقبال کے لیے آئیں گے اور اُن سے کہیں گے کہ ’’تم پر سلامتی ہے، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا، اُس کی بدولت آج تم اِس کے مستحق ہوئے ہو‘‘۔ پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر! (الرعد۱۳:۲۳-۲۴)

یہ کتنی بڑی خبر اور خوش خبری ہے کہ ہمارے گھر والے بھی جنت میں اکٹھے ہوں گے!     اللہ تعالیٰ ہمیں اور اہلِ خاندان کو اس مرتبے کے قابل بنادے___ آمین!


کام کا آغاز کیسے ہو؟ کیا محنت کرنی ہے، کیا ہے جو سمجھنا ضروری ہے اور کون سا راستہ ہے جو پورے خاندان کو اکٹھے جنت کی طرف لے جاسکتا ہے؟

  •  آغاز، شریکِ حیات کے انتخاب سے: بات وہاں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے خاندان کی بنیاد رکھی جاتی ہے، یعنی جب شریکِ زندگی کی تلاش کی جاتی ہے۔ سفر کا آغاز نیک اور صالح ہم سفر کی تلاش اور انتخاب سے کیا جائے۔ حدیث میں تعلیم دی گئی ہے کہ اس انتخاب کا فیصلہ دین اور اخلاق کی بنیاد پر کریں ورنہ دنیا میں فساد پھیل جائے گا___ جبھی اس فیصلے میں برکت ہوگی۔

یہ کام بڑی ذمہ داری اور سنجیدگی کا حامل ہے۔ جب ہماری اگلی نسل کا دارومدار اسی پر ہے تو پھر سُستی کیوں؟ پھر یہ کام انتخاب پر رُک تو نہیںجاتا۔ آپ کی شادی ہوگئی تو آگے چھوٹے بہن بھائی ہیں، بچے ہیں___ یہ تو ہمیشہ چلنے والا کام ہے اور بڑی سنجیدگی اور دانش مندی سے کرنے کا کام ہے۔

شادی کے بعد اولاد کی فکر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر مکمل قدرت رکھتے ہیں کہ وہ جسے چاہیں اولاد عنایت فرما دیں: ’’اللہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملاجلا کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہرچیز پر قادر ہے‘‘ (الشوریٰ۴۲:۴۹)۔ اُس کی جناب سے عنایت ہوگئی تو شکر ادا کریں، نہیں تو صبر اور پھر  صبر کا اجر بھی بہت ہے۔ ہاں، دعا کا ہتھیار تو ہمارے پاس ہے ہی۔

ہم تو بہت کمزور لوگ ہیں۔ نبیوں نے بھی یہ دعائیں مانگی ہیں۔ دیکھیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا: ’’اے پروردگار! ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو‘‘۔ مشروط دعا___ بیٹا ہو تو صالح ہو۔ اور پھر حضرت زکریاؑ کی دعا بھی___ نیک اولاد کی درخواست کی جارہی ہے۔ دعا کرنا نہ بھولیں۔ دعا مانگنا، ہمارا حق ہے اور بار بار دعا مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ہر ہرقدم پر اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن۔

صالح اولاد بڑی نعمت ہے اور جیساکہ ہم نے پہلے دیکھا، صالح ہونا ایسی شرط ہے جس کے پورا کرنے پر براہِ راست جنت کی بشارت ہے۔

صالح اولاد کا کیا مطلب ہے؟کیا نماز ادا کرلینا اور تلاوتِ قرآن کرنا ہی صالح ہونے کے لیے کافی ہے___ یا پھر اخلاق، معاملات اور عبادات کا درست ہونا بھی صالح ہونے کے لیے ضروری ہے، یا کچھ اور بھی خصوصیات درکار ہیں؟ صالح ہونا دراصل ایسی صلاحیت ہے جس پر بڑے انعام کا وعدہ ہے۔ جنت جیسا انعام، اور پھر بار بار بتایا گیا ہے کہ جنت ابدی قیام گاہ ہے۔

  •  دعا اور عمل ساتھ ساتھ: جب بھی کوئی بڑا منصوبہ یا پراجیکٹ شروع ہوتا ہے تو ایک عزم ہوتا ہے کہ یہ کام کرنا ہے۔ مگر اس کے ساتھ دعا بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عزم میں برکت عطا فرمائیں اور تکمیل آسانی سے ہو۔ دعا اور عزم دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ عزم کے بغیر دعا مناسب نہیں اور دعا کے بغیر عزم بے برکت رہ جاتا ہے: یوں دعا کیجیے: ’’اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا‘‘۔ (الفرقان۲۵:۷۴)

اس خوب صورت دعا میں ایسے ہی خاندان کی محبت جھلک رہی ہے___ بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کو ٹھنڈک ملے، اور دیکھیں اللہ تعالیٰ ہمیں کون سا درجہ دینا چاہتے ہیں___ پرہیزگاروں کا امام۔ یہ دعا محض کسی مقرر کی لفاظی نہیں، اللہ تعالیٰ کے اپنے الفاظ ہیں ___ ان کا پورا ہونا بالکل ممکن ہے۔ ہم اپنی کمزوریوں پر توجہ دیں تو سب کچھ ممکن ہے۔ ذرا مومن بن کر دیکھیں اور دکھائیں تو سہی۔

اب یہ عزم پھر دعا اور پھر عمل کا معاملہ آگیا۔ سوچیں آپ کا بیٹا آپ سے دعا کے لیے کہے کہ دعا کریں، امتحان میں کامیابی ہو، مگروہ خود کھیل میں مصروف رہے تو یقینا آپ کہیں گے    کہ بیٹا تم خود تو امتحان کی تیاری نہیں کر رہے، مجھے دعا کے لیے کہہ رہے ہو۔ گویا عمل کی بڑی اہمیت ہے۔ بقول اقبال ؎

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

  •  والدین کی ذمہ داری: ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے، جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ (التحریم۶۶:۶)

گویا عمل کے لیے والدین کو ذمہ دار ٹھیرایا گیا ہے۔ یہاںجمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور اہلِ ایمان کو اجتماعی طور پر حکم دیا جا رہا ہے: اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچائو۔ اس طرح سے والدین پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ اب نہ کوئی بہانہ ہے، نہ فرار کا موقع۔ لازماً اسے کرنا ہی ہوگا۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر اہل و عیال خدانخواستہ آگ سے نہ بچ سکے، توہم خود ذمہ دار ہوں گے۔ ذرا سوچیے، اہل و عیال کو آگ سے بچانے کے لیے نیک زوج کی کتنی اہمیت ہے، جو خود اس بات کی ضمانت ہو کہ بچوں کی تعلیم و تربیت صحیح طریقے پر ہوگی۔

فرمایا جا رہا ہے:’’اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو‘‘ (طٰہٰ ۲۰:۱۳۲)۔ یہاں محنت کرنے کو کہا گیا ہے کہ بار بار کہو کہ نماز پڑھو اور پھر یہ دوغلی پالیسی نہیں___ خود بھی پابند رہنے کا حکم ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایک مشہور حدیث میں حضوؐر ایک بچے کو سمجھاتے ہیں: اے بیٹے! بسم اللہ پڑھ کر، یعنی اللہ کے نام سے، دائیں ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھانا کھائو۔ ایک ہی حدیث میں یہ تین تعلیمات ہیں۔ بڑی بدقسمتی کی بات ہے جب والدین فرار چاہتے ہیں    اور اپنی ذمہ داری نبھانا چھوڑ دیتے ہیں کہ بچے کو ٹوکنا نہیں، اس سے وہ نفسیاتی مریض بن جائے گا۔ یہ اہلِ مغرب کی سوچ ہے جو خود نفسیاتی مریض بن گئے ہیں، وہ اپنے بچوں کو بھلا کیا سکھائیں گے۔ ہم امربالمعروف اور نہی عن المنکر والے لوگ ہیں، نہ خود برائی کریں گے نہ کرنے دیں گے۔

یقینا عمل کے ساتھ ٹھوس منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے کیونکہ عمربھر کا منصوبہ جو مل گیا ہے۔ حکم آگیا ہے کہ اپنے آپ کو اور اہل و عیال کو آگ سے بچائو!

  •  بچے کی تربیت کے مختلف مراحل: مسلمان کی زندگی ہر طرف سے اللہ کے احکامات میں گھری ہوئی ہے۔ جب کہہ دیا: ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَـآفَّۃً (البقرہ ۲:۲۰۸)، تو اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوگئے۔ زندگی کے ہرمرحلے پر جواب دہی بھی ہے۔ اولاد کی پیدایش سے تربیت کا عمل شروع ہوتا ہے۔ ہم نے اس ضمن میں دعائیں بھی پڑھیں، اسی پیدایش کے لیے نیک زوج کی تلاش اور انتخاب کا مرحلہ بھی گزارا۔ پھر رضاعت، یعنی بچے کو دودھ پلانے کا دور بھی گزارا___  یہ بچے کا حق ہے۔ بچے کی شخصیت ماں کی گود سے ہی بننے لگتی ہے۔ یہی آغوش بچے کی پہلی درس گاہ بھی ہے۔ اس کے بعد، سنِ تمیز ہے، یعنی وہ دور جب بچہ ہوش سنبھالتا ہے اور تین ساڑھے تین سال کی عمر سے پتھر اور کھجور میں تمیز کرنے لگتا ہے۔ پھر بلوغت آتی ہے۔ ہر موقع پر والدین کی جواب دہی ہے۔ خاندان میں بڑا ہونے کی وجہ سے یہ ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے کہ دیکھیں کہ ہرمرحلے پر ہم بچے کو کیا تعلیم دے رہے ہیں؟ کیا بچے کو سنِ بلوغت کے لیے تیار  کیا ہے؟ کیا والدین اور بچے میں اتنی باہمی افہام و تفہیم (understanding) ہے کہ والدین بچے کو تمام احکام خود بتا سکیں اور کسی خلجان میں پڑے بغیر وہ تمام امور سمجھ سکے ،یا پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ بلوغت کے احکام وہ حجام کی دکان سے سیکھ کر آرہا ہو۔ پھر شادی تو ہے ہی سمجھ بوجھ کا کام۔

اس کے بعد بچے کی پیدایش کا مرحلہ آجاتا ہے اور والدین اگلی نسل کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ تربیت اولاد سے متعلق لٹریچر میں ہم پڑھتے ہیں کہ بچوں کو ۷ برس کی عمر میں نماز کا حکم دو۔ ۱۰برس کی عمر میں سزا دینے کی بات کی گئی ہے اور بستر علیحدہ کرنے کا کہا گیا ہے، یعنی جنسی تعلیم شروع ہوگئی۔ عموماً ۱۰ برس میں سزا دینے کی بات ہوتی ہے۔ جان لیجیے کہ والدین پر فرض ہے کہ   وہ سنِ تمیز، یعنی ساڑھے تین سال سے بچے کو نماز میں ساتھ رکھیں۔ والدہ اسے تیار کرے۔ والد صاحب چھے ساڑھے چھے برس تک لگاتار محنت کریں___ خود بھی مسجد جائیں، بچے کو بھی لے کر جائیں۔ والدہ بہانہ نہ بنائے کہ ابھی تو تھکا ہوا ہے، ابھی کھانا کھا رہا ہے۔ والدین کی سالہا سال کی لگاتار محنت کے بعد سزا دینے کی بات ہورہی ہے، یعنی والدین سزا دینے سے قبل اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بارے میں خوب غور کرلیں۔

  •  بچے کی شخصیت کی تعمیر:اسلام کا جامع فہم، ایمان اور یقین کی کیفیت، قول و فعل میں یگانگت، فیصلوں میں دین بطور بنیاد، یہ وہ صفات ہیں جو والدین کو چاہیے کہ بچوں میں پیدا کریں۔ جائزہ لیجیے کہ آیا اُسے اسلام کا جامع فہم حاصل ہوا یا نہیں۔ اللہ کے بارے میں ایمان اور یقین کی کیفیت کیسی ہے۔ نماز اللہ کے لیے پڑھتا ہے یا اس وجہ سے کہ آج والد صاحب غصے میں ہیں، کہیں جھوٹ اور دھوکے بازی تو نہیں کرتا___ آیا فیصلے دین کی بنیاد پر کر رہا ہے یا سماجی دبائو میں۔ آیا اس کا دل ان باتوں سے مطمئن ہے یا نہیں۔
  •  والدین کے لیے بھی ضروری ہے کہ اپنے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی یہ صفات پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ سے تعلق کیسا ہے؟ فرائض کی حد تک یا سنت اور نوافل کی حد تک۔ کاموں میں خلوص کتنا ہے اور دکھاوا کتنا۔ کڑوی بات سن کر صبر کرتے ہیں یا بھڑک کر اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں۔ حکمت عملی میں استقامت کس حد تک ہے۔ وقتی فیصلے ہو رہے ہیں یا مستقل مزاجی ہے۔ بات کھٹاک سے منہ پر دے مارتے ہیں یا حکمت سے کام لیتے ہیں۔ فیصلہ کرنے میں آخرت اثرانداز ہوتی ہے یا دنیاداری کے معاملات۔ کیا لین دین میں دھوکا دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ قرآن کے درس بھی چل رہے ہیں___ سیرت و کردار کے یہ سب پہلو دراصل ہماری شخصیت کے ساتھ ساتھ نیت کی بھی غمازی کرتے ہیں۔ اِنھی سے سیرت نکھر کر سامنے آتی ہے۔

مشاورت، اخوت و محبت، احتساب، نظم و ضبط، اقامت دین یہ اجتماعی صفات، صالح معاشرے کی ضرورت ہیں اور ایسے معاشرے کی تشکیل صالح افراد ہی کرتے ہیں۔ ایسا معاشرہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا جہاں فیصلے مشاورت سے ہوتے تھے، اخوت و محبت کی قدر تھی، اور یہ سب کچھ آج بھی ممکن ہے اگر ہمارا قبلہ درست ہوجائے۔ بھائی چارے سے کام ہورہا ہو تو تھکاوٹ نہیں ہوتی۔ جنگ ِ خندق کے دوران اگر صحابہ کرامؓ نے پیٹ پر پتھر باندھے تو پتا چلا کہ حضوؐر نے دوپتھر باندھے ہوئے تھے۔ غلطی کون نہیں کرتا۔ جنگ اُحد کی مثال ہے۔ صحابہ کرامؓ جیسی جماعت کے بعض افراد سے کمزوری ظاہر ہوئی، مگر احتساب اور نظم و ضبط سے شکست فتح میں تبدیل ہوگئی۔ نظم وضبط ان تمام خوبیوں کا نتیجہ ہے۔ ان تمام باتوں سے اقامت ِ دین کو تقویت ملتی ہے۔ ہرمسجد میں پانچ مرتبہ جماعت کے ذریعے نظم و ضبط کا درس ملتا ہے تو پھر مسلمان معاشرے میں بدنظمی کی کوئی وجہ نہیں، جب کہ یہ تربیت سال ہا سال سے صبح و شام جاری ہے۔ ہمیں اس کی طرف من حیث القوم توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

  •  معاشرتی زندگی کے تقاضے: اس کے بعد اجتماعی زندگی کا مرحلہ آتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘ (اٰل عمرٰن۳: ۱۰۳)۔ یہاں اجتماعیت کی اہمیت بیان کی گئی ہے اور مسلمان کی زندگی تو ہے ہی اجتماعیت۔ گھر میں گھر والوں کے ساتھ، باہر محلے داروں اور دفتر والوں کے ساتھ۔

ہماری معاشرتی کمزوریوں میں کبر، نفسانیت، بے اعتدالی اور ضعفِ ارادہ کے علاوہ بھی  کئی پہلو ہیں۔

  •  یہ مقام ہے اپنا محاسبہ کرنے کا___ اپنا دل ٹٹولنے کا۔ ہمارے دائیں بائیں کئی داعی حضرات ہیں جن کا بڑا قد ہے، جن کی تحریر و تقریر ہیرے موتی جیسی ہے مگر ان کی اپنی اولاد نے ان کے مشن کو آگے نہیں بڑھایا___  یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ کمزوریوں کی ابتدا اپنے گھر سے ہی ہوتی ہے۔ ہمارے گھر ہمارے اور ہمارے گھر والوں کے لیے قلعہ ہیں۔ دروازہ اُونچا اور مضبوط رکھا جاتا ہے۔ مگر ایک کھڑکی ایسی کھول دی جاتی ہے جہاں سے دنیا بھر کی غلاظت گھر میں داخل ہو جاتی ہے۔ گھر کی کمزوریوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اب جدید جاہلیت کا دور ہے۔ یہ مادی ترقی کی جاہلیت ہے۔ یہ وہ دھوکا اور فریب ہے جس کو انسان کی ہلاکت کے لیے باقاعدہ علمی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ نتیجہ کرب، اذیت اور بے چینی ہے۔ یاد رکھیے جب بھی اللہ کے احکام سے روگردانی کی جائے گی اسے جاہلیت ہی کہا جائے گا۔
  •  کبر کو لیجیے۔ کئی بزرگ محبت کرنے کے باوجود___ میری بات مانو، کوئی دوسرا راستہ نہیں___ کے مصداق سخت مزاج واقع ہوتے ہیں۔ وہ مذہبی شخصیت تو ہوتے ہیں،دینی نہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے کبر کی وجہ سے بچے سہمے رہتے ہیں، بیوی دبکی رہتی ہے، نہ مشورہ دیا جاتا ہے نہ لیا جاتا ہے، نہ مشاورت کو اہمیت دی جاتی ہے نہ تربیت کو۔ اندازہ کیجیے گھر پر نفسانیت کا دور دورہ تو نہیں۔ کیا گھر کی اکائی قائم ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ گھر کے افراد کئی ٹکڑیوں میں بٹ گئے ہوں جن کے علیحدہ اہداف اور مقاصد ہوں۔
  •  اسراف و تبذیر کی صورت حال بھی بڑی عجیب ہوتی ہے۔ اسے وقت کی ضرورت بناکر قبول کیا جاتا ہے۔ گھر والوں کو معاشی ذمہ داری بھی دے دی جاتی ہے۔ آخر بچوں کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے کہ انھیں آیا اور ڈے کیئر سنٹر میں پرورش کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مقصد گھر کی اکائی کی حفاظت ہے اور اس کا رخ لازماً اللہ کے حکم اور حضوؐر کی سنت کی سمت ہونا لازمی ہے۔ جبھی تو گھر والے آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون بن سکیں گے اور پھر آخرت میں صدقۂ جاریہ بھی۔
  •  بے اعتدالی میں مذہبی انتہا پسندی بھی آتی ہے۔ گھر والی فرائض ادا کرنے کے بجاے باہر تبلیغ اور نوافل پر ہی زور دینے لگے، بچے کتابی کیڑے بن جائیں یا دیوانگی کی حد تک کھیل کے رسیا ہوں، کرکٹ یا فٹ بال سیریز ہو رہی ہے تو صاحب بہادر نے دفتر سے چھٹی لے رکھی ہے اور گھر نے اسٹیڈیم کی شکل اختیار کی ہوئی ہے۔ یہ سب بے اعتدالی ہے۔
  •  گھر والے اور بعض اوقات آپ خود بھی اپنے آپ کو روکنا چاہتے ہیں تو ضعفِ ارادہ کی وجہ سے روک نہیں سکتے، یہ قوت ارادی کی کمزوری ہے۔ دوغلی پالیسی کے کھلاڑی ایسا کرتے ہیں___ کیا وجہ ہے کہ ہماری کئی خواتین عرب ممالک سے واپسی پر جہاز میں بیٹھتے ہی عبایہ اُتار دیتی ہیں۔ کیا پردے کا حکم پاکستان میں نہیںہے؟ اس طرح انسان کہیں کا نہیں رہتا۔ جس معاشرے میں رہ رہا ہوتا ہے اسی کے رنگ میں رنگ جاتا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مسلمان، مسلمان کے علاوہ سب کچھ بن جاتا ہے لیکن مسلمان نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے لیے جو احکام ہیں اپنے ضعف ِ ارادہ کی وجہ سے وہ اُن پر عمل نہیں کرتا اور اگر کرتا بھی ہے تو مجبوری کی حد تک۔
  •  جسمانی تربیت کے لیے احادیث مبارکہ سے رہنمائی ملتی ہے۔ بچوں کو عیش کوشی کا عادی نہ بنائیں۔ جفاکش (rough & tough) ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح بچیوں کو گھر کے کام کاج بلاتکان کرنا سکھائیں۔ نہ جانے کب کیسا وقت آن پڑے تاکہ وہ چیلنج قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔
  •  خرابی کے داخلی و خارجی اسباب:خرابی کے داخلی اسباب میں انتخابِ زوج، دہرے معیار، نامناسب تقسیم کار، بچوں کو کھلی چھوٹ، دین کی ترجیح نہ ہونا، کم علمی جیسے کئی پہلو ہیں۔ یہ داخلی اسباب سب گھر والوں کی انفرادی توجہ چاہتے ہیں، اور ہم خود اس کے لیے سب سے زیادہ مسئول ہیں۔ مثلاً انتخاب زوج غلط یا نامناسب ہوا یا یہ کہہ لیں کہ پتا ہی نہ تھا۔ ہمارے اپنے معیار، موم کی ناک کی طرح ہوتے ہیں۔ کہیں قول ہے فعل نہیں، اور کہیں فعل ہے تو قول نہیں۔ گھر کی    ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے تقسیم نہیں ہوئیں۔ خاوند صرف معاشی ذمہ داری ہی نبھا رہا ہے۔ وہ اس میں ہی مطمئن ہے کہ وقت پر گھر کا خرچ بیوی کے ہاتھ میں دے دیا۔ مزاج کا سخت ہے۔ اسے کون سمجھائے کہ یہ بچے تمھارے اپنے ہیں___ تمھارا اپنا صدقۂ جاریہ۔ کئی گھروں میں ہوم ورک، بازار سے شاپنگ، دال سبزی آلو پیاز، سب خاتونِ خانہ خود خریدتی ہے۔ صاحب بہادر یا تو دفتر جاتے ہیں یا گھر پر ٹی وی دیکھتے ہیں۔ بچوں پر کون کیا چیک رکھ رہا ہے، اُن کے دوست کون ہیں اور کیسے ہیں، کون سی کتب یا لٹریچر گھر میں آرہا ہے، انٹرنیٹ اور ٹی وی پر کیا دیکھا جا رہا ہے___ اب تو سائبرجرائم کا دور بھی شروع ہوگیا ہے___ کچھ خبر نہیں۔ دین کے لیے ترجیح سے گھبراتے ہیں کہ کہیں مولوی ہونے کا لیبل نہ لگ جائے اور بہت سے کام فقط کم علمی اور ضعف ِارادہ کی وجہ سے بھی غلط ہو رہے ہیں۔ مغربی تہذیب کو بلاسوچے سمجھے گلے لگا لینا بھی ذہنی مرعوبیت کی نشانی ہے۔ اس طرح ہم ہر اُس بیماری کا شکار ہو رہے ہیں جو مغربیت کی وجہ سے ہم میں دَر آئی ہے۔

خرابی کے خارجی اسباب میں سب سے پہلا تو کمزور اور غلط نظامِ حکومت ہے۔ اسی وجہ سے میڈیا، نظامِ تعلیم، ناقص نصاب، سب کسی بھی نوجوان کے اچھا مسلمان بننے کی راہ میں مانع ہیں۔ ہمارے داخلی عوامل بعض اوقات اتنے زیادہ ہوجاتے ہیں کہ ان خارجی عوامل کے لیے وقت ہی نہیں ملتا کہ انھیں ٹھیک رکھا جائے اور یوں معاشرہ بے حسی کا شکار ہوجاتا ہے۔

  •  تربیت کا ذمہ دار کون؟ یہ گھر والوں کی تربیت کا پراجیکٹ ہے تو آخر کوئی اس کا پراجیکٹ ڈائرکٹر بھی ہونا چاہیے۔ اولاد کی تربیت کون کرے؟ ماں کہتی ہے کہ تمھارے ابو دفتر سے آئیں گے تو شکایت لگائوں گی۔ ابو دفتر سے آتے ہیں تو کہتے ہیں ابھی تو تھکا ماندہ آیا ہوں، تو پھر کون ذمہ دار ہے؟ وقت تو رُکے گا نہیں۔ بچے بہرحال والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہیں۔ تعلیم و تربیت، صحت، کھیل کود، کچھ بھی سوچ لیں، بہرحال والدین کو ذمہ داری نبھانی ہے۔ یہ مسلمان معاشرہ ہے۔ یہاں مرد عورت میں مسابقت اور تصادم کی فضا نہیں بلکہ تعاون کا ماحول ہے۔ مغرب میں تو خواتین کے اختیارات (women empowerment) کا شوق پھل پھول رہا ہے۔ اسی لیے وہاں ہر جگہ single mothersملیں گی۔ اب فرانس میں خواتین تنگ آکر کہہ رہی ہیں کہ وہ صرف گھر پر والدہ کا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں مگر ان کی بیماری اپنی آخری حدوں کو پہنچ گئی ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان والدین اپنی اس مشترکہ ذمہ داری کا احساس کریں اور بطریق احسن نبھائیں کیونکہ اولاد تو دونوں کی ہے، اور دونوں کے لیے صدقۂ جاریہ بھی۔

اس ضمن میں علماے کرام رہنمائی کرتے ہیں کہ بچوں میں یہ خوبیاں تب پیدا ہوں گی جب والدین میں یہ صفات ہوں گی۔ یہ نہ ہو کہ والد نے کہہ دیا کہ باہر کہہ دو گھر پر نہیں ہوں۔ والدہ فون پر جھوٹ بول رہی ہوں۔ پڑوس کی گیند گھر میں آگئی تو جھوٹ بول دیا،والدین خاموش رہے۔ بچہ ٹی وی رات گئے تک دیکھتا رہا، صبح وقت پر نہ اُٹھ سکا، لہٰذا اسکول میں بیماری کی درخواست دے دی___ یہ سب تضادات ہیں۔ بے عملی اور کمزوری کا نتیجہ ہیں۔ بظاہر یہ معمولی باتیں چھوٹی ہیں مگر شیطان تو تاک میں لگا رہتا ہے۔

اس ساری بحث کے نتیجے میں گھر والوں کی تربیت، اللہ کے سامنے جواب دہی کی اہمیت بخوبی واضح ہوجاتی ہے۔ یہ سب اسی وجہ سے ہے کہ ہمیں اپنے اہلِ خانہ سے محبت ہے اور محبت کے اپنے تقاضے ہیں۔ صورت حال کی بہتری کے لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ یقین محکم، عملِ پیہم کے مصداق اہلِ خاندان کو مسلسل تذکیر و نصیحت کرتے رہیں اور یہ کہ ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ نیکی کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں۔ تربیت کا خاطرخواہ انتظام کریں۔ اخلاقی اعتبار سے مضبوط بنائیں اور شخصیت کی تشکیل و تعمیر پر توجہ دیں۔ جبھی تو گھر کے آنگن میں خوب صورت پھول کھلیں گے اور میٹھے پھل لگیں گے۔

  •  اصل کامیابی:کوشش یہی ہونی چاہیے کہ یہ بچے بڑے ہوکر صالح مسلمان مرد/ عورت بن سکیں۔ کل انھی بچوں کو والدین  کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ ہم مسلسل دعا کرتے رہیں اور بہترین کوشش بھی___ یہ بچوں کا حق ہے۔ مضبوط ارادہ، مسلسل دعا، عملِ پیہم، بہترین منصوبہ بندی کے بعد ہی ہم کامیابی کی اُمید رکھ سکتے ہیں۔ اگر ارادہ، عمل اور منصوبہ بندی میں بگاڑ ہوگا تو پھر بگاڑ والے نتائج ہی سامنے آئیں گے۔ اور پھر: ’’کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے۔ رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے‘‘۔ (اٰل عمرٰن۳:۱۸۵)

کامیابی___ اصل کامیابی تو جنت کا حصول ہے کہ ہم آتشِ دوزخ سے بچ جائیں۔ یہ خوش خبری ملاحظہ ہو: ’’جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اُن کی اولاد بھی کسی درجۂ ایمان میں ان کے نقشِ قدم پر چلی ہے ان کی اُس اولاد کو بھی ہم (جنت میں) اُن کے ساتھ ملا دیں گے اور اُن کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے۔ ہرشخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے‘‘۔ (الطور۵۲:۲۱)

یہ خوش خبری ایک چھوٹ، ایک آسانی کی خبرہے، ایک رعایت (concession) ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اولاد کسی بھی درجہ ایمان پر ہو تو جنت میں ملا دی جائے گی۔ مگر ہمیں    خوب سے خوب تر کی تلاش رہنی چاہیے۔ اسی طرح بچوں کی تربیت کے لیے بھی بلندمعیار پیشِ نظر رہنا چاہیے۔ ہم تو پرہیزگاروں کے امام بننا چاہتے ہیں۔ یہی دعا بھی مانگتے ہیں۔ گویا best of the best کے متلاشی رہیں۔ درجۂ احسان ہمارا مطمح نظر ہونا چاہیے اور حقیقی کامیابی یہ ہے کہ جنت میں ہمارا اور گھروالوں کا ساتھ ہو۔ آمین!

مقام غوروفکر ہے ___ اپنی اور اولاد کی اخروی کامیابی کے لیے ہمیں سنجیدہ ہونا ہے،  کوشش کرنی ہے، کمرہمت باندھ لینی ہے۔

ہمیں اپنے آپ کو اور اہلِ خانہ کو آگ سے بچانا ہے___ اس کے لیے ہم جواب دہ ہیں۔ یہ کیسی روح پرور اور خوش کُن اور قابلِ عمل بشارت ہے کہ اگر ہم صالح ہوں اور صبر سے کام لیں تو ہم اور اہلِ خانہ جنت کے ساتھی بن سکتے ہیں ورنہ یہ افسوس ہی رہے گا کہ مہلتِ عمل تو ملی تھی مگر ہم اِدھر اُدھر وقت ضائع کرتے رہے۔

آیئے! اس دعا کے ساتھ اختتام کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ عزم بھی کرتے ہیں کہ ہمیں اہلِ خانہ کے لیے اور اپنے لیے کوشش کرنی ہے___ اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔ آیئے ہم عزم کریں کہ کوشش میں کسر نہیں اُٹھا رکھیں گے۔ آمین!


(کتابچہ دستیاب ہے۔ منشورات، لاہور قیمت: ۷ روپے، ۵۰۰ روپے سیکڑہ)

اِبتلا و آزمایش میں ثابت قدم رہنے اور اس سے کامیابی کے ساتھ عہدہ برآ ہونے کے متعدد طریقے اور راستے ہیں۔ مومن کی حیثیت سے ان کو سامنے رکھنا اور ان میں سے اپنی حالت کے مطابق کسی ایک دو یا زیادہ کو اختیار کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طریقے واضح طور پر بیان کیے ہیں۔ ان میں سے بعض کا تذکرہ کیاجاتا ہے۔

عقیدۂ توحید پر ایقان

اِبتلا و آزمایش میں سے کامیابی سے گزرنے کے لیے بنیادی بات عقیدۂ توحید پر پختہ ایمان ہے۔ جتنا یہ عقیدہ مضبوط ہوگا، اتنا ہی آسانی سے مومن اِبتلا و آزمایش سے گزر جائے گا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں میں بڑی بڑی آزمایشیں آئیں لیکن عقیدے کی پختگی کی وجہ سے ذرہ برابر قدم ڈگمگانے اور پسپائی اختیار کرنے کی حالت و کیفیت ان کے نزدیک نہیں آئی۔ حضرت بلالؓ پر کفارِ مکہ نے کتنی سختیاں کیں لیکن احد، احد ہی پکارتے رہے اور اِبتلا و آزمایش سے نکل آئے۔ ایسے سیکڑوں صحابہ کرام و تابعین تھے جنھوں نے اس طرح کا مظاہرہ کیا۔ اِبتلا وآزمایش کے بعد کے ادوار میں ایسے بہت سے مومن نظر آتے ہیں جو توحید کے عقیدے پر مضبوط ایمان کی وجہ سے کامیاب ہوکر نکلتے دکھائی دیتے ہیں۔

موجودہ دور کی گوناگوں آزمایشیں جیسے مصر میں اخوان المسلمین، اور وسطی ایشیا کے لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔ فلسطین و عراق کے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے، افغانستان میں بارود اور لوہے کی آگ برسائی گئی اور خون کے دریا بہائے گئے۔ پل چرخی اور گوانتانامو کی بدنامِ زمانہ جیلوں میں اللہ کے نام لیوائوں کو روح کو لرزہ دینے والی اذیتیں دی گئیں لیکن اللہ کے بندے عقیدۂ توحید پر پختہ یقین اور تعلق باللہ کی وجہ سے ذرا برابر نہیں ڈگمگائے اور ایک دفعہ پھر سنت ِابراہیمی ؑ کو دنیا کے سامنے زندہ کردیا۔

ابتلا و آزمایش کی دو صورتیں ہیں: ایک طرف ظلم وستم خوداپنی ذات پر اور بعض اوقات بیوی، بچوں اور خاندان والوں پر۔ اگر یہ کارگر نہ ہو تو پھر دولت اور جاہ و جلال کی طمع اور خوف۔  امام احمد بن حنبلؒ پر جب تک کوڑے برستے رہے بڑی ہمت و جرأت سے برداشت کرتے رہے لیکن جب دولت پیش کی گئی تو گھبرا گئے اور رونے لگے۔

آخرت پر یقین

اسلام میں آخرت کا عقیدہ اساسی و بنیادی ہے۔ مکی دور میں قرآن مجید نے اسے مختلف طریقوں سے بیان کر کے اپنے پیروکاروں کو ذہن نشین کرایا ہے۔ قرآن مجید کی ۱۱۴ میں سے ۱۰۰سورتوں میں آخرت کا تذکرہ موجود ہے۔ پھر جتنی تفصیل آخرت کے بارے میں ہے اور جنتیوں اور دوزخیوں کے باہمی مکالمے، گفتگوئیں اور ان کی خواہشات بیان ہوئی ہیں، توحید و رسالت کے بعد شاید ہی کسی اور عقیدے کی اتنی تفصیل بیان ہوئی ہو۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آخرت کے پختہ عقیدے کا انسانی زندگی پر گہرا اثر ہوتا ہے اور انسان کی سیرت و کردار کی تعمیر اور نشوونما میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔

تعلق باللّٰہ

اِبتلا سے کامیابی کے ساتھ نکلنے کا توحید کے بعد سب سے مضبوط اور یقینی طریقہ اللہ کے ساتھ تعلق جوڑنا اور اسے پختہ کرنا ہے۔ اِبتلا کے جتنے واقعات قرآن مجید میں اور احادیث ِ مبارکہ میں بیان ہوئے ہیں ان کے اختتام پر تعلق باللہ کو مختلف پیرایوں سے بیان کیا گیا ہے، جیسے    سورۂ ملک (۶۷:۳-۴)، سورۂ قلم (۶۸:۲۸-۲۹)، سورۂ یونس (۱۰:۳۰)۔

تعلق باللہ کی متعدد صورتیں ہیں۔ انھیں حسب ِ حال اختیار کرنا چاہیے۔ چند ایک کا مختصراً تذکرہ کیا جاتا ہے۔

  •  اللّٰہ کا ذکر: اللہ تعالیٰ کی یاد زبان و دل اور احساس و شعور سے کرنا، اُٹھتے بیٹھتے، لیٹتے اور چلتے پھرتے ہر حال میں اللہ کا ذکر جاری رہے۔ بزرگوں نے بہت سے اذکار مسنونہ و ماثورہ لکھے ہیں۔ اللہ کا ذکر تعلق باللہ کی بنیاد ہے۔ قرآن مجید میں ذکراللہ کا کلمہ اور ترکیب ۲۹۰ مرتبہ آئی ہے۔ ان میں دو تہائی اللہ کی یاد کے لیے ہے۔ اس یاد میں تقویٰ کی کیفیت بھی ہے تو قلبی و روحانی پاکیزگی بھی۔مسنون دعائیں اور ماثورادعیہ زندگی کے تمام معاملات کے لیے بیان ہوئی ہیں۔ زندگی کا چھوٹے سے چھوٹا کام جیسے چھینک آنا، پانی پینا، کھانا کھانا، اس سے فارغ ہونا، حتیٰ کہ کپڑا پہننا، بیت الخلا میں داخل ہونا یا باہر نکلنا۔ کوئی تکلیف پہنچنا، کوئی راحت و نعمت حاصل ہونا بہرحال ذکراللہ سے خالی نہیں ہے۔ یہاںتک کہ دو افرادباہم ملیں تو سلام (ذکرودعا) سے ملیں۔
  •  نماز: نماز میں ذکر کے کئی پہلو ہیں بلکہ خود نماز کو ذکراللہ کہا گیا ہے:

اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ (الجمعۃ ۶۲:۹) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔

سلف صالحین اور شہدا و دعاۃ کی زندگیوں میں دیکھتے ہیں کہ جب وہ آزمایش میں مبتلا ہوئے تو نماز کی طرف سبقت کی۔ قرآن مجید نے فرمایا: وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ (البقرۃ ۲:۴۵ و۱۵۳) ’’صبر اور نماز سے مدد لو اور تقویت حاصل کرو‘‘۔

نماز کے کئی اہم پہلو ہیں جیسے دلی اطمینان حاصل ہونا، اجروثواب کا ملنا، برائیوں سے بچنا، شیطان اور شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہنا، دنیا اور آخرت کے خسارے سے بچنا اور اِبتلا سے بخیروخوبی گزر جانا، نیز نماز باجماعت اور نظامِ صلوٰۃ کی اپنی اہمیت ہے۔

بندہ جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کا براہِ راست اللہ سے تعلق جڑ جاتا ہے اور درمیان سے سب واسطے ہٹ جاتے ہیں۔ اسی لیے نماز کو مومن کی معراج کہا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بندہ جب سجدے میں ہوتا ہے تو اللہ سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔

  •  تھجد: داعی اور مومن کامل کے لیے تہجد ضروری ہے۔ تہجد اللہ کا قرب حاصل کرنے، اللہ سے استعانت اور اس کی یاد کا بہترین طریقہ ہے، لہٰذا داعی حضرات اور آزمایش میں مبتلا شخص کے لیے اس کی ادایگی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نمازِ تہجد کو قیامُ اللیلقرار دیا ہے جس سے مراد سجدوں اور رکوعوں میں رات گزارنا، اللہ تعالیٰ سے گِڑگڑا کر دعائیں مانگنا اور اپنے کام میں تقویت حاصل کرنا ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے مطالعہ کریں: بنی اسرائیل ۱۷:۷۹، المزمل ۷۳: ۲-۲۰، الفرقان ۴۰: ۶۴، الدھر ۷۶:۲۶، السجدہ ۳۲:۱۶، آل عمران ۳:۱۹۱، النساء ۴:۱۰۳)
  •  تلاوت قرآن مجید: تعلق باللہ کا ایک مضبوط ذریعہ کتاب اللہ کی تلاوت ہے۔ ارشاد باری ہے: وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا (اٰل عمرٰن ۳:۱۰۳) ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘۔ ایک روایت میں حبل اللہ قرآن مجید کو کہا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’قرآن اللہ کی مضبوط رسی اور اس کی سیدھی راہ ہے‘‘۔ (ابن کثیر، ج ۱، ص۳۸۸)

تلاوت کا لطف اور مزہ اس وقت حاصل ہوگا جب خوش الحانی، یک سوئی اور تفکر وتدبر کے ساتھ تلاوت کی جائے۔ اس قسم کی تلاوت سے وقتی طور پر دکھ درد دُور ہوجاتے ہیں اور آدمی اپنے آپ کو راحت میں محسوس کرتا ہے۔ لہٰذا صبح و شام اور سفروحضر میں تلاوت کا اہتمام ہونا چاہیے۔

مکہ مکرمہ کے ابتدائی دور میں اور مشکل اوقات میں صحابہ کرامؓ تلاوت کرتے تھے اور  کتاب اللہ کی تلاوت سے قوت اور سہارا لیتے تھے۔ حضرت جعفرؓ سے جب شاہِ حبشہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے قرآن مجید کی سورئہ تحریم کی تلاوت کی۔ اس سے ایک طرف ان کو اطمینان ہوا تو دوسری طرف یہ تلاوت ان کے لیے حق گوئی، بے باکی اور اِبتلا سے نکلنے کا ذریعہ بن گئی۔اس طرح تلاوت میں ضروری آداب کا ملحوظ رکھنا، صحیح تلفظ سے ادایگی، اس کے معنی اور مفہوم پر نظر رکھنا اور اس میں غورکرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت کی برکات اور فائدے حاصل کرنے کے لیے یہ دعا سکھائی گئی:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلِ القُراٰنَ رَبِیحَ قُلُوبِنَا وَنُورَ صُدُورِنَا وَذَھَابَ ھُمُومِنَا وَجِلَائَ اَحْزَانِنَا، یااللہ! قرآن کو ہمارے دلوں کی بہار بنا دے، ہمارے سینوں کا نور بنا دے، ہمارے خوف کے دفع کرنے اور ہمارے غم کا مداوا بنادے۔

انبیا کی سیرت و کردار کا مطالعہ

اِبتلا میں عام طور پر سابقہ انبیا کی سیرت کا پڑھنا، اس میں غوروفکر کرنا،ان کی اِبتلا و آزمایش کا گہرا مطالعہ کرنا اور انھوںنے جس طرح ثابت قدمی دکھائی، اسے سامنے رکھنا اور ان کے اسوہ سے تقویت حاصل کرنا اور خود کو اس پر عمل کرنے کے لیے آمادہ کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ انبیاے کرام کی سیرت میں صبر وثبات اور ثابت قدمی کے بے شمار نمونے سامنے آتے ہیں۔ عقیدت اور یقین سے ان کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو انسان کو بڑی تقویت حاصل ہوتی ہے۔

سیرتِ مصطفٰیؐ سے رھنمائی

اِبتلا وآزمایش میں گرفتار شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، سنت اور احادیث کا مطالعہ کرے تو قدم قدم پر آپؐ کی اِبتلاوآزمایش کے نمونے سامنے آئیں گے۔ دورِ طفولیت سے لے کر اس دنیا سے آپؐ کے تشریف لے جانے تک قدم قدم پر آپؐ کو مختلف آزمایشوں سے واسطہ پیش آیا ہے۔ ذہنی، جسمانی، مالی و معاشرتی اور تمدنی معاملات میں آپؐ کو تکالیف پہنچائی گئیں۔ آپؐ کے پیارے ساتھیوں کو بے حد ستایا گیا۔ لہٰذا آپؐ کے امتیوں اور پیروکاروں کو آپؐ کے اسوئہ حسنہ سے تقویت و اہمیت حاصل کرنی چاہیے۔ آپؐ کے ان فرمودات کو بھی سامنے رکھنا چاہیے جن میں ایک طرف سابقہ اُمم کے واقعات بتاکر ان کی ثابت قدمی اور صبر کی کیفیت بیان کر کے مثالیں دی گئی ہیں اور ساتھ ہی اِبتلا میں ثابت قدم رہنے کا اجروثواب بیان اور آخرت کی کامیابی کا مژدہ سنایا گیا ہے۔ یہ بھی تقویت کا ذریعہ ہیں۔

اجتماعیت سے جڑنا اور صالحین سے تعلق

اسلام کا مجموعی مزاج اور نظام اجتماعی ہے۔ اس میں انفرادیت اور انفرادی زندگی کا بہت کم حصہ ہے۔ لہٰذا مومن کو عام حالات میں بھی تنہائی سے بچنا چاہیے بلکہ اجتماعیت اختیار کرلینی چاہیے۔ ارشاد باری ہے: ’’تم میںایک اُمت ایسی ہونی چاہیے جو نیکی کی طرف بلائے جو معروف (بھلائی) کا حکم دے اور برائی سے روکے اور وہی لوگ کامیاب ہیں‘‘ (اٰل عمرٰن۳:۱۱۴)۔ مزید فرمایا: ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو‘‘۔ (التوبۃ ۹:۱۱۹)

اجتماعیت سے جڑنے سے، اور اجتماعیت بھی ایسی جو پورے دین پر عمل کرنے اور اسے نافذ کرنے کا کام کرتی ہو، آدمی سنبھل جاتا ہے، اسے سہارا ملتا ہے، تقویت پہنچتی ہے اور یہ ہمت افزائی کا سبب بن جاتی ہے اور اسے اِبتلا سے نکال لیتی ہے۔

اِبتلا کے دنوں میں صالحین سے تعلق مضبوط کرنا، اجتماعیت کے ذمہ داروں سے مزید قریب ہونا، ان سے اپنے حالات بیان کرنا، اپنی مشکلات اور مصائب کا اظہار کرنا، اپنے نفس کی حالت بتانا، ان سے رہنمائی اور مشورہ لینا چاہیے،اور وقتاً فوقتاً ان سے ملنا چاہیے۔ اگرنفس میں غرور و تکبر ہے یا غلط اوہام ہیں یا قوتِ فیصلہ کام نہیں کر رہی توان کا علاج معلوم کرنا چاہیے۔

ایک روایت ہے کہ آدم علیہ السلام نے کہا کہ اگر میں فرشتوں سے مشورہ کرتا تو نقصان نہ اٹھاتا‘‘۔ (شرح اربعین نووی ابن رجب حنبلی)۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَo (النحل ۱۶:۴۳، الانبیا ۲۱:۷) ’’اہلِ علم سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے‘‘۔ لہٰذا اہلِ علم و دانش اور اس راہ کے راہی، داعیوں اور مبلّغوں سے مشاورت کرنا فائدہ مند ہے۔ مشورہ اور خیر میںکئی پہلو ہیں، اس لیے مومن کو چاہیے کہ اچھے، نیک، باکردار لوگوں سے ہراہم معاملے میں مشورہ لیتا رہے اور اسے اپنا طریقہ و وتیرہ بنا لے۔ عام طور پر اِبتلا میں لوگ اس کے مختلف پہلوؤں اور گوشوں میں کھو جاتے ہیں اور اس سے نکل نہیں پاتے بلکہ نااہل اور نابلد لوگوں سے مشورہ کرنے کی وجہ سے مزید اُلجھ جاتے ہیں اور الجھے رہتے ہیں۔

دعوت کا کام

اِبتلا وآزمایش میں مومن کو چاہیے کہ دعوتی تحریکوں اور تنظیموں سے مل کر دعوتی اور اصلاحی کام کرے۔ خاص طور پر جماعت اسلامی سے مضبوطی و دل جمعی سے وابستہ ہوکر اعلاے کلمۃ اللہ اور اقامت ِدین کی کوشش کرے۔ اسی طرح دوسری دعوتی تنظیموں سے بھی حسب حال جڑا جاسکتاہے۔

جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون کے پاس زمانۂ حال میں رہنمائی کرنے والا وسیع لٹریچر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزاے خیر دے کہ انھوں نے اسلام کے تمام انفرادی اور اجتماعی کاموں پر روشنی ڈالی ہے اور ہر زاویے سے اسلام کی نمایندگی اور وضاحت کی ہے۔  جماعت اسلامی کے شائع کردہ لٹریچر میں مولانا مودودیؒ کا وسیع لٹریچر اتنا جامع، مکمل اور دین کا احاطہ کیے ہوئے ہے کہ اگر درسِ نظامی کا ایک فارغ التحصیل عالم مطالعہ کرے تو وہ جدید علوم سے روشناس ہوجاتا ہے اور موجودہ دور کے تقاضوں کو سمجھ کر دین کے کام کا واضح لائحہ عمل پاتا ہے،  جب کہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں کو دین کا فہم نصیب ہوتا ہے اور عمل کی ترغیب ملتی ہے۔

دعوتی کام کرنے سے دینی احکام کی عملی تعلیم حاصل ہوتی ہے اور انسان عملی طور پر دینی احکام کا عادی بن جاتا ہے۔ اسی لیے طبیعت میں دین رچ بس جاتا ہے۔ دعوتی کام میں کسی جماعت کے ساتھ ہونے سے ہم خیال اور ایک راہ کے راہی لوگوں سے جڑ جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کا سہارا بن جاتے ہیں۔ اگر ایک گر رہا ہے تو دوسرے اسے سنبھالنے کے لیے آگے   آتے ہیں۔ پھر معاشرتی، معاشی، اخلاقی لحاظ سے ایک دوسرے کے لیے معاون بن جاتے ہیں اور تنگی ترشی میں ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں۔ اس طرح ایک کفالتی (مالی تعاون کا) نظام بن جاتا ہے۔ دنیا میں بہت ساری مثالیں ہیں۔ تازہ دور کی ایک مثال فلسطین کی سب سے بڑی جماعت حماس ہے جس نے لاکھوں مصیبت زدہ اور جنگ کے مارے ہوئے، لٹے پٹے خاندانوں کی ایک عرصے تک کفالت کرکے مدینہ کی مواخات کا سبق عملاً دہرایا۔

صبراختیار کرنا

صبر اِبتلا میں سے نکلنے کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔ کتاب اللہ میں اِبتلا کا واقعہ بیان کرنے کے بعد عام طور پر صبر کا تذکرہ ہے۔ سورئہ بقرہ کی آیت ۱۵۷ میں ہے: وبشرالصابرین اور صبر کرنے والوں کو بشارت دے دیجیے۔ (مزید دیکھیے: سورہ محمد ۴۷:۳۱، البقرہ ۲: ۱۷۲-۲۴۹،اٰل عمرٰن ۳:۱۶-۱۷، ھود۱۱:۴۹، الصافات ۳۷:۱۰۳۔ الاحقاف ۴۶:۳۵،  الفرقان ۲۵:۴۲، الانعام ۶:۳۴، الکھف ۱۸:۲۸)

صبر کرنے سے بے قراری ختم ہوجاتی ہے۔ مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں اور برداشت کی قوت پیدا ہوجاتی ہے اور ضبطِ نفس کی صفت سے بندہ متصف ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید میں صبر کا کلمہ ۹۲ مرتبہ آیا ہے اور ان میں سے اکثر اِبتلا میں صبر کرنے کے لیے ہے۔

دعا کا ھتہیار

اِبتلا و آزمایش سے کامیابی کے ساتھ نکلنے کا ایک بڑا وسیلہ دعا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دعا مومن کا ہتھیار، دین کا ستون اور زمین و آسمان کا نور ہے‘‘(مشکوٰۃ)۔ دعا تعلق باللہ کا بڑا ذریعہ، دلی تسلی کا مضبوط وسیلہ، اجروثواب کا باعث، شیطان کے وسوسوںسے بچنے کا بہترین عمل اور دنیا وآخرت کے خسارے سے محفوظ رکھنے کا سبب ہے، لہٰذا مومن کو اِبتلا میں خاص طورپر اورعام حالات میں بھی دعا کی کثرت رکھنی چاہیے کیونکہ مومن کی دعا کبھی بے کار نہیں جاتی بلکہ اپنے اثرات دکھاتی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو بندہ بروقت، ہر جگہ اور ہر حالت میں کرسکتا ہے۔

علما و شھدا کو نمونہ بنانا

علما، شہدا، صالحین کی سیرت کو نمونہ بنانا چاہیے۔ اِبتلا میں گھرے ہوئے مومن کو چاہیے کہ سلف صالحین کی سیرت کا مطالعہ جاری رکھے اور ان سے تقویت حاصل کرے۔ ان کی سیرتوں میں سیکڑوں ہزاروں ایسے نمونے موجود ہیں جس سے اِبتلا میں رہنمائی ملتی ہے۔ ان نمونوں میں ان لوگوں کا اِبتلا میں صبروثبات، حق گوئی، تعلق باللہ نمایاں ہے۔ اس لیے اِبتلا میں گھرے ہوئے شخص کو ان کی سوانح حیات کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

دعوت دین میں مصروف و مشغول لوگوں کو ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کی غائبانہ دعائیں پہنچتی رہتی ہیں، نیز ان ساتھیوں کی طرف سے دعائیں ہوتی ہیں۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ ان کی دعائیں ان کو گھیر لیتی ہیں۔ بہرحال اِبتلا وآزمایش کے وقت انسان بہت ساری برائیوں سے بچ جاتا ہے اور شیطان کے وسوسوں اور شرارتوں سے محفوظ رہتا ہے۔

اس دور میں مسلم اُمہ پر اجتماعی طور پر اور دعوت کا کام کرنے والوں پر خاص طور پر بڑی اِبتلائیں اور آزمایشیں آئی ہیں۔ اس طرح انفرادی طور پر بھی کافی لوگ اس سے گزرے ہیں۔ ان میں مصر کے علما و دعاۃ اور صلحا گرفتار ہوئے، نیز شام، ترکی، سوڈان اور دیگر ممالک سے وابستہ افراد کی طویل فہرست ہے۔ ان کے ہراول دستے میں محمد بن عبدالوہاب، سید محمد احمد مصری سوڈانی، سیدجمال الدین افغانی، امام محمد عبدہٗ، رشید رضا مصری، امام حسن البنا شہید، سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا محمودحسن، مولانا محمدقاسم نانوتوی، فقیرایپی، مُلّا شوربازار، مولانا تاج محمودامروٹی، سیدقطب شہید، عبدالقادر عودہ شہید شامل ہیں، جنھوں نے تمام تر خطرات و مشکلات کو انگیز کر کے اُمت کو روشن شاہراہ دی اور بہت بڑا علمی ذخیرہ چھوڑا۔ کچھ لوگ گھر سے بے گھر، وطن سے بے وطن اور بے بسی کی حالت میں ہجرت کر کے نکلے لیکن دین کے کام میں آخر دم تک مصروف رہے۔ ان کی فہرست تو بہت طویل ہے البتہ کچھ کا تذکرہ کیا جاتا ہے جیسے محمد غزالی، زینب الغزالی، عبدالبدیع صقر، محمد علی صابونی، ڈاکٹر یوسف قرضاوی، استاد عبداللہ العلوان، سعید رمضان، ڈاکٹر مصطفی السباعی، عبدالرحمن عزام، حسن الہضیبی، السید سابق، فواد سرگیں، عبدالوہاب خلاف، ڈاکٹر نبیل الطویل اور ڈاکٹر عبداللہ عزام شہید وغیرہ۔ یہ چند نام تو ان حضرات کے ہیں جنھوں نے زبان و قلم، علم وعمل سے جہاد کیا لیکن جنھوں نے اپنے مال ودولت اور جسم و جان سے اس راہ میں قربانیاں دیں وہ تو اَن گنت ہیں، ایک طویل فہرست ہے۔ اس دور میں عزیمت اور ثابت قدمی کی مثالیں افغانستان میں بگرام اور قندھار کی جیلیں، عراق کی ابوغریب اور گوانتاناموبے کے قیدیوں اور بہن عافیہ صدیقی کی ہے۔ یہ وہ شخصیات ہیں جو نشانِ راہ اور روشنی کے مینار ہیں۔

ایسے ہی لوگ اس آیت کے مصداق بنتے ہیں اور اس زمرے میں شامل ہوتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاo (الاحزاب ۳۳:۲۳) ’مومنوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی‘‘۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اپنے دل و جان سے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی سے اصلاحِ حال کے لیے مصروف ہیں۔ فرمایا: وَ الَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت ۲۹:۶۹) ’’جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں ان کو ہم اپنی راہوں کی ضرور ہدایت دیتے ہیں‘‘۔

الغرض اِبتلا و آزمایش مومن کے لیے ایک لازمی منزل ہے، لہٰذا اسے پہچاننا، اس کا احساس و شعور رکھنا، اس میں ثابت قدم رہنا، اس سے صحیح طور پر نکلنے کے لیے جدوجہد کرنا اور روحانی و مادی وسائل ڈھونڈنا مومن کا وتیرہ ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!

 

دین اسلام کی اہم اساسی اصطلاحات میں سے ایک بڑی اصطلاح اِبتلا ہے۔ انسانی زندگی میں، چاہے وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اِبتلا کا واقع ہونا ضروری ہے۔ یہ فطرۃ اللہ ہے، یہ سنت اللہ ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہر انسان کی آزمایش کرکے اسے لوگوں کے سامنے نمایاں کرتا ہے۔ اس سے انبیا، صلحا، شہدا اور اولیاء اللہ، مسلم اور غیرمسلم سب کو واسطہ پیش آتا ہے اور ہرانسان کو اس سے گزرنا ہوتا ہے۔ جب انسان کو موت اور حیات سے سابقہ پیش آتا ہے تو اسے اس منزل سے گزرنا بھی لازمی ہے۔ ارشار باری تعالیٰ: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ط وَّھُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ o (الملک ۶۷:۲) ’’جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی‘‘۔

باری تعالیٰ نے عمومی اِبتلا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّھَالِنَبْلُوَھُمْ اَیُّھُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاo (الکھف ۱۸:۷) ’’واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ سروسامان بھی زمین پر ہے، اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ان لوگوں کو آزمائیں، ان میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے‘‘۔

ان دونوں آیات کا روے سخن تمام انسانوں کی طرف ہے۔ گویا یہ سروسامان جو زمین کی سطح پر تم دیکھتے ہو اور جس کی دلفریبیوں اور رنگینیوں پر تم فریفتہ ہو ایک عارضی زینت ہے جو محض تمھیں آزمایش میں ڈالنے کے لیے مہیا کی گئی ہے لیکن تم اس غلط فہمی میں مبتلا ہوکہ یہ سب کچھ ہم نے تمھارے عیش و عشرت کے لیے فراہم کیا ہے اس لیے تم زندگی کے مزے لوٹنے کے سوا اور کسی مقصد کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سامان عیش نہیں،بلکہ وسائلِ امتحان ہیں۔ تمھیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جس انسان نے زندگی دیکھی ہے وہ لازماً موت بھی دیکھے گا اور اسے دنیا کی زندگی میں اِبتلا و آزمایش اور امتحان سے گزرنا ہوگا۔

مفھوم

اِبتلا کا مادہ ب ل و ہے۔ اس کا مصدر بلاء ہے۔ قرآن مجید میں اس مصدر اور جڑ سے کل ۳۷ کلمات آئے ہیں۔ یہ کلمہ دو ابواب سے آیا ہے: باب بَلٰی یَبْلُوْ بلائً (ن) اِبتَلی یَبْتَلِیْ اِبْتِلَائً سے مختلف افعال اور اسماء کی صورت میں آیا۔ یہی بَلٰی یَبْلُوْ بَلَاء فعل متعدی ہے اور اِبْتَلٰی یَبْتَلِیْ اِبْتِلَائً سے فعل لازم اور متعدی دونوں ہیں جس کے معنی ہیں: آزمانا، تجربہ کرنا اور امتحان لینا۔ یہی معنی بلاء اور اِبتلا کے اصطلاحی بھی ہیں۔ انسان کے مقصدِحیات کے بارے میں آزمایش کرنا اور امتحان لینا۔ اس کلمے کے دو اور مترادف کلمے قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں: فِتنَۃ، فَتَنَ، یَفْتِن اور اِمتحان کا کلمہ ہے ان تینوں کے معنی بظاہر تو ایک دوسرے سے ملتے ہیں لیکن معنی میں گہرائی کے لحاظ سے تھوڑا سا فرق ہے۔

۱- اِمتَحَن، اِمْتِحَان ایسی آزمایش کو کہتے ہیں جس میں سختی کے بجاے نرمی کی جائے اور اس میں کشایش کا پہلو بھی شامل ہو۔ (ملاحظہ کریں سورۃ الممتحنہ ۶۰:۱۰)

۲- بَلٰی یَبْلُوْبَلَائً ایسی آزمایش جس میں سختی اور نرمی دونوں پائی جائیں۔ یہ آزمایش خیروشر، نرمی و سختی دونوں صورتوں میں ہوسکتی ہے جیسے ارشاد ہے: بَلَوْنَاھُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّاٰتِ لَعَلََّھُمْ یَرْجِعُوْنَ o (الاعراف ۷:۱۶۸) ’’اور ہم ان کو اچھے اور بُرے حالات سے آزمایش میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں‘‘۔

چونکہ آزمایش عموماً تکلیف دہ ہوتی ہے اس لیے تکلیف اور شر کا پہلو غالب ہوتا ہے، تاہم دونوں طرح سے ہوسکتی ہے۔ پھر ایک لطیف فرق یہ بھی کیا گیا ہے کہ یہ اِبتلا عموماً ایسے اتفاقی حادثے سے ہوتی ہے جو لوگوں کو دکھائی دیتا ہے تاکہ لوگ اس سے عبرت لیں جیسے: وَ اِذِ ابْتَلٰٓی اِبْرٰھٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ… (تفصیل آگے آرہی ہے)

۳- فَتَنَ، فِتْنَۃ میں اِبتلا کی طرح نرمی اور سختی پائی جاتی ہے، تاہم اس میں سختی زیادہ ہوتی ہے۔

حاصل یہ کہ اِبتلا انسان کی ذاتی برائی، خباثت اور غلطی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ عام طرح حادثے کے طور آتی ہے۔ (مترادفات القرآن عبدالرحمن کیلانی ’آزمایش‘)

احادیث کی روشنی میں

احادیث مبارکہ اور سنت مطہرہ میں اِبتلا کا کلمہ متعدد مرتبہ آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی چھوٹی باتوں اور چیزوں سے لے کر بڑے معاملات تک میں آزمایش ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں صرف تین حدیثیں بیان کی جاتی ہیں۔

  •  حضرت مصعب بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام لوگوں میں سب سے زیادہ آزمایش انبیا کی ہوتی ہے۔ پھر ان جیسے لوگوں کی، پھر ان (دوسرے درجے والے) جیسے لوگوں کی ہوتی ہے۔ (المستدرک للحاکم، جامع الترمذی، الزھد، نمبر ۴۳۹۸)
  •  حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے بیان کیا کہ میں نے سوال پوچھا: یارسولؐ اللہ! لوگوں میں سب سے زیادہ آزمایش کس کی ہوتی ہے؟ آپؐ  نے فرمایا: انبیا کی، پھر ان جیسے (عمل و ایمان میں) لوگوں کی پھر ان جیسے لوگوں کی۔ بندے کی آزمایش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے۔ پھر اگر ان کے دین میں پختگی اورسختی ہوگی تو آزمایش بھی سخت ہوگی اور اگر اُن کے دین میں نرمی (ڈھیل) ہوگی تو اسے اس کے دین کے مطابق آزمایا جائے گا۔ (دنیا میں) بندے کی مسلسل آزمایش ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حال میں زمین پر چلتا ہے کہ اس پر کوئی خطا نہیں رہتی یعنی گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے۔ (بخاری، باب الفتن ۴۰۲۳، ابن ماجہ ، باب الفتن ۴۰۲۳)
  •  تیسری روایت جسے ابوسعید خدریؓ نے بیان کیا یہ ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپؐ بخار میں مبتلا تھے۔ میں نے آپؐ  پر اپنا ہاتھ رکھا تو اپنے ہاتھوں میں لحاف کے اُوپر سے گرمی محسوس کی۔ میں نے عرض کیا: یہ بخار آپؐ  پر کتنا سخت ہے۔ آپؐ  نے فرمایا: ہمارے لیے آزمایش دگنی ہے تو اجر بھی دگنا ہے۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! لوگوں میں سب سے زیادہ آزمایش میں کون ہے؟ آپؐ  نے فرمایا: انبیا۔ میں نے عرض کیا: پھر کون ہیں؟ آپؐ  نے فرمایا: صالح لوگ، ان میں سے کوئی ایک فقرو تنگی میں مبتلا ہوتا ہے یہاں تک کہ مصیبت میں گھرنے کی وجہ سے اس کے پاس سواے ایک کمبل کے کچھ نہیں باقی رہتا۔ لیکن وہ مصیبت میں مبتلا ہوکر ایسے خوش ہوتا ہے جیسے تم لوگ فراخی پر خوش ہوتے ہو۔ (جامع الترمذی، ۲۳۹۸)

ان آیات اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہربندے کو کسی نہ کسی طرح آزمایا جاتا ہے۔ البتہ اس آزمایش کا احساس کرنا، اس میں ثابت قدم رہنا، آزمایش میں پورا اُترنا اور اس سے پار ہوجانا مومن کو نصیب ہوتا ہے۔

آزمایش کی مختلف نوعیتیں

قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اِبتلا کے مختلف پہلو اور نوعیتیں بیان کی ہیں۔ یہاں ان کا ایک مختصر مطالعہ پیش کیا جاتا ہے۔

  •  مسلم و کافر کے لیے آزمایش کا لازم ھونا: قرآن مجید کی متعدد آیات میں وضاحت سے آیا ہے کہ انسان کو دنیا میں پیدا کرنے کا مقصد اس کا امتحان لینا ہے۔ زندگی گزارنے کی تمام صلاحیتیں اور قابلیتیں دے کر اسے دنیا میں بھیجا تاکہ وہ اپنے خالق و مالک اور رازق کو پہچانے اور اس کے احکام کو قبول کرے۔ ارشاد باری ہے: ’’جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے، تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی‘‘۔ (الملک ۶۷:۲)

سورۂ ملک کی اس آیت سے پانچ بنیادی نکات نکلتے ہیں:

ا- موت و حیات اسی کی طرف سے ہے۔ کوئی دوسرا نہ زندگی بخشنے والا ہے اور نہ موت دینے والا ہے۔

ب- انسان کی نہ زندگی بے مقصد ہے نہ موت۔ خالق نے اسے یہاں امتحان کے لیے پیداکیا ہے۔ زندگی اس کے لیے امتحان کی مہلت ہے اور موت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے امتحان کا وقت ختم ہوگیا ہے۔

ج- اسی امتحان کی غرض سے خالق نے ہر ایک انسان کو عمل کا موقع دیا ہے تاکہ وہ دنیا میں کام کرکے اپنی اچھائی اور برائی کا اظہار کرسکے۔

د- خالق ہی دراصل اس بات کا فیصلہ کرنے والا ہے کہ کس کا عمل اچھا ہے اور کس کا برا ہے۔

ھ- جس شخص کا جیسا عمل ہوگا اسی کے مطابق اس کو جزا دی جائے گی کیونکہ اگر جزا اور سزا نہ ہو تو سرے سے امتحان لینے کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے۔

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ ق نَّبْتَلِیْہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیْعًام بَصِیْرًا o اِنَّا ھَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا o (الدھر ۷۶:۲-۳) ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لیے    ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا، ہم نے اسے راستہ دکھا دیا خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا۔

اس آیت کریمہ میں انسان کی اور انسان کے لیے دنیا کی اصل حیثیت بتائی گئی۔ وہ درختوں اور جانوروں کی طرح نہیں ہے کہ اس کا مقصد تخلیق یہیں پورا ہوجائے، نیز یہ دنیا انسان کے لیے نہ دارالعذاب ہے، نہ دارالجزا جیساکہ تناسخ کے قائلین سمجھتے ہیں اور نہ چراگاہ اور تفریح گاہ ہے جیساکہ اکثر مادہ پرست سمجھتے ہیں اور نہ رزم گاہ (میدانِ جنگ) جیساکہ ڈارون اور مارکس کے پیروکار سمجھتے ہیں، بلکہ یہ دراصل اس کے لیے ایک امتحان گاہ ہے جہاں خالق نے یہ دیکھنے کے لیے پیدا کیا ہے کہ وہ زندگی کا کون سا رویہ اختیار کرتا ہے: نیکی اور فرماں برداری کا، یا برائی اور نافرمانی کا۔ انسان کو سمیع اور بصیر بنانے کا واضح مطلب یہ ہے کہ اسے نیکی اور بدی کی حِس دی گئی ہے جس کے ذریعے وہ اِبتلا و آزمایش میں پورا اُترے اور کامیاب ہو۔

سورۃ الفجر میں ارشاد ہے: ’’مگر انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا رب جب اس کو آزمایش میں ڈالتا ہے اور اسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنادیا۔ اور جب وہ اس کو آزمایش میں ڈالتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا‘‘۔ (الفجر ۸۹:۱۰-۱۶)

اس آیت پر غور کرنے سے عام لوگوں کا نظریہ اور دنیاوی زندگی کا تصوریہ سامنے آتا ہے کہ یہاں کی خوش حالی، مال و دولت کو عزت اور اللہ کی رضا سمجھا جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں پر اللہ راضی ہے اور ان چیزوں کے نہ ملنے کو یا چھن جانے کو ذلت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ اصل حقیقت جسے یہ لوگ نہیں سمجھتے، یہ ہے کہ اللہ نے جس کو دنیا میں جو کچھ بھی دیا ہے آزمایش کے لیے دیا ہے۔ اس کی طرف سے دولت اور جاہ و اقتدار میں بھی آزمایش ہے اور مفلسی اور فقر میں بھی آزمایش ہے۔

مذکورہ بالا ان تینوں آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آزمایش ہر انسان کی ہونی ہے چاہے کوئی بھی اور کسی مذہب و ملک کا باشندہ اور ملت کا فرد ہو۔ اسے اس منزل سے گزرنا ہے۔ البتہ عام انسانوں کے لیے آزمایش اور امتحان کی نوعیت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک، رازق و رؤف، حاکم و مقتدراعلیٰ کو سمجھیں، اس پر ایمان لائیں اور اس کے پیغمبروں کو برحق جانیں۔

دوسری آزمایش اور امتحان ان لوگوں کا ہوتا ہے جو دین اسلام کو قبول کر کے اپنے آپ کو اُمت مسلمہ کا فرد اور مسلمان کہلاتے ہیں۔ ان کی آزمایش کئی نوعیت کی اور کئی طرح کی ہوتی ہے۔ بعض کی بڑی سخت اور بعض کی نرم اور وقتی ہوتی ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مختلف انداز سے بیان فرمایا ہے۔ ان میں سے چند نوعیتیں یہ ہیں:

  •  عام مسلمانوں کی آزمایش: ا-آزمایش غزوئہ خندق کے موقع پر ہوئی جب بہت سے لشکر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوئے اور خطرناک افواہیں پھیلیں۔ قرآن مجید نے اس کیفیت کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے: ’’جب دشمن اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آگئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے‘‘۔ (الاحزاب ۳۳:۱۰)

اللہ تعالیٰ نے اس موقع کو اِبتلا و آزمایش سے بیان کیا ہے: ھُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا o (الاحزاب ۳۳:۱۱) ’’اس وقت ایمان لانے والے خوب آزماے گئے اور بری طرح ہلامارے گئے‘‘۔ ایمان لانے والوں سے مراد یہاں وہ سب لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں میں شامل کیا تھا، ان میں سچے اہلِ ایمان بھی شامل تھے اور منافقین بھی۔

اس اِبتلا نے سچے مسلمانوں اور منافقین کو علیحدہ کیا۔ دونوں کے کردار پر آیت ۱۲ سے  لے کر ۲۰ تک تفصیلی تبصرہ کیا گیا ہے۔ اِبتلا سے کیسے پار ہو اور کتنے صبر اور عزیمت کا اظہار کیا جائے، سب اس سورت میں بیان ہوا ہے۔

ب- آزمایش پر پورا اُترنے پر مخالفین (کفار اور مشرکین) کی طرف سے طعن وتشنیع سننا اور صبر کرنا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: لَتُبْلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ قف وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرًا ط وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرo (اٰل عمرٰن۳:۱۸۶) ’’مسلمانو! تمھیں مال اور جان دونوں کی آزمایشیں پیش آکر رہیں گی، اور تم اہلِ کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے۔ اگر ان حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پر قائم رہو، تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے‘‘۔

جب تم آزمایش میں پورے اُترو گے تو ان سے طعن و تشنیع، ان کے الزامات اور بے ہودہ طرزِکلام اور ان کے جھوٹے پروپیگنڈے سے واسطہ پیش آئے گا۔ لہٰذا ایسی حالت میں صبر اختیار کرنا، حق و صداقت پر قائم رہنا اور وقار، تہذیب اور اخلاقِ فاضلہ کو اپنانا ہی ان کا جواب ہے۔

ج- مسلمانوں کی اِبتلا وآزمایش کا بیان اللہ تعالیٰ نے سورئہ بقرہ میں ان الفاظ میں فرمایا:

وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ َوالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ط وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَo (البقرۃ۲:۱۵۵) ہم ضرور تمھیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمھاری آزمایش کریں گے۔ اِن حالات میں صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دو۔

اسلام کی اس اصطلاح کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ خاص طور پر مسلمانوں کی جو آزمایش کی جاتی ہے اور ان سے جو امتحان لیا جاتاہے وہ کئی نوع اور انداز کا ہوتا ہے۔ اس لیے مسلمان کو اس کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے، اس کا جائزہ لینا چاہیے اور سوچتے رہنا چاہیے کہ کہیں میری آزمایش تو نہیں ہو رہی ہے۔ (مزید ان آیات کا مطالعہ کریں: البقرہ ۲:۲۴۹،آل عمران ۳:۱۵۲-۱۵۴، المائدہ ۵:۴۸، الانعام ۶:۱۶۸، الانفال ۸:۱۷، النحل ۱۶:۹۲، الاحزاب ۳۳:۱۱)

  •  مومنوں میں سے منتخب لوگوں کی آزمایش: بعض اوقات مومنوں کے خاص گروہ اور جماعت کی آزمایش کی جاتی ہے تاکہ اس میں کھرے کھوٹے ظاہر ہوجائیں، لوگوں پر ایک دوسرے کا حال واضح ہوجائے اور معاملات اور برتائو میں آسانی ہوجائے۔ اس نوع کی آزمایش کی کئی مثالیں اور نمونے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں۔

ا- وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجٰھِدِیْنَ مِنْکُمْ وَالصّٰبِرِیْنَ وَنَبْلُوَاْ اَخْبَارَکُمْo (محمد۴۷:۳۱) ہم ضرور تم لوگوں کو آزمایش میں ڈالیں گے تاکہ تمھارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں کہ تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہیں۔

جہاد کے ذریعے اور میدانِ جہاد میں آزمایش کرنا تاکہ سچے مومن اور منافق واضح ہوجائیں اور کسی کو غلط فہمی نہ رہے۔

ب- ذٰلِکَ ط وَلَوْ یَشَآئُ اللّٰہُ لاَنْتَصَرَ مِنْھُمْ وَلٰـکِنْ لِّیَبْلُوَاْ بَعْضَکُمْ بِبَعْضٍط وَالَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَھُمْo (محمد۴۷:۴) یہ ہے تمھارے کرنے کا کام، اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے نمٹ لیتا، مگر یہ طریقہ اس نے اس لیے اختیار کیا ہے، تاکہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے آزمائے، اور جو لوگ   اللہ کی راہ میںمارے جائیں، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔

اللہ کے پیش نظر یہ ہے کہ انسانوں میں سے جو حق پرست ہوں وہ باطل پرستوں سے  ٹکرا جائیں اور ان کے مقابلے میں جہاد کریں تاکہ جس کے اندر جو کچھ اوصاف ہیں وہ اس امتحان سے نکھر کر پوری طرح نمایاں ہوجائیں اور ہر ایک اپنے کردار کے لحاظ سے جس مقام اور مرتبے کا مستحق ہے وہ اسے دیا جائے۔

  •  بعض کو بعض پر فضیلت دے کر آزمانا: دنیا میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے بعض لوگوں کو دوسرے بعض پر مال، مرتبے، عہدے اور دیگر وسائل میں جو فضیلت دی اس کی ایک وجہ آزمایش ہے۔ فرمایا: وَ ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ ط اِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِصلے وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo (الانعام ۶:۱۶۵) ’’وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں زیادہ بلند درجے دیے، تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمھاری آزمایش کرے۔ بے شک تمھارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا بھی ہے۔

اس آیت میں تین حقیقتیں بیان ہوئی ہیں: ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو دنیا میں اپنا خلیفہ بنایا، یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی ملکیت میں سے بہت سی چیزیں ان کی امانت میں دیں، ان میں تصرف کرنے کا اختیار دیا۔

دوم یہ کہ ان خلیفوں میں مرتبوں کا فرق بھی اللہ نے ہی رکھا ہے۔ کسی کی امانت کا دائرہ وسیع ہے اور کسی کا محدود،کسی کو زیادہ چیزوں پر تصرف کرنے کے اختیارات دیے اور کسی کو کم چیزوں پر، کسی کو زیادہ قوت کار دی اور کسی کو کم اور بعض انسان بھی بعض انسانوں کی امانت میں ہیں۔

سوم یہ کہ یہ سب کچھ دراصل امتحان کا سامان ہے۔ پوری زندگی ایک امتحان گاہ ہے اور جس کو جو کچھ بھی اللہ نے دیا ہے اس میں اس کا امتحان ہے کہ کس طرح اللہ کی امانت میں تصرف کیا، کہاں تک امانت کی ذمہ داری کو سمجھا اور اس کا حق ادا کیا اور کس حد تک اپنی قابلیت اور ناقابلیت کا ثبوت دیا۔ اسی آزمایش اور امتحان کے نتیجے پر زندگی کے دوسرے مرحلے میں انسان کے درجے کا تعین منحصر ہے۔

  •  مسلمانوں کے خاص گروہ کی آزمایش: بعض اوقات اللہ تعالیٰ کسی گروہ کو کسی بڑے کام کے لیے منتخب کرنے سے پہلے چھوٹا سا حکم دے کر آزماتا ہے تاکہ بڑے کام اور مہم کے لیے پختہ افراد کو میدان میں لایا جائے۔ کسی ایک چھوٹے سے واقعے سے آزماتا ہے اور اس میں جو پختہ رہتے ہیں اور ثابت قدمی دکھاتے ہیں انھیں منتخب کرلیتا ہے۔ ایسا ہی ایک موقع طالوت کے لشکر کے ساتھ پیش آیا۔ اس کا بیان قرآن میں اس طرح ہے: ’’پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا تو اس نے کہا: ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمھاری آزمایش ہونے والی ہے۔ جو اس کا پانی پیے گا، وہ میرا ساتھی نہیں ہے۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے، ہاں ایک آدھ چلّو کوئی پی لے تو پی لے‘‘۔ مگر ایک قلیل گروہ کے سوا وہ سب اس دریا سے سیراب ہوئے۔ پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کرکے آگے بڑھے تو انھوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ لیکن جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انھیں ایک دن اللہ سے ملنا ہے، انھوں نے کہا: ’’بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے‘‘۔ (البقرۃ ۲:۲۴۹)

طالوت کو بنی اسرائیل کی اخلاقی حالت معلوم تھی، اس لیے کارآمد اور ناکارہ لوگوں کو چھانٹنے کے لیے آزمایش کا یہ طریقہ تجویز کیا اور اس سے کھرے کھوٹے لوگ علیحدہ ہوگئے۔ میرے نزدیک اگر دینی، دعوتی اور جہادی جماعتوں کے سربراہ آزمایش کا ایسا ہلکا طریقہ تجویز کریں اور کام میں لائیں تو گنجایش نظر آتی ہے۔

مسلمانوں کے گروہوں اور طبقات کی آزمایش کا تذکرہ قرآن مجید میں کافی مقامات پر آیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف اشیا اور معاملات سے آزمایش کی ہے۔ ان میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے اور سابقہ اُمتوں کے واقعات ہیں۔ آپؐ سے پہلے واقعات میں اصحاب الجنۃ (باغ والے) (القلم ۶۸:۱۷)، اصحاب السبت، مختلف انبیاے کرام اور ان کے ساتھیوں کی آزمایش (البقرۃ ۲:۲۱۴)، ایوب علیہ السلام کی آزمایش (الانبیاء ۲۱:۸۳-۸۴)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے واقعات میں غزوئہ حنین (التوبۃ ۹:۲۰، المائدہ ۵:۹۴)،    غزوئہ بدر، غزوئہ اُحد، غزوئہ تبوک (التوبۃ ۹:۱۱۸)، جب کہ دنیا کی خوش حالی و فراوانی سے آزمایش۔ (الکھف ۱۸:۷)

  •   انبیاے کرام کی اِبتلا و آزمایش: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمایش کو قرآن مجید نے اس طرح بیان کیا ہے: ’’یاد کرو کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اُتر گیا، تو اس نے کہا: ’’میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں‘‘۔ ابراہیم ؑنے عرض کیا: ’’اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے‘‘۔ (البقرۃ ۲:۱۲۳)

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ابوالانبیا اور خلیل اللہ کی ایسی سخت آزمایش کی جیسی شاید ہی کسی نبی سے لی گئی ہو۔ انسانی زندگی میں جتنی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن سے وہ پیار کرتا ہے، محبت رکھتا ہے، وہ ساری ان کو حاصل تھیں اور اللہ کے بندے نے وہ سب قربان کردیں اور امتحان میں پورا اُترا۔ ابن کثیر کی روایت اور تفسیرتفہیم القرآن کے مطابق انھوں نے جن بڑے احکام کی تکمیل کی اور امتحان میں پورے اُترے وہ یہ ہیں: اللہ کی طرف سے حکم ہونے پر اپنی قوم سے جدا ہوجانا اور ان کو چھوڑ دینا، باوجود جان کے خطرے اور قتل ہونے کے ڈر کے ہوتے ہوئے نمرود کے روبرو جاکر توحید کی دعوت دینا اور اس سے حجت بازی کرنا، آگ کے الائو میں بے خطر کود جانا اور صبر کا مظاہرہ کرنا، ہجرت کا حکم ملنے پر اپنے وطن سے ہجرت کرنا، مہمان نوازی کرنا اور اپنے بیٹے کو اشارہ ملنے پر ذبح کرنا۔ ان آزمایشوں کے علاوہ انھوں نے کئی ایک بڑی قربانیاں دیں جیسے بیوی اور چھوٹے بیٹے کو عرب کے بے آب و گیاہ میدان میں چھوڑ دینا، اپنے خاندان کی دھن دولت کو چھوڑ دینا، روشن مستقبل اور خاندانی جاہ و جلال کو چھوڑ دینا۔

قرآن مجید میں حضرت ایوب علیہ السلام کا آزمایشی تذکرہ آیا ہے اور یہی (ہوش مندی اور حلم و علم کی نعمت) ہم نے ایوب کو دی تھی۔ یاد کرو جب کہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ ’’مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے‘‘۔ ہم نے اس کی دعا قبول کی اور جو تکلیف اسے دی تھی اس کو دُور کردیا، اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے اپنی رحمتِ خاص کے طور پر، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے‘‘۔ (الانبیا ۲۱:۸۳-۸۴)

قرآن مجید میں اسی طرح دیگر انبیاے کرام کی آزمایش کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے جیسے حضرت دائود علیہ السلام، ملاحظہ کریں۔ سورہ صٓ ۳۸:۷۱تا۳۰، الانبیا ۲۱:۷۸، سورۂ نمل اور سورئہ سبا۔ حضرت سلیمان ؑ ،سبا ۳۴:، صٓ ۳۸:۳۴

  •  آزمایش کا لازمی ھونا اور مسلمان: قرآن مجید، احادیث اور صلحا کی سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آزمایش ہر انسان کی ہوتی ہے۔ مسلمان کی آزمایش تو ہروقت اور ہرحالت میں ہوتی ہے۔ قدم قدم پر اس سے مومن کا واسطہ رہتا ہے۔ ایک تاجر جب دکان پر جاکر بیٹھتا ہے تو اس کی کئی طرح سے آزمایش ہوتی رہتی ہے۔ وہ جب کسی کو چیز دیتا ہے تو صحیح تول کردیتا ہے تو یہ ناپ تول کی آزمایش پر پورا اُترا ہے۔ جب مسلم جج عدالت میں جاکربیٹھتا ہے تو مسلم کی حیثیت سے اس کی آزمایش ہورہی ہے۔ اگر انصاف کا مظاہرہ کرتا ہے، صحیح فیصلے کرتا ہے تو کامیاب ہے، ورنہ ناکام ہے۔ اس کے سامنے کوئی رشوت کی رقم رکھتا ہے تو اس کی آزمایش ہو رہی ہے اور اس کے فیصلے پر اسے کامیاب یا ناکام کہیں گے۔ غرضیکہ بہت سے واقعات اِبتلا میں قائم رہنے، اس سے احسن طریقے سے نکلنے کے ہیں۔ ان واقعات کا گہرائی سے مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ (جاری)

 

دکھ ، رنج و الم اورآلام و مصائب انسانی زندگی کا حصہ ہیں۔ ہر انسان کو اپنی زندگی میںکبھی نہ کبھی ایسے لمحات سے ضرور گزرنا پڑتا ہے جب وہ اپنے آپ کو انتہائی تنہا، دل شکستہ ، مایوس ، تھکا ہوا اور کمزور محسوس کرتا ہے۔ افسردگی و مایوسی کے یہ جذبات ماضی کے کسی غم کا نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں اور مستقبل کے خوف کا بھی۔ حال سے وابستہ فکریں اور پریشانیا ں بھی اس کا سبب ہوسکتی ہیں۔ اسی وقتی افسردگی کو غمگین ہونا کہتے ہیں اور اگر یہی کیفیت زیا دہ عرصے تک یا مستقل طور پر طاری ہوجائے تو ڈیپریشن کا مرض بن جاتا ہے جس کی وجہ سے انسان کسی کام کا نہیں رہتا۔درحقیقت ہرانسان کی آلام و مصائب کوسہنے کی استعداد مختلف ہوتی ہے لیکن کوئی بھی فرد طویل عرصے تک    غم نہیں سہہ سکتا ہے۔لہٰذا یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے کہ اس نے خوشی اور   غم دونوں کی کیفیا ت کو عارضی بنایا ہے۔لیکن انسان کی فطری خواہش یہ ہے کہ وہ ایک ایسی زندگی گزارے جہاں اس کو کسی بھی قسم کا کوئی خوف و غم لاحق نہ ہو۔ جنت کی زندگی کی ایک خاص بات یہی ہوگی کہ وہاں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے لیے وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ (البقرہ ۲:۶۲)کی تصویر پیش کرتا ہے۔لیکن اس دنیا کے حوالے سے قرآن میں اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ (البلد ۹۰:۴)، کہ انسان کو پیدا ہی مشقت میں کیا گیا ہے۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آدم کا بیٹا اس حا لت میں پیدا کیا گیا ہے کہ اس کے پہلو میں ۹۹مصیبتیں ہیں‘‘۔(ترمذی)

غم انسانی زندگی کا ایک اہم جز ہے۔ یہ ایک ایسی قوت محرکہ ہے جو انسان کو ہمہ وقت اس کام کے لیے فکرمند کردیتی ہے جس کی فکراسے ہلکان کیے دیتی ہے۔ انسانی زندگی میں خوشی سے زیادہ غم کے اثرات ہوتے ہیں۔ لوگوں کی زندگیوںکا بدل جانا اور ان کا رخ تبدیل ہو جانا بھی اکثر اوقات کسی نہ کسی غم اور صدمے کے سبب سے ہوتا ہے۔ عام طور پر غم ا فراد کو مایوس کرنے کا سبب بنتا ہے لیکن ایک بندۂ مومن اپنی زندگی کے غموں کو بھی اللہ کی خوش نودی کا ذریعہ بناتا ہے اور جنت کا حق دار ٹھیرتا ہے اور یہ جبھی ممکن ہے جب ہمیں یہ علم ہو کہ و ہ کون سے غم ہیں جو نجات کا ذریعہ ہیں اور اللہ کی نگا ہ میں پسندیدہ ہیں، اور کون سے غم انسان کو جہنم کے قریب کرنے اور ذلت و پستی میں گرانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

  •  دنیاوی چیزوں کا غم: زیادہ تر ا فراد دنیاوی چیزوں کے چھن جانے ، نہ ملنے اور  کم ہو جانے کی صورت میں فکر و غم میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اسی غم میں ا ولا د ، ما ل ، اثا ثے، تجارت، دنیا کی زیب و زینت بھی شا مل ہے۔ دراصل یہ غم انسان کے خسارے کا سبب ہے اور اس کی وجہ اس دنیاوی زندگی کو حقیقی اور ا صل متاع خیال کرنا ہے، جب کہ قرآن اس دنیا وی زندگی کی حقیقت کو ایک آزمایش بتا تا ہے اور دنیا کو دارالامتحان قرار دیتا ہے: ’’خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل کود اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمھارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور ما ل و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا‘‘۔(الحدید ۵۷: ۲۰)

اپنی زندگیوں کا جائزہ لیا جائے تو نہ جانے کتنے ہی ایسے غم ہیں جو صرف ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے اور فخر جتا نے کی بنا پر لاحق ہیں۔

ہمارے غموں کی فہر ست ایسے ہی ادنیٰ غموں پر مشتمل ہوتی ہے اور یہ فکریں ہم پر اتنی طاری ہوجا تی ہیں کہ شخصیت میں غیبت ، ٹوہ ، تجسس ، حسد ، جلن جیسے ا خلا قِ رذیلہ پیدا کر دیتی ہے، جب کہ دنیا کی زندگی وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ کے مصداق ہے۔اس لیے کہ ان چیزوں میں مقا بلے اور مسابقت کا انجام سواے خسارے کے کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان چیزوں پر دل شکستہ ہوکر مایوس ہونے یا مل جانے پر اترانے کا رویہ سخت ناپسندیدہ ہے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی نظروں سے گر جاتے ہیں۔

قرآن کے مطابق دنیا کی مصیبتوں کی حقیقت کیا ہے؟ یہی کہ ’’اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈا لے تو خود اس کے سوا کوئی نہیں جو اس مصیبت کو ٹال دے، اور ا گروہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔و ہ ا پنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، ا پنے فضل سے نوازتا ہے اور وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ (یونس ۱۰:۱۰۷)

ان آیات سے یہ با ت واضح ہوتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جو ہمیں نقصان سے نجات دلا سکے اور جو بھی مصیبت یا نقصا ن ہمیں پہنچتا ہے و ہ مِن جانب اللہ ہوتا ہے۔اس پر غم کرنا ، حد سے زیادہ آنسو بہا نا اور فکر میں مبتلا ہونا دراصل توکل علی اللہ کی کمی کو ظا ہر کرتا ہے۔ہمارے یہ چھوٹے چھوٹے لاحاصل غم ہماری زندگی کے ادنیٰ ترین مقاصد کی عکاسی کرتے ہیں۔جو انسان مادی چیزوں کے حصول کو ا پنا مقصد قرار دیتا ہے اس کی زندگی ما ل و دولت ، عہدے ، نمود و نمایش اور تفاخر کے حصول کے پیچھے اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ  کی عملی تصو یر بن جا تی ہے لیکن ان سب کے با و جو د نفس مطمئن نہیں ہوتا۔ خو شی کی ہرکیفیت میں ان چیزوں کے کم ہو جانے اور چھن جانے کا غم غالب آجاتا ہے اور زندگی عدمِ ا طمینا ن اور بے یقینی کا شکا ر رہتی ہے۔

  •  وسائل رزق کے محدود ھونے کا غم: غمِ روزگار ایک ایسا غم ہے جو ہر انسان کے سا تھ لگا ہوا ہے۔ ا کثر ا فراد اپنی صبح و شا م اسی غم کی نذر کرتے ہیں۔ رزق کی تنگی اور محدود وسائل کا ہر وقت شکوہ شکا یت کرنا یا صرف اور صرف معا ش کی جدوجہد میں    ُجتے رہنا زندگی کا مقصد بن جاتا ہے، حالانکہ ایک مومن کو اس با ت کا کامل یقین ہونا چاہیے کہ رزق کامالک اللہ تعالیٰ ہے اور مخلوق کے پاس رزق د ینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس کی تنگی پر شکوہ کرنا اور ناجائز ذرا ئع اختیار کرنا مومن کی شان کے خلاف ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے: ’’آسمان اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے، اسے ہرچیز کا علم ہے‘‘(الشوریٰ ۴۲:۱۲)۔ ایک اور مقام پر فرمایا: ’’پھر بتائو، کون ہے جو تمھیںرزق دے سکتا ہے اگر رحمن اپنا رزق روک لے؟‘‘(الملک ۶۷: ۲۱)

یہ تصورِ رزّاقیت جتنا کامل اور پختہ ہوگا انسان اتنا ہی بے خوف ، نڈر اور بہادر ہوگا۔ دنیا کا کوئی خوف اور غم اسے لاحق نہیں ہوگا اورا سے حق کے راستے سے نہیں ہٹا سکے گا اور زندگی کی  بھاگ دوڑ صرف اور صرف اس کے لیے وقف ہو کر نہ ر ہ جائے گی۔

  •  موت اور جدائی کا غم:  اپنے کسی عزیز رشتے دار کی موت پر غم کرنا جائزہے بلکہ یہ ایک فطری غم ہے لیکن اس میں بھی سواے بیوہ کے، کہ وہ اپنی عد ت کے ا یا م پو ر ے کر لے،  تین دن سے زیادہ غم منانا جا ئز نہیں ہے۔موت ایک ا ٹل حقیقت ہے: کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ(العنکبوت ۲۹: ۵۷) ’’ہر متنفس کو مو ت کا مزہ چکھنا ہے پھر تم ہماری طرف ہی پلٹا کر لائے جائو گے‘‘۔

کسی قریبی فرد کی جدائی پر دل قدرتی طور پر غمگین ہوتا ہے خود رسول کریمؐ کی آنکھیں اپنے صاحبزا دے کی جدائی پر آنسوئوں سے تر ہو گئی تھیں۔ اسی طرح حضرت خدیجہ ؓ کی عظیم رفاقت کے ختم ہونے پر، اور ہمدرد چچا ا بوطا لب کے انتقال پر بھی آپؐ بے حد غم زدہ ہوئے تھے۔یہ و ہ فطری غم ہیں جن میں آنسوئوں کا بہنا اختیار میں نہیں رہتا بلکہ حدیث کے مطا بق یہ رحم کا جذبہ ہے جسے    اللہ نے اپنے بندوں کے دل میں رکھ دیا ہے۔ رحمت ِعالمؐ کے سب سے چھوٹے بیٹے کی جان کنی کے وقت آپؐ فرما رہے تھے کہ ’’ آنکھیں آنسو بہاتی ہیں ، دل دکھتا ہے ، مگر ہم زبا ن سے صرف وہی کہتے ہیں جس کو ہمارا پروردگار پسند کرتا ہے، اور ا ے ابراہیمؓ! ہمیں تیری جدائی کا بہت غم ہے‘‘۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے یہ منظر دیکھا تو کہا: ’’اے اللہ کے رسولؐ! آپ بھی رو رہے ہیں‘‘۔ فرمایا: ’’ابن عوفؓ ! یہ آنسو رحمت کی نشا نی ہیں ‘‘۔ تاہم، بعض اوقات یہ غم بھی شدت اختیار کرلے تو مایوسی کی کیفیت میں منہ سے کفریہ جملے نکل جاتے ہیں اور ناشکری کا رویہ اختیار کرلیا جاتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہیں اور مصیبت کے وقت بھی اپنے رب کی رضا تلا ش کرتے ہیں ان کے لیے قرآن میں آتا ہے کہـ:

الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْ ٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّـآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَo (البقرہ ۲:۱۵۶)ا ن لوگوں پرجب کوئی مصیبت و ا قع ہو جا تی ہے تو کہتے ہیں کہ بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طر ف لو ٹ کر جانے و الے ہیں۔

پھریہ ا حساس کہ موت اور زندگی اللہ کے اختیار میں ہے درا صل ایک آزمایش ہے جو انسان کو سکون بخشتا ہے۔ قرآن میں آتا ہے کہ’’ ہر جان دار کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہم اچھے بُرے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمایش کر رہے ہیں، آخرکار تمھیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے‘‘۔ (الانبیا  ۲۱:۳۵)

حضرت معا ذ ؓ جب یمن کے گورنر تھے تو ان کا لڑکا وفات پا گیا۔ رسولِ کریمؐ نے تعزیتی خط میں لکھا کہ ’’ اگر تم نے آخرت کے اجر و ثواب کے لیے صبر کیا، تو تمھارے لیے خدا کی رحمت، عنایت اور ہدایت ہو، پس تم صبر سے کام لو۔ اور خیال رہے کہ کہیں تمھاری بے قراری اور بے صبری تمھیں اجر سے محروم نہ کر دے اور تمھیں پچھتانا پڑے، یقین کرو کہ بے صبری اور بے قراری سے کوئی مرنے والا لوٹ کر کبھی نہیں آیا، نہ اس سے دل کا غم ہی دور ہوسکتا ہے، جو حادثہ پیش آیا ہے اسے تو آنا ہی تھا۔ والسلا م ‘‘۔ غرض یہ کہ فطری غم و آلام بھی اللہ کی نظر میں اسی وقت قا بلِ قبول ہیں جب انسان ایمان و یقین کا د ا من ہا تھ سے نہ چھوڑ ے اور اللہ کی ر ضا پر را ضی ہو کرصبر سے کام لے۔

مومنانہ رویـہ

انسان کے ہر عمل کا تعلق اس کی سوچ سے ہے، اگر سوچ کا ر خ درست کر لیا جائے تو زندگی کی بہت سا ر ی مشکلات خود بخود کم ہو جائیں۔

حضرت ا بوہریرہ ؓ سے روا یت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمھیں کوئی تکلیف، مصیبت پیش آئے تو یہ نہ کہو کہ’ اگر میں ایسا کرتا تو یو ں ہو جاتا ( یا نہ ہوتا ) ‘ بلکہ یہ کہا کر و کہ اللہ نے ہر چیز کو مقدر کر لیا ہے جو اس نے چا ہا وہ کر ڈالا۔ اس لیے کہ لَوْ یعنی اگر، شیطا ن کے عمل کا دروازہ کھول دیتا ہے۔(مشکوٰۃ )

اس حدیث میں انسان کی اس کمزوری کی طر ف اشارہ ہے کہ انسان اپنی حکمت اور تدبیر پر بھروسا کرتا ہے تو اس کی مصیبتیں ایک بھاری غم میں تبدیل ہو جا تی ہیں کہ ’’کاش! یہ کر لیا ہوتا ‘‘ اور ’’کاش! یہ نہ کیاہوتا‘‘۔ اسی طرح مو ت کے وقت یہ کہنا کہ’اچا نک مو ت تھی ‘، ’جلدی ہسپتال پہنچ جاتے تو ایسانہ ہوتا‘‘، اس طرح کی باتیں کرنا گویا ہمارے دلوں کی ایسی کیفیات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم اللہ کے فیصلوں پر راضی نہیں ہیں اور اس کے بجاے اپنی تدبیر ، حکمت اور عقل پر زیادہ اعتبار کرتے ہیں۔ لہٰذا جب مشکل درپیش ہوتی ہے تو انسان بجاے صبر کے بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ مومن جب یہ یقین رکھتا ہے کہ ہر چیز مِن جانب اللہ ہوتی ہے تو اس کے دل کو ایک سکون اور اطمینان رہتا ہے۔

حضرت صہیب بن سنان ؓ کی روایت ہے کہ رسول کریمؐ نے فرمایا: مومن کا معا ملہ بھی عجیب ہے۔ اسے جو کچھ بھی پیش آئے و ہ اس کے لیے سرا سر خیر ہوتا ہے اور یہ دولت مومن کے سوا کسی کو نصیب نہیں۔ جب ا سے کوئی نعمت ملتی ہے تو اللہ کا شکر کرتا ہے اور جب ا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ (اللہ کے لیے) صبر کرتا ہے، اور (اس طرح) مصیبت بھی اس کے لیے سراسر خیر بن جا تی ہے۔ گویا صبراور شکر دو ایسے خوب صورت اعمال ہیں جو انسان کو اللہ کا پسندیدہ بندہ بنا دیتے ہیں۔ مصیبت پہنچنے کی صورت میں و ہ ا پنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ کا موں سے روکتا ہے، یعنی صبر کرتا ہے، جب کہ نعمت ملنے پر اترا تا نہیں ہے کہ یہ سب میر ی اپنی تدبیر ، علم، تعلقا ت اور ا خلا ق کا حاصل کردہ ہے۔ایسے فرد کے غم اس کی درست سوچ کی و جہ سے کم ہو جاتے ہیں بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ وقتی طور پر افسردہ ہونے کے بعد و ہ دوبارہ مصروفِ عمل ہوجاتا ہے اور اس پر مایوسی کی وہ کیفیت طاری نہیںہوتی جوایک غیردینی سوچ رکھنے و الے فرد پر ہوتی ہے بلکہ بندۂ مومن کے لیے ہرکرب ، قربِ الٰہی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

  •  دعاؤں کی قبولیت :ہم سب سے زیادہ پریشان اور مایوس اس وقت ہوتے ہیں جب ہم کسی خا ص چیز کے طلب گار ہوتے ہیں اور اللہ سے دعا ئیں کر رہے ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں جب ضرورت شدید ترین ہو، رب کے حضور گڑگڑا کر دعائیں ما نگی جا رہی ہوں، اَشک رُکتے نہ ہو ں کہ وہ ذاتِ کریم ہماری خواہش اور ضرورت کے مطا بق اس وقت ہماری دعا قبول کرلے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی مصلحت اور حکمتوں کی بنا پر ہماری خواہش یا ضرورت کو اسی شکل میں پورا نہ کرے تو ہماری تڑپ و کرب کی کیفیت بے حد تکلیف دہ ہوتی ہے۔ ایسے میں ا کثر ا و قات بے ا نتہا ما یوسی اور غم کی شدید ترین کیفیت کا حملہ ہو جاتا ہے۔ یو ں تو دعا کوئی بھی ضائع نہیں ہوتی۔کچھ قبول ہو جاتی ہیں اور کچھ ہماری مصیبتوں اور گناہوں کو کم کر دیتی ہیں، اور ان میں سے بہت ساری نہ قبول ہونے والی دعائیں ان شا ء اللہ آخر ت میں ہمارے کام آئیں گی کہ جب یومِ آخرت بندۂ مومن خود یہ کہے گا کہ کا ش! دنیا میں میری کوئی دعا بھی قبول نہ ہوئی ہوتی۔ لیکن بعض اوقات انسان اپنی کم عقلی اور   محدود علم کی بنا پر ا یسی دعائیں مانگتا ہے جو سرا سر اس کے لیے شر ہوتی ہیں۔ قرآن میں آتا ہے  کہ: ’’انسان شر اس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر ما نگنی چاہیے۔انسان بڑ ا ہی جلدباز واقع ہوا ہے‘‘۔(النحل ۱۶:۱۱)

اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اللہ اپنی لا محدود قدرت کی و جہ سے و ہ علم رکھتاہے جو عا م انسان کو نہیں ہے اور ہمارا خالق بہتر جانتا ہے کہ کس وقت کون سی چیز ہمارے لیے بہترہے۔دعا ے ا ستخا رہ میں انسان کو یہی سکھایا گیاہے کہ انسان ا پنے ر ب سے و ہ خیر مانگے جو دین اورآخرت کی بہتری رکھنے والی ہو اور اسی سے را ستے کی آسانی مانگے۔ وہ تمام کام جو انسان کو دین و آخرت کی بھلائی سے محروم کر دیں، اُن سے بچنے اور اللہ کی پناہ میں آنے کی دعا کرے اور اللہ کے فیصلوں میں یکسوئی کا بھی طلب گار ہو۔ جب انسان اپنی ضرورت و خواہشات کو بھی اللہ کے سپرد کردیتا ہے اور اس کے لا محدود علم و قدرت سے ر ہنما ئی کا طلب گار ہوتا ہے تو اللہ ا پنے بندوں کے دلوں کو سکون و ا طمینان نصیب کرتاہے اور انھیں نعم البدل بھی عطا فرماتا ہے۔دلوں کا ا طمینا ن     اور معاملات میں یکسوئی کا حاصل ہونا صرف اور صرف اس وقت ممکن ہے جب انسانی عقل      اللہ رب العالمین کی قدرت و اختیار کے آگے جھک جائے اور کہے کہ وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْٓ اِِلَی اللّٰہِ اِِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌم بِالْعِبَادِ (المؤمن ۴۰:۴۴) ’’اور اپنا معاملہ میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں، وہ اپنے بندوں کا نگہبان ہے‘‘۔

  •  تقدیر پر ایمان :ایمان کا ایک ا ہم جز تقد یر پر ایما ن ہے۔گویا اس با ت کو سچے دل سے ما نا جائے کہ دنیا میں ہر چیز اور ذرہ ذرہ اللہ کے حکم اور مشیت سے کام کر رہا ہے، اور تمام حالات و واقعات اللہ کے علم میں ہیں۔ زندگی کی و ہ فکر یں جن کے لیے انسان اپنی زندگی کے قیمتی ترین لمحات وقف کر دیتا ہے، یعنی زندگی ، موت ، اولاد ، شادی رزق، غرض یہ کہ ہر وہ چیز جو اللہ نے تقد یر میں طے کردی ہے انسان اس کو اپنے ذمہ لے کر پریشان رہتا ہے اور آنسوبہاتا ہے، مضطرب رہتا ہے۔ حالانکہ یہ اللہ کی رحمتوں میں سے ایک بہت بڑی رحمت ہے کہ اس نے انسان کو ان تمام چیزوں کی فکر سے آزاد کر دیا ہے اور دنیا میں جس مقصد کے لیے بھیجا ہے، اس کے لیے ہمہ وقت مصروفِ عمل رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انبیاے کرا م ؑاور صحا بہ کرام ؓ جن کی زندگیا ں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، ان کی شخصیات کا تعارف و ہ پیشہ ، یا وہ عُہدہ نہیں ہے جو انھیںدنیاوی اعتبا ر سے حاصل تھا بلکہ ان کی سیرت و شخصیت کا نما یاں وصف ان کا اللہ کے دین کی دعوت اور اقامت دین کے لیے جدوجہد میں حصہ لینا ، اور اس نصب العین کے حصول کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کر دینا ہے۔ غمِ روزگار ، ا ولا د اور روز مرہ زندگی کے غم انسان ہونے کے ناطے اُنھیں بھی لاحق ہوں گے لیکن ان کا حصہ ان کی زندگیوں میں اتنا ہی تھا جتنا اس عارضی زندگی کی اہمیت ہے۔ایک مسافر اور ا جنبی کی حیثیت سے رہنے و الے فرد کو اس عارضی زندگی میں صرف منزل تک پہنچنے کی پریشانی ہوتی ہے جو کہ بندۂ مومن کے لیے جنت ہے۔ باقی عارضی پریشانیوں کو دُور کرنے کا نہ اس کو اختیارہے نہ طاقت ہی ۔لہٰذا و ہ اپنی توانائیاں ایسے لاحاصل غم میں ضائع نہیں کرتا جس کا کوئی حاصل نہیں۔حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا:’’جو شخص دنیا کو ا پنا نصب ا لعین بنائے گا ، اللہ اس کے دل کا اطمینا ن و سکون چھین لے گا اور ہر وقت مال جمع کرنے اور ا حتیا ج کا شکا ر ہوگا ، لیکن دنیا کا حصہ اتنا ہی اسے ملے گا جتنا اللہ نے اس کے لیے مقدر کیا ہوگا۔ اور جن لوگوں کا نصب العین آخرت ہوگی ، اللہ تعالیٰ ان کو قلبی سکون نصیب فرما ئے گا اور ما ل کی حر ص سے ان کے قلب کو محفوظ رکھے گا اور دنیا کا جتنا حصہ ان کے مقدر میں ہوگا وہ لازماً ملے گا۔‘‘(ترغیب و ترہیب)

  •  دنیاوی غم کا حاصل :کا میا ب، پُرسکون ، پُرمسرت زندگی جس میں کوئی خوف ہو نہ رنج، انسان کا ایک خواب ہے۔ جب انسان کسی تکلیف ، مصیبت اور پریشانی سے گزرتا ہے تو و ہ لازماً یہ سوچتا ہے کہ دنیا کی مصیبتو ں اور تکا لیف کا کیا فا ئد ہ، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری تکا لیف سے کیا ملتا ہے ؟یہ سوال کہ خالق کو کیا ملتا ہے مخلوق کے دائرے سے باہرہے۔اس لیے کہ خالق ان تمام باتوں سے ماورا ہے بلکہ یہ سوچ تو رکھنی ہی نہیں چاہیے کہ خالق کو کیا ملتا ہے۔ اللہ اپنی ذات و صفات اور اختیارات میں لامحدود ہے۔ آدمی اس تک ہرگز نہیں پہنچ سکتا ہے۔سوال تو یہ کرنا چاہیے کہ ہمیں کیا ملتا ہے؟

اس سوال پر انسان سوچے تو اس کے لیے عملِ خداوندی کے ہزار مثبت پہلو اور پُرسکون زندگی کی بے شمار بنیادیں نکل آئیں:

۱- انسان کے ا و پر مصیبتیں نہ آئیں تو ا سفل سا فلین کے درجے تک پہنچنے میں د یر نہیں لگتی۔ اس کی زندگی کھا ؤ پیو، عیش و آرا م کے دائرے تک ہی محدود ہو جائے اور وہ ایک شترِ بے مہار کی سی زندگی گزارے۔

۲- غم اور مشکلات ہی انسان کو یہ شعور عطا کرتے ہیں کہ یہ تمام نعمتیں اللہ کی عطا کردہ ہیں اور اس کے ا پنے زورِ بازو کا نتیجہ نہیں ہیں۔ وہ جب چا ہے انھیں وا پس لے لے، اور جب چا ہے کسی بھی نعمت کے نقصان یا جدائی سے دوچار کر دے۔ اس لیے ایسا انسان کسی بھی ناکامی پر ملول اور مایوسی کی کیفیت سے دوچا ر نہیں ہوتا۔

۳-یہ مصیبتیں ہی دراصل صبر کرنا سکھاتی ہیں اور شکر کے جذبے سے بھی آشنا کرتی ہیں۔

۴- ہر چیز مِن جا نب اللہ ہے اور یہی ہمارے رویوں کا امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ اچھے برے حالات میں ڈال کر ہماری آزمایش کرتا ہے کہ ہم اللہ کی طر ف رجوع کرنے و الے ہیں یا بندوں سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں۔

۵-  انسان اس حقیقت سے بھی آشنا ہوتا ہے کہ نہ تو ر نج وآلام ہمیشہ کے لیے ہیں اور نہ خو شیا ں اور مسرتیں ہی ۔ یہ تمام چیز یں وقتی طور پر دنیا کی زندگی کا حصہ ہیں اور اللہ کی طر ف سے ایک آزمایش ہیں۔ با قی رہ جانے و الی صرف نیکیا ں ہیں جو انسان کے کام آتی ہیں۔

یہ مال اور اولاد محض دنیاوی زندگی کی ایک ہنگامی آرایش ہے۔ اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور اُنھی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ (الکھف ۱۸:۴۶)

۶- ہماری مشکلات اور مصیبتیں جن پر ہم اللہ سے را ضی رہتے ہیں اور صبر و شکر کا مظاہرہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے صلے میں ہماری خطاؤں سے درگزر کرتا ہے۔حدیث ہے کہ : مسلمان کو جو رنج، دکھ، غم، تکلیف اور پریشانی آتی ہے، حتیٰ کہ اگر اس کو ایک کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کی کسی نہ کسی خطا کا کفا ر ہ بنا دیتا ہے۔( بخاری ، مسلم)

۷- رنج و غم دل کو گداز کرتا ہے اور ایسا دل اللہ کے کلا م کے ا ثرا ت کو جلد قبول کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف قربِ الٰہی نصیب ہوتا ہے بلکہ رحم ، ہمدردی اور محبت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں   ؎

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی
مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خدا وندی

۸- انسان عا رضی چیزوں کی و قعت اور اور ان سے دل لگا نے کے انجام سے بھی واقف ہو جاتا ہے۔ اس طرح باقی رہ جانے والی جنت اور اس کے حصول کے لیے تیاری کرتا ہے اور دنیا کے غموں پر اس کا ر و یہ یہ ہوتا ہے کہ و ہ جنت کی د ا ئمی خو شیوں اور آرا م کا طلب گار رہتا ہے۔

غم کا مثبت پھلو

ان غموں میں سے کچھ غم ایسے ہیں جو انسان کی زندگی کو مثبت ر خ دیتے ہیں او ر جن کا کرنا آخرت میں انسان کی نجات کا با عث بنتا ہے اور اسے اللہ کا پسندیدہ بندہ بنا دیتا ہے۔

  •  گناھوں پر غمگین ھونا : گناہوں پر غمگین ہونے کی کیفیت انسان پر طاری ہو تو وہ توبہ کی جانب راغب ہوتا جاتا ہے۔ انسان کو ا پنے گناہوں پر لازماً ایک غم و صدمے کی سی کیفیت میں رہنا چاہیے۔ یہ غم انسان کو اللہ کا قرب عطا کرتا ہے اور خشیت ِ الٰہی کا موجب بنتا ہے۔اس غم میں نکلنے و الے آنسو بھی اللہ کی نظر میں انتہائی مقبول ہیں۔ حدیث ہے کہ ’’جن دو آنکھوں پر دوزخ حرام کر دی گئی ہے ان میں سے ایک آنکھ و ہ ہے جو اللہ کے خوف سے رو د ی، اور د و سر ی آنکھ وہ ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں پہر ہ دیتے ہوئے را ت کو جا گنے و الے مجا ہد کی آ نکھ ہے‘‘ (ترمذی )۔ اسی طرح ایک اور حدیث کے مطا بق جو د و قطر ے اللہ کی نگاہ میں محبوب ہیں، ان میں ایک وہ آنسو کا قطرہ ہے جو اللہ کی یاد اور خوف سے نکلے اور دو سرا وہ خون کا قطرہ جو اللہ کی ر اہ میں جہاد کرتے ہوئے مجا ہد کے جسم سے نکلے۔توبہ و استغفا ر اور اللہ کی طر ف پلٹنے کا عمل انسان کے ا خلا ص اور   دل سوزی کو ظا ہر کرتا ہے۔ ایسے میں انسان ا پنے قصوروں کو یا د کر کے لرزتا ہے، اس کی اندرونی حالت اور بے تابی اسے اللہ کے حضو ر دل و دما غ کے سا تھ جھک جانے پر آما دہ کر تی ہے۔حدیث ہے کہ ’’اے لوگو ! اللہ کی طر ف پلٹواور اس سے ا پنے گناہوں کی مغفرت چاہو ، میں دن میں سو سو بار استغفار کرتا ہوں‘‘۔ (مسلم)

اپنے گناہوں پر غمگین ہونے و الے ا فراد درا صل اللہ کی عظمت و ہیبت سے لرزتے ہیں۔ پھر اپنی کو تاہیوں، غفلتوں اور اپنی بے بسی اور عا جزی کا ا ظہار دعا کے الفاظ میں کرتے ہیں۔ یہ وہ  غم ہے جو دل کو سکون اور ا طمینا ن سے بھر دیتا ہے اور اُسے اللہ کا مقرب بنا دیتا ہے۔

  •  نیکیوں کے مواقع کہو د ینے کا غم: و ہ ا فرا د جن کی زندگیوں کا محور و مرکز    اللہ رب العا لمین کی ر ضا او ر جنت کا حصول ہوتا ہے، وہ صرف ایک ہی غم و فکر میں مبتلا رہتے ہیں کہ کسی طرح ان کی غفلت و لا پروائی سے کوئی بھی ایسا مو قع ضائع نہ ہو جائے جس میں وہ نیکی سے محروم رہ جائیں۔ یہ غم دراصل اتباعِ رسولؐ بھی ہے اور ایک داعی کے شایانِ شان بھی ہے۔ قرآن اس کو مسابقت و مقابلے کا عمل قرار دیتا ہے۔ دنیا کا کون سا ایسا انسان ہے جو مقابلہ نہیں کر رہا۔ ہرفرد کسی نہ کسی مقا بلے میں شریک ہے لیکن نیکیوں میں سبقت لے جانے کا مقابلہ اور ان کے مواقع ضائع کر دینے کا غم اللہ کو محبوب ہے۔

غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح سے نیکی کی طرف سبقت لے جانے کی ترغیب دے رہا ہے: ’’دوڑو اور ایک دوسر ے سے آگے بڑھنے کی کو شش کر و ا پنے ر ب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسما ن و زمین جیسی ہے‘‘(الحدید ۵۷:۲۱)۔ یہ غم ایک مومن کی متا ع ہے کہ اس دوڑ میں و ہ پیچھے نہ ر ہ جائے۔ اسی فکر و ا ضطراب نے لوگو ں کے دلوں کو حق کی طرف مائل کیا ہے۔ یہی غم لوگوں کو فلاح کا را ستہ دکھانے اور ا نھیں جہنم کی آگ سے بچانے کے جنون میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

  •  غمِ عقبٰی: ایمان لا نے کے بعد آخرت کی جواب دہی کا خوف انسان کے اندر ہو تو اس کا ہرعمل خود بخود درست ہو جاتا ہے۔غمِ عقبیٰ ایسا غم ہے جو انسان کے اعما ل اور مختلف معاملات کو درست رخ پر استوار رکھتا ہے۔نبی کریمؐ اور صحابہ کرام ؓ کی سیرت سے ان پاک باز انسانوں کا اس غم میں آنسو بہا نا اور اس کی فکر میں پریشان ہونا ثا بت ہوتا ہے۔یہی نہیں بلکہ مرنے کے بعد قبرکی ہولناکی اور جواب دہی کے غم میں صحا بہ کرا مؓ ہنستے ہنستے رونے لگ جایا کرتے تھے۔

دراصل یہ وہ غم تھے جو ان عظیم ا فراد کو ہلکان کیے رکھتے تھے۔ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہؓ کے زانو پر سر رکھے سو رہے تھے کہ حضرت عائشہؓ کی آنکھ سے آنسو ٹپکے اور آپؐ کی آنکھ کھل گئی۔ فکرمند ہو کر پوچھا: ’’ا ے عائشہ ؓ! تمھیں کس غم نے رُلا دیا؟ اُم المومنینؓ گویا ہوئیں: ’’یارسولؐ اللہ! مجھے جہنم کی یاد آگئی___ اُس نے رُلا د یا۔پھر پوچھا: ’’یارسولؐ اللہ! کیا قیامت کے دن آپؐ ا پنے گھر والوںکو یا د رکھیں گے ؟ ‘‘ رسولِ کریمؐ نے فرمایا: ’’اے عائشہ! تین مقامات ایسے ہوںگے جہاں کوئی کسی کو یا د نہ رکھے گا ، نہ خبر لے گا۔ عندالکتاب، وہ وقت جب اعمال نامہ کھولا جائے گا، عندالمیزان، وہ وقت جب اعمال تولے جائیں گے اور عندالصراط وہ وقت جب پل صراط پر سے گزارا جائے گا‘‘۔ اسی طرح ایک با ر اللہ کے نبیؐ نے کچھ لوگوں کو کھِل کھلا کر ہنستے دیکھا تو آپؐ نے فرمایا کہ ’’اگر تم لذتوں کا خا تمہ کرنے والی موت کو زیادہ یاد کرتے تو وہ تمھیں ہنسنے سے روک دیتی‘‘ (ترمذی)۔ اسی طرح حضرت عثمان بن عفا ن ؓ کے آزاد کردہ غلا م ہا نی کا بیان تھا کہ حضرت عثمانؓ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اتنا روتے یہاں تک کہ اپنی داڑ ھی تر کرلیتے ، کہ قبرآخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔

انسان کو غم پالنے کا شعور ہو تو وہ ایسے غم پالتا ہے جس سے اس کی آخرت بھی سنور تی ہے اور دنیا کے معاملات بھی درست ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی غم کا سبق ہمیں اسوۂ رسولؐ سے بھی ملتا ہے اور اسی کی عکاسی صحابہ کرام ؓ کی زندگی سے بھی ملتی ہے۔ یہ وہ فرق ہے جو ہماری اور اُن کی زندگیوں میں پایا جاتا ہے۔ غم وہ حقیقت ہے جس کے بغیر انسانی زندگی کا تصور نہیں ، فرق صرف اتنا ہے کہ ہم کون سے غموں کو اہمیت دیتے ہیں، کون سی باتیں ہمیں مضطرب کرتی ہیں اور کس پریشانی میں ہمارے آنسو بہتے ہیں۔ فطری غموں اور روز مر ہ کی تکا لیف پر آنسو بہانا بھی منع نہیں لیکن صرف انھی معاملات پر آنسو بہانہ اور غمگین رہنا بھی پسندیدہ نہیں ہے۔

  •  اعلٰی ترین غم :غم کا براہِ را ست تعلق ہمارے مقصدِ زندگی سے ہے، جتنا اعلیٰ ہمارا مقصدِ حیات ہوگا اتنا ہی ہمہ گیر اور گہرا ہمارا غم ہوگا۔ دنیا کے چھوٹے چھوٹے مقا صد چھوٹے غم اور تکلیف لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک مسلما ن کے لیے اقامتِ دین سے بڑھ کر اعلیٰ مقصد اور کون سا ہوگا! یہ مقصد تو تخلیقِ آدم کی بنیاد ہے۔ اسی مقصد کی ہمہ گیریت اور بھاری ہونے کا ا حساس ہی تو انبیاے کرام ؑ کو مضطرب و پریشان رکھتا تھا۔ حضور اکرمؐ کے بارے میں قرآن میں آتا ہے کہ ’’شاید آپ تو ان لوگوں کے پیچھے رنج و غم میں ا پنے کو ہلاک ہی کر ڈالیں گے، اگر یہ لوگ اس کلا مِ ہدایت پر ایمان نہ لا ئیں‘‘۔ (الکھف ۱۸: ۶)

خود نبی کریمؐ اپنی اس کیفیت کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ: ’’میری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی اور جب آس پاس کا ماحول آگ کی روشنی سے چمک اٹھا تو پتنگے اس پر گرنے لگے، اور و ہ شخص پو ر ی قوت سے ان پتنگوں کو آگ سے روک رہا ہے لیکن پتنگے ہیں کہ اس کی کوششوں کو ناکام بنائے دے رہے ہیں اور آگ میں گرے پڑ رہے ہیں۔ اسی طرح میں تمھیں کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ سے روک ر ہا ہوں اور تم ہو کہ آگ میں گرے پڑ رہے ہو‘‘۔

یہ فکر کی وہ کیفیت ہے جو دنیا کے معز ز ترین گروہ کے اضطراب کو ظاہر کر تی ہے۔ان کا غم صرف یہ تھا کہ کسی طرح انسانیت کو فلاح کا را ستہ دکھا دیا جائے۔یہ وہ غم تھا جو ا نبیاے کرا م کو ان کے اعلیٰ ترین مقصد ِ زندگی کی وجہ سے ہلکان کیے دیتا تھا۔لہٰذا ایک بندۂ مومن کو اس غم سے بڑھ کر اور کون سا غم عزیز ہوگا، جب کہ جہنم کے سیاہ گہرے شعلے نافرمانوں کے لیے بھڑکا ئے جا رہے ہوں، انسانیت اللہ کی حدود کو توڑ کر درکِ ا سفل کی پستی میں گرتی چلی جا رہی ہو،کمزوروں و مظلوموں سے جینے کا حق چھینا جا ر ہا ہو اور طاقت ور دنیا کی ہر چیز پر قبضہ کرنے کے لیے چڑھے چلے جا رہے ہوں، ایسے میں صرف ایک ہی غم اور ایک ہی فکر غالب ر ہتی ہے کہ دنیا میں ظلم کے نظا م کا خاتمہ ہوسکے، سسکتی انسانیت اسلام کے سائے تلے پنا ہ لے سکے اور نجات کی راہ پا جائے۔ یہی وہ غم تھا  جو تمام ا نبیا کو ہلکان کیے دیتا تھا، یہی فکر تھی جو حضرت ا برا ہیم ؑ کو ا پنے شیرخوار بچے اور بیوی کو    وادیِ غیرذی زرع میں چھوڑ کر جانے کے لیے تیا ر کر دیتی ہے۔ یہی ا حساس تھا جو حضرت موسٰی ؑ کو فرعون کے دربار میں کلمۂ حق بلند کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ یہی وہ ا ضطراب تھا جو نبی کریمؐ کو غارِحرا کی تنہائی سے نکال کر یاایھا المدثر کا خطاب عطا کراتا ہے۔طائف کے میدان میں لہولہان  کرا دیتا ہے۔ اس فکر ہی میں کبھی شعب ابی طالب کا دشوارگزار مرحلہ آتا ہے تو کبھی عکاظ کا میلہ۔ اسی غم کی قوت بدر و اُحدکے معرکے برپا کراتی ہے اور اسی غم سے قیصروکسریٰ کے ایوان لرز ا ٹھتے ہیں۔ اسی کی کڑی فتح مکہ کا سبب بنتی ہے۔ غرض ہر جگہ، ہر لمحے اور ہر وقت صرف یہی فکر غالب رہتی ہے کہ اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں تک پہنچ جائے اور اللہ کی زمین میں اللہ کا دین نا فذ ہو جائے۔

آپ کو کون سا غم عزیز ھے؟

یہاں اپنی زندگیوں کا جائزہ لینا ضر وری ہے۔ ہماری زندگیوں میں کون سا غم ہے جو ہمیں پریشان و مضطر ب رکھتا ہے۔ کیا ہم بھی بندۂ درہم و دینارہیں جن کے لیے نبیؐ نے فرمایا: ’’تباہ ہوجائے دینار کا بندہ اور درہم کا بندہ اور کمبل (چادر) کا بندہ، اور اگر ا سے د یا جائے تو خو ش اور نہ دیا جائے تو غصے ! تباہ ہوجائے اور منہ کے بل گرے۔ کانٹا چبھے (تو اللہ کرے کہ ) نہ نکلے۔مبارک ہو اس بندے کو جو اللہ کی راہ میں ا پنے گھوڑے کی باگ تھامے ہوئے ہو ، بال بکھرے ہوئے ہوں اور پائوں گرد آلود! اگر ا سے پہرے پر لگایا جائے تو پہرا دے اور اگر پچھلے لشکر میں چھوڑ د یا جائے تو پچھلے لشکرہی میں رہے۔ اگر ا جازت مانگے تو اجازت نہ ملے اور اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش نہ سنی جائے۔ (بخا ری ، کتاب الجھاد)

یہ حدیث ہر اس بندے کے لیے وعید ہے کہ جو حبّ دنیا اور ما ل و دولت کے پیچھے اپنی جان، وقت اور صلا حیتیں صرف کرتا ہے، جب کہ و ہ ان سا ری کوششوں کے باوجود اپنی تقدیر سے نہیں لڑسکتا ہے، لیکن خوشخبری و مبارک باد ہے اس شخص کے لیے جو اللہ کے راستے پر اپنی جان کھپا دینے کی وجہ سے قا بلِ فخرہے اور مبا رک باد کا مستحق ہے۔ حالاںکہ اس کی دنیاوی حیثیت اتنی بھی نہیں کہ کوئی اس کی با ت کو قا بلِ تو جہ سمجھے۔

ہر وہ فرد جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اس کو یہ جانچ لینا چاہیے کہ و ہ ا پنے دعویٰ ایمان میں کتنا سچا اور کھرا ہے۔کیا اس کی زندگی میں کوئی ایسا لمحہ گزرا جب اس کا دل اس لیے غمگین ہو ا ہو کہ دنیا میں اللہ کی حدود پامال ہو رہی ہیں ، اللہ کی راہ میں لڑنے والے ذلیل کیے جا رہے ہیں ،قرآن کی آیات کے من چاہے معنی نکالے جا رہے ہیں، تو کیا اس کا دل اسی طرح دکھ اور تکلیف محسوس کرتا ہے جب اسے کسی ذاتی مصیبت یا آزمایش کا سامناکرنا پڑتا ہے ؟ کیا راتوں کی بیداری کا سبب کبھی یہ فکر بھی ہو ئی کہ اقامتِ دین کی اس جدوجہد میں اس کا اپنا حصہ کیا ہے ؟ کیا اس نے ا پنے حصے کا کام کر لیا ہے ؟ کیا وہ ایمان کی آزمایش کا صرف دعویٰ کرتا ہے یا اس کا عملی نمونہ بھی ہے؟ کیا اس کی جان و مال اللہ رب العالمین کے لیے وقف ہے؟، کیااس کی بھاگ دوڑ صرف دنیا کی عزت، مرتبہ و مقام ہی کے لیے ہے ؟ کیااس کی فکر اولاد کی ڈگری ، آمدنی و شادی تک ہی محدود ہے، یا ان کو اللہ کا بندہ بنانے اور صالحین کا امام بنانے کی بھی ہے؟ کیا اس نے کبھی اپنی اولاد کے لیے یہ دعا کی جو حضرت ابراہیم ؑ نے کی تھی؟یا اس کا شما ر ان ا فراد میں ہے کہ جو ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اپنی جان و مال اپنی دنیا بنانے کے لیے وقف کر دیتے ہیں، جو اللہ سے رجوع تو کرتے ہیں لیکن صرف اپنی مصیبتوں سے نجات کے لیے ، اور جن کے دل امت کے فکر و غم سے خالی ہیں۔کتنے افراد ایسے ہیں جن کی راتوں کی سسکیاں ان مجاہدین کے لیے ہوتی ہیں جو اللہ کے دین کی خا طر گوانتانامو اور ابوغریب میں ظلم کاشکا رہیں۔جو ان مظلوموں کے لیے مضطرب رہتے ہیں جن کو کمزور پا کر دبا لیا گیا ہے اور ڈالروں کے عوض جن بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں کو نیلام کر دیا گیا ہے۔

آئیے جائزہ لیجیے کہ کیا ہم سب کے لیے امت کی مشکلات بھی ایسی ہی ہیں جیسے ہماری ذاتی مشکلات؟ کیا اس کے زخم بھی اسی شدت کے ساتھ محسوس ہوتے ہیں جیسے ا پنے جسم پر لگے زخم؟ جائزہ لیں کہ ہماری آہیں ، سسکیاں ، راتوں کا جاگنا ، دل کا افسردہ ہونا، اور پریشان ہونا کس کے سبب ہے؟کون سا غم ہے جو ہمیں ہلکان کیے دے ر ہا ہے ؟ ہمارا دل کس سوزوغم کا شکار ہے؟ہمیں کون سی بے قراری ہے؟ اور اگر ان سوالوں کے جواب ہمارے پاس نہیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم ان غموں سے نا آشنا ہیں تو پھر دعا کیجیے کہ ہم ان بے قرار داعیوں میں شا مل ہوجائیں جن کا شوق و ولولہ ، تڑپ ، سوز ، درد،لگن اور حوصلہ اُن کو کسی طرح چین سے بیٹھنے نہ دیتا ہو، جن کی جان صرف اس غم میں ہلکان ہوتی ہے کہ کسی طرح یہ انسانیت قرآن کے سا ئے تلے آجائے۔جن کا اضطراب اللہ کے دین کے نفا ذ کے لیے ہوتا ہے وگرنہ اللہ کو ایسے غمگین دلوں کی کوئی پروا نہیں جو اس دھوکے کی زندگی کے مل جانے اور نہ ملنے پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ’’ اگر کہیں اللہ لوگوں کے ساتھ برا معا ملہ کرنے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی وہ دنیا کی بھلا ئی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلت ِعمل کبھی کی ختم کر دی گئی ہوتی۔ (مگر ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے ) اس لیے ہم ان لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے ان کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے مہلت دے دیتے ہیں۔ انسان کا حا ل یہ ہے کہ جب اس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے مگر جب ہم اس کی مصیبت کو ٹال دیتے ہیں تو ا یساچل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی کسی بُرے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔ اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لیے ان کے کرتوت خوش نما بنا دیے گئے ہیںـ‘‘۔ (یونس ۱۰:۱۱-۱۲)

اللہ سے دعا ہے کہ ہم حقیقی غموں کا شعورحاصل کریں اور ان ہی غموں سے اپنی زندگیوں کو مزین کر یں جو ہماری فلاح و نجات کا سبب بنیں۔

 

حضرت کعب بن عیاضؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) ہر اُمت کے لیے (کوئی نہ کوئی) فتنہ اورآزمایش ہے (جس میں اس اُمت کے لوگوں کو مبتلا کرکے ان کو آزمایا جاتا ہے)۔ چنانچہ میری اُمت کے لیے  جو چیز فتنہ اور آزمایش ہے وہ ’مال و دولت‘ ہے۔

حدیث مبارکہ کی وضاحت سے قبل لفظ ’فتنہ‘ کی تعریف اور اس کی اقسام سمجھ لیں۔ فتن جمع فتنہ کی ہے، ابتلا/امتحان، انسان کا اچھی حالت سے بری حالت میں آنا، کسی کی طرف میلان اور خودپسندی، یہ سب معنی آتے ہیں۔ اصطلاحِ شرع میں: ’’ہر ایسی چیز جو انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ سے غافل کردے فتنہ کہلاتی ہے۔ مثال کے طور پر مال اور اولاد کو بھی خداوند تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ’فتنہ‘ کہا ہے، کیونکہ مال اور اولاد انسان کو یادِ الٰہی سے غافل کردینے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

  • فـتنہ کی اقسام:
  •  ذاتی فتنہ: قلب کا سخت ہونا کہ طاعت و مناجات میں حلاوت و لذت محسوس نہ ہو۔
  • فتنۂ اہل: اولاد کی نافرمانی، زوجین میں نفرت اور گھریلو نظام کا بگڑ جانا۔
  • فتنۂ انسانیت: انسانیت ختم ہوجانا، خود غرضی، ایذا رسانی کے درپے ہونے لگنا۔
  • وبائی فتنہ: قحط، طوفان، خسف و مسخ۔
  • فتنۂ کذب: جھوٹ اور دھوکا دہی عام ہوجائے، دلوں سے احساسِ امانت نکل جائے۔
  • فتنۂ تاویلات: متشابہات (قرآنی آیات) میں کج روی کے ساتھ غلط تاویلات کرنا۔
  • فتنۂ سبّ و شتم: سلف صالحین کو گالی دینا۔
  • فتنۂ استحلال: حرام اشیا کو ان کا نام بدل کر جائز سمجھ کر استعمال کرنا۔

اس حدیث مبارکہ کے پیشِ نظر عہدِنبویؐ سے لے کر موجودہ زمانے تک کی تاریخ پر اگر سرسری نظر ڈالی جائے تو یہ بات مخفی نہیں رہے گی کہ یہی مال و دولت سب کے لیے آزمایش بنا رہا ہے، جس کے ذریعے بے شمار بندوں نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بغاوت و نافرمانی کی اور مسلسل کر رہے ہیں۔ مال ودولت کے حصول کے لیے حلال اور حرام، جائز و ناجائز ذرائع استعمال کرنے کو تیار ہیں، بس مال آنا چاہیے! ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: (غافل رکھا تمھیں زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی ہوس نے یہاں تک کہ تم نے قبریں جادیکھیں، سورۃ التکاثر:۱)

  • مال کی مذمت سے متعلق چند اھم احادیث:

  • حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مال و جاہ کی محبت دل میں اس طرح نفاق اُگاتی جس طرح پانی سبزے کو اُگاتا ہے۔
  • ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا: زیادہ امیدیں لگانے والے ہلاک ہوگئے۔
  • ایک موقع پر آپؐ سے پوچھا گیا کہ آپؐ کی اُمت میں سب سے زیادہ بُرا کون ہے؟ فرمایا: مال دار۔
  • ایک موقع پر آپؐ نے فرمایا: ابنِآدم کہتا ہے کہ میرا مال، جب کہ تیرا مال تو صرف وہی ہے جو تو نے کھاکر ختم کردیا، پہن کر بوسیدہ کردیا یا صدقہ دے کر باقی رکھ لیا۔
  • ایک تفصیلی حدیث میں آپؐ نے فرمایا: میرے بعد ایسی قوم آئے گی جو دنیا کی عمدہ تر اور رنگارنگ نعمتیں کھائے گی، ناز سے چلنے والے رنگارنگ گھوڑوں پر سواری کرے گی، خوب صورت اور رنگارنگ عورتوں سے نکاح کرے گی اور خوب صورت اور رنگارنگ کپڑے پہنے گی، ان کے پیٹ تھوڑی چیز سے سیر نہیں ہوں گے، اللہ کو چھوڑ کر مال و دولت کو اپنا خدا بنائیں گے۔
  • ایک موقع پر آپؐ نے فرمایا: جس نے دنیا بقدرِ کفایت سے زیادہ لی تو اس نے اپنی ہلاکت لے لی، اور وہ محسوس نہیں کررہا۔ بعض اہلِ علم اس حدیث کی ایک تشریح اس انداز سے کرتے ہیں کہ ’فتنہ‘ سے مراد آخرت کا عذاب ہے کہ اس مال کی وجہ سے بہت سے لوگ فتنوں یعنی عذاب میں مبتلا ہوں گے، قیامت کے دن دو درہم والے سے ایک درہم والے کی نسبت زیادہ سوال ہوگا۔ اسی وجہ سے آپؐ یہ دعا مانگا کرتے تھے: ’’اے اللہ! محمدؐ کے گھرانے کی خوراک اندازے کے مطابق کردے، اور فرمایا: قیامت کے دن کوئی فقیر اور مال دار ایسا نہیں جو یہ تمنا نہ کرے کہ مجھے دنیا میں خوراک کے مطابق ہی رزق دیا جاتا‘‘۔

انسان کے مقدر میں جتنا مال لکھ دیا گیا ہے اتنا ہی اس کو ملے گا، شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں: ’’اے انسان اس بات کو جان لے کہ جو چیز تیری قسمت میں لکھی جاچکی ہے وہ ہرحال میں تجھے ملے گی خواہ توطلب وسوال کی راہ اختیار کریا اس کو ترک کر دے۔ اور جو چیز تیری قسمت میں نہیں لکھی وہ تجھ کو کسی حالت میں نہیں ملے گی ، خواہ تو اس کی طلب کی کتنی ہی حرص رکھے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے کتنی ہی سعی وکوشش اور محنت ومشقت برداشت کرے ، لہٰذا تجھے جو کچھ مل جائے اس پر شاکر وصابر رہ، ہر جائزوحلال چیز کو حاصل کرنا ضروری سمجھ اور اپنی قسمت پر راضی ومطمئن رہ تا کہ رب ذوالجلال تجھ سے راضی وخوش ہو۔

یہ بات یاد رکھی جائے کہ مال ودولت کے سلسلے میں جو چیز مذموم ہے وہ مال ودولت کی محبت اور دنیا داری میں مبتلا ہونا اور اپنی چادر سے باہر پیر پھیلانا ہے ۔ یہ خصلت انسان کو ’مال کا بندہ‘ بنا دیتی ہے کہ اس کی ہر سعی اور جدوجہد کا محور، اس کی ہر تمنا وخواہش کا مرکز اور اس کے ہر فعل اور عمل کی بنیاد صرف مال اور زر ہوتا ہے۔ ہمیں مال کا نہیں ’اللہ کا بندہ‘ ہونا چاہیے۔ مال داری بذات خود کوئی مذموم چیز نہیں ہے، کسی شخص کے پاس (حلال ذرائع سے کمایا ہوا) کتنا ہی مال کیوں نہ ہو اور وہ کتنا ہی بڑ ا دولت مند کیوں نہ ہو اگر اس کا دل مال ودولت کی محبت میں گرفتار نہیں ہے تو اس کو   بُرا کہنا درست نہیں۔