کائنات کی ابتدا سے انسان خدا کی تلاش میں رہا ہے۔ یہ الگ بات کہ اسے خدا نہ ملا ہو اور وہ غیرخدا کو خدا سمجھ کر اس کی پرستش کرتا رہا ہو۔ غیرخدا کون ہے؟ وہ جو پتھر تھا،درخت تھا یا غیرانسانی مخلوق جسے انسان نے خدا کاعلامتی رُوپ سمجھا اور خدا کا قائم مقام سمجھ کر اس کی پوجا اور پرستش کی۔اسے انسان کی نادانی، ناسمجھی یا مجبوری سمجھا جائے کہ انسان کے اندر خدا کی تلاش کا مادہ اس کے خلق کرنے کے ساتھ ہی رکھ دیا گیا تھا اور اسی جذبۂ تجسس نے انسان کو ہر دور اور ہر زمانے میں اس امرپہ مجبور کیا کہ وہ خدا کو تلاش کرے تاکہ وہ اس کی پوجا کرسکے۔ اس کے آگے اپنی ضروریات اور احتیاجات رکھ سکے اور ساتھ ہی اس کی خوشنودی کے لیے اس کے آگے نذرونیاز پیش کرسکے۔ اس رویے کو ہم انسان کی جہالت اور لاعلمی کہنا چاہیں تو کہہ دیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان ایسا کرنے پر کل بھی مجبور تھا اور آج بھی مجبور ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ خدا نے انسان کے اندر خدا کو ڈھونڈنے کا جذبۂ تجسس کیوں رکھا؟ کیا اس لیے کہ انسان خدا کو خود ڈھونڈے۔ اگر ایسا تھا تو پھر خدا نے اپنی وحدانیت اور کبریائی کے اعلان و اعتراف کے لیے ہزاروں انبیا ؑاور رُسلؑ کیوں بھیجے؟ ان پر آسمانی صحائف کیوں اُتارے ؟ اور سب سے بڑھ کر ان کی اُمتوں نے ان انبیا ؑاور رُسلؑ کو تسلیم کیوں نہ کیا اور کیوں ان کی تردید و تکذیب کی اور آخری نتیجے میں خدا نے ان اُمتوں کو کیوں ہلاک کردیا اور کیوں اُن پر طرح طرح کے عذاب بھیجے؟ کیا خدا اس پر قادر نہ تھا کہ ان اُمتوں کو ہدایت دے دیتا اور جب وہ اس پہ قادر تھا تو اس کی قدرت سے یہ کرشمہ کیوں رُونما نہ ہوا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب دینا آسان نہیں۔ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ خدا ہی نے ان کو ہدایت سے محروم رکھا ۔ وہ چاہتا ہی نہ تھا کہ یہ اُمتیں سیدھی راہ پر چلیں اور خدا کے بھیجے ہوئے انبیاؑ کو مانیں اور ان کی اطاعت کریں۔ اگر ہم اس مفروضے کو مان لیں تو پھر ساری ذمہ داری خدا پر آجاتی ہے (نعوذ باللہ)۔ لیکن جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا مہربان ہے ، رحمٰن و رحیم ہے، معاف کر دینے والا اور بخشنے والا ہے۔ اسے انسان کو عذاب میں مبتلا کرنے میں کوئی خوشی نہیں۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ اس جبری مفروضے کو مان لینے سے اس کی شانِ ربوبیت میں فرق ضرور آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ دُنیا اور کائنات انسانوں اور اپنی مخلوقات ہی کے لیے تخلیق کی ہے اور اس لیے تخلیق کی ہے کہ انسان اس برگزیدہ ہستی کو پہچانے اور اس کی عبادت کرے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انسان اپنے مادئہ تجسس کی وجہ سے خدا کا متلاشی ضرور رہتا ہے لیکن وہ اس خدا کو ماننے پر تیار نہیں ہوتا جس کی وحدانیت اور کبریائی کا اعلان خود خدا کے بھیجے ہوئے نبی اور رسول کرتے آئے ہیں۔ انسان غیرخدا کو تو آسانی سے خدا مان لیتا ہے کیوںکہ اس صنم کو وہ اپنے ہاتھوں سے تراشتا ہے، لیکن وہ اس خدا کو نہیں مانتا جو نظروں سے اوجھل ہے، جو دکھائی نہیں دیتا۔ انسان فطری طور پر ظاہر پرست ہے۔ جو چیز اسے دکھائی دیتی ہے، جو آسانی سے اس کی رسائی میں ہوتی ہے، وہ اسے مان لیتا ہے، اس کے آگے نذرو نیاز اور چڑھاوے بھی چڑھا دیتا ہے، لیکن وہ خدا اس کی عقل میں نہیں سماتا جو اس کا اصل خالق و مالک ہے۔ بنیادی طور پر یہی انسان کی کم مائیگی بھی ہے اور بدنصیبی بھی۔
اسلام مذاہب اور ادیان میں وہ واحد مذہب اور دین ہے جس نے انسانوں کو ایک ایسے اللہ ربّ العالمین کا تصور دیا جو غیرمرئی ہے، جو موجود ہوکر بھی غیرموجود ہے۔ بے شک دوسرے مذاہب اور ادیان بھی خدا کا کچھ حوالوں سے ملتا جلتا تصور پیش کرتے ہیں۔ لیکن قرآن کی گواہی اور مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق اسلام کو چھوڑ کر دوسرے مذاہب اورادیان خالص نہیں رہے بلکہ ان کے صحیفوں میں الحاقی عناصر شامل کر کے انھیں کچھ سے کچھ بنا دیا گیا ہے۔ ان صحیفوں میں خدا کا جو تصور ملتا ہے، یہ وہ تصور نہیں ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا آسمانی صحیفہ ہرملاوٹ اور آمیزش سے پاک ہے اور ایسا اس لیے ممکن ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے صحیفے کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کی اور ہرزمانے میں ان تمام کوششوں کو اپنے فضل و کرم سے ناکام بنا دیا جو اس میں آمیزش کے لیے کی گئیں۔ اس لحاظ سے اسلام اورمسلمان خوش نصیب ہیں۔ خداوند تعالیٰ نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ اسلام آخری دین اور اس کے رسولؐ آخری نبی ہیں جو خدا کی طرف سے دُنیا میں بھیجے گئے۔ اگر انبیا ؑ کے سلسلے کو ختم کرنا مقصود نہ ہوتا تو آخری صحیفے کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خدا نہ لیتا۔ اسی لیے اسلام خدا کا ایک مکمل ڈسپلن ہے جس کی روشنی میں انسان ایک کامیاب زندگی گزارنے کا اہل ٹھیرتا ہے۔
دُنیا کے ہر مذہب میں عبادات کا کوئی نہ کوئی طریقہ رائج ہے۔ لیکن نماز ایک ایسا طریقۂ عبادت ہے جو تمام آسمانی مذاہب میں قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس بات کی تصدیق آخری صحیفے قرآنِ پاک سے ہوتی ہے۔ نماز کی ابتدا وضو سے ہوتی ہے۔ وضو کا مقصد خود کو پاک صاف کر کے اس قابل بنانا ہے کہ خدا کے حضور حاضر ہوسکیں۔ نماز قیام اور رکوع و سجود پہ مشتمل ہے جس کے دوران نمازی آیاتِ ربانی کی تلاوت کرتا ہے اور رکوع و سجود میں خدا کی عظمت و بڑائی کا اعلان و اعتراف کرتا ہے۔ اور آخر میں سلام پھیر کر نمازی نماز سے نکل آتا ہے ۔ عبادت کا اختتام اس دُعا پہ ہوتا ہے جس میں نمازی خداوند تعالیٰ کے سامنے اپنی ضروریات اور احتیاجات رکھتا ہے اس اُمید کے ساتھ کہ خداوند تعالیٰ اس کی ضرور سنے گا اور اس کی دُعا کو قبول کرے گا۔
نماز پڑھنے والے اس حقیقت کی تصدیق کریں گے کہ ادائے نماز سے وہ اپنے اندر ایک پُرسکون روحانی کیفیت کو محسوس کرتے ہیں۔ ایک طرح کی پاکیزگی کا احساس ان کے وجود میں پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ روحانی پاکیزگی اور اپنے وجود کی تکمیل کا یہ احساس اُنھیں نمازوں کا پابنداور عادی بنادیتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ انسان جسم اور روح کا مجموعہ ہے۔ اس فانی جسم میں روح خدا کی پھونکی ہوئی ہے۔ نماز نہ پڑھ کر کاروبارِ دُنیا میں اُلجھے رہنا روح کو پیاسا اور تشنہ بنادیتا ہے۔ نماز اس روح کو مطمئن ،آسودہ اور شادکام کردیتی ہے۔ جب انسان کی روح خداوند تعالیٰ کی روحِ اعلیٰ کے سامنے پیش ہوتی ہے، تو ایک ہم آہنگی کی کیفیت سے ہی پاکیزگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ نمازیوں سے اس کی تصدیق بھی کی جاسکتی ہے کہ تمام نمازیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ وہ نماز جو حالت ِسپردگی میں ادا کی جاتی ہے، کیفیت کے اعتبار سے اس نماز سے بدرجہا بہتر ہوتی ہے جو حالت ِ غفلت میں ادا کی جاتی ہے۔ وہ وضو اور وہ نماز جو عجلت، لاپرواہی اور بے سکونی سے ادا کی جائے کبھی اس نماز جیسی نہیں ہوسکتی جو تعلق باللہ کے احساس سے جڑی ہو۔
خدا کے حضور حاضر ہونے کے لیے خود کو تیار کرنا مگر اس کا شعوری احساس نہ کرنا کہ میں کس برگزیدہ ترین ہستی کے حضور کھڑا ہورہا ہوں، نماز کو روحانی اعتبار سے کمزوراور بڑی حد تک بے تاثیر بنادیتا ہے۔ اس لیے نمازی کو چاہیے کہ وضو جیسے تیسے عجلت میں نہ کرے بلکہ ایک ایک عضو پر پوری توجہ سے پانی بہائے، انھیں پاک صاف کرے بالکل اسی طرح جیسے دُنیا کی کسی مقتدر اور باحیثیت شخصیت سے ہم ملنے جائیں تو اس کے لیے ہم کتنا اہتمام کرتے ہیں۔ ویسے ہی خداوندتعالیٰ کی عظیم الشان اور برگزیدہ ہستی کے حضور کھڑے ہونے کے لیے ہمارا لباس پاکیزہ اور ہمارے وجود میں وضو سے پیدا ہونے والا تقدس ہونا چاہیے۔ یہ اسی وقت ہوگا جب ہم وضو، کیفیت ِ وضو کے ساتھ کریں۔ یہی معاملہ نماز کا ہے۔ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہمارے اندر ایک سکون اور ٹھیرائو ہو۔ نماز کے ارکان کی ادائیگی میں عجلت اور جلدبازی جیسے ایک بوجھ ہے جسے سر سے اُتارنے کی فکر ہے۔ ایسی نمازیں کیا خدا کی بارگاہ میں مقبول ہوسکتی ہیں؟
اس پہلو پہ ضرور غور کرنا چاہیے۔ نماز حقیقتاً باطن کا غسل ہے۔ جس طرح نہانے دھونے سے بدن میں پاکی و صفائی کا ایک احساس پیدا ہوجاتا ہے جس سے طبیعت پُرسکون ہوجاتی ہے، اسی طرح نماز ہمارے باطن میں روحانی پاکیزگی کا احساس اور دل و دماغ کو پُرسکون کردیتی ہے۔
نمازی کو شعوری طور پر خود کو یقین دلانا چاہیے کہ وہ نماز پڑھ کر کسی طرح کا خدا یا خدا کے بندوں پر احسان نہیں کر رہا، بلکہ یہ نماز وہ اپنے بھلے اور اپنی ضرورت کے تحت پڑھ رہا ہے۔ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے اور نیکی کا کوئی کام کرکے وہ مختلف قسم کے گمانوں میں مبتلا ہوجاتا ہے، مثلاً اس کے اندر تقویٰ کے دعوے اور احساس کا پیدا ہوجانا جو خدا کو سخت ناپسند ہے۔ خود نماز پڑھ کر بے نمازیوں کے لیے حقارت کا جذبہ رکھنا اپنی نماز کو بھی ضائع کر دینا ہے۔
نماز کے دوران توجہ اور یک سوئی ایک بڑا مسئلہ ہے، جو تقریباً تمام ہی نمازیوں کو درپیش رہتا ہے۔ ذہن میں طرح طرح کے خیالات کا آنا، نماز سے توجہ کا ہٹ جانا اور یہ یاد نہ رہنا کہ میں نے پہلی رکعت پڑھی ہے یا دوسری، قومہ کیا یا نہیں، تمام رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا یا نماز ادھوری رہ گئی۔ یہ شکایت اپنے آپ سے تمام ہی نمازیوں کو رہتی ہے۔ جاننا چاہیے کہ ذہن گزرگاہِ خیال ہے۔ نمازی نماز کی طرف کتنی ہی توجہ مرکوز رکھنا چاہے، کوئی نہ کوئی خیال اس کی توجہ کو ضرور اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور وہ بروقت چوکنا نہ ہو توخیالات کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایسا ہونا فطری سی بات ہے۔
اس کا ایک آسان سا حل تو یہ ہے کہ نمازی جب نماز میں داخل ہوجائے تو تلاوت کرتے ہوئے اپنی توجہ کو ان آیات ِ مبارکہ پہ مرکوز کردے جن کی وہ تلاوت کر رہا ہے۔ اس طرح خیالات کی یورش کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ دوسرے یہ کہ نماز حالت ِ سکون میں پڑھے۔ عجلت یا جلدبازی بھی کیفیت ِ نماز کو متاثر کرتی ہے اور غلطیاں سرزد ہونے لگتی ہیں۔ انسان خطا و نسیان کا پُتلا ہے۔ سجدئہ سہو کی رعایت بھی اسی لیے رکھی گئی ہے کہ نمازی سے غلطی عین ممکن ہے۔
غالب نے کہا تھا ؎
ہے آدمی بجائے خود ایک محشرِ خیال ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
_______________
حج ہر سال ہمیں ہماری پہچان یاد دلانے، ہمیں اپنی فطرت کی طرف لوٹانے، ہمارے تعلقات میں حقیقی بھائی چارہ پیدا کرنے، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر لبیک کہنے، اپنے پروردگار اور خالق کے شعائر کی تعظیم میں صدق پیدا کرنے اور شیطان اور اس کے گروہ سے دشمنی کا درس دینے آتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر امت ان مقاصد کو حاصل نہیں کر پاتی، تو پھر وہ حج کیوں کرتی ہے؟ جب کہ اس کے اہم ترین مقاصد میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنا ہے، اس کے احکامات پر عمل کرنے میں جلدی کرنا، اور جن چیزوں سے اس نے روکا ہے ان سے بچنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ۰ۚ (الانفال۸:۲۴) اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو، جب کہ رسُول تمھیں اس چیز کی طرف بُلائے جو تمھیں زندگی بخشنے والی ہے۔
حج میں اللہ کے حکم کی تعمیل طواف، سعی، رمی اور قیامِ منٰی کی صورت میں نظر آتی ہے۔ ان شرعی ضوابط سے ایک مسلمان اللہ کے حکم کے سامنے مکمل تسلیم و رضا کا درس سیکھتا ہے۔ کسی منطقی نظریے یا فلسفیانہ بحث میں پڑے بغیر وہ ان تمام مناسک سے اللہ تعالیٰ کی مکمل اطاعت سیکھتا ہے۔
میں یہاں اُمت مسلمہ سے سوال کرتا ہوں، جو حج کا شوق رکھتی ہے اور اس کے لیے اپنی قیمتی ترین پونجی خرچ کرتی ہے: کیا وہ واقعی اللہ کے حکم پر لبیک کہتی ہے؟ کیا ہماری امت اپنے چھوٹے بڑے تمام معاملات میں اللہ کی شریعت کو حاکم مانتی ہے؟ تاکہ اللہ کے اس فرمان کی تعمیل ہو سکے:
وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ (المائد ہ۵:۴۹) اور اس کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کرو۔
اور اس کے اس حکم کی اطاعت ہو:
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ۰ۭ (یوسف۱۲:۴۰)اور حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔
اور اللہ کے اس حکم کی نافرمانی سے بچا جا سکے:
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ۴۴ (المائدہ۵:۴۴) اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی اصل کافر ہیں۔
حج ہمیں ہماری شناخت یاد دلانے، ہمیں ہماری فطرت کی طرف لوٹانے، اور ہمارے اندر سچا بھائی چارہ (اخوت) اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کا جذبہ بیدار کرنے کے لیے آتا ہے۔
کیا ہماری امت اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر لبیک کہہ رہی ہے جس میں اسے جہاد کا حکم دیا گیا ہے، اگر اس کے دین، مال، جان، عزت یا نسل پر حملہ کیا جائے؟ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی ایک کا دفاع کرتے ہوئے مرنے والے کو شہادت کا رُتبہ دیا ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ نَفْسِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ (ابوداؤد: ۴۷۷۲، نسائی:۴۰۹۵، احمد:۱۶۵۲ )’’جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے، جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے، اور جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے‘‘۔
اُمت مسلمہ کے دشمنوں نے اس پر دھاوا بول دیا اور ان تمام ضروریات (جان، مال، عزّت) پر حملہ کیا، تو کیا امت نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں جہاد کا فریضہ سرانجام دیا؟ کیا امت اپنے مقدسات کے لیے کھڑی ہوئی؟ کیا اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سر زمینِ اسرا (مسجد ِ اقصیٰ) کا دفاع کیا؟
مَنْ حَـجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ (بخاری:۱۵۲۱،مسلم ۱۳۵۰) جس نے حج کیا اور اس دوران کوئی فحش کلامی یا گناہ نہ کیا، وہ (گناہوں سے پاک ہو کر) ایسے لوٹا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو‘۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ (الحجرات۴۹:۱۰)بے شک مومن تو بھائی بھائی ہیں۔
ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ: کیا آج کی امت اس سچی اخوت کو اپنائے ہوئے ہے؟ وہی امت جس نے حج میں یہ سیکھا تھا کہ وہ اپنے لباس، زینت، خوشبو اور نعروں میں تفاخر اور برتری کے تمام اسباب کو چھوڑ دے تاکہ کامل اخوت کو حاصل کر سکے۔
امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان گرامی کے مطابق کہاں کھڑی ہے:
مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّی (بخاری: ۶۰۱۱،مسلم:۲۵۸۶) مؤمنوں کی مثال ان کی باہمی محبت، رحم دلی اور ہمدردی میں ایک جسم کی طرح ہے۔ جب جسم کے کسی ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے قراری اور بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
ذٰلِكَ۰ۤ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ۳۲(الحج۲۲:۳۲) اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے، تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔
مسلمان حج اس لیے کرتے ہیں تاکہ اپنے دین کے ساتھ بیعت کی تجدید کریں اور مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہو کر مؤمنوں سے دوستی اور دشمنوں سے بیزاری کا اظہار کریں۔
میں اس امت سے پوچھتا ہوں جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتی ہے، کیا اللہ کے ان شعائر میں سے، جن کی تعظیم واجب ہے، مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت اور اسے غاصب صہیونیوں سے آزاد کرانا شامل نہیں؟ کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کا نقطۂ قیام نہیں ہے؟ کیا یہ مسلمانوں کا قبلہ اول نہیں ہے؟ اگر امت اپنے رب کے شعائر کی تعظیم نہیں کرتی، تو وہ حج کے مفاہیم کو کیسے پاسکتی ہے؟
یقیناً شعائر کی تعظیم صرف اس کنکری کی جسامت تک محدود نہیں جو ہم شیطان کو مارتے ہیں، اور نہ اس بال تک محدود ہے جو حاجی کے سر سے اتفاقاً گر جائے، اور نہ اس چیونٹی کے خون کی نازک ذمہ داری تک محدود ہے جو حاجی کے پاؤں تلے آ جائے! بلکہ اللہ کے شعائر کی تعظیم مسلمانوں کے خون کی حفاظت میں مضمر ہے۔
وہ مسلمان جسے قتل کیا جاتا ہے، جس پر بمباری ہوتی ہے، جس کی عزت و قدر پامال کی جاتی ہے اور جسے اس کے گھر سے بے دخل کیا جاتا ہے، وہ اس کعبہ سے زیادہ عظیم ہے جس کا تم طواف کرتے ہو۔ یہی وہ بات ہے جو ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا:
مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَلَحُرْمَةُ الْمُسْلِمِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ مِنْكِ (ترمذی: ۲۰۳۲، ابن ماجہ:۳۹۳۲، ابن حبان:۵۷۶۳)تُو کتنا عظیم ہے اور تیری حُرمت کتنی عظیم ہے! لیکن ایک مسلمان کی حرمت اللہ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ عظیم ہے!
میں حیران ہوں کہ کیا امت شیطان سے دشمنی اور جنگ کر رہی ہے؟! افسوس کہ اُمت کی صورتِ حال یہ کہتی ہے کہ: شیطان نے امت میں قیادت کا منصب سنبھال لیا ہے۔ وہ شیطان کے ساتھ اتحاد کرتی ہے، اس کے ساتھ تعلقات استوار کرتی ہے، اور ہر قسم کے رابطے، محبت اور تحائف کے ذریعے اس سے جڑی ہوئی ہے۔ بلکہ شاید ان میں سے کچھ اس کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے قتل، مجاہدین کے محاصرے اور پُرامن لوگوں پر حملوں کی سازشیں بھی کرتے ہیں۔
اللہ کے شعائر کی تعظیم ان مسلمانوں کے خون کی حفاظت میں ہے جنھیں قتل کیا جاتا ہے، جن پر بمباری کی جاتی ہے، جن کی عزّت پامال کی جاتی ہے اور جنھیں ان کے گھروں سے نکالا جاتا ہے۔
امت شیطان سے نہیں لڑ رہی، بلکہ شیطان کے ساتھ اتحاد کر رہی ہے۔ اس کے منصوبوں پر عمل درآمد کر رہی ہے، اور مجاہدین و مزاحمت کاروں کے محاصرے میں اس کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے، اور ان لوگوں کو برا بھلا کہہ رہی ہے جو قدس کا دفاع کرتے ہیں اور مسجد اقصیٰ کے لیے لڑتے ہیں۔ دنیا میں شیطانی اتحاد اس بات کی دلیل ہے کہ امت نے مناسکِ حج سے کچھ نہیں سیکھا، اور اس کی اکثریت اپنے مقاصد کو حاصل کیے بغیر مناسک حج ادا کرنے میں لگی رہتی ہے۔
كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۰ۭ (اٰل عمٰرن۳:۱۱۰) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
ہم ایک گواہ امت ہیں، پوری انسانیت پر تہذیبی گواہی دینے والی امت، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَہِيْدًا۰ۭ (البقرہ۲:۱۴۳ ) اور اسی طرح ہم نے تمھیں ایک معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہو۔
امت کی اس عظمت اور اس کے مقام کے بارے میں، جسے ہم حج کے دوران سیکھتے اور ذہن نشین کرتے ہیں، میں بڑی تکلیف کے ساتھ اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں: کیا ہم اُمت کے حقیقی اجزا کے طور پر نظر آ رہے ہیں؟ کیا ہم امت کی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟ اور کیا ہم امت کے اخلاق، اس کی اقدار، باہمی رحم دلی اور ہمدردی کی تصویر بنے ہوئے ہیں؟
نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تعلقات منقطع ہیں، جھنڈے جُدا جُدا ہیں، ناموں کی بھرمار ہے، اور لوگ آپس میں دست و گریبان ہیں۔ امت نے اپنے ہی کچھ حصوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ ان کا خون بہایا جا رہا ہے، ان کا مال لوٹا جا رہا ہے، اور انھیں ان کے گھروں سے نکالا جا رہا ہے، اور یہ سب پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، جب کہ خیر اور بھائی چارے کی حامل یہ اُمت لہو و لعب، تفریح گاہوں، تقریبوں اور سیر و سیاحت میں مگن ہے۔
بلاشبہ امت حج کے حقیقی معانی سے غافل ہو چکی ہے۔ اسے ضرورت ہے کہ وہ پلٹ کر آئے اور امت مسلمہ ہونے کی اپنی پہچان حاصل کرے۔ تب ہی حج کا اثر مختلف ہوگا، اور عبادات کے نتائج ظاہر ہوں گے۔ لیکن اگر ہم حج کے مقاصد اور اہداف کو نہ سمجھیں، اور اس عظیم عبادت کی روح کو نہ اپنائیں، تو ہم اب تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ ہم حج کیوں کرتے ہیں، اور اللہ نے حج کیوں فرض کیا ہے؟
اللہ ربّ العزت کی توفیق اور اس کے بے پایاں احسانات میں سے ایک احسان یہ ہے کہ ہمیں رمضان المبارک سے فیض یاب فرمایا اور پھر اس کے بعد ہمیں مسرت اور خوشی کے اظہار کا دن’عید الفطر‘ عطا فرمایا۔ عید اللہ کے حضور اظہارِ تشکر اور اس کے سامنے عجز و نیاز اختیار کرنے کا دن ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی من جملہ ان بے پناہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جو وہ ہر آن، ہر لمحے اور ہرساعت ہمارے اوپر نچھاور فرما رہا ہے۔ ہم تو ان نعمتوں کا ادراک بھی نہیں کر سکتے چہ جائیکہ ہم ان کا شکر ادا کر سکیں۔ یہ موقع بالعموم ہمارے معاشرے کے اندر خوشی اور مسرت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس موقعے پر لوگ خوشی اور شادمانی کا اظہار کرتے ہیں۔ خوشی کے ان مواقع پر اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ انسان راہ اعتدال سے کچھ تجاوز کر جائے۔ کسی جگہ اس کے قدم ڈگمگا جائیں۔ وہ نیکی کے راستے پہ چلتا چلتا کہیں کسی معصیت اور کسی نافرمانی کی راہ پر چل نکلے۔
انسان کی اس نفسیات کے پیش نظر پیغمبر علیہ السلام نے ہمیں خوشی کے ضوابط اور مسرت کے آداب سے روشناس فرمایا ہے۔ ان مواقع پر لوگوں کو اس بات کی کھلی چھوٹ دینا کہ جو پابندیاں تمھارے اُوپر لاگو کی گئی تھیں وہ اب ختم ہو گئی ہیں، اور اب تم آزاد ہو اور اس آزادی کے اندر جو بھی کام کرو اور جس طرح کا رویہ بھی اختیار کرو اس کے بارے میں تمھارے اوپر کوئی قانون اور ضابطہ عاید نہیں ہوتا۔ یہ وہ چیز ہے انسانی نفس جس کی خواہش کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے آزاد چھوڑ دیا جائے اور وہ خود اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے فیصلے بھی کرے اور اپنی خوشی کے منانے کا جو انداز بھی اسے بھلا لگے اس کو اختیار کرے۔ لیکن فی الحقیقت ایک مومن کی زندگی کے اندر اس طرح کی بے مہار آزادی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔
قرآن مجید کے اندر اس ضابطے کو بے شمار اسالیب سے سمجھایا گیا ہے۔ کہیں ایک اصول کے طور پر یہ بات انسان کو سمجھا دی کہ جِنّ و انس کو تو میں نے صرف اس بنا پر پیدا کیا ہے کہ وہ میری غلامی اور بندگی کریں۔ غلام کا اپنا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اللہ ربّ العزت نے انسان کو اپنے غلام کی حیثیت سے زندگی گزارنے کی جو تلقین فرمائی ہے، اس کا نتیجہ یہی ہے کہ حالت کیسی بھی کیوں نہ ہو، غم کی کیفیت ہو یا آزمائش کی کیفیت ہو، یا خوشی اور شادمانی کی کیفیت، اس کی حیثیت بالآخر اللہ کے سامنے ایک غلام کی ہے اور غلام کبھی بھی اپنی مرضی نہیں کرتا۔ اس کو نہ اس بات کا اختیار ہوتا ہے اور نہ اس کے اندر خود جذبات اتنے توانا ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آقا کے مقابلے میں اپنی مرضی چلانے کی کوشش کرنا شروع کر دے۔
شریعت نے غم، خوشی، تکلیف اور آزمائش کے بھی آداب مقرر کر کے انسان کی رہنمائی فرمائی ہے ۔ غم، تکلیف اور آزمائش کے موقعے پر اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ انسان راہِ اعتدال سے ہٹ جائے اور اس کی زبان سے کچھ ایسے کلمات نکل جائیں جو اللہ کی ناراضی کا موجب بننے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی معصیت میں ان کا شمار ہوتا ہو۔ کچھ ایسی حرکات بھی انسان سے سرزد ہو سکتی ہیں کہ جن کے نتیجے میں اللہ کے ہاں انسان ایک مجرم کے طور پہ پیش ہو۔ اسی طرح سے جب خوشی اور فرحت کا موقع ہوتا ہے تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ انسان بدمست ہو جائیں، خوشی کو مناتے ہوئے فخروغرور اور نفرت و تکبر کے اظہار میں اتنا آگے بڑھ جائیں کہ اس سےخلق خدا کو بھی تکلیف ہو اور اللہ ربّ العزت کی ناراضی بھی اس کے نتیجے میں سامنے آئے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کا پابند بنایا ہے کہ انسان کسی بھی کیفیت میں ہو، اس کا معاملہ خیر پر مبنی ہونا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عجبا لامر المؤمن فان امره كله خير ’’مومن کا معاملہ ہرحال میں تعجب انگیز ہوتا ہے‘‘۔ یہ تعجب اس بنا پر کہ اس کے سارے کے سارے معاملات خیر کے اوپر مبنی ہیں۔ کوئی منفیت اس کے اندر نظر نہیں آتی۔ پیغمبر علیہ السلام خود فرما رہے ہیں کہ اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے اوپر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ ربّ العزت کی رضا اور اس کا فیصلہ سمجھ کر اس کے اوپر خاموشی اختیار کرتا ہے۔ اللہ پر توکّل کرکے معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ جب اسے کوئی خوشی اور مسرت کا موقع میسر آتا ہے تو اللہ ربّ العزت کے سامنے سر بسجود ہو جاتا ہے۔ عجز و نیاز کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ صبر اور شکر دونوں صفات انسان کو جنت میں لے جانے والی ہیں اور جہاں حقیقی معنی میں صبر ہوتا ہے وہاں یقینی طور پہ شکر بھی اس کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ اور جس جگہ شکر موجود ہو اس شخص کے اندر یقینا صبر کا جذبہ بھی اسی طرح سے موجود ہوگا۔
خیال رہے کہ وہ پابندیاں جو رمضان المبارک میں ہمیں برداشت کرنا پڑیں وہ اب ختم نہیں ہو گئی ہیں۔ کھانے پینے کی وہ پابندی جو ہمیں رمضان المبارک کے اندر برداشت کرنا پڑی وہ خود انسانی عقل، سوچ اور فہم کے نتیجے میں کسی نہ کسی طرح سے انسان کے اوپر باقی زندگی کے اندر بھی برقرار رہتی ہے۔ انسان اگر ان پابندیوں کے نہ ہونے کی بنا پہ آزاد روی کا طریقہ اختیار کرلے اور کھانے پینے کے اندر حد سے زیادہ تجاوز کرے تو اس کی صحت برقرار نہیں رہ سکتی۔ اسی لیے اللہ ربّ العزت نے قرآن مجید میں یہ اصول بیان فرمایا ہے:كُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۰ۚ (الاعراف۷:۳۱)’’کھائو پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو‘‘۔ یہ حکم صرف رمضان سے متعلق نہیں ہے بلکہ عام زندگی کے لیے بھی ایک قانون اور ضابطہ ہے۔ انسانی صحت کے جتنے بھی اصول و آداب ہیں اور جن کے نتیجے میں انسانی صحت برقرار رہ سکتی ہے، اور کسی علاج و دوا کے استعمال کے بغیر انسانی صحت تکالیف، مصیبتوں، اور امراض سے محفوظ رہ سکتی ہے، وہ اسی اصول پر مبنی ہے۔ عید کا دن فی الحقیقت پہلا اور سب سے زیادہ اہم دن ہوتا ہے کہ اس اصول کو انسان اپنے سامنے رکھے۔ پھر توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں بھی وہ اس امتحان میں کامیاب ہو گا۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ توفیق دی کہ ہم نے رمضان کے ۳۰ دن اللہ ربّ العزت کے اکرامات اور فیضانات کو اپنے دامن میں سمیٹنے کی کوشش کی۔ رمضان المبارک کے مہینے میں چاروں طرف پھیلے ہوئے انوار و برکات سے اپنے قلب و دماغ کو منور کیا۔ قرآن پاک کی تلاوت کی صورت میں، حُسنِ خُلق کی صورت میں، عبادات کی صورت میں، نوافل کی ادائیگی کی صورت میں، شب بیداری کی صورت میں، قیام اللیل کی صورت میں،صدقہ و خیرات کو فروغ دینے کی صورت میں، غرض جتنے محاسن بھی انسانی زندگی کو خوش نما بنا سکتے ہیں رمضان کے اندر ہم نے بھرپور کوشش کی کہ ان کو اختیار کیاجائے۔
اللہ ربّ العزت نے اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں زندگی عطا کیے رکھی، ہمیں شعور اور صحت سے نوازے رکھا۔ لہٰذا بطور شکر اس بات کا انتظام کرنا نہایت ضروری ہے کہ ہم اللہ ربّ العزت کے سامنے اپنی جبین نیاز کو جھکا دیں اور سجدۂ شکر بجا لائیں۔ یہ نماز عید فی الحقیقت خوشی کے آداب کی ادائیگی ہی کا ایک اظہار ہے۔ یہ اسی اخلاق کا حصہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتلایا کہ تمھاری خوشی کے دن کا آغاز بھی اللہ کے شکر کی ادائیگی سے ہونا چاہیے۔ تم اپنی پیشانیوں کو اللہ کے سامنے جھکا کر اور سربسجود ہو کر اس بات کا اعلان کرو کہ پابندیوں کے دن ہوں یا آزادیوں کے، اے اللہ! ہم تیرے غلام ہیں، اے اللہ! ہم تیرے حکم کے پابند ہیں۔ اے اللہ! ہم تیرے فرامین کے اوپر عمل پیرا ہونے کے لیے ہر دم تیار اور ہر وقت حاضر ہیں۔ یہ کیفیت درحقیقت اگر کسی مومن کے اندر پیدا ہوجائے تو اس کے نتیجے میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی بھلائیوں، اچھائیوں، نیکیوں اور حُسن خُلق کو اپنانے اور ان کے اوپر عمل کرنے اور ان کو معاشرے میں پھیلانے کے لیے ایک بہترین انسان ثابت ہو سکتا ہے۔
اس موقع پر اس اہتمام کی بھی ضرورت ہے کہ رمضان المبارک کے اندر حاصل ہونے والے اسباق اور تربیت کے ان اعمال کو جو ہم نے رمضان المبارک میں سیکھےہیں اور رمضان المبارک نے ہمیں جن چیزوں اور کاموں کا عادی بنا دیا، ان کو ذہن میں تازہ رکھیں، تاکہ ہمیں یہ یقین ہو کہ اس پر عمل کا مرحلہ ختم نہیں ہوگیا بلکہ رمضان تو سیکھنے کا مرحلہ تھا، اب عمل کا گیارہ مہینوں پر محیط طویل مرحلہ باقی ہے۔ اس مرحلے کے اندر ہم نے مسلسل انھی تربیتی پہلوؤں کو اپنے زیر عمل رکھنا ہے۔ انھی اسباق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے اور انھی دروس سے اپنی زندگی کو روشن کرنا ہے۔
ہمیں اس بات کا بھی اختصار کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ رمضان المبارک کے اندر ہمیں سب سے زیادہ اخلاصِ نیت کا سبق روزانہ حاصل ہوتا رہا۔ ہم اللہ ربّ العزت کو راضی کرنے کے لیے روزے رکھتے رہے۔ خلق خدا میں سے کسی کی خوشنودی ہمارے پیش نظر نہیں تھی۔ اسی بات کو توجہ، یکسوئی اور حنیفیت کہا گیا ہے۔ اس کے بغیر کوئی عمل قابلِ اعتبار نہیں۔ کسی انسان کی زندگی اگر توجہ، یکسوئی اور انہماک سے خالی ہو تو وہ شخص کبھی کامیاب اور کارآمد انسان نہیں بن سکتا۔ رمضان المبارک ہمیں روزانہ اس یکسوئی اور حنیفیت کی تعلیم دیتا رہا کہ ہم خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے اللہ ربّ العزت کے ساتھ ربط قائم رکھیں۔
ہمیں ہر وقت اللہ سے ڈرنے اور خشیت اختیار کرنے کی بنا پر اور اللہ کے ہمہ وقت حاضر و ناظر ہونے کی صفت سے اس بات کا سبق ملتا رہا ہے اور ہم خود بھی رمضان المبارک کے اندر ہمہ وقت اس کا ثبوت دیتے رہے کہ کھانے پینے کی چیزیں سامنے موجود ہوتی تھیں، پیاس لگی ہوتی تھی، تھکن بھی محسوس ہو رہی ہوتی تھی لیکن ہم میں سے کبھی کسی نے ان کی جانب اپنا ہاتھ نہیں بڑھایا، ایک قطرۂ آب بھی اپنے حلق سے نیچے اترنے نہیں دیا۔ یہ صرف اور صرف اللہ ربّ العزت کی وہ خشیت اور خوف تھا اور اللہ کے حکم کا احترام تھا جو اللہ ربّ العزت کی حیثیت اور اس کے مقام کی وجہ سے ہم اپنے اندر محسوس کرتے رہے۔ خلوت ہو یا جلوت روزہ دار کبھی کسی معصیت کی طرف نگاہ بھی نہیں اُٹھاتا۔ یہ ٹریننگ اور تربیت صرف رمضان سے متعلق نہیں ہے بلکہ ما بعد رمضان کے دن بھی اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہمارے سینے اللہ ربّ العزت کے خوف اور اس کی خشیت سے اسی طرح سے لرزاں و ترساں رہیں اور اسی طرح بیدار رہیں۔
رمضان المبارک کے اندر ہم نے ڈسپلن اور نظم و ضبط بھی سیکھا۔ ہم نے ہر کام کو اس کے مقرر شدہ اوقات کے اندر انجام دینے کی تربیت حاصل کی۔ ہم نے یہ سیکھا کہ جتنے گھنٹوں کا روزہ تھا اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جا سکی۔ جس وقت نماز تراویح کی ادائیگی ہونا طے ہوئی تھی اسی وقت ہوتی رہی۔ افطاری کا جو وقت مقرر تھااسی وقت افطاری ہوتی رہی۔ سحری بند ہونے کا بھی وقت مقرر تھا اور وہ بھی اسی نظام الاوقات کے مطابق بند ہوتی رہی۔ ان تمام پابندیوں پر عمل کرنے کے بعد ہم نے اپنے وقت کو درست استعمال کرنا سیکھا ہے۔ وقت کی اہمیت کا جو اندازہ ہمیں عام دنوں میں نہیں ہوتا رمضان المبارک نے ہمیں روزانہ یہ احساس دلایا کہ وقت بہت قیمتی ہے۔ اگر ایک لمحہ اور ایک ساعت بھی گزر گئی تو پھر یہ پورا روزہ خراب ہو سکتا ہے۔ اس میں نہ جلدی ہو سکتی ہے نہ تاخیر۔ پھر شیطانی وسوسے اور شیطانی اخلاق جو حرص، لالچ، انتقام اور غصے کی صورت میں انسان کو اپنی گرفت میں لیے رکھتے ہیں، اللہ ربّ العزت نے ہمیں اس رمضان کے اندر یہ تربیت دی کہ ہم ان منفی جذبات و ہیجانات سے کیسے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اپنے نفس کے اوپر کیسے قابو پا سکتے ہیں۔ ہم اپنے غصے کو کس طرح سے دبا سکتے ہیں۔ ہم کس طرح سے اپنے جذبات کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور ہم کس طرح سے اپنے دل کو حرص اور لالچ کے زنگ سے پاک صاف کر سکتے ہیں۔
رمضان میں ہم نے ایثار، قربانی اور اپنے رزق کے اندر کسی دوسرے کو شریک کرنے کا جو جذبہ سیکھا ہے، یہ فیاضانہ طبیعت، یہ جود و سخا فی الحقیقت اللہ ربّ العزت کی صفات اور سنتیں ہیں اور اللہ کی ایسی صفات اور سنتوں کو اپنانے اور اختیار کرنے کے لیے رمضان المبارک میں اللہ ربّ العزت نے ہماری تربیت کی ہے۔ ہمیں سکھایا کہ ہم کس طرح سے فیاضی کر سکتے ہیں۔ ہم بخل سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ ہم انتقام اور غصے کے منفی اظہار اور نفاذ سے کس طرح اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اپنے شر سے دوسروں کو بھی محفوظ رکھنے کے سارے نسخوں اور طریقوں پر ہم ان ۳۰ دنوں میں عمل پیرا رہے ہیں۔ اسی طرح رمضان المبارک کے اندر ہم نے غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کی ضرورت اور ان کی تکلیف کا احساس اور اس کا شعور اپنے دل کے اندر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے لذیذ افطاری تیار کر کے اور اپنی جیب سے صدقہ و خیرات کے لیے رقم نکال کر، تلاش کر کے کسی مستحق و مسکین کے پاس جا کر اس کے ہاتھ میں تھمایا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان تمام شیطانی جذبات کا مقابلہ کیا جو فی الحقیقت ساری زندگی انسان کو اُلجھائے رکھتے ہیں۔ اس کو خیرات کرنے اور اس کے اجر و ثواب کے حصول سے، ایثار اور قربانی سے اس کو دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رمضان المبارک نے ہمارے دلوں کو اس تربیت کے نتیجے میں دھو کر بالکل صاف کر دیا ہے۔ اب یہ دھلا ہوا دل اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ ہر قسم کی آلودگی سے آیندہ محفوظ رہنا چاہیے۔ یہی رمضان اور عیدالفطر کا سبق ہے۔
ہم سب دعا کرتے ہیں، اور رات دن کرتے ہیں۔ یہ دُعائیں اپنی ذات ، اپنے بچوں ، دیگر اہلِ خانہ ، رزق میں کشادگی ، صحت و تندرستی اور مرحومین کی مغفرت وغیرہ کے لیے ہوتی ہیں۔ اسی طرح اُمت کی بھلائی و حفاظت ، مظلوموں کی داد رسی ، ملک کے امن و امان ، مسلم اُمہ کی گُم شدہ ناموس کی بحالی اور دیگر اجتماعی مقاصد کے لیے بھی دُعائیں ہوتی ہیں۔ یہ دُعائیں ہم نمازوں میں کرتے ہیں، نمازوں کے بعد کرتے ہیں، روزے کی حالت میں کرتے ہیں، افطار کے وقت کرتے ہیں، لیلۃ القدر میں کرتے ہیں، جمعہ، عیدین ، حج اور دیگر اجتماعات میں کرتے ہیں، ہمارے خطباء اور امام کرتے ہیں، جو راتوں کو اُٹھ سکتے ہیں وہ ربّ سے سرگوشی کے انداز میں کرتے ہیں، آنسو بہا کر کرتے ہیں۔
حضرت سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تمھارا ربّ تبارک و تعالیٰ بہت حیا والا اور بڑا کریم ہے۔ جب اس کا بندہ اس کی طرف اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ وہ انھیں خالی واپس لوٹا دے‘‘ (سنن ابی داؤد: ۱۴۸۸، جامع ترمذی: ۳۵۵۶)۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری یہ دُعائیں قبول نہیں ہوتیں، ہماری دعائیں بے اثر سی ہوگئی ہیں؟ پھر ذہن میں خیال آتا ہے کہ کیا اللہ ہماری سنتا نہیں؟ یا ہم سننے کے قابل نہیں رہے؟ جب کہ اللہ تو خود اعلان کرتا ہے: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۰ۭ (المؤمن۴۰: ۶۰) ’’تمھارا رب کہتا ہے ’’مجھے پکارو، میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا‘‘۔ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَـنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ۰ۭ اُجِيْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۰ۙ (البقرہ۲: ۱۸۶)’’اور اے نبیؐ ! میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں ، تو انھیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھ پکارتا ہے ، میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں‘‘ ۔ تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟
آئیے ہم اور آپ مل کر اُن وجوہ اور ان کے سدِّ باب کی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہماری دُعائوں کی قبولیت میں رکاوٹ ہوسکتی ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے۔ اگر وہ گناہ چھوڑ دے، استغفار کرے اور توبہ کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے۔ اور اگر وہ مسلسل گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ پورے دل کو ڈھانپ لیتی ہے۔ یہی وہ رَانَ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورئہ مطففین کی آیت ۱۴ میں کیا ہے:’’ہرگز نہیں! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے‘‘۔(جامع ترمذی: ۳۳۳۴)
لہٰذا جب گناہوں کا تسلسل قائم رہے اور توبہ نہ کی جائے تو دل سیاہ پڑ جاتا ہے۔ نتیجتاً دل سخت ہوجاتا ہے، دعا بے اثر ہونے لگتی ہے، عبادت میں لذت باقی نہیں رہتی، اور معاشرہ بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اصلاح کا راستہ یہی ہے کہ ہم گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے اسے اپنی زندگی کا معمول نہ بنائیں، اور کبھی انسان ہونے کے ناتے گناہ سرزد ہوجائے تو حضرت آدمؑ کی طرح توبہ کرنے میں تاخیر نہ کریں، اور ہمیشہ اپنے باطن کا محاسبہ جاری رکھیں کیونکہ زندہ دل ہی اللہ کی طرف پلٹ سکتا ہے۔
ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا ذکر کیا: ’’جو طویل سفر کرتا ہے، بال پراگندا اور جسم غبار آلود ہے ۔دُعا کے لیے آسمان کی طرف اپنے دو نوں ہاتھ پھیلاتا ہے: اے میرے ربّ! اے میرے ربّ! جب کہ اس کا کھا نا حرام کا ہے، اس کا پینا حرا م کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کو غذا حرام کی ملی ہے، تو اس کی دُعا کیسے قبول ہوگی؟‘‘(صحیح مسلم: ۱۰۱۵)
حرام رزق صرف مال کو آلودہ نہیں کرتا، یہ دل کا نور بھی چھین لیتا ہے، عبادت کی لذت بھی ختم کر دیتا ہے، اولاد کی تربیت پر اثر ڈالتا ہے اور دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اگر ہم اپنی دُعاؤں کی قبولیت چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی کمائی کو پاک کرنا ہوگا، کیونکہ جس گھر کی بنیاد حرام پر ہو وہاں سکون اور برکت ٹھہر نہیں سکتی۔
یاد رکھیے! قبولیت ِ دُعا کا راستہ یہ ہے کہ دعا سے پہلے دل کو نرم کیا جائے، گناہوں پر شرمندگی ہو، عاجزی اختیار کی جائے اور یقینِ کامل کے ساتھ رب کے حضور کھڑا ہوا جائے، کیونکہ زندہ دل کی آہ آسمان چیر دیتی ہے، جب کہ غافل دل کی آواز خود اپنے سینے سے باہر نہیں نکل پاتی۔
آج ہماری کیفیت یہ ہے کہ ظلم دیکھ کر خاموش رہتے ہیں۔ دنیا میں طاقت ور کمزور پر چڑھ دوڑتا ہے۔ کبھی یہ انفرادی سطح پر ہوتا ہے اور کبھی ریاستی سطح پر لیکن ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور ہمیں لگتا ہے کہ یہ ظلم شاید دوسرے کے ساتھ ہی ہونا ہے اور ہم اس سے محفوظ رہیں گے۔ سود، رشوت اور بے حیائی کو معمول سمجھ لیتے ہیں، اور ’’مجھے کیا؟‘‘ کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اجتماعی گناہ پر خاموشی بھی گناہ ہے۔وَاِذْ قَالَتْ اُمَّۃٌ مِّنْہُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَۨاۙ اللہُ مُہْلِكُہُمْ اَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا۰ۭ قَالُوْا مَعْذِرَۃً اِلٰى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّہُمْ يَتَّقُوْنَ۱۶۴ (اعراف۷: ۱۶۴)’’ اور جب اُن میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنھیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے‘‘تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ ’’ہم یہ سب کچھ تمھارے ربّ کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس اُمید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں‘‘۔
اس آیت کی تشریح میں صاحبِ تفہیم القرآن رقم طراز ہیں کہ ’’ ایک بستی میں تین قسم کے لوگ موجود تھے۔ ایک وہ جو دھڑلے سے احکام الٰہی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ دوسرے وہ جو خود تو خلاف ورزی نہیں کرتے تھے مگر اس خلاف ورزی کو خاموشی کے ساتھ بیٹھے دیکھ رہے تھے اور ناصحوں سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں کو نصیحت کرنے سے کیا حاصل ہے۔ تیسرے وہ جن کی غیرتِ ایمانی حدود اللہ کی اس کھلم کھلا بےحرمتی کو برداشت نہ کرسکتی تھی اور وہ اس خیال سے نیکی کا حکم کرنے اور بدی سے روکنے میں سرگرم تھے کہ شاید وہ مجرم لوگ ان کی نصیحت سے راہِ راست پر آجائیں اور اگر وہ راہِ راست نہ اختیار کریں تب بھی ہم اپنی حد تک تو اپنا فرض ادا کر کے خدا کے سامنے اپنی برأت کا ثبوت پیش کر ہی دیں۔ اس صورت حال میں جب اس بستی پر اللہ کا عذاب آیا تو قرآن مجید کہتا ہے کہ ان تینوں گروہوں میں سے صرف تیسرا گروہ ہی اس سے بچایا گیا کیونکہ اسی نے خدا کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کی فکر کی تھی اور وہی تھا جس نے اپنی برأت کا ثبوت فراہم کر رکھا تھا۔ باقی دونوں گروہوں کا شمار ظالموں میں ہوا اور وہ اپنے جرم کی حد تک مبتلائے عذاب ہوئے‘‘۔(تفہیم القرآن، دوم،ص ۹۱)
جس بستی میں علانیہ احکام الہٰی کی خلاف ورزی ہو رہی ہو وہ ساری کی ساری قابل مواخذہ ہوتی ہے، اور اس کا کوئی باشندہ محض اس بنا پر مواخذہ سے بری نہیں ہوسکتا کہ اس نے خود خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ اسے خدا کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے لازماً اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ وہ اپنی حدِ استطاعت تک اصلاح اور اقامت حق کی کوشش کرتا رہا تھا۔ پھر قرآن اور حدیث کے دوسرے ارشادات سے بھی ہم کو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی جرائم کے باب میں اللہ کا قانون یہی ہے۔ چنانچہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّۃً۰ۚ (الانفال۸: ۲۵) ’’اور ڈرو اس فتنہ سے جس کے وبال میں خصوصیت کے ساتھ صرف وہی لوگ گرفتار نہیں ہوں گے جنھوں نے تم میں سے ظلم کیا ہو‘‘۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ’’اللہ خاص لوگوں کے جرائم پر عام لوگوں کو سزا نہیں دیتا جب تک عامتہ الناس کی یہ حالت نہ ہوجائے کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے برے کام ہوتے دیکھیں اور وہ ان کاموں کے خلاف اظہار ناراضی کرنے پر قادر ہوں اور کوئی اظہار ناراضی نہ کریں۔ پس جب لوگوں کا یہ حال ہوجاتا ہے تو اللہ خاص و عام سب کو عذاب میں مبتلا کردیتا ہے‘‘۔ (ترمذی)
یہ سب اور ان جیسی دیگر بہت سی آیات حقوق العباد کی پامالی سے متعلق ہیں اور ان پر قرآن نے سخت وعید اور اللہ کی ناراضی بیان کی ہے۔ ان میں معاشی ، معاشرتی ، مالی حقوق اور یتامٰی و مساکین کے حقوق شامل ہیں۔ ان کے علاوہ قرآن میں جا بجا والدین کے حقوق، اقربا کے حقوق ، پڑوسیوں کے حقوق، دوستوں، اور مسافروں کے حقوق سے متعلق بھی احکامات ملتے ہیں۔ آج اپنی دُعاؤں کے قبول نہ ہونے کےلیے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کہیں دانستہ یا غیر دانستہ ہم حقوق العباد غصب کرنے کے مجرم تو نہیں ہیں؟ کہیں ہم نے کسی بہن ، بھائی یا کسی اور عزیز کے حقِ وراثت پر ڈاکا تو نہیں مارا، کسی پڑوسی کے ساتھ تو زیادتی نہیں کی، اپنے والدین کی نافرمانی کے مرتکب تو نہیں ہوئے، اپنے غریب رشتہ دار کو زندگی کے لیے ترستا ہوا تو نہیں چھوڑا ، کہیں بیوی اور بچوں کے حقوق تو ادا ہونے سے نہیں رہ گئے ۔
یاد رکھیے ! اگر ہم مجرم ہیں تو پھر مجرم کی زندان میں شنوائی کیسی؟ اُس کا کام تو زندان میں دُہائی دینا ہی ہوسکتا ہے۔ زندان سے باہر وہ جب ہی آسکتا ہے جب اُس کی سزا پوری ہوجائے یا اُس کا زندان میں کردار اتنا اچھا ہو کہ سرکار اُس کی سزا میں تخفیف کرنے پر مجبور ہوجائے۔ حقوق العباد سے متعلق مشہور حدیث ’مفلس کون‘ ہمیں ہمیشہ یاد رہنی چاہیے، تاکہ ہم کسی کی حق تلفی کرتے ہوئے ہزار بار سوچیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو نہ کوئی مال و متاع۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔ پھر اس کے نیک اعمال میں سے ایک (حق دار) کو دیے جائیں گے، پھر دوسرے کو دیے جائیں گے۔ پھر اگر اس کے ذمے حقوق باقی رہ جائیں اور اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو ان مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا‘‘۔ (صحیح مسلم : ۲۵۸۱)
حقوق العباد کی عدم ادائیگی وہ خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں، یہ معاملہ صرف اخلاقی مسئلہ نہیں، یہ آخرت کا سنگین حساب ہے۔ جب تک ہم لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتے، معافی نہیں مانگتے اور ظلم کی تلافی نہیں کرتے، تب تک ہماری عبادتیں بھی خطرے میں رہتی ہیں، کیونکہ اللہ اپنے حق کو تو معاف کر سکتا ہے، مگر بندوں کے حق کا فیصلہ بندوں کے درمیان ہی ہوگا۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہی اندرونی چپقلش ۱۲۵۸ء میں سقوط بغداد کا سبب بنی جب منگولوں نے بغداد پر قبضہ کیا، اسی طرح ۱۴۹۲ء میں سقوطِ اُندلس دیکھنا پڑا جب تقریباً ۸۰۰ سالہ مسلم اقتدار کا خاتمہ ہوا اور ہم نے اُندلس پلیٹ میں رکھ کر عیسائیوں کو پیش کیا۔ اسی طرح ۱۷۵۷ء میں پلاسی کے میدان میں نواب سراج الدولہ کو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے شکست دی اور یوں برِّ صغیر میں باقاعدہ برطانوی سیاسی بالادستی کی بنیاد پڑی۔ ۱۸۵۷ء میں مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوا اور برطانوی راج کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اور پہلی عالمی جنگ کے بعد ۱۹۲۴ء میں عثمانی سلطنت کے خاتمہ نے ایک علامتی اتحاد کی دھجیاں بھی بکھیر دیں۔ ماضی قریب میں دیکھیں تو افغانستان، عراق، کشمیر، لیبیا، شام، یمن، فلسطین ، سوڈان اور اب ایران ہمارے انتشار کی بد ترین مثالیں ہیں۔
یاد رکھیے! جب دل ایک نہ ہوں، نیتیں صاف نہ ہوں، اور ہم ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں تو اجتماعیت کے لیے کی گئی دعاؤں میں وہ تاثیر کیسے پیدا ہوگی؟ اختلافِ رائے فطری ہے، مگر دلوں کی دوری اور دشمنی تباہ کن ہے۔ جب تک اُمت اپنے دل صاف نہیں کرے گی، ایک دوسرے کو معاف کرنا نہیں سیکھے گی اور مشترکہ مقاصد پر جمع نہیں ہوگی، تب تک اجتماعیت کے لیے دعا میں وہ قوت پیدا نہیں ہوگی جو آسمان کے دروازے کھول دیتی ہے۔ اتحاد برکت لاتا ہے، اور انتشار دُعاؤں کی قبولیت کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
اس باب میں مفکّرِاسلام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں:’’جب حکمران اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چھوڑ دیں تو اسلام کا پہلا مضبوط بندھن ٹوٹ جاتا ہے‘‘ ۔ صاحبِ تفہیم القرآن کہتے ہیں کہ ’’ اسلام دراصل ایک مکمل نظام زندگی ہے جس میں عقیدہ، عبادات، اخلاق، معاشرت، معیشت، عدالت، حکومت سب شامل ہیں‘‘۔ جب تک یہ سب چیزیں قائم رہیں، اسلام ایک مکمل نظام کی صورت میں موجود رہتا ہے۔ آج بدقسمتی سے کیفیت یہ ہے کہ مسلم اُمہ یہ بات بھول بیٹھی ہے یا دوسری اقوام کی طرح یاد رکھنا بھی نہیں چاہتی کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے جو عقیدہ و خیال سے لے کر عبادات تک کا خوشبودار گلدستہ ہے۔جتنی بھی مسلم حکومتیں ہیں کوئی بھی اسلام کے نظام کا عملی نمونہ نہیں ہے۔
ہمارا حال ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی بیماری سے صحت یابی کے لیے کسی ڈاکٹر سے معائنہ کروائے مگرجب ڈاکٹر اُس کے لیے کوئی نسخہ تجویز کرے تو اُس نسخہ کو پسِ پشت ڈال کر اپنی مرضی کی دوائیں کھاتا رہے اور پھر شفا کی اُمید رکھے۔ اب بتائیےاُسے شفا کہاں سے ملے گی؟ لہٰذا دُعا اور عمل میں ہم آہنگی اتنی ہی ضروری ہے جتنا ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے کے مطابق دوائی کا استعمال ضروری ہے۔ جب تک فرد اور معاشرہ اللہ کے دیے ہوئے نظام کی تعلیمات کو اپنائے بغیر صرف الفاظ کی دعائیں کرتا رہے گا، قبولیت کی راہیں تنگ رہیں گی۔ اصلاح کا راستہ یہی ہے کہ دین کو صرف عبادت گاہ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ زندگی کے نظام میں بھی رب کی حاکمیت کو جگہ دی جائے!
ہر قسم کی بڑائی اور فخر صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جو زمین و آسمان کا مالک، جن و انس، نباتات و جمادات، حیوانات و حشرات کا خالق، یومِ جزا کا منصف اور مٰلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے۔ وہ ذات جو ہر شے پر قادر، ہر دل کے بھید سے واقف اور ہر عمل کا حساب لینے والی ہے۔ جب انسان کو خالق نے مٹی سے بنایا، وہ مٹی میں لوٹ جائے گا اور اسی مٹی سے دوبارہ اٹھایا جائے گا، تو اسے کس بات کا گھمنڈ؟ مِنْہَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْہَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُكُمْ تَارَۃً اُخْرٰى۵۵ (طٰہٰ۲۰: ۵۵) ’’ہم نے تمھیں اسی زمین سے پیدا کیا، اسی میں تمھیں واپس کریں گے اور اسی سے تمھیں دوبارہ نکالیں گے‘‘۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ۲۳ (النحل۱۶:۲۳) ’ ’وہ ہرگز ان لوگوں کو پسند نہیں فرماتا جو تکبر اور غرور میں مبتلا ہوں‘‘۔
یہ زمین کئی متکبروں کے انجامِ بد کی گواہ ہے، جن کو اللہ نے رہتی دنیا تک عبرت کا نشان بنا دیا۔ وَقَارُوْنَ وَفِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ۰ۣ وَلَقَدْ جَاۗءَہُمْ مُّوْسٰي بِالْبَيِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ وَمَا كَانُوْا سٰبِقِيْنَ۳۹ۚۖ (العنکبوت۲۹:۳۹) ’’اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا موسٰی اُن کے پاس بیّنات لے کر آیا مگر انھوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے‘‘۔
اللہ رب العزت نے اپنے صالح بندوں کے لیے حضرت لقمان علیہ السلام کی نصیحت کے انداز میں ارشاد فرمایا: وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ۱۸ۚ وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ۰ۭ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ۱۹ۧ (لقمان۳۱: ۱۸-۱۹)’’اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے‘‘۔
اسی طرح سورۂ فرقان میں ارشاد ہے: وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ ہَوْنًا (الفرقان۲۵:۶۳) ’’رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور انکساری سے چلتے ہیں‘‘۔ تکبر کی جڑ ایمان کی کمزوری اور دل سے اللہ کی عظمت کا شعور ختم ہونا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو، اور وہ شخص جہنم میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو‘‘۔ (سنن ابن ماجہ: ۴۱۷۳)
عبادت کا مقصد صرف قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۱۶۲ۙ (الانعام۶: ۱۶۲) ’’کہو، میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے‘‘ ہونا چاہیے۔ ایسی عبادت سے معاشرے پر رحمت نازل ہوتی ہے، ورنہ عبادت کے غرور میں مبتلا شخص سے نحوست ٹپکتی ہے۔ مال و دولت، عہدہ و منصب، حُسن و جمال، یہ سب عارضی نعمتیں ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ چیزیں کسی کے پاس مستقل نہیں رہتیں۔ خلفائے راشدین سے لے کر یزید اور حجاج تک، سخی و منصف سے لے کر ظالم و جابر تک، اقتدار ہر طرح کے لوگوں کے ہاتھ آیا، مگر نہ کوئی ہمیشہ قائم رہا اور نہ ہمیشہ اقتدار ان کے پاس رہا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: وَمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۱۸۵ (اٰل عمرٰن۳:۱۸۵) ’’رہی یہ دُنیا تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے‘‘۔ جو چیز فانی ہے، اس پر غرور صرف نادان ہی کر سکتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’متکبر شخص اسی طرح ذلیل ہوتا ہے جیسے پانی کے نیچے دبائی گئی چیز اوپر آنے کی کوشش کرتی ہے، مگر ناکام رہتی ہے‘‘۔ (مسند احمد:۱۲۳۴۵) اس لیے ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کو تکبر سے پاک رکھے تاکہ معاشرتی ہم آہنگی اور روحانی سکون میسر رہے۔
تواضع کے ذریعے انسان نہ صرف اللہ کے نزدیک محبوب بنتا ہے، بلکہ معاشرے میں بھی عزّت و مقام پاتا ہے۔ یہ خوبی انسان کو اپنی اصلیت سے جوڑتی ہے اور اسے اللہ کی رحمت کا مستحق بناتی ہے۔
غرور، گھمنڈ اور تکبر کی متضاد کیفیت تواضع و انکساری ہے، جو اللہ ربّ العزت کو بہت پسند ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ تواضع کی اعلیٰ مثال ہے۔ آپ ؐسادہ لباس پہنتے، زمین پر بیٹھتے، اپنے ہاتھوں سے کام کرتے اور کبھی اپنی عظمت کو نمایاں نہ کرتے۔ آپ ؐنے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے عاجزی اور انکساری اختیار کرنے کا حکم دیا، تاکہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے‘‘۔ (مسنداحمد: ۱۷۱۴۴)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں عاجزی و انکساری کا مظاہرہ فرماتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ آپ ؐدعا فرماتے: ’’اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نفع نہ دے، اس دل سے جو تیری بارگاہ میں عاجزی نہ کرے، اس دعا سے جو قبول نہ ہو، اس نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو، اور اس بھوک سے جو بدترین ساتھی ہے۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں خیانت سے، سستی سے، بخل سے، بزدلی سے، بڑھاپے سے، اور اس عمر سے جو انسان کو بے توقیر کر دے۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں دجال کے فتنے، قبر کے عذاب اور حیات و موت کے ہر فتنے سے۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایسی دعا مانگتے ہیں جو تیرے حضور رجوع کرنے والی ہو، اور ایسے اعمال مانگتے ہیں جو تیری مغفرت کا سبب اور عذاب سے نجات کا ذریعہ ہوں۔ ہم ہر گناہ سے حفاظت اور ہر نیکی کی توفیق مانگتے ہیں جو جنت تک لے جائے اور جہنم سے نجات دلائے‘‘۔’’جو رضائے الٰہی کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرماتا ہے‘‘۔ (صحیح مسلم: ۲۵۸۸)
خاتم المرسلین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم کی تورات میں نازل شدہ صفات کو بیان فرماتے ہوئے ا للہ ربّ العزت کا ارشاد ہے:تَرٰىہُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًا۰ۡ (الفتح ۴۸:۲۹)’’تم انھیں دیکھو گے رکوع و سجدہ کرتے ہوئے، اللہ کا فضل اور اس کی رضا طلب کرتے ہوئے‘‘۔
اِس آیت کی تفسیر میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے تحریر کیا :’’ یہ اُن[ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے متبعین] کی توجہ الی اللہ،ان کی شب بیداری اور ان کی تہجد گزاری کی تصویر ہے۔ مطلب یہ کہ جو بھی ان کو دیکھے گا،اس پر پہلی ہی نظر میں یہ بات واضح ہوجائے گی کہ دنیا کے عام انسانوں سے بالکل مختلف ایسے قدسی صفت لوگوں کی ایک جماعت ہے جن کی زندگی کا اصل نصب العین اللہ کی رضا طلبی ہے۔ چنانچہ کبھی وہ ان کو رکوع میں پائے گا اورکبھی سجود میں۔اس آیت کے اس سے ماقبل حصہ میں ان کا وہ پہلو (رُحَمَاۗءُ بَيْنَہُمْ : آپس میں ر حم دل ہیں) سامنے آیا ہے جس کا تعلق خَلق سے ہے۔اس ٹکڑے میں اُن کی زندگی کے اُس پہلو کی طرف اشارہ ہے جس کا تعلق خالق سے ہے‘‘۔ (تدبّرِ قرآن، ج ۷، ص ۴۷۲)
اُمّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ اِلتْمَسَ رِضَا اللّٰہِ بسَخَطِ النَّاسِ کَفَاہُ اللّٰہُ مَؤْنَۃَ النَّاسِ وَ مَنْ الْتَمِسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللّٰہِ وَکَلَّہُ اللّٰہُ اِلَی النَّاسِ ( جامع ترمذی،ابواب الزہد ،باب عاقبۃ من التمس رضی النّاس بسخط اللہ وکّلہ اللہ الی النّاس)’’جو شخص اللہ کی رضا کی طلب میں لوگوں کی ناخوشی کی پرواہ نہیں کرے گا، اللہ اسے لوگوں کی فکر سے مستغنی [بے نیاز] کردے گا ،اور جو شخص انسانوں کی رضا حاصل کرنے میں اللہ کی ناخوشی کی پروا نہیں کرے گا تو اللہ اسے لوگوں کے سپرد کردے گا‘‘۔
اس حدیث کی تشریح میں شارحِ حدیث مولانا محمد فاروق خاں تحریر کرتے ہیں:’’آپؐ کے [اس] ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کو اصل فکر اس کی ہونی چاہیے کہ اسے دنیا وآخرت میں اللہ کی خوشنودی و رضا حاصل ہو۔ اُسے ایسے کام میںدل کھول کر حصہ لینا چاہیے جس سے اللہ راضی ہوتا ہے۔اگر اس سے لوگ نا خوش ہو تے ہیں تو ہُو اکریں۔ ایسے موقع پر، جب کہ لوگوں کی خوشی اللہ کی خوشی سے ٹکرارہی ہو، آدمی کو اللہ کی خوشی کا لحاظ رکھنا چاہیے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اللہ اسے لوگوں سے مستغنی کرد ے گا اوراس کی ضرورتوں اور حاجتوں کی خود کفالت کرے گا ، اس کی ضروریات اس طرح پوری کرے گا کہ وہ پہلے سے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔لیکن اگر اسے اللہ کی ر ضا اور خوش نودی کی فکر نہیں ہے،بلکہ وہ بندوں کو راضی کرنے میں اپنی کامیابی سمجھ رہا ہے ، توایسے شخص کا ذمہ دار اللہ نہیں ہے۔وہ اس کو لوگوں ہی کے حوالے کرد یتا ہے اور وہ ان کی غلامی سے کبھی نجا ت نہیں پاسکتا۔اللہ کی سرپرستی سے محروم ہوکر وہ ایسے لوگوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے جو اسی کی طرح کمزور و بے بس ہوتے ہیں‘‘ (کلام نبوت، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، ۲۰۱۴ء،ج۱،ص ۲۲۴-۲۲۵)
قرآن کریم میں یہ امر بالکل واضح فرما دیا گیا ہے کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اسے راضی کیا جائے۔ ارشاد ِ الٰہی ہے: وَاللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَحَقُّ اَنْ يُّرْضُوْہُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ۶۲ (التوبۃ ۹:۶۲) ’’اور اللہ اور اس کے رسولؐ زیادہ مستحق ہیں کہ وہ ان کو راضی کریں ،اگر وہ صحیح معنوں میں اہلِ ایمان ہیں‘‘ ۔ بہت سے لوگ اس تجربے ومشا ہدے سے گزرتے رہتے ہیں کہ سچ بات کہنے یا علانیہ حق کو حق کہنے پر بعض اوقات غیر تو ایک طرف اپنے قریبی بھی ناراض ہوجا تے ہیں،لیکن رضائے الٰہی کے طلب گار کسی کی ناراضی کی پرواہ کیے بغیر حق کی راہ پر چلتے رہتے ہیں اور حق کو حق کہنے کا فریضہ ادا کرتے رہتے ہیں۔ فکرِ اسلامی کے علم بردار شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کا یہ شعر اسی حقیقت کا ترجمان ہے:
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رضائے الٰہی کی طلب میں حق وصداقت کی راہ اختیار کر تے ہوئے لوگوں کی ناراضی کی پروا نہ کرنے والوں کے بارے میں جب کچھ لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی یہ روش بہت سے قریبی لوگوں ( جن کی بے جا خواہش یا ناجائز فرمائش پوری نہیں ہوپاتی) کی ناراضی کا باعث بن جائے گی ،تو وہ انھیں اس طور پر سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’’آپ کِس چکّر میں پڑگئے ہیں، اپنے اس طرز عمل سے اپنوں کی ناراضی مول لے رہے ہیں ،اور اپنے مخالفین کی تعداد بڑھا رہے ہیں ۔ اپنے قریبی لوگوں کی بات مان لیجیے اور انھیں راضی رکھنے کی کوشش کیجیے‘‘۔ یہ باتیں سن کر اللہ رب العزت کی رضا کے طلب گار زبانِ قال یا زبانِ حال سے نصیحت کرنے والوں سے یہ کہتے ہیں :اُن کو خفا ہونے دو،وہ جو کچھ کہیں سن لو،مجھے حق و صداقت کی راہ پر چلنے دو، اسی میں مجھے سکون محسوس ہوتا ہے اور میں اِسی میں اپنی عافیت سمجھتا ہوں ،اس لیے کہ میرا رب مجھ سے راضی ہوجائے،بس یہی فکر مجھے دامن گیر رہتی ہے، یہی میری دلی مراد ہے، اور اسی کے لیے میں بارگاہِ الٰہی میں دست بدعا ہوں۔
ارشادِ الٰہی ہے:وَكَفٰى بِاللہِ وَلِيًّا۰ۤۡ وَّكَفٰى بِاللہِ نَصِيْرًا۴۵( النساء۴:۴۵) ’’ اللہ ہی تمھارا ولی ، حامی و مددگار ہونے کے لیے کافی ہے‘‘۔ وَّتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ۰ۭ وَكَفٰي بِاللہِ وَكِيْلًا۳ (الاحزاب ۳۳:۳) ’’اور اللہ پر بھروسا کرو ،وہ تمھارا کارساز ہونے کے لیے کافی ہے‘‘۔ وَاعْتَصِمُوْا بِاللہِ۰ۭ ہُوَمَوْلٰىكُمْ۰ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ۷۸ۧ (الحج۲۲:۷۸)’’اور اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرلو، وہی تمھارا حقیقی مولیٰ و سرپرست ہے،کیا ہی خوب مولیٰ ہے وہ اور کیا ہی خوب مدد گار ہے وہ‘‘۔
منقولہ بالا سورۂ احزاب کی آیت ۳ کی تشریح میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی جارہی ہے کہ جو فرض تم پر عائد کیا گیا ہے اسے اللہ کے بھروسے پر انجام دو اور دنیا بھر بھی اگر مخالف ہو تو اس کی پروا نہ کرو۔جب آدمی کو یقین کے ساتھ یہ معلوم ہو کہ فلاں حکم اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے، تو پھر اسے بالکل مطمئن ہوجا نا چاہیے کہ ساری خیر اور مصلحت اسی حکم کی تعمیل میں ہے۔اس کے بعد حکمت و مصلحت دیکھنا اس شخص کا اپنا کام نہیں ہے،بلکہ اسے اللہ کے اعتماد پر صرف تعمیلِ ارشاد کرنی چاہیے۔اللہ اس کے لیے کافی ہے کہ بندہ اپنے معاملات اس کے سپرد کر دے۔وہ رہنمائی کے لیے کافی ہے اور مدد کے لیے بھی، اور وہی اس امر کا ضامن بھی ہے کہ اس کی رہنما ئی میں کام کرنے والا آدمی کبھی نتائجِ بد سے دوچار نہ ہو‘‘۔ (تفہیم القرآن،ج۴، ص۶۹،حاشیہ نمبر ۴)
مفسرین کی تشریح کے مطابق مذکورہ آیت کے خاص مخاطب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آپؐ کے توسط سے پوری امت ِ مسلمہ اس آیت کی مخاطب ہے، او راُس کا پیغام بالکل عام ہے، اور وہ یہ کہ اللہ قادرِ مطلق جس کا سرپرست، محافظ و حامی ہو، پروردگارِ عالم جس کی حفاظت و نصرت کا وعدہ فرما ئے اور مختارِکُل جس کو اپنے کارساز و مشکل کشا ہونے کا یقین دلائے، تو اسے طمانیت و سکینت کی بیش بہا نعمت میسّر آنا لازمی امر ہے، پھر اسے کس بات کا رنج و غم ہو گا،یا اسے کس چیز کی فکر ہوسکتی ہے؟ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اس آیت سے قبل کی آیت میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ قرآن کی پیروی کی جائے جو اللہ علیم و خبیر کا نازل کردہ ہے،یعنی روز مرّہ زندگی ہدایاتِ الٰہی کے مطابق بسر کی جائے اور پھر توکل علی اللہ کیا جائے، تو اللہ تمھاری مد د فرمائے گا، اپنی کارسازی کے کرشمے دکھائے گا اور تمھارے مشکل سے مشکل مسائل حل فرما ئے گا اور تمھیں پریشانیوں سے نجات دے گا۔
سورۂ آل عمران کی آیت ۷۳ا (وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ۱۷۳ ) کی تفسیر کے ضمن میں مولانا امین احسن اصلاحی نے یہ قیمتی نکتہ اجاگر کیا ہے : ’’بہترین ہستی جس کو بندہ اپنا معاملہ سپرد کر سکتا ہے،وہ اللہ ہی کی ہستی ہے،تو جس نے اللہ کو اپنا وکیل و معتمدبنایا اب اُس کے لیے کسی خوف و ہراس کی گنجائش کہاں باقی رہی:
کیا غم ہے، اگر ساری خدائی ہو مخالف
کافی ہے، اگر ایک خدا میرے لیے ہے
( تدبّر ِ قرآن، ج۲،ص ۲۱۷)
ارشاد ربّانی ہے: فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ ( المائدۃ۵:۴۴)’’پس لوگوں سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو‘‘۔ فَاللہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۱۳ (التوبۃ ۹:۱۳)’’پس اللہ زیادہ اس کا مستحق ہے کہ تم لوگ اس سے ڈرو، اگر تم (سچے )مومن ہو‘‘۔ یہاں یہ واضح رہے کہ یہ اور اِس نوع کی دیگر آیات خاص طور سے اِس پس منظر میں آئی ہیں جس میں لوگ کسی شخص یا لوگوں کو خوش کرنے یا ان کی خفگی سے بچنے کی خاطر ایسے کام کرتے تھے جو اللہ کی ناراضی کاباعث بنتے تھے۔
اسی ضمن میں یہ اضافہ بھی مفید معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ آل عمران کی آیت۱۷۵( جس میں اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ شیطان دین کی خاطر جان و مال کی قربانی کے موقع پر اپنے انسانی دوستو ں یا ہم نوائوں سے ڈراتا ہے، پس تم لوگ ان سے نہ ڈرو،مجھ سے ڈرو ) کی تفسیر میں مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے خوفِ الٰہی سے متعلق یہ قیمتی نکتہ واشگاف کیا ہے کہ ’’ خوفِ خدا رونے اور آنسو پونچھنے کا نام نہیں،بلکہ اللہ سے ڈرنے والا وہ ہے جو اس چیز کو چھوڑ دے جس پر اللہ کی طرف سے عذاب کا خطرہ ہو‘‘ (معارف القرآن،ج۲، ص۲۴۴ )
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ درحقیقت اللہ سے ڈرنا اسی وقت ہوگا جب اس کے ثمرہ میں اللہ کی نافرمانی سے بچا جائے یا گناہ کے کاموں سے پرہیز کیا جائے۔ اس لیے کہ معصیت اور گناہ کے کام اللہ کی ناراضی کا موجب بنتے ہیں، تو پھر جو بندئہ مومن اللہ کی گرفت یا اس کے عذاب سے ڈرے گا تو وہ اس کے اثر سے نیکی کمانے میں تگ ودو کر ے گا اور بُرے اعمال یا گناہ کے کاموں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اس لیے اللہ کی رضا (جو اس کا مقصودِ اصلی ہے) کی طلب کے لیے اللہ کی اطاعت میں مصروف رہنا اور گناہ یعنی اللہ کی ہرقسم کی نافرمانی سے دُور رہنا ضروری ہے ۔ یہ نکتہ کہ ایک مومن کی زندگی میں خوفِ الٰہی کا اصل نتیجہ اللہ تعا لیٰ کی اطاعت میں سبقت لے جانااور گناہ سے پرہیز کرنا ہے، اُن آیات سے واضح ہوتا ہے جن میں مومنین و صالحین کے بارے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ روز مرّہ زندگی میں احکامِ الٰہی پر کاربند رہتے ہیں اور روزِ جزا اللہ کے حضور حاضری اور محاسبۂ اعمال سے ڈرتے رہتے ہیں۔ (التوبۃ ۹:۱۸، الرعد ۱۳:۲۰-۲۱، المؤمنون ۲۳: ۵۷-۶۰، النّٰزعٰت۷۹: ۴۰-۴۱، الرحمٰن۵۵:۴۶ )
اُن آیات سے اس نکتہ کی مزید وضاحت ہو تی ہے جن میں صالحین یا نیکو کاروں کو جنت نصیب ہونے اور اس میں نہایت سکون وفرحت بخش سکونت میسر آنے کی بشار ت دی گئی ہے، اُن کی دُنیوی زندگی کے احوال میں خاص طور سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ نیک کام کرنے کی ہمہ تن کوشش میں حد درجہ محتاط زندگی گزارتے ہوئے بھی ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں اُن سے اللہ کی نافرمانی نہ سر زد ہوجائے اور اِس فکر و کوشش میںلگے رہتے تھے کہ اُن سے جان بوجھ کر گناہ کا کوئی کام نہ صادر ہونے پا ئے۔( قٓ۵۰:۳۱-۳۴،الطّور۵۲:۵۲۔۲۸؛ الدھر۷۶:۶-۱۱)
مختصراً یہ کہ قرآن و حدیث کا بہت ہی واضح پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول مومن کی زندگی کا مقصودِ اصلی ہے۔یہ مقصود اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب اللہ رب العزت کی عظمت و کبریائی دل ودماغ میں پوری طرح نقش ہو جائے،بعث بعد الموت پر ایمان کو تازہ رکھا جائے،اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری اور محاسبہ کی گھڑی کو ہردم یاد رکھا جائے اور ربِّ ذی الجلال کی خشیت سے دل کو معمور رکھا جائے۔ اس کی نافرمانی اور گنا ہ کے کاموں سے پرہیز کیا جائے اور ربِّ کریم کے محبوب بندوں میں شامل ہونے کی خاطر ہر شعبۂ حیات میں اس کے رسول محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کو اختیار کیا جائے۔ سچ یہ ہے کہ یہی طرزِ عمل اختیار کرنے پر ہم سب کو اللہ ربّ العالمین کی خوشنودی نصیب ہو گی، اور اللہ کے فضل وکرم سے ہمارے مسائل حل ہوں گے اورہماری دُنیا و آخرت کی مشکلات دُور ہوں گی۔ ہم خود بھی یاد رکھیں اور دوسروں کو بھی یاد دلاتے رہیں کہ عظیم ترین کتابِ ہدایت نے کئی مقام پر انسان کو اس جانب متوجہ کیا ہے اور ہرانسان کے ذہن میں یہ نکتہ جاگزیں کرنا چاہاہے کہ اللہ ہی اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کو راضی کیا جائے ،اور وہی اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اُن لوگوں کا طرزِ عمل نہ اختیار کیا جا ئے جو اللہ سے زیادہ کسی انسان سے یا لوگوں سے ڈرتے ہیں۔واقعہ یہ کہ اگر ہر بات اور ہر کام کے وقت ان نکات کو ہم اچھی طرح یاد رکھیں تو ہم قرآن و سنت کے مطابق شب و روز بسر کرنے والے بن سکیں گے، ربِّ کریم کے نیک و فرماں بردار بندوں میں شامل ہوسکیں گے، نیکی کی طرف سبقت کر نا اور برائی یا گناہ سے بچتے رہنا ہمارا معمول بن سکے گا۔ اللہ کرے ہمیں اس کی توفیق نصیب ہو اور اس کے صلہ میں ہماری دنیوی زندگی خوش گوار ہو جائے اور آخرت میں ہم سب حقیقی فوز وفلاح سے ہم کنار ہوں۔
’نرگسیت‘ ایک ایسی نفسیاتی حالت ہے جو انسان کو اپنی ذات کے گرد گھما دیتی ہے۔ یہ کوئی نئی بیماری نہیں ہے، بلکہ انسانی فطرت کے عدم توازن سے پیدا ہونے والا ایک پرانا مرض ہے، جو ہر دور میں مختلف شکلوں میں سامنے آتا رہا ہے۔ آج کے دور میں انفرادی آزادی کے نام پر ہرفرد کی سوشل میڈیا تک آسان رسائی کی وجہ سے یہ مرض خطرناک حد تک پھیل رہا ہے۔ امریکی نفسیاتی جریدے Journal of Personality (۲۰۲۳ء) کے ایک مطالعے کے مطابق، ۱۸ سے ۳۵سال کی عمر کے ۶۲ فی صد نوجوانوں میں ’نرگسیت‘ کی سطح بہت بلند پائی گئی، جو ۱۹۹۰ء کے عشرے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ ذیل میں ’نرگسیت‘ کی حقیقت، اس کی علامات، سماجی اور انفرادی اثرات اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس کے تدارک پر بات کی جائے گی۔
نرگس (Narcissus) اصل میں یونانی پھر فارسی لفظ ہے، جو ایک قسم کے پودے اور پھول کا نام ہے جس میں صرف چھ پتیاں ہوتی ہیں اور وہ پیالے اور آنکھ سے بہت مشابہ ہوتا ہے۔ نرگس مجازاً پُرکشش آنکھ اور چشمِ محبوب کے لیے مستعمل ہے، جس کو علّامہ اقبال نے استعارتاً اپنے شعر میں یوں استعمال فرمایا: ’’ہزاروں سال نرگس اپنی بے نُوری پہ روتی ہے___ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا‘‘۔
’نرگسیت‘ کا لفظ یونانی افسانوی کردار Narcissus سے نکلا ہے، جو اپنی خوب صورتی میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا تھا۔ علمِ نفسیات میں اسے Narcissistic Personality Disorder کہا جاتا ہے۔ ’نرگسیت‘ انسانی فطرت میں موجود معمول کی خود پسندی نہیں، بلکہ ’نرگسیت‘ ایک ایسی ذہنی ساخت کو کہتے ہیں، جس میں انسان دوسروں کو اپنی توسیع سمجھتا ہے اور ان کی الگ حیثیت تسلیم نہیں کرتا۔ کیونکہ نرگسیت ایسی ذہنی حالت ہے جس میں فرد اپنے آپ کو فطری حد سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور وہ اپنی ذات میں اس قدر مشغول رہتا ہے کہ اسے دوسروں کے جذبات اور ضروریات کا خیال نہیں رہتا۔ یہ رویہ جب ایک حد سے زیادہ بڑھ جائے تو ایک نفسیاتی مرض بن جاتا ہے جو انسان کو اپنی حد سے زیادہ ستائش، خود فریفتگی، اپنی ذات، جسم یا صفات کے ساتھ غیرمعمولی لگائو کی وجہ سے خودپرستی اور انانیت تک پہنچا دیتا ہے۔ ’نرگسیت‘ زدہ شخص عموماً اپنی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور اپنی غلطیوں کا الزام دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر ۰ء۵ سے ایک فی صد تک آبادی اس مرض میں مبتلا ہے، لیکن یہ اعدادوشمار ’نرگسیت‘ کے شکار ۲۰ فی صد افراد پر مبنی ہیں کیوں کہ متاثرہ افراد میں سے جو تشخیص کے لیے کسی ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں، ان کی شرح صرف ۲۰ فی صد تک پہنچتی ہے، جب کہ اکثروبیشتر متاثرہ افراد خود کو بیمار تسلیم ہی نہیں کرتے۔
یہ مرض بچپن سے جنم لیتا ہے۔ جب بچے کو بار بار یہ بتایا جائے کہ وہ سب سے خاص ہے، یا پھر اسے شدید تنقید کا سامنا ہو، تو دونوں صورتوں میں خود اعتمادی کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ معروف مجلّے Child Development (۲۰۲۱ء) میں شائع ایک تحقیق کے مطابق، جن بچوں کو والدین کی طرف سے غیر مشروط تعریف ملتی ہے، ان میں ۴۰ فی صد امکان ہوتا ہے کہ وہ ۲۰ سال کی عمر تک ’نرگسیت‘ کی طرف مائل ہو جائیں۔ والدین کی طرف سے ضرورت سے زیادہ لاڈ پیار اور ضرورت سے زیادہ تنقید دونوں ہی ’نرگسیت‘ کی جڑ بن سکتے ہیں۔
دوسری علامت ہمدردی کا فقدان ہے۔ وہ دوسروں کے درد کو سمجھتا ہی نہیں۔ اگر کوئی رو رہا ہو تو ایسے فرد کو لگتا ہے کہ یہ ڈراما ہے یا پھر توجہ کھینچنے کی کوشش۔ ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعے میں ۱۵۰ ’نرگسیت‘ زدہ افراد کو ایک اداس فلم دکھائی گئی؛ صرف ۱۲ فی صد نے ہمدردی کا اظہار کیا، جب کہ نارمل افراد کے گروپ میں یہ شرح ۶۸ فی صد تھی۔
تیسری علامت حسد اور مقابلہ بازی ہے۔ وہ دوسروں کی کامیابی دیکھ کر جلتا ہے اور فوراً اپنی کوئی بڑی بات گھڑ لیتا ہے۔مجلہ ہاوردڈ بزنس ریویو (۲۰۲۰ء) نے ۵۰۰ کاروباری لیڈروں کا جائزہ لیا، جن میں نرگسیت کی سطح بلند تھی، ان میں سے ۸۴ فی صد نے حسد کو اپنی ترقی کا محرک قرار دیا۔
چوتھی علامت جھوٹ اور مبالغہ آرائی ہے۔ وہ اپنی کہانیوں میں رنگ بھرتا ہے، کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور ناکامیوں کو چھپاتا ہے۔ ایک سروے میں ۶۸ فی صد نرگسیت زدہ افراد نے تسلیم کیا کہ وہ روزانہ کم از کم ایک جھوٹ بولتے ہیں تاکہ اپنی ساکھ برقرار رکھ سکیں۔
سماجی زندگی پر اثرات:سماجی زندگی پر ’نرگسیت‘ کا اثر تباہ کن ہوتا ہے۔ خاندان میں ایسا شخص اپنی بیوی، بچوں اور بھائی بہنوں کو اپنی مرضی کا غلام بنانا چاہتا ہے۔ جرنل آف فیملی سائیکالوجی کے مطابق، جن شادیوں میں بیوی یا شوہر ’نرگسیت‘ زدہ ہوتا ہے، وہاں طلاق کی شرح ۷۳ فی صد تک پہنچ جاتی ہے۔ طلاق کی یہ شرح عام شرح سے ۲ء۵گنا زیادہ ہے۔
ایک پاکستانی خاندان کا واقعہ: ایک باپ اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہتا تھا، جب کہ بیٹا انجینئر بننا چاہتا تھا۔ باپ نے بیٹے کو گھر سے نکال دیا۔ دس سال بعد بیٹا کامیاب انجینئر بنا، لیکن باپ سے رابطہ ختم ہو چکا تھا۔ نفسیاتی رپورٹ میں باپ کو Vulnerable Narcissism کا مریض پایا گیا۔
شادی شدہ زندگی میں ’نرگسیت‘ طلاق کی بڑی وجہ بنتی ہے۔ شریکِ زندگی کو ہر وقت تعریف، توجہ اور اطاعت چاہیے ہوتی ہے۔ اگر بیوی اپنی کوئی رائے دے تو اسے غرور سمجھا جاتا ہے۔ باہمی تعلقات میں محبت اورباہمی احترام کی بجائے کنٹرول غالب ہوتا ہے۔
دوستوں کے حلقے میں بھی یہی ہوتا ہے۔ شروع میں تو ’نرگسیت‘ کے مریض دل کش اور پُرجوش لگتے ہیں، لیکن جیسے ہی دوستی گہری ہوتی ہے، ان کی خود غرضی سامنے آنا شروع ہوجاتی ہے۔ وہ دوسروں کی مدد مانگتے ہیں لیکن خود کبھی مدد نہیں کرتے۔ ایک مطالعہ میں ۲۰۰ ’نرگسیت‘ زدہ افراد کے دوستوں میں سے ۹۱ فی صد نے کہا کہ وہ دوستی کو ’یک طرفہ‘ سمجھتے ہیں۔
کام کی جگہ پر ’نرگسیت‘ والے لوگ عموماً باس بننا چاہتے ہیں، لیکن وہ کبھی ٹیم لیڈر نہیں بن سکتے۔ ’تنظیمی رویے اور انسانی فیصلہ سازی پر مقالے‘ (۲۰۲۱ء)کے مطابق: ’نرگسیت‘ زدہ منیجروں کی ٹیمیں ۳۸ فی صد کم پیداواری ہوتی ہیں، کیونکہ وہ فیصلے اکیلے کرتے ہیں۔
نفسیاتی علاج میں Cognitive Behavioral Therapy (CBT) بہت کارآمد ہے۔ اس میں منفی سوچ کے نمونوں کو چیلنج کیا جاتا ہے اور ہمدردی سکھائی جاتی ہے۔ ایک کلینکل ٹرائل میں ۸۰ مریضوں پر CBT کا تجربہ کیا گیا، چھ ماہ بعد ۵۸ فی صد میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
گروپ تھراپی بھی مددگار ہوتی ہے، جہاں وہ دوسروں کے درد سن کر اپنے اندر تبدیلی لاتے ہیں۔ ایک مطالعے میں گروپ تھراپی والے مریضوں کی ہمدردی کی صلاحیت ۴۴فی صد بڑھ گئی۔
خود آگاہی بڑھانے کے لیے اپنے ہاتھ سے علامات کو لکھنا، ذاتی جائزے کے لیے ’مراقبہ‘ کرکے اپنی خرابیوں کا شمار کرنا اور اپنی خامیوں کو تسلیم کرنا مفید ہے۔ خاندان کا ساتھ اور صبر بھی علاج کا اہم حصہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کی پرورش متوازن طریقے سے کریں۔
ذہنی ورزشوں کے علاوہ، روحانی تربیت بھی ’نرگسیت‘ کو کم کرتی ہے۔ شکر گزاری کے رویے کی پرورش کے لیے روزانہ رات کو وہ تین باتیں لکھنی چاہییں جن پر انھیں شکر ادا کرنا چاہیے۔ یہ مشق بھی نرگسی انانیت کو توڑتی ہے۔ جرنل آف پازٹیو سائیکالوجی (۲۰۲۲ء) کے مطابق: جو لوگ ۳۰ دن تک شکر گزاری کی مشق کرتے ہیں، ان کی ’نرگسیت‘ کی سطح ۲۷ فی صد کم ہوجاتی ہے۔
ایک عملی حل یہ ہے کہ متاثرہ شخص ہر ہفتے ایک چھوٹا کام دوسروں کی مدد کے لیے کسی بھی قسم کے بدلے کی توقع کے بغیر کرے۔ یہ عمل ہمدردی کے پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے۔ ایک تجرباتی مطالعہ میں ۵۰؍ افراد نے آٹھ ہفتوں تک رضاکارانہ کام کیا تو ان کی خود غرضی کی سطح ۳۹ فی صدکم ہوگئی۔
بچوں میں ’نرگسیت‘ کی روک تھام کے لیے اسکولوں میں ’ہمدردی کی تعلیم‘ شامل کی جانی چاہیے۔ فن لینڈ کے ایک تجربے میں جہاں بچوں کو ہر ہفتے ایک کہانی سنائی جاتی تھی، جس میں ہمدردی کا پیغام ہوتا تھا، پانچ برس بعد ان بچوں میں ’نرگسیت‘ کی شرح ۵۲ فی صد کم پائی گئی۔
قرآن و سنت کے تجزیاتی مطالعہ سے مرضِ نرگسیت کی ابتداء آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل ہوچکی تھی۔ آدم علیہ السلام اور بنی نوع انسان کو زمین پر بطورخلیفۃ اللہ بنائے جانے کے اعلان اور باقی مخلوقات کو بنی آدم و آدم علیہ السلام کی خلافت فی الارض کو قبول کرنے کے اظہار کے طور پر آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کے حکم کے موقع پر گہری نرگسیت (Grandiose Naracissism) میں مبتلا ابلیس نے تکبر (انانیت) کی بنا پر نہ صرف اپنے اور تمام مخلوقات کے خالق و رازق اور الٰہ کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا بلکہ اپنی انانیت (نرگسیت کی شدید ترین صورت) کا برملا اظہار کرتے ہوئے اَنا خیر منہ کے دعوے پر جم گیا۔ یہی نہیں بلکہ ’نرگسیت‘ اور انانیت کے اس شدید ترین مریض نے باقی مخلوقات خصوصاً بنی نوع انسان کے ہرفرد کو اس مرض کا مریض بنانے کا بیڑا بھی اُٹھا لیا اور اپنے خالق و مالک کے سامنے عاجزی کرتے ہوئے اپنی غلطی کی معافی مانگنے کی بجائے انسانوں کو ’نرگسیت‘ میں مبتلا کرنے کو اپنا مقصد حیات بنائے ہوئے ربّ العزت سے قیامت تک کے لیے مہلت اور اذن بھی مانگ لیا۔ خود نرگسیت میں مبتلا ہونا اور دوسروں کو ’نرگسیت‘ میں مبتلا کرنے کے لیے ہر جتن کرنا ہی شیطانیت ہے۔
بنی آدم اور آدم علیہ السلام کو نرگسیت کے بدترین مریض ابلیس کے ہتھکنڈوں سے متعارف کرانے، اس سے بچنے اور نرگسیت کا شکار ہوجانے کی صورت میں اس کے تدارک (توبہ) کی تربیت، ربّ العزت نے انسان کو جنت میں سکونت دے کر فرمائی۔ آدم علیہ السلام نے اس تربیت کو کامیابی سے مکمل کرنے کا مظاہرہ، ابلیسی سازش کا شکار ہوکر ربّ العزت کی نافرمانی کرگزرنے کا احساس ہوتے ہی اپنی غلطی کا ربّ العزت کے سامنے ندامت و عاجزی سے اعتراف کرتے ہوئے ربّ العزت کی رحمت، عفوودرگزر اور مغفرت کا طلب گار ہوتے ہوئے کیا۔
ربّ العزت نے بنی آدم و آدم علیہ السلام کو نہ صرف نرگسیت کے تدارک کی عملی ترتیب دینے کے بعد ہی زمین پر خلیفۃ اللہ ہونے کی ذمہ داری نبھانے کے لیے زمین پر اُتارا (ان تمام تفاصیل کے لیے دیکھیے البقرہ ۲:۳۰-۳۹، الاعراف ۷:۱۱-۲۵، الحجر ۱۵:۲۶-۴۲)۔ بلکہ بنی نوع انسان کو نرگسیت سے محفوظ رکھنے کے لیے اسلامی اعتقاد کی بنیاد ہی اشھدا ان لا الٰہ الا اللہ ،’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ (قابلِ پرستش) نہیں‘‘، یعنی خودپرستی (انانیت) ’نرگسیت‘ کی نفی کرتے ہوئے خالص اللہ پرستی پر ہی رکھی۔ ربّ العزت نے خود پرستی (انانیت) ’نرگسیت‘ کی نفی فرماتے ہوئے فرمایا: اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــہَہٗ ہَوٰىہُ وَاَضَلَّہُ اللہُ عَلٰي عِلْمٍ (الجاثیہ ۴۵:۲۳)’’کیا آپ نے ایسے شخص کو دیکھا ہے کہ جس نے اپنی خواہش کو ہی اپنا الٰہ بنا لیا ہے اور اس بناپر اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ ہونے دیا‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پرستی اور ’نرگسیت‘ کو ایمان کے منافی قرار دیتے ہوئے فرمایا: لا یؤمن احدکم حتی یکون ھواہ تبعًا لما جئت بہ (السنن الکبریٰ، للبیہقی) ’’تم میں سے کوئی مومن ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات بھی اس کے تابع نہ ہوجائیں جو میں لے کے آیا ہوں‘‘۔
اعتقاد میں خالص اللہ پرستی کو رائج کرتے ہوئے انسانی رویے سے ’نرگسیت‘ کی سرایت کی جڑ کاٹنے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم عملی تعلیمات میں بھی ’نرگسیت‘ کی بیماری کا بہترین علاج پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’کسی شخص کو اس کی آرزوئیں دھوکا نہ دیں‘‘ (النحل۱۶: ۲۳)۔ ’نرگسیت‘ دراصل آرزوؤں کا اسیر ہونا ہے۔ جب انسان اپنی ذات کو بھول کر اللہ کی ذات کو ہی اپنی زندگی کا مرکز بناتا ہے، تو خود پسندی (’نرگسیت‘)ختم ہو جاتی ہے۔
سورئہ فرقان میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا: وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا۶۳ (۲۵:۶۳) ’’رحمٰن کے (اعلیٰ) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام‘‘۔ اس آیت کریمہ میں تعلیم کردہ تواضع اور نرمی ’نرگسیت‘ کا علاج ہے۔ جو شخص زمین پر نرمی سے چلے، وہ خود کو آسمانوں کا مالک نہیں سمجھ سکتا۔ ایک اور آیت میں فرمایا گیا:الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ كَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ۰ۭ (البقرہ۲:۲۶۱) ’’جو لوگ اپنی دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جو سات بالیں اُگاتا ہے، ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں‘‘ ۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ جو دیتا ہے، وہ بڑھتا ہے۔ ’نرگسیت‘ والا شخص لینے میں یقین رکھتا ہے،جب کہ قرآن دینے کی ترغیب دیتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یدخل الجنۃ من کان فی قلبہ مثقال ذرۃ من کبر ’’جو شخص اپنے دل میں ذرا برابر بھی تکبر رکھتا ہے، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا‘‘ (مسلم، کتاب الایمان، حدیث:۱۵۸)۔ تکبر ’نرگسیت‘ کی جڑ ہے۔ تکبر چھوڑنے کا مطلب ہے دوسروں کی عزّت کو اپنی عزّت سمجھنا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا:الکبر بَطْرَ الحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ’’تکبر اس بات کا نام ہے کہ حق کو رَد کر دو اور لوگوں کو حقیر سمجھو‘‘۔ (مسلم، کتاب الایمان، حدیث:۱۵۶)
ایک اور حدیث میں ہے:المؤمن مرأۃ المؤمن ’’مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے‘‘ (ابو داؤد، کتاب الادب، حدیث: ۴۲۹۳)۔ یعنی مومن دوسرے کی خامی دیکھ کر اپنی اصلاح کرتا ہے، نہ کہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔ ’نرگسیت‘ زدہ شخص دوسروں کو آئینہ نہیں، بلکہ اپنی توسیع سمجھتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا:من کان یؤمن باللہ والیوم الْاٰخِر فلا یُؤذ جارہ ’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ دے‘‘ (بخاری، کتاب النکاح، حدیث: ۴۸۹۳)۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنا ایمان کا حصہ ہے، اور یہ ’نرگسیت‘ کے بالکل برعکس ہے۔
عملی ارکانِ اسلام میں نماز بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور اقامت ِ صلوٰۃ نہ صرف ’نرگسیت‘ سے بچائو کا تیربہدف نسخہ ہے بلکہ ’نرگسیت‘ کا بہترین علاج بھی ہے۔ جب انسان سجدہ کرتا ہے تو اس کی ناک زمین سے لگتی ہے۔ یہ عمل روزانہ پانچ وقت کم از کم ۴۰ بار اسے بتاتا ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں، سب کچھ اللہ کا ہے۔ سجدہ خود پسندی و خود پرستی کو توڑتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اقرب ما یکون العبد من رَبِّہٖ وھو ساجدٌ ’’بندے کا اپنے ربّ سے سب سے قریب ہونے کا وقت سجدہ ہوتا ہے‘‘ (مسلم، کتاب الصلوٰۃ،حدیث: ۷۷۳)
ربّ العزت کی عظمت کی یاد اور اس کے سامنے عاجزی ہی اقامت الصلوٰۃ سے مطلو ب ہے۔ارشادِ ربانی ہے: وَاَقِـمِ الصَّلٰوۃَ لِذِكْرِيْ۱۴ (طٰہٰ۲۰: ۱۴)’’اور میری یاد کے لیے نماز کو قائم کرو‘‘۔ پھر فرمایا: وَقُوْمُوْا لِلہِ قٰنِتِيْنَ۲۳۸(البقرہ۲:۲۳۸)’’اور نماز میں اللہ کے سامنے پوری عاجزی اور یکسوئی کے ساتھ کھڑے ہوجائو‘‘۔ اور جو نماز اللہ کی یاد سے خالی ہو اور خودنمائی کے لیے پڑھی جائے وہ نمازی کے لیے باعث ِ ہلاکت ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۴ۙ الَّذِيْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ۵ۙ (الماعون۱۰۷:۴-۵)’’ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نمازوں میں غافل رہتے ہیں۔وہ جو (اپنی نماز) لوگوں کو دکھاتے ہیں‘‘۔
صدقہ اور خیرات بھی ’نرگسیت‘ مٹاتا ہے۔ جب انسان اپنا مال دوسروں پر خرچ کرتا ہے تو اس کا دل دوسروں کی طرف کھلتا ہے۔ حدیث ہے:ما نقصت صدقۃ من مالٍ ’’صدقہ مال کو کم نہیں کرتا‘‘ (مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، حدیث: ۴۷۹۵)۔ یعنی جو دیتا ہے، وہ بڑھتا ہے نہ صرف مال میں، بلکہ دل کی وسعت میں بھی۔
ارکانِ اسلام میں سے زکوٰۃ کا نظام بھی ’نرگسیت‘ کا ایک مؤثر علاج ہے۔ جب انسان اپنی دولت کا ۲ء۵ فی صد غریبوں کو دیتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ سب اس کا نہیں، اللہ کی امانت ہے۔ قرآن کہتا ہے:خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ بِہَا (التوبہ ۹:۱۰۳) ’’اے نبیؐ، تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انھیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انھیں بڑھائو‘‘۔یعنی زکوٰۃ ان کے مال کو پاک کرتی ہے۔
اسی طرح ارکانِ اسلام میں سے روزہ ’نرگسیت‘ کو توڑنے کا زبردست طریقہ ہے۔ جب انسان بھوکا رہتا ہے تو اسے غریبوں کی تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:من صام ایمان واحتسابًا غفرلہ ما تقدم عن ذنبہ’’جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں‘‘ (بخاری، کتاب الایمان، حدیث:۳۸)۔ روزہ ’اَنا‘ کو پگھلاتا ہے۔
تلاوتِ قرآن بھی ’نرگسیت‘ کا ایک مؤثر علاج ہے۔ جب انسان كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَۃُ الْمَوْتِ۰ۭ (اٰل عمرٰن ۳: ۱۸۵) ’’ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے‘‘ پڑھتا ہے، تو اسے یاد آتا ہے کہ یہ دُنیا عارضی ہے۔ ’نرگسیت‘ زدہ شخص دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے۔
ذکرِ الٰہی دل کو نرم کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس شخص کی مثال جو ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا، زندہ اورمُردہ کی سی ہے‘‘ (بخاری، کتاب الدعوات، حدیث:۶۰۵۳)۔ ذکر سے دل میں اللہ کی عظمت بڑھتی ہے، انسان کی عظمت کم ہوتی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ ’نرگسیت‘ کا اصل علاج جیساکہ تفصیل سے گزر چکا ہے توبہ اور استغفار ہی ہے۔ جب انسان اپنی خامیوں کو مانتا اور اللہ سے معافی مانگتا ہے، تو اس کی ’اَنا‘ پگھل جاتی ہے۔ قرآن کہتا ہے: اِنَّ اللہَ يُحِبُّ التَّـوَّابِيْنَ (البقرہ۲:۲۲۲)’’بے شک اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل بنی آدم خطاؤن وخیر الخطائین التوابون ’’ آدم کی اولاد خطا کار ہے، اور بہترین خطا کار توبہ کرنے والے ہیں‘‘۔ (ترمذی، کتاب الذبائح، حدیث: ۲۴۸۳)
اللہ ہمیں اپنی ذات کے حصار اور اپنی ذات کی غلامی سے نکال کر فنا فی اللہ اور فنا فی الرسول ہوجانے کی توفیق و ہمت عطا فرماتے ہوئے اپنی مخلوق کی خدمت کی توفیق عطافرمائیں، اور ہر قسم کی خود پسندی سے محفوظ فرمادیں، آمین!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ سے قبل مبعوث ہونے والے تمام انبیاؑ اور رسولوںؑ کی بعثت کا حتمی مقصد اگرچہ تمام انسانیت کو عدل پر مبنی معاشرہ میں منظم و قائم کرنا ہی ہے جیساکہ سورئہ حدید کی آیت ۲۵ میں ارشاد ربانی ہے: لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۰ۚ (۵۷: ۲۵) ’’ہم نے اپنے رسولوںؑ کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں‘‘۔مگر کارِ رسالت کی ابتدا ہر نبیؑ و رسولؑ کی طرح آپؐ نے تعلیم کتاب و حکمت سے ہی فرمائی۔ قرآنِ پاک میں متعدد مقامات پر اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے: وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۰ۤ ’’اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے‘‘ (البقرہ ۲:۱۲۹، اٰل عمرٰن ۳:۱۶۴، الجمعۃ ۶۲:۲)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بنیادی حقیقت کو یوں بیان فرمایا: اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا (ابن ماجہ، ۱/۱۵۰)، ’’مجھے معلم بنا کر مبعوث کیا گیا ہے‘‘۔
مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کا یہ فریضہ آپؐ کے دمِ وصال تک جاری رہا۔ اس لیے اسلام میں معلم ہونا بہت عزّت و شرف کا مقام ہے۔ معلم، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر قوم کی تعلیم و تربیت کا ذمہ دار گردانا جاتا ہے۔ معلّمین کا شمار قوم کے باشعور طبقے میں ہوتا ہے۔ان کے فرائض منصبی میں اپنے تلامذہ کو عقلی، تجرباتی اور وحی کے علوم سے متصف کرکے قوم کی کردارسازی، تزکیۂ نفس اور قیادت کی تیاری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی مسلمانوں کی براہِ راست تعلیم و تربیت کو اوّلین ترجیح دی اور سرزمین مکہ و مدینہ سے باہر بھی لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اپنے چیدہ چیدہ اصحابؓ کو معلم بنا کر بھیجا۔ اسی طرح وفود کی شکل میں عرب کے مختلف گوشوں سے آنے والوں کی تعلیم و تربیت کا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خصوصی اہتمام فرماتے تھے کیونکہ اسلامی عقیدہ کے درست ہونے کے لیے ’علم‘ بنیادی شرط ہے اور علم کے بغیر ارکانِ اسلام اور زندگی کے باقی معاملات عبادت بن ہی نہیں سکتے۔ اس لیے علم کے بغیر اسلامی زندگی کا تصور ہی محال ہے۔
یثرب جو کہ مدینۃ الرسول، اور اسلامی ریاست کا مرکز بننے جارہا تھا، وہاں کے مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اسی حقیقت کے تناظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب بن عمیرؓ کو معلّم بناکر بھیجا۔ تاریخ اسلام میں وہ پہلے معلّم ہیں جنھوں نے مکہ سے باہر دوسرے شہر میں یہ ذمہ داری نبھائی۔(اسدالغابہ،ج۳، ص ۱۹۶؛ الاصابہ، ج۳ ، طبقات ابن سعد،ج۳، ص ۲۷۶-۲۸۰)
ہجرتِ نبویؐ کے بعد اسلام تیزی سے پھیلا تو مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی مختلف مساجد میں باقاعدہ درس و تدریس کا انتظام فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی مختلف قبائل میں تشریف لے جا کر انھیں اسلام کی طرف راغب فرماتے تھے۔ دوسری طرف دُور دراز کے وہ قبائل جو ایمان کی تڑپ لے کر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپؐ ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام فرماتے اور اس کے بعد ان کو انھی کے قبیلوں میں دعوتِ اسلام اور تعلیم و تربیت کے لیے مقرر فرما دیتے تھے۔
احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عموماً ہم عمر نوجوان ہوتے جو ٹولیوں کی شکل میں حاضر خدمت ہوا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں صحیح بخاری میں ابوسلیمان مالک بن حویرثؓ سے مروی ہے کہ ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیس دن تک رہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یاد آرہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ان کی بابت پوچھا جنھیں ہم اپنے گھروں پر چھوڑ آئے تھے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمخود بھی بڑے نرم خُو اور رحم دل تھے، اس لیے آپؐ نے ہمیں اپنے گھروں کو لوٹنے کی اجازت دے دی اور تاکید فرمائی کہ جو کچھ تم نے یہاں سیکھا ہے وہ اپنے گھر والوں کو بتائو اور سکھائو۔ تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اور جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایک شخص تمھارے لیے اذان دے اور پھر جو تم میں بڑا ہو وہ امامت کرے (صحیح بخاری ،حدیث: ۹۴۸)۔ اسی طرح آپؐ نے ابوذرغفاریؓ، ابوموسیٰ اشعریؓ، طفیل بن عمردوسیؓ اور دوسرے متعدد اصحاب کو انفرادی طور پر اپنے اپنے قبیلوں میں دعوتِ دین اور تعلیم و تربیت کے لیے تعینات فرمایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے گئے معلّمین کو جہاں لوگوں نے عموماً خوش آمدید کہا اور ان سے علمی، دینی اور فقہی استفادہ کیا، وہیں ابتدا میں بعض معلّمین کو نامساعد حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس سلسلے میں بئرمعونہ کا واقعہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ جب ابوبراء بن مالک کلابی نے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنے قبیلے کی تعلیم و تربیت کے لیے معلّمین بھیجنے کی درخواست کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست منظور فرما کر ۴۰؍ اور بعض کے نزدیک ۷۰ معلّمین کو نجد روانہ فرمایا، جنھیں بئرمعونہ کے مقام پر بدعہدی کرکے شہید کردیا گیا۔ بدعہدی کرنے والوں کو درپردہ مدینہ کے یہود بنی نضیر کی حمایت حاصل تھی۔ اس بدعہدی اور المناک واقعہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید صدمہ پہنچا اور آپؐ نے مہینہ بھر فجر کی نماز میں ان ظالموں کے حق میں بددُعا کی۔ یہ دل خراش واقعہ ۶ہجری کو پیش آیا تھا۔ (صحیح بخاری،کتاب المغازی)
دراصل بنیادی اور اہم بات یہ تھی کہ محض اسلام کی تبلیغ سے نہ تو سرزمین عرب پر اسلامی ریاست کی توسیع و استحکام کا مقصد حاصل کیا جاسکتا تھا اور نہ دین کے قیام و بقا کی ضمانت مل سکتی تھی، جب تک کہ اسلامی تعلیمات کو ہرمسلمان کے رگ و ریشے میں اُتار نہ دیا جاتا۔ اس بناپر قرآن حکیم کا حکم ہے کہ ہرطبقہ میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو دین میں تفقہ کا درجہ حاصل کرے تاکہ وہ عام مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دے سکیں۔
ارشادِ ربانی ہے: فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــۃٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَۃٌ لِّيَتَفَقَّہُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْہِمْ لَعَلَّھُمْ يَحْذَرُوْنَ۱۲۲ (التوبہ۹:۱۲۲) ’’پس ایساکیوں نہ ہوا کہ اُن کی آبادی کے ہرحصہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ (غیرمسلمانہ روش سے) پرہیز کرتے‘‘۔
چنانچہ دین اسلام کی تعلیم و تدریس اور اصول اسلام کی تفہیم و تشریح کارِ نبویؐ کا اہم ترین حصہ تھا جس کی جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا ہی سے پوری توجہ دی تھی۔
اس میدان میں سب سے اہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذات گرامی تھی جو معلّم اوّل اور مرجع اساسی کا درجہ رکھتی تھی۔ تمام صحابہ کرامؓ دین اسلام کے اصول و فروعات کی تفہیم و تعلیم کے لیے آپؐ ہی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ ان میں سے کچھ ایسے فقہاء اور اصحابِ علم تھے جو تعلیم و تدریس کے نقش اوّل کے ہوبہو عکس بن کر اُبھرے۔(عہدنبویؐ کا نظامِ حکومت ،ص ۹۶)
ان صحابہ کرامؓ میں معاذ بن جبلؓ، اسعد بن زرارہ خزرجیؓ، عبداللہ بن مسعودؓ، سالم مولیٰ حذیفہؓ اور ابی بن کعبؓ اور چند دیگر کے اسمائے گرامی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ فتح مکہ کے بعد اہل مکہ کی تعلیم و تربیت کے لیے معاذ بن جبلؓ اور ابوموسیٰ اشعریؓ کو مقرر کیا گیا تھا، جب کہ اپنی رحلت سے قبل رسولؐ اللہ نے ان دونوں اصحاب کو عامل اور معلّم بناکر یمن بھیجا اور وہ دورِفاروقیؓ تک امارت کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کے فرائض بھی نبھاتے رہے۔
عمر بن الخطابؓ جب خلیفہ بنے تو اس وقت حالات سازگار ہوچکے تھے۔ شورشوں اور فتنوں کی سرکوبی ہوچکی تھی۔ اس لیے انھیں ابوبکر صدیقؓ کی بہ نسبت فلاحی، سماجی اور کاروبار مملکت چلانے اور منظم کرنے کے لیے زیادہ وقت ملا۔ انھوں نے ریاست کے تمام شعبوں کو منظم کیا اور ان میں اصلاحات کیں۔ مملکت کے دیگر شعبوں کی طرح عمر بن الخطابؓ نے شعبۂ تعلیم کی طرف بھی خصوصی توجہ دی اور اس میں انقلابی اصلاحات کیں۔ انھوں نے عاملین کو انتظامی اُمور اور معلّمین کو درس و تدریس کی ذمہ داری سونپ دیں اور تعلیم کو انتظامیہ سے جدا ایک علیحدہ شعبہ بنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے کبار صحابہ کرامؓ میں سے انتہائی جلیل القدر فقیہ صحابہؓ کو شام،مصر، حمص، کوفہ، بصرہ وغیرہ میں تعینات کیا اور ان کے لیے وظائف مقرر کیے۔ یہ معلّمین عمر فاروقؓ کی شہادت کے بعد بھی طویل عرصہ تک مقررہ شہروں میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔
عمر فاروقؓ نے تمام مسلمانوں کے لیے قرآن مجید کی تعلیم لازمی قرار دی۔ انھوں نے خصوصاً خانہ بدوش لوگوں کے لیے جو شہروں سے دُور رہتے تھے اور تعلیم وتربیت سے زیادہ رغبت نہیں رکھتے تھے اسلامی تعلیم و تربیت کا بھی اہتمام فرمایا۔ انھوں نے ابوسفیانؓ بن حرب اور چند دیگر افراد کو ایسے معلّمین کے طور پر مقرر کیا جو مختلف جگہوں پر خانہ بدوش عربوں کو قرآن، نماز اور دیگر اُمورِ ضروریہ کی تعلیم دیا کرتے تھے۔اس کے ساتھ بچوں کو تیراکی، شہسواری، منقولات، الانساب اور شاعری کی تعلیم کا بھی حکم تھا (کنزالعمال، جلداوّل، فی سنن الاقوال والافعال، ص ۲۱۷؛ الفاروق،ص۲۶۴)۔انھوں نے قرآن مجید کے صحیح تلفظ کا خاص طور پر خیال رکھنے کا حکم دیا اور تاکید کی کہ قرآن مجید کی صحتِ اعراب کے ساتھ تعلیم دی جائے اور جو شخص لغت کا ماہر نہ ہو وہ قرآن مجید نہ پڑھائے۔(کنز العمال،جلداوّل، ص ۲۲۸ ، بحوالہ اسوۂ صحابہؓ، جلددوم،ص ۴۶۰)
بلاشبہ ابوبکر صدیقؓ، عمر فاروقؓ، عثمان غنیؓ اور علیؓ بن ابی طالب بذاتِ خود قرآن، احادیث، فقہ اور اجتہاد میں بے نظیر صلاحیت رکھتے تھے۔ مگر وہ ریاست کے انتظامی اُمور میں اس قدر مصروف رہا کرتے تھے کہ ان کے لیے باقاعدگی سے تدریسی فرائض سرانجام دینا ممکن نہ تھا، اس کے باوجود ان سے کافی احادیث روایت کی گئی ہیں۔ ایک دفعہ ابوعبدالرحمٰن سلمیؓ نے اپنی تلاوت عثمان غنیؓ کو سنائی اور اصلاح چاہی تو انھوں نے فرمایا کہ میں کاروبارِ حکومت میں مصروف ہوں۔ تم پر توجہ دینے سے میں رعایا اور عام سائلین کو پورا وقت نہیں دے سکوں گا۔ لہٰذا تم جا کر زید بن ثابتؓ کو اپنی تلاوت سنائو اور ان سے اصلاح لو۔ ہمارا منبع فیض یکساں ہے۔(حیات الصحابہؓ، جلدسوم، ص ۳۰۵)
اس طرح دیگر کبار صحابہؓ میں بھی بہت سے افراد علم و فضل میں اعلیٰ مقام رکھتے تھے مگر وہ باقاعدہ معلّم نہ تھے۔ ان کی عسکری، انتظامی اور دیگر اُمورمیں مصروفیت آڑے آتی تھی اس لیے مخصوص تدریسی ذہن اورمیلان رکھنے والے صحابہ کرامؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بعد میں خلفائے راشدینؓ نے بھی تدریسی ذمہ داریاں سونپیں۔
اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ مدینہ ہی وہ شہر ہے جہاں پہلے پہل سارے اسلامی علوم پروان چڑھے۔ رحلت ِ نبویؐ کے بعد یہاں صحابہ کرامؓ اور ان کے بعد تابعین کی بہت بڑی تعداد آباد تھی جنھوں نے علوم القرآن اور حدیث و مغازی پر بہت کام کیا کیونکہ ہجرتِ نبویؐ کے بعد دعوتِ اسلامی کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا اور یہاں سے ہی اسلام پھیلا۔ مدینہ میں رحلت ِ نبویؐ کے وقت موجود صحابہ کرامؓ کی تعداد ۳۰ ہزار بتائی جاتی ہے، جب کہ اسلامی مملکت کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے صحابہ کرامؓ کی تعداد ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ ۲۴ہزار تھی۔(تدوین سیر و مغازی، ص ۱۶۷، سیرت نگاران مصطفٰی ،ص ۱۷)
مدینہ منورہ میں ان تیس ہزار صحابہ کرامؓ میں سے وہ کبار صحابہؓ جو علم و فضل میں یکتا تھے، جن کی علمی بصیرت بے نظیر تھی، جن میں سے ہرایک اپنی ذات میں ایک علمی دبستان تھا۔ انھوں نے مسجدنبویؐ میں ترویج علم کی مسند سنبھالی۔ قرآن، حدیث، فقہ ، مغازی اور علم سَیر کے دروس شروع ہوئے۔ ان صحابہ کرامؓ کی علمی نشستوں کو متلاشیانِ علم نے ’حلقہ‘ کا نام دیا۔ ’حلقہ‘ کی یہ روایت بعد میں تمام اسلامی دُنیا نے اپنائی اور آج بھی مسجد حرام اور مسجدنبویؐ میں نمازِ ظہر اور عصر کے بعد مختلف مقامات پر یہ علمی حلقے قائم ہیں جہاں جید علمائے کرام تعلیم و تدریس کا کام کرتے ہیں۔ کثیر تعداد میں مختلف رنگ و نسل کے لوگ حلقہ بنا کر بیٹھتے ہیں اور تدریس سے مستفید ہوتے ہیں۔مسجد نبویؐ میں جن اکابر علماء صحابہ ؓ کے ’حلقے‘ قائم ہوا کرتے تھے ، اُن میں ابی بن کعبؓ، زید بن ثابتؓ اور عبداللہ بن عمرؓ کے اسمائے گرامی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
عہد فاروقی میں مسجد نبویؐ کے تعلیمی حلقوں میں صرف اہل مدینہ ہی نہیں بلکہ دُور دراز علاقوں سے متلاشیانِ علم سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرکے آیا کرتے تھے۔ خاص کر ابی بن کعبؓ کے حلقے میں بیرونِ مدینہ کے طلبہ زیادہ شریک ہوتے تھے۔ یہ حلقے مسجد نبویؐ کے مختلف ستونوں کے پاس قائم ہوتے تھے۔ طلبہ معلم صحابیؓ کے گرد حلقہ باندھ کر بیٹھ جاتے تھے۔ عمر فاروقؓ نے مختلف علاقوں میں بھی معلّمین تعینات کیے تاکہ لوگوں کو علم حاصل کرنے کے مواقع بہ آسانی میسر ہوں۔ عثمان غنیؓ نے مسجد نبویؐ میں توسیع کی تاکہ حلقوں کے شرکا کے لیے مزید گنجائش اور کشادگی ہو۔
ایک اہم نکتہ یہ بھی یاد رکھنے کا ہے کہ عہد صحابہؓ تک کتاب و سنت اور فقہ و فتاویٰ میں تبخر اور مرجعیت رکھنے والے علما کو قراء کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا اور ان کے تلامذہ کے لیے فقہا کا لقب مشہور ہوا جس سے مراد کتاب و سنت اور فقہ و فتویٰ کے جامع حضرات تھے۔ (خیر القرون کے مدارس،ص ۱۸۲)
معلم صحابہ کرامؓ کے طریقۂ تدریس کی جو تصویر صحابہ کرامؓ کی زندگیوں کے مطالعے سے سامنے آتی ہے، وہ زیادہ تر انفرادی نوعیت اور مزاج کے مطابق ہے۔ ہر ایک کا طریقۂ تدریس جداگانہ رنگ رکھتا تھا۔ تاہم ان کو بحیثیت مجموعی مندرجہ ذیل نکات میں بیان کیا جاسکتا ہے:
۱- صحابہ کرامؓ حدیث کے علمی مذاکرہ پر بہت زیادہ زور دیا کرتے تھے کیونکہ آپس میں علمی مذاکرہ سے علم حدیث کو بہتر انداز میں محفوظ کیا جاسکتا تھا۔ صحابہ کرامؓ اور ان کے بعد تابعین اور تبع تابعین میں یہ طریقہ زیادہ معروف، پسندیدہ اور مروج تھا۔ بعد میں آنے والے اکابر علماء اور فضلاء نے بھی اس طریقے کو اپنایا۔(علم جرح و تعدیل،ص ۳۶)
۲- معلّم صحابہ کرامؓ شاگردوں کے سامنے حدیث بیان کرتے اور شاگرد اسے زبانی یاد کرتے یا قلم بند کرتے تھے۔ احادیث بیان کرنے کا یہ بہت عمدہ اور اعلیٰ طریقہ تھا۔ بالعموم تمام حلقوں میں یہ طریقہ رائج تھا اور شاگرد اس طریق تعلیم سے حاصل کردہ علم کو سمعنا یا حدثنا کے کلمات سے اپنے شاگردوں تک پہنچاتے۔
۳- تاہم بعض صحابہ کرامؓ احادیث کے تحریر کرنے کے حق میں نہ تھے۔ وہ حدیث کو قلمبند کرنا اچھا نہیں سمجھتے تھے اور طلبہ کو احادیث حفظ کرنے پر زور دیتے تھے۔
۴- تابعین اور تبع تابعین کے دور میں تعلیم و تربیت کا ایک دوسرا طریقہ مروج ہوا کہ جس میں شاگرد اپنے شیوخ کے سامنے ان کا تحریر کردہ نسخہ حدیث پڑھتے اور شیوخ ان کی تصحیح و تصدیق فرماتے۔ اس طریقۂ تدریس کو عرض یا عرض القراء کہا جاتا تھا اورشاگرد اس طریقہ سے حاصل کردہ علم اپنے شاگردوں کو سکھاتے ہوئے أخبرنا کا کلمہ استعمال کرتے۔
۵- بعض شیوخ اپنی احادیث کا نسخہ تیار کرتے اور اسے علم میں پختگی حاصل کرچکنے والے طلبہ کو دے کر اس کو روایت کرنے کی اجازت دے دیتے تھے۔ اس طریقہ کو مناولہ یا عرضِ مناولہ کہا جاتا تھا۔
۶- درس کے دوران توضیح وتشریح کے لیے سوال و جواب کے مواقع بھی میسر ہوتے۔
۷- درس کے اختتام پر شیوخ صحابہؓ اور بعد کے معلّمین اپنے لیے اور شرکاء مجلس کے لیے دُعائے خیر فرما کر حلقہ برخاست کیا کرتے تھے۔
صحابہ کرامؓ کے ساتھ ساتھ صحابیاتؓکا بھی اشاعت ِ علم میں بڑا کردار رہا۔ انھوں نے مسلم خواتین کو قرآن خواندگی اور دیگر فرائض کی تعلیم دی۔ معلمات صحابیاتؓ میں سے اُم المومنین عائشہ صدیقہؓ کا تذکرہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ ان کی ذات بابرکت سے مردوں اور عورتوں نے یکساں علمی استفادہ کیا۔ وہ پردے میں بیٹھ کر تعلیم دیا کرتی تھیں۔
اسلامی تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ خلفائے راشدینؓ کے بعد ان صحابہ کرامؓ کے حالاتِ زندگی زیادہ تر محفوظ ہیں جنھوں نے بطورِ معلّم فرائض سرانجام دیئے۔ ان معلّمین میں سے بیش تر صحابہ کرامؓ نے باوجود ترغیبات، سرکاری عہدوں اور انتظامی اُمور میں حصہ نہیں لیا اور خود کو درس و تدریس تک محدود رکھا۔ معاش کے لیے اگرچہ سرکاری وظائف کے علاوہ ان کے اپنے ذاتی ذرائع آمدن، جیسے تجارت، زراعت وغیرہ تھے، مگر ان کی اوّلین ترجیح اشاعت علم ہی تھی۔
یہ ان صحابہ کرامؓ کی اَن تھک محنت اور جدوجہد کا ثمرہ ہے کہ اسلامی تعلیمات نہ صرف محفوظ رہیں بلکہ دُنیا بھر میں اُن کی اشاعت بھی ہوئی۔ ان صحابہ کرامؓ نے ایک علمی تہذیب تشکیل دی اور اس اسلامی علمی عربی تہذیب نے موجودہ دُنیا کو جو میراث سپرد کی ان میں سیّدقطب شہیدؒ کے مطابق اہم ترین چیز علم ہے۔(اسلام اور مغرب کے تہذیبی مسائل،ص ۴۳)
زندگی کے میدان میں کامیابی حاصل کرنا ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے، لیکن کامیابی کے اس سفر کی جب ابتداء ہوتی ہے تو کوئی متعین سمت نظر نہیں آتی، جہاں منزل کے واقع ہونے کا تصور کیا جاسکے۔ اسی سمت کا تعین ’ہدف‘ کا تعیین کہلاتا ہے۔ اہداف کا تعین ہی انسان کی رہنمائی کرتا ہے کہ اُسے کہاں جانا ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ دنیا میں کامیاب انسان وہی گزرے ہیں یا تاریخ میں انھی کا نام زندہ ہے جنھوں نے اپنی زندگی کے اہداف کا واضح تعین کیا۔ آپ کے اہداف آپ کو ، آپ کی توانائی، وقت اور وسائل کا درست استعمال سکھاتے ہیں۔ ’ہدف‘ کے لغوی معنی ’نشانہ‘ یا ’مقصد‘ کے ہوتے ہیں۔ ہدف وہ چیز ہے جسے نشانہ بنایا جائے یا کوئی ایسا مقصد جسے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ’ہدف‘ کا لفظ مختلف سیاق و سباق میں استعمال ہوسکتا ہے، لیکن اس کا بنیادی مطلب ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے۔ یعنی ’ایک ایسی چیز یا مقام جس کی طرف توجہ مرکوز کی جائے‘۔
اہداف دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جن کے طے کرنے میں انسان کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا اور وہ دنیا میں ہر انسان دانستہ اور نا دانستہ طے کر تا ہے۔ مثال کے طور پر انسان کھانا کھاتا ہے، کھانا کھانے میں اس کا ہدف بھوک مٹانا ہوتا ہے۔ انسان سوتا ہے، سونے میں اس کا ہدف آرام کرکے اگلے دن کےلیے تر و تازہ ہونا ہوتا ہے۔ یہ اور اس طرح کے بہت سے اہداف ہیں جنھیں انسان ہر حالت میں طے کرتاہے۔ انھیں ہم ’تکوینی اہداف‘ کا نام بھی دے سکتے ہیں اور دوسرے اہداف کو ’اختیاری اہداف‘ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ عموماً دیکھا جائے تو دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ملتے ہیں جو اپنی زندگی میں ’اختیاری اہداف‘ کا تعین کرتے ہوں۔ اہداف کا تعین نہ کرنے کی بنیادی وجہ زندگی کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے کا فقدان ہے۔ جو لوگ اپنے اہداف کا تعین نہیں کرتے، وہ زندگی میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر پاتے۔ اہداف کا تعین نہ کرنے والے شخص کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی گاڑی پر سوار تو ہوگیا لیکن اسے یہ نہیں معلوم کہ اسے کہاں اترناہے اور اس گاڑی کو کہاں جاناہے؟ ایسا شخص راستے میں کہیں بھی اتر سکتاہے یا پھر گاڑی اپنی آخری منزل پر اسے خود بخود ضرور اُتار دے گی۔ بغیر تیاری اور ہدف کے سفر کا انجام ہر کوئی اچھی طرح جانتا ہے۔ بقولِ شاعر ؎
نہ کسی کو فکرِ منزل نہ کہیں سُراغِ جادہ
یہ عجیب کارواں ہے جو رواں ہے بے ارادہ
ایک مشہور مقولہ ہے کہ ’’بے مقصدیت موت ہوا کرتی ہے‘‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام ؓ اور سلف کو دیکھیں تو ان کی زندگی اہداف سے کہیں خالی نظر نہیں آتی۔
دُنیا میں بہتر زندگی گزارنے کے لیے ٹھوس مقاصد کا ہونا اور اس کے لیے واضح اہداف کا مقرر کیا جانا نہایت ضروری ہے ۔ یاد رکھیے زندگی میں سب سے مشکل کام اہداف کا وضع کرنا اور پھر ان کا تحفظ کرنا ہے۔ اگر ہم نے ابھی تک زندگی کا کوئی مقصد نہیں بنایا اور اپنے اہداف مقرر نہیں کیے تو پریشان نہ ہوں کیونکہ زندگی کی ڈور ابھی تک آپ کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا باقی ماندہ زندگی کےلیے آج ہی سے پختہ ارادہ کریں کہ اپنی زندگی کو بامقصد بنائیں گے اور ان مقاصد کے حصول کےلیے اپنے اہداف کا تعین کریں گے۔ یہ اہداف انفرادی اُمور کا احاطہ بھی کریں گے، گھریلو زندگی کےلیے بھی ہوں گے، کاروباری، تجارتی اور دفتری سرگرمیوں سے متعلق بھی ہوں گے۔ سماجی و معاشرتی مسائل کا سامنا کرنے سے بھی ان کا تعلق ہوگا اور محلّے سے لے کر ملکی سطح کے معاملات بھی ان کے تحت آئیں گے۔ جب ہم ان اہداف کا تعین کرلیں گے تو پھر ان کا حصول ہمیں جدوجہد پر اُبھارے گا کیونکہ ہم ان تک پہنچنا چاہیں گے، نشانِ منزل ہمارے سامنے ہوگا۔
کچھ بین الاقوامی یونی ورسٹیوں کی تحقیقات کی روشنی میں اہداف کے تعین اور اُن کے حصول کے لیے کچھ لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ لوازمات قارئین کی دلچسپی اور عمل درآمد کے لیے پیشِ خدمت ہیں۔
جو بھی ہدف طے کریں وہ واضح اور متعین ہو، مجہول نہ ہو۔ خواہ یہ ہدف انفرادی ہو یا عائلی، کاروباری ہو یا دفتری، سماجی ہو یا معاشرتی، تنظیمی ہو یا کوئی اور۔ مثال کے طور آپ ایک سماجی، اصلاحی و فلاحی تنظیم کے کارکن ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تنظیم میں زیادہ سے زیادہ افراد شامل ہوجائیں۔ اگر اس کی ٹھوس منصوبہ بندی نہ کی گئی کہ کتنے لوگ ممبر بن جائیں، اور کیسے بنیں؟ وغیرہ تو آپ الل ٹپ دوڑ لگا کر خود کو تھکاتے رہیں گے اور آپ کی کامیابی کی شرح نہ ہونے کے برابر ہوگی۔ لیکن اسی کام کے لیے یہ طے کرلیں کہ میں ایک سال میں کم از کم ۱۰ افراد کو اپنی تنظیم کا کارکن بناؤں گا۔ تو آپ کے لیے ۱۰؍افراد کا تعاقب کرنا، ان سے راہ و رسم بڑھانا، ان سے اپنی تنظیم کا تعارف کرانا اور جو کام آپ کررہے ہیں وہ کرنے پر اُنھیں آمادہ کرنا آسان ہوجائے گا۔ اسی طرح دیگر اہداف کو بھی اسی انداز میں متعین اور واضح رکھیں تو ان کی جانب پیش قدمی میں تیزی لائی جاسکتی ہے اور منزل تک پہنچا جاسکتا ہے۔
آپ کا ہدف ایسا ہو جو آپ کے لیے چیلنج ہو۔ اس طرح آپ کے اندر کام کرنے کا زیادہ جذبہ پیدا ہوگا۔ کچھ حاصل کرنے کی تحریک پیدا ہوگی، آپ کی سستی دور ہوگی ، اعتماد میں اضافہ ہوگا اور آپ مایوسی کا شکار ہونے سے بچ جائیں گے۔ یاد رکھیے سامنے پڑی ہوئی چیز اُٹھا لینا بہت آسان ہوتا ہے لیکن نظروں سے اوجھل کسی چیز کو حاصل کرنے کےلیے جدوجہد کرنا آسان نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر آپ کسی اصلاحی و تعمیری تنظیم سے وابستہ ہیں اور اس تنظیم کا مشن ہے کہ وہ معاشرے کو ہر قسم کے خرافات اور تباہ کاریوں سے پاک کردے گی۔ یہ ایک مشکل ترین اور چیلنج سے بھرپور ہدف ہے۔ اِس ہدف کو سامنے رکھتے ہوئے متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ اس کے لیے معاشرے میں نکلنا ہوگا، افراد سے ملنا ہوگا، انھیں درست اور غلط کا فرق بتانا ہوگا، انھیں قائل کرنا ہوگا اور تبدیلی کےلیے اُبھارنا ہوگا۔ اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو پھر وہ افراد آپ کا دست و بازو بنیں گے اور قافلہ کے ہم رکاب ہوں گے۔ اس طرح مدت طویل تو ہوسکتی ہے لیکن یہ ایک ایسا چیلنج سے بھرپور ہدف ہوگا کہ جو آپ کو مکمل طور پر متحرک رکھے گا اور سست پڑنے نہیں دے گا۔
اپنے اہداف کو طے کرتے ہوئے ایک بات خصوصی طور پر پیشِ نظر رہے کہ آپ کے اہداف حقیقت پسندانہ ہوں۔ صرف خیالی باتیں ، محض خواہشات نہ ہوں۔ اہداف ایسے ہوںجن کا امکان موجود ہو، جو قابلِ عمل اور قابلِ حصول ہوں۔مثال کے طور پر آپ کسی مغربی معاشرے میں قیام پذیر ہیں۔ آپ وہاں آج کے مادر پدر آزادی اور میڈیا کے دور میں اپنی اولاد کی اسلامی اُصولوں کے مطابق تربیت کو اپنا ہدف بناسکتے ہیں۔ ایسی تربیت جس میں وہ اسلامی اقدار کی مکمل پابندی کرنے والی بھی ہو، معاشرے میں اپنی خصوصی شناخت بھی رکھے، اپنے وطن سے محبت بھی رکھے، معزز بھی ہو اور معاشی طور پر مستحکم بھی وغیرہ وغیرہ ۔ یہ ایک ایسا ہدف ہے جو موجودہ دور میں مشکل تو ضرور ہے لیکن اسے ناممکن یا غیر حقیقت پسندانہ نہیں کہا جاسکتا۔ اسی طرح دیگر بہت سے مسائل ہوسکتے ہیں جن کے اہداف طے کرتے وقت اس بات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ وہ ممکن بھی ہیں یا نہیں، ان کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔
کسی بھی کام کی جانچ کا کوئی نہ کوئی پیمانہ ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اُس کی وقت پر تکمیل ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتی ہے ۔ اس کی مثال تلاوتِ قرآنِ پاک سے لے لیں۔ اگر آپ اس کی تلاوت محض ثواب کی نیت سے کرتے رہیں، جس طرح ہمارے معاشرے میں رواج ہے، تو اُس پر ثواب ضرور ملے گا لیکن قرآن سے جو کچھ ایک مومن حاصل کرسکتا ہے ، اُس کے لیے محض ثواب اُس کی ایک ادنیٰ سی اکائی ہے۔ اس کے برعکس آپ حقیقی فائدہ حاصل کرنے کےلیے اپنا ہدف یہ طے کریں کہ میں قرآن کی اس کے مضامین کی مناسبت سے تلاوت بھی کروں گا، ترجمہ سے آگاہی بھی حاصل کروں گا اور اس پر مزید تحقیق کی غرض سے مختلف علمائے کرام کی تفاسیر کا مطالعہ کروں گا، اور اپنے علم کی حد تک خود تحقیق کی کوشش کروں گا۔ چنانچہ آپ نے جس موضوع کو اپنا ہدف بنایا اُس کی جانب پیش قدمی شروع کی ، تو دیکھیں گے کہ اُس مضمون سے متعلق بہت سی آیات مختلف حالات و واقعات کے تناظر میں آپ کے سامنے ہوں گی، بہت سے راز آشکار ہوں گے اور قرآن سے حقیقی انداز میں مستفید ہوسکیں گے۔ گویا کہ موضوع کا انتخاب آپ کے ہدف کا پیمانہ قرار پایا۔
اب آپ اپنے ہدف کو اسی پیمانے کی مدد سے جانچ سکتے ہیں۔ اس کا جائزہ لے سکتے ہیں کہ میرا ہدف کتنے فی صد حاصل ہوا؟ کتنے فی صد باقی ہے؟ مزید توجہ، محنت اور سعی کی کتنی ضرورت ہے؟ اگر ایسا نہ کیا جائے تو اپنے طے شدہ ہدف کو حاصل کرنے میں آپ کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔
تحقیقات کے مطابق جو لوگ اپنے اہداف لکھ لیتے ہیں، ان کے اہداف پورے ہونے کے امکانات ۴۲ فی صد زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لیے اپنے اہداف صرف ذہن میں رکھنے کے بجائے انھیں تحریر میں لائیں، دیوار پر آویزاں کرلیں یا ڈائری میں محفوظ کرلیں، پھر گاہے بگاہے اُس پر نظر ڈالتے رہیں، یہ پریکٹس آپ کو درست سمت میں رواں رکھے گی۔ ہدف کو لکھنا اسے ٹھوس، قابلِ پیمائش اور ٹریک کرنا آسان بنا دیتا ہے۔ جب اہداف صرف آپ کے ذہن میں رہتے ہیں، تو وہ مبہم رہ سکتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ توجہ کھو سکتے ہیں۔ انھیں تحریری شکل میں لا کر، آپ ایک واضح روڈمیپ پر رہنے کے لیے خود اپنے لیے ایک یاد دہانی بناتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ دن کے آغاز کے ساتھ مطلوبہ اہداف کی فہرست مرتب کریں اور دن کے اختتام کے ساتھ ان پر تنقیدی نگاہ ڈالیں۔ اس سے آپ شعوری اور لاشعوری طور پر اپنی منزل کو پانے کے لیے متحرک رہیں گے۔ کاغذ پر تحریر کردہ ہدف کی تفصیلات کی مثال نقشے کی سی ہے۔ جس طرح نقشہ آپ کو درپیش سفر کے لیے مدد فراہم کرتا ہے، بالکل اسی طرح یہ مشق آپ کی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
اگر ہم اپنی زندگی کا بغور تجزیہ کریں تو دیکھیں گے کہ بچپن میں جو ہماری ترجیح تھی وہ جوانی میں بہت معصوم نظر آئی۔ جوانی میں جس ترجیح کا تعین ہم نے اپنے لیے کیا، ادھیڑ پن میں وہ جذباتی محسوس ہوئی، اور اسی طرح جو افراد بڑھاپے تک پہنچ گئے انھیں ادھیڑ پن کی ترجیحات کچھ اور طرح کی محسوس ہورہی ہوں گی۔
اپنی زندگی کے ہر شعبے کے لیے اور اگر کسی تنظیم سے وابستہ ہوں تو اُس تنظیم سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے آپ جو بھی اہداف طے کریں اُن کی ترجیحات کا تعین ضرور کرلیں تاکہ اُن اہداف کو حاصل کرلینے میں آسانی ہو۔ بہتر ہوگا کہ قابلِ حصول اہداف کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹ لیں اور اپنی تر جیحات کے مطابق ان کی فہرست بنائیں۔ ان میں سے پہلے تین ، پہلے پانچ یا اپنی سہولت کے مطابق ایک ہدف کو اپنی توجہ کا مرکز بنائیں اور اس کے حصول کے لیے اپنے وسائل کو بروئے کار لائیں۔ تب ہی آپ اپنے اہداف کو کامیابی سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔اگر بے شمار اہداف کو بیک وقت حاصل کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کرتے رہیں گے، تو ان میں سے کوئی اہم اور کوئی غیراہم یا کوئی فوری نوعیت کا اور کوئی آخری نوعیت کا کام کسی ترتیب سے انجام نہیں پائے گا۔ ہرکام کو اس کی ترجیح کے مطابق پہلے یا بعد میں انجام دیا جائے۔
ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ جن اہداف کا تعین ہم کرتے ہیں اگر اُن کو حاصل کرنے کےلیے وقت کا تعین نہیں کرتے تو پھر اُن کے حاصل کرنے کی کوششوں میں ٹال مٹول ہوتی رہتی ہے اور ہمیں نہیں پتا ہوتا کہ ہم اپنے ہدف تک کب پہنچیں گے؟ البتہ اُن تک پہنچنے کی خواہش ضرور ہمارے اندر موجود رہتی ہے، اور بعض اوقات اس خواہش پر محض ہماری سستی کی وجہ سے عمل نہیں ہوپاتا۔ گویا کہ وقت کا تعین اور اہداف کا حصول ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
مثال کے طور پر آپ کسی اہم موضوع پر کوئی کتاب پڑھنا چاہتے ہیں۔ اس کے مطالعے کو مکمل کرنے کےلیے اگر آپ وقت کی پابندی اپنے اوپر نہیں عائد کریں گے تو اس کے مطالعے میں کافی وقت لگ سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ دیگر مصروفیات کی بنا پر اسے پڑھ ہی نہ سکیں۔ لہٰذا بہتر ہوگا کہ اُس کے وقت کا تعین کریں کہ موجودہ ماہ کے آخر تک میں اس کتاب کا مطالعہ مکمل کرلوں گا۔ اب آپ اس کتاب کے کل صفحات کو روزانہ کی بنیاد پر ایک ماہ میں تقسیم کرکے یا اگر اس میں مختلف مضامین یا شہ سُرخیاں ہیں تو اُن کی تقسیم کے مطابق بآسانی مطالعہ مکمل کرکے اپنے ہدف کو حاصل کرسکتے ہیں۔
دُنیا میں کوئی بھی کام منصوبہ بندی کے بغیر نہیں کیا جاسکتا، بالکل اسی طرح کسی بھی ہدف کا حصول بہتر منصوبہ بندی کے بغیر نا ممکن ہے۔ لہٰذا بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ اپنے ہدف کی نوعیت کے لحاظ سے ایک منصوبہ تیار کرلیں کہ اسے حاصل کرنے کےلیے آپ کو کون کون سے اقدامات کرنے ہوں گے، کون سے وسائل درکار ہوں گے، یہ وسائل کہاں سے حاصل کیے جائیں گے؟
اب اس منصوبہ بندی کے مطابق عمل کیجیے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ تفریح کا پروگرام بنائیں۔ سب سے پہلے آپ کو جگہ کا تعین کرنا ہے کہ آپ جانا کہاں چاہتے ہیں؟ یہ فیصلہ آپ اپنے وسائل، ضرورت اور حالات کے مطابق کریں گے۔ جگہ کے تعین کے بعد آپ سفر کا سامان تیار کریں گے۔ اس سفر میں پیش آنے والے متوقع حالات کے مطابق تیاری اور Backup پلان بھی شامل کریں گے۔ یہ سب کرنے کے بعد سفر آسان بھی ہوگا اور خوب صورت بھی۔
یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ زندگی میں کسی بھی کام کو کرنے کےلیے مستقل مزاجی اور خود اعتمادی کا ہونا نہایت ضروری ہے، یعنی مقصد کے حصول اور کامیاب ہونے پر سو فی صد یقین ہونا ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر کوئی بھی کام پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔ ظاہر ہے اگر کوئی فرد خود اپنا ہدف طے کرے اور اُس کے حاصل کرنے میں سنجیدہ نہ ہو، تو وہ اپنے ہدف کو خود ایک مذاق بنا دے گا۔ مثال کے طور پر ہم ایک ایسے ساتھی کو جانتے ہیں جو اسلام کے پیغام کو دنیا بھر میں پھیلانے کے لیے جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں ، جس کے لیے وہ اپنی ٹیم کے ساتھ یوٹیوب چینل، ویب سائٹ، فیس بک اور دیگر ذرائع کا بخوبی استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے لیے ایک مشکل ترین ہدف طے کیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ایک انتہائی مختصر دورانیہ کا درس (Short Dars) جو تین منٹ سے زیادہ کا نہ ہو، تیار کرکے اسے اپنے چینلوں سے نشر کریں گے۔ بہت سے دوستوں نے انھیں سمجھایا کہ اس ہدف کا حصول بہت مشکل ہے، مدرسین نہیں ملیں گے، روزانہ موضوعات کا ملنا مشکل ہے وغیرہ وغیرہ ، لہٰذا اس سے رجوع کرلیں۔ لیکن وہ ساتھی اپنے ہدف پر قائم رہے اور نہ صرف قائم رہے بلکہ مستقل مزاجی اور خود اعتمادی کے ساتھ آج تقریباً ۱۳ سال سے اس پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ قارئین یو ٹیوب اور فیس بک پر Daroosquran کو وزٹ کرکے ان دروس کو روزانہ کی بنیاد پر دیکھ سکتے ہیں۔
لہٰذا اگر کسی ہدف کو طے کرکے اُس تک پہنچنے کےلیے مستقل مزاجی اور خود اعتمادی ہو تو اُس ہدف کو بآسانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔البتہ اتنا ضرور ہے کہ اس کےلیے مسلسل جدوجہد کرنا پڑے گی، خون پسینہ ایک کرنا پڑے گا، کام کو روزانہ کی بنیاد پر مکمل کیا جائے گا اور ساتھ ہی خود متحرک رہیں تو مشکل ترین ہدف کا حصول بھی نا ممکن نہیں۔
دُنیا میں آنے والا ہر انسان چاہے وہ امیر ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا فقیر ، خواندہ ہو یا ناخواندہ، سب کسی نہ کسی کی مدد کے طلب گار ہیں۔ لہٰذا ہر انسان کی زندگی میں طے کیے جانے والے کچھ اہداف ایسے ہوتے ہیں جو کسی دوسرے کی مدد حاصل کیے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔ اور اگر ممکن بھی ہوں تب بھی کسی کی رہنمائی، تعاون، یا مہارت، سفر کو تیز، آسان اور زیادہ مؤثر بناسکتی ہے۔ صحیح مدد نئے آئیڈیاز فراہم کر سکتی ہے، مسائل کو حل کر سکتی ہے اور آپ کو متحرک رکھ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ بہت ذہین ہیں اور بیوروکریسی میں اعلیٰ عہدے کےلیے مقابلے کا امتحان پاس کرنا آپ کا ہدف ہے، تو اس میں آپ کی ذہانت اور مہارت اپنی جگہ لیکن اگر کسی ایسی اکیڈمی میں داخلہ لے لیں جو ایسے طالب علموں کو اس امتحان کی تیاری کراتی ہے یا کوئی ایسا اُستاد ہے جو اس امتحان کی تیاری کرانے میں مہارت رکھتا ہو، تو آپ کو اُس اکیڈمی میں داخلہ لینا ہوگا یا اُس ماہر اُستاد کی شاگردی اختیار کرنا ہوگی تاکہ ان کی مدد آپ کو غلطیوں سے بچنے اور اعتماد کے ساتھ اپنے ہدف تک پہنچنے میں مدد دے سکے۔
اگر ایسا ہدف طے کیا جائے، جس میں کسی کی مدد درکار ہو تو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کسی مناسب اور متعلقہ فرد سے مدد طلب کرنی چاہیے، تاکہ اپنے ہدف کو وقت پر حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔
انسان کی زندگی میں کوئی بھی چیز حرفِ آخر نہیں ہوا کرتی۔ لہٰذا اپنے اہداف کے حصول کی پیش رفت کا مستقلاً جائزہ لیتے رہیں۔ اس سے آپ کو اپنے کام کی رفتار کا اندازہ ہوسکے گا اور ہدف کے حصول میں اگر کوئی چیز مانع ہو رہی ہو گی تو اس کا بروقت ازالہ کر سکیں گے۔ اس کی بہترین مثال بچوں کے اسکولوں میں ہونے والے ماہانہ اور سہ ماہی ٹیسٹ کا نظام ہے جس میں اساتذہ طالب علم کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہتےہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ سال کے آخر میں یہ طالبِ عالم اپنے ہدف کو حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوسکے گا۔ اسی طرح ہم ایک مثال کسی سماجی، اصلاحی و فلاحی تنظیم کی لے سکتے ہیں کہ ایک اچھی تنظیم اپنے کارکنان سے دیے گئے ہدف کی بابت ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی، اور سالانہ بنیادوں پر ان کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیتی رہتی ہے۔ اس سے انھیں اپنے کام کی رفتارِ کار کا درست اندازہ لگانے میں کامیابی ہوتی ہے۔ دوسری طرف اگر ہدف کے حصول کی رفتار سست روی کا شکار نظر آئے تو اس کے حصول کی منصوبہ بندی میں تبدیل لاتی ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی اپنے ہر قسم کے اہداف کے حصول کی پیش رفت کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے رہنے کی ضرورت ہے تاکہ اگر کسی وجہ سے اس کا حصول سُست روی کا شکار ہو رہا ہو یا اس کے حصول کی راہ میں مشکلات کا سامنا ہو، تو بروقت اپنی منصوبہ بندی میں تبدیلی لائی جاسکے اور اسے ممکنہ طور پر حاصل کیا جاسکے۔
اگر ہم نے ابھی تک اپنی زندگی کا کوئی مقصد نہیں بنایا اور اپنے چھوٹے بڑے اہداف مقرر نہیں کیے، تو آئیے آج سے ہم یہ کام شروع کریں کہ اب سے اپنی زندگی کو بامقصد گزاریں گے۔ ہم آج سے طے کرلیں کہ ہم نے زندگی میں کیا کرنا ہے؟ اپنے لیے ایک مقصد کا تعین کریں، پھر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے بھاگ دوڑ میں لگ جائیں، اور روزانہ اس مقصد کے حصول کےلیے کوشش کرتے رہیں۔ یہاں پر یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ کوشش سے مراد سخت محنت ہے، جس کے بغیر اپنے ہدف تک پہنچنا بہت ہی مشکل اور ناممکن ہے۔ اپنے اس اہم اور بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں وہ تمام راستے اپنانے ہوں گے اور وہ تمام کام کرنے ہوں گے جو ہمیں روز بروز اپنے ہدف اور مقصد کے قریب لے جائیں۔
یہ بات پیشِ نظر رکھیں کہ اہداف محض الفاظ یا تعداد کا گورکھ دھندا نہیں ہوتے —بلکہ یہ آپ کے عزم، آپ کی صلاحیتوں اور آپ کے خوابوں کا عملی اظہار ہوتے ہیں۔ ہرہدف ایک موقع ہے خود کو ثابت کرنے کا، ایک سیڑھی ہے ترقی کی جانب، اور ایک چراغ ہے جو راستے کو روشن کرتا ہے، خصوصاً اُس وقت جب آپ کچھ بڑا کرنے کے لیے پُر عزم ہوں۔ اگر ہم نے اب تک اپنی زندگی میں اہداف کا تعین نہیں کیا اور بے مقصد زندگی گزار رہے ہیں تو پھر ذہنی دباؤ، معاشی پریشانیاں اور مختلف رکاوٹیں ہماری منتظر ہیں ۔ جو افراد زندگی کو بامقصد نہیں گزارتے، زندگی بھی انھیں اس مسافر کی طرح بھٹکا دیتی ہے جو سواری پرسوار تو ہوچکا ہو لیکن اُسے اپنی منزل کا پتا نہ ہو۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ منزل تک پہنچنے کا وہی راستہ محفوظ اور کامیابی کا ضامن ہے جس میں ربّ کی نافرمانی نہ ہو بلکہ وہ راہ اُس کی رضا کی ضامن ہو، کیونکہ سارے اقدامات کے باوجود آپ اپنے ہدف کو حاصل نہیں کرسکتے اگر آپ کے حقیقی مالک کے حضور اس ہدف کی تکمیل منظور نہ ہو ۔
’احسان‘ حُسن سے بنا ہے جس کے معنی اچھائی کے ہیں: ۱- یہ اچھائی ظاہری بھی ہوسکتی ہے، یعنی خوب صورتی۔۲-یہ اچھائی معنوی یا روح کے لحاظ سے ہوسکتی ہے، مثلاً کوئی اچھا کام یا نیکی۔ ۳- یہ عمومی اچھائی بھی ہوسکتی ہے جوعقل کے معیار پر پوری اترتی ہو یا دل کو بھلی لگتی ہو۔ ایک تعریف کے لحاظ سے حواسِ ظاہر ی(بصارت، سماعت، شامہ، ذائقہ) یا حواسِ باطنی (بصیرت یا عقل) اس کے اچھے ہونے کا فیصلہ دیں۔
اس طرح خوب صورت انسان، خوب صورت مناظر، علمی نکات و لطائف، خوش ذائقہ چیزیں، دلآویز خوشبوئیں،ان سب میں حُسن پایا جاتا ہے۔
حسن سےبنائے گئے کچھ الفاظ یہ ہیں: • جس چیز میں حُسن یا اچھائی پائی جائے ، وہ حسَن (مذکر) ہے ، یا حسَنَۃ اور حسنات (مؤنث) ہیں۔انسان کے لیے حسنۃ ہر وہ نعمت ہے جس کا اثر انسان اپنے نفس، بدن اور احوال میں محسوس کرسکے۔ حسنۃ کی ضد سیئۃ ہے۔
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ ۔۔۔(الرعد۱۳:۶) یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لیے جلدی مچارہے ہیں۔
• جس میں سب سے زیادہ اچھائی پائی جائے ،وہ احسن(مذکر ) اور حسنیٰ (مونث) ہیں۔
کسی کے ساتھ اچھائی کرنے کو احسان (باب اِفعال) کہتے ہیں۔ یہ اچھائی کرنے والے محسن اور محسنون (مذکر)، محسِنۃ اور محسِنات (مؤنث) ہیں۔اور احسان کی ضد اِساءۃ ہے۔
احسان کے مفہوم میں عمومی اچھا عمل یا نیکی بھی شامل ہے، لیکن اس سے خصوصی مراد بہت حسن کے ساتھ کیا گیا عمل ہوتا ہے۔
سیّد مودودی کے بقول: ’’احسان دراصل اللہ اور اس کے رسولؐ اور اس کے دین کے ساتھ قلبی لگائو، اس کی گہری محبت، اُس سچی وفاداری اور فدویت و جانثاری کا نام ہے جو مسلمانوں کو فنا فی الاسلام کردے۔ تقویٰ کا اساسی تصور خدا کا خوف ہے جو انسان کو اس کی ناراضی سے بچنے پر آمادہ کرے، اور احسان کا اساسی تصور خدا کی محبت ہے جو آدمی کو اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اُبھارے‘‘۔ (تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں)
خالق کے احسان،نعمتوں کی شکل میں بے انتہا ہیں جن کو ہم شمار بھی نہیں سکتے:
وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللہِ لَا تُحْصُوْہَا۰ۭ (النحل۱۶:۱۸) اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے۔
وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْہُ۰ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللہِ لَا تُحْصُوْہَا(ابراہیم ۱۴:۳۴) جس نے وہ سب کچھ تمھیں دیا جو تم نے مانگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو کر نہیں سکتے۔
ان احسانات کے لیے قرآن میں نعم، منّ اور اٰلاء کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس زمین کی ساری موجودات کے لیے،جن میں ہم بھی شامل ہیں، خالق کا سب سے پہلا احسان یہ ہے کہ اس نے ہمیں عدم سے وجود بخشا،اور ان سب موجودات کے بیچ جانداروں کے گروہ سے ہمارا تعلق بنایا۔ ہر جاندار کی طرح ہمیں زندگی یا روح عطا کی۔ جسمانی حصے اور ایک ایک عضو بنایا اور متناسب بنایا۔ ایٹمز اور مالیکیولز کو ملا کر خلیات، اور انھیں ملا کر جسم کے مختلف نظام بنائے جو ایک دوسرے سے الگ بھی ہیں اور مربوط بھی۔انسانی ساخت (Anatomy) کے علاوہ جسمانی افعال (Physiology)کی بھی حیران کن، مربوط اور متنوع چیزیں دیں۔حواس ِ خمسہ، چال، آواز کا نظام voluntary حرکات involuntary حرکات جو جسم میں متعدد جگہوں پر جاری رہتی ہیں۔نیند کی شکل میں آرام اور نئے سرے سے تازگی کا، برسوں چلنے والا نظام دیا۔ پھر جسم کو ایک نعمت جوانی کی شکل میں دی، اور اس کے ساتھ حسن دیا اور صحت دی۔
اس ربّ نے دنیا کی سب چیزوں کی پرورش کے لیے نظام بنایا ہے۔آسمان اور اس کے ساتھ سورج جسے حرارت اور روشنی کا منبع بنایا ہے۔ چاند، ستارے اور اجرامِ فلکی کی لامتناہی دنیا بنائی ہے۔ زمین اور اس پر موجود چیزوں کے ساتھ ان کا تعلق قائم کیا، جو مناسب فاصلوں، گردشوں اور اپنے دائروں میں تیرنے کے باعث دن رات بناتا ہے، موسموں کو بدلتا ہے، ہوا اور اس کی گیسوں، پانی اور بادل اور بارش اور آبی ذخائر کو منظم کرتا ہے۔ زمین پر پہاڑ ، آگ اور عناصر کے ذخیروں اور گردش کو منضبط کیا۔اس نے جانوروں اور نباتات کی ایک ایک جنس اور ان کے آپس کے ایکوسسٹم کی تنظیم کررکھی ہے۔یہ اس دنیا کی ہر جان دار و بے جان چیز کی پرورش کا بھی انتظام ہے اور ساتھ ہی ایک کامل نظام کا وجود بھی جس میں کوئی تفاوت یا فتور نہیں۔اس نے اس کائنات کو حُسن دیا، آہنگ ورنگ و بو دیئے، انسانوں کی شکل اور زبانوں کاتنوع دیا۔ہر چیز زوج، جوڑے کی صورت میں پیدا کی جو اپنا مقصدپورا کررہی ہے۔
اس نے انسان کی پرورش کے بے شمار انتظامات کیے:جسمانی نشو و نما کے لیے غذا دی جس میں محض غذائیت نہیں، افراط، لذت اور تنوع بھی ہے۔غلے کے ایک ایک دانے کی تشکیل کےلیے کائنات کے متعدد عوامل کو لگایا۔لباس اور گھر کا تنوع کے ساتھ انتظام کیا۔ جسمانی آرائش کے ، سفر کے، لذت کے اور کاموں میں سہولت کے سامان دیئے۔
علم الامراض (Pathology) حاصل کرتے ہوئے ہزاروں امراض کا علم ہوتا ہے جو کہ ہوسکتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ان سے بچایا ہوا ہے ، یہ بھی اس کا احسان ہے۔اگر کوئی بیماری ہوتی ہے تو اس نے بیماری کے ساتھ ان کی علامتیں رکھ دیں، مثلاً بخار، درد یا حسی نظام کے ذریعے، کہ ان کو پرکھ کر بیماری کی تشخیص کرلی جائے۔ اس نے بیماریوں کے علاج بھی اسی دنیا میں رکھ دیئے ہیں۔اور وہی ہے جو جسمانی تکلیف کو دُور کرتا ہے اور بیماریوں سے شفاء دیتا ہے۔وہ آفات سے بچاتا اور حفاظت کرتا ہے اور انھیں دور بھی کرتا ہے۔ عافیت اور سلامتی اسی کی طرف سے ہوتی ہے۔ جس نے موت بھی تخلیق کی ہے ۔ موت نہ ہو اور کئی سو سالہ زندگی ،موجودہ انسانی جسم کے ساتھ ہو تو اس کا کرب ایک، سو سالہ موجودہ انسان محسوس کرسکتا ہے۔یہ موت ایسے بھی ایک نعمت ہے کہ صبحِ دوامِ زندگی ہے۔
انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کا خاص احسان یہ ہے کہ اسےاحسنِ تقویم پر پیدا کیا اور اپنی روح پھونکی ،اسےتعدیل اورتسویہ (توازن، مناسبت) کے ساتھ خلق کیا۔ اسے اشرف المخلوقات بنایا اور تکریم دی (بنی اسرائیل ۱۷:۷۰)۔اسے غیر معمولی عقل اور ذہنی صلاحیتیں دیں جن میں مشاہدہ، حافظہ، حساب،پیش بینی، استدلال، تجزیہ، استنباط شامل ہیں۔ اس کے لیے لامتناہی علم کا دروازہ کھولا، جو اسے معرفت اور حکمت تک لے جاتا ہے۔اور اس علم اور عقل کے استعمال کے ساتھ اسے بیان سکھایا(الرحمٰن۵۵:۴) جس میں مختلف زبانیں، قوت ناطقہ، فصاحت و بلاغت، لہجے اور اسالیب ِبیان شامل ہیں۔تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت کو آسان کیا اور انھیں سنبھلنے کی مہلت دی۔
انسان کو ایک نعمت ذہنی سکون کی شکل میں بھی ملتی ہے۔انسان کا مالک اسےغم اور خوف سے نجات دیتا ہے۔ ذہنی آسودگی کے اسباب میں اسے محبتیں، رشتے اورتعلقات دیئے ہیں۔دلوں میں رحم کے ذریعے آپس میں رحم کو پھیلایا ہے۔انسان کوجو عزّت ملتی ہے، آزادی کی ہوا میں سانس لیتا ہے ، دنیا میں پھیلی ہوئی خوب صورتی سے محظوظ ہوتا ہے، چھوٹی بڑی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں، دیگر خوشیاں ملتی ہیں،کبھی سکینت کی کیفیت ہوتی ہے___سب اس الوھاب کے احسانات ہیں۔ وہ امتحان کے تقاضوں کے تحت غم اور مشکل بھی دیتا ہے، لیکن اس نے غموں کے بعد راحت، اور مشکل (عسر) کے ساتھ آسانی(یسر) رکھ دیئے ہیں۔
انسان کو بحیثیت فرد کے علاوہ بحیثیت نوعِ انسانی اجتماعی نعمتیں بھی دی ہیں، مثلاً تسخیرِ وسائل، تمدنی ترقی و ایجادات، سفر کے ذرائع، کام کے لیے اوزار و آلات و مشینیں، انسانی وسائل کا تخصص کے ساتھ استعمال۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عاد اور ثمود کو ایسی ہی اٰلاء یاد دلائی ہیں۔ بستیوں کی خوش حالی اور امن، وہ بھی نعمتیں ہیں۔جن لوگوں کو اللہ کی طرف سے برکت، فضل اور غناء ملی ہیں ، وہ بھی بیش بہا نعمتیں ہیں۔ ان عطا کردہ نعمتوں میں براہِ راست نعمتیں بھی ہیں اور ان کے پیچھے بالواسطہ نعمتیں بھی بے شمار ہیں۔ ان میں وہ نعمتیں بھی ہیں، جو ہمیں معلوم ہیں اور وہ نعمتیں بھی جن کا ہمیں علم نہیں۔
•انسانوں کے زمرے میں مومنین پر اس کا خاص احسان یہ ہے کہ انھیں ہدایت دے کر جنت کا راستہ آسان کردیا ہے۔مومنوں کو نفس مطمئنہ کی دولت دی ہے۔ ان کے لیے دعاؤں کا دروازہ کھولا ہے، ان کے استغفار و توبہ کو قبول کیا جاتا ہے، ان کی نیکیوں کو قدر وقبولیت بخش کر ان میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ آخرت میں ان کے لیے جنت سجائی گئی ہے جوان کے اعمال نہیں بلکہ رحمٰن کی رحمت کا کمال ہے۔وہاں کی نعمتوں کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور وہاں انسان اس جسم کے ساتھ ہوگا جو ابدی جوانی کے ساتھ ان نعمتوں سے لطف اندوز ہوگا۔
اُمتِ مسلمہ کے لیے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، جو رحمۃ للعالمینؐ ہیں، اور اس کو اپنا احسان کہا: لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ (ال عمرٰن ۳: ۱۶۴)۔ ان کے ساتھ ایک مکمل کتاب دی جو محفوظ کردی گئی ہے،اس امت کوکم وقت میں زیادہ کام کے اجر کی بشارت دی گئی ہے،اور اس کو پچھلی قوموں کی طرح کے عذاب سے بچایا گیا ہے۔
ان میں سے بھی جن لوگوں کو ایمان اور عمل کا زیادہ شعور ملا، اچھی صحبت اور ماحول مل گیا، کوئی صالح اجتماعیت مل گئی ،تو یہ اللہ تعالیٰ کے خاص الخاص احسانات ہیں۔
آزادی بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس نعمت کی قدر، حفاظت اور تشکر کا احساس ہروقت ذہنوں پر غالب رہنا چاہیے۔کسی خطے میں یا کسی کے خاندان اور گھرانے پر، اللہ تعالیٰ کا کوئی خاص احسان ہو تو اس کی قدر بھی ہونا چاہیے۔کسی جگہ یا کسی بھی دائرے میں تھوڑا سا بھی اقتدار ایک نعمت ہے۔
حضرت یوسفؑ نے اپنے اوپر اللہ کےاحسانات کا ذکر کیا:
اِنَّہٗ رَبِّيْٓ اَحْسَنَ مَثْوَايَ۰ۭ (یوسف۱۲:۲۳) میرے ربّ نے تو مجھے( احسن) منزلت بخشی۔
وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْٓ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ (یوسف۱۲:۱۰۰) اس کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے قید خانے سے نکالا۔
قرآن میں مذکورحضرت ابراہیم ؑ اور حضرت سلیمانؑکی دعائیں بھی اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا اقرار ہیں(ابراہیم۱۴: ۳۹، النمل۲۷: ۱۵)
• طب کا علم رکھنے والوں کو اس علم کی، اللہ کی طرف سے ایک نعمت کے طور پہ بھی قدر کرناچاہیے:
فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۱۶ (الرحمٰن۵۵:۱۶) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
لَا بِشَیءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ، اے ہمارے رب! ہم آپ کی کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے۔
اور یہ سب نعمتیں امانتیں بھی ہیں اور ذمہ داریاں اور امتحان کے پرچے بھی۔
انکارِ نعمت یا کفرانِ نعمت: نعمت کو نعمت نہ سمجھنا، مثلاً ہدایت ِ الٰہی یا قرآن کو بے فائدہ سمجھنا یا تحقیرکرنا یا بے نیازی کا رویہ رکھنا۔ یہ انکارِ نعمت یا کفرانِ نعمت ہے۔
نعمت کااحساس نہ ہونا: نعمت کو کسی منعم کی عطا نہ سمجھنا یا کسی کو خالق نہ سمجھنا اور سب چیزوں کو اتفاقی حادثہ سمجھنا۔
منعم کے ساتھ دوسروں کوشریک کرنا:یہ سمجھنا کہ جو کچھ ملا ہے وہ ہماری اپنی محنت سے یا عقل سے ملا ہے،یا یہ زعم رکھنا کہ ہم اس کے مستحق تھے اور ہمیں تو یہ سب ملنا ہی چاہیے تھا۔ وجود سے لے کرہرچھوٹی بڑی چیز کو منعم کی عطا مان لینا لیکن اطاعت کا حق تسلیم نہ کرنا، •یا اطاعت کا حق ماننا، لیکن عملاً اطاعت نہ کرنا اور نافرمانی اور سرکشی کی روش رکھنا۔
اعترافِ احسان اور شکر یہ ہے کہ:جس کی نعمتوں کا شمار نہیں، اس منعِم کا حق ہے کہ اس کو ہروقت یا د رکھیں اور کسی ساعت اس سے غفلت نہ ہو۔ان نعمتوں کا احساس رکھیں اورحمد، یعنی صرف اللہ کی تعریف اور شکر کرتے رہیں۔
•نعمتوں کے تقاضے اور ذمہ داریاں پورا کرتے رہیں، وہ قلبی ہوں، قولی ہوں یا عملی۔ یہ تقاضے نعمتوں کی اقسام کے لحاظ سے ہوسکتے ہیں، مثلاً: نعمتوں کو صحیح جگہ استعمال کریں۔ جسمانی قویٰ، صلاحیتوں، وقت، مادی چیزوں، ذہن و فکر کو اللہ کے راستے میں ہی استعمال کریں۔ اُن کا ضیاع نہ کریں، مثلاً پانی کے ذخیروں کے پاس بھی احتیاط کریں۔ کھانا، بجلی،گیس کے استعمال میں ضیاع سے بچیں۔
اجتماعی نعمتوں کی حفاظت کریں، مثلاًپانی، ہوا، زمین، درختوں کی حفاظت کریں۔ آلودگی سے بچنے والے اقدامات کریں۔قابلِ اشتراک نعمتیں دوسروں کو دیں، مثلاً مال،کھانا، کپڑے، علم۔
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کو ناراض کرنے سے بچیں جیسا کہ حضرت یوسفؑ اللہ کے احسان کو یادکرتے تھے اور نافرمانی سے بچتے تھے۔(یوسف۱۲:۲۳)۔شکر کا رویہ پوری زندگی میں منعمِ حقیقی کے آگے سرتسلیم خم کرنے سے ظاہر کریں۔اس میں اپنا فائدہ بھی ہے (لقمان۳۱:۱۲، النمل۲۷:۴۰)، پرسشِ قیامت کی آسانی بھی ہے (التکاثر۱۰۲:۸)، اور یہی رویہ عذاب سے بچاتا ہےاور نعمتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ (ابراہیم۱۴: ۷)
حدیث ِ جبریلؑ میں ہے: قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْاِحْسَانُ قَالَ الْاِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ (بخاری) ’’اس شخص نے پوچھا: یارسول ؐ اللہ!احسان کیا ہے؟۔ آپ ؐ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو، تو وہ تمھیں دیکھ رہا ہے‘‘۔
اس حدیث کے مطابق احسان یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ کی ذات اوروجود کا احساس اور تصور رکھا جائے۔یہ احساس اللہ تعالیٰ کے لیے دیگر قلبی کیفیات کی بنیاد ہے جیسے اللہ سے محبت، خشیت، تعظیم، تکبیر، امید، اخلاص وغیرہ۔ ہر عمل عبادت کے ساتھ احسان کی یہ کیفیت ہو تو اس عبادت کو خوب صورتی عطا کرتی ہے۔جس طرح ایک وڈیو کیمرے کی موجودگی انسان کو محتاط کردیتی ہے ، اسی پر اس احساس کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔ زندگی کے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی موجودگی کے احساس کے ساتھ ادا کیے جائیں تو وہ احسان بن جاتے ہیں۔تصوف میں ’احسان‘ کی اصطلاح کا یہی مطلب ہے۔
احسان کا ایک مفہوم جو پہلے مفہوم کی تفصیل ہی ہے، وہ یہ ہےکہ احسان اللہ تعالیٰ کی ایسی محبت ہے کہ جو فرماںبرداری کی انتہا تک لےجائے۔
سید مودودی اسلامی اخلاقیات کے چار مراتب کے ضمن میں رقم طراز ہیں: ’’ایمان، اسلام، تقویٰ اور احسان___ یہ چاروں مراتب یکے بعد دیگرے اس فطری ترتیب پر واقع ہیں کہ ہر بعد کا مرتبہ پہلے مرتبے سے پیدا اور لازماً اسی پر قائم ہوتا ہے۔احسان دراصل اللہ اور اس کے رسولؐ اور اس کے دین کے ساتھ اس قلبی لگاؤ، اس گہری محبت، اس سچی وفاداری اور فدویت و جاں نثاری کا نام ہے جو مسلمان کو فنا فی الاسلام کردے۔ تقویٰ کا اساسی تصور خدا کا خوف ہے جو انسان کو اس کی ناراضی سے بچنے پر آمادہ کرے، اور احسان کا اساسی تصور خدا کی محبت ہے جو آدمی کو اس کی خوشنودی حاصل کرنے پر اُبھارے‘‘۔(تحریکِ اسلامی کی اخلاقی بنیادیں )
اگر احسان فرماں برداری کی انتہا ہے تو یہ ہر نیک کام میں ہونا چاہیے۔ لیکن احسان کےایک مفہوم کے مطابق ان سب کاموں میں سے چوٹی کا کام اللہ کا کلمہ بلند کرنے کا کام ہے اور اس کو خصوصاً احسان کہا گیا ہے۔مندرجہ ذیل اقتباسات اس کی وضاحت کرتے ہیں:
’’ان دونوں چیزوں کے فرق کو ایک مثال سے یوں سمجھیے کہ حکومت کے ملازموں میں سے ایک تو وہ لوگ ہیں جو نہایت فرض شناسی و تن دہی سے وہ تمام خدمات ٹھیک ٹھیک بجا لاتے ہیں جو ان کے سپرد کی گئی ہوں۔ تمام ضابطوں اور قاعدوں کی پوری پوری پابندی کرتے ہیں اور کوئی کام ایسا نہیں کرتے جو حکومت کے لیے قابلِ اعتراض ہو۔ دوسرا طبقہ ان مخلص وفاداروں اور جان نثاروں کا ہوتا ہے جو دل و جان سے حکومت کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ صرف وہی خدمات انجام نہیں دیتے جو ان کے سپرد کی گئی ہوں، بلکہ ان کے دل کو ہمیشہ یہ فکر لگی رہتی ہے کہ سلطنت کے مفاد کو زیادہ سے زیادہ کس طرح ترقی دی جائے۔اس دھن میں وہ فرض اور مطالبہ سے زائد کام کرتے ہیں۔ سلطنت پر کوئی آنچ آئے تو وہ جان و مال اور اولاد سب کچھ قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ قانون کی کہیں خلاف ورزی ہو تو ان کے دل کو چوٹ لگتی ہے۔ کہیں بغاوت کے آثار پائے جائیں تو وہ بے چین ہوجاتے ہیں اور اسے فرو کرنے میں جان لڑا دیتے ہیں۔ جان بوجھ کر خود سلطنت کو نقصان پہنچانا تو درکنار اس کے مفاد کو کسی طرح نقصان پہنچتے دیکھنا بھی ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا ہے اور اس خرابی کے رفع کرنے میں وہ اپنی حد تک کوشش کا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کی دلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ دنیا میں بس ان کی سلطنت ہی کا بول بالا ہو اور زمین کا کوئی چپہ ایسا باقی نہ رہے جہاں اس کا پھریرا نہ اُڑے۔
’’اسلام کی اصل طاقت محسنین کا گروہ ہے۔ اصلی کام جو اسلام چاہتا ہے کہ دنیا میں ہو، وہ اسی گروہ سے بن آسکتا ہے۔جو لوگ اپنی آنکھوں سے خدا کے دین کو کفر سے مغلوب دیکھیں ، جن کے سامنے حدود اللہ پامال ہی نہیں بلکہ کالعدم کردی جائیں، خدا کا قانون عملاً ہی نہیں بلکہ باضابطہ منسوخ کردیا جائے ، خدا کی زمین پر خدا کا نہیں بلکہ اس کے باغیوں کا بول بالا ہو رہا ہو، نظامِ کفر کے تسلط سے نہ صرف انسانی سوسائٹی میں اخلاقی وتمدنی فساد برپا ہو بلکہ خود اُمتِ مسلمہ بھی نہایت سرعت کے ساتھ اخلاقی و عملی گمراہیوں میں مبتلا ہورہی ہو، اور یہ سب دیکھ کر بھی ان کے دلوں میں نہ کوئی بے چینی پیدا ہو، نہ اس حالت کوبدلنے کے لیے کوئی جذبہ بھڑکے ، بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے نفس کو اور عام مسلمانوں کو غیر اسلامی نظام کے غلبے پر اصولاً و عملاً مطمئن کردیں، ان کا شمار آخر محسنین میں کس طرح ہوسکتا ہے؟
’’آپ دنیوی ریاستوں اور قوموں میں بھی وفادار اور غیر وفادار کی اتنی تمیز ضرور پائیں گے کہ اگر ملک میں بغاوت ہوجائے یا ملک کے کسی حصے پر دشمن کا قبضہ ہوجائے تو باغیوں اور دشمنوں کے تسلط کو جو لوگ جائز تسلیم کرلیں یا ان کے تسلط پر راضی ہوجائیں اور ان کے ساتھ مغلوبانہ مصالحت کرلیں ، یا ان کی سرپرستی میں کوئی ایسا نظام بنائیں جس میں اصلی اقتدار کی باگیں انہی کے ہاتھ میں رہیں اور کچھ ضمنی حقوق اور اختیارات انھیں بھی مل جائیں، تو ایسے لوگوں کو کوئی ریاست اور کوئی قوم اپنا وفادار ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتی ، خواہ وہ قومی عادات و اَطوار کے کیسے ہی سخت پابند اور جزئی معاملات میں قومی قانون کے کتنے ہی شدید پیرو ہوں۔
’’ان سب ریاستوں اور قوموں کے پاس وفاداری کو جانچنے کا ایک ہی معیار ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی شخص نے دشمن کے تسلط کی مزاحمت کس حد تک کی، اس کو مٹانے کے لیے کیا کام کیا اور اس اقتدار کو واپس لانے کی کیا کوشش کی جس کی وفاداری کا وہ مدعی تھا۔ پھر کیا معاذ اللہ خدا کے متعلق آپ کا یہ گمان ہے کہ وہ اپنے وفاداروں کو پہچاننے کی اتنی تمیز بھی نہیں رکھتا جتنی دنیا کے ان کم عقل انسانوں میں پائی جاتی ہے؟‘‘…(تحریکِ اسلامی کی اخلاقی بنیادیں)
احسان کے اس مفہوم کو ہم ایسے بیان کرسکتے ہیں :اللہ کے دین کے غلبے کے لیے ساری قابلیت اور سارے وسائل صرف کردینا، دل و جان سے اس کی تکمیل کی کوشش کرنا۔یہ مفہوم درج ذیل آیات سے بھی معلوم ہوتا ہے:
وَالَّذِيْنَ جَاہَدُوْا فِيْنَا لَـنَہْدِيَنَّہُمْ سُـبُلَنَا۰ۭ وَاِنَّ اللہَ لَمَعَ الْمُحْسِـنِيْنَ۶۹ (العنکبوت ۲۹:۶۹) جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انھیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے۔
جنھوں نے اللہ کی راہ میں قتال کیا، مصیتیں اٹھائیں، ان کے متعلق کہا گیا:
فَاٰتٰىھُمُ اللہُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَۃِ۰ۭ وَاللہُ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ۱۴۸ (اٰل عمرٰن۳:۱۴۸) آخرکار اللہ نے ان کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اس سے بہتر ثوابِ آخرت بھی عطا کیا۔ اللہ کو ایسے ہی نیک عمل لوگ(محسنین) پسند ہیں۔
اَلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِلہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ۰ۭۛ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِيْمٌ۱۷۲ۚ (اٰل عمرٰن۳:۱۷۲) ن لوگوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہا اُن میں جو اشخاص نیکوکار(احسان والے) اور پرہیزگار ہیں اُن کے لیے بڑا اجر ہے۔
وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّہْلُكَۃِ۰ۚۖۛ وَاَحْسِنُوْا۰ۚۛ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ۱۹۵ (البقرۃ ۲:۱۹۵) اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ احسان کا طریقہ اختیا ر کرو کہ اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔
سیاق وسباق کے مطابق اس جگہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مراد اللہ کے دین کو قائم کرنے کی سعی و جہد میں مالی قربانیاں کرنا ہے۔
• انبیا ؑ جن کی زندگیاں دین کی دعوت اور اس کی خاطر قربانیوں میں گزریں اور جنھیں جھٹلایا گیا، ان کا ذکر محسنین کہہ کر کیا گیا:
وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ۰ۭ كُلًّا ہَدَيْنَا۰ۚ وَنُوْحًا ہَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِہٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَہٰرُوْنَ۰ۭ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِـنِيْنَ۸۴ ﴿(الانعام۶:۸۴) پھر ہم نے ابراہیمؑ کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو راہِ راست دکھائی (وہی راہِ راست جو) اس سے پہلے نوحؑ کو دکھائی تھی۔ اور اُسی کی نسل سے ہم نے داؤدؑ، سلیمانؑ، ایوبؑ، یوسفؑ، موسٰی اور ہارونؑ کو (ہدایت بخشی)۔ اِس طرح ہم نیکو کاروں(محسنین) کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں۔
ان کے قصوں کے بعد بھی قرآن میں آٹھ مرتبہ کہا گیاکہ ہم محسنین کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔
حج دینِ اسلام کا پانچواں رکن ہے اور ہر صاحبِ استطاعت پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ یہ ۹ ہجری میں فرض ہوا۔ جو اس کا انکار کرے وہ کافر ومرتد ہے، اور جو استطاعت کے باوجود ادا نہ کرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہود و نصاریٰ سے تشبیہ دی ہے۔ حج در اصل نفس کی ہرقسم کی برائی کا خاتمہ کرنے کا عہد کرتے ہوئے نیکیوں کے حصول کی جانب ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان(گناہوں)کا کفارہ ہے،جو ان دونوں کے درمیان ہوئے ہوں، اور حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔ (صحیح بخاری ، حدیث:۱۷۷۳، صحیح مسلم، حدیث :۱۳۴۹)
حجِ مبرور سے مراد ایسا حج ہے جس کے دوران کسی گناہ کا ارتکاب نہ ہوا ہو، جس میں کوئی ریا اور شہرت کا دخل نہ ہو اور جس میں کوئی فسق و فجور نہ ہو، جس سے لوٹنے کے بعدگناہ کی تکرار نہ ہو اور نیکی کا رجحان بڑھ جائے، جس کے بعد آدمی دنیا سے بے رغبت اور آخرت کا شدت سے طلب گار ہوجائے ۔ اور سب سے بڑھ کر ایسا حج جو اللہ کے یہاں مقبول ہو۔
جب مسلمان حج کرنے جاتا ہے تو گویا اُسے اللہ تعالیٰ اپنے گھر اپنا مہمان بنا کربلاتا ہے اور اپنے مہمان کی تواضع اُس کی دُعائیں قبول کرکے اور اُس کی بخشش کا پروانہ جاری کرکے کرتا ہے۔ جب حاجی اُس کے گھر سے رخصت ہو رہا ہوتا ہے تو چلتے وقت تحفتاً جنت اُس کےلیے واجب کردیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ وہ اس سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول کرتا ہے اور اگر اس سے بخشش طلب کریں تو انھیں بخش دیتا ہے‘‘۔ (ابن ماجه، السنن، ۲: ۹، رقم: ۲۸۹۲)
ایک حدیث میں آتا ہے جسے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب تم حاجی سے ملو تو اسے سلام اور مصافحہ کرو اور اس سے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنی بخشش کی دعا کی درخواست کرو کہ وہ بخشا ہوا ہے۔‘‘ (احمد بن حنبل، المسند، ۲: ۶۹، رقم:۵۳۷۱)
جب انسان کے گھر کوئی بچہ پیدا ہوتا ہےتو وہ دینِ فطرت پر ہوتا ہے یعنی معصوم ہوتا ہے اور آگے چل کر وہ اپنے آباو اجداد کے دین کا انتخاب کرتا ہے اِلا یہ کہ حق کو پانے کی تڑپ دل میں رکھتے ہوئے جدوجہد کرے۔ ایک حاجی کا اجر امت کو بتانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’جس شخص نے اللہ کے لیے حج کیا اور پھر فحش گوئی کی نہ بدکار ہوا ، تو وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک و صاف ہو گیا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا‘‘۔ (صحیح بخاری ۱۵۲۱ و صحیح مسلم ۱۳۵۰)
حاجی کا محبت سے اپنے ربّ کو لبیک اللھم لبیک (حاضر ہوں، اے میرے اللہ میں حاضر ہوں) پکارنا اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کو اتنا بھلا لگتا ہے کہ جس مخلوق تک اُس حاجی کی لبیک کی آواز پہنچتی ہے وہ وجد میں آجاتی ہے اور اُس حاجی کی آواز میں آواز ملا کر فرطِ محبت سے خود بھی لبیک اللھم لبیک کی گردان شروع کردیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب کوئی مسلمان تلبیہ کہتا ہے، اس کے دائیں بائیں تمام پتھر، درخت، ڈھیلے تلبیہ کہتے ہیں، یہاں تک کہ زمین اِدھر اُدھر (مشرق و مغرب) سے پوری ہو جاتی ہے‘‘۔ (ترمذی، السنن، ۳: ۱۸۹، رقم: ۸۲۸، راوی حضرت سہلؓ بن سعد)
امیر المومنین حضرت عمر ؓ بن خطاب اپنے دورِ امارت میں ایک روز فرماتے ہیں کہ ’’میں نے پختہ ارادہ کیا کہ اپنے لوگوں کو شہروں میں بھیجوں تاکہ وہ اس بات کی تحقیق کریں کہ جن لوگوں کو حج کی استطاعت ہے پھر بھی وہ حج نہیں کرتے تو اُن پر جزیہ مقرر کردوں۔ ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں، ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں‘‘۔ (جزیہ اسلامی ریاست میں غیر مسلمین پر ایک ٹیکس ہے جس کے بدلے اسلامی ریاست اُس کے جان، مال ، عزت و آبرو کی حفاظت کی ضامن ہوتی ہے اور ہر وہ سہولت اُسے فراہم کرنے کی پابند ہوتی ہے جو کسی مسلمان کو فراہم کرے گی۔ یاد رہے یہ ٹیکس غیرمسلمین پر اس لیے عائد ہوتا ہے کہ اُن پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے،جب کہ ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر مختلف حالتوں میں سالانہ زکوٰۃ، عشر و خمس فرض ہے) ۔
اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے دوسری مخلوقات کی طرح انسان کو بھی جوڑے کی شکل میں پیدا کیا ہے۔ ان میں ایک جنس مرد، جب کہ دوسری جنس عورت ہوتی ہے۔ ان دونوں کی جسمانی ساخت، قوتِ برداشت ، کام کرنے کی صلاحیتیں، سوچنے سمجھنے، موسمی اثرات کا مقابلہ کرنے وغیرہ جیسی صفات مختلف رکھی ہیں تاکہ یہ دونوں ایک ساتھ مل کر معاشرہ تشکیل دیں۔ لہٰذا سارا دن محنت مزدوری کرکے بال بچوں کے لیے ضروریاتِ زندگی یعنی خوراک، لباس اور رہائش کا بندوبست کرنا مرد کے ذمہ لگایا ہے،جب کہ اپنے شوہر کے مال ، عزت و آبرو کی حفاظت کرنا، اپنے بچوں کی بہتر تربیت کرنا، خانگی معاملات کا انتظام کرنا عورت کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح اگر کبھی دشمن سے مڈبھیڑ ہوجائے تو میدانِ جہاد میں دشمن سے اپنے گھر، بیوی، بچوں اور مستضعفین کی جان، مال، عزّت و آبرو کی حفاظت کے لیے لڑنا مرد کی ذمہ داری لگائی ہے اور عورت کو اس سے مبرّا رکھا ہے۔ اس سلسلے میں اُم المومنین حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کی اجازت چاہی تو آپؐ نے فرمایا: جِهَادُكُنَّ الحَجُّ ’’یعنی تمھارا جہاد حج ہے‘‘۔(صحیح بخاری: ۲۸۷۵)
افسوس صد افسوس! اسلام کے بتائے ہوئے دیگر اسباق کی طرح حج کے موقع پر مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع اپنی روح سے خالی نظر آتا ہے اور خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد سے مسلمان تتر بتر ہیں، باہمی اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں اور کیفیت نفسا نفسی کی ہے۔ یہی و جہ ہے کہ ماضی قریب اور عصر حاضر میں بوسنیا، چیچنیا، شام، لیبیا، عراق، افغانستان، برما، کشمیر اور فلسطین کی تباہی ہمارے سامنے ہے۔ لہٰذا حج کے چھپے رازوں میں سے ایک راز یہ ہے کہ اُمت متحد ہو ، ان کے دل ایک دوسرے کے لیے دھڑکیں اور یہ ایک قوت نظر آئیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّۃَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ۹۶(الِ عمرٰن۳: ۹۶)’’بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے۔ اس کو خیر و برکت دی گئی ہے اور تمام جہان والوں کے لیے مرکز ِہدایت بنایا گیا‘‘۔ لہٰذا مشرق سے یا مغرب سے، شمال سے یا جنوب سے جہاں سے بھی کوئی حاجی عمرہ یا حج کی نیت سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوگا تو وہ ایک مرکز پر جمع ہو کر ایک ہی طریقہ سے خانہ کعبہ کے گرد گھومے گا، اور مرکزیت برقرار رکھنے کے لیے اس کے گرد سات چکر لگائے گا۔ ان چکروں کو کم یا زیادہ کرنے کا بھی اُس کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔
جس طرح منٰی کی شان و شوکت اور رنگینی عارضی ہے بالکل اسی طرح اس دنیا کی ساری شان و شوکت اور رنگینیاں بس ایک صُور پھونکے جانے کی محتاج ہیں۔ یہ وہ راز ہے جسے سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ حاجیوں کو ۸ ذو الحجہ سے ۱۲ ذوالحجہ تک منیٰ میں قیام کروا کر تجربہ کراتا ہے اور دنیا میں بسنے والے دیگر انسان اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
لہٰذا حاجیوں کو مزدلفہ میں کھلے آسمان کے نیچے قیام اس لیے کرایا جاتا ہے کہ وہ آٹھ ذو الحجہ سے جس کلمہ کو چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، تنہائیوں میں اور مجمعوں میں بلند کررہے ہیں، اُس کی حقیقت کو پہچانیں کہ وہی تمام بڑائیوں کا مالک ہے، وہی رات اور دن پیدا کرتا ہے، وہی موسم کو سرد اور گرم کرتا ہے، وہی زمین سے اپنی مخلوق کے لیے رزق نکالتا ہے، وہی ہے جو پوری کائنات کا خالق ہے، وہ جس کام کا ارادہ کرلیتا ہے بس اُس کےلیے ہوجا (کُن) کہہ دیتا ہے اور پھروہ ہوجاتا ہے (فیکون) ۔ لہٰذا جب ساری قوتوں کا مالک وہی ہے، سب کچھ کرنا ہی اُس نے ہے تو پھر حضرتِ انسان کون ہوتا ہے جو اُس کی زمین پر اپنی من مانی کرے۔
دوسرے احرام کی حالت میں پراگندہ اور غبار آلود رہ کر بارگاہِ عالی میں حاضر ہونے کا حکم تھا، اور احرام کے بعد صاف ستھرا رہنا پسندیدہ ہے، تو بالوں کو کاٹنے میں ان پراگندہ بالوں سے مکمل صفائی اور ایک حالت سے دوسری حالت کی تبدیلی بدرجہ اتم موجود ہے۔
تیسرے یہ کہ احرام کی حالت میں بال توڑنے پر پابندی تھی اب ان تمام یا بیش تر بالوں کو کاٹ کر اس حد بندی کے خاتمہ کی تعلیم خود پابندی لگانے والی شریعت ہی نے دے دی کہ عمرہ اور حج کے اعمال سے فارغ ہونے سے پہلے احرام کی حالت میں بال رکھنا، عبادت اور عمرہ اور حج کے اعمال سے فارغ ہونے کے بعد اب ان کاکاٹنا عبادت ہے۔
لہٰذا اس عمل میں پوشیدہ سبق یہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جائز کام سے رُکنے کا کہیں تو فوری رُک جانا چاہیے اور جب وہ کسی کام کو کرنے کا حکم دیں تو بے چون و چرا اُن کے حکم کو بجا لانا چاہیے۔ اگر ایک حاجی حج کے بعد والی زندگی میں ایسا نہ کرے تو اُس نے حج کی شکل ضرور بنا لی لیکن اُس کی حقیقی روح کو نہ پا سکا۔
۷مئی ۲۰۲۵ء پاکستان کی تاریخ میں ایک تاریخ سازدن کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا کہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے نہ صرف انڈیا کی کھلی جارحیت کو، جو مکر و فریب اور تفاخر و استکبار پر مبنی تھی، ناکام و نامراد کیا بلکہ عالمی استعمار ایک عرصے سے اس خطہ میں انڈیا کو جو حیثیت و مرتبہ دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہا تھا، اس تاثر کو خس و خاشاک کی طرح اُڑا دیا۔
جنگی مبصرین کے مطابق انڈیا کی طاغوتی حکومت ۲۰۱۹ءسے اپنی فضائیہ کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے مغرب کی بہترین ٹکنالوجی سے لیس لڑاکا جنگی جہاز اور دیگر جنگی ساز و سامان جمع کر رہی تھی۔ اس نے پہلگام ڈراما کی آڑ میں اچانک پاکستان پر متعدد جہتوں سے یکبارگی بھرپور حملہ کرکے پاکستان کی سالمیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے اور اس بہانے آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر میں شامل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ لیکن اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ بہترین تدبیر فرمانے والا ہے: وَاللہُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ۵۴ (اٰل عمرٰن۳:۵۴)’’اللہ سب سے عمدہ تدبیر فرمانے والا ہے‘‘۔ وہ ہردور میں معرکۂ حق و باطل میں اپنی آیات، اہل ایمان کے دلوں کے نور میں اضافہ کرنے کے لیے روزِ روشن کی طرح دکھاتا ہے، تاکہ اہل ایمان اس کے شکر و حمد و ثناء کے جذبے سے سرشار ہوکر زندگی کے ہردائرے میں اللہ کی اطاعت اختیار کرتے ہوئے اس کا قرب حاصل کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ کے اَن گنت احسانات میں سے غیبی نصرت ایک عظیم احسان و نعمت ہے ۔ اللہ ربّ العزت اس ذریعے سے اہل ایمان کے دلوں سے موت کے خوف کو نکال کر شہادت کی تڑپ اور تمنا پیدا فرماتا ہے اور مشکل اور کٹھن اوقات میں دلوں کو اطمینان اور ذہنوں کو سکون عطا فرماتا ہے ۔ یہ وہی کیفیت ہے جو ہمارے ہوا بازوں کو نصیب ہوئی ۔ اللہ کی یاد اور اس کی نصرت و تائید کے بھروسے پر انھوں نے اپنے فضائی مشن کا آغاز کیا۔ ابتدائی فضائی جنگ میں نہ صرف دشمن کے تعداد میں دگنا طیاروں کو ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے سے روکا بلکہ اللہ ربّ العزت کی عطا کردہ قوتِ ایمانی کے ذریعے، اور اپنے حواس پر قابو رکھتے ہوئے ٹکنالوجی میں اپنے سے بہتر سمجھے جانے والے فرانسیسی طیاروں کو نشانہ بناکر تباہ بھی کر دیا۔ پاکستان کی فضائیہ کے ترجمان کے مطابق ۶ اور ۷ مئی کو ’فضائی لڑائی‘ ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہی اور اسے حالیہ عالمی فضائی جنگوں کی تاریخ میں سب سے طویل فضائی جنگوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق دفاعی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان نے انڈین فضائیہ کے چھ جنگی طیارے اور۸۰ سے زائد ڈرونز مار گرائے۔پاکستان کے عسکری ذرائع کے مطابق انڈیا کی جانب سے چار راتوں کی مسلسل اشتعال انگیزی اور ڈرون حملوں کے بعد پاکستان کی عسکری قیادت اور جوانوں نے سنت ِ رسولؐ کے مطابق ۱۰مئی کو قبل اَز فجر ربّ العزت کے حضور سربسجود ہوتے ہوئے اس کی مدد ونصرت کی التجا کی اور پھر حکم ربانی فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا۳ۙ (العٰدیٰت ۱۰۰:۳) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کے مطابق نمازِ فجر کے بعد اللہ کی کبریائی کے ا ظہار کے لیے سورۂ صف کی آیت ۴ سے اخذ کردہ اصطلاح بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ کے نام سے جوابی کارروائی کی ۔
جوابی کارروائی میں آدم پور میں پاک فضائیہ کے جے ایف۱۷ تھنڈر کے ہائپر سونک میزائلوں نے بھارت کا ایس-۴۰۰ دفاعی نظام تباہ کر دیا۔ علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کا تربیتی مرکز، کے جی ٹاپ بریگیڈ ہیڈکوارٹر ، اڑی فیلڈ سپلائی ڈپو تباہ کیے گئے ۔آدم پور، اودھم پور، پٹھانکوٹ، سورتھ گڑھ، سرسہ، بھٹنڈا، ہلواڑہ ایئر فیلڈز اور اکھنور ایوی ایشن مراکز کو نشانہ بنایا اور بیاس میں ’براہموس میزائلوں‘ کے ذخیرے کو نشانہ بنایا۔ علاوہ ازیں زمینی جوابی کارروائی میں لائن آف کنٹرول پر بیسیوں بھارتی چیک پوسٹوں کو تباہ کر دیا ۔ پاک فوج کی جوابی کارروائی کے مقابلے میں بھارتی فوج کئی پوسٹوں سے فرار ہوئی اور کئی پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا کے اس نے باضابطہ اپنی شکست بھی تسلیم کی ۔
اس عظیم فضلِ الٰہی کا تقاضا ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق سنّت ِ مطہرہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہر پاکستانی مسلمان ہرقسم کے تکبر و تمسخر سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے ربّ کے سامنے نہایت عاجزی کے ساتھ سجدہ ریز ہو کر اس کا شکر ادا کرے۔ اپنی ماضی کی کوتاہیوں اور اپنی موروثی غلامانہ فکر پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے استغفار کرے، اللہ کے حکم اور توحیدی فکر کے مطابق ربِّ کریم کے ساتھ اپنے تعلق کو صحیح بنیادوں پر استوار کرے۔ اس طرح ہرشعبۂ زندگی میں اللہ ربّ العزت کے دیئے ہوئے امن و سلامتی اور خوشحالی کے ضامن عادلانہ اسلامی احکام اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام معاملات میں اپنا کر اسلام کے عالم گیر نظام کو اپنے معاشرے، ریاست اور دُنیا میں غالب کرنے کی جدوجہد کرے۔ نیز اپنی تمام صلاحیتوں اور وسائل کو اللہ کی رضا اور دُنیا و آخرت میں کامیابی کے حصول کے لیے کھپانے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے۔
یہ بات بالکل واضح ہے کہ انڈیا کی حکمران جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس، مذہبی ونسلی منافرت پر مبنی ’ہندوتوا‘ فکروفلسفہ کی علَم بردار ہے اور ببانگ دہل اپنی انتہا پسندی اور دہشت گردی پر فخر کرتی ہے۔ جس نے آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اور انڈین کانگریس بھی اس معاملے میں اس کی ہمنوا ہے اور جو ’اکھنڈ بھارت‘کے نعرے کی بنیاد پر ہندوؤں کے جذبات میں اشتعال پیدا کرکے حکومت کرتی رہی ہے۔ بی جے پی نے آج سے چھ ماہ قبل اپنے منصوبے کی طرف اشارہ کردیا تھا کہ وہ پاکستان کے اندرونی انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کو اپنی حدود میں شامل کرنا چاہتی ہے۔ اسی ہدف کے حصول کے لیے دوسری جانب اکثر انڈین چینل اور دیگر پاکستان دشمن صحافتی ذرائع ایک منظم حکمت عملی کے ذریعے اقوام عالم کو یہ بات باور کرانے میں مصروف رہےہیں کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز اور دہشت گرد برآمد کرنے والا ملک ہے۔ چنانچہ اسی مسلسل پروپیگنڈے کے باعث عالمی سطح پر پاکستانیوں کے ساتھ تعصب پر مبنی رویہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ دوسری جانب انڈیا کی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور اس کے اتحادی پاکستان کی معیشت اور سیاسی صورتِ حال کو خراب کرنے کے لیے اپنے گماشتوں اور سہولت کاروں کے ذریعے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پاکستان سے دشمنی پر مبنی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان گذشتہ ۲۵برس سے مسلسل نہ صرف دہشت گرد کارروائیوں کا ہدف بنا ہوا ہے بلکہ اندرونی خلفشار کا بھی شکار ہے۔ اس طرح ’ہندو توا‘ کی علَم بردار آر ایس ایس اور بی جے پی حکومت اپنے وسائل کا بے دریغ استعمال کر کے پاکستان کی ملکی سلامتی اور معیشت پر مسلسل وار کرتی آرہی ہے۔
۱۱ مارچ ۲۰۲۵ء کو کوئٹہ سے پشاور روانہ ہونے والی ’جعفر ایکسپریس‘ ٹرین کو بولان کے علاقے میں ’را‘ کے پروردہ بلوچ دہشت گردوں نے اسلحے اور گولہ بارود کے زور پر اغوا کرنے کے بعد ۴۰۰سے زائد مسافروں کو جو اپنے گھر والوں سے ملنے جا رہے تھے یرغمال بنا لیا۔ ان علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی پر بھی انڈین عسکری ادارے اور حکومت اپنے مالی وسائل کے ساتھ عرصے سے ملوث تھے۔ طویل عرصے سے علیحد گی پسند دہشت گردوں کے ہاتھوں عام پاکستانیوں کا سفاکیت سے قتل کیا جارہا ہے۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں پس پردہ ملوث انڈیا کا چہرہ دنیا کو دکھانا حکومت ، سرکاری اداروں اور سیاسی رہنماؤں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ لیکن معاشی و سیاسی مفادات کے زیر اثر حکمران جماعتیں، سیاسی راہ نما اور سرکاری ادارے اپنا یہ فرض پورا کرنے سے مسلسل غفلت برتتے چلے آئے ہیں۔
۱۰مئی کی فتح مبین کے اہم واقعے میں اللہ کی تائید و نصرت کی واضح نشانیاں موجود ہیں، لیکن ایک سیکولر ،قوم پرست ذہن اس کو اپنی عسکری برتری اور سائبر جنگ کی مہارت سے ہی تعبیر کرسکتا ہے اور فخریہ انداز میں اپنی فتح کی خوشی منا کر اپنے منہ اپنی تعریف کر کے مطمئن ہوسکتا ہے۔ لیکن ایک معروضی ذہن رکھنے والا مسلمان اسے کسی اور زاویے سے دیکھتا ہے۔ انڈیا کی جارحیت میں اولین نمایاں پہلو باطل اور طاغوت کا فخر و غرور اور استکبار ہے، جس کا اظہار انڈیا کی نسل پرست اور دہشت گرد آر ایس ایس اور زعفرانی بی جے پی کے نمائندہ وزیراعظم کے بیانات اور بین الاقوامی مذاکرات میں اس کے رویہ سے ہوتا رہتا ہے ۔’ہندو توا‘کے علَم بردار نے ہمیشہ پاکستان کو حقارت اور نفرت کے جذبات کے ساتھ مخاطب کیا ہے۔
انڈیا کے ابلاغ عامہ نے ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے اپنی حالیہ جارحیت پر اپنےعوام الناس کے سامنے جو نقشہ کھینچا، وہ کم و بیش یہ تھا کہ انڈین فوج نے پاکستانیوں کو سبق سکھا دیا ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کو تباہ کر دیا گیا ہے اور پاکستان گڑگڑا کر انڈیا سے صلح اور امن کی درخواست کر رہا ہے۔مگر حقیقت حال بالکل برعکس تھی ۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی معجزانہ امداد سے پاکستان کی مجاہد افواج اور ہوا بازوں نے اپنے رب پر بھروسا کرتے ہوئے۔ اس اعلان کے ساتھ کہ جس مشن پر وہ جا رہے ہیں اس سے سلامتی سے واپسی کی کوئی امید نہیں ہے۔ ایمان، یقین، جوش، ولولہ کے ساتھ اللہ کے بھروسے پر بھارتی حدود میں داخل ہوئے اور اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بناتے ہوئے تکبر و غرور میں مست ’ہندو توا‘ قیادت کے تمام خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔ قرآن کریم نے فرمایا ہے: وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ۰ۭ بِيَدِكَ الْخَيْرُ۰ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۲۶ (اٰل عمرٰن۳:۲۶) ’’(اللہ) جسے چاہے عزّت بخشے اور جس کو چاہے ذلیل کر دے۔ بھلائی تیرے ہی اختیار میں ہے۔بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔
انسان کی تمام تیاریاں، منصوبے مادی قوت ،فنی برتری، ان سب سے زیادہ قوی، العزیز، الحکیم کی قوت ہے۔ انسان جب اس پر ایمان لے آئیں اور استقامت اختیار کریں تو غیبی امداد کے دروازے ان پر کھل جاتے ہیں۔ اور پھر اللہ بزرگ و برتر کی غیبی مدد سے اس کے عاجز بندے تکبر اور غرورکے عادی افراد کو جھکنے اور مٹنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
حساس جنگی معلومات سے آگاہی، انڈیا کے فضائی دفاعی نظام کا معطل کیا جانا، انڈیا کے میزائل اور جہازوں کا تباہ کیا جانا، یہ سب محض انسانی قوتِ بازو سے نہیں ہو سکتا تھا۔ ہمیں لازماً چین کی بروقت رہنمائی و امداد اور ترکیہ کی حمایت پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ لیکن تمام تر فنی اور تکنیکی کمال کے باوجود جنگ میں فتح و شکست کا معیار فنی و تکنیکی صلاحیتوں اور آلات کو استعمال کرنے والے انسان کے طرزِفکروعمل کو تشکیل دینے والا مقصد ِ زندگی ہوتا ہے ۔جب اللہ کا بندہ اللہ کے سامنے اپنی عاجزی کا شعور رکھتے ہوئے اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جذبۂ جہاد کے ساتھ اپنی آنکھوں کے سامنے موجود خطرات میں کود کر ربّ العزت کی نصرت و امداد پر بھروسے کا ثبوت پیش کرتا ہے، تو اللہ ربّ العزت کی طرف سے فتح کے ایسے نتائج سامنے آتے ہیں کہ جن کا مشاہدہ آج دُنیا کے سامنے ہے ۔
اللہ تعالیٰ کے اس احسان پرکہ کل تک جو پاکستان، عرب دنیا ہو یا مغربی اور مشرقی ممالک، سب کی نگاہ میں ایک کمزور اور معاشی طور پر پس ماندہ اور عسکری طور پر انڈیا کے مقابلے میں ایک چھوٹا ملک سمجھا جا رہا تھا ، اللہ تعالیٰ کی عنایت سے اس معرکۂ حق میں اس کی وقعت ، اہمیت، علاقائی قیادت میں باوقار مقام پر فائز ہوا ہے اور پاکستان کی مدافعانہ قوت کی برتری کا سکہ بیٹھ گیا ہے۔انڈیا کے تکبر و غرور کا نشہ خاک میں مل گیا ۔ایسے واقعات بار بار نہیں ہوتے، لیکن یہ جب ہوتے ہیں تو ان کے زیر اثر قوم کی ماہیت قلبی میں ایمانی رنگ نمایاں ہو جاتا ہے۔اسی ایمانی رنگ کو ہرپاکستانی کے دل و دماغ میں اُجاگر کرنے اور غالب کرنے کے لیے جدوجہد اور اقدامات وقت کا تقاضا ہے۔
حقائق کی دنیا پر نظر ڈالی جائے تو امریکی ذہنی غلامی میں جکڑی نوکر شاہی اور سفارت کاروں نے اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی۔کشمیر کا مسئلہ عدم توجہی کا شکار رہا اور چین کے ساتھ جو معاشی بنیاد پر تعاون کی فضا بنی تھی، اس میں واضح کمزوری پیدا ہوئی۔ اگر خدانخواستہ چین بروقت معلومات اور وہ فنی تعاون جس میں انڈیا کے برقی مواصلاتی نظام کا مفلوج کیا جانا بنیادی اہمیت رکھتا ہے، فراہم نہ کرتا تو تنہا ہماری فضائی صلاحیت وہ نتائج پیدا نہ کر پاتی، جو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے فتح کی صورت میں ظاہر ہوئے ۔ چین کے زاویہ سے دیکھا جائے تو انڈیا کی برتری کا واضح مطلب چین کے مقابلے میں ایک دوسرے ہمالیہ کا بلند ہونا تھا ۔ چین کی بروقت معاونت نہ صرف اس خطے میں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کے ساتھ ساتھ چین کی عسکری اور آئی ٹی کے میدان میں مغرب پر برتری کا سکہ جمانے کا سبب بھی بنی اور دنیا کو یہ بھی نظر آگیا کہ فرانسیسی طیاروں کے فنِ کمال کے دعوےاور انڈین ایس ۴۰۰ کے ناقابل تسخیر ہونے کے دعوے سب خاک میں مل گئے ۔نیز خطے میں انڈین چودھراہٹ و بالادستی، اور چین و پاکستان کے خلاف بر تر قوت بننے کا خواب عملاً چکنا چورہوگیا۔
ادھر وہ مسلم ممالک جو انڈیا سے تعلقات استوار کرتے رہے ہیں، ان کے سامنے بھی یہ حقیقت کھل کر آگئی کہ ملک میں غیر جمہوری اقدامات اور سیاسی انتشار کے باوجود جب غیرملکی جارحیت کے خلاف پاکستانی قوم متحد ہوتی ہے تو مادی طور پر اپنے سے ۱۰ گنا بڑی طاقت سے بھی ٹکر لینے سے نہیں گھبراتی۔ یہ اعتماد قوم کے لیے ایک بڑا سرمایہ ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کی بحالی کا ذریعہ بھی۔ پاکستان کی عسکری فتح و برتری انڈیا میں مسلمان اقلیت کے لیے ہی نہیں بلکہ جہاں بھی مسلمان مسائل کا شکار ہیں ، ان سب کے لیے ایک تقویت کا باعث ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے ان عظیم احسانات کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔
۱۰مئی کے واقعے نے پاکستانی قوم کو اس کے اصل تشخص پر دوبارہ فخر کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس جنگ میں پاکستان کی عسکری قیادت نےواضح اور علانیہ طور پر اپنا رشتہ دعاؤں ، مناجات ، اللہ کی کبریائی اور قرآنی اصطلاح بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ سے جوڑ کر یہ حقیقت واضح کر دی کہ پاکستان محض پہاڑوں، کھیتوں اور سبز ہ زاروں کا نام نہیں بلکہ اس کا مقصد ِوجود اسلام اور دوقومی نظریہ آج بھی زندہ ہے ۔ افواج پاکستان نے اللہ کی کبریائی کے اعلان اور اللہ سے دعا و مناجات کے ساتھ اپنی عسکری کارروائیوں سے وہ حیران کن اور معجزاتی کام کیا، جس کے بارے میں انڈیا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ،اور جس کی بنا پر سخت متعصب اور پاکستان مخالف جذبات رکھنے والے امریکی صدر نے بھی اپنے بیان میں پاکستان اور انڈیا کو ایک چھوٹے اور بڑے ملک کے طور پر نہیں بلکہ دو یکساں ایٹمی طاقت والے ممالک کے طور پر مخاطب کیا ۔ واضح رہے کہ امریکا ماضی میں پاکستان کو دہشت گردوں کا پشتی بان اور انڈیا کے مقابلے میں ایک چھوٹا ملک شمار کرتا رہا ہے۔
۲۲؍ اپریل ۲۰۲۵ء کو مقبوضہ کشمیر میں پہلگام کے تفریحی مقام پر ایک دہشت گرد حملے کا نشانہ بننے والے ۲۶ شہریوں میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل تھے۔ انڈیا نے کسی ثبوت یاتحقیق کے بغیر متعصبانہ انداز میں حملے کی ذمہ داری چند منٹوں میں پاکستان پر عائد کردی ۔ پاکستان نے اس افسوسناک واقعے کی آزادانہ اور غیرجانب دارانہ تحقیقات کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیش کش کی ۔لیکن انڈین ذرائع ابلاغ نے جھوٹ پر مبنی ایک منظم ، جارحانہ اور متعصبانہ پروپیگنڈے اور نفرت انگیز مہم کے ذریعے جنگی جنون کا ماحول پیدا کر دیا اور ساتھ ہی مسلّمہ صحافتی اخلاقیات کا بھی قتل عام کیا۔ انڈین میڈیا نے حقائق اور ثبوت کی جگہ ابلاغی محاذ پر فتنہ و فساد پر مبنی جھوٹے بیانیے کے ذریعے ابلاغی جنگ سے بی جے پی حکومت کے لیے ساز گار جنگی ماحول بنایا ۔
اسی جنگی ماحول میں ۶ اور ۷ مئی کی درمیانی رات بھارتی فضائیہ نے پاکستان میں پنجاب اور کشمیر میں نومقامات پر مساجد کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ۴۰؍ افراد شہید ہوئے ، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی، جب کہ انڈیا کا دعویٰ تھا کہ ’’یہاں دہشت گرد تربیت دیے جاتے ہیں‘‘۔ یہ ایک واضح باضابطہ اعلانِ جنگ تھا ۔ انڈیا نے یہ غور نہیں کیا کہ پہلگام، مقبوضہ کشمیر میں اتنے اندر جا کر ایک ایسے مقام پر واقع ہے کہ جہاں سوائے پیدل افراد کے اور کوئی داخل نہیں ہوسکتا اور جہاں چپےچپے پر انڈین فوج کے افراد متعین ہیں۔ اس المناک واقعے کے فوراً بعدیہ الزام عائد کرنا کہ یہ پاکستان کے ایجنٹوں کی کارروائی ہے ، نیز ایک ہوائی دعوے کی بنیاد پر بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت کا پاکستان میں میزائل حملے کرنا کہاں تک ایک معقول بات ہے؟
اللہ کے فضل و کرم سے انڈیا ناکام رہا۔ بےشک اللہ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے۔ اس تناظر میں باشعور شہریوں اور تحریک اسلامی سے وابستہ افراد پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ان پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
قرآن کریم کا ارشاد ہے: وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْـتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللہِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِہِمْ۰ۚ لَا تَعْلَمُوْنَہُمْ۰ۚ اَللہُ يَعْلَمُہُمْ۰ۭ (الانفال۸:۶۰) ’’اور تم لوگ جہاں تک تمھارا بس چلے ، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے ہوئے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو، تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوف زدہ کر دو جنھیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے‘‘۔
اس ارشاد میں جنگی تیاری کا اصل مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ دشمن پر رعب قائم رکھا جائے، جارحیت بجائے خود مقصود نہیں ہے۔ افواج پاکستان خصوصاً فضائی قوت کی حکمت عملی اور بقیہ دونوں افواج کے ساتھ مضبوط رابطے کے نتیجے میں نہ صرف فضائی برتری کے حصول میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی دی بلکہ انڈین ہوائی جہاز بردار بحری بیڑا’وکرانت‘بھی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کر سکا۔ بین الاقوامی مبصرین نے جو اعداد و شمار اور تجزیے پیش کیے ہیں اور پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو سراہتے ہوئے انڈین جارحانہ رویے کی مذمت اور پاکستان کی جانب سے تحمل اور اعلیٰ کارکردگی کے مظاہرے کی تعریف کی ہے۔ پاکستان کی اس پوزیشن نے عالمی مبصرین کو یہ کہنے پر مجبور کیا کہ انڈیا نہ صرف جارح تھا بلکہ اس کی فضائی قوت نے کھلی شکست کھائی ہے۔
اس غیبی امداد نے پاکستان کے علاقائی اور عالمی تناظر میں کلیدی کردار کو یکایک اجاگر کردیا ۔اس تبدیلی کا واقع ہونا اور اس امتحان کے موقعے پر نہ صرف چین اور ترکیہ بلکہ ازبکستان، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کاکھل کر پاکستان کی حمایت کا اعلان کرنا اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا انعام ہے اور ہمیں اس موقعے کو بنگلہ دیش، ترکیہ، ازبکستان اور آذر بائیجان کا ایک امن پسند بلاک بنانے کے لیے سبیل سوچنی چاہیے۔ انڈیا کو صرف اسرائیل نے اپنی حمایت کا یقین دلایا، جو عالمی طور پر انڈین چہرے کو مزید داغدار کرتا ہے۔ کیونکہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں غیرانسانی رویہ اور مظالم جاری رکھنے کے بعد کوئی باشعور شخص اپنے آپ کو اسرائیل سے وابستہ کرنا پسند نہیں کرتا ۔ پاکستان کی جانب سے برقی ڈیجٹیل جنگ اور ترقی یافتہ سائبر سکیورٹی کے آلات کے استعمال نے ثابت کر دیا کہ الحمدللہ! پاکستان اس میدان میں انڈیا سے آگے ہے اور انڈیا اپنی طاقت کے گھمنڈ کی بنیاد پر علاقائی چودھراہٹ کھو بیٹھا ہے ۔ برقی ذرائع معلومات اور ڈیجیٹل آلات کی مدد سے کم سے کم وقت میں حصولِ معلومات، معلومات کی درجہ بندی اور اہداف کے تعین نے فضائی کارکردگی کو مؤثر بنانے میں غیرمعمولی مدد کی ۔ لیکن اصل امداد اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی طرف سے ہمارے ہوا بازوں کے دلوں میں اللہ پر بھروسے اور سکینت کی تھی جو صرف اہل ایمان ہی کو حاصل ہو سکتی ہے۔
واقعات کے اس تناظر میں تحریک اسلامی کی قیادت اور کارکنوں کے لیے غور کرنے کے لیے بہت سے اہم پہلو ہیں جن میں سے چند کا تذکرہ یہاں کیا جانا ضروری ہے :
۱- تقویت ایمان کی مہم: اس بات کی ضرورت ہے کہ عسکری اور تکنیکی کامیابی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایمان کے ذریعے جو قوت ہم کو دی گئی ہے، اسے اجاگر کرتے ہوئے غور کیا جائے کہ اس کامیابی نے ہمارے ایمان میں کتنا اضافہ کیا اور اسے مزید مستحکم کرنے کے لیے اور اللہ سے تعلق بڑھانے کے لیے پورے ملک میں کن کن اقدامات کی اشد ضرورت ہے ۔
۲- احسان مندی :اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس فتح نے کیا بہ حیثیت قوم اور انتظامیہ کہیں ہماری خود اعتمادی میں اضافہ کے ساتھ غرور و تکبر تو نہیں پیدا کیا؟ہماری نگاہ میں انڈیا کی ناکامی کا بڑا سبب اس کا غرور و تکبر تھا ۔اللہ تعالیٰ کو غرور اور تکبر سخت ناپسند ہے۔ وہ صرف اپنے ان بندوں کو کامیابی دیتا ہے جو اللہ کو اپنا رب ماننے کے ساتھ راہِ استقامت پر عاجزی، توبہ اور استغفار کے ساتھ گامزن رہتے ہیں ۔قوم کے نوجوانوں کو اس جانب توجہ کرنے اور انھیں عملا ًایسی سرگرمیوں میں لگانے کی ضرورت ہےجو قربِ الٰہی اور احساس جواب دہی کو بڑھانے میں مددگار ہوں۔موجودہ حالات میں قوم کی اخلاقی تربیت و اصلاح، تحریک اسلامی کے کارکنوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔
۳-سائبر میدان میں فنی مہارت :اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے قوت ایمان کے ساتھ ہردور میں موجود جدید ترین وسائل کو بھی اعلیٰ ترین معیار کے ساتھ حاصل کرنے، اور ان میں ترقی کی راہیں تلاش کرنے کی ہدایت فرمائی ہے ۔آج کی جنگیں محض گولے، ٹینک ،کلاشنکوف کی نہیں ہیں بلکہ سائبر ایجادات کے فنی استعمال کی ہیں۔ اگر فنی طور پر انڈیا کے برقی معلوماتی نظام کو معطل نہ کیا جاتا، تو ہمارے ہوا باز کس طرح ان کی حدود میں جا کر ان کے اثاثے تباہ کرپاتے؟ تحریکی نوجوانوں کو ان میدانوں میں جو مستقبل کی فتوحات کے لیے ضروری ہیں،ا قامت دین کے تصور کے ساتھ آگے بڑھ کر تعلیم اور تطبیقی تجربات کی ضرورت ہے۔
۴-پانی پر جنگیں : جدید تحقیقات نے اس بات کو پایۂ ثبوت تک پہنچا دیا ہے کہ آج تک قدرتی ذرائع خصوصاً تیل ، دھاتوں، معدنیات پر قبضہ کرنے کے لیے مادہ پرست یورپی اقوام نے گذشتہ ڈھائی سو سال سے جو جنگیں کی ہیں، اب ان میں ایک بڑا محاذ آبی وسائل کا ہے ۔
چین ہو یا انڈیا یا افغانستان، سب نے اپنے علاقے میں چھوٹے بڑے بند بنا کر پانی کا ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن صرف ہم ایک ایسی دشمنِ عقل قوم ہیں جو آج تک اپنی محدود اپروچ کی پرستش کرنے کی بنا پر صوبہ جاتی ذہن کے ساتھ یہ طے نہیں کر سکی کہ قومی ضرورت اول ہے یا کسی کی ذاتی جاگیر ؟پانی کی قلت پہلے سے موجود ہے اور حالیہ جنگ میں اس بات کو کھول کر بیان کر دیا گیا کہ انڈیا پہلے پانی کے محاذ پر پاکستان کو ایک ایک قطرہ پانی سے محروم کرنے کا باضابطہ اعلان کر چکا ہے اور یہ دوسرا محاذ عسکری بنیاد پر ان علاقوں پر قبضہ کرنا تھا کہ جن کو وہ عرصہ سے اپنی جغرافیائی وحدت سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور جو پورے پاکستان میں پانی کی ترسیل کا ذریعہ ہیں۔تحریک اسلامی اس موضوع پر علمی بنیادوں پر ماہرین کو جمع کر کے مسئلے کے حیاتیاتی، معاشی، سیاسی، معاشرتی، زرعی اور قانونی پہلوؤں پر معیاری تحقیق قوم کے سامنے پیش کرے اور عوام کو اپنے ساتھ لے کر قومی پالیسی پر اثر انداز ہوں۔ انصاف اور عقل کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے پر علاقائی یا صوبائی عصبیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ دلیل کی بنیاد پر معقول رویہ اپنایا جائے۔
۵- مسئلہ کشمیر پر مؤثر سفارت کاری : انڈیا کے حالیہ عسکری دخل اندازی کا ایک بنیادی محرک آزاد کشمیر پر قبضہ کرنا تھا۔ اللہ تعالی کی خاص عنایت سے دشمن اس میں ناکام رہا، لیکن دشمن آج بھی تاک میں ہے کہ اسے کوئی اور موقع ملے اور وہ کسی طرح اپنے ناپاک ارادوں کی تکمیل کر سکے ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک نادر موقع فراہم کیا ہے کہ انڈیا کےپیشہ وارانہ جھوٹ کا پول ایسے کھلا ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں انڈیا کے بیانیہ کا اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ اس موقع پر ہمارا فرض ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انڈیا کے مظالم اور حقوق انسانی کی پامالی پر دنیا کے تمام اداروں کو اس کے ظلم سے آگاہ کر کے آزادیٔ کشمیر کے مطالبہ کو قوت دیں۔ اقوام متحدہ کی نصف صدی سے زائد عرصہ سے سردخانے میں پڑی قراردادوں پر عمل کرانے کے لیے اپنے تمام سفارتی، اخلاقی اور مادی وسائل کا استعمال کریں۔
۶- نظریۂ پاکستان کے موضوع پر آگاہی : قومی بیداری کے اس موقعے پر تحریک کو خصوصاً نظریہ پاکستان کے حوالے سے نئی نسل کے سامنے جس نے پاکستان بنتے نہیں دیکھا اور جس کو سرکاری اور غیر سرکاری تعلیم میں صرف پاکستان کے قیام کے حوالے سے منتخب قراردادیں اور واقعات سنائے گئے ہیں، اس نسل کو نظریۂ پاکستان کی روح، اقبال ، قائداعظم، محمداسد ،علامہ شبیر احمد عثمانی، سیّدابوالاعلیٰ مودودی اور دیگر رہنماؤں کے بیانات اور تصورات سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
حالیہ جنگ کا محرک ’ہندو توا‘اور تشدد پسند جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس کا یہ نعرہ ہے کہ ’پاکستان کا وجود میں آنا ہی غلط تھا‘۔ نیز ہندو اکثریت والے خطے میں مسلمانوں کو صرف اقلیت کے طور پر رہنے کا حق ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ دشمن کی زبان اور فلسفہ کو ہمارے ملک کے دانش وروں نے غیر شعوری طور پر اتنا اختیار کر لیا ہے کہ ان کے تصورِ قومیت اور ’ہندوتوا‘ کے تصور قومیت میں کوئی بہت بڑا فرق باقی نہیں رہا۔ابلاغ عامہ خصوصاً برقی ا بلاغ عامہ کا شعبہ، یکساں طور پر اس سنگین علمی بددیانتی میں برابر کا شریک کار ہے۔
تحریک اسلامی پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اس موقعے پر تاریخی حقائق اور علمی اور تحقیقی دلائل کے ساتھ اسلامی ثقافت ،معاشرت، معیشت اور سیاست و ابلاغ عامہ کے ذریعے پاکستان کے مقصدِ قیام، تصورِ قومیت اور آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو عام فہم زبان میں نوجوانوں تک پہنچائے۔ اس موضوع پر ملک گیر تقریری مقابلے یونی ورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں منعقد کیے جائیں۔ ان سرگرمیوں میں غیر جذباتی، علمی لیکن عام فہم انداز میں براہِ راست قائدین تحریک پاکستان کے بیانات اور تحریرات کو پھیلایا جائے ۔اس کام کے لیے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال اشد ضروری ہے۔ حفیظ جالندھری نے جس طر ح شاہنامہ اسلام لکھا ،ایسے ہی ’شاہنامۂ پاکستان‘ لکھنے کی ضرورت ہے۔
۷- تدریسی مواد: نظریۂ پاکستان پر غیر جانبدارانہ اور حقائق پر مبنی مواد کی غیر معمولی کمی ہے۔ تحریک سے وابستہ وہ افراد جو ملک کی یونی ورسٹیوں اور کالجوں میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور تحریک پاکستان سے واقفیت رکھتے ہیں، ان میں باصلاحیت افراد کا انتخاب کر کے، وقت کا ہدف مقرر کر کے ایسی درسی اور غیر درسی کتب تیار کرنے کی ضرورت ہے، جو اُردو، سندھی، انگریزی میں تحریک پاکستان کی اصل روح یعنی اسلام کو بطور نظامِ حیات کے تناظر میں، قربانیوں کی تاریخ کو، حوالوں کے ساتھ پیش کریں۔ جو قومیں اپنی تاریخ کو بھلادیتی ہیں، تاریخ ان ا قوام کو بھی بھلا دیتی ہے ۔مستقبل کی تعمیر کے لیے بنیادماضی ہی فراہم کرتا ہے۔ اس کام میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے۔موجودہ صورتِ حال میں اسے ترجیحی بنیاد پر کرنے کی ضرورت ہے۔