اللہ کے محبوب اور پسندیدہ بندوں میں استکبار کے بجاے خاکساری نمایاں ہوتی ہے۔ دین کی دعوت پیش کرتے ہوئے اور تبادلۂ خیال کرتے ہوئے وہ اکڑنے اور الجھنے کی کوشش نہیں کرتے‘ جہلا اگر ان کے منہ آنے لگیں تو وہ کج بحثی کے درپے نہیں ہوتے بلکہ خوب صورتی اور شایستگی کے ساتھ سلام کر کے رخصت ہوجاتے ہیں۔ سورہ الفرقان میں اس خصوصیت کو یوں بیان کیا گیا ہے ع
اور جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام
صاحب تفہیم القرآن رحمن کے بندوں کے اس وصف کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’جاہل سے مراد اَن پڑھ یا بے علم آدمی نہیں‘ بلکہ وہ شخص ہے جو جہالت پر اتر آئے اور کسی شریف آدمی سے بدتمیزی کا برتائو کرنے لگے۔ رحمن کے بندوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ گالی کا جواب گالی سے اور بہتان کا جواب بہتان سے اور اسی طرح کی بے ہودگی کا جواب بے ہودگی سے نہیں دیتے جیساکہ دوسری جگہ فرمایا: ’’اور جب وہ کوئی بے ہودہ بات سنتے ہیں تو اسے نظرانداز کر دیتے ہیں‘ کہتے ہیں بھائی ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اعمال تمھارے لیے۔ سلام ہے تم کو‘ ہم جاہلوں کے منہ نہیں لگتے‘‘۔ (تفہیم القرآن‘ ج ۳‘ ص ۴۶۲-۴۶۳)
مولانا شبیراحمد عثمانی ؒ فرماتے ہیں: ’’اور بندے رحمن کے وہ ہیں جو ’کم عقل اور بے ادب لوگوں کی بات کا جواب عفو و صفح سے دیتے ہیں۔ جب کوئی جہالت کی گفتگو کرے تو ملائم بات اور صاحبِ سلاست کہہ کر الگ ہوجاتے ہیں۔ ایسوں سے منہ نہیں لگتے نہ ان میں شامل ہوں‘ نہ ان سے لڑیں۔ ان کا شیوہ وہ نہیں کہ ’’خبردار ہم سے کوئی جہالت کرے‘ ہم اس کے جواب میں جہالت کی تمام حدود پھاند جائیں گے‘‘ ؎
اَلَا لا یجھلن احدٌ علینا
فنجھل فوق جھل الجاھلینا
معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں: ’’جاہل سے مراد بے علم آدمی نہیں بلکہ وہ جو جہالت کے کام اور جاہلانہ باتیں کرے خواہ واقع میں وہ ذی علم بھی ہو اور لفظ سلام سے مراد یہاں عرفی سلام نہیں بلکہ سلامتی کی بات ہے۔ قرطبی نے نحاس سے نقل کیا ہے کہ اس جگہ سلام تسلیم سے مشتق نہیں بلکہ تسلُّم سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں سلامت رہنا۔ مراد یہ ہے کہ جاہلوں کے جواب میں وہ سلامتی کی بات کہتے ہیں جس سے دوسروں کو ایذا نہ پہنچے اور یہ گنہگار نہ ہو۔ یہی تفسیر حضرت مجاہد‘ مقاتل وغیرہ سے منقول ہے (مظہری)۔ (معارف القرآن‘ ج ۶‘ ص ۵۰۳)
سید مودودی رقمطراز ہیں: ’’جاہلوں سے نہ اُلجھا جائے خواہ وہ اُلجھنے اوراُلجھانے کی کتنی ہی کوشش کریں۔ داعی کو اس معاملے میں سخت محتاط ہونا چاہیے کہ اس کا خطاب صرف ان لوگوں سے رہے جو معقولیت کے ساتھ بات کو سمجھنے کے لیے تیار ہوں۔ اور جب کوئی شخص جہالت پر اتر آئے اور حجت بازی‘ جھگڑالوپن اور طعن و تشنیع شروع کردے تو داعی کو اس کا حریف بننے سے انکار کر دینا چاہیے۔ اس لیے کہ اس جھگڑے میں الجھنے کا حاصل کچھ نہیں ہے اور نقصان یہ ہے کہ داعی کی جس قوت کو اشاعت دعوت اور اصلاح نفوس میںخرچ ہونا چاہیے وہ اس فضول کام میں ضائع ہوجاتی ہے‘‘۔ (تفہیم القرآن‘ سورۂ اعراف‘ ج ۲‘ ص ۱۱۲)
حافظ عماد الدین (ابن کثیر) فرماتے ہیں کہ: ’’جب جاہل لوگ (رحمن کے بندوں سے) ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کرلیتے ہیں‘ معاف فرما دیتے ہیں اور سواے بھلی بات کے گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے‘ جیسے کہ رسولؐ کی عادت مبارک تھی۔ جوں جوں دوسرا آپؐ پر تیز ہوتا آپؐ اتنے ہی نرم ہوتے… رسولؐکے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ آنحضرتؐنے فرمایا: ’’تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا۔ وہ میری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا فرشتہ کہتا تھا‘ یہ نہیں بلکہ تو‘ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا: اس پر نہیں بلکہ تجھ پر‘ تو ہی سلامتی کا پورا حق دار ہے‘‘ (مسنداحمد)۔ پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے۔ سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں: ‘‘دوسرا ان پر ظلم کرے‘ یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں‘’۔ (ابن کثیر‘ ج ۴‘ ص ۲۵)
ابن ہشام نے لکھا ہے کہ ’’ہجرتِ حبشہ کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور دعوت کی خبریں حبش کے ملک میںپھیلیں تو وہاں سے ۲۰ کے قریب عیسائیوں کا ایک وفد تحقیق حال کے لیے مکہ معظمہ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسجد حرام میں ملا۔ قریش کے بہت سے لوگ بھی یہ ماجرا دیکھ کر گردوپیش کھڑے ہوگئے۔ وفد کے لوگوں نے حضوؐر سے کچھ سوالات کیے جن کا آپؐ نے جواب دیا۔ پھر آپؐ نے ان کو اسلام کی طرف دعوت دی اور قرآن مجید کی آیات ان کے سامنے پڑھیں۔ قرآن سن کر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور انھوں نے اس کے کلام اللہ ہونے کی تصدیق کی اور حضوؐر پر ایمان لے آئے۔ جب مجلس برخاست ہوئی تو ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے ان لوگوں کو راستے میں جالیا اور انھیں سخت ملامت کی کہ ’’بڑے نامراد ہو۔ تمھارے ہم مذہب لوگوں نے تم کو اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس شخص کے حالات کی تحقیق کرکے آئو اورانھیں ٹھیک ٹھیک خبر دو‘ مگر تم ابھی اس کے پاس بیٹھے ہی تھے کہ اپنا دین چھوڑ کر اس پر ایمان لے آئے۔ تم سے زیادہ احمق گروہ تو کبھی ہماری نظر سے نہیں گزرا‘‘۔ اس پر انھوں نے جواب دیا کہ ’’سلام ہے بھائیو تم کو۔ ہم تمھارے ساتھ جہالت بازی نہیںکرسکتے۔ ہمیں ہمارے طریقے پر چلنے دو اور تم اپنے طریقے پرچلتے رہو۔ ہم اپنے آپ کو جان بوجھ کر بھلائی سے محروم نہیں رکھ سکتے‘‘۔ (سیرت ابن ہشام ‘ ج ۲‘ ص ۳۲بحوالہ تفہیم القرآن‘ ج۳‘ ص ۶۴۵)
اسی واقعے کا ذکر سورۂ قصص میں بھی آیاہے: ’’جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور جب وہ انھیں سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے‘ یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے‘ ہم اس سے پہلے بھی اسی دین اسلام پر تھے… اور جب انھوں نے بے ہودہ باتیں سنیں تو اُلجھنے سے پرہیز کیا اور بولے: ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اعمال تمھارے لیے‘ تم کو سلام ہے ہم جاہلوں کا طریقہ پسند نہیں کرتے‘‘۔ (تفہیم القرآن‘ ج ۳‘ ص ۵۳۷-۵۳۸)
یہ اللہ کے نیک اور صالح بندوں کی ایک اہم صفت ہے کہ وہ متانت‘ سنجیدگی اور معقولیت سے کام لیتے ہیں‘ اپنی بات کو نہایت شایستگی سے دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ بحث و جدال میں نہیں پڑتے۔ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ جاہلوں سے اُلجھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنے والد سے بحث و تمحیص اور الجھائو سے بچنے کی خاطر سلامٌ علیکم کہہ کر مفارقت کا ایک شائستہ طریقہ اختیار کیا تھا۔ اس لیے کہ ضدی‘ ہٹ دھرم اور جھگڑالو لوگ دلیل سے بات کرنے کے بجاے گالم گلوچ اور دشنام طرازی پر اتر آتے ہیں۔ ایسے میں عفو و درگزر سے کام لینے‘ معروف انداز میں بات کرنے اور ان سے اعراض کرنے ہی میں عافیت ہے۔ اس طرح اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ مومن کے شریفانہ طرزِعمل سے کسی موقع پر اس کا دل پسیج جائے۔ قرآن نے بھی اپنے نبی کو یہی تعلیم دی اور آپؐ نے بھی دعوت و تبلیغ اور عام گفتگو میں یہی انداز اپنایا۔ فرمایا:
اے نبیؐ! نرمی اور درگزر کا طریقہ اختیار کرو‘ معروف کی تلقین کیے جائو‘ اور جاہلوں سے نہ الجھو۔ اگرکبھی شیطان تمھیں اُکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو‘ وہ سب کچھ سننے اور جاننے والاہے۔ حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انھیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں اور پھر انھیںصاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے۔ رہے ان کے (یعنی شیاطین کے) بھائی بند‘ تو وہ انھیں کج روی میں کھینچے لیے جاتے ہیں اور انھیں بھٹکانے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے۔ (الاعراف۷: ۱۹۹-۲۰۲)
۱- اپنے خاندان میں‘ بالخصوص بچوں کے ساتھ ممکنہ حد تک زیادہ وقت گزارا جائے۔ اپنی معاشی جدوجہد و دیگر مصروفیات کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ لازماً کچھ وقت اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ گزارا جاسکے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داری ہے‘ تربیت کا تمام تر بوجھ ماں پر ڈال دینا ایک نامناسب اور غیرمعقول طریقہ ہے۔ مدرسے میں بچوں کی مصروفیات‘ دوستوں کی صحبت وغیرہ سے واقفیت کے لیے ضروری ہے کہ والدین ان کے ساتھ روزانہ کچھ نہ کچھ وقت گزاریں۔
۲- بچوں کوسخت کوشی اور محنت کا عادی بنانے کے لیے انھیں ایک درمیانے معیار کی زندگی کا عادی بنایا جائے تاکہ وہ ایک عام انسان جیسی پُرمشقت زندگی کا تجربہ حاصل کرسکیں۔
۳- اوّل تو جیب خرچ دینے سے بچا جائے اور بچوں کی ایسی ضروریات کو خود پورا کیا جائے‘ اور اگر بچوں کو جیب خرچ دیا جائے تو پھر اسے ڈسپلن کا پابندبنایا جائے۔ بچوں سے اس رقم کا حساب بھی پوچھا جائے‘ تاکہ ان میں بچپن سے ہی کفایت شعاری‘ بچت اور غیرضروری اخراجات سے پرہیز کی عادت پروان چڑھے اور جواب دہی کا احساس پیدا ہو۔ والدین کی طرف سے اپنے بچوں کو آرام پہنچانے کی خواہش بجا ہے۔ مگر ابتدا سے بغیر محنت کے آرام طلب بنانا‘ ان کے مستقبل کے ساتھ سنگین مذاق ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ان کے کپڑوں اور جوتوں پر اخراجات میں اعتدال رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ تعلیمی ادارے میں مختلف معاشی و سماجی پس منظر رکھنے والے طلبہ و طالبات ہوتے ہیں‘ اس طرح ان میں غیرمطلوب مقابلہ آرائی کو روکاجاسکتا ہے۔
۴- ابتدا ہی سے بچوں سے خودانحصاری (self reliance)یعنی اپنی مدد آپ کے اصول پر عمل کرایا جائے۔ اگر معاشی وسائل میں وسعت بھی حاصل ہو تب بھی بچوں کو اپنے کام کرنے یعنی جوتے صاف کرنے‘ کمرے کو ترتیب دینے کی عادت ڈالی جائے۔
۵- والدین کا یہ بھی فرض ہے کہ بچوں کو اپنے بزرگوں کی خدمت کی طرف متوجہ کرتے رہیں۔
۶- بچوں کی مصروفیات اور ان کے دوستوں کو جاننا ضروری ہے۔ جرائم کا ارتکاب اور نشہ آور چیزوں کا استعمال غلط صحبت کا نتیجہ ہوتاہے۔ اس لیے بچے کے دوستوں پر گہری نظر رکھنا والدین کی لازمی ذمہ داری ہے۔
۷- بچوں کے سامنے مدرسے یا اساتذہ یا دوسرے عزیزوں کی برائی نہ کی جائے۔ اگر جائز شکایت ہو تو متعلقہ ذمہ داران سے گفتگو کی جائے۔ مگر بچوں کے سامنے کبھی ان کے اساتذہ کی تحقیر نہیں ہونی چاہیے۔ والدین اپنے بچوں کے اساتذہ کی عزت کریں گے تو بچے بھی اس کا اچھا اثر قبول کریں گے۔
۸- اپنے بچوں کی غلطیوں اور جرائم کی صفائی نہیں پیش کرنی چاہیے۔ بچوں کو غلطی کا احساس دلانا اور حسب موقع تادیب انھیں اصلاح کا موقع فراہم کرے گی اور وہ عدل‘ انصاف اور اعتدال کے تقاضوں سے واقف ہوں گے۔
۹- ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے حوالے سے متوازن رویہ اپنانا ضروری ہے۔ اس کے لیے والدین کو خود اپنے آپ کونظم کا پابند بنانا ہوگا‘ تعلیمی اور معلوماتی پروگرام سے استفادہ اور‘ اچھے تفریحی پروگراموں پر بچوں سے تبادلہ خیال کے ذریعے مثبت اور منفی پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہیے۔ ٹی وی اور کمپیوٹر کو ایسی جگہ رکھنا چاہیے‘ جہاں سب آتے جاتے ہوں تاکہ لغو اور غیراخلاقی پروگرام دیکھنے کا امکان نہ رہے۔
۱۰- ٹی وی اور کمپیوٹر کتابوں کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔ اچھی کتب اور رسالے‘ بچوں کی شخصیت سازی میںغیرمعمولی کردار ادا کرتے ہیں‘ اپنے بچوں میں مطالعے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ والدین انھیں اچھی کتابیں اور رسائل فراہم کریں اور ان کے لیے ذاتی لائبریری بنائیں‘ ان کے نصاب کے مطالعے اور دیگر کتب کے مطالعے پر نظر رکھیں۔ خود بچوں کو ترغیب دیں کہ وہ اپنے جیب خرچ سے رقم پس انداز کر کے کتابیں خریدیں۔
۱۱- بچوں میں احساس ذمہ داری پیدا کیا جائے‘ تاکہ ملک و ملّت اور انسانیت کو ان کی ذات سے فائدہ ہو۔ موجودہ دور میں ہر شخص اپنے حقوق کے بارے میں بہت حساس ہے‘ مگر اپنے فرائض کی ادایگی کے بارے میں انجان بن جاتا ہے‘ اس رویے کو تعلیمی عمل کے دوران ہی تبدیل کرنا ہوگا۔
۱۲- بچوں میں عوامی املاک کی حفاظت کا احساس پیدا کرنا چاہیے۔ ملک میں پارک‘ عوامی ٹرانسپورٹ‘ راستوں اور سرکاری عمارتوں وغیرہ کا حال سب کے سامنے ہے۔ ہرکوئی اس کے نقصان پر تلا ہوا ہے۔ (پارک میں کھیلنے کا سامان چند دنوں میں ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے‘ بسوں کی سیٹیں پھاڑ دی جاتی ہیں اور اسٹریٹ لائٹس بچوں کی نشانہ بازی کی مشق کا ہدف قرار پاتی ہیں)۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ معاشرے میں قومی جایداد کا تصور بیدار نہیں ہے۔ اسلام ان املاک کے بارے میں امانت دار ہونے اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا تصور دے کر اس کی حفاظت کراتا ہے۔
۱۳- بچوں میں سماجی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا احساس پیدا کرنا چاہیے۔ اسکول کی فیس ہو‘ میونسپل ٹیکس ہو یا انکم ٹیکس‘ اس ضمن میں والدین اپنے عمل سے بچوں کے لیے نمونہ پیش کریں اور انھیں عوامی واجبات کو بروقت ادا کرنے کی تلقین کی جائے۔
۱۴- گھر میں ایک بہتر ماحول قائم کیا جائے۔ ماں باپ کو چاہیے کہ وہ بالخصوص بچوں کے سامنے غصے اور لڑائی جھگڑے سے پرہیز کریں۔ خاندان کے بڑوں میں باہم میل جول‘ ایک دوسرے کی قدر و منزلت اور احترام بچوں پر خوش گوار اثر ڈالتا ہے۔
۱۵- قول و فعل میں تضاد سے پرہیز لازم ہے‘ بچے اپنے بڑوں کے اعمال سے غیرمحسوس طریقے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ ماں باپ اوردیگر بڑوں کا طرزِعمل بچوں کی شخصیت کو بناتا ہے۔ والدین کو سچائی‘ امانت داری وغیرہ کے حوالے سے معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا‘ اور بظاہر نقصان ہی ہوتا نظر آرہا ہو‘ اپنے عمل کو درست رکھنا چاہیے۔
۱۶- والدین عموماً اپنے بچوں سے اُونچی توقعات وابستہ کرتے ہیں۔ مگر جب وہ اس معیار پر پورے نہیں اُترتے تو والدین مایوس ہوجاتے ہیں اور بچوں سے ناراض ہوکر جھنجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہیں۔ اس طرح والدین اور بچے دونوں احساسِ کمتری اور چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ نامناسب رویہ ہے۔ بچوں کو ملنے والی کامیابی پر انھیں حوصلہ دینا اور مناسب انعام سے نوازنا چاہیے۔ بچوں سے توقعات وابستہ کرتے وقت ان کی صلاحیت‘ دل چسپی اور کمزوریوں کو بھی دھیان میں رکھنا چاہیے۔ والدین کو اپنی خواہشات بچوں پر تھوپنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
۱۷- ناکامی کو کامیابی کا زینہ بنانے کی تربیت دینی چاہیے۔ زندگی میں ہر فرد کو کسی نہ کسی بحران سے مقابلہ درپیش رہتا ہے اس لیے نامطلوب حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے بچوں کی ذہن سازی ضروری ہے۔ انھیں مسائل سے فرارکے بجاے ان سے نبردآزما ہونے کی تربیت دینی چاہیے۔ عزم محکم‘ عمل پیہم اور سخت محنت کامیابی کی شرائط ہیں۔ مشکلات کی صورت میں حسب موقع بچوں سے مشاورت بھی ان کی تربیت اور ان میں خوداعتمادی پیدا کرنے میں معاون ہوتی ہے۔
۱۸- بچوں کو اپنی زندگی کے مقصد کا شعور دیا جائے۔ مقصد زندگی کا واضح تصور انھیں دنیا میں اپنا مقام متعین کرنے میں مدد دے گا۔ مستقبل کے لیے بلند عزائم اور ان عزائم کی تکمیل کے لیے بچوں میں شوق‘ محنت اور جستجو کے جذبات پیدا کرنے میں والدین کاکردار نہایت اہم ہوتا ہے۔
۱۹- بچوں کی تعلیم و تربیت میں والدین تدریج سے کام لیں‘ ان کی اصلاح سے مایوس نہ ہوں۔
۲۰- بچوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے واقف کرانا اور اسوۂ رسولؐ کی پیروی کو جزوایمان بنانا‘ اسی طرح سلف صالحین کی زندگیاں مشعل راہ کے طور پر بچوں کے سامنے لانا ضروری ہے۔
۲۱- گھر میں مطالعے کا وقت متعین کرکے‘ والدین اپنی نگرانی میں تعلیمی ادارے کا کام کرواتے ہوئے بچوں کی ترقی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
۲۲- وقت کی تنظیم اور قدر والدین خود بھی کریں اور بچوں کو ابتدا سے ہی وقت کے صحیح استعمال کی عادت ڈالیں۔ وقت کا ضیاع ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اس قیمتی دولت کا بہترین استعمال کامیابی کی کلید ہے۔
۲۳- تعلیم و تربیت پر خرچ مستقبل کی سرمایہ کاری ہے۔ موجودہ دور کے نہایت مہنگے تعلیمی اخراجات کے پیش نظر مناسب ہوگا کہ ہرخاندان اپنی ماہانہ آمدنی کا ایک مقررہ حصہ اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت پر خرچ کرے۔ اگر بچے چھوٹی جماعتوں میں ہوں تو اس بچی ہوئی رقم کو پس انداز کرکے آیندہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
تزکیہ کے لفظ کی بنیاد ’زک ۃ‘ ہیں۔اسی سے لفظ زکوٰۃ بھی ہے جس کے معنی پاک صاف کرنا‘ نشوونما دینا‘ پروان چڑھانا ہیں۔ یہ لفظ چونکہ قرآن پاک میں متعدد مرتبہ مختلف صورتوں میں وارد ہوا ہے۔ چنانچہ اس کا مفہوم ہمہ گیر اور اس کے میدان وسیع ہیں۔ کسی ایک چیز کا تزکیہ مقصود نہیں بلکہ انسانی نفس‘ افراد کا باہمی تعلق‘ خاندان کی تنظیم‘ معاشرہ‘ حیثیت‘ سماج کے رسم ورواج‘ حکومت‘سیاست‘ علوم و فنون غرض عنوانات کی ایک کہکشاں ہے جو دُور تک پھیلی ہوئی ہے اور ان سب کا تزکیہ مقصود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ لفظ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر مطلقاً وارد ہوا ہے۔ چنانچہ فرمایا: قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی (الاعلٰی ۸۷:۱۴)، کامیاب ہوا وہ جس نے تزکیہ کیا۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد بعثت بیان فرمائے تو چار جگہ وَیُزَکِّیْھِمْ فرمایا‘ یعنی پیغمبر انھیں پاک کرتاہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں ذیل کی سطور میں تزکیہ کے مختلف میدانوں کی نشاندہی کی جائے گی۔
وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا o فَاَلْہَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا o قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا o وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا o (الشمس۹۱:۷-۹)
اور نفس انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے ہموار کیا‘ پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیزگاری اُس پر الہام کر دی‘ یقینا فلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔
نفس کیا ہے۔ کیا یہ انسانی جسم کا نام ہے یا اندرونی خواہشات کو نفس سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں یہ لفظ جسمِ انسانی کے لیے بھی استعمال ہواہے‘ خواہشاتِ نفس کے لیے بھی اور ضمیر کو بھی نفسِ لوامہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ ط قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ (بنی اسرائیل ۱۷:۸۵)
اے نبی! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ آپؐ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ آپؐ کہہ دیجیے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔
لہٰذا روح کثافت اور بُرائی سے پاک ہے۔ البتہ یہ جس جسم میں ہو اُس کی کثافت اور برائی اس پر ضرور اثرانداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موت کے وقت جب یہ روح کسی گناہ گار بندے کے جسم سے علیحدہ ہوتی ہے تو اُسے لعنت ملامت کرتے ہوئے جاتی ہے کہ اُس کی وجہ سے اسے اذیت اٹھانا پڑی۔
دوسری طرف جسم تین چیزوں سے عبارت ہے: عقل‘ قلب‘ جوارح۔
عقلِ انسانی فکر کا مسکن ہے۔ یہ سوچ سمجھ‘ غوروفکر اور تدبر کا ذریعہ ہے۔ یہی انسانیت کے لیے وجہ شرف ہے۔ عقل ہی سے انسان مختلف نظریات کو پرکھتا ہے۔ یہیں عقائد و نظریات رہتے ہیں۔ اسی کے ذریعے انسان خیروشر‘ نیک و بد‘ اندھیرے اور اُجالے میں فرق کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ چنانچہ سب سے پہلے اسی عقل کا تزکیہ ضروری ہے۔ اسی کو سید مودودیؒ نے تطہیرِافکار کا نام دیا ہے۔ یہ دراصل تطہیرِعقل ہے۔
ہر دور میں شیطان سب سے پہلے انسانی عقل پر حملہ آور ہوا ہے‘ بلکہ شیطان خود سب سے پہلے اسی عقل کے فریب میں مبتلا ہوکر مردود ٹھیر چکا ہے (جب اُس نے کہا تھا کہ میں آدم سے بہتر ہوں کیونکہ مجھے آگ سے پیدا کیا گیا ہے)۔ شیطان مسلّمہ عقائد کو مشکوک بنانے کے لیے وسوسہ اندازی کرتا ہے (یہی وجہ ہے کہ اُس کے وساوس سے پناہ مانگتے رہنے کی تلقین کی گئی ہے)۔ آج پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک‘ مشنری ادارے ہوں یا مغربی پروردہ این جی اوز‘ یہ سب مسلمانوں کی فکر کو پراگندا کرنے کے لیے برسرِپیکار ہیں۔
تزکیۂ عقل کا پہلا مرحلہ اُن غیر اسلامی افکار اور نظریات کی تشخیص ہے جو عقل میں جڑپکڑ چکے ہیں یا جن کو شیطان اپنے آلہ کاروں کے ذریعے پوری قوت سے پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے اور پھر دلائل و براہین کی بنیاد پر صالح عقائد کو اس فکر میں بٹھانا‘ تزکیہ کا دوسرا مرحلہ ہے۔ ان دونوں مراحل کے لیے قرآن پاک سے زندہ تعلق‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور آپؐ کی پاکیزہ سنت اور سیرت سے اٹوٹ رابطہ اور ان دونوں مآخذ کی بنیاد پر وجود میںآنے والے لٹریچر سے تعلق بہت ضروری ہے۔ اور صرف یہی نہیں کہ صرف ایک بار چند چیزوں کامطالعہ کرنے سے بات بن جائے بلکہ جب تک جسم اور سانس کا رشتہ استوار و برقرار رہے۔ یہ مطالعہ برابرجاری رہے تو توقع ہے کہ کسی نہ کسی درجے میں تزکیۂ عقل کی منزل ہاتھ آجائے۔
قلب جذبات کا مرکز ہے۔ اس کے اندر محبت‘ خوف‘ رجا‘ رشک‘ بُغض اور نفرت جیسے جذبات جنم لیتے رہتے ہیں۔ تزکیۂ قلب یہ ہے کہ انسان دل میں پنپنے والے جذبات کا مسلسل جائزہ لیتا رہے۔ محبت کا جائزہ لے کہ دل میں محبت کی کیفیت کیاہے۔ کیا اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت غالب ہے یا دنیا کی؟قرآن پاک میں ارشاد باری ہے:
قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْھَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ ط (التوبہ ۹:۲۴)
اے نبی! (صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ‘ اور تمھارے بیٹے‘ اور تمھارے بھائی‘ اور تمھاری بیویاں‘ اور تمھارے عزیز واقارب‘ اور تمھارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں‘ اور تمھارے وہ کاروبار‘ جن کے ماند پڑجانے کاتم کو خوف ہے‘ اور تمھارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں‘ تم کو اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اور اُس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمھارے سامنے لے آئے۔
یہی معاملہ خوف کا ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں صراحت کے ساتھ اس کا ذکر ہے۔ فرمایا: فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ (التوبہ ۹:۱۳)’’تو اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو‘‘۔ دل میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا خوف اہلِ علم کی نشانی اور دانائی کی دلیل ہے۔ فرمایا: اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ط (فاطر ۳۵:۲۸) ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں‘‘۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: راس الحکمۃ مخافۃ اللّٰہ ، ’’دانائی کا بلند ترین مقام اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا خوف ہے‘‘۔ لہٰذا بندہ مومن کے دل میں جہاں اللہ کا خوف ہوگا وہیں اُس کا دل مخلوقات کے خوف سے خالی ہوگا کیونکہ یہ دونوں خوف ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔ ایسا ہی حال قلب کے اندر جاگزیں دیگر جذبات کا بھی ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے:
جس نے محض اللہ کی خاطر محبت کی اور اللہ ہی کی خاطر (کسی سے) نفرت کی‘ اللہ ہی کے لیے (کسی کو) کچھ دیا اور اللہ ہی کی خاطر (کسی سے) کچھ روکا‘ تو اُس کا ایمان مکمل ہوگیا۔
جسم کی ظاہری حالت‘ ہاتھ اور پائوں‘ آنکھیں اور کان اور زبان بھی مسئول ہیں۔ اِن سے صادر شدہ اعمال کی بابت سوال کیا جائے گا بلکہ قیامت کے دن جب منہ پر مہر لگا دی جائے گی تو یہ اعضا خود اپنے جسم کے خلاف گواہی دیں گے۔ چنانچہ جوارح کا تزکیہ بھی ضروری بلکہ ناگزیر ہے۔ زبان کا تزکیہ یہ ہے کہ اس سے خلافِ حق بات نہ نکلے۔ کوئی جھوٹ‘ جھوٹی گواہی‘ بہتان‘ غیبت یا فساد کی بات برآمد نہ ہو۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہے تو یہی زبان جہنم میں لے جانے کا باعث بنے گی۔ یہی حال آنکھوں اور کانوں کا ہے۔ اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت سے باخبر ہے بلکہ یہ آنکھیں خود اس خیانت پر شاہد ہیں۔ کان جو کچھ سنتے ہیں اُس کی گواہی دیں گے۔ قرآن پاک میں دو مرتبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی محافل میں بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے جس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی آیات کا مذاق اُڑایا جاتا ہو‘ یعنی ایسی بات کا سننا بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو گوارا نہیں۔
تزکیہ کا دوسرا اہم میدان گھر اُس کا ماحول اور اُس کے مکین ہیں۔ انسان اپنے اردگرد کے ماحول سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ ماحول ہی انسان کے بنائو اور بگاڑ میں کلیدی کردارادا کرتا ہے۔ چنانچہ گھر کے ماحول کو درست رکھنا گھر کے سربراہ کی ذمہ داری ہے۔ گھر کے افراد کی تعلیم و تربیت‘ بچوں اور بڑوں میں قرآن فہمی کے لیے رغبت و مسابقت‘ نمازوں کی حفاظت‘ حلال و حرام کے حوالے سے گھر کے مکینوں پر خصوصی توجہ‘ ٹیلی ویژن‘ اخبارات‘ رسائل اور دیگر اشاعتی مواد کی مسلسل نگرانی۔ اِن سب چیزوں سے گھر کا ماحول بنتا ہے۔ بچہ اپنے گھر سے ہی سادگی‘ قناعت اور توکل کے اسباق سیکھتا ہے اور یہیں سے تعیّش و آسایش کا خوگر بنتاہے۔
قرآن پاک نے بہت شروع میں آپؐ کو یہ تاکید کی: وَاَنْذِر عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ (الشعراء ۲۶:۲۱۴) اور اے نبی! (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو (قیامت سے) ڈرائو۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اُس سے اُس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘۔
گھر میں بتائے جانے والے رسم و رواج‘ نشست و برخاست کے معمولات‘ لباس کا انتخاب (خصوصاً والدین کے لیے) آمدن کے ذرائع‘ خرچ کی مدّات‘ آپس کے تعلقات‘ والدین کے حقوق‘ صلۂ رحمی‘ اولاد کی تربیت‘خواتین سے سلوک‘ غرض گھر کی دنیا ایک بحرِ ناپیداکنار ہے اور ہر پہلو سے اس ماحول اور اس کے مکینوں کا تزکیہ شریعت کا عین تقاضا ہے۔
معاشرے کا تزکیہ
گھر معاشرے کا ایک یونٹ ہے۔ معاشرے کے اندر تزکیے کا عمل ہمہ جہت بھی ہے اور ہمہ وقتی اور پیہم جدوجہد کا متقاضی بھی۔ معاشرے میں نیکی پھلے اور برائی کی جڑ کٹ جائے۔ معیشت تمام مفاسد سے پاک کر دی جائے اور معاشرت کو جو عوارض لاحق ہیں اُن کا علاج کر دیا جائے اور سیاست کو تزکیے کے عمل سے گزار کر مجلّٰی و مصفّٰی کر دیاجائے تو وہ معاشرہ وجود میں آتا ہے جسے قرنِ اوّل کے مثالی اسلامی معاشرے سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے۔
تزکیہ کا دشمن
اس ضمن میں ایک بات یاد رکھنی چاہیے اور وہ یہ کہ تزکیہ کے اس سارے عمل کا دشمن شیطان ہے جو یہ قسم کھائے بیٹھا ہے کہ وہ انسانوں کو ضرور گمراہ کرے گا اور اس دنیا اور آخرت میں اُنھیں رسوا کرے گا۔ چنانچہ جب تزکیے کا عمل فرد تک محدود ہو تو شیطان بھی انفرادی طور پر حملہ آور رہتا ہے۔ لیکن جب یہ عمل معاشرے تک پھیل جائے اور کچھ لوگ مل کر یہ کام کرنا شروع کر دیں تو شیطان بھی اُن کے مقابل میں جمعیت فراہم کرنا شروع کر دیتا ہے۔ افراد کے مقابلے میں افراد لاتا ہے۔ وسائل کے مقابلے میں وسائل پیش کرتا ہے۔ قوت کے مقابلے میں قوت سے کام لیتا ہے اور پوری کوشش کرتا ہے کہ حق غالب ہونے نہ پائے‘ معاشرے کا تزکیہ نہ ہوسکے۔ چنانچہ اس مقابلے میں اہل ایمان اُسی وقت کامیاب ٹھیرسکتے ہیں جب کہ وہ اس مشن کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیں‘ منظم ہوں اور جو کچھ اُنھیں میسر آئے اس راہ میں لگا دیں پھر اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ شیطان کی تدبیروں کو اُلٹ دے گا اور اُس کے وسائل اُس کے کچھ کام نہ آسکیں گے۔
تزکیہ کے ذرائع
تزکیے کے اس ہمہ جہت پروگرام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے جو ذرائع و وسائل بتائے گئے ہیں وہ بھی بہت ہی عظیم الشان ہیں۔ فرمایا:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی o وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی o بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا o وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی o (الاعلٰی۸۷:۱۴-۱۷)
فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اوراپنے رب کا نام یاد کیا‘ پھر نماز پڑھی۔ مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو‘ حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔
ان آیات میں چار چیزوں کی نشان دہی فرمائی گئی۔ ان میں سے دو یعنی ذکر اورنماز تو وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے یہ منزل حاصل کی جا سکتی ہے‘ جب کہ بقیہ دو میں سے ایک یعنی حقیقی کامیابی کا تصور اُجاگر کیا اوردوسرے تزکیے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یعنی دنیا پرستی کا ذکر کیا گیا۔ ذیل میں اِن تمام امور پر غور کیا جائے گا۔
ذکـر
ذکر کے معنی یاد کرنے کے بھی‘یاد رکھنے کے بھی اور نصیحت اور یاد دہانی کو بھی ذکر کہتے ہیں۔ اسی نسبت سے آپؐ کو مُذَکِّر کہا گیا۔ فرمایا: جس نے رب کے نام کو یاد رکھا‘ یعنی جس نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اسماے حسنیٰ کی معرفت حاصل کی وہ تزکیہ کی اِس منزل کو حاصل کرلے گا۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ اِنھی اسماے حسنیٰ کا ذکر موجود ہے۔ جب بندہ یہ علم حاصل کرتا ہے کہ اُس کا رب رحمن ہے‘ رحیم ہے‘ کریم ہے‘ رؤف ہے‘ ودود ہے اور اِن ناموں سے اُس کی رحمت‘ شفقت‘ محبت اور کرم کا اظہار ہوتا ہے‘ تو اُس کے دل میں رب کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ یہ صفاتِ جلیلہ بندے کے دل میں رب کی طرف رجوع‘ اُس کی رحمت کی آس‘ رجا اور اُمید کی کیفیت پیدا کردیتی ہیں۔ جب بندے کو علم ہوتا ہے کہ وہ رب عزیز ہے‘ شدید العقاب ہے‘ جبار و قہار ہے‘ مقتدر اور بادشاہِ حقیقی ہے تو اُس کے دل میں رب کا خوف اور اُس کے حضور جواب دہی کا احساس پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
بندہ جب سنتا ہے کہ اُس کا رب سمیع و بصیر ہے‘ علیم و خبیرہے تو وہ محتاط ہوجاتا ہے۔ اپنے اعمال کی برابر نگرانی شروع کر دیتا ہے۔ جب اُسے معلوم ہوتا ہے کہ اُس کا رب رزّاق ہے‘ تورزق کے سلسلے میں اُس کی نگاہ مخلوقات سے ہٹ کر اُسی فاعلِ حقیقی پر جم جاتی ہیں۔ حاصل یہ کہ رب کے یہ نام رب تک پہنچنے کا بہترین ذریعہ ہیں اور تزکیے کے عمل کے لیے اکسیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
نماز
ذکر کی مکمل ترین شکل نماز ہے۔ بندہ عملی طور پر کبھی ہاتھ باندھ کر‘ کبھی رکوع کی حالت میں اور کبھی سجدے میں سرجھکا کر بندگی کا اظہار کرتا ہے۔ اسماے حسنیٰ کا ورد کرکے رب کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ دُعا و مناجات کر کے رب سے تعلق اُستوار کرتا ہے۔ چنانچہ تزکیہ کے عمل کو برابر جاری رکھنے اور اس میں ہر دم اضافے کے لیے نماز سے بہتر اور کارگر نسخہ کوئی اور نہیں۔
نماز ہی کے عمل میں دو اور اشارے بھی پوشیدہ ہیں۔ ایک یہ کہ نماز مسلمان پر ساری زندگی فرض ہے۔ سواے جنون اور بے ہوشی کے یہ فرض کبھی ساقط نہیں ہوتا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تزکیے کا عمل بھی موت کی آخری ہچکی تک جاری رہنا چاہیے۔ دوسرا اشارہ یہ کہ نماز کی اصل روح اس کی اجتماعی شان ہے۔ نماز باجماعت‘ امام کی اطاعت اور بے مثال تنظیم یہ پیغام ہے کہ معاشرے میں تزکیے کا عمل کرنے کے لیے جس بے مثال اجتماعیت‘ مثالی تنظیم اور فداکاری کی ضرورت ہے۔ اُس کی نظیر نماز میں تمھارے لیے موجود ہے۔
قرآن پاک کا ارشاد ہے:
اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَـنْھٰی عَـنِ الْفَحْشَـآئِ وَالْمُنْکَـرِ ط وَلَذِکْـرُ اللّٰہِ اَکْـــبَرُ ط (العنکبوت ۲۹:۴۵)
یقینا نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کو قلعہ سے تشبیہہ دی ہے جس میں انسان دشمن سے پناہ لیتا ہے۔ چنانچہ شیطان کے حملوں سے بچائو کے لیے ذکر اور نماز بہترین ہتھیار ہیں۔
تزکیے کا نبویؐ اسلوب
’’اب دیکھیے کہ اس مقصد کی تکمیل کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کس ترتیب و تدریج کے ساتھ کام کیا: ’’سب سے پہلے آپ نے ایمان کی دعوت دی اور اس کو وسیع ترین بنیادوں پر پختہ و مستحکم فرمایا۔ پھر اس ایمان کے مقتضیات کے مطابق بتدریج اپنی تعلیم و تربیت کے ذریعے سے اہلِ ایمان میں عملی اطاعت و فرماں برداری (یعنی اسلام)‘ اخلاقی طہارت (یعنی تقویٰ) اور خدا کی گہری محبت و وفاداری (یعنی احسان) کے اوصاف پیدا کیے۔ پھر ان مخلص مومنوں کی منظم سعی و جہد سے قدیم جاہلیت کے فاسد نظام کو ہٹانا اور اس کی جگہ قانونِ خداوندی کے اخلاقی و تمدنی اصولوں پر ایک نظامِ صالح قائم کرنا شروع کردیا۔ اس طرح جب یہ لوگ اپنے دل و دماغ‘ نفس وا خلاق‘ افکار و اعمال‘ جملہ حیثیات سے واقعی مسلم‘ متقی اور محسن بن گئے اور اس کام میں لگ گئے جو اللہ تعالیٰ کے وفاداروں کو کرنا چاہیے تھا‘ تب آپ نے ان کو بتانا شروع کیا کہ وضع قطع‘ لباس‘ کھانے پینے‘ رہنے سہنے‘ اٹھنے بیٹھنے اور دوسرے ظاہری برتائو میں وہ مہذب آداب و اطوار کون سے ہیں جو متقیوں کو زیب دیتے ہیں۔ گویا پہلے مِسِ خام کو کندن بنایا پھر اس پر اشرفی کا ٹھپہ لگایا۔ پہلے سپاہی تیار کیے پھر انھیں وردی پہنائی۔ یہی اس کام کی صحیح ترتیب ہے جو قرآن و حدیث کے غائر مطالعے سے صاف نظر آتی ہے۔ اگر اتباعِ سنت نام ہے اس طرزِعمل کا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی مرضی پوری کرنے کے لیے ہدایت ِالٰہی کے تحت اختیار کیا تھا‘ تو یقینا یہ سنت کی پیروی نہیں بلکہ اس کی خلاف ورزی ہے کہ حقیقی مومن‘ مسلم‘ متقی اور محسن بنائے بغیر لوگوں کو متقیوں کے ظاہری سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے اور محسنین کے سے چند مشہور ومقبول عام افعال کی نقل اتروائی جائے۔ یہ سیسے اور تانبے کے ٹکڑوں پر اشرفی کا ٹھپہ لگا کر بازار میں ان کو چلا دینا‘ اور سپاہیت‘ وفاداری اور جاں نثاری پیدا کیے بغیر نرے وردی پوش نمایشی سپاہیوں کو میدان میں لاکھڑا کرنا‘ میرے نزدیک تو ایک کھلی ہوئی جعل سازی ہے‘ اور اسی جعل سازی کا نتیجہ ہے کہ نہ بازار میں آپ کی ان جعلی اشرفیوں کی کوئی قیمت اٹھتی ہے اور نہ میدان میں آپ کے ان نمایشی سپاہیوں کی بھیڑ سے کوئی معرکہ سر ہوتا ہے…
میری اس گزارش کو یہ معنی نہ پہنایئے کہ میں ظاہری محاسن کی نفی کرنا چاہتا ہوں‘ یا ان احکام کی تعمیل کو غیرضروری قرار دے رہا ہوں جو زندگی کے ظاہری پہلوئوں کی اصلاح و درستی کے متعلق دیے گئے ہیں۔ درحقیقت میں تو اس کا قائل ہوں کہ بندۂ مومن کو ہر اس حکم کی تعمیل کرنی چاہیے جو خدا اور رسولؐ نے دیا ہو‘ اور یہ بھی مانتا ہوں کہ دین انسان کے باطن اور ظاہر دونوں کو درست کرنا چاہتا ہے لیکن جو چیز میں آپ کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مقدم چیز باطن ہے نہ کہ ظاہر۔ پہلے باطن میں حقیقت کا جوہر پیدا کرنے کی فکر کیجیے‘ پھر ظاہر کو حقیقت کے مطابق ڈھالیے۔ آپ کو سب سے بڑھ کر اور سب سے پہلے ان اوصاف کی طرف توجہ کرنی چاہیے جو اللہ کے ہاں اصلی قدر کے مستحق ہیں اور جنھیں نشوونما دینا انبیا علیہم السلام کی بعثت کا اصلی مقصود تھا۔ ظاہر کی آراستگی اوّل تو ان اوصاف کے نتیجے میں فطرتاً خود ہی ہوتی چلی جائے گی اور اگر اس میں کچھ کسر رہ جائے تو تکمیلی مراحل میں اس کا اہتمام بھی کیا جا سکتا ہے‘‘۔ (روداد جماعت اسلامی‘ سوم‘ ص ۲۵۴-۲۵۵)
تزکیے کی راہ میں بڑی رکاوٹ
تزکیہ چاہے نفس کا ہو‘ یعنی عقل و قلب کا یا جوارح کا‘ یا یہ تزکیہ خاندان‘ گھر‘ معاشرے‘ معیشت یا سیاست کا ہو‘ ہر محاذ پر اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہی ہے جس کا قرآن نے جابجا ذکر کیا ہے۔ اسی سورۂ اعلیٰ میں فرمایا:
بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا o (الاعلٰی ۸۷:۱۶)
مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔
ایک اور جگہ فرمایا:
کَلاَّ بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ o وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ o (القیامہ ۷۵:۲۰-۲۱)
ہرگز نہیں‘ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (دنیا) سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔
یہ انسان کا عمومی رویہ ہے جس کی نشان دہی کی گئی ہے۔ انسان جلدباز‘ ظاہربین ہے‘ دنیا کے نفع کا طالب اور اسی سے خوش ہونے والا ہے‘ جب کہ آخرت کا معاملہ آنکھوں سے اوجھل ہے۔ صلہ نقد کے بجاے اُدھار ہے (یہ اور بات ہے کہ آخرت کا صلہ بجاے خود بہتر اور دینے والا سب سے زیادہ بااعتماد اور سچا ہے)۔
اسی لیے انسان اِس طرف زیادہ راغب نہیں ہوتا۔ اس لحاظ سے اگر قرآن پاک کا مطالعہ کیا جائے تو کم از کم ایک تہائی قرآن آخرت کے ذکر پر مشتمل ہے۔ گویا جب تک یہ عقیدہ بندۂ مومن کے قلب و ذہن میں اچھی طرح راسخ نہیں ہوتا اس کے لیے دین کی راہ پر ایک قدم بھی چلنا دشوار ہے اور دین کا کوئی ایک مطالبہ بھی پورا کرنا اس کے لیے مشکل ہے۔ اسی حقیقت کی طرف قرآن پاک میں یوں اشارہ کیا گیا:
وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط وَاِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلاَّ عَلَی الْخٰشِعِیْنَ o الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ وَاَنَّھُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَo (البقرہ ۲:۴۵-۴۶)
صبر اور نماز سے مدد لو‘ بے شک نماز ایک سخت مشکل کام ہے‘ مگر اُن فرماں بردار بندوں کے لیے مشکل نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ آخرکار انھیں اپنے رب سے ملنا اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات دین دار افراد بھی فکرِآخرت کا تصور پختہ نہ ہونے کی وجہ سے دنیاپرستی کا شکار ہوجاتے ہیں اور اپنے نیک اعمال دنیا کے سستے بھائو بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات نیک اعمال صرف اسی غرض سے کیے جاتے ہیں کہ اُن کے ذریعے ذرا سا دنیاوی فائدہ مل سکے۔ کسی کو چند روپے خیرات دے کر مقصد میںکامیاب ہونے کی دُعا کرائی جاتی ہے۔ کہیں قرآن پڑھ کر مقدمہ میں کامیابی کی تمنا کی جاتی ہے حالانکہ مومن نیک اعمال آخرت میں ثواب کے حصول اور رب کی رضا اور خوشنودی کی نیت سے کرتا ہے۔ ہاں البتہ اس دنیا میں پیش آنے والے مسائل و مشکلات پر اُس سے رجوع کرتا ہے۔ اُسی سے مدد طلب کرتا ہے اور سخت وقت میں صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
شیطان بار بار انسان کو دنیا کے فریب میں اُلجھانے کی کوشش کرتا ہے اسی وجہ سے مشرکینِ مکہ سب سے زیادہ اعتراض موت کے بعد زندگی اور آخرت کے دیگر مراحل پر کیا کرتے تھے۔ طرح طرح کی کٹ حجتیاں کرتے‘ کج بحثیاں کرتے‘ ٹھٹھہ اور مذاق کرتے کہ جو ہڈیاں بوسیدہ ہوکر چورہ چورہ ہوجائیں گی اُنھیں کیسے دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اُتنے ہی زور سے بار بار قرآن انسان کو آفاق و انفس سے دلائل دے کر یہ بات باور کراتا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی عارضی ہے۔ سب انسانوں کوکیا ‘جان داروں کو مرنا ہے۔ پھر وہ جنات اور انسانوں کو دوبارہ اٹھائے گا اور اُن سے اُن کے اعمال کا حساب لے گا۔
فلاح کا تصور
تزکیے کا یہ عمل مسلسل جاری نہیں رہ سکتا جب تک انسان کی نظر میں کامیابی اور فلاح کا تصور درست نہ ہو۔ ہر شخص اپنے ذہن میں کامیابی کا کوئی نہ کوئی تصور ضرور رکھتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ تصور محدود اور مبہم ہو یا واضح اور مکمل۔ کسی کی نگاہ میں دو وقت کی روٹی کا حصول بڑی کامیابی ہے۔ کسی کی نظر میں وزارت اور صدارت معیار ہے اور کسی کے ہاں ڈگریاں اور تعلیمی اسناد وہ حد ہے جہاں تک پہنچنا کامیابی ہے۔ جب ہم یہ سوال لے کر قرآن وسنت کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہاں کامیابی اور ناکامی کا ایک الگ مگر واضح تصور موجود ہے۔ ہر مومن کے دل و دماغ میں یہ تصور جب تک راسخ نہ ہوگا تزکیے کی منزل ہاتھ آنا مشکل ہے۔
ایک طرف تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ دنیا کی حقیقت کھول کر بیان فرما دی‘ فرمایا:لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَادِ o مَتَاعٌ قَلِیْلٌ قف ثُمَّ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِھَادُ o (اٰل عمرٰن ۳:۱۹۶-۱۹۷) ’’اے نبی! (صلی اللہ علیہ وسلم) دنیا کے ملکوں میں خدا کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمھیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے۔ یہ محض چند روزہ زندگی کا تھوڑا سا لطف ہے‘ پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جاے قرار ہے‘‘۔ اور دوسری طرف فرمایا: فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ط (اٰل عمرٰن۳:۱۸۵) ’’کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاںآتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے‘‘۔ چنانچہ اس کامیابی کے تصور میں ایک جہدِمسلسل بھی ہے‘ لگن اور چاہت بھی ہے اور اچھا انجام بھی۔ یہی وہ کامیابی ہے جس کے لیے انسان کو اپنے جان اور مال کی بازی لگادینی چاہیے۔
_____________
قطع رحمی ایک ایسی بیماری ہے جو سرطان کی طرح انسانی معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے اور بہت سے باعمل لوگ بھی اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اُمت مسلمہ آج جن مسائل سے دوچار ہے اس میں قطع رحمی کا بھی بڑا کردار ہے۔
۱- کاٹنا اور الگ کرنا۔ کہا جاتا ہے کہ: قَطَعَ التَّسِیَٔ قطعاً ‘یعنی چیز کے ایک حصے کو کاٹا اور اس کو الگ کیا۔ قَطَعَ الثَّّمَرَ ‘یعنی پھل کے ٹکڑے کر دیے۔
۲- چھوڑنا اور لاتعلق ہونا۔ کہتے ہیں: قَطَعَ الصِّدْقَ ، یعنی سچ بولنا چھوڑ دیا اور اس سے لاتعلق ہوگیا۔ قَطَعَ رَحِمَہٗ ، یعنی اس سے لاتعلق ہوگیا اور اسے جوڑا نہیں۔(المعجم الوسیط‘ ۲: ۷۴۵-۷۴۶۔ الصحاح فی اللغۃ والعلوم‘ ص ۹۳۵)
ان دونوں معانی کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ قطع تعلق بھی کاٹنے اور الگ ہونے کی صورت میں لاتعلقی اور ترک ہی ہوتا ہے۔
۱- بچے کی تخلیق کی جگہ ۲- وہ رشتہ دار جو عصبہ اور ذوی الفروض کے علاوہ ہوں جیسے بھتیجیاں اور چچازاد بہنیں (المعجم الوسیط‘۱:۳۳۵۔ الصحاح فی اللغۃ والعلوم‘ ص۳۷۳) ۳-مطلق رشتہ داری‘ خواہ ان کے ساتھ نکاح جائز ہو یا ناجائز۔
یہ تیسری تعریف زیادہ مناسب ہے کیونکہ یہی اسلام کی روح سے مطابقت رکھتی ہے‘ جو اتحادو اتفاق کا داعی ہے۔
اصطلاحِ شرع میں قطع رحمی سے مراد رشتہ داروں سے بھلائی اور احسان کو ترک کرنا‘ اُن کی ضروریات پوری نہ کرنا اور بعض اوقات ہاتھ یا زبان یا پھر دونوں سے اُن کو ایذا پہنچانے کو قطع رحمی کہا جاتا ہے۔
۱- زبان سے تکلیف دینا۔ غیبت کے ذریعے‘ چغلی کے ذریعے‘ ان کے خلاف افواہیں پھیلاکر‘ مختلف رشتہ داروں کے درمیان تعلقات خراب کرکے‘ گالی یا بددعا دے کر اُن کی برائی کرکے‘ غلط ناموں سے پکار کر اور اس طرح کی اور بے شمار ایذائیں۔
۲- ہاتھ سے تکلیف دینا‘ جیسے مارنا پیٹنا اور معاملاتِ زندگی میں تعاون نہ کرنا۔
۳- ذوی الارحام کی تکلیف اور مصیبت میں اُن کا زبانی اور عملی طور پر مددگار نہ بننا۔
۴- ذوی الارحام کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف نہ کرنا۔
۵- ان کے ساتھ بھلائی کرنے سے گریز کرنا‘ خواہ وہ تنگی میں اُن کے حال احوال پوچھنے اور دادرسی کرنے کی صورت میں ہو‘ یا خوشی کے موقع پر مبارک باد دینا ہو‘ اُن کی خبرگیری کے لیے اُن کے گھروں میں آمدورفت اور اُن کی خوبیوں کا اظہار کرنے کی صورت میں یا چہرے پر مسکراہٹ پیدا کرنے‘ یا مجلس میں جگہ دینے کی صورتوں میں ہو۔
ایک اور حدیث میں ارشاد ہے: اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی خَلَقَ الْخَلْقَ ، حَتّٰی اِذَا فَرَغَ مِنْھُمْ قَامَتِ الرَّحِمُ ، فَقَالَتْ : ھَذَا مَقَامُ العَائِذِ بِکَ مِنَ القَطِیْعَۃِ ، اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات کو پیدا کیا‘ جب اس سے فارغ ہوا تو رشتہ داری اٹھ کر کہنے لگی: یہ اُن لوگوں کا مقام ہے جو قطع رحمی سے تیری پناہ مانگتے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نَعَمْ! الَاتَرْضِیْنَ اَنْ اَصِلَ مَنْ وَصَلَکَ وَاَقْطَعَ مَنْ قَطَعَکَ‘ جی ہاں! کیا تو نہیں چاہتی کہ جو لوگ تمھیں جوڑتے ہیں میں اُن سے تعلق جوڑ دوں اور جو لوگ تجھے کاٹتے ہیں میں اُن سے اپنا تعلق کاٹ دوں؟ وہ کہنے لگی: کیوں نہیں (میں تویہی چاہتی ہوں)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پس تیرے ساتھ اس کا وعدہ ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو یہ آیت پڑھا کرو۔ فَھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَکُمْ o اُوَلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّھُمْ وَاَعْمٰٓی اَبْصَارَھُمْ o اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا o (محمد ۴۷: ۲۲-۲۴)۔ کیا تم لوگوں سے اس کے سوا کچھ اور توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم اُلٹے منہ پھر گئے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے سے تعلق توڑو گے؟ یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرا بنا دیا۔ کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا‘ یا دلوں پر اُن کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزید فرماتے ہیں: قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی : اَنَا اللّٰہُ ، اَنَا الرَّحْمٰنُ ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَھَا اِسْمًا مِنْ اِسْمِیْ ، فَمَنْ وَصَلَھَا وَصَلْتُہٗ وَمَنْ قَطَعَھَا بَتَتُّہٗ (الترغیب والترہیب، للمنذرین۳:۳۴۰) ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میں اللہ ہوں‘ میں رحمن ہوں‘ میں نے رَحم (رشتہ داری) کو پیدا کیا اور اپنے نام کا ایک حصہ اس کے لیے مقرر کر دیا‘ پس جو اس کو جوڑے گا میں اس سے جڑوں گا اور جو اس کو کاٹے گا میں اس سے اپنا تعلق توڑوں گا۔
جو آدمی ان فضائل اور صلہ رحمی کی اس اہمیت سے بے خبر ہوگا تو لازماً اس میں کوتاہی کرے گا کیونکہ: اَلنَّاسُ اَعْدَائٌ لِّمَا جَھِلُوْا ، لوگ جس چیز سے بے خبر ہوتے ہیں اُس کے دشمن ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بَلْ کَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِہٖ وَلَمَّا یَاْتِہِمْ تَاْوِیْلُہ‘ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیْنَo (یونس ۱۰:۳۹) ’’اصل [بات] یہ ہے کہ جو چیز ان کے علم کی گرفت میں نہیں آئی اور جس کا مآل بھی ان کے سامنے نہیں آیا‘ اس کو انھوں نے (خواہ مخواہ اٹکل پچو) جھٹلا دیا۔ اسی طرح تو ان سے پہلے کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں‘ پھر دیکھ لو ان ظالموں کا کیا انجام ہوا‘‘۔
یہ معاشرے کی طرف سے دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں ہے بلکہ یہ معاشرے کی ذمہ داری اور اس کا مقصد ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’مومن مرد اور مومن عورتیں‘ یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں‘ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں‘ نماز قائم کرتے ہیں‘ زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہوکر رہے گی‘ یقینا اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے‘‘۔(التوبہ ۹:۷۱)
قطع رحمی کا علاج تقویٰ و پرہیزگاری ہے۔ اگر دل میںخدا خوفی اور آخرت کی جواب دہی کا احساس توانا ہو تو انسان اس گناہ عظیم کے ارتکاب سے بچ سکتا ہے۔ ہر فرد اپنی انفرادی ذمہ داری کو محسوس کرے‘ اجتماعیت اپنا کردار ادا کرے‘ حکومت تمام ذرائع کو بروے کار لائے‘ قطع رحمی کے اسباب کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے سدّباب کے لیے اقدامات اٹھائے جائیںتو کوئی وجہ نہیں کہ معاشرہ اس اخلاقی مرض سے پاک نہ ہو۔ (المجتمع‘ کویت‘ شمارہ ۱۶۴۸‘ ۱۶۴۹‘ ۲۳/۳۰ اپریل ۲۰۰۵ئ)
وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ (ابراھیم ۱۴:۷)
اور یاد رکھو‘ تمھارے رب نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکرگزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔
شکر کیا ہے؟ اس کی کیفیات کیا ہیں؟ پروردگار کا شکر گزار بندہ بننے کے لیے کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے؟
شکر کے اصطلاحی معنی ہیں رب العالمین کی نعمتوں کا اعتراف اور ان کی قدر کرنا اور اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ضابطے کے مطابق اِن کا استعمال کرنا۔ اس لحاظ سے جذبۂ شکر کی تسکین کے دو مراحل ہیں۔ پہلا مرحلہ زبانی اقرار ہے‘ یعنی قولاً شکر گزار ہونا۔ دوسرا مرحلہ ہے عملاً شکرگزار بندہ بن جانا۔
قولی شکرگزاری کے دو پہلو نہایت نمایاں ہیں۔ ایک یہ کہ بندہ اپنے رب کی نعمت کا اعتراف کرے۔ چنانچہ فرمایا: وَاَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحٰی ۹۳:۱۱) ’’اپنے رب کی نعمت کا اظہار کرو‘‘۔ اس تذکرے اور اعتراف سے‘ بندۂ مومن کی نظر تمام اسباب اور وسائل سے ہٹ کر اللہ رب العالمین پر جم جاتی ہے۔ اسی سے اُس کے قلب و ذہن سے شرک کے تمام آثار نکل جاتے ہیں اور وہ حقیقی معنوں میں توحید اپنا لیتا ہے۔ چنانچہ دیگر نعمتوں اور ضروریاتِ زندگی کے حصول اور مصائب و آلام سے بچنے کے لیے انسان کی نظر‘ لامحالہ بارگاہ ایزدی کی جانب ہی اُٹھتی ہے۔
قولی شکرگزاری کا دوسرا پہلو منعمِ حقیقی کی حمدوستایش ہے۔ جب بندے کا دل جذبۂ تشکر و احسان شناسی سے لبریز ہو تو‘ زبان سے رب العالمین کی حمدوستایش کے کلمات بے اختیار ادا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کی باقاعدہ تربیت فرمائی اور اُنھیں ہرنعمت سے مستفید ہونے کے بعد الحمدللہ کہنا سکھایا۔
کسی بندے نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا: یَارَبِّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِیْ لِجَلَالِ وَجْھِکَ وَعَظِیْمِ سُلْطَانِکَ ، (اے اللہ تیرے لیے ایسی حمد ہے جو تیرے چہرے کی بزرگی اور تیری عظیم سلطنت کے شایانِ شان ہو)۔ تو فرشتے اِس سے اتنے متحیر ہوئے اور فیصلہ نہ کرسکے کہ اس کا احاطہ کیسے کریں۔ چنانچہ وہ بارگاہِ ایزدی میں حاضر ہوئے اور عرض کی: بارِ الٰہ! تیرے فلاںبندے نے ایسی بات کہی جس کا احاطہ کرنا ہماری قدرت سے باہر ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بندے نے کیا کہا تھا اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے سوال کیا: میرے بندے نے کیا کہا تھا؟ فرشتے عرض پرداز ہوئے‘ اُس نے کہا: ’’اے اللہ! تیرے لیے ایسی تعریف ہے جو تیرے چہرے کی بزرگی اور عظیم سلطنت کے شایانِ شان ہو‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ ایسا ہی لکھ دو جیسا اُس بندے نے کہا۔ کل قیامت کے دن جب وہ مجھ سے ملے گا میں خود اُسے اِس کا اجر دوں گا۔ (ابن ماجہ)
روایات میں آتا ہے کہ حضرت موسٰی ؑکوہِ طور کی طرف تشریف لے جا رہے تھے کہ اُن کے دل میں اہل و عیال کا خیال آیا‘ اور اُن کے بارے میں قدرے متردّد ہوئے۔ اثناے راہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملا: اے موسٰی ؑ! فلاں پتھر کو اپنی عصا سے توڑ ڈالو۔ اُنھوں نے ایسا ہی کیا۔ اُس سے ایک اور پتھر برآمد ہوا جسے توڑنے کا حکم دیا گیا۔ غرض یکے بعد دیگرے سات پتھر برآمد ہوئے جنھیں توڑنے کا حکم دیا گیا۔ساتویں پتھر میں ایک کیڑا موجود تھا جس کے منہ میں تازہ پتا تھا۔ ابھی حضرت موسٰی ؑمحوحیرت ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی ؑکی قوتِ سماعت کو اس قابل بنایا کہ وہ کیڑے کی آواز سن سکیںجو اپنی زبان میں رب کی حمد بیان کر رہا تھا:
پاک ہے وہ جو مجھے دیکھ رہا ہے‘ جسے میرے ٹھکانے کا علم ہے‘ جو میری بات سن رہا ہے‘ جو مجھے یاد رکھتا ہے اور کبھی نہیں بھولتا۔
یہاں سوچنے اور غوروفکر کرنے کی بات یہ ہے کہ جب غیرعاقل مخلوق میں اِس قدر جذبہ احسان شناسی موجود ہے تو انسان جو کہ اشرف الخلائق ہے اُسے تو سب سے بڑھ کر رب کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں تفسیر تدبر قرآن میںمولانا امین احسن اصلاحی نے دودھیل بکری کی مثال بیان کی ہے کہ جس طرح اُس کے تھن دودھ سے لبریز ہوں اور ذرا سے لمس سے دودھ نکلنا شروع ہوجائے‘ بالکل اسی طرح مومن کا دل شکروسپاس کے جذبات سے لبریز رہتا ہے اور جیسے ہی رب کی کسی نعمت کا اسے احساس ہوتا ہے یہ جام چھلکنا شروع ہوجاتا ہے اور اُس کی زبان سے اپنے رب کی حمدوستایش کے کلمات بے اختیار جاری ہوجاتے ہیں۔
قولی شکرگزاری کی طرح عملی شکرگزاری کے بھی دو ہی پہلو ہیں۔ ایک: نعمت کی قدروحفاظت‘ دوسرے: اُس کا جائز استعمال۔ ایک شخص جسے صحت جیسی نعمتِ عظمیٰ سے نوازا گیا ہو‘ اُس پر لازم ہے کہ وہ اِس نعمتِ رب کا شکر ادا کرے۔ اس کا عملی شکر یہ ہے کہ وہ اس کی قدر کرے اور صحت کو تباہ کرنے والے عوامل سے اجتناب کرے۔ اُن غذائوں‘ مشروبات اور معمولات سے اپنے آپ کو بچائے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہوں۔ پھر اس صحت اور توانائی سے بھرپور استفادہ کرے۔ اپنی صلاحیتوں‘ اوقات کار اور وسائل کو اللہ کی بندگی‘ رسولؐ اللہ کی اطاعت اور رزقِ حلال کے حصول میں صرف کرے۔ معاملات میں اللہ کی قائم کردہ حدود کا احترام کرے۔
جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کی جسمانی ضروریات کا اہتمام کیا۔ رزق‘ لباس اور راحت کے اسباب مہیا کیے۔ دن کو کام کاج اور رات کو آرام کے لیے بنایا‘ بالکل اسی طرح اس نے انسان کی ہدایت اور رہنمائی کا بھی انتظام فرمایا۔ اُس نے انسان کو عقل وفکر‘ نیز سماعت و بصارت سے آراستہ کیا اور وحی و رسالت کے ذریعے اُس کے سامنے ایک صاف سیدھا اور کشادہ راستہ کھول دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِنَّا ہَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا (الدھر ۷۶:۳)
ہم نے اسے راستہ دکھا دیا‘ خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا۔
گویا جو بندہ نعمتِ ہدایت کو قبول کرتا ہے‘ صراط مستقیم کو اپنا لیتا ہے‘ وہی دراصل اس کا شکرادا کرتا ہے اور جو کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بھی اس کو چھوڑ کر شیطان کی راہوں پر بھٹکتا ہے وہی دراصل ناشکرگزار ہے‘ یعنی کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس کے بعد نعمت ہدایت کا شکر یہ بھی ہے کہ بندہ اسے اپنے تک محدود نہ رکھے‘ بلکہ مسلسل اس کی اشاعت کا فریضہ سرانجام دیتا رہے۔ بندہ جب خود روشنی میں ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ اُن بندوں کو روشنی کی طرف لے کر آئے جو اندھیرے میں بھٹک رہے ہیں۔
اب آیئے یہ دیکھیں کہ شکر کے اس جذبے کو پروان کیوں کر چڑھایا جائے۔
بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر ہر پل نگاہ رکھنی چاہیے۔ بہت ساری نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کو انسان سرے سے نعمت خیال ہی نہیں کرتا‘ یا اُن کی اتنی اہمیت اُس کی نظر میں نہیں ہوتی جتنی کہ ہونی چاہیے۔ یہی چیز بعدازاں ناشکری کو جنم دیتی ہے‘ مثلاً انسان کو اِس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اسے اللہ کی کتنی نعمتیں حاصل ہیں۔ انسان ہر پل سانس لیتا ہے‘ لیکن اکثر اوقات اُسے احساس ہی نہیں رہتا کہ وہ رب العالمین کی کتنی بڑی نعمت سے مفت میں فیض یاب ہو رہا ہے‘ وہ نعمت جس پر انسان کی زندگی کا دارومدار ہے! اس نعمت کی قدر اس تصور سے ہوسکتی ہے کہ آدمی ہر سانس لینے کے بعد یہ سوچے کہ شاید یہ زندگی کا آخری سانس ہو‘ اور اس کے بعد اگر سانس لینے کا موقع ملے گا بھی تو صرف اللہ کے حکم سے ملے گا۔ اسی طرح ایک بینا آدمی آنکھوں کی قدر نہیں کرتا لیکن نابینا کے پاس اِن کی قدر ضرور ہوتی ہے۔
ایک انگریز مصنفہ ہیلن کیلر جو کہ پیدایشی نابینا تھیں اپنے ایک مضمون Three Days to See (دیکھنے کے لیے تین دن) میں رقم طراز ہیں کہ ’’اکثر دیکھنے والے نہیں دیکھ سکتے کیونکہ وہ اپنی آنکھوں کا صحیح استعمال نہیں جانتے‘‘۔ وہ اس کی مثالیں دیتی ہیں کہ: یہ واقعہ بھی ہے کہ کوئی شخص کسی پارک‘جنگل یا بازار میں ڈیڑھ دو گھنٹے گھوم آئے۔ آپ جب اس سے وہاں کا احوال پوچھیں تو وہ دو چار جملوں سے زیادہ اپنے تاثرات بیان نہیں کر سکے گا۔ کیونکہ بہت ساری چیزوں کو اُس نے دیکھا ہی نہیں ہوگا‘‘۔ وہ آگے ایک جگہ تجویز کرتی ہیں کہ ہر شخص کو اپنی آنکھیں اس طرح استعمال کرنی چاہییں گویا کہ وہ کل اندھا ہوجائے گا۔ صرف اسی طرح انسان آنکھوں کے بھرپور استعمال سے آشنا ہوسکے گا۔
یہ بھی نعمت کی معرفت میں شامل ہے کہ انسان نعمت کے فوائد اور استعمالات پر برابر غور کرتا رہے۔ ارشاد باری ہے: وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا (ابراھیم ۱۴:۳۴)‘ اس آیت کا ترجمہ عموماً یہ کیا جاتا ہے کہ ’’اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو نہیں کر سکتے‘‘۔ حالانکہ یہاں لفظ نعمت بطور واحد استعمال ہوا ہے جس کی جمع اَنْعَمْ ہے۔ چنانچہ اس آیت کا زیادہ فصیح ترجمہ یہ بنتا ہے کہ: ’’اگر تم اللہ کی نعمت (کے فوائد) کو شمار کرنا چاہو تو نہیں کر سکتے‘‘۔ مثال کے طور پر پانی ایک نعمت ہے لیکن اس کا صرف ایک فائدہ نہیں ہے۔ اس پانی کو انسان پیتا ہے‘ اسی سے کھاناپکتا ہے‘ اسی سے فصلوں میں ہریالی ہے۔ پھلوں میں ذائقہ ہے‘ موسم کی گرمی و سردی ہے‘ یہی پانی آج توانائی کا منبع ہے۔ اسی طرح سورج ایک نعمت ہے لیکن اس کا بھی صرف ایک فائدہ نہیں ہے۔ نہ صرف یہ کہ یہ نعمتیں ہمہ جہتی اور کثیرالفوائد ہیں‘ بلکہ ان میں سے ہر ایک انسانی زندگی کے لیے لازمی اور ضروری (vital) ہے۔ ذرا سوچیں‘ اگر اس کرئہ ارض پر آکسیجن نہ رہے تو کیا روے زمین پر زندگی کے کوئی آثار رہیں گے؟ اگر پانی خشک ہوجائے تو کیا انسان اور دیگر کسی جان دار کا اس زمین پر زندہ رہنا ممکن ہوگا؟ یا سورج مستقل غروب ہوجائے تو زندگی کا پہیہ کیسے چلے گا؟ غرض‘ ہرنعمت اتنی اہم ہے کہ گویا اُسی پر زندگی کا دارومدار ہے۔ مزید یہ کہ یہ تمام نعمتیں ہمیں بالکل مفت ‘ بہت بڑے پیمانے پر اور بغیر طلب کے میسر ہیں۔
دل کو شکر کا گہوارہ بنانے کے لیے بندئہ مومن کو چاہیے کہ دنیاوی نعمتوں کے سلسلے میں ہمیشہ اُن لوگوں پر نظر مرکوز رکھے جو اِن نعمتوں سے محروم ہیں۔ لیکن آج المیہ یہ ہے کہ انسان کی نظر نیچے کے بجاے اُوپر کو جاتی ہے ‘اور وہاں جاکر ٹھیرتی ہے جہاں انسان حسرت و یاس کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں شیخ سعدی کا ایک واقعہ لائق مطالعہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ:
ایک مرتبہ میں سفر پر تھا۔ دورانِ سفر جوتے ٹوٹ گئے۔ چنانچہ برہنہ پا سفر جاری رکھا اوراتنی رقم پاس نہ تھی کہ نئے جوتے خرید سکوں۔ دل میں شکوہ پیدا ہوا کہ مجھ جیسا عالم جوتوں کے بغیر سفر کر رہا ہے۔ راستے میں ایک مسجد میں نماز کے لیے رکا تو دیکھا کہ ایک شخص بھیک مانگ رہا ہے‘ جس کے دونوں پائوں کٹے ہوئے ہیں۔ میںنے فوراً سجدئہ شکر ادا کیا اور کہا: اے اللہ! تیرا شکر کہ میرے پائوں توسلامت ہیں۔ کیا ہوا جو مجھے جوتا میسر نہیں۔ یہی وہ اندازِ فکر ہے جو بندۂ مومن کا دل شکر سے معمور کر دیتا ہے۔
مگر انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا رب جب اس کو آزمایش میں ڈالتا ہے اور اسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا اور جب وہ اس کو آزمایش میں ڈالتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔ (الفجر۸۹: ۱۵-۱۶)
اس کے مقابلے میں بندئہ مومن کا حال یہ ہے کہ وہ ظاہری حالت کے بجاے پوشیدہ آزمایش کی طرف خیال کرتا ہے۔ یہی احساس فاقہ کشی میں اُسے صابر اور خوش حالی میں اُسے شاکر رکھتا ہے۔ اسی کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے جس کی طرف قرآن نے یوں اشارہ کیا ہے:
ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ o (التکاثر ۱۰۲:۸)
پھر ضرور اس روز تم سے ان نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔
اس آیت کی تفسیر میں سیرت کا یہ واقعہ نقل کیا جاتا ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے ہمراہ ایک انصاری صحابیؓ کے باغ میں تشریف لے گئے۔ اُنھوں نے آپ حضرات کے سامنے کھجوروں کا ایک خوشہ لاکر رکھ دیا۔ آپؐنے فرمایا: تم خود کھجوریں توڑ لاتے۔ اُنھوں نے کہا: میں چاہتا تھا خوشہ حاضر کر دوں اور آپ اپنی پسند سے کھجوریں توڑ کر تناول فرمائیں۔ چنانچہ آپؐ اور آپ ؐکے اصحاب نے کھجوریں تناول فرمائیں اورٹھنڈا پانی نوش کیا۔ پھر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! یہ ان نعمتوں میں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن جواب دہی کرنا پڑے گی۔ یہ ٹھنڈا سایہ‘ یہ میٹھی کھجوریں اور ٹھنڈا پانی۔
یہ وہ طرزِ فکر اور طرزِ عمل ہے جو انسان کے دل کو شکر کا گہوارہ بناسکتا ہے۔ اسی طرزِعمل سے وہ اپنی زبان کو حمدالٰہی سے مزین کرسکتا ہے‘ اور اپنے عمل کو قانونِ الٰہی کا پابند بناسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی زندگی کامیاب بنانے کے لیے جو ہدایت دی ہے اس کا ماحصل مختلف الفاظ اور مختلف انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
ایک پہلو سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ: اپنے رب سے ملاقات کی تیاری کرو۔
اگر دیکھا جائے تو ایک لحاظ سے ہمارا ہر کام اسی مقصد کے لیے ہے۔ اللہ کی بندگی بھی اسی لیے کرنا ہے کہ اللہ سے ملنا ہے اور اپنی زندگی کے بارے میں جواب دینا ہے۔ اچھے اخلاق بھی اسی لیے اختیار کرنا ہیں‘ عبادات اور اللہ کی راہ میں جہاد اور اُس کے دین کے لیے ساری سرگرمیاں بھی اسی لیے ہیں۔ اگر موت کے بعد اللہ تعالیٰ سے ملاقات نہ کرنا ہوتی اور ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ زندگی موت پر ختم ہو جائے گی‘ تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم اللہ کی بندگی کرتے‘ نماز پڑھتے‘ سخت سردی میں وضو کرکے نماز ادا کرتے۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم سچ بولیں‘ وعدہ پورا کریں‘ دوسروں کے حقوق ادا کریں اور کسی پر ظلم نہ کریں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم دین کی خدمت کے لیے‘ اللہ کی راہ میں وقت اور مال لگائیں‘ دعوت کا کام یا جہاد کریں۔ اللہ سے ملاقات نہ کرنا ہو تو یہ سارے کام فضول اور بے کار ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے ہر کام میں‘ حقیقی معنی اس یقین سے پیدا ہوتے ہیں کہ اللہ سے یقینا ملاقات کرنا ہے اور اپنی زندگی کے بارے میں جواب دینا ہے۔
اللہ سے ملاقات پر یقین اور اس کے لیے تیاری ہی وہ قوت اور وہ روشنی ہے جو اللہ کی راہ پر چلنے کے لیے طاقت بخشتی ہے‘ اور زندگی کی راہیں روشن کرتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو ہم پاور ہائوس کہہ سکتے ہیں‘ وہ پاور ہائوس جس کے بل پر اچھے اعمال‘ پاکیزہ اخلاق اور دینی جدوجہد کی گاڑی رواں دواں رہتی ہے۔
انبیاے کرام ؑ اور خود ہمارے نبی ؐ کو ‘جب اس کام کی ذمہ داری دی گئی کہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائیں تو انھوں نے سب سے پہلے‘ اللہ سے ملاقات کے لیے تیاری کرنے کی دعوت دی‘دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی دائمی زندگی کا یقین دلایا۔ جب حضوؐر کو عام لوگوں کے سامنے دعوت پیش کرنے کا حکم ہوا تو آپؐ سے پہلی بات یہی کہی گئی کہ:
قُمْ فَاَنْذِرْ o (المدثر ۷۴:۲)اٹھو اور خبردار کرو۔
وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَo (الشعراء ۲۶:۲۱۴)جو تمھارے قریبی رشتہ دار ہیں ان کو ڈرائو‘ آگاہ کرو‘ ہوشیار کرو۔
جب وحی باقاعدہ نازل ہونا شروع ہوئی تو حضوؐر کے لیے‘ نبی اور رسول سے زیادہ مُنذر کا لفظ استعمال ہوا جس کے معنی ہیں ڈرانے والا‘ آگاہ کرنے والا‘ خبردار کرنے والا۔ اسی لیے نبی کریمؐ ،نبوت کے پہلے دن سے لے کر آخری لمحے تک‘اللہ سے ملاقات کی مسلسل تذکیر کرتے رہے‘ اور اس کے لیے تیاری کرنے کی تاکید فرماتے رہے۔
آپؐ اپنے ساتھیوں سے جو گفتگو بھی کرتے‘ جو تقریریں کرتے‘ جو خطبے دیتے‘ غلطیوں پر ٹوکتے اور اچھی باتوں کی تعریف کرتے‘ تو اِس دوران میں‘ موت کے بعد کی زندگی کی یاد دلاتے‘ جنت کی خوشخبری سناتے اور نارِجہنم سے ڈراتے۔
قرآن مجید میں وہ آیات بہت کثرت سے موجود ہیں جو آخرت کا ذکر کرتی ہیں‘ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی یاد دلاتی اور اس سے ملاقات کی تفصیلات بیان کرتی ہیں۔ حضوؐر اکثر ایسی ہی آیات نمازوں میں تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
فجر کی نماز میں آپ زیادہ تر سورہ ق ٓ کی تلاوت کرتے۔ اس سورہ میں پورا بیان ہی آخرت کا ہے کہ موت حقیقت کو آشکارا کرتی ہوئی آگئی‘ صور پھونک دیا گیا‘ سب کے سب‘ اللہ کے سامنے پہنچ گئے‘ حساب و کتاب ہوگیا‘ کوئی اُس جہنم میں ڈالا گیا کہ جس کا پیٹ کسی طرح نہیں بھرتا اور کسی کے قریب وہ جنت لائی گئی کہ جس میں ہر خواہش پوری ہوتی ہے۔
اسی طرح سورۃ الواقعہ‘ حم السجدہ ‘ الدھر‘التکویر‘الانفطار‘ الغاشیہ وغیرہ کی تلاوت بھی آپؐ کثرت سے فرماتے۔آپؐ خطبہ دیتے تو اس میں بھی عموماً قرآن مجید کی وہ آیات بیان فرماتے جو آخرت اور موت کی تیاری سے متعلق ہوں۔مکہ میں قیام کے دوران میں معاشرتی معاملات کے سلسلے میں بہت کم احکام نازل ہوئے تھے۔ صرف دین کی بنیادی اور اہم تعلیمات‘ بہت مختصر اوربڑے سادہ الفاظ اور جملوں میں بیان ہوتیں۔ شریعت کی تفصیلات تو نہ تھیں لیکن ان جامع اور مختصر بنیادی تعلیمات ہی پر شریعت کی بنیادیں رکھی گئیں اور اس کا ڈھانچا بنایا اور اٹھایا گیا‘ مثلاً:
فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی o وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی o (الیل ۹۲:۵-۶) جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا‘ اور اچھی بات کی تصدیق کی۔
ان تینوں جملوں میں پورا کردارِ مطلوب بیان کر دیا گیا۔ اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:
وَّاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی o فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰیo (النزٰعت ۷۹:۴۰-۴۱) جو شخص [حساب کتاب کے لیے] اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو بے لگام خواہشات کے پیچھے جانے سے روک لیا‘ تو بس جنت اس کا ٹھکانہ ہے۔
ان مختصر تعلیمات کے ساتھ وہ طویل حصے نازل ہوئے جو آخرت کے تفصیلی بیان پر مشتمل ہیں‘ جو جنت کا شوق اور رب کے حضور کھڑا ہونے کا خوف پیدا کرتے ہیں۔
عمل کا محرک
مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کی تشکیل کے بعد‘ جب اسلامی معاشرہ وجود میں آگیا اور مزید تفصیلی احکام نازل ہونا شروع ہوئے تو ان احکام کے ساتھ ساتھ یہ تاکید بھی مسلسل کی گئی کہ اللہ سے ڈرو جس کے پاس تمھیں لوٹ کر جانا ہے‘ جس کا عذاب بہت سخت اور دردناک ہے‘جو ہر بات کو سنتا ہے‘ ہر ہر عمل کو دیکھتا ہے اور جانتا ہے اور وہ تم سے حساب لے گا۔ بعض روایات کے مطابق جو آخری آیت نازل ہوئی اور جس نے سورئہ بقرہ کے آخر میں جگہ پائی وہ یہ تھی:
وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ ق ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَo (البقرہ ۲:۲۸۱) اس دن سے ڈرو‘ جس دن تم اللہ کی طرف لوٹائے جائو گے۔ پھر ہر ایک کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہوگی۔
گویا احکامات دیے تو ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے وہ پاور ہائوس بھی بتایا جو ان احکام پر عمل کرنے کی قوت فراہم کرتا ہے‘ خواہ یہ وراثت کے احکام ہوں یا نکاح و طلاق کے‘ جہاد کے ہوں یا ایمانیات کے۔
جہاد کا حکم دیا تو بتایا کہ یہ جنت کا سودا ہے۔ جنت کے لیے جہاد کرو اور اس کے علاوہ کوئی اور مقصد سامنے مت رکھو۔ ایمان کی حقیقت بیان کی تو کہا کہ: ہم نے ایمان لانے والوں کے جان و مال جنت کے بدلے میں خرید لیے ہیں۔ اسی طرح جب مسلمانوں میں کوئی خرابی رونما ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّھْوِ وَمِنَ التِّجَارَۃِط o (الجمعہ ۶۲:۱۱) بتا دیجیے جو کچھ اللہ کے پاس آخرت میں ہے‘ وہ دنیا کی ساری دل چسپیوں اور نفعے سے زیادہ بہتر ہے۔
اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ ج (التوبہ ۹:۳۸) کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا ہے۔
اس طرح سے قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی یاد اور اس کی تیاری کی فکر کے ذریعے‘ مسلمانوں کے روحانی امراض کا علاج کیا اور ان کو ایمان کے تقاضے ادا کرنے کے لیے تیار کیا۔ پھر کیفیت یہ ہوگئی کہ صحابہ کرامؓ کے لیے جنت اور دوزخ اتنے حقیقی بن گئے جتنی کہ دنیا تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ ان پر ہر وقت ایک جیسی کیفیت طاری رہتی تھی۔ وہ بھی انسان تھے اور ہر قسم کے حالات سے گزرتے تھے لیکن ان کو غیب پر ایمان حاصل تھا۔ غیب پر ایمان ہی ان کے تقوے کی بنیاد تھا۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں متقین کی سب سے پہلی صفت ہی یہ بیان کی کہ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ‘ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ غیب میں اللہ تعالیٰ کی ذات بھی شامل ہے‘ جنت بھی اور دوزخ بھی۔ ان پر ایمان کے بغیر تقویٰ پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔ صحابہؓ کا حال یہ تھا کہ گویا جنت میں رہتے‘ جنت کی خوشبو سونگھتے اور جنت کی نعمتوں کا مزہ چکھتے ہوں۔ جنت مقصود و مطلوب تھی‘ تو وہی نگاہوں میں سمائی رہتی۔ ان کو دنیا میں بھی جنت کا مزہ آگیا تھا۔ وہ دوزخ سے اس طرح ڈرتے ‘ کانپتے اور لرزتے تھے کہ ان کے چہروں کے رنگ بدل جاتے‘ جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے‘ آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے‘ داڑھیاں بھیگ جاتیں‘ گویا کہ آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے ہوں۔
ایک دفعہ نبی کریمؐ منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا‘ پھر واپس کھینچ لیا۔ لوگوں کو تعجب ہوا کہ یہ کیا ہوا۔ پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: میرے سامنے جنت کا ایک خوشہ تھا‘ میں نے چاہا کہ اسے توڑ کر تمھیں دکھا دوں۔
جنت ‘نہ وعظ تھی‘ نہ افسانہ اور نہ کہانی‘ بلکہ جو کچھ ان کو پیش آتا تھا‘ جن حالات میں وہ چلتے پھرتے تھے‘ جنت ان کے سامنے رہتی تھی‘ عذاب اور دوزخ کا خطرہ انھیں لاحق رہتا تھا۔ وہ جنت کی خوشبو سونگھتے اور متوالے ہو کر جان قربان کردیتے۔ جنت کے باغ کا تصور ذہن میں لاتے تو اُس کی چاہت اور تڑپ میں دنیا کا بہترین باغ اللہ کی راہ میں دے دیتے۔ آندھی چلتی تو کانپ اٹھتے۔ کسی قبر پرکھڑے ہوتے تو زاروقطار روتے۔ اسی چیز نے ان میں بے مثال قربانی‘ اطاعت اور اللہ کے ساتھ تعلق پیدا کیا تھا۔
آج بھی اپنے رب سے ملاقات کی ایسی ہی یاد اور جنت کا ایسا یقین اور حصول کے لیے ایسی ہی تڑپ اورجہنم کی آگ کا ایسا ڈر‘ کسی نہ کسی درجے میں ہمیں حاصل کرنا چاہیے۔ یہ ناگزیر ہے۔ اگر ہم نے یہ نہ کیا تو اُن سارے کاموں کاہمیں کوئی فائدہ نہ ہوگا جو ہم خدا کی راہ میں کررہے ہیں۔
اللہ کی اطاعت میں اتنی محنت کے بعد بھی‘ آخرت میں اجر نہ ملے تو اس ساری تگ و دو کاکیا فائدہ ؟ اس سے بہتر تو شاید یہ ہوگا کہ ہم دنیا ہی کے لیے بھاگ دوڑ کریں‘ یہیں کچھ کما لیں‘ یہیں کچھ بنالیں۔ ہم دین کے لیے کام کریں‘ دنیا کا نقصان بھی اٹھائیں اور یہ بھی سمجھتے رہیں کہ ہم بڑے اچھے اعمال کر رہے ہیں‘ لیکن آخرت کی آندھی سب کچھ اڑا کر لے جائے اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں‘ تو یہ بڑے نقصان کا سودا ہوگا۔ خدا نہ کرے کہ ہم ایسے ہوں‘ اور مجھے امید ہے کہ ہم ایسے نہیں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی اس تنبیہ کو یاد رکھنا ضروری ہے:
قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاo اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا o (الکھف ۱۸:۱۰۳-۱۰۴)
اے نبیؐ، ان سے کہو‘ کیا ہم تمھیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔
یہ بات ہر وقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جو کام محض دنیا کی خاطر ہوا وہ ضائع ہوگیا۔ کیونکہ جسم سے آخری سانس نکلتے ہی دنیا ہاتھ سے نکل جائے گی۔ دولت ہو‘ مکان ہو‘ کھیت ہوں‘ کاروبار ہوں‘غرض دنیا کی کوئی بھی چیز ساتھ جانے والی نہیں۔ قبر میں کوئی چیز ساتھ نہیں جاتی۔ دنیا میں جو کچھ کمایا‘ وہ پیچھے رہ گیا۔ صرف اعمال ساتھ ہوں گے۔اب اگر اعمال بھی‘ خواہ وہ کتنے ہی دینی کیوں نہ ہوں‘ خدا اور آخرت کے لیے نہ ہوئے تو وہ بھی ضائع جائیں گے۔ اگرچہ ہم اس خیال میں مگن ہوں کہ ہم تو بہت ہی اچھے کام کر رہے ہیں اور آخرت کے لیے ذخیرہ کر رہے ہیں۔ یہ تو بہت ہی نقصان کا سودا ہوگا کہ ہم اللہ کے دین کا کام بھی کریں اور آخرت میں اس کا بدلہ بھی نہ ملے۔
فکرِآخرت‘ رب سے ملاقات کی یاد اور تیاری‘ جنت کے حصول کی تڑپ اور نارِجہنم کا خوف‘ صرف ہمارے ہی لیے ضروری نہیں‘ بلکہ ہماری دعوت کے مخاطبین کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر ہم نے کسی کو اجتماع میں شریک کرلیا‘ کسی سے اعانت لے لی‘ کسی کو کتاب پڑھوا دی‘ کسی سے ووٹ لے لیا‘ مگر اس سے اُس کو آخرت کا کوئی فائدہ نہ ہوا‘ تو ہم نے اس کی کوئی خیرخواہی نہیں کی‘ اس کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں کی۔ دوسری پارٹیاں بھی لوگوں سے پیسے لے لیتی ہیں‘ انھیں جلسے جلوس میں لے جاتی ہیں۔ لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہمارے ان تمام کاموں کے نتیجے میں اس کو آخرت میں اجر ملنا چاہیے اور اس کی آخرت سنورنی چاہیے۔
نبی کریمؐ نے صرف اپنے ساتھیوں ہی سے نہیں کہا کہ فکرِآخرت اور اللہ سے ملاقات کی تیاری کرو‘ بلکہ آپؐ انتہائی کٹّر مخالف‘ مشرک‘ کافر‘ یہودی‘ عیسائی‘ منافق‘ ہر ایک کو بار بار آخرت کے عذاب سے ڈراتے رہے۔ آپؐ نے اپنے رشتے داروں کو کھانے پر جمع کیا تو یہی بات کہی۔ کوہ صفا پر کھڑے ہوئے تو آپؐ نے یہی کہا کہ اُس عذاب سے ڈرو جو تمھارے سروں پر اس طرح کھڑا ہے جس طرح اس پہاڑی کے پیچھے کوئی لشکر موجود ہو جو ابھی تمھیں دبوچ لے گا۔ اپنی اولاد کو‘ اپنے چچائوں اور پھوپھیوں کو‘ اپنے اعزہ و اقربا کو‘ ایک ایک کا نام لے لے کر‘ اُن کو اُس دن کی تیاری کرنے کی دعوت دی جس دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔
ہر نبی کو اللہ تعالیٰ نے یہی کہہ کر بھیجا کہ اَنْذِرْ قَوْمَکَ ، اپنی قوم کو خبردار کرو اور ڈرائو اس سے پہلے کہ عذاب آجائے۔
قرآن کا ایک بڑا حصہ آخرت کے بیان ہی پرمشتمل ہے۔ صرف یہ دعوت ہی نہیں دی کہ اپنے رب کی ملاقات کی تیاری کرو‘ بلکہ بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ آخرت کیسی ہوگی‘ کس طرح قبر سے اٹھو گے‘ کس طرح اللہ کے سامنے جائو گے‘ حشر کا میدان کیسا ہوگا‘ وہاں کیا سماں ہوگا‘ اعمال کا وزن کیسے ہوگا‘ عذاب کس قسم کا ہوگا‘ کیسی ذلت ورسوائی اورحسرت و ندامت ہوگی‘ جہنم کی آگ کیسی ہوگی‘ آگ کے کوڑے ہوں گے‘ پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی ہوگا جس سے آنتیں کٹ جائیں گی‘ سر پر آگ کا سایہ ہوگا اور لیٹنے کے لیے آگ کا بستر--- گویا ایک ہولناک منظر ہے جس کی تصویر کشی کی گئی ہے۔
قرآن میں احکام کی اتنی تفصیل بیان نہیں ہوئی‘ لیکن آخرت کے حوالے سے ایک ایک چیز کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ یہ نہیں بیان کیا کہ ہر نماز کی کتنی رکعتیں ہیں‘ ان میں فرائض کیا ہیں اور سنن و مستحبات کیا ہیں‘ زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے‘ لیکن آخرت کی ایک ایک بات بڑی تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ ایک ایک عذاب کی تفصیل ہے‘ ایک ایک نعمت کا تذکرہ ہے۔ جنت کیسی ہوگی--- اس میں بالاخانے ہوں گے‘ محلات ہوں گے‘ خیمے ہوں گے‘ گھنے اور لمبے سائے ہوں گے‘ ہر قسم کے پھل اور میوے ہوں گے‘ انگور ہوں گے‘ انار ہوں گے۔کھجور ہوگی‘ کیلا ہوگا‘ بیری کے درخت ہوں گے۔ پانی ‘دودھ ‘ شہد ‘ غرض ہر قسم کے بہترین مشروبات کے چشمے بہہ رہے ہوں گے‘ حسین و جمیل رفاقتیں ہوں گی‘ حوریں ہوں گی اور یہ سب کچھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگا۔
قرآن ہی ہمارے لیے روشنی ہے‘ قرآن ہی ہمارا رہنما ہے‘ قرآن ہی کی طرف ہماری دعوت ہے‘ لیکن ہماری دعوت میں آخرت کا بیان کہاں ہے اور کتنا ہے؟ اگر ہم قرآن کی دعوت لے کر کھڑے ہوئے ہیں‘ قرآن کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں‘ قرآن پر لوگوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں تو ہماری دعوت کو بھی قرآن ہی کے انداز میں آخرت کی دعوت ہونا چاہیے۔ اپنے مخالفین کو‘ خواہ وہ کہیں بھی ہوں اور کیسی ہی استعداد رکھتے ہوں‘ قرآن کے اسی انداز میں آخرت کی تیاری کی دعوت دینا چاہیے۔
اگر غور کریں تو اس لحاظ سے ہم بہت پیچھے ہیں۔ جو تقریریں ہم کرتے ہیں ان کو دیکھیں‘ جو درس ہم دیتے ہیں ان پر نگاہ ڈالیں‘ تربیت گاہوں کے جو پروگرام ہوتے ہیں ان کا جائزہ لیں‘ ان سب میں رب سے ملاقات کی یاد اور جنت و دوزخ کے ذکر کا کتنا حصہ ہوتا ہے؟ کبھی ایک دم ہمیں خیال آتا ہے کہ فکرِآخرت کا پروگرام بھی ہونا چاہیے۔ ایک حدیث رکھ لو‘ ایک درس رکھ لو‘ ایک تقریر رکھ لو‘ مگر قرآن کے وہ حصے جہاں جنت اور جہنم کا بیان ہے وہ ہمارے درس کا موضوع نہیں بنتے۔ شاید یہ سب کچھ جدید دور کا بھی اثر ہے کہ ہم کو اب شاید کچھ غیرشعوری ہچکچاہٹ ہوتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اس زمانے میں یہ حوروغِلمان کا ذکر کرتے ہیں اور محلات کا ذکر کرتے ہیں‘ جنت کا لالچ دیتے ہیں اور آگ سے ڈراتے ہیں۔
ہم سوچتے ہیں کہ آج کل اس طرح لوگ کہاں متاثر ہوں گے‘ کہاں مانیںگے۔ اب تو اسلامی نظام کی برتری ثابت کرنا چاہیے۔ دوسرے نظام ہاے حیات پر تنقید کرنی چاہیے‘ عالمی اور قومی سیاست کے حوالے سے بات ہونا چاہیے۔ یہ سب کچھ بھی ضرور ہونا چاہیے‘ لیکن صرف اس سے کام ہرگز نہیں چلے گا۔ ہمارے دروس میں‘ ہمارے پروگراموں میں آخرت کا‘ جنت کا‘ دوزخ کا وہ تناسب نہیں ہے جو تناسب قرآن مجید میں ہے‘ بلکہ قرآن مجید جس قدر آخرت‘ جنت اور دوزخ کے بیان سے بھرا ہوا ہے اس کا عشرعشیر بھی ہماری دعوت‘ گفتگوئوں‘ تقریروں اور درس میں نہیں ہوتا۔
ظاہر ہے کہ یہ ہونا چاہیے کیونکہ لوگوں کے ساتھ اصل بھلائی ہی یہ ہے کہ وہ آخرت میں کامیاب ہوسکیں۔ ہمارا سارا کام اسی لیے ہے کہ لوگ جنت کے طلب گار بن جائیں۔ پھر دین بھی قائم ہوگا اور دنیا میں بھی اسلامی نظام کی جنت بنے گی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ انھی جذبات سے اس دین کی طرف آئیں جن جذبات سے وہ قوم پرستی اور سوشلزم کی طرف جاتے ہیں تو اسلام کے لیے یہ نسخہ کارگر نہیں ہوسکتا‘ نہ ہو رہا ہے۔
جب لوگ جنت کے طلب گار بن جائیں گے جس طرح صحابہ کرامؓ تھے تو پھر وہ دنیا کو بھی جنت بنائیں گے اور دنیا میں عدل و قسط کا نظام بھی قائم ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسپین سے لے کر چین تک‘ ساری دنیا اُن کے قدموں میں ڈھیر ہوگئی جو جنت سماوی کے طلب گار تھے۔ اگر وہ دنیا کے طلب گار ہوتے توکیا دنیا اس طرح ان کے آگے ڈھیر ہوتی؟ ہمیں بھی یہ جاننا چاہیے کہ جب ہم آخرت کے طلب گار بن جائیں گے تو اللہ تعالیٰ دنیا کو ہمارے قدموں میں اُسی طرح ڈھیر کر دے گا جس طرح ان کے آگے دنیا بچھتی چلی گئی۔ لیکن اگر ہم نے صرف دنیا طلب کی تو آخرت بھی ہاتھ سے جائے گی اور دنیا بھی!
دنیا ہماری مطلوب کیوں ہو‘ جب کہ اس طرح اس کا ملنا غیر یقینی ہے اور جنت کا ہاتھ سے جانا یقینی۔ دنیا تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا دے گا‘ جس کو چاہے گا نہیں دے گا‘ لیکن آخرت کے حوالے سے اس کا وعدہ یقینی ہے کہ جس نے آخرت کا ارادہ کر لیا اور اس کے لیے کوشش کی جیساکہ کوشش کرنے کا حق ہے‘ اور اس کے دل میں ایمان ہے تو اس کی محنت کی لازماً قدردانی کی جائے گی۔
مَنْ اَرَادَ الْاٰخِـرَۃَ وَسَعٰی لَھَا سَعْیَـھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَّشْکُوْرًا o (بنی اسرائیل ۱۷:۱۹) جو آخرت کا خواہش مند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے‘ اور ہو وہ مومن‘ تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی۔
ہر آدمی دن رات محنت کرتا ہے۔ کسی کو چند ٹکے ملتے ہیں اور کسی کو لاکھوں مل جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے کسی کو بقدرِ ضرورت دیتا ہے اور کسی کو بلاحساب دیتا ہے‘ اس لیے کہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اِس کی حقیقت تو بس اتنی ہے جیسے ایک مچھر کا پر‘ یا جیسے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈال کر کچھ پانی حاصل کرلے‘ یا جیسا کہ قرآن نے کہا: اگر یہ امکان نہ ہوتا کہ سارے کے سارے لوگ کافر ہوجائیں گے تو ہم رحمن کا انکار کرنے والوں کے گھروں کی چھت‘ زینے‘ دروازے‘ فرنیچر سب چاندی کا بنا دیتے‘ بلکہ سونے کا۔ پھر بھی ان کی قیمت اس سے زیادہ نہ ہوتی کہ جب تک سانس ہے آدمی اس سے کام لے لے‘یا لذت اندوز ہولے۔ جو چیز ختم ہونے والی ہو اس کی کیا حقیقت ہو سکتی ہے۔
قرآن مجید میں بار بار اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ: اس دنیا کو مقصود نہ بنائو‘ منزل نہ بنائو‘ بلکہ اس دنیا کے ذریعے آخرت کا سامان کرو۔ یہی راہ پکڑو گے توکامیابی تمھارے قدم چومے گی۔ یہ بات ہرلمحے یاد رکھو کہ اپنے رب سے ملاقات کرنا ہے‘ اس ملاقات کی تیاری کرو۔ قیامت کے دن وہ یہی پوچھے گا کہ تم نے دنیا کی زندگی میں آج کے دن کی ہم سے ملاقات کو یاد رکھا تھا یا نہیں۔ اگر اِس دنیا میں یہ بات بھلا دی گئی کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنا ہے تو تباہی و بربادی اور ناکامی و خسارہ مقدر ہوگا۔ دیکھیے کتنے دل دہلا دینے والے الفاظ ہیں:
وَقِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰکُمْ کَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا وَمَاْ وٰکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ o (الجاثیہ ۴۵:۳۴) اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم بھی اُسی طرح تمھیں بھلائے دیتے ہیں جس طرح تم اِس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے۔تمھارا ٹھکانا اب دوزخ ہے اور کوئی تمھاری مدد کرنے والا نہیں ہے۔
فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَـآئَ یَوْمِکُمْ ھٰذَاج اِنَّا نَسِیْنٰکُمْ o (السجدہ ۳۲:۱۴)
پس اب چکھو مزا اپنی اس حرکت کا کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا‘ ہم نے بھی اب تمھیں فراموش کر دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق‘ محض بھولنے اور یاد رکھنے کا معاملہ نہیں ہے۔ جب وہ کہتا ہے کہ ہم بھلا دیں گے تو اس کے معنی دراصل یہ ہیں کہ ہم نظر اُٹھا کر بھی نہ دیکھیں گے‘ رحمت نہ کریں گے۔ جس دن کوئی سایہ نہیں ہوگا سوائے اس کے سائے کے‘ کوئی سہارا نہ ہوگا سوائے اس کے سہارے کے‘ کسی کی نظر کام نہ آئے گی سوائے اس کی نظرِکرم کے‘ کسی کی توجہ سے کام نہ بنے گا سوائے اس کی توجہ کے--- ذرا سو چیے کہ اگر اُس دن اُس نے ہمیں بھلا دیا تو ہمارا کیا بنے گا!
لہٰذا اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے اس دن کو برابر یاد رکھنا اور اس ملاقات کی تیاری کرنا‘ یہ وہ کام ہے جو اپنے لیے بھی ضروری ہے اور جو ہمارے مخاطب ہیں یا ساتھ چلنے والے ہیں‘ ان کے لیے بھی ضروری ہے۔ حضور اکرمؐ نے اپنی جو مثال بحیثیت داعی کے دی ہے‘ اسے دیکھیے۔ آپؐ نے فرمایا: میری مثال ایسی ہے جیسے کسی نے آگ جلائی۔ اب تم ہو کہ پروانوں کی طرح اس آگ میں گر رہے ہو اور میں ہوں کہ تمھاری کمریں پکڑپکڑ کر تمھیں روک رہا ہوں اور کہہ رہا ہوں‘ لوگو! آگ سے بچو۔
بحیثیت داعی ہمارا کردار حضور اکرمؐ کی اس مثال کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر ہمارے گھر میں آگ لگ جائے تو ہم اپنی جان خطرے میں ڈال کر‘ اپنے بچوں کو اٹھا کر باہر بھاگیں گے‘ پانی لے کر آئیں گے اور آگ بجھائیں گے۔ اگر ہماری بیوی‘ بھائی‘ بہن‘ ماں باپ‘ دوست‘ رشتہ دار آگ میں جلنے کے خطرے کے قریب ہوں تو یقینا ہم بے چین ہوجائیں گے۔ اگر یہی لوگ جہنم کی آگ کے قریب جا رہے ہوں توکیا یہی جذبہ ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے‘ کیا ہم اسی طرح کوشش کرتے ہیں کہ ان کو آگ سے بچالیں؟
آخرت کی یاد اور آخرت کے لیے تیاری‘ یہی وہ پاور ہائوس ہے جو ہمارے کام اور جدوجہد کو رواں دواں رکھے گا۔ سارے کاموں میں یہی یاد جاری و ساری رہنا چاہیے‘ خواہ وہ الیکشن کا کام ہو یا نعروں اور جلوس کا کام یا پوسٹر لگانے کا۔ جو کام بھی آپ کریں صرف اس لیے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے خوش ہو‘ آپ کو اپنی جنت میں داخل کر دے۔ پھر دیکھیے اس کام میں کتنی اور بے انتہا برکت ہوتی ہے۔ اس کام کا بہت بڑا اجر آپ کو آخرت میں یقینا ملے گا‘ اگرچہ دنیا میں بظاہر کچھ نہ بھی ملے‘ یہاں آپ الیکشن نہ بھی جیتیں اور چاہے لوگ آپ کی بات سن کر نہ دیں۔ لیکن اگر آپ نے کام صرف اس لیے کیا کہ کسی نہ کسی طرح الیکشن جیت جائیں‘ الیکشن تو آپ ہار بھی سکتے ہیں‘ لیکن آخرت میں آپ کو اس کا کوئی بدلہ نہیں ملے گا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ صرف وہی کام قبول کرے گا جو خالص اس کے لیے ہو۔ بظاہر الیکشن تو دنیاوی کام ہے اور اگر کوئی شخص قرآن کا حافظ اور عالم ہو یا اللہ کی راہ میں شہید ہوجائے‘ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والا ہو‘ لیکن یہ خالصتاً دینی کام بھی اگر صرف اللہ کے لیے نہ کیے گئے ہوں‘ تو یہ بھی اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرمائے گا‘ بلکہ ان کو جہنم میں ڈال دے گا۔ عمل تو وہی قبول ہوگا جو خالص صرف اسی کے لیے ہو‘ اسی سے اجر کے لیے ہو۔ آخرت کے مسافر اور بھی ہیں‘ فرق اتنا ہے کہ دوسرے لوگوں کے نزدیک آخرت گوشے میں بیٹھ کر ملتی ہے‘ مگر ہمارے نزدیک آخرت اللہ کے دین کی راہ میں جہاد کے ذریعے ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یقینی وعدہ کیا ہے:
وَلَا ُدْخِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ج (اٰل عمرٰن ۳:۱۹۵) میں ان کو ضرور بالضرور جنتوں میں داخل کروں گا جہاں نہریں بہتی ہوں گی۔
یہ ہونی چاہیے ہماری دعوت‘ یعنی رب سے ملاقات اور جنت کی طلب۔ دوسروں کو بلانا ہے تو اس طرف ہی بلانا ہے کہ وہ جنت کے طلب گار بنیں اور اللہ کے دین کی راہ میں جہاد کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ ہماری دعوت کا موضوع یہی بن جائے‘ یہی دعوت کی روح بن جائے کہ:
وَفِی الْاٰخِـرَۃِ عَـذَابٌ شَدِیْـدٌ وَّمَـغْفِـرَۃٌ مِّـنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٌط (الحدید ۵۷:۲۰) آخرت میں ایک طرف عذاب شدید ہے‘ دوسری طرف اللہ کی مغفرت اور رضا۔
یہ دونوں ہمارے منتظر ہیں۔ ہمیں فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ان میں سے کون سی چیز ہم اپنے لیے منتخب کرتے ہیں۔
گو یہ دونوں چیزیں آج ہمیں آنکھوں سے دکھائی نہیں دے رہیں۔ لیکن اگر ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے تو مغفرت و رضوان کے انعام کا اور عذاب شدید کا پورا نقشہ‘ ہم قرآن مجید میں دیکھ سکتے ہیں۔ آپ قرآن مجید کثرت سے پڑھیں‘ اس کو یاد کریں‘ اس کو نمازوں میں پڑھیں‘ چھوٹی چھوٹی آیتوں کے معنی یاد کرلیں۔ صبح و شام‘ اٹھتے بیٹھتے‘ موت کو یاد رکھیں۔ قرآن پڑھیں تو خود کو اس کا مخاطب بنائیں۔ اپنے مخاطبین کو دعوت دیں تو آخرت کے بیان اور آخرت کے لیے تیاری کو اس میں شامل کریں۔ اس طرح آپ کی زندگی صحیح راہ پر چلے گی اور آپ کی محنت کا بدلہ آپ کو لازماً ملے گا۔ بالآخر وہ وقت بھی آئے گا جب ہم اس کی جنت میں داخل ہونے کے مستحق ٹھیریں گے۔
ایک چھوٹا سا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو یاد رکھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ اس کو اگر آپ اپنے اوپر لازم کرلیں تو آپ بھی اس کے ذریعے آخرت کاسفر بار بار کرسکتے ہیں۔
اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ -
اے اللہ مجھے آگ سے بچا لے۔
بہت چھوٹی‘ بہت سادہ‘ بہت آسان دعا ہے۔ اس کو عربی ہی میں یاد کرنا چاہیے‘ اور یہ کوئی ایسا مشکل کام بھی نہیں۔ اگر ہم اُن الفاظ میں یہ دعا مانگیں گے جو الفاظ حضور اکرمؐ نے سکھائے ہیں تو الفاظ سے بھی برکت کا چشمہ جاری ہوگا‘ لیکن اگر یہ الفاظ یاد نہ ہو سکیں تو اپنی زبان میں اس کا مفہوم ادا کیا جا سکتا ہے‘ یعنی اے اللہ مجھے آگ کے عذاب سے بچا لے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو آدمی مغرب کے بعد اور فجر کے بعد سات سات دفعہ یہ دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو آگ کے عذاب سے بچالے گا۔ دعا خود سے تو کام نہیں کرتی۔ دعا تو اس بات کا اظہار ہے کہ آپ کو اُس چیز کی طلب ہے‘ پیاس ہے جو آپ مانگ رہے ہیں۔ جب آپ پانی مانگتے ہیں تو آپ کو پیاس لگی ہوتی ہے‘ آپ کھانا مانگتے ہیں تو بھوک لگی ہوتی ہے۔ جتنی شدت سے بھوک پیاس ہوتی ہے‘ اتنی ہی بے چینی اور اضطراب اور لگن سے آپ پانی اور کھانا مانگتے ہیں اسی طرح آپ کو آگ سے بچنے کی فکر لگی ہو اور شدت سے لگی ہو‘ خوف‘ اندیشہ‘ بے چینی اور اضطراب سے دل بھرا ہوا ہو‘ اور پھر آپ کہیں اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ، تو ان الفاظ کا اثر ہوگا۔ دل میں آگ لگی ہوگی تو الفاظ دل سے نکلیں گے‘ رنگ لائیں گے۔ یہ الفاظ آپ دل سے کہیں گے تو دل میں آگ سے بچنے کی فکر بھی پیدا ہوگی۔ مانگنے سے بھی بھوک پیاس محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ گویا دو طرفہ عمل ہے۔اس لیے صبح و شام فجر اور مغرب کے بعد ضرور کہیں: اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔
میں نے اس عمل میں تھوڑا سا اضافہ کیا ہے۔ میں جس طرح پڑھتا ہوں‘ آپ بھی چاہیں اور مفید سمجھیں تو اس طرح ہی پڑھیں۔ اس میں کوئی زیادہ وقت بھی نہیں صرف ہوتا۔ ہر بار جب میں یہ کہتا ہوں کہ اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ، تو آخرت کے سفر کی کسی ایک منزل کا نقشہ اپنے ذہن میں رکھتا ہوں۔ یہ سفر قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ میں اس سفر کے کسی ایک مرحلے کی تصویر اپنے ذہن میں لاکر کہتا ہوں: اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔
کَلَّا ٓاِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ o وَقِیْلَ مَنْ رَاقٍ o وَّظَنَّ اَنَّہُ الْفِرَاقُ o وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ o اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِ الْمَسَاقُ o (القیامۃ ۷۵:۲۶-۳۰)
ہرگز نہیں‘ جب جان حلق تک پہنچ جائے گی‘ اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا‘ اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے‘ اور پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے گی‘ وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا۔
جب جان حلق تک پہنچ جائے گی‘ پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی۔ کوئی سہارا نظر نہ آئے گا جو موت سے بچائے اور کوئی جھاڑ پھونک کرکے بھی نہیں بچا سکے گا‘ تو یقین ہو جائے گا کہ بس اب تو دنیا کو چھوڑنا ہے۔ بھائی بہن‘ ماں باپ‘ رشتہ دار‘ مال و دولت‘ مکان سب کچھ چھوڑنا ہیں‘ جسم کی سب قوتیں ختم ہو جائیں گی۔ اب اللہ کی طرف جانا ہے اور سوائے اعمال کے کوئی سہارا نہیں۔ یا اس وقت کو یاد کریں جب فرشتے آئیں گے اور چہروں اور پیٹھوں پر آگ کے کوڑے ماریں گے‘ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَاَدْبَارَھُمْo (محمد ۴۷: ۲۷)
موت کے کسی منظر کو چند سیکنڈ کے لیے قرآن کے کسی حصے کے ذریعے‘ یا ذہن میں لاکر آپ موت کا وقت یاد کریں‘ اور اس کے بعد کہیں: اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔ یہ پہلا مرحلہ ہوا۔
حضرت عثمانؓ کے بارے میں مذکور ہے کہ آپ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا زاروقطار روتے تھے کہ آپ کی داڑھی آنسوئوں سے بھیگ جایا کرتی تھی۔ حدیث میں آتا ہے کہ قبر کہتی ہے کہ میں تنہائی کا گھر ہوں‘ میں کیڑوں کا گھر ہوں۔ لہٰذا قبر کا عذاب‘ اُس کے مختلف مناظر اگر ذہن میں تازہ رکھیں‘ اور کہیں: اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔ یہ دوسرا مرحلہ ہوا۔
یہ تیسری منزل ہے حشر کی۔ کسی بھی منظر کو ذہن میں تازہ کرلیں اور کہیں: اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔
اس طرح آپ دنیا سے چلنا شروع کریں‘ موت کے وقت سے جہنم تک پہنچیں‘ پھر واپس لوٹ کر آج کی دنیا میں آجائیں۔ یہ سفر مکمل ہوجائے گا۔
یہ دعا سات دفعہ اگر آپ صبح و شام اس طرح پڑھ لیں تو مشکل سے دو تین منٹ صرف ہوں گے۔ آپ مزید کچھ وقت بیٹھنا چاہیں تو بیٹھ سکتے ہیں۔ لیکن میں آپ کو کسی طویل مراقبے کی تعلیم نہیں دے رہا ہوں۔
اس طرح آپ موت کو یاد رکھنے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔ اس کے بعد بھی اگر آپ اللہ سے ملاقات کو بھولیں گے ‘کوئی بات نہیں‘ انسان بھولنے والا ہے‘ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا ہے۔ صحابہ کرامؓ بھی ہمیشہ ایک ہی حالت میں نہیں رہتے تھے۔ ان کی حالت بدلتی رہتی تھی۔ حضوؐر کی محفل میں ہوتے تو گویا جنت و دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے‘ گھروں کو جاتے تو یہ کیفیت بہت مدھم ہو جاتی۔
اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ آپ آخرت کو کبھی نہیں بھولیں گے۔بھول تو آدمی کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آخرت کو یاد رکھنے کی کوشش کرتے رہیں‘ اور اگر بھولیں تو فوراً یاد کرلیں۔ پھر پوری امید رکھیں کہ اللہ آپ کی برائیوں کو نظرانداز کر دے گا‘ آپ کے گناہوں کو بخش دے گا۔ اس کا بھی امکان ہے کہ آپ گناہ کم اور نیکیاں زیادہ کرنے لگیں۔ بس آپ کی اپنی طرف سے کوشش ضروری ہے۔ اس کوشش کے لیے یہ ایک عملی نسخہ ہے۔ اس کو آپ اختیار کرلیں تو ان شاء اللہ آپ کو بہت فائدہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو ‘ سب کو‘ اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! (کیسٹ سے تدوین: عبدالجبار بہٹی)
(کتابچہ دستیاب ہے۔ فی عدد ۵ روپے۔ سیکڑے پر رعایت۔ منشورات‘ منصور‘ہ لاہور-۵۴۷۹۰)
حضرت عمران بن حطاّن تابعی ؒ رو ایت کرتے ہیںکہ ایک روز میں حضرت ابو ذر غفاریؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہ ایک کالی کملی لپیٹے ہوئے مسجد میں با لکل اکیلے بیٹھے ہیں۔ میںنے عرض کیا: ’’ اے ابوذر! یہ تنہائی اور یکسوئی کیسی ہے (یعنی آپ نے اِس طرح اکیلے اور سب سے الگ تھلگ رہنا کیوں اختیار فرمایا ہے؟‘‘ اُنھوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ’’ برے ساتھی کی ہم نشینی سے اکیلے رہنا اچھا ہے‘ اور اچھے ساتھی کے ساتھ بیٹھنا تنہائی سے بہترہے‘ اور کسی کواچھی باتیں بتاناخاموش رہنے سے بہترہے‘ اوربری باتیںبتانے سے خاموش رہنا بہتر ہے ‘ ‘۔ (شعب الایمان‘البیہقی)
نبی مکرم ؐکے اِن حکیمانہ اور جامع ارشادات مبارکہ سے معلو م ہوا کہ تنہائی اختیار کرنے کے بجاے اچھے مسلمانوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ اِس کے نتیجے میں‘محبت‘ بھائی چارے اورنیک اعمال میں اضافہ ہوگا۔
ایک روز رسولؐ اللہ نے اپنی ایک تقریرمیں کچھ افراد کی تعریف فرمائی (جو دوسروں کو دین کی باتیں بتاتے تھے)۔ پھر فرمایا: ’’ایسا کیوں ہے کہ کچھ لوگ اپنے پڑوسیوںمیںدینی سوجھ بوجھ پیدا نہیں کرتے؟ اُن کو تعلیم نہیں دیتے؟ اُن کو نصیحت نہیں کرتے؟ بری باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟‘‘ پھر فرمایا: ’’ اور ایسا کیوں ہے کہ کچھ لوگ دین کی باتیں نہیں سیکھتے؟کیوں اپنے اندردینی شعور پیدا نہیں کرتے؟ کیوں دین نہ جاننے کے نتائج معلوم نہیں کرتے؟ خدا کی قسم! لوگوں کو آس پاس کی آبادی کو دین سکھانا ہوگا‘ اُن کے اندر دینی شعور پیدا کرنا ہوگا‘ وعظ و تلقین کاکام کرنا ہوگا‘ اور لوگوں کو لازماً اپنے قریب کے لوگوں سے دین سیکھنا ہو گا‘ اپنے اندر دینی سمجھ بوجھ پیدا کرنی ہوگی اور وعظ و نصیحت قبول کرنا ہوگا‘ ورنہ میں اُنھیں اِس دنیا میں جلد سزا دوں گا‘‘۔(عن ابو موسیٰ الاشعریؓ، الطبرانی)
نبی مکرمؐکے اِن حکیمانہ ارشادات مبارکہ سے معلو م ہواکہ لوگوںکو نیکی اور بھلائی کی تلقین کرنا‘ خاموشی اختیا ر کرلینے کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولؐ اللہ بہت زیادہ خاموش رہتے تھے‘ اور آپؐ صرف وہی بات کرتے تھے جس پر آپ ؐ کو ثواب کی امید ہوتی تھی۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اِس طرح کی گفتگو کے نقصانات کو ان الفاظ میںبیان کیا ہے: مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلاَّلَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ o (قٓ۵۰: ۱۸)’’ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگران موجود نہ ہو‘‘۔ اِس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ کوئی با ت منہ سے نکالنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لے کہ وہ نوٹ ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اِس کا حساب بھی دینا ہو گا ۔ حضوراقدسؐ نے اِس بات کو ایک اور انداز سے سمجھایا ہے۔آپؐ نے فرمایا:’’بلاشبہہ بندہ اپنی زبان سے کبھی اللہ کی ناراضی کا کوئی ایسا کلمہ کہہ گزرتا ہے جس کا اُسے خیال بھی نہیں ہوتا اوروہ کلمہ اُسے جہنم میںگرادیتا ہے‘‘۔(عن ابوہریرہؓ، بخاری‘ مشکوٰۃ)۔ ایک اور موقع پر آپؐ نے فرمایا: ’’بلاشبہہ انسان اپنی زبان سے اتنا زیادہ پھسل جاتا ہے‘جتنا اپنے قدم سے بھی نہیں پھسلتا‘‘۔ (عن ابوہریرہؓ، بیہقی‘ مشکوٰۃ )
بدی اور برائی کی طرف مائل کرنے والی گفتگو کے بارے میں ہا دیِ اعظمؐکی چند اور ہدایات عالیہ سنیے جو آپؐ نے مختلف مواقع پرعطا فرمائی ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا: ’ ’فضو ل باتیں کرنے والے اور یاوہ گوئی کرنے والے میری اُمت کے بد ترین لوگ ہیں‘‘(موطا امام مالک‘ ابوداؤد)۔ایک اور موقع پرفرمایا:’’جو شخص مجھے اپنے دونوں کلّوںکے درمیان والی چیز (یعنی زبان)‘ اور اپنی دونوں رانوں کے درمیان والی چیز(یعنی شرم گاہ )کی حفاظت کرنے کی ضمانت دے دے گا‘ میں اُسے جنت کی ضمانت دے دوں گا‘‘ (عن سہل بن سعدؓ، بخاری‘ مشکوٰۃ)۔ ایک اور موقع پرفرمایا:’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اورہاتھ سے مسلمان ایذا نہ پائیں‘‘ (عن عبداللہ بن عمروؓ، بخاری )۔ اسی طرح ایک اور موقع پرآپؐ نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ اور روزِآخرت پر یقین رکھتا ہے‘ اُس کو چاہیے کہ وہ بھلی بات کہے یا چپ رہے‘‘۔ (کتاب الایمان، مسلم)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مسلمانوں کوہادیِ اعظمؐکی ہدایات پر عمل کر نے کی توفیق عطافرمائے۔آمین!
اسلام نے مسلمانوں کو باہمی سلام کرنے‘ دعا دینے اور خیرو بھلائی چاہنے کے لیے‘ جن کلمات کی تعلیم دی ہے ان میں ایک کلمہ برکت ہے۔ یہ کلمہ بھی سلام کی طرح مسلم معاشرے کا شعار‘ ثقافت اور عام دعائیہ کلمہ ہے۔ لہٰذا ہر خوشی و شادمانی اور کامیابی و کامرانی کے موقعے پر اور عام سلام کرتے وقت یہ لفظ کثرت سے بولا جاتا ہے۔ اس کلمے کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیجیے کہ ہر نمازی دو رکعت کی نماز میں اسے کم از کم چار مرتبہ ادا کرتا ہے۔ ثنا میں تَبَارَکَ اسْمُکَ تشہد (التحیات) میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ اور درود ابراہیمی میں اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّک حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ میں دو مرتبہ کہتا ہے۔
پھردعائیہ جملوںاور فقروں میں اسے روزانہ متعدد مرتبہ بولا جاتاہے۔ سلام کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہا جاتا ہے۔ کوئی خوشی کا موقع اور تقریب ہوتی ہے تو اپنے بھائی بہن کو اور دوست و احباب کو مبارک باد کا کلمہ کہہ کر دعا دی جاتی ہے۔ کوئی کھانے کی دعوت دیتا ہے تو مخاطب بارک اللہ‘ یا اللہ برکت دے کا جملہ بول کر ما فی الضمیرکا اظہار کرتا ہے۔ کسی بچے کی صلاحیت‘لیاقت اور ذہانت ظاہر ہوتی ہے تو برکت کا کلمہ کہہ کر دعا دی جاتی ہے‘ کسی کاروبار میں نفع ہوتا ہے‘ فصل کی پیداوار میں کثرت ہوتی ہے‘ تعلیم میں کامیابی ہوتی ہے‘ ملازمت ملتی ہے یا اس میں ترقی ہوتی ہے‘ نکاح و شادی ہوتی ہے‘ بیٹا تولد ہوتا ہے‘ ختم قرآن ہوتا ہے‘ حج و عمرے کی ادایگی ہوتی ہے یا کوئی اور خیروبھلائی نصیب ہوتی ہے‘ تو ہدیہ تبریک پیش کرکے دعا دی جاتی ہے۔
مسلم معاشرے میں عموماً بہت سی دعائیںاور دعائیہ کلمات غیرشعوری اور غیرارادی طور پر کہے جاتے ہیں اور کہتے وقت ان کے معانی و مفاہیم کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ ایسے ہی یہ کلمہ بھی بول دیا جاتا ہے۔ پھر شکوہ یہ کیا جاتاہے کہ آج کل ہمارے ہاں سے برکت اٹھ گئی ہے۔ اشیا سے برکت نکل گئی ہے اور بے برکتی رہ گئی ہے۔ اتنے اسباب‘ وسائل‘ مال و متاع اور دھن دولت ہونے کے باوجود برکت نہیں رہی ہے۔
برکت کا نزول کیسے ہو‘ اس دعا کے اثرات کیسے ظاہر ہوں‘ جب کہ اس دعائیہ کلمے کے نہ معنی معلوم ہیں اور نہ مفہوم ذہن میں آتا ہے اور نہ اس کا دائرۂ اثر اور ہمہ گیریت پیش نظر ہوتی ہے۔ صرف رسم کے طور پر کہہ دیا جاتا ہے‘ نیز یہ دعائیہ کلمہ کہتے وقت دل کا شعور و احساس بھی ناپید ہوتا ہے‘ جب کہ دعا کے لیے ضروری ہے کہ وہ شعور و احساس اور توجہ سے کی جائے۔ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ غافل دل سے دعا قبول نہیں فرماتے۔
یہاں قرآن و حدیث کی روشنی میں اس اہم دعائیہ کلمے کے معنی‘ مفہوم‘دائرۂ اثر اور اس کی اہمیت اور لغت میں اس کے استعمال کے بارے میں مختصر سا تذکرہ کیا جاتاہے تاکہ ہر مسلمان اسے شعور و احساس کے ساتھ بولے اور اس کے مفہوم کو سامنے رکھ کر دعا کے طور پر ادا کرے۔
برکت کے معنی اور استعمال کے بارے میں لغت کی ضخیم ترین اور اساسی کتاب لسان العرب میں اس کلمے پر چار صفحات میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔
یہ کلمہ ثلاثی مجرد باب‘ ن سے ہے جیسے بَرَکَ یَبْرُکُ جم کر بیٹھنا۔البتہ اس باب سے بہت کم استعمال ہوا ہے لیکن باب مفاعلہ (مبارکۃ) سے کسی قدر زیادہ‘ باب تفاعل سے اور زیادہ آیا ہے اور باب تفعیل اور افتعال سے بھی استعمال ہوا ہے۔ باب تفعیل سے تبریک کے معنی ہیں انسان وغیرہ کے لیے برکت کی دعا کرنا‘ جیسے بَرَّکْتُ علیہ تبریکًا اے قلتُ لہ بارک اللّٰہ علیک وبارک اللّٰہ الشی ٔ وبارک فیہ وعلیہ، یعنی اس میں اللہ تعالیٰ برکت کرے۔
یہ کلمہ جب جملے میںفعل بن کر استعمال ہو تو صلے کے بغیر بھی آتا ہے اور عَلٰی فِیْ،اور لِ کے صلے سے بھی آتا ہے جیسے اللھم بارک علی محمد، ابترک الفرس فی عدوہ، گھوڑا اعتماد سے اور جم کر چلتا رہا۔ ابترکوا فی الحرب یعنی جنگ میں سواریوں پر جم کر بیٹھے۔ باب مفاعلۃ اور تفاعل سے بھی آتا ہے جیسے بارکنا حولہ ہم نے اس کے ارد گرد برکت کی۔ تَبٰرَکَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآئِ بُرُوْجًا (الفرقان ۲۵:۶۱) بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے۔
اصحابِ لغت جیسے ابن منظور نے لسان العرب میں‘ زمخشری نے اساس البلاغہ میں اور عبدالرحمن کیلانی نے اپنی مشہور کتاب مترادفات القرآن میں مثالیں دے کر اس کے پانچ معنی لکھے ہیں۔
۱- نمو، افزایش اور بڑہوتری: وَقَالَ الزُّجَاجُ فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی وَھٰذَا کِتَابٌ اَنْزَلْنٰہُ مُبَارَکٌ (الانعام ۶:۱۵۵) قال المبارک ما یأتی من قبلہ الخیر الکثیر۔ زراعت میں فصلوں‘ پھلوں کے لیے دعا کی جاتی ہے۔ اس سے مراد اُن کا بڑھنا‘ پھلنا پھولنا اور زیادہ اناج دینا ہے۔
۲- عُلو، رفعت اور بلندی: قال الازہری معنی برکۃ اللّٰہ، علوہٗ علی کل شی ئٍ وقال ابوطالب ابن عبدالمطلب: بورک المیت الغریب کما بورک نضح الرُّمان والزیتون۔ ’’مسافر میت کے درجات بلند ہوں جیسے زیتون اور انار کے درخت مناسب برسات سے بلند ہوتے ہیں‘‘۔
۳- ثبات‘ دوام اور بقا: فی الحدیث الصلاۃ علی النبی علیہ السلام وبارک علی محمد وعلٰی آلِ محمد اے ۔۔۔۔۔۔ اَثبت واَدِم ما اعطیتہ من التشریف والکرامۃ، یعنی جو شرف و بزرگی تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم کو عطا کی ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی آل کو ہمیشہ کے لیے اور دائمی عطا کر۔ یہ معنی اور استعمال اس عوامی عربی محاورے سے ماخوذ ہے بَرَکَ الْبَعِیْرُ۔ جب اونٹ باڑے میں اپنی جگہ پر جم کر بیٹھ جائے۔
۴- خیر و بہلائی میں کثرت و زیادتی: قال ابن عباس معنی البرکۃ الکثرۃ فی کل خیر۔ ہر قسم کی خیر میں کثرت ہو یعنی مادی اور معنوی خیر و بھلائی کی کثرت ہو۔
حدیث ام سلیم میں ہے: فحنکہ وبرک علیہ اے دعا لہ بالبرکۃ، اس برکت سے مادی و روحانی اورظاہری اور معنوی دونوں قسم کی برکتیں شامل ہیں۔
۵- سعادت و خوش بختی: فرّاء مشھور نحوی ولغوی نے رحمتہٗ وبرکاتہٗ سے مراد سعادت و نیک بختی لی ہے۔ ابومنصور نے تشہد کے کلمات اوردعا پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے: ایُّھَا النبی ورحمۃ اللّٰہِ وبرکاتہ لان من اسعدہُ اللّٰہُ بمَا اسعد بہ النبی فقد نال السعادۃ المبارکۃ الدائمۃ یعنی جس شخص کو اللہ تعالیٰ وہ سعادت بخشے جو اپنے نبی کو بخشی ہے تو اس نے دائمی نیک بختی پالی۔
ان تمام معانی کا مجموعہ رمضان کے مہینے کوحدیث سلمان فارسی میں شھرمبارک قرار دینے میں پایا جاتا ہے۔ ایک بزرگ تحریر کرتے ہیں: آدمی کا وقت‘ پیسہ‘ محنت اور عبادات ضائع ہونے سے بچ جائیں۔ تھوڑے وقت میں زیادہ کام ہو جائے‘ تھوڑے پیسوں میں زیادہ ضروریات پوری ہو جائیں‘ تھوڑی محنت سے کامیابی حاصل ہو جائے‘ تھوڑی عبادت سے اللہ تعالیٰ زیادہ ثواب عطا فرما دیں اور اللہ تعالیٰ ایسے کام کروا لیں جس سے اللہ کی مخلوق کو یا اس کے دین کو زیادہ نفع پہنچ جائے۔
قرآن مجید میں بَرَکَ کے مادے اور مصدر سے یہ کلمہ اسم و فعل کی صورت میں ۳۲ مرتبہ آیا ہے۔ ان میں اسم کی صورت میں ۱۷ مرتبہ اور فعل کی شکل میں ۱۵ مرتبہ وارد ہوا ہے۔ افعال میں باب نصر‘ ینصر‘ باب مفاعلہ (مبارکۃ) اور باب تفاعل تبارک سے صیغے آئے ہیں۔
قرآن مجید میں آمدہ کلمات کا تجزیہ کیا جائے تو ان میں یہ پانچوں معانی پائے جاتے ہیں تاہم روحانی اور معنوی معانی کا غلبہ ہے اور دو تہائی کلمات میں دونوں مفاہیم (روحانی و مادی‘ ظاہری و معنوی) موجود ہیں یعنی حسی و مادی برکہ اور روحانی و معانی برکہ۔ صرف دو کلمے ایسے ہیں جن میں مادی و حسی معانی کا مفہوم واضح ہے۔ اور ایک تہائی کے قریب ایسے کلمات ہیں جن میں صرف روحانی اور معنوی معنی ہی پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثر وہ صیغے اور کلمات ہیں جن کی نسبت اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات و صفات کی طرف کی گئی ہے۔ نوصیغے باب تفاعل سے آئے ہیں‘ جیسے اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُط تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَo (اعراف ۷:۵۴) یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تمام برکات کا منبع ہے اور دوسروں کو برکت عطا کرنے والی ہے۔ اس کے بعد باب مفاعلہ سے آٹھ صیغے آئے ہیں جیسے سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّن الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ (بنی اسرائیل ۱۷: ۱) ان تمام صیغوں میں برکت عطا کرنے کی نسبت اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات برکت عطا کرنے والی ہے اس کے علاوہ کوئی برکت عطا کرنے والا نہیں ہے۔ اس باب سے اسم اور مفعول کے ۱۲ صیغے آئے ہیں جیسے مبارک‘ مبارکۃ ان تمام میں برکت عطا کرنے‘ ان میں برکت رکھنے اور ان کو مبارک بنانے والی اللہ ہی کی ذات ہے۔ باقی تین صیغے برکۃ کی اسم جمع برکات کے ہیں۔
برکت کے تمام کے تمام کلمات یہ ظاہر اور واضح کرتے ہیں کہ برکت عطا کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے اور اس کے سوائے کوئی ہستی ایسی نہیں ہے کہ برکت عطا کرے۔ اس لیے اس دعائیہ کلمے کی نسبت اللہ کی طرف ہی کرنی چاہیے اور اسی سے برکت طلب کرنی چاہیے۔ لہٰذا عام طور پر دعا میں برکاتہٗ (اللہ کی برکتیں) ہی کہا جاتا ہے ۔ اُردو میں ایسے موقعے پر اللہ برکت دے‘ برکتیں عطا کرے‘ مبارک ہو یعنی اللہ کی طرف سے برکتیں ہوں۔ کوئی شخص کھانے پینے کی دعوت دے تو جواب میں کہا جاتا ہے اللہ برکتیں دے اور برکتیں عطا کرے‘ اللہ بخش دے‘ اللہ بہت دے وغیرہ یا ایسے ہی دوسرے جملے اور فقرے کہے جاتے ہیں۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کامل بابرکت ہے۔ لہٰذا اللہ کی طرف اس کی نسبت کرنے کے معانی و مفاہم یہ ہوں گے کہ وہی ذات بلندو بالا اور قائم و دوائم ہے اور خیروبھلائی دیتی ہے۔ سعادت و بھلائی اس کی طرف سے آتی ہے۔
ذیل میں نمونے کے طور پر چند متداول تفاسیر سے برکت کے معنی اور مفہوم پیش کیے جارہے ہیں۔ سورئہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں آمدہ کلمہ وَبَارَکْنَا حَوْلَہٗ کی تفسیر میں مفسرین کرام نے اس طرح بیان کیا ہے۔
اس کے بعد مفتی محمد شفیعؒ نے اس کی ظاہری برکتیں گنوائی ہیں: ’’اس بے آب و گیاہ خطے میں پھلوں‘ سبزیوںاور دوسری خوراک کی ضروریات مہیا ہوتی ہیں اور لاکھوں انسانوں اور حج و عمرہ کرنے والوں کے لیے باافراط موجود ہوتی ہیں اور کسی صورت میں کم نہیں ہوتیں‘‘۔ قرآن مجید نے اس برکت کو یُّجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْ ئٍ (جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں۔ القصص ۲۸:۵۷) سے بیان کیا ہے۔
معنوی اور باطنی برکات تو بے شمار ہیں جیسے حج و عمرہ اور دوسری عبادات کا اجر تعداد میں ایک لاکھ تک بڑھ جانا‘ مومن کا گناہوں سے پاک ہونا اور گناہوں سے محفوظ رہنا وغیرہ۔ (ج ۲‘ ص ۱۱۷)
مسجداقصیٰ اور ملک شام کی برکات بیان کرتے ہوئے مفتی صاحبؒ لکھتے ہیں: اس کی برکات دینی بھی ہیں اور دنیاوی بھی۔ دینی برکات تو یہ ہیں کہ وہ تمام انبیاء سابقین کا قبلہ اور بہت سے انبیا کا مسکن و مدفن ہے‘ اور دنیاوی برکات میں اس کی سرزمین کا سرسبز ہونا اوراس میں عمدہ چشمے‘ نہریں اور باغات وغیرہ کا ہونا ہے‘‘۔ (ج ۵‘ ص ۴۴۳)
۲- وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرٰٓی اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ (اعراف ۷:۹۶) ’’اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم کھول دیتے ان پر نعمتیں آسماں اور زمین سے لیکن جھٹلایا انھوں نے۔ پس پکڑا ہم نے ان کو ان کے اعمال کے بدلے‘‘۔
مولانا اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’اگر یہ لوگ ہمارے پیغمبروں کو مانتے اور حق کے سامنے گردن جھکاتے اورکفروتکذیب وغیرہ سے بچ کر تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو ہم ان کو آسمان و زمین کی برکات سے مالا مال کر دیتے۔ امام رازیؒ نے فرمایا کہ برکت کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے‘ کبھی تو خیر باقی و دائم کو برکت سے تعبیر کرتے ہیں اور کبھی آثارِ فاضلہ پر اس لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ایمان وتقویٰ اختیار کرنے پر ان آسمانی و زمینی نعمتوں کے دروازے کھول دیے جاتے جو دائمی و غیرمنقطع ہوں یا جن کے آثار فاضلہ بہت کثرت سے ہوں۔ (تفسیر عثمانی ‘ الاعراف ۷‘ ص ۲۱۶‘ حاشیہ ۳)
احادیث میں یہ کلمہ کثرت سے مذکورہ بالا اپنے معانی و مفاہیم میں دعا کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ نبی کریمؐ نے مختلف افراد و اشخاص‘ خاندانوںاور گھرانوں‘ اعمال و افعال اور باغات واشیا کے لیے دعا میں اسے استعمال فرمایا ہے۔ اس کی چند ایک مثالیں ملاحظہ کریں۔
التحیات (تشہد) میں فرمایا گیا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ۔ آپؐ نے سلامتی و رحمت اوربرکات کی سعادت کو نیک و صالح مومنوں کی طرف بڑھا دیا۔ چنانچہ ابومنصور نے کہا: مومن بندوں کی طرف سے آپؐ کے لیے دعا کا جواب آپؐ نے یہ دیا: اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ۔’’وہی سلام و برکت ہم پر ہے وہ اللہ کے صالح بندوں پر بھی ہو‘‘۔ یہاں برکتوں سے مراد سعادت و خوش بختی اور دوام و ثبات ہے‘‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نمازی کو درود ابراہیمی میں آپؐ اور آپؐ کی آل اولاد کے لیے ایسی برکت کی دعا کی تلقین کی جیسی برکت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آل و اولاد‘ ان کی دعوت و تبلیغ اوراللہ کی راہ میں قربانیوں میں اللہ تعالیٰ نے عطا کی۔ اس سے برکت کے دائرے‘ وسعت اور ہمہ گیریت کا اندازہ ہوتا ہے۔
آپؐ نے ماہِ رمضان کو شھرمبارک (برکتوں بھرا مہینہ) فرمایا۔ اس کا مفہوم ہم نے اوپر بیان کیا ہے‘ اسے ملاحظہ کرلیں۔
آپؐ نے حضرت عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہما کی کھجوروں کے کھلیان میں برکت کے لیے دعا کی تو ان میں اتنی برکت (خیروکثرت) آئی کہ اس سے ان کا قرض ادا ہوگیا اور ان کے کھانے کے لیے اتنی بچ گئیں جتنی ہر سال بچتی تھیں‘ جب کہ درخت وہی تھے اور پیداوار بھی ہرسال جتنی ہی تھی۔
ایسے سیکڑوں واقعات مروی ہیں کہ آپؐ نے کسی کے مال‘ جان‘ صحت اور اولاد کے لیے برکت کی دعا دی اور اس سے ان میں معنوی و حسی اورمادی برکات شامل ہوگئی اور اشیا ظاہری و معنوی دونوں حیثیتوں سے بڑھ گئیں۔ ان میں ثبات آگیا اور درختوں و پھلوں میں نشوونما زیادہ ہوگئی۔ ایک مثال حضرت سلمان فارسیؓ کے باغ کی ہے جس میں آپؐ نے صحابہؓکے ساتھ مل کر کھجوروں کے ۳۰۰ پودے لگائے۔ حضرت سلمانؓ کہتے ہیں کہ کھجور کا ایک پودا بھی ضائع نہیں ہوا۔ یہ آپؐ کی برکت تھی۔ آپؐ کی برکت کے اثرات وثمرات کے واقعات احادیث میں بہت زیادہ ہیں جن کا شمار مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ نے جن دعائوں کی تعلیم دی اور جو دعائیہ کلمات سکھائے ان میں ایک کلمہ برکت کا ہے۔ چنانچہ کھانے کے بعد کی یہ دعا سکھائی: اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَاَطْعِمْنَا خَیْرًا مِّنْـہُ۔(ترمذی)۔ میزبان کے لیے دعا: اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَھُمْ فِیْمَا رَزَقْتَہُمْ وَاغْفِرْلَھُمُ وَارْحَمْھُمْ ، نیا پھل دیکھنے پر اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ ثَمَرِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِیْ حَدِیْقَتِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِیْ صَاعِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِیْ مُدِّنَا اور دودھ یا دوسرا مشروب پیے تو یہ دعا کرے: اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْـہُ (ترمذی)۔ کھانے میں عام طور پر دونوں پہلو پیشِ نظر ہوتے ہیں: ۱- کھانے میں مادی برکت‘ ۲-روحانی و معنوی برکت۔ اسی لیے برکت کی دعا کی تعلیم دی گئی۔
برکت کا کلمہ دعائیہ کلمے اور دعا کے طور پر ہی استعمال ہوتا ہے تو ہمیں اپنی دعائوں میں اس کے معانی و مفاہیم کو دعا کرتے وقت سامنے رکھنا چاہیے اور دعا کی شرائط و آداب کا پوری طرح لحاظ رکھنا چاہیے‘ چاہے انسان خود اپنے لیے دعا مانگ رہا ہو یا کوئی دوسرا مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لیے دعا کر رہا ہو۔ ہر حالت میں دعا کے شرائط و آداب کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
آج عام تصور اور تاثر یہ ہے کہ ہمارے اعمال و افعال اور اشیا سے برکت اٹھ گئی ہے اور بے برکتی گھر کر آئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ برکت کا حقیقی تصور ہم سے اوجھل ہوگیا ہے اور یہ کلمہ صرف رسمی اور لفظی بول کے طور پر ہی بولا جاتا ہے۔ جسم اور تلفظ موجود ہے لیکن روح معدوم و مفقود ہے۔ ایک رسم ہے جو مبارک باد یا برکت کے کلمات بول کر ادا کی جا رہی ہے۔ بقول شخصے ’مسلمان اندر کتاب و مسلمانان اندر گور‘ کے مطابق برکت کے معنی اور مفہوم کتابوں میں اور وہ بھی پرانی کتابوں میںاور حقیقی برکت کی دعا کرنے والے قبروں میں جاپہنچے اور ہم بے برکتی کا شکوہ کرنے والے رہ گئے ہیں۔ برکت کی دعا کرتے وقت اس کے آداب میں درج ذیل باتوں کا ہونا ضروری ہے۔
آج ہماری دعائوں کے بے اثر ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے معانی و مفاہیم کا کوئی شعور نہیں ہوتا۔ صرف طوطے کی طرح چندبول بولے جاتے ہیں اور ان کے معانی پر دل و دماغ کو مرکوز نہیں کیا جاتا۔
چار صورتیں یہ ہیں: دعا اپنی اصل حالت میں قبول ہوجاتی ہے‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگا جائے وہی مل جائے۔ دوم یہ کہ دعا کرنے والے سے‘ اس پر آنے والی کوئی مصیبت ٹل جاتی ہے۔ سوم یہ کہ اس دعا پر کوئی اور عطیہ مل جائے اور چہارم یہ کہ اسے آخرت کے لیے اس کے نامۂ اعمال میں نیکی کے طور پر ذخیرہ کر دیا جائے۔ ان پہلوئوں کو سامنے رکھتے ہوئے دعا کرنی چاہیے کیونکہ کوئی بھی دعا جو شرائط و آداب کے ساتھ کی جائے وہ ضائع نہیں جاتی۔ان چار صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں وہ دعائیں قبول ہوتی ہیں جو سنت رسولؐ کے مطابق اور اس کے دائرے میں رہ کر کی جائیں۔
اکثر تاجر اور دکان دار‘ اشیا کی قیمت اور سامان کی اصلی قیمت بتانے میں جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے تجّار کو اس سے بچنے کی ہدایت فرمائی ہے: ’’جھوٹی قسموں سے مال تو فروخت ہوجاتا ہے لیکن اس مال سے ہونے والی کمائی سے برکت اُٹھ جاتی ہے‘‘۔(صحیح بخاری‘ مسلم‘ ابوداؤد اور ترمذی)
حرام اور ناجائز طریقے سے کمائی ہوئی دولت سے روحانی برکت تو چلی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس میں سے خیروبھلائی ختم ہوجاتی ہے اور ڈھیروں دولت اور کروڑوں روپے موجود ہونے اورزندگی کے عیش و عشرت کے تمام اسباب مہیا ہونے کے باوجود زندگی میں سکون و اطمینان‘ سُکھ و راحت حاصل نہیں ہوتی‘ آل اولاد میں فرمانبرداری و اطاعت نہیں رہتی‘ نیکی کے کاموں کی توفیق نہیں ہوتی اور زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ اور آخرکار اس سے مادی و ظاہری برکت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اس کی تشریح ایک حدیث مبارک میں اس طرح آئی ہے۔ حضرت قتادہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجارت میں زیادہ قسمیں کھانے سے پرہیز کرو کیونکہ اس سے پہلے تو کامیابی ہوتی ہے لیکن پھر بے برکتی ہوجاتی ہے (صحیح مسلم‘ نسائی اور ابن ماجہ)۔ اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے کسی کے لیے برکت کی دعا اور مبارک باد صرف جائز‘ پاکیزہ اور مباح باتوں‘ کامیابیوں اور نعمتوں پر دی جائے گی۔
آج ہمارے معاشرے میں عام طور پر ان باتوں کا لحاظ نہیں رکھا جاتا اور ہر جائز و ناجائز‘ کامیابی اور حلال و حرام طریقے اور ذریعے سے حاصل شدہ بات پر خیروبرکت کی دعائیں دی جاتی ہیں اور مبارک باد کے ڈونگرے برسا دیے جاتے ہیں۔ یہ بات شرعی‘ اخلاقی اور عقلی لحاظ سے غلط ہے۔ برکت‘ ہدیۂ تبریک اور مبارک باد کے سلسلے میں ایک بات یہ بھی مدنظر رہے کہ یہ کلمہ اسلامی شعار اور مسلم ثقافت کی علامت ہے۔ لہٰذا اسے سنجیدگی اور وقار اور کسی قابلِ قدر بات‘ کامیابی اور حصولِ نعمت کے موقعے پر ہی بولنا چاہیے۔ اسے مذاق بنالینا‘ مذاق کے طور پر استعمال کرنا اور معمولی یا غیر اہم باتوں پر موقع بے موقع بولنا درست نہیں ہے۔
اگر ہم برکت کے اس تصور کو سامنے رکھیں اور یہ یقین ہو کہ برکت عطا کرنے والی ذات صرف خدا تعالیٰ کی ہے‘ اس لیے نسبت بھی اسی سے ہو‘ اسی کی رضا کو پیش نظر رکھا جائے‘ اور دین و ایمان کے عملی تقاضے بھی پورے کیے جائیں تو جہاں انفرادی زندگی میں خدا کی برکات کو محسوس کیا جا سکے گا‘ وہاں اجتماعی زندگی میں اور اُمت کی سطح پر دیگر برکات و ثمرات کے علاوہ غلبہ و سربلندی بھی میسرآسکے گی۔ ان شاء اللہ!
حج عبادات میں اس لحاظ سے زیادہ نمایاں ہے کہ یہ کئی عبادات کو جمع کرتی ہے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ واحد عبادت ہے جو انسان کے روحانی‘ مالی اور بدنی‘ تینوں پہلوئوں پر مشتمل ہے۔ یہ خصوصیات نماز‘ روزہ اور زکوٰۃ میں یکجا نہیں ملتی ہیں۔
حج میں آدمی بیت اللہ کا سفر کرتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کی مکمل روحانی اصلاح ہوجائے۔ اس سفر کا آغاز وہ مکمل طور پر اپنے رب کی طرف لوٹ آنے کے اعلان سے کرتا ہے۔ اگر کسی نے اس پر ظلم کیا ہوتا ہے تو وہ انتقام کے بجاے اس معاملے کو اللہ کے سپرد کردیتا ہے۔ اپنے تمام حسابات کا تصفیہ کر کے اپنے اہل و عیال کے لیے نفقے کا اہتمام کرتا ہے‘ تاکہ اس کی واپسی تک اُن کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ اس کے ساتھ وہ یہ بھی خیال رکھتا ہے کہ اس کا مال حلال اور پاک ہو‘ نیز اس دوران وہ اپنے بارے میں یا فقرا و مساکین پر خرچ کرنے میں بخل میں مبتلا نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے نفس کے خلاف جہاد کے لیے میدان جنگ میں آجاتا ہے اور اس واقعے کی یاد تازہ کرتا ہے جب حضرت ابراہیم ؑاور ان کی بیوی ہاجرہ اور بیٹے اسماعیل ؑنے شیطان کے وسوسوں اور اکساہٹوں کے باوجود اپنے رب سے وفا کرتے ہوئے قربانی کا نذرانہ پیش کیا۔
اس طرح حاجی اپنی اس عبادت کے دوران کئی پہلوئوں سے تربیت حاصل کرتا ہے‘ جن میں توبہ‘ انفاق‘ سخاوت‘ سچائی‘ بھلائی‘ احسان اور صبرنمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ نیز وہ حرص اور بخل جیسی بری عادتوں سے بھی چھٹکاراحاصل کرلیتا ہے۔
وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا -
لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے۔(اٰل عمرٰن۳:۹۷)
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟آپؐ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لانا۔پوچھا گیا کہ اس کے بعد؟ فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ۔پوچھا گیا: اور اس کے بعد؟فرمایا: حج مبرور‘ یعنی مقبول حج ۔
حج‘ ماہ رمضان کے بعد ادا کیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی تربیت دیتا ہے۔ اس کے فوراً بعد حج کا حکم اس حکمت کے تحت دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے اخلاقی اور اجتماعی اقدارکے نظام کا تسلسل جاری و ساری رہے‘ اور ان کی روحانی تربیت اور تزکیۂ نفس کا جو سلسلہ رمضان کے روزوں اور قیام اللیل کے ذریعے شروع ہوا تھا‘ وہ مسلسل جاری رہے۔
قرآن پاک کے تربیتی نظام کے مطابق جس طرح رمضان میں برے اعمال سے چھٹکارے اور روحانی پاکیزگی کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے‘ اسی طرح حج کے مہینوں میں عملی طور پر انسان کی ذات اور اس کے نفس کی اصلاح اور تزکیہ و تربیت کو خصوصی ہدف بنایا جاتا ہے‘ تاکہ اسے ظلم و زیادتی اور گناہ کے کاموں میں مبتلا ہونے سے بچایا جا سکے۔ خصوصاً‘ جب کہ ان حرمت والے مہینوں میں اللہ تعالیٰ نے بے گناہوں کی جان کی حفاظت کے پیش نظر قتل و غارت کو حرام ٹھیرایا ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں انسانی جان کے تقدس و حرمت کا جذبہ بیدار کرتا ہے‘ اور یہ واضح کرتا ہے کہ برے اعمال سے اپنی حفاظت اور اچھے اعمال سے اپنے آپ کو مزین کرنے اور اپنی ذات کے تزکیہ و تربیت کے حوالے سے حج کا کیا مقام ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَلْحَجُّ اَشْھُرٌ مَّعْلُوْمَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلاَ رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍیَّعْلَمْہُ اللّٰہُ وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی وَاتَّقُوْنِ یٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ o (البقرہ ۲:۱۹۷)
حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے‘ اسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل‘ کوئی بدعملی‘ کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو اور جو نیک کام تم کرو گے‘ وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ سفرِحج کے لیے زادِراہ ساتھ لے جائو‘ اور سب سے بہتر زادِراہ پرہیزگاری ہے۔ پس اے ہوش مندو! میری نافرمانی سے پرہیزکرو۔
کسی مقام یا زمانے کو محترم قرار دینے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمان افہام و تفہیم‘ باہمی تعاون‘ چشم پوشی اور الفت و محبت جیسی اقدار کو اپنانے اور غیظ و غضب‘ لڑائی جھگڑے‘ بغض و حسد‘ مخالفت اور تفرقہ بازی جیسے رذائل سے اپنے دامن کو بچائے رکھنے کی تربیت حاصل کریں۔ اس کے نتیجے میں اس مخصوص مدت میں اور مخصوص مقامات پر میسر امن و سکون کے لمحے ہمیں اپنی زندگی کی حقیقی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
آج مسلمان ان اخلاقی قدروں کے ذریعے تربیت حاصل کرنے کے بے حد محتاج ہیں کیونکہ اس وقت ہماری صفوں میں افتراق و انتشار اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ آج امت مسلمہ جس پستی و انحطاط سے دوچار ہے‘ اس سے نجات کے لیے دینی اقدار سے آراستہ کرنے کے علاوہ کوئی دوسری صورت نہیں۔
حج کے موقع پر اس اہم ترین اجتماع کے دوران‘ جس میں پوری دنیا سے آئے ہوئے عازمینِ حج کلمہ توحید کے جھنڈے تلے ایک سالانہ کانفرنس میں شریک ہوتے ہیں‘ سب اس بات پر خوشی سے سرشار ہوتے ہیں کہ اُن کا تعلق عقیدۂ توحید پر ایمان رکھنے والی ایک اُمت سے ہے اور اُن کا یہ اجتماع اُن کی مقدس سرزمین میں منعقد ہو رہا ہے۔ قرآن کے نظامِ تربیت کے تحت اس سالانہ اجتماع کا ایک مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو عقیدئہ توحید سے وابستگی‘ اور اللہ کے لیے محبت کی بنا پر اپنے مقامی ماحول‘ مسائل اور سیاسی اور معاشی حالات کے بارے میں باہمی مشاورت‘ بحث و مباحثے ‘ تبادلۂ خیال اور باہمی تعارف و قربت کا موقع فراہم کیا جائے۔
بیت اللہ کے طواف کے دوران محدود دائرے میں چکر لگاتے ہوئے حاجی نظم و ضبط کی تربیت بھی حاصل کرتا ہے اور ایمان کی سچائی پر اس کا یقین بھی بڑھتا جاتا ہے‘ اور اس جگہ کی عظمت میں مزید اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ پھر جب وہ کعبے کا غلاف پکڑتا ہے تو اس دوران اسے اللہ کے لیے خشوع اور عاجزی اور اس کے سامنے گڑگڑانے کی تربیت حاصل ہوتی ہے اور اُسے اطمینانِ قلب کی بھرپور کیفیت کا احساس ہوتا ہے۔ پھر جب وہ حجراسود کا بوسہ لیتا ہے تو اس کیفیت میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ یہ عمل انسان کو اپنے رب کی طرف لوٹنے کا احساس دلاتا ہے اور اس سے انسان میں رب العالمین کے ساتھ قربت کا احساس مزید تقویت پاتا ہے۔ اسی طرح حاجیوں کا حجراسود تک پہنچنے کے لیے بھرپور کوشش اُن کے اندر مشترکہ مقاصد کے لیے پختہ عزم اور بلند ارادوں میں مضبوطی اور ان کے حصول کے لیے جدوجہد کا احساس پیدا کرتا ہے۔ رنگ و نسل کے اختلاف کے باوجود ایک گھر کی زیارت کرتے ہوئے ‘حرم مکی کے چاروں طرف محبت اور پاکیزگی کا دور دورہ ہوتا ہے جو حاجی کو اس گھر کے رب کی عظمت کے احساس سے سرشار رکھتا ہے۔
عرفات کے میدان میں وقوف کے لیے موجود جمِ غفیر سے یومِ حشر کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ یہاں مخلوقِ خدا بڑی تعداد میں جمع ہوتی ہے‘ اگرچہ ان کی زبانیں مختلف ہوتی ہیں مگر ہر ایک اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس سے دعائیں مانگتا ہے اور سفید چادروں میں ملبوس سراپا عجز و انکسارہوتا ہے۔ انسانوں کے ہجوم بے کراں میں اور سورج کی تیز شعاعوں کی زد میں ایک دوسرے کے سامنے ہوتے ہیں۔ پسینہ بہہ رہا ہوتا ہے اور وہ اپنے رب کے آگے تسلیم و رضا کی تصویر بن کر دن بھر اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔
مسجد نمرہ کے مقام پر پہنچتے ہیں تو یہ خیالی منظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہیں اور خطبۂ حجۃ الوداع پیش فرما رہے ہیں‘ جس میں وہ مسلمانوں کو خبر دے رہے ہیں کہ ان کا دین مکمل ہوگیا ہے۔ یہ آواز دلوں میں گھر کر جاتی ہے۔ اس سے سفرِحیات کے اختتام کا یقین پختہ ہوجاتا ہے۔ ہر حاجی کی دل کی امنگ ہوتی ہے کہ اس کا خاتمہ بخیر اور حالت ِایمان میں ہو۔
جیسے ہی غروبِ آفتاب کا وقت قریب ہوتا ہے تو حاجی کوچ کی تیاری شروع کر دیتا ہے‘ گویا کہ وہ دنیا کو خیرباد کہہ رہا ہے۔ لوگوں کی دوڑ دھوپ شروع ہوجاتی ہے۔ ہر ایک کو کسی سواری کی تلاش ہوتی ہے تاکہ بَرُّ الأمان میں پہنچ سکے۔ مشعر الحرام سے کنکریاں اٹھا کر آدمی اپنے دل میں یہ عزمِ مصمم لے کر نکلتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کے ساتھ وفاداری کرے گا اور اس غلط رسم کو توڑ کر رکھ دے گا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰکُمْ وَاِنْ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَo ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ o (البقرہ ۲:۱۹۸-۱۹۹) ’’پھر جب عرفات سے چلو تو مشعرِحرام (مزدلفہ) کے پاس ٹھیر کر اللہ کو یاد کرو اور اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمھیں کی ہے‘ ورنہ اس سے پہلے تو تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے۔ پھر جہاں سے اور سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چاہو۔ یقینا وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔
پھر جب حاجی منیٰ میں ٹھیرتا ہے تو اپنے ساتھ جو کنکریاں لے کر آیا ہوتا ہے اُن کے ذریعے شیطان کو مارتاہے۔ گویا ان چھوٹے چھوٹے پتھروں سے وہ اُسے سنگ سار کرتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اُن تمام رذائل سے بچنے کی کوشش کرے گا جو شیطان نے انسان کے لیے تیار کر رکھے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے حاجی کو سچائی‘ اخلاص‘ نصیحت افروزی اور پختہ ارادے کا درس ملتا ہے۔ وہ اس دوران نفسانی خواہشات اور اس کی شرارتوں کو پاے حقارت سے ٹھکراتا ہے‘ کیونکہ یہی چیزیں افراد اور معاشروں کی ہلاکت کا سبب بنتی ہیں۔
حاجی کو نفس کی آگ سے اگر کوئی چیز بچا سکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہوجائے۔ دورانِ حج اس کا نفس اطمینان و سکون اور قناعت کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔ اس کی کیفیت انفاق و عطا کے ایک بہتے دریا کی سی ہوتی ہے۔ مسلمان جب اللہ کی راہ میں کوئی تحفہ پیش کرتا ہے تو اس سے قربانی‘ وفاداری‘ ایثار‘ اخلاص اور تسلیم و رضا کی اقدار کو فروغ ملتا ہے۔ وہ جب اللہ کی راہ میں کسی جانور کے گلے پر چھری چلاتا ہے تو جانور کے خون کے گرتے ہی اس کے گناہ بھی دھل جاتے ہیں۔ اس طرح یہ قربانی طہارت وپاکیزگی کے ساتھ قوتِ ارادی کے لیے بھی حجت کا کام دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمھارے لیے شعائراللہ میں شامل کیا ہے‘ تمھارے لیے اُن میں بکثرت فوائد ہیں‘ پس انھیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو‘ اورجب (قربانی کے بعد) ان کی پیٹھیں زمین پر ٹک جائیں تو اُن میں سے خود بھی کھائو اور اُن کو بھی کھلائو جو قناعت کیے بیٹھے ہیں‘ اور اُن کو بھی جو اپنی حاجت پیش کریں۔ ان جانوروں کو ہم نے اس طرح تمھارے لیے مسخر کیا ہے‘ تاکہ تم شکریہ ادا کرو۔ نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں‘ نہ خون‘ مگر اسے تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس نے اُن کو تمھارے لیے اس طرح مسخرکیا ہے تاکہ اس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اس کی تکبیر کرو اور اے نبیؐ! بشارت دے دے نیکوکار لوگوں کو‘‘۔(الحج ۲۲:۳۶-۳۷)
قربانی کا یہ جذبہ حاجی کو غلط اقدار اور شیطانی وسوسوں اور اقدامات کی بیخ کنی کے لیے قوت اور ہمت عطا کرتا ہے۔ خصوصاً اس وقت‘ جب انسان کا اپنے رب سے قرب و محبت‘ خشوع وخضوع اور اخلاص کا جذبہ اپنی انتہا پر ہوتا ہے۔ اس وقت شر کے مقابلے کے لیے اس کا عزم مزید پختہ ہو جاتا ہے اور وہ آگے بڑھ کر اس کی راہ روکنے کے لیے اپنے اندر قوت محسوس کرتا ہے۔ گویا حج ایک ایسی عبادت ہے کہ اس کے ذریعے اس مقدس سرزمین میں قیام کے دوران حاجی کے احساسات میں انقلاب آجاتا ہے۔ اس کا دل اللہ تعالیٰ کے خوف و خشیت سے مالا مال ہوجاتا ہے۔ وہ یہ عزم صمیم لے کر گھر لوٹتا ہے کہ وہ خدا کی نافرمانی‘ گناہوں اور تمام رذائل کو اس طرح چھوڑ دے گا جس طرح اُس نے ارض مقدس میں اپنے رب کے حضور اپنے روز مرہ کے لباس کواتار کر اللہ کے رنگ میں اپنے آپ کو رنگ لیا تھا۔ اس سے اُسے یہ یاد دہانی بھی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وفاداری کرے گا‘ نیز انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر حاجی کو اسلامی جماعت کی قوت کا احساس بھی دلاتا ہے اور اس کے دل میں اجتماعیت کے ساتھ جڑے رہنے کا جذبہ بھی بیدار ہو جاتا ہے جس کے لیے وہ ہر قسم کی قربانی دینے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔
حج کے بعد آدمی برائیوں کے میل سے پاک ہو جاتا ہے۔ اس کا دل صدف سے نکلے ہوئے سچے موتی کی مانند شفاف ہوجاتا ہے اور نتیجتاً اس کے کردار میں پاکیزگی و پختگی آجاتی ہے۔ اس کا ارادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ اس کی روح فتح و کامرانی کے جذبے سے سرشار ہوجاتی ہے جو اس کے حوصلوں اور عزائم کی بلندی کا ذریعہ بنتی ہے۔ وہ جب اس سفر سے واپس لوٹتا ہے تو وہ ایک نیا اور بدلا ہوا انسان ہوتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَنْ حَجَّ فَلَمْ یَرْفَثْ وَلَمْ یَفْسُقْ خَرَجَ مِنْ ذُنُوْبِہٖ کَیَوْمٍ وَلَدَتْـہٗ اُمُّہٗ، جس نے حج کیا اور اس میں نہ کوئی شہوانی باتیں کیں اور نہ کوئی نافرمانی کا کام کیا تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی اس کی ماں نے اُسے جنا ہو! (ماخوذ: ماہنامہ الحج والعمرہ‘سعودی عرب‘ جلد۵۸‘ عدد۸‘ اکتوبر ۲۰۰۴ئ)
اللہ کی بندگی کی روح یہ ہے کہ ہم صرف اسی کے محتاج اور فقیر بن جائیں۔ محتاجی اور فقر کے سوا انسانی زندگی کی کوئی اور تعبیرممکن نہیں ہے۔ جتنا محتاج‘ جتنا فقیر‘ جتنا بے بس‘ جتنا لاچار اور بے کس انسان ہے‘ اتنی شاید ہی کوئی دوسری مخلوق ہو۔
ایک بچے کے آنکھ کھولتے ہی اگر دو انسان اس کی خبرگیری کے لیے‘ اللہ تعالیٰ نے متعین نہ کر دیے ہوں‘ تو انسان کا بچہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ قدم قدم پر‘ لمحے لمحے پر‘ ہر جگہ انسان‘ کائنات کی قوتوں کے آگے‘ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ اگر زلزلہ آجائے‘ آتش فشاں پھٹ جائے‘ سیلاب آجائے‘ آندھی اور طوفان آجائے‘ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ جسم کے اندر اگر ایک خلیے کا مزاج بگڑ جائے تو کینسر کا مرض موت کا پروانہ لے کر آجاتا ہے‘ اورکوئی علاج کارگر نہیں ہوتا۔ معمولی زکام بھی ہوجائے تو اس کی دوا ابھی تک انسان کے پاس نہیں ہے۔ وہ اپنے نزلے‘ زکام کا علاج نہیں کر سکتا ہے۔ اگردل دھڑکنا بند ہو جائے تو وہ اس کی دھڑکن دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ انسانی زندگی کو وہ اگر لوٹانا بھی چاہے تو نہیں لوٹا سکتا۔ اُس کا اِس پر بس نہیں چلتا۔
گویا ہر طرف انسان کی حاجت مندی‘ محتاجی اور فقیری ہے جو اس کی زندگی میں رچی بسی ہے۔ اسی محتاجی اور فقیری کا نتیجہ ہے کہ انسانی زندگی میں سب سے غالب اور نمایاں پہلو اگر کوئی ہے تو وہ یہ کہ وہ اپنے آپ کو نقصان سے بچائے۔ اس وجہ سے جس سے بھی نقصان پہنچتا ہے اور جس سے بھی فائدہ ملنے کی امید ہوتی ہے‘ وہ اس سے نسبت اور تعلق قائم کرلیتا ہے۔ انسانی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو یہی پہلو غالب نظر آئے گا۔ کہیں وہ کسی غیرمعمولی طاقت اور قوت کے خوف‘ ڈر اور ہیبت سے اس کے آگے جھک جاتا ہے‘ ماتھا ٹیک دیتا ہے اور اس کو خدائی کا درجہ دے کر بندگی کرتا ہے اور پناہ مانگتا ہے۔ وہ اپنی حاجات ‘ ضروریات‘ امیدوں اور تمنائوں کے برآنے کے لیے ہر ایسی ہستی اور قوت کے آگے ہاتھ پھیلا دیتا ہے‘ اُس کے در پہ جھک جاتا ہے‘ سجدے میں گرجاتا ہے‘ گڑگڑاتا اور دعائیں مانگتا ہے جس سے اسے حاجت روائی‘ مشکل کشائی‘ مرادوں کے برآنے اور دعائوں کی قبولیت اور امن و تحفظ کی امید و توقع ہوتی ہے۔ اس سب کے پیچھے بنیادی سوچ یہی ہوتی ہے۔ پوجا و پرستش اور عبادت و بندگی‘ اور محتاجی وفقر‘ اور مذاہب و ادیان کی تشکیل میں بھی یہی فلسفہ و فکر کارفرما ہے۔
اللہ کی بندگی کی روح اور حقیقت یہ ہے کہ فقر‘ حاجت روی اور محتاجی کا یہ تعلق صرف ایک ذات سے‘ یعنی اللہ سے ہو۔ انسان صرف اُسی کی بندگی کرے نہ کہ کسی اور کی۔ زمین کے زلزلے سے گھبرا کر وہ زمین کی بندگی نہ کرے‘ نہ سورج‘ چاند‘ ستاروں کی پرستش کرے‘ نہ ہوائوں اور بارش کی اور نہ اپنی یا اپنے جیسے کسی انسان کی پوجا کرے‘ بلکہ وہ یہ سمجھے کہ جو کچھ بھی مل سکتا ہے صرف اللہ ہی سے مل سکتا ہے اور سارے اختیارات صرف اُسی کے پاس ہیں۔ ہر چیز اس کے خزانے میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے پاس ذرہ برابر بھی اختیار نہیں ہے‘ نہ کچھ دینے کے لیے اور نہ کچھ چھیننے کے لیے۔ زندگی و موت‘ نفع و نقصان اور خیروشر‘ سب اس کے اختیار اور قبضۂ قدرت میں ہے۔جس نے اس بات کو سمجھ لیا اوراس پر یقین کر لیا‘ اور پھر اس پر اپنی زندگی کی تعمیرکی‘ صرف اُسی کی بندگی مکمل ہوگی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہم کو دعا کے انداز میں اپنے ساتھ تعلق رکھنے کی تعلیم دی اور اس تعلیم کو بار بار دہرانے کی بھی ہدایت کی اور حکم دیا کہ یوں کہو: اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُo (الفاتحہ ۱:۴) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھی سے مدد مانگتے ہیں‘‘۔ دراصل یہی بندگی کی روح اور بندگی کی معراج ہے۔
سورۃ الفاتحہ کی اس آیت کی تشریح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اَلدُّعَائُ ھُوَ العِبَادَۃُ ،’’مانگنا ہی تو بندگی ہے‘‘۔ آپؐ نے مزید فرمایا: اَلدُّعَائُ مُخُّ العِبَادَۃِ،یعنی مانگنا عبادت کا مغز‘ اس کی روح اور اس کا جوہر ہے۔ لہٰذا جو اللہ کا نام لے‘ اس کا جھنڈا اٹھائے اور طلب کی نسبت اللہ کے علاوہ دوسروں سے بھی رکھے تووہ توحید کے راستے میں نقص‘ کمزوری اور ضعف کا شکار ہے۔ توحید کے مطابق اللہ کی بندگی کامل اس کی ہے جو خوف اور طمع کی نسبت صرف اللہ سے رکھے۔ ڈرے تو صرف اُسی سے ڈرے‘ اور اگر کوئی امید ہو تو صرف اسی سے ہو۔
یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا (السجدہ ۱۶:۳۲)
اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں۔
گویا وہ خوف اور ڈر سے‘ لالچ اور طمع سے اور امید و حاجت روی سے اگر مانگتے ہیں یا پکارتے ہیں تو صرف اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے وہ سارے انعامات ہیں جو نہ انسان نے دیکھے‘ نہ سنے اور نہ وہ تصور کرسکتا ہے۔ اسلام میں بندگی ومحتاجی اور فقر کی یہی روح اور حقیقت ہے۔
اللہ کی بندگی کی روح یہی ہے کہ ہم اُس کے آگے ہاتھ پھیلائیں‘ اسی کے در پر بھکاری بن کر جائیں‘ اسی سے مانگیں‘ اور یہ سمجھیں کہ جو کچھ مل سکتا ہے صرف اُسی سے مل سکتا ہے‘ اور اگر کوئی چھین سکتا ہے تو صرف وہی چھین سکتا ہے۔
ایک طویل حدیث قدسی میں جو حضرت ابوذر غفاریؓ سے روایت کی گئی ہے‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: تم سب بھوکے ہو‘ بھوکے رہو گے سوائے اس کے جس کو میں کھانا کھلائوں۔ تم سب بے لباس رہو گے سوائے اس کے جس کو میں کپڑا پہنائوں۔ تم سب گمراہ رہو گے سوائے اس کے جس کو میں ہدایت دوں۔ تم دن رات گناہ کرتے ہو‘ اور مجھ سے معافی مانگتے ہو تو میں معاف کر دیتا ہوں۔پھر فرمایا کہ تم مجھ سے ہدایت مانگو۔
گویا محتاجی صرف دنیا کی چیزوں کے لیے نہیں ہے‘ بلکہ محتاجی ہر چیزکے لیے ہے۔ زندگی کیسے بسر کریں؟ سیاست کیسے ہو؟ معیشت کیسی ہو؟ یہ بھی محتاجی میں شامل ہے۔ یہ سمجھنا کہ یہ رہنمائی کہیں اور سے مل سکتی ہے‘ یہ بھی خلافِ توحید ہے۔ اس لیے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ: تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمھیں ہدایت دوں گا‘مجھ سے کھانا مانگو میں تمھیں کھلائوں گا‘ مجھ سے کپڑا مانگو میں تمھیں پہنائوں گا‘ مجھ سے معافی مانگو میں تمھیں معاف کر دوں گا۔
پھر فرمایا:اس سے میری کوئی غرض نہیں ہے۔ ’’سارے انسان‘ تمھارے پہلے ‘ اور بعد میں آنے والے جِن اور مخلوق سب مل کر انتہائی متقی ہوجائیں تو میری خدائی میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اور اگر سب کے سب مل کربدترین نافرمان ہوجائیں‘ تب بھی میری خدائی میں کوئی کمی نہیں آئے گی‘ اور سب کے سب کسی میدان میں جمع ہو کے جو مانگنا ہے وہ مانگ لیں‘ جو دل میں آئے مانگ لیں‘ اور میں وہ سب دے دوں تو میرے خزانوں میں اس سے زیادہ کمی نہیں ہوگی کہ سوئی سمندر میں ڈال کر نکال لی جائے (تو اس کے سرے پر جو پانی لگا رہ جاتا ہے‘ اس کے برابر) اے میرے بندو! تم مجھ کو چھوڑ کر کس کے پاس جاتے ہو! (مشکوٰۃ المصابیح‘ باب الاستغفار والتوبہ)
وہ ہمیں بلاتا ہے‘ پکارتا ہے۔ غرض تو ہماری ہے‘ محتاج توہم ہیں وہ توغنی ہے‘ ہم فقیر ہیں۔ اگر اسے خدا کی شان میں گستاخی نہ سمجھا جائے تو وہ ہم کو ایسے پکارتا ہے اوربار بار پکارتا ہے کہ آئو‘ مجھ سے مانگو‘ نعوذ باللہ گویا وہ محتاج اور فقیر ہو اور ہم غنی ہوں اور ہمیں کوئی پروا نہ ہو۔ ہم رات سے صبح‘ صبح سے رات کریں اور بھول کر بھی نہ سوچیں کہ اس سے ملنا ہے‘ اس سے مانگنا ہے۔ مگر وہ ہے کہ جو بار بار پکارتا ہے کہ آئو اپنے گناہوں کی معافی مانگو‘تاکہ میں تم کو معاف کر دوں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: جو اللہ سے سوال نہیں کرتا ہے‘ اللہ اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوتا ہے‘ غصہ کرتا ہے جو اس سے سوال نہیں کرتا اور مانگتا نہیں ہے۔ بندگی‘ محتاجی اور فقر یہی توہے کہ اس نے ہم کو پیدا کیا ہے‘وہ ہمارا خالق اور ہم اس کی مخلوق ہیں‘ اور مخلوق ہونے کے ناطے ہم اپنے ارادے سے اس کے در پر جائیں‘ اسی کے بھکاری بن کر جائیں اور اسی سے مانگیں۔
اگر آپ غورکریں تو مانگنے میں‘ ایک تو مانگنے والا ہے جو ہم ہیں‘ اور ایک وہ ہے جس سے مانگا جائے۔ ہماری کیفیت یہ ہے کہ ہم فقیر ہیں‘ محتاج ہیں‘ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے‘ نہ اپنی آنکھ پر‘ نہ اپنے کان پر اور نہ اپنے جسم پر۔ ہمارا اختیار تو جسم کے اندر ایک چھوٹے سے خلیے پر بھی نہیں۔ اگر اس میں فساد پیدا ہو جائے تو ہم چند دن میں گل سڑ کر مرجاتے ہیں اور کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ ہمیں اپنے جسم پر اتنا بھی اختیار نہیں ہے۔ اس قدر لاچار اور بے بس ہیں ہم۔ مگر آدمی اپنے آپ کو نہ جانے کیا سمجھتا ہے۔
دوسری طرف ایک وہ ہے کہ جس سے مانگا جائے‘ یعنی اللہ رب العزت۔ اس کا حال یہ ہے کہ ہماری کسی نیکی سے‘ دعا سے اس کی خدائی میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا لیکن ہم جو مانگیں‘ وہ ہم کو دے دیتا ہے اور اس کے ہاں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ وہ خود پکارتا ہے کہ آئو مجھ سے ہدایت مانگو میں تمھیں ہدایت دوں گا‘ کھانا مانگو‘ کھانا کھلائوں گا‘ پانی مانگو پانی دوں گا‘ شفا مانگو شفا دوں گا ۔ یہی رب سے وہ حقیقی تعلق ہے جس کو توحید کے امام عالی مقام حضرت ابراہیم ؑ نے یوں ادا کیا کہ تمام جھوٹے معبود میرے دشمن ہیں‘ سواے ایک رب العالمین کے:
فَاِنَّھُمْ عَدُوٌّ لِّیْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَo الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَھُوَ یَھْدِیْنِo وَالَّذِیْ ھُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِo وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَیَشْفِیْنِo وَالَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیِنِo وَالَّذِیْٓ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَلِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِo (الشعرائ۲۶: ۷۷-۸۲)
میرے تو یہ سب دشمن ہیں‘ بجز ایک رب العالمین کے‘ جس نے مجھے پیدا کیا‘ پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔ جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے اور جب بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا۔
مانگنے والا اور جس سے مانگا جائے‘ ان دونوں کے علاوہ ایک تیسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ کیا مانگا جائے؟ آدمی کیا مانگتا ہے‘ وہ جس کی طلب دل کے اندر ہوتی ہے۔ پیاسا پانی مانگتا ہے‘ بھوکا کھانا مانگتا ہے‘ بے لباس کپڑا مانگتا ہے‘ تو گویا جس کی واقعی حاجت ہوتی ہے‘ واقعی طلب ہوتی ہے‘ اسی کے لیے آدمی ہاتھ پھیلاتا ہے۔ چھوٹا سا کام درپیش ہو تو آدمی ایم این اے وغیرہ کے گھر کے دس چکر لگاتا ہے کہ کسی طرح میرا کام ہوجائے۔ اگر کہیں اس سے اُوپر تعلق پیدا ہوجائے‘ وزیراعظم کے ہاں جانے کا موقع مل جائے‘ تو آدمی بے چین ہو کے دوڑا دوڑا جا کے کام کروائے گا۔
پس جس چیز کی طلب ہوتی ہے ‘ حرص ہوتی ہے‘ اس کے لیے دل کی گہرائیوں سے آواز اٹھتی ہے اور انسان اس کے لیے پکار اٹھتا ہے۔ اگر دل میں طلب‘ حرص و لالچ نہ ہو‘ کوئی پیاس اور بھوک نہ ہو‘ کوئی تڑپ اور بے قراری نہ ہو‘ تو اس کیفیت میں مانگنے پر ملنا مشکل ہے‘ اور دعا کا قبول ہونا بھی مشکل ہے۔
دعائوں کے ذریعے اللہ سے اور صرف اللہ سے خوف اور لالچ کا تعلق قائم ہوتا ہے۔ یہ تعلق بندگی اور عبادت کی روح ہے۔
دعاکا ایک اور پیرایہ یہ ہے کہ دعا تعلیم و تربیت اور تزکیے کا ذریعہ ہے۔ ہم منطق چھانٹیں‘ دلائل دیں‘ بڑی لمبی چوڑی تقریر بھی کریں مگر اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کے چار الفاظ میں جو تعلیم دی گئی ہے‘ وہ ہم نہیں سمیٹ سکیں گے۔جو کچھ ] اور جیسا[ ہم کو ہونا چاہیے‘ اس کو دعا بنا کر‘ طلب اور خواہش کی طرح ہماری زبان پر جاری کر دیا گیا ہے۔ گویا جو کچھ ہم مانگ رہے ہیں اس کی طلب‘ اس کا لالچ‘اس کی حرص بھی دل کے اندر ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ دل میں اگر اس چیز کی پیاس نہ ہو‘ یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ہم کو کیا چاہیے یا کیا مانگنا ہے؟ تو پھر اس کی قبولیت بھی مشکل ہے۔ لہٰذا دعا کرنا یا مانگنا صرف اتنا ہی نہیں کہ اللہ کے آگے گڑگڑایا جائے اور التجا کی جائے‘ بلکہ جو کچھ ہم مانگ رہے ہیں اور جیسا بننا چاہ رہے ہیں‘ اس کے حصول اور ویسا بننے کی کوشش بھی لازم آجاتی ہے۔ یہی تزکیہ و تربیت کا وہ عمل ہے جو دعا کے مانگنے کے ساتھ فطری انداز میں جاری و ساری ہوجاتا ہے۔ دعا اللہ تعالیٰ سے ہمارا تعلق ہی نہیں جوڑتی‘ بلکہ وہ ہم کو یہ بھی بتاتی ہے کہ ہم کو کیسا بننا چاہیے‘ کیسا ہونا چاہیے اور دل میں خواہش‘ لالچ‘ تڑپ اور طلب کس چیز کی ہونی چاہیے۔
دعائیں قرآن مجید میں بھی مذکور ہیں‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ آپؐ کی دعا ہے۔ ایسے ایسے الفاظ میں‘ایسے ایسے مضامین کی‘ ایسے خوب صورت اور مؤثر پیراے میں دعائوں کی یہ تعلیم دی گئی ہے کہ دل بے اختیار ہوجاتاہے ‘روح وجد میں آجاتی ہے اور بندہ اپنے رب ہی کا بن کے رہ جاتا ہے۔ اگر ہم ان دعائوں کو دیکھیں‘ ان کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ ہم کو کیا مانگنا چاہیے‘ اور کیسا بننا چاہیے اور اللہ سے ہمارا تعلق کیسا ہونا چاہیے۔
دعا اللہ کو یاد کرنے کی بھی ایک بڑی عمدہ‘ نادر اور نفیس صورت ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ہم سے ہم کلام ہوتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں: ’’اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ، سبحان اللہ، الحمدللہ‘‘۔ تو ہم اللہ کو یاد کرتے ہیں‘ لیکن جب ہم اس سے دعا مانگتے ہیں تو ہم صرف اس کو یاد ہی نہیں کرتے‘ بلکہ ہم اس سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ اس سے بات چیت کرتے ہیں۔ اگر کسی کو اللہ سے بات چیت کرنے کا موقع مل جائے تو یہ بہت بڑی نعمت اور بہت بڑی سعادت ہے۔ صبح و شام انسان کو حاجات پیش آتی ہیں‘ ضروریات آن پڑتی ہیں‘ اگر آدمی صبح و شام‘ رات دن‘ ہر موقع پر اللہ سے مانگتا رہے تو پھر یہ کیفیت ہوتی ہے: اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَامًا وَّ قُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ(ٰاٰل عمرٰن۳:۱۹۱)، ’’جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے‘ ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں‘‘۔ یہ کیفیت ہماری بھی بن سکتی ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام‘ اللہ تعالیٰ کے بڑے محبوب نبی اور رسول تھے اور اس کی راہ میں انھوں نے بڑی محنت اور جدوجہد کی ہے۔ ساڑھے نوسو سال تک رات دن‘ کھلے چھپے اپنی قوم کو پکارا‘ مگر سواے انکار اور مایوسی کے‘کچھ ہاتھ نہ آیا۔ ان کی قوم نے مان کر نہ دیا اور ایک نہ سنی بلکہ انھیں جھٹلا دیا۔ اس حالت میں ان کی زبان سے ایک دعا نکلی جوبہت مختصر سی دعا ہے:
اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ o (القمر۵۴:۱۰)
میں مغلوب ہوچکا‘ اب تو ان سے انتقام لے۔
یہ تین الفاظ کی دعا ہے‘ لیکن اس کی پشت پر ساڑھے نو سو سال رات دن کی محنت تھی۔ اس دعا نے زمین و آسمان کو ہلا کر رکھ دیا اور اس طرح قبول ہوئی :
فَفَتَحْنَـآ اَبْوَابَ السَّمَآئِ بِمَآئٍ مُّنْھَمِرٍط وَّفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَی الْمَآئُ عَلٰٓی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ o (القمر ۵۴:۱۱-۱۲)
تب ہم نے موسلادھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا‘ اور یہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے لیے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا۔
بظاہریہ چھوٹی سی دعا تھی۔ لیکن ایک ایسے بندے کے دل و زبان سے نکلی تھی جو رات دن اسی مغلوبیت کے میدان سے گزر رہا تھا۔
رَبِّ اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ (القصص ۲۸:۲۴)
پروردگار!جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے میں اُس کا محتاج ہوں۔
اس پکار کے نتیجے میں ان کے لیے بھی راستے کھل گئے‘ پناہ بھی ملی‘ مغفرت بھی ملی‘ دشمن بھی تباہ و برباد ہوا اور مقامِ عبرت بن گیا‘ نیز غلبہ بھی ملا‘ سب کچھ ان کے حصے میں آیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن دعائوں کی تعلیم دی ہے‘ ان دعائوں میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسے تعلق کا جس سے سب کچھ مل سکتا ہے‘ ایک ایک لفظ سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔
یہ دعا‘ عرفات کے میدان کی دعا ہے۔ لیکن کسی وقت بھی مانگی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی بندہ رات کی تنہائی میں بھی مانگ سکتا ہے اور دن میں بھی :
اِلٰھِیْ عَبْدُکَ بِبَابِکَ فَقِیْرُکَ بِبَابِکَ مِسْکِیْنُکَ بِبَابِکَ سَائِلُکَ بِبَابِکَ ذَلِیْلُکَ بِبَابِکَ ضَعِیْفُکَ بِبَابِکَ ضَیْفُکَ بِبَابِکَ یَارَبَّ الْعٰلَمِیْنَ٭
میرے معبود‘ تیرا بندہ تیرے در پر ہے‘ تیرا فقیر تیرے در پر ہے‘ تیرا مسکین تیرے در پر ہے‘ تیرا سائل تیرے در پر ہے‘ تیرا ذلیل بندہ تیرے در پر ہے‘ تیرا کمزور و ناتواں بندہ تیرے در پر ہے‘ تیرا مہمان تیرے در پر ہے‘ اے رب العالمین!
اس دعا میں بندگی‘ عجز وانکسار اور خدا سے استعانت و مدد کی کتنی دل کش تصویر پیش کی گئی۔ بندہ پکارتا ہے: اے اللہ، تیرا بندہ تیرے دروازے پر حاضر ہے‘ تیرے در پر بھکاری بن کر کھڑا ہے۔ تیرا محتاج و فقیرہے‘ مسکین و بے بس ہے۔ اے اللہ‘ تیرا بندہ اسی لیے تیرے در پر کھڑا ہے اور تیرا مہمان ہے کہ تونے بلایا ہے۔ بن بلائے بھی نہیں آیا ہے‘ بلایا ہوا آیا ہے۔ میں تیرا بندہ ہوں‘ کمزور اور ضعیف‘ فقیر اور محتاج‘ تیرے در پر سوالی بن کر کھڑا ہوں‘اور تیرے سوا کون ہے جس کے در پر ہم اپنی جھولی پھیلا سکیں۔
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ تَسْمَعُ کَلَامِیْ وَتَـرٰی مَکَانِیْ وَتَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلَانِیَتِیْ لَایَخْفٰی عَلَیْکَ شَیْ ئٌ مِّنْ اَمْرِیْ، اَنَا الْبَآئِسُ الْفَقِیْرُ، الْمُسْتَغِیْثُ الْمُسْتَجِیْرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنْبِیْ اِلَیْکَ، اَسْئَلُکَ مَسْئَلَۃَ الْمِسْکِیْنِ وَاَبْتَھِلُ اِلَیْکَ ابْتِھَالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِیْلِ، وَاَدْعُوْکَ دُعَائَ الْخَائِفِ الضَّرِیْرِ، دُعَائَ مَنْ خَضَعَتْ لَکَ رَقَبَتُہٗ وَفَاضَتْ لَکَ عَبْرَتُہٗ وَذَلَّ لَکَ جِسْمُہٗ وَرَغِمَ لَکَ اَنْفُہٗ اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْنِیْ بِدُعَآئِکَ شَقِیًّا وَکُنْ بِیْ رَؤُوْفًا رَّحِیْمًا یَاخَیْرَ الْمَسْئُوْلِیْنَ وَیَاخَیْرَ الْمُعْطِیْنَ (کنزالاعمال‘ طبرانی‘ عن ابن عباسؓ، عبدابن جعفرؓ)
میرے اللہ‘ تو میری بات کو سن رہا ہے‘ اور تو میرا مقام اور حالت دیکھ رہا ہے اور میرے چھپے اور کھلے سب کو جانتا ہے‘ تجھ سے میری کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ میں مصیبت زدہ ہوں‘ محتاج ہوں‘ فریادی ہوں‘ پناہ کا طلب گار ہوں‘ ڈرنے والا‘ ہراساں ہوں‘ اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں‘ اعتراف کرتا ہوں میں تجھ سے مانگتا ہوں‘ جیسے بے کس مانگتا ہے اور میں تیرے آگے گڑگڑاتا ہوں جیسے گناہ گار اور ذلیل و خوار گڑگڑاتا ہے‘ اور میں تجھ کو پکارتا ہوں جیسے خوف زدہ‘ آفت رسیدہ پکارتا ہے‘ ایسے شخص کی پکار جس کی گردن تیرے سامنے جھکی ہوئی ہے اور جس کے آنسو تیرے سامنے بہہ رہے ہیں‘ جس کا تن بدن تیرے آگے بچھا ہوا ہے اور جو اپنی ناک تیرے سامنے رگڑ رہاہے‘ اے اللہ! تو ایسا نہ کر کہ تجھ سے مانگوں اور پھر بھی محروم رہوں‘ تو میرے حق میں بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا بن جا‘ اے ان سب سے بہتر جن سے مانگا جائے‘ اے سب دینے والوں سے بہتر۔
دیکھیے‘ ایک ایک لفظ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق اور بندگی کی تڑپ جھلک رہی ہے۔ پوری زندگی کے گناہوں کا بھی اعتراف ہے‘ اپنی کیفیت بھی ہے‘ جسم بھی جھکا ہوا ہے‘ ناک بھی زمین پہ رکھی ہوئی ہے‘ پیشانی بھی زمین پہ ٹکی ہے‘ آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہیں اور اس حالت میں گڑگڑا رہے ہیں‘ سارے گناہوں کا گنہگار کی طرح اعتراف ہے۔ یہی وہ چیزہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے بندگی کا تعلق قائم کرا دیتی ہے۔
اس دعا کے اندر خوف اور محبت کے چشمے‘ دل کے اندر پھوٹتے ہیں۔ خدا کے بارے میں ایک تصور یہ ہے کہ اس نے پیدا کر دیا اور اس کے بعد لاتعلق ہوگیا‘ اب اس کا انسان کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ یوں سمجھیے کہ جیسے شاہجہان نے تاج محل بنایا‘ مر گیا اور ختم ہوگیا۔ ایک دوسرا تصور خدا یہ ہے کہ ہماری زندگی رات دن اس کی مٹھی میں ہے۔ جو سانس آتا ہے اسی کے حکم سے آتا ہے اور جو سانس جاتا ہے وہی لے جاتا ہے‘ اور جو لقمہ منہ میں آتا ہے‘ وہی لا کر ڈالتا ہے اور جو پانی کا گھونٹ پیتے ہیں اُسی کا دیا ہوا پیتے ہیں۔ دعا ایک ایسے ہی زندہ و جاویدہستی اور جیتے جاگتے خدا سے بندے کا براہ راست تعلق جوڑ دیتی ہے۔
اللہ سے محبت اور حلاوتِ ایمان ایک عظیم نعمت ہے۔ ہر ایک کی طلب‘ خواہش اور آرزو ہونی چاہیے کہ اللہ کی محبت پیدا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس محبت کی دعائیں بھی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہیں اور یہ دعائیں جن الفاظ میں اور جس اسلوب میں ہیں‘ آدمی ان کو سن کر اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکتا ہے۔ ایک مختصر دعا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ نَّفْسِیْ وَمَالِیْ وَاَھْلِیْ وَمِنَ الْمَائِ الْبَارِدِ (مشکوٰۃ‘ترمذی‘کتاب الدعوات‘ ۵؍۱۸۴)، یااللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اس کی محبت جو تجھ سے محبت کرے اور اس عمل کی توفیق مانگتا ہوں جو تیری محبت کا باعث ہے۔ یااللہ! اپنی محبت کو میرے لیے میری جان‘ میرے مال اور میرے اہل وعیال اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ عزیز بنا دے۔
اَللّٰھُمَّ اَجْعَلْ حُبَّک اَحَبَّ الْاَشْیَائِ اِلَیَّ وَاجْعَلْ خَشْیَتَکَ اَخْوَفَ الْاَشْیَائِ عِنْدِیْ وَاقْطَعْ عَنِّیْ حَاجَاتِ الدُّنْیَا بِالشَّوْقِ اِلٰی لِقَائِکَ وَاِذَا اَقْرَرْتَ اَعْیُنَ اَھْلِ الدُّنْیَا مِنْ دُنْیَاھُمْ فَاَقْرِرْعَیْنِیْ بِعِبَادَتِکَ (کنزالعمال‘ عن ابی بن مالکؒ)
اے اللہ‘ اپنی محبت میرے نزدیک تمام چیزوں سے زیادہ محبوب بنا دے اور اپنے ڈر کو تمام چیزوںکے ڈر سے زیادہ کر دے۔ اور مجھے اپنے ساتھ ملاقات کا ایسا شوق دے کہ میری دنیا کی محتاجیاں ختم ہوجائیں‘ اور جہاں تو نے دنیا والوں کی لذت ان کی دنیا میں رکھی ہے‘ میری لذت اپنی عبادت میں رکھ دے۔
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ اُحِبُّکَ بِقَلْبِیْ کُلِّہٖ وَاُرْضِیْکَ بِجَھْدِیْ کُلِّہٖ
اے اللہ‘ مجھے ایسا بنا دے کہ میں اپنے سارے دل کے ساتھ تجھ سے محبت کروں اور اپنی پوری کوشش تجھے راضی کرنے میںلگا دوں۔
کیسا والہانہ انداز محبت ہے! بندہ دل کی گہرائیوں سے اظہارِ تمنا کر رہا ہے کہ مجھے ایسا بنا دے کہ پورے دل کے ساتھ تجھ سے محبت کروں‘ دل کے اندر کوئی خانہ خالی نہ رہے اور تجھ سے ٹوٹ کے بے پناہ محبت کروں‘ نیز میری جدوجہد اور ساری کوشش اسی لیے ہو کہ تجھ کو راضی کر لوں۔
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ اَخْشَاکَ کَاَنِّیْ اَرَاکَ یَوْمَ اَلْقَاکَ وَاَسْعِدْنِیْ بِتَقْوَاکَ
اے اللہ‘ مجھے ایسا بنا دے کہ میں تجھ سے اس طرح ڈروں گویا میں تجھے تیرے ساتھ ملاقات کے وقت دیکھ رہا ہوں اور مجھے اپنے تقویٰ سے سعادت بخش۔
دیکھیے کہ اس چھوٹی سی دعا کے اندر وہ ساری چیزیں آگئی ہیں جو ہم کو یہ بتاتی ہیں کہ کن چیزوں کی پیاس ہو‘ کن چیزوں کی طلب ہو‘کیا چیزیں مانگیں‘ کیسا بننا چاہیے۔ یہ صرف دعائیں نہیں ہیں‘ بلکہ بڑی قیمتی تعلیمات ہیںجو ان دعائوں کے اندر سمیٹ کے بیان کر دی گئی ہیں۔
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ ذَکَّارًا لَکَ شَکَّارًا لَکَ رَھَّابًا لَکَ مِطْوَاعًا لَکَ مُطِیْعًا اِلَیْکَ مُخْبِتًا اِلَیْکَ اَوَّاھًا مُّنِیْبًا (ترمذی‘ عن ابن عباسؓ)
میرے رب‘ مجھے ایسا بنا دے کہ میں تجھے بہت یاد کروں‘ تیرا بہت شکر کروں‘ تجھ سے بہت ڈرا کروں‘ تیری بہت فرماں برداری کیا کروں‘ تیرا بہت مطیع رہوں‘ تیرے آگے جھکا رہوں‘ اور آہ آہ کرتا ہوا تیری ہی طرف لوٹ آیا کروں۔
یہ ایک بڑی خوب صورت اور بڑی جامع دعا ہے۔ اس میں ایک ایک چیز بڑی ترتیب سے آئی ہے ‘اور ایک ایک چیز دین کی بہت ہی قیمتی بنیادوں میں سے ہے۔ ذَکَّار اور شَکَّار ‘ یہ فَعَّالٌ کے ہم وزن عربی زبان کے الفاظ ہیںجن کا مفہوم ہوتا ہے بہت زیادہ یا کثرت کے ساتھ کرنے والا۔ ذَکَّارًا، یعنی مجھے ایسا کر دے کہ بہت زیادہ تجھے یاد کرنے والا بنوں۔ لَکَ شَکَّارًا، اور تیرا بہت زیادہ شکر کرنے والا بنوں۔ ان دونوں کا آپس میں باہمی تعلق بھی ہے۔ اس لیے کہ جو آدمی شکر کرے گا وہی اللہ کو یاد کرے گا۔ جب آدمی کثرت کے ساتھ شکر کرے گا تو وہ خدا کی ایک ایک نعمت کے لیے شکر ادا کرے گا۔ وہ اپنے ایک ایک عضو کے لیے شکر ادا کرے گا‘ زبان کے لیے‘ آنکھ کے لیے‘ کان کے لیے‘ اس دل کے لیے جو دھڑکتا ہے‘ حتیٰ کہ ہرآنے جانے والی سانس کے لیے جو اس کے حکم سے آتی اور جاتی ہے۔ غرض زمین و آسمان کی بے شمار نعمتوں کے لیے وہ ہر دم شکرگزار ہوگا۔ اس طرح کون سا لمحہ ہوگا جو اللہ کے ذکر سے خالی رہ جائے گا۔
جہاں شکر کا ذکر ہے وہاں خوف کا بھی ذکر ہے۔خوف کا بھی ذکر کسی انتقام کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ ہمیں جو اتنی نعمتیں ملی ہیں‘ یہ کہیں چھن نہ جائیں۔ اگر ہم اتنے نااہل و ناکارہ ہوئے کہ یہ نعمتیں چھن جائیں تو اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی۔ بچہ باپ سے کس لیے ڈرتا ہے؟ نفرت کی وجہ سے یا ڈنڈے کی وجہ سے نہیں‘ بلکہ محبت کی وجہ سے ڈرتا ہے کہ اگر یہ محبت مجھ سے چھن گئی تو کیا ہوگا؟
یہاں مِطْوَاعًا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مطیع نہیں کہا گیا۔ مطیع کے معنی ہیں حکم ماننے والا‘ جب کہ مِطْوَاعًا کے معنی ہیں جو اپنی مرضی سے اپنے مالک کو خوش کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرتا ہے۔ اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کو یاد کرے‘ اللہ کا شکر کرے‘ اسے اللہ کا خوف لاحق ہو‘ اس کے بعد جہاں اسے رب کو راضی کرنے کا موقع مل جائے تو اس طرح نہیں کہ ڈیوٹی سمجھ کے انجام دے یا جیسے کوئی بوجھ اتار دیا‘ بلکہ جو اپنی مرضی سے‘ اپنی خواہش سے‘ اپنی طلب سے اللہ کی اطاعت کرے۔ پھر فرمایا: لَکَ مُطِیْعًا اِلَیْکَ مُخْبِتًا ،’’تیرا بہت مطیع رہوں‘ تیرے آگے جھکا رہوں‘‘۔
اب آخری بات آپ دیکھیے: اِلَیْکَ اَوَّاھًا مُنِیْبًا۔، ’’اور آہ آہ کرتا ہوا تیری ہی طرف لوٹ آیا کروں‘‘۔ اُردو میں ایک لفظ آہ ہے۔ آپ کہتے ہیں آہ کرنا۔ تو اَوَّاہَ کا لفظ بھی عربی زبان میں آہ سے نکلا ہے۔ آہ کا لفظ بھی عربی زبان کا ہے۔ اَوَّاہَ کے معنی ہیں جو بہت ہائے ہائے کرنے والا ہو‘ بہت آہ آہ کرنے والا ہو‘ گناہوں پر رونے والا ہو۔ لہٰذا فرمایا گیا: اَوَّاھًا مُنِیْبًا، ’’میں ہائے ہائے کرکے‘ ہمیشہ تیرے ہی در پہ لوٹ آئوں۔ اب یہ چھوٹے چھوٹے الفاظ ہیں‘ چھوٹے چھوٹے جملے ہیں۔ جو آدمی رات دن مانگے اور سوچ سمجھ کر مانگے تو پھر ویسا ہی بنتا بھی جائے گا۔ اس کی کوشش ہوگی کہ کچھ نہ کچھ تو اپنے آپ کو ویسا ہی بنائے جیسا کہ اس دعا کے اندر بیان ہوا ہے۔
دعا کا ایک اہم موضوع توبہ‘ یعنی اللہ کی طرف پلٹنا اور استغفار بھی ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم گناہ کرتے ہیں‘ اورمعافی مانگتے ہیں‘ پھر گناہ کرتے ہیں اور معافی مانگتے ہیں۔ لیکن پھر دنیا ہمیں گھیرلیتی ہے‘ ہم بہک جاتے اور پھسل جاتے ہیں۔ نگاہ بھی پھسلتی ہے‘ ہاتھ بھی غلط کاری میں ملوث ہوجاتے ہیں‘ حرام بھی کما لیتے ہیں اور جیب میں رکھ لیتے ہیں۔ گویا گناہوں سے مفر نہیں ہے۔ گناہوں سے مفر اس لیے نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا ہی اس لیے کی ہے کہ وہ گناہ کرنے کے لیے آزاد ہو۔ اسے گناہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار حاصل ہو‘ اور جو آزاد ہوگا‘ جسے اختیار حاصل ہوگا ‘وہ گناہ ضرور کرے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے توبہ و استغفار کا دروازہ کھول رکھا ہے‘ اس نے استغفار کے لیے دعوت دی ہے‘ وہ تو پکارتا ہے:
یَدْعُوْکُمْ لِیَغْفِرَلَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُؤَخِّرَکُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّیط
وہ تمھیں بلا رہا ہے تاکہ تمھارے قصورمعاف کرے اور تم کو ایک مدتِ مقرر تک مہلت دے۔ (ابراھیم ۱۴:۱۰)
انبیا علیہم السلام کو اسی لیے بھیجا گیا کہ لوگوں کے لیے گناہوں کی بخشش کا دروازہ کھل جائے۔حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس لوگوں کو رب کی بندگی کی دعوت دی تو یہ بھی فرمایا: فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ، یعنی میں نے تو قوم سے یہی کہا کہ اپنے گناہوں کی معافی مانگو‘ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو۔ وہ بخشنے والا ہے۔
ایک شخص مسجد نبویؐ میں آیا اور کہنے لگا: ہائے میرے گناہ‘ ہائے میرے گناہ‘ ہائے میرے گناہ۔ وہ اپنے گناہوں کے سبب رو رہا تھا‘ دھاڑ رہا تھا‘ چیخ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا‘ بیٹھ جائو اور یہ کہو: اَللّٰھُمَّ اِنَّ مَغْفِرَتَکَ اَوْسَعُ مِنْ ذَنُوْبِیْ وَرَحَمَتَکَ اَرْجٰی عِنْدِیْ مِنْ اَمْرِیْ، ’’اے اللہ تیری مغفرت میرے گناہوں سے بہت زیادہ وسیع ہے اور اپنے معاملے میں بہت زیادہ امیدوار ہوں‘‘۔ اس کے بعد آپؐ نے اس شخص کے لیے دعاے مغفرت بھی کی۔ پھر آپؐ نے فرمایا: عُدْ، یعنی ایک دفعہ اور کہو۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: جائو تمھارے گناہ بخش دیے گئے۔
آپؐ نے سیدالاستغفار کی بھی تعلیم دی ہے اور فرمایا کہ یہ سارے استغفاروں کا سردار ہے۔ حضرت شداد بن اوسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص استغفار کو صبح و شام پڑھے اور اس کے معنی و مفہوم کو سمجھ کر اس پر پورا یقین رکھے‘ اگر اُس کا اُسی دن شام سے پہلے یا اُسی رات صبح سے پہلے انتقال ہوجائے تو وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ، وَاَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ، اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ ، اَبُوْئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلیَّ وَاَبُوْئُ بِذَنْبِیْ، فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہٗ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّآ اَنْتَ (بخاری‘ کتاب الدعوات)
اے اللہ ! تو میرا پروردگار ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں‘ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں‘ اور جتنی مجھ میں استطاعت ہے میں تیرے عہدوپیمان (اقرارِ اطاعت) پر قائم ہوں‘ اور جو کچھ بھی میں نے کیا‘ اس کے برے انجام سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ جن نعمتوں سے تو نے مجھے نوازا ہے‘ ان کا اعتراف کرتا ہوں۔ اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں تو مجھے بخش دے کہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا۔
امام ابن قیمؒ اپنی کتاب کتاب الاذکار میں ‘ جو ذکر پر بہت ہی جامع کتاب ہے لکھتے ہیں کہ ایک بدو آیا۔ اس نے خانہ کعبہ کا پردہ پکڑا اور اللہ تعالیٰ سے دعا شروع کی کہ ’’اے اللہ! تو نے استغفار کا جو وعدہ کیا ہے‘ اور تیرا جو کرم ہے‘ اس کے بعد بھی میں گناہوں پر اصرار کرتا رہوں تو یہ میرا کمینہ پن ہے‘‘۔ جب اللہ تعالیٰ نے استغفار کا دروازہ کھول دیا ہو اور اس کے بعد بھی بندہ اگر اپنے گناہوں پر اصرار کرے تو وہ بہت کمینہ بندہ ہے ۔ آگے چل کر وہ کہتا ہے‘ عجیب بات ہے‘ تُو تو مجھ سے بے نیاز ہے‘ اس کے باوجود تو بار بار نعمتیں دے کر اپنی محبت کا اظہار کرتاہے‘ اور میں تیرا محتاج ہوں اور میں تجھ سے بھاگ بھاگ کے گناہ کرتا رہتا ہوں۔ اَدْخِلْ عَظِیْمَ جَرْمِیْ اَدْخِلْ عَظِیْمَ عَفْوِکَ، اے اللہ تُومیرے عظیم جرائم کو اس سے زیادہ عظیم عفو کے اندر داخل کردے۔
یہ استغفار ہیں۔ ان کی حضورؐ نے تعلیم دی ہے۔ محبت مانگنے کی تعلیم دی ہے‘ بلکہ دنیا کی چھوٹی بڑی ہر چیز کو اُسی سے مانگنے کی تعلیم دی ہے۔
دعائوں کا ایک نہ ختم ہونے والا ذخیرہ ہے جتنا بھی چاہیں اس کو پھیلا لیں۔ ایک ایک دعا کو‘ اس کے الفاظ کو آپ دیکھیں‘ ان میں جن چیزوں کو مانگا گیا ہے اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ بندے کو کیا ہونا چاہیے‘ کیسا بننا چاہیے۔ اس کے لیے کوئی لمبی چوڑی تقریر نہیں کی گئی‘ کوئی لمبی چوڑی کتاب نہیں لکھی گئی‘ بلکہ چند مختصرجملوں میں دعا کے انداز میں اس کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس کی ایک خوب صورت مثال: اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ہے۔ چار الفاظ کے ایک مختصر جملے میں بندگی کی پوری تعلیم دعا کے انداز میں دے دی گئی ہے۔ دعا آدمی کو یاد ہوجاتی ہے اور وہ مانگتا رہتا ہے‘ اُس کے ذریعے طلب کرتا رہتا ہے‘ سیکھتا رہتا ہے‘ ویسا بنتا رہتا ہے‘ اس طرح سے عبد‘ یعنی اس کا حقیقی و سچا بندہ بنتا چلا جاتا ہے۔ یہ ساری دعائیں دراصل حرص بھی ہیں‘ طلب بھی ہیں اور یہ ہماری تعلیم و تربیت اور تزکیے کا ذریعہ ہیں۔
یہ وہ صفات ہیں جو دین میں مطلوب ہیں۔ اللہ کی خشیت‘ اللہ کی محبت‘ اللہ سے اپنے گناہوں پر استغفار‘ اللہ پر بھروسا کہ جو کچھ ملنا ہے اسی سے ملنا ہے‘ جو کچھ چھن جانے والا ہے وہی چھیننے والا ہے۔ جب یہ سوچ اور یہ کردار ہوگا تو دنیا میں بھی سب کچھ ملے گا‘ آخرت میں بھی جنت ملے گی اور دنیا کے اندر غلبہ بھی حاصل ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: یَعْبُدُوْانَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا صرف میری ہی بندگی کریں اور ذرہ برابر بھی کسی کو میرے ساتھ شریک نہ کریں۔ اللہ نے زمین میں اپنی خلافت کا‘ زمین میں غلبے کا وعدہ انھی سے کیا ہے جنھوں نے بندگی کی نسبت اس کے ساتھ قائم کرلی‘ جو اس کے محتاج بن گئے‘ اس کے فقیر بن گئے اور صرف اسی کے دَر پر آکر کھڑے ہوگئے اور یہ سمجھ لیا کہ جو کچھ ملے گا صرف اللہ ہی سے ملے گا۔
اصل چیز دل ہے۔ دل کے اندر اگر یہ ساری چیزیں جمع ہوجائیں تو زندگی سدھر جائے گی‘ نہ ہوں تو نہیں سدھرے گی۔دل کا معاملہ بھی اس نے اپنے ساتھ متعلق کرلیا ہے۔ حضوؐر کی ایک بہت پیاری دعا ہے۔میں اپنی دعا کا آغاز اکثر اسی دعا سے کرتا ہوں:
اَللّٰھُمَّ اِنَّ قُلُوْبَنَا وَنَوَاصِیَنَا وَجَوَارِحَنَا بِیَدِکَ وَلَمْ تُمَلِّکْنَا مِنْھَا شَیْئًا فَاِذَا فَعَلْتَ ذٰلِکَ بِنَافَکُنْ اَنْتَ وَلِیَّنَا وَاھْدِنَا اِلٰی سَوَآئِ السَّبِیْلِ - (ترمذی‘ عن ابی ہریرہ)
اے اللہ! ہمارے دل بھی تیرے ہاتھ میں ہیں‘ اعضا اور جوارح بھی تیرے ہاتھ میں ہیں۔ پوری شخصیت بھی تیرے ہاتھ میں ہے۔ تو نے ہمیں کسی چیز پر ذرہ برابر بھی اختیار نہیں دیا ہے۔ جب تو نے ہمارے ساتھ یہ معاملہ کیا تو تو ہی ہمارا ولی بن جا‘ دوست بن جا‘ ہمارا رفیق بن جا‘ ہمارا مددگار بن جا۔ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔
دعا کے لیے زبان کی کوئی قید نہیں۔ دعا مانگنے کا‘ اگر ذوق و شوق ہو‘ توجہ و یکسوئی اور پورے یقین کے ساتھ دعا مانگی جائے خواہ اُردو میں ہو یا پنجابی میں‘ خواہ پشتو میں ہو یا کسی بھی زبان میں‘ دل کی یہ پکار‘ زبان پہ آئے یہ کلمے بارگاہِ الٰہی تک پہنچتے ہیں اور اپنا اثر رکھتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ‘ بندگی کا‘ حاجت کا‘ فقر کا تعلق قائم ہونا چاہیے۔ یہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ بے نیاز ہے‘ ہم فقیر ومحتاج ہیں‘ اس کے در کے بھکاری ہیں۔ جو کچھ بھی چاہیے‘ خواہ جوتے کا تسمہ ہی ہو‘ اسی سے مانگنا چاہیے۔ ہدایت و غلبہ بھی اُسی سے مانگنا ہے۔ فتح و نصرت بھی اسی سے ملنا ہے۔ یہ وہ چیزہے جو اللہ کی یاد کو‘ اللہ کے ساتھ تعلق کو دل کے اندر راسخ کر دیتی ہے۔ ہم دعوت یا اپنے ذاتی یا دنیاوی کام کے لیے نکلیں‘ گھر سے نکلیں‘ کھانے کے لیے بیٹھیں اٹھیں۔ ہر موقع پر اللہ کو یاد کریں اور صرف اسی سے مانگیں۔ جیسے جیسے یہ اخلاص پیدا ہوتا جائے گا کہ جو کچھ ملے گا اللہ ہی سے ملے گا کہیں اور سے کچھ نہیں ملے گا‘ نہ بندوں سے ملے گا‘ نہ اپنی کوششوں سے اور نہ عوامی تائید سے ‘ بلکہ جو کچھ بھی ملے گا وہ اللہ ہی سے ملے گا۔ جتنا زیادہ اخلاص پیدا ہوگا اتنا ہی اور ملے گا۔ جتنی نسبتیں دوسروں سے قائم ہوں گی‘ اتنا ہی کم ملے گا اور اتنی ہی مایوسیاں ہوں گی۔ اللہ ہی سے ملنے کا‘ اللہ ہی سے پانے کا‘ اللہ ہی سے طلب کرنے کا یہ انداز‘ دعا ہمیں سکھاتی ہے۔
دعا عبادت کا مغز ہے‘ خدا کی بندگی ہے‘ اور یہی روحِ عبادت ہے۔ اسی لیے قرآن یَدْعُوْنَ وَیَعْبُدُوْنَ ان دونوں الفاظ کو بدل بدل کے ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرتا ہے اور آخر میں کہتا ہے: اُدْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ط (المومن ۴۰:۶۰)‘ مجھ سے مانگو‘ مجھے پکارو‘ میں تمھیں دوں گا اور تمھاری پکار کو قبول کروں گا۔ مزید فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادِتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دٰخِرِیْنَo (۴۰: ۶۰) ’’جو لوگ گھمنڈ میںآکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں‘ ضرور وہ ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے‘‘۔ اب یہاں فوراً اسی آیت کے اندر دعا کی جگہ عبادت کا لفظ آگیا کہ جو لوگ میری عبادت سے اپنے آپ کو بالاتر سمجھتے ہیں وہی تکبر کرنے والے ہیں اور جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ یہاں دعا کے لفظ کو عبادت کے لفظ سے بدل دیا گیا‘ یہ بتانے کے لیے کہ اصل میں یہ دونوں ایک ہی ہیں‘ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
حدیث کی ہر کتاب میں دعا کا ایک باب ہوتا ہے۔دعائوں کی بے شمار کتابیں ملتی ہیں۔ چھوٹے بڑے بہت سے مجموعے دیکھنے میں آتے ہیں۔ امام نووی کی کتاب الاذکار ہے۔ اس کا اردو ترجمہ بھی ملتا ہے‘ عربی زبان میں بھی دستیاب ہے۔ حصن حصین کے نام سے دعا کی مشہور کتاب ہے۔ اس میں سات منازل کے اندر اذکار اور دعائیں جمع کر دی گئی ہیں۔ یہ بھی بآسانی دستیاب ہے۔ اسی طرح امام نسائی کی کتاب ہے جس میں رات دن کی ساری دعائیں جمع کر دی گئی ہیں۔ اس کا اردو ترجمہ بھی بازار میں ملتا ہے اور عربی میں بھی موجود ہے۔ چھوٹے چھوٹے مجموعے تو بے شمار ہیں۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ کی مناجات مقبولبہت ہی عمدہ کتاب ہے۔ اس میں بیش تر مسنون دعائیں اور ان کا ترجمہ بھی بہت اچھا ہے۔ شیخ حسن البنا کی ماثورات مسنون اذکار اور دعائوں کا بہت عمدہ مجموعہ ہے۔ ابن تیمیہؒ کی الکلمۃ الطیّبمیں بھی عمدہ دعائیں ہیں۔ یہ بھی ایک مختصر‘ مگر عمدہ مجموعۂ دعا ہے۔ حدیث کی ہر کتاب میں اور مشکٰوۃ میں بھی دعائوں کا الگ باب ہے۔ اگر شوق اور طلب ہو تو ان کا مطالعہ مفید رہے گا۔
ان گزارشات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ بغیر اللہ سے مانگے‘ اللہ کا محتاج بنے‘ اللہ کے دربار میں فقیر بنے کچھ بھی حصے میں نہیں آئے گا۔ اسی کے نتیجے میں خدا کا قرب حاصل ہوگا‘ حاجات پوری ہوں گی‘ خدا کی رضا اور خوشنودی‘ جنت کا حصول ممکن ہوگا۔ دنیا میں بھی سب کچھ ملے گا اور آخرت میں بھی۔ نیز زمین پر غلبے اور خلافت کا وعدہ بھی اسی تعلق کے نتیجے میں پورا ہوگا۔ (کیسٹ سے تدوین: امجد عباسی)
کتابچہ دستیاب ہے۔ قیمت: ۵ روپے۔ منشورات‘ منصورہ‘ لاہور
سجدے کے بارے جب انسان غور کرتا ہے تو پوری کائنات اپنی تواضع‘ انکساری اور نیاز مندی کے ساتھ اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور سجدہ ریز نظر آتی ہے۔اس کی ہیئت اوراس کی خود سپردگی اﷲ کے حکم کے موافق ہے اوراس میں اﷲ تعالیٰ کا حکم جاری و ساری ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُ لَہ‘ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِط وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُ (الحج۲۲:۱۸)
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اﷲ کے آگے سربسجود ہے وہ سب جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ‘ سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔
پس غور کرو کہ پوری کائنات کی کوئی شے اﷲ تعالیٰ کے حضور سجدہ کرنے سے سرتابی کرنے والی نہیں ہے سوائے اس انسان کے کہ اس کی ایک نوع سجدے کرنے والی اور ایک اس سے انکار کرنے والی اور باقی کائنات سے ہٹ کر سجدہ کرنے سے سرتابی کرنے والی ہے۔ مگر وہ انسان جو اﷲ کا نافرمان اور ناشکرا ہے وہ پوری کائنات میں مختلف اور منفرد ہوتا ہے اور اس کی یہ انفرادیت اﷲ تعالیٰ کی عبادت سے بُعد اور تکبر ہے۔
لہٰذا بندے کو غور کرنا چاہیے کہ جب وہ اﷲ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے تو وہ اﷲ کی تسبیح و تحمید بیان کرنے والی اوراس کے آگے سجدہ ریز اس کائنات کا ایک جزو بن جاتا ہے۔ جیسا کہ اﷲ سبحانہ وتعالیٰ نے سورہ یٰسٓ میں فرمایا: وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَاط ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ (۳۶:۳۸ )’’اور سورج وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جارہا ہے۔ یہ زبردست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے‘‘۔ اس آیت کے معنی میں ابن کثیرؒ نے کہا ہے کہ غروب کے وقت اور اپنے ہرغروب میں آفتاب اﷲ تعالیٰ کے عرش کے آگے سجدہ کرتا ہے‘ اور اس کی تائید حضرت ابوذر ؓ کی روایت کی ہوئی بخاری کی حدیث کرتی ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ سجدہ کیسے ہوتا ہے؟ میں کہتا ہوں کہ وہ سجدہ زبان حال سے بھی ہے اور زبان قال سے بھی‘ یعنی علامتاً بھی اور فعلاً بھی ۔ اور اس میں کوئی تعجب ہے نہ تحیّر ‘ کیونکہ جو سجدہ بھی اﷲ تعالیٰ کو کیا جاتا ہے وہ اس کی ہیئت کو جانتا ہے‘ جب کہ ہم نہیں جانتے۔اﷲ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے : وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ (الرحمٰن۵۵:۶) ’’اور تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں‘‘۔اور اسی طرح سے اﷲ تعالیٰ سرتابی کرنے اور نافرمانوں کو اپنی ہدایت کی طرف توجہ دلاتا ہے اور ان پر حجت قائم فرماتا ہے ۔ جیسا کہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّظِلٰـلُھُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ (الرعد۱۳:۱۵) ’’وہ تو اﷲ ہی ہے جس کو زمین وآسمان کی ہر چیز طوعاًوکرھاً سجدہ کررہی ہے اور سب چیزوں کے سائے صبح و شام اس کے آگے جھکتے ہیں‘‘۔
اس آیت کے معنی یہ ہیںکہ اپنے اختیار سے سجدہ کرنے سے پہلوتہی کرنے والا شخص بھی اپنے سائے کے ساتھ اﷲ کی قدرت کے سامنے اپنی خلقت اور اپنی جبلت کے تحت بے اختیار اﷲ کی جناب میں سجدہ ریز ہوتا ہے۔ گویا پوری کی پوری کائنات اللہ کے آگے سجدہ ریز ہے۔ چنانچہ دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ انسان بھی اپنے دل اور ہیئت کے ساتھ سجدہ کرنے والا ہو۔
یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان جب سجدے کے بارے میں غور کرتا ہے تو وہ اسے ایک نعمت عظمہ پاتا ہے۔ اس پر مستزاد آیات قرآنی‘ احادیث نبویؐ اور ارشادت اسلاف ہیں۔ سجدے کی یہی وہ اہمیت ہے جو اسے تدبر اور سنجیدگی سے غوروفکر کی دعوت دیتی ہے کہ وہ اس کی حقیقت کو پانے کی کوشش کرے‘ نیزاس کا ایمانی وقلبی فہم کتنا ضروری ہے اوراس کی ادایگی پرعمل کرنے کا کیا حکم ہے؟
سعید بن جبیرؒ، جب مسروقؒؒ سے ملے توانھوں نے ان سے کہا :’’اے ابوسعید! اپنے چہروں کو خاک آلود کرنے ( سجدے )کے سوا کسی چیز سے ہمیں رغبت نہیں ہونی چاہیے‘‘۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ان کی سب سے بڑی خواہش اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور میں سجدہ ریز ہونے‘ اور اگر ان کے لیے کوئی حلاوت و لذت تھی تو وہ اس کی جناب میں عاجزی و انکساری کے ساتھ اپنی جبینوں کو خاک آلود کرنے میں تھی۔
مسروق ؒ نے غایت دل چسپی کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا:’’واقعتا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہونے کے سوا کوئی ایسی چیز ہے جس کی اس دنیا میں فکر کی جائے‘‘ (نزھۃ الفضلاء تھذیب سیر اعلام النبلائ)۔ اسلاف امت کی یہ گفتگو واضح کرتی ہے کہ سجدہ کوئی معمولی عمل نہیں ہے۔ سجدہ محض انسانی اعضا کی حرکت اور زبانی دہراے جانے والے بے اثر کلمات کا نام نہیں ہے بلکہ یہ جسم و روح پر اثرانداز ہونے والے اس عمل کا نام ہے جس کی تکمیل حضوری قلب‘ عجزوانکسار اور عقل و شعور کے گہرے ادراک و فہم کے ساتھ ہوتی ہے۔ لہٰذا سجدے کا مسئلہ بہت وسیع اور عمیق ہے اور ہمارے لیے اس کا بطریق احسن فہم ناگزیر ہے۔
صحیح بخاری میں وارد ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اس ذات کی قسم‘ جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے‘ ابن مریم ؑ تمھارے درمیان حاکم عادل بن کر ضرور نازل ہوں گے ، وہ صلیب کو توڑیں گے ،خنز یر کو قتل کریںگے،جنگ کاخاتمہ کریں گے اور مال پانی کی طرح بہے گا حتیٰ کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا۔ ( اس وقت) ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا‘‘۔(کتاب احادیث الانبیائ)
حافظ ابن حجرؒ نے اس حدیث پر یہ تبصرہ کیا ہے:’’مال کی کثرت،برکات کے نزول، خیرات کی بارش، عدل گستری اور ظلم کے فقدان کی وجہ سے ہوگی۔اس وقت ز مین اپنے خزانے اگل دے گی، لوگوں میں قرب قیامت کے احساس سے مال کے حصول کی رغبت گھٹ جائے گی‘‘۔پھر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:یعنی لوگ اس وقت اﷲ کا قرب عبادت کے ساتھ حاصل کریں گے نہ کہ مال کے صدقے کے ساتھ۔ اور کہا جاتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ دنیا سے اپنی نظریں ہٹا لیں گے اورانھیں ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے محبوب تر ہوگا۔ پھرقرطبی ؒ کا قول نقل کیا ہے:’’حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت نماز صدقے سے افضل ہوگی‘ اس لیے کہ اس وقت مال کی کثرت ہوگی حتیٰ کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا‘‘۔ (فتح الباری ۶/۵۶۶)‘یعنی اس وقت ذرائع تقرب انفاق و صدقات نہ ہوں گے کہ انسان ان کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے بلکہ اس وقت اﷲ کے حضور میں سجدہ عظیم عبادت ہوگی اور کوئی دیگر عبادت اس کے برابر نہ ہوگی‘ حالانکہ حدیث کی رو سے صدقے سے اﷲ تعالیٰ کا غضب ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور آدمی بری موت سے بچتا ہے (سنن ترمذی کتاب الزکوٰۃ)۔چنانچہ جب یہ صدقہ منقطع ہوجائے گا تو تقرب الٰہی کا کوئی ذریعہ سجدے کے سوا باقی نہ رہے گا۔
اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ سجدہ اپنی حقیقت میں عظیم ترہے اور وہ اﷲتعالیٰ کے قرب کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ لیکن مسلمان دیگر امور میں مشغولیت کے باعث اسے بھول جاتا ہے اور دنیا میں دل چسپی اسے آخرت بھلا دیتی ہے۔اسی طرح سجدہ دوسرے اعمال‘ اگرچہ وہ نیکی کے اعمال ہوں‘کے مقابلے میں بھی عظیم تر ہے ۔ اگر کسی مسلمان کو صدقہ اور محتاج کی اعانت جیسی دیگر عبادات کی استطاعت نہ ہو تو سجدے کا حصہ نفلی عبادات کی نسبت سے اپنی اہمیت و اولیت کی وجہ سے زیادہ بڑا ہے۔
شیخ عبدالرحمن الدوسریؒ نے اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کے اس ارشاد : یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ وَاسْجُدِیْ وَارْکَعِیْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ(اٰل عمرٰن۳:۴۳) ’’اے مریم‘ اپنے رب کی تابع فرمان بن کر رہ‘ اس کے آگے سربسجود ہو ‘اور جو بندے اس کے حضور جھکنے والے ہیں ان کے ساتھ توبھی جھک جا‘‘کی توضیح سجدے کی عظمت کے زمرے میں کی ہے۔ انھوں نے کہا: اس قول کی بنیاد پر کہ ’القنوت‘ کے معنی عبادت کے ہیں‘ ملائکہ حضرت مریم ؑکواولاً ہر نوع کی عبادت پر مداومت کی عمومی وصیت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ پھر ملائکہ نے انھیں عبادات میں سے افضل و اشرف عبادت‘ یعنی نماز کی ہدایت کی اور اس کی شکلوں میں سے رکوع وسجود کو ان دونوں کے شرف اور اہمیت کی بنا پر مخصوص کیا ‘ پھر سجدے کو رکوع پر مقدم کیا ۔ ا س لیے کہ بندہ اﷲ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے ۔ لہٰذا ارکان نماز میں سے افضل رکن سجدہ ہے(صفوۃ الاثار۴/۱۲۴)۔ لہٰذا جب اس معنی کے ساتھ آیت کریمہ میں سجدے کی عظمت انتہائی حد تک ثابت ہوتی ہے ‘تب وہ مخصوص ترین عبادت ہے اور نماز جو جملہ عبادات پر مقدم ہے ‘ سجدہ اس میں مقدم و معظم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سجدے کی یہ فضیلت اس کے عظیم مرتبے کی دلیل ہے۔
فیض القدیر میں المنادیؒ کہتے ہیں:’’ یہ اس لیے کہ بندہ سجدے میں اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور میں بہ تمام و کمال عجزوانکساری کی حالت میں ہوتا ہے ۔ اور جب وہ اپنی پستی اور اپنی انتہائی احتیاج کو جان لیتا ہے تواسے یہ معرفت حاصل ہو جاتی ہے کہ اس کا رب عظیم اپنے ارادے کو نافذ کرنے پر غالب ہے‘ اور صاحب کبریا وجبروت ہے۔اس احساس کے ساتھ سجدے کا قبول کیا جانا متوقع ہے‘‘۔ (فیض القدیر ۲/۶۸‘ رقم الحدیث :۱۳۴۸)
ہر عبادت کا حاصل یہ ہے کہ انسان مقام عبودیت کو پالے‘ اپنی ذات کی حقیقت کو جان لے‘ اﷲ تعالیٰ کی عظمت کو سمجھ لے اور باور کر لے کہ وہ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور میں فقیر ہے۔ وہ اپنے نقص کو حق تعالیٰ کے کمال مطلق کے سامنے رکھے جیسا کہ کہا جاتا ہے:’’عاجزی اختیار کی جاتی ہے تاکہ اﷲ سبحانہ تعالیٰ کی کمالِ قوت کا نظارہ کیا جائے‘ اوراس کے حضور میں اپنے فقر کو پیش کیا جائے تاکہ اس کے کمال بے نیازی کو دیکھنا ملے‘ اوراس کی جناب میں ضعف کا اظہار کیا جائے تاکہ اس کی قوت کا کمال نظر آئے۔ چنانچہ جب سجدہ بندے کی پستی اور رب کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے تو بندے کی طرف سے اپنے رب اور مولیٰ کے حضور میں اپنے فقر اور احتیاج کا اظہار بندے کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
سجدہ اﷲ تعالیٰ کے قرب کا ایک انداز ہے۔ اﷲتعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: کَلَّاط لَا تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ (العلق ۹۶:۱۹)’’ہرگز نہیں ‘ اس (نماز سے منع کرنے والے) کی بات نہ مانو‘اور سجدہ کرواور( اپنے رب کا ) قرب حاصل کرو‘‘۔اس آیت کریمہ میں غور کرو‘وہ اپنے اندر قلیل اور مختصر الفاظ کے باوجود حیات دنیا کی حقیقت اور انسان کے حوالے سے روح بندگی کی طرف واضح اشارہ لیے ہوئے ہے‘جب کہ یہ آیت اس شخص کے ذکر کے بعدآ رہی ہے جو اہلِ ایمان کو اﷲ کی بندگی سے روکتا ہے: اَرَئَ یْتَ الَّذِیْ یَنْھٰیoلا عَبْدًا اِذَا صَلّٰی (العلق ۹۶:۹-۱۰) ’’تم نے دیکھا اس شخص کو جوبندے کو منع کرتا ہے جب کہ وہ نماز پڑھتا ہو؟‘‘۔ وہ حق و باطل کی کش مکش اور اہل باطل کا اہل خیر پر عرصہء حیات تنگ کرنے کا اظہار ہے۔ اس مرحلے پر فیصلہ کن حکم صادر ہوتا ہے کَلَّا لَا تُطِعْہُ، یعنی عبادت کی مداومت اور اس کی کثرت سے روکنے والے کی بات نہ مانیے‘ اس کی پیروی نہ کیجیے‘ جہاں کہیں نماز پڑھنا چاہیں ‘ پڑھیے‘اﷲ تعالیٰ تمھارا حافظ و ناصر ہے۔وہ تمھیں لوگوں سے بچائے گا۔
اس آیت میں دشمنی و ایذا کے زبردست طوفان کے سامنے اوراس کا مقابلہ کرنے کے لیے طاقت حاصل کرنے کی کیفیت بیان کی گئی ہے اور وہ ہے سجدے کے ذریعے عبادت واستعانت کے ساتھ مربوط ہونا اوراس پر جمے رہنا ‘ جیسا کہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاۃِ (البقرہ۲:۱۵۳) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘صبر اور نماز سے مدد لو‘‘۔اس آیت میں سجدے کو اس سرکشی اور باطل سے مدافعت اور اﷲ تعالیٰ کے حکم پر صبر و ثبات کا ایک وصف بنا دیا گیا ہے۔
امام مسلمؒ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ بندہ اپنے رب کے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدہ میں ہو ‘ لہٰذا (سجدے میں) خوب دعا کرو۔اور نبی کریمؐ کی ا س ہدایت پر بھی غور کرو جس میں آپؐ نے سجدے میں کیے جانے والے ذکر کی تعلیم دی ہے‘ ایسے موقع پر جب کہ آدمی کی پیشانی خاک آلود ہوتی ہے اور وہ پورے کا پورا ‘روح وجسم کے ساتھ اﷲ کے حضور میں جھکا ہوتا ہے‘ایسی حالت میں وہ کہتا ہے : سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی۔ جب وہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیکہہ رہا ہوتا ہے تو اپنے آپ کو اﷲ کے قرب میں محسوس کرتا ہے۔اور یہ سجدے کی تفہیم کا بنیادی جزو ہے جو بندے کے عجز و انکسار اور رب کی عظمت اور بندے کا اپنے رب کے حضور قرب کا اہم ترین ذریعہ ہے۔
سوال یہ کہ ایسا کیوں ہے کہ سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب کے زیادہ قریب ہوتا ہے ؟
جب ہم نے یہ جان لیا کہ حیات دنیا میں صاحب ایمان انسان کے لیے اﷲ کی بندگی بلندترین درجہ ہے تو ہمارے لیے تقرب الٰہی کے لیے سجدے کے مختص ہونے کا راز آشکارا ہو گیا ۔ اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد میں غور کرو سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ َبارَکْنَا حَوْلَہ‘ (بنی اسرائیل ۱۷:۱)’’پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی‘‘۔ یہ وہ مقام ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی معراج میں زمین سے پہلے آسمان‘ پھر دوسرے‘ پھر تیسرے ‘ پھر چوتھے حتیٰ کہ ساتویں آسمان تک تشریف لے گئے‘ اوراس مقام بلند تک رسائی حاصل کی جس تک کوئی مقرب فرشتہ اور نہ کوئی نبی مرسل ؑ پہنچ پایا تھا۔ یہ اس لیے کہ آپ ؐنے اﷲ تعالیٰ کی جناب میں عاجزی وفروتنی اور عبودیت کے اعلیٰ مقامات تک رسائی حاصل کر لی تھی اور وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ عبادت کرنے والے تھے‘ وہ سب سے زیادہ اﷲ کی عظمت کے عارف تھے اور اﷲ کے حضور میں سب سے زیادہ اپنے فقر و ضعف کا اظہا رکرنے والے تھے۔چنانچہ آپؐ عبودیت کے ان معانی کے ساتھ متصف تھے اور یہی وہ شرف و امتیاز تھا جس کے ساتھ آپؐ اس بلندی تک پہنچے اور اﷲ تعالیٰ کے ہاں معنوی اور حسی رفعت کو حاصل کیا۔ معنوی اس طور پرکہ اﷲ تعالیٰ نے آپؐ سے فرمایا: وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ(الم نشرح۹۴:۴) ’’اور تمھاری خاطر تمھارے ذکر کا آوازہ بلند کر دیا‘‘۔لہٰذا آپ ؐ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ مذکور ہیں۔اور حسی طور پر یوں کہ آپؐ معراج کے سفر میں اس مقام بلند تک پہنچے جس کا ذکر نبیؐ کی صحیح احادیث میں وارد ہے۔
اس مرحلے پر ایک دوسرے پہلو سے بھی عبودیت کا ذکر کیا گیا ہے‘وہ یہ کہ مبالغہ کرنے والے اور حد سے بڑھ جانے والے ‘ حدِ اعتدال سے آگے نہ بڑھیں تاکہ آنحضوؐر کی عظمت وشرف کے سبب سے آپ ؐ کو حد بشریت سے نکال کر دائرہ الوہیت و معبودیت میں داخل نہ کر دیں ‘ جیساکہ سابقہ امتوںنے اپنے نبیوں ؑکے بارے میںکیا۔اس لیے آپؐ کو (عبداً) بندہ کا نام دیا گیا ہے‘ تاکہ اس بات کی تاکید ہو جائے کہ آپؐ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے بندے ہیں اور آپ ؐکو یہ رتبۂ بلند اس مقام بندگی کی وجہ سے ملا:
ومما زادني شرفاً وتیھاً
وکدت بأخمصي أطأ الثریا
دخولي تحت قولک یا عبادي
وأن صیرت أحمد لي نبیاً
اے اﷲ تو نے مجھے اپنے قول یا عبادی میں داخل فرما کر اور احمدؐ کو میرے لیے نبی بنا کر جو بڑااعزاز مجھے بخشا ہے ‘ اس پر میں فخر سے جھوم اٹھا ہوں اورقریب ہوں کہ اپنے تلووں سے ثریا کو بھی روند ڈالوں ۔
چنانچہ عبودیت وہ شرف ہے جس کے ساتھ بندہ‘ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف ارتقائی منازل طے کرتا ہے اور جب سجدہ تواضع وانکساری کی بلیغ ترین صورت ہے جو عبودیت کی روح ہے تو وہ اﷲ سبحانہ وتعالیٰ سے قرب کا اعلیٰ مقام ہے۔
m غرور و سرکشی کی نفی: معنوی علامات کا دوسرانکتہ یہ ہے کہ زمین کے ساتھ اتصال بندے کو اپنی ابتدا وانتہا یاد دلاتا ہے کیوں کہ انسان اپنی جبین کو خاک آلود کرتا ہے توا سے یاد آتا ہے کہ یہ اس کی پیدایش کی اصل خاک ہے اور وہ اسی خاک میں لوٹنے والا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے اسے ابتداً مٹی سے پیدا فرمایا اور قیامت کے دن اسے جزا و سزا کے لیے اسی مٹی سے اٹھائے گا۔ اور یہ معنی بلیغ ترین صور ت میں سجدے کی حالت میں اجاگر ہوتے ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ نیند کی حالت میں انسان زمین کے ساتھ زیادہ جڑا ہوتا ہے‘ لیکن یہ اتصال اس ہوشمند اور عاقل شخص کا نہیں ہوتا جو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے ‘ اپنی عقل سے سمجھتا ہے اور اپنی زبان سے کلام کرتا ہے اور اس کیفیت میں ہوتا ہے جو مطلوب ہوتی ہے جس کا ذکر بعد میں آئے گا۔ جب یہ معنی سجدے میں ایک شکل اختیار کرلیتے ہیں توانسان کو اس کی اپنی اور اپنی نہایت کی حقیقت یاد دلادیتے ہیں۔ یہ کیفیت ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہے اور بندے کو آخرت اور اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہونے اور اپنے عاجز ہونے کی یاد دلاتی رہتی ہے‘جس سے وہ اﷲ تعالیٰ کے مقام ِقرب سے زیادہ قریب ہو جاتا ہے ۔ خاک جو بندے کی پیدایش کی اصل ہے‘ کے ذریعے تذکیر اس کے لیے تواضع اورانکساری کا باعث بنتی ہے۔
وہ جس کی چال متکبرانہ ہے اور زمین پر اکڑ اکڑ کر چلتا ہے‘ اسے چاہیے کہ پاؤں آہستہ رکھے کیونکہ وہ خود بھی مٹی سے بنا ہے کل مٹی ہو جائے گا اور قدموں سے پامال کیا جائے گا۔ انسان بندگی کی حقیقت سے پہلوتہی تب ہی کرتا ہے جب وہ اپنی ابتداو انتہا کی حقیقت سے غافل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے مطرف بن الشخیرؒ متکبرین و متفخرین کے بارے میں فرمایا کرتے تھے: اے ابن آدم تو اپنی ابتدا میں پانی کا ایک ناپاک قطرہ ہی تھا اور اپنی انتہا پر ایک غلیظ مردہ ہوگا‘ اور اس دوران تو گناہوں کا بوجھ اٹھائے پھرتا ہے۔ (احیاء علوم الدین ۳/۳۴۰)
انسان تب ہی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہوتا ہے اور سرکشی کا راستہ اختیار کرتا ہے جب اس حقیقت سے غافل ہو جاتا ہے۔ اور سجدہ اس زمین اور اس خا ک میں مل جانے کی بڑی بلیغ یاددہانی ہے جو ان تمام معانی کی یاد دلاتا ہے اور ان تمام اثرات کو یقینی بناتا ہے۔
جب سجدہ کرنے والا اس ہیئت میں ہوتا ہے‘ جب کہ وہ اﷲ کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے اور اپنے ربِّ اعلیٰ کے نام کی تسبیح کر رہا ہوتا ہے تواس کے ہاں یہ دونوں اُمور‘ دنیا کی زوال پذیری کی معرفت اور عبودیت کی عظمت کا ادراک جمع ہو جاتے ہیں اور وہ جان لیتا ہے کہ اس کے لیے مناسب نہیں کہ دنیا کی حیثیت کو اس حیثیت سے زیادہ بڑھائے جو اس نے سجدہ میں دیکھی ہے۔ اور اس وقت اس کا دل دنیا کی زیب و زینت کی طرف راغب نہیں ہوتا اور نہ اس کی چمک ہی ‘اس کی بصارت و بصیرت کو اچک لیتی ہے کہ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کی بندگی کی حقیقت سے منہ موڑ لے۔
سجدے کی ہیئت انسان کو یہ شعور دلاتی ہے کہ دنیا وہ نہیں ہے جس طرح کہ وہ چاہتا ہے اور نہ اُس طرح ہی ہے جس طرح شیطان اسے مزین کرکے دکھاتا ہے کہ اس میں ایسا اور ایسا سامان زیست ‘ عمدہ چیزیں ‘ لذتیں اور مرغوبات ہیں جو اس بات کی مستحق ہیں کہ انسان ان کے لیے اپنا وقت اور اپنی مساعی صرف کرے اور ان کی فکر میں گھلتا رہے۔ سجدہ اس زعم باطل کا ازالہ کر دیتا ہے اور جو کچھ اﷲ تعالیٰ کے پاس اعلیٰ علییّن میں ہے مسلمان کو اس کے ساتھ مربوط کر دیتا ہے۔ نتیجتاً وہ دنیا پرستی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اوراس سے اپنی نظروں کو ہٹا لیتا ہے ۔ جب بندۂ مومن اس حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ کرتا ہے تو وہ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔
جب بندہ دنیا کے سحر اوراس کی محبت سے آزاد ہو گیا ‘ اور اس سے امید ‘ اس کے خوف اوراس کے نفع ونقصان سے بے نیاز ہو گیا تواس نے کمال بندگی حاصل کر لیا۔ اسے معلوم ہو گیا کہ اس کا انحصار صرف اﷲ پر ہے اور اسے یقین ہو گیا کہ وہ اﷲ سے بھاگ کر کہیں نہیں جا سکتا‘ اور وہی اس کی امیدوں کا مرکز ہے ‘ جیسا کہ اس کا فرمان ہے: فَفِرُّوْا اِلَی اﷲِ (الذّٰریٰت ۴۹:۵۰) ’’پس دوڑو اﷲ کی طرف‘‘۔ یہ توایک معروف حقیقت ہے کہ ہر چیز جس سے وہ خوفزدہ ہوتی ہے اس سے گریزاں رہتی ہے سوائے اﷲ تعالیٰ کی جانب کے کہ جب کوئی چیز ا س سے خوفزدہ ہوتی ہے تواسی کی طرف دوڑ کر جاتی ہے ‘اور یہی تعلیم نبی کریمؐ نے دی ہے۔ اـ ـسی لیے سجدہ قرب کا موقع ہوتا ہے کیوںکہ اس میں اﷲ کی طرف یکسوئی اپنے کمال پر ہوتی ہے۔
m عاجزی و فقیری:پانچواں نکتہ یہ کہ سجدے میں انسانی جسم کے بڑے بڑے اعضا شریک ہوتے ہیں۔ انسان جب وقوف یا رکوع میں ہوتا ہے توا پنے بعض اعضا سے کام لیتا ہے‘لیکن جب وہ سجدہ میں ہوتا ہے تو وہ اپنے دونوں ہاتھوں‘ دونوں پاؤں ‘ دونوں گھٹنوں ‘ ناک اور پیشانی کے ساتھ زمین پر ہوتا ہے۔یہ سب کچھ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ پورے کا پورا اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ہے اور یہ بھی کہ اس کے سارے حواس اﷲ کی ہدایت کے مطابق استعمال ہورہے ہیں۔
پس اس کی آنکھیں‘ اس کے ہاتھ‘ اس کے پاؤں اور اس کی ہر چیز اسے یاد دلاتی ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کا عاجز اور فقیر بندہ ہے‘ لہٰذا مناسب نہیں کہ وہ اﷲ تعالیٰ کو سجدہ کرے اور پھر اپنی آنکھوں اور ہاتھوں سے اللہ کی نافرمانی کرے یا قدموں کے ساتھ منکرات کی طرف چل کر جائے۔اسی طرح اس کے لیے یہ بھی مناسب نہیں کہ شہوات اور لذات کے سامنے سرنگوں ہو جائے ۔ یہ معنی ہیں سجدے کے ‘ اس شخص کے لیے جو اسے سمجھنے کے لیے اس پر غوروفکر کرتا ہے اور یہ کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی بندگی و فرمانبرداری کا زیادہ سے زیادہ حریص ہو اوراس کی نافرمانی سے زیادہ سے زیادہ بچنے والا ہو۔ یہ بندے کے لیے اس کے رب اور مولا سے قرب کے اسباب ہیں۔
m معراجِ بندگی:چھٹا نکتہ یہ ہے کہ سجدہ انسان اور شیطان کے درمیان تفریق کرتا ہے ۔ وہ شیطان کے لیے محرومی اور دوری کا سبب ہے‘ اس لیے کہ اس کو سجدے کا حکم دیا گیا مگر اس نے انکار کر دیا ۔ چنانچہ وہ انکاراس پر تاقیام قیامت لعنت کا سبب بن گیا۔ پھر آخرت میں اس کے لیے عذاب ہے۔ لیکن جو جھکتا ہے اور اﷲ کے حکم کی تعمیل میں سجدہ کرتا ہے‘ وہ اپنی عبودیت کا ثبوت دیتا ہے اور شیطان سے دشمنی کا اعلان کرتا ہے۔ شیطان کو سجدے سے انکار پر دھتکارا گیا اور اﷲ کی رحمت سے دور کر دیا گیا۔ لیکن تیرا معاملہ اس کے برعکس ہے‘ تو سجدہ کرتا ہے تو اﷲ کے قرب اور اس کی رحمت کے سایے میں ہوتا ہے ۔
سجدے کے ساتھ جہاں انسان دنیا اور اس کے فتنے ‘ لوگوں کی طرف مائل ہونے اور ان پر بھروسا کرنے سے بے نیازہو جاتا ہے وہیں اس کے اعضا اور ان کے اعمال کو اﷲ کی رضا وخوشنودی کے خلاف استعمال ہونے سے آزادی مل جاتی ہے۔ وہ شیطان کی گمراہ کن راہوں اور اس کی دھوکا دہ چالوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس کے اور شیطان لعین کے مابین دوریاں اور فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ اس نے اﷲ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے انکار کیا مگر یہ اﷲ تعالیٰ کی فرمانبرداری کا اعلان کرتا ہے ۔ چنانچہ اس طرح اسے فلاح کے کتنے اسباب میسر ہو گئے اور ایمان میں اضافے اور اﷲ کی رضا کے کتنے ہی اسباب ہاتھ آگئے۔بے شک ہم نے اس حقیقت کو پالیا کہ سجدہ بندے کا سب سے اونچا مقام اور قرب الٰہی کی بلیغ ترین صورت ہے۔
m آخرت کی یاد: ساتواں نکتہ دنیا اورآخرت کے سجدے کی یاددہانی ہے اور وہ سجدے کرنے والے مومن اور انکار کرنے والے کافر کے درمیان فرق ہے۔ بندہء مومن کو دنیا میں سجدے کے لیے بلایا گیا تواس نے سجدہ کیا اور کافروں کو بلایا گیا تو انھوں نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔چنانچہ وہ قیامت کے دن سجدہ کرنے کی تمنا کریں گے مگر وہ اس سے روک دیے جائیں گے‘سجدہ کرنے کے ارادے اور اس کی رغبت کے باوجود ایسا نہ کر سکیں گے۔ ان کی پیٹھیں تختہ ہو جائیں گی اور ان میں سے ایک بھی اس قابل نہ ہوگا کہ اپنی کمر کو خم کرکے سجدہ کر لے۔مفسرین نے اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد سے یہی معنی لیے ہیں: یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّیُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ فَـلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ (القلم ۶۸:۴۲) ’’جس روز سخت وقت آپڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گے‘‘،یعنی ان کے اور ان کے ارادے کے مابین رکاوٹ پیدا کر دی جائے گی۔
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب حقیقت کو منکشف فرمائے گا تو سب مومن مرد اور عورتیں سجدے میں گرجائیں گے لیکن جو کہ دنیا میں دکھاوے اور شہرت کے لیے سجدہ کرتا تھا ‘ وہ باقی رہ جائے گا۔ وہ چاہے گاکہ سجدہ کرے مگر اس کی پیٹھ ایک ہی طبق بن جائے گی۔بندہ مومن کو جب اس مقام کا خیال آتا ہے تو سجدے کی طرف مسابقت اسے اُس سخت مقام اور ہولناک موقع سے نجات و خلاصی دکھائی دیتی ہے اور وہ اسے رب عظیم کے تقرب اور دردناک عذاب سے بچاؤ کی ایک صورت دکھائی دیتی ہے۔اس لیے سجدہ کرنے والا اﷲ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ سجدہ جو دنیا میں سب سے بڑی عبادت اور قرب ِالٰہی کا باعث ہے وہ ان لوگوں کے لیے‘ جنھوں نے دنیا میں سجدہ کرنے سے پہلوتہی کی ‘ بڑے بنے رہے‘ سجدہ نہیں کیا اور اﷲ کے حضور میں نہیں جھکے‘ قیامت کے روز حسرت وندامت کے ساتھ مصیبت زدہ ‘ جھکی ہوئی گردنوں اور ذلیل چہروں کے ساتھ ہوں گے اور یہ رسوائی کے ساتھ عذاب کی ایک بہت بڑی صورت ہے۔
اﷲ تعالیٰ نے ابلیس اوراس کے ساتھیوں کے عذاب کی کیفیت کے سیاق میں ارشاد فرمایا: فَکُبْکِبُوْا فِیْھَا ھُمْ وَالْغَاو‘نَ (الشعرائ: ۲۶:۹۴) ’’پھر وہ معبود اور یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس(جہنم) میں اوپر تلے دھکیل دیے جائیں گے‘‘۔اور ایسا ہی اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کا قول ہے: فَکُبَّتْ وَجُوْھُھُمْ فِی النَّارِ (النمل ۲۷:۹۰ )’’ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے‘‘۔اور ایسا ہی حضرت ـمعاذؓ کی حدیث سے مترشح ہوتا ہے۔ جب نبیؐ نے ان سے کہا:یعنی اے معاذ ‘ تمھاری ماں تجھے گم کرے ‘کیا لوگ اپنی زبانوں کے غلط استعمال کے نتائج کے علاوہ بھی کسی وجہ سے جہنم میں اوندھے منہ گرائے جائیں گے؟(سنن الترمذی کتاب الایمان)
عذاب کی شدید ترین صورت مشقت اور اہانت کے لحاظ سے یہ ہے کہ منکر کو منہ کے بل آگ میں پھینکا جائے ‘ اس لیے کہ اس نے بندگی سے انکار کیا تھا۔ لیکن سجدہ کرنے والا جس نے دنیا کے اندر اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور میں اس کی عظمت کے اعتراف کے ساتھ ‘ اس سے خیر کا سوال کرتے ہوئے اوراس کے عذاب سے بچنے کے لیے عاجزی اور انکساری اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو منہ کے بل گرایا تھا وہ اس عذاب سے نجات پا جائے گا۔سجدے کی اس حقیقت کے استحضار کے ساتھ مسلمان کو یہ ادراک حاصل ہو جاتا ہے کہ سجدہ نجات اور بچاؤ کا سبب ہے اور بندے کے لیے رفعت اور اﷲ تعالیٰ سے قرب کا ذریعہ۔
لہٰذا سجدہ (جو مقام قرب ہے ) پر غور کرنے والے شخص کو چاہیے کہ اس حقیقت کو فراموش نہ کرے۔ ان جملہ معانی کو جب بندہ مومن اپنے دل میں اپنے رب کی تسبیح کے ساتھ تازہ رکھتا ہے تووہ خالص عبودیت کی معراج پر ہوتا ہے۔ بلاشبہہ وہ نماز کے دوران دعا کے لیے سب سے بڑا موقع ہوتا ہے کیوں کہ وہ مقام قرب ہے۔اور یہ تو ایک حقیقت ہے کہ جب تم سربسجود ہو کر اﷲ کے قریب ہوتے ہوتواس کے حضور میں عجز و انکساری کے ساتھ اپنا سوال پیش کرنے کے اہل ہوتے ہو۔ تم اپنے اوپراﷲ کے فضل کو یاد کر رہے ہوتے ہو اور تمھیں اپنی فنا اور انتہا یاد آ رہی ہوتی ہے‘ اس حال میں کہ دنیا تمھاری نظروں سے اوجھل ہوتی ہے اور تم لوگوں سے بے تعلق ہوتے ہو اور تمھارے اعضا و حواس صرف اﷲ کی بندگی کے لیے مخصوص ہوتے ہیں اور تمھارا راستہ شیطان کی راہ سے الگ ہوتا ہے۔ پھر تمھاری نظر اﷲ کی جزاوسزاکی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔
سجدے میں دعا کی کثرت مستحب ہے جیسا کہ ہم نے قرب کی حقیقت بیان کرتے ہوئے اس کا ذکرکیا ہے اور یہ کہ نبیؐ کی نماز میں دعا زیادہ تر سجدے کی حالت میں بیان ہوئی ہے۔ ابن قیم ؒ نے کہا ہے:’’نماز میں دعا کے سات مواقع ہیں اور ان میں سے اہم ترین سجدے کامقام ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی کثرت سجدے میں ہوتی۔(زاد المعاد ۱/۲۵۶)
سجدہ دعا کے لیے مختص ہے جس کے ساتھ وہ نماز میں دیگر مواقع اور شکلوں سے ممیز ہے اور اسی بارے میں صحیح حدیث میں وارد ہے :اے لوگو‘ مبشرات نبوت میں سے صرف سچا خواب باقی ہے جسے کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے لیے دِکھایا جائے۔ سنو ‘ مجھے رکوع وسجود کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔ رکوع میں اپنے رب تعالیٰ کی عظمت بیان کرو اور سجدے میں خوب دعا کرو او ر وہ اس لائق ہے کہ اسے قبول کیا جائے(مسلم)‘ یعنی سجدہ قبولیت دعا کا اہم ذریعہ ہے۔
سجدے میں گریہ وزاری‘ تاثر اور انفعال کی کمال صورتوں میں سے ہے۔ نماز میں مسلمان کا رونا زیادہ تر دو مقامات پر ہوتا ہے :قیام میں اور سجدے میں۔
قیام میں جب وہ قرآن کریم کی آیات پڑھتا یا سنتا ہے جس میں وعدہ ہوتا ہے‘وعید ہوتی ہے‘ جنت اور جہنم کا ذکر ہوتا ہے توا ﷲ کے جلال سے اس کا دل مرعوب ہو جاتا ہے اور اس کی آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں اور سجدے کا موقع اسے یاد دلاتا ہے کہ وہ اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور میں گرا پڑا ہے ‘ نیز وہ اسے اس کے ضعف اور رب ذوالجلال کی جناب میں اپنی تقصیر کو یاد دلاتا ہے۔ اسی لیے رونے کا ذکر سجدے کے ساتھ آیا ہے: اِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُکِیًّا (مریم۱۹:۵۸)’’ان کا حال یہ تھا کہ جب رحمن کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے تھے‘‘۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَیَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْکُوْنَ وَیَزِیْدُھُمْ خُشُوْعًا (بنی اسرائیل ۱۷:۱۰۹)’’ اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اسے سن کر ان کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے‘‘۔
پھر ان کی زبان اﷲ کی عظمت اور اس کے وعدہ کی سچائی کے ساتھ ہلنے لگ جاتی ہیں۔ وہ پکار اٹھتے ہیں: سُبْحَانَ رَبِّنَآ اِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا’’پاک ہے ہمارا رب ‘ اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا‘‘ اوراس کے ساتھ ان کے سینوں میں جو جذبات ابھرتے ہیں الفاظ ان کی تصویرکشی کرنے سے قاصر ہیں۔ اور آنسواس ناقابل بیان مخفی تاثیر کی تعبیر بن کر ان کی آنکھوں سے ٹپکنے لگتے ہیں۔ پس سجدے میں خشوع کامل کی تعریف یہ ہے کہ اس میں اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور میں عجز و انکساری اور گریہ و زاری بتمام و کمال جمع ہو جاتی ہیں۔
کمال سجدہ کے لوازم میں سے ہے کہ بندہ خوف و رجا کے درمیان متغیر رہتا ہے جب وہ اﷲ کے حکم کی تعمیل میں سجدہ کرتا ہے اور ابلیس کی مشابہت کی مخالفت کرتا ہے جس نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا‘ اور وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہوتا جو سجدہ کرنے سے مجتنب رہتے ہیں۔ لہٰذا وہ امید رکھتا ہے کہ اس کا سجدہ اﷲ کی رضا کے حصول اوراس کی دعا کی قبولیت کا باعث بن جائے گا۔ لیکن جس وقت اسے ابلیس کے لیے لعنت یاد آتی ہے اور اسے وہ موقع یاد آ جاتا ہے جب آخرت میں کافروں کو سجدہ کرنے کی قدرت حاصل نہ ہوگی۔ نیزاسے ابلیس اوراس کے پیروکار بلکہ اور بھی بعض گناہگاروں کے اوندھے منہ جہنم میں پھینکے جانے کا خیال آتا ہے تو وہ اپنے رب کے غضب سے کانپ اٹھتا ہے ا ور اس کے عذاب سے خوف زدہ ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ ہمیں آیات قرآنی میں سجدے اور امید و بیم کے درمیان یہ ربط نظر آتا ہے۔
اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے: اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِھَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَ ھُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ (السجدۃ۳۲:۱۵) ’’ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر جب نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ ایمان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں‘ اپنے رب کو خوف اور طمع سے پکارتے ہیں‘اور رحمن کے بندوں کی تعریف ہی یہ کی گئی ہے کہ وہ اپنے رب کے حضورسجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں‘ جو دعائیں کرتے ہیں: اے ہمارے رب‘ جہنم کے عذاب سے ہم کو بچا لے ‘ اس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے۔
یہ سب مفاہیم اہلِ ایمان کو اﷲ تعالیٰ کے پسندیدہ مقام تک رسائی دلاتے ہیں اور وہ اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی کے سزاوار ہو جاتے ہو۔اسی لیے تو اﷲ سبحانہ وتعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اس کے بندے زیادہ سے زیادہ اس کی بندگی کریں‘اس کے حضور میں اپنی عاجزی‘ زاری و انکساری کا اظہار کریں‘ اپنی احتیاج کو پیش کریں اور اپنے دست سوال کو اس کے حضور میں پھیلائے رکھیں۔ یہی قربِ الٰہی ہے‘ یہی معراج بندگی ہے اور یہی حقیقتِ سجدہ ہے!
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ (الحجرات ۴۹:۱۰)
مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو۔
یٰٓاَ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْھُمْ وَلاَ نِسَآئٌ مِّنْ نِّسَآئٍ عَسٰٓی اَنْ یَّکُنَّ خَیْرًا مِنْھُنَّ وَلَا تَلْمِزُوْا اَنْفُسَکُمْ وَلاَ تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ (الحجرات ۴۹:۱۱)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں‘ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے یاد کرو۔
یٰٓاَ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلاَ تَجَسَّسُوْا وَلاَ یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا (الحجرات ۴۹:۱۲)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔
۱- حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کو (بلاوجہ) بُرا بھلا کہنا بڑا گناہ ہے اور اس سے (بلاوجہ) لڑنا (قریبِ) کفر ہے۔ (بخاری و مسلم)
۲- حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص (لوگوں کے عیوب پر نظر کر کے اور اپنے آپ کو عیوب سے بری سمجھ کر بطور شکایت کے) یوں کہے کہ لوگ برباد ہوگئے تو یہ شخص سب سے زیادہ برباد ہونے والا ہے (کہ مسلمانوں کو حقیر سمجھتا ہے)۔ (مسلم)
۳- حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ فرماتے تھے: چغل خور (قانوناً سزا بھگتنے بغیر) جنت میں نہ جائے گا۔ (بخاری و مسلم)
۴- حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز سب سے بدتر (حالت میں) اس شخص کو پائو گے جو دو رُخا ہو‘ یعنی جو ایسا ہو کہ اِن کے منہ پر ان جیسا‘ اُن کے منہ پر اُن جیسا ۔ (بخاری و مسلم)
۵- حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو غیبت کیا چیز ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسولؐ خوب جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا (غیبت یہ ہے کہ) اپنے بھائی (مسلمان) کا ایسے طور پر ذکر کرنا کہ (اگر اس کو خبر ہو تو) اُسے ناگوار ہو۔ عرض کیا گیا کہ یہ بتلایے کہ اگر میرے (اس) بھائی میں وہ بات ہو جو میں کہتا ہوں (یعنی اگر میں سچی برائی کرتا ہوں)‘ آپؐ نے فرمایا: اگر اس میں وہ بات ہے جو تو کہتا ہے تب تو تو نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ بات نہیں ہے جو تو کہتا ہے تو تو نے اس پر بہتان باندھا۔ (مسلم)
۶- سفیان بن اسد حضرمیؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ بہت بڑی خیانت کی بات ہے کہ تو اپنے مسلمان بھائی سے کوئی ایسی بات کہے کہ وہ اس میں تجھ کو سچا سمجھ رہا ہے اور تو اس میں جھوٹ کہہ رہا ہے۔(ابوداؤد)
۷- حضرت معاویہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کو کسی گناہ سے عار دلا دے تو اس کو موت نہ آوے گی جب تک کہ خود اس گناہ کو نہ کرے گا (یعنی عار دلانے کا یہ وبال ہے۔ اگر کسی خاص وجہ سے وہ گناہ سرزد نہ ہو تو اور بات ہے۔ اور خیرخواہی سے نصیحت کرنے کا کچھ ڈر نہیں)۔ (ترمذی)
۸- حضرت واثلہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مسلمان بھائی کی (کسی دنیوی یا دینی بری) حالت پر خوشی مت ظاہر کر ‘ہوسکتا ہے کہ کبھی اللہ تعالیٰ اس پر رحمت فرما دے اور تجھ کو اُس حالت میں مبتلا کر دے۔ (ترمذی)
۹- عبدالرحمن بن غنمؓ اور اسماء بنت یزیدؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندگان خدا میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جو چغلیاں پہنچاتے ہیں اور دوستوں میں جدائی ڈلواتے ہیں۔ (احمد و بیہقی )
۱۰- حضرت ابن عباسؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اپنے بھائی (مسلمان) سے (خواہ مخواہ) بحث نہ کیاکرو اور نہ اس سے (ایسی) دل لگی کرو (جو اس کو ناگوار ہو) اور نہ اس سے کوئی ایسا وعدہ کرو جس کوتم پورا نہ کرو۔ (ترمذی)
۱۱- البتہ اگر کسی عذر کے سبب پورا نہ کر سکے تو معذور ہے]یعنی ناقابلِ مواخذہ[۔ چنانچہ زید بن ارقمؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس وقت پورا کرنے کی نیت تھی مگر پورا نہیں کر سکا اور اگر آنے کا وعدہ تھا اور وقت پر نہ آسکا (اس کا یہی) مطلب ہے کہ کسی عذر کے سبب ایسا ہوگیا) تو اس پر گناہ نہ ہوگا۔ (ابوداؤد و ترمذی)
۱۲- عیاض مجاشعیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی فرمائی ہے کہ سب آدمی تواضع اختیار کریں یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے‘ اور کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے (کیونکہ فخر اور ظلم تکبر ہی سے ہوتا ہے) ۔ (مسلم)
۱۳- حضرت جریرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ (بخاری و مسلم)
۱۴- حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بیوہ اور غریبوں کے کاموں میں سعی ]دوڑ دھوپ[کرے وہ (ثواب میں) اس شخص کے مثل ہے جو جہاد میں سعی کرے۔ (بخاری و مسلم)
۱۵- حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور وہ شخص جو کسی یتیم کو اپنے ذمے رکھ لے خواہ وہ یتیم اس کا (کچھ لگتا) ہو اور خواہ غیر کا ہو۔ ہم دونوں جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپؐ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ فرمایا اور دونوں میں تھوڑا سا فرق بھی رکھا (کیونکہ نبی اور غیرنبی) میں فرق تو ضروری ہے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت میں رہنا کیا معمولی بات ہے۔ (بخاری)
۱۶- نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مسلمانوں کو باہمی ہمدردی اور باہمی محبت اور باہمی شفقت میں ایسا دیکھو گے جیسے (جاندار) بدن ہوتا ہے کہ جب اس کے ایک عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو تمام بدن بدخوابی اور بیماری میں اس کا ساتھ دیتا ہے۔ (بخاری و مسلم)
۱۷- حضرت ابوموسٰی ؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپؐ کے پاس کوئی سائل یا کوئی صاحب حاجت آتا تو آپؐ (صحابہؓ سے) فرماتے کہ تم سفارش کر دیا کرو‘ تم کو ثواب ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے رسولؐ کی زبان کے ذریعے جو چاہے حکم دے (یعنی میری زبان سے وہی نکلے گا جو اللہ تعالیٰ کو دلوانا ہوگا۔ مگر تم کو مفت کا ثواب مل جائے گا اور یہ اس وقت ہے جب جس سے سفارش کی جائے اس کو گرانی ]ناگوار[ نہ ہو جیسا کہ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا)۔ (بخاری و مسلم)
۱۸- حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرو‘ خواہ وہ ظالم ہو خواہ مظلوم ہو۔ ایک شخص نے عرض کیا: یارسول ؐاللہ! مظلوم ہونے کی صورت میں تو مدد کروں مگر ظالم ہونے کی صورت میں کیسے مدد کروں؟ آپ نے فرمایا: اس کو ظلم سے روک دو۔ تمھارا یہ عمل ہی اس ظالم کی مدد کرنا ہے۔ (بخاری و مسلم)
۱۹- حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے‘ نہ اس پر ظلم کرے اور نہ کسی مصیبت میں اس کا ساتھ چھوڑے اور جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجتیں پوری کرتا رہتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سختی دُور کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کی سختیوں میں سے اس کی سختی دُور کرے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ (بخاری و مسلم)
۲۰- حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں یہ فرمایا: آدمی کے لیے یہ شر ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے (یعنی اگر کسی میں یہ عیب ہو اور شر کی کوئی اور بات نہ ہو تب بھی اس میں شر کی کمی نہیں) مسلمان کی ساری چیزیں دوسرے مسلمان پر حرام ہیں۔ اس کی جان اور اس کا مال اور اس کی آبرو (یعنی نہ اس کی جان کو تکلیف دینا جائز نہ اس کے مال کا نقصان کرنا اور نہ اس کی آبرو کو کوئی صدمہ پہنچانا مثلاً اس کا عیب کھولنا‘ اس کی غیبت وغیرہ کرنا)۔ (مسلم)
۲۱- حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کوئی بندہ اُس وقت تک(پورا) ایمان دار نہیں بنتا جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی بات پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (بخاری)
۲۲- حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص جنت میں نہ جائے گا جس کا پڑوسی اس کے خطرات سے محفوظ نہ ہو(یعنی اس سے ضرر کا اندیشہ لگا رہے)۔ (مسلم)
۲۳- حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہماری جماعت سے خارج ہے جو ہمارے کم عمر پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑی عمر والے کی عزت نہ کرے اور نیک کام کی نصیحت نہ کرے اور برے کام سے منع نہ کرے (کیونکہ یہ بھی مسلمان کا حق ہے کہ مناسب موقع پر اس کو دین کی باتیں بتلا دیا کرے مگر نرمی اور تہذیب سے)۔ (ترمذی)
۲۴- حضرت انسؓ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے سامنے اس کے مسلمان بھائی کی غیبت ہوتی ہو اور وہ اس کی حمایت پر قادر ہو اور اس کی حمایت کرے تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی حمایت فرمائے گا۔ اور اگر اس کی حمایت نہ کی حالانکہ اس کی حمایت پر قادر تھا تو دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ اس پر گرفت فرمائے گا۔ (شرح السنۃ)
۲۵- حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (کسی کا) کوئی عیب دیکھے پھر اس کو چھپا لے (یعنی دوسروں پر ظاہر نہ کرے) تو وہ (ثواب میں) ایسا ہوگا جیسا کہ کسی نے زندہ درگور لڑکی کی جان بچا لی (کہ قبر سے اس کو زندہ نکال لیا)۔ (احمد و ترمذی)
۲۶- حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک شخص اپنے بھائی کا آئینہ ہے۔ پس اگر اس (اپنے بھائی میں) کوئی گندی بات دیکھے تو اس سے (اس طرح) صاف کر دیتا ہے کہ صرف عیب والے پر تو ظاہر کر دیتا ہے لیکن کسی دوسرے پر ظاہر نہیں کرتا۔ اس طرح اس شخص کو چاہیے کہ اس کے عیب کی خفیہ طور پر اصلاح کر دے‘ فضیحت نہ کرے۔ (ترمذی)
۲۷- حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو ان کے مرتبے پر رکھو (یعنی ہر شخص سے اس کے مرتبے کے مطابق برتائو کرو سب کو ایک لکڑی سے مت ہانکو۔ (اوداؤد)
۲۸- حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا‘ آپؐ فرماتے تھے: وہ شخص (پورا) ایمان دار نہیں جو خود اپنا پیٹ بھرلے اور اس کا پڑوسی اس کے برابر میں بھوکا رہے۔ (بیہقی)
۲۹- حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن الفت (اور لگائو) کا محل (اور خانہ) ہے اور اس شخص میں خیر نہیں جو کسی سے نہ خود الفت رکھے اور نہ اس سے کوئی الفت رکھے (یعنی سب سے روکھا اور الگ رہے۔ کسی سے میل جول ہی نہ ہو۔ باقی دین کی حفاظت کے لیے کسی سے تعلق نہ رکھنا یا کم رکھنا وہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ (احمد)
۳۰- حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میری اُمت میں سے کسی کی حاجت پوری کرے صرف اس نیت سے کہ اس کو مسرور (اور خوش) کرے ‘سو اس شخص نے مجھ کو مسرور کیا اور جس نے مجھ کو مسرور کیا اس نے اللہ تعالیٰ کو مسرور کیا اور جس نے اللہ تعالیٰ کو مسرور کیا اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرما دے گا۔ (بیہقی)
۳۱- حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی پریشان حال آدمی کی مدد کرے‘ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ۷۳ مغفرتیںلکھے گا جن میں ایک مغفرت تو اس کے تمام کاموں کی اصلاح کے لیے (کافی) ہے اور ۷۲ مغفرتیں قیامت کے دن اس کے لیے رفع درجات کا ذریعہ بنیں گی۔ (بیہقی)
۳۲- حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت کوئی مسلمان اپنے بھائی کی بیمار پرسی کرتا ہے یا ویسے ہی ملاقات کے لیے جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تو بھی پاکیزہ ہے‘ تیرا چلنا بھی پاکیزہ ہے ‘تو نے جنت میں اپنا مقام بنا لیا ہے۔(ترمذی)
(بہ شکریہ ‘ تعمیرحیات‘ لکھنؤ‘ جولائی ۲۰۰۲ئ)