تزکیہ و تربیت


ایک نہر ہے جو تیزی سے بہہ رہی ہے اور قرب و جوار کی بستیوں میں تباہی مچا رہی ہے۔ اہل بستی کو یقین ہو گیا کہ اگر بہائو کا یہی حال رہا تو سب ہی غرق ہو جائیں گے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے اہل بستی کے تین گروہ ہوگئے۔

ایک گروہ نے اپنی تمام قوت اور اسباب اس کو روکنے اور بہائو کے آڑے آنے پر صرف کر دیے مگر کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ وجہ یہ تھی کہ پانی کو ایک جگہ سے روکا جاتا تو دوسری طرف سے بہہ نکلتا اور دبائو کے باعث مزید تباہی پھیل رہی تھی۔

دوسرا گروہ اس بات پر مصر تھا کہ اس کا سرچشمہ تلاش کیا جائے تاکہ اسے بند کرنے سے اس نہر کا زور کم ہو اور نقصان سے محفوظ رہا جا سکے۔ سرچشمہ مل تو گیا مگر ایک سوت بند کیا جاتا تو دوسرے سوت سے پانی خارج ہونے لگتا۔ چشمے کے ابلنے میں کوئی کمی نہ آ رہی تھی اور تمام سوتوں کا بند کرنا ناممکن نظر آرہا تھا۔ اس گروہ کے اس اقدام سے بھی بستی والوں کے مکانات نہ بچ سکے اور نہ کھیتیاں پروان چڑھ سکیں۔

تیسرا گروہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ پہلے دونوں گروہوں کے طریقہ کار سے تو مسئلے کا کوئی حل سامنے نہیں آیا‘ اس لیے اس گروہ نے نہ تو پانی روکنے کی کوشش کی اور نہ ہی سوت بند کرنے کا تہیہ کیا بلکہ انھوں نے اپنی تمام تر کوششیں اس پر صرف کیں کہ پانی کے اس بہائو کو حسب منشا صحیح راہ پر لگا دیا جائے۔ اور اس کوشش کو

اس طرح شروع کیا کہ نہر کا رخ بنجر زمینوں‘ قابل زراعت کھیتوں کی جانب کیا اور جگہ جگہ ضرورت کے لے پانی کے تالاب بنائے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گھاس سے تمام زمین سبزہ زار ہو گئی اور اُس کے ثمرات سے تمام اہل بستی مالامال ہو گئے۔

بلاشبہ تیسرا گروہ کامیاب رہا‘ جب کہ پہلے اور دوسرے گروہ نے وقت ضائع کرنے اور بے نتیجہ محنت کرنے کے سوا کچھ حاصل نہ کیا۔

ہمارا یہ احساس ہے کہ نہر کے بہائو میں دو عناصرہوتے ہیں۔ ایک تو پانی اور دوسرے اس کے ساتھ چلنے والی مٹی۔ بس یہی عناصر حضرت انسان میں بھی ہیں۔ اس تمثیل کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہماری خواہش ہے کہ قومی زندگی کے اس مرحلے پر تیسرے گروہ کا طرز عمل اختیار کرتے ہوئے ناقابل تسخیر اور موثر شخصیت کی آگاہی حاصل کریں تاکہ دین اور دنیا کے تقاضے پورے کر سکیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس معاملے میں صرف مطالعے ہی سے کام نہیں لیا جائے گا بلکہ اپنی شخصیت کے ارتقا اور کامیابی کے لیے تحریری طور پر بھی منصوبہ بندی کر کے اور لائحہ عمل بنا کر کام کیا جائے گا۔

ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر چیز کے لیے وقت نکال لیتے ہیں‘ دوستوں اور رشتہ داروں سے مل لیتے ہیں مگر نہیں ملتے تو صرف ایک ذات سے‘ اور وہ ہے اپنی ذات۔ ہمیں منصوبہ بندی اور لائحہ عمل کے نقطہ نظر سے اپنی ذات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

۱- ٹھوس نظریہ حیات:  آپ جس نظریۂ حیات کے حامل ہیں اس کی بنیادوں اور بنیادی فلسفہ اور اعتقاد کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔یہ اعتقاد ٹھوس ہو محض توجیہات پر مشتمل نہ ہو۔ اس نظریۂ حیات کے باعث آپ میں مقصد حیات کا سچا شعور پیدا ہو گیا ہو اور اس کی علامتیں ظاہر و باطن‘ دونوں میں اُبھر رہی ہوں۔ لوگ آپ کو نرم چارہ نہ پائیں بلکہ آپ کو ہوشیار‘ بیدار مغز‘ اور اصول پرست ہونا چاہیے۔ ہم مسلمان ہیں‘ حق و باطل کے ساتھ بیک وقت رشتہ برقرار نہیں رکھ سکتے۔ سیرت کی ان تمام کمزوریوں کا احساس کیجیے جو آپ کی ذات میں باطل کو گھسنے کا موقع دیتی ہیں۔ اپنی حیثیت کا جائزہ لیجیے اور اتنے مستحکم ہو جایئے کہ: لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول۔

۲- اصولوں کا علم اور ان پر عمل: آپ کو اپنے نظریہ حیات کا علم ہو۔ جو علم آپ نے حاصل کیا ہے اور جس تعلیم میں پیش رفت کی ہے اس کے اصولوں کا ادراک ہو‘ احساس ہو اور اس کے ساتھ ان پر عمل بھی ہو۔اصول‘ گفتگو اور بحث اپنی ذات کونمایاں کرنے کے لیے نہ ہوں بلکہ عمل کرنے کے لیے ہوں‘ تب ہی آپ کامیاب ہوں گے۔ سچائی اور ایمان داری‘ ہر نظریہ حیات اور مذہب کے بنیادی اصول ہیں۔ آپ لوگوں کو ان کی تعلیم دیں مگر اپنے معاملات میں اس پر عمل نہ کریں تودرحقیقت خسارے کا سودا کریں گے۔ جیسے جب جھوٹ کی گنجایش ہو تو بول دیں‘ ڈنڈی لگا کر‘ کاموں کو مؤخر کر کے‘ ٹیکس اور کسٹم میں مروجہ طریقہ کے مطابق مالی مفادات حاصل کر کے کام کر لیا جائے تو آپ فوری طور پر تو فائدہ اٹھا لیں گے بلکہ اپنے لیے مکان بھی بنا لیں گے مگر سکون حاصل نہیں ہوگا‘ اور آپ کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ اس قسم کے مفادات کے حصول کے وقت ممکن ہے پانچ سو یا ہزار گز کا پلاٹ پیش نظر ہو‘ مگر عمر جوں جوں آگے بڑھتی ہے اور انسان ۲x۶ فٹ کے فلیٹ کے قریب پہنچتا ہے‘ تو اس وقت اسے ندامت ہوتی ہے۔

۳- اخلاص نیت اور اخلاص عمل:  منہاج القاصدین میں علامہ ابن جوزیؒ نے بیان کیا ہے کہ ارباب بصیرت کو انوارالقرآن سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ سعادت تک پہنچنے کے لیے علم اور عبادت نہایت ضروری ہے۔ دنیا میں سب لوگ ہلاک ہو رہے ہیں مگر علم والے‘ اور سب علم والے ہلاک ہوں گے سوائے عاملین کے‘ اور سب عمل والے ہلاک ہوں گے سوائے مخلصین کے‘ اور مخلص بھی عظیم خطرے میں ہے۔

ہمارے ہاں اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ اخلاص نیت کے اپنے اجر ہیں۔ نیت کے مطابق شعور کے ساتھ عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ بعض اوقات انسان کو عمل کی فرصت نہیں ملتی مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی نیت کا اجر مل جاتا ہے۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی نیت کا احتساب کریں۔ اس کا جائزہ لیتے رہیں اور اس میں اخلاص پیدا کرتے رہیں۔

۴- احساس ذمہ داری:  اس دنیا میں ہم سب لوگ ذمہ دار ہیں۔ ہر فرد کسی نہ کسی انداز میں راعی ہے۔ گھر‘ خاندان‘ دفتر‘ کاروبار اور معاملات اور تنظیم کے حوالے سے ہمیں اپنی متعلقہ رعایا کا احساس کرنا ضروری ہے۔ پورے شعور کے ساتھ ذمہ داریوں کا احساس ہو۔ پھر ان ذمہ داریوں کو بھرپور طریقے سے ادا کرنے کی کوشش بھی ضروری ہے۔ ذمہ داری میں اہل خانہ بھی شامل ہیں‘ دفتر کے معاملے میں ملازمت کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ آپ کے ساتھیوں اور ماتحت افراد کی ذمہ داری بھی شامل ہے۔ سرکاری ملازم ہیں تو سرکاری وقت‘ وسائل اور خزانے کے متعلق ذمہ داریوں کا احساس اور ادایگی ضروری ہے۔ کاروباری ہیں تو اس کے تقاضوں کا شعور‘ قیمت کا تعین‘ ملازمین کی تنخواہیں اور ان کی خوش حالی‘ اس کے ساتھ ساتھ کاروبار کی ترقی اور پھیلائوکی کوشش اور معیار کا برقرار رکھنا ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ بس ہر حال میں کام کا حق ادا کیجیے۔

۵- شجاعت: ضرورت اور حاجت کے وقت مصائب اورخطرات کا ثابت قدمی سے مقابلہ شجاعت کہلاتا ہے۔ جو شخص نتائج پر نگاہ رکھے اور ان کے پیش آنے سے خوف زدہ ہو مگر جب وہ سامنے آجائیں تو ثابت قدمی سے ان کا مقابلہ کرے تو وہ بہادر ہے‘ اور جب کوئی شخص موقع اور محل کی مناسبت سے بہترین کارگزار ثابت ہو وہ ’’شجاع‘‘ ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ خطرے میں کود ہی جائیں تو آپ بہادر ہوں گے بلکہ بہادر اس حالت میں بھی سمجھا جائے گا کہ نتیجے پر نگاہ رکھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے کہ اس خطرے کے موقع سے بچنا ہی بہتر طریقہ کار ہے اور اس کا فرض بھی اسے اس بات کا حکم دیتا ہو کہ وہ اپنے کو خطرے سے بچائے۔ درحقیقت سب سے بڑی بہادری‘ مصیبت اور سختی کے وقت دل کا اطمینان اور حاضر حواسی ہے۔ اس لیے بہادر وہ ہے کہ جب اس پر سخت وقت آئے تو اپنے اطمینان اور بیداری حواس کو نہ کھو بیٹھے بلکہ قابلیت اور ثبات قلبی سے اس کا مقابلہ کرے اور ذہنی بیداری اور مطمئن عقل کے ساتھ اس کو انجام دے۔

۶- حیا:  انسان میں ایک ایسی قوت اور ملکہ ودیعت کیا گیا ہے جس سے انسان خیر کی طرف اقدام کرتا ہے اورشر سے بچنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے۔ اس قوت یا ملکہ کا نام ’’حیا‘‘ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (۱) حیا ایمان کی ایک شاخ ہے (۲) حیا خیر کے علاوہ دوسری کوئی چیز نہیں دیتی۔ علامہ ماوردیؒ کہتے ہیں کہ خیروشر پوشیدہ معانی ہیں جو صرف اپنی ان علامتوں کے ذریعے ہی سے پہچانے جاتے ہیں جو ان معانی پر دلالت کرتے ہیں‘ پس خیر کی بہترین علامت حیا و شرم ہے اور شر کی علامت بے حیائی ہے۔ ایک عربی شعر کا ترجمہ ہے: ’’انسان سے اس کے اخلاق کے متعلق نہ پوچھو‘ خود اس کے چہرے مہرے میں اس کے اخلاق کی شہادت موجود ہے‘‘۔

ایک حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ اے اولاد آدم! جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو تیرا جی چاہے کر۔ حیا اللہ تعالیٰ سے کی جاتی ہے‘ لوگوں سے کی جاتی ہے‘ اور اپنے نفس سے کی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے حیا کرو اس درجے جو حیا کا حق ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: اللہ کی درگاہ میں ہم حیا کا صحیح حق کس طرح ادا کریں؟ آپؐ نے فرمایا: سر اور جو اس میں محفوظ ہے‘ اور پیٹ اور جو اس میں محفوظ ہے ان کی حفاظت کے ذریعے‘ اور حیات دنیا کی زینت کے ترک‘ اور موت اور بدن کے گل سڑ جانے کی یاد کے ذریعے سے حیا کا صحیح حق جناب باری میں ادا ہوتا ہے۔

۷- میانہ روی و اعتدال:  مقدمہ ابن خلدونسے اعتدال اور میانہ روی پر ایک اقتباس نقل کیا جارہا ہے۔ یہ ذمہ داران کے لیے بہت اہم ہے:

تم اپنے تما م کاموں میں میانہ روی اختیار کرو کیونکہ اس سے زیادہ نفع بخش‘ امن و حفاظت کی ذمہ دار اور فضیلت اور بزرگی کی نشانی کوئی چیز نہیں۔امور میں اعتدال ہی انسان کو بھلائی اور بزرگی کی طرف لے جاتا ہے۔ اور بھلائی توفیق ایزدی کی نشانی ہے‘ اور توفیق سعادت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ بلکہ خود دین و سنت رسولؐ کا قرار اسی اعتدال سے ہے اور دنیا کی اصلاح کا بھی اسی پر مدار (منحصر) ہے۔

شخصیت کیتعمیر و ترقی میں میانہ روی اور اعتدال و توازن اہم عناصر ہیں۔ یہ چیزیں مزاج کے لیے بھی ضروری ہیں‘ کام کاج کے لیے بھی‘ تعلقات اور معاملات کے لیے بھی‘ اور اخراجات کے لیے بھی۔ غرض زندگی کے ہر معاملے میں اور ہر صورت میں یہ تعمیر و ترقی میں بڑی معاون ہے۔

۸- صبر و تحمل:  صبر دو قسم کا ہے: ایک‘ بدنی‘ جیسے مشقت برداشت کرنا اور عبادت کے مشکل اعمال برداشت کرنا۔ دوسرا‘ نفسانی‘ یہ خواہش کے تقاضے اور طبیعت کی مرغوب چیزوں سے رُک جانا ہے۔ صبر کی یہ قسم اگر پیٹ اور شرم گاہ کی خواہش سے متعلق ہو‘ تو اس کا نام عفت ہے۔ اگر میدان جنگ میں صبر ہو‘ تو اس کا نام شجاعت ہے۔ اگر غصہ کو دبانے میںصبر ہو تو اس کا نام حلم ہے۔ اگر کسی پریشان کرنے والی مصیبت سے مقابلے میں ہو‘ تو اس کا نام فراخی ہے۔ اگر کسی معاملے کو پوشیدہ رکھنے کے متعلق ہو‘ تو اس کا نام راز کو چھپانا ہے۔ اگر زائد ضروریات سے رکنا ہو‘ تو اس کا نام زہد ہے۔ اور اگر تھوڑی سی ضروریات پر مطمئن ہونا ہو‘ تو اس کا نام قناعت ہے۔

صبروتحمل صرف مشکل وقت کے لیے ہی مخصوص نہیں بلکہ بہتر وقت میں بھی اس کی ضرورت ہے۔ بعض عارفین نے کہا ہے کہ مومن مصیبت پر صبر کر لیتا ہے اور عافیت پر صرف صدیق ہی صبر کر سکتا ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے کہا کہ تکلیفوں سے ہماری آزمایش ہوئی تو ہم نے صبر کیا لیکن جب نعمت و آسایش سے آزمایش ہوئی تو ہم صبر نہ کر سکے۔ جوانمرد صرف وہ ہے جو عافیت پر صبر کرے اور یہ صبر شکر کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب تک شکر کے حقوق ادا نہ ہوں صبر پورا نہیں ہوتا۔ اور نعمت میں صبر مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہاں قدرت حاصل ہوتی ہے‘ جیسے کھانا نہ ہونے کی صورت میں بھوکا زیادہ صبر کر سکتا ہے بہ نسبت لذیذ کھانا موجود ہونے کے۔

صبر کا اپنا وصف ہے کہ بقول حضرت علیؓ  ’’ اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور معرفت کا یہ حق ہے کہ تم اپنی تکلیف کی شکایت نہ کرو اور اپنی مصیبت کا ذکر نہ کرو‘‘۔

حکما کہتے ہیں کہ مصیبت کا چھپانا نیکی کا خزانہ ہے۔ایک آدمی نے امام احمدؒ سے پوچھا: اے ابوعبداللہ! آپ کا کیا حال ہے؟ آپ نے کہا: عافیت اور بھلائی سے ہوں۔ اس نے کہا: کل رات آپ کو بخار تھا۔ تو فرمایا: میں نے جب تم سے کہہ دیا کہ میں عافیت سے ہوں تو بس کافی ہے۔ تم مجھ سے وہ بات کیوں کہلوانا چاہتے ہو جس کا زبان پر لانا مجھے پسند نہیں۔

۹- استقامت و باقاعدگی: اپنے معاملات اور اصولوںپرعمل درآمد میں استقامت اور باقاعدگی بہت جلد آپ کی شخصیت کو شاہراہ کامیابی پر گامزن کر دے گی۔ اصولوں پر عمل کا معمول بنایئے۔ اچھے اطوار اور کاموں کو استقامت کے ساتھ کیجیے‘ اور جائزہ لیتے رہیے۔ مستقل مزاجی اور باقاعدگی شخصیت کو معروف اور مقبول بناتی ہے اور ہم منظم رہتے ہیں۔

۱۰- خوفِ خدا اور خوفِ آخرت: تعمیر شخصیت کے تخلیقی عناصر میں اور ہماری رفتار کار اور استعداد کار میں اضافے کا ایک اہم ذریعہ بلکہ بنیادی ذریعہ خوفِ خدا اور خوفِ آخرت ہے۔ خدا خوفی ہمیں برے اعمال سے بچائے گی‘ وقت ضائع کرنے سے بچائے گی‘ حرام کھانے سے بچائے گی‘ لغویات میں ملوث ہونے سے بچائے گی۔ جب ہم بہت ساری گلیوں سے بچ کر صرف ایک سیدھی راہ پر آجائیں گے اور ہمارے سامنے ایک عظیم ذات کے وجود کا احساس اور اس کی صفات و قدرت کا خوف ہوگا تو پھر ہمارے لیے اس سیدھی راہ پر سیدھا اور تیز چلنا آسان ہوگا ۔ آخرت کی گھڑی ہمارا ہدف ہوگی‘ اور اس شاہراہ پر چلتے ہوئے نظریں ادھر ادھر نہیں بھٹکیں گی۔

۱۱- حکمت: حکمت علم اور اس کے مطابق عمل کرنے کا نام ہے۔ ابن قتیبہؒ نے کہا: آدمی اس وقت تک حکیم نہیں ہوتاجب تک علم اور عمل کو جمع نہ کرے۔ حکمت‘ نفس کی اس حالت کا نام ہے جس کے ذریعے سے انسان تمام اختیاری امور میں خطا و صواب کے درمیان تمیز کرتا ہے۔ حکمت و عقل کے اعتدال سے حسن تدبیر‘ ذکاوت ذہن‘ باریک بینی‘ راست فکر اور پوشیدہ آفاتِ نفس کا فہم جیسے اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔

۱۲- اللّٰہ ہمارے ساتھ ہے! : ہر وقت یہ احساس رہنا چاہیے کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ حسن نیت ‘ عزم اور صحیح طریقہ کار کے مطابق محنت کر کے اپنے معاملات کے نتائج اللہ کے سپرد کر دینے چاہییں۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے کا احساس انسان کی نیکیوں میں اضافے اور برائیوں سے رکنے کا باعث ہوتا ہے۔ اسی احساس کے نتیجے میں اس میں غیر مرئی قوت محرکہ اور قوت عمل پیدا ہوتی ہے اور اس کے لیے حالات سازگار ہو جاتے ہیں۔

۱۳- نفس سے سبقت اور احتساب:  انسان پر حسد‘ حرص‘ غضب‘ شہوت اور تندی و تیزی بہت جلد غالب آجاتی ہے اور شیطان انھی راستوں سے اس پر حملہ کرتا ہے۔ بغیر تحقیق اور جلدبازی سے کام کرنا بھی اطاعت نفس ہے اور ہم اپنی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ یہ جذبات اور کیفیات بہت جلد غالب آجاتی ہیں۔ بدگمانی‘ بدظنی اور غلط فہمی موجودہ دور کے مسلمانوں کی بہت بڑی کمزوریاں ہیں۔ مسلمان کو ایٹمی قوت تباہ نہیں کر سکتی مگر بدگمانی تباہ کر ڈالتی ہے۔ بس اس صورت میں کنٹرول اور عقل کی ضرورت ہے۔ حقائق معلوم کرنے کی کوشش کیجیے‘ باتوں اور افواہوں پر فوری ردعمل کی ضرورت نہیں ہے۔

ع    بڑے موذی کو مارا نفسِ امارہ کو گرمارا

اس کے ساتھ ساتھ انسان کو روزانہ رات کو سونے سے قبل احتساب بھی کرنا چاہیے۔ حضرت عمر فاروق ؓ کا قول ہے کہ اپنا احتساب کر لو قبل اس کے کہ تمھارا احتساب کیا جائے۔ اور بقول حضرت جنید بغدادیؒ ’’تم ہروقت یہ سوچتے رہو کہ خدا سے کتنے قریب ہوئے‘ شیطان سے کتنے دُور‘ جنت سے کتنے قریب‘ اور دوزخ سے کتنے دُور‘‘۔ احتساب تحریری ہو تو زیادہ بہتر ہے۔ تحریری احتساب قوت عمل پیدا کرنے میں آپ کا معاون ہوگا۔

۱۴- دعا:  تعمیر شخصیت میں دعا کا اہم مقام ہے۔

دعا سب سے پہلے اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے: ’’ اے اللہ تو نے مجھے اچھی صورت میں پیدا کیا‘ اب میرے اخلاق بھی اچھے کر دے‘‘۔ دعا نفس کی شرارتوں سے بچنے کے لیے‘ عزائم کی بلندیوں‘ قوتوں کی بحالی اور حالات کی سازگاری اور خوش گواری کے لیے‘ رزق حلال کے لیے‘ بہتر استعداد کے لیے‘ اچھی ٹیم کے لیے‘ سخت گیر لوگوں کے دلوں کی نرمی کے لیے بھی ہونی چاہیے۔

دعا میں یقین کی کیفیت ضروری ہے۔ کسی گائوں میں بارش نہیں ہو رہی تھی تو نماز استسقاء کا اعلان ہوا۔ گائوں والے میدان میں جمع ہو گئے۔ دیکھا گیا کہ ایک گیارہ سالہ بچی بھی اپنے ہاتھ میں چھتری لیے میدان کی طرف آرہی تھی۔ لوگوں نے کہا: بیٹی! ہم تو ابھی بارش کی دعا مانگنے جا رہے ہیں‘ تو چھتری لے کر کیوں آ رہی ہے؟ بچی نے معصومیت سے جواب دیا: جب ہم دعا مانگ کر واپس آ رہے ہوں گے اس وقت تو بارش ہو رہی ہوگی۔ بس یقین کی یہی کیفیت مطلوب ہے!

 

ترجمہ:  محمد ظہیر الدین بھٹی

امام حسن البناشہید ؒاتنی عظیم الشان‘ مضبوط بنیادوں والی عمارت بنانے میں کیسے کامیاب ہوئے جس کے نتیجے میں ایمان و عمل سے معمور نسلیں پے درپے چلی آرہی ہیں؟ کیا ان کے پاس جادو کی چھڑی تھی جس سے وہ دلوں پر قبضہ کر لیتے تھے اور لوگوں کو مسخر کرلیتے تھے؟ کیا ان کے پاس کوئی ایسی طاقت تھی کہ لوگ ان کے نظریے کو مان لینے پر مجبور ہو جاتے ‘ ان کی جماعت کی تائید کرنے لگتے‘ اور دعوت کی خاطر جان و مال کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے؟ امام شہیدؒ اپنی دعوت میں اور اپنے ساتھیوں کی تربیت میں کیوںکر اس طرح کامیاب ہوئے کہ وہ ہمارے لیے بے شمار منفرد نمونے اور عظیم مثالیںچھوڑ گئے۔

آیئے ان سوالات کے جواب تلاش کریں۔

آج بہت سے نوجوان‘ اپنے دَور کی مختلف قسم کی نفسیاتی اور سماجی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ وہ حبِّ جاہ اور حبِّ دنیا کے مرض میں گرفتار ہیں۔ وہ زندگی کے دبائو کا شکار ہیں‘ اور لامتناہی اغراض کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے حقیقی فریضہ --- دعوت الی اللہ--- کو بھول چکے ہیں۔ وہ شیطانِ لعین کا آسان شکار بن چکے ہیں اور اس کی وسوسہ کاری کا نشانہ بن کر بے کارمحض بن گئے ہیں۔ ان نوجوانوں کے قریب جایئے‘ ان سے بات چیت کیجیے تو وہ اپنے آپ کو مورد الزام ٹھیراتے ہیں۔ یہ نوجوان کامیاب گروہ کے ساتھ چلنے کی حقیقی خواہش کا اظہار کرتے ہیں‘ وہ نجات کی کشتی میں سوار ہونا چاہتے ہیں‘ وہ پاک دائرے میں داخل ہونے کے متمنی ہیں‘ ایمان سے معمور لشکر کی ہم رکابی کی سعادت حاصل کرنے کی تڑپ رکھتے ہیں مگر زندگی کی سختیوں اور شیطان کی مسلسل انگیخت کے سامنے سرنگوں ہو کر‘ جلد ہی ان کی یہ خواہش دم توڑ دیتی ہے اور ان کا یہ جذبہ ماند پڑ جاتا ہے۔

نوجوانوں کی مدد کرنے کے لیے اور ان کو درپیش اس مشکل سے نجات دلانے کے لیے کسی ایسے ذریعے کی تلاش بہت اہم ہے جس کے نتائج یقینی ہوں۔ اس کے لیے نوجوانوں کی حالت کے حقیقی اسباب کا کھوج لگانا ضروری ہے۔ تجزیے و مطالعے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اس کا بنیادی اور براہِ راست سبب ایمان کی کمی اور اللہ کے ساتھ رابطے میں کمزوری ہے۔ اگر ہم نوجوانوں کی اصلاح اور ان کے مرض کا درست علاج کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایمان میں اضافے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں مضبوطی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ اس مقصد کی خاطر ہمیں ایک بار پھر ’’روحانی تربیت کے مدارس‘‘ کی طرف رجوع کرنا ہے تاکہ ہم شروع ہی سے درست راستے پر چلنے لگیں اور بالآخر اپنا نصب العین پا لیں۔

اس سلسلے میں حسن البنا  ؒہمارے لیے ایک عملی نمونہ تھے جو اپنے دور کے بگاڑ و فساد کے باوجود مشکلات پر غالب آئے۔ آپ نے قرآن و سنت کی روشنی میں تربیت کے نئے اسلوب اختیار کیے اور ان کے مطابق نوجوانوں کی تربیت کی۔ اس تربیت سے آپ نے اپنی جماعت میں وہ حقیقی روح پھونک دی جس سے وہ اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکی۔ آپ کے زیرتربیت نوجوانوں نے ان تربیتی گہواروں سے روحانی و فکری بالیدگی پائی۔ ان تربیتی گہواروں نے سب سے پہلے‘ ایمان اور پروردگار کے ساتھ رابطہ بہتر بنانے پر توجہ کی۔ یہی اس عظیم جماعت کی ترقی کا راز ہے جس نے دشمنوں کے کاری وار سہے‘ پھر بھی اُس کی مضبوطی و بلندی میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ اس کے صبر کے سامنے جابر وسرکش حکمرانوں نے بھی ہار مان لی۔ یہ تربیتی گہوارے‘ افراد کی تربیت کتاب اللہ اور منہج نبویؐ کے مطابق کرتے تھے۔

امام البنا ؒ تربیت کے تین ارکان تعارف‘ تفاہم اور تکافل کی وضاحت کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

جب آپ نے یہ انفرادی‘ اجتماعی اور مالی ذمّہ داریاں پوری کر دیں تو بلاشبہ اس نظام کے ارکان حاصل ہو جائیں گے اور اگر آپ نے اس میں کوتاہی کی تو یہ نظام مرجھائے گا‘ سکڑے گا ‘ حتیٰ کہ مر جائے گا اور اس کی موت اس دعوت کے لیے سب سے بڑا خسارہ ہے۔ یہ دعوت تو اسلام اور مسلمانوں کی امید ہے۔

امام شہیدؒ تربیت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے‘ چنانچہ فرماتے ہیں:

ہم اپنے نفسوں کی تربیت کریں گے تاکہ ہم مسلم بنیں۔ اپنے گھروں کی تربیت کریں گے تاکہ مسلم گھرانے وجود میں آئیں۔ ہم اپنی قوم کی تربیت کریں گے تاکہ ہم ایک مسلم قوم بنیں۔

اس تربیت کے لیے سازوسامان کیا تھا؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:

ہم نے اس کے لیے تیار کیا ہے: نہ ڈگمگانے والا ایمان‘ نہ رکنے والا یعنی مسلسل عمل‘ اور وہ روحیں جو اپنے لیے سب سے بہترین دن وہ سمجھتی ہیں جب وہ اللہ کے راستے میں شہادت پا کر‘ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔

ہمیں سخت ضرورت ہے کہ اپنے خالق سے دلوں کو مربوط کرنے والے ان اقوال پر غور کریں اور پھر اپنا جائزہ لیں۔ بہت سے لوگ کسی دعوت کے حقائق اور اس کی بنیادوں کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس دعوت کی بنیادوں اور اس کے مظاہر کو خلط ملط کر دیتے ہیں۔ امام حسن البنا ؒ فرماتے ہیں:

لوگ دعوتوں کے صرف عملی مظاہر اور شکل و صورت کو دیکھتے ہیں مگر ان نفسیاتی محرکات اور روحانی الہامات کو اکثروبیشتر نظرانداز کر دیتے ہیں جو فی الحقیقت ان دعوتوں کا اصل سرمایہ اور ان کی غذا ہے‘ اور جن پر ان کی ترقی اور غلبہ موقوف ہے۔

امام البنا ؒنے اسلام کی عظمت و وقار اور شان و شوکت کی ازسرنو بازیابی کی تمام تر امیدیں اور توقعات‘ سچّے ایمان اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھے رابطے و تعلّق کے ذریعے دلوں کو زندہ کرنے سے وابستہ کر رکھی تھیں۔ آپ اس سلسلے میں فرماتے ہیں:

...لہٰذا میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ سب سے پہلے ہم اپنی دعوت میں جس چیز کا اہتمام کرتے ہیں‘ اپنی دعوت کی ترقی اور غلبے میں جس بات پر انحصار کرتے ہیں‘ وہ ہے: روحانی بیداری۔ ہم سب سے پہلے روحانی بیداری‘ دلوں کی زندگی اور وجدان و احساسات کی حقیقی بیداری چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں: زندہ‘ مضبوط اور مستحکم نفوس‘ دھڑکنے والے نئے دل‘ اور غیور و اعلیٰ جذبات!

اللہ اکبر‘ کتنے سچّے ہیں یہ کلمات‘ یہ زندہ معانی‘ اور ازدل خیزد بردل ریزد‘ کے مصداق یہ عبارات! ان کلمات نے اعضا و جوارح پر وہ اثر ڈالا کہ الفاظ نے افعال کی صورت اختیار کر لی‘ کلمات نے زندگی کا روپ دھار لیا۔

امام مربی ؒ نے قلب کی بیداری‘ ایمان کی ضرورت و احساسات و وجدان کی حاضری پر زور دیا ہے کیوں کہ اسی سے مسلمان اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے اوراس عظیم مہم کو سر کرنے کا اہل بنتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

اس سے پہلے کہ ہم آپ کو اس دعوت کے حوالے سے نماز و روزے کے بارے میں بتائیں‘ قضا و حکم‘ عادات و عبادات‘ اور نظم و معاملات کے متعلق بات کریں‘ ہم آپ سے زندہ دل‘ زندہ روح ‘ بیدار وجدان‘ حسّاس نفس اور گہرے ایمان کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔ دل و روح کی یہ بیداری انسان پر اثرانداز ہوتی ہے اور وہ اسلام کا مطلوب نمونہ بن جاتا ہے۔ اسلام انسان کو ایسا فرد بنا دینا چاہتا ہے جو حسّاس وجدان کا مالک ہو‘ حسن و قبح میں تمیز کر سکتا ہو‘ صواب و خطا کا درست ادراک کر سکتا ہو‘ ایسا مضبوط ارادہ رکھتا ہو جو حق کی خاطر کمزور پڑے نہ نرم۔ اسی لیے ہم ہر مسلمان بھائی سے کہتے ہیں کہ وہ احکامِ الٰہی کے مطابق عبادت کرے تاکہ اس کا وجدان ترقی کر سکے۔

یہ ہے ایمانی تربیت‘ اسلام کی وہ مضبوط بنیاد جس پر نبی ؐنے اپنی دعوت اور اسلامی مملکت کی تشکیل کی۔ امام شہید ؒ فرماتے ہیں:

حضور نبی کریم ؐنے اپنی دعوت کو راسخ کرنے کے لیے لوگوں کو ایمان کی طرف بلایا‘ پھر محبت و اخوت پر ان کے دلوں کو یک جا کیا۔ چنانچہ عقیدے کی قوت‘ وحدت و اتحاد کی قوت میں بدل گئی۔ آپؐ کی جماعت ایک ایسی جماعت بن گئی جس کے کلمے و دعوت کو ضرور غالب آکے رہنا تھا۔

ایمانی تربیت کا جذبہ امام شہیدؒ پر ہمیشہ غالب رہتا تھا۔ چنانچہ آپ اس مقصد کے لیے ہفتہ وار شبینہ مجالس منعقد کرنے پر زور دیتے تھے۔ ایک بار آپ نے فرمایا:

اخوان المسلمون کا طریقہ ہے کہ وہ ہفتے میں ایک رات تعارف‘ اخوت اور ذکر و دعا کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ میں نے چاہا کہ قیام اللیل‘ دعا اور استغفار کے بارے میں کچھ باتیں مختصراً عرض کر دوں۔

برادر عزیز! سب سے پاکیزہ مناجات یہ ہے کہ آپ اپنے رب سے اس وقت خلوت میں ہوں جب لوگ سوئے ہوئے ہوں‘ ماحول پرسکون ہو‘ رات نے اپنے پردے ڈال دیے ہوں۔ اس وقت آپ اپنے دل کو حاضر کریں‘ اپنے پروردگار کو یاد کریں‘ اپنی کمزوریوں کو سامنے رکھیں‘ اپنے مولا کی عظمت کا تصور کریں‘ اپنے آپ کو اس کے حضور پا کر آپ پرسکون ہوں۔ اس کی یاد سے آپ کا دل مطمئن ہو‘ اس کے فضل پر خوش ہوں اور اس کے خوف سے روئیں۔ اس کی نگرانی کا احساس کریں‘ دعا میں الحاح و اصرار کریں‘ استغفار میں محنت کریں‘ اور پھر اس ذات کے سامنے اپنی حاجتیں پیش کریں جسے کوئی عاجز کر سکتا ہے نہ غافل۔

لہٰذا ہمیں سب سے پہلے تزکیہ قلوب اور تہذیب نفوس پر توجہ دینا چاہیے تاکہ ہم اطاعت کے عادی ہوجائیں‘ اللہ تعالیٰ ایمان کو ہمارا محبوب بنا دے‘ اور ہمارے دلوں کو اس سے مزین کر دے‘ کفر و فسق اور نافرمانی سے ہمیں نفرت ہو جائے۔ اس ایمانی بیداری کی بنا پر ہی ہم ان شا ء اللہ اُن ایمان والوں میں شامل ہو جائیں گے جو گہرے ایمان کی دولت سے مالا مال کیے جاتے ہیں۔

شہید حسن البنا  ؒکے مکتب فکر میں‘ فرد کے اپنے ربّ سے تعلق کو مضبوط کرنے پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ اس کے لیے وہ درج ذیل طریقہ اختیار کرتے ہیں:

روزانہ تلاوتِ قرآن مجید‘ ماثور دعائوں کا ورد‘ ۱۰۰ مرتبہ استغفراللّٰہ‘ ۱۰۰ مرتبہ اَللّٰھُمَّ صل علٰی سیدنا محمد وعلٰی آلہ وصحبہٖ وسلّم‘ ۱۰۰ مرتبہ لا الٰہ الا اللّٰہ۔ اس کے بعد‘ دعوت کی کامیابی اور دعوت کے لیے کام کرنے والوں اور اخوان کے لیے دعا۔ بعدازاں اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے دعا۔ اس کے بعد جتنی دعائیں ممکن ہوں‘ کی جائیں۔ یہ وظیفہ صبح کی نماز کے بعد اور مغرب یا عشا کی نماز کے بعد خشوع کے ساتھ کیا جائے۔ اس ورد میں مجبوری کے سوا‘ دنیوی بات نہ کی جائے۔

اگر ہم واقعی نجات کے طالب ہیں‘ دنیا و آخرت میں اللہ کی رضا اور فوز و فلاح چاہتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم دلوں میں خفتہ ایمان کو جگانے کی کوشش کریں۔ اگر ہم اپنی دعوت میں کامیابی چاہتے ہیں‘ اپنے ذرائع میں کامرانی کے متمنی ہیں‘ اپنے اہداف تک پہنچنا چاہتے ہیں تو ایمان کی بیداری ہی اس کا واحد حل ہے--- ایمان جو ایک مضبوط ہتھیار ہے‘ جو ہمارا سب سے بڑا خزانہ ہے!

امام شہیدؒ فرماتے ہیں:

ایمان قوت کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے‘ جس کا ادراک سچّے اور مخلص مومن ہی کرسکتے ہیں۔ آج سے پہلے اگر کارکنوں نے جہاد کیا ہے تو ایمان کے ذریعے ہی کیا ہے‘ اور آج کے بعد بھی وہ ایمان ہی کے ذریعے جہاد کریں گے۔ ایمان نہ رہے تو مادی اسلحہ کتنا بھی ہو‘ لوگوں کے لیے کسی کام کا نہیں۔ ایمان موجود ہے تو مقصد تک پہنچنے کا راستہ بھی موجود ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:

وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا  نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ o (الروم ۳۰:۴۷)

اور ہم پر یہ حق ہے کہ مومنوں کی مدد کریں۔

(  ہفت روزہ المجتمع‘ کویت‘ شمارہ ۱۴۳۹ ‘ ۲۰ فروری ۲۰۰۱ء سے ماخوذ)

 

تمثیلات خلیل جبران میں ہے کہ ’’تالاب میں پتھر گرا‘ پانی میں لہریں اٹھیں اور دُور چاروں طرف کناروں سے ملنے لگیں۔ ساتھ ہی ایک درخت تھا‘ اسے بھی جوش آیا‘ اس نے بھی تالاب میں ایک پتا گرا دیا۔ لیکن نہ شور ہوا اور نہ تالاب میں لہریں پیدا ہوئیں۔ میں اسے دیکھ رہا تھا۔ میں نے کہا: اے بے وقوف! دنیا میں وہی ہلچل مچا سکتے ہیں جو اپنے اندر وزن رکھتے ہیں‘‘۔

یہ ایک تمثیل ہے مگر ایک حقیقت بھی۔ تالاب میں مزید پتے گرا کے بھی اتنی ہلچل پیدا نہیں ہو سکتی تھی جتنی ایک پتھر کے گرنے سے پیدا ہوئی تھی۔ بس یہی حال ہمارے اداروں کا بھی ہے۔ بعض اوقات افراد کے آنے کے ساتھ ہی تنظیم اور طریق کار میں اتنی قوت پیدا ہو جاتی ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ انتظام صحیح چل رہا ہے اور کامیابی حاصل ہو رہی ہے‘ جب کہ دوسری طرف افراد ہی کے باعث ادارے غیر موثر ہو جاتے ہیں اوران کی تباہی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ وہ صاحب منصب افراد پتوں کی طرح تنظیم کی سطح پر تیرتے رہتے ہیں مگر شخصیت میں وزن اور کردار میں پختگی نہ ہونے کے باعث اپنے وجود کا کوئی فائدہ تنظیم‘ ادارے‘ افراد اور اپنی ذات کونہیں پہنچا سکتے۔

کامیاب شخص

آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ ایک ہی دفتر یا ادارے میں ایک ہی وقت میں دو افراد وابستہ ہوتے ہیں۔ انھیں اہداف (targets)‘ افراد اور اختیارات دے دیے جاتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک فرد اپنے متعلقہ شعبے میں ہر دلعزیز بن جاتا ہے‘ افراد اس کے لیے وقت دیتے ہیں اور اس کے کام بھی ہو جاتے ہیں۔ وہ شخص دفتر میں اتنا وقت بھی نکال لیتا ہے کہ افراد اور ساتھیوں سے ذاتی اور ترقیاتی

معاملات پر گفتگو کر سکے ‘ اور اپنے فیصلوں میں ان کی مشاورت بھی لے سکے۔ پھر آپ دیکھتے ہیں کہ رفتہ رفتہ وہاں ایک موثر ٹیم بن جاتی ہے جو ادارے کے مسائل اور وسائل کو اپنے ہی مسائل و وسائل محسوس کرتی ہے اور پھر اجتماعی جدوجہد سے ادارہ اور اس کے متعلقہ امور اور کاروباری معاملات میں ترقی ہوتی رہتی ہے۔ وہ فرد سپروائزر‘ پھر مینیجر‘ اس کے بعد مینیجر سے ایگزیکٹو اور پھر لیڈر بن جاتا ہے اور لوگ اسے دل سے چاہتے ہیں۔ کامیابی اس فرد کو تلاش کرتی ہے۔ وہ مصروف ترین فرد ہونے کے باوجود مختلف کاموں کے لیے وقت نکال لیتا ہے۔

وہ فرد اور اس کی ٹیم ہر مشکل کو کامیابی کا موقع سمجھتے ہیں۔ وسعتیں ان کے قریب آجاتی ہیں اور وہ اپنی ذات ‘ اپنی ٹیم‘ اپنے ادارے اور مجموعی طور پر ملک و قوم کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اور حدیث کے الفاظ میں  خیر الناس من ینفع الناس (تم میں بہتر وہ ہیں جو لوگوں کے لیے بہتر ہوں) بن جاتے ہیں۔ اس فرد کے ساتھی افراد جو قانوناً ماتحت ہوتے ہیں‘ ٹیم بن کر کام کرتے ہیں۔ انھیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہ ادارے کے فرد ہیں اور پھر کسی بھی صورت میں ادارے کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتے۔

ناکام شخص

اسی مشاہدے کے دوران آپ نے دیکھا ہوگا کہ دوسرا شخص اپنے متعلقہ شعبے میں اپنے ماتحت افراد کے مذاق کا شکار ہو جاتا ہے‘ نہ خود کوئی کام کر سکتا ہے نہ لوگوں سے کوئی کام لے سکتا ہے۔ وہ ہدایت اور حکم دیتا ہے اور لوگ اسے انجانے بن کر ٹال دیتے ہیں۔ اس کے ماتحت افراد کام نہ کرنے کے سیکڑوں بہانے تلاش کر لیتے ہیں۔ اس شعبے میں ہر فرد دوسرے کو اور بالآخر اپنے متعلقہ شعبے کے ذمہ دار کو بے وقوف بنانے کا فن سیکھتا ہے۔ بالآخر وہ شخص بھی‘ اس کا شعبہ بھی‘ اور اس کے متعلقین بھی ناکامی کا شکار ہوتے ہیں‘ بدنام ہوتے ہیں اور شعبے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں۔ چند افراد کا اخراج ہوتا ہے ‘ دوسرے افراد اپنا راستہ خود تلاش کرتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس شعبے کی بنیادیں ہل جاتی ہیں اور ایک بہت بڑے آپریشن کلین اپ کی ضرورت پڑتی ہے۔

موثر شخصیت اور شخصی کردار - کلید

کاروبار ہو یا دفتری زندگی‘ آپ منتظم ہوں یا ماتحت‘ غرض آپ جس حیثیت میں ہوں اور زندگی کے کسی بھی میدان عمل میں ہوں‘ کامیابی کے لیے موثر شخصیت اور شخصی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک اندازے کے مطابق تکنیکی صلاحیت صرف ۱۵ فی صد کردار ادا کرتی ہے‘ جب کہ فرد کی شخصی خصوصیات کا کردار ۸۵ فی صد ہوتا ہے۔

ایسا شخص افراد کی تربیت کا کام کرتا ہے‘ اور کل کے لیے لوگوں کو آج سے تیار کر لیتا ہے جس کے باعث لوگوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اس شخصی کردار کے مثبت ہونے اور مقبول ہونے کے باعث فرد نہ صرف خود خوش رہتا ہے بلکہ اس کے افسران‘ اس کے ماتحت اور اس کے ساتھ کام کرنے والے افراد بھی خوش ہوتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کے مقاصد اور اہداف بڑی آسانی کے ساتھ حاصل کر لیتا ہے۔ اسے عموماً کام کرنے والے لوگ اور ساتھ دینے والے ساتھی بھی مل جاتے ہیں۔ وہ اپنے محبوب اور مقبول کردار کے باعث اپنے لیے ایک مخلص ٹیم بنا لیتا ہے۔ وہ ٹیم کی کامیابی‘ اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔ وہ ٹیم اس پر جان نثار کرتی ہے اور اسے پرندوں کی طرح طوفان اور بارش کا پتا بھی دیتی ہے‘ اور خطرے کے وقت ایک مضبوط قوت مدافعت بن جاتی ہے۔ آخرکار نتائج سامنے آنے لگتے ہیں اور بہت جلد آتے ہیں۔ اداروں کی کارکردگی اور کامیابی میں توقع سے زیادہ پیش رفت ہوتی ہے۔ کارکردگی بڑھنے کے باعث پیداوار بڑھتی ہے اور اس کے نتیجے میں منافع میں اضافہ ہوتا ہے جس کے باعث مجموعی قومی پیداوار اور آمدنی میں خوش آیند اضافہ ہوتا ہے۔

بحرانی شخصیت

فرد اگر صحیح نہ ہو‘ یا اس کی شخصیت میں خامیاں ہوں‘ یا اس کا شخصی کردار غیر معروف اور غیر مقبول ہو تو  ادارے میں عموماً بحران کی کیفیت ہوتی ہے۔ کام عموماً افراتفری کے عالم میں ہوتے ہیں۔ افراد کو عموماً دفتر کے اوقات کے بعد بھی بیٹھنا ہوتا ہے۔ ذہنی کیفیت اور انتشار کا عالم یہ ہے کہ ۱۰ ہزار روپے کے اضافی منافع کے لیے ۳۰ ہزار روپے کی اضافی لاگت آجاتی ہے۔ نفع‘ نقصان کی شکل اختیار کرنے لگتا ہے۔ ذمہ داری کوئی قبول نہیں کرتا‘ انگلیاں دوسروں کی طرف اٹھتی ہیں۔ دوسروں کی طرف ایک انگلی اٹھتی ہے لیکن درحقیقت اس کے ساتھ ساتھ اپنی طرف تین انگلیاںاٹھتی ہیں مگر یہ کوئی نہیں دیکھتا اور بحران بڑھتا رہتا ہے۔ ہمارے نزدیک اس کا ذمہ دار وہ فرد ہے جس پر ہم گفتگو کر رہے ہیں۔

تصویر ٹھیک کیجیے ‘ نقشہ ٹھیک ہو جائے گا

وہ مثال بار بار ذہن میں آتی ہے کہ ایک صاحب اپنے گھر میں مطالعہ کررہے تھے۔ ان کا بچہ --- چھوٹا سا بچہ--- بار بار ان کے مطالعے میں مخل ہو رہا تھا۔ ان صاحب نے بچے کو بہت سمجھایا‘ کھلونے دیے مگر اس نے سمجھ کر نہ دیا۔ بالآخر ان صاحب کو ایک ترکیب سوجھی کہ بچے کو بلایا اور اسے دنیا کا ایک نقشہ دکھایا اوراس میں بچے کو مختلف مقامات کی نشان دہی کی کہ یہ پاکستان‘ یہ ہمالیہ‘ یہ امریکہ‘ یہ سعودی عرب وغیرہ وغیرہ۔ پھر اس نقشے کے ٹکڑے کیے اور بچے کو دے دیے کہ بیٹا پھر سے اسے بنا کر لائیں۔ ابا جان سوچ رہے تھے کہ تین چار گھنٹے کے لیے فراغت ہوئی مگر بچہ تو آدھے گھنٹے ہی میں آگیا اور کہنے لگا: ابو‘ ابو! دنیا کا نقشہ بن گیا۔ ابا جان نے دیکھا سب مقامات اپنی اپنی جگہ پر صحیح ہیں۔ بچے کی طرف دیکھا‘ ذہانت پر تعجب ہوا۔ پوچھا ’’بیٹے یہ کارنامہ تم نے کیسے انجام دیا؟‘‘ بیٹے نے جواب دیا: ’’ابو! جب آپ نقشے کے ٹکڑے کر رہے تھے تو اس وقت میں نے دیکھا کہ اس کے پیچھے آدمی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ بس میں نے اس تصویر کو ٹھیک کر لیا۔ دنیا کا نقشہ خود بخود ٹھیک ہو گیا‘‘۔

ہم اپنے اداروں اور دفاتر‘ کاروبار اور گھر کی کارکردگی بہتر بنانا چاہتے ہیں اور ان کا نقشہ ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں بھی اس بچے کی طرح تصویر ٹھیک کرنی پڑے گی۔ ممکن ہے یہ تصویر ہماری اپنی ہی ہو۔ ہمیں اس تصویر کو اپنے ذہن میں نقش کرنا ہے‘ اسے سمجھنا ہے‘ اس کے ٹکڑوں کو منظم کرنا ہے اور اسے بہت جلد صحیح کرنا ہے تاکہ ہمارے معاشرے اور اجتماعی نظام میں خاطر خواہ تبدیلیاں آجائیں۔

شخصیت کی تعمیر کے مقاصد

اب ہم شخصیت کے موضوع پر گفتگو کریں گے کہ کس انداز سے ہم دفاتر‘ اداروں‘ کاروبار‘ گھر اور معاشرے میں کام کریں کہ:

  •   جو کام کرنا چاہتے ہیں ‘ وہی کریں۔
  •  جو کام کرنا ہے‘ اسے بہتر طریقے سے اور مستعدی کے ساتھ کریں۔
  •   افراد اور معاشرے کے دیگر عناصر کی اس انداز سے تربیت کریں کہ ادارے صرف ہمارے وجود کے محتاج نہ رہیں بلکہ ایک نظام کے تحت چلتے رہیں۔
  •   اس انداز سے ترتیب‘ تنظیم اور تربیت کریں کہ نتائج بہت جلد اور بہتر انداز سے سامنے آئیں۔
  •   آپ اتنے کامیاب ہوں کہ اپنی زندگی اور کیریئر کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کی تعمیر‘ ترقی اور خوش حالی پر بھی توجہ دے سکیں اور انھیں جہنم کی آگ سے بچا سکیں۔
  •   اگر آپ افسر ہیں تو ماتحت آپ سے خوش ہوں‘ اور ماتحت ہیں تو آپ کے ساتھی اور افسر دونوں خوش ہو سکیں۔
  •   آپ کے معاملات اتنے صاف ہوں کہ آپ اضطراب کا شکار نہ ہوں اور ذہنی دبائو سے متعلق بیماریاں آپ کے راستے میں نہ آئیں۔
  •   آپ نہ صرف اپنی اور دوسروں کی دنیا بنائیں بلکہ اپنی اور دوسروں کی آخرت بھی سنواریں اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ ساتھ ساتھ ادا ہوتا رہے۔

اب ہم شخصیت کی تعریف اور تصورات پر بات کریں گے۔ اس کے بعد شخصیت کے حوالے سے مختلف موضوعات اور متعلقہ عناصر پر گفتگو کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسی شخصیت کی تشکیل ہو جو کہ ملک و قوم کے اجتماعی مفادات کے لیے اہم کردار ادا کر سکے۔ بات کمر باندھنے کی ہے۔ عربی مقولے کا ترجمہ ہے:

’’جو شخص دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور کوشش بھی کرتا ہے‘ وہ داخل ہو ہی جاتا ہے‘‘۔

شخصیت اور اوصاف کی تعریف

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان سونے چاندی کی کانوں کی طرح ہے۔ جو تم میں زمانہ جاہلیت میں بہترین اوصاف کے مالک تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں۔ یہ اچھے اوصاف انسان کا قیمتی سرمایہ ہیں اور یہی ان کی کامیابی کا راز اور ذریعہ بھی۔

مختلف ماہرین نے شخصیت کی جو تعریفیں پیش کی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں:

  •   انسانی ’’وجود‘‘ کے علاوہ شخصیت چلتی پھرتی عادتوں کے مجموعے کا نام ہے۔ زندگی میں اس کی شخصیت کی تقویم و تعین ان ہی عادات کی وجہ سے آشکارا ہوتی ہے۔ اس میں لباس میں پاکیزگی‘ گفتار میں نرمی‘ کھانے پینے کے آداب ‘جسمانی ضرورت کے سلسلے میں روزانہ ورزش و غسل کی جانب توجہ اور عقل کی تہذیب و تربیت کی جانب توجہ‘ حالات و ضروریات کے مطابق مطلوبہ صلاحیت اور سبقت کے تقاضے پورے کرنے کی آگہی‘ شعور‘ اہلیت اور قوت عمل شامل ہیں۔
  •    تمام ماہرین نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی شخصیت‘ نفسیاتی اور بدنی دونوں حصوں سے مرکب ہے۔
  •    شخصیت ایک نفسیاتی اور بدنی وحدت ہے جہاں جذباتی اور بدنی سطحات کے واقعات مختلف طریقوں سے ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
  •    جو کچھ ایک فرد ہے اور جو کچھ وہ تجربہ کرتا ہے اگر سب کو وحدت سمجھا جائے تو یہی اس کی شخصیت ہے۔
  •    شخصیت ایک ایسی اصطلاح ہے جو انفرادیت سے کہیں وسیع تر ہے کیونکہ اس میں فرد سے متعلق تمام نفسیاتی اعمال اور کیفیات کا ترتیب شدہ مجموعہ شامل ہے۔

اب ہم درج ذیل موضوعات اور عناصر پر گفتگو کریں گے:

  •  شخصیت کے تخلیقی عناصر
  • شخصیت کے ذہنی‘ تصوراتی و تخیلی عناصر‘
  • شخصیت کے اخلاقی عناصر‘ 
  • شخصیت کے معاشرتی‘ معاملاتی اور استحکامی عناصر‘ 
  • شخصیت کے انتظامی عناصر‘
  • شخصیت کے ارتقائی عناصر‘
  • شخصیت کے منفی و تخریبی عناصر‘
  • شخصیت‘دین و دنیا اور آخرت۔  (جاری)

a