کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے تو وطن عزیز میں شور اٹھتا اور کہرام میں بدل جاتا ہے۔ لیکن زیادہ سے زیادہ تین روز گزرنے کے بعد ہم سب کچھ بھول بھلا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہمارے اس غیر صحت مند رویے نے پاکستانی معاشرے کو ایک رِستا ہوا پھوڑا بنا دیا ہے،جو مسلسل ناسور بنتا جارہا ہے۔ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک طالبہ کی خودکشی اور بیرون ملک انسانی سمگلنگ سے وابستہ ایک فرد کے قبیح جرم نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، لیکن پھر سب کچھ معمول پر آگیا اور ہمارا معاشرہ حسب ِ سابق اپنے بے سمت سفر پر گامزن ہو گیا۔
انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ جانے کا یہ المیہ پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ، باعث ِ شرم اور اضطراب کا موضوع بننا چاہیے تھا، مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں بے مقصد اور بے ہنگم نظامِ تعلیم اور خاص طور پر معاشی منصوبہ بندی کے فقدان، اور انسانی اخلاق و تہذیب کی تعمیر کے افلاس نے نچلے اور متوسط طبقے کی معاشی زندگی کا رہا سہا ڈھانچا تباہ کر دیا ہے۔ سرمایہ کاری، ہنرمندی اور تخلیقی صلاحیت و ذہانت کے قحط نے قومی وجود کو کھوکھلا کر رکھا ہے۔ نوجوانوں بالخصوص تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری نے معاشرے کو دوزخ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس صورتِ حال میں نوجوانوں کے لیے مستقبل کی تعمیر اور باعزّت زندگی گزارنے کے امکانات محدود تر ہوتے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران قانونی طریقے سے ۱۸لاکھ ۷۱ہزار تعلیم یافتہ افراد جن میں ہنر مند، ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی سپیشلسٹ سمیت اپنے شعبوں میں مہارت رکھنے والے نوجوان اپنا ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک جاچکے ہیں۔
ان حالات میں ہماری نئی نسل کا ایک بڑا حصہ انسانی سمگلروں کے لیے ترنوالہ بنتا چلاجارہا ہے۔ دوسری طرف یہ منشیات فروشوں کا آسان ہدف ہے۔ گھپ اندھیرے کو دیکھ کر لوگ مایوسی کی دلدل میں اُترتے اور اپنی جان کے دشمن بنتے چلےجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض کے لیے خودکشی اس اندھی گلی کا آخری موڑ بن جاتی ہے۔ بے مقصدیت کے شکار نوجوانوں کا ایک سیلاب ہے، جو مسلسل اسی تباہ کن سمت میں بہا چلا جارہا ہے۔ حکومت، قومی قیادتیں، علمائے کرام اور اہل دانش اس عذاب کی یلغار سے نہ صرف غافل دکھائی دیتے ہیں، بلکہ ان کا طرزِ عمل ایک سنگدلانہ لاتعلقی کا مظہر ہے۔ ادھر معاشرے کی رگوں میں زہر اُتر رہا ہے، نسل نو کا مستقبل دائو پر لگا ہے، اور دوسری طرف راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔
ایک زمانے میں لوگ زندگی کی تلخیوں اور اُلجھنوں سے فرار کے لیے میلوں ٹھیلوں اور تاش کے پتوں، بے مقصد گپ شپ کی محفلوں میں عافیت تلاش کرتے تھے۔ پھر ان کی جگہ ریڈیو، سینماگھروں اور ٹیلی ویژن نے لے لی۔ اب انٹرنیٹ نے ہر ہاتھ میں ایک چلتا پھرتا جیبی سینما تھما دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے بظاہر فرد کو اپنی پسند اور اختیار کی دُنیا عطا کی ہے، مگر اس دُنیا کا شور، اس کی بے انتہا کشش رفتہ رفتہ انسان کی توجہ، فکر، ارادے اور خواب تک کو اپنی گرفت میں لیتی جارہی ہے، اور آزاد نظر آنے والا انسان اسکرین، بٹن اور ریل کا غلام ہے، اکیلا اور بے بس غلام!
نگارخانے کی دُنیا میں گھٹن محسوس کرنے والے جب اس کی قید سے نکل کر حقیقی زندگی کی طرف قدم بڑھاتے ہیں، تو ان کے سامنے اُمید، مقصد اور مثبت مصروفیت کے راستے کم ہی کھلے نظر آتے ہیں۔ ایسے ماحول میں انسانی اسمگلر انھیں اپنے پُرکشش دامِ فریب میں پھنسا لیتے ہیں، منشیات فروش ان کی بے سمتی سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، اور مایوسی کے گہرے، اندھے کنویں بعض کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔
یہ صورتِ حال محض افسوس کرنے یا چند رسمی بیانات دینے کی نہیں، سرپکڑ کر سوچنے اور اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی دعوت دیتی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب ہمارے عزیزاَزجان نوجوانوں کے خواب لُٹ رہے ہوں، ان کی صلاحیتیں ضائع ہورہی ہوں، اور ان کی زندگیاں خطرے میں ہوں، تو حکومت، قومی قیادت، دینی راہ نما اور اہل دانش کب تک محض تماشا دیکھنے کے بجائے اس سیلاب کا رُخ موڑنے، انھیں زندگی کا مقصد دینے، اور ان کے لیے ایمان، اخلاق، اُمید، روزگار اور بامعنی اجتماعی قرار کے راستے کھولنے کی سنجیدہ کوشش کریں گے؟
اس المیے کے تین عملی مظاہر دیکھیے:
۱- انسانی سمگلنگ: خوابوں سے بھری آنکھیں، سمندروں کی نذر: غیر قانونی طریقوں سے سمندری راستوں کے ذریعے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے پاکستانی نوجوانوں کی ہلاکتیں اس المیے کا ایک ہول ناک منظر ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ۲۰۲۳ء کے دوران ۲۰۷ پاکستانی نوجوان یورپی سمندروں میں ڈوب کر ہلاک ہوئے، جب کہ ۲۰۲۴ء میں ۲۵، ۲۰۲۵ء میں ۵۸ اور ۲۰۲۶ء میں ۴۷ نوجوانوں کی کشتیاں سمندر کی لہروں کی نذر ہوگئیں۔
یہ اعداد و شمار اس المیے کی صرف ایک جہت سامنے لاتے ہیں۔ مختلف ملکوں کی سرحدوں پر فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی نوجوانوں کی تعداد بھی خاصی زیادہ بتائی جاتی ہے، مگر ایسے واقعات کا مکمل احاطہ ہمارے سرکاری ریکارڈ میں نہیں ہوتا۔ البتہ ان کے لواحقین کے دلوں میں اٹھنے والی فریادیں کسی سرکاری اندراج کی محتاج نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ، بیرونِ ملک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اور بالآخر ملک بدر ہو کر واپس آنے والوں کی تعداد بھی ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ اپریل ۲۰۱۹ء میں رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، صرف ۲۰۱۸ء کے دوران مختلف ملکوں نے ۸۰ ہزار پاکستانیوں کو واپس بھیجا تھا۔
انسانی سمگلنگ کے خلاف درج ہونے والے مقدمات اور اس جرم میں سزا پانے والوں کی تعداد کے درمیان فرق بھی ہماری قانون نافذ کرنے والی مشینری کی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، ۲۰۲۱ء میں۴۹۸،۲۰۲۲ءمیں ۱۹۳۶، ۲۰۲۳ء میں ۱۵۸۸ اور۲۰۲۴ء میں ۱۶۰۷ مقدمات درج کیے گئے۔ اس کے مقابلے میں سزا پانے والوں کی تعداد ۲۰۲۲ء میں ۱۰۵، ۲۰۲۳ء میں ۳۵۱ اور ۲۰۲۴ء میں ۴۹۵ بتائی گئی۔
یہ اعداد و شمار اپنی جگہ، لیکن اصل صورتِ حال یقینی طور پر اس سے کہیں زیادہ سنگین تر ہے۔ پھر بہت سے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ یہ سوچ کر پولیس سے رجوع کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں کہ جو نقصان ہونا تھا، وہ تو ہو چکا؛ اب شکایت درج کرانے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ پولیس اور متعلقہ اداروں کے اہل کاروں کی مبینہ بھتہ خوری اور ہراسانی کا ایک نیا اور کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے۔ یوں جرم کا شکار ہونے والے بہت سے افراد انصاف کے حصول سے بھی محروم رہتے ہیں اور مجرموں کے خلاف مقدمات درج نہ ہونے کے باعث اصل صورتِ حال سرکاری ریکارڈ میں بھی جگہ نہیں پاتی۔
۲- منشیات: زہر بانٹنے والے کتنے، گرفت میں آنے والے کتنے؟ منشیات کا زہر ہماری نوجوان نسل کو کس تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، اس کا اندازہ حکومتی اعداد و شمار سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، جولائی ۲۰۲۲ء سے جون ۲۰۲۳ء کے دوران۱۶۵۲ منشیات فروش گرفتار کیے گئے، جب کہ ستمبر ۲۰۲۳ء سے دسمبر ۲۰۲۴ء کے عرصے میں۲۳۵۰ منشیات فروشوں کی گرفتاریوں کی اطلاع دی گئی۔ تاہم، ان گرفتار شدگان میں سے کتنے افراد کو عدالتوں سے سزائیں ہوئیں؟ اس بارے میں کوئی واضح تفصیل سامنے نہیں آئی۔ پارلیمنٹ میں بھی ایسا تحریری جواب دستیاب نہیں ہوا ، جس سے معلوم ہو سکے کہ ان ملزمان میں سے کتنے سزا یافتہ قرار پائے۔
اینٹی نارکاٹکس فورس (ANF) سے متعلق اعداد و شمار کے حوالے سے سینیٹر ثمینہ ممتاز کی زیرِ صدارت سینیٹ کے اجلاس میں بتایا گیا: مئی ۲۰۲۵ء میں دستیاب حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، تمباکو اور شراب کے علاوہ دیگر منشیات کے عادی نوجوانوں کی تعداد ایک کروڑ ۷۰ لاکھ تھی۔ اگر یہ تعداد درست ہے تو سوال محض چند ہزار گرفتاریوں یا چند سو افراد کو سزاؤں کا نہیں، بلکہ ایک وسیع اور منظم مجرمانہ نیٹ ورک کا ہے۔ آخر اتنے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو منشیات فراہم کرنے والے مجرموں کی تعداد اتنی محدود کیوں ہے؟ کیا مسئلہ محض قومی اداروں کی استعداد کا ہے، یا اس کے پیچھے نگرانی، تفتیش، استغاثہ اور احتساب کی گہری کمزوریاں بھی کارفرما ہیں؟
۳- خودکشیاں: مایوسی کی آخری منزل : پاکستان میں خودکشیوں کے واقعات کا کوئی جامع اور قابلِ اعتماد قومی ریکارڈ دستیاب نہ ہونا بذاتِ خود ایک تشویش ناک امر ہے۔ تاہم، جنوری ۲۰۲۶ء میں ’آج‘ ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے سالانہ اعداد و شمار جمع کرتے ہوئے بتایا کہ ’’صرف لاہور شہر میں ۲۰۲۵ء کے دوران ۱۱۶ ؍افراد نے خودکشی کی۔ رپورٹ کے مطابق ان میں ۸۱ مرد، ۳۳ خواتین اور ۲ خواجہ سرا شامل تھے۔صرف ایک شہر کے یہ اعداد و شمار ہمارے معاشرے میں پھیلتی ہوئی مایوسی اور ذہنی شکستگی کی ایک جھلک دکھاتے ہیں۔
ایک معاشرے میں جب اُمید کے دروازے بند ہوتے محسوس ہوں، روزگار کے امکانات معدوم ہو جائیں اور مستقبل تاریک دکھائی دینے لگے، تو بعض افراد اس قدر بے بس ہوجاتے ہیں کہ زندگی ہی سے دست بردار ہونے کا انتہائی قدم اٹھا بیٹھتے ہیں۔ خودکشی کو محض ایک فرد کا انفرادی فیصلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے پس منظر میں معاشی دباؤ، سماجی تنہائی، نفسیاتی اذیت اور مستقبل سے وابستہ امیدوں کا ٹوٹ جانا بھی اہم عوامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے لازم ہے کہ خودکشیوں کے اسباب کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا جائے، قابلِ اعتماد قومی اعداد و شمار مرتب کیے جائیں، اور ذہنی صحت، معاشی تحفظ اور سماجی معاونت کے مؤثر انتظامات کیے جائیں۔
اس جرم کا ایک اور خوف ناک پہلو پاکستانی لڑکیوں اور خواتین کی جنسی سمگلنگ بھی ہے۔ شادی یا نکاح کا جھانسہ دے کر خواتین کو بیرونِ ملک لے جانے اور وہاں استحصال کا شکار بنانے کے واقعات بھی سرکاری سطح پر رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ بعض واقعات میں افغانستان، ایران اور چین سمیت مختلف ملکوں میں خواتین کو لے جا کر قحبہ گری پر مجبور کرنے یا فروخت کیے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔ یہ محض انسانی حقوق کی پامالی نہیں، بلکہ انسانی وقار، خاندانی اعتماد اور معاشرتی تحفظ پر ایک بڑا ہی سنگین حملہ ہے۔
خواتین میں تعلیم کے فروغ نے، ان کے اندر معاشی خودمختاری کا احساس اور اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھوں سنوارنے کی خواہش اور اُمنگ پیدا کی ہے۔ یہ بظاہر ایک مثبت تبدیلی ہے، لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب خواتین عملی اور خاص طور پہ پروفیشنل زندگی یا جاب مارکیٹ میں قدم رکھنا چاہتی ہیں ، تو انھیں بھی روزگار کی قلت، محدود مواقع اور معاشرتی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بے روزگاری کا اژدھا جب مردوں کی معاشی زندگی کو نگل رہا ہو، تو خواتین کے لیے باعزت اور باوقار روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
یوں بہتر مستقبل کی خواہش رکھنے والی بعض خواتین، جرائم پیشہ عناصر کے لیے آسان ہدف بن جاتی ہیں۔ انھیں بتایا جاتا ہے کہ یورپ میں خواتین کے لیے وظائف اور مواقع زیادہ ہیں، بیرونِ ملک انھیں جدید ترین فنی تربیت ملے گی، اور وہ واپسی پر یا وہیں رہتے ہوئے لاکھوں روپے کما سکیں گی۔ ان پُرکشش دعووں کی آڑ میں جعلی ملازمتوں اور بھرتی کے نام پر انھیں پھنسایا جاتا ہے، اور بعض صورتوں میں یہی سلسلہ انسانی سمگلنگ اور جنسی استحصال تک جا پہنچتا ہے۔
ان واقعات کا انجام اکثر نہایت کرب ناک ہوتا ہے۔ متاثرہ خواتین کی واپسی، بحالی اور انصاف کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ مزید یہ کہ ہمارے سماجی ماحول میں بدنامی کے خوف سے بعض خاندان خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ والدین اپنی بیٹیوں کے دکھ پر رو پیٹ کر رہ جاتے ہیں، اور قانونی چارہ جوئی کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ نتیجتاً مجرموں کو نہ صرف سزا سے بچ نکلنے کا موقع ملتا ہے، بلکہ ان کے جرائم کا حقیقی حجم بھی چھپا رہ جاتا ہے۔
ان نوجوانوں کو بعض اوقات بلوچستان اور افغانستان کے راستوں سے غیر قانونی طور پر سرحد پار کرائی جاتی ہے، اور بھاری رقوم وصول کی جاتی ہیں۔ دوسری طرف ترکیہ، یونان، اٹلی، اسپین اور پرتگال جیسے ملکوں تک پہنچنے کے خواب دکھا کر ان نوجوانوں کو خطرناک راستوں پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ سمگلر، ان کی مجبوریوں سے دولت کماتے ہیں، جب کہ ان کے خواب، گھر بار اور اکثر اوقات زندگیاں تک داؤ پر لگ جاتی ہیں۔ اس خونیں کاروبار کی جڑیں محض انفرادی دھوکے بازی تک محدود نہیں ہیں ۔ اس کے پیچھے بے روزگاری، معاشی ناہمواری، روزگار کے محدود مواقع، غیر مؤثر نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزور کارکردگی جیسے عوامل بھی کارفرما ہیں۔ جب تک ان بنیادی اسباب کا سنجیدہ جائزہ نہیں لیا جاتا، محض چند گرفتاریوں یا وقتی کارروائیوں سے اس مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔
یہاں ریاست کی ذمہ داری محض سرحدوں کی نگرانی یا کبھی کبھار چھاپے مارنے تک محدود نہیں رہ سکتی۔ اسے نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنے، بیرونِ ملک ملازمتوں کے نظام کو شفاف بنانے، جعلی بھرتی ایجنسیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے، متاثرین کو قانونی تحفظ فراہم کرنے، اور انسانی سمگلروں کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے مسلسل اور مربوط اقدامات کرنا ہوں گے۔
لیکن ریاستی کارکردگی دیکھ کر یہ تاثر گہرا ہوتا ہے کہ وہ نگرانی، گرفت، قانون سازی، عوامی آگاہی اور مجرموں کے نیٹ ورک توڑنے کے محاذوں پر مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف نوجوان اپنے ہی ملک میں مستقبل سے مایوس ہو رہے ہیں اور دوسری طرف ان کی اسی مایوسی کو منافع بخش کاروبار میں بدلنے والے عناصر بے خوف دکھائی دیتے ہیں۔ یہ المیہ محض چند نوجوانوں کے غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے یا سمندر میں ڈوب مرنے کا نام نہیں، یہ اس قومی صورتِ حال کا نوحہ ہے جس میں نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر اپنے وطن میں تلاش کرنے کے بجائے اجنبی ملکوں کے خطرناک راستوں پر جانیں داؤ پر لگانے پر آمادہ ہورہے ہیں۔
اس انسانی سمگلنگ کے جرم میں محض جرائم پیشہ افراد کے منظم گروہ ہی ملوث نہیں، بلکہ ان سفاک عناصر کو راستہ دکھانے، راہ ہموار کرنے اور ان کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے میں بعض سرکاری اہل کاروں کا کردار بھی ایک کھلی حقیقت ہے۔ جرائم پیشہ گروہوں اور بدعنوان سرکاری اہل کاروں کی یہ ملی بھگت صورتِ حال کو مزید سنگین اور تشویش ناک بنا دیتی ہے۔ اس صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے ریاستی اور معاشرتی سطح پر درجِ ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
۱- قانون پر مؤثر عمل درآمد اور سزاؤں کا یقینی نفاذ :حکومت نے ۲۰۲۵ء میں انسدادِ انسانی سمگلنگ ایکٹ ۲۰۱۸ء (Prevention of Trafficking in Persons Act - PTPA ) میں ترمیم کرتے ہوئے سزائے قید کی مدت میں اضافہ تجویز کیا، لیکن قانون پر غیرمؤثر عمل درآمد کے باعث صورتِ حال میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آ سکی۔ ضرورت ہے کہ حکومتی سطح پر قانون میں درج جرائم کی مؤثر تحقیقات، مقدمات کا درست اندراج، اور عدالتوں میں ان کی بروقت اور ذمہ دارانہ پیروی یقینی بنائی جائے، تاکہ مجرموں کو قانون کے مطابق سخت اور عبرت ناک سزائیں مل سکیں۔ اس مقصد کے لیے پولیس، متعلقہ خفیہ اداروں، عدالتی اہل کاروں اور استغاثہ کے عملے کو قانون اور تفتیش کی خصوصی تربیت دی جائے۔
۲- متاثرین اور گواہوں کا تحفظ : انسانی سمگلنگ کے مقدمات میں متاثرین اور گواہوں کا تحفظ انتہائی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اکثر خوف، دباؤ، دھمکیوں اور بااثر مجرموں کے اثر و رسوخ کے باعث متاثرین اور گواہان تفتیش اور عدالت سے تعاون سے گریز کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ فوجداری مقدمات میں متاثرین اور گواہوں کے تحفظ کے لیے مؤثر پروگرام نافذ کیے جائیں۔ تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے ہر مرحلے پر متاثرین کی عزّت، سلامتی اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
۳- مجرموں، سہولت کاروں اور بااثر سرپرستوں کو بے نقاب کرنا:اس گھناؤنے جرم میں سزا یافتہ انسانی سمگلروں کے ساتھ ساتھ ان کے سرکاری سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اسی طرح بااثر مقامی اشرافیہ میں شامل ایسے سیاست دانوں، جرائم پیشہ عناصر، بعض پیرانِ طریقت اور دولت مند افراد کی نشان دہی بھی ضروری ہے، جو اس کالے کاروبار کی سرپرستی یا معاونت میں ملوث ہوں۔ ان تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے اور ثابت شدہ جرائم کو معاشرے کے سامنے لایا جائے، تاکہ اثر و رسوخ اور دولت کسی مجرم کے لیے ڈھال نہ بن سکیں۔
۴- عوامی آگاہی اور معاشرتی مزاحمت: شہروں اور دیہات میں انسانی سمگلنگ کی مختلف صورتوں، اس کے خطرات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی المیوں کے بارے میں عوامی شعور بیدار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اخبارات، ٹیلی وژن، ریڈیو، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے، تاکہ نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کو انسانی سمگلروں کے فریب، جھوٹے وعدوں اور پُرخطر راستوں سے خبردار کیا جاسکے۔
۵- نوجوانوں میں قومی ذمہ داری اور تعمیرِ وطن کا شعور :تعلیمی اداروں میں دینی و عصری تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے اندر یہ شعور پیدا کرنا بھی ضروری ہے کہ بیرونی دنیا سے علم، تجربہ اور مہارت حاصل کرنا یقیناً مفید ہے، لیکن اپنی قوم کی تہذیبی، سماجی اور معاشی تعمیر کی بنیادی ذمہ داری اپنے ہی معاشرے میں رہ کر ادا ہو سکتی ہے۔ بیرونِ ملک تعلیم اور روزگار کے جائز مواقع سے فائدہ اٹھانے اور غیر قانونی ذرائع سے ملک چھوڑنے کی مجبوری میں فرق واضح کیا جائے۔ نوجوانوں کو یہ اعتماد دیا جائے کہ ان کی صلاحیتیں اپنے ملک میں بھی بامقصد زندگی، قومی ترقی اور معاشرتی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اس کے لیے ریاست کو بھی تعلیم، روزگار، ہنر مندی اور باعزت مستقبل کے حقیقی مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔
اب تک کی گفتگو میں تصویر کے ایک پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مایوسی، بے مقصدیت اور فکر و عمل کا انتشار ہمارے معاشرے میں مختلف صورتوں میں دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان میں خودکشی، منشیات کی لت اور جان خطرے میں ڈال کر بیرونِ ملک جانے کی کوششوں کو محض دینی کمزوری، اخلاقی انحطاط یا معاشی بدحالی کا نتیجہ قرار دینا اس مسئلے کی گہرائی اور پیچیدگی کو نظر انداز کرنا ہے۔ اس المیے کے پس منظر میں نفسیاتی اذیت، خاندانی تنازعات، معاشی مشکلات، سماجی تنہائی اور مستقبل سے مایوسی جیسے متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ان کے اثرات بھی ہر فرد پر یکساں نہیں ہوتے۔ اس لیے مسئلے کو سمجھنے کے لیے اس کے روحانی، نفسیاتی، معاشی اور معاشرتی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ یہ عوامل ایک دوسرے سے گہرے طور پر مربوط ہیں۔
پاکستان میں خودکشی، منشیات کے استعمال اور غیر قانونی ترک وطن کے رجحانات کا درست اندازہ لگانے میں اعداد و شمار کی کمی اور نامکمل رپورٹنگ کے باوجود مختلف مطالعات اور معاشرتی مشاہدات سے چند اہم عوامل کی نشان دہی ہوتی ہے:
قرآن مجید، انسان کی عزت و حرمت اور زندگی کی قدر کو بنیادی اہمیت دیتا ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ (بنی اسرائیل ۱۷: ۷۰) ’اور بے شک ہم نے اولادِ آدم کو عزّت بخشی‘۔ یہ تکریم انسان کی جان، عزت، حقوق اور مشکلات کے احترام کا تقاضا کرتی ہے۔ لہٰذا، خودکشی، منشیات کی لت اور خطرناک راستوں سے بیرونِ ملک جانے کے رجحانات کا مقابلہ صرف وعظ و نصیحت، قانونی کارروائی یا معاشی امداد سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے روحانی رہنمائی، ذہنی صحت کی سہولتوں، خاندانی اصلاح، معاشی مواقع، نوجوانوں کی تربیت اور مؤثر سماجی تعاون کو یکجا کرنا ہوگا۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ مایوس انسان کو محض اس کی کمزوری کا احساس نہ دلایا جائے، بلکہ اسے اُمید، عزت، علاج، روزگار اور بامقصد زندگی کی طرف واپس آنے کے حقیقی مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہ کام ایک ذمہ دار ریاست اور ہمدرد معاشرے کا امتحان ہے۔
یہ سوال کہ ہم اس پریشان انسان اور خاص طور پر نوجوان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟ یہ پہلو سب کی خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ کسی شخص کی خودکشی، نشے یا فرار کی اندھیری راہوں پر چلنے تک کے مرحلے میں اس کی ذاتی مشکلات کے علاوہ اس ماحول کا بھی کردار ہو سکتا ہے، جس میں وہ اپنی مشکلات کے دوران سامنا کرتے کرتے ٹوٹ جاتا ہے:
اصل سوال یہ ہے: کیا ہم ایسا معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں جس میں مشکلات سے دوچار انسان کو زندگی کی طرف واپس آنے کے لیے امید، مدد اور عملی راستے مل سکیں؟ یا پھر اقتدار، اختیار، دولت اور مذہبی اجارہ داری انسانی زندگی سے دُور، بہت دُور محض تماشائی ہیں؟
_______________
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی شریعت محض ایک دینی دعوت ہے، جس کا موضوع اخلاق ہے اور اس کی غایت یہ ہے کہ انسان کے تعلق کو اس کے ربّ کے ساتھ استوار کیا جائے اور بس۔ اس کے علاوہ اسے کسی چیز سے یا حیاتِ انسانی سے، جس کا ایک پہلو مملکت اور حکومت بھی ہے، کوئی غرض نہیں۔ مگر اسلامی شریعت کے متعلق یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ وہ اسے تسلیم نہیں کرتی، اور نہ اس قسم کے کسی تصور کے لیے اس کے اندر کوئی گنجائش ہے۔
مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ (الانعام ۶:۳۸) ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔
اسلامی شریعت کی اس وسعت و ہمہ گیری کی موجودگی میں ناممکن تھا کہ یہ مملکت اور حکومت کے بارے میں خاموش رہتی۔ حکومت اور نظامِ حکومت کے بارے میں کسی طرح کی کوئی رہنمائی نہ دیتی۔ اسلامی شریعت میں شورائیت کے اصول، حکام کی ذمہ داری، نیکی کے کاموں (معروف) میں ان کی اطاعت، صلح و جنگ اور بین الاقوامی معاہدات اور اسی طرح حکومت کے بہت سے دوسرے اعمال کے متعلق جو اصول اور قوانین ملتے ہیں، وہ یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ اسلامی شریعت ان سب کی جامع ہے۔
احادیث ِ نبویؐ میں ہمیں ’امیر‘، ’امام‘ اور ’سلطان‘ وغیرہ کلمات عام ملتے ہیں۔ یہ سب الفاظ اس مرکز ِ اختیارات کے لیے آتے ہیں، جو فرماں روائی اور غلبے کی صفات سے متصف ہو، یعنی اس سے مراد حکومت ہے اور ظاہر ہے کہ حکومت، مملکت کے اجزائے ترکیبی میں سے ایک بڑا جزو ہے۔ ہم نے اُوپر قرآن و حدیث کے جن احکام کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ ہم سب کے لیے واجب تعمیل ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو ان کے مطابق ڈھالیں۔ کیونکہ خدا نے اپنے رسولؐ پر وحی کے ذریعے احکام اس لیے نہیں بھیجے کہ ان کی محض تلاوت کرلی جائے۔ وحی الٰہی کا منشاء یہ ہے کہ اسے سمجھ کر پڑھا جائے اور اُسے عملی زندگی میں جاری و ساری کیا جائے، اور یہ کام اسی طرح ممکن ہے کہ شریعت کی رہنمائی میں اس کی مطلوبہ ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔
انسانوں کے معاملات کی تنظیم، دین کے سب سے بڑے واجبات میں سے ہے، بلکہ خوددین کا قیام بھی اسی طرح ممکن ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور مظلوم کی امداد کا جو حکم دیا ہے، اور وہ تمام احکام جو جہاد، عدل اور حدوداللہ کے قیام سے متعلق ہیں، ان پر قوت اور امارت کے بغیر عمل کرنا ممکن نہیں ہے(امام ابن تیمیہ،السیاسۃ الشرعیہ، ص ۱۷۲-۱۷۳)۔[یعنی شریعت کے احکام کے نفاذ کے لیے اسلامی ریاست کا قیام ضروری ہے]۔
l اسلامی ریاست __ بندگیٔ ربّ کا تقاضا: اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۵۶ (الذاریات ۵۱:۵۶) ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے‘‘۔ اس آیت میں ’عبادت‘ کا لفظ بہت جامع مفہوم کا حامل ہے اور اس میں انسان کے وہ تمام ظاہری و باطنی اقوال اور افعال شامل ہیں ، جو خدا کے ہاں مقبول و محبوب ہیں۔(امام ابن تیمیہ، فتاویٰ ابن تیمیہ، ج۱،ص ۳۰۴ )
’عبادت‘ کے اس وسیع مفہوم کی روشنی میں انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی، اپنے اقوال و افعال، اختیارات اور انسانی تعلقات کو اسلامی شریعت کی منشاء کے مطابق بنائے۔ مگر ایسا کرنا کسی فردِ واحد کے دائرئہ قدرت سے باہر ہے۔ وہ اگر چاہے تب بھی انفرادی طور پر شریعت کا یہ منشا پورا نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے ایک منظم معاشرے کا ہونا ضروری ہے، جواسلامی رنگ میں رنگا ہو، اور جس کے اندر رہ کر انسان کے لیے اپنی زندگی کو اسلامی شریعت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا آسان ہو۔ کیونکہ انسان میل جول کی مخلوق ہے، اور وہ اپنے ماحول سے لازماً متاثر ہوتا ہے۔ ماحول کے اس خارجی تاثر کے نتیجے میں وہ نیکی اور خیر کو بھی اختیار کرسکتا ہے، اور گمراہی اور شر کی پگڈنڈیوں میں بھی گم ہوسکتا ہے۔ اس بات کی تائید اس حدیث نبویؐ سے بھی ہوتی ہے جس میں بتایا گیا ہے:’’ہرپیدا ہونے والا بچہ نیکی کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس کے ماں باپ اسے یہودی بنادیتے ہیں یا نصرانی اور مجوسی۔ اس کی مثال ویسی ہی ہے جیسے کہ مویشی جو بچہ دیتے ہیں۔ وہ صحیح سالم ہوتا ہے۔ ان میں کوئی نکٹا یا کن کٹا نہیں ملتا۔ پھر تم لوگ ان کے ناک کان کاٹ دیتے ہو‘‘۔(صحیح البخاری : ۱۳۸۵، صحیح مسلم: ۲۶۵۸)
بچّے کے لیے پہلا چھوٹا سا معاشرہ اس کے والدین ہوتے ہیں ،جو اگر خود گم کردہ راہ ہوں تو اس بچّے کو بھی گمراہی اور ضلالت کے اندھیروں میں بھٹکا دیتے ہیں، اور اُسے اس کی فطری روش سے منحرف کردیتے ہیں، جس کا شعور وہ خدا کے ہاں سے لے کر آتاہے۔ لیکن اگر دوسری صورت ہو اور اس کے والدین صالح اور نیک ہوں تو بچہ اپنی اصل فطرت کے مطابق پھلتا پھولتا ہے اور خیر اور نیکی کی منازل طے کرتا جاتا ہے۔ قرآن کریم اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ بگڑے ہوئے معاشرے میں اسلام کے احکام بجالانا اور اسلام کے مطابق زندگی گزارنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ چنانچہ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ایسے معاشرے کو چھوڑ کر ہجرت کرجائے:
اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِہِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ۰ۭ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْاَرْضِ۰ۭ قَالُوْٓا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللہِ وَاسِعَۃً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا۰ۭ فَاُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَہَنَّمُ۰ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۹۷ (النساء۴:۹۷) جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزورو مجبور تھے۔ فرشتوں نے کہا: کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنّم ہے اور وہ بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے۔
اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ابن کثیرؒ لکھتے ہیں: ’’یہ عمومی آیت ان تمام لوگوں کے بارے میں ہے جو ہجرت کرجانے کی قدرت رکھنے کے باوجود مشرکین کے درمیان قیام پذیر رہے، حالانکہ وہ وہاں دین کی اقامت سے عاجز تھے۔ ایسے سب لوگ اپنے نفوس پر ظلم ڈھاتے رہے، اور اس بات پر اجماع ہے کہ انھوں نے حرام کا ارتکاب کیا۔ (تفسیر ابن کثیر، ج۱، ص۵۴۲)
اس سے ظاہر ہے کہ اگر بنیادی طور پر معاشرہ اسلامی نہ ہو، جس میں افرادکے لیے اسلامی طرزِ زندگی کو اپنانا آسان اور ممکن ہو اور مختلف عبادات کی صورت میں اُن کی تکمیلِ ذات کے لیے ایک صالح ماحول موجود ہو، تو نہ انسان اسلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی بسر کرسکتا ہے اور نہ شریعت کے وضع کردہ اصولوں کی روشنی میں دوسرے انسانوں سے اپنے تعلقات قائم رکھ سکتا ہے۔
اس قسم کے اسلامی معاشرے کو محض وعظ و تلقین سے وجود میں نہیں لایا جاسکتا۔ اس کا قیام ایک ریاست کے ذریعے ہی ممکن ہے، جو کسی معاشرے کو جس رنگ میں چاہے ڈھالنے کی قدرت رکھتی ہے اور پھر اس کی سلامتی اور تحفظ کی ضامن بنتی ہے۔ یہ کام ریاست اور صرف ریاست ہی کرسکتی ہے، مقتدر اور باقوت ریاست۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۰ۚ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْہِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللہُ مَنْ يَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَہٗ بِالْغَيْبِ۰ۭ (الحدید ۵۷:۲۵) ہم نے اپنے پیغمبروںؑ کو کھلے کھلے احکام دے کر بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو اُتارا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔ اور ہم نے لوہے کوپیدا کیا جس میں شدید ہیبت ہے اور لوگوں کے فائدے ہیں، تاکہ اللہ جان لے کہ بے دیکھے اس کی اور اس کے رسولوںؑ کی کون مدد کرتا ہے۔
جن لوگوں کو کتاب کی ہدایت سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، انھیں ’لوہا‘ ___ یعنی سیاسی قوت خرابی پیدا کرنے اور گمراہی پھیلانے سے باز رکھتی ہے۔کیونکہ کسی شخص کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ کشتی میں چھید کر کے اس میں سوار سب لوگوں کو تباہی کے حوالے کردے۔ معاشرے کو تخریب اور انحراف کی تباہ کاریوں سے تحفظ دینے والی فعال قوت صرف ریاست کی قوت ہے۔ حضرت عثمانؓ کا قول ہے: ’’اللہ تعالیٰ جن باتوں کا سدباب قرآن سے نہیں کرتا ان کا انسداد وہ قوت سے کرتا ہے‘‘۔(البدایۃ والنہایۃ ، ابن کثیر، مصنف ابن ابی شیبہ، سنن الکبریٰ للبیہقی)
اس کے بعد وفد کے اراکین میں سے بعض حضرات نے اظہارِ خیال کیا اور ایک بات یہ فرمائی کہ’’اے اللہ کے رسولؐ، ہم آپؐ سے کن باتوں کی بیعت کریں؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اچھے اور بُرے ہرحال میں تم میری بات سنو گے اور اطاعت کرو گے اور نیکی کا حکم دو گے اور بُرائی سے روکو گے۔ اللہ کے مقابلے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کرو گے، اور اس بات پر کہ تم میری مدد کرو گے، اور جب میں تمھارے پاس چلا جائوں تو تم میری حفاظت اُسی طرح کرو گے جس طرح تم اپنی جانوں کی اور بیوی بچوں کی حفاظت کرتے ہو۔ اس کے بدلے میں تمھیں جنّت ملے گی‘‘۔ اس پر وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور جو باتیں آپؐ نے بتائی تھیں ان سب پر آپؐ سے بیعت کرلی۔(البدایۃ والنہایۃ، امام ابن کثیر، ج۱، ص۱۵۹)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ کے مسلمانوں کی یہ بیعت اوّلین اسلامی ریاست کے قیام کی تمہید تھی اور اس بات کا واضح اعلان تھا کہ ان مسلمانوں نے جس ریاست کے قیام کا وعدہ کیا ہے، اس میں بالادستی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوگی اور وہ سب ان کی اطاعت کے پابند ہوں گے۔ سمع و اطاعت کا عہد کرکے انھوں نے یہ اقرار کیا کہ نئی ریاست کے معاملات کے چلانے میں وہ رسولؐ کی مرضی پر چلیں گے، اور اگر اس نئے معاشرے، یعنی ریاست کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو اس کا دفاع کریں گے اور اگر اس ’نظامِ نو‘ بالفاظِ دیگر ’قانونِ اسلامی‘ کی بالادستی کو چیلنج کیا گیا، تو اس کی حفاظت کے لیے لڑیں گے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعلی الامر بالمعروف والنھی عن المنکر پر بیعت کا مفہوم یہی ہے۔
اس اسلامی ریاست کے پہلے سربراہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود تھے اور یہودیوں سے آپ نے جو معاہدہ کیا، اس میں آپؐ کی یہی سیاسی حیثیت کارفرما تھی، جو مدینے کی نئی اسلامی ریاست کے سربراہ کے طور پر آپ کو حاصل تھی۔ اس کے بعد آپؐ نے مہاجرین اور انصار کے مابین اخوت کا رشتہ استوار کیا، جس کے نتیجے میں وہ ایک دوسرے کی مال و جائیداد کے وارث قرار پائے، یہاں تک کہ شریعت کے قانونِ وراثت نے اس کو منسوخ کر دیا۔ (البدایہ والنہایہ، ابن کثیر،ج۳،ص ۲۲۴)
’ریاست‘ کی اس تعریف کی روشنی میں جب ہم مدینہ کی اسلامی ریاست پر نظر ڈالتے ہیں ، تو اس میں ہمیں یہ سب عناصر مل جاتے ہیں۔ وہاں انسانوں کا ایک اجتماع موجود تھا، جو اوّلین مہاجرین و انصار کے اشتراک سے وجود میں آیا تھا۔ پھر اسلامی شریعت کی صورت میں وہ نظامِ غالب بھی موجود تھا، جو اس اجتماع کے اصول و قواعد کے بارے میں رہنمائی دیتا تھا، اور مدینہ منورہ وہ خطّۂ زمین تھا جسے یہ شرف حاصل ہوا کہ وہاں پر اوّلین اسلامی ریاست قائم ہو۔ رسولؐ اللہ نے خود اس اسلامی ریاست کے سربراہ کی حیثیت میں ریاست کے تمام معاملات اور مصالح کی نگرانی و رہنمائی کی___ سربراہِ مملکت کی حیثیت سے آنحضورؐ نے جو متعدد معاہدات کیے، اس میں آپؐ محض اپنی شخصی حیثیت میں ایک فریق نہیں تھے، بلکہ بحیثیت مجموعی پوری ریاست کی شخصیت (معنوی) کی علامت تھے۔ اسی لیے آپؐ کے کیے ہوئے معاہدوں کی پابندی اسلامی ریاست پر واجب ٹھیری۔
فقہاء کے نزدیک آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ان مختلف حیثیات کا اجتماع ایک متفق علیہ مسئلہ ہے۔ چنانچہ ان فقہاء نے آپ کی ان مختلف حیثیتوں کے پیش نظر آپؐ کے احکام و فرامین میں فرق کو جس طرح بیان کیا ہے، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیثیت نبیؑ کے آپؐ نے احکام و فرامین میں فرق کو جس طرح بیان کیا ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیثیت نبیؐ کے آپؐ نے انسانوں کو جو باتیں بتائی ہیں، ان کی پابندی سب پر لازم ہے، مگر اسلامی ریاست کے سربراہ کی حیثیت میں آپؐ نے وقتاً فوقتاً جو احکام جاری فرمائے ہیں، ان پر عمل درآمد موجودالوقت اسلامی ریاست کے سربراہ کی اجازت سے مشروط ہے۔
اسی طرح قاضی کی حیثیت سے آپؐ نے مختلف اوقات میں جو مختلف فیصلے دیئے، اُن پر وقت کی اسلامی عدالت کی اجازت سے عمل ہوگا۔ اسلامی احکام کی یہ مختلف حیثیات ہی فقہاء میں اجتہادی اختلافات کا سبب بنی ہیں کہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم نبیؑ کی حیثیت سے دیا ہے یا محض قاضی اور اسلامی ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے کوئی فیصلہ صادر کیا ہے؟‘‘ فقہاء نے اس سوال کے مختلف جوابات دیئے ہیں۔ اسی لیے ان کے استنباط کے نتائج بھی مختلف نظر آتے ہیں۔
مثال کے طور پر بنجر زمین کو آباد کرکے اس کی ملکیت کا سوال ہے۔ اس کے متعلق سبھی اپنے استدلال کی بنیاد اس حدیث پر رکھتے ہیں:مَنْ اَحْیَا اَرضًا متیۃً فَھِیَ لَہٗ (سنن ابی داؤد:۳۰۷۳) ’’جس کسی نے کوئی بنجر زمین آباد کی وہ اسی کی ہے‘‘۔لیکن اس کے باوجود ان کے استنباطی نتائج مختلف ہیں۔ بعض کا خیال ہے: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ایک فتوے اور عام حکم کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی رُو سے ہر اس شخص کو جو کسی بنجر زمین کو آباد کرے اس پر قبضہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے، خواہ امامِ وقت یعنی رئیس مملکت اسے ایسا کرنے کی اجازت دے یا نہ دے‘‘۔ یہ امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کا قول ہے۔
بعض دوسرے فقہاء کے نزدیک: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیغمبرانہ حیثیت میں نہیں بلکہ اسلامی ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے بنجر زمینیں آباد کرنے والوں کو ان پر قبضے کی اجازت دی تھی۔ اس لیے اب کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اسلامی حکومت کی اجازت کے بغیر کسی ویران زمین کو آباد کرکے اس پر قبضہ جمالے‘‘۔ یہ امام ابوحنیفہؒ کا مسلک ہے۔
اسی طرح آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور قول ہے جس میں آپؐ نے ابوسفیان کی بیوی سے کہا: ’’اپنی اور اپنے بیٹے کی ضروریات کے لیے [ابوسفیان کے مال سے] معروف طریقے کے مطابق لے لو‘‘ (بخاری ، مسلم ، نسائی ، ابی داؤد)۔ بعض فقہاء اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عمومی حکم قرار دیتے ہیں جس میں آپؐ نے ہرشخص کو گویا یہ حق عطا فرما دیا ہے کہ اسے جب موقع ملے تو دوسروں کے اموال میں سے اپنا حق وصول کرلے خواہ اصل مالکوں کو اس کا علم ہو یا نہ ہو۔ امام شافعیؒ کا مذہب یہی ہے، مگر دوسرے فقہاء کو اس سے اختلاف ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ ایک قاضی کی حیثیت سے دیا تھا۔ اس لیے اب حکومت کے مقرر کردہ قاضی کے فیصلے کے بغیر خود ہی لوگوں کے مالوں میں سے اپنا حق وصول کرنا جائز نہیں ہے۔(الفروق للقرافی، ج۱،ص ۲۷-۲۸)
مثال کے طور پر ایک تعریف یہ کی گئی ہے کہ:’’دارالاسلام اس مقام کا نام ہے جہاں مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہو‘‘۔(شرح السیر الکبیر، سرخسی، جلداوّل،ص ۸۱)
اس تعریف میں اقتدار اور رقبہ کے اجزاء نمایاں ہیں، اور ریاست کے باقی عناصر___ جیسے آبادی اور نظامِ حکومت، ان کے اندر مضمر ہیں، کیونکہ ظاہر ہے جہاں مسلمان آباد ہوں گے وہ لامحالہ اسلامی قانون پر ہی عمل پیرا ہوں گے۔ بعض فقہاء کے نزدیک ’دارالاسلام‘ سے وہ علاقہ مراد ہے، جہاں مسلمانوں کی قوت اور اقتدار کے نتیجے میں اسلامی شعار نمایاں ہوں (شرح الازہار، ، ج۵،ص ۵۷۲)۔اس تعریف میں ریاست کے نظامِ حکومت اور اقتدار پر زور ہے اور آبادی اور رقبہ جیسے ریاست کے دوسرے اجزاء کو مبہم چھوڑ دیا گیا ہے۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اسلامی ریاست کے ضمن میں جب آبادی کا ذکر آتا ہے تو اس سے محض مسلمان آبادی مراد نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اندر غیرمسلم آبادی بھی شامل ہوتی ہے۔ اس کی تصریح میں فقہاء کا یہ قول موجود ہے: ’’ذمّی (غیرمسلم آبادی) بھی ’دارالاسلام‘ کی آبادی میں شمار ہوتی ہے‘‘۔(بدائع الصنائع ،اَز کاسانی، ج۵، ص۲۸۱، المبسوط، سرخسی ، ج۱،ص۸۱، المغنی، ج۵،ص ۵۱۶)
یہی نہیں بلکہ ’دارالاسلام‘ کے قیام کے لیے آبادی کا مسلمان ہونا سرے سے ضروری ہی نہیں ہے۔ اس کے لیے اس کے حاکم کا مسلمان ہونا اور اس کا اسلامی نظام پر عامل ہونا کافی ہے۔ چنانچہ امام الرافعی کا قول ہے: ’’دارالاسلام کے لیے اس میں مسلمانوں کا ہونا کوئی شرط نہیں، بلکہ اس کے وجود میں آنے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ اس کی زمامِ اختیار ایک امام اور اسلام کے ہاتھ میں ہو‘‘۔ (فتح العزیز، جلد۸،ص ۱۵)
اسلامی ریاست کا یہی وہ مزاج ہے جو اسے ایک عالمی ریاست بناتا ہے، جس میں مختلف نسلوں اور قوموں کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ ان میں سے جو چاہے وہ کسی وقت بھی اس ریاست کے اساسی نظریے یعنی اسلام کو قبول کرکے اس کے عقیدے اور نظام کے محافظوں کی صف میں شامل ہوسکتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے وہ ایسا کرنے پر تیار نہ ہو تو بھی وہ اسلامی ریاست کے قانون کے تحت آرام سے زندگی گزار سکتا ہے۔ ریاست اس کے مذہب اور عقیدے کی آزادی میں کسی طرح کی کوئی مداخلت نہیں کرتی۔
جہاں تک اس اسلامی ریاست کے مقاصد کا تعلق ہے، وہ اس کے بنیادی مزاج کا منطقی نتیجہ ہیں۔ نظریۂ اسلامی کی اساس پر اس کے قیام کا تقاضا ہے کہ اس کے مقاصد خود اسلام کے مقاصد کا عکس ہوں۔ اس کا مقصد صرف قیامِ امن اور افرادِ انسانی کے لیے فلاح و اطمینان کا حصول ہی نہیں ہے۔ یہ ان کی جان کی حفاظت اور انھیں ظلم و زیادتی سے بچانے کو ہی کافی نہیں سمجھتی، بلکہ ریاست کے تمام اعمال و دوائر میں اسلامی احکام کی تنفیذ اور دُنیا بھر میں دعوتِ اسلامی کی تبلیغ بھی لازمی خیال کرتی ہے، اور ایسا کرنا اس کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ اس کا فرض ہے کہ لوگوں کو اسلامی عبادت اور اسلام کے سکھائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل بنائے اور اس سلسلے میں ان کی راہ میں جو مشکلات حائل ہوں اُنھیں دُور کرے۔ اور اگر افکار و نظریات اور معاشرتی اور اقتصادی نظام میں کوئی خلافِ اسلام چیز پائی جائے تو اُسے ختم کرے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۰ۭ وَلِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ۴۱ (الحج۲۲:۴۱) یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اس آیت میں ’اقامت ِ صلوٰۃ‘ کا ذکر ریاست کے اس فرض کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ لوگوں کو خدا کی عبادت کے قابل بنانا ریاست کا فرض ہے۔ اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر، یعنی نیکی کا حکم اور بدی سے روکنے کی ہدایت اشارہ کر رہی ہے کہ لوگوں کو اسلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی بسر کرنے کی سہولتیں فراہم کرنا، اور اپنے زیراثر تمام شعبوں میں اسلامی احکام کو نافذ کرنا بھی اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
یہ ہیں ایک اسلامی ریاست کے مقاصد۔ ان کا بنیادی ہدف اللہ تعالیٰ کے قانون کی روشنی میں فرد اور معاشرے دونوں کی بہتری اور فلاح ہے۔ فرد کی دُنیاوی اور اُخروی فلاح بھی ریاست کی اسی ذمہ داری کا ایک حصہ ہے۔
_______________
قرآن مجید میں جن اچھائیوں کے حسن کو بہت نمایاں کرکے دکھایا گیا ہے ، ان میں سے ایک سچ ہے، اور جن برائیوں کی شناعت کو خاص طور سے بہت زیادہ ابھار کر پیش کیا گیا ہے، ان میں سے ایک جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سچائی شعار انسانوں کے ساتھ رہنے کی تاکید کی:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ۱۱۹(التوبۃ ۹:۱۱۹ )اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی ناراضگی سے بچو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔
اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو سب سے بڑا ظالم قرار دیا ہے ، ان میں وہ بھی ہیں جو جھوٹ بول کر اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کریں جو اللہ نے فرمائی نہیں ہیں اور وہ بھی ہیں جو اللہ کی طرف سے آئی ہوئی سچ باتوں کو جھٹلادیں۔ فرمایا:
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَي اللہِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَاۗءَہٗ۰ۭ اَلَيْسَ فِيْ جَہَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ۳۲ (الزمر۳۹: ۳۲) پھر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اُسے جھٹلا دیا۔ کیا ایسے کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف حدیث سننے اور اسے دوسروں تک پہنچانے والوں کے لیے دعا کی ہے :نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ غَيْرَهُ (سنن الترمذی)’’اللہ اس شخص کو شاداب رکھے جو ہم سے کوئی بات (حدیث) سنے تو اسے یاد کرلے اور دوسروں تک پہنچا کے دم لے‘‘۔
دوسری طرف اللہ کے رسول کی طرف جھوٹ بول کر ایسی بات منسوب کرنے کو جو آپؐ نے فرمائی نہیں، بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ اس کی دو شکلیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی خود حدیث گھڑ کر اللہ کے رسول کی طرف منسوب کرے۔ دوسری یہ کہ حدیث تو کوئی اور گھڑے لیکن وہ اسے بیان کرنے کا کام کرے۔
پہلی صورت کے بارے میں فرمایا :مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ (صحيح البخاری) ’’جس نے جھوٹ بات گھڑ کر میری طرف منسوب کیا وہ جہنم میں اپنا ٹھکانا بنالے‘‘۔
دوسری صورت کے بارے میں فرمایا:مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ(سنن ابن ماجہ) ’’جس نے میرے حوالے سے کوئی بات (حدیث) بیان کی حالانکہ وہ جانتا تھا کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ دونوں جھوٹوں میں سے ایک ہے‘‘۔
سچ اور جھوٹ کا معاملہ اللہ کے یہاں اتنا اہم ہے کہ ایمان لانے والوں کے لیے ان کا دعوائے ایمان کافی نہیں ہوتا بلکہ انھیں ایسے امتحان سے بھی گزارا جاتا ہے کہ جس سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آجائے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ۲ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَ۳ (العنكبوت ۲۹: ۲-۳) کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ’ہم ایمان لائے‘ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟ حالانکہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچّے کون ہیں اور جھوٹے کون؟
سچ اجتماعیت کو استحکام عطا کرتا ہے اور جھوٹ انتشار کا سبب بنتا ہے۔سچائی کے ماحول میں باہمی اعتماد فروغ پاتا ہے، ایک دوسرے کو جوڑنے والے رابطے وجود میں آتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی فروغ پاتی ہے۔ جھوٹ کے ماحول میں باہمی اعتماد ختم ہوجاتا ہے، باہمی روابط کمزور ہوجاتے ہیں اور محبت و ہمدردی کے سارے مظاہر مشکوک ہوجاتے ہیں۔
اسلامی اجتماعیت تو مکمل طور سے سچ پر قائم ہوتی ہے۔ صادقِ رسولؐ کی سچی خبر، قرآن محفوظ کی سچی آیتیں ، صحابہ کرامؓ کا سچا کردار، اہلِ اسلام کاسچے دل سے ایمان، اللہ سے سچا عہد و پیمان اور اہل ایمان سے سچی خیر خواہی، اخوّت کا جذبہ بھی سچا اور امیر سے بیعت بھی سچی، غرض اسلامی اجتماعیت کی رگ رگ میں سچ سرایت کیے ہوئے ہوتا ہے۔ جھوٹ کے لیے اس میں کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے۔ اگر خدا نخواستہ اسلامی اجتماعیت میں اہل ایمان کی غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے جھوٹ کو جگہ ملنے لگے، تو اسلامی اجتماعیت شدید خطرے سے دوچار ہوتی ہے۔ اسی لیے اُمت کے حساس افراد کے نزدیک جھوٹ ہمیشہ ایک سنگین معاملہ رہا ہے، جس کے سلسلے میں انھوں نے کسی قسم کی مداہنت نہیں برتی۔
واقعہ یہ ہے کہ جھوٹ کی جتنی زیادہ یلغار اسلامی امت پر ہوئی اور جھوٹ کا جتنا زیادہ مقابلہ اسلامی امت کے صالحین نے کیا، اس کی مثال کہیں اور نہیں مل سکتی ہے۔ نبوت کے جھوٹے مدعی، قرآن سے متعلق جھوٹی باتیں، اللہ کی رسولؐ کی طرف منسوب کرکے جھوٹی روایتیں ، اہل اسلام کی تاریخ میں جھوٹ کی ملاوٹیں، غرض جھوٹ کے حملے ہوتے رہے اور اہل اسلام ان کا منہ توڑ جواب بھی دیتے رہے۔
جھوٹ بولنے والا جتنا قصور وار ہوتا ہے جھوٹ سننے والا اس سے کم قصور وار نہیں ہوتا۔ جھوٹ کو پھیلانے میں دونوں ہی کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ اگر سماج میں لوگ جھوٹ سننے کے سلسلے میں حسّاس ہوجائیں، تو جھوٹ بولنے والوں کی جرأت کم زور پڑجائے گی۔ جھوٹ سننے سے انکار کرنا جھوٹ بولنے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ قرآن مجید میں جھوٹ سننے کی قباحت کو بھی بڑی تاکید سے بیان کیا گیا ہے۔
غیبت کے اندر جہاں بہت سے قبیح پہلو ہیں، وہیں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ جھوٹ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ جب ایک شخص سامنے نہیں ہوتا ہے تو اس کے اوپر جھوٹے الزامات لگانا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ غیبت سننے والا اس کا لطف اٹھانے کی خاطر اور بسااوقات سامنے والے کی مروّت میں خاموش رہتا ہے، اور غیبت کرنے والا بلا کسی روک ٹوک کے جتنا جھوٹ چاہتا ہے غیر حاضر افراد کے بارے میں بولتا ہے۔
پیٹھ پیچھے برائی اور منہ پر تعریف میں ایک مشترک چیز جھوٹ ہے۔ پیٹھ پیچھے برائی کرتے ہوئے عام طور سے انسان جھوٹ کا سہارا لیتا ہے اور منہ پر تعریف کرتے ہوئے بھی عام طور سے آدمی جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ پہلی صورت میں آدمی تردید کے لیے موجود نہیں ہوتا ہے، اور دوسری صورت میں وہ موجود تو ہوتا ہے لیکن اس کا ضمیر غیر حاضر ہوتا ہے۔
بعض جھوٹ ایسے ہوتے ہیں جن سے بظاہر معاشرے میں کوئی بڑی خرابی پیدا ہوتی نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ جھوٹ فروغ پاتا ہے اور اپنی جگہ یہ بھی کوئی چھوٹی برائی نہیں ہے۔ بے ضرر قسم کے جھوٹ جب بار بار بولے جاتے ہیں تو جھوٹ کے سلسلے میں حساسیت ختم ہوجاتی ہے، اور پھر ایسے جھوٹ بھی عام ہونے لگتے ہیں جو پورے معاشرے کے لیے ضرر رساں ہوتے ہیں۔ دینِ اسلام میں ایسے جھوٹ سے بھی منع کیا گیا ہے۔
وہ جھوٹ جو اجتماعیت کو فوری طور پر براہِ راست بڑا نقصان پہنچاتے ہیں، ان میں سے ایک جھوٹا الزام ہے۔ جھوٹا الزام اجتماعیت کے معتبر افراد کو غیر معتبر بنانے کے لیے گھڑا اور پھیلایا جاتا ہے۔
اجتماعیت کو جھوٹ کے برے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے قرآن مجید میں بہت سی ہدایات دی گئی ہیں۔ یہاں ہم دو اصولوں کا ذکر کریں گے، جو قرآن سے حاصل ہوتے ہیں۔ پہلا اصول خبر کی تحقیق کا ہے اور دوسرا اصول اجتماعیت سے وابستہ افراد پر اعتماد رکھنے کا ہے۔ پہلا اصول ہمیں اس آیت سے حاصل ہوتا ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ۶ (الحجرات۴۹: ۶) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔
دوسرا اصول ہمیں بہت سی آیتوں میں ملتا ہے، یہاں ایک آیت کا ذکر کرتے ہیں:
لَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَيْرًا۰ۙ وَّقَالُوْا ھٰذَآ اِفْكٌ مُّبِيْنٌ۱۲ (النور: ۲۴:۱۲) جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھا اُسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے لوگوں کے سلسلے میں نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے؟
ایک جھوٹی خبر معاشرے کے بہت بڑے حصے کو نقصان پہنچاسکتی ہے۔ اس لیے ایسی خبروں کی تحقیق بہت ضروری ہوجاتی ہے جن کی بنا پر کسی کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔
نقصان جانی بھی ہوتا اور مالی بھی، مادّی بھی ہوتا ہے اور معنوی بھی۔ جنگ کے حالات میں جھوٹی خبر بہت سے بے گناہ لوگوں کی موت کا سبب بن سکتی ہے۔ معمول کے حالات میں کسی کے بارے میں جھوٹی خبر اس کی عزت کو پامال کرسکتی ہے۔ محبت کی فضا میں جھوٹی خبر نفرت کی آگ بھڑکا سکتی ہے، اور تناؤ کے ماحول میں جھوٹی خبر لڑائی چھیڑ سکتی ہے۔ جھوٹی خبر معتبر افراد کوغیر معتبر بنا سکتی ہے اور متحد جماعت کو انتشار سے دوچار کرسکتی ہے۔
جھوٹی خبر کی تخلیق کرنے والا بے شک بدکردار انسان ہوتا ہے۔ اس خبر کو منتقل کرنے والا بد کردار نہ بھی ہو تو غیر ذمہ دار ضرور ہوتا ہے۔ جھوٹ کی تخلیق کرنے والا عام طور سے پس منظر میں ہوتا ہے اور اسے منتقل کرنے والا نگاہوں کے سامنے ہوتا ہے۔ لوگ جھوٹ گھڑنے والے کے کردار سے ناواقف ہوتے اور پھیلانے والے کے کردار سے مطمئن ہوتے ہیں، اس لیے بڑے دھڑلے کے ساتھ اسے پھیلاتے ہیں۔
قرآن ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ کوئی بد کردار شخص اگر کوئی خبر دے ، تو اس کی اچھی طرح سے جانچ پرکھ کرنی چاہیے، اور کسی نیک نام فرد کے بارے میں کوئی خراب خبر ملے تو اس کے لیے ثبوتوں کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں بدکردار شخص ہمیشہ شک کے دائرے میں رہے جس کا ازالہ تحقیق کے بغیر نہ ہو، اور نیک سیرت شخص ہمیشہ اعتماد کی پوشاک میں ملبوس رہے جسے ٹھوس ثبوتوں کے بغیر تار تار نہ کیا جائے۔
پرانے وقتوں میں باتیں راست انسانوں کے ذریعے پہنچتی تھیں اور ان کےبارے میں جاننا آسان ہوتا تھا۔ بعد میں اخبارات اس کا وسیلہ بنے اور اب ٹکنالوجی کے راستے باتوں کا سیلاب بہتا ہے اور یہ نہیں معلوم ہوپاتا کہ کون سی بات کہاں سےچلی؟ یہ صحیح ہے کہ دورِ حاضر میں خبروں کی تحقیق کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ اس کے باوجود قرآن کے یہ دو نوں اصول معاشرے کے نیک لوگوں کے تحفظ میں بے حد مفید ہیں۔ ایک یہ کہ ضرر رساں باتیں بغیر تحقیق کے قبول نہ کی جائیں، اور دوسرا یہ کہ ثبوتوں کے بغیر کسی نیک صفت فرد کی عزت پر حرف نہ آنے دیں۔
اے آئی کے ہوش ربا ظہور و فروغ کے بعد خبروں کی صداقت کو جاننا ناممکن حد کو چھوتا نظر آتا ہے۔ یہ امکان خطرے کی گھنٹی بجانے لگا ہے کہ کوئی شریف انسان کسی جرم میں ملوث اس طرح دکھادیا جائے کہ سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں اور کوئی انکار ہی نہ کرسکے۔ ایسی صورت میں قرآن مجید کے بیان کردہ دونوں اصولوں کی اہمیت و ضرورت اور زیادہ بڑھ جائے گی۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سننے اور بیان کرنے کے درمیان ایک ذمہ داری کا پُل مقرر کیا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ جو سنا جائے وہ بیان بھی کردیا جائے۔اس غیر ذمہ دارانہ حرکت سے معاشرے میں بہت سے فتنوں کو فروغ ملتا ہے۔
آپؐ نے فرمایا:كَفَى بالمرءِ كذِبًا أن يحدِّثَ بِكُلِّ مَا سمِعَ ’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنتا ہے سب کچھ بیان بھی کردیتا ہے‘‘۔ اس حدیث سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ سماعت ایک بھاری ذمہ داری ہے۔
آدمی کیا کیا اَن سنی کردے اور کیاسنے ؟ نیز سنی ہوئی کون سی بات بیان کرے اور کون سی بات بیان نہ کرے؟ اس کی سمجھ بوجھ اپنے اندر پیدا کرنا ایک دینی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ جھوٹ گھڑے بغیر گھڑنے والوں میں شامل ہوجانا خسارے کا سودا ہے۔
جھوٹ سے انسیت اور سنسنی پھیلانے کی اکساہٹ کے نتیجے میں کبھی یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو سننے سے زیادہ بیان کرنے کی چاہت ہوتی ہے۔ بیان کرنے کی اتنی جلدی ہوتی ہے کہ وہ سنی ہوئی بات کو سمجھنے اور وزن کرنے کے لیے بھی وقت نکالنے کا روادار نہیں ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا میں یہ کیفیت بہت زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ آدمی کسی دوسرے کی پوسٹ کو ٹھیک سے پڑھتا نہیں ہے، کسی دوسرے کی ویڈیو کو بغور دیکھتا نہیں ہے، یہ نہیں سوچتا کہ یہ درست ہے یا نادرست ہے؟ یہ بھی نہیں سوچتا کہ یہ مفید ہے یا ضرر رساں، بس اسے یہ دھن سوار ہوتی ہے کہ یہ سنسنی خیز ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے۔
قرآن مجید نے اس کے لیے زبردست تعبیر اختیار کی ہے۔ کم زور ایمان اور بیمار دل والوں کے رویے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
اِذْ تَلَقَّوْنَہٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَتَــقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاہِكُمْ مَّا لَيْسَ لَكُمْ بِہٖ عِلْمٌ وَّتَحْسَبُوْنَہٗ ہَيِّنًا۰ۤۖ وَّہُوَعِنْدَ اللہِ عَظِيْمٌ۱۵ (النور۲۴:۱۵)جب تم اس بات کو اپنی زبانوں کے ذریعے وصول کررہے تھے اور اپنے منہ سے وہ کہہ رہے تھے جس کا تمھیں کوئی علم نہ تھا۔ تم اسے معمولی بات سمجھ رہے تھے، جب کہ اللہ کے یہاں وہ بڑی بات ہے۔
آدمی کو اس کے آلۂ سماعت، یعنی کانوں کے ذریعے باتیں موصول ہوتی ہیں، لیکن اس آیت میں زبان کو ہی وصولیابی کا آلہ بتادیا گیا۔ گویا ایسے لوگوں کی کیفیت بتائی گئی کہ وہ چاہتے ہیں کہ جلدی سے دوسرے کی زبان سے نکلنے والی بات راست ہماری زبان پر آجائے۔بات کان کے راستے اندر دماغ تک پہنچے، وہاں اس کی کچھ جانچ پڑتال ہو اور اس کے بعد وہ زبان تک آئے، یہ راستہ انھیں بہت طویل معلوم ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی بلاغت یہ ہے کہ اس نے ان کی اس مضحکہ خیز کیفیت کو ایک لفظ سے پوری طرح بیان کردیا۔
جھوٹ کا قلع قمع کرنے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ الزام اور ثبوت کے درمیان فرق واضح رہے۔جھوٹا الزام لگانے والے اپنے الزام ہی کو ثبوت بناکر پیش کرتے ہیں۔ الزامات کی کثرت کو وہ ثبوتوں کی بہتات بتاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ثبوت نہ ہو تو الزامات کی کثرت و قلت سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
_______________
گذشتہ عرصے میں تحریک سے وابستہ چند دوستوں کی تحریروں میں اسلامی تحریکوں کے نصب العین، نظریاتی شناخت اور حکمتِ عملی میں تبدیلی کے حوالے سے ایک بحث سامنے آئی ہے۔ ان تحریروں کا بنیادی سوال قابلِ غور ہے: کیا کسی تحریک کی کامیابی کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت ِ عملی کہیں اس کے اصل مقصد اور شناخت کو متاثر تو نہیں کرنے لگتی؟ یہ ایسا سوال ہے جسے نظرانداز کرنے کے بجائے سنجیدہ بحث کا موضوع بنانا چاہیے۔
تاہم، اس بحث میں ایک بنیادی فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے: نصب العین پر استقامت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے حصول کے لیے اختیار کیے جانے والے تمام تصورات، ترجیحات اور طریقۂ کار بھی ہمیشہ ایک جیسے رہیں۔
گویا تحریک کو محض ایک قائم شدہ تنظیمی ڈھانچے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اسے اپنی اصل دعوت برقرار رکھتے ہوئے زمانے کے تقاضوں کو سمجھنا اور اپنے طریقۂ کار کو مؤثر بنانا ہوتا ہے۔ اس لیے وقت کے ساتھ ہم آہنگی بذاتِ خود نظریاتی انحراف نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ تبدیلی کس دائرے میں اور کن اصولوں کے تحت کی جا رہی ہے؟
اس لیے ایسے سوالات کا جواب محض یہ کہہ کر نہیں دیا جا سکتا کہ زمانہ بدل گیا ہے اور ہمیں بھی بدلنا ہوگا۔ یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ کیا تبدیل ہو رہا ہے، کیوں تبدیل ہو رہا ہے، اور اس تبدیلی کا بنیادی نصب العین سے کیا تعلق ہے؟ اختلاف اور تنقید کو دبانے کے بجائے دلیل، تحقیق اور مکالمے کے ذریعے ان خدشات کا ازالہ ہونا چاہیے۔ اس سے نہ صرف وابستگان کا اعتماد مضبوط ہوگا بلکہ اس امر کا امکان بھی کم ہوگا کہ جس نظریاتی انحراف کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، وہ عدم توجہی کے باعث حقیقت بن جائے۔
تحریک کے تحقیقی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ بنیادی تصورات کی وضاحت، مختلف آراء کا علمی جائزہ، نئی حکمت ِ عملیوں کے نتائج کا تجزیہ، اور قیادت و کارکنان کے درمیان فکری ابہام کا ازالہ کریں۔ درحقیقت یہی تحقیق اور فکری رہنمائی ان اداروں کے قیام کے اہم مقاصد میں شامل ہونی چاہیے۔
عقائد دین کے بنیادی اور ثابت شدہ حقائق سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھیں وقتی مصلحت، سیاسی کامیابی یا عوامی مقبولیت کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے برعکس، ان اصولوں کی روشنی میں معاشرے کو سمجھنے، مسائل کی ترجیح متعین کرنے، سیاسی و سماجی حالات کا تجزیہ کرنے اور عملی راستہ اختیار کرنے میں اجتہاد اور تنوع کی گنجائش موجود رہتی ہے۔
نظریاتی فیصلوں کو اگر عقائد ہی کے مترادف سمجھ لیا جائے تو فکری ارتقا اور اجتہاد کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔ مناسب صورت یہ ہے کہ نظریے کو بنیادی عقائد و اقدار کی روشنی میں انسانی، سماجی اور سیاسی حقائق کی تعبیر اور اجتماعی جدوجہد کی سمت متعین کرنے والا فکری زاویۂ نظر پیش نظر رکھا جائے۔ اس میں اصولی حدود برقرار رکھتے ہوئے تعبیر، ترجیحات اور عملی حکمت عملی پر نظرثانی ممکن ہے۔یہاں ایک احتیاط بھی ضروری ہے: ہر اختلاف کو محض حکمتِ عملی کا اختلاف قرار دے دینا درست نہیں، لیکن ہر فکری تبدیلی کو عقائد سے انحراف سمجھ لینا بھی درست نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں حق کی وضاحت کے ساتھ حکمت، صبر، کردار، لوگوں کے مسائل سے تعلق اور تدریجی تربیت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ یعنی لوگوں تک پہنچنے، ان کا اعتماد حاصل کرنے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے مؤثر اسلوب اختیار کرنا اصولوں سے دست برداری نہیں، بلکہ دعوت کی کامیابی کا اہم تقاضا ہے۔
البتہ عوامی مقبولیت بذاتِ خود کسی حکمتِ عملی کے درست ہونے کی حتمی دلیل نہیں۔ مقبولیت کو اصولی وفاداری، اخلاقی حدود اور حقیقی اجتماعی نتائج کے ساتھ پرکھنا چاہیے۔ اسی طرح اصولوں پر استقامت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ دعوت کے اسلوب اور معاشرے سے تعامل کے طریقوں کو غیر متغیر سمجھ لیا جائے۔ دراصل ایک اعتبار سے تحریک اسلامی کے لیے عوامی حمایت میں اضافہ اپنی کارکردگی کو ناپنے کا ایک پیمانہ ہو سکتا ہے۔
اسی تیز رفتار تبدیلی کے باعث بعض اوقات یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ شاید تحریک اپنے اصل راستے سے ہٹ رہی ہے، حالانکہ ممکن ہے کہ تبدیلی صرف دعوت کے انداز، سیاسی ترجیحات یا عوامی مسائل سے تعامل کے طریقے میں ہو۔ دوسری طرف یہ امکان بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ بعض عملی تبدیلیاں بتدریج بنیادی فکری تصورات پر اثر انداز ہونے لگیں۔ اس لیے نہ ہرتبدیلی کو انحراف سمجھنا چاہیے، اور نہ ہر تبدیلی کو محض عصری تقاضوں کا نام دے کر تنقید سے بالاتر قرار دینا چاہیے۔صحیح راستہ مسلسل علمی احتساب، تحقیق، مشاورت اور نتائج کے جائزے کا ہے۔ تعمیری تنقید تحریک کو کمزور نہیں کرتی، اگر وہ دلیل، اخلاص اور اصلاح کے جذبے کے ساتھ ہو تو اس کی فکری قوت میں اضافہ کرتی ہے۔
lقیادت پر اعتماد اور جواب دہی:جماعت ِ اسلامی کا ایک اہم امتیاز اس کا منظم مشاورتی اور انتخابی نظام ہے، جس کے ذریعے ذمہ داریاں ایسے افراد کو سونپنے کی کوشش کی جاتی ہے جو تحریک کے مقاصد، فکری روایت اور عملی تقاضوں سے واقف ہوں۔ اس نظام اور قیادت پر اعتماد رکھنا ضروری ہے۔ ہرتبدیلی کو بدگمانی کی نظر سے دیکھنا نہ تحریک کے حق میں ہے اور نہ اجتماعی فیصلوں کے لیے مفید۔
لیکن قیادت پر اعتماد کا مطلب سوالات سے دست برداری بھی نہیں۔ اعتماد، مشاورت، تنقید اور جواب دہی ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ مضبوط قیادت وہی ہوتی ہے جو اپنے فیصلوں کی فکری بنیاد واضح کر سکے، اختلاف کو سن سکے اور تحقیق کی روشنی میں اپنی حکمت ِ عملی پر نظرثانی کرنے کی صلاحیت رکھے۔ اسی طرح وابستگان کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ قیادت کے فیصلوں کو سمجھنے کی کوشش کریں، اپنے تحفظات کو دلیل کے ساتھ پیش کریں، اور محض تاثر یا اندیشے کی بنیاد پر حتمی فیصلے صادر نہ کریں۔
جماعت ِ اسلامی کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی بنیادی فکری روایت اور دستور کے تقاضوں کو واضح رکھتے ہوئے موجودہ معاشرے کی ضروریات، عوامی توقعات اور بدلتے ہوئے حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے۔ اس عمل میں پرانے وابستگان کے تجربے اور نئے لوگوں کے سوالات، دونوں کو اہمیت دی جانی چاہیے۔
بلاشبہ ہمیں صرف تنظیم کو برقرار رکھنے کی فکر ہی نہیں کرنی، بلکہ اس دعوت، مقصد اور نصب العین کو بھی زندہ رکھنا ہے جس کے لیے تنظیم قائم ہوئی تھی۔ لیکن اس مقصد کی خدمت کے لیے تنظیم کو ایک زندہ تحریک بنائے رکھنا، زمانے کو سمجھنا، حکمتِ عملی میں اجتہاد کرنا اور اپنے فیصلوں کا مسلسل جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
نصب العین پر استقامت اور حکمت عملی کی تدابیر میں لچک ایک دوسرے سے متصادم رویہ نہیں ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنی فکری شناخت برقرار رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سمجھیں، عوام الناس کے مسائل و مشکلات کا مؤثر فہم حاصل کریں، اور اپنی دعوت کو زیادہ قابلِ فہم، مؤثر اور نتیجہ خیز اسلوب اور طریق کار سے پیش کریں۔ یہی وہ توازن ہے جسے برقرار رکھنے کے لیے قیادت، کارکنان اور تحقیقی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
_______________
افراد کے مضبوط اور محبت پر مبنی باہمی تعلقات تحریکی زندگی کی جان ہوتے ہیں۔ اسلامی تحریک میں لوگ ایک دوسرے کو صرف ذمہ داریوں کے حوالے سے نہیں پہچانتے، بلکہ ان کے دلوں کے درمیان بھی احترام و محبت کا رشتہ قائم ہوتا ہے ۔ افراد کی کامیابیوں پر ساری اجتماعیت کو خوشی ہوتی ہے، اور اپنے کسی ساتھی کے کمزور پڑنے پر اسے سہارا دینے کا کلچر عام ہوتا ہے، اختلاف کے بعد بھی تعلق قائم رہتے ہیں۔ کسی بھی اجتماعیت کی داخلی صحت کا اندازہ ان جیسی کیفیات سے ہوتا ہے۔ تنظیم کا ڈھانچا افراد کو قریب لاسکتا ہے، مگر دلوں کو قریب لانے کے لیے کچھ اور تقاضے ہیں۔ اس کے لیے اخلاص، محبت اور ایک دوسرے کے لیے دلوں میں جگہ بنانے کا حوصلہ چاہیے۔ تحریکیں صرف نظم یا منشور سے نہیں چلتیں۔ منشور تو صرف راستہ دکھاتا ہےاور نظم اس راستہ پر چلنے کا سلیقہ سکھاتا ہے،مگر اس راستے پر انسان انسان کا ہاتھ پکڑ کر چلتا ہے۔ یہی انسانی نسبت کسی اجتماعی کوشش کو محض ایک تنظیم سے اٹھا کر ایک زندہ تحریک بناتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ تحریکی زندگی میں ہم ایک مقصد کے لیے جمع ہوتے ہیں، مگر ہماری طبیعتیں اور مزاج ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کسی کا مزاج تیز ہوتا ہے، کوئی بہت حساس ہوتا ہے۔ کوئی بات کو فوراً سمجھ لیتا ہے اور کوئی غور و فکر کے بعد اپنی رائے بناتا ہے۔ کوئی مجلس میں بہت بولتا ہے اور کوئی برسوں خاموش رہ کر کام کرتا رہتا ہے۔ کسی کو ذمہ داری سونپ دی جائے تو وہ پوری آزادی کے ساتھ کام کرتا ہے اور کسی کو مسلسل رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ یہ رویے اور فرق فطری ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ہم مزاج کے اختلاف کو نیت کا اختلاف سمجھنے لگتے ہیں۔ ایک خاموش آدمی ہمیں بے تعلق دکھائی دیتا ہے، تو دوسری طرف سوال کرنے والا فرد محض معترض محسوس ہوتا ہے، اور سخت لہجے والا شخص بدخواہ قرار پاتا ہے۔ یوں بعض اوقات مسئلہ انسان میں نہیں، ہماری نگاہ میں ہوتا ہے۔ اجتماعی زندگی کی پختگی اسی میں ہے کہ ہم لوگوں کو صرف ان کے ظاہر سے نہ پرکھیں۔ ان کے مزاج، حالات اور سابقہ تجربات کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایسی کوشش آگے چل کر باہمی اعتماد کی بنیاد بنتی ہے۔
محبت کسی جذباتی وابستگی کا نام نہیں۔ اس میں خیرخواہی بھی ہے، برداشت بھی، درگزر بھی اور ضرورت پڑنے پر اپنی سہولت قربان کرنے کا حوصلہ بھی۔ قرآن نے اہل ایمان کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ (الحجرات ۴۹:۱۰) ۔ اس آیت میں پورا اجتماعی مزاج پوشیدہ ہے۔ بھائی چارہ صرف ایک خوب صورت لفظ نہیں۔ یہ آدمی سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ دوسرے کی عزّت، دکھ، ضرورت اور کمزوری کو بھی اپنے دائرۂ احساس میں جگہ دے۔
اقبال نے اس حقیقت کو دو مصرعوں میں بڑی وسعت کے ساتھ سمیٹ دیا ہے ؎
یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اُخوّت کی جہاں گیری، محبّت کی فراوانی
تحریکی زندگی میں اس تصور کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہاں لوگ طویل عرصے تک ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔ ایک ہی سفر میں خوشی بھی آتی ہے، تھکن بھی، کامیابی بھی ملتی ہے، ناکامی بھی، اختلاف بھی ہوتا ہے اور کبھی غلط فہمی بھی دَر آتی ہے۔ اگر ان سب کے درمیان محبت باقی نہ رہے تو اجتماعیت آہستہ آہستہ بے روح لگتی ہے۔ پھر ہم ایک دوسرے کے ساتھ کام تو کرتے ہیں، مگر ایک دوسرے سے جڑتے نہیں۔ اخوت ایک نظری تصور سے بڑھ کر تحریکی ضرورت بن جائے، یہ اصل کامیابی ہے۔
مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان جو مواخات قائم فرمائی، وہ اس اخوت کی ایک بے مثال عملی تصویر ہے۔ حضرت سعد بن ربیعؓ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو اپنے مال میں شرکت کی پیش کش کی۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے اس محبت کو قبول کرتے ہوئے اپنے لیے بازار کا راستہ مانگا اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کو ترجیح دی۔ اس واقعے میں تعلق کی ایک نہایت خوب صورت تہذیب دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف دینے والا ہے جس کے دل میں بخل نہیں، دوسری طرف لینے والا ہے جو محبت کی قدر کرتے ہوئے اپنی خود داری کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ دونوں کے درمیان نہ احسان کا بوجھ ہے نہ برتری کا کوئی احساس۔ تحریکی زندگی میں تعلق اسی وقت خوب صورت رہتا ہے جب مدد میں محبت ہو اور اُس طرزِ محبت میں دوسرے کی عزت محفوظ رہے۔ کسی کے کام آنا بڑی قابلِ قدر بات ہے۔ مگر اس طرح دوسرے کے کام آنا کہ سامنے والا خود کو محتاج اور کم تر محسوس نہ کرے، اس سے بھی کہیں بڑی بات ہے۔ شاید یہی وہ باریک فرق ہے جو محض تعاون کو ’اخوت‘ میں تبدیل کرتا ہے۔
محبت کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے ہم کبھی کبھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں اپنے ساتھی کی ہر بات اچھی لگے۔ کبھی سچی محبت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ہم اسے روکیں، سمجھائیں اور گہری ہمدردی اور دردِ دل سے اس کی کسی کمزوری کی طرف توجہ دلائیں۔ جو تعلق صرف خوش کرنے کے لیے ہو، وہ بہت جلد مصلحت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ لیکن ہر ناصح، دوست اور ساتھی کو معلوم ہونا چاہیے کہ دوسری طرف ہر وقت کی تنقید بھی خیرخواہی نہیں کہلا سکتی۔ اصل خوبی اس ’توازن‘ میں ہے جہاں آدمی اپنے ساتھی کے لیے نرم دل بھی ہو، ہمدرد بھی ہو اور خوش اسلوبی سے حق بات کہنے کا فن بھی جانتا ہو اور حوصلہ بھی رکھتا ہو۔ جس شخص کو یہ یقین ہو کہ سامنے والا اسے گرانا نہیں، سنوارنا چاہتا ہے، وہ سخت بات بھی سن لیتا ہے۔ تحریکی زندگی میں یہ تعلق افراد کو ایک دوسرے کا محض ہم سفر نہیں رہنے دیتا، بلکہ وہ ایک دوسرے کی تعمیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
اختلافِ رائے کسی بھی زندہ اجتماعیت میں ناگزیر ہے۔ جہاں انسان ہیں وہاں زاویۂ نظر بھی مختلف ہوں گے۔ اصل امتحان تو اس وقت ہوتا ہے جب ہماری رائے رد کردی جائے۔ کیا ہم اس وقت بھی دوسرے کی نیت کے بارے میں حسنِ ظن رکھ سکتے ہیں؟ کیا ہم یہ مان سکتے ہیں کہ سامنے والا مجھ سے مختلف سوچتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ وہ میرے خلاف سوچتا ہو؟
تحریکی زندگی میں اس فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اختلاف اگر دلیل کے دائرے میں رہے تو اجتماعیت کو پختہ کرتا ہے، مگر جب وہ شخصیت کا مسئلہ بن جائے تو دلوں میں گرہیں پڑنے لگتی ہیں۔ کبھی ایک جملہ برسوں کے تعلقات و مراسم کے اندر دراڑیں پیدا کردیتا ہے۔ کبھی ایک معذرت، ایک وضاحت یا ایک خاموش مصافحہ وہ گرہ کھول دیتا ہے۔ اس لیے اختلاف کے باوجود احترام باقی رہنا چاہیے۔ ہمیں اپنے ساتھی کی رائے سے اختلاف کا حق تو ہے، مگر اس کی نیت پر حکم لگانے کا نہیں۔ یہ فرق چھوٹا معلوم ہوتا ہے، مگر اجتماعی زندگی کے لیے بہت بڑا فرق ہے۔
اسی طرح احتساب اور خیرخواہی کو بھی الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی ساتھی کی غلطی نظرآئے اور ہم صرف تعلق خراب ہونے کے خوف سے خاموش رہیں، تو شاید ہم اسے وقتی سکون دے رہے ہوں، مگر ایسے طرزِعمل سے اس کی حقیقی مدد نہیں کررہے ہوتے۔ لیکن اگر اصلاح کے نام پر اس کی عزّت مجروح کردی جائے تو مقصد بھی فوت ہوگیا اور تعلق بھی۔ خیرخواہی کا حسن یہی ہے کہ بات سچی ہو مگر لہجے میں سامنے والے کی عزت محفوظ رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا ایک نمایاں پہلو یہی تھا کہ اصلاح شخصیت کو توڑنے کے لیے نہیں، سنوارنے کے لیے ہوتی تھی۔ ہمارے تحریکی تعلقات میں بھی اگر یہ مزاج پیدا ہوجائے تو تنقید و احتساب دشمنی کی بنیاد نہیں بنتے بلکہ آئینہ بن جاتے ہیں۔ انسان اپنے عیوب دیکھنے کے لیے ایسے ساتھیوں کا محتاج ہوتا ہے جو اس سے محبت بھی کرتے ہوں اور اس کے سامنے سچ بھی بول سکتے ہوں۔
تحریکی زندگی میں اس فہم کی ضرورت اس لیے بہت زیادہ ہے کہ یہاں ایک ہی مقصد کے لیے مختلف طبقوں، عمروں اور تجربات کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ ایک بزرگ کارکن کا تجربہ ایک نوجوان کے جوش سے مختلف ہوگا، اور نوجوان کی بے قراری ایک تجربہ کار شخص کی احتیاط سے مختلف پہچان رکھے گی۔ دونوں میں سے کسی ایک کو معیار بنا کر موازنہ کرنا انصاف نہیں۔ اسی طرح کسی نئے رفیق سے یہ توقع کرنا کہ وہ چند ہی دنوں میں برسوں کے کارکن جیسی بصیرت پیدا کرلے، اپنی جگہ ایک غیرفطری مطالبہ ہے۔ تربیت وقت لیتی ہے۔ تعلق وقت مانگتا ہے۔ اعتماد بھی آہستہ آہستہ بنتا ہے۔ اس لیے جو شخص آج کم بول رہا ہے، ممکن ہے کل کسی بڑی ذمہ داری کا بہترین امین ثابت ہو۔ جو شخص آج بار بار سوال کررہا ہے، ممکن ہے کل وہی دوسروں کے سوالوں کا جواب دینے والا بن جائے۔ شرط یہ ہے کہ ہم اسے موقع دیں، اس کی بات سنیں اور اس کی شخصیت کو جلدی سے کسی خانے میں بند نہ کردیں۔
مزاج شناسی کا تعلق صرف صلاحیتوں سے نہیں، حالات سے بھی ہے۔ ہر کارکن ہروقت ایک جیسی توانائی کے ساتھ کام نہیں کرسکتا۔ کبھی گھر کے حالات آدمی کو تھکا دیتے ہیں، کبھی معاشی پریشانی، اور کبھی صحت یا ذاتی مسائل اس کی رفتار کم کردیتے ہیں۔ بسا اوقات جو شخص ہمیں پہلے جیسا متحرک دکھائی نہیں دیتا، وہ کسی ایسی آزمائش سے گزر رہا ہوتا ہے، جو ہمارے علم میں نہیں ہوتی۔ ایسے موقعے پر فوری فیصلہ سنادینا آسان ہے: ’اب پہلے جیسا نہیں رہا‘،’ دلچسپی کم ہوگئی ہے‘، ’کام سے جی چرانے لگا ہے‘۔ مگر شاید اصل ضرورت ایک سوال کی ہو: ’خیریت تو ہے؟‘ تحریکی زندگی میں بعض اوقات ایک ذمہ داری کم کردینا کسی شخص کو جماعت سے دُور نہیں کرتا، بلکہ اسے دوبارہ سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔ ہر وقت کام لینا ہی تعلق نہیں، کبھی کسی کو سہارا دینا بھی تعلق ہی کی ایک صورت ہے۔ یہیں مزاج شناسی ایک تنظیمی خوبی سے بڑھ کر انسانی اخلاق بن جاتی ہے۔
تاہم، کسی کے مزاج کو سمجھنے کا مطلب اصولوں کو اس کے تابع کردینا نہیں۔ یہ بھی ایک انتہا ہے۔ اگر ہر شخص اپنی طبیعت کے مطابق اصول چاہنے اور مانگنے لگے تو اجتماعیت کا کوئی مشترک معیار باقی نہیں رہے گا۔ مطلوب توازن ہے۔ انسان کو سمجھا جائے، مگر حق اور اصول معیار رہیں۔ اس کی حساسیت کا لحاظ کیا جائے، مگر اصلاح کا دروازہ بند نہ کیا جائے۔ اس کے حالات کو دیکھا جائے، مگر ذمہ داری کا شعور باقی رکھا جائے۔
یہی ’توازن‘ کسی جماعت اور اجتماعیت کو شخصیات کے مجموعے سے آگے بڑھ کر ایک منظم اجتماعیت اور قوت بناتا ہے۔ تعلق دل کو جوڑتا ہے، نظم سمت دیتا ہے اور اصول حدود متعین کرتے ہیں۔ مزاج شناسی کا اصل کمال یہی ہے کہ ہم انسان کو، انسان سمجھتے ہوئے مقصد کو نہ بھولیں اور مقصد کی طرف بڑھتے ہوئے انسان کو نہ کھو دیں۔
حضرت سلمان فارسیؓ اور حضرت ابودرداءؓ کا واقعہ تعلق کی ایک دوسری جہت سامنے لاتا ہے۔ دونوں کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’مواخات‘ قائم فرمائی تھی۔ ایک موقع پر حضرت سلمانؓ نے حضرت ابودرداءؓ کے معمولات میں ایک ایسا عدم توازن محسوس کیا جس میں عبادت کے ساتھ جسم اور اہلِ خانہ کے حقوق متاثر ہورہے تھے۔ انھوں نے انھیں یاد دلایا کہ تمھارے ربّ کا بھی تم پر حق ہے، تمھاری جان کا بھی اور تمھارے اہل و عیال کا بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمانؓ کی بات کی تائید فرمائی۔
یہاں ایک گہری بات سمجھ میں آتی ہے: قریب کا تعلق صرف دل بہلانے کے لیے نہیں ہوتا، کبھی وہ ہمیں حد سے تجاوز کرنے سے بھی روکتا ہے۔ جو ساتھی ہماری ہر بات پر آمین کہتا رہے، اور تائید میں سر ہلاتا رہے، ضروری نہیں کہ وہ واقعی ہمارا بہترین ساتھی ہو۔ کبھی بہترین ساتھی وہ ہوتا ہے جو محبت کے ساتھ ہمیں بتا دے کہ ہم کس سمت میں ضرورت سے زیادہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کی اصلاح میں اپنی دانش کی برتری نہیں، ہماری خیر مقصود ہو۔
تحریکی زندگی میں ایثار کا مفہوم بھی اسی جگہ سمجھ میں آتا ہے۔ ہر شخص کو ہر وقت سامنے آنے کا موقع نہیں ملتا۔ کسی کی محنت کا ذکر ہوتا ہے، کسی کی محنت خاموشی میں گم ہوجاتی ہے۔ کسی کو اہم ذمہ داری ملتی ہے، اور کوئی طویل عرصے تک پس منظر میں رہ کر کام کرتا ہے۔ یہاں انسان کے اندر ’میں‘ کبھی کبھی بے چین ہوتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ میری محنت کا اعتراف کیوں نہیں ہوا، میرے حصے میں یہی ذمہ داری کیوں آئی، دوسرے کو مجھ سے آگے کیوں رکھا گیا؟ یہ انسانی احساس ہے، اسے نظرانداز کرکے نہیں چلا جاسکتا۔
اجتماعیت اسی وقت مستحکم ہوتی ہے جب آدمی اس سوال کے بجائے کہ ’مجھے کیا ملا؟‘ یہ پوچھنا شروع کرتا ہے کہ ’مقصد کتنا حاصل ہوا؟‘___ یہی تبدیلی فرد کو کارکن سے رفیق بناتی ہے۔ پھر دوسرے کی کامیابی اپنی شکست محسوس نہیں ہوتی۔ کسی ساتھی کا آگے بڑھنا جماعت کی پیش رفت دکھائی دیتا ہے۔ اس کا حتمی نتیجہ حسد کی جگہ خوشی اور رقابت کی جگہ تعاون پیدا کرتا ہے۔
تعلقات کو زندہ رکھنے کے لیے بڑے بڑے مواقع سے زیادہ چھوٹی چھوٹی توجہات کام آتی ہیں۔ کسی کی غیر حاضری کو محسوس کرنا، خیریت دریافت کرنا، مشکل وقت میں اس کے گھر پہنچ جانا، کامیابی پر دل سے مبارک دینا، کسی غلط فہمی کو بڑھنے سے پہلے صاف کرلینا ___ یہ سب بظاہر معمولی کام ہیں، مگر انھی سے تعلق کی زمین زرخیز رہتی ہے۔ ہمارے اجتماعی ماحول میں کبھی کبھی ہم کام کے اتنے عادی ہوجاتے ہیں کہ اس مصروفیت میں انسان پیچھے رہ جاتا ہے۔ اجلاس ہوا، فیصلہ ہوا، ذمہ داری تقسیم ہوئی اور سب اپنے اپنے راستے پر چل پڑے۔ مگر اس دوران کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ جس شخص کو ذمہ داری دی گئی ہے، وہ اس وقت کن حالات سے گزر رہا ہے؟ اس رویے سے تنظیم اور انسان کے درمیان فاصلہ پیدا ہوتا ہے۔ اچھی اجتماعیت کام بھی دیکھتی ہے اور کام کرنے والے انسان کو بھی۔ وہ نتیجہ بھی چاہتی ہے اور انسان کو سنبھالنا بھی جانتی ہے۔
’اصول‘ اور ’تعلق‘ دونوں اجتماعیت کے لیے لازم ہیں۔ صرف شخصی مراسم ہوں اور اصول کمزور ہوجائیں تو جماعت شخصی وابستگیوں کا مجموعہ بن سکتی ہے، اور صرف اصول ہوں، مگر دلوں میں الفت نہ ہو تو اجتماعیت ایک خشک انتظامی ڈھانچے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
اصول سمت دیتے ہیں، نظم راستہ محفوظ رکھتا ہے، قیادت فیصلے کرتی ہے اور انسانی تعلق پورے سفر میں حرارت پیدا کرتا ہے۔ اس لیے کسی تحریک کی صحت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ صرف اس کی سرگرمیوں، اجتماعات یا پروگراموں کی گرما گرمی سے نہیں لگایا جاسکتا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان سرگرمیوں کے دوران دلوں میں کیا پیدا ہوا: اعتماد بڑھا یا بدگمانی؟ خیرخواہی بڑھی یا گروہ بندی؟ اختلاف کے باوجود احترام باقی رہا؟ کیا ایک دوسرے کے لیے آسانی پیدا ہوئی؟ اور کیا کمزور پڑتے ہوئے ساتھی کو سنبھالنے والے ہاتھ موجود رہے؟ یہ سوالات کسی تحریک کے ظاہری نظم سے آگے بڑھ کر اس کے باطن کی کیفیت کو آشکار کرتے ہیں۔
یہ بات بہت سادہ ہے۔ ہم ایک اعلیٰ مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں، مگر اس اعلیٰ مقصد کی راہ میں چلنے والے بہرحال انسان ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت رہے گی۔ کبھی کسی کے تجربے کی، کبھی کسی کے مشورے کی، کبھی کسی کے حوصلے کی اور کبھی صرف اس احساس کی کہ کوئی ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔ اسی لیے تحریکی تعلقات کو محض تنظیمی ضرورت سمجھنا ان کی اصل روح کو محدود کردینا ہے۔ یہ تعلق انسان کو سنبھالتا بھی ہے اور بناتا بھی ہے۔ محبت اس کے دل کو حوصلہ دیتی ہے، اخلاص اسے پاکیزگی دیتا ہے، اعتماد اسے ٹھیراؤ دیتا ہے، اور خیرخواہی اسے درست سمت میں گامزن رکھتی ہے۔ مزاج شناسی ان سب کو انسان کے حالات سے جوڑتی ہے۔
مضبوط جماعت وہ نہیں جہاں اختلاف نہ ہو۔ مضبوط جماعت وہ ہے جہاں اختلاف کے باوجود اخوت باقی رہتی ہے۔ مثالی اور بہترین جماعت وہ ہے جہاں تنقید ہوتی ہے مگر تحقیر نہیں، احتساب ہوتا ہے مگر انتقام نہیں، نظم ہوتا ہے مگر جبر نہیں، اور محبت ہوتی ہے مگر شخصیت پرستی نہیں۔ ایسی اجتماعیت میں آدمی صرف کام نہیں کرتا، وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو بہتر بناتا ہے۔ پھر جماعت ایک ایسی جگہ بن جاتی ہے، جہاں آدمی کے دل میں یہ یقین زندہ رہتا ہے کہ میری کمزوری مجھے تنہا نہیں کردے گی، میری غلطی میری شناخت نہیں بنے گی، اور میری کامیابی صرف میری نہیں سمجھی جائے گی بلکہ میرے ساتھیوں کی کامیابی جانی اور مانی جائے گی۔
تحریکی رفاقت کی سب سے خوب صورت تعبیر یہی ہے کہ ہم مقصد کی راہ میں ایک دوسرے کو نہ کھوئیں۔ جو اجتماعیت، انسان کو مقصد سے جوڑتے ہوئے انسان سے بھی جوڑے، وہی دیرپا ہوتی ہے۔ تنظیمیں بن سکتی ہیں اور پروگرام چلائے جاسکتے ہیں، مگر دلوں کا قافلہ صرف محبت، اعتماد، اخلاص اور خیرخواہی سے بنتا ہے۔ جب دلوں کا یہ قافلہ بن جائے تو راستے کی سختی اپنی جگہ، مگر مسافر تنہا نہیں رہتا اور تحریک و اجتماعیت خیر وبرکت سمیٹتی اور پھیلاتی چلی جاتی ہے۔
_______________
معاصر اسلامی تحریکوں اور اصلاحی کاموں کی جدوجہد پر غور کرنے سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ دشمنوں کی سختی سے اتنی بڑی آزمائش نہیں آتی جتنی اندرونی مایوسی، بے وفائی اور صفوں کے اندر نفسیاتی بیماریوں کے سرایت کر جانے سے آتی ہے۔ جب لوگ، دشمن کے لشکروں سے زیادہ ’آپس کے اختلافات اور اندرونی مسائل‘ میں اُلجھ جاتے ہیں تو معاملات خراب ہوجاتے ہیں، لیکن حقیقی تباہی تو تب شروع ہوتی ہے جب دل اخلاص اور للہیت سے خالی ہو جاتے ہیں، اور مقاصد کی سربلندی کے بجائے ذاتی مفاد پرستی غالب آجاتی ہے۔ کوئی بھی قوم اچانک نہیں گرتی اور نہ کوئی دعوتی جد و جہد یکایک ختم ہوتی ہے، بلکہ اس سے پہلے ہمیشہ ایک پوشیدہ دراڑ اور اندرونی کھوکھلا پن پیدا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب روحیں اپنے حقیقی معانی سے خالی ہو جاتی ہیں، تو جسموں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا کہ وہ بھی فانی قافلے کے پیچھے چل پڑیں۔
قرآن مجید کے مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن دشمنوں کے بارے میں اتنی زیادہ گفتگو نہیں کرتا جتنی ان لوگوں کے بارے میں کرتا ہے جو اندر سے دشمنوں کے لیے دروازے کھولتے ہیں۔ اسی لیے قرآن کافر کی صفت بیان کرنے سے پہلے منافق کو بے نقاب کرتا ہے، اور دشمن کے مقابلے سے پہلے آپس کے جھگڑوں سے ڈراتا ہے۔ وہ اندرونی بگاڑ کو بیرونی تسلط کے لیے ایک قدرتی پیش خیمہ قرار دیتا ہے۔ گویا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ قومیں اکثر اپنے دشمنوں کی طاقت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے مشن کی کمزوری اور وفاداری میں کمی کی وجہ سے مغلوب ہوتی ہیں۔
اسی لیے، ابلیس پہلا وجود نہیں تھا کہ اس نے ہتھیار اٹھائے تھے، بلکہ ابلیس وہ پہلا وجود تھا، جس نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کی۔ زمین پر کسی قوم کا دوسری قوم پر پہلا جرم اور ظلم دشمنی کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ ایک بھائی کا دوسرے بھائی سے حسد تھا، جو کہ ایک مستقل کائناتی قانون ہے۔ چنانچہ جب مشن (پیغام) پر ذاتی مفاد غالب آ جاتا ہے، تو زوال کی الٹی گنتی کا آغاز ہو جاتا ہے۔
تحریکوں میں مفاد پرستوں کا ایک ایسا طبقہ بھی اُبھرتا ہے، جس کا مقصد اصلاحی تحریکوں میں صرف اپنا مادی مفاد ہوتا ہے۔ ایسے افراد تحریک کو تباہ کرنے کی اپنی خواہش کا اعلان نہیں کرتے، بلکہ بلند بانگ دعوئوں کے ساتھ اس میں داخل ہوتے ہیں اور اس پر مرمٹنے کے جھوٹے دعوے کرتے ہیں، جب کہ حقیقت میں ان کے دلوں میں کوئی الٰہی پیغام نہیں ہوتا جس کے لیے قربانی دی جائے، بلکہ وہ اسے محض ایک دنیاوی غنیمت سمجھتے ہیں۔
چنانچہ جب تک دعوت ان کے ذاتی مفادات کے موافق رہتی ہے، وہ سب سے پہلے داد دینے والے ہوتے ہیں، لیکن جیسے ہی ان کے مفادات اور دعوت میں ٹکراؤ ہوتا ہے، تو وہ سب سے پہلے حوصلہ شکنی کرنے والے بن جاتے ہیں۔ وہ علانیہ طور پر اپنے اصولوں کو تبدیل نہیں کرتے، مگر دلوں کے اندر ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ وہ اپنے نفس کو پہلی ترجیح اور مشن کو دوسری ترجیح بنا لیتے ہیں۔ اور پھر جب بھی ان کا مفاد مشن سے ٹکراتا ہے، وہ تو مشن کی قربانی دے دیتے ہیں۔
بلاشبہ یہ ذاتی اور شخصی مفادات کے اسیر لوگ دل کے اندھے پن اور بصیرت سے محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ اپنی تحریک کو ایک ایسا وجود نہیں سمجھتے جس کے ذریعے اللہ کی رضا مقصود ہو، بلکہ وہ اسے اپنی ذات کو فائدہ دینے والا کاروبار یا اپنی ذات کو بڑا دکھانے والا ایک اسٹیج سمجھتے ہیں۔ اور جب بھی عوامی مفاد ان کے ذاتی مفاد سے ٹکراتا ہے، ان کے ایمان میں بھونچال آجاتا ہے۔ جس سے وفاداریاں دشمنیوں میں بدل جاتی ہیں، اور تعریف ملامت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اخلاص ایک گہرا کنواں ہے جس کی تہہ تک صرف وہی پہنچ سکتا ہے جس نے دنیاوی لالچ کی رسیاں کاٹ پھینکی ہوں۔
دینی تحریکوں کو لاحق ہونے والا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ وسائل و ذرائع بذاتِ خود مقاصد بن جائیں، اور ضابطے محض ایک ذریعہ ہونے کے باوجود اصلی ہدف بن جائیں۔ اور انسان اپنے مشن کا دفاع کرنے سے زیادہ محض ادارے کے وجود کا دفاع کرنے لگے، تو کتنے ہی ایسے مشن ہیں جو ادارے کے تحفظ کے نام پر ضائع ہو گئے! اور کتنے ہی مخلص مصلحین نظم و ضبط کے نام پر دُور ہوگئے اور پھر مسلسل خاموشی سے دراڑ بڑھتی چلی گئی۔
قرآنی بیان میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب وہ منافقین کے بارے میں بات کرتا ہے تو وہ صرف ان کے جسمانی ضعف کے بیان تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ان کے دلوں کی بیماریوں میں گہرائی تک جاتا ہے۔ کیونکہ دل جب خواہشات کی وجہ سے بگڑ جائے، تو وہ ہرلباس پہن سکتا ہے، اور ہر اصلاحی نعرے کو زبان پر لا سکتا ہے، جب کہ وہ اپنے اندر تباہی کا تیشہ چھپائے ہوتا ہے۔
قرآنِ کریم نے اس گروہ کے خطرے سے سخت ترین الفاظ میں خبردار کیا ہے، جو محض اصلاح کے نام پر پلتا ہے۔ چنانچہ سورۃ التوبہ اور سورۃ المنافقون میں قرآنِ کریم نے عہدِ نبوت میں ’مفاد پرستوں‘ کی زندہ تصویر کشی کی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں، جنھیں اس (مال) میں سے کچھ دے دیا جائے تو راضی ہو جاتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے تو فوراً ناراض ہو جاتے ہیں۔
غزوۂ اُحد کے واقعے میں، ہمیں دنیاوی خواہشات کے خطرے کے بارے میں ایک بلیغ سبق ملتا ہے، کیونکہ جب مالِ غنیمت کو اکٹھا کرنے کا خیال بعض تیر اندازوں کے دلوں پر غالب آگیا، تو دائرہ ٹوٹ گیا، اور فتح ایک بڑی آزمائش میں بدل گئی۔ پھر قرآن ایک دائمی تربیتی درس کے انداز میں پکار اٹھا:مِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الْآخِرَةَ ج(اٰل عمرٰن۳: ۱۵۲) ’’تم میں سے کچھ وہ تھے جو دنیا چاہتے تھے اور کچھ وہ تھے جو آخرت کے طالب تھے‘‘۔ یہی معرکہ خواہشات سے بالاتر ہونے کی نیت اور فوری فائدے کی خواہش کے درمیان ایک کش مکش بھی ہے۔
کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو حق کو پہچانتے ہیں، لیکن اس کی قیمت برداشت نہیں کر سکتے! اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو مشن سے اس وقت تک محبت کرتے ہیں، جب تک کہ ان کے مقام و مرتبے کو آنچ نہ آئے۔ جیسے ہی ان کے نفسانی مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہے، وہ پیچھے ہٹنے اور فرار ہونے کے ہزار بہانے تلاش کرنے لگتے ہیں! انسانی تاریخ نفوس کی فطرت کو بے نقاب کرتی ہے۔ کوئی بھی تہذیب اس لیے نہیں گری کہ دشمن اس سے زیادہ طاقت ور تھا، بلکہ اس لیے گری کیونکہ اندرونی قوت باہر کے مضبوط ہونے سے پہلے ہی کمزور ہو چکی تھی۔
یہیں سے، قرآنِ کریم کی اس گہری حکمت کا اندازہ ہوتا ہے جو’صفوں کی درستی‘ سے پہلے ’دلوں کی اصلاح‘ پر، اور’افرادی قوت بڑھانے‘ سے پہلے ’نفوس کے تزکیے‘ پر زور دیتی ہے۔ کیونکہ وحی کے ترازو میں فتح کا دارومدار تعداد کی کثرت پر نہیں ہے، بلکہ یہ حلف اور عہد کی سچائی کا ثمر ہے۔ چنانچہ جب دل درست ہو جائیں تو اعضاء و جوارح بھی سیدھے ہو جاتے ہیں، اور جب مقاصد نیک ہوں تو اللہ ذرائع میں برکت عطا فرماتا ہے، اور جب لوگ دنیا پر جھگڑنے لگیں تو ان کے دلوں سے حق کا رعب چھین لیا جاتا ہے۔
اصلاحی تحریکوں کو لاحق ہونے والا سب سے بڑا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قربانی اور ایثار کے میدانوں کو نظرانداز کرکے مناصب اور باہمی غلبہ آرائی کے کھلاڑیوں میں تبدیل ہوجائیں، جس سے یہ سوچ پیدا ہو جاتی ہے کہ:’ کون آگے بڑھے گا؟‘ بجائے اس کے کہ: ’دین اور نظریہ (تحریک) کیسے کامیاب ہو؟‘ اور یہ کہ: ’حق کیسے قائم ہوگا؟‘ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اُمت کی جنگ باطل کا مقابلہ کرنے کے بجائے اہل حق کے درمیان اندرونی تصادم میں بدل جاتی ہے، جس کے نتیجے میں باطل بغیر کوئی معرکہ لڑے ہی جیت جاتا ہے۔
تاریخ کے قوانین نے ہمیں سکھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ محض ظاہری وابستگی کی وجہ سے کسی کی مدد نہیں کرتا۔ چنانچہ کسی تحریک سے محض منسوب ہونا اس کو وہاں سے ہٹائے جانے سے کوئی تحفظ نہیں دیتا۔ جس طرح اللہ نے دوسرے لوگوں کو اس وقت تبدیل کر دیا جب انھوں نے امانت کا حق ادا نہیں کیا، تو وہ ہر زمانے اور ہرجگہ اس بات پر قادر ہے کہ کچھ لوگوں کو بلند کرے اور کچھ کو پستی سے دوچار کردے ۔کیونکہ تحریکیں اور مشن شخصیات کے ناموں پر نہیں چلتے اور نہ اُن کا تحرک اُن شخصیات کے وجود پر منحصر ہوتا ہے ، بلکہ شخصیات تحریکوں کی خدمت کرکےنام پاتی ہیں۔ لہٰذا، جب انھوں نے امانت میں خیانت کی تو وہ چلے گئے اور مشن ہمیشہ کے لیے باقی رہا۔
شاید آج ہماری امت کو سب سے زیادہ ضرورت بہت زیادہ منصوبوں کی نہیں، بلکہ ایسے بہت سے مخلصین کی ہے کہ جب حق کا ذکر کیا جائے تو وہ خود کو بھول جائیں، اور جب مشن، پیغام اور کام سامنے ہو تو ان کے نام غائب ہو جائیں، اور جب عہدے نظر آئیں تو وہ انھیں امانتیں سمجھیں نہ کہ مالِ غنیمت، اور اگر ان کا اختلاف ہو جائے تو وہ اپنی رائے کی جیت پر مقصد کی یکجہتی کو ترجیح دیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے ذریعے اللہ دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور ان کے ذریعے دراڑیں بھرتا ہے۔
پھر یہ کہ اصلاحی تحریکیں ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہوتی ہیں۔ ان کا تنا اس وقت تک سیدھا کھڑا نہیں ہوتا اور نہ ان کی جڑیں زمین میں مضبوط ہوتی ہیں، جب تک کہ ان کی بنیادوں کو خود غرضی اور لالچ کی بیماریوں سے پاک نہ کر دیا جائے، اور جب تک راہِ حق کے مسافر اخلاص کی دوا کا گھونٹ نہ پی لیں، اور باطن ذاتی مفادات کی گندگی سے پاک نہ ہوجائیں، دل جڑ نہ جائیں، اور نظریات ایک نہ ہو جائیں۔ تب ہی اس اللہ کی مدد نازل ہوتی ہے جو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ چنانچہ جب باطن پاک ہو جاتا ہے، تو فتنوں کے پردے اُٹھ جاتے ہیں، اور اُمت کو اس کا کھویا ہوا وقار اور مطلوبہ اتحاد واپس مل جاتا ہے۔[ترجمہ: ڈاکٹر ارشاد الرحمٰن]
_______________
موجودہ دور میں ’اسلامی معاشیات‘ اور ’اسلامی مالیات‘ کی اصطلاحات کا استعمال بہت عام ہو چکا ہے۔ تاہم، ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اصطلاحات کے ساتھ لفظ ’اسلامی‘ کیوں لگایا جاتا ہے؟ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کسی بھی فکر، عمل یا ادارے کو اس وقت تک اسلامی نہیں کہا جا سکتا، جب تک کہ اس کی بنیادی جڑیں قرآنِ مجید اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت سے ماخوذ نہ ہوں۔ اس نسبت کا مقصد کوئی نیا انسانی نظریہ یا الگ سائنسی فلسفہ قائم کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی نشاندہی کرنا ہے، جس کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے اور جو اللہ ربّ العزت کے مقرر کردہ اخلاقی و قانونی احکامات کے تابع ہے۔ اس لیے معاشی سرگرمیوں کو ’اسلامی‘ کہلانے کا حق صرف اسی صورت میں ملتا ہے جب وہ الہامی احکام سے مکمل ہم آہنگ ہوں اور معاشرے میں عدل قائم کریں۔
اسلام محض چند روایتی عبادات یا شخصی عقائد کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی زندگی کا ایک کامل اور مکمل نظامِ حیات ہے۔ یہ پاکیزہ دین انسانوں کے انفرادی اور اجتماعی حقوق و فرائض کا تعین کرتا ہے، ذاتی کردار کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اجتماعی فلاح و بہبود کا راستہ دکھاتا ہے، اور روحانی مقاصد کے ساتھ ساتھ مادی سرگرمیوں کے لیے بھی روشن اصول وضع کرتا ہے۔ تخلیقِ انسانی کے پہلے دن سے لے کر اس دُنیوی زندگی کے خاتمے تک، انسان کو درپیش تمام معاملات میں ہدایت فراہم کرنا اس الہامی ضابطے اور راستے کا بنیادی وصف ہے۔ اسی جامع رہنمائی کے اندر معاشی اور مالیاتی رویوں کا ایک شفاف اور متوازن خاکہ بھی موجود ہے، جس کی بنیادیں کسی انسانی قیاس آرائی پر نہیں بلکہ خالقِ کائنات کی مطلق حکمت اور علمِ کامل پر قائم ہیں۔
انسان اپنی تمام تر سائنسی پیش رفت، تحقیقی وتجزیاتی صلاحیتوں اور کاوشوں کے باوجود الہامی حکمت کے لازوال سمندر کے چند قطرے ہی دریافت کر سکا ہے، جب کہ الہامی علوم کی گہرائی کا احاطہ کرنا انسانی عقل کے بس میں نہیں ہے۔ قرآن مجید کے معجزات، اللہ جل شانہٗ کے احکامات اور انسانی امور کے لیے فراہم کردہ ہدایات کے باب میں ایسی وسعت اور سچائی ہے جس کی پیمائش کوئی بھی فکری پیمانہ نہیں کرسکتا۔ اس موضوع پر ہزاروں دفتر سیاہ کیے جا سکتے ہیں، لیکن الہامی حکمتوں کی تحقیق کا یہ سفر کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ قرآنِ کریم کی ہر آیتِ مبارکہ اپنے اندر ہدایت کی ایسی تہیں رکھتی ہے، جو زمانے کے بدلنے کے ساتھ ساتھ ہر نسل کے سامنے نئے حقائق روشن کرتی رہتی ہے اور انسانیت کو سیدھی راہ دکھاتی ہے۔
اسی لیے اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ معاشیات اور مالیات، اسلام کے لیے کوئی غیر ملکی یا بیرونی تصورات نہیں ہیں، بلکہ یہ اسلامی ہدایت کا لازمی جزو ہیں۔ جسے عام طور پر ’اسلامی معاشیات‘ کہا جاتا ہے، وہ حقیقت میں ایک جامع سماجی و معاشی فریم ورک ہے، جس کا مقصد معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنا، عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا، دولت کی متوازن گردش کو فروغ دینا اور انسان کی ہمہ جہت ترقی کو ممکن بنانا ہے۔ اسی طرح ’اسلامی مالیات‘ محض چند ’مالیاتی معاہدات‘ کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ پیداواری عوامل کو متحرک کرنے اور انسانی ضروریات کی پیداوار و تقسیم کو الہامی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کا ایک اخلاقی اور انتہائی بابرکت طریقہ ہے۔
قرآن مجید معاشیات کو جدید دور کے خشک اور محض منافع بخش تعلیمی مضمون کے طور پر پیش نہیں کرتا، بلکہ وہ اخلاقی، قانونی اور تجارتی اصولوں کا ایسا ہمہ گیر نظام عطا کرتا ہے، جو معاشی زندگی کے ہر پہلو پر محیط ہے۔ قرآنِ حکیم کی یہ ہدایت پیداوار، تقسیم، تبادلہ، صرف اور مال و دولت کے انتظام و انصرام تک پھیلی ہوئی ہے، تاکہ عدل اور جواب دہی پر مبنی ایک متوازن سماجی و معاشی نظام قائم کیا جا سکے۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال فرمایا ہے اور ربٰو کا ایک مالیاتی عمل ،یعنی سود کو حرام قرار دیا ہے‘‘ (البقرہ۲:۲۷۵)۔ یہ آیت معاشی نظام کی بنیاد کو ظلم سے پاک کر کے پاکیزہ تجارت پر استوار کرتی ہے۔
قرآن مجید، معاشی زندگی کی اصلاح اس طرح فرماتا ہے کہ وہ ظلم اور استحصال کی جگہ عدل و انصاف کو دیتا ہے، قمار بازی اور سٹا بازی کی جگہ واقعی پیداواری عمل کو فروغ دیتا ہے۔ چند ہاتھوں میں دولت کے جمع ہو جانے کی بجائے اس کی منصفانہ گردش کو یقینی بناتا ہے، اور غیراخلاقی تجارتی طریقوں کے بجائے شفافیت اور ذمہ داری کو قائم کرتا ہے۔ یہ ابدی اصول انسانی وقار کی بلندی، سماجی فلاح و بہبود، پائیدار خوشحالی اور معاشی استحکام کو فروغ دینے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ یہ تمام اصول مل کر اخلاقی تجارت اور کاروبار کا ایک ایسا بگاڑ سے پاک اور عملی خاکہ پیش کرتے ہیں، جو ہر دور کے معاشی نظام کے لیے نہ صرف کارآمد ہے بلکہ ایک عادلانہ معاشی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اس تحریر میں ہمارا بنیادی مقصد انھی سنہرے اصولوں کی وضاحت کرنا ہے کہ اسلامی معاشیات کی اصل روح محض الفاظ یا ظاہری ناموں میں نہیں، بلکہ تمام انسانیت کی بھلائی اور ایک عادلانہ معاشی نظام کی تشکیل کے لیے الہامی ہدایت کے عملی نفاذ میں مضمر ہے۔ ان تفصیلی اصولوں کا جائزہ لینے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ معاشی سرگرمیاں، اسلامی طرزِ زندگی کا پختہ حصہ ہیں اور اپنی تمام تر مشروعیت قرآن و سنت سے حاصل کرتی ہیں۔ پیداوار، تقسیم، تجارت اور مالی امور پر الہامی احکام کی حکمرانی ہی اس بات کا جواز فراہم کرتی ہے کہ اس معاشی نظام کو ’اسلامی‘ کا معتبر نام دیا جائے اور اسے اپنایا جائے۔
یہاں اصولوں اور اداروں کے درمیان فرق کو سمجھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ عصرِحاضر کے مالیاتی ادارے، جیسے امانت و تمویل کے ادارے یا باہمی تحفظ کے تنظیمی ماڈل، عہدِ رسالت مآبؐ میں اپنی موجودہ اداراتی شکل میں موجود نہ تھے، بلکہ یہ جدید ساختیں انسانی تجربات اور انتظامی ارتقا کے نتیجے میں وجود میں آئی ہیں۔ تاہم، جب ان اداروں کو اس طرح دوبارہ منظم کیا جاتا ہے کہ وہ قرآن و سنت کے احکامات کے عین مطابق کام کریں، اور ان سے ربٰو، شدید غیریقینی صورتِ حال (غرر) اور ناانصافی جیسے تمام ممنوعہ عناصر کو نکال دیا جائے، اور ان کی جگہ شرعی معاہدات کو اپنایا جائے، تو یہی ادارے اسلامی معاشی ڈھانچے کا حصہ بن جاتے ہیں اور انھیں اسلامی ادارے کہا جاتا ہے۔
قرآن مجید کی مختلف سورتوں سے ماخوذ ثابت شدہ اصول اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ تجارتی اور معاشی امور دینِ اسلام کے جامع نظامِ حیات کا بنیادی حصہ ہیں۔
ذیل میں قرآنی آیات کی روشنی میں معاشی اصلاحات اور ان کے پیداوار، تقسیم اور استعمال پر مرتب ہونے والے اثرات کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، تاکہ الہامی نظام کے فوائد ظاہر ہو سکیں اور معاشی استحکام کی راہ ہموار ہو سکے:
اس طرح یہ حقیقت روشن ہوتی ہے کہ اسلامی معاشیات اور مالیات محض نظریاتی اصطلاحات یا معاشی معاہدات کا مجموعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ الہامی ہدایت پر مبنی ایک مکمل، منصفانہ اور پائیدار معاشی و سماجی نظام فراہم کرتے ہیں۔ جب معاشی سرگرمیاں عدل، امانت داری، اور باہمی تعاون کے الہامی اصولوں کے تابع ہوتی ہیں تو نہ صرف معاشی استحکام حاصل ہوتا ہے بلکہ معاشرے میں فلاح، برکت اور خوش حالی کا دور دورہ ہوتا ہے۔
حقیقی ترقی اور فلاح کا راستہ معاشی امور کو الہامی احکامات، عدل اور انسانی ہمدردی کے ساتھ جوڑنے میں مضمر ہے۔جب انسان اپنے کسب اور تجارت کو پاکیزہ بناتا ہے، تو معاشرہ استحصال سے پاک ہو کر امن اور برکت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
الہامی رہنمائی پر مبنی عادلانہ معاشی نظام کے لیے علامہ محمد اقبالؒ کا پیغام سرمایہ داری، معاشی استحصال اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے مقابلے میں قرآن کی رہنمائی اور انسانی محنت کے حق کو اُجاگر کرتا ہے:
اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دارِ حیلہ گر
شاخِ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات
دستِ دولت آفریں کو مُزد یوں ملتی رہی
اہلِ ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکات
_______________
علامہ اقبالؒ کی شخصیت ایک ترشے ہوئے ہیرے کی سی ہے کہ اس کے مختلف پہلو مختلف انداز میں لودیتے ہیں اور وہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔ وہ بہت بڑے شاعر بھی ہیں اور مفکر بھی، صاحب رویا بھی ہیں اور مصلح بھی، اور وطن عزیز کا خواب دیکھنے والے مصورِ پاکستان بھی۔ جب کسی ایک شخص کی شخصیت کے اتنے متنوع پہلو آجائیں تو اکثر لوگوں کے ذہنوں میں کچھ چیزیں گڈمڈ ہوجاتی ہیں اور یہ متعین کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کہ اس شخصیت کی بالکل بنیادی اور اساسی اہمیت کیا ہے؟ علّامہ صاحب کی شخصیت کے یہ سبھی پہلو بہت مضبوط ہیں اور واقعی کسی ایک پہلو کو دوسرے پہلو پر ترجیح دینا اتنا آسان نہیں۔تاہم، ایک بات میں نے ہمیشہ محسوس کی ہے کہ علّامہ جتنے بڑے، جتنے منفرد اور بے مثال شاعر ہیں ،اگر وہ اتنے بڑے شاعر نہ ہوتے تو شاید ان کے پیغام کو وہ تاثیر، وہ دل نشینی اور وہ پھیلائو حاصل نہ ہوسکتا جو اَب ہم دیکھتے ہیں۔ بقول ان کے ؎
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
آپ مشرق و مغرب میں ان کی آواز کی جو گونج سنتے ہیں ، اس میں ان کے دیگر پہلوئوں سے کہیں بڑھ کر ان کا شاعرانہ پہلو اساسی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے جو لیکچرز انگریزی میں دیے نہایت عالمانہ ہیں، جس کی ایک ایک سطر میں انھوں نے واقعی کوزے میں سمندر بند کیا ہے اور چلتے چلتے وہ ایک جملے میں جو بات کہہ جاتے ہیں ،آپ کو پوری پوری تحریکوں کا مطالعہ کیے بغیر اس ایک جملے کا فہم حاصل نہیں ہوتا۔ ان کے جو لیکچرز ’ری کنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ اِن اسلام‘ پر ہیں، بعض لوگوں نے گذشتہ کچھ عرصے میں یہ کہا کہ ان کا اصل کام تو ان کے لیکچرز ہیں، شاعری تو ایک جزوی سا پہلو ہے جو اتنا اہم نہیں۔ مجھے ان کے لیکچرز کی عظمت میں کبھی کوئی شک نہیں رہا، لیکن مجھے اس خیال سے اتفاق نہیں ہوسکا کہ علامہ صاحب کا اصل کام وہ ہے۔ انھوں نے جاوید نامہ کے آخری حصہ ’خطاب بہ جاوید‘ میں خود ان دونوں چیزوں کی حدود متعین کی ہیں۔ اس پر پورا ایک بند لکھا ہے لیکن اس میں سے دو شعر آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا:
من بہ طبع عصر خود گفتم دو حرف
کردہ ام بحرین را اندر دو حرف
حرف پیچا پیچ و حرف نیش دار
تا کنم عقل و دل مرداں شکار
[میں نے اپنے زمانے کی طبیعت سے دوباتیں کہی ہیں اور میں نے دو سمندروں کو دوکوزوں میں بند کردیا ہے۔ان میں سے ایک حرف پیچیدہ اور بڑا علمی ہے۔ اس کے اُتار چڑھائو ہیں اور دوسرا حرف ایسا ہے جیسے دل میں جاکر کھب جانے والا، تاکہ میں ایک سے لوگوں کی عقل کو شکار کروں اور دوسرے سے لوگوں کے دل کو شکار کروں ]۔
انھوں نے اپنے ان دونوں کارناموں کا اپنا اپنا علاقہ اور اپنی اپنی حیثیت خود متعین کردی ہے کہ ان کے خطبات میں عقل سے خطاب ہے اور ان کی شاعری دلوں پر تاثیر چھوڑتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک خلقت کے ذہن میں جو انقلاب پیدا کیے ہیں وہ اس حرف پیچاپیچ نے پیدا نہیں کیے،کیونکہ اس کو تو بہت ہی کم لوگوں نے پڑھا ہے اور جنھوں نے پڑھا ہے ان کو بھی اس کے سمجھنے کا دعویٰ نہیں ہے۔ لیکن ان کی شاعری میں باوجود اس کے کہ وہ باتیں وہی کہتے ہیں جو ہمارے علم میں پہلے سے ہوتی ہیں، لیکن کہتے ایسے انداز میں ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ آج پہلی بار کہی جارہی ہیں۔ یہ بتانا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ شعر کی تاثیر کا آخری مخرج کیا ہے؟ منبع کیا ہے؟ اور ان کی شاعری کہاں سے پھوٹتی ہے؟ یہ ایک بڑی پُراسرار چیز ہے۔ خود اقبال نے کہا ہے ؎
سخن میں سوز ، الٰہی کہاں سے آتا ہے
یہ چیز وہ ہے کہ پتھر کو بھی گداز کرے
یہ بتانا بڑا دشوار ہے کہ شاعری میں تاثیر کہاں سے آتی ہے، اس کے عناصر کیا ہوتے ہیں؟ ہم بالعموم جب فنی تجزیہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہاں تشبیہ بہت اچھی ہے، یہاں استعارہ بہت اچھا ہے، اس شعر میں کنایہ سے کام لیا گیا ہے، اس شعر میں مجاز مُرسل ہے لیکن یہ سب چیزیں شعر کا سنگھار تو ہوسکتی ہیں، مگر شعر کی اساس نہیں ہوسکتیں۔ شعر کی اساس ایک خداداد برجستگی ہوتی ہے۔ اس کا اپنا ایک آہنگ ہوتا ہے۔ وہ دل سے نکلتا ہے اور دلوں پر جاکر لگتا ہے اور یہ سب چیزیں اس کے اندر جب گھل مل کر یک جان ہوجاتی ہیں تو آپ کہیں انگلی رکھ کر نہیں بتاسکتے کہ تشبیہ کہاں رہ گئی اور استعارہ کہاں رہ گیا اور مراعات النظیر کہاں ختم ہوگئی؟ لیکن شعر کی تاثیر مجموعی اعتبار سے آپ کو متاثر کرتی ہے اور آپ اس کا تعین نہیں کرسکتے کہ اس کی کیا چیز آپ کے اُوپر اثرانداز ہورہی ہے۔
علامہ اقبالؒ کی شاعری آغاز ہی سے ایک غیرمعمولی رنگ لیے ہوئے تھی اور آج تک ان کے اسلوب کا یہ کمال ہے کہ آپ ہزار آدمیوں کے کلام میں اقبالؒ کے دو شعر رکھ دیجیے، وہ الگ نظر آئیں گے اور اس میں کہنگی پیدا ہی نہیں ہوتی۔ یہ خداداد چیز ہے۔
جب وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں بطور طالب علم کے آئے تھے، اس وقت کی یادداشت محفوظ ہے۔ میں چونکہ اسی درس گاہ میں پڑھاتا ہوں، ہم نے ایک بار دوبارہ ریسرچ کرکے اس کمرے کا تعین کیا، جہاں ’اقبال ہاسٹل‘ میں جس کمرے میں وہ رہتے تھے۔ اتنی مدت تک لوگوں کو کچھ اور کمروں کے بارے میں غلط فہمی رہی کہ وہ اس میں رہتے تھے ، لیکن ان کے ایک ساتھی غلام نورنگ صاحب، جو ہاسٹل فیلو تھے، ان کی اس بارے میں اتنی تفصیلی گفتگو موجود ہے کہ جس کے بعد ہمیں کوئی دِقّت نہیں ہوئی اور ہم نے بڑی آسانی سے اس کا تعین کیا کہ یہ وہ کمرہ تھا جہاں اقبال قیام پذیر تھے۔ آج بھی وہ عمارت اور کمرہ اپنی اصل شکل میں موجود ہے۔ اس میں جب کبھی جانا ہو تو اس دور کی جو ان کی تمام تفصیل لکھی ہوئی ہے کہ وہ فرش پر دری بچھائے بیٹھے ہوتے تھے اور اکثر بنیان اور تہبند پہنے ہوئے ہوتے جو آخری زمانے تک ان کا پسندیدہ لباس تھا۔ وہ حقہ بھی وہیں رکھے ہوئے بیٹھے ہوتے تھے اور چاروں طرف سے طالب علم ان کی کشش سے اُس وقت بھی آتے تھے اور اس وقت بھی انھوں نے بعض مشاعروں میں شرکت کی۔ کہیں بھاٹی دروازے کے اندر، کبھی بازار حکیماں میں اور کبھی اور جگہوں پر۔ اس وقت تک ان کی شہرت یہ تھی کہ ایک کشمیری لڑکا لاہور میں آیا ہے اور وہ بہت اچھا شعر کہتا ہے۔ اپنے دورِ طالب علمی میں انھوں نے یہ شعر کہا تھا کہ ؎
موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے
اس وقت کے ایک بڑے سینئر شاعر مرزا ارشد گرگانی بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے چونک کر کہا کہ بھئی کمال ہے یہ عمر اور یہ شعر! دراصل اقبال کی شاعرانہ تاثیر اور اس کا کمال ان کے اس زمانے سے کھلنا شروع ہوگیا تھا جب ابھی و ہ اقبال بنے ہی نہیں تھے۔
اسی ہاسٹل کے زمانے میں انھوں نے ’ہمالہ‘ کے نام سے ایک نظم کہی۔ غیرمنقسم ہندستان میں انھوں نے ہمالہ کو ایک فصیل کی حیثیت دی۔اس کو فصیل کشور ہندوستاں کہا۔ اپنی سرزمین کے ایک پہاڑ کی تعریف کی۔ وہ نظم ۱۹۰۱ء میں شائع ہوگئی تھی۔ہوسکتا ہے کہ انھوں نے اس سے کئی سال پہلے کہی ہو۔ بعد میں اقبالؒ نے اس میں تھوڑی بہت تبدیلی ضرور کی، لیکن بیشتر نظم اپنی اصل حالت میں ہے اور بانگ درا کی پہلی نظم وہی ’ہمالہ‘ ہے۔یہ ان کے بالکل ابتدائی دور کی چیز ہے اور یقین کیجیے کہ میں آج تک اس نظم کو پڑھنے سے سیر نہیں ہوسکا۔ انھوں نے ہمالہ کے بارے میں کہا تھا ؎
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں
تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاں
یہ نظم جب پڑھتا ہوں محسوس ہوتا ہے کہ وہی تازگی اور وہی تاثیر محسوس ہوتی ہے، جو پہلی بار پڑھ کر محسوس کی تھی۔ اس لیے کہ اس دور میں ان پر مغرب کی پوئٹری آف نیچر کا زیادہ اثر تھا۔ لیکن ان کا مشرقی اثاثہ اتنا مضبوط تھا کہ وہ جدید خیالات کو اپنی روایت کے مطابق بیان کرنے پر قادر تھے، بجائے اس کے کہ وہ شعر ڈھلے ڈھلائے اور بنے بنائے سانچوں میں چلے جائیں، ہر شعر میں ایک تازگی محسوس ہوتی تھی۔ ’ہمالہ‘ میں انھوں نے جو منظرنگاری کی تھی اُسے ذرا دیکھیے:
ابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطے
تازیانہ دے دیا برق سر کہسار نے
اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تُو بھی ، جسے
دستِ قُدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیے
ہائے کیا فرطِ طرب میں جھومتا جاتا ہے اَبر
فیل بے زنجیر کی صورت اُڑا جاتا ہے اَبر
اسی نظم کے ایک بند کے چوتھے مصرعے پر تو یقین کیجیے کہ میرا سانس رُک جاتا ہے:
لیلیٰ شب کھولتی ہے آ کے جب زُلفِ رسا
دامنِ دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا
وہ خموشی شام کی جس پر تکلّم ہو فدا
وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا
’وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا‘ مصرعے پر مجھے حیرت ہوتی ہے۔ پھر کہتے ہیں ؎
کانپتا پھرتا ہے کیا رنگِ شفق کُہسار پر
خوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رُخسار پر
جس شاعر کی ابتدا یہ ہے ، آپ دیکھیے کہ بانگ درا میں ان کی دور بہ دور نظمیں موجود ہیں۔ وہ بھی جو۱۹۰۵ء تک کی ہیں، اور وہ بھی جو ۱۹۰۵ء سے ۱۹۰۸ء تک کی ہیں۔ جب وہ یورپ میں رہے اور پھر اس کے بعد کی نظمیں ہیں۔ ہردور کی نظموں میں ان کے شاعرانہ کمالات اسی دور سے نمایاں ہیں۔ اقبال کے ہاں آغاز ہی سے تشبیہ کی ندرت کا کمال تھا۔ بانگِ درا میں ہی دیکھ لیں جو ان کے ابتدائی دور غالباً ۱۹۰۵ء تک کا دور ہے۔ اس میں ایک نظم ہے، اس میں انھوں نے جو تشبیہیں دی ہیں آپ دیکھیے کہ وہ تشبیہات آج بھی کتنی زندہ اور کتنی تازہ ہیں:
جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں
یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں
آیا ہے آسماں سے اُڑ کر کوئی ستارہ
یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن میں
یا شب کی سلطنت میں دن کا سفیر آیا
غربت میں آ کے چمکا گمنام تھا وطن میں
تکمہ کوئی گرا ہے مہتاب کی قبا کا
ذرّہ ہے یا نمایاں سورج کے پیرہن میں
چھوٹے سے چاند میں ہے ظلمت بھی روشنی بھی
نکلا کبھی گہن سے آیا کبھی گہن میں
یہ بات انھوں نے جگنو کی تشبیہ کے لیے کہی اور جگنو کا استعارہ اقبال کے کلام میں چلتا رہا ہے۔ جس طرح شاہین نے ان کو بہت متاثر کیا ہے، اسی طرح جگنو نے اور پروانے نے بھی اپنے اپنے انداز میں بہت متاثر کیا ہے۔ چنانچہ جگنو کا استعارہ ان کے کلام میں ایک ارتقا کے ساتھ آگے چلتا ہے اوراس میں جو بات انھوں نے کہی تھی ؎
چھوٹے سے چاند میں ہے ظلمت بھی روشنی بھی
نکلا کبھی گہن سے آیا کبھی گہن میں
پیامِ مشرق میں انھوں نے ’کرمک شب تاب‘ کے عنوان سے فارسی میں ایک بڑی نظم لکھی ہے۔ وہ ان کی بہت کمال نظم ہے جس میں انھوں نے جگنو کے بارے میں کہا کہ ؎
یک ذرہ ی بی مایہ متاع نفس اندوخت
شوق این قدرش سوخت کہ پروانگی آموخت
پہنائی شب افروخت
ایک ذرّہ بے مایہ تھا جس نے اپنے سانس کی دولت کو بچا بچا کے رکھا، اپنے وجود کو سنبھالا۔ شوق نے اس کو اس حد تک جلایا اور سوز دیا کہ اس کو پروانہ بنادیا اور اس نے رات کی پہنائی کو روشن کرنا شروع کر دیا۔ یہ طویل نظم ہے، اس میں ایک ٹکڑا جو مجھے اس شعر سے یاد آگیا وہ ہے ؎
اے کرمک شب تاب سراپای تو نور است
پرواز تو یک سلسلہ ی غیب و حضور است
آئین ظہور است
یعنی کرمک شب تاب سے خطاب کرکے کہتے ہیں کہ تیری پرواز غیب و حضور کا ایک سلسلہ ہے۔ کبھی ظلمت، کبھی روشنی۔ یہ ان کے شاعرانہ کمالات ہیں جو ان کی بالکل ابتدائی نظموں سے چلتے ہیں۔
آگے چلیں تو ’شمع وشاعر‘ ہے، ’خضرراہ‘ ہے،’ طلوعِ اسلام‘ ہے اور ’شکوہ و جوابِ شکوہ‘ ہے۔ جب شکوہ اور جوابِ شکوہ لکھی تو وہ انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں پڑھی۔ سال بھر کے بعد جب سالانہ جلسہ ہوتا تھا تو وہ ایک نظم پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور یہ تاثیر ہوتی تھی اور اس زمانے کے لوگوں کی روایتیں ہیں کہ جو سٹیج بنی ہوئی ہوتی تھی وہاں وہ اپنا کلام زبانی پڑھتے تھے اور ٹہلتے جاتے تھے۔ بہت خوش آہنگ بلندآواز آدمی تھے۔ مکمل خاموشی ہوتی تھی۔ اس دور میں بھی دُور دُور کے شہروں سے لوگ آتے تھے، ہزار ہزار، ڈیڑھ ڈیڑھ ہزار کا مجمع بیٹھا ہے اور وہ سنا رہے ہیں۔ اگر کہیں بالفرض وہ کوئی مصرع بھول گئے توو ہ بعض اوقات ایک دو منٹ ٹہلتے رہتے اور کہیں سے کوئی آواز نہیں آئی تاآنکہ ان کو دوسرا مصرع یاد آیا۔
انھوں نے شکوہ نظم اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں پڑھی تھی۔ اس زمانے میں ان کے والد مرحوم بھی زندہ تھے اور بہت بڑھاپے کی عمر میں خود وہ سامعین میں بیٹھ کر اپنے بیٹے سے وہ نظم شکوہ سن رہے تھے۔ اس نظم میں بھی آپ ان کے شاعرانہ اور فنی کمالات دیکھیے۔ مثلاً ایک پوری تاریخ نچوڑ کے تلمیحات لے کر آنا، علامتیں نکال کر لانا، مثلاً اس کا ایک بند ہے:
واعظِ قوم کی وہ پُختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی ، شُعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسمِ اذاں ، رُوحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا ، تلقین غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصاف حجازی نہ رہے
یعنی اسلام، ملت اسلامیہ کا زوال کہ جس جس میدان کے باکمال کبھی ہماری ملّت میں موجود تھے، وہ سب ختم ہوگئے۔اس میں انھوں نے شخصیات کو علامت بنایا ہے اور ملت اسلامیہ کے زوال اور انحطاط کا مرثیہ پڑھا ہے، کہ یہ کیا تھے اور کیا ہوگئے ؎
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصاف حجازی نہ رہے
جب شکوہ لکھا تھا تو اس میں ساری شکایتیں کرنے کے بعد آخر میں آکر اس کو پُرامید بنایا تھا۔ اس لیے کہ اُمید تو اقبال کی ساری شاعری کا لب ِ لباب ہے۔ نااُمیدی تو کہیں پیدا ہی نہیں ہونے دیتے ؎
سر فاراں پہ کیا دین کو کامل تُو نے
وہ قرآنِ مجید کا کثرت سے مطالعہ کرکے اپنے خیالات کی اساس اور اپنے افکار وہیں سے نکال کر لاتے تھے۔ قرآنِ مجید میں بھی آتا ہے کہ جب نبی پکار اُٹھیں گے مَتٰى نَصْرُ اللہِ تو اس میں جواب آتا ہے اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللہِ قَرِيْبٌ۔یعنی وہ لوگ جو یہ پکار اُٹھتے ہیں وہ تو عظیم ترین لوگ ہیں جو حالات کی نامساعدت کو دیکھ کر کہہ اُٹھتے ہیں مَتٰى نَصْرُ اللہِ کب آئے گی اللہ کی مدد؟یہ کیفیت شکوہ میں ہے اور اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللہِ قَرِيْبٌ ،یہ کیفیت جوابِ شکوہ میں ہے۔ اس میں وہ کہتے ہیں ؎
سر فاراں پہ کیا دین کو کامل تُو نے
اِک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تُو نے
آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نے
پھونک دی گرمی رخسار سے محفل تُو نے
آپ اُوپر کے آخری مصرعے کا شاعرانہ آہنگ دیکھیے۔ پھر کہتے ہیں ؎
آج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیں
ہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیں؟
جب یہ جوابِ شکوہ میں آتے ہیں تو اس میں بھی پہلے ان تمام چیزوں کا ایک جواب ملتا ہے ؎
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور
عدل ہے فاطرِ ہستی کا ازل سے دستور
آخر میں پہنچتے پہنچتے تسلی دینے کی اور مایوس نہ ہونے کی تلقین پیدا ہوجاتی ہے۔ اب اس میں آپ دیکھیے کہ انھوں نے کہا ؎:
دیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالی
کوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی
خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستان خالی
گُل بر انداز ہے خونِ شُہداء کی لالی
رنگ گردُوں کا ذرا دیکھ تو عُنّابی ہے
یہ نکلتے ہوئے سورج کی اُفق تابی ہے
ان تمام نظموں سے گزرتے ہوئے جب ہم بالِ جبریل میں پہنچتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ شاعرانہ اعتبار سے زبورِ عجم اور پیامِ مشرق فارسی میں سب سے آگے ہیں اور بالِ جبریل اُردو میں سب سے آگے ہے۔ اس لیے کہ بالِ جبریل کی غزلوں میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقبالؒ نے اُردو شاعری میں غزل کی صنف کو ہاتھ لگایا اور بالکل منقلب کرکے رکھ دیا۔ اس کے بعد وہ غزل رہی ہی نہیں جو پہلے تھی۔ مگر کمال یہ ہے کہ وہ غزل جو اقبال نے بنادی وہ بس اقبال ہی سے شروع ہوئی اور اقبال ہی پر ختم ہوگئی۔ آج اگر کوئی چاہے کہ اس رنگ میں شعر کہے تو نہیں کہہ سکتا، اس سےپہلے کسی نے کہے نہیں۔ اس میں کیا نظمیں، کیا غزلیں، کیا ان کی دو بیتیاں، جو بھی چیز ہے، ایک سطر بھی ایسی نہیں ہے جس کو آپ کہیں کہ یہ نکال دو تو بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
اس میں جو نظم ’مسجد قرطبہ‘ ہے، لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسپین جاکر اگرآپ مسجد قرطبہ میں جائیں تو آپ کہیں گے کہ مسجد اچھی ہے مگر یہ ویسی نہیں ہے جیسی اقبالؒ نے دکھائی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقبالؒ اس مسجد کے صرف بام ودَر نہیں دیکھ رہے تھے، وہ اس مسجد کی روح سے ہم کلام تھے ؎
آب روان کبیر! تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
جو گزراہوا زمانہ ہے، اس میں جن بلندیوں پر ان کا تخیل پہنچا ہے اور شاعری کے لیے جو لفظوں کی اپنی جسمانی ساخت ہوتی ہے، وہ جو اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں، اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ مثلاً فن ہے، انھوں نے فن کو ایک سطر کے اندر بیان کیا ہے ؎
رنگ ہو یا خشت و سنگ چِنگ ہو یا حرف و صوت
معجزئہ فن کی ہے خُونِ جگر سے نمود
یہ سوچ کر بہت دُکھ ہوتا ہےکہ عربی سے تو خیر پہلے ہی یہاں بہت کم لوگوں کو شغف تھا، لیکن فارسی سے بہت شغف ہوا کرتا تھا۔ ہم نے اپنے بچپن میں دیکھا کہ گھریلو عورتیں جو پڑھی لکھی بھی نہیں ہوتی تھیں ان کو بھی گلستان، بوستان، کریما ببخشائے ہرحال ما، یہ چیزیں یاد ہوتی تھیں۔ جابجا فارسی کا کوئی مصرع، کوئی شعر پڑھا جاتا تھا۔ اب فارسی ہمارے ثقافتی اور معاشرتی پس منظر سے ایسی خارج ہوئی ہے کہ کہیں اگر کوئی ایک مصرع آپ پڑھ دیں تو اس مطلب کو سمجھانا پڑتا ہے۔
فارسی میں جو کچھ اقبالؒ نے کہا، اقبالؒ کو جتنا ہم مانتے ہیں، اہل ایران فارسی کے کلام کے حوالے سے انھیں اتنا ہی مانتے ہیں۔ ان کے کلام میں سے بعض ٹکڑوں کے بارے میں جن لوگوں کی فارسی ادب میں زندگیاں گزری ہیں، وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر فارسی شاعری کا بہترین انتخاب کیا جائے تو اس میں اقبال کی فلاں فلاں نظم لازماً شامل ہوگی۔ مثلاً اُن کا چھوٹا سا دوبند کا ’محاورہ مابین خدا و انسان‘ خدااور انسان کے درمیان ایک مکالمہ ہے۔ اس میں ان کے فکر کی بہت سی جہتیں آجاتی ہیں کیونکہ اقبالؒ کی فکر میں یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جب بنایا تو اس نے اس کو ایک ایسی چیز دی ہے جو قوتِ تخلیق ہے اور جو کسی اور مخلوق میں موجود نہیں ہے۔ یہ صرف موجود پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ موجود کو بہتر بناتا ہے،تخلیق کو طبیعت کی سطح سے اُوپر اُٹھاکر بلند کردیتا ہے جیسے اقبال نے کہا ؎
بے ذوق نہیں اگرچہ فطرت
جو اس سے نہ ہو سکا وہ تُو کر!
تو اس قطعہ میں بھی ان کا یہی فکر نظر آتا ہے کہ خدا کی طرف سے کہا جاتا ہے ؎
جہاں را ز یک آب و گل آفریدم
تو ایران و تاتار و زنگ آفریدی
[میں نے تو اس دُنیا کو ایک ہی مٹی اور پانی سے بنایا تھا تو نے اس کے اندر تفریق برپا کی، ایران بنایا، تاتار بنایا، زنگی بنائے اور افرنگی بنائے]۔
یعنی انسان کے اندر جو ایک تخریبی عنصر ہے جس کی طرف ملائکہ نے بھی اشارہ کیا تھا کہ یہ زمین میں فساد برپا کرے گا، اس کا ذکر کیا اور پھر کہا ؎
من از خاک پولادِ ناب آفریدم
تو شمشیر و تیر و تفنگ آفریدی
[میں نے اس مٹی سے خالص فولاد پیدا کیا تھا، تُو نے اس سے تلواریں بنائیں، تیربنائے، تفنگ بنائے یعنی جنگ و جدل کا سامان بنایا کیا]۔
تبر آفریدی نہالِ چمن را
قفس ساختی طائرِ نغمہ زن را
[کسی درخت کو کاٹ کر تُو نے اس سے کلہاڑے کا دستہ بنایا تاکہ دوسرے درخت کاٹے جاسکیں، اور اس درخت پر بیٹھا ہوا جو طائر نغمہ زن تھا اسی درخت کی تیلیاں کاٹ کر اس کا پنجرہ بنادیا اور اسے بند کر دیا]۔
یہ گویا انسان کے وجود پر ایک تنقید ہے۔ یہ تو علامتی ہے کہ خدانے کہا۔
انسان کا جواب بھی عجیب ہے کہ ؎
تو شب آفریدی ، چراغ آفریدم
سفال آفریدی ، ایاغ آفریدم
[تُو نے رات پیدا کی تھی میں نے اس میں چراغ جلایا۔ تُو نے مٹی پیدا کی تھی میں نے اس سے پیالے بنا کر دکھا دیے]۔
اور دوسرا جو شعر ہے اس پر آپ ذرا غور کیجیے۔ فنِ شعر کا کمال ہے ؎
بیابان و کہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم
اس کا ایک ایک لفظ تلا ہوا ہے۔ بیابان کے مقابلے میں خیابان، کہسار کے مقابلے میں گلزار اور راغ کے مقابلے میں باغ۔ تُو نے تو بیابان اور کہسار اور ویرانے پیدا کیے تھے، میں نے تو کیاریاں بنائیں، گلزار بنائے اور باغ بنائے ؎
من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ از زہر نوشینہ سازم
[میں وہ بھی تو ہوں جو پتھر سے آئینہ بناسکتا ہے اور جو زہر سے خوشگوار شراب پیدا کرسکتا ہے]۔
علامہ اقبالؒ کا یہ بند اپنی خالص ادبی قدروقیمت کے اعتبار سے فارسی شاعری کے بہترین نمونوں میں شامل کیے جانے کے لائق ہے۔ اپنی جامعیت اور کاملیت کے ساتھ ان دوبند کے اندر انھوں نے جو بات کہی ہے وہ فکری اعتبار سے ، فنی اعتبار سے بالکل منفرد ہے۔
اسی طریقے سے آپ علّامہ اقبال کی جس تخلیق پر بھی نظر ڈال کر دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ تخلیقی قوت، ایک سیلِ بے پناہ کی طرح اس آدمی کے اندر موجود تھی جس کی چند ایک مختلف چیزیں میں نے آپ کے سامنے پیش کیں۔
_______________
اکتوبر۲۰۲۶ء میں غزہ اور اہل غزہ پر مسلط ظلم کی سیاہ رات کے تین برس ہوگئے۔ اس موقعے پر اہلِ غزہ کی عظمت و عزیمت کوخراجِ تحسین پیش کرنا نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ عالمِ انسانیت پر فرض ہے۔ لیکن الفاظ کے اندر اتنی وسعت نہیں کہ اہلِ غزہ پر ٹوٹنے والی قیامت کو بیان کرسکیں!
اے اہل غزہ ! الفاظ آپ کے زخموں کے سامنے شرمندہ ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ وہ الفاظ ہی موجود نہیں ہیں، جو اس ماں کی کیفیات کو بیان کر سکتے ہوں جس نے اپنے بچے کو اپنے ہی ہاتھوں سے الوداع کیا؟ یا الفاظ اس باپ کے دل کا حال کیا بتائیں، جو اپنے گھر واپس آیا تو اسے اپنا گھر ملا، نہ گھر والے؟ یا اس بچے کے بارے میں الفاظ کیا کہیں گے، جو چند ہی برسوں میں اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑا ہو گیا؟ یا اس خاندان کے بارے میں الفاظ کیا بیان کر سکتے ہیں، جس نے اپنی زندگی کا بچا کھچا سامان ایک بیگ میں سمیٹا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہا، اور پھر نئی جگہ پر بھی اسے طویل انتظار، مزید خوف اور اندیشوں کے سوا کچھ نہ ملا؟
ہم ان لوگوں سے کیا کہیں جنھوں نے موت کو اس روپ میں دیکھا، جسے کسی انسان کے لیے دیکھنا ممکن نہ تھا؟ انھوں نے اس اذیت کا ذائقہ چکھا جس سے روحیں کانپ اٹھتی ہیں، اور وہ ان گھروں کے ملبے پر چلے جو کل تک رونق، زندگی، خوشی اور خاندانی محفلوں سے شادآباد محلے تھے، اور پھر اچانک بکھرے ہوئے ملبے کے ڈھیر بن گئے جو اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہاں کبھی بھرپور زندگی موجود تھی!
آپ نے اس درجہ صبر کیا ہے کہ صبر خود آپ کی پہچان بن گیا ہے۔ آپ نے اس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا کہ کائنات آپ کی گواہی دے رہی ہے۔ آپ نے مصیبت کا وہ بوجھ اُٹھایا، جس کی وجہ سے ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم آپ کی حوصلہ افزائی کریں، نہ کہ آپ پر مزید بوجھ ڈالیں۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ تھک چکے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ زخم بہت گہرا ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ صبر کے بھی آنسو ہوتے ہیں، اور ثابت قدمی کے دوران بھی کمزوری کے کچھ لمحات آ سکتے ہیں۔ غم شدید ہو سکتا ہے اور اس پر رونے کی کیفیت غالب آ سکتی ہے، لیکن اس سب کے باوجود بندئہ مومن اپنے عظیم اور بلند مرتبہ ربّ پر بھروسا کرتے ہوئے، صبر اور اجر کی امید رکھتا ہے!
اللہ کی شریعت میں صبر کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان کے جذبات جم جائیں، اور نہ ثابت قدمی کا مطلب یہ ہے کہ انسان درد محسوس کرنا چھوڑ دے، اور نہ رضا کا مطلب یہ ہے کہ دل اپنوں کی جدائی پر غمگین نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم کی وفات پر آبدیدہ ہوکر فرمایا تھا: ’’آنکھ روتی ہے اور دل غمگین ہے، اور ہم زبان سے وہی کہیں گے، جس سے ہمارا رب راضی ہو، اور اے ابراہیم! ہم تمھاری جدائی پر یقیناً غمگین ہیں‘‘۔ (بخاری)
ہم غزہ میں موجود اپنے عزیزوں سے کہتے ہیں: لوگوں کا آپ کی استقامت پر باتیں کرنا آپ کو اس بات پر مجبور نہ کرے کہ آپ اپنے دکھ اور درد کو چھپائیں۔ آپ کو پورا حق ہے کہ آپ اپنے پیاروں پر روئیں، اپنے گھروں کی یاد میں تڑپیں، اور طویل راستے کی تھکن کو محسوس کریں۔ ہم دُعا کرتے ہیں کہ آپ پر ایک ایسا عام دن آئے جو بمباری کے بغیر ہو، نقل مکانی کے بغیر ہو، بھوک اور خوف کے بغیر ہو۔ اللہ، جو تمام مخلوقات سے زیادہ رحیم ہے، وہی آپ کے معاملے کو سنبھالنے والا ہے۔ اور اسی کا فرمان ہے: ’’اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا‘‘۔ (البقرہ۲:۲۸۶)
اے اہل غزہ! اللہ کی قسم، آپ لوگوں نے وہ سب کچھ پیش کر دیا جو آپ کر سکتے تھے۔
کوئی ایسی خوف کی رات نہیں گزری جس کا دکھ تم نے جھیلا ہو اور اللہ کو اس کا علم نہ ہو، اور کوئی ایسا آنسو نہیں ہے جو کسی ماں نے چھپایا ہو یا اسے بہایا ہو اور اللہ نے اسے دیکھا نہ ہو۔ کوئی ایسا باپ نہیں ہے جس نے اپنے بچوں کے درمیان روٹی کا ٹکڑا تقسیم کیا ہو اور خود بھوکا رہا ہو اور اللہ نے اس کی بھوک اور اس کی قربانی کو شمار نہ کیا ہو، اور کوئی ایسا ڈاکٹر نہیں جس نے اپنے سامنے موجود دوائی ختم ہونے کے باوجود اپنا کام جاری رکھا ہو، یا کسی ایسے زخمی کی مرہم پٹی کی ہو جس کی طرف وہ یہ جانتے ہوئے لپکا ہو کہ اگلا زخم اسی کو لگنے والا ہے،مگر اللہ اسے جانتا ہے۔ اور کوئی ایسی عورت نہیں جو اپنے شوہر کو کھو دینے کے بعد بھی مضبوطی سے کھڑی رہی ہو تاکہ اپنے بچوں کے لیے گھر کے باقی ماندہ وجود کو قائم رکھ سکے، اور کوئی ایسا بچہ نہیں ہے جو اپنے خاندان کے لیے پانی لاتا ہو، جب کہ وہ خود اس بات کا زیادہ ضرورت مند ہو کہ اپنا اسکول کا بیگ اٹھائے، مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہے جس سے ایک ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
اور یہیں سے مصیبت زدہ لوگوں کے لیے قرآن کی سب سے بڑی تسلی ظاہر ہوتی ہے کہ دنیا میں چیزیں ضائع ہو سکتی ہیں، لیکن جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ وہ گھر ضائع ہو سکتا ہے جسے اس کے مالک نے بنانے میں اپنی پوری عمر لگا دی ہو، وہ مال ختم ہوسکتا ہے جسے برسوں میں جمع کیا گیا ہو، تصویریں، دستاویزات، کتابیں اور یادیں جل سکتی ہیں، اور انسان ایسی چیزیں کھو سکتا ہے جنھیں کوئی بھی دوبارہ واپس لانے کی طاقت نہیں رکھتا، لیکن اللہ فرماتا ہے:’’بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘ (التوبہ۹: ۱۲۰)۔اور فرماتا ہے:’’اور صبر کیجیے، کیونکہ یقیناً اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘ (ھود۱۱: ۱۱۵)
طویل جنگیں انسان کے ساتھ جو سب سے زیادہ بے رحمی کرتی ہیں، وہ یہ ہے کہ اسے خبرناموں میں محض ایک عدد (نمبر) بنا کر رکھ دیتی ہیں، چنانچہ کہا جاتا ہے: اتنے قتل ہو گئے، اتنے زخمی ہو گئے، اتنے بے گھر ہو گئے، اور اتنے گھر تباہ ہو گئے… اور ان اعداد و شمار کے پیچھے نام، چہرے، کہانیاں، رشتے، یادیں، درد اور امیدیں سب غائب ہو جاتی ہیں۔
مگر اللہ تعالیٰ کا ترازو ایسا نہیں ہے، اللہ کے ہاں کوئی بھی انسان گمنام نہیں ہے، اور نہ کوئی آنسو بغیر نام کے ہے، اور نہ کوئی فرد مجمعے میں گم ہوتا ہے۔ وہاں وہ ماں ہے جس کا نام، اس کے بچے کا نام اور اس کی محبت کی حد اللہ جانتا ہے، وہاں وہ بچہ ہے جس کا خوف اللہ جانتا ہے، وہاں وہ باپ ہے جس کے دل کا ٹوٹنا اللہ جانتا ہے، وہاں وہ بیمار ہے جس کے درد کا ایک ایک سانس اللہ نے شمار کیا ہے، اور وہاں ہر وہ انسان ہے جس نے اپنے سینے میں جو کچھ بھی چھپایا، جو کچھ بھی کہا، اور جو کچھ وہ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اللہ اس سب کو جانتا ہے۔
اسی لیے اسلامی تصور کے مطابق آخرت کا ہونا عدل و انصاف کی ناگزیر ضروریات میں سے ہے، کیونکہ یہ دنیا اتنی تنگ ہے کہ ہر خیر کا پورا بدلہ یا ہر ظلم کا پورا قصاص اس میں سما نہیں سکتا۔ کتنے ہی مظلوم دنیا سے چلے گئے قبل اس کے کہ وہ انصاف دیکھ سکتے، اور کتنی ہی مائیں ایسی ہیں جو مر گئیں اور ان کے دل میں ایک ایسا سوال تھا جس کا کسی نے جواب نہیں دیا، اور کتنے ہی بچے دنیا سے رخصت ہو گئے قبل اس کے کہ وہ سمجھ پاتے کہ ان کا گھر کیوں مسمار کیا گیا یا انھوں نے اپنے خاندان کو کیوں کھو دیا؟
اور اگر دنیا کا یہ آخری صفحہ ہوتا، تو بہت سے سوالات بغیر جواب کے رہ جاتے، لیکن یہ آخری صفحہ نہیں ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَحْسَبَنَّ اللہَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۰ۥۭ (ابراھیم۱۴: ۴۲)’’اور تم ہرگز یہ نہ سمجھو کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل ہے‘‘۔اور صابرین کے اجر کے بارے میں فرماتا ہے:اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ۱۰ (الزمر۳۹: ۱۰) ’’بلا شبہ صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے پورا دیا جائے گا‘‘۔اور اگر انسان دنوں، نقصانات، گھروں اور اموال کا شمار کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے صابرین کے لیے ایک ایسا دروازہ کھول رکھا ہے جو انسانوں کے حساب کتاب کے قوانین کے تحت آتا ہی نہیں: یعنی ’بغیر حساب کے‘، اور تھکے ہوئے دل کی تسلی کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ یہ جان لے کہ جس ذات نے اس کے اجر کا ذمہ لیا ہے، وہ ربّ العالمین ہے۔
شاید اس بھاری قیمت کے بعد آپ کے دل پر دستک دینے والا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ: ان قربانیوں سے حاصل کیا ہوا؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ اس تمام درد کا کوئی ایسا اثر باقی نہ رہے جو اس قیمت کے شایانِ شان ہو؟ یہاں فرض یہ ہے کہ ہم ایسے وعدے نہ کریں جن کے ہم مالک نہیں ہیں، اور نہ ہم کسی ایسے سیاسی مستقبل کا قطعی فیصلہ کریں جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ غزہ نے انسانی ضمیر کے اندر پہلے ہی ایک گہری تبدیلی پیدا کردی ہے۔ اس کے بچوں بوڑھوں، مردوں، عورتوں، ڈاکٹروں، مریضوں، خدمت کرنے والے رضاکاروں اور صحافیوں کی تصاویر، اور ان کے تباہ شدہ گھروں، آبادیوں، یونی ورسٹیوں اور یادگاروں نے دنیا بھر کے گھروں میں جگہ بنا لی ہے۔ اب انصاف، شہریوں کے حقوق اور فلسطین سے متعلق سوالات دنیا بھر میں، مختلف نسلوں اور طبقات کے درمیان پہلے سے کہیں زیادہ گونج رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا اثر ہے جسے معمولی نہیں سمجھا جانا چاہیے، چاہے اس کے مکمل تاریخی نتائج کا اندازہ لگانا ابھی ممکن نہ ہو۔
بلاشبہ، مصیبت زدہ لوگ اس اثر کو نہیں دیکھ پاتے جو ان کی آزمائش دوسروں کے دلوں میں پیدا کرتی ہے، کیونکہ طوفان کے درمیان کھڑا شخص اس سے نجات پانے میں مصروف ہوتا ہے، اور وہ ان فاصلوں کو نہیں ناپ سکتا جہاں تک اس کی آواز پہنچ چکی ہو۔ دنیا کو شاید یہ سمجھنے میں بہت طویل سال درکار ہوں گے کہ غزہ نے کس طرح ایک پوری نسل کی زبان، اس کے اخلاقی سوالات اور فلسطین، انصاف، طاقت اور بین الاقوامی قانون کے بارے میں اس کے نظریات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ کچھ بڑی تبدیلیاں سیاست میں ظاہر ہونے سے پہلے ضمیر کے اندر جڑ پکڑتی ہیں، اور یہ کہ درد کے لمحے میں جو بیج بوئے جاتے ہیں، انھیں بونے والا شخص نہیں دیکھ پاتا، اس لیے اہل غزہ کی قربانیوں کو صرف ان کے فوری نتائج سے نہیں ناپا جانا چاہیے۔ کیونکہ بڑے واقعات کے اثرات ان کے اپنے لمحے سے کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں، اور ان لوگوں کی عمروں سے زیادہ طویل ہوتے ہیں جنھوں نے ان کی ابتدا دیکھی ہوتی ہے۔
میں نہیں چاہتا کہ آپ کی تسلی صرف تاریخ سے وابستہ ہو، کیونکہ تاریخ کبھی انصاف کرتی ہے اور کبھی ظلم پر اتر آتی ہے، اور انسان کبھی یاد رکھتے ہیں اور کبھی بھول جاتے ہیں، اور بین الاقوامی موقف مفادات کے بدلنے کے ساتھ بدل جاتے ہیں۔ ایک انسان اپنی زندگی میں اس کے اثرات دیکھ سکتا ہے اور کبھی یہ اس کی موت کے بعد سامنے آتے ہیں:
فَاِمَّا نَذْہَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْہُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ۴۱ۙ اَوْ نُرِيَنَّكَ الَّذِيْ وَعَدْنٰہُمْ فَاِنَّا عَلَيْہِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ۴۲ (الزخرف۴۳: ۴۱-۴۲) پھر اگر ہم آپ کو لے جائیں تب بھی ہم ان سے انتقام لینے والے ہیں، یا ہم آپ کو وہ دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے، تو یقیناً ہم ان پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔
رہی بات اللہ کے ترازو کی، تو وہ کبھی نہیں بدلتا، چنانچہ اگر آپ کے صبر کا اثر دنیا کے شعور اور تبدیلی میں نظر آ جائے، تو یہ وہ خیر ہے جس کی ہم امید اور قدر کرتے ہیں! لیکن اس اثر کے پیچھے اس سے بھی بڑا ایک اثر ہے جو کسی کے اعتراف پر رُک نہیں جاتا، اس کو نہ کسی ادارے کی ووٹنگ کی، اور نہ کسی مؤرخ کی گواہی کی ضرورت ہوتی ہے، جو کچھ اللہ نے آپ کے لیے بچا کر رکھا ہے وہ آپ کا اجر ہے۔ دنیا جس کا معاوضہ دینے سے عاجز رہی، اور تاریخ جس کا صلہ دینے کی استطاعت نہ رکھ سکی، اور جسے انسانوں نے سرے سے جانا ہی نہیں، وہ سب اس ذات کے ہاں محفوظ ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا:لَّا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسَى(طٰہٰ۲۰:۵۲)’’میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے‘‘۔
شاید مؤرخین ایک دن غزہ کے بارے میں ہزاروں صفحات لکھیں گے، کانفرنسیں منعقد ہوں گی، کتابیں اور مطالعے شائع ہوں گے، اور یونی ورسٹیاں اس واقعے کا سیاست، قانون، سماجیات اور نفسیات کے زاویوں سے جائزہ لیں گی! لیکن وہاں ایک اور تاریخ بھی ہے جسے مؤرخین لکھنے کی استطاعت نہیں رکھیں گے: آزمائش کی گھڑی میں دلوں کی دھڑکنیں۔ کوئی مؤرخ اس آنسو کی مقدار کو نہیں جان سکتا جو رات کی تاریکی میں کسی کی آنکھ سے ٹپکا اور پھر اس کے مالک نے اسے پونچھ کر کہا: ’الحمد للہ‘۔ اور نہ کوئی اس کش مکش کی مقدار کو جان سکتا ہے جو اس ماں کے دل میں برپا ہوئی جس نے اپنے جگر گوشے کو دفن کیا اور پھر اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دیے۔ اور نہ کوئی مؤرخ اس کیفیت کو لکھ سکتا ہے جو کچھ اس باپ کے دل پر گزرا جو اپنے بچوں کے پاس واپس لوٹا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ انھیں کیا کھلائے گا___ یہ وہ صفحات ہیں کیمرے جنھیں قید نہیں کر پاتے، اور نہ آرکائیوز انھیں محفوظ رکھ سکتی ہیں، لیکن یہ ایک ایسی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں جو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑتی ہے اور نہ بڑی کو مگر اسے شمار کر لیتی ہے۔
اسی معنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’مسلمان کو جو بھی تھکن، بیماری، فکر، غم، تکلیف اور رنج پہنچتا ہے، یہاں تک کہ جو کانٹا بھی اسے چبھتا ہے، اللہ اس کے بدلے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے‘‘۔ (متفق علیہ)
جب اللہ کسی مومن پر چبھنے والے کانٹے کا درد بھی ضائع نہیں کرتا، تو خوف، بھوک، نقل مکانی اور محرومی کے برسوں کو یونہی چھوڑ دے گا؟ ہم کسی خاص شخص کے بارے میں یہ گواہی نہیں دیتے کہ وہ اللہ کے ہاں کسی مخصوص مرتبے پر ہے، کیونکہ یہ علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے، لیکن ہم اللہ کے اس عام وعدے پر ایمان رکھتے ہیں جو کبھی نہیں بدلتا: کہ صبر ضائع نہیں ہوتا، صبر کرنے والے کا درد رائیگاں نہیں جاتا، اور یہ کہ قیامت کے دن جزا ہماری عقلوں کے تصور سے کہیں زیادہ وسیع ہوگی۔
ابن عطاء اللہ اسکندری نے کہا تھا: ’’آخرت کا گھر بندوں کی جزا کی جگہ اسی لیے بنا، کیونکہ یہ دنیا اس چیز کو سمونے کی وسعت نہیں رکھتی جو وہ انھیں دینا چاہتا ہے، اور اس لیے بھی کہ ان کی قدر اس سے کہیں اعلیٰ ہے کہ انھیں ایسے گھر میں جزا دی جائے جو فانی ہے‘‘۔
اسی لیے ہم غزہ کے ہر رنجیدہ دل سے کہتے ہیں: اگر تاریخ آپ کو وہ دینے سے عاجز ہے جس کے آپ حقدار ہیں، اور اگر تاریخ ہر ایک کے ساتھ اس کے نام، کہانی اور آنسوؤں کے ساتھ انصاف کرنے میں کوتاہ رہی ہے، تو اللہ بدلہ دینے والا کافی ہے، اور اللہ آپ کے پیش کردہ اعمال کو جاننے کے لیے بھی کافی ہے۔
اے غزہ کے ہمارے پیارو! یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ الفاظ کوئی گرا ہوا گھر دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں، یا کسی بچھڑے ہوئے پیارے کو واپس لا سکتے ہیں، یا کسی بچے کے ذہن سے خوف کی راتوں کی یادیں مٹا سکتے ہیں۔ اور ہمیں شرم آتی ہے کہ ہم حقوق کے بدلے صرف الفاظ پیش کریں، یا عمل کے بدلے محض تسلی دیں، یا فرض سے بچنے کے لیے صرف دعا کا سہارا لیں۔ لیکن سچے لفظ کا اپنا ایک مقام اور ذمہ داری ہے جس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا: وہ یہ کہ تھکے ہوئے انسان سے یہ کہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے، اور غمزدہ شخص کو یاد دلائے کہ اس کی مصیبت کا وقت معلوم ہے، اور جس کا سفر لمبا ہو گیا ہو اسے بتائے کہ یہ راستہ خبروں کے اعداد و شمار نہیں، اور اسے یاد دلائے کہ اللہ اس کے قریب بھی ہے اور دور بھی۔ وہ اسے دیکھتا ہے، سنتا ہے اور جو کچھ اس کے سینے میں ہے، وہ اسے جانتا ہے۔
اس لیے ہماری امید کسی ایسے سیاسی وعدے سے نہیں ہے جس کے ہم مالک نہیں ہیں، اور نہ کسی ایسے وقت سے ہے جسے ہم نہیں جانتے، بلکہ ہماری امید سب سے پہلے اس ذات سے ہے جس کے ہاتھ میں تمام معاملات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔(البقرہ۲:۱۵۳)
اور پاک ہے وہ ذات جس نے فرمایا:’’پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے‘‘۔ [الم نشرح۹۴:۵-۶]
اور یہ ’معیت‘ (ساتھ ہونا) محض درد کو سُن کرنے کے لیے کہی جانے والی بات نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جسے مومن اس وقت بھی اپنے اندر اٹھائے رکھتا ہے جب وہ اکیلا اس کا بوجھ اٹھانے سے عاجز ہو جاتا ہے۔ لہٰذا، جب اسباب معدوم ہو جاتے ہیں تو رب الاسباب باقی ہوتا ہے، اور جب لوگ بدل جاتے ہیں تو اللہ قائم رہتا ہے، اور حالات بدل سکتے ہیں لیکن اللہ کا وعدہ نہیں بدلتا اور نہ وہ پیچھے ہٹتا ہے۔ اور جب دنیا کے ترازو مکمل انصاف قائم کرنے سے عاجز آ جائیں، تو وہ کامل انصاف باقی رہتا ہے جس کا نام اس نے یَوْمُ الدِّیْن (جزاء و سزا کا دن) رکھا ہے، جہاں نہ کوئی حق ضائع ہوگا، نہ کوئی نیکی، اور نہ کوئی آنسو ہی رائیگاں جائے گا۔
اے اہل غزہ ! جب راستہ آپ کو تھکا دے تو یاد رکھیں کہ اللہ اس کے ہر قدم کو جانتا ہے۔ اور جب نقصان آپ کے دلوں کو بوجھل کر دے تو یاد رکھیں کہ یہ دنیا آخری ملاقات کی جگہ نہیں ہے۔ اور اگر لوگ آپ کو مایوس کریں تو ان کی یہ مایوسی آپ کو اللہ کی معیت (ساتھ) سے محروم نہ کرے۔ اور اگر آپ دیکھیں کہ آپ کی قربانیاں اس دنیا کے دیے جانے والے صلے سے کہیں بڑی ہیں تو غمگین نہ ہوں، کیونکہ آپ کا اجر دنیا کے رجسٹروں میں لکھا ہی نہیں گیا کہ وہ ضائع ہوجائے۔ بے شک وہ اللہ کے پاس ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہترین اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔
دنیا میں ’غزہ کی پائیداری اور ثابت قدمی‘ کے بارے میں بہت زیادہ بات چیت ہورہی ہے، اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو اپنے اندر تعریف اور تحسین کا جہان رکھتا ہے، لیکن مجھے ڈر ہے کہ اس کا زیادہ استعمال ایک اور بوجھ بن کر مصیبت زدہ لوگوں کے کندھوں پر نہ آجائے۔ گویا غزہ کے لوگوں سے ہمیشہ یہی مطالبہ کیا جاتا رہا کہ وہ مضبوط رہیں، اور یہ کہ وہ دنیا کو بہادری کا ایک ایسا نمونہ پیش کریں جس میں وہ خون بہنے کے باوجود مسکراتے رہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ غزہ کے لوگ سب سے پہلے انسان ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ انھیں ایک علامت (نشان) سمجھا جائے نہ کہ ایک ہیرو۔ ان کا یہ حق ہے کہ وہ تھکیں، غم زدہ ہوں اور ایک عام زندگی کی تمنا کریں۔ باپ کا حق ہے کہ وہ ایک ایسے محفوظ گھر کی آرزو رکھے جو کہ بہادری کا نہیں بلکہ امن کا گہوارہ ہو، اور ماں کا حق ہے کہ وہ ایک ایسی رات کی خواہش کرے جس میں وہ اپنے بچوں کے بارے میں مطمئن ہو کر سو سکے۔ بچے کا حق ہے کہ وہ ایک اسکول، کتاب، کھلونا اور کھیل چاہے، نہ کہ خیمہ اور ملبہ۔ مریض کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے علاج کا سفر کسی دوسری جنگ میں تبدیل ہوئے بغیر اپنی دوا پا سکے۔ یہ چھوٹی چھوٹی خواہشات صبر و ثبات اور جوانمردی و پامردی کی ضد نہیں ہیں، بلکہ یہی وہ اصل مقصد ہے جس کے لیے عزت نفس قائم رہتی ہے، تعمیر و ترقی ہوتی ہے اور زندگی محفوظ رہتی ہے۔
اسی وجہ سے غزہ کے لوگوں کے ساتھ سچی وفاداری صرف ان کی پامردی پر صرف تعریف کے گیت گانے سے نہیں ہوگی، بلکہ اس بات کی کوشش کرنے سے ہوگی کہ وہ اس شکل میں ہمیشہ کے لیے ثابت قدم رہنے پر مجبور نہ ہوں۔ شریعت کے مقاصد صرف انسان کو موت سے بچانے پر نہیں رک جاتے، بلکہ اس کی زندگی، عزت، عقل، خاندان، مال، امن اور اس کی عبادت، علم، کام اور تعمیر و ترقی کی صلاحیت کو محفوظ بنانے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ غزہ کے لوگوں کے بارے میں دنیا کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ ان کے بچوں سے بھوک اور خوف کو برداشت کرنے کی مزید صلاحیت کا مطالبہ کرے، اور نہ یہ کہ ان کی ماؤں سے امید رکھے کہ وہ اپنے پیاروں کو کھونے کی مزید عادی ہو جائیں۔ بلکہ دنیا کا فرض یہ ہے کہ وہ بھوک اور خوف کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے، اور انسان کو ایک باوقار اور معمول کی زندگی گزارنے کا حق اسے واپس دلائے۔ غزہ کے لوگوں کی ثابت قدمی کا سب سے سچا احترام یہ ہے کہ ہم آج اس طرح کام کریں کہ اہل کو اس افسانوی حد تک مزید پامردی دکھانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔
اے امتِ اسلام! اگر ہماری گفتگو کا رخ اہل غزہ کے لیے ہمدردی، داد اور ان کی قربانیوں کے اعتراف کا تقاضا کرتا ہے، تو امت سے ذمہ داری اور احتساب کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ اہل غزہ کا حد سے زیادہ بوجھ اٹھانا دوسروں کی کوتاہیوں، بلکہ غیر ذمہ داریوں کا عذر نہیں بن سکتا۔ یہ سب سے بُری بات ہے کہ ہم ان کے صبر کی اس طرح تعریف کریں کہ اسے اپنی کوتاہ عملی کی ڈھال بنا لیں، یا جب بھی ان پر مصیبت بڑھے تو ہم ان سے مزید ثابت قدمی کا مطالبہ کرنے لگیں، اور ان کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کی حد کو مزید کم کر لیں۔ غزہ کا صبر امت کے لیے ذمہ داری سے چھٹکارا نہیں بن سکتا، بلکہ اس ذمہ داری کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ مصیبت زدہ لوگوں پر جتنا بوجھ بڑھتا ہے، قادرِ مطلق اللہ کی طرف سے ہم پر یہ سوال اتنا ہی گہرا ہوتا جاتا ہے: ’’تم نے اس کے لیے کیا کیا جو تم کر سکتے تھے؟‘‘
اور شریعت کسی بھی شخص سے اس کی استطاعت سے زیادہ کا مطالبہ نہیں کرتی، لیکن یہ اسے اس کام سے بھی بری نہیں کرتی جو اس کے بس میں ہو۔ میڈیا اور دنیا والوں کی ذمہ داری حق کا بیان کرنا ہے، دولت مند کی ذمہ داری مال خرچ کرنا ہے، ڈاکٹر کی ذمہ داری امداد اور علاج کرنا ہے، انسانی ہمدردی کے اداروں کی ذمہ داری کفالت اور رہائش فراہم کرنا ہے، میڈیا کے نمائندوں کی ذمہ داری سچائی کو بھلا دیے جانے سے بچانا ہے، اور قانون دانوں کی ذمہ داری خلاف ورزیوں پر احتساب کے لیے قانونی ذرائع استعمال کرنا ہے۔ اسی طرح اساتذہ اور ادیبوں کا کام نسلوں کے شعور میں فلسطین کو زندہ رکھنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’مومنوں کی مثال ان کی باہمی محبت، رحم دلی اور ہمدردی میں ایک جسم کی طرح ہے، جب جسم کا کوئی ایک عضو تکلیف میں ہوتا ہے، تو پورا جسم بیداری اور بخار کے ذریعے،مدد کے لیے پکار اٹھتا ہے‘‘(مسلم)۔ لفظ تداع (ایک دوسرے کو پکارنا/ساتھ دینا) میں بلا کی فصاحت اور گہرائی ہے جو غور و فکر کی حقدار ہے! کیونکہ جسم صرف اس بات پر اکتفا نہیں کرتا کہ اسے اپنے کسی عضو کی تکلیف کا علم ہو جائے، بلکہ وہ اس کے لیے تڑپ اٹھتا ہے اور پورا جسم اس کا جواب دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح، بھائی چارے کا مطلب صرف ایک احساس نہیں ہونا چاہیے جو دل میں رہے، بلکہ اسے عمل کے اظہار میں تبدیل ہونا چاہیے، اور رحمت کو ایک ذمہ داری بننا چاہیے۔ [ ترجمہ: ڈاکٹر ارشاد الرحمٰن]
_______________
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے تین سال مکمل ہونے پر ’الجزیرہ‘ کے مطابق، کم از کم ۷۴ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، یعنی ہر ۳۰ میں سے ایک فلسطینی شہید ہوچکا ہے، جب کہ وہ ہزاروں افراد اس تعداد میں شامل نہیں جو اب بھی ملبے تلے دبے یا لاپتا ہیں۔ اسی طرح ہر۱۳میں ایک زخمی ہے جن کی بڑی تعداد زندگی بھر کی معذوری کا شکار اور دوسروں کی محتاج ہے۔
اس ہفتے بھی غزہ پر بمباری، ڈرون حملے، ٹینکوں سے گولہ باری اور نشانچیوں کی فائرنگ جاری رہی۔ جامع مسجد رفح کے قریب حملے میں دو افراد جاں بحق ہوئے۔ ۱۷؍ اکتوبر کو وسطی غزہ میں ۱۴ سالہ محمد ابو حماد ڈرون حملے میں شہید ہو گیا۔ دوسرے روز المغزی میں سات سالہ لڑکی مسک الدالو کو اسرائیلی فوج نے گولی ماردی۔ کچھ ہی دیر بعد بیت لاہیہ میں ایک بچہ تعمر صبوح ان درندوں کا نشانہ بن گیا۔ دونوں بچوں پر بہت قریب سے گولی چلائی گئی۔ محلے تفح اور خان یونس پر حملوں میں بھی متعدد افراد شہید ہوگئے۔ خان یونس کی ڈھائی سالہ مریم کی داستان اس انسانی المیے کی ایک اور تصویر ہے۔ اس کے خیمے پر حملے میں مریم کی والدہ زندہ جل گئیں۔ اس کا باپ کچھ عرصہ پہلے ایسے ہی ایک حملے میں جل کر دم توڑ چکا ہے اور جھلسی بچّی اب بے سہارا ہے۔
جنوبی نابلس کے علاقے تلفیت میں اسرائیلی آبادکاروں نے ایک گھر پر حملہ کرکے خاتونِ خانہ اور اس کی ۱۴ اور ۱۸سالہ بیٹیوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر لڑکیوں کے والد کا ہاتھ توڑ دیا گیا۔ رملہ کے گاؤں راس کرکر میں آبادکاروں کی مزاحمت کرنے والے فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے زخمی کر دیا۔ جنوبی الخلیل کے گاؤں سموع، مسافر یطّا اور رملہ کے قصبے برزیت میں بھی زیتون توڑنے والوں پر حملے ہوئے۔ کھڑی فصلوں کو آگ لگائی گئی اور گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں۔
ہیدی کے بیٹے مائیکل ملنر کے مطابق: ’’میری والدہ جسمانی تکلیف کے ساتھ شدید ذہنی صدمے سے بھی دوچار ہیں، اخبار نے ہیدی پر حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ہیدی پر حملے کی خبر کو ’مشکوک‘ قرار دیا ہے۔ وہ غزہ میں مارے جانے والے ہر صحافی کو حماس کا کارکن قرار دے کر تحقیقات سے انکار کر چکے ہیں۔ یاد رہے ہیدی لیوائن کوئی نوآموز صحافی نہیں، وہ چار عشروں سے جنگی علاقوں میں رپورٹنگ اور عکاسی کرتی رہی ہیں۔ انھوں نے افغانستان، شام، یوکرین اور روس سمیت مختلف جنگ زدہ علاقوں میں کام کیا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی عکاسی بھی کی۔ کئی جگہ ہیدی کو ناخوشگوار حالات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اسرائیل میں وہ ہجومی تشدد (Lynching) کا نشانہ بنیں۔ گویا اسرائیل، صحافیوں کے لیے ایران، شام اور افغانستان جیسے جنگ زدہ ممالک سے بھی زیادہ خطرناک جگہ بن چکا ہے۔
اس سے اگلے ہی روز تشدد کی زد میں سفارت کار بھی آگئے۔ فرانس، بیلجیم اور پولینڈ کے سفارت کار جب زیتون کی کٹائی کا منظر دیکھنے طیبہ پہنچے تو ان کی گاڑیوں پر شدید پتھراؤ کیا گیا۔ یوں یہ معاملہ محض فلسطینی کسانوں یا صحافیوں کی سلامتی تک محدود نہ رہا، بلکہ یورپی سفارت کار بھی اس تشدد سے محفوظ نہ رہے۔
اپنے اس خودساختہ دعوے کے مطابق بھی کیا کسی قوم کا سرزمین سے تاریخی اور مذہبی تعلق تسلیم کرلینے کا مطلب یہ ہے کہ وہاں صدیوں سے آباد لوگوں کے حقوق، ملکیت اور بے دخلی کے مسئلے کو نظر انداز کر دیا جائے؟ تاریخی وابستگی اور موجودہ باشندوں کے حقوق دو الگ سوال ہیں۔ اگر تاریخی روایتوں کا ذکر ہو رہا ہو تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسٰی کا ارضِ فلسطین میں داخل ہونے کا حکم نظر انداز کر دیا تھا (دیکھیے: سورۂ مائدہ)۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جب خود ہی وہاں جانے سے انکار کر دیا تو پھر دھونس، دھاندلی پر مبنی حق جتانا کیسا؟
اس واقعے کا ایک اہم سیاسی پہلو بھی ہے۔ امریکی سیاست میں اسرائیل کے قیام، فلسطینیوں کی بے دخلی اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید شجرِ ممنوعہ سمجھی جاتی ہے، لیکن اب سابق امریکی صدر کی زبان سے بین الاقوامی اجتماع میں اس طرح کی دو ٹوک بات امریکی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی ہے۔ تاہم، اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ امریکی پالیسی بھی لازماً اسی رفتار سے تبدیل ہو جائے گی۔
غزہ کے ملبے تلے دبے انسان، غربِ اُردن میں اپنی فصل بچانے والے کسان، حملے کا نشانہ بننے والی صحافی اور ہسپتال میں آکسیجن کے لیے ترستی بچّی___ کیا تاریخ، مذہب یا طاقت کے دعوے انسان کے بنیادی حقوق سے زیادہ اہم ہوسکتے ہیں؟ تاریخی روایات پر اختلاف ہوسکتا ہے، سیاسی موقف مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن انصاف کا بنیادی تقاضا کسی صورت میں نہیں بدلتا۔ کسی قوم کی شناخت اور تاریخی وابستگی کا احترام اسی وقت بامعنی ہے جب دوسری قوم کے حقِ زندگی، آزادی، ملکیت اور وقار کو بھی تسلیم کیا جائے۔ فلسطین میں پائیدار امن کا راستہ، طاقت کے یک طرفہ استعمال سے نہیں، بلکہ حقوق کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور جواب دہی سے ہو کر ہی گزرتا ہے۔
_______________