بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی شریعت محض ایک دینی دعوت ہے، جس کا موضوع اخلاق ہے اور اس کی غایت یہ ہے کہ انسان کے تعلق کو اس کے ربّ کے ساتھ استوار کیا جائے اور بس۔ اس کے علاوہ اسے کسی چیز سے یا حیاتِ انسانی سے، جس کا ایک پہلو مملکت اور حکومت بھی ہے، کوئی غرض نہیں۔ مگر اسلامی شریعت کے متعلق یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ وہ اسے تسلیم نہیں کرتی، اور نہ اس قسم کے کسی تصور کے لیے اس کے اندر کوئی گنجائش ہے۔
مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ (الانعام ۶:۳۸) ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔
اسلامی شریعت کی اس وسعت و ہمہ گیری کی موجودگی میں ناممکن تھا کہ یہ مملکت اور حکومت کے بارے میں خاموش رہتی۔ حکومت اور نظامِ حکومت کے بارے میں کسی طرح کی کوئی رہنمائی نہ دیتی۔ اسلامی شریعت میں شورائیت کے اصول، حکام کی ذمہ داری، نیکی کے کاموں (معروف) میں ان کی اطاعت، صلح و جنگ اور بین الاقوامی معاہدات اور اسی طرح حکومت کے بہت سے دوسرے اعمال کے متعلق جو اصول اور قوانین ملتے ہیں، وہ یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ اسلامی شریعت ان سب کی جامع ہے۔
احادیث ِ نبویؐ میں ہمیں ’امیر‘، ’امام‘ اور ’سلطان‘ وغیرہ کلمات عام ملتے ہیں۔ یہ سب الفاظ اس مرکز ِ اختیارات کے لیے آتے ہیں، جو فرماں روائی اور غلبے کی صفات سے متصف ہو، یعنی اس سے مراد حکومت ہے اور ظاہر ہے کہ حکومت، مملکت کے اجزائے ترکیبی میں سے ایک بڑا جزو ہے۔ ہم نے اُوپر قرآن و حدیث کے جن احکام کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ ہم سب کے لیے واجب تعمیل ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو ان کے مطابق ڈھالیں۔ کیونکہ خدا نے اپنے رسولؐ پر وحی کے ذریعے احکام اس لیے نہیں بھیجے کہ ان کی محض تلاوت کرلی جائے۔ وحی الٰہی کا منشاء یہ ہے کہ اسے سمجھ کر پڑھا جائے اور اُسے عملی زندگی میں جاری و ساری کیا جائے، اور یہ کام اسی طرح ممکن ہے کہ شریعت کی رہنمائی میں اس کی مطلوبہ ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔
انسانوں کے معاملات کی تنظیم، دین کے سب سے بڑے واجبات میں سے ہے، بلکہ خوددین کا قیام بھی اسی طرح ممکن ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور مظلوم کی امداد کا جو حکم دیا ہے، اور وہ تمام احکام جو جہاد، عدل اور حدوداللہ کے قیام سے متعلق ہیں، ان پر قوت اور امارت کے بغیر عمل کرنا ممکن نہیں ہے(امام ابن تیمیہ،السیاسۃ الشرعیہ، ص ۱۷۲-۱۷۳)۔[یعنی شریعت کے احکام کے نفاذ کے لیے اسلامی ریاست کا قیام ضروری ہے]۔
l اسلامی ریاست __ بندگیٔ ربّ کا تقاضا: اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۵۶ (الذاریات ۵۱:۵۶) ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے‘‘۔ اس آیت میں ’عبادت‘ کا لفظ بہت جامع مفہوم کا حامل ہے اور اس میں انسان کے وہ تمام ظاہری و باطنی اقوال اور افعال شامل ہیں ، جو خدا کے ہاں مقبول و محبوب ہیں۔(امام ابن تیمیہ، فتاویٰ ابن تیمیہ، ج۱،ص ۳۰۴ )
’عبادت‘ کے اس وسیع مفہوم کی روشنی میں انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی، اپنے اقوال و افعال، اختیارات اور انسانی تعلقات کو اسلامی شریعت کی منشاء کے مطابق بنائے۔ مگر ایسا کرنا کسی فردِ واحد کے دائرئہ قدرت سے باہر ہے۔ وہ اگر چاہے تب بھی انفرادی طور پر شریعت کا یہ منشا پورا نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے ایک منظم معاشرے کا ہونا ضروری ہے، جواسلامی رنگ میں رنگا ہو، اور جس کے اندر رہ کر انسان کے لیے اپنی زندگی کو اسلامی شریعت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا آسان ہو۔ کیونکہ انسان میل جول کی مخلوق ہے، اور وہ اپنے ماحول سے لازماً متاثر ہوتا ہے۔ ماحول کے اس خارجی تاثر کے نتیجے میں وہ نیکی اور خیر کو بھی اختیار کرسکتا ہے، اور گمراہی اور شر کی پگڈنڈیوں میں بھی گم ہوسکتا ہے۔ اس بات کی تائید اس حدیث نبویؐ سے بھی ہوتی ہے جس میں بتایا گیا ہے:’’ہرپیدا ہونے والا بچہ نیکی کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس کے ماں باپ اسے یہودی بنادیتے ہیں یا نصرانی اور مجوسی۔ اس کی مثال ویسی ہی ہے جیسے کہ مویشی جو بچہ دیتے ہیں۔ وہ صحیح سالم ہوتا ہے۔ ان میں کوئی نکٹا یا کن کٹا نہیں ملتا۔ پھر تم لوگ ان کے ناک کان کاٹ دیتے ہو‘‘۔(صحیح البخاری : ۱۳۸۵، صحیح مسلم: ۲۶۵۸)
بچّے کے لیے پہلا چھوٹا سا معاشرہ اس کے والدین ہوتے ہیں ،جو اگر خود گم کردہ راہ ہوں تو اس بچّے کو بھی گمراہی اور ضلالت کے اندھیروں میں بھٹکا دیتے ہیں، اور اُسے اس کی فطری روش سے منحرف کردیتے ہیں، جس کا شعور وہ خدا کے ہاں سے لے کر آتاہے۔ لیکن اگر دوسری صورت ہو اور اس کے والدین صالح اور نیک ہوں تو بچہ اپنی اصل فطرت کے مطابق پھلتا پھولتا ہے اور خیر اور نیکی کی منازل طے کرتا جاتا ہے۔ قرآن کریم اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ بگڑے ہوئے معاشرے میں اسلام کے احکام بجالانا اور اسلام کے مطابق زندگی گزارنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ چنانچہ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ایسے معاشرے کو چھوڑ کر ہجرت کرجائے:
اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِہِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ۰ۭ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْاَرْضِ۰ۭ قَالُوْٓا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللہِ وَاسِعَۃً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا۰ۭ فَاُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَہَنَّمُ۰ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۹۷ (النساء۴:۹۷) جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزورو مجبور تھے۔ فرشتوں نے کہا: کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنّم ہے اور وہ بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے۔
اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ابن کثیرؒ لکھتے ہیں: ’’یہ عمومی آیت ان تمام لوگوں کے بارے میں ہے جو ہجرت کرجانے کی قدرت رکھنے کے باوجود مشرکین کے درمیان قیام پذیر رہے، حالانکہ وہ وہاں دین کی اقامت سے عاجز تھے۔ ایسے سب لوگ اپنے نفوس پر ظلم ڈھاتے رہے، اور اس بات پر اجماع ہے کہ انھوں نے حرام کا ارتکاب کیا۔ (تفسیر ابن کثیر، ج۱، ص۵۴۲)
اس سے ظاہر ہے کہ اگر بنیادی طور پر معاشرہ اسلامی نہ ہو، جس میں افرادکے لیے اسلامی طرزِ زندگی کو اپنانا آسان اور ممکن ہو اور مختلف عبادات کی صورت میں اُن کی تکمیلِ ذات کے لیے ایک صالح ماحول موجود ہو، تو نہ انسان اسلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی بسر کرسکتا ہے اور نہ شریعت کے وضع کردہ اصولوں کی روشنی میں دوسرے انسانوں سے اپنے تعلقات قائم رکھ سکتا ہے۔
اس قسم کے اسلامی معاشرے کو محض وعظ و تلقین سے وجود میں نہیں لایا جاسکتا۔ اس کا قیام ایک ریاست کے ذریعے ہی ممکن ہے، جو کسی معاشرے کو جس رنگ میں چاہے ڈھالنے کی قدرت رکھتی ہے اور پھر اس کی سلامتی اور تحفظ کی ضامن بنتی ہے۔ یہ کام ریاست اور صرف ریاست ہی کرسکتی ہے، مقتدر اور باقوت ریاست۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۰ۚ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْہِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللہُ مَنْ يَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَہٗ بِالْغَيْبِ۰ۭ (الحدید ۵۷:۲۵) ہم نے اپنے پیغمبروںؑ کو کھلے کھلے احکام دے کر بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو اُتارا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔ اور ہم نے لوہے کوپیدا کیا جس میں شدید ہیبت ہے اور لوگوں کے فائدے ہیں، تاکہ اللہ جان لے کہ بے دیکھے اس کی اور اس کے رسولوںؑ کی کون مدد کرتا ہے۔
جن لوگوں کو کتاب کی ہدایت سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، انھیں ’لوہا‘ ___ یعنی سیاسی قوت خرابی پیدا کرنے اور گمراہی پھیلانے سے باز رکھتی ہے۔کیونکہ کسی شخص کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ کشتی میں چھید کر کے اس میں سوار سب لوگوں کو تباہی کے حوالے کردے۔ معاشرے کو تخریب اور انحراف کی تباہ کاریوں سے تحفظ دینے والی فعال قوت صرف ریاست کی قوت ہے۔ حضرت عثمانؓ کا قول ہے: ’’اللہ تعالیٰ جن باتوں کا سدباب قرآن سے نہیں کرتا ان کا انسداد وہ قوت سے کرتا ہے‘‘۔(البدایۃ والنہایۃ ، ابن کثیر، مصنف ابن ابی شیبہ، سنن الکبریٰ للبیہقی)
اس کے بعد وفد کے اراکین میں سے بعض حضرات نے اظہارِ خیال کیا اور ایک بات یہ فرمائی کہ’’اے اللہ کے رسولؐ، ہم آپؐ سے کن باتوں کی بیعت کریں؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اچھے اور بُرے ہرحال میں تم میری بات سنو گے اور اطاعت کرو گے اور نیکی کا حکم دو گے اور بُرائی سے روکو گے۔ اللہ کے مقابلے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کرو گے، اور اس بات پر کہ تم میری مدد کرو گے، اور جب میں تمھارے پاس چلا جائوں تو تم میری حفاظت اُسی طرح کرو گے جس طرح تم اپنی جانوں کی اور بیوی بچوں کی حفاظت کرتے ہو۔ اس کے بدلے میں تمھیں جنّت ملے گی‘‘۔ اس پر وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور جو باتیں آپؐ نے بتائی تھیں ان سب پر آپؐ سے بیعت کرلی۔(البدایۃ والنہایۃ، امام ابن کثیر، ج۱، ص۱۵۹)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ کے مسلمانوں کی یہ بیعت اوّلین اسلامی ریاست کے قیام کی تمہید تھی اور اس بات کا واضح اعلان تھا کہ ان مسلمانوں نے جس ریاست کے قیام کا وعدہ کیا ہے، اس میں بالادستی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوگی اور وہ سب ان کی اطاعت کے پابند ہوں گے۔ سمع و اطاعت کا عہد کرکے انھوں نے یہ اقرار کیا کہ نئی ریاست کے معاملات کے چلانے میں وہ رسولؐ کی مرضی پر چلیں گے، اور اگر اس نئے معاشرے، یعنی ریاست کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو اس کا دفاع کریں گے اور اگر اس ’نظامِ نو‘ بالفاظِ دیگر ’قانونِ اسلامی‘ کی بالادستی کو چیلنج کیا گیا، تو اس کی حفاظت کے لیے لڑیں گے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعلی الامر بالمعروف والنھی عن المنکر پر بیعت کا مفہوم یہی ہے۔
اس اسلامی ریاست کے پہلے سربراہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود تھے اور یہودیوں سے آپ نے جو معاہدہ کیا، اس میں آپؐ کی یہی سیاسی حیثیت کارفرما تھی، جو مدینے کی نئی اسلامی ریاست کے سربراہ کے طور پر آپ کو حاصل تھی۔ اس کے بعد آپؐ نے مہاجرین اور انصار کے مابین اخوت کا رشتہ استوار کیا، جس کے نتیجے میں وہ ایک دوسرے کی مال و جائیداد کے وارث قرار پائے، یہاں تک کہ شریعت کے قانونِ وراثت نے اس کو منسوخ کر دیا۔ (البدایہ والنہایہ، ابن کثیر،ج۳،ص ۲۲۴)
’ریاست‘ کی اس تعریف کی روشنی میں جب ہم مدینہ کی اسلامی ریاست پر نظر ڈالتے ہیں ، تو اس میں ہمیں یہ سب عناصر مل جاتے ہیں۔ وہاں انسانوں کا ایک اجتماع موجود تھا، جو اوّلین مہاجرین و انصار کے اشتراک سے وجود میں آیا تھا۔ پھر اسلامی شریعت کی صورت میں وہ نظامِ غالب بھی موجود تھا، جو اس اجتماع کے اصول و قواعد کے بارے میں رہنمائی دیتا تھا، اور مدینہ منورہ وہ خطّۂ زمین تھا جسے یہ شرف حاصل ہوا کہ وہاں پر اوّلین اسلامی ریاست قائم ہو۔ رسولؐ اللہ نے خود اس اسلامی ریاست کے سربراہ کی حیثیت میں ریاست کے تمام معاملات اور مصالح کی نگرانی و رہنمائی کی___ سربراہِ مملکت کی حیثیت سے آنحضورؐ نے جو متعدد معاہدات کیے، اس میں آپؐ محض اپنی شخصی حیثیت میں ایک فریق نہیں تھے، بلکہ بحیثیت مجموعی پوری ریاست کی شخصیت (معنوی) کی علامت تھے۔ اسی لیے آپؐ کے کیے ہوئے معاہدوں کی پابندی اسلامی ریاست پر واجب ٹھیری۔
فقہاء کے نزدیک آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ان مختلف حیثیات کا اجتماع ایک متفق علیہ مسئلہ ہے۔ چنانچہ ان فقہاء نے آپ کی ان مختلف حیثیتوں کے پیش نظر آپؐ کے احکام و فرامین میں فرق کو جس طرح بیان کیا ہے، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیثیت نبیؑ کے آپؐ نے احکام و فرامین میں فرق کو جس طرح بیان کیا ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیثیت نبیؐ کے آپؐ نے انسانوں کو جو باتیں بتائی ہیں، ان کی پابندی سب پر لازم ہے، مگر اسلامی ریاست کے سربراہ کی حیثیت میں آپؐ نے وقتاً فوقتاً جو احکام جاری فرمائے ہیں، ان پر عمل درآمد موجودالوقت اسلامی ریاست کے سربراہ کی اجازت سے مشروط ہے۔
اسی طرح قاضی کی حیثیت سے آپؐ نے مختلف اوقات میں جو مختلف فیصلے دیئے، اُن پر وقت کی اسلامی عدالت کی اجازت سے عمل ہوگا۔ اسلامی احکام کی یہ مختلف حیثیات ہی فقہاء میں اجتہادی اختلافات کا سبب بنی ہیں کہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم نبیؑ کی حیثیت سے دیا ہے یا محض قاضی اور اسلامی ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے کوئی فیصلہ صادر کیا ہے؟‘‘ فقہاء نے اس سوال کے مختلف جوابات دیئے ہیں۔ اسی لیے ان کے استنباط کے نتائج بھی مختلف نظر آتے ہیں۔
مثال کے طور پر بنجر زمین کو آباد کرکے اس کی ملکیت کا سوال ہے۔ اس کے متعلق سبھی اپنے استدلال کی بنیاد اس حدیث پر رکھتے ہیں:مَنْ اَحْیَا اَرضًا متیۃً فَھِیَ لَہٗ (سنن ابی داؤد:۳۰۷۳) ’’جس کسی نے کوئی بنجر زمین آباد کی وہ اسی کی ہے‘‘۔لیکن اس کے باوجود ان کے استنباطی نتائج مختلف ہیں۔ بعض کا خیال ہے: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ایک فتوے اور عام حکم کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی رُو سے ہر اس شخص کو جو کسی بنجر زمین کو آباد کرے اس پر قبضہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے، خواہ امامِ وقت یعنی رئیس مملکت اسے ایسا کرنے کی اجازت دے یا نہ دے‘‘۔ یہ امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کا قول ہے۔
بعض دوسرے فقہاء کے نزدیک: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیغمبرانہ حیثیت میں نہیں بلکہ اسلامی ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے بنجر زمینیں آباد کرنے والوں کو ان پر قبضے کی اجازت دی تھی۔ اس لیے اب کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اسلامی حکومت کی اجازت کے بغیر کسی ویران زمین کو آباد کرکے اس پر قبضہ جمالے‘‘۔ یہ امام ابوحنیفہؒ کا مسلک ہے۔
اسی طرح آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور قول ہے جس میں آپؐ نے ابوسفیان کی بیوی سے کہا: ’’اپنی اور اپنے بیٹے کی ضروریات کے لیے [ابوسفیان کے مال سے] معروف طریقے کے مطابق لے لو‘‘ (بخاری ، مسلم ، نسائی ، ابی داؤد)۔ بعض فقہاء اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عمومی حکم قرار دیتے ہیں جس میں آپؐ نے ہرشخص کو گویا یہ حق عطا فرما دیا ہے کہ اسے جب موقع ملے تو دوسروں کے اموال میں سے اپنا حق وصول کرلے خواہ اصل مالکوں کو اس کا علم ہو یا نہ ہو۔ امام شافعیؒ کا مذہب یہی ہے، مگر دوسرے فقہاء کو اس سے اختلاف ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ ایک قاضی کی حیثیت سے دیا تھا۔ اس لیے اب حکومت کے مقرر کردہ قاضی کے فیصلے کے بغیر خود ہی لوگوں کے مالوں میں سے اپنا حق وصول کرنا جائز نہیں ہے۔(الفروق للقرافی، ج۱،ص ۲۷-۲۸)
مثال کے طور پر ایک تعریف یہ کی گئی ہے کہ:’’دارالاسلام اس مقام کا نام ہے جہاں مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہو‘‘۔(شرح السیر الکبیر، سرخسی، جلداوّل،ص ۸۱)
اس تعریف میں اقتدار اور رقبہ کے اجزاء نمایاں ہیں، اور ریاست کے باقی عناصر___ جیسے آبادی اور نظامِ حکومت، ان کے اندر مضمر ہیں، کیونکہ ظاہر ہے جہاں مسلمان آباد ہوں گے وہ لامحالہ اسلامی قانون پر ہی عمل پیرا ہوں گے۔ بعض فقہاء کے نزدیک ’دارالاسلام‘ سے وہ علاقہ مراد ہے، جہاں مسلمانوں کی قوت اور اقتدار کے نتیجے میں اسلامی شعار نمایاں ہوں (شرح الازہار، ، ج۵،ص ۵۷۲)۔اس تعریف میں ریاست کے نظامِ حکومت اور اقتدار پر زور ہے اور آبادی اور رقبہ جیسے ریاست کے دوسرے اجزاء کو مبہم چھوڑ دیا گیا ہے۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اسلامی ریاست کے ضمن میں جب آبادی کا ذکر آتا ہے تو اس سے محض مسلمان آبادی مراد نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اندر غیرمسلم آبادی بھی شامل ہوتی ہے۔ اس کی تصریح میں فقہاء کا یہ قول موجود ہے: ’’ذمّی (غیرمسلم آبادی) بھی ’دارالاسلام‘ کی آبادی میں شمار ہوتی ہے‘‘۔(بدائع الصنائع ،اَز کاسانی، ج۵، ص۲۸۱، المبسوط، سرخسی ، ج۱،ص۸۱، المغنی، ج۵،ص ۵۱۶)
یہی نہیں بلکہ ’دارالاسلام‘ کے قیام کے لیے آبادی کا مسلمان ہونا سرے سے ضروری ہی نہیں ہے۔ اس کے لیے اس کے حاکم کا مسلمان ہونا اور اس کا اسلامی نظام پر عامل ہونا کافی ہے۔ چنانچہ امام الرافعی کا قول ہے: ’’دارالاسلام کے لیے اس میں مسلمانوں کا ہونا کوئی شرط نہیں، بلکہ اس کے وجود میں آنے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ اس کی زمامِ اختیار ایک امام اور اسلام کے ہاتھ میں ہو‘‘۔ (فتح العزیز، جلد۸،ص ۱۵)
اسلامی ریاست کا یہی وہ مزاج ہے جو اسے ایک عالمی ریاست بناتا ہے، جس میں مختلف نسلوں اور قوموں کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ ان میں سے جو چاہے وہ کسی وقت بھی اس ریاست کے اساسی نظریے یعنی اسلام کو قبول کرکے اس کے عقیدے اور نظام کے محافظوں کی صف میں شامل ہوسکتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے وہ ایسا کرنے پر تیار نہ ہو تو بھی وہ اسلامی ریاست کے قانون کے تحت آرام سے زندگی گزار سکتا ہے۔ ریاست اس کے مذہب اور عقیدے کی آزادی میں کسی طرح کی کوئی مداخلت نہیں کرتی۔
جہاں تک اس اسلامی ریاست کے مقاصد کا تعلق ہے، وہ اس کے بنیادی مزاج کا منطقی نتیجہ ہیں۔ نظریۂ اسلامی کی اساس پر اس کے قیام کا تقاضا ہے کہ اس کے مقاصد خود اسلام کے مقاصد کا عکس ہوں۔ اس کا مقصد صرف قیامِ امن اور افرادِ انسانی کے لیے فلاح و اطمینان کا حصول ہی نہیں ہے۔ یہ ان کی جان کی حفاظت اور انھیں ظلم و زیادتی سے بچانے کو ہی کافی نہیں سمجھتی، بلکہ ریاست کے تمام اعمال و دوائر میں اسلامی احکام کی تنفیذ اور دُنیا بھر میں دعوتِ اسلامی کی تبلیغ بھی لازمی خیال کرتی ہے، اور ایسا کرنا اس کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ اس کا فرض ہے کہ لوگوں کو اسلامی عبادت اور اسلام کے سکھائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل بنائے اور اس سلسلے میں ان کی راہ میں جو مشکلات حائل ہوں اُنھیں دُور کرے۔ اور اگر افکار و نظریات اور معاشرتی اور اقتصادی نظام میں کوئی خلافِ اسلام چیز پائی جائے تو اُسے ختم کرے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۰ۭ وَلِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ۴۱ (الحج۲۲:۴۱) یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اس آیت میں ’اقامت ِ صلوٰۃ‘ کا ذکر ریاست کے اس فرض کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ لوگوں کو خدا کی عبادت کے قابل بنانا ریاست کا فرض ہے۔ اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر، یعنی نیکی کا حکم اور بدی سے روکنے کی ہدایت اشارہ کر رہی ہے کہ لوگوں کو اسلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی بسر کرنے کی سہولتیں فراہم کرنا، اور اپنے زیراثر تمام شعبوں میں اسلامی احکام کو نافذ کرنا بھی اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
یہ ہیں ایک اسلامی ریاست کے مقاصد۔ ان کا بنیادی ہدف اللہ تعالیٰ کے قانون کی روشنی میں فرد اور معاشرے دونوں کی بہتری اور فلاح ہے۔ فرد کی دُنیاوی اور اُخروی فلاح بھی ریاست کی اسی ذمہ داری کا ایک حصہ ہے۔
_______________