معاصر اسلامی تحریکوں اور اصلاحی کاموں کی جدوجہد پر غور کرنے سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ دشمنوں کی سختی سے اتنی بڑی آزمائش نہیں آتی جتنی اندرونی مایوسی، بے وفائی اور صفوں کے اندر نفسیاتی بیماریوں کے سرایت کر جانے سے آتی ہے۔ جب لوگ، دشمن کے لشکروں سے زیادہ ’آپس کے اختلافات اور اندرونی مسائل‘ میں اُلجھ جاتے ہیں تو معاملات خراب ہوجاتے ہیں، لیکن حقیقی تباہی تو تب شروع ہوتی ہے جب دل اخلاص اور للہیت سے خالی ہو جاتے ہیں، اور مقاصد کی سربلندی کے بجائے ذاتی مفاد پرستی غالب آجاتی ہے۔ کوئی بھی قوم اچانک نہیں گرتی اور نہ کوئی دعوتی جد و جہد یکایک ختم ہوتی ہے، بلکہ اس سے پہلے ہمیشہ ایک پوشیدہ دراڑ اور اندرونی کھوکھلا پن پیدا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب روحیں اپنے حقیقی معانی سے خالی ہو جاتی ہیں، تو جسموں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا کہ وہ بھی فانی قافلے کے پیچھے چل پڑیں۔
قرآن مجید کے مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن دشمنوں کے بارے میں اتنی زیادہ گفتگو نہیں کرتا جتنی ان لوگوں کے بارے میں کرتا ہے جو اندر سے دشمنوں کے لیے دروازے کھولتے ہیں۔ اسی لیے قرآن کافر کی صفت بیان کرنے سے پہلے منافق کو بے نقاب کرتا ہے، اور دشمن کے مقابلے سے پہلے آپس کے جھگڑوں سے ڈراتا ہے۔ وہ اندرونی بگاڑ کو بیرونی تسلط کے لیے ایک قدرتی پیش خیمہ قرار دیتا ہے۔ گویا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ قومیں اکثر اپنے دشمنوں کی طاقت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے مشن کی کمزوری اور وفاداری میں کمی کی وجہ سے مغلوب ہوتی ہیں۔
اسی لیے، ابلیس پہلا وجود نہیں تھا کہ اس نے ہتھیار اٹھائے تھے، بلکہ ابلیس وہ پہلا وجود تھا، جس نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کی۔ زمین پر کسی قوم کا دوسری قوم پر پہلا جرم اور ظلم دشمنی کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ ایک بھائی کا دوسرے بھائی سے حسد تھا، جو کہ ایک مستقل کائناتی قانون ہے۔ چنانچہ جب مشن (پیغام) پر ذاتی مفاد غالب آ جاتا ہے، تو زوال کی الٹی گنتی کا آغاز ہو جاتا ہے۔
تحریکوں میں مفاد پرستوں کا ایک ایسا طبقہ بھی اُبھرتا ہے، جس کا مقصد اصلاحی تحریکوں میں صرف اپنا مادی مفاد ہوتا ہے۔ ایسے افراد تحریک کو تباہ کرنے کی اپنی خواہش کا اعلان نہیں کرتے، بلکہ بلند بانگ دعوئوں کے ساتھ اس میں داخل ہوتے ہیں اور اس پر مرمٹنے کے جھوٹے دعوے کرتے ہیں، جب کہ حقیقت میں ان کے دلوں میں کوئی الٰہی پیغام نہیں ہوتا جس کے لیے قربانی دی جائے، بلکہ وہ اسے محض ایک دنیاوی غنیمت سمجھتے ہیں۔
چنانچہ جب تک دعوت ان کے ذاتی مفادات کے موافق رہتی ہے، وہ سب سے پہلے داد دینے والے ہوتے ہیں، لیکن جیسے ہی ان کے مفادات اور دعوت میں ٹکراؤ ہوتا ہے، تو وہ سب سے پہلے حوصلہ شکنی کرنے والے بن جاتے ہیں۔ وہ علانیہ طور پر اپنے اصولوں کو تبدیل نہیں کرتے، مگر دلوں کے اندر ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ وہ اپنے نفس کو پہلی ترجیح اور مشن کو دوسری ترجیح بنا لیتے ہیں۔ اور پھر جب بھی ان کا مفاد مشن سے ٹکراتا ہے، وہ تو مشن کی قربانی دے دیتے ہیں۔
بلاشبہ یہ ذاتی اور شخصی مفادات کے اسیر لوگ دل کے اندھے پن اور بصیرت سے محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ اپنی تحریک کو ایک ایسا وجود نہیں سمجھتے جس کے ذریعے اللہ کی رضا مقصود ہو، بلکہ وہ اسے اپنی ذات کو فائدہ دینے والا کاروبار یا اپنی ذات کو بڑا دکھانے والا ایک اسٹیج سمجھتے ہیں۔ اور جب بھی عوامی مفاد ان کے ذاتی مفاد سے ٹکراتا ہے، ان کے ایمان میں بھونچال آجاتا ہے۔ جس سے وفاداریاں دشمنیوں میں بدل جاتی ہیں، اور تعریف ملامت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اخلاص ایک گہرا کنواں ہے جس کی تہہ تک صرف وہی پہنچ سکتا ہے جس نے دنیاوی لالچ کی رسیاں کاٹ پھینکی ہوں۔
دینی تحریکوں کو لاحق ہونے والا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ وسائل و ذرائع بذاتِ خود مقاصد بن جائیں، اور ضابطے محض ایک ذریعہ ہونے کے باوجود اصلی ہدف بن جائیں۔ اور انسان اپنے مشن کا دفاع کرنے سے زیادہ محض ادارے کے وجود کا دفاع کرنے لگے، تو کتنے ہی ایسے مشن ہیں جو ادارے کے تحفظ کے نام پر ضائع ہو گئے! اور کتنے ہی مخلص مصلحین نظم و ضبط کے نام پر دُور ہوگئے اور پھر مسلسل خاموشی سے دراڑ بڑھتی چلی گئی۔
قرآنی بیان میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب وہ منافقین کے بارے میں بات کرتا ہے تو وہ صرف ان کے جسمانی ضعف کے بیان تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ان کے دلوں کی بیماریوں میں گہرائی تک جاتا ہے۔ کیونکہ دل جب خواہشات کی وجہ سے بگڑ جائے، تو وہ ہرلباس پہن سکتا ہے، اور ہر اصلاحی نعرے کو زبان پر لا سکتا ہے، جب کہ وہ اپنے اندر تباہی کا تیشہ چھپائے ہوتا ہے۔
قرآنِ کریم نے اس گروہ کے خطرے سے سخت ترین الفاظ میں خبردار کیا ہے، جو محض اصلاح کے نام پر پلتا ہے۔ چنانچہ سورۃ التوبہ اور سورۃ المنافقون میں قرآنِ کریم نے عہدِ نبوت میں ’مفاد پرستوں‘ کی زندہ تصویر کشی کی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں، جنھیں اس (مال) میں سے کچھ دے دیا جائے تو راضی ہو جاتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے تو فوراً ناراض ہو جاتے ہیں۔
غزوۂ اُحد کے واقعے میں، ہمیں دنیاوی خواہشات کے خطرے کے بارے میں ایک بلیغ سبق ملتا ہے، کیونکہ جب مالِ غنیمت کو اکٹھا کرنے کا خیال بعض تیر اندازوں کے دلوں پر غالب آگیا، تو دائرہ ٹوٹ گیا، اور فتح ایک بڑی آزمائش میں بدل گئی۔ پھر قرآن ایک دائمی تربیتی درس کے انداز میں پکار اٹھا:مِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الْآخِرَةَ ج(اٰل عمرٰن۳: ۱۵۲) ’’تم میں سے کچھ وہ تھے جو دنیا چاہتے تھے اور کچھ وہ تھے جو آخرت کے طالب تھے‘‘۔ یہی معرکہ خواہشات سے بالاتر ہونے کی نیت اور فوری فائدے کی خواہش کے درمیان ایک کش مکش بھی ہے۔
کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو حق کو پہچانتے ہیں، لیکن اس کی قیمت برداشت نہیں کر سکتے! اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو مشن سے اس وقت تک محبت کرتے ہیں، جب تک کہ ان کے مقام و مرتبے کو آنچ نہ آئے۔ جیسے ہی ان کے نفسانی مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہے، وہ پیچھے ہٹنے اور فرار ہونے کے ہزار بہانے تلاش کرنے لگتے ہیں! انسانی تاریخ نفوس کی فطرت کو بے نقاب کرتی ہے۔ کوئی بھی تہذیب اس لیے نہیں گری کہ دشمن اس سے زیادہ طاقت ور تھا، بلکہ اس لیے گری کیونکہ اندرونی قوت باہر کے مضبوط ہونے سے پہلے ہی کمزور ہو چکی تھی۔
یہیں سے، قرآنِ کریم کی اس گہری حکمت کا اندازہ ہوتا ہے جو’صفوں کی درستی‘ سے پہلے ’دلوں کی اصلاح‘ پر، اور’افرادی قوت بڑھانے‘ سے پہلے ’نفوس کے تزکیے‘ پر زور دیتی ہے۔ کیونکہ وحی کے ترازو میں فتح کا دارومدار تعداد کی کثرت پر نہیں ہے، بلکہ یہ حلف اور عہد کی سچائی کا ثمر ہے۔ چنانچہ جب دل درست ہو جائیں تو اعضاء و جوارح بھی سیدھے ہو جاتے ہیں، اور جب مقاصد نیک ہوں تو اللہ ذرائع میں برکت عطا فرماتا ہے، اور جب لوگ دنیا پر جھگڑنے لگیں تو ان کے دلوں سے حق کا رعب چھین لیا جاتا ہے۔
اصلاحی تحریکوں کو لاحق ہونے والا سب سے بڑا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قربانی اور ایثار کے میدانوں کو نظرانداز کرکے مناصب اور باہمی غلبہ آرائی کے کھلاڑیوں میں تبدیل ہوجائیں، جس سے یہ سوچ پیدا ہو جاتی ہے کہ:’ کون آگے بڑھے گا؟‘ بجائے اس کے کہ: ’دین اور نظریہ (تحریک) کیسے کامیاب ہو؟‘ اور یہ کہ: ’حق کیسے قائم ہوگا؟‘ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اُمت کی جنگ باطل کا مقابلہ کرنے کے بجائے اہل حق کے درمیان اندرونی تصادم میں بدل جاتی ہے، جس کے نتیجے میں باطل بغیر کوئی معرکہ لڑے ہی جیت جاتا ہے۔
تاریخ کے قوانین نے ہمیں سکھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ محض ظاہری وابستگی کی وجہ سے کسی کی مدد نہیں کرتا۔ چنانچہ کسی تحریک سے محض منسوب ہونا اس کو وہاں سے ہٹائے جانے سے کوئی تحفظ نہیں دیتا۔ جس طرح اللہ نے دوسرے لوگوں کو اس وقت تبدیل کر دیا جب انھوں نے امانت کا حق ادا نہیں کیا، تو وہ ہر زمانے اور ہرجگہ اس بات پر قادر ہے کہ کچھ لوگوں کو بلند کرے اور کچھ کو پستی سے دوچار کردے ۔کیونکہ تحریکیں اور مشن شخصیات کے ناموں پر نہیں چلتے اور نہ اُن کا تحرک اُن شخصیات کے وجود پر منحصر ہوتا ہے ، بلکہ شخصیات تحریکوں کی خدمت کرکےنام پاتی ہیں۔ لہٰذا، جب انھوں نے امانت میں خیانت کی تو وہ چلے گئے اور مشن ہمیشہ کے لیے باقی رہا۔
شاید آج ہماری امت کو سب سے زیادہ ضرورت بہت زیادہ منصوبوں کی نہیں، بلکہ ایسے بہت سے مخلصین کی ہے کہ جب حق کا ذکر کیا جائے تو وہ خود کو بھول جائیں، اور جب مشن، پیغام اور کام سامنے ہو تو ان کے نام غائب ہو جائیں، اور جب عہدے نظر آئیں تو وہ انھیں امانتیں سمجھیں نہ کہ مالِ غنیمت، اور اگر ان کا اختلاف ہو جائے تو وہ اپنی رائے کی جیت پر مقصد کی یکجہتی کو ترجیح دیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے ذریعے اللہ دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور ان کے ذریعے دراڑیں بھرتا ہے۔
پھر یہ کہ اصلاحی تحریکیں ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہوتی ہیں۔ ان کا تنا اس وقت تک سیدھا کھڑا نہیں ہوتا اور نہ ان کی جڑیں زمین میں مضبوط ہوتی ہیں، جب تک کہ ان کی بنیادوں کو خود غرضی اور لالچ کی بیماریوں سے پاک نہ کر دیا جائے، اور جب تک راہِ حق کے مسافر اخلاص کی دوا کا گھونٹ نہ پی لیں، اور باطن ذاتی مفادات کی گندگی سے پاک نہ ہوجائیں، دل جڑ نہ جائیں، اور نظریات ایک نہ ہو جائیں۔ تب ہی اس اللہ کی مدد نازل ہوتی ہے جو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ چنانچہ جب باطن پاک ہو جاتا ہے، تو فتنوں کے پردے اُٹھ جاتے ہیں، اور اُمت کو اس کا کھویا ہوا وقار اور مطلوبہ اتحاد واپس مل جاتا ہے۔[ترجمہ: ڈاکٹر ارشاد الرحمٰن]
_______________