نومبر ۲۰۲۶

فہرست مضامین

اسرائیلی انسانیت کُشی اور اہل غزہ

مسعود ابدالی | نومبر ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

غزہ میں اسرائیلی حملوں کے تین سال مکمل ہونے پر ’الجزیرہ‘ کے مطابق، کم از کم ۷۴ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، یعنی ہر ۳۰ میں سے ایک فلسطینی شہید ہوچکا ہے، جب کہ وہ ہزاروں افراد اس تعداد میں شامل نہیں جو اب بھی ملبے تلے دبے یا لاپتا ہیں۔ اسی طرح  ہر۱۳میں ایک زخمی ہے جن کی بڑی تعداد زندگی بھر کی معذوری کا شکار اور دوسروں کی محتاج ہے۔

اس ہفتے بھی غزہ پر بمباری، ڈرون حملے، ٹینکوں سے گولہ باری اور نشانچیوں کی فائرنگ جاری رہی۔ جامع مسجد رفح کے قریب حملے میں دو افراد جاں بحق ہوئے۔ ۱۷؍ اکتوبر کو وسطی غزہ میں ۱۴ سالہ محمد ابو حماد ڈرون حملے میں شہید ہو گیا۔ دوسرے روز المغزی میں سات سالہ لڑکی مسک الدالو کو اسرائیلی فوج نے گولی ماردی۔ کچھ ہی دیر بعد بیت لاہیہ میں ایک بچہ تعمر صبوح ان درندوں کا نشانہ بن گیا۔ دونوں بچوں پر بہت قریب سے گولی چلائی گئی۔ محلے تفح اور خان یونس پر حملوں میں بھی متعدد افراد شہید ہوگئے۔ خان یونس کی ڈھائی سالہ مریم کی داستان اس انسانی المیے کی ایک اور تصویر ہے۔ اس کے خیمے پر حملے میں مریم کی والدہ زندہ جل گئیں۔ اس کا باپ کچھ عرصہ پہلے ایسے ہی ایک حملے میں جل کر دم توڑ چکا ہے اور جھلسی بچّی اب بے سہارا ہے۔

  •  زیتون کی فصل: غربِ اردن میں زیتون کی کٹائی کا وقت فلسطینی کسانوں کے لیے خوشی، محنت اور شکرگزاری کا موقع ہوتا ہے۔ لیکن فلسطینی کسانوں کے لیے کٹائی کا موسم تشدد، آتش زنی، لوٹ مار اور بے دخلی کے خوف میں بدل چکا ہے۔

جنوبی نابلس کے علاقے تلفیت میں اسرائیلی آبادکاروں نے ایک گھر پر حملہ کرکے خاتونِ خانہ اور اس کی ۱۴ اور ۱۸سالہ بیٹیوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر لڑکیوں کے والد کا ہاتھ توڑ دیا گیا۔ رملہ کے گاؤں راس کرکر میں آبادکاروں کی مزاحمت کرنے والے فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے زخمی کر دیا۔ جنوبی الخلیل کے گاؤں سموع، مسافر یطّا اور رملہ کے قصبے برزیت میں بھی زیتون توڑنے والوں پر حملے ہوئے۔ کھڑی فصلوں کو آگ لگائی گئی اور گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں۔

  •  بھیڑ بکریوں پر ظلم:۱۷؍اکتوبر کو رملہ کے گاؤں کفر ملک میں آبادکاروں نے بھیڑیں ہتھیانے کی کوشش کی۔ فلسطینیوں کی مزاحمت پر درندوں نے ۲۰ بھیڑوں کو چھروں سے کاٹ ڈلا اور پھر زمین پر تڑپتے جانوروں کو اپنے بھاری جوتوں تلے کچل کر پیوند ِ خاک کردیا۔
  • امریکی صحافی پر ہجومی تشدد: ۱۶؍اکتوبر کو رملہ کے گاؤں ابو فلاح میں ہونے والا حملہ اس تشدد کی سنگینی کو دنیا کے سامنے لے آیا۔ نقاب پوش صہیونی مسلح آبادکاروں نے زیتون کے باغات میں آگ لگائی، فلسطینیوں پر پتھراؤ کیا اور وہاں موجود واشنگٹن پوسٹ  کی ۶۴سالہ فوٹو جرنلسٹ ہیدی لیوائن (Heidi Levine) کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہیدی کی ایک پسلی اور ریڑھ کی ہڈی کے چار مہرے ٹوٹ گئے، جب کہ ان کے دائیں ہاتھ کی ایک انگلی اس قدر شدید زخمی ہوئی کہ جراحی کرنی پڑی۔ ہسپتال سے جاری ویڈیو بیان میں انھوں نے بتایا:’’ کم از کم ۵۰نقاب پوش افراد غلیلیں لیے پہاڑی سے ان کی طرف دوڑے، مجھے زمین پر گرا کر اندھادھند مارا گیا۔ حملہ آور میرا موبائل فون اور کیمرے بھی لے گئے‘‘۔ عینی شاہدین کے مطابق موقع پر موجود اسرائیلی فوجیوں نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

ہیدی کے بیٹے مائیکل ملنر کے مطابق: ’’میری والدہ جسمانی تکلیف کے ساتھ شدید ذہنی صدمے سے بھی دوچار ہیں، اخبار نے ہیدی پر حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ہیدی پر حملے کی خبر کو ’مشکوک‘ قرار دیا ہے۔ وہ غزہ میں مارے جانے والے ہر صحافی کو حماس کا کارکن قرار دے کر تحقیقات سے انکار کر چکے ہیں۔ یاد رہے ہیدی لیوائن کوئی نوآموز صحافی نہیں، وہ چار عشروں سے جنگی علاقوں میں رپورٹنگ اور عکاسی کرتی رہی ہیں۔ انھوں نے افغانستان، شام، یوکرین اور روس سمیت مختلف جنگ زدہ علاقوں میں کام کیا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی عکاسی بھی کی۔ کئی جگہ ہیدی کو ناخوشگوار حالات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اسرائیل میں وہ ہجومی تشدد (Lynching) کا نشانہ بنیں۔ گویا اسرائیل، صحافیوں کے لیے ایران، شام اور افغانستان جیسے جنگ زدہ ممالک سے بھی زیادہ خطرناک جگہ بن چکا ہے۔  

اس سے اگلے ہی روز تشدد کی زد میں سفارت کار بھی آگئے۔ فرانس، بیلجیم اور پولینڈ کے سفارت کار جب زیتون کی کٹائی کا منظر دیکھنے طیبہ پہنچے تو ان کی گاڑیوں پر شدید پتھراؤ کیا گیا۔ یوں یہ معاملہ محض فلسطینی کسانوں یا صحافیوں کی سلامتی تک محدود نہ رہا، بلکہ یورپی سفارت کار بھی اس تشدد سے محفوظ نہ رہے۔

  • قبضے کو مذہبی جواز دیا جانا:تشدد کے ساتھ ساتھ اسے مذہبی جواز دینے کی کوششیں بھی سامنے آرہی ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق سابق چیف ربی ڈوو لیور (Dov Lior) نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں فلسطینیوں کے زیتون کے درخت توڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ ان کا استدلال ہے کہ یہودی قوم نے اس سرزمین سے اپنا دعویٰ کبھی ترک نہیں کیا۔ عربوں نے یہ زمین یہودیوں سے نہیں خریدی۔ اس لیے زیتون کی فصل حاصل کرنا ملکیت کے دعوے کے اظہار اور اپنی زمین کا قبضہ واپس لینے کے مذہبی فریضے کی تکمیل ہے۔ ان کے ہاں مجرمانہ فعل کو مذہبی رنگ دینے کا ذکر قرآن میں بھی درج ہے۔ وہ سینہ زوری سے کہتے ہیں کہ امیوں یا غیریہودیوں کے معاملے میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں۔(اٰل عمران۳: ۷۵)
  • اوباما اور نیتن یاہو:فلسطینیوں کے حقوق کا سوال امریکی سیاست میں اب زیادہ کھل کر اٹھایا جارہا ہے۔ آئرلینڈ کے دارالحکومت بیلفاسٹ میں ایک تقریب میں خطاب کے دوران سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اسرائیل کے قیام اور فلسطینیوں کی بے دخلی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا: ’’اسرائیل نے لوگوں کو ان کی آبائی زمین سے بے دخل کیا ہے، چنانچہ فلسطینیوں کا اسے ناانصافی سمجھنا اور اپنی زمین واپس مانگنا قابلِ فہم ہے۔ اگر اسرائیل اپنی فوجی اور تکنیکی برتری کے بل پر جو چاہے ہتھیالینے اور کسی کو رعایت نہ دینے کی پالیسی اپنائے گا، تو اسے شاید وقتی فائدہ تو ہو، لیکن وہ اخلاقی برتری کھو بیٹھے گا‘‘۔ اس بیان پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا: ’’اسرائیلی ریاست چوری کی ہوئی زمین پر قائم نہیں ہوئی۔ یہ ہمارا وطن ہے‘‘۔

اپنے اس خودساختہ دعوے کے مطابق بھی کیا کسی قوم کا سرزمین سے تاریخی اور مذہبی تعلق تسلیم کرلینے کا مطلب یہ ہے کہ وہاں صدیوں سے آباد لوگوں کے حقوق، ملکیت اور بے دخلی کے مسئلے کو نظر انداز کر دیا جائے؟ تاریخی وابستگی اور موجودہ باشندوں کے حقوق دو الگ سوال ہیں۔ اگر تاریخی روایتوں کا ذکر ہو رہا ہو تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسٰی کا ارضِ فلسطین میں داخل ہونے کا حکم نظر انداز کر دیا تھا (دیکھیے: سورۂ مائدہ)۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جب خود ہی وہاں جانے سے انکار کر دیا تو پھر دھونس، دھاندلی پر مبنی حق جتانا کیسا؟

اس واقعے کا ایک اہم سیاسی پہلو بھی ہے۔ امریکی سیاست میں اسرائیل کے قیام، فلسطینیوں کی بے دخلی اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید شجرِ ممنوعہ سمجھی جاتی ہے، لیکن اب سابق امریکی صدر کی زبان سے بین الاقوامی اجتماع میں اس طرح کی دو ٹوک بات امریکی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی ہے۔ تاہم، اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ امریکی پالیسی بھی لازماً اسی رفتار سے تبدیل ہو جائے گی۔

  •  برطانیہ میں صہیونیت پر سیاسی بحث:اسی دوران برطانیہ کی گرین پارٹی کے ملک گیر اجتماعِ ارکان نےایک قرارداد منظور کی جس میںصہیونیت کو نسلی قوم پرستی پر مبنی سیاسی منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت، تاریخی فلسطین میں ایک جمہوری ریاست، مساوی حقوق اور فلسطینیوں اور ان کی اولاد کے حقِ واپسی کی حمایت کی گئی۔ قرارداد کے حق میں ۱۰۲۲ اور مخالفت میں ۸۱۳ ووٹ آئے۔ قرارداد میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’’صہیونیت کی سیاسی مخالفت کو یہودیوں سے دشمنی کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے‘‘۔ البتہ، برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے پارلیمنٹ میں قرارداد کو غلط اور یہود دشمن قرار دیتے ہوئے کہا: ’’ان کی جماعت ایسا موقف رکھنے والی جماعت کے ساتھ سیاسی شراکت نہیں کرے گی‘‘۔
  •  غزہ کی ایک بچّی: ایک ڈاکٹر کی یاد میں زندہ زخم: اُردنی نژاد امریکی ڈاکٹر تانیہ حاجی حسن نے کہا:’’ مجھے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے اور میں نے کئی مریضوں کو دم توڑتے دیکھا ہے۔ ہر موت المناک اور میرے دل پر نقش ہے، لیکن غزہ کی ایک بچی کی شکل ہر وقت میرے آنکھوں کے سامنے رہتی ہے۔ یہ گڑیا میری بانہوں میں مجھ سے ایسے چمٹی ہوئی تھی، جیسے میں اس کی ماں ہوں۔ اس ننھی پری کی سانسیں اُکھڑ رہی تھیں، اور میں اسے گود میں اُٹھائے آکسیجن کے لیے بھاگتی رہی، لیکن گھپ اندھیرے میں مجھے آکسیجن سلنڈر نہ مل سکا اور بچی نے تڑپ تڑپ کر میری بانہوں میں جان دے دی‘‘۔

غزہ کے ملبے تلے دبے انسان، غربِ اُردن میں اپنی فصل بچانے والے کسان، حملے کا نشانہ بننے والی صحافی اور ہسپتال میں آکسیجن کے لیے ترستی بچّی___ کیا تاریخ، مذہب یا طاقت کے دعوے انسان کے بنیادی حقوق سے زیادہ اہم ہوسکتے ہیں؟ تاریخی روایات پر اختلاف ہوسکتا ہے، سیاسی موقف مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن انصاف کا بنیادی تقاضا کسی صورت میں نہیں بدلتا۔ کسی قوم کی شناخت اور تاریخی وابستگی کا احترام اسی وقت بامعنی ہے جب دوسری قوم کے حقِ زندگی، آزادی، ملکیت اور وقار کو بھی تسلیم کیا جائے۔ فلسطین میں پائیدار امن کا راستہ، طاقت کے یک طرفہ استعمال سے نہیں، بلکہ حقوق کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور جواب دہی سے ہو کر ہی گزرتا ہے۔

 _______________