نومبر ۲۰۲۶

فہرست مضامین

اہل غزہ کی عزیمت کو سلام !

ڈاکٹر وصفی عاشور ابو زید | نومبر ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

اکتوبر۲۰۲۶ء میں غزہ اور اہل غزہ پر مسلط ظلم کی سیاہ رات کے تین برس ہوگئے۔ اس موقعے پر اہلِ غزہ کی عظمت و عزیمت کوخراجِ تحسین پیش کرنا نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ عالمِ انسانیت پر فرض ہے۔ لیکن الفاظ کے اندر اتنی وسعت نہیں کہ اہلِ غزہ پر ٹوٹنے والی قیامت کو بیان کرسکیں!

اے اہل غزہ ! الفاظ آپ کے زخموں کے سامنے شرمندہ ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ وہ الفاظ ہی موجود نہیں ہیں، جو اس ماں کی کیفیات کو بیان کر سکتے ہوں جس نے اپنے بچے کو اپنے ہی ہاتھوں سے الوداع کیا؟ یا الفاظ اس باپ کے دل کا حال کیا بتائیں، جو اپنے گھر واپس آیا تو اسے اپنا گھر ملا، نہ گھر والے؟ یا اس بچے کے بارے میں الفاظ کیا کہیں گے، جو چند ہی برسوں میں اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑا ہو گیا؟ یا اس خاندان کے بارے میں الفاظ کیا بیان کر سکتے ہیں، جس نے اپنی زندگی کا بچا کھچا سامان ایک بیگ میں سمیٹا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہا، اور پھر نئی جگہ پر بھی اسے طویل انتظار، مزید خوف اور اندیشوں کے سوا کچھ نہ ملا؟

ہم ان لوگوں سے کیا کہیں جنھوں نے موت کو اس روپ میں دیکھا، جسے کسی انسان کے لیے دیکھنا ممکن نہ تھا؟ انھوں نے اس اذیت کا ذائقہ چکھا جس سے روحیں کانپ اٹھتی ہیں، اور وہ ان گھروں کے ملبے پر چلے جو کل تک رونق، زندگی، خوشی اور خاندانی محفلوں سے شادآباد محلے تھے، اور پھر اچانک بکھرے ہوئے ملبے کے ڈھیر بن گئے جو اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہاں کبھی بھرپور زندگی موجود تھی!

آپ نے اس درجہ صبر کیا ہے کہ صبر خود آپ کی پہچان بن گیا ہے۔ آپ نے اس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا کہ کائنات آپ کی گواہی دے رہی ہے۔ آپ نے مصیبت کا وہ بوجھ اُٹھایا، جس کی وجہ سے ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم آپ کی حوصلہ افزائی کریں، نہ کہ آپ پر مزید بوجھ ڈالیں۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ تھک چکے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ زخم بہت گہرا ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ صبر کے بھی آنسو ہوتے ہیں، اور ثابت قدمی کے دوران بھی کمزوری کے کچھ لمحات آ سکتے ہیں۔ غم شدید ہو سکتا ہے اور اس پر رونے کی کیفیت غالب آ سکتی ہے، لیکن اس سب کے باوجود بندئہ مومن اپنے عظیم اور بلند مرتبہ ربّ پر بھروسا کرتے ہوئے، صبر اور اجر کی امید رکھتا ہے!

اللہ کی شریعت میں صبر کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان کے جذبات جم جائیں، اور نہ ثابت قدمی کا مطلب یہ ہے کہ انسان درد محسوس کرنا چھوڑ دے، اور نہ رضا کا مطلب یہ ہے کہ دل اپنوں کی جدائی پر غمگین نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم کی وفات پر آبدیدہ ہوکر فرمایا تھا: ’’آنکھ روتی ہے اور دل غمگین ہے، اور ہم زبان سے وہی کہیں گے، جس سے ہمارا رب راضی ہو، اور اے ابراہیم! ہم تمھاری جدائی پر یقیناً غمگین ہیں‘‘۔ (بخاری)

ہم غزہ میں موجود اپنے عزیزوں سے کہتے ہیں: لوگوں کا آپ کی استقامت پر باتیں کرنا آپ کو اس بات پر مجبور نہ کرے کہ آپ اپنے دکھ اور درد کو چھپائیں۔ آپ کو پورا حق ہے کہ آپ اپنے پیاروں پر روئیں، اپنے گھروں کی یاد میں تڑپیں، اور طویل راستے کی تھکن کو محسوس کریں۔ ہم دُعا کرتے ہیں کہ آپ پر ایک ایسا عام دن آئے جو بمباری کے بغیر ہو، نقل مکانی کے بغیر ہو، بھوک اور خوف کے بغیر ہو۔ اللہ، جو تمام مخلوقات سے زیادہ رحیم ہے، وہی آپ کے معاملے کو سنبھالنے والا ہے۔ اور اسی کا فرمان ہے: ’’اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا‘‘۔ (البقرہ۲:۲۸۶)

اے اہل غزہ! اللہ کی قسم، آپ لوگوں نے وہ سب کچھ پیش کر دیا جو آپ کر سکتے تھے۔

کوئی ایسی خوف کی رات نہیں گزری جس کا دکھ تم نے جھیلا ہو اور اللہ کو اس کا علم نہ ہو، اور کوئی ایسا آنسو نہیں ہے جو کسی ماں نے چھپایا ہو یا اسے بہایا ہو اور اللہ نے اسے دیکھا نہ ہو۔ کوئی ایسا باپ نہیں ہے جس نے اپنے بچوں کے درمیان روٹی کا ٹکڑا تقسیم کیا ہو اور خود بھوکا رہا ہو اور اللہ نے اس کی بھوک اور اس کی قربانی کو شمار نہ کیا ہو، اور کوئی ایسا ڈاکٹر نہیں جس نے اپنے سامنے موجود دوائی ختم ہونے کے باوجود اپنا کام جاری رکھا ہو، یا کسی ایسے زخمی کی مرہم پٹی کی ہو جس کی طرف وہ یہ جانتے ہوئے لپکا ہو کہ اگلا زخم اسی کو لگنے والا ہے،مگر اللہ اسے جانتا ہے۔ اور کوئی ایسی عورت نہیں جو اپنے شوہر کو کھو دینے کے بعد بھی مضبوطی سے کھڑی رہی ہو تاکہ اپنے بچوں کے لیے گھر کے باقی ماندہ وجود کو قائم رکھ سکے، اور کوئی ایسا بچہ نہیں ہے جو اپنے خاندان کے لیے پانی لاتا ہو، جب کہ وہ خود اس بات کا زیادہ ضرورت مند ہو کہ اپنا اسکول کا بیگ اٹھائے، مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہے جس سے ایک ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔

اور یہیں سے مصیبت زدہ لوگوں کے لیے قرآن کی سب سے بڑی تسلی ظاہر ہوتی ہے کہ دنیا میں چیزیں ضائع ہو سکتی ہیں، لیکن جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ وہ گھر ضائع ہو سکتا ہے جسے اس کے مالک نے بنانے میں اپنی پوری عمر لگا دی ہو، وہ مال ختم ہوسکتا ہے جسے برسوں میں جمع کیا گیا ہو، تصویریں، دستاویزات، کتابیں اور یادیں جل سکتی ہیں، اور انسان ایسی چیزیں کھو سکتا ہے جنھیں کوئی بھی دوبارہ واپس لانے کی طاقت نہیں رکھتا، لیکن اللہ فرماتا ہے:’’بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘ (التوبہ۹: ۱۲۰)۔اور فرماتا ہے:’’اور صبر کیجیے، کیونکہ یقیناً اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘ (ھود۱۱: ۱۱۵)

اللہ کے ہاں آلام و مصائب محض اعداد و شمار نہیں رہتے

طویل جنگیں انسان کے ساتھ جو سب سے زیادہ بے رحمی کرتی ہیں، وہ یہ ہے کہ اسے خبرناموں میں محض ایک عدد (نمبر) بنا کر رکھ دیتی ہیں، چنانچہ کہا جاتا ہے: اتنے قتل ہو گئے، اتنے زخمی ہو گئے، اتنے بے گھر ہو گئے، اور اتنے گھر تباہ ہو گئے… اور ان اعداد و شمار کے پیچھے نام، چہرے، کہانیاں، رشتے، یادیں، درد اور امیدیں سب غائب ہو جاتی ہیں۔

مگر اللہ تعالیٰ کا ترازو ایسا نہیں ہے، اللہ کے ہاں کوئی بھی انسان گمنام نہیں ہے، اور نہ کوئی آنسو بغیر نام کے ہے، اور نہ کوئی فرد مجمعے میں گم ہوتا ہے۔ وہاں وہ ماں ہے جس کا نام، اس کے بچے کا نام اور اس کی محبت کی حد اللہ جانتا ہے، وہاں وہ بچہ ہے جس کا خوف اللہ جانتا ہے، وہاں وہ باپ ہے جس کے دل کا ٹوٹنا اللہ جانتا ہے، وہاں وہ بیمار ہے جس کے درد کا ایک ایک سانس اللہ نے شمار کیا ہے، اور وہاں ہر وہ انسان ہے جس نے اپنے سینے میں جو کچھ بھی چھپایا، جو کچھ بھی کہا، اور جو کچھ وہ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اللہ اس سب کو جانتا ہے۔

اسی لیے اسلامی تصور کے مطابق آخرت کا ہونا عدل و انصاف کی ناگزیر ضروریات میں سے ہے، کیونکہ یہ دنیا اتنی تنگ ہے کہ ہر خیر کا پورا بدلہ یا ہر ظلم کا پورا قصاص اس میں سما نہیں سکتا۔ کتنے ہی مظلوم دنیا سے چلے گئے قبل اس کے کہ وہ انصاف دیکھ سکتے، اور کتنی ہی مائیں ایسی ہیں جو مر گئیں اور ان کے دل میں ایک ایسا سوال تھا جس کا کسی نے جواب نہیں دیا، اور کتنے ہی بچے دنیا سے رخصت ہو گئے قبل اس کے کہ وہ سمجھ پاتے کہ ان کا گھر کیوں مسمار کیا گیا یا انھوں نے اپنے خاندان کو کیوں کھو دیا؟ 

اور اگر دنیا کا یہ آخری صفحہ ہوتا، تو بہت سے سوالات بغیر جواب کے رہ جاتے، لیکن یہ آخری صفحہ نہیں ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَحْسَبَنَّ اللہَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۝۰ۥۭ  (ابراھیم۱۴: ۴۲)’’اور تم ہرگز یہ نہ سمجھو کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل ہے‘‘۔اور صابرین کے اجر کے بارے میں فرماتا ہے:اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ۝۱۰ (الزمر۳۹: ۱۰) ’’بلا شبہ صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے پورا دیا جائے گا‘‘۔اور اگر انسان دنوں، نقصانات، گھروں اور اموال کا شمار کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے صابرین کے لیے ایک ایسا دروازہ کھول رکھا ہے جو انسانوں کے حساب کتاب کے قوانین کے تحت آتا ہی نہیں: یعنی ’بغیر حساب کے‘، اور تھکے ہوئے دل کی تسلی کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ یہ جان لے کہ جس ذات نے اس کے اجر کا ذمہ لیا ہے، وہ ربّ العالمین ہے۔

آپ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی!

شاید اس بھاری قیمت کے بعد آپ کے دل پر دستک دینے والا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ: ان قربانیوں سے حاصل کیا ہوا؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ اس تمام درد کا کوئی ایسا اثر باقی نہ رہے جو اس قیمت کے شایانِ شان ہو؟ یہاں فرض یہ ہے کہ ہم ایسے وعدے نہ کریں جن کے ہم مالک نہیں ہیں، اور نہ ہم کسی ایسے سیاسی مستقبل کا قطعی فیصلہ کریں جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ غزہ نے انسانی ضمیر کے اندر پہلے ہی ایک گہری تبدیلی پیدا کردی ہے۔ اس کے بچوں بوڑھوں، مردوں، عورتوں، ڈاکٹروں، مریضوں، خدمت کرنے والے رضاکاروں اور صحافیوں کی تصاویر، اور ان کے تباہ شدہ گھروں، آبادیوں، یونی ورسٹیوں اور یادگاروں نے دنیا بھر کے گھروں میں جگہ بنا لی ہے۔ اب انصاف، شہریوں کے حقوق اور فلسطین سے متعلق سوالات دنیا بھر میں، مختلف نسلوں اور طبقات کے درمیان پہلے سے کہیں زیادہ گونج رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا اثر ہے جسے معمولی نہیں سمجھا جانا چاہیے، چاہے اس کے مکمل تاریخی نتائج کا اندازہ لگانا ابھی ممکن نہ ہو۔

بلاشبہ، مصیبت زدہ لوگ اس اثر کو نہیں دیکھ پاتے جو ان کی آزمائش دوسروں کے دلوں میں پیدا کرتی ہے، کیونکہ طوفان کے درمیان کھڑا شخص اس سے نجات پانے میں مصروف ہوتا ہے، اور وہ ان فاصلوں کو نہیں ناپ سکتا جہاں تک اس کی آواز پہنچ چکی ہو۔ دنیا کو شاید یہ سمجھنے میں بہت طویل سال درکار ہوں گے کہ غزہ نے کس طرح ایک پوری نسل کی زبان، اس کے اخلاقی سوالات اور فلسطین، انصاف، طاقت اور بین الاقوامی قانون کے بارے میں اس کے نظریات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ 

تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ کچھ بڑی تبدیلیاں سیاست میں ظاہر ہونے سے پہلے ضمیر کے اندر جڑ پکڑتی ہیں، اور یہ کہ درد کے لمحے میں جو بیج بوئے جاتے ہیں، انھیں بونے والا شخص نہیں دیکھ پاتا، اس لیے اہل غزہ کی قربانیوں کو صرف ان کے فوری نتائج سے نہیں ناپا جانا چاہیے۔ کیونکہ بڑے واقعات کے اثرات ان کے اپنے لمحے سے کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں، اور ان لوگوں کی عمروں سے زیادہ طویل ہوتے ہیں جنھوں نے ان کی ابتدا دیکھی ہوتی ہے۔

میں نہیں چاہتا کہ آپ کی تسلی صرف تاریخ سے وابستہ ہو، کیونکہ تاریخ کبھی انصاف کرتی ہے اور کبھی ظلم پر اتر آتی ہے، اور انسان کبھی یاد رکھتے ہیں اور کبھی بھول جاتے ہیں، اور بین الاقوامی موقف مفادات کے بدلنے کے ساتھ بدل جاتے ہیں۔ ایک انسان اپنی زندگی میں اس کے اثرات دیکھ سکتا ہے اور کبھی یہ اس کی موت کے بعد سامنے آتے ہیں:

فَاِمَّا نَذْہَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْہُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ۝۴۱ۙ اَوْ نُرِيَنَّكَ الَّذِيْ وَعَدْنٰہُمْ فَاِنَّا عَلَيْہِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ۝۴۲ (الزخرف۴۳: ۴۱-۴۲) پھر اگر ہم آپ کو لے جائیں تب بھی ہم ان سے انتقام لینے والے ہیں، یا ہم آپ کو وہ دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے، تو یقیناً ہم ان پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔

رہی بات اللہ کے ترازو کی، تو وہ کبھی نہیں بدلتا، چنانچہ اگر آپ کے صبر کا اثر دنیا کے شعور اور تبدیلی میں نظر آ جائے، تو یہ وہ خیر ہے جس کی ہم امید اور قدر کرتے ہیں! لیکن اس اثر کے پیچھے اس سے بھی بڑا ایک اثر ہے جو کسی کے اعتراف پر رُک نہیں جاتا، اس کو نہ کسی ادارے کی ووٹنگ کی، اور نہ کسی مؤرخ کی گواہی کی ضرورت ہوتی ہے، جو کچھ اللہ نے آپ کے لیے بچا کر رکھا ہے وہ آپ کا اجر ہے۔ دنیا جس کا معاوضہ دینے سے عاجز رہی، اور تاریخ جس کا صلہ دینے کی استطاعت نہ رکھ سکی، اور جسے انسانوں نے سرے سے جانا ہی نہیں، وہ سب اس ذات کے ہاں محفوظ ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا:لَّا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسَى(طٰہٰ۲۰:۵۲)’’میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے‘‘۔

صفحات جو مؤرخ نہیں لکھ سکتے!

شاید مؤرخین ایک دن غزہ کے بارے میں ہزاروں صفحات لکھیں گے، کانفرنسیں منعقد ہوں گی، کتابیں اور مطالعے شائع ہوں گے، اور یونی ورسٹیاں اس واقعے کا سیاست، قانون، سماجیات اور نفسیات کے زاویوں سے جائزہ لیں گی! لیکن وہاں ایک اور تاریخ بھی ہے جسے مؤرخین لکھنے کی استطاعت نہیں رکھیں گے: آزمائش کی گھڑی میں دلوں کی دھڑکنیں۔ کوئی مؤرخ اس آنسو کی مقدار کو نہیں جان سکتا جو رات کی تاریکی میں کسی کی آنکھ سے ٹپکا اور پھر اس کے مالک نے اسے پونچھ کر کہا: ’الحمد للہ‘۔ اور نہ کوئی اس کش مکش کی مقدار کو جان سکتا ہے جو اس ماں کے دل میں برپا ہوئی جس نے اپنے جگر گوشے کو دفن کیا اور پھر اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دیے۔ اور نہ کوئی مؤرخ اس کیفیت کو لکھ سکتا ہے جو کچھ اس باپ کے دل پر گزرا جو اپنے بچوں کے پاس واپس لوٹا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ انھیں کیا کھلائے گا___ یہ وہ صفحات ہیں کیمرے جنھیں قید نہیں کر پاتے، اور نہ آرکائیوز انھیں محفوظ رکھ سکتی ہیں، لیکن یہ ایک ایسی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں جو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑتی ہے اور نہ بڑی کو مگر اسے شمار کر لیتی ہے۔

اسی معنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’مسلمان کو جو بھی تھکن، بیماری، فکر، غم، تکلیف اور رنج پہنچتا ہے، یہاں تک کہ جو کانٹا بھی اسے چبھتا ہے، اللہ اس کے بدلے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے‘‘۔ (متفق علیہ)

جب اللہ کسی مومن پر چبھنے والے کانٹے کا درد بھی ضائع نہیں کرتا، تو خوف، بھوک، نقل مکانی اور محرومی کے برسوں کو یونہی چھوڑ دے گا؟ ہم کسی خاص شخص کے بارے میں یہ گواہی نہیں دیتے کہ وہ اللہ کے ہاں کسی مخصوص مرتبے پر ہے، کیونکہ یہ علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے، لیکن ہم اللہ کے اس عام وعدے پر ایمان رکھتے ہیں جو کبھی نہیں بدلتا: کہ صبر ضائع نہیں ہوتا، صبر کرنے والے کا درد رائیگاں نہیں جاتا، اور یہ کہ قیامت کے دن جزا ہماری عقلوں کے تصور سے کہیں زیادہ وسیع ہوگی۔ 

ابن عطاء اللہ اسکندری نے کہا تھا: ’’آخرت کا گھر بندوں کی جزا کی جگہ اسی لیے بنا، کیونکہ یہ دنیا اس چیز کو سمونے کی وسعت نہیں رکھتی جو وہ انھیں دینا چاہتا ہے، اور اس لیے بھی کہ ان کی قدر اس سے کہیں اعلیٰ ہے کہ انھیں ایسے گھر میں جزا دی جائے جو فانی ہے‘‘۔

اسی لیے ہم غزہ کے ہر رنجیدہ دل سے کہتے ہیں: اگر تاریخ آپ کو وہ دینے سے عاجز ہے جس کے آپ حقدار ہیں، اور اگر تاریخ ہر ایک کے ساتھ اس کے نام، کہانی اور آنسوؤں کے ساتھ انصاف کرنے میں کوتاہ رہی ہے، تو اللہ بدلہ دینے والا کافی ہے، اور اللہ آپ کے پیش کردہ اعمال کو جاننے کے لیے بھی کافی ہے۔

اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہـے!

اے غزہ کے ہمارے پیارو! یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ الفاظ کوئی گرا ہوا گھر دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں، یا کسی بچھڑے ہوئے پیارے کو واپس لا سکتے ہیں، یا کسی بچے کے ذہن سے خوف کی راتوں کی یادیں مٹا سکتے ہیں۔ اور ہمیں شرم آتی ہے کہ ہم حقوق کے بدلے صرف الفاظ پیش کریں، یا عمل کے بدلے محض تسلی دیں، یا فرض سے بچنے کے لیے صرف دعا کا سہارا لیں۔ لیکن سچے لفظ کا اپنا ایک مقام اور ذمہ داری ہے جس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا: وہ یہ کہ تھکے ہوئے انسان سے یہ کہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے، اور غمزدہ شخص کو یاد دلائے کہ اس کی مصیبت کا وقت معلوم ہے، اور جس کا سفر لمبا ہو گیا ہو اسے بتائے کہ یہ راستہ خبروں کے اعداد و شمار نہیں، اور اسے یاد دلائے کہ اللہ اس کے قریب بھی ہے اور دور بھی۔ وہ اسے دیکھتا ہے، سنتا ہے اور جو کچھ اس کے سینے میں ہے، وہ اسے جانتا ہے۔

اس لیے ہماری امید کسی ایسے سیاسی وعدے سے نہیں ہے جس کے ہم مالک نہیں ہیں، اور نہ کسی ایسے وقت سے ہے جسے ہم نہیں جانتے، بلکہ ہماری امید سب سے پہلے اس ذات سے ہے جس کے ہاتھ میں تمام معاملات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔(البقرہ۲:۱۵۳) 

اور پاک ہے وہ ذات جس نے فرمایا:’’پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے‘‘۔ [الم نشرح۹۴:۵-۶]

اور یہ ’معیت‘ (ساتھ ہونا) محض درد کو سُن کرنے کے لیے کہی جانے والی بات نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جسے مومن اس وقت بھی اپنے اندر اٹھائے رکھتا ہے جب وہ اکیلا اس کا بوجھ اٹھانے سے عاجز ہو جاتا ہے۔ لہٰذا، جب اسباب معدوم ہو جاتے ہیں تو رب الاسباب باقی ہوتا ہے، اور جب لوگ بدل جاتے ہیں تو اللہ قائم رہتا ہے، اور حالات بدل سکتے ہیں لیکن اللہ کا وعدہ نہیں بدلتا اور نہ وہ پیچھے ہٹتا ہے۔ اور جب دنیا کے ترازو مکمل انصاف قائم کرنے سے عاجز آ جائیں، تو وہ کامل انصاف باقی رہتا ہے جس کا نام اس نے یَوْمُ الدِّیْن (جزاء و سزا کا دن) رکھا ہے، جہاں نہ کوئی حق ضائع ہوگا، نہ کوئی نیکی، اور نہ کوئی آنسو ہی رائیگاں جائے گا۔

اے اہل غزہ ! جب راستہ آپ کو تھکا دے تو یاد رکھیں کہ اللہ اس کے ہر قدم کو جانتا ہے۔ اور جب نقصان آپ کے دلوں کو بوجھل کر دے تو یاد رکھیں کہ یہ دنیا آخری ملاقات کی جگہ نہیں ہے۔ اور اگر لوگ آپ کو مایوس کریں تو ان کی یہ مایوسی آپ کو اللہ کی معیت (ساتھ) سے محروم نہ کرے۔ اور اگر آپ دیکھیں کہ آپ کی قربانیاں اس دنیا کے دیے جانے والے صلے سے کہیں بڑی ہیں تو غمگین نہ ہوں، کیونکہ آپ کا اجر دنیا کے رجسٹروں میں لکھا ہی نہیں گیا کہ وہ ضائع ہوجائے۔ بے شک وہ اللہ کے پاس ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہترین اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔

ہم آپ سے بغیر آنسوؤں کے بہادری نہیں چاہتے

دنیا میں ’غزہ کی پائیداری اور ثابت قدمی‘ کے بارے میں بہت زیادہ بات چیت ہورہی ہے، اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو اپنے اندر تعریف اور تحسین کا جہان رکھتا ہے، لیکن مجھے ڈر ہے کہ اس کا زیادہ استعمال ایک اور بوجھ بن کر مصیبت زدہ لوگوں کے کندھوں پر نہ آجائے۔ گویا غزہ کے لوگوں سے ہمیشہ یہی مطالبہ کیا جاتا رہا کہ وہ مضبوط رہیں، اور یہ کہ وہ دنیا کو بہادری کا ایک ایسا نمونہ پیش کریں جس میں وہ خون بہنے کے باوجود مسکراتے رہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ غزہ کے لوگ سب سے پہلے انسان ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ انھیں ایک علامت (نشان) سمجھا جائے نہ کہ ایک ہیرو۔ ان کا یہ حق ہے کہ وہ تھکیں، غم زدہ ہوں اور ایک عام زندگی کی تمنا کریں۔ باپ کا حق ہے کہ وہ ایک ایسے محفوظ گھر کی آرزو رکھے جو کہ بہادری کا نہیں بلکہ امن کا گہوارہ ہو، اور ماں کا حق ہے کہ وہ ایک ایسی رات کی خواہش کرے جس میں وہ اپنے بچوں کے بارے میں مطمئن ہو کر سو سکے۔ بچے کا حق ہے کہ وہ ایک اسکول، کتاب، کھلونا اور کھیل چاہے، نہ کہ خیمہ اور ملبہ۔ مریض کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے علاج کا سفر کسی دوسری جنگ میں تبدیل ہوئے بغیر اپنی دوا پا سکے۔ یہ چھوٹی چھوٹی خواہشات صبر و ثبات اور جوانمردی و پامردی کی ضد نہیں ہیں، بلکہ یہی وہ اصل مقصد ہے جس کے لیے عزت نفس قائم رہتی ہے، تعمیر و ترقی ہوتی ہے اور زندگی محفوظ رہتی ہے۔

اسی وجہ سے غزہ کے لوگوں کے ساتھ سچی وفاداری صرف ان کی پامردی پر صرف تعریف کے گیت گانے سے نہیں ہوگی، بلکہ اس بات کی کوشش کرنے سے ہوگی کہ وہ اس شکل میں ہمیشہ کے لیے ثابت قدم رہنے پر مجبور نہ ہوں۔ شریعت کے مقاصد صرف انسان کو موت سے بچانے پر نہیں رک جاتے، بلکہ اس کی زندگی، عزت، عقل، خاندان، مال، امن اور اس کی عبادت، علم، کام اور تعمیر و ترقی کی صلاحیت کو محفوظ بنانے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ غزہ کے لوگوں کے بارے میں دنیا کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ ان کے بچوں سے بھوک اور خوف کو برداشت کرنے کی مزید صلاحیت کا مطالبہ کرے، اور نہ یہ کہ ان کی ماؤں سے امید رکھے کہ وہ اپنے پیاروں کو کھونے کی مزید عادی ہو جائیں۔ بلکہ دنیا کا فرض یہ ہے کہ وہ بھوک اور خوف کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے، اور انسان کو ایک باوقار اور معمول کی زندگی گزارنے کا حق اسے واپس دلائے۔ غزہ کے لوگوں کی ثابت قدمی کا سب سے سچا احترام یہ ہے کہ ہم آج اس طرح کام کریں کہ اہل کو اس افسانوی حد تک مزید پامردی دکھانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔

غزہ کا صبر ہمیں ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔

اے امتِ اسلام! اگر ہماری گفتگو کا رخ اہل غزہ کے لیے ہمدردی، داد اور ان کی قربانیوں کے اعتراف کا تقاضا کرتا ہے، تو امت سے ذمہ داری اور احتساب کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ اہل غزہ کا حد سے زیادہ بوجھ اٹھانا دوسروں کی کوتاہیوں، بلکہ غیر ذمہ داریوں کا عذر نہیں بن سکتا۔ یہ سب سے بُری بات ہے کہ ہم ان کے صبر کی اس طرح تعریف کریں کہ اسے اپنی کوتاہ عملی کی ڈھال بنا لیں، یا جب بھی ان پر مصیبت بڑھے تو ہم ان سے مزید ثابت قدمی کا مطالبہ کرنے لگیں، اور ان کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کی حد کو مزید کم کر لیں۔ غزہ کا صبر امت کے لیے ذمہ داری سے چھٹکارا نہیں بن سکتا، بلکہ اس ذمہ داری کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ مصیبت زدہ لوگوں پر جتنا بوجھ بڑھتا ہے، قادرِ مطلق اللہ کی طرف سے ہم پر یہ سوال اتنا ہی گہرا ہوتا جاتا ہے: ’’تم نے اس کے لیے کیا کیا جو تم کر سکتے تھے؟‘‘

اور شریعت کسی بھی شخص سے اس کی استطاعت سے زیادہ کا مطالبہ نہیں کرتی، لیکن یہ اسے اس کام سے بھی بری نہیں کرتی جو اس کے بس میں ہو۔ میڈیا اور دنیا والوں کی ذمہ داری حق کا بیان کرنا ہے، دولت مند کی ذمہ داری مال خرچ کرنا ہے، ڈاکٹر کی ذمہ داری امداد اور علاج کرنا ہے، انسانی ہمدردی کے اداروں کی ذمہ داری کفالت اور رہائش فراہم کرنا ہے، میڈیا کے نمائندوں کی ذمہ داری سچائی کو بھلا دیے جانے سے بچانا ہے، اور قانون دانوں کی ذمہ داری خلاف ورزیوں پر احتساب کے لیے قانونی ذرائع استعمال کرنا ہے۔ اسی طرح اساتذہ اور ادیبوں کا کام نسلوں کے شعور میں فلسطین کو زندہ رکھنا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’مومنوں کی مثال ان کی باہمی محبت، رحم دلی اور ہمدردی میں ایک جسم کی طرح ہے، جب جسم کا کوئی ایک عضو تکلیف میں ہوتا ہے، تو پورا جسم بیداری اور بخار کے ذریعے،مدد کے لیے پکار اٹھتا ہے‘‘(مسلم)۔ لفظ تداع  (ایک دوسرے کو پکارنا/ساتھ دینا) میں بلا کی فصاحت اور گہرائی ہے جو غور و فکر کی حقدار ہے! کیونکہ جسم صرف اس بات پر اکتفا نہیں کرتا کہ اسے اپنے کسی عضو کی تکلیف کا علم ہو جائے، بلکہ وہ اس کے لیے تڑپ اٹھتا ہے اور پورا جسم اس کا جواب دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح، بھائی چارے کا مطلب صرف ایک احساس نہیں ہونا چاہیے جو دل میں رہے، بلکہ اسے عمل کے اظہار میں تبدیل ہونا چاہیے، اور رحمت کو ایک ذمہ داری بننا چاہیے۔ [ ترجمہ: ڈاکٹر ارشاد الرحمٰن]

 _______________