ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا (یکم فروری ۱۹۳۳ء-۱۳ جون ۲۰۲۶ء) ایک ممتاز ماہر معاشیات، محقق، استاد اور دانش ور تھے۔ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ کراچی سے وابستہ ہوئے، اور پھر زندگی بھر اسلام کے خادم کے طور پر علم و فضل کے میدان میں سرگرمِ عمل رہے۔ متعدد علمی کتب کے خالق اور اسلامی معاشیات کے تخلیقی مفکر کے طور پر اَن مٹ نقوش ثبت کیے۔
۸-۲۰۰۷ءمیں امریکا میں خط ِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے غریب عوام کے مکانوں کے لیے قرضہ اور پھر ان کے رہن کی ادائیگی میں ناکامی کے پیچیدہ عمل نے بڑے بڑے عالمی مالی سرمایہ دارانہ اداروں اور بینکوں کو دیوالیہ کے دہانے پر کھڑا کر دیا۔ اس بحران نے ایک طرف جدید معاشی و مالیاتی نظام کے منفی اثرات اور مضر نتائج کو دنیا کے سامنے اُبھارا، وہیں دوسری طرف پہلی بار اس نے پوری دنیا کو اسلام کے نظام معیشت و مالیات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے پر متوجہ کیا اور اس پر عمل کرنے کا داعیہ پیدا کیا۔ چنانچہ ورلڈ اکنامک فورم کے چیئرمین نے اعلان کیا:’’اس وقت ہم آخری نقطے تک پہنچ گئے ہیں، جس نے ہمارے لیے صرف ایک متبادل باقی رکھا ہے: یا تو ہم اپنی موجودہ روش بدل دیں، یا پھر مسلسل زوال اور دردو کرب کا سامنا کریں‘‘۔
ویٹی کن سے پوپ نے مغربی بینکاروں کے سامنے اسلامی سرمایہ کاری کے اصول کو عالمی معاشی بحران کے حل کے طور پر پیش کیا اور کہا:’’جن اخلاقی اصولوں کی بنیادوں پر اسلامی سرمایہ کاری قائم ہے، وہ بینکوں کو اپنے گاہکوں سے قریب کرے گی، اور جو خدمات وہ ادا کرتے ہیں اس کی صحیح اسپرٹ کا حصول بھی ممکن ہو سکے گا‘‘۔
معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر عمر چھاپرا نے کلیدی خطبہ پیش کیا جس کا بنیادی موضوع یہ تھا کہ سود سے پاک بینکاری کس طرح سماجی و معاشی انصاف، غربت کے خاتمے اور وسیع انسانی فلاح و بہبود کا ذریعہ بن سکتی ہے؟ دراصل، دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد ہی مغربی سرمایہ دارانہ فکر کے معاشی مفکرین نے شراکت داری کو درکنار کر کے محض سود پر مبنی قرضے کو ترقی کی بنیاد بنا لیا اور ایک عالمی مالیاتی بازار کا جال پھیلا دیا۔
پروفیسر چھاپرا نے اس سلسلے میں درج ذیل اہم معاشی تصورات پر روشنی ڈالی:
۱-استحصال کا خاتمہ:ربٰو(سود) کی ممانعت کا بنیادی مقصد ناانصافی اور اس استحصال کو روکنا ہے جس میں دولت مند قرض دہندگان کی ایک محدود تعداد قرض لینے والے کا فائدہ اٹھاتی ہے۔
۲-نفع اور نقصان میں شراکت:انھوں نے اعداد و شواہد کی بنیاد پر ایک مدلل نقطۂ نظر کے تحت سرمایہ دارانہ نظام میں رائج مقررہ منافع والے قرض پر مبنی نظام کے بجائے نفع و نقصان میں شراکت کے اصول اور اخلاقی پہلوؤں کو اہمیت دیتے ہوئے ایک منصفانہ مالیاتی سسٹم کی حمایت کی جس سے انصاف قائم ہوتا ہے، کیونکہ مالی وسائل فراہم کرنے والا شخص یا ادارہ محض قرض دہندہ نہیں بلکہ کاروباری شراکت دار بن کر نفع و نقصان میں بھی شریک ہوتا ہے۔
۳-دولت کی منصفانہ تقسیم:انھوں نے واضح کیا کہ اسلامی مالیاتی نظام دولت کی گردش کو فروغ دیتا ہے۔ یہ زکوٰۃ جیسے فلاحی ذرائع کی حمایت کرتا ہے تاکہ معاشرتی ناہمواری کم ہو اور غریب و محروم طبقات کو بااختیار بنایا جا سکے۔
۴-وسیع معاشی تبدیلی: حقیقی مساوات اور انصاف کے حصول کے لیے ایک مضبوط اخلاقی نظام، مؤثر کارپوریٹ گورننس اور معاون معاشی و سماجی پالیسیاں ضروری ہیں۔ اور یہ کام صرف علمائے کرام نہیں کر سکتے،بلکہ معاشرے کے باشعور دانش وروں کی شرکت کی ضرورت ہے۔
اس بین الاقوامی سمینار میں شرکت کے بعد ڈاکٹر چھاپرا جئے پور راجستھان کے دورہ پر تشریف لے گئے،وہاں انھوں نے تاجروں اور معاشرے کے بااثر طبقہ سے شگفتہ اور سادہ زبان میں تجارت کی اہمیت اور سود وغرر سے پاک کاروبار کے خدو خال تفصیل کے ساتھ بتائے جس سے حاضرین بہت متاثر ہوئے۔
ڈاکٹر عمر چھاپرا کہتے ہیں: ’’ ضروری ہے کہ انسان بنیادی و ضمنی مقاصد میں مسلسل اضافے کی خاطر جد و جہد کرتا رہے تا کہ اس کی خوش حالی بہتر سے بہتر ہوتی رہے، اور ضروریات و حالات میں تغیر و تبدل صرف افراد کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ہیں۔ زمانہ بدل چکا ہے، ضروریات بدل چکی ہیں بلکہ اس میں زیادتی ہوگئی ہے۔ ان سب چیزوں کو سامنے رکھ کر مقاصد پر بحث و مباحثہ کی ضرورت ہے‘‘۔(اسلامک اکنامکس بلیٹن، جنوری-فروری ۲۰۰۳ء، ص ۱-۳)
اسی طرح انھوں نے ڈاکٹر شارق نثار کو انٹرویو دیا جو Islamic Economic Bulletin (جنوری- فروری ۲۰۰۳ء) میں شائع ہوا۔ اس میں زور دے کر کہتے ہیں: اسلامی معاشیات کو روایتی معاشیات کے مقابلے میں زیادہ جامع ماڈل اختیار کر نے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ابن خلدون سے رہنمائی لینی چاہیے، جنھوں نے مختلف عوامل کے باہمی تعلق پر مبنی ایک جامع اور متحرک ماڈل پیش کیا۔
اب تک تجرباتی (Empirical) نوعیت کا بہت کم کام ہوا ہے۔ اس کے بغیر نہ تو مسلم دنیا کی حقیقی حالت کو سمجھا جاسکتا ہے اور نہ مستقبل کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی تجویز کی جا سکتی ہے۔ اسلامی حکمت عملی کو واضح طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔ یہ صرف مالیاتی نظام کی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ اس میں انسان کی اصلاح اور ان تمام سماجی، معاشی، سیاسی اور دیگر عوامل کی اصلاح شامل ہے جو اس کے رویے اور فلاح و بہبود پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس سے ہماری توجہ صرف دینی عقائد اور اقدار تک محدود نہیں رہے گی بلکہ سماجی، معاشی، مالی، سیاسی اور تاریخی عوامل کو بھی شامل کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر چھاپرا کہتےہیں: ’’اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور وہ صرف مسلم ممالک ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فقہاء نے اب تک آپشنز، اور ڈیریویٹوز(Options Derivatives)کو مسترد کیا ہے،حالانکہ یہ لازماً سٹے بازی (Speculation) پر مبنی نہیں ہوتے بلکہ ممکنہ خطرات (Risks) کے انتظام کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔اگر ہم انھیں قبول نہیں کرتے تو پھر خطرات کے انتظام کے لیے متبادل طریقے تلاش کرنا ہوں گے۔ اسلامی معاشیات کو انسانی فلاح و بہبود کے فروغ کے لیے بہت زیادہ تخلیقی فکر(Creative Thinking) کی ضرورت ہے‘‘۔(ڈاکٹر عمر چھاپرا:حرمت سود، ناشر: فقہ اکیڈمی، انڈیا)
ڈاکٹر عمر چھاپرا کا ۶۰ صفحات پر مشتمل ایک مقالہ حُرمت سود ان کے تین عالمانہ مقالات کے اُردو ترجمے پر مشتمل ہے ،اور شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے۔اس مقالے سے ڈاکٹر محمود احمد غازی اس قدر متاثر ہوئے کہ انھوں نے اس کے مقدمے میں لکھا ہے: معاشیات اسلام کی تاریخ میں ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا وہی مقام رکھتے ہیں جو مسلم فلسفہ اور کلام کی تاریخ میں امام غزالی اور امام رازی کو حاصل ہے‘‘۔
’کیا سود اسلام میں واقعی حرام ہے؟‘ اس سوال پر آج بھی متضاد باتیں کہی جا رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض مسلم دانش ور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام نے جس چیز کو حرام قرار دیا ہے وہ سود نہیں بلکہ ’ربٰو‘ ہے اور سود اور ربٰو ایک ہی چیز نہیں ہے۔ اس کی دو وجوہ ہیں:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگوں پر ایک زمانہ ضرور آئے گا کہ ان میں کوئی ایسا نہیں بچے گا جو سود یعنی ’ربٰو نہ کھائے۔ اگر وہ سود نہیں کھائے گا تو بھی اس کے اثرات اور غبار اس تک ضرور پہنچیں گے‘‘۔(سنن ابی داؤد)
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے استحصالی مالیاتی نظام کی ہمہ گیریت میں اگر کوئی مومن براہِ راست سود سے بچنے کی کوشش بھی کرے گا، تب بھی سود پر مبنی معیشت کے اثرات یا اس کا غبار لازمی طور پر ہر شخص کی روزمرہ زندگی کو چھو جائے گا۔
اس کے علاوہ خلیفۂ راشد حضرت عمرؓ نے اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ ربٰو یعنی سود کے متعلق آیات قرآن کریم کے نزول کے آخری زمانےمیں نازل ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تمام جزیات و احکام اور ان کے اطلاق کی کامل وضاحت فرمانے سے قبل ہی دنیا سے رخصت فرماگئے۔ اس لیے احتیاط کے طور پر حضرت عمرؓ نے مشورہ دیا اور کہا کہ’’اس چیز کو بھی چھوڑ دو جو تمھیں شک میں ڈالے اور اسے ا ختیار کرو جو تمھیں شک میں نہ ڈالے‘‘۔
علامہ عبداللہ یوسف علی نے اپنے تفسیری نوٹ میں یہ بات کہی ہے کہ آج کےزمانے میں بینک کا سود ربٰو نہیں۔
ڈاکٹر چھاپرا نے ربا النسیئہ اور ربا الفضل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام میں ہرقسم کا سود حرام ہے۔ اس طرح انھوں نے اس کنفیوژن کو دور کر کے امت پر بڑا احسان کیا ہے۔
آگے لکھتے ہیں:’’ضروریات زندگی پوری کرنے اور غریبوں کی معاشی حالت کو تیزی سے بہتر بنانے کے لیے مولانا مودودی نے اس بات پر سب سے زیادہ زور دیا تھا کہ وسائل کو امیروں سے غریبوں کی طرف منتقل کیا جائے۔ ابتدائی زمانے (۱۹۴۱ء) میں انھوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس مسئلے کا فوری حل اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ صاحب ثروت افراد کو اس بات پر راغب کیا جائے کہ وہ ابتدائی مسلم معاشرے کا طرزِ زندگی اختیار کریں اور اپنی حقیقی ضروریات پوری کرکے باقی بچ جانے والی آمدنی (نہ کہ پوری دولت ) غریبوں میں تقسیم کر دیں، جسے قرآن کی اصطلاح میں العفو کہا گیا ہے۔ تاہم بعد میںجب غالباً انھوں نے جدید معاشروں میں، جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی ہی بے غرضانہ روح سے عاری تھے، اس طریق کار کو اختیار کرنے کی راہ میں حائل مشکلات کا اندازہ کر لیا تو انھوں نے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرلی، یعنی یہ کہ آدمی اپنی معقول ضرورتیں پوری کر کے اور اسلام کی عائد کردہ معاشی ذمہ داریاں (زکوٰۃ و عشر ) ادا کرکے باقی بچ جانے والی رقم کو محفوظ کرلے اور پھر کسی کا روبار میں لگا دے ۔ بہر حال وہ سادہ طرز زندگی اختیار کرنے اور اضافی آمدنی کا زیادہ سے زیادہ حصہ غریبوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے رہے۔ انھوں نے امداد باہمی کے ادارے قائم کرنے اور زکوٰۃ و عشر کے علاوہ ، انتقال کر جانے والوں کی جائیداد کو شریعت کے تقاضوں کے مطابق منصفانہ انداز میں تقسیم کیے جانے کی ضرورت پر بھی زور دیا‘‘۔
آگے چل کر عمر چھاپرا لکھتے ہیں:’’مولانا مودودی کو پختہ یقین تھا کہ سود کے خاتمے سے ایک عادلانہ معاشرتی نظام کے قیام میں مددمل سکتی ہے اور اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنی تحریروں میں دکھلایا کہ سود سے پاک مالیاتی نظام کسی طرح عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے جس بات پر سب سے زیادہ زور دیا وہ یہ کہ مالیات میں نفع ونقصان کی شراکت (مضاربہ اور مشارکہ) کے طریقوں پرعمل کیا جائے،لیکن اسلامی مالیاتی نظام نے عملاً جس انداز میں نشو و نما پائی ہے، وہ اس سے کسی حد تک مختلف ہے۔ اس نظام میں مالیات کے فروخت کے طریقوں ( مرابحہ، اجارہ و سلَم ، استصناع) کا بھی معقول حصہ شامل ہے، جو اُدھار کو جنم دیتے ہیں لیکن روایتی بنکوں کی جانب سے سود پر دیے جانے والے قرضوں سے مختلف ہیں ۔ نقد اور ادھار پر لی جانے والی چیزوں کی قیمتوں میں نمایاں فرق جو اس قسم کی مالیات کی بعض شکلوں (خصوصاً مرابحہ) میں پایا جاتا ہے، مولانا مودودی کے نزدیک اگرچہ سود نہیں ہے لیکن مشکوک آمدنی ضرور ہے۔ حدیث کی رُو سے اس سے پرہیز ضروری ہے‘‘۔
ڈاکٹر صاحب آگے لکھتے ہیں:’’تاہم، اس کے ساتھ ہی [مولانا مودودی]نے اپنی کئی دوسری تحریروں میں اس حقیقت کا اظہار بھی کیا کہ فرد کے رویے پر معاشی ، معاشرتی ، سیاسی اور تاریخی قوتیں مسلسل اثر انداز ہو رہی ہوتی ہیں۔ اس لیے محض وعظ ونصیحت سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ مسلمان ، صدیوں سے پند و نصائح کے خوگر ہیں ، لیکن معمول کی اس تبلیغ وتلقین سے ان کی سیرت میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی۔ چنانچہ اس کے لیے ایک جامع معاشرتی (Socio-Economic) تبدیلی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اور ماضی کے کئی دوسرے عظیم مسلمان مفکرین، مثلاً ، ابو یوسف (۷۹۸ ء)، الماوردی (۱۰۵۸)، ابن تیمیہ (م:۱۳۲۸ء) ، ابن خلدون (م :۱۴۵۶ ء ) اور شاہ ولی اللہ (م:۱۷۶۲ء) کی طرح انھوں نے بھی اقتصادی معاملات میں محض اقتصادی عوامل ہی پر زور نہیں دیا۔ روایتی اقتصادیات کے برخلاف انھوں نے فرد کی زندگی ا اور معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو باہم متعلق قرار دیا اور کہا کہ اقتصادی مسائل کو حل کرنے کے لیے محض اقتصادی عوامل پر توجہ دینا کافی نہیں ہے کیونکہ کہ مسلم معاشرے کو اسلامی تصور سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے اقتصادی عوامل کے علاوہ بعض دیگر چیزوں کی بھی ضرورت ہے‘‘۔
اسی طرح محمد عمر چھاپرا مسلم تہذیب زوال کیوں اور اصلاح کیوں کر؟ میں صدیوں تک قائم رہنے والی ایک انتہائی شاندار اسلامی تہذیبی روایت کے گذشتہ چند صدیوں سے زوال کا جائزہ لیتے ہیں۔
اسلام ایک ایسا عالمی معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے جس میں باہمی ہمدردی اور ایک دوسرے کے تعاون کی فضا قائم ہو۔ وہ یہ نہیں چاہتا کہ دولت چند افراد یا کسی مخصوص طبقے کے قبضے میں ہو جیساکہ قرآن نے کہاہے:
كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَۃًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَاۗءِ مِنْكُمْ۰ۭ (الحشر۵۹:۷) تاکہ دولت مال داروں ہی کے درمیان گردش کرتی نہ رہے۔
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم نے نصف صدی پہلے پیشن گوئی کی تھی کہ مغرب کے غلبہ و استحصال کا دور ختم ہونے والا ہے، اور دُنیا کی قیادت مشرق کی معاشی پیش رفت کی طرف پلٹنے والی ہے۔لیکن مسلم علما اور دانش وروں میں اس کا ادراک بہت کم ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج امت مسلمہ کے نوجوان، مرد اور خواتین ڈاکٹر عمر چھاپرا، پروفیسر خورشید احمد، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی، باقرالصدر اور دیگر قد آور شخصیات کی طرح اس چیلنج کو قبول کریں۔ مقاصد شریعہ اسلامیہ کےساتھ ساتھ ڈاکٹر عمر چھاپرا نے جس تخلیقی فکر کی طرف خصوصی توجہ دلائی ہے، اس کے ذریعے حالات زمانہ کی پیچیدگیوںکے چیلنجوں اور امکانات کو سامنے رکھ کر انسانیت کے سامنے اسلام کے عدل و قسط کا نمونہ پیش کریں۔
رب قدیر و جلیل ہمارا حامی و ناصر ہو، اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے جیسا کہ فرمایا گیا :
وَالَّذِيْنَ جَاہَدُوْا فِيْنَا لَـنَہْدِيَنَّہُمْ سُـبُلَنَا ۰ۭ وَاِنَّ اللہَ لَمَعَ الْمُحْسِـنِيْنَ۶۹ (العنکبوت ۲۹:۶۹ )جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انھیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقینا اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے۔
_______________