علم کی سرحدیں غیر محدود ہیں۔انسان علمی میدان میں جتنی ترقی کرتا ہے اتنا ہی اسے اپنی کم علمی کا احساس گہرا ہوتا جاتا ہے۔ہم جس دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں، اسے عموماً فنی اور معلوماتی انقلاب سے منسوب کیا جاتا ہے۔آج دنیا ایک گاؤں ہی نہیں کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی میں محدود نظر آتی ہے۔ آپ کی گھڑی نہ صرف وقت، موسم،مصروفیات سے آگاہ رکھتی ہے، بلکہ اس میں آپ کی بیرونی فون کالیں، تحریری نوٹ ، دل کی دھڑکن ، نبض کی رفتار ، حتیٰ کہ آج آپ کتنے قدم چلے ہیں، غرض وہ سارے کام جو مختلف جدید ترین آلات فراہم کرسکتے ہیں،آپ اپنی کلائی پر بندھی گھڑی اور بعض اوقات آنکھوں پر پہنے ہوئے چشمے کے ذریعے کر سکتے ہیں ۔آج جدید چشمے بطور کیمرہ بھی کام کرتے ہیں۔ اشاروں پر کام کرنے والے مشینی روبوٹ نہ صرف صنعتی کاموں میں بلکہ شہروں میں صفائی ، ٹریفک کنٹرول،سکیورٹی چیک، نیز ایسے مقامات جہاں تک رسائی انسان کے لیے مشکل ہو وہاں بھی مصنوعی ذہانت کے ذریعے بہ آسانی پہنچ جاتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ خود شعبۂ تعلیم میں بھی اس کا عمل دخل بہت بڑھ گیا ہے۔ آپ کی خواہش پر کہ آپ کس قسم کا مقالہ، کتنے اور کیسے حوالوں کے ساتھ کس علمی سطح کے لیے لکھوانا چاہتے ہیں،آپ حکم کریں اور طلسماتی مصنوعی ذہانت چند لمحات میں وہ مقالہ حاضر کر دے گی۔ گویا علمی اور تدریسی دنیا میں اس کے ذریعے ایک انقلاب برپا ہو رہا ہے ۔طب اور نفسیات کے حوالے سے علامات کے بتانے پر ایک مصنوعی ذہانت والا ڈاکٹر تقریباً وہی علاج تجویز کر رہا ہے، جو ایک انسانی ذہن والا ڈاکٹر تجویز کرتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اب ’مصنوعی ذہانت‘(AI ) سے مزین غیر انسانی معلم اور ماہر نفسیات انسانوں کے نفسیاتی مسائل میں بھی رہنمائی فراہم کر سکیں گے۔
’مصنوعی ذہانت‘ کی مثال ایسی ہی ہے کہ اچانک آپ کے کمرے میں ایک ہاتھی آگھسے۔ جسے آپ نکال بھی نہیں سکتے اور گوارا کرنا بھی آسان نہیں ہے کہ اس کی موجودگی سے اصل انسان جو اس دنیا میں اللہ کا خلیفہ ہے اس کی جگہ تنگ پڑتی جا رہی ہے۔ بہرحال چونکہ یہ ہاتھی گھس ہی آیا ہے، تو اب اس کی موجودگی سے مناسب فائدہ حاصل کرنے میں ہی بہتری ہے۔ اس حوالے سے امریکی ابلاغ عامہ میں گذشتہ چھ ماہ میں اس فتنے کے حق میں اور خلاف ،تجربات اور عملی مسائل کے جائزے کی روشنی میں ماہرین کی جو رائے سامنے آئی ہے، وہ کوئی زیادہ خوش کن نہیں ہے۔
۱۵ مئی ۲۰۲۶ء کو، گوگل کے سابق سربراہ (CEO) ایرک نے ایریزونا یونی ورسٹی میں جو پہلی یونی ورسٹی تھی جس میں ’مصنوعی ذہانت‘ کا نفاذ کیا گیا ، تقریبِ تقسیمِ اسنادکے خطاب میں یہ الفاظ استعمال کیے: ’’مصنوعی ذہانت ہر چیز پر اثر انداز ہونے جا رہی ہے… آپ جس راستے کا بھی انتخاب کریں، مصنوعی ذہانت آپ کے کام کرنے کے انداز کا لازمی حصہ بن جائے گی‘‘۔ اس فقرے پر طلبہ و طالبات نے نعرے بازی کی ،ان کا مذاق اڑایا اور ان کے خیالات سے اختلاف کا اظہار کیا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کیلے فورنیا کی سڑکوں پر والدین نے مظاہرہ کیا اور نعرے لگائے: ’’ہمیں ٹیبلٹس اور موبائل فونز کے بجائے کاپیاں اور پنسلیں واپس چاہئیں‘‘۔ اسی طرح ایریزونا اور نیویارک میں بھی ہوا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق جن اداروں نے اس میں پیسہ صرف کیا ہے، اب وہ رائے عامہ کو متاثر کرنے پر بھاری رقم صرف کررہے ہیں ۔ اس کے باوجود اے آئی کے خلاف نہ صرف مظاہرے بلکہ تشدد کا استعمال بھی ہوا ۔ اخبار کے مطابق اوپن اے آئی کے سربراہ سام(Sam) کے گھر پر پٹرول بم بھی پھینکا گیا۔(۲۱مئی ۲۰۲۶ء)
اے آئی کے مضر اثرات کے حوالہ سے نیویارک ٹائمز کے مقالہ نگار تھیوبیکر نے جو خود اسٹن فرڈ یونی ورسٹی کا سند یافتہ ہے، اپنے مضمون What AI did to My College? (مصنوعی ذہانت نے میرے کالج میں کیا کیا؟) میں کہا ہے: ’’جدید ترین تحقیق اب وہی کچھ بتانے لگی ہے جو اکثر لوگ پہلے ہی واضح طور پر محسوس کر رہے ہیں۔ذہنی اور فکری کاموں کے لیے ’مصنوعی ذہانت‘ انسان کی اپنی فکری صلاحیت اور ذہنی صبر و برداشت کی قوت کو کم کر سکتی ہے‘‘۔(۲۰مئی ۲۰۲۶ء، ص۱۰)
نفسیات کے زاویہ سے نارتھ ویسٹرن یونی ورسٹی امریکا کے ماہر نفسیات پروفیسر ڈیوڈ ڈ اسٹینو نے نیویارک ٹائمز میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے: اس سے تیار کردہ ایک ایجاد یہ صلاحیت بھی رکھے گی کہ وہ اپنے دفاع میں اپنے مالک کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرڈالے جو سخت تباہ کن ہوں۔ اس کے استعمال میں دھوکا دہی، دھونس، دھمکی، ہر وہ کام جو اخلاق کے منافی ہو، انسانیت کے مفاد کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔(۲۲؍اپریل ۲۰۲۶ء،ص۱۰)
ابتدائی مرحلے ہی میں ماہرین کی طرف سے خطرات و تباہیوں کا تجربات کی بنیاد پر جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے،ان کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آگے آگے کیا کچھ ہونے جا رہا ہے۔ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی ہدایت پر تمام یونی ورسٹیوں میں ’مصنوعی ذہانت‘ پر ایک کورس جس کا دورانیہ تین کریڈٹ گھنٹے ہے ،اس کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ اے آئی کے بعض مفید استعمالات کے پورے احساس کے ساتھ اس پر جذباتی طور پر تبصرہ کرنے کے بجائے جدید تحقیق اور تجربات کی بنیاد پر اس کے استعمال کے حوالے سے نہ صرف اخلاقی ضوابط اور قوانین کی تشکیل بلکہ ان پر شدت سے عمل کروانے میں قوتِ نافذہ کا استعمال کرنا انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔
اس کے تباہ کن معاشرتی نتائج کی ایک مثال اس کا ابلاغ عامہ میں استعمال ہے۔ ایک نوعمر بچہ بھی جو اے آئی اور چیٹ جی پی ٹی کے استعمال سے واقف ہے کسی معروف مذہبی رہنما کے چہرے کو کسی ایسے جسم اور لباس کے ساتھ چسپاں کر کے پیش کر سکتا ہے، جو اس کی دینی ساکھ اور شرافت اور نیک نامی کو ایک لمحہ میں خاک میں ملا دے ۔ پاکستان میں اس کا استعمال ابھی نیا ہے ، لیکن بہت کم عرصے میں اس کے غیر اخلاقی استعمال کی مثالیں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں ۔اس کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی استعمال پر قانون سازی کی فوری ضرورت ہے۔ معاشرہ میں تباہی پھیلانے کے بعد اگر قانون بنایا بھی گیا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
_______________