اگست ۲۰۲۶

فہرست مضامین

ورلڈ کپ اور جدید بُت

ڈاکٹر جمال عبدالستار | اگست ۲۰۲۶ | تذکیر

Responsive image Responsive image

موجودہ زمانے میں شیطان لوگوں سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ پتھر کے بتوں کی پوجا کریں، جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوتا تھا، بلکہ ہر دور کے لیے وہ نئے بُت تراشتا ہے۔ کبھی وہ بت ایک خیال ہوتا ہے، کبھی خواہش، کبھی شہرت، کبھی دولت، کبھی اقتدار، کبھی تصویر، اور کبھی ایک کھیل۔ ہر وہ چیز جو اپنی حد سے بڑھ کر انسان کے دل پر اس طرح قابض ہو جائے کہ اسے اس کی اصل ذمہ داری سے غافل کر دے، وہ اسی حد تک ’بت‘ بن جاتی ہے جس حد تک اس نے اس دل پر قبضہ جما لیا ہو۔

حالیہ دنوں میں ہم نے جس چیز کو دیکھا اسے ’شیطان کا انڈا‘ کہا جا سکتا ہے۔ وہ چمڑے کی ایک گیند تھی، جسے شیطان نے ابتدا میں ایک معمولی چیز کے طور پر اچھالا۔ پھر اس کے پیروکاروں نے اسے اٹھا لیا اور اپنی عصبیت، خواہشات اور جذبات کی ہوا اس میں بھر دی، یہاں تک کہ وہ پھولتی پھولتی ایک ’عالمی بت‘ بن گئی، جس کی جدید ’دور کی محرابوں‘ میں ’عبادت‘ کی جا رہی ہے۔

عالمی میڈیا کا یہ سیلاب، جو ایک بے جان چمڑے میں ایسی جان ڈال دیتا ہے کہ کروڑوں انسانوں کے ذہن اس کے اسیر بن جاتے ہیں، دراصل اس نبویؐ تنبیہ کی زندہ تصویر ہے: ’’آدمی ایک جھوٹ بولتا ہے اور وہ آفاق تک پہنچ جاتا ہے‘‘۔ آخر اس سے بڑا جھوٹ کیا ہوسکتا ہے کہ ایک ایسی امت، جسے زمین میں خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، یہ گمان کرنے لگے کہ اس کی عظمت مصلحین کے افکار سے نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے قدموں سے وجود میں آتی ہے۔

  • فٹ بال: تفریح سے تعصب تک: یہ کھیل تو محض ایک تفریح کے طور پر وجود میں آیا تھا، تاکہ انسان اپنے فراغت کے اوقات میں جسم و ذہن کی تھکن دور کر سکے۔ لیکن جب شیطانی فریب عوام کی غفلت کے ساتھ مل جاتا ہے تو کھیل ’عبادت‘ بن جاتا ہے اور تفریح زندگی کا مقصد۔

یوں اس فٹ بال کے بت کے لیے عالمی ادارے قائم ہوئے، اس کے محافظ اور خادم پیدا ہوئے، جو اس کے نظریات کی حفاظت کرتے ہیں، اس کے قوانین مرتب کرتے ہیں اور اس کی رسومات کو ایک ’عالمی متبادل دین‘ کی صورت دیتے ہیں۔ پھر دنیا ایک بڑی عالمی منڈی میں بدل گئی، کلب اور اکیڈمیاں قائم ہوئیں، اور معاملہ کھیل کے میدان کی تفریح سے نکل کر تعصب، دشمنی اور کش مکش تک جا پہنچا۔ یہاں تک کہ محبت اور نفرت، وفاداری اور بے زاری کا معیار بھی۔ پھر جرسیوں کے رنگ اور کلبوں کے نشانات بن گئے۔ یہ عقل کی وہ بے وقعتی ہے جب انسان وجود کی اصل حقیقتوں سے غافل ہو کر اپنی عزت ہوا سے بھری ہوئی ایک گیند میں تلاش کرنے لگتا ہے۔

یہ معاملہ صرف کھیل تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز اور افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کھیل نے امت کے عظیم تصورات اور باوقار اصطلاحات تک کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ ’مدافعت‘ کا وہ تصور، جو اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا نام تھا، جس کے ذریعے فساد کو روکا جاتا ہے اور حق کو قائم کیا جاتا ہے، اب صرف گول کی ’حفاظت‘ تک محدود ہو کر رہ گیا۔ اسی طرح ’فتح‘ اور ’نصرت‘ کا وہ مفہوم، جو اللہ کے دین کی سربلندی، مظلوم کی مدد اور تہذیب کی تعمیر سے وابستہ تھا، اب صرف گول کرنے اور مخالف ٹیم کے جال میں گیند پہنچانے تک سمٹ گیا ہے۔

افسوس ہے اس امت پر جسے کھیل کے میدانوں کے فریب نے ایک جھوٹی عزت کا احساس دے دیا، جب کہ اس کے مقدسات، اس کی اقدار اور اس کے حقیقی مسائل مسلسل حقیقی شکستوں کا شکار ہیں۔

اُمتِ مسلمہ، جو آخری آسمانی پیغام کی حامل اور نبوت کی وارث ہے، آج اس بات کی شدید محتاج ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اپنا محاسبہ کرے اور اپنے شعور کو جھنجھوڑے۔ آج ہم ایسے عجیب مناظر دیکھتے ہیں کہ غیرت مند انسان کا سر شرم سے جھک جاتی ہے۔ علما کسی ٹیم کی کامیابی کے لیے ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر دعائیں کرتے ہیں، کھلاڑی مخالف ٹیم کے خلاف گول ہونے پر سجدۂ شکر ادا کرتے ہیں، اور شائقین اپنی توانائیاں، اپنا وقت اور اپنا مال اس کھیل پر نچھاور کرتے ہیں، جب کہ امت کے بڑے مسائل فراموشی کے سرد خانے کی نذر ہو چکے ہیں۔ حق کی دعوت کے لیے جذبہ کمزور پڑ گیا ہے اور دین و ملت کے لیے غیرت ماند پڑتی جا رہی ہے۔

ہرگز کھیل میں خرابی نہیں ہے، اگر وہ جسمانی تربیت اور جائز تفریح کے لیے ہو۔ اصل خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ترجیحات بگڑ جائیں، بلند مقاصد چھوڑ کر معمولی چیزوں کو زندگی کا مرکز و محور بنا لیا جائے، یہاں تک کہ فٹ بال کی ایک شکست لوگوں کے دلوں پر اصولوں، اقدار اور ضمیر کی شکست سے زیادہ گراں گزرنے لگے۔

شیطان کے ایسے انڈوں سے اس وقت ہی خبردار ہو جانا چاہیے، جب وہ ابھی پھوٹے نہ ہوں، کیونکہ ابتدا میں وہ صرف ایک کھیل یا معمولی سی دلچسپی کی صورت میں سامنے آتے ہیں، پھر ایک عقیدہ، ایک شناخت، اور آخرکار ایک ایسے وسیع قید خانے میں بدل جاتے ہیں جس میں قید شخص کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ قید ہے۔ اس کے بعد شیطان کو لوگوں کو زنجیروں سے باندھنے کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ وہ اپنی زنجیریں خود اپنے دلوں میں اٹھائے پھرتے ہیں۔ انھیں اپنی زینت سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہی ان کی غلامی کی بیڑیاں ہوتی ہیں۔

  • جدید دور کے دوسرے ’شیطانی انڈے‘:یہ بے مقصد نظام ہمارے عصرِحاضر میں شیطان کا پہلا انڈا نہیں ہے۔ ہماری تاریخ میں کتنے ہی ایسے خوش نما نظریات آئے، جنھیں لوگوں نے ابتدا میں بہت عظیم سمجھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کا بھیانک چہرہ سامنے آ گیا، کیونکہ انھوں نے عقائد کو بگاڑا، معاشرتی تعلقات کو خراب کیا اور انسانی فطرت کو مجروح کیا۔

انسانیت ایک طویل عرصے تک اشتراکیت (کمیونزم) کے سائے میں رہی، یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے اسے شریعت کا لباس پہنانے کی بھی کوشش کی۔ اس کے بعد ’سرمایہ داری‘ اور ’سوشلزم‘ کے نظریات آئے، اور پھر ہم اس بڑے انڈے تک پہنچے، جسے ’مغربی جمہوریت‘ اور ’انسانی حقوق‘ کے نام سے اپنی مخصوص تعبیرات کے ساتھ پیش کیا گیا۔

یہ ایسے نعرے ہیں جنھیں اپنی بڑائی کے خواہش مند عالمی نظام نے اس لیے تراشا کہ وہ نئے دور کے ’بت‘ بن جائیں۔ جب بھی ظالم حکومتوں کو اپنے اقتدار کو مضبوط کرنا ہوتا ہے، وہ انھی نعروں کو استعمال کرتی ہیں۔ آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ قوموں کی آزادی سلب کی جارہی ہے، بچوں کو قتل اور بھوکا رکھا جا رہا ہے، عورتیں بے آبرو کی جا رہی ہیں، اور یہ سب کچھ پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، جو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ان خوب صورت نعروں کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ طاقت ور اپنے ظلم کو جائز ثابت کرنے، اپنی خواہشات نافذ کرنے اور انسانی فطرت کو بگاڑنے کے لیے انھیں بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔

  • اسلامی خودمختاری:اس ناپسندیدہ فکری غلامی اور اندھی تقلید کا مؤثر علاج یہ نہیں کہ ہم انھی فاسد نظاموں میں مزید شامل ہوتے جائیں یا ان کے سامنے سر جھکاتے جائیں، بلکہ اس کا علاج یہ ہے کہ امت اپنے رب کی شریعت کی طرف سچے دل سے واپس لوٹے، اپنی کھوئی ہوئی شناخت دوبارہ حاصل کرے اور اللہ کے رنگ میں رنگ جائے، جو کبھی ماند نہیں پڑتا۔

حقیقی کامیابی کسی کپ یا ٹرافی کے حصول میں نہیں، اور نہ اصل فتح کسی فٹ بال اسٹیج پر کھڑے ہو کر انعام وصول کرنے میں ہے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ امت اپنا وہ کردار ادا کرے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے زمین پر خلیفہ بنایا ہے۔ اسلام کی اقدار کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرے، اور پوری انسانیت تک اللہ کا پیغام پہنچائے۔

یہ ایک پُرخلوص پکار دل کی گہرائیوں سے ہر صاحبِ ایمان، ہر صاحبِ عقل اور ہر بلند ہمت انسان کے لیے نکل رہی ہے: اپنے دین کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ ہو جاؤ، اپنی اسلامی شناخت پر فخر کرو، اور آؤ انسانیت کے سامنے ایسا تہذیبی نمونہ پیش کرو جو اسے مادہ پرستی، بے مقصدیت اور فکری انتشار کی تاریکیوں سے نکال کر اس عزت و تکریم کی طرف واپس لے آئے جس امت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے‘‘۔ (اٰلِ عمرٰن۳:۱۱۰)

اس امت کے شایانِ شان ہرگز نہیں کہ وہ اپنی عزّت و عظمت کو صرف چند گول کرنے یا کسی کھیل کے مقابلے میں کامیابی تک محدود کر لے۔ اس کی حقیقی عظمت تو انسانوں کو ہدایت پر لانے، عدل قائم کرنے، خیر کو فروغ دینے اور زندگی کو سنوارنے میں ہے!

 _______________