وہ لوگ بے حد خوش نصیب ہیں جنھیں ’معلّم‘ کا منصب ملا۔ یہ وہ منصبِ جلیلہ ہے جس پر اللہ حکیم و علیم نے انسانیت کی تعلیم و تربیت کے لیے انبیاؑ کی مقدس شخصیتوں کو مامور فرمایا۔ یہ انبیا ؑ تاریخ کے مختلف اَدوار میں بنی نوع انسان کو اپنے قول و عمل سے حق کی تعلیم دیتے اور انھیں لازوال صداقتوں کی طرف بلاتے رہے۔ ان عظیم معلّمین انسانیت کی آخری کڑی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جنھوں نے انبیائے سابقین ؑ کی طرح اپنے قول و عمل سے انسانیت کو نیکی اور راستی کی تعلیم دی۔ انسان کے کردار کو جلابخشی اور اس کی فکری سطح کو عظیم رفعتوں سے ہمکنار کیا۔ بلاشبہ حضوؐر انسانیت کے معلّمِ اعظم ہیں۔ آج اُمت مسلمہ کا جو بھی فرد اسلامی نظامِ فکروعمل کی روشنی میں تعلیم و تدریس کے میدان میں سرگرمِ عمل ہے، درحقیقت وہ انبیاؑ کے منصب کا وارث ہے اور حضور اکرمؐ کی تعلیمی تحریک کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔
تعلیم کا عمل اپنی اہمیت و افادیت کے اعتبار سے نہایت ہی مؤثر معاشرتی عمل ہے اور اس وجہ سے ہر دور کے مفکرین اس عمل کو زیادہ جامع اور مفید نتائج کا حامل بنانے کے لیے اپنے افکار پیش کرتے رہے ہیں۔ یہ عمل درحقیقت انسان کی ذہنی اور اخلاقی تدریج کا عمل ہے اور اس کے پیداکردہ نتائج ہی خود انسان کی ترقی کا پیمانہ قرار پاتے ہیں۔ آج کا دور بھی ہمیشہ کی طرح مختلف نظریاتی لہروں اور فکری سمتوں کی باہمی آویزش اور ٹکرائو کا دور ہے۔ تصادم اور کش مکش کی اس فضا میں کمزور نظریاتی بنیادوں پر کھڑی اقوام آج زبردست خطرے میں ہیں، کیونکہ میڈیا اور ٹکنالوجی کے موجودہ دور میں طاقت ور اقوام کی طرف سے فکری اور ثقافتی یلغار نے بھرپور حملے کا رنگ اختیار کرلیا ہے۔ ان پُرآشوب حالات میں کوئی ایسی قوم اُبھر ہی نہیں سکتی جو دوسروں کے ذہنی افکار کی دریوزہ گری کرتی پھرے، اور جس کے پاس ایک مضبوط فکری انقلاب بپا کرنے کے لیے مُنَزَّل مِنَ اللہ ہدایت پر مبنی کوئی نظریاتی سرمایہ نہ ہو۔
ایک آزاد اسلامی ملک کے باشندے اور مسلم سوسائٹی کے فرد کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے نظامِ تعلیم کو ایک ایسی نئی نسل کی تعمیر کا ذریعہ بنائیں جو اسلامی فکروعمل کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہو۔ جو الحاد، مادہ پرستی، منافقت، خیانت اور ظلم کے خلاف جہاد کے عظیم جذبے سے سرشار ہو۔ گویا ہماری درس گاہوں کو شعوری اور عملی طور پر ایسے انسانیت ساز اداروں کا کردار اپنا لینا چاہیے جو ہرشعبۂ زندگی میں اسلامی طرزِفکروعمل کو جاری و ساری کرسکیں۔ استاد اس عظیم تحریک کا مرکز و محور ہے اور اسے موجودہ عہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے معلّمِ اعظمؐ کے اسوئہ تعلیم کو مشعل راہ بنانا ہوگا۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی تصورِ تعلیم کی عمارت تین ستونوں پر استوار ہوتی ہے: (الف) مقاصد کا تعین (ب) نصابِ تعلیم اور (ج) حکمتِ تدریس۔ ان میں پہلے دو اجزاء یعنی مقاصد اور نصاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن اسلامی نظام کے حوالے سے حکمتِ تدریس کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
اسلامی معاشرہ میں تدریسی عمل ایک بے حس، جامد اور میکانکی عمل کا نام نہیں، جو ریڈیو، ٹی وی یا ٹیپ ریکارڈر کے ذریعے مطلوبہ معلومات منتقل کرتا رہے، بلکہ اسلامی معاشرہ میں استاد کونہایت ہی اہم اور ارفع مقام حاصل ہے۔ اگر صحیح طور پر تجزیہ کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے معلّم ایک مقدس روحانی احساس کی مانند تعلیمی عمل کی باقی تمام چیزوں پر حاوی ہے۔ گویا آسان لفظوں میں ہم یہ بات اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا معلّم، مقاصد تعلیم اور نصابِ تعلیم کے پہلو بہ پہلو محض ایک تیسری اکائی کا درجہ نہیں رکھتا بلکہ وہ خود ایسے اندازِ فکروعمل کا حامل ہوتا ہے جس میں مطلوبہ مقاصد کا رنگ جھلکتا ہے اور زیربحث نصاب کی خوشبو اس کی زندگی کے ہرپہلو میں رچی بسی ہوتی ہے۔ اُم المومنین حضرت عائشہؓ سے حضوؐر کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اُم المومنینؓ کا انتہائی مختصر لیکن مفہوم کے لحاظ سے جامع جواب یہ تھا: کَانَ خُلَقُہُ القُرآن، حضوؐر کا اخلاق تو عین قرآن تھا (صحیح البخاری)۔ گویا معلّم انسانیتؐ محض نصاب (قرآن) کی تفہیم نہیں فرما رہے تھے بلکہ خود اس نصاب کی تعلیمات کا عملی پیکر تھے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ایک مسلم سوسائٹی کے استاد کو پورے تعلیمی عمل کا انتہائی مؤثر اور کارگر جزو بنادیتا ہے۔
انسان کی فطرت کچھ اس طور واقع ہوئی ہے کہ وہ مجرد کتابی تعلیم سے کوئی غیرمعمولی فائدہ نہیں اُٹھا پاتا۔ اس کو علم کے ساتھ ایک انسانی معلّم اور رہنما کی بھی حاجت ہوتی ہے۔ جو نہ صرف اپنی تعلیم سے اس علم کو دلوں میں بٹھا دے بلکہ وہ اس تعلیم کا مجسمہ بن کر اپنے عمل سے لوگوں میں وہ روح پھونک دے جو اس تعلیم کا حقیقی منشا ہے۔ آپ کو پوری انسانی تاریخ میں ایک مثال بھی ایسی نہ مل سکے گی کہ تنہا کسی کتاب نے انسانی معلّم کی ہدایت اور تعلیم کے بغیر کسی قوم کی ذہنیت اور زندگی میں انقلاب پیدا کیا ہو۔ جن راہنمائوں نے قوموں کے افکارو اعمال میں زبردست انقلاب پیدا کیے ہیں، اگر وہ خود اپنی تعلیم کا مکمل عملی نمونہ نہ ہوتے اور صرف ان کی تعلیمات اور ان کے اصول، کسی کتاب کی شکل میں شائع ہوجاتے، تو انسانی فطرت کا کوئی رازدان یہ دعویٰ کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا کہ محض اس کتاب سے وہی انقلاب رُونما ہوپاتے جو ان راہنمائوں کی عملی تعلیم سے ہوئے۔
رسولؐ اللہ کی معلّمانہ حیثیت اور آپؐ کی حکمتِ تدریس کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ یقینا آپؐ کے طرزِ تعلیم کا ایک ایک نکتہ ہمارے لیے منارئہ نُور ہے لیکن زیرنظر مضمون میں صرف حضوؐر کی حکمتِ تدریس کے ایک خاص گوشے کا تذکرہ کیا گیا ہے اور وہ ہے آپؐ کا ادیبانہ اسلوب اور تشبیہات و استعارات، نیز مثالوں کی مدد سے نفس مضمون کو زیادہ پُرکشش اور بامعنی بناکر پیش کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ استاد کی شخصیت کی جامعیت میں حُسنِ بیان کا پہلو خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔احترام، شفقت، محبت اور حکیمانہ انداز کے ساتھ زبان کی شگفتگی، جملوں کی متناسب ساخت، اندازِ بیان کا بانکپن، لہجے کا اُتار چڑھائو اور گفتگو کا شعری آہنگ، یہ سب ہی چیزیں بہت اہم ہیں۔
گویا استاد کا کام طلبہ کی تربیت و اصلاح، معلومات کی منتقلی اور اپنے مثالی کردار کی تاثیر کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ وہ ٹھوس حقائق کو بے رنگ انداز میں بیان نہ کر ڈالے، بلکہ اپنی شگفتہ بیانی اور شیریں مقالی سے اپنے درس کو دلچسپ اور پُرکشش بھی بنائے۔
حضورؐ کی حکمتِ تدریس میں شیریں بیانی ایک بنیادی وصف کا درجہ رکھتی تھی۔ آپؐ اس حقیقت سے پوری طرح باخبر تھے کہ علم کا حصول اور علم کا انتقال دو اہم عمل ہیں۔ چنانچہ آپؐ نے ربّ العزت کی عطا و تعلیم کردہ بصیرت سے کام لیتے ہوئے تدریس کی اسی حکمت عملی کو اپنایا جو خود خالق کائنات نے اپنی آخری نازل کردہ کتاب (قرآن کریم) میں ملحوظ رکھی۔ یعنی کائنات کے بنیادی حقائق کے اظہار کے لیےبیان کی شگفتگی، گذشتہ اقوام، نیز مختلف مظاہر کائنات کی مثالیں، روزمرہ زندگی سے تعلق رکھنے والی تشبیہات، بلیغ استعاروں کے برمحل استعمال سے اسلوب کی کشش، اور اس کے ساتھ ساتھ ہرفکری سطح کے انسانوں کو متوجہ رکھنے کے لیے بشارت و وعید کا انداز۔
حضوؐر کی معلّمانہ حکمت عملی کے اس پہلو کے بارے میں جناب نعیم صدیقیؒ نے اپنے معروف مقالہ ’محسن انسانیتؐ بحیثیت معلّم انسانیت‘ میں ان نکات کو واضح کیا ہے جو حضورؐ نے ایک ہمہ گیر تہذیبی انقلاب اور تعلیمی تحریک کے لیے اپنے پیش نظر رکھے۔ بقول نعیم صدیقی قرآن کریم میں حضوؐر کے لیے معلّمانہ ذمہ داری کو بلاغِ مبین سے مقید کیا گیا ہے۔ یعنی وضاحت سے بات پہنچا دینا اور تفہیم کا حق ادا کردینا ہر سچّے معلم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ حضوؐر نے اپنے مخاطب گروہ کی توجہات کو اپنی بات کی طرف مرتکز کرنے کے لیے مختلف مؤثر صورتیں اختیار فرمائیں، مثلاً کبھی چونکا دینے والی کسی بات سے آغازِ کلام کیا گیا۔ کبھی سوال سے گفتگو شروع فرمائی، کبھی کوئی حیرت زدہ منظر ذہنوں کے سامنے آراستہ فرما دیتے، یعنی حکمت حضورؐ کے طریق تدریس کا بنیادی نکتہ تھی۔ اس ضمن میں قرآن حکیم نے آپؐ کی اس طرح رہنمائی فرمائی:
اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ۰ۭ (النحل ۱۶:۱۲۵)اے نبیؐ! اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔
گویا قرآن حکیم نے جس تعلیمی حکمت عملی پر زور دیا ہے، اس کے تین اساسی اصول ہیں: نمبر۱: حکمت، نمبر۲: نصیحت، نمبر۳: جدال اَحسن۔
سورئہ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے اس ہدایت کو ایک اور پیرائے میں اس طرح بیان فرمایا ہے:
وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَہْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ ۰ۤۖ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ (العنکبوت ۲۹:۴۶) ’’اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے، سوائے اُن لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں‘‘۔
اس آیت کی تشریح میں مفسرین لکھتے ہیں: مباحثہ معقول دلائل کے ساتھ مہذب و شائستہ زبان میں اور افہام و تفہیم کی اسپرٹ میں ہونا چاہیے، تاکہ جس شخص سے بحث کی جارہی ہو اس کے خیالات کی اصلاح ہوسکے۔ مبلغ کو فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ وہ مخاطب کے دل کا دروازہ کھول کر حق بات اس میں اُتار دے اور راہِ راست پر آنے میں اس کی مدد کرے۔ اس کو ایک پہلوان کی طرح نہیں لڑنا چاہیے جس کا مقصد اپنے مدمقابل کو نیچا دکھانا ہوتا ہے، بلکہ اس کو ایک حکیم کی طرح چارہ گیری کرنی چاہیے، جو مریض کا علاج کرتے ہوئے ہروقت یہ بات ملحوظ رکھتا ہے کہ اس کی کسی غلطی سے مریض کا مرض اور زیادہ نہ بڑھ جائے، اور وہ اس امر کی پوری کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم تکلیف کے ساتھ مریض شفایاب ہوجائے۔
یہ ہدایت اس مقام پر تو موقع کی مناسبت سے اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ کرنے کے معاملہ میں دی گئی ہے۔ مگر یہ ہدایت اہلِ کتاب کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ تبلیغ دین کے باب میں ایک عام ہدایت ہے جو قرآن مجید کی متعدد آیات میں دی گئی ہے مثلاً:
مگر جو لوگ نرمی اور حکمت کے ساتھ احسن طریقے پر دی گئی اسلامی دعوتِ فکروعمل کے جواب میں ظلم کا رویہ اختیار کریں، ان کے ساتھ ان کے ظلم کی نوعیت کی مناسبت سے مختلف رویہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہروقت، ہرحال میں اور ہر طرح کے لوگوں کے مقابلے میں نرم و شیریں ہی نہ بنے رہنا چاہیے کہ دُنیا داعی حق کی شرافت کو کمزوری اور مسکنت سمجھ بیٹھے۔ اسلام اپنے پیروئوں کو شائستگی، شرافت اور معقولیت تو ضرور سکھاتا ہے مگر عاجزی و مسکینی نہیں سکھاتا، کہ وہ ہرظالم کے لیے نرم چارہ بن کر رہ جائیں۔
پس مؤثر تدریس کے لیے یہ ضروری ہے کہ استاد ایسا اسلوب اختیار کرے جو درج بالا اساسی اصولوں کا حامل ہو ، کیونکہ اس کے بغیر اعلیٰ نصب العین کا حصول ممکن نہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآنِ مجید کا مخصوص اسلوب اسلام کی ترویج و ترقی میں بے حد مؤثر ثابت ہوا۔ چنانچہ حضوؐر کا انداز بھی ان ہی نکات سے آراستہ تھا اور حکیم مطلق نے جو طریقِ ہدایت اپنی عظیم کتاب میں اختیار فرمایا تھا اسی کی پیروی سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے تھے۔ آپؐ کی گفتگو، ادبی لطافتوں، بلیغ استعاروں اور خوب صورت مثالوں سے اس انداز میں گلے ملتی تھی کہ معنی و مفہوم کی گرہیں کھلتی چلی جاتی تھیں اور مخاطب اس کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ ایک بار آپؐ نے خشیت الٰہی کے نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: اِذَا اقْشَعَرَّ جِلْدُ الْعَبْدِ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ ، تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتُّ عَنِ الشَّجَرَةِ الْبَالِيَةِ وَرَقُهَا’’جب اللہ تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت سے کسی بندے کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں تو اس وقت اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے کسی پرانے سوکھے درخت کے پتّے جھڑ جاتے ہیں‘‘۔ (مسند البزاز:۱۱۷۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے کہ تعلیم و تدریس کا سلسلہ رسمی یا غیر رسمی سننے والوں کے لیے بیزاری یا اُکتاہٹ کا باعث نہ بن جائے۔ آپؐ کی گفتگو ہمیشہ سننے والوں کی ذہنی اُپج اور ان کے فکری معیار کے مطابق ہوتی تھی۔ آپؐ عظیم اخلاقی نکتے بالکل سادہ، عام فہم اور روزمرہ زندگی سے گہری قربت رکھنے والے حوالوں کی مدد سے بیان فرماتے۔ حضوؐر کی شیریں مقالی تو بے مثال ہے۔ آپؐ نے کبھی اُونچے لہجے میں بات نہ کی۔ آج کے معلم کو بھی یہ اصول پیش نظر رکھنا چاہیے کہ لہجے کی کرختگی اس کے مقام کو مجروح کرتی اور تعلیمی عمل کو نقصان پہنچاتی ہے۔
اس طرح کا تشبیہاتی انداز درج ذیل احادیث سے مزید اُجاگر ہوتا ہے:
مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ اِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ اِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَاذَا يَرْجِعُ ’’اللہ کی قسم! دُنیا آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص سمندر میں انگلی ڈالے اور اس کے بعد یہ دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے‘‘۔ (جامع الترمذی:۲۳۲۳)
لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ اِلَى اللهِ مِنْ قَطْرَتَيْنِ وَأَثَرَيْنِ، قَطْرَةٍ مِنْ دُمُوعٍ فِي خَشْيَةِ اللهِ وَقَطْرَةِ دَمٍ تُهْرَاقُ فِي سَبِيْلِ اللہِ’’اللہ کو دو قطروں سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں: ایک آنسو کا وہ قطرہ جو اللہ کی عظمت کے احساس سے نکلے اور دوسرا خون کا وہ قطرہ جو جہاد فی سبیل اللہ میں بہے‘‘۔ (جامع الترمذی:۱۶۶۹)
يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيْهِمْ عَلٰى دِيْنِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ ’’انسانوں پر ایک ایسا وقت آجائے گا جب دین پر جمے رہنا انگارے کو ہاتھ میں لینے کی طرح ہوگا‘‘۔ (جامع الترمذی :۲۲۶۰)
یہ تشبیہاتی انداز ہمارے سامنے ایسی موجود اور مقررہ شکلوں کو لاتا ہے جن سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ ہمارے ذہن کی لوح پر ایک خاص منظر کی تصویر اُبھرتی ہے۔ ہم اپنے تجربہ و مشاہدہ سے اس منظر کے تمام پہلوئوں سے کماحقہٗ واقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ معلوم سے نامعلوم کا تعلیمی اصول رُوبہ عمل آتا ہے اور اس طرح ہم تجرباتی حوالے سے اس نکتے کا فہم حاصل کرتے ہیں جو نصاب کا حصہ ہوتا ہے۔ آیئے حضوؐر کی اس حکمت تدریس کی ایک اور مثال دیکھیں:
اِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِى اللهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ ، فَنَفَعَ اللهُ بِهَا النَّاسَ ، فَشَرِبُوا مِنْهَا وَسَقَوْا وَرَعَوْا وَأَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَى اِنَّمَا هِىَ قِيْعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِى دِيْنِ اللهِ وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثَنِى اللهُ بِهِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِى أُرْسِلْتُ بِهِ ’’اللہ عزّوجل نے جس جامع ہدایت اور کامل علم کے ساتھ مجھے مبعوث فرمایا ہے اس کی مثال زمین پر برسنے والی بارش کی طرح ہے۔ پس اس (زمین) کے طیّب (دل کو بھانے والے یعنی زرخیز) قطعہ نے اس پانی کو قبول کیا اور اس سے بہت سارا گھاس اور سبزہ اُگا، اور زمین کا جو قطعہ کڑا سخت تھا اس نے پانی کو جمع کرلیا، پس اللہ تعالیٰ نے اس پانی سے انسانوں کو نفع پہنچایا، پس انسانوں نے اس سے خود بھی پیا، دوسروں کو بھی پلایا اور (کھیتوں کو) سیراب بھی کیا۔ اور یہی بارش زمین کے کچھ ایسے حصے پر بھی برسی جو چٹیل میدان تھا، جو نہ پانی کو جمع رکھتا ہے اور نہ سبزہ اُگاتا ہے۔ پس یہی مثال اس شخص کی ہے جس نے اللہ کے دین کا گہرا فہم حاصل کیا اور اللہ نے جس جامع ہدایت و کامل علم کے ساتھ مجھے مبعوث فرمایا، اس سے اس کو نفع پہنچایا۔ پس اس نے اس سے خود بھی سیکھااور دوسروں کو بھی سکھایا۔ اور (دوسری) مثال اس شخص کی ہے جس نے اس جامع ہدایت کو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنایا، اس کی طرف سراُٹھا کر بھی نہیں دیکھا اور اسے قبول نہیں کیا‘‘۔(صحیح مسلم:۶۰۹۳)
اس اسلوبِ تدریس کی واضح جھلک حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اس بیان میں بھی ملتی ہے۔ آپؐ نے ایک مجلس میں نماز کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے صحابہؓ سے فرمایا: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا مَا تَقُولُ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ ؟ قَالُوا : لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا قَالَ فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللّهُ بِهٖ الْخَطَايَا’’تم کیا کہتے ہو کہ اگر کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو اس کے جسم پر کچھ میل باقی رہے گا؟صحابہؓ نے عرض کیا: اس کے بدن پر کوئی میل نہیں رہے گا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ پانچ وقت کی نماز کی یہی کیفیت ہے۔ اللہ اس کے ذریعے آدمی کی خطاؤں (صغیرہ گناہوں)کو مٹا دیتا ہے‘‘۔ (صحیح البخاری:۱۱۵، مسلم:۱۵۵۴)
شعر و ادب کا بنیادی وصف یہ ہے کہ بات عمومی انداز سے ذرا ہٹ کر اُچھوتے پن کی حامل ہوتی ہے۔ اس میں لفظ کو ذرا منفرد انداز میں برتا جاتا ہے اور ایک ایک لفظ کے اندر معنی و مفہوم کی کتنی ہی پرتیں چھپا دی جاتی ہیں۔ سپاٹ اور بے رنگ اندازِ گفتگو عموماً بالکل غیرمؤثر رہتا ہے، بالخصوص اگر لفظ و معنی کا رشتہ لگے بندھے معمول کے طریق کے مطابق مرتب کیا گیا ہو۔ مؤثر تعلیم و تعلّم کے ضمن میں دیکھا گیا ہے کہ استفہامیہ انداز قاری یا سامع کی توجہ کو کئی گنابڑھا دیتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضوؐر نے لاتعداد مواقع پر اسی استفہامیہ انداز کو اپنایا: مثلاً کیا میں تمھیں بھلائی کا راستہ بتائوں؟ کیا تم فلاں بات جاننا چاہتے ہو؟ کیا تمھیں معلوم ہے یہ کون سا شہر ہے؟ یہ کون سا مہینہ ہے؟ یہ کون سا دن ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
اس استفہامیہ انداز کو تعلیمی و تدریسی میدان میں ہم بلاشبہ ایک ایسے کارگر اور مؤثر طریقے کا نام دے سکتے ہیں جس میں شاعری اور ادبی رنگ آمیزی بھی ہوتی ہے۔ طالب علم کی خود سپردگی کی تحقیق بھی اور بھرپور ذہنی آمادگی بھی۔ اس ضمن میں حضوؐر کی حیاتِ طیبہ کے اس واقعے سے بھی بڑی رہنمائی ملتی ہے:
ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: اِنَّ مِنَ الشَّجَر شَجَرَۃً لَا یَسْقَطُ وَرَقُھَا ، وَ اِنَّھَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ فَحَدِّثُوْنِی مَا ھِیَ؟ فَوَقَعَ النَّاسُ فِی شَجَرِ البَوَادِی، قَالَ عَبدُاللہ وَوَقَعَ فِی نَفْسِیْ اَنَّھَا النَّخْلَۃُ ، فَاسْتَحْیَیْتُ ، ثُمَّ قَالُوا حَدِّثْنَا مَا ھِیَ یَارَسُوْلَ اللہ؟ فَقَالَ ھِیَ النَّخْلَۃ ’’بے شک درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے کہ جس کے پتّے جھڑتے نہیں اور جو مسلمان سے مشابہت رکھتا ہے۔ مجھے بتایئے کہ وہ کون سا درخت ہے؟مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگ مختلف جنگلی درختوں کے بارے میں سوچنے لگے (کسی نے کوئی درخت بتایا اور کسی اور نے دوسرا۔ مگر آپؐ نے ان سب سے انکار کیا)۔ عبداللہ بن عمرؓ (اس حدیث کے راوی) کہتے ہیں کہ میرے دل میں آیا کہ یہ درخت کھجور کا ہے (مگر عمر میں چھوٹا ہونے کی بناپر بڑوں کی موجودگی میں جواب دینے سے میں شرما گیا)۔ پھر لوگوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپؐ ہی بتائیں وہ کون سا درخت ہے؟۔ آپؐ نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ (صحیح مسلم)
اس تمثیلی سوال سے آپؐ یہ بتانا چاہتے تھے کہ کھجور کا درخت ایک ایسا درخت ہے جس میں سراسر بھلائی ہی بھلائی ہے۔ وہ سایہ بھی دیتا ہے۔ اس کا پھل بھی کھایا جاتا ہے۔ گٹھلیاں اُونٹوں کے کام آتی ہیں۔ پتوں سے چٹائیاں بنائی جاتی ہیں۔ تنے اور شاخیں مکان کی تعمیروغیرہ کے کام آتے ہیں اور انھیں ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ غرض یہ درخت ہرپہلو سے نفع ہی کا باعث ہے۔ پھر اس کی ضروریات بھی محدود ہیں اور نسبتاً ناموافق آب و ہوا اور نامساعد حالات میں بھی نشوونما پاتا ہے اور پھلتا پھولتا ہے اور کبھی عریاں نہیں ہوتا۔ یہی حال مسلمان کا ہے۔ اس کی زندگی اور شخصیت، اس کے اقوال و افعال،کوئی بھی بیکار اور بے معنی نہیں۔ وہ دوسروں کا مددگار ہوتا ہے اور ان کے دُکھ سُکھ میں شریک ہوتا ہے۔ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ دُنیا کے لیے اس کا وجود رحمت کا باعث بنتا ہے، زحمت کا نہیں۔ غرض اس بلیغ مثال میں حضوؐر نے تعلیمی نصب العین، نصاب اور طریقۂ تعلیم کی بڑے اَحسن اور لطیف انداز میں وضاحت کی ہے۔
یہ اشاراتی، تشبیہاتی، استعاراتی یا تمثیلی انداز معلّم کو محض ایک آلۂ تدریس نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے ایک پُرتاثیر، شیریں اور دل کش اندازِ گفتگو کا حامل معلّم بنا دیتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ لطیف اور دلنشیں اسلوبِ تدریس اختیار کرنے کی ذمہ داری صرف ادیبات یا زبان کے استاد پر ہی عائد نہیں ہوتی بلکہ کسی بھی معلّم کے لیے بنیادی وصف قرار پاتی ہے۔ گویا یہ ہرفرد کی بنیادی مہارت ہونی چاہیے جسے وہ تدریسی عمل کے دوران خوش اسلوبی سے استعمال کرتا رہے۔ سماعت پر گراں گزرنے والا لہجہ، ناہموار الفاظ کا کھردراپن، زیربحث نصاب کا بے رنگ، سپاٹ اور خشک معروضی جائزہ اور طلبہ میں بیزارکن اُکتاہٹ پیدا کرنے والا میکانکی انداز استاد کی شخصیت کے لیے بھی ضررر ساں ہے اور تعلیمی مقاصد کے لیے بھی۔
المختصر! آج کے معلّم کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ تعلیمی کے دیگر پہلوئوں کے علاوہ آپؐ کا شگفتہ ادبی انداز، تمثیلی اور استعاراتی اسلو ب اور انسانی نفسیات سے ہم آہنگ لطیف لہجہ، جو آپؐ کی حکمتِ تدریس کا ایک منور گوشہ ہے، یقینا مشعل راہ ہے۔
_______________