پاکستان میں سود کا خاتمہ یکم جولائی ۱۹۴۸ء سے ہمیشہ اوّلین ترجیح رہا ہے۔ پچھلے ۴۰برس سے ملک میں اسلامی بینک بھی کام کر رہے ہیں مگر اس سلسلے میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ پچھلے ۳۰ برس سے عدالت ِ عالیہ بھی اس مقصد ِعظیم کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ سود کی تعریف (Definition)کے بارے میں علمی حلقوں میں پایا جانے والا اختلاف رہا ہے کیونکہ اہل علم کی ایک تعداد دورِحاضر کے سود (سودی بینکاری) کی ممانعت کی قائل نہیں ہے۔ یہ صورتِ حال اس وجہ سے ہے کہ آئین پاکستان میں سود کے جلد از جلد خاتمے کا ذکر تو موجود ہے مگر سود کی تعریف کے بارے میں کوئی قانون آئین کا حصہ نہیں ہے جس کی روشنی میں عدالت سود کے بارے میں دائر کی گئی اپیلوں کا فیصلہ کرسکے۔
اپریل ۲۰۲۲ء کے فیصلے میں وفاقی شریعت عدالت نے سود کی ہر شکل کو حرام قرار دے کر سود کے بارے میں قانون سازی کی راہ ہموار کر دی ہے۔ ۲۰۲۴ء میں ۲۶ویں ترمیم کے موقع پر پوری قوم سے یہ وعدہ کیا گیا کہ یکم جنوری ۲۰۲۸ء سے پہلے پاکستان سے سود کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ ساتھ حکومت ِپاکستان نے بھی یہ ذمہ داری اُٹھا لی ہے۔ جون ۲۰۲۶ء میں حکومت کی طرف سے جاری کردہ دستاویز میں سود کے خاتمے کی حکمت عملی بھی بیان کی گئی ہے۔ یہ سب باتیں بہت خوش آئند ہیں۔ زیرِنظر مضمون میں اس سلسلے میں چند حقائق اور گزارشات پیش کی جائیں گی جو اس کارِعظیم کے حصول میں یقینا ممدومعاون ثابت ہوں گی۔
سود کے خاتمے کا آغاز یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو ہوا جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بانی پاکستان سے اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کا وعدہ کیا۔ بانی پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا تھا کہ پاکستان کا معاشی نظام اسلامی مساوات اور عدل کے اصولوں پر قائم ہوگا۔ قائداعظم ؒکے اس فرمان کا ۱۹۷۳ء کے آئین میں اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کے سارے معاشی اور غیرمعاشی قانون اسلامی احکامات کے مطابق بنائے جائیں گے اور سود کو جلد از جلد ختم کیا جائے گا۔ سادہ الفاظ میں ۱۹۷۳ء کے آئین نے پہلے وعدہ کو مزید مستحکم کر دیا۔ ۱۹۹۰ء کی دہائی میں عدالت عالیہ بھی اس کارِخیر میں شامل ہوئی اور دوبار حکم صادر کیا کہ سود پر مبنی موجودہ بینکاری نظام کو اسلامی بنیادوںپر استوار کیا جائے۔ یہ وعدہ نہیں بلکہ ایک حکم تھا جس کی تکمیل یکم جنوری ۲۰۲۸ء سے پہلے کرنا لازمی ہے۔ تقریباً ۱۰برس پہلے اسٹیٹ بینک نے سود کے بارے میں عوامی رائے معلوم کرنے کے لیے سروے کروایا جس میں ۸۰ فی صد سے زائد لوگوں نے سود کے خاتمے کے حق میں رائے دی۔ یہ محض وعدہ نہیں تھا بلکہ عوام کی شدید خواہش تھی کہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے جاری جنگ سے نجات حاصل کی جائے۔ ۲۰۲۴ء میں پانچواں وعدہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے آگیا۔ یہ صرف وعدہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے جس میں حکومت نے سود کے خاتمے کی تاریخ بھی دے دی۔ اس کے علاوہ علما حضرات اور تاجر برادری بھی ملک سے سود کا خاتمہ چاہتی ہے۔ سچّی بات تو یہ ہے کہ علما حضرات کی طرف سے سود کی شدید مخالفت کے باعث ہی یہ ایشو اب تک زندہ ہے۔
درج بالا صورتِ حال اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستانی قوم کا بہت بڑا حصہ (حکومت، عدالت، اسٹیٹ بینک اور عوام) ملک سے سود کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر ایک بہت بڑے اور اہم طبقے کی طرف سے ابھی تک اس سلسلے میں کسی گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ یہ ہیں ملک کے نامور پیشہ ور اکانومسٹ اور یونی ورسٹیوں میں معاشیات کے پروفیسر، جو نظامِ سرمایہ داری سے اس قدر مرعوب ہیں کہ انھوں نے کبھی بھی پاکستان کے معاشی مسائل کو اسلامی معاشی نظام (مدینہ اکنامکس) کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔
یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ تقریباً سارا ملک سود کا خاتمہ کرنے کے لیے بے تاب ہے مگر پاکستان کی ہر یونی ورسٹی میں معاشیات کی تعلیم صرف سرمایہ دارانہ نظام کے تحت دی جاتی ہے جس میں سود کا رول مرکزی ہے۔ معاشیات دانوں کی سود کے بارے میں سردمہری کے باوجود، ساری قوم شدت سے یکم جنوری ۲۰۲۸ء کا انتظار کر رہی ہے۔
ساتویں صدی کی ریاست ِ مدینہ میں جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشی نظام نافذ کیا تو اس وقت دُنیا میں بینکاری کے ادارے وجود پذیر نہیں ہوئے تھے۔ آج بینکوں کے بغیر نظامِ معیشت نہیں چلایا جاسکتا۔ ’مدینہ اکنامکس‘ میں ایسی ہدایات موجود ہیں جن کی بنیاد پر ایک نیا نظامِ بینکاری تشکیل دیا جاسکتا ہے جو کہ نہ صرف سود سے پاک بلکہ موجودہ بینکاری سے یکسر مختلف بھی:
۱- اسلام میں شراب، جُوا،غیر یقینی صورتِ حال میں کاروبار اور سود معاشی نظام کا حصہ نہیں ہے۔ اس لیے سود پر مبنی بینکاری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
۲- درج بالا ممانعت کے علاوہ، تمام کاروبار اسلام کی نظر میں یکساں جائز ہیں۔ کسی ایک کاروبار کو دوسرے کسی کاروبار پر ترجیح یا فوقیت حاصل نہیں ہے۔
۳- اسلام میں کاروبار کا آغاز اپنے سرمایہ سے کیا جاتا ہے۔ کاروبار میں اضافہ یا بڑھوتری کے لیے دوسرے لوگوں سے سرمایہ نفع و نقصان کی بنیاد پر لیا جاسکتا ہے۔ سارے کا سارا کاروبار دوسرے لوگوں کے سرمایہ سے کرنے کی مثال اسلام میں نہیں ملتی۔ اس سلسلے میں اسلامی بینکوں کی طرف سے حضرت زبیرؓ بن عوام کی جو مثال دی جاتی ہے وہ آج کے حالات پر لاگو نہیں ہوتی کیونکہ اب ہم پیپرکرنسی کے دور میں زندہ ہیں جس میں کرنسی کی قدر گرتی بڑھتی رہتی ہے۔ اربوں روپے عوام سے کرنٹ اکائونٹ یا قرضِ حسن کے نام پر لے کر کاروبار کرنا اور انھیں کسی قسم کا منافع نہ دینا اسلامی معاشی اقدار کے منافی ہے۔
۴- زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کی حرص میں اگر کاروبار میں نقصان ہوجائے تو عوام کے ٹیکس کے پیسے سے ایسے کاروبار کو بچانے (Bail out) کی اسلام میں اجازت نہیں ہے، خاص طور پر ایسا کاروبار جو عوام کے پیسے سے سود کی بنیاد پر کیا جائے۔
۵- اسلام میں بے تحاشا اشتہاربازی کی اجازت نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ’خلابہ‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ خلابہ اشتہاربازی کے ذریعے اشیا کی اصلی حقیقت کو چھپانے کی اجازت نہیں دیتا۔
یہاں یہ عرض کرنا بہت ضروری ہے کہ دورِحاضر میں اسلام کا نظامِ بینکاری درج بالا پانچ اصولوں کی بنیاد پر قائم کیا جائے گا جس میں سود پر مبنی موجودہ نظامِ بینکاری کی وہ طاقتیں (Strengths) نہیں ہوں گی جو آخرکار تباہی کا باعث بنتی ہیں۔
سود پر مبنی نظامِ بینکاری کی طاقتیں
بینکاری کا موجودہ ڈھانچہ (Structure) پانچ سو سال کے عرصہ میں ارتقا پذیر ہوا ہے۔ اس طویل عرصہ میں اس فریم ورک نے وہ طاقتیں حاصل کرلی ہیں جو اکانومی کے کسی دوسرے کاروبار کو حاصل نہیں۔ دوسرے ان طاقتوں میں اتحاد و اتفاق ہے، جو اس فریم ورک کی مضبوطی کا باعث بنتا ہے:
۱- موجودہ مالیاتی نظام کے مطابق ، ہر ملک کا مرکزی بینک زر کا اجرا کرتا ہے، یعنی کرنسی چھاپتا ہے جسے اکنامکس کی زبان میں منی کری ایشن (Money Creation) کہتے ہیں۔ تجارتی بینک لوگوں سے حاصل کیے گئے ڈیپازٹ کا تھوڑا سا حصہ (Fraction) اپنے پاس رکھ کر باقی رقوم دوسرے لوگوں کو قرض دے دیتے ہیں۔ یہ سارا کام جزوی ریزروسسٹم کے تحت ہوتا ہے، جس میں ہر ڈیپازٹ نئے قرض کو جنم دیتا ہے اور ہر قرض ڈیپازٹ کا باعث بنتا ہے۔ معاشیات کی زبان میں اسے بینکوں کی تخلیق زر (Credit Creation) کہتے ہیں، یعنی مرکزی بینک کی طرح تجارتی بینک بھی زر کی تخلیق کرتے ہیں۔ مرکزی بینک کے جاری کردہ زر کا پورا حساب رکھا جاتا ہے مگر تجارتی بینکوں کے تخلیق شدہ زر کا نہ کوئی ریکارڈ ہوتا ہے اور نہ اس کا حجم معلوم کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ بینکاری کی یہ سب سے بڑی طاقت ہے، جو حقیقی شعبہ کے کسی کاروبار کو حاصل نہیں۔ مالیاتی بحران کی بڑی وجہ یہ طاقت ہوتی ہے۔
۲- کاروباری حضرات کے بینکوں میں کھولے گئے کرنٹ اکائونٹ (Demand Deposit) سودی بینکاری کی دوسری بڑی طاقت ہے۔ ان رقوم پر اکائونٹ ہولڈرز کوکسی قسم کا سود یا منافع نہیں دیا جاتا کیونکہ ان رقوم کو کسی وقت بھی نکلوایا (withdrawal) جاسکتا ہے۔ یعنی ان کی مدت (Maturity) صفر ہے۔ بینکوں کا کاروبار ایسا ہے جس میں ہروقت زر کی آمد اور اخراج (Inflow and Outflow) جاری رہتا ہے۔مگر عام طور پر زر کی آمد اخراج سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ اکائونٹ سودی بینکاری کی جان ہیں کیونکہ ان صفر مدت والے ڈیپازٹ سے بینک طویل عرصے کے لیے قرض دیتے اور نفع کماتے ہیں جو سارے کا سارا بینکوں کا ہی ہوتا ہے۔ پاکستان میں اسلامی بینک بھی سودی بینکوں کے شانہ بشانہ یہ کام کرتے ہیں۔ مالیاتی بحران کی یہ دوسری بڑی وجہ ہے جو حقیقی کاروبار کو حاصل نہیں ہے۔
۳-سودی کاروبار کی سہولت کے لیے روزانہ کی بنیاد پر شرحِ سود کا پیمانہ (Benchmark) جاری کیا جاتا ہے جس کی بنیاد پر تجارتی بینک مختلف نوعیت کے قرض جاری کرتے ہیں۔ پاکستان میں رائج شرحِ سود کا پیمانہ کائی بور ہے، یعنی Karachi Inter-Bank Offered Rate ہے۔اسی کو بنیاد بناکر سودی بینک قرضہ جات پر شرحِ سود کا تعین کرتے ہیں۔ اسلامی بینکوں کے پاس حقیقی شعبہ کے منافع پر مبنی شرحِ منافع کا کوئی پیمانہ دستیاب نہیں ہے۔ حقیقی شعبہ میں بھی ایسا کوئی بنچ مارک دستیاب نہیں جو سود کے بجائے منافع پر مبنی ہو۔
۴- مغربی مالیاتی اداروں میں کام کرنے والے افراد کی تنخواہیں اور مراعات حقیقی شعبہ میں کام کرنے والے افراد سے بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی صورتِ حال ہے۔ سود پر کام کرنے والے بینکوں کے سربراہان کی ماہانہ تنخواہ دو کروڑ روپے سے زائد ہے۔ دوسری مراعات یعنی بونس وغیرہ بھی خاصے بھاری بھرکم ہیں۔ بڑی حیرت کی بات ہے کہ اسلامی بینک بھی اس سلسلے میں سودی بینکوں سے پیچھے نہیں ہیں۔
۵- ہرملک میں تجارتی بینکوں کی رہنمائی کے لیے مرکزی بینک قائم کیا جاتا ہے۔ سود پر مبنی کاروبار کی ترقی اور تحفظ دونوں اداروں کا مشترکہ نصب العین ہوتا ہے کیونکہ دونوں ادارے سود پر کام کرتے ہیں۔
درج بالا پانچ طاقتیں دراصل سودی بینکاری کا مضبوط فریم ورک ہے۔ بینکاری کو سود کے بجائے نفع و نقصان پر چلانے کے لیے ضروری ہے کہ اس مضبوط اور مربوط فریم ورک کو توڑا جائے۔ ۱۹۳۳ء میں مغرب کے معاشیات دانوں نے کارِ بینکاری کو سود کے بجائے نفع و نقصان کی بنیاد پر استوار کرنے کے لیے اس مضبوط فریم ورک کو توڑنے کی سفارش کی تھی۔ پاکستان میں اسلامی بینک بھی سودی بینکاری کے فریم ورک میں کام کر رہے ہیں۔
پاکستان میں گذشتہ ۴۰ برس سے اسلامی بینکاری کے نفاذ کی کوشش ہورہی ہے۔ اس سلسلے میں پالیسی ساز افراد اور ادارے مندرجہ ذیل مائنڈسیٹ کا شکار ہیں:
۱- ہر بنکاری نظام معاشی نظام سے نکلتا ہے جیسے سرمایہ داری معاشی نظام ہے اور سود پر مبنی کاروبار اس کا بینکاری نظام،اور دونوں زندہ اور نافذ العمل ہیں۔ ہم عجیب مغالطے کا شکار ہیں کہ پاکستان کا معاشی نظام سرمایہ داری ہوگا جس میں سود کی حیثیت مرکزی ہے، جب کہ نظامِ بینکاری اسلامی ہوگا۔ یہ ایسا خواب ہے جس کی تعبیر ممکن نہیں۔
۲- ۲۰۱۱ء میں شائع ہونے والی کتاب Barren Metal کے خالق ای مائیکل جونز نے نظامِ سرمایہ داری کو حکومتی سرپرستی میں سود کے کاروبار کے مترادف قرار دیا ہے۔ سادہ الفاظ میں ’Capitalism is State Sponsored Usury‘ہے۔ سود کی سرپرستی میں حکومت کے ساتھ ساتھ اس ملک کا مرکزی بینک بھی شامل ہوتا ہے۔ راقم پچھلے پانچ سال سے اس بات کا پرچار کر رہا ہے کہ کامیاب اسلامی بینکاری کے لیے اسٹیٹ بینک کی مانٹیری پالیسی کو سود کے بجائے نفع و نقصان پر استوار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ باتیں ۲۰۲۰ء میں راقم کی شائع ہونے والی کتاب 7th Century Madina Economics میں تفصیل سے درج ہیں، مگر ابھی تک اسٹیٹ بنک کی مانٹیری پالیسی سود کی بنیاد پر قائم ہے اور اسٹیٹ بینک کا سود پر مبنی پالیسی ریٹ تجارتی بینکوں کا راہنما ہے۔
۳- آئین پاکستان میں سود کی وضاحت / تعریف کا کوئی قانون موجود نہیں ہے جس کے باعث عدالت کو سود کے خلاف فیصلہ میں اپیل کا حق دینا پڑتا ہے۔ سود کی واضح اور متفقہ Definition نہ ہونے کے باعث طرح طرح کی توضیحات سامنے آتی ہیں۔ عدالت نے بھی کبھی حکومت سے نہیں کہا کہ سود کی وضاحت کا قانون آئین پاکستان میں شامل کیا جائے۔
۴- سچّا تاجر اور سچّی تجارت ’مدینہ اکنامکس‘ کی پہچان ہے مگر اسلامی بینکاری کی پالیسی میں تاجر کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ قرآن نے سود کو حرام قرار دینے سے پہلے بیع کی بات کی ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں مارکیٹ قائم کرکے بیع کی تجارت کا عملی نمونہ پیش کیا جس سے ہماری موجودہ تجارت کوسوں دُور ہے اور اس کی اصلاح کا کوئی پروگرام پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔
۵- ملک میں معاشیات کی تعلیم سرمایہ داری نظام میں دی جارہی ہے۔ ملک میں کوئی مین اسٹریم اسلامی اکانومسٹ نہیں ہے۔ اسلامی معاشی نظام کی بات کرنے والوں کو سنجیدگی سے نہیں سناجاتا۔
درج بالا حقائق اسلامی بینکاری کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ سودی بینکاری کے لق و دق صحرا میں ہم اسلامی بینکاری کا نخلستان بنانا چاہتے ہیں۔ اس ماحول میں اسلامی بینکاری ترقی تو کرسکتی ہے مگر سود کا مکمل خاتمہ اس کے بس میں نہیں ہے۔
جون ۲۰۲۶ء میں حکومت پاکستان نے ایک دستاویز جاری کی ہے جس میں ۲۰۲۷ء کے بعد سود کے بغیر مالیاتی منظرنامے کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کی ہیں جن میں موجودہ قوانین میں ترامیم، شریعہ مطابقت والی مانٹیری پالیسی، مرابحہ اور اجارہ کی بنیاد پر صکوک کا اجرا اور Assest Registery Corporation کے قیام کا ذکر ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ قابلِ تحسین قدم ہے مگر اہم معاملات کی تفصیل کا ذکر موجود نہیں ہے۔ خاص طور پر شریعہ مطابقت یعنی سود کے بغیر مانٹیری پالیسی اور Assest Registery Corporationبالکل نئی چیزیں ہیں اور ضروری ہے کہ انھیں ۲۰۲۷ء سے پہلے عوام کے سامنے لایا جائے اور ملک کے نامور اکانومسٹ سے ان کی رائے لی جائے تاکہ بعد میں آنے والے اختلافات سے بچا جاسکے۔
ایک اور قابلِ ذکر بات سود کی تعریف کا قانون ہے جس کے بارے میں حکومتی دستاویز بالکل خاموش ہے۔ اگر سود کی تعریف کا قانون آئین کا حصہ بن جائے تو موجودہ قوانین میں ترمیم آسان ہوجائے گی۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ حکومت اس طرف بھی دھیان دے گی۔
اب ہم مضمون کے حاصل کی طرف جارہے ہیں۔ آج کے دور میں اسلامی بینکاری ماڈل کے درج ذیل خدوخال ہوں گے:
۱- یہ ماڈل مالیاتی شعبہ کے سارے اداروں سے سود کا خاتمہ کردے گا۔ اس وقت پاکستان میں سود چھ شکلوں میں موجود ہے: اوّل: تجارتی بینکوں کا سود، دوم: اسٹیٹ بینک کا سود، سوم: غیربینک مالیاتی ادارے مثلاً انشورنس اور لیزنگ وغیرہ، چہارم: مالیاتی منڈیوں کا سود، پنجم: مرکز قومی بچت کا سود اور ششم: پرائیویٹ سیکٹر میں تاجروں کا سود۔ نئے نظام میں یہ سب ختم ہوجائے گا۔
۲- موجودہ سودی بینکاری کی دو بڑی طاقتیں یعنی زر کی تخلیق اور کرنٹ اکائونٹ اب تجارتی بینکاری کا حصہ نہیں ہوں گے۔
۳- بیع کے کاروبار کا بنچ مارک یعنی شرحِ منافع کا پیمانہ تیار کیا جائے گا اور مالیاتی شعبہ کے سارے ادارے اسے استعمال کریں گے جس سے سود کے درج بالا چھ کاروبار نفع و نقصان پر کام شروع کر دیں گے۔ اس طرح اسٹیٹ بینک کی مانٹیری پالیسی بھی نفع و نقصان کی بنیاد پر کام کرے گی۔
۴- مالیاتی شعبے اور حقیقی شعبہ کی تنخواہیں اور مراعات میں توازن پیدا کرنے کے لیے پے کمیشن (Pay Commission) بنایا جائے گا اور قابلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر تنخواہوں اور مراعات کا تعین کیا جائے گا۔
۵- تجارتی بینک حکومت کو قرض نہیں دیں گے۔ حکومتی قرض کے لیے متبادل بندوبست ہوگا۔ تجارتی بینک اکانومی کے اہم شعبوں، مثلاً زراعت، انڈسٹری، چھوٹے کاروبار اور چھوٹے گھروں کے لیے قرضہ جات دیں گے۔ بے روزگاری کے خاتمے کے لیے نوجوانوں کو مضاربہ کی بنیاد پر قرض دیں گے۔ اس طرح سارا مالیاتی شعبہ مل کر معیشت کی بحالی اور ترقی کے لیے کام کرے گا۔
۱- تجارتی بینک پہلے کی طرح عوام سے کرنٹ اکائونٹ اور سیونگ اکائونٹ کے تحت رقوم اکٹھی کریں گے اور کرنٹ اکائونٹ سے حاصل ہونے والی رقم تین دن کے اندر اسٹیٹ بینک کے پاس جمع کروا دیں گے۔ جب کرنٹ اکائونٹ ہولڈر اپنی رقوم واپس لینے کے لیے آئیں تو ان کی رقوم اسٹیٹ بینک سے لے کر انھیں واپس کردی جائے گی۔ آج کل کی ڈیجیٹل بینکنگ کے باعث یہ کام بڑی آسانی اور تیزی سے ہوسکے گا اور اس سلسلے میں کسی قسم کی مشکلات پیش نہیں آئیں گی۔ اس ایک قدم سے تجارتی بینکوں کی دو بڑی طاقتیں (زر کی تخلیق اور کرنٹ اکائونٹ سے طویل عرصہ کی فنانسنگ) ختم ہوجائیں گی۔
۲- تجارتی بینک کرنٹ اکائونٹ ہولڈر کو موجودہ سہولیات (مثلاً فری چیک بُک اور فری ڈرافٹ وغیرہ) فراہم کرتے رہیں گے اور ان پر آنے والے اخراجات حکومت سے بذریعہ اسٹیٹ بینک وصول کرتے رہیں گے۔
۳- تمام سیونگ اکائونٹ تجارتی بینکوں کے پاس رہیں گے جن سے وہ زراعت، صنعت، سمال بزنس اور ہائوسنگ وغیرہ کے لیے نفع و نقصان کی بنیاد پر رقوم کی فراہمی کریں گے۔ زراعت کے لیے رقوم کی فراہمی کا اصل اسلامی طریقہ بیع سلَم ہے جس پر اسلامی بینک بھی زیادہ کام نہیں کرتے۔ بیع سلَم کے قابلِ عمل ماڈل کی تیاری تک سارے بینک (کیونکہ نئے ماڈل میں اسلامی اور سودی بینکاری کا امتیاز ختم ہوجائے گا) زراعت، سمال بزنس اور مائیکرو فنانس کو مرابحہ کے تحت قرض دیں گے۔ صنعتی قرضہ جات رننگ مشارکہ کے تحت دیئے جائیں گے۔ ہائوسنگ فنانس اور کارلیزنگ Diminishing Musharikah اور اجارہ کے مطابق کی جائیںگی۔ اس طرح ساری تجارتی بینکنگ سود سے پاک ہوجائے گی۔
۴- اس وقت زراعت، سمال بزنس اور مائیکروفنانس کے قرضہ جات پر شرحِ سود سب سے زیادہ ہے، یعنی ۱۹ سے ۲۰ فی صد تک ہے۔ مُرابحہ فنانسنگ کے تحت ان سیکٹرز کو مروجہ سود کے مقابلے میں کم شرحِ منافع یعنی ۱۳/۱۴ فی صد پر رقوم دی جا سکیں گی۔
۵- ملک سے بے روزگاری ختم کرنے کے لیے مضاربہ کے تحت بے روزگار افراد کو رقوم فراہم کی جائیں گی جس سے نہ صرف تجارت کا حجم بڑھے گا بلکہ بے روزگاری میں بھی کمی آئے گی۔
پانچ ستونوں پر استوار اسلامی بینکاری کا یہ ماڈل شریعہ مطابقت (Shariah Compliant) والا نہیں ہوگا بلکہ شریعت کے عین مطابق ہوگا کیونکہ یہ کسی حیلہ کے بغیر معاشی مسائل حل کرنے میں مددگار ہوگا۔ اگست، ستمبر ۲۰۲۶ء میں اس ماڈل پر غوروفکر کے بعد یکم اکتوبر ۲۰۲۶ء سے اس کا نفاذ کیا جاسکتا ہے۔ سود کا خاتمہ پہلے تجارتی بینکوں سے ہوگا۔ اسے تجرباتی طور پر چھ ماہ کے لیے نافذ کیا جائے گا، یعنی مارچ ۲۰۲۷ء تک۔ اسی اثناء میں اسٹیٹ بینک کا اسلامی ماڈل بھی تیار ہوجائے گا۔
۱- جس طرح تجارتی بینک صفر مدت والے کرنٹ اکائونٹ سے طویل عرصے کے لیے فنانسنگ کرتے ہیں، نئے نظام میں اسٹیٹ بینک ان رقوم سے (کرنٹ اکائونٹ) حکومت کو چھ ماہ والے ٹریثری بل کے تحت قرض دے گا۔ طویل مدت والے پاکستانی انوسٹمنٹ بونڈ (PIB) کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ قرض کی نیلامی (Auction) کا موجودہ طریقۂ کار بھی ختم ہوجائے گا،چونکہ کرنٹ اکاونٹ والے لوگوں کو کسی قسم کا سود یا منافع نہیں دیا جاتا، اس لیے حکومت کو قرضہ معمولی سروس چارجز کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ یہ سروس چارجز اسٹیٹ بینک کے منافع کا حصہ بن جائیں گے۔نئے نظام میں تجارتی بینکوں پر SLR (Statutory Liquidity Ratio) کی شرط ختم ہوجائے گی جس کے تحت تجارتی بینک تمام ڈیپازٹ کا تقریباً ۱۵ فی صد کیش (Cash) اور انوسٹمنٹ کی شکل میں اسٹیٹ بینک کے پاس رکھوانے کے پابند ہوتے ہیں۔
۲- ہر بینکاری نظام میں شرحِ سود کا پیمانہ موجود ہوتا ہے۔ پاکستان میں ’کائی بور ‘ ہے۔ انڈیا میں یہ ’مائی بور ‘(Mumbai Inter-Bank Offered Rate)ہے۔ چونکہ سود کا متبادل بیع یا کاروبار ہے۔ اس سلسلے میں حقیقی شعبہ کے نفع کی بنیاد پر شرحِ منافع کا پیمانہ تیار کیا جائے گا۔ یہ کام اعلیٰ کارکردگی والے تین اسلامک فنانس کے سنٹرز (LUMS, IBA, IMS) کریں گے۔ یہ تینوں ادارے لاہور، کراچی اور پشاور میں کام کر رہے ہیں۔ ہرسال کروڑوں روپے تجارتی بینک اور کارپوریٹ سیکٹر کی طرف سے ان اداروں کو دیئے جاتے ہیں۔ بیع سلَم کا قابلِ عمل ماڈل بھی ان کی ذمہ داری پر بنایا جاسکتا ہے۔اگر یہ کام ان تین اداروں کو اگست/ستمبر ۲۰۲۶ء میں سونپ دیا جائے تو مارچ ۲۰۲۷ء میں شرحِ منافع کا پیمانہ تیار ہوسکتا ہے۔ اسے ’آئی بور‘ (Islamic Bank Offered Rate) کا نام دیا جاسکتا ہے۔
۳- منافع کا شرح پیمانہ دستیاب ہونے سے اسٹیٹ بینک کی ساری کارکردگی سود کے بجائے منافع سے بدل جائے گی۔ اب یہی اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ ہوگا۔ اسے ہرسال یا چھ ماہ کے بعد حقیقی شعبہ کے کاروبار (نفع) کے مطابق تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اسٹیٹ بینک کی مانٹیری پالیسی بھی سود کے بجائے نفع پر مبنی ہوجائے گی۔ تجارتی بینک حقیقی شعبہ کو موجودہ ’کائی بور‘ کے بجائے ’آئی بور‘ کے تحت قرض دیں گے۔ اسی شرحِ منافع پر تجارتی بینک اسٹیٹ بینک سے اُدھار لیں گے۔ اسٹیٹ بینک کے اوپن مارکیٹ آپریشن (OMO)اور ریپو (Repo) ریٹ بھی اب منافع کی شرح پر ہوں گے۔
۴- ’آئی بور‘ کی دستیابی سے غیربینک مالیاتی اداروں (انشورنس ، لیزنگ وغیرہ ) سے بھی سود کا خاتمہ ہوجائے گا۔مالیاتی منڈیاں (کال مارکیٹ و منی مارکیٹ) بھی سود سے پاک ہوجائیں گی۔ قومی مرکز بچت کے ادارے اور تجارتی شعبے کا سود بھی ختم ہوجائے گا۔ سارا بینکنگ سیکٹر اور حقیقی شعبہ بیع کے کاروبار کے تحت ہوجائے گا جس سے اکانومی میں بحالی اور ترقی آئے گی کیونکہ ساتویں صدی میں قرآن مجید نے سود میں ہلاکت اور بیع میں فلاح کی نوید سنائی تھی۔
۵- درج بالا اقدام کارِ بینکاری میں انقلاب لے آئیں گے جس کے لیے حکومت اور اسٹیٹ بینک کو بہت کام کرنا ہوگا۔ حکومت کو ایک طرف تو سود کی وضاحت والے قانون کی تیاری کرنا ہوگی۔ دوسری طرف مرکز قومی بچت کو صرف سینئر سٹیزن اور پنشن والے لوگوں تک محدود کرنا ہوگا اور ان کو زیادہ منافع دینا ہوگا کیونکہ یہ معاشرے کے عمر رسیدہ اور بزرگ لوگ ہیں۔ سیونگ اور ڈیفنس سرٹیفکیٹ وغیرہ ختم کرنے ہوں گے تاکہ یہ رقوم بینکوں کے پاس پہنچ جائیں۔ تجارتی بینک جو اکتوبر ۲۰۲۶ء سے سود کے بغیر کام کر رہے ہوں گے، ان کی کارکردگی ۲۰۲۷ء میں مزید مستحکم ہوجائے گی۔ اسٹیٹ بینک بھی مارچ ۲۰۲۷ء سے نفع کی بنیاد پر کام شروع کردے گا۔ اُمید کی جاتی ہے کہ ستمبر ۲۰۲۷ء تک سود کے خاتمے کا قانون قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پاس ہوکر آئین کا حصہ بن جائے گا۔ دسمبر ۲۰۲۷ء تک درج بالا سارا نظام قائم ہوجائے گا۔ پاکستان میں موجود سود کی چھ شکلوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ساری قوم ۷۸برس سے اللہ اور اس کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جاری جنگ سے نجات حاصل کرلے گی اور سماوی فیوض و برکات اس کا مقدر ہوگا،ان شاء اللہ!
خلاصہ: یہاں یہ بیان کرنا انتہائی ضروری ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں صدی کی ریاست ِ مدینہ میں ایک بڑے خیمہ کے نیچے مارکیٹ قائم کی تھی جس میں آپؐ نے خود مکمل معاشی نظام نافذ کیا۔ خیمہ والی مارکیٹ نے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد یہودیوں کی پہلے سے قائم شدہ چارمارکیٹوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا کیونکہ صارفین اور تاجر پرانی مارکیٹوں سے نکل کر خیمہ والی مارکیٹ میں آگئے تھے۔ خیمہ والی مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خائف ہوکر یہودی سردار کعب بن اشرف نے اس خیمہ کی رسیاں کاٹ دیں جس کے نیچے مارکیٹ قائم تھی۔ اس پر آپؐ نے صحابہ کرامؓ کو نئی مارکیٹ کے لیے ایسا بڑا میدان منتخب کرنے کا کہا جو یہودیوں کی مارکیٹ سے دُور ہو اور مسجد نبویؐ سے نزدیک۔
پاکستان میں سود کے خاتمے کے لیے ہمیں ایسا بینکاری نظام چاہیے جو موجودہ سودی بینکاری سے دُور اور مختلف ہو اور اسلامی معاشی اقدار پر مبنی ہو۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اس مضمون میں دیا گیا متبادل نظامِ بینکاری انھی دو خصوصیات کا حامل ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پالیسی ساز اور اکانومسٹ نظامِ سرمایہ داری اور اس کے نظامِ بینکاری سے بہت زیادہ مرعوب بھی ہیں اور اس کی افادیت کے قائل بھی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ساتویں صدی کی ’مدینہ اکنامکس‘ اور اس سے ماخوذ نظامِ بینکاری پر غور کریں اور یکم جنوری ۲۰۲۸ء سے پہلے اس کے نفاذ کی کوشش کریں۔ اس سلسلے میں سیرتِ نبویؐ آج بھی ہماری راہنما ہے۔ مگر ہمیں پہلے جلوئہ دانش افرنگ سے جان چھڑانی ہوگی۔ بقول علّامہ اقبال ؎
تو اے مولائے یثربؐ! آپ میری چارہ سازی کر
مری دانش ہے افرنگی ، مرا ایماں ہے زُناری!
_______________