مشہور ٹکنالوجی کمپنی گوگل [Google] نے امریکی محکمہ صحت سے منظوری کے بعد امریکی ریاست کیلیفورنیا میں تین کروڑ سے زائد مچھر چھوڑنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یہ کوئی عام مچھر نہیں ہوں گے بلکہ گوگل کی ایک ذیلی اور حیاتیاتی سائنس پر کام کرنے والی کمپنی ’ویریلی‘ [Verily] کی لیبارٹری میں خصوصی طور پر تیارکردہ مچھر ہوں گے، جو نہ تو انسانوں کو کاٹیں گے اور نہ کوئی بیماری پھیلائیں گے، بلکہ جب یہ مادہ مچھروں سے ملاپ کریں گے تو مادہ مچھروں کو عملی طور پر بانجھ کردیں گے۔(نیویارک پوسٹ ، ۲۹مئی ۲۰۲۶ء)
اس منصوبے کے نتیجے میں مچھروں کی تعداد پر قابو پانا نہ صرف بہت آسان ہوجائے گا بلکہ مختلف بیماریوں پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس طریقے کو عشروں پرانے کیمیائی کیڑے مار ادویات کے اسپرے کے متبادل کے طور پر دیکھا جارہا ہے، جن کے ذریعے اب تک کسان فصلوں پر ہونے والے کیڑوں کے حملوں سے بچاؤ کرتے رہے ہیں۔
اگرچہ یہ منصوبہ ابھی امریکی محکمہ جاتی منظوریوں کا منتظر ہے، لیکن کچھ تجزیہ نگار اس تجربے کو ماضی میں کیے جانے والے ان تجربات سے جوڑ رہے ہیں، جب امریکی فوج نے مچھروں کے ذریعے مخالف فوجی کیمپوں میں ڈینگی اور اس جیسے وائرس پھیلانے کی کوششیں کی تھیں۔ اس منصوبے نے بہت سے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ ان میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ آخر ایک ٹکنالوجی کمپنی نے صحت عامہ کے منصوبے پر کیوں توجہ دینی شروع کردی ہے؟ اس سوال کا جواب جاننا شاید اگلے سوبرس کے لیے دنیا کی سمت جاننے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ٹکنالوجی کمپنیوں نے بظاہر ایک حیاتیات [Biology] کے نظر آنے والے مسئلے کو جدید ٹکنالوجی کی مدد سے حل کرنے کی ٹھانی ہے۔ جہاں جدید لیبارٹریوں میں مصنوعی ذہانت(AI)، خودکار روبوٹس اور دیگر جدید وسائل کے ذریعے کروڑوں مچھروں کی پیدائش، ان کی درجہ بندی اور ان کی حرکات و سکنات پر نظر رکھی جاتی ہے اور پھر مختلف فیصلے کیے جاتے ہیں۔
یہ معاملہ صرف گوگل یا مچھروں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ تقریبا تمام بڑی ٹکنالوجی کمپنیاں، جن میں گوگل کے ساتھ ساتھ مائیکروسافٹ، امیزون اور ایپل وغیرہ شامل ہیں، صحت اور زندگی کے راز جاننے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی باس سمجھے جانے والی مشہور ٹکنالوجسٹ پیٹر تھیل نے طویل زندگی کے لیے’آب حیات بنانے کا راز‘ تلاش کرنے والی کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ دوسری طرف ای کامرس کمپنی ’امیزون‘ کے بانی جیف بیزوس انسانی خلیوں کو دوبارہ پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف کمپنی میں شراکت دار ہیں۔ وہ پُرامید ہیں کہ اگر انسانی خلیے دوبارہ پیدا کرنے میں مہارت حاصل ہوگئی تو انسان ہمیشہ جوان رہے گا۔
There are youngsters like cockroaches, who don’t get any employment or have any place in the profession. Some of them become media, some of them become social media,RIA activists and other activists, and they start attacking everyone.
جن نوجوانوں کو کوئی کام دھندہ نہیں ملتا وہ صحافی ، سوشل میڈیا کارکن، یامعلومات تک رسائی کا ماہر [Right to Information Activist] بن جاتے ہیں، اور کاکروچوں کی طرح دوسروں پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔
یہ جملے امریکا میں موجود ایک انڈین طالب علم ابھیجت دپکے نے سنے تو انھوں نے نریندرا مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہم نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ بنانے کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی کاکروچ جنتا پارٹی کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا صفحات بنالیے۔ ان کا یہ اعلان انڈین نوجوانوں کو ایسا بھایا کہ صرف تین دن میں گیارہ ملین سے زیادہ نوجوانوں نے انسٹاگرام پر اس پارٹی کو فالو کرلیا اور ساڑھے تین لاکھ لوگوں نے پارٹی میں شمولیت کا فارم بھی بھر لیا۔ اس کے مقابلے میں انڈیا کی سب سے مقبول اور بارہ سال سے حکمران پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے انسٹاگرام پر تقریباً آٹھ ملین فالورز ہیں، جو برسوں کی محنت اور کثیر سرمایہ خرچ کرکے جمع کیے گئے ہیں۔
اگلا قدم اٹھاتے ہوئے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے سرکاری نوکریوں کی شفافیت کا مطالبہ اٹھاکر ملک بھر میں مظاہرے کرنا شروع کردیے ہیں۔ بظاہر یہ محض ایک مذاق سا لگتا ہے، لیکن تجزیہ کار اس سب کے معاشرتی و سیاسی اثرات کا جائزہ لینے سے بالکل قاصر نظر آتے ہیں۔ گوگل کا کروڑوں مچھر چھوڑنے کا ارادہ ہو یا ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی راتوں رات مقبولیت، ان برق رفتار تبدیلیوں کے پیچھے کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی وہ بےپناہ طاقت ہے، جو اَب خود انسان کے اپنے ہاتھ سے نکلتی نظر آرہی ہے۔
وقت کا یوں تیز گزرنا یا سکڑ جانا شاید حوادث کے تیزی سے واقع ہونے کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے، لیکن انسان ان نت نئے حالات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے خود کو تیار نہیں پاتا۔ ماضی میں ہم تبدیلی کا انتظار کرتے تھے لیکن اب شاید تبدیلی ہمارا انتظار نہیں کرتی۔ ٹکنالوجی کی اس تیزرفتاری نے جو خلا ہم انسانوں کے درمیان میں پیدا کردیا ہے، اس کے اثرات فرد، گھر، خاندان، معاشرہ ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں سمجھنا ہو تو اسمارٹ فون کی مثال ہی دیکھ لیں۔ جس تیزی سے یہ ٹکنالوجی بدلی ہے، والدین کی تربیت کے طریقے، بچوں کی نفسیات، ملکی قوانین، معاشرتی رجحانات، کچھ بھی اس تیزی سے نہ بدلا ہے اور نہ اس تبدیلی کے لیے تیار ہے۔
معروف امریکی مؤرخ اور مشہور کتاب ’مستقبل کا خوف‘ [Future Shock] کے مصنف ایلون ٹوفلر نے ستّر کے عشرے میں اس بارے میں ان الفاظ میں پیش گوئی کی تھی:
The illiterate of the twenty-first century will not be those who cannot read and write, but those who cannot learn, unlearn, and relearn.
اکیسویں صدی کے اَن پڑھ وہ لوگ نہیں ہوں گے جن کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا، بلکہ وہ لوگ ہوں گے جو سیکھنا، بھلانا اور دوبارہ سیکھنا کے عمل کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔
اگرچہ کمپیوٹر کی ایجاد کے ساتھ ہی روایتی صنعتوں میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی تھی، لیکن گذشتہ تین عشروں میں آنے والی تیز رفتار تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ صورتِ حال یکسر بدل گئی ہے۔ مصنوعی ذہانت [Artificial Intelligence]، بائیو ٹکنالوجی [Bio Technology]، جینیاتی تبدیلی کی ٹکنالوجی [Gene Editing] اور مصنوعی ذہانت سے لیس روبوٹس [Advanced Robotics] نے ایک طرف ہماری جسمانی، حیاتیاتی اور ڈیجیٹل دنیا میں فرق کو بہت تیزی سے کم کرنا شروع کردیا ہے، تو دوسری طرف پوری دنیا کی طاقت اور وسائل محض چند انسانوں یا کمپنیوں کے ہاتھ میں آگئے ہیں۔
مغربی مفکرین اسے ’دور ذہانت‘ [Intelligence Age] کا نام دے رہے ہیں۔ کیونکہ پہلے اگر کمپیوٹرز کسی اطلاع کو محفوظ کرنے، بروقت حاصل کرنے یا آگے بھیجنے کا کام سرانجام دے رہے تھے، تو اب ’مصنوعی ذہانت‘ کی مدد سے اس اطلاع کا تجزیہ کرنے، اس کے مطابق فیصلہ کرنے اور اس فیصلے پر عمل درآمد کا کام خودکار طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں۔
قدیم مصر کے اسکندریہ کا کتب خانہ انسان کا بنایا پہلا کتب خانہ کہا جاتا ہے جہاں پہلی دفعہ انسان نے دنیا بھر کی معلومات اکٹھی کرنی شروع کی تھیں۔ آج ایک عام اسمارٹ فون اسکندریہ کی اس عظیم لائبریری سے زیادہ معلومات اپنے اندر محفوظ رکھ سکتا ہے۔ مشہور تاریخ دان نوح ہریری کے الفاظ میں:
Every smartphone contains more information than the ancient Library of Alexandria and connects billions in seconds. Yet, with all this power, humanity teeters closer to annihilation. Are we using this unprecedented access to information wisely?
ہر اسمارٹ فون اسکندریہ کے قدیم کتب خانے سے زیادہ معلومات اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے اور کروڑوں لوگوں کو لمحوں میں جوڑ دیتا ہے۔ لیکن اس تمام تر قوت کے باوجود انسانیت فنا ہونے کے قریب ہے۔ کیا ہم معلومات تک رسائی کے اس بے مثال موقعے کا درست استعمال کررہے ہیں؟
بات اگر صرف فیصلہ سازی تک ہی محدود رہتی تو شاید اتنی قابل توجہ نہ ہوتی، لیکن جب ایک فیصلے سے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں جڑی ہوں یا جب بات انسانیت اور تہذیب کی بقا پر آجائے، تو صورتِ حال کی نزاکت کا اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت سے لیس یہ کمپیوٹر مشینیں، اسٹاک مارکیٹس میں کوئی ایسا فیصلہ کرلیں یا کوئی دشمن ملک یا فرد یہ کام ان سے کروالے جو عالمی کساد بازاری کا باعث بن جائے، تو دنوں یا مہینوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں نہ صرف پوری دنیا کا اقتصادی پہیہ رُک سکتا ہے، بلکہ بڑے بڑے شہروں میں رہنے والے کروڑوں لوگ اچانک خطِ غربت سے نیچے جاسکتے ہیں۔ جس کا آخری نتیجہ تباہی کی صورت ہوگا۔
نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈل سیریز ’کلاڈ‘ [Claude] بنانے والی کمپنی ’اینتھروپک‘ [Anthropic] کے بانی ڈاریو اموڈی [Dario Amodei] نے دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت پر کام روک کر پہلے ایک لائحہ عمل بنانے کی دعوت دی ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کو خودسر ہونے سے روکا جاسکے۔
ٹکنالوجی اور جینیات [Genetics] کے ملاپ سے ہونے والی حیاتیاتی پروگرامنگ کے نتیجے میں اب جانداوں میں موجود ’ڈی این اے‘ [DNA] کو سوفٹ وئیر سے تشبیہ دی جانے لگی ہے۔ کیونکہ ڈی این اے بھی کسی سوفٹ وئیر کی طرح معلومات کو اپنے پاس محفوظ رکھتا، استعمال کرتا اور انسانی جسم کو درکار پروٹین کی تیاری میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح ’ایم آر این اے‘ [MRNA] کو آپریٹنگ سسٹم [Operating System] سے تشبیہ دی جارہی ہے، کیونکہ جس طرح ایک آپریٹنگ سسٹم کمپیوٹر کے ’کل پرزوں‘ [Hardware] کے ساتھ مل کر کسی سوفٹ وئیر کو چلنے کے قابل بناتا ہے، اسی طرح ’ایم آر این اے‘ [MRNA] بھی انسانی جسم کے مختلف خلیوں کو ہدایات دےکر مختلف کام مثلاً پروٹین کی تیاری میں مدد دیتا ہے۔
یہ محض تشبیہات نہیں بلکہ ان جدید لیبارٹریوں میں کام کرنے والے سائنس دانوں کی اُمیدوں کا مرکز ہیں، جو یہ توقع رکھتے ہیں کہ ڈی این اے اور ایم آر این اے میں تبدیلیاں کرکے ہم زندگی کے رازوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ یہ بالآخر موت کو شکست دینے اور ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کا سبب بنے گا۔
یہ سارا مواد [Data] ذہانت کو بالکل اسی طرح کمرشل سطح پر پیدا کرنے اور اس کی پیداوار میں اضافے کی کوششوں میں استعمال ہورہا ہے، جیسے زیادہ منافع کے لیے کسی کھیت میں گندم کی زیادہ پیداوار یا کسی فیکٹری میں پیداواری صلاحیت بڑھانے کی کوششیں ہوتی ہیں۔ لیکن یہ اس لیے مختلف ہے کیونکہ معاملہ اب انسانی ذہانت [Artificial General Intelligence] سے آگے بڑھ کر ’مافوق ذہانت‘ [Super Intelligence] حاصل کرنے کی کوششوں تک جاپہنچا ہے۔ اور یہ کوششیں خود انسان کے ہاتھ سے نکل کر مصنوعی ذہانت کے ہاتھوں میں آگئی ہیں۔
امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ’اینتھروپک‘ [Anthropic] کے بانی کی چیخ پکار اس لیے ہے، کیونکہ اب خود ان کی کمپنی میں ہونے والا کام ۸۰ فی صد تک خود مصنوعی ذہانت سرانجام دے رہی ہے۔ ڈاریو اموڈی [Dario Amodei] اپنی آنکھوں کے سامنے وہ سب کچھ ہوتا دیکھ رہے ہیں، جو شاید ایک عام انسان کی نیندیں اڑانے کے لیے کافی ہو۔ اپنی ویب سائٹ پر ایک تازہ مضمون ’ٹکنالوجی کی بلوغت‘ [The Adolescence of Technology] میں ڈاریواموڈی مصنوعی ذہانت کے چیلنجوں پر اس طرح بات کرتے ہیں:
… غیر معمولی ذہین یا عبقری لوگوں کے ایک ملک کا تصور کریں، جو ۲۰۲۷ء میں دُنیا کے نقشے پر ظہور پذیر ہوگا۔ تصور کریں کہ پانچ کروڑ لوگوں کا یہ ملک جہاں ہر فرد ہمارے ملک کے نوبیل انعام یافتہ لوگوں سے زیادہ ذہین اور قابل ہو… ان ذہین اور نابغہ روزگار لوگوں کی ترجیحات و نظریات بالکل مختلف ہوں، کوئی سیدھا اور اطاعت گزار اور کوئی باغی اور جھگڑالو سوچ کا حامل۔۔۔
سوچیے کہ آپ کسی اہم ملک کے دفاعی ماہر ہیں، جس کو اس صورتِ حال سے نبٹنا ہے۔ ذرا مزید سوچیں کیونکہ یہ ذہین اور مصنوعی ذہانت کے حامل نظام انسانوں سے سوگنا زیادہ رفتار سے ہر محاذ پر حرکت کرسکتے ہیں، یعنی ان کو کسی بھی دوسرے ملک پر ایسی سبقت حاصل ہے کہ جتنی دیر میں ہم ایک کام کریں گے وہ دس کام کرلیں گے۔ آپ کس چیز کے لیے زیادہ پریشان ہوں گے؟ خود سر ہوجانے کا خطرہ؟ تباہی کا خطرہ؟ [پوری دنیا پر] غلبے کا خدشہ؟ معاشی تباہی؟ یا کچھ اور کے لیے؟
اگرچہ بہت سے تجزیہ نگاروں کے خیال میں ایسی باتیں مارکیٹنگ کے طریقے ہیں۔ لیکن اگر ’ڈی این اے‘ [DNA] واقعی محض سافٹ وئیر ہے اور ’ایم آر این اے‘ [MRNA] ایک ’آپریٹنگ سسٹم‘ [Operating System] ہے تو کیا انسان محض ایک اطلاع [Information] ہے؟
مغرب کا انسان کے بارے میں ’سوچنے والے جانور‘ سے محض ایک اطلاع تک کا یہ سفر صرف چند صدیوں پر ہی محیط نہیں بلکہ تمام انسانی اقدار و پہلوؤں پر حاوی ہے۔ تہذیب سے لے کر معاشرت تک اور مذہب سے لے کر فلسفہ تک، معیشت سے لے کر سیاست تک اور اب خود انسانی وجود بھی بدلنے کو ہے۔ مادیت کے اس عروج میں انسان کی اہمیت محض ایک ’اطلاع‘ (انفارمیشن) جتنی ہی رہ گئی ہے۔
خدائی ذہانت سے مراد ایسی عقل ہے جو دنیا بھر کے بہترین دماغوں سے، تمام انسانی شعبوں بشمول سائنسی تخلیقی صلاحیت، عمومی حکمت اور سماجی مہارت میں، اعلیٰ و برتر ہو۔
بظاہر تو یہ ’دیوانے کا خواب‘ ہی نظر آتا ہے لیکن کمپیوٹنگ کی طاقت ہر کچھ عرصے میں دگنی ہوجاتی ہے۔ چند برس پیش تر اس کی رفتار دو سال تھی، پھر ڈیڑھ سال میں اور اب ہر سال کمپیوٹنگ کی طاقت دگنی ہوجاتی ہے۔ یہی تیز رفتاری مغرب کی امیدوں کا مرکز ہے۔ نک بوسٹرم کے خیال میں خدائی ذہانت حاصل کرنا انسان کی سب سے اعلیٰ اور ساتھ ہی آخری ایجاد ہوگی کیونکہ اس کے بعد انسان نہیں بلکہ مشینیں ایجادات کریں گی ۔ اور یہ ایجاد انسانیت کو دو انتہاوں میں سے کسی ایک انتہا کی طرف لے جائے گی___ یا تو ہم ’خیالی جنت‘ (Unprecedented Utopia) پالیں گے یا پھر نیست و نابود ہوجائیں گے۔
اگرچہ نک بوسٹرم نے محض ایک خیالی خطرہ ہی پیش کیا تھا، لیکن دنیا نے اسی خطرے کو حقیقت کا روپ دھارتے اس وقت دیکھا جب یوٹیوب نے اپنے پلیٹ فارم کے لیے ایک نیا ہدف طے کرلیا ۔ جب یوٹیوب پلیٹ فارم پر ہر ایک گھنٹے میں ۱۰ کروڑ ویڈیوز دیکھی جانے لگیں تو اپنے کاروبار کو مزید آگے لے جانے کے لیے اگلا ہدف یہ طے کیا گیا کہ کم از کم ایک ارب لوگ ہر گھنٹے یوٹیوب پر مختلف ویڈیوز دیکھیں۔ اس مشکل ہدف کو حاصل کرنے کے لیے یوٹیوب کے انجینئرز نے ’مصنوعی ذہانت‘ کی مدد سے اپنے پلیٹ فارم پر لوگوں کو اور ’زیادہ مشغول رکھنے کے الگورتھمز‘ [Engagement Algorithems] بنائے۔
مصنوعی ذہانت کے ان الگورتھمز کا صرف ایک ہی ہدف تھا کہ لوگوں کو پلیٹ فارم پر زیادہ سے زیادہ مشغول رکھا جائے۔ نتائج سے بے پروا ان مشینوں کو جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ لوگوں کو سازشی نظریات، نفرت انگیز مواد اور ایسی ہی دیگر منفی چیزیں زیادہ پسند ہیں۔ لہٰذا ان الگورتھمز نے لوگوں کو مثبت مواد کے بجائے منفی مواد زیادہ سے زیادہ دکھانا شروع کردیا۔ جس کا نتیجہ انڈیا، میانمر، برازیل سمیت کئی ملکوں میں لسانی و فرقہ وارانہ فسادات کی صورت میں نکلا۔
بات صرف یہیں تک نہیں، امریکی اے آئی کمپنی ’انتھروپک‘ [Anthorpic] ، جو امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ بھی کام کرتی ہے، کو اپنا جدید ترین اے آئی ماڈل لانچنگ کے محض چند گھنٹوں میں امریکی محکمہ دفاع کے حکم پر اس لیے بند کرنا پڑا، کیونکہ اس جدید اور اب تک کے طاقت ور ترین ماڈل نے پینٹاگون کے انتہائی خفیہ رازوں [Classified Documents] تک رسائی حاصل کرکے خطرے کی گھنٹی بجادی تھی۔ یہ کسی مصنوعی ذہانت کے ماڈل پر حکومتی پابندی لگائے جانے کا پہلا واقعہ قرار دیا جارہا ہے۔
اس مقصد کے لیے امریکی صدر ٹرمپ نے جہاں عرب ممالک کے دورے کیے، وہیں گرین لینڈ اور کینیڈا کو امریکی ریاست بنانے کی پھلجھڑیاں بھی چھوڑیں۔ کیونکہ جس طرح عرب ممالک مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی بے تحاشا توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم ہیں، اسی طرح یہ دونوں مغربی ممالک جدید کمپیوٹرز کے کل پرزے بنانے کے لیے درکار قیمتی معدنیات سے مالا مال ہیں۔
اگر آپ EUV [Extreme Ultraviolet Lithography] کے بارے میں پڑھیں تو امریکا، چین کے درمیان سردجنگ کی شدت کا اندازہ لگاسکیں گے۔ جدید کمپیوٹرز میں استعمال ہونے والی مائیکرو چپس اسی ٹکنالوجی کی مدد سے بنتی ہیں، جو تین نینو میٹر جتنی سائز میں چھوٹی لیکن کام کی رفتار میں تیز اور کم بجلی استعمال کرنے والی چپس ہوتی ہیں۔ EUV چپس کو جدید کمپیوٹنگ کی ضروریات پوری کرنے میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
اس ٹکنالوجی پر عبور حاصل کرنا کتنا مشکل ہے، اس کا اندازہ اس طرح لگالیں کہ اس وقت پوری دنیا میں ہالینڈ کی صرف ایک کمپنی ASML کو اس کام میں مہارت حاصل ہے۔ لیکن خود ASML بھی اس کام کو تن تنہا نہیں کرتی بلکہ اس میں جرمن شیشہ ، امریکی لیزر ٹکنالوجی، اور جاپانی سافٹ وئیر کی مدد شامل ہوتی ہے۔ اور ان ملکوں کے اتحاد نے چین کو اس ٹکنالوجی کے حصول سے فی الوقت روک رکھا ہے۔ اس ٹکنالوجی کے بغیر بننے والی چپس مہنگی، کم صلاحیت اور جلد خراب ہونے والی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے چین فی الوقت اس میدان میں مغربی ممالک پر انحصار کررہا ہے، اور امریکا اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے چین تک ان جدید چپس کے پہنچنے کو روک رہا ہے۔ اس امریکی اتحاد کی ویب سائٹ پر اس کے عزائم کے بارے میں اس طرح روشنی ڈالی گئی ہے:
مصنوعی ذہانت آنے والے دنوں میں معیشت، دفاع اور معاشرے کی سمت طے کرے گی۔ جو بنیادیں آج رکھی جائیں گی، وہ کل اس بات کا فیصلہ کریں گی کہ کون اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور کون نہیں۔ یہ اتحاد اس وقت ہورہا ہے جب یہ سوال غیر متعلق ہوچکا ہے کہ سپلائی چین اہم ہے بلکہ یہ کہ کیا ہم اس کو [دشمن کے ہاتھ میں جانے سے] محفوظ بنانے کے لیے تیار ہیں؟
آپ [امریکی شہر] سان فرانسسکو [San Francisco] میں مستقبل دیکھ سکتے ہیں۔ پچھلے ایک سال میں دس بلین ڈالر کی مشینوں سے بڑھ کر بات سو بلین ڈالر اور پھر ایک ٹریلین ڈالر کی کمپیوٹر مشینوں تک پہنچ گئی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ ۲۶-۲۰۲۵ء تک یہ [اربوں ڈالرز] کی مہنگی مشینیں ایک عام کالج کے طالب علم سے زیادہ ذہین ہوں گی اور شاید اس عشرہ کے اختتام تک یہ مجھ سے اور آپ سے زیادہ ذہین ہوجائیں۔ یعنی ہم صحیح معنوں میں خدائی طاقت حاصل کرلیں گے۔ آج ہر بندہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں بات کررہا ہے، لیکن حقیقت میں کیا ہونے والا ہے، اس کا کسی کو ذرہ برابر بھی اندازہ نہیں ہے۔ اس وقت شاید چند مٹھی بھر لوگ ہوں جن کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو۔ چند سال پہلے ان لوگوں کو پاگل کہا جاتا تھا۔ لیکن دنیا کس طرف جارہی ہے؟ اس کا صحیح اندازہ کرکے انھوں نے درست پیش گوئیاں کی تھیں۔ اور اگر ان کے اندازے آئندہ بھی درست ثابت ہوئے تو پھر ہم سب کو ایک خطرناک سفر کے لیے تیار ہوجانا چاہیے۔
یہ سب محض اس لیے نہیں کہ خوب سے خوب تر کی جستجو انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ اس لیے بھی نہیں کہ ہم بہت سے مسائل مثلاً بیماریوں اور غربت کا خاتمہ کرلیں گے، بلکہ اگر ہم نے خدائی ذہانت حاصل کرلی تو ایک طرف ناقابلِ یقین معاشی ترقی حاصل ہوگی، اور دوسری طرف ناقابل تسخیر طاقت بھی۔
ایک ایسے دور میں جب ہماری دعوت کا میدان تعلیمی اداروں، دفاتر، گلی کوچوں اور گھر سے نکل کر سوشل میڈیا بن چکا ہے۔ جب معلومات کے تیز بہائو نے ہم سے ہماری توجہ چھین لی ہے، تو ٹکنالوجی کے سراب میں پھنسا انسان، ’مافوق ذہانت‘ کی طاقت سے لیس انسان اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى کا اعلان کرتے دیر نہیں کرے گا۔ آنے والے دنوں میں مسلم دنیا کے لیے چیلنج صرف ’مصنوعی ذہانت‘ کا نہیں ہوگا بلکہ ہمیں اس بت کو توڑنے والا کردار بھی پیدا کرنا ہوگا۔
یہ محض ایک تکنیکی انقلاب [Technology Revolution] نہیں بلکہ طاقت، انسان اور تہذیب کے تعلق کی ازسرنو تشکیل ہے، اور مسلم دنیا کو اس نئے دور میں محض صارف نہیں بلکہ رہنما بننے کے لیے اپنے فکری وسائل دوبارہ دریافت کرنا ہوں گے۔
جرمن شاعر گوئٹے نے یہ کہانی ایک نظم کی صورت میں تین صدیوں قبل لکھی تھی۔ آج جس دورِ ذہانت [Intelligence Age] میں ہم جی رہے ہیں اور ٹکنالوجی جس برق رفتاری سے فرد، خاندان اور معاشرے کو تبدیل کررہی ہے، اس صورتِ حال پر گوئٹے کی یہ نظم پوری طرح صادق آتی ہے۔ ایک معصوم بچے کی طرح، کہ جس کے ہاتھ میں کوئی کھلونا آگیا ہو۔ہم بھی ٹکنالوجی کو زندگی کے ہر شعبے میں تیزی سے مسلط ہوتا دیکھ کر خوش ہورہے ہیں لیکن اس کے اثرات سے بالکل بےخبر و لاپروا نظر آتے ہیں۔
_______________