میرے ایک عزیز نے بتایا کہ ’’ایک بار جب وہ سوڈان کے کسی چھوٹے سے شہر سے گزر رہے تھے، تو ایک مسجد میں ان کی ملاقات کسی گوشہ نشیں نوجوان سے ہوئی۔ اس نے ان کے پاکستانی ہونے کا علم ہوتے ہی پہلا سوال کیا: ’’کیا تم مولانا مودودی سے ملے ہو؟ تم نے انھیں دیکھا ہے؟‘‘
اثبات میں جواب پا کر وہ نوجوان آبدیدہ ہو گیا، پھر کہنے لگا:
’’مولانا کو میرا ایک پیغام پہنچا دینا کہ مجھے تو ہدایت ان کی کتابوں کے ذریعے ہی ملی ہے۔ میں اپنے کام میں مصروف ہوں۔ حکومت کے کارندے میری تلاش میں ہیں۔ اس لیے یہاں گوشہ نشین ہوں۔ میں نے دنیا میں سب کچھ چھوڑ دیا ہے اور دین کی جدوجہد میں لگا ہوا ہوں، ان سے کہنا وہ میرے لیے دعا کریں‘‘۔
مولانا مرحوم کے سلسلے میں اس طرح کے بہت سے واقعات بیان ہوتے ہیں، لیکن اب ہمیں حیران نہیں کرتے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو حتمی اور فیصلہ کن طور پر متاثر کر دینا تو جیسے ان کی پوری شخصیت کا ایک حصہ تھا اور انسان کے اندر تصور خیر کا بدلنا سب سے مشکل کام ہے۔ تصورِ خیر کا تزکیہ بہت دیر طلب بات ہے۔ مولانا مرحوم کا اثر اس اصل الاصول پر پڑتا تھا اور اس میں اگر کوئی بات حیران کرنے والی تھی، تو وہ یہ کہ بیش تر صورتوں میں یہ تبدیلی ہمیشہ کے لیے ہوتی تھی۔ جیسے مولانا کی تحریر یا ان کی شخصیت کا کوئی اور پہلو، مثلاً ان کی گفتگو دوسرے کی شخصیت میں ایک نیامنظر جگا دیتی ہو اور آدمی کو اس منظر کے سفر پر روانہ کر دیتی ہو۔ جذباتی طور پر آدمی کو بدلنے کے لیے ایک اچھا مقرر یا ایک اچھا نثر نگار کافی ہوتا ہے، لیکن آدمی کا پورا نفسیاتی پیٹرن تبدیل کردینا انبیا علیہم السلام کی سنت رہی ہے اور ہمارے ہاں اس کی ایک بہت واضح مثال مولانا مودودی تھے۔ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پہلو مولانا مودودی کی ذات میں بہت نمایاں تھا۔ مولانا کی شخصیت میں اس قوت کے منبع پر غور کرنا چاہیے۔ آدمی کو حتمی طور پر بدلنے کے لیے ایک ہی چیز کی ضرورت ہے اور وہ ہے کردار۔
مجھے ہمیشہ یہ خیال آتا ہے کہ فی زمانہ مولانا کی شخصیت کو ایک اور پہلو سے بھی دیکھنا چاہیے۔ ان کا اثر جس قدر وسیع ہے، اس کی مثال پچھلے طویل عرصے میں نہیں ملتی۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی بات یوں بھی آگے بڑھ سکتی ہے کہ مولانا مرحوم کے اثر کی سطح بہت وسیع تھی اور پوری امت کی سطح پر تھی۔ عربوں کی سطح پر دیکھیے، تو ان میں نوجوانوں سے لے کر بوڑھوں تک مولانا کی تحریروں اور ان کی شخصیت سے والہانہ وابستگی ملے گی۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس گہرے تاثر کی وجہ کیا ہے اور اس کے اثرات پوری ملی سطح تک کیوں پڑے؟ قریبی حلقوں سے الگ، عالمی سطح پر اس تاثر کی شدت میں میرا خیال ہے کہ بہت واضح اضافہ اس وقت ہوا جب مولانا کو سزائے موت سنائی گئی اور ان کا بیان حق کی ایک بہت بڑی شہادت بن کر سامنے آیا۔ عام لوگوں کے لیے مولانا کے کردار اور ان کی ایمانی قوت کے مشاہدے کا وہی فیصلہ کن لمحہ تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو ایک ٹھوس علامت بنا دیا۔ یہی ایمانی قوت مولانا کی تحریروں کے پیچھے جھلکتی تھی اور اسی کے عکس سے عام طور پر خوابیدہ ایمانی کیفیت ایک قومی جذبے میں ڈھل جاتی ہے۔
مولانا مودودی نے جس زمانے میں لکھنا شروع کیا، اس وقت پوری مسلم دنیا کے سامنے چند بنیادی سوال تھے، جن کے جواب روایت میں موجود تو تھے، لیکن جدید ذہن کے سانچے کے مطابق نہ تھے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگاتے ہیں۔ بعضوں نے جدید ذہن کے تقاضے سامنے رکھ کر اسلام کی تعبیر کر ڈالی۔ ان کا گمان یہی رہا ہو گا کہ اگر بات جدید ذہن کے تقاضوں کے مطابق بنا دی جائے، تو شاید زیادہ قابلِ قبول ہو گی، لیکن اس تصور کے پیچھے جدیدیت اور اس کی نفسیاتی کیفیت کے ایک تضاد کے بارے میں بہت بڑی لاعلمی چھپی ہوئی ہے۔ جدید ذہن کی ساری کش مکش یہی ہے کہ وہ اپنے پورے معاشرتی اور نفسیاتی ڈھانچے سے مطمئن نہیں، لیکن یہ ذہن اتنا خوف زدہ ہے کہ اپنے آپ کو حتی المقدور پوری طرح دشمن تہذیب سے وابستہ کیے رکھتا ہے اور اس کے ساتھ اس کی پیاس بجھتی صرف قدیم دانش سے ہے۔
مولانا کی تحریروں سے یہ بات واضح ہے کہ انھوں نے جدید ذہن کے تقاضے سامنے رکھے، مگر اصول میں کوئی ترمیم نہ کی، بلکہ دانشِ وحی کو نئی نفسیاتی ساخت کی ضرورت کے مطابق بیان کیا۔ پھر اس سارے عمل میں یہ بات ان سے اوجھل نہ ہوئی کہ مشرق پر عموماً اور اسلامی دنیا پر خصوصاً مغربی تہذیب کی یلغار نے جو بنیادی نوعیت کے سوالات پیدا کیے ہیں، وہ سب کے سب ان کی تحریروں میں آ جائیں۔
چنانچہ یہی وجہ ہے کہ مولانا مودودی کے ہاں یہ صورت حال جزوی طور پر، یا جذباتی طور نہیں آتی، بلکہ اپنی اصولی حیثیت میں آتی ہے۔ اصولی طور پر یہ سوالات مشرق میں اس طرح کسی اور نے اٹھائے ہی نہیں جس طرح مولانا کے ہاں اٹھائے گئے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مسئلہ محض علمی فرق کا نہیں، زندگی کے پورے رویے کا تھا، بلکہ صحیح معنوں میں زندگیوں کا تھا۔ مولانا کی تحریروں اور ان کی شخصیت نے پوری دنیا میں جو جو تحریکیں اٹھائیں یا جنھیں ایک نئی جہت اور قوت دی، وہ زندگی کے کسی ایک پہلو سے تعلق رکھنے والی تحریکیں نہیں، بلکہ ان کا تعلق’ آدمی کے ایک مکمل راستے کے انتخاب‘ سے ہے، اور یہی اصرار ہے کہ فرد یکسوئی سے ایک راستے کا انتخاب کرے!
چنانچہ اس حوالے سے مولانا مودودی نے جن لوگوں کو متاثر کیا ان کے لیے مولانا مرحوم کی حیثیت پوری زندگی کو بچانے والے کی ہے اور اسی لیے ان سے محبت کی شدت بھی اتنی ہی زیادہ ہے۔ تحریر پڑھ کر ان کے قریب آئے افراد نے عام طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ مولانا مشکل سے مشکل مسائل کو عام فہم بنا دیتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اسلوب سے خشک مسائل میں بھی جذبے کی گویا ایک برقی رو بھر دیتے تھے۔
دنیا میں اعلیٰ ترین ادب کی خصوصیت بیان کی جاتی ہے کہ الفاظ اپنے اندر معانی کی بجلی سے روشن ہوتے ہیں۔ مولانا کے ہاں اپنے قاری سے جو رشتہ وجود میں آتا، اس کی بنیاد ایک غیرمعمولی ذہانت پر قائم تھی۔ جس کے ذریعے وہ قاری سے محض ذہن کی سطح پر اور منطق و استدلال کی سطح پر کلام نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کی آواز وجود کی ساری سطحوں کو محیط ہوتی تھی اور جدید انسان کے نفسیاتی خلیات میں گہری اترتی چلی جاتی تھی۔ میرا خیال ہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں اردو تو اردو، دنیا کی اور بڑی زبانوں میں اتنا ہمہ گیر اسلوب، اتنے متنوع موضوعات کے ساتھ ڈھونڈنے سے ہی ملے گا۔
پھر ادب کے سلسلے میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ اسلوب کو شخصیت سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا کی پوری شخصیت میں جو غیر معمولی پن تھا اور سادگی میں جو گہرائی تھی، وہ اسلوب میں بھی پوری طرح جھلکتی تھی۔ اس لیے اگر ہم غور کریں، تو ان کا اسلوب ادبی انداز اور مسائل کو حل کرنے کی منطقی جہت کے ساتھ مل کر نمودار ہوتا ہے، جو ہمیشہ اور مسلسل ایک زیریں لہر کے طور پر موجود رہتا ہے۔ بعض لوگوں کے ہاں مولانا کی تحریروں کے بارے میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ’’ان کے خشک مباحث میں جذبہ نمودار نہیں ہوتا۔‘‘
یہاں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اول تو جذباتیت اور جذبے میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔ مولانا کی تحریروں میں کہیں بھی جذباتیت نہیں پائی جاتی۔ لیکن جہاں تک جذبے کا سوال ہے، اس سے ان کی کوئی تحریر خالی نہیں ہے۔ اس لیے جس انداز کا آہنگ مولانا کے ہاں دکھائی دیتا ہے، وہ ایمانیاتی سطح کے شدید جذبے کے بغیر مکمل ہی نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا کی تحریریں لوگوں میں حقائق کا محض فہم نہیں پیدا کرتیں، اس کے ساتھ ساتھ ان حقائق سے ایک گہری وابستگی کو جنم دیتی ہیں، یعنی علم اس سطح پر آ کر پورے انسانی وجود کی ایک اہم جہت بن جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس سے مولانا نے پوری ملت کی سطح پر ایک انقلابی سوچ پیدا کر دی۔ انفرادی سطح پر لوگوں کے ذہنوں میں مسائل واضح کیے، ایمانیاتی جذبے کی جہت سے وابستگی پیدا کی اور دلوں میں موجود و حاضر کے زوال آمادہ نظام سے فعال کراہت پیدا کی، جو اجتماعی سطح پر پورے معاشرتی اور معاشی ڈھانچے کی تبدیلی کی بنیاد بنی۔
مولانا مودودی کی پوری زندگی اصل میں ان کے پورے کام کا محض ایک آغاز تھی، اس لیے کہ مرکز کی تشکیل تو بہرحال اہم ترین ہوتی ہے اور ساتھ ہی دیر طلب بھی۔ چنانچہ اس عرصے میں ایک ذہنی نیو کلیس تیار ہو گیا اور پوری ملت میں مختلف ملکوں اور مختلف سطحوں پر مولانا کی تحریروں کے عکس میں اور ان کی شخصیت کی دمک سے، مختلف مرکز بن گئے جو ایک عظیم تبدیلی کا ابتدائی درجہ ہیں۔
اس زمانے میں ایک اور پہلو سے مولانا مودودی کی شخصیت ایک حیرت انگیز Relevance (مطابقت) رکھتی ہے، جس میں وہی ایک ایسی شخصیت کے طور پر اُبھرے تھے جنھوں نے یہ بتایا کہ پورا تہذیبی اسلوب، روایتی دانش اور کردار مل کر کس طرح درجہ بدرجہ اس تبدیلی کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر پھیلا دیتے ہیں اور کس طرح درجہ بدرجہ اس تبدیلی کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے۔ سیّد حسین نصر نے مولانا کو اس زمانے میں سنت کا ستون قرار دیا ہے، اور سچی بات یہی ہے کہ مولانا کی شخصیت کی ساری قوت سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری وابستگی سے پھوٹی تھی۔ چنانچہ یہی وجہ تھی کہ مولانا سے لوگوں کی وابستگی ایک شخص اور ایک فرد کی نسبت ایک ایسی روایت سے محبت تھی، جو مسلم تاریخ کی اہم ترین امانت ہے۔
_______________