اگست ۲۰۲۶

فہرست مضامین

مقاصد ِ رسالتؐ کا قرآنی منشور

ڈاکٹر ارشاد الرحمٰن | اگست ۲۰۲۶ | اسوۂ حسنہ

Responsive image Responsive image

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اللہ کی رحمت اور نعمت ہے۔ یہ اس ہادی کا میلاد ہے جس کے ذریعے اللہ نے انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف، مخلوق کی غلامی سے نکال کر خالق کی عبادت کی طرف، اور گمراہی سے نکال کر ہدایت و استحکام کی شاہراہ پر گامزن کیا:

ہُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰي عَبْدِہٖٓ اٰيٰتٍؚبَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۝۰ۭ وَاِنَّ اللہَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۝۹ (الحدید۵۷ :۹)،وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمھیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔

آپ ؐ کی ولادت اللہ تعالی کے ایک قدیم وعدے کی تکمیل تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت دعا کی تھی:

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۝۰ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝۱۲۹ (البقرہ۲:۱۲۹)اور اے ربّ، ان لوگوں میں خود انھی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو، جو انھیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے ۔تُو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔

اسی طرح آپ ؐکی ولادت کے تذکرے سابقہ کتابوں میں بھی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَہٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِي التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِيْلِ۝۰ۡ (الاعراف۷:۱۵۷ )(آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اِس پیغمبر، نبی اُمّی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر اُنھیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔

آپ ؐ کی ولادت محض ایک وقتی خوشخبری نہیں تھی، بلکہ یہ وہ کلمات تھے جو وحی کی صورت میں انبیا ؑ کی زبانوں پر جاری رہے اور ولادت سے یہ جاں فزا خوشخبری پوری ہوئی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے جو ظلم، جہالت اور انتشار سے چُور تھا، جہاں دنیا من مانیوں کی غلام اور خواہشات کی اسیر تھی۔ ایسے مایوس کن اور تاریک دور میں آپؐ کی ولادت انسانیت کے لیے ایک نئی زندگی ثابت ہوئی اور عزت و آزادی کے دور کا آغاز ہوا۔ اس عہد نے انسانیت کو پتھروں کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور انسانی جبر و استبداد کے سامنے جھکنے کے بجائے صرف اللہ کی بندگی پر قائم رہنے کا پیغام دیا:

وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا۝۰ۚ وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا۝۰ۭ (اٰل عمرٰن ۳ :۱۰۳)اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمھارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔

آپؐ کی ولادت محض گوشت پوست کے ایک جسم کی پیدائش نہیں تھی جو عام انسانوں کی طرح آئے اور رخصت ہو جائے، بلکہ یہ اس آخری پیغام کا آغاز تھا جسے اللہ نے تمام انسانوں کی رہنمائی کے لیے پسند فرمایا:

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَاۗفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا ( السبا ۳۴:۲۸) اور (اے نبیؐ،) ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔

 تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِہٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا۝۱ۙ  (الفرقان ۲۵: ۱) نہایت متبرک ہے وہ جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہان والوں کے لیے نذیر ہو۔

یہ پیغام اپنے اندر آزادی اور ہدایت کی خوشخبریاں رکھتا اور انسانی ضمیر میں رحمت، عدل اور حق کی اقدار راسخ کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا تہذیبی و تمدنی منصوبہ تھا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ انسانیت کی گم شُدہ شناخت کو بحال کیا اور انسان کو زندگی کےمقصد سے از سر نو روشناس کرایا۔ رشتۂ وحی کے ذریعے اس کا تعلق آسمان سے جوڑا، اور اس کی زندگی کو حق و انصاف کے ساتھ زمین میں تعمیر و ترقی کا پابند بنایا:

لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝۱۶۴ (اٰل عمرٰن ۳:۱۶۴)درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انھی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انھیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔

ہُوَالَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْہِمْ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۤ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝۲ۙ وَّاٰخَرِيْنَ مِنْہُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِہِمْ۝۰ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝۳  ذٰلِكَ فَضْلُ اللہِ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ۝۰ۭ وَاللہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۝۴  (الجمعة ۶۲: ۲-۴)وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود اُنھی میں سے اٹھایا، جو اُنھیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے، اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اِس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔اور (اس رسول کی بعثت) اُن دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی اُن سے نہیں ملے ہیں۔ اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ یہ اس کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔

لوگ ان عظیم انسانوں کا جشن مناتے ہیں جنھوں نے انسانی تاریخ میں کوئی ایک کارنامہ انجام دیا اور پھر ان کا اثر ختم ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت دنیا کا واحد واقعہ ہے جس کے اثرات صدیوں پر پھیلے ہوئے ہیں اور جب تک زندگی باقی ہے، اس کی گونج سنائی دیتی رہے گی۔ یہ نبیِ خاتم ؐکی ولادت ہے، رحمتِ عامہ کی ولادت ہے، اور ایک ایسے پیغام کا آغاز ہے جس کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑے گی، اور جس کے اثرات کبھی کم نہیں ہوں گے۔ اس کا تذکرہ کبھی مٹ نہیں سکتا کیونکہ یہ زمین پر اللہ کا آخری کلمہ ہے جسے ہمیشہ باقی رہنا ہے:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ۝۰ۭ (الاحزاب  ۳۳:۴۰ ) (لوگو) محمدؐ تمھارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِيْنَ۝۱۰۷ (الانبياء۲۱ :۱۰۷) اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے، تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔

نجات دہندۂ انسانیت حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حیات بخش اور حریت نواز اس پیغام کی درج ذیل بنیادیں قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں:

آزادی ، پیغامِ نبوت کی روح

اللہ کا یہ آخری پیغام انسان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالنے کے لیے نہیں آیا، اور نہ اس لیے آیا ہے کہ دین کو ظالموں اور جابروں کے ہاتھ میں تھمایا ہوا ایک کوڑا بنا دیا جائے، بلکہ یہ معزز و مکرم مخلوق انسان کو اللہ کی بندگی کے سوا، ہر قسم کی غلامی سے نجات دلانے آیا ہے۔ یہی حقیقی آزادی ہے، کیونکہ یہ حق کے سوا ہر جھوٹے تسلط کو پامال کر دیتی ہے، اور عقل و ضمیر کو توہم پرستی اور نفسانی خواہشات کی قید سے چھڑا دیتی ہے۔ قرآنِ مجید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بنیادی مشن یہ بیان کرتا ہے کہ آپؐ لوگوں کے بوجھ اتارنے اور ان کی گردنوں میں کسے ہوئے طوق کاٹنے کے لیے آئے ہیں:

يَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ (الاعراف ۷:۱۵۷ )وہ انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔

یہ وہ آزادی ہے جو مادی دنیا کا ظاہری نظام بننے سے پہلے انسان کے باطن اور روح سے جنم لیتی ہے۔ یہ ضمیر کو پوشیدہ بتوں سے پاک کرتی ہے، نسل در نسل منتقل ہونے والے توہمات سے فکر کو آزاد کرتی ہے، اور زندگی کو عدل و قسط کے میزان پر استوار کرتی ہے:

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۝۰ۚ (الحدید۵۷ :۲۵) ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلہِ شُہَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ۝۰ۡوَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۝۰ۭ اِعْدِلُوْا۝۰ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۝۰ۡوَاتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝۸  (المائد ہ۵ :۸) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔

  • عقیدے کی آزادی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو خالص توحید کی طرف دعوت دی، تو یہاں نہ پادریوں کی طرح کسی مذہبی اشرافیہ کی اجارہ داری قائم ہوئی اور نہ کسی انسانی واسطے کی گنجائش رہی۔ یہاں صرف ایک ربّ کی عبادت کی جاتی ہے۔ ایک کتاب سے ہدایت لی جاتی ہے، اور ایک رسولؐ کی پیروی کی جاتی ہے۔ آپؐ نے حق کو واضح کر دیا اور ایمان لانے یا نہ لانے کو قیامت تک کے لیے انسان کے اپنے اختیار پر چھوڑ دیا:

وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۝۰ۣ فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ ۝۰ۙ (الكهف ۱۸:۲۹) فرما دیجیے کہ (یہ) حق تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر کرے۔

قرآنِ کریم نے عقیدے کے معاملے میں کسی بھی قسم کے جبر و اکراہ کی قطعی نفی کرتے ہوئے فرمایا:

لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ  ۝۰ۣۙ  (البقرہ۲:۲۵۶) دین میں کوئی زبردستی نہیں۔

آپؐ نے ان تمام لوگوں کے نظریے کو مسترد کر دیا جو ہدایت کو زبردستی اور طاقت کے بل پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔ آپ کو ہدایت کی گئی کہ:

اَفَاَنْتَ تُكْرِہُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۝۹۹(یونس۱۰:۹۹)تو کیا آپ لوگوں پر زبردستی کریں گے یہاں تک کہ وہ مومن ہو جائیں؟

فَذَكِّرْ۝۰ۣۭ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ۝۲۱ۭ لَسْتَ عَلَيْہِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ۝۲۲ۙ اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَكَفَرَ۝۲۳ۙ فَيُعَذِّبُہُ اللہُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ۝۲۴ۭ  اِنَّ اِلَيْنَآ اِيَابَہُمْ۝۲۵ۙ  ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَہُمْ۝۲۶ۧ  (الغاشیة ۸۸:۲۱-۲۶) اچھا تو (اے نبیؐ) نصیحت کیے جاؤ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو۔کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو۔ البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا، تو اللہ اس کو بھاری سزا دے گا۔ اِن لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے۔ پھر اِن کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے۔

چنانچہ اسلام کی دعوت اپنے جوہر میں ایک ایسی کھلی دلیل ہے جو دلوں کو روشن کرتی ہے۔ اس میں تلوار کا کوئی خوف ہوتا ہے، نہ کسی طاقت کے آگے سر جھکانے کا جبر۔

  • عقل کی آزادی : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی عقل کو دلیل کے اصولوں پر قائم کیا اور وحی کے مسلسل سوالات کے ذریعے اسے غفلت سے بیدار کیا:’’کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘ ،’’کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟‘‘ ،’’کہیے کہ اپنی دلیل پیش کرو!‘‘ تاکہ عقل کسی خرافات اور اندھی تقلید کے آگے ہتھیار نہ ڈالے۔ آپؐ نے علم کے حصول کو ایک مقدس فریضہ قرار دیا، اور علم کو حکمت اور تزکیۂ نفس کے ساتھ یوں جوڑ دیا کہ علم انسان کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے، نہ کہ علم کے نام پر انسان سرکشی اور بغاوت کا شکار ہو جائے۔
  • ضمیر اور کردار کی آزادی:آپؐ نے اچھائی (معروف) کی حدود اور اس کی بلندیوں کو واضح فرما کر، اور برائی (منکر) اور اس کے راستوں سے خبردار کر کے انسانی ضمیر اور رویوں کو مکمل آزادی عطا کی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ انسان اپنی اندھی خواہشات کا غلام بن کر نہ رہ جائے، بلکہ وہ اپنے فیصلوں کا خود مالک اور مختار ہو۔ آپؐ نے انسان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال کیا، خبیث و ناپاک چیزوں کو حرام ٹھیرایا، تاکہ انسان کے عز ّو شرف کو آلودگیوں اور گراوٹوں سے بچانے کے لیے ایک اخلاقی میزان قائم ہو سکے۔ نیز انسان اپنی انسانیت کو خواہشات، رسوم و رواج اور فیشن کی غلامی سے بچا سکے۔ یہ ذمہ دارانہ آزادی ہے۔ یہ بے لگام آزادی نہیں جو تباہ کر دیتی ہے۔ یہ جبر نہیں ہے جو انسان کو انسان نہیں سمجھتا، بلکہ یہ بلندیوں کی طرف وہ پرواز ہے جہاں حق اور جمال، اور عدل اور رحمت یکجا ہوجاتے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کو عوامی سطح پر بھی اس وقت آزادی سے ہمکنار کردیا جب عہد و پیمان کی بنیاد پر مدینہ کی ریاست قائم کی، جو جانوں اور حقوق کی محافظ تھی، اور جس کی بنیاد شراکت اور مشاورت پر تھی۔ اس ریاست میں قانون کے سامنے سب برابر ٹھیرے، اور مخالف کو بھی عہد، امان، ذمہ اور عزت عطا کی گئی۔ چنانچہ جب مکہ حق کے سامنے سر نِگوں ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عام معافی کا اعلان فرمایا، جس نے جاہلیت کی نسل در نسل چلی آنے والی انتقامی روایت کو مٹا دیا اور آزادی و درگزر کی تاریخ کے ایک نئے باب کی بنیاد رکھی۔ بلاشبہ آزادی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک مظالم کا خاتمہ نہ ہو جائے اور زخموں پر رحمت کا مرہم نہ رکھ دیا جائے۔

یوں رسالت کی اصل حقیقت آشکار ہوئی، یعنی ایک دوسرے کو مکمل کرتے دائروں کی آزادی۔ توحید کا ایسا عقیدہ جو دل کو آزادی عطا کرتا ہے، ایسی دلیل جو عقل و شعور پر مسلط ناروا پابندیوں کو توڑتی ہے، اور ایسا اخلاق جو رویے اور کردار کو آزادی بخشتا ہے۔ ایک ایسا جامع نظام جو معاشرے کو استبداد اور تفریق و امتیاز سے نجات دلاتا ہے۔ یہ اسی معاشرے کا کمال اور خصوصیات ہیں کہ جس نے صرف اللہ کی عبادت کی، وہ اللہ کے سوا ہر چیز کی غلامی سے آزاد ہو گیا۔ اور جو حق کے سامنے جھک گیا، وہ کسی انسان کے رعب و دبدبے کے تابع نہ رہا۔ جو سائبانِ وحی کے سائے میں آگیا، اس کی زندگی آزاد اور باوقار ہو گئی، اور یہی وہ شخص ہے جو زمین کی تعمیر و ترقی کے لیے ہدایتِ الٰہی پر عمل پیرا ہونے کا اہل ٹھیرا۔

 دعائے ابراہیمؑ اور بعثتِ نبوی ؐ کے مقاصد

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت تاریخ کے بہاؤ میں محض کوئی اتفاقی واقعہ نہ تھا، بلکہ یہ حضرت ابراہیمؑ کی اس قدیم دعا کی قبولیت تھی جو انھوں نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت کی تھی:

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۝۰ۭ (البقرہ ۲:۱۲۹ )اے ہمارے رب! ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے، انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔

اس دعا نے اپنے مختصر مگر جامع الفاظ میں آخری پیغام کے بڑے مقاصد کا نقشہ کھینچ دیا تھا۔ چنانچہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت انبیائے سابقین کی نبوتوں کی تصدیق اور ان کی آپؐ کے بارے میں بشارتوں کی تکمیل کے طور پر ہوئی، تاکہ آپؐ کی رسالت آزادی و نجات کا پیغام بن جائے ۔ دعائے ابراہیمؑ میں آپؐ کی بعثت کے یہ مقاصد بیان ہوئے ہیں:

  • تلاوتِ آیات __ وحی کے ذریعے عقل کی آزادی : ـــــــ اس دعا میں سب سے پہلے 'تلاوتِ آیات کا ذکر ہے، کیونکہ انسانی عقل کو ایک ایسے معصوم و محفوظ مرجع (پناہ گاہ) کی ضرورت تھی جو اسے خرافات اور خواہشات کی بھول بھلیوں سے نکال سکے۔ چنانچہ مُردہ دلوں کو زندگی بخشنے اور بصیرت کے بند دروازوں کو کھول دینے کے لیے قرآنی آیات کا نزول ہوا اور ان کی تلاوت کا حکم دیا گیا۔ یہ عقل کو ایسی الٰہی میزان سے جوڑ دیتی ہے جو میزان خواہشات کے ساتھ اوپر نیچے نہیں ہوتا۔ یوں تلاوتِ آیات کا مقصد فکری آزادی ہے، جو انسان کو انسانی آراء کے انتشار سے نکال کر وحیِ ربانی کے نور کی طرف لے جاتی ہے۔
  • تعلیمِ کتاب__  تحریف و جہالت سے علم کی آزادی: تلاوتِ آیات کے بعدتعلیم کتاب کا درجہ ہے، جو وحی پر مبنی درست معرفت کو پختہ کرنے کا نام ہے۔ رسالت میں علم محض کوئی فکری تعیش نہیں، بلکہ شعور کی بیداری اور تہذیب کی تعمیر کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے تشریف لائے کہ لوگوں کو کتاب یعنی نصوصِ وحی کی تعلیم دیں، تاکہ اللہ اور زندگی کے بارے میں ان کی معرفت، ظن و تخمین کے بجائے پختہ اور یقینی علم پر استوار ہوجائے۔ یہیں سے اس علمی آزادی کا مقصد واضح ہوجاتا ہے جو انسان کو جہلِ مرکب یا گمراہ کن علم سے نجات دلاتی ہے۔
  • تعلیمِ حکمت __  فہم کو سطحیت اور کج روی سے آزاد کرنا:ـــــــ اگر علم انسان کو معرفت سے روشناس کراتا ہے، تو حکمت اسے اس علم کے درست استعمال کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ کتنے ہی ایسے علوم ہیں جو حکمت سے عاری ہونے کی بنا پر انسان کے لیےوبال جان بن گئے، اور کتنے ہی علوم ایسے ہیں جنھوں نے بصیرت کے بغیر استعمال ہونے پر فائدے کے بجائے نقصان پہنچایا۔ لہٰذا تعلیمِ حکمت کا مقصد عقل کو انتہاپسندی اور سختی و تشدد سے نجات دلانا اور اسے اعتدال و توازن کی راہ دکھانا ہے، تاکہ علم ایسا اسلحہ نہ بن جائے جو تباہی مچاتا ہے بلکہ ایسی روشنی بن جائے جو رہنمائی کا کام کرتی ہے۔
  • تزکیہ __  روح کو رذائل اور نفسانیت سے پاک کرنا: سیّدنا ابراہیمؑ کی دعا کا اختتام تزکیہ کے مقصد پر ہوا، جو کہ رسالت کا مغز اور اس کی روح ہے۔ کیونکہ تزکیہ کے بغیر علم اور حکمت نفع نہیں پہنچاتے۔ یہاں تزکیہ سے مراد محض عبادات کے ظاہری رسوم و شعائر کی ادائیگی نہیں، بلکہ یہ ضمیر کو شرک و ریا سے پاک کرنے، مہلک شہوات سے نفس کو بچانے، اور ایمان کی محراب میں روح کی ایسی تراش خراش کا نام ہے جو انسان کو اپنی نفسانی خواہشات کی غلامی سے نکال کر حقیقی معنوں میں ’آزاد انسان‘ بناتی ہے۔

یہ چاروں مقاصد: تلاوتِ آیات، تعلیمِ کتاب، تعلیمِ حکمت اور تزکیہ، دراصل انسانیت کی کامل تعمیر کے باہم مربوط دائرے ہیں۔ علم کے بغیر کوئی آزادی نہیں، حکمت کے بغیر علم ادھورا ہے، اور تزکیہ کے بغیر حکمت بے معنی ہے۔ درحقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دعائے ابراہیمؑ کی قبولیت اور انسانیت کے لیے ایک ایسے نئے عہد کا آغاز تھا جس کی بنیاد ضمیر کی آزادی، وحی کے نور اور فطرت کی پاکیزگی تھی۔

جامع مقاصدِ رسالت

 جس طرح حضرت ابراہیمؑ کی دعا نے اس منہج کے خدوخال واضح کیے جس پر ختمِ رسالت کی بنیاد رکھی جانی تھی، اسی طرح قرآنِ کریم کا یہ بیان بہت جامع اور واضح ہے، جسے ہم ’مقاصدِ نبوت کا دستور‘ کہہ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَہٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِي التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِيْلِ۝۰ۡيَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ (الاعراف۷:۱۵۷) (آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اِس پیغمبر، نبی اُمّی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر اُنھیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ وہ انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔

یہ عظیم آیت صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کے بیان تک محدود نہیں، بلکہ یہ آپؐ کی بعثت کے چھ بڑے مقاصد کو بیان کرتی ہے، جن میں سے ہر ایک، انسانی آزادی کا ایک پہلو ہے اور جس کا مطمح نظر ’آزاد انسان‘ کی تخلیق ہے:

  • امر بالمعروف __  فضائل کے ذریعے معاشرے کو آزاد کرنا: ـــــــ ’معروف‘ (نیکی) سے مراد وہ تمام اقدار ہیں جو ایک سلیم الفطرت انسان میں خیر، عدل اور رحمت کی صورت میں راسخ ہوتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فریضہ یہ قرار دیا گیا کہ آپؐ معاشرے کے ضمیر کو ان اقدار کے ذریعے بیدار کریں۔ انھیں حق کی یاد دہانی کرائیں، عدل کی دعوت دیں اور ان کے درمیان رحمت کے بیج بوئیں۔ یہ آزادی کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہے کہ خیر صرف افراد تک محدود نہ رہے، بلکہ یہ ایک ایسا اجتماعی نظام بن جائے جو معاشرے کی اصلاح بھی کرے اور اس کی حرکت کے رُخ کا تعین بھی۔
  • نہی عن المنکر __  انسان کو بے راہ روی سے بچانا :  ـــــــ’منکر‘ (برائی) ہر وہ عمل ہے جس کو ایک سلیم الفطرت اور عقلِ سلیم رکھنے والا انسان ناپسند کرے۔ دین اس لیے آیا کہ انسان کو ظلم و فساد کے گڑھوں میں گرنے سے بچائے، اور اسے تباہ کن عادات اور بے لگام خواہشات سے نجات دلائے۔ اس طرح برائی سے روکنا درحقیقت انسان کو شہوات کی غلامی اور جابرانہ نظاموں سے آزادی دلانے کا ایک ذریعہ بن گیا، تاکہ اس کے اخلاقی اور سماجی زوال کو روکا جا سکے۔
  • حلال کا تعین __  آزادی کے اُفق کو وسعت دینا : ـــــــ یہ الہامی پیغام اس لیے آیا تاکہ لوگوں کے لیے وہ پاکیزہ چیزیں حلال کر دے جنھیں بگڑے ہوئے ادیان یا ظالمانہ رسوم و رواج نے تلپٹ کر دیا تھا۔ یہ انسانی زندگی کو ان مصنوعی پابندیوں سے آزاد کرانے کی ایک آواز ہے جن کے ذریعے انسانیت کو اللہ کی نعمتوں سے محروم کر دیا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اعلان کرایا گیا:

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَۃَ اللہِ الَّتِيْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ۝۰ۭ (الاعراف ۷: ۳۲) اے محمدؐ، ان سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟

یہاں ’حلال قرار دینا‘ محض ایک اجازت نہیں، بلکہ زندگی کے میدان کو اتنا وسیع اور پاکیزہ بنانا ہے کہ انسان اس میں بغیر کسی تنگی اور رکاوٹ کے جی سکے۔

  • ناپاک چیزوں کی تحریم __ آزادی کی بـے لگامی سے حفاظت : ـــــــ جس طرح اسلام نے پاکیزہ چیزوں کے معاملے میں آزادی دی ہے، اسی طرح ناپاک چیزوں (خبائث) پر پابندی لگا کر اس آزادی کو متوازن و منظم بھی کیا ہے۔ بعض چیزوں اور کاموں کو حرام قرار دینا انسان پر کوئی ناروا قید نہیں، بلکہ اسے ان چیزوں میں گرنے سے بچانا ہے جو اس کے جسم، روح، عقل اور معاشرے کو تباہ کر دیتی ہیں۔ یہ اقدار کے دائرے میں ایسی آزادی ہے جو اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ انسان پاکیزہ زندگی گزارے، تاکہ آزادی کہیں ایسی افراتفری میں نہ بدل جائے جو انسان کی انسانیت ہی کو تباہ کر دے۔ 
  • بوجھ اُتارنا  __ تحریفات و انحرافات کے بوجھ  سے  نجات : ـــــــ اِصر (بوجھ) سے مراد وہ سخت شرائط اور تکلیف دہ احکامات ہیں جو گذشتہ امتوں پر ان کی نافرمانیوں کی سزا کے طور پر یا شریعت میں ان کے انحراف کی وجہ سے لازم کیے گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تاکہ اپنی اُمت کا بوجھ ہلکا کریں، اور ان کی شریعت کو انتہا پسندی اور افراط و تفریط کے درمیان اعتدال کا نمونہ بنادیں۔ آزادی کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مذہبی پابندیاں انسان کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں، بلکہ وہ ایسا زینہ ثابت ہوں جو اسے کمالِ انسانیت تک پہنچائے۔
  • بیڑیوں کا خاتمہ __ سماجی اور سیاسی پابندیوں سے آزادی: ’اَغلال‘ (بیڑیاں)  سے مراد وہ قیود ہیں جنھوں نے قوموں کو استبداد، ظلم، مذہبی تحریف یا ان جابرانہ رسوم و رواج میں جکڑ رکھا تھا، جنھیں لوگوں نے وحیِ الٰہی کا مقام دے دیا تھا اور بغیر کسی آسمانی حکم کے انھیں دین بنا لیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان زنجیروں کو توڑنے کے لیے تشریف لائے، انسانوں کو ان کی تکریم اور آزادی واپس دلانے کے لیے آئے، تاکہ وہ حق کے سوا کسی کے سامنے سرنگوں نہ ہوں اور اللہ کے سوا کسی کے محکوم نہ رہیں۔ یہاں رسالت کا اصل جوہر نمایاں ہوتا ہے،یعنی ’کامل آزادی‘ ـــــــ جو انسان کو اس کی انسانیت واپس لوٹاتی ہے۔

بلاشبہ ان چھ مقاصد کا محور ایک ہی ہے اور وہ ہے ’ذمہ دارانہ آزادی‘ کا آغاز۔ ایسی آزادی جو معروف (بھلائی) پر استوار ہو، منکر (برائی) سے محفوظ ہو، پاکیزہ چیزوں سے ثروت مند ہو، خباثتوں سے پاک ہو اور بوجھ اور زنجیروں سے آزاد ہو۔

سورۂ اعراف کی اس آیت نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمہ گیر مشن کا منشور پیش کیا ہے۔ اس مشن کا بلند ترین مقصد یہ ہے کہ انسان آزاد اور معزز ہو کر جیے، صرف ایک اللہ کی عبادت کرے، اور اس کی دنیا میں عدل و رحمت کے ساتھ تعمیر و ترقی کرنے والا حکمران بن کر رہے۔

قرآنی منشور کے تہذیبی اثرات 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام محض اخلاقی دعوت یا وعظ و نصیحت تک محدود نہ تھا، بلکہ یہ اپنے آغاز سے ہی ایک جامع تہذیبی منصوبے میں بدل گیا تھا جس نے انسانی تعمیر اور شہری ترقی کو یکجا کر دیا۔ اس طرح آپؐ نے ایک ایسا منفرد نمونہ پیش کیا جس کے اثرات آج تک جاری ہیں۔آپؐ نے مدینہ منورہ میں ایک نئے معاشرے کی بنیاد رکھی جو عدل، شوریٰ اور باہمی تعاون پر مبنی تھا۔ مسجد اس کا دھڑکتا ہوا دل تھا جو عبادت کی جگہ بھی تھی، علم کا منبع بھی، سیاسی فیصلوں کا مرکز بھی اور سماجی یکجہتی کا سائبان بھی۔ ’میثاقِ مدینہ‘،جسے محققین نے پہلا جامع شہری دستور قرار دیا ہے، اس کے ذریعے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان بقائے باہمی کے اصول نہ صرف وضع کیے گئے بلکہ کامیابی کے ساتھ ان کا تجربہ ہوا۔ یہ دستور حقوق کی برابری، جانوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی کی ضمانت پر مبنی تھا۔ یوں آزادی محض ایک نعرہ نہیں رہی بلکہ ایک عملی حقیقت بن گئی جسے قانونی دستاویزات میں ڈھالا گیا اور روزمرہ زندگی کا حصہ بنادیا گیا۔پھر اسی بنیاد سے اسلامی تہذیب کا آغاز ہوا جو مشرق و مغرب تک پھیل گئی۔ مدارس، جامعات اور لائبریریاں قائم ہوئیں، تحقیق اور دریافت کی قوتوں کو جِلا ملی اور اس تہذیب نے فکر، سیاست، معیشت اور سماجیات میں دنیا کو ایک جدید نمونہ عطا کیا۔ اس کا بنیادی مقصد انسان کو جہالت اور ظلم کی قید سے آزادی دلانا اور اسے اس قابل بنانا تھا کہ وہ زمین کی تعمیر میں اپنی عقل اور روح کو بروئے کار لائے۔ لہٰذا علم یہاں عبادت ہے، زمین کی آبادی ایک فریضہ ہے، اور عدل و رحمت اس کے بنیادی ستون ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس تہذیب نے اقتدار کے غلام یا مفادات کے اسیر پیدا نہیں کیے، بلکہ جانبازی و جہانبانی کے حیرت انگیز نمونے دنیا کو دکھائے۔ ایسی نسلیں پروان چڑھائیں جو علما، فقہاء اور مصلحین پر مشتمل تھیں، جنھوں نے ہدایت کی شمع تھامی اور تنقید و تحقیق اور اجتہاد و تجدید کی پختہ اور عادلانہ روایات قائم کیں۔

انسانیت کی آزادی اور تہذیبی ارتقاء و اجتہاد اور تجدیدِ نو کا یہ سفر دراصل مقاصد ِ رسالت کے بنیادی مقصد کا انعکاس ہے، کہ آزادی تہذیب کا ایندھن بنی رہے،انسانی وقار تعمیر و ترقی کی بنیاد قرار پائے، اور تزکیۂ زندگی کی روح بن کر سامنے آئے۔ آج کی دنیا، جو اپنے روحانی بحرانوں اور مادیت پرستی کی غلامی میں جکڑی ہوئی ہے، اس بات کی محتاج ہے کہ مدرسہ ٔ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سبق سیکھے کہ حقیقی آزادی بے راہ روی نہیں، بلکہ حق کے ساتھ وابستگی اصل آزادی ہے۔ یہ آزادی لاحاصل نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، کیونکہ تہذیب آتش و آہن کے غلبے اور طاقت و جبر کے بل بوتے پر نہیں، بلکہ اَقدار، عدل اور رحمت کے سائے میں پروان چڑھتی ہے۔

پندرہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی، آپؐ کی آواز دنیا کے ضمیر میں گونج رہی ہے: اے انسان! آزاد ہو جا، تاکہ تو حقیقی انسان بن سکے! شہوات کی غلامی سے نکل کر روح کی بلندی کی طرف پرواز کر، جبر و استبداد کے قہر سے نکل کر شریعت کے عدل کی پناہ میں آ، اور جہالت کے اندھیروں سے نکل کر علم و حکمت کے نور میں داخل ہو جا۔

یہی وہ نوید ِ مسرت ہے جس کے آپؐ علَم بردار تھے، یہی وہ منصوبہ ہے جو آپؐ نے ورثے میں چھوڑا، اور یہی وہ نقشِ دوام ہے جو وجود کائنات کے ساتھ پائندہ رہے گا۔ درحقیقت یہی راہِ نجات ہے۔

 _______________