فروری ۲۰۲۶

فہرست مضامین

ڈیجیٹل رمضان !

رضی محمد ولی | فروری ۲۰۲۶ | استقبال رمضان

Responsive image Responsive image

جب سے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے آدم و حوا علیہما السلام کو دنیا میں بھیجا ہے ،کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں ترقی کی کچھ نہ کچھ منزلیں طے نہ کی جارہی ہوں۔ قرآن کریم میں دیے گئے قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ فرعون، قومِ نمرود وغیرہ کے قصے محض قصے اور کہانیاں نہیں ہیں ، بلکہ ان کے ذریعے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی بے پایاں حکمتوں کے اظہار کے ساتھ ساتھ ایک حکمت یہ بھی رہی ہے کہ ہر آنے والا انسان گذشتہ قوموں کے اَدوار میں کی گئی ترقی کے سفر کے مختلف پہلوئوں سے آگاہ رہ سکے اور ان کی طرح ترقی کے متنوع پہلوئوں کی چکاچوند میں کھوکر زمانے کی رو میں بہہ جانے کے سبب عذابِ الٰہی کا حقدار نہ بن بیٹھے۔ درحقیقت ترقی کے اس سفر میں اساسی چیز انسان کو اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتیں ہیں، ان صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انسان نے ایسی ایسی ایجادات کیں جن سے خود انسان کی عقل بھی حیران و پریشان رہ جاتی ہے۔ موجودہ دور کو ٹکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے اور بقول شخصے کرۂ ارض پر جو تبدیلیاں گذشتہ ۲۰ برسوں میں رُونما ہوئی ہیں، ماضی میں اس طرح کی فعال (Dynamic) تبدیلیاں کہیں صدیوں کے بعد جا کر ہوا کرتی تھیں۔ آج ہر طرف روزافزوں نئی نئی ٹکنالوجی کا استعمال انسانی عقل کو حیرت میں ڈال رہا ہے۔   

 رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ یہ عبادت، تزکیۂ نفس اور اللہ سے قرب حاصل کرنے کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مبارک میں رحمتوں کی برسات ہوتی ہے ، جس کے اَبرِ باراں سے ہر نفس اپنے اپنے ظرف کے مطابق اللہ کی رحمتیں سمیٹتا ہے۔ جدید ٹکنالوجی کے اس دور نے جہاں انسانی فطرت سے بہت سی چیزیں دُور کردی ہیں، وہیں مسلم معاشرے میں رمضان کا حُسن اور تقدس بھی اس سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکا۔ گو کہ جدید ٹکنالوجی بذاتِ خود اچھی یا بُری چیز نہیں بلکہ اس کا استعمال اس کے کردار کا تعین کرتا ہے۔ جس طرح اسلامی مقاصد، قواعد و ضوابط اور حدود و قیود سے بہرہ مند ہوئے بغیر آج ہم جدید ٹکنالوجی کو استعمال کرتے ہیں ، اس طرح یہ رمضان المبارک کی روح کو کمزور کر دیتی ہے۔ لیکن اس کے برعکس اگر اس کا درست استعمال اسلامی مقاصد، نیت، قواعد و ضوابط اور حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا جائے تو یہ عبادت، علم اور اصلاحِ نفس کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔ 

ذیل میں ہم اس بات کا جائزہ لینے کوشش کریں گے کہ رمضان المبارک میں کس طرح جدید ٹکنالوجی کے مضر اثرات سے خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو بچا سکتے ہیں، اور کس طرح اس سے مستفید ہوتے ہوئے اسے اللہ کے قرب کا ذریعہ بناسکتے ہیں؟ 

۱- وقت کا ضیاع:رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس کی طلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینہ سے شروع فرمادیتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کی بڑی تعداد رمضان کی آمد سے تقریباً چھے ماہ پیشتر اس کی آمد کا انتظار کیا کرتی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ رمضان المبارک کا ایک ایک لمحہ نہایت قیمتی ہے۔ تاہم، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر جانے اَن جانے میں کی گئی غیرضروری اسکرولنگ ایک مسلمان کو تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور اللہ کی یاد سے دُور رکھتی ہے۔ نمازوں کو ان کے اوقات میں اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادائیگی میں مانع ہوتی ہے، جہاں سوچوں کے دھارے یکسوئی کے ساتھ اللہ ربّ العزت کا قرب اور تقویٰ حاصل کرنے میں موڑے جانے چاہئیں وہا ں فکر و ذہن میں طرح طرح کی لایعنی سوچیں اپنا مسکن بنالیتی ہیں۔ شاید اسی جانب نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا ہے کہ ’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں، ایک صحت اور دوسری فارغ وقت ‘‘۔ (بخاری: ۶۴۱۲) 

لہٰذا، بہتر ہوگا کہ رمضان المبارک کے ایک ایک لمحہ کو قیمتی بنانے کےلیے موبائل فون کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب برتیں ، اس کے استعمال کے اوقات مقرر کریں۔ بہتر ہوگا کہ سحر و افطار کے اوقات میں اپنے موبائلز کو قطعی طور پر بند رکھیں۔ نماز کے اوقات میں، تلاوتِ قرآن کے وقت، ذکر و اذکار کرتے وقت موبائل کو خود سے دُور رکھیں۔ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل یا لیپ ٹاپ کی اسکرین کو بند کردیں اور اپنی سوچ و فکر کو قربِ الٰہی کے حصول کے لیے قرآن کریم کی آیات اور ذکر و اذکار میں غوروتدبر میں لگاتے ہوئے زبان کا ہم رکاب بنائیں۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ موبائل اور ٹکنالوجی آپ کی خادم ہے حاکم نہیں، اور رمضان آپ کی ذہنی و جسمانی تفریح کا نہیں بلکہ تربیت کا مہینہ ہے۔ 

۲- تعلق باللّٰہ کے حصول میں یکسوئی کی کمی:موبائل نوٹیفیکیشنز بظاہر ایک موبائل صارف کےلیے معمولی چیز ہیں، لیکن حقیقت میں یہ روحانی، ذہنی اور عملی طور پر کئی نقصانات کا سبب بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر اگر ان پر مکمل ضبط (control) نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان کی ایک ایک گھڑی بہت زیادہ قیمتی اور بابرکت ہوتی ہے، ایسے میں موبائل نوٹیفیکیشنز تعلق باللہ کے لیے کیے جانے والے اعمالِ صالحہ مثلاً تعلیم و تعلّم، نماز، تلاوتِ قرآن اور ذکر و فکر اور تزکیۂ نفس کے ضروری غوروخوض اور انابت الی اللہ میں خشوع و خضوع برقرار نہیں رہنے دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں ادا کیے گئے ایک فرض کا اجر ۷۰ فرائض کے برابر ،جب کہ ایک نفل کا اجر ایک فرض کے برابر دیا جاتا ہے۔ لہٰذا فرض نمازوں، نمازِ تراویح اور تلاوتِ قرآن کے وقت ہی نہیں بلکہ رمضان المبارک میں نہایت ضروری کاروباری یا دفتری معاملات سے متعلقہ اوقات کے علاوہ اس کی نوٹیفیکیشن ٹونز کو خاموش (silent) رکھا جائے اور اس کے ارتعاش (vibration) کو بھی ساکت کردیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت حصولِ تقویٰ کے مذکورہ اعمال میں خشوع و خضوع کے ساتھ لگ سکے اور دھیان اِدھر اُدھر نہ بھٹکنے پائے۔ 

۳- گناہوں تک آسان رسائی:سوشل میڈیا بظاہر فائدہ مند اور باہمی رابطے کا ذریعہ ہے لیکن اس میں گناہوں تک رسائی کے دروازے خطرناک حد تک کھلے ہوئے ہیں۔ اس پر ایک کلک سے ناپسندیدہ ویڈیوز، تصاویر اور ریل نمودار ہوجاتی ہیں۔ کسی بھی نوعیت کی ویڈیو یا تصویر پر ارادتاً یا بلاارادہ انگلی مَس ہوجائے تو پھر اس کے بعد ان ناپسندیدہ ویڈیوز اور تصاویر کا نہ رکنے والا ایک تانتا سا بندھ جاتا ہے، یعنی الگورتھم (Algorithm) خود بخود مزید کی طرف لے جاتا ہے۔ قرآنی تعلیم ہے کہ قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ (النور۲۴:۳۰ )’’ اے نبیؐ! مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں‘‘۔ 

 سوشل میڈیا پر نظر کی حفاظت ایک ناممکن سا عمل ہے، کیونکہ اس پر بے پردہ عورتیں، نامناسب مناظر بار بار سامنے آتے رہتے ہیں جس سے نفس کی کمزوری مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ گناہ ، گناہ نہیں لگتا۔ اسی طرح کسی نہ کسی ویڈیو اور آڈیو میں میوزک بے اختیار آجاتا ہے اور انسانی ذہن اس کے سحر میں گرفتار ہوکر اسے سننے لگ جاتا ہے۔ مختلف وی لاگرز کے غیر تحقیق شدہ تبصروں کی ویڈیوز اور آڈیوز عام ہیں جن میں سے ہر کوئی اپنی اپنی پسند کی شخصیات اور سیاسی و دینی جماعتوں کی شان میں قصیدے پڑھتا اور مخالفین پر کیچڑ اُچھالتا نظر آتا ہے۔ اس طرح ارادتاً بھی اور غیر ارادی طور پر بھی آپ غیبت، تہمت، جھوٹ وغیرہ سننے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ گویا کہ سماعتوں کی حفاظت بھی ناممکن ہوجاتی ہے۔ اس طرح مسلسل لغویات کے شکنجے میں جکڑے رہنے سے گناہ معمول بن جاتے ہیں اور ندامت و شرمندگی کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ نتیجتاً دل توبہ سے دُور ہوتے چلے جاتے ہیں۔  

ضروری ہے کہ گناہوں تک آسان رسائی سے بچنے کے لیے ہم عملی، قابلِ عمل اور عام فہم تدابیر کو اختیار کریں۔ ان میں سب سے پہلے ہمیں گناہوں سے بچنے کا ارادہ کرنا ہوگا اور صدقِ دل سے نیت کرنا ہوگی کہ میں سوشل میڈیا کو رمضان کی عبادت میں رکاوٹ نہ بننے دوں گا۔ اس کےلیے عملی طور پر کرنے کا کام یہ ہے کہ موبائل ہاتھ میں اُٹھاتے وقت خود سے سوال کریں کہ یہ موبائل اللہ کو راضی کرے گا یا ناراض؟ اگر جواب دوسرا ہو تو اس موبائل کو ہرگز ہاتھ نہ لگائیں۔ دوسرا کام یہ کریں کہ اس کے نوٹیفیکیشن کو ضروری کاروباری یا دفتری معاملات کے لیے دفتری و کاروباری اوقات کے علاوہ بند رکھیں۔ لایعنی گروپس اور چیٹنگ سے سختی کے ساتھ پرہیز کریں۔  

۴- قیام لیل ، سحری و فجر کا متاثر ہونا :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سحری کھایا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے (بخاری: ۱۹۲۳)۔ تاہم سحری جب ہی کھائی جاسکتی ہے جب وقت پر اُٹھا جائے، جب کہ موبائل اور سوشل میڈیا ایک نشے کی مانند ہے جو شخص اسے ایک بار کھول لے یہ نشے کی طرح چمٹ جاتا ہے اور چاہتے ہوئے بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ اکثر لوگ رات سوتے سوتے بھی اس سے تعلق ختم نہیں کرپاتے اور اس طرح رات تاخیر سے سوتے ہیں اور قیام اللیل کےلیے یا سحری میں اُٹھنا تو کجا فجر بھی قضا کر بیٹھتے ہیں۔ لہٰذا سحری کی برکتیں سمیٹنے کے لیے پہلا کام تو بستر پر لیٹ کر یہ کریں کہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ سے دُعا کریں کہ وہ وقت پر آپ کو اُٹھا دے۔ سوشل میڈیا کو اپنے سونے کے اوقات سے کم از کم ایک یا پھر آدھا گھنٹہ پہلے تو لازماً وائی فائی اور ڈیٹا بند کردیں۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ فون ہی کو بند کردیں، تاکہ سوشل میڈیا سے مکمل رابطہ ختم ہوجائے، اس کے علاوہ اپنے موبائل میں دو سے تین الارم لگائیں جو وقفہ وقفہ سے بجیں۔ موبائل کو اپنے سونے کی جگہ سے کچھ فاصلہ پر رکھیں تاکہ شدید نیند کی حالت میں آپ کا ہاتھ موبائل تک نہ پہنچ سکے۔ آپ نیند سے بیدار ہوئے بغیر الارم کو بند نہ کرسکیں اور وقت پر بیدار ہو کر سحری کی برکتیں سمیٹ سکیں اور فجر کی نماز بھی بروقت ادا کرسکیں ۔ 

۵- غیبت اور لاحاصل بحث:ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے؟تم اسے ناپسند کرتے ہو۔ اور اللہ کی نافرمانی سے بچو ،بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے‘‘ (الحجرات۴۹: ۱۲)۔ دوسری طرف دیکھیں تو سوشل میڈیا پر جھوٹ، بہتان، طنز، لعن طعن، ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنا چاہے انفرادی سطح پر ہو یا پارٹی سطح پر، عام ہے۔ اس قسم کی کیفیت سے بچنے کےلیے لایعنی گروپس سے کنارہ کشی اختیار کرلیں اور ایسا نہیں کرسکتے تو رمضان المبارک میں انھیں Mute  ضرور کردیں۔ اس طرح پیغامات کم ہوں گے تو ردِّ عمل بھی کم ہوگا اور غیبت و بہتان تراشی سے چھٹکارا بھی حاصل کیا جاسکے گا۔  

دوسری چیز Screen time/Digital Wellbeing آن کرلیں اور سوشل میڈیا کےلیے روزانہ کی بنیاد پر حد مقرر کرلیں۔ اس طرح کم وقت کے استعمال میں لغزشیں ہونے کے امکانات بھی کم ہوجائیں گے۔ تیسرا کام یہ کریں کہ رمضان المبارک کے آنے سے قبل ہی غیر ضروری پیجز، چینلزکو Unfollow کردیں، جن سائٹس سے افواہی اور فتنہ انگیز مواد زیادہ آتا ہو انھیں بلاک کریں۔ اس طرح جو نظر نہیں آئے گا وہ آپ کی زبان پر بھی نہیں ہوگا اور یوں غیبت اور لغویات سے پرہیز با آسانی کیا جاسکے گا۔ کوئی پیغام تحریر کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ سمجھ لیں کہ کیا یہ پیغام ضروری ہے، اس سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہوگی، اس میں کوئی غیبت ، بہتان یا لعن طعن کا پہلو تو پوشیدہ نہیں؟ اس طرح کی احتیاطوں سے غیبت، بہتان، لعن طعن اور بہت سی لغویات سے بچا جاسکتا ہے۔ ویسے بھی رمضان المبارک میں روزہ صرف کھانا پینا چھوڑنے کا نام نہیں۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص جھوٹ اور بُرے کام نہ چھوڑے، اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی ضرورت نہیں‘‘۔ (بخاری) 

۶- ٹیلی وژن کی تباہ کاریاں:ایک وقت تھا جب وطن عزیز میں ریڈیو اور ٹیلی وژن رمضان کے تقدس کو برقرار رکھتے تھے اور ان پر اسلامی تربیتی مباحثے، تقاریر، فیچرز دیکھے اور سنے جاسکتے تھے لیکن جوں جوں حضرت انسان کے بقول وہ ترقی کی سیڑھیاں عبور کرتا گیا، توں توں اپنے منصب سے گرتا چلا گیا۔ آج کیفیت یہ ہے کہ ٹیلی وژن پر بے حیائی پر مبنی اشتہارات کی بھرمار ہے، دوسری طرف منفی خبروں اور مباحثوں کی تکرار نظر آتی ہے اور سب سے بڑھ کر مختلف پروگرامات میں اینکرز، اداکار، گلوکار وغیرہ اسلام سکھاتے ہوئے نظر آتے ہیں (الامان الحفیظ)۔ اس سے ایک طرف تو نئی نسل کے ذہنوں میں اسلام کی غلط تصویر بنتی ہے تو دوسری طرف جان بوجھ کر مختلف تفریحی پروگرامات افطار و سحر کے وقت سحر و افطار کی خصوصی نشریات کے عنوان سے پیش کیے جاتے ہیں۔ ان نشریات سے بیش بہا نعمتوں سے بھرے لمحات بغیر دعا و مناجات اور توبہ و استغفار کے محض لغویات میں گزر جاتے ہیں۔ بہتر ہو گا کہ رمضان کی آمد ہوتے ہی گھر کے ٹیلی وژن کو بھی روزہ رکھوا دیا جائے تاکہ اُس کے ذریعے حملہ آور ہونے والا شیطان آپ کے دلوں میں جگہ نہ بنانے پائے۔ یہ کام گھر کے سربراہان کا ہے۔ یاد رکھیے اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو وہ صیامِ رمضان جس کے لیے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں فرمایا ہے:’’ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، تم پر روزے فرض کر دیے گئے جس طرح تم سے پہلے انبیا ؑ کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی‘‘(البقرۃ۲:۱۸۳)، اس سے دلوں میں تقویٰ کے بجائے نافرمانی گھر کرلے گی۔ 

۷- ٹکنالوجی کا درست استعمال :بہتر ہوگا کہ درج ذیل نکات کی کاپی کرکے اپنے لاؤنج یا بیٹھک میں لگا لیں، تاکہ ہر آنے جانے والا فرد تذکیرکے عمل سے گزرتا رہے: 

  • رمضان میں روزہ رکھ کر جس طرح ۱۲ سے ۱۴ گھنٹے ہم اللہ کی خوشنودی کےلیے کھانے پینے، اور جنسی خواہشات سے دُور رہے اور روزہ دار کہلائے۔ بالکل اسی طرح ڈیجیٹل روزہ بھی رکھیں اور روزانہ چند گھنٹے موبائل کو مکمل طور پر بند کردیں، گویا کہ اس کا آپ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ یاد رکھیے روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں ہے بلکہ دراصل روزہ اپنی خواہشاتِ نفس کو ربّ العزت کے احکام کے تابع کرنے کی تربیت و جدوجہد کا نام ہے۔ 
  • ضرورت پڑنے پر موبائل کا استعمال صرف مخصوص اوقات میں کریں۔ سحری، افطار اور نمازوں کے اوقات میں قطعاً اس کے قریب نہیں جائیں، یا اس کو اپنے قریب نہ لائیں۔ 
  • ٹیلی وژن کا پورے رمضان روزہ رکھوائیں اور مکمل طور پر بند رکھیں اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم افطار سے تراویح ختم ہونے تک اور پھر سحر میں قطعی نہ کھولیں۔ اس طرح گناہوں کے آگے روزہ جیسی ڈھال معصیت کے سوراخ ہونے سے بچ سکے گی۔ 
  • اپنے موبائل کو آپ اللہ کے دین کے فروغ کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں جس میں معروف کا حکم ہو اور نواہی سے روک ہو۔ 
  • موبائل میں قرآن کی تفاسیر اور احادیث کے مجموعوں کی ایپس ڈاؤن لوڈ کرلیجیے اور ان سے استفادہ کی کوشش کیجیے۔ 
  • موبائل پر آن لائن دروس سننے کا اہتمام کریں اور خصوصاً تراویح کے خلاصہ کی کوئی آن لائن کلاس جوائن کرلیں یا کم از کم یو ٹیوب پر موجود کسی بھی عالم دین یا مقرر کے خلاصہ تراویح کو دیکھنے اور سننے کا اہتمام کریں۔ بہتر ہو کہ اس پروگرام میں تمام گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کر شرکت کریں۔ اس طرح رمضان المبارک میں مکمل قرآن کا پیغام سمجھ سکیں گے۔ اور جب بات سمجھ آجائے تو عمل آسان ہوجاتا ہے۔ 
  • تصحیحِ تلاوت کے لیے کسی منتخب قاری کی ترتیل کے ساتھ تلاوت سنیں اور اس کے ساتھ ساتھ اسے دُہرائیں۔ اس طرح آپ کے قرآن پڑھنے کے تلفظ کی درستی ہوسکے گی۔ 
  • مختصر احادیثِ مبارکہ اور قرآنی و مسنون دُعاؤں اور ان کے ترجمہ و مفہوم سے متعلق کوئی ایپ اپنے موبائل میں ڈاؤن لوڈ کرلیں اور جب بھی موقع ملے اس میں سے دیکھ کر اس حدیث اور دُعا کو چلتے پھرتے حفظ کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح رمضان المبارک کے اختتام پر احادیث اور قرآنی و مسنون دُعاؤں کی بڑی تعداد آپ کو یاد ہوجائے گی جو آپ کو تزکیۂ نفس اور اصولِ تقویٰ میں ممد و معاون ہوں گی۔ 
  • ایسی معتبر اسلامی ویب سائٹس وزٹ کریں جن پر اسلامی سوال و جواب کے پروگرامات پیش کیے جاتے ہوں۔ ا س سے آپ کے دینی علم میں اضافہ ہوگا اور کئی الجھی ہوئی گتھیاں سلجھیں گی، جو اطمینانِ قلب کا سبب بنے گا۔ چند مفید ایپس درج ذیل ہیں: ۱- Read Maududi، ۲- Islam360، ۳- Quranurdu.com ، ۴- Tafheem Ul Quran ، ۵- Sanad ، ۶- Tarjuman ul quran 

سالانہ تربیتی کورس :رمضان المبارک ہمارے روز و شب کو سنوارنے آرہا ہے۔ یہ مسلم اُمہ کے لیے ایک ماہ کا تربیتی کورس لا رہا ہے اور تربیت ہوتی اس لیے ہے کہ تربیت حاصل کرکے مستقبل میں اُس کے مطابق کام کیا جائے۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ ایک مسلمان کو اس عملی سالانہ تربیتی کورس سے اس لیے گزارتا ہے تاکہ مستقبل کے گیارہ مہینے اللہ کی فرماں برداری میں گزارنا آسان ہوجائیں۔ اس لیے ڈیجیٹل دُنیا اور جدید ٹکنالوجی کے فوائد و نقصانات پر جو مختصر گزارشات پیش کی گئی ہیں، گو کہ وہ رمضان کے حوالے سے ہیں ، مگر حقیقتاً ایک مسلمان سال کے بارہ مہینے، مہینے کے چارہفتے، ہفتے کے سات دن، اور دن کے ۲۴ گھنٹے مسلمان ہی ہوتا ہے۔ اور ایک مسلم یا مسلمان کے معنی ہی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حکم کے آگے اپنا سر تسلیم خم کردینا ہے۔ لہٰذا یہ کام سال کے بارہ مہینہ ہمیں يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً   (البقرہ ۲: ۲۰۸)کی چلتی پھرتی تصویر بنا دینے کےلیے کافی ہوجانا چاہیے۔ اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوسکا تو سمجھیں رمضان میں رحمتوں کی برسات ہمارے لیے رائیگاں گئی اور ہم اس کی سیرابی سے محروم رہ گئے ۔ اس کی بہترین مثال سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۶۴ میں دی گئی ہے جو اگرچہ کسی پر احسان کرکے جتانے کے حوالے سے ہے مگر موقع کی مناسبت سے یہ آیت ایسے لوگوں پر بھی ثبت ہوتی نظر آرہی ہے جو رمضان المبارک میں برستی رحمتوں کی برسات میں اُس کے فیوض و برکات سے سیراب ہونے سے محروم رہ گئے: 

فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا    ۭ لَا يَـقْدِرُوْنَ عَلٰي شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا ط  (البقرۃ۲: ۲۶۴) اس کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی، اس پر جب زور کامینہ برسا، تو ساری مٹی بہہ گئی اورصرف چٹان کی چٹان رہ گئی ۔ اور انھیں کچھ بھی صلہ حاصل نہیں ہوتا اپنی کمائی کا۔