میرے ذہن میں ماہِ رمضان کی دو تصویریں گردش کر رہی ہیں:
ایک تصویر وہ کہ جس میں رمضان ایک بوجھ محسوس ہوتا تھا جو اپنے ساتھ بھوک پیاس کی آزمائش لے کر آیا تھا۔ کھانا آپ کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ آپ کے ہاتھ اس تک پہنچ سکتے ہیں۔ بھوک سے بُرا حال ہے۔ لیکن آپ اسے کھا نہیں سکتے، اِس لیے کہ اجازت نہیں ۔ شدتِ پیاس ہے۔ پانی آپ کے سامنے رکھا ہوا ہے لیکن اسے اٹھا کر پینے کا اذن نہیں ۔ آپ بڑی میٹھی نیند میں سوئے ہیں کہ ماہِ رمضان آپ کو رات کے آخری حصے میں اٹھا کر کھڑا کر دیتا ہے کہ اٹھو اور کچھ کھالو، حالانکہ آپ کا حال یہ ہے کہ دنیا کے ہر کھانے کو نیند کے اس لمحے پر قربان کرنے کو تیار ہوجائیں۔ اگر آپ سگریٹ نوشی کا بھی شوق رکھتے ہیں تو آپ کو اس سے بھی روک دیتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ مہینہ مشقت ، بھوک اور پیاس کا مہینہ ہے۔
دوسری تصویر وہ کہ جس میں رمضان شیریں اور خوب صورت مہینے کی طرح جلوہ گر ہے۔ اس ماہ کے آتے ہی رات کے تیسرے پہر، جب کہ رات پر سکون کی چادر تنی ہوتی ہے، لوگ قیام اللیل میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ آسمان گدازہو جاتا ہے، تارے جھلملانے لگتے ہیں اور کائنات پر شفافیت چھا جاتی ہے ۔ خالق کائنات بندوں پر اپنے فضل و کرم کے خزانے لٹانے شروع کر دیتا ہے۔ ان کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اس وقت اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے: ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفَرُ لَہٗ ھَلْ مِنْ تَائِبٍ فَأَتُوْبُ عَلَیْہِ ھَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأَعْطِیْہِ ’’ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اس کی مغفرت کردوں، ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اُس کی توبہ قبول کر لوں، ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں اسے نواز دوں؟‘‘ (صحیحین)۔ دُعا کرنے والا اس کے سامنے دستِ سوال دراز کرتا ہے تو وہ اُس کی دعا سنتا ہے۔ گناہوں کو معاف کر تا ہے، مانگنے والے کو عطا و بخشش سے نواز تا ہے، اور توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ بندوں کے دل اللہ سبحانہٗ تعالیٰ سے جڑ جاتے ہیں۔ دل کے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ سے جڑ جانے سے بندہ وہ لذت محسوس کرتا ہے کہ دنیا کی تمام لذتیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔اس کے بعد مؤذن کی آواز اس کے کانوں میں آتی ہے۔ دل خوشی سے جھومنے لگتے ہیں۔ مؤذن اَلصَّلَاۃُ خَیْرُ مِنَ النَّوْمِ کی صدا بلند کرتا ہے اور لوگ اس ہستی کے حضور کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ساری کائنات جس کی مٹھی میں ہے۔ مولائے رحمٰن و رحیم سے مناجات میں مشغول ہو جاتے ہیں۔گھر گھر میں ایمان کی روح سرایت کرنے لگتی ہے، ہر زبان اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی حمد و تسبیح میں مصروف ہوجاتی ہے، اور ہر طرف اس کی رحمت کا نزول ہونے لگتا ہے۔
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں لوگ اللہ کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ سب کا رُخ اس کے گھر کی طرف ہو جاتا ہے۔ مسجدیں مسلمانوں سے آباد ہو جاتی ہیں۔ مسجد میں بیٹھ کر گپ شپ کرنے والے اور سو کر وقت گزارنے والے غائب ہوجاتے ہیں۔ عالم اسلام کے ہر ملک میں مسجدیں آباد ہو جاتی ہیں۔ کوئی مجلس ایسی نہیں ہوتی جس میں نماز پڑھنے والے اور اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے نہ ہوں۔ مسجد کا کوئی ستون ایسا نہیں ہوتا ہے جس سے ٹیک لگا کر کوئی بندہ قرآن کی تلاوت نہ کر رہا ہو۔ کوئی اجتماع ایسا نظر نہیں آتا جس میں مدرس اور واعظ درس و تدریس اور تذکیر نہ کر رہے ہوں۔
سب لوگ اپنے دلوں کو گناہ ومعصیت سے پاک کرنے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں۔ کینہ و حسد اور حرص و ہوس کی گٹھریاںاتار کر دلوں کو عبادت و بندگی کے لیے خالص کرنے کی کوشش کر تے ہیں، خیر کے حصول کو منزل مقصود بنا کر مسجدو ںمیں داخل ہوتے ہیں۔عالم ظاہری سے ناطہ توڑ کر عالم سماء سے رشتہ استوار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ملکوں اور شہروں کی سرحدیں گرچہ انھیں ایک دوسرے سے الگ کیے رہتی ہیں لیکن ایمان کی طاقت انھیں یکجا و متحد کیے رہتی ہے۔ وہ قبلہ جس کی طرف مومن نماز و سجود میں اپنا رُخ کرتے ہیں ، انھیں ایک لڑی میں پروئے رکھتا ہے۔ مسلمان خواہ ان کے دیار الگ الگ ہوں،خواہ ان کا تعلق دُور دراز کے ممالک سے ہو، وہ ایک امت ہیں۔ ایک دائرے کی طرح جس کا محیط یہ پوری زمین ہے اور جس کا مرکز و محور بیت اللہ الحرام یعنی خانہ کعبہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : قَدْ جَاءَکُمْ رَمَضَانٌ شَھْرٌ مُبَارَکٌ (مسنداحمد) ’’تمھارے پاس [ماہِ] رمضان آیا ہے، یہ مبارک مہینہ ہے‘‘کے مطابق رمضان برکت والا مہینہ ہے ۔رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ میں رمضان المبارک کے بابرکت لمحات جیسے خوب صورت لمحات سے فیض یاب ہونا ناممکن ہے۔ زندگی ایک سفر ہے۔ عمر کی گاڑی پر سوار ہم اس سفر کو طے کررہے ہیں۔وقت کی یہ گاڑی ہمیں شاہراہ زندگی کے اس خوبصور ت ترین مرحلے سے لے کر گزرتی ہے، نُور کی ندیاں رواں ہوتی ہیں، دنیا پاکیزگی کا مرقع بنتی ہے۔ کائنات پر سکون طاری ہوتا ہے۔ رمضان کے علاوہ وقتِ سحر، ہم نیند کی آغوش میں ہوتے ہیں۔ آنکھوں کو کھولنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اس لیے اس بابرکت وقت کی سحر انگیزیوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں انسانیت کے معانی سے پردہ اٹھتا ہے۔ انسانو ںکے درمیان مساوات قائم ہو جاتی ہے۔ نہ کوئی بھوکا رہتا ہے اور نہ کوئی اس حال کو پہنچتا کہ کھا کھا کر اسے بدہضمی نے آ لیا ہو۔ بھوک اور شکم سیری میں سب شریک رہتے ہیں۔ روزے میں مال دار بھی بھوکا رہتا ہے ، غریب بھی۔ مال دار بھوک کی تکلیف محسوس کرتا ہے تاکہ بعد میں کوئی اس کے پاس آکر یہ کہے کہ میں بھوکا ہوں، تو اسے یاد رہے کہ بھوک کیا ہوتی ہے۔دوسری طرف غریب اور فقیرمال دار شخص کو دیکھتا ہے کہ مال دار ہونے کے باوجود اسے بھی روٹی کے ایک ٹکڑے کی آرزو ہے، اور پانی کے ایک گلاس کی طلب ہے۔ یہ دیکھ کر اسے اللہ کی نعمت کی قدر ہوتی ہے۔ پھر جب امیر و غریب سب دسترخوان پر بیٹھتے ہیں تو بھوک ان کا فرق مٹا دیتی ہے۔ کھانے کے اچھا اور بُرا ہونے کا فیصلہ بھوک کر تی ہے جو کہ کھانے کی خواہش کو بیدار کیے رہتی ہے۔ صحتِ معدہ اس کا فیصلہ کرتی ہے کیوں کہ اسی کو ہضم کرنا ہوتا ہے۔اگر بھوک اور معدہ کی صحت برقرار ہو تو سستا اور سادہ کھانا بھی شاہی دسترخوانو ںسے زیادہ پُرلطف اور لذیذ ہوجاتا ہے۔
رمضان آتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے سب لوگ ایک ہی خاندان کے فرد ہیں، یا سب ایک ہاسٹل میں رہنے والے ساتھی ہیں۔ سب ایک وقت پر افطار کرتے ہیں اور ایک ہی وقت پر کھانا پینا ترک کرتے ہیں۔ شام ہوتے ہی سب تیز تیز قدموں سے اپنے گھروں کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔کوئی اپنے گھر کی بالکنی میں کھڑا نظر آتا ہے تو کوئی گھر کے دروازے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ سب کی نگاہیں اپنی گھڑیوں پر اور کان اذان کی آواز پر لگے ہوتے ہیں۔ آنکھیں مسجد کے مینار کو تک رہی ہوتی ہیں اور کان سائرن اور گولے کی آواز سماعت سے ٹکرانے کے منتظر رہتے ہیں۔ جیسے ہی سائرن کی آواز آئی ، یا مسجد کے مینار پر روشنی دکھائی دی، یا مؤذن کی آواز کانوں میں پڑی، کیا چھوٹے کیا بڑے سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ افطار کے وقت خوشی کی حقیقت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمایا: لِلْصَّائِمِ فَرحَتَانِ ، فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہِ وَفَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّہٖ (صحیح مسلم)’’روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کےوقت اور ایک خوشی اپنے ربّ سے ملاقات کے وقت‘‘۔ جہاں بڑوں کے چہرے کھلکھلا اٹھتے ہیں، وہاں بچّے ایک آواز میں شور مچانے لگتے ہیں کہ ’اذان ہو گئی ، اذان ہوگئی‘۔لوگ پرندوں کی مانند اپنے گھروں کی طرف پرواز کرنے لگتے ہیں۔ہر شخص کو جو کچھ کھانے کو میسر آتا ہے، اس پر رضامند اور خوش رہتاہے۔ اللہ کی اس نعمت پر شکرگزاری کے جذبے سے لبریز رہتاہے۔ بھوک نے انھیں اس بات پر راضی کر دیا ہے کہ جیسا بھی کھانا ملے ، وہ اسے کھالیں۔ اس وقت جو بھی کھانا میسر ہو وہ ان کے ذوق کے مطابق بھی ہوجاتا ہے اور لذیذ ترین بھی۔
کھانے سے فارغ ہوئے تو مسجد کی طرف رخ ہوگیا۔ اپنے ربّ [ خالق و رزاق واِلٰہ] کے حضورایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔قدم سے قدم ملائے ہوئے، کندھے سے کندھا جوڑ کر سب نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی ہے۔مال دار، غریب، بڑا چھوٹا، نادار و صاحب مال، سب کے سب اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حضور اپنی عاجزی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ بندوں کے اس اظہار عاجزی کے بدلے میں انھیں عزت و سربلندی سے نواز دیتا ہے۔ یہ حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمائی: وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ ، اِلَّا رَفَعَہُ اللہُ ’’اور جو کوئی اللہ کے لیے تواضع (انکساری) اختیار کرتا ہے اللہ اسے ضرور بلندی عطا فرماتا ہے‘‘۔ پس جس نے بھی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حضور ذلت و عاجزی قبول کر لی اسے وہ عزّت و سربلندی عطا کر دیتا ہے۔ یعنی جو دنیا میں اللہ کا بندہ اور غلام بن کر رہتا ہے اللہ تعالی اسے دنیا کی سرداری بخش دیتا ہے۔ جواللہ کی شریعت کی پیروی کرتا ہے، اس کے امر و نہی پر قائم رہتا ہے، فرائض کو انجام دیتا ہے، جو چیزیں اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے حرام کردی ہیں ، ان سے باز رہتا ہے، اللہ سبحانہٗ تعالیٰ اپنی مدد ونصرت کے ذریعے اس کے ساتھ رہتا ہے۔ اپنی توفیق اور عفو و درگذر سے اسے نوازتا رہتا ہے۔ یہی چیزیں تھیں جن کی بدولت ہمارے آبا و اجداد نے دُنیا کی قیادت کی تھی، مشرق سے لے کر مغرب تک پورے خطۂ زمین کو فتح کر ڈالا تھا۔ دنیا کے ہر کونے میں بلندی و رفعت ان کے حصے میں آگئی تھی اور انھوں نے زمین پر ایک ایسی حکومت قائم کر دی تھی کہ تاریخ نے اس سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ شاندار، اس سے زیادہ انصاف اور عدل پر مبنی حکومت کا نظام کبھی دیکھا ہی نہیں۔
رمضان وہ مہینہ ہے جو روزہ دار کے لیے جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی صحت لے کر آتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ نفس انسانی کو عظمت اور اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی سے بھی نوازتا ہے۔ روزہ کھیل اور ورزش کا اہتمام کرنے والوں کے لیے بھی معنویتِ رکھتا ہے۔ کھیل اور ورزش کے مقاصد سے متعلقہ کتابوں کے مطالعہ سے یہ معنویت بہت عیاں ہوکر سامنے آتی ہے۔ میں ڈاکٹر تو نہیں ہوں، لیکن میں نے خود اپنے اوپر تجربہ کیا ہے، اور کبھی کبھی تجربہ کار شخص اپنے بارے میں ڈاکٹر سے بہتر جانتا ہے۔میں روماٹزم (جوڑوں کے درد) کی مار کھایا ہوا شخص ہوں۔ گردے کی پتھریو ںکا مریض ہوں۔ چھتیس برس تک ان بیماریو ںکا علاج کرنے کے لیے ڈاکٹروں کے چکر کاٹتا رہا۔ واللہ [اللہ کی قسم!] میں نے ہر علاج آزما کر دیکھ لیا۔ لیکن ان بیماریوں کے علاج کے لیے روزے سے اچھا کوئی علاج مجھے نہیں ملا۔ روزہ جسم کی صفائی کر دیتا ہے، جسم کے زہریلے مادوں کو ختم کر دیتا ہے، گندگیوں کو جسم سےنکال باہر کرتا ہے اور جسم کو بیماریوں سے پاک اور محفوظ کر دیتا ہے۔
یہ ہے رمضان کی پیاری اور خوبصورت تصویر۔ کیا اس تصویر کے ساتھ پہلی تصویر کی شدت بھی شیرینی میں تبدیل نہیں ہو جاتی؟یہ روزہ تو دوا ہے۔ اور عقل مند لوگ دوا کی تکلیف کو محسوس نہیں کرتے، کیو ںکہ انھیں امید ہوتی ہے کہ اس دوا کے ذریعے شفایابی کی لذت سے ہم کنار ہونا ہے۔
یہ ہے رمضان! اگر آپ واقعی روزہ رکھنا چاہتے ہیں تو اس ماہ میں اپنی زبان کو بھی لغو اور بے ہودہ کلامی سے محفوظ رکھیے۔ اپنی نگاہوں، کانوں، سوچ اور چاہتوں کو حرام سے بچا کر رکھیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متنبہ فرمایا: مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْل الزُورِ وَالْعَمْلَ بِہٖ وَالْجَھْلَ ، فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَۃً اَنْ یَدَعْ طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ (صحیح البخاری)’’جو شخص [روزہ رکھ کر بھی] جھوٹ، جھوٹ پر عمل کرنا اور جہالت کو نہیں چھوڑتا تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ صرف کھانا پینا چھوڑ دے‘‘۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حقیقت سے بھی آگاہ کیا ہے کہ رُبَّ صَائِمٍ حَظُّہٗ مِنْ صَیَامِہٖ الجُوعُ وَالْعَطَشْ (سنن ابن ماجہ)’’بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ روزہ سے ان کو بھوک و پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا‘‘۔ بعض روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جن کے روزوں کا حاصل بھوک اور پیاس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ایک روزہ دار کھانے پینے کا تو روزہ رکھ لیتا ہے لیکن غیبت کر کے اپنے مُردہ بھائیوں کا گوشت کھاتا پھرتا ہے [اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْہِ مَيْتًا ،الحجرات۴۹:۱۲]۔شراب کو ترک کر دیتا ہے لیکن نہ تو جھوٹ بولنا چھوڑتا ہے، نہ دھوکے بازی کرنے سے باز آتا ہے اور نہ ہی لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنا بند کرتا ہے ۔
ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے پوچھا: مفلس کون ہے؟ سب نے عرض کیا: ہمارے یہاں تو مفلس اسے کہاجاتا ہے جس کے پاس نہ مال و متاع ہو، نہ درہم و دینار ہو۔ آپؐ نے فرمایا: ’’مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزے اور نیکیاں اپنے ساتھ لے کر آئے گا، لیکن اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو مارا ہوگا، کسی کو گالی دی ہوگی، کسی کا مال ہڑپ کیا ہوگا۔اس کی ساری نیکیاں اس سے ضبط کرکے ان لوگوں میں تقسیم کردی جائیں گی جن کے ساتھ اس نے زیادتی کی ہوگی ۔یہاں تک کہ اس کے پاس اپنی ایک بھی نیکی بچی نہیں رہے گی‘‘۔ (سنن ترمذی)
سب سے گھنائونا گناہ جھوٹ بولنا ہے۔ جھوٹ زبان سے بھی بولا جاتا ہے اور عمل سے بھی۔عمل سے جھوٹ بولنا یہ ہے کہ ایک شخص نیک اور صالح لوگوں کا سا لباس اختیار کر لے، متقیوں کی سی اپنی پہچان بنا لے، لیکن حقیقت میں دکھاوا کر رہا ہو، لوگوںکو بے وقوف بنا رہا ہو۔اُس کا مقصد دین کی آڑ میں دنیا کمانا ہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کیا مومن چوری کرسکتا ہے؟ کیا وہ فلاں فلاں گناہ بھی انجام دے سکتا ہے؟ آپؐ نے جواب دیا کہ اس بات کا امکان ہے کہ کبھی وہ ان گناہو ںمیں ملوث ہو جائے، لیکن وہ توبہ کر لے۔ پھر دریافت کیا گیا کہ کیا مومن جھوٹ بول سکتا ہے؟ آپؐ نے جواب دیا: ’’نہیں ، جھوٹ گھڑنا تو ان کا کام ہے جواپنے دل میں ایمان نہیں رکھتے‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات واضح فرما دی:مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنَّا ،’’جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔آج روزہ دارو ںکا جائزہ لیا جائے تو کیا ان میں ایسے لوگ موجود نہیں جو جھوٹ بولتے ہیں؟ کیا ایسے لوگ موجود نہیں جو دھوکا دیتے ہیں؟ کیا ایسے لوگ نہیں جو وعدہ خلافی کرتے ہیں؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وعدہ خلافی نفاق کی تین علامتوں میں سے ایک ہے(صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔ ان لوگوں کو یہ اُمید کس بنیاد پر رہتی ہے کہ انھیں روزہ کا اجروثواب مل جائے گا؟ جب کہ انھوں نے صرف حلال کھانے کا تو روزہ رکھ لیا لیکن حرام کاموں کو نہیں چھوڑا!
دین اسلام زندگی کے تمام انفرادی و اجتماعی معاملات کو درست کرنے کا نام ہے۔ ایک شخص امیرالمومنین عمر بن الخطابؓ کے سامنے ایک دوسرے شخص کی تعریف کرنے لگا۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: کبھی تم نے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔حضرت عمرؓ نے پوچھا: کبھی تم نے اس کے ساتھ سفرکیا ہے؟ اس نے کہا : نہیں۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: کیا کبھی تو نے کوئی چیز امانت کے طور پر اس کے پاس رکھی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا: پھر تم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ میرا خیال ہے تم نے اسے صرف مسجد میں سراُٹھاتے اور جھکاتے (رکوع و سجدہ کرتے) دیکھا ہے یا زبان سے تسبیح کرتے دیکھا ہے‘‘۔ (الحکیم الترمذی: ادب النفس، ابن قتیبہ: عیون الاخبار، امام الطحاوی: مشکل الآثار)
رمضان محبت اور تعلقات میں مضبوطی لانے والا مہینہ (شَھْرُ مُواسَاۃِ ، سنن الترمذیو صحیح ابن خزیمۃ)ہے۔ اس ماہ میں اپنے سینہ و دل کو وسیع و کشادہ رکھیے، زبان میں شیرینی و چاشنی لائیے، لڑائی جھگڑوں سے خود کو دُور رکھیے۔ رمضان کے اس ماہِ مبارک میں آپ کی بیوی سے کوئی لغزش ہو جائے تو اسے برداشت کر لیجیے۔ بھائیوں کی جانب سے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اس پر صبر کر لیجیے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روزہ دار کو نصیحت یاد رکھیے: فَاِنْ سَابَّہٗ اَحَدٌ اَوْ قَاتَلُہٗ فَلْیَقُلٌ اِنِّی امْرُوٌ صَائِمٌ (صحیح البخاری)’’ کوئی آپ سے لڑائی کرنے میں پہل کرے تو آپ بھی لڑنے کے لیے تیار نہ ہو جائیں ، بلکہ اس سے کہہ دیں کہ ’میں روزے سے ہوں‘‘۔
جب آپ بھوک سے بے حال ہوں تو اس لمحے اس غریب کو یاد کیجیے جس کو حالت مجبوری میں بھوک کے تھپیڑے کھانے پڑ رہے ہیں ۔ آپ کے رب نے آپ کو جن نعمتوں سے نواز رکھا ہے، ان پر ربّ تعالیٰ کا شکر ادا کیجیے۔ شکر محض یہ نہیں ہے کہ آپ ہزار مرتبہ زبان سے الحمد للہ کا ورد کردیں۔ بلکہ مال دار کا شکر یہ ہے کہ وہ غریبوں پر مال خرچ کرے اور قوی وطاقت ور کا شکر یہ ہے کہ وہ کمزوروں کی مدد کرے۔
جس طرح سے آپ اپنے مال میں سے دوسروں کو نوازتے ہیں، اسی طرح حُسن اخلاق سے بھی نوازئیے ۔ کچھ دینے کے ساتھ مسکراہٹ سائل کو وہ خوشی دیتی ہے جو عطا و بخشش سے ملنے والی خوشی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ پڑوسی کو ایک اچھی بات کہہ دینا نیکی ہے۔ بسا اوقات ضرورت مندسے خندہ پیشانی کے ساتھ معذرت اس سے بہتر ہے کہ گھمنڈ کے ساتھ اس کی ضرورت پوری کی جائے۔
ماہِ رمضان میں آپ کی جسمانی صحت کا جو سامان ہے اسے بھی حاصل کرنے کی کوشش کیجیے اور ماہِ رمضان میں روحانی بلندی اور حصولِ تقویٰ کا جو انتظام ہے اس پر اپنی توجہ مرکوز رکھیے، تاکہ آپ کے نفس کی عظمت، قوت و رفعت کا جو سامان ہے اسے پاسکیں۔ انفاق، بذل و عطا اور احسان کو اختیار کرلیجیے۔ اس ماہ کی برکات سے سال بھر کے لیے ذخیرہ کر لیجیے تاکہ یہ مہینہ آپ کے لیے واقعی ذخیرہ بن جائے۔
ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں خیر کی نہریں بہنے لگتی ہیں، محبت اور تعلق کی فضا عام ہو جاتی ہے۔ لہٰذا درگذر سے کام لیجیے اور نا مناسب باتوںکا جواب بہترین انداز میں دیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ قرآن کریم میں بیان کردہ ربّ العالمین کے اصول: لَا تَسْتَوِي الْحَسَـنَۃُ وَلَا السَّيِّئَۃُ۰ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَہٗ عَدَاوَۃٌ كَاَنَّہٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ۳۴ (حم السجدہ ۴۱:۳۴) کے مطابق جن کے درمیان عداوت اور دشمنی تھی وہ بھی جگری دوست بن گئے ہیں۔