فروری ۲۰۲۶

فہرست مضامین

’ٹرمپ بورڈ‘، غزہ جنگ بندی یا جنگ کی تیاری

مسعود ابدالی | فروری ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’مجلس السلام‘ (Board of Peace) [جسے ’ٹرمپ دھونس بورڈ‘ بھی کہا جاسکتا ہے] کو عالمی سطح پر ’امن کے فروغ‘ اور غزہ کی جنگ کے بعد ’صلح و بحالی کے عمل‘ کے لیے ایک نئے بین الاقوامی ادارے کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ اس کا اعلان ’ورلڈ اکنامک فورم‘، ڈیوس میں کیا گیا، جہاں پاکستان، ترکیہ، قطر، سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، انڈونیشیا، مراکش، آذربائیجان، قازقستان، ازبکستان، ارجنٹینا اور اسرائیل سمیت تقریباً انیس ممالک نے اس دستاویز پر دستخط کیے۔ حکومتی بیانات کے مطابق ’مجلس السلام‘ کا ابتدائی مقصد غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی اور ایک عارضی نظمِ حکمرانی کا قیام ہے، جب کہ بعد ازاں اسے عالمی تنازعات کے حل کے لیے بھی استعمال کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ تاہم، منطق، عملیت اور بین الاقوامی سیاسی حقیقت کے تناظر میں یہ منصوبہ آغاز ہی سے ناکامی کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔ 

  • قیادت اور شمولیت_____محدود اور منقسم:مجلس السلام کی تشکیل میں سب سے نمایاں مسئلہ اس کی محدود اور منقسم شمولیت ہے۔ کئی مؤثر مغربی ممالک اس میں شرکت سے ہچکچاتے دکھائی دیتے ہیں۔ فرانس، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا اور بعض دیگر بڑی ریاستوں نے یا تو شرکت سے انکار کیا یا شرائط پر تحفظات کا اظہار کیا، جس سے اس ادارے کی عالمگیریت، ساکھ اور غیر جانب داری مشکوک ہو جاتی ہے۔ ایک ہمہ گیر عالمی فورم کے بجائے یہ مجلس امریکا کے زیرِ اثر ایک محدود سیاسی جتھے (Cluster) کا تاثر دیتی ہے، جس میں چندعلاقائی طاقتیں شامل ہیں۔ 
  • اقوامِ متحدہ کے کردار پر سوالات:اگرچہ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ مجلس السلام اقوامِ متحدہ کا متبادل نہیں، تاہم تاسیسی خطاب میں اقوامِ متحدہ پر یہ کہہ کر تنقید کی گئی کہ ’یہ ادارہ کہیں اور کبھی بھی مؤثر امن قائم نہ کر سکا‘۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مجلس السلام دراصل اقوامِ متحدہ کے کردار کو کمزور کرنے اور غزہ کے مستقبل پر امریکی بالادستی قائم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے متوازی یا اس سے بالا ایک عالمی ڈھانچا تشکیل دینا طویل عرصے سے اسرائیلی پالیسی سازی کا بھی حصہ رہا ہے، جس سے اس منصوبے کے پس پردہ محرکات مزید واضح ہو جاتے ہیں۔ 
  • امریکی بالادستی کا تاثر:مجلس السلام کے کلیدی اختیارات عملاً امریکی صدر کے ہاتھ میں ہوں گے۔ رکن ممالک کی شمولیت یا برطرفی، فیصلوں کی حتمی منظوری اور مالی وسائل کے استعمال پر بھی فیصلہ کن اختیار واشنگٹن کو حاصل رہے گا۔ اس صورتِ حال میں مجلس السلام ایک آزاد اور غیر جانبدار عالمی ادارے کے بجائے امریکی خارجہ پالیسی کے توسیعی آلے کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ 
  • امتیازی رویہ:مجلس السلام کے مسودۂ میثاق کے مطابق یہ ادارہ غزہ کو غیر مسلح بنانے، عبوری نظم و نسق قائم کرنے اور تعمیرِ نو کی نگرانی کرے گا۔ اس نکتے پر نیویارک کے میئر زہران ممدانی کا مؤقف خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ ان سے انتخابی مہم کے دوران پوچھا گیا کہ آیا وہ غزہ کے مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کے حامی ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر واقعی امن مطلوب ہے تو اسرائیل اور مزاحمت کار، دونوں کو ہتھیار رکھنے چاہئیں، کیونکہ ہتھیار اور پائیدار امن بیک وقت نہیں چل سکتے‘‘۔ 

تاہم مجوزہ منصوبے میں اسرائیل سے فوجی انخلا یا اسلحہ محدود کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔ ایسی صورت میں تنازعے کا ایک فریق غیر مسلح ہونے پر کیسے آمادہ ہو سکتا ہے ، جب کہ دوسرا فریق مکمل عسکری طاقت کے ساتھ بدستور موجود رہے؟ مزید یہ کہ غیر مسلح نہ ہونے کی صورت میں مزاحمت کاروں کو فنا کرنے کی دھمکیاں بھی اسی بیانیے کا حصہ ہیں، جو کسی طور پر امن سازی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ 

  • سیاسی تعمیر کی خامیاں:امن محض دستاویزوں، دستخطوں اور نمائشی تقریبات سے وجود میں نہیں آتا۔ اگر مجوزہ حل سیاسی، سماجی اور انسانی حقیقتوں کا مکمل ادراک نہ رکھتا ہو تو وہ کاغذی اعلانات سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ غزہ کے معاملے میں زمینی تباہی، امداد کی عدم بحالی، شدید انسانی بحران اور حقیقی سیاسی نمائندگی جیسے بنیادی سوالات مجلس السلام کے آئینی ڈھانچے میں واضح نہیں۔ 
  • مالی و تنظیمی ڈھانچا ___ ناکامی کے آثار: مجلس السلام کی رکنیت کے لیے فی ملک ایک ارب ڈالر کی شرط بھی اس ادارے کو عوامی سطح پر غیر جاذب بناتی ہے۔ اس نوعیت کا مالی اور اختیاراتی ڈھانچا نہ تو عالمی عوامی اعتماد پیدا کر سکتا ہے اور نہ حقیقی امن سازی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مجلس کی موجودہ صورت گری دیکھ کر چشم تصور میں ایک نمائشی ادارے کا ہیولا اُبھرتا ہے، جس کا مقصد عملی امن نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے امن کی تعبیر قائم کرنا ہے ۔ 
  • امن یا پروپیگنڈا؟:بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری کے متعدد ماہرین اس پیش رفت کو امن کے بجائے طاقت کے اظہار اور ایک نئے عالمی سیاسی بیانیے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ مجلس السلام ایک جامع اور شمولیتی (Inclusive) ادارے کے بجائے سفارتی اور داخلی سیاسی مفادات کے حصول کا آلہ بن جائے گی۔ 
  • مسلم بلاک___ نہ پائے رفتن ، نہ جائے ماندن  :پاکستان سمیت بعض مسلم ممالک کی شمولیت پر خود عالمِ اسلام میں سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک ایسی مجلس میں شمولیت، جس کے فیصلے ایک ایسے فرد کے تابع ہوں جو کھلے عام غزہ کو جہنم بنانے اور اہلِ غزہ کو فنا کرنے کی دھمکیاں دے چکا ہو، مسلم اور عرب عوام کے لیے کسی طور قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔ 

غزہ میں جنگ بندی یا جنگ کی تیاری ؟ 

اہلِ غزہ نے رمضان المبارک کے انتظار کا آغاز کر دیا ہے۔ یہاں رجب کا چاند نظر آتے ہی استقبالِ رمضان کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ طویل عرصے کے بعد بارش اور اَبر آلود موسم کا سلسلہ تھما تو ۳ جنوری کی رات، چودھویں کا چاند تباہ حال پٹی پر پوری آب و تاب سے جگمگایا۔ مکمل تاریکی کے باعث اہلِ غزہ نے ماہِ کامل کا بڑے اشتیاق سے نظارہ کیا۔ملبے پر کھڑے بچوں سے جب ایک صحافی نے پوچھا: ’’چاند کو دیکھتے ہوئے تم زیر لب کیا کہہ رہے تھے؟‘‘، تو ایک لڑکے نے کہا:’’میں تاریک غزہ پرروشنی بکھیرنے والے چاند سے کہہ رہا تھا کہ دنیا بہری ہو چکی ہے۔  اے خوب صورت اور روشن چاند! تو ہی ہماری فریاد اپنے اور ہمارے خالق و مالک تک پہنچا دے‘‘۔ 

  • وحشی اسرائیل، تعلیم سے خوفزدہ : اقوام متحدہ کے ادارے UNICEFکے مطابق غزہ کے لیےامدادی سامان کی جانچ پڑتال کے دوران اسکولوں کے لیے آنے والی نصابی کتب پر اسرائیل نے مکمل پابندی لگارکھی ہے۔ یونیسیف کے ترجمان کاظم ابوخلف نے کہا: ’’درسی کتب کے ساتھ کاپیاں، کاغذ،ربڑ، پنسل، مارکر تک لانے کی اجازت نہیں‘‘۔ غزہ میں اسکولوں اور اساتذہ کو چُن چُن کر نشانہ بنایا گیا۔ تقریباً تمام تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے، مگر زندہ دل و حوصلہ مند فلسطینیوں نے خیموں میں اسکول قائم کر کے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔ صبح سویرے اسکول جاتے بچے گولیوں کے خطرے کا سامنا کرتے ہیں، مگر وہ سینہ تان کر نکلتے ہیں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ظالموں کو سب سے زیادہ خطرہ تعلیم سے ہے، کیونکہ تعلیم سوال کرنا سکھاتی ہے۔ 
  • جنگ بندی یا جنگ کی تیاری؟ : ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ خود کو ’غزہ امن‘ کا علَم بردار ظاہر کر رہے ہیں، دوسری جانب اسرائیل ایک نئے حملے کے لیے امریکی پشت پناہی کا منتظر ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج نے مارچ میں نئے اور شدید فوجی آپریشن کے منصوبے تیار کر لیے ہیں، جن میں غزہ شہر کو نشانہ بنانے والی ایک بڑی زمینی کارروائی شامل ہے۔ 

اس آپریشن کا مقصد جنگ بندی کی حد، یعنی ییلو لائن کو مزید مغرب کی جانب، ساحلی پٹی کی طرف دھکیلنا ہے تاکہ غزہ کے مزید رقبے پر اسرائیلی کنٹرول قائم کیا جا سکے۔ یہ معلومات ایک اسرائیلی عہدے دار اور ایک عرب سفارت کار کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ مذکورہ عرب سفارت کار کے مطابق یہ کارروائی امریکا کی مکمل حمایت کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ واشنگٹن اکتوبر ۲۰۲۵ء میں طے پانے والی نازک جنگ بندی کو دوسرے مرحلے تک لے جانا چاہتا ہے، جس میں مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ امن مذاکرات کے سائے میں فوجی نقشے تیار کیے جا رہے ہیں۔یہ اطلاعات محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک منظم اور پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کی عکاس ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کے نزدیک جنگ بندی کسی مستقل امن کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے۔ تل ابیب اور واشنگٹن میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس تاثر کو مزید تقویت دے رہی ہیں کہ اصل ہدف امن نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے نئے زمینی حقائق مسلط کرنا ہے۔ 

  • تولیدی نسل کُشی: انسانی حقوق کے کارکن اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین غزہ میں جاری قتلِ عام کے ساتھ ایک اور نہایت سنگین جرم کی نشاندہی کر رہے ہیں، جسے Reproductive Genocide یعنی ’تولیدی نسل کُشی‘ کہا جا رہا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد وہ اقدامات ہیں جن کے ذریعے کسی قوم کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت، ماؤں کی صحت اور آئندہ نسلوں کے وجود کو عملاً تباہ کر دیا جائے۔ اس الزام کی بنیاد چند تلخ حقائق پر ہے:m زچگی وارڈز اور تولیدی صحت کے مراکز کی منظم تباہی m حاملہ خواتین کو بنیادی طبی سہولتوں کے بغیر ولادت پر مجبور کرناm نوزائیدہ بچوں کی  غذائی قلت اور سردی سے بڑھتی ہلاکتیں m ایسا محاصرہ جو ماں اور بچے دونوں کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ یہ محض زندہ لوگوں پر حملہ نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے راستے بند کرنے کا عمل ہے۔اور ساری دنیا اس عمل کو خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔ 
  • غربِ اُردن یا وادیِ گھٹن: غرب اُردن (West Bank) میں بڑے پیمانے پر پکڑدھکڑ جاری ہے۔ گذشتہ ہفتےخاتون صحافی اناس اخلاوی کو گرفتار کرلیا گیا۔ تلکرم سے ایک ۱۵سالہ بچے کو بھی اسرائیلی فوجی پکڑ کر لے گئے۔ جامعہ بیرزیت طلبہ یونین کی جانب سے غزہ میں جاں بحق ہونے والی بچی ہند رجب کے آخری لمحات پر مبنی دستاویزی فلم کی نمائش کا اہتمام کرنے پر اسرائیلی فوج مرکزی دروازہ توڑ کر کیمپس میں داخل ہو گئی اور طلبہ و اساتذہ پر تشدد کیا۔  
  • عالمی فوج کی تعیناتی : اسرائیلی بدنیتی کے تناظر میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی فوج کی تعیناتی کا امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف واضح کر چکے ہیں کہ ان کا ملک غزہ سمیت کسی بھی بیرونی محاذ پر فوج نہیں بھیجے گا۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کے مشیر سلامتی خلیل الرحمان نے غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکامی دستے (ISF)میں شمولیت میں اصولی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ 
  •  بمباری کا نہ رُکنے والا سلسلہ: جمعہ، ۲ جنوری کی صبح وسطی غزہ کے مغازی کیمپ پرزبردست بمباری سے بچوں سمیت ۱۳؍افراد شہید اور درجنوں شدید زخمی ہوگئے۔ ستم ظریفی کہ کئی روز سے بارش اور مطلع اَبرآلود رہنے کے بعد اسی دن دھوپ نکلی تھی۔ لیکن یہ روشن صبح خون کے چھینٹوں کے ساتھ آہوں اور سسکیوں میں ڈھل گئی۔ 
  • درندگی کی قیمت: بمباری و فوج کشی کی اہل غزہ و غربِ اردن بھاری قیمت ادا کررہے ہیں، لیکن اس کے اثرات سے خود اسرائیل بھی محفوظ نہیں۔اسرائیلی فوج کا شعبہ بحالیِ معذوراں (Rehabilitation Department)شدید دباؤ کا شکار ہے۔ مزدور یونین ’ہسٹڈرٹ‘ کے مطابق جنگ کے نتیجے میں معذور ہونے والوں کی تعداد تقریباً ۸۲ ہزار تک پہنچ چکی ہے، جب کہ ہرماہ اوسطاً ۱۵۰۰ نئے افراد رجوع کر رہے ہیں۔جنگی جنون و ہیجان سے خود اسرائیلیوں کے مابین عدم برداشت میں اضافہ ہورہا ہے۔ گذشتہ دنوں لازمی فوجی بھرتی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے حفظ توریت مدارس (Yeshiva) کے طلبہ پر تیزرفتار گاڑی چڑھادی گئی جس سے مدرسے کا ایک ۱۸ سالہ لڑکا ہلاک ہوگیا۔ 
  • فلسطین میں تشدد پر پوپ کا اظہارِ تشویش: کیتھولک مسیحیوں کے پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے غربِ اردن میں بڑھتے ہوئے تشدد اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہرے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر پُرامن زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے‘‘۔ پوپ لیو نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’’سفارت کاری، مکالمے اور اتفاقِ رائے کے بجائے طاقت ، دباؤ اور جنگ قابلِ قبول بیانیہ بنتی جارہی ہے‘‘۔امریکی نژاد پوپ کے اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ غربِ اردن میں واقع بیت اللحم وہ مقدس مقام ہے جہاں مسیحی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کی ولادت ہوئی۔ اس مقدس شہر اور اس کے گردونواح میں تشدد، جبر اور عدم تحفظ نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ دنیا بھر کے مسیحیوں کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث ہے۔ 
  • عالمی رَدِ عمل کا تسلسل: پرتگال میں ایک ریسٹورنٹ بند: عالمی سطح پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف ردعمل جاری ہے۔پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ایک اسرائیلی ملکیتی ریستوران طنطورہ (Tantura) کو مسلسل دباؤ، سوشل میڈیا مہمات اور بائیکاٹ کے باعث تالے لگ گئے۔یہی رجحان یورپ اور امریکا کے دیگر شہروں میں بھی موجود ہے، جہاں بعض صہیونی نواز کاروبار بدلتی ہوئی عالمی رائے عامہ اور اخلاقی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں فرانسیسی ادارے Carrefour کی بندش اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ 

غزہ اور غربِ اُردن اب بھی بمباری، محاصرے اور سفارتی منافقت کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیے گئے زمینی حقائق کبھی پائیدار امن میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں تک جائے گی بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ دُنیا کب آنکھیں کھولنا اور کوئی مثبت عملی اقدام کرنا شروع کرے گی۔