فروری ۲۰۲۶

فہرست مضامین

تشدد اور اضطراب کے شکار اہلِ کشمیر!

ہمایوں قیصر | فروری ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

مقبوضہ کشمیر میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جب اس کے کسی نہ کسی حصے میں قابض انڈین حکمرانوں کے عسکری و انتظامی اداروں کے ظلم و زیادتی سے مقامی نہتے شہری متاثر نہ ہوں۔ بھارتی فوج اور بدنامِ زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں ’این آئی اے‘ اور ’ایس آئی اے‘ کے مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں مشترکہ چھاپےاور تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں، جن میں درجنوں عام شہری گرفتار کیے گئے ہیں اور ایک درجن کے قریب جائیدادیں ضبط کی گئی ہیں۔ 

  • ۱۶ دسمبر ۲۰۲۵ء: ضلع ادھم پور کے علاقے مجلٹا میںمجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک بھارتی فوجی اہلکارامجد پٹھان گولی لگنے سے ہلاک، جب کہ دو اہلکار زخمی ہو گئے ۔ ضلع کپواڑہ کے پوتہ خان علاقے میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں ایک بھارتی فوجی حوالدارزبیر احمد ہلاک ہوگیا۔ 
  • ۱۸ دسمبر ۲۰۲۵ء:ضلع اسلام آباد کے علاقے میںبھارتی فوج کا اہلکار لکھویندر سنگھ دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گیا۔ بھارتی فوج نے وادی کے مختلف علاقوںضلع ادھم پور ، بسنت گڑھ اور رام نگر ، ڈوڈہ ، کشتواڑ ، اسلام آباد، بانڈی پورہ، بارہمولہ اور کپواڑہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں اوراس دوران گھروں پر چھاپے مارے ،گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کی اور مکینوں کو ہراساں کیا ۔ بھارتی انتظامیہ نے ضلع کپواڑہ میں ایک کشمیری ولی محمد میر کا دو منزلہ رہائشی مکان کالے قانون ’یو اے پی اے ‘ کے تحت ضبط کر لیا۔ 
  • ۱۹ دسمبر۲۰۲۵ء: بھارتی پولیس نے ضلع ڈوڈہ میں گائے کے گوشت کی فروخت کے الزام میں تین کشمیری تا جروں فاروق احمد، محمد شفیع اور محمد یاسین کو گرفتار کر لیا ہے۔ 
  • ۲۰دسمبر۲۰۲۵ء:ضلع شوپیاں کے علاقے ہیر پورہ میں بھارتی پولیس نے ایک چھاپےکے دوران دو عام شہریوںاحمد حسن وگے اور راحیل احمد بٹ ساکن کولگام کوگرفتار کر لیا۔پولیس نے ان کی گرفتاری کا جواز فراہم کرنے کے لیے ان سے انڈیا مخالف پوسٹر برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی اداروں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی(NIA) اور سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی(SIA) نے سرینگر اور ضلع شوپیاں کے علاقے نادیگام میں چھاپے مارکر مولوی عرفان احمد وگے سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ 
  • ۲۱دسمبر ۲۰۲۵ء:بھارتی پولیس نے ضلع پلوامہ نیو سرکلر روڈ پر معمول کی گشت کے دوران ایک شخص ہلال احمدساکن کاکہ پورہ کے علاقے کھدر موہ کو گرفتارکرلیا اوران سے جماعت اسلامی کے پوسٹر برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ضلع بڈگام کی عدالت نے حزب المجاہدین کے امیر سیّدصلاح الدین احمد کے خلاف دوبارہ غیر ضمانتی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیے ہیں۔ 
  • ۲۲دسمبر ۲۰۲۵ء:بھارتی ریاست ہماچل پردیش اور ہریانہ میںہندو انتہاپسندوں کی طرف سے درجن کےقریب کشمیری شال فروشوں کو ہراساں کرنے اورانھیں’ہندوتوا‘اور’ بھارت ماتا کی جے‘ جیسے نعرے لگانے پر مجبور کیاگیااور باربارہراساں بھی کیا جارہاہے۔ 
  • ۲۳دسمبر ۲۰۲۵ء: امریکا میں مقیم کشمیری اسکالر ڈاکٹر غلام نبی فائی کی ضلع بڈگام میں موجود پانچ کنال سے زائد اراضی بھارتی ایجنسی(این آئی اے)نےکالے قانون کے تحت ضبط کرلی ہے،جب کہ ان کی ایک اور جائیداد گیارہ مرلے اراضی بھی ضبط کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بھارتی پولیس نے ضلع کپواڑہ سے مزید دو کشمیری نوجوانوں کو جاسوسی کے الزام میں گرفتارکیاہے۔ بھارتی شہر اروناچل پردیش کے گنگا گائوں، ایٹا نگر،ضلع سیانگ کے آلائو ٹائون علاقوں سے پولیس نے دیگر بھارتی ایجنسیوں کے ہمراہ مبینہ طورپر حساس معلومات اکٹھا کرنے کے الزامات میںکشمیری نوجوانوں اعجاز احمد بٹ اور بشیر احمد گنائی، نذیر احمد ملک ، ہلال احمدمیر سمیت پانچ افرادکوگرفتار کیاہے،جب کہ ضلع پلوامہ کے علاقے اونتی پورہ کے علاقے وویان کھریو سے گلاب باغ ترال کے رہائشی نوجوان جاوید احمد حجام کوبھارتی فوج نےگرفتار کیا۔بھارتی قابض فوج نے جاوید احمد پرکشمیری مجاہد ین کی مدد کرنے کا الزام عائد کیاہے۔ 
  • ۲۶ دسمبر ۲۰۲۵ء: سرینگر شہر کے قریب بھارتی فوج کے ایک کیمپ میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی، جس کے نتیجے میں متعدد بیرکیں جل کر تباہ ہوئیں ۔ 
  • ۲۸دسمبر ۲۰۲۵ء:بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بریلی میں پولیس نے ضلع پونچھ کے رہائشیوں شوکت علی اور سجاد کو گائوں ڈھمری سے گرفتار کر لیا ۔ضلع اسلام آباد کے علاقے مرہامہ بجبہاڑہ میں ایک خاتون شیرازہ بانوبلیار مرہامہ اہلیہ عبدالحمید کمار کی لاش پراسرار حالت میں مُردہ پائی گئی۔ 
  • ۲۹ دسمبر ۲۰۲۵ء:مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج نے شوپیاں سے اویس احمد لون ، شاہ لٹو سے معشوق احمد شاہ اورچیک چولند سے سبزار احمد گنائی کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتارکیا ہے اور تینوں کو جموں کی کوٹ بھلوال جیل منتقل کیاگیا ہے، جب کہ سرینگر سے ایک نوجوان ظفر احمد میرساکن راجباغ کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ بھارتی افواج نے ضلع جموں کے علاقے ستواری میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران بے بنیاد الزام پر ایک عام شہری منظور حسین کو گرفتارکرلیا ہے۔ انڈین فوج نے مشتبہ شے نظرآنے کا دعویٰ کرکے شمالی کشمیر میں سوپور،بانڈی پورہ روڈ کے قریبی علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کی۔ سڑک کو عارضی طور پر بلاک کر دیا گیا، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ،جب کہ آپریشن کے دوران شہریوں کی جامہ تلاشی لی گئی اورہراساں کیاگیا۔مقبوضہ کشمیر میں قابض حکام نے معلومات تک رسائی کو روکنے کے لیے شمالی اورجنوبی کشمیر میں ’ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک‘ (VPN)کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔قابض فوج نے موبائل فون صارفین کی نگرانی میں اضافہ کرتے ہوئے وادیٔ کشمیر کے کپواڑہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں وی پی این کے استعمال پر پابندی کے ضمن میں ۱۰ سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے۔ 
  • ۳۱ دسمبر۲۰۲۵ء: بھارتی پولیس نے کالے قانون کے تحت ضلع گاندربل میں ایک خاتون سمیت دو کشمیریوں کو گرفتار کر لیا۔ ضلع ڈوڈہ کے۱۷ کے قریب دُور دراز دیہات کے ۱۵۰کے قریب بدنام زمانہ ملیشیا ویلج ڈیفنس گارڈز(وی ڈی جی) ارکان جن میں کئی خواتین بھی شامل ہیں، انھیں انڈین فوج نے تربیت دینے کا عمل تیز کردیاہے۔یہ تربیتی پروگرام ڈوڈہ ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً ۹۰ کلومیٹر دور بھلیسہ علاقے میں شنگنی میں قائم کیا گیا ہے۔ بدنامِ زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے ”نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی‘‘(این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے تین کشمیریوں کو ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی پاداش میں اشتہاری قرار دیا ہے۔ عدالت نے سرینگر کے علاقے جواہر نگر کے رہائشیوں مبین احمد شاہ اور عزیز الحسن، جب کہ کپواڑہ کے علاقے تریہگام کی خاتون کارکن رفعت وانی کو اشتہاری قرار دیا۔ان تینوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے سماجی رابطوں کی سائٹوں پر بھارت کے خلاف مواد اَپ لوڈ کیا۔ 
  • یکم جنوری ۲۰۲۶ء: تحریک آزادی کشمیر کے سینئررہنما محمد عبداللہ ملک مختصر علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کر گئے ۔ مرحوم کی نماز جنازہ اسلام آبادکی مرکزی جامع مسجد صدیق اکبر کے احاطے میںادا کی گئی جس میں کثیر تعدا دمیں عوام نے شرکت کی۔مرحوم کا تعلق مقبوضہ جموں وکشمیر میں ضلع بانڈی پورہ کے علاقے آلوسہ سے تھا۔ وہ بنیادی طور پر جماعت اسلامی سے وابستہ تھے ۔ مرحوم نے کشمیر کاز کے لیے تحریری اور ابلاغی محاذ پر اہم کردار ادا کیا ۔ انھوں نے بھارتی مظالم کی وجہ سے ۱۹۹۰ءمیں آزاد جموںوکشمیر سے ہجرت کی تھی۔ 
  • ۲جنوری ۲۰۲۶ء: مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی پولیس نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے ایک رکن کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی ہے۔ چھاپے کے دوران بھارتی پولیس نے جماعت اسلامی کے رکن کے اہل خانہ کو ہراساں کیا اور تاریخی کتابیں، دستاویزات اور لیپ ٹاپ او ر موبائل فون ضبط کر لیے،جب کہ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نےبھارتی فوج کے ہمراہ شوپیاں کے علاقے پدپاون اور پلوامہ کے علاقے پامپور میں چھاپے مارکر نو افراد کو حراست میں لیا ہے۔ 
  • ۳جنوری ۲۰۲۶ء: بھارتی انتظامیہ نے ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی میں جمال احمد لون کی ۶کنال اور ۱۳ مرلہ سے زائد اراضی کالے قانون ’یو اے پی اے‘ کے تحت ضبط کی۔ان کی جائیدا د کی ضبطی کا جواز فراہم کرنے کے لیے ان پر انڈیا مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔انتظامیہ نے محض دو روز قبل ضلع پونچھ کے گاؤں نار میں ایک اور شخص رفیق سلطان کی چار مرلہ سے زائد اراضی ضبط کر لی تھی۔ بھارتی پولیس نےانٹرنیٹ تک رسائی کے لیے اپنے موبائل فون پر ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) ایپلی کیشنز استعمال کرنے پر ۱۵۰ کے قریب لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔پلوامہ ضلع میں ۹۵ افراد، بارہمولہ کے علاقے سوپور میں ۲۳، شوپیاں میں ۱۵، کولگام میں ۹، اسلام آباد میں ۵، ڈوڈہ میں۲، جب کہ ضلع راجوری میں ایک شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔ اطلاعات کے مطابق ان میں اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ 
  • ۴جنوری ۲۰۲۶ء: ضلع کٹھوعہ ریلوے اسٹیشن پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے ایک واقعے میں ریلوے پروٹیکشن فورس کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔ قابض حکام نے آزادیٔ اظہار اور ڈیجیٹل پرائیویسی پر ایک اور حملہ کرتے ہوئے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs)کا استعمال کرنے والے تقریباً ۸۰۰؍افراد کی نشاندہی کی ہے، جن کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے اور اس دوران متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے،جب کہ درجنوں افراد کو طلب کیا گیا، ان سے پوچھ گچھ کی گئی ، ڈرایادھمکایاگیا اور ان پر نفسیاتی دبا ئوڈالاگیا۔ 
  • ۵ جنوری ۲۰۲۶ء: کشمیریوں کو ان کی ملازمتوں اور جائیدادوں سے محروم کرنے کے مودی حکومتی  ایجنڈے کے تحت قابض انتظامیہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک کشمیری ملازم محمد ارشد گورو ساکن سرینگر آنچارکو ملازمت سےبرطرف کر دیا ہے۔ ضلع اسلام آباد میں بھارتی فوج کا ایک نائب صوبیدار پرگت سنگھ اپنی بیرک میں دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگیا۔ 
  • ۷ جنوری ۲۰۲۶ء:بھارتی پولیس کی کائونٹر انٹیلی جنس ونگ نے بھارتی فوج کے ساتھ مل کر ۲۲مقامات پر چھاپے مارے اورتلاشی کی کارروائیاں کیں۔ سرینگر میں تقریباً ۱۵مقامات پر چھاپے مارے گئے،جب کہ دیگر اضلاع میں بھی اسی طرح کی کارروائیاں کی گئیں۔ 
  • ۸جنوری۲۰۲۶ء: ضلع کٹھوعہ میں بلاور کے علاقوں کہوگ اور دھنو پیرول کماد میں بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں بھارتی فوج نے ایک مجاہد کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ جھڑپ کے دوران متعدد بھارتی فوج زخمی ہوگئے۔ اس دوران، کانٹر انٹیلی جنس اہلکاروں نے نیم فوجی اہلکاروں کے ساتھ گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران فوج نے ۲۲ نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ 
  • ۹جنوری ۲۰۲۶ء: بھارتی انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئررہنما میر واعظ عمرفاروق کو مسلسل تیسرے جمعہ کو سرینگر میں گھر میں نظر بند رکھ کر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے تاریخی جامع مسجد جانے سے روک دیا۔ 
  • ۱۱ جنوری ۲۰۲۶ء: بھارتی فوج نے جنوبی ضلع اسلام آباد کے علاقے جنگلات منڈی میں کچھ مشتبہ افراد کی موجودگی پر علاقے کو محاصرے میںلےکر گھر گھر تلاشی لے کر مکینوں کو ہراساں کیااور گھریلو سامان کی توڑ پھوڑکی۔ 
  • ۱۲ جنوری۲۰۲۶ء: ضلع بانڈی پورہ میں بھارتی فوج کے ایک بھارتی فوجی کیمپ میں پُراسرارطورپر آگ لگ گئی جس میں بھارتی فوج کا کانسٹیبل رمیش کمارجل کر ہلاک ہوگیا۔ 
  • ۱۳ جنوری ۲۰۲۶ء: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے وادیٔ کشمیر بھر میں مساجد ، اَئمہ اور مساجد سے وابستہ دیگر افراد کے بارے میں بڑے پیمانے پر معلومات جمع کرنے کی مہم شروع کر دی ہے۔ انڈیا نے متعدد علاقوں کی مساجد میں چار صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی فارم بھیجنا شروع کر دیا ہے، جس میں مساجد اور ان سے منسلک افراد بشمول ائمہ، خطیب، مؤذن ، مسجد کمیٹی کے اراکین اور بیت المال کے بارے میں مکمل معلومات طلب کی گئی ہیں۔فارم میں ہر مسجد کی بابت مسلکی وابستگی، بیٹھنے کی گنجائش، منزلوں کی تعداد، تعمیراتی لاگت، فنڈنگ کے ذرائع، ماہانہ بجٹ، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق معلومات مانگی گئی ہیں۔  
  • ۱۴ جنوری ۲۰۲۶ء: عدالت نے سینئرحریت رہنما اوردختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت کو کالے قانون (UAPA) کے تحت درج ایک مقدمے میں مجرم قرار دے دیاہے۔یاد رہے انڈیا کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے آسیہ اندرابی کو اپریل ۲۰۱۸ء میں گرفتار کیا تھا۔آسیہ اندرابی کے خلاف انڈیا کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے جنگ چھیڑنے اور مجرمانہ سازش کا مقدمہ درج کیاگیا تھا۔ آسیہ اندرابی نے۱۹۸۷ءمیں خواتین پر مشتمل آزادی پسند تنظیم ’دُخترانِ ملت‘ کی بنیاد رکھی تھی۔  
  • ضلع پونچھ میں کنٹرول لائن کے ساتھ جنگل میں آتشزدگی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے ۔ آگ کے باعث بھارتی فوج کی طرف سے بچھائی جانے والی ایک درجن سے زائدبارودی سرنگوںکے پھٹنے کے عمل سے قریبی دیہات کے مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ سرینگر کے پولیس کنٹرول روم میں بھارتی پولیس کا ایک اہلکار حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث چل بسا، جب کہ ضلع اسلام آباد کے علاقے اچھہ بل سے مسرور احمد نامی ایک۳۴ سالہ شخص کی لاش پُراسرارطورپر برآمد کی گئی ہے ۔ 
  • ۱۵جنوری ۲۰۲۶ء: بھارتی انتظامیہ نے بھارتی فوج کی سرپرستی میں قائم ’ویلج ڈیفنس گارڈز‘ (وی ڈی جی) کی خواتین کارکنوں کو رائفلوں سے لیس کرکے ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن اضلاع کےمختلف دیہات کی حفاظت پر مامور کر دیاہے ۔ان خواتین کارکنوں کے مسلسل گشت سے علاقے کے مسلمانوں کو خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ 
  • ۱۹ جنوری ۲۰۲۶ء: ضلع کشتواڑ کے چناب ویلی چھاترو علاقے میں مجاہدین نے ایک کارروائی کے دوران انڈین فوج کی ایک پارٹی پر دستی بموںسے حملہ کیا اور فائرنگ کی ، اس حملے کے نتیجے میں ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر ،ایک حوالدار گجندرسنگھ سمیت کم از کم آٹھ بھارتی فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔ انڈین فوج کے زیرِانتظام ولیج ڈیفنس گروپ (وی ڈی جی) کے ایک رکن نے نوشہرہ علاقے میں مشتبہ نقل و حرکت کو جواز بنا کر بلااشتعال فائرنگ کی، جس سے علاقے میں خوف کی لہر پھیل گئی۔ 

اس نوعیت کے واقعات جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں پے درپے سامنے آتے ہیں، مگر چند ہی واقعات کسی خبر کے ذریعے لوگوں تک پہنچتے ہیں۔