فروری ۲۰۲۶

فہرست مضامین

اُردن میں اخوان پر پابندی کا پس منظر

حافظ محمدعبداللہ | فروری ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

 

۱۹۴۵ء میں اخوان المسلمون اُردن کا آغازمصر کی ایک رفاہی تنظیم کےطور پر رجسٹریشن سے ہوا ۔ اُردن میں اس کے بانی شیخ عبداللہ لطیف ابو قورہ تھے۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ ۱۹۵۳ء میں جماعت کی سرگرمیاں اس وقت مزید بڑھ گئیں جب بطور دینی جماعت اس کو باقاعدہ رجسٹر ڈکر لیا گیا۔ اس کے بعد پارٹی نے رفاہی کاموں اور سیاست میں باقاعدہ حصہ لینا شروع کی۔ شاہ عبداللہ اوّل اور اس کے بعد اُردن کے فرماں روا شاہ حسین بن طلال کے دور میں اخوان المسلمون اور حکومت کے باہمی تعلقات بہتر ہوئے اور بائیں بازو اور عرب قوم پرستوں کے خلاف ایک غیرعلانیہ اتحاد وجود میں آگیا۔ 

حکومت - اخوان المسلمون تعلقات  

حکومت کے ساتھ اخوان المسلمون کا تعلق نشیب و فراز کا حامل رہا ہے۔ ابتدائی چار عشروں میں باہم اس قدر ہم آہنگی رہی کہ اسے غیر علانیہ اتحاد قرار دیا گیا، اور آخری چار دہائیوں میں تعلقات بحرانوں کا شکار ہوتے ہوتے اس قدر خراب ہوئے کہ مارچ ۲۰۲۵ء میں آخرکار حکومت نے اخوان المسلمون پر پابندی عائد کر دی۔ درحقیقت تعلقات میں بگاڑ اس وقت شروع ہوا جب حکومتِ اُردن نے ۱۹۹۱ء میں اسرائیلی قابض ریاست کے ساتھ امن مذاکرات کا آغاز کیا، اور ربع صدی کے بعد اختلاف اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب اخوان المسلمون نے دستور میں ترمیم اور بعض شاہی اختیارات پر قدغن لگانے کا مطالبہ کیا۔ دوسری طرف اردنی حکومت نے اخوان المسلمون کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا۔ جماعت کے اندر باہمی اختلافات کو ہوا دی گئی۔ 

اخوان المسلمون کا سیاسی سفر 

اخوان المسلمون نے ۵۰ کے عشرے کے اوائل سے ہی سیاسی عمل میں حصہ لینا شروع کردیا تھا۔ ۵۴-۱۹۵۱ء کے انتخابات میں اس کے بعض ارکان نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا۔ ۱۹۵۶ءمیں بطور جماعت پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا ،پھر ایک عرصے تک انتخابی میدان سے باہر رہے۔ ۱۹۸۴ءمیں پھر انتخابات میں حصہ لیا اور آٹھ میں سے تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ غرض اب تک کے سیاسی سفر میں جماعت کے کئی ذمہ داران اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔  

 ۱۹۸۹ء میں جماعت نے ’’اسلام ہی حل ہے‘‘ کے نعرے پر انتخاب لڑا اور تاریخی کامیابی حاصل کی۔ ۸۰ میں سے ۲۲نشستیں حاصل کر کے پارلیمنٹ میں نمایاں کردار ادا کرنا شروع کیا، اور جوں جوں اپوزیشن کا لہجہ سخت ہوتا گیا تو اس سے حکومتی شاہی حلقوں میں ایک بار پھر خوف کی لہر دوڑ گئی۔۱۹۸۶ء میں یرموک یونی ورسٹی میں احتجاج ہوئے اور حکومت نے اخوان کے طلبہ قائدین کو گرفتار کر لیا۔ جماعت کے بہت سے اراکین کو ان کی ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا۔ یہ گویا حکومت اور اخوان المسلمون کا پہلا ٹکراؤ تھا۔ 

۹۰ کے عشرے میں ’اسرائیل - اُردن امن مذاکرات‘ شروع ہوئے تو یہ اخوان اور حکومت کے درمیان اختلافات کا مرکزی نکتہ بن گئے۔ اخوان المسلمون اُردن نے شدت کے ساتھ ان مذاکرات کی مخالفت کی اور انھیں حرام تک قرار دیا۔ اُردنی عوام کی آواز بنتے ہوئے اخوان المسلمون نے اسرائیل اُردن امن مذاکرات کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے منظم کیے ۔ یوں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سڑکوں پر،اخوان المسلمون حکومت کی ایسی اپوزیشن بن چکے تھے، جن کا اثر و نفوذ یونینز میں، یونی ورسٹیوں اور مساجد میں ہر جگہ نمایاں تھا۔ریاستی اسٹیبلشمنٹ نے جماعت کے اس اثر و نفوذ سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے اسے محدود کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے شروع کیے۔ 

۱۹۹۲ء میں بیرونی تعلقات رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ اس موقع پر اور اس بحران سےبچنے کے لیے اخوان المسلمون نے ایک سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا نام جبهۃ العمل الاسلامی تھا۔۱۹۹۳ء میں حکومت نے الیکشن قوانین میں مزید ترامیم کیں، جن کا واضح مقصد اخوان المسلمون کے اثر و نفوذ اور پارلیمنٹ میں اس کے وجود کو محدود ترکرنا تھا۔ ۱۹۹۳ء کے انتخابات میں حکومت نے دھاندلی کی اور اخوان کو صرف ۱۷ نشستیں حاصل ہوئیں۔ اس سے اخوان کی صفوں میں حکومت کے خلاف مزید شدت پیدا ہوگئی۔۱۹۹۴ء میں اسرائیل -اُردن امن معاہدہ (معاہدۂ وادی عربہ)وجود میں آیا۔اخوان المسلمون نے پارلیمنٹ میں اس معاہدے کے خلاف ووٹ دیا۔ حکومت کی طرف سے پابندیوں کے باعث اخوان المسلمون نے ۱۹۹۷ء کے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا۔ 

۱۹۹۹ء میں حالیہ شاہِ اردن، شاہ عبداللہ ثا نی برسرِ اقتدار آئے۔ ان کے دور میں اخوان اور حکومت کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات، گویا دائمی اختلاف کی صورت اختیار کرتے چلے گئے۔  اُردن کی حکومت نے حماس کو اپنے دفاتر بند کرنے اور اُردن سے نکل جانے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ اُردن کی آبادی کا بڑا حصہ فلسطینیوں پر مشتمل ہے۔حماس کی جلاوطنی سے اخوان المسلمون کے اندر داخلی طور پر بھی اختلافات پیدا ہوئے۔ 

۲۰۰۱ء سے ۲۰۰۳ءتک حکومت نے پارلیمنٹ برخواست کیے رکھی۔ اس دوران ۲۰۰کے قریب مختلف ایسےآرڈی ننس جاری کیے، جن سے سیاسی عمل اور سیاسی آزادیوں پر قدغن لگی۔ ۲۰۰۴ء میں اخوان المسلمون نے یونینز پر لگنے والی پابندیوں کے جواب میں مظاہروں کی قیادت کی۔ 

۲۰۰۶ءمیں حکومت نے اخوان المسلمون کے عوامی بہبود کے سب سے بڑے ادارے جمعیۃ المرکز الاسلامی پر پابندی عائد کردی۔ ۲۰۰۷ء کے بلدیاتی انتخابات میں اخوان نے حصہ لیا، لیکن پولنگ کے آغاز کے دو ہی گھنٹے بعد دھاندلی کا الزام لگا کر بائیکاٹ کر دیا۔ ۲۰۰۷ء کے قومی انتخابات میں بھی اخوان نے حصہ لیا، لیکن صرف چھ نشستیں حاصل ہوئیں۔اس کے بعد اخوان نے سیاسی اصلاحات، دستوری ترامیم اور پارلیمنٹ کے اختیارات میں اضافے پر اپنی پوری سیاسی توجہ مرکوز کر لی، اور ان مقاصد کے حصول کے لیے بائیں بازو کی جماعتوں اور قوم پرست جماعتوں سے بھی گفت و شنید کی۔ ۲۰۱۰ء کے انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا گیا کہ پابندیاں برقرار تھیں ۔ 

۲۰۱۱ء میں ربیعِ عربی (عرب بہار) کا آغاز ہوا۔ حکومت نے عوامی احتجاج سے بچنے کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی قائم کر دی، تاہم اخوان المسلمون نے کمیٹی میں شرکت کرنے سے انکار کرتے ہوئے دیگر اپوزیشن پارٹیوں اور قبائلی قوتوں کے ساتھ مل کر ایک اتحاد بنایا، اور دستور میں وسیع ترترامیم اور ملک میں سیاسی و اقتصادی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ اتحاد کے اہم مطالبات درج ذیل تھے: پارلیمنٹ کی تشکیل و برخاست کے شاہی اختیارات کو دستوری ترمیم کے ذریعے ختم کیا جائے، پارلیمنٹ کو حکومت کے چناؤ میں زیادہ اختیار حاصل ہو، سینیٹ میں نامزدگی کے بجائے اس کابھی انتخاب ہو ، اینٹی کرپشن قوانین بہتر بنائے جائیں، اور انتخابی قانون کو یکسربدلا جائے۔ 

 پٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر حکومت کے خلاف احتجاج ہوا جو پورے ملک میں پھیل گیا ۔ شدید احتجاج کے جواب میں شاہ عبداللہ دوم نے انتخابی قوانین میں ترمیم اور دیگر اصلاحات متعارف کرائیں۔ اخوان المسلمون نے انتخابی قوانین میں ترمیم کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ۲۰۱۳ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ 

۲۰۱۴ء میں اخوان المسلمون نے اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے ایک احتجاج منظم کیا جو پُرتشدد ہوگیا اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اور گرفتاریاں ہوئیں۔ حکومت کے ساتھ تعلقات میں اس وقت بدترین موڑ آیا جب ۳۱؍ افراد کو اُن انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا جو اسرائیل نے فراہم کی تھیں۔ علاوہ اَزیں نائب مرشدِ عام زکی ارشید کو ڈیڑھ سال تک جیل میں رکھا گیا کہ انھوں نے متحدہ عرب امارات کے خلاف بیان دیا ہے۔ 

اخوان المسلمون کے اندرونی اختلافات 

اس سارے سفر میں اخوان المسلمون اختلافات کا شکار بھی ہوئی ۔ دو رائے کے حاملین تو ہمیشہ سے ہی اخوان المسلمون کا حصہ رہے ہیں، جنھیں کبھی عقاب (یعنی سخت موقف والے) اور فاختاؤں (نرم موقف والے)سے تشبیہ دی جاتی رہی۔ فاختائی دھڑے کا کہنا تھا کہ دیگر سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلا جائے اور مقامی مسائل کی سیاست کو اولیت دی جائے، جب کہ عقابی دھڑے کے زیادہ تر افراد کا تعلق چونکہ فلسطین سے تھا، اس لیے ان کا اصرار تھا کہ فلسطین ایشو کو اخوان المسلمون کی سیاست میں اوّلیت دی جائے کہ اُردن کی بڑی آبادی فلسطینی نژاد ہے۔ 

۲۰۱۲ء میں فاختائی دھڑے کا مطالبہ سامنے آیا کہ اخوان المسلمون (مصر) سے قطع تعلق کر لیا جائے، اور پھر ۲۰۱۴ء میں اسی گروپ نے اخوان المسلمون کی تنظیمی قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ اختلاف بڑھا تو ۲۰۱۵ء میں جماعت کو اپنے ۱۰؍ اراکین کی رکنیت منسوخ کرنی پڑی، جن میں ایک نمایاں ترین نام عبدالمجید ذنیبات کا بھی تھا۔ایک ماہ کے اندر اندر علیحدہ کیے جانے والے اراکین نے جمعیت اخوان المسلمون کے نام سے الگ جماعت کی بنیاد رکھی، جس کی سربراہی عبدالمجید ذنیبات کر رہے تھے۔ حکومت ِ اُردن نے ان باہمی اختلاف کو اور ہوا دی۔ اور نئی قائم ہونے والی ’جمعیت اخوان المسلمون‘ کو اُردن میں اخوان المسلمون کا قانونی وارث قرار دیتے ہوئے باقاعدہ رجسٹر کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے اخوان المسلمون کی ملٹی ملین ڈالر مالیت کی سات املاک پر قبضہ کر لیا اور انھیں ’جمعیت اخوان المسلمون‘ کے نام کر دیا۔ اور باقاعدہ اعلان کردیا کہ جماعت اخوان المسلمون کو عوامی سطح پر کوئی سرگرمی نہیں کرنے دی جائے گی۔ 

۲۰۱۵ءکے آخر میں جماعت میں ایک اور اختلاف در آیا جب ’جبھۃ العمل الاسلامی‘ کے ۴۰۰؍ اراکان نے استعفا دے دیا، ان میں اخوان المسلمون کے چند نمایاں رہنما بھی شامل تھے۔ علیحدہ ہونے والے اراکین نے ۲۰۱۶ء میں نہ صرف نئی سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی بلکہ علی الاعلان اخوان المسلمون کے نظریات سے لاتعلقی کا بیان بھی دیا۔ 

اخوان المسلمون نے اس عرصے میں عوامی امنگوں کے قریب تر رہتے ہوئے اور مقتدر حلقوں کے ساتھ افہام و تفہیم کا آغاز کیا۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ اخوان المسلمون مصر کے ساتھ لاتعلقی کا اعلان کیا، لیکن حکومت نے جماعت پر لگائی ہوئی پابندی نہیں ہٹائی، نیز حکومت نے جماعت کو اس کے اندرونی تنظیمی انتخابات کے انعقاد سے روک دیا اور اس کے مرکزی دفتر کو بھی سیل کر دیا۔ جماعت نے حکومتی پابندی کے باوجود اپنی دعوتی اور سماجی سرگرمیاں جاری رکھیں اور اس طرح جبھۃ العمل الاسلامی کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔جبھۃ العمل الاسلامی  نے ریاستی کارفرماؤں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کی، نیز علاقائی اور داخلی چیلنجوں سے نمٹنے میں بھی مستعدی دکھائی۔سیاسی موقف اور اپنے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کی۔ اب اس کا سیاسی موقف ’اسلام ہی حل ہے‘ کے بجائے سویلین اداروں کی ترقی اور شہریوں کے عزت و وقار کی بحالی بن گیا۔ نیز اس جبھۃ نے اپنے انتخابی پروگرام میں اندرونی ملکی مسائل کو موضوع بنایا۔ ممبرشپ عیسائیوں اور خواتین کے لیے بھی کھول دی گئی اور نوجوانوں کا کردار مؤثر بنایا گیا۔ 

۲۰۱۶ء کے انتخابات میں اخوان المسلمون کے بنائے ہوئے اتحاد ’نیشنل الائنس برائے اصلاح‘ نے ۱۵ نشستیں جیت لیں، جب کہ حکومت کی حمایت یافتہ جمعیۃ الاخوان کے حصے میں صرف ایک نشست آئی، اور وہ بھی اس لیے کہ انھوں نے نیشنل کانفرنس کی فہرست پر الیکشن لڑا تھا۔ 

۲۰۱۹ء میں ایک بار پھر تعلقات میں اس وقت دراڑ آئی جب حکومت نے اساتذہ کے احتجاج کا الزام اخوان پر لگایا۔ ۲۰۲۰ء میں عدالتی حکم کے ذریعے اخوان المسلمون کو تحلیل کرنے اور اس کے تمام اثاثہ جات ضبط کرنے کا فیصلہ صادر ہوا، البتہ جبھۃ العمل الاسلامی، جو جماعت کا سیاسی ونگ تھا، کو کام کرنے کی آزادی حاصل رہی۔ 

۲۰۲۲ء کے انتخابات میں جبھۃ العمل الاسلامی نے آٹھ نشستیں جیت لیں، البتہ انتخابی دھاندلی کی بنا پر بلدیاتی اور یونین انتخابات کا بائیکاٹ کیا گیا۔ ۲۰۲۳ء میں طوفان الاقصیٰ کے بعد جماعت اخوان المسلمون نے اسرائیل سے تعلقات پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے دھرنا دیا، اور الیکشن میں جبھۃ العمل الاسلامی ۳۱ پارلیمانی نشستیں جیت کر موجودہ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت سے اُبھری۔ 

دوسری طرف اپریل ۲۰۲۵ء میں حکومت نے ۱۶؍ افراد کو میزائل اور ڈرون تیار کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا اور کہا کہ ’یہ لوگ اُردن کے اندر سیکیورٹی تنصیبات پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے‘۔ ۲۰؍اپریل ۲۰۲۵ء کو حکومت نے اخوان المسلمون کو کالعدم قرار دے دیا، اور اخوان کے افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت کو غیر قانونی قرار دے دیا۔