فروری ۲۰۲۶

فہرست مضامین

اسلامی اقتصادیات: سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کی نقیض

ڈاکٹر اَسعدزمان | فروری ۲۰۲۶ | نظامِ حیات

Responsive image Responsive image

ترجمانُ القرآن کے قارئین کے لیے ہم اسلامی اقتصادیات کے جدید مباحث پر مبنی ایک اہم علمی سلسلہ پیش کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں ممتاز ماہر معاشیات اور معروف مصنف ڈاکٹر اسعد زمان کی کاوش پیش کی جارہی ہے۔ انھوں نے امریکا کی ممتاز جامعات میں تعلیم حاصل کی، ۲۲ برس کی عمر میں پی ایچ ڈی مکمل کی، اور پندرہ برس تک وہاں اعلیٰ سطح پر تدریس و تحقیق سے وابستہ رہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنا علمی رُخ اسلامی دنیا کی طرف موڑا۔ ابتدا میں ترکیہ میں خدمات انجام دیں۔ ۲۰۰۲ء میں بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد سے وابستگی کے بعد ان کی علمی کاوشیں بالخصوص اسلامی معاشیات کے میدان میں نمایاں طور پر سامنے آئیں۔ ان کی تصانیف و مقالات وسیع پیمانے پر شائع ہو چکے ہیں، اور دنیا کے مختلف تعلیمی اداروں میں اسلامی معاشیات کے نصابی مطالعہ اور علمی مباحث میں ان کے کام سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ مؤلف کی کتاب: Islamic Economics: The Polar Opposite of Capitalist Economics اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے اسلامی معاشیات کی سمت طے کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ 

اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اسلامی معاشیات کو محض چند مالی احکام یا بنکاری کے چند ظاہری تبدیلیوں تک محدود نہیں کرتی، بلکہ اسے انسان، معاشرہ، مقصدِ زندگی، اجتماعی ذمہ داری اور ادارہ سازی کے بڑے سوالات کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہی زاویہ آج اُردو دان قارئین کے لیے بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں معیشت کے غالب ادارے، تعلیمی سانچے، اور پالیسی کے پیمانے زیادہ تر غیر اسلامی فکری بنیادوں پر استوار ہیں۔ ایسے میں اصلاح کی کوئی سنجیدہ کوشش اسی وقت نتیجہ خیز ہو سکتی ہے جب وہ موجودہ بندوبست کو سمجھتے ہوئے متبادل راستہ دکھائے۔ 

زیر نظر کتاب ترکی، بنگالی اور انڈونیشی زبان میں ترجمہ ہو چکی ہے اور مختلف ملکوں میں وسیع حلقوں تک پہنچ چکی ہے۔ اردو ترجمہ اسی عالمی تسلسل کی اگلی کڑی ہے تاکہ وہ قارئین بھی براہِ راست اس بحث میں شریک ہو سکیں، جن کی علمی و فکری زبان اردو ہے اور جن کے سامنے جدید معاشی چیلنج روز بروز زیادہ شدت سے آ رہے ہیں۔ 

ہمیں امید ہے کہ یہ سلسلہ نہ صرف قاری کو اسلامی معاشیات کے بنیادی مباحث سے روشناس کرائے گا، بلکہ سنجیدہ فکری مکالمے کے نئے دروازے بھی کھولے گا۔ خصوصاً اس پہلو سے کہ جدید مغربی معاشی فکر کن تاریخی ضروریات کے تحت بنی، اور اسلامی روایت اس کے مقابل کس نوع کی متبادل راہیں پیش کرتی ہے؟ [مدیر] 


مقدمہ 

۱- اسلامی اقتصادیات : دو مخمصے  

’اسلامی اقتصادیات‘ سے کیا مراد ہے؟ اس سادہ سے سوال نے پریشان کن حد تک مختلف اور متنوع جوابات کو جنم دیا ہے۔ ایک حالیہ جائزے کے مطابق مختلف اہلِ علم نے اس کی ۳۰سے زائد تعریفات پیش کی ہیں۔ جب ہم اس میدان کے عملی مظاہر، یعنی نصابی کتابوں، یونی ورسٹیوں کے نصابات، علمی کانفرنسوں اور ادارہ جاتی پالیسیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو تشویش اور ابہام مزید بڑھ جاتا ہے۔ ان تمام تعریفات میں اگر کوئی قدرِ مشترک ہے تو وہ یہ مفروضہ ہے کہ اسلامی معاشیات کی ابتدا مغربی معاشی نظام کے قائم کردہ مناہج و معیارات سے ہونی چاہیے، اور اس کے بعد کچھ اسلامی اصولوں، اصطلاحات یا مقاصد کے انضمام اور کچھ مغربی اصطلاحات کی قطع و برید کے بعد اسی نظام کو ’مشرف بہ اسلام‘ کر دیا جائے۔ 

یہ کتاب اسی عمومی مفروضے کو کلیتاً رَد کرتی ہے۔ کتاب کا عنوان: اقتصادیاتِ اسلام: سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کی نقیض اس مقدمے کا خلاصہ ہے کہ اسلام اور سرمایہ داری انسانی مقصدِ حیات، عدلِ اجتماعی اور معاشی زندگی کے اخلاقی اصولوں کے بارے میں ایک دوسرے سے بالکل متناقض تصورات رکھتے ہیں۔ چنانچہ جب تک سرمایہ دارانہ نظام کے دائرے میں رہتے ہوئے اسلامی معاشیات کی توضیح کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں گی، تب تک اس کا نتیجہ تضادات، سمجھوتوں اور فکری انتشار کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ اس بات سے یہ بھی سمجھ آ جانا چاہیے کہ : 

اتنی متضاد تعریفات کیوں پائی جاتی ہیں اور کیوں ابھی تک کسی حتمی تعریف تک نہیں پہنچا جاسکا؟ 

دوسرا حل طلب معما یہ ہے کہ ’اسلامی‘ معاشیات کا آغاز آخر ہوا کیسے؟ ایک ایسا علم جو بیسویں صدی میں پہلی مرتبہ سامنے آیا، اور جس کی اسلامی روایت میں کوئی مثال نہیں ملتی اسے ’اسلامی‘ کیسے کہا جا سکتا ہے؟ فقہ، تفسیر اور کلام جیسے روایتی علوم طویل اور مسلسل ارتقائی تاریخ رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس دورِ جدید میں اسلامی معاشیات کا ظہور، نوآبادیاتی پس منظر اور مغرب کی معاشی بالادستی کے ردعمل میں ہوا۔ کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اصل میں صرف ایک جدید علمی ایجاد یا تخلیق ہے، جسے مذہبی لبادہ پہنا دیا گیا ہے؟ یا کوئی ایسی گہری علت موجود ہے جس کی بنا پر اسے ’اسلامی‘ کہنا درست قرار دیا جا سکتا ہے؟ 

یہ انھی دونوں گتھیوں کو سلجھانے کے لیے لکھی گئی ہے۔ مرکزی استدلال یہ ہے کہ اسلامی معاشیات، سرمایہ دارانہ نظام کی کوئی ترمیم شدہ صورت نہیں، بلکہ بالکل جداگانہ معاشی تصور کی تشکیل کا نام ہے، ایک ایسا تصور جو شریعت کے ابدی اصولوں پر بھی قائم ہواور عصرِ حاضر کی ضروریات کے مطابق اجتہادی بصیرت سے بھی مزین ہو۔نیز کتاب یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اسلامی معاشیات کا بیسویں صدی ہی میں منظرِ عام پر آنا کوئی نقص نہیں بلکہ اسلام کی ابدی صلاحیتِ اجتہاد کا بیّن ثبوت ہے۔ وہ صلاحیت جس کے ذریعے وحی کی رہنمائی ہرزمانے کے بدلتے حالات میں قابلِ اطلاق رہتی ہے۔ زیرِ نظر تمہید کے بقیہ حصے میں اسی مدعا کو معقول دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ 

۲- غیر متبدل اصول اور زمانی و مکانی حقائق، اسلامی تناظر میں  

اپنے ابتدائی دنوں ہی میں اسلام نے یہ عظیم اصول بتلا دیا تھا کہ ’الٰہی ہدایت ابدی ہے، مگر اس کا اطلاق ہمیشہ بدلتے ہوئے زمان و مکان کے مطابق ہوگا‘۔ قرآن و سنت عدل، امانت، رحمت اور مساوات جیسے غیر متبدل اصول فراہم کرتے ہیں، مگر ان اصولوں پر عمل درآمد کی صورتیں ہمیشہ معاشرتی حالات، تکنیکی کیفیات اور تاریخی سیاق و سباق کے مطابق بدلتی رہی ہیں۔ 

مثال کے طور پر مسلم معاشرے کے دفاع کے مسئلہ کو دیکھیے ۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس کا مطلب گھڑ سواری، تیراکی اور تیراندازی جیسے فنون میں مہارت تھا۔ بعد کے ادوار میں اسی ذمہ داری کا تقاضا آتشیں اسلحے اور بحری طاقت میں مہارت ہوگیا۔ آج کے دور میں اس کے ذیل میں سائبر سکیورٹی، خلائی انجینئرنگ، معاشی استحکام اور بین الاقوامی قانون جیسے شعبے داخل ہو چکے ہیں۔ اصول (دفاع کی ذمہ داری) ایک ہی رہا، مگر صورتیں بدلتی رہیں۔ غیر متبدل اقدار اور متبدل حالات کے اسی تعلق نے اجتہاد کو اسلامی روایت کا نہ صرف جائز بلکہ لازمی جزو بنادیا۔ 

یہ اصول معاشی زندگی پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے۔ شریعت نے معاشی عدل کے بہت واضح معیارات قائم کیے ہیں: سود کی حرمت، زکوٰۃ کی فرضیت، عقود کی پاسداری، دولت کی مسؤلیت اور محنت و مزدوری کا احترام۔ لیکن ان اصولوں کے عملی اطلاقات (ادارے، قوانین، پالیسیاں) ہمیشہ ہر دور کے معاشرتی، سیاسی اور تکنیکی حالات کے مطابق تشکیل پاتے ہیں۔ 

اسلامی تاریخ ایسے اجتہادی ارتقا سے بھری پڑی ہے۔دورِ خلافت کی متنوع مالیاتی پالیسیاں، اوقاف کی ترقی یافتہ صورتیں، منڈیاں اور حکومتی محاصل کے ضابطے، یہ سب اس امر کی زندہ مثالیں ہیں کہ مسلمانوں نے ہمیشہ ابدی اصولوں کو اپنے زمانے کے نئے تقاضوں اور حالات کے مطابق برتا۔فقہاء اس اصول کی تعبیر یوں کرتے ہیں : تتغیر الفتویٰ بتغیر الزمان والمکان،یعنی زمان و مکان کے بدلنے سے فتویٰ بدل جاتا ہے ۔ چنانچہ عدل کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کو روحِ عصر کے ساتھ سمجھا اور برتا جائے۔ 

یہی علمی و عملی شعور ہمارے مرکزی استدلال کی اساس ہے۔ عہدِ حاضر میں مسلمان ایسے معاشی مسائل کا شکار ہیں جن کی نوعیت نہایت گنجلک، ہمہ گیر اور ماضی سے یکسر مختلف ہے: ریاستیں اور خاندان قرض کے جال میں جکڑے ہوئے ہیں، مہنگائی میں اضافے اور کرنسی کی قدر میں مسلسل گراوٹ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے ، بنکاری نظام قرض کی بنیاد پر پیسے کی تخلیق کے ذریعے معیشت کو غیر فطری سمت میں دھکیل رہا ہے، اور عالمی مالیاتی اداروں کی عائد کردہ شرائط کے تحت قومی پالیسیاں تشکیل پا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ اجارہ داریوں کا پھیلاؤ، میڈیا اور اشتہارات کے ذریعے خواہشات کی صنعت کا فروغ، اور محنت کش انسان کی قدر و منزلت کی پامالی نئی اور زیادہ پیچیدہ صورتوں میں سامنے آ رہی ہے۔ ان مسائل کا جواب مروجہ جدید نظاموں کی اندھی تقلید میں ہے، نہ ماضی کے کسی جامد تصور کی ہوبہو نقالی میں۔ صائب راستہ یہی ہے کہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں معاشی معیارات پر از سرِ نو غور و فکر کیا جائے اور پھر ان کی بنیاد پر ادارے اور پالیسیاں وضع کی جائیں۔اسلامی معاشیات کی ذمہ داری اسی کارِ خیر کو انجام دینا ہے ۔ 

۳-  تاریخی تجربات اور معاشرتی نظریات کی تشکیل 

خیالات کبھی خلا میں جنم نہیں لیتے۔ معاشرتی نظریات خواہ ان کا تعلق معاشیات سے ہو، سیاست سے یا قانون سے زمان و مکان سے بے نیاز مجرد صداقتیں نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی تاریخی مسئلے کے جواب کے طور پر سامنے آتے ہیں، جنھیں مفکرین اپنے عہد کے فکری، سماجی اور اخلاقی بحرانوں سے نبرد آزما ہو کر وضع کرتے ہیں۔ کسی نظریے کو اس کے شانِ نزول سے کاٹ کر سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے سوال سنے بغیر ہی جواب سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ 

جس طرح اسلامی روایت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم ابدی اصولوں کو اجتہاد کے ذریعے بدلتے حالات پر منطبق کریں، بالکل اسی طرح دیگر فکری روایات کو بھی ان کے تاریخی پس منظر کے ساتھ سمجھنا ناگزیر ہے۔ جب کسی نظریے کے نتائج کو ماورائے تاریخ ’آفاقی صداقت‘ سمجھ لیا جائے، گویا وہ کسی تاریخی تجربے کے بجائے عقلِ محض سے مستنبط ہوں، تو نہ صرف اس نظریے کی تفہیم مسخ ہوجاتی ہے بلکہ خود وہ مسئلہ اور وہ زمانہ بھی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے، جس کے جواب میں وہ نظریہ وجود میں آیا تھا۔  

اسی اصول کا اطلاق جدید مغربی معاشی فکر پر بھی ہوتا ہے۔یہ فکر کسی ماورائے زمان و مکان ’عقلِ محض‘ کی ریاضت کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ یورپ کی مخصوص مذہبی کشاکش اور اس کے بعد ’تحریکِ تنویر‘ (Enlightenment Movement)کے فکری ماحول میں بتدریج تشکیل پائی۔ اس دور میں یہ رجحان مضبوط ہوتا چلا گیا کہ ’مذہب کو محض ایک نجی معاملہ قرار دے کر‘ اجتماعی اور معاشی نظمِ حیات سے الگ کر دیا جائے۔ اسی تاریخی تناظر میں، جیسا کہ آر ایچ ٹاؤنی جیسے مؤرخ نے اپنی کتاب  Religion and the Rise of Capitalismمیں واضح کیا ہے ’’معاشی سرگرمیوں کے اخلاقی پیمانے بدلنے لگے: نفع، سود اور دولت کی اندھی دوڑ کو رفتہ رفتہ ’جواز‘ فراہم کیا گیا، اور اُخروی جواب دہی کے تصورات عملی زندگی سے دور ہوتے چلے گئے‘‘۔ 

کارل پولانی کی کتاب The Great Transformation:Economic and Political Origins of Our Times کے مطابق، جب معیشت کو معاشرت سے کاٹ کر ایک خودمختار منڈی کے سانچے میں ڈھالا گیا، تو انسان اور سماج کے مقاصد بھی عملاً محض دنیاوی کامیابی تک محدود ہوگئے، یعنی طاقت، دولت اور خواہشات کی تسکین۔ اگر اس پورے تاریخی پس منظر کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہی عارضی اور مخصوص مفروضے ’آفاقی سچائیوں‘ کے رُوپ میں نظر آنے لگتے ہیں۔ یہی رویہ مغربی معاشی فکر کی درست تفہیم میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے،اور اس کے متبادل نظریات کی تشکیل کے راستے میں بھی ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ 

بدقسمتی سے یہ تاریخی بے بصیرتی آج مغرب اور مسلم دنیا دونوں میں عام ہو چکی ہے ۔ البتہ اس کے اسباب دونوں جگہ مختلف ہیں۔ مغرب میں ’تحریکِ تنویر‘ کے فکری رہنمائوں نے علم کو شعوری طور پر الٰہیات سے کاٹنے کی کوشش کی۔عقل کو خودمختار، غیر جانب دار اور تمام تاریخی و مذہبی قیود سے بالاتر قرار دیا گیا۔ اسی دعوے نے ’سماجی علوم کی معروضیت‘ کے نئے تصور کو جنم دیا۔ ’آفاقیت پرستی‘ کے نظریے کی ترویج سے جدید مغربی تعقل کو ایسی بالادستی حاصل ہوگئی کہ مغربی نظریات اب محض نظریات نہ رہے، بلکہ ایسی آفاقی صداقتوں کے قالب میں پیش کیے جانے لگے جو ہر عہد کے ہرشخص پر یکساں لاگو ہوں۔ 

اسلامی تعلیمات کی آفاقیت اپنی جگہ مسلّم ہے، مگر اس آفاقیت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم ہردور میں ان تعلیمات کے عملی نفاذ کے وسائل سے بخوبی آگاہ ہوں۔ مثال کے طور پر قرآن و سنت بار بار بھوکوں کو کھانا کھلانے اور محتاجوں کی کفالت کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ حکم ابدی ہے، لیکن آج اس کو مؤثر طور پر پورا کرنے کے لیے زراعت، آبپاشی، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، طلب اور رسد، اور جدید پیداواری تکنیکوں کا فہم ضروری ہے، ورنہ نیک نیتی کے باوجود غربت و افلاس کا مسئلہ برقرار ر ہے گا۔ اسی طرح سود، زکوٰۃ، اور مالی معاملات سے متعلق شرعی اصول بھی ابدی ہیں،مگر ان کے اطلاق کے لیے جدید کرنسی، بنکاری اور مالیاتی نظام کی ساخت کو سمجھے بغیر کوئی بامعنی پیش رفت ممکن نہیں۔شرعی اصولوں کی آفاقیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ماضی کی جزئیات کو من و عن حال پر چسپاں کیا جانے لگے ، وگرنہ تصورِ اجتہاد ایک بے معنی شے بن کر رہ جائے گا۔  

خلاصہ یہ کہ آفاقیت کا غلط تصور جہاں جدید علوم کے فہم میں خرابی کا باعث بنتا ہے ، وہیں اسلامی علوم کے ناقص یا غیر صائب اطلاق کا سبب بھی بن سکتاہے ۔ اسی لیےعلوم کے تاریخی ارتقا سے واقفیت اَزبس ضروری ہے ۔  

دینی اور دُنیاوی تعلیم کی تقسیم: ایک رکاوٹ 

یہ وہ مرحلہ ہے جہاں آ کر ہمارا موجودہ تعلیمی نظام بھی ایک گہرا اور عملی خلا پیدا کرتا ہے۔ مسلم دنیا میں تعلیم کی تقسیم نے دینی مدارس اور یونی ورسٹیوں کو دو متوازی بلکہ بالکل منقطع راستوں پر ڈال دیا ہے، جس کا سب سے گہرا اثر اسلامی معاشیات جیسے بین العلومی (interdisciplinary) میدان پر پڑتا ہے۔مدارس کے طلبہ کو شرعی اصولوں، فقہی قواعد اور اخلاقی تصورات سے واقفیت کے بھرپور مواقع میسر آتے ہیں، مگر جدید معاشی نظام، اس کی ادارہ جاتی ساخت اور بنیادی مفروضات ان کے سامنے اکثر مبہم رہتے ہیں۔جدید نظامِ زر و بنکاری کی حقیقت سے بھی وہ زیادہ آگاہ نہیں ہوتے۔ نتیجتاً ان میں وہ صلاحیت ہی پیدا نہیں ہوتی کہ وہ علم معاشیات کی آفاقیت کے دعوے کو علمی طور پر پرکھ سکیں اور اس کے تاریخی و اخلاقی پس منظر کوجانچ سکیں ۔  

دوسری طرف جدید یونی ورسٹیوں کے طلبہ جدید معاشیات کی تکنیکی تربیت تو حاصل کر لیتے ہیں، مگرشرعی علوم سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں۔مزید برآں یونی ورسٹیوں میں مغربی سماجی علوم ، بالخصوص معاشیات ، جس اسلوب میں پڑھائے جاتے ہیں،وہ مسئلے کو اور پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ سماجی علوم بشمول علم معاشیات چونکہ طبیعی سائنس کی ہیبت و ہیئت میں پروان چڑھے ہیں، اس لیے ان کے دعوؤں کو بھی اکثر طبیعیات کی طرح چند غیر متبدل قوانین کے قالب میں پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ طلب و رسد جیسے اصول بھی اس انداز میں پڑھائے جاتے ہیں گویا وہ کششِ ثقل کے قانون کی طرح ہرحال میں یکساں ہوں، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قواعد، مخصوص سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت سے وابستہ ہیں۔ جہاں منڈی کی جگہ منصوبہ بندی، یا سرکاری نرخ آ جائیں، وہاں یہ ’قوانین‘ اپنی وہ شکل برقرار نہیں رکھ پاتے، جو کتابوں میں بطور آفاقی حقیقت پیش کیے جاتے ہیں۔ اس طرزِ تعلیم کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طلبہ اس علم کے مفروضات کو غیر متبدل اور اٹل حقائق سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ سو ان پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔  

یوں دونوں تعلیمی دھاروں میں الگ الگ مگر عمیق فکری خسارے جنم لیتے ہیں۔ مدارس میں جدید معاشی علم کی تاریخی اور ادارہ جاتی تفہیم کمزور رہتی ہے، اور یونی ورسٹیوں میں اخلاقی و شرعی بنیادوں سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں وہ دوہری بصیرت جو جدید اسلامی معاشیات کی تفہیم اور تشکیل کے لیے ناگزیر ہے، شاذ ہی پیدا ہوتی ہے۔ 

 اسلامی معاشیات کی ضرورت اسی مقام پر پوری شدت سے سامنے آتی ہے۔ یہ جدید معاشی علم کو سمجھ کر اس کے آفاقیت کے دعووں کی حدیں متعین کرتی ہے، ان کے تاریخی اور اخلاقی پس منظر کو بے نقاب کرتی ہے، اور پھر قرآن و سنت کی روشنی میں وہ اصولی اور عملی سوالات اٹھاتی ہے، جن کے بغیر ’جدید اسلامی معیشت‘ کی صورت گری ممکن نہیں۔ یوں اسلامی معاشیات محض ایک اضافی مضمون نہیں، بلکہ ایک ناگزیر فکری پل ہے، جو ابدی اسلامی اصولوں اور بدلتے ہوئے معاشی حقائق کے درمیان ربط قائم کرتا ہے۔ 

۴-مغرب کا تصورِ آفاقیت اور اس کی تاریخی بنیادیں 

یہ سوال اہم ہے کہ مغربی فکر نے اپنے سماجی نظریات کو آفاقی صداقتوں کے طور پر کیوں اور کیسے پیش کرنا شروع کردیا؟ ان نظریات کے اندر ایسی کیا خصوصیت تھی کہ انھیں سب انسانوں کے لیے ہر زمانے میں قابلِ اطلاق سمجھ لیا گیا؟ اس کا جواب نظریات کے مواد میں نہیں بلکہ ان تاریخی حوادث میں پوشیدہ ہے، جن کے جواب میں یہ فکر پیدا ہوئی۔ 

یورپ میں صدیوں پر محیط مذہبی تنازعات کے بعد، اہلِ تنویر نے یہ جستجو شروع کردی کہ علم، اخلاق اور سیاسی اقتدار کی بنیاد وحیِ الٰہی کے سوا کسی اور چیز پر استوار کی جائے۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کی بے مہار جنگیں، کلیسائی ادارۂ تفتیش و تعزیر (Inquisition) کا ظلم و عدوان، اور فرقہ وارانہ سیاست کا انتشار اُس مہیب اور تاریک تجربے کا حصہ تھے، جس نے یورپی اذہان پر گہرے اثرات چھوڑے۔ ان حالات میں یورپ کے دانشوروں نے یہ حل تجویز کیا کہ معرفت، اخلاق اور اقتدار کی بنیاد وحی کے بجائے عقل پر رکھی جائے، ایسی عقل جو ’عالم گیر‘ ہو، ’معروضی‘ ہو، اور مذہب سے مکمل طور پر آزاد ہو۔یہ کوئی غیر جانب دار دریافت نہیں تھی، بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی کہ مذہب، جو اجتماعی زندگی کے لیے مشعلِ راہ ہوا کرتا تھا، اسے بے دخل کر کے ایک ایسے علم کو منصبِ امامت پر فائز کر دیا جائے جو بظاہر غیر جانب دار اور عالم گیر ہو۔ 

ڈیکارٹ کو جدید مغربی فلسفے کا بانی کہا جاتا ہے۔ اس کے افکار ایک مخصوص تاریخی بحران کا جواب تھے۔ اُس دور میں یورپ میں اسلامی تہذیب سے آنے والی علمی و سائنسی میراث نے طبیعی سائنس کو نئی سمتیں عطا کیں، مگر کلیسا کی کڑی نگرانی اور بے جا احتساب کی وجہ سے اہلِ علم کی فکری آزادی تب بھی خطرے میں تھی۔ اس خطرے سے مستقل طور پر خلاصی کے لیے ڈیکارٹ نے یہ راستہ نکالا کہ ’یقینی علم‘ کی بنیاد وحی یا روایت پر نہیں بلکہ ’عقلِ عام‘ (Common Sense) پر رکھی جائے تاکہ فرد تنِ تنہا اپنی دلیل سے آفاقی سچائی تک پہنچ سکے، اور علم کو کلیسا کی گرفت سے ایک محفوظ دائرہ مل جائے۔ وقت کے ساتھ اسی تصور نے اس تقسیم کو مضبوط کر دیا کہ ایک طرف ’دینی علم‘ ہے جس کا تعلق بس ایمان اور عبادات کے ساتھ ہے، اور دوسری طرف ’دُنیوی علم‘ ہے، جس کا دائرہ سیاست، معیشت اور سائنس پر محیط ہے۔دنیوی علم عقلِ انسانی کا خود مختار میدان قرار پایا۔ یہی دوئی(dichotomy) آگے چل کر سیکولر فکر کی بنیاد بنی، جہاں اجتماعی زندگی کے بڑے فیصلے مذہبی رہنمائی کے بجائے ’غیرمذہبی‘ عقل اور تجربے کے حوالے کر دیے گئے۔ 

اس طرح وہ نظریہ جو محض یورپ کے اپنے داخلی انتشار کے حل کے طور پر سامنے آیا تھا، تدریجاً اسے ’آفاقیت‘ کی سند مل گئی، یعنی جو مسئلہ یورپی تھا، وہ ’انسانی‘ بن گیا۔مغربی تعلیم اور پالیسی ساز اداروں کی ساکھ ہی اس تصور پر استوار ہوگئی کہ علم، خاص کر سماجی علوم، ’قدر سے عاری‘ اور ’معروضی‘ ہونے چاہییں۔ نوآبادیاتی استعمار نے پھر اس نظریے کی ترویج کی، اور مغربی تعلیمی نظام کے ذریعے دنیا کے چپے چپے پر اس فکر نے اپنے پنجے گاڑ دیے۔ خصوصاً معاشیات کو ایک تکنیکی سائنس کے طور پر پڑھایا گیا، یعنی ایسی سائنس جو ماورائے زمان، تہذیب و ثقافت کی قیود سے آزاد اور آفاقیت کی حامل ہے۔ 

لیکن یہ محض ایک دعویٰ اور بے بنیاد مفروضہ ہے، علمی حقیقت نہیں۔ مغربی معاشی و سماجی نظریات کے رَگ و پَے میں جو بنیادی مفروضات سرایت کیے ہوئے ہیں، جیسے انسانی خودغرضی، لذت پسندی، عقل پرستی، بے محابا مقابلہ، اور ریاست کا مخصوص کردار، یہ سب یورپ کے مخصوص اخلاقی و سیاسی تجربات کی پیداوار ہیں، نہ کہ انسانیت کی آفاقی فطرت کے یقینی حقائق۔ انھیں ’آفاقی‘ بنا کر پیش کرنے کے پیچھے خود ایک تاریخی ضرورت کارفرما رہی۔ ابتدا میں یہ دعویٰ اس لیے مفید تھا کہ نئی سائنسی و فکری کاوشوں کے لیے کلیسا کی نگرانی سے پرے ایک محفوظ میدان میسر ہو۔ بعد کے دور میں یہی دعویٰ نوآبادیاتی نظام کے لیے بھی نہایت کارآمد ثابت ہوا۔ یورپی فکر کو ’عقلِ عام‘ کا معیار قرار دے کر یہ تاثر پھیلایا گیا کہ ’غیر یورپی اقوام عقل و تدبیر میں کم تر ہیں، اس لیے ان پر حکومت کرنا اور انھیں ’مہذب‘ بنانا نہ صرف جائز بلکہ قابلِ توصیف ذمہ داری ہے‘۔ 

مگر یہ ملحوظ رہے کہ ہماری تنقید کا مقصود فی نفسہٖ عقل یا جدید علم کی نفی نہیں، بلکہ مغربی افکار کو’حتمی جواب‘ سمجھنے کے بجائے ان کو تاریخی و تہذیبی سیاق میں رکھ کر پرکھنا ہے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو جائے تو اگلا نتیجہ خود بخود سامنے آتا ہے۔ سماج کی سمت متعین کرنے والے مقاصد اگر مختلف ہوں تو ان مقاصد کو پورا کرنے والے ادارے بھی لازماً مختلف ہوں گے۔ ادارے دراصل وہ عملی سانچے ہیں جن کے ذریعے کوئی معاشرہ اپنی اجتماعی ترجیحات ( عدل، فلاح، مساوات، یا محض نفع و نمو) کو حقیقت بناتا ہے۔ اسی لیے جب اسلامی اصولِ تنظیمِ معاشرہ سرمایہ دارانہ مقاصد سے مختلف ہیں تو اسلامی معیشت کے ادارے بھی مختلف ہوں گے۔  

مثال کے طور پر ’بینک‘ کا مرکزی محرک سرمائے کی بڑھوتری اور منافع کی توسیع ہے، جب کہ ’وقف‘ کا بنیادی مقصد فیاضی، خدمت اور دیرپا اجتماعی کفالت ہے۔ اسی وجہ سے اسلامی تاریخ میں طویل عرصے تک ’اوقاف‘ معاشرتی زندگی کا مرکزی ستون رہے۔ ’اوقاف‘ نے تعلیم، صحت، غریبوں کی کفالت، مسافروں کی خدمت، اور شہری سہولیات تک کے لیے وہ بنیادی ڈھانچا فراہم کیا جس نے معاشرے کی تشکیل کی۔ اِس کے برعکس جدید یورپی تاریخ میں ’بینک‘ سے وابستہ ادارے ریاست، صنعت اور تجارت کے لیے سرمایہ کی فراہمی اور ارتکاز کا مرکزی وسیلہ بنتے گئے، اور رفتہ رفتہ مالی نظام کی ریڑھ کی ہڈی قرار پائے۔ 

۵-  جدید تناظر میں اسلامی اصولوں کی تطبیق اور اجتہاد 

اگر مغربی فکر کی خرابی یہ ہے کہ وہ اپنے مخصوص تاریخی تجربے کو آفاقی صداقت بنا کر پیش کرتی ہے، تو ہمارے ہاں ایک اور نوعیت کی مشکل درپیش ہے۔ وہ یہ ہے کہ شریعت کے آفاقی اصولوں کو عصرِ حاضر کے پیچیدہ معاشی اور مالیاتی مسائل پر منطبق کرنے کے لیے جدید نظامِ معیشت کی جس سطح کی سنجیدہ اور گہری تفہیم کی ضرورت ہے ، وہ ہمارے مذہبی حلقے میں کمیاب ہے۔ ’اجتہاد‘ کے لیے دینی علوم میں رسوخ ایک عمر کا تقاضا کرتا ہے، اور جدید معیشت کی تہہ در تہہ حقیقتوں کو سمجھنا بھی محض سطحی مطالعے سے ممکن نہیں۔ اسی لیے یہ میدان انفرادی کوشش سے بڑھ کر اجتماعی، فکری اور ادارہ جاتی کاوش کا طالب ہے۔  

اسلامی شریعت کی رہنمائی اپنی اصل میں آفاقی ہے۔ عدل، امانت، حقوق و فرائض، فلاحِ عامہ اور ظلم کی حرمت جیسے اصول ہر زمانے میں معتبر چلے آرہے ہیں، مگر ان اصولوں کا درست نفاذ حالات، وسائل اور سماجی ساخت کی حقیقی تفہیم کے بغیر ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے سلف نے ہردور میں اپنے زمانے کے نئے مسائل کو سامنے رکھ کر ’اجتہاد‘ کیا، یعنی پہلے درست صورتِ مسئلہ کی تشخیص کی ، پھر شریعت کے اصولوں کی روشنی میں اس کا حل تجویز کیا۔ آج بھی اصل ضرورت یہی ہے کہ جدید نظامِ معیشت کی حقیقت اور ساخت کو سمجھا جائے، تاکہ شرعی اصولوں کی تطبیق محض ظاہری مشابہت کے بجائے مضبوط اور بامعنی بنیاد پر ہو سکے۔ 

اس فرق کو ’حج‘ کی مثال سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ شریعت ’حج‘ کے مناسک متعین کرتی ہے، یعنی احرام، طواف، سعی، وقوفِ عرفہ وغیرہ___ مگر ان مناسک تک پہنچنے اور انھیں ادا کرنے کے انتظامات ہر دور میں بدلتے رہے ہیں۔ آج کا پاکستانی حاجی آن لائن رجسٹریشن، بینک ادائیگی، سفری و سرکاری دستاویزات، ویزہ و کوٹہ سسٹم، اور بین الاقوامی سفر کے پیچیدہ نظام سے گزر کر ہی حرمین تک پہنچتا ہے۔ یہ امور مناسک کا حصہ نہیں، لیکن موجودہ دور میں انھی کے ذریعے حج عملاً ممکن ہوتا ہے۔ فقہ نے ہمیشہ مقاصد اور ذرائع میں امتیاز قائم رکھا ہے، جو اس امر کا غماز ہے کہ شریعت کے آفاقی احکام کے درست اطلاق کے لیے عصرِ حاضر کے نظاموں اور وسائل کو سمجھنا ناگزیر ہے۔  

یہاں ایک اور بنیادی فرق کا ادراک بھی ضروری ہے۔ طبیعیات اور دیگر طبیعی علوم (Natural Sciences) میں درسی کتابیں عموماً ایسے علم تک لے جاتی ہیں، جس کے نتائج دنیا بھر میں یکساں طور پر نمایاں ہوتے ہیں۔ ان علوم کی بنیاد اُن خارجی مظاہر پر ہے، جن کے باہمی تعلقات بڑی حد تک مستقل رہتے ہیں، اور انھی کی بدولت ایسی ٹکنالوجی وجود میں آتی ہے، جو ہماری روزمرہ زندگی پہ براہِ راست اثرانداز ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جدید سماجی علوم بالخصوص معاشیات کو بھی اسی سائنسی ہیئت کے ساتھ ’قدرسے ماورا‘ اور ’آفاقی‘ بنا کر پیش کیا گیا، حالاں کہ ان کے عملی نتائج اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ دنیا آج بھی نہ ختم ہونے والی جنگوں، بڑھتی ہوئی سماجی ناہمواریوں، معاشی بحرانوں، اور انسان، معاشرہ اور ماحول پر بڑھتے دباؤ کا شکار ہے۔ 

 یہی وجہ ہے کہ مسلمان اہلِ علم کے لیے جدید معاشیات کو سمجھنے کا مطلب صرف درسی ماڈلز اور اصطلاحات یاد کرنا نہیں، بلکہ ان نظریات کے تاریخی پس منظر اور کارفرما مفروضات کو پہچاننا بھی ہے، تاکہ اپنی معیشت اور اپنے مسائل کو دوسروں کے مخصوص تاریخی تجربات سے اخذ کردہ نام نہاد ’آفاقی قواعد‘ کے بجائے اپنے سماجی حقائق اور شریعت کے مقاصد کی روشنی میں سمجھا اور سنوارا جاسکے۔(جاری)