فروری ۲۰۲۶

فہرست مضامین

اسرائیلی جیل میں ۴۵ برس قید کاٹنے والا فلسطینی

افتخار گیلانی | فروری ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر کرسی پر ترجمے کی سہولت کےلیے ہیڈ سیٹ ترتیب سے رکھے تھے۔ دنیا بھر سے سفارت کار، دانش ور، سیاسی و سماجی کارکن اور صحافی ہال میں موجود تھے۔اس کانفرنس کے ایک سیشن میں جب نائل البرغوثی نے بولنا شروع کیا، تو چند لمحوںمیں ہی اوپر جھلملاتے فانوس غیر متعلق محسوس ہونے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کانفرنس ہال کسی عالی شان مقام کے بجائے ایک بند، بھاری اور دم گھونٹ دینے والی جگہ بن گیا، جیسے دیواروں نے عشروں کا دُکھ اپنے اندر جذب کر لیا ہو۔میرے پیچھے سسکیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ چند قطار پیچھے بیٹھی ایک عورت نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا، اس کے لیے ہچکیاں روکنا ممکن نہ رہا۔ دروازے کے قریب بیٹھا ایک بوڑھا شخص بار بار اپنی آنکھیں پونچھ رہا تھا، شاید ان آنسوؤں پر خود حیران اور کچھ شرمندہ تھا جو رُکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ہال کے پچھلے حصے سے دبی دبی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔ہال کے اندر کوئی ایک چہرہ بھی بے تاثر نہ تھا۔ 

برغوثی بغیر کسی نوٹس کے بول رہے تھے۔ ان کی آواز بلند نہیں تھی۔ نہ کوئی ڈراما، نہ الزام، نہ فریاد تھی نہ شکوہ، نہ الزام۔وہ انتہائی سکون اور وضاحت کے ساتھ اسرائیلی جیل میں ان کے گزرے ۴۵برسوں کی دردناک کہانی سنارہے تھے۔ چار عشرو ں کی تاریکی کے بعد البرغوثی نے  روشنی میں قدم رکھا تھا۔جب وہ خاموش ہوئے تو پورا ہال ایک جسم بن کر کھڑا ہو گیا۔ فوراً تالیاں نہیں بجیں۔ پہلے گہری اور باوقار خاموشی آئی۔ پھر تالیوں کی آواز، ابتدا میں کچھ دھیمی، پھر بڑھتی ہوئی، پھیلتی ہوئی، پورے ہال کو بھر دینے والی جوش سے بھری آوازیں اُبھریں۔ لوگ دیر تک کھڑے رہے۔ برغوثی کے اسٹیج سے نیچے اترتے ہی لوگ ان کو چھو کر جیسے یقین کر رہے تھے کہ کیا یہ شخص واقعی گوشت پوست کا انسان ہے، جو اسرائیل کی جیل سے زندہ باہر نکل آیا ہے۔ 

ہال کے باہر صحافیوں کا ہجوم ان کی طرف مائک اور کیمرے لے کر لپک رہا تھا ۔ان پر عربی، ترکی اور انگریزی میں سوالوں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی۔ وہ سب کے جواب تحمل سے دے رہے تھے، نہ جھنجھلاہٹ، نہ عجلت۔ جب ہجوم کچھ کم ہوا تو میں نے آگے بڑھ کر اپنا تعارف کرایا۔ انھوں نے پوری توجہ سے سنا۔ ان کی نگاہ ٹھیری ہوئی تھی، ویسی ہی جیسی قیدی سیکھ لیتے ہیں۔ میں نے اپنے جیل کے چند واقعات بتائے۔ ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی، یوں ہماری گفتگو شروع ہوئی۔ 

قدآور اور دبلے پتلے نائل البرغوثی کی عمر ۶۷ برس ہے۔ ان کا جسم محرومی کی طویل چھاپ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ بال مکمل سفید ہو چکے ہیں، چہرے پر گہری لکیریں ہیں، جو صرف عمر کی نہیں بلکہ عشروں کے ضبط اور برداشت کی گواہ ہیں۔ ان کی آنکھیں تیز اور چوکنی ہیں، ان میں ایک پُرسکون شدت بے چین کر دیتی ہے۔ ان کا لباس سادہ تھا، جسم پر ڈھیلا لٹکتا ہوا، ایک ایسے وجود پر جو برسوں کی قید سے کمزور ہو چکا ہو۔ چہرہ لکیروں سے بھرا تھا۔ یہ لکیریں صرف عمر کی نہیں تھیں بلکہ برداشت، ضبط اور طویل خاموشی کی علامت تھیں۔ 

میں نے جب ان سے قید میں گزری زندگی کے بار ے میں پوچھا ،تو انھوں نے کہا: ’’اگر کوئی پینتالیس سال کی قید کے بارے میں بات کرنا چاہے تو ایک دو گھنٹے کافی نہیں۔ کتابیں بھی کافی نہیں ہوں گی‘‘۔ اسٹیج سے جب ان کا تعارف کرایا گیا تھا، تو ا ن کو فلسطینی قیدیوں کا ڈین یا عمید بتایا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ: ’’مَیں اس لقب سے بے چین ہوں جو اکثر میرے نام کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ مجھے اس پر فخر نہیں‘‘۔ انھوں نے مضبوط لہجے میں کہا:’’یہ مجھے عزّت نہیں دیتا۔ کسی فلسطینی کو چند دن بھی جیل میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پینتالیس سال؟ یہ لقب خود ایک الزام ہے‘‘۔ تھوڑی دیر رُک کر انھوں نے کہا:’’میری پہچان سب سے پرانا قیدی نہیں ہے بلکہ میں ایک فلسطینی مجاہد ہوں۔ایک ایسا انسان جو اپنے حق کےلیے لڑا ہے‘‘۔  

برغوثی ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۵۷ء کو مغربی کنارہ کے فلسطینی شہر رملہ کے شمال میں واقع گاؤں ’کوبر‘ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان زراعت کے پیشے سے تعلق رکھتا تھا۔ زمین اور زیتون کے درختوں کے ساتھ ان کے خاندان کا گہرا تعلق تھا۔ مزاحمت ان کے خاندانی ورثے میں شامل تھی۔ ان کے والد کو برطانوی دورِ انتداب میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ایک چچا ۱۹۳۶ء کی عظیم عرب مزاحمت میں شہیدہوگئے۔وہ دس برس کے تھے جب جون ۱۹۶۷ء میں اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے پر قبضہ کیا۔ انھیں یاد ہے کہ کیسے فوجی ان کے علاقے میں داخل ہوئے۔ وہ دھماکے کر رہے تھے اور بچے ان پر پتھر پھینک رہے تھے۔ اس دن ان کے اندر کچھ بس گیا، جو پھر کبھی نہیں نکلا۔جوانی میں انھوں نے اپنے بڑے بھائی عمر اور کزن فخری کے ساتھ مزاحمتی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور پہلی گرفتاری دسمبر ۱۹۷۷ء میں ہوئی۔ تین ماہ قید کے بعد رہائی ملی۔ وہ گھر لوٹے، ہائی اسکول کے امتحانات کی تیاری کر رہے تھے کہ اسرائیلی افواج نے انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا۔اس بار جیل کا دروازہ عشروں کے لیے بند ہو گیا۔۱۹۷۸ء میں برغوثی پر ایک اسرائیلی افسر کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا اور ان کو سرسری سماعت کے بعد عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ وہ بمشکل بیس برس کے تھے۔ 

’’میں ایک نوعمر لڑکا تھا جب جیل میں داخل ہوا‘‘، اپنے چہرہ پر ہاتھ پھیر کر انھوں نے کہا ’’اب بوڑھا ہوگیا ہوں‘‘۔ اگلے ساڑھے چار عشروں میں انھیں تقریباً ہر اسرائیلی جیل میں منتقل کیا گیا۔گلبوع، بیرشیبہ کے تمام حصے، رملہ، نفحہ، ریمون، اشکلون، نقب، یہ سبھی جیلیں میرا ٹھکانہ رہ چکی ہیں۔ اسرائیلی جبر دکھانے اور اذیتیں دینے میں تخلیق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایک جبر ختم تو دوسرا طریقہ شروع۔ گیارہ برس انھوں نے ایک جیل میں گزارے، جن میں سے آٹھ برس ایک ہی سیل کی دیواروں کو تکتے ہوئے بسر ہوئے۔ نو قیدیوں کے لیے بنے سیل میں پندرہ افراد ٹھونسے گئے تھے۔ ٹھنڈی کنکریٹ کے فرش پر جسم سے جسم جڑا ہوتا تھا، نہ ہل جل سکتے تھے اور نہ رازداری۔ ان کے مطابق جیل صرف قید کی جگہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک ایسا نظام تھا جو انسانی روح کو آہستہ آہستہ ، منصوبہ بند طریقے سے تھکاکر مارنے کے لیے بنایا گیا تھا، بغیر ایسے نشانات چھوڑے جو باہر کی دنیا کو خبردار کردیں۔اشکلون جیل ان کی یاد میں سب سے زیادہ وحشیانہ جگہوں میں سے ایک مقام کے طور پر نقش ہے۔ وہاں تشدد کوئی استثنا نہیں بلکہ سب قیدیوں کے لیے معمول تھا۔ 

’’جب قیدی بنیادی حقوق کے لیے بھوک ہڑتال کرتے، تو جواب میں زبردستی خوراک دی جاتی۔ اس کو بھی اذیت کا ذریعہ بنایا جاتا تھا۔ ربڑ کی استعمال شدہ نالیاں منہ یا ناک میں زبردستی ڈالی جاتیں تھیں، وہ نالی اتنی نیچے دھکیلتے کہ خون بہنے لگتا۔پھر انتہائی گرم دودھ، نمک ملا کر، پیٹ میں انڈیل دیتے تھے۔ قیدیوں کو باندھ دیا جاتا تھا تاکہ حرکت سے محروم ہوجانے پر وہ مزاحمت نہ کرسکیں۔ ایک قیدی کے منہ سے نالی نکالی جاتی اور دوسرے کے منہ میں ڈال دی جاتی تھی۔ اس طرح کچھ لوگوں کے پھیپھڑے بیکار ہوگئے، کیونکہ دودھ ان میں چلا گیا تھا۔ ‘‘ 

برغوثی جب یہ بیان کر رہے تھے، تو میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں بند تھیں۔ شاید ا ن کا ذہن دوبارہ جیل میں پہنچ گیا تھا۔ وہ بتارہے تھے:’’مار پیٹ سہنا ہماری روز کی غذا تھی۔ نقاب پوش محافظ سیلوں پر دھاوا بولتے، ڈنڈوں، بوٹوں اور مکوں سے حملہ کرتے۔ بند جگہوں میں آنسو گیس چھوڑی جاتی تھی، سٹن گرنیڈ پھٹتے اور قیدیوں پر خوفناک تربیت یافتہ کتے چھوڑے جاتے تھے‘‘۔  اس کے ساتھ انھوں نے اپنی آستینیں اوپر کرکے بازو دکھائے، جن پر اَن گنت نشانات پڑ ے ہوئے تھے۔ ان کے بازو کو کتّے نے بھنبھوڑا تھا۔’’ کئی قیدی تشدد میں مارے گئے۔ جوبچ گئے،وہ میری طرح مستقل زخموں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ کئی قیدی ٹوٹی پسلیوں ، خراب اعضا اور دائمی درد کے ساتھ پسِ زندان ہیں‘‘۔  

اسرائیلی جیلوں میں کھانے کے انتظام کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: ’’کھانا بس اتنا دیا جا تا تھا کہ ان پرقیدیوں کو بھوک سے مارنے کا الزام نہ آئے۔’’  چائے کے کپ سے بھی چھوٹے برتن میںپتلا سا سوپ، نہ پھل، نہ گوشت۔ کیلوریز اس طرح ناپی جاتیں کہ قیدی بس زندہ رہیں۔یہ پیسہ بچانے کے لیے نہیں بلکہ کنٹرول کے لیے تھا‘‘۔ برغوثی کا وزن بیس کلو سے زیادہ کم ہوگیا تھا۔ دوسروں کا اس سے کہیں زیادہ کم، بعض کا ستّر کلو تک وزن کم ہوگیا۔’’ دانتوں کے درد کا علاج ہی نہیں کیا جاتا۔ قیدی ہفتوں سوجے ہوئے چہروں کے ساتھ زندگی گزارتے تھے، نہ سو سکتے، نہ کھاسکتے، نہ سوچ سکتے تھے اور نہ کسی کو درد کی ایک گولی تک ملتی تھی‘‘۔ انھوں نے کہا:’’سوچیں، کسی کے ساتھ ایک کمرے میں ہفتوں رہنا، جب وہ ناقابلِ برداشت درد کی حالت میں ہو اور آپ کچھ نہ کرسکنے کی پوزیشن میں ہوں،تو بے بسی کی ایسی انتہا میں بس مرنے کی ہی دعا کی جاسکتی ہے‘‘۔  

انھوں نے بتایا: ’’اس تشدد کے خلاف اور حقوق کی آواز بلند کرنے، اہل خانہ سے ملاقاتیں، یا قید تنہائی کے خاتمے، بچے یا ماں سے ملاقات کا حق منوانے کے لیے قیدیوں کے پاس بس بھوک ہڑتال کے سوا کوئی اور ہتھیار نہیں ہوتا تھا۔ اگر میں اپنی تمام بھوک ہڑتالیں گنوں،تو یہ تقریباً دو سال بغیر کھانے کے بنتی ہیں، یعنی اس کا دورانیہ سات سو تیس دن کا ہے۔ جب ایک قیدی کو تنہائی میں ڈالا جاتا، تو دوسرے یکجہتی میں بھوک ہڑتال کرتے تھے۔ دراصل اسرائیلی ہمارے اندر کی انسانیت مارنا چاہتے تھے اور ہم نے بھوک بانٹ کر مزاحمت کی‘‘۔ 

اپنی قید تنہائی کا ذکرکرتے ہوئے اس فلسطینی قیدی نے کہا: میرے خیال میںقیدِ تنہائی شخصیت مٹانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ قید تنہائی میں سیل میں رینگتے ہوئے کاکروچ اور دیگر کیڑے مکوڑو ں سے باتیں کرتا تھا۔ خوف تھا کہ کہیں بولنا ہی بھول نہ جائوں۔ مگر اس دوران میں نے دیکھا کہ اگر ایک کاکروچ کو نقصان پہنچتا تھا، تو دیگر اس کی مدد کرنے پہنچ جاتے تھے اور اس کو دیوار پر چڑھنے میں مدد کرتے تھے‘‘۔ ایک فلسفی کے انداز میں برغوثی نے حسرت ناک نگاہوں سے دیکھتے ہوئے مجھ سے سوال کیا:’’ مگر انسان دیگر انسانوں کی مدد کیوں نہیں کرپاتا ؟‘‘ 

اپنے بڑے بھائی عمر کے ساتھ جیل کی زندگی کا بڑا حصہ رہا: ’’عمر چار سال بڑے تھے، اور وہ بھی مزاحمت کے علَم بردار تھے۔ ۱۹۸۵ء میں جب قیدیوں کے تبادلے ہونے والے تھے، تو میرا نام فہرست میں تھا۔اسرائیلی حکام نے مجھے بتایا کہ میرا نام رہا ہونے والے فلسطینیوں میں شامل ہے، تو میں نے کہا کہ اگر سب کو رہا کیا جاتا ہے، تو تب ہی میں جیل سے باہر نکلوں گا۔ اگر صرف فہرست میں شامل قیدیوں ہی کی رہائی ہونی ہے، تو میں اپنی جگہ عمر کو شامل کروانا چاہتا ہوں‘‘۔ عمربھائی رہا ہو گئے۔ نائل البرغوثی وہیں رہے۔بعد میںانتفاضہ کے دوران عمر کو دوبارہ قیدی بنایا گیا۔ بہت سے رہا شدہ قیدی دوبارہ واپس جیلوں کی زینت بن گئے۔ برغوثی نے اپنے والدین جیل میں رہتے ہوئے کھو دیے۔ انھیں جنازے میں شرکت تک کی اجازت نہیں ملی۔۲۰۰۴ء  میں قیدیوں نے انیس دن کی بھوک ہڑتال کی۔ ان کے والد باہر یکجہتی کے مظاہروں میں شامل ہوئے۔ کچھ ہی عرصے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ماں کی موت بھی اسی طرح ہوئی۔قیدیوں کےلیے فلسطینی حکام نے ایک ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم کیا تھا۔ قیدی اس ریڈیو کے پروگراموں کو چھوٹے ٹرانزسٹروں پر سنتے ہیں۔ اس پر رات گیارہ بج کر تین منٹ پر ان کی ماں کی آواز سنائی دی۔ اس نے کہا: ’عزّت کا گھر، دولت کے گھر سے بہتر ہے‘۔ پھر اسی رات دو بجے ان کا انتقال ہوگیا۔ ’دنیا دھند بن گئی‘، برغوثی نے کہا: ’’والدین کو کھونا زندگی کا ایڈریس کھو دینے جیسا ہے ۔میںاندر سے ٹوٹ گیا تھا مگر بظاہر خود کو سنبھالے رکھا۔ میں اپنی کمزوری جوان قیدیوں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا‘‘۔ 

اسی قید کے دوران برغوثی نے ایمان نافی سے شادی کی، جو خود ایک سابق قیدی رہ چکی تھیں۔ یہ بھی مزاحمت کی ایک صورت تھی۔ان کے درمیان کبھی ازدواجی تعلقات قائم نہیں ہوسکے۔ ایمان ان کو خطوط، تصویریں اور پیغامات بھیجتی تھی: ’’میری بیوی مجھے ہر روز فلسطین کے گلی کوچوں کی تصویریں بھیجتی تھیں، تاکہ میں جڑا رہوں‘‘۔ ان کے نزدیک محبت جیل میں بقا ہے اور جیل میں قیدی کے پاس آیا خط چھوٹی چیز نہیں ہوتی ہے۔ انھوں نے درد کے ساتھ مرحوم فلسطینی ادیب ولید دقہ کا ذکر کیا، جنھیں اسرائیلی قید میں اپنی بیوی یا بیٹی سے ملنے کا حق نہ ملا:’’ہمیں جس چیز نے سنبھالا وہ یہ تھی کہ باہر کوئی ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمارے دکھوں کا ساتھی ہے‘‘۔ برغوثی نے کہا۔ ’’ہمیں رومیو اور جولیٹ کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں‘‘۔  

برغوثی جب نو عمری میں جیل میں چلے گئے تو تعلیم کا سلسلہ چھوٹ گیا تھا،مگر جب ۲۰۰۲ء میںفلسطینی لیڈر مروان برغوثی کو پابند سلاسل کرکے عمر قید کی سزا سنائی گئی، تو انھوں نے جیل میں بند دیگر فلسطینیوں کو مطالعے کی ترغیب دی۔ اس کے نتیجے میں نائل برغوثی بھی خاصے وسیع المطالعہ ہیں۔ وہ عربی کے علاوہ عبرانی اور انگریزی روانی سے بولتے ہیں، اور عالمی تاریخ سے واقف ہیں۔ہماری گفتگو میںانھوں نے برصغیر ہند کی تاریخ کا ذکر کیا۔انھوں نے مہاتما گاندھی، محمد علی جناح، جواہر لال نہرو، ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر کو پڑھا ہے۔ حتیٰ کہ کشمیر کا جب ذکر آیا تو اس کی تاریخ کے ساتھ انھوں نے شیخ عبداللہ اور سید علی شاہ گیلانی کا بھی ذکر کیا۔ جب میں نے پوچھا کہ یہ وسعت کیسے حاصل ہوئی؟ تو وہ مسکرائے:’’جیل نے ہمیں پڑھنے دیا‘‘، انھوں نے کہا۔ وہ اس کےلیے مروان برغوثی کو کریڈٹ دیتے ہیں کہ انھوں نے فلسطینی قیدیوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا: ’’ہمیں معلوم ہے کہ ہماری تعلیم معاشرے کو فائدہ نہیں دے سکے گی، کیونکہ ہماری قسمت میںتو جیل میں ہی مر جانا لکھا ہے، مگر یہ یقین ہے کہ ہم اللہ کے پاس جاہل نہیں، باخبر ہو کر جائیں گے‘‘۔  

برغوثی کو فروری ۲۰۲۵ء میں غزہ جنگ بندی سے منسلک قیدی تبادلے کے تحت رہا کردیا گیا۔ مگر جب فہرست میں ان کا نام آیا تو اسرائیل نے شرط رکھی کہ ان کو فلسطینی علاقوں میں رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔ان کو جلا وطن کیا جائے گا۔ ‘‘ ابتدا میں جب جیل میں ان کو بتایا گیا کہ رہا ہونے کے فوراً بعد ان کو مصر بھیجا جائے گا، تو انھوں نے رہا ہونے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا: ’’قید جلاوطنی سے کم تلخ ہے‘‘۔مگر ثالثوں کے دبائو میں ان کی رہائی ہوگئی ، کیونکہ خدشہ تھا کہ اگر مذاکرات ٹوٹ گئے تو غزہ کی امداد یا دوسرے قیدیوں کی رہائی بھی متاثر ہوگی۔’’یہ حکم نامہ موت کے پروانے جیسا تھا‘‘، انھوں نے کہا۔ 

انھیں اپنی زمین، اپنے گھر، اپنے زیتون کے درختوں سے جدا کر کے قاہرہ بھیج دیا گیا۔ عشروں کے تشدد سے تھکا ہوا جسم اور کئی بیماریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے اب وہ ترکیہ میں زیرعلاج ہیں۔ دائمی درد، چوٹیں اور ان بیماریوں کے ساتھ جو جیل کی دیواروں کے اندر خاموشی سے جمع ہوتی رہیں، اب ان کوپریشان کر رہی ہیں، پھر بھی ان کا یقین قائم ہے۔وہ بتا رہے تھے: ’’ہماری جدوجہد ختم نہیں ہوئی ہے اور ہم اب بھی مزاحمت کر رہے ہیں‘‘۔ 

ان سے بات چیت کرتے ہوئے وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ کئی لوگ اردگرد جمع ہوگئے تھے، جو ان کا ہاتھ چھونا چاہتے تھے۔نائل البرغوثی ۴۵ برس بعد جیل سے باہر آئے۔ مگر جیل، اس کی تاریکی، اس کی گواہی اور اس کے بے جواب سوال، سب ان کے ساتھ ہی باہر آئے۔ وہ اقبال کے اس شعر کی عملی تفسیرمعلوم ہو رہے تھے   ؎ 

یقیں محکم ، عمل پیہم،محبت فاتح عالم 
جہاد زِندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں